Urdu news

Sunday, 31 March 2019

پانچ سو سال پرانے تاریخی کنویں اپنی حیثیت کھونے لگے

پشاور سے پنجاب جاتے ہوئے جی ٹی روڈ پر پانچ سو سال پرانے پانی کے لیے بنائے گئے کنوئیں تاریخی حیثیت کھونے لگے، شیر شاہ سوری کے وقتوں میں بنائے گئے اب چند کنویں باقی رہ گئے ہیں جس پر توجہ دی جائے تو یہ تاریخی اثاثہ بن سکتے ہیں۔

پانچ سو سال قبل افغانستان سے قافلے پشاور سے ہوکر پنجاب کی جانب جاتے تھے تو جی ٹی روڈ پر پانی کا انتظام ان کی کنوؤں کے ذریعے کیا جاتا جہاں سے گزرنے والے مسافر نہ صرف پانی پیتے بلکہ سفر کے استعمال کرنے والے گھوڑوں کو بھی یہی پر آرام کے لیے ٹھرایا جاتا تھا۔

peshawer-ka-kunwan-5 peshawer-ka-kunwan-4

یہ تاریخی کنویں عدم توجہی کے باعث اب اپنی تاریخی حیثیت کھونے لگی ہیں اور چند کنویں نوشہرہ کے مقام پر رہ گئے ہیں۔ ان تاریخی کنووں کی حالت بھی بہتر نہیں رہی، کنویں گندگی سے بھرے ہیں اور صفائی کا مناسب بندوبست بھی نہیں، ان تاریخی کنوؤں پر توجہ دی جائے تو یہ مقامی سیاحت کے لیے بہترین مقام بن سکتے ہیں۔

peshawer-ka-kunwan-2peshawer-ka-kunwan-3

محکمہ آثار قدیمہ کے ترجمان نواز الدین کا کہنا ہے کہ ان کنوؤں کی دیکھ بھال کی جارہی ہے اور جنہیں ان کنوؤں کے بارے میں علم ہے وہ یہاں پکنک منانے کے لیے بھی آتے ہیں۔ ان مقامات کو مزید فروغ دینے اور سہولیات فراہم کرنے کے لیے حکومت کو تجاویز دی جارہی ہیں۔

The post پانچ سو سال پرانے تاریخی کنویں اپنی حیثیت کھونے لگے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2FDbdRY

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا

 اسلام آباد: حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا ہے۔ اوگرا نے پیٹرول کی قیمت میں 11 روپے 92 پیسے اضافے کی سفارش کی تھی مگر حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کے قیمت میں بھی 11 روپے 17 پیسے فی لیٹر کا اضافہ تجویز کیا گیا تھا مگر وہ بھی 6 روپے مہنگا کیا گیا ہے جب کہ مٹی کا تیل 3 روپے فی لیٹر اضافہ گیا ہے۔

The post حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2CM9ZmZ

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا

 اسلام آباد: حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا ہے۔ اوگرا نے پیٹرول کی قیمت میں 11 روپے 92 پیسے اضافے کی سفارش کی تھی مگر حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 11 روپے 17 پیسے فی لیٹر کا اضافہ تجویز کیا گیا تھا مگر وہ بھی 6 روپے مہنگا کیا گیا ہے جب کہ لائٹ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمت 3،3 روپے فی لیٹر اضافہ گیا ہے۔

The post حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2FOlITO

خیبرپختون خوا میں تاریخی مقامات کو محکمہ آثار قدیمہ نے آمدنی کا ذریعہ بنا دیا

پشاور: خیبر پختون خواہ میں قدیمی اور تاریخی مقامات کو محکمہ آثار قدیمہ نے آمدنی کا ذریعہ بنا دیا ہے۔

پشاور سمیت صوبے میں کئی ایسے تاریخی اور قدیمی مقامات ہیں جہاں سیر و تفریح کے لئے آنے والے افراد ان مقامات پر تصاویر بناکر اس لمحے کو محفوظ بنا لیتے ہیں، پشاور کا سیٹھی ہاؤس اورعجائب گھر ایسے مقامات ہیں جہاں نہ صرف غیر ملکی سیاح بلکہ مقامی لوگ بھی اس کی تاریخی حیثیت جاننے کے لیے دورے کرتے ہیں اور محکمہ سیاحت اور آثار قدیمہ کی جانب سے ماضی میں ان تاریخی مقامات کے دورے کرائے جاتے رہے ہیں۔

ان مقامات پر کئی اشتہاری کمپنیاں فوٹو شوٹ بھی کرچکی ہیں لیکن اب محکمہ کی جانب سے ان تاریخی مقامات پر عکس بندی کے لیے فیس مقرر کردی گئی ہے اشتہار بنانے یا دلہا دلہن کا فوٹو شوٹ ہو اس کے لئے اب 30 ہزار روپے جمع کرنا ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق اس اقدام سے محکمے کو کافی آمدنی ہونے لگی ہے حال ہی میں معروف اداکاراہ مائرہ خان بھی شوٹنگ کے لیے یہاں آئیں جس کے لئے سیٹھی ہاؤس اور عجائب گھر میں شوٹنگ کے لیے 30 ہزار روپے کی ادائیگی کی گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ مقامی لوگوں کے دورے کے لیے 10 روپے جب کہ غیر ملکیوں کے لیے 200 روپے فیس مقرر کی گئی ہے۔

The post خیبرپختون خوا میں تاریخی مقامات کو محکمہ آثار قدیمہ نے آمدنی کا ذریعہ بنا دیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2FHPSGV

خیبرپختون خوا میں تاریخی مقامات کو محکمہ آثار قدیمہ نے آمدنی کا ذریعہ بنا دیا

پشاور: خیبر پختون خواہ میں قدیمی اور تاریخی مقامات کو محکمہ آثار قدیمہ نے آمدنی کا ذریعہ بنا دیا ہے۔

پشاور سمیت صوبے میں کئی ایسے تاریخی اور قدیمی مقامات ہیں جہاں سیر و تفریح کے لئے آنے والے افراد ان مقامات پر تصاویر بناکر اس لمحے کو محفوظ بنا لیتے ہیں، پشاور کا سیٹھی ہاؤس اورعجائب گھر ایسے مقامات ہیں جہاں نہ صرف غیر ملکی سیاح بلکہ مقامی لوگ بھی اس کی تاریخی حیثیت جاننے کے لیے دورے کرتے ہیں اور محکمہ سیاحت اور آثار قدیمہ کی جانب سے ماضی میں ان تاریخی مقامات کے دورے کرائے جاتے رہے ہیں۔

ان مقامات پر کئی اشتہاری کمپنیاں فوٹو شوٹ بھی کرچکی ہیں لیکن اب محکمہ کی جانب سے ان تاریخی مقامات پر عکس بندی کے لیے فیس مقرر کردی گئی ہے اشتہار بنانے یا دلہا دلہن کا فوٹو شوٹ ہو اس کے لئے اب 30 ہزار روپے جمع کرنا ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق اس اقدام سے محکمے کو کافی آمدنی ہونے لگی ہے حال ہی میں معروف اداکاراہ مائرہ خان بھی شوٹنگ کے لیے یہاں آئیں جس کے لئے سیٹھی ہاؤس اور عجائب گھر میں شوٹنگ کے لیے 30 ہزار روپے کی ادائیگی کی گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ مقامی لوگوں کے دورے کے لیے 10 روپے جب کہ غیر ملکیوں کے لیے 200 روپے فیس مقرر کی گئی ہے۔

The post خیبرپختون خوا میں تاریخی مقامات کو محکمہ آثار قدیمہ نے آمدنی کا ذریعہ بنا دیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2FHPSGV

برطانوی شاہی خاندان میں ’’لیڈی ڈیانا‘‘ کی آمد متوقع

برطانوی شاہی خاندان میں شہزادہ پرنس ہیری اور شہزادی میگھن مارکل کے ہاں جونیئر لیڈی ڈیانا کی آمد متوقع کی جارہی ہے۔

برطانوی شاہی خاندان کی آنجہانی شہزادی لیڈی ڈیانا کو مداحوں سے بچھڑے 22 سال گزر چکے ہیں تاہم آج بھی اُن کا کوئی ثانی نہیں اور نہ آج تک کوئی بھی وہ مقام اور شہرت حاصل کر سکا جو لیڈی ڈیانا کو حاصل تھی جب کہ شاہی خاندان میں ایک بار پھر لیڈی ڈیانا کی آمد متوقع ہے۔

برطانوی شاہی جوڑے پرنس ہیری اور میگھن مارکل کے کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ ان کے گھر لڑکی کی صورت میں ننھے مہمان کی آمد متوقع  ہے جس کا نام آنجہانی شہزادی لیڈی ڈیانا کے نام پر رکھا جائے گا جب کہ برطانوی خاندان کی جانب سے نئے مہمان کی جنس کو اب تک راز میں رکھا گیا ہےاور اس حوالے سے کسی قسم کی  تصدیق اور تردید نہیں کی گئی ہے۔

طبی ماہرین کا بھی یہی دعویٰ ہے کہ پرنس ہیری کے ہاں پہلی اولاد لڑکی ہوگی جب کہ سٹے بازوں نے بھی اس بات پر سٹہ لگانا شروع کردیا ہے کہ نیا آنے والا مہمان لڑکی ہے جس کا نام ڈیانا رکھا جائے گا۔

واضح رہے کہ برطانوی شہزادی لیڈی ڈیانا  شہزادہ چارلس کی پہلی اہلیہ تھیں جوکہ 1997 میں ایک کار حادثے میں انتقال کر گئی تھیں۔

The post برطانوی شاہی خاندان میں ’’لیڈی ڈیانا‘‘ کی آمد متوقع appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2FJcze3

دبئی میں قرآن پارک کا افتتاح کردیا گیا

دبئی میں دنیا کے پہلے قرآن پارک کا افتتاح کر دیا گیا ہے جب کہ پارک میں عوام کے لیے داخلہ مفت ہوگا۔

پارک ساٹھ ایکڑ رقبے پر قائم کیا گیا ہے جس میں قرآن پاک میں ذکر کردہ تمام پودے اور درخت لگائے گئے ہیں، پارک میں فوارے،جھیلیں، سائیکلنگ اور رننگ ٹریک جبکہ بچوں کیلئے کھیلوں کی جگہ بھی بنائی گئی ہے۔

انتظامیہ کے مطابق پارک بنانے کا مقصد عوام کو قرآن پاک کی تعلیمات سے روشناس کرانے کے ساتھ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

The post دبئی میں قرآن پارک کا افتتاح کردیا گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2FNZOjI

یوکرائن کی مصورہ نے احتجاجاً صدر کی تصویر ٹافیوں کے ریپرز سے بناڈالی

کیف: بچوں کی پسندیدہ ٹافی کے ریپرز اور گولیوں کے خول سے بنائے گئے یوکرائن کے صدر پوروشینکو کے پورٹریٹ کو ’بد عنوانی کا چہرہ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرائن میں صدارتی انتخابات کا آج پہلا مرحلے میں ووٹنگ جاری ہے، دوسرا مرحلہ آئندہ ماہ ہوگا۔  جہاں کچھ شہری اپنے صدر سے محبت کا اظہار کر رہے ہیں وہیں اختلاف رکھنے والے بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ یوکرائن کی دو فنکاراؤں نے ٹافیوں کے ریپرز اور گولیوں کے خول استعمال کرکے کرپشن الزامات میں الجھے صدر پیٹرو پوروشینکو کا پورٹریٹ بنایا ہے۔

اس تصویر کو بنانے میں 20 کلو ریپرز استعمال ہوئے ہیں اور یہ ریپرز ان ٹافیوں سے لیے گئے ہیں جس کے مالک پوروشینکو خود ہیں۔ فنکاروں نے ٹافی کے ریپرز کو حکومتی کارکردگی سے تشبہیہ دیا کہ بلند و بانگ دعوؤں کے نیتجے کے طور پر بہلاوے کو ٹافی تک بھی نہ ملی بلکہ عوام کو صرف ریپرز سے ہی ٹرخا دیا گیا۔

مصورہ داریا مارچینکو کا کہنا تھا کہ اس تصویر کا عنوان ’بدعنوانی کا چہرہ‘ ہے جس کے معنی یہ ہے کہ یوکرائنی عوام جو کسی بچے کی طرح ملک میں جمہوریت کے خواہش مند تھے، انہیں ٹافیوں کے ریپرز سے بہلا دیا گیا۔

واضح رہے کہ پانچ سال قبل طویل سیاسی بحران کے بعد روس نواز صدر وکٹوریہ یانوکوچ کو ہٹا کر صدر پوروشینکو نے عہدہ سنبھالا تھا تاہم وہ عوام سے کیے گئے مطالبات پورے نہ کر سکے تھے جس کے باعث انہیں جاری صدارتی الیکشن میں سخت مخالفت کا سامنا ہے۔

The post یوکرائن کی مصورہ نے احتجاجاً صدر کی تصویر ٹافیوں کے ریپرز سے بناڈالی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2FEAxXH

سلوواکیہ میں پہلی بار ایک خاتون صدر منتخب

براٹیسلاوا: سلوواکیہ میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں پہلی بار ایک خاتون نے میدان مار لیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سلوواکیہ کے عوام نے آئندہ پانچ سال کے لیے ایک لبرل قانون دان خاتون زوزانا کپوٹووا کو صدر منتخب کرلیا ہے، وہ سلوواکیہ پہلی خاتون صدر ہیں۔

سلوواکیہ کی غیر پارلیمانی جماعت پروگرسیو پارٹی سے تعلق رکھنے والی 45 سالہ زوزوانا نے حکمراں جماعت کے حمایت یافتہ مروس سیف کووک کو شکست دی۔ خاتون صدر کو 58.3 فیصد ووٹ پڑے جب کہ ان کے مدمقابل مروس سیف کووک کو 41.7 فیصد ووٹ ملے۔

سلوواکیہ کی نو منتخب صدر یورپی یونین مخالفت نظریات رکھتی ہیں جو کہ تیزی سے سلوواکیہ میں مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ نو منتخب صدر کی کامیابی میں یورپی یونین مخالف نظریات کے علاوہ حکمراں جماعت کی کرپشن کے خلاف عوام کا شدید غصہ بھی ہے۔

حکمراں جماعت کے خلاف عوامی غصے کو ہوا اس وقت ملی جب ایک سال قبل ہائی پروفائل کرپشن کیس کو آشکار کرنے والے صحافی کو ان کی منگیتر کے ہمراہ گھر میں قتل کردیا گیا تھا۔

 

The post سلوواکیہ میں پہلی بار ایک خاتون صدر منتخب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2WBx0R2

مارک زکر برگ نے نفرت و تشدد آمیز مواد کے خاتمے کیلیے اقوام عالم سے مدد طلب کرلی

 واشنگٹن: سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک نے انٹرنیٹ کے حوالے سے نئے سماجی رابطے کی ویب سائٹس کے لیے حالات کے موافق نئے قواعد و ضوابط کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں اپنے کالم میں فیس بک کے مالک مارک زکر برگ نے اقوام عالم سے انٹرنیٹ کے لیے نئے قواعد و ضوابط مرتب کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس میں انتخابی عمل میں مداخلت، ڈیٹا کے تحفظ، ڈیٹا کی پرائیویسی اور نفرت آمیز مواد کے خاتمے کے لیے موثر اور جامع حکمت عملی وضع کی گئی ہو۔

مارک زکر برگ نے مزید لکھا کہ تیزی سے تبدیل ہوتی عالمی صورت حال حکومتوں اور انٹرنیٹ کے نگران اداروں کے فعال کردار کا تقاضا کرتی ہے اور ان دونوں کو مل کر کام کرنا ہوگا کیوں کہ محض سماجی رابطے کی ویب سائٹس تن تنہا یہ قواعد و ضوابط مرتب نہیں کرسکتیں جسے اب ازسر نو شروع کیا جانا چاہیے۔

فیس بک کے مالک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے لکھا کہ فیس بک جیسی سماجی ویب سائٹ کی کمپنیوں پر ذمہ داری بہت بڑھ گئی ہے اور ان کمپنیوں کو روز مرہ کے ابھرتے مسائل کی وجہ سے شدید دباؤ کا سامنا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر نفرت آمیز مواد، سیاسی اشتہارات، مذہبی منافرت، نسل پرستی کا زعم سے بھرے مواد کو ہٹانا ہوتا ہے۔

فیس بک کے مالک نے مزید کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر کیے جانے والے اقدامات کے ساتھ ساتھ سماجی رابطے کی ویب سائٹ کو انتہائی زور آور سائبر حملوں سے بچاؤ کی تدابیر بھی کرنا ہوتی ہیں۔ صارفین کے ڈیٹا، معلومات اور نجی تفصیلات کا تحفظ بھی ایک کڑا امتحان ہے جس پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم سماجی رابطے کی ویب سائٹ کو حکومتوں اور انٹر نیٹ کے نگراں اداروں کی مدد بھی درکار ہے۔

The post مارک زکر برگ نے نفرت و تشدد آمیز مواد کے خاتمے کیلیے اقوام عالم سے مدد طلب کرلی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2FMqi56

لاہور سے ملتان موٹروے ایم تھری سیکشن کا افتتاح کردیا گیا

 لاہور: گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے لاہور سے ملتان موٹروے ایم تھری سیکشن کا افتتاح کردیا۔

ملتان اورلاہورکےدرمیان سفرکرنےوالوں کی آسانیوں میں اضافہ ہوگیا، کم وقت میں آرام دہ سفرکے لیے موٹر وے ایم تھری سیکشن کا افتتاح کردیا گیا، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے منصوبے کا افتتاح کیا۔

منصوبہ تین سال دو ماہ کی مدت میں مکمل ہوا، ایم تھری کی حدود کا سگیاں پل لاہور سے  آغاز ہوگااور سفر کرنے والے شرقپور، جڑانوالہ ، پیر محل سے ہوتے ہوئے عبدالحکیم انٹرچینج کے راستے ملتان پہنچیں گے جب کہ ایم تھری میں مویشیوں کےلیے دو سو ایک گزرگاہیں بھی ہیں۔

The post لاہور سے ملتان موٹروے ایم تھری سیکشن کا افتتاح کردیا گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2TMjjfY

لاہور سے ملتان موٹروے ایم تھری سیکشن کا افتتاح کردیا گیا

 لاہور: گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے لاہور سے ملتان موٹروے ایم تھری سیکشن کا افتتاح کردیا۔

ملتان اورلاہورکےدرمیان سفرکرنےوالوں کی آسانیوں میں اضافہ ہوگیا، کم وقت میں آرام دہ سفرکے لیے موٹر وے ایم تھری سیکشن کا افتتاح کردیا گیا، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے منصوبے کا افتتاح کیا۔

منصوبہ تین سال دو ماہ کی مدت میں مکمل ہوا، ایم تھری کی حدود کا سگیاں پل لاہور سے  آغاز ہوگااور سفر کرنے والے شرقپور، جڑانوالہ ، پیر محل سے ہوتے ہوئے عبدالحکیم انٹرچینج کے راستے ملتان پہنچیں گے جب کہ ایم تھری میں مویشیوں کےلیے دو سو ایک گزرگاہیں بھی ہیں۔

The post لاہور سے ملتان موٹروے ایم تھری سیکشن کا افتتاح کردیا گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2TMjjfY

بلاول، بیانیہ اور بھٹو

ذوالفقارعلی بھٹو کو نوجوان نسل شاید اتنا ہی جانتی ہے جتنا ہمیں بلاول زرداری کی زبانی سننے کو ملتا ہے۔ بھٹو کیسے سیاستدان تھے؟ کیسے لیڈر تھے؟ یہ سمجھنے کے لیے ہمیں ان کی زندگی کا مطالعہ کرنا ہوگا۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جس طریقے سے آصف علی زرداری نے پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنی تحویل میں لیا اور اپنی جاگیردارانہ سوچ کو پارٹی میں سرایت کیا، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ آصف زرداری نے بلاول کو بینظیر کا جانشین اور پیپلز پارٹی کا وارث ثابت کرنے کےلیے ان کا نام بھی بھٹو رکھ دیا۔ 2013 کے عام انتخابات کے بعد جب بلاول نے عملی سیاست میں قدم رکھا تو سیاسی حلقوں میں ان کا خیرمقدم نوجوان قیادت کے طور پر ہوا اور ملکی سیاست میں ان کا روشن مستقبل بھی نظر آنے لگا۔ اس بات میں کچھ شک بھی نہیں کہ بلاول کا شمار ہمارے روایتی سیاست کے وڈیروں اور جاگیرداروں میں نہیں تھا، مگر بالآخر وہ آصف زرداری کے فرزند بھی تو ہیں اور ایک نہ ایک دن ان کا زرداری ہونا ان کے بھٹو ہونے پر بھاری پڑنا ہی تھا۔

2018 کے الیکشن سے قبل جب سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کے دور میں جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں شروع ہونے والی تفتیش پر ازخود نوٹس لیا تو یہ معاملہ اومنی گروپ، سندھ بینک، سمٹ بینک اور سندھ کی مختلف شوگر ملز سے منسلک ہوتا چلا گیا۔ گویا یہ ابتدا تھی، جب ریاستی اداروں کے لیے بلاول کا بیانیہ بھٹو سے زرداری کی طرف لے جانے کا بیج بو دیا گیا۔ الیکشن سے قبل تک بلاول زرداری کرپشن کے سخت مخالف اور احتساب کے بھرپور حامی نظر آتے رہے، کیونکہ وہ احتساب صرف نواز شریف کے خاندان کا ہورہا تھا۔ ’ضیاء الحق کے اوپننگ بیٹسمین کا دل سینیٹ الیکشن میں ٹوٹ گیا‘، ’میاں صاحب سے بڑا چابی والا کھلونا اور کون ہے‘، ’میاں صاحب آپ فسادی ہوسکتے ہیں، سازشی ہوسکتے ہیں، مگر انقلابی نہیں ہوسکتے‘۔ یہ سب وہ تقاریر ہیں جو بلاول اس وقت کیا کرتے تھے جب میاں صاحب اپنی کرپشن پکڑے جانے کے بعد ریاستی اداروں کے خلاف ہر محاذ پر الزامات لگایا کرتے تھے۔

جعلی بینک اکاؤنٹس کیس جیسے جیسے آگے بڑھتا گیا، بلاول زرداری کا بیانیہ بھی بدلتا گیا اور آصف زرداری نے بڑی چالاکی سے بلاول کو ریاستی اداروں کے خلاف زہر اگلنے پر مائل کردیا۔

پارٹی اجلاس ہوں، میڈیا ٹاک ہو یا عوامی اجتماع ہو، بلاول کا لہجہ، الفاظ اور بیانیہ بتدریج ریاست مخالف ہوتا جارہا ہے۔ اگر ایک عام پاکستانی بھی گزشتہ دس سال حکمران رہنے والے دو بڑے خاندانوں کا موازنہ کرے تو دونوں میں ایک قدر مشترک پائی جاتی ہے کہ دونوں خاندان جتنا ایک دوسرے کی کرپشن کے خلاف ہیں، اتنا ہی ایک دوسرے کے احتساب کے خلاف بھی ہیں۔ اگر ہم ماضی قریب میں شریف خاندان کے احتساب کی طرف دیکھیں تو ان کا بیانیہ بھی ریاستی اداروں کی مخالفت سے ہوتا ہوا ریاست مخالف بن گیا اور یہی تسلسل اب بلاول نے اپنا لیا ہے۔ جب تک بات نوٹسز اور تحقیقات کی حد تک تھی تو بلاول زرداری اور آصف زرداری کی مخالفت صرف حکومت، نیب، ایف آئی اے اور عدلیہ سے تھی۔ مگر جب شکنجہ سخت ہونے لگا، نیب میں طلبی کی باری آئی، تو ان کا بیانیہ بھی ریاست مخالف ہو گیا۔ بلاول زرداری کے حالیہ بیانات واضح پیغام ہیں کہ جو بیانیہ پاکستان دشمن ہمارے بارے میں رکھتے ہیں، وہی بیانیہ بلاول زرداری رکھتے ہیں۔

بلاول زرداری بلاشبہ پڑھے لکھے طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان سے ایسے غیرسنجیدہ بیانیے کی توقع نہیں تھی، مگر زرداری کی دولت نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کردیا۔ آکسفورڈ سے پڑھے ہوئے بلاول کو اپنے والدمحترم سے پوچھنا ضرور چاہیے کہ ہمارے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی؟ جس معاشرے سے وہ پڑھ کر آئے ہیں، وہاں کی اقدار اور تہذیب صحیح کو صحیح اور غلط کوغلط کہنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ زرداری کی جائیدادوں کو گننا شروع کریں تو سانس پھول جاتی ہے۔ بلاول کو آخر سوال تو کرنا چاہیے کہ ان کی ماں پر، ان کے خاندان پر سوالات اٹھتے ہیں۔ نوازشریف کے محترمہ بینیظربھٹو کے بارے میں خیالات کیا بلاول کو یاد نہیں آتے ہوں گے؟ شہباز شریف کے آصف زرداری کے لیے دیے گئے بیانات، مریم نواز کے ’زرداری عمران بھائی بھائی‘ کے القابات۔ یہ سب کچھ بھول کر بلاول جیل میں میاں صاحب کو ملنے چلے گئے۔ شہباز شریف، آصف زرداری کا استقبال کرنے خود چل کر بھی آگئے اورمریم نواز نے بلاول کی مدبرانہ سوچ کا اعتراف بھی کرلیا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ دونوں خاندانوں کا بیانیہ تبدیل تب ہی کیوں ہوا جب ان سے ان کی دولت کا حساب مانگا گیا؟

جہانگیر ترین اور علیم خان اگر کرپشن کرتے رہے تو گزشتہ دس سال تک حکومت میں رہنے والوں نے ان کو کرپشن کرنے کا لائسنس کیوں دیے رکھا؟ اگر شوکت خانم کا پیسہ چوری ہوتا رہا تو پنجاب حکومت کہاں تھی؟ گویا اگر ان سے حساب نہ مانگا جائے تو اس ملک کے ادارے بھی ٹھیک، ان کی سمت بھی ٹھیک اور ان کا بیانیہ بھی درست۔

وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت کتنی ہی غیرسنجیدہ، ناتجربہ کار اور ناکام کیوں نہ ہو، وہ عوام کو شعور دلانے میں کامیاب ضرور ہوئی ہے۔ جس عوام کو کبھی بھی اپنے حق اور اپنے مستقبل کی فکر نہ تھی، وہ عوام آج حکومت کے ہر چھوٹے بڑے فیصلے سے فکرمند نظر آتے ہیں۔ یہاں تک کہ آج ہمیں اس بات سے بھی واسطہ ہے کہ کسی فنکار کو کس بنیاد پر تمغہ امتیاز سے نوازا گیا ہے۔ حالات چاہے کیسی بھی کروٹ لیں، قوم کو ایک بات کا تہیہ کرلینا چاہیے کہ قومی خزانے کو لوٹنے والوں کا کڑا احتساب کرنے میں ریاست کے ہر ستون کے ساتھ قوم کو ہی کھڑا ہونا ہوگا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

The post بلاول، بیانیہ اور بھٹو appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2uKHaTz

چین میں دھاتوں کی فیکٹری میں دھماکا، 7 ملازمین ہلاک

شنگھائی: چین میں ایک فیکٹری میں زوردار دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں 7 ملازمین ہلاک اور 5 زخمی ہوگئے ہیں۔

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق شنگھائی کے نزدیک دھاتیں تیار کرنے والی فیکٹری میں ہونے والے زور دار دھماکے میں 7 ملازمین ہلاک اور 5 زخمی ہو گئے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں 2 زخمیوں کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

دھماکا اس وقت ہوا جب  کمپنی میں لوہے کو پگھلانے کے لیے بھٹی میں ڈالا جا رہا تھا، دھماکا اتنا زوردار تھا کہ شعلے آسمان کو چھونے لگے، فیکٹری کے اطراف کے علاقے کو آمد و رفت کے لیے بند کردیا گیا جب کہ فیکٹری سے آتش گیر مادہ ہٹا دیا گیا۔

واضح رہے کہ چین کی فیکٹریوں میں احتیاطی تدابیر اور سیفٹی کے ضوابط ناقص تصور کیے جاتے ہیں۔ رواں ماہ ہونے والا یہ تیسرا دھماکا ہے اس سے قبل شنڈونگ صوبے کی فیکٹری میں ہونے والے دھماکے میں 5 افراد اور صوبے جیانگسو کی کیمیکل فیکٹری میں ہونے والے دھماکے میں 78 افراد ہلاک اور 650 زخمی ہو گئے تھے۔

The post چین میں دھاتوں کی فیکٹری میں دھماکا، 7 ملازمین ہلاک appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2TJZgPA

کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں اور نہ فوجی طاقت اس کا حل ہے، بھارتی صحافی

دوحا: بھارتی صحافی اور مصنفہ ارون دھتی رائے نے کہا ہے کہ مودی سرکار کی نفرت آمیز پالیسیوں کے باعث بھارت میں انتہا پسندی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے اور انہی متنازع پالیسیوں کے باعث کشمیر میں بھی حالات خراب ہوئے۔

بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے معروف بھارتی دانشور، مصنفہ اور صحافی ارون دھتی رائے نے کہا کہ فوجی طاقت کا استعمال مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہے اور نہ ہی کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ اس مسئلے کو وہاں کی عوام پر چھوڑ دیا جائے۔

مودی سرکار کی منافقت کا پردہ چاک کرتے ہوئے بھارتی مصنفہ کا کہنا تھا کہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں وزیراعظم مودی کا رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ تھا۔ مودی کی پالیسیوں کے باعث بھارت انتہا پسندی کا شکار ہو گیا اور بھارتی میڈیا سے لیکر عوام تک جنگی جنون میں مبتلا ہوگئے۔

ایک سوال کے جواب میں  خاتون صحافی کا کہنا تھا کہ بھارت میں کسان، عدالتی نظام، تاجر اور طلباء سب پریشان ہیں کوئی بھی حکمراں جماعت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔ تاہم بھارتی انتخابات ذات پات کی پیچیدگیوں میں جکڑے ہوئے ہیں اس لیے نتائج کچھ بھی ہوسکتے ہیں۔

The post کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں اور نہ فوجی طاقت اس کا حل ہے، بھارتی صحافی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2JSTM56

مقبوضہ کشمیر میں مسافر بس کے گہری کھائی میں گرنے سے 6 افراد جاں بحق

 سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں مسافر بس خطرناک موڑ کاٹتے ہوئے گہری کھائی میں جا گری جس کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ ایک مسافر شدید زخمی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوری میں مسافر بس ایک خطرناک موڑ کاٹتے ہوئے ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوگئی اور گہری کھائی میں گر مکمل طور تباہ ہوگئی۔

مسافر بس حادثے میں تین افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے جب کہ دو شدید زخمیوں نے اسپتال جاتے ہوئے اور ایک دوران علاج خالق حقیقی سے جا ملا۔ ایک شدید زخمی کو جموں کے اسپیشلائزڈ اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جس کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

مسافر بس حادثے کے بعد مقامی افراد نے پولیس اور ریسکیو اداروں کی مدد سے بس میں پھنسے افراد کو نکال کر قریبی اسپتال منتقل کیا۔ ہلاک و زخمی ہونے والوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس شاہراہ پر حادثے عام ہیں جس کی بنیادی وجہ ناہموار سڑکیں اور خطرناک موڑ ہیں جب کہ حفاظتی اقدام بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ڈرائیورز کی غفلت بھی ان حادثات کی بڑی وجہ ہے۔

 

The post مقبوضہ کشمیر میں مسافر بس کے گہری کھائی میں گرنے سے 6 افراد جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2V7KCDb

’’پراجیکٹ غازی‘‘ شائقین کو متاثر کرنے میں ناکام

کراچی: دوروز قبل ریلیز کی گئی پاکستانی فلمی صنعت کی جدید ٹیکنالوجی سے مزین سپر ہیرو فلم ’’ پراجیکٹ غازی‘‘  شائقین کو متاثرکرنے میں ناکام رہی ہے۔

انٹرٹینمنٹ پی کے ڈاٹ کام اور گیلیکسی لالی ووڈ کے مطابق ریلیز کے پہلے روز ’’پراجیکٹ غازی‘‘ صرف 30 لاکھ کا بزنس کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ فلم کی کہانی محب وطن، دلیر اور ایسے جانثار فوجیوں کی زندگیوں کا احاطہ کرتی ہے جو اپنے ملک و قوم کے تحفظ کی خاطر نادیدہ قوتوں سے ٹکرانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: میکال ذوالفقار کی ’شیردل‘ نے ’لال کبوتر‘ کو پیچھے چھوڑ دیا

فلم’’پراجیکٹ غازی‘‘ کو دو سال قبل جولائی 2017 میں ریلیز ہونا تھا فلم کا پریمیئر بھی ہوچکا تھا تاہم کچھ تکنیکی وجوہات کی بنا پر فلم کو ریلیز نہیں کیاجاسکا۔ دو سال کے طویل عرصے کی تاخیر کے بعد فلمی شائقین کو ’’پراجیکٹ غازی‘‘ سے بے حد امیدیں تھیں، تاہم پاکستانی سپر اسٹار ہمایوں سعید، شہریار منور اورسائرہ شہروز جیسی بڑی کاسٹ بھی فلمی شائقین کو زیادہ تعداد میں سینما گھروں تک لانے میں کامیاب نہ ہوسکی۔

واضح رہے کہ ’’پراجیکٹ غازی‘‘ سے ایک ہفتے قبل 23 مارچ کے موقع پر ریلیز ہوئی فلم ’’شیردل‘‘ ریلیز کے پہلے روز ایک کروڑ 15 لاکھ کا بزنس کرنے میں کامیاب ہوئی تھی جب کہ فلمی ناقدین کی جانب سے ’’پراجیکٹ غازی‘‘ کو ’’شیردل‘‘ کے لیے کڑا مقابلہ قرار دیا جارہا تھا تاہم ہمایوں سعید کی ’’پراجیکٹ غازی‘‘ توقع کے مطابق بزنس کرنے میں ناکام ہوگئی۔ تاہم امید کی جارہی ہے کہ فلم ویک اینڈ پر اچھا بزنس کرے گی۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: ’’جوانی پھر نہیں آنی 2‘‘ نے پاکستانی شائقین کے دل جیت لئے

دوسری جانب ’’پراجیکٹ غازی‘‘ ہمایوں سعید کی گزشتہ چند برسوں میں اتنا کم بزنس کرنے والی پہلی فلم ہے اس سے قبل گزشتہ برس ریلیز ہوئی ہمایوں سعید کی فلم’’جوانی پھر نہیں 2‘‘ ریلیز کے پہلے روز 3 کروڑ 22 لاکھ کا کھڑکی توڑ بزنس کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔

The post ’’پراجیکٹ غازی‘‘ شائقین کو متاثر کرنے میں ناکام appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2JTxYGR

کیا ارمیلا ماٹونڈکر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئیں؟

ممبئی: نامور بھارتی اداکارہ ارمیلا ماٹونڈکر کے بھارتی سیاسی جماعت کانگریس میں شامل ہونے کے 24 گھنٹے بعد ہی سوشل میڈیا پر ان کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی خبریں گردش کرنے لگیں۔

فلم’’رنگیلا ‘‘سے شہرت حاصل کرنے والی نامور بالی ووڈ اداکارہ ارمیلا ماٹونڈکر دوروز قبل ہی بھارتی سیاسی جماعت کانگریس میں شامل ہوئی ہیں اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وہ کانگریس کی طرف سے لوک سبھا کے الیکن میں حصہ لے سکتی ہیں۔ تاہم ان کی کانگریس میں شمولیت کے 24 گھنٹوں بعد ہی بھارتی سوشل میڈیا پر یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ ارمیلا دائرہ اسلام میں داخل ہوگئی ہیں اور انہوں نے اپنا نام بھی ارمیلا ماٹونڈکر سے تبدیل کرکے مریم اختر میر رکھ لیا ہے۔

بھارتی ویب سائٹ بوم لائیو ڈاٹ ان کے مطابق ارمیلا کی کانگریس میں شمولیت کچھ لوگوں کوہضم نہیں ہورہی اور انہوں نے اداکارہ کے خلاف پیروپیگنڈہ کرتے ہوئے ان کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی جھوٹی افواہیں پھیلاناشروع کردی ہیں۔ ارمیلا ماٹونڈ کرنے 2016 میں کشمیری بزنس مین اور ماڈل محسن اختر میر سے شادی کی تھی۔ جب اس حوالے سے ان کے شوہر سے پوچھاگیا تو انہوں نے ارمیلا کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا  کہ الیکشن سے قبل اس طرح کے گیم کھیلنا بہت عام بات ہوگئی ہے لیکن ہم اس  چیز سے پریشان نہیں ہیں، میری بیوی نے اسلام قبول نہیں کیاہ ے اور نہ ہی انہوں نے اپنا نام تبدیل کیا ہے۔

ارمیلا کے خلاف فیس بک پر کی جانے والی پوسٹ کے مطابق ارمیلا ماٹونڈکر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئی ہیں اور انہوں نے کشمیری بزنس مین محسن اختر میر سے شادی کی ہے جس کے بعد ان کا نام میریم اختر میر ہوگیا ہے لیکن الیکشن میں حصہ لینے کے باعث اور ہندوؤں کو بیوقوف بنانے کے لیے انہیں ارمیلا ماٹونڈ کر ہی لکھا جائے گا۔

دوسری جانب کانگریس کے ترجمان سچن ساونت نے ان افواہوں کا ذمہ دار بی جے پی کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پروپیگنڈے سے ظاہر ہورہا ہے کہ بی جے پی ارمیلا کو اپنا سخت حریف سمجھ رہی ہے۔

The post کیا ارمیلا ماٹونڈکر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئیں؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Um15Xa

چین صحراؤں کو آباد کرنا چاہتا ہے انہیں چولستان میں بڑی اراضی دیں گے، نعیم الحق

 لاہور:  وزیراعظم کے سیاسی معاون خصوصی نعیم الحق کا کہنا ہے کہ چین صحراؤں کو آباد کرنا چاہتا ہے لہذا انہیں چولستان میں بڑی اراضی دیں گے۔

لاہور میں شجرکاری مہم کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے سیاسی معاون خصوصی نعیم الحق کا کہنا تھا کہ شجرکاری آنے والی نسلوں کے لیے تحفہ ہوگا جو ہم چھوڑ کر جائیں گے، آئندہ سالوں میں اربوں کی تعداد میں درخت لگائیں گے، ڈرون منگوا رہے ہیں جو ایک گھنٹے میں ایک لاکھ بیج پھینکیں گے، چین صحراؤں کو آباد کرنا چاہتا ہے لہذا انہیں چولستان میں بڑی اراضی دیں گے۔

نعیم الحق نے کہا کہ عمران خان روزانہ شجر کاری کا ذکر کرتے ہیں، پرائیویٹ شعبے کو بھی اس کام میں آگے آنا ہے، سو ایکٹر پر اگر چھانگا مانگا جیسا جنگل لگائیں تو لاہور کے لیے بہترین ہوگا، ہر شہر کے اردگرد گرین بیلٹ ہونی چاہیے، اسلام آباد کے گرد گرین بیلٹ کو ہاوسنگ سوسائٹی بنادی گئی ہے۔

نعیم الحق نے کہا کہ تنخواہوں میں اضافے کا بل مکمل واپس لے لیا گیا ہے جب کہ عمران خان نہیں چاہتے کہ کہیں ان کے نام کی تختی لگائی جائے، آصف زرداری اور نواز شریف کے کیسز پر قانون کے پابند ہیں، شروع سے موقف ہے کہ جن لوگوں نے ملک لوٹا ان سے رقم واپس لی جائے۔

The post چین صحراؤں کو آباد کرنا چاہتا ہے انہیں چولستان میں بڑی اراضی دیں گے، نعیم الحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2U4Oh8h

چین صحراؤں کو آباد کرنا چاہتا ہے انہیں چولستان میں بڑی اراضی دیں گے، نعیم الحق

 لاہور:  وزیراعظم کے سیاسی معاون خصوصی نعیم الحق کا کہنا ہے کہ چین صحراؤں کو آباد کرنا چاہتا ہے لہذا انہیں چولستان میں بڑی اراضی دیں گے۔

لاہور میں شجرکاری مہم کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے سیاسی معاون خصوصی نعیم الحق کا کہنا تھا کہ شجرکاری آنے والی نسلوں کے لیے تحفہ ہوگا جو ہم چھوڑ کر جائیں گے، آئندہ سالوں میں اربوں کی تعداد میں درخت لگائیں گے، ڈرون منگوا رہے ہیں جو ایک گھنٹے میں ایک لاکھ بیج پھینکیں گے، چین صحراؤں کو آباد کرنا چاہتا ہے لہذا انہیں چولستان میں بڑی اراضی دیں گے۔

نعیم الحق نے کہا کہ عمران خان روزانہ شجر کاری کا ذکر کرتے ہیں، پرائیویٹ شعبے کو بھی اس کام میں آگے آنا ہے، سو ایکٹر پر اگر چھانگا مانگا جیسا جنگل لگائیں تو لاہور کے لیے بہترین ہوگا، ہر شہر کے اردگرد گرین بیلٹ ہونی چاہیے، اسلام آباد کے گرد گرین بیلٹ کو ہاوسنگ سوسائٹی بنادی گئی ہے۔

نعیم الحق نے کہا کہ تنخواہوں میں اضافے کا بل مکمل واپس لے لیا گیا ہے جب کہ عمران خان نہیں چاہتے کہ کہیں ان کے نام کی تختی لگائی جائے، آصف زرداری اور نواز شریف کے کیسز پر قانون کے پابند ہیں، شروع سے موقف ہے کہ جن لوگوں نے ملک لوٹا ان سے رقم واپس لی جائے۔

The post چین صحراؤں کو آباد کرنا چاہتا ہے انہیں چولستان میں بڑی اراضی دیں گے، نعیم الحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2U4Oh8h

مقبوضہ کشمیر میں 24 گھنٹے کے دوران بھارت کے 2 سیکیورٹی اہلکاروں کی خود کشی

 سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورس کے ایک اور اہلکار نے خود کو گولی مار کر خود کشی کرلی اس طرح چوبیس گھنٹوں میں خود کشی کرنے والے اہلکاروں کی تعداد 2 ہوگئی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے سولینا میں انڈیا تبت بارڈر پولیس کے سیری کلچر آفس کیمپ میں اہلکار رام فل مینا نے سرکاری رائفل سے دوران ڈیوٹی خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا۔

بھارتی سیکیورٹی فورس کے اہلکار کو آرمی اسپتال لے جایا گیا جہاں اس کی موت کی تصدیق کردی گئی ہے۔ گزشتہ صبح ضلع بارہ مولا میں بھی انڈیا تبت بارڈر فورس کے ایک اور اہلکار سب انسپکٹر چندر مانی نے بھی اسی طرح خود کشی کرلی تھی۔

گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں بھارتی سیکیورٹی فورس کے دو اہلکاروں کی خود کشی کے بعد جنوری 2007 سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں خود کشی کرنے والے بھارتی اہلکاروں کی تعداد 425 ہوگئی ہے۔ ان واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورس کے اہلکار ذہنی دباؤ اور خوف کا شکار ہیں۔

واضح رہے کہ بھارتی وزارت دفاع نے 2014 میں ایک سروے بھی جاری کیا تھا جس میں ہر تیسرے دن ایک بھارتی فوجی کے خود کشی کرنے کا انکشاف کیا گیا تھا۔

The post مقبوضہ کشمیر میں 24 گھنٹے کے دوران بھارت کے 2 سیکیورٹی اہلکاروں کی خود کشی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2I2A4kW

بھارتی فضائیہ کا ایک اور طیارہ گر کر تباہ

جودھ پور: جنگی جنون میں مبتلا بھارتی حکومت ایک جانب اپنی فوجی طاقت کے حوالے سے بڑھکیں مار رہی ہے تو دوسری جانب اس کے طیاروں کا حال ہے کہ وہ سوکھے پتوں کی طرح گرتے ہی جارہے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق انڈین ایئر فورس کے ایک پائلٹ والے مگ 27 یو پی جی طیارے نے راجستھان کے شہر جودھ پور میں واقع ایئر بیس سے معمول کے مطابق اڑان بھری لیکن کچھ ہی دیر بعد طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔ طیارہ زمین بوس ہونے سے قبل پائلٹ اس میں سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ 2 ماہ کے دوران بھارتی فضائیہ کے 4 طیارے حادثات کی نذر ہوچکے ہیں، 3 ہفتوں قبل راجستھان میں ہی بھارتی فضائیہ کا مگ 21 گر کر تباہ ہوگیا تھا،اس سے علاوہ فروری میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاک فضائیہ نے بھی بھارت کے 2 طیاروں کو مار گرایا تھا۔

The post بھارتی فضائیہ کا ایک اور طیارہ گر کر تباہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2WCbLhF

بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کیخلاف مزاحمت کریں گے، خورشید شاہ

سکھر: خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کیخلاف مزاحمت کریں گے۔

سکھر میں کارکنوں اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ ذوالفقارعلی بھٹو نے ایٹم بم بنا کرسرحدوں کی حفاظت کا اعلان کیا تھا، کوئی دشمن ملک پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، لیکن ہمارے حکمران کشکول اٹھا کر گھومتے ہیں، آج کے حکمران قرضہ لیتے وقت شرماتے نہیں بلکہ مسکراتے ہیں، یہ کہتے تھے کہ مہنگائی کم کریں گے، لوگوں کو روزگار اور غریبوں کو گھر دیں گے، کہاں ہیں یہ ساری چیزیں۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ بینظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کی خبر ٹی وی پر دیکھی، اس طرح کی حرکت کوئی کم ظرف انسان ہی کر سکتا ہے، سلیکٹڈ وزیراعظم سے اسی طرح کے کاموں کی ہی توقع کی جا سکتی ہے، ضیاالحق اور پرویز مشرف بھی بے نظیر بھٹو کے نام سے خوف زدہ تھے، موجودہ حکومت بھی مشرف کی بی ٹیم ہے اس لئے وہ بے نظیر بھٹو کے نام سے خوف زدہ ہیں ۔

رہنما پیپلزپارٹی نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے ملک میں جمہوریت کی خاطر جام شہادت نوش کیا، ان کے نام سے خوف زدہ نام نہاد سیاستدانوں کو عوام نے ہمیشہ مسترد کیا ہے، بے نظیر بھٹو اور بھٹو خاندان پاکستان کے عوام کے دلوں پر راج کرتا ہے، بے نظیر بھٹو ایک نظریہ کا نام ہے پرویز مشرف کی بی ٹیم کچھ بگاڑ نہیں سکتی، بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کے خلاف مزاحمت کریں گے۔

The post بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کیخلاف مزاحمت کریں گے، خورشید شاہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2OCE8tt

بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کیخلاف مزاحمت کریں گے، خورشید شاہ

سکھر: خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کیخلاف مزاحمت کریں گے۔

سکھر میں کارکنوں اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ ذوالفقارعلی بھٹو نے ایٹم بم بنا کرسرحدوں کی حفاظت کا اعلان کیا تھا، کوئی دشمن ملک پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، لیکن ہمارے حکمران کشکول اٹھا کر گھومتے ہیں، آج کے حکمران قرضہ لیتے وقت شرماتے نہیں بلکہ مسکراتے ہیں، یہ کہتے تھے کہ مہنگائی کم کریں گے، لوگوں کو روزگار اور غریبوں کو گھر دیں گے، کہاں ہیں یہ ساری چیزیں۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ بینظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کی خبر ٹی وی پر دیکھی، اس طرح کی حرکت کوئی کم ظرف انسان ہی کر سکتا ہے، سلیکٹڈ وزیراعظم سے اسی طرح کے کاموں کی ہی توقع کی جا سکتی ہے، ضیاالحق اور پرویز مشرف بھی بے نظیر بھٹو کے نام سے خوف زدہ تھے، موجودہ حکومت بھی مشرف کی بی ٹیم ہے اس لئے وہ بے نظیر بھٹو کے نام سے خوف زدہ ہیں ۔

رہنما پیپلزپارٹی نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے ملک میں جمہوریت کی خاطر جام شہادت نوش کیا، ان کے نام سے خوف زدہ نام نہاد سیاستدانوں کو عوام نے ہمیشہ مسترد کیا ہے، بے نظیر بھٹو اور بھٹو خاندان پاکستان کے عوام کے دلوں پر راج کرتا ہے، بے نظیر بھٹو ایک نظریہ کا نام ہے پرویز مشرف کی بی ٹیم کچھ بگاڑ نہیں سکتی، بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کے خلاف مزاحمت کریں گے۔

The post بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کیخلاف مزاحمت کریں گے، خورشید شاہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2OCE8tt

حکومت کا سہیل محمود کو نیا سیکریٹری خارجہ مقرر کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: حکومت نے نئی دلی میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر سہیل محمود کو نیا سیکریٹری خارجہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ آج ریٹائرڈ ہورہی ہیں اور حکومت نے ان کی جگہ سہیل محمود کو نیا سیکریٹری خارجہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، سہیل محمود اس وقت نئی دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر ہیں۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سہیل محمود کو نیا سیکرٹری خارجہ مقرر کر رہے ہیں اور سہیل محمود کی تعیناتی کا فیصلہ وزیراعظم عمران خان سے مشاورت کے بعد ہوا جب کہ خارجہ امور کے مشکل حالات میں تہمینہ جنجوعہ نے بہترین معاونت کی، سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ عمدہ کارکردگی کی حامل اورذی شعور خاتون ہیں، انھوں نے مشکل خارجہ امور میں مسکراتے ہوئے سامنا کیا، آج وہ ریٹائرڈ ہورہی ہیں۔

The post حکومت کا سہیل محمود کو نیا سیکریٹری خارجہ مقرر کرنے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2FE8Xd7

پریانکا اورنک کے درمیان شادی کے تین ماہ بعد طلاق ؟

حکومت کا سہیل محمود کو نیا سیکریٹری خارجہ مقرر کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: حکومت نے نئی دلی میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر سہیل محمود کو نیا سیکریٹری خارجہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ آج ریٹائرڈ ہورہی ہیں اور حکومت نے ان کی جگہ سہیل محمود کو نیا سیکریٹری خارجہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، سہیل محمود اس وقت نئی دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر ہیں۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سہیل محمود کو نیا سیکرٹری خارجہ مقرر کر رہے ہیں اور سہیل محمود کی تعیناتی کا فیصلہ وزیراعظم عمران خان سے مشاورت کے بعد ہوا جب کہ خارجہ امور کے مشکل حالات میں تہمینہ جنجوعہ نے بہترین معاونت کی، سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ عمدہ کارکردگی کی حامل اورذی شعور خاتون ہیں، انھوں نے مشکل خارجہ امور میں مسکراتے ہوئے سامنا کیا، آج وہ ریٹائرڈ ہورہی ہیں۔

The post حکومت کا سہیل محمود کو نیا سیکریٹری خارجہ مقرر کرنے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2V6fyUp

اداروں کی تباہی میں سب سے بڑا حصہ خورشید شاہ کا ہے،فواد چوہدری

 اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اداروں کی تباہی میں خورشید شاہ کا سب سے بڑا حصہ ہے۔

اپنی ٹوئٹ میں فواد چوہدری نے کہا کہ خورشید شاہ اپنے اعمال کو سامنے رکھتے ہوئے بے نظیراور ذوالفقار بھٹو کے ناموں کو بیچنا بند کریں، اداروں کی تباہی میں سب سے بڑا حصہ خورشید شاہ کا ہے۔

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ خورشید شاہ اس کمیٹی کے سربراہ تھے جس نے اداروں میں میرٹ کے برعکس سیاسی بھرتیوں کا انبار لگایا، جو دیمک اداروں کو لگی اس کا سب سے بڑا کیڑا خورشید شاہ ہیں۔

The post اداروں کی تباہی میں سب سے بڑا حصہ خورشید شاہ کا ہے،فواد چوہدری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2WxEqEH

اداروں کی تباہی میں سب سے بڑا حصہ خورشید شاہ کا ہے،فواد چوہدری

 اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اداروں کی تباہی میں خورشید شاہ کا سب سے بڑا حصہ ہے۔

اپنی ٹوئٹ میں فواد چوہدری نے کہا کہ خورشید شاہ اپنے اعمال کو سامنے رکھتے ہوئے بے نظیراور ذوالفقار بھٹو کے ناموں کو بیچنا بند کریں، اداروں کی تباہی میں سب سے بڑا حصہ خورشید شاہ کا ہے۔

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ خورشید شاہ اس کمیٹی کے سربراہ تھے جس نے اداروں میں میرٹ کے برعکس سیاسی بھرتیوں کا انبار لگایا، جو دیمک اداروں کو لگی اس کا سب سے بڑا کیڑا خورشید شاہ ہیں۔

The post اداروں کی تباہی میں سب سے بڑا حصہ خورشید شاہ کا ہے،فواد چوہدری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2WxEqEH

عمران خان نہ ڈھیل کے قائل ہیں اور نہ ڈھیل پر آمادہ، وزیرخارجہ

ملتان: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ 6 ماہ پہلے (ن) لیگ اور پی پی دست و گریباں تھے آج ایک جھولی میں بیٹھ گئے ہیں لیکن عوام مک مکا کی سیاست کے خلاف آج عوام اٹھارہے ہیں۔

ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پی پی 218 ضمنی الیکشن میں (ن) لیگ اور پی پی کا گٹھ جوڑ سب کے سامنے ہے، 6 ماہ پہلے (ن) لیگ اور پی پی دست و گریباں تھے آج ایک جھولی میں بیٹھ گئے، گٹھ جوڑ کی سیاست کے خلاف لوگ آواز اٹھا رہے ہیں، جنوبی پنجاب صوبہ نعرے نہیں ضرورت ہے۔

The post عمران خان نہ ڈھیل کے قائل ہیں اور نہ ڈھیل پر آمادہ، وزیرخارجہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2HPCxzM

عمران خان نہ ڈھیل کے قائل ہیں اور نہ ڈھیل پر آمادہ، وزیرخارجہ

ملتان: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ 6 ماہ پہلے (ن) لیگ اور پی پی دست و گریباں تھے آج ایک جھولی میں بیٹھ گئے ہیں لیکن عوام مک مکا کی سیاست کے خلاف آج عوام اٹھارہے ہیں۔

ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پی پی 218 ضمنی الیکشن میں (ن) لیگ اور پی پی کا گٹھ جوڑ سب کے سامنے ہے، 6 ماہ پہلے (ن) لیگ اور پی پی دست و گریباں تھے آج ایک جھولی میں بیٹھ گئے، گٹھ جوڑ کی سیاست کے خلاف لوگ آواز اٹھا رہے ہیں، جنوبی پنجاب صوبہ نعرے نہیں ضرورت ہے۔

The post عمران خان نہ ڈھیل کے قائل ہیں اور نہ ڈھیل پر آمادہ، وزیرخارجہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2HPCxzM

آمروں نے صوبائی خودمختاری چھینی اب وہی کام عمران خان کرنے آئے ہیں، ترجمان بلاول

 اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ آمروں نے صوبائی خودمختاری چھینی اور اب وہی کام عمران خان کرنے آئے ہیں۔

اپنے بیان میں مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ آمروں نے صوبائی خودمختاری چھینی اور اب وہی کام عمران خان کرنے آئے ہیں،انہیں حکومت میں لانے کا اصل ایجنڈا سامنے آگیا ہے، عمران خان کی زبان پرحقیقت آہی گئی کہ ان کا ہدف اٹھارویں ترمیم ہے ،عمران خان اپنی معاشی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے اٹھارویں ترمیم پر الزام عائد کر رہے ہیں، اٹھارویں ترمیم سے دس سال تک وفاق دیوالیہ نہیں ہوا تواب کیسے ہو گیا ؟، اسٹاک مارکیٹ میں مندی اور کاروباری طبقے کی بدحالی کی ذمہ دار حکومت ہے اٹھارویں ترمیم نہیں۔ عمران خان بتائیں کہ ٹیکس وصولیوں میں 450 ارب کے شارٹ فال کی ذمہ دار اٹھارویں ترمیم کیسے ہے؟

مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ ڈالر، پیٹرول، بجلی ، گیس، ادویات کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہے، بدترین معاشی صورتحال قومی سلامتی کیلئے بھی مسئلہ بن چکی ہے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام برداشت نہ ہوناآمرانہ سوچ کاثبوت ہے۔

ترجمان بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان پانچ سال خیبرپختونخوا میں حکومت میں تھے تب تو فنڈز لے کر اڑاتے رہے، دس سال میں سندھ میں عالمی معیار کے اسپتال، تعلیمی ادارے اور سڑکیں بنی ہیں، تھر کے کوئلے سے بجلی کا منصوبہ بھی سندھ حکومت کا ہی کارنامہ ہے، عمران خان بتائیں کہ انہوں نے خیبرپختونخوا میں بی آر ٹی کے ناکام منصوبے کے علاوہ کیا بنایا ؟۔

The post آمروں نے صوبائی خودمختاری چھینی اب وہی کام عمران خان کرنے آئے ہیں، ترجمان بلاول appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2I1NFZJ

آمروں نے صوبائی خودمختاری چھینی اب وہی کام عمران خان کرنے آئے ہیں، ترجمان بلاول

 اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ آمروں نے صوبائی خودمختاری چھینی اور اب وہی کام عمران خان کرنے آئے ہیں۔

اپنے بیان میں مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ آمروں نے صوبائی خودمختاری چھینی اور اب وہی کام عمران خان کرنے آئے ہیں،انہیں حکومت میں لانے کا اصل ایجنڈا سامنے آگیا ہے، عمران خان کی زبان پرحقیقت آہی گئی کہ ان کا ہدف اٹھارویں ترمیم ہے ،عمران خان اپنی معاشی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے اٹھارویں ترمیم پر الزام عائد کر رہے ہیں، اٹھارویں ترمیم سے دس سال تک وفاق دیوالیہ نہیں ہوا تواب کیسے ہو گیا ؟، اسٹاک مارکیٹ میں مندی اور کاروباری طبقے کی بدحالی کی ذمہ دار حکومت ہے اٹھارویں ترمیم نہیں۔ عمران خان بتائیں کہ ٹیکس وصولیوں میں 450 ارب کے شارٹ فال کی ذمہ دار اٹھارویں ترمیم کیسے ہے؟

مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ ڈالر، پیٹرول، بجلی ، گیس، ادویات کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہے، بدترین معاشی صورتحال قومی سلامتی کیلئے بھی مسئلہ بن چکی ہے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام برداشت نہ ہوناآمرانہ سوچ کاثبوت ہے۔

ترجمان بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان پانچ سال خیبرپختونخوا میں حکومت میں تھے تب تو فنڈز لے کر اڑاتے رہے، دس سال میں سندھ میں عالمی معیار کے اسپتال، تعلیمی ادارے اور سڑکیں بنی ہیں، تھر کے کوئلے سے بجلی کا منصوبہ بھی سندھ حکومت کا ہی کارنامہ ہے، عمران خان بتائیں کہ انہوں نے خیبرپختونخوا میں بی آر ٹی کے ناکام منصوبے کے علاوہ کیا بنایا ؟۔

The post آمروں نے صوبائی خودمختاری چھینی اب وہی کام عمران خان کرنے آئے ہیں، ترجمان بلاول appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2I1NFZJ

Saturday, 30 March 2019

لکس اسٹائل ایوارڈ 2019 کی نامزدگیوں کا اعلان کردیا گیا

کراچی: 18 ویں لکس اسٹائل ایوارڈ 2019 کی نامزگیوں کی فہرست جاری کردی گئی ہےاس بار مہوش حیات، علی ظفر اور اقرا عزیز سمیت  شوبز کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی شخصیات ایوارڈ کی دوڑ میں شامل ہیں۔

بہترین فلم

کیک

جوانی پھر نہیں آنی2

لوڈ ویڈنگ

موٹر سائیکل گرل

طیفا ان ٹربل

بہترین اداکار

عدنان ملک(کیک)

احمد علی بٹ(جوانی پھر نہیں آنی2)

علی ظفر(طیفا ان ٹربل)

فہد مصطفیٰ(لوڈ ویڈنگ)

محمد احمد(کیک)

بہترین اداکارہ

آمنہ شیخ(کیک)

ہاجرہ یامین(پنکی مہم صاب)

مہوش حیات(لوڈ ویڈنگ)

صنم سعید(کیک)

سوہائے علی ابڑو(موٹر سائیکل گرل)

بہترین ہدایت کار

احسن رحیم (طیفا ان ٹربل)

عاصم عباسی(کیک)

حسیب حسن(پرواز ہے جنون)

نبیل قریشی(لوڈ ویڈنگ)

ندیم بیگ(جوانی پھر نہیں آنی2)

بہترین ٹی وی ڈراما

ایسی ہے تنہائی(اے آروائے)

ڈر سی جاتی ہے صلہ(ہم ٹی وی)

دل موم کا دیا(اے آر وائے)

خانی(جیو)

سنو چندا(ہم ٹی وی)

بہترین ٹی وی اداکار

بلال عباس (بالا)

فیروز خان(خانی)

نعمان اعجاز (ڈر سی جاتی ہے صلہ)

قوی خان(آنگن)

سمی خان(خود غرض)

بہترین ٹی وی اداکارہ

اقرا عزیز(سنو چندا)

نیلم منیر(دل موم کا دیا)

ثنا جاوید(خانی)

سونیا حسین(ایسی ہے تنہائی)

اُشنا شاہ(بالا)

ماڈل آف دی ایئر(فی میل)

انعم ملک

فہمین انصاری

رباب علی

صدف کنول

زاراعابد

ماڈل آف دی ایئر(میل)

ایمل خان

چیمپ ایمی

حسنین لہری

شہزاد نور

The post لکس اسٹائل ایوارڈ 2019 کی نامزدگیوں کا اعلان کردیا گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2OCytDJ

آرمی چیف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بریفنگ دیں گے

 اسلام آباد: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ 4 اپریل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بریفنگ دیں گے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی دعوت پر قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹی امجد خان کی سربراہی میں 4 اپریل کو جی ایچ کیو کا دورہ کرے گی جہاں آرمی چیف دفاعی کمیٹی کو کنٹرول لائن، ورکنگ باونڈری اور انٹرنیشنل بارڈرز کی صورت حال پر بریفنگ دیں گے۔

بریفنگ کے دوران قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹی کو بھارتی جارحیت اور اشتعال انگیزیوں پر پاک فوج کے جوابی اقدام کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا اور جی ایچ کیو اور مسلح افواج کے امور پر بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔

آرمی چیف کی بریفنگ کے بعد کمیٹی اراکین یادگار شہدا پر بھی حاضری دیں گے جب کہ قومی اسمبلی کی 21 رکنی کمیٹی میں تمام پارلیمانی جماعتوں کے اراکین شامل   ہیں۔

The post آرمی چیف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بریفنگ دیں گے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2OEiXYc

آرمی چیف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بریفنگ دیں گے

 اسلام آباد: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ 4 اپریل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بریفنگ دیں گے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی دعوت پر قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹی امجد خان کی سربراہی میں 4 اپریل کو جی ایچ کیو کا دورہ کرے گی جہاں آرمی چیف دفاعی کمیٹی کو کنٹرول لائن، ورکنگ باونڈری اور انٹرنیشنل بارڈرز کی صورت حال پر بریفنگ دیں گے۔

بریفنگ کے دوران قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹی کو بھارتی جارحیت اور اشتعال انگیزیوں پر پاک فوج کے جوابی اقدام کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا اور جی ایچ کیو اور مسلح افواج کے امور پر بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔

آرمی چیف کی بریفنگ کے بعد کمیٹی اراکین یادگار شہدا پر بھی حاضری دیں گے جب کہ قومی اسمبلی کی 21 رکنی کمیٹی میں تمام پارلیمانی جماعتوں کے اراکین شامل   ہیں۔

The post آرمی چیف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بریفنگ دیں گے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2OEiXYc

جرمنی میں دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں 10 افراد گرفتار

برلن: جرمنی میں پولیس نے دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں 10 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

غیر ملکی خبر اجنسی کے مطابق جرمنی کی پولیس نے مختلف شہروں سے 10 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے، حراست میں لئے گئے تمام افراد مسلمان ہیں، ان میں سے ایک تاجک شہری شامل ہے جب کہ دیگر کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ ان تمام افراد پر دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

جرمنی کے شہر ڈسلڈورف میں استغاثہ کے ترجمان نے گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے تاہم جاری بیان میں نا تو کسی مخصوص مقام پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کارروائی کا ذکر کیا گیا ہے اور نہ ہی زیر حراست افراد کے داعش کے ساتھ روابط کے حوالے سے تصدیق کی گئی ہے۔

The post جرمنی میں دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں 10 افراد گرفتار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2FLlLQ6

کرتار پور راہداری پر بھارتی ڈکٹیشن قبول نہ کی جائے، سکھ کونسل آف پاکستان

 لاہور: سکھ کونسل پاکستان نے بھارت کی طرف سے پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے ممبران پراعتراض کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے بھارت کے اس اقدام کو کرتارپور راہداری منصوبے سے فرار کی ایک ناکام کوشش قرار دیا ہے۔

سکھ کونسل پاکستان کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کوخط لکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں ان سے مطالبہ کیا جائے گا کہ حکومت کو کرتار پور راہداری منصوبے کے حوالے سے بھارتی حکومت کے دباؤ میں آنے کی ضرورت نہیں ہے اوراس کی کوئی ڈکٹیشن قبول نہ کی جائے۔

سکھ کونسل آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل سردار سرجیت سنگھ کنول نے ایکسپریس کوبتایا کہ بھارت کا سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے اراکین پراعتراض کوجواز بنا کر کرتار پور راہداری منصوبے کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات سے راہ فرار اختیار کرنا بھارت کی سوچی سمجھی سازش ہے، بھارتی حکومت اوراس کے چند ادارے کرتار پور راہداری منصوبے سے خوش نہیں، پاکستان کی طرف سے منصوبے کی بروقت تکمیل کے حوالے سے تیزی سے کام جاری ہے جب کہ بھارتی حکومت ابھی تک کاغذی پلان تیار کررہی ہے۔ پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کا کرتار پور راہداری منصوبے سے کوئی تعلق نہیں، یہ کمیٹی 1999 سے کام کررہی ہے جس کا بنیادی مقصد پاکستان میں سکھ گوردواروں کی دیکھ بھال اور بھارت سمیت دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کی مہمان نوازی کرنا ہے۔

سکھ کونسل آف پاکستان کے ایک اور رہنما سردار اجیت سنگھ ساگر نے کہا کہ پاکستان سکھ گوردوارہ پر بندھک کمیٹی کا خالصتان تحریک سے تعلق جوڑنا انتہائی مضحکہ خیزہے ، یہ کمیٹی سکھ گوردواروں اورسکھ یاتریوں کی سیواکے لئے کام کررہی ہے،پاکستان سمیت دنیا بھرمیں لاکھوں سکھ آباد ہیں ، خالصتان تحریک کے حوالے سے ہرایک کا اپنا اپنا موقف ہے اس کا سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بھارت کی الزام تراشی محض پراپیگنڈا اورکرتارپورراہداری منصوبے کوسبوتازکرنا ہے

بھارت کی طرف سے جن پاکستانی سکھ رہنماؤں پرخالصتان حمایتی ہونے کا الزام لگایا گیا ہے ان میں پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سابق پردھان سرداربشن سنگھ بھی شامل ہیں جو ضلع کونسل لاہورکے ممبررہ چکے ہیں اوران کی پاکستان کے گوردواروں اورسکھ کمیونٹی کے لئے مثالی خدمات ہیں

پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سابق سیکرٹری جنرل سردارگوپال سنگھ چاولہ نے کہا کہ وہ امن پسندآدمی ہیں ہمیشہ حق سچ کی بات کی ہے اورکرتے رہیں گے۔ انہوں نے کبھی انتشار پیدا کیا اور نہ کبھی ایسے اقدام کی حمایت کی ہے۔ وہ وزیراعظم عمران خان کے کرتارپور راہداری منصوبے سے متعلق ہرفیصلے کی حمایت کرتے ہیں

دوسری طرف دفترخارجہ پاکستان نے بھی بھارتی اقدام پراظہارافسوس کیا ہے جبکہ وفاقی وزیراطلاعات فوادچوہدری واضع کرچکے ہیں کہ کرتارپور راہداری کونومبرمیں گورورنانک دیو جی کے 550 ویں جنم دن کے موقع پرکھول دیا جائے گا۔

The post کرتار پور راہداری پر بھارتی ڈکٹیشن قبول نہ کی جائے، سکھ کونسل آف پاکستان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2HO9zAn

لاہور میں میلہ چراغاں؛عقیدت مندوں کی مادھو لال حسین کے مزار پر حاضری

لاہور  : داتا کی نگری میں میلہ چراغاں کی تین روزہ تقریبات جاری ہیں اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد شاہ حسین المعروف مادھولال حسین مزار پر فاتحہ خوانی کے لیے آرہے ہیں۔

شہر لاہور ہمیشہ سے ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے اور یہاں پر منعقد ہونے والے کچھ میلے اور تہوار ایسے ہیں جو سیکڑوں سالوں سے اس سر زمین پر ہوتے چلے آ رہے ہیں، انہی میں سے ایک میلہ چراغاں ہے، ملک بھر سے آنے والے زائرین مزار کے سامنے آگ کے الاؤ میں گھی، تیل اور موم بتیاں پھینک کردیئے جلاتے اپنی منتیں پوری کرتے اوراللہ کے حضور دعا مانگتے ہیں،عرس کے تینوں دن یہ الاؤ روشن رہتا ہے۔

شاہ حسین صوفیانہ شاعری کا ایک بڑا نام ہے، 1538 میں اندرون لاہور پیدا ہونے والے شاہ حسین نے اپنی کافیوں کی بنیاد راگ راگنیوں پر رکھی۔ ان کا کلام ہر اس دل کی دھڑکنیں تیز کر دیتا ہے،جس میں رتی بھر بھی عشق کا جذبہ موجود ہو۔ انہوں نے اپنے فکروفن کے ذریعے لوگوں کے دلوں پر حکومت کی، شاہ حسین نے پنجابی ادب کو کافی کی صنف سے روشناس کرایا، ان کو کلاسیکل دور کا دوسرا بڑا شاعر کہا جاتا ہے، آپؒ نے عبادت و ریاضت کا ایسا لبادہ اوڑھ لیا کہ دنیا و مافیا کی خبر نہ رہی، مادھولال بھی رنگ شاہ حسین میں رنگا گیا اور گھر بار چھوڑ کر دامن شاہ حسین سے پیوستہ ہوگیا اور دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا، شاہ حسین کی نظر کرم کی بدولت مادھو جلد ہی تصوف کے درجہ کمال کو پہنچے۔

عرس کے موقع پر محکمہ اوقاف کی طرف سے زائرین کے لئے لنگرکا بھی اہتمام کیا گیا ہے جبکہ سیکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات ہیں ،گزشتہ چندبرسوں میں سیکیورٹی وجوہات کی بنا پرمیلے کی رونقیں اب صرف دربار کے احاطے تک محدود ہوکر رہ گئی ہیں جہاں بچوں کے لئے چندجھولے اورمٹھائی کی دکانیں سجائی گئی ہیں۔

The post لاہور میں میلہ چراغاں؛عقیدت مندوں کی مادھو لال حسین کے مزار پر حاضری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2THq8Qd

ہے جرم ِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات؛ مقتول بھی ہم، مجرم بھی ہم

15 مارچ 2019 مسلمانوں کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا۔نیوزی لینڈ جیسے پُر امن ملک میں بھی دو مساجد میں مسلمان نمازیوں کو سفید فام دہشتگرد نے بے دریخ فائرنگ کرکے اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا، اس دلخراش واقعہ میں 50 سے زائد مسلمان شہید ہوئے۔اس میں 9 پاکستانی بھی شامل تھے، یورپی راہنماؤں نے رسمی بیانات دئیے۔

آہستہ آہستہ یہ المناک اور دلخراش واقعہ بھی وقت کی دھول میں گم ہو جائے گا، اگر یہی واقعہ غیر مسلموں کے خلاف ہوتا اور اس میں کوئی مسلمان ملوث ہوتا تو دنیا میں کہرام مچ گیا ہوتا اور مسلمان ممالک پر حملہ کر دیا جاتا۔ مگر۔۔۔؟

مقبوضہ کشمیر میں 1989سے لے کر اب تک ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد مسلمان کشمیریوں کو شہید کیاجا چکا ہے۔ 2 لاکھ سے زائد زخمی ہوئے، ان میں سے کم از کم سات ہزارکشمیری مستقل طور پر معذور ہو چکے ہیں، 2016 سے لے کر اب تک پیلیٹ گنز کے استعمال سے ساڑھے پانچ ہزار لوگ اندھے ہو چکے ہیں ۔ جولائی 2016 میں حزب المجاہدین کے کمانڈ ربرہان وانی کی شہاد ت سے تحریک آزادی میں نیا موڑ پیدا ہوا تھا۔ جولائی 2016 سے اب تک تقریباً 6344 کشمیری شہید ہو چکے ہیں ۔ کشمیر میں ساڑھے سات لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں، یعنی ہر دس کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی تعینات ہے۔

کشمیر میں موت اتنی ارزاں ہو چکی ہے کہ گبھرو جوان شہید ہونے پر مائیں اور بہنیں ماتم کرنے کی بجائے اس کے جنازے پر سہرے کے گیت گاتی ہیں، شہید کو دلہا بنایا جاتا ہے۔ یہ اتنا دلخراش منظر ہوتا ہے کہ زمین کا کلیجہ پھٹ جاتا ہے مگر عالمی برادری کے کان پر جوں نہیں رینگتی، بعض ممالک تو بھارت کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں ۔ آزادی مانگنے والے کشمیریوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ کمزور مسلمان ہیں ۔

٭ پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد انہ کاروائیوں میں ستر ہزار (70,000)افراد جام ِ شہادت نوش فرما چکے ہیں، کنٹرول لائن پر شہیدہونے والے بے گناہ شہریوں کی تعداد 400 سے تجاوزکر چکی ہے۔

٭ 2003 میں جب امریکا اور اتحادی افواج نے صدام حسین کے دور ِحکومت میں عراق پر حملہ کیا تو تقریباً چھ لاکھ عراقی شہید ہوئے۔

٭ شام میں اب تک 5 لاکھ 67 ہزار شہری شہید ہو چکے ہیں جن میں 42 ہزار خواتین اور بچے بھی شامل ہیں ۔ صرف 8سالوں میں 3 لاکھ 70 ہزار مسلمان شہید ہوئے ہیں۔

٭ کچھ سال قبل بھارت کے شہر گجرات میں دس ہزار مسلمانوں کو جلا کر راکھ کر دیا گیا اس کے بعد بھارت کے باقی شہروں میں مسلم کش فسادات میں صرف بیس سالوں میں 1750مسلمانوں کو شہید کیا گیا ہے۔

٭ برما میں سات لاکھ مسلمانوں کو ہجرت کے لیے مجبور کیا گیا۔ سات ہزار مسلمانوں کو شہید کیا گیا ۔ 4000 سے زائد ڈوب کر شہید ہو گئے۔ 2700 مختلف حادثات کا شکار ہو ئے۔ بہت بڑی تعداد نے بنگلہ دیش میں پناہ لی۔ میانمار (برما) کا سرکاری مذہب بدھ مت ہے جو کہ اپنے ماننے والوں کو امن کا پیغام دیتا ہے اس کے باوجود مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے۔

٭ افغانستان میں اب تک 3 لاکھ سے زائد مسلمان شہید ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ بھی مختلف ممالک میں سینکڑوں مسلمانوں کو نسلی تعصب کا شکار بنا یا گیا ہے۔

٭ عراق کویت کی جنگ، ایران عراق کی جنگ ، لیبیاء فلسطین اور دوسرے اسلامی ممالک میں ہونے والے حملوں میں بھی ایک لاکھ 75 ہزار مسلمان شہید ہو چکے ہیں ۔

پاکستان ، مقبوضہ کشمیر، فلسطین ، برما، بھارت، عراق، شام، افغانستان اور دوسرے اسلامی ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں کو شہید کیا جا چکا ہے مگر اس کے باوجود مسلمانوں کو ہی ظالم ، دہشت گرد اور مجرم قرار دیا جا رہا ہے، صورتحال کا اصل رخ یہ ہے کہ مسلمانوں نے کسی بھی غیر مسلم ملک کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا نہ کسی ملک پر چڑھائی یا لشکر کشی کی،کسی بھی غیر مسلم ملک پر بمباری بھی نہیں کی ۔

امریکا کی طرف سے 9/11 کے حملوں کا الزام لگایا جاتا ہے، جبکہ بعد کے شواہد سے یہ بات منظر عام پر آئی کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور دوسری عمارات پر حملوں کے ذ مہ دار صرف یہودی تھے، امریکا میں صرف یہودی لابی ہی سائنس اور ٹیکنالوجی پر اتنا عبور رکھتی ہے کہ جو حملوں کے خلاف مدافعانہ نظام کو بے اثر بنا سکے۔ ان حملوں کی اصل وجہ یہ بنی کہ امریکی انتخابات میں ٹونی الگور جو کہ یہودیوں کا حمایت یافتہ تھا کو زبر دستی ہرا دیا گیا، یہودی جو کہ امریکی معیشت اور تجارت پر چھائے ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ سیٹلائیٹ ٹیکنالوجی اور جنگی سازو سامان کے شعبے میں بھی اجارہ داری قائم کر چکے ہیں انھوں نے اس بات کا شدید اثرلیا کہ ٹونی الگور کو صرف اس لیے حکومت میں نہیں آنے دیا گیا کہ وہ یہودیوں کا حمایت یافتہ تھا اور یہود کے لیے نرم گوشہ رکھتا تھا، 9/11 کا واقعہ اصل میں یہودی اور عیسائیوں کی باہمی چپقلش کا نتیجہ تھا جس کی تمام تر ذمہ داری اُسامہ بن لادن پر ڈال دی گئی۔

اُسامہ بن لادن افغان روسِ جنگ میں امریکا اور اس کے حواریوں کی آنکھ کا تارا تھا، اس نے اپنی دولت اور اپنی افرادی قوت افغانِ جنگ میں دل کھول کر خرچ کی، روس کی شکست میں پاکستان کے بعد اسامہ بن لادن بھی ایک بہت بڑا کردار تھا جس نے امریکا کی دوستی میں افغانِ جنگ میں اپنا بہت کچھ جھونک دیا۔ افغانِ جنگ کے خاتمے کے بعد امریکا کو پاکستان اور افغان مجاہدین کے علاوہ اسامہ بن لادن بھی کھٹکنے لگا تھا ۔ جن مجاہدین نے افغانِ جنگ لڑی اب وہ امریکا کی نظر میں دہشت گرد ٹھہرے تھے۔

ملا عمر کے دورِ حکومت میں طالبان ٹریپ ہوئے اور انھوں نے اسلامی تعلیمات کو لے کر مذہبی انتہا پسندی کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔ جب 9/11 کا واقعہ ہوا تو امریکا اور وہاں بسنے والے عیسائی دہل کر رہ گئے، یہودیوں نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا مخصوص ایجنڈا امریکی حکومت کے سامنے رکھا۔ پھر دنیا میں ایک نئی جنگ شروع ہو گئی امریکی، نیٹو اور ایسافٖ فورسز اسامہ بن لادن کا مقابلہ کرنے کے لیے براستہ پاکستان، افغانستان میں داخل ہو گئیں۔ افغانِ جنگ میں حصہ لینے والے پاکستانی مجاہدین جو کہ امریکا کی نظر میں دہشت گرد ٹھہرے اس صورتحال سے خاصے بددل ہوئے انھوں نے جارحانہ کاروائیاں شروع کر دیں ۔کہا جاتا ہے کہ مجاہدین کو اس نہج تک لانے میں غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کا بہت بڑا کردار تھا۔ مجاہدین بھی ٹریپ ہو گئے، انھوں نے غیر ملکی قوتوں کے خلاف اپنا غصہ نکالنے کی بجائے پاکستانی عوام، فورسز اور اداروں پر غصہ نکالنا شروع کر دیا۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قوتوں کی حکمتِ عملی کی وجہ سے ملک عراق، شام، لیبیاء اور افغانستان بننے سے بچ گیا۔

ایک طویلِ جنگ نے پاکستان کو نئی زندگی اور قوت بخشی، ملک کی اہم قوتوں کو احساس ہوا کہ ’’ہے جرمِ ضعیفی کی سزا ء مرگِ مفا جات ‘‘چنانچہ اب ہر پہلو کی اصلاح کرنے کا ارادہ کیا گیا، ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی گئی ہے، دنیا بھر کے مسلمانوں کی کسمپرسی اورِ بِے بسی کا اندازہ لگاتے ہوئے کچھ سخت فیصلے بھی کیے گئے، دہشت گردی سے آہنی ہاتھوں سے نپٹا گیا، ملک کو اندرونی طور پر کمزور بنانے کی تمام سازشیں ناکام بنائی گئیں، جب پاکستان نے ایسی جنگ جیتی کہ جس کی کسی کو بھی ا’مید نہ تھی، انڈیا پیٹھ ٹھونک کر میدان میںآ گیا، مگر پاکستان کے عسکری ادا روں کی پیشہ ورانہ مہارت اور پاکستان میں تیار کیے گئے جدید اسلحہ اور جے ایف 17تھنڈرکی وجہ سے پیٹھ پھیر کر بھاگ گیا ۔

فوجی محاذ پر تو ہماری مضبوطی کو بھانپ بھی لیا گیا ہے اور فوجی صلاحیت کو سراہا بھی جا رہا ہے مگر ابھی تک ہمارا اقتصادی محاذ خاصا کمزور ہے۔اگر دیکھا جائے تو اس وقت مسلمان ممالک میں صرف پاکستا ن ہی ایٹمی قوت ہونے کے علاوہ مضبوط عسکری قوت بھی ہے، مگر ابھی بہت سے محاذوں پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے، قوم کو باشعور بنانے کی ضرورت ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی کے علاوہ جدید ریسرچ پر شدید توجہ دینے کی بھی اشد ضرورت ہے، افرادی قوت اور وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہوگی۔ اقتصادی حالت بہتر کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے ۔

یہ بات نہایت اہم ہے کہ اگر چہ اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں آزادی کی تحرکیں چل رہی ہیں، مگر سب سے کامیاب تحریک مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں کی ہے، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ مقبوضہ وادی کے عوام اپنے آپ کو پاکستان سے جڑا ہوا سمجھتے ہیں، جبکہ دنیا کے دوسرے حصے کے مسلمان مظلومیت اور بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں، انتہا تو یہ ہے کہ یہی مسلمان دشت گردی کا شکار ہیں، برما میں باقاعدہ وہاں کی فوج نے نہتے روہنگیا مسلمانوں کو بے گھر ہونے پر مجبور کیا، فلسطین میں اسرائیلی گرفت مضبوط ہو رہی ہے، عراق اور شام پر امریکی اور نیٹو بمباری کے باوجود احتجاج کا ایک لفظ بھی نہ ادا کر سکے، صرف افغانستان میں مزاحمت جاری ہے مگر یہ مزاحمت بھی خاصی کمزور ہے وگرنہ نیٹو اور ایساف کی افواج چند ماہ سے زیادہ وہاں قدم نہیں جما سکتی تھیں۔

مسلمانوں کی کسمپرسی کی اصل وجہ جدید علوم سے دوری ہے، بے پناہ دولت وسائل اور افرادی قوت ہونے کے باوجود انھیں استعمال کا طریقہ نہیں آتا۔ انہی اقوام کی محتاجی ہے کہ جو انھیں نیست و نابود کرنے پر تلے ہوئے ہیں جو کہ ان کی دولت لوٹ کر اپنے خزانے بھر رہے ہیں، کئی اہم مسلم ممالک عالمی قوتوں کی کالونی بنے ہوئے ہیں، اس وقت سیٹلائٹ ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرنا اہم ضرورت ہے۔ خلیجی ممالک کے پاس اس قدر دولت ہے کہ وہ اپنی دولت کا معمولی سا حصہ خرچ کرکے اس ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کر سکتے ہیں مگر اس مقصد کے لیے انھیں جدید علوم کو بہت زیادہ اہمیت دینی ہوگی ۔

جدید ترین تعلیمی اداروں کا جال بچھانا پڑے گا، مگر اس وقت خلیجی ممالک اپنے اختلافات میں الجھے ہوئے ہیں آپس میں متحارب ہیں، کبھی ان ممالک میں دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش) جیسی تنظیمیں پیدا کی جاتی ہیں، حوثی گروپ کو ہلہ شیری دے کر اپنے ہی مسلمان بھائیوں پر حملہ کر دیا جاتا ہے، کبھی شیعہ سنی کا مسئلہ کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ عراق نے کویت پر حملہ کر کے ایسی غلطی کی کہ جس کا خمیازہ عراقی عوام ابھی تک بھگت رہی ہے ، ایران، عراق جنگ میں بھی مسلمانوں کو ہی نقصان پہنچا، اب افغانستان غیر ملکی ایجنڈے کو پورا کرتے ہوئے ہر قدم پر پاکستان کی مخالفت کر رہا ہے۔ اس وقت صرف مسلم ممالک ہی میدان جنگ بنے ہوئے ہیں، بے پناہ دولت اور وسائل ہونے کے باوجود ہر معاملے میں اغیار کے مختاج ہیں، مسلمانوں کی اس ذلت کی اصل وجہ اسلام سے دوری ہے، اسلام کی بنیادی تعلیمات سے انخراف ہے، اسلام میں امتِ مسلمہ کا تصور ہے، ہماری تمام عبادات اجتماعیت کا درس دیتی ہیں مگر دنیا بھر کے مسلمان بکھر چکے ہیں بیت المال کا تصور خاصا کمزور ہو چکا ہے۔

اسلام انسانیت کے لیے سراسر بھلائی ہے، اسلا م انفرادیت کی حوصلہ شکنی کرتا ہے، عبادات کے ذریعے اور اجتماعی زندگی کا تصور واضح کردیا گیا ہے کہ تمام فرض عبادات میں اجتماعیت کا ہونا ضروری ہے، نماز میں بھی فرض اجتماعی طور پر اور نفل اور سنتیں انفرادی طور پر ادا کی جاتی ہیں، اسلام میں بیت المال کا تصور ہے مگر مسلمان اپنے ذاتی خزانے اور تجوریاں بھر رہے ہیں، تیل اور اللہ تعالی کی نعمتوں سے حاصل ہونے والی دولت یہود و نصاریٰ بنکوں میں جمع کروائی جا رہی ہے۔

اسلام میں دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں کرنے سے منع کیا گیا ہے اور واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اللہ تعالی کے دئیے ہوئے مال پر تمام مسلمانوں کاحق ہے، قرآن پاک میں اللہ تعالی کے دیئے ہوئے رزق کو بانٹنے کا حکم دیا گیا ہے مگر عرب ممالک سمیت تمام اسلامی ممالک میں اس حکم سے انخراف کرتے ہوئے ذاتی مال و دولت میں اضافہ کیا جا رہا ہے، یہ دولت مسلمانوں کی اجتماعی حالت بہتر بنانے کے لیے استعمال نہیں ہو رہی۔ حد تو یہ ہے کہ سعودی عرب جیسا مسلمان ملک بھی پاکستان کو بھی سود پر رقم اور ادھار تیل دے رہا ہے۔ مسلمانوں میں طبقاتی تفریق بڑھ رہی ہے ، کئی ممالک میں مسلمانوں کی حالت نا گفتہ بہ ہے ،کئی ممالک میں دولت کی فراوانی ہے، دولت اور سونے کے انبار لگے ہوئے ہیں مگر ان ممالک کو یہ منظور ہے کہ ان کی دولت سے اغیار فائدہ اٹھائیں، بہانے سے ان کی دولت ہڑپ کر جائیں مگر غریب مسلمان ممالک کی حالت بہتر بنانا منظور نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی دولت سائنس و ٹیکنالوجی اور جدید ریسرچ پر استعمال کرنا منظور نہیں ہے۔

اگر مسلمان متحد ہو جائیں اور امت ِ مسلمہ کاتصور واضح ہو جائے، دولت پر نادار مسلمان ممالک اور ضرور ت مند مسلمانوں کا حق سمجھ لیا جائے، یہ دولت مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کی بجائے، تعلیم، صحت اور بہتر خوراک کے لیے خرچ کی بجائے۔ یہ دولت باہمی جھگڑوں پر خرچ کرنے کی بجائے امتِ مسلمہ کی ترقی و سرفرازی کے لیے خرچ کی جائے تو نہ صرف مسلم ممالک میں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکات نازل ہوںگی بلکہ کچھ عرصہ بعد وہ دنیا میں ’’لیڈنگ رول‘‘ ادا کرتے نظر آئیںگے۔

اس وقت جن اسلامی ممالک کے پاس دولت ہے وہ اپنی دولت عیش و عشرت پر خرچ کر رہے ہیں، خلیجی ممالک میں انفرادی طور پر لوگ اربوں ڈالر کے مالک ہیں، جب سعودی عرب میں کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا تو صرف چند شہزادوں نے دو سو ارب ڈالر حکومت کو واپس کر دئیے، دولت بے انتہا مگر بے بسی ، کسمپرسی اور مختاجی بھی بے انتہا ہے، اس کی وجہ اجتماعیت کے درس کو فراموش کر کے انفرادی زندگی گزارنا ہے،خود غرضی اور نفسانفسی کے ان جذبات کی وجہ سے مسلمان دنیا بھر میں دوسری اقوام کے ظلم و استحصال کا نشانہ بنے ہوئے ہیں ان کی دولت سے اسلام دشمن ممالک فائدہ اٹھا رہے ہیں مگر پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان جیسے ممالک میں مسلمان امت کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ہے۔ اُمت کو متحد ہو کر آگے بڑھنا ہوگا۔ جب غریب مسلم ممالک میںمعاشی استحکام پیدا ہوگا تو یہاں اخلاقی وسماجی برائیاں بھی ختم ہونگی، ترقی کی دوڑ میں یہ ممالک شامل ہونگے، اللہ کی برکات بھی شامل ہوں گی اور موجودہ ذلتِ اور رسوائی بھی ختم ہوگی۔

1۔ جب حضوراکرم ﷺ کا وصال ہوا تو ضرورت کی چند اشیاء کے سوا گھر میں کچھ بھی نہ تھا مگر دیوار پر سات تلواریں لٹکی ہوئی تھیں ۔
۲۔ فتح ایرا ن کے بعد جب مال غنیمت مدینہ لا یا گیا تو خلیفہ وقت حضرت عمر فاروق ؓ آبدیدہ ہو گئے لوگوں نے وجہ پوچھی تو کہا کہ جس مال و دولت نے ایرانیوں کو عیش پسند بنا دیا مجھے خوف ہے کہ مسلمان بھی اس دولت کی وجہ سے عیش پسند نہ ہو جائیں۔
۳۔ اُموی خلیفہ عمر بن عبدالعزیز ؒ نے اپنے خاندان کی ساری جائیداد اور ذاتی مال بیت المال میں جمع کرا دیا، اب تو انفرادی طور پر بے شمار مسلمانوں کے خزانے بھر ے ہوتے ہیں ۔
۴۔ کہا جاتا ہے کہ اگر خلیجی ممالک اپنی تمام تر دولت مغربی ممالک اور امریکا وغیرہ سے نکال لیں تو ان ممالک میں فوراً بحرانی کیفیت پیدا ہو جائے گی ۔
۵۔ اگر مسلم ممالک متحد ہو جائیں اور بھارت کا جنگی جنون اور پاگل پن ختم ہو جائے تو ترقی یافتہ ممالک کی اسلحہ صنعت کو اس قدر زِک پہنچے گی کہ یہ ممالک اپنے پائوں پر کھڑے نہیں رہ پائیں گے ۔

The post ہے جرم ِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات؛ مقتول بھی ہم، مجرم بھی ہم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2ODaRPb

کوچۂ سخن

غزل


بجھا کے رقص کیا رات بھر چراغ کی لَو
جلی ہے دیکھیے اس بات پر چراغ کی لو
یہ میرا عکس گریزاں ہے کس لیے مجھ سے
ہے جب چراغ کے نزدیک تر چراغ کی لو
مجھے پتا نہیں چلتا کہ کون کون ہے ساتھ
شبِ بلا میں نہ گُل ہو اگر چراغ کی لَو
وہاں کے لوگ تھے ترسے ہوئے اندھیرے کو
میں رک گیا تھا جہاں دیکھ کر چراغ کی لَو
اُسے ہَوا نہیں دوری بجھانے والی ہے
مجھے جو لگنے لگی ہے شرر چراغ کی لو
گزارا کرنا پڑا رات کی طوالت پر
میں کرسکا نہ بڑی کھینچ کر چراغ کی لَو
(مسعود صدیقی، فیصل آباد)


غزل
سماعتوں میں گھولنے لگا تھا رَس بیان سے
وہ خوش بیان بولنے لگا تھا جب زبان سے
وہ وقت بھی چلا گیا، وہ شام بھی گزر گئی
مگر وہ شخص جا نہیں رہا ہے میرے دھیان سے
وہ زود رنج تھا کسی کی کج ادائی سے مگر
نکال نہ سکا وہ خود کو شاید اس گمان سے
وہ خوش خصال جب ملا نظر جھکائے ہی ملا
وہ لگ رہا تھا سلجھے ہوئے، نیک خاندان سے
کسی کی معذرت سے بھی نہ بھر سکیں گے گھائو یہ
پلٹ کے تیر آیا کب جو چل چکا کمان سے
رہے گا کون، کب تلک، کسے دوام ہے بھلا
چلے ہی جانا ہے، چلے ہی جائیں گے جہان سے
(حنا کوثر، منڈی بہاؤ الدین)


غزل


مرنے والوں سے پوچھتا ہوں مَیں
جانے کس کے گلے لگا ہوں میں
نامہ بر خط ترا نہیں آیا
بس! اسی سوچ میں مرا ہوں مَیں
مطلبی دوست ہیں تمام یہاں
آخری بات پر اڑا ہوں میں
تیری پوجا نہیں کروں گا سُن
ایک آدم کی ہاں خطا ہوں میں
تیز بارش میں دشت کی جانب
اک مسافت کو لے گیا ہوں مَیں
اپنے ہاتھوں میں لے کے سورج کو
تیری دہلیز پر کھڑا ہوں میں
دشمنی آپ سے ارے توبہ
کس کی باتوں میں آگیا ہوں میں
پھر خیالِ ندیمؔ میں کھو کر
ایک مدت جیا گیا ہوں مَیں
(ندیم ملک، کنجروڑ، نارو وال)


غزل


لبوں پر گُل تسلی کے نمایاں کیوں نہیں ہوتے
پریشانی پہ میری تم پریشان کیوں نہیں ہوتے
ہمارے گھر میں دیکھو ایک مدت سے اندھیرا ہے
محبت کے چراغ آخر فروزاں کیوں نہیں ہوتے
قدم اپنے خیالِ یار ہی سے لڑکھڑاتے ہیں
تو ہم نذرِ نگاہِ جانِ جاناں کیوں نہیں ہوتے
اگر وہ غم کی دنیا میں رہے ہوتے تو کیوں کہتے
غریبوں کے مکانوں پر چراغاں کیوں نہیں ہوتے
سمجھ بیٹھے ہیں شاید چاندنی وہ اپنے دامن کو
میں اب سمجھا کہ چاک ان کے گریباں کیوں نہیں ہوتے
جو گھبراہٹ سے کانپے تھے ہمارے نام پر معراجؔ
ستم کرتے ہوئے وہ ہاتھ لرزاں کیوں نہیں ہوتے
(محمد معراج صدیقی، آصف نگر، کراچی)


غزل


خواہش تھی جس کی آج تک حاصل نہیں ہوا
شاید میں دردِ عشق کے قابل نہیں ہوا
بیگانگی رہی ہے مجھے اپنی ذات سے
تجھ سے تو ایک لمحہ بھی غافل نہیں ہوا
اس بار تیری شوخیِ چشمِ غضب نہیں
اس بار میں تو پہلے سا گھائل نہیں ہوا
نکلا تھا تیرے حکم پہ جنت سے ایک روز
پھر اپنی ضد پہ آج تک داخل نہیں ہوا
میں گر ترے وجود میں شامل نہیں تھا دوست
تو بھی مرے وجود میں شامل نہیں ہوا
شہباز ؔ اس کو تجھ پہ تو راسخ یقین تھا
پھر کیوں وہ تیری بات پہ قائل نہیں ہوا
(شہباز راجہ، سرگودھا)


غزل


تم وسعتِ بے انت، جہاں سرِ نہاں ہو
تم کوئی حقیقت بھی ہو یا ویسے گماں ہو؟
میں ڈار سے بچھڑے ہوئے پنچھی کی طرح ہوں
تم اس کے لیے چلتی ہوا، پھیلا جہاں ہو
میں شام کے منظر میں ہوں تحلیل شدہ اور
تم دور کسی گاؤں کی، مغرب کی اذاں ہو
میں چلنے سے پہلے کا کوئی تیر ہوں رکھا
تم مجھ کو چلانے کے لیے کوئی کماں ہو
میں پھیلے ہوئے دشت کی بے انت فضا ہوں
تم چھوڑے ہوئے لوگوں کا ویران مکاں ہو
(زاہد خان، ڈیرہ اسماعیل خان)


غزل


ہوا غبارے میں ڈھیر ہونے سے پھٹ گیا ہے
وہ چار زخموں پہ مجھ سے آ کے لپٹ گیا ہے
میں زندگی کا یہ روزنامہ پڑھوں تو کیسے؟
مرا ستارہ مری نظر سے جو ہٹ گیا ہے
جہاں ہماری محبتوں میں نہ تھی جدائی
وہ شہر خوابوں کے جاگنے سے اُلٹ گیا ہے
جو ہجر پر امتحاں میں کوئی سوال آیا؟
وہ کیا لکھے گا کہ وصل کا باب رٹ گیا ہے؟
جو تیر پھینکا تھا اس نے مجھ پر جفا نما سا
وہ تیر دیکھو وہیں سے واپس پلٹ گیا ہے
یہی ہے شاہ میر جو کہیں پر سمٹ نہ پایا
تری جو بانہوں میں آ کے جاناں سمٹ گیا ہے
(شاہ میر ایلیا، سرگودھا)


غزل


کیسے آباد یہ گُل زار ہے، میں جانتا ہوں
حافظِ گُل بھی تو اک خار ہے، میں جانتا ہوں
جو نظر کے لیے دھوکہ ہے سب کے سامنے ہے
پر حقیقت پسِ دیوار ہے میں جانتا ہوں
طشت میں پھول دکھا کر مجھے گمراہ نہ کر
کہ ترے بغل میں تلوار ہے، میں جانتا ہوں
زلزلہ تو نہیں آیا ہے مگر غور سے سن!
کانپتا کیوں در و دیوار ہے، میں جانتا ہوں
میں کفن باندھ کے لڑنے کے لیے نکلا ہوں
دشمنوں میں بھی مرا یار ہے میں جانتا ہوں
میں کبھی ٹوٹ کے بکھروں تو تسلی دے گا
میرا مَن میرا پرستار ہے، میں جانتا ہوں
یونہی بھٹکا نہیں یہ راہ سے اپنی یاسرؔ
نااہل قافلہ سالار ہے، میں جانتا ہوں
(یاسر یاروی، اسکردو)


غزل


گلی گلی میں ستارہ شناس پھرتے ہیں
تمھارے شہر میں شاعر اداس پھرتے ہیں
یہ لوگ میری معیت میں بھی رہے ہیں کبھی
یہ لوگ اب جو ترے آس پاس پھرتے ہیں
غزال آنکھیں، تو ہیں ملگجی بدن اُن کے
جو فاقہ مست و دریدہ لباس پھرتے ہیں
فرات ان کے لیے مضطرب ہے صدیوں سے
اٹھا کے مشک میں اپنی جو پیاس پھرتے ہیں
کوئی بھی تجھ سا نہیں ہے مری نگاہوں میں
جہاں میں تیرے کئی التباس پھرتے ہیں
یہ کون ہیں یہ مرے شہر کے نہیں ہیں اسدؔ
عجیب صورتوں میں بد حواس پھرتے ہیں
(اسد اعوان، سرگودھا)


غزل


اک مصوّر نے بچھایا آئنہ
چاند کو پورا بنایا آئنہ
پوری دنیا دیکھ سکتا ہوں ابھی
اک نجومی نے دلایا آئنہ
خود کو میں تنہا سمجھتا ہی نہیں
جب سے کمرے میں لگایا آئنہ
ساری بستی کو خبر یہ ہوگئی
شہر سے کس نے چرایا آئنہ
میرے عیبوں کو چھپائے، اس لیے
اپنے ہاتھوں سے بنایا آئنہ
پورا کمرہ روشنی سے بھر گیا
آئنے کو جب دکھایا آئنہ
حُسن زادی مر بھی سکتی تھی نذیر
جھونپڑی سے کیوں ہٹایا آئنہ
(نذیر حجازی، نوشکی۔ بلوچستان)


غزل


خوش خیالوں کے امیں ہیں سائیں
نور والوں کے امیں ہیں سائیں
ہم تو خورشید بکف پھرتے ہیں
ہم اجالوں کے امیں ہیں سائیں
جو بھرے نور سے رہتے ہیں سدا
انہی پیالوں کے امیں ہیں سائیں
دور بستی میں یہ پھیلے کھنڈر
خستہ حالوں کے امیں ہیں سائیں
پائے نازک میں پڑے تھے جو کبھی
انہی چھالوں کے امیں ہیں سائیں
لبِ یاسین پہ جم ہیں جو گئے
انہی نالوں کے امیں ہیں سائیں
(ایم یاسین آرزو، لاہور)


غزل


بہاروں کا عالم بہاروں سے پوچھو
مری بے کسی چاند تاروں سے پوچھو
بجایا تھا کیوں میں نے سازِ محبت
یہ قصہ مرے دل کے تاروں سے پوچھو
ہوا کس طرح غرق میرا سفینہ؟
یہ موجوں سے پوچھو، کناروں سے پوچھو
کہاں تک گئے ہیں تیری جستجو میں
ہمیں کیا خبر بے سہاروں سے پوچھو
کہاں تک جلے گا چراغِ تمنا
یہ وعدوں سے اور انتظاروں سے پوچھو
کہاں میں نے اپنی جوانی فدا کی؟
کسی کی حسیں رہ گزاروں سے پوچھو
(صابر میاں، ٹوبہ ٹیک سنگھ)


غزل
دردِ دل کیوں بڑھاتا جاتا ہے
کون سا غم ہے جو چھپاتا ہے
رنگ کیا کیا نہ ہم نے دیکھ لیے
کون سا رنگ اب دکھاتا ہے
قدر چاہت کی کسی نے پائی یاں
ہاں مگر دل تو خون رلاتا ہے
وقت جو مسکرانے میں گزرا
اس کی قیمت کوئی چکاتا ہے؟
اونچا اڑنے میں ہو پروں میں زور
خواب تو دل بہت دکھاتا ہے
پاس تھے جب تو کوئی قدر نہ تھی
فاصلہ تشنگی بڑھاتا ہے
عمر کافی گنوا لی ہم نے اب
زیست کا دیپ ٹمٹاتا ہے
(سائرہ حمید تشنہ، فیصل آباد)


غزل


یاد آتا ہے تجھے دل میں بسائے رکھنا
اپنی آنکھوں کو محبت سے جھکائے رکھنا
موت حیران ہوئی ایسا بھلا ممکن ہے؟
بوجھ خود نعش کا کاندھوں پہ اٹھائے رکھنا
رات کے پچھلے پہر تم جو چلے آئے ہو
تم پہ لازم ہے سنو راز چھپائے رکھنا
ڈال دیتا ہے تعجب میں کئی لوگوں کو
شوق کے بحر کو سینے میں سمائے رکھنا
جانچ کر ہجر کے ابواب حسّانی نے کہا
یار کی یاد سے فرقت کو مٹائے رکھنا
(حسن رضا حسانی، سیالکوٹ)

کہتے ہیں جذبات کو تصور، تصور کو الفاظ مل جائیں تو شعر تخلیق ہوتا ہے اور یہ صفحہ آپ کے جذبات سے آراستہ تخلیقات سے سجایا جارہا ہے۔ آپ اپنی نظم، غزل مع تصویر ہمیں درج ذیل پتے پر ارسال کر سکتے ہیں۔ معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔
صفحہ ’’کوچۂ سخن‘‘
روزنامہ ایکسپریس (سنڈے میگزین)،5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ، کراچی
arif.hussain@express.com.pk

The post کوچۂ سخن appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Wz1QcL

سانحہ کرائسٹ چرچ ہمیں سبق دے گیا نفرت کا مقابلہ محبت سے!

جنوبی افریقہ کے لیجنڈری رہنما، نیلسن منڈیلا کا خوبصورت قول ہے ’’کوئی بھی انسان اس طرح پیدا نہیں ہوتا کہ وہ رنگ، نسل یا زبان کی بنیاد پر دوسرے انسانوں سے نفرت کرے… اسے نفرت کرنا سیکھنی پڑتی ہے۔ اگر ایک انسان نفرت کرنا سیکھ سکتا ہے، تو اسے محبت کرنا بھی سکھایا جاسکتا ہے۔ محبت کو اپنانا ویسے بھی آسان ہے کہ انسان کا دل قدرتی طور پر اسی کی جانب کھنچتا ہے۔‘‘

یہ حقیقت ہے کہ نفرت کے مقابلے میں محبت کہیں زیادہ طاقتور جذبہ ہے۔ نیوزی لینڈ کی مساجد پر حملوں کے بعد پوری دنیا میں اسی جذبے کی فقید المثال کارفرمائی نظر آئی۔ اپنے پرائے سبھی نے نفرت کے ہرکارے، برینٹن ٹیرنٹ کے اقدام کی مذمت کی اور اسے اور اس کی طرز فکر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ دنیائے مغرب میں قوم پرست اور انتہا پسند اس کی تعریف میں رطب للسان رہے مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک برابر تھی۔

دنیائے اسلام میں یہ تاثر جنم لے چکا تھا کہ کوئی مغربی باشندہ قتل عام کا ارتکاب کرے تو اسے مغربی میڈیا میں ’’جنونی‘‘، ’’پاگل‘‘ اور ’’لون و لف‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس بات کا چرچا ہوتا ہے کہ یہ ایک انفرادی فعل تھا۔ لیکن جب کوئی مسلمان کسی بھی ردعمل میں فائرنگ کر ڈالے، تو مغربی میڈیا سبھی مسلمانوں اور اسلام کو بدنام کرنے لگتا ہے۔ سب مسلمان فوراً دہشت گرد قرار پاتے ہیں۔ لیکن کرائسٹ چرچ کی مساجد پر حملے کے بعد یہ تاثر کچھ حد تک ضرور زائل ہوگیا۔

اس کی ایک اہم وجہ وہ طریق کار ہے جسے اپنا کر برینٹن ٹیرنٹ نے نہتے اور معصوم نمازیوں کو نشانہ بنایا۔ وہ پہلے اطمینان سے کار چلاتا مسجد پہنچا۔ لگ رہا تھا کہ وہ انسانوں کو قتل کرنے نہیں پکنک منانے اور سیروتفریح کرنے جارہا ہے۔ گویا وہ سادیت پسندی (Sadism) کو نئی انتہا پر لے گیا۔ (سادیت پسند لوگ دوسروں کو دکھ و تکلیف دے کر لذت محسوس کرتے ہیں)۔ برینٹن نے پھر بڑی سنگ دلی سے انسانوں پر گولیاں برسائیں اور ننھے بچوں اور بوڑھے افراد کو بھی نہیں بخشا۔ یہ سارا خوفناک منظر وہ دنیا والوں کے سامنے لائیو پیش کررہا تھا۔

وحشت و بربریت کے اسی زندہ مظاہرے نے پتھر دل لوگوں کو بھی جھنجھوڑ ڈالا اور وہ برملا برینٹن کو دہشت گرد کہنے لگے۔ یہ دہشت گردی ہی تھی جس نے مسلمانوں سے تعصب و نفرت رکھنے کی بنا پر جنم لیا۔ برینٹن ہوش و حواس رکھنے والا نوجوان ہے۔ اگرچہ تعصب و نفرت نے اسے اتنا بے حس اور اندھا بنا دیا کہ وہ محبت و پیار جیسے لطیف انسانی جذبوں سے محروم ہوگیا۔

اس دلدوز سانحے کے بعد مگر پوری دنیا میں محبت، ہمدردی، غم خواری اور دلجوئی کے یادگار مناظر سامنے آئے۔ اجنبی بھی بڑھ کر سانحہ کرائسٹ چرچ کے متاثرین اور اسلامی برادری کو تسلی و تشفی دینے لگے۔ ان کو نہ صرف جذباتی سہارا دیا گیا بلکہ مالی مدد کے لیے چندہ مہمات بھی شروع کی گئیں۔ دنیا بھر میں ایسے کئی اقدامات اٹھائے گئے جن کے ذریعے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کرنا اور انہیں پیغام محبت دینا مقصود تھا۔

انسان دوستی کے اقدامات

دلوں کا حال اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں مگر لاکھوں غیر مسلموں کے طرز عمل سے عیاں ہوا کہ دنیا بھر میں انسانیت پسندی آج بھی مضبوط و توانا اور جاری و ساری ہے۔ جب کسی برداری پر غم و اندوہ کے پہاڑ ٹوٹے، تو سبھی دوسری اقوام تمام تعصبات اور اختلافات بھلا کر اس کی مدد کرنے پر کمربستہ ہوجاتی ہیں۔

مثال کے طور پر سانحے کے بعد نیوزی لینڈ کی سرکاری اور نجی تنظیموں نے ان ویب سائٹس پر فنڈز جمع کرنے کی خاطر خصوصی پیج بنا دیئے جن پر چندے کی اپیل کی جاتی ہے۔ ایک ایسا ہی پیج ’’گیواے لٹل‘‘ (Givealittle) نامی ویب سائٹ پر بنایا گیا۔ اگلے دو دن میں اس پیج نے پچاس لاکھ ڈالر جمع کرلیے۔ گیواے لٹل کی تاریخ میں یہ سب سے بڑی ڈونیشن بن گئی۔

اس طرح دیگر سماجی ویب سائٹس پر بھی مختلف پیجوں کے ذریعے لاکھوں ڈالر جمع ہوئے۔ سب سے زیادہ امداد نیوزی لینڈ کے باشندوں سے موصول ہوئی۔ انہوں نے دل کھول کر عطیات دیئے تاکہ متاثرین کی مالی مدد کا انتظام ہوسکے۔ امدادی مہمات شروع کرنے والی تنظیموں کا کہنا تھا کہ گزر جانے والوں کو واپس لانا ممکن نہیں لیکن ہم ان کے زندہ پیاروں کی کسی نہ کسی طرح مدد کرنا چاہتے ہیں۔

ایک پیج کیوی حکومت کے ادارے، کونسل آف وکٹم سپورٹ گروپس نے قائم کیا تھا۔ ادارے کی سربراہ، کیون ٹسو بتاتی ہے ’’نیوزی لینڈ اور دنیا بھر کے مردوزن نے کمال کی سخاوت اور فیاضی کا مظاہرہ کیا۔ اسے دیکھ کر میرا یہ ایمان پختہ ہوگیا کہ انسان بنیادی طور پر خیرو نیکی کی سمت زیادہ مائل ہوتا ہے۔‘‘

کرائسٹ چرچ میں مقامی سطح پر ہزارہا لوگوں نے ہر قسم کا سامان جمع کرکے متاثرین کے خاندانوں تک پہنچایا۔ اس سامان میں کھانے پینے کی اشیا اور ملبوسات شامل تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ سانحے کے موقع پر کئی غیر مسلموں نے نمازیوں کی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

انڈونیشیا کا طالب علم، عرفان یونیتو بتاتا ہے ’’جب گن مین نے حملہ کیا، تو میں خطبہ جمعہ سن رہا تھا۔ تبھی گولیوں کی تڑتڑ اور لوگوں کی چیخیں سنائی دیں۔ میں جان بچانے کے لیے مسجد کے پچھلے حصے کی طرف دوڑ پڑا۔ مسجد کی دیوار پھلانگ کر پھر میں ایک گھر میں گھس گیا۔‘‘

مسجد کے نزدیک واقع اس گھر میں ایک ریٹائرڈ غیر مسلم اور سفید فام ڈاکٹر مقیم تھا۔ عرفان بتاتا ہے ’’جب میں وہاں پہنچا، تو دیکھا گھر میں پندرہ سولہ اور نمازی چھپے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر نے ہمارے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا۔ ہمیں مشروبات پلائے اور ہمیں آرام کرنے کی خاطر جگہ فراہم کی۔ اس کی مہمان نوازی سے ہم بہت متاثر ہوئے۔‘‘

عرفان اور دیگر نمازی چار گھنٹے تک ڈاکٹر کے گھر چھپے رہے۔ خوف و دہشت نے ان کے حواس سن کردیئے تھے۔ انہیں خطرہ تھا کہ اگر وہ باہر گئے، تو کوئی چھپا حملہ آور ان کو مار ڈالے گا۔ جب پولیس آئی، تو وہ اس کی حفاظت ہی میں باہرنکلے۔ یوں ریٹائرڈ ڈاکٹر کے جذبہ ہمدردی نے نمازیوں کی قیمتی زندگیاں بچالیں۔

اسی طرح جب حملہ ہوا، تو بعض سفید فاموں نے اپنی گاڑیاں روک لیں۔ انہوں نے زخمی مسلمانوں کو اپنی گاڑیوں میں سوار کرکے انہیں ہسپتال پہنچایا۔ تب انہوں نے اپنی جانوں کی بھی پروا نہیں کی۔یہ امکان موجود تھا کہ حملہ آور کے ساتھی انہیں بھی نشانہ بنا دیتے۔ لیکن وہ زخمی مسلمانوں کی زندگیاں بچانے کے لیے رک گئے۔ ان کے اس طرز عمل نے ثابت کردیا کہ ہر قوم میں اچھے یا برے، دونوں قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ حقیقتاً ہر قوم میں اچھے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔ مگر ’’ایک مچھلی سارے تالاب کو گندہ کر دیتی ہے ‘‘کے مصداق برے لوگوں کی سرگرمیاں ہی زیادہ نمایاں ہوتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اچھے مردوزن کے کارناموں کو زیادہ بڑھا چڑھا کر نمایاں کیا جائے تاکہ دنیا میں نیکی کا بول بالا ہوسکے۔

مساجد پر حملے کے بعد کرائسٹ چرچ میں مقیم دو ہزار مسلمان شدید خوفزدہ ہوگئے اور سڑک پر نکلنے سے گھبرانے لگے۔ تبھی شہر و لنگڈن کی رہائشی، لیانسی نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا:

’’اگر ولنگڈن میں کوئی مسلم خاتون باہر نکلنے سے گھبرا رہی ہے، تو وہ پریشان مت ہو… میں اس کے ساتھ پیدل چلوں گی۔ اس کے ہمراہ بس سٹاپ پر انتظار کروں گی۔ بس میں ساتھ بیٹھوں گی۔ خریداری کرنے میں مدد کروں گی۔‘‘

اس پوسٹ کو نیٹ پر بہت شہرت ملی اور ہزارہا لوگوں نے اسے شیئر کیا۔

اس قسم کی سرگرمیوں نے عیاں کیا کہ اگر دنیائے مغرب میں تعصب کا شکار مردوزن مسلمانوں کو دق کرتے ہیں، تو مغربی معاشروں میں ان کے حمایتی بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ضرورت پڑنے پر وہ مصیبت کا شکار مسلمانوں کی ہر ممکن مدد کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔

مسلم برادری سے اظہار یکجہتی

سانحے کے اگلے دن نیوزی لینڈ کا پرچم سرنگوں کردیا گیا۔ نیوزی لینڈ اور دیگر مغربی ممالک میں مساجد، چرچوں اور سرکاری اداروں میں تعزیتی اور تقاریب دعائیہ منعقد ہوئیں۔ ان میں محبت کا پیغام پھیلایا گیا۔ لوگوں کو تلقین کی گئی کہ وہ برداشت اور رواداری کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ نیز مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے والے اقدامات انجام دیں۔ آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں رات کے وقت اہم تاریخی عمارات پر روشنیوں کی مدد سے نیوزی لینڈ کا جھنڈا بنایا گیا۔ فرانس کے مشہور ایفل ٹاور میں رات کو اظہار افسوس کے لیے بتیاں گل کردی گئیں۔ نیوزی لینڈ کی تاریخ میں پہلی بار یہود نے مسلم برادری سے اظہار یکجہتی کے لیے اپنی عبادت گاہیں(صومعے)یوم سبت پر بند رکھیں۔

پچیس سالہ کارٹونسٹ، روبی جونز ویلنگڈن شہر کی رہائشی ہے۔ اس نے کرائسٹ چرچ واقعے سے متاثر ہوکر ایک یادگار کارٹون بنایا جس میں سفید فام لڑکی ایک مسلم لڑکی کو گلے لگا کر کہہ رہی ہے ’’یہ تمہارا گھر ہے۔ اور تمہیں یہاں محفوظ ہونا چاہیے۔‘‘

اس کارٹون کے متعلق روبی جونز کہتی ہے ’’میں ایک پیشہ ور کارٹونسٹ ہوں۔ جب مساجد میں دہشت گردی ہوئی تو یہ دیکھ کر میں صدمے سے گنگ رہ گئی۔ میری آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہوگئیں۔ اس موقع پر میں متاثرین کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھی۔ تبھی میں یہ کارٹون بنانے کا خیال آیا۔ اس کے ذریعے میں مسلم ہم وطنوں کو تسلی دینا اور ان سے ہمدردی کرنا چاہتی تھی۔ گلے لگانا معمولی سا عمل ہے مگر یہ پیار، محبت، بھائی چارے اور گرم جوشی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔‘‘

سوشل میڈیا میں روبی کے بنائے کارٹون کو بہت شہرت ملی اور ہزارہا مردوزن نے اسے شیئر کیا۔ ان میں 2017ء کی مشہور فلم ’’تھور: رگنا روک(Thor: Ragnarok) کا ڈائریکٹر، تیکا وتیتی بھی شامل تھا۔ یہ نیوزی لینڈ کا باشندہ ہے۔ اس نے کارٹون شیئر کرتے ہوئے لکھا:۔

’’میرا دل ٹوٹ چکا۔ میرا وطن آنسو بہا رہا ہے اور میں بھی۔ مجھے یہ سننے سے نفرت ہے کہ یہ سانحہ میرے دیس میں رونما ہوا۔ میں سبھی متاثرین اور مسلم کمیونٹی سے اظہار یکجہتی کرتا ہوں جنہوں نے ہمارے خوبصورت جزائر کو اپنا دیس بنایا۔ ایسا کرنا ہمارا وتیرہ نہیں۔‘‘

آسٹریلیا میں ایک کمیونیکیشن سٹرٹیجکس، لیچ ڈرمنڈ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے مسلمانان عالم کے ساتھ منفراد انداز میں اظہار یکجہتی کیا۔ اس نے غروب آفتاب کے وقت اذان سنائی اور اپنی پوسٹ میں لکھا:’’میں آسٹریلیا میں رہتا ہوں۔ میں (دکھ و افسوس کے ان لمحوں میں) سبھی مسلمانوں کے ساتھ کھڑا ہوں۔ ان کا درد بٹاتے ہوئے میں گھر میں اذان سنا رہا ہوں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ میں مسلمانوں کے ساتھ ہوں۔‘‘

ٹویٹر کی یہ پوسٹ بھی دنیا بھر میں ہزاروں لوگوں نے شیئر کی جن میں پاکستانی بھی شامل تھے۔ ایک پاکستانی صحافی عباس نصیر نے اسے شیئر کرتے ہوئے لکھا ’’اس نے مجھے دوبارہ رونے پر مجبور کردیا۔‘‘ ایک ٹی وی پروڈیوسر، عالیہ چغتائی نے لکھا ’’یہ دنیا مضحکہ خیز بن چکی۔ مگر اس قسم کے عمل عیاں کرتے ہیں کہ لوگوں میں ندرت و خوبصورتی ابھی باقی ہے۔ ‘‘جب لیچ ڈرمنڈ کو مسلمانوں میں زبردست پذیرائی ملی، تو اس نے دوسری پوسٹ میں لکھا: ’’سب کا بہت شکریہ۔ تاریکی کے باوجود مجھے جو محبت اور مثبت باتیں ملیں، انہوں نے مجھے مغلوب کردیا۔ مجھے یقین ہے، میرے چھوٹے سے عمل سے امن، محبت اور عزت کو پھیلنے میں مدد ملی۔‘‘

کرائسٹ چرچ کے لرزہ خیز واقعے نے ہالی وڈ کو بھی ہلا ڈالا۔ گائے اوسیرے مشہور گلوکارہ، میڈونا اور یوٹوبینڈ کا مینجر ہے۔ اس نے ویب سائٹ، گوفنڈمی میں مسلمان متاثرین کی امداد کے لیے فنڈز دینے کی اپیل کردی۔اس اپیل کے جواب میں ہالی وڈ کی مشہور شخصیات نے چندہ دیا۔ میڈونا نے دس ہزار ڈالر دیئے۔ ممتاز اداکار بن سٹلر اور ایشن کچر نے دو دو ہزار ڈالر دیئے۔ کامیڈی اداکار کرس راک کی طرف سے پانچ ہزار ڈالر آئے۔ یوں اوسیرے اپنی مہم کے ذریعے ڈیڑھ لاکھ ڈالر جمع کرنے میں کامیاب رہا جو متاثرین کو نیوزی لینڈ بھجوا دیئے گئے۔

دنیائے مغرب کی ممتاز سیاسی، سماجی، علمی اور سپورٹس و فلم سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بھی بیان دے کر مسلمانان عالم سے اظہار تعزیت کیا۔ اکثر لوگوں کا کہنا تھا کہ کرائسٹ چرچ واقعہ بڑھتے اسلاموفوبیا کی وجہ سے رونما ہوا۔ سابق امریکی صدر، بارک اوباما نے لکھا: ’’میں اور میخائیل مسلم کمیونٹی سے اظہار تعزیت کرتے ہیں۔ دنیا کے تمام لوگوں کو ہر قسم کی نفرت کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔‘‘

امریکا کی ایمی ایوارڈ یافتہ اداکارہ، ڈیبرا میسنگ نے ٹویٹ کیا ’’مسلمانان عالم کے لیے… نیوزی لینڈ میں جو سانحہ رونما ہوا، اسے دیکھ کر میں صدمے اور غم سے نڈھال ہوں۔ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ ہم سفید فام انتہا پسندی اور اسلاموفوبیا کے خلاف جنگ کریں گے حتیٰ کہ ہم سب خوف و دہشت سے نجات پالیں۔‘‘

معاشی طور پر دنیا کے ایک طاقتور ملک، سنگاپور کے وزیراعظم لی ہسین لونگ نے اپنے بیان میں کہا ’’یہ حادثہ ہمیں خبردار کرتا ہے کہ عالمی امن کے لیے دہشت گردی ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ اس دلدوز سانحے کے ذریعے کوشش کی گئی کہ انسانی معاشروں میں خوف اور نفرت پھیل سکے اور انسانوں کے مابین تقسیم جنم لے۔ ہم سب کو اس کا جواب اتحاد، محبت، رواداری اور برداشت سے دینا چاہیے۔‘‘

ترکی کے وزیراعظم طیباردغان نے بھی کرائسٹ چرچ واقعے کی مذمت کی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ’’پچھلے کئی برس سے عالمی سطح پر مسلمانوں کا استحصال ہورہا ہے اور دنیا والے ہاتھ پر ہاتھ رکھے بے پروائی سے سارا منظر دیکھتے رہے۔ پہلے انتہا پسند انفرادی طور پر مسلمانوں کو تنگ کرتے تھے، اب بات قتل عام تک پہنچ چکی۔ اگر مسلم دشمن قوتوں کے خلاف اقدامات نہیں کیے گئے، تو اس قسم کے مزید حادثات رونما ہوں گے۔‘‘

میری بیٹی کے نام پر نہیں

کرائسٹ چرچ شوٹنگ کے مرتکب، بدبخت برینٹن ٹیرنٹ نے ایک ویب سائٹ پر اپنا منشور پوسٹ کیا تھا۔ اس میں برینٹن نے لکھا کہ وہ سویڈش لڑکی، ایبا ایکرلنڈ کی موت کا بھی بدلہ لے رہا ہے۔ اس نے ایبا کا نام اپنی ایک گن پر بھی کندہ کیا۔

اپریل 2017ء میں ایک ازبک باشندے نے اسٹاک ہوم میں اپنا ٹرک راہ چلتے لوگوں پر چڑھا دیا تھا۔ اس افسوسناک واقعے میں گیارہ سالہ ایبا سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ بعد میں پتا چلا کہ سویڈش حکومت نے ازبک باشندے کی درخواست پناہ گزینی مسترد کردی تھی۔ اس پر اسے اتنا غصہ آیا کہ وہ قاتل اور خونی بن گیا۔

ایبا کی والدہ، جینت اکرلینڈ نے مگر بیان دیا کہ منشور میں اپنی بیٹی کا نام پڑھ کر میں دم بخود رہ گئی۔ میری بیٹی کسی سے نفرت نہیں کرتی تھی۔ وہ امن و محبت کی پرستار تھی جو ایک ناراض روح کے غصّے کی بھینٹ چڑھ گئی۔ میں سانحہ سے متاثر خاندانوں کے دکھ درد کو سمجھ سکتی ہوں اور ہر قسم کی نفرت پر لاکھ بار لعنت بھیجتی ہوں۔‘‘

برینٹن نے اپنے منشور میں اطالوی باشندے، لوکا تیرانی کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور اپنی ایک بندوق پر اس کا نام جلی حروف سے لکھا۔ لوکا نے 2018ء میں نسلی تعصب کی بنیاد پر چھ افریقی مہاجرین کو گولیاں مار دی تھیں تاہم ان کی جانیں بچ گئیں۔ لوکا اس جرم کے باعث بارہ سال کی جیل کاٹ رہا ہے۔

سانحہ کرائسٹ چرچ کے بعد لوکا تیرانی کے وکیل، گیانوکا گیولیانی نے صحافیوں کو بتایا کہ اس کے موکل نے سانحے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وجہ یہ کہ لوکا اپنے کیے پر پچھتا رہا ہے اور اب وہ نفرت سے تائب ہوچکا۔

مسلمانانِ عالم کے نئے ہیرو

سفاک برنیٹن ٹینٹ نے کرائسٹ چرچ کی مساجد میں زیادہ سے زیادہ نمازیوں کو شہید کرنے کا پورا گرام بنا رکھا تھا۔ وہ چار جدید گنوں اور لا تعداد گولیوں سے مسلح تھا۔ یہی وجہ ہے وہ جیسے ہی النور مسجد پہنچا‘ بے دریخ فائرنگ کرنے لگا۔ موت کو قریب دیکھ کر بڑے بڑے جی داروں کا پتا پانی ہو جاتاہے۔ اس صورتحال میں غیر معمولی انسان ہی دلیری‘ بے غرضی اور ایثار کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کرائسٹ چرچ کی دونوں مساجد میں ایسے بہادر انسان ہی سامنے آئے۔

برنیٹن النور مسجد کے مرکزی کمرے میں داخل ہوا‘ تو گولیوں اور کراہوں کی آوازیں سن کر وہاں بیٹھے نمازی دائیں اور بائیں کونوں میں سمٹ گئے تھے۔ برنیٹن دیوانہ وار ان پر فائرنگ کر رہا تھا۔ جب وہ دائیں سمت متوجہ تھا‘ تو بائیں طرف موجود پچاس سالہ نعیم راشد قاتل کی جانب لپکے ۔ وہ اسے قابو کرنا چاہتے تھے لیکن برنیٹن نے انہیں دیکھ لیا اور ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔نعیم بعدازاں ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گئے۔

نعیم راشد کا تعلق ایبٹ آباد سے تھا۔ وہ ملکی حالات سے گھبرا کر اور اچھی زندگی کی تلاش میں نو سال پہلے نیوزی لینڈ چلے گئے تھے۔ وہاں کے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی خاطر پورے خاندان کو جد وجہد کرناپڑی۔ آخر اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور زندگی آرام و آسائش سے گذرنے لگی۔ ان کے بڑے بیٹے‘ طلحہ کوکچھ عرصہ قبل ہی ملازمت ملی تھی۔ اب کچھ عرصے بعد اس کی شادی تھی۔ مگر النور مسجد میں وہ بھی اپنے ساتھیوں کی جانیں بچاتے ہوئے شہید ہو گیا۔ یوں پاکستانی باپ بیٹے نے دلیری و ایثار کا نیا باب رقم کر ڈالا۔

نعیم اور طلحہ کی بہادری کو پوری دنیا میں سراہا گیا۔ وزیراعظم نیوزی لینڈ نے پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران پاکستانی سپوت کا ذکر کیا۔ وزیراعظم پاکستان نے اعلان کیا کہ نعیم راشد کو زبردست شجاعت کا مظاہر کرنے پر قومی ایوارڈ ملے گا۔ نعیم اپنے ساتھیوں کی جانیں تو نہ بچا سکے مگر نہتے ہونے کے باوجود انہوں نے جس دلیرانہ اندازمیں مسلح اور جنونی حملہ آور کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی وہ اس کا ثبوت ہے کہ برائی کے مقابلے میں اچھے لوگ ہمیشہ آگے بڑھتے رہیں گے چاہے انہیں اپنی جان ہی کی قربانی دینا پڑے۔

النور مسجد میں بیالیس نہتے نمازی شہید کرنے کے بعد جنونی قاتل لن وڈ مسجد پہنچا۔ یہ چند میل دور تھی۔ لگتا ہے کہ حملہ آور قریب سے اس مسجد کی ’’ریکی‘‘ نہیں کر سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے وہ مسجد کا مرکزی دروازہ ڈھونڈنے میںناکام رہا۔برنیٹن پھر فٹ ہاتھ پر چلتے نمازیوں پر فائرنگ کرنے لگا۔ اس نے کھڑکیوں کے ذریعے بھی مسجد میں موجود نمازیوں کو نشانہ بنایا۔ اس وقت افغانستان سے آیا عبدالعزیز بھی مسجد کے باہر کھڑا تھا۔ اندر اس کے چار بچے نماز جمعہ پڑھنے آئے ہوئے تھے۔

48 سالہ عبدالعزیز سمجھ گیا کہ اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کرنے والا کوئی انتہا پسند مسجد میں سبھی نمازیوں کو شہید کرنا چاہتا ہے۔ اس نے اپنے بچوں اور ہم مذہبوں کی زندگیاں بچانے کا تہیہ کر لیا۔ اس نے یہ حکمت عملی اختیار کی کہ حملہ آور کو مسجد کے اندر داخل نہ ہونے دیں۔ چنانچہ وہ چیخ کر اور ہاتھ ہلا کر برنیٹن کو اپنی سمت متوجہ کرنے کی کوشش کرنے لگا۔

جب برینٹن بدستور کھڑکیوں کے ذریعے مسجد میں فائرنگ کرتا رہا‘ تو عبدالعزیز نے قریب ہی نصب کریڈٹ کارڈ مشین اکھاڑی اور حملہ آور کی جانب پھینک دی۔ اب برینٹن اس کی طرف متوجہ ہو کر عبدالعزیز پر گولیاں چلانے لگا ۔ اس نے پھرتی سے گاڑیوں کے پیچھے ہو کر اپنی جان بچائی۔

اس دوران برینٹن دوسری گن لینے اپنی کار کی جانب گیا۔ اس نے پہلی گن راہ میں پھینک دی تھی۔ عبدالعزیز تیزی سے چلی گن کی جانب لپکا اور اسے اٹھا کر لبلبی دبائی تاہم گولیاں ختم ہو چکی تھیں۔ادھر برینٹن دوسری گن سنبھال کر دوبارہ نمازیوں پر فائرنگ کرنے لگا۔ مگر تب تک سب نمازی کہیں نہ کہیں پناہ لے چکے تھے۔ اب برینٹن مسجد کے اندر جا کر ہی مزید نمازی شہید کر سکتا تھا۔ مگر بہادر عبدالعزیز اس کی راہ میں رکاوٹ بن گیا۔

جب برینٹن تیسری گن لینے گیا‘ تو عبدالعزیز نے اس سنہرے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اس نے ہاتھ میں پکڑی گن اس کے کار کے شیشے پر دے ماری۔ شیشہ چھناک سے ٹوٹ گیا۔ زور دار آواز نے برینٹن کو خوفزدہ کر دیا۔ وہ سمجھا کہ عبدالعزیز بھی کوئی اسلحہ رکھتا ہے ۔ لہٰذا اس نے افغان باشندے کو گالیاں بکیں اور پھر وہاں سے فرار ہو گیا۔

یوں بہادر عبدالعزیز یوں اپنی ذہانت اور دلیری کے ذریعے جنونی قاتل کو بھگانے اور مسجد میں موجود سینکڑوں نمازیوں کی جانیں بچانے میں کامیاب رہا۔ اگر خدانخواستہ برینٹن لن وڈ مسجد کے اندر پہنچ جاتا‘ تو النور مسجد کی طرح وہاں بھی کئی معصوم نمازی ظلم کا شکار ہو جاتے۔ عبدالعزیز کی حاضر دماغی نے لیکن صورتحال خراب ہونے سے بچا لی۔ یوں وہ مسلمانوں کا ہیرو بن گیا۔النور مسجد میں 42سالہ حسن آرا بھی اپنے خاوند فریدالدین کے ساتھ آئی ہوئی تھیں۔ ان کا تعلق بنگلہ دیش سے تھا۔ فریدالدین کی طبیعت خراب تھی‘ اس لیے وہ وہیل چیئر پر مسجد آئے تھے۔ جب حملہ ہوا تو حسن آرا خواتین کے حصّے میں تھیں۔ گولیوں اور چیخوں کی آوازیں سن کر قدرتاً اسی حصے میں خوف و دہشت کا ماحول بن گیا۔

حسن آرا نے تاہم اپنے اوسان بحال رکھے۔ اس حصّے سے ایک دروازہ پچھلی سمت کھلتا تھا۔ حسن آرا نے اس دروازے کے ذریعے کئی خواتین اور بچوں کو کمرے سے باہر نکال دیا۔ چنانچہ جب برینٹن دندناتا ہوا اس حصّے میں پہنچا‘ تو صرف حسن آرا اور چند دیگر بوڑھی خواتین ہی وہاں موجود تھیں۔ وحشی نے انہیں گولیاں مار کر شہید کر دیا۔

اسی طرح حسن آرا بھی مسلمانان عالم کی نئی ہیرو بن گئی ۔وہ چاہتی تو باآسانی دروازے سے نکل کر اپنی زندگی بچا سکتی تھیں۔ لیکن انہوں نے زبردست ایثار کا مظاہر کیا اور اپنی ساتھیوں اور بچوں کی جانیں بچانے کو ترجیح دی۔ یہ دراصل اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کا نتیجہ تھا۔ اسلام ہی مسلمانوں کو بے غرضی‘ دلیری اور دوسروں کے کام آنے کی تلقین کرتا ہے۔ کامل مومن مصیبت میں ہمیشہ دوسر وں کی زندگیاں اپنی جان پر مقدم رکھتا ہے۔ وہ پہلے دوسروں کو بچاتا پھر اپنا تحفظ کرتا ہے۔ اسی اصول پر گامزن رہتے ہوئے حسن آراء نے بھی اپنی جان ہم مذہبوں پر قربان کر دی۔

جس نے مسلمانوں کا دل موہ لیا
کرائسٹ چرچ کی مساجد پر حملہ کرنے والے جنونی کو یقین تھا کہ بے گناہوں کو مارنے سے وہ بین الاقوامی شہرت حاصل کر لے گا۔مگر کاتب ِتقدیر نے تو کچھ اور ہی طے کر رکھا تھا۔اس سانحے کے بعد نفرت کے ہرکارے نہیں محبت کی علامت،وزیراعظم نیوزی لینڈ،جیسندا آرڈرن نے عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں جگہ پائی اور اپنے مثالی انداز ِحکمرانی کی وجہ سے مسلمانان ِعلم کی ہیرو بن گئیں۔

37سالہ جیسندا دنیا کی سے سے کم عمر حکمران ہیں۔سانحے کے بعد اکثر مغربی حکمرانوں کے برعکس انھوں نے اسے ’’دہشت گردی‘‘کا واقعہ قرار دیا۔برینٹن کوئی پاگل یا نفسیاتی مریض نہیں ’’دہشت گرد‘‘قرار پایا۔وزیراعظم نے پھر نیوزی لینڈ میں بسنے والے تقریباً پچاس ہزار مسلمانوں کی دلجوئی کرنے اور انھیں تسلی وتشفی دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔یوں وہ ایک ہمدرد وشفیق حکمران کی حیثیت سے نمایاں ہوئیں۔

جیسندا نے پھر مسلمانوں سے اظہار ِیکجہتی کی خاطر غیرمعمولی اقدامات کیے۔تقاریب میں حجاب اوڑھ کر شریک ہوئیں۔گفتگو کا آغاز السلام علیکم سے کیا۔پارلیمنٹ میں تلاوت قران پاک سے اذان نشر ہوئی۔یہ مہم بھی چلائی گئی کہ تعزیتی تقریبوں میں غیرمسلم خواتین حجاب لے کر شریک ہوں۔غرض جیسندا آرڈرن نے ہر ممکن وہ قدم اٹھایا جس سے انتہاپسندی اور قوم پسندی کے مبنی بر تعصب نظریات وخیالات کو ضعف پہنچے۔جبکہ رواداری،برداشت،محبت اور امن کے مثبت نظریات کا بول بالا ہو جائے۔

وزیراعظم نیوزی لینڈ زبانی دعوی کرنے تک محدود نہیں رہیں ،انھوں نے چند دن کے اندر اندر خودکار ہتھیاروں کی عوام میں فروخت پر پابندی لگا دی۔ان کے عملی اقدامات سے ملک بھر میں افہام وتفہیم اور بھائی چارے کی فضا نے جنم لیا۔نیوزی لینڈ کے غیرمسلموں نے اپنی رہنما کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے بڑی تعداد میں انتہا پسندی کے خلاف مظاہرے کیے اور مسلم قوم سے اظہار یک جہتی کیا۔غرض جیسندا نے بڑی حکمت وتدبر سے سنگین حالات میں نہ صرف اپنی ریاست میں امن برقرار رکھا ،نفرت کے شعلوں کو بھڑکنے نہیں دیا بلکہ دنیا کے سبھی حکمرانوں کو یہ نہایت اہم پیغام دیا کہ آفت ومصبیت کے سمے ایک حکمران کو کس قسم کے برتاؤ اور طرزعمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

معاشی،مذہبی،تہذیبی ،معاشرتی اختلافات کے باعث آج دنیا میں نفرت ودشمنی کی آگ پھیل رہی ہے۔جیسندا آرڈرن جیسے ہمدرد،مخلص اور انسان دوست لیڈر ہی محبت و امن کے ٹھنڈے میٹھے اقدامات سے یہ بھڑکتی آگ بجھا سکتے ہیں۔

The post سانحہ کرائسٹ چرچ ہمیں سبق دے گیا نفرت کا مقابلہ محبت سے! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2FNsp8F

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...