Urdu news

Wednesday, 31 July 2019

نظریاتی کجروی

امریکا کے دورے کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے امریکی صدر سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے گفتگوکی، اس گفتگو کے دوران ثالثی کا ذکر آیا تو امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ کشمیرکے ایشو پر ثالثی کے لیے تیار ہیں ، اس آفر کے ساتھ ساتھ ٹرمپ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے حالیہ دورہ امریکا کے دوران امریکی صدر سے کشمیر پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے کہا تھا۔ صدر ٹرمپ کے اس انکشاف نے بھارت میں طوفان برپا کردیا ہے۔ اراکین پارلیمنٹ نریندر مودی کے پیچھے ہاتھ دھو کے پڑگئے ہیں اور مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ میں آکر اس گستاخی کا جواب دیں۔

امریکی صدر کے ترجمان سے جب سوال کیا کہ بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ نے کہا ہے کہ ’’کشمیر بھارت کے قومی وقار کا مسئلہ ہے‘‘ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ٹرمپ سے ایسا غیر ذمے دارانہ اور قومی وقار کے مسئلے پر ایسا غیر ذمے دارانہ مطالبہ نہیں کرسکتے۔

جب صحافیوں نے جواب پر زیادہ زور دیا تو مشیر امریکی صدر لیری نے کہا کہ ٹرمپ باتیں گھڑتے ہیں نہ بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، اس تناظر میں یہ سوال ہی انتہائی نامناسب ہے۔ بی جے پی کے ایک رکن سبرامنیم نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو پارلیمنٹ میں آکر اس سوال کا خود جواب دینا چاہیے۔

بھارت کو دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک کہا جاتا ہے اس جمہوری ملک کا حال یہ ہے کہ 70 سال سے کشمیری عوام کشمیر کے مسئلے پر رائے شماری کا مطالبہ کر رہے ہیں اس مطالبے کی پاداش میں بھارتی فوجوں نے 70 لاکھ کشمیریوں کو قتل کروادیا لیکن یہ مسئلہ نہ صرف زندہ ہے بلکہ اور توانا ہوگیا ہے۔ تقسیم کے فوری بعد بھارتی افواج نے کشمیر پر قبضہ کرلیا اورکشمیریوں پر ظلم کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔

عوام کی طرف سے اس متنازعہ مسئلے پر رائے شماری کا مطالبہ نہ صرف جمہوری ہے بلکہ انسانی آزادی اور وقار کا مسئلہ بھی ہے جمہوریہ بھارت جب کشمیر میں رائے شماری سے انکار کرتا ہے تو وہ نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتا ہے بلکہ جمہوری قدروں کی بدنامی کا باعث بھی بنتا ہے۔

بھارت کا دعویٰ ہے کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے لیکن کشمیر پر 8 لاکھ بھارتی فوجوں کے ذریعے قبضہ جمہوریت کے منہ پر ایک ایسا طمانچہ ہے کہ بھارت کا منہ سرخ ہوگیا ہے۔ نریندر مودی کا تعلق ایک انتہائی نچلے طبقے سے ہے وہ یقینا نچلے طبقات کے مسائل سے واقف ہوں گے بھارت کو ایک سیکولر ملک بھی کہا جاتا ہے کیا بھارتی حکمران طبقہ اور بھارت کے دانشور اس حقیقت سے واقف نہیں کہ اس خطے میں مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کی دو بڑی وجہیں مسئلہ کشمیر اور فلسطین کا مسئلہ ہے۔

بی جے پی ایک مذہبی انتہا پسند جماعت ہے اور نریندر مودی اسی جماعت کے نامزد وزیر اعظم ہیں بھارتی عوام میں منفی فکری تبدیلی لانے میں بی جے پی کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ بھارت میں مذہبی انتہا پسندی کا حال یہ ہے کہ پاکستان سے پرفارم کے لیے بھارت جانے والے فنکاروں سے منتقمانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ ہندو دھرم میں گائے کو ماتا کہا جاتا ہے اور اس ماتا کے نام پر مسلمانوں کا خون بہایا جاتا ہے ایسا ملک ایسا معاشرہ جس میں جانوروں کی پوجا کی جاتی ہو اور جانوروں کی بے حرمتی کے نام پر انسانوں کا خون بہایا جاتا ہو ،مذہب کی بات تو دور کیا انسانی معاشرہ کہلانے کا مستحق ہے؟

برصغیر ہندو پاکستان کا شمار دنیا کے پسماندہ ترین ملکوں میں ہوتا ہے جہاں کے 50 فیصد سے زیادہ عوام غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسے غریب و پسماندہ ملکوں کی اولین ضرورت عوام کی معاشی خوشحالی ہے اور بھارتی سیاست کی وجہ سے دونوں ملک اپنے بجٹ کا بڑا حصہ ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کردیتے ہیں۔ ہتھیاروں کی اس احمقانہ اور انسانیت کش دوڑ کی وجہ سے برصغیر کے عوام غربت اور پسماندگی سے باہر نہیں آ پا رہے ہیں یہ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ سیکولر ملک کے دانشور اس حقیقت کو نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے دونوں ملکوں کی مذہبی انتہا پسند طاقتیں مضبوط بھی ہو رہی ہیں اور فعال بھی ہو رہی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ بھارت میں پاکستان سے زیادہ آزادی فکر و اظہار ہے لیکن عملاً بھارت میں پاکستان سے زیادہ ذہنی پسماندگی پائی جاتی ہے۔ میں اس حوالے سے ایک مسلمہ پسماندگی کا ذکر بار بار کرتا رہتا ہوں کہ پاکستان ایک مذہبی ریاست ہے اور بھارت ایک سیکولر ریاست کہلاتی ہے ان دونوں ملکوں کے عوام کے بلکہ کروڑوں عوام کے فکری معیار کا جائزہ لیں تو بڑے دلچسپ حقائق سامنے آتے ہیں۔ دونوں ملک جمہوری ہیں انتخابات میں عوام کے سیاسی اور مذہبی رجحانات کا پتا چلتا ہے۔ یہ کیسی دلچسپ حقیقت ہے کہ پاکستان میں 71 سال سے کسی مذہبی جماعت کو عوام اقتدار میں نہیںلائے اس کے برخلاف عوام نے لبرل اور ترقی پسند جماعتوں کو اپنے ووٹوں سے نوازا۔ اس سے دونوں ملکوں کے قومی مزاج کا اندازہ ہوسکتا ہے۔

اگر بھارتی عوام لبرل یا ترقی پسند فکر کے حامل ہوتے تو بی جے پی دو بار اقتدار میں نہ آتی۔ بھارت کے فکری ایلیٹ نے ان تلخ حقیقتوں پر غور کرنے کی زحمت ہی نہیں کی ورنہ لاکھوں عوام اپنے گناہ دھونے کے لیے گنگا میں نہاتے نظر آتے۔ موجودہ دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے اگر اس سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں عوام بی جے پی کو اقتدار میں لائے ہیں تو اسے ہم بھارت کا نظریاتی المیہ ہی کہہ سکتے ہیں اور بھارت کے اہل فکر اہل دانش کو اس خطرناک نظریاتی کجروی پر غور کرنا چاہیے۔

The post نظریاتی کجروی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2KevTC9

مون سون کی بارشیں، کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معمول پر نہ آسکی

کراچی: بارش کو تھمے ہوئے 24 گھنٹے سے زائد گزرنے کے باوجود کراچی میں بجلی کی فراہمی معمول پرنہ آسکی جب کہ شہر کے بیشتر علاقوں 48 گھنٹوں سے بجلی کی فراہمی سے محروم ہیں۔

اتوار اور پیر کی درمیانی شب شروع ہونے والی مون سون کی پہلی بارش کا سلسلہ منگل کی شام کو تھم گیا تھا بارش کا سلسلہ رکنے کے 24 گھنٹے بعد بھی شہرمیں بجلی کی فراہمی معمول پر نہیں آسکی ہے، بارش کے نتیجے میں آنے والے 5 ہزار سے زائد چھوٹی بڑی فنی خرابیوں کو دور کرنے میں کے الیکٹرک کی مرمتی ٹیمیں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہیں۔

بدھ کی رات گئے تک شہر کے متعدد علاقوں میں مسلسل 3 روز سے بجلی کی فراہمی منقطع تھی جبکہ کے الیکٹرک کے شکایتی مراکز کی جانب سے شہریوں کی شکایات درج کرنے سے بھی گریز کیا جارہا تھا، صرف ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں سیکڑوں شکایات پر 48 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی کے الیکٹرک کا عملہ نہیں پہنچ پایا تھا۔

ذرائع کے مطابق شہر بھر میں گرڈ اسٹیشن کے ٹرانسفارمر میں خرابی، کیبل فالٹس، لنکنگ کیبل فالٹس، تاریں ٹوٹنے، سب اسٹیشن میں پانی بھر جانے۔ پی ایم ٹی کی کیبل جل جانے، جمپر لوز ہوجانے کی ہزاروں شکایات تاحال دور نہیں کی جاسکی ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ نہ صرف کے الیکٹرک کی مرمتی ٹیمیں شہر میں آنے والے فالٹس کی تعداد مقابلے میں انتہائی ناکافی تھیں جبکہ کے الیکٹرک کے پیچیدہ سسٹم کی وجہ سے انھیں بجلی کا نظام بحال کرنے کیلیے درکاراضافی تاریں، کیبل اور دیگر سامان کے حصول میں بھی دشواری کا سامنا تھا۔

بجلی کی عدم فراہمی سے متاثرہ علاقوں میں ڈیفنس، کلفٹن، شیریں جناح کالونی، کیماڑی، ماڑی پور، اورنگی ٹاؤن، نارتھ کراچی، نئی کراچی، نارتھ ناظم آباد، گلزار ہجری، اسکیم 33، گلشن اقبال، گلستان جوہر، ملیر، شاہ فیصل کالونی کورنگی، لانڈھی، قائد آباد، محمود آباد، منظور کالونی اور اخترکالونی شامل ہیں۔

The post مون سون کی بارشیں، کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معمول پر نہ آسکی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/333600x

کشمیر: ثالثی سے آگے

اس ہفتے دو فکر انگیز موضوعات نے ذہن میں بسیرا کرلیا۔ ان میں ایک تو صدر ٹرمپ کی طرف سے بھارت کو ثالثی کی معنی خیز تجویز تھی جو صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عمران کے حالیہ دورہ امریکا میں دی مگر میڈیا ٹاک یا پریس کانفرنس سے نکل کر ثالثی کے اس شریفانہ لفظ نے سفارت کاری کے شعبہ میں دھماکا کردیا۔

چین، ترکی اور ملائیشیا کی جانب سے خطے کے مسائل کے تناظر میں ثالثی کو بھارتی ایجنڈے پر لایا گیا جب کہ بھارتی میڈیا کی تاریخ گواہ ہے کہ ثالثی سمیت مسئلہ کشمیر کے حل کی درجنوں صائب تجویزیں وقت کی مٹھی میں بند ہیں، ان میں متفرق سفارشات،آئیڈیاز، مفروضے، تجزیے ،کالم، پالیسیاں، وزرائے اعظم ، وزارت خارجہ اور سیکریٹریز سطح کے ان گنت مشترکہ اعلامیے، حکومتی ڈیلز، تھیوریز ،ان میں سازشی تھیوریز کو بھی شامل کرلیں ، سب پاک بھارت ریکارڈ روم میں ملیں گے ۔وقت نے ان پر منوں مٹی ڈال دی ہوگی ۔ کوئی ایسا بریک تھرو آج تک نہیں ہوا جو پاک بھارت تعلقات کو کشمیر کے سیاق وسباق میں یادگار بنادیتا۔

ایک کوشش ہمارے کمانڈو جنرل پرویز مشرف نے آگرہ جاکرکی تھی مگر اٹل بہاری باجپائی نے یہ طعنہ دیا کہ وہ تاریخ کا دھارا کیا موڑتے انھیں تو خود بھی تاریخ کا شعور نہ تھا، یہ کشمیر مسئلہ کے حل کا بقول خورشید محمود قصوری ایک قابل عمل، فیصلہ کن اور کثیر المقاصد فارمولہ تھا جسے بھارتی سفارت کاری نے بیدردی سے ضایع کردیا۔

بہرحال یہ بھی تاریخ کا ستم ہے کہ کشمیر نائن الیون کے بعد سے بدلی ہوئی سیاسی دنیا میں جہنم زار بنا ہوا ہے جہاں انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں، بھارتی سیکولرازم اور جمہوریت عریاں و رسوا ہوئی ہے اور جرم ِحق ِ خودارادیت پر کشمیری عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ۔ آج بھی انسانی حقوق کے حوالہ سے ایک عالمی رپورٹ بھارت کے خلاف عالمی ایف آئی آر اور جموں وکشمیر کے عوام کی طرف سے فرد جرم کا ناقابل تنسیخ صدائے ضمیر کا درجہ رکھتی ہے۔

اس تمہید کا ایک معروضی حوالہ آج کی ایک نجی گفتگو کا ہے جو لیاری کے جواں سال دانشوروں، سیاسی مکاتب فکر ، طالبعلموں اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ صحافیوں سے ہوئی جس میں کشمیر ، بھارت، پاکستان اور عالمی ذرایع ابلاغ کے جدید رجحانات اور نئے انداز نظر سے متعلق ان کے دل ودماغ میں سمائے ہوئے تھے۔ اچھا ہوا یہ کیتھارسس ہو ہی گیا ۔ ورنہ کہاں لیاری کے بے نام دانشور ، قلم کار، مقالہ نویس اور کہاں کشمیر پر سکہ بند خصوصی تجزیہ دان ۔

کسی دل جلے کا کہنا تھا کہ ایک زاویہ سے دیکھا جائے تو کشمیر ایشو کو سرکاری ذرایع ابلاغ نے بھی یرغمال بنا رکھا ہے۔ یہ گفتگو چند روزہ تھی مگر اس کا دائرہ وسیع اور متنوع تھا، اس میں بعض خیالات غیر متوقع اور غیر معمولی تھے اور زمینی حقائق سے جڑے رہنے کے باوصف کشمیر کی صورتحال، پاک بھارت اعلیٰ سطح کی بے نتیجہ ملاقاتوں، اس کی تاریخ اور بے فیض سفارتکاری کے نشیب وفراز سے مشروط و مربوط تھے۔

فکری و غیر رسمی گفتگو اس نکتہ پر ہوئی کہ ایسے کتنے نوجوان یا کہنہ مشق سیاستدان ، طالبعلم ،اسکالر اور ادیب و صحافی ہیں جن کے قلم سے کشمیر کے کوئی تاریخی انکشافات منظر عام پر آنے کو ہیں، یا ایسے کتنے لیاری یا کراچی کے طالبعلم ہیں جو کشمیر مسئلہ کے اصل سیاق وسباق کا ادراک رکھتے ہوئے اپنے نئے تھیسس اور ڈاکٹریٹ کے مقالوں کے لیے مواد کے حصول میں سرگرم عمل ہیں ان میں تحقیق کی تپش دیدنی ہے، اور اس کے لیے وہ پاکستان، مقبوضہ و آزاد کشمیر، بھارت اور مشرق وسطیٰ میں مقیم بھارتی اہل قلم یا سفارتکاروں اور سیاسی تنظیموں سے رابطہ کیے ہوئے ہیں چنانچہ اس گفتگو اور رابطہ سے لیاری کے طالب علموں، اہل قلم، دستاویزی فلمیں تیار کرنیوالے نوجوان فنکاروں اور دانشوروں نے اہم باتوں سے آگاہ کیا اور بعض نے پاک بھارت تعلقات،کشمیرکی حالت زار، اس کے لہو رنگ مستقبل اور ذرایع ابلاغ کے رول پر اپنے مستقبل کے امکانی پروگرواموں کا تذکرہ کیا مگر جن طالبعلموں، نوجوانوں اور ڈاکٹریٹ کی تیاریوں میں مصروفیت کا عنوان کشمیر ایشو سے جوڑ دیا انھوں نے بڑی چونکا دینے والی باتیں کیں لیکن ان اصحاب کا کہنا تھا کہ ثالثی کا ایشو ہو، کلبھوشن یادیو کے عالمی انصاف عدالت کا فیصلہ ہو یا افغان امن کے تنازع اور طالبان کو پھر سے مدعو کرنے میں پاکستان کے کلیدی کردار کا معاملہ ہو، ان سب کے راستے خطے کے مرکزی مسئلہ کشمیر سے جاکر ملتے ہیں۔پاکستان کو بند گلی میں پھر نہیں پھنسنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکا کی طویل جنگ بے نتیجہ ثابت ہوئی ہے،یہ بھی بھارت کی کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کے آئینہ میں بے نتیجہ بھارتی سامراجیت کا شاخسانہ ہے۔ بھارتی کردار افغانستان کے پیچیدہ بحران کی تہ میں بھی موجود ہے، یہی بھارت بلوچستان میں مداخلت کاری کا خاص ایجنڈا رکھتا ہے۔ بھارت نے کشمیر کی پوری سیاسی، سماجی، لسانی، ثقافتی اور معاشی تاریخ کو طاق نسیاں پر رکھنے کا ایک ظالمانہ سفر طے کیا ہے،دنیا پاک بھارت تعلقات کے سیاق وسباق میں کشمیر مسئلہ کو فلیش پوائنٹ سے بہت آگے دیکھ رہی ہے، وہ کہنے لگے کہ اسکالرز، ادیب، صحافی، سفارتکار، عسکری ادارے، تھنک ٹینک، سیاسی مفکرین اور محققین نئے موضوعات کو زیر بحث لائیں۔

کشمیر ایشو پاکستان کے ضمیر کے قیدیوں سے نیا انداز بیاں چاہتے ہیں، پرانی سٹیبلشمنٹ کی کہانی بے روح ہوچکی، ان کی رائے تھی کہ اردو اور انگریزی زبان میں کشمیر پر تحقیق اس انداز نظر سے ہو کہ بھارتی اور پاکستانی مائنڈ سیٹ ماضی کی رقابتوں سے الگ رہتے ہوئے ’’آج ‘‘ کے کشمیر اور افغانستان کو سامنے رکھے۔ ان کا کہنا تھا ریسرچ اسکالر An Indian Approach to Self Determination پر نئی تحقیق پیش کریں۔New dilemmas in Indian Initiative کا عنوان ان کی تحقیق کی بنیاد بنے۔

اسی طرح صحافی False Hopes and Modi failures  میں اہل قلم موجودہ بھارتی نقطہ نظر کا تجزیہ مکمل غیر جانبداری اور کشادہ نظری سے کریں۔ لیاری کے اسکالرز اور سیاسی ایکٹی وسٹوں کا کہنا تھا کہ Why Mediation? A new Password for india    جیسے سبجیکٹ نئی فکری اور سیاسی بحث کا نقطہ آغاز بنیں ۔ ٹرمپ کی تجویز سے ثالثی بحث کا معنی خیز آغاز ہو اور بحث قطعی فکری اور معروضی پیرائے میں ہو، اس میں پاک بھارت میڈیا کی 71 سالہ گلی سڑی باتوں، دوطرفہ سیاسی گھاتوںکہہ مکرنیوں، مخاصمت، یو ٹرنوں اور سفارتی قلابازیوں کی تکرار کی کوئی گونج نہ ہو،یہ ایک شفاف اور دھرتی اور خطے سے جڑے ہوئے مکالمہ کا پیش لفظ ہو جسے پاک بھارت ذہن کا سفارتی قبیلہ خندہ پیشانی سے قبول کرے اور اس پر آؤٹ آف باکس بات چیت پر راضی ہو۔

اس اسکالر کا اصرار تھا کہ یہت سارا وقت پاک بھارت سفارتکاری کی نذر ہوا اور کشمیر کے عوام سمیت پاک بھارت خلق خدا کو اس سے کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا، پاک بھارت نیا مکالمہ اگر خطے کو ریلیف نہیں دیتا تو ایسے مکالمہ سے گریز مناسب ہے۔ ایک نوجوان ریسرچ اسکالر کے مطابق پاک بھارت ماہرین ذرایع ابلاغ میں اس نکتہ پر سیمینار اور کانفرنس منعقد کریں۔ کشمیر کتب میلہ منعقد ہو۔ اسکالر Mediation: A Challenge or an Opportunity کے پہلوؤں پر روشنی ڈالیں۔

ایک صائب رائے یہ بھی سامنے لائی گئی کہ ڈاکٹریٹ کرنیوالے ریسرچ اسکالرز چاہے انگریزی زبان سے تعلق رکھتے ہوں یا اردو اور علاقائی زبان سے انھیں اپنا رابطہ بھارتی، بنگلہ دیشی، متحدہ امارات ، پاکستانی اسکالرز ، سابق سفارتکاروں، سینئر صحافیوں ،سیاسی مدبرین سے فیڈ بیک لینا چاہیے۔ وہ اپنے ہم منصبوں کو بتائیں کہ ان کا مقصد پاک بھارت انٹر ایکشن کی ڈائنامکس تبدیل کرنی ہیں، پرانی دشمنیوں کو دفن کرنا ہے۔

لوگوں کو قائل کریں کہ وہ اس بے نتیجہ مشق سفارتکاری سے تنگ آچکے،اب نئی شروعات ہونی چاہیے تاکہ مخاصمت ، تنگ نظری، بے نام سی دشمنی سے بالاتر رہتے ہوئے کشمیر کے مسئلہ پر تاریخی سچائی کے ساتھ روشن ضمیری پر مبنی دو طرفہ مکالمہ کی ابتدا ہو۔ گفتگو میں نوجوان دانشوروں نے کہا کہ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ کشمیر سے متعلق انڈین لٹریچر، شاعری،فکشن اور سیاسی تجزیہ کاری کا سرمایہ دنیا کے سامنے لایا جائے، جموں وکشمیر کے پیدائشی ادیبوں اور شاعروں کا کلام اور ان کی تخلیقات تک رسائی حاصل کی جائے۔

دیکھنا چاہیے کہ اکیڈیمیا، انٹیلیجنشیا، بھارتی میڈیا نے کبھی کسی مقامی ادیب یا شاعر کی غیر معمولی تخلیق کو نمایاں پذیرائی دی ۔کسی دختر جموں و کشمیر کے بے رحم قلم سے کشمیر کا نوحہ کسی طلسم ہوشربا ناول کی صورت منصۂ شہود پر لایا گیا ہو؟ کشمیر تنازع پر ہزاروں مضامین اور بڑی درد انگیز شاعری کا ذخیرہ موجود ہے ۔ کشمیر ہمارے دور حاضرکا ایک دیومالائی موضوع ہے۔

دنیا کے اکثر قلم کار پوچھتے ہیں کہ مودی کے پاس کشمیر کا کیسا منڈیٹ ہے جسے وہ تعصب، نفرت اور دشمنی کے ترازو میں تولتے ہیں اور انسانی حقوق کا قتل عام کرتے ہیں۔ آج بھی نامور ادیب، صحافی، قلم کار ، بھارت کے سابق آرمی چیفس، اپوزیشن رہنما،کانگریس اور اروندھتی رائے جیسی جری و بے خوف سیاسی کارکن اور ادیب بھارتی سٹییلشمنٹ کی بے ضمیری کو للکارتی ہیں۔ مودی سوچیں کہ وہ تاریخ کے ٹائٹل پر ایک انسان دوست رہنما کے طور پر زندہ رہنا چاہتے ہیں یا اس کا حاشیہ ان کا مقدر و منتظر ہے؟

The post کشمیر: ثالثی سے آگے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Ms0zm9

ٹیکس؟ کیوں؟ کس لیے؟ کب سے (دوسرا اور آخری حصہ)

بات کو بنیاد سے شروع کرتے ہیں اگرکسی کے گھر چوری ہوجائے ڈاکہ پڑے نوجوان بیٹا قتل ہوجائے یا بیٹی کے ساتھ کوئی مجرمانہ واقعہ پیش آ جائے تو حکومت کتنا تحفظ دیتی ہے؟پیشگی تحفظ کا تو کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا تھا لیکن لٹ جانے کے بعد کیاہوتا ہے؟ ظاہر ہے کہ آپ حکومت کے قائم کردہ قانون نافذ کرنے اور امن وامان قائم کرنیوالے اداروں میں جاکر فریاد کرینگے لیکن فریاد کیسے کریں گے َاور وہ سنیں گے کیسے؟

یہ توبتانے کی بات ہی نہیں کیونکہ ایک مرتبہ ہرکوئی اسی پل صراط سے گزرتا بھی رہاہے جو تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہے اور کسی کو ’’گزرتے‘‘ ہوئے دیکھ چکا ہوتا ہے یعنی ’’شنیدہ کے بود مانند دیدہ‘‘ اور۔عیاں راچہ بیان؟چنانچہ وہ سو سو بار سوچے گا کہ فریاد کرنے جاکر کئی کئی بار پھرلٹ جائے اور اپنی عزت کھوئے یاخاموش رہے۔

اور بزرگوں نے ’’خاموشی‘‘کو بہتر کہاہے لیکن جو ناسمجھ، ناآشنا اور ناواقف ہوتے ہیں اور صرف ’’بیانات‘‘ کی حد تک معلومات رکھتے ہیں یا انصاف کے صرف دکھانے والے دانتوں کو دیکھتے رہے ہوتے ہیں تو وہ ان اداروں کی زنجیر عدل ہلادیتا ہے اور پھر وہ کمبل کو چھوڑنا چاہتاہے لیکن کمبل بھی اسے چھوڑے تب نا۔چنانچہ آپ اپنا گھر لٹا بیٹھنے ،کھونے اور بیٹی کی عزت داغدار کرنے کے مراحل سے ایک مرتبہ پھر گزرتے ہیں اور تب تک گزرتے رہیں گے جب تک’’تعاون‘‘منہ مانگے داموں پر خرید نہیں لیتے۔آگے پھر وہ عدل وانصاف کا ہفت خواں آئے گا جسے رستم کا باپ زال اور نریمان بھی سر نہیں کرپائے گا۔

سوائے حضرت جناب کرنسی شریف کے۔اس بارے میں زیادہ تفصیل میں نہیں جائینگے کیونکہ جیسا کہ دانش مشرق میں کہاگیاہے کہ ’’خطائے بزرگاں گرفتن خطاست‘‘ویسے ہی مغربی بزرگوں نے بھی ’’توہین‘‘کی ایک دیوار کھڑی کی ہوئی ہے اور ایسی ’’پیش بندیاں‘‘وہی کرتاہے جسے یقین ہوکہ میں ’’خطا‘‘ کر رہا ہوں اس لیے پہلے ہی زبانوں پر مہرلگانا ضروری سمجھا گیا ہے۔

ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کرسی انصاف پرجو بیٹھا ہے اس نے یہاں تک پہنچنے کے لیے کتنی’’محنت‘‘کی ہے اور اپنی ’’کوالیفکشن‘‘ پرکتناکچھ خرچ کیا ہے یا خریدی ہے بلکہ یہاں جو ’’سیاہ وسفید‘‘ کے مجموعے نظر آتے ہیں ان کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہیں گے یہاں تک کہ جس کی طرف منہ کریں وہ سفید اور جس کی طرف پشت کریں وہ سیاہ بلکہ اس’’رادھا‘‘کے بارے میں بھی لب کشائی نہیں کرسکتے جو نومن تیل سے چھٹانک بھر کم تیل پر اپنے گھنگرو نہیں چھنکاتی۔ جسکی عرفیت ’’انصاف کی دیوی‘‘ہے۔اب گھر کی بھینس بکری کی چوری،ایک فالتو بیٹے کے مارے جانے اور ایک بیٹی کی عزت تار تار ہونے والا نومن تیل کہاں سے لائے گا؟وہ تو لٹا ہوا ہے۔

اب آتے ہیں شق نمبر دو ’’صحت‘‘،ایک پورا محکمہ اپنے تمام اسلحہ جات سے لیس بھی موجود ہے بہت بڑے اسپتال یہاں تک کہ دیہات کی سطح پر بی ایچ یو وغیرہ بھی ہیں، بے شمار کلینک بھی ہیں ریوڑھیوں کی طرح بٹنے والے صحت کارڈ بھی ہیں لیکن مریض پھر بھی عطائیوں ٹونا ٹونکہ کرنے والوں، دوم، درود پھونکنے والوں عاملوں جادوگروں پیروں فقیروں کا شکار ہے؟کیوں ؟کیا اسے نہیں معلوم کہ اتنے اسپتال اور صحت کارڈ موجود ہیں کیا وہ پاگل ہے جو یہاں وہاں بھٹکتا رہتاہے اور سیدھا سادا اسپتال نہیں جاتا؟

ایسا کچھ نہیں وہ سب کچھ جانتاہے بلکہ کچھ زیادہ جانتاہے اور یہ کہ جہاں’’صحت‘‘کے یہ ادارے قائم ہیں، وہاں امراض بیچے جاتے ہیں مریض کو دودھیل گائے بنایا جاتاہے اسے دواساز کمپنیوں کا بارآور کھیت بنایا جاتاہے اسے جعلی دوا ساز کمپنیوں کے ہاتھ فروخت کیاجاتاہے اس کے مرض کو اپنے لیے نعمت عظمیٰ بنایاجاتاہے اس کو لگی ہوئی’’آگ‘‘پر ہانڈیاں پکائی جاتی ہیں اس لیے وہ ان قتل گاہوں ،انسان فروشوں، امراض فروشوں سے دور رہ کر نوسربازوں عطائیوں اور ٹونے ٹوٹکے والوں کے ہتھے چڑھتا رہتاہے جو ان سے بھی زیادہ ظالم ہوتے ہیں۔

خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں

کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری

اور آخر میں ان سب باتوں کا یہ نچوڑ۔کہ جس ملک میں ہر ہر سطح پرعوام کے استحصال کے ’’مواقع‘‘حکومت نے پھیلا رکھے ہوں وہاں انسان بیمار اور مسائل کا شکار نہیں بنے گا تو کیا بنے گا۔مسائل جو ام الامراض ہوتے ہیں۔تیسرا آئٹم’’تعلیم‘‘

زبان پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا

کہ مرے نطق نے بوسے میری زباں کے لیے

لارڈ میکالے نے جو نظام تعلیم وضع کیاتھا وہ انسانوں کے لیے تھا ہی نہیں غلاموں یا دوسرے معنی میں کالانعاموں کے لیے تھا۔جو اب بھی ہے اور اپنی تمام خرابیوں اور برائیوں کے ساتھ رائج الوقت ہے۔یہ نظام تعلیم افسر بناتا ہے، انجینئر ڈاکٹر بناتاہے اکاؤنٹنٹ بناتاہے کلرک بناتا ہے چپراسی بناتا ہے اور سب سے زیادہ غنڈے بدمعاش بناتا ہے تاکہ حکومت کے دوسرے’’گلشنوں‘‘کا کاروبار بھی چلے لیکن اگر نہیں بناتا تو ’’انسان‘‘بالکل نہیں بناتا کیونکہ یہ بڑا خطرناک ہوتاہے خاص طور پر حکومت کے لیے۔

اگر کوئی غلطی سے انسان بن گیا تو پھر وہ ڈاکٹر انجینئر افسر کلرک سپاہی وغیرہ جو بھی بنے گا اس کے ساتھ ’’انسان‘‘بھی ہوگا یعنی خطرناک چنانچہ اس نظام تعلیم کی روح اس کی بنیاد اس کی رگ وپے میں سے ’’انسان بنانے‘‘کے عناصر نکال دیے گئے ہیں اور صرف کالانعام بنائے جاتے ہیں۔اوپر سے جب ستر سال پہلے حکمرانوں کو آزادی اور محکوموں کو مزید غلامی کی ’’نعمت عظمیٰ‘‘ملی تو ہر حکمران نے درسگاہوں کو اپنا ووٹ بینک پیدا کرنے کی ’’نرسری‘‘سمجھ کراپنے اپنے ’’زہر‘‘ سے اس کی آبیاری کی۔ یوں غلاموں کی جگہ اب اس میں ’’غنڈے‘‘ بنائے جانے لگے جن کا کل ملاکر نظریہ لینا جھپٹنا اور کسی بھی طرح کچھ بھی حاصل کرناتھا۔

’’اخلاق‘‘نامی چیز کو تو اس کے اندر انتہائی ممنوع قرار دیاگیا ہے بلکہ معاشرے میں سے بھی ہر اخلاقی قدر کو نکال باہر کرنا۔ خاندان کو مسمار کرنا،بزرگوں کا احترام گناہ سمجھنا حتی الوسع ہر دوسرے اور اس کی کسی چیز کو مذاق کا نشانہ نہ بنانا اور کسی طرح بھی دوسرے سے چھین لینا اور پھر محکماتی انقلاب بھی تو آزادی کے ساتھ آیاتھا۔ اسلامائزیشن کی رو سے تجارت انبیاء اور اولیا کا پیشہ ہے اس لیے تعلیم کو بھی مال تجارت بنانا۔ صحت کا انتظام اور عدل وانصاف تو پہلے ہی مال تجارت بنا چکے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تجارت مفادات این جی اوز منافقانہ سیاست نے ’’بیروزگار اور جاہل بذریعہ تعلیم‘‘ بنانے کا ایک کارخانہ بنا دیا ہے۔

کسی کوکسی بات کی پروا نہیں ہے کہ اس بیروزگاری کے اتنے بڑے کارخانے کا ’’مال‘‘ کہاں کھپایا جائے گا کیونکہ ’’روزگار‘‘کو بھی حکومت کی ذمے داری سے نکالا جاچکاہے بلکہ یہ بھی دانستہ کیاگیاہے تاکہ بے روزگاری بڑھے اور ساتھ ہی سرکاری ملازمتوں کی قیمت بھی بڑھے اور افسروں، منتخب نمایندوں اور وزیروں کے ذرایع آمدن میں اضافہ ہو۔ہم پورا حساب تو نہیں لگاسکتے لیکن اندازے سے بتاسکتے ہیں کہ اس وقت پولیس کے سپاہی سے لے کر بڑے افسروں اور یہاں تک کہ عدلیہ میں ایسا بندہ مشکل سے ملے گا جس نے اپنی پوسٹ خریدی نہ ہو بلکہ درسگاہوں کی سیٹیں تک بیچی اور خریدی جاتی ہیں الیکشن تو پہلے ہی سب سے اعلیٰ درجے کی تجارت اور منڈی؟اب ایسے حالات میں ’’ٹیکس‘‘کیا واقعی دو طرفہ ایک شریفانہ معاہدہ ہے؟یا باقاعدہ گن پوائنٹ پرلوٹ مارہے؟

یہ فیصلہ ہر کوئی کرسکتا ہے بلکہ اس معاہدے کی سب سے گھناؤنی صورت یہ ہے کہ حکومت اگر کہیں کسی کو کچھ دیتی بھی ہے تو وہ ’’حق‘‘ کے بجائے، بھیک کی طرح دیتی ہے، وہ بھی سارے عوام کو نہیں بلکہ اپنی اپنی پارٹی یا گینگ ممبرز‘‘کو۔کیونکہ پارٹیوں کو اب گینگ بنایا گیا ہے۔

The post ٹیکس؟ کیوں؟ کس لیے؟ کب سے (دوسرا اور آخری حصہ) appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2ytkyZs

ریلوے میں بہتری کی ضرورت

ہر محکمے میں بنیادی کردار وزیر کا ہوتا ہے‘ ریلوے مرکزی حکومت کا ادارہ ہے اور اس کے وزیر محترم شیخ رشید ہیں‘ ان کو جناب عمران خان نے اس محکمے کو بہتر کرنے کے کام پر لگایا ہے۔ میرے خیال میں ریلوے کے بجائے ان کے لیے بہتر وزارت اطلاعات تھی۔ آج تک انھوں نے کبھی بھی ریلوے کے مسائل پر بات نہیں کی‘ بس حکومت مخالفین پر برستے رہتے ہیں۔

ایک طبقے کی رائے ہے کہ خواجہ سعد رفیق نے سنجیدگی سے ریلوے کے نظام کو بہتر بنانے پر کام شروع کیا تھا‘ ان کے اقدامات بھی پس پشت ڈال دیے گئے ہیں۔ ریلوے ہمارے ملک میں انگریزوں کا چھوڑا ہوا بہت بڑا اثاثہ تھا‘اس نظام کو ہندوستان نے ترقی دی اور اب بھی زیادہ تر مسافر اور سامان کی ترسیل اسی ذریعے سے ہوتی ہے‘ بنگلہ دیش نے بھی ریلوے کو ترقی دی‘ پاکستان میں ریلوے کی آدھی لائنیں کباڑ میں بیچ دی گئیں اور جو باقی بچا تھا اس کو زنگ نے ختم کر دیا‘ ملک کے اندر ریلوے کے بہت سے حادثات ہو رہے ہیں۔

اس مہینے 20 افراد ہلاک اور بہت سے زخمی ہو گئے جب اکبر ایکسپریس صادق آباد کے اسٹیشن پر ایک مال گاڑی سے ٹکرا گئی‘ اسی طرح پچھلے مہینے مکلی شاہ اسٹیشن پر ایک مسافر ٹرین مال گاڑی سے ٹکرا گئی‘ جس میں تین افراد مارے گئے‘ ان حادثات کے بعد روٹین کی تحقیقات‘ چند تبدیلیاں اور بس۔ اطلاعات کے مطابق ریلوے کو شدید مالی مشکلات درپیش ہیں‘ تیل کی خریداری بھی مشکل ہو گئی ہے‘ حالات بہت خراب ہیں‘ ان حادثات اور خراب انتظامی صورتحال کی وجہ سے عام لوگوں کا اعتماد مجروح ہو رہا ہے۔

ماضی میں 7600 کلومیٹر پر پھیلے ہوئے ریلوے کے ذریعے سے مغربی پاکستان کے بڑے شہر‘ قصبے اور دور دراز کے علاقے آپس میں منسلک تھے ‘ انگریز کے زمانے کے تربیت یافتہ انجینئر‘ افسر اور انتظامی عملہ بہت ہی بہتر طریقے سے پورے نظام کو چلا رہا تھا‘ سول انجینئر‘ سگنل‘ ٹریفک اور کمرشل کیڈر کے ساتھ ساتھ میکنیکل اور الیکٹریکل انجینئرنگ کا بہترین عملہ موجود تھا‘ مسافر اور سامان کی ترسیل ریلوے کے دو اہم ترین شعبے تھے ‘مال کی ترسیل کے ذریعے جو کمائی ہوتی تھی اس سے مسافروں کو رعایت دی جاتی تھی۔

ریلوے حکام کی غفلت نے مسافروں کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے‘ کراچی میں ٹرینوں کی آمد اور روانگی کو مقررہ اوقات میں لانے پر محکمہ ریلوے ناکام ہو گیا ہے‘ مسافر موجودہ حکومت اور وزیر ریلوے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ بہتری کے بجائے صورت حال دن بدن بدتر ہو رہی ہے‘ بدانتظامی کا خمیازہ مسافر بھگت رہے ہیں‘ لوگوں کا کہنا ہے کہ نئی گاڑیاں چلانے کے بجائے پہلے سے چلنے والی ٹرینوں کی کارکردگی بہتر بنائی جائے۔

میرا ایک رشتہ دار کراچی سے گاؤں آ رہا تھا ‘ اس نے سارا دن گاڑی کے انتظار میں کراچی اسٹیشن پر گزارا ‘ وہ بتا رہا تھا کہ اتوار 21 جولائی کو کراچی ایکسپریس8 گھنٹے‘ تیزگام 4 گھنٹے‘ ہزارہ ایکسپریس2 گھنٹے‘ شاہ حسین ایکسپریس5 گھنٹے‘ پاکستان ایکسپریس 3 گھنٹے اور پشاور سے آنے والی عوامی ایکسپریس 5 گھنٹے تاخیر سے کراچی پہنچیں‘ اسی طرح متعدد گاڑیاں 3 سے 7 گھنٹے تاخیر سے کراچی سے روانہ ہوئیں اور یہ اب روز کا معمول بن گیا ہے۔

ہر اسٹیشن پر عوام پریشانی کا شکار ہوتے ہیں لیکن ریلوے حکام ٹرینوں کو معمول پر لانے میں ناکام ہیں‘ جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے‘ مسافروں کو شکایت ہے کہ ریلوے کا عملہ بھی انھیں درست معلومات فراہم کرنے سے قاصر ہے ‘ انکوائری کا نمبر بھی نہیں ملتا۔

ایک اخباری اطلاع کے مطابق11 جولائی کو اکبر ایکسپریس کے حادثے کے بعد خراب سگنلز اور ٹریک کی وجہ سے ریلوے کے ڈرائیور اب تک چھ خطرناک حادثات کو بچانے میں کامیاب ہوئے ہیں‘ ایک روز لاہور جانے والی خیبر میل کے ڈرائیور نے بڑی ہوشیاری سے ایمرجنسی بریک استعمال کر کے ایک بڑے حادثے کو بچایا‘ اس وقت نوشیرو فیروز سندھ کے محراب پور اسٹیشن کے لوپ لائن پر پہلے سے فرید ایکسپریس کھڑی تھی۔ اخبارات میں شایع خبروں کے مطابق ڈرائیوروں اور اسسٹنٹ ڈرائیوروں نے مطالبہ کیا تھا کہ نئی گاڑیاں چلانے سے قبل ریلوے لائن اور سگنلز کو ٹھیک کیا جائے ۔

پاکستان ٹرین ڈرائیور ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری شمس پرویز نے انگریزی معاصر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے کے حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سسٹم کی ناکامی کے ذمے داروں اور ان لوگوں کو جو ریلوے کی بگڑتی ہوئے خراب لائنوں کے باوجود غفلت کے مرتکب ہوئے ہیں‘ ان کو ایکسپوز کیا جائے‘حالانکہ ریلوے لائنوں کی دو سال میں لازمی مرمت کرنا ہوتی ہے ‘ریلوے کی یہ ایسوسی ایشن 2600 ڈرائیوروں کی نمایندگی کرتی ہے۔ جب سگنل کا سسٹم خراب ہو اور ریلوے لائن کی حالت بھی بدتر ہو تو ڈرائیور اپنے مسافروں کو کیسے بچا سکتے ہیں‘ ان حالات میں جب کہ ہر وقت حادثات کا خطرہ ہوتا ہے‘ تو بجائے خرابیاں دور کرنے کے حکمران نئی ٹرینیں چلا رہے ہیں‘یہ درست عمل نہیں۔

ہر شخص جانتا ہے کہ میانوالی ایکسپریس کا اجراء صرف وزیر اعظم کو خوش کرنے کی کوشش ہے ورنہ یہ لائن برسوں سے بند ہے کیونکہ مسافروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوتی تھی‘ کیا مسافر ایسی گاڑی میں سفر کریں گے جو میانوالی سے لاہور پانچ گھنٹے میں پہنچتی ہے‘ جب کہ سڑک کے راست سفر دو گھنٹوں کا ہے۔ اب تو گاڑیوں میں چوہوں اور کھٹملوں کی بھرمار کی وجہ سے بھی لوگ سفر کرنے سے خوفزدہ ہیں‘ یہ تصویریں ٹی وی پر بھی دکھائی جا رہی ہیں۔

وزیر ریلوے کو معلوم ہونا چاہیے کہ ریلوے کے نظام کو چلانے کے لیے بنیادی ضروریات فراہم کرنا ضروری ہوتی ہیں‘ ان میں بہتر ریلوے اسٹیشن سب سے ضروری ہیں‘ ہمارے اسٹیشنوں کی حالت انتہائی خراب ہے‘ کھانا بھی خراب ہوتا ہے‘ بیٹھنے کے لیے انتظار گاہیں بدترین حالت میں ہیں‘ آرام اور اچھی خوراک کا تصور محال ہے‘ ایسے حالات میں مسافروں کا سوچنا بھی محال ہے۔ حالانکہ ریلوے دنیا بھر میں سفر کا بہترین ذریعہ جانا جاتا ہے‘ یورپی ممالک‘ چین اور جاپان اپنے ریلوے نظام کو بہتر بنانے میں اربوں ڈالر لگا رہے ہیں‘ اب تو تیز ترین ٹرینوں کا مقابلہ ہو رہا ہے ‘یہ زمینی ذریعہ سفر کم خرچ اور ماحول دوست ہے ‘چین کی طرف سے ریلوے کی بہتری کا منصوبہ ML1 کافی عرصے میں مکمل ہو گا‘ اس سے قبل موجودہ نظام ٹھیک کرنا ضروری ہے۔

سب سے اہم مسئلہ تو ریلوے کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے خواہش ہونی چاہیے‘ صرف بیانات سے مسئلہ حل ہونے کے بجائے اور بھی خراب ہوتا ہے‘ اس وقت بھی ریلوے کا خسارہ 24 ارب سے زیادہ ہے۔ ریلوے کی ملکیت میں ایک اندازے کے مطابق 166,000 ایکڑ اراضی ہے‘ موجودہ حکومت اس قیمتی اثاثے کو نیلام کرنے کا سوچ رہی ہے حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اس اراضی کا بہتر استعمال کر کے اس سے مالی فائدہ اٹھائے‘ یہ اراضیات ریلوے کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مختص کی گئی تھی۔

The post ریلوے میں بہتری کی ضرورت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2MoXvaq

حسن ظن

یاردوستوں کی رائے ہے کہ ہمارا روئے سخن ہمیشہ موجودہ ’’سلیکٹیڈ‘‘ حکومتی پالیسیوں پر تلخ یا تند و تیز ہوتاہے، ہمارے احباب کا خیال ہے کہ ہم’’سلیکٹیڈ‘‘حکومت کے لیے تھوڑا ’’حسن ظن‘‘ رکھیں اور موجودہ اسٹیبلشمنٹ زدہ حکومت کی کارگزاریوں کو بھی مثبت انداز سے دیکھنے کا ہنر جانیں۔ان کے خیال میں ’’حسن ظن‘‘ رکھنے سے ہمیں موجودہ سلیکٹیڈ حکومت کے شاید کچھ مثبت کام بھی نظر آجائیں،ہمارے احباب کی بات کسی طور غیر معقول بھی نہیں لگتی،مگر ہمارے ہاں کی اردو کا چلن ’’آنگن ٹیڑھا‘‘ کی مانند دن بدن ترقی کے زینے طے کررہا ہے، سو ہمارے لیے ’حسن ظن‘ نوجوان نسل تک پہنچانا ایک سوہان روح بن چکا ہے۔

ہم ابھی تک اس مخمصے میں گرفتار ہیں کہ ہماری اردو سے نا بلد نسل کے لیے ہم ’’حسن ظن‘‘ کی شروعات ’ظ ‘ سے کریں یا ’ز‘ ۔ لہذا بہتر ہے کہ ہم اردو کی املا کے گورکھ دھندوں میں پڑے بغیر موجودہ سلیکٹیڈ کی چند کارگزاریوں پر نظر ڈال لیں۔

ہم ایک سال قبل قطعی نہیں جانتے تھے کہ تحریک انصاف کے 126دن والے دھرنے سے ہمارے کپتان لندن کے بی بی سی والی کی محبت میں ایک نئے رشتے سے جڑ جائیں گے اور نہ ہی ہم اس سے باخبر نہ تھے کہ الیکشن سے قبل ہمارے کپتان کی زندگی پھر کروٹ) U TURN ( لے گی اور وہ خانقاہوں پر ماتھا ٹیکتے ملیں گے، ہم تو بڑے خوش تھے کہ دھرنوں کے دوران راگ رنگ کی محافل سجانے والوں کے طفیل کم از کم موسیقی، لے، سر اور تال سے محروم کردی گئی قوم میں لطیف جذبے جاگیں گے اور ہر سو ساز راگ اور سر تال کے نغمے ہوں گے جس سے زندگی میں موسیقیت روح تک جا کر کم از کم مذہبی ٹھیکیداروں کی چودھراہٹ ختم کرنے کا تو سبب بنے گی، مگر اس دم ہمارے جذبات پہ اوس پڑ گئی جب ہمارے کپتان حجاب کے اسیر ہوئے اور مدینہ کی ریاست کے خواب کی تعمیر میں مکمل طور پر حکم کے پتے مانند ہو گئے، گو حجاب کی ہر صورت معاشرے میں عزت و تکریم کا سبب ہوتی ہے۔

لہذا ہم نے بھی چپ سادھ لی کہ حسن زن کی نجانے اور کونسی اقسام سے پالا پڑے۔ ’سو جان بچی تو لاکھوں پائے کے‘ مصداق ہم نے دم سادھے خانقاہی کرامات کے جوہر دیکھنے پر ہی اکتفا کیا۔ اسی دوران ملک میں انتخابات کی گھن گرج ہوئی اور الیکشن کمیشن نے اپنے نظام کی خرابی کا عندیہ دے کر خانقاہوں پہ ماتھا ٹیکنے کی کرامات دکھانے کے لیے عوام کو نوید دی کی تحریک انصاف اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے،گو تحریک انصاف وفاق اور پنجاب میں اپنی حکومت قائم کرنے کی پوزیشن میں نہیں، مگر حکومت کی باگ دوڑ ہر صورت جوڑ توڑ کرکے ’تحریک انصاف‘ ہی کو دلوانی ہے۔

خیر سے یہ مرحلہ بھی اپوزیشن پارٹی نے ’’ٹیکنیکل دھاندلی‘‘ کے الزام تحت متنازعہ کیا مگر خانقاہی کرامات نے آخر کار تحریک انصاف کی حکومت تبدیلی کے سہانے خواب کی آڑ میں ملک کے مقدر میں لکھ دی۔حکومت کے ابتدائی مرحلوں میں عوام سے کیے گئے بلند بانگ دعوؤں کی تکمیل کا سوال آیا تو ہمارے خانقاہی وزیراعظم نے تاریخی اصطلاح U TURN کی فلاسفی عوام کو سمجھائی کہ ’’ہر وعدہ تکمیل کے لیے نہیں ہوتا اور بڑا لیڈر اپنے فیصلوں پرکسی بھی وقت U TURN لے سکتا ہے کہ یہی ایک عظیم لیڈر کی پہچان اور اعلی صلاحیت ہے‘‘بلکہ یہ بھی کہا گیا کہ ہٹلر بیوقوف شخص تھا کہ جس نے جرمنی کی شکست کو قبول کر لیا مگر U TURNکا سہارا نہ لیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہٹلر ایسا عظیم رہنما آج تک تاریخ میں راندہ درگاہ ہے، ہمارے ادب اور صحافت کے ساتھی سے جب گفتگو میں مذکورہ بات کا ذکر ہوا تو انھوں نے اپنے خاص پنجابی لہجے میں ہمیں سمجھایا کہ ’’ایویں ئی بوگیاں مار دا اے، تسی سنجیدہ نہ لو اس نوں‘‘ ہم بونگی مارنے پر بھونچکا سے صرف انھیں تکتے ہی رہے۔

ملکی عوام کو اس پورے عرصے میں تحریک انصاف کے ترجمانوں کی فوج ظفر موج نے ’’احتساب اور کرپشن‘‘ کی ایسی ہوشربا داستانیں سنائیں کہ اب عوام ان پر بھی کان دھرنے پر تیار نظر نہیں آتے، بلکہ ہمارے خانقاہی کرامات کے صلے میں بننے والے وزیراعظم جب سعودی عرب، چین، ملائیشیا، دبئی، قطر، اور حتی کے امریکا گئے تو وہاں بھی بگڑتی ہوئی ملکی معاشی صورتحال کا ذمے دار ملک میں سابقہ حکمرانوں کی بد عنوانیوں کو ٹہرایا اور اس کی بالکل پرواہ نہ کی کہ عالمی دنیا میں بطور وزیراعظم ان کا امیج کیا بن رہا ہے، یا کون سے ملک کے سرمایہ دار ایک کرپٹ ملک میں سرمایہ لگائیں گے جہاں کے سربراہ کسی بھی وقت U TURN کا سہارا لے کر بیرونی سرمائے کو ضبط کر لیں، کہ دنیا عالمی عدالت سے ریکوڈک معاہدے پر جرمانے کی سزا کا فیصلہ دیکھ چکی تھی۔

ملکی عوام کو انصاف اور برابری کا درس دینے والے خانقاہی وزیراعظم اور ان کے رفقا نے پہلے احتساب کا ایسا نعرہ لگایا کہ عوام احتساب کو ایک ریاستی گالی کے سواکچھ نہ سمجھ پائی،جب عوام نے دیکھا کہ حکومتی صفوں میں بیٹھے بابر اعوان اور اطلاعات کی زن وزیر کے احتساب کے کیسز کو ’’نیب‘‘ نے صرف اس وجہ سے خارج یا دبا دیا کہ دونوں موصوف ریاست مدینہ کے متوقع والی کے نمک خوار بھونپو ہیں۔

اسی طرح حکومت میں وزیر با عصمت بنائے جانے والے علیم خان،پرویز خٹک پر متعدد بدعنوانی کے کیسسز ابھی موجود ہیں مگر ان کیسز کو چلانے کی رفتار کچھوے کی مانند کر دی گئی ہے جب کہ اپوزیشن اور خاص طور مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے ہر اس فرد کو نیب احتساب عدالتوں کے چکر لگوا رہی ہے،جس پر ذرا سا بھی شائبہ ہے،ریاست مدینہ میں انصاف کا بول بالا ایسا ہے کہ ابھی چند دنوں پہلے سابق وزیر اعظم کے مشیر اور صحافی عرفان صدیقی کو ایک بے سروپا الزام میں ’’ہتھکڑی‘‘ لگا کر رسوا کیا اور جیل یاترا کروائی،موصوف چونکہ درس و تدریس کے استاد بھی رہ چکے ہیں سو ریاست کے والی نے سبکی ہونے کے پیش نظر عدالت کے حکم پر لات مار کر عدالتی چھٹی والے روز عرفان صدیقی کو رہا کروا دیا،اسی طرح ریاست مدینہ کے جھوٹ کی پول کھولنے میں منہ کھولنے کی سزا نون لیگ کے رانا ثنا اللہ کو یہ دی گئی کہ ان پر منشیات اسمگلنگ کا کیس بنا دیا جس کا چالان عدالتی تاریخ پر مذکورہ محکمہ جب نہ دے سکا تو عدالتی جج نے قانوں کے تحت عدالتی کارروائی روک کر چالان کا تقاضا کیا،جس کے نتیجے میں مذکورہ جج کا تبادلہ وزارت قانون نے فوری کرنا مناسب سمجھا کہ کہیں حقائق منظر عام پر نہ آجائیں۔

ریاست مدینہ میں اظہار رائے کی صورتحال ہی عجیب و غریب بنا دی گئی ہے،ہر وہ اخبار یا چینل جو کہ سب کا نکتہ نظر دے رہا ہے یا تو وہ چینل بند کر دیا جاتا ہے یا پھر کیبل مافیا کے غلام مالکان سے کہہ کر اسے ایسے نمبر پر پھینک دیا جاتا ہے کہ عوام کی رسائی اس چینل پر آسانی سے نہ ہوسکے،دوسری جانب غیر منتخب اور میڈیا پر پابندیوں کی ذمے دار وزارت کی ’’زن وزیر اطلاعات‘‘ایسے طمطراق سے کراچی پریس کلب بلائی جاتی ہیں کہ چشم زدن میں وزیر موصوف تمام بیروزگار صحافیوں کی ادائیگیاں کر وادیں گی یا میڈیا کی آزادی کا اعلان تاریخی طور پر جمہوری روایات کے پریس کلب سے کریں گی۔۔مگر ڈھاک کے تین پات۔۔ کے مصداق انھوں نے کراچی پریس کلب کی جمہوری تاریخ کو بڑی شان سے لتاڑا اور صحافیوں کی رال ٹپکاتی تنظیموں سے رائے یا مشورہ تو درکنار انھیں بھنک بھی نہیں پڑنے دی کہ وہ اگلے روز صحافتی آزادی کا مزید گلاگھونٹنے کا منصوبہ ’’میڈیا کورٹس‘‘ کی شکل میں سب کے سامنے لائیں گی، شکر ہے صحافیوں کے سواد اعظم نے میڈیا کورٹس کو مسترد کردیا۔ ہمیں کراچی پریس کلب اور صحافتی تنظیموں سے ہمدردی ہے کہ وہ غیر سیاسی تربیت کی بنا بہت جلدی افراد پر اعتبار کر لیتے ہیں۔

The post حسن ظن appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2SYHJnV

پاکستان ریلوے کا وجود ناگزیر

پاکستان ریلوے میں ناگہانی حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے ادارے کے ملازمین کے جسمانی، دماغی اور طبی سمیت جملہ ٹیسٹ کروانے اور تمام ڈرائیوروں کی کارکردگی جانچنے کے لیے مانیٹرنگ کیمرے نصب کرنے کی سفارش کی ہے تاکہ ڈرائیور اور معاون ڈرائیورکو مانیٹرکیا جاسکے۔ جہاں انٹرنیٹ سہولیات ہیں وہاں براہ راست کوریج ہوگی جب کہ دور دراز علاقوں کی ریکارڈنگ محفوظ کی جائے گی۔

سینیٹر مرزا محمد آفریدی نے بتایا کہ اکثر حادثات میں سامنے آیا ہے کہ ڈرائیور سوگیا تھا۔ جب بسوں میں کیمرے لگ سکتے ہیں تو ٹرینوں میں کیوں نہیں لگ سکتے؟ ڈرائیوروں کو لازمی آرام کرنے کی پابندی پر بھی سختی سے عملدرآمد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ کمیٹی نے حالیہ حادثے پر وزارت ریلوے سے ڈرائیور اور اسٹیشن ماسٹرکی میڈیکل ٹیسٹ رپورٹ بھی طلب کرلی ہیں تاکہ نشے کے استعمال کا پتہ بھی چلایا جاسکے۔

مکمل فٹنس، مضبوط اعصاب، بیداریٔ مغز، قوت فیصلہ اور کسی ممکنہ خطرے سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت ٹرین ڈرائیور کے پیشے کی بنیادی ضروریات ہیں، ان میں سے کسی ایک صلاحیت کی کمی بھی حادثات کے امکانات بڑھا دیتی ہے۔ دوران سفر ایک ڈرائیور کے ہاتھ میں ہزاروں زندگیاں اور اربوں کی املاک ہوتی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش کردہ سفارشات کی روشنی میں ہمیں جنوری 1990ء میں سانگی میں پیش آنیوالا ٹرین حادثہ یاد آگیا۔

جب ہم راولپنڈی سے کراچی کے لیے تیزگام میں سوار ہوئے اخبار میں ایک چھوٹی سی خبر سانگی ٹرین حادثے سے متعلق چھپی تھی جسے مجھ سمیت دیگر مسافروں نے ایک عمومی سی خبر گردانتے ہوئے کوئی خاص اہمیت نہیں دی۔ ٹرین روانہ ہوئی اور آہستہ آہستہ لیٹ ہوتی گئی ہر اسٹیشن پر حادثے سے متعلق خبریں اور تفصیلات موصول ہوتی رہیں یہاں تک کہ سندھ کے مختلف اسٹیشنوں پر رکتے رکاتے بالآخر گھوٹکی پر ٹرین نے مستقل ڈیرہ ڈال دیا۔

مسافروں کے کھانے پینے کی اشیا ختم ہوچکی تھیں۔ ڈائننگ کار میں بھی کچھ موجود نہیں تھا۔ حتیٰ کہ شیر خوار بچوں کا دودھ تک ختم ہوچکا تھا۔ کچھ خدا ترس لوگ بچوں کے لیے دودھ لے کر،کچھ اچارکے ٹین اور ہاتھوں میں روٹیاں تھامے لوگوں کو روٹی پر اچار رکھ کر کھانے کے لیے دے رہے تھے۔اس دوران ریلوے انتظامیہ کا کوئی کردار نظر نہیں آرہا تھا نہ کوئی کوآرڈینیشن تھا نہ کوئی انفارمیشن کا سلسلہ صرف افواہیں، قیاس آرائیاں اور رائے زنی کی فضا قائم تھی کسی کوکچھ پتہ نہیں تھا کہ کیا ہوا اور کیا ہونے جا رہا ہے۔

ذکریا ایکسپریس کے اس حادثے میں 700 کے قریب مسافر اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے ہزاروں زخمی تھے۔ حادثے کا شکار ٹرینوں کو دیکھ کر وحشت ہو رہی تھی تمام ریلوے نظام جام ہو چکا تھا۔ ریلوے ٹریک پر کئی گاڑیاں آگے پیچھے اور برابر برابر کھڑی ہوئی تھیں۔ ان کے ڈرائیور ریلوے لائنوں پر بیٹھے آپس میں بات چیت کر رہے تھے کچھ مسافر بھی ان کی گفتگو میں شریک تھے۔

ڈرائیور حضرات اپنی پریشانیاں اور مسائل بیان کر رہے تھے جو واقعی غور اور اصلاح طلب تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سے لمبی لمبی ڈیوٹیاں لی جاتی ہیں ٹرین لیٹ ہوجائے تو ذمے داری ڈرائیوروں پر ڈال دی جاتی ہے۔ ٹرین کا گارڈ بار بار ہارن بجانے کے باوجود ہری جھنڈی نہیں ہلاتا، سامان لوڈ کروانے کے چکر میں رہتا ہے۔ ٹرین کی تاخیر کو اس کی رفتار بڑھا کرکورکرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ پٹریاں اس قابل نہیں ہوتیں کہ ان پر زیادہ تیز رفتاری سے چلا جائے۔ اگرکوئی حادثہ رونما ہوجائے تو ریلوے کے مختلف شعبہ جات کے سربراہان اپنی اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے آسان راستہ یہ اختیار کرتے ہیں کہ ساری ذمے داری ڈرائیور پر ڈال دی جائے جس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ہے۔

اگر کوئی واردات ہوجائے تو پولیس اہلکار سیٹوں کے نیچے چھپ کر اپنی جانیں بچانے میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔ ہم نے ڈرائیور سے دریافت کیا کہ آپ کی ٹرین میں وائرلیس یا کمیونی کیشن کا نظام تو ہوگا جس سے آپ اپنے کنٹرول روم یا آپریشن روم سے رابطے میں رہتے ہوں گے تو ہم پر پہلی بار اس بات کا انکشاف ہوا کہ ٹرین میں ایسا کوئی نظام نہیں ہوتا وہ صرف اللہ کے آسرے، سگنل کی بتی اورکیبن سے ہلائی جانیوالی لائٹوں کے اشارے پر اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔

ہم نے ڈرائیور سے سوال کیا کہ اگر آپ کی ٹرین درمیان میں خراب ہوجائے تو آپ کیسے رابطہ کرتے ہیں کیونکہ غلطی سے اس لائن پر دوسری ٹرین بھی آسکتی ہے تو اس نے بتایا کہ ریلوے انتظامیہ انھیں پٹاخے فراہم کرتا ہے اگر ٹرین خراب ہوجائے تو وہ دوڑتے ہوئے جاتے ہیں اور چند فرلانگ کے فاصلے پر ریلوے لائن پر ایک پٹاخہ باندھ دیتے ہیں پھر کچھ فاصلے پر دوسرا اور اسی طرح تیسرا پٹاخہ بھی باندھ دیا جاتا ہے تاکہ غلطی سے کوئی ٹرین آجائے تو پہلا پٹاخہ بجنے سے ڈرائیور خبردار ہوجائے گا کہ آگے کوئی بریک ڈاؤن ہے اس طرح دوسرا اور تیسرا پٹاخہ اسے مزید خبردار کردے گا تاکہ وہ ٹرین روک لے۔ جو ڈرائیور حضرات مسافروں سے بات چیت کر رہے تھے ان کی صحت کا معیار بھی اچھا نظر نہیں آ رہا تھا۔ ہم سب حیران و پریشان تھے کہ جدید سائنسی ترقی کے اس دور میں ہماری ٹرینوں میں کمیونی کیشن کا کوئی نظام ہے نہ ڈرائیوروں کی صحت اس کی دیکھ بھال اور جانچ پڑتال کا عملی نظام ہے۔

2012ء میں تو پاکستان ریلوے حکام کی نااہلیوں، بدعنوانیوں اور بداعمالیوں کی وجہ سے اس نہج پر پہنچ چکی تھی کہ رقم کی عدم ادائیگیوں پر اسے PSO نے تیل کی ترسیل بند کردی تھی۔ تیل، انجن اور اسپیئر پارٹس نہ ہونے کی وجہ سے ٹرینیں راستوں میں رکنے لگی تھیں۔ مختلف ٹرینوں کو ایک انجن سے چلایا جا رہا تھا ٹرینیں منسوخ کی جا رہی تھیں گھنٹوں کی تاخیر دنوں پر محیط ہوگئی تھی ٹرین روٹس بند کیے جا رہے تھے جس پر نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے ان کی بندش رکوا دی۔ ملازمین کی تنخواہ اور پنشن تک کے لیے رقم نہیں تھی۔ مسافر پلیٹ فارموں پر سراپا احتجاج اور توڑ پھوڑ پر مجبور تھے۔ یونینز انتظامیہ پر کرپشن کے سنگین الزامات اور ان کی نشاندہی کر رہی تھیں۔ وزیر ریلوے کی ذمے داری کا یہ عالم تھا کہ فرما رہے تھے کہ یہی حالت رہی تو انشا اللہ ریلوے بند ہوجائے گی۔ موصوف کا کہنا تھا کہ دنیا کے بہت سے ملکوں میں ریلوے نظام نہیں ہے۔ وہاں بھی تو لوگ سفرکرتے ہیں۔

وزیر موصوف کے اس بیان اور سوچ پر سر پیٹنے کو جی چاہتا تھا۔ ریلوے جس سے روزانہ لاکھوں اور سالانہ کروڑوں افراد سفر کرتے ہیں جس سے سالانہ 6 ملین ٹن سے زائد سامان کی ترسیل ہوتی ہے، جس سے صرف مسافروں سے کرایہ کی مد میں 35 ملین روپے سالانہ کی آمدن ہوتی ہے سب سے بڑھ کر اس کی ایک دفاعی نوعیت بھی ہے کیا اس کا متبادل کوئی ٹرانسپورٹ نظام ہوسکتا ہے؟

بلاشبہ سابقہ وزیر ریلوے سعد رفیق کے دور میں ریلوے کی حالت میں کافی بہتری آئی نئی ٹرینوں کا اجرا ہوا، کئی مرتبہ کرایوں میں کمی اور سہولیات میں اضافہ کیا گیا۔ خسارے کو کنٹرول کرکے ریلوے کو رواں دواں کر دیا گیا مگر موجودہ وزیر ریلوے کے آتے ہی اکھاڑ پچھاڑ شروع کردی گئی۔ اجلاسوں میں افسران کی کردار کشی اور تذلیل کی گئی کچھ کو جبری رخصت پر بھیجنے اور کچھ کی طویل رخصت اور ریٹائرمنٹ کی خبریں آتی رہی ہیں جس سے ادارے کی کارکردگی پھر رو بہ زوال ہے۔ ان کے دور میں 40 سے زائد حادثات میں قیمتی جانوں کے علاوہ اربوں کی املاک بھی ضایع ہوئی۔

ادارہ اس وقت مستحکم ہو سکتا ہے جب اس میں اہل و دیانت دار افسران کی رائے کو اہمیت دی جائے۔ ادارے کے مسائل کو سمجھنے والے اہل، مخلص اور دیانت دار شخص کو بغیر کسی مداخلت کے اپنے فرائض سرانجام دینے کے لیے تعینات کیا جائے جو اپنی صلاحیت و قابلیت کے ذریعے ادارے کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم کنار کرکے دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرکے پاکستان ریلوے سے براہ راست لاکھوں افراد کا معاشی مفاد و مستقبل اور کروڑوں کا سفری مفاد وابستہ ہے یہ دفاعی اہمیت کا بھی حامل ہے جس کا متبادل کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہو سکتا ہے۔

کراچی سرکلر ریلوے کی مثال ہمارے سامنے ہے جسے کئی عشرے قبل غیر ضروری اور غیر منافع بخش قرار دے کر ختم کردیا گیا تھا لیکن آج اس کی بحالی کے لیے بیرونی ممالک سے قرضہ اور امداد لے کر دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دیا جارہا ہے۔

The post پاکستان ریلوے کا وجود ناگزیر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2YBnIsI

سپر ہائی وے ڈیمز میں شگاف، گرڈ اسٹیشن، آبادیاں اور مویشی منڈی زیر آب

کراچی: لٹھ اور تھڈو ڈیم میں شگاف پڑنے سے سپرہائی وے سے متصل کے ڈی اے گرڈ اسٹیشن ، رہائشی گوٹھ ، سوسائٹیاں اور مویشی منڈی کا بیشتر حصہ زیر آب آگیا۔

گڈاپ ٹاؤن میں لٹھ ڈیم اور تھڈو ڈیم میں شگاف پڑنے سے برساتی پانی کا ریلا سپر ہائی وے تک پہنچ گیا جس کسے باعث کراچی سے حیدرآباد جانے والا ٹریک زیر آب آگیا اور ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا، سیلابی ریلا موٹروے ایم نائن کے نیچے پانی کی نکاسی کے راستوں سے ہوتا ہوا سعدی گارڈن گلشن عثمان ، سعدی ٹاؤن ، اسکیم 33 میں کے ڈی اے گرڈ اسٹیشن سے ہوتا ہوا مدینہ کالونی اور اس کے اطراف میں درجن سے زائد گوٹھوں میں داخل ہوگیا۔

اسکیم 33 میں کے الیکٹرک کے 220 کے وی کے گرڈ اسٹیشن میں بھی پانی بھرجانے کی وجہ سے ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی، فوج کے دستوں نے مٹی کے بند بناکر مزید پانی گرڈ اسٹیشن میں داخل ہونے سے روکا مگر پمپ کی مدد پہلے سے جمع پانی کو نکالنے میں 18 گھنٹے سے زائد وقت لگ گیا۔

صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے فوج نے ریسکیو آپریشن شروع کردیا فوج کے جوانوں نے سب سے پہلے گرڈ اسٹیشن کے چاروں طرف مٹی کے ڈھیر لگاکر پانی کے جانے کا راستہ روک کر گرڈ اسٹیشن سے پانی کی نکاسی شروع کردی، سیلابی ریلے کے راستے میں آنے والے گوٹھوں کے مکینوں کو لائف بوٹ کی مدد سے محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کردیا۔

ریسکیو آپریشن میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن ، این ایچ اے اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے حصہ لیا، پانی کی نکاسی کے بعد کئی گھنٹے معطل رہنے والے سپر ہائی وے کے ٹریک کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔

مدینہ کالونی کے مکینوں کا کہنا تھا کہ سعدی گارڈن میں اثر رسوخ والے لوگ رہتے ہیں جس کے باعث سپرہائی وے سے آنے والا پانی وہاں سے جانے سے روک کر مویشی منڈی ، اور سپر ہائی وے کے اطراف میں واقع گوٹھوں کی طرف موڑ دیا گیا ہے جس سے علاقے کے گھروں میں پانی داخل ہوگیا ان کا کہنا تھا کہ پانی کے آنے کی رفتار کو دیکھتے ہوئے علاقے کے بیشتر رہائشیوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے جبکہ گھر کا ایک فرد صرف چوکیداری کے لیے رک گیا ہے۔

لٹھ ڈیم اور تھڈو ڈیم سے برساتی پانی کے ریلے نے ضلع ملیرکی اسکیم 33 کے کئی علاقوں میں تباہی مچادی، سعدی ٹاؤن، سعدی گارڈن، مدینہ کالونی، عبداللہ شاہ غازی گوٹھ جی بلاک، قریشی سوسائٹی، محمد خان گوٹھ، گلشن عثمان، پی ایس 99 اور پی ایس 100 کی کئی آبادیوں میں برساتی ریلا گھس گیا۔

منگل کی شب لٹھ اور تھڈو ڈیم سے آنے والے برساتی پانی نے چند گھنٹوں میں ہی ان علاقوں کو دریا میں بدل دیا، سعدی ٹاؤن اور مدینہ کالونی کے مکینوں کا کہنا تھا کہ مویشی منڈی کے ایک بیوپاری نے بتایا کہ وہ ڈھرکی سے 35 جانور کے ساتھ منڈی آیا تھا جہاں منڈی میں اس نے 38 نمبر بلاک میں 80 ہزار روپے میں جگہ حاصل کی تھی۔

انتظامیہ نے جگہ دیتے وقت تمام سہولتیں دینے کا وعدہ کیا تھا تاہم سیلاب کے آتے ہی انتظامیہ کہیں نظر نہیں آرہی اس نے بتایا کہ وہ اپنی 10 گائے بمشکل پانی میں سے نکال سکا ہے جبکہ دیگر گائے اور کھانے پینے کا سامان وہیں پھنسا ہوا ہے گھوٹکی کے بیوپاری کا کہنا تھا کہ سیلاب کے باعث 100 کے قریب بیل اور گائیں مرچکی ہیں مویشی منڈی کے کوآرڈی نیٹر نے ایکسپریس کو بتایا کہ38 نمبر بلاک کے کوئی پیسے نہیں لیے گئے وہ جگہ بیوپاریوں کو فری دی گئی ہے۔

کراچی میں پیر اور منگل کو ہونے والی موسلادھار بارشوں کے بعد سپر ہائی وے پر سبزی منڈی بھی زیر آب آگئی، سبزی منڈی میں پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گھٹنوں گھٹنوں پانی جمع ہوگیا، گندگی اور کچرے نے کیچڑ کی شکل اختیار کرلی،کیچڑ سبزی منڈی کی گلیوں میں دور تک پھیلا ہوا ہے۔

سبزی سیکشن کے تاجروں کے مطابق مارکیٹ کمیٹی انٹری اور دکانوں کے کرایے کی مد میں کروڑوں روپے وصول کرتی ہے لیکن نکاسی آب کا نظام بہتر نہیں بنایا جاتا سبزی سیکشن کی گلیاں کچی ہیں اس لیے بارشوں کے علاوہ عام دنوں میں بھی یہاں پانی کھڑا رہتا ہے۔

حالیہ بارشوں میں منڈی میں جگہ جگہ بارش کا پانی کھڑا ہے منڈی کے داخلی دروازوں پر گڑھوں میں بارش کا پانی اور کیچڑ جمع ہے جس کی وجہ سے گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہے، منڈی میں صفائی اور پانی کی نکاسی نہ ہونے پر آلودہ ماحول میں ہی سبزیاں فروخت کی جارہی ہیں جس سے بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے، منڈی میں جگہ جگہ گندگی اور گلی سڑی سبزیوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جن سے بدبو اور تعفن اٹھ رہا ہے۔

تاجروں کے مطابق منڈی میں کاروبار کے لیے آنے والوں کا اپنی دکانوں تک پہنچنا محال ہوگیا ہے ایسے میں شہر سے کوئی خریدار کیسے آئے گا، دکانوں کے سامنے پانی کھڑا ہے اور دکانوں کے تھڑوں پر کیچڑ پھیل گئی ہے آڑھتی مال اونے پونے فروخت کررہے ہیں۔

ملیر ندی : برساتی ریلا آنے سے کورنگی کا رابطہ شہر سے کٹ گیا

بدھ کی صبح ملیر ندی سے برساتی پانی کا بڑا ریلا گزرنے کے باعث کورنگی کاز وے اورکورنگی کراسنگ روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے جس کے باعث کورنگی صنعتی ایریا جانے والے 2 مرکزی راستے بند ہونے سے بلوچ کالونی پل ،ایکسپریس وے،قیوم آباد چورنگی،کورنگی کراسنگ،کورنگی روڈ، بروکس چورنگی اور ڈیفنس روڈ پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا، گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور صبح سویرے دفاتر اور روز مرہ کے کاموں کے لیے گھر سے نکلنے والے ہزاروں شہری ٹریفک جام میں پھنس گئے۔

کورنگی صنعتی ایریا جانے کے لیے واحد راستہ قیوم آباد چورنگی سے جام صادق پل ہے جہاں ٹریفک کا شدید دبائو ہے ٹریفک جام میں پھنسے شہریوں کی مدد کے لیے ٹریفک اہلکار سڑکوں پر موجود رہے لیکن صورتحال ٹریفک پولیس اہلکاروں کے بس سے باہر رہی، قیوم آباد چورنگی اور ایکسپریس وے پر جگہ جگہ بارش کا پانی جمع ہونے اور نکاسی نہ ہونے سے ٹریفک کے مسائل میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

ٹریفک پولیس حکام کے مطابق ٹریفک پولیس نے کے پی ٹی انٹرچینج اورجام صادق پل کے درمیان جمع پانی کی نکاس کے لیے ہیوی مشینری سے فٹ پاتھ توڑ کر پانی کو نکالا جا رہا ہے۔

برساتی ریلے میں 2 بچے ڈوب کر ہلاک، ایک لاپتہ، دوسری بچی کو بچا لیا گیا

سپر ہائی وے نیو سبزی منڈی پاور ہاؤس کے قریب برساتی پانی کے ریلے میں کمسن لڑکا ڈوب گیا جس کی اطلاع پر ایدھی کے غوطہ خور موقع پر پہنچ گئے اور سخت جدوجہد کے بعد ڈوبنے والے لڑکے کی لاش نکال کر قریب ہی اسپتال پہنچائی جہاں متوفی کی شناخت 3 سالہ امجد کے نام سے ہوئی ہے جو کہ اسی علاقے کا رہائشی تھا،ملیر میمن گوٹھ عثمان خاصخیلی گوٹھ میں برساتی پانی کے ریلے میں 2 بہنیں ڈوب گئیں جس کی اطلاع ملتے ہی ایدھی بحری خدمات کے رضا کاروں نے موقع پر پہنچ کر ڈوبنے والی 12 سالہ مسکان دختر حکیم کی لاش نکال لی۔

دوسری بہن کو تشویش ناک حالت میں نکال کر قریب اسپتال پہنچایا جہاں ڈاکٹر اس کی جان بچانے کی کوششیں کر رہے ہیں ،اسکیم 33 کے قریب برساتی پانی میں نوعمر لڑکا ڈوب کر لاپتہ ہوگیا جس کی اطلاع ملتے ہی ایدھی کے رضا کار موقع پر پہنچ گئے، اس کی تلاش شروع کر دی تاہم کامیابی نہ مل سکی۔

واضح رہے کہ پیر سے شروع ہونے والی موسلا دھار بارشوں کے بعد شہر کے بیشتر علاقوں میں پانی جمع ہے ،بلدیاتی اداروں اور واٹر بورڈ کی جانب سے نکاسی آب کے انتظامات نہ کیے جانے کے باعث برساتی پانی میں کمسن بچے اور راہ گیر ڈوب کر ہلاک ہوچکے ہیں۔

شہرمیں 172ملی میٹر بارش ریکارڈنارتھ کراچی میں88 ملی میٹر بارش ہوئی

محکمہ موسمیات کے مطابق سرجانی ٹاون میں 2مختلف مراحل کے دوران 100 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ ہوئی ہے،اس سے قبل محکمہ موسمیات کی جانب سے زیادہ سے زیادہ 164 ملی میٹر بارش ہونے کی پیش گوئی کی گئی تھی تاہم منگل اور بدھ کی درمیانی شب سرجانی ٹائون میں مزید بارش ریکارڈ ہوئی، سب سے کم بارش کیماڑی میں 31.3ملی میٹر(ڈیڑھ انچ کے لگ بھگ) ریکارڈ ہوئی۔

شہر کے دیگر علاقوں نارتھ کراچی88،گلشن حدید78، بیس فیصل 87،یونیورسٹی روڈ 74.6،جناح ٹرمینل 69.4 ،بیس مسرور82،ناظم آباد 65.7، لانڈھی59، ایئرپورٹ 62.3ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئیں۔

The post سپر ہائی وے ڈیمز میں شگاف، گرڈ اسٹیشن، آبادیاں اور مویشی منڈی زیر آب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2ytWJkk

ٹرین، بھوت اورکتاب

رات تاریک تھی۔ ریل کے ڈبے میں دو ہی مسافر تھے۔ خاموش، منتظر کہ کوئی ایک گفتگو کا آغازکرے۔آخر ایک شخص کھنکارکر اپنا گلا صاف کرتا ہے، سامنے والے سے پوچھتا ہے ’’جناب کیا آپ بھوتوں پر یقین رکھتے ہیں؟‘‘

دوسرا شخص اطمینان سے جواب دیتا ہے ’’ نہیں‘‘ اور اگلے ہی پل غائب ہو جاتا ہے۔

اگر زندگی کے کسی موڑ پر ملنے والا کوئی شخص اِس طرح ، اچانک ، جدا ہو جائے تو آپ مرتے دم تک اسے نہیں بھولیں گے، لیکن ایسا خال خال ہی ہوتا ہے کہ ملاقاتی آپ کے ذہن پے نہ مٹنے والے نقوش چھوڑ جائے۔ عام طور پر ملاقاتیں، عام سی ہوتی ہیں۔ لوگ تقریبات میں ملتے ہیں، گپ شپ کرتے ہیں، فون پر طویل مکالمہ ہوتا ہے اور پھر وہ، کچھ عرصے بعد،ایک دوسرے کو بھول جاتے ہیں۔ بھول جاتے ہیں کہ وہ کس تقریب میں ملے تھے، کس موضوع پر انھوں نے گپ شپ کی، مکالمے کا موضوع کیا تھا اور یہ قابل فہم ہے۔

عام زندگی میں ، عام ملاقاتوں میں کبھی کوئی شخص یوں پراسرار، چونکا دینے والے انداز میں غائب نہیں ہوتا ۔ ہاں، اگر وہ شخص صاحب کتاب ہو، ایک لکھاری، ایک تخلیق کار ہو، تو اس کے پاس ایک ایسا ذریعہ بہ ہرحال ہوتا ہے ہے ، جس سے وہ اپنی یاد آپ کے ذہن کے محفوظ ترین گوشے میں پہنچا دے۔ اور ایسا وہ اپنی کتاب کے وسیلے سے کرتا ہے۔

جی، کتاب کے وسیلے۔ جب آپ اسے بھول بھی جاتے ہیں، تب بھی وہ کہیں نہ کہیں موجود ہوتا ہے،آپ کے شیلف میں، آپ کے بستر کے سرہانے،گھر میں کہیں بہت سی کتابوں کے نیچے دبا ہوا یا پھر اس ڈبے میں بند ، جسے آپ نے ایک سے دوسرے مکان میں منتقل ہونے کے بعد تاحال نہیں کھولا۔ تو وہ موجود رہتا ہے، آپ کے پاس۔ خاموش۔ انتظار کرتا ہوا۔ ٹھیک ویسے ہی، جیسے آدم شیر میرے ساتھ موجود ہے، اپنی کتاب’’اک چپ سو دکھ‘‘ کے وسیلے سے ۔ ایک ایسی کتاب جسے پڑھ کے ہمیں یہ ادراک ہوتا ہے کہ اس کا لکھنے والا تلخی حیات کا ترجمان ہے۔

ایک سچا، کھرا صحافی ہے ۔ وہ صحافی ، جس کی زبان پرگرفت متاثرکن ہے، فکشن لکھنے کے لیے موزوں۔ کہانی سے انصاف کرنے کو تیار۔ اور پھر اس کے پاس ایک حساس دل ہے، جو اوروں کا کرب، اوروں کی تکالیف یوں محسوس کرتا ہے، جسے وہ اس کی اپنی تکلیف ہو۔ اوروں کے المیوں سے اس کا قلم خوب انصاف کرتا ہے، بالخصوص جب موضوع معصوم بچے ہوں۔

بیماری، ہراسگی، زیادتی جیسے سانحوں کے آس پاس منڈلاتے معصوم بچے۔ آدم کے دل میں بھی ایک بچہ چلتا پھرتا ہے، جسے وہ ایک فکشن نگارکی نگاہ سے دیکھ سکتا ہے، اسے لکھ سکتا ہے۔ اس کے فکشن میں حساسیت کے ساتھ ساتھ ہمارا سامنا یاسیت سے بھی ہوتا ہے، جو اگرچہ قاری کے لیے دل پذیر نہیں، مگر بہ ہرحال زندگی کا حصہ ہے۔ اچھا، اسی ٹرین میں ہم ایک اور افسانہ نگار سے ملتے ہیں، جس کا نام ہے، ظفر عمران۔ قلم اس کا رواں۔ انداز میں شوخی اور شرارت ۔زندگی کا تجربہ بھی، اور مشاہدہ بھی۔

’ آئینہ نما‘ کی صورت عمران اپنا فن ہمارے سامنے لاتا ہے۔ اس کے پاس سنانے کو کہانیاں ہیں، ان کرداروں کی کہانیاں، جنھیں اس نے اپنے ارد گرد شناخت کیا، جن سے وہ ملا، جن کے ساتھ جیا، جن کے ساتھ سفر کیے۔ اور اُن حقیقی کرداروں کی افسانوی کہانی ہمارے سامنے آتی ہے۔ جمی ہوئی زبان میں، جہاں املا کی صحت کا خاص خیال رکھا گیا۔ اتنا کہ کبھی کبھی پڑھنے والے کو کھلنے لگتا ہے ۔جنس اس کے بیش تر افسانوں کا موضوع ہے، عورت بیش تر افسانوں کا کردار۔ یوںجنس اور عورت کے وسیلہ وہ پہلے ہی مرحلے میں اپنی توجہ ہماری جانب مبذول کرا لیتا ہے۔ افسانوں کے عنوانات توجہ مہمیز کرتے ہیں۔

اسکرپٹ رائٹنگ میں ہمارے دوست کی خوب گرفت۔ ان افسانوں میں بھی اسکرپٹ رائٹنگ کا ڈھب کار فرما۔ تکنیک کے بھی تجربات ملتے ہیں، جو چند افسانوں کی اہمیت کو دو چندکر دیتے ہیں۔ ہاں، ان افسانوں کو پڑھتے ہوئے یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ آخر بار بار افسانہ نگار (ظفر عمران کی صورت) ہمارے سامنے کیوں آ جاتا ہے؟ بہ ظاہر اس میں کوئی خامی نہیں، لیکن یہ چیز قارئین کو متوجہ ضرورکرتی ہے۔

قصہ مختصر، جنس ،عورت اور مصنف ایک تکون بناتے ہیں، جس کی چوتھی جہت دل چسپ کہانیاں ہیں، جن کی رفتار تیز ہے۔ یہ پیپر بیک کتاب بڑی دل کش ہے۔ بھلی لگتی ہے۔ٹرین آگے بڑھ رہی ہے، ایک کے بعد دوسرا اسٹیشن، دوسرے کے بعد تیسرا۔ شام اتر آتی ہے،آسمان پر تارے ہیں اور پھر ڈبے میں ایک ایسا فکشن نگار داخل ہوتا ہے، جس کے ماتھے پر دانائی کی چمک ہے۔ یہ کراچی کا باسی ہے، جس کا نام ارشد رضوی ہے۔یہ کئی برس پہلے کی بات ہے، کراچی پریس کلب میں ہونے والی ایک تقریب میں، جناب زیب اذکار حسین صاحب نے راقم کو افسانہ پڑھنے کی دعوت دی۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب افسانہ نگاری شروع کیے تین چار برس ہوئے تھے، ترقی پسند رنگ غالب تھا۔ اس روز اے خیام کی صدارت تھی۔ تقریب میں پہنچے، دھڑکتے دل کے ساتھ افسانہ سنایا۔

پھر ہم نے دیگر کو سنا۔ ان ہی لکھنے والوں میں، پڑھنے والوں میں ڈاکٹر ارشدرضوی بھی موجود تھے۔ ان کے افسانے میں ایسا رنگ تھا، جو پوری مجلس پر چھاگیا۔ سننے والوں کو انھوں نے گرویدہ بنا لیا۔ تجریدی افسانے لکھنے والے اس شخص سے یہ میرا پہلا تعارف تھا، اور متاثر کن تھا۔ بعدازاں روزنامہ ایکسپریس کے لیے ان کا ایک انٹرویوکیا، جس میں ان کے افسانے اور ان کی شخصیت کے درمیان ایک ربط دریافت ہوا۔ ایک اداس ربط۔ افسانے میں دانش کی جھلک شرط تو نہیں ہیں، مگر اس کی موجودگی فکشن کو ایک نئی جہت ضرورت عطا کرتی ہے، یہ حقیقت ڈاکٹر ارشد رضوی کی تازہ کتاب ’’ بے ترتیب کہانیاں‘‘ میں بھی دکھائی دیتی ہے۔

یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ آج کراچی میں اخلاق احمد ، اجمل اعجاز، محمد امین الدین اور جناب ارشد رضوی جیسے افسانہ نگار موجود۔ رفاقت حیات اور سید کاشف رضا بھی اپنے ناولزکے ساتھ ہمیں میسر۔اسد محمد خان، ڈاکٹر حسن منظر، زاہدہ حنا اور اے خیام جیسے ناموں کی فہرست تو معتبر ٹھہری، اگر ارشد رضوی اسی ڈھب پر مسلسل لکھتے رہے، تو وہ ان بزرگوں اور نئی نسل کے درمیان پل کا کا کردار دار ادا کر سکتے ہیں۔صاحب، آج کا سفر تمام ہوا۔آج کی کہانی اختتام کو پہنچی۔ پھر ملیں گے،کسی ریل کے ڈبے میں، ایک اجنبی سے، جو صاحب کتاب ہوگا اور یوں ایک مختصر سی ملاقات بھی اپنے اختتام کے بعد۔۔۔ جاری رہے۔

The post ٹرین، بھوت اورکتاب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2ytWOo8

سورائسس (PSORISIS)

انسانی جسم کو اس کی ساخت دینے میں ہماری جلد اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انسانی جلد تین تہوں پر مشتمل ہوتی ہے اور سب سے بیرونی تہہ غیر معمولی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔

ہماری جلد (Skin) بہت سی چیزوں سے مل کر بنتی ہے جن میں پانی، پروٹین اور معدنیات وغیرہ شامل ہیں۔ ہم اپنے آپ کو دوسروں کی نظر میں خوبصورت بنانے کے لیے اپنی جلد کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ناقص غذا اور آلودہ پانی بہت سے جلدی امراض کا باعث بنتے ہیں۔ انہی جلدی امراض میں سے ایک مرض سورائسس (Psorisis) ہے۔ اسے مقامی طور پر ’چنبل‘ کہا جاتا ہے۔ یہ مرض صدیوں پرانا ہے۔

حالیہ دور میں ناقص غذا اور آلودہ پانی اس کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔ یہ مرض جسم کے ایک حصے سے شروع ہوکر پورے جسم کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ یہ جلد کی عام بیماری ہے جو جلد کے خلیات (Cells) کی زندگی کو کم کردیتی ہے جس کے باعث جلد پر بڑھاپے کی علامات تیزی سے نمودار ہونے لگتی ہیں یعنی جلد کے خلیے اپنی معمول کی عمر پوری ہونے سے پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اس بیماری میں جلد کا چھوٹا سا حصہ سفید سرخی مائل رنگ کا ہو جاتا ہے۔اس جگہ پر شدید خارج ہوتی ہے اور سردیوں میں یہ خارش انتہائی اذیت ناک صورت اختیار کر جاتی ہے۔ جلد پر بنے ان دھبوں کو خارش کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ زیادہ کھجانے سے یہ مزید پھیلتے ہیں۔

جسم کے جس حصے پر دائرہ نما نشان بن جائیں وہاں سورائسس (چنبل) پھیلتی ہے اور اپنی جڑیں اور مضبوط کرتی ہے۔

’’علاج کا اولین مقصد جلدی خلیات کی تیز نشوونما کو سُست کرنا ہے‘‘

یہ ایک عام دائمی بیماری ہے جو جلد پر نمایاں ہوتی ہے۔ بیماری کی شدت میں متاثرہ جگہوں پر سکیلز بن بن کر جھڑتے رہتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں سورائسس کی شدت میں کمی ہوتی ہے کیونکہ گرمی میں جلد خشک نہیں ہوتی اس کے برعکس موسم سرما میں خشکی کے باعث اس مرض کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔

سورائسس کی علامات:۔

(1یہ داغ جسم پر ایک چھوٹے دانے کی صورت میں ابھرتے ہیں جو مزید خارش کرنے کے باعث بڑے داغوں اور سفید سرخی مائل زخموں اور جھالوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔

(2 جلد پر سرخ دھبے جن پر رطوبتی (Secreation of Pus) مادہ جم کر سفید چھلکے بنتے اور اترتے ہیں۔

(3 جلد کا خشک ہونا، دراڑیں پڑنا اور کھجانے سے زخموں میں سے خون کا رسنا۔

(4 خارش، جلن اور زخم بننا

(5 جوڑوں کی سختی اور سوجن

(6 ناخنوں میں درد اور ٹوٹ پھوٹ،  بے رنگ ہو کر پیلے پڑجانا۔

چنبل (سورائسس) جسم کے کسی بھی حصے پر نمودار ہوسکتا ہے، جیسے ہاتھ، پاؤں، گردن، کان کے پیچھے، سر اور منہ پر، یہاں تک کے پورے جسم پر۔

مرض کی وجوہات:۔

عام طور پر سورائسس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔

o… حیاتیات، جنسی (Human Genetics)  وراثتی

o… مدافعتی نظام (Immune System)

وراثتی (Gentical Disease)

عام طور پر چنبل کو ایسی بیماری سمجھا جاتا ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔

مدافعتی نظام

مدافعتی نظام میں خرابی کے باعث بھی یہ بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔ سائنس تاحال اسبیماری کو پوری طرح نہیں سمجھ سکی لیکن طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس بیماری کا تعلق مدافعتی نظام کے ٹی سیلز اور سفید سیلز کی قسم نیوٹرو فلز Neuterphylls کے ساتھ ہے۔ ٹی سیلز جسم میں داخل ہونے والے نقصان دہ بیکٹریا اور وائرس سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے رواں دواں رہتے ہیں۔اگر کسی کو یہ بیماری لاحق ہو تو اُس کے جسم کت ٹی سیلز غلط فہمی میں اپنی ہی جلد کے صحت مند خلیوں پر ’نقصان دہ خلیے سمجھ کر‘ حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ اور جیسے کسی انفیکشن کو ختم کرنے یا زخم کو بھرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے جلدی جلدی انہیں تباہ کرنے لگتے ہیں۔  لہٰذا ضروری ہے کہ مدافعتی نظام درست طریقے سے کام کرے کیونکہ یہ بیٹکیریل اور وائرل انفیکشن سے بچاؤ کرتا ہے۔

یہ ایک ایسی دائمی بیماری ہے جو متعدی مرض نہیں یعنی ایک سے دوسرے کو منتقل نہیں ہوتا۔

سورائسس کی مختلف اقسام

o… پلاک سورائس (Plaque Psorisis) سب سے عام قسم ہے۔ اس میں جلد خشک، سرخ اور کھردری ہوجاتی ہے جس سے رطوبت (Secreation) کا اخراج ہوکر جلد پر جمتا ہے اور چھلکے بن کر اترتے ہیں۔ اس سے جو دھبے جلد پر نمایاں ہوتے ہیں ان دھبوں میں خارش اوردرد محسوس ہوتا ہے۔

o…ناخن سورائس (Nail Psorisis) اس قسم کی سورائس میں ہاتھ اور پاؤں کے ناخن بدنما، بے رنگ، پیلے، کھردرے اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اکثر اوقات مرض کی شدت بڑھنے سے ناخن ٹوٹنے لگتے ہیں جو شدید درد کا باعث بنتے ہیں۔ اس قسم کا سورائسس مردوں کی نسبت عورتوں میں زیادہ ہے۔ اس کے باعث ناخنوں تک خون کی رسائی میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے اور ناخنوں کی جڑیں کمزور ہوجاتی ہیں۔

o… سر کا سورائسس (Head/Scalpprosisis)

اس میں سورائسس سر کے کسی مخصوص حصے یا پھر پورے سر میں ہوتی ہے۔ عام طور پر یہ سرخ رنگ کی ہوتی ہے جس کو چھلکوں نے گھیرا ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں میں یہ خطرناک حد تک پہنچ جاتی ہے جس کی وجہ سے سر کے بال تک گر جاتے ہیں۔

o… جوڑوں کا درد (Joint Psorisis)

بظاہر سورائسس جلد پر نظر آتی ہے لیکن اس کا اثر سیدھا جوڑوں پر پڑتا ہے۔ ہاتھوں اور پاؤں کے جوڑ، انگلیوں کے جوڑ، کہنیوں اور پاؤں کے ٹخنوں پر بہت بری طرح سے اثر انداز ہوتی ہے۔ اسے اکروپسٹولوس سورائسس بھی کہا جاتا ہے۔

سورائسس (چنبل) کا علاج وقت پر کرنا بہت ضروری ہے۔ یہ ایک ایسی دائمی بیماری ہے جس سے اور کئی بیماریاں جنم لیتی ہیں جن میں موٹاپا، ہائی بلڈ پریشر، گردوں کی خرابی جگر میں گرمی، دل کی بیماریاں اور جوڑوں کا کھچاؤ شامل ہے۔

احتیاطی تدابیر:۔

چنبل(سورائسس) کے مریض کو اپنے جسم اور جلد کی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے جلد کو ملائم رکھنا بہت ضروری ہے۔

o… خشک صابن سے گریز کریں۔

o… ویزلین (Vaselline) کا دن میں 2 سے 3 بار استعمال کریں۔

o…  اونی کپڑے کی نسبت سوتی کپڑے کو ترجیح دینی چاہیے۔

o… اینٹی بیکٹریل ادویات اور صابن سے گریز کریں۔

oo… جوڑوں کی سوزش سے بچنے کے لیے روزانہ 10 سے 15 منٹ دھوپ میں بیٹھیں۔

o… ٹی۔ ٹری آئل (Tea-Tree-Oil) ایک مخصوص درخت کا تیل لگانے سے خارش پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

گھر بیٹھے بھی کافی حد تک اس کی تکلیف سے چھٹکارا ممکن ہے۔

-1 ٹی۔ٹری آئل کا استعمال کیا جائے

-2 سیب کا سرکہ بہرین اینٹی بیکٹیریل ہے۔

-3 کچا پپیتا۔

کچے پپیتے میں موجود اجزا انفیکشن کو ٹھیک کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

-4 سبزیوں اور پھلوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال اور گاجر کا جوس کافی مفید ہے۔ ان تمام اجزا سے پانی کی کمی کو پورا کرکے جسم کو خشک ہونے سے بچایا جاسکتا ہے اور اس سے جگر کی گرمی بھی دور ہوتی ہے۔

غذائی پرہیز:۔

وہ شخص جو سورائسس (چنبل) کا مریض ہے اسے چاہیے کہ صحت مند (Health Food) کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرے۔

مریض کو بازاری اشیاء، تلی ہوئی اشیا، الکوحل اور ٹماٹر جیسی خوراک لینے سے گریز کرنا چاہیے۔

خوراک کا چنبل سے کوئی تعلق نہیں مگر اچھی خوراک مرض کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

o… ایسی خوراک لینی چاہیے جس میں زیادہ پروٹین ہو جیسے مچھلی، انڈا، دودھ، دہی وغیرہ۔

o… خشک میوہ جات کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرنا چاہیے۔

o… زیادہ سے زیادہ پھل، دودھ، سبزیوں اور جوس کا استعمال نہایت مفید ہے۔

(1 وہ شیمپو جن میں ایلوویرا جیسے اجزاء ہوں وہ سرکی خشکی کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

(2 صابن جن میں سوڈیم، گلائسرین، سڑک ایسڈ اور میتھائل سیلولوز جیسے اجزا موجود ہوں انہیں جلد کو ملائم رکھنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ وہ تمام تیل استعمال کیے جاسکتے ہیں جن میں Fluinolone Acetone 0.011 موجود ہو۔

(3 لوشن اور تیل جو اپنے اندر Salicylicacid رکھتے ہوں وہ سر اور جسم کے لیے نہایت مفید ہیں۔

بنیادی اصول

جلد کو صحت مند رکھنے کے لیے بنیادی اصول یہ ہے کہ اسے صاف رکھنے کے لیے باقاعدگی سے دھوئیں لیکن خشک صابن لگانے سے گریز کریں (ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہیں) اور نہ ہی اتنا زیادہ دھوئیں کہ جلد کی ضروری نمی اور چکنائی ختم ہوجائے اور زیادہ سے زیادہ موئسچرائزر کا استعمال کریں۔ جتنا زیادہ ہوسکے ذہنی تناؤ سے بچیں۔صحت مند خوراک لیں اور پانی کا استعمال کریں جو ایک مریض کے لیے بہت ضروری ہے اور ضرورت سے زیادہ سورج کی روشنی سے بچیں۔

آمنہ تعارف
لاہو کالج فار ویمن یونیورسٹی

The post سورائسس (PSORISIS) appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2MvCnPW

خواتین میں موٹاپے کی وجوہات

موٹاپا، جسے انگلش میں Obesity کہتے ہیں آج کے دور کے اہم جسمانی مسائل میں سے ایک ہے۔

’’موٹاپا انسانی جسم میں فالتو چربی کے اکٹھے ہوکر جسم کو بدنما کردینے کا نام ہے‘‘ موٹاپا بذات خود تو بیماری نہیں ہوتا مگر یہ کسی بیماری کے نتیجے میں ہوسکتا ہے اور اس کی وجہ سے بھی کافی بیماریاں پیدا ہونے کا امکان ہوسکتا ہے۔

موٹاپے کا تعلق صرف اور صرف کھانے، پینے سے نہیں بلکہ اس کی دیگر پوشیدہ وجوہات بھی ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں اگر کسی اضافی وزن کی خاتون کو دیکھا جائے تو یہی سوچا جاتا ہے کہ اس کی خوراک زیادہ اور کام کم ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کچھ ایسی خواتین بھی ہوتی ہیں جو کھاتی کم ہیں مگر پھر بھی ان کا وزن بڑھتا جاتا ہے۔

موٹاپے کی عمومی وجوہات:۔

موٹاپے کی بہت سی وجووہات ہوسکتی ہیں جس میں سب سے زیادہ پائی جانے والی خوراک کی بے اعتدالی ہے۔ مگر خواتین میں سب سے بڑی وجہ ہارمونز کی بے قاعدگی ہوتی ہے۔کاربونیٹڈ مشروبات کا بے تحاشہ استعمال جسم کو بھاری کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ چکنائی والی اشیاء بھی موٹاپے کا سبب بنتی ہیں۔ موٹاپے کا ایک بڑا سبب جسم میں پانی کی مقدار کا کم ہونا بھی ہے۔

وزن بڑھنے کی مزید چند وجوہات پر نظر ڈالتے ہیں جیسا کہ:۔

-1 توانائی میں توازن کی کمی:۔

اس سے مراد یہ ہے کہ جسم میں داخل ہونے والی توانائی اور جسم سے خارج ہونے والی توانائی میں توازن نہیں ہے۔ جسم میں داخل ہونے والی توانائی وہ ہوتی ہے جو ہم غذا اور پانی سے حاصل کررہے ہوتے ہیں جبکہ باہر نکلنے والی توانائی وہ ہوتی ہے جسے ہم اپنے روزمرہ کاموں کے لیے استعمال کررہے ہوتے ہیں جس میں سانس لینا، ہضم کرنا اور جسمانی طور پر فعال رہنا شامل ہے۔ اگر جسم میں جانے اور باہر نکلنے والی توانائی برابر ہوگی تو آپ کا وزن اتنا ہی رہے گا جتنا کہ ہے۔ اگر باہر نکلنے والی توانائی اندر جانے والی توانائی سے زیادہ ہوگی تو آپ کا وزن گھٹنا شروع ہوجائے گا۔

-2 ماحول:۔

جس ماحول میں آپ زندگی گزار رہے ہیں اس کا آپ کے وزن پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ جن جگہوں پر تازہ اور صاف ستھری غذا مہیا نہیں ہوتی یا زیادہ تیل والے کھانے کھانے کا رواج ہوتا ہے وہاں اکثر لوگوں کا وزن زیادہ ہوتا ہے۔

-3 ادویات:۔

بعض ادویات کے استعمال سے بھی انسان موٹا ہوجاتا ہے۔ اینٹی ڈپرینسٹ یا اسٹریس دور کرنے کی ادویات عموماً وزن بڑھاتی ہیں۔ اس کے علاوہ بھوک بڑھانے والی دواؤں سے بھی وزن بڑھتا ہے۔

-4 مناسب نیند نہ لینا:۔

بہت سی خواتین مناسب نیند نہ لینے کی وجہ سے بھی موٹاپے کا شکار ہوجاتی ہیں۔ آپ کی نیند کا محض ایک گھنٹہ کم ہونے سے جسم میں لیپئن اور گریلن کا لیول بڑھنے لگتا ہے۔ یہ بھوک کی شدت میں اضافے کا محرک ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کم سونے والے افراد عام طور پر ایسی غذائیں لینے لگتے ہیں جن میں کیلریز یا کیلشیم زیادہ ہو۔ جسم میں لیپٹن اور گریلن کا حد سے زیادہ بڑھ جانا بھوک کو بڑھا دیتا ہے جو اکثر موٹاپے کا سبب بنتے ہیں۔

-5 ہارمونل عدم توازن:۔

عورت اپنی زندگی میں مختلف مراحل سے گزرتی ہے جس کی وجہ سے ہارمونز میں عدم توازن آجاتا ہے۔ عورت کے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث ہارمونل عدم توازن موٹاپے کا سبب بن سکتا ہے۔

-6 تھائی رائڈ:۔

تھائی رائڈ ایک عام مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ خواتین میں بھائی رائڈ کا بڑھنا وزن میں اضافے کا سبب بنتا جارہا ہے۔ اگر آپ کا وزن بڑھ رہا ہو اور اس مرض کی علامات ظاہر ہوں تو اس کا ٹیسٹ لازمی کروائیں تاکہ صحت سے بھرپور زندگی جی سکیں۔

-7 پیدائش اور اس میں وقفہ:۔

بچوں کی پیدائش کے بعد خواتین کی اکثریت موٹاپے کا شکار اور کچھ خواتین دبلی ہوجاتی ہیں اسی طرح بچوں کی مسلسل پیدائش یا ان میں وقفے کے لیے لی جانے والی ادویات بھی بعض اوقات دبلے پن، کمزوری، وزن میں اضافے اور دیگر مسائل کا سبب بنتی ہیں۔

نمرہ شاہد
لاہو کالج فار ویمن یونیورسٹی

The post خواتین میں موٹاپے کی وجوہات appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2YxRdYn

الحمرا تھیٹر کا دوسرا روز ’’نہلے پے دہلہ‘‘ ڈرامہ پیش

 لاہور:  لاہور آرٹس کونسل میں الحمرا تھیٹر فیسٹیول کے دوسرے روز ڈرامہ نہلے پے دہلہ پیش کیا گیا۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمرا اطہر علی خان نے تھیٹر فیسٹیول میں خصوصی شرکت کی اور کہا کہ ڈرامہ نہلے پے دہلہ میں ہمارے معاشرتی المیوں کو جس انداز میں موضوع بنایا گیا ہے اس سے عوام کو بے حد مثبت پیغام گیا ہے۔

لاہورآرٹس کونسل میں یوم آزادی پاکستان کی تقریبات کے حوالے سے 6روزہ الحمرا تھیٹر فیسٹیول کے ساتھ8روزہ چوتھی ’’چائلڈآرٹ اینڈ کرافٹ ورکشاپ‘‘ کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے۔اس حوالے سے میوزک پروگرام ’’آزادی کے رنگ،میوزک کے سنگ‘‘ بھی الحمرا میں پیش کیا جائے گا جس میں صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت میاں محمد اسلم اقبال مہمان خصوصی ہونگے۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمرا اطہر علی خان نے یوم آزادی پاکستان کی تقریبات کے حوالے سے بتایا کہ پاکستانی محب الوطن قوم ہے جواپنے ملک سے بے پناہ محبت کرتی ہے اوراس کی ترقی و خوشحالی کیلیے پر عزم ہے،الحمرا نے بھی معاشرتی و سماجی مثبت تبدیلیوں کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے جس کے لیے مختلف نوعیت کے پروگرام پیش کیے جارہے ہیں۔

The post الحمرا تھیٹر کا دوسرا روز ’’نہلے پے دہلہ‘‘ ڈرامہ پیش appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2ytWMN2

فلم ’’ہیرمان جا‘‘ کا ایک اور رومانوی گیت ’’کچھ تو ہوا ہے‘‘ ریلیز

 لاہور: سنیما گھروں کی رونق دوبالا کرنے کیلیے پیش کی جانے والی فلم ’’ہیرمان جا‘‘ کا ایک اور رومانوی گیت ’’کچھ تو ہوا ہے‘‘ ریلیز کردیا گیا ہے۔

عید الاضحی کے پْر مسرت موقع پر سنیما گھروں کی رونق دوبالا کرنے کیلیے پیش کی جانے والی فلم ’’ہیرمان جا‘‘ کا ایک اور رومانوی گیت ’’کچھ تو ہوا ہے‘‘ ریلیز کردیا گیا ہے۔

اس گیت نے بھی منظر عام پر آتے ہی موسیقی سے دلچسپی رکھنے والوں کے دِل میں گھر کرنا شروع کردیا ہے۔ اس گانے کے بول کشف اقبال اور فاطمہ نجیب نے لکھے ہیں جسے گلوکار رمیز خالد اورآئمہ بیگ نے اپنی سریلی آوازوں سے گا کر چار چاند لگادیے ہیں۔

احمد علی کی موسیقی نے اس گیت میں ایسی جان ڈال دی کہ شائقین اس گانے کو سن کر لطف اندوز ہورہے ہیں۔

The post فلم ’’ہیرمان جا‘‘ کا ایک اور رومانوی گیت ’’کچھ تو ہوا ہے‘‘ ریلیز appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Mwu9qC

سپر ہائی وے ڈیمز میں شگاف، گرڈ اسٹیشن، آبادیاں اور مویشی منڈی زیر آب

کراچی: لٹھ اور تھڈو ڈیم میں شگاف پڑنے سے سپرہائی وے سے متصل کے ڈی اے گرڈ اسٹیشن ، رہائشی گوٹھ ، سوسائٹیاں اور مویشی منڈی کا بیشتر حصہ زیر آب آگیا۔

گڈاپ ٹاؤن میں لٹھ ڈیم اور تھڈو ڈیم میں شگاف پڑنے سے برساتی پانی کا ریلا سپر ہائی وے تک پہنچ گیا جس کسے باعث کراچی سے حیدرآباد جانے والا ٹریک زیر آب آگیا اور ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا، سیلابی ریلا موٹروے ایم نائن کے نیچے پانی کی نکاسی کے راستوں سے ہوتا ہوا سعدی گارڈن گلشن عثمان ، سعدی ٹاؤن ، اسکیم 33 میں کے ڈی اے گرڈ اسٹیشن سے ہوتا ہوا مدینہ کالونی اور اس کے اطراف میں درجن سے زائد گوٹھوں میں داخل ہوگیا۔

اسکیم 33 میں کے الیکٹرک کے 220 کے وی کے گرڈ اسٹیشن میں بھی پانی بھرجانے کی وجہ سے ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی، فوج کے دستوں نے مٹی کے بند بناکر مزید پانی گرڈ اسٹیشن میں داخل ہونے سے روکا مگر پمپ کی مدد پہلے سے جمع پانی کو نکالنے میں 18 گھنٹے سے زائد وقت لگ گیا۔

صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے فوج نے ریسکیو آپریشن شروع کردیا فوج کے جوانوں نے سب سے پہلے گرڈ اسٹیشن کے چاروں طرف مٹی کے ڈھیر لگاکر پانی کے جانے کا راستہ روک کر گرڈ اسٹیشن سے پانی کی نکاسی شروع کردی، سیلابی ریلے کے راستے میں آنے والے گوٹھوں کے مکینوں کو لائف بوٹ کی مدد سے محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کردیا۔

ریسکیو آپریشن میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن ، این ایچ اے اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے حصہ لیا، پانی کی نکاسی کے بعد کئی گھنٹے معطل رہنے والے سپر ہائی وے کے ٹریک کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔

مدینہ کالونی کے مکینوں کا کہنا تھا کہ سعدی گارڈن میں اثر رسوخ والے لوگ رہتے ہیں جس کے باعث سپرہائی وے سے آنے والا پانی وہاں سے جانے سے روک کر مویشی منڈی ، اور سپر ہائی وے کے اطراف میں واقع گوٹھوں کی طرف موڑ دیا گیا ہے جس سے علاقے کے گھروں میں پانی داخل ہوگیا ان کا کہنا تھا کہ پانی کے آنے کی رفتار کو دیکھتے ہوئے علاقے کے بیشتر رہائشیوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے جبکہ گھر کا ایک فرد صرف چوکیداری کے لیے رک گیا ہے۔

لٹھ ڈیم اور تھڈو ڈیم سے برساتی پانی کے ریلے نے ضلع ملیرکی اسکیم 33 کے کئی علاقوں میں تباہی مچادی، سعدی ٹاؤن، سعدی گارڈن، مدینہ کالونی، عبداللہ شاہ غازی گوٹھ جی بلاک، قریشی سوسائٹی، محمد خان گوٹھ، گلشن عثمان، پی ایس 99 اور پی ایس 100 کی کئی آبادیوں میں برساتی ریلا گھس گیا۔

منگل کی شب لٹھ اور تھڈو ڈیم سے آنے والے برساتی پانی نے چند گھنٹوں میں ہی ان علاقوں کو دریا میں بدل دیا، سعدی ٹاؤن اور مدینہ کالونی کے مکینوں کا کہنا تھا کہ مویشی منڈی کے ایک بیوپاری نے بتایا کہ وہ ڈھرکی سے 35 جانور کے ساتھ منڈی آیا تھا جہاں منڈی میں اس نے 38 نمبر بلاک میں 80 ہزار روپے میں جگہ حاصل کی تھی۔

انتظامیہ نے جگہ دیتے وقت تمام سہولتیں دینے کا وعدہ کیا تھا تاہم سیلاب کے آتے ہی انتظامیہ کہیں نظر نہیں آرہی اس نے بتایا کہ وہ اپنی 10 گائے بمشکل پانی میں سے نکال سکا ہے جبکہ دیگر گائے اور کھانے پینے کا سامان وہیں پھنسا ہوا ہے گھوٹکی کے بیوپاری کا کہنا تھا کہ سیلاب کے باعث 100 کے قریب بیل اور گائیں مرچکی ہیں مویشی منڈی کے کوآرڈی نیٹر نے ایکسپریس کو بتایا کہ38 نمبر بلاک کے کوئی پیسے نہیں لیے گئے وہ جگہ بیوپاریوں کو فری دی گئی ہے۔

کراچی میں پیر اور منگل کو ہونے والی موسلادھار بارشوں کے بعد سپر ہائی وے پر سبزی منڈی بھی زیر آب آگئی، سبزی منڈی میں پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گھٹنوں گھٹنوں پانی جمع ہوگیا، گندگی اور کچرے نے کیچڑ کی شکل اختیار کرلی،کیچڑ سبزی منڈی کی گلیوں میں دور تک پھیلا ہوا ہے۔

سبزی سیکشن کے تاجروں کے مطابق مارکیٹ کمیٹی انٹری اور دکانوں کے کرایے کی مد میں کروڑوں روپے وصول کرتی ہے لیکن نکاسی آب کا نظام بہتر نہیں بنایا جاتا سبزی سیکشن کی گلیاں کچی ہیں اس لیے بارشوں کے علاوہ عام دنوں میں بھی یہاں پانی کھڑا رہتا ہے۔

حالیہ بارشوں میں منڈی میں جگہ جگہ بارش کا پانی کھڑا ہے منڈی کے داخلی دروازوں پر گڑھوں میں بارش کا پانی اور کیچڑ جمع ہے جس کی وجہ سے گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہے، منڈی میں صفائی اور پانی کی نکاسی نہ ہونے پر آلودہ ماحول میں ہی سبزیاں فروخت کی جارہی ہیں جس سے بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے، منڈی میں جگہ جگہ گندگی اور گلی سڑی سبزیوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جن سے بدبو اور تعفن اٹھ رہا ہے۔

تاجروں کے مطابق منڈی میں کاروبار کے لیے آنے والوں کا اپنی دکانوں تک پہنچنا محال ہوگیا ہے ایسے میں شہر سے کوئی خریدار کیسے آئے گا، دکانوں کے سامنے پانی کھڑا ہے اور دکانوں کے تھڑوں پر کیچڑ پھیل گئی ہے آڑھتی مال اونے پونے فروخت کررہے ہیں۔

ملیر ندی : برساتی ریلا آنے سے کورنگی کا رابطہ شہر سے کٹ گیا

بدھ کی صبح ملیر ندی سے برساتی پانی کا بڑا ریلا گزرنے کے باعث کورنگی کاز وے اورکورنگی کراسنگ روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے جس کے باعث کورنگی صنعتی ایریا جانے والے 2 مرکزی راستے بند ہونے سے بلوچ کالونی پل ،ایکسپریس وے،قیوم آباد چورنگی،کورنگی کراسنگ،کورنگی روڈ، بروکس چورنگی اور ڈیفنس روڈ پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا، گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور صبح سویرے دفاتر اور روز مرہ کے کاموں کے لیے گھر سے نکلنے والے ہزاروں شہری ٹریفک جام میں پھنس گئے۔

کورنگی صنعتی ایریا جانے کے لیے واحد راستہ قیوم آباد چورنگی سے جام صادق پل ہے جہاں ٹریفک کا شدید دبائو ہے ٹریفک جام میں پھنسے شہریوں کی مدد کے لیے ٹریفک اہلکار سڑکوں پر موجود رہے لیکن صورتحال ٹریفک پولیس اہلکاروں کے بس سے باہر رہی، قیوم آباد چورنگی اور ایکسپریس وے پر جگہ جگہ بارش کا پانی جمع ہونے اور نکاسی نہ ہونے سے ٹریفک کے مسائل میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

ٹریفک پولیس حکام کے مطابق ٹریفک پولیس نے کے پی ٹی انٹرچینج اورجام صادق پل کے درمیان جمع پانی کی نکاس کے لیے ہیوی مشینری سے فٹ پاتھ توڑ کر پانی کو نکالا جا رہا ہے۔

برساتی ریلے میں 2 بچے ڈوب کر ہلاک، ایک لاپتہ، دوسری بچی کو بچا لیا گیا

سپر ہائی وے نیو سبزی منڈی پاور ہاؤس کے قریب برساتی پانی کے ریلے میں کمسن لڑکا ڈوب گیا جس کی اطلاع پر ایدھی کے غوطہ خور موقع پر پہنچ گئے اور سخت جدوجہد کے بعد ڈوبنے والے لڑکے کی لاش نکال کر قریب ہی اسپتال پہنچائی جہاں متوفی کی شناخت 3 سالہ امجد کے نام سے ہوئی ہے جو کہ اسی علاقے کا رہائشی تھا،ملیر میمن گوٹھ عثمان خاصخیلی گوٹھ میں برساتی پانی کے ریلے میں 2 بہنیں ڈوب گئیں جس کی اطلاع ملتے ہی ایدھی بحری خدمات کے رضا کاروں نے موقع پر پہنچ کر ڈوبنے والی 12 سالہ مسکان دختر حکیم کی لاش نکال لی۔

دوسری بہن کو تشویش ناک حالت میں نکال کر قریب اسپتال پہنچایا جہاں ڈاکٹر اس کی جان بچانے کی کوششیں کر رہے ہیں ،اسکیم 33 کے قریب برساتی پانی میں نوعمر لڑکا ڈوب کر لاپتہ ہوگیا جس کی اطلاع ملتے ہی ایدھی کے رضا کار موقع پر پہنچ گئے، اس کی تلاش شروع کر دی تاہم کامیابی نہ مل سکی۔

واضح رہے کہ پیر سے شروع ہونے والی موسلا دھار بارشوں کے بعد شہر کے بیشتر علاقوں میں پانی جمع ہے ،بلدیاتی اداروں اور واٹر بورڈ کی جانب سے نکاسی آب کے انتظامات نہ کیے جانے کے باعث برساتی پانی میں کمسن بچے اور راہ گیر ڈوب کر ہلاک ہوچکے ہیں۔

شہرمیں 172ملی میٹر بارش ریکارڈنارتھ کراچی میں88 ملی میٹر بارش ہوئی

محکمہ موسمیات کے مطابق سرجانی ٹاون میں 2مختلف مراحل کے دوران 100 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ ہوئی ہے،اس سے قبل محکمہ موسمیات کی جانب سے زیادہ سے زیادہ 164 ملی میٹر بارش ہونے کی پیش گوئی کی گئی تھی تاہم منگل اور بدھ کی درمیانی شب سرجانی ٹائون میں مزید بارش ریکارڈ ہوئی، سب سے کم بارش کیماڑی میں 31.3ملی میٹر(ڈیڑھ انچ کے لگ بھگ) ریکارڈ ہوئی۔

شہر کے دیگر علاقوں نارتھ کراچی88،گلشن حدید78، بیس فیصل 87،یونیورسٹی روڈ 74.6،جناح ٹرمینل 69.4 ،بیس مسرور82،ناظم آباد 65.7، لانڈھی59، ایئرپورٹ 62.3ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئیں۔

The post سپر ہائی وے ڈیمز میں شگاف، گرڈ اسٹیشن، آبادیاں اور مویشی منڈی زیر آب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2ytWJkk

ٹنڈو جام، ٹول پلازہ انتظامیہ نے 50 ملازمین برطرف کر دیے

ٹنڈو جام: میرپور خاص حیدرآباد روڈ پر ٹول پلازہ انتظامیہ نے 50 ملازمین کو ملازمت سے برطرف کردیا۔

میرپور خاص حیدرآباد روڈ پر ٹول پلازہ انتظامیہ نے 50 ملازمین کو ملازمت سے برطرف کردیا جبکہ مزید150 ملازمین کو فارغ کرنے کے لیے فہرستوں کی تیاری کی اطلاعات ملی ہیں۔ برطرف کیے گئے ملازمین میں سپروائزر،آپریٹرز، سیکیورٹی گارڈز ودیگرشامل ہیں۔

متاثرین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ وہ سڑک بنانے والی نجی کمپنی کے ملازم تھے اور گزشتہ 8 سال سے ڈیوٹی کر رہے تھے۔ ٹول منیجر نے من پسند افراد کو مقرر کرنے کے لیے انہیں بلاجواز نوکریوں سے فارغ کر دیاہے جو سراسر ظلم ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انھیں بحال کیا جائے۔ بصورت دیگر احتجاج کیا جائیگا۔

The post ٹنڈو جام، ٹول پلازہ انتظامیہ نے 50 ملازمین برطرف کر دیے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/332eSnk

نامعلوم افراد نے درسی کتب کے بنڈل نالے میں پھینک دیئے

جام صاحب:  محکمہ تعلیم کی نا اہلی، نامعلوم افراد درسی کتابوں کے بنڈل سیم نالے میں پھینک گئے۔

جام صاحب گپچانی روڑ پر اسٹیڈیم کے مقام پر گورنمنٹ فقیر غلام رسول ہائر سیکنڈری اسکول کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سوار چھٹی، ساتویں، آٹھویں اور نویں جماعت کی اردو، سندھی، اسلامیات اور دیگر مضامین کی درسی کتب کے بنڈل سیم نالے میں پھینک کر فرار ہوگئے۔

رابطہ کرنے پر پرنسپل مسعود احمد سہتو نے ایکسپریس کو بتایا کہ وہ درسی کتابیں ایک ماہ قبل ہی طلبہ میں تقسیم کر چکے ہیں۔ یہ اسکول اور اساتذہ کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

دوسری جانب واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے محکمہ تعلیم نے ڈی او سیکنڈری غلام علی برہمانی کی سربراہی میں5 رکنی کمیٹی قائم کردی ہے۔

The post نامعلوم افراد نے درسی کتب کے بنڈل نالے میں پھینک دیئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Kgr4Iv

کراچی کے دکھ کون شیئر کرے گا؟

طوفانی بارشوں نے ملک کے معاشی مرکز کی جڑیں ہلا دیں۔ ایسا فزیکل اور ڈیموگرافیکل دردناک منظر نامہ کسی برسات میں نظر نہیں آیا۔ہر طرف کثیر جہتی بے بسی اور شہریوں کی حرماں نصیبی یاد آئی۔ بلاشبہ بارش نے کراچی کو اپنے تاریخی شہر آشوب سے دوچار کردیا ہے۔

شہر قائد میں دو دن کی بارش نے سات عشروں کے درد والم کی داستان یوں رقم کردی کہ میئر کراچی وسیم اختر نے بے بس ہوکر وفاق سے مدد مانگ لی، شہر میں دوسرے روز بھی بارش ہوئی،مزید 10 جاں بحق ہوئے، سیلابی ریلے سے موٹر وے کا ایک حصہ زیر آب آیا ، جن ماہرین نے اربن فلڈ کا خطرہ ظاہر کیا تھا وہ اپنے اس استدلال پر قائم رہے کہ بدھ کو بھی بارش کا سلسلہ جاری رہتا تو شہر کے ڈوبنے ہی کی حسرت باقی رہ جاتی۔

میئر کراچی کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے تعاون نہیں کیا،اور نہ ہی کام کرنے دیتی ہے ، شہر کا انفرا اسٹرکچر زبوں حال ہے اور موجودہ صورتحال کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ ادھر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شہر کے متاثرہ علاقوں کے دورے کے بعد بتایا کہ فلڈ کو روکنا اصل مسئلہ تھا، حکومت اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش اور انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ سندھ اور مقامی حکومت کراچی کے اقتصادی،طبعی،افرادی اور انسانی و بلدیاتی مسائل سے لاتعلقی اوربلیم گیم کے گھناؤنے چکر سے ابھی تک باہر نہیں نکل سکی ہیں ،اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ واقعی سندھ حکومت نے وسائل اور انتظامات کی شیئرنگ بارش سے پہلے کی ہوتی،بارش سے بچاؤ کے موثراقدامات دو طرفہ بنیادوں پرہوتے ،ندی نالوں کی صفائی ایک ماہ پہلے مکمل کی جاچکی ہوتی، سالڈ ویسٹ سمیت انجینئرنگ سمیت نکاسی آب کے انتظامات کی شفافیت کویقینی بنایا جاتا تو اتنا بڑا ڈزاسٹر ہرگز نہ ہوتا، پھر سوال سندھ حکومت اور مقامی گورنمنٹ کے درمیان چپقلش کا ہے۔

فنڈز کی عدم فراہمی اور بلدیاتی و دیگر اہم اداروں کی افراط وتفریط پر میئر کراچی کی برہمی بھی قابل غور ہے، لیکن کسی کو اس بنیادی اسٹرکچر پر بھی غورکرنا چاہیے کہ واٹر بورڈ کی ذمے داری کیاہے، کیا ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے پاس سفید ہاتھیوں کی فوج ظفر موج کسی آفت کا سدباب کرنے کے لیے سڑکوں پر نہیں آسکتی تھی، وہ جدید ترین آلات ، پمپ کہاں غائب رہے جو نکاسی آب کے لیے لازمی سمجھے جاتے ہیں، سیلابی ریلا نشیبی علاقوں ، گھروں اور متصل آبادیوں میں داخل ہوتا رہا اور ریسکیوکے لیے پاک فوج حاضر تھی ، ان کا آپریشن جاری رہا،گوٹھوں کے مکینوں کو لائف بوٹوں کی مدد سے محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔

کاروبار زندگی مفلوج رہا، کوئی ہولناک اور مسلسل موسلادھار یا طوفانی بارشوں کا قیامت خیز منظر ایسا کچھ نہ تھا کہ سندھ حکومت اور مقامی حکومتوں کے ہاتھ پیر پھول جاتے۔میڈیا کے مطابق اولڈ سٹی ایریا میں گندا پانی دکانوں اور گوداموں میں داخل ہوگیا، 80فیصدمارکیٹوں کی دکانیں بند رہیں، ٹرانسپورٹ اور ٹریفک سسٹم زمیں بوس ہوگیا۔ بدھ کو قیوم آبادچورنگی پرہولناک ٹریفک جام رہا ۔کراچی میں بارش میں کرنٹ لگنے سے 5 بچوں سمیت 17افراد جاں بحق ہوئے، ادھر کراچی میں مون سون کی متواتر بارشوں سے گڈاپ اور کیماڑی کے تمام ڈیم برساتی پانی سے بھر گئے ہیں۔

گڈاپ ٹاؤن میں واقع تھڈو ڈیم اور لٹھ ڈیم اوورفلو ہونے سے سپرہائی وے ، لنک روڈ ، سعدی ٹاؤن و دیگر رہائشی علاقے زیر آب آگئے ہیں، سکھن نالے پر قائم ڈھنڈو ڈیم میں خطرناک حد تک بڑا شگاف پڑنے سے برساتی پانی کے ریلے دیہہ ڈھنڈو اور دیہہ درسنہ چنوکے کئی گوٹھوں میں داخل ہوگئے ہیں جس سے سیکڑوں مکین متاثر ہوگئے ہیں، لٹھ ڈیم سے سیلابی ریلہ آبادی کی جانب بڑھنے پر پاک فوج نے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ، کراچی میں اوسطاً بارش 71ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، کراچی کے تمام تعلیمی ادارے بند رہے، بارش بند ہونے کے متعددگھنٹے گزرنے کے بعد بھی زیریں سندھ کے مختلف شہروں میں مکمل طور پر بجلی بحال نہ ہو سکی،بجلی کی طویل بندش کے خلاف شہری سڑکوں پر نکل آئے۔

یہ الم ناک کتھا اس شہر قائد کی ہے جو پاکستان کا اقتصادی انجن اور وطن عزیز کی امنگوں کا مرکز ہے۔ شہری کراچی کی کس کس بات کا رونا روئیں ،ہزاروں ہیں شکوے کیا کیا بتائیں۔کوئی سننے والا بھی تو ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک مائنڈ سیٹ ہے جس نے کراچی کو نظر انداز کیا ہے، ذمے دار اسٹیک ہولڈرز بھی شہر کے دکھ کو محسوس نہیں کرتے۔ یہ صورتحال تو حکمرانوں کے لیے سوالیہ نشان ہے آخر کب کراچی کا مقدر چمکے گا۔کب اسے ایک بار پھر ایشیا کے صاف ستھرے اور گریٹ میگا سٹی کا اعزاز حاصل ہوگا۔

The post کراچی کے دکھ کون شیئر کرے گا؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/332ePb8

بلوچستان میں دہشت گردی کی بزدلانہ واردات

بلوچستان اس وقت دہشت گردوں کے نشانے پر ہے، دہشت گرد اپنی بزدلانہ کارروائیاں کرنے سے باز نہیں آرہے ہیں۔ تازہ ترین واقعے میں، کوئٹہ باچاخان چوک میں پولیس موبائل کے قریب بم دھماکے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد شہید جب کہ ایڈیشنل ایس ایچ او سمیت تیس سے زائد زخمی ہوگئے، پولیس موبائل گشت پر تھی کہ قریب کھڑی موٹرسائیکل میں نصب دھماکا خیز مواد دھماکے سے پھٹ گیا۔

دھماکے کی شدت سے قریبی عمارتوں،دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے جب کہ متعدد گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچا۔ مصروف گزرگاہ پر دھماکے کا مقصد زیادہ سے زیادہ جانی اور انسانی نقصان کرنا ہوتا ہے۔

بلوچستان جب سے سی پیک میں شامل ہوا ہے اور طویل ترین شاہراہیں بنی ہیں، ترقی کی رفتار تیز ہوئی ہے اورگوادر بندرگاہ فنکشنل ہوئی ہے، تو پڑوسی ملک نے بلوچستان میں اپنی سازشوں کے جال بچھا دیے ہیں، وہ بد امنی کو جنم دے کر بلوچستان کی ترقی کے عمل کو روکنا چاہتا ہے۔یہ بزدلانہ عمل ہے۔ اسے معلوم ہے کہ بلوچستان کی ترقی پورے ملک میں ایک انقلاب لا سکتی ہے اور پاکستان ترقی کی دوڑ میں بہت آگے نکل سکتا ہے۔

آئے دن بلوچستان میں کہیں نہ کہیں دہشت گردی کی واردات رونما ہوتی رہتی ہے جس کا واضح مقصد سیکیورٹی فورسز کے دہشت گردی کے خلاف عزم کو کمزور کرنا اور اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے۔

سیکیورٹی فورسز کے بہادر جوان یہ عزم کیے ہوئے ہیں کہ وہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھیں گے،خواہ اس مقصد کے لیے انھیں کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔ان کے اسی غیر متزلزل عزم کا نتیجہ ہے کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا رہی ہیں۔شمالی وزیرستان میں شکست کھانے کے بعد دہشت گردوں نے بلوچستان کو اپنی آماج گاہ بنا لیا ہے،یہاں ان کی تخریبی کارروائیاں اس امر کی اغماز ہیں کہ کچھ مقامی قوتیں بھی ان کا ساتھ دے رہی ہیں۔

بھارتی جاسوس کلبھوش یادیوکی گرفتاری اس بات کا بڑا ثبوت ہے کہ بدامنی پھیلانے اور دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی میں بھارت کی مودی سرکار ملوث ہے، پاکستان اس کے ثبوت متعدد بار عالمی سطح پر پیش کر چکا ہے، عالمی طاقتوں کے مذموم مقاصدکو ہماری بہادر اور جری سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا ہے،اب تو چند بزدل عناصر ’’ہٹ اینڈ رن‘‘ والی اسٹرٹیجی کو اختیارکرکے عوام میں خوف وہراس پھیلانا چاہتے ہیں لیکن وہ شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ مادر وطن کے دفاع کے لیے بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز اور عوام نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں اور ان کی مذموم سازشوں کو ناکام بنایا ہے، لہذا دہشت گردوں کے ہاتھ ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں آیا۔

دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے ان کے سہولت کاروں کو بھی قانون کی گرفت میں لانا پڑے گا تاکہ جرائم کی اس زنجیر کو توڑا جا سکے۔ وہ دن دور نہیں جب سیکیورٹی فورسزکی قربانیاں رنگ لائیں گی اور بلوچستان کے چپے چپے میں امن قائم ہوگا۔

The post بلوچستان میں دہشت گردی کی بزدلانہ واردات appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2KfdFAA

ٹنڈو جام، ٹول پلازہ انتظامیہ نے 50 ملازمین برطرف کر دیے

ٹنڈو جام: میرپور خاص حیدرآباد روڈ پر ٹول پلازہ انتظامیہ نے 50 ملازمین کو ملازمت سے برطرف کردیا۔

میرپور خاص حیدرآباد روڈ پر ٹول پلازہ انتظامیہ نے 50 ملازمین کو ملازمت سے برطرف کردیا جبکہ مزید150 ملازمین کو فارغ کرنے کے لیے فہرستوں کی تیاری کی اطلاعات ملی ہیں۔ برطرف کیے گئے ملازمین میں سپروائزر،آپریٹرز، سیکیورٹی گارڈز ودیگرشامل ہیں۔

متاثرین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ وہ سڑک بنانے والی نجی کمپنی کے ملازم تھے اور گزشتہ 8 سال سے ڈیوٹی کر رہے تھے۔ ٹول منیجر نے من پسند افراد کو مقرر کرنے کے لیے انہیں بلاجواز نوکریوں سے فارغ کر دیاہے جو سراسر ظلم ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انھیں بحال کیا جائے۔ بصورت دیگر احتجاج کیا جائیگا۔

The post ٹنڈو جام، ٹول پلازہ انتظامیہ نے 50 ملازمین برطرف کر دیے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/332eSnk

نامعلوم افراد نے درسی کتب کے بنڈل نالے میں پھینک دیئے

جام صاحب:  محکمہ تعلیم کی نا اہلی، نامعلوم افراد درسی کتابوں کے بنڈل سیم نالے میں پھینک گئے۔

جام صاحب گپچانی روڑ پر اسٹیڈیم کے مقام پر گورنمنٹ فقیر غلام رسول ہائر سیکنڈری اسکول کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سوار چھٹی، ساتویں، آٹھویں اور نویں جماعت کی اردو، سندھی، اسلامیات اور دیگر مضامین کی درسی کتب کے بنڈل سیم نالے میں پھینک کر فرار ہوگئے۔

رابطہ کرنے پر پرنسپل مسعود احمد سہتو نے ایکسپریس کو بتایا کہ وہ درسی کتابیں ایک ماہ قبل ہی طلبہ میں تقسیم کر چکے ہیں۔ یہ اسکول اور اساتذہ کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

دوسری جانب واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے محکمہ تعلیم نے ڈی او سیکنڈری غلام علی برہمانی کی سربراہی میں5 رکنی کمیٹی قائم کردی ہے۔

The post نامعلوم افراد نے درسی کتب کے بنڈل نالے میں پھینک دیئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2Kgr4Iv

آرمی کے تربیتی طیارے کو حادثہ، 18 افراد شہید

آرمی ایوی ایشن کا ایک تربیتی طیارہ گزشتہ روز راولپنڈی کے نواحی علاقے ڈھوک کلوکنترالی گاؤں کی آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا، اس افسوسناک حادثے میں پاک فوج کے دو افسروں اور 3 جوانوں سمیت 18 افراد شہید جب کہ 9 زخمی ہو گئے۔

اطلاعات کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب قاسم آرمی ایوی ایشن سے اڑنے والا طیارہ کنترالی گاؤں کی آبادی میں گر کر تباہ ہوگیا، طیارہ زمین پر گرنے سے قبل بہت دیر تک غیر ہموار پرواز کرتا رہا، پھر ایک زوردار دھماکے سے گاؤں میں گھروں پر گر کر تباہ ہوا۔ طیارے میں سوار پاک فوج کے دو لیفٹیننٹ کرنل اور تین جوان شہید ہوگئے۔ شہید ہونے والے سویلینزمیں 4 خواتین اور 6 بچے بھی شامل ہیں۔

طیارے حادثے کی ابتدائی رپورٹ تھانہ سہالہ میں درج کر لی گئی، مزید کارروائی متعلقہ اداروں کی انکوائری اور فیکٹ فائنڈنگ کے بعد عمل میں لائی جائے گی۔ بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے تربیتی طیارے میں کوئی تکنیکی نقص تھا جس کی وجہ سے وہ حادثے کا شکار ہوا۔

لیفٹیننٹ کرنل کے رینک کے دو اعلی افسروں کی طیارے میں موجودگی اس تربیتی پرواز کو ہائی پروفائل بنانے کی غماز ہے۔اس لیے سبوتاژ اور تخریبی کارروائی کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔ اس حادثے میں دوسری المناک بات اس گاؤں کے مردوں، عورتوں اور بچوں کا اپنے گھروں میں آدھی رات کو سوتے میں موت کے منہ میں چلے جانا ہے۔

طیارے کے حادثے میں پاک فوج کے افسروں ، جوانوں اور شہریوں کی شہادت پر قوم سوگوار ہے۔حکام بالا کو چاہیے کہ وہ اس حادثے کی مکمل تحقیقات کرائیں اور ہر پہلو پر غور کیا جائے۔

The post آرمی کے تربیتی طیارے کو حادثہ، 18 افراد شہید appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2LUP8Uo

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ آج

 اسلام آباد:  چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے مستقبل کا فیصلہ آج سینیٹ کے اہم اجلاس ہوگا اور دونوں کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوگی۔

سینیٹ کا اجلاس آج دوپہر دو بجے طلب کیا گیا ہے، پہلے چیئرمین سینیٹ اور پھر ڈپٹی چیئرمین کیخلاف تحریک عدم اعتماد پرکارروائی ہو گی۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کیلیے اپوزیشن کو 53 ارکان کی ضرورت ہے جبکہ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس 64 ارکان ہیں، رائے شماری خفیہ طریقے سے ہوگی۔ بیلٹ پیپر کی چھپائی مکمل کر لی گئی ہے۔ پریذائیڈنگ افسر محمد علی سیف اجلاس کی صدارت کرینگے۔ حکومتی اور اپوزیشن بینچوں نے اپنے اپنے ارکان کو اجلاس میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

بلاول بھٹو نے اپوزیشن سینیٹرز کے اعزاز میں ظہرانہ دیا جس میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کیلئے حکمت عملی طے کی گئی۔ رضا ربانی نے ووٹنگ کے عمل بر بریفنگ دی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول نے کہا عزت بچانے کیلیے اچھا ہے صادق سنجرانی استعفیٰ دیدیں ورنہ جمعرات کو تو وہ جا رہے ہیں، مستعفی ہونے کا فیصلہ ان کے لیے اچھا ہوگا۔ سینیٹر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ میں اسی دن جیت گیا تھا جس روز میرا نام تجویز کیا گیا تھا۔ اپوزیشن کے65 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ چودھری تنویر بیرون ملک دورے کے باعث غیر حاضر ہیں،کامران مائیکل پروڈکشن آرڈر پر ووٹ ڈالنے آئیں گے۔

حاصل بزنجو نے ایک انٹرویو میں کہا آج جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے، جمہوری قوتیں کامیاب ہونگی۔ ن لیگ کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی زیر صدارت لیگی سینیٹرز کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

شہباز شریف نے کہا چئیرمین سینٹ کے انتخاب میں جمہوریت اور آئین کی فتح ہوگیبعدازاں شہبازشریف سے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ملاقات ہوئی۔ شہبازشریف نے کامیاب یوم سیاہ پر فضل الرحمان کو مبارکباد دی۔ ملاقات میں سیاسی صورتحال اور تحریک عدم اعتماد پر بھی مشاورت ہوئی۔ اپوزیشن کے امیدوار حاصل بزنجو کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں و سینیٹرز کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا جس میں شہباز شریف، مریم نواز، بلاول بھٹو اور فضل الرحمان بھی شریک ہوئے۔

عشائیہ میں اپوزیشن کے62سینیٹرز نے شرکت کی۔ حاصل بزنجو نے کہا کہ میرا چیئرمین بننا نہ بننا اہم نہیں۔ ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ کل بہت بڑا اہم دن ہے جمہوریت پر جو وار ہوا تھا اس کا ازالہ کل ہوگا کل سیاسی جماعتوں کو توڑنے کیلیے حربے استعمال کرنے والے مائینڈ سیٹ کیلیے بہت بڑی شکست ہوگی۔

سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن والے مقابلہ تو کر نہیں سکتے، امیدوار کے مستعفی ہونے پر ہی جیت سکتے ہیں، وہ سنجرانی کے مستعفی ہونے کی افواہیں پھیلا رہی ہے جو آج دم توڑ جائیں گی۔ صادق سنجرانی کیخلاف اقدام پر خود اپوزیشن کی اکثریت ناخوش ہے۔ تحریک عدم اعتماد کو شکست ہوگی۔ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس اکرم درانی کی صدارت میں ہوا جس میں تحریک عدم اعتماد پر مشاورت کی گئی۔ اکرم درانی نے کہا ایک تبدیلی آج آئیگی، دوسری تبدیلی بھی آپ جلد دیکھیں گے۔

دوسری ضانب چیئرمین صادق سنجرانی نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے صادق سنجرانی نے کہا تحریک عدم اعتماد کا بھرپور مقابلہ کرونگا، اپوزیشن کیلیے سیاسی میدان کھلا نہیں چھوڑا جائیگا۔

ایک بیان میں انھوں نے کہا خفیہ رائے شماری کا آپشن اسی لیے ہے کہ ارکان آزادانہ اور ضمیر کے مطابق فیصلہ کریں۔ جن بڑے دماغوں نے آئین بنایا، انھوں نے 20، 20 دن کی سوچ بچار کے بعد خفیہ رائے شماری کا آپشن رکھا۔ میں نے ہاؤس کو غیر جانبداری سے چلایا، دیکھنا چاہتا ہوں کہ ممبران کسٹوڈین آف دی ہاؤس کیلیے ضمیر کے مطابق آزادانہ فیصلہ کرتے ہیں یا نہیں۔

The post چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ آج appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2YyCP6i

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ آج

 اسلام آباد:  چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے مستقبل کا فیصلہ آج سینیٹ کے اہم اجلاس ہوگا اور دونوں کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوگی۔

سینیٹ کا اجلاس آج دوپہر دو بجے طلب کیا گیا ہے، پہلے چیئرمین سینیٹ اور پھر ڈپٹی چیئرمین کیخلاف تحریک عدم اعتماد پرکارروائی ہو گی۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کیلیے اپوزیشن کو 53 ارکان کی ضرورت ہے جبکہ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس 64 ارکان ہیں، رائے شماری خفیہ طریقے سے ہوگی۔ بیلٹ پیپر کی چھپائی مکمل کر لی گئی ہے۔ پریذائیڈنگ افسر محمد علی سیف اجلاس کی صدارت کرینگے۔ حکومتی اور اپوزیشن بینچوں نے اپنے اپنے ارکان کو اجلاس میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

بلاول بھٹو نے اپوزیشن سینیٹرز کے اعزاز میں ظہرانہ دیا جس میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کیلئے حکمت عملی طے کی گئی۔ رضا ربانی نے ووٹنگ کے عمل بر بریفنگ دی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول نے کہا عزت بچانے کیلیے اچھا ہے صادق سنجرانی استعفیٰ دیدیں ورنہ جمعرات کو تو وہ جا رہے ہیں، مستعفی ہونے کا فیصلہ ان کے لیے اچھا ہوگا۔ سینیٹر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ میں اسی دن جیت گیا تھا جس روز میرا نام تجویز کیا گیا تھا۔ اپوزیشن کے65 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ چودھری تنویر بیرون ملک دورے کے باعث غیر حاضر ہیں،کامران مائیکل پروڈکشن آرڈر پر ووٹ ڈالنے آئیں گے۔

حاصل بزنجو نے ایک انٹرویو میں کہا آج جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے، جمہوری قوتیں کامیاب ہونگی۔ ن لیگ کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی زیر صدارت لیگی سینیٹرز کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

شہباز شریف نے کہا چئیرمین سینٹ کے انتخاب میں جمہوریت اور آئین کی فتح ہوگیبعدازاں شہبازشریف سے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ملاقات ہوئی۔ شہبازشریف نے کامیاب یوم سیاہ پر فضل الرحمان کو مبارکباد دی۔ ملاقات میں سیاسی صورتحال اور تحریک عدم اعتماد پر بھی مشاورت ہوئی۔ اپوزیشن کے امیدوار حاصل بزنجو کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں و سینیٹرز کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا جس میں شہباز شریف، مریم نواز، بلاول بھٹو اور فضل الرحمان بھی شریک ہوئے۔

عشائیہ میں اپوزیشن کے62سینیٹرز نے شرکت کی۔ حاصل بزنجو نے کہا کہ میرا چیئرمین بننا نہ بننا اہم نہیں۔ ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ کل بہت بڑا اہم دن ہے جمہوریت پر جو وار ہوا تھا اس کا ازالہ کل ہوگا کل سیاسی جماعتوں کو توڑنے کیلیے حربے استعمال کرنے والے مائینڈ سیٹ کیلیے بہت بڑی شکست ہوگی۔

سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن والے مقابلہ تو کر نہیں سکتے، امیدوار کے مستعفی ہونے پر ہی جیت سکتے ہیں، وہ سنجرانی کے مستعفی ہونے کی افواہیں پھیلا رہی ہے جو آج دم توڑ جائیں گی۔ صادق سنجرانی کیخلاف اقدام پر خود اپوزیشن کی اکثریت ناخوش ہے۔ تحریک عدم اعتماد کو شکست ہوگی۔ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس اکرم درانی کی صدارت میں ہوا جس میں تحریک عدم اعتماد پر مشاورت کی گئی۔ اکرم درانی نے کہا ایک تبدیلی آج آئیگی، دوسری تبدیلی بھی آپ جلد دیکھیں گے۔

دوسری ضانب چیئرمین صادق سنجرانی نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے صادق سنجرانی نے کہا تحریک عدم اعتماد کا بھرپور مقابلہ کرونگا، اپوزیشن کیلیے سیاسی میدان کھلا نہیں چھوڑا جائیگا۔

ایک بیان میں انھوں نے کہا خفیہ رائے شماری کا آپشن اسی لیے ہے کہ ارکان آزادانہ اور ضمیر کے مطابق فیصلہ کریں۔ جن بڑے دماغوں نے آئین بنایا، انھوں نے 20، 20 دن کی سوچ بچار کے بعد خفیہ رائے شماری کا آپشن رکھا۔ میں نے ہاؤس کو غیر جانبداری سے چلایا، دیکھنا چاہتا ہوں کہ ممبران کسٹوڈین آف دی ہاؤس کیلیے ضمیر کے مطابق آزادانہ فیصلہ کرتے ہیں یا نہیں۔

The post چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ آج appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2YyCP6i

Tuesday, 30 July 2019

پی ٹی آئی کے ناراض رہنماؤں کی تنقید حکومتی ساکھ متاثر کرنے لگی

 لاہور:  پاکستان تحریک انصاف حکومت میں آنے کے بعد آج بھی مضبوط اور منظم سیاسی پارٹی بننے کی بجائے بے قابو ہجوم کی مانند دکھائی دے رہی ہے۔

عمران خان وزیر اعظم بننے کے 11 مہینے بعد بھی ’’بقاء‘‘ کی جنگ میں مصروف ہیں اور ان کی حکومت کے5 برس مکمل ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ ایک اہم عہدے کی ’’توسیع‘‘ کے فیصلے سے جڑا ہوا ہے۔غیر ملکی دورے تو کامیاب رہے لیکن ملکی معیشت میں کوئی واضح سدھار نظر نہیں آرہا ہے۔کسی حکومت کی مقبولیت کا گراف جاننے کیلئے جتنے بھی اشاریے ہوتے ہیں وہ تمام نیچے جا رہے ہیں اور ایسی صورتحال میں تحریک انصاف کے اہم ترین رہنماؤں کی ناراضگیاں بھی کھل کر سامنے آرہی ہیں۔ روٹھے ہوئے رہنماوں کے شکوے شکایات اور انکشافات حکومت کی ساکھ کو مزید کمزور کر رہے ہیں۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما، ٹکٹ ہولڈرز اور کارکن اپنی حکومت کے وزراء اور بیوروکریسی کے رویے اور عدم تعاون سے شدید مایوس ہو کر روٹھے ہوئے ہیں۔ دو روز قبل اعجاز چوہدری کی رہائشگاہ پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے بھی یہ شکوہ کیا تھا کہ بیوروکریسی کا رویہ تحریک انصاف کے رہنماوں اور کارکنوں کے ساتھ اچھا نہیں ہے۔ ملک بھر میں سینکڑوں کی تعداد میں ایسے رہنما موجود ہیں جنہیں حکومتی عہدے ملنا چاہیے تھے اور وہ حکومت کیلئے بہت فائدہ مند ثابت ہوتے لیکن اکثریتی حکومتی عہدے میرٹ کی بجائے سفارش اور ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر بانٹے جا رہے ہیں اور اہم ترین عہدوں پر ایسے لوگ تعینات ہو رہے ہیں جن کے پاس اس عہدے کے مطابق نہ تو ذہنی استعداد ہے اور نہ ہی وہ اس کے اہل ہیں۔ ان سب معاملات کی وجہ سے بھی تحریک انصاف میں ناراضگیاں بڑھ رہی ہیں۔

2018 ء میں ہونے والے عام انتخابات سے 2 برس قبل عمران خان نے اسد عمر کو اپنی آنے والی حکومت کا وفاقی وزیر خزانہ نامزد کردیا تھا، یہ’’اعزاز‘ کسی دوسرے پارٹی رہنما کو حاصل نہیں ہوا تھا۔ عمران خان کو امید تھی کہ اسد عمر پاکستان کی معیشت کو تیزی کے ساتھ بلندی پر لے جائیں گے گو کہ ایسا نہیں ہو سکا اور اس میں اسد عمر کا اتنا قصور نہیں جتنا بیان کیا جاتا ہے۔آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے اسد عمر نے چند روز پہلے اپنی ایک تقریر میں انکشاف کیا ہے کہ میں آئی ایم ایف پروگرام لینے کے حق میں نہیں تھا کیونکہ معیشت بتدریج بہتر ہو رہی تھی اور سکوک بانڈز کے اجراء کے بعد صورتحال بہت بہتر ہو جاتی۔

میں نے وزیر اعظم کو ایک متبادل معاشی پلان سے بھی آگاہ کیا تھا لیکن معیشت کو مکمل تبدیل کرنے کا موقع سنسر کردیا گیا۔ اسد عمر کا یہ بیان حکومت کے موجودہ معاشی پلان کیلئے کافی بڑا دھچکا ہے کیونکہ یہ سمجھا جا رہا ہے کہ اگر واقعی آئی ایم ایف پروگرام لیئے بغیر صورتحال قابو میں آرہی تھی تو محض 6 ارب ڈالر کے پروگرام کی خاطر سخت ترین شرائط کو قبول کرنا کہاں کی عقلمندی تھی،اس فیصلے سے عمران خان کی فیصلہ سازی پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔اسد عمر سے جس انداز میں وزارت واپس لی گئی اس پر وہ خود بھی اور تحریک انصاف کے کارکن خوش نہیں ہیں گو کہ انہیں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا چیئرمین بنایا گیا ہے لیکن ناراضگی اور فاصلے بدستور قائم ہیں۔

عمران خان کیلئے دوسرا بڑا دھچکا ان کے بانی ساتھی حامد خان کا ایک ٹی وی چینل کو دیا گیا انٹرویو ہے جس میں حامد خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف تبدیلی کی جماعت کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کی جماعت بن چکی ہے اور ہم پر اسٹیبشلمنٹ کا مکمل کنٹرول ہو چکا ہے۔ حکومت بنانے کیلئے ہم نے ہر قسم کے لوگ قبول کر لیئے،تحریک انصاف میں شامل ہو کر کرپشن کرنے والوں کو درگزر کردیا جاتا ہے۔

حامد زمان نے مسلم لیگ کی قیادت کے خلاف کرپشن کیسز ہونے کے باوجود کارروائی نہ ہونے پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔حامد خان نئے آنے والوں کیلئے سخت رویہ رکھتے ہیں اور انہیں فصلی بٹیرے بھی قرار دیتے ہیں لیکن تحریک انصاف کا گزشتہ چند سالوں کا ماضی گواہ ہے کہ نئے آنے والے بعض رہنماوں نے پرانے رہنماوں سے کہیں زیادہ جدوجہد کی ہے۔ جہانگیر ترین اور عبدالعلیم خان سے کسی کے جتنے بھی اختلافات ہوں لیکن کوئی بھی فرد اس حقیقت کو مسترد نہیں کر سکتا کہ ان دونوں رہنماوں نے پارٹی کیلئے نہ صرف جسمانی طور پر محنت کی بلکہ پارٹی کیلئے بے پناہ مالی وسائل ایسے حالات میں خرچ کئے جب پرانے رہنماوں کی اکثریت جیب کو تالا لگا لیتی تھی۔

حامد خان نے پہلے انٹرا پارٹی الیکشن میں جہانگیر ترین کے سیکرٹری جنرل بننے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی، فوزیہ قصوری کو آوٹ کیا لیکن جہانگیر ترین تو کچھ عرصہ بعد ایک طاقتور سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے سامنے آئے جبکہ فوزیہ قصوری دلبرداشتہ ہو کر پارٹی چھوڑ کر چلی گئیں۔2013 ء کے الیکشن میں ڈیفنس کے علاقہ سے قومی اسمبلی کی ٹکٹ کے معاملے پر بھی حامد خان اور علیم خان کے درمیان تنازعہ پیدا ہوا، ٹکٹ تو حامد خان کو مل گئی لیکن الیکشن خواجہ سعد رفیق نے جیت لیا۔ تحریک انصاف کے دیگر ناراض رہنماوں میں جسٹس(ر) وجیہہ الدین، تسنیم نورانی جیسے نام بھی شامل ہیں جنہیں عمران خان سے کافی شکایات رہی ہیں۔

تحریک انصاف کی تنظیم سازی کے پہلے مرحلے میں صوبائی تنظیموں کا اعلان کیا جا چکا ہے لیکن یہ تنظیم سازی متنازعہ ہونے کی وجہ سے مزید ناراضگیوں کا باعث بن رہی ہے، پنجاب تنظیم میں ڈپٹی سیکرٹری جنرل گوجرانوالہ ڈویژن بنائے جانے والے عمر ڈار نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ عمرڈار کو شکوہ ہے کہ وہ مرکزی تنظیم میں ڈپٹی سیکرٹری جنرل رہ چکے ہیں اس کے بعد سنٹرل پنجاب کے صدر رہے ہیں لیکن اب انہیں ایک ڈویژن کی حد تک عہدہ دینا نا انصافی ہے۔ بادی النظر میں تو عمر ڈار کا شکوہ درست معلوم ہوتا ہے کہ جن عہدوں پر وہ رہ چکے ہیں۔

ان سے کمتر عہدہ دینا مناسب معلوم نہیں ہوتا لیکن تحریک انصاف کی تنظیم سازی کرنے والے رہنماوں کا موقف ہے کہ عمر ڈار کے بھائی عثمان ڈار کو وزیر اعظم کا معاون خصوصی بنایا جا چکا ہے لہذا عمر ڈار کو اپنے لئے بڑے عہدے کی ضد نہیں کرنا چاہئے۔ عمر ڈار کے استعفی کی اصل وجہ عمر مائر ہیں جن کا تعلق بھی سیالکوٹ سے ہے اور ان کی ڈار برادران سے زیادہ بنتی نہیں ہے، عمر مائر کو مرکزی تنظیم میں ڈپٹی سیکرٹری جنرل بنایا گیا ہے جس کی وجہ سے عمر ڈار ناراض ہوئے ہیں۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو اپنی جماعت میں بڑھتی ہوئی ناراضگیوں کو روکنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ جب تحریک انصاف کا ناراض رہنما حکومت پر تنقید کرتا ہے تو اس کاا ثر اپوزیشن کی تنقید سے زیادہ ہوتا ہے۔

The post پی ٹی آئی کے ناراض رہنماؤں کی تنقید حکومتی ساکھ متاثر کرنے لگی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2SXsKdR

اصل غلطی گٹن برگ کی تھی

بار بار کہا جا رہا ہے کہ سنبھل کر لکھو، پہلے کسی پر بھینس چوری کا پرچا کٹتا تھا اب کرائے دار سے کرایہ نامہ نہ ہونے پر آدھی رات کو دروازہ توڑ کر گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ لکھنا ایک سزا ہے، بولنا اس سے بڑا گناہ، فیضؔ نے کہا تھا۔ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے، بول، زباں اب تک تیری ہے۔

کیسے معصوم تھے، کیا نہیں جانتے تھے کہ گئے زمانوں میں لکھنے والوں اور لکیریں کھینچنے والوں، ان میں رنگ بھرنے والوں کی انگلیاں کتر دی جاتی تھیں، بولنے والوں، تان اڑانے والوں کی زباں گدی سے کھینچ لی جاتی تھی، نہیں معلوم کہ گردن کی پشت سے آنکڑے سے زبان کھینچ لینے کا نسخہ کس نے ایجاد کیا۔

مجھے تو اتنی سی بات یاد ہے کہ حضرت عیسیٰ مسیح کے صرف ایک سو ساٹھ برس بعد ایک چینی سائی لیون نے کاغذ ایجاد کیا اور اسے نہایت احترام سے اپنے شہنشاہ کے حضور پیش کیا، انعام و اکرام سے نوازا گیا، کاغذ کا استعمال شروع ہوا اور اس کو بنانے کا نسخہ انتہائی صیغہ راز میں رکھا گیا۔ لیکن جیسا کہ شہنشاہوں کا وتیرہ ہوتا ہے، چند ہی برس بعد کسی بات پر شہنشاہ سائی لیون سے ناراض ہوا اور بھرے دربار میں اسے ذلیل کردیا۔ وہ باعزت شخص دربار سے گھر پہنچا، غسل کیا، قیمتی لباس زیب تن کیا اور سریع الاثر زہر کا گھونٹ پی لیا۔ اس زمانے کے فہم و فراست والے اپنے ساتھ زہر رکھتے تھے تا کہ ذلت کا سلسلہ دراز نہ ہو۔ چین سے کاغذ کی تیاری کا نسخہ صدیوں بعد اس وقت دنیا کو معلوم ہوا جب کچھ چینی، عرب فاتحین کے ہاتھ لگے اور مجبور کیے گئے کہ عربوں کو اس کی تیاری سے آگاہ کیا جائے۔

سائی لیون کا قصہ تمام ہوا لیکن انسان کے مقدر میں ذلت و رسوائی لکھی تھی۔ اسی لیے جرمنی میں بھائی گوٹن برگ پیدا ہوگئے۔ ان سے پہلے بھی چینی لکڑی کے ٹھپوں سے کتابیں چھاپتے تھے۔ لیکن ان کا چھاپنا مشکل تھا۔ گٹن برگ نے متحرک چھاپہ خانہ ایجاد کر لیا اوردنیا میں ایک ایسا ذہنی انقلاب برپا ہوگیا جس کی لہریں پھیلتی چلی گئیں اور آج دنیا میں ہزاروں، لاکھوں اور کروڑوں اخبار ، رسالے اور کتابیں شایع ہو رہی ہیں۔ حکمران اپنے خلاف چھپنے والے خیالات کو روکنے، تھامنے کی کوشش کرتے ہیں، تیسری دنیا میں ان کی سنسر شپ کامیاب رہتی ہے۔ لیکن مغربی دنیا ان پابندیوں سے بچ نکلنے میں 90 تا 95 فیصد کامیاب رہتی ہے۔

سنسر شپ اور آزاد خیالات کی عوام تک رسائی کے معاملات جن مرحلوں سے گزرے ہیں، ان کی تفصیلات آج ہمارے لیے ناقابل یقین ہیں۔ یہ پندرہویں صدی تھی جب گٹن برگ کا ایجاد کردہ چھاپہ خانہ ملکوں ملکوں پھیلا۔ پرتگیزی اسے ہمارے یہاں بھی لے کر آئے اور ہمارے شہنشاہ کے حضور پیش کیا۔ ان کی نگاہوں میں مغل اور ایرانی خطاط کی دل کش اور دل ربا تحریریں بسی ہوئی تھیں۔ انھیں بھلا ٹائپ کے بھدے لفظ کیوں بھاتے۔ انھوں نے اسے کسی گودام میں ڈلوا دیا جہاں وہ زنگ کھاتا رہا۔ ہم ہندوستانی گٹن برگ کی اس ایجاد سے محروم رہے۔ اور اسی لیے اب تک دنیا کے متعدد ملکوں سے بہت پیچھے ہیں۔

ستر بہتر برس سے ’’غداری‘‘ کا لفظ ہمارے حکمرانوں کو بہت محبوب رہا ہے۔ انھیں ہر اختلافی بات اور اختلافی رائے سے غداری کی بو آتی ہے۔ کبھی انھیں سزا دینے کے لیے پنڈی سازش کیس تیار ہوتا ہے، کبھی حسن ناصر کی ہڈیاں شاہی قلعہ لاہور میں توڑی جاتی ہیں۔ کبھی نذیر عباسی اور دوسرے متعدد وہ نوجوان سرکار والا تبار کی سختیوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں جو اپنے لوگوں کے لیے بہتر سماج کے خواب دیکھتے تھے۔ ہماری مختلف آمرانہ حکومتوں میں غدار بنانے کی فیکٹریاں شب و روز کام کرتی رہیں۔ سابق مشرقی پاکستان میں جس نے اپنے حق کی بات کی وہ ’’غدار‘‘ ٹھہرا، یہی احوال سندھ، پختونخوا اور بلوچستان کا رہا۔ شیخ مجیب الرحمان کال کوٹھری میں اپنی زندگی کے دل گنتے تھے۔ لیکن آخرکار بنگلہ دیش کے محترم لیڈر کی حیثیت سے واپس گئے۔ بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کی حیثیت سے پاکستان میں اسلامی سربراہان مملکت کی کانفرنس میں شرکت کے لیے تشریف لائے تو انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

غداروں کی ہمارے یہاں ایک لمبی فہرست رہی ہے، باچا خان،جی ایم سید، غوث بخش بزنجو، عطاء اللہ خان مینگل، سردار بگٹی، ایم آرڈی تحریک میں گرفتار ہونے اور سزا سہنے والے متعدد سیاسی رہنما اور کارکن بیگم نصرت بھٹو ، بیگم ولی خان، بینظیر بھٹو ، نام زیادہ ہیں اور جگہ کم۔

ان دنوں ٹیلی ویژن چینل ہوں یا اخبارات ہر جگہ لکھنے والے اور بولنے والے زیر بحث آرہے ہیں۔ وہ یہ بات اصرار سے کہہ رہے ہیں کہ ہماری بے ضرر تحریروں سے بھلا کیا فرق پڑتا ہے۔ یہ بات تو نہیں کہی جا سکتی کہ ان کی ’’معصومانہ‘‘ تحریروں سے کیا فرق پڑ سکتا ہے۔ لیکن اس موقع پر یہ بات کہے بغیر نہیں رہا جاتا کہ ساری خطا جرمن نژاد بھائی گٹن برگ کی ہے۔ نہ انھوں نے متحرک چھاپہ خانہ ایجاد کیا ہوتا، نہ لکھنے والوں پر یہ افتاد پڑتی۔

سترہویں صدی میں سنسر شپ کا یہ عالم تھا کہ صرف لکھنے والے ہی نہیں، ان کی تحریروں کو شایع کرنے والے بھی ’’غدار‘‘ ٹھہرتے تھے اور ایک عذاب مسلسل میں گرفتار تھے۔ ان ہی میں سے ایک برطانوی شہری جون ٹوین تھا۔ پیشے کے اعتبا رسے پبلشر۔ اس نے ایک نامعلوم مصنف کی لکھی ہوئی کتاب A Treatise of Execution of Justice شایع کردی۔ اس کے کچھ دوستوں کا کہنا تھا کہ اس نے کتاب کی عبارت کو توجہ سے نہیں پڑھا تھا۔ حقیقت کچھ بھی ہو، لیکن اس کتاب کی تحریر نے برطانوی بادشاہ اور اس کے مشیروں کو بہت برافروختہ کیا۔ وہ بادشاہ سے غداری کا مرتکب ٹھہرا، گرفتار ہوا، اس پر مقدمہ چلا۔ بادشاہ وقت ہو یا حکمران کسی کے لیے بھی ’’ملزم‘‘ کو ’’مجرم‘‘ ٹھہرانے میں کتنی دیر لگتی ہے۔

سو جون ٹوین بھی مجرم ٹھہرا۔ اس سے کہا گیا کہ وہ کتاب کو تحریر کرنے والے فسادی کا نام بتا دے لیکن صاحبو کیا جری اور جی دار تھا اس نے مصنف کا نام بتانے سے آخری وقت تک انکار کیا۔ چنانچہ اسے موت کی سزا سنا دی گئی اور آخر کار آج سے 355 برس پہلے اسے ایک ایسے گناہ کی سزا دی گئی جس کا اس نے ارتکاب نہیں کیا تھا۔ خیال آتا ہے کہ اس کتاب کے اصل مصنف نے یہ ہمت کیوں نہ دکھائی کہ وہ عدالت کے سامنے پیش ہوجاتا اور اعتراف کرتا کہ یہ شخص تو محض اس کی تحریر کو چھاپنے کا مرتکب ہوا ہے، اصل مصنف تو وہ ہے۔ اس گمنام شخص نے یہ ہمت نہیں کی اور تاریخ میں جون ٹوئن ایک ’’شہید‘‘ ٹھہرا۔ دیکھا جائے تو وہ چھاپہ خانہ کی راہ میں جان دینے والا پہلا شخص ہے۔

تاریخ ہمیں اس مقدمے کی حرف بہ حرف روداد بھی سناتی ہے جس میں پبلشر جون ٹوئن کے علاوہ کتاب کو فروخت کرنے والے، اس کی جزبندی کرنے والے اور اس کی ٹائپ سٹنگ کرنے والے اور مشین مین ہی صف اول کے ’’غدار‘‘ ٹہرائے گئے تھے۔ ان لوگوں نے بادشاہ سلامت کی ہلاکت کی ترغیب دی تھی۔ عدالت میں وہ پیرا گراف بھی پڑھ کر سنائے گئے جن میں یہ کہا گیا تھا کہ سپریم مجسٹریٹ (اپنے فیصلوں کے لیے) عوام کو جواب دہ ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ لوگوں کو حکومتی معاملات اپنے ہاتھوں میں لے لینے چاہئیں۔ تحریر میں لوگوں سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ بادشاہ سلامت اور ان کے خاندان کے خلاف ہتھیار اٹھالیں۔ لوگوں سے شہر اورملک میں انقلاب برپا کرنے کے لیے کہا گیا تھا اور یہ کہ عوام کو بادشاہ سے وفاداری ترک کرکے اسے قتل کردینا چاہیے۔

جون ٹوین نے جان دے دی مگر اصل مصنف کا نام اس کے لبوں پر نہ آیا۔ اس کے کچھ دوستوں کا کہنا تھا کہ اس نے تحریر کو سرسری طور پر دیکھا تھا اس لیے ایک نامعلوم مصنف کی تحریر کی پاداش میں اس کی جان لے لینے کا فیصلہ بہت سخت ہے۔ جب کہ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ شواہد اس کے برعکس ہیں کتاب کے صفحوں پر ٹوین کے ہاتھوں سے بنائی گئی اغلاط موجود ہیں۔ اس کے ادارے میں کام کرنے والے ملازمین اس بات کے گواہ ہیں کہ اس نے کتاب کی پروف ریڈنگ کی تھی اور پھر اسے چھاپنے کے بعد مختلف شہروں میں پھیلایا تھا۔ ان تمام شواہد کی موجودگی میں وہ بادشاہ سلامت کے خلاف غداری کا مرتکب ٹھہرتا ہے چنانچہ اسے سزائے موت ہی دی جانی چاہیے۔

جون ٹوین کو مفسد، شرپسند ، شیطان کا چیلا ٹھہرایا گیا۔ ٹوین نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا کہ وہ ’’معصوم‘‘ ہے۔ پھر اس نے ججوں سے اپیل کی کہ وہ ایک غریب آدمی ہے، اس کے تین بچے ہیں اور اسے وکیل فراہم کیا جائے جو اس کی طرف سے مقدمہ لڑ سکے۔ لیکن ججوں نے اس کی یہ درخواست رد کردی اور کہا کہ وہ خود اس کے وکیل ہیں۔ اسے کوئی وکیل فراہم نہیں کیا جاسکتا۔ اس سے انصاف کیا جارہا ہے۔ جلاد کو حکم دیا گیا، جون ٹوین نے اپنی مغفرت کے لیے دعا کی اور پھر جلاد کو اشارہ کیا کہ وہ حکم کی تعمیل کرے، جلاد آگے آیا، اس نے چمکتی ہوئی تلوار سے اس کا سر اڑا دیا۔ اس شہید وفا کا سر شہر میں عبرت کے لیے لٹکا دیا گیا اور بدن کے چار ٹکڑے کرکے شہر کے چار دروازوںپر کھ دیے گئے۔

یہ ہے اس شخص کا قصہ جسے ایک گم نام مصنف کی کتاب چھاپنے کے جرم میں سزا دی گئی۔ کیا خیال ہے آپ کا اصل غلطی بھائی گٹن برگ کی نہیںتھی۔

The post اصل غلطی گٹن برگ کی تھی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2YxIhpU

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...