Urdu news

Friday, 31 May 2019

پشاور میں انسدادپولیو مہم میں پولیس کی عدم دلچسپی

پشاور: پشاور میں انسداد پولیو مہم میں پولیس کی عدم دلچسپی کے باعث صوبائی ٹاسک فورس کے سربراہ نے پولیس سربراہ کو خط لکھ کر تحفظات سے آگاہ کردیا، خط میں پولیس سے تعاون کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

انسداد پولیو مہم کے دوران پولیس اہلکاروں اور رضا کاروں سمیت 62افراد ہلاک ہوچکے ہیں مگر پھر بھی جمعہ کو ہونے والے صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس میں پولیس افسران شریک نہیں ہوئے، یہ اجلاس 23مئی کو ہونا تھا مگر اسے کچھ وجوہ کی بنا پر اسے 31مئی جمعہ کو منعقد کیا گیا، سینئر حکام کے مطابق اجلاس کی تبدیلی سے آگاہ کردیا گیا تھا مگر پھر بھی اجلاس میں پولیس حکام کی نمائندگی نہیں ہوسکی جبکہ آئی جی خیبر پختونخوا(کے پی کے) بھی ٹاسک فورس کے ایک اہم رکن ہیں۔ اجلاس میں پولیس افسران کی عدم شرکت کے علاوہ انسداد پولیو مہم کے دوران ضلعی ہیلتھ افسران کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے گئے اور ایک اور حکام نے بتایا کہ ضلعی ہیلتھ افسران کی اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہے۔

اجلاس کے دوران ضلعی ہیلتھ افسران کو ہدایات دی گئیں کہ وہ آئندہ ہونے والی انسداد پولیو مہم میں اپنی کارکردگی کو یقینی بنائیں ، صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس میں پولیو وائرس کے خاتمے کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا اور اس میں مقامی حکومت کے ممبران کو بھی شامل کرنے پر زور دیا گیا۔واضح رہے کہ 2019کے ابتدائی 5ماہ میں پولیو کے 20کیسوں کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے 14کیس خیبر پختون خواہ کے ہیں جبکہ سندھ اور پنجاب میں3،3 پولیو کیس کی تصدیق کی گئی۔

The post پشاور میں انسدادپولیو مہم میں پولیس کی عدم دلچسپی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2JPqR15

پشاور میں انسدادپولیو مہم میں پولیس کی عدم دلچسپی

پشاور: پشاور میں انسداد پولیو مہم میں پولیس کی عدم دلچسپی کے باعث صوبائی ٹاسک فورس کے سربراہ نے پولیس سربراہ کو خط لکھ کر تحفظات سے آگاہ کردیا، خط میں پولیس سے تعاون کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

انسداد پولیو مہم کے دوران پولیس اہلکاروں اور رضا کاروں سمیت 62افراد ہلاک ہوچکے ہیں مگر پھر بھی جمعہ کو ہونے والے صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس میں پولیس افسران شریک نہیں ہوئے، یہ اجلاس 23مئی کو ہونا تھا مگر اسے کچھ وجوہ کی بنا پر اسے 31مئی جمعہ کو منعقد کیا گیا، سینئر حکام کے مطابق اجلاس کی تبدیلی سے آگاہ کردیا گیا تھا مگر پھر بھی اجلاس میں پولیس حکام کی نمائندگی نہیں ہوسکی جبکہ آئی جی خیبر پختونخوا(کے پی کے) بھی ٹاسک فورس کے ایک اہم رکن ہیں۔ اجلاس میں پولیس افسران کی عدم شرکت کے علاوہ انسداد پولیو مہم کے دوران ضلعی ہیلتھ افسران کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے گئے اور ایک اور حکام نے بتایا کہ ضلعی ہیلتھ افسران کی اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہے۔

اجلاس کے دوران ضلعی ہیلتھ افسران کو ہدایات دی گئیں کہ وہ آئندہ ہونے والی انسداد پولیو مہم میں اپنی کارکردگی کو یقینی بنائیں ، صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس میں پولیو وائرس کے خاتمے کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا اور اس میں مقامی حکومت کے ممبران کو بھی شامل کرنے پر زور دیا گیا۔واضح رہے کہ 2019کے ابتدائی 5ماہ میں پولیو کے 20کیسوں کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے 14کیس خیبر پختون خواہ کے ہیں جبکہ سندھ اور پنجاب میں3،3 پولیو کیس کی تصدیق کی گئی۔

The post پشاور میں انسدادپولیو مہم میں پولیس کی عدم دلچسپی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://bit.ly/2JPqR15

سلام اللہ سائیں!

سلام اللہ سائیں!

ڈرتے ڈرتے آپ کو خط لکھ رہا ہوں۔ آپ اتنے بڑے سردار ہو، سب سے بڑے سائیں ہو، کہیں میری اس جسارت پر ناراض ہی نہ ہوجاؤ۔ کیونکہ ادھر، ہمارے علاقے کا بڑا سردار بہت غصے والا ہے۔ اس کے سامنے جاتے ہوئے میری ٹانگیں کانپتی ہیں۔ بابا سائیں بتاتے تھے کہ آپ سب سرداروں سے بڑے سائیں ہو۔ اماں بھی آپ کے جاہ و جلال کے بارے میں بتاتی رہتی تھی۔ میں تو شائد ڈر کے مارے آپ کو خط ہی نہ لکھ پاتا، مگر آپ کے عدل و انصاف کے بارے میں جو داستانیں بچپن سے سنتا آرہا ہوں، انہوں نے میرے اندر یہ حوصلہ پیدا کیا ہے کہ آپ کو اپنی بپتا سناؤں۔ اسی لیے یہ خط تحریر کررہا ہوں۔ مجھے امید ہے آپ میرے کم پڑھا لکھا ہونے کی وجہ سے میری تحریر کی شکستگی کو نظرانداز کردیں گے اور پوری توجہ سے میری عرضی سنیں گے اور مجھ عاجز کی غم خواری کےلیے جو ہوسکا، ضرور کریں گے۔

اللہ سائیں! میں پاکستانی ہوں اور صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ کی ایک تحصیل رتو ڈیرو کا رہائشی ہوں۔ غریب آدمی ہوں، بڑی مشکل سے کھینچ تان کر مہینے بھر کا راشن پورا کرتا ہوں۔ اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ یہ تو آپ کی تقسیم ہے۔ آپ نے مجھے غریب گھر میں پیدا کیا۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ مجھے غریب رکھنے میں آپ قصوروار ہیں، میں تو بس یہ بتارہا ہوں کہ میں اپنی مرضی سے غریب نہیں ہوں۔ ایسا نہیں کہ میں نے اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہیں کی۔ میں نے بہت محنت کی ہے اور ابھی بھی کررہا ہوں۔ لیکن لگتا ہے میرے بیٹے کی بیماری مجھے توڑ ڈالے گی۔

میرا ایک چھ سال کا بیٹا ہے۔ سجاول علی، میری جان۔ بڑا ذہین بچہ ہے۔ میں نے پچھلے سال اسے سکول داخل کروایا ہے۔ جب میں سارے دن کی محنت مشقت کے بعد، تھکا ہارا گھر میں داخل ہوتا ہوں تو اس کی ذہین آنکھوں میں شرارت کی چمک دیکھ کر مجھے یوں لگتا ہے جیسے میری ساری تھکان دور ہوگئی ہے۔

اللہ سائیں! مگر میرے سجاول پر ایک افتاد آن پڑی ہے اور میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ اس مصیبت سے کیسے اس کی جان چھڑاؤں۔ پچھلے دنوں اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ بڑے اسپتال کے ڈاکٹر نے اس کے ٹیسٹ کروائے تو پتہ چلا کہ سجاول کو کوئی بیماری ہے، جسے ایڈز کہتے ہیں۔ اللہ سائیں! پہلے تو میں سمجھا کہ شائد کوئی عام بیماری ہے۔ ڈاکٹر دوا دے گا تو سجاول ٹھیک ہوجائے گا۔ لیکن ڈاکٹر کی پریشان صورت دیکھ کر مجھے لگا کہ کچھ غلط ہے۔ جب میں نے بیماری کی تفصیل پوچھی تو مجھے جیسے سکتہ ہوگیا۔ کتنی دیر تک تو میرا سانس ہی بند ہوگیا تھا۔ میں رونا چاہتا تھا اور پوچھنا چاہتا تھا کہ میرے معصوم سجاول کو کیسے ایڈز ہوگیا؟ مگر میرے حلق سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔ میں نے سنا تھا کہ غم سے دل پتھر ہوجاتے ہیں۔ اس دن مجھے لگا میرا دل بھی پتھر کا ہوگیا ہے۔ ایک بے نام سی اداسی میرے اندر ٹھہر گئی ہے۔ میں بہت کوشش کرتا ہوں کہ ہنسوں، بولوں، مگر میرا من مر گیا ہے۔ مجھے لگتا ہے سجاول کی بیماری کے ساتھ میں بھی تھوڑا تھوڑا مر رہا ہوں۔

میری بیوی، سجاول کی ماں کا حال مجھ سے الٹ ہے۔ اس کی آنکھوں سے ساون کی ایسی جھڑی لگی ہے کہ بند ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ اس کی آنکھیں رو رو کر لال ہوگئی ہیں، بالکل بابا فقیر سائیں کے مزار کے مجاور کی طرح، اور مجھے ڈراتی رہتی ہیں۔ اور سجاول بے چارا اپنی ماں کو چپ کرانے کی کوشش میں ناکام ہوکر، اب ٹکر ٹکر اس کا منہ دیکھتا رہتا ہے۔

اللہ سائیں! یہ مصیبت صرف ہم پر ہی نہیں آئی، بلکہ رتوڈیرو میں پانچ سو سے زیادہ بچے اس بیماری کا شکار ہوچکے ہیں۔ اور جانے یہ سلسلہ کہاں جاکر تھمے گا۔ کسی ٹی وی چینل پر دیکھا تھا، کوئی بتارہا تھا کہ وہ بندہ پکڑا گیا ہے جو اپنی بیماری کا انتقام، صحتمند مریضوں کو ایڈز کے انجکشن لگا کر لیتا تھا۔ کسی اور چینل پر آرہا تھا کہ اس کے ذمے دار وہ معالج ہیں جو تھوڑے سے پیسوں کے لالچ میں ایک ہی سرنج تمام مریضوں میں استعمال کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ سرنج نہ بدلنے کا الزام حفاظتی ٹیکے لگانے والوں پر بھی لگاتے ہیں۔ اللہ سائیں! سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا، یہ آپ کو پتہ ہوگا۔ آپ کے جاسوس فرشتے آپ کو بتاتے ہوں گے کہ یہاں کیسی اندھیرنگری مچی ہوئی ہے اور ایسا چوپٹ راج ہے کہ راجہ سائیں بھی کہیں نظر نہیں آتا۔ سنا ہے اس نے گیان لے لیا ہے اور بھٹو سائیں کی قبر سے لپٹ کر پڑا رہتا ہے۔ اب اس کی جگہ بھٹو سائیں کا نواسہ ٹی وی پر آتا ہے۔ وہ ابھی سیاست، سیاست کھیلنا سیکھ رہا ہے اور سیاست میں لتھڑے ہوئے بھاشن دیتا ہے۔ اس لیے ہمیں اس سے کوئی امید نہیں۔ وہ بھلا کیا کرے گا؟

اللہ سائیں! بات کدھر سے کدھر نکل گئی۔ میں بھی کیا کروں، ایک غم زدہ باپ کا دل بہت ہلکا ہوجاتا ہے۔ اسے پتہ نہیں چلتا کہ کون سی بات کہاں کہہ دی ہے۔ اس لیے امید ہے آپ میری یہ گستاخی معاف کردیں گے۔

اللہ سائیں! اگر آپ نے بھی ہماری نہ سنی تو پتہ نہیں کتنے گھر ہیں جو اجڑ جائیں گے اور نجانے کتنی ماؤں کی گود ویران ہوجائے گی۔ مولوی سائیں کہتے ہیں کہ یہ ہماری بداعمالیوں کی اور ہمارے گناہوں کی سزا ہے۔ پہلی مرتبہ میرا دل کیا کہ گھونسا مار کر مولوی سائیں کا منہ توڑ دوں اور پھر ان سے کہوں کہ اگر ایڈز سجاول کے گناہوں کی سزا ہے تو پھر یہ ٹوٹا ہوا جبڑا آپ کے گناہوں کی سزا ہے۔ لیکن میں فقط سوچ کر رہ گیا اوراپنے ارادے پر عمل نہیں کرسکا۔ اب پتہ چلا ہے کہ ان میں بھی ایڈز کی تشخیص ہوئی ہے۔ سنا ہے اب مولوی سائیں نے آپ کو یعنی اللہ سائیں کو موردالزام ٹھہرایا ہے اور کہتے ہیں کہ چونکہ اللہ سائیں اپنے نیک بندوں کو آزماتا ہے لہٰذا ان کو بھی آزما رہا ہے۔

اللہ سائیں! ایک اور بات کی معافی بھی مانگنی ہے۔ آپ کو چٹھی لکھنے سے پہلے میں ایڈز کے وائرس ’’ایچ۔ آئی۔ وی‘‘ سائیں کا پتہ تلاش کرتا رہا ہوں۔ میرا خیال تھا میں اس کو چٹھی لکھوں یا اس سے مل کر اس کی منت سماجت کروں کہ میرے حال پر رحم کرے۔ آپ کو علم ہے کہ مجھے منت سماجت کے علاوہ کچھ آتا ہی نہیں۔ میرا خیال تھا شائد ’’ایچ۔ آئی۔ وی‘‘ سائیں کا دل پسیج جائے اور وہ ایڈز کو کہہ دے کہ میرے سجاول کے وجود میں گاڑے ہوئے اپنے منحوس پنجے نکال لے۔ ایڈز کو میرا گھر چھوڑنے کا کہہ دے۔ مگر میں نے جس سے بھی ’’ایچ۔ آئی۔ وی‘‘ سائیں کا پتہ پوچھا اس نے میرا مذاق اڑایا۔ حتیٰ کہ اس سلسے میں، میں ڈاکخانے بھی گیا، تاکہ وہاں سے ’’ایچ۔ آئی۔ وی‘‘ سائیں کے ایڈریس کا پتہ چلا سکوں۔ مگر ڈاکخانے والوں نے مجھے پاگل قرار دے دیا اور دھکے دے کر باہر نکال دیا۔ جب میری کہیں شنوائی نہیں ہوئی تو میں نے تنگ آکر آپ کو چٹھی لکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس لیے امید ہے آپ میری گستاخی سے صرفِ نظر کریں گے اور ایڈز سائیں کو کہہ کر میرے سجاول کی اور علاقے کے سارے بچوں کی اس موذی مرض سے جان بخشی کروا دیں گے۔ اگر آپ ایسا کروا دیں تو میں، سجاول کا غم زدہ باپ اور رتو ڈیرو کا رہائشی، اپنی ہر وقت سسکتی ہوئی بیوی اور دیگر اہلِ علاقہ کی طرف سے آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ہر سال جس دن میرے سجاول میں ایڈز کی تشخیص ہوئی تھی، اس روز کو رتو ڈیرو والے یوم نجات کے طور پر منائیں گے اور جیسے بھٹو سائیں اور بی بی بھٹو کی برسی منائی جاتی ہے، ہم غریب بھی دیگیں پکا کر غریبوں کو کھلائیں گے اور کبھی غریبی کو بوجھ نہیں سمجھیں گے۔ بس ایک التجا آپ کے حضور اگر باریاب ہوجائے کہ میرا سجاول، بلکہ رتوڈیرو کے سارے سجاول جیتے رہیں۔ ہمارے جگر کے ٹکڑے تیری عنایت کردہ عافیت کے سائے میں رہیں۔ ہمیں اور کچھ نہیں چاہیے۔

ایک غم زدہ اور دکھی باپ
تحصیل رتو ڈیرو، ضلع لاڑکانہ
سندھ، پاکستان

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

The post سلام اللہ سائیں! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2MjspCA

پی ٹی آئی ملک میں عدلیہ کی آزادی کی جدوجہد کا ہمیشہ سے ہراول دستہ رہی اوررہے گی، فردوس عاشق

 اسلام آباد: وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اداروں اورقانون کا احترام اپنی منشا اورسہولت کے مطابق کرتی رہی۔    

معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ملک میں عدلیہ کی آزادی اورقانون کی حکمرانی قائم کرنے کی جدوجہد کا ہمیشہ سے ہراول دستہ رہی اوررہے گی جب کہ مسلم لیگ ن اداروں اورقانون کا احترام اپنی منشا اورسہولت کے مطابق کرتی رہی۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ (ن) لیگی متوالوں کا سپریم کورٹ پر حملہ تاریخ کا سیاہ ترین اور شرم ناک واقعہ ہے۔عدلیہ کی تضحیک میں “مجھے کیوں نکالا” کی قریہ قریہ نگرنگرمہم قوم کے ذہنوں میں ابھی تازہ ہے۔ ن لیگی کسے بے وقوف بنا رہے ہیں۔

The post پی ٹی آئی ملک میں عدلیہ کی آزادی کی جدوجہد کا ہمیشہ سے ہراول دستہ رہی اوررہے گی، فردوس عاشق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2wzgiGE

پی ٹی آئی ملک میں عدلیہ کی آزادی کی جدوجہد کا ہمیشہ سے ہراول دستہ رہی اوررہے گی، فردوس عاشق

 اسلام آباد: وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اداروں اورقانون کا احترام اپنی منشا اورسہولت کے مطابق کرتی رہی۔    

معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ملک میں عدلیہ کی آزادی اورقانون کی حکمرانی قائم کرنے کی جدوجہد کا ہمیشہ سے ہراول دستہ رہی اوررہے گی جب کہ مسلم لیگ ن اداروں اورقانون کا احترام اپنی منشا اورسہولت کے مطابق کرتی رہی۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ (ن) لیگی متوالوں کا سپریم کورٹ پر حملہ تاریخ کا سیاہ ترین اور شرم ناک واقعہ ہے۔عدلیہ کی تضحیک میں “مجھے کیوں نکالا” کی قریہ قریہ نگرنگرمہم قوم کے ذہنوں میں ابھی تازہ ہے۔ ن لیگی کسے بے وقوف بنا رہے ہیں۔

The post پی ٹی آئی ملک میں عدلیہ کی آزادی کی جدوجہد کا ہمیشہ سے ہراول دستہ رہی اوررہے گی، فردوس عاشق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://bit.ly/2wzgiGE

لیلۃ القدر: نزولِ قرآن و ملائکہ اور مغفرت کی رات

حضرت عبداﷲ ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا کہ وہ رمضان میں ہوتی ہے۔ ( ابوداؤد ) مفسرین لکھتے ہیں کہ جس رات میں قرآن نازل کیا گیا تھا اور جس کو قرآن حکیم میں لیلۃ القدر کہا گیا ہے، چوں کہ وہ رمضان کی ایک رات تھی اس لیے لازماََ ہر رمضان میں ایک رات لیلۃ القدر ہے۔ لیکن کو ن سی رات ہے اس کا تعین نہیں ہوسکا، بہ جز اس کے کہ وہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہے۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: ’’ شب قدر کو رمضان کی آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔‘‘ (صحیح بخاری)

لیلۃ القدر مجموعہ ہے دو لفظوں یعنی لیل بہ معنی شب یعنی رات اور قدر کے معنی رتبہ، مرتبہ قابل احترام اور عظمت کے ہیں۔ قدر کے اور بہت سے معنی مفسرین نے اپنی تشریح میں لکھے ہیں۔ اگر اس سورہ کو بہ غور پڑھا جائے تو قدر کے معنی تقدیر بھی ہوسکتے ہیں۔ بعض مفسرین نے قدر کو ضیق اور تنگی کے معنوں میں لیا ہے اور کچھ نے قضا و قدر کے معنوں میں بھی لیا ہے۔ علماء نے تنگی ان معنوں میں لیا ہے کہ اﷲ نے اس رات کی صحیح تاریخ متعین نہیں کی اور یہ بھی کہ آسمان سے اسے ملائکہ نازل ہوتے ہیں کہ کثرت تعدد ملائکہ کی وجہ سے زمین تنگ پڑجاتی ہے یعنی چھوٹی ہوجاتی ہے۔

قرآن حکیم میں اس رات کو ایک اور نام یعنی لیلۃ مبارکہ سے پکارا ہے، مفہوم: ’’ قسم ہے کتاب واضح کی! بے شک ہم نے اس کو نازل کیا ایک مبارک رات میں کیوں کہ ہمیں بلاشبہ ڈرانا مقصود تھا۔‘‘ (سورہ الدخان) یہاں مبارک رات کے معنی برکت والی رات کے ہیں۔ اس رات کی فضیلت اور برکت کتب احادیث میں متعدد مقامات پر آئی ہیں مگر چوں کہ ا س رات کی فضیلت خود قرآن حکیم میں دو مقامات پر آئی ہیں اور پھر سورہ قدر تو پوری اس مبارک رات کی تعریف میں مستقل سورت کے طور پر نازل ہوئی ہے۔ آپؐ بہ ذات خود بھی رمضان کے آخری عشرے میں اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرنے میں سخت محنت فرماتے تھے۔ اتنی محنت کسی اور مہینے میں نہیں کرتے تھے۔ ایک مرتبہ صحابہ کرامؓ نے آنحضور ؐ سے دریافت فرمایا یہ کیسے معلوم ہو کہ جس رات ہم نے عبادت کی ہے وہی شب قدر ہے۔ چناں چہ آپؐ نے جواب میں اس رات کی نشانیاں بیان فرمائیں۔

ابی بن کعبؓ فرماتے ہیں کہ رسولؐ نے ہمیں اس کی ایک نشانی یہ بتائی کہ اس رات کے بعد جو سورج طلوع ہوگا اس میں شعاع نہیں ہوگی۔ (مسلم) شعاع نہیں ہوگی سے آپؐ کی مراد یہ تھی کہ شعاع میں تیزی نہیں ہوگی۔ ایک اور نشانی اس رات کے بارے میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ہم آنحضرؐت کی خدمت میں شب قدر کا ذکر کر رہے تھے آپؐ نے فرمایا: تم میں سے کون ہے جو وہ وقت یاد رکھے گا جب چاند نکلتے وقت وہ ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہوگا۔ (مسلم) ایک اور روایت میں آیا ہے کہ اس رات میں سکون ہوتا ہے۔ نہ زیادہ گرمی اور نہ زیادہ سردی ہوتی ہے، آسمان روشن اور صاف ہوتا ہے اور اس کی صبح کو سورج کی شعاعیں ہلکی ہوتی ہیں۔

محققین نے یہاں تک تحقیق کی ہے کہ اس رات کتے نہیں بھونکتے اور علم الاعداد کے ماہرین نے تو بہت دل چسپ بات کہی ہے کہ سورہ قدر میں لیل کا ذکر 3 مرتبہ آیا ہے جو کہ اعداد کے اعتبار سے 27 بنتے ہیں۔ یعنی شب قدر 27 ویں شب کو ہوتی ہے۔ آئمہ کرام کے بھی اس رات کے تعین میں مختلف اقوال ہیں۔ امام ابوحنیفہ ؒ فرماتے ہیں یہ رات تمام سال میں دائر رہتی ہے ان کا دوسرا قول یہ ہے کہ تمام رمضان میں دائر رہتی ہے، صاحبین کا قول ہے کہ تمام رمضان کی کسی ایک رات میں ہے۔ جب کہ شافعیہ کا قول یہ ہے کہ 21 ویں شب میں ہونا اقرب ہے۔

امام احمد بن حنبل ؒ فرماتے ہیں کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے جو کسی سال کسی رات میں اور کسی سال کسی اور رات میں ہوتی ہے۔ لیکن جمہور علماء کی رائے میں ستائیسویں رات میں زیادہ امید ہے۔ ہمیں شب قدر کی تلاش میں رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سعی کرنا چاہیے اس عشرہ کو غنیمت جانتے ہوئے اپنے خدائے برتر سے لو لگانی چاہیے کہ وہ عفو در گزر کرنے والا ہے اور اس رات آئندہ کے لیے تجدید عہد کیا جائے کہ ہمارا کوئی لمحہ اس کی نافرمانی میں نہیں گزرے گا۔ یہ رات ہمارے رب نے بہ طور انعام ہمارے لیے مختص کی ہے، جس میں ہماری بخشش کا نجات کا مکمل سامان رکھا ہے۔

حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ جب لیلتہ القدر ہوتی ہے تو جبرئیل ملائکہ کے جھرمٹ میں اترتے ہیں اور ہر اس بندے کے لیے دعا کرتے ہیں جو اس وقت کھڑا ہوا یا بیٹھا ہوا اﷲ کا ذکر کر رہا ہو۔ (بیہقی) ظاہر ہے کہ جب ملائکہ گنا ہ گاروں بندوں کے لیے دعا کر رہے ہوں گے تو یقینا اس کی رحمت کا سمندر موج زن ہوگا جو انشاء اﷲ ہماری مغفرت کا باعث ہوگا۔

The post لیلۃ القدر: نزولِ قرآن و ملائکہ اور مغفرت کی رات appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2wx8ANk

لیلۃ المبارکہ

رمضان المبارک ہمارے پاس چند دنوں کا مہمان ہے، جس نے اس کی جتنی قدر کی ہوگی وہ خوب عیش میں ہوگا اور جو سستی کا شکار رہے ان کے لیے ابھی بھی موقع ہے کہ وہ ماہ مہمان کی آخری گھڑیوں میں عبادات کا اہتمام کریں اور اس وقت کو خوب مفید تر بناکر اپنی مغفرت کا سامان کریں، یہی ہمارا مقصود رمضان ہے۔

سیدنا ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے فرمایا، مفہوم: ’’ بے شک اﷲ تعالیٰ رمضان میں ہر دن اور رات میں لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے اور رمضان کے ہر روز و شب میں ہر مسلمان کے لیے ایک دعا ہے، جسے قبولیت سے نوازا جاتا ہے۔‘‘

آخری عشرے میں خاص بات جو بہت اہمیت و فضیلت کی حامل ہے وہ اِعتکاف ہے۔ جو مسلمان اپنی تمام مصروفیات ترک کرکے محض اﷲ تعالی کی عبادت کی نیت سے مسجد میں آکر ٹھہرے اس کو اعتکاف کہتے ہیں۔ یہ مبارک عمل نبی کریمؐ سے ثابت ہے۔ آپؐ ہر سال رمضان کے آخری عشرے کا مسجد میں اعتکاف فرماتے تھے۔ اعتکاف کی بہت فضیلت ہے۔ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے متعلق سیدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ آپؐ خیر کے کاموں میں سب سے زیادہ سخی تھے۔ رمضان میں آپؐ تیز ہوا سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے اور خیر کے کاموں کی طرف سبقت لے جاتے تھے۔ (بخاری)

رمضان المبارک کا سارا مہینہ ہی رب تعالی کی رحمتوں اور برکتوں سے بھرا ہوا ہے مگر اس کے آخری دس دن بہت ہی زیادہ فضیلت کے حامل ہیں۔ رمضان کے آخری عشرے کو باقی دو عشروں سے ممتاز کرنے والی لیلۃ القدر یعنی شب ِقدر ہے، جسے قرآن میں لیلۃ مبارکۃ بھی کہا گیا ہے۔ اس رات کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اﷲ تعالیٰ نے فرمایا، مفہوم : ’’ حٰم، قسم ہے اس وضاحت والی کتاب کی، یقینا ہم نے اسے بابرکت رات میں اُتارا ہے۔ بے شک ہم ڈرانے والے ہیں، اسی رات میں ہر ایک مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ ہمارے پاس سے حکم ہوکر، ہم ہی رسول بنا کر بھیجنے والے ہیں۔‘‘ ( الدخان)

ایک دوسرے مقام پر یوں ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’ یقینا ہم نے ہی اسے یعنی قرآن کو شب ِقدر میں نازل فرمایا، تم کیا جانو کہ شب ِقدر کیا ہے؟ شب ِقدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس میں ہر کام کے سرانجام دینے کو اپنے ربّ کے حکم سے فرشتے اور روح (جبریل) اُترتے ہیں۔ یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے۔‘‘ (سورۃ القدر)

سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: ’’ جس شخص نے شب ِقدر کا ِایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے قیام کیا، اس کے گزشتہ گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری)

سیدنا ابوبکر صدیقؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لیلۃ القدر آخری عشرے میں ہے اور یہ بھی سنا: ’’ جب نو، سات، پانچ یا تین یا آخری رات باقی رہ جائے تو اسے تلاش کرو۔‘‘ (جامع ترمذی)

سیدنا ابوبکرؓ رمضان کی پہلی بیس راتوں میں معمول کے مطابق نماز پڑھتے لیکن جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو عبادت میں خوب محنت کرتے تھے۔ مبارک ماہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات قدر والی ہے ہمیں آخری عشرے کی طاق راتوں میں خوب عبادت کرکے اس رات کی فضیلت کو پانا چاہیے۔ شب ِقدر کی چند علامات بھی ہیں۔ شب ِقدر کی صبح سورج یوں طلوع ہوتا ہے کہ اس کی شعاعیں نہیں ہوتیں۔ (مسلم) شب ِقدر میں جب چاند نکلتا ہے تو ایسے ہوتا ہے جیسے بڑے تھال کا کنارہ۔ (صحیح مسلم) شب ِقدر ایک خوش گوار رات ہے جس میں نہ گرمی ہوتی ہے اور نہ سردی۔ اس صبح کا سورج اس طرح طلوع ہوتا ہے کہ اس کی سرخی مدھم ہوتی ہے۔ (ابن خزیمہ)

شب ِقدر میں آدمی حسب ِمعمول جو دعا چاہے مانگ سکتا ہے۔ تاہم اس رات کو جو خاص دعا ہے، اسے ضرور مانگنا چاہیے اور وہ دعا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ بتائی ہے: ’’ اے اﷲ بے شک آپ معاف کرنے والے، کرم فرمانے والے ہیں، معافی کو پسند فرماتے ہیں لہٰذا مجھے معاف فرما دیں۔‘‘ (جامع ترمذی)

اﷲ کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق ماہ رمضان کے اختتام پر روزوں کے مکمل ہونے کی خوشی میں صدقۂ فطر ادا کیا جاتا ہے۔ صدقۂ فطر کو نماز عید سے پہلے ادا کرنا چاہیے۔ اﷲ تعالی ہمیں رمضان میں اپنی بخشش کروانے کی توفیق دے، ہمیں ایسا بنا دے کہ ہم اسے پسند آجائیں اور اﷲ ہم سے راضی ہو۔ آمین

The post لیلۃ المبارکہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2YWa4gc

شب ِقدر: رحمت خداوندی کا سرچشمہ

اﷲ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے بے پناہ نعمات سے نوازا۔ جہاں اسے آسائشیں عطا کیں وہاں اسے دنیا و آخرت سنوارنے کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات قرآن کی صورت میں عطا فرما دیا۔ کلام الہی ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ فرشتے اور روح اس رات میں اپنے پروردگار کے اذن سے ہر کام کے لیے اترتے ہیں۔ یہ رات طلوع فجر تک سلامتی سے لبریز ہے۔ لیلۃ القدر کو ہزار مہینے سے افضل قرار دیا گیا اور اس کی عبادت ہزار مہینے کی عبادت سے افضل، اس کا صدقہ ہزار مہینے کے صدقات سے افضل، اس کا روزہ ہزار مہینوں کے روزوں سے افضل، اس کی نیکی ہزار مہینے کی نیکیوں سے افضل ہے۔

ایک روایت ہے کہ پیغمبر اکرم ؐنے اپنے اصحابؓ کے درمیان بنی اسرائیل کے چار پیغمبروں (ایوبؑ، ذکریاؑ، حزقیل ؑ اور یوشعؑ) کا ذکر کیا کہ وہ 80 سال دن رات خدا کی عبادت کرتے رہے تو صحابہؓ نے آرزو کی اے کاش! ہمیں بھی توفیق ملتی اور اﷲ ہمیں لمبی عمر عطا کرتا تو ان عابدوں کی طرح عبادت کرتے۔ اس آرزو کے بعد یہ سورہ نازل ہوا، جس کا مفہوم ہے : ’’تمہار ی اور تمہاری ذریّت اور تمہاری امت کی ایک رات کی عبادت ان کی ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے۔‘‘ (درالمنثور، مخزن العرفان)

حضرت ابوذرؓ فرماتے ہیں میں نے پیغمبرؐ سے عرض کیا: اے رسول خدا ﷺ کیا شب قدر صرف انبیاء کے زمانے میں ہوتی ہے، کیوں کہ امر ان پر نازل ہوتا ہے، جب انبیائؑ دنیا سے گزر جائیں تو کیا شب قدر اٹھالی جائے گی ؟‘‘ تو آنحضور ؐ نے فرمایا: شب قدر روز قیامت تک باقی ہے۔ (تفسیر نورالثقلین، تفسیر مجمع البیان )

بعض مفسرین نے شب قدر میں سلام کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس رات فرشتے مسلسل ایک دوسرے پر، پیغمبر اکرم ﷺ کے حضور، اﷲ کی برگزیدہ ہستیوں اور مومنین پر سلام بھیجتے ہیں۔ شب قدر کتنی پُرکیف اور بابرکت رات ہے جب فرشتے قطار اندر قطار اتر کر مومنین کو سلام کررہے ہوں۔ گویا کائنات میں ہر سُو سلامتی اور برکات کی برسات ہورہی ہوتی ہے۔ فرشتوں کا سلام ابراہیمؑ کے لیے بھڑکائی گئی نمرود کی آگ کو گل زار بنا سکتا ہے تو مومنین و مسلمین کے لیے آتش جہنم کو سرد کیوں نہیں کرسکتی۔ امام فخر الدین رازیؒ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہی عظمت ہے امت محمدیؐ کی کہ وہاں فرشتے خلیل خدا پر نازل ہوتے تھے اور یہاں نبی کریم ؐ کی امت پر۔ شب قدر ہی نہیں اس کے ذکر سے بھرپور سورۃ القدر کے بھی بے انتہا فضائل ہیں۔

شب قدر میں سال بھر کے امور کا فیصلہ ہوتا ہے۔ یعنی اموات، زندگی، رزق، بیماری تنگ دستی، وسعت اور کشادگی تمام امور طے کیے جاتے ہیں۔ سورۃ القدر پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ انسان اپنا مقدر بنا سکتا ہے، اپنی تقدیر بدل سکتا ہے لیکن سب اس کی نیّت پر موقوف ہے، سب اس کے عمل سے جڑا ہوا ہے۔ اگر وہ نیکیوں اور سعادتوں کی زندگی گزارنا چاہتا ہے تو شب قدر کو وسیلہ بناتے ہوئے اﷲ کی بارگاہ میں توبہ کرے، برائیوں اور بُرے اعمال سے برأت کرے۔ لیکن جو غفلت میں پڑا رہے، جسے نیکی کی جستجو ہی نہ ہو، جو اﷲ کی جانب متوجہ ہی نہ ہو، جسے اﷲ کی رحمتوں کے بحر بے کراں کا احساس ہی نہ ہو، اس نے اﷲ کی عطا کردہ اس عظیم نعمت کو ضایع کردیا۔

شب قدر کے بارے میں یہ تو اشارہ ملتا ہے کہ یہ رات رمضان المبارک میں ہے لیکن اس کا تعین مخفی رکھا گیا تاکہ لوگ عبادت میں دل چسپی برقرار رکھیں۔ اسی طرح اسم اعظم کو مخفی رکھا گیا تاکہ انسان اﷲ کے تمام ناموں کو ورد زباں بنائے رکھیں، اور ان کے فیوض سے مستفید ہوتے رہیں۔ اسی طرح ساعات جمعہ میں سے بھی ایک ساعت کو قبولیت دعا و استجابت کا وقت قرار دیا گیا اور اس کو مخفی رکھا تاکہ جمعہ کی شب و روز میں کسی بھی وقت دعا و مناجات سے غفلت نہ برتی جائے۔ شب قدر کو اﷲ نے مخفی رکھنے کا مقصد واضح ہے کہ اہل ایمان اس شب کو تلاش کریں اور اس جستجو میں مصروف رہ کر زیادہ سے نیکیاں حاصل کرے، زیادہ گڑگڑائیں زیادہ دعا و مناجات کریں، اﷲ کی جانب زیادہ رجو ع کریں۔

اﷲ کے رسول ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ اگر اس شب کو پالیں تو خدا سے کیا مانگیں؟ نبی کریمؐ نے فرمایا: عافیت۔ علامہ مجلسیؒ فرماتے ہیں کہ شبِ قدر میں بہترین عمل طلب مغفرت اور اپنے دنیا و آخرت کے مطالب کے لیے دعا کرنا ہے۔ اپنے والدین عزیزوں اور ایمانی بھائیوں کے لیے دعا کرنا ہے اور محمدؐ و آل محمدؐ پر درود بھیجنا ہے۔ روایت ہے کہ جو اس شب میں بیدار رہے اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے چاہے وہ آسمان کے ستاروں اور پہاڑوں و دریاؤں کے عدد کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔

آج امت مسلمہ پر عجب کڑا وقت آن پڑا ہے، اجتماعی طور پر بھی مسلمان استعماری قوتوں کا نشانہ ہیں، دہشت گردی اور افتراق کے فتنوں تلے کچلے جارہے ہیں تو شیطانی قوتوں کی ثقافتی یلغار کا بھی انہیں سامنا ہے، بے راہ روی اور مغربیت در و دیوار پھلانگ کر گھروں میں داخل ہو چکی ہے۔ لہذا شب قدر کی قبولیت دعا کی ساعتوں میں ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ خدا سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے، دین اسلام پر کاربند رہنے کی توفیق مانگے۔ ہر مسلمان اپنا دامن منعم حقیقی کے سامنے پھیلائے تو عالم اسلام کی کشتی گرداب سے نکل کر پھر سوئے حرم گام زن ہو سکتی ہے۔ خداوند عالم ہر کلمہ گو مسلمان کو اس شب کو پالینے اور اس فیوض برکات اور ثمرات سے بہرہ مند ہونے کی توفیق مراحمت فرمائے۔ آمین بہ حق طہٰ و یٰس

The post شب ِقدر: رحمت خداوندی کا سرچشمہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2wx8Agi

مبارک رات کی فضیلت

ماہ رمضان المبارک کی خصوصیت ہے کہ جب بھی آتا ہے اپنے ساتھ امت محمدیہ ﷺ کے لیے انوارات و برکات سے بھرپور تحفے لے کر آتا ہے اور اہل ایمان کی جھولیوں کو بھر کر رخصت ہو جاتا ہے۔ ہمیشہ کی طرح اب بھی رمضان کریم آخری ساعتوں کا مہمان ہے اور جاتے جاتے ایک ایسا تحفہ بندگان خدا کی جھولی میں ڈال کر جا رہا ہے جسے شب قدر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جی ہاں ! وہی شب قدر جس کی عظمت سے فکر انسانی کو واقف کروانے کے لیے اﷲ رب العزت قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ایک ہزار سال تک کی عبادت سے بھی اس ایک رات کی عبادت کی برابری نہیں ہو سکتی۔ اگر مسلمان تھوڑی سی بھی کوشش کر لیں تو اس رات ان کی مغفرت کا، بخشش کا سامان بھی ہوجاتا ہے اور دنیا اور آخرت بھی درست ہو جاتی ہے۔ یہی وہ رات ہے جب ہم اپنے رب کو منا بھی سکتے ہیں اور منوا بھی سکتے ہیں ۔

اسی رات کو آسمان سے فرشتے اتر کر اﷲ کے نیک بندوں (مومنین) کو سلام پیش کرتے ہیں، ان سے مصافحہ کرتے ہیں، ان کے لیے دعائے خیر کرتے ہیں اور ان کی دعائوں پر آمین کہتے ہیں اور یہی اس رات کی افضلیت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

حضرت انس بن مالک ؓفرماتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: جب شب قدر ہوتی ہے تو جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کے جھرمٹ میں نازل ہوتے ہیں اور ہر اس بندے کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں جو کھڑا ہو کر یا بیٹھ کر اﷲ کے ذکر و عبادت میں مشغول ہوتا ہے، او رجب عیدالفطر کا دن ہوتا ہے تو حق تعالیٰ فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں کی عبادت پر فخر فرماتے ہیں اور ان سے دریافت فرماتے ہیں کہ اے فرشتو! اس مزدور کا جو اپنی خدمت پوری پوری ادا کر دے کیا بدلہ ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی اجرت پوری دے دی جائے، تو ارشاد ہوتا ہے کہ فرشتو! میرے غلاموں نے اور باندیوں نے میرے فریضہ کو پورا کر دیا۔ پھر دعا کے ساتھ چلاّتے ہوئے عید گاہ کی طرف نکلے ہیں۔ میری عزت کی قسم ، میرے جلال کی قسم ، میری بخشش کی قسم ، میرے علّوِشان کی قسم ، میرے بلند مرتبے کی قسم، میں ان لوگو ں کی دعا ضرور قبول کروں گا ، پھر ان لوگوں کو خطاب فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ جائو تمھارے گناہ معاف کر دیئے ہیں اور تمھاری برائیوں کو نیکیوں سے بدل دیا ہے۔ پس یہ لوگ عید گاہ سے ایسے حال میں لوٹتے ہیں کہ ان کے گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں۔ (مشکوٰۃ)

حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ سرکار دو عالمؐ نے ارشاد فرمایا :’’جو شخص ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اور شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے عبادت کرے، تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔‘‘ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا:’’تمہارے اوپر ایک ایسا مہینہ آیا ہے جس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ جو شخص اس رات سے محروم ہو گیا گویا وہ ساری ہی خیر سے محروم ہوگیا۔‘‘ (ابن ماجہ)حضور نبی کریم ؐ نے اپنی امت کی آسانی کے لیے کچھ نشانیاں بھی بیان فرمائی ہیں جن کو سامنے رکھ کر شب قدر کو تلاش کیا جاسکتا ہے۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرمؐ سے سنا: ’’ وہ رات (شب قدر) نورانی اور چمک دار ہوتی ہے نہ زیادہ گرم اور نہ زیادہ ٹھنڈی۔‘‘ اس رات میں صبح تک آسمان کے ستارے شیاطین کو نہیں مارے جاتے۔ شب قدر کی صبح کو نکلنے والا سورج چاند کی مانند ہوتا ہے، شعائوں اور کرنوں کے بغیر طلوع ہوتا ہے۔ سمندر کا کڑوا پانی بھی اس رات میٹھا پایا جاتا ہے۔

(الدرمنثور)اس مبارک رات کو پانے کے لیے آقا دو جہاں ﷺ خود آخری عشرے میں تن دہی سے عبادت میں مشغول رہتے تھے بل کہ اپنے گھر کے تمام افراد کو بھی اس کے لیے ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ روایت فرماتی ہیں: ’’جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوجاتا تو رسول کریمؐ کمر کس لیتے اور شب بیداری کرتے یعنی پوری رات عبادت اور ذکر و دعا میں مشغول رہتے۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریمؐ نے فرمایا کہ شب قدر کو تلاش کرو رمضان کی آخری دس راتوں کی طاق راتوں میں۔ (بخاری) حضرت عبداﷲ بن عباسؓ جن کا شمار اکابر صحابہؓ میں ہوتا ہے فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں امیرالمومنین حضرت عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا وہاں دیگر صحابۂ کرام بھی تشریف فرما تھے۔

حضرت عمر ؓ نے ان سے سوال کیا کہ ’’ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو، تم لوگوں کا کیا خیال ہے کہ وہ کون سی رات ہوسکتی ہے؟ کسی نے کہا اکیسویں ، کسی نے کہا تیئسویں، کسی نے کہا پچیسویں، کسی نے کہا ستائیسویں ، میں خاموش بیٹھا رہا، حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ بھئی تم بھی کچھ بولو ۔ میں نے عرض کیا کہ آپ ہی نے تو فرمایا تھا کہ جب یہ بولیں تو تم نہ بولنا۔ آپؓ نے فرمایا بھئی تمہیں تو اسی لیے بلایا گیا ہے کہ تم بھی کچھ بولو۔ میں نے عرض کیا کہ میں نے سنا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے سات چیزوں کو ذکر فرمایا ہے۔

مثلا سات آسمان پیدا فرمائے، سات زمینیں پیدا فرمائیں ، انسان کی تخلیق سات درجات میں فرمائی، انسان کی غذا کے لئے زمین سے سات چیزیں پیدا فرمائیں اسی لئے میری سمجھ میں تو یہی آتا ہے کہ شب قدر ستائیسویں شب ہوگی۔ بات پوری مکمل ہو جانے کے بعد سیدنا عمر ؓ نے اپنے ساتھیوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم سے وہ بات نہ ہو سکی جو اس بچے نے کہہ دی جس کے سر کے بال بھی ابھی مکمل نہیں آئے۔ بہ خدا! میرا بھی یہی خیال ہے جو یہ کہہ رہا ہے۔‘‘ (شعب الایمان)سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں : ’’ میں نے رسول اﷲ ﷺ سے عرض کیا مجھے بتائیے کہ اگر میں معلوم کر لوں کون سی رات شب قدر ہے، تو میں اس رات اﷲ سے کیا عرض کروں اور کیا دعا مانگوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ اے میرے اﷲ تو بہت معاف فرمانے والا ہے، اور بڑا کرم فرما ہے، اور مجھے معاف کردینا تجھے پسند ہے، پس تو میری خطائیں معاف فرما دے۔‘‘ (ترمذی)

اس لیے تمام اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ شب قدر کی مبارک رات کو تلاش کریں۔ طاق راتوں میں جس قدر ہو سکے نفل نماز ، تلاوت قرآن، ذکر و تسبیح میں مشغول رہیں۔ التجا کرتے ہوئے اﷲ رب العزت سے نیک اعمال کرنیکی ہمت و طاقت طلب فرمائیں، اپنے گناہوں کی بخشش طلب فرمائیں اور اپنے لئے اپنے عزیز و اقارب، دوست احباب کیلئے دعائے خیر کریں۔ اور تمام مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کریں۔ پور ے عالم اسلام کے مظلوم مسلمانوں کو اپنی دعائوں میں یاد رکھیں اور خصوصا پاکستان کے لیے دعا کریں کہ اﷲ رب العزت ہمارے ملک کی اندرونی و بیرونی، نظریاتی، فکری و جغرافیائی سرحدوں کی ہر قسم کے شرور و فتن سے حفاظت فرمائیں اور اسے ہمیشہ قائم دائم رکھیں۔ آمین

The post مبارک رات کی فضیلت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2Z17Axm

گرین شرٹس نے رسوائیوں کی نئی داستان رقم کردی

ناٹنگھم: گرین شرٹس نے رسوائیوں کی نئی داستان رقم کردی، 46 سالہ تاریخ میں پہلی بار ٹیم مسلسل 11 ون ڈے میچز میں ناکامیوں کا شکار ہوئی،105 ورلڈکپ میں گرین شرٹس کا دوسرا کمترین مجموعہ ثابت ہوا،اوورز کے لحاظ سے یہ سب سے مختصر اننگز بھی ثابت ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق ویسٹ انڈیز سے پہلے ورلڈکپ میچ میں گرین شرٹس کو 7 وکٹ سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، یہ مکمل ہونے والے 11 ون ڈے میچز میں ٹیم کی مسلسل 11 ویں ناکامی ہے، 46 سالہ تاریخ میں ٹیم کو کبھی ایسی رسوائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا،گذشتہ روز پاکستانی بیٹنگ لائن مکمل فلاپ رہی اور21.4 اوورز میں105 رنز پر اننگز کا اختتام ہوگیا، ورلڈکپ کی تاریخ میں یہ ٹیم کی مختصر ترین اننگز ثابت ہوئی،1992میں انگلینڈ کے خلاف ایڈیلیڈ میں گرین شرٹس40.2اوورز میں74 رنز پر ڈھیر ہو گئے تھے، 28 سال بعد اب دوسرا کم ترین مجموعہ سامنے آیا۔

ویسٹ انڈین اوپنر کرس گیل نے گذشتہ روز برق رفتاری سے50 رنز بنائے، یہ ان کی مسلسل چھٹی نصف سنچری ہے، اس سے قبل 1980میں گورڈن گرینج نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔گیل ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ 40 چھکے لگانے والے بیٹسمین بھی بن گئے، ان سے قبل اس ریکارڈ پر سابق جنوبی افریقی اسٹار اے بی ڈی ویلیئرز 37 چھکوں کے ساتھ قابض تھے، رکی پونٹنگ 31 چھکے لگا کر اس فہرست میں تیسرے نمبر پر موجود ہیں ۔

The post گرین شرٹس نے رسوائیوں کی نئی داستان رقم کردی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2wxsCYa

پاکستانی ٹیم کی غیرمعیاری کارکردگی نے شائقین کرکٹ کے دل توڑدیے

ناٹنگھم: پاکستانی ٹیم کی غیرمعیاری کارکردگی نے شائقین کے دل توڑ دیے۔

میچ دیکھنے کیلیے انگلینڈ اور بیرون ملک سے بڑی تعداد میں پاکستانی ٹرینٹ برج پہنچے، ڈبل ڈیکر بس میں سوار ہو کر شہر کا چکر بھی لگایا، شائقین نے اپنے چہروں پر قومی پرچم پینٹ کرایا ہوا تھا، وہ مسلسل نعرے بازی کرتے رہے، مگر گرین شرٹس کا کھیل دیکھ کر سارا جوش ٹھنڈا پڑ گیا اور سب کی منہ لٹکائے واپسی ہوئی۔

The post پاکستانی ٹیم کی غیرمعیاری کارکردگی نے شائقین کرکٹ کے دل توڑدیے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2Z0hBe0

اسٹوکس نے 23 سال بعد دوسری بہترین آل راؤنڈ پرفارمنس کا اعزاز حاصل کر لیا

نئی دہلی: بین اسٹوکس نے ورلڈ کپ میں23 سال بعد دوسری بہترین آل رائونڈ پرفارمنس کا اعزاز حاصل کر لیا۔

جنوبی افریقہ کیخلاف ابتدائی میچ میں انھوں نے انگلینڈ کی جانب سے سب سے زیادہ 89 رنز بنانے کے بعد ایک شاندار کیچ تھاما، اس کے ساتھ 12 رنز دے کر2 وکٹیں بھی اپنے نام کیں، میزبان الیون نے یکطرفہ مقابلہ 104 رنز سے جیت لیا، ان سے قبل ورلڈ کپ مقابلوں میں ایسی عمدہ پرفارمنس سری لنکا کے اروندا ڈی سلوا نے پیش کی تھی۔

انھوں نے 1996 میں آسٹریلیا کیخلاف فائنل میں 107 رنز ناٹ آؤٹ بنانے سے قبل 3 وکٹیں لیں اور2 کیچز بھی تھامے،پانچویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے اسٹوکس ورلڈ کپ میچ میں 89 رنز بناکر دوسرے کامیاب انگلش بیٹسمین بنے، ان سے قبل 2007 کے ایڈیشن میں آئرلینڈ کیخلاف پال کولنگ ووڈ نے اسی نمبر پر کھیلتے ہوئے 90رنز اسکور کیے تھے۔

The post اسٹوکس نے 23 سال بعد دوسری بہترین آل راؤنڈ پرفارمنس کا اعزاز حاصل کر لیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2wuXJ6z

طویل قطاریں، تاخیرسے ٹکٹ پانے والے شائقین کورقم واپس ملے گی

لندن:  آئی سی سی نے جمعے کو پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان منعقدہ دوسرے ون ڈے کے موقع پر شائقین سے معذرت کی ہے، جنھیں ٹکٹ حاصل کرنے کیلیے ٹرینٹ برج اسٹیڈیم پر قطاروں میں کھڑا ہونا پڑا۔

حکام نے کہا ہے کہ تاخیر کے سبب ٹکٹ پانے سے محروم رہ جانے والے شائقین کو ان کی ادا شدہ پوری رقم واپس مل جائے گی، ترجمان نے کہا کہ ہم مستقبل میں ایسے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کیلیے ٹکٹ ماسٹر کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں، شائقین ٹکٹ کا پرنٹ اپنے طور بھی نکال سکیں گے ، وینیوز پر بھی ٹکٹوں کی تقسیم کے طریقہ کار میں بھی بہتری لائی جائے گی۔

The post طویل قطاریں، تاخیرسے ٹکٹ پانے والے شائقین کورقم واپس ملے گی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2Z19Btu

’چھپے رستم‘ کیویزکی مہم کا آج آغاز، سری لنکا سے ٹکراؤ

 لندن:  ’چھپے رستم‘ کیویزورلڈ کپ میں اپنی مہم کا آغاز ہفتے کو سری لنکا کیخلاف میچ سے کریں گے۔

ٹیم چار برس قبل ہوم گراؤنڈ پر منعقدہ ایونٹ کے فائنل تک پہنچنے میں کامیاب رہی تھی، مگر روایتی حریف آسٹریلیا نے مات دے کر پانچویں بار ٹرافی اپنے قبضے میں کرلی تھی، اس سے قبل کیویز 6 بار سیمی فائنلز تک محدور رہے تھے، کین ولیمسن کو برینڈن میک کولم کی جگہ ٹیم کی باگ ڈور سونپی گئی ہے،وہ 2015 میں بھی اس ٹیم کا حصہ تھے جو ٹرافی کے انتہائی قریب پہنچنے میں کامیاب ہوئی تھی، نیوزی لینڈ نے وارم اپ میچ میں فیورٹ بھارت کو شکست دے کر اپنے بلند عزائم ظاہر کیے، ہوم شائقین کو قوی امید ہے کہ کین ولیمسن کی قیادت میں ٹیم پہلی بار ٹرافی جیت سکتی ہے، روس ٹیلر بھی سردست عمدہ فارم میں ہیں، 2017 میں ان کی ون ڈے میں اوسط 60 سے زائد رہی ہے، کین ولیمسن اور مارٹن گپٹل بھی کیوی ٹیم کی بیٹنگ لائن کا اہم ستون ہیں۔

بولنگ اٹیک میں ٹرینٹ بولٹ، کولن ڈی گرینڈ ہوم اور ٹم ساؤدی کسی بھی حریف کو ٹھکانے لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اسی طرح اسپن کے شعبے میں کپتان کو ایش سودھی اور مچل سینٹنر جیسے آزمودہ بولرز کا ساتھ میسر ہے، دوسری جانب 1996 کی فاتح سری لنکن ٹیم ون ڈے رینکنگ میں تنزلی کا شکار ہوکر نویںپوزیشن پر ہے، نئے کپتان ڈیموتھ کرونا رتنے پلیئرز کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں، آئی لینڈرزکو اپنے گذشتہ 9 میں سے 8 ون ڈے میچز میں شکست کا سامنا رہا ہے، البتہ ورلڈ کپ میں ریکارڈخاصا متاثر کن ہے، جہاں ٹیم ایک بار چیمپئن بننے کے ساتھ بار2رنرز اپ رہی اور ایک مرتبہ سیمی فائنل کھیلنے کا اعزاز پایا۔

The post ’چھپے رستم‘ کیویزکی مہم کا آج آغاز، سری لنکا سے ٹکراؤ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2XeXVCK

اسمتھ اوروارنرپرفقرے بازی نہ کریں، کوچ کی انگلش شائقین سے درخواست

 لندن:  آسٹریلوی ہیڈ کوچ جسٹن لینگر اسٹار پلیئرز اسٹیون اسمتھ اور ڈیوڈ وارنر کی حمایت میں سامنے آگئے۔

انھوں نے شائقین سے درخواست کی ہے کہ وہ بال ٹیمپرنگ اسکینڈل میں سزا یافتہ دونوں پلیئرز پرورلڈ کپ کے دوران فقرے بازی سے گریز کریں، انھیں انگلینڈ سے وارم اپ میچ میں ’ چیٹرچیٹر ‘ کے نعرے سننا پڑے تھے، لینگر نے شائقین سے کہا کہ مجھے امید ہے وہ پلیئرز کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے دوبارہ ایسے نعرے نہیں لگائیں گے۔

The post اسمتھ اوروارنرپرفقرے بازی نہ کریں، کوچ کی انگلش شائقین سے درخواست appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2ENd0UX

تیسرا انڈر19 ون ڈے: پاکستان نے سری لنکا کو شکست دے دی

ہمبنٹوٹا: سری لنکا کے خلاف یوتھ سیریز کے تیسرے ون ڈے میں پاکستان انڈر 19 ٹیم نے 5 وکٹ سے فتح حاصل کرلی، میزبان سائیڈ 48.3 اوورز میں 183 رنزتک محدود رہی۔

کامل مشارا 73،جی ڈنوشا 32 اور اے تھارینڈو 26 رنز بنانے میں کامیاب ہوئے، اختر شاہ نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے 19رنز دے کر4 وکٹیں لیں، جنید خان نے 2 شکار کیے، گرین شرٹس نے ہدف 46 اوورز میں5 وکٹ پر حاصل کرلیا، کپتان روحیل نذیر نے 76 کی اننگز کھیلی، قاسم اکرم26 جبکہ محمد طحہ اورحارث خان یکساں طورپر25،25 رنز بنانے میں کامیاب رہے، ڈی میڈوشناکا اور آر سنجیا نے 2،2 وکٹیں لیں۔

The post تیسرا انڈر19 ون ڈے: پاکستان نے سری لنکا کو شکست دے دی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2I7ny24

اسٹوکس کی پیچھے کی طرف ڈائیو لگانے والی کاوش ’ صدی کا بہترین کیچ ‘ قرار

 لندن: انگلش آل راؤنڈر بین اسٹوکس نے جنوبی افریقہ کیخلاف باؤنڈری پر ناقابل یقین کیچ تھام کر سب کو حیران کردیا تھا۔

ان کی اس کاوش کو ’ صدی کا بہترین کیچ ‘ بھی قرار دیا جا رہا ہے، اسٹوکس نے پیچھے کی جانب ڈائیو لگاکر کیچ تھامتے ہوئے اینڈائل فیلوواکیو کو میدان بدر کردیا تھا، کامیاب بولر عادل رشید تھے، سابق انگلش اسپنر فل ٹفنل نے دوران کمنٹری اسے صدی کا بہترین کیچ گردانا، اس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی  اور شائقین نے بھی اسٹوکس کی عمدہ فیلڈنگ کو سراہا۔

The post اسٹوکس کی پیچھے کی طرف ڈائیو لگانے والی کاوش ’ صدی کا بہترین کیچ ‘ قرار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2WhmMJT

ڈی کک پر قسمت مہربان، عادل رشید بولڈ کرکے بھی وکٹ نہیں لے پائے

 لندن: انگلینڈ سے ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں قسمت جنوبی افریقی بیٹسمین کوئنٹن ڈی کک پر مہربان رہی، میزبان اسپنر عادل رشید کی گیند بیٹسمین کو چکمہ دینے کے بعد وکٹ سے جا ٹکرائی لیکن حیران کن طور پر بیلز نہ گریں۔

یہ غیرمعمولی صورتحال جہاں مہمان بیٹسمین کیلیے اطمینان کا باعث بنی وہیں انگلش کیمپ میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی، کسی کو اسپنر کی اس کاوش پر حریف بیٹسمین کے آؤٹ نہ ہونے کا یقین نہیں آیا، امپائر بروکس آکسنفورڈ نے بھی جاکر وکٹ کو چیک کیا کہ بیلز اسٹمپڈ سے ایسی مضبوط سے کیسے چپکی رہیں لیکن وہ بھی اس کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرپائے ، بعدازاں ڈی کک کا لیام پلنکٹ کی گیند پر روٹ نے کیچ لیا، سوشل میڈیا پر بھی شائقین نے اس غیرمعمولی صورتحال پر دلچسپ تبصرے کیے۔

The post ڈی کک پر قسمت مہربان، عادل رشید بولڈ کرکے بھی وکٹ نہیں لے پائے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2I7nuiQ

وزیراعظم کی سعودی ولی عہد سے ملاقات

مکہ المکرمہ: وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق وزیراعظم عمران خان کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات اوآئی سی سمٹ کے موقع پرسائیڈلائن پرہوئی۔  ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیراعظم عمران خان کا گرمجوشی سے استقبال کیا جب کہ وزیراعظم عمران خان نے پرمہمان نوازی پر سعودی ولی عہد کا شکریہ ادا کیا۔

ملاقات میں دونوں رہنماوٴں نے دوطرفہ سیاسی، اقتصادی اور تجارتی تعلقات کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا۔ دونوں رہنماؤں نے سعودی ولی عہد کے فروری 2019 کودورہ پاکستان کے دوران کئے گئے فیصلوں پرعملدرآمد کو تیز کرنے پراتفاق کیا جب کہ وزیراعظم عمران خان نے سعودی حکومت کی جانب سے تیل کی موخر ادائیگیوں کی سہولت کی فراہم پر بھی شکریہ ادا کیا۔

 

The post وزیراعظم کی سعودی ولی عہد سے ملاقات appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://bit.ly/2QFwvng

وزیراعظم کی سعودی ولی عہد سے ملاقات

مکہ المکرمہ: وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق وزیراعظم عمران خان کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات اوآئی سی سمٹ کے موقع پرسائیڈلائن پرہوئی۔  ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیراعظم عمران خان کا گرمجوشی سے استقبال کیا جب کہ وزیراعظم عمران خان نے پرمہمان نوازی پر سعودی ولی عہد کا شکریہ ادا کیا۔

ملاقات میں دونوں رہنماوٴں نے دوطرفہ سیاسی، اقتصادی اور تجارتی تعلقات کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا۔ دونوں رہنماؤں نے سعودی ولی عہد کے فروری 2019 کودورہ پاکستان کے دوران کئے گئے فیصلوں پرعملدرآمد کو تیز کرنے پراتفاق کیا جب کہ وزیراعظم عمران خان نے سعودی حکومت کی جانب سے تیل کی موخر ادائیگیوں کی سہولت کی فراہم پر بھی شکریہ ادا کیا۔

 

The post وزیراعظم کی سعودی ولی عہد سے ملاقات appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2QFwvng

آزادی اظہاررائے کے نام پرمسلمانوں کے جذبات کومجروح نہیں کیا جاسکتا، وزیراعظم

مکہ المکرمہ: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اسلام کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں جب کہ مسلم دنیا کے خلاف ظلم وبربریت کا سلسلہ بند کیا جائے۔

 اسلام کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں

اوآئی سی کے 14 ویں سربراہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے خطاب میں کہا کہ کوئی مذہب معصوم انسانوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتا، دہشتگردی کواسلام سے الگ سمجھنا ہوگا، اسلام کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں، مسلم دنیا کے خلاف ظلم وبربریت کا سلسلہ بند کیا جائے، نیوزی لینڈ کے واقعے نے ثابت کردیا کہ دہشتگردی کا کوئی مذہب نہیں، مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد پردہشتگردی کا لیبل درست نہیں، مغربی دنیا مسلمانوں کے جذبات کا احساس کرے جب کہ دنیا کواسلامو فوبیا سے نکلنا ہوگا۔

مسلم دنیا کی قیادت مغربی دنیا کو قائل کرے

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ کوئی مسلمان دہشتگردی کرے تواسلامی دہشتگردی قراردے دیا جاتا ہے، آزادی اظہاررائے کے نام پرمسلمانوں کے جذبات کو مجروح نہیں کیا جاسکتا، مسلم دنیا کی قیادت مغربی دنیا کو قائل کرے، مغرب کوبتایا جائے کہ پیغمبراسلام کی توہین پرہمیں کتنا دکھ ہوتا ہے۔

بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت ہونا چاہیے

وزیراعظم نے کہا کہ نائن الیون کے بعد کشمیریوں اورفلسطینیوں پرمظالم ڈھائے گئے، نائن الیون سے پہلے زیادہ ترخودکش حملے تامل ٹائیگرزکرتے تھے، تامل ٹائیگرزکے حملوں کا تعلق کسی نے مذہب سے نہیں جوڑا، اسرائیل نے دہشتگردی کومعصوم فلسطینیوں کے خلاف استعمال کیا، جولان کی پہاڑیاں فلسطین کا حصہ رہنی چاہئیں، بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت ہونا چاہیے، مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد کو دہشتگردی سے جوڑنا درست نہیں۔

 کشمیریوں کوحق خودارادیت ملنا چاہیے

عمران خان نے کہا کہ کشمیری عوام آزادی کیلیے سیاسی جدوجہد کررہے ہیں، مسئلہ کشمیرکا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نا گزیرہے، کشمیریوں کوحق خودارادیت ملنا چاہیے، ہمیں معیاری تعلیم پرخصوصی توجہ دینا ہوگی، اسلامی دنیا کوسائنس وٹیکنالوجی پرتوجہ دینا ہوگی جب کہ اوآئی سی کے پلیٹ فارم سے سائنس وٹیکنالوجی کیلیے کام کرنا ہوگا۔

The post آزادی اظہاررائے کے نام پرمسلمانوں کے جذبات کومجروح نہیں کیا جاسکتا، وزیراعظم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://bit.ly/2WAxLNM

آزادی اظہاررائے کے نام پرمسلمانوں کے جذبات کومجروح نہیں کیا جاسکتا، وزیراعظم

مکہ المکرمہ: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اسلام کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں جب کہ مسلم دنیا کے خلاف ظلم وبربریت کا سلسلہ بند کیا جائے۔

 اسلام کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں

اوآئی سی کے 14 ویں سربراہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے خطاب میں کہا کہ کوئی مذہب معصوم انسانوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتا، دہشتگردی کواسلام سے الگ سمجھنا ہوگا، اسلام کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں، مسلم دنیا کے خلاف ظلم وبربریت کا سلسلہ بند کیا جائے، نیوزی لینڈ کے واقعے نے ثابت کردیا کہ دہشتگردی کا کوئی مذہب نہیں، مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد پردہشتگردی کا لیبل درست نہیں، مغربی دنیا مسلمانوں کے جذبات کا احساس کرے جب کہ دنیا کواسلامو فوبیا سے نکلنا ہوگا۔

مسلم دنیا کی قیادت مغربی دنیا کو قائل کرے

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ کوئی مسلمان دہشتگردی کرے تواسلامی دہشتگردی قراردے دیا جاتا ہے، آزادی اظہاررائے کے نام پرمسلمانوں کے جذبات کو مجروح نہیں کیا جاسکتا، مسلم دنیا کی قیادت مغربی دنیا کو قائل کرے، مغرب کوبتایا جائے کہ پیغمبراسلام کی توہین پرہمیں کتنا دکھ ہوتا ہے۔

بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت ہونا چاہیے

وزیراعظم نے کہا کہ نائن الیون کے بعد کشمیریوں اورفلسطینیوں پرمظالم ڈھائے گئے، نائن الیون سے پہلے زیادہ ترخودکش حملے تامل ٹائیگرزکرتے تھے، تامل ٹائیگرزکے حملوں کا تعلق کسی نے مذہب سے نہیں جوڑا، اسرائیل نے دہشتگردی کومعصوم فلسطینیوں کے خلاف استعمال کیا، جولان کی پہاڑیاں فلسطین کا حصہ رہنی چاہئیں، بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت ہونا چاہیے، مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد کو دہشتگردی سے جوڑنا درست نہیں۔

 کشمیریوں کوحق خودارادیت ملنا چاہیے

عمران خان نے کہا کہ کشمیری عوام آزادی کیلیے سیاسی جدوجہد کررہے ہیں، مسئلہ کشمیرکا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نا گزیرہے، کشمیریوں کوحق خودارادیت ملنا چاہیے، ہمیں معیاری تعلیم پرخصوصی توجہ دینا ہوگی، اسلامی دنیا کوسائنس وٹیکنالوجی پرتوجہ دینا ہوگی جب کہ اوآئی سی کے پلیٹ فارم سے سائنس وٹیکنالوجی کیلیے کام کرنا ہوگا۔

The post آزادی اظہاررائے کے نام پرمسلمانوں کے جذبات کومجروح نہیں کیا جاسکتا، وزیراعظم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2WAxLNM

وزیرستان واقعے پر قومی اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی

 اسلام آباد: شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں خار قمر چیک پوسٹ پر جھڑپ اور 13 افراد کی ہلاکت کے واقعے پر قومی اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔

حکومتی ارکان نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) اور اس کے ارکان اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی اسمبلی رکنیت منسوخ کرنے جبکہ پی ٹی ایم کے حامیوں کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا۔ اس پر حزب اختلاف نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نشستوں سے کھڑے ہو کر احتجاج کیا اور اپوزیشن ارکان نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کرلیا۔

تحریک انصاف کے رکن اسمبلی علی محمد خان کی تقریر پر ایوان میں ہنگامہ آرائی شروع ہوئی جبکہ بلاول بھٹو زرداری بھی نشست پر کھڑے ہو گئے اور احتجاج میں حصہ لیا۔

خرم دستگیر نے ایس پی طاہر داوڑ کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایس پی طاہر داوڑ کے قتل کے حوالے سے حقائق نہیں بتائے گئے، حکومت بتائے کہ ایک ایس پی کو دو صوبوں سے گزار کرکیسے افغانستان لے جایا گیا، طاہر داوڑ ایک بہادر افسر تھا، حکومت انکے قتل پرخاموش کیوں ہے؟۔

شہریار آفریدی نے جواب دیا کہ پچھلے ادوار میں پختون قوم کو 1979 سے پہلے والی شناخت بتانا ضروری قرار دیا گیا، ہم نے وہ مسائل حل کیے جو سابق حکومتوں میں پختونوں سے روا رکھے گئے، طاہر داوڑ کی لاش این ڈی ایس نے حکومت کی بجائے منظور پشتین کو دی،قومیت کے نام پر یہاں کسی کو دکانداری چمکانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، طاہر داوڑ کے قتل کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرائیں،آگاہ کیا جائے گا۔

وزیر مملکت علی محمد خان نے اس معاملے پر جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بیٹے کی لاش افغانستان کے پٹھو کے حوالے کی گئی، اس ایوان کے ارکان اسمبلی ریاست پاکستان کو للکارتے ہیں، جن کی وجہ سے فساد پھیلا انہیں ایوان میں رہنے کا کوئی حق نہیں، ان کی رکنیت منسوخ کی جائے، ان کی وجہ سے بے گناہ شہریوں کی لاشیں گریں، ان کے جلسوں میں پاکستانی پرچم کو نہیں جانے دیا جاتا، ایسے لوگوں کو پاکستان میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔

The post وزیرستان واقعے پر قومی اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://bit.ly/2WCHoLK

وزیرستان واقعے پر قومی اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی

 اسلام آباد: شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں خار قمر چیک پوسٹ پر جھڑپ اور 13 افراد کی ہلاکت کے واقعے پر قومی اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔

حکومتی ارکان نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) اور اس کے ارکان اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی اسمبلی رکنیت منسوخ کرنے جبکہ پی ٹی ایم کے حامیوں کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا۔ اس پر حزب اختلاف نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نشستوں سے کھڑے ہو کر احتجاج کیا اور اپوزیشن ارکان نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کرلیا۔

تحریک انصاف کے رکن اسمبلی علی محمد خان کی تقریر پر ایوان میں ہنگامہ آرائی شروع ہوئی جبکہ بلاول بھٹو زرداری بھی نشست پر کھڑے ہو گئے اور احتجاج میں حصہ لیا۔

خرم دستگیر نے ایس پی طاہر داوڑ کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایس پی طاہر داوڑ کے قتل کے حوالے سے حقائق نہیں بتائے گئے، حکومت بتائے کہ ایک ایس پی کو دو صوبوں سے گزار کرکیسے افغانستان لے جایا گیا، طاہر داوڑ ایک بہادر افسر تھا، حکومت انکے قتل پرخاموش کیوں ہے؟۔

شہریار آفریدی نے جواب دیا کہ پچھلے ادوار میں پختون قوم کو 1979 سے پہلے والی شناخت بتانا ضروری قرار دیا گیا، ہم نے وہ مسائل حل کیے جو سابق حکومتوں میں پختونوں سے روا رکھے گئے، طاہر داوڑ کی لاش این ڈی ایس نے حکومت کی بجائے منظور پشتین کو دی،قومیت کے نام پر یہاں کسی کو دکانداری چمکانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، طاہر داوڑ کے قتل کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرائیں،آگاہ کیا جائے گا۔

وزیر مملکت علی محمد خان نے اس معاملے پر جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بیٹے کی لاش افغانستان کے پٹھو کے حوالے کی گئی، اس ایوان کے ارکان اسمبلی ریاست پاکستان کو للکارتے ہیں، جن کی وجہ سے فساد پھیلا انہیں ایوان میں رہنے کا کوئی حق نہیں، ان کی رکنیت منسوخ کی جائے، ان کی وجہ سے بے گناہ شہریوں کی لاشیں گریں، ان کے جلسوں میں پاکستانی پرچم کو نہیں جانے دیا جاتا، ایسے لوگوں کو پاکستان میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔

The post وزیرستان واقعے پر قومی اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2WCHoLK

اسلام آباد میں جرائم کی شرح میں کمی

 اسلام آباد: حکومت نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں جرائم کی شرح میں کمی ہوگئی۔

وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے اسلام آباد میں ایک سال کے جرائم کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ چھ ماہ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں جرائم میں 35.16 فیصد کمی آئی، گزشتہ سال جرائم کے کیسز 1453 تھے جو رواں سال 938 رہ گئے۔

اعجاز شاہ نے کہا کہ دارالحکومت میں ناکے، سرچ آپریشن، اچانک چیکنگ اور سیف سٹی کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کی جاتی ہے، گزشتہ برس قتل کے مقدمات 56 تھے جبکہ رواں برس ان کی تعداد 53 ہے، زناء اور اغواء کے واقعات 198 سے کم ہوکر 145 رہ گئے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ڈکیتی اور چوری کے واقعات بھی 323 سے کم ہوکر 183 ہوگئے، گاڑی چوری کے واقعات 142 سے کم ہوکر 104 تک رہ گئے، موٹر سائیکل چوری کی وارداتیں 279 سے کم ہوکر 144 ہوگئیں۔

The post اسلام آباد میں جرائم کی شرح میں کمی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://bit.ly/2WfuCUc

اسلام آباد میں جرائم کی شرح میں کمی

 اسلام آباد: حکومت نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں جرائم کی شرح میں کمی ہوگئی۔

وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے اسلام آباد میں ایک سال کے جرائم کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ چھ ماہ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں جرائم میں 35.16 فیصد کمی آئی، گزشتہ سال جرائم کے کیسز 1453 تھے جو رواں سال 938 رہ گئے۔

اعجاز شاہ نے کہا کہ دارالحکومت میں ناکے، سرچ آپریشن، اچانک چیکنگ اور سیف سٹی کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کی جاتی ہے، گزشتہ برس قتل کے مقدمات 56 تھے جبکہ رواں برس ان کی تعداد 53 ہے، زناء اور اغواء کے واقعات 198 سے کم ہوکر 145 رہ گئے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ڈکیتی اور چوری کے واقعات بھی 323 سے کم ہوکر 183 ہوگئے، گاڑی چوری کے واقعات 142 سے کم ہوکر 104 تک رہ گئے، موٹر سائیکل چوری کی وارداتیں 279 سے کم ہوکر 144 ہوگئیں۔

The post اسلام آباد میں جرائم کی شرح میں کمی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2WfuCUc

کرکٹ ٹیم کو سپورٹ کرنے کے لیے دیگر کھلاڑی بھی میدان میں آگئے

 لاہور: مختلف کھیلوں سے وابستہ قومی کھلاڑی پاکستان کرکٹ ٹیم کو سپورٹ کرنے کے لیے میدان میں آگئے ہیں۔

مختلف کھیلوں سے وابستہ قومی کھلاڑی پاکستان کرکٹ ٹیم کو سپورٹ کرنے کے لیے میدان میں آگئے، کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ ٹیم یک جان ہوکر کھیلی تو گرین شرٹس انگلینڈ میں پاکستان کا نام روشن کرنے میں ضرور کامیاب ہوگی۔

1994 ہاکی ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کے کھلاڑی محمد آصف باجوہ کا کہنا تھا کہ میرا ساری زندگی ہاکی کے میدانوں میں کھیلتے ہوئے گزری ہے لیکن قومی کھیل کے ساتھ ہمارے دل کرکٹ کے لیے بھی دھڑکتے ہیں، قومی ٹیم بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اور یہ یکجان ہو کر کھیلی تو ورلڈ کپ میں فتح یقینی ہے۔

سابق ہاکی کپتان محمد ثقلین نے کہا کہ ہم پاکستان کرکٹ ٹیم کے فتح کے لیے دعاگو ہیں اور امید کرتے ہیں کہ نہ صرف پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف کامیابی حاصل کرے گی بلکہ ورلڈ کپ میں شریک دوسری ٹیموں کو بھی ہرا کر عالمی چیمپئن بننے میں کامیاب کرے گی۔

سابق رستم پاکستان بشیر بھولا بھالا کا کہنا ہے کہ ہمیں ٹیم کو بھرپور سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے، میری نیک خواہشات گرین شرٹس کے ساتھ ہیں، ورلڈ بیچ ریسلنگ چیمپئن شپ کے فاتح محمد انعام بٹ نے کہا کہ پاکستانی ٹیم بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل ہے، امید کرتا ہوں کہ یہ ٹیم چیمپئنز ٹرافی کی طرح ورلڈ کپ میں بھی پاکستان کا نام روشن کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

قومی سوئمر کرن خان نے کہا کہ ہم جذباتی قوم ہیں، ایک میچ سے ہی ٹورنامنٹ کا نتیجہ اخذ کر لیتے ہیں، ہمیں نہ صرف ویسٹ انڈیز بلکہ ورلڈ کپ کے سارے میچوں میں ٹیم کو بھرپور سپورٹ کرنا چاہیے۔

The post کرکٹ ٹیم کو سپورٹ کرنے کے لیے دیگر کھلاڑی بھی میدان میں آگئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2YWYbXp

ن لیگ کا ججز کے خلاف ریفرنسز پر پارلیمنٹ میں احتجاج کا فیصلہ

 اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) نے ججز کے خلاف حوکمتی ریفرنسز پر پارلیمنٹ میں احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف کے چیمبر میں شاہد خاقان عباسی اور راجہ ظفر الحق کی زیر صدارت پاکستان مسلم لیگ ن کے مشترکہ پارلیمانی ایڈوائزری گروپ کا اجلاس ہوا۔  ایاز صادق، رانا تنویر، مریم اورنگزیب، مشاہد اللہ خان، راناثناءاللہ اور دیگر رہنماؤں نے اجلاس میں شرکت کی۔

شرکا نے عدلیہ پر حکومت کی جانب سے جج صاحبان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے معاملے پر تفصیلی غور کیا۔  ن لیگ نے ججز کے خلاف ریفرنسز پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے اندر احتجاج کا فیصلہ کیا۔

ایاز صادق نے کہا کہ ن لیگ نے اصولی موقف اپنانے کا فیصلہ کیا ہے، ریفرنسز کے خلاف احتجاج کا ہر آپشن استعمال کریں گے،  ریفرنس عدلیہ پر قدغن لگانے کے مترادف ہے اور عدلیہ پر کسی کو حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

The post ن لیگ کا ججز کے خلاف ریفرنسز پر پارلیمنٹ میں احتجاج کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2IeGAUq

ویسٹ انڈیز کے خلاف فتح کے حصول میں اسپنرز کا کردار اہم ہوگا، مصباح الحق

 لاہور: سابق قومی کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف فتح کے حصول میں 2 اسپنرز کا کردار اہم ہوگا۔

سابق قومی کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف فتح کے حصول میں 2 اسپنرز کا کردار اہم ہوگا، عماد وسیم اور شاداب خان گرین شرٹس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، مصباح الحق کے مطابق ویسٹ انڈیز بیٹسمین اسپنرز کو زیادہ بہتر انداز میں نہیں کھیل پاتے جس کا فائدہ پاکستانی ٹیم کو اٹھانا چاہیے۔

مصباح الحق نے کہا کہ عماد وسیم کی ویسٹ انڈیز کے خلاف کامیابیوں کا گراف بہت زیادہ ہے جب کہ شاداب خان بھی بھرپور فارم میں ہیں، پاکستان کا ویسٹ انڈیز کے خلاف ماضی کا ریکارڈ بھی بہت اچھا ہے، ان دونوں چیزوں کا فائدہ پاکستان ٹیم کو اٹھانا چاہیے۔

سابق قومی کپتان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم کی موجودہ صورتحال زیادہ تسلی بخش نہیں ہے جب آپ جیت نہیں رہے ہوتے ہیں تو مورال بھی ڈاؤن ہوتا ہے، اس بات کا فائدہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم اٹھانے کی کوشش کری گی لیکن ورلڈ کپ کے اپنے ابتدائی میچز میں زیادہ اہم یہ ہے کہ کون سی ٹیم کس حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترتی ہے اور میچ کے دوران ملنے والے مواقعوں  سے کتنا فائدہ اٹھاتی ہے۔

The post ویسٹ انڈیز کے خلاف فتح کے حصول میں اسپنرز کا کردار اہم ہوگا، مصباح الحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2Kc2DNW

مہوش حیات کا اداکاری کے بعد ہدایت کاری کے میدان میں قدم رکھنے کا فیصلہ

کراچی: پاکستانی سپراسٹار مہوش حیات نے اداکاری کے بعد ہدایت کاری کے میدان میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

پاکستان شوبزانڈسٹری کو’’جوانی پھرنہیں آنی‘‘،’’پنجاب نہیں جاؤں گی‘‘اور’’لوڈ ویڈنگ‘‘جیسی کامیاب فلمیں دینے والی سپراسٹارمہوش حیات نے اپنی صلاحیتوں کومزید آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور کامیاب اداکاری کے بعد وہ اب ہدایت کاری کے میدان میں قسمت آزمانا چاہتی ہیں۔

اس بات کا اظہار انہوں نے حال ہی میں دئیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ مہوش حیات کا کہنا تھا کہ میں نے جو کچھ بھی سیکھا اب میں اس کا تجربہ کرنا چاہتی ہوں، میں اس طرح کی انسان ہوں جو کبھی کسی پر کسی بھی چیز کے لیے انحصار نہیں کرتی لیکن اداکاری ایک ایسا شعبہ ہے جہاں فنکار کو ہدایت کار پر انحصار کرنا پڑتا ہے لہٰذا اب میں ڈائریکٹر کی کرسی پر بیٹھنا چاہتی ہوں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں: مہوش حیات نے نریندر مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا

مہوش حیات نے مزید کہا کہ میں کبھی کسی چیزسے مطمئن نہیں ہوتی اورنہ ہی خوش ہوتی ہوں مجھے نہیں معلوم میں ایسی کیوں ہوں، میں ہمیشہ اپنی بہترین تنقید نگاررہی ہوں، میں اپنا کام بہت دھیان سے دیکھتی ہوں اوراپنے کام پرتنقید بھی کرتی ہوں۔ شاید میری یہی بے چینی میرے کام کرنے کی اشتہا کومزید بڑھاتی ہے اورمجھے اپنے کام کو مزید محنت سے کرنے کی لگن دیتی ہے۔

واضح رہے کہ مہوش حیات کی فلم ’’چھلاوا‘‘ عید الفطرپرسینما کی زینت بنے گی۔ گزشتہ چند برسوں میں شائقین کو بہترین فلمیں دینے کے باعث اس بار بھی لوگوں نے مہوش کی نئی فلم سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کرلی ہیں۔

The post مہوش حیات کا اداکاری کے بعد ہدایت کاری کے میدان میں قدم رکھنے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2HM8Mic

چیئرمین ایف بی آر نے موجودہ ٹیکس نظام کو ملکی معیشت کیلیے سنگین خطرہ قرار دیدیا 

 اسلام آباد: چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو شبر زیدی نے ٹیکس نظام کو ناقابل عمل قراردیتے ہوئے موجودہ ٹیکس نظام کو ملکی معیشت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیدیا۔      

چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے وزیراعظم عمران خان کو ملکی معیشت کو درپیش خطرے سے تحریری طور پر آگاہ کرتے ہوئے 2 صفحات پر مشتمل خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ موجودہ نظام آنے والی نسلوں کے لیے پائیدار نہیں ہے، ٹیکس وصولی کا نظام جی ڈی پی کے 10 فیصد سے بھی کم ٹیکس اکٹھا کررہاہے، حقیقی آمدنی کے بجائے ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کے ذریعے ٹیکس اکٹھا کیا جارہا ہے جب کہ ملک میں بڑے پیمانے پرغیر ٹیکس شُدہ دولت جمع ہوچکی ہے۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ کاروباری لوگوں اور اداروں کی بڑی تعداد ٹیکسیشن سسٹم میں شامل ہونے سے گریزاں ہے، ملک کے 22 کروڑ لوگوں میں سے 20 لاکھ سے بھی کم لوگ ٹیکس گوشوارے جمع کرواتے ہیں، آبادی میں سے صرف ایک فیصد لوگ پوری ریاست کا بوجھ اٹھارہے ہیں، ملک میں صنعتی کنکشن رکھنے والوں کی تعداد 3 لاکھ 41 ہزارہے، ان میں سے صرف 40 ہزار افراد سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہیں، رجسٹرڈ ایک لاکھ کمپنیوں میں سے صرف 50 فیصد انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرواتی ہیں۔

چیئرمین ایف بی آر کی جانب سے وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ بجلی کے کمرشل کنکشن رکھنے والے 31 لاکھ تاجروں میں سے 90 فیصد ٹیکس سسٹم سے باہر ہیں، 85 فیصد سے زائد ٹیکس ملک کی 300 کمپنیاں ادا کرتی ہیں، 75 فیصد سے زائد ٹیکس مینوفیکچرنگ سیکٹر سے اکٹھا کیا جارہا ہے جب کہ ملک کا مینوفیکچرنگ سیکٹر اور صنعتی شعبہ بُری طرح متاثر ہورہا ہے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ روز وزیراعظم نے اپنے پیغام میں انہی معلومات کو بنیاد بنایا جو چئیرمین ایف بی آرنے فراہم کی تھیں، وزیراعظم نے قوم کے نام اپنے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ کوئی بھی ملک اپنےعوام کی خدمت نہیں کر سکتا جب تک وہاں کے لوگ ٹیکس نہ دیں، 22  کروڑ پاکستانیوں میں سے صرف ایک فیصد پاکستانی ٹیکس فائلر ہیں، یعنی ایک فیصد پاکستانی 22 کروڑ عوام کا بوجھ اٹھا رہے ہیں جو ناممکن ہے۔

The post چیئرمین ایف بی آر نے موجودہ ٹیکس نظام کو ملکی معیشت کیلیے سنگین خطرہ قرار دیدیا  appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2Ww41Sd

پھول، تتلیاں اور لائبریری

کتابیں، پھول، خوشبو اور محبت ساتھ رکھتا ہوں
جہاں جاؤں میں اپنی ہر ضرورت ساتھ رکھتا ہوں

پھولوں اور تتلیوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے، مگر کہتے ہیں کہ استاد پھولوں کی طرح اور بچے تتلیوں کی مانند ہوتے ہیں اور جب انہیں نشانہ بنایا جانے لگے تو سمجھ جائیں کہ اب تتلیوں سے کسی کو پیار نہیں رہا۔ پاکستان میں ہر روز 9 بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں اور ان میں سے زیادہ کو قتل کردیا جاتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ جب آپ کو باغ تباہ کرنا ہو تو اس میں گندگی کے ڈھیر لگا دیجیے۔ گندگی پھیلے گی تو پھول غائب ہوجائیں گے اور جب پھول نہیں کھلیں گے تو تتلیاں تو دور، وہاں انسان بھی آنا چھوڑ دیں گے۔ اسی طرح جب کسی معاشرے کو تباہ کرنا ہو تو سب سے پہلے اس سے استاد چھین لو، معاشرہ خودبخود ختم ہوجائے گا۔

پاکستانی معاشرے میں دہشت گردی کے عفریت کا پہلا نشانہ معصوم لوگ تھے، ان کے دل کی پیاس نہ بجھی تو انہوں نے اسکولوں کو تباہ کرنا شروع کردیا۔ تعلیم کے یہ دریچے بند ہونا شروع ہوئے تو اس روشنی سے ہماری نئی نسل محروم ہوگئی۔ ہمارے معاشرے میں تباہی کا پہلا پتھر پھینک دیا گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ جب دریچے بند ہوجائیں تو اندھیرے کسی ڈراؤنے خواب کی طرح آسیب بن کر خیالات پر چھا جاتے ہیں۔ اندھیرا، وحشت اور بربریت کے ایسے دریچوں کا کھولتا ہے جن کا پہلا قدم تو ہوتا ہے مگر آخری نہیں؛ اور یوں معاشرے میں آگے بڑھنے کی جستجو ماند پڑنے لگتی ہے، معاشرہ خود کو ختم کرنے کے درپے ہوجاتا ہے یا ردعمل میں دوسروں کی جانیں لینا شروع کردیتا ہے۔ یوں معاشرے کی بنیادی اکائی میں رہنے والے لوگوں کے پاس واحد حل نقل مکانی رہ جاتی ہے۔ لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر ویران راہوں کے راہی ہوجاتے ہیں اور اپنی جنت خود بنانے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ آپ نے دیکھا پھر سوات میں یہی ہوا، قبائلی علاقے کے وہ لوگ جو بربریت کی راہوں پر چلے، انہوں نے سوات جیسی پرامن وادی کا دامن خون سے بھر دیا، قہقہے سسکیوں اور خوشیاں آہوں میں بدل گئیں۔

آپ کو معلوم ہے کہ وہ قبائلی علاقے جہاں فوج اور پولیس کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی، جہاں لوگ ہتھیاروں کو زیور سمجھتے تھے اور اس سے زندگیوں کو اندھیر نہیں کرتے تھے بلکہ ایک عورت کی مالا کی طرح روایتاً کندھے پر سجاتے تھے۔ مگر پھر کیا ہوا، انہی پرامن لوگوں نے اس زیور کے زور پر معصوم ہاتھوں سے قلم چھین کر بم پکڑا دیئے، معلم کے بجائے خود کش بمبار استاد، اسکولوں کے بجائے جہادی ٹریننگ کیمپ اور لائبریریوں کی جگہ جہادی ریڈیو اسٹیشنز بنا لیے اور یوں چہار سو بربریت کے ایسے ہولناک واقعات دیکھنے میں آئے کہ آہوں اور سسکیوں کی آوازیں گلے میں پھنس کر رہ گئیں۔ نہ کوئی امید دلانے والا تھا اور نہ کوئی راہ دکھانے والا۔ دنیا پر رحمت اللعالمین بنا کر بھیجے جانے والے نبیﷺ کی امت کے رکھوالے خون کے پیاسے ہوئے تو سب کچھ بھلا دیا۔

وہ یہ بھی بھول گئے کہ فتح مکہ کے دن جب سب لوگوں کو بارگاہ نبویﷺ میں پیش کیا گیا تو چھوٹے موٹے جرائم والوں کو معاف کردیا گیا۔ آزادی کے ساتھ ساتھ زیادہ تر کو اسلام کی نعمت ملی تو پڑھے لکھوں کو حکم دیا گیا کہ ہمارے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرو، یہی تمہارا خراج ہے اور یہی تمہاری سزا۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ قیدیوں سے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونے والوں نے بغداد میں سب سے بڑی لائبریری بنائی، دنیا کی تمام کتابوں کا عربی زبان میں ترجمہ کیا۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جن علوم کو آج جدید سائنس کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، ان کے بنیادی اصول مسلمانوں نے وضع کیے جو آج کولمبیا، آکسفورڈ، کیمبرج، ایم آئی ٹی اور دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں پڑھائے جاتے ہیں۔

انگریزوں نے انہی ترجموں سے اس ترقی کی بنیاد رکھی جو آج ہم دیکھ رہے ہیں، تحقیق کو اپنا اوڑنا بچھونا بنایا جس کے بعد جدید علوم ان کی باندیاں ہیں۔ مگر اس کےلیے کتابوں کے ذخیرے یعنی لائبریریوں کی بنیاد بھی مسلمانوں نے رکھی۔ بڑی بڑی لائبریریاں بنائیں اور اس کے بعد سائنس اور اسلام کا چولی دامن کا وہ ساتھ شروع ہوا جو 500 سالہ حکومت میں نت نئی ایجادات اور تحقیقات کا موجب بنا۔ لیکن چولی دامن کے اسی ساتھ کو فراق میں بدلنے میں غیروں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں نے بھی اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔

اندلس کے شہر قرطبہ میں مدینۃ الزہرہ میں دوسرے خلیفہ الحکم ثانی ابن عبدالرحمان کی ذاتی لائبریری میں کم و بیش 6 لاکھ کتابیں تھیں، اس لائبریری کی فہرست یا کیٹلاگ 44 جلدوں پر مشتمل تھی۔ مگراس عظیم خزانے کو 976 عیسوی میں المنصور ابن ابی عامر نے جلا ڈالا۔ 1029 عیسوی میں سلطان محمود غزنوی نے ’’رے‘‘ کی لائبریری یہ کہہ کر نذرِ آتش کردی کہ یہاں متضاد شر انگیز کتابیں ہیں۔ نیشا پور کی لائبریری کو ترکوں نے 1154 میں، نالندہ یونیورسٹی لائبریری کو بختیار خلجی نے 1193 میں جلا کر اپنے سینوں کی آگ ٹھنڈی کی۔

جب دوسری قوموں نے یہ دیکھا تو انہوں نے بھی وہی ترکیب استعمال کی اور قسطنطنیہ کی امپیریل لائبریری کو صلیبیوں نے 1204 میں جلا کر راکھ کر دیا۔ بغداد کی سب سے بڑی لائبریری دارالحکمۃ (ہاؤس آف وزڈم) کو ہلاکو خان کی فوج نے جلادیا۔ جب اس نے دیکھا کہ یہ کتابیں بہت بڑی تعداد میں ہیں تو اس نے 80 فیصد سے زائد کتابوں کو دریائے دجلہ میں بہادیا۔ تاریخی حوالہ جات سے پتا چلتا ہے کہ ان کتابوں کی سیاہی سے دجلہ کا پانی تین دن تک سیاہ رہا تھا۔

1492 میں اسپین میں ازابیلا اور فریڈرک کی سربراہی میں جب مسلمانوں کا قتل عام ہوا تو سات سال بعد مسلمانوں کی نشانیوں کو ختم کرنے کا اختتام غرناطہ کی سب سے بڑی لائبریری کو جلا کر مسلمانوں کے تعلیمی زوال پر آخری ضرب لگائی جس کی ابتدا المنصور نے دسویں صدی عیسوی میں کی تھی۔ اس کے بعد سے آج تک مسلمان تعلیم کی دوڑ میں سب سے پیچھے ہیں۔ نہ کوئی خوارزمی پیدا ہوا اور نہ ہی کوئی ابن سینا۔ یہ ہے ہماری وہ تلخ اور بھیانک تاریخ جس کا یہ نتیجہ ہے کہ آج اسلامی معاشرے میں الخوارزمی کے بجائے شدت پسند جنم لے رہے ہیں، ابن سینا جیسے محقیقین کے بجائے غلام ابن غلام پیدا ہو رہے ہیں، اور انسانیت سے محبت کرنے والوں کے بجائے انتہا پسند۔ ہمیں اپنے معاشرے میں لائبریریاں بنانی ہوں گی، لوگوں میں پڑھنے کا شوق پیدا کرنا ہوگا۔ تاریخ کا یہ سبق ہے کہ جب تک کتابیں محفوظ نہیں ہوں گی، تب تک علم کی روشنی نہیں پھیلے گی؛ اور جب علم کی روشنی نہیں پھیلے گی تو ہر سو جہالت اور ظلمت کا دور دورہ ہوگا، تکفیر کے فتوے ہوں گے یا اپنی اپنی شریعت کے نعرے۔

رہا اساتذہ کا مقام، تو حضرت علیؓ نے فرمایا تھا کہ جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا، اس نے مجھے اپنا غلام بنالیا۔ مگر یہاں استاد کی حیثیت ایک نوکر، ایک چاکر سے زیادہ نہیں؛ چاہے وہ اسکول ٹیچر ہو یا پھر مدرسے کا معلم۔ یہ آج اسلامی معاشرے کا سب سے پسا ہوا طبقہ ہے اور اوپر سے غیر محفوظ بھی۔ یقین کیجیے کہ جب تک کتابیں، لائبریریاں، اسکول اور یونیورسٹیاں محفوظ نہیں ہوں گی، اس وقت تک یہ قوم ترقی کے میدان میں بھی آگے نہیں بڑھ سکتی۔

مجھے خدشہ ہے کہ کہیں ہم اور ہماری قوم بھی کتابوں کی اس راکھ میں غرق نہ ہوجائیں کیونکہ ہمیں نہ ہی تتلیوں سے پیار ہے اور نہ پھولوں سے؛ اور لائبریریوں کا حال یہ ہے کہ آخری بار لائبریری کب گئے، یاد نہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

The post پھول، تتلیاں اور لائبریری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2EK6b6C

مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے مزید ایک کشمیری شہید

 سری نگر: ضلع شوپیاں میں قابض بھارتی فوج نے فائرنگ کرکے مزید ایک کشمیری کو شہید کردیا۔

مقبوضہ وادی میں قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جمعتہ الوداع کے روز بھی نہ رک سکا، مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں میں قابض بھارتی فوج نے فائرنگ کرکے مزید ایک کشمیری کو شہید کردیا جس کے بعد گزشتہ ہفتے سے لیکر اب تک شہید کشمیریوں کی تعداد 5 ہوگئی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں حریت پسند ذاکر موسیٰ کی شہادت کے چوتھے روز مزید 3 کشمیری نوجوانوں کو نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران گولیاں مار کر شہید کیا گیا جب کہ 2 روز قبل ضلع کلگام میں قابض بھارتی فورسز نے نوجوان کو آپریشن کی آڑمیں فائرنگ کرکے شہید کیا۔

The post مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے مزید ایک کشمیری شہید appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2IdyETh

انٹر سٹی بس ٹرانسپورٹرز کی شہریوں سے ’’لوٹ مار‘‘

کراچی: رمضان کے آخری عشرے میں انٹرسٹی بس ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں غیر معمولی اضافہ کردیا۔

کراچی سے اندرون ملک آبائی علاقوں میں عید الفطر منانے کے لیے جانے والے مسافر ٹرانسپورٹرز کے من مانے کرایے ادا کرنے پر مجبور ہیں،حکومت ہرسال کی طرح اس بار بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

ملک کے دیگر حصوں سے کراچی میںروزگارکیلیے آنے والے محنت کش اور سرکاری و نجی اداروں کے ملازمین عید منانے کیلیے اپنے آبائی علاقوں میں جارہے ہیں،ان مسافروں کی روانگی کا آغاز ماہ رمضان کے آغاز سے ہی شروع ہوجاتا ہے تاہم رمضان کے آخری عشرے میں انٹرسٹی بس اڈوں میں بے پناہ رش دیکھنے میں آرہا ہے۔

کراچی سے اندرون سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور آزاد کشمیر جانے والے روٹس پر مسافروں کی گہماگہمی دیکھنے میں آرہی ہے ، بیشتر بسوں میں نشستوں سے زائد مسافر بھیڑ بکریوںکی طرح ٹھونسے جارہے ہیں ، مسافرانتہائی تکلیف دہ حالات میں سفر کرنے پر مجبور ہیں،بیشتر انٹرسٹی ٹرانسپورٹرز کراچی تا اسلام آباد و راولپنڈی فی مسافر3 ہزار300روپے وصول کیا جارہا ہے۔

درمیانی فاصلوں کے علاقوں تلہ کنگ اور چکوال کے لیے بھی 3 ہزار300 روپے کرایہ چارج کیا جارہا ہے،رمضان سے قبل ان علاقوں کا کرایہ800 روپے کم وصول کیا جارہا تھا، کراچی سے مظفرآباد تک کا کرایہ بھی زائد چارج کرتے ہوئے 3,000روپے وصول کیا جارہا ہے جبکہ ایبٹ آباد کے لیے 2800 روپے لیا جارہا ہے،کراچی تا سکھر ، لاڑکانہِ خیر پور یکساں 800 روپے کرایہ چارج کیا جارہا ہے۔

رمضان کے آخری عشرے میں پشاورسوات، بونیر وباجوڑ کا کرایہ بھی 700روپے بڑھادیا گیا ہے، اسوقت پشاور، سوات وباجوڑ کا کرایہ 3000روپے جبکہ بعض ٹرانسپورٹرز پشاور اور سوات کا کرایہ3200روپے تک وصول کررہے ہیں، کوئٹہ و یشین کے کرایوں میں بھی ایک ہزار روپے اضافہ کردیا گیا ہے،اس وقت کوئٹہ کا کرایہ 2500روپے اور پشین کا کرایہ 2000 روپے وصول کیا جارہا ہے،گلگت اور بلتستان کے کرایوں میں بھی ایک ہزار روپے کا اضافہ کرتے ہوئے 5ہزار روپے فی مسافر کرایہ وصول کیا جارہا ہے۔

ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ کراچی سے دوسرے شہروں تک جانے کیلیے مسافر بکنگ کرارہے ہیں جبکہ واپسی میں گاڑیاں تقریباً خالی آتی ہیں اس لیے مجبوراً کرایہ بڑھایا ہے۔

گل کشمیر ٹرانسپورٹ کمپنی کے نمائندے نوید مغل کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے اور اسپیئر پارٹس مہنگے ہونے کی وجہ سے کرایہ بڑھانے پر مجبور ہیں ، ان کا دعوی ہے کہ ابھی بھی حکومت کے منظور کردہ ریٹس سے کم کرایہ وصول کررہے ہیں، حکومت کے ریٹ 3 روپے فی کلومیٹر ہے۔

نوید مغل نے کہا کہ کشمیر مظفرآباد تک فاصلہ 1900 کلومیٹر ہے جس کے لیے 1150 لیٹر ڈیزل خرچ ہوتا ہے اور مجموعی اخراجات ایک لاکھ 45ہزار فی ٹرپ لگتا ہے،ٹرانسپورٹ کمپنی پاکستان ایکسپریس کے نمائندے محمد آصف کا کہنا ہے کراچی تا اسلام آباد سروس اسپیشل ہے جس میں ایک وقت کا کھانا اور کولڈڈرنک مسافروں کو فراہمی کی جاتی ہے۔

بعض مسافروں نے ایکسپریس کوبتایا کہ ہر سال عید کے موقع پر کرایہ بڑھادیا جاتا ہے، عام دنوں میں اسلام آباد اور لاہور کا کرایہ 2500روپے لیا جاتا ہے جبکہ درمیان میں آنے والے علاقوں چکوال اور تلہ کنگ کا کرایہ1800 تک لیا جاتا ہے،عید کے موقع پر یکساں کرایہ وصول کیا جارہا ہے جو ناانصافی ہے۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی سندھ حکومت کی جانب سے نمائشی اقدامات کیے جارہے ہیں ، صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ کی ہدایت پر ٹول پلازہ پر چند ٹرانسپورٹرز کے خلاف کارروائی ضرور کی گئی ہے تاہم شہر میں قائم انٹرسٹی ٹرانسپورٹرز کے بکنگ آفس پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے اور وہاں ٹرانسپورٹرز بدستور زائد کرایہ وصول کررہے ہیں۔

نمائندہ ایکسپریس نے سیکریٹری ٹرانسپورٹ غلام عباس،ڈپٹی سیکریٹری ٹرانسپورٹ اور سیکریٹری پرونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی سے موقف لینے کے لیے رابطے کی کوشش کی تاہم تینوں افسران آفسز میں موجود نہیں تھے،کمشنر کراچی افتخار شلوانی سے بھی فون پر رابطے کی کوشش کی گئی تاہم انھوں نے فون ریسیو نہیں کیا۔

The post انٹر سٹی بس ٹرانسپورٹرز کی شہریوں سے ’’لوٹ مار‘‘ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2I8jZsp

کراچی میں اناڑی سیکیورٹی گارڈ شہری کو لے ڈوبا

کراچی: بہادر آباد میں اناڑی سیکیورٹی گارڈ شہری کولے ڈوبا جب کہ شہری سے لوٹ مار ہوتے دیکھ کر سیکیورٹی گارڈ گھربنگلے کا دروازہ بند کرکے اندر بھاگ گیا۔

شہرقائد میں اناڑی سیکیورٹی گارڈزکے کارناموں کا سلسلہ جاری ہے بہادر آباد میں اناڑی سیکیورٹی گارڈ شہری کولے ڈوبا واقعے کی سی سی ٹی وی منظرعام پر آگئی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شہری گاڑی سے اتربنگلے کی جانب جا رہا ہے اسی دوران 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 مسلح ڈکیت شہری کی جانب آتے ہیں تو شہری بھاگ کر بنگلے کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرتا ہے تاہم بنگلے کا دروازہ نہیں کھلتا۔

اسی دوران ایک ڈکیت شہری تک پہنچ جاتا ہے اور شہری کے ہاتھ میں موجود بیگ چھیننے کی کوشش کرتا ہے توبیگ میں موجود رقم نیچے گرجاتی ہے ڈکیت زمین پر پڑی رقم اٹھانے میں مصروف ہوتا ہے تو شہری بنگلے کا دروازہ کھلنے پر اندر چلا جاتا ہے اور دروازے پر تعینات سیکیورٹی گارڈ باہر نکل کر جھانکتا ہے اور ڈاکوؤں کو دیکھ کر ان کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے واپس اندر بھاگ جاتا ہے۔

مسلح ڈکیت تمام رقم لوٹ کر با آسانی فرار ہو جاتے ہیں اور واردات کے بعد سیکیورٹی گارڈ ڈاکوؤں کو فرار ہوتے دیکھتا رہا ہے سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شلوار قمیص میں ملبوس دو ڈکیت ہیلمٹ پہنے تھے جبکہ 2 کیپ لگائے ہوئے تھے۔

The post کراچی میں اناڑی سیکیورٹی گارڈ شہری کو لے ڈوبا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2XfqiRr

ن لیگ کا ججز کے خلاف ریفرنسز پر پارلیمنٹ میں احتجاج کا فیصلہ

 اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) نے ججز کے خلاف حوکمتی ریفرنسز پر پارلیمنٹ میں احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف کے چیمبر میں شاہد خاقان عباسی اور راجہ ظفر الحق کی زیر صدارت پاکستان مسلم لیگ ن کے مشترکہ پارلیمانی ایڈوائزری گروپ کا اجلاس ہوا۔  ایاز صادق، رانا تنویر، مریم اورنگزیب، مشاہد اللہ خان، راناثناءاللہ اور دیگر رہنماؤں نے اجلاس میں شرکت کی۔

شرکا نے عدلیہ پر حکومت کی جانب سے جج صاحبان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے معاملے پر تفصیلی غور کیا۔  ن لیگ نے ججز کے خلاف ریفرنسز پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے اندر احتجاج کا فیصلہ کیا۔

ایاز صادق نے کہا کہ ن لیگ نے اصولی موقف اپنانے کا فیصلہ کیا ہے، ریفرنسز کے خلاف احتجاج کا ہر آپشن استعمال کریں گے،  ریفرنس عدلیہ پر قدغن لگانے کے مترادف ہے اور عدلیہ پر کسی کو حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

The post ن لیگ کا ججز کے خلاف ریفرنسز پر پارلیمنٹ میں احتجاج کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://bit.ly/2IeGAUq

انٹر سٹی بس ٹرانسپورٹرز کی شہریوں سے ’’لوٹ مار‘‘

کراچی: رمضان کے آخری عشرے میں انٹرسٹی بس ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں غیر معمولی اضافہ کردیا۔

کراچی سے اندرون ملک آبائی علاقوں میں عید الفطر منانے کے لیے جانے والے مسافر ٹرانسپورٹرز کے من مانے کرایے ادا کرنے پر مجبور ہیں،حکومت ہرسال کی طرح اس بار بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

ملک کے دیگر حصوں سے کراچی میںروزگارکیلیے آنے والے محنت کش اور سرکاری و نجی اداروں کے ملازمین عید منانے کیلیے اپنے آبائی علاقوں میں جارہے ہیں،ان مسافروں کی روانگی کا آغاز ماہ رمضان کے آغاز سے ہی شروع ہوجاتا ہے تاہم رمضان کے آخری عشرے میں انٹرسٹی بس اڈوں میں بے پناہ رش دیکھنے میں آرہا ہے۔

کراچی سے اندرون سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور آزاد کشمیر جانے والے روٹس پر مسافروں کی گہماگہمی دیکھنے میں آرہی ہے ، بیشتر بسوں میں نشستوں سے زائد مسافر بھیڑ بکریوںکی طرح ٹھونسے جارہے ہیں ، مسافرانتہائی تکلیف دہ حالات میں سفر کرنے پر مجبور ہیں،بیشتر انٹرسٹی ٹرانسپورٹرز کراچی تا اسلام آباد و راولپنڈی فی مسافر3 ہزار300روپے وصول کیا جارہا ہے۔

درمیانی فاصلوں کے علاقوں تلہ کنگ اور چکوال کے لیے بھی 3 ہزار300 روپے کرایہ چارج کیا جارہا ہے،رمضان سے قبل ان علاقوں کا کرایہ800 روپے کم وصول کیا جارہا تھا، کراچی سے مظفرآباد تک کا کرایہ بھی زائد چارج کرتے ہوئے 3,000روپے وصول کیا جارہا ہے جبکہ ایبٹ آباد کے لیے 2800 روپے لیا جارہا ہے،کراچی تا سکھر ، لاڑکانہِ خیر پور یکساں 800 روپے کرایہ چارج کیا جارہا ہے۔

رمضان کے آخری عشرے میں پشاورسوات، بونیر وباجوڑ کا کرایہ بھی 700روپے بڑھادیا گیا ہے، اسوقت پشاور، سوات وباجوڑ کا کرایہ 3000روپے جبکہ بعض ٹرانسپورٹرز پشاور اور سوات کا کرایہ3200روپے تک وصول کررہے ہیں، کوئٹہ و یشین کے کرایوں میں بھی ایک ہزار روپے اضافہ کردیا گیا ہے،اس وقت کوئٹہ کا کرایہ 2500روپے اور پشین کا کرایہ 2000 روپے وصول کیا جارہا ہے،گلگت اور بلتستان کے کرایوں میں بھی ایک ہزار روپے کا اضافہ کرتے ہوئے 5ہزار روپے فی مسافر کرایہ وصول کیا جارہا ہے۔

ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ کراچی سے دوسرے شہروں تک جانے کیلیے مسافر بکنگ کرارہے ہیں جبکہ واپسی میں گاڑیاں تقریباً خالی آتی ہیں اس لیے مجبوراً کرایہ بڑھایا ہے۔

گل کشمیر ٹرانسپورٹ کمپنی کے نمائندے نوید مغل کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے اور اسپیئر پارٹس مہنگے ہونے کی وجہ سے کرایہ بڑھانے پر مجبور ہیں ، ان کا دعوی ہے کہ ابھی بھی حکومت کے منظور کردہ ریٹس سے کم کرایہ وصول کررہے ہیں، حکومت کے ریٹ 3 روپے فی کلومیٹر ہے۔

نوید مغل نے کہا کہ کشمیر مظفرآباد تک فاصلہ 1900 کلومیٹر ہے جس کے لیے 1150 لیٹر ڈیزل خرچ ہوتا ہے اور مجموعی اخراجات ایک لاکھ 45ہزار فی ٹرپ لگتا ہے،ٹرانسپورٹ کمپنی پاکستان ایکسپریس کے نمائندے محمد آصف کا کہنا ہے کراچی تا اسلام آباد سروس اسپیشل ہے جس میں ایک وقت کا کھانا اور کولڈڈرنک مسافروں کو فراہمی کی جاتی ہے۔

بعض مسافروں نے ایکسپریس کوبتایا کہ ہر سال عید کے موقع پر کرایہ بڑھادیا جاتا ہے، عام دنوں میں اسلام آباد اور لاہور کا کرایہ 2500روپے لیا جاتا ہے جبکہ درمیان میں آنے والے علاقوں چکوال اور تلہ کنگ کا کرایہ1800 تک لیا جاتا ہے،عید کے موقع پر یکساں کرایہ وصول کیا جارہا ہے جو ناانصافی ہے۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی سندھ حکومت کی جانب سے نمائشی اقدامات کیے جارہے ہیں ، صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ کی ہدایت پر ٹول پلازہ پر چند ٹرانسپورٹرز کے خلاف کارروائی ضرور کی گئی ہے تاہم شہر میں قائم انٹرسٹی ٹرانسپورٹرز کے بکنگ آفس پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے اور وہاں ٹرانسپورٹرز بدستور زائد کرایہ وصول کررہے ہیں۔

نمائندہ ایکسپریس نے سیکریٹری ٹرانسپورٹ غلام عباس،ڈپٹی سیکریٹری ٹرانسپورٹ اور سیکریٹری پرونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی سے موقف لینے کے لیے رابطے کی کوشش کی تاہم تینوں افسران آفسز میں موجود نہیں تھے،کمشنر کراچی افتخار شلوانی سے بھی فون پر رابطے کی کوشش کی گئی تاہم انھوں نے فون ریسیو نہیں کیا۔

The post انٹر سٹی بس ٹرانسپورٹرز کی شہریوں سے ’’لوٹ مار‘‘ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://bit.ly/2I8jZsp

کراچی میں اناڑی سیکیورٹی گارڈ شہری کو لے ڈوبا

کراچی: بہادر آباد میں اناڑی سیکیورٹی گارڈ شہری کولے ڈوبا جب کہ شہری سے لوٹ مار ہوتے دیکھ کر سیکیورٹی گارڈ گھربنگلے کا دروازہ بند کرکے اندر بھاگ گیا۔

شہرقائد میں اناڑی سیکیورٹی گارڈزکے کارناموں کا سلسلہ جاری ہے بہادر آباد میں اناڑی سیکیورٹی گارڈ شہری کولے ڈوبا واقعے کی سی سی ٹی وی منظرعام پر آگئی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شہری گاڑی سے اتربنگلے کی جانب جا رہا ہے اسی دوران 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 مسلح ڈکیت شہری کی جانب آتے ہیں تو شہری بھاگ کر بنگلے کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرتا ہے تاہم بنگلے کا دروازہ نہیں کھلتا۔

اسی دوران ایک ڈکیت شہری تک پہنچ جاتا ہے اور شہری کے ہاتھ میں موجود بیگ چھیننے کی کوشش کرتا ہے توبیگ میں موجود رقم نیچے گرجاتی ہے ڈکیت زمین پر پڑی رقم اٹھانے میں مصروف ہوتا ہے تو شہری بنگلے کا دروازہ کھلنے پر اندر چلا جاتا ہے اور دروازے پر تعینات سیکیورٹی گارڈ باہر نکل کر جھانکتا ہے اور ڈاکوؤں کو دیکھ کر ان کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے واپس اندر بھاگ جاتا ہے۔

مسلح ڈکیت تمام رقم لوٹ کر با آسانی فرار ہو جاتے ہیں اور واردات کے بعد سیکیورٹی گارڈ ڈاکوؤں کو فرار ہوتے دیکھتا رہا ہے سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شلوار قمیص میں ملبوس دو ڈکیت ہیلمٹ پہنے تھے جبکہ 2 کیپ لگائے ہوئے تھے۔

The post کراچی میں اناڑی سیکیورٹی گارڈ شہری کو لے ڈوبا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://bit.ly/2XfqiRr

آج کراچی میں گرمی کی شدت میں معمولی اضافے کا امکان

کراچی:  آج (جمعے) کو گرمی کی شدت میں معمولی اضافے کا امکان ہے جب کہ پارہ 37 سے 39 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آج شہر کا مطلع گرم ومرطوب رہنے جبکہ گرمی کا پارہ 37سے39ڈگری کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جمعرات کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا جبکہ صبح کم سے کم درجہ حرارت 28اور ہوا میں نمی کا تناسب 78فیصد ریکارڈ ہوا۔

The post آج کراچی میں گرمی کی شدت میں معمولی اضافے کا امکان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://bit.ly/2MkQnxt

پولیس آرڈر 2002، گورنر نے اسمبلی کا منظور کردہ بل اعتراض لگا کر واپس کر دیا

کراچی: سندھ پولیس میں اصلاحات کا بل پولیس آرڈر2002 ترمیمی بل 2019 گورنرسندھ نے آئینی اعتراضات کے ساتھ سندھ اسمبلی کو واپس بھیج دیا ہے۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے گورنرہاؤس میں صحافیوں کے اعزازمیں افطارڈنرکے موقع پرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس آرڈرمیں یک طرفہ ترامیم کرکے آئی جی سندھ سمیت اعلی پولیس افسران کوہٹانے کے تمام اختیارات سندھ حکومت نے حاصل کرلیے ہیں، بل پر دیگرآئینی اعتراضات کے باعث اسے غورکے لیے جمعرات کوسندھ اسمبلی کوواپس بھیج دیا ہے۔

اس موقع پرتحریک انصاف کے ارکان سندھ اسمبلی ، قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی ، پارلیمانی لیڈرحلیم عادل شیخ دیگربھی موجود تھے۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہاکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 143 کے تحت مجلس شوری کامنظورکردہ قانون مقدم ہے، سندھ اسمبلی میں منظورکردہ پولیس اصلاحات کا ترمیمی بل عدالت کے فیصلے کے برخلاف ہے اوراس سے مطابقت نہیں رکھتا، اعلی عدالت کافیصلہ ہے کہ پولیس کی کمانڈ آئی جی پولیس کے پاس ہونی چاہیے مگر بل کے مطابق سندھ پولیس کے بیشتر اختیارات صوبائی حکومت نے اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں۔

انھوں نے کہاکہ بل کے تحت آئی جی سندھ کوہٹانے یا آئی جی کی تقرری سے متعلق اختیارات صوبائی حکومت نے اپنے پاس رکھ لیے ہیں جب آئی جی سندھ حکومت سندھ کے تابع ہوگا تو پوری پولیس آزادانہ کام کرنے کے بجائے صوبائی حکومت کے تابع ہوگی۔

گورنر سندھ نے کہاکہ عدالتی فیصلے میں کہاگیا ہے کہ آئی جی پولیس تبادلے وتقرری میں آزادوخودمختارہوگا، حیرت زدہ ہوں کہ ڈی ایس پیز کے تبادلوں کا اختیاربھی آئی جی کونہیں دیاگیا، پولیس آرڈربحالی بل کے ذریعے آئی جی پولیس کواختیارات دینے کے بجائے بے اختیار کردیا ہے۔ آئی جی سندھ اپوزیشن لیڈر اور سول سوسائٹی نے پولیس آرڈربحالی بل پر اپنے شدید تحفظات کا اظہارکیا ہے،صوبے میں آزاد پولسنگ نظام کے اسمبلی پولیس آرڈربحالی بل کا ازسرنوجائزہ لے۔

انھوں نے کہاکہ آئی جی پولیس کے لیے تین افسران کے نام تجویز کرنا وفاقی حکومت کادائرہ اختیار ہے، سندھ اسمبلی کے پولیس آرڈربحالی بل میں اس کی خلاف ورزی کی گئی،پولیس آرڈر بحالی بل کی شق 11 وفاق اور صوبوں کے درمیان مروجہ طریقہ کارسے انحراف ہے، ارکان سندھ اسمبلی عدالتی فیصلے پرتوجہ دیں۔

عمران اسماعیل نے کہاکہ اعلی عدلیہ نے پولیس کی انتظامی خودمختاری سے متعلق واضح احکامات دیے ہیں، آئی جی پولیس کی تقرری،تعیناتی کی مدت اورتبادلے وتقرری کا طریقہ کارعدالتی فیصلوں میں واضح ہے، صوبائی اسمبلی قانون سازی میں بااختیارمگر عدالتی فیصلوں پرعمل بھی ضروری ہے۔

علاوہ ازیں گورنرہاؤس کی طرف سے بھجوائی گئی سمری میں پولیس آرڈر2002 ترمیمی بل 2019 آئینی اعترضات کے ساتھ مسترد کردیا گیا۔ گورنرسندھ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ پولیس آرڈر دوہزار وفاقی قانون ہے ، صوبائی اسمبلی صرف معمولی ترامیم کا اختیار رکھتی ہے، صوبائی اسمبلی کامنظور کردہ کوئی قانون پارلیمنٹ کے ایکٹ سے متصادم ہوتو قانون مجلس شوری کارائج ہوگا۔

گورنرکی سمری میں مزیدکہا گیا ہے کہ پولیس آرڈر 2002بحالی بل اصل صورت میں بحال نہیں کیاگیا، گورنر عمران اسماعیل کی طرف سے پولیس آرڈر 2002 کی توثیق نہ ہونے پر پولیسنگ کانیا قانون غیرموثرہوگیا ہے اورسندھ اسمبلی کو گورنرعمران اسماعیل کے اعتراضات کی روشنی میں بل کادوبارہ جائزہ لینا ہوگا۔ پولیس سے متعلق قانون سازی صوبے میں اہم مسئلہ رہا ہے۔

دوسری جانب آئی جی سندھ کلیم امام نے بھی خط کے ذریعے اپنے تحفظات سے حکومت سندھ کو آگاہ کیا تھا۔

The post پولیس آرڈر 2002، گورنر نے اسمبلی کا منظور کردہ بل اعتراض لگا کر واپس کر دیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://bit.ly/2HN8pE8

رتو ڈیرو کے بعد شکارپور میں بھی ایچ آئی وی کا انکشاف

کراچی: رتو ڈیرو کے بعد شکارپور میں بھی ایچ آئی وی کا انکشاف ہوا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل صحت سندھ ڈاکٹر مسعود سولنگی نے کہا ہے کہ گلے میں پھندا لٹکی لاش زرینہ نامی خاتون کی ہے جس کی7مئی کو رتو ڈیرو میں ایچ آئی وی سینٹرمیں تصدیق کی گئی تھی اور 9مئی کوایچ آئی وی ٹریٹمنٹ سینٹر لاڑکانہ میں متوفیہ کو رجسٹرڈ کیا گیا جس کا محکمہ صحت کے ریکارڈ کے مطابق رجسٹریشن نمبر2473ہے۔

زرینہ رند ضلع شکار پور تعلقہ گڑھی یٰسین کے ٹاؤن دکھن کی رہائشی تھی، 3 مئی کو ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹر شکارپور میں ابتدائی خون کی اسکریننگ میں ایچ آئی وی پازٹیوکی تصدیق کی گئی تھی جس کے بعد متوفیہ زرینہ کا اس کے اہلخانہ کے خون کے نمونے لیکر صوبائی ریفرل لیبارٹری سندھ ایڈزکنٹرول پروگرام سول اسپتال کراچی بھیجے گئے تھے جہاں اس کو ایچ آئی وی پازٹیوکی تصدیق کی گئی جس کے بعد زرینہ کو لاڑکانہ کے کے ایچ آئی وی سینٹر میں رجسٹرڈکے لیے بھیجا گیا تھا جہاں 9مئی متوفیہ زرینہ کے علاج کیلیے Anti Retro viral تھراپی شروع کردی گئی تھی۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرشکار پور ڈاکٹروحید نے متوفیہ زرینہ کو ایچ آئی وی پازٹیوکی تصدیق کرتے ہوئے ایکسپریس کو بتایاکہ اس کا شوہر بہادر رند اوراس کے 4بچوں میں ایچ آئی وی نہیں، بعدازاں زرینہ رندکی پراسرارموت گردن میں دوپٹے سے پھندا لٹکی لاش ایک درخت سے ملی وہ اس وقت خالقی حقیقی سے جاملی تھی۔

متعلقہ پولیس حکام نے 29 مئی کو زرینہ رندکی وجہ موت معلوم کرنے کے لیے متعلقہ اسپتال کے ایم ایل اوکو لیٹرلکھا جس کی کاپی بھی ایکسپریس کو موصول ہوئی ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ میرخان رند ولیج گڑھی یاسین دکھن کے رول ہیلتھ سینٹر میں پوسٹ مارٹم کیاگیا جس میں ڈاکٹروں نے ابتدائی طورپر بتایا کہ متوفیہ کے گلے میں چادر اور دوپٹے کی مدد میں پھندا لگاکردرخت سے لٹکایا گیا ہے، ابتدائی میڈیکولیگل رپورٹ میں اس کوStrangulation کہاگیا ہے۔

زرینہ رندکو ایچ آئی وی سینٹرکے حوالے سے ایکسپریس ٹربینون نے ایچ آئی وی ٹریٹمنٹ سینٹر لاڑکانہ کے انچارچ ڈاکٹرہولا رام سے رابطہ کیا انھوں نے بتایاکہ متوفیہ زرینہ رند تعلقہ ہیڈکواٹر اسپتال رتووڈیرومیں قائم سندھ ایڈزکنٹرول پروگرام کے ایچ آئی وی اسکریننگ کیمپ سے7مئی کو لاڑکانہ ٹریٹمنٹ سینٹر بھیجی گئی تھی جہاں ایچ آئی وی کی تصدیق کے بعد بعد 9مئی کوعلاج کے حوالے سے ایچ آئی وی ایڈزکی ادویات فراہم کی گئی تھی جو ایک ماہ کی دی گئی تھی۔

یاد رہے کہ ضلع ڈسٹرکٹ شکار تعقلہ گڑھی یسین اور دکھن گاوں کا فاصلہ 10کلومیٹر ہے۔

شکارپور کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسرنے ایکسپریس کو بتایا کہ شکارپور میں بھی ایچ آئی وی کے شبے میں عوام کی اسکریننگ شروع کردی گئی ابتدائی طورپرجس کی رپورٹ آئندہ چند دن میں جاری کردی جائیگی، متوفیہ زرینہ بھی شکار کی رہائشی تھی جبکہ لاڑکانہ میں جمعرات کو مزید 15 افراد ایچ آئی وی پازٹیو کی تصدیق کی گئی ان میں11بچے 3خواتین اور ایک مرد شامل ہے۔

The post رتو ڈیرو کے بعد شکارپور میں بھی ایچ آئی وی کا انکشاف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://bit.ly/2YZalze

سیاسی جماعتیں ٹکڑوں میں تقسیم، مسلم لیگ سرفہرست

پشاور: الیکشن کمیشن سے رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی تعداد107تک پہنچ گئی ہے جنھیں انتخابی نشانات الاٹ کے جاچکے ہیں جب کہ سب زیادہ مسلم لیگ کے نام سے جماعتیں رجسٹرڈ ہیں۔

الیکشن کمیشن کی فہرست کے مطابق مختلف گروپوں میں تقسیم مسلم لیگ سر فہرست ہے جس کے12ٹکڑے ہوچکے ہیں، اب تک ن لیگ کے علاوہ پاکستان نیشنل مسلم لیگ، پاکستان مسلم لیگ شیر بنگال فضل حق، پاکستان مسلم لیگ لیگ آرگنائزیشن، پاکستان مسلم لیگ ضیا الحق شہید، پاکستان مسلم لیگ جونیجو، پاکستان مسلم لیگ فنکشنل، پاکستان مسلم لیگ کونسل، پاکستان مسلم لیگ، عوامی مسلم لیگ پاکستان، آل پاکستان مسلم لیگ اور آل پاکستان مسلم لیگ جناح شامل ہے۔

اسی طرح حکمراں جماعت تحریک انصاف کا شیرازہ بھی3حصوں میں بکھر چکاہے تحریک انصاف کے علاوہ، پاکستان تحریک انصاف نظریاتی اور پاکستان تحریک انصاف گلالئی شامل ہے۔

پیپلزپارٹی کے علاوہ، پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین، پیپلزپارٹی ورکرز اور پیپلزپارٹی شہید بھٹو کے نام سے رجسٹرڈ ہیں ، متحدہ قومی مومومنٹ کے بھی2 حصے ہوچکے ہیں الیکشن کمیشن کے پاس متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور مہاجر قومی موومنٹ پاکستان شامل ہے۔ جے یوآئی 4حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔

الیکشن کمیشن کی فہرست کے مطابق جے یوآئی ف کے علاوہ، جے یوآئی نورانی، جے یوآئی س، اور جے یوآئی نظریاتی رجسٹرڈ ہیں۔

The post سیاسی جماعتیں ٹکڑوں میں تقسیم، مسلم لیگ سرفہرست appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://bit.ly/2W2kfOK

وزیراعظم کی اہلیہ اوروفد کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی

مکہ المکرمہ: وزیراعظم عمران خان نے اپنی اہلیہ اوروفد کے ہمراہ عمرہ ادا کرلیا۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق وزیراعظم عمران خان نے دورہ سعودی عرب کے دوران اپنی اہلیہ اوروفد کے ہمراہ عمرہ اداہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور وزیراعلیٰ کے پی محمود خان نے بھِی عمرہ ادا کیا۔

عمرہ کی ادائیگی کے دوران وزیراعظم نے پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور مسلم امہ کے اتحاد و یگانگت کی دعا بھی کی۔

گزشتہ روز وزیراعظم 14 ویں اوآئی سی کانفرنس میں شرکت کیلئے تین روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچے۔ وزیراعظم پہلے مدینہ منورہ پہنچے جہاں انہوں نے  روضہ رسول پر حاضری دی اورمسجد نبوی میں نوافل بھی ادا کیے۔

The post وزیراعظم کی اہلیہ اوروفد کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://bit.ly/2QDwRL8

الوداع اے ماہِ رمضان! الوداع

مہینوں کا سردار ماہِ رمضان المبارک سایہ فگن ہونے کے بعد اب ہم سے رخصت ہونے کو آیا ہے۔ یہ مبارک مہینہ چند دنوں بعد ہم سے روپوش ہوجائے گا۔

سحری کے پُرنور لمحات اور افطاری کی بابرکت ساعات اب ہمیں الوداع کہہ رہی ہیں۔ تراویح جیسی عظیم عبادت ہم سے جدا ہونے کو ہے۔ ایسا مبارک مہینہ ہم سے پردے میں چھپنے والا ہے جس میں روزانہ کئی گناہ گاروں کو بخش دیا جاتا تھا۔

جن مسلمانوں نے اس کی عظیم المرتبت قدر کو پہچانا، وہ اپنے دامن میں کثیر رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے میں کام یاب ہوگئے اور اپنے لیے بخشش کا پروانہ لکھوا لیا۔ انہوں نے اپنی روح کو آلودگی سے پاک کرلیا۔ لیکن جو اس کی قدر و منزلت کو نہیں پہچان سکے اور اس مہینے کو عام مہینوں کی طرح گزارا وہ خیر کثیر سے محروم رہے۔ حالاں کہ رمضان المبارک کا مہینہ ہمارے دلوں کو کدورتوں سے پاک کرنے آیا تھا۔ نفسانی خواہشات کی نجاست سے پاک کرنے آیا تھا۔ ہماری آلودہ روح کو شفاف کرنے آیا تھا۔ یہ مبارک مہینہ ہمارے گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے آیا تھا۔ یہ مہینہ ہمیں عبادت کی لذت دینے آیا تھا۔ ایمان کی حلاوت سے سرفراز کرنے آیا تھا۔ جسمانی نظام درست کرنے آیا تھا۔ ہمارے ذہنی انتشار کو یکسوئی دینے آیا تھا۔

ہمارے خیالات کی پراگندگی کو صاف کرنے آیا تھا۔ تقویٰ کے نور سے منور کرنے آیا تھا۔ پرہیز گاری کی دولت سے مالا مال کرنے آیا تھا۔ روحانی انقلاب برپا کرنے آیا تھا۔ مجاہدانہ زندگی کا خُوگر بنانے آیا تھا۔ لیکن ہماری بے پرواہی نے ہمیں اس بابرکت مہینے کے فضائل و برکات سے محروم رکھا۔ ہم اس مہینے کے کماحقہ حق ادا نہ کرسکے۔

زمانۂ رسالت ﷺ میں جوں جوں ماہِ رمضان کے ایام گزرتے جاتے، صحابہ کرامؓ کی عبادات میں ذوق شوق بڑھتا جاتا۔ جیسے ہی ماہِ رمضان کی آخری راتیں آتیں تو صحابہ کرامؓ رب کی بارگاہ میں آنسو بہا کر گڑگڑا تے ہوئے ان مبارک راتوں کو گزارتے۔ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم بھی یہی اور آپؐ کا عمل مبارک بھی یہی تھا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب ماہِ رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ ﷺ کی عبادت میں اضافہ ہوجاتا تو آپ خود بھی ان راتوں میں جاگتے اور اہل و عیال کو بھی جگاتے۔

لیکن بد قسمتی سے ہمارا معاشرہ رمضان المبارک کے آخری ایام رجوع الی اللہ میں مصروف رہنے کے بہ جائے شاہراہوں اور بازاروں میں گزار دیتا ہے۔ لوگ نوافل تو کجا فرائض کی پابندی بھی نہیں کرتے۔ گویا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ماہِ رمضان المبارک عبادت کا مہینہ نہیں بل کہ شاپنگ اور خرید و فروخت کا مہینہ ہے۔ ہمارے معاشرے نے رمضان المبارک کے پُرنور لمحات کو خوشی و مسرت اور عید و تہوار کا سیزن بنا دیا ہے۔

حضرت سیدنا شیخ عبد القادر جیلانیؒ فرماتے ہیں: رمضان کا مہینہ قلبی صفائی کا مہینہ ہے، ذاکرین، صادقین اور صابرین کا مہینہ ہے۔ اگر یہ مہینہ تمہارے دل کی اصلاح کرنے اور تمہیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے نکالنے اور جرائم پیشہ لوگوں سے علیحدہ ہونے میں مؤثر نہیں ہوا تو کون سی چیز تمہارے دل پر اثر انداز ہوگی، سو تم سے کس نیکی کی امید کی جاسکتی ہے۔ تمہارے اندر کیا باقی رہ گیا ہے۔ تمہارے لیے کس نجات کا انتظار کیا جاسکتا ہے۔ نیند اور غفلت سے بیدار ہوکر باقی مہینہ تو توبہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کے ساتھ گزارو۔ اس میں استغفار اور عبادت کے ساتھ نفع حاصل کرنا ممکن نہیں ہے تو ان لوگوں میں سے ہوجاؤ جن کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مہربانی حاصل ہوتی ہے۔

آنسوؤں کے دریا بہا کر اپنے منحوس نفس پر اونچی آواز سے اور آہ زاری کے ساتھ روتے ہوئے اس مہینے کو الوداع کہو کیوں کہ کتنے ہی روزے دار ایسے ہیں جو آئندہ سال روزے نہیں رکھ سکیں گے۔ اور کتنے ہی عبادت گزار ایسے ہیں جو آئندہ عبادت نہیں کرسکیں گے۔ اور مزدور جب کام سے فارغ ہوتا ہے تو اس کو مزدوری دی جاتی ہے اب ہم بھی اس عمل سے فارغ ہوچکے ہیں۔ مگر کاش کہ ہم بھی جان سکتے کہ ہمارے روزے اور قیام مقبول ہوئے ہیں یا نہیں، کاش ہم جان سکتے کہ ہم میں سے کون مقبول ہے۔

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بہت سے روزہ داروں کو بھوک اور پیاس کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا اور راتوں کو قیام کرنے میں ان کو صرف بے خوابی ہی حاصل ہوتی ہے۔ اے رمضان کے مہینے تجھ پر سلام۔ اے بخشش کے مہینے تجھ پر سلام۔ اے ایمان کے مہینے تجھ پر سلام۔ (اے ماہِ رمضان) تو گناہ گاروں کے لیے قید اور پرہیز گاروں کے لیے اُنس کا مہینہ تھا۔ اے اللہ! ہمیں ان لوگوں میں کردے جن کے روزوں اور نمازوں کو تُونے قبول کیا، ان کی برائیوں کو نیکیوں میں بدلا، انہیں اپنی رحمت کے ساتھ جنت میں داخل فرمایا اور ان کے درجات بلند کیے۔ آمین (بہ حوالہ: غنیۃ الطالبین)
خواب غفلت سے بیدار ہوکر اس مہینے کے آخری ایام کو رجوع الی اللہ میں گزارنے کا وقت ہے۔ نہ جا نے آئندہ سال کون اس مہینے کو پاسکے گا اور کون اس کے سایہ فگن ہونے سے پہلے ہی منوں مٹی تلے خاک میں دبا دیا جائے گا۔ اللہ تعالی ہم سب کو رمضان المبارک کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس ماہ کو ہمارے لیے رحمت، مغفرت اور دوزخ سے رہائی کا مہینہ بنادے، ہمارے دلوں کو تقویٰ کے نُور سے منور فرما دے۔ آمین

The post الوداع اے ماہِ رمضان! الوداع appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://bit.ly/2KeSTmg

گرین شرٹس شکستوں کی دلدل سے نکلنے کیلیے بے چین، ویسٹ انڈیز سے آج مقابلہ

ناٹنگھم: ورلڈ کپ میں پاکستان اپنی مہم کا آغاز جمعے کو ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ سے کرے گا جب کہ گرین شرٹس نے شکستوں کے دلدل سے نکلنے کی ٹھان لی۔

پاکستان کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ میں اپنے سفر کا آغاز ویسٹ انڈیز کیخلاف آج سے ناٹنگھم میں شیڈول میچ سے کررہی ہے، گرین شرٹس کواس وقت ناکامیوں کے ایک طویل سلسلے سے جان چھڑانے کا بھی چیلنج درپیش ہے، وہ گذشتہ 10 ون ڈے میچز میں لگاتار ناکامی سے دوچار ہوچکے جبکہ واحد وارم میچ میں افغانستان کے ہاتھوں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا،بنگلہ دیش سے دوسرا وارم اپ میچ بارش کی نذر ہوگیا تھا۔

پاکستان کی قوت ہمیشہ سے فاسٹ بولنگ رہی مگر اب اس کے بارے میں بھی ابہام پایا جاتا ہے، محمد عامر کو آخری لمحات میں اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے، حسن علی اگرچہ اٹیک کو لیڈ کریں گے مگر گذشتہ برس کے ایشیا کپ کے بعد سے خود ان کی بولنگ ایوریج 60 کے قریب ہے۔

انگلینڈ کے خلاف حالیہ ون ڈے سیریز میں پاکستانی بیٹنگ جدید کرکٹ سے ہم آہنگ ہوتی ہوئی دکھائی دی، 4 مکمل ہونے والے میچز میں سے 3 میں گرین شرٹس نے 340 یا زائد رنز بنائے مگر اس کے باوجود ان تمام میچز میں فتح ہاتھ نہ آئی۔ اب پاکستان کا ورلڈ کپ میں پہلا ٹکراؤ ایک ایسی ٹیم سے ہونے جارہا ہے جس نے نیوزی لینڈ کے خلاف وارم اپ میچ میں 421 رنز بنائے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان ورلڈ کپ میں چوتھی مرتبہ اپنی مہم کا آغازکیریبیئن حریف کے خلاف کرے گا۔

اس سے قبل کھیلے گئے ایسے 3 میچز میں پاکستانی ٹیم صرف ایک بار فتحیاب رہی جبکہ کیریبیئن سائیڈ کو 2 مرتبہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ٹاپ آرڈر پر پاکستان کو فخر زمان سے برق رفتار آغاز کی امید ہے مگر ستمبر 2018 میں کھیلے جانے والے ایشیا کپ کے بعد سے اوپنر کی اوسط 76 سے کم ہوکر 32 پر آگئی ہے، ان کا اسٹرائیک ریٹ بھی 98 سے 91 ہوچکا۔

پاکستان کیلیے اچھی خبر یہ ہے کہ تمام کھلاڑی مکمل فٹ اور سلیکشن کیلیے دستیاب ہیں تاہم بڑا سوال بولنگ کمبی نیشن سے متعلق ہے، شاداب خان کی فٹنس کا مطلب یہ ہے کہ شعیب ملک کو باہر بیٹھنا پڑے گا عماد وسیم اور آصف علی کی جگہ یقینی دکھائی دے رہی ہے جبکہ عامر اور حسن علی کے ساتھ تیسرے پیسر وہاب ریاض ہوں گے۔

میچ کیلیے اعلان شدہ12 رکنی ٹیم میں امام الحق، فخر زمان، بابر اعظم، محمد حفیظ، کپتان سرفراز احمد، حارث سہیل، عماد وسیم، شاداب خان، حسن علی، وہاب ریاض، محمد عامر اور آصف علی شامل ہیں۔

دوسری جانب ویسٹ انڈیز کی حتمی الیون کے بارے میں کسی قسم کی پیشگوئی کرنا تھوڑا مشکل ہے، شینن گیبرائل واحد بولر تھے جو نیوزی لینڈ کے خلاف وارم اپ میچ نہیں کھیلے، الیون میں جگہ کیلیے ان کا اوشین تھامس سے مقابلہ ہوسکتا ہے۔

آسمان پر بادلوں کی موجودگی متوقع ہے تاہم ایسی بارش کا امکان نہیں جو میچ کیلیے خطرہ بنے، ٹاس جیتنے والی ٹیم کنڈیشنز سے فائدہ اٹھانے کیلیے اپنے بولرز کو پہلے موقع دے سکتی ہے۔ جیسن ہولڈر اس سے قبل ورلڈ کپ 2015 میں بھی کیریبیئن ٹیم کی قیادت کرچکے ہیں۔

The post گرین شرٹس شکستوں کی دلدل سے نکلنے کیلیے بے چین، ویسٹ انڈیز سے آج مقابلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://bit.ly/2MixgnC

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...