Urdu news

Friday, 30 April 2021

خچراورجنگلی گھوڑے پانی کے کنویں کھود کر حیاتیاتی تنوع بڑھاتے ہیں

ایریزونا: گدھوں، خچروں اور جنگلی گھوڑوں کے متعلق ایک دلچسپ انکشاف ہوا ہے کہ وہ اپنی پیاس بجھانے کے لیے کنویں کھودتے ہیں۔ بعد ازاں اس کا پانی دیگر جانور پیتے ہیں اور ان کا یہ عمل حیاتیاتی تنوع بڑھانے کے کام آتا ہے۔

آرہس یونیورسٹی، ڈنمارک ایرک لیونڈ گرن اور ان کے ساتھیوں نے ایریزونا کے سونورن ریگستان میں چار چشموں کا بغور مشاہدہ کیا ہے۔ اگرچہ یہ چشمے زمین سے پھوٹتے ہیں لیکن جلد ہی خشک ہوجاتے ہیں۔ لیکن سائنسدانوں کی ٹیم نے 2015،2016 اور2018 کے موسمِ گرما میں کئ بار ان چشموں کو جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ اس علاقے کے گدھے اور گھوڑے زمینی پانی نکالنے کے لیے کنویں کھودتے ہیں۔

ایرک کہتے ہیں کہ یہ بہت گرم اور خشک ریگستان ہے اور کئی جادوئی جگہیں ایسی ہیں جہاں آپ تازہ پانی دیکھ سکتے ہیں۔

گھوڑے اور گدھے دو میٹر گہرائی تک گڑھا کھودتے ہیں جسے کنواں کہا جاسکتا ہے۔ تحقیقی ٹیم نے ان جانوروں کے کنووں پر 59 اقسام کے فقاریئے جانوروں کو دیکھا جن میں سے 57 ان کنووں کا پانی پی رہے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن علاقوں میں کنویں عام تھے وہاں دیگر بنجر علاقوں کے مقابلے میں 51 زائد اقسام کے جانور دیکھے گئے جو عین اسی عرصے میں دونوں جگہوں پر ریکارڈ ہوئے۔

اس طرح جانوروں میں ہرن، گلہریاں، عام بٹیر، سیاہ ریچھ اور دیگر جانور شامل تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانی کے یہ وسائل کس طرح اور کتنی اقسام کے جانوروں نے استعمال کئے۔ پھران کنووں کو پودوں کی افزائش کا اہم وسیلہ بھی قرار دیا گیا ہے جن میں پیپل، شاہِ بلوط اور دیگر اقسام کے مفید درخت شامل ہیں۔ اس طرح گدھے اور گھوڑے ایک ریگستان کو سبز بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

The post خچراورجنگلی گھوڑے پانی کے کنویں کھود کر حیاتیاتی تنوع بڑھاتے ہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3nDga2O

شہباز شریف سے جیل سے رہائی کے بعد مکالمہ

ہاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف ایک لمبی جیل کاٹ کر آئے ہیں۔ ابھی انھوں نے اپنی سیاسی سرگرمیاں پوری طرح شروع نہیں کی ہیں۔ لمبی جیل کے بعد لوگ ان سے مل رہے ہیں۔ میں نے سوچا مجھے بھی ملنا چاہیے۔

شہباز شریف ابھی کوئی لمبی سیاسی بات کرنے کے موڈ میں نظر نہیں آئے تاہم میرے پاس بھی ایک اسکرپٹ تھا۔ اس لیے انھوں نے سیاسی باتوں سے جتنا اجتناب کرنے کی کوشش کی میں نے پھر بھی اپنے سوالات کے جواب جاننے کی بھر پور کوشش کی۔

ہر طرف شور ہے کہ ن میں سے ش نکل رہی ہے۔ مجھے بہت تجسس تھا کہ کیا واقعی ن میں سے ش نکل رہی ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ ن میں سے ش نکلنے کی کیا کہانی۔ مسکرائے اور قہقہہ لگاتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ آج کی نہیں تیس سال کی کہانی ہے۔ تیس سال سے ن میں سے ش نکالنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ کب نہیں ہوئی۔ اور ن میں سے ش نکالنے والے کب کب ناکام نہیں ہوئے ہیں۔ اس لیے نہ پہلے کبھی ن میں سے ش نکلی ہے اور نہ کبھی نکل سکتی ہے۔ ش اور ن انشا ء اللہ ایک ہی رہیں گے۔

میں نے کہا ن میں سے ش نکال کر وزارت عظمیٰ مل سکتی ہے۔ انھوں نے کہا یہ بھی پرانی کہانی ہے۔ جب جب ن میں سے ش نکالنے والوں نے کوشش کی ہے وزارت عظمیٰ پلیٹ میں رکھ کر دی ہے۔ میں نے ہمیشہ وزارت عظمیٰ پر ن کو ترجیح دی ہے۔ ن اور ش ایک ہیں۔ یہ جو روز ن میں سے ش نکالنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ انھیں کچھ نہیںملے گا۔

میں نے کہا پھر مفاہمت کا کیا بنے گا۔ شہباز شریف نے کہا مفاہمت کا میرا بیانیہ کوئی نیا نہیں ہے۔ میں تیس سال سے مفاہمت کی بات کر رہا ہوں۔ اس لیے یہ بھی میرا پرانا موقف ہے۔ میں نے پارٹی ڈسپلن کے اندر رہتے ہوئے ہمیشہ اپنی بات کی ہے۔ کبھی پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ ن لیگ کے اندر مکمل جمہوریت ہے۔

پارٹی کے تمام فورمز پر میں اپنی بات رکھتا ہوں۔ پھر جو فیصلہ ہو جائے وہ ہم سب کا فیصلہ ہے۔ اب بھی یہی ہوگا ۔ میں پارٹی کے اندر ہی اپنی بات رکھوں گا اور پھر جو فیصلہ ہوگا وہیں ہوگا۔ اس لیے مفاہمت کا مطلب یہ نہیں کہ میں کوئی الگ ہو رہا ہوں۔ میں نے اتنی لمبی جیل کاٹی ہے بلکہ عمران خان کے دور میں سب سے زیادہ جیل میں نے اور میرے بیٹے نے کاٹی ہے۔ اگر ن میں سے ش نکالنی ہوتی تو اتنی لمبی جیل کاٹنے کی کیا ضرورت تھی ۔

اب تو بشیر میمن کے انکشافات سے ظاہر ہو گیا ہے کہ میری گرفتاری کے احکامات کہاں سے آتے تھے۔ مجھ پر مقدمات کیسے بنے ہیں۔ میں نے سب سے پہلے نیب نیازی گٹھ جوڑ کی بات کی تھی۔ آج وقت نے میری بات کو سچ ثابت کر دیا ہے۔ میری جیل نواز شریف سے میری اٹوٹ وفاداری کا ثبوت ہے۔ مجھے اس پر فخر ہے۔ حمزہ کی جیل بھی اس بات کی گواہی ہے۔ آپ لوگ مخالفین کے پراپیگنڈے میں آکر ایسی باتیں پھیلاتے ہیں جس کا مجھے بہت دکھ ہے۔ میاں نواز شریف ہم سب کی بات سنتے ہیں اور سن کر ہی فیصلے کرتے ہیں۔ اب بھی ایسا ہی ہوگا۔ میں نے جو بات کرنی ہے وہاں کروں گا۔ میڈیا میں کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

میں نے کہا لوگ آپ کے اور مریم نواز کے تعلقات کے بارے میں بہت بات کرتے ہیں۔بہت قیاس آرائیاں ہیں۔ شہباز شریف نے کہا مریم نواز میری بیٹی ہیں۔ آپ ہمارے خاندان کی روایات کو سمجھیں۔ مریم نواز مجھے اپنی بیٹیوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ جیسے بڑے میاں صاحب کو حمزہ عزیز ہیں۔

شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر چلنے والے میرے ایک تجزیہ پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بالکل غلط ہے۔ انھوں نے کہا میں ایسی زبان استعمال ہی نہیں کرتا۔ اس لیے میں چٹکی والی بات کیسے کر سکتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ اس کی تردید ہونی چاہیے۔ ن لیگ میں میری وجہ سے نہ تو ماضی میں کوئی تقسیم ہوئی ہے اور نہ ہی آگے ہو سکتی ہے۔ اس لیے ایسے تجزیے غلط ہی ثابت ہونگے۔

انھوں نے کہا جب میں بھی جیل میں تھا۔ بڑے میاں صاحب بھی باہر ہیں تو مریم نے پارٹی کے لیے بہت شاندار کام کیا ہے۔ مریم نواز نے جس طرح مسلم لیگ (ن) کی سیاست کو سنبھالا ہے اس کی جتنی بھی داد دی جائے کم ہے۔ میں اور مریم ملکر اگلی سیاست کریں گے۔ میں مریم کا روشن مستقبل دیکھتا ہوں، اس نے ہمارا پرچم بلند کیا ہے۔

میں نے کہا لوگ ابہام میں ہیں کہ مفاہمت یا مزاحمت۔ انھوں نے کہا بات ایسی نہیں ہے۔ نہ اکیلا بیانیہ چل سکتا ہے اور نہ ہی اکیلی کارکردگی چل سکتی ہے۔ سیاست میں بیانیہ اور کارکردگی نے ساتھ ساتھ چلنا ہوتا ہے۔ لوگ بیانیہ پر ووٹ دیتے ہیں اور کارکردگی آپ کے بیانیہ کو زندہ رکھتی ہے۔ اس لیے مسلم لیگ (ن ) کے پاس کارکردگی بھی ہے اور بیانیہ بھی ہے۔

The post شہباز شریف سے جیل سے رہائی کے بعد مکالمہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/335IkKg

کورونا وائرس کی تیسری لہر

کورونا کی تیسری لہر پاکستان پہنچ چکی ہے۔ اِس لہر نے یورپ اورہمارے پڑوسی بھارت کو کچھ عرصے قبل اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔ اس وبا کے خلاف پاکستان کی اب تک کی کارکردگی تواطمینان بخش تھی، لیکن اب کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ یہ تعداد روایتی طور طریقوں اور ’’ایس اوپیز‘‘ پر عمل درآمد کی اپیلوں سے نہیں رُکے گی۔

ایک نیا لاک ڈاؤن امکانی ہے، جو غریب عوام اور معیشت کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ صوبوں اور وفاقی دارالحکومت میں فوج طلب کر لی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے واضح کیا ہے کہ ہم معیشت بچانے کے لیے انسانی جانوں کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔

صورت حال کے بگاڑ کی ایک وجہ گزشتہ ایک برس سے نافذ لاک ڈاؤن سے متعلق عوام کو لاحق پریشانی بھی ہے۔یہ لگاتاردوسرارمضان ہے، جب نہ تو ہم اپنے دوستوں، عزیزوں کو افطار پر مدعو کر سکتے ہیں، نہ ہی عبادات کے لیے اعتماد سے گھروں سے باہر جاسکتے ہیں۔ افطاری کے بعد مارکیٹوں کا رخ کرنا، وہاں تحائف اور کپڑوں کا انتخاب، یہ ایک عام چلن تھا۔ اب یہ چلن ایک خطرناک عمل بن چکا ہے، کیوں کہ مارکیٹوں میں احتیاطی فاصلہ برقرار رکھنا ممکن نہیں۔ موجودہ حالات میں درزیوں کے پاس جانا، بالخصوص رش والی چھوٹی دکانوں پر،قطعی مناسب نہیں۔

ایک جانب پابندیوں کی تھکن ہے، دوسری طرف ویکسی نیشن کی رفتار بھی کچھ سست ہے۔ پاکستان میں 113.4ملین بالغان کو ویکسین کی ضرورت ہے۔ چین نے پہلے مرحلے میں پاکستان کو ویکسین کی نصف ملین ڈوز ارسال کی تھیں۔ مزید 5 لاکھ سینوفرم خوراکیں اور 60 ہزار کین سینو خوراکیں تین ہفتوں قبل موصول ہوئیں، مزید 5 لاکھ خوراکیں جلد متوقع ہیں،مگر پاکستان کی آبادی کو دیکھتے ہوئے انھیں فقط سمندر میں قطرہ ٹھہرایا جاسکتا ہے۔

فی الحال تو یہی لگتا ہے کہ پاکستانی حکومت مارکیٹ سے زیادہ ویکسین نہیں خرید رہی۔ ساتھ ہی مزید ایک لاکھ   ویکسین کی آمد کی بھی تصدیق نہیں ہوئی۔ اور پھر  ہماری ضروریات کے پیش نظر یہ تعداد بھی کم ہے۔ Pfizer-BioNTechاس وقت سب سے مطلوب ویکسین ہے، مگریہ مارکیٹوں میں موجود نہیں، کیوں کہ اس کی سپلائی امریکا کنٹرول کر رہا ہے۔خیر، افواہ ہے کہ کئی ملین خوراکوں کا معاہدہ کیا گیا ہے، مگر اس کی سرکاری تصدیق ہونا باقی ہے۔

دوسرا مسئلہ سرمائے کا ہے۔فی الحال پاکستان مفت فراہم کی جانے والی ویکسین وصول کر رہا ہے۔جب آپ کے ہاں ویکسین لگوانے کی آمادگی کم ہو اور غربت بہت زیادہ ہو، ایسے میں پیسے دے کر ویکسین خریدنا مقبول چلن نہیں۔ اس مرض کے ابتدائی مرحلے ہی میں یہ واضح ہوگیا کہ اس عالمی بحران سے نمنٹے کے لیے ہمیں فقط COVID-19 ویکسین درکار نہیں، بلکہ ہمیں اس کی ہرفرد تک رسائی بھی ممکن بنانی ہوگی۔اگر صرف دولت مند اقوام کی اُن تک رسائی ہو، اور غریب اقوام اُن سے محروم رہیں، پھر تو یہ وباشاید ہی ختم ہو۔

کیوں کہ عوام کی نقل و حرکت کے ساتھ یہ مرض پھیلتا جائے گا اور وائرس میں میوٹیشن ہوتی رہے گی۔ اس سے نبردآزما ہونے کے لیے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO)، یورپی یونین اور فرانس کی جانب سے COVID-19 Vaccines Global Access (COVAX) کا تصور پیش کیا گیا۔

یہ پروگرام حکومتوں، عالمی صحت کی تنظیموں، صنعت کاروں، سائنس دانوں، نجی شعبے، سول سوسائٹی اور مخیر حضرات کو اکٹھا کرتا ہے اور اس کا مقصد مفت یا کم لاگت میں COVID کی تشخیص، علاج اور ویکسین تک مساویانہ رسائی کا اہتمام ہے۔یہ اس وبائی بیماری کا واحد حقیقی حل ہے، کیوں کہ یہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش ہے کہ دنیا کے کونے کونے میں لوگوں کو ان کی مالی حیثیت سے قطع نظر ویکسین فراہم کی جائے۔

توقع ہے کہ پندرہ ملین خوراکوں کے ساتھ پاکستان یہ ویکسین وصول کرنے والے پانچ بڑے ممالک میں شامل ہوجائے گا۔البتہ مسئلہ یہ ہے کہ ُان کی ڈلیوری کے بارے میں تاحال کچھ حتمی نہیں۔ پھریہ ویکسین ’’پہلے آئیں، پہلے پائیں ‘‘کی بنیاد پر فراہم کی جاتی ہیں، ایسے میں مغربی ممالک کی معاہدوںاور رقم کی ادائیگی میں پہل کے باعث ہمارے ہاں اُن کی ترسیل میںتاخیر متوقع ہے۔جی او پی کا نجی کمپنیوں کے ذریعے پاکستان میں ویکسین درآمد کرنے کی اجازت دینا ایک انتہائی معقول اقدام تھا۔

اس اسکیم کے تحت روسی ساختہ اسپوتنک ویکسین کی 50 ہزار خوراکیں اور تھوڑی تعداد میں چینی ویکسین درآمد کی گئیں۔البتہ ان ویکسینز کی فروخت میں تاخیر کا سبب ان کی قیمت کے تعین کے لیے جاری بے انت مذاکرات رہے۔ادھراسپوتنک ویکسین کراچی کے نجی اسپتالوں میں  15000 روپے کے عوض مع تمام اخراجات، دو مراحل میں لگائی گئی۔ اگر اسپوتنک کی دنیا میں رائج قیمت دیکھی جائے، تو یہ کوئی معمولی رقم نہیں، لیکن اگر کورونا میں مبتلا ہو کر آپ اسپتال میں داخل ہوتے ہیں، تو اس لاگت کے مقابلے میں تویہ قلیل رقم ہی ہے۔

تو اگر آپ پندرہ ہزار ادا کرکے اس مرض سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں ،تو یہ اچھا سودا ہے۔ شاید اسی سوچ کے تحت کراچی اور دیگر جگہوں پر موجود یہ ویکسین تیزی سے فروخت ہوئیں۔مگر چند روز بعد یہ اقدام ڈرگس ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP)کی جانب سے روک دیا گیا۔

پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر کے پیش نظر عدالت کی رولنگ کے باوجود کہ عوام کو بڑے نقصان سے بچانے کے لیے تمام تر اقدامات کیے جائیں، نجی سطح پر ویکسین کی فروخت(سرکاری سرپرستی میں) بحال نہیں ہوسکی۔درآمد کی جانے والی ویکسین کا مخصوص وقت میں استعمال ضروری ہے۔ یا تو اب تک وہ ایکسپائر ہوچکی ہوں گی، فروخت کر دی گئی ہوں گی یااُن افراد میںتقسیم ہو گئی ہو ں گی، جن کی اُن تک رسائی تھی۔

اگر ہم ویکسین کی پرائیویٹ درآمدات پر پابندی لگا دیں، تو عوام کی اضافی ویکسی نیشن کا امکان گھٹ جائے گا۔اوریہ عمل باقی دنیا کے لیے خطرے کو بڑھا دے گا۔ ساتھ ہی پاکستانیوں کو بیرون ملک کے لیے میسر سفری اجازت کوبھی خدشات لاحق ہوجائیں گے۔ پاکستان میں ویکسی نیشن مہم کو پیش نظر رکھتے ہوئے مرتب کردہ بلومبرگ رپورٹ کے مطابق ملک کی 70فی صد آبادی کو ، موجودہ رفتار سے ویکسین لگنے میں ایک دہائی لگ سکتی ہے۔

کورونا کی تیسری لہر پاکستان پہنچ چکی ہے اور بہ ظاہر لوگ اس ضمن میں لاعلم ہیں۔ 25 اپریل تک ایکٹو کیسوں کی تعداد 795627تھی، یعنی گزشتہ سات دن میں 11.5 فی صد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر اگلے ہفتے تک انفیکشن کی تعداد کم نہیں ہوئی،تو مکمل لاک ڈاؤن نافذ ہوسکتا ہے۔

بہ ظاہر کیسوں کی تعداد میں کمی کا امکان نہیں۔ یعنی رمضان کے دوسرے حصے، بالخصوص عید پر ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اس مسئلے سے نمٹنے کا طریقہ یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ افراد کو ویکسین لگائی جائے،  COVAX کے طریقہ کار کے مطابق جب تک ویکسین کی ترسیل میں تاخیرہوتی ہے، ایسے افراد کے لیے جو نجی ویکسین افورڈ کرسکتے ہیں، اُن کے لیے یہ اہتمام کیا جانا چاہیے۔

(فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)

The post کورونا وائرس کی تیسری لہر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3t6eG2g

یہ ہے شمالی امریکا کا ’مشین گن پرندہ‘

کیوبا: فطرت کے کارخانے میں حیرت انگیز پرندے موجود ہے اور ایسا ہی ایک پرندہ کھٹ بڑھئی ہے جو اپنی چونچ سے درختوں میں سوراخ کرتا ہے۔ لیکن وڈ پیکر کی ایک قسم ایسی بھی ہے جسے اپنی خوفناک آواز کی بنا پر مشین گن وڈپیکر بھی کہا جاسکتا ہے۔

انہیں ناردرن فلِکرز کہا جاتا ہے جو وسطی و شمالی امریکہ، کیوبا اور کیمن جزائر میں عام پائے جاتےہیں۔ انہیں اپنی چونچ کسی دھاتی شے سے ٹکرانے کا جنون ہوتا ہے اور اسی بنا پر وہ جب تیزی سے چونچ مارتے ہیں تو مشین گن جیسی آواز پیدا ہوتی ہے جو دور دور تک سنائی دیتی ہے۔

اس پرندے کی لمبائی سات سے پندرہ سینٹی میٹر تک ہوتی ہے۔ موسمِ بہار سے موسمِ گرما کے دوران بھوری چونچ والا یہ خوبصورت پرندہ بہت شور کرتا ہے۔ اس کے چونچ مارنے کے عمل کو ڈرمنگ کہا جاتا ہے جس سے تیزرفتار فائرنگ کا گمان ہوتا ہے۔ لیکن یہ پرندہ دھات پر چونچ مارنا پسند کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح سے وہ اپنے علاقے کا اعلان کرتا ہے۔ لیکن انسانی کان میں یہ شور کسی مشین گن کی طرح محسوس ہوتا ہے اسی بنا پر اس وڈ پیکر کو مشین گن پرندہ بھی کہا گیا ہے۔

دوسری جانب یہ آواز نر وڈ پیکر خارج کرتا ہے تاکہ وہ مادہ کو اپنی جانب راغب کرسکے۔ اس کے لیے وہ ایسی دھاتی سطح کا انتخاب کرتا ہے جہاں گونج پیدا ہوسکے اور آواز دور تک جاسکے۔ ایک سیکنڈ میں یہ 25 مرتبہ اپنی چونچ مارتا ہے اور عین اسی رفتار سے مشین گن بھی چلتی ہے۔

تاہم یہ پرندے اپنی مضبوط چونچ سے گھروں کی شہتیروں، ڈش اینٹینا ، چمنی کے دھاتی ڈھکنوں اور دیگر اشیا کو متاثر بھی کرتے ہیں۔ بسا اوقات اس کا شور بھی ناقابلِ برداشت ہوتا ہے جس کی بنا پر انہیں بھگانے کے کئی طریقے اختیار کئے جارہے ہیں۔

The post یہ ہے شمالی امریکا کا ’مشین گن پرندہ‘ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2QCGbmX

حکومتی پالیسیوں سے ملک کی معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے، وزیراعظم

 اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومتی پالیسیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ رواں مالی سال جولائی تا اپریل محصولات 14 فیصد اضافے سے 3780 ارب تک پہنچ گئیں، ٹیکس محصولات میں اضافے پر ایف بی آر قابل تعریف ہے۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ایف بی آر نے اپریل 2021 میں 384 ارب کے محصولات اکٹھےکیے جب کہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 240 ارب روپے اکٹھے ہوئے تھے۔ اس طرح ایک ماہ کے دوران اپریل 2020 کے مقابلے محصولات میں 57 فیصداضافہ ہوا۔ حکومتی پالیسیوں سے ظاہر ہوتا ہے معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے۔

The post حکومتی پالیسیوں سے ملک کی معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے، وزیراعظم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3xDN87O

محنت کش فیصلہ کن معرکے کی جانب گام زن

 کورونا وبا نے سرمایہ داری کے بحران کو شدید تر کر دیا ہے اور اس کی بے حسی اور شقی القلبی کو ایک بار پھر عیاں کیا ہے۔

وبائی عفریت نے پیداواری عمل کو بڑی طرح متاثر کیا ہے جس سے روزگار کے ذرائع سکڑ کر رہ گئے ہیں۔ سماج کے دولت مند حصوں خصوصاً پیداوار کے منبع پر قابض گروہوں، ان کے زیرانتظام اداروں اور ریاستوں نے اس ناگہانی صورت حال میں جمع شدہ دولت کو نوع انسانی کی بقا کے لیے منصفانہ بنیادوں پر استعمال کرنے سے یکسر انکار کر رہے ہیں۔

آج اکیسویں صدی میں بھی صحت اور علاج جیسی بنیادی انسانی حق کا حصول دولت اور سرحدوں میں قید ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک سے لے کر غریب ممالک کی ریاستیں وبا سے نبردآزما ہونے کے لیے صحت کا موثر نظام فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں جس کے نتیجے میں لاکھوں معصوم انسان موت کے منہ میں جاچکے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ صحت سے متعلق موجودہ بین الاقوامی اور قومی طرز عمل نے یہ حقیقی خوف پیدا کر دیا ہے کہ مستقبل قریب میں اسی نوعیت کے وبائی خطرات میں کہیں نوع انسانی ہی اپنا وجود نہ کھو بیٹھے۔

سرمایہ دار ممالک وبا سے بچاؤ کی ویکسین کو انٹیلکچوئیل پراپرٹی حقوق کی آڑ میں منافع کمانے کے لیے استعمال کر تے ہوئے انسانی زندگی پر منافع کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ سرمایہ دارانہ اخلاقیات کا ایک اور قبیح اظہار ہے جس کے خلاف آج سے 135 برس پہلے شکاگو کی “ھے مارکیٹ” میں مزدوروں نے علم مزاحمت بلند کیا تھا۔ وقت اور حالات ثابت کر رہے ہیں کہ نہ تو سرمایہ کا چلن اور اس پر استوار انسان دشمن سوچ بدلی ہے اور نہ ہی اس کو چیلینج کرنے کی مزدور طبقہ کی خو اور ریت بدلی ہے ۔ ہر دور میں ہر بار شکاگو کا نیا معرکہ جنم لیتا رہا ہے اور لیتا رہے گا۔

آج دنیا بھر میں معاشی بحران کے نتیجہ میں سیاسی و سماجی بحران ہر لحظہ شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے اور پاکستان کی بھی اس سے مستثنا نہیں۔ ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی صورت حال نہایت ہی دگرگوں ہے کہ یہاں یہ بحران دوآتشہ ہے۔ ایک آئی ایم ایف کے معاہدہ کا زہریلا وار اور دوسرا کرونا وبا کا تسلسل سے حملہ۔ پہلی کرونا لہر سے پہلے ہی موجودہ حکومت کے آئی ایم ایف سے ملکی تاریخ کے بدترین معاہدے نے عام محنت کش کی زندگی کو اجیرن کر دیا تھا کہ رہی سہی کسر کرونا نے پوری کر دی۔ جہاں معاہدہ نے معاشی ابتری کے خوف میں مبتلا کر دیا تو وہاں وبا نے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے کا خوف مسلط کر دیا۔

حکومت کے ایسٹ انڈیا نما مالیاتی ادارے سے معاہدے نے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے جب کہ کورونا وبا نے سارے پیداواری عمل کو ہی وینٹی لیٹر پر لے جا لٹایا۔ معاہدوں کے نتیجہ میں نہ صرف بنیادی ضروریات زندگی پر ریاستی سبسڈی واپس لے لی گئی ہے بل کہ براہ راست ٹیکسوں کا بھی بوجھ عوام پر لاد دیا گیا ہے۔ اسی معاہدے کے تحت ملکی کرنسی کی قدر میں پینتیس فی صد کمی کی وجہ سے عوام کی حقیقی اجرتیں اور آمد نصف ہو کر رہ گئیں۔

اشیائے خورونوش، ادویات، بجلی، گیس ، ٹرانس پورٹ، صحت اور تعلیم پر اٹھنے والے اخراجات میں چالیس سے تین سو فی صد اضافہ نے ان ضروریات زندگی کا حصول محنت کشوں کے لیے مشکل ترین بنا دیا ہے۔ اس پر افتاد یہ کہ کورونا نے روزگار کے رہے سہے مواقع بھی ختم کر دیے ہیں۔ کورونا سے بچاؤ کے لیے اقدامات اور حکومت کے احتیاطی احکامات کی آڑ میں مزدور کو دھڑا دھڑ ملازمتوں سے برخاست کیا گیا اور حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔ ایک کروڑ اسی لاکھ سے زائد محنت کش مکمل طور یا پھر جزوی طور پر روزگار سے محروم کیے گئے۔ اب یہ محسوس ہو رہا ہے کہ وبا کی نئی لہر اور مالیاتی ادارے سے کئے جانے والے معاہدے کے نتیجے میں یہ بیروزگاری مزید بڑھے گی۔

اس بحرانی کیفیت میں ریاست شہریوں کو ہنگامی معاشی امداد فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی اور اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی بجائے مجرمانہ بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کروڑوں انسانوں کو معاشی بحران اور وبا کے عفریت کے سامنے بے یارومدگار چھوڑ دیا۔ ریاست نے طاقت ور طبقات کے لیے زبردست مراعات کا اعلان کیا جس سے اس کی ترجیحات کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

ملکی معیشت پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین اور بین الاقوامی ادارے اس امر کی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ گزرے اور آنے والے برسوں میں خاطر خواہ نمو کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ جس رفتار سے آبادی بڑھ رہے اس نسبت سے کم از کم 5 فی صد کی شرح سے معیشت میں بڑھوتری ضروری ہے جو موجودہ صورت حال اور حکومتی پالیسی کی بنا پر ناممکن لگتی ہے۔

ایک ایسی معیشت جو سال بھر میں چالیس ارب ڈالرز (جس میں ایکس پورٹ سے بیس ارب ڈالرز اور تارکین وطن کے بھیجے بیس ارب ڈالرز شامل ہیں) کا زرمبادلہ کمائے اور اس کا سالانہ امپورٹ بل ساٹھ ارب ڈالرز سے زائد کا ہوں اور اسے ہر سال دس سے پندرہ ارب ڈالرز غیرملکی قرضوں کی قسط کی ادائیگی کے لیے بھی درکار ہوں تو وہ کیوں کر ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے۔

ایسے میں اگر ایک بیمار اور لاغر معیشت کا شکار معاشرہ اپنی پہلی ترجیح اسلحہ، سیکورٹی اور حکم رانوں کی مراعات ہی کو قرار دے تو پھر تباہی اور بربادی اس کا مقدر ٹھہرتا ہے اور ایسا ہی ہوتا نظر رہا ہے۔ ایسا ملک جس کی نصف سے زائد آبادی مفلسی کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہو، جس کے ڈیڑھ کروڑ سے زائد بچے اسکول جانے سے محروم ہوں، نوے فی صد سے زائد شہریوں کے لیے صاف پانی کا حصول ناممکن ہو، جس کا شمار انسانی حقوق اور ترقی کے انڈیکس کی فہرست میں پست ترین ہو لیکن وہ اسلحے کی خریداری میں ایشیا پیسفک کے ممالک میں سر فہرست ہو اور اس کا شمار دنیا کے سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے کرنے والے دس ممالک میں ہو تو پھر حکم رانوں کی سوچ پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔

یہ وہ سوچ ہے جس کی وجہ سے پاکستان خطہ میں پھیلی بدامنی و انتشار کا منبع گردانا جاتا ہے اور خود ہم بھی اس کی بھاری قیمت چکاتے آرہے ہیں۔ یہ اسی بیمار ذہنیت کا شاخسانہ ہے کہ تعلیم، صحت اور انسانی بہبود پر اٹھنے والے اخراجات نہ ہونے کے برابر ہیں اور آج ہم اپنے شہریوں کو لگائی جانے والی ویکسین کے لیے غیرملکی مدد کے منتظر ہیں۔

ایک جمہوری معاشرہ کے خدوخال ابھرنے سے پہلے ہی مٹا دیے جاتے ہیں، ہر اس عمل کو خطرہ تصور کیا جاتا ہے جو سماج کو ترقی و انصاف کی جانب لے جاتا ہے۔ جمہوری روایات کو کمزور کیا گیا ، انقلابی تنظیموں کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ طلبہ، مزدور، کسان، صحافی اور دیگر محاذوں کو طاقت کے زور پر دبایا گیا۔ منصوبہ بند طریقہ سے لسانی، مذہبی اور عوام دشمن گروہوں کی پشت پناہی کی گئی اور اسلحہ بردار لشکروں کو شہریوں پر مسلط کر دیا گیا۔

آج صورت حال یہ ہے کہ سات کروڑ سے زاید محنت کشوں کی اکثریت (ننانوے فی صد ) تنظیم سازی کے حق سے جبراً محروم کر دی گئی ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر خصوصاً ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے شعبہ میں یونین سازی کی موت واقع ہو چکی ہے۔ پانچ فی صد سے بھی کم محنت کش ملازمت کے تحریری تقررنامہ حاصل کر پاتے ہیں، یہ صورت حال سوشل سیکیوریٹی اور پینشن سے متعلق ہے۔

آٹھ گھنٹے روزانہ کام خواب ہے، فیکٹریوں، کارخانوں اور کار گاہوں میں بارہ سے چودہ گھنٹے روزانہ کام عام چلن ہے، سپریم کورٹ کے فیصلہ کے باوجود غیر قانونی ٹھیکے داری نظام رائج ہے، محنت کشوں کی اکثریت سرکاری طور پر اعلان کردہ کم اب کم اجرت سے محروم ہے، لیبر ڈپارٹمنٹ، نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن اور لیبر کورٹس مزدور حقوق ضمن میں مذبح خانوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ملکی آئین، لیبر قوانین، پارلیمینٹ سے توثیق شدہ آئی ایل او کنونشنز، یورپی یونین سے کئے گئے جی ایس پی پلس معاہدہ تمام نقش بر آب ہیں۔

بین الاقوامی کمپنیاں ہوں یا یا کہ مقامی صنعت کار انہوں نے کارگاہوں کو جدید بندی خانے میں تبدیل کردیا ہے اور اس میں مزدور اس میں جدید غلام بن کر رہ گیا ہے۔ اسے نسل در نسل غیر انسانی ماحول میں کام کرنے اور رہنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ حکم رانوں نے منظم ہونے ، حقوق کے لئے قانون اور آئین کے دائرہ میں جدوجہد کے راستہ مسدود کردیے ہیں۔ نام نہاد میں اسٹریم پارٹیاں چاہیے وہ اقتدار میں ہوں یا اپوزیشن میں وہ اپنے عمل سے ثابت کر رہی ہیں کہ وہ نظری طور پر بانجھ اور ظلم پر عبارت نظام ہی کا حصہ ہیں۔ ان کی ترجیحات کی فہرست میں محنت کش طبقہ کہیں بھی موجود نہیں۔ کوشش کی جارہی ہے کہ محنت کشوں کی بے چینی اور غصہ کو لسان اور فرقہ واریت میں بدل دیا جائے اور سماج میں فاشسٹ سوچ کو ایک بار پھر فروغ دیا جائے۔

اس سارے منظرنامہ میں محنت کش طبقہ اپنے حقوق کے لیے خود ہی منظم ہوگا اور وہ اپنی درخشاں روایات کا خود ہی امین بنے گا اور اپنے خلاف ہونے والی منصوبہ بندی کو ناکام بنائے گا۔ محنت کش طبقہ جہد مسلسل کی عظیم تاریخ کا وارث ہے۔

محنت کش طبقہ کی تاریخ بتاتی ہے کہ محنت کشوں نے 1968 اور 1969 میں جنرل ایوب کی آمریت کو للکارا اور ملک میں جمہوری اداروں کے قیام کے لیے فیصلہ کن جدوجہد کی، سندھ کے ہاریوں نے جاگیرداری کے خلاف لازوال قربانیوں کی تاریخ رقم کی، 1970 میں ہشت نگر (خیبرپختون خوا) کے کسانوں نے خوانین کو شکست سے دوچار کیا، 1971 اور 1972 میں سائیٹ، لانڈھی کراچی (سندھ) کے محنت کشوں نے اپنے خون سے مزاحمت کے پرچم کو بلند کیا، یہ کالونی ٹیکسٹائل ملز ملتان کے محنت کش ہی تھے جنہوں نے 1978 میں ضیاء الحق کی پیرا ملٹری فورسز کی فائرنگ کا سامنا کیا اور مزدور حقوق کے لیے 200 سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

اوکاڑہ کے مزارعین کی 2000 سے جاری جدوجہد ہو یا کہ 2012 میں بلدیہ فیکٹری سانحہ میں شہید ہونے والے 260 مزدور کے لواحقین کی انصاف کے لیے تحریک اور حالیہ دنوں میں محنت کشوں کی مختلف پرتوں کے منظم دھرنے جدوجہد کے وہ استعارے ہیں جو اس امر کی جانب اشارہ کر رہے کہ محنت کش طبقہ ایک فیصلہ کن معرکہ کی تیاری کی جانب بڑھ رہا ہے اور نئی صبح کے امکان روشن ہو رہے ہیں۔

The post محنت کش فیصلہ کن معرکے کی جانب گام زن appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3t6cpUM

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟

آج پاکستان میں بھی دنیا کے دیگر ممالک کی طرح’’عالمی یومِ محنت‘‘ منایا جارہا ہے۔ اس ضمن میں مختلف سیاسی جماعتیں، مزدور تنظیمیں اور محنت کشوں کے لیے حصّول انصاف کی عالمی جدوجہد سے تعلق رکھنے والی دیگر روشن خیال تنظیمیں اُن شہید مزدوروں کی یاد تازہ کریں گی کہ جنہوں نے اب سے 135سال قبل محنت کش طبقہ کو صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے ’’8گھنٹہ کام،8 گھنٹہ آرام اور 8گھنٹہ Socializingکا نعرہ بلند کیا۔‘‘

اس راہِ حق میں آوازِ حق بلند کرنے کی پاداش میں سات مزدور راہ نماؤں کو تختہ دار پر کھینچا گیا، جسے انہوں نے ہنستے مسکراتے قبول کیا مگر طاقت ور طبقے کے سامنے اپنا سر نہیں جھکایا اور اس طرح وہ تاریخ میں رہتی دنیا تک امر ہوگئے۔

ہم یومِ مئی کی تاریخ کے حوالے سے اگر آج اپنے ملک کے حالات پر ایک سرسری نگاہ ڈالیں تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ 135 سال گزرنے کے باوجود مزدور طبقہ کی زندگیوں میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ قیامِ پاکستان کے بعد خاص طور پر پاکستان پیپلزپارٹی کے مختلف ادوار حکومت میں محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بڑے پیمانے پر قانون سازی کی گئی اور متعدد ادارے بھی قائم کیے گئے۔

اس حوالے سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کا دور ایک سنہری دور کہا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں مزدور طبقہ کی تعداد آبادی کے لحاظ سے تقریباً سات کروڑ بتائی جاتی ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملک کی پارلیمان اور پالیسی ساز اداروں میں اُن کی کوئی حقیقی نمائندگی موجود نہیں، اتنی بڑی تعداد میں موجود ہونے کے باوجود کیوںکہ یہ طبقہ غیرمنظم ہے لہٰذا اُس کی کہیں کوئی مؤثر آواز سُنائی نہیں دیتی۔

مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے وضع کیے گئے قوانین کا اطلاق بالخصوص پرائیویٹ سیکٹر کے اداروں میں شاد و نادر ہی نظر آتا ہے۔ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم ماہانہ تنخواہ کی ادائیگی کے قانون پر عمل درآمد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ 80% فی صد ادارے اس پر عمل ہی نہیں کرتے اور مزدور 17500/-روپیے ماہانہ کی بجائے 10سے 12ہزار روپئے ماہانہ پر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

قانون کے تحت کسی بھی کارکن سے کسی بھی کارخانہ، دفتر یا انڈسٹری میں 8گھنٹہ یومیہ سے زائد بغیر اوور ٹائم کی ادائیگی کام نہیں لیا جاسکتا لیکن حقیقی صورت حال یہ ہے کہ مزدور 12,12گھنٹہ یومیہ کام کرنے پر مجبور ہیں اور اُن کی کوئی سنوائی نہیں۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں نے غلامی کے نئے نظام کو نافذ کردیا ہے اور کوئی پُرسانِ حال نہیں۔

عام طور پر صنعت کار اب اپنے اداروں میں ٹریڈ یونینز قائم ہونے ہی نہیں دیتے اور اس طرح بتایا جاتا ہے کہ 80% فی صد کارخانوں، فیکٹریز، دفاتر، کمرشل بینکس اور دیگر پرائیویٹ سیکٹر کے اداروں میں ٹریڈ یونینز ناپید ہوچکی ہیں جب کہ 20% فی صد اداروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں اندر کی یونینز ہیں مطلب کہ پاکٹ یونین جو کہ انتظامیہ کے جیبوں میں پڑی ہوتی ہیں۔

ہم کوشش کرتے ہیں کہ مختلف صنعتوں میں محنت کشوں کے حالاتِ کار کا جائزہ لیں تاکہ ملازمت پیشہ طبقہ کو درپیش مجموعی صورت حال اور ٹریڈ یونین تحریک کی موجودہ شکل سامنے آسکے۔ بینکنگ انڈسٹری کی ٹریڈ یونینز کے موجود حالات کا تجزیہ کرنے کے لیے ہمیں کسی ایک ادارہ کو مثال کے طور پر لینا ہوگا۔ اس کے لیے بہتر ہوگا کہ ہم ملک کے سب سے بڑے اور قدیم بینک حبیب بنک کے حالات کو تجزیہ کی خاطر بطور مثال

لے لیں۔ پرائیویٹائزیشن سے قبل اور پہلی نام نہاد گولڈن ہینڈ شیک اسکیم آنے سے قبل ادارے میں ملازمین کی کُل تعداد جن میں افسران بھی شامل تھے تقریباً32 ہزار تھی جن میں کلریکل کیڈر کی تعداد تقریباً اٹھا رہ ہزار تھی۔ آج جب کہ حبیب بینک کی پرائیویٹائزیشن کو اٹھارہ سال مکمل ہوچکے ہیں تو صورت حال یہ ہے کہ ادارے میں اب  کلریکل کیڈر کی کل تعداد 1200رہ گئی ہے جو کہ ملازمین کی کل تعداد کا 10فی صد سے بھی کم ہے۔ حبیب بنک نے پچھلے اٹھارہ سالوں کے دوران سے ٹریڈ یونین کیڈر میں بھرتیوں پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے جب کہ بنک انتظامیہ نے یہ بھی کیا کہ نان کلریکل کیڈر کے ہزاروں افراد کو 2006؁ میں آؤٹ سورس کرکے اُنہیں تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ ایمپلائمنٹ سسٹم کے تحت بینک ملازمت سے فارغ کردیا۔

دوسری جانب گذشتہ تین سال کے دوران حبیب بینک کی انتظامیہ نے سی بی اے کو گذشتہ 45 سال سے حاصل تمام تر سہولیات سے محروم کردیا ہے۔ سی بی اے کے تمام دفاتر بند کردیے گئے، دفاتر کو دی گئی تمام تر سہولیات واپس چھین لی گئیں، سی بی اے کے تمام عہدے داران پر پابندی عائد کردی گئی کہ وہ آفس آوورز کے دوران ملازمین کو درپیش مسائل کے حل کے سلسلے میں انتظامیہ کے افسران سے کسی قسم کا رابطہ قائم نہ کریں بلکہ اس کے برعکس بینک کی جانب سے تفویض کردہ فرائض ادا کریں اور اس طرح پورے پاکستان میں وہ چند عہدے داران کہ جنہیں خود انتظامیہ نے یہ سہولت دی تھی کہ وہ ملازمین کے مسائل کے سلسلہ میں اعلیٰ افسران سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

اس سہولت کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔ بہ الفاظ دیگر ادارے میں صورت حال یہ ہے کہ سی بی اے یونین تو موجود ہے مگر اُسے انتظامیہ کی جانب سے قوانین کے غلط اور من مانے اطلاق کے ذریعہ مکمل طور پر غیر فعال اور اس طرح ٹریڈ یونین تحریک کا گلا مکمل طور پر گھونٹ دیا گیا ہے۔ سرکاری بینکوں کو چھوڑ کر دیگر تمام پرائیویٹ کمرشل بینکس میں کم و بیش یہی صورت حال پائی جاتی ہے اور اس انڈسٹری میں ٹریڈ یونین تحریک کو انتظامیہ نے اپنی بھرپور طاقت اور جارحانہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے اسے ماضی کا قصہِ پارینہ بنادیا ہے۔

مزدور طبقہ آج بھی اس ملک میں بحیثیت مجموعی بدترین حالات سے تو دو چار ہے ہی لیکن بعض شعبوں میں صورت حال انتہائی دگر گوں ہے۔ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے حالاتِ کار اور اُن کی زندگیوں کا جائزہ لیا جائے تو انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

اخبارات میں آئے دن خبریں ظاہر ہوتی رہتی ہیں کہ درجنوں مزدور اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے کسی کان میں داخل ہوئے اور پھر کبھی واپس نہیں آئے۔ اگر اعدادوشمار ایمان داری سے اکھٹے کیے جائیں تو ہر سال ہمارے ملک میں سیکڑوں مزدور اپنی زندگیوں سے پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر آگ اور حبس کی نظر ہوجاتے ہیں۔ ان حادثات کا سلسلہ ایسا ہے کہ رُکنے کا نام ہی نہیں لیتا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوئلے کے کانوں کے ٹھیکے دار اور حکومتی مشینری اس ضمن میں کیا کردار ادا کر ررہی ہے؟

پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے اس سلسلہ میں پہل قدمی کرتے ہوئے “Occupational Safety And Health”کا قانون کو وضع کیا ہے لیکن یہاں بھی اصل مسئلہ اس کے اطلاق کا ہے کہ اس کے بارے میں مثبت اطلاعات نہیں ملتیں۔ کوئلے کے کان کنوں، محنت کشوں کی زندگیاں ہی ہمارے معاشرے میں عذاب سے نہیں گزر رہیں بلکہ دیگر شعبہ جات میں بھی کم و بیش یہی صورت حال ہے ماہی گیروں کی زندگیوں اور حالات کار کا جائزہ لیں تو وہا ں بھی دکھ اور غم کے سوا مشکل سے ہی کچھ ملتا ہے۔

سمندر کی لہروں سے لڑنے والوں اور لاکھوں انسانوں کے لیے بہترین غذا کے حصول کے لیے اپنی زندگی سے کھیل جانے والوں کی خود اپنی زندگیاں، زندگی کی حرارت سے محروم ہیں۔ پاکستان میں دیہاڑی دار مزدوروں کی تعداد لاکھوں سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔

اس معاشرے نے اُن کے لیے کیا کیا؟ طبی سہولیات، روزگار کا تحفظ، تین وقت کی روٹی کی ضمانت، اُن کے زیرکفالت بچوں کا مستقبل یہ سب اُن کے لیے خواب و خیال ہیں۔ دوسری جانب ہم مزدوروں کے ویلفیئر کے لیے قائم اداروں جن میں ای و بی آئی، سوشل سیکیوریٹی ورکرز ویلفیئر بورڈز اور بحیثیت مجموعی لیبر ڈیپارٹمنٹس کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو ان اداروں کی صورت حال بھی دیگر سرکاری اداروںسے بہتر نہیں ہے۔

ملک میں محنت کش طبقے کی تعداد کو اگر سات کروڑ تسلیم کرلیا جائے تو ہم مزید مایوسیوں سے اس لیے بھی دوچار ہوجائیں گے کہ کارکنوں کی ویلفیئر کے لیے قائم کسی بھی ادارے میں چند لاکھ سے زائد کارکن رجسٹر نہیں اور اس طرح بہ آسانی کہا جاسکتا ہے کہ نوے فی صد محنت کش اپنے قانونی حقوق اور سہولیات سے محروم ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ قائداعظم کے تصورپاکستان کے مطابق اس ملک کو ایک فلاحی ریاست ہونا چاہیے جو کہ بدقسمتی سے ابھی تک بن نہیں پائی۔ اس سلسلے میں ہم قائد اعظم کی ایک تقریر کے اقتباس کو پیش کریں تو ہم زیادہ بہتر انداز میں بانی پاکستان کی سوچ کو سمجھ سکیں گے۔

24 مارچ 1943میں مسلم لیگ کے اجلاس منعقد ہ دہلی سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر محمدعلی جنا ح نے کہا کہ’’میں ضروری سمجھتا ہوں کہ زمینداروں اور سرمایہ داروں کو متنبہ کردوں کہ اس طبقے کی خوش حالی کی قیمت عوام نے ادا کی ہے اس کا سہرا جس نظام کے سر ہے وہ انتہائی ظالمانہ اور شرانگیز ہے اور اس نے اپنے پروردہ عناصر کو اس حد تک خود غرض بنادیا ہے کہ انہیں دلیل سے قائل نہیں کیا جاسکتا۔ اپنی مقصد برآوری کے لیے عوام کا استحصال کرنے کی خوئے بد ان کے خون میں رچ گئی ہے۔

وہ اسلامی احکام کو بھول چکے ہیں۔ حرص و ہوس نے سرمایہ داروں کو اتنا اندھا کردیا ہے کہ وہ جلب منفعت کی خاطر دشمن کے آلۂ کار بن جاتے ہیں۔ آج یہ سچ ہے کہ ہم اقتدار کی گدی پر متمکن نہیں۔ آپ شہر سے باہر کسی جانب چلے جائیے۔ میں نے دیہات میں جاکر خود دیکھا ہے کہ ہمارے عوام میں لاکھوں افراد ایسے ہیں جنہیں دن میں ایک وقت بھی پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہوتا کیا آپ اسے تہذیب اور ترقی کہیں گے؟ کیا یہی پاکستان کا مقصد ہے؟

کیا آپ نے سوچا کہ کروڑوں لوگوں کا استحصال کیا گیا ہے اور اب ان کے لیے دن میں ایک بار کھانا حاصل کرنا بھی ممکن نہیں رہا۔ اگر پاکستان کا حصول اس صورت حال میں تبدیلی نہیں لاسکتا تو پھر اسے حاصل نہ کرنا ہی بہتر سمجھتا ہوں اگر وہ (سرمایہ دار) عقل مند ہیں تو وہ نئے حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیں گے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر خُدا اُن کے حال پر رحم کرے، ہم ان کی کوئی مدد نہیں کریں گے۔‘‘

قائداعظم کے یہ ارشادات ہمارے معاشرے اور ریاست کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوسکتے ہیں یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک میں غربت، افلاس، بھوک، ننگ اور بے روزگاری جیٹ اسپیڈ کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ تمام جمہوری سیاسی جماعتوں کے لیے مستقبل کے حالات ایک بڑے چیلینج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ عوام کے مسائل بڑھتے ہی جارہے ہیں ملک کی اقتصادی و معاشی صورت حال ناگفتہ بہ ہے مگر ہمیں مایوسی سے دو چار ہونے کے بجائے ان حالات کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

مزدوروں، کسانوں اور دیگر کچلے اور پسے ہوئے طبقات کو اپنے ساتھ جوڑ کر اس بحران سے نکلا جاسکتا ہے۔ مزدور تنظیموں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ کم سے کم نکات کی بنیادوں پر متحد اور منظم ہونے کی جدوجہد کو جاری رکھیں اور سیاست کے قومی دھارے میں شامل ہوکر اپنا کردار ادا کریں تاکہ محنت کشوں کے مسائل ختم نہیں تو کم سے کم کیے جاسکیں۔

The post کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2RcSruj

اسلام اور مزدوروں کے حقوق

حضرت عبداﷲ ابنِ عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مزدور کو اُس کی مزدوری اُس کے پسینے کے خشک ہونے سے پہلے ادا کردو۔‘‘

اِسلام نے مزدور و مالکان کے حقوق و فرائض کو بھی واضح طور پر بیان کردیا ہے اور ہر ایک کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنے فرائض کی ادائی میں ذرا برابر بھی کوتاہی نہ کریں۔ اِسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوگی کہ شریعتِ مطہرہ نے صدیوں پہلے ظلم کی چکی میں پسے ہوئے مزدوروں کو اُن کا جائز حق دیا اور مالکان کو پابند کیا کہ مزدوروں کو کم تر نہ سمجھیں، جب کسی مزدور سے کام لیا جائے تو اُس کا حق فوراً دے دیا جائے۔

رسول اکرم ﷺ نے حکم فرمایا کہ مزدور کو اُس کی مزدوری اُس کے پسینے کے خشک ہونے سے پہلے ہی ادا کردو یعنی اُس کا حقِ خدمت معاہدے کے مطابق وقت پر ادا کردیا جائے۔ یہ رسول اﷲ ﷺ کی معروف حدیثِ مبارک ہے، جو ہر شخص چاہے وہ مزدور ہو یا مالک سب کو یاد ہے۔ مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے اِس حدیث مبارک کے علاوہ ایک حدیثِ قدسی بھی بڑی معروف ہے کہ اﷲ تعالیٰ یہ ارشاد فرماتا ہے کہ میں قیامت کے دن تین لوگوں کے لیے خود مدَّعی بنوں گا، اُن میں سے ایک وہ مزدور ہوگا، جس نے اپنا کام تو پورا کرلیا لیکن اُسے اُس کی اُجرت نہیں دی گئی۔

ہمارے معاشرے میں اوَّل تو مزدوروں کو ان کی محنت کی جائز اُجرت نہیں دی جاتی اور اگر دی بھی جائے تو اتنی کہ مزدوروں کو دوبارہ پسینہ آجاتا ہے۔ آج مزدوروں کو اتنی اجرت دی جاتی ہے کہ اُس سے اُن کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام نہیں ہوسکتا۔ پورا دن کارخانوں اور بھٹیوں میں کام کرنے والے معاشی اعتبار سے کم زور ہیں جب کہ اُن کی محنت کی آمدن سے سرمایہ دار اور مالکان امیر تر ہوتے جارہے ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر مزدور اور مالکان کے درمیان نفرتوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔

جب مزدوروں کو اُن کی محنت کا صحیح اور بروقت معاوضہ نہیں ملتا تو پھر وہ ہڑتال کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، مالکان اُن سے بدلہ لینے کے لیے کارخانوں کی تالا بندی کردیتے ہیں جس کی وجہ سے ایک طرف بے قصور صارفین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو دوسری طرف ملکی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ رسول کریم ﷺ کی درجِ بالا حدیث مبارک مزدوروں کو معاشی تحفظ فراہم کرتی ہے اور مالکان کو تنبیہ کرتی ہے کہ وہ مزدوروں کے استحصال سے۰۰۰۰۰۰۰۰۰ رک جائیں۔

وگرنہ قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ کی عدالت میں ان پر مقدمہ قائم کیا جائے اور اس مقدَّمہ میں رب تعالیٰ خود ہی مزدوروں کی طرف سے مدّعی ہوگا۔ رسول اﷲ ﷺ کی ایک حدیث مبارک میں ہے کہ تمہارے خادم، ملازم، مزدور اور غلام تمہارے بھائی ہیں، لہٰذا تم میں سے جس کے پاس اس کا کوئی بھائی ہو، تو اُسے چاہیے کہ وہ اس کو ویسا ہی کھلائے اور پہنائے جیسا کہ وہ خود کھاتا اور پہنتا ہے۔ اپنے مزدور کو کوئی ایسا کام کرنے کو نہ کہے، جسے وہ خود نہیں کرسکتا اور اگر ایسا کام کرانے کی ضرورت ہو، تو خود بھی اُس کا ساتھ دے۔ (صحیح بخاری)

اِس حدیث شریف سے مزدوروں سے کام لینے کے متعلق کئی اصول ہیں۔ ایک یہ کہ مزدور و مالکان کے درمیان بھائی چارے کا رشتہ ہے۔ لہٰذا مالک کے لیے مستحب ہے کہ وہ جو اپنے لیے پسند کرے، وہی اپنے مزدور بھائی کے لیے بھی پسند کرے۔ اِس حدیث مبارک میں مالکان کو عیش و عشرت کی زندگی سے روکا جارہا ہے اور سادگی اختیار کرنے کا حکم دیا جارہا ہے۔ کیوں کہ جب وہ اپنے ساتھ دوسروں پر بھی خرچ کرے گا تو ظاہر ہے کہ اس کے اخراجات دو حصوں میں تقسیم ہوجائیں گے اور وہ کفایت کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔

آج ہم دیکھتے ہیں کہ مزدوروں کو بہ مشکل دال روٹی میسر ہوتی ہے جب کہ مالکان کے ایک وقت کے کھانے پینے کا بل مزدوروں کی پوری تن خواہ کے برابر ہوتا ہے۔ مزدور بہ مشکل سال میں ایک مرتبہ نئے کپڑے سلوا پاتا ہے اور کئی تو ایسے بھی ہیں، جنہیں سال ہا سال نئے کپڑے نصیب نہیں ہوتے، اِس کے برعکس سرمایہ دار روزانہ نئے کپڑے زیبِ تن کرتا ہے۔ شریعت کا منشاء یہ ہے کہ مزدوروں کی تن خواہ اتنی ہونی چاہیے کہ جس سے ان کی بنیادی ضرورتیں آسانی سے پوری ہوسکیں۔ اِس سے ناصرف مزدوروں کا فائدہ ہوگا بل کہ مالکان کو بھی فائدہ ہوگا، کیوں کہ ایسی صورت میں مزدور بہ خوشی اور احسن طریقے سے اپنی ذمے داریوں کو انجام دیں گے اور کاروبار خوب ترقی کرے گا۔

مزدوروں سے اُن کی طاقت کے مطابق کام لیا جائے، ان پر اتنا بوجھ نہ ڈالا جائے کہ ان کے لیے کرنا مشکل ہوجائے۔ اِس سے مزدوروں سے معاہدہ کے برخلاف مقررہ وقت سے زاید کام لینے کی ممانعت کا بھی علم ہوتا ہے۔ کئی جگہوں میں آٹھ گھنٹوں کی بہ جائے بارہ بل کہ سولہ گھنٹے کام لیا جاتا ہے اور اگر مزدور زیادہ وقت کام کرنے سے انکار کرتا ہے تو اُسے ملازمت سے فارغ کردینے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ لہٰذا مزدور بہ حالتِ مجبوری اپنی طاقت سے زیادہ محنت و مشقت کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

اگر مزدوروں سے اُن کی طاقت اور مقررہ وقت سے زاید کام لیا جائے تو اُن کا ہاتھ بٹایا جائے یا پھر اُسے زاید وقت کی اجرت بھی دی جائے۔ یہ کتنی عجیب بات ہوگی کہ زاید وقت کے منافع کا پورا حق دار وہ شخص ٹھہرے، جس نے کچھ محنت نہ کی ہو، صرف اپنا سرمایہ لگایا ہو۔ اور وہ شخص جو منافع حاصل کرنے کے لیے اپنا خون پسینا بہا رہا ہے، اُسے کچھ بھی نہ ملے، زیادہ سے زیادہ چند تعریفی کلمات سے نواز دیا جائے۔

اِنسانی جسم کو راحت و آرام کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور یہ انسانی جسم کا فطری تقاضا بھی ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے دن کو معاش کا ذریعہ بنایا تو تھکاوٹ دور کرنے کے لیے رات کو سکون اور راحت کے لیے پیدا فرمایا۔ اب اگر کوئی شخص زیادہ یا مسلسل کام ہی کرتا رہے اور کچھ وقت آرام نہ کرے تو پھر اس سے کئی نفسیاتی اور سماجی مسائل جنم لیتے ہیں۔ صحت خراب ہوجاتی ہے اور بیماریاں جنم لیتی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بیوی، بچوں، ماں باپ اور دیگر رشتے داروں کو وقت نہ دینے سے آپس میں رنجشیں بڑھتی ہیں۔

ابھی تک مزدوروں کے جن حقوق پر لکھا گیا، ان میں سے ہر ایک کا تعلق ان حقوق سے ہے، جو مزدور کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں تک حقوق اﷲ کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں فقہائیِ کرام نے فرمایا کہ جس طرح مزدوروں کو ان کی اجرت کا دینا لازم اور ضروری ہے بالکل اسی طرح مالکان پر یہ بھی لازم ہے کہ دورانِ کام فرائض و واجبات مثلاً نماز وغیرہ کا وقت آجائے، تو مزدوروں کو اس کی ادائی کے لیے ناصرف وقت دیا جائے بل کہ اِن امور کی انجام دہی کے لیے بہتر جگہ بھی فراہم کی جائے۔

اسی طرح رمضان المبارک میں ان سے اتنا ہی کام لیا جائے کہ وہ آسانی کے ساتھ روزے رکھ سکیں۔ کسی بھی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو ایسے حقوق اﷲ سے روکے، جن کی ادائی انفرادی طور پر ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے اور اگر کسی نے ایسا کیا تو ملازمین پر اپنے مالک کی اطاعت لازم نہیں ہوگی، کیوں کہ حدیث مبارک کا مفہوم ہے کہ کسی کی اطاعت اسی وقت تک کی جاسکتی ہے، جب تک وہ شریعت کے مطابق ہو، وگرنہ اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی پر کسی کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔

The post اسلام اور مزدوروں کے حقوق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3vLIa7p

کورونا وبا مہنگائی، رمضان میں عوام کی قوت خرید جواب دے گئی

 کراچی:  کورونا کی تباہ کاریاں ، خراب معاشی صورت حال اور مہنگائی پہاڑ جیسے بڑے مسائل رواں رمضان المبارک میں عوام کی قوت خرید ہی جواب دے گئی ہے۔

کورونا ایس او پیز کے تحت جلد کاروبار بند ہونے کے سبب کراچی میں روایتی افطار کی خریداری کے حوالے سے گہما گہمی نہ ہونے کے برابر ہے، اس صورت حال کے سبب شہر کے متوسط اور غریب علاقوں میں پکوڑے ، سموسے اور دیگر افطار کے لوازمات کی فروخت کے اسٹالز انتہائی محدود پیمانے پر لگائے گئے ہیں اوراس کام سے منسلک 60 سے 70 فیصد کاریگر اپنے آبائی علاقوں میں رمضان کی چھٹیاں گزارنے اور عید منانے کے لیے چلے گئے ہیں۔

کاریگروں کے اپنے آبائی علاقوں میں جانے کی اصل وجہ کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز اور شہر قائد میں کاروباری اوقات کار محدود ہونا بتایا جاتا ہے۔

پکوڑے، سموسے اور افطار کے لوازمات تیار کرنے والے ایک کاریگر محمد رضا نے ایکسپریس کو بتایا کہ کورونا کی عالمی وباکو دوسرا برس شروع ہو چکا ہے، یہ دوسرا رمضان ہے  جو ہم کورونا کے ساتھ گزار رہے ہیں، گزشتہ رمضان میں سخت لاک ڈاؤن تھاکاروباری سرگرمیاں بند تھیں اوران حالات کے سبب افطار کے لوازمات کا اہتمام بڑے پیمانے پر نہیں ہو سکا،مارکیٹیں اور بازار جلدی بند ہو رہے ہیں۔

کھانے کی اشیاکی تیاری کے طریقوں میں جدت آ گئی

کورونا ایس او پیزکے احکام جاری ہونے کے بعد شہریوںکی بڑی تعداد گھروں پر روزہ کھولنے کو ترجیح دیتی ہے ، رواں رمضان المبارک میں بھی 70 سے 80 فیصد خواتین افطاری کے لوازمات اپنے گھروں پر خود تیارکرتی ہیں۔

گھریلو خاتون سحر طارق نے بتایا کہ زمانہ جیسے جیسے ترقی کر رہا ہے، ویسے ہی کھانے پینے کی اشیاکی تیاری کے طریقوں میں بھی جدت آ گئی ہے، اب تو تیار سموسے اور رولز کے پیکٹ بازاروں میں مل جاتے ہیں یا پھر سموسے اور رول کی تیاری میں استعمال ہونے والی پٹیاں بھی تیار شدہ مل جاتی ہیں، یہ پٹیاں 200 فی کلو فروخت ہوتی ہیں جبکہ رول اور سموسے کے پیکٹ میں یہ اشیا ایک درجن ہوتی ہیں اور بغیر تلا تیار شدہ سموسہ اور رول 10 سے 15 فی دانے کے حساب سے ملتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ گھروں میں زیادہ تر سبزی اور چکن کے رول تیارکیے جاتے ہیںگھروں میں تیار کی جانے والی افطاری معیاری اور صحت بخش ہوتی ہے۔

متوسط طبقہ کھجور اور پانی سے روزہ کھول رہا ہے

بے روزگاری ، خراب معاشی صورت حال اور مہنگائی کے سبب غریب اور متوسط طبقے کے شہریوں کی بڑی تعداد کھجور اور پانی سے روزہ کھول کراپنی حیثیت کے مطابق کھانا کھالیتے ہیں اس طرح ان کی افطاری بھی ہو جاتی ہے اور وہ رات کا کھانا بھی کھالیتے ہیں،اس رمضان میں بڑی بیکریوں اور مٹھائی کی دکانوں پر تو رش نظر آ رہا ہے لیکن غریب اور متوسط علاقے میں اس کام سے منسلک دکاندار اور کاریگر بہت پریشان ہیں۔ اسی وجہ سے اس کام سے منسلک بیشتر کاریگر اپنے آبائی علاقوں میں رمضان سے قبل ہی چلے گئے ہیں۔

محمد رضا نے بتایا کہ قوت خرید کم ہونے کی وجہ سے بے روزگار نوجوانوں کی بڑی تعداد نے محدود پیمانے پر پکوڑے سموسے کی تیاری کے عارضی اسٹالز لگائے ہیں، زیادہ تر نوجوان اور بیروزگار افراد پھل فروخت کر کے روزی کمارہے ہیں کورونا کے سبب یہ کام مختصر ہو کر 40 سے 50 فیصد تک رہ گیا ہے۔

افطارلوازمات میں شامل اشیاکی قیمتیں ہرعلاقے میں الگ الگ ہیں

افطار لوازمات میں شامل اشیاکی قیمتیں ہر علاقے میں الگ الگ ہیں، مختلف علاقوں میں مکس پکوڑے 300 سے 350 روپے فی کلو ، مختلف اقسام کے سموسے اور رول 15روپے سے 25 روپے تک میں دستیاب ہیں، جلیبی اور امرتی 320 سے 450 روپے فی کلو ، چکن اسٹیک فی عدد40 روپے سے 55 روپے ، دہی بھلے 350 سے 400 روپے، چنا چاٹ فی پلیٹ 50 سے 80 روپے کے درمیان ہے جبکہ فروٹ چاٹ کی فی فلیٹ 50 سے 100 روپے تک فروخت کی جا رہی ہے۔

کوروناکے باعث ہوم کچن کا کاروبار بہت متاثر ہوا

مختلف ہومز کچن سروس آرڈرکے مطابق افطار باکس یاافطار لوازمات تیار کرکے متعلقہ مقامات پر پہنچانے کے لیے اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں ہوم کچن سروس کے کام سے وابستہ ہمایوں خاتون نے بتایا کہ ہوم کچن سروس کا کام رمضان سے قبل بہتر انداز میں جاری تھا کیونکہ کئی دفاتر اور اداروں میں دوپہر یا رات کا کھانا ان ہوم کچن سے فراہم کیا جاتا تھا لیکن کورونا ایس او پیز کے تحت مارکیٹیں جلدی بند ہونے اوردفاتر میں 50 فیصد عملے کے کام کرنے کی پالیسی کی وجہ سے ہوم کچن کے کام پر بھی بہت فرق پڑا ہے۔

کاروباری اور معاشی سرگرمیاں محدود ہونے کے سبب ہوم کچن سروس میں کھانوں کی تیاری کے آرڈرز میں 80 فیصد کمی آ گئی ہے تاہم شہر کے مختلف علاقوں میں ان ہوم کچن کے ذریعہ مختلف گھروں میں افطار لوازمات کی فراہمی کا کام آرڈر کے مطابق کیا جاتا ہے اور آرڈر کے مطابق رول سموسے ، پکوڑے ، دہی بھولے ، فروٹ چاٹ تیار کرکے مختلف رائیڈنگ ایپس کے ذریعہ متعلقہ مقام پہنچایا جاتا ہے یا پھر آرڈر کے مطابق افطار باکس بھی تیار کیے جاتے ہیں۔

ایک افطار باکس100 روپے سے لے کر 150 روپے تک میں تیار ہوتا ہے اور اگر افطار باکس کے ساتھ کھانا بھی ہو تو یہ 250 روپے تک تیار ہوتا ہے جس میں افطار کے ساتھ بریانی یا پھر ایک سالن اور دو روٹی موجود ہیں۔

افطار لوازمات کی تیاری کاکام صبح 6بجے شروع ہو جاتا ہے

افطار لوازمات کی تیاری سے منسلک کام کا آغاز سحری کے بعد صبح 6 بجے شروع ہو جاتا ہے ، جو مغرب کے بعد تک جاری رہتا ہے کاریگر محمد رضا کے مطابق افطار لوازمات میں مختلف اقسام کے مکس پکوڑے ، قیمے ، آلو ، چکن اور سبزی کے رول ، سموسے ، ون ٹون ، دہی بھلے ، جلیبی ، امرتی اور دیگر اشیا تیار کی جاتی ہیں یہ کام انتہائی محنت طلب ہوتا ہے۔

محمد رضا نے بتایا کہ کورونا ایس او پیز کے سبب شہر میں بڑے افطار دسترخوان لگانے پر پابندی ہے جس کی وجہ سے روایتی عوامی دسترخوان کا اہتمام رواں رمضان المبارک میں نہ ہونے کے برابر ہے مارکیٹیں اور کارو بار جلد بند ہونے کی وجہ سے بھی افطار لوازمات کی فروخت میں کمی آئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ افطار دسترخوان نہ لگنے کی وجہ سے اس کاروبار پر بہت فرق پڑا ہے تاہم کچھ علاقوں میں محدود پیمانے پر افطار باکسز تیار کروا کرتقسیم کیے جارہے ہیں جس میں یہ افطار لوازمات فراہم کیے جاتے ہیں۔

The post کورونا وبا مہنگائی، رمضان میں عوام کی قوت خرید جواب دے گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3t6ql0L

کورونا وبا مہنگائی، رمضان میں عوام کی قوت خرید جواب دے گئی

 کراچی:  کورونا کی تباہ کاریاں ، خراب معاشی صورت حال اور مہنگائی پہاڑ جیسے بڑے مسائل رواں رمضان المبارک میں عوام کی قوت خرید ہی جواب دے گئی ہے۔

کورونا ایس او پیز کے تحت جلد کاروبار بند ہونے کے سبب کراچی میں روایتی افطار کی خریداری کے حوالے سے گہما گہمی نہ ہونے کے برابر ہے، اس صورت حال کے سبب شہر کے متوسط اور غریب علاقوں میں پکوڑے ، سموسے اور دیگر افطار کے لوازمات کی فروخت کے اسٹالز انتہائی محدود پیمانے پر لگائے گئے ہیں اوراس کام سے منسلک 60 سے 70 فیصد کاریگر اپنے آبائی علاقوں میں رمضان کی چھٹیاں گزارنے اور عید منانے کے لیے چلے گئے ہیں۔

کاریگروں کے اپنے آبائی علاقوں میں جانے کی اصل وجہ کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز اور شہر قائد میں کاروباری اوقات کار محدود ہونا بتایا جاتا ہے۔

پکوڑے، سموسے اور افطار کے لوازمات تیار کرنے والے ایک کاریگر محمد رضا نے ایکسپریس کو بتایا کہ کورونا کی عالمی وباکو دوسرا برس شروع ہو چکا ہے، یہ دوسرا رمضان ہے  جو ہم کورونا کے ساتھ گزار رہے ہیں، گزشتہ رمضان میں سخت لاک ڈاؤن تھاکاروباری سرگرمیاں بند تھیں اوران حالات کے سبب افطار کے لوازمات کا اہتمام بڑے پیمانے پر نہیں ہو سکا،مارکیٹیں اور بازار جلدی بند ہو رہے ہیں۔

کھانے کی اشیاکی تیاری کے طریقوں میں جدت آ گئی

کورونا ایس او پیزکے احکام جاری ہونے کے بعد شہریوںکی بڑی تعداد گھروں پر روزہ کھولنے کو ترجیح دیتی ہے ، رواں رمضان المبارک میں بھی 70 سے 80 فیصد خواتین افطاری کے لوازمات اپنے گھروں پر خود تیارکرتی ہیں۔

گھریلو خاتون سحر طارق نے بتایا کہ زمانہ جیسے جیسے ترقی کر رہا ہے، ویسے ہی کھانے پینے کی اشیاکی تیاری کے طریقوں میں بھی جدت آ گئی ہے، اب تو تیار سموسے اور رولز کے پیکٹ بازاروں میں مل جاتے ہیں یا پھر سموسے اور رول کی تیاری میں استعمال ہونے والی پٹیاں بھی تیار شدہ مل جاتی ہیں، یہ پٹیاں 200 فی کلو فروخت ہوتی ہیں جبکہ رول اور سموسے کے پیکٹ میں یہ اشیا ایک درجن ہوتی ہیں اور بغیر تلا تیار شدہ سموسہ اور رول 10 سے 15 فی دانے کے حساب سے ملتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ گھروں میں زیادہ تر سبزی اور چکن کے رول تیارکیے جاتے ہیںگھروں میں تیار کی جانے والی افطاری معیاری اور صحت بخش ہوتی ہے۔

متوسط طبقہ کھجور اور پانی سے روزہ کھول رہا ہے

بے روزگاری ، خراب معاشی صورت حال اور مہنگائی کے سبب غریب اور متوسط طبقے کے شہریوں کی بڑی تعداد کھجور اور پانی سے روزہ کھول کراپنی حیثیت کے مطابق کھانا کھالیتے ہیں اس طرح ان کی افطاری بھی ہو جاتی ہے اور وہ رات کا کھانا بھی کھالیتے ہیں،اس رمضان میں بڑی بیکریوں اور مٹھائی کی دکانوں پر تو رش نظر آ رہا ہے لیکن غریب اور متوسط علاقے میں اس کام سے منسلک دکاندار اور کاریگر بہت پریشان ہیں۔ اسی وجہ سے اس کام سے منسلک بیشتر کاریگر اپنے آبائی علاقوں میں رمضان سے قبل ہی چلے گئے ہیں۔

محمد رضا نے بتایا کہ قوت خرید کم ہونے کی وجہ سے بے روزگار نوجوانوں کی بڑی تعداد نے محدود پیمانے پر پکوڑے سموسے کی تیاری کے عارضی اسٹالز لگائے ہیں، زیادہ تر نوجوان اور بیروزگار افراد پھل فروخت کر کے روزی کمارہے ہیں کورونا کے سبب یہ کام مختصر ہو کر 40 سے 50 فیصد تک رہ گیا ہے۔

افطارلوازمات میں شامل اشیاکی قیمتیں ہرعلاقے میں الگ الگ ہیں

افطار لوازمات میں شامل اشیاکی قیمتیں ہر علاقے میں الگ الگ ہیں، مختلف علاقوں میں مکس پکوڑے 300 سے 350 روپے فی کلو ، مختلف اقسام کے سموسے اور رول 15روپے سے 25 روپے تک میں دستیاب ہیں، جلیبی اور امرتی 320 سے 450 روپے فی کلو ، چکن اسٹیک فی عدد40 روپے سے 55 روپے ، دہی بھلے 350 سے 400 روپے، چنا چاٹ فی پلیٹ 50 سے 80 روپے کے درمیان ہے جبکہ فروٹ چاٹ کی فی فلیٹ 50 سے 100 روپے تک فروخت کی جا رہی ہے۔

کوروناکے باعث ہوم کچن کا کاروبار بہت متاثر ہوا

مختلف ہومز کچن سروس آرڈرکے مطابق افطار باکس یاافطار لوازمات تیار کرکے متعلقہ مقامات پر پہنچانے کے لیے اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں ہوم کچن سروس کے کام سے وابستہ ہمایوں خاتون نے بتایا کہ ہوم کچن سروس کا کام رمضان سے قبل بہتر انداز میں جاری تھا کیونکہ کئی دفاتر اور اداروں میں دوپہر یا رات کا کھانا ان ہوم کچن سے فراہم کیا جاتا تھا لیکن کورونا ایس او پیز کے تحت مارکیٹیں جلدی بند ہونے اوردفاتر میں 50 فیصد عملے کے کام کرنے کی پالیسی کی وجہ سے ہوم کچن کے کام پر بھی بہت فرق پڑا ہے۔

کاروباری اور معاشی سرگرمیاں محدود ہونے کے سبب ہوم کچن سروس میں کھانوں کی تیاری کے آرڈرز میں 80 فیصد کمی آ گئی ہے تاہم شہر کے مختلف علاقوں میں ان ہوم کچن کے ذریعہ مختلف گھروں میں افطار لوازمات کی فراہمی کا کام آرڈر کے مطابق کیا جاتا ہے اور آرڈر کے مطابق رول سموسے ، پکوڑے ، دہی بھولے ، فروٹ چاٹ تیار کرکے مختلف رائیڈنگ ایپس کے ذریعہ متعلقہ مقام پہنچایا جاتا ہے یا پھر آرڈر کے مطابق افطار باکس بھی تیار کیے جاتے ہیں۔

ایک افطار باکس100 روپے سے لے کر 150 روپے تک میں تیار ہوتا ہے اور اگر افطار باکس کے ساتھ کھانا بھی ہو تو یہ 250 روپے تک تیار ہوتا ہے جس میں افطار کے ساتھ بریانی یا پھر ایک سالن اور دو روٹی موجود ہیں۔

افطار لوازمات کی تیاری کاکام صبح 6بجے شروع ہو جاتا ہے

افطار لوازمات کی تیاری سے منسلک کام کا آغاز سحری کے بعد صبح 6 بجے شروع ہو جاتا ہے ، جو مغرب کے بعد تک جاری رہتا ہے کاریگر محمد رضا کے مطابق افطار لوازمات میں مختلف اقسام کے مکس پکوڑے ، قیمے ، آلو ، چکن اور سبزی کے رول ، سموسے ، ون ٹون ، دہی بھلے ، جلیبی ، امرتی اور دیگر اشیا تیار کی جاتی ہیں یہ کام انتہائی محنت طلب ہوتا ہے۔

محمد رضا نے بتایا کہ کورونا ایس او پیز کے سبب شہر میں بڑے افطار دسترخوان لگانے پر پابندی ہے جس کی وجہ سے روایتی عوامی دسترخوان کا اہتمام رواں رمضان المبارک میں نہ ہونے کے برابر ہے مارکیٹیں اور کارو بار جلد بند ہونے کی وجہ سے بھی افطار لوازمات کی فروخت میں کمی آئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ افطار دسترخوان نہ لگنے کی وجہ سے اس کاروبار پر بہت فرق پڑا ہے تاہم کچھ علاقوں میں محدود پیمانے پر افطار باکسز تیار کروا کرتقسیم کیے جارہے ہیں جس میں یہ افطار لوازمات فراہم کیے جاتے ہیں۔

The post کورونا وبا مہنگائی، رمضان میں عوام کی قوت خرید جواب دے گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3t6ql0L

بجلی کے نرخ برقرار رکھنے کیلیے چینی قرض ری شیڈول کیا جائیگا

 اسلام آباد:  وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے توانائی و پٹرولیم تابش گوہر نے کہا ہے کہ بجلی کے فی یونٹ نرخ میں ڈیڑھ روپے اضافے کو روکنے کیلیے سی پیک توانائی منصوبوں کے 3ارب ڈالر چینی قرضے کو ری شیڈول کیا جائے گا۔

ایکسپریس ٹریبیون سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی نے بتایا کہ پاکستان نے 12چینی آئی پی پیز کو 3سال میں 3ارب ڈالر ادا کرنے ہیں،حکومت پاکستان چین سے مذکورہ ادائیگی کو 10 سے 12 سال کیلئے ری شیڈول کرنے کی درخواست کرے گی،جس سے بجلی کے فی یونٹ نرخوں میں ڈیڑھ روپے کا اضافہ نہیں کرنا پڑے گا۔

انھوں نے بتایاکہ اس تجویز کو پاکستان میں چین کے سفیر کے سامنے رکھا جا چکا ہے، اب اس کو دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح حکام زیر غورلائیں گے۔

تابش گوہر کا کہنا تھا کہ ہم اپنے دوست ملک چین کو پریشان نہیں کرنا چاہتے تاہم امر واقعہ یہ ہے کہ آئی پی پیز کے نصف ادائیگی چینی پاور پراجیکٹس سے متعلقہ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان نے محمد علی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں چین کے ساتھ آئی پی پیز معاہدوں پر ازسرنو مذاکرات کرنے کی کوشش کی تھی تاہم چین نے بند کمروں کے اجلاسوں میں ان معاہدوں کو دوبارہ طے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

پاکستان کو جن پاور پراجیکٹس کی قرض ادائیگی کرنی ہے ان میں کوہالہ ہائیڈروپاور پراجیکٹ،کروٹ ہائیڈروپاور پراجیکٹ،سکی کناری پاور پراجیکٹ،پورٹ قاسم پاور پراجیکٹ،ساہیوال پاور پلانٹ،حبکو پاور پلانٹ ،اینگروپاور جنریشن پراجیکٹ شامل ہے۔

The post بجلی کے نرخ برقرار رکھنے کیلیے چینی قرض ری شیڈول کیا جائیگا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3nNRi8N

اسٹیل ملز کرپشن ریفرنس کا 11سال بعد فیصلہ، تمام ملزم بری

 کراچی:  اسٹیل ملز میں کرپشن کے ریفرنس کا فیصلہ 11 سال بعد سنا دیا جب کہ احتساب عدالت نے تمام ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے باعزت بری کردیا۔

کراچی کی احتساب عدالت نے اسٹیل ملز میں کرپشن سے متعلق ریفرنس کا فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے تمام ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے باعزت بری کردیا۔ ملزمان میں ثمین اصغر، اصغر جمیل رضوی، چوہدری شفیق عباس، طارق ارشاد اور دیگر شامل ہیں۔

نیب کے مطابق ملزمان نے ٹھیکوں کی مد میں خورد برد کرکے کرپشن کی۔ ملزمان کی کرپشن کی وجہ سے اسٹیل ملز کو 13 ملین سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ ملزمان کیخلاف ریفرنس 2012 میں قائم ہوا تھا۔

 

The post اسٹیل ملز کرپشن ریفرنس کا 11سال بعد فیصلہ، تمام ملزم بری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3xCzsK5

TLP پرپابندی، نظرثانی درخواست کیلیے جائزہ کمیٹی قائم

 اسلام آباد: وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشیدنے وفاقی حکومت کیطرف سے کالعدم تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواست کا قانونی پہلوؤں سے جائزہ لینے کیلیے3رکنی کمیٹی قائم کردی ہے۔

وزارت داخلہ ذرائع کے مطابق وزیرداخلہ نے کالعدم ٹی ایل پی کیطرف دائر زیردفعہ 11سی(رائٹ آف ریویو )اورانسداددہشتگردی کے ایکٹ 11 ای ای (پروسکرپشن آف پرسن )کی نظرثانی کی درخواست کے بعد اجلاس کی صدارت کی۔

وزیرداخلہ نے انسداددہشتگردی ایکٹ کی زیردفعہ 11 سی سی کے تحت کمیٹی قائم کی ہے جوتین حکومتی افسران جن میں ایک وزارت قانون وانصاف کے نمائندہ اوروزارت داخلہ کے 2 جوائنٹ سیکرٹریز بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ یہ کمیٹی تیس دن کے اندردرخواستوں پرنظرثانی کریگی۔

شیخ رشید کی زیرصدارت اجلاس ہوا،مشاورتی اجلاس میں کالعدم ٹی ایل پی سے متعلق امور پر مشاورت کی گئی، اجلاس میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کی درخواست کا جائزہ بھی لیا گیا۔ وفاقی حکومت نے جو دوہفتے پہلے ٹی ایل پی کوتحلیل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائرکرنے کا کہاتھا لگتاہے، اس میں حکومت ناکام ہوگئی ہے ،15اپریل کو جب حکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی لگائی تو وزیرداخلہ نے اعلان کیاتھاکہ حکومت ٹی ایل پی کی تحلیل کیلئے اقدامات کریگی۔

وزیرداخلہ نے یہ بھی کہاتھاکہ 16اپریل کو وفاقی کابینہ کو ایک الگ سمری بھیجی جائیگی اور اسکی منظوری کے بعددوتین دن میں ٹی ایل پی کی تحلیل کیلئے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائرکیاجائیگاتاہم یہ نہ ہوسکا،اس سے لگتاہے کہ وزیرداخلہ نے بغیرقانونی راستہ اختیارکئے یہ اعلان کردیاتھا، انسداددہشتگردی ایکٹ کے تحت ٹی ایل پی 30 دن کے اندروزارت داخلہ کے سامنے ریویوکرسکتی ہے۔

وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فوادچودھری نے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ اگرٹی ایل پی کی تحلیل کے حوالے سے سمری کابینہ ارکان کو بھیجی جاسکتی ہے توپھرٹی ایل پی کیخلاف ریفرنس کیوں نہیں دائرہوسکتا۔

وزیراطلاعات نے کہاکہ ٹی ایل پی نے اپنے حقوق کو ایکسرسائزکیاہے تواب اس معاملے سے نمٹنااب وفاقی کابینہ کا نہیں وزارت داخلہ کا کام ہے،فوادچودھری نے زوردیاکہ قانون کے تحت سمری بھیجنے سے پہلے تیس دن کا عرصہ ضروری ہوتاہے۔

حکومت میں ظاہری تبدیلی اس وقت آئی جب اس نے اعلان کیاکہ ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں،یہ بھی شواہدہے کہ جب حکومت نے ٹی ایل پی کے مطالبے پر فرانسیسی سفیرکی بیدخلی کے حوالے سے پیش قراردادپر بحث کیلئے قومی اسمبلی کا فوری اجلاس بلایا۔ یہ بھی سب کچھ ہواجب حکومتی وزراء نے بیانات دیئے کہ حکومت بلیک میل نہیں ہوگی اورخلاف ورزی پر سخت ایکشن لیاجائیگا۔

حکومت کا موقف مضبوط ہوتاگیاخصوصاًجب لاہورمیں قانون نافذکرنیوالے اداروں اورٹی ایل پی کارکنوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ تاہم اس کے بعد فوری مذاکرات کرناپڑے اور حکومت نے ٹی ایل پی کے کارکنوں کو رہاکرناشروع کردیا،پلڈاٹ کے صدراحمدبلال محبوب نے کہاکہ ٹی ایل پی کے ردعمل پر حکومت کا اندازہ ٹھیک نہ تھا ،حکومت اس حوالے کمزورنظرآئی کیونکہ انہوں نے جو کہاتھااس پرعمل کرتی نظرنہ آئی ۔

صدرپلڈاٹ نے کہاکہ مذاکرا ت کے دوران یہ فیصلہ ہواکہ حکومت ٹی ایل پی کی تحلیل پر موثرکارروائی نہیں کریگی اورجلد ہی نظرثانی درخواست کو لے لیاجائیگا۔انہوں نے کہاکہ جلد بازی کا کوئی بھی فیصلہ عالمی سطح پر حکومت کیلئے مسائل کھڑے کرسکتاہے جیساکہ یورپی پارلیمنٹ جی ایس پی پلس سٹیٹس پرپاکستان کو ریویوکیلئے کچھ کرسکتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ حکومت نااہل اورحساس معاملات پر اس کوڈیل کرنانہیں آتا،اوریہی وجہ ہے کہ اس کو یورپی یونین اورملک کے اندرسے مسائل کا سامناہے۔

The post TLP پرپابندی، نظرثانی درخواست کیلیے جائزہ کمیٹی قائم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3gTkqd2

آج یوم مزدور، ملک بھر میں عام تعطیل ہو گی

 لاہور /  اسلام آباد: ملک بھر میں آج (یکم مئی ) یوم مزدور منایا جا رہا ہے اور ملک بھر میں عام تعطیل ہوگی۔

دنیا بھر کی طرح ملک بھر میں بھی شکاگو میں مزدوروں کی شاندار جہدوجہد اور قربانیوں کو خراج تحسین پیشن کرنے کیلیے آج (یکم مئی ) یوم مزدور منایا جا رہا ہے اور ملک بھر میں عام تعطیل ہوگی۔ دن کی مناسبت سے لاہور سمیت ملک بھر میں حکومتی ایس او پیز پر عملدرآمد کرتے ہوئے سیمینار منعقدہ ہوں گے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہم مزدوروں اور محنت کشوں کی جدو جہد کو سلام پیش کرتے ہیں، حکومت خصوصی طور پر مزدور کی فلاح و بہبود اور تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

The post آج یوم مزدور، ملک بھر میں عام تعطیل ہو گی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2QNFSFR

یورپ جانیوالے 3 پاکستانی ترک فورسز کی فائرنگ سے جاں بحق

گوجرہ: غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش میں ترک سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 3 پاکستانی نوجوان جاں بحق ہو گئے۔

گوجرہ کا رہائشی علی رضا اس کا بھائی اور دیگر افراد یورپ جاتے ہوئے ماکو پہاڑی سے ترکی داخل ہو رہے تھے کہ ترک بارڈر سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ کا نشانہ بن گئے، علی رضا سمیت 2 نوجوان جان بحق ہو گئے۔

علی رضا کو گوجرہ کے مقامی قبرستان میںسپردخاک کر دیا گیا، دوسرے نوجوان کی تدفین منڈی بہاؤالدین اور ایک کی کھاریاں میں کی گئی۔

The post یورپ جانیوالے 3 پاکستانی ترک فورسز کی فائرنگ سے جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3356IvO

ترکی؛ فیکٹری میں آگ لگنے سے 16 پاکستانی مزدور جاں بحق

مینگورہ: ترکی کی فیکٹری میں آگ لگنے سے 16 پاکستانی مزدور جھلس کر جاں بحق ہوگئے۔

ترکی کی فیکٹری میں آگ لگنے کی وجہ سے 16 پاکستانی مزدور جھلس کر جاں بحق ہوگئے جن میں سے چار کا تعلق سوات سے تھا۔ جمشید اور ایوب کا تعلق کانجو، صدام کا پانڑ مینگورہ اور انور کا تعلق امانکوٹ مینگورہ سے تھا۔

جمشید کے بھائی عثمان علی نے رابطہ پر بتایا کہ کچھ عرصہ قبل ان کا بھائی ساتھیوں سمیت ترکی گیا تھا، وہاں ایک فیکٹری میں کام کر رہا تھا، وہاں ان کے بھائی کے ساتھ کام کرنیوالے دوستوں نے فون پر آتشزدگی کے حوالے سے  بتایا۔

The post ترکی؛ فیکٹری میں آگ لگنے سے 16 پاکستانی مزدور جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3nBu85f

ورکرز ویلفیئر فنڈ میں موجود رقم مزدوروں کی فلاح و بہبود کیلیے بحال کی جائے، ایکسپریس فورم

 لاہور:  پنجاب حکومت نے مزدور کی کم از کم اجرت میں 2 ہزار روپے کا اضافہ کر دیا ، اب مزدور کو کم از کم 19500 روپے ماہانہ اجرت ملے گی، فیصلے کا اطلاق جولائی سے ہوگا۔

موجودہ حکومت نے مزدوروں کے حقوق اورخوشحالی کیلئے اہم قانون سازی کی، غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والوں کو بھی مزدور کا درجہ دیا، اب ان کی سوشل سکیورٹی کے حوالے سے اقدامات کیے جارہے ہیں، اب انہیں مختلف برانڈز پر ڈسکائونٹ بھی دیا جائے گا۔ورکرز ویلفیئر فنڈ میں ایک کھرب روپے سے زائد موجود ہے مگر وفاق اور صوبے میں جھگڑے کی وجہ سے یہ مزدوروں کی فلاح کے لیے استعمال نہیں ہورہا، اسے فوری بحال کیا جائے۔

ان خیالات کا اظہار حکومت اور مزدوروں کے نمائندوں نے ’’عالمی یوم مزدور‘‘ پر منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں کیا۔ فورم کی معاونت احسن کامرے نے کی۔

ڈائریکٹر لیبر ضیغم عباس نے کہا پنجاب حکومت نے مزدور کی کم از کم اجرت میں 2 ہزار روپے ماہانہ اضافہ کر دیا ہے، اضافے کا اطلاق رواں سال یکم جولائی سے ہوگا۔ اس حوالے سے سٹیک ہولڈرز کو ایک ماہ میں اپنی تجاویز اور اعتراضات سے آگاہ کرنے کیلئے کہہ دیا گیا ہے۔ یہ اضافہ مزدوروں کی خوشحالی کیلئے عملی قدم ہے۔

سیکریٹری جنرل آل پاکستان ورکرز کنفیڈریشن خورشید احمد نے کہا آج جب ہم یوم مزدور منا رہے ہیں تو دنیا سمیت پاکستان میں بھی بے شمارچیلنجز درپیش ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ کورونا ہے جس کے باعث صنعت بند ہوئی اور مزدور بے روزگار ہوئے۔ گزشتہ دو برسوں میں مہنگائی 100 گنا بڑھ گئی ، غریب پس رہا ہے، اس وقت لیبر کے حوالے سے 72 قوانین موجود ہیں مگر عملدرآمد کا فقدان ہے.

نمائندہ سول سوسائٹی بشریٰ خالق نے کہا مزدور کی خوشحالی کے بغیر ملک خوشحال نہیں ہوسکتا، اس کی حق تلفی ہوتی ہے اور خوشحالی کے اثرات اس تک نہیں پہنچتے۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین کو کم معاوضہ ملتا ہے،مردوں کے مقابلے میں خواتین صرف 16.3 فیصد کماتی ہیں جو واضح کرتا ہے کہ خواتین کا کس قدر معاشی استحصال ہورہا ہے،گلوبلائزیشن کے اس دور میں اب خواتین ایسے شعبوں میں بھی کام کر رہی ہیں جہاں پہلے کبھی تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔

The post ورکرز ویلفیئر فنڈ میں موجود رقم مزدوروں کی فلاح و بہبود کیلیے بحال کی جائے، ایکسپریس فورم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3nDcdv0

فواد جیسا سلوک کسی اور سے نہ کرنا

’’ارے عابد علی نے اتنی جلدی سنچری کیسے بنا لی، یہ تو بہت سست بیٹنگ کر رہا تھا‘‘

ٹی وی پر میچ دیکھتے ہوئے جب میرے بھائی نے یہ بات کہی تو میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ سنچری نہیں ابھی تو صرف ففٹی ہی ہوئی ہے، تم شاید جشن سے کنفیوز ہو گئے،دراصل عابد نے ہیلمٹ اتار کر بیٹ ایسے لہرایا تھا جیسے کوئی بڑا اعزاز حاصل کر لیا ہو، ڈریسنگ روم میں موجود ساتھی کھلاڑیوں نے بھی انھیں نشستوں سے اٹھ کر داد دی تھی،پہلے زمانے میں کیا موجودہ دور میں بھی نصف سنچری پر غیرملکی کرکٹرز ایسا نہیں کرتے  کیونکہ ان کے دماغ میں بڑی اننگز کا خیال ہوتا ہے، وہ 50 کو100 اور پھر اس سے بھی آگے کا سوچتے ہیں جیسے اپنے فواد عالم ہیں، ایشیا کا کوئی اور ایسا بیٹسمین نہیں ہے جو ابتدائی چاروں ففٹیز کو سنچریوں میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوا ہو۔

ان کا ہر شاٹ ایسا لگتا ہے جیسے گیند میں اپنے کیرئیر کے10 سال ضائع کرنے والوں کی شکل نظر آ رہی ہے،ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میں پاکستان کو مڈل آرڈر میں قابل بھروسہ بیٹسمین کی ضرورت محسوس ہوتی ہے شکر ہے ٹیسٹ میں فواد موجود ہیں،ہرارے ٹیسٹ میں بابر اعظم کے پہلی گیند پر آؤٹ ہونے سے ٹیم دباؤ کا شکار نظر آ رہی تھی مگر فواد کی شاندار سنچری نے خطرہ ٹال دیا، جب بھی وہ کوئی بڑی اننگز کھیلیں یہی خیال ذہن میں آتا ہے کہ کوئی کیسے اتنے زبردست کھلاڑی کو منتخب نہیں کر سکتا تھا، ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کے ڈھیر لگانے پر بھی وہ سائیڈ لائن رہے۔

آج کل کے دور میں کسی پلیئر کو ایک، دو سیریز سے باہر کر دیں تو وہ ریٹائرمنٹ کا سوچنے لگتا ہے مگر فواد نجانے کس مٹی کا بنا ہوا ہے کبھی ہار ہی نہیں مانتا، انضمام  الحق اپنی یوٹیوب ویڈیوز میں جب ان کی تعریفیں کریں تو وقت کے ستم پر ہنسی بھی آتی ہے، جیسے وہ ایک مشہور فلمی ڈائیلاگ ہے ناں کہ ’’جج صاحب میرے 20سال کون واپس لوٹائے گا‘‘ بیچارے فواد تو اپنے 10 سال کا حساب بھی کسی سے نہیں مانگ سکتے۔

پہلے بھی وہ کوئی شکوہ نہیں کرتے تھے، میں اکثر انٹرویوز کے بعد  کہتا کہ کسی کا نام نہیں لیا تو وہ جواب دیتے کہ ’’مجھے ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اللہ دیکھ رہا ہے، وہی انصاف کرے گا‘‘، بعد میں ایسا ہی ہوا انھیں محنت کا پھل ملا اور اب وہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھ رہے بلکہ کامیابی کی نئی منازل طے کر رہے ہیں، مصباح الحق پر عموما تنقید ہی ہوتی رہتی ہے لیکن بطور چیف سلیکٹر وہی فواد عالم کو قومی ٹیم میں واپس لائے اور ابتدائی اننگز میں ناکامی کے بعد بھی اعتماد برقرار رکھا جس کا کریڈٹ انھیں جاتا ہے۔

اگر ماضی میں فواد عالم پر بھی اسد شفیق اور اظہر علی کی طرح اعتماد کیا جاتا تو آج وہ ان دونوں سے کافی آگے نکل چکے ہوتے  خیر جس کے نصیب میں جو لکھا ہو وہی ملتا ہے، اب ان کی جتنی کرکٹ باقی ہے اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے، ویسے فواد کی فٹنس قابل رشک ہے اور وہ مزید کئی برس قومی ٹیم کے کام آ سکتے ہیں،ایک فواد عالم نہیں نجانے کتنے باصلاحیت کرکٹرز ارباب اختیار کی پسند ناپسند کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، انضمام الحق نے بطور چیف سلیکٹر اپنے بھتیجے امام الحق کو جتنا پروموٹ کیا وہ سب کے سامنے ہے۔

کاش وہ دیگر باصلاحیت کرکٹرز کو بھی اپنا رشتہ دار سمجھ کر ہی مواقع دیتے رہتے،موجودہ اسکواڈ میں ہی شامل تابش خان بھی ناانصافیوں کی جیتی جاگتی مثال ہیں، طویل عرصے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے اور تقریبا 600 فرسٹ کلاس وکٹیں لینے کے بعد انھیں قومی اسکواڈ میں شامل ہونے کا موقع ملا لیکن اب تک کھیلنے سے محروم ہیں، اگلے ٹیسٹ میں اگر ٹیسٹ کیپ نہ ملی تو شاید پھر اسکواڈ سے بھی باہر ہو جائیں گے، لوگ میڈیا کو برا بھلا کہتے ہیں لیکن یقین مانیے اگر صحافی ان باصلاحیت کرکٹرز کے لیے آواز نہ اٹھائیں تو ان کو کبھی موقع نہ ملے،عابد علی بھی اس کی ایک بڑی مثال ہیں۔

چیف سلیکٹر محمد وسیم کو تابش خان کے بارے میں ان کے سابقہ بیانات یاد دلائے  گئے تو انھیں مجبورا پیسر کو منتخب کرنا پڑا ،حالانکہ یہ سچ ہے کہ تابش اب اپنے کیرئیر کے عروج سے گذر چکے، حالیہ سیزنز میں ان کی کارکردگی بھی اتنی غیر معمولی نہیں تھی، البتہ اتنے عرصے ڈومیسٹک کرکٹ میں پرفارم کرنے کے بعد وہ ٹیسٹ کیپ کے توحقدار ضرور ہیں،ہمیں ایسا سسٹم بنانا ہوگا جب حقدار کرکٹر کو ٹیم میں شامل کرانے کیلیے میڈیا کو شور نہیں مچانا پڑے،بدقسمتی سے ماضی کی طرح موجودہ دور میں بھی سلیکشن کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے۔

محمد وسیم ایپل کا لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ جاتے ہیں اور فخر سے میڈیا کے سامنے اسکواڈز کا اعلان ہوتا ہے، وہ سوشل میڈیا سے بھی بیحد متاثر ہیں جہاں پی ایس ایل کی ایک،دو پرفارمنس پر بھی کسی کھلاڑی کو آسمان پر بٹھا دیا جاتا ہے،خیر ابھی یہ ایڈوانٹیج ہے کہ کوویڈ کی وجہ سے بڑے اسکواڈز منتخب ہو رہے ہیں، اس سے نوجوانوں کو سیر کرنے کا موقع مل جاتا ہے، ٹیم مینجمنٹ کسی انہونی سے بچنے کیلیے زیادہ خطرات مول نہیں لیتی جس کی وجہ سے کئی نئے پلیئرز کو کھیلنے کا موقع ہی نہیں ملتا، زمبابوے سے ٹی ٹوئنٹی سیریز کا اسکواڈ آپ نے دیکھ لیا جس کے توازن کا یہ حال تھا کہ آخری میچ میں چار اوپنرز اور دو وکٹ کیپرز کو کھلانا پڑا،حقدار کرکٹرز کو اگر وقت پر مواقع ملتے رہیں تو ہماری ٹیم خوب آگے جائے گی۔

ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں لیکن مستقبل سے مایوس ہو کر بہت سے نوجوان کرکٹ چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، ہر کوئی فواد عالم کی طرح ذہنی طور پر مضبوط نہیں ہوتا جو اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیاں سہہ کر ثابت قدم رہے، گو کہ انھوں نے پلان بی کے طور پر ڈراموں میں کام تو شروع کر دیا ہے،خیر امید ہے کہ وہ کرکٹ میں اتنے مصروف رہیں گے کہ ایکٹنگ کا وقت ہی نہیں ملے گا، یہ شوق ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پورا ہو سکتا ہے، قومی کرکٹ سیٹ اپ میں بھی بہت سے ایکٹرز موجود ہیں تب تک  ان سے اداکاری کے اسرارورموز ہی سیکھ لیں،فی الحال تو ہم چاہتے ہیں کہ فواد ایسے ہی عمدہ پرفارم کرتے رہیں ، ان کی ہر اننگز انھیں نظرانداز کرنے والوں کو منہ چھپانے پر مجبور ضرور کر رہی ہو گی۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

The post فواد جیسا سلوک کسی اور سے نہ کرنا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3vDgfGB

سیندک گولڈ کاپر پراجیکٹ؛ بلوچستان کو 305 ملین منافع دیدیا

 اسلام آباد: وفاق نے بلوچستان حکومت کو سینڈک گولڈ کاپر پراجیکٹ کے تحت 305 ملین روپے حصہ بطور منافع دے دیا۔

وفاق نے سینڈک گولڈ کاپر پراجیکٹ کے تحت منافع کے شیئر کا چیک سیکریٹری پٹرولیم میاں اسد احیاء لدین نے چیف سیکریٹری بلوچستان کو پیش کیا، ترجمان پٹرولیم ڈویژن کے مطابق سینڈک گولڈ کاپر پراجیکٹ کے ذریعے ہزاروں مقامی افراد کو روزگار فراہم کیا گیا۔

سینڈک کمپنی نے مقامی آبادی کو صاف پینے کا پانی اور بجلی بھی مہیا کی، سینڈک کمپنی نے علاقے میں صحت و تعلیم کے شعبے میں مالی مدد فراہم کی، پٹرولیم ڈویژن تیل و گیس، قدرتی وسائل کے ڈویلپمینٹ منصوبوں کے علاوہ مقامی لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے کام جاری رکھے گی۔

The post سیندک گولڈ کاپر پراجیکٹ؛ بلوچستان کو 305 ملین منافع دیدیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2RcQApl

اسٹیل ملز کرپشن ریفرنس کا 11سال بعد فیصلہ، تمام ملزم بری

 کراچی:  اسٹیل ملز میں کرپشن کے ریفرنس کا فیصلہ 11 سال بعد سنا دیا جب کہ احتساب عدالت نے تمام ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے باعزت بری کردیا۔

کراچی کی احتساب عدالت نے اسٹیل ملز میں کرپشن سے متعلق ریفرنس کا فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے تمام ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے باعزت بری کردیا۔ ملزمان میں ثمین اصغر، اصغر جمیل رضوی، چوہدری شفیق عباس، طارق ارشاد اور دیگر شامل ہیں۔

نیب کے مطابق ملزمان نے ٹھیکوں کی مد میں خورد برد کرکے کرپشن کی۔ ملزمان کی کرپشن کی وجہ سے اسٹیل ملز کو 13 ملین سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ ملزمان کیخلاف ریفرنس 2012 میں قائم ہوا تھا۔

 

The post اسٹیل ملز کرپشن ریفرنس کا 11سال بعد فیصلہ، تمام ملزم بری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3xCzsK5

TLP پرپابندی، نظرثانی درخواست کیلیے جائزہ کمیٹی قائم

 اسلام آباد: وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشیدنے وفاقی حکومت کیطرف سے کالعدم تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواست کا قانونی پہلوؤں سے جائزہ لینے کیلیے3رکنی کمیٹی قائم کردی ہے۔

وزارت داخلہ ذرائع کے مطابق وزیرداخلہ نے کالعدم ٹی ایل پی کیطرف دائر زیردفعہ 11سی(رائٹ آف ریویو )اورانسداددہشتگردی کے ایکٹ 11 ای ای (پروسکرپشن آف پرسن )کی نظرثانی کی درخواست کے بعد اجلاس کی صدارت کی۔

وزیرداخلہ نے انسداددہشتگردی ایکٹ کی زیردفعہ 11 سی سی کے تحت کمیٹی قائم کی ہے جوتین حکومتی افسران جن میں ایک وزارت قانون وانصاف کے نمائندہ اوروزارت داخلہ کے 2 جوائنٹ سیکرٹریز بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ یہ کمیٹی تیس دن کے اندردرخواستوں پرنظرثانی کریگی۔

شیخ رشید کی زیرصدارت اجلاس ہوا،مشاورتی اجلاس میں کالعدم ٹی ایل پی سے متعلق امور پر مشاورت کی گئی، اجلاس میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کی درخواست کا جائزہ بھی لیا گیا۔ وفاقی حکومت نے جو دوہفتے پہلے ٹی ایل پی کوتحلیل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائرکرنے کا کہاتھا لگتاہے، اس میں حکومت ناکام ہوگئی ہے ،15اپریل کو جب حکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی لگائی تو وزیرداخلہ نے اعلان کیاتھاکہ حکومت ٹی ایل پی کی تحلیل کیلئے اقدامات کریگی۔

وزیرداخلہ نے یہ بھی کہاتھاکہ 16اپریل کو وفاقی کابینہ کو ایک الگ سمری بھیجی جائیگی اور اسکی منظوری کے بعددوتین دن میں ٹی ایل پی کی تحلیل کیلئے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائرکیاجائیگاتاہم یہ نہ ہوسکا،اس سے لگتاہے کہ وزیرداخلہ نے بغیرقانونی راستہ اختیارکئے یہ اعلان کردیاتھا، انسداددہشتگردی ایکٹ کے تحت ٹی ایل پی 30 دن کے اندروزارت داخلہ کے سامنے ریویوکرسکتی ہے۔

وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فوادچودھری نے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ اگرٹی ایل پی کی تحلیل کے حوالے سے سمری کابینہ ارکان کو بھیجی جاسکتی ہے توپھرٹی ایل پی کیخلاف ریفرنس کیوں نہیں دائرہوسکتا۔

وزیراطلاعات نے کہاکہ ٹی ایل پی نے اپنے حقوق کو ایکسرسائزکیاہے تواب اس معاملے سے نمٹنااب وفاقی کابینہ کا نہیں وزارت داخلہ کا کام ہے،فوادچودھری نے زوردیاکہ قانون کے تحت سمری بھیجنے سے پہلے تیس دن کا عرصہ ضروری ہوتاہے۔

حکومت میں ظاہری تبدیلی اس وقت آئی جب اس نے اعلان کیاکہ ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں،یہ بھی شواہدہے کہ جب حکومت نے ٹی ایل پی کے مطالبے پر فرانسیسی سفیرکی بیدخلی کے حوالے سے پیش قراردادپر بحث کیلئے قومی اسمبلی کا فوری اجلاس بلایا۔ یہ بھی سب کچھ ہواجب حکومتی وزراء نے بیانات دیئے کہ حکومت بلیک میل نہیں ہوگی اورخلاف ورزی پر سخت ایکشن لیاجائیگا۔

حکومت کا موقف مضبوط ہوتاگیاخصوصاًجب لاہورمیں قانون نافذکرنیوالے اداروں اورٹی ایل پی کارکنوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ تاہم اس کے بعد فوری مذاکرات کرناپڑے اور حکومت نے ٹی ایل پی کے کارکنوں کو رہاکرناشروع کردیا،پلڈاٹ کے صدراحمدبلال محبوب نے کہاکہ ٹی ایل پی کے ردعمل پر حکومت کا اندازہ ٹھیک نہ تھا ،حکومت اس حوالے کمزورنظرآئی کیونکہ انہوں نے جو کہاتھااس پرعمل کرتی نظرنہ آئی ۔

صدرپلڈاٹ نے کہاکہ مذاکرا ت کے دوران یہ فیصلہ ہواکہ حکومت ٹی ایل پی کی تحلیل پر موثرکارروائی نہیں کریگی اورجلد ہی نظرثانی درخواست کو لے لیاجائیگا۔انہوں نے کہاکہ جلد بازی کا کوئی بھی فیصلہ عالمی سطح پر حکومت کیلئے مسائل کھڑے کرسکتاہے جیساکہ یورپی پارلیمنٹ جی ایس پی پلس سٹیٹس پرپاکستان کو ریویوکیلئے کچھ کرسکتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ حکومت نااہل اورحساس معاملات پر اس کوڈیل کرنانہیں آتا،اوریہی وجہ ہے کہ اس کو یورپی یونین اورملک کے اندرسے مسائل کا سامناہے۔

The post TLP پرپابندی، نظرثانی درخواست کیلیے جائزہ کمیٹی قائم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3gTkqd2

آج یوم مزدور، ملک بھر میں عام تعطیل ہو گی

 لاہور /  اسلام آباد: ملک بھر میں آج (یکم مئی ) یوم مزدور منایا جا رہا ہے اور ملک بھر میں عام تعطیل ہوگی۔

دنیا بھر کی طرح ملک بھر میں بھی شکاگو میں مزدوروں کی شاندار جہدوجہد اور قربانیوں کو خراج تحسین پیشن کرنے کیلیے آج (یکم مئی ) یوم مزدور منایا جا رہا ہے اور ملک بھر میں عام تعطیل ہوگی۔ دن کی مناسبت سے لاہور سمیت ملک بھر میں حکومتی ایس او پیز پر عملدرآمد کرتے ہوئے سیمینار منعقدہ ہوں گے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہم مزدوروں اور محنت کشوں کی جدو جہد کو سلام پیش کرتے ہیں، حکومت خصوصی طور پر مزدور کی فلاح و بہبود اور تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

The post آج یوم مزدور، ملک بھر میں عام تعطیل ہو گی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2QNFSFR

ورکرز ویلفیئر فنڈ میں موجود رقم مزدوروں کی فلاح و بہبود کیلیے بحال کی جائے، ایکسپریس فورم

 لاہور:  پنجاب حکومت نے مزدور کی کم از کم اجرت میں 2 ہزار روپے کا اضافہ کر دیا ، اب مزدور کو کم از کم 19500 روپے ماہانہ اجرت ملے گی، فیصلے کا اطلاق جولائی سے ہوگا۔

موجودہ حکومت نے مزدوروں کے حقوق اورخوشحالی کیلئے اہم قانون سازی کی، غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والوں کو بھی مزدور کا درجہ دیا، اب ان کی سوشل سکیورٹی کے حوالے سے اقدامات کیے جارہے ہیں، اب انہیں مختلف برانڈز پر ڈسکائونٹ بھی دیا جائے گا۔ورکرز ویلفیئر فنڈ میں ایک کھرب روپے سے زائد موجود ہے مگر وفاق اور صوبے میں جھگڑے کی وجہ سے یہ مزدوروں کی فلاح کے لیے استعمال نہیں ہورہا، اسے فوری بحال کیا جائے۔

ان خیالات کا اظہار حکومت اور مزدوروں کے نمائندوں نے ’’عالمی یوم مزدور‘‘ پر منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں کیا۔ فورم کی معاونت احسن کامرے نے کی۔

ڈائریکٹر لیبر ضیغم عباس نے کہا پنجاب حکومت نے مزدور کی کم از کم اجرت میں 2 ہزار روپے ماہانہ اضافہ کر دیا ہے، اضافے کا اطلاق رواں سال یکم جولائی سے ہوگا۔ اس حوالے سے سٹیک ہولڈرز کو ایک ماہ میں اپنی تجاویز اور اعتراضات سے آگاہ کرنے کیلئے کہہ دیا گیا ہے۔ یہ اضافہ مزدوروں کی خوشحالی کیلئے عملی قدم ہے۔

سیکریٹری جنرل آل پاکستان ورکرز کنفیڈریشن خورشید احمد نے کہا آج جب ہم یوم مزدور منا رہے ہیں تو دنیا سمیت پاکستان میں بھی بے شمارچیلنجز درپیش ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ کورونا ہے جس کے باعث صنعت بند ہوئی اور مزدور بے روزگار ہوئے۔ گزشتہ دو برسوں میں مہنگائی 100 گنا بڑھ گئی ، غریب پس رہا ہے، اس وقت لیبر کے حوالے سے 72 قوانین موجود ہیں مگر عملدرآمد کا فقدان ہے.

نمائندہ سول سوسائٹی بشریٰ خالق نے کہا مزدور کی خوشحالی کے بغیر ملک خوشحال نہیں ہوسکتا، اس کی حق تلفی ہوتی ہے اور خوشحالی کے اثرات اس تک نہیں پہنچتے۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین کو کم معاوضہ ملتا ہے،مردوں کے مقابلے میں خواتین صرف 16.3 فیصد کماتی ہیں جو واضح کرتا ہے کہ خواتین کا کس قدر معاشی استحصال ہورہا ہے،گلوبلائزیشن کے اس دور میں اب خواتین ایسے شعبوں میں بھی کام کر رہی ہیں جہاں پہلے کبھی تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔

The post ورکرز ویلفیئر فنڈ میں موجود رقم مزدوروں کی فلاح و بہبود کیلیے بحال کی جائے، ایکسپریس فورم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3nDcdv0

Thursday, 29 April 2021

کم درجہ حرارت پر پلاسٹک کو ایندھن میں بدلنے کا نیا طریقہ

ڈیلاویئر: امریکی ماہرین نے پلاسٹک کو ایندھن میں بدلنے کا ایک ایسا نیا طریقہ ایجاد کرلیا ہے جو نہ صرف ہر قسم کے ڈھیٹ سے ڈھیٹ پلاسٹک کےلیے کارآمد ہے بلکہ خاصے کم درجہ حرارت پر کام کرتے ہوئے توانائی بھی بہت کم استعمال کرتا ہے۔

آن لائن ریسرچ جرنل ’’سائنس ایڈوانسز‘‘ کے تازہ شمارے میں ڈیلاویئر یونیورسٹی کے ماہرین کا ایک مقالہ شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے پلاسٹک کی آلودگی سے چھٹکارا پانے کےلیے ایک مؤثر اور ’’کم خرچ بالا نشین‘‘ قسم کے ایک نئے طریقے کے بارے میں بتایا ہے۔

یہ نیا طریقہ پلاسٹک کی اُن اقسام کو بھی آسانی سے ایندھن میں تبدیل کرسکتا ہے جن کی بازیافتگی (ری سائیکلنگ) بے حد مشکل اور تقریباً ناممکن سمجھی جاتی ہے۔ ابتدائی تجربات کے دوران اس طریقے سے پلاسٹک کی 85 فیصد مقدار کو ڈیزل، جیٹ اور پیٹرول کے آمیزے میں تبدیل کیا گیا۔

یاد رہے کہ آج کے دور میں پلاسٹک کا شمار آلودگی کے بڑے مسائل میں ہوتا ہے کیونکہ اسے بنانا آسان ہے لیکن تلف کرکے ماحول سے ختم کرنا بے حد مشکل ہے۔

اب تک پلاسٹک کے لمبے لمبے سالمات (پولیمرز) کو چھوٹے چھوٹے اور بے ضرر سالموں میں تبدیل کرنے کے بہت سے طریقے سامنے آچکے ہیں لیکن ان میں سے بیشتر یا تو بے حد سست رفتار ہیں یا پھر انہیں شدید گرمی (بلند درجہ حرارت) اور دباؤ کی صورت میں بہت زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے۔

نیا طریقہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں ایک ساتھ دو عمل انگیز (کیٹالسٹس) یعنی پلاٹینم اور زیولائٹ ایک ساتھ استعمال کیے جاتے ہیں جو خاصے کم درجہ حرارت (تقریباً 225 ڈگری سینٹی گریڈ) اور شدید دباؤ پر کسی بھی قسم کے پلاسٹک کو ایندھن میں بدل دیتے ہیں۔

اس طرح یہ طریقہ پلاسٹک بازیافتگی (ری سائیکلنگ) کے دوسرے موجودہ تجرباتی طریقوں کے مقابلے میں بہت کم خرچ بھی ہے۔

اگرچہ ڈیلاویئر یونیورسٹی کے ماہرین اس طریقے کو پیٹنٹ بھی کرواچکے ہیں اور آئندہ 5 سے 10 سال میں اسے تجارتی پیمانے تک پہنچانے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں لیکن فی الحال اس میں ایک بڑی خامی ہے جسے دور کرنا بہت ضروری ہے۔

وہ خامی یہ ہے کہ اس طریقے میں پلاسٹک کو ایندھن میں بدلنے کےلیے بہت زیادہ پانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ مثلاً یہ کہ 150 لیٹر پانی استعمال کرنے کے بعد ہی اس طریقے کے تحت 3.8 لیٹر گیسولین/ پیٹرول حاصل ہوتا ہے۔

البتہ، ماہرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس خامی کو دور کرنے پر بھی کام جاری رکھا ہوا ہے اور انہیں امید ہے کہ وہ جلد ہی یہ مسئلہ حل کرنے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے۔

The post کم درجہ حرارت پر پلاسٹک کو ایندھن میں بدلنے کا نیا طریقہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3gRoCKy

این اے 249 میں (ن) لیگ کا الیکشن چوری کیا گیا ہے، مریم نواز

 لاہور: نائب صدر (ن) لیگ مریم نواز کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو متنازع الیکشن کے نتائج کو روکنا ہوگا کیوں کہ یہاں الیکشن چوری ہوا ہے۔

نائب صدر مسلم لیگ (ن) مریم نواز نے کراچی کے حلقہ این اے 249 میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ووٹر ٹرن آوٹ بمشکل 15-18 فیصد اور گنتی کا عمل ساڑھے آٹھ گزرنے کے بعد بھی جاری رہا، یہاں بھی دھند چھا گئی تھی یا عملہ اتنی تاخیر سے پہنچا، ہمیں بے وقوف سمجھ رکھا ہے کیا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو متنازع الیکشن کے نتائج کو روکنا ہوگا، مسلم لیگ ن سے صرف چند سو ووٹوں سے الیکشن چوری ہوا تاہم نتائج نہ بھی روکے تو یہ فتح عارضی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ جلد ہی یہ سیٹ مسلم لیگ (ن) کو واپس ملے گی، عوام کے ووٹ چوری کرنے والے جلد آپ کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔

The post این اے 249 میں (ن) لیگ کا الیکشن چوری کیا گیا ہے، مریم نواز appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3eAP9c0

ملک میں اگلے چند ہفتے خطرناک ہیں، کورونا ایس او پیزپرعمل کیا جائے، اسد عمر

 اسلام آباد: وفاقی وزیربرائے منصوبہ بندی اسد عمرکا کہنا ہے کہ کورونا وبا کے باعث ملک میں اگلے چند ہفتے خطرناک ہیں اس لیے ایس او پیز پر عمل کیا جائے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرپروفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ ملک میں کورونا کے 5 ہزار360 مریضوں کی حالت نازک ہے جوآکسیجن پرہیں۔ آکسیجن پرجانے والے مریضوں کی تعداد پچھلے سال جون کی نسبت ستاون فیصد زیادہ ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ الحمداللہ، کورونا مریضوں کی بڑھتی تعداد کی فی الحال بہترحکمت عملی سے سنبھال رکھا ہے، اگلے چند ہفتے خطرناک ہیں، ایس اوپیزپرعمل کیا جائے، اللہ ہمیں بچائے رکھے۔

The post ملک میں اگلے چند ہفتے خطرناک ہیں، کورونا ایس او پیزپرعمل کیا جائے، اسد عمر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3gRItJs

عمران خان کو بدترین حکمران کے طور پر یاد رکھا جائے گا، بلاول بھٹو

 کراچی: چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ عمران خان کو ایک ایسے بدترین حکمران کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے کرپشن کو فروغ دیا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی حکومت کو ملکی تاریخ کی سب سے کرپٹ حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹیں لہرا کر سب کو کرپٹ کہتے تھے اور آج وہی ادارہ کہہ رہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے سب سے زیادہ لوٹ مار کی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شروع میں ہی حکومت کو بتادیا تھا کہ نیب اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے مگر عمران خان نہیں مانے اور ملکی معیشت تباہ ہوگئی، عمران خان کو ایک ایسے بدترین حکمران کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے احتساب کا نعرہ لگاکر کرپشن کو فروغ دیا۔

The post عمران خان کو بدترین حکمران کے طور پر یاد رکھا جائے گا، بلاول بھٹو appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3xD0UaE

پیپلزپارٹی نے ایک نشست کیلئے نظام کو یرغمال بنایا، فواد چوہدری

 اسلام آباد: وفاقی وزیربرائے سائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی نے ایک نشست کیلئے نظام کو یرغمال بنایا۔

وفاقی وزیربرائے سائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ٹوئٹ میں کہا کہ پیپلزپارٹی نے ایک نشست کیلئے جس طرح نظام کویرغمال بنایا اس سے الیکشن اصلاحات کی ضرورت کا احساس پہلے سے بھی زیادہ شدت سے محسوس ہوتا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ایک بارپھراپوزیشن سے کہتا ہوں کہ وزیراعظم کی تجاویزپرغور کریں، ووٹنگ کی شرح سے اندازہ ہوتا ہے عوام کا انتخابی عمل سے اعتبار ختم ہورہا ہے۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی حلقہ این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی کوبدترین شکست دے دی جب کہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار مفتاح اسماعیل دوسرے نمبر پررہے۔

The post پیپلزپارٹی نے ایک نشست کیلئے نظام کو یرغمال بنایا، فواد چوہدری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3aQIPfo

سینئرصحافی مرزا خرم بیگ کورونا سے انتقال کرگئے

 کراچی:  سینئرصحافی مرزاخرم بیگ کورونا وائرس کی وجہ سے گذشتہ روز ( جمعرات کو) انتقال کر گئے، ان کی عمر 49سال تھی، ان کا انتقال مقامی اسپتال میں کووڈ 19کے باعث ہونے والی طبی پیچیدگیوں کی وجہ سے ہوا۔

KB کی عرفیت سے مشہور مرزا خرم بیگ طویل عرصے تک ایکسپریس میڈیا گروپ سے وابستہ رہے۔ ابتدا میں وہ ایکسپریس میڈیا کے میگیزین @ انٹرنیٹ کے ایڈیٹر تھے، پھر گروپ کے اخبار بزنس ٹوڈے کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ بعدازاں 2010ء  میں دی ایکسپریس ٹریبیون کی ٹیم کا حصہ بن گئے۔

ایکسپریس ٹریبیون میں شمولیت سے قبل مرزا خرم بیگ  ڈان نیوز ٹی  وی اور بعدازاں ایک انگریزی چینل سے وابستہ رہے جہاں انھوں  نے اسپورٹس ایڈیٹر کی حیثیت سے فرائض انجام دیے۔ یہاں وہ  اسپورٹس شو کی میزبانی کرتے رہے  اور نیوزاینکر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ مرزا خرم بیگ کے صحافتی کیریئر کا آغاز  پاکستان پریس انٹرنیشنل (پی پی آئی ) سے ہوا۔

2004 سے 2006 تک وہ دی نیوز انٹرنیشنل کے سیٹی ایڈیٹر ( کراچی) بھی رہے۔ مرزا خرم بیگ کے انتقال پر ان کے رفقائے کار نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ ان کی بے وقت موت پر  کمال صدیقی نے، جو 2013 میں  ایکسپریس ٹریبیون میں ان کے ایڈیٹر تھے،  کہا کہ خرم بیگ ایک شاندار انسان تھے۔

وہ انتہائی محنتی اور اپنے کام میں ماہر تھے اور ہمیشہ کام کے معیار کو بلند کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ مرزا خرم بیگ نے میڈیا کنسلٹنٹ اور  کونٹینٹ اسٹریٹجسٹ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ وہ مطالعے سے گہرا شغف رکھتے تھے اور ایک اچھے لکھاری بھی تھے۔ کاروباری اور کھیل کے موضوعات کے علاوہ ٹیکنالوجی پر ان کی تحریریں باقاعدگی سے شایع ہوتی تھیں۔  چار برس تک وہ  ایک  بین الاقوامی آرگنائزیشن Qineqt سے بطور بزنس ایڈیٹر وابستہ رہے۔

پچھلے دو سال سے وہ کے الیکٹرک کے  کونٹینٹ اینڈ کمیونی کیشن ڈپارٹمنٹ میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ انھوں نے پسماندگان میں بیوہ اور تین بیٹے چھوڑے ہیں۔

کراچی یونین آف جرنلسٹس کے سینئر رکن اور ایکسپریس ٹریبون سے وابستہ سینئر صحافی خرم بیگ کے انتقال پر صدر کے یو جے اعجاز احمد، جنرل سیکریٹری عاجز جمالی، نائب صدور لبنیٰ جرار، ناصر شریف، جوائنٹ سیکریٹری طلحہ ہاشمی، رفیق بلوچ ، خازن یاسر محمود، کے یو جے کے سینئر اراکین حسن عباس، سید جان بلوچ، شاہد غزالی، اکبر جعفری اور دیگر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

The post سینئرصحافی مرزا خرم بیگ کورونا سے انتقال کرگئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3eGQEFV

فضل الرحمن کی پھر دعوت، اے این پی کا واپس نہ جانیکا فیصلہ

 پشاور:  پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے پیپلزپارٹی اور اے این پی کو اتحاد میں واپسی کی دعوت کے باوجود اے این پی نے اپنے فیصلہ پر قائم رہتے ہوئے پی ڈی ایم میں واپس نہ جانے پر اتفاق کیا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے گزشتہ دنوں پی ڈی ایم اجلاس کے بعد اے این پی اور پیپلزپارٹی کو ایک مرتبہ پھر پی ڈی ایم میں واپس آنے کی دعوت دی تاہم اس سلسلے میں تاحال ان کی جانب سے اے این پی کی قیادت کے ساتھ کسی قسم کا کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہوسکا ،اس بارے میں اے این پی کے مرکزی ترجمان زاہدخان نے ایکسپریس کوبتایا کہ اے این پی اور پیپلزپارٹی کے معاملات الگ ہیں۔

پیپلزپارٹی نے صرف پی ڈی ایم کے عہدوں سے استعفے دیئے ہیں اور وہ اتحاد کوچھوڑ کر باہر نہیں گئی جبکہ اے این پی تو پی ڈی ایم کو چھوڑ کر باہر آگئی ہے اور ہم نے جو بھی فیصلہ کیاہے وہ بڑی سوچ سمجھ اور مشاورت کے بعد کیا اس لیے ہماری واپسی کا کوئی امکان نہیں۔

The post فضل الرحمن کی پھر دعوت، اے این پی کا واپس نہ جانیکا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3vActOf

بشیر میمن کی گھی فیکٹری پر چھاپہ، انتظامیہ سے پوچھ گچھ

ہالا:  پی ایس کیو سی اے کی خصوصی ٹیم نے سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کی سانگھڑ و شہدادپور روڈ پر واقع گھی فیکٹری پر چھاپہ مارا اور کوالٹی چیک کرنے کے ساتھ لائسنس سے متعلق ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔

پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کی ٹیم نے سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کی سانگھڑ و شہدادپور روڈ پر واقع گھی فیکٹری پرچھاپے کے دوران ریکارڈ اور لائسنس چیک کیا۔ لائسنس کی تجدید نہ ہونے پر فیکٹری انتظامیہ سے پوچھ گچھ کی گئی۔

سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کا کہنا تھا کہ گھی فیکٹری کے لائسنس کی تجدید کیلئے پہلے ہی درخواست جمع کرواچکا ہو۔ رزق دینے والا اللھ ہے۔ مجھے کسی کا ڈر اور خوف نہیں۔پی ٹی آئی کے حکمرانوں پر الزامات عائد نہیں کیے بلکہ حقیقت بیان کی ہے۔ اگر میں نے اتنے ہی غلط اور جھوٹے الزام لگائے تو انہیں پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے۔

ہالا میں واقع اپنی رہائشگاہ پر ایکسپریس سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بشیر میمن کا کہنا تھا کہ الزامات تو وہ ہوتے جو تحریری دیتا میں نے تو باتیں کی۔ اب یہ لوگ لیگل پراسیس میں آگئے ہیں اور مجھے ایک قانونی نوٹس بھیجا گیا ہے۔ ان کی مہربانی ہے میں اس کا جواب دونگا۔

بشیر میمن نے واضح کیا کہ نون لیگ سے میرا کوئی تعلق نہیں، میں اب ریٹائرڈ ہو کر گھر میں بیٹھا ہوں۔ کیا نون لیگ دوبارہ پاور میں آنے کے بعد مجھے پھر نوکری دے گی۔؟ مجھے سمجھ نہیں آرہی کس طرح کی باتیں کی جارہی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ حکمرانوں کو چاہیے تھا کہ میں نے جو کہا اس کے بارے میں میڈیا میں آکر بتاتے کہ میں نے کیا جھوٹ بولا۔ الٹا سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا کردیا اور انہیں مغلظات تک دی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغلظات دینے والے بچوں سے کہتا ہو کہ وہ غلیظ باتوں سے اجتناب برتیں۔

The post بشیر میمن کی گھی فیکٹری پر چھاپہ، انتظامیہ سے پوچھ گچھ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3aMsrwA

صوبہ سندھ میں بچوں پر جسمانی تشدد میں کمی نہ آ سکی

 کراچی:  بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کیلیے سندھ طویل عرصے سے جدوجہد میں مصروف ہے جہاں قانونی ڈھانچے کے باوجود بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی جاری ہے۔

مختلف اضلاع سے موصولہ اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ ان اداروں میں اساتذہ کا معمول ہے کہ وہ کمسن طلبہ کو انتہائی غیرانسانی اور ہتک آمیز سلوک کا نشانہ بناتے ہوئے ان کو سزا دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایک ایسی ہی وڈیو وائرل ہوئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ضلع عمرکوٹ میں ایک مدرسے کے عالم دین نے7سے 8سال کی عمر کے تین طالب علموں کو زدوکوب اور تشدد کا نشانہ بنایا، آپ لوگ ہمیشہ دیر سے کیوں آتے ہیں ؟، اگر آپ نے غلطی کو دوبارہ دہرایا تو میں آپ کا قتل کردوں گا، ’’وڈیو میں استاد کی حقارت آمیز گفتگو سنتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

ایسے ہی واقعات کو دیکھتے ہوئے 4سال قبل  سندھ اسمبلی نے جسمانی سزا کا بل 2016 منظور کیا تھا  تاکہ بچوں کو ہر طرح کے تعلیمی اداروں اور دیکھ بھال کے مراکز میں تشدد سے بچایا جاسکے۔اس بل میں بچوں کے خلاف طاقت کے استعمال کو کالعدم قرار دینے کی کوشش کی گئی، بل میں بچے کے انسانی وقار اور جسمانی سالمیت کا احترام کرنے کے حق کے تحفظ پر بھی خصوصی زور دیا گیا ہے۔

بچوں کے حقوق برائے قومی کمیشن (این سی آر سی) سندھ چیپٹر کے ممبر اقبال احمد ڈیٹھو کے مطابق قواعد تیار کیے گئے ہیں لیکن حتمی منظوری کے منتظر ہیں تاہم  قواعد کی ایک کاپی  جو ایکسپریس ٹریبیون نے حاصل کی جس میں انکشاف کیا گیا کہ جس شخص نے بھی بچے پر تشدد کیا ہو ،اسے مقامی سطح پر تشکیل دی گئی چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیاں (تحقیقات کے بعد) اس معاملے کو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے پاس مزید تفتیش اور کارروائی کیلیے بھیجیں گی۔

دوسری طرف صوبائی وزیر صحت کے ترجمان نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ طویل التوا کا شکار انسداد جسمانی تشدد سے متعلق سزا کا بل اس وقت حتمی شکل میں ہے جو بھی شکایات کو رجسٹرڈ کرتا ہے یا جب بھی میڈیا میں اس طرح کے واقعات کی خبریں آتی ہیں ان کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔

انھوں نے ایکسپریس کو بتایا کہ وزیر تعلیم سندھ اس معاملے سے متحرک ہیں اور انھوں نے پہلے ہی حکام کو آگاہ کیا ہے کہ جسمانی یا دیگر قسم کی سزا کو اسکول کی سطح پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔

The post صوبہ سندھ میں بچوں پر جسمانی تشدد میں کمی نہ آ سکی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3gXsHwu

الیکشن ہارنے میں PTI کراچی زیادہ قصور وار ہے، ڈاکٹر عامر لیاقت

 اسلام آباد:  پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹر عامرلیاقت حسین نے کہا کہ میں کراچی میں ایک شناخت رکھتا ہوں۔

ایکسپریس نیوزکے پروگرام ’’کل تک‘‘ میں میزبان جاوید چوہدری سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ میںنے یہاں سے 2002 کا الیکشن بھی لڑا اور جیتا اور آج 10 سال بعد جب میں دوبارہ آیا تو بھی الیکشن جیت گیا۔ کراچی کی قیادت کو پتہ نہیں ہے کہ کراچی کے ووٹرزکوکس طرح موٹیویٹ کیا جاتا ہے اور اس سارے الیکشن میں عامر لیاقت حسین کو استعمال ہی نہیں کیا گیا۔ اور اس کے علاوہ ٹکٹ دیتے ہوئے مشاورت بھی نہیں کی گئی حالانکہ آپس میں مشورہ کرنے کا حکم قرآن نے بھی دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی دونوں جماعتوں نے یہاں کوئی کام نہیں کروایا اورافسوسناک بات یہ ہے کہ پانی کے قریب ہوتے ہوئے بھی اس حلقے میں پانی فراہم نہیں کیا گیا۔ تحریک انصاف نے یہاں کام کیا تھا لیکن امیدوار مناسب کھڑا نہیں کر سکی۔ الیکشن ہارنے میں کراچی کی تنظیم زیادہ قصور وار ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماکھیل داس نے کہا کہ کراچی کے  عوام جب 2013 میں بدامنی کی آگ میںجل رہے تھے تو نواز شریف نے کراچی کا امن بحال کیا ۔ 2018 میں لوگوں کو امید تھی کہ شہباز شریف آئیںگے اورپانی بھی دیں گے، سڑکیں بھی بنائیں گے اور مسائل حل کریں گے،  اڈا پانی کا وزیر توبن گیا لیکن حلقے میں پانی نہیں دے سکا۔

مفتاح اسماعیل نے کہاہے کہ میں اس پانی کی چوری کو روکوں گا اور اس کے خلاف قانونی جنگ لڑوں گا اورجیسے بھی ہوسکاپانی مہیاکروں گا۔ یہ حلقہ ہمیشہ سے (ن) لیگ کارہاہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما قادرمندوخیل نے کہاکہ جو آپ نے77پولنگ اسٹیشنزکارزلٹ بتایاہے میں اس سے اتفاق نہیں کرتا کیونکہ میرے سامنے جو46پولنگ اسٹیشنزکارزلٹ آیاہے اس کے مطابق پیپلزپارٹی پہلے نمبر پر جبکہ مسلم لیگ(ن) تیسرے نمبرآرہی ہے اورزمینی حقائق بھی یہی ہیں کہ مسلم لیگ کے جیتنے کا دور دور تک امکان نہیں ہے۔ انھوں نے ادھرکے ووٹوں کوادھرکی یونین کونسل میں ڈال دیا ہے اورجوہمارے لوگوں کے پاس ووٹوں کی لسٹیں تھیں اندرپریذائیڈنگ افسران کے پاس ادھوری لسٹیں تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رمضان کے مہینے میں روزے کی حالت میں گرمی کی کے موسم میں ووٹرزکوادھر ادھر دوڑاناپری پول رگنگ ہے، حکومت نے جوٹائیگر فورس کوروناکیلیے بنائی تھی اسے آج اس حلقے میں الیکشن کیلیے استعمال کیاگیا ہے۔

The post الیکشن ہارنے میں PTI کراچی زیادہ قصور وار ہے، ڈاکٹر عامر لیاقت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3uiEvO5

اگلے 6 ماہ میں مہنگائی، بیروزگاری میں مزید اضافہ ہونیکی توقع، سروے رپورٹ

 کراچی: 2021 کی پہلی سہ ماہی میں 52 فیصدسے زائد صارفین کا ماننا تھا کہ اگلے6 ماہ میں بے روزگاری کی شرح میں مزید اضافہ ہوگا۔ 

سال 2021 کی پہلی سہ ماہی میں صارفین کے اعتمادکا انڈیکس سہ ماہی بنیادوں پر 10.8 فیصد کمی کے ساتھ 80.8 پوائنٹس رہا۔ حکومت کی کورونا وائرس کی تیسری لہر کا مقابلہ کرنے کیلیے کاروباری سرگرمیوں پر عائد پابندی کے باعث اعتماد کی فضا  میں کمی واقع ہوئی۔

موجودہ صورتِ حال کے باعث مستقبل کے بارے میں صارفین کی توقعات میں بھی 12.0 فیصد کمی دیکھنے میں آئی جس سے اس سہ ماہی میں 8.3 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ بات ڈن اینڈ بریڈ اسٹریٹ پاکستان اور گیلپ پاکستان نے مقامی صارفین کے اعتماد کے اشاریوں پر مبنی جاری کردہ مشترکہ سروے رپورٹ میں کہی ہے۔

ڈن اینڈ بریڈ اسٹریٹ کے کنٹری منیجر نعمان لاکھانی نے کہا ہے کہ کنزیومیر کانفیڈنس انڈیکس کے پانچویں شمارے کا اجرا سال2021 کے آغاز  میں کردیا گیا ہے جس میں صارفین کے اعتماد میں سہ ماہی بنیادوں پر 10فیصد سے زائد کمی سے صارفین کے بڑھتے ہوئے خدشات کی عکاسی ہوتی ہے جبکہ موجودہ صورتِ حال کے مقابلے میں مستقبل کی توقعات میں کمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین مستقبل کے بارے میں بھی زیادہ فکر مند ہیں۔

گیلپ پاکستان کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بلال اعجاز گیلانی نے سروے رپورٹ پر کہا کہ2021 کی پہلی سہ ماہی میں صارفین نہ صرف موجودہ صورتِ حال کے بارے میں پریشان ہیں بلکہ مستقبل کے بارے میں بھی گھبراہٹ کا شکار ہیں۔کورونا کی تیسری لہر کے باعث حکومت کی جانب سے بڑے شہروں میں لاک ڈاؤن، کاروباری اوقات میں کمی، اسکولوں کی بندش کی وجہ سے بے روزگاری کے خدشات وسط 2020کی سطح پر بڑھ رہے ہیں۔

پاکستانی صارفین جن کے تاثرات ہم نے سی سی آئی رپورٹس میں جاننے کی کوشش کی ہے مستقبل کے بارے میں محتاط طور پر پرامید ہیں جس کی بنیادی وجہ گھریلو معاشی صورتِ حال میں ابتری اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے خدشات ہیں۔ توقع ہے کہ حقیقی چیلنج معیشت کو کورونا سے پہلے کے دور پر بحال کرنا نہیں بلکہ اصل چیلنج یہ ہے کہ معیشت کو تیزی رفتار ترقی کی طرف گامزن کیا جائے۔7فیصد سے 8فیصد کی سطح پر افراطِ زر پر عام آدمی قوتِ خرید رکھتا ہے۔

گیلپ پاکستان امید کرتاہے کہ نئے وزیرِ خزانہ کی جانب سے صارفین کیلیے قلیل مدّتی ریلیف لانے کیلیے مثبت پالیسیاں متعارف کرائی جائیں گی۔ موجودہ سہ ماہی کے دوران سی سی آئی کے تمام پیرامیٹرزمیں مجموعی طور پر کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

اسمارٹ لاک ڈاؤن کو دوبارہ شروع کرنے کی وجہ سے ملک کی معاشی حالات کے بارے میں صارفین کے جذبات میں سب سے زیادہ مایوسی دیکھنے میں آئی جس میں 16.0 فیصد کمی واقع ہوئی۔پہلی سہ ماہی کی دوران گھریلو مالیاتی صورتِ حال واحد پیرامیٹر تھا جو 2020 کی پہلی سہ ماہی کے بعد پہلی بار کمی کے باوجود 100پوائنٹس سے اوپر رہنے میں کامیاب رہا۔

رپورٹ کے مطابق بے روزگاری میں اضافہ صارفین کے اعتماد میں کمی کررہا ہے اور رپورٹ میں یہ سب سے زیادہ مایوس کن پیرا میٹر رہا جس میں سہ ماہی بنیادوں پر 15.7 فیصد کمی واقع ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق 2020 کی تیسری اور چوتھی سہ ماہی کے بالترتیب 39 اور 42 فیصد صارفین کے مقابلے میں 2021 کی پہلی سہ ماہی میں 52 فیصدسے زائد صارفین کا ماننا تھا کہ اگلے6 ماہ میں بے روزگاری کی شرح میں مزید اضافہ ہوگا۔ پہلی سہ ماہی کے دوران 92فیصد صارفین کا خیال تھا کہ روز مرہ کے لوازمات گذشتہ 6 ماہ کے دوران مہنگے سے مہنگے ہوتے چلے گئے۔

The post اگلے 6 ماہ میں مہنگائی، بیروزگاری میں مزید اضافہ ہونیکی توقع، سروے رپورٹ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3t2ZvH6

میر پورخاص؛ زہریلی قلفی کھانے سے 3 بچے جاں بحق

میر پور خاص: زہر خورانی سے غریب سبزی فروش کے 3 کمسن بچے جاں بحق ہوگئے۔

میرپورخاص کے علاقے ڈھولن آباد کے رہائشی ذاکر کے گھر اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب چند گھنٹوں میں ہی اس کے3  بچے موت کی آغوش میں چلے گئے۔

پولیس کے مطابق گھر کے7 افراد نے گزشتہ شب ایک ریڑھی بان سے قلفیاں خرید کر کھائی تھیں تاہم علی الصباح 5 سالہ ضمیرا، ڈیڑھ سالہ عبدالہادی اور 3 سالہ اقصیٰ کو الٹیاں اور دست لگ گئے جس کے بعد انہیں پہلے سول اسپتال میرپورخاص منتقل کیا گیا جہاں سے تشویشناک حالت میں تینوں بچوں کو سول اسپتال حیدرآباد لے جایاگیا جہاں وہ چل بسے۔

The post میر پورخاص؛ زہریلی قلفی کھانے سے 3 بچے جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/333tdks

جنوبی وزیرستان؛ مذاکرات کامیاب 3روز سے جاری احتجاج ختم

ڈیرہ اسماعیل خان: مظاہرین اور صوبائی حکومت میں مذاکرات کامیاب ہو گئے۔

آئی جی ایف سی اور کمشنر ڈیرہ کی طرف سے مطالبات تسلیم کرنے پرجنوبی وزیرستان میں تین روز سے جاری احتجاج ختم اور نعشوں کی تدفین کر دی گئی، لدھا کے علاقہ بی بی زئی راغزی میں دو نوجوانوں کلام الدین اور انعام اللہ کے قتل کیخلاف ہزاروں افراد کا دھرنا 3 دن سے جاری تھا۔

کمشنرعامر لطیف کے مطابق تحریری فیصلے کے تحت مقتولین کے لواحقین کو شہدا پیکج کے تحت دو دو سرکاری نوکریوں سمیت 20، 20 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائیگا۔

The post جنوبی وزیرستان؛ مذاکرات کامیاب 3روز سے جاری احتجاج ختم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3xCcLFR

کورونا وبا؛ مزید 131 افراد جاں بحق، 5 ہزار سے زائد مثبت کیسز رپورٹ

اسلام آباد: کوروناوبا کے باعث آج 131 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد مجموعی اموات کی تعداد 17 ہزار 811 ہوگئی۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 49 ہزار 099 کورونا ٹیسٹ کئے گئے، جس کے بعد مجموعی کووڈ 19 ٹیسٹس کی تعداد 11,788,12 ہوگئی ہے۔

کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید 5 ہزار 112 مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس طرح پاکستان میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 820,823 ہوگئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک سندھ میں 2 لاکھ82 ہزار 445 ، پنجاب میں 3 لاکھ ایک ہزار 114، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 17 ہزار 557، اسلام آباد میں 75 ہزار 067، بلوچستان میں 22 ہزار 278 ، آزاد کشمیر میں 17 ہزار 057 اور گلگت بلتستان میں 5 ہزار 305 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

کورونا کے فعال مریضوں کی تعداد

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک بھر میں کورونا کے فعال مریضوں کی تعداد91 ہزار 547 ہے۔ جب کہ 5 ہزار سے زائد مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

کورونا سے جاں بحق ہونیوالے افراد کی تعداد

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا سے مزید 131 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جس کے بعد اب اس وبا سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد مجموعی طور پر 17 ہزار 811 ہوگئی ہے۔

صحت یاب مریضوں کی تعداد

این سی او سی کے مطابق کورونا سے ایک دن میں 3 ہزار 272 مریض صحت یاب ہوئے جس کے بعد صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 711,465 ہوگئی ہے۔

کورونا وائرس اوراحتیاطی تدابیر

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیراختیارکرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازے کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکربیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پرکوئی اثرنہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اورہرایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

The post کورونا وبا؛ مزید 131 افراد جاں بحق، 5 ہزار سے زائد مثبت کیسز رپورٹ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3vyXCDp

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...