Urdu news

Thursday, 31 October 2019

ایک ٹیلی کام انجینئر کی کہانی

سید محمد عرفان کی کہانی نے مجھے دکھی کر دیا‘ میں نے رات کے پچھلے پہر اس کا خط پڑھا اور میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں‘ میں اٹھا اور کھڑکی کھول دی‘ اکتوبر کی خنکی کمرے میں گردش کرنے لگی‘ اسلام آباد میں اکتوبر کا مہینہ حیران کن ہوتا ہے‘یہ مہینہ جاتی ہوئی گرمیوں کی خوشبو کو سردی کے لحاف میں لپیٹ کر ایک نیا‘ ایک انوکھا ذائقہ تخلیق کرتا ہے۔

ہم اسلام آباد کے باسی اس ذائقے سے واقف ہیں لہٰذا ہم اکتوبر کے مہینے میں جی بھر کر اس کا لطف اٹھاتے ہیں‘ میں اکثر ڈپریشن‘ ٹینشن اور اینگزائٹی میں رات کے وقت کھڑکی کھول دیتا ہوں اور اس وقت تک ٹیرس پر بیٹھا رہتا ہوں جب تک پورا جسم سن نہیں ہو جاتا‘ محمد عرفان کے خط نے بھی اینگزائٹی پیدا کر دی اور میں نے خود کو پچھلی رات کے سرد سناٹے کے حوالے کر دیا‘ میں خط پکڑ کر ٹیرس پر بیٹھ گیا اور دیر تک بے حسی اور حکومتی نالائقی کا سیاپا کرتا رہا۔ سید محمد عرفان کون ہے آپ خود اس کی زبان سے سنیے۔ ’’میں نے بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد سے بی ایس ٹیلی کام انجینئرنگ کیا‘ میں نے کلاس میں سلور میڈل لیا اور میں ویلز (برطانیہ) چلا گیا۔

میں نے وہاں سے موبائل اینڈ سیٹلائیٹ کمیونی کیشن میں ماسٹرز کی ڈگری لی اور میں اس کے بعد یورپین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ای آئی ٹی) کے اسکالر شپ پر برلن اور پیرس چلا گیا‘ میں نے وہاں سے بھی انٹرنیٹ ٹیکنالوجی اور آرکی ٹیکچر میں ڈگریاں لے لیں چناں چہ میں کہہ سکتا ہوں میں ٹیلی کام میں ایک پڑھا لکھا شخص ہوں لیکن میں ہوں کون؟ میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں‘ میرا نام سید محمد عرفان ہے اور میں پیشے کے اعتبار سے ایک ٹیلی کام انجینئر ہوں‘ میرے والد اسلام آباد کے ایک فارن مشن میں فرائض سرانجام دے رہے ہیں‘ میں نے جولائی 2012ء میں برطانیہ کے شہر ویلز میں گلیمورگ یونیورسٹی سے اعزاز کے ساتھ موبائل اور سیٹلائیٹ کمیونی کیشنز میں ماسٹر ڈگری لی۔

میرے پروجیکٹ کا مرکزی خیال ٹیلی کام کا چوتھاا سپیکٹرم تھا‘ میں نے اس پروجیکٹ میں اعزاز حاصل کیا‘میں نے اس سے قبل 2010ء میں بحریہ یونیورسٹی سے ٹیلی کام انجینئرنگ میں گریجویشن کی اور میں نے 3.75 سی جی پی اے کے ساتھ اپنی جماعت میں دوسری پوزیشن حاصل کی‘ میں نے سیکنڈری اور اس کے بعد کی تعلیم اسلام آباد ماڈل کالج سے حاصل کی‘ میں ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہوں‘ والدین میانوالی کے گاؤں نورنگا سے اسلام آباد آئے‘نورنگا پنجاب کے سب سے زیادہ نظرانداز کیے جانے والے علاقوں میں سے ایک علاقہ ہے‘ 2012ء کے بعد زمین کے مسلسل کٹاؤ کی وجہ سے اب ہمارا گاؤں مکمل طور پر دریا برد ہوچکا ہے۔

ہمارے بزرگوں کی قبریں تک پانی میں بہہ گئی ہیں‘ مجھے بچپن سے بیرون ملک تعلیم کا شو ق تھا‘ میں نے بی ایس کیا تو میری والدہ نے اپنا تمام زیوربیچ دیا‘ ہمارے پاس پانچ مرلے کا ایک مکان تھا‘ والد نے دس منٹ میں یہ گھر بیچ دیا‘ میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں ہمارا واحد سورس آف انکم ہمارے والد کی تنخواہ تھی‘ ہمارا خاندان آج بھی اسی سورس پر پل رہا ہے مگر ہمارے والدین سمجھتے ہیں ہماری تعلیم میں کی گئی سرمایہ کاری ان کی سب سے بہترین سرمایہ کاری ہے‘ میری بڑی ہمشیرہ نے ایجوکیشن میں ماسٹر ڈگری لے رکھی ہے۔

چھوٹی بہن نے ریاضی میں فرسٹ ڈویژن کے ساتھ ماسٹر ڈگری اور ڈبل میتھ کے ساتھ گریجویشن کی ‘جب کہ میرا چھوٹا بھائی ایئر یونیورسٹی اسلام آباد سے میکاٹرانکس انجینئرنگ میں ڈگری لے رہا ہے‘میں واپس اپنی کہانی کی طرف آتا ہوں‘ میں دہری شہریت کا حامل ہوں ‘ میں جب تک چاہتا میں یورپ میں رہ کر کام کر سکتا تھالیکن میں اس کے باوجود جولائی 2012ء میں اپنے وطن کی خدمت کے لیے پاکستان واپس آ گیا‘ میں نے پاکستان آ کر تقریباً ہر ٹیلی کام کمپنی میں درخواست بھیجی‘ملک میں 300 کمپنیاں ہیں‘ میں سب کے پاس گیا لیکن کسی کمپنی نے مجھے درخواست موصول ہونے کی اطلاع تک دینا گوارہ نہیں کیا۔

مجھے کچھ نجی کمپنیز سے کالز آئیں لیکن انھوں نے مجھے نوکری دینے سے اس وجہ سے معذرت کرلی کہ انھیں تجربہ کار انجینئرز کی ضرورت تھی‘میں یہ جان کر حیران رہ گیا دنیا کا کوئی شخص نوکری کے بغیر تجربہ کیسے حاصل کر سکتا ہے؟ میں نے انھیں پیش کش کی میں تجربہ حاصل کرنے کے لیے بہت کم تنخواہ پر بھی کام کرنے کے لیے تیار ہوںمگر مجھے کسی نے گھاس نہیں ڈالی‘ میں نے کئی حکومتی اداروں میں بھی درخواست بھیجی لیکن میرے ’’پینڈو‘‘ ہونے کی وجہ سے مجھے پذیرائی نہ مل سکی۔

یہ شاید اس وجہ سے تھی کہ میں کسی اہم شخصیت یا کسی ممبر قومی اسمبلی‘ صوبائی اسمبلی یا سینیٹر کا بیٹا نہیں ہوں یا پھر میں کسی جج یا جرنیل کے خاندان سے تعلق نہیں رکھتا تھا‘ بہرحال میرے دوستوں نے مشورہ دیا اور میں اپریل 2013ء میں نوکری کی غرض سے برطانیہ چلا گیا‘ میں نے اپلائی کیا اور مجھے سویڈن میں برطانیہ کی صف اول کی ٹیلی کام کمپنی الکاٹیل نے کنٹریکٹ پر ’’گریجویٹ اسمال سیل انجینئر‘‘ کے طور پر نوکری دے دی لیکن بدقسمتی سے سال بعد کمپنی فروخت ہو گئی اور تمام ملازمین فارغ کر دیے گئے ‘ میں دسمبر 2014ء میں ایک بار پھر پاکستان واپس آ گیا اور مختلف اداروں کو پھر سے درخواستیں بھیجنا شروع کر دیں۔

میں نے ٹیلی کام سیکٹر میں نوکری حاصل کرنے کے لیے مختلف اداروں کو 2500 درخواستیں بھیجیں لیکن کوئی مثبت جواب موصول نہیں ہوا‘ اس عرصے میں ایک بڑی شخصیت کی مہربانی سے مجھے ایک بڑی ٹیلی کام کمپنی میں مارچ 2015ء سے لے کر مئی 2015ء تک تین ماہ کے لیے 7500 روپے کے معمولی معاوضے پرانٹرن شپ اور دو ماہ کے لیے تنخواہ کے بغیر نوکری ملی‘ اس میں بھی روزانہ 75 روپے کھانے کے کٹ جاتے تھے‘ میں تین ماہ بعد یہاں سے بھی فارغ ہوگیا‘ میں اب آہستہ آہستہ پاکستان میں نوکری حاصل کرنے کی امید کھوتا جا رہا تھا‘ میں روز سوچتا تھا یہ ملک شاید اہم شخصیات کے لیے بنا ہے۔

یہ ہم جیسے لوگوں کا ملک نہیں‘میں یہ سوچنے پر بھی مجبور ہو گیا تھا میں نے شاید ٹیلی کام سیکٹر کا انتخاب کر کے غلطی کی یا ہمارے ملک کے ساتھ کچھ غلط ہو رہا ہے‘سسٹم جان بوجھ کر پڑھے لکھے لوگوں کو باہر دھکیلتا ہے‘ میں اسی گومگو کی کیفیت میں تھا کہ ستمبر 2017ء میں مجھے ٹیلی کام میں ایک اور ماسٹر کے لیے یورپین اسکالر شپ مل گیا‘ مجھے ایک سال برلن (جرمنی) اور دوسرا سال رینیز (فرانس) میں گزارنا تھا‘ میں نے اکتوبر 2017ء میں نمل یونیورسٹی سے جرمن زبان کا چند ہفتے کا کورس کیا اور میں جرمنی آ گیا۔

برلن میں اپنا پہلا سال مکمل کیا اور دوسرے سال کے لیے فرانس کی مایہ ناز ساربون یونیورسٹی میں داخل ہو گیا ‘ اللہ کا شکر ہے میں نے اپنی دوسری ماسٹر ڈگری بھی کام یابی سے مکمل کر لی‘میں اب ایک بار پھر پاکستان آنا چاہتا ہوں لیکن دل ڈرتا ہے‘ میں آپ سے بس یہ پوچھنا چاہتا ہوں کیا واقعی پاکستان میں نیا پاکستان بن گیا ہے اور مجھے واپس آ جانا چاہیے یا نہیں‘میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں میں نے جرمنی جانے سے پہلے اپنے والد کی گاڑی کریم کے ساتھ رجسٹر کر لی تھی‘ میں اس سے تھوڑے بہت پیسے کما لیتا تھا اور میں نے ایک مایہ ناز ٹیلی کام کمپنی میں بغیر تنخواہ کے چند ہفتے کے لیے کام بھی کیا تھا‘ یہ میری کہانی ہے۔

مجھے نہیں سمجھ آ رہی میں آپ کو یہ کہانی کیوں سنا رہا ہوں‘ میں شاید ایک کنفیوز نسل کا کنفیوز شخص ہوں‘ میرے والدین نے اپنی ساری جمع پونجی میری اور میرے بہن بھائیوں کی تعلیم پر لگا دی اور میں پوری زندگی یہ سوچ کر پڑھتا رہا میں اپنے ملک کی خدمت کروں گا‘ میں یہ سوچ کر بار بار پاکستان بھی آتا رہا‘ مجھے دنیا بھر کی یونیورسٹیاں باصلاحیت سمجھتی ہیں‘ یہ مجھے بار بار اسکالر شپ بھی دیتی ہیں‘ میں اپنی تعلیم اور صلاحیت میں بھی اضافہ کر لیتاہوں لیکن میں جب بھی کوئی اچھی ڈگری لے کر واپس آتا ہوں تو درخواستیں دینے کے علاوہ میرا کوئی کام نہیں ہوتا‘مجھے ساڑھے سات ہزار روپے ماہانہ سے زیادہ کام نہیں ملتا اور یہ کام بھی دو تین ماہ بعد ختم ہو جاتا ہے لیکن میں اس کے باوجود ڈٹا ہوا ہوں۔

میں اپنی ڈگری مکمل کرنے کے بعد ایک بار پھر پاکستان آؤں گا‘ پھر درخواستیں دوں گا‘ مجھے نوکری مل گئی تو سو بسم اللہ نہ ملی تو میں والد کی گاڑی کریم کے ساتھ چلالوں گا اور اپنا دال دلیہ کر لوں گا مگر ہمت نہیں ہاروں گا‘ میں کوشش کرتا رہوں گا‘ میں آپ سے یہ بھی پوچھنا چاہتا ہوں۔

ہمارے وزیراعظم روز ٹیلی ویژن پر کہتے ہیں پاکستان کے باصلاحیت اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو باہر کی نوکریوں کو لات مار کر پاکستان آنا چاہیے‘ ہم لات مار کر آ بھی جاتے ہیں لیکن جب پاکستان پہنچتے ہیں تو نوکریوں کی تلاش میں اپنی لاتیں گھساتے رہتے ہیں‘ ہم یہ لاتیں گھساتے گھساتے ختم ہو جاتے ہیں‘ایسا کیوں ہوتاہے؟ اور ہمارے وزیراعظم اگر ہمیں باعزت روزگار نہیں دے سکتے تو پھر یہ ہمیں واپس کیوں بلاتے ہیں‘ یہ دنیا بھر میں بکھرے میرے جیسے نوجوانوں کو پاکستان کی خدمت کی دعوت کیوں دیتے ہیں؟‘‘

سید محمد عرفان کا خط ختم ہو گیا اور میں دکھی دل کے ساتھ یہ خط ہاتھ میں پکڑ کر ٹیرس پر بیٹھا رہا‘ میرے پاس محمد عرفان کے کسی سوال کا کوئی جواب نہیں تھا‘ شاید وزیراعظم‘ ٹیلی کام اتھارٹی یا کابینہ کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب موجود ہو‘ شاید ناامیدی کے اس قبرستان میں کسی قبر سے کوئی آواز آ جائے‘ کوئی مُردہ بول اٹھے۔

The post ایک ٹیلی کام انجینئر کی کہانی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2qbPFYq

حکومت اور سرمایہ کاروں میں بد اعتمادی

ممتازکاروباری افراد کے وفود کے ساتھ ، انھیں یہ یقین دلانے کے لیے کہ نیب ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گا، وزیر اعظم اور آرمی چیف کی حالیہ الگ الگ ملاقاتوں سے مجھے ایک واقعہ یاد آگیا جو مسلم چیمبرآف کامرس بمبئی کے پہلے سیکریٹری جنرل ایس ایم جمیل نے مجھے بتایا تھا۔

ان کے مطابق قائد اعظم نے انھیں کہا کہ وہ مسلمان کاروباری افرادکو پاکستان آنے اور وہاں سرمایہ کاری پر آمادہ کریں۔ اس وقت تک پاکستان قائم نہیں ہوا تھا، جب اجلاس بلایا گیا تو ان کاروباری لوگوں نے کہا کہ وہ اس شرط پر پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے کہ ان سے اس بارے میں کوئی سوال نہیں کیا جائے گا کہ یہ دولت کہاں سے آئی۔ ان میں سے زیادہ تر کاروباری افراد نے دوسری عالمی جنگ میں خوب پیسہ کمایا تھا اور اپنے کالے دھن پرکوئی ٹیکس ادا نہیں کیا تھا۔

ایس ایم جمیل نے کہا کہ جب قائد اعظم کو اس بارے میں آگاہ کیا گیا کہ مسلم بزنس مین یہ یقین دہانی چاہتے ہیں کہ اصل آمدنی کو چھپانے پر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی تو جناح نے کہا کہ اس معاملہ پر غلام محمد کے ساتھ بات کی جائے جو اُس وقت آل انڈیا مسلم لیگ کے ایک منجھے ہوئے مالیاتی ماہر تھے اور بعد میں پاکستان کے پہلے وزیر خزانہ بنے۔

غلام محمد نے ایس ایم جمیل کو یقین دلایا کہ ان کاروباری لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی کیونکہ پاکستان ایک نیا ملک ہوگا۔ اس کے کئی سال بعد جب یہ کہا گیا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری نے پانچ بلین ڈالرکی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے تو میں نے ایک سینئر بینکار سے پوچھا کہ سرکاری ریکارڈ میں تو نجی شعبہ کے قرضے کم نظر آتے ہیں تو پھر یہ دعویٰ کیوں کیا جا رہا ہے اور یہ رقم کہاں سے آئی تھی؟

انھوں نے وضاحت کی کہ یہ رقم غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس سے آئی تھی جو ان لوگوں نے اپنی برآمدات کی انڈر انوائسنگ سے بیرون ملک رکھی ہوئی تھی۔ پاکستان میں استعمال ہونے والے ٹیکسٹائل فیبرک کا سرے سے کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا۔ فیصل آباد یارن مارکیٹ نقد کی بنیاد پرکام کرتی ہے اور ہول سیل بولٹن مارکیٹ میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ ریڈی میڈ گارمنٹس کی مارکیٹ میں بھی نقد پر لین دین ہوتا ہے۔

نواز شریف کی حکومت نے یہ قانون بنایا تھا کہ پاکستانی غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں اور ان سے ان کے پیسے کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا جائے گا۔ اس سے پاکستان کو اس وقت فائدہ ہوا جب جوہری دھماکے کے بعد امریکی اپوزیشن کی طرف سے پابندیاں عائد کی گئیں ، اگر میری یادداشت صحیح ہے تو اس اسکیم کے تحت جمع ہونے والی رقم 11 بلین ڈالر تھی اور اس وقت کے اسٹیٹ بینک کے گورنر نے کہا تھا کہ اس رقم کو وہ لوگ جن کے یہ غیر ملکی اکاؤنٹس ہیں اثاثے نیوٹرلائز ہونے کی صورت میں استعمال کرسکیں گے۔ اس وقت کے وزیر خزانہ سرتاج عزیز نے اس اسکیم کی مخالفت کی تھی مگر جب فیصلہ ہوگیا تو اس بھلے آدمی نے بھی اسے قبول کر لیا۔

کھاتے داروں کو پیشکش کی گئی کہ وہ 46 روپے فی ڈالرکے حساب سے غیر ملکی کرنسی کو تبدیل کرا سکتے ہیں۔ آج بھی غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس کی صورت میں 6 بلین ڈالر بینکوں میں موجود ہیں۔ حکومت اپنے وعدے سے مکرگئی ہے اور اس نے کہا ہے کہ دھن کو سفید کرنے کے لیے، اگر وہ پاکستان میں غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس میں ہے تو5 فیصد اور اگر ملک سے باہر ہے تو6 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔

یہ عوام اور بینکوں کے درمیان معاہدے کی خلاف ورزی ہے کیونکہ اکاؤنٹس اس کلیئرنس کے ساتھ کھولے گئے تھے کہ جب تک پیسہ غیرملکی کرنسی اکاؤنٹس میں ہے۔ آمدنی کے ذرایع کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا جائے گا، مگر اس پر حیرت نہیں ہوتی کیونکہ ایف بی آرکے نئے چیئرمین ہمیشہ سے اس اسکیم کے مخالف تھے، ان کا خیال تھا کہ اس طرح کالا دھن سفیدکیا جاتا ہے، مگر شبر زیدی اس بات کو نہیں سمجھتے کہ لوگ اپنے غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس میں پیسہ وصول کر رہے ہیں اور اس سے پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

مریم نوازکا کیس دیکھیے، انھوں نے بیرون ملک اپنے بھائیوں سے جو غیر ملکی کرنسی لی ، اسے انھوں نے چوہدری شوگر ملز میں لگایا جس کا ان پر مقدمہ چل رہا ہے۔یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے تحت حکومت کو منی لانڈرنگ کے راستے بندکرنے ہیں مگر یہ صرف دہشت گردی کے لیے سرمایہ کاری(ٹیرر فنانسنگ)تک محدود رہنا چاہیے۔ صاف ظاہر ہے کہ افغان طالبان کے سرمائے کے ذرایع غیر واضح ہیں اورکسی کو معلوم نہیں کہ وہ پوری دنیا میں سفرکرنے کے لیے ٹکٹ کس طرح خریدتے ہیں۔ یہ بھی دہشت گردی سے متعلق سرمایہ کاری ہے۔

حکومت اس بات کو بھی نہیں سمجھ سکی کہ ڈاکٹر محبوب الحق کی طرف سے متعارف کرائے جانے والے فارن ایکسچینج سرٹیفکیٹس قانونی دستاویزات ہیں۔ انھوں نے ایک انٹرویو میں مجھے بتایا تھا کہ ان کا مقصد فارن ایکسچینج مینوئل پر مضبوط کنٹرول کو کم کرنا تھا، جس میں زرمبادلہ کی نقل وحرکت پر سخت شرائط عائد تھیں۔

ڈاکٹر محبوب الحق  نے  “whitener bonds” بھی متعارف کرائے جس کے تحت مقامی کرنسی میں کالا دھن سفید کرایا جا سکتا تھا ، مگر اس وقت بہت سے کاروباری لوگوں نے کہا تھا کہ وہ اپنی ساری رقم ظاہر نہیں کریں گے کیونکہ انھوں نے کچھ رقم ان افسروں کو رشوت دینے کے لیے بھی رکھنی ہے جو فیکٹری کے گیٹ پر آتے ہیں۔ اس وقت26 ایسے محکمے تھے جنھیں وزٹ کرنے اور ’’بخشش‘‘ مانگنے کا اختیار تھا۔

اب بھی اگر آپ ان ٹیکسوں کا ریفنڈ لینا چاہیں جو سورس پر منہا کر لیے جاتے ہیں تو انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں اس کی شرح 20 فیصد ہے، مجھے ذاتی طور پر اپنے ریفنڈزکا تجربہ ہے۔ FTO کے حکم کے با وجود عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ لوگ سیکیورٹی اسٹیٹ میں نہیں بلکہ فلاحی ریاست میں ایمانداری سے ٹیکس دیتے ہیں۔ عدم استحکام کا بھی ایک عنصر موجود ہے جو لوگوں کو ساری دولت ظاہر کرنے سے روکتا ہے۔

The post حکومت اور سرمایہ کاروں میں بد اعتمادی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3359LSJ

صدارتی فرمان اور پی ایم ڈی سی

ایک فرمان جس کو عرف عام میں آرڈیننس کہا جاتا ہے۔ آج سے تقریباً چالیس سال قبل صدر ضیا الحق نے جاری کیا تھا جس کی رو سے اسٹوڈنٹس یونینوں کو تحلیل کر دیا گیا۔ اس فرمان کی وجہ سے طلبا میں تعلیم اور مسابقت کا مقابلہ تو ختم ہوا ہی مگر ایک اور بڑا نقصان یہ ہوا کہ نئی سیاسی قیادت کا رونما ہونا بھی ختم ہوگیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سیاسی پارٹیاں پڑھے لکھے نوجوانوں سے محروم ہوگئیں اور وہ روایتی لیڈر جنم لینے لگے جو مال و اسباب کے مالک تھے اور تعلیمی لحاظ سے بے ثمر۔ اس کا نتیجہ آج یہ ہے کہ بعض چانسلرز کے عہدہ کے لیے یہ مصرع لکھنا پڑتا ہے کہ:

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

یہ سوچ کر جمہوری حکومتیں اپنی مشکل کو حل کرلیتی ہیں اور اسناد کی قید سے مبرا ہوجاتی ہیں اور بھی نقصانات صدر ضیا کے آرڈیننس سے ہوئے، جس کا تذکرہ حالیہ موضوع نہیں۔ فی الحال دو ہفتہ قبل اس صدارتی آرڈیننس پرگفتگو مقصود ہے جو موجودہ حکومت نے جاری کیا۔ موجودہ حکومت کے مثبت پہلوؤں، کارکردگی اور ایمانداری کو میں کئی کالموں میں اخبارکی زینت بنا چکا ہوں، مگر بقول علامہ اقبال کے:

ہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں

موجودہ حکومت نے بہاروں کے موسم کی طرح فضا میں خوشیوں کے کئی رنگ بکھیرے ہیں۔ جن میں کشمیری عوام کے حقوق اورکرپشن کی ناکہ بندی۔ مگر موجودہ حکومت کو آرڈیننس کے ذریعے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو تحلیل کرنے کے بجائے اسمبلی میں بحث کے لیے پیش کرنا زیادہ بہتر ہوتا تاکہ مثبت اور منفی پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو ہوتی۔

خواہ اس کا انجام پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ( PMDC) کی تحلیل ہی کیوں نہ ہوتا۔ مجھے یقین ہے کہ اگر اس بل کو اسمبلی میں پیش کیا جاتا تو حکومت کی فتح اسی طریقے سے ہوتی جس طرح سینیٹ کے چیئرمین کی فتح ہوئی۔ مگر اچانک PMDC کی تحلیل نے ایک ایسا خلا طبی پوسٹ گریجویٹ تعلیم میں پیدا کردیا جس سے اندرون ملک اور بیرون ملک ڈاکٹروں کو شش وپنج میں ڈال دیا۔ واضح رہے کہ پاکستان کے ڈاکٹر جو امریکا، کینیڈا اور برطانیہ گئے ہوئے ہیں، ڈاکٹروں کو اچانک اپنے شعبے سے دستبردار ہونے کے قریب تر کر دیا۔ واضح رہے کہ جب بھی بیرون ملک وزیر اعظم گئے خصوصاً امریکا میں تو پاکستانی ڈاکٹروں نے سب سے زیادہ ان کی پذیرائی کی اور ان کے پروگراموں کو تکمیل تک پہنچایا۔

اب جب کہ خبر گرم ہے کہ بجلی کے نرخ پانچ روپے فی یونٹ تک بڑھ جانے کے امکانات ہیں تو پاکستانی فیکٹریاں اپنی مصنوعات کو بیرون ملک تو دورکی بات اپنے ملک کی مقامی آبادی کی ڈیمانڈ کو بھی پورا نہیں کر سکیں گی۔ کیونکہ فیول کی قیمتوں کا اس قدر اضافہ برداشت کرنا ان کے قوت عمل سے باہر ہے جب کہ بیرون ملک گئے ہوئے پاکستانی ڈاکٹر اور تعلیم یافتہ ہنرمند جو زر مبادلہ اپنے ملک روانہ کرتے ہیں وہ بھی پی ایم ڈی سی کے تحلیلی عمل سے متاثر ہوں گے۔جو ڈاکٹر حضرات بیرون ملک گئے ہوئے ہیں اور اپنی اسناد کی تصدیق چاہتے ہیں اب کون سا ادارہ ان کی اسناد کی تصدیق کرے گا۔

یہ پی ایم ڈی سی ہی تھا جو نہ صرف ڈاکٹروں کی اسناد کارکردگی اور ان کے پریکٹس کے عمل کا لائسنس دیتا تھا۔ پی ایم ڈی سی کا کام محض اسناد کی تصدیق نہ تھا بلکہ طب کے میدان میں پاکستان کے سربلند طبی معیار کو برقرار رکھنا اور اندرون ملک تمام میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کی کارکردگی کا جائزہ طلبا کی ضروریات اور فیسوں کا تعین، اساتذہ اور طلبا کی تعداد کا جائزہ لینا اور یہ معیار قائم کرنا کہ کتنے طلبا پرکتنے اساتذہ درکار ہیں۔ اس کا تعین اس کے علاوہ طلبا کے کورسز کا جائزہ اور موجودہ میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کے ماہانہ میڈیکل جرنلز کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے پی ایم ڈی سی کی کاوشیں قابل قدر تھیں۔ عام طور پر پرائیویٹ میڈیکل اور ڈینٹل کالج ان معروف ڈاکٹروں نے تعمیر کیے ہیں جو ساٹھ اور ستر کی دہائی میں طبی میدان میں طلبا کی بہبود کے لیے کوشاں تھے۔

میڈیکل جرنل ہر کالج کی علمی کارکردگی کا آئینہ ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ عام طور پر وہاں کے اساتذہ کی اپنی کاوشوں کا مظہر ہوتا ہے۔ اس سے اس بات کا اندازہ ہوتا تھا کہ اساتذہ کتنی لگن سے طلبا کو پڑھا رہے ہیں۔ اور خود ان کی علمی اور فنی قابلیت کا کیا معیار ہے۔ اس طریقے سے ہر تعلیمی ادارہ پی ایم ڈی سی کی نگرانی میں تھا۔ پی ایم ڈی سی نے نہ صرف تعلیمی میدان پر نظر رکھی بلکہ جن جگہوں پر یہ ادارے قائم ہیں کالجوں کا رقبہ، لیبارٹریز، جدید ٹیکنیکل سپورٹ اور اساتذہ کی تعداد کا بھی جائزہ لیا جاتا رہا۔ ظاہر ہے ایسی کارکردگی عام تعلیم یافتہ لوگوں کے زیر اثر ممکن نہیں۔

پی ایم ڈی سی کا اپنا ایک تنظیمی ڈھانچہ تھا جس میں باقاعدگی سے مختلف کالجوں کے چیف ایگزیکٹیو نمایندگی دیتے تھے اور ان کی میٹنگیں بھی ہوا کرتی تھیں۔ ظاہر ہے ان کے اخراجات کیا ہوں گے۔ مجھے اس کا قطعاً کوئی علم نہیں مگر اس کے فوائد تو بے تحاشا ہیں۔

جس کی وجہ سے پاکستان میڈیکل ورلڈ کا ایک ستون ہے اور یہاں کے ڈاکٹر بھارت کے ڈاکٹروں سے کسی درجہ کم نہیں۔ لیکن پاکستان میں جس تیزی سے پوسٹ گریجویٹ میڈیکل تعلیم کی نمو ہونی چاہیے وہ یقینا اتنی سرعت سے نہیں ہو رہی۔ اس میں پی ایم ڈی سی کی کیا ہدایات ہیں یا اعلیٰ اساتذہ کیا سوچتے ہیں کہ ایف سی پی ایس کے طلبا پر اس قدر قدغن کیونکر ہے کہ ایم بی بی ایس کرنے کے بعد چار سال میں ایف سی پی ایس کے پارٹ ون اور پارٹ ٹو ہوتے ہیں جب کہ اندیشہ یہ ہوتا ہے کہ FCPS کا پارٹ ون بھی اکثر طلبا دس دس سال یا آٹھ آٹھ سال تک کلیئر نہیں کر پاتے کیونکہ تعلیمی نظام کا یہ نقص ہے کہ کسی خاص منصوبے کے تحت ایف سی پی ایس پارٹ ون اور پارٹ ٹو کے نتائج عام طور پر ایک فیصد یا بہت بہتر ہوا تو کسی سال دو سے تین فیصد کامیاب ہوتے ہیں۔

بعض طلبا سے میری بات ہوئی کہ ایسا کیونکر ہے۔ تو وہ اعلیٰ میڈیکل تعلیم کے نگرانوں سے نہ صرف دل برداشتہ بلکہ ایک مخصوص قدیم اور رکاوٹ پیدا کرنے والے طریقہ اختیارکرتے ہیں تاکہ نئے طلبا کی تعداد کم سے کم رہے، جس کی وجہ سے طلبا میں مایوسی کی لہر پیدا ہو رہی ہے۔ حالانکہ یہ وہی نوجوان طلبا ہیں جنھوں نے آج تک گورنمنٹ کے میڈیکل کالجوں کو پرائیویٹ ہونے سے روک رکھا ہے اور سینئر اساتذہ کا معیار ان کی قربانیوں کے نتیجے میں ہے۔ اس کا ایک ثبوت پشاور میں لیڈی ریڈنگ اسپتال ہے۔ یہ ایک واضح منفی رجحان ہے جو ایف سی پی ایس کے طلبا کے لیے روا رکھا گیا ہے۔

لہٰذا اس رجحان کو ختم ہونا چاہیے۔ بعض ایسے سال بھی گزرے ہیں جب ایک بھی طالب علم کو پاس نہیں کیا گیا۔ ایسی پالیسی سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ پالیسی محض معیار برقرار رکھنے کے لیے نہیں بلکہ چند لوگوں کی خوشیوں کے لیے بنائی گئی ہے۔ اگر یہ صورتحال مزید جاری رکھی گئی تو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے صرف بیرون ملک ہی طلبا کو جانا ہوگا۔ ایسی صورت میں صرف وہ طلبا بیرون ملک تعلیم حاصل کرسکیں گے جن کے والدین پونڈ، اسٹرلنگ اور ڈالر کا وزن برداشت کرسکیں گے یا نوجوان طلبا بیرون ملک جاکر پارٹ ٹائم نوکریاں اور تعلیم جاری رکھنے کے لیے جان کی بازی لگا دیں۔

اگر موجودہ صورتحال میں ازسر نو پی ایم ڈی سی بحال کی جاتی ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ ایف سی پی ایس کے مسئلے کو اپنے ہاتھ میں لے کر ایف سی پی ایس کی ازسر نو پالیسی ترتیب دے۔ جس میں تعلیمی معیار کو ضرب بھی نہ لگے اور نوجوان اساتذہ میڈیکل خلاء کو پرکرکے عوام کو آسانیاں بہم پہنچائیں۔ موجودہ پالیسی سے کنسلٹنٹ ڈاکٹروں کی شدید کمی پیدا ہوگئی ہے اور پرائیویٹ مریضوں کو رات کے گیارہ بجے تک بھی اسپتالوں میں ٹھہرنا پڑتا ہے۔ اس عمل سے مفاد عامہ کا کوئی تعلق نہیں۔

موجودہ حکومت چونکہ عوام کی مشکلات کو زیادہ اہمیت دیتی ہے اس لیے پرائیویٹ کالجوں کے مالکان پرامید ہیں کہ ان کی کوششیں بارآور ثابت ہوں گی۔ اور پی ایم ڈی سی پوری آب و تاب سے فعال ہوسکے گا۔ البتہ جو تبدیلیاں ضروری ہیں وہ حکومت اور میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کے مالکان مل بیٹھ کر طے کرسکتے ہیں۔

The post صدارتی فرمان اور پی ایم ڈی سی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/34mE5IK

صفرنامہ ناپرساں عالی شان

سب سے پہلے وضاحت تو یہ ضروری ہے کہ اس میں کتابت یا کمپوزنگ کی غلطی کوئی نہیں ہے اور یہ سفرنامہ کے  بجائے واقعی ’’صفرنامہ‘‘ ہی ہے اور یہی نام اس کا اس کے مصنف حضرت ’’ابن بے طوطا‘‘نہ صرف لکھا ہے بلکہ وضاحت بھی فرمائی ہے کہ یہ ’’صفرنامہ‘‘ کیوں ہے اور ’’سفرنامہ‘‘ کیوں نہیں ہے اور وہ یہ کہ یہ ’’صفرنامہ‘‘ اس مشہور ’’ابن بطوطہ‘‘ کا نہیں بلکہ اس کے فرسٹ کزن ’’ابن بے طوطا‘‘ کا لکھا ہوا ہے۔ اب ’’ابن بطوطا‘‘ اور ’’ابن بے طوطا‘‘ میں جو فرق ہے وہ خود ’’ابن بے طوطا‘‘ ہی سے سنیے تو اچھا ہے۔

حضرت ’’ابن بے طوطا‘‘ جو ابن بطوطہ ہرگز نہیں، اس کی وجہ تسمیہ کے بارے میں رقم طراز ہیں کہ من مسمی ’’ابن بے طوطا‘‘ ساکن طنجہ بمقام مراکش وہ نہیں ہوں جو آپ سمجھ رہے ہیں بلکہ وہ ہوں جو آپ نہیں سمجھ رہے ہیں۔ یہ وضاحت اس لیے ضروری ہے کہ اتنا عرصہ مملکت اللہ داد ناپرساں میں رہ کر میں جان گیا ہوں کہ آپ ناپرساں لوگ ہمیشہ وہ سمجھتے ہیں جو سمجھنے کے لائق نہیں ہوتا اور وہ بالکل بھی نہیں سمجھتے جو سمجھنے کا ہوتا ہے اور وہ کرتے ہیں جو کرنے کا ہرگز نہیں ہوتا جب کہ وہ بالکل بھی نہیں کرتے جو کرنے کا ہوتا ہے، وہ دیکھتے ہیں جو نہیں ہوتا اور وہ بالکل نہیں دیکھتے جو ہوتا ہے۔

چنانچہ وہ جسے آپ سمجھ رہے ہیں کہ میں ہوں وہ میں نہیں بلکہ وہ میرا فرسٹ کزن ’’ابن با طوطا‘‘ہے اور میں اس کا فرسٹ یعنی دشمن اور چچازاد نمبر ون ابن بے طوطا ہوں۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ میرے والد محترم اور اس کا والد ’’نامحترم‘‘ ’’سگے‘‘ بھائی تھے اس لیے ’’سگے‘‘ دشمن بھی تھے کیونکہ سگ راسگ می شناسد اور سگ راسگ دشمن باشد۔ وہ دونوں سگے بھائی ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ سگ سگ اور سگے سگے رہتے تھے، اس لیے دونوں ہی ایک جیسے ’’سگے‘‘  تھے، کم از کم ایک دوسرے کے ساتھ ہمیشہ سگ سگ اور سگے سگے رہتے تھے، ان دونوں سگے بھائیوں اور سگے دشمنوں میں کوئی فرق نہیں تھا، دونوں ہی ایک دوسرے پر بھونکتے بھی رہتے تھے اور موقع ملنے پر کاٹتے بھی رہتے تھے۔

اگر کوئی فرق تھا تو صرف اتنا تھا کہ میرے چچا نے ایک ’’طوطا‘‘ پالا ہوا تھا کسی شغل یا شوق کی وجہ سے نہیں بلکہ اس سے طوطا چشمی سیکھنے کے لیے۔ اور اپنے ’’منہ میاں مٹھو‘‘ بننے کی پریکٹس کرنے کے لیے حالانکہ بعد میں وہ طوطا محض اس لیے بھاگ گیا تھا کہ ان دونوں کاموں میں میرا چچا اس سے بہت زیادہ نکلا تھا چنانچہ طوطے نے احساس کمتری کے مارے منہ چھپانا بہتر سمجھا۔ ویسے میرے چچا کو اصولی اور خاندانی طور پر طوطے کے بجائے ’’سگ‘‘ پالنا چاہیے تھا جیسا کہ میرے باپ نے اپنے ’’منہ میں‘‘ پالا ہوا تھا اور ہر کسی پر بلکہ خاص طور پر مجھ پر ہر وقت چھوڑتا رہتا تھا، خیر یہ تو ہمارا گھریلو معاملہ تھا اگر وہ میرا سگا باپ تھا تو میں بھی اس کا سگا بیٹا تھا اور سگوں کی آپس میں ہمیشہ ’’سگی‘‘ ہی رہتی ہے۔ اور بدقسمتی سے یہ ’’سگا‘‘ رشتہ بہت ہی سگا ہوتا ہے۔

اگر سگ چاہیں بھی تو ناسگ نہیں ہو سکتے، ہمیشہ سگے ہی رہیں گے۔ اس موضوع پر ہمارے طنجہ میں کہاوت بھی ہے کہ آپ دوست کو پسند کے بنا سکتے ہیں لیکن ’’سگے‘‘ کتنے ہی سگے کیوں نہ ہوں آپ نہ پسند کے بنا سکتے ہیں اور نہ رکھ سکتے ہیں نہ ان سے پیچھا چھڑانا ممکن نہیں ہوتا، خود کو کٹوائے بغیر۔ خیر تو طنجہ ہی کے طنجوس ہوتے ہیں جس طرح آپ ناپرسانی ہمیشہ ناپرسانی تھے ناپرسانی ہیں اور ناپرسانی ہی رہیں گے چنانچہ انھوں نے میرے چچے کو ’’باطوطا‘‘ کا نام دے ڈالا تھا۔ کیونکہ ایک مرتبہ پھر کہوں گا کہ طنجوسی بھی آپ ناپرسانیوں کی طرح ہر نہ ’’کرنے والا کام‘‘ ثواب دارین سمجھ کر کرتے ہیں اور کرنے والے کام کو گناہ کبیرہ گردانتے ہیں۔

جب میرا چچا باطوطہ اور پھر آہستہ آہستہ ’’بطوطا‘‘ کے نام سے معروف ہوا تو میرا باپ خود بخود ’’بے طوطا‘‘ مشہور ہوا اور نہ صرف زبانوں بلکہ کاغذات میں بھی درستگی کر لی گئی اور پھر مزید بدقسمتی سے یہ دونوں نام ہم دونوں پر بھی’’ابن‘‘ کی دم کے ساتھ چپک گئے۔ باقی تو کوئی خاص فرق نہیں تھا لیکن میرے اس بدبخت تیرہ بخت اور ناہنجار و نابکار کزن ابن بطوطہ نے ایک سفرنامہ لکھ مارا تھا حالانکہ اس نے جو سفر کیا تھا وہ کسی شوق کی وجہ سے نہیں کیا تھا بلکہ نیستی کے مارے کیا تھا کیونکہ اس کا باپ صرف طوطے ہی نہیں پالتا  تھا بلکہ ’’مینائیں‘‘ بھی پالتا  تھا جن کے ساتھ وہ ہمارے علاقے کا مشہور کھیل نکاح نکاح طلاق طلاق کھیلتا تھا۔

یہ کھیل اپنے ہاں اتنا مشہور ہے جتنا ناپرسانیوں میں کرکٹ مقبول ہے چونکہ میرا نامحترم چچا اس کھیل میں ایک ہیرو کا درجہ رکھتا تھا اور ایک مشہور آل راونڈر تھا اس کی نگاہ اور نکاح میں عورت کے لیے صرف ایک ہی معیار تھا وہی معیار جو غالب کا آموں کے بارے میں تھا۔

چنانچہ اپنا سب کچھ اس نکاح نکاح اور طلاق طلاق کے کھیل اڑا کر آخر میں جب وہ اپنے پیچھے بیواوں اور یتیموں کا ایک پورا اسکواڈ چھوڑ گیا تو اس کے تن بدن پر صرف دوچار گرہ گریبان اور صرف ایک آزاربند رہ گیا تھا۔ اس حالت میں میرے چچا زاد ’’ابن باطوطا‘‘ نے اس کہاوت پر عمل کرنا ضروری سمجھا کہ بہ وقت ضرورت ’’فرار‘‘ بھی آدھی بہادری ہے۔ لیکن مجھے کیا پتہ تھا کہ اس کا اس طرح بھاگ جانا میرے لیے اتنی بڑی مصیبت لائے گا۔ کیونکہ اس نے ایک عدد سفرنامہ لانچ کر دیا جو بہت زیادہ مقبول ہوا کیونکہ انتہائی حدتک فضول اور نامعقول تھا لیکن طنجوسی تو طنجوسی ہوتے ہیں۔

انھوں نے طنجہ کی مشہور کہاوت مجھے مارنا شروع کی کہ گدھا اگر گدھے سے کم ہو تو اس کے کان کاٹنا چاہیے سینگ تو وہ پہلے ہی کٹوا چکا ہوتا ہے، کتا اگرکتے سے کم ہو تو اس کی دم کاٹ کر بارہ سال کے لیے نلکی میں رکھنی چاہیے اور اگر سگا اپنے سگے سے سگی میں کم ہو تو اس کا بھٹا سا سر اڑا کر بھٹی میں بھوننا چاہیے اور خود اسی کو کھلانا چاہیے۔ چنانچہ اپنے سر کو کٹانے سے بچانے کے لیے اس نے یہ تدبیر دل پزیر کی کہ میں بھی اس کے ’’سفرنامے‘‘ کے منہ پر اپنا ’’صفرنامہ‘‘ مارکر  رہوں گا۔ صفرنامہ اس لیے کہ ’’سفرنامہ‘‘ تو وہ خدا مارا پہلے ہی لکھ چکا تھا اور مجھے اس کے سفرنامے کو صفر کرنا  تھا۔ گویا میرا یہ صفرنامہ خالص بدنیتی ،حسد دشمنی اور تربور ولی کے جذبے سے لکھا گیاہے۔

جس میں مملکت اللہ داد ناپرساں کا بیان نہایت عیان بلکہ عریاں طریقے سے کیا گیا اور ایسے بہت سارے راز فاش فاش کیے گئے ہیں کہ مملکت ناپرساں کے سارے ’’سفرنامہ نگار‘‘ جو لگ بھگ نو لاکھ نو ہزار نو سو نناوے بتائے جاتے ہیں، حیران ہوکر رہ جائیں گے۔ اللہ بھلا کرے قلم فاونڈیشن والوں کا کہ انھوں نے میرے اس ’’صفرنامے‘‘ کو بہت خوبصورت طریقے پر چھپوا دیا ہے۔ خدا ان کو اجر کثیر دے اور میرے صفرنامے کو تشہیر عطا فرمائے۔ کیونکہ مارکیٹ میں ان دنوں سفرناموں کی تو بہتات ہے لیکن ’’صفرنامہ‘‘ صرف اس خاکسار کا ہے۔ خیراندیش ’’ابن بے طوطا‘‘ساکن طنجہ بمقام مراکش عرف مراکو۔

The post صفرنامہ ناپرساں عالی شان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/36lIy0h

احتجاجات اور استعفے

محترم و مکرم حضرت مولانا فضل الرحمن کا احتجاجی قافلہ جس تیزی اور برق رفتاری کے ساتھ صوبہ سندھ سے مارچ کرتا ہُوا وفاقی دارالحکومت ،اسلام آباد، پہنچا ہے، اِسی سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس قافلے میں شریک افراد اور قائدین کی تعداد کتنی ہو گی۔جے یو آئی (ایف) کے اسلام آبادی قائدین اور مقامی انتظامیہ کے درمیان جو مبینہ معاہدہ طے پایا گیا ہے، حکومت اور اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر قوی امید رکھتے ہیں کہ فریقین معاہدے کے تمام نکات کی پاسداری کریں گے۔

ہجومی یلغار میں مگر معاہداتی شقوں کی اتنی حرمت برقرار رہتی نہیں ہے۔ قبلہ مولانا فضل الرحمن کے کنٹینر کے ساتھ کھڑے، ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے، بعض ایسے ’’مذہبی قائدین‘‘ بھی ہیں جن کے کوئی مسلکی پیروکار ہیں نہ سیاسی ۔ مثال کے طور پر شاہ اویس نورانی صاحب ۔ ایسے ’’قائدین‘‘ کی موجودگی میں مولانا فضل الرحمن صاحب اپنے اہداف اور مقاصد کہاں تک اور کتنے حاصل کر سکیں گے، یہ ہم پر اظہر من الشمس ہیں ۔

وزیر اعظم عمران خان کا استعفیٰ لینے کے لیے اسلام آباد آنے والے مولانا فضل الرحمن نے گزشتہ روز لاہور میں جو خطاب فرمایا ہے، اُس میں قوت و حشمت کا عنصر تقریباً مفقود تھا۔ کسی قدر مایوسی بھی۔ مثال کے طور پر اُن کا یہ فرمانا کہ ’’یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ عمران خان استعفیٰ دیں گے ۔‘‘ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی طرف سے توقعات کے مطابق ’’آزادی مارچ‘‘ کے لیے شرکت کنندگان کا نہ ملنا بھی مولانا موصوف کی اُمیدوں پر اوس ڈال گیا ہے۔

ملکی سطح پر بعض ایسے واقعات بھی رُونما ہُوئے ہیں جنھوں نے اس مارچ ( یا مبینہ دھرنے) پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ مثال کے طور پر پنجاب کے مشہور علاقے، رحیم یار خان، میں لیاقت پور شہرکے نزدیک ٹرین کا خوفناک اور مہلک حادثہ۔ تیز گام ٹرین کراچی سے لاہور آرہی تھی ۔ زیادہ تر مسافر رائے ونڈ میں منعقد ہونے والے سالانہ تبلیغی اجتماع میں شریک ہونے کے لیے آ رہے تھے۔

یہ تو بعد از تحقیقات ہی معلوم ہوگا کہ دراصل واقعہ کیا ہُوا لیکن فی الحال تو وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی جانب سے یہی بتایا جا رہا ہے کہ’’تیز گام‘‘ کی دو تین بوگیوں میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی اور اُس نے پلک جھپکتے میں چار درجن کے قریب مسافروں کی جان لے لی۔ جاں بحق ہونے والے یہ سبھی افراد شہید ہیں۔ اللہ اُن کی مغفرت فرمائے۔ لیکن تیز گام میں آگ لگی کیسے؟ وزیر موصوف کا کہنا ہے کہ مسافروں میں سے کسی نے ناشتہ بنانے کے لیے چولہا جلایا تو بے احتیاطی سے آگ بھڑک اُٹھی تاہم میڈیا پر عینی شاہد کے حوالے سے مختلف بات بھی آرہی ہے۔

شیخ رشید صاحب آئے روز ریلوے نظام کو اپ ٹو ڈیٹ اور جدید بنانے کے جو دعوے کرتے رہتے ہیں ، اس تازہ ترین سانحہ ہی سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ریلوے اسٹیشنوں پر اُن کا وضح کردہ اسکیننگ سسٹم کتنا جدید اور اَپ ٹو ڈیٹ ہے۔لیاقت پور شہر کے نزدیک ہونے والے اس افسوسناک حادثے کی فضا سے مولانا فضل الرحمن صاحب کا ’’آزادی مارچ‘‘ الگ تھلگ نہیں رہ سکتا۔ ملک پر ان شہادتوں کی اساس پر جو سوگوار کیفیت طاری ہُوئی ہے۔

اس میں مولانا موصوف کی آواز شائد مدھم پڑ جائے۔ راولپنڈی، اسلام آباد کے جڑواں شہر مگر خوف میں ضرور مبتلا ہیں۔ ان دونوں شہروں کے باسیوں نے عمران خان صاحب کے 126دنوں کے تاریخی دھرنے اور مولانا خادم حسین رضوی صاحب کے سخت احتجاجی جلوسوں کے مناظر بھی دیکھ رکھے ہیں اور ان کے ’’مزے‘‘ بھی چکھ چکے ہیں۔ دونوں سیاسی ومذہبی دھرنوں نے جڑواں شہروں کی زندگی قیامت بنائے رکھی۔ ا نہیں دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کہ یہ دراصل افسوس اور بربادی کی داستانیں ہیں۔

اب حضرت مولانا فضل الرحمن اپنے جانثاروں کی سنگت میں آ بیٹھے ہیں تو اسلام آباد و راولپنڈی کے مکینوں کا اپنے سابقہ تلخ تجربات کی روشنی میں پریشان اور خوفزدہ ہونا غیر حقیقی اور غیر فطری نہیں ہے۔ جس وقت یہ سطور لکھی جا رہی ہیں، راولپنڈی اور اسلام آباد کے سبھی تعلیمی ادارے بند ہیں۔ ٹرانسپورٹ غائب ہو چکی ہے۔ دفاتر کی حاضری بھی کم کم ہے۔ہر گوشے میں لبوں پر بس یہی ایک سوال ہے: عمران خان 126دنوں کے دھرنے کے باوصف وزیر اعظم نواز شریف سے حسبِ منشا استعفا نہیں لے سکے تھے تو مولانا فضل الرحمن اکیلے ہی وزیر اعظم عمران خان کا استعفا کیسے لے سکیں گے؟

یہ درست ہے کہ عمران خان کی حکومت میں عوامی زندگیاں تلخ تر ہو چکی ہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری اور نا اُمیدی میں بے بہا اضافہ ہُوا ہے۔ عوامی آرا جاننے کے حوالے سے معروف ادارے ’’گیلپ‘‘ نے بھی اپنے تازہ ترین عوامی سروے کے نتائج میں یہی کہا ہے کہ ’’کرپشن نہیں بلکہ مہنگائی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔‘‘ عوام کو جس روشن مستقبل کے سہانے خواب پی ٹی آئی قیادت نے جوشِ جذبات میںدکھائے تھے، وہ سب کسی نا معلوم دھند میں غائب ہو چکے ہیں۔ ملکی معیشت ڈانواڈول ہے۔ صنعتی پہیہ تقریباً منجمد ہے۔ کئی غیر ملکی بینک بھی یہاں سے اپنی بساط لپیٹنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

مسلط کردہ نئے ٹیکسوں کی بھرمار تو ہے لیکن کسی طرف سے عوامی ریلیف کی کوئی صورت گری سامنے نہیں ہے۔ نون لیگی اور پیپلز پارٹی کی سینئر قیادت حوالہ زندان ہے۔ ایسے میں تنہا مولانا فضل الرحمن کی دارالحکومت پر یلغار کیونکر ثمر آور ثابت ہو سکے گی؟ یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ہاں اس یلغار کا صرف یہ نتیجہ ضرور برآمد ہو سکتا ہے کہ ملک مزید بے یقینی اور بے اعتمادی کا شکار بن جائے۔

ان پیش افتادہ حقائق کے باوجود مولانا مذکور کو حق الیقین ہے کہ اُن کے احتجاجات اپنے مقاصد سے ہمکنار ہو کر رہیں گے ۔ موصوف کہتے ہیں کہ ’’آزادی مارچ دھرنا نہیں ، تحریک ہے جو نتائج ملنے تک چلتی رہے گی۔‘‘ اس امید کی بنیاد اور اساس کیا ہے؟ دراصل عالمی سطح پر اِنہی ایام میں کئی ایسے واقعات رُونما ہُوئے ہیں کہ حکومتوں اور حکمرانوں کے خلاف سخت عوامی احتجاجات نے کئی حکمرانوں کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا ہے؛ چنانچہ مولانا فضل الرحمن صاحب کو بھی اُمید ہے کہ ممکن ہے اُن کا ’’آزادی مارچ‘‘ بھی کسی کے استعفے کا باعث بن جائے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ ابھی گزشتہ روز ہی لبنان کے نہایت طاقتور، دولتمند اور تجربہ کار وزیر اعظم، سعد الحریری، عوامی احتجاجی یلغار کے سامنے تنکے کی طرح بہہ گئے اور بالآخر مستعفی ہو کر گھر چلے گئے۔ سعودی عرب ایسا طاقتور حلیف ملک بھی سعد الحریری کی پشت پر کھڑا تھا لیکن حریری صاحب عوامی احتجاجی سیلاب کے سامنے ٹھہر نہ سکے کہ مہنگائی اور ٹیکسوں کی کمر شکن بھرمار نے عوامی زندگیاں اجیرن بنا رکھی تھیں ۔ الجزائر میں عوام اپنے صدر اور وزیر اعظم (عبد القادر بن صالح اور نورالدین بدوئی) سے استعفے لینے کے لیے سڑکوں پر مارچ کررہے ہیں ۔ عراقی وزیر اعظم ، عادل عبدالمہدی، کے خلاف بھی عوام سخت احتجاجات کررہے ہیں۔ مطالبہ ہے کہ وہ استعفیٰ دیں کہ مہنگائی ، بیروزگاری اور لاقانونیت نے اُن کی زندگیاں جہنم بنا دی ہیں ۔

عراقی وزیر اعظم کے حکم پر عراقی سیکیورٹی فورسز اب تک ڈھائی سو احتجاجی عراقیوں کا قتل کر چکے ہیں لیکن ہنگامے ، فسادات اور احتجاجات ختم نہیں ہو رہے ۔ عوام کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم مہدی صاحب مستعفی ہو ں اور گھر کی راہ لیں ۔ یہ عالمی مناظر شائد حضرت مولانا فضل الرحمن کو تقویت دے رہے ہیں ۔

The post احتجاجات اور استعفے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2C3fCwd

ایف اے ٹی ایف اور پاکستان

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس) ایف اے ٹی ایف39( ملکوں بشمول امریکا،ارجنٹینا، آسٹریلیا، آسٹریا، بلجیم، برازیل، کینیڈا،چین،ڈنمارک، یورپین کمیشن، فن لینڈ، فرانس، جرمنی،یونان، جی سی سی، ہانگ کانگ،آئس لینڈ،آئر لینڈ، اسرائیل، اٹلی، جاپان ،جنوبی کوریا، لکسمبرگ،ملائیشیا، میکسیکو، ہالینڈ،نیوزی لینڈ،ناروے،پرتگال،روس، سعودی عرب، سنگاپور،جنوبی افریقہ، اسپین، سویڈن، سوئٹزر لینڈ،ترکی اور برطانیہ جب کہ انڈونیشیا بطورآبزرور پر مشتمل ایک تنظیم ہے۔ اس تنظیم کی بنیاد جی سیون ممالک کی سربراہی کانفرنس منعقدہ پیرس میں 1989ء میں رکھی گئی۔یہ ایک بین الحکومتی تنظیم  ہے۔ چین اس کا موجودہ صدر ہے۔

اپریل 2019ء سے پہلے یہ تنظیم ایک فکسڈ مدت کے لیے قائم کی گئی تھی لیکن اس سال اپریل میں اس کے قیام کی مدت کو اوپن اینڈڈ یعنی کھلا چھوڑ دیا گیا ہے اس لیے اب یہ اُس وقت تک کام کر سکتی ہے جب تک اس کی ضرورت ہو،اس کے قیام کا مقصد منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے قانونی،ریگولیٹری اور آپریشنل اقدامات بروئے کار لانا ہے۔

اکتوبر 2001ء میں منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ ٹیرر فنانسنگ Terror Financing کی روک تھام کے لیے مالیاتی اقدامات کو بھی ایف اے ٹی ایف کے مینڈیٹ میں شامل کر لیا گیا۔پھر اپریل 2012ء میں بڑے پیمانے پر تباہی پھلانے والے ہتھیاروں Weapons of Mass Destruction کو بنانے اور پھیلانے کے خلاف اقدامات کو بھی ایف اے  ٹی ایف کے مینڈیٹ میں دے دیا گیا۔

ایف اے ٹی ایف کا اجلاس سال میں تین مرتبہ ہوتا ہے۔بھارت اس کا کُل وقتی ممبر ہے جب کہ پاکستان اس کا ممبر نہیں ہے۔بھارت اپنی بڑی معیشت،بڑی آئی ٹی انڈسٹری۔ بڑی منڈی اور پرو ایکٹو سفارتکاری کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اس تنظیم کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔بھارت نے دنیا کو باور کرا دیا ہے کہ پاکستان اس کے خلاف دہشتگردی کرتا ہے۔ بھارت ایف اے ٹی ایف اجلاسوں میں پاکستان کو بلیک لسٹ کروانے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے۔

پاکستان پر ایف اے ٹی ایف کی تلوار ایک عرصے سے لٹک رہی ہے۔بار بار کی ناکامیوں اور وارننگز کے باوجود ہم اپنے مالیاتی نظام کو گلوبل مالیاتی  نظام سے ہم آہنگ نہیں کر پائے۔پاکستان کافی دیر سے گرے لسٹ میں چل رہا ہے۔ ہم نے آئی ایم ایف کو پروگرام لینے سے پہلے یقین دہانی کروادی تھی کہ پاکستان اکتوبر 2019ء تک ایسے اقدامات کر لے گا کہ اکتوبر میں گرے لسٹ سے باہر ہو جائے گا۔ حماد اظہر اکتوبر کی میٹنگ میں پیرس جانے سے پہلے یہ کہہ کر گئے تھے کہ ہم نے بہت کام کر لیا ہے اور ایسے اقدامات اٹھائے ہیں کہ پیرس میں ہونے والی میٹنگ میں ضرور کامیابی ہوگا۔ ان بیانات پر بھروسہ کرتے ہوئے ساری قوم امید کر رہی تھی کہ اچھی خبر آئے گی۔

پیرس میں میٹنگ کے اختتام پر ایک پریس کانفرنس میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی اقدامات کا بغور جائزہ لیا جا رہاتھا۔پاکستان نے چند شعبوں میں کچھ کامیابی حاصل کی ہے جس کے لیے وہ شاباش کا مستحق ہے لیکن مجموعی طور پر پاکستان ناکام رہا ہے۔

پاکستان نے ایک ایکشن پلان کے تحت یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ  سنجیدگی سے کام کرتے ہوئے تمام کمزوریوں پر قابو پالے گا۔پاکستان کی طرف سے بہت ہی اعلیٰ حکومتی سطح پر یہ یقین دہانی کروائی گئی تھی۔اس سلسلے میں اقدامات  کرنے کے لیے پاکستان کو جو ڈیڈ لائن دی گئی تھی وہ ختم ہو چکی ہے اور اس کے خاتمے پر یہ نظر آ رہاہے کہ چندشعبوں کو چھوڑ کر زیادہ تر شعبوں میں کوئی پراگریس نہیں ہوئی۔ پاکستان کو ابھی اور زیادہ کام کرنا ہے اور یہ کام تیزی سے ہونا چاہیے۔چونکہ ڈیڈ لائن ختم ہو گئی ہے اس لیے ایف اے ٹی ایف پاکستان کو وارننگ دیتا ہے کہ اگر فروری 2020ء تک خاطر خواہ کارکردگی نہیں  دکھائی گئی تو خدشہ ہے کہ پاکستان کو پبلک اسٹیٹمنٹ میں ڈال دیا جائے یعنی بلیک لسٹ کر دیا جائے۔

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کے حوالے سے اپنی دو سو تیس صفحات پر مشتمل  ایک رپورٹ جاری کی ہے ۔جس کی ایگزیکٹو سمری نو صفحات پر مشتمل ہے۔اس رپورٹ کو پڑھنے سے دل بیٹھ جاتا ہے کیونکہ اس میں صاف طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ پاکستان میں مالیاتی فیصلہ کرنے والے اور مالیاتی اداروں کو اس بات کی سمجھ ہی نہیں ہے کہ کس طرح کام کرنا ہے، کیا اقدامات اُٹھانے ہیں اور مالیاتی پالیسی کیا بنانی ہے۔یہ تو ہماری تمام مالیاتی ٹیم اور مالیاتی اداروں بشمول ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کے اوپر عدم اعتماد نظر آتا ہے۔اس رپورٹ میں ہمارے اداروں کی کمزوریوں،نااہلیوں اور نا لائقیوں کا ذکر ہے۔

نظر یہ آتا ہے کہ ایف بی آر اپنا کام کرنے کی صلاحیت  نہیں ہے جب کہ اسٹیٹ بینک اس بات کا تہیہ کیے بیٹھے ہیں کہ انھوں نے آئی ایم ایف مصر ماڈل کو پاکستان میں ضرور لاگو کرنا ہے حالانکہ مصر میں یہ ماڈل بالکل ناکام ہو چکا ہے۔ 2016 ء میںIMF کا پروگرام مصر میں لاگو کیا گیا۔اس پروگرام کے نتیجے میں مصر کی معیشت کو بہت بڑا دھچکا لگا ہے۔  مصر کے بیرونی قرضے پانچ گنا بڑھ گئے ہیں اور اندرونی قرضے ڈبل ہو گئے ہیں۔مصر کی 60 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے چلی گئی ہے کاش کوئی ہمارے فیصلہ سازوں کو یہ سمجھا سکے کہ مصر کا ماڈل ایک انتہائی ناکام ماڈل ہے اس سے  بہت نقصان ہو چکا ہے اور آگے چل کر مزید نقصان کا اندیشہ ہے۔پہلے ہی شرحِ سود نے لوگوں کی چیخیں نکال دی ہیں۔

ایف اے ٹی ایف کی وارننگ کے بعد کہا جا رہا ہے کہ کارکردگی بہتر بنانے اور ایف ا ے ٹی ایف کو پراگرس دکھانے کے لیے کئی آرڈیننس جاری ہوں گے۔تعجب ہے کہ رواں ماہ پیرس میٹنگ میں جانے سے پہلے آرڈیننس کیوں جاری نہیں کیے جا سکے ،کیوں واننگ جاری ہونے کا انتظار کیا گیا۔ اس سے اس آبزرویشن کو تقویت ملتی ہے کہ ہماری مالیاتی ٹیم اور مالیاتی اداروں کو اس بات کی سمجھ ہی نہیں کہ کیا خطرات ہیں اور ان سے نبٹنے کے لیے کیا اقدامات کرنے ضروری ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہم ضروری اقدامات نہ کر سکے اور فروری 2020ء میں وارننگ کے مطابق بلیک لسٹ ہو گئے تو کیا ہو گا۔بظاہر ہم دنیا سے کٹ کر نہیں رہ جائیں گے لیکن ہماری بیرونی تجارت کرنے کی صلاحیت اورکاسٹ بہت بڑھ جائے گی۔بینک اکاؤنٹس کھولنے کے لیے بہت کڑی شرائط سے گزرنا ہوگا یوں بینک اکاؤنٹس کھولنے مشکل ہو جائیں گے۔ ان تمام مشکلات سے نکلنے کے لیے ہمارا قانونِ شہادت بھی ایک رکاوٹ ہے اور اس میں تبدیلی لانا ایک لمبا عمل ثابت ہو سکتا ہے۔

ایتھوپیا جیسا ملک ابھی اکتوبر میں گرے لسٹ سے باہر آیا ہے۔سری لنکا اور تیونس نے بھی یہ معرکہ سر کر لیا ہے اگر یہ ممالک ایسا کر سکتے ہیں تو پاکستان بھی اس قابل ہو سکتا ہے۔2015ء میں ہم نے ایسا کر لیا تھا جس کا مطلب ہے کہ ہمارے اندر صلاحیت موجود ہے۔

ہماری حکومت اور مالیاتی اداروں کو بہت تشویش ہونی چاہیے لیکن کوئی ہلچل نظر نہیں آتی۔پاکستان میں تین غیر ملکی بینک کام کر رہے ہیںاگر ہم بلیک لسٹ ہو گئے تو ان بینکوں کے لیے بھی کام آسان نہیں رہے گا۔ہم بیرونِ ملک سکوک اور یورو بانڈز جاری کرنے کی صلاحیت کھو دیں گے،خدا کرے ضروری اقدامات سُرعت سے اُٹھائے جائیں تاکہ ایف اے ٹی ایف کی لٹکتی تلوار سے چھٹکارا حاصل ہو جائے۔

The post ایف اے ٹی ایف اور پاکستان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/34fm4vW

رحیم بخش سومرو، بلند پایہ سیاستدان

مجھے ویسے تو سندھ کے کئی سیاستدان اچھے لگتے ہیں ، جن میں سر فہرست اللہ بخش سومرو شامل ہیں جو سندھ کے پہلے منتخب وزیر اعظم تھے، جن کی زندگی کے بارے میں پڑھ کر میں ان کا فین بن گیا ہوں۔ رحیم بخش سومرو شہید اللہ بخش سومرو کے بیٹے تھے، ان کی زندگی اپنے والد کا عکس تھی جب کہ محترمہ شہید بینظیر بھٹو نے بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کی بھرپورکوشش کی جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی گئی مگر اسے بھی سیاست کے پردے سے ہٹایا گیا۔

رحیم بخش سومرو سے میں پہلی مرتبہ اپنے والد عبدالقادرکے ساتھ ان کی کراچی والی رہائش گاہ پر ملا تھا جس کی سادگی، محبت اور ادب و آداب دیکھ کر ہی مجھے خوشی ہوئی کہ ان میں اپنے والد کی خوشبو موجود ہے کیونکہ یہ سومرو فیملی تعلیم کے حوالے سے آگے تو تھے مگر غریبوں سے محبت ، ان کے کام آنا ، سخاوت، عجز و نیاز، رحم ان کے خاندان کی خاص پہچان تھی ، وہ تو اپنے دشمن کو بھی معاف کر دیتے۔

بہرحال میں اپنی زندگی کی دوڑ میں کچھ اس طرح مصروف رہا کہ مجھے کئی اچھے انسانوں سے نہ ملنے کا افسوس زندگی بھر رہے گا، لیکن اس کے بعد یہ طے کیا کہ اب میں ایسے لوگوں کے بارے میں موجودہ اور آنے والی نسلوں کو تحریر کے ذریعے ایسے عظیم انسانوں کی زندگی اور خدمات کے بارے میں بتاتا رہوں گا تاکہ وہ بھی ایسی شخصیات کی تقلید کرکے اپنی قوم اور ملک کی خدمت کریں۔

رحیم بخش سومرو 20 اکتوبر 1919ء کو شکارپور میں پیدا ہوئے تھے ، ابتدائی تعلیم مدرسہ اسکول نوشہرو فیروز سے حاصل کی۔ یہ مدرسہ 1903ء میں قائم ہوا تھا جو دربیلو شہر میں ہے جسے الہندو شاہ نے اپنے پیسوں سے تعمیر کروایا تھا تاکہ سندھی تعلیم کے ساتھ ساتھ انگریزی تعلیم بھی فروغ پائے اور سندھ کے لوگ انگریزی تعلیم حاصل کرکے دنیا کے ساتھ ترقی کریں۔ اس کے علاوہ ان کا یہ خیال تھا کہ اگر مسلمانوں کی معاشی حالت بہتر ہوگی تو وہ دنیا کی Challenges کا مقابلہ کر کے آگے بڑھیں گے اور انھیں روزگار کے مواقعے پوری دنیا میں حاصل ہو سکیں گے۔ انھوں نے ورلڈ ایجوکیشن سوسائٹی کا بھی تصور پیدا کیا جس کی وجہ سے پوری دنیا جلد ترقی کی طرف گامزن ہوسکے گی جس میں مسلمان بھی شامل ہوں گے۔

بعد میں یہ مدرسہ ہائی اسکول بن گیا جس کی حیثیت کراچی کے سندھ مدرسہ الاسلام جیسی ہوگئی تھی اور وہاں سے سندھ کے بڑے بڑے نامور شخصیات نے تعلیم حاصل کی تھی۔ رحیم بخش سومرو مزید آگے تعلیم حاصل کرنے کے لیے علی گڑھ کالج چلے گئے ،جہاں پر ان کے ساتھ غوث بخش بزنجو ان کے ہم جماعت تھے جس سے ان کی گہری دوستی ہوگئی۔ وہاں سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ واپس سندھ چلے آئے۔ ان کی ذہانت اور تعلیم کے ساتھ پیار دیکھ کر انھیں ڈسٹرکٹ اسکول بورڈ سکھر کا چیئرمین اور اس کے ساتھ صدر میونسپل کمیٹی جیکب آباد بنا دیا گیا۔ وہ ہمیشہ اپنے والد اللہ بخش سومرو کے ساتھ ساتھ رہتے تھے جو انھیں اس وقت کے بڑے سیاستدانوں سے ملواتے تھے اور وہاں پر آنے والی سماجی اور تعلیمی شخصیات بھی ہوتی تھیں۔ اس دوران وہ قائد اعظم محمد علی جناح ، جواہر لال نہرو، عبدالکلام آزاد جیسی شخصیات سے ملے اور ان سے بہت کچھ سیکھا۔

رحیم بخش سومرو 1946 میں سندھ اسمبلی کے ممبر بھی منتخب ہوئے اور وزیر اعلیٰ عبدالستار پیرزادہ کی کیبنٹ میں بطور وزیرکئی برس کام کرتے رہے جس میں یوسف ہارون ، سر غلام حسین ، ہدایت اللہ اور جنرل حمید الدین شامل ہیں۔ وہ دو مرتبہ ایم این اے اور سات مرتبہ ایم پی اے منتخب ہوچکے تھے۔ وہ عام آدمی کے کے ساتھ دوستانہ ، ہمدردانہ اور عزت والا رویہ رکھتے تھے اور انھیں دوستی نبھانے کا فن آتا تھا اور جب بھی کسی دوست پر برا وقت آیا تو وہ اس کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔ ان کی دوستی پیر حسام الدین راشدی کے ساتھ بڑی گہری تھی۔ وہ حتی الامکان کوشش کرتے تھے کہ غریبوں اور رشتے داروں کے کام آئیں جس کی وجہ سے ہر مکتب فکر کے لوگ اس کے شیدائی تھے۔

انھوں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی کو اپنا دشمن نہیں بنایا اور نہ ہی کسی سے نفرت کی، وہ جب بھی اپنے علاقے میں آئے تو غریب اور نادار لوگ اس سے ملنے آتے تھے جنھیں وہ پہننے کے لیے نئے کپڑے اور اچھے کھانے کھلاتے تھے۔ وہ بڑے سخی اور خدا ترس تھے۔

رحیم بخش صاحب نے کبھی بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی اور نہ کسی کو غیر قانونی کاموں میں سپورٹ کیا اور ہمیشہ قانون اور انصاف کا جھنڈا بلند رکھا۔ یہ پہلی شخصیت تھے جنھوں نے سب سے پہلے ایوب خان کے دور میں بطور احتجاج اپنی نشست سے استعفیٰ دیا تھا۔ اپنے والد کی طرح ان کا بھی یہ خواب تھا کہ وہ زراعت کو ترقی دیں لیکن آبپاشی کے پانی کی دن بہ دن قلت کی وجہ سے وہ اس خواب کو پورا نہیں کرسکے۔ وہ ون یونٹ کے سخت خلاف تھے اور جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا تھا کہ یہ اس طرح ہے جیسے کوئی دیواروں کے بغیرکسی گھر میں رہتا ہو۔

وہ ہندو مسلم یونٹی کے حامی تھے اورکبھی بھی اس سلسلے میں کسی کی حمایت نہیں کی بلکہ ہندو مسلم اتحاد برقرار رکھنے کے لیے کام کرتے رہے۔ انھوں نے اپنی زندگی اپنے والد کے بنائے ہوئے اصولوں پر گزاردی اور ہمیشہ لوگوں کی رائے کو افضل سمجھا اور ان سے احترام اور محبت سے پیش آتے تھے۔ ان کی دوستی بھٹو سے بھی تھی مگر وہ 1970ء کے الیکشن میں بطور آزاد امیدوارکھڑے ہوئے تھے اور اپنی سیٹ پر کامیاب ہوئے جو بھٹو جیسے مضبوط انسان کے لیے ایک مثال تھی۔ رحیم بخش اپنے والد کے انتقال کے بعد پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہوئے تھے۔

انھیں اچھی اور بہترین گاڑی رکھنے کا بڑا شوق تھا اور ایک وقت تھا کہ بہت کم لوگوں کے پاس کراچی میں بھی گاڑیاں ہوتی تھیں لیکن وہ اس وقت بھی امپالا گاڑی رکھتے تھے، جس کا رنگ لال ہوتا تھا لیکن جب وہ شکار پور جاتے تھے تو سوزوکی گاڑی لے جاتے تھے۔ جب ان کے چچا مولا بخش سومرو جو ان کے سسر بھی تھے ، انتقال ہوا تو انھیں سومرو قبائل کا سردار بنایا گیا مگر انھوں نے کبھی بھی خود کو سردار نہیں سمجھا اور اپنے قبائل کے لوگوں کو اپنے بچوں کی طرح ملتے اور ان کے کام آتے تھے، ہر ایک کے ساتھ ادب اور شائستگی کے ساتھ ملتے تھے۔ یہ ان کا معمول تھا کہ صبح ہوتے ہی لوگوں سے اپنے گھر پر ملنا شروع کرتے تھے اور آنے والوں کو ان کی طرف سے کھانا بھی پیش کیا جاتا تھا۔

عوام کے کاموں کے سلسلے میں متعلقہ افسران کو اپنے گھر پر بلاتے اور عزت و احترام کے ساتھ عوام کی خدمت کرنے کو کہتے اور مسائل حل کرنے کی گزارش کرتے۔ جیساکہ افسران بھی جانتے تھے کہ رحیم بخش بھی غلط کام نہیں کہتے اس لیے وہ ان کا کام کرکے خوشی محسوس کرتے تھے۔ وہ اپنے دور اقتدار میں بھی کوئی گارڈ اپنے ساتھ نہیں رکھتے تھے، اپنے گھر کے دروازے عام آدمی کے لیے کھلے رکھتے تھے جس کی وجہ سے لوگ بلا ٹوک ان سے مل لیتے تھے۔ انھیں اپنی زندگی میں ایک بڑا دکھ پہنچا جب ان کے بیٹے اللہ بخش ایک ٹریفک حادثے میں چل بسے یہ دکھ وہ کبھی بھلا نہیں سکے۔

وہ ایک مرتبہ Interim Govt میں سندھ کے وزیر اعلیٰ بھی بنائے گئے تھے۔ عمر کے آخری ایام میں انھیں پھیپھڑوں اور دل کے امراض نے گھیر لیا جس کی وجہ سے وہ 24 جنوری 2005ء کو اس دنیا کو الوداع کہہ گئے، سندھ کے عوام ان کی انسان دوستی اور خدمات کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ ان کے بیٹے حمیر سومرو اپنے خاندان کی روایات کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

The post رحیم بخش سومرو، بلند پایہ سیاستدان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/36nzLuG

اقراء خالد؛ رکن پور سے رکن پارلیمان کینیڈا تک

رکن پور کی اقراء خالد دوسری مرتبہ کینیڈا پارلیمنٹ کی رکن منتخب ہو گئیں۔ ڈیلی ایکسپریس میں گذشتہ ہفتے صفحہ اول پرچھپی اس خبر نے توجہ کا دامن کھینچ لیا۔

رحیم یار خان کے ایک دور افتادہ قصبے رکن پور سے اقراء خالد کے دادا صوفی فقیر کے حوالے سے خبر میں اس بات کا خصوصی ذکر تھا کہ ان کی پوتی رکن پور کے پرائمری اسکول میں پڑھتی رہی ۔ بعد ازاں اپنے والدین کے ساتھ کینیڈا شفٹ ہو گئی۔ 34 سالہ اقراء خالد پیشے کے اعتبار سے وکیل اور ٹورانٹو کے ایک ذیلی شہر مسی ساگا سے جسٹن ٹروڈو کی قیادت میں لبرل پارٹی کے ٹکٹ پر دوبارہ منتخب ہوئی۔

پاکستان سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ ترکِ وطن کرکے دنیا بھر کے ممالک میں آباد ہیں۔ اقتصادی اعتبار سے کچھ ممالک میں کافی لوگ مستحکم ہیں ۔ البتہ مقامی سیاست میں بہت کم تعداد ہی اپنا نام بنانے کا رجحان رکھتی ہے۔ اکثر ممالک میں جنوبی ایشیاء کے رجحان کے مطابق اپنی کمیونٹی میں ہی رچ بس کر رہنے کا رواج ہے۔ برطانیہ ، کینیڈا اور امریکا وغیرہ میں خاصی معقول تعداد میں پاکستانی آباد ہیں، اب تو دوسری اور تیسری نسل بھی جوان ہو چکی لیکن غالب رجحان یہی ہے کہ اپنی کمیونٹی میں ضم رہا جائے یا قریب رہا جائے۔

مذہبی ، معاشرتی اور معاشی سرگرمیوں میں اپنوں کے ساتھ اس قدر جڑاؤ رہتا ہے کہ الّا ماشاء اللہ مقامی آبادی کے ساتھ راہ و رسم رسمی مجبوری سے آگے نہیں بڑھ پاتا ، چہ جائیکہ سیاست، معاشرت، کھیل یا فنون لطیفہ میں ان کے شانہ بہ شانہ ناموری حاصل کرنے کا جذبہ ہو۔ برطانیہ میں اپنے ہاں کی بہت سی مخصوص تنگ نظری بھی ساتھ ساتھ زندہ رہتی ہے بلکہ بعض اوقات تو بہت منفی اور شرمناک انداز میں میڈیا پر نمایاں جگہ پاتی ہے۔ ایسے میں اگر روشن اور قابل قدر مثالیں دیکھنے سننے کو ملیں تو ملک کے اندر اور باہر ہموطنوں کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔

اقراء خالد کینیڈا ٹورانٹو کے ذیلی شہر مسی ساگا کی رہائشی ہیں۔ اس علاقے میں پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد آباد ہے۔ اس قدر کثیر کہ انگلش زبان کے بعد یہاں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانیں اردو اور پنجابی ہیں۔ مقامی لائبریری تک میں اردو کی کتابیں دستیاب ہیں۔ اقراء خالد اسی حلقے سے پچھلی بار منتخب ہوئی اور اب ایک بار پھر حلقے کی اکثریت کا اعتماد لے کر کینیڈا کی پارلیمان میں پہنچی۔

رکن پور اور اقراء خالد کے والد حافظ خالد کے ساتھ ہماری کچھ پرانی یادیں وابستہ ہیں۔ اس خبر پر دلی خوشی میں اس تعلق کا بھی دخل ہے۔ ہمارا تعلق ر حیم یار خان سے ہے ، ایک دورافتادہ قصبے باغ و بہار ( جو 70 کی دِہائی میں ایک بس اڈے اور دکانوں کے مختصر بازار پر مشتمل آبِ حیات نہر کنارے محکمہ انہار کے ایک بنگلے کے طور پر مشہور تھا) کے ہائی اسکول سے میٹرک کرنے کے بعد خواجہ فرید گورنمنٹ ڈگری کالج میں داخل ہوئے تو ہاسٹل میں جس کلاس فیلو کے کمرہ شریک ہوئے، وہ حافظ خالد تھے۔

حافظ خالد کا شعری ذوق بہت عمدہ تھا۔ اردو اور سرائیکی اشعار کا انتخاب ایک کاپی میں لکھتے رہتے اور اکثر سناتے۔ دو ایک بار مقامی مشاعروں میں بھی اکٹھے شریک ہونے کا موقع ملا۔ ان کی صحبت اور ہم سخنی نے ہمارے شعری ذوق کو بھی مہمیز کیا۔ ان کے ساتھ ان کے گاؤں رکن پور بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ کھچا کھچ بھری بس میں تادیر چھت پر سفر کرنا پڑا، جوانی اور ایڈوینچر کا شوق کہ اس سفر کو خوب انجوائے کیا۔ ان کے والد صوفی فقیر کی دکان تھی۔ حافظ خالد نے لائبریری سائنس میں ایم اے کیا، اسلامیہ یونی ورسٹی بہاولپور جوائن کی، پی ایچ ڈی کا اسکالرشپ ملا تو غالباٌ برطانیہ سے پی ایچ ڈی کرکے لوٹے۔ کچھ عرصے بعد مگر کینیڈا جانے کی ٹھانی اور شفٹ ہو گئے۔

لائبریری سائنس سے ناطہ چھوٹ گیا مگر والد کی تربیت کام آئی۔ ایک گروسری اسٹور کھول لیا، اہلیہ نے ایک پارلر اور بوتیک کھول کر نئی زندگی کی ابتداء کی۔ بعد میں ایک آدھ بار رابطہ ہوا تو انداز سے لگا کہ کاروبار کی مصروفیت اور وہاں کی برفیلی آب و ہوا میں وہ یادیں ٹھٹھر سی گئی تھیں، دوبارہ رابطے پر طبیعت مائل بھی نہ ہوئی۔ ان کی بیٹی کے دوبارہ انتخاب کی خبر سے پرانی یادیں ایک بار پھر سے ذہن میں تازہ ہوئیں اور اس تحریر کا سبب بنی گئیں۔

اس زمانے میں ان کی وساطت سے ہی سرائیکی شاعری کے اپنے وقت کے بڑے شاعر جانباز جتوئی، اقبال سوکڑی اور دلچسپ کے اشعار، نظمیں اور دوہڑے سنے۔ دو ایک ابھی تک یاد ہیں جب کہ باقی نسیان کی نذر ہو گئے۔ جانباز جتوئی کا ایک دوہڑا کچھ یوں تھا؛

رہ سُول سوغاتاں ڈِتّی توں

میڈی گال تاں سن گھن اِتّی توں

جانباز ڈے ذرا ڈیکھ تاں سہی

شالا تھیویں تاریاں جِتّی توں

کینیڈا میں احباب کی زبانی ہی علم ہوا کہ پاکستان نژاد سلمیٰ زاہد بھی دوسری بارممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئی ہیں۔ ایک دیرینہ دوست راحت جلال جو ریٹائرمنٹ کے بعد سوشل ویلفئیر کو فل ٹائم اپنائے ہوئے ہیں کی زبانی بہت سے دیگر احباب کا بھی ذکر سنا جو مقامی سیاست میں فعال ہیں، ان میں ایک خالد عثمان ہیں جو مارکھم کے علاقے سے 2000 سے اب تک مسلسل چار بار بطور کونسلر منتخب ہوتے آئے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں لیکن مقامی سیاست میں قابل قدر کردار ادا کر رہے ہیں۔

کینیڈا کی طرح امریکا میں بھی پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد آباد ہیں۔ ڈاکٹرز کمیونٹی ہو یا کاروباری و دیگر پیشوں سے منسلک پاکستانی نژاد ، اکثریت مقامی سیاست سے دامن بچا کر رکھتی ہے۔ پاکستانی کمیونٹی میں سے بیشتر پاکستان کی ترقی اور مسائل پر خاصے حساس ہیں۔ پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ کا غالب حصہ امریکا میں مقیم اسی کمیونٹی کی وساطت سے جمع ہوتا ہے ۔

اس بار اٹلانٹا کے سفر میں تیسری نسل سے وہاںبسنے والے حبیب چوہدری سے ملاقات ہوئی۔ انتہائی پڑھے لکھے، ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔ مقامی سیاست میں شرکت کو پاکستانی نژاد کمیونٹی کے لیے ضروری جانتے ہوئے کاوئنٹی لیول کے انتخابات میں ان کا خاندان زور شور سے حصہ لیتا ہے۔ گذشتہ الیکشن میں چند سو ووٹوں سے ہارے مگر اب پہلے سے زیادہ تگ و دو کر رہے ہیں کہ اگلے انتخابات میں جیت سکیں۔

امریکا میں پاکستانی نژاد کمیونٹی پاکستانی امریکا پولیٹیکل ایکشن کمیٹی ( PAKPAC) کے فورم سے گذشتہ کئی سالوں سے اپنے لوگوں کو متحرک کرنے کے لیے کوشاں ہے ۔ 2016 کے انتخابات میں اس کونسل کی ڈائریکٹر رفعت چغتائی و دیگر رفقاء کی کوششوں سے امریکا کے کئی بڑے شہروں میں امریکن سیاست کے ایکسپرٹ ڈاکٹر عدنان اور واشنگٹن میں لابی کے ایک معروف ماہر سے مکالمے کے کئی سیشن رکھے گئے تاکہ سیاست اور پاکستانی نژاد امیدواروں کے لیے کمیونٹی کو مزید متحرک کیا جا سکے ۔

مکالموں کی ان نشستوں میں ماہرین نے یہی باور کروانے کی کوشش کی کہ مقامی سیاست میں فعال کردار سے معاشرے میں ان کا کردار نمایاں ہوگا اور اسلاموفوبیا کا بھی مقابلہ ہو سکے گا۔ امید ہے کہ کمیونٹی اگلے سال الیکشن میں بہتر تیاری اور زیادہ تعداد میں حصہ لے گی۔ امریکا کی مانند کینیڈا میں بھی اقراء خالد، سلمیٰ زاہد اور سمیر زبیری سمیت زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کا مقامی سیاست میں سرگرم ہونا اچھا شگون ہے۔ بھارت اس معاملے میں بہت آگے ہے لیکن پاکستانی نژاد دوسری اور تیسری نسل بھی تعلیم اور مزاج کے اعتبار سے اس قابل ہے کہ وہ سیاست میں بھی اپنا نام پیدا کر سکتے ہیں۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!

The post اقراء خالد؛ رکن پور سے رکن پارلیمان کینیڈا تک appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/34kCmUm

جان مسلم کا احترام

اسلام دین فطرت اورکامل ترین فطری وقدرتی مذہب ہے، لہٰذا اسلامی تعلیمات ، قوانین ، قواعد و ضوابط اور اصول تمام شعبہ ہائے حیات کا بخوبی احاطہ کرتے ہیں اور زندگی کے ہر رخ ، ہر پہلو ، ہر شعبے میں انفرادی و اجتماعی، قومی و بین الاقوامی ہر سطح پرکامل رہنمائی کرتے ہیں ، لہٰذا دین اسلام اہل ایمان کو احترام آدمیت اور تکریم انسانیت بالخصوص جان مسلم کے تقدس کا درس دیتے ہوئے اس کی لازوال قدر و قیمت کی جانب توجہ مبذول کراتا ہے اور یہ احساس دلاتا ہے کہ دین کے مقدس ترین رشتے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور ان کو خوف خدا اور اندیشہ آخرت کے پیش نظر اپنے تعلقات درست رکھنے چاہئیں۔

بعض علمائے کرام کی رائے ہے کہ اگر دوستی کے لحاظ سے بھائی مراد ہوں تو ان کی جمع خوان آتی ہے اور اگر نسب کے اعتبار سے بھائی مراد ہوں تو اس کی جمع اخوۃ ، قرآن حکیم میں جو فرمایا گیا ہے ’’ انما المومنون اخوۃ‘‘ تو اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ گویا مسلمان آپس میں سگے بھائی ہیں۔

یاد کیجیے وہ وقت جب اس کرہ ارض پر دنیا کا پہلا قتل ہوا، جب حضرت آدمؑ کے صالح بیٹے حضرت ہابیل کی نذر قبول ہوگئی لیکن دوسرے ظالم بیٹے قابیل کی نذر قبول نہ ہوئی تو قابیل غصے میں آ کر ہابیل کے قتل پر آمادہ ہوگیا تو اس کے ارادہ قتل پر حضرت آدمؑ کے صالح بیٹے حضرت ہابیل نے کیا خوب کہا کہ ’’ اللہ تو متقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے، اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہ اٹھاؤں گا۔ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ، میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو ہی سمیٹ لے اور دوزخی بن کر رہے، ظالموں کے ظلم کا یہی ٹھیک بدلہ ہے‘‘ قرآن حکیم نے سورۃ المائدہ آیات 29-26 میں یہ واقعہ بیان کرکے ایک صالح آدمی کے طرز عمل کو بڑی خوبی کے ساتھ نمایاں کیا ہے۔

اس کے علاوہ قرآن حکیم سورۃ المائدہ آیت 32 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے والا ہو، قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا اور جو شخص کسی ایک کی جان بچا لے، اس نے گویا تمام لوگوں کو زندہ کر دیا۔‘‘ تفسیر ابن کثیر سے معلوم ہوتا ہے۔

بنی اسرائیل میں کشت و خون اور قتل وغارت گری بڑی عام تھی، بالخصوص انھوں نے ستر ہزار انبیا کا قتل کیا تھا، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے قتل ناحق اور انسانی جان کی قدروقیمت واضح کرنے کے لیے بنی اسرائیل پر حکم نازل فرمایا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ کے ہاں انسانی خون کی کتنی اہمیت اور تکریم ہے اور یہ اصول صرف بنی اسرائیل ہی کے لیے نہیں تھا، اسلام کی تعلیمات کے مطابق یہ اصول ہمیشہ کے لیے ہے۔ سلیمان بن ربعی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بصریؒ سے پوچھا یہ آیت ہمارے لیے بھی ہے جس طرح بنی اسرائیل کے لیے تھی؟ انھوں نے فرمایا ’’ہاں! قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بنی اسرائیل کے خون اللہ کے ہاں ہمارے خونوں سے زیادہ قابل احترام نہیں تھے۔‘‘

رحمت اللعالمینؐ نے باہمی رحمت و محبت ، وحدت و اخوت کی زندہ حقیقت کو مختلف طریقوں اور تمثیلوں کے ذریعے اپنی امت کے دل و دماغ میں بٹھانے اور فکر ونظر میں سمانے کی کوشش کی تاکہ حجت تمام ہوجائے۔ اس ضمن میں محسن انسانیتؐ کے اقوال و فرامین (احادیث) اصلاح احوال کے لیے پیش خدمت ہیں۔ غور سے پڑھیے، سوچیے، سمجھیے اور دیکھیے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اور ہمیں کہاں کھڑا ہونا چاہیے! نبی رحمتؐ کے فرمان عالی شان ہیں کہ:

اے ہمارے اور ہر چیز کے رب ! میں (محمدؐ) گواہی دیتا ہوں کہ سارے انسان بھائی بھائی ہیں (مسند احمد، ابو داؤد) ۔ اللہ رب العزت اس پر رحم نہیں فرماتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔ (مسلم، ترمذی)۔ ساری مخلوق خدا کا کنبہ ہے اور اللہ عزوجل سب سے زیادہ محبت اسی سے کرتا ہے جو اس کے عیال کو سب سے زیادہ محبوب رکھتا ہے۔ (بیہقی)۔ مخلوق پر رحم کرنے والوں پر رحمنٰ رحم کرتا ہے، جو زمین پر رہتے ہیں تم ان پر رحم کرو، جو آسمانوں میں رہتا ہے، وہ تم پر رحم کرے گا۔ (ابو داؤد، ترمذی)۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے بھی وہ چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

(بخاری و مسلم)۔ تم ایسا پاؤ گے ایمان والوں کو آپس میں رحم کرتے، محبت کرتے، ایک دوسرے کی تکلیف کا احساس کرتے جیسے ایک جسم کا کوئی حصہ بھی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ اپنے سارے جسم میں تکلیف محسوس کرتا ہے۔ (بخاری، مسلم، ترمذی)۔ سب مومن ، فرد واحد کی طرح ہیں، اگر دُکھتی ہے ایک آنکھ تو دکھتا ہے سارا جسم! اور اگر دکھتا ہے سر تو دکھتا ہے تمام جسم ۔ (مسلم)۔ مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے۔ اس کی آنکھ ہے، اس کا راہ نما ہے۔ مومن، مومن کے ساتھ خیانت نہیں کرتا، ظلم نہیں کرتا، جھوٹا وعدہ نہیں کرتا، اس کی کسی جائز خواہش کو رد نہیں کرتا۔ (اصول کافی)۔ مومن، مومن کا بھائی ہے اور مسلمان تن واحد اور روح واحد کی طرح ہیں، مومن کی پہچان یہ ہے کہ اگر دوسرا مسلمان بھوکا ہو تو وہ کھانا نہ کھائے۔ (اصول کافی)۔ مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے وہ اس پر ظلم نہیں کرتا، اس کی مدد نہیں چھوڑتا اور نہ ہی اس کو حقیر جانتا ہے۔

تقویٰ اس جگہ ہے (یہ فرما کر آپؐ نے اپنے سینہ مبارک کی جانب اشارہ کیا، تین مرتبہ (پھر فرمایا) انسان کے لیے اتنی ہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو حقیر سمجھے، مسلمان کے لیے مسلمان کی ہر چیز حرام ہے۔ اس کا خون بھی، اس کا مال بھی اور اس کی آبرو بھی۔ (مسلم)۔ مومن، مومن کے لیے مثل مکان ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط رکھتا ہے (تمثیل دیتے ہوئے) آپؐ نے اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالا ۔ (بخاری و مسلم)۔ (سچا) مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان سلامت رہے۔

(بخاری و مسلم)۔ مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ وہ اپنے بھائی پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے دشمن کے سپرد کرتا ہے جس میں اس کی ہلاکت ہے اور اس کی غائبانہ حفاظت کرتا ہے۔ (ترمذی و ابو داؤد)۔ مومن، الفت کا محل ہے اور اس شخص میں کوئی خوبی نہیں جو الفت نہیں کرتا اور اس سے الفت نہیں کی جاتی۔ (احمد، بیہقی)۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے جو میری رضا کی خاطر آپس میں محبت کرتے ہیں، ان کے لیے نور کے منبر ہوں گے۔

انبیائے کرام اور شہدا ان پر رشک کریں گے۔ (ترمذی)۔ قیامت کے دن اللہ رب العزت فرمائے گا میرے جلال کے پیش نظر جو آپس میں محبت رکھتے ہیں، میں ان کو اپنے سایہ میں جگہ دوں گا جب کہ میرے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ (مسلم)۔ جو شخص کسی مغاہر کو قتل کرے گا (یعنی کافر، جس سے جنگ نہ کرنے کا عہد کیا گیا ہو) وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا اور جنت کی خوشبو چالیس برس کے راستے تک پہنچتی ہے۔ (بخاری)۔ خدا کے نزدیک ساری دنیا کا ختم ہوجانا، ایک مسلمان کے قتل ہوجانے کے مقابلے میں بے معنی اور بے حقیقت ہے۔ (ترمذی و نسائی)۔ جب تک کوئی مسلمان خون حرام کا مرتکب نہیں ہوتا اس وقت تک دین کی وسعت و کشادگی میں رہتا ہے (یعنی اللہ عزوجل کی رحمت کا امیدوار رہتا ہے)۔ (بخاری)۔ حضرت جریر بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہؐ کے ہاتھ پر بیعت کی نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کے لیے خیر خواہی کرنے کے لیے۔ (بخاری و مسلم)

ارشاد نبویؐ کا پڑھنا باعث سعادت، ان کا سمجھنا باعث ہدایت اور ان پر عمل پیرا ہونا باعث نجات ہے۔ آئیے معاشرے میں اسم محمدؐ سے اجالا کرکے ظلم و جاہلیت کے اندھیروں کا صفایا کریں اور گل و گلزار بنائیں، اپنا محاسبہ کریں اور اپنی نجات و شفاعت کا سامان پیدا کریں۔

The post جان مسلم کا احترام appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2NyefLr

چین سرمایہ داری کے عروج پر

چین میں جب سوشلسٹ انقلاب آیا تو وہاں جاگیرداری اور سرمایہ داری کا خاتمہ بالخیرکر دیا گیا تھا۔ ماؤزے تنگ اور ان کی اہلیہ ہفتے میں ایک بار دھان کے کھیتوں میں کھڑے ہوکر کھاد چھڑکتے تھے اور بیچ بوتے تھے، وہ سائیکل پر سوار ہوکر دفتر جاتے تھے۔

چینی صدر لیو شاؤچی کا کہنا ہے کہ اچھا کمیونسٹ وہ ہے جو تکلیف میں آگے آگے ہو اور آرام کے وقت سب کے پیچھے۔ چینی انقلاب کے بعد غیر ملکی ملٹی نیشنل کمپنیوں، اداروں، فیکٹریوں اور ملوں کارخانوں کو قومی ملکیت میں لے لیا گیا تھا۔ سماج میں طبقاتی تقسیم اور طبقات میں مختلف پرتوں کی تشریح شاید ماؤزے تنگ سے بہترکسی نے نہیں کی۔ امریکا کو کاغذی شیر قرار دے کر امریکی سامراج اور برطانیہ سے تمام تر سامراجی معاہدات کا خاتمہ کر دیا تھا۔ ایک عرصے تک عالمی برادری (بقول پروفیسر نوم چومسکی، یو این او، آئی ایم ایف اور نیٹو) نے تسلیم کرنے اور یو این او کا رکن بنانے سے گریزکرتے رہے۔

عالمی سامراج ہر طریقے سے ماؤزے تنگ کے چین کوکچلنے کی سازشوں میں لگا رہا۔ یہ عالمی مزدور طبقہ اور سوویت یونین کی کاوشوں سے انہدام نہ ہوسکا، ہاں مگر انہدام ہوا تو اپنی ہی سرمایہ دارانہ پالیسیوں کی وجہ سے۔

آج چین کی ’’ علی بابا ‘‘ نجی کمپنی دنیا کی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں میں سے ایک ہے جس کی جڑیں ایشیا، افریقا، امریکا اور جاپان تک پھیلی ہوئی ہیں۔ چین کی اسمبلی میں دو سو ارب پتی (یوآن میں) موجود ہیں، بیس کروڑ کی آبادی بے روزگاری کا شکار ہے۔ پچاس کروڑ شہری روزانہ دو ڈالر سے کم کماتے ہیں۔ چینی سرمایہ داروں نے سری لنکا کو بندرگاہ بنا کر دی۔ اب اس پر لگے اخراجات بمع سود ادا نہ کر پانے سے اس بندرگاہ کو ایک طویل مدت تک اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

سنگاپورکی مقامی آبادی چینی شہریوں کی منتقلی سے صرف سولہ فیصد رہ گئی ہے۔ ایتھوپیا میں چینی سرمایہ کاری سے وہاں کی مقامی فیکٹریاں بند ہوگئی ہیں۔ اسی طرح سے چینی سرمایہ دار جنوبی امریکا، مشرق وسطیٰ اور مغربی افریقا میں سرمایہ کاری کی وجہ سے وہاں بیروزگاری کم ہونے کے بجائے بڑھ گئی ہے۔ اس وقت دنیا میں پلاسٹک اورکوئلے کی آلودگی سب سے زیادہ چین میں ہے۔

پاکستان میں گوادر پورٹ تو بن گیا لیکن وہاں، اسپتال، تعلیمی ادارے، میٹرنٹی ہوم اور پینے کا صاف پانی تک عوام کو میسر نہیں۔ کراچی اورگوادر میں چین نے لیبرکالونیاں بنائی ہیں مگر اس میں پاکستانی نہیں بلکہ چینی مزدور رہتے ہیں۔ اگر چینی محنت کشوں کے حالات زندگی بہتر ہوتے تو ابھی حال ہی میں انتالیس چینی محنت کشوں کی لاشیں برطانیہ کی بندرگاہ پر کنٹینر سے برآمد نہ ہوتیں جوکہ بلغاریہ سے برطانیہ آرہے تھے۔ اس وقت کنٹینر کا درجہ حرارت منفی بیس سینٹی گریڈ تھا۔

اس وقت سات سمندر میں امریکا کے اگر اڑسٹھ جنگی بحری بیڑے موجود ہیں تو چین کے بھی بارہ بحری بیڑے موجود ہے۔ سرمایہ کاری کسی بھی ملک کا کوئی بھی سرمایہ دارکرتا ہے خواہ وہ امریکا کا ہو یا چین کا اس کا ہدف عوام کی خوشحالی نہیں بلکہ اپنا منافع ہوتا ہے۔ اس لیے کہ سرمایہ داری کا بنیادی اصول منافع میں اضافہ کرنا ہے۔ محنت کشوں کے خون پسینہ سے بنی ہوئی اشیا کو بیچ کر کروڑ پتی سے ارب پتی اور ارب پتی سے کھرب پتی بن جاتے ہیں۔

اس وقت امریکی بونڈز کا سب سے بڑا خریدار چین ہے اور چین کی بڑی مارکیٹیں امریکا اور جاپان ہیں ، جب کہ ماؤزے تنگ کے دور میں کوئی بے روزگار تھا ، بے گھر تھا ، لاعلاج تھا، فاقہ کش تھا، گداگر تھا، منشیات نوش تھا اور نہ بدعنوان۔ مگر آج چین میں وہ ساری سرمایہ دارانہ نظام کی خرابیاں موجود ہیں جو عالمی سرمایہ داری میں پائی جاتی ہیں۔ جہاں تک ترقی کی بات ہے تو سرمایہ داری کے نکتہ نگاہ سے ترقی بڑے پل، بڑی گاڑی، لمبی سڑکیں، بڑی عمارتیں وغیرہ کی ترقی ہے جب کہ ماؤزے تنگ کے دور میں سڑکوں پہ کاریں نہیں، سائیکلیں اور بسیں چلتی تھیں۔

بیروزگاری، مہنگائی اور دیگر مطالبات پر مبنی گزشتہ دس برسوں میں چین میں مزدوروں اور کسانوں نے پچاسی ہزار مظاہرے کیے جن میں بہت سے مطالبات منوائے بھی ہیں۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی، کمیونسٹ ہے اور نہ پارٹی۔ حسین خان نام رکھنے سے کوئی حسین نہیں بنتا۔ جنوبی امریکا کا ایک ملک کوسٹاریکا ہے جہاں 1949ء سے اب تک فوج نہیں ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کا استعمال ممنوع ہے، ہوا اور شمسی توانائی سے کاروبار زندگی رواں دواں ہے۔ تعلیم کا بجٹ 6.2 فیصد ہے اور خواندگی 97 فیصد ہے۔ اس کے پاس ایٹم بم ہے اور نہ آئی ایم ایف کا قرضہ۔ اپنے آپ کو کمیونسٹ کہتا ہے اور نہ سوشلسٹ۔ یہاں عوام آزاد ہیں اور بیروزگار نہیں ہیں۔

یہ سماج آج کی چینی سرمایہ دار ملک کے سماج سے کہیں بہتر ہے۔ ایک اور جنوبی امریکا کا ملک بولیویا ہے، جس نے غذائی خود کفالت کا اعلان کر دیا ہے، ماحولیات قابل مثال ہے، ملک جنگلات سے بھرا پڑا ہے، مہلک بیماریاں ختم ہو چکی ہیں اور یہاں سوشلسٹ پارٹی کی حکومت ہے۔ چینی سرمایہ داری کے لیے ایک ہی مثال کافی ہے۔ دنیا میں چار بڑے تانبے کی کانوں میں ایک افغانستان میں ہے جسے چینی سرمایہ دار نے ٹھیکے پہ لیا ہے۔

یہاں ابھی کام شروع نہیں ہوا ہے اس کی حفاظت کے لیے چینی سرمایہ دار شمالی اتحاد کو اربوں روپے کا بھتہ دیتے ہیں ۔ سرمایہ دار کہیں کا بھی ہو وہ سستا مزدور اور کم لاگت میں اشیا کی پیداوار چاہتا ہے۔ جیساکہ پاکستانی سرمایہ دار سستی مزدوری پر پیداوار حاصل کرنے کے لیے ٹیکسٹائل کے سرمایہ دار بنگلہ دیش منتقل ہوئے اور امریکی سرمایہ دار بشمول بل گیٹس چین میں سستی مزدوری کے عوض پیداوار کے لیے چین میں سرمایہ کاری کی بھرمارکردی ہے۔

یہ ہے سرمایہ داری کے اصول۔ 1793ء میں انارکسٹ میخائل الیگزینڈر باکونن نے سوئٹزرلینڈ کے گھڑی ساز مزدوروں سے مخاطب ہوکر کہا تھا ’’بغ ژاوازی (سرمایہ دار) سرمایہ کاری عوام کی خوشحالی کے لیے نہیں کرتا بلکہ مزدوروں کا خون نچوڑ کر اپنے منافع میں اضافہ اور سرمایہ داری کی حیات کو طول دینے کی خاطر کرتا ہے‘‘ اس کا ثبوت آج دنیا میں برملا مل رہا ہے۔ جیساکہ دنیا کی کل دولت کی آدھی دولت کے مالک صرف بارہ افراد ہیں جب کہ روزانہ صرف بھوک سے 75 ہزار انسان اس دنیا میں مر جاتے ہیں۔

اگر پینٹاگون صرف ایک سال اسلحے کی پیداوار نہ کرے تو پانچ سال تک دنیا سے بھوک کا خاتمہ ہو سکتا ہے، مگر سرمایہ دار کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ لوگ بھوک سے ہی کیوں نہ مریں، اسے تو منافع چاہیے۔ اس وقت دنیا میں سامراج کے دو مراکز ہیں۔ ایک امریکا اور دوسرا چین۔ دونوں ہی عوام کا معاشی استحصال کر رہے ہیں اور دونوں قتل و غارت گری بھی کر رہے ہیں۔

مثال کے طور پر چین، سوڈان کے فوجی آمر کی، کاشغر میں اوگرا لوگوں کی، اور ہانگ کانگ کے عوام کی جب کہ امریکا افغانستان میں، عراق میں، یمن میں، کولمبیا ، وینزویلا، ایران اور شمالی کوریا میں براہ راست اور بالواسطہ قتل اور مداخلت کر رہا ہے۔ مگر عوام ہر جگہ بڑی جرأت مندی سے لڑ رہے ہیں۔ لبنان، عراق، چلی اور فرانس کی موجودہ عوامی جدوجہد قابل رشک اور قابل مثال ہے۔ ہرچندکہ مسائل کا مکمل حل ایک غیر طبقاتی اور امداد باہمی کے سماج میں ہی ممکن ہے جہاں ریاستی سرحدیں ختم ہو کر دنیا ایک ہوجائے گی۔ سب مل کر پیداوار کریں گے اور مل کر کھائیں گے۔

The post چین سرمایہ داری کے عروج پر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2WwjK12

جدید ترقی کے ہولناک نتائج

راقم نے اپنے کالم ’’ ترقی اور نظریات کا تعلق‘‘ میں اس بات کی طرف توجہ دلائی تھی کہ مغرب نے کس قسم کے غیر مذہبی نظریات کی بدولت ترقی کا موجودہ مقام پایا ہے اور اس سے قبل دنیا کی تمام تہذیبیں (بشمول اسلام) یہ ترقی اور مقام کیوں نہ حاصل کرسکیں ۔

ایک قاری نے ہم سے سوال کیا کہ جب مذہب کو چھوڑ کر مغرب نے ترقی کی تو مذہب کو خیر باد کہنا یا دوسرا درجہ دینا بھی درست ہوگا،کیونکہ ترقی سے تو دنیا کو بہت ہی زیادہ فائدہ پہنچا ہے، اس سوال کے جواب میں آج کے کالم میں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ مغرب نے جو ترقی اور مقام حاصل کر لیا ہے آج کے انسان کو اس کی کیا قیمت ادا کرنی پڑرہی ہے۔

جدید ترقی کی سب سے بڑی قیمت اس کائنات کے ماحول کی تباہی کی صورت میں نظر آتی ہے۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ کے ادارے آئی پی سی سی نے ’’کلائمنٹ چینج 2014ء، کے نام سے 32 جلدوں پر مشتمل رپورٹ میں بتایا کہ جدید صنعتی وسائنسی ترقی سے پیدا ہونے والی حرارت پر قابو نہ پایا گیا تو دنیا کا کوئی شخص موسم کی تباہ کاریوں سے محفوظ نہیں رہ سکے گا، خوراک کی قیمتیں بڑھیں گی، فاقہ کشی بڑھے گی، فصلیں کم ہوں گی، مکئی، چاول اورگندم کی فصل بڑے پیمانے پر متاثر ہوں گی، سیلاب اور سمندری طوفان آئیں گے۔

ساحلی شہرتباہ ہونگے وغیرہ وغیرہ۔ رپورٹ کے مطابق آلودگی سے ہر سال ستر ہزار لوگ ہلاک ہورہے ہیں۔ یہ رپورٹ دنیا کے مختلف ممالک کے پانچ سو محققین نے تیارکی تھی جن کی یہ پیش گوئی آج بھی درست ثابت ہو رہی ہے۔

واضح رہے کہ 80ء کی دہائی میں سائنس دان یہ بات معلوم کر چکے تھے فریج، ایئرکنڈیشنڈ اور صنعتوں وغیرہ کے چلنے سے کاربن اورگرین گیسز خارج ہوتی ہے جس سے ’ اوزون‘ کی سطح کو نقصان پہنچ رہا ہے اور زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ اس درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے دنیا بھر میں انسانی جانوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ یورپ میں 2003ء میں درجہ حرارت بڑھا تو 70 ہزار لوگ ہلاک ہوئے، روس میں 2010ء میں گرمی سے 50 ہزار لوگ ہلاک ہوگئے۔

تاحال گرمی کی شدت میں دن بہ دن اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے اور ہلاکتیں بھی ہو رہی ہیں۔ امریکی نائب صدر الگور نے اپنی کتاب An Inconvention Truth میں لکھا ہے کہ امریکا میں سن 2000ء کے انتخابات میں’ گلوبل وارمنگ‘ کا مسئلہ انتخابی مہم کا نمایاں ترین مسئلہ بن گیا تھا، بش نے بھی اس مسئلے کو اہمیت دی تھی مگر فتح حاصل کرنے کے بعد صدر بش نے یو ٹرن لے لیا اورکہا کہ یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں، جب لوگوں نے ماحولیاتی آلودگی پر شور مچایا تو صدر بش نے کہا کہ یہ معیشت کے لیے بہتر ہے اور یہ کہ سائنس کا علم غیر قطعی ہے لہذا اس کے پیش کردہ حقائق پر یقین نہیں کیا جاسکتا۔

اس نے مزید لکھا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والوں میں امریکا کا 30 فیصد سے زائد حصہ ہے جب کہ یورپ کا 27، روس کا 13 فیصد سے زائد حصہ ہے۔گویا ماحولیاتی آلودگی پھیلانے میں ان سائنسی ایجادات کا استعمال ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی مزید ترقی اور معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے جو مشینری دن رات چل رہی ہے یعنی فریج ، اے سی ، گاڑیاں اور صنعتیں وغیرہ وہ ماحول کو آلودہ اورگرم کر رہی ہیں اور ترقی کا یہ کام جن ممالک میں زیادہ ہو رہا ہے وہیں سے آلودگی بھی زیادہ بڑھ رہی ہے ، یہی وجہ ہے کہ آلودگی پھیلانے والے ممالک میں امریکا، یورپ، روس اور چین جیسے ممالک آج سرفہرست ہیں۔

ایک حالیہ خبرکے مطابق 1999ء کے بعد سے دنیا میں سبزہ ، ہریالی کی مقدار 59 فیصدکم ہوئی ہے، ورلڈ ریسورس انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق 17 ملکوں میں پانی کا بدترین قحط ہے جس میں بھارت بھی شامل ہے۔ دنیا کا 98 فیصد علاقہ آلودہ ہوچکا ہے، صاف ہوا اور پانی بھی میسر نہیں۔

جدید ترقی کے لیے جوکچھ کیا جاتا ہے، اس سے قدرتی حیاتیات اور ماحول کو بھی نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ عالمی بینک کے ایک سابق صدر ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ تیسری عالمی جنگ پانی کے مسئلے پر ہوگی کیونکہ پانی جنگلات کے باعث میسر ہے اور جدید ترقی کے لیے جنگلات کاٹ کر تیزی سے ختم کیے جا رہے ہیں۔ ایمیزون کے جنگلات ختم کرنے سے بارشیں دس فیصد کم ہوچکی ہیں۔

ایروین اپنی کتاب ’’ ٹرن نیچر ان ٹو ڈالر‘‘ میں لکھتا ہے کہ فطرت کو تباہ کرنا مارکیٹ پر مبنی معیشت ہے، یعنی مارکیٹ چیزوں کو پیسے کی بنیاد پر قابل قدر بناتی ہے مثلاً درخت کی کوئی قدر نہیں مگر اس کوکاٹ کر فرنیچر بنا کر معیشت کو مضبوط کیا جاتا ہے، یہی آج ہر جگہ ہو رہا ہے ہرکوئی ترقی کے لیے فطرت کو برائے فروخت بناکر ماحول اور کائنات کو تبا ہ کر رہا ہے۔ ایک مغربی مصنف اس قسم کی کھپت یا عمل کو پاگل پن قراردیتا ہے کیونکہ یہ زندگی کو پرآسائش تو بنا دیتی ہے مگر ہماری دنیا کو جہنم کی جانب دھکیل دیتی ہے۔

آج جدید دنیا میں آنے والا ایک بچہ بھی اس جہنم کا سامنا کرتا ہے۔ مثلاً آج بچے کو پلاسٹک کے بنے ہوئے فیڈر میں گرم دودھ فراہم کیا جاتا ہے ، جب کہ تحقیق یہ کہتی ہے کہ پلاسٹک کو سخت کرنے کے لیے ’’بی پی اے‘‘ نامی کیمیکل استعمال کیاجاتا ہے جوکینسر اور ہارٹ اٹیک کی بیماریاں پیدا کرتا ہے۔

آج سفر میں بھی اور گھروں میں بھی پلاسٹک کی بنی ہوئی اشیاء بکثرت استعمال ہو رہی ہیں۔ آئی ٹی ٹیکنالوجی کو آج ہم خدا سمجھ بیٹھے ہیں۔ پوپ فرانسس نے کچھ برس قبل انٹر نیٹ کو خدائی تحفہ قرار دیا تھا مگر سروے بتاتا ہے کہ 97 فیصد طلبہ فحش مواد کے لیے استعمال کرتے ہیں، برطانیہ میں ایک سال میں 90کروڑ سے زائدکا ریونیو فحش سائٹس سے حاصل کیا جا تا ہے، انٹر نیٹ کے بڑے بڑے سرور اور ڈیٹا سینٹر جو توانائی استعمال کرتے ہیں، اس سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔

ایک برطانوی جریدہ کے مطابق گوگل پر صرف دو لفظ تلاش کرنے سے اس قدرکاربن ڈائی آکسائڈ خارج ہوتی ہے جس قدر ایک کیتلی چائے تیارکرنے میں ہوتی ہے، ایک گھنٹہ لیب ٹاپ استعمال کرنے سے بارہ گرام کاربن پیدا ہوتی ہے، ایک ای میل کریں تو پچاس گرام کاربن پیدا ہوتی ہے۔ اس صدی کا ایک بڑا فلسفی اسٹیفن ہاکنگ پیش گوئی کرتا ہے کہ یہ دنیا زیادہ سے زیادہ ایک ہزار برس رہے گی پھر فنا ہوجائے گی اوراس کا سبب سائنس اوراس کی ترقی ہے، لہذا زندگی کے لیے کوئی دوسرا سیارہ تلاش کریں۔

فرانسیسی مفکر ژی ژیک کہتا ہے کہ جدیدیت ہمیشہ دوسرے سوال کا جواب تلاش کرتی ہے ، پہلے سوال کا نہیں، اس ساری بحث کے بعد دوسرا سوال تو یہ ہے کہ ہم اپنی کائنات کوکیسے محفوظ بنائیں مگر پہلا سوال تو یہ ہے کہ کائنات اس مقام پرکیوں پہنچی اور کس نے یہاں تک پہنچایا؟ بس پہلے سوال کا جواب ہے ان نظریات نے جن کی بدولت یہ ترقی معرض وجود میں آئی۔

The post جدید ترقی کے ہولناک نتائج appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2JF0Fo7

عید میلادالنبی ؐ کا اصل پیغام: متّحد و منظّم اُمّت

ہم پر ماہِ مبارک ربیع الاول جلوہ فگن ہوچکا ہے۔

یہی وہ عالی شان ماہ مبارک ہے جس میں محسن کائنات و راہ بر انسانیت حضرت رسول کریم ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی تھی۔ وہ نبی کریم ﷺ جو سارے جہاں کے لیے رحمت و برکت و نوید بہار بن کر تشریف فرما ہوئے اور انہوں نے گم راہ انسانیت کو صراط مستقیم پر گام زن فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ تم سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہو، خبردار! کسی بھی تفرقے میں مت پڑنا اور اﷲ تعالی کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہنا کہ اسی میں تمہاری بقا اور سلامتی ہے۔ بدقسمتی سے اب ہم نام کے مسلمان رہ گئے ہیں، بل کہ نام کے بھی کہاں! ہم نے تو اپنے مسلک اور مکتب ہی کو اپنی پہچان بنا لیا ہے۔

اس پر دل غم سے بوجھل ہے۔ آج امّت مسلمہ مشکل حالات سے گزر رہی ہے۔ بدنصیبی کہ ہمیں اس نقصان کا احساس بھی نہیں ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہم دنیا بھر میں بہ حیثیت قوم و امّت اپنی وقعت کھو چکے ہیں اور کسی جگہ بھی ہماری کوئی شنوائی اور پرسان حال نہیں ہے۔ کشمیر سمیت دنیا بھر میں مظلوم مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کردیا گیا ہے۔

ہمارے مسلم ممالک بھی آپس میں خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ مسلمان یا مومن تو وہ ہوتے ہیں، جو آپس میں نرم ہوں۔ اتحاد، ایمان اور تنظیم ان کا طرۂ امتیاز ہوتا ہے۔ ہم اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے گلے کاٹ رہے ہیں اور اﷲ اور اس کے آخری نبیؐ کے پیغام کو بھول گئے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم نے بہ طور مومن و مسلم اپنی پہچان ختم کر لی ہے اور فرقوں کو اپنی پہچان بنا لیا ہے۔ افسوس کہ مسلم امہ اب متحد نہیں رہی۔

اﷲ کے فرمان عظیم کا مفہوم ہے : ’’ اور جو شخص اﷲ اور اس کے رسولؐ اور ایمان والوں کو دوست بنائے گا تو اﷲ کی جماعت ہی غالب ہونے والی ہے۔‘‘ ہماری رسوائی کا اصل سبب یہ ہے کہ ہم نے اسوۂ رسول ﷺ سے منہ موڑ لیا ہے۔ اس بے قیمتی اور بے وقعتی کو دُور کرنے کے لیے ہمیں آپؐ کے اسوۂ مبارکہ کو اپنے لیے مشعل راہ بنانا ہوگا۔ اﷲ تعالی کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ رسول اکرم ﷺ کی زندگی میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ بے شک رسول اﷲ ﷺ کی پیروی بہتر ہے، اس کے لیے جو اﷲ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور اﷲ کو بہت یاد کرے۔

آج امّت میں انتشار کی بڑی وجہ صرف اپنے ہی مسلک کے حق ہونے پر شدید اصرار ہے۔ ہم اپنے بھائیوں کی تذلیل کرتے اور اس بات کو بھول گئے ہیں کہ اسلام تو غیروں کی دل آزاری کی اجازت بھی نہیں دیتا۔ ہم اﷲ تعالی کے اس فرمان کو بھول گئے، مفہوم: ’’اے ایمان والو! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے گا تو عن قریب اﷲ (ان کی جگہ) ایسی قوم کو لائے گا جن سے وہ (خود) محبّت فرماتا ہوگا اور وہ اس سے محبّت کرتے ہوں گے، وہ مومنوں پر نرم (اور) کافروں پر سخت ہوں گے۔‘‘ربیع الاول کے اس مبارک ماہ میں آپؐ کے پیغام رسالت کو سمجھنا اور سیرت طیبہ کو اپنی عملی زندگی میں اپنانا ہی میلادالنبی اور آپؐ سے اصل محبت ہے۔

آج ہمارے مسائل کا حل اور سب سے بڑی سچائی اور حالات کا تقاضا یہی ہے کہ ہم پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جائیں اور رسول رحمتؐ کی تعلیمات پر عمل کریں اور ان کو عوام تک پہنچائیں۔ آپؐ سے حقیقی محبت کا تقاضا ہے کہ آپ ﷺ کی سیرت طیّبہ کو زندگی کا راہ بر بنایا اور سیرت کو اپنایا جائے۔ ہمیں اﷲ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط بنانا چاہیے اور پوری زندگی کو سیرت اور اسوۂ حسنہ ﷺ کی روشنی میں گزارنے کا عہد اور جذبہ پیدا کرنا چاہیے۔

آج امت کے ہر فرد کو شدید ضرورت ہے کہ وہ سیرت رسول ﷺ کا مطالعہ اس نقطۂ نظر سے کرے کہ موجودہ حالات میں نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی حیات طیبہ ہمارے لیے کیا درس فراہم کرتی ہے۔ اﷲ کا ارشاد کا مفہوم ہے کہ اگر تم مومن ہو تو کام یاب ہو جاؤگے۔ ہمیں اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لینا چاہیے اور تفرقے میں نہیں پڑنا چاہیے۔ یہ تفرقہ بازی ہی ہماری ناکامی اور زوال کا سبب ہے۔اگر ہم نے اسوۂ رسالت مآب ﷺ پر عمل کیا تو قرآن حکیم ہمیں خوش خبری سناتا ہے: ’’دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔‘‘

The post عید میلادالنبی ؐ کا اصل پیغام: متّحد و منظّم اُمّت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2oEP6Go

حُبّ رسول کریم ﷺ

ہر مسلمان کو اپنے دل و دماغ میں یہ بات راسخ کرلینی چاہیے کہ نبی اکرمؐ کی ذاتِ اقدس اصلِ دین ہے۔ آپؐ کی محبّت شرطِ ایمان ہے۔ جس دل میں آپؐ کی محبت نہیں، وہ ویران ہے۔ مطالع المسرات میں ہے کہ حضورؐ کی محبت، رب العزت کی محبت کے لیے شرط اول ہے۔

ہر ذی شعور انسان پر یہ بات عیاں ہے کہ جب تک مسلمانوں کے دلوں میں محبت رسولؐ کا غلبہ رہا، تب تک عزت و تمکنت اور فتح و عروج ان کا مقدر رہی اور سرکش اقوام ان کے زیر نگیں رہیں۔ لیکن جب یہ تعلق اور رشتہ کم زور ہوا تو مسلمانوں کا عروج، زوال میں تبدیل ہوگیا۔ حتیٰ کہ آج مسلمانوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے، جس نے میری محبت کا دعویٰ کیا اسے چاہیے کہ وہ آپؐ کی اتباع کرے۔ رسول اکرمؐ کے جاںنثاروں کا عمل یہی رہا ہے۔ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوگا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والدین، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔‘‘ (البخاری)

ایک بار رسول اکرمؐ کی خدمت میں کسی صحابیؓ نے عرض کیا: ’’یارسول اﷲ ﷺ! میں سچا مومن کب بنوں گا؟‘‘

حضورِ اکرمؐ نے فرمایا: ’’تُو جب اﷲ تعالیٰ سے محبت کرے گا۔‘‘اُس نے عرض کیا: ’’میرے آقاؐ! میری محبت اﷲ تعالیٰ سے کب ہوگی۔؟‘‘آپؐ نے فرمایا: ’’جب تُو اس کے رسولؐ سے محبت کرے گا۔‘‘صحابی نے عرض کیا: ’’اﷲ تعالیٰ کے رسولؐ سے میری محبت کب ہوگی۔؟‘‘رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تُو ان کے طریقے پر چلے گا، اور ان کی سُنّت کی پیروی کرے گا، اور ان سے محبّت کرنے والوں کے ساتھ مُحبّت کرے گا اور ان سے بغض رکھنے والوں کے ساتھ بغض رکھے گا۔

اور کسی سے مُحبّت کرے تو ان کی وجہ سے کرے، اور اگر کسی سے عداوت رکھے تو ان کی وجہ سے رکھے۔‘‘ پھر آپؐ نے فرمایا: ’’لوگوں کا ایمان ایک جیسا نہیں، بل کہ جس کے دل میں میری محبّت جتنی زیادہ ہوگی، اتنا ہی اس کا ایمان قوی ہوگا۔ اس طرح لوگوں کا کفر بھی ایک جیسا نہیں، بل کہ جس کے دل میں میرے متعلق غضب جتنا زیادہ ہوگا اس کا کفر بھی اتنا ہی بڑا ہوگا۔‘‘ اس کے بعد تین مرتبہ یہ فرمایا: خبردار! جس کے دل میں میری محبّت نہیں اس کا ایمان ہی نہیں۔‘‘ (دلائل الخیرات)

رسول اکرمؐ سے محبّت کرنے والا جو ثمرات حاصل کرتا ہے وہ تو کثیر ہیں، لیکن ہم یہاں صرف چند ایک بیان کرتے ہیں۔ نبی کریمؐ سے محبت کرنے والے کو ایک ثمر یہ ملتا ہے کہ وہ ایمان کی حلاوت پالیتا ہے۔ جیسا کہ حضرت انس بن مالکؓ سے رسول اکرمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص میں یہ تین چیزیں ہوں گی، وہی ایمان کی حلاوت پائے گا۔‘‘ اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ اسے ہر شے سے بڑھ کر محبوب ہوں۔ اگر کسی سے محبت کرے تو اﷲ کے لیے۔ اسے کفر کی جانب نجات کے بعد لوٹنا اس قدر ناپسند ہو، جس طرح آگ میں جانا۔ (صحیح مسلم)

نبی کریمؐ سے محبت کرنے والے کو آخرت میں آپؐ کی رفاقت نصیب ہوگی۔ جیسا کہ احادیث مبارکہ میں تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ رسول کریمؐ نے فرمایا: ’’تم قیامت کے دن اس کے ساتھ ہو گے جس کے ساتھ تم محبّت کرتے ہو۔‘‘ رسول کریمؐ کا فرمان ہے: ’’جس شخص نے میری سُنّت کو زندہ کیا، اس نے مجھ سے مُحبّت کی اور جس شخص نے مجھ سے مُحبّت کی، وہ میرے ساتھ جنّت میں ہوگا۔‘‘

ہر عقل مند مسلمان کو یہ بات سب سے زیادہ محبوب ہے کہ اسے اخروی کوئی پریشانی لاحق نہ ہو، جیسے محشر کی گرمی، اﷲ تعالیٰ کی ناراضی، جہنّم کی دہکتی آگ وغیرہ تو رسول اﷲ ﷺ سے مُحبّت کرنے والے کو ان تمام پریشانیوں سے نجات مل جاتی ہے۔

The post حُبّ رسول کریم ﷺ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/324GvKT

اسلام اور احتساب

اسلام دین فطرت اور ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ یہ اپنے ماننے والوں کو زندگی کے تمام پہلوؤں اور جہتوں کے بارے میں مکمل راہ نمائی فراہم کرتا ہے۔

اسلام کا بنیادی مقصد معاشرے میں عدل و انصاف کا قیام اور ناانصافی و قانون شکنی کا مکمل خاتمہ ہے۔ اسلامی حکومت کی عمارت اخوّت اور مساوات کی بنیادوں پر اُٹھائی گئی، اس کی قوت کا انحصار دل کی محبت اور روح کی اطاعت پر تھا۔

حکومت کا آئین و قانون دین کا جز تصور کیے جاتے تھے اور دین چوں کہ صحابہ کرامؓ کے رگ و پے میں سمایا ہوا تھا، اس لیے یہ ایک نہایت کام یاب اور مثالی حکومت ثابت ہوئی اور یہ مثالی حکومت کیوں نہ ہوتی کہ حضور اکرم ﷺ حکومت کے کارندوں اور حکام کا تقرر خود فرماتے تھے۔ ان کا تقرر ان لوگوں میں سے فرماتے جن کا تقدس، زہد اور پاکیزگی مسلّم ہوتی اس کے علاوہ وہ عالم اور واعظ بھی ہوتے۔ تقرر سے پہلے آپؐ ان کا علمی اور طرز عمل کا امتحان بھی لیتے تھے۔ جب حضرت معاذؓ کا تقرر فرمایا تو اس سے پہلے ان کی اجتہادی قابلیت کے متعلق اطمینان فرما لیا۔

ترمذی میں ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے جب معاذ بن جبلؓ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا: کس چیز سے مقدمات کا فیصلہ کرو گے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن مجید سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر اس میں وہ فیصلہ تم کو نہ ملے۔ انہوں نے کہا احادیث سے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اگر احادیث میں بھی وہ مسئلہ نہ ملے تو۔ انہوں نے کہا اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا۔ آپ ﷺ نے اس پر اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا فرمایا۔ عامل کا تقرر اس کی اہلیت کی بنیا د پر کیا جاتا تھا۔

رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا! جو کوئی مسلمانوں کا حاکم مقرر ہو اور ان پر کسی کو بلا استحقاق رعایت کے طور پر افسر بنادے تو اس پر اﷲ کی لعنت، اﷲتعالیٰ اس کا کوئی عذر اور فدیہ قبول نہیں کرے گا، یہاں تک کہ اس کو جہنم میں داخل کرے گا۔ عامل (حاکم) کو عام مسلمان کے مقابلے میں کوئی امتیاز حاصل نہیں تھا، سوائے اس کے کہ اس کی ذمے داریاں زیادہ تھیں۔ قانون کی نظر میں حکم ران اور عام شہریوں میں کوئی فرق نہ تھا۔ حاکم کو عوام کی بہتری اور آسانیاں پیدا کرنے کے لیے مقرر کیا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت معاذؓ کو یمن کی طرف روانہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا، دشواری پیدا نہ کرنا اور ان کو بشارت دینا، ان کو وحشت زدہ نہ کرنا، آپس میں اتفاق رکھنا اور اختلافات نہ کرنا۔

آپ ﷺ حکم رانوں پر کڑی نظر رکھتے تھے۔ حتیٰ کہ جب کوئی عامل (حاکم) اپنے دورے سے واپس آتا تو رسول اﷲ ﷺ بہ ذات خود اس کا محاسبہ فرماتے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ نے ایک صحابی کو وصولی کے لیے بھیجا، جب وہ واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ نے اس کا محاسبہ خود فرمایا۔ صحابی نے عرض کیا کہ یہ آپ ﷺ کا مال ہے اور یہ مجھے ہدیہ ملا ہے۔

یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا: تم کو گھر بیٹھے بیٹھے یہ ہدیہ کیوں نہ ملا ؟ چناں چہ ان سے وہ ہدیہ لے کر بیت المال میں جمع کردیا گیا۔ اس پر بھی تسکین نہ ہوئی۔ آپ ﷺ نے ایک عام خطبہ دیا اور تمام لوگوں کو اس قسم کا مال لینے سے سختی سے منع فرمایا۔ عمال (حکم رانوں ) پر کڑی پابندی اور محاسبے کا عمل خلفائے راشدینؓ کے زمانے میں بھی جاری رہا۔

حضرت عمرفاروقؓ نے ہر ایک عامل (حاکم ) کے لیے چند شرائط مقرر کر رکھی تھیں۔ مثلاً عامل ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہوگا، باریک کپڑا نہیں پہنے گا، چھنا ہوا آٹا نہیں کھائے گا، دروازے پر دربان نہیں رکھے گا، ہر حاجت مند کے لیے دروازے ہمیشہ کھلے رکھے گا۔ حتیٰ کہ عامل (حاکم ) کے تقرر کے وقت اس کے مال و اسباب ( اثاثہ جات ) کی فہرست تیار کرکے اپنے پاس محفوظ رکھتے، جب کسی عامل کی مالی حالت میں غیر معمولی اضافہ ہوتا، تو فوراً جائزہ لے کر آدھا مال تقسیم کرکے بیت المال میں جمع کرلیتے۔

تاریخ کی کتب میں یہ واقعہ تحریر ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے عمال کو حکم دیا کہ وہ اپنے اثاثے کی ایک فہرست بنا کر ان کو بھیج دیں۔ انہی عمال میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بھی تھے۔ جب انہوں نے اپنے اثاثوں کی فہرست بنا کر بھیجی تو حضرت عمرؓ نے ان کے مال میں غیر معمولی اضافہ دیکھ کر ان کے مال کے دو حصے کرکے ایک حصہ ان کے لیے چھوڑ دیا اور ایک حصہ بیت المال کے لیے لے لیا۔ (تاریخ الخلفاء )

اگر عامل کے خلاف کوئی عام آدمی بھی شکایت کرتا تو اس کا فورا ًازالہ کیا جاتا۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے حضرت عمرؓ سے شکایت کی کہ آپ کے فلاں عامل نے مجھے بے قصور کوڑے مارے ہیں۔ آپؓ نے تحقیق کرائی جب الزام ثابت ہوا تو حکم دیا کہ مجمع عام میں اس عامل کو کوڑے مارے جائیں۔

حضرت عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہ کی ایک عادت کریمہ یہ بھی تھی کہ عمال کے انتخاب اور تقرری میں اپنے قبیلے کے کسی شخص کو کوئی عہدہ نہیں دیتے تھے۔ اسی طرح ہر عامل کے تقرر کے وقت اسے ایک خط دیا جاتا، جس میں اس کے اختیارات کی تفصیل ہوتی تھی۔ جہاں وہ مقرر ہوکر جاتا تھا، وہاں یہ خط مجمع عام میں پڑھ کر سنایا جاتا، تاکہ کوئی عامل اپنی حدود سے تجاویز نہ کرے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا دور خلافت ایک مثالی دور ہے۔ موجودہ حکم ران بھی حضرت عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہ کے ان سنہری اُصولوں پر عمل کرکے پاکستان کوایک مثالی اور پُرامن ملک بناسکتے ہیں۔

The post اسلام اور احتساب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/325aphK

کینٹ اسٹیشن پر نصب لیگج اسکیننگ مشین خراب

کراچی: ریلوے حکام نے ٹرینوں کے بڑے حادثات سے بھی سبق حاصل نہ کیا۔

ریلوے افسران کی سنگین غفلت سامنے آگئی کراچی کے مصروف ترین کینٹ اسٹیشن پر نصب لگیج اسکیننگ مشین کئی ماہ سے خراب پڑی ہے جس کی وجہ سے مسافروں کا سامان بغیر چیکنگ کے ٹرینوں میں سوار کیا جانے لگا ہے، کینٹ اسٹیشن سے روانہ ہونے والی ایک درجن سے زائد ٹرینوں میں روزانہ ہزاروں مسافروں سفر کرتے ہیں۔

ریلوے ذرائع کے مطابق مسافروں کا سامان لگیج اسکیننگ مشین خراب ہونے کے باعث چیک نہیں کیا جاتا، لگیج مشین کی خرابی کسی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے کئی ماہ گزرنے کے باوجود لگیج اسکیننگ مشین کی مرمت نہیں کرائی جاسکی ہے، ریلوے پولیس کے پاس فنڈز کی کمی کے باعث مشین کی مرمت کی جانب دھیان نہیں دیا گیا، ریلوے عملے کے پاس موجود میٹل ڈٹیکٹرز بھی خستہ حالی کا شکار ہیں۔

ڈی سی او کراچی ریلوے جنید اسلم نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ کینٹ اسٹیشن آنے والے مسافروں کا سامان عام اسکینر سے گزار کر چیک کیا جاتا ہے لگیج اسکیننگ مشین کی خرابی کے بارے میں علم نہیں ہے انھوں نے کہا کہ میں فی الحال ایک اہم میٹنگ میں ہوں زیادہ تفصیلات نہیں بیان نہیں کر سکتا۔

The post کینٹ اسٹیشن پر نصب لیگج اسکیننگ مشین خراب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/321pscA

کینٹ اسٹیشن پر نصب لیگج اسکیننگ مشین خراب

کراچی: ریلوے حکام نے ٹرینوں کے بڑے حادثات سے بھی سبق حاصل نہ کیا۔

ریلوے افسران کی سنگین غفلت سامنے آگئی کراچی کے مصروف ترین کینٹ اسٹیشن پر نصب لگیج اسکیننگ مشین کئی ماہ سے خراب پڑی ہے جس کی وجہ سے مسافروں کا سامان بغیر چیکنگ کے ٹرینوں میں سوار کیا جانے لگا ہے، کینٹ اسٹیشن سے روانہ ہونے والی ایک درجن سے زائد ٹرینوں میں روزانہ ہزاروں مسافروں سفر کرتے ہیں۔

ریلوے ذرائع کے مطابق مسافروں کا سامان لگیج اسکیننگ مشین خراب ہونے کے باعث چیک نہیں کیا جاتا، لگیج مشین کی خرابی کسی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے کئی ماہ گزرنے کے باوجود لگیج اسکیننگ مشین کی مرمت نہیں کرائی جاسکی ہے، ریلوے پولیس کے پاس فنڈز کی کمی کے باعث مشین کی مرمت کی جانب دھیان نہیں دیا گیا، ریلوے عملے کے پاس موجود میٹل ڈٹیکٹرز بھی خستہ حالی کا شکار ہیں۔

ڈی سی او کراچی ریلوے جنید اسلم نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ کینٹ اسٹیشن آنے والے مسافروں کا سامان عام اسکینر سے گزار کر چیک کیا جاتا ہے لگیج اسکیننگ مشین کی خرابی کے بارے میں علم نہیں ہے انھوں نے کہا کہ میں فی الحال ایک اہم میٹنگ میں ہوں زیادہ تفصیلات نہیں بیان نہیں کر سکتا۔

The post کینٹ اسٹیشن پر نصب لیگج اسکیننگ مشین خراب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/321pscA

پولیس وائرس کے کیسز میں 5 سال بعد ایک بار پھر اضافہ

کراچی: صوبہ سندھ سمیت ملک بھر میں پولیو وائرس کے کیسز میں 5 سال بعد ایک بار پھر اضافہ ہونے لگا۔

ملک بھر میں پولیو کے کیسز سے متاثرہ افراد کی تعداد میں 5 سال بعد ایک بار پھر اضافہ ہونے لگا، ملک بھر میں سال 2014 میں پولیو کے 306 کیسز رپورٹ ہوئے، سال 2015 میں 54، 2016 میں 20، 2017 میں 8، 2018 میں 12 اور رواں سال 2019 میں اب تک پولیو کے 80 کیس رپورٹ ہوچکے ہیں جس میں سے صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والا بچہ بھی جاں بحق ہوگیا۔

ہر سال حکومت وقت کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ملک سے پولیو وائرس کا خاتمہ کر دیا جائے گا جو محض باتوں کی حد تک ہی محدود ہے،دنیا میں صرف دو ممالک پاکستان اور افغانستان میں پولیو وائرس موجود ہے۔

قومی ادارہ صحت برائے اطفال کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر جمال رضا کے مطابق بچے کو تشویشناک حالت میں اسپتال لایا گیا تھا، بچے کے جسم میں انفیکشن پھیلا ہوا تھا، بچے کے جسم کے اعضا گردے ناکارہ ہوگئے تھے، جس کے بعد انتقال کرگیا۔

ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے پولیو سندھ کے ترجمان کے مطابق بچہ ڈائریا اور قے کی حالت میں اسپتال گیا تھا جو طبیعت بگڑنے پر انتقال کر گیا۔ بچے میں غذائیت کی کمی تھی، 10 ستمبر سے علاج شروع کیا گیا تھا، 24 ستمبر کو بچے کو ٹیکے لگائے گئے، اہلخانہ نے بچے کا معائنہ کروایا لیکن اس کی حالت بہتر نہ ہوئی جس پر اسے سول اسپتال ٹھٹھہ لے جایا گیا جہاں 14 اکتوبر کو ماہر امراض اطفال ڈاکٹر مسعود نے اس میں پولیو کی تصدیق کی۔

بچے کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث اسے قومی ادارہ صحت برائے اطفال کراچی لایا گیا تھا،بچے کے فضلے کے نمونے چیک نہیں کرائے جاسکے تاہم اس کے قریبی تین بچوں کے ٹیسٹ کیے گئے جس میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔

The post پولیس وائرس کے کیسز میں 5 سال بعد ایک بار پھر اضافہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2JEX7lY

رزاق آباد پولیس ٹریننگ سینٹر، آنسو گیس شیل اسکول میں گرنے سے کئی بچے بے ہوش

کراچی: رزاق آباد پولیس ٹریننگ سینٹرسے متصل سرکاری اسکول کے قریب مبینہ طور پر آنسو گیس شیل گرنے سے گیس سے خارج ہونے والے دھویں سے اسکول کے کئی بچے بے ہوش ہو گئے جبکہ کئی بچے آنسو گیس شیل کا دھواں آنکھوں اورحلق میں لگنے سے بھی متاثر ہوئے، واقعے کے خلاف علاقہ مکینوں کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا۔

شاہ لطیف ٹاؤن تھانے کے علاقے نیشنل ہائی وے پرواقع شہید بے نظیربھٹو ایلیٹ پولیس ٹریننگ سینٹر رزاق آباد سے متصل گورنمنٹ گرلزاینڈ بوائز پرائمری اسکول یوسی 5کے قریب مبینہ طور پرآنسو گیس کا شیل گرنے سے اسکول میں زیرتعلیم  متعدد بچے بے ہوش ہو گئے۔

کئی بچے آنسو گیس کا دھواں آنکھوں اور حلق میں لگنے سے متاثرہوگئے، جنھیں فوری طورپرقریبی اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے، واقعے کے بعد اسکول میں افراتفری پھیل گئی اوراسکول کے بچے اور استائذہ کلاسوں سے باہر آگئے،مکینوں نے احتجاج شروع کردیا۔

اسکول کی ایک خاتون ٹیچر نے بتایا کہ آنسو گیس سے متاثر ہونے والے بچوں پراپنی مدد آپ کے تحت ان پر پانی ڈالا اورطبعیت بہتر ہونے پرانھیں گھرروانہ کردیا گیا۔

ایس ایچ اوشاہ لطیف ٹاؤن رانا مقصود نے بتایا کہ ٹریننگ سینٹر میں جوانوں کو آنسو گیس شیل چلانے کی تربیت فراہم کی جا رہی تھی کہ آنسو گیس شیل  کے دھویں سے ٹریننگ سینٹرکے قریب واقع اسکول کے متعدد بچے متاثر ہوئے 4 بچوں کو گلشن حدید میں واقع اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

اس حوالے سے رزاق آباد پولیس ٹریننگ سینٹر کے پرنسپل کمانڈنٹ تنویر عالم اوڈھونے بتایا کہ رزاق آباد پولیس ٹریننگ سینٹر میں اینٹی رائٹس یونٹ بنا ہوا ہے جہاں زیر تربیت جوانوں کو آنسو گیس چلانے کی تربیت فراہم کی جاتی ہے، گزشتہ روزبھی زیرتربیت جوانوں کو آنسو گیس چلانے کی تربیت دی جا رہی تھی کہ ہوا کا رخ تبدیل ہونے سے آنسو گیس شیل سے خارج ہونے والا دھواں قریب واقع اسکول تک پہنچ گیا جس کی وجہ سے اسکول کے 4 بچے بے ہوش ہو گئے جنھیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا، انھوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ شیل اسکول  کے اندر گرا یا قریب گرا ہے۔

ترجمان سندھ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق  ڈی آئی جی ٹریننگ  ذوالفقار لاڑک نے بتایا کہ ہوااچانک مخالف سمت چلنے کے باعث واقعہ پیش  آیا ہے، انھوں نے پرنسپل رزاق اباد پولیس ٹریننگ سینٹر کو ہدایت دی ہے کہ وہ اسکول انتظامیہ اور علاقہ مکینوں کے پاس جائیں اورعلاقہ مکینوں اور اسکول انتظامیہ کو اعتماد میں لیکر معاملے کو افہام وتفہیم سے حل کریں پولیس تربیت حکمت عملی اور لائحہ عمل کا از سر نو جائزہ لیکر اسے ہر لحاظ سے فول پروف بنایا جائے۔

The post رزاق آباد پولیس ٹریننگ سینٹر، آنسو گیس شیل اسکول میں گرنے سے کئی بچے بے ہوش appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2WAJGbR

پولیس وائرس کے کیسز میں 5 سال بعد ایک بار پھر اضافہ

کراچی: صوبہ سندھ سمیت ملک بھر میں پولیو وائرس کے کیسز میں 5 سال بعد ایک بار پھر اضافہ ہونے لگا۔

ملک بھر میں پولیو کے کیسز سے متاثرہ افراد کی تعداد میں 5 سال بعد ایک بار پھر اضافہ ہونے لگا، ملک بھر میں سال 2014 میں پولیو کے 306 کیسز رپورٹ ہوئے، سال 2015 میں 54، 2016 میں 20، 2017 میں 8، 2018 میں 12 اور رواں سال 2019 میں اب تک پولیو کے 80 کیس رپورٹ ہوچکے ہیں جس میں سے صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والا بچہ بھی جاں بحق ہوگیا۔

ہر سال حکومت وقت کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ملک سے پولیو وائرس کا خاتمہ کر دیا جائے گا جو محض باتوں کی حد تک ہی محدود ہے،دنیا میں صرف دو ممالک پاکستان اور افغانستان میں پولیو وائرس موجود ہے۔

قومی ادارہ صحت برائے اطفال کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر جمال رضا کے مطابق بچے کو تشویشناک حالت میں اسپتال لایا گیا تھا، بچے کے جسم میں انفیکشن پھیلا ہوا تھا، بچے کے جسم کے اعضا گردے ناکارہ ہوگئے تھے، جس کے بعد انتقال کرگیا۔

ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے پولیو سندھ کے ترجمان کے مطابق بچہ ڈائریا اور قے کی حالت میں اسپتال گیا تھا جو طبیعت بگڑنے پر انتقال کر گیا۔ بچے میں غذائیت کی کمی تھی، 10 ستمبر سے علاج شروع کیا گیا تھا، 24 ستمبر کو بچے کو ٹیکے لگائے گئے، اہلخانہ نے بچے کا معائنہ کروایا لیکن اس کی حالت بہتر نہ ہوئی جس پر اسے سول اسپتال ٹھٹھہ لے جایا گیا جہاں 14 اکتوبر کو ماہر امراض اطفال ڈاکٹر مسعود نے اس میں پولیو کی تصدیق کی۔

بچے کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث اسے قومی ادارہ صحت برائے اطفال کراچی لایا گیا تھا،بچے کے فضلے کے نمونے چیک نہیں کرائے جاسکے تاہم اس کے قریبی تین بچوں کے ٹیسٹ کیے گئے جس میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔

The post پولیس وائرس کے کیسز میں 5 سال بعد ایک بار پھر اضافہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2JEX7lY

رزاق آباد پولیس ٹریننگ سینٹر، آنسو گیس شیل اسکول میں گرنے سے کئی بچے بے ہوش

کراچی: رزاق آباد پولیس ٹریننگ سینٹرسے متصل سرکاری اسکول کے قریب مبینہ طور پر آنسو گیس شیل گرنے سے گیس سے خارج ہونے والے دھویں سے اسکول کے کئی بچے بے ہوش ہو گئے جبکہ کئی بچے آنسو گیس شیل کا دھواں آنکھوں اورحلق میں لگنے سے بھی متاثر ہوئے، واقعے کے خلاف علاقہ مکینوں کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا۔

شاہ لطیف ٹاؤن تھانے کے علاقے نیشنل ہائی وے پرواقع شہید بے نظیربھٹو ایلیٹ پولیس ٹریننگ سینٹر رزاق آباد سے متصل گورنمنٹ گرلزاینڈ بوائز پرائمری اسکول یوسی 5کے قریب مبینہ طور پرآنسو گیس کا شیل گرنے سے اسکول میں زیرتعلیم  متعدد بچے بے ہوش ہو گئے۔

کئی بچے آنسو گیس کا دھواں آنکھوں اور حلق میں لگنے سے متاثرہوگئے، جنھیں فوری طورپرقریبی اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے، واقعے کے بعد اسکول میں افراتفری پھیل گئی اوراسکول کے بچے اور استائذہ کلاسوں سے باہر آگئے،مکینوں نے احتجاج شروع کردیا۔

اسکول کی ایک خاتون ٹیچر نے بتایا کہ آنسو گیس سے متاثر ہونے والے بچوں پراپنی مدد آپ کے تحت ان پر پانی ڈالا اورطبعیت بہتر ہونے پرانھیں گھرروانہ کردیا گیا۔

ایس ایچ اوشاہ لطیف ٹاؤن رانا مقصود نے بتایا کہ ٹریننگ سینٹر میں جوانوں کو آنسو گیس شیل چلانے کی تربیت فراہم کی جا رہی تھی کہ آنسو گیس شیل  کے دھویں سے ٹریننگ سینٹرکے قریب واقع اسکول کے متعدد بچے متاثر ہوئے 4 بچوں کو گلشن حدید میں واقع اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

اس حوالے سے رزاق آباد پولیس ٹریننگ سینٹر کے پرنسپل کمانڈنٹ تنویر عالم اوڈھونے بتایا کہ رزاق آباد پولیس ٹریننگ سینٹر میں اینٹی رائٹس یونٹ بنا ہوا ہے جہاں زیر تربیت جوانوں کو آنسو گیس چلانے کی تربیت فراہم کی جاتی ہے، گزشتہ روزبھی زیرتربیت جوانوں کو آنسو گیس چلانے کی تربیت دی جا رہی تھی کہ ہوا کا رخ تبدیل ہونے سے آنسو گیس شیل سے خارج ہونے والا دھواں قریب واقع اسکول تک پہنچ گیا جس کی وجہ سے اسکول کے 4 بچے بے ہوش ہو گئے جنھیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا، انھوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ شیل اسکول  کے اندر گرا یا قریب گرا ہے۔

ترجمان سندھ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق  ڈی آئی جی ٹریننگ  ذوالفقار لاڑک نے بتایا کہ ہوااچانک مخالف سمت چلنے کے باعث واقعہ پیش  آیا ہے، انھوں نے پرنسپل رزاق اباد پولیس ٹریننگ سینٹر کو ہدایت دی ہے کہ وہ اسکول انتظامیہ اور علاقہ مکینوں کے پاس جائیں اورعلاقہ مکینوں اور اسکول انتظامیہ کو اعتماد میں لیکر معاملے کو افہام وتفہیم سے حل کریں پولیس تربیت حکمت عملی اور لائحہ عمل کا از سر نو جائزہ لیکر اسے ہر لحاظ سے فول پروف بنایا جائے۔

The post رزاق آباد پولیس ٹریننگ سینٹر، آنسو گیس شیل اسکول میں گرنے سے کئی بچے بے ہوش appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2WAJGbR

تاجربرادری اور حکومت میں خوش آیند معاہدہ

حکومت اور تاجروں کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت شناختی کارڈ کی شرط تین ماہ کے لیے موخرکردی گئی، اس بات کا اعلان وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کیا، وفاقی وزارت خزانہ میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور مرکزی تنظیم تاجران کے وفد میں مذاکرات ہوئے جس میں معاہدہ طے پا گیا۔

عبدالحفیظ شیخ نے اسلام آباد میں تاجر برادری کے نمایندوں، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جہانگیر ترین کے ہمراہ نیوزکانفرنس کرتے ہوئے تاجر اور وفاقی بورڈ آف ریونیو کے درمیان طے پانے والے 11 نکاتی معاہدے کی تفصیلات بتائیں۔

حکومت اور تاجر برادری کے رہنماؤںمیں مفاہمت خوش آیند اور ملکی معیشت کے استحکام کے لیے انتہائی اہم اقدام ہے۔ تاجر برادری نے کہا ہے کہ حکومت اور تاجروں میں معاملات خوش اسلوبی سے طے پاگئے ہیں ، جس سے حکومت کا پہیہ اور کاروباری سرگرمیاں بہتر انداز میں چل سکیں گی۔ ملک انارکی، افراتفری اور بے یقینی سے بچ جائے گا۔

دوسری طرف حکومت اور تاجر برادری کو بھی سوچنا ہوگا کہ آیندہ ایسی صورتحال ہی پیدا نہ ہو جہاں بات چیت میں ڈیڈ لاک پیدا ہوجائے اور ملکی معیشت کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کے خدشات گھیر لیں،کیونکہ سیاسی عدم استحکام آگے چل کر معاشی صورتحال کی بے سمتی کی شکل ہی اختیارکرلیتی ہے، حالات قابو میں نہیں رہتے اور عوام کے لیے زندگی وبال جان بن جاتی ہے۔

ایف بی آر حکام کے تخمینہ کے مطابق دو دن کی ہڑتال سے ملکی معیشت کو 6  ارب روپے کا دھچکا لگا ہے۔ میڈیا کے مطابق 10 کروڑ تک کے ٹرن اوور والے تاجروں سے ایک اعشاریہ پانچ فیصد ٹرن اوور ٹیکس کے بجائے صفر اعشاریہ پانچ فیصد ٹرن اوور ٹیکس لیا جائے گا، 10کروڑ تک کے ٹرن اوور والا تاجر ودہولڈنگ ایجنٹ نہیں بنے گا۔

سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن کے لیے سالانہ بجلی کے بل کی حد 6 لاکھ روپے سے بڑھا کر 12 لاکھ روپے کردی گئی، کم منافع رکھنے والے شعبے کے ٹرن اوور ٹیکس کا تعین ازسر نوکیا جائے گا جو تاجروں کی کمیٹی کی مشاورت سے ہوگا جب کہ جیولرز ایسوسی ایشنوں کے ساتھ مل کر جیولروں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا،آڑھتیوں پر تجدید لائسنس فیس پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا ،چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شناختی کارڈ کا قانون برقرار ہے۔

31جنوری تک تادیبی کارروائی نہیں ہوگی۔ مر کزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چوہدری نے ایف بی آر سے کامیاب مذاکرات پر پاکستان بھر کے تاجروں سے اظہار تشکر کر تے ہو ئے کہا ہے کہ حکو مت اور تاجروں کے درمیان معاملات کا خو ش اسلوبی سے طے پانا خوش آیند اقدام ہے ۔

مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے چیئرمین خواجہ سلمان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کے 80 فیصد سے زائد مطالبات مان لیے ہیں، تاجروں اور حکومت کے درمیان معاہدے کے لیے جہانگیر ترین نے اہم کردار ادا کیا اس موقع پر تاجر رہنماؤں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے تاجر قیادت سے مذاکرات کرکے احسن اقدام اٹھایا ہے اگر حکومت تاجر قیادت سے مذاکرات نہ کرتی تو تاجر برادری غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال پر مجبور ہو جاتی، تاجر برادری نے ہمیشہ ٹیکس دیے اور آج بھی ٹیکس دینا چاہتی ہے تاکہ ملکی معیشت مستحکم ہوکیونکہ ٹیکس کا جو نظام نافذکیا گیا تھا وہ غلط تھا، تاجر برادری متحد ہے اور جب بھی ضرورت پڑی تاجر برادری کے حقوق کے لیے وہ ہر سطح پر اپنی جدوجہد کو ہمیشہ کی طرح جاری رکھیں گے۔

حقیقت میں دانش مندی اور ملکی مفاد کے ادراک کا قابل تعریف مظاہرہ حکومتی ٹیم اور تاجر برادری نے دوطرفہ بنیاد پر کیا، فریقین نے ایک طرف سیاسی اور ملکی معاشی صورتحال کے پیدا شدہ تناظر میں صائب فیصلے کیے، معاہدہ پر اتفاق رائے کیا اورکاروباری معاملات پر وزارت خزانہ، سی بی آر اور حکومت سے افہام وتفہیم کے ساتھ مسائل کے حل کا راستہ نکالا چونکہ سب جانتے تھے کہ ملک میں سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے۔

آزادی مارچ کے مستقبل پر عوام کی نگاہ مرکوز ہے، معاشی معاملات دیگر سطح پر بھی طے ہونا باقی ہیں، ملک کو ایک مضبوط اقتصادی روڈ میپ کی ضرورت ہے، عوام مہنگائی اور بیروزگاری کے مصائب سے دوچار ہیں ،اس لیے صرف حکومت اور تاجر برادری ہی میں مفاہمت ومصالحت وقت کا تقاضہ نہیں بلکہ یہی وہ موقع ہے جہاں ارباب اختیار سے امید کی جاسکتی ہے کہ ایسی ہی حتمی مفاہمت اور بات چیت میں بریک تھرو سیاست میں ہونی چاہیے۔ ضرورت ایک آؤٹ آف باکس جمہوری و سیاسی  اتفاق رائے کی بھی ہے۔

The post تاجربرادری اور حکومت میں خوش آیند معاہدہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/36piSQw

شامی اور ترک فورسز میں جھڑپیں

شامی فوجی دستوں اور ترک فوج کے درمیان شام کے سرحدی قصبے راس العین میں جھڑپ ہوئی ہے، اس کا اعلان شام کے سرکاری میڈیا نے کیا ہے جب کہ ترکی کا کہنا ہے کہ وہ کرد ملیشیا کے خلاف سرحد پار ایک اور آپریشن کرے گا۔ شامی میڈیا نے کہا ہے کہ ترک فوج نے راس العین کے ارد گرد کے دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔

حالیہ دنوں میں شامی اور ترک فوجوں کے درمیان اور بھی کئی جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ترکی کا کہنا ہے کہ وہ سرحد پار جنوب میں 30کلو میٹر کا علاقہ خالی کرانا چاہتا ہے تاکہ وہاں سے کرد جنگجو ترکی پرحملہ نہ کر سکیں۔ امریکا اور روس بھی متذکرہ علاقے کو جنگجوؤں سے خالی کرانے کی حمایت کر رہے ہیں کیونکہ ترکی اور روس کی ڈیل ہو چکی ہے۔ سرحد کے قریب یہ وہ علاقہ ہے ۔

جس پر شامی حکومت کا آٹھ سالہ جنگ کے بعد قبضہ ختم ہو چکا تھا۔ انقرہ میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے اے کے پارٹی کے اراکین اسمبلی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ کردوں نے روس کی طرف سے یقین دہانی کے باوجود اس اہم سرحدی علاقے کو مکمل طور پر خالی نہیں کیا جب کہ ڈیل کی ڈیڈ لائن ختم ہو رہی ہے۔ ترکی کردوں کی جماعت ’’وائی بی جی‘‘ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے جب کہ ترکی سرحد پار کے اس علاقے کو ’’محفوظ زون‘‘ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

صدر اردوان نے کہا ہے کہ اگر کردوں نے 30 کلو میٹر کے علاقے کو خالی نہ کیا تو ان کے خلاف مزید فوجی کارروائی کی جائے گی۔ شام کی جمہوری فوج (ایس ڈی ایف) میں وائی پی جی (کرد جنگجوؤں) کو  بنیادی حیثیت حاصل ہے جو شمالی شام میں امریکی فوجوں کے ساتھ مل کر جنگ میں مصروف ہیں۔

ترکوں کی حمایت میں فورسز نے 9اکتوبر کو شام کی سرحد پر حملہ کیا تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک امریکی فوج کو اس علاقے سے نکال لیا تھا۔ امریکی افواج کے انخلا کے بعد ترکی کو وہاں کارروائی کرنے کا  موقع مل گیا ۔ تازہ صورتحال میں شامی سرحد پر روس اور ترکی کی فوج کے مشترکہ گشت کی بات بھی کی جا رہی ہے۔

یہ گشت شام کے اندر سرحد سے10 کلو میٹر کے فاصلے پر ہو گی لیکن ترک صدر اردوان نے کہا ہے کہ اس سے قبل وہ چاہتے ہیں کہ روس اور شام کے ساتھ اس معاملہ میں بات چیت کی جائے تاکہ گشت کرنے والی فورسز کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جا سکے۔

امریکا کے شام سے نکل جانے کو ترکی اور روس کے علاوہ ایران کی طرف سے بھی ہدف تنقید بنایا گیا ہے کیونکہ اس طرح شام ترکی کے براہ راست حملے کی زد میں آ سکتا ہے۔ادھر شام کرد جنگجوؤں پر زور دے رہا ہے کہ وہ براہ راست شامی فوج کے ساتھ شامل ہو جائیں تاکہ ترک فوج کا مقابلہ کیا جائے۔

The post شامی اور ترک فورسز میں جھڑپیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/335w7Up

تیز گام ٹرین کا دردناک سانحہ، تحقیقات ناگزیر

کراچی سے لاہور جانے والی تیزگام ایکسپریس میں رحیم یارخان کے قریب سلنڈر پھٹنے سے لگنے والی آگ کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد تادم تحریر 73 ہو چکی ہے، سترہ لاشیں ناقابل شناخت ہیں جب کہ متعدد افراد زخمی ہیں۔ یہ سانحہ انتہائی درد انگیز ہے۔ غفلت اورلاپرواہی ہمارا قومی چلن بنتا جا رہا ہے۔

گزشتہ برس جولائی سے اب تک ریلوے کے چھوٹے بڑے چالیس حادثات کے نتیجے میں اب تک بھاری جانی و مالی نقصان ہو چکا ہے، جو تفصیل اس سانحے کی سامنے آئی ہے، اس کے مطابق مسافر ٹرین میں سلنڈر سے انڈا بوائل کر رہے تھے کہ اچانک آگ بھڑ ک اْٹھی تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ٹرین میں آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی۔

متعدد افراد نے چلتی ٹرین سے کود کر جان بچائی۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کے مطابق تبلیغی جماعت کے لوگ اجتماع میں جا رہے تھے۔ اس واقعے میں ریلوے کی غلطی نہیں، مسافروں کی غلطی ہے۔ مسافر ٹرین میں سلینڈر کیسے لے کر پہنچے، اس کی تحقیقات کی جائیں گی۔

یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ چلتی ٹرین میں تو ریلوے پولیس اہلکار بوگیوںکے درمیان گشت کرتے ہیں، تو کیا انھوں نے سلنڈر دیکھ کر مسافروں کو منع نہیں کیا؟ اگرگاڑی کے اندر آگ بھجانے کا انتظام ہوتا یا گاڑی بروقت رْک جاتی تو اموات میں کمی ہو سکتی تھی۔

ایمرجنسی کی صورت میں ٹرین کے ڈبوں میں باقاعدہ زنجیر موجود ہوتی تھی جسے کھینچا جاتا تھا تو انجن ڈرائیورگاڑی روک لیتا تھا، لیکن اس واقعے میں تو ٹرین ڈھائی کلومیٹر تک آگ لگنے کے باوجود چلتی رہی۔ اس دوران 25 سے 30 افراد تو چلتی ٹرین سے چھلانگ لگانے کے باعث اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اسپتالوں میں برن وارڈ موجود نہ ہونے کی وجہ سے بھی جھلسے ہوئے افراد نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔

دوسری جانب ریلوے حکام کو ایک ہی مسافرکے نام پر ٹکٹ جاری ہونے سے انفرادی نام نکالنے میں مشکل ہو رہی ہے۔ سب کی غفلت نے مل کر اس سانحے کو جنم دیا۔ بلاشبہ اس واقعے کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کے نتیجے میں واقعے میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے اور ایسا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے کہ آیندہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

The post تیز گام ٹرین کا دردناک سانحہ، تحقیقات ناگزیر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2qbIDTw

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...