Urdu news

Wednesday, 31 March 2021

سندھ حکومت آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر سے ناراض

 کراچی: آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر نے براہ راست وفاقی حکومت کو خط کیوں لکھا، وزیر اعلی سندھ نے اظہار ناراضگی کیا ہے۔

صوبائی محکمہ داخلہ نے آئی جی پولیس مشتاق مہر کو خط لکھ کر مجاز اتھارٹی کی ناراضگی سے آگاہ کیا اور خط میں کہا ہے کہ مستقبل میں اس قسم کے اقدامات سے گریز برتا جائے۔

آئی جی سندھ نے تیس مارچ کو اسٹبلشمنٹ ڈویژن کو خط ارسال کیا تھا جس میں بعض پولیس افسران کی خدمات وفاقی حکومت کو واپس لینے کی سفارش کی تھی۔

محکمہ داخلہ نے آئی جی سندھ کے اس خط کو خلاف قانون قرار دیا اور کہا کہ آئی جی سندھ نے گورنمنٹ رولز آف بزنس 1986 کی صریحا خلاف ورزی کی ہے۔ محکمہ داخلہ نے آئی جی سندھ پولیس کو لکھے گئے تنبیہی خط میں کہا ہے کہ وفاق اور دیگر صوبائی حکومتوں کو وزیر اعلی سندھ کی منظوری بغیر خط نہیں لکھاجاسکتا ہے لہذا مستقبل میں اس طرح کے اقدامات سے گریز کیا جائے۔

The post سندھ حکومت آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر سے ناراض appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3sFRxUT

ہیرات میں کاربم دھماکے اورطالبان کے حملے میں 6 سیکیورٹی اہلکار ہلاک

کابل: افغان صوبے ہیرات میں بم دھماکے اور طالبان کے سیکیورٹی فورسز پر حملے کے نتیجے میں 6 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

افغان میڈیا کے مطابق صوبے ہیرات میں طالبان کے سیکیورٹی فورسز پر حملے اور بم دھماکے کے نتیجے میں 6 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ ہیرات کے گورنر وحید قتالی نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان نے پشتون زرغون، شندند اور اوبے ضلع میں سیکیورٹی فورسز پر حملے کیے، چیک پوسٹ پر حملے کے بعد انٹیلجنس ایجنسی کے دفتر پر کار بم دھماکا کیا گیا جس میں 4 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

گورنر ہیرات وحید قتالی کے مطابق طالبان کے حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر جوابی کارروائی کی جس کے باعث متعدد طالبان بھی مارے گئے تاہم ابھی تک طالبان کی جانب سے ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

دوسری جانب پولیس چیک پوسٹ پر بم دھماکے کے نتیجے میں 2مزید  اہلکار ہلاک ہوگئے اور دیگر زخمی ہوگئے جن کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

The post ہیرات میں کاربم دھماکے اورطالبان کے حملے میں 6 سیکیورٹی اہلکار ہلاک appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3fDXr50

دورۂ جنوبی افریقہ، مشن امپاسیبل

گزشتہ ہفتے 21 کھلاڑیوں اور 13 آفیشلز پر مشتمل گرین شرٹس کی قومی کرکٹ ٹیم کا دستہ چارٹرڈ طیارے کے ذریعے جنوبی افریقہ پہنچ چکا ہے۔ جہاں قومی کرکٹ ٹیم میزبان جنوبی افریقہ کے خلاف 3 ون ڈے میچز کے علاوہ 4 مختصر فارمیٹ کے ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں نبردآزما ہوگی۔

ایک ایسے موقع پر جب عالمی وبا کورونا کے خوف کے باعث انگلینڈ کی ٹیم اپنا دورۂ جنوبی افریقہ ادھورا چھوڑ کر وطن واپس چلی گئی تھی اور آسٹریلین کرکٹ بورڈ نے تو جنوبی افریقہ کے دورے سے معذرت ہی کرلی تھی، پی سی بی کا دورۂ جنوبی افریقہ کےلیے اپنی ٹیم بھیجنا قابل تحسین ہے۔ ماضی میں پاکستان اس سے قبل تامل ٹائیگرز کے خودکش بم دھماکوں کے باوجود سری لنکا میں کرکٹ کی بحالی کےلیے اپنی ٹیم بھیج کر ثابت کرچکا ہے کہ پاکستان اور اس کے کھلاڑی کرکٹ کے فروغ کےلیے ہر گھڑی تیار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب سری لنکن ٹیم پر لاہور میں حملے کے بعد پاکستان میں عالمی کرکٹ کے دروازے بند ہوئے تھے تو سری لنکا ہی وہ واحد ملک تھا جس نے مکمل سیریز کےلیے اپنی ٹیم پاکستان بھیج کر احسان کا بدلہ اتار دیا تھا۔

جنوبی افریقہ کا دورہ گرین شرٹس کےلیے آپریشن امپاسبل سے کم نہیں ہے۔ روانگی سے قبل کپتان بابراعظم کے مینجمنٹ کے ساتھ اختلافات کی خبریں، داغدار ماضی کو اپنی سزا سے دھونے والے شرجیل خان کو رگڑا دینے کی باتوں کے علاوہ مصباح الحق اور وسیم خان کے درمیان جاری سرد جنگ کی گرم ہواؤں نے اس ٹور کو کھلاڑیوں کےلیے بہت مشکل بنادیا ہے۔ ایک طرف میزبان سائیڈ پاکستان کےلیے اپنے ہوم گراؤنڈ پر ہمیشہ سخت حریف ثابت ہوئی ہے تو دوسری جانب گرین شرٹس کی کارکردگی بھی جنوبی افریقہ کے میدانوں میں عدم تسلسل کا شکار رہی ہے۔ ماسوائے 2013-2014 کی ون ڈے سیریز کی فتح کے، جو مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان نے جیتی تھی، اور برصغیر کی پہلی ٹیم ہونے کا اعزاز حاصل کیا کہ جس نے جنوبی افریقہ کو اس کے میدانوں میں وائٹ بال کے مقابلوں میں شکست سے ہمکنار کیا تھا۔ حالیہ دورۂ جنوبی افریقہ میں بھی وائٹ بال کے مقابلے ہی کھیلے جائیں گے۔

گرین شرٹس کے دورۂ جنوبی افریقہ کا آغاز 2 اپریل کو سینچورین پارک میں کھیلے جانے والے پہلے ون ڈے میچ سے ہوگا۔ جبکہ دوسرا ون ڈے جوہانسبرگ میں کھیلا جائے گا۔ جس کے بعد جنوبی افریقہ کے اسٹار پلیئرز کاگیسو ربادا، کوئینٹن ڈی کوک، لونگی نگیڈی، ڈیوڈ ملر اور اینرچ نورٹجی انڈین پریمیئر لیگ کےلیے بھارت روانہ ہوجائیں گے۔ جبکہ تیسرا ون ڈے سینچورین پارک میں شیدولڈ ہے، جس میں جنوبی افریقہ مذکورہ بالا کھلاڑیوں کے متبادل کے طور پر نئے کھلاڑیوں کو موقع دے گا۔ شاید یہی وہ نکتہ ہے جس کی بنیاد پر مصباح الحق اس دورے میں گرین شرٹس کی کامیابی کے حوالے سے کافی پرامید نظر آتے ہیں۔ اگر مصباح الحق ایسا سوچ رہے ہیں اور انہوں نے یہی سوچ کھلاڑیوں میں منتقل کی ہے تو پھر کھلاڑیوں کی کارکردگی بھی اسی سوچ کے گرد گھومے گی۔ دعا ہے کہ قومی ٹیم سیریز میں کامیابی حاصل کرے مگر خدانخواستہ ایسا نہ ہوا تو پھر مصباح الحق اور ان کی ٹیم کہاں کھڑی ہوگی؟ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔

جنوبی افریقہ کے مشن امپاسبل کے بعد قومی کرکٹ ٹیم زمبابوے جائے گی جہاں تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کے ساتھ دو ٹیسٹ میچ بھی کھیلے جائیں گے۔ بظاہر یہ دونوں سیریز انتہائی آسان نظر آرہی ہیں مگر جنوبی افریقہ سے زیادہ اگر زمبابوے کو اس کے ہوم گراؤنڈ پر ترنوالہ سمجھنا انتہائی بے وقوفی ہوگی۔

غیرملکی دورہ خاص طور پر آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، انگلینڈ اور جنوبی افریقہ میں ہونے والی سیریز ماسوائے چند ایک سیریز کے گرین شرٹس کےلیے ہمیشہ ہی مشن امپاسبل رہی ہے، چاہے مخالف ٹیم کو اپنے اسٹارز کھلاڑیوں کی خدمات حاصل ہوں یا نہیں، دونوں صورتوں میں ہمارے بہترین بلے باز رنز کی تلاش میں سرگرداں رہے۔ بولرز وکٹوں کے حصول کےلیے تگ و دو میں مصروف عمل رہے، جبکہ فیلڈنگ کی اصل خامیاں تو ہمیں انہی ممالک میں پتہ لگتی ہیں۔

مصباح الحق کی حد سے زیادہ خوداعتمادی سے کھلاڑیوں کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ایک طرف خوف ناک عالمی وبا کورونا کا ڈر تو دوسری جانب مصباح الحق کا پراعتماد عزم کہیں کھلاڑیوں کے اعتماد کو متنزل ہی نہ کردے۔ اگر جنوبی افریقہ کے دورے پر جانے سے قبل بڑھکیں مارنے کے بجائے روایتی انداز میں اچھی کارکردگی دکھانے کے عزم کا ارادہ کرکے میدان میں اترتے تو شاید کھلاڑیوں پر وہ پریشر نہیں ہوتا جو مصباح الحق کے ریمارکس کی بدولت کھلاڑیوں کے دل و دماغ پر ایک بوجھ کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ اب جنوبی افریقہ کا دورہ گرین شرٹس کےلیے مشن امپاسبل سے کہیں آگے نکل چکا ہے، اور اس دورے کو مشکل بنانے میں محمد وسیم اور مصباح الحق کے اختلافات کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ بطور چیف سلیکٹر محمد وسیم اپنی اہمیت اور اثرورسوخ کی رونمائی چاہتے ہیں تو دوسری جانب مصباح الحق گرین شرٹس کو اپنی مرضی کی کرکٹ کھلانا چاہتے ہیں۔ جبکہ ہمارا شاندار ماضی اس بات کا غماز ہے کہ کھلاڑیوں کے پاور پلیئز کے آگے کسی کی بھی نہیں چلی۔ تو پھر دورۂ جنوبی افریقہ کو مشن امپاسبل کا نام دینا بالکل درست معلوم ہوتا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ میدان میں اترنے والی ٹیم کس کے گیم پلان پر عمل کرے گی، اور سیریز میں ناکامی کا طوق کون اپنے گلے میں باندھے گا، جبکہ کامیابی کا ہما کس کے سر پر بیٹھے گا۔ بظاہر یہ تین ملکوں کے مابین کرکٹ کے مقابلے ہیں، مگر اس سے کہیں زیادہ یہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی ٹیم مینجمنٹ کی اہم شخصیات کے مابین مفادات کی جنگ بھی ہے، جو بہرحال کسی ایک کی ناکامی اور کسی ایک کی کامیابی پر ختم ہوگی۔ مگر شائقین کرکٹ کو ان شخصیات کی جنگ سے زیادہ گراؤنڈ میں اپنی ٹیم کی اچھی کارکردگی سے غرض ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

The post دورۂ جنوبی افریقہ، مشن امپاسیبل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3ubLeZr

کورونا لاک ڈاؤن پابندیوں کی وجہ سے شادی جلدی کرنی پڑی، عثمان مختار

کراچی: پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور اداکار عثمان مختار شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔

ڈراما سیریل ’’انا‘‘، ’’ثبات‘‘ اور فلم ’’جانان‘‘ میں اپنی جاندار اداکاری سے لوگوں کے دلوں میں گھر کرنے والے اداکار عثمان مختار شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔

اداکار نے اپنے نکاح کی تصاویر انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کیں۔ تصاویر میں عثمان مختار سفید کرتے پاجامے میں ملبوس نظر آئے جب کہ ان کی اہلیہ زنیرہ انام خان ٹی پنک کلر کے لہنگے میں نہایت حسین لگ رہی تھیں۔

شادی میں کورونا ایس او پیز کا بھی خیال رکھا گیا تھا۔ دلہا اور دلہن سمیت نکاح خواں اور دیگر مہمان ماسک پہنے ہوئے نظر آئے۔

عثمان مختار نے تصاویر شیئر کرتے ہوئے اپنی اہلیہ کے لیے انتہائی خوبصورت کلمات لکھے ’’زنیرہ انعام خان مجھے اس زمین کا سب سے خوش نصیب آدمی بنانے کے لیے آپ کا شکریہ۔ میں نے طویل عرصے سے اتنی خوشی محسوس نہیں کی ہے۔ تم میرے ساتھ ان لمحات میں کھڑی رہیں جب میں پریشان تھا۔ تم میری چٹان میرا سہارا بنیں اور خوشی کے لمحات کو تیز کردیا میں بہت خوش نصیب ہوں۔‘‘

اسی پوسٹ میں عثمان مختار نے اپنے مداحوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’ڈیئر ورلڈ آج میں نے سماجی دوری کا خیال رکھتے ہوئے ایک چھوٹی سی محفل میں ایک حیرت انگیز خاتون سے شادی کی ہے۔ ہماری شادی 2 اپریل کو طے تھی لیکن یکم اپریل سے لاک ڈاؤن پابندیوں کی وجہ سے ہمیں شادی جلدی کرنی پڑی۔ ہم نے اپنے ٹیسٹ کروائے اور تمام ایس او پیز کو بھی فالو کیا۔ ہم دونوں کو آپ کی دعا اور نیک تمناؤں کی ضرورت ہے۔‘‘

اداکار عثمان مختار کی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتے ہی تیزی سے وائرل ہوگئیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ لوگ ان کی بیوی زنیرہ انعام خان کو معروف اداکارہ کبریٰ خان سے مشابہت کی وجہ سے کبریٰ خان کی بہن قرار دے رہے ہیں۔

The post کورونا لاک ڈاؤن پابندیوں کی وجہ سے شادی جلدی کرنی پڑی، عثمان مختار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2QXj5Hm

بورے والا میں خوفناک حادثہ؛ ایک ہی خاندان کے 8 افراد جاں بحق

بورے والا: لڈن روڈ پرایک کارتیزرفتاری کے باعث ٹرک سے ٹکرا کرتباہ ہوگئی جس کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق ہوگئے۔

بورے والا میں لڈن روڈ پرکارتیزرفتاری کے باعث ٹرک سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق ہو گئے۔

ریسکیو ٹیم کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے افراد میں 2 مرد، 3 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں۔ مرنے والوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔

The post بورے والا میں خوفناک حادثہ؛ ایک ہی خاندان کے 8 افراد جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/39xo7Rh

اس شیطانی جوتے میں انسانی خون موجود ہے

 نیویارک: مشہورِ زمانہ جوتے بنانے والے کمپنی نے ایک امریکی ریپر گلوکار پر مقدمہ کیا ہے جس نے انسانی لہو کے حامل انتہائی متنازعہ جوتے متعارف کرائے ہیں اور اس پر کئی شیطانی علامات بھی بنائی گئی ہیں۔

بروکلِن میں آرٹ کلیکٹر کمپنی ایم ایس سی ایچ ایف نے اسے ’شیطانی جوتے‘ کا نام دیا گیا ہے جس کے تلے میں اصل انسانی خون کا ایک قطرہ بھی موجود ہے۔ اس کی قیمت 1,018  ڈالر رکھی گئی ہےاور جوتے کے ایک کنارے پر لیوک 10:18 لکھا گیا ہے۔ اس ڈیزائن کے صرف 666 جوڑے ہی بنائے گئے ہیں۔

ریپر گلوکار لل ناس ایکس کے مطابق انسانی لہو والے سارے جوتے فوری طور پر فروخت ہوگئے، تاہم انہوں نے نائکی ایئرمیکس 97 کے ڈیزائن میں تبدیلیاں کی تھیں اور اسی بنا پر نائکی نے ان پر مقدمہ دائر کردیا ہے۔ انہوں نے عدالت میں کہا ہے کہ ایم ایس سی ایچ ایف نے ان کا لوگو بھی تبدیل کردیا ہے۔

مقدمے کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایم ایس سی ایچ ایف نے اپنی کمپنی اور نائکی کے درمیان غلط فہمی اور الجھاؤ کا تاثر دیا ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ دونوں کمپنیوں کے درمیان کوئی معاہدہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ اس جوتے کی فروخت سے ایک ہفتہ قبل امریکی گلوکار لل ناس ایکس نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں ایک گانے ’کال می بائے یور نیم‘ میں وہ فرضی شیطان کے ساتھ رقص کرتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ ایک منظر میں وہ شیطان سے اس کے سینگ چرالیتے ہیں۔

جوتے کے تلے میں دو اونس سرخ روشنائی بھری ہوئی ہے جس میں ایک قطرہ انسانی خون بھی شامل ہیں۔ یہ جوتے انہوں نے ایک جگہ سے خریدے اور اس کے ڈیزائن میں بنیادی اور متنازعہ تبدیلیاں کرکے انہیں ’شیطانی جوتوں‘ کا نام دیا ہے۔

The post اس شیطانی جوتے میں انسانی خون موجود ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3cDdPko

نارنجی چہرے والی نئی مکڑی کوفلمی کردار’نیمو‘ کا نام دیدیا گیا

 میلبورن: ایک شہری سائنسدان کو جنوبی آسٹریلیا کی آبگاہ میں ایک نئی قسم کی مکڑی دکھائی دی جس کا چہرہ شوخ نارنجی رنگ کا تھا۔ اس کی رنگت کو دیکھتے ہوئے اسے پکسار اینی میشن فلم ’فائنڈنگ نیمو‘ کی کلاؤن فِش ’نیمو‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس طرح اس کا پورا نام میراٹس نیمو قرار پایا ہے۔

اس نوع کا تعلق پی کاک اسپائیڈر سے ہے جو ناچتی اور تھرکتی رہتی ہیں۔ اس کا چہرہ نارنجی ہے اور اس پر سفید دھاری ہے۔ اس پر چار خوبصورت روشن آنکھیں ہیں۔ اس کی رنگت کلاؤن فش کی طرح ہے اور اسی بنا پر نودریافت مکڑی کو نیمو کا نام دیدیا گیا ہے۔

اب سے قبل سائنس اس خوبصورت مخلوق سے ناواقف تھی۔ سب سے پہلے آسٹریلیا کی فوٹوگرافر اور مکڑیوں کے شوقین شیرل ہولیڈے نے اس کی تصاویر گزشتہ برس کے لاک ڈاؤن میں اتاری تھیں اور انہیں فیس بک پر رکھا تھا۔ اس پر میلبورن کے میوزیم آف وکٹوریا کے ماہرِ جوزف شوبرٹ کی نظر پڑی۔

جوزف کے مطابق شاید یہ مکڑی کی نئی قسم تھی جس کے تحت انہوں نے شیرل سے رابطہ کیا اور انہیں کچھ مکڑیاں پکڑ کر بھیجیں۔ جوزف نے تجربہ گاہ میں اس کا بغور تجزیہ کیا۔ جوزف اس سے قبل پی کاک اسپائیڈر کی کئی اقسام دریافت کرچکے تھے اور کئی کے نام رکھ چکے تھے۔

شیرل نے جوزف کو چار نر اور ایک مادہ مکڑی کے نمونے بھیجے جو 20 نومبر 2020 کو موصول ہوئے۔ اس پر طویل تحقیق کے بعد اسے نئی مکڑی قرار دیا گیا اور اس کی تفصیلات 25 مارچ 2021 کو ایوولوشنری اسٹیسٹکس میں شائع ہوئی ہیں۔ اب اسے میراٹس نیمو کا نام دیا گیا ہے۔ اس مکڑی کے نر کے جسم کی رنگت گہری کتھئی ہوتی ہے، چہرہ شوخ نارنجی ہوتا ہے اور اس پر افقی سفید لکیریں ہوتی ہیں۔ اس طرح آسٹریلیا میں دریافت ہونے والی پی کاک نسل کی یہ بیانوے ویں قسم ہے جن کی اکثریت گزشتہ دہائی میں شناخت کی گئی ہیں۔

واضھ رہے کہ یہ مکڑی اتنی چھوٹی ہے کہ یہ چاول کے دانے سے بڑی نہیں اور اس کے نر ملاپ کے وقت والہانہ رقص کرتے ہیں۔

The post نارنجی چہرے والی نئی مکڑی کوفلمی کردار’نیمو‘ کا نام دیدیا گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3ftOpaL

شکر بچوں کی دماغی نشوونما متاثر کرسکتی ہے

جارجیا: دکانوں اور اسٹور میں سجی رنگ برنگی ٹافیاں اور مشروبات بچوں کو اپنی طرف لبھاتی ہیں اور وہی ان کے دماغ کی دشمن بھی ہوسکتی ہیں۔

بچے اندھا دھند میٹھا کھاتے ہیں جس سے وہ موٹاپے اور دل کی بیماریوں کے شکار ہوسکتے ہیں لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ اس سے ان کی دماغی صلاحیت بالخصوص یادداشت شدید متاثر ہوسکتی ہے۔

یہ تحقیق جارجیا یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے سائنسدانوں نے کی ہے۔ انہوں نے اس کے اہم تجربات چوہوں پر کئے ہیں۔ چونکہ فعلیاتی طور پر چوہے انسانوں کے قریب ہوتے ہیں اور ان پر تحقیق کا اطلاق انسانوں پر بھی ہوتا ہے۔ جب نوجوان اور بچے چوہوں کو ضرورت سے زائد شکر دی گئی تو نہ صرف اسی عمر میں ان کی یادداشت اور دماغی صلاحیت متاثر ہوئی بلکہ اس کے اثرات جوانی میں بھی دیکھے گئے۔ مزید تحقیق پر معلوم ہوا کہ آنتوں میں بیکٹیریا کی کیفیات بدل جاتی ہیں جس سے یادداشت متاثر ہوتی ہے۔

تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ شکر کھانے سے معدے اور آنتوں میں  پیرابیکٹیریوٹوئڈز قسم کے بیکٹیریا کی تعداد غیرمعمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔ اس سے معدے میں تندرست جرثوموں کا تناسب و توازن بگڑجاتا ہے۔ یہ بیکٹیریا دماغی سرگرمی کو متاثر کرسکتا ہے۔

اس لیے ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر بچوں اور نوعمروں میں شکر کی مقدار دس فیصد بھی کم کردی جائے تو اس سے بھی یادداشت اور دماغ کو بہت فائدہ ہوتا ہے۔ بالخصوص 9 سے 18 سال تک کی عمر کے بچے اور نوجوانوں حد سے زیادہ چینی بدن میں اتاررہے ہیں جس کی وجہ انرجی ڈرنکس، سافٹ ڈرنکس اور دیگر میٹھے مشروبات ہیں۔

The post شکر بچوں کی دماغی نشوونما متاثر کرسکتی ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/39tGMgD

باؤنسی پچز پر پیس ہتھیار گرین شرٹس کے منتظر

 لاہور: جنوبی افریقہ میں باؤنسی پچزپر پیس ہتھیارگرین شرٹس کے منتظر ہیں تاہم ہوم ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں زیر کرنے والی پاکستان ٹیم جمعے کو پروٹیز کے دیس میں پہلی آزمائش سے گزرے گی۔

جنوبی افریقی ٹیم نے رواں سال جنوری فروری میں پاکستان کا دورہ کیا تھا، میزبان نے دونوں ٹیسٹ کے بعد تینوں ٹی ٹوئنٹی میچز میں بھی فتح حاصل کی،یوں پروٹیز جیت کو ترستے ہوئے وطن واپس گئے،اب گرین شرٹس جنوبی افریقہ میں موجود ہیں، ون ڈے سیریز کا آغاز جمعے کو سنچورین میں ہوگا،اس کے بعد مزید 2ایک روزہ اور 4ٹی ٹوئنٹی میچز بھی شیڈول ہیں۔

پاکستان ٹیم لاہور میں انٹرا اسکواڈ میچز سمیت تربیتی کیمپ میں اپنی تیاریاں مکمل کرکے 26مارچ کو جوہانسبرگ روانہ ہوئی تھی، دورہ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے برعکس کھلاڑیوں اور معاون اسٹاف کا قرنطینہ طویل نہیں تھا مگر وہاں کنڈیشنز سے ہم آہنگی کیلیے زیادہ وقت بھی نہیں مل سکا۔

قومی کرکٹرزگذشتہ دونوں روز بھرپور پریکٹس سیشنز کرتے ہوئے بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں اپنی صلاحیتیں نکھارنے کیلیے سرگرم رہے،اس دوران میزبان ملک کی پیس اور باؤنس والی پچز سے مطابقت پیدا کرنے کی کوشش جاری رہی۔

کوچز نے خاص طور پر ٹاپ آرڈر پر بھرپور توجہ دیتے ہوئے آف اسٹمپ سے باہر جاتی گیندوں کے ساتھ باؤنسرز پر مشق کروائی، ماربل سلیب پر پڑ کر تیزی سے نکلنے والے گیندوں کا سامنا بھی کروایا گیا، پاور ہٹنگ کی خصوصی پریکٹس کا سلسلہ جاری رہا۔

گزشتہ روز تمام کھلاڑیوں کیلیے ٹریننگ لازمی نہیں تھی، اس لیے زیادہ تر نے آرام کو ترجیح دی، میدان کا رخ کرنے والوں میں سے ٹیل اینڈرز کو طویل پریکٹس کروائی گئی،حسن علی کے ساتھ چند نوجوان بولرز نے صلاحیتوں کو چمکایا، فیلڈنگ ڈرلز کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

دوسری جانب پلیئنگ الیون پر غور کیلیے ٹیم مینجمنٹ نے بھی سر جوڑ لیے، زمبابوے کیخلاف ہوم سیریز کا آخری میچ کھیلنے والے افتخار احمد، خوشدل شاہ، وہاب ریاض اور محمد موسی کا خلا پْر کرنے کیلیے مختلف ناموں پر غور کیا جا رہا ہے،محمد رضوان کو بطور اسپیشلسٹ بیٹسمین کھلاتے ہوئے پی ایس ایل میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہترین اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنانے والے وکٹ کیپر سرفراز احمد کوشامل کرنے کی تجویز پر عمل مشکل ہے۔

اوپنرز فخر زمان اور امام الحق، مڈل آرڈر میں بابر اعظم، حیدر علی، محمد رضوان کے ساتھ آصف علی،دانش عزیز میں سے کسی کو موقع ملے گا، آل راؤنڈرز میں شاداب خان اور فہیم اشرف، پیس بیٹری میں شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور حسن علی کو شامل کیے جانے کا امکان روشن ہے۔

پچ کو دیکھتے ہوئے عثمان قادر یا محمد نواز میں سے کسی ایک اسپنر کو کھلانے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے، زیادہ امکان یہی ہے کہ پاکستان 3فاسٹ بولرز اور ایک پیسرو آل راؤنڈر کے ساتھ میدان میں اترے گا۔

سپر اسپورٹس پارک سنچورین میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں 6بار مقابل ہوئی ہیں،ان میں سے گرین شرٹس نے 2میں فتح پائی، 4میں شکست کا سامنا کرنا پڑا،دونوں ٹیموں کااس میدان پر گذشتہ ٹاکرا جنوری 2019میں ہوا تھا،بارش زدہ میچ میں گرین شرٹس6وکٹ 317رنز بنانے کے باوجود ڈک ورتھ لوئیس میتھڈ پر 13رنز سے ہارگئی تھی، امام الحق کی سنچری بھی کسی کام نہیں آئی تھی۔

The post باؤنسی پچز پر پیس ہتھیار گرین شرٹس کے منتظر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3ucWRzg

جانسن اینڈ جانسن نے کووڈ ویکسین کی ڈیڑھ کروڑخوراکیں ضائع کردیں، تحقیقات متوقع

میری لینڈ: امریکی کمپنی جانسن اینڈ جانسن نے معیار پر پورا نہ اترنے کے باعث کورونا ویکسین کی ڈیڑھ کروڑ خوراکیں ضائع کردیں۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی کمپنی جانسن اینڈ جانسن نے ریاست میری لینڈ کے ایک پلانٹ میں تیارکی جانے والی ڈیڑھ کروڑکورونا ویکسین کومعیارپرپورا نہ اترنے کے باعث ضائع کردیا۔ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کی جانب سے بھی اس واقعے کی تحقیقات متوقع ہیں۔

کمپنی کے مطابق متعلقہ پلانٹ پرمزید ماہرین کو بھیجا جارہا ہے تاکہ ماہرین کی نگرانی میں ویکسین کا معیار اورحفاظت کو بہترین بنا یا جاسکے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: عالمی ادارہ صحت نے ایک ٹیکے والی جانسن اینڈ جانسن کی کورونا ویکسین کی منظوری دیدی

اس متعلق کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ کورونا وبا کے خلاف ویکسین کا معیارکمپنی کی اولین ترجیح ہے اورضائع کی گئی ویکسین اپنے تیارہونے ہونے کے آخری مراحل تک نہیں پہنچی تھی۔

واضح رہے کہ اب تک جتنی بھی کورونا ویکسنز زیراستعمال ہیں وہ ساری دو ٹیکوں پر مشتمل ہیں جب کہ جانسن اینڈ جانسن کی کورونا ویکسین پہلی ویکسین ہے جو صرف ایک خوراک پر مشتمل ہے یعنی اس کا ایک ہی ٹیکہ مہلک وائرس سے بچاؤ کے لیے کافی ہوگا۔

The post جانسن اینڈ جانسن نے کووڈ ویکسین کی ڈیڑھ کروڑخوراکیں ضائع کردیں، تحقیقات متوقع appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3whgk3P

بائیوسیکیورٹی پر فیکٹ فائنڈنگ پینل کی رپورٹ تاخیر کا شکارہوگئی

 لاہور:  پی ایس ایل6میں بائیوسیکیورٹی کی خلاف ورزیوں پر فیکٹ فائنڈنگ پینل کی رپورٹ تاخیر کا شکار ہوگئی۔

میڈیکل پینل کے سربراہ ڈاکٹر سہیل سلیم نے استعفیٰ دے دیا، بائیو سیکیورٹی کی ناکامی کے باقی ذمہ داروں کا تعین کرنے کیلیے 2رکنی فیکٹ فائنڈنگ پینل بنایا گیا تھا،اس میں وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر سید فیصل محمود اور ڈاکٹر سلمہٰ محمد عباس شامل ہیں۔

پینل کو فرنچائزز کے نمائندوں سمیت مختلف متعقلہ افراد سے حقائق جاننے کے بعد اپنی رپورٹ گذشتہ روز چیئرمین پی سی بی کے پاس جمع کروانا تھی، مگر بورڈ ترجمان کی جانب سے بتایا گیا کہ اب اس کیلیے رواں ہفتے کے آخر تک انتظار کرنا ہوگا۔

یاد رہے کہ پی ایس ایل میچز کو دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے پی سی بی نے تمام فرنچائزرز سے مجوزہ شیڈول پر مشاورت مکمل کرلی ہے۔

اگرچہ بائیو سیکیورٹی کیلیے غیر ملکی کمپنی سے معاملات بھی طے ہورہے ہیں مگر اس سے قبل ایونٹ کے التوا کا سبب بننے والے حقائق کو منظر عام پر لانا بھی ضروری ہے۔

The post بائیوسیکیورٹی پر فیکٹ فائنڈنگ پینل کی رپورٹ تاخیر کا شکارہوگئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2QRZ5pr

بورے والا میں خوفناک حادثہ؛ ایک ہی خاندان کے 8 افراد جاں بحق

بورے والا: لڈن روڈ پرایک کارتیزرفتاری کے باعث ٹرک سے ٹکرا کرتباہ ہوگئی جس کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق ہوگئے۔

بورے والا میں لڈن روڈ پرکارتیزرفتاری کے باعث ٹرک سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق ہو گئے۔

ریسکیو ٹیم کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے افراد میں 2 مرد، 3 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں۔ مرنے والوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔

The post بورے والا میں خوفناک حادثہ؛ ایک ہی خاندان کے 8 افراد جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/39xo7Rh

تنازع برقرار، فیفا کی ڈیڈ لائن ہوا میں اڑا دی گئی

 لاہور:  پاکستان فٹبال کا تنازع برقرار رہا، جب کہ یفاکی ڈیڈ لائن ہوا میں اڑا دی گئی۔

اشفاق گروپ نے ہفتے کو پی ایف ایف کے لاہور میں قائم ہیڈ کوارٹرز سے فیفا کی نامزد نارملائزیشن کمیٹی کو بے دخل کرتے ہوئے کنٹرول سنبھال لیا تھا، اس کارروائی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیفا نے وارننگ جاری کی تھی کہ مداخلت ختم کرکے بدھ کی رات 8بجے تک چارج نارملائزیشن کمیٹی کے حوالے نہ کیا گیا تو پاکستان کی معطلی جیسا سخت ترین قدم بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔

گزشتہ روزاشفاق گروپ نے ہیڈ کوارٹرز خالی کرنے سے انکار کردیا، ویڈیو پیغام میں انھوں نے واضح کیاکہ فیفا ہاؤس کا کنٹرول پاس رکھ کر کام چلاتے رہے گے، اب تک آنے والی تینوں نارملائزیشن کمیٹیز صرف مال بناتی رہی، 18 ماہ میں الیکشن کرانے کیلیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا، فیفا سے درخواست کرتے ہیں کہ یہ معاملات دیکھیں۔

ذرائع کے مطابق چیئرمین نارملائزیشن کمیٹی ہارون ملک فیفا کو تمام صورتحال سے ای میل کے ذریعے آگاہ کریں گے، موجودہ صورتحال میں پاکستان کی رکنیت 5سال کے لیے ختم کی جا سکتی ہے، اشفاق گروپ کے آفیشلز پر بھی فیفا کی طرف سے اب تاحیات پابندی عائد ہوسکتی ہے، اس صورتحال میں پاکستانی فٹبالرز، کوچز اور آفیشلز میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر پابندی لگ گئی تو پاکستان فٹبال کو بڑا نقصان ہوگا،فیفا سے مطالبہ ہے کہ ملک کے بجائے معاملات میں مداخلت کرنے والوں پر تاحیات پابندی لگائی جائے۔

The post تنازع برقرار، فیفا کی ڈیڈ لائن ہوا میں اڑا دی گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3diYYec

’بدمزاج‘ مانوساہنی کی چھٹی کا وقت قریب

 دبئی:  ’بدمزاج‘ مانوساہنی کی آئی سی سی سے چھٹی کا وقت آگیا، تحقیقات میں ملازمین نے چیف ایگزیکٹیو کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے تاہم بورڈ میٹنگ میں باضابطہ طورپر برطرفی کا اعلان متوقع ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے جنوری2019 میں مانو ساہنی کا بطور چیف ایگزیکٹیو تقررکیا تھا،وہ اس سے قبل سنگاپور میں ایک اسپورٹس مینجمنٹ کمپنی کے ایگزیکٹیو تھے،انگلش پریمیئر لیگ کلب مانچسٹر یونائیٹڈ کے غیرجانبدار ڈائریکٹر بھی رہ چکے۔

آئی سی سی میں ان کا دیگر ملازمین کے ساتھ رویہ اچھا نہیں تھا جس کی وجہ سے شکایتیں بڑھنے لگیں،ایسے میں آئی سی سی نے رخصت پر بھیجتے ہوئے انگلینڈ کی ایک فرم پرنس واٹرہاؤس کوپرز کو ساہنی کے خلاف کلچرل تحقیقات کی ذمہ داری سونپی، جس نے 10 مارچ کو اپنی مکمل رپورٹ آئی سی سی کو دے دی۔

چیف ایگزیکٹیو کو عائد الزامات اور تحقیقات کے نتائج پر بات کرنے کیلیے طلب کیا گیا مگر وہ نہیں آئے۔ اب بدھ سے شروع ہونے والے آئی سی سی بورڈ اجلاس میں ساہنی کو ملازمت سے برطرف  کیے جانے کا امکان ہے۔

غیرتصدیق شدہ رپورٹس کے مطابق خود ساہنی بھی اپنی جبری برطرفی کی صورت میں آئی سی سی کو قانونی نوٹس بھیجنے کو تیار بیٹھے ہیں، سنگاپور میں بھی ملازمت کے دوران ان پر خراب رویے کے الزامات عائد ہوئے تھے۔

دوسری جانب ساہنی کی جگہ نئے چیف ایگزیکٹیو کیلیے امیدواروں کے نام بھی سامنے آنا شروع ہوگئے،ان میں انگلش بورڈ کے چیف ٹام ہیریسن، ویسٹ انڈین جوناتھن گریویس اور ای سی بی کے ہی ڈائریکٹر ایونٹ اسٹیو ایلورتھی کا نام بھی شامل ہے۔ مانو ساہنی کی قسمت کا فیصلہ ہونے کے بعد آئی سی سی کا ایچ آر ڈپارٹمنٹ نئے چیف ایگزیکٹیو کی تقرری کا عمل شروع کرے گا۔

یاد رہے کہ بگ تھری بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ بھی ساہنی سے خوش نہیں تھے،وہ انھیں نئے نشریاتی دورانیے میں ہر سال ایک ورلڈ کپ کی تجویز کا ماسٹرمائنڈ سمجھتے ہیں۔

The post ’بدمزاج‘ مانوساہنی کی چھٹی کا وقت قریب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3rJNVjk

معدہ کا السر، وجوہات اور احتیاطی تدابیر

انسانی وجود کی صحت وتن درستی کا تمام تر انحصار متوازن خوراک اور نظام ہضم کی اعلیٰ کارکردگی پر سمجھا جاتا ہے۔

خوراک جس قدر متوازن، مقوی اور بھرپور ہوگی اسی قدر جسم میں توانائی اور قوت کا احساس ہوگا۔ کھائے جانے والی خوراک کا فائدہ بھی اسی وقت ہوتا ہے جب بدن کا نظام ہضم مضبوط اور مکمل کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والا ہو۔ فی زمانہ لذت اور مزے سے بھرپور پکوانوں کے استعمال سے نظام ہضم کسی خوش نصیب ہی کا مکمل طور پر فعال اور بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والا ہوگا۔

نظام ہضم کا تعلق ہمارے معدے سے ہے، ہم جو بھی کھاتے اور پیتے ہیں وہ سب سے پہلے معدے میں کیمیائی پروسس سے گزر کر دوسرے اعضاء تک پہنچ پاتا ہے۔ معدے کی کارکردگی جتنی مثالی اور عمدہ ہوگی ، ہماری صحت بھی اتنی ہی شاندار اور قابل رشک ہوگی۔ یوں تومعدے کے کئی ایک امراض ہیں جو بدن انسانی کو اپنی لپیٹ میں لے کر پریشانی کا سبب بنتے ہیں لیکن ان میں سب سے تکلیف دہ مر ض معدے کا زخم (السر ) ہے جس سے پورا بدن ہی متاثر ہوتا ہے۔

معدے کاالسر کیا ہے؟

معدہ کے السر  سے مراد معدہ کی حفاظتی جھلی  میں زخم کا بن جانا ہے۔ یہ زخم عمومی طور پر 5mm یا اس سے زیادہ بڑا ہو سکتا ہے اور معدہ کی اندرونی تہہ کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ معدہ کے السر کے بارے میں آگہی حاصل کرنے کے لئے معدہ کی ساخت کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔

انسان کی عمر اور السر میں تعلق

السر کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے۔ معدہ کا السر عام طور پر زیادہ عمر کے لوگوں مثلاً70-55 سال تک کی عمر میں ہوتا ہے جب کہ چھوٹی آنت کا السرنسبتاً کم عمر کے افراد یعنی30-55سال کی عمر میں ہوتا ہے۔ معدہ کے علاوہ ، السر چھوٹی آنت میں بھی ہو سکتا ہے۔

السر کیوں اور کیسے؟

ایسے افراد جو متواتر مرغن، تیز مسالے والی غذائیں،چٹ پٹے پکوان اور چٹخارے دار اشیاء کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ فاسٹ فوڈز، سموسے، پکوڑے، کولا مشروبات، بیکری مصنوعات، میدے سے بنی اشیاء، بریانی، بیگن، دال مسور اور بادی غذاؤں کے بکثرت استعمال سے بھی معدے میں ورم کی کیفیت ہوسکتی ہے۔ گوشت خوری،چائے ،کافی اور سگریٹ نوشی کی زیادتی سے بھی معدے میں تیزابی مادے بڑھ جاتے ہیں۔جب معدے کی تیزابیت مسلسل بڑھی رہے تو یہ معدہ کی حفاظتی جھلی کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے اور السر کا موجب بن سکتی ہے۔

تیزابیت کے علاوہ مندرجہ ذیل عوامل السر کا باعث بن سکتے ہیں۔ اینٹی بائیو ٹیک اور دردوں کی دوا کا زیادہ استعمال کرنے سے بھی معدے میں ورم کی کیفیت پیدا ہوجانے سے زخم بن کر السر کا روپ دھار لیتا ہے۔ دافع جسمانی درد، جوڑوں کی درد وغیرہ کیلئے دردوں کی دوائیاں (NSAIDs) گروپ کا استعمال زیادہ کرنے سے معدے کے السر کے ساتھ ساتھ جگر اور گردے بھی متاثرہونے کے امکانات رہتے ہیں۔ جدید میڈیکل سائنس کی رو سے H.Pilory بھی معدے کے السر کا ایک سبب بنتی ہے۔

ایچ پیلوری ایک جراثیم ہے جو معدہ اور چھوٹی آنت کے السر کا باعث بن سکتا ہے یہ جراثیم بہت عام ہے اور تقریباً دنیا کی آدھی آبادی کو متاثر کیے ہوئے ہے۔یہ جراثیم حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل نہ کرنے کے باعث ، گندی آب و ہوا، آلودہ پانی یا غیر معیاری خوراک استعمال کرنے سے پھیلتا ہے۔بلا کے سگریٹ نوش حضرات بھی السر کے خطرے کی زد میں رہتے ہیں۔ سگریٹ نوشی اورشراب نوشی کے استعمال سے السر ٹھیک ہونے کے بعد دوبارہ ہونے کا خطرہ بھی لاحق رہتا ہے۔ اسی طرح پان اور نسوار کا استعمال کرنے والے افراد بھی معدے کے السر کے نشانے پرہوسکتے ہیں۔

السر کی علامات

معدہ میں درد، السر کی بیماری کی سب سے اہم علامت ہے اور 90-80% لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ بھوک کی کمی اور متلی کی کیفیت معدہ کے السرسے متاثر لوگوں میں اکثر پائی جاتی ہے۔ چھوٹی آنت کے السر میں دو تہائی افراد میں درد  رات کو ہوتی ہے اور پیٹ سے کمر کی طرف جا سکتی ہے۔ قے کا بار بار آنا اور وزن کا مسلسل کم ہونا خطرے کی علامت ہے اور معدے کا کینسر یا معدہ کے خارجی راستے کی رکاوٹ کی نشان دہی کرتی ہے۔ اگر السر مندمل نہ ہو تو پیچیدگی کی صورت اختیار کر سکتا ہے اور مریض کو خون کی اُلٹی یا سیاہ پاخانے بھی آسکتے ہیں۔

السر کی تشخیص

جسب کسی کو السر کا مسئلہ پیش آتا ہے تو معدے میں مسلسل درد،جلن ، قے،ابکائیاں اور بعض حالات میں خون کی الٹی بھی آنے لگتی ہے۔ السر کے مریض کی بھوک بھی تقریباً ختم ہوجاتی ہے۔ پانی پینے سے بھی معدے میں دکھن کا احساس ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جدید لیبارٹریز کے تحت السر اور اس کی وجوہات کی تشخیص کیلئے کئی ٹیسٹ کئے جا سکتے ہیں لیکن السر کی تشخیص کا سب سے بہتر طریقہ  اینڈو سکوپی ہے۔ اس ٹیسٹ کی مدد سے اس بات کا تعین کیا جا سکتا ہے کہ السر معدہ یا چھوٹی آنت میں ہے۔

السر سے بچاؤ

امراض کے خلاف ہماری غذا ہی بہترین ہتھیار ثابت ہوسکتی ہے۔ اگر ہمیں غذاؤں کے انتخاب اور مناسب استعمال سے آگاہی ہو جائے۔ کچی سبزیاں اور موسمی پھلوں کا بکثرت استعمال معدے کے السر سمیت تمام بیماریوں سے بچاؤ کا بہترین قدرتی طریقہ ہے۔ ہماری غذا میں جس قدر ریشے دار غذائیں شامل ہوں گی، اسی قدر تیزابی مادے کم بنیں گے، السر پیدا ہونے کی سب سے بڑی وجہ تیزابیت بنتی ہے۔ جب معدے میں تیزابی مادے ہی نہیں بنیں گے تو السر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اسی طرح خالی پیٹ تیز قدموں کی سیر اور ورزش کو معمول میں شامل رکھنا بھی السر کے حملے سے محفوظ بناتا ہے۔

کھانے کے ساتھ کولڈ ڈرنکس پینے کی عادت ترک کردینے سے بھی السر کے خطرات کم ہوجاتے ہیں۔ گوشت پکاتے وقت سبزی شامل کر لینے سے بھی کئی ایک معدے کے مسائل سے تحفظ ملتا ہے۔سرخ مرچ،تیز مسالے،تلی اور بھنی ہوئی غذاؤں سے بھی گریز السر کی شکایت سے محفوظ بناتا ہے۔ بغیر کسی خاص مسئلے کے دافع درد ادویات کے استعمال سے بھی بچنا چاہیے۔ کیونکہ جسمانی درد کی دوائیاں خاص کرNSAIDs گروپ کے مبینہ مسلسل استعمال سے نہ صرف معدے اور انتڑیوں کا السر پیدا ہوتا ہے بلکہ جگر اور گردوں کو  مبینہ طور پرناکارہ بھی یہی ادویات بناتی ہیں۔ دافع  درد کی ادویات کا استعمال اگر  ناگزیر ہوں تو ماہر معالج کے مشورہ سے متبادل دوائیاں استعمال کریں۔

H.Pylori جراثیم معدہ کی بیماریوں خصوصی طور پر السر کی ایک اہم ترین وجہ ہے غیر معیاری بازاری کھانوں سے پرہیز کیا جائے اور صاف تازہ پانی کا استعمال کیا جائے۔ جتنا ممکن ہوسکے چائے ،سگریٹ اور شراب نوشی سے پرہیز کریں۔ اگر عادت سے مجبور ہوں تو خالی پیٹ چائے یا سگریٹ پینے سے اجتناب کیا جائے۔ تیز سرخ مرچ مسالے دار مرغن کھانے اور آلودہ پانی کے استعمال سے اجتناب کریں۔ اگر معدے میں تیزابی مادے بڑھ جائیں تو فوری جلاب آور ادویات کا استعمال کر کے معدے اور انتڑیوں کو فاسد مادوں سے پاک کریں۔

کھانا بھوک رکھ کر کھائیں، رات کا کھانا سونے سے 2 سے3گھنٹے پہلے کھائیں۔ موسمی پھل، پھلوں کے جوسز اور سبزیاں  قدرے زیادہ استعمال کریں۔کچی سبزیاں کھیرا ، ٹماٹر، پیاز، بند گوبھی، مولی، گاجر اور سلاد کے پتے بطور سلاد دوپہر کے کھانے میں لازمی شامل کریں۔ ناشتے میں جو اور گندم کا دلیہ شامل کرنا بھی معدے کے کئی ایک مسائل سے بچاتا ہے۔گنے کی گنڈیریاں، قدرتی مشروبات جیسے صندل، الائچی، عناب، آلو بخارا وغیرہ کا استعمال بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔

تفکرات، اداسی، ٹینشن، سٹریس اور ڈپریشن سے بھی معدے میں تیزابی مادوں میں اضافہ ہوتا ہے اور نتیجتاََ السر پید اہوکر زندگی کو اجیرن بنادیتا ہے۔ لہذا روز مرہ کی زندگی میں فکر ، پریشانی ، ٹینشن اور فضول سوچنے کے طرز عمل اور اداس رہنے سے گریز کر یں۔ہم امید کرتے ہیں کہ آپ ہماری معروضات کو اپنا کر مثالی صحت کا حصول ممکن بنائیں گے۔

The post معدہ کا السر، وجوہات اور احتیاطی تدابیر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3dnhQbX

نکسیر کی وجوہات اور اس کا علاج

نکسیر ناک سے خون کے بہنے کی ایک کیفیت کا نام ہے۔ یہ گرم علاقوں کا ایک عام مرض ہے۔

اس مرض میں ناک کی باریک اور چھوٹی نالیوں پر دباؤ بڑھ جانے سے اوپر والی جھلی پھٹ جاتی ہے اور خون بہنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ خون کبھی قطروں کبھی دھار کی صورت میں بہتا ہے۔ موسم گرما میں یہ تکلیف زیادہ ہوتی ہے تاہم موسم سرما میں بھی ہو جاتی ہے۔

عام طور پر چھوٹی عمر کے بچے اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ یہ بذات خود کوئی بیماری نہیں بلکہ دیگر کئی ایک بیماریوں میں سے کسی ایک بیماری کے ہونے کی علامت ہے۔ ناک کی کچھ ایسی بیماریاں بھی ہیں جن کی وجہ سے ناک سے خون جاری ہو سکتا ہے۔

(1)۔ جن میں ناک کے اندر لگنے والا زخم یا کوئی بیرونی چوٹ۔(2)۔کوئی باہر سے گھسی ہوئی شے۔ (3)۔ ناک کی رسولیاں یا ۔۔۔ (4)۔ ناک کی پرتوں میں کیڑے پڑ جانا۔ (5)۔ خناق۔ (6)۔ چیچک یا خسرہ جیسی خطرناک بیماریاں اور ایسی بیماریاں شامل ہیں جن سے خون کی نالیاں پھیل جاتی ہیں۔ (7)۔ بلڈ پریشر میں زیادتی۔ (8)۔ خون کا سرطان۔ (9)۔ بہت زیادہ بلندی سے چھلانگ لگانے سے یا زیادہ گہرے سمندر کی تہہ میں جانے سے بھی نکسیر جاری ہو جاتی ہے۔

بچوں کی نکسیر پھوٹنے کے حوالے سے عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ نکسیر پھوٹنا یا ناک سے خون بہنے کا سبب گرمی یا بلڈ پریشر ہے۔ طبی نقطہ نظر سے نکسیر پھوٹنے کا سبب بچوں کی ناک کے اندر خون لے جانے والی نسوں کا کمزور پڑ جانا ہے۔ اس عارضے میں مبتلا بچوں کی ناک کی نسیں پھول جاتی ہیں اور ذرا سی ٹھیس سے خون بہنے لگتا ہے۔ تاہم کچھ بچوں کا مرض خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ناک سے بہتا خون دیکھنا مریض کے لیے اور دیکھنے والوں اور گھر والوں کے لیے بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اکثر اوقات مریض اور گھر والے گھبرا جاتے ہیں اس وقت مریض میں بیماری کی وجوہات تلاش کرنے کے بجائے مریض کے سر پر ٹھنڈا پانی ڈالنا چاہیے۔ اس سے خون رک جاتا ہے اور اگر پھر بھی نہ رکے تو ناک پر برف کے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھنی چاہئیں۔ اس وقت بجائے گھبرانے کے مریض کو تسلی دینا چاہیے کیونکہ زیادہ خون بہنے سے اچھی سے اچھی صحت کے مالک کا بھی بلڈ پریشر کم ہو سکتا ہے۔ خون رکنے کے بعد مریض کو کوئی ٹھنڈا مشروب گھونٹ گھونٹ پلانا چاہیے۔ آئس کریم کھلانی چاہیے۔

نکسیر گرم علاقوں کا ایک عام مرض ہے لیکن اگر بچوں کو یہ مرض بار بار ہو تو بچے کو کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھائیں۔ بچوں کو ان کے مستقبل کے لیے بھی اور ویسے بھی مستقل اور بھرپور علاج کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ مستقبل میں انھیں خون کی کمی یا سانس کا عارضہ لاحق ہونے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ بچے کی بار بار نکسیر پھوٹنے کی وجہ اس کے سر، گردن یا پھر ناک کا کوئی مسئلہ ہو۔

نکسیر کی وجوہات

سر میں اجتماع خون۔ (2)۔ناک کے اندر مقامی تکلیف۔ (3)۔مردوں میں اکثر نکسیر بواسیری خون کے بند ہونے سے پیدا ہوتی ہے اور نوجوان عورتوں میں حیض نہیں آتا بلکہ نکسیر بہنے لگتی ہے۔ عمر کے بڑے افراد میں خاص طور پر مزاجی حالات کے ماتحت نکسیر کبھی کبھی دورے کی صورت میں ایک خاص عرصے کے بعد پیدا ہوتی رہتی ہے۔ ایسی حالت میں بغیر مناسب علاج کے نکسیر کا بند ہو جانا خطرے کا پیش خیمہ ہے۔

بچوں کی نکسیر پھوٹنے کے اسباب میں سر یا ناک پر چوٹ لگنا یا فریکچر بھی ہو سکتا ہے۔ بچوں کی عادت ہوتی ہے وہ بار بار ناک میں انگلی ڈالتے ہیں جس کے باعث ناک میں زخم اور سوجن آ جاتی ہے۔ اکثر سانس کی تکالیف میں مبتلا بچوں کو ناک میں کیے جانے والے اسپرے کے باعث ناک میں جلن اور سوزش ہوتی ہے، بچے ناک کو رگڑتے ہیں جس سے رگیں یا نسیں متاثر ہوتی ہیں اور ناک سے خون بہنے لگتا ہے۔ نکسیر پھوٹنے کی ایک وجہ ناک کی ہڈی میں کوئی مسئلہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ الرجی سے بھی بچوں کی ناک میں انفیکشن ہو جاتا ہے۔

بڑی عمر کے افراد میں نکسیر کی وجہ ہائی بلڈ پریشر کا مرض ہو سکتا ہے۔ نکسیر کا پھوٹنا اچھی بات نہیں ہے۔ اس سے کمزوری لاحق ہو جاتی ہے۔ نکسیر عموماً ناک کے اندر ورم وغیرہ سے ہوتی ہے۔ بعض دفعہ حرارت جگر اور وبائی بخار اور بچوں میں پیٹ کے کیڑے بھی اس کا سبب ہوتے ہیں۔ جب نکسیر پھوٹنے والی ہوتی ہے تو سر میں گرمی اور خشکی معلوم ہوتی ہے ناک نتھنوں میں، حلق میں سوزش اور گرمی اور خشکی معلوم ہوتی ہے اور بعض دفعہ خارش محسوس ہوتی ہے۔

کمزور بچوں میں پیٹ میں کیڑے پڑ جانے سے ہو تو بچہ بار بار ناک نوچتا ہے ۔ بعض اوقات دھوپ میں چلنے سے پان چباتے ناک کو کھجانے، چھینک آنے یا روز سے کھنکھارنے سے فوراً نکسیر پھوٹ پڑتی ہے۔ بعض دفعہ بغیر کسی حرکت کے ناک میں سوزش ہو کر نکسیر جاری ہو جاتی ہے اور ناک سے خون بہنے لگتا ہے اور بعض دفعہ بلڈشوگر ہونے کی وجہ سے بھی نکسیر پھوٹ پڑتی ہے۔

نکسیر پھوٹنے سے بچاؤ اور علاج

(1)۔ بچے کے دونوں ہاتھ اور سر کو اوپر اٹھائیں۔  (2)۔ سر، گردن اور منہ پر سادے یا ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ماریں اور پیشانی پر پانی ڈالیں۔ (3)۔ بچے کو سادے پانی میں ذرا سا نمک گھول کر پلائیں، سر کو اونچا کرکے 10 سے 15 منٹ کے لیے لپیٹ دیں۔ (4)۔چھوٹے بچے جو اسکول جاتے ہیں وہ سر پر گیلا کپڑا رکھیں۔ (5)۔ ناک کے ساتھ زیادہ چھیڑ خانی نہ کریں۔ خیال رکھا جائے کہ بچہ بار بار ناک میں انگلی نہ ڈالے۔ بعض بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بار بار ناک میں انگلی ڈالتے ہیں۔(6)۔گرمی کے دنوں میں دوپہر میں نہیں بلکہ صبح و شام ٹھنڈے وقت میں باہر نکلیں۔ (7)۔گرم اشیا کا زیادہ استعمال نہ کریں (مچھلی، گائے کا گوشت وغیرہ)  نکسیر پھوٹنے کی صورت میں انگلی اور شہادت کی انگلی سے ناک کے نتھنوں کو دونوں طرف سے کچھ دیر تک دبا کر بند کردیں۔ سر اور ماتھے پر برف رکھیں موسم گرما میں ٹھنڈے مشروبات پئیں۔ چھینک آنے کی صورت میں منہ کھول کر چھینکیں تاکہ ناک پر زیادہ زور نہ پڑے۔

دیسی علاج

نکسیر پھوٹنے کے فوراً بعد نیم کے پتے یا اجوائن پیس کر سر میں لگانا بھی خاصا مفید ثابت ہوتا ہے۔ رس دار پھل، دودھ، دہی اور پانی والی ٹھنڈی ترکاریاں جیسے لوکی، شلجم اور مولی وغیرہ کھائیں۔

نسخہ الشفا

ملتانی مٹی 12 گرام، برادہ صندل 3گرام، دھنیا خشک 3 گرام، کافور 1گرام۔

تمام ادویات کو عرق گلاب میں نہایت باریک پیس کر محفوظ کرلیں۔

استعمال: تالو کے مقام سے بالوں کو دور کرکے لیپ کریں اور کھدر کے کپڑے کی گدی رکھ دیں اور اس پر تھوڑی تھوڑی دیر میں پانی ڈالتے رہیں۔

روئی سے نتھنوں کو بند کردیں۔

ہومیو پیتھک ادویات

(1)۔نیٹرم نائیٹریلمNat Rum Nat

(2)۔ملی فولیم       Mille Folium

(3)۔فیرم فاس     Ferrum Phos 6x

(4)۔امبروسا       Ambrosa

(نوٹ) اگر زیادہ نکسیر آنے کی وجہ سے کمزوری ہو جائے تو Chinaچائنا۔

تمام دوائیں ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں۔n

The post نکسیر کی وجوہات اور اس کا علاج appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2PoU0of

شہد کی مکھیوں کے بغیر شہد، گائے بھینس کے بغیر دودھ، کیسے ممکن ہے ؟

ملی باؤ نامی کمپنی کے بانی اور چیف ایگزیکٹیو ڈارکو مانڈچ ایک ’ویگن‘ (vegan) ہیں، یعنی کہ وہ نہ صرف سبزی خور ہیں بلکہ جانوروں کے جسم سے نکلنے والی کوئی بھی چیز جیسے کہ دودھ یا انڈے بھی نہیں کھاتے مگر ان کا کہنا ہے کہ ’ ایک ویگن ہونے کے ناتے مجھے شہد بہت یاد آتا ہے۔‘

یہ تو کوئی ایسی عجیب بات نہیں کہ ویگن لوگوں کو مخصوص کھانوں کی یاد ستاتی ہو مگر حیران کن بات یہ ہے کہ ڈارکو نے اس مسئلے کا حل کیا نکالا ہے۔

ڈارکو نے ایک ایسا شہد تیار کیا ہے جو کہ ہر طرح سے عام شہد جیسا ہے مگر اس کی تیاری میں شہد کی مکھیوں کا استعمال بالکل نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ جب آپ شہد کی تیاری کے عمل کو دیکھیں تو اس کی شروعات تب ہوتی ہے جب شہد کی مکھیاں پھولوں سے پولن اور نیکٹر جمع کرتی ہیں اور پھر اسے شہد کے بنیادی عناصر فرکٹوز اور گلوکوز میں تبدیل کرتی ہیں۔ ہم نے لیبارٹری میں مائیکرو آرگنزمز کے استعمال سے اسی عمل کو کاپی کیا ہے۔‘

گزشتہ چند سالوں میں پودوں سے بنے گوشت اور ڈیری (دودہ دہی وغیرہ) کے متبادل کافی مقبول ہوتے جا رہے ہیں مگر زیادہ تر لوگوں کے لیے ابھی یہ متبادل ذائقے، غذا کا ٹیکسچر، یا استعمال کی آسانی کے حوالے سے ابھی عام گوشت یا ڈیری اشیا کی طرح عام نہیں ہوئے ہیں مگر اب ملی باؤ جیسی متعدد کمپنیاں ویگن اشیا پر فرمنٹیشن کا عمل لگا کر یہ کوشش کر رہی ہیں کہ وہ پودوں کی مدد سے ایسے متبادل بنائیں جو کہ ہر لحاظ سے اصل اشیا جیسے ہوں۔

فرمنٹیشن کے عمل کے ذریعے، مائیکرو آرگنزمز قابلِ نوش ذرات کو ہضم کر کے مفید اجزا نکالتے ہیں جیسے یسٹ کو شوگر کے ذرات کو استعمال کرتے ہوئے الکوحل بناتی ہے جو کہ بیئر بنانے میں استعمال ہوتا ہے مگر مائیکرو آرگنزمز کو صحیح انداز میں چن کر اور انھیں مخصوص اجزا دے کر یہ ممکن ہے کہ ایک مختلف چیز تیار کی جا سکے جیسے کہ شہد، یا دودھ یا انڈے کی سفیدی۔

یہ طریقہ کار استعمال کرنے والی ایک کمپنی لندن میں موجود ’بیٹر ڈیری‘ کے نام سے ہے جو کہ یسٹ یعنی خمیر کی فرمنٹیشن کے ذریعے دودھ اور پنیر تیار کر رہی ہے۔ اس کے بانی جیون نگراجا کہتے ہیں کہ ’ جیسے یسٹ کو بیئر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ہم اسے تھوڑا سا تبدیل کر کے اس سے وہ چیز تیار کرواتے ہیں جو ہم چاہیں۔ ٹیکنالوجی یسٹ کا استعمال کرتے ہوئے اسے ہم تبدیلی کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور ہمارے کیس میں ہم اس سے ڈیری اشیا بنا رہے ہیں۔‘

سان فرانسسکو میں کلارا فوڈز نامی کمپنی اسی طریقے سے انڈے کی سفیدی تیار کر رہی ہے اور انھیں امید ہے کہ 2028 تک وہ دنیا میں انڈے کی پروٹین تیار کرنے والی سب سے بڑی کمپنی بن جائیں گے۔ اس کے بانی آرٹورو ایلیزونڈ کہتے ہیں کہ ’ ہماری مخصوص فرمنٹیشن ٹیکنالوجی ہمیں روایتی انڈوں کے مقابلے میں ذائقے، ٹیکسچر، اور کھانے کے استعمال کے حوالے سے بہتر انڈے تیار کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔‘

اس سب سے ویگن لوگ تو خوش ہو ہی رہے ہیں مگر ایسی تیار کردہ اشیا کے ماحولیاتی فوائد بھی ہو سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق گوشت اور ڈیری اشیا کی تیاری دنیا میں گرین ہاؤس گیسز کی پیداوار کا 14.5 فیصد لگ جاتا ہے۔ ادھر ماہرین کا دعویٰ ہے کہ دنیا میں شہد کی بڑھتی ہوئی مانگ شہد کی مکھیوں کی کئی اقسام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

ڈارکو کہتے ہیں کہ کمرشل بنیادوں پر شہد کی مکھیوں کی ایک قسم پالنے سے دیگر اقسام کو نقصان پہنچ رہا ہے اور جنگلی شہد کی مکھیاں ناپید ہو رہی ہیں۔ اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ ان طریقوں سے تیار کردہ ڈیری اشیا کو پہلے دوسری اشیا کے اجزا کے طور پر استعمال کیا جائے بجائے اس کے کہ انھیں براہِ راست بوتلوں میں ڈال کر صارفین کو دیا جائے۔ ڈارکو کہتے ہیں کہ مارکیٹ میں بکنے والے شہد کا دو تہائی دیگر اشیا کی تیاری میں استعمال کے لیے بکتا ہے جیسے کہ اشیائے خور و نوش، کاسمیٹکس، یا ادویات کی صنعت۔ تو بطور ایک کمپنی ہمارا پہلے ماڈل بزنس سے بزنس سیلز کا ہے۔ ہمارے پاس ابھی سے 15 کمپنیاں ہیں جنھوں نے ہم سے مال خریدنے کی خواہش کا اظہار کر دیا ہے۔‘

انھیں توقع ہے کہ اس سال کے آخر تک وہ اپنی پہلی کھیپ مارکیٹ میں بھیج چکے ہوں گے۔ بیٹر ڈیری نامی کمپنی کی بھی ایسی ہی سٹیریٹجی ہے۔ کمپنی ابھی کمرشل بنیادوں پر فروخت کے عمل سے قدرے زیادہ دور ہے مگر انھیں یقین ہے کہ وہ زیادہ مقدار میں پیداوار حاصل کر سکیں گے اور وہ ابھی بڑے بڑے ریسٹورانٹس کو فروخت میں دلحسپی رکھتے ہیں۔

’ اگر آپ پیزا ہٹ یا مکڈونلڈز کے بارے میں سوچیں تو آپ کو پنیر کی ضرورت ہے جو کہ ایک مخصوص انداز میں پگھلتا ہے، تو ایسے میں ایک ایسا پنیر تیار کرنا جو ویگن بھی ہو اور پکانے کے دوران پگھلتے ہویے سٹارچ اور تیل نہ بن جائے، تیار کرنا بہت مشکل ہے۔‘

مگر کمرشل بنیادوں پر فروخت میں ایک مسئلہ یہ آئے گا کہ آپ ایسی اشیا کو کہیں گے کیا؟ کیا یہ واقعی دودھ، شہد، یا انڈے ہیں؟ کمپنیوں کو امید ہے کہ حکام ان کے نظریے اس اتفاق کریں گے۔ نگاراجا کہتے ہیں کہ’ یہ مولیکیولر سطح پر ایک جیسے ہیں تو انھیں ایسے ہی پکارا جانا چاہیے۔ مگر اگر ہمیں کوئی اور نام چننا پڑا تو بھی ٹھیک ہے۔‘

ایک دلچسپ امکان یہ بھی ہے کہ فرمنٹیشن سے بنائے گئی اشیا شاید اصل سے بھی بہتر ہوں۔ مثال کے طور پر کوئی وجہ نہیں ہے کہ شہد کی پیداوار میں آپ منوکا قسم کے شہد کی بالکل صحیح کاپی تیار نہ کر سکیں جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے صحت حوالے سے بہت سارے فوائد ہیں اور اس کی قیمت عام شہد سے تقریباً ایک سو گنا ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ دودھ اور پنیر میں بھی ایسے ہی امکانات ہیں۔ لاکٹوز کی بھی دودھ میں ضرورت نہیں ہے اور جو لوگ لاکٹوز والی مصنوعات کو استعمال نہیں کر سکتے، وہ بھی عام دودھ استعمال کر پائیں گے۔ اس طریقہ کار سے تخلیقی عمل کے بے شمار نتائج ہوسکتے ہیں۔ فی الحال جیون نگراجا کہتے ہیں کہ ابھی تو میں صرف شہد کھا رہا ہوں چاہے تھوڑی سی مقداد میں ہی سہی۔ ‘میں نے کل 23ویں تجربے سے تیار کیا جانے والا شہد چکھا ہے۔‘

ایما وولاکوٹ

( بشکریہ بی بی سی )

The post شہد کی مکھیوں کے بغیر شہد، گائے بھینس کے بغیر دودھ، کیسے ممکن ہے ؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3cD2y3x

فاسٹ فوڈز سے پرہیز کیوں ضروری ہے؟

بین الاقوامی اور ملکی سطح پر اکثر نوعمر اشخاص کو’ فاسٹ فوڈ ز ‘ تناول کرتے دیکھا جاتا ہے،اب یہ ایک ایسی عادت بن چکی ہے کہ اس سے معاشرے کو مکمل طور پر بچانا ممکن نہیں ہے، علاوہ ازیں ایک بڑی تعداد نے باہر کی تیارکردہ قہووں اور چائے کا بے جا استعمال کرنا عادت کے طور پر اپنا لیا ہے۔

مسائل کی ابتداء اس امر سے ہوتی ہے جب ہمیں یہ معلوم نہ ہوکہ جو اشیائے خورونوش ہمارے زیرِ استعمال ہیں ، ان کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں۔ پھر یہ کہ کیا ان کا استعمال درست موقع پر ہی کیا گیا ہے یا بے ڈھنگے طور پر کیا گیا ۔ مثلاً قہوہ بنانے کی خاص ترکیب یہ ہے کہ پہلے ابلے ہوئے پانی میں جس شے کا قہوہ تیار کرنا ہو ڈالیں ، اب ٹھہر کر اس محلول کو ہلکی آنچ پر جوش دیں تا وقتیکہ آدھا یا چوتھائی حصّہ پانی رہ جائے، اب ہلکا سا ٹھنڈا کر کے پئیں۔

اس طرح کھانوں میں بھی کچھ کھانے ایسے ہیں، جن میں تیل یا گھی میں پہلے لہسن یا پیاز کو سرخ کر لیں پھر باقی ماندہ  اشیا ء ڈالی جائیں، مگر ہوٹلوں وغیرہ میں یہ ضروری نہیںکہ موقع کا لحاظ رکھتے ہوئے اجزا ڈالے جائیںاور درست طور پر جب پک جائے تو گاہکوں کو دیں۔ علاوہ ازیں یہ کہ مختلف اجزاء مختلف درجہ حرارت پر پکتے ہیں، مثلاً یہ درست نہیںکہ جس درجہ حرارت پر گوشت پکے اسی درجہ حرارت پر مصالحے بھی پکیں۔وہ اجزاء پھر کچے رہ جاتے ہیں، اس لیے داخلِ شکم ہونے کے بعد یا تومعدہ کو متازی کرتے ہیںیا بغیر ہضم ہوئے آنتوں کی طرف چلے جاتے ہیں۔

یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ لحمیات (پروٹین) معدے ہی میں ہضم ہوتے ہیں ورنہ پروٹین نہیں جسم میں جذب ہو پاتے اور بہت زیادہ کھانے کے باوجود بذریعہ بول وبرازجسم سے خارج ہوجاتے ہیں۔ یادرہے کہ کھانا امعاء میں زیادہ وقت ٹھہر جاتا ہے۔

امعاء کے چار حصے ہیں ، امعاء دقیق ، امعاء صاعد، امعاء نازل اور امعاء تعرعض ۔ یہ بڑی آنتوں کے حصے ہیں، چھوٹی آنت سے خوراک جب بڑی آنت تک پہنچتی ہے، اس وقت تک کاربوہائی ڈریٹ اور اسٹارچ ہضم ہوچکے ہوتے ہیں۔ اب بڑی آنتوں میں غذاء پہنچنے پر ’فائبر ‘کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ خوراک بندھ جائے اور فضلے کے طور پر خارج ہو سکے۔ افسوس یہ کہ فاسٹ فوڈز ان فائبر سے یا تو خالی ہوتے ہیں یا ان میں اس قدر قلیل فائبر پائے جاتے ہیں کہ اپنا فعل انجام نہیں دے پاتے۔

فاسٹ فوڈز نقصان کیوں دیتے ہیں؟

کسی بھی خوراک کا اجزائے ترکیبی کا امتزاج یا مزاج درست نہ ہو ، وہ نقصان دیتے ہیں۔کوئی ذی شعور یہ نہیں کہہ سکتا کہ نقصان کا مطلب فوری طور پر قے ، قبض، بسط (اسہال) کا لاحق ہونا ہے، بلکہ سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہم سمجھ رہے ہوں کہ بچوں نے یا ہم نے خوراک بڑی موزوں اور قوت بخش لی ہے، مگر درحقیقت وہ جزوِ بدن نہ بن رہا ہو اور انسان لاغری کی منازل طے کر رہا ہو۔

ہمہ وقت یہ موقع ہاتھ آیا کہ باورچی حضرات کے ہنر کی تصیح کی جائے مگر ان کے الفاظ ’ہم نے پردادا جان سے سیکھا ہے‘، مایوس لوٹنا پڑا اور جوان بالخصوص بڑھتے بچوں کو ’کولڈ ڈرنکس ‘ کے ہمراہ یہ خوراک تناول کرتے دیکھ کر از خود جذباتی ہونا پڑاکہ جب سینڈوچ کی طرف دھیان کیا تو ڈبل روٹی پر آنچ درست طور پر نہیں دی گئی تھی، جب برگر بننے کے طریقے پر نظر کی تو دیکھا کہ کم گھی میں پکایا گیا، جب مرغ پر نگاہ کی تو شیور کی نکلی ، جب گوشت پکنے کے طریقے کا خیال کیا تو دیکھا اس قدر تیز آنچ پر پکایا جا رہا تھا کہ ساری غذائیت برباد ہو گئی اور چکھا تو اتنی خشکی ہوئی کہ کولڈ ڈرنک کا استعمال نا قابلِ فراموش پایا، پھر سمجھ آیا کہ ہوٹل کولڈ ڈرنکس بیچنے میں کس طرح معاون ہیں۔

فاسٹ فوڈز کے صحت و شخصیت  پر  اثرات

1۔  موٹاپا : لحمیات کا کم ہضم اور کاربوہائی ڈریٹ کا بالمقابل زیادہ جزوِ بدن بننے کی وجہ سے موٹاپا ہوجاتا ہے۔

2۔ بال گرنا : خوراک میں مزاج کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے خشکی کا عارضہ ہونا بال گرنے کا سبب بنتا ہے۔

3۔ قبض: ڈبل روٹی ، بن وغیرہ پر تیل ؍ گھی  کی کم مقدار میں پکانے کے وجہ سے ان کی آنتوں میں موجود پانی جذب کرنے کی کیفیت بڑھ جاتی ہے ، جس سے آنتوں میں خشکی اور قبض عارض ہوتی ہے۔

4۔ اسہال: مرچ مصالحے کی زیادتی تاکہ کھانا چٹ پٹا بنے ، کچھ جگہ نہایت کمی تاکہ اپنی پروڈکٹ منفرد لگے، اسہال کا سبب بنتے ہیں۔

5۔ بچوں کے قد بڑھنے میں کمی: خوراک کے تمام اجزاء پکنے میں نا تمام ہونے کی وجہ سے جگر پر برا اثر پڑتا ہے لہذا بیماری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے بچوں کا قد ٹھیک طور پر بڑھ نہیں پاتا۔

6۔ ہڈیوں کی کمزوری: اکثر فاسٹ فوڈز اس قدر خشکی پیدا کرتے ہیںکہ کولڈ ڈرنکس کی ضرورت پڑتی ہے ، لہذا تیزابیت بڑھنے کی وجہ سے معدے میں ریح بھر جاتی ہے اور پیٹ پھول جاتا ہے ۔ کولڈ ڈرنکس ہڈیاں کمزور کرتی ہیں کیونکہ ’ فاسفورس‘ جو ہڈی کے گودے کا خاص جز ہے کمی کی طرف چلا جاتا ہے۔

فاسٹ فوڈ کی اصلاح کیسے کریں؟

1۔ ورزش کی عادت اپنائیں، ایسے فاسد پکے ہوئے کھانے کی اصلاح کے لیے محض چلنا پھرنا کافی نہیں ہوتا، قدیم حکماء کے نزدیک ورزش کی اصطلاح کا استعمال سانس پھولنے اور پسینہ آنے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

2۔ روزانہ یا خصوصاً جس دن  فاسٹ فوڈ تناول کریں اس شب کاسرِ ریاح قہوے مثلاً دارچینی کا قہوہ استعمال کریں۔

3۔ خالص دودھ کا استعمال کریں تاکہ تیزابیت مندمل ہو جائے، بکری یا گائے کا دودھ زیادہ مناسب ہے۔

4۔ بہتر ہے کہ کھانے پر ہلدی یا تر کٹا ( سفوف ہموزن سونٹھ، لمبی مرچ اور فلفل سیاہ) چھڑک لیں تاکہ بہت جلد ہضم ہواور معدے پر بوجھ نہ ہو۔

The post فاسٹ فوڈز سے پرہیز کیوں ضروری ہے؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/39z56Oj

سابق انٹرنیشنل ٹینس کھلاڑی خواجہ سعید حئی انتقال کرگئے

 کراچی: سابق انٹرنیشنل ٹینس کھلاڑی خواجہ سعید حئی انتقال کر گئے۔

91 سالہ سعید حئی طویل عرصے سے علیل تھے،وہ پاکستان کے نمبر ون کھلاڑی رہے اور ڈیوس کپ میں ملک کی نمائندگی بھی کی،انھوں نے1955 میں ومبلڈن اوپن ٹینس چیمپئن شپ میں شرکت کی تھی اورفرنچ اوپن میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی۔

5 مارچ 1930 کو پیدا ہونے والے خواجہ سعید حئی علی گڑھ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی،وہ 1953 میں پروفیشنل ٹینس کھلاڑی بنے تھے،مرحوم نے سواگوران میں پہلی اہلیہ سے 4بیٹیاں اور دوسری اہلیہ سے 2بیٹے اور 2بیٹیاں چھوڑی ہیں۔

The post سابق انٹرنیشنل ٹینس کھلاڑی خواجہ سعید حئی انتقال کرگئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3cGSCWI

کراچی؛ سینڈزپٹ پر سمندرمیں نہاتے ہوئے نوجوان ڈوب گیا

 کراچی: ہاکس بے سینڈزپٹ پرسمندرمیں نہاتے ہوئے نوجوان ڈوب گیا جسے فوری طور پرریسکیو اہلکاروں نے نیم بیہوشی کی حالت میں نکال کر قریبی اسپتال منتقل کردیا۔

ہاکس بے سینڈزپٹ کے قریب سمندرمیں نہاتے ہوئے ایک نوجوان ڈوب گیا جسے فوری طور پرریسکیو اہلکاروں نے نیم بے ہوشی کی حالت میں نکال کر ایدھی ایمبولینس کے ذریعے قریبی اسپتال منتقل کردیا جہاں نوجوان کی شناخت18 سالہ حمیرولد عبدالرحمن کے نام سے کر لی گئی۔

نوجوان شیر شاہ کا رہائشی ہے اوردوستوں کے ہمراہ پکنک پر آیا تھا جہاں وہ تیزلہروں کی نظر ہو گیا تھا تاہم فوری طور پر نوجوان کو سمندر سے نکال لیا گیا، نوجوان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

The post کراچی؛ سینڈزپٹ پر سمندرمیں نہاتے ہوئے نوجوان ڈوب گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3sIGuKx

جولائی تا مارچ: ہدف سے 10فیصد زائد ٹیکس وصول

کراچی: فیڈرل بورڈآف ریونیو نے جولائی تا مارچ 2021 کے دوران مجموعی طور پر 3394ارب روپے کا ریونیو حاصل کیا گیا جو اس عرصہ کے مقررہ ہدف 3287 ارب روپے کے ہدف سے100 ارب سے بھی زائد ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں مجموعی ریونیو پچھلے سال کے مقابلے 13 فیصد زیادہ رہا۔ پچھلے مالی سال کے 9 ماہ کے 3178 ارب روپے کے مقابلے میں 3571ارب روپے ریونیو اکٹھا ہوا۔ رواں مالی سال میں اب تک 177 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کیے گئے ہیں جبکہ پچھلے سال کے اسی عرصے کے دوران 102ارب روپے کے ریفنڈز جاری ہوئے تھے۔ اس سال اب تک ریفنڈز کے اجرا میں 74 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق 28 فروری 2021 تک ٹیکس سال 2020 کے لیے انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد 28 لاکھ ہو چکی ہے جو پچھلے سال اس عرصہ تک 26 لاکھ تھی۔ ٹیکس گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد میں 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ٹیکس گوشوارں کے ساتھ ادا شدہ ٹیکس51 ارب روپے رہا جو پچھلے سال کے اسی عرصے میں 33ارب روپے تھا۔ اس سال گوشواروں کے ساتھ ٹیکس ادائیگی میں 54 فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے۔

ٹیکس سال 2020 میں نئے ریٹرن فائلرز کی تعداد 1لاکھ 23 ہزار 680 رہی اور 51 کروڑ روپے کا اضافی ٹیکس حاصل ہوا۔رواں مالی سال جولائی تا فروری سیلز ٹیکس ریٹرنز داخل کرنے والوں کی تعداد 1 لاکھ 79 ہزار 584رہی ہے جو پچھلے سال اس عرصہ میں ا لاکھ 67 ہزار 769 تھی۔ اس سال سیلز ٹیکس گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد میں 7.04 فیصد اضافہ ہواہے۔

واضح رہے کہ سیلز ٹیکس گوشواروں کے ساتھ اس سال 624 ارب روپے سیلز ٹیکس حاصل ہواجو پچھلے سال 536 ارب روپے تھا اس طرح 16.41 فیصد اضافہ حاصل ہوا۔

 

The post جولائی تا مارچ: ہدف سے 10فیصد زائد ٹیکس وصول appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3fviDKA

مزدور اور چوکیدار کے نام پر لگژری گاڑیاں ہونے کا انکشاف

کراچی: ایف بی آر بینامی زون کراچی نے طویل تحقیقات کے بعد مزدور اور چوکیدار کے نام پر لگژری گاڑیوں سمیت دیگر ایک درجن سے زائد گاڑیاں سامنے آنے کا انکشاف کیاہے۔

فیصل آباد کادیہاڑی دار مزدور لاکھوں روپے کی بی ایم ڈبلیو اور لینڈ روور جیپ کا مالک نکل آیاہے اور ایک چوکیدار کے نام پر بھی 10گاڑیاں سامنے آگئیں۔ تحقیقات میں کارڈیلر کا نام بھی بینامی گاڑیوں میں استعمال ہوا ہے۔

تحقیقات کے دوران اس حقیقت کا انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ اجرت کمانے والے فیصل آباد کے زاہداقبال لاکھوں روپے کی دولگژری گاڑیوں کامالک ہیں۔

مزدور زاہد اقبال نے بے نامی زون کے استفسار پر کہاہے کہ یہ دونوں قیمتی گاڑیاں اس کے نام پرکیسے آئی ہیں۔ ایف بی آر بینامی زون کراچی نے معاملے کی تحقیقات کاآغاز کرتے ہوئے مزدور، چوکیدار اورمتعلقہ کار ڈیلر کو نوٹسز جاری کردیے ہیں کیونکہ دونوں لگژری گاڑیاں بے نامی ٹرانزکشن ایکٹ کے زمرے میں آتی ہیں۔

ایف بی آر بینامی زون نے جاری کردہ نوٹسز میں مذکورہ لگژری گاڑیوں کی خریداری کے لیے ذریعہ آمدن اور اس کی ادائیگیوں کے بارے میں بھی استفسار کیاہے جبکہ مزدورسے دیگرضروری دستاویزات طلب کرلیے ہیں۔

The post مزدور اور چوکیدار کے نام پر لگژری گاڑیاں ہونے کا انکشاف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2PryxuX

کراچی؛ سینڈزپٹ پر سمندرمیں نہاتے ہوئے نوجوان ڈوب گیا

 کراچی: ہاکس بے سینڈزپٹ پرسمندرمیں نہاتے ہوئے نوجوان ڈوب گیا جسے فوری طور پرریسکیو اہلکاروں نے نیم بیہوشی کی حالت میں نکال کر قریبی اسپتال منتقل کردیا۔

ہاکس بے سینڈزپٹ کے قریب سمندرمیں نہاتے ہوئے ایک نوجوان ڈوب گیا جسے فوری طور پرریسکیو اہلکاروں نے نیم بے ہوشی کی حالت میں نکال کر ایدھی ایمبولینس کے ذریعے قریبی اسپتال منتقل کردیا جہاں نوجوان کی شناخت18 سالہ حمیرولد عبدالرحمن کے نام سے کر لی گئی۔

نوجوان شیر شاہ کا رہائشی ہے اوردوستوں کے ہمراہ پکنک پر آیا تھا جہاں وہ تیزلہروں کی نظر ہو گیا تھا تاہم فوری طور پر نوجوان کو سمندر سے نکال لیا گیا، نوجوان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

The post کراچی؛ سینڈزپٹ پر سمندرمیں نہاتے ہوئے نوجوان ڈوب گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3sIGuKx

Tuesday, 30 March 2021

عورت مارچ آرگنائزرزکے خلاف دائر درخواست پر ہائی کورٹ کا نیا بنچ تشکیل

 اسلام آباد: عورت مارچ آرگنائزرز کے خلاف کارروائی کے لیے دائر درخواست پر ہائی کورٹ کا نیا بنچ تشکیل دے دیا گیا۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں عورت مارچ آرگنائزرزکے خلاف کارروائی کے لیے دائردرخواست پر نیا بنچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔ سنگل بنچ جسٹس عامر فاروق عورت مارچ کے آرگنائزرز کے خلاف درخواست پر سماعت کریں گے جب کہ ہائی کورٹ کے رجسٹرارآفس نے کیس 26 اپریل کو سماعت کے لیے مقرر کردیا ہے۔

شہدا فاوٴنڈیشن کی جانب سے طارق اسد ایڈووکیٹ نے درخواست دائر کررکھی ہے۔ استدعا کی گئی ہے کہ عورت مارچ اور ویلنٹائنز ڈے جیسے دیگر ایونٹس پرپابندی کے احکامات جاری کیے جائیں، کیا پاکستان میں خواتین کو قانونی حقوق حاصل نہیں؟ غور کے لیے معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوایا جائے اورغیرملکی این جی اوز اور پاکستانی این جی اوز کی غیر ملکی فنڈنگ کا ریکارڈ طلب کیا جائے۔

واضح رہے کہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نئے بنچ کی تشکیل کے لیے فائل چیف جسٹس کو بھیجوائی تھی۔

The post عورت مارچ آرگنائزرزکے خلاف دائر درخواست پر ہائی کورٹ کا نیا بنچ تشکیل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/39rWoBi

کراچی میں آج سے سال کا پہلا ہیٹ ویو الرٹ جاری

 کراچی: محکمہ موسمیات نے شہر قائد کے لیے پہلا ہیٹ ویو الرٹ جاری کردیا۔

کراچی میں گرمی کی شدت برقرار ہے، سمندری ہوائیں منقطع ہیں جبکہ بلوچستان کی گرم اور خشک ہوائیں شہر میں داخل ہورہی ہیں۔ محکمہ موسمیات نے ہیٹ ویو الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دن میں گرمی کی شدت 39 سے 41 ڈگری سینٹی رہنے کی توقع ہے، گرمی کی شدت 3 اپریل ہفتے تک جاری رہ سکتی ہے۔

محکمہ موسمیات نے ہدایت کی کہ شہری گرمی سے بچنے کے لیے پانی کا زیادہ استعمال کریں، دن 11 سے 4 بجے تک احتیاط کریں اور اس دوران سورج کی براہ راست شعاعوں سے بچنے کی کوشش کریں۔

علاوہ ازیں آج کراچی کی فضا پھر مضر صحت ہوگئیں اور ڈیڑھ ماہ بعد فضائیں آلودہ ریکارڈ ہوئیں۔ ایئرکوالٹی انڈیکس کے مطابق دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں کراچی چوتھے نمبر پر رہا، آلودہ ذرات کی مقدار 163 پرٹیکیولیٹ میٹرز ریکارڈ ہوئی۔

درجہ بندی کے مطابق 151 سے 200 درجے تک آلودگی مضر صحت ہے، 201 سے 300 درجے تک آلودگی انتہائی مضر صحت ہوتی ہے، 301 سے زائد درجہ خطرناک آلودگی کو ظاہر کرتا ہے۔

فضاؤں میں آلودگی کا تناسب بڑھنے کی وجہ سمندری ہواؤں کی بندش اور بلوچستان کی ہواؤں کا اثرانداز ہونا ہے۔ دنیا کے آلودہ شہروں میں کھٹمنڈو پہلے،چینگمائی تھائی لینڈ دوسرے جبکہ دہلی تیسرے نمبر پر ہے۔

The post کراچی میں آج سے سال کا پہلا ہیٹ ویو الرٹ جاری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2QUcMUY

جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے خاتمے کا کوئی نوٹی فیکشن جاری نہیں کیا، فردوس عاشق اعوان

 لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ گورنر پنجاب نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے خاتمے کا کوئی نوٹی فیکشن جاری نہیں کیا۔

اپنی ٹوئٹ میں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعلی عثمان بزدار کی قیادت میں پنجاب حکومت جنوبی پنجاب کی محرومیاں دور کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ جنوبی پنجاب صوبہ پی ٹی آئی کے منشور کا اہم جزو ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر سرپرستی جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام اور 15محکموں کے سیکرٹریز کی تعیناتی سے بزدارحکومت نے اہم سنگ میل عبور کیا۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ مکمل فعال ہے۔ عوام کی فوری دادرسی کے لئے سیکرٹریٹ کو مزید موثر بنایا جارہا ہے۔ واضح رہے گورنر پنجاب نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے خاتمے کا کوئی نوٹی فیکشن جاری نہیں کیا۔ اس بابت گمراہ کن پراپیگنڈا افسوسناک ہے۔ بزدار حکومت جنوبی پنجاب کی خدمت کا سفر جاری رکھے گی۔

The post جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے خاتمے کا کوئی نوٹی فیکشن جاری نہیں کیا، فردوس عاشق اعوان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3u9Osg5

کورونا وبا؛ وزیراعلیٰ سندھ نے انٹر سٹی ٹرانسپورٹ بند کرنے کی تجویز دے دی

 اسلام آباد: وزیراعلیٰ سندھ نے کورونا کی تیسری لہر کے پیش نظر ملک بھر میں 2 ہفتوں کے لئے انٹر سٹی ٹرانسپورٹ بند کرنے کی تجویز دے دی۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ نیب نے مجھے دو سال پہلے بلایا تھا، پھر اس کیس کے بعد کچھ نہیں سنا، میڈیا کے ذریعے پتا چلا مجھے نیب نے بلایا ہے، جس پراجیکٹ پر بلایا گیا ہے وہ اس وقت بھی چل رہا ہے،اس پاور پلانٹ سے کراچی میں لوڈشیڈنگ کم ہوئی ہے، یہ پاورپلانٹ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت لگایا گیا، پاورپلانٹ کا پیسہ حکومت سندھ اور عوام کا ہے، سستی بجلی کے پاور پلانٹ پر بلانا سمجھ سے باہر ہے۔

حکومتی رہنماؤں کی جانب سے استعفے کے مطالبے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ کیس ہی غلط ہے میں استعفیٰ کیوں دوں۔ پی ٹی آئی کے جن لوگوں نے استعفیٰ دیا انہوں نے کچھ غلط کیا ہو گا۔

پی ڈی ایم سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ ساندھ نے کہا کہ کون ماں کے ساتھ ملا کون باپ کے ساتھ ،یہ بحث چھوڑیں،اپوزیشن کو ایک ساتھ مل کر ہی چلنا چاہیے، گھر میں آپ کا چولہا جلے گا تو ہی نظام چلے گا،

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں دیگر صوبوں سے زیادہ وینٹی لیٹرز موجود ہیں، ملک میں آٹے میں نمک کے برابر بھی لوگوں کو کورونا ویکسین نہیں لگی، سندھ حکومت نے کورونا ویکسین کی خریداری کے لئے فنڈز مختص کیے ہیں، سندھ کے لیے اپنی ویکسین خریدنے کا منصوبہ بھی پائپ لائن میں ہے، سنگل ڈوز والی ویکسین پر بھی غور کیا جا رہا ہے لیکن پہلے یہ دیکھنا ہو گا سنگل ڈوز ویکسین موثر کتنی ہے۔

لاک ڈاؤن سے متعلق مراد علی شاہ نے کہا کہ موجودہ وبا بہت خطرناک ہے، میں نے کورونا ٹیسٹ کرایا ہے، سندھ حکومت نے جو اقدامات کئے اس سے کورونا وبا اتنی نہیں پھیلی، سندھ حکومت نے انٹر سٹی ٹریفک بند کی جس سے کیسز میں کمی ہوئی، کورونا کے خلاف اقدامات میں دوسروں نے ہماری پیروی کی، کوئی اسمارٹ لاک ڈاوٴن نہیں ہوتا، لاک ڈاوٴن ہوتا ہے یا پھر نہیں ہوتا، کورونا سائیکل توڑنے کے لیے انٹر سٹی ٹرانسپورٹ بند کرنا ضروری ہے، میں نہیں کہتا سال کے لئے بند کریں، دو ہفتے بند کر کے کورونا کے سائیکل کو توڑیں۔

The post کورونا وبا؛ وزیراعلیٰ سندھ نے انٹر سٹی ٹرانسپورٹ بند کرنے کی تجویز دے دی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2PGyEme

کورونا وبا؛ وزیراعلیٰ سندھ نے انٹر سٹی ٹرانسپورٹ بند کرنے کی تجویز دے دی

 اسلام آباد: وزیراعلیٰ سندھ نے کورونا کی تیسری لہر کے پیش نظر ملک بھر میں 2 ہفتوں کے لئے انٹر سٹی ٹرانسپورٹ بند کرنے کی تجویز دے دی۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ نیب نے مجھے دو سال پہلے بلایا تھا، پھر اس کیس کے بعد کچھ نہیں سنا، میڈیا کے ذریعے پتا چلا مجھے نیب نے بلایا ہے، جس پراجیکٹ پر بلایا گیا ہے وہ اس وقت بھی چل رہا ہے،اس پاور پلانٹ سے کراچی میں لوڈشیڈنگ کم ہوئی ہے، یہ پاورپلانٹ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت لگایا گیا، پاورپلانٹ کا پیسہ حکومت سندھ اور عوام کا ہے، سستی بجلی کے پاور پلانٹ پر بلانا سمجھ سے باہر ہے۔

حکومتی رہنماؤں کی جانب سے استعفے کے مطالبے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ کیس ہی غلط ہے میں استعفیٰ کیوں دوں۔ پی ٹی آئی کے جن لوگوں نے استعفیٰ دیا انہوں نے کچھ غلط کیا ہو گا۔

پی ڈی ایم سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ ساندھ نے کہا کہ کون ماں کے ساتھ ملا کون باپ کے ساتھ ،یہ بحث چھوڑیں،اپوزیشن کو ایک ساتھ مل کر ہی چلنا چاہیے، گھر میں آپ کا چولہا جلے گا تو ہی نظام چلے گا،

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں دیگر صوبوں سے زیادہ وینٹی لیٹرز موجود ہیں، ملک میں آٹے میں نمک کے برابر بھی لوگوں کو کورونا ویکسین نہیں لگی، سندھ حکومت نے کورونا ویکسین کی خریداری کے لئے فنڈز مختص کیے ہیں، سندھ کے لیے اپنی ویکسین خریدنے کا منصوبہ بھی پائپ لائن میں ہے، سنگل ڈوز والی ویکسین پر بھی غور کیا جا رہا ہے لیکن پہلے یہ دیکھنا ہو گا سنگل ڈوز ویکسین موثر کتنی ہے۔

لاک ڈاؤن سے متعلق مراد علی شاہ نے کہا کہ موجودہ وبا بہت خطرناک ہے، میں نے کورونا ٹیسٹ کرایا ہے، سندھ حکومت نے جو اقدامات کئے اس سے کورونا وبا اتنی نہیں پھیلی، سندھ حکومت نے انٹر سٹی ٹریفک بند کی جس سے کیسز میں کمی ہوئی، کورونا کے خلاف اقدامات میں دوسروں نے ہماری پیروی کی، کوئی اسمارٹ لاک ڈاوٴن نہیں ہوتا، لاک ڈاوٴن ہوتا ہے یا پھر نہیں ہوتا، کورونا سائیکل توڑنے کے لیے انٹر سٹی ٹرانسپورٹ بند کرنا ضروری ہے، میں نہیں کہتا سال کے لئے بند کریں، دو ہفتے بند کر کے کورونا کے سائیکل کو توڑیں۔

The post کورونا وبا؛ وزیراعلیٰ سندھ نے انٹر سٹی ٹرانسپورٹ بند کرنے کی تجویز دے دی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2PGyEme

وزیر اعظم کیلئے فوڈ سیکیورٹی کے نئے چیلنجز سر اٹھا رہے ہیں

 لاہور: وزیر اعظم عمران خان نے سابق وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کومہنگائی پر قابو پانے میں ناکامی کا’’ ذمہ دار‘‘ قرار دے کر ڈھائی سال میں تیسری مرتبہ اپنی معاشی ٹیم تبدیل کر لی ہے ،نوجوان اور باصلاحیت کھلاڑی حماد اظہر کو نیا وفاقی وزیر خزانہ مقرر کردیا گیا ہے۔

مہنگائی پر قابو پانے کی بات کی جائے تو صوبائی حکومتیں پرائس کنٹرول کے حوالے سے ابھی تک کامیابی حاصل نہیں کر پائی ہیں اور ان کے متعدد فیصلے اورا قدامات رسد وطلب کے بنیادی حقائق اور ضروریات سے متصادم ہیں۔ ویسے تو بجلی، پٹرولیم، گیس سب کچھ مہنگا ہوتا جا رہا ہے لیکن حکومت،اپوزیشن اور میڈیا کے لئے مہنگائی کی بنیادی تشریح اشیائے خورونوش بالخصوص آٹا اور چینی ہیں۔

گندم آٹا چینی طویل عرصہ سے ’’سیاسی‘‘ ہو چکے ہیں، حکومت ان اشیاء کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر کم رکھ کر سیاسی فوائد اور عوامی مقبولیت حاصل کرنا چاہتی ہے تو اپوزیشن ان اشیاء کی قلت اور مہنگائی کو جواز بنا کر حکومت پر شدید تنقید کرتی ہے۔

ایک جانب تو عمران خان سبسڈی دینے کے سخت مخالف ہیں لیکن دوسری جانب وہ آٹا قیمت کو مصنوعی طور پر کم رکھنے کی خاطر بھاری بھرکم سبسڈی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ حکومت نے گزشتہ برس کسانوں سے 1400 روپے فی من قیمت پر گندم خریدی جس پر انسیڈنٹل چارجز کی مد میں مزید 544 روپے خرچ ہوئے لیکن حکومت نے یہ گندم فلورملز کو 1475 روپے میں فروخت کی جبکہ حکومت پنجاب کو 2600 روپے فی من قیمت پر امپورٹڈ گندم کی لاگت پڑی لیکن یہ گندم بھی 1475 روپے میں ہی ملز کو فراہم کی گئی تا کہ آٹا تھیلا 860 روپے میں فروخت ہو،محکمہ خوراک گندم کی وافر دستیابی نہ ہونے کے سبب رواں برس ملوں کو آبادی کی بنیاد پر کوٹہ دے رہا ہے جو کہ ناکافی نہ ہونے کے سبب فلورملز اوپن مارکیٹ سے مہنگی گندم خرید کر طلب پوری کر رہی ہیں۔

گزشتہ خریداری سیزن میں فلورملز کو گندم خریدنے سے روکا گیاتھا لیکن ذخیرہ اندوزوں نے بعد ازاں فلورملز کو 2300 روپے فی من قیمت تک گندم فروخت کی تھی ،یہ تو اچھا ہوا کہ حکومت نے سرکاری محکموں کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کو بھی گندم امپورٹ کرنے کی اجازت دے دی تھی جس کے نتیجہ میں اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت اور دستیابی معمول پر آگئی ورنہ حکومت کیلئے 860 روپے قیمت پر وافر مقدار میں آٹا فراہم کرنا ناممکن ہوجاتا۔

اس مرتبہ وفاقی سیکرٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی غفران میمن نے یہ دانشمندی کی ہے کہ وزیر اعظم کو تمام حقائق ،سابقہ و موجودہ حالات سے باخبر کر کے 30 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کرنے کی اصولی اجازت حاصل کر لی ہے چناں چہ اگر خدانخواستہ صوبائی محکمے کسی وجہ سے کم گندم خریدتے ہیں تو بھی امپورٹڈ گندم ملک میں کسی بحران کو جنم نہیں لینے دے گی۔

تاہم وزیر اعظم عمران خان، وفاقی وزیر خزانہ حماد اظہر، وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار اور گورنر سٹیٹ بنک آف پاکستان ڈاکٹر رضا باقر کو ان اطلاعات پر خصوصی توجہ دینی اور کسی ممکنہ خرابی کو روکنا ہوگا جن کے مطابق ایک مخصوص لابی صرف سرکاری سطح پر گندم امپورٹ کرنا چاہتی ہے یا پھر اس کی کوشش ہے کہ صرف 10 کے لگ بھگ پرائیویٹ امپورٹرز کو امپورٹ کا فائدہ ہو جبکہ ایسے فیصلے کروائے جا رہے ہیں جو فلورملنگ انڈسٹری کو گندم خریدنے سے روکنے کا سبب بن سکتے ہیں ۔

19 مارچ کو سٹیٹ بنک آف پاکستان نے ایک سرکلر جاری کیا ہے جس میں فلورملز کیلئے گندم خریداری کی خاطر قرضوں کے حصول کیلئے نئی شرائط عائد کی گئی ہیں۔ سرکلر کی پہلی شق کے مطابق بنک صرف دیسی گندم(یعنی مقامی پیداوار) کیلئے ہی قرضے دیں گے، اس شرط کے نفاذ سے وہ فلورملز جن کا آٹا میدہ کا مارکیٹ میں بڑا حصہ ہے اور وہ سرکاری گندم کوٹہ سے ڈیمانڈ پوری نہیں کرتیں اور اپنی نجی گندم استعمال کرتی ہیں۔

یہ تمام ملز گندم امپورٹ کے عمل سے باہر ہو گئی ہیں اور عملی طور اب گندم کی نجی امپورٹ صرف وہ نو یا دس لوگ کرسکیں گے جن کا تعلق کراچی سے ہے اور ان کے پاس بے بہا سرمایہ ہے اور اب پاکستان کی اوپن مارکیٹ پر ان کی مکمل اجارہ داری ہوجائے گی ۔وزیر اعظم عمران خان کا دعوی ہے کہ وہ مافیاز کے خلاف جہاد کر رہے ہیں لیکن ان کی اپنی پارٹی سے تعلق رکھنے والے بعض افراد اپنے ذاتی مالی مفادات کی خاطر سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

قیاس آرائی ہو رہی ہے کہ مبینہ طور پر تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ایک نجی امپورٹر نے ایک وفاقی وزیر کے توسط سے سابق وفاقی وزیر خزانہ کو گمراہ کر کے گندم امپورٹ کیلئے فلورملز کیلئے قرضوں پر پابندی کا فیصلہ کروایا ہے،سرکلر کے مطابق فلورملز کو بنک سے حاصل شدہ قرضوں کے ذریعے مقامی دیسی گندم خریدنے کیلئے 30 جون تک کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے اس کے بعد یہ قرضے ناقابل استعمال ہوں گے۔ اس وقت سرکاری محکمے جس جارحانہ انداز میں گندم خریداری کرتے ہیں اور صوبہ کو فلورملز کیلئے نو گو ایریا بنادیا جاتا ہے اس میں 30 جون کی ڈیڈ لائن غیر حقیقی ہے اور اس میں کم ازکم ایک ماہ کی توسیع لازمی ہونا چاہئے۔

پاکستان فلورملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عاصم رضا احمد نے گورنر سٹیٹ بنک ڈاکٹر رضا باقر کو ایک مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے سٹیٹ بنک کے جاری کردہ سرکلر پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس پر نظر ثانی کی جائے کیونکہ سرکاری گندم ہو یا نجی گندم اسے استعمال فلورملز نے ہی کرنا ہوتا ہے اس لئے بنک قرضوں کی اجازت نجی گندم امپورٹ کیلئے بھی دے جبکہ گندم خریداری کیلئے حاصل کردہ قرضوں کی واپسی کی مدت 31 مارچ تک مقرر کی جائے۔ چیف سیکرٹری جواد رفیق ملک اس حوالے سے بہت متحرک ہیں اور کم وبیش بلا ناغہ سیکرٹری فوڈ شہریار سلطان اور ڈائریکٹر فوڈ دانش افضال کے ساتھ میٹنگز میں مختلف ا قدامات اور تجاویزپر تبادلہ خیال ہوتا ہے ،وزیر اعلی سردار عثمان بزدار اور سینئر وزیر و وزیر خوراک عبدالعلیم خان بھی ان کی مکمل سپورٹ کر رہے ہیں۔

حالیہ گندم ریلیز سیزن میں شہریار سلطان اور دانش افضال نے بہت محنت اور دلیری کے ساتھ چیلنجز کا مقابلہ کیا ہے ،عبدالعلیم خان کی یہ بات اب حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ پنجاب کی ایک ہزار فلورملز میں سے عملی اور حقیقی طور پرکاروبار کرنے والی ملوں کی تعداد 700 کے لگ بھگ ہے باقی سب موسمی پرندوں کی طرح صرف سرکاری گندم کوٹہ سیزن میں ہی دکھائی دیتی ہیں اور ان میں سے بعض سرکاری گندم کی فروخت میں بدنام ہیں اور جب ان کے سیاہ کاریوں پر سرکاری گرفت مضبوط ہونے لگتی ہے تو یہ لوگ فوڈ حکام پر دباو ڈالنا شروع کردیتے ہیں۔

اگر پھر بھی بس نہ چلے تو عدالتوں سے حکم امتناعی لا کر حکومت کو بے بس کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ قابل احترام چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ،وزیر اعلی، سینئر وزیر اور چیف سیکرٹری کو سرکاری گندم چوری میں ملوث فلورملز کو نشان عبرت بنانے اور ایسی فلورملز کے خلاف جدوجہد کرنے والے سرکاری ملازمین کو حوصلہ دینے کیلئے اپنا اپناکردار ادا کرنا ہوگا۔گندم کی امدادی قیمت خرید1800 روپے من مقرر کی گئی ہے اور اس تناظر میں آئندہ ایشو سیزن پہلے سے زیادہ مشکل اور بحرانی ہوگا اس لئے حکومت کو اپنے فیصلے مشاورت اور زمینی حقائق کے مطابق کرنا ہوں گے۔

The post وزیر اعظم کیلئے فوڈ سیکیورٹی کے نئے چیلنجز سر اٹھا رہے ہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3cCkXgV

کیا پاکستان اپنی معاشی خود مختاری سے دستبردار ہورہا ہے؟

 اسلام آباد: پاکستانی سیاست جس تیزی سے رنگ بدلتی ہے اس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔ کچھ دن پہلے پاکستان کی تمام بڑی اپوزیشن جماعتیں پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر حکومت کو گھر بھیجنے کی تیاریاں کررہی تھیں۔

دو غیر فطری اتحادی بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز ایک دوسرے کو بہن بھائی کہہ رہے تھے۔ لیکن پھر وقت نے کروٹ لی، سینٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کو خود پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر انتخاب جتوایا گیا مگر سینٹ میں حزب اختلاف کے معاملہ پر پیپلز پارٹی کی سولو فلائٹ پر دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان لکیر کھچ گئی اور یوں کل کے بہن بھائی آج کے حریف بن گئے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ آصف علی زرداری نے ساری گیم سیٹ کی ہوئی تھی جس میں پنجاب حکومت کو ہٹانا بھی شامل تھا لیکن نواز شریف نے ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔

اطلاعات ہیں کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ میں پیدا ہونے والے اختلافات کے تناظر میں تینوں بڑی جماعتوں کے قائدین اور مرکزی رہنماوں کے درمیان ٹیلیفونک رابطوں کا سلسلہ وقفوں وقفوں سے جاری رہا، لندن، کراچی اور اسلام آباد میں ہونے والے ان رابطوں کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں جن کی اگرچہ باضابطہ تصدیق تو نہیں ہو سکی تاہم پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کے بجائے جمعیت علمائے اسلام کی مرکزی شوریٰ کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس میں مجلس عاملہ اور شوریٰ کے ارکان شرکت کرتے ہیں اور ایسے اجلاس اہم فیصلوں کیلئے صورتحال پر غور کرنے کیلئے بلایا جاتا ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد میں بلائے جانے والے اس اجلاس کی تاریخ کے حوالے سے مشاورت ہورہی ہے بعض ارکان کا کہنا ہے کہ صورتحال کے پیش نظر اجلاس فوری طور پر طلب کیا جانا چاہئے جبکہ خود مولانا فضل الرحمان اس حق میں ہیں کہ چار اپریل کو پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے بعد جے یو آئی کا اجلاس بلایا جائے۔

ٹیلیفونک رابطوں کے حوالے سے اسلام آباد میں موجود پی ڈی ایم میں شامل جماعت کی ایک ذمہ دار شخصیت نے اس تاثر کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا کہ اس دوران فریقین کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’’صورتحال سنجیدگی کی طرف جا رہی ہے‘‘ مذکورہ شخصیت کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کو اب اس بات پر پچھتاوا ہو رہا ہے کہ انہوں نے پیپلزپارٹی کے قائدین کی جانب سے دی گئی یقین دہانیوں پر اعتماد کیوں کیا۔ معلوم ہوا ہے کہ مسلسل سفر ،سیاسی مصروفیا ت کے باعث شب بیداری اور ذہنی دباؤکے باعث مولانا فضل الرحمان کی طبیعت ناساز ہے۔

کورونا وائرس کا ان کا ٹیسٹ منفی آیا ہے تاہم مولانا نے اپنی سیاسی سرگرمیاں فی الوقت معطل کر دی ہیں۔ یہ سیاسی حیلے بہانے اپنی جگہ مگر زمینی حقائق یہی ہیں کہ ایوزیشن جماعتوں کا بنایا اتحاد(پی ڈی ایم اے )اس وقت بکھر چکا ہے اور اپنے مقاصد حاصل کرنے میں بھی ناکام ہوگیا ہے۔ مولافضل الرحمن دونوں بڑی جماعتوں کو ایک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ابھی تک کی سیاسی صورتحال دیکھتے ہوئے دونوں سیاسی جماعتوں کا یک ہونا مشکل ہے۔

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے کوٹ لکھپت جیل میں شہبازشریف سے ملاقات کی جو سوا دو گھنٹے جاری رہی ہے بعض لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اس ملاقات میں کوئی اور طاقتور شخصیت بھی موجود تھی۔ جس کے اثرات آگے چل کر نظر آنا شروع ہوجائیں گے۔ یہ باتیں بھی ہورہی ہیں کہ میاں شہباز شریف اور خواجہ آصف کی اسیری کے دن بھی شائد ختم ہونے کو ہیں۔ اگرچہ ن لیگ کے ذرائع بتاتے ہیں کہ حمزہ شہباز نے یوسف رضا گیلانی کو ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف بنائے جانے پر مسلم لیگ ن میں پائی جانے والی بے چینی سے آگاہ کیا۔

حمزہ شہباز نے شہباز شریف سے کہا کہ پیپلز پارٹی نے یوسف رضاگیلانی کے معاملے پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا۔ شہبازشریف نے حمزہ شہباز کو پیپلزپارٹی کے خلاف کسی بھی قسم کی بیان بازی سے روک دیا۔ شہبازشریف نے حمزہ شہباز سے گفتگو میں کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب میں بلدیاتی اداروں کی بحالی کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ انہوں نے بلدیاتی نمائندوں سے رابطوں میں تیزی لانے کی ہدایت کی۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے پارلیمانی رہنما سید حسن مرتضیٰ نے صحافیوں کو بتایا کہ ‘ہم نے پنجاب اسمبلی میں تبدیلی کے لیے باضابطہ طور پر اپنی کوششیں شروع کر دی ہیں اور آنے والے دنوں میں بھی اس میں شدت پیدا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ عوام عیدالفطر کے بعد خوشخبری سنیں گے کیونکہ حکمران پاکستان تحریک انصاف کے دو درجن سے زیادہ قانون ساز ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں۔حسن مرتضیٰ نے کہا کہ ان کی پارٹی (مسلم لیگ ن) کو پنجاب اسمبلی میں اپنی عددی طاقت کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی چیف ایگزیکٹو کے دفتر کے لیے نامزد امیدوار کا اعلان کرنا چاہیے اور پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرے گی۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف پنجاب میں حکومت کی تبدیلی کی پیش کش پہلے ہی مسترد کرچکی ہیں۔

ان کا دعوی ہے کہ پیپلز پارٹی نے صوبے میں تبدیلی کا آرڈر دینے اور پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی کو وزیر اعلی کے عہدے پر لگانے کی پیش کش کی تھی۔ مسلم لیگ (ن) کو خدشہ ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی بحیثیت وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے بڑھ کر ان کے خلاف کام کریں گے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پچھلے تین سال سے حکومت کنفیوژن کا شکار ہے۔ پالیسیوں میں کسی قسم کا استحکام اور ٹھہراو نہیں ہے اور اسی وجہ سے معیشت کا پہیہ چل نہیں پاتا ہے اب معیشت کا تمام تر بوجھ حماد اظہر کے ناتواں کندھوں پر لاد دیا گیا ہے سوال یہ پیدا ہوتا کہ کیا وہ معیشت کی الجھی ہوئی گھتی کو سلجھا پائیں گے۔

اب حکومت آئی ایم ایف سے مذاکرات اس کے نمائندوں یعنی اسٹیٹ بینک کے گورنر اور ڈپٹی گورنروں کی منظوری سے ہی کر سکے گی اور کوئی نوٹ بغیر ان کی مرضی کے حکومت پاکستان نہیں چھپوا سکے گی تو پھر ہر ماہ سرکاری تنخواہیں، پنشن کیسے باقاعدگی سے ادا ہوں گی۔ وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے انکم ٹیکس ترمیمی بل کی بجائے انکم ٹیکس ترمیمی آرڈیننس جاری کردیا ہے جس کے تحت 140 سے 150 ارب روپے تک کی ٹیکس چھوٹ ختم کی گئی ہے۔ یہ آرڈیننس فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ آرڈیننس میں 62 اداروں کو ٹیکس کریڈٹ کی سہولت دے دی گئی ہے۔

پی سی بی سمیت کھیلوں کی تمام تنظیموں، فلم انڈسٹری کیلئے ٹیکس چھوٹ ختم کردی گئی ہے آمدن کم ظاہر کرنے پر واجب الادا ٹیکس کا 50 فیصد جرمانہ عائد ہوگا۔ دکان پر ٹیکس نمبر آویزاں نہ کرنے پر 5 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوگا۔ انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے پر 5ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔ نئی آئل ریفائنری لگانے پر صرف 31 دسمبر 2021 تک چھوٹ ہوگی درسی کتابیں شائع کرنے والے بورڈز پر انکم ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ کئی انویسٹمنٹ کمپنیوں کے منافع پر انکم ٹیکس کی چھوٹ ختم کردی گئی ہے۔

انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت فاٹا اور پاٹا سے متعلق ٹیکس چھوٹ 30 جون 2023 کو ختم کی جا رہی ہے۔ قابل تجدید توانائی کے ذرائع سے بجلی کی پیداوار کیلئے سرمایہ کاری پر 25 فیصد ٹیکس کریڈٹ دینے کی تجویز ہے تاکہ نجی شعبے میں بجلی کی پیداوار بڑھائی جا سکے۔ ملک میں تیار ہونے والے موبائل فونز کی ملک میں فروخت پر ٹرن اوور ٹیکس کی چھوٹ دینے کی تجویز ہے تاہم موبائل فونز مینو فیکچررز کو انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کے نظام میں رجسٹر ہونے کی شرط سے یہ سہولت مشروط کی گئی ہے۔

دوسری جانب صدر مملکت نے نیپرا ایکٹ میں ترمیم کے آرڈیننس پر بھی دستخط کردیئے۔ آرڈیننس کے تحت بجلی کے صارفین پر مختلف مراحل میں مجموعی طور پر700ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

The post کیا پاکستان اپنی معاشی خود مختاری سے دستبردار ہورہا ہے؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3dr4Gee

کورونا…عوامی لاپرواہی کے باعث حکومت سخت اقدامات پر مجبور

 کراچی: ملک میں کورونا وائرس کی صورت حال تشویشناک حد تک خراب ہوتی ہوئی نظرآرہی ہے۔

وباء کی تیسری لہر نے حکومت کو ایک بار پھر سخت فیصلے کرنے پر مجبور کردیا ہے جبکہ طبی ماہرین پہلے ہی ان خدشات کا اظہار کررہے تھے کہ وباء کے مکمل خاتمے تک عوام احتیاطی تدابیر اختیار کریں، لیکن افسوسناک طور پر ان ہدایات کو یکسرنظرانداز کردیاگیا جس کے نتائج ہمیں آج دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی)نے اپنے اجلاس میں چند اہم فیصلے کیے ہیں ،جن کے تحت ملک کے تمام صوبوں میں ہاٹ اسپاٹ کی نشاندہی کر کے وہاں لاک ڈاؤن نافذ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ 5 اپریل سے ان ڈور اور آؤٹ ڈور شادیوں اور تقریبات پر بھی مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے، البتہ صوبوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پابندیاں عائد کر سکتے ہیں۔

صوبوں میں ٹرانسپورٹ میں مسافروں کی کمی کے لیے بھی مختلف آپشن زیر غور ہیں اور اس حوالے سے حتمی فیصلہ صوبوں کی رائے اور بذریعہ ٹرین، بس اور ہوائی جہاز سفر کرنے والوں کے اعدادوشمار موصول ہونے کے بعد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ این سی او سی کی جانب سے دیے گئے اہداف کو بروقت حاصل کریں۔ مذکورہ پابندیوں کا اطلاق ان علاقوں اور شہروں میں ہوگا، جن میں مثبت کیسز کی شرح 8 فیصد یا اس سے زائد ہے۔ اس ضمن میں وفاقی وزیر اسد عمرکا کہنا ہے کہ کورونا کیسز میں اضافہ اسی رفتار سے جاری رہا تو مزید پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے بھی قوم کے نام اپنے پیغام میں عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ایس او پیز پر عمل درآمد کریں۔ وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ دنیا میں کورونا ویکسین کی قلت ہوگئی ہے، کورونا ویکسین سے متعلق جو ہمیں دنیا نے کہا تھا وہ بھی ہمیں نہیں مل رہا، جو ملک کورونا ویکسین بناتے ہیں وہاں بھی ویکسین کی کمی ہوگئی ہے۔ ادھر میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے)کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد کا بھی یہی کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر بہت خطرناک ہے، جو تعداد حکومت بتا رہی ہے اس سے کہیں زیادہ لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ حکومت ایس او پیز پر عمل درآمد کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔کورونا وائرس کی صورت حال میں عوام بھی کنفیوژن کا شکار نظرآتے ہیں۔

این سی او سی کی جانب سے کاروباری اوقات کار 8بجے تک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ سندھ میں یہ اوقات رات دس بجے تک ہیں۔ دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ کراچی کے گنجان آباد اور کاروباری مراکز خصوصاً فوڈ اسٹریٹس میں اصل رش ہوتا ہی رات دس بجے کے بعد ہوتا ہے اور عوام ایس او پیز کی دھجیاں اڑاتے ہوئے رات گئے شہر کی سڑکوں پر گھومتے رہتے ہیں۔حکومت کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں پر انتظامیہ عملدرآمد کرانے میں بالکل ناکام نظرآتی ہے۔

دوسری جانب عوام کا یہ حال ہے کہ وہ اب بھی کورونا کو سنجیدگی سے لینے کے لیے تیار نہیں ہے اور اپنی حفاظت کے لیے ان کو پانچ روپے کا ماسک خریدنا بھی گوارا نہیں ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں گنجائش سے زیادہ مسافر سفر کررہے ہیں۔ فی الحال سندھ میں کورونا مریضوں کی تعدا د پنجاب کے مقابلے میں کم دیکھنے میں آرہی ہے لیکن جو بے احتیاطی عوام کی جانب سے سامنے آ رہی ہے اس سے یہی نظرآتا ہے کہ سندھ میں بھی کورونا وائرس کی صورت حال تشویشناک ہوسکتی ہے۔ چیئرمین کورونا ٹاسک فورس ڈاکٹر عطا الرحمن بھی اس صورت حال پر انتہائی متفکر نظرآتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وائرس تیزی سے ساخت تبدیل کر رہا ہے، اس لیے ویکسین غیر موثر ہوسکتی ہے، کورونا کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے، حکومت کو چاہئے کہ پولیس کو چھڑیاں پکڑا دیں اورجو ماسک کے بغیر نظر آئے اسے دو ڈنڈے ماریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عوام کورونا صورتحال کوعام نہ سمجھیں اور سختی سے ہدایات پرعمل کریں۔ عوام کو چاہیے کہ وہ ازخود اپنے اوپر رحم کریں۔ ماسک کا استعمال کریں، احتیاط علاج سے بہتر ہے۔

ایک جانب ملک میں کورونا کے وار جاری ہیں تو دوسری جانب کراچی کو سیاسی جماعتوں نے اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا ہوا ہے۔گزشتہ دنوں ایم کیو ایم پاکستان ،جماعت اسلامی اور تنظیم بحالی کمیٹی ایم کیوایم پاکستان کی جانب سے عوامی اجتماعات کا انعقاد کیا گیا۔کراچی کے نشتر پارک میں ایم کیو ایم کے یوم تاسیس کے حوالے سے منعقدہ جلسے سے خطاب میں پارٹی رہنماؤں نے ایک مرتبہ پھر اپنے مطالبات دہرائے جبکہ تنظیم بحالی کمیٹی ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے پی آئی بی کالونی گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے یہ نوید سنائی ہے کہ آئندہ ایم کیو ایم پاکستان کا یوم تاسیس ایک ہی پلیٹ فارم سے منایا جاسکتا ہے۔

ادھر جماعت اسلامی کی”حقوق دو کراچی” ریلی میں عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ امیرجماعت اسلامی پاکستان و سینیٹر سراج الحق کا اپنے ٹیلی فونک خطاب میں کہنا تھا کہ کراچی آج بھی 25 سو ارب سالانہ ریوینو ملک کو دیتا ہے لیکن افسوس کہ اس شہر کے اپنے لوگ بے روزگار، پیاسے اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کراچی کے مسائل کے حوالے سے ایک مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان مرکزی حکومت کا حصہ ہے، اس کو چاہیے کہ وہ اپنی اتحادی جماعت پی ٹی آئی پر زور دے کہ شہر کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے ایک جامع حکمت عملی مرتب کرے۔ جماعت اسلامی کا یہ شکوہ بھی بجا نظرآتا ہے کہ وزیراعظم کے اعلان کردہ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان پر عملدرآمد ہوتا ہوا نظرنہیں آرہا ہے۔ سوائے نالوں کے اطراف کے تجاوزات کے خاتمے کے آپریشن کے علاوہ اس پلان میں شامل دیگر منصوبوں پر عملدرآمد کہیں نہیں ہے۔

کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 249کے ضمنی انتخاب کے لیے سیاسی جماعتوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاک سرزمین پارٹی ،پاکستان تحریک انصاف ،ایم کیو ایم پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی اس نشست کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ امجد آفریدی کو امیدوار نامزد کرنے کے بعد پی ٹی آئی میں پیدا ہونے والے اندرونی اختلافات ابھی تک دور نہیں ہوسکے ہیں جن کا پارٹی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن)کے مفتاح اسماعیل انتہائی موثر انداز میں اپنی انتخابی مہم چلارہے ہیں اور مسلم لیگ کے مرکزی رہنما بھی ان کی مدد کے لیے کراچی کے دورے کر رہے ہیں، تاہم اگر پیپلزپارٹی سے اتفاق رائے نہیں ہوسکا تو مفتاح اسماعیل کو مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پی ایس پی کے چیئرمین سید مصطفی کمال خود اس نشست پر امیدوار ہیں۔ اب تک دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ پی ایس پی سب سے موثرا نداز میں اپنی انتخابی مہم چلارہی ہے تاہم وہ ووٹرز کو اپنی جانب راغب کرنے میں کس قدر کامیاب ہوتی ہے اس کا فیصلہ انتخابی نتائج کے بعد ہی ہوگا۔

شہر قائد میں رمضان کی آمد سے قبل ہی مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیا ہے۔ اشیائے خور ونوش کی سرکاری پرائس لسٹ غیر موثر ہوگئی، کریانہ آئٹم کی سرکاری پرائس لسٹ نو ماہ گزرنے کے باوجود اپ ڈیٹ نہیں ہوسکی۔ اس ضمن میں شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر میں کوئی بھی چیز سرکاری نرخ پر فروخت نہیں کی جا رہی، جو حکومت اور انتظامیہ کی ناقص کاکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

شہریوں کے مطابق سندھ حکومت نے گراں فروشوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے، گراں فروشی کو قابو کرنے کے لیے شہری انتظامیہ اور مجسٹریٹس کو حرکت میں نہیں لایا جا رہا، جس سے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے اور عوام مہنگائی کا ذمہ دار وفاقی حکومت کو قرار دے رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک سے قبل ہی یہ صورت حال ہے تو ماہ مقدس میں منافع خور عوام کی زندگی اجیرن کردیںگے۔ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے خصوصی اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔

The post کورونا…عوامی لاپرواہی کے باعث حکومت سخت اقدامات پر مجبور appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3doR3Me

تحریک انصاف بلوچستان نے بے اختیاری کا شکوہ شروع کر دیا

 کوئٹہ: سینیٹ الیکشن کے’’ آفٹر شاکس‘‘ ابھی تک بلوچستان کی سیاست پر محسوس کئے جا رہے ہیں، جس کی زد میں حکمران جماعت اور بلوچستان میں باپ کی اتحادی تحریک انصاف زیادہ تر نظر آرہی ہے۔

بلوچستان اسمبلی میں تحریک انصاف سات ارکان اسمبلی ہونے کے باوجود سینیٹ الیکشن میں اپنا ایک سینیٹر لانے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکی جبکہ ان الیکشن میں آزاد حیثیت سے کامیاب ہونے والے عبدالقادر نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرکے پارٹی قیادت کو سیاسی شطرنج کی اس گیم میں ’’پیادے‘‘ کے ذریعے شہہ دیتے ہوئے مات دے دی ہے کیونکہ سینیٹ کے الیکشن میں بلوچستان کے اندر تحریک انصاف کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا ہے، جس کی واضح مثال حال ہی میں تحریک انصاف بلوچستان کے ریجنل صدور اور عہدیداران کے ایک غیر معمولی اجلاس میں پارٹی کی مرکزی قیادت پر شدید تنقید کے علاوہ بغاوت کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔

اس اجلاس کی صدارت بلوچستان اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر تعلیم سردار یار محمد رند نے کی، اجلاس کے حوالے سے یہ خبریں آرہی ہیں کہ سینیٹ الیکشن کے دوران پارٹی قیادت کو غلط گائیڈ کرکے ناپسندیدہ فیصلے کرانے کے عمل پر پارٹی عہدیداران سخت نالاں دکھائی دیئے، پارٹی کے بعض عہدیداران نے اپنا نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر اس اجلاس کی اندرونی کہانی کے حوالے سے راقم کو بتایا کہ پارٹی کے عہدیداران نے یہ بات واضح کی ہے کہ بلوچستان میں اڑھائی سال سے حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کی اتحادی ہونے کے ناطے اس کے ساتھ جو رویہ روا رکھا جارہا ہے اور سینیٹ الیکشن کے دوران جو کچھ انہوں نے عہدیداران و کارکنوں کے ساتھ کیا۔

اس حوالے سے تحریک انصاف کے سربراہ وزیراعظم عمران خان کو آگاہ کیا جائے گا۔ اگر پھر بھی شنوائی نہ ہوئی اور رویہ یوں ہی روا رکھا گیا تو پھر بلوچستان میں ورکرز کنونشن بلا کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائیگا جس میں انتہائی اقدام پارٹی سے راہیں جدا کئے جانے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ پارٹی کے ان عہدیداران کے مطابق اجلاس میں اس بات پر بھی سخت ناراضگی کا اظہار کیا گیا کہ بلوچستان میں تحریک انصاف کو حکمران جماعت بی اے پی نے یرغمال بنایا ہوا ہے۔

پارٹی کے عہدیداران و کارکنوں سمیت وزراء اور ارکان اسمبلی کو یکسر نظر اندا کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب مرکز میں بلوچستان عوامی پارٹی اپنی تمام چیزیں وزیراعظم عمران خان سے منوا رہی ہے، جس میں ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے اقدامات بھی شامل ہیں، تاہم بلوچستان میں ان کے وزیراعلیٰ جام کمال تحریک انصاف کے وزراء و ارکان اسمبلی اور عہدیداران و کارکنوں کو کسی بھی معاملے میں خواہ وہ ترقیاتی عمل ہو، ملازمتیں ہوں یا پھر پوسٹنگ ٹرانسفر ہو کوئی اہمیت نہیں دیتے، جس کی واضح مثال تحریک انصاف کے وزراء اور ارکان اسمبلی کا نجی محفلوں میں برملا بے اختیار ہونے کا اظہار ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق تحریک انصاف بلوچستان میں یہ لاوا کافی عرصے سے پک رہا تھا جبکہ پارلیمانی گروپ بھی دوسے تین گروپوں میں بٹا ہوا ہے، پارٹی کے عہدیداران و کارکنوں نے مایوسی کے اندھیروں سے نکلنے کے لئے آواز بلند کی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے وہ بلوچستان میں اپنے پارلیمانی گروپ کو متحد کریں اور مل کر یک آواز ہوں تب جاکر انہیں بلوچستان اور مرکز میں پارٹی قیادت اہمیت دے گی، ورنہ صورتحال جوں کی توں ہی رہے گی ۔

بعض سیاسی حلقوں کے مطابق اس تمام صورتحال سے پارٹی کے پارلیمانی لیڈر و صوبائی وزیر تعلیم سردار یار محمد رند اور بعض ارکان اسمبلی بھی سخت مایوس ہیں اور وہ اکثر اوقات اپنی نجی محفلوں میں اس بات کا اظہار بھی کرتے چلے آ رہے ہیں کہ وہ جام کابینہ میں بے اختیار وزیر کی حیثیت اور وزیراعلیٰ کی جانب سے ان کے محکموں میں بے جا مداخلت پر کسی بھی وقت معذرت کرکے وزارت کا عہدہ چھوڑ سکتے ہیں، جس کے لئے وہ کسی مناسب وقت کے منتظر ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بعض حلقوں کا خیال ہے کہ جس مناسب وقت کے وہ منتظر ہیں۔

شاید وہ وقت اب قریب آگیا ہے کیونکہ ان کی جماعت کے صوبائی عہدیداران وکارکنوں نے بھی انہیں یہ تجویز دے دی ہے کہ وہ بے اختیار عہدوں سے جان چھڑا لیں، جس کے لئے انہوں نے اپنے قریبی دوستوں اور ہمدردوں سے مشاورت کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ اسی لئے بعض سیاسی حلقے تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر تعلیم سردار یار محمد رند کے حوالے سے بریکنگ نیوز کی آئندہ چند روز میں توقع کررہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق بلوچستان کی سیاست میں ماہ رمضان و عید کے بعد بڑی سیاسی تبدیلیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اس کے علاوہ سیاسی حلقوں میں موجودہ گورنر بلوچستان جسٹس (ر) امان اللہ یاسین زئی کی تبدیلی کے حوالے سے بھی بعض خبریں گشت کر رہی ہیں، اس سے قبل بھی گورنر جسٹس(ر) امان اللہ یاسین زئی کی تبدیلی کے حوالے سے خبریں آئی تھیں اور بعض شخصیات کے نام بھی سامنے آئے تھے لیکن مرکز نے آخری وقت پر اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے انہیں گورنر کے عہدے پر برقرار رکھا۔ سیاسی حلقوں میں صوبے کی ایک قبائلی شخصیت احمد خان غبیزئی کی اچانک بیرون ملک سے کوئٹہ آمد اور زبردست استقبال کے بعد گورنر بلوچستان کی تبدیلی کی خبروں نے زور پکڑا ہے، لیکن یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ گورنر بلوچستان جسٹس(ر) امان اللہ یاسین زئی کو فوری طور پر تبدیل کیا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق سینیٹ الیکشن میں متحدہ اپوزیشن کی دو جماعتوں بلوچستان نیشنل پارٹی اور جمعیت علماء اسلام کے ارکان اسمبلی کے حوالے سے یہ بات وثوق سے کہی جارہی تھی کہ انہوں نے اپنا ووٹ حکومتی اتحاد کو دیا ہے۔ بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے اپنی جماعت کے حوالے سے سخت نوٹس لیتے ہوئے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی جس کی رپورٹ بھی پارٹی کو موصول ہوگئی ہے اور کارروائی بھی عمل میں لائی جارہی ہے۔

پارٹی کے اندر احتساب کا یہ عمل یقینا قابل تعریف ہے، جس کے آئندہ دو رس نتائج برآمد ہوں گے، سیاسی مبصرین کے مطابق دوسری اپوزیشن جماعت جے یو آئی کو چاہئے کہ وہ بی این پی کی تقلید کرتے ہوئے پارٹی کے اندر احتساب کا عمل کرے اور ایسے ارکان کے خلاف کارروائی عمل میں لائے۔

The post تحریک انصاف بلوچستان نے بے اختیاری کا شکوہ شروع کر دیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3cGOJkZ

پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کا اپنی سیاست پر غور شروع؟

 پشاور: پاکستان پیپلزپارٹی نے جس طریقے سے اپنے پتے کھیلے اور پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف کا عہدہ حاصل کیا، اس کی وجہ سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ حالت نزع میں چلی گئی ہے اور بظاہر لگ یہی رہا ہے کہ پی ڈی ایم اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے۔

تاہم سیاست میں کچھ بھی ہو سکتا ہے اور اس صورت میں کہ اس معاملے میں آصف علی زرداری جیسی شخصیت کا اہم کردار ہو، یہ آصف علی زرداری ہی ہیں کہ جنہوں نے اچانک ایسی صورت حال پیدا کی کہ پی ڈی ایم کی بساط ہی الٹ کر رکھ دی کیونکہ وہ لانگ مارچ اور اسمبلیوں سے استعفوں کے معاملے کو اکٹھے لے کر چلنے کے حق میں نہیں تھے۔

یہی وجہ ہے کہ پہلے اس ایشو کی بنیاد پر پی ڈی ایم کی جماعتوں میں دوریاں پیدا ہوئیں اور اب اپوزیشن لیڈر کے عہدہ پر سید یوسف رضاگیلانی کی تقرری کے بعد معاملات آخری حد تک پہنچ چکے ہیں اور تادم تحریر صورت حال یہ ہے کہ ایک جانب تو مولانافضل الرحمٰن علیل ہوکر گھر تک محدود ہیں تو دوسری جانب مریم نواز بھی علالت کا شکار ہیں۔ سب کی نظریں پاکستان پیپلزپارٹی کے سی ای سی اجلاس پر لگی ہوئی ہیں، حالانکہ سی ای سی نے جو بھی فیصلہ کرنا ہے وہ سابق صدر اور پارٹی چیئرمین کی جانب سے دی گئی پالیسی کے مطابق ہی کرے گی اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ پیپلزپارٹی کسی بھی طور نہ تو سندھ حکومت چھوڑے گی اور نہ ہی اسمبلیوں سے باہر آئے گی۔

پی ڈی ایم کی وجہ سے اپوزیشن میں شامل سیاسی جماعتوں میں جو نزدیکیاں پیداہوئی تھیں، وہ اب ایک بار پھر دوریوں میں تبدیل ہونا شروع ہوگئی ہیں اور تمام پارٹیوں کے رہنما اور ورکر اپنی پارٹی قیادت کی طرف دیکھنے پر مجبور ہیں تاکہ گرین سگنل ملتے ہی وہ واپس اپنی سیاست کی طرف آسکیں، یہ پی ڈی ایم کی وجہ سے پیداہونے والی صورت حال ہی تھی کہ جس نے عوامی نیشنل پارٹی میں بھی اندرونی اختلافات کو واضح کردیا ہے۔ پی ڈی ایم کے طرز سیاست اور عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیارولی خان کی علالت کی وجہ سے پارٹی کی مرکزی اور صوبائی تنظیمیں الگ کھڑی نظر آرہی ہیں۔

پہلے نوشہرہ کے ضمنی انتخابات میں پارٹی کی مرکزی قیادت کے ساتھ مسلم لیگ ن کے رابطوں کے باوجود اے این پی نے اپنا امیدوار مقابلے سے دستبردار نہیں کرایا کیونکہ پارٹی کی صوبائی قیادت ایسا نہیں چاہتی تھی، اس لیے اے این پی نے میدان میں رہتے ہوئے مقابلہ کیا حالانکہ اس سے اے این پی کو فائدہ تو کچھ نہیں ہوا تاہم پارٹی کی صوبائی قیادت نے ثابت کردیا کہ وہ اپنے فیصلوں میں آزاد ہے۔

پھر سینٹ کے معاملات میں اے این پی کے اندر کی یہ تقسیم مزید واضح ہوگئی ہے کیونکہ پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں چیئرمین سینٹ کے عہدہ کے لیے پیپلزپارٹی کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین سینٹ اور قائدحزب اختلاف کے عہدوں پر فیصلے کے لیے جس ذیلی کمیٹی کو ٹاسک سونپا گیا اس میں پی ڈی ایم کے مرکزی ترجمان اور اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین موجود تھے اور ان کی موجودگی ہی میں ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے عہدہ کے حوالے سے جے یوآئی اور قائدحزب اختلاف کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے حق میں فیصلہ ہوا لیکن اس کے بعد جب پیپلزپارٹی قائدحزب اختلاف کا عہدہ حاصل کرنے کے لیے اپنے طور پر سرگرم ہوئی اور اس نے سیاسی پارٹیوں سے رابطے شروع کیے تو آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اے این پی کے مرکزی قائدین کے بجائے صوبائی صدر ایمل ولی خان کے ساتھ رابطہ کیا کیونکہ انھیں اختیار کا منبع معلوم تھا اور پھر ان کی توقعات کے مطابق صوبائی صدر نے اپنا فیصلہ پیپلزپارٹی کے حق میں دیا۔ اے این پی کے دونوں سینیٹرز نے سینٹ میں قائد حزب اختلاف کے عہدہ پر پیپلزپارٹی کے امیدوارسید یوسف رضاگیلانی کی حمایت کی جس کے بعد ایک مرتبہ پھر سابق صدر آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے ایمل ولی خان سے رابطہ کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا،اے این پی اختلافات کا شکار ہے یا نہیں؟اس بارے میں پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردارحسین بابک کہتے ہیں کہ ہم پی ڈی ایم کے مشترکہ فیصلوں کے پابند ہیں اور جب کسی ایشو پر مشترکہ فیصلہ نہ ہو تو ہر پارٹی اپنے فیصلوں میں آزاد ہے۔

دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ مرکز کے ساتھ خیبرپختونخوا کی کابینہ میں بھی ایک مرتبہ پھر ردوبدل کی بات چل پڑی ہے، اشتیاق ارمڑ جو گزشتہ حکومت میں معاون خصوصی سے ترقی پاکر وزیر بنے اور جنگلات وماحولیات کا محکمہ سنبھالے رہے اور اب موجودہ حکومت میں بھی ڈھائی سالوں سے ان کے پاس اسی محکمہ کا قلمدان ہے ،ان کا محکمہ تبدیل کیے جانے کی افواہیں ہیں، جس کے ساتھ ہی ان کے سٹیٹس میں بھی ردوبدل کی بات کی جا رہی ہے، جس کا واضح مطلب انھیں وزیر کے بجائے مشیر یا پھر معاون خصوصی بنانا ہی ہو سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی بعض دیگر صوبائی وزراء وحکومتی ٹیم ارکان کے محکموں میں بھی ردوبدل کی باتیں سرگرم ہیں۔ وفاقی وزیر دفاع پرویزخٹک کے صاحبزادے ابراہیم خٹک جن کی شادی حال ہی میں پیپلزپارٹی کے رہنما خواجہ محمد ہوتی کی صاحبزادی سے انجام پائی ،انھیں صوبائی کابینہ میں شامل کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، جس کے ساتھ وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور کے بھائی فیصل امین کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ انھیں بھی حکومتی ٹیم کاحصہ بنایا جا رہا ہے۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو اس صورت میں سپیکر قومی اسمبلی اسدقیصر کیوں کر نیچے ہوکر بیٹھیں گے، وہ بھی اپنے بھائی عاقب اللہ خان کی حکومتی ٹیم میں شمولیت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ بہرکیف صوابی میں ترکئی فیملی کے ہم پلہ بننے کے لیے انھیں عہدوں کی ضرورت تو ہے، لیکن اس ردوبدل میں کہیں پر بھی سابق سینئر وزیر عاطف خان کا نام سننے میں نہیں آرہا حالانکہ سینٹ انتخابات سے قبل جب دوگورنروں کی کوششوں کی بدولت وزیراعلیٰ محمود خان اور سابق سینئر وزیر میں صلح ہوئی تو اس کے بعد اصولی طور پر کابینہ میں بھی ان کی واپسی ہوجانی چاہیے تھی، لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔

جانی خیل بنوں میں چار نوجوانوں کے قتل کے معاملے پر جاری تنازعہ ختم ہوگیاہے ،وزیراعلیٰ نے صوبائی وزرائپر مشتمل کمیٹی بنوں بھیجی لیکن جب مسلہ حل نہ ہوا تو خود بنوں پہنچ گئے اور مسلسل مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے بالآخر معاہدہ کیا تاہم اس معاملے میں شروع میں قدرے تساہل کا مظاہرہ کیاگیا۔

اگر شروع ہی سے پشاور سے وزراء پرمشتمل وفد صوبائی حکومت کی جانب سے بھیجا جاتا تو اس کا اثر کچھ اور ہوتا اور یہ معاملہ بروقت حل کر لیا جاتا کہ جس میں سیاسی عنصر بھی شامل نہ ہونے پاتا، تاہم مستقبل کے حوالے سے ضرور اسے مثال بنانا چاہیے تاکہ اگر خدانخواستہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ ہوتاہے تو بیوروکرویٹس اور پولیس افسروں پر معاملہ چھوڑنے کے بجائے وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم خود معاملات کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے حل نکالیں۔

The post پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کا اپنی سیاست پر غور شروع؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3dngEFC

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...