Urdu news

Sunday, 30 June 2019

بلاول 6 جولائی کوڈیرہ اسماعیل خان میں جلسہ کریں گے

پشاور: پیپلزپارٹی نے حکومت مخالف رابطہ عوام مہم خیبرپختوا میں بھی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری 6 جولائی کو ڈیرہ اسماعیل خان میں جلسہ کرینگے۔ علاوہ ازیں بلاول کو ضم قبائلی علاقوں میں انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسوں کی ابھی تک اجازت نہیں مل سکی جس کے باعث بلاول کے دورہ خیبرپختونخوا کی تاریخوں کا تعین نہیں کیا جاسکا۔ یہ انتخابات 20 جولائی کو ہونے جارہے ہیں ۔پیپلزپارٹی کی جانب سے ہر قبائلی ضلع کی مقامی انتظامیہ کو جلسے کیلیے درخواستیں دیدی گئی ہیں لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

The post بلاول 6 جولائی کوڈیرہ اسماعیل خان میں جلسہ کریں گے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2XagEPa

2 جولائی کو سورج گرہن ہوگا، پاکستان میں دیکھا نہیں جا سکے گا

کوئٹہ: سورج گرہن برازیل، ارجنٹائن براعظم امریکا کے جنوبی حصوں میں دیکھا جاسکے گا۔

پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق 2 اور3 جولائی کی درمیانی شب سورج گرہن کا آغاز رات 10 بجے ہوگا جو رات 3 بجے تک جاری رہے گا۔  پاکستان اورایشیا میں رات ہونے کی وجہ سے سورج گرہن نظر نہیں آئے گا جبکہ چاند گرہن 16 اور17 جولائی کی درمیانی شب رات11 بجکر50 منٹ پر شروع ہوگا اور17 جولائی صبح5 بجکر20 منٹ طلوع آفتاب سے15 منٹ پہلے ختم ہوگا۔یہ گرہن جنوبی ایشیاء بشمول پاکستان،آسٹریلیا، افریقہ ، یورپ ، عرب ممالک، مشرق وسطیٰ، روس ، میں دیکھا جاسکے گا۔ دوسری جانب ماہر فلکیات ڈاکٹر ریاض احمد نے کہا ہے کہ اس سال پانچ سورج اور چاند گرہن ہوں گے ۔

The post 2 جولائی کو سورج گرہن ہوگا، پاکستان میں دیکھا نہیں جا سکے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2J0oQNZ

ریلوے اراضی کی دیکھ بھال کرنے والی کمپنی آج سے بند

 لاہور:  کیبنٹ ڈویژن سے منظوری کے بعد وزارت ریلوے کی ذیلی کمپنی ’’ری ڈیمکو ‘‘ ریلوے اسٹیٹ ڈیولپمنٹ مارکیٹنگ آج پیر  یکم جولائی سے مکمل طور بند ہوجائیگی۔

کنٹریکٹ اور3 ,3 ماہ ڈیلی ویجزز پر کام کرنے والے 65 سے زائد ماتحت ملازمین کو فارغ کردیا گیا ہے، ریلوے آفیسرز کو واپس محکمہ ریلوے میں ضم کردیا جائے گا۔ ریلوے زمینوں کے تمام معاملات اب واپس آٹھوں ڈویژنوں کو سونپ دیے گئے ہیں،  محکمہ آڈٹ اور فنانس ڈیپارٹمنٹ رواں ماہ ذیلی کمپنی کے مالی معاملات کا جائزہ لے گی۔

ذرائع نے بتایا سابق حکومت میں ریلوے زمینوں کے معاملات کو بہتر بنانے کیلئے  ذیلی کمپنی’’ ری ڈیمکو ‘‘ قائم کی گئی تھی ۔

The post ریلوے اراضی کی دیکھ بھال کرنے والی کمپنی آج سے بند appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2ZXRjtl

بھکرمیں ٹریلر کی وین کو ٹکر، ایک ہی خاندان کے 8 افراد جاں بحق

بھکر:  جہان خان کے قریب جھنگ بھکر روڈ پر ٹرالر نے کیری ڈبے کو کچل ڈالا جس سے ایک ہی خاندان کے 4 بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق اور 7  زخمی ہوگئے۔

جنہیں ڈسٹرکٹ اسپتال بھکر منتقل کردیا گیا۔وین میں سوار حیدرآباد تھل کا رہائشی بدقسمت خاندان اپنے رشتہ داروں کو ڈیرہ اسماعیل خان سے مل کر واپس جا رہا تھا۔ جاں بحق ہونے والوں میں 65 سالہ عزیز مائی ،60 سالہ محمد ارشاد ، 4 سالہ ولید احمد ، ایک سالہ شہریار ، 55 سالہ شاہ حسین ، 9 سالہ سبحان ، 7 سالہ آصف عمر ، 6 سالہ زہرہ عمر شامل جبکہ آسیہ بی بی،ماہ پارہ ،بشریٰ ،بلال حسین،غلام یٰسین،زہرہ مائی ، کنیز فاطمہ شدید زخمی ہوئے ۔

اطلاع ملنے پر ڈپٹی کمشنر کیپٹین (ر) وقاص رشید نے موقع پر پہنچ کر اپنی نگرانی میں امدادی کاروائیاں شروع کروائیں، ٹرالر ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا ، ڈی پی او بھکر شائستہ ندیم کے مطابق ٹریلر کو پولیس نے تحویل میں لے کر ڈرائیور کی گرفتاری کے لیے کاروائی شروع کردی ہے۔

The post بھکرمیں ٹریلر کی وین کو ٹکر، ایک ہی خاندان کے 8 افراد جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2XCBAm9

ٹیکس ایمنسٹی: 1780 ارب کے اثاثے ظاہر، 42 ارب ٹیکس جمع

 اسلام آباد:  ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے تحت اب تک 90ہزار لوگوں کی جانب سے 1780 ارب روپے کے اثاثے ظاہر کیے گئے ہیں۔

ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے تحت اب تک 90ہزار لوگوں کی جانب سے 1780 ارب روپے کے اثاثے ظاہر کیے گئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ایف بی آر کو مجموعی طور پر42 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوا ہے۔ اس کے باوجود گزشتہ مالی سال کے دوران مجموعی طور پر598 ارب روپے کے عبوری ریونیو شارٹ فال کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر کو کل رات گئے تک مجموعی طور پر3800ارب روپے کا عبوری ریونیو حاصل ہوا جو گزشتہ مالی سال کیلیے مقرر کردہ 4398ارب روپے کے ٹیکس وصولیوں کے ہدف کے مقابلے میں 598 ارب روپے کم ہے۔

ذرائع کے مطابق ایمنسٹی لینے والوں میں زیادہ تعداد درمیانے طبقے کی ہے۔ اب بھی 10 ہزار سے زائد درخواستیں التوا میں پڑی ہیں اور بڑی تعداد میں نئی درخواستیں آرہی ہیں۔

The post ٹیکس ایمنسٹی: 1780 ارب کے اثاثے ظاہر، 42 ارب ٹیکس جمع appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3003MN8

اثاثے ظاہرکرنے کے مضمرات سے تارکین وطن خوفزدہ

کراچی: حکومت نے ٹیکس سے بچنے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کم شرح پر ٹیکس ادا کر کے اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم  شروع کی ہے۔ نان فائلرز کو ٹیکس کی ادائیگی پر راغب کرنے کے لیے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی تاریخ میں متعدد بار توسیع کی ہے۔

نان فائلرز کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کے اس دور میں ٹیکس کی ادائیگی سے بچنا مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ دوسری جانب اسٹیٹ بینک ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے تحت اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کے انسداد کے لیے رقوم ؍ غیرملکی زرمبادلہ کی منتقلی پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے نئے چیئرمین شبرزیدی نے ٹیکس اصلاحات بروئے کار لانے کا وعدہ کیا ہے جس سے ٹیکس بیس وسیع ہوگی اور ٹیکس دہندگان کو سہولت ہوگی۔ تاہم اس تمام عمل کے دوران ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک نے بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے لیے کچھ اہم مسائل کھڑے کردیے ہیں۔ ایف بی آر کے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 81 کے مطابق پاکستان سے باہر 183 ایام تک رہنے والا شہری تارک وطن کہلائے گا اور اس وقت تک ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کرسکتا جب تک کہ اس کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ پاکستانی ذریعہ نہ ہو جیسے اسٹاک ڈیویڈنڈ، غیرمنقولہ جائیداد کے کرائے سے حاصل ہونے والی آمدنی، یا کوئی بھی ایسی جائیداد یا سیکیورٹیز جن پر کیپٹل گین ٹیکس لاگو ہوتا ہو۔ لہٰذا ایک تارک وطن کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ کسی خلیجی ملک میں مقیم رہتے ہوئے اور پاکستان میں یا پاکستان سے باہر جائیداد اور بینک اکاؤنٹس میں رقم رکھے اور ایف بی آر اس سے لاعلم ہو۔

دوسری جانب ایک تارک وطن جس نے پاکستان میں اپنی کسی آمدنی کے لیے ریٹرنز فائل کیے ہوں اسے اثاثے ظاہر کرنے کے مضمرات کا خوف لاحق ہوتا ہے۔ اسے ماضی میں اثاثے ظاہر نہ کرنے پر نوٹس موصول ہوتے ہیں تو وہ بیرون ملک رہتے ہوئے سمن اور لیگل نوٹس کی تکمیل کیسے کرسکتا ہے؟ بیرون ملک مقیم رہتے ہوئے پاکستان میں وکیل کی خدمات حاصل کرنا اور پھر قانونی معاملات سے نمٹنا ایک درد سر ثابت ہوگا۔ علاوہ ازیں جن تارکین وطن نے اپنی محنت سے کما کر بیرون ملک کوئی مقام حاصل کرلیا ہے انھیں یہ خوف لاحق ہے کہ اثاثے ظاہر کرنے کی صورت میں ایف بی آر ان کی محنت کی کمائی کو منی لانڈرنگ سے نہ جوڑ دے۔

The post اثاثے ظاہرکرنے کے مضمرات سے تارکین وطن خوفزدہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2XxR3UD

پاک افغان اتفاق: باہمی اعتماد کیلیے مخالفانہ بیان بازی نہیں ہوگی

 اسلام آباد: پاکستان اور افغانستان نے ایک دوسرے کیخلاف مخالفانہ بیان بازی نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے، دونوں ملکوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ عوامی فورمز پر ایک دوسرے پر الزام تراشی نہیں کریں گے اور نہ ہی مخاصمانہ بات کی جائے گی تاکہ اس باہمی اعتماد کو فروغ دیا جاسکے جو دونوں ہمسایہ ملکوں کو درپیش مسائل کے حل کیلیے ازحد ضروری ہے۔

یہ فیصلہ افغان صدر اشرف غنی کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم عمران خان اور عسکری قیادت سے ملاقاتوں میں کیا گیا، 2015ء کے بعد افغان صدر کا یہ پہلا دورہ ہے جو پاکستان کے ان حالیہ کوششوں کا نتیجہ ہے جو افغانستان کیساتھ تعلقات بہترکرنے کے ضمن کی جا رہی ہیں۔ وزیراعظم پاکستان اور افغان صدر کی وفود کے ہمراہ ملاقات سے متعلقہ سرکاری عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ دونوں جانب اس امر پر اتفاق پایا گیا کہ سازگار ماحول پیدا کرنے کیلئے عوامی فورمز کو ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا، دونوں ملکوں کے مابین طے پایا کہ ایک دوسرے کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرنے کیلئے سفارتی ذرائع بروئے کار لائے جائیں گے، پاک افغان تعلقات کئی سال تک باہمی اعتماد کے فقدان کے باعث کشیدہ رہے، افغان قیادت عوامی سطح پر پاکستان کو اپنے داخلی حالات کا مورد الزام گردانتی رہی ہے۔

افغان صدر بھی متعدد بار داخلی انتشار کا موجب پاکستان کو قرار دے کر اس کی جانب انگلیاں اٹھا چکے ہیں تاہم پاکستان نے ہمشہ ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور تمام مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ عہدیدار کے مطابق الزام تراشی ماحول کو کشیدہ کرتی ہیجس کی حالیہ مثال کرکٹ کے عالمی مقابلوں میں پاک افغان میچ کے دوران افغان تماشائیوں کا پاکستانی تماشائیوں پر حملہ ہے، ایسے واقعات سے اسی صورت بچا جا سکتا ہے جب دونوں جانب سے مثبت پیغامات سامنے آئیں، پاکستان کی جانب سے اس حوالے سے احتیاط برتی جاتی ہے کہ الزام تراشی کو ہوا نہ دی جائے، پاکستان کو بھی افغانستان سے بعض معاملات پر تحفظات ہیں، خاص طور پر سرحدی حملوں میں ملوث گروپوں کیخلاف کارروائی نہ کرنا، تاہم پاکستان نے افغانستان کو عوامی سطح پر کبھی مورد الزام نہیں ٹھہرایا،مذکورہ عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان نے ان مسائل کیلئے ہمیشہ سفارتی یا دوسرے ذرائع استعمال کئے ہیں۔

The post پاک افغان اتفاق: باہمی اعتماد کیلیے مخالفانہ بیان بازی نہیں ہوگی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2ZYed3U

ججزریفرنس کی کل سماعت، وکلا برادری کا یوم سیاہ

کوئٹہ /  اسلام آباد / کراچی: ججزریفرنس کی کل سماعت پروکلا برادری نے یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔

سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وکلا برادری حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے 2 ججز جسٹس قاضی فائزعیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف بدنیتی کی بنیاد پر دائر ریفرنسزکی سماعت کے موقع پر آج ملک بھر کی بارز کے عہدے داروں سے یوم سیاہ منانے، بازو پر سیاہ پٹی باندھنے اور باررومز پر سیاہ جھنڈے لہرانے کی درخواست کی گئی ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس کے موقع پر عدلیہ سے اظہار یکجہتی کیلیے اسلام آباد سپریم کورٹ بلڈنگ میں 2 جولائی کو صبح 11 بجے پہنچ کر کونسل کی کارروائی تک موجود رہیں جس کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کے حتمی فیصلے کی روشنی میں ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

ایک بیان میں انھوں نے کہاہے کہ سپریم کورٹ، سندھ اور بلوچستان کی عدالتوں میں گرمیوں کی تعطیلات کے باعث عدالتی بائیکاٹ یا ہڑتال کی کوئی اپیل نہیں کی گئی البتہ پنجاب سمیت کہیں اگر گرمیوں کی تعطیلات نہ ہوں تو وہاں کی صوبائی بارکونسل اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز اپنے حالات کے مطابق متفقہ فیصلہ کرسکتی ہیں تاکہ وکلا اداروں کے تضادات سے مخالفین کو فائدہ اور بعض لوگ ہمارے اصولی موقف کے خلاف سمجھوتہ کرکے منافع بخش دھندے اور اپنی ترقی کا ذریعہ نہ بنائیں۔ دوسری جانب پاکستان بار کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف ریفرنس کے تناظر میںکل(منگل 2 جولائی کو) ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ اتوار کو پی بی سی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق منگل کے روز ہی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے جس میں احتجاج سے متعلق آئندہ حکمت عملی پر غور ہو گا۔ کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان بارکونسل کے وائس چیئر مین امجد شاہ نے کہاکہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے معاملے پر وکلا میں کوئی اختلاف نہیں، دونوں بڑے وکلا گروپ متحد ہیں، وفاقی حکومت جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے معاملے پر رویہ ٹھیک کرے، وفاقی وزیر قانون اور اٹارنی جنرل سے درخواست ہے کہ ذاتی مقاصد کیلیے عہدے کا استعمال نہ کریں، اس موقع پر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ و دیگر وکلا بھی موجود تھے۔

انھوں نے کہاکہ اٹارنی جنرل کے پاس اختیار نہیں کہ وہ فروغ نسیم کو بھیجے گئے نوٹس کو معطل کریں، جمہوری اداروں کے ساتھ قانونی خلاف ورزیاں قابل مذمت ہیں، فروغ نسیم کو پریکٹس کرنے پر نوٹس دیا گیا مگر وہ پیش نہیں ہوئے ، قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس اجلاس کا اہم ایجنڈا تھا، 2جولائی کو سپریم کورٹ سمیت ملک بھر میں ہڑتال اور احتجاج کیا جائے گا، بلوچستان کے ساتھ وفاق کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ایسا نہ ہوکہ ہم خود سپریم کورٹ جانے سے انکار کردیں۔ فروغ نسیم وزیر ہونے کے بعد پریکٹس نہیں کرسکتے، وہ دو کشتیوں کی سواری کرنا چاہتے ہیں جو قبول نہیں، ملک کو1973کے آئین کے تحت چلایا جائے، صدر اور وفاقی حکومت کوسوچنا چاہیے کہ ملک میں ایسی کیفیت پیدا نہ کریں جس سے جمہوریت کو خطرہ اور اداروں کے درمیان ٹکرائو ہو، جمہوریت کو کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیںگے۔ کراچی بار ایسوسی ایشن کے ترجمان اسلم خٹک ایڈووکیٹ نیایک اعلامیہ میں کہا ہے کہ کراچی بار متفقہ طور پر سپریم کورٹ اور پاکستان بار کی مشترکہ طور پر اعلان کردہ کل (منگل 2 جولائی) ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے اور 2 جولائی کو عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔

The post ججزریفرنس کی کل سماعت، وکلا برادری کا یوم سیاہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2XHHPVJ

ترک بارڈرفورسز کی کوچ پر فائرنگ، 10 پاکستانی جاں بحق

وزیر آباد:  ترکی سے یونان جاتے ہوئے بارڈرکے قریب ترک سیکیورٹی فورس کی فائرنگ سے کوچ الٹ گئی۔

گولیاں لگنے سے 10 پاکستانی جاں بحق اور 25 زخمی ہو گئے۔ مرنے والوں میں علی پور چٹھہ کا رہائشی 23 سالہ علی مرتضیٰ بھی شامل ہے، علی پور چٹھہ کاعلی مرتضیٰ بہتر مستقبل کی تلاش میں 3سال قبل ترکی گیا تھا، ترکی سے یونان جانے کیلیے دیگر پاکستانیوں کے ہمراہ کوچ میں سوار ہو کر جا رہاتھا، بارڈر کراس کرنے کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کے آتے ہی کوچ کا ڈرائیور خوفزدہ ہو گیا۔

فورسز کے نے کوچ روکنے کا اشارہ کیا مگر ڈرائیور نے کوچ کو بھگا دیا جس پر فورسز نے فائرنگ شروع کر دی، کو چ کا ڈرائیور چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا کر فرار ہو گیا، اس دوران تارکین وطن کی بغیر ڈرائیور کوچ ایک عمارت سے جا ٹکرائی، فائرنگ اور کوچ کے ٹکرا نے سے 10 پاکستانی جاں بحق جبکہ 25 دیگر تارکین وطن زخمی ہوئے جنہیں بارڈر فورس نے حراست میں لے لیا۔ علی مرتضیٰ کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ترکی میں موجود اس کے ہم پیشہ ساتھیوں نے علی پور چٹھہ میں اس کے والدین کو ٹیلی فون پر دی تاہم ابھی نعش کی واپسی کا کوئی شیڈول سامنے نہیں آیا ہے۔

The post ترک بارڈرفورسز کی کوچ پر فائرنگ، 10 پاکستانی جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2YlLFkh

میچ میں پاکستانیوں پرحملہ آوروں کو کچھ خاص لوگوں کی مدد حاصل تھی، ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی  : ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پاک افغان میچ کے دوران افغان شائقین کے پاکستانیوں پر حملے کے حوالے سے کہا ہے کہ کھیل کی گہما گہمی اور گرمی کے باوجود بہروپ بدل کر کچھ لوگوں نے اسٹیڈیم کے اندر اور باہر جو رویہ اپنایا وہ کھیل نہیں تھا۔

میجر جنرل آصف غفور نے ایک ا فغان لڑکے کی وڈیو بھی شئیر کی جو اسپورٹس مین شپ کا مظاہرہ نہیں کر پایا۔ انھوں نے اپنے ٹوئٹر اورانسٹاگرام پیغام میں لکھا کہ ایسا رویہ اپنانے والوں کو کچھ خاص لوگوں کی مدد حاصل تھی جن کے بارے میں ہمیں علم ہے، ہم پاکستانی اپنی اقدار سے جڑے رہے اور ہم نے اسٹیڈیم میں اسی رویے کا مظاہرہ کیا۔

The post میچ میں پاکستانیوں پرحملہ آوروں کو کچھ خاص لوگوں کی مدد حاصل تھی، ڈی جی آئی ایس پی آر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3255gYC

پتریاٹہ کیبل کارمیں پھنسے 100 سیاحوں کو بحفاظت نکال لیا گیا

 راولپنڈی: رات بھر جوائنٹ ریسکیو آپریشن کے بعد پتریاٹہ چیئر لفٹ کیبل کار میں پھنسے 100 کے قریب سیاحوں کو بحفاظت نکا ل لیاگیا۔

تحقیقات کے احکام جاری کردیے گئے ، تحقیقات مکمل ہونے تک چیئر لفٹ آپریشنل نہیں کی جائے گی، ریسکیو آپریشن میں پاک فوج، ریسکیو 1122، راولپنڈی پولیس ، سول ڈیفنس کے اہلکاروں ، چیئر لفٹ کے اسٹاف اور مقامی افراد نے حصہ لیا۔ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی محمد علی رندھاوا و سی پی او فیصل رانا واقعے کی اطلاع ملتے ہی پتریاٹہ پہنچے۔انھوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اﷲ تعالی کا شکر ہے کہ پتریاٹہ چیئر لفٹ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔ ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے والوں نے اندھیرے ، طوفان بادو باراں و دھند کے باوجود کھمبوں پر چڑھ کر فضا میں معلق کیبنز کو دوبارہ بحال کرنے کا مشکل ہدف مکمل کیا ۔

تحقیقات کے بعد اطیمنان بخش احتیاطی اقدامات کی یقین دہانی کے بغیر چیئر لفٹ کو آپریشنل نہیں کیا جائے گا ۔ چیئر لفٹ ریسکیو آپریشن کی تکمیل کے بعد جب مرد و خواتین اور بچوں کو بحفاظت ریسکیو کرلیا گیا تو وہ سجدہ شکر بجالائے اور بلا تاخیر امدادی کارروائیوں پر تمام متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ ادھرکمشنر راولپنڈی ثاقب ظفر نے شاندار انداز میں خدمات سرانجام دینے پر تمام اداروں کی کارکردگی کو سراہا۔

The post پتریاٹہ کیبل کارمیں پھنسے 100 سیاحوں کو بحفاظت نکال لیا گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/300Maku

انگریزوں کی بنی پن چکیاں تاریخ کے قبرستان میں دفن

بونیر:  انگریزوں نے جب برصغیرمیں راج سنبھالا توانھوں نے مختلف شہروں میں نہروں، پلوں اوردیگرمثالی ڈھانچے کی شکل میں مواصلاتی چینلزکی تعمیر یقینی بنائی۔

یہ خطے کے تاریخی ورثے میں بڑااضافہ شمارہواجسے ریاست نے محفوظ کیا تاہم حکام نے کئی کونظراندازکیا۔اس کی بڑی مثال خیبر پختونخواکی ان گنت پن چکیاں ہیں جو انگریزوں نے1801ء سے 1860ء کے درمیان بنائیں مورخ نورالامین یوسف زئی نے ایکسپریس ٹریبیون کوبتایاکہ ماضی میں ضلعی انتظامیہ سماجی فلاح کیلیے ان تاریخی پن چکیوں کی دیکھ بھال اوراستعمال کرتی تھی، تب اس کے گردونواح میں گھوڑوں کے اصطبل اوران دیہاتیوں کیلیے رہائشی کمرے ہوتے تھے جوان پن چکیوں میں کام کرتے تھے۔

حکومت انھیں تنخواہ دیتی تھی۔ مورخین ٹیری ایس رینلڈز اورآرجے فاربس کے مطابق پن چکی میں پانی کے پہیے کاتصورتیسری صدی قبل ازمسیح سے ہوا ہوگا حبیب گل نامی شخص ،جس کے آباؤاجداد برسوں تک گندم پیسنے والی چار چکیاں چلاتے رہے، اس نے بتایاکہ 1830 میں والی سوات نے انگریزوں سے درخواست کی کہ اس کی ریاست میں بھی یہ پن چکی بنائی جائے،جس پرصوابی کے نزدیک بونیرکی سرحدپردریاکنارے پن چکی کی تعمیرشروع کی گئی جو1868میں مکمل ہوئی۔ حبیب گل ،جوخود ضلع بونیر سے ہے ، اس نے بتایاکہ پن چکی کی مددسے پیسی جانے والی گندم کے آٹے کاذائقہ اعلی معیار کاہوتاتھا۔اب ان میں سے چند فعال حالت میں بچی ہیں ۔صوابی میں موجود دوپن چکیوں میں سے صرف ایک فعال ہے، اسی طرح بونیرمیں ایک ، سوات اورپشاورمیں 2,2جبکہ مانسہرہ میں چند فعال ہیں۔

The post انگریزوں کی بنی پن چکیاں تاریخ کے قبرستان میں دفن appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2XKvIXQ

رتودیرو؛ ایچ آئی وی ایڈزنے ایک اورمعصوم کی جان لے لی

لاڑکانہ:  رتودیرو میں ایچ آئی وی ایڈز نے ایک اور معصوم کی زندگی لے لی، میرل جکھرو محلہ کے رہائشی منظور شاہ کی 7 ماہ کی بیٹی بی بی ہما شاہ زندگی کی جنگ ہار گئی۔

3 ماہ میں مرنے والوں کی تعداد 25 ہو گئی 23 بچے شامل ہیں، ایچ آئی وی ایڈز میں مبتلہ 7 سالہ بچی ہما کو پی پی ایچ آئی نے ایچ آئی وی پازیٹو جبکہ سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام نے رپورٹ منفی دی تھی، تیسری بار بچی کی ایچ آئی وی رپورٹ آغا خان سے کروانے پر مثبت آئی جسے سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام نے ماننے سے انکار کیا، متوفی بچی بی بی ہما شاہ کے والد سید منظور شاہ کا کہنا ہے کہ تین بار ایچ آئی وی رپورٹ کروائی گئی، ایچ آئی وی آؤٹ بریک کی تحقیقات کے لئے آنے والے ماہرین بھی ہمارے گھر تشریف لائے بچی کی رپورٹس دیکھیں اور علاج کے لئے لاڑکانہ میں قائم ٹریٹمنٹ سینٹر بھیجا تاہم ہمیں ادویات نہیں دی گئیں۔

ادھر ادھر رلایا گیا لیکن علاج نہیں دیا گیا اور میری بیٹی فوت ہو گئی، واضح رہے کہ 3 ماہ کے دوران مرنے والے ایچ آئی وی متاثرین کی تعداد 25 ہو گئی جس میں 23 بچے شامل ہیں، 2 ماہ سے زائد عرصہ میں تحصیل اسپتال رتودیرو اور گردونواح میں 30 ہزار سے زائد افراد کی بلڈ اسکریننگ کی گئی ہے جس میں اب تک 877 افراد ایچ آئی وی پازیٹو آ چکے ہیں جس میں سب سے زیادہ تعداد بچوں کی ہے، علاوہ ازیں ایچ آئی وی صورتحال پر ذمہ داران موقف دینے دے انکاری ہیں بارہا فون اور میسجز کے باوجود جواب نہیں دیا جاتا ان کا کہنا ہے کہ انہیں کسی بھی موقف سے منع کیا گیا ہے۔

The post رتودیرو؛ ایچ آئی وی ایڈزنے ایک اورمعصوم کی جان لے لی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/300M2S4

نوجوانوں کوبا اختیار بنانے کیلیے33 رکنی قومی یوتھ کونسل قائم

 اسلام آباد:  حکومت نے نوجوانوں کو سماجی، معاشی طور پر بااختیار بنانے کی جانب ایک اور قدم اٹھاتے ہوئے 33 رکنی قومی یوتھ کونسل آف پاکستان تشکیل دے دی ہے، وزیراعظم عمران خان اس کے سرپرست جبکہ وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے امور نوجوانان محمد عثمان ڈار چیئرمین ہونگے۔

وزیراعظم آفس پبلک برائے کامیاب جوان پروگرام کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق فیصلہ سازی میں نوجوانوں کو شریک کرنے کی غرض سے پہلی قومی یوتھ کونسل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔پاک فوج کے میجر تنویر شفیع، کرکٹر حسن علی ، خاتون کرکٹر ثنا میر، اداکار حمزہ علی عباسی، اداکارہ ماہرہ خان، کوہ پیما ثمینہ بیگ ، اینکر پرسن منیبہ مزاری اس کونسل کے کلیدی ممبران ہونگے۔ قومی یوتھ کونسل ایک مشاورتی ادارہ ہو گا جو مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لئے پالیسی سفارشات مرتب کرے گی۔

The post نوجوانوں کوبا اختیار بنانے کیلیے33 رکنی قومی یوتھ کونسل قائم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Jk8Y89

وزیرتعلیم کا ٹیسٹ پاس 6000 اساتذہ کو آفر لیٹرجاری کرنے کا حکم

کراچی: آئی بی اے سکھر کے تحت ٹیسٹ پاس کرنیوالے امیدواروں کا انتظار ختم ہوگیا، صوبائی وزیرتعلیم نے ایک ہفتے میں آفر لیٹر جاری کرنے کا حکم دے دیا، تفصیلات کے مطابق آئی بی اے سکھر کے تحت ٹیسٹ پاس کرکے تعینات ہونے والے جونیئر ایلیمینٹری اسکول ٹیچر اور ارلی چائلڈ ہڈ ٹیچرز کا انتظار ختم ہوگیا۔

سندھ کے وزیر تعلیم سردار شاہ نے آئی بی اے ٹیسٹ پاس کرنے والے 6000 اساتذہ کو ایک ہفتے میں آفر آرڈر جاری کرنے کا حکم دے دیا،وزیر تعلیم نے ضلعی تعلیمی افسران سے پوچھا ہے کہ نئے اساتذہ کی بھرتیوں میں دیر کیوں ہوئی ہے جس پر ڈی ای اوز کا کہنا تھا کہ جے ای ایس ٹی اور ای سی ٹی اساتذہ کی ڈگریاں تصدیق کے لیے جامعات کو بھیجی گئی ہیں جو ابھی تک واپس نہیں آئیں اسی لیئے تعیناتی میں تاخیر ہوئی جس پر وزیر تعلیم نے کہا کہ ڈگریوں کی جامعات سے تصدیق کا عمل مکمل ہونے میں بہت دیر ہوجائے گی ان کا انتظار نہ کریں جامعات سے تصدیق کا عمل مکمل ہونے تک امیدواروں کو مشروط آفر آرڈر جاری کردیں اورآفر آرڈر میں تمام تعلیمی اسناد اور ڈومیسائل کی مکمل تصدیق کی مشروط شق شامل کرلیں اگر کسی کی ڈگری یا ڈومیسائل کی تصدیق نہ ہوئی تو اس کا آفر آرڈر کینسل سمجھا جائے گا، وزیر تعلیم نے واضح کیا کہ تمام اساتذہ کو پہلے سے طے شدہ یوسی اور تعلقہ اسکولوں میں ہی مقرر کیا جائے گا ۔

سندھ میں اساتذہ کی بھرتیوں کے لیے گزشتہ سال اکتوبر میں 6000 اسامیوں پر ٹیسٹ لیا گیا تھا اساتذہ بننے کے خواہشمند20 ہزار امیدواروں نے آئی بی اے سکھر کے تحت ٹیسٹ میں حصہ لیا تھا جبکہ صرف 2000 اساتذہ ٹیسٹ پاس کرسکے تھے اور 18000 امیدوار ٹیسٹ میں فیل ہوگئے تھے اور اس طرح محکمہ تعلیم 6000 افراد کی اسامیوں پر تعینانی میں ناکام رہا تھا اور4 ہزار اسامیوں پر تعیناتی باقی تھی جس کے بعد وزیر تعلیم نے وزیراعلی سندھ کو سمری ارسال کرکے موقف اختیار کیا کہ ٹیسٹ میں پاسنگ مارکس 60 سے کم کرکے 50 کردیے جائیں کیونکہ اگر 60 نمبر پاس ہونے والی شرط کو برقرار رکھا گیا تو پھر اساتذہ کی بھرتیوں کا عمل مکمل نہ ہوسکے گا اور اسکول ویسے ہی خالی رہیں گے۔

 

The post وزیرتعلیم کا ٹیسٹ پاس 6000 اساتذہ کو آفر لیٹرجاری کرنے کا حکم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/323LgFp

جامعہ کراچی، لاکھوں طلبا کا حساس ریکارڈ غیر متعلقہ افراد تک جانے کا انکشاف

کراچی: جامعہ کراچی کے کئی ملین طلبہ کا 10 سالہ حساس امتحانی ریکارڈ غیر متعلقہ افراد کو فراہم کیے جانے اور 41 ہزار ڈگریا ں شعبہ امتحانات سے غیر قانونی طورپر کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کا بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ یہ غیر قانونی اقدام سابقہ انتظامیہ کے ناظم امتحانات ڈاکٹر عرفان عزیز کی جانب سے کیا گیا جس کے سبب جامعہ کراچی کی ڈگریاں اور طلبہ کا امتحانی ریکارڈ کے غلط یا مجرمانہ مقاصد کیلیے استعمال ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

اس اسکینڈل کا انکشاف جامعہ کراچی کے موجودہ ناظم امتحانات پروفیسر ڈاکٹر ارشد اعظمی کی جانب سے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کو لکھے گئے خط میں ہوا ہے جس کے بعد وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی کی جانب سے اس معاملے کا انتہائی سخت نوٹس لیتے ہوئے ایک انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو 15 روز میں وائس چانسلر کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔کمیٹی کے کنوینر سابق ڈین فارمیسی پروفیسر ڈاکٹر اقبال اظہرجبکہ دیگر اراکین میں شعبہ سیاسیات کی پروفیسر ڈاکٹر نصرت ادریس اورشعبہ زولوجی کی پروفیسرناصرہ خاتون شامل ہیں۔ادھر وائس چانسلر جامعہ کراچی سے جب ایکسپریس نے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ معاملہ سامنے آنے پر تحقیقاتی کمیٹی بنائی گئی ہے اور کوئی بھی فیصلہ اور مزید حقائق تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں ہی ممکن ہوںگے۔ ایکسپریس کو معلوم ہواہے کہ جامعہ کراچی کے موجودہ ناظم امتحانات پروفیسر ڈاکٹر ارشد اعظمی نے وائس چانسلر کو لکھے گئے اپنے خط میں حیرت انگیز انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب انھوں نے 17 مئی کو اپنے عہدے کا چارج لیا تو معلوم ہو ا کہ پاکستان پرنٹنگ پریس سے چھپوائی گئی جامعہ کراچی کی اسناد شعبہ امتحانات میں موجود نہیں،یہ سادہ اسناد شعبہ امتحانات سے غیر قانونی طورپر انسٹی ٹیوٹ آف سسٹین ایبل ہیلو فائٹ میں منتقل کردی گئیں۔ان سادہ ڈگریوں کے 82 پیکٹ شعبہ امتحانات سے غائب تھے اور ہر پیکٹ میں 500 اسناد تھیں۔

اسناد کے یہ پیکٹ 3 جون کو سابق ناظم امتحانات ڈاکٹر عرفان عزیز نے ڈیڑھ سال کے عرصے کے بعد ڈپٹی کنٹرولر ظفر حسین کے حوالے کیے۔ڈاکٹر ارشد اعظمی نے خط میں مزید موقف اختیار کہ ڈیڑھ سال تک یہ اسناد شعبے سے غائب رہی ہیں، وہ یہ بات نہیں جانتے کہ واپس ملنے والی ڈگریوں کی تعداد کتنی ہے۔جبکہ یہ ڈگریاں شعبہ امتحانات کے اسٹور سے کس کی اجازت سے انسٹی ٹیوٹ آف سسٹین ایبل ہیلو فائٹ یوٹیلائزیشن منتقل کی گئیں۔خط میں آگے چل کر مزید انکشافات کیے گئے کہ شعبہ امتحانات کے آئی ٹی پروگرامر نوید جو تمام امتحانی ڈیٹا کی اسٹوریج کے ذمے دارہیں ان سے سابق ناظم امتحانات ڈاکٹر عرفان عزیز نے 2007 ء تا2017 ء دس سال کا امتحانی ڈیٹا لے کر کوالٹی انہانسمنٹ سیل کے ایک افسر جاوید اکرم کے حوالے کردیا۔جبکہ ان ہی دس برسوں کا سیمسٹر ایگزامینیشن کا امتحانی ڈیٹا بھی جاوید اکرم کے حوالے کیا گیا۔خط میں جاوید اکرم سے متعلق معلومات دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جاوید اکرم کا تقرر ایک سوالیہ نشان ہے، ان کی شہرت بہتر نہیں ہے اور انہیں ماضی میں وفاقی اْردو یونیورسٹی کی ملازمت سے فارغ کیا گیا تھا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ناظم امتحانات کی حیثیت سے ڈاکٹر ارشد اعظمی طلبہ کے امتحانی ڈیٹا کی حفاظت کے ذمے دار ہیں اور یہ بات ان کے لیے انتہائی پریشان کن اور مشکوک ہے کہ ہمارا امتحانی اور سیمسٹر کا ڈیٹاLeak ہوگیا ہے۔

یہ تمام امور ان کے چارج سنبھالنے سے قبل انجام پائے ہیں،لہذا وہ اس کے ذمے دار نہیں ہیں تاہم اس امر کے ذمے داروں کا تعین بھی ضروری ہے۔خط میں وائس چانسلر سے اس معاملے کی اعلیٰ سطح کی تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔ادھر ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے ناظم امتحانات ڈاکٹر ارشد اعظمی نے بتایا کہ جامعہ کراچی کے ایک سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر کے دور میں پاکستان پرنٹنگ پریس سے یونیورسٹی کی اسناد چھاپنے کا معاہدہ طے پایا تھا میں اس وقت بھی ناظم امتحانات تھا۔تاہم سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اجمل خان کے دور میں جب مجھے عہدے سے سبکدوش کیا گیا اس وقت تک یہ ڈگریاں پاکستان پرنٹنگ پریس نے جامعہ کراچی کے حوالے نہیں کی تھیں۔ جب انہیں اس عہدے کا چارج موجودہ وائس چانسلر نے دوبارہ دیا تومعلوم ہوا کہ ڈگریاں شعبہ امتحانات کے بجائے انسٹی ٹیوٹ آف ہیلو فائٹ میں موجود ہیں۔قانونی طورپر یہ ڈگریاں یونیورسٹی کے وائس چانسلر یا ناظم امتحانات (کنٹرولرآف ایگزامینیشن) بھی اپنے ساتھ نہیں لے جاسکتے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے طلبہ کی10 سالوں کی کمپیوٹرائز ٹیبولیشن بھی یہاں سے ایک افسر کو منتقل کردی گئی جو قانونی طورپر ایک سنگین جرم ہے،لہذا میں نے تحقیقات کی سفارش کی ہے۔دوسری جانب بتایا جارہا ہے کہ امتحانی ڈیٹا پی ایچ ڈی کرنے والے کچھ غیر متعلقہ افراد کے حوالے کیا گیاہے۔

The post جامعہ کراچی، لاکھوں طلبا کا حساس ریکارڈ غیر متعلقہ افراد تک جانے کا انکشاف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2IZHZPY

بلاول 6 جولائی کوڈیرہ اسماعیل خان میں جلسہ کریں گے

پشاور: پیپلزپارٹی نے حکومت مخالف رابطہ عوام مہم خیبرپختوا میں بھی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری 6 جولائی کو ڈیرہ اسماعیل خان میں جلسہ کرینگے۔ علاوہ ازیں بلاول کو ضم قبائلی علاقوں میں انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسوں کی ابھی تک اجازت نہیں مل سکی جس کے باعث بلاول کے دورہ خیبرپختونخوا کی تاریخوں کا تعین نہیں کیا جاسکا۔ یہ انتخابات 20 جولائی کو ہونے جارہے ہیں ۔پیپلزپارٹی کی جانب سے ہر قبائلی ضلع کی مقامی انتظامیہ کو جلسے کیلیے درخواستیں دیدی گئی ہیں لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

The post بلاول 6 جولائی کوڈیرہ اسماعیل خان میں جلسہ کریں گے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2XagEPa

2 جولائی کو سورج گرہن ہوگا، پاکستان میں دیکھا نہیں جا سکے گا

کوئٹہ: سورج گرہن برازیل، ارجنٹائن براعظم امریکا کے جنوبی حصوں میں دیکھا جاسکے گا۔

پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق 2 اور3 جولائی کی درمیانی شب سورج گرہن کا آغاز رات 10 بجے ہوگا جو رات 3 بجے تک جاری رہے گا۔  پاکستان اورایشیا میں رات ہونے کی وجہ سے سورج گرہن نظر نہیں آئے گا جبکہ چاند گرہن 16 اور17 جولائی کی درمیانی شب رات11 بجکر50 منٹ پر شروع ہوگا اور17 جولائی صبح5 بجکر20 منٹ طلوع آفتاب سے15 منٹ پہلے ختم ہوگا۔یہ گرہن جنوبی ایشیاء بشمول پاکستان،آسٹریلیا، افریقہ ، یورپ ، عرب ممالک، مشرق وسطیٰ، روس ، میں دیکھا جاسکے گا۔ دوسری جانب ماہر فلکیات ڈاکٹر ریاض احمد نے کہا ہے کہ اس سال پانچ سورج اور چاند گرہن ہوں گے ۔

The post 2 جولائی کو سورج گرہن ہوگا، پاکستان میں دیکھا نہیں جا سکے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2J0oQNZ

ترک بارڈرفورسز کی کوچ پر فائرنگ، 10 پاکستانی جاں بحق

وزیر آباد:  ترکی سے یونان جاتے ہوئے بارڈرکے قریب ترک سیکیورٹی فورس کی فائرنگ سے کوچ الٹ گئی۔

گولیاں لگنے سے 10 پاکستانی جاں بحق اور 25 زخمی ہو گئے۔ مرنے والوں میں علی پور چٹھہ کا رہائشی 23 سالہ علی مرتضیٰ بھی شامل ہے، علی پور چٹھہ کاعلی مرتضیٰ بہتر مستقبل کی تلاش میں 3سال قبل ترکی گیا تھا، ترکی سے یونان جانے کیلیے دیگر پاکستانیوں کے ہمراہ کوچ میں سوار ہو کر جا رہاتھا، بارڈر کراس کرنے کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کے آتے ہی کوچ کا ڈرائیور خوفزدہ ہو گیا۔

فورسز کے نے کوچ روکنے کا اشارہ کیا مگر ڈرائیور نے کوچ کو بھگا دیا جس پر فورسز نے فائرنگ شروع کر دی، کو چ کا ڈرائیور چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا کر فرار ہو گیا، اس دوران تارکین وطن کی بغیر ڈرائیور کوچ ایک عمارت سے جا ٹکرائی، فائرنگ اور کوچ کے ٹکرا نے سے 10 پاکستانی جاں بحق جبکہ 25 دیگر تارکین وطن زخمی ہوئے جنہیں بارڈر فورس نے حراست میں لے لیا۔ علی مرتضیٰ کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ترکی میں موجود اس کے ہم پیشہ ساتھیوں نے علی پور چٹھہ میں اس کے والدین کو ٹیلی فون پر دی تاہم ابھی نعش کی واپسی کا کوئی شیڈول سامنے نہیں آیا ہے۔

The post ترک بارڈرفورسز کی کوچ پر فائرنگ، 10 پاکستانی جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2YlLFkh

میچ میں پاکستانیوں پرحملہ آوروں کو کچھ خاص لوگوں کی مدد حاصل تھی، ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی  : ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پاک افغان میچ کے دوران افغان شائقین کے پاکستانیوں پر حملے کے حوالے سے کہا ہے کہ کھیل کی گہما گہمی اور گرمی کے باوجود بہروپ بدل کر کچھ لوگوں نے اسٹیڈیم کے اندر اور باہر جو رویہ اپنایا وہ کھیل نہیں تھا۔

میجر جنرل آصف غفور نے ایک ا فغان لڑکے کی وڈیو بھی شئیر کی جو اسپورٹس مین شپ کا مظاہرہ نہیں کر پایا۔ انھوں نے اپنے ٹوئٹر اورانسٹاگرام پیغام میں لکھا کہ ایسا رویہ اپنانے والوں کو کچھ خاص لوگوں کی مدد حاصل تھی جن کے بارے میں ہمیں علم ہے، ہم پاکستانی اپنی اقدار سے جڑے رہے اور ہم نے اسٹیڈیم میں اسی رویے کا مظاہرہ کیا۔

The post میچ میں پاکستانیوں پرحملہ آوروں کو کچھ خاص لوگوں کی مدد حاصل تھی، ڈی جی آئی ایس پی آر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3255gYC

پتریاٹہ کیبل کارمیں پھنسے 100 سیاحوں کو بحفاظت نکال لیا گیا

 راولپنڈی: رات بھر جوائنٹ ریسکیو آپریشن کے بعد پتریاٹہ چیئر لفٹ کیبل کار میں پھنسے 100 کے قریب سیاحوں کو بحفاظت نکا ل لیاگیا۔

تحقیقات کے احکام جاری کردیے گئے ، تحقیقات مکمل ہونے تک چیئر لفٹ آپریشنل نہیں کی جائے گی، ریسکیو آپریشن میں پاک فوج، ریسکیو 1122، راولپنڈی پولیس ، سول ڈیفنس کے اہلکاروں ، چیئر لفٹ کے اسٹاف اور مقامی افراد نے حصہ لیا۔ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی محمد علی رندھاوا و سی پی او فیصل رانا واقعے کی اطلاع ملتے ہی پتریاٹہ پہنچے۔انھوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اﷲ تعالی کا شکر ہے کہ پتریاٹہ چیئر لفٹ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔ ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے والوں نے اندھیرے ، طوفان بادو باراں و دھند کے باوجود کھمبوں پر چڑھ کر فضا میں معلق کیبنز کو دوبارہ بحال کرنے کا مشکل ہدف مکمل کیا ۔

تحقیقات کے بعد اطیمنان بخش احتیاطی اقدامات کی یقین دہانی کے بغیر چیئر لفٹ کو آپریشنل نہیں کیا جائے گا ۔ چیئر لفٹ ریسکیو آپریشن کی تکمیل کے بعد جب مرد و خواتین اور بچوں کو بحفاظت ریسکیو کرلیا گیا تو وہ سجدہ شکر بجالائے اور بلا تاخیر امدادی کارروائیوں پر تمام متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ ادھرکمشنر راولپنڈی ثاقب ظفر نے شاندار انداز میں خدمات سرانجام دینے پر تمام اداروں کی کارکردگی کو سراہا۔

The post پتریاٹہ کیبل کارمیں پھنسے 100 سیاحوں کو بحفاظت نکال لیا گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/300Maku

انگریزوں کی بنی پن چکیاں تاریخ کے قبرستان میں دفن

بونیر:  انگریزوں نے جب برصغیرمیں راج سنبھالا توانھوں نے مختلف شہروں میں نہروں، پلوں اوردیگرمثالی ڈھانچے کی شکل میں مواصلاتی چینلزکی تعمیر یقینی بنائی۔

یہ خطے کے تاریخی ورثے میں بڑااضافہ شمارہواجسے ریاست نے محفوظ کیا تاہم حکام نے کئی کونظراندازکیا۔اس کی بڑی مثال خیبر پختونخواکی ان گنت پن چکیاں ہیں جو انگریزوں نے1801ء سے 1860ء کے درمیان بنائیں مورخ نورالامین یوسف زئی نے ایکسپریس ٹریبیون کوبتایاکہ ماضی میں ضلعی انتظامیہ سماجی فلاح کیلیے ان تاریخی پن چکیوں کی دیکھ بھال اوراستعمال کرتی تھی، تب اس کے گردونواح میں گھوڑوں کے اصطبل اوران دیہاتیوں کیلیے رہائشی کمرے ہوتے تھے جوان پن چکیوں میں کام کرتے تھے۔

حکومت انھیں تنخواہ دیتی تھی۔ مورخین ٹیری ایس رینلڈز اورآرجے فاربس کے مطابق پن چکی میں پانی کے پہیے کاتصورتیسری صدی قبل ازمسیح سے ہوا ہوگا حبیب گل نامی شخص ،جس کے آباؤاجداد برسوں تک گندم پیسنے والی چار چکیاں چلاتے رہے، اس نے بتایاکہ 1830 میں والی سوات نے انگریزوں سے درخواست کی کہ اس کی ریاست میں بھی یہ پن چکی بنائی جائے،جس پرصوابی کے نزدیک بونیرکی سرحدپردریاکنارے پن چکی کی تعمیرشروع کی گئی جو1868میں مکمل ہوئی۔ حبیب گل ،جوخود ضلع بونیر سے ہے ، اس نے بتایاکہ پن چکی کی مددسے پیسی جانے والی گندم کے آٹے کاذائقہ اعلی معیار کاہوتاتھا۔اب ان میں سے چند فعال حالت میں بچی ہیں ۔صوابی میں موجود دوپن چکیوں میں سے صرف ایک فعال ہے، اسی طرح بونیرمیں ایک ، سوات اورپشاورمیں 2,2جبکہ مانسہرہ میں چند فعال ہیں۔

The post انگریزوں کی بنی پن چکیاں تاریخ کے قبرستان میں دفن appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2XKvIXQ

رتودیرو؛ ایچ آئی وی ایڈزنے ایک اورمعصوم کی جان لے لی

لاڑکانہ:  رتودیرو میں ایچ آئی وی ایڈز نے ایک اور معصوم کی زندگی لے لی، میرل جکھرو محلہ کے رہائشی منظور شاہ کی 7 ماہ کی بیٹی بی بی ہما شاہ زندگی کی جنگ ہار گئی۔

3 ماہ میں مرنے والوں کی تعداد 25 ہو گئی 23 بچے شامل ہیں، ایچ آئی وی ایڈز میں مبتلہ 7 سالہ بچی ہما کو پی پی ایچ آئی نے ایچ آئی وی پازیٹو جبکہ سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام نے رپورٹ منفی دی تھی، تیسری بار بچی کی ایچ آئی وی رپورٹ آغا خان سے کروانے پر مثبت آئی جسے سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام نے ماننے سے انکار کیا، متوفی بچی بی بی ہما شاہ کے والد سید منظور شاہ کا کہنا ہے کہ تین بار ایچ آئی وی رپورٹ کروائی گئی، ایچ آئی وی آؤٹ بریک کی تحقیقات کے لئے آنے والے ماہرین بھی ہمارے گھر تشریف لائے بچی کی رپورٹس دیکھیں اور علاج کے لئے لاڑکانہ میں قائم ٹریٹمنٹ سینٹر بھیجا تاہم ہمیں ادویات نہیں دی گئیں۔

ادھر ادھر رلایا گیا لیکن علاج نہیں دیا گیا اور میری بیٹی فوت ہو گئی، واضح رہے کہ 3 ماہ کے دوران مرنے والے ایچ آئی وی متاثرین کی تعداد 25 ہو گئی جس میں 23 بچے شامل ہیں، 2 ماہ سے زائد عرصہ میں تحصیل اسپتال رتودیرو اور گردونواح میں 30 ہزار سے زائد افراد کی بلڈ اسکریننگ کی گئی ہے جس میں اب تک 877 افراد ایچ آئی وی پازیٹو آ چکے ہیں جس میں سب سے زیادہ تعداد بچوں کی ہے، علاوہ ازیں ایچ آئی وی صورتحال پر ذمہ داران موقف دینے دے انکاری ہیں بارہا فون اور میسجز کے باوجود جواب نہیں دیا جاتا ان کا کہنا ہے کہ انہیں کسی بھی موقف سے منع کیا گیا ہے۔

The post رتودیرو؛ ایچ آئی وی ایڈزنے ایک اورمعصوم کی جان لے لی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/300M2S4

Saturday, 29 June 2019

لیثررلیگز فٹبال، کوالیفائنگ راؤنڈ جولائی میں شیڈول

کراچی: لیثررلیگز نیشنل چیمپئن شپ کا کوالیفائنگ راؤنڈ جولائی کے پہلے ہفتہ سے سکھر میں شروع ہورہا ہے جس میں 9ٹیمیں باہم مقابل ہونگی۔

لیثررلیگز نیشنل چیمپئن شپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں ملک کے دیگر شہروں ٹنڈو جام میں 10، اسلام آباد میں 4، پشاور میں 4 مینگورہ میں 4، صوابی میں 4، کوئٹہ میں 16، لاہور، سیالکوٹ ، گجرات اورملتان میں 4،4جبکہ گلگت اور پاسو میں 4،4 ٹیمیں حصہ لیں گی۔

کراچی میں28 جولائی کو فائنل راؤنڈ کھیلنے والی 4ٹیموں کا فیصلہ ہوگا، سندھ سے کوالیفائی کرنے والی ٹیم کا فیصلہ ٹنڈوجام کی زرعی یونیورسٹی گراؤنڈ پر ہوگا جہاں سکھر اور ٹنڈوجام سے 19 ٹیموں کے گروپ میچز کے بعد سندھ کی ٹاپ ٹیم کا فیصلہ ہوگا۔

کے پی کے ، بلتستان اور اسلام آبادکی کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنے والی20 ٹیموں میں سے ٹاپ ٹیم کا فیصلہ پشاور میں ہوگا۔بلوچستان کی19 ٹیموں میں سے ٹاپ ٹیم کا چناؤکوئٹہ میں ہوگا۔لاہور، سیالکوٹ، ملتان اور گجرات کی 16 ٹیموں میں سے پنجاب کی ایک ٹاپ ٹیم کے فیصلے کیلیے لاہور میں کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلا جائے گا۔

28 جولائی کوپنجاب، کے پی کے ، بلوچستان اور سندھ کی ایک ایک ٹیم کراچی میں نیشنل چیمپئن شپ کا فائنل راؤنڈ کھیلیں گی، فائنل راؤنڈ کی فاتح ٹیم بحیثیت نیشنل چیمپئن 12تا 20اکتوبر دوسرے سوکا ورلڈ کپ کا فائنل راؤنڈ کھیلنے یونان کے شہر کریٹ کا سفرکریگی۔

 

The post لیثررلیگز فٹبال، کوالیفائنگ راؤنڈ جولائی میں شیڈول appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2JdOr53

حاجرہ خان ورلڈ ریکارڈ فٹبال میچ کا دوبارہ حصہ بنیں گی

کراچی: پاکستانی  ویمن فٹبال ٹیم کی کپتان حاجرہ خان ورلڈ ریکارڈ میچ کا حصہ بننے جارہی ہیں جب کہ یہ ایونٹ فرانس میں جاری ویمنز ورلڈ کپ کے سائیڈ لائن پر لیون میں ہی کھیلا جائیگا۔

حاجرہ خان دوسری بار ورلڈ ریکارڈ میچ میں شرکت کریں گی، پاکستانی خاتون فٹبالر کا یہ خواب ہے کہ ایک دن وہ ورلڈ کپ کا بھی حصہ بنیں تاہم یہ منزل ابھی دور ہے، قومی ٹیم نے آخری انٹرنیشنل ایونٹ 2014 میں کھیلا تھا۔

بطور کپتان حاجرہ صورتحال کو تبدیل کرنا چاہتی ہیں، وہ چاہتی ہیں کہ پاکستان فٹبال فیڈریشن ( پی ایف ایف ) کھیل کو سنجیدگی سے دیکھے اور اس میں بھی زیادہ اہمیت خواتین فٹبال کو دینی چاہیے، انھیں ویمنز فٹبال کو محض رسمی کارروائی کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے،جہاں خواتین کیلیے محض ایک سیزن ہوتا ہے اور اس میں بھی نیشنل فٹبال چیمپئن شپ ایک ہفتے سے زائد وقت پر محیط ہوتی ہے۔

پی ایف ایف نے اپنی نیشنل انڈر16 اور19 چیمپئن شپ گذشتہ برس شروع کی ہیں جبکہ پاکستان ویمنز نیشنل فٹبال ٹیم نے اپنا انٹرنیشنل ڈیبیو 2010 میں کیا تھا، اس کے بعد اس میں کوئی خاص پیشرفت نہیں ہوئی جو پی ایف ایف میں غیرپیشہ ورانہ رویے  کی عکاس ہے، اس صورتحال پر پلیئرز دلبرداشتہ ہوتے ہیں اور خاص کر ویمنز فٹبال کو مردوں کے کھیل کے برابر خیال نہیں کیا جاتا۔

حاجرہ ورلڈ کپ کے موقع پر شیڈول اس مقابلے میں جورڈن کوئسٹ نامی ٹیم کا حصہ بنیں گی، اسی ٹیم کیلیے حاجرہ کو گذشتہ برس بھی ایکول پلیئنگ فیلڈ انیشیٹو کے تحت اردن میں منعقدہ میچ کیلیے بھی منتخب کیا گیا تھا، حاجرہ فرانس میں شیڈول اس مقابلے کیلیے اب خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر بہترین حالت میں خیال کرتی ہیں۔

’’ایکسپریس ٹریبیون‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے حاجرہ نے کہا کہ میں اس میچ میں شرکت کیلیے ٹریننگ جاری رکھے ہوئے ہوں، انجری سے نجات پانے میں خاصی مشکلات پیش آتی ہیں، کیونکہ پاکستان میں کوئی اسپورٹس میڈیسن ایکسپرٹ نہیں ہے اور نہ ہی فیڈریشن سے ہمیں کوئی سپورٹ ملتی ہے، میں وہاں اپنی اکیڈمی ٹیم فورٹس کا بھی حصہ بنوں گی جو بھی فرانس میں ہوگی جبکہ میں وہاں جورڈن کوئسٹ کے ساتھ بھی میچ میں حصہ لوں گی،اس بار ای پی ایف فیسٹیول میچ فرانس کے شہر لیون میں کھیلا جائیگا۔

 

The post حاجرہ خان ورلڈ ریکارڈ فٹبال میچ کا دوبارہ حصہ بنیں گی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2XixIY7

پاکستان فٹبال؛ فیفا نے نارملائزیشن کمیٹی بنانے کا فیصلہ کرلیا

لاہور: فیفا کی بیوروکونسل نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کے لیے نارملائزیشن کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کر لیا۔

فٹبال کے حلقوں سے نئی خبر سامنے آ گئی ، پاکستان میں فٹبال کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے فٹبال کی عالمی تنظیم حرکت میں آ گئی ہے اور اس نے پاکستان میں کھیل کے رکے معاملات کوبہترانداز میں چلانے کے لیے نارملائزیشن کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ فیفا اور اے ایف سی کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی طرف سے تجاویز آنے کے بعد کیا گیا ہے۔

جاری مراسلہ کے بعد نارملائزیشن کمیٹی کے اختیارات میں پی ایف ایف کے روزانہ کے امور کے معاملات، پاکستان بھر کے کلبزکی رجسٹریشن اور اسکروٹنی ، ڈسٹرکٹ اور صوبائی سطح کے الیکشن کا انعقاد اورالیکشن کے لیے پی ایف ایف کی ایگزیکٹیو باڈی کا قیام شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق نارملائزیشن کمیٹی پاکستانی افراد پر ہی مشتمل ہوگی جس میں ریٹائرڈ ججز، بیوروکریٹس اور فٹبال سے وابستہ شخصیات کو شامل کیا جا سکتا ہے۔

ادھر فیفا کی تسلیم شدہ پاکستان فٹبال فیڈریشن نے فیفا بیورو کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے، اپنے بیان میں فیڈریشن عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مخصوص لوگوں کی وجہ سے گزشتہ چار سال سے پاکستان میں فٹبال کی سرگرمیاں معطل ہیں، ہم نے ہمیشہ سے ایسے اقدامات کیے ہیں جس کواپناکرکھیلوں کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کی جاسکیں، فیفا کی نارملائزیشن کمیٹی کے فیصلے کے بعد پر امید ہیں کہ ماضی کی طرح مستقبل میں ایک بار پھر پاکستانی کھلاڑی ملکی اور انٹرنیشنل سطح پر بھر پور ایکشن میں دکھائی دیں گے۔

عہدیداروں کا مزید کہنا ہے کہ ہمارا پہلے دن سے ہی یہ واضح موقف رہا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک فیفا اور اے ایف سی کی سپورٹ کے بغیر اس کھیل میں ترقی نہیں کر سکتا۔ فیفا کا ایک لیٹر بھی سامنے آچکا ہے جس میں عالمی باڈی کی طرف سے کرنل(ر) احمد یار لودھی کو ہی پی ایف ایف کا سیکریٹری جنرل تسلیم کیا گیا ہے۔

 

The post پاکستان فٹبال؛ فیفا نے نارملائزیشن کمیٹی بنانے کا فیصلہ کرلیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2IX6P2V

عالمی اسنوکر: پاکستان کی ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی

کراچی: پاکستان عالمی اسنوکر ٹیم کپ چیمپئن شپ 2019 کے ناک آؤٹ راؤنڈ میں پہنچ گیا۔

قطرکے شہر دوحا میں عالمی اسنوکر کپ کے پہلے روزگروپ راؤنڈ کے مقابلے ہوئے، گروپ ’بی‘ میں ٹاپ سیڈ قرار پانے والی پاکستان ٹیم نے عمدہ کارکردگی پیش کرتے ہوئے اپنے دونوں میچز میں فتوحات  حاصل کرلی، اسجد اقبال اورمحمد بلال  پر مشتمل قومی سائیڈ نے افتتاحی میچ میں ایک فریم کی قربانی دے کر  قطر 2 ٹیم کو 3-1 سے شکست دیدی۔

دوسرے میچ میں پاکستان کیوئسٹس نے مصری ٹیم کو 3-0 سے قابو کرلیا، عالمی کپ میں  17 ممالک کی 18 ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں جن کو 6 گروپ میں تقسیم کیا گیا ہے،  ہر گروپ کی دو ٹاپ ٹیمیں  ناک آؤٹ راؤنڈ میں جگہ بنائیں گی ،ٹاپ4 ٹیمیں  کوارٹر فائنل میں شرکت کی اہل ہوں گی جبکہ دیگر 8 ٹیمیں راؤنڈ 12 میں  حصہ لیں گی۔

یاد رہے کہ آج کوارٹر فائنلزکھیلے جائیں گی جبکہ پیر کو سیمی فائنلز اورمنگل کو فائنل شیڈول ہے۔

 

The post عالمی اسنوکر: پاکستان کی ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2XcYzzI

سری لنکا ون ڈے کرکٹ میں سب سے زیادہ ناکامیاں پانے والی ٹیم بن گئی

چیسٹر لی اسٹریٹ: آئی لینڈرز ون ڈے کرکٹ میں سب سے زیادہ ناکامیاں پانے والی ٹیم بن گئے۔

بھارت کا ایک ان چاہا ریکارڈ اب سری لنکا کے گلے پڑگیا، آئی لینڈرز ون ڈے کرکٹ میں سب سے زیادہ ناکامیاں  پانے والی ٹیم بن گئے۔

جمعے کے روز جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں شکست ان کی اس فارمیٹ میں 418 ویں ناکامی تھی جو842 ویں میچ میں ملی، بھارت کو اب تک 971 میچز میں 417 شکستوں کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔

 

The post سری لنکا ون ڈے کرکٹ میں سب سے زیادہ ناکامیاں پانے والی ٹیم بن گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2IXMQBp

ایسے کیسے ورلڈکپ جیتیں گے

پاکستان اور افغانستان کے میچ میں کون سی ٹیم فیورٹ ہوگی،گذشتہ دنوں جب ایک ٹی وی شو میں میزبان نے مجھ سے یہ سوال کیا تو میں نے بغیر کوئی لمحہ ضائع کیے اپنی ٹیم کا نام لیا، ساتھ یہ بھی کہا کہ ورلڈکپ میں ساتوں میچز ہارنے والی افغان سائیڈ سے مجھے کسی اپ سیٹ کی توقع نہیں۔

شکر ہے میں غلط ثابت ہوتے ہوتے رہ گیا، جن بچوں نے ہمیں دیکھ کر کرکٹ کھیلنا سیکھی آج شرمندگی کا شکار کرنے والے تھے، وہ تو بھلا ہو عماد وسیم اور  وہاب ریاض کا جنھوں نے اعصاب قابو میں رکھتے ہوئے ٹیم کو فتح دلا دی، شکست میں افغان ٹیم کی ناقص فیلڈنگ کا بھی اہم کردار رہا جس نے کیچز ڈراپ کرنے کے ساتھ کافی اضافی رنز بھی دیے۔

میچ میں ایسا محسوس ہی نہیں ہوا کہ یہ وہی پاکستانی سائیڈ ہے جو جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کو مات دے کر ورلڈکپ میں واپس آئی، اگر ہم ہار جاتے تو اس میں سب سے بڑا کردار امام الحق کا ہوتا جنھوں نے نجانے کیا سوچ کر کریز سے نکل کر احمقانہ شاٹ کھیلتے ہوئے وکٹ گنوائی، ان سے پہلے فخر زمان تو دوسری ہی گیند پر چلتے بنے تھے،اوپنرزکی فارم پاکستان کیلیے  باعث تشویش ہے۔

سلیکشن کمیٹی نے عابد علی کو وطن واپس بھیج کر غلط فیصلہ کیا جو اب  مشکلات بڑھا رہا ہے، بابراعظم  نے ایونٹ میں بہترین کھیل پیش کیا لیکن افغانستان کیخلاف وہ لیگ اسٹمپ محفوظ نہ رکھ سکے، اگر ٹیم کسی ایک کھلاڑی پر انحصار کرے تو ایسا ہی ہوتا ہے، بابر کے آؤٹ ہونے سے سب حواس باختہ ہو گئے،محمد حفیظ اتنے سینئر کھلاڑی ہیں لیکن مشکل وقت میں ٹیم کو بیچ منجھدار میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، اس میچ میں بھی ایسا ہی ہوا، حارث سہیل بھی گذشتہ دونوں میچز کی کارکردگی کا سلسلہ برقرار نہ رکھ سکے۔

سرفراز کو کیپٹن اننگز کھیلنا چاہیے تھی مگر وہ بھی رن آؤٹ ہو گئے،جب  156 رنز پر 6 وکٹیں گریں تو ناکامی یقینی نظر آ رہی تھی مگر عماد وسیم کو ہیرو بننے کا موقع ملا جس سے انھوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا، ہمیں شاداب خان کو بھی سراہنا چاہیے  جنھوں نے رنز تو صرف 11 بنائے مگر عماد کے ساتھ نصف سنچری شراکت سے ٹیم کو فتح کی راہ پر واپس لے آئے، باقی کا کام عماد کے ساتھ وہاب نے سنبھال لیا اور وارم اپ میچ کی تاریخ نہ دہرائی جا سکی۔

افغانستان نے ہمیں بہت پریشان کیا اور اب یہی سوچ کر ڈر لگ رہا ہے کہ بنگلہ دیش کیخلاف کیا ہو گا جو اچھی فارم میں ہے،افغان ٹیم سے میچ میں مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ 200 سے زائد رنز بنے تو مشکل ہوگی اور ایسا ہی ہوا، بہرحال اس مقابلے سے ہمیں اچھی طرح اندازہ ہو گیا کہ کہاں کھڑے ہیں، عوام کو بھی ٹیم سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کرنا چاہئیں،اس میچ  میں شائقین کے جذبات بھی عروج پر رہے۔

پاک بھارت مقابلے سے قبل منتظمین کو خدشہ تھا کہ دونوں پڑوسی ممالک میں سیاسی کشیدگی کا اثر کہیں میچ پر بھی نہ پڑے، مگر میں نے خود 16 جون کو مانچسٹر میں وہ میچ دیکھا کہیں کوئی معمولی سا بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا، دونوں ممالک کے شائقین نے  بہترین ڈسپلن کا مظاہرہ کیا، مگر اب ورلڈکپ کو شروع ہوئے ایک ماہ مکمل اور37میچز ہو چکے، اس دوران پہلی بار کسی وینیو کے باہر بدمزگی دیکھی گئی۔

افغان شائقین پاکستانیوں سے گتھم گتھا ہوئے اور بھی کئی غلط حرکات کیں، ایسا محسوس ہواکہ کرکٹ میچ نہیں کسی جنگ کا ماحول تھا،اس سے  پہلے افغان بورڈ آفیشل نے پاکستان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ ’’وہ کرکٹ میں مدد کرنے کو تیار ہیں‘‘، میں نے ایک بھارتی ٹی وی پروگرام کی ویڈیو دیکھی جس میں افغان شائق پاکستان کیخلاف بات کرتے ہوئے میزبان سے کہتا ہے کہ ’’انڈیا افغانستان بھائی بھائی‘‘،افغان پلیئرز بھی زیادہ اچھے رویے کا مظاہرہ نہیں کرتے، اس نفرت کا بیج بھارت نے بویا جس نے پہلے بنگلہ دیش اور اب افغانستان کو بھی پاکستان کا دشمن بنا دیا۔

میں سیاسی باتیں نہیں کرتا لیکن کرکٹ میں ان دونوں ممالک پر پاکستان کے بڑے احسانات ہیں، یہ کلب ٹیموں سے میچز کھیلنے یہاں آیا کرتے تھے، بنگلہ دیش کو ٹیسٹ اسٹیٹس دلانے میں پی سی بی کا اہم کردار تھا، افغان کرکٹرز نے کھیلنا ہی ہمارے ملک میں شروع کیا تھا، مگر اب  دل میں اتنی بغض نجانے کیوں آ گئی؟ آپ بھارت سے دوستی رکھیں مگر اپنے محسنوں کو تو فراموش نہ کریں۔

اس معاملے میں پی سی بی بھی خاموش تماشائی بنا ہوا ہے جب افغان بورڈ آفیشل نے متنازع بیان دیا تو انھیں جواب تو دینا چاہیے تھا،برطانوی ایم ڈی وسیم خان بار بار فیملی سے ملاقات کیلیے انگلینڈ جانے کے بجائے افغان اور بنگلہ دیشی بورڈز سے رابطے کریں  تاکہ تعلقات میں تلخی کم ہو سکے، پاک بھارت کشیدگی کے باوجود بھی دونوں بورڈز میں مثالی روابط رہتے تھے، وہ تو گذشتہ کچھ برس میں وہاں انتہا پسندی مزید بڑھنے پر بی سی سی آئی نے اب محتاط رویہ اپنا لیا ہے۔

خیر دیکھتے ہیں کہ یہ نفرتیں کیسے کم ہوں گی، فی الحال تو ہمیں اپنی ٹیم کی فکر کرنا چاہیے جس کی کارکردگی میںبالکل ہی تسلسل نہیں، ہماری ورلڈکپ مہم2 کھلاڑیوں کے گرد گھوم رہی تھی، ایک محمد عامر اور دوسرے بابر اعظم، بھارت سے میچ کے بعد اس فہرست میں حارث سہیل اور اب شاہین شاہ آفریدی بھی شامل ہو گئے، مگر بدقسمتی سے گذشتہ دونوں میچز میں عامر کی بولنگ میں وہ کاٹ نظر نہیں آئی۔

اگر آپ کو کوئی بڑا ایونٹ جیتنا ہو تو سب کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا پڑتا ہے، فی الحال پاکستانی ٹیم میں ایسا نظر نہیں آ رہا، وہ تو آخری میچ میں عماد وسیم ڈٹ گئے تو فتح حاصل ہو گئی ورنہ شائقین کے درمیان اتنے ٹینشن کے ماحول میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا، خیر اب سیمی فائنل میں رسائی کیلیے بنگلہ دیش کو ہرانا ہوگا مگر اس کیلیے کارکردگی میں بہت زیادہ بہتری درکار ہے، ایسا کھیل پیش کریں گے تو حریف ٹیم قدم جمانے کا موقع نہیں دے گی،دیکھتے ہیں کوچز کھلاڑیوں  کی خامیاں دور کرنے میں کامیاب رہتے ہیں یا نہیں۔

نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں

 

The post ایسے کیسے ورلڈکپ جیتیں گے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2xhzjxY

آج کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

دماغ پر ایک عجیب قسم کا بوجھ غالب رہے گا‘ زیادہ نہ سوچا کریں‘ سوچنے سے حالات بدلا نہیں کرتے۔ تعلیمی معاملات جزوی طور پر حل ہو سکتے ہیں۔ ذرا اپنے رشتہ داروں سے دور رہنے کی کوشش کریں۔

ثور:
22اپریل تا20مئی

ملازمت کرتے ہیں تو پھر ہوشمندی کے ساتھ اپنے فرائض پورے کریں۔ آپ کے مخالف بھی کسی ایسے موقع کے منتظر ہیں‘ ادھر آپ نے غلطی کی اور ادھر آپ کی گرفت ہوئی۔

جوزا:
21مئی تا21جون

اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے شریک حیات آپ کو بہت زیادہ چاہتے ہیں لیکن آپ اس حقیقت کو کیوں فراموش کردیتے ہیں کہ پھولوں کے ساتھ ساتھ کانٹے بھی ہوتے ہیں۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

چند قریبی عزیز آپ کی خوشگوار زندگی میں تخریبی انقلاب لانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ذرا ہوشیار رہیں۔ حسب سابق اپنے دوستوں سے بھی دور رہنے کی کوشش کریں۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

آپ اس صورت میں کچھ حاصل کر سکتے ہیں جب کہ خود ہی ہر کام میں دلچسپی لیں اور سخت محنت کریں۔ شرط ضرور ہے کہ اپنے دوستوں اور مشیروں کی صلاحیتوں کو بروے کار لایا جائے۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

آپ کو بڑا اعتماد تھا اپنوں پر اب دیکھ لیں کہ حالات کیا رخ اختیار کر گئے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ فوری اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں اور اس طریقے پر کاربند ہوں جو آپکے حالات کو مزید بگڑنے نہ دیں۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

آپ نے اپنی موجودہ پوزیشن کا غلط اندازہ لگایا ہے جلد بازی نہ کریں ورنہ بازی ایک بار پھر پلٹ سکتی ہے آپ اس حقیقت کو نظر انداز نہ کریں کہ بڑی کوشش و محنت کے بعد حالات نے صحیح رخ اختیار کیا ہے۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

ہم پہلے بھی متعدد بار آپ کو یہ مشورہ دے چکے ہیں کہ اپنا مزاج بدلنے کی کوشش کریں۔ اپنوں پر حکومت کرکے آخر آپ کیا لے لیں گے۔ گھریلو ماحول کو خوشگوار رکھنے کی کوشش بھی ناقابل ستائش ہے۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

محبوب سے جو توقعات وابستہ تھیں وہ پوری ہو سکتی ہیں لیکن حالات قدرے بدل سکتے ہیں۔ اپنے اچھے اخلاق و برتائو کے ذریعے شریک حیات اور ان کے متعلقین کو ہمنوا بنا لیں۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

آپ کے مخالف سابقہ ناکامیوں کا انتقام لینے کی کوشش کر سکتے ہیں بہر حال اگر آپ نے انتہائی ضبط و عمل کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا اور مدافعتی انداز اختیار کرنے میں کامیاب ہو گئے تو پھر کوئی اندیشہ نہیں ہے۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

کوئی قریبی عزیز آپ کی غیر معمولی مدد پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ آپ بھی اپنی سوئی ہوئی صلاحیتوں کو جگا لیں۔ یقینا یہ اندھیرے حرف غلط کی طرح مٹ جائیں گے اور آپ کے گرد اجالا ہی اجالا ہوگا۔

حوت:
20فروری تا20مارچ

دیکھئے ہمت نہ ہاریں خدا نے انسان کو غیر معمولی قوتوں سے نوازا ہے۔ بس ذرا قوتوں سے کام لینے کا سلیقہ آنا چاہیے۔ بزرگان روحانی سے آپ کو خصوصی فیض حاصل ہو سکتا ہے۔

The post آج کا دن کیسا رہے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2xaVaXR

دنیا کا سب سے بڑا ڈاکٹر

’’میں بے عزتی کو ترسا ہوا تھا‘ میں ایک دن اپنے پرانے محلے میںچلا گیا‘ میں گلی سے گزر رہا تھا‘مجھے اچانک آواز آئی‘ اوئے ظفری کتھے منہ چک کے پھر ریاں‘ بس یہ آواز میرے کانوں میں پڑنے کی دیر تھی‘ میری ساری ٹینشن‘ اینگزائٹی‘ بلڈ پریشر اور شوگر ٹھیک ہو گئی‘ میں خلا سے زمین پر آگیا‘‘۔ وہ مسکرا رہا تھا‘ مجھے وہ بڑے عرصے بعد مطمئن‘ مسرور اور صحت مند دکھائی دیا۔

میں اسے دس سال سے جانتا ہوں‘ یہ سیلف میڈ ارب پتی ہے‘ میڈیکل اسٹور چلاتا تھا‘ پچیس سال پہلے کف سیرپ کی ایک دیوالیہ کمپنی خریدی اور کف سیرپ بنانا شروع کر دیا‘ ملک میں اس وقت ڈسٹ الرجی پھیلی ہوئی تھی‘ لوگوں نے اس کا کف سیرپ استعمال کرنا شروع کیا اور پھر معجزہ ہو گیا‘ یہ لاکھ پتی بنا‘ پھر کروڑ پتی ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ارب پتی بن گیا‘ دکان فارما سوٹیکل کمپنی میں تبدیل ہو گئی اور یہ دوائیں ایکسپورٹ کرنے لگا۔

میں کہانی آگے بڑھانے سے پہلے آپ کو دنیا کی خطرناک ترین چیز کے بارے میں بھی بتاتا چلوں‘ دولت دنیا کی خطرناک ترین چیز ہے‘ دنیا میں آج تک ایٹم بم سے اتنے لوگ نہیں مرے جتنے لوگ روزانہ دولت کے ہاتھوں مرتے ہیں‘ انسان کبھی بھوک سے نہیں مرتا‘ کھانے سے مرتا ہے‘ انسان کو غربت نہیں مارتی‘ امارت مارتی ہے اور انسان کبھی ناکام ہو کر بیمار نہیں ہوتا یہ کامیاب ہو کر علیل ہوتا ہے۔

دولت کبھی کسی کے پاس نہیں ٹھہرتی ‘ ہم سب چیک بک ہوتے ہیں‘ دولت آتی ہے اور ہم سے ہو کر آگے نکل جاتی ہے‘ ہم کریڈٹ کارڈ ہیں‘ ہم سب کی ایک کریڈٹ ویلیو ہوتی ہے‘ یہ ویلیو خرچ ہو جاتی ہے اور پھر ہم بلاک ہو جاتے ہیں‘ ہم دولت کماتے ہیں اور یہ چند دن‘ چند ماہ بعد ہمارے ہاتھوں سے نکل جاتی ہے لیکن یہ جاتے جاتے ہمارے چار اثاثے ساتھ لے جاتی ہے‘ یہ ہماری صحت کھا جاتی ہے‘ میں نے آج تک زندگی میں کسی امیر شخص کو صحت مند نہیں دیکھا‘ انسان کی کریڈٹ ویلیو جتنی بڑھتی جاتی ہے یہ اتنا ہی بیمار ہوتا چلا جاتا ہے‘ دنیا بھر کے دولت مند پچاس اور ساٹھ کی دہائی کے درمیان مر جاتے ہیں یا پھر آخری عمر اسپتالوں اور کلینکس میں گزارتے ہیں۔

دوسرا دولت ہمارے تعلقات کو کھا جاتی ہے‘ ہم لوگ بیٹا‘ باپ‘ بھائی‘ بہن اور بیوی نہیں رہتے‘ ہم اکیلے رہ جاتے ہیں‘ آپ کبھی غریب بھائی کو غریب بہن کے خلاف مقدمہ کرتے نہیں دیکھیں گے لیکن عدالتوں میں آپ کو امیر بچوں‘ باپ‘ بھائیوں اور بہنوں کے ہزاروں مقدمے ملیں گے‘زندگی میں غریب رشتے دار ناراض ہو کر راضی ہو جاتے ہیں مگر امیر رشتے داروں کی لڑائیاں قبر تک پیچھا نہیں چھوڑتیں چنانچہ دولت آپ کے رشتے کھا جاتی ہے‘ دولت کا تیسرا وار اخلاقیات پر ہوتا ہے۔

آپ کو میلوں تک کوئی امیر شخص بااصول یا با اخلاق نہیں ملے گا ‘ جھوٹ ہو یا مجرے ہوں آپ کو ان کے دائیں بائیں امیر لوگ نظر آئیں گے لہٰذا دولت آپ کی اخلاقیات نگل جاتی ہے اور چوتھا اثاثہ سکون ہے‘ دولت آپ کا سکون چھین لیتی ہے‘ آپ نے زندگی میں بہت کم امیر لوگ مطمئن اور پرسکون دیکھے ہوں گے‘ یہ لوگ ہر وقت ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتے ہیں اور انھیں نیند لانے کے لیے گولیاں کھانی پڑتی ہیںاور میرے اس دوست کے ساتھ بھی یہی ہوا‘ یہ پہلے اپنی صحت سے محروم ہوا‘ پھر یہ فیملی میں اکیلا ہوا‘ پھر یہ اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہو گیا اور آخر میں یہ بے سکونی کے بحر بیکراں میں جا گرا‘ یہ مردم بیزار ہو گیا۔

یہ لوگوں کو دیکھتا تھا اور برا سا منہ بنا کر چہرہ دوسری طرف پھیر لیتا تھا‘ یہ زندگی سے بری طرح تنگ آ چکا تھا‘ یہ عمرے بھی کر چکا تھا‘ دنیا بھر کی نعمتیں بھی اپنے اردگرد جمع کر لی تھیں اور اس نے ناچ کود اور لیٹ کر بھی دیکھ لیا تھا لیکن اسے سکون نصیب نہیں ہوا تھا مگر پھر اس میں ایک عجیب تبدیلی آئی‘ یہ زندگی کی طرف واپس لوٹ گیا‘ یہ مطمئن بھی ہو گیا‘ مسرور بھی اور صحت مند بھی اور میں اس سے اس کایا کلپ کی داستان سن رہا تھا۔

وہ بولا ’’میں جی ٹی روڈ پر سفر کر رہا تھا‘ میں اپنے آبائی قصبے کے قریب سے گزرا اور پھر میں نے بریک لگا دی ‘ میں اپنے پرانے محلے میں چلا گیا‘ میں جوں ہی اپنی گلی میں داخل ہوا‘ کسی کونے سے آواز آئی اوئے ظفری‘ کتھے منہ چک کے پھر ریاں‘ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور پھر میری ساری بیماریاں ختم ہو گئیں‘ وہ میرے بچپن کا دوست مجید تھا‘ ہم اسے مجیدا کہتے تھے‘ اس کا والد بازار میں دہی بھلے کی ریڑھی لگاتا تھا‘ وہ بچپن ہی میں والد کے ساتھ کام پر لگ گیا تھا‘ وہ اپنے گھر سے دہی بھلے چوری کر کے لاتا تھا اور ہم گرائونڈ میں بیٹھ کر کھاتے تھے۔

ہم ایک دوسرے کے ساتھ کشتی بھی لڑتے تھے‘ بھونڈوں (بھڑوں)کے ساتھ دھاگا باندھ کر بھی اڑاتے تھے اور ہم اتوار کے اتوار گلی ڈنڈا بھی کھیلتے تھے‘ وہ مجھے ہمیشہ ظفری کہتا تھا‘ میں ترقی کر گیا‘ میں پہلے بین الاقوامی شہری بنا اور پھر ظفری سے سید ظفرالحق بن گیا‘ لوگ مجھے شاہ صاحب یا ظفر صاحب کہتے تھے‘ دفتر میں میرا نام ایس زیڈ تھا‘ میں نے 40 سال سے کسی کے منہ سے ظفری نہیں سنا تھا لیکن مجیدے نے جوں ہی مجھے ظفری کہا‘ میری خوشیاں مجھے واپس مل گئیں‘ میں ٹھیک ہو گیا‘ مجھے اس وقت محسوس ہوا میں بے عزتی اور بے تکلفی کو ترسا ہوا تھا‘ میری زندگی سے بے تکلف دوست نکل گئے تھے۔

میرے پاس صرف مطلبی رشتے دار‘ مراعات اور تنخواہوں کے پیچھے بھاگتے ملازمین‘ بزنس فرینڈز اور میری موت کے منتظر بچے اور حریص داماد تھے‘ یہ سارے لوگ میرے تھے لیکن یہ میرے نہیں تھے‘ میرے لوگ مجیدے تھے‘ میں مجیدے کو ترس رہا تھا‘ میں اوئے ظفری سننا چاہتا تھا اور یہ میرا اصل مرض تھا‘‘ وہ رکا اور ذرا سا سوچ کر بولا ’’جاوید صاحب انسان کا سب سے بڑا المیہ ان لوگوں کو برداشت کرنا ہوتا ہے جن کی نیت آپ پر کھل چکی ہوتی ہے‘ آپ جان چکے ہوتے ہیں آپ کے سامنے کھڑے ہو کر جو شخص سر‘ سر کہہ رہا ہے یہ روز آپ کو میٹھی چھری سے ذبح کرتا ہے لیکن آپ جانتے بوجھتے اس سے جان نہیں چھڑا سکتے۔

آپ یہ بھی جانتے ہیں آپ کی بیوی اور اس کے خاندان کو آپ سے نہیں آپ کی دولت سے غرض ہے اور آپ کے بچے آپ کو والد نہیں کریڈٹ کارڈ سمجھتے ہیں مگر آپ یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی ان کے ساتھ چلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں‘ آپ دوستوں‘ رشتے داروں اور عزیزوں کی نیتوں سے بھی واقف ہوتے ہیں مگر آپ ان کے منہ پر انھیں برا نہیں کہہ سکتے‘ یہ تکلیف آپ کو اندر ہی اندر کھا جاتی ہے‘ یہ آپ کو بیمار کر دیتی ہے‘ میں بھی بیمار تھا‘ میں چالیس سال سے خلوص سے بھری آواز سننے کے لیے ترس رہا تھا اور پھر مجھے وہ آواز مل گئی۔

مجیدا اپنی دکان سے نیچے آیا‘ بھاگ کر اندر سے کرسی کھینچ کر لایا اور کرسی تھڑے پر ٹکا کر مجھے بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگا‘ میں نے کرسی کو سائڈ پر کیا اور اس کے ساتھ تھڑے پر بیٹھ گیا‘ وہ دانت نکال کر مجھے دیکھ رہا تھا‘ ہاتھ مل رہا تھا اور قہقہے لگا رہا تھا‘ اس کی آواز سن کر پورا محلہ اکٹھا ہو گیا‘ لوگ ظفری آیا‘ ظفری آیا کے نعرے لگا رہے تھے اور میرے اردگرد جمع ہو رہے تھے۔

میں حیرت سے انھیں دیکھتا تھا اور انھیں پہچاننے کی کوشش کرتا تھا‘ یہ سب میرے بچپن کے ساتھی تھے‘ میں کسی کے ساتھ پتنگیں اڑایا کرتا تھا‘ کسی کے ساتھ بنٹے کھیلتا تھا اور کسی کے ساتھ مل کر ریڑھیوں سے آم چوری کرتا تھااور یہ میرے ساتھ اسکول سے بھی بھاگتے تھے‘ ان میں سے کوئی شخص سید ظفر الحق کو نہیں جانتا تھا‘ یہ صرف اور صرف ظفری سے واقف تھے اور میں اس وقت ظفری تھا‘ یہ بوڑھے ہو چکے تھے‘ غربت نے کسی کا کُب نکال دیا تھا‘ کوئی کم سننے لگا تھا‘ کسی کے دانت جھڑ چکے تھے اور کسی کو دکھائی نہیں دیتا تھااور یہ سب گنجے بھی ہو چکے تھے مگر یہ اس کے باوجود مطمئن اور خوش تھے‘ میں ان سب کے مقابلے میں صحت مند تھا‘ میرے سر پر بال بھی تھے۔

میری آنکھیں‘ ناک‘ کان اور دانت بھی سلامت تھے اور میں نے اچھے کپڑے بھی پہن رکھے تھے لیکن یہ سب ظاہری تھا‘ میں اندر سے بیمار تھا‘ میں اندر سے کھوکھلا ہو چکا تھا جب کہ یہ باہر سے بے رنگ مگر اندر سے بھرے ہوئے تھے‘ میں نے اس وقت مجیدے کے تھڑے پر بیٹھے بیٹھے محسوس کیا دنیا کا سب سے بڑا ڈاکٹر‘ سب سے مہنگی دوا پرانے دوست ہوتے ہیں‘ انسان کو بچپن کے دوست‘ بگڑے ہوئے نام اور تکلف سے بے پروا مخلص آوازیں چاہیے ہوتی ہیں‘ یہ مل جائیں تو انسان بستر مرگ سے بھی اٹھ کر چلنا پھرنا شروع کر دیتا ہے اور اگر یہ نہ ملیں تو انسان خواہ بل گیٹس یا سٹیو جابز ہی کیوں نہ ہو یہ سسک سسک کر مر جاتا ہے۔

اس کے پلے صرف اچھا اسپتال‘ مہنگے ڈاکٹرز اور امیر جنازہ ہوتا ہے اور بس‘ دنیا میں عمر بڑھانے کی بہترین دوا دوست ہوتے ہیں‘ آپ اگر ایک بار ظفری بن گئے تو پھر آپ کے دوست آپ کو ہمیشہ ظفری بنائے رکھیں گے‘ یہ آپ کو سید ظفر الحق نہیں بننے دیں گے‘ یہ آپ کو کبھی بچپن سے باہر نہیں نکلنے دیں گے آپ خواہ صدر پاکستان ہی کیوں نہ ہو جائیں‘ آپ دوستوں کے لیے ظفری ہی رہیں گے‘ مجھے اس تھڑے پر بیٹھے بیٹھے محسوس ہوا ہمارے ملازمین کے لیے ہمارے اکائونٹس اہم ہوتے ہیں۔

ہمارے بچوں کے لیے ہماری وصیت اہم ہوتی ہے اورہمارے رشتے داروں کے لیے ہمارا اثرورسوخ‘ ہمارا دبدبہ اورہماری حیثیت اہم ہوتی ہے لیکن صرف ہمارے بچپن کے دوست وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے لیے ہماری خیریت اورہم اہم ہوتے ہیں چنانچہ آپ بچپن کے دوستوں سے ملتے رہا کریں‘ آپ کبھی بیمار نہیں ہوں گے‘‘ وہ مسکرایا اور بولا ’’آپ بھی پلیز مجھے ظفری کہا کریں‘ میں سید ظفر الحق بن بن کر تھک گیا ہوں‘‘۔

The post دنیا کا سب سے بڑا ڈاکٹر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Yj0nc4

’’روزگارِ سفیر‘‘ (2)

’’روزگار سفیر‘‘ اس نوجوان کا قصہ ہے جو بیروت کی امریکن یونیورسٹی سے زراعت کی ڈگری لینے گیا تھا اور جسے دلچسپی دنیا اور بہ طور خاص مسلم دنیا کی تاریخ سے تھی۔ وہ مصر، شام، لبنان کی سیرکرتے ہوئے شہدا کے مزاروں پر ماتھا ٹیکتے ہوئے ہمیں یہ بتانا نہیں بھولتے کہ ہندوستان میں جو تحریک خلافت چلی تھی اور ہندوستانی مسلمانوں اور چند ہندئوں نے خلافت عثمانیہ کی سربلندی کے لیے جو عطیات دیے تھے، وہ ترکی اس وقت پہنچے جب خلافت عثمانیہ کی بساط لپٹ چکی تھی۔

کمال اتاترک کو یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ یہ رقم ہندوستانیوں کو شکریے کے ساتھ واپس بھیج دیں لیکن یہ مشورہ انھیں مناسب معلوم نہیں ہوا اور انھوں نے کہا کہ یہ مخلص ہندوستانیوں کی دل شکنی کا سبب بنے گا، اس اس لیے اسے ترکی میں بننے والے نئے مرکزی بینک میں Seed Money کے طور پر استعمال کیا جائے۔کرامت غوری لکھتے ہیں کہ جب وہ ترکی میں سفارتی ذمے داریاں ادا کر رہے تھے، تو یہ واقعہ انھیں ترک اسٹیٹ بینک کے صدر نے سنایا تھا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ ترک جمہوریہ نے گزشتہ 75 برس میں جو دولت پیدا کی ہے، اس کی جڑوں میں تحریک  خلافت کے عطیات پیوست ہیں۔

کرامت غوری کی زندگی بہت سے نشیب و فراز سے گزری۔ گھر والوں کا تقاضہ تھا کہ وہ سائنس پڑھیں، طبیعت لبرل آرٹس کی طرف مائل تھی۔ بیروت سے بھی اسی لیے ڈگری مکمل کیے بغیر واپس آنا پڑا تھا۔کراچی واپس آکر زندگی میں کئی مشکل مقام آئے لیکن یہ کمر باندھ کرکار زارِ حیات میں اترگئے۔انھوں نے انٹرنیشنل افیئرز میں ایم اے کیا۔ کراچی یونیورسٹی کی راہداریوں سے گزرتے ہوئے اور تعلیمی کامیابیوں کے جھنڈے اڑاتے ہوئے وہ انکم ٹیکس کے محکمے میں پہنچے اور وہاں سے کچھ ہی عرصے بعد قطع تعلق کر بیٹھے۔اس محکمے میں گنگا نہانے کی جو آسانی تھی اس سے کرامت کو کسی قسم کو شغف نہ تھا۔ ایم اے کرنے کے بعد وہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز سے بہ طور ریسرچ آفیسر وابستہ ہوئے اور یوں ان کے لیے وہ دروازے کھلتے چلے گئے جن کی انھیں خواہش تھی۔

وہ برٹش کونسل سے کتاب کی چوری، عابدہ سے اپنے عشق کا قصہ اور فرانسیسی کا ڈپلوما حاصل کرنے کا معاملہ جس کے بعد پیرس کی مشہور یونیورسٹی سوربون سے پی ایچ ڈی کے لیے وظیفے کا مل جانا ان کی زندگی کے اہم سنگ میل ہیں۔ وہ جس طرح بیروت سے بے نیل و مرام لوٹے تھے، کچھ ایسا ہی واقعہ سوربون کے وظیفے کے ساتھ بھی ہوا۔ یہ چند ہی دنوں بعد کراچی لوٹ آئے۔کراچی یونیورسٹی میں پڑھاتے رہے۔ ماسکو کی لوممبا یونیورسٹی میں ریسرچ کا موقع مل رہا تھا لیکن والد اور محبوبہ کی ناپسندیدگی آڑے آئی۔ سول سروس کے امتحان سے کامیاب گزرے۔ خواہش تھی کہ فارن سروس میں لیے جائیں۔ اس خواہش کی راہ میںکیا کچھ مشکلیں آئیں وہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔

انھوں نے سروس اکیڈمی میں تربیت کے برسوں کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے جو دلچسپ ہے اور اس کے ساتھ ہی معلومات افزا بھی۔ سچ پوچھیے تو اس کتاب میں بہ طور سفیر ان کی زندگی کے دن بہت بعد میں آتے ہیں، ابتدائی سیکڑوں صفحات ان نوجوانوں کے لیے راہ نما ہیں جو متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، بہت ذہین ہیں لیکن نہ وسائل ہیں اور نہ بڑی سفارشیں جو ان کے لیے اعلیٰ ملازمتوں کے دروازے کھولتی جائیں۔ کرامت متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے، وہ اپنے والدین کے سایہ عاطفت میں نقل مکانی کرکے پاکستان آئے، نہ سر پر آسمان، نہ پیروں کے نیچے وہ زمین جو صدیوں سے ان کے آبائو اجداد کی ہو۔اس کے باوجود ان کے اندر آگے بڑھنے اور آسمان کو چھو لینے کی بے حساب خواہش تھی۔ انھوں نے ہر مرحلے پر اس خواہش کی پرورش کی، اسے خون جگر پلایا، راتوں کو آنکھوں کا تیل جلایا اور پھر ایک کامیاب سفارتکار بن کر سامنے آئے۔

ان کی شادی کا قصہ دلچسپ ہے اور طولانی بھی، جس کا نکاح تین مولوی پڑھائیں وہ قصہ طولانی تو ہوگا۔ اسی طرح وہ کراچی کے انٹیلی جنس بیورو میں سراغرسانی کی تربیت کا ذکر کرتے ہوئے اپنی فیلڈ ٹریننگ کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ تربیت انھیں کراچی کے بوہری بازار میں ایک شام لے گئی۔ لکھتے ہیں ہمارے لیے امتحان یہ تھا کہ شام کے دھندلکے میں جھٹ پٹے کا وقت، بھرے بوہری بازار میں ایک مخالف جاسوس کا تعاقب کرنا تھا۔ ہمیں دو دو تین تین افراد کی ٹکڑیوں میں بانٹا گیا اور ایک پیشہ ور اور تجربہ کار جاسوس کے پیچھے چھوڑ دیا گیا۔

ہمارا مشن یہ تھا کہ وہ جاسوس ہمیں جل دے کر غائب نہ ہونے پائے۔ وہ بوہری بازار اور صدرکی گلیوں میں ہمیں گھماتا رہا اور ہم ابن صفی کے جاسوسی ناولوں کے کردار کی طرح اس کے پیچھے سائے کی طرح لگے رہے۔ لیکن تھوڑی ہی دیر میں وہ ہمیں جل دینے میں کامیاب ہوگیا۔  اور نظروںسے ایسا اوجھل ہوا کہ اس کے بعد ہم دیر تک الفنسٹن اسٹریٹ، وکٹوریہ روڈ اور آس پاس کی سڑکوں اور گلیوں میں اسے ڈھونڈتے پھرے، لیکن اس کا سراغ نہیں ملا اور جب وقت ختم ہوگیا تو وہ ہمیں اچانک الفی پر معروف ہوٹل فاروق کے سامنے ہنستا مسکراتا ہوا مل گیا۔‘‘

بہ طور جونیئر سفارتکار ان کا تقرر نیویارک کے قونصل خانے میں ہوا، جون 1968 سے بہ طور سفیر ان کی نئی زندگی شروع ہوئی۔ وہ زندگی جو بہ ظاہر بہت شاندار اور پربہار محسوس ہوتی ہے، لیکن وہ افسراعلیٰ کی ناراضگی کے جہنم میں کس طرح جھلستی ہے۔

کرامت نہایت محبت سے اپنے بنگالی ساتھیوں کا ذکر کرتے ہیں ، جو اس وقت تک پاکستان کا حصہ تھے، بلکہ شاید یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ہم ان کا حصہ تھے۔ دلوں میں بال آرہا تھا لیکن پاکستانی عوام کو ابھی اندازہ نہ تھا کہ آنے والے دنوں میں ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ سفارتکاری کے ابتدائی دنوں میں پروٹوکول کے دیو نے انھیں نیویارک میں کس طرح آزمایا۔ وہ بھی پڑھنے والا معاملہ ہے۔

نیویارک سے بیونس آئرس۔ سفارت کار کی زندگی بس ایسی ہی ہوتی ہے کہ ایک ملک سے دوسرے ملک، ایک  زبان سے دوسری زبان کی واقفیت اور پھر سیاست کے معاملات الگ۔ وہ ارجنٹائنا پہنچے تو لاطینی امریکا آمریت کے جھولے میں جھول رہا تھا۔ وہ اس ملک میں سوا برس سے بھی کم مدت رہے۔ لیکن اس دوران ملک میں دو صدر آئے اورگئے۔

یہاں سے ان کا اگلا سفر شروع ہوا اور اسی دوران پاکستان دو لخت ہوگیا۔ وہ جس صدمے سے دوچار ہوئے اس کا ذکر نہایت دل گرفتگی سے کرتے ہیں۔

’’میڈیا کے محاذ جنگ پر لڑنے کے لیے ہم اپنے قلم کے راہوار کو چابک دے رہے تھے۔ اور زبان کی تلوار کو صیقل کر رہے تھے اور یہ عمل تسلسل سے جاری تھا اس کے باوجود کہ دورواطراف سے آنے والی خبریں پریشان کن اور حوصلہ شکن تھیں۔ ہر دوسرے تیسرے دن یہ خبر مل رہی تھی کہ آج فلاں سفارتخانے میں فلاں فلاں بنگالی افسر بنگلہ دیش کے حق میں پاکستان سے ناتا توڑ کر چل دیا۔ ہمارے 1966 کے فارن سروس گروپ کے سب بنگالی ساتھی اور دوست ایک ایک کرکے داغ جدائی دے رہے تھے۔ یوں لگ رہا تھا  جیسے آہستہ آسہتہ بدن کا ایک حصہ مفلوج ہو رہا تھا یا اس میں سوئیاں چبھوئی جا رہی تھیں۔ اور پھر مجھے منیلا میں تعینات ہوئے بمشکل سات ہفتے گزرے تھے اور ہم تازہ تازہ اپنے نئے گھر میں منتقل ہوئے تھے کہ ایک صبح فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف پنی صاحب تھے اورفون پر مجھے یہ اطلاع دے رہے تھے کہ ’’ دو گھنٹے بعد ان کی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس ہونے والی تھی، جو انھوں نے طلب کی تھی اور وہ اس میں پاکستان سے اپنا رشتہ توڑنے کا اعلان کرنے جا رہے تھے۔

میں ذہنی طور پر تو اس اطلاع کے لیے منیلا قدم رکھنے کے بعد سے تیار تھا لیکن پھر بھی پنی صاحب کے اس برملا اعلان سے جیسے ایک دھچکہ سا لگا۔ْ دیوار میں سے ایک اور اینٹ نکلی جارہی تھی۔ اور جس دیوار کی اینٹیں ایک ایک کرکے نکالی جارہی ہوں۔ وہ کتنی دیر تک کھڑی رہ سکتی تھی۔ لیکن پنی صاحب کی  شرافت اور دیانت داری نے اس لمحۂ وحشت میں بھی ساتھ نہیں چھوڑا تھا۔ کہنے لگے۔ ’’ گھنٹے بھر میں وہ سرکاری گاڑی چابیوں کے ہمراہ میرے پاس بھجوا دیں گے اور ایسا ہی ہوا۔ سرکاری رہائش گاہ بھی انھوں نے شام سے پہلے خالی کردی تھی۔‘‘

دنیا میں ایسے سفارتکار کم ہوں گے جنھیں ایسی آزمائش سے دوچار ہونا پڑا ہو۔ (جاری ہے)

The post ’’روزگارِ سفیر‘‘ (2) appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/31VTlfz

عوام کا اثاثہ

غریب ہونا کوئی اعزاز نہیں ہے ۔ جہالت اور غربت سے رسول پاکﷺ نے پناہ مانگی تھی لیکن جو لوگ اثاثے بنانے کی پوزیشن میں ہوں اور رہے ہوں وہ اگر ایسا نہ کریں تو پھر ان کی غربت اعزاز بن جاتی ہے۔

جیسے آنحضرتﷺ کی حیات طیبہ سے پتہ چلتا ہے مگر افسوس کہ ایسے لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور یہی ہمارا قومی آزار ہے جس میں ہم مبتلا ہیں۔ یہ ابتلا ہمیں اس حال میں لے آیا ہے ۔ جن لوگوں کو قدرت نے اقتدار دیا انھوں نے اس نعمت پر اکتفا نہ کیا اور اسے اپنی مالی خوشحالی کا ذریعہ بنا لیا ۔ رعایا خودکشیاں کرتی رہی اور یہ لوگ اثاثے بناتے رہے۔ عوام کیا کرتے عوام تو ہماری جیسے تیسری دنیا کے ممالک میں بے زبان ہیں ان کی کسی سطح پر کوئی شنوائی نہیں ہوتی، اس لیے کسی نہ کسی کو تو آگے آنا تھا اور ان لوگوں کا احتساب کرنا تھا۔

اقتدار کی آڑ میں اثاثے بنانے والوں کا اگر احتساب نہ کیا گیا تو پھر اس قوم کا اللہ ہی حافظ ہے اور وہ کیوں ایسی قوم کی حفاظت کرے گا جو دیانت و امانت کے کم تر تقاضوں کو بھی پورا نہیں کرتی۔ وہ رب العالمین ہے، رب المسلمین نہیں بلکہ مسلمانوں کو وہ دوسروں سے زیادہ سزا دیتا ہے کیونکہ وہ اس کی تعلیمات کے اقرار کے بعد بے وفائی کرتے ہیں۔ غداری کی سزا اس سے بہر حال زیادہ ہوتی ہے جو باہر کا ہوتا ہے اور جس کوئی عہد نہیں ہوتا۔

اثاثوں کا رضاکارانہ اعلان عام طور پر کم ہی ہوتا ہے لیکن ماضی کی حکومتیں کچھ ایسے قوانین بھی بنا گئیں یا غلطی سے ان سے کچھ ایسے کام بھی سر زد ہو گئے جس کے تحت جو لوگ اس ملک کے الیکشن میں حصہ لیتے ہیں ، اہم عہدوں پر فائز ہیں یا قانون کے وضع کردہ دائر ہ کار کے تحت کاروبار کر رہے ہیں، ان کو اپنے اثاثوں کو ظاہر کرنا ہوتا ہے تا کہ وہ اپنی سالانہ آمدن کی بنیاد پر حکومت کو ٹیکس ادا کریں۔

آج سے کچھ عرصہ پہلے تک ٹیکسوں کا حساب کرنے والے محکمے کے کارندے ٹیکس دینے والوں کے ساتھ مل کر حکومت کے خزانے سے زیادہ اپنے خزانے کو بھرنے کو فوقیت دیتے تھے اور جو کچھ بچ جاتا وہ حکومت کے خزانے میں کسی حساب کتاب کے بغیر جمع کر دیا جاتا۔ ان کی کوئی چھان بین نہیں ہوتی تھی بلکہ ہمارے سیاستدان ہی ان کی ڈھال بن جاتے تھے اور اقتدار میں آنے والے اقتدار سے محروم لوگوں کو بھی تحفظ فراہم کرتے تھے۔ چور چوروں کا تحفظ نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا۔

ہماری حکومت کے سامنے ایسے ہی مسائل کے کئی پہاڑ کھڑے ہیں جن پر چڑھنے کے لیے اس کو راستہ نہیں مل رہا اور جو راستہ دکھائی دے رہا ہے وہ راستہ پہاڑ کی اترائی میں کھڑے عوام کی جانب جا رہا ہے اور پہاڑ پر چڑھنے کی بجائے عوام کو مزید زیر بار کیا جا رہا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان بار بار قوم سے رجوع کر رہے ہیں اور ان کو بتا رہے ہیں کہ ان کی قومی دولت کو کس قدر لوٹا گیا ہے ۔ انھوں نے ان لوٹے اثاثوں کو ملکی خزانے کا حصہ بنانے کے لیے ایک اسکیم متعارف کرائی ہے کہ چھپائے گئے مال کا بہت تھوڑا سا حصہ حکومتی خزانے میں جمع کرا کے اپنی دولت کو قانونی بنا لیں ۔

اس اسکیم سے حکومت کو کیا نتائج حاصل ہوتے ہیں اس کا علم تو آنے والے دنوں میں ہوگا لیکن خبروں سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ حکومت کی اس پیشکش سے بہت کم لوگ استفادہ کر رہے ہیں۔ میں عرض کروں کہ اگر پاکستان کے عوام کے سیاسی لیڈر اور بڑے کاروباری لوگ اگر پاکستان کی بقاء کی خاطر اپنے اثاثوں کا رضاکارانہ طور پر اعلان دیں تو پاکستانی عوام حیران و پریشان ہو جائیں گے کہ ان کے ملک کے اپنے لوگوں کے پاس کس قدر دولت کے انبار موجود ہیں ۔ ہمیں کسی آئی ایم ایف یا عالمی مالیاتی اداروں کی قطعاً ضرورت نہیں رہے گی۔ یہ وہ دولت ہے جو اس ملک میں رہ کر اس ملک کے وسائل کو استعمال کر کے ہی کمائی گئی ہے اور اس ملک کی امانت ہے لیکن ہم اس قومی امانت میں خیانت کر رہے ہیں ۔

کچھ عرصہ قبل ہم نے دیکھا کہ اس ملک کے بااثر لوگوں کے گھروں میں لوٹی گئی دولت کے کروڑوں  اربوں روپے نقدی کی صورت میں موجود ہیں جن کی گنتی کے لیے مشینیں بھی جواب دے گئیں تھیں ۔ عوام جب یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو ان کے دل میں اپنے لیڈروں کے لیے رہی سہی ہمدردی بھی ختم ہو جاتی ہے لیکن وہ ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے سوائے اس کے کہ ان کو الیکشن میں ووٹ نہ دیں۔

حکومت ملک کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے ۔ یہ مسائل اگر وہ صدق نیت سے حل کرنے کی کوشش کریں گے تو پھر ہم عوام بھی ان کا ساتھ دیں گے اور اگر انھوں نے بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح سیاسی شعبدہ بازی کی کوشش کی تو پھر وہ جانیں اور ان کے مسائل۔ پاکستان کے عوام اب سیانے ہو گئے ہیں اگر وہ کسی سیاستدان کے لیے تحریک نہیں چلاتے تو کسی حکمران کی مدد پر بھی تیار نہیں تا آنکہ وہ ان کی مدد پر تیار نہ ہو۔ یہ اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیمیں ہم نے پہلے بھی بہت دیکھی ہیں اور ان کے نتائج سے بھی آگاہ ہیں ۔ یہ بڑے لوگوں کے کھیل ہیں جو وہ ایک دوسرے سے کھیلتے ہیں۔ ہم عوام کا اثاثہ تو دو وقت کی روٹی ہے جس کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

The post عوام کا اثاثہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2YlFv3S

’’ٹینجِن ‘‘

چینی زبان کچھ ایسی ہے کہ اس کا رسم الخط اور صوتی نظام دونوں ہی مشکل سے پّلے پڑتے ہیں اور اگر انھیں انگریزی کی معرفت سمجھنے کی کوشش کی جائے تو یہ بالکل ہی سمجھ سے باہر ہوجاتے ہیں ۔

کچھ ایسا ہی معاملہ ہمارے ٹینجن والے ہوٹل کا تھا کہ اس کا انگریزی حروف میں نام  Tian Cai Hotel تھا جب کہ چینی میزبان اسے تھیان شائی بولتے تھے، یہ زبان دائیں یا بائیں کے بجائے کسی تیسرے طریقے سے لکھی جاتی ہے اور اس کا بنیادی ڈھانچہ ایک علامتی تصویری زبان کا سا ہے جس میں اطلاعات کے مطابق بیسویں صدی میں بہت سی تبدیلیا ں کی گئی ہیں تاکہ یہ مزید آسان ، قابل فہم اور لائقِ ترجمہ ہوسکے البتہ جہاں تک اس میں تحریر و اشاعت کا تعلق ہے یہ ایک باقاعدہ مضبوط اور امیرزبان کے طور پر دنیا کی کسی بھی زبان کے مقابلے میں رکھی جاسکتی ہے ۔

بیجنگ کی طرح ٹینجن میں بھی رائٹرز کے لیے ایک وسیع عمارت کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ہمارے میزبانوں میں وانگ نامی خاتون پیش پیش تھی کہ صرف وہ گزارے لائق انگریزی بول سکتی تھی، یہ اور بات ہے کہ اُس کی مسکراہٹ اور گرم جوشی  زیادہ لیکن زبان پر دسترس اُسی قدر کم تھی اگرچہ گزشتہ دو تین دہائیوں سے چین میں انگریزی پڑھنے اور سیکھنے کا رجحاں بوجوہ تیزی سے بڑھ رہا ہے لیکن اب بھی ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے جو چینی کے علاوہ انگریزی یا کسی اور زبان میں آسانی سے بات چیت کرسکتے ہوں۔ قابلِ تعریف بات یہ ہے کہ انھوں نے انگریزی کو نظریہ ضرورت کے تحت تو مطلوبہ اہمیت دی ہے مگر ہماری طرح اسے اسٹیٹس سمبل نہیں بنایا۔ یہ لوگ اپنی زبان بولنے میں زیادہ فخر محسوس کرتے ہیںجو بلاشبہ ایک بہت قابل تعریف بات ہے۔

میٹنگ ہال میں رائٹرز ہائوس سے براہ راست متعلق میزبانوں کے علاوہ سینئر اور جونیئر ہر محفل کے ادیب جمع تھے البتہ ایک قدرے نوجوان نظر آنے والے یونیورسٹی پروفیسر کے علاوہ کسی کو بھی پاکستانی ادب کے بارے میں سِرے سے کچھ پتہ نہیں تھا۔ جو اپنی جگہ پر ایک تکلیف دہ اور قابلِ غور بات ہے کہ سات دہائیوں پر محیط طویل اور گہری دوستی کے دعووں کے پس منظرمیں اس صورتِ حال کو بہت بہتر ہوناچاہیے تھا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ بھارتی فلموں کے لیے  چین اب ایک باقاعدہ منڈی کی شکل اختیار کر چکا ہے جب کہ نوے کی دہائی کے بعد سے اب تک (فلم ’’میرا نام ہے محبت‘‘ اور ٹی وی سیریل ’’وارث‘‘ سے قطع نظر) چینی عوام کو کوئی پاکستانی فلم یا ڈرامہ دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔

سفیر صاحب اور ان کے ساتھیوں سے معلوم ہوا کہ اب وہاں ائیرفورس کے پس منظر میں بنائی جانے والی ایک حالیہ فلم ’’پرواز ہے جنون‘‘ کی ریلیز پر کام ہو رہا ہے اور امید کی جاسکتی ہے کہ مستقبل قریب میں یہ تعلق مسلسل اور پائیدار ہوتا چلاجائے گا۔ اس میٹنگ کی سب سے زیادہ یاد رہ جانے والی بات میزبانوں کی گرمجوشی تھی کہ زبان و ادب کے حوالے سے دونوں طرف تقریباً ایک جیسی ناواقفیت چل رہی تھی۔

ہماری ساتھی شاعرہ بشریٰ فرخ نے حسبِ معمول چین میں خواتین لکھنے والیوں کی تعداد ،معیار اور پسندیدہ موضوعات پر سوال کیا جس کے جواب میں میٹنگ میں موجود چھ سات خواتین نے جو جواب دیا، اُس کا عمومی مفہوم یہی تھا کہ ’’ہم کسی سے کم نہیں‘‘ ڈاکٹر ادل سومرو کی سیلفیوں کا سلسلہ نہ صرف جاری رہا بلکہ میزبانوں کی گرمجوشی کے باعث اس میں مزید شدّت پیدا ہوگئی کہ مقامی مترجم میزبان بار بار یاد آرہا تھا کہ ’’یہ تبسم ّ یہ تکّلم مِّری عادت ہی نہ ہو‘‘ اس پر مستزاد اُس کا عمر چور اور خوش باش چہرہ تھا جو کسی بھی اجنبی کو مختلف قسم کے مخمصوں میں ڈال سکتا تھا۔

ہوٹل میں پہنچ کر واٹس ایپ کا رابطہ تو بحال ہوگیا مگر باقی کے سارے سسٹم یہاں بھی تقریباً معطل رہے ۔ جہلم سے بُک کارنروالے برادرم امر شاہد نے میری زیرِ طبع کتاب ’’ذرا سی بات‘‘ کا ٹائٹل اور ابتدائی صفحات رائے کے لیے بار بار بھجوائے مگر ہر بار وہ راستے ہی میں رہ گئے کہ تحریری پیغام اور تصاویر دونوں کا ٹیکنالوجی سے کوئی سمجھوتہ ممکن نہ ہو سکا۔ گھر والوں سے خیروعافیت معلوم کرنے کے بعد عائشہ بلال سے رابطہ کیا کہ جس کا شوہر اور میرا بہت عزیزی ڈاکٹر احمد بلال کسی مشکل سی بیماری میں مبتلا ہوکر میو اسپتال کے نیوروسرجری وارڈ میں زیرِ علاج تھا اور اُسے پانچ بارخون کی مکمل  صفائی کے عمل سے گزرنا تھا۔

معلوم ہوا کہ ڈاکٹرز کی رائے کے مطابق علاج کی سمت بھی صحیح ہے اوراُس کے مثبت اثرات بھی حسبِ توقع ہیں۔ رب کریم اُسے جلد صحت یاب فرمائے۔ اسی دوران میں کوریا میں مقیم ایک ادب دوست پاکستانی نسیم سے بھی رابطہ بحال ہوا اور ایک بار پھر دل اللہ کی رحمت کے بے پاباں احساس سے بھر گیا کہ اُس نے ہمیں کیسی کیسی نعمتوں اور محبتوں سے سرفراز کیا ہے کہ لاکھوں لوگ ہمیں اپنی دعائوں میں یاد رکھتے ہیں۔

اگلا دن یعنی 20 جون شہر کی سیر اور نامور چینی ادیب کا ویو کے میوزیم کی سیر کے لیے مختص تھا۔ یہ پہلی جگہ تھی جہاں تمام معلومات انگریزی زبان میں بھی فراہم کی گئی تھیں جس سے یہ فائدہ ہوا کہ کاویو کے ساتھ ساتھ جدید چینی ادب کی تاریخ اور اس کے اہم معماروں کی تحریروں اور تصویروں کو بھی دیکھنے اور جاننے کا موقع مل گیا۔ کاویوکا یہ آبائی مکان اس کے خاندان کی خوشحالی کا بھی غماز تھا کہ اس کا رقبہ، طرز تعمیر اور ظاہری وضع قطع بمع لوکیشن اس بات پر شاہد تھے کہ موصوف کا تعلق اپنے عہد کے متمول افراد کی برادری سے تھا، یہ اور  بات ہے کہ اس کا ادب عوام اور نچلے طبقوں سے محبت اور ان کے حقوق کی جدوجہد کی حمائت سے بھرپور تھا۔ بیرونی دروازے پر نصب اس کی تصویر کے ساتھ یہ عبارت درج تھی (ترجمہ)

’’کاویو (1910-1996)کا اصل نام وان جیا بائو عرف شائوشی تھا۔ وہ اپنے آبائی گھر ٹینجن شہر کے ایک علاقے کیاں جیانگ میں پیدا ہوئے جو صوبہ ہوبائی کا حصہ تھا۔ اُس نے بہت سے تاریخ ساز ڈرامے لکھے یا اُن کا ترجمہ کیا جن میں سے ’’طوفانِ بادوباران‘‘ ، ’’طلوعِ آفتاب‘‘،’بیجنگ کے عوامی گیت‘‘،’’وانگ زیائوجن‘‘ اور ’’رومیو جیولیٹ ‘‘ زیادہ مشہور ہوئے۔ کاویو نے اپنا بچپن اور نوجوانی کے دن اسی عمارت میں گزارے جس کا ماحول، محبت، جذبات، خلوص اور مسرت سے معمور تھا اور جس کے دوران اُس نے عوام اور معاشرے سے گہرا تعلق استوار کیا اور ابتدائی عمر سے ہی اس رنگ میں رنگتا چلا گیا۔ اس کے بیشتر کردار کم و بیش اس زمانے اور ماحول کی دین ہیں۔ یہ عمارت دو منزلوں پر مشتمل ہے جو کہ اٹالین انداز میں تعمیر کی گئی ہیں۔ عمارت کے اندر مختلف کمروں میں اس کی یادگاروں ، تصویروں اور کتابوں کو بہت عمدہ طریقے سے محفوظ کرکے رکھا گیا ہے ۔ہم سب نے یہاں تصویریں بنوائیں لیکن پہلا نمبر یہاں بھی ڈاکٹر ادل سومرو کی سیلفیوں ہی کا رہا۔

میزبان سے گفتگو کے د وران معلوم ہوا کہ اس شہر میں نہ صرف مسلمانوں کی دو مسجدیں ہیں بلکہ ایک ایسا علاقہ بھی ہے جہاں اُن کی کثر ت ہے اور وہاں حلال کھانا فراہم کرنے والے ریستوران بھی موجودہیں ۔ اب ظاہر ہے اس کے بعد ہمارا  وہاں جانا ہر اعتبار سے بنتا تھا سو ہم میوزیم کے بعد پہلے مسجد اور پھر مسلم ریستوران میں گئے۔ مسجد اُس وقت بند تھی سو اُسے تو صرف باہر سے ہی دیکھ سکے مگر مسلم ریستوران کا تجربہ خاصا مایوس کن رہا کہ ایک تو وہاں صفائی کا انتظام خاصا ناقص تھا اور دوسرے یہ بھی آخر تک پتہ نہ چل سکا کہ جو کچھ ہم نے کھایا وہ ذبیحہ تھا بھی یا نہیں؟۔

کھانے کے بعدہمیں ایک بار پھر بہت سی سڑکوں پر بار بار گھمانے کے بعد شاپنگ کے لیے ایک اربن مارکیٹ نما جگہ پر لے جایا گیا جہاں یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ دھوپ زیادہ تیز ہے یا اشیاء کے نرخ۔میں نے ایک قہوہ دانی خریدی جو بلاشبہ بہت خوبصورت تھی مگر جس کی قیمت پاکستانی روپیوں میں تقریباً سات ہزار بتائی گئی جب کہ سودا سوا چار ہزار پر طے ہوا ۔ سودے بازی میں اس قدر گنجائش پر بہت حیران بھی ہوئے لیکن یہ حیرت اگلے روز ایک بڑے شاپنگ مال  میں خریداری پر بہت کم رہ گئی، اس کی تفصیل انشاء اللہ اگلے اور اس سلسلے کے آخری کالم میں ۔

The post ’’ٹینجِن ‘‘ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/321Ua6o

درویش صحافت

پرویزحمید صاحب بھی قافلۂ اجل کے ہمسفر بن چکے ہیں، وہ ان محنت کش صحافیوں میں سے تھے، جو  زندگی بھر لکھتے رہتے ہیں اور ایک روز سنگل کالمی خبر میں سما کر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔

روزانہ وہ اپنے اسکوٹر پر گھر سے نکلتے اور رات گئے شہر کی ساری رنگا رنگ محفلیں بھگتا کر ہی واپس پہنچتے۔ سمن آباد، گلبرگ، کوئنز روڈ، مال روڈ پر اورکبھی اس حال میں کہ سڑک سے ہٹ کر اسکوٹرکو کک پرکک مار رہے ہیں، وہ اسٹارٹ نہیں ہو رہا۔ پرویز حمید صاحب سے پہلی ملاقات سمن آباد لاہور میں ہفت روزہ ’’ندا‘‘ کے دفتر میں ہوئی؛ گورا چٹا رنگ، گول مٹول صفا چٹ چہرہ، بڑی بڑی آنکھیں، درمیانہ قد، ڈیل ڈول پہلوانوں جیسا، بال سفید مگردرمیان سے سر ’’فارغ البال‘‘ سردیوں میں سر پرچترالی ٹوپی ان کا ٹریڈ مارک تھی۔

بھٹو صاحب اور فیضؔ صاحب کے بڑے مداح تھے۔ ان کی وساطت سے پیپلزپارٹی سے وابستہ جن شخصیات سے راہ ورسم پیدا ہوگئی، ان میں محمد حنیف رامے بھی تھے۔ پرویز حمید صاحب کی ان سے خاصی بے تکلفی تھی۔ پھر ایک روز وہ  مجھے اپنے ساتھ گھر لے گئے، جو دفتر کے عقبی گلی میں تھا۔ انھوں نے مجھے اپنے بچوں ارشد، عادل اور بیٹی سے ملوایا، جو سب کے سب ان دنوں اسکول میں پڑھتے تھے اور پھر بڑی شفقت سے مجھے کہا، ’’ آج سے یہ تینوں آپ کے شاگرد ہیں۔‘‘ گھر آنا جانا ہوا تو معلوم ہوا کہ ان کے بچے بھی انھی کی طرح ہنس مکھ، خوش اخلاق اورملنسار ہیں۔

روزنامہ ’’مساوات‘‘ کے دفتر میں بھی ان سے  ملاقات ہوتی رہی۔ پرویزحمید صاحب نے اپنی وضعداری برقرار رکھی۔کوئی دفتر کے مالی حالات کے بارے میں پوچھتا تو مسکراتے اور کہتے، ’’بندہ پرور، آپ کے سامنے ہی ہیں سارے حالات۔‘‘ ’’بندہ پرور‘‘ ان کا تکیہ کلام تھا، مساوات کا دفتر ان دنوں پنجاب اسمبلی کے عقب میں ایک پیلی سی بلڈنگ میں ہوتا تھا۔ ایک روز ان سے ملنے کے لیے پہنچا۔ وہ نیوز روم میں بیٹھے تھے کہ چار پانچ نوجوان سب ایڈیٹر سے اندر آئے اور آتے ہی ان کے سامنے پھٹ پڑے، کہ فلاں شعبہ کو تنخواہ مل چکی، ہمیں اکاونٹنٹ ٹرخا رہا ہے، پرویزحمید نے پہلی مرتبہ نظر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا اورکہا، ’’بندہ پرور تنخواہ تو ابھی مجھے بھی نہیں ملی، پرویز حمید صاحب نے تمام بڑے صحافتی اداروں میں کام کیا، لیکن دفتروں کی اندرونی سیاست سے خود کو ہمیشہ الگ رکھا، ادھر دفتر کا وقت ختم ہوا، ادھر ان کاا سکوٹر اسٹارٹ ہوا اور وہ سڑک کی بھیڑ میں گم ہو گئے۔

پرویزحمید صاحب کی فعال صحافت کا آخری دور مجید نظامی صاحب کی زیر ادارت ’’نوائے وقت‘‘ میں گزارا، جہاں میں بھی تھا۔ ان کی شگفتہ مزاجی کی وجہ سے ماحول خوشگوار رہتا تھا۔ صرف سیاست نہیں، شوبز میں بھی ان کے تعلقات کا دائرہ بہت پھیلا ہوا ہے۔ محمد علی زیباکی جوڑی سے ان کو دلی  لگاو تھا۔ ایک روز ان سے انٹرویو کے لیے ہم ویسپا پرکوئنز روڈ سے گلبرگ لاہور کی طرف روانہ ہوئے۔ سخت گرمی کے دن تھے۔ راستے میں پرویز حمید صاحب نے ایک دوبار اپنے سرکو ہلکا سا جھٹکا دیا، تو مجھے احساس ہوا کہ غنودگی کے ساتھ ان کی آنکھ مچولی شروع ہو چکی ہے۔ سڑک پر مجھے ایک جگہ کافی مقدار میں موبل آئل گرا ہوا نظر آیا۔

میرے سر میں خطرے کی گھنٹی بجی۔ میں نے چیخ کر کہا، پرویز صاحب، آگے دیکھیں؛ لیکن دیر ہو چکی تھی۔ یہ عین وہی لمحہ تھا، جب انھوں نے سر کو جھٹکا تھا۔میری چیخ پرانھوں نے اچانک جو بریک لگائی تو اسکوٹر اس وقت موبل آئل کے بالکل اوپر تھا۔ بریک لگتے ہی اسکوٹر ہمارے نیچے سے نکل کر پھسلتا ہوا فٹ پاتھ کی طرف جا رہا تھا، اور اس کے پیچھے پیچھے میں اور پرویز حمید صاحب بھی رواں دواں تھے۔ ’’بندہ پرور بریک تو لگائی تھی‘‘ پرویز حمید صاحب نے مسکرانے کی ناکام کوشش کی، چونکہ خراشیں ان کو بھی کافی آئی تھیں۔

میرا خیال تھا، اب انٹرویو کے لیے جانا مشکل ہے؛ مگر انھوں نے کپڑے جھاڑے، اسکوٹر کو اٹھایا، اور کک لگاتے ہوئے کہا، ’’چلتے ہیں، علی بھائی کا گھر اب زیادہ دور نہیں۔‘‘ اور کچھ ہی دیر میں ہم علی بھائی کے ساتھ ان کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔ انھیں معلوم ہوا کہ ابھی ہم ایک حادثہ سے بال بال بچے ہیں، تووہ ہم سے بھی زیادہ پریشان ہو گئے، کہنے لگے، حمید صاحب، یہ آپ نے کیا کیا، آج رہنے دیتے، اس حالت میں خواہ مخواہ تکلیف کی۔‘‘

پرویز حمید صاحب کے چہرے پر وہی ان کی ملائمت آمیز مسکراہٹ ابھری، لیکن وہ کچھ بولے نہیں اور علی بھائی کی طرف دیکھتے رہے۔ علی بھائی کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں، بولے، ’’زمانہ بدل گیا، آپ بالکل نہیں بدلے حمید صاحب۔‘‘ نوائے وقت میں پرویز حمید صاحب کے ساتھ جو وقت گزرا، اس کی کھٹی میٹھی یادوں ایسی ہیں کہ ایک دو یا چند کالموں میں نہیں سما سکتیں، یہ تو کبھی اپنی یادداشتوں میں ہی لکھوں گا۔

بہرحال یہ وقت بھی دبے پاوں گزر گیا۔ ’’نوائے وقت‘‘ چھوڑا تو پرویز حمید صاحب کا ساتھ بھی چھوٹ گیا۔ اس وقت لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ اب یہ ساتھ ہمیشہ کے لیے چھوٹ چکا۔اس کے بعد ان کو آخر ی بار ہی دیکھا۔ پریس کلب میں پولنگ ہو رہی تھی۔ ووٹ ڈال کر نکلا تو دیکھا کہ باہر ایک کرسی پر اکیلے بیٹھے ہیں۔ معلوم ہوا کہ کافی بیمار رہے ہیں۔ چہرے پر نقاہت کے آثار اب بھی موجود تھے۔ ادھر ادھر گھوم پھر کر دوبارہ ان کو دیکھنے کو جی چاہا، واپس آیا تو ان کی کرسی خالی تھی۔ پھر فیس بک کے ذریعہ پتہ چلا کہ وہ اسپتال میں داخل ہیںاورکافی بیمار ہیں۔ میں نے ارشد کو فون کیا۔ کہنے لگا، ابو کی حالت سخت خراب ہے، لیکن ہوش میں آنے پر دوست احباب کو پہچان لیتے ہیں۔ آپ آ جائیں۔

سوچا کہ ان کی طبیعت  کچھ سنبھل جائے تو حاضر ہوں گا؛ ادھر ان کا وقت پورا ہو چکا تھا۔ چند روز بعدارشدکاایس ایم ایس ملا کہ ’’ انکل ابو رخصت ہو گئے ہیں۔‘‘ دل کو ایک دھکا سا لگا۔ ارشد کہنے لگا،’’میں نے ابوکو آپ کے آنے کے بارے میں بتایا تھا۔ چند روز میں آپ نہیں پہنچ پائے توانھوں نے پوچھا بھی کہ اصغر آیا نہیں۔ میں نے کہا، آ جا ئیں گے‘‘ ؛مگر اس جہان فانی میں ان سے ملنااب قسمت میں نہ تھا۔ لاہور کے قبرستان میانی صاحب کے ایک گوشے میں ان کی لحد پر مٹی ڈالتے ہوئے میں سوچ رہا تھا،

منیرؔ اس خوب صورت زندگی کو

ہمیشہ ایک سا ہونا نہیں ہے

The post درویش صحافت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2YlFtcg

میثاق معیشت

کبھی کبھی ہمارے اپنے بنائے بیانیے وبال جان بن جاتے ہیں،کیونکہ یہ بیانیے ہماری قومی روح کے عکاس بن جاتے ہیں۔ ہم اس بیانیہ کو بصیرت کے تناظر میں پرکھتے ہیں ،اسے حقیقت سمجھتے ہیں۔

ہمیں کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ معیشت کس طرح پروان چڑھتی ہے یا سیاست کس طریقے سے مثبت ہوسکتی ہے یا ہمارا سیاسی بیانیہ یا بنائی ہوئی نظریاتی حیثیت کس طرح معیشت کو بنا بھی سکتی ہے اور بگاڑ بھی سکتی ہے۔ معیشت ہی دراصل ہمارے گرد تمام حقائق میں سب سے اہم ومعنی خیز حقیقت ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے لے کرکئی طرح کے سروسزسیکٹر میں نئے نئے اضافے اور جدید تبدیلیاں ہورہی ہیں،نئے نئے ہنر ایجاد ہوئے ہیں۔ مگر ہمارا اب بھی اہم ذریعہ پسماندہ طریقہ کی پیداوار والی زراعت ہے جو سب سے زیادہ روزگار دیتی ہے۔

ہماری صنعت بیٹھ گئی ہے رواں سال میں تو اس کی کارکردگی منفی رہی اور اس کے بعد زراعت بھی دوسرے نمبر پر بد حال رہی۔ ادھر ہمارے اخراجات زیادہ اور آمدنی کم ہے۔ ہم نے یہ خلاء قرضے لے کر بھرا ۔  ہم انسانی وسیلوں کی ترقی نہیں کرسکے، ہمیں ترقی کا اصل مغز سمجھ میں نہیں آیا۔ ہم نے موٹر وے اور ایئرپورٹ بنانے کو ترقی سمجھا۔ اسپتال اور اسکول گئے بھاڑ میں، آج سندھ سے زیادہ تو سائوتھ پنجاب میں ایچ آئی وی پلس کے ستائے ہوئے نکل رہے ہیں یہ وہی بیانیہ ہے۔ پیروں، وڈیروں والا بیانیہ ،کاروکاری، ستی کا بیانیہ۔ ہمیں جہادی چاہیے تھے، ہم نے بیانیہ بھی ایسا بنایا۔

ہمارا تیسرا اور سب سے اہم ستون ہے کہ ہم درآمدات کتنی اور برآمدات کتنی بڑھاتے ہیں اور یہ دونوں کام روپے میں نہیں ڈالر میں کیے جاتے ہیں۔ ہم برآمدکم اور درآمد زیادہ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں قرضہ ڈالر میں لینا پڑتا ہے اور اب یہ قصہ کچھ اس طرح ہوگیا ہے کہ ہمیں قرضہ اتارنے کے لیے قرضہ لینا پڑ رہا ہے۔ روپے کا قرضہ روپے لے کر اور ڈالرکا قرضہ ڈالر لے کر اتارتے ہیں۔ روپے کے نوٹ ہم چھاپ سکتے ہیں اور ہم نے روپے کا قرضہ اس طرح  روپے میں اتارا۔ ڈالر ہم نہیں چھاپ سکتے۔ ہم روپے کا قرضہ ٹیکس لے کر بھی اتارتے ہیں مگر ہمارا ٹیکس نظام امیروں سے ٹیکس لینے میں بالکل ناکام گیا ہے، جب کہ غریبوں پر ٹیکس یا دوسرے الفاظ میں ان ڈائریکٹ ٹیکس لگا کرکام چلائے جاتے ہیں۔غریبوں کے پاس جوکچھ بچتا ہے وہ ہم ان ڈائریکٹ ٹیکسز لگاکر ان سے چھین لیتے ہیں۔

جس طرح حادثے اچانک جنم نہیں لیتے،اسی طرح معاشی بحران بھی ہمارے سامنے اچانک کھڑے نہیں ہوجاتے ہیں۔ یونان جب یورپی یونین کا ممبر بنا تو اسے بہت سے قرض یورو میں ملنے لگے اور بہت سستے دام پر یونان قرضے لیتا گیا۔خصوصا فرانس اور جرمنی کے بینک ان کو قرض دیتے گئے۔ یونان کے شرفاء یہ سستے دام پر ملنے والے قرض کھپاتے گئے اور پھر یونان کے بینک دیوالیہ ہونے لگے۔ یونان ڈیفالٹ کرگیا اورجس کی وجہ سے  فرانس اور جرمنی کے بینکوں کے لیے بھی مسائل پیدا ہوئے۔ ان کے قرض Reschedule کیے گئے۔ یونان کے بینکوں نے بھاری رقم نکالنے پر پابندی عائدکردی اور اس طرح ’’اعتماد‘‘ بھسم ہوکر گر پڑا۔ یہ معیشت بیچاری ’’اعتماد‘‘ پرچلتی ہے۔ میں مزدوری کر رہا ہوں اس یقین پرکہ مجھے اجرت ملے گی۔ میں نے مکان کرایے پر دیا ہے اور مجھے اس کا کرایہ ملے گا اورمعیشت کے محور پے رہتا ہے Contract۔

ہم روزمرہ کی زندگی میں پچاسوں Contract  تحریری کرتے رہتے ہیں ۔ ہمارا ہر خرید اور فروخت خود ایکContract  ہی ہوتا ہے اور پھر اسی طرح یہ سارے کانٹریکٹ ٹوٹنا شروع ہوجاتے ہیں۔ میں نے ایک پچاس لاکھ کا بیانیہ دے کر پانچ کروڑکا گھرخریدا کہ باقی رقم دو مہینے کے بعد ادا کروں گا۔روپے کی قدر اتنی گرگئی کہ ان دو مہینوں میں حقیقی قیمت وہ نہ رہی۔ معاہدہ ٹوٹ گیا اور میرے پچاس لاکھ ڈوب گئے۔ لوگ بے روزگار ہوتے ہیں۔افراط زرمیں پے در پے اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اس پوری جنگ میں امیروں کے کاروبار ٹوٹتے  ہیں جب کہ غریبوں کے گھر میں فاقے بسیرا کرنے لگتے ہیں۔

اس سارے تناظر میں اب ایک نئی طرح کی بازگشت سننے میں آئی کہ میثاق معیشت ہونا چاہیے۔اس کے پیچھے بھی ایک تاریخ ہے۔ جب مدینہ میں میثاق جمہوریت ہوا تھا، دوگروہوں کے درمیان کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہوں گے اور جمہوریت پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، جب کہ ہمارے پاس آج یہ تیسرا دور ہے کہ جمہوریت اب بھی پٹڑی پر ہے۔اب کی بار میثاق معیشت کے معنی یہ ہیں کہ سب کے سب سرجوڑکے بیٹھیں کہ آخر اس ملک کو اس معاشی بحران سے نکالاجائے اور اس کے لیے ایک متفقہ حکمت عملی بنائی جائے۔

ہم جس موڑ پر آج پہنچے ہیں، یہ حالات عمران خان یا اس کی حکومت نے پیدا نہیںکیے،لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ خان صاحب کی سمجھ سے بہت بڑا بحران ہماری دہلیز پر آن کھڑا ہے۔ یہ وہ بحران ہے جو اکیلے حکومت سے حل نہیں ہوگا۔اس بحران کو مل کر حل کرنے کے لیے سب کو آن بورڈ ہونا ہوگا۔

یہ تمام بحران حل طلب ہیں، ہماری برآمدات اور درآمدات میں جو عدم توازن ہے وہ کم ہورہا ہے۔ہمارے اخراجات اگرکم نہیں ہورہے لیکن ہماری محصولات بڑھیں گی۔اب ٹیکس نظام میں انقلابی تبدیلی آرہی ہے۔ ہم اپنے نان ڈاکومینٹیڈ معیشت کو ڈاکیومینٹیڈ کرتے جائیں گے۔ ہمارے اندرونی قرضے بھی اتنا بڑا مسئلہ نہیں مگر ہم نے جو قرضے ڈالر میں اتارنے ہیں وہ کیسے اتاریں، اتنا ڈالرکہاں سے لائیں؟

مجھے یاد ہے میاں صاحب نے اپنے پہلے دور میں ’’قرض اتارو ملک سنوارو‘‘ کا نعرہ لگایا مگر وہ سب نعرے ہی تھے۔ دوسرے دور میں ڈالر اکائونٹ مجمند کرنا پڑگئے  مگر اس اقدام سے غریب طبقے پر اثرات کم ہوئے تھے۔ پھر تیسرے دور میں ڈالر میں جتنے قرضے لیے گئے،اس کی بھی کوئی مثال نہیں۔کہاں گیا game changer  والا vision  جو احسن اقبال کی کپتانی میں ہورہا تھا۔

جی ہاں قرضے لے کر ترقی ہوسکتی ہے مگر اپنے بینکوں اور روپے میں قرضے لے کر۔ ڈالر میں بھی قرضے لیے جاسکتے ہیں اگر آپ کے پاس ایک دو سال کے امپورٹ بل ادا کرنے جتنے بیرونی ذخائر ہوں۔کوئی بھی واضح تشریح نہیں میثاق معیشت کی اب تک۔ جب فوج کے پیسے اس مرتبہ نہیں بڑھے، یہ ان کی طرف سے میثاق جمہوریت ہے،اس طرح سے اپوزیشن کا کوئی بھی کردار نہیں کہ وہ اس میں کیا کرسکتے ہیں کیونکہ ان کو بجٹ میں سے کچھ نہیں ملتا۔ وہ میثاق معیشت میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ سب لوگ اپنے اثاثے ظاہرکریں اور ٹیکس دیں، مگر اس سے ڈالر تو نہیں آئے گا۔ ڈالر آئے گا ایکسپورٹ سے اور ہماری قوم بائیس کروڑ ہے۔ اتنی بد ترین ایکسپورٹ دنیا میں کسی کی بھی نہیں ہوگی،اتنی آبادی کے تناسب سے۔ ہماری ایکسپورٹ کا براہ راست تعلق ہے انسانی وسیلوں کی ترقی سے، ہنر سے اور ہم نے ان لوگوں کے ہنرکے لیے اس قوم کو مدرسوں کے چکر میں لگا دیا۔ یہ ہمارا بیانیہ تھا ۔ ہمیں کسی اور نے نہیں بلکہ اپنے بیانیہ نے مارا ہے۔

ایک صحت مند پاکستان کے لیے میثاق معیشت ضروری ہے اور اس میثاق معیشت کی بنیاد ایک یہ بھی ہونی چاہیے کہ اس بیانیے کو اب بندکیا جائے جس سے معیشت متاثر ہو۔ ہماری صحت مند انسانی اور مثبت سوچ رکھنے والا skilled آدمی ہمارے ڈالرکمانے کی ضمانت ہے اور یہی ہے پاکستان اور اس کی میثاق معیشت ۔ ہم اپنے ہنرسے، اپنے  skills سے، بہترین انسانی وسیلوں سے صحت مند ومثبت بیانیہ والے پاکستانی شہری کے بل بوتے پر ڈالر کمائیں گے۔ عزت والا ڈالر۔ نہ کہ وہ ڈالر جو افغان جہاد کے لیے ملا تھا،اسی ڈالر نے ہمیں اس منزل پر پہنچایا۔اْسی ڈالر پر پنپ کے اس اشرافیہ نے یہ پاکستان بنایا ہے۔ ہم  اپنی تاریخ پر پہرے نہیں بٹھا سکتے۔ ہمیں حقیقی پاکستان اور حقیقت سے ملنا ہوگا، میثاق جمہوریت کی خاطر، میثاق معیشت کی خاطر۔

The post میثاق معیشت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2LrweU7

غافل قاتل…

’’ ٹھیک ہیں انکل آپ؟ ‘‘ میں نے ان کے بیڈ کے پاس سے گزرتے ہوئے پوچھا اور انھوں نے ایک دردیلی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، وہ مسکراہٹ جو جانے کتنے درد چیر کر لبوں تک آئی تھی۔ وہاں لیٹا ہوا کوئی بھی شخص ٹھیک کیسے ہو سکتا تھا، انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں جو پہنچتا ہے، وہ شخص ہوتا ہے جو حیات اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہوتا ہے ۔ ساتھ والے بیڈ پر محو استراحت وہ خوبصورت سی بزرگ خاتون مجھے پہلے سے بہت بہتر لگیں، میں انھیں بھی چار دن سے دیکھ رہی تھی۔

اپنی والدہ کے اسپتال میں ہونے کے باعث ہم سارے بہن بھائی اسپتالوں کے کاریڈورز، انتظار گاہوں، انتہائی نگہداشت کے یونٹ اور وارڈوں میں ہی مل رہے تھے۔ وہ جو یہیں مقیم ہیں اور وہ بھی جو ان کی یوں اچانک علالت کا سن کر تکلیف دہ سفر کر کے غیر ممالک سے پہنچے تھے۔ وہ جنھیں ان سب کو اپنے ارد گرد دیکھ کر خوش ہونا تھا، وہ ہر غم اور خوشی سے بے نیاز تھیں اور ہم جو ہوش و حواس میں تھے، ان کے لیے دعا گو اور دل میں خوفزدہ بھی۔

ان برآمدوں اور انتظار گاہوں میں سب ایک دوسرے سے نظریں چراتے ہوئے خاموش بیٹھ کر زیر لب کچھ نہ کچھ پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ہم ایک ایک کر کے ’’ انتہائی نگہداشت کے یونٹ‘‘ کے اندر جاتے اور واپس آ کر باقیوںکو بتاتے کہ اب والدہ کی طبیعت کیسی ہے اور راہ میں آنیوالے باقی مریضوں کی بابت بھی کچھ نہ کچھ نوید یا وعید ہمارے پاس ہوتی تھی۔ ہم میں سے جو بھی اندر جاتا، وہ واپسی پر یہ بھی آ کر ضرور بتاتا کہ اندر موجود ڈاکٹروں اور نرسوں نے پھر ناراضی کا اظہار کیا ہے کہ ہم بار بار اور بہت زیادہ اندر جاتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ نرس سے بات کرونگی کہ جو لوگ اتنی دور دور سے دکھ اور تکلیف کی کیفیت میں آئے ہیں، کم از کم ان کو اندر جانے سے نہ روکیں۔

اگلے روز میں گئی تو اپنی باری پر اندر جا کرحسب معمول جائزہ لیا، چند مریضوں کا اضافہ ہو چکا تھا، وہ آنٹی نظر نہیں آئیں۔ والدہ کے بارے میں پوچھتے ہوئے میں نے نرس سے ان آنٹی کی بابت دریافت کیا، دل میں یقین تھا کہ انھیں حالت بہتر ہونے پر وارڈ میں منتقل کیا جا چکا ہو گا ۔ اس کے انکشاف نے میرے قدموں میںسے رہی سہی طاقت بھی کھینچ لی… ’’مگر کیوں، کیسے؟؟ وہ تو کل بہت بہتر لگ رہی تھیں؟ ‘‘’’ آپ سب لوگوں کی وجہ سے… ‘‘ اس نے کہا، ’’یہاں زندگی اور موت کے مابین جنگ چل رہی ہے میڈم، ہر لمحہ صورتحال بدلتی رہتی ہے۔ چند لمحوں میں بگڑی ہوئی صورتحال سنور جاتی ہے تو چند لمحوں میں بہتر ہوتا ہوا مریض موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے! ‘‘ اس نے بتایا۔

ایک دن پہلے ہی تو ہم نے مایوسی کی اس انتہا کو چھوا تھا جس میں ہمیں یقین ہو گیا تھا کہ کوئی بھی نرس باہر آکر ہمیں کوئی بری خبر دے سکتی ہے۔ چند منٹ پہلے والدہ باتیں کر رہی تھیں اور اس کے دوران ہی انھیں ایک اور سٹروک ہوا جسکے بعد ان کے جسم کا ردعمل زیرو ہو گیا، ڈاکٹروں اور نرسوں کی دوڑیں لگ گئیں اور ہم مایوسی کی اس اتھاہ تاریکی میں روشنی کی کرن کو ڈھونڈ رہے تھے۔ ان کی حالت سنبھلی اور ہمارا اندر جانا مکمل طور پر بین کر دیا گیا تھا۔

’’ آپ سب لوگ… آپ کو علم ہی نہیں ہوتا کہ کس طرح آپ غفلت میں ایک بہتر ہوتے ہوئے مریض کو موت کے منہ میں پہنچا دیتے ہیں !! ‘‘ لو جی ، آج تک اس ملک میںقائد اعظم اور محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف کی گئی قاتلانہ سازشوں، لیاقت علی خان کے قتل اور ان کے قاتل کے قتل، بہاولپور میں ضیاالحق سمیت فوج کی اعلی قیادت کا اجتماعی قتل، بینظیر کا قتل… سب کچھ بے تحقیق اور بے ثمر گیا اور اس نے اتنی آسانی سے مجھے قاتل کہہ دیا، بلکہ غافل قاتل کہ جو قتل کرے اور اسے علم بھی نہ ہو۔گھر واپسی کے سفر میں، میں مسلسل سوچ رہی تھی کہ اس نے اتنا بڑا الزام لگا دیا اور میرے پاس اسے کہنے کو کچھ نہ تھا۔ خود ہی سوچنے لگی کہ صبح سے میرا معمول کیا تھا۔

میں نے صبح اپنے کمرے کی صفائی کے ساتھ ساتھ کھانا بنایا تھا، مشین لگا کر میلے کپڑے بھی دھوئے تھے۔ اس کے بعد شاور لینے سے پہلے غسل خانہ بھی صاف کیا اور ظاہر ہے کہ شاور لینے کے بعد تو میں اتنی مصفا ہو چکی تھی کہ اسپتال جا سکتی تھی۔ تیار ہو کر جوتے پہننے لگی تو وہ ذرا گندے دکھے، گیلا سوکھاکپڑا لے کر انھیں صاف کیا، ہاتھ کھنگال کر نکلی ہی تھی کہ منے صاحب سامنے کھڑے نظر آئے… اپنا ڈائپر تبدیل کروانے کے لیے وہی خوشامدانہ مسکراہٹ منہ پر سجائے، اسے فارغ کیا۔ پچھلے روز جو کپڑے پہنے تھے وہ صاف ہی تھے، انھیں استری کیا ، لباس تبدیل کیا، بال بنائے اور میں اسپتال جانے کے لیے تیار۔ اپنا کمرہ لاک کیا، لاؤنج میں بچوں نے کھلونوں کا میلہ لگا رکھا تھا، غصے میں ، جلدی جلدی انھیں سمیٹا اور گاڑی کی طرف لپکی، بارش کے چھینٹوں سے ونڈ اسکرین گدلی سی لگ رہی تھی، ملازم کو بتاتی تو مزید وقت لگ جاتا اس لیے اسے خود ہی صاف کیا۔

گاڑی سے نکل کر اسپتال کے اندر جانے میں تو پسینے میں بھیگ گئی ، بارش کے چند چھنٹے پڑنے کے بعد جب سورج چمکتا ہے تو یوں بھی زمین کی بھڑاس اپنی گرمی میں شامل کر لیتا ہے۔ ہاتھوں کی ہتھیلیوں تک پسینہ آ رہا تھا۔اسپتال پہنچنے کے بعد اندر اے سی کی خنکی سے پسینہ تو جلد ہی سوکھ گیا۔ میں نے اندر جانے سے پہلے باہر کرسی پر بیٹھ کر اپنے پیروں پر نیلے مومی کور چڑھائے، وہاں موجود بوتل میں Sanitiser کی زیادہ سی مقدار اپنے ہاتھوں پر رگڑی۔

ظاہر ہے کہ یہاں تک آنے میں کتنے ہی دروازوں کے ہینڈل چھوئے تھے، اس سے پہلے گاڑی کا سٹیئرنگ، اپنے ماتھے سے پسینے صاف کیے تھے۔ اس سارے کے دوران میرے ہاتھ میں میرا فون مسلسل رہا تھا کہ جسکے بغیر اب زندگی ادھوری لگتی ہے، باورچی خانے سے لے کر غسل خانے تک… اسپتال کے ان برآمدوں میں بھی اور اندر جاتے ہوئے بھی وہ ساتھ ہی رہتا ہے۔ یہ  sanitiser کیا ان سارے جراثیم کو مار دیتا ہے، مار کر ہمارے ہاتھوں سے اتار دیتا ہے؟ میںنے اس لمحے خود سے سوال کیا۔

اندر مریضوں کی بہتری کے لیے وہ درجہ حرارت رکھا جاتا ہے کہ جس سے عام بندہ کانپ جاتا ہے، اتنی ٹھنڈ کہ جی چاہتا ہے اس گرمی کے موسم میں بھی کوٹ پہنا ہوتا تو بہتر ہوتا۔ اندر جاتے ہی چھینکوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، کبھی کھانسی بھی آجاتی ہے ۔ اپنے مریض کے علاوہ باقی مریضوں کے قریب سے گزرتے ہوئے بھی ہم اپنی کھانسی اور چھینکوں کے ساتھ کیا نقصان کرتے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے کرلیں ۔ کھانسی کے ساتھ ہم لگ بھگ تین ہزار چھوٹے چھوٹے قطرے، پچاس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا میں چھوڑتے ہیں اور چھینک کے ساتھ لگ بھگ ایک لاکھ قطرے ، سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوامیں پھیلاتے ہیں ۔

کھانسی یا چھینک کا بطور خود کوئی نقصان ہو یا نہ ہو مگر ہم سب اپنے جسموں میں کسی نہ کسی بیماری کے جراثیم لیے پھر رہے ہوتے ہیں، کسی بیماری سے چند دن پہلے صحت یاب ہوئے ہوتے ہیں یا عنقریب مبتلا ہونیوالے ہوتے ہیں ۔ ہمارے گھر میں کوئی ایسا شخص جو کسی بیماری میں مبتلا ہو گا اور ہمارا اس کے ساتھ قریبی واسطہ ہو گا اور ہم اس کی بیماری کے جراثیم بھی ساتھ لیے پھرتے ہیں۔ ہوا سے ہمارے کپڑوں اور فرشوں سے جوتوں کے ساتھ کئی طرح کے جراثیم چپک جاتے ہیں جن میں سے زیادہ تر اس وقت وہ ہونگے جو ہم اسپتال میں کسی مریض کے پاس سے گزرتے ہوئے اپنے ساتھ لے لیتے ہیں اور انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں ان مریضوں تک پہنچاتے ہیں جو اس وقت کمزور ترین قوت مدافعت کے ساتھ اپنی بیماری کے خلاف بقا کی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں۔

ہمیں اس اسپتال میں یہ بات سمجھ میں آئی کہ ہمارا اور ہمارے اہل خاندان کا اپنی والدہ کو دیکھنے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم انھیں مضبوط قوت مدافعت فراہم کریں اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم بیرونی دنیا سے جراثیم اپنے ساتھ اٹھا کر، اس مضبوط حفاظتی حصار والے علاقے میں نہ پہنچائیں ۔ ان کی صحت اور زندگی کے لیے ہمارا ان سے دور رہنا، ان کے قریب رہنے سے بہتر ہے ۔ جہاں ہمارے مریض موجود ہوتے ہیں، وہ اس وقت بہترین نگہداشت پا رہے ہوتے ہیں اور صحت کے لحاظ سے بھی ان کا ہم سے زیادہ خیال رکھا جا رہا ہوتا ہے، ہم ان کے لیے کیا کر سکتے ہیں اگر ہم انھیں ، باقی مریضوں اور اسپتال کے عملے کو بار بار تنگ کریں اور انھیں چڑائیں ۔ آخرکار ان کا کچھ نہیں جاتا، ہمارا اپنا مریض زیادہ خطرے میں ہوتا ہے، ہمارے تنگ کرنے سے عملے کے لوگ چڑیں گے تو نقصان کس کا ہو گا؟؟

یہ سب باتیں ہم سنتے، کتابوں میں پڑھتے اور سیکھتے ہیں مگر جب عمل کا وقت آتا ہے تو اس وقت ہم سیکھے ہوئے سارے اسباق بھول جاتے ہیں ۔ آپ سے التماس ہے کہ میری والدہ ماجدہ کی کلی صحت کے لیے ایک بار آیت کریمہ پڑھ کر دعا فرما دیں ۔ شکریہ!!

The post غافل قاتل… appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2xlSUgq

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...