Urdu news

Wednesday, 30 September 2020

ننکانہ صاحب میں6  افراد کی خاتون سے اغوا کے بعد اجتماعی زیادتی

ننکانہ صاحب: تھانہ مانگٹانوالہ کے علاقہ بسیدھر پور میں 6 افراد کی خاتون سے اغوا کے بعد مبینہ اجتماعی زیادتی کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ننکانہ صاحب میں تھانہ مانگٹانوالہ کے علاقہ بسیدھر پور میں خاتون کو اغواء کے بعد 6 افراد نے اجتماعی زیادتی کا نشانا بنایا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ تھانہ مانگٹانوالہ سے چند قدم کے فاصلے پر خاتون بس کے انتظار میں کھڑی تھیں کہ اس دوران کار میں سوار 2 افراد نے جوس پلاکر بے ہوش کیا اور اغواء کرکے خاتون کو ساتھ لے گئے۔

تھانہ مانگٹانوالہ پولیس نے 2 نامزد اور 4 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا جب کہ ملزمان کی گرفتاری کے لئے ٹیمیں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے تھانہ مانگٹانوالہ کی حدود میں خاتون سے اجتماعی زیادتی کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آرپی او شیخوپورہ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

The post ننکانہ صاحب میں6  افراد کی خاتون سے اغوا کے بعد اجتماعی زیادتی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2HGs2jv

دلیپ کمارکی پشاورکے شہریوں سے ان کے آبائی گھرکی تصاویرشیئرکرنے کی درخواست

کراچی: بالی ووڈ کے لیجنڈ اداکاردلیپ کمار نے پشاور کے شہریوں سے اپنے آبائی گھرکی تصاویر شیئر کرنے کی درخواست کی ہے۔

گزشتہ روزایک پاکستانی صحافی نے دلیپ کمارکے پشاور میں موجود آبائی گھرکی چند تصاویر ٹوئٹر پر شیئر کی تھیں دلیپ کمار نے اس ٹوئٹ کوری ٹوئٹ کراتے ہوئے اس پاکستانی صحافی کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد انہوں نے پشاورکے شہریوں سے درخواست کی کہ آپ سب میرے آبائی گھرکی تصاویر شیئر کریں (اگر آپ لوگوں نے تصاویر کھینچی ہیں) اور دلیپ کمار کو ٹیگ کریں۔

پشاورمیں واقع دلیپ کمارکے آبائی گھرکو 2014 میں نوازشریف کے دورحکومت قومی ورثہ قراردے دیا گیا تھا۔ حال ہی میں خیبر پختونخوا حکومت نے دلیپ کمار کے گھر کو خرید کراس کی تزئین و آرائش کرکے اسے میوزیم میں بدلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پشاورمیں دلیپ کمار اور راج کپور کے مکانات کوعجائب گھربنانے کا فیصلہ

پشاورکے قصہ خوانی بازار میں واقع یہ وہی گھر ہے جس میں دلیپ کمار نے اپنا بچپن گزارا ہے لہذا جب ان کی اہلیہ سائرہ بانو نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے ان کے شوہر کے آبائی گھر کی تزئین و آرائش کرکے اسے میوزیم میں بدلنے کی خبر سنی تو اس پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کے پی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

دلیپ کمار 11 دسمبر 1922 کو پشاور کے قصہ خوانی بازار کے قریب محلہ خداداد میں واقع گھر میں پیدا ہوئے تھے اس گھر کو اب گودام کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے یہ گھر خستہ حال ہوچکا ہے اور رہنے کے قابل نہیں رہا ۔ دلیپ کمار نے آخری بار 1988 میں اپنے آبائی گھر کا دورہ کیا تھا۔

دوسری جانب اسی علاقے میں ایک اور بھارتی لیجنڈ راج کپور کی حویلی بھی واقع ہے جسے ’’کپور حویلی‘‘ کہا جاتا ہے۔ راج کپور نے 14 دسمبر 1924 میں اس حویلی میں آنکھ کھولی تھی۔ اس حویلی کی حالت بھی خستہ حال ہوچکی ہے لہذا خیبرپختونخوا حکومت نے اس گھر کو بھی خرید کر اس کی تزئین و آرائش کرکے اسے بھی میوزیم میں بدلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ دونوں اداکاروں کے گھروں کے حالیہ مالکان وہاں کمرشل پلازہ بنانے کے خواہاں ہیں اورانہوں نے اسی سلسلے میں دونوں تاریخی عمارتوں کی توڑ پھوڑ بھی شروع کردی تھی۔ تاہم محکمہ آرکیالوجی کی سفارش پر حکومت نے ان دونوں تاریخی گھروں کو بحالی نو منصوبے کے تحت  محفوظ بناکر  ان کی تزئین و آرائش کرکے انہیں عجائب گھر قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

The post دلیپ کمارکی پشاورکے شہریوں سے ان کے آبائی گھرکی تصاویرشیئرکرنے کی درخواست appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3ineupQ

ننکانہ صاحب میں6  افراد کی خاتون سے اغوا کے بعد اجتماعی زیادتی

ننکانہ صاحب: تھانہ مانگٹانوالہ کے علاقہ بسیدھر پور میں 6 افراد کی خاتون سے اغوا کے بعد مبینہ اجتماعی زیادتی کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ننکانہ صاحب میں تھانہ مانگٹانوالہ کے علاقہ بسیدھر پور میں خاتون کو اغواء کے بعد 6 افراد نے اجتماعی زیادتی کا نشانا بنایا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ تھانہ مانگٹانوالہ سے چند قدم کے فاصلے پر خاتون بس کے انتظار میں کھڑی تھیں کہ اس دوران کار میں سوار 2 افراد نے جوس پلاکر بے ہوش کیا اور اغواء کرکے خاتون کو ساتھ لے گئے۔

تھانہ مانگٹانوالہ پولیس نے 2 نامزد اور 4 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا جب کہ ملزمان کی گرفتاری کے لئے ٹیمیں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے تھانہ مانگٹانوالہ کی حدود میں خاتون سے اجتماعی زیادتی کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آرپی او شیخوپورہ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

The post ننکانہ صاحب میں6  افراد کی خاتون سے اغوا کے بعد اجتماعی زیادتی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2HGs2jv

خیبرپختونخوا میں ایک اورڈاکٹرکورونا سے جاں بحق

 پشاور: خیبرٹیچنگ اسپتال میں زیرعلاج ڈاکٹردوست محمد کورونا سے وفات پا گئے۔

محکمہ صحت کے مطابق خیبرٹیچنگ اسپتال میں زیرعلاج ڈاکٹر دوست محمد کورونا سے وفات پاگئے۔  ڈاکٹر دوست محمد دوران ڈیوٹی کورونا کا شکار ہوئے تھے، دوماہ سے وہ زیرعلاج تھے، گزشتہ روز حالت تشویشناک ہونے پر جانبر نہ ہوسکے۔ ان کی نماز جنازہ آج 11 بجے بازی خیل سٹاپ کوہاٹ روڈ پشاورمیں ہوگی۔

ڈاکٹردوست محمد محکمہ صحت میں ٹی بی کنٹرول پروگرام میں ملٹی ڈرگ ریزسٹنس کے بطورصوبائی کوآرڈینیٹر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

The post خیبرپختونخوا میں ایک اورڈاکٹرکورونا سے جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/34dmGnB

نیب نے مخدوم امین فہیم کے بیٹے مخدوم جلیل الزماں کوگرفتارکرلیا

 کراچی: نیب نے پیپلزپارٹی کے مرحوم رہنما مخدوم امین فہیم کے بیٹے مخدوم جلیل الزماں کوگرفتارکرلیا۔

ذرائع کے مطابق نیب نے پیپلزپارٹی کے مرحوم رہنما مخدوم امین فہیم کے بیٹے مخدوم جلیل الزماں کوکراچی میں سپرہائی وے کے قریب ان کے گھرسے گرفتارکرلیا۔ مخدوم جلیل الزماں المعروف مخدوم حبیب اللہ تعلقہ ہالا کے سابق ناظم رہ چکے ہیں۔ ان پرسابق اکاؤنٹ آفیسرمشتاق شیخ کے ساتھ مل کرکرپشن کا الزام ہے۔

ذرائع کے مطابق مخدوم حبیب اللہ کونیب نے اگست میں طلبی کا نوٹس جاری کیا تھا تاہم وہ نوٹس کے باوجود پیش نہیں ہوئے تھے۔

 

The post نیب نے مخدوم امین فہیم کے بیٹے مخدوم جلیل الزماں کوگرفتارکرلیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/36m4YRC

فیس بک کا واٹس ایپ، میسنجر اور انسٹاگرام کو باہم جوڑںے کا پہلا عملی مظاہرہ

سان فرانسسكو: فیس بک نے کچھ عرصے قبل واٹس ایپ، انسٹاگرام اور اپنے میسنجر کو باہم جوڑنے کا اعلان کیا تھا اور اب اس کی پہلی جھلک سامنےآئی ہے جس میں انسٹاگرام صارفین اب کسی فیس بک اکاؤنٹ کےبغیر میسنجرپر رابطہ کرسکتے ہیں۔

اگرچہ فیس بک پر کئی سنگین الزامات اور اینٹی ٹرسٹ تفتیش جاری ہے لیکن اس کے باوجود میسجنگ مارکیٹ پر فیس بک اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے ۔ اسی کے تحت انسٹاگرام صارفین اب میسنجر میں ویڈیو چیٹ بھی کرسکیں گے۔ تاہم فیس بک نے اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔

مارچ 2019 میں فیس بک نے پہلی مرتبہ واٹس ایپ اور انسٹاگرام کو باہم منسلک کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس کے ذریعے دیگر ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی جبکہ ایک سے دوسرے پلیٹ فارم پر باآسانی پہنچا جاسکے گا۔

تاہم انسٹاگرام کے ہیڈ آف آپریشن، وشال شاہ نے کہا ہے کہ اس کے لیے انفرااسٹرکچر میں بہت تبدیلیاں کرنا ہوں گی اور اس کے لئے بہت سرمایہ بھی درکار ہوگا۔ ان کے مطابق تینوں ایپ کی بنیادی ساخت بہت مختلف ہے اور یکساں فیچر تمام پلیٹ فارمز پر فراہم کرنا ہوں گے۔ اسی طرح ان کی اپ گریڈیشن بھی یکساں طور پر ہونی چاہیے۔

تاہم تجزیہ نگاروں نے کہا ہے کہ ان ایپ کے درمیان روابط سے آن لائن ہراسانی بڑھ سکتی ہے۔ بالخصوص انسٹاگرام کے صارفین اس کے شکار ہوکر دوسروں کو تمام پلیٹ فارم پر بلاک کرسکیں گے۔ دوسری جانب انسٹاگرامرز کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ فیس بک پر جسے چاہیں بلاک کرسکیں تاکہ ان کی اکاؤنٹ فضول تبصروں سے پاک رہ سکے۔

The post فیس بک کا واٹس ایپ، میسنجر اور انسٹاگرام کو باہم جوڑںے کا پہلا عملی مظاہرہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2HGkddD

صرف ایک ڈالر کا اوپن سورس آلہ سماعت تیار کرلیا گیا

جارجیا: دنیا بھر میں آلہ سماعت کی قیمتیں ہزاروں روپے سے لے کر سینکڑوں ڈالر تک ہوسکتی ہے لیکن اب جارجیا ٹیک کے انجینیئروں نے تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اوپن سورس ہیئرنگ ایڈ بنایا ہے جس کی قیمت صرف ایک ڈالر ہے۔

افریقہ اور ایشیا کے غریب ممالک کے بزرگ اور بچے اب بھی ہیئرنگ ایڈ باآسانی حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ بڑی مقدار میں تیاری پر یہ آلہ سماعت صرف 160 روپے میں فراہم کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح خود پاکستان میں بھی اچھے ہیئرنگ ایڈ کی قیمت کسی بھی طرح ہزاروں روپے سے کم نہیں ہوتی۔

جارجیا ٹیک یونیورسٹی کے ماہرین نے اسے ’لاک ایڈ‘LoCHAid کا نام دیا ہے جس میں ارزاں برقی آلات استعمال کیے گئے ہیں۔ اوپن سورس ہونے کی بنا پر یہ آلہ دنیا بھر کے کسی بھی انتہائی پسماندہ علاقے میں باآسانی چھاپا جاسکتا ہے جہاں ہزاروں لاکھوں افراد آلہ سماعت سے محروم ہیں۔

کم خرچ آلے کا معیار عین عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیوایچ او) کے مطابق ہے۔ فی الحال اس کا پہلا نمونہ کسی ایئرفون والے میوزک پلیئر سے ملتا جلتا ہے۔ تاہم اس کی ڈیزائننگ میں تبدیلی کرکے اسے کان کی پشت والے ہیئرنگ ایڈ کی طرح بنایا جاسکتا ہے۔

جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے نائب پروفیسر سعد بھاملہ اور نے بنایا ہے۔ ان کے مطابق سب سے اہم مشکل یہ تھی کہ اسے کس طرح بین الاقوامی معیار کے تحت بنایا جائے اور کس طرح یہ لاکھوں کروڑوں غریب افراد کے ضرورت پر پورا اترسکتا ہے۔

پوری دنیا میں 65 سال یا اس سے زائد عمر کے ایسے 20 کروڑ افراد ہیں جو ثقلِ سماعت میں مبتلا ہیں اور آلہ سماعت خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ بالخصوص غریب اور وسط آمدنی والے ممالک کے صرف تین فیصد ضرورت مندوں کے پاس آلہ سماعت ہے اور باقی اس سے محروم ہیں۔ صرف امریکہ میں ہی ایک آلہ سماعت 3 سے 5 ہزار ڈالر میں دستیاب ہے۔

سماعت کی کمزوری خفت اور مشکلات کے ساتھ ساتھ خود حادثات کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔ ایک جانب تو سڑک پر ٹریفک کی آواز نہ سننے سے حادثات ہوسکتے ہیں اور دوسری جانب سماعت نہ ہونے سے چلنے پھرنے کا عمل بھی غیرمتوازن ہوجاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ثقلِ سماعت اکتساب اور دماغی صلاحیت کو بھی کم کردیتی ہے۔

ایک ڈالر کے آلے کو بطورِ خاص بزرگوں کے لئے بنایا گیا ہے اور اس میں خاص فلٹر لگائے گئے ہیں جو اطراف کے شور کو دباتے ہیں اور صرف بولنے والے کی آواز ہی سناتے ہیں۔

The post صرف ایک ڈالر کا اوپن سورس آلہ سماعت تیار کرلیا گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/30EgBzN

پانی بچانے والا فلش سسٹم ہی سب سے زیادہ پانی ضائع کرنے والا نکلا!

 لندن: برطانیہ میں پانی کے حوالے سے تحقیق کرنے والی سب سے بڑے ادارے نے کہا ہے کہ برطانیہ میں پانی کی بچت کرنے والے دوہرے فلش سسٹم سے کسی بچت کی بجائے سالانہ اربوں لیٹر پانی ضائع ہورہا ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ میں پانی کے معاملات پر حساس ماہرین ایک عرصے سے دوہرے فلش (ڈویل فلش) سسٹم پر تنقید کررہے ہیں۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا ہےکہ تھوڑے دنوں بعد اس سے پانی لیک ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اس طرح دن اور رات مسلسل صاف پانی ضائع ہوتا رہتا ہے۔ واضح رہے کہ اس فلش میں دو بٹن لگے ہوتے ہیں۔

واٹروائز نامی تنظیم کے مطابق پورے ملک میں یہ فلش سسٹم روزانہ 40 کروڑ لیٹر پانی کا اسراف کررہے ہیں۔ پانی کی یہ مقدار 28 لاکھ افراد کی ضرورت پوری کرسکتی ہے۔ تنظیم کے مطابق رساؤ والا ایک فلش 24 گھنٹے میں 200 سے 400 لیٹر پانی ضائع کرتا ہے۔ اس طرح کمپنی کی جانب سے تیار کردہ ڈبل فلش ٹوائلٹ سسٹم کی 5 سے 8 فیصد تعداد سے پانی لیک ہورہا ہے۔

دوسری جانب کئی ماہرین نے اعتراف کیا ہے کہ اس واٹرفلش کی ڈیزائننگ میں بڑی خامیاں موجود ہیں۔ جیسے ہی معمولی کچر اس میں جاتا ہے اس کا اندرونی والو خراب ہوجاتا ہے اور پانی رِس کر ضائع ہونے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ فلش ایک ہفتے میں ہی لیک ہونے لگتا ہے۔

واضح رہے کہ کئی برس قبل ڈبل بٹن والے فلش سامنے آئے تھے جو پانی کی مختلف مقدار کو خارج کرتے ہیں۔ عام بہاؤ کی صورت میں چار سے چھ لیٹر پانی ضائع ہوتا ہے جب کہ صرف پیشاب کرنے کی صورت میں پانی کی بہت کم مقدار درکار ہوتی ہے۔ اسی خیال کو دیکھتے ہوئے یہ فلش سسٹم بنائے گئے تھے۔

The post پانی بچانے والا فلش سسٹم ہی سب سے زیادہ پانی ضائع کرنے والا نکلا! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2GoZqLe

خیبرپختونخوا میں ایک اورڈاکٹرکورونا سے جاں بحق

 پشاور: خیبرٹیچنگ اسپتال میں زیرعلاج ڈاکٹردوست محمد کورونا سے وفات پا گئے۔

محکمہ صحت کے مطابق خیبرٹیچنگ اسپتال میں زیرعلاج ڈاکٹر دوست محمد کورونا سے وفات پاگئے۔  ڈاکٹر دوست محمد دوران ڈیوٹی کورونا کا شکار ہوئے تھے، دوماہ سے وہ زیرعلاج تھے، گزشتہ روز حالت تشویشناک ہونے پر جانبر نہ ہوسکے۔ ان کی نماز جنازہ آج 11 بجے بازی خیل سٹاپ کوہاٹ روڈ پشاورمیں ہوگی۔

ڈاکٹردوست محمد محکمہ صحت میں ٹی بی کنٹرول پروگرام میں ملٹی ڈرگ ریزسٹنس کے بطورصوبائی کوآرڈینیٹر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

The post خیبرپختونخوا میں ایک اورڈاکٹرکورونا سے جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/34dmGnB

نیب نے مخدوم امین فہیم کے بیٹے مخدوم جلیل الزماں کوگرفتارکرلیا

 کراچی: نیب نے پیپلزپارٹی کے مرحوم رہنما مخدوم امین فہیم کے بیٹے مخدوم جلیل الزماں کوگرفتارکرلیا۔

ذرائع کے مطابق نیب نے پیپلزپارٹی کے مرحوم رہنما مخدوم امین فہیم کے بیٹے مخدوم جلیل الزماں کوکراچی میں سپرہائی وے کے قریب ان کے گھرسے گرفتارکرلیا۔ مخدوم جلیل الزماں المعروف مخدوم حبیب اللہ تعلقہ ہالا کے سابق ناظم رہ چکے ہیں۔ ان پرسابق اکاؤنٹ آفیسرمشتاق شیخ کے ساتھ مل کرکرپشن کا الزام ہے۔

ذرائع کے مطابق مخدوم حبیب اللہ کونیب نے اگست میں طلبی کا نوٹس جاری کیا تھا تاہم وہ نوٹس کے باوجود پیش نہیں ہوئے تھے۔

 

The post نیب نے مخدوم امین فہیم کے بیٹے مخدوم جلیل الزماں کوگرفتارکرلیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/36m4YRC

کیا ہانیہ عامرکی منگنی ہوگئی؟ ہانیہ نے خود ہی سارا سچ بتادیا

کراچی: گزشتہ روز ہانیہ عامر کی منگنی کا ہیش ٹیگ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کررہا تھا جس کے بعد ان کے مداحوں کی جانب سے انہیں منگنی کی مبارکباد دینے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

اداکارہ ہانیہ عامرکا شماران اداکاراؤں میں ہوتا ہے جو سوشل میڈیا پر کافی سرگرم ہیں کبھی تو وہ اپنے ڈراموں کی وجہ سے میڈیا پر چھائی رہتی ہیں اورکبھی ٹک ٹاک کی ویڈیوز کی وجہ سے۔

کچھ عرصہ قبل گلوکارعاصم اظہر کے ساتھ گہری دوستی کی افواہوں کی وجہ سے ہانیہ عامر ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئی تھیں  اورگزشتہ روز بھی ’’منگنی مبارک ہانیہ‘‘ کا ہیش ٹیگ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈنگ میں رہا تھا جہاں لوگ ہانیہ عامر کو منگنی کی مبارکباد دے رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ہانیہ عامر کی ہونٹوں کی سرجری کی تصاویر وائرل

اپنی منگنی کی خبریں سوشل میڈیا پروائرل ہونے کے بعد ہانیہ عامر نے گزشتہ روز ایک ویڈیو کے ذریعے اس حقیقت سے پردہ اٹھایا کہ ان کی منگنی سچ میں ہوئی بھی ہے یا نہیں۔ ہانیہ عامر نے ویڈیو میں کہا ’’پچھلے دو روز سے میرے ٹوئٹر اکاؤنٹ پرمسلسل نوٹیفیکیشنز آرہے ہیں لیکن میں نے ان نوٹیفکیشنز کو چیک نہیں کیا کیونکہ اس بارمیں نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا کہ لوگ میرے بارے میں بات کریں لیکن اگلی صبح میں نے ٹوئٹر دیکھنے کا فیصلہ کیا جہاں ’ہیش ٹیگ منگنی مبارک ہانیہ‘ ٹوئٹر پرٹرینڈ کررہا تھا جسے دیکھ کر میں حیران رہ گئی ۔‘‘

ہانیہ عامر نے اپنی منگنی کی تردید کرتے ہوئے طنزیہ اندازمیں کہا کہ وہ ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہیں  جنہوں نے انہیں منگنی کی مبارکباد دی۔

واضح رہے کہ گزشتہ کچھ روزقبل ہانیہ عامرہونٹوں کی سرجری کروانے کی وجہ سے بھی لوگوں کی تنقید کی زد میں رہی تھیں۔

The post کیا ہانیہ عامرکی منگنی ہوگئی؟ ہانیہ نے خود ہی سارا سچ بتادیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/34b41sF

ہمیں جاگنا ہو گا

چارلی ہیبڈو فرانس کا ایک ہفت روزہ میگزین ہے‘ یہ میگزین 1970 میں شروع ہوا‘1981 میں بند ہوا پھر 1991 میں دوبارہ لانچ ہوا اور انتظامیہ نے اسے فروری2015 میں ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا‘ مالکان شرارتی ذہنیت کے مالک ہیں‘یہ میگزین کو مشہور کرنے کے لیے نبی اکرمؐ کے گستاخانہ خاکے شائع کرتے رہتے تھے۔

مسلمانوں نے اس گستاخی پر بار بار احتجاج کیا لیکن یہ لوگ باز آئے اور نہ حکومت نے نوٹس لیا‘ انتظامیہ نے میگزین بند کرنے سے پہلے جنوری 2015 میں نبی اکرمؐ کے مزید گستاخانہ خاکے شائع کرنے کا اعلان کر دیا اور یہ پورے عالم اسلام کے لیے ناقابل برداشت تھا‘ ہم مسلمان دنیا کے ہر ایشو پر کمپرومائز کر  جاتے ہیں لیکن ہم نبی اکرمؐ اور حرمت اہل بیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے‘ محبت رسولؐ ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور ہم اس پر اپنی ہر چیز قربان کرجاتے ہیں چناں چہ چارلی ہیبڈو کی اس رکیک خواہش پر پورے عالم اسلام سے شدید ردعمل سامنے آیا‘ 7 جنوری 2015 کو میگزین کے دفتر پر حملہ بھی ہو گیا جس میں ایڈیٹر سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے‘ یہ حملہ دو عربی بھائیوں سعید کوشی اور شریف کوشی نے کیا تھا‘ حملے میں خاکے بنانے والے تین کارٹونسٹ بھی ہلاک ہوگئے۔

حملے کی ذمے داری بعدازاں القاعدہ نے قبول کر لی‘حملے کے بعد میگزین نے اپنا دفتر تبدیل کر لیا‘ نیا دفتر خفیہ تھا‘ کسی کو اس کی لوکیشن کے بارے میں علم نہیں جب کہ پرانی عمارت 10 Rue Nicolas-Appertمیں ایک ٹیلی ویژن پروڈکشن کمپنی Premieres Lignes TV Production Agency نے اپنا دفتر کھول لیا۔ یوں یہ مسئلہ ختم ہو گیا اور چارلی ہیبڈو پس منظر میں چلا گیا‘ ملازمین بھی نوکریاں چھوڑ گئے اور ریونیو بھی مزید نیچے آ گیا‘ 25ستمبر کو2015 کے حملوں کے 14 معاونین کے خلاف مقدمے کا آغاز ہو رہا تھا‘ میگزین نے اس دن کو ’’تاریخی‘‘ بنانے کے لیے ایک بار پھر گستاخانہ خاکے شائع کر دیے‘ میگزین کی اشاعت نہ ہونے کے برابر تھی لیکن سوشل میڈیا کی وجہ سے یہ خبر وائرل ہو گئی اور مسلمان ایک بار پھر غصے سے کھول اٹھے۔

ان مسلمانوں میں منڈی بہاؤالدین کے گاؤں کوٹلی قاضی کا ایک نوجوان ظہیرحسن محمود بھی شامل تھا‘ ظہیر حسن کی عمر محض 25 سال ہے‘ والدین کسان ہیں اور یہ تین سال قبل غیرقانونی طریقے سے پیرس پہنچا تھا اور چھ سات پاکستانیوں کے ساتھ کمرہ شیئر کرتا تھا‘ چارلی ہیبڈو کے خاکوں نے ظہیر حسن محمود کے دماغ پر برا اثر چھوڑا‘ یہ جذباتی ہو گیا‘ اس نے گوشت کاٹنے کا ٹوکا لیا‘ ویڈیو بنائی اور ٹوکا لے کر چارلی ہیبڈو کے پرانے دفتر چلا گیا۔

یہ ان پڑھ ہے لہٰذا یہ اس حقیقت سے واقف نہیں تھا میگزین نے اپنا دفتر بدل لیا ہے اور اب اس دفتر میں وہ لوگ کام کرتے ہیں جن کا خاکوں اور چارلی ہیبڈو سے دور دور تک کا واسطہ نہیں‘ دفتر کے سامنے چارلوگ کھڑے تھے‘ ظہیرحسن نے ان پر ٹوکے سے حملہ کر دیا‘حملے میںدو لوگ شدید زخمی ہو گئے‘ پولیس آئی اور اس نے ملزم کو گرفتار کر لیا‘ پولیس نے بعد ازاں ظہیرحسن کے مکان پر ریڈ کر  کے اس کے پاکستانی روم میٹ بھی گرفتار کر لیے‘ یہ روز صبح گزرتے ہوئے ایک عربی دکان دار کے پاس بھی رکتا تھا‘ پولیس نے اسے بھی گرفتار کر لیا ۔

ہم اب اگر ٹھنڈے دماغ کے ساتھ اس واقعے کا تجزیہ کریں تو تین چیزیں سامنے آئیں گی‘ پہلی چیز مذہب کے بارے میں مشرق اور مغرب کا رویہ ہے‘ ہم لوگ مذہب کے بارے میں جذباتی ہیں جب کہ یورپ کا مذہبی مزاج ہم سے بالکل الٹ ہے‘ یہ لوگ انبیاء کرام پر فلمیں اور ٹیلی ویژن ڈرامے تک بنا دیتے ہیں‘ حضرت عیسیٰ  ؑ پر سیکڑوں فلمیں اور سیریز بن چکی ہیں‘ یہ سیریز اس وقت بھی نیٹ فلیکس پر موجود ہیں‘ عیسائی دنیا میں ایک بہت بڑا فرقہ موجود ہے جو خود کو حضرت عیسیٰ  ؑ کی اولاد سمجھتا ہے‘ یورپی عیسائی پوری بائبل کو تصویری شکل میں چرچوں کی دیواروں اور گنبدوں پر پینٹ کرتے ہیں‘ دنیا کے ہر چرچ میں حضرت عیسیٰ  ؑ کی صلیب پر لٹکی ہوئی شبیہہ موجود ہے‘ حضرت مریم  ؑکی پینٹنگ کے بغیر کوئی چرچ مکمل نہیں ہوتا‘ یہ لوگ حضرت عیسیٰ  ؑکے (نعوذ باللہ) کارٹون تک بنا دیتے ہیں۔

نیٹ فلیکس نے ’’مسایا‘‘ کے نام سے حضرت عیسیٰ  ؑکی واپسی پر ایک سیزن تک بنا دیا ‘ اس نے مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دیے جب کہ ان کے مقابلے میں ہم انبیاء کرام کی شبیہہ کو توہین سمجھتے ہیں‘ یہ ایمان اور سوچ کا فرق ہے اور یہ فرق صرف مکالمے کے ذریعے ہی ایک دوسرے کو سمجھایا جا سکتا ہے لہٰذا ہمیں یورپ کی روایات کو ذہن میں رکھ کر ان لوگوں کو حقیقت سمجھانا ہوگی‘ پوری مسلم دنیا یہ ایشو اقوام متحدہ میں بھی اٹھا سکتی ہے اور یورپ میں آباد مسلمان یہ مسئلہ مقامی عدالتوں کے سامنے بھی لا سکتے ہیں اور سفارتی مشنز کے ذریعے بھی عیسائی دنیا کو اپنی روایات کے بارے میں بتا سکتے ہیں‘یہ مسئلہ پوری مسلم امہ کا ہے‘ یہ ایشو ظہیر حسن جیسے نوجوان اکیلے نہیں نمٹا سکیں گے‘ ہم اگر اسی طرح اکیلے کودتے رہے تو ہم اسے مزید الجھا لیں گے۔

پورا ویسٹرن میڈیا اکٹھا ہو جائے گا اور یہ لوگ مل کر یہ گستاخی کریں گے اور ہم پھر کس کس کا مقابلہ کریں گے چناں چہ میری ظہیر حسن جیسے نوجوانوں سے درخواست ہے یہ تہذیبوں کی لڑائی ہے اور آپ یہ لڑائی حکومتوں کولڑنے دیں‘ آپ اسے اپنے ہاتھ میں نہ لیں‘ دوسرا ہم تیسری دنیا کے مسلمان خوف ناک فکری مغالطے کا شکار ہیں‘ ہمیں شخصی آزادیوں‘ انصاف‘ صاف ستھرے ماحول‘ ترقی کے برابر مواقعے اور مضبوط معیشت کی وجہ سے یورپی ملک بہت اچھے لگتے ہیں لہٰذا ہم جان پر کھیل کر غیرقانونی طریقے سے یورپ پہنچ جاتے ہیں‘ ہم ان ملکوں کی سہولتوں کا بھی بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن ساتھ ہی ہم ان کی روایات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے‘ ہم خود گوریوں سے شادی کر لیں گے۔

ان سے اولاد بھی پیدا کر لیں گے لیکن ہم اپنی بیٹیوں کو گوروں کے ساتھ برداشت نہیں کریں گے‘ ہم چرچ خرید کر مسجد بنا لیں گے لیکن لاؤڈ اسپیکر کے بارے میں مقامی قانون تسلیم نہیں کریں گے‘ ہم یورپ میں 12ربیع الاول بھی منائیں گے اور عزاداری اور ماتم بھی کر لیں گے لیکن ان کی مذہبی آزادی کو تسلیم نہیں کریں گے لہٰذا ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا یورپ اچھا ہے یا برا ہے‘ ہمیں اگر ان کی روایات پسند نہیں ہیں تو پھر ہم وہاںجاتے کیوںہیں‘ ہم منڈی بہاؤالدین میں کیوں نہیں رہتے؟ ہمیں یورپ کو ماننا ہوگا یا پھر مکمل رد کرنا ہوگا‘ ہم زیادہ دیر تک اس فکری مغالطے میں نہیں رہ سکیں گے اور تین، اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے مگر ہم پاکستانی مسلمانوں نے رواداری‘ شائستگی‘ علم‘ انصاف اور ترقی کا اسلام چھوڑ کر انتہا پسندی اپنا لی ہے۔

ہم متحارب مسلمان مشہور ہوتے جا رہے ہیں اور ہم ہر وقت مرنے اور مارنے کے لیے تیار رہتے ہیں‘ آپ دنیا کے ہیروز کی کوئی فہرست نکال لیں اور پھر اپنے ہیروز کی فہرست اس کے سامنے رکھ دیں‘ ہماری فہرست محمد بن قاسم سے اسٹارٹ ہو گی اور ٹیپو سلطان پر ختم ہو گی‘ اس میں کوئی سائنس دان‘ مصور‘ پروفیسر اور موسیقار نہیں ہوگا‘بے شک یہ فوجی ہیروز بھی بہت اہم ہیں لیکن ان سے زیادہ اہم وہ چار مسلمان سائنس دان ہیں جنہوں نے دنیا میں کیلی گرافی‘ ٹیلی اسکوپ‘ الجبرا اور انسائیکلوپیڈیا کی بنیاد رکھی تھی‘ محمد بن قاسم کے ساتھ ساتھ وہ الخوارزمی بھی اہم تھا جس نے دنیا میں الجبرا کی بنیاد رکھی تھی‘ الفارابی بھی اہم تھا جس نے خلاء پرتحقیق کی‘ جس نے ریاضی‘ طب ‘ فلسفہ اور موسیقی پر کام کیا‘ ہماری تاریخ میں محمود غزنوی کے ساتھ ساتھ الباطنی بھی تھا جس نے موسموں اور سال کی طوالت طے کی تھی۔

ابن سینا بھی تھا جس نے دنیا کو ادویات کا فن دیا تھا‘ ابن بطوطہ بھی تھا جس نے فن سیاحت کی بنیاد رکھی تھی‘ ابن رشد بھی تھا جس نے ارسطو اور افلاطون کو دنیا میںمتعارف کرایا تھا‘ عمر خیام بھی تھا جس نے علم نجوم کو باقاعدہ سائنس بنایا تھا‘ ابن قرا بھی تھا جس نے شماریات کی بنیاد رکھی تھی‘ ابن رازی بھی تھا جس نے فزکس کی بنیاد رکھی تھی‘ جابر بن حیان بھی تھا جس نے کیمسٹری متعارف کرائی تھی ‘الکندی بھی تھا جس نے ریاضی‘طبیعیات‘ فلسفہ‘ ہیت‘موسیقی‘طب اور جغرافیہ جیسے علوم پر اعلیٰ پائے کی کتب تحریر کیں۔

ابن حاتم بھی تھا جس نے سائنس کو عملی علم بنایا تھا‘ ابن ظہور بھی تھا جس نے سرجری متعارف کرائی تھی‘ ابن خلدون بھی تھا جس نے تاریخ کو سائنس کی شکل دی تھی اور ابن عربی بھی تھا جس نے روحانیت کو سائنس بنا دیا تھا لیکن آپ آج کسی پاکستانی نوجوان سے ان مفکرین کے بارے میں پوچھ لیں یہ ان کے ناموں تک سے واقف نہیں ہوں گے جب کہ ہمارا بچہ بچہ متحارب کمانڈروں کا پورا شجرہ جانتا ہو گا لہٰذا ہمیں ماننا ہوگا علم کا یہ فرق ہمارے معاشرے میں ظہیرحسن جیسے نوجوان پیدا کر رہا ہے‘ ایسے نوجوان جو چارلی ہیبڈوکے سابق دفتر کے سامنے کھڑے بے گناہ لوگوں پر بھی حملہ کر دیتے ہیں۔

ہمیں جاگنا ہوگا‘ اس سے پہلے کہ ہم اٹھنے کے قابل ہی نہ رہیں۔

The post ہمیں جاگنا ہو گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3cJUZGK

گھر سے ریاست تک

ایک عام گھر میں اگر ناانصافی ہوتی ہے تو پورے گھر کا نظام بگڑ جاتا ہے، یہ میں جوائنٹ فیملی کی بات کر رہا ہوں۔جوائنٹ فیملی، خاندان کے افرادکی منصفانہ کارکردگی کا شاہکار ہوتی ہے، جس کے سربراہ ماں باپ ہوتے ہیں۔ ماں باپ کا رویہ اگر اولاد کے ساتھ منصفانہ ہوتا ہے تو گھر پرسکون طریقے سے چلتا ہے اور گھر کے باسی مطمئن ہوتے ہیں۔

اس کے برخلاف اگر ماں باپ یا سرپرست اولاد کے ساتھ جانبداری برتنے لگتے ہیں تو اولاد میں تناؤ پیدا ہو جاتا ہے، اگر گھر کے سرپرستوں میں کوئی سمجھدار شخص ہوتا ہے تو وہ گھر میں ہونے والی ناانصافیوں کو ختم کرکے ماحول کو خراب ہونے سے بچا لیتاہے ۔ یوں گھر کی بدنظمی ختم کی جاتی ہے۔

اگر گھر میں پانچ بیٹے ہوتے ہیں تو آمدنی کی تقسیم اور کھانے پینے میں انصاف برتا جاتا ہے جہاں ایسا نہیں ہوتا اور اولاد کے ساتھ جانبداری برتی جاتی ہے تو آہستہ آہستہ گھر میں کشیدگی کی صورت پیدا ہو جاتی ہے اور بعض صورتوں میں جب نابرابری حد سے بڑھ جاتی ہے تو بھائی آپس میں لڑ پڑتے ہیں اور بات کشت و خون تک پہنچ جاتی ہے۔ عام طور پر گھر کے بڑے بیٹے کو گھر کو چلانے کی ذمے داری دی جاتی ہے، اگر بڑا بیٹا انصاف اور بھائی بندی کے ساتھ گھر کو چلاتا ہے تو گھر جنت بن جاتا ہے۔ اس کے لیے سرپرست آمدنی کی تقسیم کو منصفانہ بناتے ہیں۔ اسی طرح ماں باپ کا ترکہ اولاد میں منصفانہ طریقے سے تقسیم نہیں ہوتا تو گھر کا ماحول خراب ہوتا ہے اور بات توڑ پھوڑ تک چلی جاتی ہے۔

اس حوالے سے جب ہم دنیا پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں وہ ملک پرامن اور ترقی کرتے نظر آتے ہیں، جہاں عوام کے ساتھ انصاف ہوتا ہے اور دولت کی منصفانہ تقسیم ہوتی ہے، اس کے برخلاف ملک اور معاشرے میں ناانصافی ہوتی ہے اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ہوتی ہے تو امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ایک خاندان کے اندر سب رشتے دار بھائی بہن ہوتے ہیں جب کہ ملکی سطح پر صرف ہم وطنی کا ایک ڈھیلا ڈھالا رشتہ ہوتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ ہر شخص کو کمانے کی آزادی ہوتی ہے، اس حوالے سے بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ معاشرے اور ملک کے عوام کو آزادی ہوتی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق کمائیں اور دولت جمع کریں۔

اس آزادی کی وجہ سے انسان نے ناجائز طریقے سے دولت کے انبار لگانے شروع کردیے۔ اس قسم کے لوگوں کی تعداد ملک کی آبادی کا لگ بھگ 2 فیصد ہوتی ہے اور نوے فیصد کے لگ بھگ وہ عوام ہوتے ہیں جن کی محنت سے گھر کے افراد کی روٹی بھی پوری نہیں ہوتی۔ بھاری اکثریت یا تو نوکری پیشہ ہوتی ہے یا چھوٹے موٹے کاروبار کرنے والی، اس آبادی میں کوئی دولت مند اس لیے نہیں ہوتا کہ اس آبادی یعنی ملازم پیشہ اور چھوٹے موٹے کاروبار کرنے والوں کو ناجائز دولت کمانے کے سرے سے مواقعے ہی حاصل نہیں ہوتے۔

معاشرے کی اس غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ ایک طرف وہ اربوں انسان ہوتے ہیں دوسری طرف وہ دو فیصد طبقہ ہوتا ہے جو ناجائز طریقے سے ملکی دولت کے 80 فیصد حصے پر قبضہ جمائے بیٹھا ہے۔ یہ دولت غریبوں کی محنت کی کمائی ہوتی ہے جس پر مختلف حوالوں سے اشرافیہ قابض ہوجاتی ہے۔ اصولی طور پر تو اس کھلی ناانصافی پر 90 فیصد غریب عوام کو بغاوت کردینا چاہیے لیکنکیوں نہیں ہوتا؟ اس کی بڑی 90 فیصد کے لگ بھگ طبقے کو ایلیٹ کلاس نے مختلف قسم کے نظریات میں الجھایا ہوتا ہے۔ یہ ہے سرمایہ داروں کا وہ حربہ جس سے غریب طبقات کو دبا کر رکھا گیا ہے۔

پہلے دور میں ایسے افراد ایسی جماعتیں ہوتی تھیں جو ایلیٹ کلاس کی اس مالی اور نظریاتی لوٹ مار کے خلاف عوام کو متحرک کرتی تھیں اور عوامی انقلاب برپا کرکے دولت کی اس نامنصفانہ تقسیم کا خاتمہ کر دیتے تھے، اگر اشرافیہ مزاحمت کرتی تو اسے اٹھا کر باہر پھینک دیتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انقلابی لوگ، انقلابی جماعتیں منظر سے ہٹتی چلی گئیں۔

اب  سرمایہ دارانہ نظام کی حامی جماعتوں اور حکومتوں کو کھلی آزادی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک طرف دنیا کے وہ انسان ہیں جنھیں دو وقت کی روٹی نصیب نہیں،دوسری طرف وہ دو فیصد طبقہ ہے جو ملک کی 80 فیصد دولت پر قبضہ جمائے بیٹھا ہے۔

سرمایہ دار طبقے کو یہ خوف لاحق تھا کہ کروڑوں بھوکے پیاسے عوام اس کی دولت پر قبضہ کرلیں گے۔ اس خوف سے بچنے کے لیے ایلیٹ کلاس نے لا محدود نجی ملکیت کو بچانے کے لیے قانونی تحفظ دلوایا، اب کوئی غریب طبقہ ایلیٹ کی دولت کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتا کیونکہ سرمایہ داروںکو قانونی تحفظ دلوا دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ سرکاری مراعات یا اختیارات کے بل بوتے پر کمائی ہوئی اربوں کھربوں کی دولت کو اشرافیہ کے پنجوں سے کس طرح نکالا جائے؟ ایلیٹ یعنی سرمایہ دار طبقے نے اپنی ناجائز کمائی کے تحفظ کے لیے دوہرے تہرے انتظام کر رکھے ہیں۔

نجی ملکیت خواہ وہ اربوں میں یا کھربوں میں، اس لیے قابل استعمال ہے کہ اسے قانونی تحفظ حاصل ہے۔ غریب طبقات دو وقت کی روٹی بڑی مشکل سے حاصل کرتے ہیں۔ آج ہمارے ملک میں احتجاجی تحریکوں کا ڈول ڈالڈالا جارہا ہے ، دیکھیں اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔

The post گھر سے ریاست تک appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/33hNWlH

مفت ہاتھ آئے توبُرا کیا ہے

یہ مصرعہ مُرشدی مرزا غالب نے تو کسی اور تناظر میں کہا تھا مگر اس کے اندر ایک ایسی آفاقیت ہے کہ آپ اسے حسبِ ضرورت کُھلے دل سے کہیں بھی استعمال کرسکتے ہیں اور لُطف کی بات یہ ہے کہ اس کی سچائی ہر حال میں قائم رہتی ہے۔

اقوالِ زریں یا سنہری باتیں وغیرہ کے عنوانات کے تحت جو باتیں مختلف حوالوں سے ہم تک پہنچتی رہتی ہیں، اُن میں سے اگرچہ کچھ زیادہ ’’سُنہری‘‘ نہ بھی ہوں تب بھی یہ بات اپنی جگہ قائم رہتی ہے کہ مفت ہاتھ آئے تو بُرا کیا ہے۔ آج کل کئی ریڈیواور ٹی وی پروگراموں کے درمیان یا ان کے آخر میں بھی اینکر حضرات اسی مفت کے مال سے بہت اچھا کام لے رہے ہیں۔

اس ضمن میں عزیزی جنید سلیم اس لیے زیادہ کامیاب ہیں کہ وہ پتے کی بات کو صرف فلسفیانہ خیالات یا عقلی ترجیحات تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اس میں مزاح اور اپنی مسکراہٹ کو بھی اس طرح سے شامل کردیتے ہیں کہ سننے والا صرف توجہ سے سنتا ہی نہیں بلکہ حسبِ توفیق سمجھتا بھی ہے۔

کچھ عرصہ قبل میں نے ایک دو کالموں میں دنیا بھر کے ادیب ، لوک ادب اور مشاہیر کے اقوال سے استفادہ کرتے ہوئے کچھ ایسے جملے ، باتیں اور معاشرتی تجزیے جمع کیے تھے جو میرے نزدیک ایسے دانش پارے تھے جن کو خلقِ خدا اور ذہنِ رسا تک پہنچانا ایک خوبصورت فریضہ تھا اور جس کے ساتھ یہ ٹیگ لائن بھی چل رہی تھی کہ ’’مفت ہاتھ آئے تو بُرا کیا ہے؟‘‘آج کے انتخاب میں چند ایک ایسے مزاحیہ اور طنزیہ اقوال بھی اس لیے شامل کر دیئے ہیں کہ وہ حالاتِ حاضرہ جن کی گونج کئی سال سے ایک ہی لے میں سنائی دے رہی ہے۔

یہ ان کی روحِ رواں ہیں۔ آپ انھیں فِرنی کی پلیٹ کے اُوپر ڈالے گئے بادام اور پستے سے بھی تشبیہ دے سکتے ہیں کہ جن سے ذائقہ بدلے نہ بدلے مگر اس کی صُورت اور بہترہوجاتی ہے اور فرض کیجیے ایسا نہ بھی ہوتو’’مفت ہاتھ آئے تو بُرا کیا ہے‘‘ سو پہلے کچھ خیال افروز باتیں ۔ انھیں پہلی بار کہنے والوں کے نام اس لیے حذف کیے جارہے ہیں کہ ایک تو یہ فہرست نامکمل ہے اور پھر اب یہ انسانیت کے اس اجتماعی ورثے کی حیثیت رکھتے ہیں جن پر ہوا ، دُھوپ اور چاندنی کی طرح سب کا برابر کا حق ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کچھ لوگ ان میں موجود دانش کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیتے ہیں اور کچھ صرف سنتے یا پڑھتے ہیں۔

1)ہجوم سے بچو، چیزوں کے بارے میں خود غور کر کے رائے قائم کرو، شطرنج کے کھلاڑی بنو، مہرے نہیں۔

2)اکثر اوقات ہم اپنے ماضی کی ایسی یادوں کو اُٹھائے پھرتے ہیں جو بہت تکلیف دہ ہوتی ہیں اور یوں کل کے دُکھ ہماری آج کی خوشیوں کو بھی کھا جاتے ہیں۔ ماضی میں جو ہوگیا سو ہوگیا اور اب اُسے بدلنا بھی ممکن نہیںاور اگر اب یہ صرف تمہاری یادوں اور ذہن کے کسی گوشے میں جاگزین ہیں تو انھیں آزاد کردو اور خود بھی آزاد ہوجاؤ ۔

3)اگر ہم ’’مشکلات‘‘ پر نظر رکھیں گے تو مشکلات بڑھ جائیں گی، اس کے برعکس اگر ہم ’’ممکنات‘‘ پر نظر رکھیں گے تو ممکنات میں اضافہ ہونا شروع ہوجائے گا۔

4) ایک سچا دوست وہ ہے جو تب آپ کے دروازے پر دستک دیتا ہے جب دوسرے چھوڑ کے جارہے ہوں ۔

5) اُس سے محبت مت کرو جو صرف اچھی اچھی باتیں کرتا ہے، اُس سے محبت کرو جو اُن پر عمل بھی کرتا ہے۔

6)آپ کی گزشتہ عمر اور اُس سے جُڑی ہوئی یادیں آپ کے پیچھے ہیں جب کہ آپ کی زندگی ہمیشہ آپ کے آگے کی طرف ہوتی ہے ۔ آج کا دن ایک نیا دن ہے اس کے ساتھ چلو۔

7) اپنے آدرش ، اپنی محبت اور اپنے خوابوں کو اپنے تک رکھو کیونکہ دنیا ہر خوب صورت چیز کو برباد کردیتی ہے ۔

8) زندگی، محبت اور انا کی ایک نہ ختم ہونے والی کشمکش اور تضاد کا آئینہ ہے ۔ محبت ہمیشہ معاف کرنے اور انا دوسروں سے معافی منگوانے کی طلب گار ہوتی ہے۔

9) انسانیت ایک بہت بڑا خزانہ ہے، اس کو لباس میں نہیں ’’انسان‘‘ میں تلاش کیا کرو۔

10) جتنا بھی کسی کو پرکھو گے اندر سے ٹوٹتے جاؤ گے، اس لیے لوگوں سے صرف پیار کرو، انھیں آزمانے اور پَرکھنے کی کوشش نہ کرو ۔

11) ایک نابینا شخص نے کسی عقل مند سے پوچھا، کیا دنیا میں اندھا ہونے سے زیادہ بھی کوئی بدنصیبی کی بات ہے؟ جواب ملا ’’ہاں‘‘ جب آپ کے پاس دیکھنے کے لیے کچھ نہ ہو۔

12) اس عبارت کو روانی میں پڑھیے اس میں بیشتر الفاظ کے ہجے غلط ہیں لیکن اس کے باوجود اس کا مفہوم مکمل طور پر آپ کی سمجھ میں آرہا ہے، یہی صورتِ حال محبت کی زبان کی بھی ہوتی ہے ۔

Waht is rael reltionship? I m gving you an exmpl: jsut c tihs mss.

if u wnat true relationship! Jsut , ignoer mistaeks.

13) زندگی ایک کتاب کی طرح ہے جس کے دو صفحے مالکِ کائنات نے پہلے سے لکھ رکھے ہیں، پہلا صفحہ ’’پیدائش‘‘اور دوسرا’’موت‘‘درمیان کے تمام صفحات خالی ہیں، انھیں مسکراہٹ اور محبت کے قلم سے بھرو۔

14)سب کو سچ بولنے کی آزادی ہے مگر ایسا کرنے کے بعد کی آزادی ایک الگ مسئلہ ہے ۔

15) کیمسٹ کی دکان پر ٹینشن کی دوائی کے لیے ڈاکٹر کا نسخہ دکھانا ضروری ہوتا ہے ، بیوی کی تصویر نہیں۔

16) 15 ستمبر کو تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے اور ان کے  SOP’s بھی تیار کر لیے گئے ہیں، ایک دن اساتذہ آئیں گے اور ایک دن طلبہ۔

17) کہتے ہیں جہاں عزت نہ ہو وہاں نہیں جانا چاہیے۔ تو کیا اب بندہ اپنے گھر بھی نہ جائے؟

18) مرد حضرات گھر پردو ہی وجہ سے خوش ہوسکتے ہیں، بیوی نئی ہو یا بیوی نہیں ہو۔

19) اس زمانے کا المیہ یہ بھی ہے کہ شادی ہال میں کرسیاں وہ کپڑے پہنے ہوتی ہیں جو بیٹھنے والوں کے لیے بنے تھے۔

20) میں کب سے پوچھ رہی ہوں تمہاری زندگی میں سب سے بڑی پرابلم کیا ہے، بس مجھے ہی دیکھے جا رہے ہو بتاتے کیوں نہیں؟

21) آگ دونوں طرف برابر ہے ۔ شادیوں پر عورتیں دوسرے کے سُوٹ دیکھ کرجَل رہی ہوتی ہیں اور مرد دوسروں کی بیویاں۔

22) وہ رہنما جو دوسروں کی بات نہیں سنتے بہت جلد ایسے لوگوں میں گھِر جاتے ہیں جن کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہوتا۔

23) رعایتی قیمت پر خریدی ہوئی غیر معیاری اشیاء کی خوشی عارضی اور غم مستقل ہوتا ہے۔

24) خوبصورتی اُسی وقت سے پیدا ہونا شرو ع ہوجاتی ہے جب آپ اپنے آپ کو سمجھنا شروع کردیتے ہیں اور آخر میں کارل مارکس کی ایک بہت فکر انگیریاد دہانی جو ہر زمانے کے لیے ہے، اس لیے براہِ کرم اسے اپنے اِرد گرد کے کچھ کرداروں تک محدود نہ کیجیے اُس نے کہا تھا۔

25) وہ لوگ جنہوں نے سردی اور گرمی صرف کھڑکیوں میں سے دیکھی ہو اور بھوک صرف کتابوں میں پڑھی ہو وہ عام آدمی کی قیادت نہیں کرسکتے۔

اب اگر ایسی باتیں مفت میں ہاتھ آجائیں تو کیا بُرا ہے ؟

The post مفت ہاتھ آئے توبُرا کیا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2GkBloK

عروج، عوامی تائید و مقبولیت

بیشک عزت و ذلت کے فیصلوں کا اختیار میرے رب کے پاس ہے، وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل و خوار کرکے رکھ دے، یہ اسی کے فیصلے ہیں، دنیا کی کوئی طاقت اس کے فیصلوں کو بدل نہیں سکتی۔

جو اقدار کی خاطر جنگ لڑے عزتیں اور رفعتیں اس کا مقدر ٹھہرتی ہیں، جس کا مطمع نظر محض مفادات ہوں ذلت و رسوائی اس کا مقدر بن جایا کرتی ہیں۔ پاکستان کے سیاسی افق پر ڈھونڈنے سے ہی ایسی شخصیت مل سکتی ہے جو مفادات کے بجائے اقدار کی سیاست کرتی ہو۔

سیاسی امور کے ماہرین اور مبصرین پاکستانی سیاست کے حوالے سے یہ بات بڑے وثوق سے بیان کرتے ہیں کہ پاکستانی سیاست ایسی دلدل ہے جس پر جو بھی قدم رکھتا  ہے وہ اس میں دھنستا ہی چلا جاتا ہے اور آلودہ ہوجاتا ہے لیکن مولانا فضل الرحمان واحد ایسی شخصیت ہیں جسے اس دلدل کی کوئی پروا ہے نہ یہ دلدل ان کا دامن آلودہ کرسکی کیونکہ ان کا مطمع نظر مفادات نہیں محض اقدار ہیں۔

بادِ مخالف کے سامنے کھڑا ہمیشہ وہی رہ سکتا ہے جس کا دامن ہر طرح کی سیاسی، اخلاقی اور مالی بے ضابطگیوں سے پاک ہو، جس کے دامن پر ان برائیوں میں سے ایک چھینٹ بھی دکھائی دے گی وہ کھڑا رہنے کے قابل نہیں ہوسکتا۔

اب آپ 2018 کے انتخابات کے بعد سے اب تک کے سیاسی منظر نامے پر نظر دوڑا کے دیکھ لیجیے آپ کو مولانا فضل الرحمان کے سوا کسی جماعت کا کوئی لیڈربادِ مخالف کے سامنے کھڑا دکھائی نہیں دے گا، بلکہ بڑی سیاسی جماعتوں کے بڑے بڑے لیڈر لیٹے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ مولانا کی سیاسی جدوجہد کی اساس مجبور انسانیت کو پرامن طور پر معاشی و سیاسی افزودگی عطا کرنا ہے جو جابر بالادست طبقات کے ہاتھوں پسی ہوئی ہے۔ اس کاز کی خاطر وہ آج میدانِ سیاست میں بادِ مخالف کے سامنے تنہا ڈٹ کرکھڑے ہیں۔

مولانا کے ساتھ اس وقت صرف ان کی اپنی جماعت یا دینی جماعتوں کا ہی ووٹ نہیں ہے بلکہ انھیں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی و دیگر سیاسی جماعتوں کا وہ ووٹر جو اسلام اور پاکستان سے محبت رکھتا ہے اور اس ملک میں حقیقی جمہوریت دیکھنے کا خواہشمند ہے وہ بھی مولانا کے ساتھ کھڑا اور مولانا کو ہی اپنا نجات دہندہ سمجھ رہا ہے۔ ملک کی دونوں بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)کی جانب سے بار بار دھوکا دہی کے باوجود یہ جماعتیں اور ان کی قیادت مولانا کو ہی اپنا مسیحا مان چکی ہیں۔

اسی لیے رہبر کمیٹی نے گیارہ جماعتی اتحاد کی پگڑی مولانا کے سرپر رکھنے کی سفارش کردی ہے۔ مولانا کی جماعت کو ہمیشہ کے پی کے اور بلوچستان کے مخصوص علاقوں کی جماعت سمجھنے والے آج اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ اب سیاسی منظرنامہ بدل چکا ہے۔ مولانا کے فالورز اب صرف کے پی کے اور بلوچستان تک محدود نہیں رہے بلکہ ملک کے چپے چپے میں موجودہیں۔

مخالفین سمجھتے تھے مولانا الیکشن ہار گئے اب ان کا ملکی سیاست میں کوئی کردار نہیں ہوگا لیکن وہ یہ بات نہیں جانتے تھے کہ تدبیر اکثر تقدیر سے پٹتی ہے اور ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے، الیکشن ہارنے کے باوجود آج مولانا ملکی سیاست کا مرکز و محور بنے ہوئے ہیں، ساری کی ساری قومی سیاست ان کے گرد گھوم رہی ہے۔

آج صرف موجودہ حکمران ہی نہیں بلکہ اس ملک کے حقیقی طاقتور طبقات بھی اس مرد مجاہد سے خوفزدہ ہیں۔ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا جب ایمپائر کی نوازش سے تحریک انصاف نے اقتدار سنبھالا تھا، اس کے کچھ سینئر کھلاڑیوں نے تکبرانہ لہجے میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہم نے مولانا کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا ہے لہٰذا اب انھیں گھر بیٹھنا ہوگا۔ ادھر وطن عزیز کی مذہبی سیاست کے گوہر نایاب مولانا فضل الرحمان تھے جو دھاندلی زدہ الیکشن سے مسلط ہونے والی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہے تھے اور دیگر ہم خیال جماعتوں کو بھی یہ مشورہ دے رہے تھے کہ حلف نہ اٹھا کر اس پارلیمنٹ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان عوامی طاقت سے ایک ملک گیر مضبوط تحریک چلاتے ہیں۔ مولانا سے سرکاری رہائش گاہ خالی کرا لی جاتی ہے ۔ بہرحال  چار خود کش حملے برداشت کرنے والے مولانا فضل الرحمان سے سیکیورٹی تک واپس لے لی جاتی ہے، ان کی کردار کشی کی مہم کا آغاز کیا جاتا ہے جو آج عروج پر ہے ، اس مہم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ہر حکومت کا حصہ  بننے والے وفاقی وزیر شیخ رشید کی خدمات لی گئیں، موصوف بھول گئے کہ جب مولانا کی حکومت مخالف تحریک عروج پر پہنچتی ہے ،مولانا اسلام آباد لانگ مارچ کرتے ہیں وہ جو مولانا کی سیاست ختم کرنے کے اعلان کرتے ہیں، وہ مولانا کو رام کرنے کے لیے خفیہ کوششیں شروع کرتے ہیں۔

حکومت میں حصہ آفر کیا جاتا ہے، وزارتوں اور مراعات سے بھرپور پیکیج کی پیشکش کی جاتی ہے لیکن مولانا انکار کردیتے ہیں۔ مولانا ڈٹ کر کھڑے رہے، جب بات نہیں بنتی تو دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ نوازشریف اور زرداری جیسے مضبوط سیاستدانوں کے احوال سامنے دکھا کر ڈرایا جاتا ہے ، نیب کے نوٹس بھجوائے جاتے ہیں لیکن مولانا ڈٹ جاتے ہیں کہ ہم تو وہ ہیں جو انگریز اور برطانوی سامراج سے نہیں ڈرے تم ہمیں کیا ڈراؤ گے۔

مولانا سے صرف تحریک انصاف حکومت ہی خوفزدہ نہیں، بلکہ اپوزیشن اتحاد کی بڑی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) بھی ڈری ہوئی ہیں، انھیں جہاں نیب مقدمات کا سامنا ہے وہاں مولانا کی مقبولیت کا خوف بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اے پی سی میں مولانا کے خطاب کے دوران لائیو اسٹریمنگ بند کردی گئی۔

آج صورتحال یہ ہے کہ مولانا کی سیاست ختم کرنے کے دعوے کرنے والے خود مولانا سے پریشان اور بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور اپنی ہچکولے کھاتی حکومت کو بچانے کے لیے ہر آپشن استعمال کرنے کے لیے راضی ہیں۔ ادھر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعتیں ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ مولانا صاحب ہی اصل اپوزیشن بن چکے ہیں، ان جماعتوں کے کارکنان بھی مولانا کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

آج اپوزیشن بھی تسلیم کرچکی ہے کہ الیکشن کے بعد نتائج تسلیم نہ کرنے پر مولانا صاحب کا موقف ہی درست تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت کو ایکسپوز کرنے کے ساتھ ساتھ مولانا نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی نکمی ترین اپوزیشن کو بھی آئینہ دکھاتے ہوئے ایسے مقام پر لاکھڑا کیا ہے جہاں ان بڑی جماعتوں کو اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے مولانا کے موقف سے انحراف ممکن نہیں۔

اس وقت مولانا فضل الرحمان گفتار کے ہی نہیں بلکہ کردار کے بھی غازی بن کر کھڑے ہیں، کراچی سے خیبر تک ان کی مقبولیت کا گراف آئے روز بڑھتا چلا جارہا ہے، اندرون سندھ اور کراچی میں جمعیت ایک مضبوط قوت بن رہی ہے، پنجاب پر بھی اگر تھوڑی سی توجہ دی جائے تو یہ زمین بھی مولانا کو زرخیز ملے گی اور یہاں بھی عوامی قبولیت سرپرائز کی صورت میں مل سکتی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کو جو عروج، عوامی تائید اور مقبولیت آج مل چکی ہے اس کی مثال گزشتہ سو سالہ تاریخ میں نہیں مل سکتی۔

The post عروج، عوامی تائید و مقبولیت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/30oj3ds

عبداللہ عبداللہ، امن کا نقیب؟

افغانستان میں دو دہائیوں میںامریکی عسکری اخراجات کا تخمینہ 822 بلین ہے۔اس میں امریکی محکمہ دفاع، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر ایجنسیاں بھی شامل کی جائیں تو حقیقی رقم کہیں زیادہ ہے۔

2300 امریکی فوجی ہلاک، جب کہ 20660 زخمی ہوئے۔ ان میں وہ شامل نہیں، جواس طویل جنگ کے بعد دوبارہ سماج کا حصہ بننے سے قاصر رہے۔اشرف غنی کے بیان کے مطابق جب سے انھوں نے صدارت سنبھالی ہے، افغان سیکیورٹی فورسزکے 45 ہزار جب کہ ایک لاکھ سویلین قتل ہوچکے ہیں۔ اس تعداد میں طالبان کی ہلاکتیں شامل نہیں۔

افغان بادشاہ ظاہر شاہ کے بعد جب سردار داؤد  نے اقتدار پر قبضہ کیا اور 1973میں افغانستان کے اولین صدر ہونے کا اعلان کیا، تب سے پاک افغان تعلقات میں تناؤ ہے۔کبھی جو خواب لگاکرتا تھا، اب وہ امن قریب ہے۔ فروری2020 میں امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ طے پاگیا، ،موجودہ حکومت کے ساتھ افغان امن کے قیام کے لیے ڈیکلیریشن بھی سائن کر لیا گیا۔ معاہدے کا ڈھانچہ اپنی جگہ، مگر یہ تسلیم شدہ ہے کہ پاکستان کے بغیر اس امن معاہدے تک پہنچ پانا ناممکن تھا۔ پاکستان بھی افغان وار سے اپنا سبق سیکھ چکا ہے۔

ماضی میں پاکستان کے پالیسی سازوں کی جانب سے طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی دوڑ میں پشتون گھڑسواروں پر پیسے اور محنت صرف کرنا سودمند ثابت نہیں ہوا۔ لاکھوں افغان پناہ گزین ہماری معیشت پر بوجھ ہے۔افغان وار کے نتیجے میں پاکستان میں عسکریت پسندی اور اسلحہ بڑھا۔ پاکستان میں بیرونی فنڈنگ سے ، انتہا پسندانہ فکر کو فروغ دیا گیا، جس کے نتیجے میں پاکستانی طالبان کا ظہور ہوا۔

پس ماندہ قبائلی علاقوں میں جڑیں پکڑتے خطرے کا ادراک کرنے کے بجائے پاکستانی پالیسی سازوں  نے حالات کو تبدیل کرنے کے لیے وہ اقدامات نہیں کیے جو وقت کی ضرورت تھے۔ ادھر ہماری یکطرفہ پالیسی کی وجہ سے افغانستان کے تاجک اور ازبک عناصر ہم سے دورہوگئے۔

1990 میں گلبدین حکمت یار کی وجہ سے حالات مزید سنگین ہوگئے۔ حکمت یار نے احمد شاہ مسعود کو الگ تھلگ کر دیا۔ یوں افغانستان میں نئی صف بندی ہوئی۔

بھارت ایک ایسا ملک ہے، جس پر افغان اعتبار کرنے کوتیار نہیں۔ بھارت کی بی جے پی سرکار کی مسلم کش پالیسیاں عیاں ہیںاور وہاں بسنے والے مسلمانوں کی اکثریت کے اجداد کا تعلق افغانستان ہی سے ہے۔ افغانستان نے بھارت کو محض کسی اور کے خرچ پر لڑی جانے والی پراکسی وار کے پلیٹ فورم کے طور پر استعمال کیا۔ پہلے سوویت یونین اور بعد ازاں امریکی خرچ پر لڑی جانے والے جنگوں میں افغانستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

افغانستان میں پشتون تاجک اختلافات کا آغاز 1929میں ہوا۔تاجکوں کے قائد حبیب اللہ کلکانی کو افغان تخت کی اصل طاقت تصور کیا جاتا تھا۔حبیب اللہ کلکانی نے مغربی تصورات کے بے دریغ فروغ کا الزام عاید کرتے ہوئے افغان بادشاہ ،امان اللہ خان کا تختہ الٹ دیا۔بادشاہ سے اختلافات کی وجہ سے کمانڈر ان چیف، نادر شاہ نے جلا وطنی اختیار کر رکھی تھی۔البتہ اس واقعے کے بعد نادر شاہ نے پاکستان سے ملحقہ سرحدی علاقے میں لشکر منظم کرکے حبیب اللہ کی فوج کو شکست دی۔ کلکانی اور اس کے خاندان کے کئی افراد مارے گئے۔

فاتح لشکر نے تاجک علاقے میں لوٹ مار کی اور کئی مظالم ڈھائے۔ یوںپشتون اور تاجک تنازعے کا جنم ہوا، البتہ اب بہترین وقت ہے ۔ پرانے زخموں پر مرہم رکھے کے لیے موزوں ترین شخص عبداللہ عبداللہ ہیں، جن کی رگوں میںپشتون باپ اور تاجک ماں کا خون دوڑتا ہے۔

90 کی دہائی میں ہماری غیردانش مندانہ افغان پالیسی کی وجہ سے امریکا کو سہولیا ت کی اجازت مل گئی، جس سے پاکستان کی معیشت اور افرادی قوت کو نقصان پہنچا۔ پاکستان اب بھی اس ناکام پالیسی کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔البتہ اب بھی پاکستان کا اتنا اثر ہے کہ وہ افغانستان کے مختلف دھڑوں کو مذاکرات کی میز پر لا سکتا ہے۔ ایک ہفتے قبل اشرف غنی سرکار اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی پہلی ہی میٹنگ کے بعد یہ بات پھر واضح ہوگئی کہ دونوں فریقین میں اتفاق کے معاملے میں کچھ شہبات موجود ہیں۔طالبان کی جانب سے افغان سیکیورٹی فورسز پر حملے ان اختلافات کی سمت اشارہ ہیں۔ مزید پریشانی کی بات یہ ہے کہ طالبان مخالف گروہوں میں بھی منقسم ہے۔

افغانستان میں ہونے والے دونوں انتخابات میں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان کانٹے کا مقابلہ رہا۔ اشرف غنی دسمبر 2001 میں چوبیس سال بعد، یواین اور ورلڈ بینک میں اپنی ملازمت چھوڑ کر افغانستان لوٹے تھے۔وہ صدرحامد کرزئی کے چیف ایڈوائز  رہے۔ ادھر عبداللہ عبداللہ  شمالی اتحادکے سینئر رکن تھے اور 2001 سے پہلے احمد شاہ مسعودکے مشیر رہے۔ پانچ برس وزیر خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد وہ حامد کرزئی سے الگ ہوئے۔ انھوں نے دو بار اشرف غنی کے خلاف صدارتی الیکشن لڑا۔دونوں ہی موقعوں پر مقابلہ انتہائی قریبی رہا۔ انتخابات اور ووٹوں کی گنتی پر تحفظات کے بنیاد پر انھوں نے نتائج کو رد کرتے ہوئے اپنے طو رپر صدر کا حلف اٹھا لیا تھا۔

2007 سے 2012کے دوران معتبر امریکی تھنک ٹینک ’’ایس ویسٹ انسٹی ٹیوٹ ‘‘(EWI)کی جانب سے “Afghanistan Re-Connected” کے عنوان سے مذاکروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ مجھے برسلز اور برلن کے لیے EWIکا ڈائریکٹر نامزد کیا گیا۔ وہاں مجھے اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ سے طویل مکالمے کا موقع ملا۔ دونو ںہی صاحبان کی افغان اور بین الاقوامی ایشوز پر شان دار گرفت ہے۔ البتہ میں نے عبداللہ عبداللہ کو ہمیشہ معتدل، متوازن اور سہل پایا۔

یہ اتفاق ہی تھا کہ برلن سے دبئی لوٹتے ہوئے عبداللہ عبداللہ میری ساتھ والی نشست پر برا جمان تھے۔ میں نے ان سے پوچھا، ’ آپ نے پاکستان کے ساتھ تعمیری تعلقات استوار کیوں نہیں کیے؟‘ ان کے جواب نے مجھے چونکا دیا۔ ان کا کہنا تھا،’ اگر ہم چاہیں بھی، تو کیاآپ ہم سے بات کریں گے؟میں چپ رہا۔امن مذاکرات کے ابتدائی متنازع دنوں کے بعد اب عبداللہ عبداللہ پاکستان کے دورے پرآئے ہیں۔ ایک نوجوان ڈاکٹر کی حیثیت سے انھوں نے 85ء میں کچھ عرصے یہاں کام بھی کیا تھا۔ اس دورے سے ہمیں اپنی سابق افغان پالیسی پر نظر ثانی کرنے اوراسے بہتر بنانے کا نادر موقع ملتا ہے۔

پاکستان ایک پرامن افغانستان کا خواہش مند ہے۔ افغانستان ہمارا پڑوسی ہے اور یہ حقیقت کبھی تبدیل نہیں ہوسکتی۔ روس اور وسطی ایشیا کے درمیان مرکزی لنک کی حیثیت کا حامل افغانستان اس خطے میں پانی اور توانائی کی پالیسی میں کلیدی حیثیت کا حامل ہے ۔ سی پیک اور اس کی ایرانی توسیع افغانستان کو اہم شاہ راہ بنا دیتی ہے۔ اگر افغانستان میں امن ہوگیا، تو دو ملین افغان پناہ گزین بھی واپس لوٹ جائیں گے، جس سے پاکستانی معیشت پر بوجھ کم ہوگا۔

افغان امریکا امن معاہدے کے نتیجے میں امریکی فوج کا افغانستان سے انخلا صدر ٹرمپ کی ‘America first’پالیسی کا تسلسل ہے ۔امریکی فوج اس سے خوش نہیں۔ وہ کچھ دستے پیچھے چھوڑنا چاہیے گی۔ امکان ہے کہ امریکی انخلا کے بعد بھی لڑائی جاری رہے۔ایسے میں کوئی نہیں چاہے گاکہ افغانستان کا موجودہ حکومتی ڈھانچہ ڈھے جائے اور ایک خلا پیدا ہوجائے۔ اس لیے امریکی فوج کے چند دستوں کی موجودگی ضروری ہے۔ اشرف غنی عبداللہ عبداللہ کے مقابلے میں امریکیوں کے لیے زیادہ موزوں ثابت ہوئے۔ اشرف غنی کے مقابلے میں عبداللہ عبداللہ کی زمین میں جڑیں زیادہ گہری ہیں۔ اشرف غنی آج نہیں تو کل، امریکا لوٹ جائیں گے۔ ایک آزاد حکومت ہی افغانستان اور خطے کے لیے موزوں ہے۔

پاکستان کے پالیسی ساز اس انتہائی اہم اقدام کے لیے تعریف کے مستحق ہیں۔ ہم امن کے ممکنہ نقیب کے طور پر عبداللہ عبداللہ کو پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔

(فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)

The post عبداللہ عبداللہ، امن کا نقیب؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3cJUNY2

نواز شریف کی خاموش سیاست

طویل عرصے کی خاموشی کے بعد ماضی میں 3بار وزیر اعظم رہنے والے میاں نواز شریف نے اپوزیشن کی اے پی سی سے غیر متوقع طور جو خطاب کیا، اس سے ان کی سیاست ملک میں ایک بار پھر بلکہ دوبارہ حاوی ہوگئی اور یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ حکومت نے اپنی غیر ضروری ’’دانش مندی‘‘ سے اتنی چمکا دی جتنی نواز شریف کی اپنی پارٹی مسلم لیگ (ن) اور اپوزیشن بھی نہیں چمکا سکی تھیں۔

سالوں سے نواز شریف کی سیاست ختم ہو جانے کے دعوے کرنے والے وزیر شیخ رشید احمد کو نواز شریف کی سیاست کا صفحہ نہ جانے کہاں سے نظر آگیا اور انھیں اپوزیشن کی کامیاب اے پی سی میں نواز شریف کے خطاب کے بعد کہنا پڑا کہ نواز شریف نے اپنی سیاست کا صفحہ پھاڑ دیا ہے۔ حکومت کے وزیروں نے اے پی سی کی 26 قراردادوں پر توجہ دینے کی بجائے اپنا سارا زور نواز شریف کی تقریر پر لگا دیا ہے جو حکومتی حلقوں کے نزدیک انتہائی غیر مناسب مگر اپوزیشن کے نزدیک بالکل درست تھی جس پر نواز لیگ کے رہنما پوچھ رہے ہیں کہ حکومت بتائے کہ نواز شریف نے کیا غلط کہا ہے۔

اے پی سی کے دوسرے دن وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اے پی سی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش تھی اور نواز شریف نے بھارتی ایجنڈے کو فروغ دیا اور لندن میں بیٹھے مفرور شخص کی تقریر پر بھارتی میڈیا زہر اگل رہا ہے۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر اپوزیشن کی قراردادوں کا جواب دینے کے لیے چار اہم وفاقی وزیروں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اپوزیشن کی قراردادوں سے زیادہ اہمیت سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تقریر کو دی جو حکومت کے نزدیک انتہائی نامناسب تھی۔

وفاقی وزرا نے نواز شریف کی تقریر پر سخت تنقید کی اور اے پی سی کی تمام قراردادوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کیوں مستعفی ہوں؟ وہ قائم رہیں گے اور کسی کو این آر او نہیں دیں گے۔ وزرا کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی تقریر اور اے پی سی نے ملک اور جمہوریت کی کون سی خدمت کی ہے اور اپوزیشن کو جمہوریت کا نہیں اقتدار کا درد ہے۔

حکومتی حلقوں کا یہ کہنا ان کے نزدیک درست ہے کہ شدید بیماری کا بہانہ بنا کر ملک سے باہر جانے والے نواز شریف خود ایکسپوز ہوگئے ہیں کہ وہ بیمار نہیں تندرست ہیں اور ان کا 54 منٹ کا خطاب ثبوت ہے کہ انھوں نے ملک سے بیماری کے بہانے باہر جاکر سیاست شروع کر رکھی ہے۔ وہ سیاسی رابطے بھی کر رہے ہیں مگر تندرست رہنے کے بعد بھی ملک میں واپس نہیں آرہے۔

نواز شریف ایک روز بھی اسپتال میں داخل نہیں رہے اس لیے انھیں وطن واپس آ کر اپنی سزا مکمل اور عدالتوں میں اپنی اپیلوں کا سامنا کرنا چاہیے اور باہر بیٹھ کر اداروں پر حملے اور بھارت کو خوش نہیں کرنا چاہیے۔ ادھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ وفاقی حکومت نے خود نواز شریف کو باہر بھیجا اور حکومت ہی مفرور نواز شریف کو لندن سے ملک واپس بلانے کی ذمے دار ہے۔

یہ بھی درست ہے کہ وزیر اعظم عمران خان سزا یافتہ قیدی نواز شریف کے باہر جانے کے حق میں نہیں تھے جس کا بقول شیخ رشید وزیر اعظم کو پچھتاوا ہے مگر وہ اب نواز شریف کو وطن واپس نہیں لاسکتے البتہ حکومت کوشش ضرور کر رہی ہے۔نواز شریف ایک کیس میں سزا یافتہ اور پہلے کیس میں ضمانت پر ہیں۔

انھیں سزا دینے والا متنازعہ جج اپنی برطرفی کی سزا بھگت رہا ہے جس کی سزا کے خلاف نواز شریف کی اپیل زیر سماعت ہے اور اصولی طور پر انھیں واپس آ کر اپنی اپیلوں میں عدالتوں میں پیش ہوکر عدالتی فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے مگر اب نواز شریف کی سیاست یہ ہے کہ وہ ملک واپس نہ آئیں اور وطن میں قید رہنے کی بجائے لندن کی آزاد فضاؤں میں اپنا علاج کراتے رہیں جو کبھی ختم نہیں ہوگا اور ڈاکٹر انھیں آنے نہیں دیں گے۔

نواز شریف کو کیا ضرورت ہے کہ وہ پاکستان آکر قید میں اپنی عمر گزاریں، سیاست تو وہ باہر رہ کر ہی جاری رکھ سکتے ہیں۔ ان کی خاموش سیاست تو کسی مصلحت کے باعث لندن جانے کے بعد سے ہی جاری تھی، جسے اے پی سی میں زبان مل گئی ہے جس نے حکومت کو نواز شریف کی بولتی سیاست کا جواب دینے پر مجبور کردیا ہے مگر ان کے جواب پر نواز شریف نہیں حکومتی حلقے ہی مطمئن ہیں کیونکہ حکومتی تردیدوں کو مخالف تسلیم ہی نہیں کرتے تو نواز شریف کے پاس اب اپنی سیاسی خاموشی چھوڑنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں ہے کہ وہ حکومت کی خواہش کی تعمیل کریں اور آ کر قید ہو جائیں۔ وہ مفرور اور قیدی کیسے بنے، ملک میں ہی نہیں باہر والوں کو بھی پتا ہے۔

ان کی سزا کی حقیقت حکومتی حامیوں کے سوا سب کو پتا ہے مگر سب کی اپنی اپنی مجبوریاں ہیں ،کیوں یہاں سچ نہیں صرف جھوٹ برداشت کیا جاتا ہے مگر سچ اور حقائق دیر سے ہی آشکار ہوتے ہیں جو ہوکر رہتے ہیں۔

The post نواز شریف کی خاموش سیاست appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3cKLPKd

مسئلہ افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں

افغانستان کی مفاہمتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے افغان عوام کی طرف سے گرمجوشی اور دوستی کاپیغام لایا ہوں،ہم خودمختار افغانستان چاہتے ہیں جس میں کوئی دہشت گرد گروہ نہ ہو جو ہمارے ہمسائیوں کو نقصان پہنچائے۔پاکستان نے امن عمل میں سہولت کاری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ان صائب خیالات کے اظہار سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز افغانستان میں امن واستحکام کے متمنی ہیں اور مذاکرات  کے احیا سے سب نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ کیا ہم اس بات کی اہمیت سے انکار کرسکتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کا مستقبل امن سے وابستہ ہے، جس کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان کی تمام جماعتوں کے درمیان مکالمہ ہو اور باہمی اعتماد و احترام کی فضا پیدا ہو۔

پاکستان نے ہمیشہ افغان عوام کی بھلائی چاہی ہے۔ افغان مہاجرین کے ساتھ ہمارا تعلق بھائیوں جیسا رہاہے اور آج بھی لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں موجود ہیں۔ان مہاجرین کی موجودگی نے پاکستان کی معیشت اور معاشرت دونوں کو متاثر کیا اور اب بھی مشکلات ختم نہیں ہوئی،لیکن پاکستان نے اس کے باوجود لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے۔

افغانستان اور پاکستان کے عوام پیار و محبت اور مذہب و کلچر کے تاریخی رشتے میں جڑے ہوئے ہیں۔ ان دونوں ممالک کے درمیان فاصلے امن دشمنوں کے پیدا کردہ ہیں جنھیں ختم ہونا چاہیے کیونکہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان خوشگوار اور دوستانہ تعلقات قائم رکھنے کے علاوہ اور کوئی چوائس نہیں۔افغانستان نہ صرف جنوبی اوروسط ایشیا بلکہ مغربی ایشیا یعنی ایران کے لیے بھی ایک پل کا کام کرتا ہے۔

اس لیے افغانستان میں عدم استحکام کا براہ راست اثر پورے خطے پر پڑتا ہے۔ افغانستان سے غیرملکی افواج کے مکمل انخلا کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان کے مختلف نسلی اور قبائلی گروپوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہو۔ اب افغان طالبان نے اپنی پالیسی میں تبدیلی پیدا کی اور برسراقتدار گروپوں نے بھی حالات کو سمجھ لیا ہے اور ان کے درمیان باہمی مذاکرات کا عمل شروع ہوا۔اس میں پاکستان نے انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔

امریکیوں کو معلوم ہے کہ وہ دودہائیوں سے جاری جنگ پاکستان کے مدد کے بغیر ختم نہیں کراسکتے وہ افغانستان سے باعزت واپسی چاہتے ہیں۔ یہ جو امن کی فضا بن رہی ہے، اس کے نتیجے میں افغانستان کا اقتصادی مستقبل بھی روشن ہے، ہم بہت جلد دوسروں سے امداد لینے کی بجائے دوسروں کی امداد کرنے والے دوست ملک بن جائیں گے۔

ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹرٹیجک اسٹڈیز میں کانفرنس سے خطاب میں مزید کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو مشترکہ خطرات اور چیلنجوں کا سامنا ہے ،جن میں دہشت گردی ، انتہا پسندی ، عدم رواداری اور کوویڈ 19کی وبا شامل ہے، دونوں ممالک کے مابین سیکیورٹی، سیاسی اور معاشی شعبوں میں باہمی تعاون کی صلاحیت موجود ہے۔

ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کبھی سو فیصد دوستانہ نہیں رہے، اس کی بہت سے وجوہات ہوسکتی ہیںلیکن اس وقت سب سے اہم کام افغان امن عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے۔ تاکہ دہشت گردی کے واقعات پر قابو پایا جاسکے ۔ان پر قابو پانے میں افغانستان کو اپنا کردار ادا کرنا ضروری ہے۔

پاکستان و افغانستان کے مفادات باہم جڑے ہوئے ہیں۔اس موقعے پروزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغان تنازع کا عسکری حل نہیں،مذاکرات کے ذریعہ تلاش کیا جانے والا سیاسی حل ہی واحد حل ہے، تشدد میں کمی امن کے لیے انتہائی ضروری ہے، انھوں نے واضح کیا کہ  ہم افغانستان کی سالمیت اور خود مختاری کا احترام کرتے ہیں،ہم فرینڈز ہیں، ماسٹرز نہیں۔ عبداللہ عبداللہ کا دورہ باہمی تعلقات کے لیے اہم ہے، وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی افغانستان کاجلد دورہ کریں گے۔ کتنی خوش آئند بات ہے کہ برف پگھل رہی ہے ، افغانستان کی قیادت کو بھی یہ بات اب سمجھ میں آرہی ہے کہ پاکستان کے احسانات ہیں ان کے ملک پر ،نہ جانے کیسے وہ  پاکستان دشمنوں کے پروپیگنڈا کا شکار ہوکر اب تک اپنا نقصان خود کرتے آئے ہیں۔

ہمیں یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہی کہ گزشتہ برس پاکستان، چین، افغانستان سہ فریقی مذاکرات ہوئے تھے جن میں طے پایا تھا کہ سہ ملکی سطح پر ایک سڑک ایک راستہ منصوبے کے تحت روابط اور تعاون بڑھایا جائے گا، پاک، افغان تجارت میں اضافے کے لیے کابل پشاور موٹروے پر چین مدد گار ہو گا، تین ممالک کی راہداریوں پر امیگریشن مراکز، سرد خانے، طبی مراکز اور پینے کے پانی کی اسکیمیں بھی پایہ تکمیل کو پہنچائی جائیں گی۔ افغانستان میں دراصل امن قائم نہ ہونا ، اس کی ترقی وخوشحالی کی راہ میں رکاوٹ ہے حالانکہ یہ ملک خطے کی ترقی کا گیٹ وے ثابت ہوسکتاہے۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان اور افغانستان کی مفاہمتی کونسل کے چیئرمین کے درمیان ملاقات کا اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے عبداللہ عبداللہ سے ملاقات میں افغان امن عمل کے کامیاب نتائج کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں،سیاسی حل ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے،پاکستان افغان راہداری تجارت کی سہولت کے لیے ہر طرح کی کوششیں جاری رکھے گا، معاشی و عوامی تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے، صدر اشرف غنی کی دعوت پر اپنے دورہ افغانستان کامنتظر ہوں۔

انتہائی مدلل انداز میں وزیراعظم عمران خان نے اپنا دوٹوک موقف واضح کیا ہے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوستی کو مزید پختہ کرنے کے حوالے سے۔لہٰذا اب یہ ضروری ہے کہ امریکا سمیت تمام ممالک افغانستان میں قومی حکومت کے قیام میں مدد کریں اور افغان حکومت کو بھی یہ حقیقت اب سمجھ لینی چاہیے کہ پاکستان کے تعاون اور امداد کے بغیر افغانستان اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوسکتا، کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے لازم وملزوم ہیں۔عمران خان کہہ چکے ہیں کہ امریکا کا فوری طور پر افغانستان سے انخلا خطرناک ہوگا۔

افغانستان کے راستے روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے تجارت اور دوستانہ روابط جیسے اہداف پر بھی پاکستان کی نظریں مرکوز رہنی چاہئیں، پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی کا درارومدار دو یا تین ممالک سے گرمجوش دوستانہ تعلقات پرہے جب کہ دنیا زیادہ بڑی اور دیگر امکانات بالخصوص یورپی ممالک سے تعلقات کی نئی جہتوں کو تلاش کیا جاسکتا ہے۔

یورپ میں ابھرتے نئے تجارتی مواقعے پاکستان کے حق میں مفید ثابت ہو سکتے ہیں لیکن اگر ان کے بارے میں پہلے سے لائحہ عمل تشکیل دے دیا جائے‘ مجموعی طور پر تغیرپذیر عالمی تناظر میں نئے اتحادیوں کی تلاش اور انھیں ہمنوا بنانے میں حرج نہیں بلکہ خارجہ تعلقات کی مضبوطی و پائیداری اسی میں ہے کہ دوسروں کا اتحادی بن کر پاکستان کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

آنے والے دنوں میں وسطی ایشیا اور پاکستان کے درمیان ریلوے روابط اور ایک گیس پائپ لائن شامل ہے جو پاکستان کے راستے بھارت تک جائے گی۔اس طرح کے تمام روابط افغانستان اور پاکستان سے گزرتے ہیں اور صرف اسی صورت میں تعمیر ہوسکتے ہیں جب افغانستان کے ساتھ ساتھ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان امن ہو۔

علاقائی خوشحالی کی طرف پہلے قدم کے طور پر ا فغان عمل کو جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ افغانستان جنگ بندی سے پہلے کی حالت پر واپس نہ لوٹ سکے۔ ہم اس سچائی سے کسی طور انکار نہیں کرسکتے کہ افغان قیام امن کے عمل میں پاکستان کا کردار بنیادی اہمیت وافادیت کا حامل ہے، اگر افغانستان میں قیام امن ہو جاتا ہے تو اس سے پاکستان کے مفادات کا تحفظ یقینی ہے اور افغانستان میں مستقبل کا سیاسی حکمران سیٹ اپ جو بھی ہو‘ اس میں پاکستان کے ساتھ سرحدی تنازع ختم ہوجانا چاہیے کیونکہ باہمی جھگڑا نمٹائے بناپاک افغان سرحد پر لگائی جانیوالی باڑ کا عمل مکمل نہیں ہو گا ۔اس سلسلے میں امریکا سے اس بات کی ضمانت لینا بھی ضروری ہے کہ وہ افغانستان سے فوجی اِنخلاء کے بعد بھی افغانستان کی تعمیروترقی اور خطے کے مسائل کے حل میں مدد دے گا۔

پاکستان کو افغان مہاجرین کی وطن واپسی میں بھی مدداور مہاجرین کی واپسی کی ضمانت چاہیے،کیونکہ پاکستان کئی دہائیوں سے افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔ افغانستان کی قیادت کے مثبت خیالات سے یہ امید ہوچلی ہے کہ وہ امن قائم کرنے کے عمل میں سنجیدہ ہیں ، اگر فہم وفراست اور تدبر کے ساتھ چلیں تو افغانستان میں پائیدار امن قائم ہوسکتا ہے جو خطے کی ترقی وخوشحالی میں بنیادی اور کلیدی کردار کا حامل ہوگا۔پاکستان اورافغانستان کے درمیان ایک نیادور شروع ہونے والا جو خطے کے استحکام کا ضامن ہوگا۔

The post مسئلہ افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2GoQAgw

موسم سرما : بچوں اور بڑوں کو لاحق بیماریاں، احتیاط اور علاج

جوں جوں سردی کا موسم قریب آتا ہے، ننھے منے پھول جیسے بچے زیادہ سردی لگنے سے مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار ہونے لگتے ہیں۔

بچوں کا مدافعتی نظام اتنا مضبوط نہیں ہوتا، اس لیے وہ تھوڑی سی بد احتیاطی سے بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سردیوں میں ناک بہنا ، زکام، کھانسی، بخار، سانس کا تیز چلنا بچوں میں ہونے والی عام علامات ہیں۔ ان سب پر مناسب توجہ سے آسانی سے قابو پایا جاسکتا ہے۔

ان حالتوں میں زیادہ تر سانس کے نظام کا اوپر والا حصہ متاثر ہوتا ہے۔ یہ عموماً وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن کوئی اور بیکٹیریا بھی انفیکشن کرسکتا ہے اور مناسب توجہ نہ دینے کی وجہ سے نمونیہ اور ٹی بی جیسے موذی مرض بھی ہوسکتے ہیں جس سے بچے کے لیے بہت زیادہ مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

علاج اور بچاؤ

-1نظام تنفس کے اوپر کے حصہ کی بیماریاں جنہیںURTIبھی کہتے ہیں یا تو وائرس کی وجہ سے ہوتی ہیں یا پھر بیکٹیریا کی وجہ سے۔ ان میں بچہ بے چین ہوتا ہے۔ بخار کی وجہ سے جسم گرم محسوس ہوتا ہے۔ ٹانسل اور نظام تنفس کے اوپر والے حصے کے دوسرے حصے سوجے اور پھولے نظر آتے ہیں۔ سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ ان سب حالات میں ماں کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔ اس کا کام ہے کہ تسلی سے بچہ کی حرکات و سکنات اوررویے میں تبدیلی کو دیکھے اور ان حالات میں بچے کو ایک صاف اور ہوا دار کمرے میں رکھا جائے۔ دوسرے صحت مند بچوں کواس سے دور رکھا جائے۔

-2بخار وغیرہ کی صورت میں بچے کو کچھ نہ کچھ کھلاتے پلاتے رہنا چاہیے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ مائیں اس صورت میں بچے کو کھلانے پلانے سے احتراز کرتی ہیں۔ ماں کو بد ستور اپنا دودھ پلاتے رہنا چاہیے اور زیادہ تر پینے والی اشیاء دینا چاہئیں۔

-3بچے کی نیند اور آرام کا مکمل خیال رکھنا چاہیے۔

-4اگر ٹمپریچر زیادہ ہو تو پھر ٹھنڈی پٹیاں کر کے اس کو کنٹرول کرنا چاہیے۔

-5بخار کم کرنے کے لیے کوئی بخار کم کرنے والی دوا استعمال کریں لیکن 12سال سے کم عمر بچوں میں اسپرین یا ڈسپرین کبھی استعمال نہ کی جائے کیونکہ اس سے جگر اور دماغ کی بیماری ہوسکتی ہے۔

-6مچھلی کا تیل(Cod liver oil) یا شہد بچوں کے لیے اچھی غذا ہے اور یہ نظام تنفس کے امراض کو روکنے میں مدد کرسکتے ہیں۔

-7بہت سے ایسے امراض ہیں جن میں اینٹی بائیوٹکس دواؤں کے استعمال کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ان کی ضرورت وائرس سے ہونے والی انفیکشن میں بالکل نہیں ہوتی۔

اگر اوپر دی گئی ہدایات پر عمل کرنے سے بچے کا بخار کم نہ ہو اور سانس میں رکاوٹ بد ستور بر قرار رہے تو پھر ڈاکٹر سے مشورہ کرکے بچے کا باقاعدہ علاج شروع کروانا چاہیے تاکہ باقاعدہ تشخیص کرکے صحیح علاج کیا جاسکے۔

 بڑی عمر کے لوگوں میں ہونے والی علامات، بیماریاں اور علاج

سردیوں کے موسم میں بچوں کی طرح بڑے بھی مختلف بیماریوں اور چیسٹ انفیکشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جان لیوا خشک کھانسی اور بلغمی کھانسی پیچھانہیں چھوڑتی۔ گلے میں سوجن کی وجہ سے آواز نہیں نکلتی۔ زکام کی وجہ سے ہر وقت ناک بہتا رہتا ہے۔ دمہ کے مریضوں میں انفیکشن کی وجہ سے دمہ کے مرض میں شدت آجاتی ہے۔

 خشک اور بلغمی کھانسی کا علاج

انسانی جسم کا مدافعتی نظام بہت مضبوط ہے۔ جب بھی جسم پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے جسم کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کا مقابلہ کیا جائے۔ کھانسی کا آنا بھی اسی مدافعتی نظام کا حصہ ہے۔ کھانسی کے ذریعے سانس کی نالی کے اوپر والے حصے سے جمی ہوئی بلغم باہر نکلتی ہے جس سے سانس لینا آسان ہو جاتا ہے۔

کھانستے رہنے سے سانس کی نالی صاف ہوتی رہتی ہے۔ اس بلغم کا اخراج نہ ہو تو سانس کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں اور یوں سانس پھولنے اور دمہ کی بیماری کے حملے ہونے لگتے ہیں۔ اس لیے اس طرح کی کھانسی کو روکنے کے لیے کسی قسم کی دوا کی ضرورت نہیں رہتی۔

اصل میں کھانسی کی دوا صرف اور صرف اس وقت استعمال کرنا چاہیے جب اس کے ساتھ ساتھ دوسری تکالیف ہوں یعنی بخار یا کوئی اور انفیکشن جن کا علاج بہت ضروری ہے۔

بعض اوقات گرم پانی اور نمک کے غرارے کرنے یا پھر بھاپ لینے سے کھانسی دور ہو جاتی ہے۔ مختلف قسم کی نت نئی کھانسی کی دوائیں حقیقتاً کھانسی روکنے میں ذرا بھی مدد نہیں کرتیں۔ ان کا بے جا استعمال صرف اور صرف پیسے کا ضیاع ہے۔ اس لیے ان کے استعمال سے پرہیز کرنا بہتر ہے۔

زکام اور سر درد سے نجات

بعض نام نہاد حکیم اور جعلی ڈاکٹر ذرا سے زکام میں مختلف دواؤں کی کاک ٹیل بنا کر دیتے ہیں جس میں درد دور کرنے والی دوا الرجی کے لیے دوا، اینٹی بائیوٹک دوا اور سٹیر ائیڈ شامل ہوتے ہیں۔ اگرچہ اس سے فوری افاقہ تو ہو جاتا ہے لیکن ان دواؤں کے مضر اثرات کی وجہ سے بعد میں خاصے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

زکام یا فلو ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے جس میں ان ساری دواؤں کے استعمال کا ذرا بھی فائدہ نہیں۔ زکام میں ناک میں ڈالنے والی یا بند ناک کھولنے والی دواؤں سے حتی المقدور پرہیز کریں کیونکہ اس سے بلڈ پریشر اور خون کی نالیاں سکڑنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

اس لیے بہتر ہے کہ ایسی تمام دواؤں کے استعمال سے بچا جائے۔ تاہم زکام کی وجہ سے اگر سر درد یا بخار ہو تو اس صورت میں سر درد یا بخار کے لیے پیراسٹا مول یا ڈسپرین لینے میں کوئی حرج نہیں۔ اس طرح زکام میں سٹیرائیڈز اور اینٹی بائیوٹک دواؤں کے استعمال کا بالکل کوئی فائدہ نہیں۔ زکام ہونے کی صورت میں مندرجہ ذیل آسان گھریلو نسخے پر عمل کریں:

٭زکام یا فلو ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے جس پر مختلف قسم کی دواؤں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اس کا سب سے بہتر علاج بھاپ لینا ہے۔ بھاپ لینے سے وائرس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

٭زکام کے دوران وٹامن سی کا استعمال بھی فائدہ مند ہے۔ وٹامن سی کے لیے اورنج جوس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

٭زکام کے دوران سوپ لیں اور جوشاندہ وغیرہ کا استعمال کریں۔

٭کھانسی اور گلے کی خراش کی صورت میں غرارے کریں۔

٭ملٹھی کا استعمال کریں۔

گلے کے امراض کے لیے دوائیں اور علاج

گلے کی مختلف تکالیف کے لیے دواؤں کا استعمال کرتے وقت اس بات کا تعین کرنا بہت ضروری ہے کہ واقعی دوا کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔ معمولی گلا خراب ہونے یا گلے میں خارش ہونا کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ کھانے پینے میں احتیاط نہ کرنے اور بہت زیادہ ٹھنڈی یا زیادہ گرم اشیاء کھانے سے بھی گلا خراب ہو جاتا ہے۔ جو ایک آدھ دن بعد خودبخود ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ گلے میں انفیکشن ہونے کی صورت میں اینٹی بائیوٹک دواؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرلیا جائے۔ گلے کی معمولی تکلیف بعض اوقات صرف غرارے کرنے سے ٹھیک ہو جاتی ہے۔ تکلیف زیادہ دیر برقرار رہے تو بہتر ہے ڈاکٹر کے مشورہ سے علاج کیا جائے۔

آسان اور متبادل علاج

گلے کی تکالیف دور کرنے کے لیے مندرجہ ذیل آسان آزمودہ نسخوں پر عمل کریں۔

٭نیم گرم پانی میں نمک ملا کر باقاعدگی سے غرارے کریں۔

٭ادرک کے رس میں شہد ملا کر چاٹنے سے بھی گلا ٹھیک ہو جاتا ہے۔

٭ذرا سی سونف منہ میں ڈال کر دن میں کئی بار چبائیں اور اس کا رس نگل لیں۔

٭آواز بیٹھ جانے کی صورت میں آدھا لیٹر پانی میں تھوڑی سی سونف ڈال کر پکائیں۔ چوتھا حصہ رہ جائے تو اسے اتار کر حسب ذائقہ چینی ملا کر دو تین بار دن میں استعمال کریں۔ آواز ٹھیک ہو جائے گی۔

٭ایک چمچ ’’سرکہ‘‘ پانی میں ڈال کر غرارے کریں۔

٭ایک لیموں کو پانی میں دس منٹ تک ابالیں۔ اس کا جوس نکال کر ایک گلاس میں ڈالیں۔ اس میں دو چمچ گلیسرین ڈال کر اچھی طرح ہلائیں، دو چمچ شہد ڈالیں اور گلاس کو پانی سے بھر لیں۔ کھانسی کا قدرتی شربت تیار ہے۔ گلے کی خرابی میں ہونے والی کھانسی کے دوران 5 دن تک دو چمچ صبح، دوپہر، شام استعمال کریں ان شاء اللہ افاقہ ہوگا۔

٭ملٹھی اور سونف کا استعمال بھی کھانسی روکنے میں ممد ثابت ہوتا ہے۔

دمہ میں استعمال ہونے والی دوائیں، احتیاط اور علاج

دمہ بچوں اور بڑوں کے لیے ایک بہت تکلیف دہ بیماری ہے۔

اس میں بار بار سانس اکھڑتا ہے جو بعض حالتوں میں خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

دمہ بعض اوقات الرجی کرنے والی اشیاء مثلاً گرد، ہاؤس مائٹ، پولن گرین یا کھانے پینے کی اشیاء کی وجہ سے ہوتا ہے یا پھر انفیکشن کی وجہ سے جس کی و جہ سے سانس کی نالیوں میں بلغم جمع ہو جاتا ہے ان حالتوں میں سب سے بہتر علاج الرجی کرنے والے عناصر سے پرہیز اور انفیکشن کو کنٹرول کرنا ہے۔ n

The post موسم سرما : بچوں اور بڑوں کو لاحق بیماریاں، احتیاط اور علاج appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2GqfT1s

نفسیاتی مسائل، اسباب، غذا اور بچاؤ کی تدابیر

 ڈپریشن، اینگزائٹی ، ٹینشن، اور اسٹریس کا جدید دور کے مہلک ، موذی اور خطر ناک عوارض میں شمار ہوتا ہے۔ ہم میں سے اکثریت کسی نہ کسی حوالے اورکسی نہ کسی طرح سے ذہنی تناؤ، اعصابی دباؤ، نا اْمیدی اور تشویش میں مبتلا پائی جاتی ہے لیکن ہم میں سے زیادہ تر افراد اس کے ادراک سے قاصر ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مْطابق ہر سال ڈپریشن، اینگزائٹی اورسٹریس جیسے امراض کی وجہ سے دنیا بھر میں لاکھوں انسان زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

پاکستان کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستانی شہریوں میں ذہنی امراض میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ان کی وجہ سے نفسیاتی و سماجی مسائل میں بھی زیادتی ہو رہی ہے۔خوشحال اور آ سودہ زندگی کا ہماری ذہنی حالت سے گہرا تعلق ہے۔ مثبت اور تعمیری سوچ کوآسودہ حال زندگی کی دلیل خیال کیا جاتا ہے۔

ماحول کی غیر موزو نیت ، حالات کی نا موافقت اور معاشی و سماجی الجھنیںزندگی کو اس قدر پیچیدہ نہیں بناتیں جس قدر ہم منفی و تخریبی سوچ کے انداز سے خود اپنے لئے زندگی کو مشکل اور تکلیف دہ بنا لیتے ہیں۔ حسد، ہوس،کینہ ، نفرت، تکبر اور بغض و بخل جیسے قبیح جذبات روح کو گھن کی طرح سے کمزور کرتے جا رہے ہیں۔ روح کمزور ہونے سے ذہنی و جسمانی امراض کی بہتات ہو رہی ہے۔

طب ِ قدیم کی رو سے انسانی جسم میں پائے جا نے والے اخلاط صْفراء ، سوداء، بلغم اور خون میں سے کسی ایک کی کمی یا زیادتی با لخصوص سوداء کی زیادتی اور خون کی کمی دماغی و ذہنی امراض کا باعث بنتی ہے۔سوداء کا غلبہ ہونے سے دماغی جھلیوں میں خشکی بڑھ جاتی ہے اور خلیات کو خون کی رسد بہم نہ ہو پانے کی وجہ سے ذہنی صلاحیتوں میں کمزوری  واقع ہونے لگتی ہے۔

چونکہ انسانی دماغ پورے جسم کے افعال کو کنٹرول کرتا ہے اور بدنِ انسانی کی تمام تر صلاحیتوں کا دارو مدار بھی دماغی کارکردگی پر ہو تا ہے۔ عضلات کے ذریعے سے جسم کے تمام نظام دماغ کے زیرِ انتظام افعال سر انجام دیتے ہیں۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ دماغی آسودگی، صحت مندی اورمضبوطی پورے بدنِ انسانی کی درستگی، صحت اور مضبوطی کی دلیل مانی جاتی ہے۔ خلط سودا کی زیادتی پریشان خیالی ، وسواس، وہم ، مایوسی ، افسردگی ، ناامیدی ، بے یقینی کی کیفیت اور خوف کی حالت پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔

ہر وقت سوچوں میں غلطاں رہنے کی عادت اورچہرے پر بارہ بجے رہنے کی کیفیت دماغی کمزوری اور ذہنی بے چینی کی علامات میں زیادتی کا باعث بنتی ہیں۔علاوہ ازیں نفرت، ناکامی، انتقام اور حرص و ہوس جیسے قبیح جذبات بھی ذہنی بیماریاں بڑھانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔عشق محبت میں مایوسی ہونا، کاروباری معاملات میں نقصانات اٹھا نا بھی دماغی و نفسیاتی امراض کی وجہ بنتے ہیں۔ جدید طبی تحقیقات کی رو سے دماغی میٹا بولزم میں خرابی پیدا ہو جانے سے دماغی پیغام رساں خامرات نیورو ٹرانس میٹرزکی کا کردگی متاثر ہو نے کی وجہ سے دماغی امراض رو نما ہو نے لگتے ہیں۔

علاوہ ازیں نیورو پائین فرائن اور سیرو ٹونن کے افراز میں کمی واقع ہونے یا دماغی خلیات تک مناسب رسائی نہ ہو نے کی وجہ سے بھی ذہنی عوارض پیدا ہونے لگتے ہیں۔انسانی جسم میں وٹامن بی 12 اور فولک ایسڈکی مطلوبہ مقدار میں کمی واقع ہو نے اور سکون آور ادویات کے متواتر اور بے دریغ استعمال کرنے سے دماغی شرائن تک خون کے سرخ ذرات کی با قا عدہ رسد میں رکاوٹ پیدا ہونا،بلڈ پریشر، ذیا بیطس، دائمی قبض، اچانک حادثات، ذہنی صدمات، طویل عرصے تک نیند پو ری نہ ہو سکنا، مقاصد میں مسلسل ناکامیوں کا سامنا  ہونا اور ازدواجی الجھنوں میں گھرے رہنا بھی ذہنی اور دماغی امراض کا سبب بنتے ہیں۔

متواتر اور لگاتار سوچتے رہنے سے اعصابی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ تفکرات میں گھرے رہنے سے نظامِ انہضام بھی تباہ ہو جاتا ہے۔بسا اوقات بھوک کی کمی و اقع ہو جانے سے مریض کئی کئی روز کچھ کھاتا پیتا نہیں جس کی وجہ سے جسمانی عوارض پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر ذہنی مسائل کا بر وقت تدارک نہ کیا جائے تو مریض مایوسی، تشویش اور ناامیدی میں مبتلا ہو کر سکون آور ادویات کی طرف مائل ہونے لگتا ہے۔

وہ کسی بھی ایسے ذریعہ کی تلاش کرتا ہے جو اسے اس بے چینی، اضطراب اور بے یقینی کی کیفیت سے نجات دلائے۔اس مقصد کے لئے وہ جائز اور ناجائز ہر دو طریقے اپنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن ایسا کرنا مریض کی صحت کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بدنصیبی سے ہمارے ملک میں صحت کے حوالے سے لوگوں میں پوری طرح سے شعور اجاگر نہ ہو پایا ہے۔اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی اپنی ذہنی کیفیات معالج اور اپنے دوست و احباب سے بیان کرنے میں قباحت محسوس کرتے ہیں۔اگر ابتداء سے ہی ذہنی مسائل کے متعلق ادراک حاصل کرلیا جائے تو بعد ازاں کئی ایک نفسیاتی اور سماجی الجھنوں سے محفو ظ ر ہا جا سکتا ہے۔

غذائی علاج: دماغی امراض میں کیلا کمال فوائد کا حامل پھل ہے۔جدید تحقیق کی رو سے کیلے میں ایسے کیمیائی اجزاء پائے جاتے ہیں جو کھانے والے کو افسردگی، اداسی، چڑچڑے پن، بد مزاجی اورمایوسی کی کیفیت سے محفوظ رکھتے ہیں۔ مغزیات جیسے بادام، پستہ، اخروٹ، چلغوزہ، مونگ پھلی وغیرہ بھی دماغ کی تقویت اور حفاظت میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔دھیان رہے کہ مغزیات کا ضرورت سے زیادہ استعمال کئی ایک دوسرے عوارض کا باعث بن سکتا ہے۔لہذا موسم کی مناسبت سے ان کا استعمال  لیکن اپنے معالج کی اجازت کے بغیر ہر گز نہ کریں۔

طبی ماہرین نے دماغی کمزوری کے لئے خمیرہ جات، مربہ جات، مقویات، مفرحا ت، اطریفلات، معجونات، جوارشات اور روز مرہ استعمال کی جانے والی غذاؤں میں سے مخصوص اجزاء کی حامل اشیاء کو بہترین قرار دیا ہے۔ زنک اور مر جان کو دماغی کمزوری سے نجات حاصل کرنے کے بہترین ہتھیار کہا جاتا ہے۔ دماغی خلیات تک آکسیجن کی رسد کے لیے فولاد کا بنیادی کردار مانا جاتا ہے۔

فولاد چستی بڑھاتا اور دماغ کو کام کرنے پر اکساتا ہے۔ کیلشیم اور فاسفورس کو دماغی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لیئے خاص نسبت دی جاتی ہے۔خمیرہ گاؤزبان سادہ، خمیرہ گاؤزبان عنبری، خمیرہ گاؤزبان جواہر دار،خمیرہ مرواریدوغیرہ کو کیلشیم کا کمال درجے کا ماخذقرار دیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ کیلشیم انسانی دماغ میں قوتِ برداشت، مضبوط یاد داشت،کام کرنے کی ہمت اور طاقت پیدا کرتا ہے۔ پالک، شلجم، مٹر، باتھو، لال چولائی، سلاد، بند گوبھی، دودھ، بالائی، دہی، مکھن، چھاچھ، انڈا، بادام، پستہ اور اخروٹ میں قدرتی طور پر کیلشیم کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔

موسمی پھلوں کا مناسب اور متوازن استعمال کر کے بھی ذہنی امراض سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ پھلوں میں موجود کیلیشیم، فاسفورس، فولاد، وٹامنز اے، بی اور سی کی وافر مقدار آپ کو نہ صرف ذہنی بلکہ جسمانی طور پر بھی صحت مند و توانا بنادے گی۔صفرا و سودا کی زیادتی کے مریض جو کے دلیے میں پھل ملا کر ناشتہ کرنے کو معمول بنا کرلذت اور صحت ایک ساتھ حاصل کر سکتے ہیں۔

گھریلو علاج:  بطورِگھریلو علاج درج ذیل تدابیر پر عمل پیرا ہو کر آپ خاطر خواہ حد تک صحت مند اور آسودہ حال ہو جائیں گے۔

زرشک شیریں ایک چمچی رات کو عرق گلاب میں بھگو کر نہار منہ زرشک شیریں کھا کر عرق کلاب پی لیا جائے۔منجملہ دماغی عوارض سے نجات کا بہترین قدرتی ذریعہ ہے۔برہمی بوٹی 1گرام، مغز بادام 7عدد فلفل سیاہ 3عددخشخاس 1گرام رات کو پانی میں بھگو کر صبح نہار منہ بطریق سردائی گھوٹ کر تازہ مکھن10گرام شامل کرکے استعمال کریں ۔ یہ گھریلو ترکیب کمال فوائد اور صریح الا ثر تاثیر کی حامل ہے۔آزمائش شرط ہے۔اس کے استعمال سے دماغی کمزوری سمیت کئی دیگر فوائد بھی مل جایا کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں مندرجہ ذیل مقوی دماغ حریرہ بھی شاندار شفایابی کا ذریعہ بنتا ہے:

مغز بادام 7عدد، مغز کدو، مغز تربوز، مغز خربوزہ، خشخاس، نشاستہ3,3 گرام کی مقدار باہم پانی میں گھوٹ کر 1پاؤ خالص دودھ ملا کر ہلکی آنچ پر پکائیں ۔جب دودھ نصف رہ جائے تو 25گرام گائے کا مکھن ملاکر جوش دیکر اتار لیں۔ روزانہ صبح و شام نہار منہ 1چمچ دودھ کے ساتھ کھا ئیں۔

جملہ امراضِ دماغی،خشکی،نیند کی کمی،دائمی نزلہ و زکام اور دماغی کمزوری سے نجات دلانے کے لئے بہترین نسخہ ہے۔ علاوہ ازیں معجون نجاح،خمیرہ گاؤزبان عنبری، دوا ء المسک معتدل سادہ، حب ایارج، مفرح شاہی، مفرح شیخ الرئیس، خمیرہ مروارید، اطریفلِ صغیر، اطریفلِ زمانی، برشعشاء مربہ آملہ، سیب، بہی، ہرڑ اور مربہ گاجر کی مخصوص مقدار اپنے معالج کے مشورے سے استعمال میں لائی جا سکتی ہے۔

ذہنی امراض سے بچاؤ کی گھریلو تراکیب

دماغی امراض سے نمٹنے اور ان سے نجات حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی ذہنی حالت سے متعلق مکمل طور پر واقف ہوں اور ہم یہ تسلیم کریں کہ واقعی ہماری دماغی کیفیت میں خرابی پیدا ہو چکی ہے۔عام طور پر مْختصر دورانیئے کی متاثرہ دماغی حالت کو بخوبی جلد ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔اس مقصد کے لئے انتظامی تراکیب استعمال کر کے ہم کم عرصے کی کیفیت سے پیچھا چھڑا نے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔لیکن طویل عرصے کے پیدا شدہ عوارض سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ہمیں اپنا طرزِ رہن سہن، رویے اور ماحول کو تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔اگر ہم پھر بھی اپنی حالت میں بہتری پیدا کرنے میں کام یاب نہ ہوں تو پھر ماہرِ نفسیات سے مشاورت کرنا ہی لازمی ہو جاتا ہے۔

یاد رہے کہ ذہنی امراض سے نجات دلانے کے لئے دو طرح کے نفسیات داں ہوتے ہیں۔ایک وہ جو دماغی امراض کا علاج ذہنی کیفیت کو بھانپ کر مریض کی سوچ اور طرزِ فکر میں اپنے مخصوص انداز اور لفظوں کے اثر سے تبدیلی پیدا کرتے ہیں، انہیں سائکالوجسٹ کہا جاتا ہے جبکہ دوسرے وہ جو مرض میں شدت پیدا ہونے کی وجہ سے ضروری اور سکون آور ادویات کا استعمال کرواکر مریض کو بیماری سے نجات دلاتے ہیں۔ایسے ماہر نفسیات کو سائکاٹرسٹ کہا جاتا ہے۔دھیان رہے اگر ذہنی امراض کا باعث دماغی کمزوری ہواورکمزوری کا سبب جسمانی عوارض ہوں تو پہلے ان سے چھٹکارا حاصل کریں۔اس سلسلے میںکسی ماہر معالج سے رجوع کرتے ہوئے غذا اور دواتجویز کروائیں۔

ضروری وضاحت:  انسانی وجود تین اجزاء کا مجموعہ ہے۔روح ،نفس اورجسد۔روح کا مرکز دل ہو تا ہے۔نفس کی آما جگاہ دماغ مانی جاتی ہے۔جبکہ انسانی جسد کا دار ومدار جگر پر ہو تا ہے۔دل میں قوتِ حیوانی پائی جاتی ہے۔دماغ میں عقلیہ و شہوانیہ قوتیں براجمان ہو تی ہیں۔جگر پر قوتِ طبعی کا انحصارہو تا ہے۔قوتِ طبعی ایک ایسی صلاحیت کو کہا جاتا ہے جو پورے انسانی بدن کو حرارت پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ روح اور نفس کی صحت مندی یا بیماری کادارو مدار قوتِ طبعی پر ہو تا ہے۔جگر مذکورہ حرارت پہنچانے والی قوت یا ایندھن کھائی جانے والی غذا سے حاصل کرتا ہے۔

انسانی جسم کو جوغذائی اجزاء درکار ہوتے ہیں ان میں کیلشیم، پوٹاشیم، میگنیشیم، فاسفورس کلورین آیوڈین، سوڈیم، گندھک، فولاد وٹامنز، نشاستہ، پروٹین، آکسیجن اور چکنائیاں وغیرہ شامل ہیں۔ روح اور نفس کی تمام تر کار کردگی کا انحصار انہی اجزاء پر ہو تا ہے۔غذا کی بہتری یا ابتری قوتِ حیوانیہ، قوتِ عقلیہ اور قوتِ شہوانیہ کی صلاحیتوں کا تعین کرتی ہے۔خالقِ کائنات نے فرشتوں کو قوتِ عقلیہ سے نواز کراپنا قربِ خاص عطا کیا،حیوانات کو شہوت کی طاقت فراہم کر کے ا نہیںکائنات کی رونقوں میں اضافے کا ذریعہ بنادیا لیکن حضرت انسان کوعقل اور شہوت دونوں ہی دیں تاکہ وہ اپنے انتخاب کی بناء پر اپنا مقام خود بنائے۔

جب انسان قوتِ عقلیہ کا استعمال کرتا ہے تو وہ اشرف المخلوقات کا درجہ حاصل کرکے مسجودِ ملائک کہلاتا ہے۔لیکن جب وہ قوتِ شہوت سے مغلوب ہوتا ہے تو حیوانوں سے بھی کمتر درجے میںشمار ہونے لگتا ہے۔یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہماری صلاحیتوں کے پروان چڑھنے میں ہماری غذا کا بنیادی اور اہم کردار ہوتا ہے۔روح کی مضبوطی اور توانائی کے لئے اللہ کا ذکر پہلی غذا ہے۔بطورِ مسلمان ہمارا ایمان ہو نا چاہئے کہ ” خبر دار!دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر میں ہے” فرقانِ حمید کے اس حکم پر پوری طرح سے عمل پیرا ہوں۔ ہمہ وقت اللہ کی یاد کثرت سے کریں۔

تاکہ روحانی طور پر ہم مضبوط ہو سکیں۔ نفس کی غذا ہم نے اپنی خوراک کے ذریعے سے حاصل کرنی ہوتی ہے۔اب اگر ہم شہوانی جذبات کو بھڑکانے والی اشیاء کا استعمال کریںگے تو ہمارے اندر قوتِ شہوانیہ مضبوط ہو کر ہمیں حیوانی صفات سے متصف کردے گی۔اور اگر ہم عقلی جذبات کو بڑھاوا دینے والے اجزاء کا انتخاب کریں گے تو ہم قوتِ عقل سے ما لا مال ہو کر فرشتوں سے بھی بلند مقام پر فائز ہو کر ارض و سماء کو مسخر کرنے والے بن جائیں گے ۔ایسی تمام غذائیں جو ہمارے دماغ کی مضبوطی کاباعث بنتی ہیں ہم ان کا استعمال تواتر سے کریں۔

غذا و پرہیز: دھیان رہے کہ قدرتی اجزاء سے تیار اور ملاوٹ سے پاک خوراک ہی صحت مندی کا سبب بنتی ہے۔ مصنوعی اجزاء سے تیار اور ملاوٹ شدہ غذائیں صحت کی بجائے بیماری کا باعث بن کر مزید مسائل کا باعث ثابت ہو سکتی ہیں۔ فاسٹ فوڈز، کولا مشروبات، بیکری مصنوعات، چکنائیاں، مٹھائیاں، بینگن، دال مسور، بڑا گوشت، برائلر، آئسکریم، چاکلیٹس، کافی، سگریٹ نوشی، خالی پیٹ چائے اور قہوہ، منشیات کا استعمال، بادی، مرغن اور ترش غذاؤں سے مکمل دور رہا جائے۔

تمام موسمی سبزیاں، پھل، پھلوں کے رس، خالص شہد، اناج، اجناس اور ترکاریاں حسب ضرورت اور گنجائش لازمی استعمال کی جانی چاہیں۔ دودھ، دہی، مکھن، خشک میوہ جات اور مربہ جات کی مناسب مقدار روز مرہ خوراک میں لازمی شامل کریں۔ تیز قدموں کی سیر اور پسینہ آور ورزش بھی بے حد لازمی اور مفید ہے۔یاد رہے کہ سورج کی روشنی میں کی جانے والی سیر ہی فائدہ مند ہوسکے گی۔

The post نفسیاتی مسائل، اسباب، غذا اور بچاؤ کی تدابیر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3l05NDE

قومی ٹی 20 کپ، لٹل اسٹارز پہلے ہی روز جگمگا اٹھے

 لاہور:  قومی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ میں لٹل اسٹارز پہلے روز ہی جگمگا اٹھے جب کہ عبداللہ شفیق ڈیبیو پر سنچری بنانے والے چوتھے پاکستانی بن گئے۔

ملتان اسٹیڈیم میں سدرن پنجاب نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو ذیشان اشرف15تک محدود رہے۔ کپتان شان مسعود اپنی ففٹی اور ٹیم کی سنچری مکمل کرنے کے بعد آؤٹ ہوئے،انھوں نے 33 گیندوں پر 4چوکوں اور 3چھکوں سمیت 51رنز بنائے، صہیب مقصود نے 51رنز کی اننگز میں صرف 26گیندوں کا استعمال کیااور5چوکے و3چھکے لگائے،خوشدل شاہ6رنز بناسکے،حسین طلعت نے 34اسکور کیے،سیف بدر12اور عامر یامین 18رنز تک محدود رہے، عمر خان صفر پر رن آؤٹ ہوئے، سدرن پنجاب نے 8وکٹ پر 200رنز بنائے،صہیب اللہ 3شکار کرنے میں کامیاب ہوئے۔

جواب میں سینٹرل پنجاب کے رضوان حسین اور عابد علی کھاتہ کھولے بغیر رخصت ہو گئے۔اس کے بعد کامران اکمل اور عبداللہ شفیق نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کی سنچری نویں اوور میں ہی مکمل کرا دی،وکٹ کیپر بیٹسمین 41گیندوں پر 11چوکوں اور 2چھکوں سے مزین 75رنز بناکر آؤٹ ہوئے تو ٹیم کا ٹوٹل 146تھا،اس کے بعد عبداللہ شفیق ڈیبیو پر سنچری بنانے والے چوتھے پاکستانی بیٹسمین بن گئے،ٹیم نے ہدف 7گیندوں قبل 3وکٹ پر حاصل کرلیا، عبداللہ شفیق نے 58گیندوں پر 11چوکوں اور 4چھکوں سمیت 102رنز بنائے،کپتان سعد نسیم 18پر ناٹ آؤٹ رہے۔ قبل ازیں پہلے میچ میں ناردرن نے ٹاس جیت کربیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

اوپنر علی عمران 21 رنزبناکر شاہین شاہ آفریدی کا شکار بنے تو ٹوٹل 24 تھا، اس کے بعد حیدر علی اور ذیشان ملک نے وہاب ریاض، عثمان شنواری، جنید خان اورشاہین شاہ آفریدی پر مشتمل پیس بیٹری کے مقابل قومی ٹی ٹوئنٹی کی ریکارڈ شراکت قائم کرتے ہوئے دوسری وکٹ کیلیے 180 رنز جوڑے، حیدر علی نے 48 گیندوں پر 7 چوکوں اور 5 چھکوں سمیت 90 رنز کی اننگز کھیلی، اوپنر ذیشان ملک 47 گیندوں پر 8 چوکوں اور 3 چھکوں کی مدد سے 77 رنز بناکر آؤٹ ہوئے، دونوں جنید خان کی وکٹ ثابت ہوئے۔

آصف علی23 اور عمر امین 14 پر ناٹ آؤٹ رہے، ناردرن نے 3وکٹ پر 242 کا مجموعہ حاصل کیا۔ جواب میں خیبرپختونخوا کے اوپنر صاحبزادہ فرحان نے62 رنز کی اننگز کھیلی، اس دوران فخرزمان 5، کپتان محمد رضوان 17، محمد حفیظ 6، شعیب ملک20 اور افتخار احمد 28 رنز بنا کر ساتھ چھوڑ گئے، فرحان کی رخصتی کے بعد محمد محسن 14اوروہاب ریاض 8 رنز بنا سکے، شاہین شاہ آفریدی، عثمان شنواری اور جنید خان کھاتہ نہ کھول پائے، ٹیم کا ٹوٹل 9 وکٹ پر 163رہا، موسیٰ خان 3وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔

The post قومی ٹی 20 کپ، لٹل اسٹارز پہلے ہی روز جگمگا اٹھے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/348quXe

کوئٹہ جلسے سے احتجاجی تحریک شروع، ن لیگ کا فیصلہ

 لاہور: مسلم لیگ (ن) نے 11اکتوبرکو کوئٹہ میں ہونے والے جلسے سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے پاکستان ڈیمو کریٹ موومنٹ کے پلیٹ فارم سے 11اکتوبرکو کوئٹہ میں ہونے والے جلسے کی کامیابی کیلیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی، شہباز شریف کی گرفتاری قابل مذمت ہے لیکن ایسے ہتھکنڈوں سے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔

نواز شریف کی وڈیو لنک صدارت میں ہونے والے اجلاس میں شاہد خاقان عباسی،مریم نواز،احسن اقبال، ظفرالحق، تنویر حسین، مریم اورنگزیب،خرم دستگیر،طارق فضل،عطاتارڑ ،برجیس طاہراوردیگرشریک ہوئے۔اجلاس میں نیب کی کارروائیوں اورپی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے حوالے سے لائحہ عمل مرتب کیا گیا۔

اجلاس نے نواز شریف کی قیادت پر اعتماد ظاہر کیا ۔اجلاس کے بعد شاہد خاقان عباسی نے میڈیا بریفنگ میں کہا یہ حکومت ملک اور جمہوریت کیلیے خطرہ بن گئی، معیشت تباہ ، مہنگائی بد ترین سطح پر ہے تاہم مسلم لیگ (ن)پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے صورتحال کا مقابلہ کرنے کا عزم رکھتی ہے ،ہم نے آمریت کا مقابلہ کرنا ہے ،جمہوریت کے لئے جگہ تنگ کی جارہی ہے ۔

The post کوئٹہ جلسے سے احتجاجی تحریک شروع، ن لیگ کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3n05tXg

عدالتوں کی تباہی، ریاستوں کی تباہی

گزشتہ چند صدیوں میں جب بھی قوموں پر، خصوصاً مسلمانوں پر زوال آیا، ان سب میں دو چیزیں مشترک تھیں۔ پہلی، حکمرانوں کی آپسی لڑائی اور دوسری، انصاف کی عدم دستیابی۔ آج وطن عزیز ان دونوں معاملات میں خود کفیل ہے۔

مسلمانوں نے جو بھی ریاست قائم کی، عدل و انصاف اس کا بنیادی جز تھا۔ آٹھویں صدی عیسوی میں جب مسلمانوں نے سمرقند (ازبکستان) کو فتح کرلیا اور وہاں اسلامی حکومت قائم کی، تو عیسائی پادری نے اسلامی عدالت میں دعویٰ کیا کہ مسلم فوج نے اسلامی جنگی اصولوں سے ہٹ کر سمرقند کو فتح کیا ہے۔ جب مسلم سپہ سالار قتیبہ بن مسلم سے عدالت نے دریافت کیا تو اس نے قاضی (جج) کے سامنے اس بات کا اعتراف کرلیا کہ پادری سچ کہہ رہا ہے۔ نتیجتاً قاضی نے تمام مسلمان خاندانوں اور فوجیوں کو سمرقند سے باہر نکال کر سمرقند کو واپس عیسائیوں کے حوالے کرنے کا حکم جاری کردیا اور مسلمانوں نے اس فیصلے پر سرِ تسلیم خم کیا۔

اسی صدی میں اسلامی فوج مغرب میں اندلس (اسپین) پر حملے کررہی تھی، مگر ہر بار شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ دوسری طرف مسلمانوں کا عدل، اندلس میں شہرت حاصل کرتا جارہا تھا۔ کاؤنٹ جولین نے، جو کہ خود اندلسی شہر سبتہ (Ceuta) کا مسیحی حکمران تھا اور مسلمانوں کو دو جنگوں میں شکست فاش دے چکا تھا، یورپ کے دیگر حکمرانوں کی عیاشیوں اور ظلم سے تنگ آکر، خود مسلمانوں کے سپہ سالار موسیٰ بن نصیر کو اسپین پر حملہ کی دعوت دے دی، اور بحری جہاز بھی فراہم کیے۔ یوں طارق بن زیاد کی قیادت میں اندلس میں اسلامی حکومت قائم ہوئی۔

اسی صدی میں محمدبن قاسم نے سندھ (ہندوستان) میں راجہ داہر کی حکومت کو ختم کرکے عدل و انصاف پر مبنی اسلامی حکومت قائم کی۔ جس کے بعد یہاں کے مقامی ہندو قاسم کو بھگوان کا اوتار ماننے لگے اور اس کی پوجا شروع کردی۔ ہندوستانی مغلیہ سلطنت میں گو کہ چند مشہور عاشق مزاج بادشاہ گزرے ہیں مگر ان کے یہاں بھی ’’عدل جہانگیری‘‘ نظر آتا تھا۔ مشہور واقعہ ہے نورجہاں نے ایک بدنگاہ دھوبی کو گولی مار کر قتل کردیا۔ جب معاملہ بادشاہ کی عدالت میں پیش ہوا تو ملکہ پر قتل ثابت ہوگیا۔ جہانگیر نے فیصلہ دیا ”نورجہاں کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے“۔ جلاد نورجہاں کو مقتل میں لے گئے مگر دھوبن نے شوہر کا قصاص لے کر ملکہ کو معاف کردیا۔

سلطنت عثمانیہ میں شیخ الاسلام (چیف جسٹس) ہر کام اسلامی قوانین کے مطابق سرانجام دیتا تھا اور اپنے عدالتی فیصلوں پر صرف خدا کو جوابدہ تھا۔ جبکہ باقی تمام افسران سلطان کے سامنے جوابدہ تھے۔ سلطنت کی دھاک ایسی تھی کہ اس کے قوانین اور عدل سے، تھومس جیفرسن (تیسرا امریکی صدر) بھی متاثر تھا۔ یہاں تک کہ جیفرسن نے 1765 میں اپنا ذاتی قرآن پاک لیا، جس سے اسلامی قوانین کو سمجھ کر امریکی قانون سازی میں اسے بہت مدد ملی۔ گو کہ مسلمانوں نے جہاں بھی ریاست قائم کی، عدل و انصاف اس کا بنیادی جز تھا۔ یہ تمام مسلماں حکمران کوئی صحابی (رسول اللہ کے دوست) نہ تھے بلکہ محض آج کے انسانوں جیسے عام انسان تھے۔
عدالتوں کی تباہی، ریاستوں کی تباہی ہے

بغداد پر مسلمانوں نے تقریباً 600 سال حکومت کی، جس کا اختتام سقوط بغداد پر ہوا۔ اندلس پر 780 سالہ حکومت کا مکمل خاتمہ سقوط غرناطہ پر ہوا۔ بنگال پر مسلمانوں کی 550 سال حکومت رہی، مغلوں نے ہندوستان پر تقریباً 300 سال حکومت کی۔ عثمانیوں نے ایشیائے کوچک اور جنوب مشرقی یورپ پر تقریباً 600 سال حکومت کی۔

ریاستیں نہ ایک دن میں بنتی ہیں نہ ہی ایک دن میں ختم ہوتی ہیں۔ بغداد کا عدالتی نظام 10 ویں صدی سے بتدریج گراوٹ کا شکار ہوا۔ جب ریاستی اور عدالتی عملہ مال دولت اور عہدوں کی لالچ میں لگ گیا۔ اندلس میں جب مسلمانوں نے یہودیوں اور عیسائیوں کی حق تلفی شروع کی تو زمام اقتدار مسلمانوں پر تنگ ہونا شروع ہوگئی۔ یہاں تک کہ قانون بن گیا کہ کسی عیسائی کا گھر مسلمان کے گھر سے اونچا نہ ہو۔

ہندوستان میں انگریزوں نے اپنا تسلط طاقت کی بنیاد پر مسلط کیا، مگر اسے قائم انتظامی طاقت اور درست عدالتی نظام کے ذریعے رکھا۔ یہاں تک کے انگریزوں کے چلے جانے کے باوجود آج بھی برصغیر میں ان ہی کا ٹوٹا پھوٹا نظام چل رہا ہے۔ یہ انصاف کی عدم دستیابی ہی ہے کہ سابق مشرقی پاکستان (بنگلادیش) اور مغربی پاکستان نے ایک ہی نظریے کے تحت 42 سال تک ایک ساتھ ایک ہی حریف سے نظریاتی جنگ لڑی اور جانیں قربان کیں، مگر آزادی کے صرف 24 سال بعد ان دونوں کے راستے جدا ہوگئے۔

آج وطن عزیز میں انصاف کی حالت یہ ہے کہ ساہیوال میں پوری فیملی پولیس کے ہاتھوں قتل کردی جاتی ہے، جس کا ویڈیو ثبوت بھی موجود ہوتا ہے اور گواہ بھی۔ مگر پھر بھی عدالت سزا نہیں دے پاتی۔ ماڈل ٹاؤن میں شہریوں کو پولیس کے ہاتھوں قتل ہوتے براہ راست دیکھا جاتا ہے مگر کسی کو انصاف نہیں ملتا۔ لاہور موٹروے پر زیادتی ہوتی ہے تو حکومت اس سیاست میں لگ جاتی ہے کہ جب مجرم پکڑ میں آئے گا تو کون سی سزا دیں گے (جبکہ سب سزائیں پہلے سے قانون میں لکھی ہیں)۔ کوئٹہ سارجنٹ قتل کیس میں ویڈیو ثبوت ہونے کے باوجود مجرم کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ کہیں کہیں تو حکومت خود مجرم کو فرار کرواتی ہے اور پھر عدالت پر الزام ڈالتی ہے (نواز شریف کیس)، جبکہ دوسری طرف جب کسی طاقتور پر یا منصف پر کیس بنتا ہے تو فوراً انصاف ہو نہ ہو مگر فیصلہ ضرور ہوجاتا ہے۔

جس سرزمیں پر انصاف قائم نہ رہے، وہاں یا تو عدالتیں ختم ہوجاتی ہیں یا پھر ریاستیں۔ زمین اللہ کا باغ ہے، باغ میں گند ڈالنے والوں کو خدا پسند نہیں کرتا۔ یہ دنیا اللہ نے انسانیت کو معاشرتی سطح پر ذلیل کرنے کےلیے ہرگز نہیں بنائی۔ ریاستیں نظام کی سربلندی اور عدل و انصاف کی بقا کےلیے ہی وجود میں آتی ہیں۔ وطن میں اکثر بااختیار شہری ہی بےاختیار شہری کو کچلنے میں لگا ہے۔ آج! عراق، اسپین، بنگلادیش، ہندوستان، ترکی سب جگہ انسان موجود ہیں اور مسلمان بھی… مگر آج وہ سب ریاستیں ختم ہوچکی ہیں جو کبھی اس حسین دنیا پر بدنما داغ بن چکی تھیں۔

گزشتہ کچھ دہائیوں سے وطن عزیز میں انتظامی و عدالتی نظام جس تیزی سے گراوٹ کا شکار ہے، یہ وقت انہی زمانوں جیسا معلوم ہوتا ہے جو آخری وقتوں میں بغداد اور اندلس میں مسلمانوں کا ہوگیا تھا۔ ایسی صورتحال میں جب ریاست میں انصاف ناپید ہوجائے، تو آسمانوں سے انصاف نازل ہوتا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

 

The post عدالتوں کی تباہی، ریاستوں کی تباہی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/30pYpK2

Tuesday, 29 September 2020

کراچی میں لوڈ شیڈنگ

کورونا وباء کے کنٹرول میں آنے کے بعد ملک میں زندگی آہستہ آہستہ نارمل ہو رہی ہے۔ اسکول اور دیگر تعلیمی ادارے بھی کھل گئے ہیں۔ کاروباری سرگرمیاں بھی آہستہ آہستہ رفتار پکڑ رہی ہیں۔ زندگی معمول پر آرہی ہے۔لیکن کراچی کی صورتحال مختلف ہے۔

حالیہ بارشوں نے کراچی کے شہریوں کا جو حشر کیا، وہ داستان الم ہر پاکستانی کی آنکھ اشکبار کر گئی ۔ شدید عوامی ردعمل کے باعث سندھ اور وفاقی حکومت دونوں ہی پریشان ہو گئے۔ پریشان تو مقتدر حلقہ بھی نظر آئے۔ اس جھٹکے نے سب کو احساس دلایا کہ کراچی کے لیے کچھ کیا جائے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کیا جائے۔

ایک ان دیکھے ڈنڈے نے سب کو اکٹھاکرنے پر مجبور کردیا ۔ اسی بنا پر اہل کراچی سے ہمددری دکھانے کے لیے وزیر اعظم صاحب بھی چند گھنٹوں کے لیے کراچی تشریف لائے۔ حالانکہ شہر کے حالات اس بات کے متقاضی تھے کہ وزیر اعظم کراچی میں ایک طویل مدت کے لیے مستقل قیام کرتے۔ بہرحال  کراچی کے شہریوں کے شدید ردعمل نے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ سندھ کو چند گھنٹوں کے لیے سہی اکٹھا بیٹھنے پر مجبور کر دیا۔ لیکن مجبوری  میں کیے گئے اقدمات میں خلوص نیت نہیں ہوتی۔ یہی کراچی کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔

اب خدا خدا کر کے نشیبی علاقوں سے بھی بارش کا پانی نکل گیا ہے۔ سڑکیں ٹریفک کے لیے بحال ہوچکی ہیں۔ کراچی نارمل زندگی کی طرف لوٹتا نظر آرہا ہے۔ لیکن بجلی کی لوڈ شیڈنگ بحران میں تبدیل ہوگئی  ہے ۔ جب تک بجلی مسلسل بحال نہیں ہوتی ، کراچی میں کاروبار زندگی نا رمل نہیں ہوسکتے ۔ میں اس بحث میں نہیں جانا چاہتا کہ قصور کس کا ہے اور کراچی کے شہری کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کریں۔کراچی والوں کو تو سب ہی قصور وار نظر آرہے ہیں۔

ایک طرف تو کراچی کے لیے گیارہ سو ارب کے پیکیج کا اعلان کیا گیا۔ کراچی کے تمام مسائل حل کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ بعد ازاں اس پیکیج کی بھی جو درگت بنی وہ ہم سب نے دیکھی۔ خرچ ہونے سے پہلے ہی اس کی ایک ایک پائی نیلام ہوتی نظر آئی۔ دال ایسی جوتیوں میں بٹی کے گیارہ سو ارب کا جنازہ نکل گیا۔ مجھے یقین کامل ہے کہ سب کو اکٹھا بٹھانے کی خواہش رکھنے والے بھی پریشان ہوں گے کہ کیا ہوا ہے۔

ہم نے کیا سبق پڑھایا تھا اور انھوں نے کیا پڑھ لیا ہے۔ لیکن ساری صورتحال سے ایک بات تو صاف ظاہر ہے کہ کسی کو بھی کراچی کے شہریوںکا کوئی درد نہیں۔ یہ سب تماشائی ہیں۔ سب کراچی پر سیاست کرنے کو تیار ہیں۔ لیکن کراچی کے مسائل کے حل کے لیے ایک قدم بڑھانے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ ایک عجب بے حسی ہر طرف نظر آئی ہے۔

کراچی کے عوام میں اضطراب اور بے چینی  نظر آ رہی ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں کراچی میں ہونے والے چند اجتماعات اس بات کی طرف صاف اشارہ دے رہے ہیں کہ عوام غصہ میں ہیں۔ وہ کسی پلیٹ فارم کی تلاش میں ہیں۔ ایم کیو ایم کی ریلی میں بھی لوگوں کی تعداد مناسب تھی۔ جماعت اسلامی کی ریلی میں بھی لوگ کافی تعداد میں آئے۔

اس سے پہلے چند مذہبی اجتماعات میں بھی لوگ بڑی تعداد میں آئے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ کراچی کے لوگ موجودہ نظام اور موجودہ صورتحال سے تنگ آگئے ہیں اور کسی نہ کسی طرح اپنے غصہ کا اظہار چاہتے ہیں۔ وفاقی حکومت لاکھ یہ بیانیہ بنائے کہ قصور سندھ حکومت کا ہے۔ لیکن شاید کراچی کے عوام وفاقی حکومت کو بھی  بری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وفاقی حکومت کو بھی  یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ ہمدردانہ بیانات اور آنیاں جانیاں دکھا کر اپنی ذمے داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔

بالخصوص لوڈ شیڈنگ نے گزشتہ چھ ماہ سے کراچی کے گھریلو اور کاروباری صارفین کا جینا دوبھر کیا ہوا ہے۔ بارش کا پانی تو چند دن کے لیے آیا اور چلا گیا۔ لیکن لوڈشیڈنگ تو جانے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔ گرمیوں کے آغاز سے کراچی میں لوڈ شیڈنگ کاخوفناک سپیل شروع ہے اور اب تک جاری ہے۔ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے کراچی کی کاروباری اور صنعتی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ ملازمین بے روزگارہو رہے ہیں۔ پہلے کراچی میں لوڈ شیڈنگ ایسے علاقوں تک محدود تھی جہاں غریب لوگ رہتے ہیں۔ ایک جواز یہ پیش کیا جاتا تھا کہ یہ لوڈ شیڈنگ نہیں لوڈ مینجمنٹ ہے۔

ان علاقوں میں بجلی بند کی جاتی ہے جہاں بجلی چوری زیادہ ہے۔ جہاں لوگوں نے کنڈے ڈالے ہوئے ہیں۔ لیکن اب تو صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔ لوڈ مینجمنٹ کا بہانہ بھی ختم ہو گیا ہے اور کھلم کھلا لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ امیر اور غریب سب برابر ہو گئے ہیں۔ ویسے کراچی میں امیر و غریب کا فرق بلا امتیاز ختم ہوا ہے۔ بارش کا پانی بھی امیر علاقوں میں اسی آب وتاب سے تباہی مچاتا رہا ہے جیسے غریب علاقوں میں مچا رہا تھا۔ اسی طرح اب لوڈ شیڈنگ بھی برابر تباہی مچا رہی ہے۔

یہ بحث بھی فضول ہے کہ گیس کی کمی ہے۔ بچہ بچہ جانتا ہے کہ اب پاکستان کے پاس وافر بجلی موجود ہے۔ ہم اپنی مرضی سے کم بجلی بنا رہے ہیں۔ ورنہ بجلی کی کوئی کمی نہیں ہے۔کراچی کے عوام کو یہ کیسے یقین دلایا جاسکتاہے کہ ملک میں گیس کی کمی ہے۔ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔

میری ارباب اختیار اورارباب اقتدار سے گزارش ہے ( نوٹ کر لیں کراچی کی مخصوص صورتحال میں ارباب اختیار اور ارباب اقتدار الگ الگ ہیں ) کہ وہ کراچی کے حوالے سے پالیسی پر نظر ثانی کریں۔ کراچی کے شہریوںکو ان کا جائز حق دلانے کے لیے اعلی سطح پر مشاورت کا آغاز کیوں نہیں ہو سکتا؟ کراچی کے عوام کے صبر کا امتحان نہ ہی لیا جائے تو بہتر ہے کیونکہ اس کے نتائج بہت خطرناک ہوسکتے ہیں۔

The post کراچی میں لوڈ شیڈنگ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3idexnZ

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...