Urdu news

Sunday, 31 January 2021

سارے حربے آزما لیے

ایک منتخب حکومت کو اقتدار سے الگ کرنے کے جتنے حربے ممکن تھے، پی ڈی ایم نے استعمال کر لیے لیکن عوام کو سڑکوں پر لانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اب عوام کو حکومت سے بدظن کرنے کی مہم میں جتے ہوئے ہیں اور اس نیک کام میں مدد کے لیے پرانے سیاستدانوں کو آگے لا رہے ہیں۔ فرما رہے ہیں کہ ہم حکومت کو چاروں طرف سے اس طرح گھیریں گے کہ اس کا ہمارے نشانے سے بچ نکلنا بہت مشکل ہوگا۔

یہ صرف دھمکی نہیں ہے بلکہ یہ کھلاڑی ایسا کر سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو ان کے پاس پرانے کارکنوں کی ایک بڑی اور ٹرینڈ نفری ہے۔

اس گروپ میں ہماری رائج الوقت سیاست کے وہ تمام کھلاڑی جمع ہو گئے ہیں جو آیندہ دس بیس سال کی فکر معاش سے آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ آج جو کوششیں ہو رہی ہیں ان کا واحد مقصد آیندہ دس پندرہ سال تک فکر معاش سے آزاد ہو جائیں۔ جب مقصد اتنا اعلیٰ ہو تو بندہ اس کام کے لیے وہ ساری صلاحیتیں استعمال کر سکتا ہے جو اس کے قبضہ قدرت میں ہیں۔

ہمارے وزیر اعظم کی اس خوبی سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ وہ عوام کی بہتری اور ترقی چاہتے ہیں لیکن عوام کی بہتری اور ترقی کے لیے اس میدان کے ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے جو آج کل ہی کے پس منظر میں نہیں بلکہ آنے والے عشروں کے پس منظر میں پلاننگ کرتے ہیں اور بدقسمتی سے حکومت کے پاس ایسے پلانر نظر نہیں آتے، نہ ایسے شاطر نظر آتے ہیں جو عوام کی نظربندی میں ماہر ہوں۔

ہمارے وزیر اعظم بات بات پر کہتے ہیں ’’کسی کو نہیں چھوڑوں گا‘‘ جب کہ وہ جن کو نہیں چھوڑنا چاہتے ہیں وہ سب چھوٹے ہوئے ہیں اور اپنی ذمے داریاں احسن طریقوں سے نبھا رہے ہیں۔ عمران خان ان رضاکاروں کی خدمات حاصل نہیں کرسکتے جو ہر فن مولا ہوتے ہیں اور ان کا رنگ پانی جیسا ہوتا ہے جس میں جو رنگ ملا بس وہ اس رنگ کو اختیارکر لیتا ہے۔

اپوزیشن میں ایسے فنکار شامل ہیں جو سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید بنا سکتے ہیں اور آج کل یہ فنکار اسی مشن پر لگے ہوتے ہیں۔ عمران خان کی پروپیگنڈا مشنری بڑی سست اور آؤٹ ڈیٹڈ ہے آج کی سیاست کا سارا کام پروپیگنڈے اور پبلسٹی کی ٹانگوں پر کھڑا ہے اور اس حوالے سے عمران حکومت بہت کمزور نظر آتی ہے ، حکومت میں کوئی ایسا نظر نہیں آتا جو آج کے پروپیگنڈا تکنیک پر پورا اتر سکے، حکومتی ترجمان ہیں وہ سیاسی تقریریں وعظ کی طرح کرتے ہیں جس کا عوام پر بہت کم اثر پڑتا ہے۔

اپوزیشن ہوشیار ہے وہ جو چاہے کہہ سکتی ہے کسی کی ہمت نہیں کہ اس کی زبان کو لگام دے۔ اس آزادی کی وجہ تسمیہ ہم جیسے کوڑھ مغزوں کی سمجھ میں نہیں آتی۔ اس گمبھیر سیاسی صورتحال میں ہمارے حکمران پیلس اور سو ڈیڑھ سو کنال اراضی کو ناجائز قبضے سے چھڑانے اور پیلس گرانے میں مصروف ہیں۔ اس غلط اور بے موقع اقدام سے حکومت کو کتنا فائدہ ہوا کتنا نقصان اس پر نظر رکھنے والا کوئی ہے ۔

مہنگائی عوام کے لیے عذاب بنی ہوئی ہے کوئی مسئلہ عوام کو سڑکوں پر لائے نہ لائے البتہ مہنگائی عوام کو سڑکوں پر لاسکتی ہے۔ قریبی حلقوں کا خیال ہے کہ ماضی کی حکومتوں میں ہماری حکمران اشرافیہ نے آیندہ کی سوچتے ہوئے تاجروں سمیت زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے حلقوں سے اتنے قریبی تعلقات استوار کر لیے ہیں کہ انھیں ہماری اشرافیہ جب چاہے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرسکتی ہے، ملکی مہنگائی کو بھی اسی سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس پس منظر میں زرداری صاحب  کے ولی عہد کی یہ رائے بہت مفید نظر آتی ہے کہ ادھر ادھر بھاگنے کے بجائے تحریک عدم اعتماد لانے پر توجہ دی جائے تو فتح کی امید قوی ہوجاتی ہے۔

بہرحال فائنل راؤنڈ کھیلا جا رہا ہے اگر عمران خان کسی طرح آیندہ الیکشن میں کامیاب ہو جاتے تو 70 سالہ لوٹ مار کا انت ہو جائے گا اگر آیندہ حکومت کو اقتدار میں نہیں آنے دیا جاتا تو آنے والے دنوں میں کرپشن بڑھے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بالادست طاقتیں اس مسئلے کو کس طرح حل کرتی ہیں کہ ملک سے لوٹ مار کا بدترین نظام ختم ہو جائے۔ بہرحال بقول سابق صدر آصف علی زرداری، حکومت کو گھر بھیجنا ضروری ہو چکا ہے۔

The post سارے حربے آزما لیے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/36wwQSb

شعیب ملک کیلیے ٹیم کے دروازے بدستوربند

 لاہور:  شعیب ملک کیلیے ٹیم کے دروازے بدستوربند رہیں گے، محمد وسیم کا کہنا ہے کہ صرف سنیارٹی سلیکشن کا معیار نہیں ہے،فارم اور ٹیم کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے ہر پوزیشن کیلیے موزوں کھلاڑی کا انتخاب کیا جائے گا،مڈل آرڈر میں فی الحال شعیب ملک سے بہتر بیٹسمین نظر آ رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جنوبی افریقہ سے ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلیے اسکواڈ کا اعلان کرتے ہوئے پریس کانفرنس میں محمد وسیم نے واضح کیا کہ صرف سینئرز کو ہی منتخب کرنا ضروری نہیں، ماضی کی پرفارمنس اہمیت رکھتی ہے مگر ہمیں موجودہ فارم اور ٹیم کی ضرورت کے مطابق کھلاڑیوں کا انتخاب کرنا ہے،کسی بھی پوزیشن کیلیے موزوں کھلاڑی کو کردار کے مطابق ٹیم میں جگہ دیں گے،گذشتہ 2 سال کے دوران مڈل آرڈر میں کئی دیگر بیٹسمینوں کی کارکردگی اور ریکارڈ شعیب ملک سے بہتر ہے،اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے پاس تجربہ ہے،ورلڈکپ سے قبل دیگر کھلاڑیوں کی آزمائش کرینگے۔

آل راؤنڈر کو اپنے پلان سے باہر نہیں کیا لیکن فی الحال ان سے بہتر آپشن نظر آرہے ہیں۔ چیف سلیکٹر نے کہا کہ ورلڈکپ سے قبل میسر میچز کا نصف مکمل ہونے تک اپنے پول کے حوالے سے حتمی فیصلے کرلیں گے،تیاری کیلیے اچھا وقت میسر ہے، بیٹنگ اور بولنگ میں بیشتر اپنی جگہ مستحکم کرچکے ہیں،3 یا 4 پوزیشنز خالی ہیں۔

ان کیلیے مختلف نام زیر غور ہیں، پی ایس ایل میں بھی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے فیصلوں میں آسانی ہوگی،اگلی 2یا 3سیریز میں اپنا اسکواڈ اور پلان طے کرلیں گے۔محمد وسیم نے واضح کیا کہ پلیئرز کو منتخب کرتے ہوئے متعلقہ فارمیٹ میں کارکردگی کو پیش نظر رکھا جائیگا،ٹی ٹوئنٹی میں کارکردگی کی بنیاد پر کسی کو ٹیسٹ میں منتخب نہیں کیا جائیگا۔

The post شعیب ملک کیلیے ٹیم کے دروازے بدستوربند appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3crzrRh

2020 ، پاکستان میں میڈیا فریڈم کو دشوار چیلنجز کا سامنا رہا، CPNE رپورٹ

 کراچی:  کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (CPNE) نے ’’پاکستان میڈیا فریڈم رپورٹ برائے سال 2020‘‘ جاری کر دی ،رپورٹ کے مطابق سال 2020 کا عرصہ پاکستان کے صحافیوں، دیگر میڈیا کارکنوں اور میڈیا اداروں کے لیے انتہائی نا مساعد صورتحال پر مبنی تھا اور اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے نئے اور مختلف چیلنجز درپیش رہے۔

سال 2020 میں مختلف ریاستی اور حکومتی اقدامات اور کارروائیوں کے ذریعے متعدد صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو ان کی پیشہ ورانہ ذمے داریوں کی ادائیگی پر سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا اور کم از کم 10صحافیوں کو قتل کیا گیا جبکہ سال بھر میں صحافیوں پر مقدمات اور گرفتاریوں سمیت صحافیوں کو غائب کرنے کے واقعات، نا معلوم فون کالز کے ذریعے ہراساں کرنے کے واقعات، آن لائن ہراساں کرنے کے واقعات، ادبی مواد پر نشانہ بنائے جانے سمیت مختلف واقعات میں صحافیوں کے ساتھ ساتھ ان کے اہلخانہ بھی جسمانی حملوں اور اذیت کا شکار ہوئے۔

میڈیا ہاؤسز کی بندش اور سوشل میڈیا پر کنٹرول کرنے کے لیے بھی قانون سازی کے ذریعے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔ علاوہ ازیں وبائی مرض کورونا وائرس کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر میں دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح پاکستانی میڈیا پر بھی اس وباء کے براہ راست اثرات ہوئے جس کے سبب میڈیا کارکنوں کو بھی سنگین مالی و معاشی مسائل اور زندگی کے خطرات درپیش رہے۔ رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے باعث ملک بھر میں کم از کم 8 سے زائد صحافی اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تاہم متعدد صحافی COVID-19 کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے۔

میڈیا سے منسلک تمام افراد نے ملک میں COVID-19 کے بڑھتے ہوئے واقعات سے نمٹنے کے لیے سخت جدوجہد کی۔ چونکہ میڈیا کارکنوں اور صحافیوں کا فرائض انجام دینے کے لیے صف اول میں رہنا لازمی تھا لہٰذا انھیں اکثر اوقات رپورٹنگ اور نیوز کوریج کی خاطر کورونا کے شکار افراد سے رابطہ کرنا پڑا اور ان کے علاج پر مامور افراد سے بھی رابطے میں آنا پڑا چنانچہ کورونا کی کوریج کے دوران صحافیوںاور کیمرہ مین و دیگر افراد بھی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے اس وبا کا شکار ہوئے جن میں 8 صحافی اس مہلک وبا کے خلاف جنگ لڑتے لڑتے زندگی کی بازی بھی ہار گئے۔

میڈیا کارکنوں و صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض کی بجا آوری میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ دیگر مزید چیلنجز کا سامنا بھی رہا مثلاً وبائی صورتحال کی کس طرح رپورٹنگ کی جائے، خبروں کی تصدیق بھی ایک پیچیدہ عمل تھا کیونکہ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر کئی جعلی خبروں کا انبار موجود تھا۔

اعداد و شمار کی درستگی بھی ایک اہم مسئلہ تھا۔ علاوہ ازیں کورونا وائرس سے بچاؤ کی خاطر لاک ڈاؤن کے سبب معاشی مسائل کا بھی میڈیا کارکنوں اور میڈیا اداروں کو سامنا کرنا پڑا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2020 میں مختلف ریاستی اور حکومتی اقدامات اور کارروائیوں کے ذریعے متعدد صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو ان کی پیشہ ورانہ ذمے داریوں کی ادائیگی پر سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا۔ مختلف واقعات میں صرف صحافی ہی نہیں بلکہ ان کے اہلخانہ بھی جسمانی حملوں اور اذیت کا شکار ہوئے۔

رپورٹس کے مطابق صحافتی ذمے داریوں کی ادائیگی کے دوران ساجد حسین، ذوالفقار مندرانی، شاہینہ شاہین، قیص جاوید، جاوید اللہ خان، انور جان کھیتران، عابد حسین عابدی، نور حسن لنجوانی، ملک نظام تانی اور عزیز میمن سمیت کم از کم 10 صحافیوں قتل کیا گیا جبکہ متعدد صحافیوں کو اغوا، تشدد اور دھمکی آمیز فون اور آن لائن پیغامات موصول ہوئے جونہ صرف غیر ریاستی عناصر بلکہ ریاستی اداروں کی جانب سے بھی براہ راست جسمانی طور پر ہراساں اور حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ حکومتی عہدیداروں اور دیگر سرکاری محکموں نے صحافیوں کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے۔

(CPNE) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں صحافیوں کو ماورائے عدالت اور انتہائی سفاکی سے قتل کیا جاتا ہے اور ان کے قاتلوں کو غیر اعلانیہ استثنیٰ بھی مل جاتا ہے۔ صحافیوں اور میڈیا ورکروں کے کسی بھی ایک قاتل کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا ہے۔ ملک میں ایسی فضا رہی جیسے صحافیوں اور میڈیا کارکنوں پر حملے کرنے والوں کو سزا سے استثنیٰ حاصل ہو۔ ملک کا قانونی نظام صحافیوں کے دفاع و انصاف فراہم کرنے میں بے سود ثابت ہو رہا ہے جو کہ ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ صحافی مطیع اللہ جان کو اسلام آباد سے دن دہاڑے اغوا کیا گیا۔ صحافی علی عمران سید جو جیوز نیوز سے وابستہ ہیں 23 اکتوبر کی شام ضلع مشرقی کراچی سے لاپتہ ہوگئے۔

صحافی احمد نورانی کو ایک رٹائرڈ فوجی افسر اور اس کے رشتہ داروں کے کاروبار کے بارے میں تحقیقاتی رپورٹ شائع کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ صحافی تراب شاہ آفریدی کو دھمکی آمیز کال کرنے والے کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی لیکن وسائل کی کمی کی وجہ بتا کر مقامی پولیس نے تحقیقات روک دی۔ سینئر صحافی محمد حنیف اور سہیل وڑائچ کی کتابیں لاہور اور کراچی میں حکام کی جانب سے ضبط کی گئیں۔

پاکستان رینجرز کے اہلکاروں نے کراچی پریس کلب کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے 27 جولائی 2020 کو چھاپہ مارا۔ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما جہانگیر ترین نے اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ اور وسیم بادامی پر ہتک عزت کا مقدمہ کرتے ہوئے دونوں صحافیوں کو ایک ایک ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوایا، ان کا مؤقف تھا کہ دونوں اینکرز نے اپنے پروگراموں میں جھوٹا الزام عائد کیا ہے کہ ملک میں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ذمے داروں میں شوگر مافیا سمیت جہانگیر ترین بھی اجتماعی طور پر شامل ہیں۔

سال 2020 میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے متعدد مواقعوں پر ٹی وی چینلز کو نوٹسز جاری کر کے اور غیر ضروری طور پر قانون سازی کے ذریعے میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں میڈیا کمیونٹی میں شدید تشویش اور سراسیمگی کی صورتحال پیدا ہوئی۔ پیمرا کی جانب سے ٹی وی چینلز کو آخری نمبروں پر منتقل کر دیا گیا اور 20 ستمبر کو ہونے والی پی ڈی ایم ریلی/ جلسے کے دوران نشریات کو روک دیا گیا۔

بعدازاں پیمرا نے مفرور ملزمان کی تقاریر، مختلف سیاسی رہنماؤں کے انٹرویوز اور عوامی خطابات کی نشریات کو غیر قانونی قرار دے کر مکمل طور پر پابندی عائد کر دی۔ ایک اور واقعے میں خواتین کے عالمی دن کی رپورٹنگ کے  حوالے سے پیمرا نے تمام الیکٹرانک میڈیا ہاؤسز کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ 8مارچ کو ہونے والی عورت مارچ کی کوریج کے دوران نعرے، پلے کارڈ اور تقاریر نشر نہ کیے جائیں۔ 25 جون کو پیمرا نےCOVID-19 کی کوریج اور رپورٹ کے حوالے سے بھی تمام الیکٹرانک میڈیا ہاؤسز کو ہدایت نامہ جاری کیا۔

پیمرا نے تمام نیوز چینلز کو لاہور موٹر وے عصمت دری کے معاملے پر کوریج کرنے سے بھی روک دیا۔روایتی میڈیا کو قابو کرنے کے ساتھ ساتھ ویب ٹی وی اور اوور دی ٹاپ (او ٹی ٹی) مواد کی ترسیل اور تشہیر کے مختلف قواعد و ضوابط کے ذریعے نئے میڈیا (سوشل میڈیا) کو بھی کنٹرول کرنے کے لیے کوششیں کی گئیں جسے (CPNE) سمیت 18 سے زائد تنظیموں نے غیر ضروری قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور اسے غیر آئینی اور متعصبانہ اقدام قرار دیا۔ ان اقدامات کی وجہ سے ملک میں موجود سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان چھوڑنے کے ارادے کا اظہار کیا کیونکہ اس سے آن لائن میڈیا پر قدغنوں سے آزادی اظہار رائے کی صورتحال سنگین ہو گئی۔

بعدازاں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے سوشل میڈیا قوانین پر نظرثانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی۔ 18 نومبر کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے سوشل میڈیا کے ’’غیر قانونی آن لائن مواد کو ختم کرنے اور مسدود کرنے (ضابطے، نگانی اور حفاظتی اقدامات) کے قواعد 2020‘‘ کے عنوان سے قانون تشکیل دیا جس کے خلاف 18دسمبر کو پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے) نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تاہم اس قانون کے نفاذ کے بعد حکومت کو ڈیجیٹل مواد پر پابندی جاری رکھنے کا قانونی اختیار مل گیا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ’’غیر اخلاقی مواد‘‘کے خلاف شکایات پر ’’ٹک ٹاک‘‘ کو ملک بھر میں ممنوع قرار دے کر پابندی عائد کر دی۔ حکام کے اس فیصلے پر صارفین نے بھرپور مخالفت اور زبردست احتجاج کیا جس پر انتظامیہ کی جانب سے یقین دہانی کے بعد پی ٹی اے کو تفریحی ایپ ’’ٹک ٹاک‘‘ کو ایک انتباہ کے ساتھ کھولنا پڑا۔(CPNE) کی میڈیا رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ میڈیا کی آزادی، آزادی اظہار رائے، معلومات تک رسائی کے حق، میڈیا بحران اور دیگر امور کے بارے میں بات کرتے وقت صحافیوں اور میڈیا ملازمین کو درپیش مالی مسائل اور دیگر نا انصافیوں کو نظرانداز کردیا جاتا ہے حالانکہ میڈیا کی آزادی اور صحافتی فرائض کی بجا آوری کے لیے ان مسائل کی نشاندہی اور اسے کو حل کرنا انتہائی اہم حیثیت کا حامل ہے۔

میڈیا اداروں کو درپیش مالی اور مختلف مشکلات و مسائل سے بھی پہلو تہی کی جاتی ہے۔میڈیا کا معاشی بحران نیا نہیں یہ وبائی مرض کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے قبل بھی موجود تھا لیکن COVID-19کی صورتحال کی وجہ سے یہ پہلے سے کہیں زیادہ سنگین ہوچکا ہے۔ میڈیا ہاؤسز یا ان کے مختلف اسٹیشنوں کی راتوں رات بندش کی وجہ سے ہزاروں صحافی اور میڈیا کارکن بے روزگار ہو گئے۔ بلوچی زبان میں پروگرام نشر کرنے والے واحد نجی ٹی وی چینل ‘وش‘ کو بندش کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے سیکڑوں میڈیا ملازمین اور صحافی بے روزگار ہو گئے۔

صحافیوں کی اکثریت تنخواہوں میں ناقابل برداشت کٹوتی اور تاخیر پر مجبور ہو گئے ہیں۔میڈیا اداروں کے مسائل میں محصولات میں کمی، سرکاری اشتہارات کی غیر منصفانہ تقسیم اور بعض علاقوں میں چند اخبارات کی ترسیل پر غیر قانونی پابندی جیسے اقدامات آزاد رائے عامہ کو روکنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ پچھلے سال کے دوران متعدد اخباروں کو اپنا کاروبار بند کرنا پڑا۔ وفاقی وزارت اطلاعات نے 6 ہزار سے زیادہ اشاعتوں کو ڈمی اخبارات قرار دینے کے بعد ان کی رجسٹریشن معطل کر دی، اسی کے ساتھ ہی وفاقی وزارت اطلاعات اور پریس رجسٹرار نے ان تمام پرنٹنگ پریس کو جہاں اخبارات چھپ رہے تھے انھیں رجسٹریشن کی کارروائی مکمل کرنے کے لیے 15 اپریل تک مہلت دی بعدازاں 6 جون کو پریس رجسٹرار کے حکم پر غیر رجسٹرڈ اشاعتوں، پرنٹنگ پریسوں اور خبر رساں اداروں کو بند کر دیا گیا۔اگست 2020 میں پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن (پی بی اے) نے ریڈیو پاکستان کے 320 ملازمین کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ملازمت سے فارغ کر دیا۔

بعدازاں 21 اکتوبر 2020 کو مزید 749 کنٹریکٹ ملازمین کی خدمات کو کسی پیشگی اطلاع کے بغیر ختم کر دیا ہے۔ میڈیا کارکن تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے سبب معاشی دباؤ برداشت نہ کر سکے اور زندگی کی بازی ہار گئے، ان میں کیپٹل ٹی وی سے وابستہ ایک کیمرہ مین فیاض علی تھا جو بغیر تنخواہ کے نوکری سے نکالے جانے پر شدید صدمہ کے باعث حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گیا، فیاض علی 10ماہ سے بغیر تنخواہ کام کر رہا تھا، جبکہ دوسرا بول نیوز کراچی ہیڈ آفس میں بطور ایسوسی ایٹ پروڈیوسر کام کرنے والا نوجوان معاذ اختر تھا جس نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور گھریلو مسائل سے تنگ آکر 5 نومبر 2020کو خودکشی کر لی۔

The post 2020 ، پاکستان میں میڈیا فریڈم کو دشوار چیلنجز کا سامنا رہا، CPNE رپورٹ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3r6GV04

خیبرپختوخوا اپنے ہرشہری کو یونیورسل ہیلتھ کوریج دینے والا پہلا صوبہ ہے، وزیراعظم

 اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ خیبرپختوخوا اپنے ہر شہری کو یونیورسل ہیلتھ کوریج دینے والا پہلا صوبہ ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے خیبرپختوخوا حکومت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختوخوا اپنے ہر شہری کو یونیورسل ہیلتھ کوریج دینے والا پہلا صوبہ ہے، خیبرپختوخوا کے چار کروڑ شہریوں کو صحت کی مفت سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختوخوا کا ہر خاندان ملک بھر کے 400 سے زائد سرکاری و نجی اسپتالوں میں سالانہ دس لاکھ تک مفت علاج کروا سکیں گے۔

The post خیبرپختوخوا اپنے ہرشہری کو یونیورسل ہیلتھ کوریج دینے والا پہلا صوبہ ہے، وزیراعظم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2YytQQQ

ملک میں مزید 1615 افراد کورونا وبا کا شکار

 اسلام آباد: ملک میں 24 گھنٹوں میں 1615 افراد میں کورونا کی تصدیق ہوگئی جب کہ 26 افراد جان کی بازی ہارگئے۔

این سی اوسی کی جانب سے جاری اعداد وشمارکے مطابق ملک میں 24 گھنٹوں کے دوران 1615 افراد میں کورونا وبا کی تصدیق ہوئی جب کہ 26 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

ملک میں کورونا کے فعال کیسزکی تعداد 33,493 ہے، تاحال کورونا کے 5 لاکھ 1 ہزار252 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جب کہ 5 لاکھ 46،428 مصدقہ کورونا کیس سامنے آ چکے ہیں۔

این سی او سی کے مطابق 24 گھنٹوں میں ملک بھرمیں 34،785 کورونا ٹیسٹ کئے گئے، ملک بھرمیں کورونا سے تاحال 11,683 اموات ہو چکی ہیں۔

The post ملک میں مزید 1615 افراد کورونا وبا کا شکار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3ag4s80

2020 ، پاکستان میں میڈیا فریڈم کو دشوار چیلنجز کا سامنا رہا، CPNE رپورٹ

 کراچی:  کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (CPNE) نے ’’پاکستان میڈیا فریڈم رپورٹ برائے سال 2020‘‘ جاری کر دی ،رپورٹ کے مطابق سال 2020 کا عرصہ پاکستان کے صحافیوں، دیگر میڈیا کارکنوں اور میڈیا اداروں کے لیے انتہائی نا مساعد صورتحال پر مبنی تھا اور اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے نئے اور مختلف چیلنجز درپیش رہے۔

سال 2020 میں مختلف ریاستی اور حکومتی اقدامات اور کارروائیوں کے ذریعے متعدد صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو ان کی پیشہ ورانہ ذمے داریوں کی ادائیگی پر سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا اور کم از کم 10صحافیوں کو قتل کیا گیا جبکہ سال بھر میں صحافیوں پر مقدمات اور گرفتاریوں سمیت صحافیوں کو غائب کرنے کے واقعات، نا معلوم فون کالز کے ذریعے ہراساں کرنے کے واقعات، آن لائن ہراساں کرنے کے واقعات، ادبی مواد پر نشانہ بنائے جانے سمیت مختلف واقعات میں صحافیوں کے ساتھ ساتھ ان کے اہلخانہ بھی جسمانی حملوں اور اذیت کا شکار ہوئے۔

میڈیا ہاؤسز کی بندش اور سوشل میڈیا پر کنٹرول کرنے کے لیے بھی قانون سازی کے ذریعے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔ علاوہ ازیں وبائی مرض کورونا وائرس کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر میں دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح پاکستانی میڈیا پر بھی اس وباء کے براہ راست اثرات ہوئے جس کے سبب میڈیا کارکنوں کو بھی سنگین مالی و معاشی مسائل اور زندگی کے خطرات درپیش رہے۔ رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے باعث ملک بھر میں کم از کم 8 سے زائد صحافی اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تاہم متعدد صحافی COVID-19 کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے۔

میڈیا سے منسلک تمام افراد نے ملک میں COVID-19 کے بڑھتے ہوئے واقعات سے نمٹنے کے لیے سخت جدوجہد کی۔ چونکہ میڈیا کارکنوں اور صحافیوں کا فرائض انجام دینے کے لیے صف اول میں رہنا لازمی تھا لہٰذا انھیں اکثر اوقات رپورٹنگ اور نیوز کوریج کی خاطر کورونا کے شکار افراد سے رابطہ کرنا پڑا اور ان کے علاج پر مامور افراد سے بھی رابطے میں آنا پڑا چنانچہ کورونا کی کوریج کے دوران صحافیوںاور کیمرہ مین و دیگر افراد بھی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے اس وبا کا شکار ہوئے جن میں 8 صحافی اس مہلک وبا کے خلاف جنگ لڑتے لڑتے زندگی کی بازی بھی ہار گئے۔

میڈیا کارکنوں و صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض کی بجا آوری میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ دیگر مزید چیلنجز کا سامنا بھی رہا مثلاً وبائی صورتحال کی کس طرح رپورٹنگ کی جائے، خبروں کی تصدیق بھی ایک پیچیدہ عمل تھا کیونکہ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر کئی جعلی خبروں کا انبار موجود تھا۔

اعداد و شمار کی درستگی بھی ایک اہم مسئلہ تھا۔ علاوہ ازیں کورونا وائرس سے بچاؤ کی خاطر لاک ڈاؤن کے سبب معاشی مسائل کا بھی میڈیا کارکنوں اور میڈیا اداروں کو سامنا کرنا پڑا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2020 میں مختلف ریاستی اور حکومتی اقدامات اور کارروائیوں کے ذریعے متعدد صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو ان کی پیشہ ورانہ ذمے داریوں کی ادائیگی پر سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا۔ مختلف واقعات میں صرف صحافی ہی نہیں بلکہ ان کے اہلخانہ بھی جسمانی حملوں اور اذیت کا شکار ہوئے۔

رپورٹس کے مطابق صحافتی ذمے داریوں کی ادائیگی کے دوران ساجد حسین، ذوالفقار مندرانی، شاہینہ شاہین، قیص جاوید، جاوید اللہ خان، انور جان کھیتران، عابد حسین عابدی، نور حسن لنجوانی، ملک نظام تانی اور عزیز میمن سمیت کم از کم 10 صحافیوں قتل کیا گیا جبکہ متعدد صحافیوں کو اغوا، تشدد اور دھمکی آمیز فون اور آن لائن پیغامات موصول ہوئے جونہ صرف غیر ریاستی عناصر بلکہ ریاستی اداروں کی جانب سے بھی براہ راست جسمانی طور پر ہراساں اور حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ حکومتی عہدیداروں اور دیگر سرکاری محکموں نے صحافیوں کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے۔

(CPNE) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں صحافیوں کو ماورائے عدالت اور انتہائی سفاکی سے قتل کیا جاتا ہے اور ان کے قاتلوں کو غیر اعلانیہ استثنیٰ بھی مل جاتا ہے۔ صحافیوں اور میڈیا ورکروں کے کسی بھی ایک قاتل کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا ہے۔ ملک میں ایسی فضا رہی جیسے صحافیوں اور میڈیا کارکنوں پر حملے کرنے والوں کو سزا سے استثنیٰ حاصل ہو۔ ملک کا قانونی نظام صحافیوں کے دفاع و انصاف فراہم کرنے میں بے سود ثابت ہو رہا ہے جو کہ ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ صحافی مطیع اللہ جان کو اسلام آباد سے دن دہاڑے اغوا کیا گیا۔ صحافی علی عمران سید جو جیوز نیوز سے وابستہ ہیں 23 اکتوبر کی شام ضلع مشرقی کراچی سے لاپتہ ہوگئے۔

صحافی احمد نورانی کو ایک رٹائرڈ فوجی افسر اور اس کے رشتہ داروں کے کاروبار کے بارے میں تحقیقاتی رپورٹ شائع کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ صحافی تراب شاہ آفریدی کو دھمکی آمیز کال کرنے والے کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی لیکن وسائل کی کمی کی وجہ بتا کر مقامی پولیس نے تحقیقات روک دی۔ سینئر صحافی محمد حنیف اور سہیل وڑائچ کی کتابیں لاہور اور کراچی میں حکام کی جانب سے ضبط کی گئیں۔

پاکستان رینجرز کے اہلکاروں نے کراچی پریس کلب کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے 27 جولائی 2020 کو چھاپہ مارا۔ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما جہانگیر ترین نے اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ اور وسیم بادامی پر ہتک عزت کا مقدمہ کرتے ہوئے دونوں صحافیوں کو ایک ایک ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوایا، ان کا مؤقف تھا کہ دونوں اینکرز نے اپنے پروگراموں میں جھوٹا الزام عائد کیا ہے کہ ملک میں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ذمے داروں میں شوگر مافیا سمیت جہانگیر ترین بھی اجتماعی طور پر شامل ہیں۔

سال 2020 میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے متعدد مواقعوں پر ٹی وی چینلز کو نوٹسز جاری کر کے اور غیر ضروری طور پر قانون سازی کے ذریعے میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں میڈیا کمیونٹی میں شدید تشویش اور سراسیمگی کی صورتحال پیدا ہوئی۔ پیمرا کی جانب سے ٹی وی چینلز کو آخری نمبروں پر منتقل کر دیا گیا اور 20 ستمبر کو ہونے والی پی ڈی ایم ریلی/ جلسے کے دوران نشریات کو روک دیا گیا۔

بعدازاں پیمرا نے مفرور ملزمان کی تقاریر، مختلف سیاسی رہنماؤں کے انٹرویوز اور عوامی خطابات کی نشریات کو غیر قانونی قرار دے کر مکمل طور پر پابندی عائد کر دی۔ ایک اور واقعے میں خواتین کے عالمی دن کی رپورٹنگ کے  حوالے سے پیمرا نے تمام الیکٹرانک میڈیا ہاؤسز کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ 8مارچ کو ہونے والی عورت مارچ کی کوریج کے دوران نعرے، پلے کارڈ اور تقاریر نشر نہ کیے جائیں۔ 25 جون کو پیمرا نےCOVID-19 کی کوریج اور رپورٹ کے حوالے سے بھی تمام الیکٹرانک میڈیا ہاؤسز کو ہدایت نامہ جاری کیا۔

پیمرا نے تمام نیوز چینلز کو لاہور موٹر وے عصمت دری کے معاملے پر کوریج کرنے سے بھی روک دیا۔روایتی میڈیا کو قابو کرنے کے ساتھ ساتھ ویب ٹی وی اور اوور دی ٹاپ (او ٹی ٹی) مواد کی ترسیل اور تشہیر کے مختلف قواعد و ضوابط کے ذریعے نئے میڈیا (سوشل میڈیا) کو بھی کنٹرول کرنے کے لیے کوششیں کی گئیں جسے (CPNE) سمیت 18 سے زائد تنظیموں نے غیر ضروری قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور اسے غیر آئینی اور متعصبانہ اقدام قرار دیا۔ ان اقدامات کی وجہ سے ملک میں موجود سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان چھوڑنے کے ارادے کا اظہار کیا کیونکہ اس سے آن لائن میڈیا پر قدغنوں سے آزادی اظہار رائے کی صورتحال سنگین ہو گئی۔

بعدازاں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے سوشل میڈیا قوانین پر نظرثانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی۔ 18 نومبر کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے سوشل میڈیا کے ’’غیر قانونی آن لائن مواد کو ختم کرنے اور مسدود کرنے (ضابطے، نگانی اور حفاظتی اقدامات) کے قواعد 2020‘‘ کے عنوان سے قانون تشکیل دیا جس کے خلاف 18دسمبر کو پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے) نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تاہم اس قانون کے نفاذ کے بعد حکومت کو ڈیجیٹل مواد پر پابندی جاری رکھنے کا قانونی اختیار مل گیا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ’’غیر اخلاقی مواد‘‘کے خلاف شکایات پر ’’ٹک ٹاک‘‘ کو ملک بھر میں ممنوع قرار دے کر پابندی عائد کر دی۔ حکام کے اس فیصلے پر صارفین نے بھرپور مخالفت اور زبردست احتجاج کیا جس پر انتظامیہ کی جانب سے یقین دہانی کے بعد پی ٹی اے کو تفریحی ایپ ’’ٹک ٹاک‘‘ کو ایک انتباہ کے ساتھ کھولنا پڑا۔(CPNE) کی میڈیا رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ میڈیا کی آزادی، آزادی اظہار رائے، معلومات تک رسائی کے حق، میڈیا بحران اور دیگر امور کے بارے میں بات کرتے وقت صحافیوں اور میڈیا ملازمین کو درپیش مالی مسائل اور دیگر نا انصافیوں کو نظرانداز کردیا جاتا ہے حالانکہ میڈیا کی آزادی اور صحافتی فرائض کی بجا آوری کے لیے ان مسائل کی نشاندہی اور اسے کو حل کرنا انتہائی اہم حیثیت کا حامل ہے۔

میڈیا اداروں کو درپیش مالی اور مختلف مشکلات و مسائل سے بھی پہلو تہی کی جاتی ہے۔میڈیا کا معاشی بحران نیا نہیں یہ وبائی مرض کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے قبل بھی موجود تھا لیکن COVID-19کی صورتحال کی وجہ سے یہ پہلے سے کہیں زیادہ سنگین ہوچکا ہے۔ میڈیا ہاؤسز یا ان کے مختلف اسٹیشنوں کی راتوں رات بندش کی وجہ سے ہزاروں صحافی اور میڈیا کارکن بے روزگار ہو گئے۔ بلوچی زبان میں پروگرام نشر کرنے والے واحد نجی ٹی وی چینل ‘وش‘ کو بندش کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے سیکڑوں میڈیا ملازمین اور صحافی بے روزگار ہو گئے۔

صحافیوں کی اکثریت تنخواہوں میں ناقابل برداشت کٹوتی اور تاخیر پر مجبور ہو گئے ہیں۔میڈیا اداروں کے مسائل میں محصولات میں کمی، سرکاری اشتہارات کی غیر منصفانہ تقسیم اور بعض علاقوں میں چند اخبارات کی ترسیل پر غیر قانونی پابندی جیسے اقدامات آزاد رائے عامہ کو روکنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ پچھلے سال کے دوران متعدد اخباروں کو اپنا کاروبار بند کرنا پڑا۔ وفاقی وزارت اطلاعات نے 6 ہزار سے زیادہ اشاعتوں کو ڈمی اخبارات قرار دینے کے بعد ان کی رجسٹریشن معطل کر دی، اسی کے ساتھ ہی وفاقی وزارت اطلاعات اور پریس رجسٹرار نے ان تمام پرنٹنگ پریس کو جہاں اخبارات چھپ رہے تھے انھیں رجسٹریشن کی کارروائی مکمل کرنے کے لیے 15 اپریل تک مہلت دی بعدازاں 6 جون کو پریس رجسٹرار کے حکم پر غیر رجسٹرڈ اشاعتوں، پرنٹنگ پریسوں اور خبر رساں اداروں کو بند کر دیا گیا۔اگست 2020 میں پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن (پی بی اے) نے ریڈیو پاکستان کے 320 ملازمین کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ملازمت سے فارغ کر دیا۔

بعدازاں 21 اکتوبر 2020 کو مزید 749 کنٹریکٹ ملازمین کی خدمات کو کسی پیشگی اطلاع کے بغیر ختم کر دیا ہے۔ میڈیا کارکن تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے سبب معاشی دباؤ برداشت نہ کر سکے اور زندگی کی بازی ہار گئے، ان میں کیپٹل ٹی وی سے وابستہ ایک کیمرہ مین فیاض علی تھا جو بغیر تنخواہ کے نوکری سے نکالے جانے پر شدید صدمہ کے باعث حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گیا، فیاض علی 10ماہ سے بغیر تنخواہ کام کر رہا تھا، جبکہ دوسرا بول نیوز کراچی ہیڈ آفس میں بطور ایسوسی ایٹ پروڈیوسر کام کرنے والا نوجوان معاذ اختر تھا جس نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور گھریلو مسائل سے تنگ آکر 5 نومبر 2020کو خودکشی کر لی۔

The post 2020 ، پاکستان میں میڈیا فریڈم کو دشوار چیلنجز کا سامنا رہا، CPNE رپورٹ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3r6GV04

ویکسی نیشن کا آغاز اور درپیش چیلنجز

این سی او سی کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق کورونا وائرس سے ایک ہی دن میں مزید 49 افراد جان کی بازی ہارگئے، مجموعی اموات کی تعداد 11 ہزار637 ہو گئی ہے، دوسری طرف نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینیٹر (این سی او سی) کے سربراہ اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے اعلان کیا ہے کہ کوویکس کی جانب سے ایک کروڑ 70لاکھ ویکسین ڈوزفراہمی کا خط موصول ہواہے، کورونا ویکسین فروری سے ملنا شروع ہو رہی ہے جب کہ حکومتی سطح پر فرنٹ لائن ہیلتھ ورکروں کو پہلی بار کووڈ19 سے بچاؤ کی حفاظتی ویکسین لگانے کے تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔

یہ جان لیوا وباء دنیا کے بائیس لاکھ افراد کی جان لے چکی ہے، وبا کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے مسیحاؤں نے اب ویکسین ایجاد کرلی ہے اور اس کو لگانے کے عمل کا بتدریج آغاز ہوچکا ہے ۔ پاکستانیوں کے لیے بھی یہ انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ دوست ملک چین سے درآمد ویکسین لگانے کے عمل کا آغاز ہونے جارہا ہے۔

بلاشبہ پاکستان میں انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے،لیکن دوسری طرف پاکستانی قوم جس طرح بے خوف وخطر سڑکوں، بازاروں ، پارکوں اور شاپنگ سینٹر میں جم غفیر کی صورت میں نظرآرہی ہے ،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس وبا سرے سے موجود نہیں ہے، قوم کا یہ طرزعمل اختیار کرنا انتہائی خطرناک ہے۔ کورونا کی دوسری لہر کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے اور ایک ہم ہیں کہ احتیاطی تدابیر کونظرانداز کررہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قوم سوشل میڈیا سے پھیلائی جانے والی سازشی تھیوری اور افواہوں پریقین کرچکی ہے۔

یہ طرز تغافل ہمارے لیے آنے والے دنوں میں مشکلات کے پہاڑ کھڑے کر دے گا۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ ایسے سخت اقدامات دوبارہ اٹھائے ، جس میں بے احتیاطی اور لاپرواہی برتنے والے افراد کو قرار واقعی سزا دی جاسکے ، ہم خطرے کی تمام حدود پار کرچکے ہیں ، احتیاط کے دامن چھوڑنے کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے، خدانخواستہ متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھ گئی تو انسانی اموات پر قابوپانا مشکل ہوجائے گا، چند منٹ نکال کر ہر شخص اپنی غفلت ، لاپرواہی اور غیرسنجیدہ طرزعمل کے بارے میں سوچے تو اصلاح کی امید پیدا ہوسکتی ہے۔

عوام کی حکومت سے یہ خوش گمانی درست معلوم ہوتی ہے کہ ویکسی نیشن کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا ۔ کوروناوائرس نے پوری دنیا کا نظام ہی بدل دیا ہے، ترقی یافتہ ، ترقی پذیر اور غریب ممالک ایک ہی صف میںکھڑے نظر آتے ہیں ، اس وبا کے پھیلاؤ سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع جاری رہنا اور ایک برس بعد ویکسین کی تیاری نے ایک سوال کو جنم ضرور دیا ہے کہ انسان اپنی بربادی کا سامان خود کررہا ہے۔

دنیا کے تمام ممالک نے شعبہ صحت کو بری طرح نظراندازکیا ہے ، صرف دولت کی ہوس اور ہتھیاروں کی تیاری کے جنون میں مبتلا انسان نے اقدار اور سب سے بڑھ کر جان کی حرمت اور اہمیت کو بھلادیا ہے۔بنی نوع انسان کو بہت سے معاشی اور اقتصادی مسائل کا سامنا  آنے والے کئی برسوں تک کرنا پڑے گا، کیا دنیا کی وہ تمام رونقیں ویکسی نیشن کے بعد لوٹ آئیں گی جو اس وبا کے آغاز سے پہلے تھیں ، اس سوال کا جواب قبل از وقت ہے، ماہرین کے مطابق دنیا کو اپنی اصل حالت میں لوٹنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔

پاکستانی حکومت کے ایک محتاط ترین اندازے کے مطابق دنیا بھر سے 90 ہزار پاکستانیوں کی ملازمتیں ختم ہوئی ہیں، یہ وہ پاکستانی ہیں،جو ملکی معیشت کو چلانے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں ، ان کا بے روزگارہوجانا ، ملکی معیشت کے لیے کسی بھی طور نیک شگون قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اس وقت سب سے بڑا چیلنج کورونا ہی ہے جس کے باعث بیرون ممالک میں تعمیرات، کنسٹرکشن انڈسٹری، ہوٹلنگ اور اس سے وابستہ دیگر کاروبار مکمل طور فعال نہیں ہو پا رہے ہیں، جس سے نہ صرف میزبان ممالک مسائل کا شکار ہیں بلکہ کمپنیوں کو روزگار کے مواقعے فراہم کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے،انھی چیلنجز میں ایک بڑا چیلنج ان پاکستانیوں کا بھی ہے جو کورونا سے پہلے پاکستان آئے تھے اور ان کے اقاموں کی میعاد ختم ہوگئی تھی، یہ کورونا وائرس کی ملکی معیشت پر ایک ایسی کاری ضرب ہے، جس کے زخم بھرنے میں بہت وقت لگے گا۔

ملکی اخبارات میں یہ خبریں بھی شایع ہوئی ہیں کہ ٹریول انڈسٹری کے50 فیصد دفاتر ڈیفالٹرز ہوکر بند ہوگئے ہیں اور اس انڈسٹری سے30 ہزار ملازمین کو بھی فارغ کر کے بے روزگار کر دیا گیا ہے۔ نئے سال کے آغاز پر ٹریول اینڈ ٹورز انڈسٹری نے فوری بیل آؤٹ پیکیج، آسان شرائط پر قرضے دینے کا مطالبہ کر دیا ہے اور ایس ای سی پی کو انشورنس کمپنیوں کو ٹریول ایجنسیوں کی بینک گارنٹی جاری کرنے کی فوری اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

شعبہ سیاحت اگرچہ اکثر و بیشتر دہشت گردی کے واقعات، قدرتی آفات اور ملکی سیاست کی رسہ کشی و دیگر کئی وجوہات کے باعث مختلف صورتوں میں متاثر رہا ہے مگر گزشتہ تین سے چار برسوں سے ملک میں امن و امان کی بہتر ہوتی صورتحال، قدرتی آفات میں کمی، سوشل میڈیا پر عوام میں آگاہی اور حکومتی توجہ سے سیاحت کی صنعت میں بہت بہتری آئی ہے اور یہ شعبہ بھی ملکی جی ڈی پی میں 80کروڑ روپے سے زائد کا حصہ ڈالنے کے قابل ہوگیا تھا اور توقع کی جارہی تھی کہ 2025تک یہ رقم ایک کھرب تک پہنچ جائے گی، لیکن اب کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب یہ ہدف حاصل ہونا ناممکن نظر آتا ہے۔

پاکستان میں مئی سے اگست تک کے سیاحتی سیزن کے لیے غیر ملکی سیاحوں کی بکنگ و ریزرویشن کا عمل مارچ تک مکمل ہوجاتا ہے مگر اس بار کورونا ایمرجنسی کی وجہ سے اب تک غیر ملکی سیاحوں کی بکنگ نہ ہونے کے برابر ہے اور جو پہلے ہی ہوچکی تھی، اب وہ بھی منسوخ ہورہی ہیں۔ پاکستانی پہاڑ سر کرنے والے کوہ پیماؤں اور سیر سپاٹے کے لیے آنے والے زیادہ تر لوگوں کا تعلق اٹلی، جرمنی، اسپین، پولینڈ، جاپان اور کوریا سے ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے مذکورہ ممالک ہی کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

پاکستان میں سیاحت کی ڈوبتی کشتی کو بچانے کے لیے حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر کچھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسے ہوٹل اور ٹرانسپورٹ کے لیے بینکوں سے قرضہ لینے والے افراد کو بینکوں کی طرف سے تعاون اور سود میں کمی، لوکل ٹور آپریٹرز کے لیے خصوصی پیکیج اس شعبے سے وابستہ پورٹرز، گائیڈ، ڈرائیور اور ہوٹل میں کام کرنے والے افراد کے لیے خصوصی اقدامات یہ وہ کام ہے جنھیں ہر حال میں کرنا ہوگا، ورنہ یاد رکھیے کہ ہم نے بڑی مشکل سے ابھی سیاحتی شعبے کو پیروں پر کھڑا ہی کیا تھا اور اگر آج لوگ نقصان کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے تو دوبارہ اس صنعت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے ایک بار پھر بہت زیادہ محنت کرنی ہوگی۔

ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں70فیصد سے زائد ملازمت کے مواقعے اور 3فیصد شرح نمو فراہم کرنے والا زرعی شعبہ قدرت کا عطیہ ‘ جس کی پاکستان میں سرکاری سطح پر خاطرخواہ قدردانی دکھائی نہیں دیتی ہے ۔کورونا اور زرعی شعبے کی مشکلات کسی ایک صوبے کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے طول و عرض میں زرعی معیشت و معاشرت دباؤ غیریقینی دور سے گزر رہی ہے اور اِس پورے ماحول میں قومی و صوبائی سطح پر زرعی حکمت عملیوں کو مربوط و منظم کرنے کی ضرورت ہے، بالخصوص چھوٹے کاشتکار توجہ کے مستحق ہیں۔

جن کی اکثریت اِجارے (ٹھیکے) پر اَراضی حاصل کرتی ہے اور جاگیردار اُن کے خسارے میں شریک (حصہ دار) نہیں ہوتے۔ وہ زرعی شعبہ جو بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور سبزی و پھل کی غیرمستحکم قیمتوں (منڈیوں) کے باعث دباؤ سے گزر رہے ہیں‘ انھیں سہارا دینے کے لیے یہی مناسب وقت ہے جس کے ذریعے نہ صرف زرعی شعبے کو ڈوبنے سے بچایا جا سکتا ہے بلکہ اِس سے غذائی خودکفالت کی صورتحال میں بہتری لائی جا سکتی ہے اور مہنگائی کی بڑھتی شرح پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

وطن عزیز کے لاکھوں نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود روزگار کے مواقعے نہ ہونے کی وجہ سے بے روزگاری سے نبرد آزما ہیں جس کی وجہ سے مایوسی نے ان کو آن گھیرا ہے ۔ نوجوان اپنے والدین اور اپنی محنت سے حاصل کردہ تعلیم کو عملی میدان میں استعمال کرنے سے قاصر ہیں، جس سے نوجوانوں کی صلاحیتوں پر زنگ لگ رہا ہے۔ چین کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے،چین نے صنعتی میدان میں گزشتہ چند دہائیوں میں اپنی پالیسیوں کی بنیاد پر بیش بہا ترقی کر کے ایک مثال قائم کی ہے اور ایک نئی اقتصادی سپر پاور کے طور پر سامنے آکر ہر ملک کی اشد ضرورت بن گیا ہے۔

ہمیں اپنے معاشی اہداف حاصل کرنے کے لیے چین کے ماڈل کو سامنے رکھنا پڑے گا، اب یہ حکومتی معاشی ماہرین کی صلاحیتوں کے امتحان کا وقت ہے کہ وہ آنیوالے دنوں میں کوروناوائرس کے سبب ملکی معیشت کو ہونیوالے نقصانات کا ازالہ کس طرح کرپاتے ہیں اور ایسی کونسی پالیسیاں مرتب کرتے ہیں جو قوم کے تن مردہ میں روح پھونکنے کا سبب بن سکیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت مزید صنعتوں کے قیام اور صنعتی سہولیات کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرے اور جنگی بنیادوں پر کام کرے جس سے ہمارا ملک دنیا کے ترقی پزیر ممالک کے ہم پلہ کھڑا ہوسکے۔

The post ویکسی نیشن کا آغاز اور درپیش چیلنجز appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3totF98

ملک کو درپیش تمام چیلنجز کا حل گرینڈ ڈائیلاگ

ملک کو اس وقت اندرونی و بیرونی محاذ پر بے شمار مسائل کا سامنا ہے جن میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے ہیں اور اس محاذ آرائی میں چیلنجز سے نمٹنا خاصا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

ان حالات کو دیکھتے ہوئے ’’ملکی سیاسی صورتحال اور قومی ڈائیلاگ کی اہمیت‘‘ کے موضوع پر ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں ماہرین امور خارجہ اور سیاسی تجزیہ نگاروں کو مدعو کیا گیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

ڈاکٹر اعجاز بٹ

(ماہر امور خارجہ و سیاسی تجزیہ نگار)

حکومت کا بنیادی مقصد عوام کو ریلیف دینا اور ان کی زندگی آسان بنانا ہوتا ہے اور اسی کیلئے ہی حکومتیں ہر ممکن اقدامات کرتی ہیں مگر جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان حالیہ لڑائی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق عوام یا ملکی مسائل سے نہیں ہے بلکہ یہ اشرافیہ کے درمیان اقتدار کی لڑائی ہے۔

بدقسمتی سے موجودہ حکومت ڈیلور کرنے میں ناکام رہی ہے۔ گزشتہ ڈھائی برس میں کسی بھی شعبے میں بہتری آئی اور نہ ہی کوئی اصلاحات لائی گئی بلکہ جو بھی کام نظر آرہے ہیں اور جتنے منصوبے چل رہے ہیں وہ گزشتہ حکومت کے منصوبوں کا ہی تسلسل ہیں جنہیں ردوبدل کے ساتھ آگے بڑھایا جارہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان پولیس میں اصلاحات اور مقامی حکومتوں کے قیام کی بات کرتے ہیں۔ مقامی حکومتوں کا نظام تحریک انصاف کی ترجیحات میں شامل تھا مگر تاحال اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی بلکہ وزیراعظم آج مثالی نظام قائم کرنے کی بات کرتے ہیں سوال یہ ہے کہ جس نظام کے دعوے کیے جارہے ہیں وہ کب قائم ہوگا؟اپوزیشن نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کیلئے ’پی ڈی ایم‘ کی صورت میں اتحاد قائم کیا مگر یہ کمزور اور تقسیم شدہ اتحاد ہے اور ایسا کمزور اتحاد ماضی میں کبھی بھی نہیں رہا ۔ اپوزیشن کا سولین بالادستی کانعرہ جاندار ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ کمزور اتحاد کس طرح اپنے مقاصد حاصل کرے گا؟اس اتحاد کی عوام میں مقبولیت کم ہے اور اس میں شامل جماعتوں کا ماضی بھی سب کے سامنے ہے۔

کمزور ترین اپوزیشن کے باوجود موجودہ حکومت پرفارم نہیں کر سکی۔ حکومتی ناقص کارکردگی کی وجہ سے عوام میں عمران خان اور موجودہ حکومت کی مقبولیت میں کمی آرہی ہے، جو لوگ ان کے نعرے لگاتے تھے وہ متنفر ہورہے ہیں لہٰذا انہیں سمجھنا چاہیے کہ عام آدمی کا مسئلہ اپوزیشن نہیں بلکہ مہنگائی اور روزمرہ کی سہولیات ہیں جو اسے نہیں مل رہی۔لاہور جیسا بڑا شہر کوڑا دان بن کر رہ گیا ہے اور گزشتہ 2 ماہ سے ہر طرف کچڑے کے ڈھیر لگے ہیں جو افسوسناک ہے۔

اس کے علاوہ مہنگائی و دیگر مشکلات الگ ہیں۔ عمران خان میگا پراجیکٹس کے خلاف اور انسانی ترقی پر خرچ کرنے کے حامی تھے مگر انسانی ترقی، تعلیم اور صحت پر کچھ خرچ نہیں ہورہا بلکہ تعلیم اور صحت کے  شعبوں کا برا حال ہے اور تاحال کوئی بھی ایسا قدم نہیں اٹھایا جاسکا جو تبدیلی کی طرف جاتا ہو۔ یکساں نصاب کے حوالے سے معاملات عجیب ہیں، یہ اس طرح کا نصاب نہیں ہے جس طرح ایران، بھارت و دیگر ممالک میں ہے۔ حکومت اس بات کو بارہا دہراتی ہے فوج اس کے ساتھ ہے اور تمام ادارے ایک پیج پر ہیں، اسی لیے وہ سمجھ رہی ہے کہ اسے کچھ نہیں ہوگا مگر حالات سدا ایک جیسے نہیں رہتے، اگر حکومت پرفارم نہ کر سکی اور موجودہ نظام فیل ہوگیا تو پھر عوام خود اپنا راستہ نکالیں گے، انہیں جہاں سے ریلیف ملے گا وہ اس طرف چلے جائیں گے ۔

کرپٹ مافیا کے خلاف کارروائی اور احتساب تحریک انصاف کے کی ترجیحات میں شامل تھا مگر اب احتساب کے عمل پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ کتنی ریکوری ہوئی اور اس سے ملک اور عوام کو کیا فائدہ ہوا؟ اپوزیشن کا فوکس ’این آر او‘ ہے، اسی لیے اس نے بیشتر معاملات میں حکومت کو سپورٹ کیا مگر جب کچھ نہ ملا تو اب وہ حکومت کے سامنے کھڑی ہوگئی ہے۔ ملک پہلے ہی بحران کا شکار ہے اور مزید کسی بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس محاذ آرائی سے صرف ملک و قوم کا نقصان ہوگا لہٰذاموجودہ صورتحال کا واحد حل ’گرینڈ ڈائیلاگ‘ ہے مگر صرف سیاسی جماعتوں کے درمیان ڈائیلاگ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، اس میںفوج اور عدلیہ کو بھی شامل کرنا ہوگا، ان کے بغیر ڈائیلاگ بے نتیجہ ہوگا۔

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

(سیاسی تجزیہ نگار )

بدقسمتی سے ملکی معیشت خراب اور گورننس بدحالی کا شکار ہے، حکومت کہہ رہی ہے کہ اس سے گورننس اور ناکامیوں کا نہ پوچھا جائے بلکہ ریلیف نہ ملنے کی وجہ تو ماضی کی حکومتوں کی لوٹ مار ہے۔ اسی بیانیے کے تحت اپوزیشن کو دبایا گیا ہے جبکہ اپوزیشن اس سے باہر نکلنا چاہتی ہے اور عوام کو موجودہ حکومت کی ناکامیاں دکھا کر اسے ایکسپوز کرنا چاہتی ہے۔

اس لڑائی میں ملک سیاسی حوالے سے بند گلی میں جا رہا ہے جو نقصاندہ ہوگا۔ حکومت کی غلطیوں سے لوگوں کا معیار زندگی تیزی سے گر رہا ہے، لوگ غریب ہورہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ امیر اور غریب میں فرق بڑھ رہا ہے جو تشویشناک ہے کیونکہ اس طرح کے حالات کسی بھی معاشرے کیلئے خطرناک ہوتے ہیں۔ اندرونی مسائل کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر پاکستان اس وقت بڑے چیلنجز سے دوچار ہے، خارجہ پالیسی کے مسائل سنگین ہوتے جارہے ہیں۔

سعودی عرب و گلف ممالک سے تعلقات، سی پیک منصوبہ اور نئے امریکی صدر کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاک امریکا تعلقات ، پاک چین تعلقات و دیگر اہم معاملات بڑے چیلنجز ہیں جن سے نمٹنے کیلئے اندورنی استحکام بہت ضروری ہے۔ حکومت، اپوزیشن اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو اس حوالے سے سنجیدگی سے سوچنا ہوگا اور اندرونی و بیرونی تمام چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ملک میں ’گرینڈ ڈائیلاگ‘ کرنا ہوگاجس میں طے کیا جائے کہ دستوری اقتدار ہوگا،سب کچھ آئین کے مطابق ہوگا اور سب اپنی اپنی حدود میں کام کریں گے۔

اس کے علاوہ آئندہ 25 سے 30 برس کی منصوبہ بندی بھی جائے تاکہ عوام اور آنے والے حکومتوں کو بھی معلوم ہو کہ کس سمت میں جانا ہے۔ اس کے بغیر ملک میں ہیجانی کیفیت ہی رہے گی۔ تحریک انصاف نے عوام سے بڑے بڑے وعدے کیے مگر اقتدار میں آنے کے بعد صرف احتساب کا وعدہ یاد رہا، احتساب کے نام ملک میں جو سنسنی پھیلائی جارہی ہے اور ہر روز ایک نیا سکینڈل سامنے لایا جاتا ہے جس کا حاصل کچھ نہیں ہوتا، سب کو سمجھنا چاہیے کہ اگر عوام کو ریلیف دینے کیلئے کچھ نہ کیا گیا تو عوام احتساب سمیت تمام معاملات سے لاتعلق ہوجائیں گے۔

اس وقت ملکی مسائل سنگین ہیں جس کی وجہ سے کسی بھی جماعت کیلئے وفاق میں آنا خودکشی کے مترادف ہوگا لہٰذا اپوزیشن بھی مرکز میں نہیں آنا چاہتی بلکہ پنجاب کی حکومت کیلئے کوششیں کی جائیں گی۔ فیٹف کی پابندیوں کا تعلق ٹیررفرانسنگ سے نہیں بلکہ چین سے تعلقات سے ہے، پاکستان بلیک لسٹ ہوگا اور نہ ہی وائٹ بلکہ ہمیں دبانے کیلئے اسی طرح معاملات چلائے جائیں گے۔ حکومت کو معاملات چلانے، مسائل کے حل کیلئے قانون سازی اور ترامیم کرنے کیلئے اپوزیشن کی ضرورت ہے بصورت دیگر یہ مسائل حکومت کیلئے مشکلات کا باعث بنیں گے۔ موجودہ مشکل حالات میں وزیراعظم بہتر سیاسی حکمت عملی سے کام لیں اور سب کو ڈائیلاگ کی دعوت دیکر ملک کو مسائل سے نکالیں، انہیں سمجھنا چاہیے کہ اندرونی سیاسی استحکام سے ہی تمام مسائل کا حل ممکن ہے۔

سلمان عابد

(دانشور )

حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔ دونوں کے درمیان اعتماد کا بدترین فقدان ہے، اپوزیشن ان کے انتخاب پر سوال اٹھا رہی ہے جبکہ وزیراعظم مفاہمت کے حامی نہیں ہیں اور اس لڑائی میں دونوں فریقین نے ہی نقصان اٹھایا ہے۔ اس وقت ملک کواندرونی ، معاشی اور علاقائی سیاسی استحکام کی صورت میں 3 بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔ ان چیلنجز میں اندرونی استحکام سب سے ضروری ہے اور اس سے ہی معاشی اور علاقائی سیاسی استحکام ممکن ہے مگر بدقسمتی سے اس وقت ملک اندورونی طور پر سیاسی حوالے سے کمزور ہے۔

پاکستان میں شروع سے ہی سول ملٹری تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے مگر موجودہ دور حکومت میں ان کے مابین تعلقات بہترین ہیں۔اس بار اپوزیشن براہ راست اسٹبلشمنٹ اور اداروں کے سربراہان کا نام لے رہی ہے اور یہ پہلی بار ہے کہ سیاسی لڑائی میں اداروں کی ساکھ بھی سٹیک پر لگ گئی ہے۔

یہ لڑائی جمہوریت ، قانون اور عوام کی حکمرانی نہیں بلکہ طاقت کے مراکز کی لڑائی ہے، جس میں عوام کو ریلیف دینا شامل نہیںبلکہ اس لڑائی سے ملک اورعوام کا نقصان ہورہا ہے۔ اپوزیشن غیر متعلقہ ہوچکی تھی مگر ’پی ڈی ایم‘ کی صورت میں اس کی اہمیت بڑھ گئی مگر اس نے عمران خان کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کو نشانہ بنایا، سمجھ نہیں آرہا کہ پی ڈی ایم کیا چاہتی ہے؟ اپوزیشن ضمنی انتخابات اور سینیٹ میں حصہ لے رہی ہے، اب تحریک عدم اعتماد کی باتیں کی جارہی ہیں، آصف زرداری وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں، اس وقت انہوں نے اچھا کارڈ کھیلا ہے، انہیں معلوم ہے کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوگی تاہم یہ معاملات کو لٹکانے کا حربہ ہے۔

پی ڈی ایم کا لانگ مارچ بھی تاحال نہیں ہوسکا، اب مارچ میں مارچ کی باتیں ہورہی ہیں مگر سینیٹ الیکشن کی وجہ سے لانگ مارچ نہیں ہوگا، اپریل میں ماہ رمضان ہے لہٰذا عید کے بعد ہی کچھ ہوسکتا ہے۔ پی ڈی ایم تاحال ہر حربے میں ناکام ہوئی ہے۔پہلے اس نے فوج اور حکومت کے درمیان معاملات خراب کرنے کی کوشش کی جو نہیں کر سکی۔ پھر اداروں کے سربراہان کا نام لے کر اداروں میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی مگر اس میں بھی ناکامی ہوئی اور اب  اب وہ حکومت کی کارکردگی متاثر کرنے اور اسے ناکام حکومت ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ لاہور جلسے کے بعد پی ڈی ایم اور مریم نواز کو جھٹکا لگا، الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے کیا جانے والا احتجاج بھی متاثر کن نہیں تھا جس سے تحریک میں کمی آئی ہے۔

اب حکومت ’پی ڈی ایم‘ سے خائف ہونے کے بجائے ان کے اندرونی فاصلوں اور مسائل کا مزہ لے رہی ہے تاہم حکومت کو جو اصل چیلنج درپیش ہے وہ گورننس کا مسئلہ ہے، حکومت اس حوالے سے ناکام ہوئی ہے، عام آدمی کو ریلیف نہیں ملا بلکہ اس کی مشکلات میں اضافہ ہو اہے۔ خارجی محاذ پر پاکستان نے کامیابی حاصل کی ہے اور بھارت کو پیچھے دھکیلا ہے تاہم اس میں کامیابی صرف حکومت کی نہیں متعلقہ اداروں کی بھی ہے۔ جمہوریت میں ڈائیلاگ کا راستہ بند ہوجائے تو انتشار پیدا ہوتا ہے لہٰذا موجودہ سیاسی کشیدگی کے خاتمے کیلئے ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز کومل کر ’گرینڈ ڈائیلاگ‘ کرنا ہوگا، مل کر معیشت، گورننس، انتخابی اصلاحات، علاقائی سیاست و دیگر معاملات طے کیے جائیں ، اس حوالے سے وزیراعظم کو پارلیمنٹ میں جاکر سب کو ڈائیلاگ کی دعوت دینا ہوگی۔

The post ملک کو درپیش تمام چیلنجز کا حل گرینڈ ڈائیلاگ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3oDrMBL

کروڑوں روپے کی اراضی ہتھیانے کا منصوبہ ناکام، 2 افسر برطرف

 کراچی:  کراچی میں کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی اراضی کو کوڑیوں کے مول ٹھکانے لگانے کا منصوبہ ناکام ہوگیا۔

قیمتی اراضی کی خورد بورد میں ملوث افسران کے گرد گھیرا تنگ ہوگیا، صوبائی وزیر بلدیات نے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی کروڑوں روپے مالیت کی 30 ایکڑ اراضی نجی کوآپریٹو سوسائٹی کو الاٹ کیے جانے کا سختی سے نوٹس لے کر ڈی جی ایم ڈی اے عمران عطاسومرو کو فوری تحقیقات کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق گورننگ باڈی سے منظوری لیے بغیرنیشنل ہائی وے پر واقع اراضی کینجھر جھیل نامی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کو الاٹ کرنے کی تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی تھیں، ایم ڈی اے افسران کا نیشنل ہائی وے پر کروڑوں روپے کی 30 ایکڑ قیمتی اراضی نجی کوآپریٹو سوسائٹی کے نام پر ٹھکانے لگانے کا کھیل ناکام ہوگیا ذرائع ابلاغ میں کی گئی نشاندہی پر صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے اس کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے عمران عطا سومرو کو فوری تحقیقات اور کارروائی کی ہدایت کردی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی وزیر بلدیات کی ہدایت پر کارروائی کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل عمران عطا سومرو نے ایم ڈی اے کے ڈائریکٹر اسٹیٹ محمد عرفان اور ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ شاہد چوہان کو فوری طور پر عہدوں سے برطرف کرکے تحقیقات کی ہدایت کردی ہے جبکہ مذکورہ افسران کے ساتھ ساتھ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ناصر خان کیخلاف بھی کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ 30 ایکڑ اراضی کی مبینہ خلاف ضابطہ الاٹمنٹ کیلیے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ناصر خان نے اہم کردار ادا کیا تھا اور محکمہ جاتی نوٹ شیٹ میں اراضی کی الاٹمنٹ کی منظوری بھی دی تھی۔

واضح رہے کہ نیشنل ہائی وے پر نیو ملیر ہاؤسنگ اسکیم ون کے سیکٹر 12 میں موجود مذکورہ اراضی ایم ڈی اے نے مستقل کی منصوبہ بندی (فیوچر پلاننگ) کیلیے مختص کر رکھی ہے جسے ٹھکانے لگانے کا کام افسران نے برق رفتاری کے ساتھ کرتے ہوئے آخری مراحل تک پہنچا دیا تھا اور سائٹ پلان تک تیار کرلیا گیا تھا۔

تاہم ذرائع ابلاغ کی نشاندہی کے بعد ایم ڈی اے افسران کا قیمتی اراضی ٹھکانے لگانے کا منصوبہ بری طرح ناکام ہو گیا، ذرائع ابلاغ میں نشاندہی کے بعد ایم ڈی اے افسران اور سسٹم مافیا کا تیار کھیل خاک میں مل گیا، ایڈیشنل ڈی جی ناصر خان سمیت دیگر افسران کیخلاف بھی کارروائی کا امکان ہے۔

The post کروڑوں روپے کی اراضی ہتھیانے کا منصوبہ ناکام، 2 افسر برطرف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3owUvIx

حکومت ہمارے اوراپنے دورکی قیمتوں کا موازنہ کرلے، اسحاق ڈار

 اسلام آباد:  سابق وزیر خزانہ نے حکومت کی توجہ ملک میں جاری مہنگائی کی جانب مبذول کراتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ حکومت ہمارے اور اب اپنے دور میں اشیائے ضرویہ کی قیمتوں کا موازنہ کر لے تو اسے سب سمجھ آجائیگی کہ قیمتیں کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے دورمیں چینی ،گھی،دالوں، سرخ مرچ اوردیگرخوردنی اشیاء کی قیمتیں موجودہ دورسے انتہائی کم تھیں۔اس وقت چینی کی قیمت55 روپے فی کلو تھی جو اب 100 روپے ہوچکی ہے۔اسی طرح گھی 160 روپے کلوملتا تھا جس کی قیمت بڑھ کر260 روپے کلوہوچکی ہے۔آٹے کا 20 کلوکا تھیلا جو 620 روپے میں ملتا تھا وہ 1400 روپے میں مل رہا ہے۔سرخ مرچ کی قیمت 630 روپے کلو تھی جو 1000 روپے سے اوپرجاچکی ہے۔

The post حکومت ہمارے اوراپنے دورکی قیمتوں کا موازنہ کرلے، اسحاق ڈار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/39CLvxj

شمالی وزیرستان، فورسزکی گاڑی پربم حملہ، 2 اہلکار شدید زخمی

میرانشاہ:  شمالی وزیرستان کی رزمک سب ڈویژن میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر آئی ڈی بم سے حملہ کیا گیا جس میں 2  اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔

علاقہ ڈم ڈیل کے مقام پر دن کے وقت گشت پر مامور فورسز کی گاڑی نشانہ بنایا گیا، زخمی اہلکاروں صوبیدار یوسف اور سپاہی حضرت علی کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے میرانشاہ اسپتال منتقل کر دیا گیا، واقعہ کے فورسز نے علاقے میں سرچ اپریشن شروع کردیا۔

The post شمالی وزیرستان، فورسزکی گاڑی پربم حملہ، 2 اہلکار شدید زخمی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2NP0aNf

سیالکوٹ، خواجہ آصف کی ہاؤسنگ سوسائٹی گرانے کا کام شروع

سیالکوٹ:  ضلعی انتظامیہ نے لیگی رہنما خواجہ آصف کی ہاؤسنگ سوسائٹی گرانے کا کام شروع کردیا گیا، کینٹ کالونی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پارکنگ اور قبرستان کیلیے مختص جگہ پر مبینہ طور پر قبضہ کیا گیا تھا۔

درجنوں سرکاری گاڑیوں اور ہیوی مشینری نے آپریشن شروع کر دیا۔ ضلعی انتظامیہ کے افسران، ٹی ایم اے، ریسکیو 1122، گیپکو، سوئی گیس اور پولیس کی بھاری نفری بھی موقع پر موجود ہے۔ سوسائٹی کو پولیس نے سیل کر دیا، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے درج کرائے گئے استغاثے کے مطابق کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی پر قبضہ کیا گیا تھا جس پر چند ماہ قبل اینٹی کرپشن نے مقدمہ بھی درج کیا۔

اسکے علاوہ سیالکوٹ کے شہری آفتاب کی جگہ پر قبضہ کرنے پر سوسائٹی کے مالکان پر اینٹی کرپشن میں مقدمہ درج ہے اور مالکان اس میں قصوروار بھی ثابت ہو چکے ہیں۔ خواجہ آصف ہاؤسنگ سوسائٹی کے متعلق نیب پیشیاں بھی بھگت چکے ہیں۔

The post سیالکوٹ، خواجہ آصف کی ہاؤسنگ سوسائٹی گرانے کا کام شروع appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3apAoqJ

کراچی دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست سے باہر

 کراچی:  مسلسل کئی روز بعد اتوارکو دن بھر سمندری ہوائیں بحال رہنے کے سبب کراچی دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست سے باہر رہا۔

کراچی کی فضاؤں میں آلودہ ذرات کی مقدار انتہائی کم 69 پریٹیکولیٹ میٹرز رہی،آلودہ شہروں کی فہرست میں لاہور 240 پرٹیکیولیٹ میٹرز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا،اور دن بھر لاہور آلودہ شہروں کی فہرست میں دنیا بھر میں دوسرے نمبر پررہا،ماہرین کے مطابق شہر کی فضاؤں میں آلودہ ذرات کی مقدار سمندری ہوائیں چلنے کی وجہ سے کم ہورہی ہے۔

سمندر کی جنوب مغربی ہوائیں فضاؤں میں موجود آلودہ اور زہریلے ذرات کو فلٹر کرتی ہے،اتوار کی صبح ڈھاکہ (بنگلہ دیش) پہلے نمبر پر رہا جبکہ بھارتی شہر دہلی،کلکتہ اور ممبئی بالترتیب تیسرے،چوتھے اور چھٹے نمبر پر رہے۔

The post کراچی دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست سے باہر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3pDhtyP

ویکسی نیشن کا آغاز اور درپیش چیلنجز

این سی او سی کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق کورونا وائرس سے ایک ہی دن میں مزید 49 افراد جان کی بازی ہارگئے، مجموعی اموات کی تعداد 11 ہزار637 ہو گئی ہے، دوسری طرف نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینیٹر (این سی او سی) کے سربراہ اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے اعلان کیا ہے کہ کوویکس کی جانب سے ایک کروڑ 70لاکھ ویکسین ڈوزفراہمی کا خط موصول ہواہے، کورونا ویکسین فروری سے ملنا شروع ہو رہی ہے جب کہ حکومتی سطح پر فرنٹ لائن ہیلتھ ورکروں کو پہلی بار کووڈ19 سے بچاؤ کی حفاظتی ویکسین لگانے کے تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔

یہ جان لیوا وباء دنیا کے بائیس لاکھ افراد کی جان لے چکی ہے، وبا کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے مسیحاؤں نے اب ویکسین ایجاد کرلی ہے اور اس کو لگانے کے عمل کا بتدریج آغاز ہوچکا ہے ۔ پاکستانیوں کے لیے بھی یہ انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ دوست ملک چین سے درآمد ویکسین لگانے کے عمل کا آغاز ہونے جارہا ہے۔

بلاشبہ پاکستان میں انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے،لیکن دوسری طرف پاکستانی قوم جس طرح بے خوف وخطر سڑکوں، بازاروں ، پارکوں اور شاپنگ سینٹر میں جم غفیر کی صورت میں نظرآرہی ہے ،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس وبا سرے سے موجود نہیں ہے، قوم کا یہ طرزعمل اختیار کرنا انتہائی خطرناک ہے۔ کورونا کی دوسری لہر کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے اور ایک ہم ہیں کہ احتیاطی تدابیر کونظرانداز کررہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قوم سوشل میڈیا سے پھیلائی جانے والی سازشی تھیوری اور افواہوں پریقین کرچکی ہے۔

یہ طرز تغافل ہمارے لیے آنے والے دنوں میں مشکلات کے پہاڑ کھڑے کر دے گا۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ ایسے سخت اقدامات دوبارہ اٹھائے ، جس میں بے احتیاطی اور لاپرواہی برتنے والے افراد کو قرار واقعی سزا دی جاسکے ، ہم خطرے کی تمام حدود پار کرچکے ہیں ، احتیاط کے دامن چھوڑنے کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے، خدانخواستہ متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھ گئی تو انسانی اموات پر قابوپانا مشکل ہوجائے گا، چند منٹ نکال کر ہر شخص اپنی غفلت ، لاپرواہی اور غیرسنجیدہ طرزعمل کے بارے میں سوچے تو اصلاح کی امید پیدا ہوسکتی ہے۔

عوام کی حکومت سے یہ خوش گمانی درست معلوم ہوتی ہے کہ ویکسی نیشن کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا ۔ کوروناوائرس نے پوری دنیا کا نظام ہی بدل دیا ہے، ترقی یافتہ ، ترقی پذیر اور غریب ممالک ایک ہی صف میںکھڑے نظر آتے ہیں ، اس وبا کے پھیلاؤ سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع جاری رہنا اور ایک برس بعد ویکسین کی تیاری نے ایک سوال کو جنم ضرور دیا ہے کہ انسان اپنی بربادی کا سامان خود کررہا ہے۔

دنیا کے تمام ممالک نے شعبہ صحت کو بری طرح نظراندازکیا ہے ، صرف دولت کی ہوس اور ہتھیاروں کی تیاری کے جنون میں مبتلا انسان نے اقدار اور سب سے بڑھ کر جان کی حرمت اور اہمیت کو بھلادیا ہے۔بنی نوع انسان کو بہت سے معاشی اور اقتصادی مسائل کا سامنا  آنے والے کئی برسوں تک کرنا پڑے گا، کیا دنیا کی وہ تمام رونقیں ویکسی نیشن کے بعد لوٹ آئیں گی جو اس وبا کے آغاز سے پہلے تھیں ، اس سوال کا جواب قبل از وقت ہے، ماہرین کے مطابق دنیا کو اپنی اصل حالت میں لوٹنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔

پاکستانی حکومت کے ایک محتاط ترین اندازے کے مطابق دنیا بھر سے 90 ہزار پاکستانیوں کی ملازمتیں ختم ہوئی ہیں، یہ وہ پاکستانی ہیں،جو ملکی معیشت کو چلانے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں ، ان کا بے روزگارہوجانا ، ملکی معیشت کے لیے کسی بھی طور نیک شگون قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اس وقت سب سے بڑا چیلنج کورونا ہی ہے جس کے باعث بیرون ممالک میں تعمیرات، کنسٹرکشن انڈسٹری، ہوٹلنگ اور اس سے وابستہ دیگر کاروبار مکمل طور فعال نہیں ہو پا رہے ہیں، جس سے نہ صرف میزبان ممالک مسائل کا شکار ہیں بلکہ کمپنیوں کو روزگار کے مواقعے فراہم کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے،انھی چیلنجز میں ایک بڑا چیلنج ان پاکستانیوں کا بھی ہے جو کورونا سے پہلے پاکستان آئے تھے اور ان کے اقاموں کی میعاد ختم ہوگئی تھی، یہ کورونا وائرس کی ملکی معیشت پر ایک ایسی کاری ضرب ہے، جس کے زخم بھرنے میں بہت وقت لگے گا۔

ملکی اخبارات میں یہ خبریں بھی شایع ہوئی ہیں کہ ٹریول انڈسٹری کے50 فیصد دفاتر ڈیفالٹرز ہوکر بند ہوگئے ہیں اور اس انڈسٹری سے30 ہزار ملازمین کو بھی فارغ کر کے بے روزگار کر دیا گیا ہے۔ نئے سال کے آغاز پر ٹریول اینڈ ٹورز انڈسٹری نے فوری بیل آؤٹ پیکیج، آسان شرائط پر قرضے دینے کا مطالبہ کر دیا ہے اور ایس ای سی پی کو انشورنس کمپنیوں کو ٹریول ایجنسیوں کی بینک گارنٹی جاری کرنے کی فوری اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

شعبہ سیاحت اگرچہ اکثر و بیشتر دہشت گردی کے واقعات، قدرتی آفات اور ملکی سیاست کی رسہ کشی و دیگر کئی وجوہات کے باعث مختلف صورتوں میں متاثر رہا ہے مگر گزشتہ تین سے چار برسوں سے ملک میں امن و امان کی بہتر ہوتی صورتحال، قدرتی آفات میں کمی، سوشل میڈیا پر عوام میں آگاہی اور حکومتی توجہ سے سیاحت کی صنعت میں بہت بہتری آئی ہے اور یہ شعبہ بھی ملکی جی ڈی پی میں 80کروڑ روپے سے زائد کا حصہ ڈالنے کے قابل ہوگیا تھا اور توقع کی جارہی تھی کہ 2025تک یہ رقم ایک کھرب تک پہنچ جائے گی، لیکن اب کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب یہ ہدف حاصل ہونا ناممکن نظر آتا ہے۔

پاکستان میں مئی سے اگست تک کے سیاحتی سیزن کے لیے غیر ملکی سیاحوں کی بکنگ و ریزرویشن کا عمل مارچ تک مکمل ہوجاتا ہے مگر اس بار کورونا ایمرجنسی کی وجہ سے اب تک غیر ملکی سیاحوں کی بکنگ نہ ہونے کے برابر ہے اور جو پہلے ہی ہوچکی تھی، اب وہ بھی منسوخ ہورہی ہیں۔ پاکستانی پہاڑ سر کرنے والے کوہ پیماؤں اور سیر سپاٹے کے لیے آنے والے زیادہ تر لوگوں کا تعلق اٹلی، جرمنی، اسپین، پولینڈ، جاپان اور کوریا سے ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے مذکورہ ممالک ہی کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

پاکستان میں سیاحت کی ڈوبتی کشتی کو بچانے کے لیے حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر کچھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسے ہوٹل اور ٹرانسپورٹ کے لیے بینکوں سے قرضہ لینے والے افراد کو بینکوں کی طرف سے تعاون اور سود میں کمی، لوکل ٹور آپریٹرز کے لیے خصوصی پیکیج اس شعبے سے وابستہ پورٹرز، گائیڈ، ڈرائیور اور ہوٹل میں کام کرنے والے افراد کے لیے خصوصی اقدامات یہ وہ کام ہے جنھیں ہر حال میں کرنا ہوگا، ورنہ یاد رکھیے کہ ہم نے بڑی مشکل سے ابھی سیاحتی شعبے کو پیروں پر کھڑا ہی کیا تھا اور اگر آج لوگ نقصان کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے تو دوبارہ اس صنعت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے ایک بار پھر بہت زیادہ محنت کرنی ہوگی۔

ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں70فیصد سے زائد ملازمت کے مواقعے اور 3فیصد شرح نمو فراہم کرنے والا زرعی شعبہ قدرت کا عطیہ ‘ جس کی پاکستان میں سرکاری سطح پر خاطرخواہ قدردانی دکھائی نہیں دیتی ہے ۔کورونا اور زرعی شعبے کی مشکلات کسی ایک صوبے کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے طول و عرض میں زرعی معیشت و معاشرت دباؤ غیریقینی دور سے گزر رہی ہے اور اِس پورے ماحول میں قومی و صوبائی سطح پر زرعی حکمت عملیوں کو مربوط و منظم کرنے کی ضرورت ہے، بالخصوص چھوٹے کاشتکار توجہ کے مستحق ہیں۔

جن کی اکثریت اِجارے (ٹھیکے) پر اَراضی حاصل کرتی ہے اور جاگیردار اُن کے خسارے میں شریک (حصہ دار) نہیں ہوتے۔ وہ زرعی شعبہ جو بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور سبزی و پھل کی غیرمستحکم قیمتوں (منڈیوں) کے باعث دباؤ سے گزر رہے ہیں‘ انھیں سہارا دینے کے لیے یہی مناسب وقت ہے جس کے ذریعے نہ صرف زرعی شعبے کو ڈوبنے سے بچایا جا سکتا ہے بلکہ اِس سے غذائی خودکفالت کی صورتحال میں بہتری لائی جا سکتی ہے اور مہنگائی کی بڑھتی شرح پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

وطن عزیز کے لاکھوں نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود روزگار کے مواقعے نہ ہونے کی وجہ سے بے روزگاری سے نبرد آزما ہیں جس کی وجہ سے مایوسی نے ان کو آن گھیرا ہے ۔ نوجوان اپنے والدین اور اپنی محنت سے حاصل کردہ تعلیم کو عملی میدان میں استعمال کرنے سے قاصر ہیں، جس سے نوجوانوں کی صلاحیتوں پر زنگ لگ رہا ہے۔ چین کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے،چین نے صنعتی میدان میں گزشتہ چند دہائیوں میں اپنی پالیسیوں کی بنیاد پر بیش بہا ترقی کر کے ایک مثال قائم کی ہے اور ایک نئی اقتصادی سپر پاور کے طور پر سامنے آکر ہر ملک کی اشد ضرورت بن گیا ہے۔

ہمیں اپنے معاشی اہداف حاصل کرنے کے لیے چین کے ماڈل کو سامنے رکھنا پڑے گا، اب یہ حکومتی معاشی ماہرین کی صلاحیتوں کے امتحان کا وقت ہے کہ وہ آنیوالے دنوں میں کوروناوائرس کے سبب ملکی معیشت کو ہونیوالے نقصانات کا ازالہ کس طرح کرپاتے ہیں اور ایسی کونسی پالیسیاں مرتب کرتے ہیں جو قوم کے تن مردہ میں روح پھونکنے کا سبب بن سکیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت مزید صنعتوں کے قیام اور صنعتی سہولیات کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرے اور جنگی بنیادوں پر کام کرے جس سے ہمارا ملک دنیا کے ترقی پزیر ممالک کے ہم پلہ کھڑا ہوسکے۔

The post ویکسی نیشن کا آغاز اور درپیش چیلنجز appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3totF98

ایک وباء یہ بھی ہے

ہالی وڈ دنیا میں فلمیں بنانے کا حیرت انگیز شہر ہے۔ اس کی مٹی بھی سونے کی مانندہے۔فلم کے شعبے سے تعلق رکھنے والے امیرترین لوگ یہیں رہتے ہیں۔ اکثریت کے گھرBeverly Hills اوراس کے اطراف میں ہیں۔گھروں کی قیمت عام آدمی کی سوچ سے بھی اوپرہے۔حال ہی میں ایک گھرایک سوساٹھ ملین ڈالرکافروخت ہواہے۔

اس سے اندازہ ہوتاہے کہ امریکی فلم انڈسٹری میں کتنازیادہ پیسہ ہے۔ ہالی وڈمیں سالانہ چھ سے سات سوفلمیں بنتی ہیں اوردس سے پندرہ بلین ڈالرکامنافع حاصل کیاجاتاہے۔ مگرگزشتہ ایک دہائی سے یہ دولت ایک نئے فلمی شعبے کے مقابلے میں انتہائی کم نظرآتی ہے۔وہ ہے پورن انڈسٹری۔ Strange but Trueنامی ادارے نے ہولناک انکشافات کیے ہیں۔

صرف امریکا میں تیرہ ہزارپورن فلمیں سالانہ بنتی ہیں۔انکامجموعی منافع پندرہ بلین ڈالر ہے۔ امریکا میں کھیلوں کی دنیا میں محیرالعقول دولت ہے۔بیس بال  معروف اسپورٹس ہے۔اس کے کھلاڑی سونے اورہیروں میں تولے جاتے ہیں۔مگربیس بال لیگزکی مجموعی دولت پورن انڈسٹری سے بہت کم ہے۔ ایک سنجیدہ امریکی جریدے کے مطابق N.B.A,NFL کے تمام وسائل کوملابھی لیاجائے تب بھی یہ پورن انڈسٹری کی دولت سے بہت پیچھے ہے۔

ہمارے ملک میں اس پرکھل کرکبھی بات نہیں ہوتی تاہم قابل توجہ بلکہ قابل تشویش بات یہ کہ ہے ،دنیا بھرمیں پاکستان غیر اخلافی فلموں والی سائٹس سرچ کرنے کا بڑا مرکز ہے۔ یعنی  غیراخلاقی سائٹس کے شائقین میں ہم لوگ سرِفہرست ہیں۔ اس کے بعد سعودی عرب،مصر،ترکی اورمراکش ہیں۔مغربی دنیاکا بھی یہی حال ہے۔ برازیل،  اٹلی،جرمنی،فرانس اور چندد یگر ملک مغرب میں پورن دیکھنے والے سرِفہرست ملک ہیں۔ایک مغربی جریدے کے مطابق ایک غیر اخلاقی ویب سائٹ پرصرف ایک سال میں تیس بلین صارفین نے وزٹ کیاہے۔

مطلب یہ ہواکہ صرف ایک ویب سائٹ 64ملین افراد روزدیکھتے ہیں۔ایک گھنٹہ یعنی ساٹھ سیکنڈمیں چھبیس لاکھ افراد تفریح کے لیے اس سائٹ پرکلک کرتے ہیں۔ یہ صرف ایک سیکنڈ میں نوے جی بی ڈیٹااستعمال کرتی ہے۔ ایک سو بلین افراد سالانہ صرف ایک ویب سائٹ وزٹ کرتے ہیں۔ ایک جریدے نے تحقیق کرکے لکھاہے کہ دنیا میں ہر 39سیکنڈمیں ایک نئی پورن فلم بنائی جاتی ہے۔ایک سیکنڈکے دورانیے میں تین ہزارڈالر خرچ کیے جاتے ہیں۔انٹرنیٹ پرمجموعی طورپرجوبھی میٹریل موجودہے،اس میں سے بارہ فیصد پورن ہے۔یہاں تک کہا جارہا ہے کہ یہ شیطانی انڈسٹری چندبرسوں میں دگنی ہوکر دنیاکی سب سے بڑی صنعت کا درجہ حاصل کرلیگی۔ ہتھیاروں،میزائلوں اور ایٹم بم کی مجموعی قیمت سے بھی زیادہ ۔

کسی کواحساس تک نہیںکہ ہمارے ملک میں ابلیسیت انتہائی خاموشی اور سکون کے ساتھ بے راہ روی پھیلانے میں مصروف کار ہے عریاں فلمیں دیکھنے اور ان سے حظ اُٹھانے والوں کی کوئی مخصوص عمرنہیں۔ ہر عمر اورطبقے کے افرادشامل ہیں۔ ہماری نفسیاتی اُلجھنیں اورمنافقت زدہ سماج کے گھاؤ ہماری نوجوان نسل بلکہ عمررسیدہ افراد کو بھی ذہنی بیماریوں کے بلیک ہول کی  طرف دھکیل رہی ہیں۔

ایک ہی انسان میں کئی قسم کے انسان قیام پذیرہیں۔انھی میں نیکی کاعنصربھی ہے، دکھاؤے کابھی،درندگی کابھی، ایثار وقربانی کابھی ،بے حسی و لالچ اور بے رحمی کا بھی۔اب یہ حالات اور سماجی ماحول پرمنحصرہے کہ کوئی درندہ بن کر زینب جیسی معصوم بچی کی عصمت دری کرکے قاتل بن جاتاہے۔

کوئی اپنے کردارکی بلندی سے عبدالستارایدھی میں تبدیل ہوجاتاہے۔ایک عنصرپربات کرنی اہم ہے۔وہ ہے انٹرنیٹ اوراس کااستعمال۔جدیدترین ٹیکنالوجی ہرایک شخص کی دسترس میں ہے۔انٹرنیٹ کامنفی اور غلط استعمال معاشرے کوکس  قدر ہولناکی سے نقصان پہنچا رہاہے، شاید اس کااندازہ ہمارے پالیسی سازوں اور اہل علم کونہیں ہے۔جب تک ہم ہمت کرکے اس موذی بلاکوگردن سے پکڑکرفنا نہیں کردیںگے۔ہم اس کے پھیلائے ہوئے شرکامقابلہ نہیں کرسکتے۔

پورن سائٹس کوروکنے کی اولین ذمے داری تو حکومت کی ہے۔ متعلقہ ادارہ اپنی استطاعت اور وسائل کے مطابق کام کرنے کی پوری کوشش بھی کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب تک ساڑھے نولاکھ عریاں سائٹس کوبلاک کردیاگیاہے۔ مگر شیطانی سائٹس کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ کیایہ صرف حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ اس عفریت سے اکیلی لڑے ۔یااس میں عوام پر بھی کوئی ذمے داری عائدہوتی ہے۔طالبعلم کی دانست میں اس سماجی مسئلے کی بھرپورذمے داری ہمارے معاشرے، سماجی و خاندانی نظام  پرعائدہوتی ہے۔کسی بھی گھرکے اندرونی خانگی نظام پرغورکیجیے۔

رات گئے تک کمپیوٹر پر بچے اوربچیاں تعلیم حاصل کرنے میں مصروف نظرآتے ہیں۔ماں باپ دل سے بڑے خوش ہوتے ہیں کہ ماشاء اللہ ان کی اولادبڑی محنت کررہی ہے۔مگرکیا والدین پرفرض نہیں کہ وہ یہ پڑتال بھی کریں کہ ان کی اولاد واقعی پڑھ رہی ہے یا کسی شیطانی چکر میں آگئی ہے ۔ میرا خیال ہے کہ نوے فیصدوالدین یہ چیک کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے ۔کیا یہ حددرجہ غیرذمے دارانہ رویہ نہیں ہے۔کیاوالدین اس کوتاہی کی وجہ سے اپنی اولادکے اخلاقی بگاڑکے ذمے دارنہیں ہیں۔ صرف ہرگھرکے بزرگوں سے پوچھنا چاہتاہوں کہ کیا آپ نے اپنے گھرمیں یقینی بنایا ہے کہ اولاد کس رخ جارہی ہے؟ کم ازکم طالبعلم نے والدین کوا س طرف توجہ دیتے ہوئے بہت کم دیکھا ہے۔ انیکاچوہان نے اپنی ایک تحریر میں اس زاویہ سے بیش قیمت بحث کی ہے۔

پورن فلمیںدیکھنے کے رجحان کے کئی زیادہ اسباب ہیں۔ ٹیکنالوجی تک آسان رسائی ، بے روزگاری کیونکہ ملک میں باعزت روزگار ملنا تقریباً ناممکن ہوچکا ہے۔ادنیٰ یونیورسٹیاں اورمعمولی درجے کے کالج بے روزگارنوجوان تیار کرنے کی تیزرفتار مشین بن چکی ہیں۔ اب توصورتحال یہ ہے کہ گلی محلوں کی سطح کے ادارے ایم بی اے اوردیگر ڈگریاں ریوڑیوں کی طرح بانٹ رہے ہیں۔بلکہ بعض صورتوں میں فروخت بھی کررہے ہیں۔ بے روزگار نوجوانوں کی اکثریت شدیدنفسیاتی اُلجھنوں کاشکارہوجاتی ہے۔ ساتھ ساتھ تعلیم کے کم مواقعے جہالت و لاعلمی کوفروغ دیتے ہیں۔

گھروں میں چخ چخ اور بات بات پرلڑائی بھی منفی ذہنی رجحانات کو جنم دیتی ہے۔نتیجہ یہ کہ انسان غلط راہ کواصل سمجھ کر اس میں پر چل نکلتا ہے اور پھر بتدریج اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں سے واپسی تقریباً ناممکن ہوجاتی ہے ۔

مگر سوال یہ ہے کہ اس سنگین ترین مسئلے کاحل کیاہوناچاہیے؟ ٹیکنالوجی کو بند توخیراب نہیں کیا جاسکتا۔ان حالات میں والدین کی طرف ہی دیکھاجاسکتاہے۔ والدین اپنے بچوں اوربچیوں پر کڑی نظررکھیں۔ اگروالدین یہ نہ کرسکے تواولاد ایسے اخلاقی اور ذہنی خلفشارکاشکارہوجائے گی جس کا تصورکرنابھی ناممکن ہے۔ دنیا بھر سائنسدان ، سماجی ونفسیاتی ماہرین اورڈاکٹرز، پورنوگرافی کو موجودہ صدی کی سب سے بڑی وباء قراردے چکے ہیں۔ اس کامقابلہ ہم اپنے خانگی نظام کی طاقت سے کامیابی سے کرسکتے ہیں۔ ہمیں اس کا ہرحال میں مقابلہ کرنا ہے کیونکہ انٹرنیٹ تواب ختم نہیں کیا جا سکتا؟

The post ایک وباء یہ بھی ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3jgo3Jv

اخوت کا سفر

یہ سفر اختیار کیا ہے ڈاکٹر امجد ثاقب نے جنھوں نے گورنمنٹ کالج لاہور اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ 1985 میں سول سروس میں شامل ہوئے بعدازاں امریکا سے پبلک ایڈمنسٹریشن اور انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ میں ماسٹر کیا۔ اہم سرکاری عہدے سے استعفیٰ دیا اور اخوت کے سفر پر روانہ ہوگئے۔

ڈاکٹر امجد ثاقب انسانیت کا اتنا بڑا کام کر رہے ہیں کہ الفاظ اس کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ اخوت کا راستہ اختیارکرنے کا حوصلہ ہی ایک معجزہ ہے۔ یہ حوصلہ، یہ طاقت انھیں اللہ نے عطا کی۔ ڈاکٹر صاحب بڑا سرکاری عہدہ، آرام و آسائش چھوڑ چھاڑ کے کانٹوں بھری راہوں اور پتھریلے راستوں پر چل نکلے۔ معاشرے کے پسے ہوئے لوگ، ذلت و رسوائی میں زندگی بسر کرنے والے غربت زدگان، اندھیروں میں گھرے اجالوں کو ترستے اللہ کے بندے، ڈاکٹر امجد ثاقب ان کا سہارا بن گئے۔

اخوت دنیا بھر میں ’’قرض حسنہ‘‘ کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ ’’قرض حسنہ‘‘ کیا ہے؟ سادہ سے الفاظ میں یہ ایک قرض ہے جسے بلا کسی اضافی رقم کے آسان قسطوں میں واپس کرنا ہوتا ہے۔ یعنی جتنا قرض لیا اتنا ہی واپس ادا کرنا ہوتا ہے۔ اخوت کے تحت یہ قرض غریب لوگوں کو دیا جاتا ہے اور انھیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا حوصلہ دیا جاتا ہے۔

پرچون کی دکان، سبزی اور پھلوں کا ٹھیلہ، سلائی کڑھائی کا کام اور ایسے ہی دیگر چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے بلا کسی ضمانت کے مناسب رقم بطور قرض فراہم کی جاتی ہے۔ اس ’’قرض حسنہ‘‘ کی بدولت اب تک ہزاروں خاندان بحال ہوچکے ہیں اور اپنا قرض ادا کرکے اب اخوت کے لیے عطیات دینے والوں میں شامل ہو چکے ہیں۔

ڈاکٹر امجد ثاقب نے اعلیٰ سرکاری منصب اور دولت، حشمت کو چھوڑ کر مولو مصلی، دوست محمد موجی، محمد دین، اللہ دتا، خواجہ سرا، گوگی، نیلم، سپنا، بندیا، مٹھو، چاندنی، بوبی، مالا، شمع، طوائف سونو، شمیم، روزی، مشعل، نازو، یہ سب سماج نے جنھیں فاحشہ کہا رذیل کہا، کنجری کہا، ڈاکٹر صاحب نے ان ٹھکرائے ہوؤں سے تعلق جوڑ لیا۔ انھیں عزت دی، پیار دیا، ان کی مالی مدد کی۔

میں سوچ رہا ہوں کہ ڈاکٹر امجد ثاقب یقینا اللہ کا منتخب بندہ ہے اللہ نے انھیں ہمت، طاقت، حوصلے کے خمیر سے گوندھا ہے یہ اللہ کے مقرب بندے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے محض دس ہزار روپے سے قرض حسنہ کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں سیم زدہ دیواریں، پھر اللہ کے گھر (مسجد) کو اپنا دفتر بنا لیا۔ مجروح سلطان پوری کے شعر کے مصداق:

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اورکاررواں بنتا گیا

آج پوری دنیا میں اخوت کے ہزاروں ساتھی کاررواں میں شامل ہو کر ساتھ چل رہے ہیں۔ قصور شہر میں یونیورسٹی بن چکی ہے، کالم نگار جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں لکھا ’’اپنے حصے کی ایک اینٹ خرید لیں، دل والوں نے مل کر لاکھوں اینٹیں خرید لیں،کسی نے ایک کسی نے دس ،کسی نے پچاس کسی نے سو، کسی نے ہزار۔ اور پھر یونیورسٹی بن گئی جس میں غریب نادار بچے مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔کھانا، رہائش سب سہولتیں مفت مہیا۔

ہارون الرشید لکھتے ہیں ’’خزانہ ڈاکٹر صاحب کے پاس بھی بہت بڑا ہے جو اب تک پچاس لاکھ پاکستانیوں پہ لٹا چکے ہیں،کوئی ان سے پوچھے تو بتا دیتے ہیں کہ زر و جواہر کہاں سے انھوں نے پائے۔ یہ بھی کہ اس سیم و زر کو اللہ کے عام بندوں ہی میں کیوں وہ بانٹتے ہیں۔ وزیر اعظم شوکت عزیز کو بتایا گیا کہ یہ وہ صاحب ہیں جو بلا سود قرض دیتے ہیں انھوں نے پوچھا پھر آپ کماتے کہاں سے ہیں؟ ڈاکٹر صاحب کا یہ مزاج نہیں لیکن اس روز کھنکتی آواز میں انھوں نے کہا ’’قرض بلاسود ہی ہوتا ہے، سود والا توکاروبار ہوتا ہے۔‘‘

ایسے ہوتے ہیں اللہ کے چنیدہ بندے، جنھیں اللہ زمین پر بھیجتا ہے، اپنے بندوں کی مدد کرنے۔ میری خوش نصیبی ہے کہ میں نے عبدالستار ایدھی  کو دیکھا ان سے ہاتھ ملایا، گلے ملا۔ ان سے باتیں کیں، میری خوش نصیبی کہ میں نے ڈاکٹر ادیب رضوی  کو دیکھا، ان سے ہاتھ ملایا، گلے ملا، ان سے باتیں کیں۔ میری خوش نصیبی کہ میں نے ڈاکٹر رتھ فاؤ کو دیکھا، وہ خاتون جس نے کوڑھ زدہ لوگوں کے لیے خود کو وقف کردیا۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ ساٹھ کی دہائی کی ابتدا میں فرانس سے کراچی آئی اسے کلکتہ مدر ٹریسا کے پاس جانا تھا مگر جب اس نے کراچی میں کوڑھ زدہ انسانوں کو اذیت ناک زندگی گزارتے دیکھا تو 20 سالہ نیلی آنکھوں والی خوبصورت لڑکی نے کلکتہ جانے کا ارادہ بدل دیا۔

رتھ فاؤ نے کوڑھیوں کے ہاتھ اپنے کومل ہاتھوں میں لیے اور ان پر مرہم رکھنا شروع کردیا اور پھر ایک دن ایسا آیا کہ کوڑھ کا مرض پورے پاکستان سے 99 فیصد ختم ہو کر رہ گیا۔ میں خوش نصیب کہ میں نے ڈاکٹر رتھ فاؤ کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے، انھیں چوما اور آنکھوں سے لگایا۔ اداکار معین اختر میرا لنگوٹیا یار تھا، معین کا بڑا پن کہ آخری سانس تک اس نے مجھے نہیں بھلایا۔ انتقال سے بیس روز پہلے آرٹس کونسل میں ملا۔ معین اختر خاموشی سے کئی نادار خاندانوں کی مالی مدد کرتا تھا۔ لفافے تیار ہوتے تھے اور مستحق لوگ ہر ماہ آتے اور لفافہ لے جاتے۔

اب دیکھیں میرے بھاگ کب جاگیں گے کہ جب میں ڈاکٹر امجد ثاقب کے ہاتھ چوموں گا کہ جن ہاتھوں نے پچاس لاکھ خواجہ سرا کے پاؤں دھوئے۔ یہی تو وہ لوگ ہیں جو جنت کے سب سے اعلیٰ مقام پر قیام کریں گے۔ اخوت کے کاررواں میں، میں بھی شامل ہو گیا ہوں۔ میری بھی خواہش ہے کہ انسانیت کے لیے کچھ کر جاؤں۔ افسانے، کہانیاں، شاعری سے آگے کچھ ایسا کام جو تا دیر جاری و ساری رہے۔ خلقِ خدا جس سے مستفید ہوتی رہے۔

The post اخوت کا سفر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/36pAVaT

ایران پراسرائیل کی حملہ آورنظریں

شاہ ایران، رضا شاہ پہلوی،کے اقتدار سے رخصت ہوتے ہی اسرائیل نے ایران سے دانستہ دشمنی پال لی تھی ۔ اس عناد کو اب تقریباً چار دہائیاں ہو رہی ہیں۔ یہ مخاصمت کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔ اسرائیل ایک ( صہیونی) نظریاتی مملکت ہونے کے باعث ایران ایسی اسلامی نظریاتی مملکت کو ایک آنکھ دیکھ نہیں پا رہا۔ اسرائیل جو خود بھی ایک غیر اعلانیہ جوہری طاقت ہے، اپنے ہمسائے میں کسی بھی ممکنہ ایٹمی طاقت کو برداشت نہیں کررہا۔ ایران نے اپنا پُرامن جوہری پروگرام شروع کیا تواسرائیل کی بھنویں تن گئیں۔

اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کان کھڑے ہو گئے ۔ ایران کی تمام ذمے دار سیاسی و عسکری شخصیات اور ادارے غیر مبہم اسلوب میں بار بار اعلان کرتے آ رہے ہیں کہ اُس کا ایٹمی پروگرام کلیتاً غیر اسلحی اور پُر امن ہے لیکن اسرائیل کا اصرار ہے کہ ایران اس پُر امن ایٹمی پروگرام کے پردے میں ایٹمی ہتھیار بنانے کی راہ پر تیزی سے گامزن ہے۔

اسرائیل چاہتا ہے کہ امریکا ، ایران کو اس راستے پر بگٹٹ بھاگنے سے روکے وگرنہ وہ خودآگے بڑھ کر ایران کے تمام ایٹمی راستے مسدود اور محدود کر دے گا۔ ایرانی قیادت اسرائیل کی تمام خفی و جلی دھمکیوں سے پوری طرح آگاہ بھی ہے اور ان کی معنویت و حقیقت سے بھی واقف۔

یہ حقیقت کسی کی آنکھ سے اوجھل نہیں ہے کہ پچھلے 40برسوں کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکا کے ہاتھوں بہت زیادتیاں اور مظالم برداشت کیے ہیں۔ ان مظالم میں اسرائیل بھی پوری طرح شریک رہا ہے کہ بعض حقیقت آشناؤں کے بقول : امریکی پالیسیاں واشنگٹن میں نہیں ، تل ابیب میں مرتب کی جاتی ہیں۔

شاباش دینی چاہیے مگر ایرانی قیادت اور ایرانی عوام کو کہ امریکی جبر وستم کے باوصف وہ امریکا اور اسرائیل کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پرتیار نہیں ہُوا ۔ یہ جرأت جہاں عالمِ اسلام کو ایک نیا حوصلہ بخشتی ہے ، وہیں یہ ایرانی جسارت اسرائیل کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی رہتی ہے۔

سابق امریکی صدر ، بارک اوباما، کے دَورِ اقتدار میں امریکا اور ایران کے درمیان شائستگی کے ساتھ ایک معاہدہ بھی طے پا گیا تھا۔ اس معاہدے کے مطابق ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام پر عالمی تحدیدات قبول کر لی تھیں۔ یوں اوباما دَور میں ایران کے کئی منجمد اثاثے بحال بھی کیے گئے اور کئی عالمی اقتصادی اداروں کو، ایک خاص حد میں، ایران کے ساتھ کاروبار کرنے کی اجازت بھی مل گئی۔

اس معاہدے سے ایرانی معیشت کو خاصا ریلیف ملا تھا۔ ایرانی عوام نے بھی نئے سرے سے اُمیدیں باندھ لی تھیں۔ ابھی ایرانی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو ہی رہی تھی کہ بارک اوباما کا دَور ختم ہو گیا اور اُن کی جگہ نسل پرست اور متعصب ڈونلڈ ٹرمپ نے جگہ سنبھال لی۔ ٹرمپ اور اُن کے یہودی النسل داماد،جیرڈ کشنر، کے باہمی گٹھ جوڑ اور اسرائیلی اشارے پر امریکا نے اوباما کے دَور میں ایران سے کیا گیا معاہدہ منسوخ کر دیا۔یہ اقدام صریحاً عالمی سفارتی اخلاقیات کی توہین تھا۔

اسی لیے یورپین یونین کی قیادت میں پورے یورپ نے ٹرمپ کے اقدام کی مخالفت کی لیکن ٹرمپ نے اپنی طاقت کے زعم و نشے میں کسی کی بھی نہیں سُنی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا چار سالہ دَور ایرانی قیادت اور ایرانی عوام کے لیے انتہائی مشکلات کا زمانہ تھا۔ امریکا کی طرف سے ایران پر لگائی جانے والی متعدد اور متنوع پابندیوں نے ایران کو لاتعداد مصائب میں مبتلا کیے رکھا لیکن ایران نے کمرشکن مصائب و مسائل کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیل اور ٹرمپ کے یہودی دامادکے منصوبوں کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ اس دوران ہیجان کا شکار ہو کر مبینہ طور پر امریکا نے ایران پر حملے کا پروگرام بھی بنایا لیکن پھر اسے عملی جامہ نہ پہنا سکا ۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد اب جو بائیڈن امریکی صدر منتخب ہُوئے ہیں تو اُن کے بعض اعلانات سے ایران کو یہ اُمید بندھی ہے کہ اسرائیلی اشاروں پر ایران کے خلاف عائد کی گئی ظالمانہ اور غیر منصفانہ پابندیاں اُٹھا لی جائیں گی۔

ایک ہفتہ قبل نئی امریکی انتظامیہ نے امریکی صدر، جوبائیڈن ، کی قیادت میں اعلان کیا کہ ’’ اگر ایران عالمی برادری سے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے کیے گئے اپنے وعدوں پر کاربند رہے تو پھر امریکا بھی اُس کے ساتھ جوہری معاہدے کو بحال کر دے گا۔‘‘ جونہی امریکا کی طرف سے یہ اعلان سامنے آیا، اسرائیل بپھر گیا۔ دراصل اسرائیل کو امریکی کانگریس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کے ارکان کی بڑی تعداد کی شہ بھی حاصل ہے ؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایران کی طرف نئی امریکی انتظامیہ کا صلح جویانہ رویہ دیکھ کر اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کی صاف دھمکی دے ڈالی ہے۔

گزشتہ روز اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل Aviv Kohaviنے تل ابیب یونیورسٹی کے ’’انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز‘‘ سے خطاب کرتے ہُوئے صاف الفاظ میں کہا: ’’ ایران سے جوہری معاہدے کی بحالی امریکا کی غلطی ہوگی۔ اگر امریکا نے جوہری معاہدے کو بحال کیا تو ہم ایران کو ہدف بنائیں گے۔ ہم نے ایران پر حملے کی پوری تیاری کررکھی ہے۔ بس مقتدر سیاسی قیادت کی منظوری درکار ہے۔ ‘‘اسرائیلی فوج کے مذکورہ جرنیل کی دھمکی کا مرکز ایرانی ایٹمی تنصیبات ہیں ۔

ایران کے خلاف اسرائیلی جرنیل کے حملے کی دھمکی کی اصلیت اور معنویت کیا ہے، ایرانی قیادت اس سے پوری طرح آگاہ ہے۔ اِسی ضمن میں ایرانی صدر جناب حسن روحانی کے چیف آف اسٹاف ، محمود واعظی، کی طرف سے ترنت جواب یوں آیا ہے : ’’ یہ نفسیات کی جنگ ہے اور ہم خوب جانتے ہیں کہ اسرائیل کے پاس ایران پر حملے کا نہ تو کوئی منصوبہ ہے اور نہ ہی صلاحیت۔‘‘ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ، بریگیڈئر جنرل ابوالفضل شکارچی، کا اسرائیل بارے بیان زیادہ سخت ہے۔

اسرائیلی دھمکی کے جواب میں ایران کی طرف سے آنے والا جواب اگرچہ حوصلہ مند ہے لیکن اگر خدانخواستہ اسرائیل ( جس کی نفسیات میں جارحیت کوٹ کوٹ کر بھری ہے) اپنی دھمکی پر عمل کر گزرتا ہے تو اس کے انتہائی منفی اثرات پورے عالمِ عرب پر مرتب ہوں گے۔ ان اثرات سے ممکن ہے پاکستان بھی محفوظ نہ رہ سکے۔ اسرائیل اس سے قبل نہایت جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہُوئے ( چالیس سال قبل) عراقی ایٹمی تنصیبات کو تباہ و برباد کر چکا ہے۔

اسرائیل کے ایک درجن جنگی طیاروں (ایف سولہ) نے7جون1981ء کی شام بغداد سے صرف 10کلومیٹر دُوری پر واقع عراقی ایٹمی ری ایکٹر پر حملہ کر دیا تھا اور پوری دنیا سمیت امریکا کی بھی پروا نہیں کی تھی ۔

اس حملے کو ’’آپریشن اوپرا‘‘ کا عنوان دیا گیا تھا۔ اسرائیلی جنگی طیارے اُڑتے ہُوئے بغداد پہنچے اور صرف دو منٹ میں عراقی ایٹمی سینٹر کو اُڑا کر رکھ دیا۔ اسرائیل نے اس امر کی بھی قطعی پروا نہیں کی تھی کہ حملے کے بعد عراقی ایٹمی پلانٹ سے اگر ہلاکت خیز ریڈی ایشن کا طوفان بہہ نکلا تو عراق کے آس پاس بسنے والے چھ اسلامی ممالک کا کیا بنے گا؟اس حملے کی خبر جب امریکی صدر ، رونالڈ ریگن ، کو ملی تو انھوں نے خوفزدہ ہو کر اپنی ڈائری میں لکھا تھا: ’’ عراقی ایٹمی سینٹر کی ریڈی ایشن کا تصور کرکے مَیں نے سوچا: بس اب قیامت آنے ہی والی ہے۔‘‘ اب جب کہ اسرائیل مبینہ ایرانی جوہری تنصیبات کو ٹارگٹ کرنا چاہتا ہے تو اس دھمکی کے پس منظر میں اُسے عراقی تجربے کی شہ حاصل ہے ۔ لیکن واضح رہنا چاہیے کہ عراقی ایٹمی سینٹر پر اسرائیلی حملے سے تو قیامت نہیں آئی تھی لیکن اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو دُنیا میں قیامتِ صغریٰ ضرور برپا ہوگی ۔

The post ایران پراسرائیل کی حملہ آورنظریں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/39Ct6jS

کاش یہاں فلم کاکلچر ہوتا!

کاش ہمارے یہاں فلم کا کلچر ہوتا یا فلم ساز ہی دو چار موضوعات کے اسیر نہ ہوتے۔ اگرخوش قسمتی سے ایسا ہوتا تو ہماری فلم کا شہرہ چار دانگ عالم میں ہوتا۔ لوگ بھول جاتے کہ کوئی فلم ’ونس اپون آ ٹائم ان ممبئی‘ یا اس جیسی دیگر فلمیں بھی بنا کرتی تھیں۔ کوئی شبہ نہیں کہ بالی ووڈ نے متنوع موضوعات پر کمال کی فلمیں بنائی ہیں۔

صرف’ ونس اپون آ ٹائم ان ممبئی‘ پر ہی کیا موقوف، اس کا سیکوئیل ہی نہیں، ایسے اور بھی بے شمار موضوعات ہیں جنھیں تشدد وغیرہ کے کھاتے میں ڈال کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے لیکن ایسا موضوع تخلیقی ذہن رکھنے والے کسی فلم ساز کے ہاتھ میں آکر دھڑکتا ہوا دل بن جاتا ہے۔

کچھ دن ہوئے ہیں، اہل خانہ کے ہمراہ بڑے شوق سے ایک فلم دیکھنے گئے،’ سات دن محبت ان۔ فلم شروع ہوئی، یہاں تک کہ بریک کا وقت قریب آپہنچا لیکن کہانی شروع ہونے کا انتظار ہی رہا ، وقفے تک پاکستانی فلم کی سرپرستی کا خمار اتر چکا تھا۔ تماش بینوں نے ایک دوسرے کی شکلیں دیکھی، آنکھیں جھپکائیں اور با جماعت اٹھ کھڑے ہوئے، ایسی فلم بینی سے شکم پروری اچھی۔یہ واقعہ دو وجہ سے یاد آیا۔

ایسے ہی خبروں کے لیے سرفنگ کرتے کرتے ٹیلی ویژن کی کسی اسکرین پر نگاہ پڑی، وقفے تک بھی شائقین کو روکنے میں ناکام رہنے والی فلم کے نام کے ساتھ لکھا تھا، بلاک بسٹر۔  خیال آیا کہ حقیقت سے یوں ہی نگاہیں چرانے اور خود ستائی کے مرض سے نجات نہ ملی تو کم از کم فلم کا شعبہ تو اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہو پائے گا۔ اس خیال کے آنے کی دوسری وجہ وہ خبر تھی جس میں بتایا گیا کہ اسی اور نوے کی دہائی کے افسانوی طالب علم راہ نما حافظ  سلمان بٹ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

حافظ صاحب کی زندگی بھی عجب تھی، یوں سمجھ لیجیے کہ کسی داستان کے کردارتھے۔ بد اچھا بد نام برا، حافظ سلمان بٹ کا معاملہ ایک زمانے میں ایسا ہی تھا، لاہورکے کسی تعلیمی ادارے میں تشدد کا کوئی واقعہ ہو جاتا یاکسی بے گناہ کی جان چلی جاتی، پرچہ ان کے خلاف کٹتا۔ یوں حافظ صاحب اپنی زندگی بھی اجیرن تھی اور ان کے ساتھیوں کی بھی۔ایک بار لیاقت بلوچ کے ذہن میں جانے کیا خیال آیا، حافظ صاحب کا ہاتھ پکڑااور انھیں پولیس کے سپرد کردیاکہ جتنی تفتیش ان سے کرنی ہے، کر لو۔ معلوم نہیں، کیا تفتیش ہوئی۔

کیا نہیں لیکن کمال یہ ہوا کہ حافظ صاحب کچھ عرصے کے بعد جیل سے نکلے اور کسی خوب صورت کہانی کے کردار کی طرح ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگے ۔معلوم ہوا کہ وہ مقدمے اور پرچے لیڈری کی دین تھے۔ زمانہ طالب علمی بیتا تو آزمائشیں بھی ختم ہوئیں اور ماضی کے حریف باہم شیر و شکر دکھائی دینے لگے۔ یقین نہ آئے تو حافظ صاحب کی وفات پر خواجہ سعد رفیق کا اظہار غم اور باہمی قربت کا والہانہ اظہارایک بار پھر پڑھ لیجیے اور یہ بھی یاد کر لیجیے کہ یہی لوگ تھے جو ایک دوسرے کے خلاف بندوقیں بھی اٹھاتے اور مقدمے بھی د رج کرایا کرتے تھے۔

حافظ صاحب کے حصے میں آنے والی شہرت کا سوچیے، کیا کچھ اس میں نہیں تھا؟لڑائی جھگڑے، مار پیٹ اور تھانہ کچہری سب کچھ ہی تو تھا پھر 1985 کا انتخاب یاد کیجیے جس میں جماعت اسلامی کا یہ نوجوان راہ نما ایک ایسے حلقے سے کامیاب ہوا جس میں کوئی منصورہ یااچھرہ نہیں، بازار حسن پایاجاتا تھا۔ یہ واقعہ اپنی جگہ اہم ہے لیکن اُس روز تو یہ بھی ہوا کہ اُس بازار کی مظلوم حوا زادیاں یہ کہتی ہوئی پولنگ اسٹیشنوں میں دیکھی گئیں کہ آج ہم اپنے بھائی کو کامیاب بنائیں گی۔ یہ کرشمہ کیسے ہوا اور ایک جماعت زادہ بازار ِحسن میں کس ترکیب سے ووٹ مانگنے گیا ۔ یہ مناظرکتنے مزے کے ہوں گے؟

اس انتخاب کا ایک اور پہلو بھی بڑا ڈرامائی ہے، ان کے حریف میاں صلاح الدین عرف میاں صلی تھے۔ وہی میاں صلی جو اقبال کے داماد اور یکے از رئیسان لاہور تھے۔ اقتدار اور طاقت ان کے گھر کی رونق تھی۔ یہ حقیقتیں اپنی جگہ دلچسپ ہیں لیکن یہ بات کتنے مزے کی تھی کہ اس معرکے میں ایک طرف اقبالؒ کا خانوادہ تھا اور دوسری طرف اقبالؒ کی نام لیوا جماعت اسلامی۔ مزید کمال یہ ہوا کہ اقبالؒ کا خانوادہ رہ گیا اور اقبالؒ کا نام لیوا سرخ رو ہوا۔ اب ذرا یہ مناظر ذہن میں لائیے اور سوچئے کہ کوئی مشاق فلم سازاس کہانی کو فلم میں بدل دے توکیاسانس اٹک اٹک نہ جائے؟

ہمارے معاشرے میں طلبہ سیاست کیا ہے اور اس میں حصہ لینے والوں کو کن کٹھنائیوں سے گزرنا پڑتا ہے پھر تعلیمی ادارے کی لیڈری سے پارلیمنٹ ہاؤس تک پہنچنے میں کیا کیا مرحلے طے کرنا پرتے ہیں؟ ایسے واقعات پر فلم بنے تو ایک تو یہی الف لیلہ سمجھ میں نہیں آئے گی بلکہ بہت سی غلط فہمیوں اور بے شمار درست فہمیوں کا ازالہ بھی ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ ایسے بہت سے لوگوں کی افتاد طبع کی خبر بھی ہو جائے گی کہ کیسے کیسے جاہ و مناصب حافظ سلمان جیسے لوگوں کا تعاقب کرتے ہیں اور یہ لوگ کنی کاٹ کر فٹ بال کے ہنگاموں میں کھو جاتے ہیں۔

لوگ کہا کرتے تھے کہ حافظ صاحب بڑی خوبیوں کے آدمی ہیں لیکن فٹ بال انھیں لے بیٹھا۔ ممکن ہے کہ ان کے بارے میں یہ تاثر درست ہو لیکن ایک تاثر یہ بھی ہے کہ فٹ بال کے دامن میں انھوں نے یوں ہی پناہ نہیں لے رکھی تھی۔ فٹ بال ان کے لیے کسی صوفی کے غار کی طرح تھا جس میں چھپ کر وہ علائق دنیوی سے بچنے کا جتن کیا کرتے تھے۔ حافظ سلمان فٹ بال میں پناہ نہ لیتے تو گردن گردن تک سیاست میں دھنس جاتے لیکن سیاست کی دنیا میں جو کھینچا تانی،لے دے اور ہٹو بچو ہوتی ہے، ان ہنگاموں سے ان کی کبھی نہ بن پائی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جاہ و منصب نے بھی زندگی بھر ان کا پیچھا کیا لیکن ہر بار وہ کنی کاٹ کر نکل گئے اور ریٹی گن روڈ پر اپنے آبائی گھر میں پناہ لی۔

ویسے فٹ بال کا معاملہ بھی خوب ہے، اس کھیل کے وہ دیوانے تھے۔ یہ خیال ان کے ذہن میں ہمیشہ رہا کہ کسی طرح وہ غریبوں کے اس کھیل کو زندہ کر دیں۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے فیصل صالح حیات سے ٹکر بھی لی لیکن بدقسمتی سے انھیں اس میدان میں سیاسی میدان جیسی ٹیم میسر نہ آسکی، ورنہ قبضہ مافیا کے شکنجے سے اس کھیل کو چھڑا کراپنے پاؤں پر کھڑا کر دینا ان کے لیے کوئی بڑی بات نہیں تھی۔

ساتھیوں کا ساتھ اور چیلنج کا سامنا، حافظ صاحب کی زندگی بس ان ہی دو نکات کے گرد گھومتی ہے۔ زندگی کے کسی بھی مرحلے ان کا سامنا کسی مشکل سے ہوا ا، انھوں نے نعرہ لگایا:

’خون ہو یا رنگ ہو،ساتھیوں کے سنگ ہو۔ یہ للکار سنتے ہی ان کے ساتھی جمع ہوتے چلے جاتے اور یہ لوگ دیکھتے ہی دیکھتے میدان مار لاتے۔ کاش ہمارے ہاں فلم کا کلچر ہوتا یا فلم چند گھسے پٹے موضوعات کی اسیر نہ ہوتی تو اس دیس میں ایسی ایسی فلم بنتی کہ دیکھنے والے دانتوں تلے انگلیاں داب لیتے۔ ایکشن، سسپنس، محبت، نظریہ، کمنٹ منٹ اور قربانی کیسے کیسے موضوعات ہمارے گرد بکھرے ہوئے نہیں ہیں، کاش کسی کی نگاہ موضوع شناس یہ سب دیکھ پاتی۔

The post کاش یہاں فلم کاکلچر ہوتا! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2YvxNpF

بندہ مزدور

ایکسپورٹ سے متعلق ٹیکسٹائل اورگارمنٹس فیکٹریاں ملکی لیبر قوانین کی دھجیاں بکھیر رہی ہیں۔ ان فیکٹریوں میں مزدور 21 ویں صدی میں بھی غلامی کی سی حالت میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ان فیکٹریوں میں مزدوروں سے قانون کے برخلاف جبری 200 گھنٹے ماہانہ سے زیادہ اوور ٹائم کرایا جاتا ہے اور اجرت بھی ادا نہیں کی جاتی۔ ملبوسات کے بڑے بین الاقوامی برانڈز اس  عمل میں برابر کے شریک ہیں اور اپنے طرز عمل سے پاکستان کے یورپی یونین سے کیے گئے جی ایس پی پلس معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

وہ بین الاقوامی مزدور تنظیموں سے کیے گئے گلوبل فریم ورک ایگریمنٹس کے تحت جن فیکٹریوں میں ان برانڈز کے لیے مصنوعات تیارکی جاتی ہیں، مزدوروں کو حقوق دینے سے انکاری ہیں۔  ان برانڈز کے لیے مال تیار کرنے والی فیکٹریوں میں خواتین مزدور بدستور ہر قسم مسائل کا شکار ہیں۔  ان فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو بلاجواز ملازمتوں سے برخاست کرنا معمول بن گیا ہے اور آواز اٹھانے پر فیکٹریوں کے پالے پوسے غنڈے تشدد کرتے ہیں۔ مزدوروں کا مطالبہ ہے کہ ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے ورکروں کو تحریری تقررنامہ جاری کیے جائیں۔

ورکرز کو سوشل سیکیورٹی اور ای او بی آئی سے رجسٹرڈ کیا جائے اور انھیں ان اداروں کے کارڈ دیے جائیں۔ فیکٹریوں میں جاری غیر قانونی ٹھیکیداری نظام ختم کیا جائے،  ٹھیکیداری نظام کو جاری رکھنے والی فیکٹریوں کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ چلایا جائے۔ غیر ہنرمند اور ہنر مند مزدوروں کے لیے سرکاری طور پر اعلان کردہ اجرتوں کے موقف پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ مزدور عورتوں کو جبراً رات دیر تک روکنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ قانون کے مطابق 48 گھنٹے ماہانہ سے زیادہ اوور ٹائم کرنے پر مزدوروں کو مجبور نہ کیا جائے۔

اوور ٹائم کی دگنی اجرت ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔ غیرقانونی برطرف مزدوروں کو بحال کیا جائے۔ قانونی چھٹیوں کے حق کو تسلیم کیا جائے اور چھٹی پر اجرتوں کی غیر قانونی کٹوتی ختم کی جائے۔  بونس کا اجرا یقینی بنایا جائے۔ محنت کشوں کا ہر قدم پر استحصال ہوتا آ رہا ہے۔ کراچی سمیت ملک بھر میں رکشہ والے محنت کشوں کا برملا استحصال ہوتا ہے۔

کراچی میں 100 سے زیادہ مقامات سے رکشہ والے محنت کشوں سے نامعلوم افراد 120 روپے سے 400 روپے یومیہ بھتہ وصول کرتے ہیں۔ وہ انھیں ایک سادہ کاغذ پر نام نہاد مہر لگی ہوئی پرچی جس پر تاریخ اور نام نہاد دستخط ہوتے ہیں لیاقت آباد، قیوم آباد، ناگن چورنگی، یوپی موڑ، کورنگی کراسنگ، سرجانی ٹاؤن، کیماڑی، شیرشاہ، ناظم آباد، ماڑی پور اور بلدیہ ٹاؤن سمیت بے شمار مقامات پر یہ کام ہو رہا ہے روزانہ کروڑوں روپے کی کھلم کھلا رکشہ والوں سے بھتہ خوری کی جاتی ہے۔ یہ کام ہر علاقے کے تھانے والے سادہ لباس میں مخصوص لوگوں کے ذریعے رقم وصول کرتے ہیں۔ رکشہ والوں سے پوچھنے سے وہ کہتے ہیں کہ یہ جگہ انھوں نے خریدی ہے اس کی رقم لیتے ہیں۔

جب رکشے والوں کی نشان دہی پر کارندوں سے پتا کیا جاتا ہے تو وہ انکار کردیتے ہیں جب کہ پرچی دینے والے کہتے ہیں کہ وہ دور کھڑا شخص یہ سب کچھ کرواتا ہے۔ ان خطیر رقم کے حصے دار ٹریفک پولیس، علاقے کے تھانے دار اور ان کے لے پالک بدمعاش اور سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس والے وصول کرتے ہیں۔ اور یہ بات سب کو معلوم ہے مگر حکومت اور انتظامیہ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔ اس عمل سے ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ بھی اس بھتہ خوری میں شریک ہے۔

گزشتہ دنوں گارمنٹس اور ٹیکسٹائل کے مزدوروں نے بلال چورنگی، کورنگی انڈسٹریل ایریا میں اپنے مطالبات کے لیے نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے زیر اہتمام دھرنا دیا۔ دھرنے میں مزدوروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ دیگر لوگوں کے علاوہ مزدور رہنماؤں  نے بھی شرکت کی۔   مزدور رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صنعت کاروں نے فیکٹریوں اور کارخانوں کو مذبح خانوں میں تبدیل کردیا ہے جہاں مزدوروں کا معاشی قتل عام کیا جا رہا ہے۔ فیکٹریوں میں لیبر قوانین کے تحت لازم ہے کہ مزدوروں کو تحریری تقرر نامے دیے جائیں لیکن 95 فیصد مزدور اس قانونی حق سے محروم ہیں، جس کے نتیجے میں وہ اپنے تمام دیگر قانونی مراعات اور آئینی حقوق کا حصول بھی ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

مزدور رہنماؤں نے مزید کہا کہ فیکٹریوں میں یونین سازی کو جرم بنا دیا گیا ہے۔ ایک فیصد سے بھی کم اداروں میں مزدور اس حق سے مستفید ہو رہے ہیں۔ بڑے بڑے صنعتی اداروں میں سرکاری طور پر اعلان کردہ کم ازکم اجرت 17500 روپے ماہانہ جوکہ غیر ہنرمند ورکرز کو ادا نہیں کی جاتی جب کہ ہنرمند مزدوروں کے لیے اعلان کردہ اجرتوں کا حصول خواب ہی ہے۔ 95 فیصد ورکرز سوشل سیکیورٹی اور پنشن کے اداروں سے رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ قانونی طور پر مستقل نوعیت کے کام کے لیے مستقل ملازمت ضروری ہے لیکن ملکی و بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹھیکیداری کو مسلط کردیا گیا ہے۔ ٹھیکیداری نظام کو غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے۔

اسی طرح ٹیکس ہو، مہنگائی ہو یا بجلی محنت کشوں پر ہی گرتی ہے بجلی کے نرخوں میں آئے روز اضافہ ہوتا رہتا ہے۔اس پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان کہتے ہیں کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ نہ کریں تو قرضوں کا بوجھ بڑھتا جائے گا۔ کیا کھربوں روپے غیر پیداواری اخراجات میں استعمال ہونے کو روک کر قرضے کا بوجھ ختم نہیں کیا جاسکتا؟ ملک کے بیشتر شہروں سے وصول کیے جانے والے کالے دھن کو روک کر بھی عوام کی پریشانیوں میں کمی کی جا سکتی ہے۔ ہوا اور شمسی توانائی کو بجلی کی توانائی میں بدلا جاسکتا ہے۔

آج کل محنت کشوں کے مسائل پر حکمران (حزب اقتدار کے ہوں یا حزب اختلاف کے) کوئی توجہ نہیں۔ وہ صرف ایک دوسرے پر الزام تراشی میں لگے رہتے ہیں۔ اگر یہ الزام درست ہوئے تو اس دور میں عوام کے سامنے دونوں بے نقاب ہو رہے ہیں کہ انھوں نے کس طرح عوام کو لوٹا اور لوٹ رہے ہیں۔ (ن) لیگ کے دور میں بجلی کے (لاسز) گھاٹے 18 فیصد اور اب 19 فیصد ہو گئے ہیں۔ اس طرح سے 200 ارب ڈالر کا ٹیکا عوام کو لگایا گیا۔ دنیا کے ہر گوشے پر مزدوروں کے ساتھ ہی سب سے زیادہ زیادتیاں ہو رہی ہیں۔ چین میں زیر زمین پھنسے 11 کان کنان جنھیں نکال تو لیا گیا لیکن ان کی حالت تشویش ناک ہے اور اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ جب کہ اب بھی 10 کان کنان کان میں پھنسے ہوئے ہیں۔

بے روزگاری سے تنگ آکر پاکستان میں سالانہ 40 ہزار نوجوان مزدور اور طلبا نشے کے عادی بنتے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 350 ملین افراد کو اس دنیا میں خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ کورونا کے باعث 140 ملین افرد غربت کی لکیر کے نیچے چلے گئے ہیں۔ متاثرین کی تعداد سب سے زیادہ جنوبی ایشیا میں ہے۔ ان تمام مسائل کے حل کے لیے دنیا بھر کے محنت کشوں کو متحدہ لڑائی کی ضرورت ہے۔ ہرچند کہ مسائل کا مکمل حل ایک امداد باہمی کے آزاد معاشرے میں ممکن ہے۔

The post بندہ مزدور appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3rauyjG

ملک کو درپیش تمام چیلنجز کا حل گرینڈ ڈائیلاگ

ملک کو اس وقت اندرونی و بیرونی محاذ پر بے شمار مسائل کا سامنا ہے جن میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے ہیں اور اس محاذ آرائی میں چیلنجز سے نمٹنا خاصا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

ان حالات کو دیکھتے ہوئے ’’ملکی سیاسی صورتحال اور قومی ڈائیلاگ کی اہمیت‘‘ کے موضوع پر ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں ماہرین امور خارجہ اور سیاسی تجزیہ نگاروں کو مدعو کیا گیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

ڈاکٹر اعجاز بٹ

(ماہر امور خارجہ و سیاسی تجزیہ نگار)

حکومت کا بنیادی مقصد عوام کو ریلیف دینا اور ان کی زندگی آسان بنانا ہوتا ہے اور اسی کیلئے ہی حکومتیں ہر ممکن اقدامات کرتی ہیں مگر جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان حالیہ لڑائی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق عوام یا ملکی مسائل سے نہیں ہے بلکہ یہ اشرافیہ کے درمیان اقتدار کی لڑائی ہے۔

بدقسمتی سے موجودہ حکومت ڈیلور کرنے میں ناکام رہی ہے۔ گزشتہ ڈھائی برس میں کسی بھی شعبے میں بہتری آئی اور نہ ہی کوئی اصلاحات لائی گئی بلکہ جو بھی کام نظر آرہے ہیں اور جتنے منصوبے چل رہے ہیں وہ گزشتہ حکومت کے منصوبوں کا ہی تسلسل ہیں جنہیں ردوبدل کے ساتھ آگے بڑھایا جارہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان پولیس میں اصلاحات اور مقامی حکومتوں کے قیام کی بات کرتے ہیں۔ مقامی حکومتوں کا نظام تحریک انصاف کی ترجیحات میں شامل تھا مگر تاحال اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی بلکہ وزیراعظم آج مثالی نظام قائم کرنے کی بات کرتے ہیں سوال یہ ہے کہ جس نظام کے دعوے کیے جارہے ہیں وہ کب قائم ہوگا؟اپوزیشن نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کیلئے ’پی ڈی ایم‘ کی صورت میں اتحاد قائم کیا مگر یہ کمزور اور تقسیم شدہ اتحاد ہے اور ایسا کمزور اتحاد ماضی میں کبھی بھی نہیں رہا ۔ اپوزیشن کا سولین بالادستی کانعرہ جاندار ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ کمزور اتحاد کس طرح اپنے مقاصد حاصل کرے گا؟اس اتحاد کی عوام میں مقبولیت کم ہے اور اس میں شامل جماعتوں کا ماضی بھی سب کے سامنے ہے۔

کمزور ترین اپوزیشن کے باوجود موجودہ حکومت پرفارم نہیں کر سکی۔ حکومتی ناقص کارکردگی کی وجہ سے عوام میں عمران خان اور موجودہ حکومت کی مقبولیت میں کمی آرہی ہے، جو لوگ ان کے نعرے لگاتے تھے وہ متنفر ہورہے ہیں لہٰذا انہیں سمجھنا چاہیے کہ عام آدمی کا مسئلہ اپوزیشن نہیں بلکہ مہنگائی اور روزمرہ کی سہولیات ہیں جو اسے نہیں مل رہی۔لاہور جیسا بڑا شہر کوڑا دان بن کر رہ گیا ہے اور گزشتہ 2 ماہ سے ہر طرف کچڑے کے ڈھیر لگے ہیں جو افسوسناک ہے۔

اس کے علاوہ مہنگائی و دیگر مشکلات الگ ہیں۔ عمران خان میگا پراجیکٹس کے خلاف اور انسانی ترقی پر خرچ کرنے کے حامی تھے مگر انسانی ترقی، تعلیم اور صحت پر کچھ خرچ نہیں ہورہا بلکہ تعلیم اور صحت کے  شعبوں کا برا حال ہے اور تاحال کوئی بھی ایسا قدم نہیں اٹھایا جاسکا جو تبدیلی کی طرف جاتا ہو۔ یکساں نصاب کے حوالے سے معاملات عجیب ہیں، یہ اس طرح کا نصاب نہیں ہے جس طرح ایران، بھارت و دیگر ممالک میں ہے۔ حکومت اس بات کو بارہا دہراتی ہے فوج اس کے ساتھ ہے اور تمام ادارے ایک پیج پر ہیں، اسی لیے وہ سمجھ رہی ہے کہ اسے کچھ نہیں ہوگا مگر حالات سدا ایک جیسے نہیں رہتے، اگر حکومت پرفارم نہ کر سکی اور موجودہ نظام فیل ہوگیا تو پھر عوام خود اپنا راستہ نکالیں گے، انہیں جہاں سے ریلیف ملے گا وہ اس طرف چلے جائیں گے ۔

کرپٹ مافیا کے خلاف کارروائی اور احتساب تحریک انصاف کے کی ترجیحات میں شامل تھا مگر اب احتساب کے عمل پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ کتنی ریکوری ہوئی اور اس سے ملک اور عوام کو کیا فائدہ ہوا؟ اپوزیشن کا فوکس ’این آر او‘ ہے، اسی لیے اس نے بیشتر معاملات میں حکومت کو سپورٹ کیا مگر جب کچھ نہ ملا تو اب وہ حکومت کے سامنے کھڑی ہوگئی ہے۔ ملک پہلے ہی بحران کا شکار ہے اور مزید کسی بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس محاذ آرائی سے صرف ملک و قوم کا نقصان ہوگا لہٰذاموجودہ صورتحال کا واحد حل ’گرینڈ ڈائیلاگ‘ ہے مگر صرف سیاسی جماعتوں کے درمیان ڈائیلاگ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، اس میںفوج اور عدلیہ کو بھی شامل کرنا ہوگا، ان کے بغیر ڈائیلاگ بے نتیجہ ہوگا۔

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

(سیاسی تجزیہ نگار )

بدقسمتی سے ملکی معیشت خراب اور گورننس بدحالی کا شکار ہے، حکومت کہہ رہی ہے کہ اس سے گورننس اور ناکامیوں کا نہ پوچھا جائے بلکہ ریلیف نہ ملنے کی وجہ تو ماضی کی حکومتوں کی لوٹ مار ہے۔ اسی بیانیے کے تحت اپوزیشن کو دبایا گیا ہے جبکہ اپوزیشن اس سے باہر نکلنا چاہتی ہے اور عوام کو موجودہ حکومت کی ناکامیاں دکھا کر اسے ایکسپوز کرنا چاہتی ہے۔

اس لڑائی میں ملک سیاسی حوالے سے بند گلی میں جا رہا ہے جو نقصاندہ ہوگا۔ حکومت کی غلطیوں سے لوگوں کا معیار زندگی تیزی سے گر رہا ہے، لوگ غریب ہورہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ امیر اور غریب میں فرق بڑھ رہا ہے جو تشویشناک ہے کیونکہ اس طرح کے حالات کسی بھی معاشرے کیلئے خطرناک ہوتے ہیں۔ اندرونی مسائل کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر پاکستان اس وقت بڑے چیلنجز سے دوچار ہے، خارجہ پالیسی کے مسائل سنگین ہوتے جارہے ہیں۔

سعودی عرب و گلف ممالک سے تعلقات، سی پیک منصوبہ اور نئے امریکی صدر کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاک امریکا تعلقات ، پاک چین تعلقات و دیگر اہم معاملات بڑے چیلنجز ہیں جن سے نمٹنے کیلئے اندورنی استحکام بہت ضروری ہے۔ حکومت، اپوزیشن اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو اس حوالے سے سنجیدگی سے سوچنا ہوگا اور اندرونی و بیرونی تمام چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ملک میں ’گرینڈ ڈائیلاگ‘ کرنا ہوگاجس میں طے کیا جائے کہ دستوری اقتدار ہوگا،سب کچھ آئین کے مطابق ہوگا اور سب اپنی اپنی حدود میں کام کریں گے۔

اس کے علاوہ آئندہ 25 سے 30 برس کی منصوبہ بندی بھی جائے تاکہ عوام اور آنے والے حکومتوں کو بھی معلوم ہو کہ کس سمت میں جانا ہے۔ اس کے بغیر ملک میں ہیجانی کیفیت ہی رہے گی۔ تحریک انصاف نے عوام سے بڑے بڑے وعدے کیے مگر اقتدار میں آنے کے بعد صرف احتساب کا وعدہ یاد رہا، احتساب کے نام ملک میں جو سنسنی پھیلائی جارہی ہے اور ہر روز ایک نیا سکینڈل سامنے لایا جاتا ہے جس کا حاصل کچھ نہیں ہوتا، سب کو سمجھنا چاہیے کہ اگر عوام کو ریلیف دینے کیلئے کچھ نہ کیا گیا تو عوام احتساب سمیت تمام معاملات سے لاتعلق ہوجائیں گے۔

اس وقت ملکی مسائل سنگین ہیں جس کی وجہ سے کسی بھی جماعت کیلئے وفاق میں آنا خودکشی کے مترادف ہوگا لہٰذا اپوزیشن بھی مرکز میں نہیں آنا چاہتی بلکہ پنجاب کی حکومت کیلئے کوششیں کی جائیں گی۔ فیٹف کی پابندیوں کا تعلق ٹیررفرانسنگ سے نہیں بلکہ چین سے تعلقات سے ہے، پاکستان بلیک لسٹ ہوگا اور نہ ہی وائٹ بلکہ ہمیں دبانے کیلئے اسی طرح معاملات چلائے جائیں گے۔ حکومت کو معاملات چلانے، مسائل کے حل کیلئے قانون سازی اور ترامیم کرنے کیلئے اپوزیشن کی ضرورت ہے بصورت دیگر یہ مسائل حکومت کیلئے مشکلات کا باعث بنیں گے۔ موجودہ مشکل حالات میں وزیراعظم بہتر سیاسی حکمت عملی سے کام لیں اور سب کو ڈائیلاگ کی دعوت دیکر ملک کو مسائل سے نکالیں، انہیں سمجھنا چاہیے کہ اندرونی سیاسی استحکام سے ہی تمام مسائل کا حل ممکن ہے۔

سلمان عابد

(دانشور )

حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔ دونوں کے درمیان اعتماد کا بدترین فقدان ہے، اپوزیشن ان کے انتخاب پر سوال اٹھا رہی ہے جبکہ وزیراعظم مفاہمت کے حامی نہیں ہیں اور اس لڑائی میں دونوں فریقین نے ہی نقصان اٹھایا ہے۔ اس وقت ملک کواندرونی ، معاشی اور علاقائی سیاسی استحکام کی صورت میں 3 بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔ ان چیلنجز میں اندرونی استحکام سب سے ضروری ہے اور اس سے ہی معاشی اور علاقائی سیاسی استحکام ممکن ہے مگر بدقسمتی سے اس وقت ملک اندورونی طور پر سیاسی حوالے سے کمزور ہے۔

پاکستان میں شروع سے ہی سول ملٹری تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے مگر موجودہ دور حکومت میں ان کے مابین تعلقات بہترین ہیں۔اس بار اپوزیشن براہ راست اسٹبلشمنٹ اور اداروں کے سربراہان کا نام لے رہی ہے اور یہ پہلی بار ہے کہ سیاسی لڑائی میں اداروں کی ساکھ بھی سٹیک پر لگ گئی ہے۔

یہ لڑائی جمہوریت ، قانون اور عوام کی حکمرانی نہیں بلکہ طاقت کے مراکز کی لڑائی ہے، جس میں عوام کو ریلیف دینا شامل نہیںبلکہ اس لڑائی سے ملک اورعوام کا نقصان ہورہا ہے۔ اپوزیشن غیر متعلقہ ہوچکی تھی مگر ’پی ڈی ایم‘ کی صورت میں اس کی اہمیت بڑھ گئی مگر اس نے عمران خان کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کو نشانہ بنایا، سمجھ نہیں آرہا کہ پی ڈی ایم کیا چاہتی ہے؟ اپوزیشن ضمنی انتخابات اور سینیٹ میں حصہ لے رہی ہے، اب تحریک عدم اعتماد کی باتیں کی جارہی ہیں، آصف زرداری وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں، اس وقت انہوں نے اچھا کارڈ کھیلا ہے، انہیں معلوم ہے کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوگی تاہم یہ معاملات کو لٹکانے کا حربہ ہے۔

پی ڈی ایم کا لانگ مارچ بھی تاحال نہیں ہوسکا، اب مارچ میں مارچ کی باتیں ہورہی ہیں مگر سینیٹ الیکشن کی وجہ سے لانگ مارچ نہیں ہوگا، اپریل میں ماہ رمضان ہے لہٰذا عید کے بعد ہی کچھ ہوسکتا ہے۔ پی ڈی ایم تاحال ہر حربے میں ناکام ہوئی ہے۔پہلے اس نے فوج اور حکومت کے درمیان معاملات خراب کرنے کی کوشش کی جو نہیں کر سکی۔ پھر اداروں کے سربراہان کا نام لے کر اداروں میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی مگر اس میں بھی ناکامی ہوئی اور اب  اب وہ حکومت کی کارکردگی متاثر کرنے اور اسے ناکام حکومت ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ لاہور جلسے کے بعد پی ڈی ایم اور مریم نواز کو جھٹکا لگا، الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے کیا جانے والا احتجاج بھی متاثر کن نہیں تھا جس سے تحریک میں کمی آئی ہے۔

اب حکومت ’پی ڈی ایم‘ سے خائف ہونے کے بجائے ان کے اندرونی فاصلوں اور مسائل کا مزہ لے رہی ہے تاہم حکومت کو جو اصل چیلنج درپیش ہے وہ گورننس کا مسئلہ ہے، حکومت اس حوالے سے ناکام ہوئی ہے، عام آدمی کو ریلیف نہیں ملا بلکہ اس کی مشکلات میں اضافہ ہو اہے۔ خارجی محاذ پر پاکستان نے کامیابی حاصل کی ہے اور بھارت کو پیچھے دھکیلا ہے تاہم اس میں کامیابی صرف حکومت کی نہیں متعلقہ اداروں کی بھی ہے۔ جمہوریت میں ڈائیلاگ کا راستہ بند ہوجائے تو انتشار پیدا ہوتا ہے لہٰذا موجودہ سیاسی کشیدگی کے خاتمے کیلئے ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز کومل کر ’گرینڈ ڈائیلاگ‘ کرنا ہوگا، مل کر معیشت، گورننس، انتخابی اصلاحات، علاقائی سیاست و دیگر معاملات طے کیے جائیں ، اس حوالے سے وزیراعظم کو پارلیمنٹ میں جاکر سب کو ڈائیلاگ کی دعوت دینا ہوگی۔

The post ملک کو درپیش تمام چیلنجز کا حل گرینڈ ڈائیلاگ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3oDrMBL

کروڑوں روپے کی اراضی ہتھیانے کا منصوبہ ناکام، 2 افسر برطرف

 کراچی:  کراچی میں کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی اراضی کو کوڑیوں کے مول ٹھکانے لگانے کا منصوبہ ناکام ہوگیا۔

قیمتی اراضی کی خورد بورد میں ملوث افسران کے گرد گھیرا تنگ ہوگیا، صوبائی وزیر بلدیات نے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی کروڑوں روپے مالیت کی 30 ایکڑ اراضی نجی کوآپریٹو سوسائٹی کو الاٹ کیے جانے کا سختی سے نوٹس لے کر ڈی جی ایم ڈی اے عمران عطاسومرو کو فوری تحقیقات کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق گورننگ باڈی سے منظوری لیے بغیرنیشنل ہائی وے پر واقع اراضی کینجھر جھیل نامی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کو الاٹ کرنے کی تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی تھیں، ایم ڈی اے افسران کا نیشنل ہائی وے پر کروڑوں روپے کی 30 ایکڑ قیمتی اراضی نجی کوآپریٹو سوسائٹی کے نام پر ٹھکانے لگانے کا کھیل ناکام ہوگیا ذرائع ابلاغ میں کی گئی نشاندہی پر صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے اس کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے عمران عطا سومرو کو فوری تحقیقات اور کارروائی کی ہدایت کردی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی وزیر بلدیات کی ہدایت پر کارروائی کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل عمران عطا سومرو نے ایم ڈی اے کے ڈائریکٹر اسٹیٹ محمد عرفان اور ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ شاہد چوہان کو فوری طور پر عہدوں سے برطرف کرکے تحقیقات کی ہدایت کردی ہے جبکہ مذکورہ افسران کے ساتھ ساتھ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ناصر خان کیخلاف بھی کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ 30 ایکڑ اراضی کی مبینہ خلاف ضابطہ الاٹمنٹ کیلیے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ناصر خان نے اہم کردار ادا کیا تھا اور محکمہ جاتی نوٹ شیٹ میں اراضی کی الاٹمنٹ کی منظوری بھی دی تھی۔

واضح رہے کہ نیشنل ہائی وے پر نیو ملیر ہاؤسنگ اسکیم ون کے سیکٹر 12 میں موجود مذکورہ اراضی ایم ڈی اے نے مستقل کی منصوبہ بندی (فیوچر پلاننگ) کیلیے مختص کر رکھی ہے جسے ٹھکانے لگانے کا کام افسران نے برق رفتاری کے ساتھ کرتے ہوئے آخری مراحل تک پہنچا دیا تھا اور سائٹ پلان تک تیار کرلیا گیا تھا۔

تاہم ذرائع ابلاغ کی نشاندہی کے بعد ایم ڈی اے افسران کا قیمتی اراضی ٹھکانے لگانے کا منصوبہ بری طرح ناکام ہو گیا، ذرائع ابلاغ میں نشاندہی کے بعد ایم ڈی اے افسران اور سسٹم مافیا کا تیار کھیل خاک میں مل گیا، ایڈیشنل ڈی جی ناصر خان سمیت دیگر افسران کیخلاف بھی کارروائی کا امکان ہے۔

The post کروڑوں روپے کی اراضی ہتھیانے کا منصوبہ ناکام، 2 افسر برطرف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3owUvIx

حفیظ ہم شرمندہ ہیں

انسان کی سب سی بڑی دشمن انا ہوتی ہے، اس کی وجہ سے کوئی ناراضگی ہونے کے بعد بھائی بھائی سے زندگی بھر بات نہیں کرتا کہ میں بڑا ہوں کیوں پہل کروں، دوست دوست کا دشمن بن جاتا ہے،ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جنھیں کوئی سلام نہ کرے تو وہ ناراض ہو کراس کیلیے جینا دشواربنا دیتے ہیں،یہ انا اگر فنا نہ ہو تو بڑا نقصان بھی پہنچا دیتی ہے،بات صرف اپنی ذات تک رہے تو ٹھیک لیکن جہاں ملک کا نام آئے وہاں انا کو پس پشت ڈال دینا چاہیے۔

بدقسمتی سے یہاں ایسا نہیں ہوتا،بظاہر یہ عام سی بات محسوس ہوتی ہے کہ کرکٹرز ایک ایسے وزیر اعظم سے ملاقات کیلیے جائیں جو خود سابق کپتان ہونے کے ساتھ بورڈ کا سرپرست اعلیٰ بھی ہو،ان کے تجویز کردہ نئے ڈومیسٹک سسٹم سے سیکڑوں کرکٹرز بے روزگار ہوئے اور مشکل زندگی گذار رہے ہیں، ظاہر ہے یہ بات کوئی ہاکی کا کھلاڑی تو جا کر نہیں بتاتا،بدقسمتی سے پی سی بی میں کسی کی یہ ہمت نہ تھی کہ وہ وزیر اعظم سے کہتا کہ سر پاکستان اور آسٹریلیا کی آبادی و حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے،ان کا سسٹم ہمارے یہاں نہیں چل سکتا، جب مصباح الحق، محمد حفیظ اوراظہر علی نے ایسا کیا تو لوگ سمجھ گئے کہ ان کا بْرا وقت اب شروع ہو چکا ہے،ملاقات کے درمیان میں ہی انھیں بولنے نہیں دیا گیااوربار بار بورڈ حکام ٹوکتے رہے تھے۔

مصباح کو بعد میں چیف سلیکٹر کی پوسٹ سے محروم ہونا پڑا، اب کوچنگ بھی الٹی میٹم کی زد میں ہے، اظہر سے ٹیسٹ کپتانی چھن گئی،اگر وہ انگلینڈ میں سنچری نہ بناتے تو اب کمنٹری کررہے ہوتے، ان تینوں میں سے محمد حفیظ بورڈ کیلیے لوہے کا چنا ثابت ہوئے کیونکہ ان کے پاس سینٹرل کنٹریکٹ ہی نہیں تھا، وہ سچ بولنے کے بھی شوقین ہیں، سابق کرکٹرز بھی جس موضوع پر بات کرتے ہوئے ڈریں حفیظ کھل کراظہار خیال کر جاتے ہیں، کرکٹ کے ’’بادشاہ سلامت‘‘ چاہتے ہوئے بھی ان کیخلاف کوئی ایکشن نہ لے پاتے، میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ حفیظ کے حوالے سے بورڈکو بس ایک موقع کا انتظار ہے جو جیسے ہی ملا وہ ٹیم سے باہر ہو جائیں گے، ان کا بیٹ مسلسل رنز اگل رہا ہے کارکردگی کی بنیاد پر تو ڈراپ نہیں کیا جا سکتا تھا لہذا اب ٹی 10لیگ کے معاملے کو جواز بنا کر اپنی انا کو تسکین پہنچا دی گئی،معاملہ کچھ یوں ہے کہ پی سی بی نے3 فروری سے کھلاڑیوں کو بائیوببل میں رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، حفیظ نے درخواست کی کہ انھیں 5 تاریخ تک کا وقت دیا جائے۔

اگر ان کی ٹیم فائنل میں نہ پہنچی تو وہ واپس آ جائیں گے، بعد میں معاملہ 4 فروری تک پہنچ گیا، بورڈ حکام نے صبح آنے کو کہا حفیظ نے جواب دیا کہ فلائٹس دستیاب نہیں لہٰذا وہ شام تک آئیں گے،چونکہ انھیں نکالنے کا اس سے اچھا کوئی جواز نہیں مل سکتا تھا لہذا اسی بات کا فائدہ اٹھایا گیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ حفیظ کی بورڈ کو ای میلز بعض میڈیا کے نمائندوں کو بھی لیک کی گئیں،اف ایسی سیاست وہ بھی اپنے کھلاڑی کے ساتھ، بورڈ کے کچھ آفیشلز اگر سیاست میں آئیں تو بڑوں بڑوں کو پیچھے چھوڑ دیں۔

کرکٹ میں ان اوچھی حرکات کا نقصان تو ملک کو ہی ہوگا، وہ تو جنوبی افریقہ کی بی یا سی ٹیم پاکستان سے ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلے گی، آسٹریلیا سے ہوم میچز کی وجہ سے بیشتر اسٹارز دوسرے ٹیسٹ کے بعد واپس چلے جائیں گے،بصورت دیگر جیتنا ہی مشکل ہوجاتا، اب تو کمزور حریف کیخلاف امید ہے فتح میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی، یہ وہ محمد حفیظ ہیں جنھوں نے کیریبیئن لیگ چھوڑی، لنکا لیگ بھی کھیلنے نہیں گئے،کروڑوں کا نقصان کیا مگر پاکستان کرکٹ کو ترجیح دی اس کا صلہ انھیں یہ ملا، بورڈ نے سینٹرل کنٹریکٹ سے تو محروم رکھا ہوا ہی تھا، پہلے تو ادائیگی بھی سی کیٹیگری کے مطابق ہوتی تھی، اب ٹیم سے بھی باہر ہو گئے،یہ ہو کیا رہا ہے،کون سا ملک اپنے سپراسٹارز کے ساتھ ایسا کرتا ہے، حفیظ اگر کسی اور ٹیم میں ہوتے تو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا، وہ ان دنوں اپنے کیریئر کی بہترین فارم میں ہیں، انھوں نے آخری15 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 5 نصف سنچریوں کی مدد سے 619 رنز بنائے، اوسط 88 کی رہی، اس میں نیوزی لینڈ کے خلاف99 ناٹ آؤٹ کی یادگار اننگز بھی شامل تھی۔

بورڈ نے انھیں اپنے ایوارڈز میں بھی نظر انداز کیا،2020میں وہ دنیا کے نمبر ون بیٹسمین ثابت ہوئے اور10میچز کھیل کر83 کی اوسط سے 415 رنز بنائے، بیٹ چلے تو ٹھیک زبان نہیں چلنی چاہیے، بورڈ رات کے وقت بولے کہ دن ہے تو آپ بھی ہاں میں ہاں ملائیں، ایسے میں پرفارم نہ بھی کریں تو چل جاتا ہے لیکن اگر سچ بولنے کا سوچا تو پھر وہی حال ہوگا جو حفیظ کا ہوا، آپ یہ سوچیں کہ اتنا پرفارم کرنے والے کھلاڑی کو کوئی عزت نہیں دی جا رہی تو اس بورڈکا حال کیا ہوگا،پروٹیز سے پہلا ٹی ٹوئنٹی11 فروری کو ہونا ہے،دوسرا ٹیسٹ 8 تاریخ کو ختم ہو گا، کپتان بابر اعظم سمیت کئی کھلاڑی اس کے بعد ہی اسکواڈ کوجوائن کریں گے، ٹی 10 لیگ کا فائنل 6 فروری کو شیڈول ہے، حفیظ تو اس سے پہلے ہی آنے کو تیار تھے۔

آرام سے 3 دن کا قرنطینہ مکمل کرکے اسکواڈ کو جوائن کر سکتے تھے، جنوبی افریقی ٹیم کو تو پاکستان آنے کے اگلے دن سے کراچی جیمخانہ میں پریکٹس کر رہی تھی، ایسے میں اپنے کھلاڑی کو بھی تھوڑی رعایت دے دیتے تو کیا ہو جاتا، بڑے لوگوں کی انا چھوٹی نہیں ہونی چاہیے،کرکٹ بورڈ کیلیے کھلاڑی اپنی اولاد کی طرح ہوتے ہیں، کون سے ماں باپ اپنے بچوں کو انتقام کا نشانہ بناتے ہیں، ابھی آپ اقتدار میں ہیں جو چاہیں کریں کوئی نہیں پوچھے گا لیکن جب عہدوں سے الگ ہوں گے تو کسی کو آپ کے نام تک یاد نہیں ہوں گے، البتہ حفیظ یا دوسرے کھلاڑی ہمیشہ کرکٹ کی تاریخ میں موجود رہیں گے، بورڈ کو وہ پسند نہیں تواس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، حفیظ ہم شرمندہ ہیں کہ اپنے ملک میں آپ جیسے ہیرے کی کوئی قدر نہیں ہے۔

The post حفیظ ہم شرمندہ ہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3apEteg

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...