Urdu news

Tuesday, 31 March 2020

جام حکومت کو وباء کے پھیلاؤ کاذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا

کوئٹہ: کرونا وائرس نے جہاں پوری دُنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے وہاں پاکستان خصوصاً بلوچستان کی سیاست میں بھی میانہ روی آگئی ہے اور تمام سیاسی و قوم پرست جماعتیں اس وباء سے متحد ہو کر لڑنے کو فوقیت دے رہی ہیں۔

وفاقی یا صوبائی حکومتوں سے اختلافات اپنی جگہ لیکن اس قدرتی آفت سے مقابلے کیلئے تمام سیاسی جماعتیں لائن اپ ہوگئی ہیں اور اس آفت سے نمٹنے کیلئے حکومتوں کا ساتھ دے رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ دنوں اسلام آباد میں اس حوالے سے پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے بلائی گئی پہلی ویڈیو لنک اے پی سی میں ملک کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے شرکت کی اور اپنی تجاویز بھی پیش کیں بلوچستان سے قوم پرست جماعتوں نیشنل پارٹی اور بی این پی کی قیادت نے بھی شرکت کی اور بلوچستان کے حوالے سے اپنی تجاویز اے پی سی کے سامنے رکھیں اس موقع پر نیشنل پارٹی کے قائد میر حاصل بزنجو اور بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے بلوچستان کی حکومت پر بھی شدید تنقید کی۔

سیاسی مبصرین نے بھی اس اے پی سی کے انعقاد اور اس میں دی گئی تجاویز کو خوش آئند قرار دیا ہے تاہم ان مبصرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے تفتان سرحد سے ملک بھر میں پھیلانے کے جام حکومت پر جو الزامات عائد کئے جا رہے ہیں ان میں کوئی صداقت نہیں۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان اپنے قوم سے پہلے خطاب میں وزیراعلیٰ جام کمال خان کے اقدامات کو سراہتے ہیں اور بعد ازاں یو ٹرن لیتے ہوئے اپنے قریبی ساتھیوں کو بچانے کیلئے تمام ملبہ بلوچستان حکومت پر ڈال دیتے ہیںاور حقائق سے نظریں چرا رہے ہیں۔

حالانکہ جب ایران میں وائرس کے پھیلاؤ کی اطلاعات موصول ہوئیں تو جام حکومت نے فوری طور پر تفتان بارڈر کو سیل کرنے کے احکامات جاری کئے اور ایرانی حکومت سے بذریعہ وفاقی حکومت زائرین کے ٹیسٹ اور قرنطینہ کی درخواست کی لیکن اس کے باوجود ایران نے ہمارے زائرین کو اپنے پاس رکھنے اور ٹیسٹ کرانے سے انکار کرتے ہوئے تفتان روانہ کردیا۔

صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے صوبائی حکومت نے اپنے وسائل کے مطابق انتظامات کا آغاز کیا حالانکہ اس موقع پر صوبائی حکومت کو وفاق اور این ڈی ایم اے کی جانب سے کوئی خاطر خواہ معاونت نہیں ملی اس کے باوجود صوبائی حکومت نے تفتان میں پانچ ہزار زائرین کو سہولیات دینے کے ساتھ ساتھ انکی رہنمائی کی اور ان زائرین کو لے جا کر انکے صوبوں کے حکام کے حوالے کیا۔

ان مبصرین کے مطابق وفاقی حکومت حقائق سے نظریں چرا کر تمام ملبہ جام حکومت پر ڈال رہی ہے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت اس بات پر کس طرح پردہ ڈالے گی کہ دیگر ممالک اور سعودیہ سے ملک میں بائی ایئر آنے والے افراد کے معاملے کو کیسے دیکھتی ہے جن کے کوئی ٹیسٹ کئے بغیر ملک میں داخل کیا گیا، ان میں سے ساڑھے بارہ ہزار لوگ بلوچستان منتقل ہوئے کیا وفاقی حکومت تمام ملبہ جام حکومت اور تفتان بارڈر سے آنے والے زائرین پر ڈال کربری الذمہ ہوسکتی ہے؟

یہ وقت سیاست چمکانے کا نہیں بلکہ اپنی نسل کو بچانے کا ہے ان سیاسی مبصرین کے مطابق جام کمال کی حکومت بلوچستان میں آج بھی اس خطرناک وباء سے کم وسائل ہونے کے باوجود جس حکمت کے ساتھ نبرد آزما ہے وہ قابل تعریف ہے۔ ان سیاسی مبصرین کے مطابق اے پی سی میں بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے جو تجاویز دیں وہ انتہائی معقول ہیں اگر صوبائی حکومت ان تجاویز پر فوری طور پر عملدرآمد شروع کرے تو جلد ہی اس خطرناک وباء پر کنٹرول کرنے کے حوالے سے دور رس نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق بلوچستان کی سیاسی و قوم پرست جماعتوں نے اس نازک موقع پر جس سمجھداری اور ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے وہ بھی قابل تحسین ہے۔ بلوچستان حکومت نے کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے جہاں دیگر اقدامات کئے ہیں وہاں اُس نے فوری طور پر1500 کنٹینرز پر مشتمل ہسپتال اور ریلیف اینڈ ایمرجنسی سینٹر بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ ان کنٹینرز میں آپریشن تھیٹر، آئسولیشن رومز، رہائشی سہولیات اور غسل خانے موجود ہونگے۔ کنٹینرز ہسپتال کیلئے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف بھی بھرتی کیا جائے گا۔ ان کنٹینرز ہسپتالوں کو مستقبل میں بھی مختلف وبائی امراض اور قدرتی آفات کی صورت میں استعمال میں لایا جائے گا اور متاثرہ علاقوں کی طرف فوری طور پر منتقل کیا جاسکے گا۔

اس کے علاوہ بلوچستان میں ہیلتھ اینڈ ایمرجنسی ویلج کے قیام پر بھی کام جاری ہے ۔ حکومت نے صوبے میں خوراک کی قلت کے تدارک کیلئے پی ڈی ایم اے کو فوری طور پر ایک ارب روپے سے زائد کی رقم ریلیز کرتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی بھی ہدایت جاری کی ہے۔ جبکہ صوبے کے تمام کمشنرز کو ایک ایک کروڑ روپے ریلیز کئے گئے ہیں کہ وہ اپنے اپنے ڈویژن میں اس بحرانی کیفیت سے نمٹنے کیلئے اقدامات کریں ۔ صوبائی حکومت نے صوبے بھر میں آٹھ لاکھ افراد کی نشاندھی کی ہے جو کہ روزانہ اُجرت پر کام کرتے ہیں اور انہیں روزانہ کی اُجرت کے تناسب سے رقم فراہم کی جائے گی، جس کیلئے2 ارب40 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں۔

اسی طرح گھروں میں محصور غریب لوگوں کو ایک ارب روپے کی لاگت سے راشن بھی فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے ہسپتالوں کو جدید آلات اور مشینری سے بھی لیس کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور مرحلہ وار اس پر ابتدائی کام بھی شروع کردیا گیا ہے جبکہ حکومت ڈاکٹرز، پیرا میڈیکس اور نرسنگ اسٹاف کے علاوہ پولیس و سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے بھی بعض قدامات پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے جو کہ اس جنگ میں اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر فرنٹ لائن پر لڑرہے ہیں۔

حکومت اپنے ان تمام اقدامات پر اپوزیشن سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لینے اور ملکر اس جنگ کو لڑنے کیلئے صف بندی کررہی ہے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے ملک کے ان بڑے بڑے صنعتکاروں، بزنس مینوں اور مخیر حضرات کے رویئے پر برہمی کا اظہار کیا ہے جو ملک سمیت بلوچستان میں بھی بڑے بڑے پراجیکٹس پرکام کررہے ہیں لیکن اس نازک وقت میں آگے آکر بلوچستان حکومت اور یہاں کے عوام کیلئے کسی قسم کی کوئی مدد اور تعاون نہیں کر رہے۔

 

The post جام حکومت کو وباء کے پھیلاؤ کاذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2UyXJzk

غریب خاندانوں کو امداد کا طریقۂ کار غیرمؤثر

کراچی: سندھ میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے بھر میں عوام کو گھروں تک محدود کرنے کے لیے صبح 8بجے سے شام 5بجے تک کریانہ،گوشت،سبزی و پھل،میڈیکل اسٹورز اور پیٹرول پپمپس کو کھولنے کی اجازت دی ہے۔

گذشتہ کئی دنوں سے کراچی سمیت صوبے بھر میں تمام کاروباری وتجارتی سرگرمیاں بند ہیں جبکہ شام 5بجے سے صبح 8بجے تک تمام اشیاء خور و نوش،میڈیکل اسٹورز اور فیول پمپس کو بھی بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔صرف دودھ کی دکانوں کو رات 8بجے تک کھولنے کی اجازت دی گئی ہے،واضح رہے کہ پہلے دودھ فروشوں کو بھی شام 5بجے تک کاروبار کرنے کی اجازت دی گئی تھی تاہم دودھ کوضائع ہونے سے بچانے کے لیے ان احکامات میں ترمیم کی گئی۔

سندھ میں گذشتہ جمعہ کئی مساجد میں نماز’’جمعہ‘‘ کے اجتماعات منعقد کرنے پر امام مسجد اور دیگر کے خلاف مقدمات درج کیے گئے اور گرفتاریاں بھی ہوئیں،حکومت سندھ کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے مساجد میں عوام کے لیے باجماعت نماز کی ادائیگی پر پاپندی کا فیصلہ علمائے کرام کی مشاورت سے کیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے علمائے کرام کے ساتھ ایک اجلاس میں محکمہ پولیس کو نماز جمعہ کے لئے تیار کردہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر مساجد کے پیش اماموں اور دیگر کے خلاف درج تمام ایف آئی آرز واپس لینے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے علمائے کرام سے درخواست کی کہ وہ اپنی جمعہ کی جماعت کو پانچ افراد تک محدود رکھیں گے، علماء نے اس حوالے سے حکومت سے تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں ہر ایک سے درخواست کر رہا ہوں کہ وہ سماجی دوری برقرار رکھیں اور اجتماعات سے اجتناب کریں۔ اس کا مقصد اپنے لوگوں کو اس بیماری سے بچانا ہے اور یہ علمائے کرام کے تعاون سے ہی ممکن ہوگا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ اگر انھوں نے لاک ڈاؤن نافذ نہ کیا ہوتا اورغیر معمولی اقدامات نہ کرتے تو وائرس سے صوبے میں بھاری نقصان ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے اس کے پھیلاؤ کو کم کردیا ہے۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ میں کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے وزیراعلی سندھ اور ان کی ٹیم کے اقدامات قابل ستائش ہیں تاہم عوام کو اس معاملے میں مکمل تعاون کرنا ہوگا تاکہ سندھ سمیت پورے ملک سے اس وباء کا خاتمہ ہوسکے،اس لیے کہا جا رہا ہے’’گھر میں رہیں۔۔۔۔محفوظ پاکستان کے لیے۔۔۔۔۔۔

سندھ میں لاک ڈاؤن کے سبب سب سے زیادہ متاثر روزانہ اجرت پرکام کرنے والے، متوسط اور غریب طبقے ہیں، جن کے گھروں کا چولہا روز کماکر روز اخراجات کرکے جلتا ہے۔ حکومت سندھ نے لاک ڈاون پر عمل درآمد توشروع کردیا لیکن اب تک وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے سرکاری سطح پرعوام کو راشن پہنچانے کے لیے کوئی عملی اقدام دیکھنے میں نہیں آئے،روزانہ کی بنیاد پر اجلاس ہونے اور میکنزم کا اعلان کرنے کے باوجود غریب خاندان امداد سے محروم ہیں،چند فلاحی اداروں،سیاسی،مذہبی جماعتوں اور مخیر حضرات کی جانب سے امداد کاسلسلہ جاری ہے،لیکن یہ تمام امدادی کام ناکافی ہے،غریب افراد کے گھروں میں چولہے بجھ رہے ہیں اور ان کے پیٹ کی آگ بڑھ رہی ہے،جو سنگین صورتحال ہے۔

لوگ راشن کے لیے فلاحی اداروں اور حکومتی دفاترکے چکر لگا رہے ہیں اور میڈیا کے ذریعے مدد کی اپیل کررہے ہیں لیکن ان کی شنوائی نہیں ہو رہی، دوسری جانب کراچی سمیت صوبے بھر میں منافع خوروں نے آٹے کی منصوعی قلت پیدا کردی ہے،10کلوآٹے کا تھیلہ 650روپے کا فروخت ہو رہا ہے جبکہ دیگر کھانے پینے کی اشیاء بھی مہنگی ہوگئی ہیں،منافع خوروں کے خلاف تاحال حکومتی سطح پر موثر کریک ڈاؤن نہیں کیا گیا ہے،حکومت سندھ نے صوبے میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت دور کرنے کے لیے گڈٹرا نسپورٹ کو نقل وحمل کی اجازت دے دی ہے۔

دوسری جانب پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک اجلاس میں کہا ہے کہ وہ مستحق افراد کی امداد کے حوالے سے کوئی کوتاہی برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے سندھ حکومت کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایک مستحق کے گھر راشن پہنچائے، وزیراعلیٰ سندھ نے یو آر ایل (ویب ایڈریس) کے ساتھ سندھ ریلیف انیشیٹو ایپلی کیشن قائم کی ہے۔ان کی حکومت نے فلاحی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ارادہ کیا ہے اور انہیں مذکورہ بالا ویب ایڈریس کے تحت رجسٹرڈ کیا جائے گا تاکہ ان کے ساتھ مل کر یومیہ اُجرت والوں کو راشن ان کی دہلیز پر پہچایا جاسکے۔

https://ift.tt/wH3tJ0 apps/details?id =inc.codelabs .krtvolunteer

وزیراعلیٰ نے کہا کہ یومیہ اجرت والوں کو ایک اپلی کیشن (ایپ) کے ذریعے رجسٹر کروانا ہوگا اور اس کے بعد حکومت مختلف علاقوں میں فلاحی تنظیموں کے ساتھ مل کر راشن تقسیم کرے گی۔ ایک خاندان کو 5500 روپے کا ایک راشن بیگ فراہم کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر وزیر توانائی امتیاز شیخ، وزیر بلدیات ناصر شاہ اور مشیر قانون مرتضی وہاب عوام کے دروازے پر راشن کی منصفانہ تقسیم کے لئے فلاحی تنظیم کے ساتھ رابطہ کریں گے۔

سندھ کی اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی کے رہنماؤں فردوس شمیم نقوی اور حلیم عادل شیخ نے ایک پریس کانفرنس میں سندھ حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ صوبے میں کئی دن سے لاک ڈاؤن ہے عوام کو راشن نہیں مل رہا، اس وجہ سے سندھ میں خانہ جنگی کی صورتحال ہوسکتی ہے،سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ ایپ بنانے کے بجائے یونین کونسل سطح پر غریبوں میں راشن کی تقسیم کا عمل شروع کرے تاکہ ان خاندانوں کی مشکلات کا ازالہ ہوسکے۔

کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے وزیر تعلیم سندھ سعید غنی صحت یاب ہوگئے۔ سعید غنی سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی صحت یابی کی خبر دیتے ہوئے کہا کہ الحمد للہ میرے کورونا وائرس کے ہونے والے ٹیسٹ کی رپورٹ نیگیٹو آئی ہے اور ڈاکٹرز کے مطابق میں بالکل صحت یاب ہوں۔ وزیر تعلیم سندھ نے کہا کہ انشااللہ میری کوشش ہوگی کہ آئندہ بھی اپنی ذمہ داریاں بہتر طور پر انجام دے سکوں۔

کورونا وائرس پر بھی پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں سیاسی محاذ آرائی جاری ہے،پیپلزپارٹی کے تحت کورونا وائرس پر ویڈیو لنک آل پارٹیز کانفرنس میں سیاسی قیادت نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان تشکیل دینے،قومی ٹاسک فورس کے قیام سمیت بلدیاتی اداروں تک ہر سطح پراس وباء کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں،اپوزیشن جماعتوں نے تمام تر اختلافات کو علیحدہ رکھ کر حکومت کو اپنے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کبھی کی ہے۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ سمیت ملک بھر میں کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ صوبائی حکومتوں سیاسی قیادت اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایک قومی پالیسی بنائے تاکہ پاکستان کو کورونافری بنایا جاسکے۔

The post غریب خاندانوں کو امداد کا طریقۂ کار غیرمؤثر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2QZi2DK

چین کے ساتھ مل کر اقتصادی اہداف حاصل کیے جاسکتے ہیں

 اسلام آباد: چین نے تو فوری سخت نوعیت کے ہنگامی اقدامات کر کے تین ماہ کے عرصے میں کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیت لی ہے مگر چین سے شروع ہونیوالی یہ وباء بے قابو ہوکر دنیا بھر میں پھیل رہی ہے امریکہ جیسی سپر پاور سمیت دنیا کی تمام بڑی طاقتیں اس وباء سے پریشان ہیں اور اب تک دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد ساڑھے سات لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بھی36 ہزار سے زائد ہے۔

پاکستان میں بھی کورونا متاثرین اور اموات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب کورونا وائرس کے سب سے زیادہ متاثرین امریکہ میں ہیں جہاں یہ تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہوچکی ہے۔ آسٹریلیا نے اپنے اقدامات میں مزید سختی کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ برطانیہ کے چیف میڈیکل آفیسر نے کہا ہے کہ ملک کو دوبارہ اپنی اصل حالت میں آنے کے لیے چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔اس وباء کے خلاف وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور ان کی حکومت کے اقدامات کو سراہا جا رہا ہے اور دیگر حکومتوں نے ان کی تقلید کی ہے۔

ہمارے ہاں سوشل سیکورٹی سسٹم نہ ہونے کے برابر ہے لیکن جس معیشت کو بچانے کا جواز پیش کیا جا رہا ہے وہ کوئی اتنا وزن نہیں رکھتا کیونکہ ہماری معیشت کا سائز ہے ہی کتنا ہے، لوگ ہونگے تو معیشت چلے گی۔ ہمارے ہاں وفاقی حکومت نے ابھی بھارت یا چین جیسے سخت اقدامات نہیں تو نہیں کئے مگر جزوی لاک ڈاون یہاں بھی ہے اور پیر کو بھی قوم سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر ملک میں لاک ڈاؤن سے انکار کرتے ہوئے وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ قائم کرنے کا اعلان کردیا ہے اس فنڈ میں عطیات و رقوم جمع کروانے والوں سے کسی قسم کی کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی اور اس رقم کو ٹیکس چھوٹ لینے کیلئے ٹیکس گوشواروں میں بھی ظاہر کیا جاسکے گا۔

ساتھ ہی وزیراعظم نے جذبہ ایمانی کے ساتھ متحد ہوکر جنگ جیتنے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور ملک کے نواجوانوں کو میدان میں اتارنے کا اعلان کیا ہے جس کیلئے نوجوانوں پر مشتمل کورونا ریلیف ٹائیگر فورس بنانے کا اعلان کیا ہے جو مکمل لاک ڈاون کی صورت میں لوگوں کو گھروں میں راشن پہنچائیں گے۔ اس پر بھی سوالات اٹھناشروع ہوگئے ہیں اور یہ بھی تنقید ہو رہی ہے اور اسے پارٹی ورکروں کو ساتھ جوڑے رکھنے کو ماضی کی حکومتوں کی طرح کا ایک سیاسی اقدام قرار دیا جارہا ہے۔ پھر جن نوجوانوں کو میدان میں اُتارنے کا اعلان کیا گیا ہے کیا وہ اس قدر تربیت یافتہ ہونگے کہ وہ معاون ثابت ہوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ لینے کے دینے پڑ جائیں کیونکہ اس ماحول میں کام کرنے کیلئے خاص تربیت درکار ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا ہے  کہ یہاں بھی چین والے حالات ہوتے تو میں تمام شہر بند کردیتا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں لوگ شدید غربت میں رہتے ہیں،اگر ہم لاک ڈاؤن کرتے اور ان غریبوں کا خیال نہ کرتے تو کوئی لاک ڈاؤن کامیاب نہیں ہوسکتا اور اگر کسی علاقے میں ایسا قدم اُٹھانا پڑا تو وہاں یہ نوجوان لوگوں کو انکی دہلیز پر اشیائے ضروریہ مہیا کریں گے۔ اپنے تیسرے خطاب میں اُن کا کہنا تھا کہ متحد ہوئے بنا موجودہ چیلنجز کا مقابلہ ممکن نہیں۔ مگر چند روز قبل پارلیمانی لیڈروں اجلاس میں بغیر کسی شریک رہنما سے سلام دعا کیے اپنی بات کہنے کے بعد دیگر شرکاء کی بات سُنے بغیر آف لائن ہو گئے اس تحقیر آمیز اور متکبرانہ انداز پر اپوزیشن کی دنوں بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماوں میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے واک آؤٹ کیا۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ایک اور کیس میں وارنٹ جاری ہوچکے ہیں جس کی انہوں نے چار ہفتے کے راہداری ضمانت حاصل کرلی ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پہلے سے ضمانت پررہا اپوزیشن لیڈر میاں شہباز کو بھی دوبارہ نیب یاترا کیلئے طلبی کا پروانہ جاری کردیا گیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ باتیں بھی زیر گردش ہیں کہ کپتان پر اپنی ٹیم کے چار کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر کرنے کے حوالے سے بھی شدید دباوء ہے جس پر کپتان کے ڈٹ جانے کی خبریں بھی ہیں۔ جبکہ کورونا کے معاملہ پر اہم فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

اپوزیشن کے سیاسی حلقوں کا تاثر ہے کہ کورونا کے معاملہ پر خود حکومت کو آگے بڑھ کر اپوزیشن کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ پنجاب میں تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرنے کیلئے متحرک ہیں۔ وفاق کی سطع پر بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے بڑے دل کے ساتھ بڑے فیصلے کرنا ہونگے اور اپنے اعصاب مضبوط رکھنا ہونگے۔ ابھی عالمی کساد بازاری اور معاشی بحران کے سائے اس قدر خوفناک ہوتے جا رہے ہیں کہ بڑی طاقت ور معیشت رکھنے والے ممالک کے رہنما شدید نفسیاتی دباوء کا شکار ہیں۔

حال ہی میںجرمنی میں ایک صوبے کے وزیر خزانہ کے کورونا وباء میں مبتلا عوام کی مالی امداد میں ناکامی پر خودکشی کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ دنیا بھر میں قیامت برپا کرنے والے ’کورونا وائرس ‘ سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری حرکت میں آگئی ہے۔ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز نے کوروناکو عالمی انسانی بحران قرار دے کر اس سے نمٹنے کے لیے پوری دنیا کو متحد ہونے کی دعوت دی ہے جبکہ جی 20 کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ معیشت پر کورونا بحران کے نتائج کا سامنا کرنے کے لیے ممالک اور مرکزی بینکوں نے پانچ کھرب ڈالر سے زیادہ کی رقم مختص کرنے کا اعلان کیا۔

یہ رقم کورونا سے نمٹنے کے لیے ویکسین کی تیاری اور پسماندہ ممالک اور خطوں کے لوگوں کو اس وباء کے اثرات سے نکالنے پر صرف کی جائے گی۔ جبکہ اجلاس میں چینی صدر شی جن پنگ نے کسٹم ڈیوٹی میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشتعل کر دیا ہے اس معاملہ پر امریکہ اور چین کے درمیان جاری معاشی جنگ میں بھی مزید تیزی آگئی ہے۔ امریکی ریاستوں کے گورنروں کی جانب سے کورونا سے نمٹنے کے لئے دو ٹریلین ڈالر کے امدادی پیکج کی منظور ی کے لئے بلائے جانیوالے اجلاس میں وفاق کے خلاف جس قدر نفرت انگیز تقاریر سامنے آئی ہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اگر امریکہ میں کورونا کا معاملہ مزید چند ماہ جاری رہتا ہے تو اس سے امریکہ کی مشکلات بہت زیادہ بڑھ جائیں گی۔

کہا جارہا ہے کہ چین نے کساد بازاری کے ان حالات میں تاریخ کی سب زیادہ سرمایہ کاری کی ہے سب سے زیادہ تیل چین نے خرید کر ذخیرہ کیا ہے اور عالمی سٹاک مارکیٹ میں مندی کے ان حالات میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری چائنیز کمپنیوں و سرمایہ کاروں نے کی ہے اب جب پوری دنیا کے ممالک اپنی معاشی سرگرمیاں بند کر رہے ہیں چین اپنی اقتصادی سرگرمیاں بحال کر رہا ہے اور تیزی کے ساتھ معمول پر آرہا ہے جو عالمی طاقتوں کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ پاکستان کیلئے اقتصادی طور پر ایشیائی ٹائیگر بننے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کا یہ ایک سنہری موقع بھی ہے۔

پاکستان ترقی کے اس سفر میں چین کا ہم سفر بن کربہت کچھ کرسکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ شرح سود کو مزید کم کرکے سنگل ڈیجٹ پر لایا جائے اس سے حکومتی قرضوں میں کمی کے ساتھ ساتھ ملک میں سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ کو فروغ ملے گا۔

 

The post چین کے ساتھ مل کر اقتصادی اہداف حاصل کیے جاسکتے ہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2xIlgok

وزیرخارجہ کا سعودی ہم منصب کو فون، سعودی عرب پر میزائل حملوں کی شدید مذمت

 اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود کو فون کرکے قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ پر بات چیت کی ہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود کو ٹیلیفونک کیا اور کوروناوائرس کے پھیلاؤ کوروکنے اورعالمی چیلنج سے نمٹنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ بات چیت میں قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کی تجویز سمیت ترقی پذیر ممالک کی معاشی معاونت کو بھی زیر غور لایا گیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود نے کورونا وبا کے باعث سعودی شہریوں کے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب کی طرف سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے اقدامات کی تعریف کی۔

شاہ محمود نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کو ری اسٹرکچر کرنے کی تجویز دی ہے، کیونکہ پاکستان جیسے کم وسائل کے حامل ترقی پذیرممالک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور جیزان شہر پر میزائل حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کسی بھی جارحیت کے خلاف سعودی عرب کی مکمل حمایت اور معاونت کے عزم کا اعادہ کیا۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نے میزائل حملوں کے خلاف اصولی موقف اپنانے پر شاہ محمود کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے مشاورتی سلسلے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور دیگر شہروں پر بیلسٹک میزائل حملے کیے تھے جنہیں سعودی فوج نے میزائل دفاعی نظام سے ناکام بنادیا۔ سعودی حکام کے مطابق ان میزائل حملوں میں 2 عام شہری معمولی زخمی ہوئے۔

The post وزیرخارجہ کا سعودی ہم منصب کو فون، سعودی عرب پر میزائل حملوں کی شدید مذمت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2UPTNZT

کورونا وائرس سے زیادہ خطرناک منافع خور اور ذخیرہ اندوز ہیں

لاہور: انسانی تاریخ میں ’’کورونا وائرس‘‘ سے زیادہ بھیانک وبا دیکھنے میں نہیں آئی۔ سپر پاور قرار دیئے جانے والے ممالک بھی اپنی تمام تر ٹیکنالوجی،مالی وسائل اور انسانی ذہانت کے ہوتے ہوئے لاچار و بے بس ہیں۔

وائرس لگنے سے مرجانے سے زیادہ بڑا خوف اس کے حیران کن اور تیز رفتار پھیلاوء سے ہے اور یہی خوف پوری دنیا کو لاک ڈاون کر چکا ہے۔197 ممالک میں بسنے والے 7 ارب 80 کروڑ انسان اس جرثومے کے خوف کا شکار ہو کر صدیوں سالوں سے چلے آرہے اپنے سماجی برتاو ،معاشی طریقہ کار اور خوراک کو تبدیل کر رہے ہیں ۔یہ تو طے ہے کہ کورونا وائرس کا بحران ختم ہونے اور اس کی ویکسین تخلیق ہوجانے کے بعد دنیا اب پہلے جیسی نہیں رہے گی۔

بعد از کورونا والی دنیا بہت مختلف ہوگی ،سماجی میل جول یکسر تبدیل ہوجائے گا، لوگ صفائی اور خوراک کے معاملے میں زیادہ ’’ہائی جینک‘‘ ہوں گے،ہاتھ ملانے اور گلے ملنے کی عادتیں ختم تو نہیں البتہ نہایت محدود ہوجائیں گی جبکہ دفاتر کی بجائے گھر پر رہتے ہوئے کام کا رواج بڑھے گا۔ دنیا تباہ کن ہتھیاروںکی تیاری اور خرید و فروخت پر کھربوں ڈالرکے اخراجات کو کم کر کے طبی تحقیق اور ہسپتالوں کے وسیع تر نظام پر زیادہ خرچ کرے گی جبکہ سیاحت کا انداز بھی تبدیل ہوجائے گا ۔

دنیا میں حلال فوڈ کا بزنس کئی گنا بڑھنے کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے کیونکہ غیر مسلم قومیں بھی اب حرام جانوروں کے گوشت سے پرہیز کرنے لگی ہیں۔ لاک ڈاون کا شکار ہونے کے بعد انسانوں کو معلوم ہوا ہے کہ ’’انسان ایک سپر سوشل کریچر ہے‘‘ جبکہ یہ دنیا تمام تر لسانی،سماجی،مذہبی، سیاسی، دفاعی اور مالیاتی اختلافات کے باوجود ایکدوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور سب کو یہ بھی معلوم ہو گیا ہے کہ خلاوں کو مسخر کرنے، سمندر کی پاتال کو کنگھالنے،ہائیڈروجن اور نائٹروجن بم بنانے ،روشنی سے تیز انٹر نیٹ تخلیق کرنے ،آوازسے تیز رفتار ہوائی جہاز بنانے سے کوئی ملک سپر پاور نہیں بن جاتا۔

پاکستان بھی کورونا کا شکار ہے اور ابھی تک وفاقی و پنجاب حکومت کی جانب سے کیئے جانے والے اقدامات ناکافی اور غیر تسلی بخش دکھائی دیتے ہیں ۔پوری دنیا لاک ڈاون کے ذریعے وائر س کے پھیلاو کو روک رہی ہے لیکن وزیر اعظم عمران خان لاک ڈاون کی مخالفت کر رہے ہیں جبکہ وہ جن 25 فیصد دیہاڑی دار افراد کی وجہ سے مخالفت کر رہے ہیں ان کے بارے میں یہ نہیں بتا رہے کہ اس وقت جبکہ تمام کاروبار،دفاتر بند ہیں تو یہ بندے دیہاڑی کہاں سے کریں گے اور آیا ان 25 فیصد کو وائرس سے کیسے محفوظ رکھا جائے گا اور وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں یہ بھی نہیں بتایا کہ ان 25 فیصد سے باقی کے 75 فیصد کو کیسے محفوظ رکھنا ہے۔وزیر اعظم نے کورونا ریلیف ٹائیگر فورس تو تشکیل دے دی لیکن اماوس کی بیل پر انگور نہیں لگا کرتے۔

وائرس بحران کے دوران وفاقی حکومت کی کارکردگی اور فیصلوں کی وجہ سے ’’پنڈی‘‘ اور’’اسلام آباد‘‘ کے درمیان کشیدگی اور بڑھتی خلیج کی باتیں بھی سنائی دے رہی ہیں جبکہ وفاق اور صوبے بھی ایک پیج پر نہیں ہیں۔ ملک میں پہلے بھی منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی زوروں پر تھی لیکن اب تو بام عروج پر جا پہنچی ہے ۔

یہ درست ہے کہ متمول خاندانوں نے کئی کئی ماہ کا راشن اور اشیائے ضروریہ اپنے گھروں میں ذخیرہ کی ہیں جبکہ متوسط طبقہ بھی ہیجان خیزی کی بنیاد پر اضافی خریداری کر رہا ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ تھوک منڈیوں کے بیورپاریوں نے تو جو مہنگائی کی سو کی لیکن گلی محلہ کے دکاندار بھی از خود ہی قیمتوں میں اضافہ کیئے ہوئے ہیں ،آٹے کی مثال ہی لے لیں ،کورونا وائرس سے پہلے معمول کی قیمت پر وافر آٹا دستیاب تھا لیکن جیسے ہی کورونا وائرس آیاتو آٹا کی قلت پیدا ہو گئی اور ماضی کی طرح اصل وجوہات کھوجے بغیر سارا ملبہ ایک مرتبہ پھر فلورملز پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

موجودہ آٹے کی قلت کے چند بڑے اسباب ہیں(1 )لاک ڈاون کے سبب ہر شخص کی کوشش ہے کہ گھر میں وافر راشن رکھا جائے جو شخص مہینے میں دو مرتبہ تھیلا خریدتا تھا وہ اب ایک ہی مرتبہ تین یا چار تھیلے خرید رہا ہے یہ سمجھے بغیر کہ آٹا کی ایک شیلف لائف ہوتی ہے اس کے بعد وہ خراب ہوجاتا ہے۔راہ چلتے ہوئے ہم سب کو کئی موٹر سائیکل یا رکشہ سوار دکھائی دیتے ہیں جنہوں نے کئی تھیلے آٹا رکھا ہوا ہوتا ہے،(2 )آٹا ڈیلرز کی بڑی تعداد چھوٹے دوکانداروں کو سرکاری نرخ سے زائد قیمت پر آٹا فروخت کر رہی ہے اور دانستہ طور پر ان کی ڈیمانڈ سے کم آٹا دیا جا رہا ہے (3 )گلی محلوں کی سطح پر دوکاندار تھیلا کی بجائے چند کلو روز کا آٹا خریدنے والے غریب گاہکوں کو مہنگے داموں آٹا بیچ رہے ہیں (4) لاک ڈاون کے سبب مخیر حضرات کی جانب سے بڑے پیمانے پر آٹا خرید کر مستحقین میں تقسیم کرنے سے بھی آٹا کی طلب میں اضافہ ہوا ہے (5 ) اوپن مارکیٹ کیلئے جتنے آٹے کی ضرورت ہوتی ہے اس کیلئے درکار گندم کا 65 فیصد محکمہ خوارک فراہم کرتا ہے جبکہ باقی کی 35 فیصد گندم مل مالکان اوپن مارکیٹ سے خرید کر استعمال کرتے ہیں لیکن اس وقت اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 1800 روپے من سے تجاوز کر چکی ہے جس کے سبب ملیں صرف سرکاری گندم کو مقامی آٹا سپلائی کے لئے استعمال کر رہی ہیں جس وجہ سے پیداوار کم ہوئی ہے جبکہ نجی گندم سے ’’سپر آٹا‘‘ تیار کر کے خیبر پختونخواہ بھیجا جا رہا ہے (6 ) فلورملز نے سندھ کی گندم جلد آنے کے امکان پر اپنے پاس موجود نجی گندم کو مکمل استعمال کر لیا تھا لیکن پچھلے کئی دنوں سے سندھ فوڈ کی پابندی کے سبب گندم پنجاب نہ آنے سے آٹا پیداوار متاثر ہوئی ہے۔(7 ) فیصل آباد اور دیگر کئی شہروں میں آٹے کی مارکیٹ سپلائی مانیٹر کرنے کیلئے ڈپٹی کمشنرز نے اپنا سٹاف مقرر کیا ہواہے لیکن لاہور میں ضلعی انتظامیہ نے ساری ذمہ داری محکمہ خوارک پر عائد کر رکھی ہے۔

اب ڈپٹی کمشنرز نے مارکیٹ سپلائی کے بجائے ملز پر پٹواری تعینات کر دیئے ہیں لیکن یہ بہتری کی بجائے مزید خرابی کا سبب بنیں گے ۔ ماضی میں لاہور کی یونین کونسلز کے سیکرٹریز کو آٹے کے ٹرکوں میں بٹھا کر مارکیٹ سپلائی کو مانیٹر کیا جاتا تھا جو ایک ایک تھیلے کی سپلائی کا شا م کو حساب کر کے حکومت کو آگاہ کرتے تھے۔پاکستان فلورملز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین عاصم رضا نے ملک بھر کے فلور مل مالکان کے نام اپنے ویڈیو پیغام میں انہیں کہا ہے کہ یہ ایک ہنگامی صورتحال ہے لہذا قومی اور مذہبی ذمہ داری نبھاتے ہوئے آٹے کی قلت نہ ہونے دی جائے۔سبزیوں اور پھلوں کی دستیابی اور قیمتیں مستحکم ہیں بلکہ بعض سبزیوں کی قیمتوں میں کمی آئی ہے تاہم دالوں، گھی اور چینی کی دستیابی اور قیمتیں غیر مستحکم دکھائی دے رہی ہیں۔ پرائس کنٹرول کمیٹیوں اور پرائس مجسٹریٹس کی کارکردگی کا اصل امتحان اس وقت ہے۔ محکموں اور افسروں کو نیک نیتی، سنجیدگی اور ہمت سے کام لینا ہوگا۔

پنجاب کے وزیر اعلی سردار عثمان بزدار ،چیف سیکرٹری میجر(ر) اعظم سلیمان ،وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری، وزیر زراعت ملک نعمان لنگڑیال اور وزیر صنعت میاں اسلم اقبال بھرپور کوشش تو کر رہے ہیں لیکن دیگر کابینہ ارکان جن کی ڈیوٹیاں اضلاع میں لگائی گئی ہیں ان میں سے چند ایک کو چھوڑ کر باقی سب انگلی کٹا کر شہیدوں میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں ۔سب کو سمجھنا ہوگا کہ اصل خطرہ ’’کورونا‘‘ سے نہیں ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں سے ہے۔

The post کورونا وائرس سے زیادہ خطرناک منافع خور اور ذخیرہ اندوز ہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2XakUBZ

راولپنڈی میں نجی اسکولوں اورکالجز کو انتظامی دفاتر کھولنے کی اجازت

 راولپنڈی: انتظامیہ کی جانب سے ضلع بھر میں تمام پرائیویٹ اسکولوں اور کالجز کو انتظامی دفاتر کھولنے کی اجازت دے دی گئی۔ آج یکم اپریل سے تمام پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے دفاتر باقاعدہ کھل گئے۔

ضلعی تعلیمی آفیسر کے مطابق اجازت ٹیچرز اور نان ٹیچنگ اسٹاف کو تنخواہ ادا کرنے اور تدریسی عمل آن لائن کرنے کے لئے دی گئی ہے۔ اجازت ملنے کے بعد 3 ملازمین دفتری اوقات میں بیٹھ سکیں گے۔

ممبر ڈسٹرکٹ رجسٹریشن اتھارٹی عرفان مظفر کیانی کے مطابق کھولے گئے دفاتر میں ملازمین کے لئے ماسک،گلوز، سینی ٹائزر کا استعمال لازمی ہوگا جب کہ سماجی فاصلے کے ایس او پی پر عملدرآمد بھی لازمی ہوگا۔

The post راولپنڈی میں نجی اسکولوں اورکالجز کو انتظامی دفاتر کھولنے کی اجازت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2R2fdlr

حرم شریف میں مطاف کے حصے میں طواف کا سلسلہ دوبارہ شروع

مکہ المکرمہ: حرم شریف میں مطاف کے حصے میں طواف کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے تاہم اس دوران کم لوگوں کا اجتماع ہی طواف کر سکے گا۔

کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے سعودی حکومت نے 23 مارچ سے 21 روز کے لیے جزوی کرفیو کا اعلان کر رکھا ہے۔اس سے قبل حفاظتی اقدامات کے تحت تمام مساجد بشمول مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے اندرونی اور بیرونی حصے میں پنجگانہ نماز اور نماز جمعہ کی ادائیگی پر مکمل پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

سعودی حکام نے اس سے قبل وائرس سے بچاؤ کے لیے خانہ کعبہ کے اطراف سپرے کے لیے مطاف خالی کرایا تھا اور طواف کے عمل کو روک دیا گیا تھا جب کہ بعد میں مطاف کو زائرین کے لیے کھولا گیا تو انہیں کعبہ کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

The post حرم شریف میں مطاف کے حصے میں طواف کا سلسلہ دوبارہ شروع appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3bEcSVN

بحرانی حالات میں تمام سیاسی جماعتوں کو میدان عمل میں آنا چاہیے

پشاور: کورونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا اتھل پتھل ہوکر رہ گئی ہے۔ ایسے میں یہ ممکن نہیں تھا کہ پاکستان اور اس کے چاروں صوبے اس صورت حال سے محفوظ رہتے۔

پاکستان سے بیرون ملک گئے مسافروں کی واپسی سے یہ وائرس پاکستان وارد ہوا اور یہاں پر پھیلتے ہوئے لوگوں کو متاثر کررہا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے بروقت اقدامات کیے جس کے نتیجے میں یہ وائرس صوبہ میں بڑے پیمانے پر پھیلنے سے رک گیا ہے۔ گو کہ مردان سمیت بعض علاقوں میں وائرس تباہی پھیلا رہا ہے تاہم اس کی وجہ بیرون ممالک سے آئے وہ افراد ہیں جنہوں نے وطن واپسی پر اپنا طبی معائنہ کرانے کی بجائے گھروں کو لوٹنے کو ترجیح دی جس کی وجہ سے دیگر بہت سے لوگ بھی متاثر ہوئے ۔ چونکہ صوبہ کے مختلف اضلاع کی صورت حال صوبائی حکومت کے سامنے تھی اسی لیے محمودخان حکومت نے بروقت اقدامات کیے۔ پہلے مرحلے میں تعلیمی اداروں کو بند کیاگیا جن میں سکولوں کے علاوہ کالج اور یونیورسٹیاں بھی شامل ہیں جبکہ ساتھ ہی میٹرک کے سالانہ امتحانات بھی ملتوی کیے گئے۔

حکومتی اقدامات یہیں تک محدود نہیں رہے بلکہ ساتھ ہی اس صورت حال میں لازمی گردانے جانے والے سرکاری محکموں کے علاوہ دیگر تمام دفاتر کو بند کرتے ہوئے سرکاری اہلکاروں کو چھٹی دے دی گئی جس میں اب 5 اپریل تک توسیع کی جاچکی ہے اورساتھ ہی عوام کی بازاروں میں آمدورفت کو روکنے کے لیے کاروباری مراکز کو بند کردیاگیاجن کی بندش میںاب 10 اپریل تک توسیع کی جاچکی ہے تاکہ عوام باہر نہ نکلیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پولیس کے علاوہ دیگر سیکورٹی اہلکاروں کو صوبہ بھر میں تعینات کیا جا چکا ہے جو عوام کو گھروں تک محدود رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمودخان خود تمام تر حفاظتی اقدامات اورریلیف سرگرمیوں کی نگرانی کررہے ہیں جنہوں نے کابینہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے متاثرین کی مدد اور غرباء کو ریلیف فراہم کرنے کی غرض سے32 ارب روپے مالیت کے امدادی پیکج کی منظوری دی جس سے 19 لاکھ خاندانوں کو ماہانہ بنیادوں پر5 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے جس کے لیے صوبائی حکومت اپنی جانب سے11 ارب60 کروڑ روپے کی فراہمی کرے گی۔ ٹیکسوں میں بھی عوام کو پانچ ارب روپے کا ریلیف دیا گیا ہے اوریہ بھی واضح کیاگیا ہے کہ اگرضرورت پڑی تو صوبہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سے کٹوتی کرتے ہوئے عوام کی مدد اور ریلیف کے لیے پیسہ فراہم کیاجائے گا۔

صوبائی حکومت نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ ساتھ ہی موجودہ حالات میں فرنٹ پر رہتے ہوئے خدمات انجام دینے والے طبی عملے اور سیکورٹی اہلکاروں کے لیے بھی پیکج دینے کا عندیہ دیا ہے جس کے تحت اگر ان حالات کی وجہ سے طبی عملہ یا کوئی بھی سیکورٹی اہلکار متاثر ہوتا ہے یا اسے جان سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے تو حکومت کی جانب سے اس کے اہل خانہ کی بھرپور انداز میں مدد کی جائے گی ۔

عوامی میل جول کی روک تھام کے ذریعے وائرس کو پھیلنے سے روکا ضرور جاسکتا ہے اسی بات کو مد نظررکھتے ہوئے شہروں کے اندر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے علاوہ دیگر شہروں اوربین الاضلاعی روٹس پر چلنے والی ٹریفک کو بھی بند کیا گیا ہے۔   محمودخان حکومت نے جاری مالی سال کے لیے صوبہ کے 319 ارب روپے مالیت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سے کٹوتی کرنے یا اسے کُلی طور پر معطل کرتے ہوئے فنڈز امدادی اور ریلیف سرگرمیوں کی طرف موڑنے پر بھی غور شروع کردیا ہے اور آنے والے دنوں میں حالات کو دیکھتے ہوئے اس بارے میں حتمی طور پر فیصلہ کیاجائے گا ۔

کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا صورت حال میں ایران سے آنے والے زائرین کی نقل وحمل کو روکنا ضروری تھا اسی لیے ڈی آئی خان اور دوران پور پشاورمیں قرنطینہ قائم کیے گئے جبکہ صوبہ بھر میں سکولوں میں مزید قرنطینہ کے قیام کے لیے بھی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید سکولوں میں بھی قرنطینہ کا قیام عمل میں لایاجائے گا۔ اس کے ساتھ صوبائی حکومت عوام کو اشیائے خور و نوش کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بھی کوشاں ہے جس کے لیے ضروری اقدامات جاری ہیں۔

انتظامی ٹیمیں اس سلسلے میں متحرک بھی ہیں جنھیں مزید فعال ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ بعض مقامات پر ذخیرہ اندوز ان سے زیادہ متحرک ہوچکے ہیں جو نہ صرف اشیائے خور و نوش اور ادویات کی ذخیرہ اندوزی میں مصروف ہیں بلکہ انہوںنے ازخود ان کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیاہے جس کی وجہ سے عوام کو مشکلات در پیش ہیں۔

ضرورت تو اس بات کی تھی کہ حالات کا ادراک کرتے ہوئے سیاسی جماعتیں اپنے تمام تر وسائل اور ورکروں کے ساتھ میدان میں ہوتیں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اپنی سرگرمیاں شروع کردیتیں لیکن ان نازک حالات میں صرف جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم الخدمت فاونڈیشن ہی میدان میں دکھائی دے رہی ہے جو طبی اور ریلیف سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس صورت حال میں یہ ساری ذمہ داری نہ تو حکومت ادا کرسکتی ہے اور ہی نہ ہی تن تنہا الخدمت فاونڈیشن بلکہ اس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے وسائل کے ساتھ میدان میں آنا چاہیے، تاکہ ضرورت مند افراد کی امداد ان کے گھروں کے دروازے پر کرنی چاہیے تاکہ جمگٹھے بھی نہ لگیں اور ضرورت مندوں کی ضروریات بھی پوری ہوتی رہیں۔

اس کے برعکس سیاسی جماعتیں اب تک حکومت اور حکومتی اقدامات پر تنقید تک ہی محدود ہیں،سیاسی جماعتوں کے قائدین نہ صرف گھروں میں بیٹھے صرف تنقیدی بیانات جاری کر رہے ہیں بلکہ عملی طور پر میدان میں نکلنے کے لیے تیار نظر نہیں آرہے جو نہایت ہی افسوس کا مقام ہے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ ان حالات میں چند ماہ قبل ہی اپنے عہدوں سے سبکدوش ہونے والے بلدیاتی نمائندوں کااستعمال کرتے ہوئے ہر علاقے اور محلے میں ضرورت مندوں کی ضروریات پوری کرے جبکہ ان حالات میں اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کا متحرک ہونا لازمی ہے۔ اراکین پارلیمنٹ اگر اپنے انتخابی اخراجات کا نصف بھی ان حالات میں ضرورت مندوں اور غرباء کی مدد اور انھیں ریلیف دینے کے لیے خرچ کریں تو اس سے صورت حال تبدیل ہوسکتی ہے۔

چونکہ یہ صورت حال غیرمعمولی ہے اس لیے اس میں غیر معمولی اقدامات ہی ہونے چاہیں جس کے لیے اگر حکومت سالانہ ترقیاتی پروگرام میں کٹوتی کرنے یا اسے معطل کرنے جیسے اقدامات کی طرف جارہی ہے تو اس کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں اور عوامی نمائندوں کو بھی قربانی دینا ہوگی کیونکہ جن سخت حالات کا اس وقت پوری قوم سامنا کررہی ہے ایسے حالات کم ہی دیکھنے میں آئے ہیں۔

The post بحرانی حالات میں تمام سیاسی جماعتوں کو میدان عمل میں آنا چاہیے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2wH3Qsp

جام حکومت کو وباء کے پھیلاؤ کاذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا

کوئٹہ: کرونا وائرس نے جہاں پوری دُنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے وہاں پاکستان خصوصاً بلوچستان کی سیاست میں بھی میانہ روی آگئی ہے اور تمام سیاسی و قوم پرست جماعتیں اس وباء سے متحد ہو کر لڑنے کو فوقیت دے رہی ہیں۔

وفاقی یا صوبائی حکومتوں سے اختلافات اپنی جگہ لیکن اس قدرتی آفت سے مقابلے کیلئے تمام سیاسی جماعتیں لائن اپ ہوگئی ہیں اور اس آفت سے نمٹنے کیلئے حکومتوں کا ساتھ دے رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ دنوں اسلام آباد میں اس حوالے سے پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے بلائی گئی پہلی ویڈیو لنک اے پی سی میں ملک کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے شرکت کی اور اپنی تجاویز بھی پیش کیں بلوچستان سے قوم پرست جماعتوں نیشنل پارٹی اور بی این پی کی قیادت نے بھی شرکت کی اور بلوچستان کے حوالے سے اپنی تجاویز اے پی سی کے سامنے رکھیں اس موقع پر نیشنل پارٹی کے قائد میر حاصل بزنجو اور بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے بلوچستان کی حکومت پر بھی شدید تنقید کی۔

سیاسی مبصرین نے بھی اس اے پی سی کے انعقاد اور اس میں دی گئی تجاویز کو خوش آئند قرار دیا ہے تاہم ان مبصرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے تفتان سرحد سے ملک بھر میں پھیلانے کے جام حکومت پر جو الزامات عائد کئے جا رہے ہیں ان میں کوئی صداقت نہیں۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان اپنے قوم سے پہلے خطاب میں وزیراعلیٰ جام کمال خان کے اقدامات کو سراہتے ہیں اور بعد ازاں یو ٹرن لیتے ہوئے اپنے قریبی ساتھیوں کو بچانے کیلئے تمام ملبہ بلوچستان حکومت پر ڈال دیتے ہیںاور حقائق سے نظریں چرا رہے ہیں۔

حالانکہ جب ایران میں وائرس کے پھیلاؤ کی اطلاعات موصول ہوئیں تو جام حکومت نے فوری طور پر تفتان بارڈر کو سیل کرنے کے احکامات جاری کئے اور ایرانی حکومت سے بذریعہ وفاقی حکومت زائرین کے ٹیسٹ اور قرنطینہ کی درخواست کی لیکن اس کے باوجود ایران نے ہمارے زائرین کو اپنے پاس رکھنے اور ٹیسٹ کرانے سے انکار کرتے ہوئے تفتان روانہ کردیا۔

صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے صوبائی حکومت نے اپنے وسائل کے مطابق انتظامات کا آغاز کیا حالانکہ اس موقع پر صوبائی حکومت کو وفاق اور این ڈی ایم اے کی جانب سے کوئی خاطر خواہ معاونت نہیں ملی اس کے باوجود صوبائی حکومت نے تفتان میں پانچ ہزار زائرین کو سہولیات دینے کے ساتھ ساتھ انکی رہنمائی کی اور ان زائرین کو لے جا کر انکے صوبوں کے حکام کے حوالے کیا۔

ان مبصرین کے مطابق وفاقی حکومت حقائق سے نظریں چرا کر تمام ملبہ جام حکومت پر ڈال رہی ہے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت اس بات پر کس طرح پردہ ڈالے گی کہ دیگر ممالک اور سعودیہ سے ملک میں بائی ایئر آنے والے افراد کے معاملے کو کیسے دیکھتی ہے جن کے کوئی ٹیسٹ کئے بغیر ملک میں داخل کیا گیا، ان میں سے ساڑھے بارہ ہزار لوگ بلوچستان منتقل ہوئے کیا وفاقی حکومت تمام ملبہ جام حکومت اور تفتان بارڈر سے آنے والے زائرین پر ڈال کربری الذمہ ہوسکتی ہے؟

یہ وقت سیاست چمکانے کا نہیں بلکہ اپنی نسل کو بچانے کا ہے ان سیاسی مبصرین کے مطابق جام کمال کی حکومت بلوچستان میں آج بھی اس خطرناک وباء سے کم وسائل ہونے کے باوجود جس حکمت کے ساتھ نبرد آزما ہے وہ قابل تعریف ہے۔ ان سیاسی مبصرین کے مطابق اے پی سی میں بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے جو تجاویز دیں وہ انتہائی معقول ہیں اگر صوبائی حکومت ان تجاویز پر فوری طور پر عملدرآمد شروع کرے تو جلد ہی اس خطرناک وباء پر کنٹرول کرنے کے حوالے سے دور رس نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق بلوچستان کی سیاسی و قوم پرست جماعتوں نے اس نازک موقع پر جس سمجھداری اور ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے وہ بھی قابل تحسین ہے۔ بلوچستان حکومت نے کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے جہاں دیگر اقدامات کئے ہیں وہاں اُس نے فوری طور پر1500 کنٹینرز پر مشتمل ہسپتال اور ریلیف اینڈ ایمرجنسی سینٹر بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ ان کنٹینرز میں آپریشن تھیٹر، آئسولیشن رومز، رہائشی سہولیات اور غسل خانے موجود ہونگے۔ کنٹینرز ہسپتال کیلئے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف بھی بھرتی کیا جائے گا۔ ان کنٹینرز ہسپتالوں کو مستقبل میں بھی مختلف وبائی امراض اور قدرتی آفات کی صورت میں استعمال میں لایا جائے گا اور متاثرہ علاقوں کی طرف فوری طور پر منتقل کیا جاسکے گا۔

اس کے علاوہ بلوچستان میں ہیلتھ اینڈ ایمرجنسی ویلج کے قیام پر بھی کام جاری ہے ۔ حکومت نے صوبے میں خوراک کی قلت کے تدارک کیلئے پی ڈی ایم اے کو فوری طور پر ایک ارب روپے سے زائد کی رقم ریلیز کرتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی بھی ہدایت جاری کی ہے۔ جبکہ صوبے کے تمام کمشنرز کو ایک ایک کروڑ روپے ریلیز کئے گئے ہیں کہ وہ اپنے اپنے ڈویژن میں اس بحرانی کیفیت سے نمٹنے کیلئے اقدامات کریں ۔ صوبائی حکومت نے صوبے بھر میں آٹھ لاکھ افراد کی نشاندھی کی ہے جو کہ روزانہ اُجرت پر کام کرتے ہیں اور انہیں روزانہ کی اُجرت کے تناسب سے رقم فراہم کی جائے گی، جس کیلئے2 ارب40 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں۔

اسی طرح گھروں میں محصور غریب لوگوں کو ایک ارب روپے کی لاگت سے راشن بھی فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے ہسپتالوں کو جدید آلات اور مشینری سے بھی لیس کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور مرحلہ وار اس پر ابتدائی کام بھی شروع کردیا گیا ہے جبکہ حکومت ڈاکٹرز، پیرا میڈیکس اور نرسنگ اسٹاف کے علاوہ پولیس و سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے بھی بعض قدامات پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے جو کہ اس جنگ میں اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر فرنٹ لائن پر لڑرہے ہیں۔

حکومت اپنے ان تمام اقدامات پر اپوزیشن سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لینے اور ملکر اس جنگ کو لڑنے کیلئے صف بندی کررہی ہے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے ملک کے ان بڑے بڑے صنعتکاروں، بزنس مینوں اور مخیر حضرات کے رویئے پر برہمی کا اظہار کیا ہے جو ملک سمیت بلوچستان میں بھی بڑے بڑے پراجیکٹس پرکام کررہے ہیں لیکن اس نازک وقت میں آگے آکر بلوچستان حکومت اور یہاں کے عوام کیلئے کسی قسم کی کوئی مدد اور تعاون نہیں کر رہے۔

 

The post جام حکومت کو وباء کے پھیلاؤ کاذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2UyXJzk

غریب خاندانوں کو امداد کا طریقۂ کار غیرمؤثر

کراچی: سندھ میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے بھر میں عوام کو گھروں تک محدود کرنے کے لیے صبح 8بجے سے شام 5بجے تک کریانہ،گوشت،سبزی و پھل،میڈیکل اسٹورز اور پیٹرول پپمپس کو کھولنے کی اجازت دی ہے۔

گذشتہ کئی دنوں سے کراچی سمیت صوبے بھر میں تمام کاروباری وتجارتی سرگرمیاں بند ہیں جبکہ شام 5بجے سے صبح 8بجے تک تمام اشیاء خور و نوش،میڈیکل اسٹورز اور فیول پمپس کو بھی بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔صرف دودھ کی دکانوں کو رات 8بجے تک کھولنے کی اجازت دی گئی ہے،واضح رہے کہ پہلے دودھ فروشوں کو بھی شام 5بجے تک کاروبار کرنے کی اجازت دی گئی تھی تاہم دودھ کوضائع ہونے سے بچانے کے لیے ان احکامات میں ترمیم کی گئی۔

سندھ میں گذشتہ جمعہ کئی مساجد میں نماز’’جمعہ‘‘ کے اجتماعات منعقد کرنے پر امام مسجد اور دیگر کے خلاف مقدمات درج کیے گئے اور گرفتاریاں بھی ہوئیں،حکومت سندھ کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے مساجد میں عوام کے لیے باجماعت نماز کی ادائیگی پر پاپندی کا فیصلہ علمائے کرام کی مشاورت سے کیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے علمائے کرام کے ساتھ ایک اجلاس میں محکمہ پولیس کو نماز جمعہ کے لئے تیار کردہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر مساجد کے پیش اماموں اور دیگر کے خلاف درج تمام ایف آئی آرز واپس لینے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے علمائے کرام سے درخواست کی کہ وہ اپنی جمعہ کی جماعت کو پانچ افراد تک محدود رکھیں گے، علماء نے اس حوالے سے حکومت سے تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں ہر ایک سے درخواست کر رہا ہوں کہ وہ سماجی دوری برقرار رکھیں اور اجتماعات سے اجتناب کریں۔ اس کا مقصد اپنے لوگوں کو اس بیماری سے بچانا ہے اور یہ علمائے کرام کے تعاون سے ہی ممکن ہوگا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ اگر انھوں نے لاک ڈاؤن نافذ نہ کیا ہوتا اورغیر معمولی اقدامات نہ کرتے تو وائرس سے صوبے میں بھاری نقصان ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے اس کے پھیلاؤ کو کم کردیا ہے۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ میں کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے وزیراعلی سندھ اور ان کی ٹیم کے اقدامات قابل ستائش ہیں تاہم عوام کو اس معاملے میں مکمل تعاون کرنا ہوگا تاکہ سندھ سمیت پورے ملک سے اس وباء کا خاتمہ ہوسکے،اس لیے کہا جا رہا ہے’’گھر میں رہیں۔۔۔۔محفوظ پاکستان کے لیے۔۔۔۔۔۔

سندھ میں لاک ڈاؤن کے سبب سب سے زیادہ متاثر روزانہ اجرت پرکام کرنے والے، متوسط اور غریب طبقے ہیں، جن کے گھروں کا چولہا روز کماکر روز اخراجات کرکے جلتا ہے۔ حکومت سندھ نے لاک ڈاون پر عمل درآمد توشروع کردیا لیکن اب تک وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے سرکاری سطح پرعوام کو راشن پہنچانے کے لیے کوئی عملی اقدام دیکھنے میں نہیں آئے،روزانہ کی بنیاد پر اجلاس ہونے اور میکنزم کا اعلان کرنے کے باوجود غریب خاندان امداد سے محروم ہیں،چند فلاحی اداروں،سیاسی،مذہبی جماعتوں اور مخیر حضرات کی جانب سے امداد کاسلسلہ جاری ہے،لیکن یہ تمام امدادی کام ناکافی ہے،غریب افراد کے گھروں میں چولہے بجھ رہے ہیں اور ان کے پیٹ کی آگ بڑھ رہی ہے،جو سنگین صورتحال ہے۔

لوگ راشن کے لیے فلاحی اداروں اور حکومتی دفاترکے چکر لگا رہے ہیں اور میڈیا کے ذریعے مدد کی اپیل کررہے ہیں لیکن ان کی شنوائی نہیں ہو رہی، دوسری جانب کراچی سمیت صوبے بھر میں منافع خوروں نے آٹے کی منصوعی قلت پیدا کردی ہے،10کلوآٹے کا تھیلہ 650روپے کا فروخت ہو رہا ہے جبکہ دیگر کھانے پینے کی اشیاء بھی مہنگی ہوگئی ہیں،منافع خوروں کے خلاف تاحال حکومتی سطح پر موثر کریک ڈاؤن نہیں کیا گیا ہے،حکومت سندھ نے صوبے میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت دور کرنے کے لیے گڈٹرا نسپورٹ کو نقل وحمل کی اجازت دے دی ہے۔

دوسری جانب پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک اجلاس میں کہا ہے کہ وہ مستحق افراد کی امداد کے حوالے سے کوئی کوتاہی برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے سندھ حکومت کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایک مستحق کے گھر راشن پہنچائے، وزیراعلیٰ سندھ نے یو آر ایل (ویب ایڈریس) کے ساتھ سندھ ریلیف انیشیٹو ایپلی کیشن قائم کی ہے۔ان کی حکومت نے فلاحی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ارادہ کیا ہے اور انہیں مذکورہ بالا ویب ایڈریس کے تحت رجسٹرڈ کیا جائے گا تاکہ ان کے ساتھ مل کر یومیہ اُجرت والوں کو راشن ان کی دہلیز پر پہچایا جاسکے۔

https://ift.tt/wH3tJ0 apps/details?id =inc.codelabs .krtvolunteer

وزیراعلیٰ نے کہا کہ یومیہ اجرت والوں کو ایک اپلی کیشن (ایپ) کے ذریعے رجسٹر کروانا ہوگا اور اس کے بعد حکومت مختلف علاقوں میں فلاحی تنظیموں کے ساتھ مل کر راشن تقسیم کرے گی۔ ایک خاندان کو 5500 روپے کا ایک راشن بیگ فراہم کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر وزیر توانائی امتیاز شیخ، وزیر بلدیات ناصر شاہ اور مشیر قانون مرتضی وہاب عوام کے دروازے پر راشن کی منصفانہ تقسیم کے لئے فلاحی تنظیم کے ساتھ رابطہ کریں گے۔

سندھ کی اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی کے رہنماؤں فردوس شمیم نقوی اور حلیم عادل شیخ نے ایک پریس کانفرنس میں سندھ حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ صوبے میں کئی دن سے لاک ڈاؤن ہے عوام کو راشن نہیں مل رہا، اس وجہ سے سندھ میں خانہ جنگی کی صورتحال ہوسکتی ہے،سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ ایپ بنانے کے بجائے یونین کونسل سطح پر غریبوں میں راشن کی تقسیم کا عمل شروع کرے تاکہ ان خاندانوں کی مشکلات کا ازالہ ہوسکے۔

کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے وزیر تعلیم سندھ سعید غنی صحت یاب ہوگئے۔ سعید غنی سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی صحت یابی کی خبر دیتے ہوئے کہا کہ الحمد للہ میرے کورونا وائرس کے ہونے والے ٹیسٹ کی رپورٹ نیگیٹو آئی ہے اور ڈاکٹرز کے مطابق میں بالکل صحت یاب ہوں۔ وزیر تعلیم سندھ نے کہا کہ انشااللہ میری کوشش ہوگی کہ آئندہ بھی اپنی ذمہ داریاں بہتر طور پر انجام دے سکوں۔

کورونا وائرس پر بھی پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں سیاسی محاذ آرائی جاری ہے،پیپلزپارٹی کے تحت کورونا وائرس پر ویڈیو لنک آل پارٹیز کانفرنس میں سیاسی قیادت نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان تشکیل دینے،قومی ٹاسک فورس کے قیام سمیت بلدیاتی اداروں تک ہر سطح پراس وباء کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں،اپوزیشن جماعتوں نے تمام تر اختلافات کو علیحدہ رکھ کر حکومت کو اپنے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کبھی کی ہے۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ سمیت ملک بھر میں کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ صوبائی حکومتوں سیاسی قیادت اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایک قومی پالیسی بنائے تاکہ پاکستان کو کورونافری بنایا جاسکے۔

The post غریب خاندانوں کو امداد کا طریقۂ کار غیرمؤثر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2QZi2DK

چین کے ساتھ مل کر اقتصادی اہداف حاصل کیے جاسکتے ہیں

 اسلام آباد: چین نے تو فوری سخت نوعیت کے ہنگامی اقدامات کر کے تین ماہ کے عرصے میں کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیت لی ہے مگر چین سے شروع ہونیوالی یہ وباء بے قابو ہوکر دنیا بھر میں پھیل رہی ہے امریکہ جیسی سپر پاور سمیت دنیا کی تمام بڑی طاقتیں اس وباء سے پریشان ہیں اور اب تک دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد ساڑھے سات لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بھی36 ہزار سے زائد ہے۔

پاکستان میں بھی کورونا متاثرین اور اموات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب کورونا وائرس کے سب سے زیادہ متاثرین امریکہ میں ہیں جہاں یہ تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہوچکی ہے۔ آسٹریلیا نے اپنے اقدامات میں مزید سختی کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ برطانیہ کے چیف میڈیکل آفیسر نے کہا ہے کہ ملک کو دوبارہ اپنی اصل حالت میں آنے کے لیے چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔اس وباء کے خلاف وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور ان کی حکومت کے اقدامات کو سراہا جا رہا ہے اور دیگر حکومتوں نے ان کی تقلید کی ہے۔

ہمارے ہاں سوشل سیکورٹی سسٹم نہ ہونے کے برابر ہے لیکن جس معیشت کو بچانے کا جواز پیش کیا جا رہا ہے وہ کوئی اتنا وزن نہیں رکھتا کیونکہ ہماری معیشت کا سائز ہے ہی کتنا ہے، لوگ ہونگے تو معیشت چلے گی۔ ہمارے ہاں وفاقی حکومت نے ابھی بھارت یا چین جیسے سخت اقدامات نہیں تو نہیں کئے مگر جزوی لاک ڈاون یہاں بھی ہے اور پیر کو بھی قوم سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر ملک میں لاک ڈاؤن سے انکار کرتے ہوئے وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ قائم کرنے کا اعلان کردیا ہے اس فنڈ میں عطیات و رقوم جمع کروانے والوں سے کسی قسم کی کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی اور اس رقم کو ٹیکس چھوٹ لینے کیلئے ٹیکس گوشواروں میں بھی ظاہر کیا جاسکے گا۔

ساتھ ہی وزیراعظم نے جذبہ ایمانی کے ساتھ متحد ہوکر جنگ جیتنے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور ملک کے نواجوانوں کو میدان میں اتارنے کا اعلان کیا ہے جس کیلئے نوجوانوں پر مشتمل کورونا ریلیف ٹائیگر فورس بنانے کا اعلان کیا ہے جو مکمل لاک ڈاون کی صورت میں لوگوں کو گھروں میں راشن پہنچائیں گے۔ اس پر بھی سوالات اٹھناشروع ہوگئے ہیں اور یہ بھی تنقید ہو رہی ہے اور اسے پارٹی ورکروں کو ساتھ جوڑے رکھنے کو ماضی کی حکومتوں کی طرح کا ایک سیاسی اقدام قرار دیا جارہا ہے۔ پھر جن نوجوانوں کو میدان میں اُتارنے کا اعلان کیا گیا ہے کیا وہ اس قدر تربیت یافتہ ہونگے کہ وہ معاون ثابت ہوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ لینے کے دینے پڑ جائیں کیونکہ اس ماحول میں کام کرنے کیلئے خاص تربیت درکار ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا ہے  کہ یہاں بھی چین والے حالات ہوتے تو میں تمام شہر بند کردیتا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں لوگ شدید غربت میں رہتے ہیں،اگر ہم لاک ڈاؤن کرتے اور ان غریبوں کا خیال نہ کرتے تو کوئی لاک ڈاؤن کامیاب نہیں ہوسکتا اور اگر کسی علاقے میں ایسا قدم اُٹھانا پڑا تو وہاں یہ نوجوان لوگوں کو انکی دہلیز پر اشیائے ضروریہ مہیا کریں گے۔ اپنے تیسرے خطاب میں اُن کا کہنا تھا کہ متحد ہوئے بنا موجودہ چیلنجز کا مقابلہ ممکن نہیں۔ مگر چند روز قبل پارلیمانی لیڈروں اجلاس میں بغیر کسی شریک رہنما سے سلام دعا کیے اپنی بات کہنے کے بعد دیگر شرکاء کی بات سُنے بغیر آف لائن ہو گئے اس تحقیر آمیز اور متکبرانہ انداز پر اپوزیشن کی دنوں بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماوں میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے واک آؤٹ کیا۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ایک اور کیس میں وارنٹ جاری ہوچکے ہیں جس کی انہوں نے چار ہفتے کے راہداری ضمانت حاصل کرلی ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پہلے سے ضمانت پررہا اپوزیشن لیڈر میاں شہباز کو بھی دوبارہ نیب یاترا کیلئے طلبی کا پروانہ جاری کردیا گیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ باتیں بھی زیر گردش ہیں کہ کپتان پر اپنی ٹیم کے چار کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر کرنے کے حوالے سے بھی شدید دباوء ہے جس پر کپتان کے ڈٹ جانے کی خبریں بھی ہیں۔ جبکہ کورونا کے معاملہ پر اہم فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

اپوزیشن کے سیاسی حلقوں کا تاثر ہے کہ کورونا کے معاملہ پر خود حکومت کو آگے بڑھ کر اپوزیشن کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ پنجاب میں تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرنے کیلئے متحرک ہیں۔ وفاق کی سطع پر بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے بڑے دل کے ساتھ بڑے فیصلے کرنا ہونگے اور اپنے اعصاب مضبوط رکھنا ہونگے۔ ابھی عالمی کساد بازاری اور معاشی بحران کے سائے اس قدر خوفناک ہوتے جا رہے ہیں کہ بڑی طاقت ور معیشت رکھنے والے ممالک کے رہنما شدید نفسیاتی دباوء کا شکار ہیں۔

حال ہی میںجرمنی میں ایک صوبے کے وزیر خزانہ کے کورونا وباء میں مبتلا عوام کی مالی امداد میں ناکامی پر خودکشی کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ دنیا بھر میں قیامت برپا کرنے والے ’کورونا وائرس ‘ سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری حرکت میں آگئی ہے۔ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز نے کوروناکو عالمی انسانی بحران قرار دے کر اس سے نمٹنے کے لیے پوری دنیا کو متحد ہونے کی دعوت دی ہے جبکہ جی 20 کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ معیشت پر کورونا بحران کے نتائج کا سامنا کرنے کے لیے ممالک اور مرکزی بینکوں نے پانچ کھرب ڈالر سے زیادہ کی رقم مختص کرنے کا اعلان کیا۔

یہ رقم کورونا سے نمٹنے کے لیے ویکسین کی تیاری اور پسماندہ ممالک اور خطوں کے لوگوں کو اس وباء کے اثرات سے نکالنے پر صرف کی جائے گی۔ جبکہ اجلاس میں چینی صدر شی جن پنگ نے کسٹم ڈیوٹی میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشتعل کر دیا ہے اس معاملہ پر امریکہ اور چین کے درمیان جاری معاشی جنگ میں بھی مزید تیزی آگئی ہے۔ امریکی ریاستوں کے گورنروں کی جانب سے کورونا سے نمٹنے کے لئے دو ٹریلین ڈالر کے امدادی پیکج کی منظور ی کے لئے بلائے جانیوالے اجلاس میں وفاق کے خلاف جس قدر نفرت انگیز تقاریر سامنے آئی ہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اگر امریکہ میں کورونا کا معاملہ مزید چند ماہ جاری رہتا ہے تو اس سے امریکہ کی مشکلات بہت زیادہ بڑھ جائیں گی۔

کہا جارہا ہے کہ چین نے کساد بازاری کے ان حالات میں تاریخ کی سب زیادہ سرمایہ کاری کی ہے سب سے زیادہ تیل چین نے خرید کر ذخیرہ کیا ہے اور عالمی سٹاک مارکیٹ میں مندی کے ان حالات میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری چائنیز کمپنیوں و سرمایہ کاروں نے کی ہے اب جب پوری دنیا کے ممالک اپنی معاشی سرگرمیاں بند کر رہے ہیں چین اپنی اقتصادی سرگرمیاں بحال کر رہا ہے اور تیزی کے ساتھ معمول پر آرہا ہے جو عالمی طاقتوں کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ پاکستان کیلئے اقتصادی طور پر ایشیائی ٹائیگر بننے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کا یہ ایک سنہری موقع بھی ہے۔

پاکستان ترقی کے اس سفر میں چین کا ہم سفر بن کربہت کچھ کرسکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ شرح سود کو مزید کم کرکے سنگل ڈیجٹ پر لایا جائے اس سے حکومتی قرضوں میں کمی کے ساتھ ساتھ ملک میں سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ کو فروغ ملے گا۔

 

The post چین کے ساتھ مل کر اقتصادی اہداف حاصل کیے جاسکتے ہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2xIlgok

وزیرخارجہ کا سعودی ہم منصب کو فون، سعودی عرب پر میزائل حملوں کی شدید مذمت

 اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود کو فون کرکے قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ پر بات چیت کی ہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود کو ٹیلیفونک کیا اور کوروناوائرس کے پھیلاؤ کوروکنے اورعالمی چیلنج سے نمٹنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ بات چیت میں قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کی تجویز سمیت ترقی پذیر ممالک کی معاشی معاونت کو بھی زیر غور لایا گیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود نے کورونا وبا کے باعث سعودی شہریوں کے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب کی طرف سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے اقدامات کی تعریف کی۔

شاہ محمود نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کو ری اسٹرکچر کرنے کی تجویز دی ہے، کیونکہ پاکستان جیسے کم وسائل کے حامل ترقی پذیرممالک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور جیزان شہر پر میزائل حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کسی بھی جارحیت کے خلاف سعودی عرب کی مکمل حمایت اور معاونت کے عزم کا اعادہ کیا۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نے میزائل حملوں کے خلاف اصولی موقف اپنانے پر شاہ محمود کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے مشاورتی سلسلے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور دیگر شہروں پر بیلسٹک میزائل حملے کیے تھے جنہیں سعودی فوج نے میزائل دفاعی نظام سے ناکام بنادیا۔ سعودی حکام کے مطابق ان میزائل حملوں میں 2 عام شہری معمولی زخمی ہوئے۔

The post وزیرخارجہ کا سعودی ہم منصب کو فون، سعودی عرب پر میزائل حملوں کی شدید مذمت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2UPTNZT

کورونا وائرس سے زیادہ خطرناک منافع خور اور ذخیرہ اندوز ہیں

لاہور: انسانی تاریخ میں ’’کورونا وائرس‘‘ سے زیادہ بھیانک وبا دیکھنے میں نہیں آئی۔ سپر پاور قرار دیئے جانے والے ممالک بھی اپنی تمام تر ٹیکنالوجی،مالی وسائل اور انسانی ذہانت کے ہوتے ہوئے لاچار و بے بس ہیں۔

وائرس لگنے سے مرجانے سے زیادہ بڑا خوف اس کے حیران کن اور تیز رفتار پھیلاوء سے ہے اور یہی خوف پوری دنیا کو لاک ڈاون کر چکا ہے۔197 ممالک میں بسنے والے 7 ارب 80 کروڑ انسان اس جرثومے کے خوف کا شکار ہو کر صدیوں سالوں سے چلے آرہے اپنے سماجی برتاو ،معاشی طریقہ کار اور خوراک کو تبدیل کر رہے ہیں ۔یہ تو طے ہے کہ کورونا وائرس کا بحران ختم ہونے اور اس کی ویکسین تخلیق ہوجانے کے بعد دنیا اب پہلے جیسی نہیں رہے گی۔

بعد از کورونا والی دنیا بہت مختلف ہوگی ،سماجی میل جول یکسر تبدیل ہوجائے گا، لوگ صفائی اور خوراک کے معاملے میں زیادہ ’’ہائی جینک‘‘ ہوں گے،ہاتھ ملانے اور گلے ملنے کی عادتیں ختم تو نہیں البتہ نہایت محدود ہوجائیں گی جبکہ دفاتر کی بجائے گھر پر رہتے ہوئے کام کا رواج بڑھے گا۔ دنیا تباہ کن ہتھیاروںکی تیاری اور خرید و فروخت پر کھربوں ڈالرکے اخراجات کو کم کر کے طبی تحقیق اور ہسپتالوں کے وسیع تر نظام پر زیادہ خرچ کرے گی جبکہ سیاحت کا انداز بھی تبدیل ہوجائے گا ۔

دنیا میں حلال فوڈ کا بزنس کئی گنا بڑھنے کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے کیونکہ غیر مسلم قومیں بھی اب حرام جانوروں کے گوشت سے پرہیز کرنے لگی ہیں۔ لاک ڈاون کا شکار ہونے کے بعد انسانوں کو معلوم ہوا ہے کہ ’’انسان ایک سپر سوشل کریچر ہے‘‘ جبکہ یہ دنیا تمام تر لسانی،سماجی،مذہبی، سیاسی، دفاعی اور مالیاتی اختلافات کے باوجود ایکدوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور سب کو یہ بھی معلوم ہو گیا ہے کہ خلاوں کو مسخر کرنے، سمندر کی پاتال کو کنگھالنے،ہائیڈروجن اور نائٹروجن بم بنانے ،روشنی سے تیز انٹر نیٹ تخلیق کرنے ،آوازسے تیز رفتار ہوائی جہاز بنانے سے کوئی ملک سپر پاور نہیں بن جاتا۔

پاکستان بھی کورونا کا شکار ہے اور ابھی تک وفاقی و پنجاب حکومت کی جانب سے کیئے جانے والے اقدامات ناکافی اور غیر تسلی بخش دکھائی دیتے ہیں ۔پوری دنیا لاک ڈاون کے ذریعے وائر س کے پھیلاو کو روک رہی ہے لیکن وزیر اعظم عمران خان لاک ڈاون کی مخالفت کر رہے ہیں جبکہ وہ جن 25 فیصد دیہاڑی دار افراد کی وجہ سے مخالفت کر رہے ہیں ان کے بارے میں یہ نہیں بتا رہے کہ اس وقت جبکہ تمام کاروبار،دفاتر بند ہیں تو یہ بندے دیہاڑی کہاں سے کریں گے اور آیا ان 25 فیصد کو وائرس سے کیسے محفوظ رکھا جائے گا اور وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں یہ بھی نہیں بتایا کہ ان 25 فیصد سے باقی کے 75 فیصد کو کیسے محفوظ رکھنا ہے۔وزیر اعظم نے کورونا ریلیف ٹائیگر فورس تو تشکیل دے دی لیکن اماوس کی بیل پر انگور نہیں لگا کرتے۔

وائرس بحران کے دوران وفاقی حکومت کی کارکردگی اور فیصلوں کی وجہ سے ’’پنڈی‘‘ اور’’اسلام آباد‘‘ کے درمیان کشیدگی اور بڑھتی خلیج کی باتیں بھی سنائی دے رہی ہیں جبکہ وفاق اور صوبے بھی ایک پیج پر نہیں ہیں۔ ملک میں پہلے بھی منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی زوروں پر تھی لیکن اب تو بام عروج پر جا پہنچی ہے ۔

یہ درست ہے کہ متمول خاندانوں نے کئی کئی ماہ کا راشن اور اشیائے ضروریہ اپنے گھروں میں ذخیرہ کی ہیں جبکہ متوسط طبقہ بھی ہیجان خیزی کی بنیاد پر اضافی خریداری کر رہا ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ تھوک منڈیوں کے بیورپاریوں نے تو جو مہنگائی کی سو کی لیکن گلی محلہ کے دکاندار بھی از خود ہی قیمتوں میں اضافہ کیئے ہوئے ہیں ،آٹے کی مثال ہی لے لیں ،کورونا وائرس سے پہلے معمول کی قیمت پر وافر آٹا دستیاب تھا لیکن جیسے ہی کورونا وائرس آیاتو آٹا کی قلت پیدا ہو گئی اور ماضی کی طرح اصل وجوہات کھوجے بغیر سارا ملبہ ایک مرتبہ پھر فلورملز پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

موجودہ آٹے کی قلت کے چند بڑے اسباب ہیں(1 )لاک ڈاون کے سبب ہر شخص کی کوشش ہے کہ گھر میں وافر راشن رکھا جائے جو شخص مہینے میں دو مرتبہ تھیلا خریدتا تھا وہ اب ایک ہی مرتبہ تین یا چار تھیلے خرید رہا ہے یہ سمجھے بغیر کہ آٹا کی ایک شیلف لائف ہوتی ہے اس کے بعد وہ خراب ہوجاتا ہے۔راہ چلتے ہوئے ہم سب کو کئی موٹر سائیکل یا رکشہ سوار دکھائی دیتے ہیں جنہوں نے کئی تھیلے آٹا رکھا ہوا ہوتا ہے،(2 )آٹا ڈیلرز کی بڑی تعداد چھوٹے دوکانداروں کو سرکاری نرخ سے زائد قیمت پر آٹا فروخت کر رہی ہے اور دانستہ طور پر ان کی ڈیمانڈ سے کم آٹا دیا جا رہا ہے (3 )گلی محلوں کی سطح پر دوکاندار تھیلا کی بجائے چند کلو روز کا آٹا خریدنے والے غریب گاہکوں کو مہنگے داموں آٹا بیچ رہے ہیں (4) لاک ڈاون کے سبب مخیر حضرات کی جانب سے بڑے پیمانے پر آٹا خرید کر مستحقین میں تقسیم کرنے سے بھی آٹا کی طلب میں اضافہ ہوا ہے (5 ) اوپن مارکیٹ کیلئے جتنے آٹے کی ضرورت ہوتی ہے اس کیلئے درکار گندم کا 65 فیصد محکمہ خوارک فراہم کرتا ہے جبکہ باقی کی 35 فیصد گندم مل مالکان اوپن مارکیٹ سے خرید کر استعمال کرتے ہیں لیکن اس وقت اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 1800 روپے من سے تجاوز کر چکی ہے جس کے سبب ملیں صرف سرکاری گندم کو مقامی آٹا سپلائی کے لئے استعمال کر رہی ہیں جس وجہ سے پیداوار کم ہوئی ہے جبکہ نجی گندم سے ’’سپر آٹا‘‘ تیار کر کے خیبر پختونخواہ بھیجا جا رہا ہے (6 ) فلورملز نے سندھ کی گندم جلد آنے کے امکان پر اپنے پاس موجود نجی گندم کو مکمل استعمال کر لیا تھا لیکن پچھلے کئی دنوں سے سندھ فوڈ کی پابندی کے سبب گندم پنجاب نہ آنے سے آٹا پیداوار متاثر ہوئی ہے۔(7 ) فیصل آباد اور دیگر کئی شہروں میں آٹے کی مارکیٹ سپلائی مانیٹر کرنے کیلئے ڈپٹی کمشنرز نے اپنا سٹاف مقرر کیا ہواہے لیکن لاہور میں ضلعی انتظامیہ نے ساری ذمہ داری محکمہ خوارک پر عائد کر رکھی ہے۔

اب ڈپٹی کمشنرز نے مارکیٹ سپلائی کے بجائے ملز پر پٹواری تعینات کر دیئے ہیں لیکن یہ بہتری کی بجائے مزید خرابی کا سبب بنیں گے ۔ ماضی میں لاہور کی یونین کونسلز کے سیکرٹریز کو آٹے کے ٹرکوں میں بٹھا کر مارکیٹ سپلائی کو مانیٹر کیا جاتا تھا جو ایک ایک تھیلے کی سپلائی کا شا م کو حساب کر کے حکومت کو آگاہ کرتے تھے۔پاکستان فلورملز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین عاصم رضا نے ملک بھر کے فلور مل مالکان کے نام اپنے ویڈیو پیغام میں انہیں کہا ہے کہ یہ ایک ہنگامی صورتحال ہے لہذا قومی اور مذہبی ذمہ داری نبھاتے ہوئے آٹے کی قلت نہ ہونے دی جائے۔سبزیوں اور پھلوں کی دستیابی اور قیمتیں مستحکم ہیں بلکہ بعض سبزیوں کی قیمتوں میں کمی آئی ہے تاہم دالوں، گھی اور چینی کی دستیابی اور قیمتیں غیر مستحکم دکھائی دے رہی ہیں۔ پرائس کنٹرول کمیٹیوں اور پرائس مجسٹریٹس کی کارکردگی کا اصل امتحان اس وقت ہے۔ محکموں اور افسروں کو نیک نیتی، سنجیدگی اور ہمت سے کام لینا ہوگا۔

پنجاب کے وزیر اعلی سردار عثمان بزدار ،چیف سیکرٹری میجر(ر) اعظم سلیمان ،وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری، وزیر زراعت ملک نعمان لنگڑیال اور وزیر صنعت میاں اسلم اقبال بھرپور کوشش تو کر رہے ہیں لیکن دیگر کابینہ ارکان جن کی ڈیوٹیاں اضلاع میں لگائی گئی ہیں ان میں سے چند ایک کو چھوڑ کر باقی سب انگلی کٹا کر شہیدوں میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں ۔سب کو سمجھنا ہوگا کہ اصل خطرہ ’’کورونا‘‘ سے نہیں ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں سے ہے۔

The post کورونا وائرس سے زیادہ خطرناک منافع خور اور ذخیرہ اندوز ہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2XakUBZ

راولپنڈی میں نجی اسکولوں اورکالجز کو انتظامی دفاتر کھولنے کی اجازت

 راولپنڈی: ضلع بھر میں تمام پرائیویٹ اسکولوں اور کالجز کو انتظامی دفاتر کھولنے کی اجازت دے دی گئی۔ آج یکم اپریل سے تمام پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے دفاتر باقاعدہ کھل گئے۔

ضلعی تعلیمی آفیسر کے مطابق اجازت ٹیچرز اور نان ٹیچنگ اسٹاف کو تنخواہ ادا کرنے اور تدریسی عمل آن لائن کرنے کے لئے دی گئی ہے۔ اجازت ملنے کے بعد نجی تعلیمی دفاتر میں 3 ملازمین دفتری اوقات میں بیٹھ سکیں گے۔

ممبر ڈسٹرکٹ رجسٹریشن اتھارٹی عرفان مظفر کیانی کے مطابق کھولے گئے دفاتر میں ملازمین کے لئے ماسک،گلوز، سینی ٹائزر کا استعمال لازمی ہوگا جب کہ سوشل ڈیسٹنس ایس او پی پر عملدرآمد بھی لازمی ہوگا۔

The post راولپنڈی میں نجی اسکولوں اورکالجز کو انتظامی دفاتر کھولنے کی اجازت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2R2fdlr

آج کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

آپ نے بروقت حالات و واقعات کا درست اندازہ لگا کر جو اقدامات کئے وہ کارگر ثابت ہوئے ایسے ہی اچھے اقدامات کی ضرورت ایک بار پھر ہو سکتی ہے۔

ثور:
22 اپریل تا 20 مئی

تمام حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم آپ کو یہ رائے دینگے کہ کوئی لاکھ کوشش کرے آپ جذباتی نہ ہوں ٹھنڈے دماغ کیساتھ ہر سازش کا توڑ سیاسی انداز سے کرتے رہئے۔

جوزا:
21 مئی تا 21جون

کسی جائیداد کی وجہ سے ذہنی کوفت ہو سکتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ آپ کاروبار میں بھی دلچسپی نہ لیں کسی بڑے تعمیراتی منصوبے کو عملی شکل دینے کی کوشش کیجئے۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

حالات کتنے ہی نامساعد کیوں نہ ہوں ہمت نہ ہاریں اپنی تیار کردہ اشیاء کو بازار میں لایئے کم سے کم معاوضے پر بڑے سے بڑے معاہدے کرکے ہی آپ اپنی ساکھ بحال کر سکیں گے۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

وہ رشتہ دار جن پر کہ آپ کو غیر معمولی اعتماد و بھروسہ ہے عجیب و غریب کھیل کھیلنے کی کوشش کر سکتے ہیں آپ کے خلاف نئی نئی افواہیں پھیلا سکتے ہیں۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

کاروباری سلسلے میں بھی آپ نے کوئی جذباتی طریقہ اختیار کر لیا تو پھر آپ کا خدا ہی حافظ ہے کاروباری شریک کار پر زیادہ بھروسہ نہ کریں۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

آپ کے پرسکون آشیانے میں چند چنگاریاں مخالفت کی آگ بڑھکا رہی ہیں کوئی مخالف نئی چالوں سے لیس ہو کر آپ کے مقابلے پر آ سکتا ہے۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

شریک حیات چند امور کے سلسلے میں آپ سے اختلاف کر سکتے ہیں یہ بھی آپ کے قریبی عزیزوں کی ایک چال ہے اسے سمجھنے کی کوشش کیجئے۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

خود پر زیادہ گھمنڈ نہ کیجئے بلکہ اپنے اچھے ساتھیوں کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کی کوشش کیجئے اگر نئے کاروبار کا ارادہ ہو ہی گیا ہے تو پھر شریک کار کو اپنانا نہ بھولیں۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

آپ نے ہمارے گزشتہ دیئے گئے مشوروں کو نہ سمجھا اور اپنے شریک حیات کو مطمئن کرنے کی کوشش نہیں کی حالانکہ آپ کو کئی اہم مواقع پر اچھے خاصے چانسز بھی مہیا ہوئے تھے۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

ہم صرف اتنا ہی کہیں گے کہ جو کچھ ہو چکا ہے اس کو بھلا دینا ہی آپ کے لئے مناسب ہو سکتا ہے لیکن اگلے اقدامات اپنے موجودہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے کیجئے۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

دیگر تمام حالات حسب سابق بہتر رہیں گے اس کے باوجود محتاط رہنا ضروری ہے غلطیاں انسان ہی کرتے ہیں اور معافی بھی انسانوں ہی کے بس میں ہوتی ہے۔

The post آج کا دن کیسا رہے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2wECHGy

نئی صدی، نیا وائرس اور نئی سوچ

کورونا وائرس چین سے نکل کر یورپ اور وہاں سے بڑھ کر اب امریکاپہنچ چکا ہے۔ اس وقت دنیا میں کورونا کے مرض میں مبتلا لوگوں کی سب سے بڑی تعداد امریکا کے شہریوںپرمشتمل ہے۔

پریشان کن بات یہ ہے کہ امریکا میں اب تک جن لوگوں کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں، ان میں سے 53 فیصد کا نتیجہ مثبت آیا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ امریکا میں بہت بڑے پیمانے پر لوگوں کے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔ تاہم مثبت نتائج کی شرح سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ وبا امریکا میں کس قدر پھیل چکی ہے اور مسلسل پھیلتی جارہی ہے۔ پاکستان میں جو ٹیسٹ کیے گئے ہیں ان میں مثبت کی شرح 10 فیصد ہے۔

لیکن یہ حقیقت سامنے رہنی چاہیے کہ ٹیسٹ کٹس اور طبی سہولتوں میں کمی کی وجہ سے لوگوں میں اس وائرس کی جانچ کافی محدود پیمانے پرکی جارہی ہے۔ یہ ہلاکت خیز وائرس بلارنگ و نسل اور قوم و مذہب کا امتیاز کیے بغیر ہر اس فرد پر حملہ آور ہورہا ہے جو اس سے رابطے میں آنے کی غلطی کر بیٹھتا  ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن سے لے کر پرنس چارلس تک یہ وائرس اعلیٰ طبقہ کے سیکڑوں لوگوں کو اپنا نشانہ بنا رہا ہے۔

دنیا اس کوشش میں ہے کہ اس وائرس پر جلد از جلد قابو پاسکے۔ یہ مقصد صرف اس صورت میں پورا ہوسکتا ہے جب دنیا کے تمام ملک ایک دوسرے سے تعاون کریں اور ان ملکوں میں رہنے والے لوگ بھی انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنا کردار درست طور پر ادا کریں۔ امریکا اور چین کے درمیان ابتدائی تلخیوں کے بعد رابطہ قائم ہوگیا ہے اور یہ امر خوش آیند ہے کہ صدر ٹرمپ اور صدر شی ایک دوسرے سے براہ راست بات کررہے ہیں۔

امریکا چین کے تجربے سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے اور چین بھی ویکسین کی تیاری میں امریکا میں ہونے والی تحقیق سے مستقبل میں استفادہ کرسکتا ہے۔ اس وبا سے متاثرہ لوگوں کی مدد اور ویکسین کی تیاری کے لیے درکار مالی وسائل کی فراہمی کے لیے دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں بھی آگے آرہی ہیں۔ ان میں مائیکرو سافٹ بہت نمایاں ہے۔ کیونکہ اس کے مالک بل گیٹس فلاحی کاموں میں گہری دلچسپی لیتے ہیں، ان کی قائم کردہ فائونڈیشن نے فوری طور پر ویکسین کی تیاری کے لیے 100 ملین ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

یہ بات درست ہے کہ اس وبا سے جو معاشی تباہی آنے والی ہے اس سے دنیا کی تمام حکومتیں اور ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی سخت خوف زدہ ہیں۔ دنیا کساد بازاری کے ایک طویل دور سے گزر کر تیز تر معاشی سرگرمی کے دورمیںد اخل ہورہی تھی لیکن اس وبا نے دیکھتے ہی دیکھتے تمام معاشی ترقی کے تمام امکانات تہس نہس کردیے۔ اب ترقی یافتہ ممالک پر کھربوں ڈالر کا بوجھ پڑ چکا ہے، بہت سی کمپنیاں بالخصوص ہوا بازی، سیاحت اور اس سے متعلق تمام شعبے اور صنعتیں دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکی ہیں۔

حکومتوں کو نہ صرف اس وبا سے لوگوں کو بچانے اور بیروزگار ہونے والوں کی مدد کے لیے اربوں ڈالر کی ضرورت ہے بلکہ جو صنعتیں اور کاروبار بند ہورہے ہیں یا ہونے والے ہیں انھیں مکمل طور پر دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے مزید اربوں ڈالر خرچ کرنے پڑیں گے۔ حکومتوں کے پاس سرمایہ ضرور ہوتا ہے لیکن اس نوعیت کی ناگہانی آفت اور غیر معمولی معاشی نقصانات سے بچنے کے لیے راتوں رات ان کے پاس بھاری سرمایہ نہیں آسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ بل گیٹس جیسے لوگ اپنے شہریوں اور حکومتوں کی مالی مدد کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔

امریکی حکومت نے 2 کھرب ڈالر کے ہنگامی ریلیف پیکیج جب کہ کینیڈا اور دیگر یورپی حکومتوں نے بھی اربوں ڈالر کے امدادی پروگرام شروع کرنے کے اعلانات کیے ہیں۔ اگر مستقبل  قریب میں اس وبا پر قابو نہ پایا جاسکا جس کے امکانات کافی ہیں۔ تو اس صورت میں حکومتیں مزید مالی بوجھ کی متحمل نہیں ہوسکیں گی۔ کھربوں ڈالر کمانے والی کمپنیاں اس موقع پر آگے بڑھ کر اس وبا کے خلاف جنگ میں ہونے والے اخراجات میں اپنا حصہ نہیں ڈالیں گی تو ان کی حکومتیں خود دیوالیہ ہوجائیں گی۔ ایسا ہونے کی صورت میں حکومتیں، کاروباری ادارے اور شہری سب مالی و معاشی تباہی سے دوچار ہوجائیں گے۔

کورونا وائر س سے دنیا کو بچانا اب ہر ملک اور وہاں کے لوگوں کی اجتماعی ذمے داری ہے۔ عالمی سطح پر معاشی بحران رونما ہوا تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک سے لے کر چین جیسی عالمی معاشی طاقت سب کا نقصان ہوگا۔ یہ مسئلہ کس قدر سنگین ہے اور یہ وبا لوگوں کو کیا کچھ سوچنے پر مجبور کررہی ہے۔ اس کا اندازہ مائیکر وسافٹ کاپوریشن کے شریک بانی بل گیٹس کے خیالات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا میں سب برابر ہیں۔ خواہ ہم غریب ہیں یا امیر یہ وائرس ہم میں کوئی امتیاز نہیں کرتا۔ گیٹس کہتے ہیں چونکہ ہم سب کا دکھ درد ایک جیسا ہے۔ لہٰذا اس بحران نے ہم کو ایک دوسرے کے قریب تر کردیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ وائرس ہمیں یہ سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہماری زندگی کا کیا مقصد ہے۔ دوسرے لوگوں بالخصوص وہ جو بیمار ہیں ان کی مدد کو اپنا مقصد بنانا چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ لاک ڈائون نے ہمیں واپس اپنے گھروں میں دھکیل دیا ہے اور بتایا ہے کہ خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کی کیا قدرو قیمت ہے۔ گیٹس نے یہ اعتراف کیا ہے کہ کورونا وائرس ہماری اصلاح کررہا ہے اور سمجھا رہا ہے کہ ہمیں اپنی آزاد مرضی اور خود مختاری کا استعمال کس طرح کرنا چاہیے۔ ہمیں خود غرض نہیں ہونا چاہیے بلکہ دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونا چاہیے ۔

21 ویں صدی میں دنیا کے کاروباری افق پر جدید ترین اعلیٰ ٹیکنالوجی کی حامل ملٹی نیشنل کمپنیوں کا غلبہ ہے۔ 20 ویں صدی تک دنیا کی معیشت پر حکمرانی کرنے والی کمپنیوں کا دائرہ اب تیزی سے محدودہورہا ہے۔ آج دنیا کی سب سے بڑی کمپنیاں گزشتہ 20 سے 25 سال کے اندر وجود میں آئی ہیں۔ ان کے مالکان ایسے نوجوان ہیں جن کا تعلق متوسط یا غریب طبقے سے تھا اور ماضی میں کاروبار کرنے کا انھیں کوئی تجربہ نہیں تھا۔ نئی ٹیکنالوجی کو ’’نئے خیال‘‘ کی ضرورت ہوتی ہے اور تخلیقی ذہن رکھنے والے نوجوانوں کے لیے دنیا کھلی ہے۔ بل گیٹس کا شمار بھی ایسے ہی نوجوانوں میں ہوتا ہے۔

جنھوں نے ’’نئے خیال‘‘ تخلیق کیے اور بے مثال کامیابیاں حاصل کیں۔ ان نئے ابھرنے والے کھرب پتی نوجوانوں کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کا کاروباری حجم کئی ترقی پذیر ملکوں کی مجموعی قومی دولت سے بھی زیادہ ہے اور ان کی سوچ بھی پرانے دور کے اپنے پیش روئوں سے مختلف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں آگے بڑھ کر اپنے شہریوں اور حکومتوں کی بھرپور مدد کررہے ہیں۔دنیا کو، کورونا وائرس سے بچانے کی کوششوں میں مائیکرو سافٹ کے بل گیٹس کے علاوہ دیگر ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی پیش پیش ہیں۔ ان میں مشہور چینی کمپنی علی بابا کے جیک ما، ایمیزون کے جیف بیزوس اور ایپل کے ٹم کک کے علاوہ مختلف ملکوں کی دیگر درجنوں کمپنیاں اور ان کے مالکان بھی اس مہم میں شامل ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے جس سے یہ امیدپیدا ہوگئی ہے کہ حکومتوں کو سرمائے کی قلت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ لہٰذا اس وبا پر نہ صرف قابو پالیا جائے گا بلکہ دنیا میں بے روزگار ہونے والے کروڑوں لوگوں اور دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دوچار چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی بحالی بھی ممکن ہوسکے گی۔

جہاں تک ترقی پذیر ملکوں کے نجی کاروباری اداروں کا تعلق ہے تو وہ خود اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ جو کچھ بھی کردیں اسے غنیمت جانیے۔ تاہم، امید کی جانی چاہیے کہ پاکستان کا کاروباری طبقہ بھی تمام تر مسائل کے باوجود اپنا کردار ضرور ادا کرے گا۔ یہ نئی صدی کا نیا وائرس ہے جس کا مقابلہ اس نئی سوچ کے ساتھ کیا جاسکتا ہے کہ ہم خود غرضی ترک کریں اور مل جل کر ہر آفت کا مقابلہ کریں۔

The post نئی صدی، نیا وائرس اور نئی سوچ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2w93nyU

نفلی عمرے اور حج

دنیا کے حالات و واقعات میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے خاص طور پر جب آپ بین الاقوامی میڈیا کی خبریں سنیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جو ملک اپنی ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے تھے کورونا وائرس نے ان ممالک میں زندگی کو مفلوج کر دیا ہے، ترقی یافتہ اور سپر پاور امریکا جیسا ملک بھی بے بس دکھائی دیتا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے عوام سے خطاب میں تیس اپریل تک پابندیاں نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اگر دو لاکھ امریکیوں کی ہلاکت کے بعد بھی وائرس کا خاتمہ ہو جائے تو اسے کامیابی سمجھا جائے۔ یورپی ممالک بھی وباء سے بس ہو چکے ہیں اور ر وزانہ کی بنیاد پر مختلف ممالک میں ہزاروں افراد ہلاک ہو رہے ہیں ۔

دنیا کے ان حالات کو دیکھتے ہوئے ہم پاکستانیوں کو اﷲ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ابھی تک پاکستان میں صورتحال کنٹرول سے باہر نہیں ہوئی اور حکومت کی جانب سے جزوی پابندیوں کی وجہ سے حالات کسی حد تک قابو میں ہیں۔ حکومت کی انتظامی صلاحیتیوں کی اگر بات کی جائے تو ہنگامی صورتحال میں ان کی حکمت عملی درست جارہی ہے، وزیر اعظم عمران خان اور ان کی ٹیم متحرک نظر آتی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر حکومتی نمایندے ٹی وی کے ذریعے عوام کو صورتحال سے باخبر رکھ رہے ہیں اور حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا جا رہا ہے ۔وزیر اعظم عمران خان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ملک کو مکمل بند نہیں کرسکتے کیونکہ اس صورت میں ملک کی پچیس فیصد آبادی جو غربت کا شکار ہے، اس کو زندگی گزارنی مشکل ہو جائے گی اس لیے وہ مکمل لاک ڈائون پر تیار نہیں ہیں۔

وفاقی حکومت نے اپنی استعداد کارکے مطابق غریب لوگوں کو امداد فراہم کرنے کے لیے ایک پیکیج کا اعلان کیا ہے جب کہ صوبائی حکومتیں بھی عوام کے لیے امدادی پیکیج کا اعلان کر چکی ہیں تا کہ وہ افراد جن کا گزر بسر روزانہ کی بنیاد پر کمائی سے ہوتا ہے یعنی وہ دیہاڑی دار ہیں،ان کو کم از کم اتنی امداد مل جائے جس سے وہ اپنی بھوک مٹا سکیں۔ حکومتی سطح پر جس امدادی رقم کا اعلان کیا گیا ہے، وہ بہت قلیل ہے اور اس میں ایک خاندان کا گزر بسر ناممکن ہے لیکن حکومت نے بھی اپنے وسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے عوام کی مدد کرنی ہے۔

پاکستانیوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے لیکن صدقہ ، خیرات اور زکواۃ کھلے دل سے دیتے ہیں ۔ ماہ رمضان کی آمد آمد ہے ویسے تو مسلمان جو زکواۃ کے نصاب پر پورا اترتے ہیں، ان کے لیے یہ پابندی نہیں ہے کہ وہ صرف رمضان کے مہینے میں اپنی زکواۃ ادا کریں، یہ فریضہ سال بھر بھی اداکیا جا سکتا ہے لیکن ہمارے ہاں ایک رسم بن گئی ہے کہ ماہ رمضان میں ہی زکواۃ ادا کرنی ہے، حکومت بھی بینک اکائونٹ سے زکواۃ کٹوتی یکم رمضان کو کرتی ہے، اس لیے عام آدمی بھی سال کے دوسرے مہینوں کی نسبت ماہ رمضان میں ہی صدقہ خیرات اورزکواۃ کی ادائیگی کو ترجیح دیتے ہیں ۔

حکومت پنجاب نے اسٹیٹ بینک سے درخواست کی ہے کہ یکم رمضان سے پہلے ہی زکواۃ کٹوتی کی اجازت دی جائے تا کہ اس مد میں جو رقم حکومتی خزانے میں جمع ہو، اسے بھی مستحق افراد تک پہنچایا جا سکے۔ یہ تو وہ حکومتی طریقہ کار ہے جس کے ذریعے زکواۃ تقسیم کی جاتی ہے لیکن ملک بھر کے مخیر حضرات جو صدقہ خیرات میں کبھی پیچھے نہیں رہتے، ان کو بھی ماہ رمضان کا انتظار کیے بغیر ابھی سے اپنے زکواۃ کے نصاب کی ادائیگی شروع کر دینی چاہیے تا کہ ان کے ارد گرد جو لوگ کورونا وبا کی وجہ سے بے روزگار ہو چکے ہیں اور ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں، ان چولہوں میں آگ دوبارہ بھڑک سکے۔

یہ ہم سب کی سماجی کے علاوہ دینی ذمے داری بھی ہے کہ ہمیں اپنے ہمسائے کی ضرورت کا بھی خیال رکھنا ہے، ہم خود تو اپنے گھروں میں مرغن غذائوں کے مزے لوٹ رہے ہوں لیکن ہمارے ارد گرد لوگ بھوک سے بلبلا رہے ہوں اس لیے ہمیں ان مشکل حالات میں اپنے ارد گرد نظر رکھنی ہو گی، یہ ہم سب کی ذمے داری ہے ۔ میں ایک بات عرض کرتا چلوں کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ کسی کی مدد کرے گا تو اس کے روپوں پیسوں میں کمی آجائے گی، رزق کم ہو جائے گا ، حقیقتاً ایسا ہر گز نہیںہے، میرا یہ ایمان ہے کہ جتناآپ کسی مستحق خاندان کی کفالت پر خرچ کریں گے اس سے کئی گنا آپ کو واپس ملے گا، آپ اس بات کوآزما لیں، یہ ہمارے رب کا وعدہ ہے کہ جو اﷲ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، ان کا رزق وسیع ہو جاتااور یہ رب العالمین کا وعدہ ہے جو اس کل کائنات کا رازق ہے، وہ کیسے وعدہ خلافی کر سکتا ہے۔

ہم میں سے کئی ایک نے اس سال حج کا ارادہ کیا ہو گا، اس مد میں حکومتی اسکیم میں پیسے بھی جمع کر ارکھے ہوں گے، ہم میں سے کئی ایسے بھی ہیں جو زندگی میں کئی بار عمرے کی سعادت حاصل کرتے ہیں اور کئی ایسے ہیں جو سال میں کئی بار اس سعادت سے مستفید ہوتے ہیں ۔ سعودی حکومت کی جانب سے یہ بات ابھی تک واضح نہیں ہو سکی کہ وہ عمرہ کی اجازت کب تک دیں گے اور کیا حج کی ادائیگی ممکن ہو سکے گی، کیاہی اچھا ہو کہ جن لوگوں نے ماہ رمضان میں عمرے کا ارادہ کیا ہوا ہے، وہ عمرے پر اٹھنے والے اخراجات مستحقین میں تقسیم کر دیں اور جو لوگ نفلی حج کے ارادے سے جارہے ہیں، وہ بھی اس نفلی عبادت کے اخرجات کو غرباء میں تقسیم کر کے اس عمل کو یہیں انجام دے لیں تو ان کا نفلی عمرے اور حج کے بدلے یہ عمل اﷲ کے ہاںزیادہ مقبول عمل ہو گا۔

میرے علم میں کئی ایسے کاروباری افراد ہیں جو ہر سال ماہ رمضان میں حرمین شریفین میں لنگر کا اہتمام کرتے ہیں، سحری اور افطاری میں انواع و اقسام کے کھانے تقسیم کیے جاتے ہیں اور روزہ داروں کو پکڑ پکڑ کر اپنے دستر خوان سے کھانا کھلانے کو سعادت سمجھتے ہیں، ان کی منتیں کرتے ہیں کہ وہ ان کے دسترخوان پر سحری کریں اور روزہ افطار کریں ۔ پاکستان میں ایسے مخیر کاروباری افراد کی کوئی کمی نہیں ہے بات صرف اس ذمے داری کی ہے جورب نے ہمارے سپرد کر رکھی ہے، یہ وہ وقت ہے کہ جب حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی ادائیگی ہم پر لازم کر دی گئی ہے ۔

ہم میں سے جو صاحب استعطات ہیں ان کو نفلی عمروں اور حج کے بجائے اپنے قرب و جوار میں موجود غرباء اور مساکین کے روزے افطار کرانے چاہئیں ۔ ملک میں سیاسی عمل جاری رہے گا، اس کو کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھیں اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت کی مدد بے شک نہ کریں لیکن عوام کی مدد کے لیے ہمارے مخیر رہنماء اپنی تجوریوں کے منہ کھول دیں لیکن اس عمل کے لیے ایمان کی طاقت چاہیے جو کم از کم ہمارے سیاسی رہنمائوں کے ہاں مفقود ہے ۔

The post نفلی عمرے اور حج appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3au8YyB

مسیحاؤں کاعزم، علماء کا کردار اور کوروناٹائیگرز

کُر ہّٗ ارض کے تمام انسانوں کے مشترکہ دشمن کے خلاف ہمارے ڈاکٹرز، نرسیں اور پیرا میڈیکل اسٹاف دست بدست جنگ لڑ رہے ہیں،اپنے ان مجاہدوں، محافظوں اور مسیحاؤں کو دیکھتے ہی دل سے دعانکلتی ہے ’’تینوں رب دیاں رکھّاں‘‘ اللہ تعالیٰ آپکو حفظ و امان میں رکھّے۔ ان کا عزم قابلِ داد اورجذبہ قابلِ تحسین ہے۔بلاشبہ اس جنگ میں وہی ہمارے پاسبان، وہی جانباز اور وہی ہیرو ہیں۔ بہت مناسب ہو گا کہ حکومت انکا دیرینہ مطالبہ مان کر ان کی تنخواہیں بڑھا دے ۔

خطرناک مجرموں اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں پولیس کی قربانیاں بے پناہ ہیں، مگر حرام خور پولیس افسر خون ِ شہداء کے پیچھے پناہ نہیں لے سکتے اور عوام شہداء کے صدقے بھی پولیس اہلکاروں کے جرائم معاف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، آج مسیحاؤںکی تعریف و تحسین ہو رہی ہے، پولیس ( جو خود بھی پولیس لائن کے بجائے فرنٹ لائن پرہے) انھیں گارڈ آف آنر پیش کر رہی ہے، عوام پھول نچھاور کر رہے ہیں مگر کل اگر کسی بھی مریض کے ساتھ ان کا روّیہ نامناسب ہوا توعوام اور میڈیا کو پورا حق ہوگا کہ وہ ذمّے دار ڈاکٹروں کا احتساب کریں۔

چند روز پہلے میو اسپتال لاہور میں ایک معمّر مریض طبّی عملے کی مجرمانہ غفلت کے باعث موت کے منہ میں چلا گیا۔ حکومت کی ایک حامی خاتون اینکر نے پرائم منسٹر کو یہ واقعہ سنایا تو انکا ردّعمل دیکھ کر پوری قوم حیران رہ گئی۔ تو قع تو یہ تھی کہ وہ اِس پر دکھ کا اظہار کر کے چیف منسٹر پنجاب کو انکوائری کرا کے چوبیس گھنٹے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دیں گے، مگر انھوں نے ایسا کچھ نہ کیا بلکہ اس موقع پر بھی اپنے سیاسی مخالفین پر تنقید شروع کر دی، جو نا مناسب بھی تھی اور بے محل بھی۔ حکومت کی بے شمار کوتاہیاں ہیں مگر یہ وقت نفاق نہیں اتفاق کا ہے، اتحّاد اور یکجہتی پیدا کرنے میں سب سے اہم کردار پرائم منسٹر کا ہے مگر وہ اَنا، تکبّر اور سیاست بازی  کے خول سے باہر آنے کے لیے تیار ہی نہیں۔

کئی روزتک میڈیا کے کچھ دین بیزار اینکروں اور تجزیہ کاروں کی علماء کے بارے میں اہانت آمیز گفتگو سنکر ان کی جہالت پر دکھ ہوا ۔ مسجدوں کو بند کرانا ان کے نزدیک ایسا ہی ہے جیسے کوئی جنرل اسٹور بند کرانا۔ نہ انھیں مسجد کے تقدسّ کا ادراک ہے اور نہ نماز جیسے اہم ترین رکنِ اسلام کی اہمیّت کا احساس۔ بد ترین احساسِ کمتری کے مارے یہ لوگ ابھی تک تہتر سال قبل یہاں سے چلے جانے والوں کی غلامی سے نہیں نکلے، برطانیہ کی زبان میں چند لفظ اور چند فقرے بولنے والے ان کے نزدیک برتر اور دین کی بات کرنے والے کمتر ہیں۔ وہ اس سے لا علم ہیں کہ علم ِ دین ہی تو وہ بنیادی علم ہے جس کے ذریعے ایک ذی شعور انسان زندگی کے سب سے بنیادی سوال کا جواب جانتا ہے، اِسی کے ذریعے اُسے انسانوں، سورج، چاند ستاروں اور پوری کائنات کے خالق کا پتہ چلتا ہے اور یہی علم انسان کواس کی تخلیق کے مقصد سے روشناس کراتا ہے ۔ اِسی علم نے انسانوں کو اعلیٰ اخلاقی اقدار سکھا کر اس کی کردار سازی کی۔

اس بنیادی اور اہم ترین علم سیکھنے میں جنھوں نے اپنی زندگیاں کھپا دیں وہ ان کے نزدیک کم پڑھے لکھے ہیں کیونکہ وہ ایک غیر ملکی زبان کے فقرے استعمال نہیں کرتے۔ یہ بات درست ہے،صحافت اور سیاست کی طرح مذہبی شعبے میں بھی جہالت کی بہتات ہے مگر مولانا تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن جیسے اسکالرز کا اپنی فیلڈ میں وہی مقام ہے جو وکالت کے میدان میں اے کے بروہی، محمود علی قصوری اور ایس ایم ظفر کا ہے۔

علماء کا یہ سوال بجا ہے کہ اِسوقت بھی مارکیٹس کھلی ہیں، جہاں ایک وقت میں پچاس سے بھی زیاد ہ لوگ ہوتے ہیں، اسٹاک ایکس چینج بند نہیں ہیں۔ وزیر اعظم ہر روز اپنے چہیتے صحافیوں اور ساتھیوں کے ساتھ میٹنگ کرتے ہیں جوSocial Distancing  کی خلاف ورزی ہے، وزیر ریلوے اور مئیر کراچی میڈیا سے بات کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ درجنوں افراد چمٹے ہوئے ہیں۔ اِن پر کوئی اعتراض نہیں ہے،زور صرف مسجد کو بند کرانے پر ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟

کچھ با خبر صحافیوں نے جواب دیا کہ مسجدوں کو بند کرانے میں زیادہ پُرجوش وہ لوگ ہیں جنھوں نے پچھلے دس سال میں کبھی نماز نہیں پڑھی، یہ اللہ اور رسولﷺ کی ہدایات سے بغض رکھتے ہیں۔ مولوی اور مسجد تو صرف بہانہ ہے، اسلام اوراحکام ِ الٰہی اصل نشانہ ہے ۔ یہ وہی لوگ ہیں جن میں سے زیادہ تَر کی این جی اوز ہیں۔ سفارتخانوں سے ان کے رابطے ہیں اور ملک سے باہر انکا مفاد وابستہ ہے۔ اس لیے انھیں کورونا کے خاتمے میں اتنی دلچسپی نہیں جتنی مسجد یں بند کرانے میں ہے۔ ان کے دلائل کمزور اور بودے ہیں ۔ کہا گیا کہ چونکہ مصر اور سعودی عرب کے علماء نے فتویٰ دیا ہے اس لیے تمام مسلمان اس پر عمل کریں ۔ ارے بھائی ان دونوں ملکوں میں آمریّت ہے۔ اس لیے وہاں کے علماء کو آزادانہ رائے دینے کا اختیارہی کہاں ہے؟

اس سلسلے میں جاوید غامدی صاحب کے نقطہ ء نظر کا بھی حوالہ دیا جا تا ہے ، وہ بلاشبہ بڑے اسکالر ہیں، پچھلے اتوار کو ان کی زبانی یہ بھی سننے کا موقع ملا کہ ’’انسانوں کے لیے سب سے بڑا گناہ شرک ہے اور سب سے بڑا جرم  منتخب حکومت کا تختہ اُلٹنا اور آئین توڑنا ہے اور اسلام میں اس کی سزا موت ہے‘‘ غامدی صاحب کے حوالے دینے والے ان کے اس نقطہ نظر کو کیوں نہیں مانتے، سارے لبرل اینکرز آئین توڑنے والے جنرل مشرف کی گو دمیں کیوں جا بیٹھے تھے؟ ہمارے ہاں ایسے علمائے کی کمی نہیں جنکے بارے میں حکیم الاُمت فرما گئے کہ

؎ ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق       خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں

اگر ہمارے ہاں علمائے سو موجود ہیں تو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ بڑی تعداد میں ایسے جیّد اسکالر بھی موجود ہیں جو حکمرانوں کی خواہش کے آگے سر بسجود ہونے کے لیئے تیار نہیں۔میں خود بے علم بھی ہوں اور بے عمل بھی، مگر کعبتہ اللہ اور حضورﷺ کی مسجد کی ویرانی کا منظر دیکھنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ جب ہمیں بڑے سے بڑے اسپتال اور قابل ترین ڈاکٹر جواب دے دیتے ہیں تو ہم مکہّ اور مدینہ جاکر جھولی پھیلاتے ہیں کہ وہی ہمارے آخری شفاخانے ہیں ۔ نماز کے قریب نہ جانے والوں کواس کی لذّت کی کیا خبر۔ ارے یہ تو وہ موقع ہوتا ہے جب کمزور ترین انسان،طاقتور ترین ہستی اور شہنشاہوں کے شہنشاہ سے ہم کلام ہوتا ہے اور اپنی فریاد  اور التجاء پیش کرتا ہے۔

آج ایک چھوٹے سے جرثومے کے آگے انسانی وسائل بے بس ہیں،امریکا اور یورپ کے سیکولر حکمران اﷲ کو پکاررہے ہیں، یورپ کے ایوانوں میں اذانیں گونج رہی ہیں اور ربِّ ذوالجلال سے رحم کی بھیک مانگی جارہی ہے مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میںکچھ لوگ اذانیں بند کرانے پر تُلے ہوئے ہیں!

راقم نے پچھلے کالم میںبھی ذکرکیا تھا ،خود وزیراعظم بھی نادار افرادکا کثرت سے ذکر کرتے ہیں جنکے لیے موجود ہ حالات میں روزی کمانا نا ممکن ہو گیا ہے، ان کی دستگیری ہر صاحبِ حیثیّت کا فرض ہے۔ اس سلسلے میں راقم کی تجویز یہ ہے کہ مستحقین کی مدد کا کام لوگوں پر چھوڑ دیا جائے، میڈیا کے ذریعے لوگوں کو Motivate کیا جائے مگر اس سلسلے میں فلمی ایکٹر نہیں بلکہ جیّد اسکالر اللہ سبحانہ تعالیٰ کے احکامات اور صدقہ و خیرات کی فضیلت سے آگاہ کریں، ہر محلّے ، وارڈ اور گاؤں کے باسی اپنے قریب رہنے والے مستحق افراد کے گھروں میں راشن بڑی خوشی اور جذبے کے ساتھ پہنچا دینگے ۔ اگر پرائم منسٹر اپنی اَنا کے ناگ کا سر کچل کر پنجاب میں بلدیاتی ادارے بحال کر دیںتو اس کے کئی فوائد ہونگے،مستحقین کی امداد کا کام بڑے احسن طریقے سے ہو جائیگا۔ اپوزیشن کے ساتھ  مفاہمت کی فضاء پیدا ہو گی اور حکومت کا اربوں روپیہ بچ جائیگا جو وہ وینٹی لیٹرزاور اسکریننگ مشینیں خریدنے اور عارضی اسپتال بنا نے پر خرچ کرسکے گی۔

غرباء کو چند کلو آٹا دیکر ویڈیو بنوانے والوں کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ ان کے بر عکس اﷲ کی خوشنودی کے لیے بہت سے لوگ ڈیلی ویجرز اور سفید پوش مستحقین کے لیے کچے راشن کے پیکٹ تیار کرا رہے ہیں۔ آٹے، چاول، چینی، گھی،دال اور چائے پر مشتمل ایک پیکٹ چار سے ساڑھے چار ہزار میں تیار ہو جاتا ہے۔ جس سے ایک فیملی مہینہ نکال سکتی ہے۔ اس ضمن میں مساجد کے امام ،سول و ملٹری کے ریٹائرڈ ملازمین اور یونین کونسلوں کے ممبران کے علاوہ مقامی پولیس اور ریونیو کے عملے سے کام لیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے سیاسی پارٹی کے ورکروں کو استعمال کرنا اور انھیں ’’کورونا ٹائیگر ز‘‘ کا نام دینا خطرناک عمل ہوگا۔ یہ سیاسی ٹائیگرز جانبداری سے کام لیں گے اور صرف اپنے حامیوں اور ووٹروں کا اندراج کرائیں گے،جس سے معاشرہ مزید تقسیم ہو گا۔ حکومت کا یہ عمل اس موذی وباء کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کو متنازعہ اور حکومتی اقدامات کو مشکوک بنا دیگا۔ بہتر ہے کہ وباء کے دنوں میں وزیر اعظم صاحب ایسے کاموں اور تقریروں سے پر ہیز کریں۔

The post مسیحاؤں کاعزم، علماء کا کردار اور کوروناٹائیگرز appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Uy0XTJ

زندگی اور معاش کا تحفظ ساتھ ساتھ 

ملک آفت کی لپیٹ میں ہے لیکن اپوزیشن کی بے تکان نکتہ چینی جاری ہے، افواہوں اور غلط معلومات کا کاروبار گرم بھی ہے۔ ان حالات کے باوجود وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے کوشاں ہے۔ وزیراعظم متعدد بار خوف کی فضا کو ختم کرنے کے لیے براہ راست قوم سے مخاطب ہوچکے ہیں۔

موجودہ حکومت کو ایک ایسا ریاستی ڈھانچا ملا ہے جو کرپشن اور مفاد پرستی سے کھوکھلا ہوچکا ہے۔ اس کے باوجود عمران خان نے اپنی تمام تر استعداد کے ساتھ موجودہ صورت حال کے مقابلے کے لیے ہر ممکن تیزی کے ساتھ اقدامات کیے ہیں۔ بے سروسامانی کے ساتھ ہی سہی منظم کوششیں اس طوفان کا رُخ موڑ سکتی ہیں۔

کورونا وائرس بہت تیزی سے پھیلتا ہے تاہم یہ بھی ثابت ہوچکا کہ اس سے متاثر ہونے والے اکثر افراد میں دو چار روز اور زیادہ سے زیادہ دو ہفتوں کے لیے بخار اور کھانسی کی ہلکی علامتیں ہی ظاہر ہوتی ہیں۔ اٹلی میں وائرس سے ہونے والی اموات کی( دس فی صد سے کم) شرح سب سے زیادہ ہے اور وہاں بھی 90فی صد متاثرین صحت یاب ہورہے ہیں۔ مرنے والوں میں عمر رسیدہ افراد کی اکثریت ہے۔

اس خطرے کی شدت کا انکار نہیں کیا جاسکتا اورپاکستان میں لاکھوں افراد کی زندگی کو لاحق خدشات کے تناظر میں اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ صحت کو لاحق خطرات کے ساتھ معیشت کی تباہی، غربت میں اضافے اور خوراک کی قلت کے باعث ممکنہ فسادات اور نقض امن کے خدشات کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ بڑے شہروں میں مکمل لاک ڈاؤن یا کرفیو کا فیصلہ کیا تو جاسکتا ہے تاہم اس کے نتیجے میں اگر زرعی اور صنعتی سرگرمیاں ہی ٹھپ ہوجاتی ہیں تو معیشت کو غیر معمولی نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ یہی پہلو عمران خان کے پیش نظررہا ہے۔وہ جو پیغام دینے کی کوشش کررہے ہیں وہ یہ ہے کہ اس وبا کی طبی تباہ کاریوں کے مقابلے میں اس سے پیدا ہونے والا معاشی بحران شدید تر ہوگا۔ان حالات میں اگر ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر گراوٹ کا شکار ہوتے ہیں تو پاکستان کی معیشت مردہ خانے میں منتقل ہوجائے گے۔

عمران خان نے ملک گیر لاک ڈاؤن کے دوران غذائی اجناس اور سامان کی نقل و حرکت اور اشیائے ضروریہ کی مطلوبہ ترسیل کو برقرار رکھنے کے لیے انھیں تیار کرنے والی صنعتوں میں پیداوار جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹیکسٹائل جیسے پاکستان کے بڑے صنعتی شعبوں میں بھی پیداوار جاری رکھنا ہوگی۔ عوام کو روزگار اور ملک کو صنعتوں کی ضرورت ہے۔ ممکن ہے کہ وائرس سے اتنی جانیں نہ جائیں جتنی بے روزگاری کے نتیجے میں بھوک اور علاج سے محروم ہونے کے باعث چلی جائیں گی۔ ہم پہلے ہی طلب و رسد کے سلسلے میں خلل ڈال چکے ہیں۔ گوالے اپنے علاقوں میں دودھ مفت تقسیم کرنے پر مجبور ہیں کیوں کہ بازار میں اس کی کھپت کم ہوچکی ہے۔ بھاری مقدار میں سبزیاں بازار تک پہنچنے کے بجائے گل سڑ رہی ہیں۔ حکومت نے سندھ میں گندم کی خریداری کا دانش مندانہ فیصلہ کیا ہے۔ ملک میں گندم کی تھریشنگ کا آغاز اپریل کے آخر تک ہی ممکن ہوگی۔ مئی تک پاکستان میں لاکھوں افراد بے روزگار ہوچکے ہوںگے۔

موجودہ حالات میں دیہاڑی دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہورہا ہے۔ ان کی آمدن کے ذرایع بند ہوچکے ہیں۔ ایسے افراد کو ضروریات زندگی کی فراہمی اور اس کے لیے جنگی بنیادوں پر باقاعدہ نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔یہاں بلدیاتی اور مقامی حکومتوں کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ راشن کی تقسیم ضلعی اور یونین کونسل کی سطح پر ہونی چاہیے۔ انھیں اپنے علاقوں میں ضرورت مند خاندانوں تک راشن کی فراہمی کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ شہری علاقوں میں مقامی تندوروں کو بھی خوراک کی تقسیم کا مرکز بنایاجاسکتا ہے اور نگرانی کے لیے یہاں یونین کونسل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہل کار تعینات ہونے چاہییں۔ ہر خاندان سے ایک فرد مقررہ وقت پر یہاں آکر راشن وصول کرے اور ہجوم لگانے سے گریز کرے۔ ان انتظامات کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے بھی حکومت عملی بنائی جاسکتی ہے۔

مالی بحران سے نمٹنا سب سے بڑا چلینج ہے۔ شرح سود کو صفر کے قریب تر حد تک کم کیا جائے جیسا کہ بین الاقوامی سطح پر کیا بھی گیا ہے۔ جسے ’’ہاٹ منی‘‘ کہا جاتا ہے اس میں سے اکثر سرمایہ جاچکا ہے اور جو رہ گیا ہے غالب امکان یہی ہے کہ اب وہ کہیں نہیں جائے گا۔ گزشتہ سال اور اس سے قبل کئی  برسوں سے بینک خوب منافع کما چکے ہیں اور اب موقع آگیا ہے کہ وہ ملک پر بڑھتا ہوا مالی بوجھ کم کرنے میں اپنا حصہ شامل کریں۔ حالات چاہے کیسے بھی ہوں اس منافعے کا 70فی صد ٹی بلز سے حاصل ہوتا جو بہر صورت قومی خزانے سے ادا کیا جاتا ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کسی صورت عمومی معاشی سرگرمیوں اور اشیائے صرف کی قیمتوں سے متعلق نہیں ۔اسے اسٹیٹ بینک کی مدد کی ضرورت نہیں۔ ان حالات میں معاشی بوجھ اٹھانے کے لیے ان لوگوں کو آگے آنا ہوگا جو اس کے متحمل ہیں۔ ایسے بحرانوں میں کمزور طبقات کا ساتھ دینے ہی سے قومیں بنتی ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی مدد کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔ روپے کی گرتی ہوئی قدر کو دیکھتے ہوئے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے اپیل کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنا زیادہ سے زیادہ سرمایہ پاکستانی اکاؤنٹ میں رکھیں تاکہ اسٹیٹ بینک کو روپے پر بڑھتے دباؤ کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے۔

لاک ڈاؤن ضروری ہے لیکن توازن کے ساتھ مرحلہ وار فیصلوں کی ضرورت ہے۔ زندگی بچانے کے لیے نظام زندگی کو داؤ پر نہیں لگایا جاسکتا۔ ہم کسی دوسرے ملک کے اقدامات کو بھی من و عن لاگو نہیں کرسکتے کیوں کہ ہر ملک میں دو تین روز بعد حکمت عملی میں تبدیلی لائی جاتی ہے اور کسی کے پاس مستقل لائحہ  عمل نہیں۔ ہر ملک بلکہ ایک ہی ملک کے مختلف صوبوں کو بھی اپنے مقامی حالات کے مطابق فیصلہ کرنا پڑیں گے۔ ان حالات میں جو لوگ سیاسی کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں وہ دراصل عوام کی زندگیوں سے کھلواڑ کر رہے ہیں۔ مغرب کے پاس موجودہ اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل ہیں پاکستان کا اس سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ چین اور مغربی دنیا کی اندھی تقلید کرنے کے بجائے ہمیں اپنے لوگوں کے ذرایع معاش کو بھی برقرار رکھنا ہے۔ آٹے کی ملیں کھلی رکھی جاسکتی ہیں لیکن کپاس ٹیکسٹائل اور متعلقہ صنعتوں کے ذریعے لوگوں کو روزگار دیتی ہے۔ ہمیں اپنی ٹیکسٹائل صنعتوں کی پیدوار جاری رکھنے کا مشکل فیصلہ کرنا ہوگا۔

وبا اور معاشی بحران ان دونوں سے مقابلے کے لیے ضروری ہے کہ پوری قوم متحد ہوجائے۔ قوم کی مدد کے بغیر حکومت تنہا کچھ نہیں کرسکتی۔ اس نازک وقت میں ملکی قیادت کو دوراندیشی، دیانت داری اور بردباری کے ساتھ ساتھ قوم اور بالخصوص نوجوانوں کو متحرک کرنا چاہیے، یہی اس آفت سے مقابلے کا واحد طریقہ ہے۔ زندگیاں بچانے کے ساتھ ساتھ نظام زندگی کا تحفظ بھی یقینی بنانا ہوگا اور یہی سب سے بڑی آزمائش ہے۔

(فاضل مصنف سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)

The post زندگی اور معاش کا تحفظ ساتھ ساتھ  appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3bIjVwM

سرگوشیاں 

کچھ ایسے سوال ہیں جو اکثر انسان کے ذہن میں اٹھتے ہیں جیسے یہ کہ میں کون ہوں ، کہاں سے آیا ہوں، میرا مقصد زندگی کیا ہے، یہ کائنات کیسے بنی، خدا کیا ہے؟

مجیب الحق حقی نے اپنی کتاب ’’خدائی سرگوشیاں‘‘ میں ان سوالوں کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ وہ اپنے پیش لفظ میں کہتے ہیں کہ اس کتاب کا موضوع توحید ہے اور ایک مسلمان کی حیثیت سے انھوں نے اپنے عقیدے کے مطابق ان سوالوں کے جواب سائنسی بنیادوں پر تلاش کیے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ کائنات اور اس کے مظاہر کی تشریح اس طرح کی جائے کہ ہمارے نوجوان حقیقی سچائی تک پہنچ سکیں۔

مجیب حقی لکھتے ہیں ’’ قرآن دین فطرت کا نمایندہ ہے اور انسان کے ہر سوال کا جواب رکھتا ہے۔ اسی لیے انسان کو کائنات میں غورکی دعوت دیتا ہے یعنی ریسرچ کرو اور دیکھوکہ کیسے کیسے علوم کے خزانے خالق نے کائنات کے گوشے گوشے میں چھپائے ہیں۔ قرآن کی دعوت فکر اس بات کی غماز ہے کہ خالق انسان کو منطقی اور عقلی بنیادوں پر ایمان کی طرف بلاتا ہے۔ یہاں کوئی اندھا یقین نہیں ہے بلکہ علم پر مبنی اور عقلی طور پر مضبوط دلائل سے لیس ایمان ویقین ہے۔ غیب پر ایمان صرف بغیر دلیل کے ہی نہیں بلکہ علوم کی گواہی سے بھی ہے کیونکہ انسان کی فطرت ہی خالق نے ایسی بنائی ہے کہ وہ عقل کی کسوٹی پر معاملات کو پرکھتا ہے۔ قرآن کی بار بار تفکرکی دعوت دراصل اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جدید دور کا انسان بالآخر حاصل کردہ جدید علوم کی ناقابل تردید گواہیوں سے ہی کائنات کے خالق کو تسلیم کرے گا۔ موجودہ دورکی زبردست ترقی اور پیچیدہ تر علوم کی دریافتیں ایک لامحدود خالق کی نشانیاں ہی تو ہیں۔ قرآن وہ کتاب ہے جس کے بارے میں اسلام کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ اللہ کے آخری رسولؐ کے ذریعے انسانوں کو اللہ کا آخری تحریری پیغام ہے یوں یہ بات بھی طے ہوئی کہ اس میں درج امور ہر آنے والے دور کے لیے بھی ہیں۔‘‘

میں کون ہوں اورکہاں سے آیا ہوں؟ اس سوال کے بارے میں مجیب حقی لکھتے ہیں ’’ اسلام جو دین فطرت ہے اور اپنا ایک فلسفہ حیات رکھتا ہے اس کی بنیاد دماغی سوچ یا انسانی فلسفہ نہیں بلکہ مادے سے ماوریٰ وحی یا الوہی احکام ہیں۔ یہ انسان کو ایک مقام اولیٰ عطا کرتا ہے کہ انسان اپنے خالق کی برتر ترین تخلیق اور زمین پر اپنے خالق کا نائب ہے۔ خالق کی صفات ایک معین درجے میں انسان میں ودیعت کی گئی ہیں تاکہ یہ ایک بااختیار محدودیت میں قید ’’خالق‘‘ بنے۔ قرآن بتاتا ہے کہ خالق کائنات مٹی کا ایک پتلا بناکر اس میں ایک مخصوص روح ڈالتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ یہ زمین پر میرا نائب ہوگا۔ انسان کو فضیلت کی اس عظیم عطا پر باقی مخلوق کی حیرانی دور کرنے کے لیے خالق کائنات پہلے انسان کو کائنات کا سارا علم عطا کرتا ہے، پھر فرشتوں سے چیزوں کے نام پوچھتا ہے تو سب لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں جب کہ آدمؑ ودیعت کردہ علوم کے تئیں کائنات کی ہر چیز کا نام بتا دیتے ہیں۔ اسلام کے مطابق یہی تو ہے ہماری ابتدا۔ اسی ابتدا میں ہمارے سوال کا جواب بھی پنہاں ہوسکتا ہے کیونکہ یہی تو وہ لمحہ تھا جب کائنات کے تمام علوم دیے گئے۔ یہی ذخیرہ علم کل علوم کا ڈیٹا بینک ہے جسے ہم آدم کی کتاب علم کہیں گے۔ انسان اسی کتاب علم کو ورق ورق کھولتا آگے بڑھ رہا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ودیعت کردہ ہر علم کو اپنی عقل سے جان کر اور عیاں کرکے اپنے آپ کو مسجود ملائک کے شرف کا حق دار ثابت بھی کردے گا۔ قرآن بار بار انسان کو تفکر کی دعوت اسی لیے دیتا ہے کہ جب انسان غورکرتا ہے تو معلومات کے اس ویئر ہاؤس تک جا پہنچتا ہے اور اس کتاب کے اوراق کھلنے شروع ہو جاتے ہیں۔‘‘

مجیب حقی لکھتے ہیں ’’یہ کائناتی نظام ایک مرکز سے چلایا جا رہا ہے۔ عرش کے ہمہ گیر سینٹرل کنٹرول کے نظام کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ یہ عرش انسان کے تصورکی گرفت سے باہر ہے جس میں بہت سی عیاں اور چھپی جہتیں ہیں۔ کائنات کے مخفی رخ کا کنٹرول وہیں سے ہے۔ انھی مخفی رخوں (Dimensions) کی تلاش، دریافت اور پہچان علم کے وہ دروازے کھولتی ہے جو انسان کو خالق کے قریب تر کرتے ہیں یعنی یہ جدید علوم ہی ہوں گے جو انسان کو مابعد طبیعات کے اس ماحول کی کچھ خبر دیں گے جہاں خالق کائنات کسی مظہر یا نظم کی تخلیق کا صرف ارادہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہو جا تو وہ ظاہر ہو جاتا ہے۔

تصور اور خیال کی یہ قوت انسان کے اندر بھی ہے اور جدید سائنس میں ایک شعبہ ذہنی سائنس کا موجود ہے جو انسان کے ذہن کی قوت پر تحقیق کر رہا ہے۔ علوم کی اس پیہم پیش رفت سے جسے عرف عام میں سائنس کہا جاتا ہے، دراصل آگہی کے بند دروازے کھلتے رہتے ہیں اور وہ وقت بھی آئے گا جب انسان اس عظیم الشان ہستی سے رابطے کے کچھ پیرائے دریافت کرے گا اور تصدیق کرے گا کہ کائنات کے باہرکوئی لامحدود ہستی ہے جو کائنات کو رواں دواں رکھے ہوئے ہے کیونکہ کائنات کے توازن کے حوالے سے قرآن کے مطابق اللہ نے کائنات تھامی ہوئی ہے تو یہ امکان موجود ہے کہ کشش ثقل کے بیرون کائنات سے کوئی مضبوط تعلق کی سائنسی دریافت خدا کو سائنسی طور پر جاننے کی طرف مثبت پیش رفت ہوسکتی ہے۔

مجیب الحق حقی لکھتے ہیں کہ انسان زندگی اور کائناتی حقائق کا جو مشاہدہ کرتا ہے وہ دماغ کے واسطے سے کرتا ہے۔ اس واسطے سے کائنات ہمارے لیے ایک حقیقت ہے۔ یہی ہمیں بتاتا ہے کہ ’’میں کون ہوں‘‘ مجھے کیا کرنا ہے۔ یہ سوچتا ہے، دریافت کرتا ہے۔ گتھیوں کو سلجھاتا ہے۔ سب سے بڑھ کر اس میں جذبات جنم لیتے ہیں جن کا انسان کو علم نہیں کہ یہ کیوں پیدا ہوتے ہیں اور کیسے ہمارے جسم اور چہرے کے ذریعے ظاہر ہوتے ہیں۔

The post سرگوشیاں  appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2JuaftF

جہالت

پاکستان کی سب سے بڑی رفاہی تنظیم ایدھی ٹرسٹ کے سربراہ فیصل ایدھی وفاقی حکومت کے رویہ سے مایوس ہیں۔انھوں نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک وڈیو میں شکوہ کیا ہے کہ حکومت کو اگر ہم پر بھروسہ نہیں تو لکھ کر دے دیں ‘ ہم خاموش ہو جائیں گے۔ انھوں نے اپنی مایوسی کا اظہار اس صورتحال کی بناء پر کیا ہے کہ ایدھی ٹرسٹ نے 40 ہزار کورونا وائرس کی ٹیسٹ کٹس چین سے خریدی ہیں مگر پروازیں بند ہونے کی بناء پر یہ کٹس پاکستان نہیں آسکی ہیں۔

ملک میں کورونا کے بڑھتے ہوئے مریضوں کی بناء پر ٹیسٹ کٹس کی شدید کمی ہے، اگر وفاقی حکومت خصوصی اجازت نامہ کے ذریعہ جہاز کی پرواز کی اجازت دیدے تو یہ ٹیسٹ کٹس پاکستان آسکتی ہیں۔ فیصل نے مزید کہا کہ 10 جدید ایمبولینس دبئی میں پھنسی ہوئی ہیں اور ایک کراچی کی بندرگاہ پر سڑرہی ہے۔ محکمہ کسٹم ایمبولینس کو کمرشل آئٹم سمجھتا ہے۔ کسٹم حکام نے ان ایمبولینس پر لاکھوں روپے ٹیکس عائد کردیا ہے۔

ایدھی اور دیگر رفاہی تنظیمیں عوام کے عطیات سے انسانیت کی خدمت کررہی ہیں۔ حکومت ایمبولینس کو کمرشل قرار دے کر ٹیکس وصول کرنا چاہتی ہے۔ یہ شاید جدید دنیا کی اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہوگی۔ فیصل کہتے ہیں کہ ان کا ادارہ کورونا ٹیسٹ کی سہولت مفت فراہم کرنا چاہتا ہے اور سیفٹی ماسک بھی غریبوں میں تقسیم کرنے کا خواہاں ہے مگر حکومت آڑے آگئی ہے۔

لندن سے شایع ہونے والی طبعی سائنس کے جنرل Lanecet Public Health میں شایع ہونے والی ایک تحقیق کا خلاصہ کچھ یہ ہے کہ چین کی حکومت نے کورونا سے متاثر ہونے والے شہر ووہان میں اسکول، کالج ، یونیورسٹیاں اور کارخانے بند کرکے اور ووہان کے لاکھوں افراد کو کئی مہینے لاک ڈاؤن کرنے کی تکنیک کو استعمال کر کے نہ صرف چین میں کوروناکے دوسرے حملے کو روک دیا بلکہ پوری دنیا کو اس خطرناک وائرس سے ہونے والے نقصان سے بچالیا۔

جنرل کی اس تحقیق میں چین کی حکومت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن کی پالیسی پر اپریل تک عملدرآمد کیا جائے۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن پر تمام ممالک کو عمل کرنا چاہیے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے سربراہ Adhanom Ghebreyesus نے بھی اس طبعی جنرل کی رپورٹ کی توثیق کی ہے مگر وفاقی حکومت اور بعض مذہبی عناصر سائنس کی اس حکمت عملی کو محسوس نہیں کرسکے۔

وزیر اعظم عمران خان کی حکومت نے کورونا وائرس کے مسئلہ کو بہت عرصہ تک محسوس ہی نہیں کیا۔ بھارت کے مسلمان زائرین بھی بھاری تعداد میں ایران جاتے ہیں۔ جب وہاں کورونا وائرس پھیلا اور اس کی اطلاع بھارتی حکومت کو ملی تو بھارت کی حکومت نے ایران سے مذاکرات کیے اور ایرانی حکومت کو تیار کرلیا کہ بھارتی زائرین کو ایران میں قرنطینہ میں رکھا جائے اور جب ان کے ٹیسٹ منفی آئیں تو انھیں ملک میں لایا جائے۔

ہماری وفاقی حکومت نے چین میں موجود پاکستان کے شہریوں کے لیے یہی حکمت عملی اپنائی مگر ایران کی حکومت سے مذاکرات نہیں کیے تاکہ پاکستانی زائرین ایران میں قرنطینہ میں بند رہیں اور صحت مند ہو کر ملک آئیں۔ پنجاب کی تحریک انصاف کی حکومت نے رائیونڈ میں تبلیغی اجتماع کی اجازت دی ۔ رائیونڈ کے اجتماع میں شرکت کرنے والے بعض افراد کوروناسے متاثر ہوئے۔ معاملہ صرف ملک میں کورونا کے پھیلاؤ تک محدود نہ رہا بلکہ غیر ملکی مندوبین کے اپنے اپنے ملک جاتے ہی ان ممالک میں بھی خطرہ پیدا ہوا۔

وزیر اعظم عمران خان لاک ڈاؤن کو غریبوں کے لیے خطرناک قرار دیتے رہے۔ پہلے لاک ڈاؤن اور کرفیو کے فرق کے معاملے  میں کنفیوژ رہے، یوں وفاق کے علاوہ پنجاب اور خیبر پختون خوا کی حکومتوں نے لاک ڈاؤن کرنے میں دیر کی۔ ریلوے کے وفاقی وزیر شیخ رشید ہمیشہ مخالفین پر رکیک حملوں میں وقت گزارتے ہیں۔ انھوں نے ریلوے کے نظام کو معطل کرنے پر توجہ نہیں دی۔ وزارت ریلوے نے عجیب حکمت عملی اختیار کی۔ پہلے کچھ ریل گاڑیاں بند کردیں،  یوں پورے ملک کے ریلوے اسٹیشنز پر ہزاروں لوگوں کا ہجوم لگ گیا۔

یوں سماجی دوری کا مسئلہ کہیں کھو گیا۔ مساجد اور امام بارگاہوں میں اجتماعی عبادت کے معاملے کی سنجیدگی کو محسوس نہیں کیا گیا۔ صدر عارف علوی نے سنجیدہ کوشش کی اور دنیا کی سب سے بڑی درسگاہ جامعہ الازہر سے فتویٰ حاصل کیا اور علماء سے آن لائن مشاورت کی مگر ملک کے کچھ علماء نے تو جامعہ الازہر کے فتویٰ کو قبول کیا مگر کچھ نے اس فتویٰ کو ماننے سے انکار کیا۔

پنجاب اور خیبر پختون خوا کی حکومتوں نے بھی مہبم پالیسی اختیار کی ۔ یہ کیسی عجب صورتحال ہے کہ جماعت اسلامی نے پراسرار خاموشی اختیار کرلی ہے۔ اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ، معروف عالم جاوید احمد غامدی اور مولانا تقی عثمانی نے اپنے بیانات میں واضح کیا کہ تمام مسلمانوں کو حکومت کے احکامات کی پیروی کرنی چاہیے۔ مولانا فضل الرحمن نے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اپنے گھر میں ظہر کی نماز ادا کی۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر فواد چوہدری نے الزام لگایا ہے کہ کورونا وائرس مذہبی حلقوں کے رجعت پسندانہ رویہ کی بناء پر پھیلا ہے۔ فواد چوہدری کا استدلال ہے کہ یہ ہمیں کہتے ہیں کہ اﷲ کا عذاب ہے، یہ توجہ کریں، اﷲ کا عذاب جہالت ہے۔ علماء جو علم اور عقل رکھتے ہیں اﷲ کی نعمت ہے، ان کی قدر کریں۔ لیکن جاہلوں کو عالم کا درجہ دینا جہالت ہے۔

فواد چوہدری کا بیان ہمارے معاشرہ کی زبوں حالی کی نشاندہی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بیماریاں اور وبا اور آفات لاکھوں برسوں سے ہیں اور انسان نے سائنس کی مدد سے ان آفات کا مقابلہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں سال میں پید ا ہونے والے بہت سے امراض ختم ہوگئے اور جو نئے امراض پیدا ہورہے ہیں ان کا تدارک بھی سائنس کے اصولوں پر عملدرآمد سے ہی ممکن ہے۔

The post جہالت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2X08T1Q

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...