پاکستان نے خیر سگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سکھوں کے مقدس مقام گوردوارہ کرتار پور کو کھولنے کی پیش کش کر دی تھی جس سے توقع تھی کہ بھارت اس پیش کش کا مثبت جواب دے گا لیکن بھارت کو چونکہ اپنی تاریخ کے نہایت کے نہایت اہم عام انتخابات کا مرحلہ در پیش ہے بالخصوص ایسے موقع پر جب بی جے پی کئی ریاستی انتخابات میں شرمناک شکست کھا چکی ہے اور اسے عام انتخابات میں بھی اپنی ہزیمت کا خطرہ ہے لہذا وہ پاکستان کو بہانے بہانے سے آنکھیں دکھانا ناگزیر تصور کرتا ہے خواہ اس کی کوئی منطق ہو یا نہ ہو۔ اس کے نتیجے میں بھارت نے 2 اپریل کو کرتار پور راہداری پر ہونے والے مذاکرات یک طرفہ طور پر ملتوی کرتے ہوئے راہداری کے بعض پہلوؤں پر پاکستان سے وضاحتیں طلب کر لی ہیں۔
پاکستان نے بھارتی فیصلے پر سخت مایوسی کا اظہار کیا ہے، جب کہ بھارتی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت پاکستان سے کرتارپور راہداری کے حوالے سے اہم تجاویز کے بارے میں کچھ وضاحتیں چاہتا ہے۔ پاکستان جب بھارت کے تحفظات دور کر دے گا تو پھر کوریڈورکی باقی تفصیلات طے کرنے کے لیے مناسب وقت پر بات چیت کی جائے گی۔ ویسے تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بھارت اس وقت کوئی اور بہانہ بنا کر پھر یہی حرکت کرے اور مذاکرات سے دوبارہ انکار کر دے۔
جمعہ کے روز نئی دہلی میں پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو بھارتی دفتر خارجہ میں طلب کر کے انھیں مذاکرات سے قبل راہداری کے بعض پہلوؤں پر بھارت کی غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ بھارت کو پاکستان کی طرف سے قائم کی گئی 10 رکنی راہداری کمیٹی میں بعض متنازع سکھوں کو شامل کرنے پر بھی اعتراض ہے۔ بھارت ویزا فری کوریڈور کے ذریعے روزانہ پانچ ہزار اور خاص تہواروں پر اس سے تین گنا زیادہ یعنی پندرہ ہزار یاتریوں کی گوردوارہ کرتار پور تک رسائی کا خواہشمند ہے لیکن پاکستان روزانہ پانچ سے سات سو افراد کو آنے کی اجازت دینے پر تیار ہے ۔
بھارت یاتریوں کو پیدل گوردوارے تک جانے کی اجازت بھی مانگ رہا ہے لیکن پاکستان اس پر راضی نہیں۔ اسلام آباد میں ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کی جانب سے مذاکرات کے التوا پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے 14 مارچ کو کرتار پور کے حوالے سے ان مذاکرات پر اتفاق کیا تھا۔ مذاکرات کا مقصد ہی حل طلب مسائل کو زیر بحث لانا اور ان کا حل تلاش کرنا تھا۔ آخری لمحے پر پاکستان سے مشورہ کیے بغیر مذاکرات کا التوا سمجھ سے باہر ہے۔
واضح رہے کہ یہ بات چیت ایک ایسے ماحول میں ہو رہی ہے جب مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ پر مبینہ حملے اور بھارت کی طرف سے پاکستان میں فضائی دراندازی کے واقعات کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ کرتارپر راہداری پر مثبت پیش رفت کے اشارے ملے تو اس سے امید پیدا ہوئی تھی کہ دونوں ملک کشیدگی سے نکل کر ہم آہنگی کے راستے پر چل نکلے ہیں۔
برصغیر میں قیام امن کے خواہاں حلقوں کو امید تھی کہ کرتارپور راہداری پر گفتگو کے اچھے نتائج نکلیں گے اور اس سے آگے پھر دونوں ملکوں کے درمیان جامع مذاکرات کا سلسلہ بھی بحال ہو جائے گا اور یوں ماضی کی تلخیاں ختم ہو جائیں گی لیکن بھارت کے پالیسی سازوں نے کرتارپور راہداری کے منصوبے سے پیدا ہونے والی مثبت پیش رفت کو روک دیا ہے۔ بھارت کو اس حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ دونوں ملکوں کے درمیان جو کشیدگی جاری ہے اسے جلدازجلد ختم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ملک تعمیر وترقی کی شاہراہ پر سفر کا آغاز کر سکیں۔
کرتارپور راہداری پر بھارت نے مذاکرات سے انکار کر کے اچھے بھلے امن کی طرف سفر کو راستے میں روک دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بھارت میں سخت گیر عناصر نہیں چاہتے کہ پاکستان کے ساتھ مفاہمت کا عمل شروع ہو۔ اس کی بڑی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ بھارت میں انتخابی مہم شروع ہے۔ بھارتیہ اجنتا پارٹی نے اپنی ساری انتخابی مہم پاکستان کی مخالفت پر استوار کر رکھی ہے۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے ساتھی اپنی انتخابی مہم میں مسلسل جنگی جنون کو ہوا دے رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں بھارت نے زمین سے خلاء میں مار کرنے والے میزائل کا تجربہ بھی کیا حالانکہ ایک ایسی حکومت جو عام انتخابات میں جا رہی ہو، وہ اس قسم کے تجربے کا کریڈٹ لینے سے گریز کرتی ہے لیکن نریندر مودی نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور قوم سے خطاب کر کے اس کا کریڈٹ لیا۔ اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ جب تک بھارت میں عام انتخابات نہیں ہو جاتے، کم ازکم نریندر مودی کوئی ایسی پالیسی اختیار نہیں کریں گے جس سے یہ تاثر ملے کہ وہ شاید پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے جا رہے ہیں۔
The post کرتارپور راہداری: بھارت کا مذاکرات سے انکار appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2I2L1TM
No comments:
Post a Comment