Urdu news

Sunday, 28 February 2021

کے ایم سی 10 کروڑ کے ٹھیکے من پسند ٹھیکیداروں میں تقسیم

 کراچی:  بلدیہ عظمیٰ کراچی میں 10 کروڑ کے ٹھیکے خلاف ضابطہ من پسند ٹھیکیداروں کو دے دیے گئے، نہ ٹینڈر اور نہ اشتہار من پسند ٹھیکیداروں کو اندرون خانہ براہ راست ٹھیکے دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

شدید مالی بحران سے دوچار بلدیہ عظمی کراچی میں10کروڑ لاگت کے ٹھیکوں کی چور دروازے سے بندر بانٹ کے ساتھ من پسند ٹھیکیداروں کو مکمل ادائیگیاں بھی کردی گئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی پر ٹھیکیداروں کے کئی ارب کے واجبات موجود ہیں لیکن حیران کن طور پر کے ایم سی محکمہ انجینئرنگ کے افسران نے کئی سال سے اپنے واجبات کا انتظار کرنے والے ٹھیکیداروں کو ادائیگی کرنے کے بجائے من پسند ٹھیکیداروں کو 10کروڑ روپے لاگت کے براہ راست ٹھیکے دے کر انھیں ادائیگی بھی کرادی ہے۔

محکمہ انجینئرنگ میں ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل کا لک آفٹر چارج رکھنے والے افسر کے دباؤ پر براہ راست ٹھیکے دیے گئے ہیں اور ہاتھوں ہاتھ ٹھیکیداروں کو ادائیگیاں کراکر افسران نے ہاتھ جھاڑ لیے ہیں، 2، 2 کروڑ لاگت کے 5 ٹھیکے من پسند ٹھیکیداروں میں تقسیم کیے گئے تھے اور منظم طریقے سے ٹھیکیداروں کو ہاتھوں ہاتھ ادائیگی کراکر منہ مانگا کمیشن وصول کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ بلدیہ کراچی میں 75 کروڑ کی اے ڈی پی ریلیز پر بھی تنازعہ کھڑا ہے۔

چیف سیکریٹری سندھ نے کے ایم سی محکمہ انجینئرنگ میں ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر اقتدار احمد کو تعینات کر رکھا ہے جبکہ ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی نے چیف سیکریٹری سندھ کے آرڈر کو چیلنج کرتے ہوئے ایک متنازع افسرجنھیں محکمہ بلدیات سندھ نے 17 گریڈ کا افسر قرار دیتے ہوئے محکمہ کچی آبادی رپورٹ کرنے کا حکم دے رکھا ہے، انھیں ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز گریڈ20 کے ایک نہ دو بلکہ 3 اعلیٰ عہدوں پر تعینات کر رکھا ہے اور ان کے ذریعے اے ڈی پی ریلیز کے75 کروڑ کے فنڈز کی ٹھیکیداروں کو ادائیگیاں کرادی ہیں۔

مذکورہ ادائیگیوں پر چیف سیکریٹری سندھ کے تعینات ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز اقتدار احمد نے اے جی سندھ کو خط ارسال کرکے حقائق سے آگاہ کیا جس پر اے جی سندھ نے مزید ادائیگیاں روک دی ہیں۔

کے ایم سی ذرائع کا کہنا ہے کہ شبیہ الحسنین کو محکمہ کچی آبادی میں رپورٹ کرنے کے سندھ حکومت کے جاری احکامات کو نہ مان کر ایڈ منسٹریٹر کے ایم سی نے سندھ حکومت کی رٹ کو چیلنج کر رکھا ہے اور محکمہ انجینئرنگ میں جاری مبینہ بدعنوانیوں کے باعث تحقیقاتی اداروں کی جانب سے بڑی کارروائی کا امکان ہے تاہم اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز کا لک آفٹر چارج رکھنے والے شبیہ الحسنین سے ان کا موقف جاننے کے لیے متعدد بار رابطہ کرنے کے باوجود ان سے رابطہ ممکن نہیں ہوسکا۔

ایڈ منسٹریٹرکے ایم سی لئیق احمد نے بھی فون سننے سے گریز کیا۔

The post کے ایم سی 10 کروڑ کے ٹھیکے من پسند ٹھیکیداروں میں تقسیم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3bM9UA9

آپریشن ردالفساد کی کامیابی … ٹیررازم سے ٹورازم تک کا سفر!

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور فیصلہ کن جنگ لڑی جس میں مختلف مراحل طے کیے گئے۔

چار برس قبل آپریشن ردالفساد شروع کیا گیا جس کے تحت ملک کے طول و عرض میں ہزاروں کامیاب آپریشن کیے گئے جن سے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی، ان کے نیٹ ورک کا خاتمہ کیا گیا ،انہیں جہنم واصل کیا گیا اور بیشتر کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیاگیا۔

حال ہی میں آپریشن ردالفساد کے کامیاب چار سال مکمل ہوئے ہیں جس پر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے قوم کو بریفگنگ دی۔ اس اہم آپریشن کے چار سال مکمل ہونے پر ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا اور اس کے مختلف پہلوئوں کا جائزہ لیا گیا۔ فورم کی رپورٹ نذر قارئین ہے۔

مولانا طاہر محمود اشرفی ( وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی )

افغانستان کے جہاد کے خاتمے کے بعد سے پاکستان پر دہشت گردی اور انتہا پسندی کو مسلط کرنے کی کوشش کی گئی مگر پوری قوم، افواج پاکستان اور سلامتی کے اداروں نے مل کر اس کا مقابلہ کیا۔ سنہ 2000ء کے بعد ہمارے دشمنوں نے پاکستان میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کو پھیلانے کا منصوبہ بنایا جس کے بعد ہمارے پارک، مساجد، امام بارگاہیں،چرچ کوئی مقام ایسا نہیں تھا جو محفوظ رہا ہو۔ دہشت گردوں نے ہمارے بچوں کو بھی نہیں چھوڑا اور آرمی پبلک سکول پشاور پر حملہ کرکے بدترین کام کیاجس کے بعد قوم نے فیصلہ کیا کہ اب ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ کرنا ہے۔

اس کے نتیجے میں آپریشن ردالفساد کیا گیا جس کی ذمہ داری صرف فوج نہیں بلکہ پوری قوم نے لی۔ آپریشن ردالفسادسے میں امن ، سکون اور اطمینان آیا اور اس آپریشن کی کامیابی کی بڑی وجہ قومی اتحاد تھا۔ اس جنگ میں ہمارے 80 ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے جن میں فوج، پولیس و سکیورٹی اداروں سے تعلق رکھنے والے افراد، بچے، بڑے ، بوڑھے اور8 ہزار علماء شامل ہیں۔ہمارے دشمن نے ملک کو کمزور کرنے کیلئے یہاں دینی اداروں، افواج پاکستان اور سلامتی کے اداروں میں ٹکرائو پیدا کرنے کی کوشش کی۔

یہاں فرقہ واریت اور نفرت کو فروغ دینے پر کام کیا جس کا اعتراف خود بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو نے اپنی گرفتاری کے بعد کیا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ ایک دن شیعہ لیڈر اور دوسرے دن سنی لیڈر کو قتل کیا جاتا تھا تاکہ فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دی جائے مگر پاکستانی عوام اور محراب و ممبر نے ان سازشوں کو سمجھا اور ٹکرائو پیدا کرنے کے اس منصوبے کو باہمی اتحاد سے ناکام بنایا۔ ایک بات قابل فکر ہے کہ پہلے صرف مذہبی حوالے سے کام کرنے کی ضرورت تھی مگر اب ہماری سیاست میں بھی انتہا پسندی آگئی ہے اور سیاستدان ایک دوسرے کے بارے میں بات کرتے ہوئے نہیں سوچتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔

ہمیں ملک سے انتہا پسندی کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے ’ایک قوم ایک منزل‘ کا جو نعرہ دیا وہ بہترین ہے۔ ہماری منزل اخوت، محبت، رواداری، امن، سلامتی، استحکام اور اعتدال ہے۔ ہمیں نفرتوں کو ختم کرنا ہے جس کے لیے ابھی بہت محنت کی ضرورت ہے۔ آپریشن ردالفساد کی کامیابی میں قومی ایکشن پلان کا بہت بڑا کردار ہے۔ ماضی میں قومی ایکشن پلان کے صرف ایک حصے پر عمل ہوا جس سے ایسا لگا کہ یہ پلان صرف محراب و ممبر کے لیے بنا ہے، اس کے تحت مساجد سے سپیکر اتروانے ہیں اور آئمہ اور خطباء کو تنگ کرنا ہے جو درست نہیں ہے۔

اس پلان کے 20نکات ہیں جن میں انتہا پسندی کے ہر پہلو کو بہتر کرنے کے بارے میں بات کی گئی ہے لہٰذااس پلان کو مکمل طور پر نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ مساجدو مدارس سے ہمیشہ امن، ترقی اور رواداری کی بات کی گئی ہے، مدارس کے جو نئے وفاق بنائے گئے ہیںان سے انشاء اللہ مزید بہتری آئے گی۔ آپریشن ردالفساد کے 4 سال پورے ہونے کے بعد الحمداللہ آج ہمارے پارک آباد ہیں اور بقول ڈی جی آئی ایس پی آر ہم ٹیررازم سے ٹورازم کی طرف آئے ہیں۔

ملک معاشی لحاظ سے درست سمت میں جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ آج کورونا کے باوجود ہماری معیشت بہتری کی طرف جا رہی ہے۔ ہماری فیکٹریوں کو لیبر نہیں مل رہی، ان کے پاس 2،3 برس کے ایڈوانس آرڈرز موجود ہیں جو یقینا بہت بڑی کامیابی ہے اور یہ آپریشن ردالفساد کے ہی ثمرات ہیں۔ ملک ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف کاوشوں پر دنیا ہماری معترف ہے ایسے حالات میں بھارت و دیگر دشمن طاقتیں افغانستان میں دہشت گردوں کو منظم کر رہی ہیں اور پاکستان مخالف منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

ان حالات میں ہمیں قومی وحدت کی ضرورت ہے،ہمیںقومی یکجہتی اور استحکام کی طرف جانا ہے۔ پاکستان کی سلامتی کے ادارے اور افواج نے ملکی سلامتی کیلئے جو کردار ادا کیا ہے، اس کی دنیا میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی ہمیں مل کر فوج اور قوم کو آپس میں لڑانے کی دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانا ہے۔

مسرت جمشید چیمہ (ترجمان پنجاب حکومت)

آپریشن رد الفساد کے 4 سال بعد آج پاکستان پہلے سے نہ صرف زیادہ محفوظ ہے بلکہ ہمارے ملک کی رونقیں بھی بحال ہو چکی ہیں۔ اس فساد کی بیخ کنی کرنے میں پاک فوج سمیت تمام سیکورٹی فورسز کے جوانوں اور افسران نے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں، پوری قوم اپنی سیکورٹی فورسز کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے ملک سے دہشت گردی کے عفریت کا خاتمہ کیا۔

سب سے پہلے تو میں آپریشن ردالفساد میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا ء کو خرج عقیدت پیش کرتی ہوں جنہوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر وطن کا دفاع کیا ۔ میں ان ماؤں کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں جنہوں نے ایسے بہادر بیٹے پیدا کیے اور اس ملک پر قربان کئے۔ آپریشن ردالفساد پورے ملک میں کیا گیا جس کا مقصد پر امن اور مستحکم پاکستان بنانا ہے۔ آپریشن ردالفساد کے ذریعے پاک افواج نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی۔ دہشت گردوں نے پاکستان میں نظام زندگی کو مفلوج کرنے کی ناکام کوشش کی لیکن ہماری افواج نے ان کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔

آپریشن ردالفساد کے تحت پنجاب میں 34ہزار، سندھ میں ڈیڑھ لاکھ، بلوچستان میں 52 ہزار جبکہ خیبر پختونخوا میں 80ہزار آپریشن کیے گئے۔ اسی دوران جب دشمن نے کراچی سٹاک ایکسچینج پر حملے کی مزموم کوشش کی تو فوری ایکشن لیتے ہوئے دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔

اس کے علاوہ خفیہ ایجنسیوں نے سخت محنت سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک پکڑے اور ان کی کمر توڑ دی۔ 2017ء سے لے کر اب تک 78 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ایکشن لیا گیا جبکہ1200 سے زائد دہشت گردوں نے ہتھیار ڈالے۔خیبر فور آپریشن بھی کیا گیا جس سے راجگال ویلی کو خالی کروایا گیا۔ انہی کاوشوں کی وجہ سے ہم خوشحالی، استحکام اور ترقی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

آپریشن ردالفساد کامیابی سے جاری ہے۔ ہمیں امن عمل کو مزید مضبوط کرنا ہوگا کیونکہ اس کے بغیر ترقی، خوشحالی اور استحکام کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ امن اور بین المذاہب ہم آہنگی ہمارا فلیگ شپ پروگرام ہے۔نفرت انگیز تقریر پر ہماری ’زیرو ٹالرنس ‘ کی پالیسی ہے۔ ہم نے مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ واریت ، شیعہ سنی فسادات کو ختم کرنے کی ہرممکن کوشش کی، یہی وجہ ہے کہ آج حالات بہتر ہیں اور کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیںا ٓیا۔ اب ہمارا بیانیہ بھی پہلے سے بہتر ہے اور دنیا میں ہماراسافٹ امیج بھی بہتر ہوا ہے۔

کھیل کے وہ میدان جو دہشت گردی کی وجہ سے ویران ہوگئے تھے آج دوبارہ آباد ہوچکے ہیں اور کرکٹ میچز ہورہے ہیں ۔ اسی طرح اب بیرونی سرمایہ دار اور اوورسیز پاکستانی بھی یہاں سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور خود کو محفوظ تصور کر رہے ہیں۔ ہم ٹیررازم سے ٹورازم کی طرف بڑھ رہے ہیں جو یقینا بہت بڑی کامیابی ہے۔ افسوس ہے کہ اپوزیشن نے دہشت گردی کے خلاف ملکی سالمیت کی اس جنگ میں بھی مفاد حاصل کرنے کی کوشش کی اور این آر او پر توجہ رکھی۔ مرکز اور تین صوبوں میں تو روابط مثالی ہیں مگر پیپلز پارٹی کی حکومت اور ملک کی اپوزیشن اس طرح سے تعاون نہیں کر رہی جیسے کرنا چاہیے تھا۔

ہمیں سمجھنا چاہیے کہ مضبوط پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ ہمارے لیے سب سے پہلے پاکستان ہے اور یہ وطن ہمیں اپنی اولاد سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ جو لوگ جانے انجانے میں ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں ہوش کے ناخن لینا ہونگے۔دشمن نے ہماری افواج کی کامیابی کو ناکامی میں بدلنے کی ناکام کوشش کی، ہائبرڈ وار کے ذریعے وہ ہمارے ذمہ دار لوگوں تک پہنچا مگر اسے کامیابی نہیں ہوسکی۔ افواج پاکستان نے سرحدوں کی حفاظت کی ہم پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کریں گے اور فرنٹ لائن سولجر بن کر ففتھ جنریشن وار کا مقابلہ کریں گے۔

جنرل (ر) غلام مصطفی (دفاعی تجزیہ نگار)

افواج پاکستان، ملکی سلامتی کے اداروں، پولیس اور سب نے مل کر دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور کامیاب جنگ لڑی جس کا آغاز 2008ء میں سوات آپریشن سے ہوا اور پھر ہم مختلف مراحل طے کرتے ہوئے آپریشن ردالفساد تک پہنچے۔

ملک میں نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا جو مشعل راہ تھا کہ ہم نے کس سمت میں جانا ہے۔ گزشتہ 4برسوں میں ملکی سلامتی کے ادارے چوکس رہے اورملک کے طول و عرض میں ہزاروں آپریشن کیے جن میں اللہ تعالیٰ نے کامیابی دی۔ ملک میں ابھی بھی کچھ مسائل ہیں، دہشت گردی کے اکا دکا افسوسناک واقعات ہو رہے ہیں مگر پاکستان کے شیردل جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ملک کی حفاظت کر رہے ہیں اور اس لیے قربانیاں دے رہے ہیں لوگ چین کی نیند سو سکیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ یہ صرف افواج پاکستان کی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کی کامیابی ہے۔

عوام نے سیسہ پلائی دیوار کی طرح افواج پاکستان کا ساتھ دیا اور ڈٹ کر کھڑے رہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی واضح کیا کہ جنگ صرف فوج نہیں قوم لڑتی ہے اور اگر قوم ساتھ کھڑی نہ ہو توکسی جنگ میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی ۔ ملک میں سویلین بالادستی پر بات ہوتی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی واضح کیا کہ جو کچھ کر رہی ہے وہ حکومت کر رہی ہے اور اس کے احکامات کے مطابق کام کیا جا رہا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ آسان نہیں ہے اور یہ ہم پر مسلط کی گئی ہے۔ ہمارے دشمن ہماری سرزمین استعمال کرکے ہمیں ہی نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہے۔ ہم زمینی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں سمیٹ چکے ہیں مگر اب ہائبرڈ وار ،ففتھ جنریشن وار کے حوالے سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک میں بدنما قسم کے خاردار پودے موجود ہیں۔

جنہیں ختم کرنے کی ضرروت ہے۔ آپریشن ردالفساد میں کچھ خامیاں بھی رہی ہیں ، سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ مرکز اور صوبوں کے درمیان روابط کا فقدان تھا اور وہاں صوبائیت کی جھلک نظر آئی تاہم مجموعی طور پر سب نے مل کر اس آپریشن کو کامیاب بنایا۔ ہمیں مرکز اور صوبوں کے مابین روابط کو مثالی بنانا چاہیے اور قومی مسائل پر قومی سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ اس حوالے سے آئین اور قانون میں جو ترمیم کی ضرورت ہے وہ بھی کرلینی چاہئیں تاکہ مسائل سے مکمل طور پر نمٹا جاسکے۔ امریکا نے 9/11 کے بعد بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی تو ہم اپنے ملک کی خاطر کیوں نہیں کرسکتے؟

دہشت گردی سے ملکی معیشت کو اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا، سکیورٹی کیلئے اخراجات میں اضافہ ہوا، معاشی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہوگئیں اور ملک کو معاشی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر اب آپریشن ردالفساد کی کامیابی کے بعد یہ خوش آئند ہے کہ ملکی معیشت بہتر ہورہی ہے اور مختلف سیکٹرز نے دوبارہ سے ترقی بھی کی ہے۔ ردالفساد کے باجود افواج پاکستان نے کورونا کی مشکل گھڑی میں ایمرجنسی کی ذمہ داریاں بھی ادا کیں، اس کے خطرات شدید تھے مگر اللہ کا شکر ہے کہ اب حالات بہتر ہیں۔ جو لوگ بلاوجہ تنقید کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ کٹھن اور مشکل حالات میں قومی سلامتی کے اداروں کا ساتھ دیں۔

پاک افغان سرحد پر باڑ لگانا ایک بڑا اور مشکل کام تھا جو تقریباََ مکمل ہوچکی ہے ، ایران کے ساتھ بارڈر کے معاملات بھی بہتر کیے جارہے ہیں جلد انٹری اور اگزٹ پر کنٹرول بہتر ہوجائے گا۔ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کیا جاچکا ہے۔ وہاں تیزی سے ترقی ہورہی ہے، سکول، کالج، سٹرکیں، مارکیٹیں بن رہی ہیں اور آہستہ آہستہ کنٹرول سول انتظامیہ کے سپرد کیا جا رہا ہے۔ پاکستان اس وقت درست سمت میں جا رہا ہے، آپریشن ردالفساد ابھی بھی کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور جو اندرونی و بیرونی دشمن سازشیں کر رہے ہیںا ن کے خلاف کارروائیاں کی جارہی ہیں۔

The post آپریشن ردالفساد کی کامیابی … ٹیررازم سے ٹورازم تک کا سفر! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2NRTdLH

نوجوان کو دوسری شادی مہنگی پڑ گئی، محبوبہ نے پٹائی کر دی

نواب شاہ:  نوجوان کو دوسری لڑکی سے شادی مہنگی پڑگئی جب کہ پہلی محبوبہ نے حملہ کرکے زخمی کردیا۔

مریم روڈ پر واقع مقامی شادی ہال میں شادی کی تقریب اس وقت شدید ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگئی جبکہ ناہید مہر نامی لڑکی نے دولہا نیاز مہرکوگریبان سے پکڑ لیا اور چیختی چلاتی کہنے لگی کہ محبت مجھ سے کرو، شادی کسی اور سے، ایسا نہیں ہونے دوں گی، خواتین نے ناہید کو پکڑنے کی کوشش کی جس پر لڑکی نے تیز دھار آلے سے حملہ کرکے دولہا کو زخمی کردیا۔

خواتین نے حملہ آور لڑکی کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا جبکہ زخمی دولہا کو فوری طور پیپلز میڈیکل کالج و اسپتال منتقل کیا گیا ۔ ذرائع نے بتایا کہ زخمی دولہا اور حملہ آور لڑکی آپس میں رشتے دار اور دونوں سٹھ میل کے قریب 18 ویں شاخ کے رہائشی ہیں ۔ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔

ذرائع کے مطابق ناہید مہر کا کہنا ہے کہ نیاز مہر کے پاس وہ ٹیوشن پڑھتی تھی جس دوران ہم دونوں میں محبت ہوگئی ۔ دونوں نے شادی کے قول اقرار کیے مگر اس نے کسی اور لڑکی سے شادی کرلی، میرے احتجاج پر اس نے دلاسہ دیا کہ جلد تجھ سے شادی کروں گا جس پر میں راضی ہو گئی، آج مجھے اطلاع ملی کہ نیاز نواب شاہ میں دوسری شادی کر ریا ہے جس پر میں شادی ہال پہنچ گئی اور نیاز کو پکڑلیا اور چمچہ مار کر اسے زخمی کردیا۔

دولہا کے عزیز و اقارب بھی تھانے پہنچ گئے اور بتایاکہ ہم رشتے دار ہیں اور معاملہ کورٹ کچہری میں نہیں لے جانا چاہتے۔ لڑکی کی نیاز سے شادی کرالیں گے۔رابطے پر پولیس نے تصدیق کی کہ لڑکے والوں کی یقین دہانی پر معاملہ نمٹ گیا ہے۔

شادی میں ہنگامہ کرنے والی طالبہ کی مبینہ خود کشی

20 سالہ طالبہ ناہید مہر نے اتوار کی شام اپنے گوٹھ کے گھر میں مبینہ خود کشی کر لی ہے۔ سٹھ میل پولیس تھانے کے ایس ایچ او منظور بھنگوار نے رابطے پر تصدیق کی کہ ناہید مہر نامی طالبہ نے گلے میں پھندا ڈال کر پنکھے سے لٹک کر خود کشی کرلی ہے ان سے جب پوچھا گیا کہ لڑکی کو غیرت کے نام پر قتل تو نہیںکردیا گیا اور خودکشی کا ڈرامہ رچایا گیا ہے۔

تھانیدار نے کہا کہ لاش پوسٹ مارٹم کے لیے پیپلز میڈیکل کالج و اسپتال منتقل کر دی ہے۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اگر قتل ثابت ہوا تو سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ آج دوپہر نواب شاہ کے مقامی شادی ہال میں مبینہ خود کشی کرنے والی طالبہ ناہید مہر نے نکاح کے وقت پہنچ کر شور شرابا کیا جسے حراست میں لیاگیا تھا۔ بعد ازاں لڑکی کو والدین کے حوالے کر دیاگیا جو ناہید کو اپنے ہمراہ گوٹھ لے گئے جہاں چند گھنٹوں بعد اس کی پھندہ لگی لاش پنکھے سے لٹکی ملی۔

The post نوجوان کو دوسری شادی مہنگی پڑ گئی، محبوبہ نے پٹائی کر دی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3aZq1v3

لاہور قلندرز نے ملکی ہاکی کو بھی ٹھیک کرنے کا بیڑا اٹھا لیا

 کراچی:  لاہور قلندرز نے ملکی ہاکی کو بھی ٹھیک کرنے کا بیڑا اٹھا لیا۔

پی ایس ایل فرنچائز اور کراچی ہاکی ایسوسی ایشن کے درمیان ایک یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں جس کے تحت قلندرز نہ صرف ٹیلنٹ ہنٹ میں معاونت کرے گی بلکہ ماہ رمضان میں کمیونٹی ٹورنامنٹ بھی منعقد کیا جائے گا۔

اس ایم او یو پر لاہور قلندرز کی جانب سے عاطف رانا اور کراچی ہاکی ایسوسی ایشن کے حیدر حسین نے دستخط کیے۔

The post لاہور قلندرز نے ملکی ہاکی کو بھی ٹھیک کرنے کا بیڑا اٹھا لیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3q44vts

سینیٹ انتخابات کے بعد وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا امکان

 اسلام آباد:  سینیٹ کے انتخابات کے بعد وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا امکان ہے کیونکہ وزیر اعظم عمران خان کئی اہم وزرا کی کارکردگی سے خوش نہیں، اس لئے انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ کابینہ میں صرف وہی رہیں گے جو ڈیلیور کرسکیں گے۔

پارٹی ذرائع نے بتایا کہ ڈیلیور اورکارکردگی ہی وہ چیزیں ہیں جس میں وزیر اعظم دلچسپی لیتے ہیں کیونکہ وہ کسی بھی وجہ سے منصوبوں کی تکمیل میں غیرمعمولی تاخیر کے بعد بہانے سننے کو اچھا نہیں سمجھتے۔

ایک اہم وفاقی وزیر نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر کہاکہ وزیر اعظم کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ پارٹی حلقوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے، وزیر اعظم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ وزراء کو کسی عذر پیش کیے بغیر کارکردگی دکھانا ہوگی۔

وزیر نے انکشاف کیا کہ کابینہ میں وہی لوگ رہیں گے جو کارکردگی دکھائیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ متعدد معاشی اشارے درست سمت میں گامزن ہیں۔

The post سینیٹ انتخابات کے بعد وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا امکان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2ZXlgMn

معاشی استحکام کیلیے بیرونی سرمایہ کاری کو ترجیح دینے کی ضرورت

 کراچی:  پاکستان معاشی محاذ پر آئرلینڈ سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔

2008 کے عالمی اقتصادی بحران کے نتیجے میں آئرلینڈ دیوالیہ ہونے کے قریب تھا مگر محض 7برس کے بعد اس کی جی ڈی پی نے 26.3 فیصد کی حیران کُن شرح سے ترقی کی۔ اس کی وجہ آئرلینڈ کی حکومت کا سرمایہ کاروں کو ترجیحی طور پر ٹیکسوں میں چھوٹ دینا اور ان کے لیے دروازے کھول دینا تھا۔

آئرلینڈ نے12.5 فیصد کی شرح سے سنگل کارپوریٹ ٹیکس متعارف کرایا اور کینیڈا اور امریکا کے علاوہ یورپی ممالک سے دہرے ٹیکس کے عدم نفاذ کے معاہدوں پر دستخط کیے۔

پاکستان سوفٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے ایم ڈی عثمان ناصر نے ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوے کہا کہ اس پالیسی کی وجہ سے دنیا کی صف اول کی کمپنیاں جیسے ایپل، فیس بک اور گوگل وہاں سرمایہ لگانے کی جانب راغب ہوئیں اور انھوں نے وہاں اپنے دفاتر اور ذیلی کمپنیاں کھولیں۔

عثمان ناصر کا کہنا ہے کہ پاکستان بھی آئرلینڈ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شرح نمو میں نمایاں اضافہ حاصل کرسکتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بیرونی سرمایہ کاروں کو یہاں لانا اور غیرملکی سرمایہ کاری ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے اور ہمیں کچھ وقت کے لیے ٹیکس آمدن کے اہداف کو پس پشت ڈال دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھی 66 ممالک کے ساتھ دہرے ٹیکس سے بچاؤ کے معاہدے کررکھے ہیں جن کے تحت سرمایہ کار پر یا تو اس کے آبائی وطن یا پھر جہاں وہ سرمایہ لگارہا ہے اس ملک میں ٹیکس عائد کیے جائیں گے۔

عثمان ناصر کہتے ہیں کہ اپنی اسٹریٹجک لوکیشن کے ساتھ پاکستان مشرق و مغرب دونوں جانب کے سرمایہ کاروں کو سہولتیں بہم پہنچانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے ٹیکس کی شرح کم اور کاروبار کرنے میں آسانی ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ غیرملکی سرمایہ کار اپنے دفاتر اور پیداواری یونٹ یہاں لگاسکتے ہیں اور پاکستان سے دنیا بھر میں اپنی مصنوعات برآمد کرسکتے ہیں۔ پاکستان آئی ٹی انڈسٹری میں تیزی سے ترقی کررہا ہے اور آئی ٹی کی برآمدات رواں مالی سال میں 2 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔

عثمان ناصر کہتے ہیں کہ اگر غیرملکی کمپنیاں اپنے دفاتر یہاں قائم کریں تو باصلاحیت نوجوانوں کو بہتر ملازمتیں میسر آسکتی ہیں۔

The post معاشی استحکام کیلیے بیرونی سرمایہ کاری کو ترجیح دینے کی ضرورت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2OaV2Dc

چارسدہ، بابا صاحب مزار کے خادم کو قتل کر کے لاش جلا دی گئی

چارسدہ: تھانہ پڑانگ کی حدود میں بابا صاحب مزار میں خادم کو قتل کرکے لاش جلا دی گئی۔

بابا صاحب مزار میں خادم کو قتل کرکے لاش جلا دی گئی، مقتول لنگرخانہ میں مامور تھا۔

تفتیشی ٹیم نے سائنسی خطوط پر تفتیش کرتے ہوئے ایک گھنٹہ میں ملزم محمد نور خان سکنہ ملاکنڈ درگئی کو گرفتارکرکے آلہ قتل برآمد کر لیا، ملزم نے ابتدائی تفتیش میں اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔

The post چارسدہ، بابا صاحب مزار کے خادم کو قتل کر کے لاش جلا دی گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3bMOyCN

پنجاب میں 30 سیاحتی مقامات کو ترقی دینے کا فیصلہ

 لاہور:  حکومت پنجاب نے صوبے میں تیس نئے سیاحتی مقامات کو ترقی دینے کا فیصلہ کیا ہے جس سے سالانہ سو ارب روپے سے زائد کی آمدن حاصل ہوگئی جبکہ 20ہزار افراد کو روزگار ملے گا ۔

حکومت پنجاب نے ٹورازم فار اکنامک گروتھ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے منظوری دے دی ہے۔ پروگرام کے تحت بدھ مت، سکھوں کے آٹھ مقدس مقامات، ہڑپہ کی پانچ ہزار سال پرانی تہذیب اور مری کے قریب کوٹلی ستیاں اور نڑ کے مقامات کو سیاحت کے لیے ترقی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

منصوبے کے تحت خوشاب، چکوال، جہلم اور میانوالی کی سالٹ رینج میں بارہ سے چودہ مقامات مختلف مذاہب کے لیے مقدس گردانے جاتے ہیں اس کے علاوہ ہندو مت کے شاہی قلعے اور پرانی تہذیب کے آثار کو محفوظ بنانے اور سیاحوں کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مری میں سیاحوں کا رش کم کرنے اور نئی سائٹ ڈویلپ کرنے کے لیے مری کی ایکسٹینشن کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت کوٹلی ستیاں، اور، نڑ کے مقامات کو بھی سیاحوں کے لیے سہولیات سے مزین کیا جائے گا چیرلفٹ بنائی جائیں گے، روڈ اور مختلف سہولیات کی فراہمی کی جائے گی۔

The post پنجاب میں 30 سیاحتی مقامات کو ترقی دینے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3stAq8i

7 ماہ میں چینی سرمایہ کاری402.8 ملین ڈالر کیساتھ سرفہرست

 اسلام آباد: رواں مالی سال کے سات ماہ کے دوران پاکستان میں چینی سرمایہ کاری 402.8 ملین ڈالر کے ساتھ سرفہرست ہے۔

چینی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بڑھا ہے، 2020 میں ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ کل 117 غیر ملکی کمپنیوں میں سے زیادہ تر چینی تھیں۔

گوادر پرو کی رپورٹ کے مطابق دیگر ممالک کی نسبت چین کی پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری(ایف ڈی آئی) بلند ترین سطح پر پہنچنے کے باعث پاکستان کی معیشت مضبوط ہوئی ہے ۔ دیگر ممالک سے مجموعی طور پر ایف ڈی آئی میں 27 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

اسٹیٹ بینک رپورٹ کیمطابق 100 ملین سے زائد مجموعی ایف ڈی آئی کرنے والے نیدرلینڈ اور ہانگ کانگ تھے۔ انھوں نے سات ماہ کے دوران بالترتیب 122 ملین اور 105 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔

برطانیہ سے 83.8ملین ڈالر ، امریکہ 73.5 ملین ڈالر اور مالٹا سے بھی 60.6 ملین ڈالر کی نمایا ں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری آئی۔ ناروے سے سرمایہ کاری میں واضح تبدیلی نے ایف ڈی آئی کو بڑی حد تک متاثر کیا۔ اسکینڈی نیویائین ممالک سے مزید سرمایہ کاری کی بجائے 25.8 ملین ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

The post 7 ماہ میں چینی سرمایہ کاری402.8 ملین ڈالر کیساتھ سرفہرست appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3kFhNM0

سینیٹ الیکشن خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہی ہوں گے، سپریم کورٹ کی رائے

 اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سینیٹ الیکشن ریفرنس پراپنی راے دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ الیکشن خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہی ہوں گے۔

صدارتی ریفرنس میں تمام فریقوں کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے 4 روز قبل محفوظ کیا گیا فیصلہ سنادیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان گلزاراحمد نے سپریم کورٹ کی رائے اوپن کورٹ میں سنائی۔ فیصلے کے مطابق سینٹ الیکشن خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہی ہوں گے۔ سپریم کورٹ نے چارایک کی اکثریت سے فیصلہ سنایا، جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی رائے دی۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: سینیٹ الیکشن ریفرنس میں دلائل مکمل، سپریم کورٹ نے رائے محفوظ کرلی

سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمیشن شفاف الیکشن کے لیے تمام اقدامات کرسکتا ہے،تمام ادارے الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون کے پابند ہیں، الیکشن کمیشن کرپشن کے خاتمے کے لیے تمام ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کرسکتا ہے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں قراردے چکی ہے کہ سیکریسی کبھی بھی مطلق نہیں ہوسکتی اورووٹ ہمیشہ کے لیے خفیہ نہیں رہ سکتا، ووٹنگ میں کس حد تک سیکریسی ہونی چاہیے یہ تعین کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔

واضح رہے کہ وفاق، پنجاب، کے پی کے اوربلوچستان نے ریفرنس کی حمایت کی تھی جب کہ سندھ ،الیکشن کمیشن، (ن) لیگ اورپیپلز پارٹی نے اوپن بیلٹ کی مخالفت کی تھی۔

The post سینیٹ الیکشن خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہی ہوں گے، سپریم کورٹ کی رائے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3uGUTbx

کے ایم سی 10 کروڑ کے ٹھیکے من پسند ٹھیکیداروں میں تقسیم

 کراچی:  بلدیہ عظمیٰ کراچی میں 10 کروڑ کے ٹھیکے خلاف ضابطہ من پسند ٹھیکیداروں کو دے دیے گئے، نہ ٹینڈر اور نہ اشتہار من پسند ٹھیکیداروں کو اندرون خانہ براہ راست ٹھیکے دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

شدید مالی بحران سے دوچار بلدیہ عظمی کراچی میں10کروڑ لاگت کے ٹھیکوں کی چور دروازے سے بندر بانٹ کے ساتھ من پسند ٹھیکیداروں کو مکمل ادائیگیاں بھی کردی گئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی پر ٹھیکیداروں کے کئی ارب کے واجبات موجود ہیں لیکن حیران کن طور پر کے ایم سی محکمہ انجینئرنگ کے افسران نے کئی سال سے اپنے واجبات کا انتظار کرنے والے ٹھیکیداروں کو ادائیگی کرنے کے بجائے من پسند ٹھیکیداروں کو 10کروڑ روپے لاگت کے براہ راست ٹھیکے دے کر انھیں ادائیگی بھی کرادی ہے۔

محکمہ انجینئرنگ میں ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل کا لک آفٹر چارج رکھنے والے افسر کے دباؤ پر براہ راست ٹھیکے دیے گئے ہیں اور ہاتھوں ہاتھ ٹھیکیداروں کو ادائیگیاں کراکر افسران نے ہاتھ جھاڑ لیے ہیں، 2، 2 کروڑ لاگت کے 5 ٹھیکے من پسند ٹھیکیداروں میں تقسیم کیے گئے تھے اور منظم طریقے سے ٹھیکیداروں کو ہاتھوں ہاتھ ادائیگی کراکر منہ مانگا کمیشن وصول کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ بلدیہ کراچی میں 75 کروڑ کی اے ڈی پی ریلیز پر بھی تنازعہ کھڑا ہے۔

چیف سیکریٹری سندھ نے کے ایم سی محکمہ انجینئرنگ میں ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر اقتدار احمد کو تعینات کر رکھا ہے جبکہ ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی نے چیف سیکریٹری سندھ کے آرڈر کو چیلنج کرتے ہوئے ایک متنازع افسرجنھیں محکمہ بلدیات سندھ نے 17 گریڈ کا افسر قرار دیتے ہوئے محکمہ کچی آبادی رپورٹ کرنے کا حکم دے رکھا ہے، انھیں ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز گریڈ20 کے ایک نہ دو بلکہ 3 اعلیٰ عہدوں پر تعینات کر رکھا ہے اور ان کے ذریعے اے ڈی پی ریلیز کے75 کروڑ کے فنڈز کی ٹھیکیداروں کو ادائیگیاں کرادی ہیں۔

مذکورہ ادائیگیوں پر چیف سیکریٹری سندھ کے تعینات ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز اقتدار احمد نے اے جی سندھ کو خط ارسال کرکے حقائق سے آگاہ کیا جس پر اے جی سندھ نے مزید ادائیگیاں روک دی ہیں۔

کے ایم سی ذرائع کا کہنا ہے کہ شبیہ الحسنین کو محکمہ کچی آبادی میں رپورٹ کرنے کے سندھ حکومت کے جاری احکامات کو نہ مان کر ایڈ منسٹریٹر کے ایم سی نے سندھ حکومت کی رٹ کو چیلنج کر رکھا ہے اور محکمہ انجینئرنگ میں جاری مبینہ بدعنوانیوں کے باعث تحقیقاتی اداروں کی جانب سے بڑی کارروائی کا امکان ہے تاہم اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز کا لک آفٹر چارج رکھنے والے شبیہ الحسنین سے ان کا موقف جاننے کے لیے متعدد بار رابطہ کرنے کے باوجود ان سے رابطہ ممکن نہیں ہوسکا۔

ایڈ منسٹریٹرکے ایم سی لئیق احمد نے بھی فون سننے سے گریز کیا۔

The post کے ایم سی 10 کروڑ کے ٹھیکے من پسند ٹھیکیداروں میں تقسیم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3bM9UA9

آپریشن ردالفساد کی کامیابی … ٹیررازم سے ٹورازم تک کا سفر!

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور فیصلہ کن جنگ لڑی جس میں مختلف مراحل طے کیے گئے۔

چار برس قبل آپریشن ردالفساد شروع کیا گیا جس کے تحت ملک کے طول و عرض میں ہزاروں کامیاب آپریشن کیے گئے جن سے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی، ان کے نیٹ ورک کا خاتمہ کیا گیا ،انہیں جہنم واصل کیا گیا اور بیشتر کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیاگیا۔

حال ہی میں آپریشن ردالفساد کے کامیاب چار سال مکمل ہوئے ہیں جس پر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے قوم کو بریفگنگ دی۔ اس اہم آپریشن کے چار سال مکمل ہونے پر ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا اور اس کے مختلف پہلوئوں کا جائزہ لیا گیا۔ فورم کی رپورٹ نذر قارئین ہے۔

مولانا طاہر محمود اشرفی ( وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی )

افغانستان کے جہاد کے خاتمے کے بعد سے پاکستان پر دہشت گردی اور انتہا پسندی کو مسلط کرنے کی کوشش کی گئی مگر پوری قوم، افواج پاکستان اور سلامتی کے اداروں نے مل کر اس کا مقابلہ کیا۔ سنہ 2000ء کے بعد ہمارے دشمنوں نے پاکستان میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کو پھیلانے کا منصوبہ بنایا جس کے بعد ہمارے پارک، مساجد، امام بارگاہیں،چرچ کوئی مقام ایسا نہیں تھا جو محفوظ رہا ہو۔ دہشت گردوں نے ہمارے بچوں کو بھی نہیں چھوڑا اور آرمی پبلک سکول پشاور پر حملہ کرکے بدترین کام کیاجس کے بعد قوم نے فیصلہ کیا کہ اب ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ کرنا ہے۔

اس کے نتیجے میں آپریشن ردالفساد کیا گیا جس کی ذمہ داری صرف فوج نہیں بلکہ پوری قوم نے لی۔ آپریشن ردالفسادسے میں امن ، سکون اور اطمینان آیا اور اس آپریشن کی کامیابی کی بڑی وجہ قومی اتحاد تھا۔ اس جنگ میں ہمارے 80 ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے جن میں فوج، پولیس و سکیورٹی اداروں سے تعلق رکھنے والے افراد، بچے، بڑے ، بوڑھے اور8 ہزار علماء شامل ہیں۔ہمارے دشمن نے ملک کو کمزور کرنے کیلئے یہاں دینی اداروں، افواج پاکستان اور سلامتی کے اداروں میں ٹکرائو پیدا کرنے کی کوشش کی۔

یہاں فرقہ واریت اور نفرت کو فروغ دینے پر کام کیا جس کا اعتراف خود بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو نے اپنی گرفتاری کے بعد کیا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ ایک دن شیعہ لیڈر اور دوسرے دن سنی لیڈر کو قتل کیا جاتا تھا تاکہ فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دی جائے مگر پاکستانی عوام اور محراب و ممبر نے ان سازشوں کو سمجھا اور ٹکرائو پیدا کرنے کے اس منصوبے کو باہمی اتحاد سے ناکام بنایا۔ ایک بات قابل فکر ہے کہ پہلے صرف مذہبی حوالے سے کام کرنے کی ضرورت تھی مگر اب ہماری سیاست میں بھی انتہا پسندی آگئی ہے اور سیاستدان ایک دوسرے کے بارے میں بات کرتے ہوئے نہیں سوچتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔

ہمیں ملک سے انتہا پسندی کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے ’ایک قوم ایک منزل‘ کا جو نعرہ دیا وہ بہترین ہے۔ ہماری منزل اخوت، محبت، رواداری، امن، سلامتی، استحکام اور اعتدال ہے۔ ہمیں نفرتوں کو ختم کرنا ہے جس کے لیے ابھی بہت محنت کی ضرورت ہے۔ آپریشن ردالفساد کی کامیابی میں قومی ایکشن پلان کا بہت بڑا کردار ہے۔ ماضی میں قومی ایکشن پلان کے صرف ایک حصے پر عمل ہوا جس سے ایسا لگا کہ یہ پلان صرف محراب و ممبر کے لیے بنا ہے، اس کے تحت مساجد سے سپیکر اتروانے ہیں اور آئمہ اور خطباء کو تنگ کرنا ہے جو درست نہیں ہے۔

اس پلان کے 20نکات ہیں جن میں انتہا پسندی کے ہر پہلو کو بہتر کرنے کے بارے میں بات کی گئی ہے لہٰذااس پلان کو مکمل طور پر نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ مساجدو مدارس سے ہمیشہ امن، ترقی اور رواداری کی بات کی گئی ہے، مدارس کے جو نئے وفاق بنائے گئے ہیںان سے انشاء اللہ مزید بہتری آئے گی۔ آپریشن ردالفساد کے 4 سال پورے ہونے کے بعد الحمداللہ آج ہمارے پارک آباد ہیں اور بقول ڈی جی آئی ایس پی آر ہم ٹیررازم سے ٹورازم کی طرف آئے ہیں۔

ملک معاشی لحاظ سے درست سمت میں جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ آج کورونا کے باوجود ہماری معیشت بہتری کی طرف جا رہی ہے۔ ہماری فیکٹریوں کو لیبر نہیں مل رہی، ان کے پاس 2،3 برس کے ایڈوانس آرڈرز موجود ہیں جو یقینا بہت بڑی کامیابی ہے اور یہ آپریشن ردالفساد کے ہی ثمرات ہیں۔ ملک ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف کاوشوں پر دنیا ہماری معترف ہے ایسے حالات میں بھارت و دیگر دشمن طاقتیں افغانستان میں دہشت گردوں کو منظم کر رہی ہیں اور پاکستان مخالف منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

ان حالات میں ہمیں قومی وحدت کی ضرورت ہے،ہمیںقومی یکجہتی اور استحکام کی طرف جانا ہے۔ پاکستان کی سلامتی کے ادارے اور افواج نے ملکی سلامتی کیلئے جو کردار ادا کیا ہے، اس کی دنیا میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی ہمیں مل کر فوج اور قوم کو آپس میں لڑانے کی دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانا ہے۔

مسرت جمشید چیمہ (ترجمان پنجاب حکومت)

آپریشن رد الفساد کے 4 سال بعد آج پاکستان پہلے سے نہ صرف زیادہ محفوظ ہے بلکہ ہمارے ملک کی رونقیں بھی بحال ہو چکی ہیں۔ اس فساد کی بیخ کنی کرنے میں پاک فوج سمیت تمام سیکورٹی فورسز کے جوانوں اور افسران نے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں، پوری قوم اپنی سیکورٹی فورسز کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے ملک سے دہشت گردی کے عفریت کا خاتمہ کیا۔

سب سے پہلے تو میں آپریشن ردالفساد میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا ء کو خرج عقیدت پیش کرتی ہوں جنہوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر وطن کا دفاع کیا ۔ میں ان ماؤں کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں جنہوں نے ایسے بہادر بیٹے پیدا کیے اور اس ملک پر قربان کئے۔ آپریشن ردالفساد پورے ملک میں کیا گیا جس کا مقصد پر امن اور مستحکم پاکستان بنانا ہے۔ آپریشن ردالفساد کے ذریعے پاک افواج نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی۔ دہشت گردوں نے پاکستان میں نظام زندگی کو مفلوج کرنے کی ناکام کوشش کی لیکن ہماری افواج نے ان کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔

آپریشن ردالفساد کے تحت پنجاب میں 34ہزار، سندھ میں ڈیڑھ لاکھ، بلوچستان میں 52 ہزار جبکہ خیبر پختونخوا میں 80ہزار آپریشن کیے گئے۔ اسی دوران جب دشمن نے کراچی سٹاک ایکسچینج پر حملے کی مزموم کوشش کی تو فوری ایکشن لیتے ہوئے دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔

اس کے علاوہ خفیہ ایجنسیوں نے سخت محنت سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک پکڑے اور ان کی کمر توڑ دی۔ 2017ء سے لے کر اب تک 78 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ایکشن لیا گیا جبکہ1200 سے زائد دہشت گردوں نے ہتھیار ڈالے۔خیبر فور آپریشن بھی کیا گیا جس سے راجگال ویلی کو خالی کروایا گیا۔ انہی کاوشوں کی وجہ سے ہم خوشحالی، استحکام اور ترقی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

آپریشن ردالفساد کامیابی سے جاری ہے۔ ہمیں امن عمل کو مزید مضبوط کرنا ہوگا کیونکہ اس کے بغیر ترقی، خوشحالی اور استحکام کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ امن اور بین المذاہب ہم آہنگی ہمارا فلیگ شپ پروگرام ہے۔نفرت انگیز تقریر پر ہماری ’زیرو ٹالرنس ‘ کی پالیسی ہے۔ ہم نے مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ واریت ، شیعہ سنی فسادات کو ختم کرنے کی ہرممکن کوشش کی، یہی وجہ ہے کہ آج حالات بہتر ہیں اور کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیںا ٓیا۔ اب ہمارا بیانیہ بھی پہلے سے بہتر ہے اور دنیا میں ہماراسافٹ امیج بھی بہتر ہوا ہے۔

کھیل کے وہ میدان جو دہشت گردی کی وجہ سے ویران ہوگئے تھے آج دوبارہ آباد ہوچکے ہیں اور کرکٹ میچز ہورہے ہیں ۔ اسی طرح اب بیرونی سرمایہ دار اور اوورسیز پاکستانی بھی یہاں سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور خود کو محفوظ تصور کر رہے ہیں۔ ہم ٹیررازم سے ٹورازم کی طرف بڑھ رہے ہیں جو یقینا بہت بڑی کامیابی ہے۔ افسوس ہے کہ اپوزیشن نے دہشت گردی کے خلاف ملکی سالمیت کی اس جنگ میں بھی مفاد حاصل کرنے کی کوشش کی اور این آر او پر توجہ رکھی۔ مرکز اور تین صوبوں میں تو روابط مثالی ہیں مگر پیپلز پارٹی کی حکومت اور ملک کی اپوزیشن اس طرح سے تعاون نہیں کر رہی جیسے کرنا چاہیے تھا۔

ہمیں سمجھنا چاہیے کہ مضبوط پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ ہمارے لیے سب سے پہلے پاکستان ہے اور یہ وطن ہمیں اپنی اولاد سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ جو لوگ جانے انجانے میں ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں ہوش کے ناخن لینا ہونگے۔دشمن نے ہماری افواج کی کامیابی کو ناکامی میں بدلنے کی ناکام کوشش کی، ہائبرڈ وار کے ذریعے وہ ہمارے ذمہ دار لوگوں تک پہنچا مگر اسے کامیابی نہیں ہوسکی۔ افواج پاکستان نے سرحدوں کی حفاظت کی ہم پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کریں گے اور فرنٹ لائن سولجر بن کر ففتھ جنریشن وار کا مقابلہ کریں گے۔

جنرل (ر) غلام مصطفی (دفاعی تجزیہ نگار)

افواج پاکستان، ملکی سلامتی کے اداروں، پولیس اور سب نے مل کر دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور کامیاب جنگ لڑی جس کا آغاز 2008ء میں سوات آپریشن سے ہوا اور پھر ہم مختلف مراحل طے کرتے ہوئے آپریشن ردالفساد تک پہنچے۔

ملک میں نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا جو مشعل راہ تھا کہ ہم نے کس سمت میں جانا ہے۔ گزشتہ 4برسوں میں ملکی سلامتی کے ادارے چوکس رہے اورملک کے طول و عرض میں ہزاروں آپریشن کیے جن میں اللہ تعالیٰ نے کامیابی دی۔ ملک میں ابھی بھی کچھ مسائل ہیں، دہشت گردی کے اکا دکا افسوسناک واقعات ہو رہے ہیں مگر پاکستان کے شیردل جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ملک کی حفاظت کر رہے ہیں اور اس لیے قربانیاں دے رہے ہیں لوگ چین کی نیند سو سکیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ یہ صرف افواج پاکستان کی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کی کامیابی ہے۔

عوام نے سیسہ پلائی دیوار کی طرح افواج پاکستان کا ساتھ دیا اور ڈٹ کر کھڑے رہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی واضح کیا کہ جنگ صرف فوج نہیں قوم لڑتی ہے اور اگر قوم ساتھ کھڑی نہ ہو توکسی جنگ میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی ۔ ملک میں سویلین بالادستی پر بات ہوتی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی واضح کیا کہ جو کچھ کر رہی ہے وہ حکومت کر رہی ہے اور اس کے احکامات کے مطابق کام کیا جا رہا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ آسان نہیں ہے اور یہ ہم پر مسلط کی گئی ہے۔ ہمارے دشمن ہماری سرزمین استعمال کرکے ہمیں ہی نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہے۔ ہم زمینی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں سمیٹ چکے ہیں مگر اب ہائبرڈ وار ،ففتھ جنریشن وار کے حوالے سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک میں بدنما قسم کے خاردار پودے موجود ہیں۔

جنہیں ختم کرنے کی ضرروت ہے۔ آپریشن ردالفساد میں کچھ خامیاں بھی رہی ہیں ، سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ مرکز اور صوبوں کے درمیان روابط کا فقدان تھا اور وہاں صوبائیت کی جھلک نظر آئی تاہم مجموعی طور پر سب نے مل کر اس آپریشن کو کامیاب بنایا۔ ہمیں مرکز اور صوبوں کے مابین روابط کو مثالی بنانا چاہیے اور قومی مسائل پر قومی سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ اس حوالے سے آئین اور قانون میں جو ترمیم کی ضرورت ہے وہ بھی کرلینی چاہئیں تاکہ مسائل سے مکمل طور پر نمٹا جاسکے۔ امریکا نے 9/11 کے بعد بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی تو ہم اپنے ملک کی خاطر کیوں نہیں کرسکتے؟

دہشت گردی سے ملکی معیشت کو اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا، سکیورٹی کیلئے اخراجات میں اضافہ ہوا، معاشی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہوگئیں اور ملک کو معاشی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر اب آپریشن ردالفساد کی کامیابی کے بعد یہ خوش آئند ہے کہ ملکی معیشت بہتر ہورہی ہے اور مختلف سیکٹرز نے دوبارہ سے ترقی بھی کی ہے۔ ردالفساد کے باجود افواج پاکستان نے کورونا کی مشکل گھڑی میں ایمرجنسی کی ذمہ داریاں بھی ادا کیں، اس کے خطرات شدید تھے مگر اللہ کا شکر ہے کہ اب حالات بہتر ہیں۔ جو لوگ بلاوجہ تنقید کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ کٹھن اور مشکل حالات میں قومی سلامتی کے اداروں کا ساتھ دیں۔

پاک افغان سرحد پر باڑ لگانا ایک بڑا اور مشکل کام تھا جو تقریباََ مکمل ہوچکی ہے ، ایران کے ساتھ بارڈر کے معاملات بھی بہتر کیے جارہے ہیں جلد انٹری اور اگزٹ پر کنٹرول بہتر ہوجائے گا۔ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کیا جاچکا ہے۔ وہاں تیزی سے ترقی ہورہی ہے، سکول، کالج، سٹرکیں، مارکیٹیں بن رہی ہیں اور آہستہ آہستہ کنٹرول سول انتظامیہ کے سپرد کیا جا رہا ہے۔ پاکستان اس وقت درست سمت میں جا رہا ہے، آپریشن ردالفساد ابھی بھی کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور جو اندرونی و بیرونی دشمن سازشیں کر رہے ہیںا ن کے خلاف کارروائیاں کی جارہی ہیں۔

The post آپریشن ردالفساد کی کامیابی … ٹیررازم سے ٹورازم تک کا سفر! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2NRTdLH

نوجوان کو دوسری شادی مہنگی پڑ گئی، محبوبہ نے پٹائی کر دی

نواب شاہ:  نوجوان کو دوسری لڑکی سے شادی مہنگی پڑگئی جب کہ پہلی محبوبہ نے حملہ کرکے زخمی کردیا۔

مریم روڈ پر واقع مقامی شادی ہال میں شادی کی تقریب اس وقت شدید ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگئی جبکہ ناہید مہر نامی لڑکی نے دولہا نیاز مہرکوگریبان سے پکڑ لیا اور چیختی چلاتی کہنے لگی کہ محبت مجھ سے کرو، شادی کسی اور سے، ایسا نہیں ہونے دوں گی، خواتین نے ناہید کو پکڑنے کی کوشش کی جس پر لڑکی نے تیز دھار آلے سے حملہ کرکے دولہا کو زخمی کردیا۔

خواتین نے حملہ آور لڑکی کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا جبکہ زخمی دولہا کو فوری طور پیپلز میڈیکل کالج و اسپتال منتقل کیا گیا ۔ ذرائع نے بتایا کہ زخمی دولہا اور حملہ آور لڑکی آپس میں رشتے دار اور دونوں سٹھ میل کے قریب 18 ویں شاخ کے رہائشی ہیں ۔ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔

ذرائع کے مطابق ناہید مہر کا کہنا ہے کہ نیاز مہر کے پاس وہ ٹیوشن پڑھتی تھی جس دوران ہم دونوں میں محبت ہوگئی ۔ دونوں نے شادی کے قول اقرار کیے مگر اس نے کسی اور لڑکی سے شادی کرلی، میرے احتجاج پر اس نے دلاسہ دیا کہ جلد تجھ سے شادی کروں گا جس پر میں راضی ہو گئی، آج مجھے اطلاع ملی کہ نیاز نواب شاہ میں دوسری شادی کر ریا ہے جس پر میں شادی ہال پہنچ گئی اور نیاز کو پکڑلیا اور چمچہ مار کر اسے زخمی کردیا۔

دولہا کے عزیز و اقارب بھی تھانے پہنچ گئے اور بتایاکہ ہم رشتے دار ہیں اور معاملہ کورٹ کچہری میں نہیں لے جانا چاہتے۔ لڑکی کی نیاز سے شادی کرالیں گے۔رابطے پر پولیس نے تصدیق کی کہ لڑکے والوں کی یقین دہانی پر معاملہ نمٹ گیا ہے۔

شادی میں ہنگامہ کرنے والی طالبہ کی مبینہ خود کشی

20 سالہ طالبہ ناہید مہر نے اتوار کی شام اپنے گوٹھ کے گھر میں مبینہ خود کشی کر لی ہے۔ سٹھ میل پولیس تھانے کے ایس ایچ او منظور بھنگوار نے رابطے پر تصدیق کی کہ ناہید مہر نامی طالبہ نے گلے میں پھندا ڈال کر پنکھے سے لٹک کر خود کشی کرلی ہے ان سے جب پوچھا گیا کہ لڑکی کو غیرت کے نام پر قتل تو نہیںکردیا گیا اور خودکشی کا ڈرامہ رچایا گیا ہے۔

تھانیدار نے کہا کہ لاش پوسٹ مارٹم کے لیے پیپلز میڈیکل کالج و اسپتال منتقل کر دی ہے۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اگر قتل ثابت ہوا تو سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ آج دوپہر نواب شاہ کے مقامی شادی ہال میں مبینہ خود کشی کرنے والی طالبہ ناہید مہر نے نکاح کے وقت پہنچ کر شور شرابا کیا جسے حراست میں لیاگیا تھا۔ بعد ازاں لڑکی کو والدین کے حوالے کر دیاگیا جو ناہید کو اپنے ہمراہ گوٹھ لے گئے جہاں چند گھنٹوں بعد اس کی پھندہ لگی لاش پنکھے سے لٹکی ملی۔

The post نوجوان کو دوسری شادی مہنگی پڑ گئی، محبوبہ نے پٹائی کر دی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3aZq1v3

سینیٹ انتخابات کے بعد وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا امکان

 اسلام آباد:  سینیٹ کے انتخابات کے بعد وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا امکان ہے کیونکہ وزیر اعظم عمران خان کئی اہم وزرا کی کارکردگی سے خوش نہیں، اس لئے انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ کابینہ میں صرف وہی رہیں گے جو ڈیلیور کرسکیں گے۔

پارٹی ذرائع نے بتایا کہ ڈیلیور اورکارکردگی ہی وہ چیزیں ہیں جس میں وزیر اعظم دلچسپی لیتے ہیں کیونکہ وہ کسی بھی وجہ سے منصوبوں کی تکمیل میں غیرمعمولی تاخیر کے بعد بہانے سننے کو اچھا نہیں سمجھتے۔

ایک اہم وفاقی وزیر نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر کہاکہ وزیر اعظم کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ پارٹی حلقوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے، وزیر اعظم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ وزراء کو کسی عذر پیش کیے بغیر کارکردگی دکھانا ہوگی۔

وزیر نے انکشاف کیا کہ کابینہ میں وہی لوگ رہیں گے جو کارکردگی دکھائیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ متعدد معاشی اشارے درست سمت میں گامزن ہیں۔

The post سینیٹ انتخابات کے بعد وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا امکان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2ZXlgMn

چارسدہ، بابا صاحب مزار کے خادم کو قتل کر کے لاش جلا دی گئی

چارسدہ: تھانہ پڑانگ کی حدود میں بابا صاحب مزار میں خادم کو قتل کرکے لاش جلا دی گئی۔

بابا صاحب مزار میں خادم کو قتل کرکے لاش جلا دی گئی، مقتول لنگرخانہ میں مامور تھا۔

تفتیشی ٹیم نے سائنسی خطوط پر تفتیش کرتے ہوئے ایک گھنٹہ میں ملزم محمد نور خان سکنہ ملاکنڈ درگئی کو گرفتارکرکے آلہ قتل برآمد کر لیا، ملزم نے ابتدائی تفتیش میں اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔

The post چارسدہ، بابا صاحب مزار کے خادم کو قتل کر کے لاش جلا دی گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3bMOyCN

پنجاب میں 30 سیاحتی مقامات کو ترقی دینے کا فیصلہ

 لاہور:  حکومت پنجاب نے صوبے میں تیس نئے سیاحتی مقامات کو ترقی دینے کا فیصلہ کیا ہے جس سے سالانہ سو ارب روپے سے زائد کی آمدن حاصل ہوگئی جبکہ 20ہزار افراد کو روزگار ملے گا ۔

حکومت پنجاب نے ٹورازم فار اکنامک گروتھ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے منظوری دے دی ہے۔ پروگرام کے تحت بدھ مت، سکھوں کے آٹھ مقدس مقامات، ہڑپہ کی پانچ ہزار سال پرانی تہذیب اور مری کے قریب کوٹلی ستیاں اور نڑ کے مقامات کو سیاحت کے لیے ترقی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

منصوبے کے تحت خوشاب، چکوال، جہلم اور میانوالی کی سالٹ رینج میں بارہ سے چودہ مقامات مختلف مذاہب کے لیے مقدس گردانے جاتے ہیں اس کے علاوہ ہندو مت کے شاہی قلعے اور پرانی تہذیب کے آثار کو محفوظ بنانے اور سیاحوں کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مری میں سیاحوں کا رش کم کرنے اور نئی سائٹ ڈویلپ کرنے کے لیے مری کی ایکسٹینشن کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت کوٹلی ستیاں، اور، نڑ کے مقامات کو بھی سیاحوں کے لیے سہولیات سے مزین کیا جائے گا چیرلفٹ بنائی جائیں گے، روڈ اور مختلف سہولیات کی فراہمی کی جائے گی۔

The post پنجاب میں 30 سیاحتی مقامات کو ترقی دینے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3stAq8i

والدین کے دل تو موم کے ہوتے ہیں!

ناصرمحموداوریاسرمحموددونوں سگے بھائی ہیں۔ پنڈی کے ایک مضافاتی بستی کے رہائشی۔سفیدپوش بلکہ اس سے بھی نچلی سطح پرزندگی گزارنے پرمجبور۔والدزندہ تھا۔  کم ازکم ایک برس پہلے تک۔ ناصربڑابھائی تھا۔اسے احساس ہواکہ والدضعیف ہوچکاہے۔کسی بھی وقت بلاواآسکتاہے۔چھوٹابیٹایعنی یاسروالدکے کافی نزدیک تھا۔خدمت کرتاتھا۔لہذابوڑھے والدکاچھوٹے بیٹے کی طرف جھکاؤبہت زیادہ تھا۔

اس کے ذہن میں آیاکہ کہیں والد،محبت کے جوش میں جائیدادبرادرخوردکے نام نہ لگا دے۔اثاثے بھی کیاتھے۔دوتین ایکڑبارانی زمین اور ایک نیم پختہ مکان۔بارش پرمنحصرزمین سے چند ہزار روپے سال کے وصول ہوتے تھے۔وہ بھی ہمیشہ نہیں۔ بارش نہ ہونے کی صورت میں کونسی فصل اورکونسے پیسے۔ انتہائی معمولی ذرائع آمدن میں زندگی کیا ہوگی۔

اس کا اندازہ لگانازیادہ مشکل نہیں۔ناصرشادی شدہ تھا۔اس نے اب ہروقت سوچناشروع کردیاکہ کہیں چھوٹابھائی جائیدادکا مالک نہ بن جائے۔چنانچہ اس نے ایک انتہائی ادنیٰ اور المناک فیصلہ کیا۔شروع شروع میں تووالدکوکہاکہ جائیداد کا بٹواراکردے۔جب اس بوڑھے آدمی نے جواب دیاکہ اپنی زندگی میں جائیداداولادکے نام نہیں کریگا۔اس کی وفات کے بعدشرعی طریقے سے زمین اورگھراولادمیں تقسیم ہوجائیگا۔

اس نکتہ پرروزباپ بیٹے میں جھگڑاہونے لگا۔ناصرنے ایک منصوبہ بنایا۔جس میں والدکوزندگی کی قیدسے آزاد کرنا شامل تھا۔رات گئے،اپنے والدکے کمرے میں گیا۔ بوڑھا باپ سورہاتھا۔ناصرنے پوری طاقت سے باپ کا گلاد با دیا۔بیٹے کی تسکین پھربھی نہ ہوپائی۔ایک بوری لایا۔ باپ کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کیے۔گوشت کوبوری میں بندکیا۔بستی کے نزدیک ایک نالہ بہتاتھا۔

بوری،جس میں باپ کی لاش کے حصے تھے،خاموشی سے نالہ میں پھینک دیا۔گھرمیں چھوٹے بھائی کومعلوم ہی نہ ہوپایاکہ اس کے سگے بھائی نے اپنے ہی والدکوبے دردی سے قتل کر دیاہے۔خیرتلاش شروع کی گئی۔اس میں ناکامی کے بعد، پولیس کومطلع کیاگیا۔پولیس نے چندہی دنوں میں شبہ کی بنیادپرناصرکوگرفتارکرلیا۔دورانِ تفتیش بیٹاسب کچھ مان گیا۔نالہ سے بوری بھی برآمدہوگئی۔باپ کی لاش کے ٹکڑوں کواہل خانہ نے دفن کردیا۔بڑے بیٹے یعنی ناصرمحمودکے خلاف بھرپورقانونی کارروائی کی گئی۔

اسی نکتے کوآگے بڑھاتے ہوئے عرض کرنا چاہتا ہوں۔پشاورمیں بخشی پُل کے نزدیک ایک بستی ہے۔ غربت سے اَٹی ہوئی ہمارے عظیم ملک کی معمولی سی کالونی۔وہاں کاشف نام کاایک شخص،بیوی بچوں سمیت اپنی والدہ کے ساتھ رہتاتھا۔والدہ کانام مجددہ بی بی تھا۔ ساس بہومیں ہروقت نوک جھوک ہوتی رہتی تھی۔ گھر کا ماحول حددرجہ خراب ہوچکاتھا۔کاشف کبھی اپنی بیوی کوسمجھاتااورکبھی اپنی والدہ کو۔مگروہ ہروقت کی اس چخ چخ کونہ کم کرپاتاتھا،نہ گھرمیں اس کی کوئی بات سنتا تھا۔

ایک دن اسی طرح ساس بہوکاجھگڑاہورہا تھا ۔ کاشف نے الماری سے پستول نکالااوراپنی والدہ پر فائرنگ کر ڈالی۔اس کے بعدگھرسے بھاگ گیا۔ماں زخمی ہوکرزمین پرگرگئی۔بوڑھی عورت نے زورزورسے چیخناشروع کر دیا۔فائرنگ اورچِلانے کی آواز سنکر ہمسائے گھرپہنچے تو مجددہ سانس لے رہی تھی۔اسے پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال پہنچانے کی کوشش کی گئی ۔ مگرخاتون زخموں کی تاب نہ لاسکی۔اورایمبولینس ہی میں دم توڑگئی۔کاشف کوبھی گرفتارکرلیاگیا۔اس سے آگے لکھتے ہوئے میرا قلم لرزرہاہے۔ہمت ہی نہیں کہ اسطرح کے اَن گنت واقعات قلم بندکرپاؤں۔

اخبارمیں والدین کی اولادکے ہاتھوں مارے جانے کی خبریں پڑھنے کوملتی رہتی ہیں۔معمولی سے جھگڑے،جائیدادکی تقسیم اورخاندانی تنازعوں میں اولاد کے ہاتھوں ماں باپ کے مارے جانے کے واقعات اب کوئی رازنہیںہیں۔ ایسی قبیح حرکت۔ اتنابڑاظلم۔ اولادکے ہاتھوں والدین ہی جان دھوبیٹھیں۔ سوچنا تک دشوارہوجاتا ہے۔

مگر عذاب یہ ہے کہ اسطرح کی خبریں سچی ہوتی ہیں۔ اسطرح کے واقعات اب بڑھتے جارہے ہیں۔ قطعاً عرض نہیں کررہاکہ ماضی میں یہ گھٹیاروش نہیں تھی۔بالکل تھی۔ خصوصاًاقتدارکی جنگوں میں بھائی،باپ،بیٹے ایک دوسرے پرلشکرکشی کرتے رہتے تھے۔

برصغیرمیں کیونکہ اقتدارکی منتقلی کے متعلق ہونے کاکوئی ضابطہ نہیں تھا۔ اس لیے جیسے ہی بادشاہ کمزورہوتاتھا، بیمار پڑجاتا تھا یا آخری دموں پر ہوتاتھا۔توپھراولادایک دوسرے کے خلاف سلطنت حاصل کرنے کے لیے شورش میں مبتلا ہوجاتی تھی۔ برصغیرکی یہی روایت تھی کہ اقتدارکوصرف اورصرف تلوار کے زورپرہی حاصل کیاجاتاتھا۔اگرچندصدیوں پہلے کی مغربی دنیاپرنظرڈالیں تووہاں بھی سلطنت حاصل کرنے کے لیے بھائی،بہنیں،بیگمات ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے دکھائی دیتے ہیں۔

ویسے غورسے دیکھا جائے تو اسلامی ممالک کی اکثریت آج بھی اس منفی روش کا شکار ہے۔ ہمارے جیسے ملک میں بتایاجاتاہے کہ جمہوریت ہے۔ مگریہاں بھی غیبی تلوارکی طاقت کے بغیرکچھ نہیں ہو سکتا۔سازش،قتل وغارت کوتہذیب کابرہنہ لباس پہنا دیاجاتاہے۔مگربنیادی نکتہ وہیں رہتاہے کہ تخت کیسے حاصل کرناہے اورپھراس پرتسلط کیسے قائم رکھنا ہے۔ سلطنت کے حصول کی جنگ میں خاندانی رقابت کا المیہ سمجھ میں آتاہے۔مگرمعاشرے میں بالکل معمولی سی باتوں پر والدین اوراہل خانہ کوموت کے گھاٹ اُتار دینا صرف اور صرف ایک سماجی بیماری اورعلت کے سواکچھ بھی نہیں ہے۔

ہمارے عمومی،سماجی رویے کیا تھے۔ان میں کتنا خوفناک بگاڑآچکاہے۔اس پرہمارے معاشرے میں کھل کربات نہیں ہوتی۔ تسلیم ہی نہیں کرتے کہ معاشرہ اس حدتک گل سڑ چکاہے کہ اس سے تعفن کے علاوہ کچھ بھی برآمدنہیں ہورہا۔منافقت اتنی زیادہ ہے کہ جوہم ہیں، اس پربات کرناگناہ سمجھاجاتاہے۔جونہیں ہیں اورنہ بن سکتے ہیں۔اس پرہروقت کج بحثی جاری رہتی ہے۔

تاریخی لوریاں سناسناکرہمیں ایک ایسی ذہنی کیفیت میں مبتلا کر دیاگیاہے کہ ہم ماضی میں سانس لینے کے علاوہ اورکچھ نہیں کرسکتے۔انتہائی ضعیف روایات کومنطق کاحصہ بنا دیاگیاہے۔اورہم اس صورتحال سے اب کسی طور پر باہر نہیں نکل سکتے۔سچ بولنے اورسچ بتانے والے، سب لوگ معتوب گردانے جاتے ہیں۔یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہے کہ ہم میں سے اکثریت اپنے حال کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتی۔

مرداورعورت دونوں محنت کرتے نظر آئینگے۔ دفتروں ،دکانوں،منڈیوں،بازاروں میں روزمرہ کے کام میں مصروف نظرآئینگے۔تاجرحضرات روزانہ کثیر تعداد میں پیسے بینکوں میں جمع کرتے مصروف ہونگے۔کسی بھی طبقہ،امیریاغریب،ان لوگوں سے پوچھیں کہ آپ اتنی شدیدمحنت کیوں کررہے ہیں۔تواکثریت کاجواب ایک جیساہی ہوتاہے۔’’اپنے بچوں کے سکھ کے لیے‘‘۔ ’’ہماری زندگی جیسی تیسی گزری،مگراولادکوبہترمستقبل دینا چاہتے ہیں‘‘۔دیکھاجائے تواس میں آدھاسچ ہوتاہے۔

انسان اپنی آسائش کے لیے بھی محنت کرتاہے اوراپنی اولادکے لیے بھی۔ اپنی اپنی حیثیت کے مطابق وہ اولادکو تعلیم، کاروبار اور تجارت،سب کچھ سکھانے کی کوشش کرتا ہے۔یہ عمومی رویہ ہے اوراس کی مثالیں ہم میں سے ہرایک کے اردگرد بکھری ہوئی ہیں۔انسان اولادکے سکھ کو متعددباراپنے ذاتی آرام سے زیادہ ترجیح دیتاہے۔ مگر پھرہوتاکیاہے کہ اولادخودمختارہوکروالدین کی شدید ریاضت کو بھولنا شروع کردیتی ہے۔ماضی کی تکالیف برداشت کرکے انھیں ترقی کے مواقعے دینے کومکمل فراموش کردیتی ہے۔ والدین کی اہمیت روزبروزکم ہونی شروع ہوجاتی ہے۔

وہ بیچارے مکمل اکلاپے کاشکار ہوجاتے ہیں۔اولادان پرروک ٹوک بھی روارکھتی ہے۔ آپکو یہ کرناچاہیے۔یہ نہیں کرنا چاہیے۔ اس طرح کے فقرے عام سننے کوملتے ہیں۔ اب آپکوفیصلے کرنے کی ضرورت نہیں۔بس اب توآپ اللہ اللہ کریں ۔ نتیجہ یہ کہ بزرگوں کوانکی موت سے پہلے ذہنی طورپرختم کردیا جاتا ہے ۔ہرگزیہ عرض نہیں کررہاکہ تمام اولادایسے ہی کرتی ہے۔میں نے توایسے بلندکردارلوگ بھی دیکھے ہیں جوبوڑھے والدین کی خدمت کرنے کو عبادت گردانتے ہیں۔مگرانکی تعدادکم ہوتی جارہی ہے۔

بے ادبی کا دور دورہ حددرجہ زیادہ ہے اورپھرکچھ رقیق القلب لوگ ، اپنے والدین کوقتل تک کرڈالتے ہیں۔ اس سے بھیانک سماجی رویہ اورکیاہوگا۔ اولاد کو سمجھنا چاہیے کہ والدین کے دل توموم کے بنے ہوتے ہیں۔ انکا غصہ بھی بناوٹی ہوتاہے۔دل سے بچوں کے لیے صرف دعائیں نکلتی ہیں۔ان بے چاروں سے کیالڑنا!

The post والدین کے دل تو موم کے ہوتے ہیں! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/300hORe

ایڈوانس جمہوریت کا خواب

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ سیاسی پارٹی کے سربراہ کو ڈکٹیٹر نہیں ہونا چاہیے اور سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوری رویے اپنائیں جن میں چیک اینڈ بیلنس ہونا آئینی طور پر ضروری ہے۔ چیف جسٹس کے ریمارکس پر اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا کہ ایک دن آئے گا جب پاکستان میں ایڈوانس جمہوریت آئے گی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایسی سیاسی جماعتیں بھی ہیں جو ایک بندے پر مشتمل ہیں اور سیاستدان ایسے بھی ہیں جو کہتے کہ ہم نے ضمیر کے خلاف ووٹ ڈالا اگر سیاسی پارٹیوں کے سربراہ سب کی رائے لے کر فیصلہ کریں تو ہی بہتر ہوگا۔ پارٹی فیصلوں سے پہلے ہر رکن اسمبلی کو بھی اپنی رائے دینی چاہیے۔ چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک میں اگر جمہوریت برقرار رہتی تو موجودہ خرابیاں اور شکایات نہ ہوتیں۔

چیف جسٹس کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں کو ڈکٹیٹر نہیں بننا چاہیے اور پارٹی اجلاسوں میں اپنے رہنماؤں کا موقف سن کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ بانی پاکستان قائد اعظم کے بعد مسلم لیگ سمیت کسی پارٹی میں جمہوریت رہی اور نہ کسی پارٹی سربراہ کو یہ توفیق ہوئی کہ وہ اپنی پارٹی کو جمہوری طور پر چلاتا اور اسی وجہ سے جماعت اسلامی کے سوا کسی بھی پارٹی میں جمہوریت ہے نہ کسی پارٹی سربراہ کا انتخاب جماعت اسلامی کی طرح ہوتا ہے جہاں سربراہی کا خود کوئی امیدوار نہیں ہوتا بلکہ جماعت اپنے منشور کے مطابق اپنے مخصوص ارکان کو حق دیتی ہے کہ وہ جلد بازی کی بجائے سوچ سمجھ کر جماعت کے سربراہ کا انتخاب کریں۔

ووٹوں کے بعد جماعت کی طرف سے منتخب سربراہ کا اعلان کردیا جاتا ہے جو مقررہ مدت تک امیر کے فرائض انجام دیتا ہے اور امیر منتخب کرنے والوں کو ہی آیندہ الیکشن میں اپنے امیر کو مسترد کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ جماعت اسلامی کے بانی کے انتقال کے بعد ملک کے تمام صوبوں سے تعلق رکھنے والے رہنما امیر منتخب ہوتے آ رہے ہیں۔

پاکستان کی بانی جماعت مسلم لیگ واحد سیاسی پارٹی ہے جس کے صدر جنرل ایوب خان رہے اور بعد میں جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف نے اپنی حامی مسلم لیگیں بنائیں اور ملک میں جو بھی قومی اور علاقائی پارٹیاں ہیں انھی کے بانیوں کی اولاد آج بھی بانیوں کے انتقال کے بعد پارٹی سربراہی پر قابض ہے۔

صرف نواز شریف کے لیے کہا جاسکتا ہے کہ ان کے والد نے اپنی کوئی پارٹی نہیں بنائی تھی جو وراثت میں نواز شریف کو ملی ہو مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ انھیں جنرل ضیا الحق کی سرپرستی میں قائم ہونے والی مسلم لیگ کی پنجاب کی صدارت ملی تھی جس کے صدر وزیر اعظم محمد خان جونیجو تھے جن کی حکومت جنرل ضیا الحق نے دو سال بعد برطرف کردی تھی اور نواز شریف نے بعد میں مسلم لیگ میں اپنا گروپ مسلم لیگ (ن)کے نام سے بنا لیا تھا اور محمد خان جونیجو مسلم لیگ جونیجو رہ گئی تھی جو حامد ناصر چٹھہ کے پاس بھی رہی اور اب ختم ہو چکی ہے۔ مسلم لیگ (ن) سے چوہدریوں نے مسلم لیگ قائد اعظم جنرل پرویز مشرف کی سربراہی میں بنائی جس نے 5 سال حکومت کی اور جنرل مشرف کے بعد چوہدریوں کی ملکیت   ہے۔ مسلم لیگ (ن) اپوزیشن کی بڑی جماعت ہے جس کے قائد نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف اس کے صدر ہیں۔

پی ٹی آئی عمران خان نے 25 سال پہلے بنائی تھی جو اب تک اس کے چیئرمین چلے آ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی میں ایک بار الیکشن کرایا گیا تھا جس سے پارٹی میں اختلافات پیدا ہوئے جس کی سربراہی الیکشن کمیشن جسٹس(ر) وجیہہ الدین نے کی تھی اور انتخابی دھاندلیوں کی جو رپورٹ انھوں نے تیار کی تھی، اس میں اہم رہنماؤں کو ذمے دار قرار دیا گیا تھا جن کے خلاف چیئرمین نے کوئی کارروائی اپنی سیاسی مصلحت کے باعث نہیں کی وہ اب پی ٹی آئی میں اہم عہدوں پر ہیں اور حقیقی رپورٹ دینے والے تحریک انصاف سے باہر ہوگئے تھے۔

عمران خان نے پارٹی میں ایک بار ہی الیکشن کرانے کی کوشش کی پھر وہ بھی شریفوں، زرداریوں اور چوہدریوں جیسے ہوگئے اور پارٹی میں جمہوریت لانے سے تائب ہوگئے اور 25 سال سے پی ٹی آئی میں بھی مسلم لیگ (ن)، (ق)، پی پی اور جے یو آئی جیسی جمہوریت ہے اور عشروں سے وہی سربراہ گھر بیٹھے منتخب ہوتے آ رہے ہیں۔

کسی سیاسی پارٹی میں جماعت اسلامی کے سوا جمہوری رویے نہیں ہیں ان کے تمام سربراہ سیاسی ڈکٹیٹر بنے ہوئے ہیں۔ ان کے خلاف بات کرنے کی کسی پارٹی رہنما میں جرأت نہیں۔ رضا ربانی جیسے لوگ اپنے ضمیر کے خلاف پارٹی سربراہی کی خوشنودی کے لیے ووٹ دے کر اعتراف ضرور کرتے ہیں مگر سیاسی مفاد کے لیے خاموش رہنے پر مجبور ہیں جنھیں اعتزاز احسن کی طرح تمام برائیاں شریفوں میں نظر آتی ہیں اپنی پارٹی میں نہیں۔ تمام سیاسی پارٹیاں ان کے سربراہوں کی ذاتی ملکیت ہیں جن سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا تو پارٹیوں میں جمہوری رویہ کہاں سے آئے جو ایک خواب ہی ہے۔

The post ایڈوانس جمہوریت کا خواب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3r87bYj

سینیٹ الیکشن

سینیٹ کے انتخابات سامنے ہیں جب کہ لیڈران کرام پروپیگنڈہ مہم میں مصروف ہیں۔ اس سسٹم میں سب سے زیادہ اہمیت پروپیگنڈے کی ہوتی ہے اور پروپیگنڈہ جھوٹ اور سچ میں تمیز نہیں کرتا بلکہ جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنا ہی اس سرمایہ دارانہ نظام کا بڑا کارنامہ ہے۔

بے چارے عوام صرف نعرے لگانے کے لیے پیدا ہوتے ہیں وہ اپنا کام بڑی ایمانداری سے کرتے ہیں۔ عوام کا ایک حصہ ان لوگوں پر مشتمل ہوتا ہے جو نسلاً کسی مخصوص جماعت کے لیے اپنے دل میںہمدردی رکھتے ہیں ان پر کسی پروپیگنڈے کسی سچائی کا کوئی اثر نہیں ہوتا کیونکہ وہ نسلاً کسی پارٹی کے حامی یا مخالف ہوتے ہیں۔ اس رجحان کی وجہ سے سچائی کی بھینس  پانی میں چلی جاتی ہے اور جھوٹ کا بچھڑا سینگ مارتا ہوا یا سینگ مارتی ہوئی ہجوم میں گھس جاتی ہے۔

پروپیگنڈا مہم الیکشن لڑنے والی ہر جماعت کا حق ہوتا ہے وہ سچ اور جھوٹ کی تمیزکیے بغیر اپنی جماعت کے حق میں بولتے چلے جاتے ہیں۔ تقریر ایک فن ہے اور اس فن کو جاننے والے جھوٹ کو سچ بتا کر اس طرح پیش کرتے ہیں کہ سامعین ذہنی الجھنوں کا شکار ہوکر رہ جاتے ہیں اور یہ پروپیگنڈا ہی ہوتا ہے جو رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرتا ہے۔ آواز کا زیر و بم اور اتار چڑھاؤ یہ وہ قابلیت ہیں جسے ہم اکتسابی کہہ سکیں یا  خوبی مقرر کی ذاتی خوبی ہوتی ہے اور یہی خوبی ہجوم کی سائیکی کو متاثرکرتی ہے۔

پچھلے کچھ عرصے سے بعض سیاسی جماعتیں جھوٹ اس دھڑلے سے بول رہی ہیں کہ ہوشیار آدمی کا ایمان بھی ڈگمگا جاتا ہے، اسی کو فن تقریرکہا جاتا ہے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ آج کے میدان سیاست میں مرد کی روایتی برتری کی بجائے ایک خاتون کی غیر روایتی برتری کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ آواز کا زیر و بم کے ساتھ خصوصاً ہاتھوں کی نقل و حرکت عوام کو متاثر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ خوبی بہت کم مقررین میں ہوتی ہے خاص طور پر خواتین میں اور یہ مسلم لیگ (ن) کی خوش قسمتی ہے کہ اسے  شاندار مقررین ملے ہیں۔

تقاریر کے میدان میںان کا کوئی جواب نہیں۔ ایک طویل عرصے بعد وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس میدان میں قدم رکھا ہے اور عوام ان کی تقریر سے تو متاثر ہوتے نظر نہیں آتے، البتہ وہ اپنی تقاریر میں جوکچھ بولتے ہیں عوام کا متاثر ہونا ایک فطری امر ہے اور عوام اس سے بہت فائدہ اٹھا رہے ہیں کیونکہ ایک چھوٹا سا سچ ہزار جھوٹ پر بھاری ہوتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان سچ بولنے کے فن سے ضرور واقف ہیں جو سارے جھوٹ کو نگل لیتا ہے۔

مشکل یہ ہے کہ عمران خان کا ایک چھوٹا سا سچ جھوٹ کے پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر دیتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اپنے دس سالہ دور میں جو لوٹ مار کی اس کا پروپیگنڈا قومی ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر اتنا شدید رہا کہ ملک کا بچہ بچہ اس نامور اسکینڈل سے واقف ہو گیا ہے۔ اس حقیقت کو پروپیگنڈا سے چھپانا بہت مشکل ہے۔ عمران خان اور ان کی پارٹی کو یہ کریڈٹ حاصل ہے کہ باوجود سر توڑکوششوں کے عمران اور ان کے ساتھیوں کے خلاف ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہ ہو سکی جس کا بھرپور بینفیٹ عمران خان کو مل رہا ہے۔

عام خیال یہ ہے کہ ملک میں مہنگائی کا جو طوفان آیا ہوا ہے وہ اپوزیشن کی سازش کا حصہ ہے اس تاثر سے اگرچہ عوام گومگو کی حالت میں ہیں لیکن اگر اس حوالے سے عمران خان ٹھوس ثبوت پیش کرتے ہیں تو عوام کی پکی حمایت انھیں حاصل ہوسکتی ہے۔ ویسے بھی پاکستان تحریک انصاف اس سے قبل اقتدار میں نہیں آئی لہٰذا اس پر کرپشن کے الزامات عوام کے سامنے ایک مذموم پروپیگنڈے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ اپوزیشن کی جوشیلی تقاریرکی تعریف تو کی جاسکتی ہے لیکن اپوزیشن کے 10 سالہ ماضی کے کارنامے بدل نہیں سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دوران جو کرپشن کی گئی اسے عوام نہیں بھلا سکتے۔

انتخابات سینیٹ کے ہونے جارہے ہیں، قومی اسمبلی کے نہیں لیکن ان انتخابات کی اہمیت ایک آزمائشی پرواز سے زیادہ نہیں۔ ان انتخابات سے دونوں جماعتوں کو عوام میں اپنی اپنی مقبولیت کا اندازہ ہوگا اور اس کے حوالے ہی سے وہ قومی انتخابات کی پالیسی بنائیں گے۔

اپوزیشن نے اپنے 10 سالہ زریں دور میں جو کارنامے انجام دیے ،اس کا عوام کے ذہنوں پر منفی اثر ہونا لازمی ہے اس حوالے سے (ن) لیگ کے لیے قومی انتخابات ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ (ن) لیگ آج اپنے جلوسوں کو چھومنتر سے جو کامیابی دلا رہی ہے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ اس ملک میں اس قسم کی چالاکیاں عام ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے  کہ آنے والے انتخابات تک اگرحکومت کو مہلت ملتی ہے تو عمران خان قوم ملک کے لیے اتنا کام کر جائیں گے کہ آیندہ دس پندرہ سال تک وہ اقتدار میں رہیں گے تو وہ عوامی مسائل کو حل کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہو جائیں گے۔

اصل مسئلہ یہی ہے جسے (ن) لیگ اچھی طرح جانتی ہے کہ اگر حکومت کو پانچ سال بھی مل گئے تو وہ عوامی مسائل حل کرنے میں اس حد تک کامیاب ہو جائے گی کہ آیندہ دس پندرہ سال اگر کوئی آسمانی سلطانی نہ ہو تو اقتدار میں رہ سکتی ہے جس کا مطلب 11 جماعتی اتحاد کے کریا کرم کے علاوہ کچھ نہ ہوگا۔ گھوڑا اور میدان سامنے ہے اگر پی ڈی ایم کسی بھی طریقے سے سینیٹ کے انتخابات جیت لیتی ہے کیونکہ ہماری سیاست میں معجزے کارفرما رہتے ہیں اگر حکومت اپنی نااہلی کے باوجود انتخابات جیت جاتی ہے تو کہا جاسکتا ہے کہ اس نے اپنے پیر جما لیے ہیں۔

The post سینیٹ الیکشن appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3uGL25C

ایوانِ بالا کے الیکشن: بالادستوں کا شغل؟

کل کا دن چھوڑ کر پرسوںپاکستان کے ایوانِ بالا میں انتخابات کا میدان لگے گا۔ کچھ نئے چہرے پہلی بار ایوانِ بالا کی زینت بنیں گے اور کچھ وہ چہرے مہرے پھر سامنے آئیں گے جو گزشتہ کئی برسوں سے کئی بار ایوانِ بالا کے رکنِ رکین بنتے آ رہے ہیں۔ سینیٹ کے لیے پنجاب میں تو نون لیگ،پی ٹی آئی اور قاف لیگ کے گیارہ ارکان بلا مقابلہ منتخب بھی ہو گئے ہیں۔

اس کے باوصف 3مارچ 2021 کا سینیٹ الیکشن پاکستانی سیاسی و اقتداری تاریخ کا سب سے مشکل اور پُر آزما چناؤ ہوگا۔ وزیر اعظم جناب عمران خان کو بھی احساس ہورہا ہے کہ سینیٹ میں کامل فتح کا حصول اتنا سہل نہیں ہے۔ سینیٹ کے ان انتخابات سے قبل سندھ، بلوچستان،کے پی کے اور پنجاب کے تازہ ترین نصف درجن سے زائد ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کو جس طرح شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس نے بھی پی ٹی آئی قیادت کے اعصاب پر یقیناً دباؤ ڈالاہوگا ۔ ڈسکہ میں ضمنی انتخاب کے نتائج کے حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کا فیصلہ بھی حکومت کوناراض کر گیا ہے۔

جھرلو کے انسداد کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کا یہ اصولی فیصلہ بھی مستحسن قرار پایا ہے کہ ’’ صدر اور صوبوں کے گورنرز سینیٹ انتخابات سے متعلق کسی بھی طرح کی انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیں گے۔ اپنے متعلقہ گھروں اور دفاتر کو اس حوالے سے استعمال نہیں کریں گے۔‘‘ سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لینے والوں کے جو نام فائنل ہو کر ہمارے سامنے آئے ہیں، وہ زبانِ حال سے ہم سب کو بتا رہے ہیں کہ پاکستان کے ایوانِ بالا میں پہنچنے کی تگ و دَو کرنے والے یہ لوگ اکثریت میں ہمارے سماج کے بالادست طبقات سے تعلق رکھتے ہیں ۔

پھر پاکستان کے زیر دست اور متوسط طبقات کے مفادات اور آدرشوں کی بات کون کرے گا؟ روزی روٹی کی فکر میں غلطاں و سرگرداں ایک عام پاکستانی کو بھلا سینیٹ کے ان انتخابات سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟ ایسے میں ہمیں پچاس سال قبل اے آر شبلی کی لکھی گئی مشہور کتاب ’’پاکستان کے دیہہ خدا‘‘ یاد آتی ہے۔ مصنف شبلی نے حقائق اور اعدادو شمار کی بنیاد پر ’’پاکستان کے دیہہ خدا‘‘ میں اپنے قارئین کو بتایا تھا کہ وہ جاگیردار، وڈیرے اور سرمایہ دار کون اور کتنے ہیں جن کے ’’دستِ قدرت‘‘ میں پاکستان کی اکثریتی غریب اور بے نوا آبادی محض غلام بن کر رہ گئی ہے ۔آج2021کا منظر پچھلے پچاس برسوں کے مقابلے میں زیادہ بھیانک ہے۔

’’دیہہ خداؤں ‘‘کا ذِکر علامہ اقبال ؒ کے ایک شعر میں بھی ملتا ہے :’’دیہہ خدایا،یہ زمیں تیری نہیں، میری نہیں/تیرے آبا کی نہیں، تیری نہیں، میری نہیں‘‘۔ہماری سیاست و صحافت کے کئی لوگ ’’پاکستان کے دیہہ خدا‘‘ نامی کتاب کانام بھی ممکن ہے بھول گئے ہوں لیکن یہ واقعہ ہے کہ آج بھی ’’پاکستان کے دیہہ خدا‘‘ ہی ملک اور سماج پر قابض ہیں؛ چنانچہ امیر جماعتِ اسلامی ، سراج الحق ، کا یہ کہنا نہایت درست معلوم ہوتا ہے :’’پاکستان میں تقریباً600  خاندانوںکی حکومت ہے جنھوں نے ملکی وسائل پر قبضہ کرکے عوام کو زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے محروم کررکھا ہے۔

پنجاب میں سینیٹرز کے چناؤ کے لیے دو بڑی پارٹیوں کا مفاد پرستانہ مُک مکا پوری قوم نے دیکھ لیا ہے…‘‘ یہی لوگ اکثریت میں ایوانِ بالا کے رکن بنتے ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اُن افراد کی اکثریت نظر آتی ہے جو بے کسوں، مزدوروں اور غریبوں کے خون سے اپنا چراغِ اقتدار روشن کرتے ہیں۔

سینیٹ کی رکنیت حاصل کرنے کے خواہشمندوں میں چند ایک ہی نام ایسے سامنے آئے ہیں جن کا تعلق بے زروں میں شمار کیا جا سکتا ہے ۔ مثال کے طور پر پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر صاحب ۔اُن کی بے سروسامانی کا یہ عالم نکلا ہے کہ جس روز اُنہوں نے سینیٹ کے لیے اپنے کاغذاتِ نامزدگی داخل کرانے کے ساتھ متعینہ فیس سرکاری خزانے میں جمع کروانی تھی ، اُن کے پاس مطلوبہ رقم ہی نہیں تھی ۔

ساتھیوں نے چندہ کرکے فیس کی رقم اکٹھی کی ۔ہمارے محبوب وزیر اعظم عمران خان صاحب سینیٹ میں نوٹوں کی طاقت سے پہنچنے کی خواہش رکھنے والوں کا جو ذکر بار بار فرمارہے ہیں ، اس بیان کی موجودگی میں کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وطنِ عزیز کے ایوانِ بالا میں کوئی ہما شما پاکستانی پہنچنے کا خواب بھی دیکھ سکتا ہے ؟ سندھ سے پی ٹی آئی کے ایک معروف رہنما، لیاقت جتوئی، نے سینیٹ کے ٹکٹوں کی تقسیم پر جو سنگین تہمت لگائی ہے۔

سُن کرسب انگشت بدنداں ہیں ؛ چنانچہ نون لیگ کے ایک رہنما ، عطاء اللہ تارڑ، کا یہ بیان خاصا معنی خیز ہے :’’ لیاقت خٹک( وزیر دفاع کے بھائی) سے لیاقت جتوئی(سابق وزیر اعلیٰ سندھ) تک سامنے آنے والی کہانی بہت دردناک ہے۔‘‘ ایک صاحب نواز شریف کے تعاون سے بلا مقابلہ منتخب ہو کر پانچویں بارسینیٹ میں پہنچ گئے ہیں۔ ایک ایسے خوش بخت بھی ہیں جو رکنِ قومی اسمبلی ہونے کے باوجود پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر سینیٹ کا رکن بننا چاہتے ہیں۔سینیٹ میںکوئی ایسی دلفریب اور دلکش بات تو یقیناً ہے کہ یہ ایوان پاکستان کے طاقتوروں اور بے پناہ دولت مندوں کو مقنا طیس کی طرح اپنی جانب کھینچے جا رہا ہے۔

ایوانِ بالا کے انتخابات سے قبل نون لیگ کو کچھ تازہ دھچکے لگے ہیں۔ مثال کے طور پر نون لیگی سینیٹر جناب مشاہداللہ خان کا سینیٹ انتخابات سے دو ہفتے قبل انتقال اور مشہور نون لیگی سینیٹر جناب پرویز رشید کو سینیٹ کے  کھیل سے آؤٹ کرنا ۔ ہماری سینیٹ جہاں ’’پاکستان کے دیہہ خدا‘‘ اپنی دولت کے بَل پر غالب و کارساز بنے بیٹھے ہیں ، وہیں مشاہدا للہ خان اور پرویز رشید کا شمار حقیقی کارکن اور بے زر سینیٹروں میں ہوتا تھا۔ آخری وقت میں پرویز رشید کا میدانِ سینیٹ سے آؤٹ کیا جانا نون لیگ کے لیے بڑے صدمے کا باعث ہے ۔

مشاہد اللہ خان نون لیگ کے نہایت وفادار اور جنگجو سینیٹر تھے ۔ ایوانِ بالا میں دورانِ خطاب اپنے حریفوں پر اشعار کی زبان میں جھپٹنا اُن کی پہچان بھی تھی اور شعار بھی ۔ نواز شریف کی محبت میں ایک بار اُنہوں نے بی بی سی سے مکالمہ کرتے ہُوئے ایک ایسی بات بھی کہہ دی جس نے مبینہ طور پر بعض خاص افراد کو ناراض کر دیا تھا۔اس کی ’’پاداش‘‘ میں نواز شریف نے اپنے اس باوفا ساتھی سے وزارت کا قلمدان واپس لے لیا تھا لیکن مشاہداللہ خان نے نواز شریف سے اپنی محبت واپس نہیں لی ۔موت تک نون لیگ سے اُن کی وفاداری اور استواری میں کوئی کمی نہ آ سکی۔

اللہ اُن کی مغفرت فرمائے۔ پرویز رشید کی وزارت بھی نواز شریف نے اُس وقت چھین لی تھی جب نون لیگ پر ادبار کے بادل چھا رہے تھے ۔ اس کے باوصف پرویز رشید کی نون لیگ اور نواز شریف سے محبتیں پوری طرح قائم  و دائم رہیں ۔ و ہ بدستور نون لیگ کو فکری غذا فراہم کرتے رہے۔ اُنہیں نواز شریف اور محترمہ مریم نواز کا اعتماد حاصل رہا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ مریم نواز کی خاص الخاص تقریروں کے اصل آرکیٹکٹ ہیں ۔

اس پس منظر میں سینیٹ کے لیے پرویز رشید کے کاغذاتِ نامزدگی کا استرداد اور پھر الیکشن  ٹریبونل کی طرف سے اپیل کا بھی مسترد کیا جانا دراصل مریم نواز کے لیے حقیقی نقصان دہ ثابت ہُوا ہے ۔ اب پرویز رشید کی جگہ اگرچہ نواز شریف کے ایک اور بندہ خاص کی سینیٹ کے لیے لاٹری نکل آئی ہے لیکن بقول انشاء اللہ خان انشا: مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔

The post ایوانِ بالا کے الیکشن: بالادستوں کا شغل؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3bQldXZ

مجلس ترقی ادب کی ترقی

لسانیات کی کسی قوم کی سیاسی، سماجی ، حتیٰ کہ اقتصادی زندگی میں کیا اہمیت ہے؟ اس کا ہمارے یہاں چرچا تو بہت ہے لیکن علمی کام نہ ہونے کے برابر ہے، یہ ڈاکٹرمحمد قاسم بوگھیو ہیں جنھوں نے اس موضوع پر انتہائی منضبط اور غیر معمولی کام کیا ہے جسے ان کی شاہ کار کتاب ’لسانیات تا سماجی لسانیات‘ میں دیکھا جاسکتا ہے، یہ کتاب اتنی وقیع ہے کہ اسے لسانیات کے موضوع پر دنیا میں کسی بھی انتخاب کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر قاسم بگھیو چوں کہ نظریہ و تحقیق کے شہ سوار ہیں، اس لیے عمومی خیال یہی تھا کہ نقد و نظر میں شغف رکھنے والے عالم کے دور میں ادیبوں کے سب سے بڑے ادارے اکادمی ادبیات پاکستان کے معاملات کچھ سست روی کا شکار نہ ہو جائیں لیکن تعلیم و تدریس کے طویل تجربے  کے علاوہ مختلف جامعات اورسندھی لینگویج اتھارٹی کی سربراہی کاتجربہ یہاں مزید نکھر کر سامنے آیا اور اکادمی کے تن مردہ میں جان پڑ گئی ۔ ان کے دور میں ادبیوں کی قومی کانفرنس کا انعقاد ہوا جو گزشتہ کئی دہائیوں سے نہیں ہو سکی تھی۔

اسی طرح سابق صدر ممنون حسین کی تجویز پر یہاں دارالترجمہ کا قیام عمل میں آیا جس میں کئی اہم کتابوں کے تراجم ہوئے۔ معذور ادیبوں کی امداد میں اضافہ اور ملک کے علمی و ادبی اداروں کی علمی اور مالی معاونت میں تیزی آئی۔ اس بنا پر خیال یہی تھا کہ اگلی ٹرم کے لیے بھی ان کا انتخاب ہو جائے گالیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا۔ وہ یہاں سے رخصت ہوئے تو خطرہ پیدا ہو گیا کہ کہیں اس اہم ادارے کا حشر بھی وہ نہ ہو جائے جو ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی رخصتی کے بعد نیشنل بک فاؤنڈیشن اور عقیل عباس جعفری کے بعداردو ڈکشنری بورڈ کا ہورہا ہے لیکن خوبی قسمت سے ارباب اختیار کی نگاہ انتخاب ڈاکٹر یوسف خشک پر جاپڑی ۔

ڈاکٹر یوسف خشک نسبتاً نوجوان ہیں اور ڈاکٹر قاسم بگھیو کی طرح دہری صلاحیت کے مالک ہیں ، یعنی علم و ادب پر بھی اتنی ہی توجہ ہے جتنی انتظامی معاملات پر۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے ان کی آمد ہوئی ہے، اکادمی میں رونق بڑھ گئی ہے۔ کوئی دن نہیں جاتاجب اکادمی میں کوئی ایسا پروگرام نہ ہو رہا ہو جس میں ملک کی نامور ادبی شخصیات کے علاوہ ارباب ریاست شریک نہ ہو تے ہوں۔اس طرح کی تقریبات اور میلوںسے اپنی جگہ گہما گہمی پیدا ہوئی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے ملک کی بھولی بسری زبانوں پر بھی توجہ دی ہے۔

اردو کے علاوہ ملک کی دیگر چار بڑی قومی زبانوں یعنی سندھی، پنجابی، بلوچی اور پشتو تو ہمارے ہاں نگاہوں میں رہتی ہی ہیں لیکن ملک کے دور دراز علاقوں میں بولی جانے والی درجنوں زبانیں جن کے معدوم ہونے کا خطرہ ہر وقت  سر پرمنڈلاتا رہتا ہے، ڈاکٹر صاحب نے ان پر بھی توجہ دی ہے جیسے شینا اور براہووی وغیرہ۔ وہ ان زبانوں کو تازگی بخشنے کے کئی منصوبے ذہن میں رکھتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے نہ صرف ان دوردراز علاقوں میں جاکر ان خوابیدہ زبانوں کے ادیبوں کو متحرک کیا ہے بلکہ ان کے لیے کچھ ایسی سرگرمیوں کے منصوبے بھی تیار کیے ہیں جن پر عمل درآمد سے قومی سطح پر ادبی اور لسانی دنیا میں ایک نئی گہما گہمی پیدا ہو جائے گی۔

ان کا ایک اور بڑا کارنامہ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی اردو کی نئی بستیوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا بھی ہے، اس مقصد کے لیے انھوں نے اکادمی کے پلیٹ فارم سے ’ادبیات‘ کے نام سے ایک آن لائن بین الاقوامی سہ ماہی جریدے کے اجرا کا فیصلہ کیا ہے جس میں بیرون ملک پاکستانیوں اور ان غیر پاکستانیوں کی تخلیقات کو جگہ ملے گی جو اردو سے محبت کرتے ہیں اور اردو میں لکھتے  ہیں۔ یہ پلیٹ فارم صرف اردو ادب کے عالمی سطح پر فروغ اور پزیرائی کا باعث ہی نہیں بنے گا بلکہ پاکستان کے غیر روایتی سفیر کا کردار بھی ادا کرے گا۔توقع رکھنی چاہیے کہ آنے والے دنوں میں ہمارا یہ قومی ادارہ ایسی مزید سرگرمیوں کے فروغ کا ذریعہ بنے گا جس سے ادب، ادیب اور ملک کی نیک نامی میں اضافہ ہو گا۔

موجودہ دور حکومت میں اکادمی کی قیادت کے لیے ایک موزوں انتخاب نے علم و ادب کے ضمن میں اس حکومت کی ترجیحات کے بارے میں خوش گمانی پیدا ہوئی اور توقع کی جانے لگی کہ اور کچھ نہ سہی ادب کا شعبہ توبھرپور کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے لیکن حال ہی میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا ہے جس کی وجہ سے اس خوش گمانی کا تیا پانچہ ہو گیا ہے۔ یہ معاملہ ہے حکومت پنجاب کے تحت کام کرنے والے ادارے مجلس ترقی ادب کا۔ مجلس ترقی ادب اگرچہ ایک صوبائی ادارہ ہے لیکن اس کی شہرت اور نیک نامی صرف قومی نہیں بین الاقوامی سطح کی تھی۔

اس کا سبب یہ تھا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اس ادارے کی قیادت پسند ناپسند جیسی آلائشوں سے بالا تر ہو کرہمیشہ کسی ایسی شخصیت کو سونپی گئی، علم وادب سے جس کی وابستگی شک و شبہ سے بالا اور صرف اور صرف اسی کے لیے مخصوص رہی ہے۔ ماضی میںکیسی کیسی باکمال شخصیات اس ادارے کی سربراہ رہی ہیں، صرف ان کے ناموں کی فہرست دیکھ کر ہی اس کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ 1950 میں قائم ہونے والے اس ادارے کے پہلے سربراہ سید امتیاز علی تاج تھے۔

ان کے بعد یہ عزت پروفیسر حمید احمد خان،احمد ندیم قاسمی اور شہزاد احمد جیسے بلند پایہ محققین اور ادیبوں کے حصے میں آئی۔ ان کے بعد یہ مرتبہ ڈاکٹر تحسین فراقی کو ملا۔ڈاکٹر تحسین فراقی اس شعبے میں کیا اہمیت رکھتے ہیں؟ اردو ادب کے سب سے بڑے نقاد محمد حسن عسکری کے فکر و فن پر انتہائی خوبصورت کتاب ’ محمد حسن عسکری ادبی و فکری سفر ‘کے مصنف عزیز ابن الحسن لکھتے ہیں کہ تحسین فراقی تو وہ آدمی ہے کہ جسے اس زمانے میں کلاسیکی اردو، فارسی اور انگریزی کا سب سے بڑا رمز شناس کہیں۔

انھوں نے مزید لکھا ہے کہ اس عہد کے سب سے بڑے نکتہ رس مصنف اور نقاد شمس الرحمٰن فاروقی بھی ان کی علمی گہرائی اور گیرائی کے گھائل تھے۔ شان دار علمی روایت رکھنے والی مجلس ترقی ادب کی قیادت اگر ایسی شخصیت کے ہاتھ میں تھی تو یہ انتخاب کسی بھی حکومت کے لیے تمغہ حسن کارکردگی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن  ظلم یہ ہے ڈاکٹر صاحب کی ٹرم میں ابھی  تقریباً ایک برس کا عرصہ باقی تھا لیکن اچانک ایک روز انھیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

یوں نہ کوئی نوٹس ہوا، نہ لسانیات اور ادبیات کے ایک بلند پایہ عالم کو کسی رسمی اور باعزت طریقے سے رخصت کیا گیا بلکہ انتہائی بدصورتی سے انھیں سبک دوش کیا گیا اور ایک اور صاحب کو لگا دیا گیا۔ یہ کارنامہ کرنے والوں کو اگر فرصت ملے تو ذرا اپنی فائل دیکھ لیں، اس ادارے کی ایک خوبصورت روایت یہ رہی ہے کہ اوّل بہتر سے بڑھ کر بہترین فرد لگایا جائے اور پھر تاحیات اس سے استفادہ کیا جائے لیکن میرا خیال ہے‘ ایسا نہیں کیا گیا۔ ڈاکٹر تحسین فاروقی کے علمی مرتبے کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔

The post مجلس ترقی ادب کی ترقی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3r5IH1Z

پاکستان کا بحران کیسے ختم کیا جاسکتا ہے

سیاسی منظر نامہ مایوسی کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔انتخابات جمہوری نظام کی بنیاد اوراساس ہوتے ہیں، جمہوریت کا حسن کہلاتے ہیں اورپاکستان میں یہی انتخابات جمہوریت کا منہ کالا کررہے ہیں۔ پارلیمانی نظام کو ہی داؤ پر لگا دیا گیا ہے اور آزمودہ کار سیاستدان بگڑے بچوں کی طرح ریت کے گھروندے بنانے اور گرانے کا کھیل کھیل رہے ہیں۔

حالیہ ضمنی انتخابات میں خصوصاً ڈسکہ میں جو رسوائی ہوئی ہے،  اس سے جمہوریت کا سرنگوں ہوگیا۔ادھر جناب نواز شریف کو بولنے کا موقع مل گیا۔’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نام پر وہ  جمہوری نظام کوداؤ پر بھی لگانے کے لیے تیار نظر آتے ہیں تاکہ حالات کا رخ بدل جائے اوروہ  مقدمات سے جان چھڑانے میں کامیاب ہوجائیں۔

ادھر جناب عمران خان جانتے بوجھتے پہلی بار مصلحت سے کام لے رہے ہیں۔ گندے انڈوں کے خلاف راست اقدام کے بجائے حالات کا جائزہ لیے جا رہے ہیں۔ ویسے یہ کیسی جمہوریت ہے کہ پرویز رشید کو  ایوان بالا سے باہر رکھا جائے جب کہ فیصل واڈہ اہل قرار پا جائیں۔ سینیٹ میں ’’اوپن ووٹ‘‘ کی مخالفت میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جارہے ہیں۔ ایسی ایسی  نظیریں ڈھونڈی جا رہی ہیں کہ قانون دان بھی حیران ہیں۔

مایوسی کے ان اندھیروں اور جھوٹ کے کاروبار میں ایک شفاف شخص نمودار ہو رہا ہے۔ڈاکٹرامجد ثاقب  جو اس قحط الرجال میں قوم کی اْمیدوں کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔ شہباز، نوازشریف سے وزیراعظم عمران خان تک سب ان پر آنکھیں بند کرکے اعتبار کرتے رہے ہیں۔ان پر اعتماد کا یہ عالم ہے کہ شہبازشریف نے پنجاب میں فروغ تعلیم کا منصوبہ ڈاکٹر صاحب کے سپرد کیے رکھا جسے انھوں نے کامیابی سے چلا کر دکھایا۔ اب عمران خان بھی غریبوں کو 50 لاکھ گھر بناکر دینے کے منصوبے میں ان کی خدمات حاصل کرچکے ہیں۔

وطن عزیز کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے  ہمیں آگے بڑھنا ہوگا ۔ڈاکٹر امجد ثاقب جیسے آزمودہ فرزند قوم کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی اجنبی معین قریشی کا تجربہ دہرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ڈاکٹر امجد ثاقب جیسے نیک دل اور دیانت دار سیوا کاروں کو آگے لانا ہو گا۔اس معاملے میں عدالت عظمیٰ سے بھی رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے جس کا آئینی طریق کار صدارتی ریفرنس کی شکل میں موجود ہے۔

اس وقت معیشت کی بحالی ترجیح اوّل ہونی چاہیے۔ بے لاگ اور یکساں احتساب سے کون انکار کر سکتا ہے ۔ اس دو نکاتی ایجنڈے پر عملدرآمد سے مختصرعرصے میں قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ کوئی بھی مقبول عوامی رہنما  حالات سدھار کی اس دردمندانہ کوشش کی کھلے بندوں مخالفت نہیں کر سکتا ہے کہ اس کی مقبولیت چشم زدن میں خاک میں مل جائے گی ۔

بہت عرصہ پہلے ڈاکٹر صاحب نے خواہش ظاہر کی تھی ’’اخوت‘‘ پاکستان کی سب سے بڑی خدمت گار تنظیم بن جائے اور ہم کھلی آنکھوں سے یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوتے دیکھ رہے ہیں کہ اخوت بلا سود چھوٹے قرضہ جات کی فراہمی میں دنیا کا سب سے بڑا ادارہ بن چکا ہے ۔

زمینی حقائق یہ ہیں کہ عظیم الشان اخوت یونیورسٹی کا منفرد خواب حقیقت میں بدل چکا ہے۔ جس کی بنیاد یہ اچھوتا خیال تھا کہ غربت ذہانت کو قتل نہ کرسکے، ذہین نوجوان مفت تعلیم حاصل کریں اور جب اس قابل ہوں تو اخراجات اپنی مادر علمی کو واپس کردیں تاکہ کوئی اور اس چشمے سے فیض یاب ہو۔

اخوت یونیورسٹی کے لاہور اور چکوال کیمپس پوری طرح بروئے کار ہیں۔ چاروں صوبوںسے آنے والے ذہین طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ طلبہ کی رہائش و جملہ ضروریات بھی بلا معاوضہ فراہم کی جارہی ہیں۔ اذیتوں کے مارے خواجہ سراؤں کی دست گیری بھی اخوت کے مقدر میں آئی۔اخوت کا صحت کلینک ناداروں کے لیے ایک اور خدمت ہے۔ دولاکھ پینسٹھ ہزار مستحق مریضوں کا مفت علاج ہورہا ہے۔ اخوت فوڈ بینک کی صورت میں مستحق افراد کے لیے کھانا فراہم کرنے کی خدمت الگ ہے۔اخوت کے رضاکاروں کی تعداد سات ہزار پینتالیس اورعطیات دینے والوں کی تعداد نوے ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ اس سے فیض یاب ہونے والوں کی تعداد 29 لاکھ23 ہزار سے زائد ہے۔اور یہ سب کچھ خاموشی سے جاری و ساری ہے ۔

ڈاکٹر امجد ثاقب نے بین الاقوامی  مالیاتی ٹھگوں کو کھلے مقابلے میں پچھاڑ دیا ہے۔ سوال یہ کہ اگر وہ  اپنی لگن اور پاکستان سے عشق کو بروئے کار لا کر عالمی سطح پر ناممکن کو ممکن بنانے کا معجزہ دکھا سکتے ہیں تو سیاسی میدان میں الجھی ہوئی ڈوریں کیوں نہیں سلجھا سکتے۔ اگر عالمی مالیاتی ٹھگوں کو شکست دی جا سکتی ہے تو مقامی ٹھگوں کی ان کے سامنے اوقات ہی کیا ہے۔

یہ قوم بانجھ نہیں ہے، انگنت فرزندان قوم خدمت کے لیے حاضر و موجود ہیں۔ پولیس سروس کے نمایاں افسران ڈاکٹر شعیب سڈل، ذوالفقار چیمہ، رزاق چیمہ ، الاستاذ سلیم منصور خالد ، عالمی براڈکاسٹر افضل رحمن دیگرشعبوں میں ارشاد کلیمی، شمشاد احمد خان، ایمبیسڈر باسط صاحب۔ بریگیڈئیر صولت رضا ،پاکستان میں مواصلاتی انقلاب  کے خالق میاں محمد جاوید اور دیگر بزرگ احباب کی صلاحیتوں اور تجربات سے استفادہ کیاجاسکتاہے۔

تازہ سیاسی صورت احوال کچھ یوں ہے ۔سینیٹ الیکشن اور ضمنی انتخابات نے حضرت مولانا کوپس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ کہاں وہ قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفوں کا اعلان کر رہے تھے اور جناب نواز شریف انھیں ہلا شیری دے رہے تھے۔کہتے ہیں کہ جناب زرداری نے حضرت مولانا کی راہ کھوٹی کردی اور نواز شریف کو سمجھایا کہ آپ زمینی حقائق کو مدنظر رکھیں ۔

پنجاب میں سینیٹ منڈی باہمی افہام و تفہیم سے بند کرا دی گئی ہے جس کا کریڈٹ  چوہدری پرویز الہی کو جاتا ہے۔ اس کالم نگار کے دو بزرگ دوست  ایوان بالا میں پہنچ چکے ہیں۔ الاستاذ عرفان صدیقی اور ہم دم دیرینہ اعجاز چوہدری۔ دونوں کسی حد تک مرحوم مشاہداللہ خان کی کمی پوری کریں گے۔ ماضی قریب میں اعجاز چوہدری کا پسندیدہ اسلوب بغاوت ہوتا تھا ۔عدیم ہاشمی ان کے پسندیدہ شاعر ہوتے تھے اور چوہدری صاحب جا بجا یہ رجز الاپتے رہتے تھے ۔

مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے

میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے

بلوچستان میں سینیٹ کے الیکشن کا گول چکر ملاحظہ فرمائیں۔پی ٹی آئی نے عبدالقادر کو بلوچستان سے سینیٹ کا ٹکٹ دیا، پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں نے اعتراض کیا کہ عبدالقادر بلوچ ایک دن پہلے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیں، میڈیا میں شدید تنقید ہوئی اور ٹکٹ واپس ہو گیا۔اب ٹکٹ ظہور آغا کو مل گیا۔ عبدالقادر دوبارہ بلوچستان عوامی پارٹی میں شامل ہو گئے اوران سے سینیٹ کا ٹکٹ لے لیا۔ پی ٹی آئی نے بلوچستان سے اپنے واحد سینیٹ امیدوار کو دستبردار کرا لیا اوراب عبدالقادر پی ٹی آئی کے ووٹوں سے باپ کے ٹکٹ پر سینٹر منتخب ہوں گے۔ ویسے پی ٹی آئی عمران خان کی رہنمائی میں پیسوں کی سیاست کے خلاف ’’جہاد‘‘ کر رہی ہے ۔

حرف آخر یہ کہ ہفتہ 27 فروری کومحترم راؤ منظر حیات کا کالم ’’منظم طریقے سے انار کی پھیلائی جا رہی ہے ؟ ‘‘ دوبارہ پڑھ لیں توآپ کو سنگین معاملات سمجھنے میں مزید آسانی ہو جائے گی۔

The post پاکستان کا بحران کیسے ختم کیا جاسکتا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3dSyqCs

پاک فضائیہ ملکی سلامتی کے لیے پرعزم

ملکی سلامتی کو للکارنے والے جان لیں کہ پاک فضائیہ بروقت اور کاری ضرب لگانا جانتی ہے،ہم امن پسند ہیں اور امن سے رہنا چاہتے ہیں،اگر ہماری سالمیت اور خود مختاری کوللکارا گیا تو ہمارا ردِ عمل 27فروری 2019 کی طرح فوری اور ٹھوس ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار پاک فضائیہ کے سربراہ ایئرچیف مارشل مجاہد انور خان نے اگلے روز آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے2سال مکمل ہونے پر ایئرہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

27 فروری کا دن ملک کی تاریخ اور دفاع کے حوالے سے انتہائی اہم ہے، جب ہمارے فضائیہ کے جوانوں نے مکار اور عیار دشمن کو بھرپور جواب دیا تھا اوردنیا جانتی ہے کہ ہندوستان کی غیر ذمے دارانہ عسکری شرانگیزی کے باوجود گرفتار بھارتی ہوا باز واپس کرکے پاکستان نے اپنے ذمے دارانہ رویے کا اظہار کیا تھا۔

پاک فضائیہ کو پیشہ ورانہ مہارت کی وجہ سے بھارت پر برتری حاصل ہے جو وہ 1965 کی جنگ میں بھی ثابت کرچکی ہے  اور دو برس قبل بھارتی جنگی طیارے کو اپنے علاقے میں گرانے کے بعد یہ واضح پیغام سامنے آیا تھا کہ بھارت اپنی کسی بھی مذموم حرکت کے خلاف پاکستانی قوم کے جذبے اور مسلح افواج کی تیاریوں کو نظر انداز نہ کرے۔

فروری 2019 کو پاکستان ایئرفورس نے پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش پر بھارتی طیارہ مار گرایا تھا اور طیارہ پاکستانی حدود میں گرنے کی وجہ سے اس میں موجود بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو حراست میں لے لیا تھا ،بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے جذبہ خیرسگالی کے تحت انھیں رہا کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

اب اس واقعہ کے دو سال مکمل ہونے کے بعد بھارتی پائلٹ کا اہم بیان سامنے آیا ہے کہ ’’پاکستان آرمی ایک پروفیشنل فوج ہے، میں پاک فوج کی بہادری سے بہت متاثر ہوا ہوں، لڑائی تب ہوتی ہے جب امن نہیں ہوتا، میں یہ چاہتا ہوں ہمارے دیس میں امن رہے اور ہم امن میں رہ سکتے ہیں، ہمیں تھوڑا سکون سے سوچنا ہے، کیا ہو رہا ہے کشمیریوں کے ساتھ، نہ آپ کو پتا ہے نہ مجھے۔‘‘

پاکستانی ایئر فورس بھارت فضائیہ کے مقابلے میں ایک بہترین اور مضبوط فورس مانی جاتی ہے، اگر تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو اس بات کے ثبوت بھی بآسانی مل جاتے ہیں۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک بھارت اور پاکستان میں تین جنگیں ہوچکی ہیں جب کہ 1999میں کارگل کے مقام پر ہونے والا معرکہ سرحدوں تک ہی محدود رہا تھا جس کے باعث اسے مکمل جنگوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا جاتا۔

اب تک ہونے والی تمام جنگوں میں پاک فضائیہ بھارتی ایئر فورس پر حاوی رہی۔اگر 1965 کے جنگی محاذ کی بات کی جائے تو پاک فضائیہ کے بہادر ہوا بازوں نے ایک ہی وقت میں بھارت کے کئی کئی طیارے تباہ  کیے تھے جس میں سب سے مشہور واقعہ پاکستانی ایئر فورس کے بہادر ہوا باز ایم ایم عالم نے صرف ایک منٹ میں بھارت کے پانچ طیارے ایک ہی وار میں تباہ کردیے تھے اور مجموعی طور پر نو طیارے مار گرائے تھے۔آج ایک مرتبہ پھر بھارت پر جنگی جنون سوار ہے۔

بھارت کا اپنا میڈیا اس بات کا اعتراف کرچکا ہے کہ بھارتی فضائیہ چین اور پاکستانی ایئرفورس سے مقابلے کی مطابقت نہیں رکھتی۔ 2015 میں بھارتی میڈیا کی جانب سے ایک رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ بھارتی فضائیہ ناقص اور پرانے طیارے رکھنے کے باعث اس قابل نہیں کہ پاک یا چینی فضائیہ کا مقابلہ کرسکے۔

اس کے علاوہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ بھارت کو اپنے پائلٹس کی تربیت اور ساز وسامان کو جدید کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی لیکن شاید بھارت نا صرف اس رپورٹ کو فراموش کرچکا ہے بلکہ حقیقت سے بھی انکار کررہا ہے اور سمجھتا ہے کہ پاکستان کو تباہ کردے گا۔

اہم بات تو یہ ہے کہ بھارتی فضائیہ کے چیف بریندر سنگھ نے خود اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ بھارت 200 طیارے لے کر بھی پاکستان سے پیچھے ہی رہے گا۔بھارت کی فضائیہ 1970سے لے کر 2015 تک گیارہ سو جہازاس وجہ سے گنوا چکی ہے کیونکہ ان میں تکنیکی خرابیاں تھیں۔

2011،2012 سے اب تک بھارت ایئر فورس کے 15 ہیلی کاپٹر اور 35 ایئر کرافٹ گر کر تباہ ہوچکے ہیں جب کہ صرف ایک ماہ کے دوران بھارت کے پانچ جنگی طیارے تکنیکی وجوہ کی بنا پر گر کر تباہ ہوئے جو کسی ریکارڈ سے کم نہیں۔ستائیس فروری کو بھی بھارت نے یہ سوچ کر جارحیت کا ارتکا ب کیا تھا کہ پاکستان کو دبانا بہت آسان ہے لیکن پاک فضائیہ کی جوابی کارروائی نے یقینی طور پر بھارت کو 1965کی یاد دلا دی تھی۔

بدقسمتی سے حکمران بھارتی طبقہ جنگجویانہ ذہنیت رکھتا ہے۔ اسی باعث وہ اسلحے کے انبار لگانے میں مصروف ہے۔ ہر سال اربوں روپے کا اسلحہ خریدا جاتا ہے۔ دوسری طرف کروڑوں بھارتیوں کو دو وقت کی روٹی میسرنہیں اور وہ بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ حکمرانوں کی ایسی سنگ دلی اور شقاوت قلبی کسی اور ملک میں نظر نہیںآتی ۔بھارتی حکومت ہر جغرافیائی سیاسی یا عسکری دھچکے پر غلطیوں سے سبق سیکھنے کے بجائے بے بنیاد الزامات اور اشتعال انگیزی کو مزید ہوا دیتی ہے۔

پاکستان ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود تحمل، برداشت اور رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطے میں امن چاہتا ہے جب کہ بھارت سرکار جنگی جنون میں مبتلا ہوچکی ہے ، بھارت ،پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرنے سے کسی صورت باز نہیں آرہا ہے ۔اسی منفی سوچ اور طرزعمل کا جواب دیتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ امن کی خواہش ہماری طاقت ہے، اسے کبھی کمزوری نہ سمجھا جائے۔

یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھارت آخر کیا چاہتا ہے، جس کے لیے وہ سازشیں مسلسل کرتا رہتا ہے،سادہ جواب ہے بھارت مسئلہ کشمیر سے اقوام عالم کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق جموں و کشمیر تنازع کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔

بھارت کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل خلاف ورزی تھی اور بہادر پاکستانی مسلح افواج نے بروقت جواب دے کر مثالی پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا تھا۔بھارت نے پلوامہ کا ڈراما رچایا، وقت کے ساتھ ساتھ ظاہر ہوگیا کہ مودی نے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے یہ اقدام اٹھایا تھا، پاکستان نے کرتارپور راہداری کا راستہ کھولا،جو امن کا راستہ تھا لیکن بھارت نے اس عمل کی راہ میں بھی روڑے اٹکائے۔

دونوں ممالک کی افواج کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو وہ کچھ یوں ہے کہ پاک فوج امریکی و چینی ساختہ اسلحہ سے لیس ہے۔ اس کا بیشتر اسلحہ جدید اور معیاری ہے۔دوسری طرف آج بھی سوویت دور کا دقیانوسی و فرسودہ اسلحہ بھارتی بری فوج کے زیراستعمال ہے یا پھر بھارت اپنا اسلحہ خود تیار کرتا ہے جو عالمی معیار کا نہیں ہوتا۔ چنانچہ پاک بری فوج بہ لحاظ معیاری اسلحہ پڑوسی پر برتری رکھتی ہے۔

گو عددی طور پر بھارت زیادہ طاقت ور ہے‘ لیکن تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد دونوںبری افواج ہم پلہ ٹھہرتی ہیںچونکہ بھارتی حکومت تمام پڑوسیوں کو دشمن سمجھتی ہے‘ لہٰذا اس نے ہر پڑوسی ملک کی سرحد کے نزدیک اسلحہ جمع کر رکھا ہے اور اسی واسطے بھارتی بری فوج نے پاکستان سے زیادہ ٹینک‘ توپیں‘ میزائل وغیرہ اکٹھے کر رکھے ہیں۔تاریخی اعتبار سے پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کی نسبت اب تک بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔بھارتی بحریہ کے مقابلے میں پاک بحریہ بہت چھوٹی ہے، تاہم حکمت عملی،تیاری اور جنگی تربیت کے اعتبار سے پاک بحریہ کسی طرح کمتر نہیں، اس کا ہر فوجی جذبہ دفاع وطن سے سرشار ہے۔

پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ بلوچستان اور خیبرپختون خوا کے باغیوں کو بھارتی امداد حاصل ہے، یعنی بھارت، پاکستان کے اندر کھلی دراندازی کررہا ہے، بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے بیانات بھی ناقابل تردید ثبوت فراہم کرتے ہیں بھارتی سازشوں کے جو وہ پاکستان کے خلاف جاری رکھے ہوئے ہے۔

بھارت کے اشتعال انگیز بیانات آر ایس ایس۔بی جے پی کے انتہا پسند نظریے اور بالادستی کی سوچ سے مغلوب ذہنیت کا عکس ہیں، حیرت انگیز بات ہے کہ بھارت کے سینئر سیاسی و عسکری رہنما خطے سمیت خود بھارت کے امن کو داؤ پر لگاتے ہوئے پاکستان کے خلاف مسلسل اشتعال انگیز بیانات جاری کر تے ہیں۔بھارت سرکار کوشیخی بگھارتے وقت اپنی دفاعی کمزوریوں کو نہیں بھولنا چاہیے جو دنیا کے سامنے بری طرح عیاں ہوچکی ہیں۔

چین کے ساتھ شمالی سرحد اور لداخ پر کئی مہینوں تک جاری رہنے والی جھڑپوں میں بھارتی صلاحیت بے نقاب ہو چکی ہے۔ بی جے پی۔آر ایس ایس کا نظریہ اور رویہ خطرناک انتہا پسند نظریات سے بھرپور ہے، بالادستی کے ارادے اور پاکستان کے خلاف پائے جانے والے جنون کا مجموعہ ہے اور یہ نظریہ بھارتی ریاستی اداروں میں سرایت کرگیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بھارت نے5اگست 2019 کو غیرقانونی اقدام اٹھاتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی ،جسے کشمیری عوام نے مسترد کردیا ہے اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے، برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر کی صورتحال پر مباحثہ ہوا اور وہاں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا جب کہ یو این سیکریٹری جنرل نے دورہ پاکستان کے دوران مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا، مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے اندر شہری و انسانی حقوق کی پامالیاں ہو رہی ہیں۔

ہندوستان میں آج ایک ایسی فضا جنم لے رہی ہے جو ہندوستان کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کے لیے مجبور کر رہی ہے،جنوبی ایشیا کے امن و خوشحالی کی خاطر بھارت تیسری صدی کے چانکیہ بیانیے کو چھوڑ دے اور اکیسویں صدی کے خطے کے امن و ترقی کے ماڈل کو اپنائے،تو خطے میں یقیناً امن قائم ہوسکتا ہے۔

The post پاک فضائیہ ملکی سلامتی کے لیے پرعزم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2O5vCXM

Saturday, 27 February 2021

100ٹی20 وکٹیں، شاہین نے بمرا سے کم عمرترین بولر کا اعزاز چھین لیا

کراچی: شاہین شاہ آفریدی نے ٹی 20 وکٹوں کی سنچری مکمل کرنے والے کم عمرترین بولر کا اعزاز حاصل کرلیا۔

پاکستانی شاہین شاہ آفریدی نے بھارت کے جسپریت بمرا سے ٹی 20 وکٹوں کی سنچری مکمل کرنے والے کم عمرترین بولر کا اعزاز چھین لیا، شاہین آفریدی نے یہ سنگ میل 20 برس اور 326 دن کی عمر میں عبور کیا،19 برس کی عمر میں ٹی 20 ڈیبیو کرنے والے بمرا نے اس طرز میں 100 وکٹیں 23 برس اور 57 دن کی عمر میں مکمل کرلی تھیں۔

یاد رہے کہ شاہین شاہ آفریدی 2018 میں انٹرنیشنل ڈیبیو کے بعد سے نان اسٹاپ کرکٹ کھیل رہے ہیں۔

 

The post 100ٹی20 وکٹیں، شاہین نے بمرا سے کم عمرترین بولر کا اعزاز چھین لیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3sMivdh

’’شوہر سے کہو کپتانی چھوڑ دے،میں جوئے میں رقم ہارگیا‘‘ مسزفنچ کو پیغام

ویلنگٹن: آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ کی اہلیہ کو ایک شخص نے پیغام میں کہا ہے کہ ’’شوہر سے کہو کپتانی چھوڑ دے،میں جوئے میں رقم ہارگیا‘‘۔

نیوزی لینڈ سے ابتدائی 2 ٹوئنٹی 20 میچز میں ناکامی کے بعد آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ کو سوشل میڈیا پر لوگ بْرا بھلا کہنے لگے، گالم گلوچ پر اہلیہ ایمی بھی غصے میں آگئیں اور ایک شخص کو کھری کھری سنا دیں۔

فنچ نے ان 2 میچز میں محض13رنز بنائے،اس طرز کے گذشتہ 26 انٹرنیشنل اور لیگ میچز میں ان کی ایوریج صرف 15 رہی ہے۔ ایمی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر کسی نے بدزبانی کرتے ہوئے کہا کہ اپنے شوہر سے کہوکپتانی چھوڑ دے، ان کی وجہ سے میں جوئے میں بڑی رقم ہار گیا۔

جواب میں ایمی نے کہا کہ میں ایسے لوگوں کو جواب نہیں دیتی مگر گھٹیا لوگوں کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

 

The post ’’شوہر سے کہو کپتانی چھوڑ دے،میں جوئے میں رقم ہارگیا‘‘ مسزفنچ کو پیغام appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3syF051

’’ٹاس جیتو مقابلہ جیتو‘‘ روایت 10 ویں میچ میں بھی برقرار

کراچی: پی ایس ایل 6میں ’’ٹاس جیتو مقابلہ جیتو‘‘ کی روایت دسویں میچ میں بھی برقرار رہی۔

پی ایس ایل 6 میں ابھی تک تمام میچز میں ٹاس جیتنے والی ٹیموں نے بولنگ کا فیصلہ کیا اور ہدف حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوئیں جب کہ گذشتہ روزکراچی کنگز اور پشاور زلمی نے فتوحات سمیٹ لیں۔

یاد رہے کہ پی ایس ایل میں ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے مسلسل کامیابیوں کا ریکارڈ 2019 کا ہے جب 12سے 25ویں میچ تک 14ٹیموں نے بعد میں بیٹنگ کرتے ہوئے فتح پائی تھی،ایونٹ کے آغاز میں ہدف حاصل کرنے والی ٹیموں کی مسلسل 10فتوحات کا یہ پہلا موقع ہے۔

 

The post ’’ٹاس جیتو مقابلہ جیتو‘‘ روایت 10 ویں میچ میں بھی برقرار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3uCYcR2

بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے مسئلہ نہیں، چیئرمین پی سی بی

لاہور: چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہا ہے کہ بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے مسئلہ نہیں لہٰذا ویزوں اور سیکیورٹی کی یقین دہانی چاہیے۔

ایک خلیجی اخبار کے بھارتی صحافی کو انٹرویو میں چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہاکہ ہم رواں سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ بھارت میں ہونے کی مخالفت نہیں کر رہے،البتہ ہمارا مطالبہ ہے کہ کرکٹرز، معاون اسٹاف اور صحافیوں کے لیے ویزوں اور سیکیورٹی کی یقین دہانی کرائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ویمنز ٹیم کو2109میں آئی سی سی کوالیفائرز میں شرکت کے لیے بھارت جانا تھا، بی سی سی آئی کا کہنا تھا کہ حکومت کو لکھا ہے مگر جواب موصول نہیں ہورہا،مہینوں انتظار کے بعد بالآخر بتایا گیا کہ اب بہت دیر ہوچکی یوں پاکستان ٹیم میچ نہ کھیل پائی اور پوائنٹس برابر تقسیم ہوئے،ہم نہیں چاہتے کہ ایسی صورتحال دوبارہ پیدا ہو، یہ عالمی کرکٹ کے لیے بھی بہتر نہیں ہوگا۔

احسان مانی نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے ویزوں کی یقین دہانی 31دسمبر تک موصول ہونا تھی، جنوری میں بی سی سی آئی کے صدر سارو گنگولی کے بیمار ہونے پر انھوں نے مزید وقت مانگا، اب مجھ سے اسٹیک ہولڈرز اور میڈیا کی جانب سے اس بابت پوچھا جا رہا ہے،معاملہ ایک بار پھر آئی سی سی کے سامنے اٹھایا ہے، جتنی جلد صورتحال واضح ہوجائے بہتر ہوگا تاکہ معاملات طے ہونے کی ڈیڈلائن نہ گزر جائے۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ یواے ای میں میگا ایونٹ کروانے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے تاہم بھارت سمیت کسی کے ساتھ بھی باہمی سیریز کسی نیوٹرل مقام پر نہیں کھیلیں گے،ایشیا کپ جیسا کوئی ایونٹ ہوا تو اس کی یواے ای میں میزبانی کا فیصلہ ممبران کی مشاورت سے ہوگا۔

 

The post بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے مسئلہ نہیں، چیئرمین پی سی بی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/300gde5

یونائیٹڈغلطیاں نہ دہرانے کے لیے پْرعزم

پی ایس ایل 6میں اسلام آباد یونائیٹڈ غلطیاں نہ دہرانے کیلیے پْرعزم ہے، آل راؤنڈر فہیم اشرف نے کہاکہ ٹاس کا نتیجہ کسی کے ہاتھ میں نہیں مگر بالآخر بہتر کھیلنے والی ٹیم ہی کامیاب ہوتی ہے۔

پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pkکے پروگرام ’’کرکٹ کارنر ود سلیم خالق‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے فہیم اشرف نے کہا کہ گذشتہ سیزن میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم اچھا کھیلی مگر چند ایسی غلطیاں کیں جن کی وجہ سے ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے، اس بار کوشش کر رہے ہیں کہ ان غلطیوں کو نہ دہرایا جائے، اپنا100فیصد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، آپ جتنی زیادہ محنت کرتے ہیں اللہ تعالی اتنا ہی پھل دیتا ہے۔

انھوں نے کہاکہ ایک کھلاڑی اور دوست کے طور پر تو میں شاداب خان کی تعریف ہی کروں گا مگر سب جانتے ہیں کہ وہ کتنے شاندار انداز میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی قیادت کر رہے ہیں، اگر آپ کا دوست کپتان ہو تو ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے، ہماری دوستی میدان سے باہر ہے، میچ کے دوران ہم پروفیشنل ہوتے ہیں، آپ نے دیکھا ہوگا کہ شاداب خان میدان میں ہمیں ڈانٹ بھی دیتے ہیں لیکن ہم کسی ناگواری کا اظہار نہیں کرتے کیونکہ اس وقت وہ ایک دوست نہیں کپتان کے طور پر فیصلے کر رہے ہوتے ہیں، ہوٹل واپسی پر ہم انھیں میدان میں کہی گئی باتیں یاد دلاکر چھیڑتے بھی ہیں مگر میدان میں کچھ نہیں کہتے کیونکہ وہ جو بھی کر رہے ہوتے ہیں وہ ٹیم کے لیے ہی ہوتا ہے۔

فہیم اشرف نے کہا کہ کراچی کی پچز کا رویہ ایسا ہی ہوتا ہے، اگر وکٹیں ہاتھ میں ہوں اور رن ریٹ کو پیش نظر رکھتے ہوئے کھیلیں توہدف کے تعاقب میں زیادہ مشکل نہیں پیش آتی، ٹاس کا نتیجہ کسی کے ہاتھ میں نہیں ہوتا لیکن بالآخر بہتر کھیلنے والی ٹیم ہی کامیاب ہوتی ہے، ٹاس کے میچ پر کچھ اثرات ضرور ہوتے ہیں جیسا کہ کراچی میں پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیمیں جیت رہی ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ کم غلطیاں کرنے والی ٹیم کو ہی کامیابی ملتی ہے۔

تکنیک میں تھوڑی سی تبدیلی سے بیٹنگ میں بہتری آگئی

فہیم اشرف نے کہا کہ  پہلے لوگ مجھے صرف بولر سمجھتے تھے لیکن میں نے اب اپنی بیٹنگ پر بھی کام کیا ہے، میری اپنی بھی کوشش ہوتی ہے کہ بولنگ میری سلیکشن کی بنیاد بنے جبکہ بیٹنگ کو مثبت پہلو خیال کیا جائے، انھوں نے کہا کہ کوچز مجھے بیٹنگ میں غلطیوں سے آگاہ کرتے رہے، تکنیک میں تھوڑی سی تبدیلی سے بہتری آئی،میں بطور آل راؤنڈر اپنی خاص پہچان بنانے کیلیے پْرعزم ہوں۔

انھوں نے کہا کہ میں نے جب کرکٹ کھیلنا شروع کی تو محمد آصف، محمد عامر اور عمر گل کی بولنگ ویڈیوز دیکھا کرتا تھا،آصف کی سوئنگ اور عمر گل کے یارکرز سے سیکھنے کی کوشش کرتا رہا۔

 

The post یونائیٹڈغلطیاں نہ دہرانے کے لیے پْرعزم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3bJvnty

بھارت آئی پی ایل کی کمائی بچانے کیلیے عالمی ایونٹس کا دشمن بن گیا

ممبئی: بھارتی کرکٹ بورڈ آئی پی ایل کی کمائی بچانے کیلیے عالمی ایونٹس کا دشمن بن گیا۔

گذشتہ دنوں ایک میٹنگ میں اگلے 8 سالہ دورانیے کیلیے بی سی سی آئی کی جانب سے ہر برس ایک عالمی ایونٹ کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا،بھارتی بورڈ کو خطرہ ہے کہ نئے 8 سالہ دورانیے میں ہر دوسرے برس ایک ٹی 20 ورلڈ کپ کھیلے جانے سے آئی پی ایل کی مارکیٹ متاثر اور آمدنی میں کمی ہوسکتی ہے، اسی لیے وہ کسی بھی صورت اتنے عالمی ایونٹس کے حق میں نہیں ہے۔

واضح رہے کہ آئی سی سی اپنے ریونیو میں اضافے کیلیے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے، جس میں ہر سال عالمی ایونٹ کا انعقاد بھی شامل ہے، بورڈ سے باقاعدہ منظوری ملنے کے بعد نشریاتی حقوق وغیرہ کے ٹینڈرز جاری کیے جائینگے۔

 

The post بھارت آئی پی ایل کی کمائی بچانے کیلیے عالمی ایونٹس کا دشمن بن گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3dULGXk

آج کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

کاروباری سلسلے میں کسی پارٹی کو ناراض نہ ہونے دیں بلکہ ہر ایک سے اچھا برتائو کیجئے۔ کاروبار میں تبدیلی بھی اچھے نتائج کی حامل بن سکتی ہے۔

ثور:
22 اپریل تا 20 مئی

کسی قریبی عزیز سے کافی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اپنی پوزیشن کو کاروبار میں مضبوط کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ جائیداد وغیرہ کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔

جوزا:
21 مئی تا 21جون

مخالفین کی سازشوں کا سدباب قبل از وقت کر لیجئے ہر معاملے کی تحقیق خود کریں۔ صحت کے معاملے میں ذرا محتاط ہی رہیں تو زیادہ بہتر ہے۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

آمدنی میں اضافے کی امید ہے مگر کسی کو بطورقرض رقم ہرگز نہ دیں کیونکہ واپسی کی امیدہرگز نہ ہے۔ دماغ پر خیالات کا بوجھ قدرے کم ہو سکے گا۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

کسی مقتدر شخصیات کے ساتھ تعلقات استوار ہوں گے اور آپ کے الجھے ہوئے کام حل ہو سکیں گے۔آمدنی میں غیرمعمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

آپ کے گھریلو حالات بہت بہتر رہیں گے۔ شریک حیات آپ کی ہر خواہش پوری کرنے کے لئے ہمہ وقت مستعد رہیں گے لیکن آپ بھی بات بات پر الجھنا چھوڑ دیں۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

دشواریاں سنگ راہ بنتی رہیں گی۔ اس کے باوجود آپ ان پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اخراجات کی زیادتی کے سبب بھی پریشانی رہے گی۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

اپنی بنائی ہوئی سکیموں کا ایک بارپھر جائزہ لے لیں تاکہ پھر پچھتانا نہ پڑے۔ ممکن ہو تو اپنے ہمدردوں سے مشورہ لے لیں۔ کاروبار میں خصوصی توجہ رکھیں۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

امپورٹ ایکسپورٹ کرنے والے حضرات کوئی اہم ڈیل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کے گھریلو معاملات بھی آج صلح سے سلجھ جائیں۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

آپ اپنی تعلیم میں خصوصی دلچسپی لے لیں تاکہ مایوسی کے خودساختہ خول سے باہر آ سکیں۔ آپ کے شریک حیات کا ذہن بھی خاصا منتشر رہے گا۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

ماضی کی تلخ یادوں کو بھلا کر حالیہ ملنے والی خوشیوں کو گلے لگا لیجئے مزاج کی گرمی کو ذرا قابو میں رکھیں گے تو حالات بہتر رہ سکتے ہیں۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

ذہنی انتشار بڑھے گا۔ خود کو جذباتیت سے آزاد ہی رکھیں تو بہتر ہے۔ آج آپ کو چھوٹی سی چیز کے لئے بھی تگ و دو کرنا پڑے گی۔

The post آج کا دن کیسا رہے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3r67eUG

ہنزہ حسن آباد میں گلیشیائی جھیل کے پھٹنے کا خطرہ

اسلام آباد: ہنزہ حسن آباد میں بننے والی گلیشیائی جھیل کے کسی بھی وقت پھٹنے کا محکمہ موسمیات نے عندیہ دیدیا جب کہ جھیل پھٹنے سیسیلابی صورتحال اختیار کرنے، بڑے پیمانے پر مقامی آبادی متاثر ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کردیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات نے صورتحال کا جائزہ لینے کیلیے آٹومیٹک ویدر سٹیشن و واٹر لیول و واٹر ڈسچارچ مانیٹرنگ سٹیشن نصب کرنے کی سفارش کردی، ٹیکنیکل ٹیم مارچ کے پہلے ہفتے میں جھیل پر آٹو میٹک ویدر سٹیشن نصب کرے گی۔

محکمہ موسمیات نے گلگت بلتستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کو واٹر لیول گیچ فراہم کرنے کی درخواست کردی ہے۔ پاکستان محکمہ موسمیات کی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن کی گلیشئر مانیٹرنگ گروپ نے گلاف الرٹ جاری کردیا۔

الرٹ میں کہا گیا ہے کہ ششپر گلیشئرکے سرکنے اور پانی کا بہاؤ رکنے سے جھیل کے پھٹنے کا خدشہ ہے، گلیشیائی جھیل آمد موسم گرما میں درجہ حرارت میں اضافہ کے ساتھ پھٹنے کا امکان ہے، آئندہ 3 سے 4ہفتے بہت اہم ہیں۔

گلاف پراجیکٹ ٹو کے ذریعے تجویز کردہ ہائیڈرو میٹریالوجیکل آلات کی آمد تک ششپر گلیشئر پرواٹر لیول و واٹر ڈسچارچ مانیٹرنگ سٹیشن نصب کرے جبکہ گلیشیائی جھیل سے پانی کے اخراج کو یقینی بنانے کیلیے فوری اقدامات کئے جائیں۔

رپورٹ کے مطابق گلیشیائی جھیل کے پھٹنے سے سیلابی صورتحال اختیار کرنے کا خدشہ ہے جس سے یکدم جھیل میں موجود لاکھوں کیوبک میٹرپانی خارج ہوگا ۔ بارہ کلو میٹر پر محیط ششپر گلیشئرنے سال 2016 میں نیچے دریا کی طرف سرکنا شروع کیا تھا۔

The post ہنزہ حسن آباد میں گلیشیائی جھیل کے پھٹنے کا خطرہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3ssZKLw

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...