Urdu news

Saturday, 31 August 2019

انٹر ٹیکسٹائل شنگھائی ہوم میں 6 پاکستانی کمپنیوں کی شرکت

کراچی: ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے تحت انٹر ٹیکسٹائل شنگھائی ہوم ٹیکسٹائل کے آٹم ایڈیشن میں میں پاکستان سے 6 کمپنیوں نے شرکت کی۔

تجارتی نمائش28سے31  اگست تک منعقد ہوئی، انٹر ٹیکسٹائل شنگھائی ہوم ٹیکسٹائل نے اپنے 25  سال مکمل کرلیے ہیں۔ 25 ممالک سے 1150نمائش کنندگان نے نمائش میں شرکت کی جن میں زیادہ تر تیار شدہ اشیا کے سپلائرز تھے۔

104 ممالک سے 40,000 تجارتی خریداروں نے اس نمائش میں شرکت کی۔ کارپٹ زون بھی آٹم ایڈیشن کا  حصّہ رہاجس میں کارپٹس اور رگز بنانے والے صنعتکاروں نے بھارت، ترکی ، پاکستان اور دیگر ممالک سے شرکت کی، پاکستان سے سیون اسٹار رگزنیاپنی مصنوعات صارفین کیلیے پیش کیں۔

نمائش میں 5 قومی پویلین بھی شامل تھے جن میں بیلجیم، بھارت، پاکستان، تائیوان اور ترکی شامل ہیں۔ 10بڑے تجاری خریدار ممالک میں کوریا، جاپان، روس، ایران، امریکا، بھارت، متحدہ عرب امارات، ملائیشیا، تھائی لینڈ اور سنگاپور شامل تھے۔

پاکستان سے انٹر ٹیکسٹائل شنگھائی ہوم میں درج ذیل کمپنیاں شامل ہوئیں: ہوم ٹیکسٹائل: آدم جی انٹرپرائزز، وہرا ایشین لیدر کرافٹ، یونائٹیڈ ٹاولز، فیئر ڈیل ملز اور جے کے گروپ آف کمپنیز۔کارپٹ زون: 7   اسٹار رگز نے شرکت کی۔

وہرا ایشین لیدرکے ڈائریکٹر وقاص نعیم نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہماری اس نمائش میں پہلی مرتبہ شرکت تھی اور ہمارا یہ تجربہ بہت بہترین رہا۔

 

The post انٹر ٹیکسٹائل شنگھائی ہوم میں 6 پاکستانی کمپنیوں کی شرکت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/32ix8aF

رقم کے لین دین پر نوجوان کو قتل کرنیوالے 2 بھائی گرفتار

کراچی: سندھ رینجرز نے قتل کی لرزہ خیرواردات کا معمہ حل کرتے ہوئے قتل میں ملوث دوسگے بھائیوں کوگرفتارکرلیا۔

ترجمان سندھ رینجرزکے مطابق 24 اگست کوشرافی گوٹھ سے ایک لاش برآمد ہوئی تھی جس کے ٹکڑے کرکے کارٹن میں بند کیا ہوا تھا واقعے کی اطلاع ملتے ہی پاکستان رینجرز سندھ نے تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی جس نے قتل کے محرکات کا جائزہ لیتے ہوئے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر پتہ لگایا کہ کورنگی نمبر 2 کارہائشی 24 سالہ لڑکا ضعیم 25 اگست سے لاپتہ ہے۔

پاکستان رینجرز سندھ نے لاپتہ ضعیم کا سراغ لگانے کے لیے ٹیکنیکل مانیٹرنگ اور شواہد کی روشنی میںکورنگی کے علاقے میںکارروائی کرتے ہوئے 2 ملزمان شاہد اور زاہد کوگرفتارکیا، ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے انکشاف کیا کہ وہ دونوں آپس میں بھائی ہیں اور اْن کی مقتول ضعیم کے ساتھ کاروباری شراکت داری ہے،ضعیم نے کاروبارکے لیے ان کو 36 لاکھ روپے دیے تھے، معاہدے کے تحت جومنافع ضعیم کو دینا تھا وہ نہیں دے رہے تھے اورضعیم کے بار بار رقم کے مطالبے پر ملزمان نے ضعیم کو اپنے گھربلایا اورگلے میں رسی ڈال کراسے قتل کردیا۔

بعد ازاں لاش کو ٹھکانے لگانے کے لیے ملزمان نے مقتول ضعیم کی لاش کو 10حصوںمیںکاٹا اور شرافی گوٹھ کے علاقے میں ڈبے میں پیک کرکے پھینک دیا،  ملزمان کی نشاندہی پرضعیم کی لاش کے باقی اعضا کورنگی اورلانڈھی کے مختلف علاقوں سے جمع کرلیے گئے،ملزمان کے قبضے سے قتل میںاستعمال ہونے والا ٹوکا اور چھری بھی برآمدکرلی ہے اوردونوں ملزمان کو قانونی کارروائی کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

ترجمان سندھ رینجرزنے عوام سے اپیل ہے کہ ایسے عناصر کے بارے میںاطلاع فوری طور پر قریبی چیک پوسٹ،رینجرز ہیلپ لائن 1101 یا رینجرز مددگار واٹس ایپ نمبر03162369996 پرکال یا ایس ایم ایس کے ذریعے دیں،آپ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

 

The post رقم کے لین دین پر نوجوان کو قتل کرنیوالے 2 بھائی گرفتار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2HzsDAz

گرمی کی شدت آج بھی برقرار رہنے کا امکان

کراچی: سمندری ہوائیں معطل ہونے کی وجہ سے شہر کا درجہ حرارت بڑھ گیا جب کہ گرمی کی شدت آج(اتوار) کو بھی برقرار رہنے کا امکان ہے۔

موجودہ گرمی کی لہر بحیرہ عرب میں پیداہونے والے ہوا کے کم دباؤ کے سبب ہے، ہفتے کے روز شہر میں دومختلف قسم کا موسم رہا،بیشترعلاقوں میں تیز دھوپ نکلی رہی جبکہ گلشن اقبال،گلستان جوہر،کریم آباد سمیت کئی علاقوں میں ہلکی، معتدل بارش اور پھوارپڑی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب میں بننے والے ہوا کے کم دباؤ کی وجہ سے جمعے اورہفتے کی درمیانی رات سمندری ہوائیں بند ہوگئیں،جس کی وجہ سے شہر میں حبس کی کیفیت پیداہوئی، واضح رہے کہ جمعے کو شہر میں سمندری ہوائیں معمول سے کم ریکارڈ ہوئیں)سمندری ہواوں کی بندش کے سبب دن کے وقت تیز دھوپ کی وجہ سے شہر میں شدید نوعیت کی گرمی اور گھٹن پیداہوگئی اور درجہ حرارت بڑھ گیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق ہفتے کو شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36.5ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا،جبکہ ہوا میں نمی کاتناسب غیر معمولی طورپر 65 فیصد تک بڑھنے کی وجہ سے گرمی کی شدت (فیل لائیک)اپنے اصل درجہ حرارت سے زیادہ محسوس ہوئی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق سمندری ہوائیں معطل ہونے کی وجہ سے متبادل سمت کی شمال مغربی (بلوچستان) کی گرم ہواوں نے شہرکا رخ کیا،جس کی وجہ سے گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا ، ہفتے کو شہربھر میں دومختلف قسم کا موسم رہا،ایک جانب بیشتر علاقوں میں تیز دھوپ نکلی رہی جبکہ دوپہر کے وقت گلشن اقبال، گلستان جوہر،کریم آباد،عزیزآباد، صدر پاسپورٹ آفس سمیت کئی علاقوں میں ہلکی اور درمیانی بارش اور پھوارپڑی۔

قائم مقام چیف میٹرولوجسٹ شاہد عباس کے مطابق ہو اکے کم دباؤ کی وجہ سے پیدا ہونے والی گرمی کا سلسلہ آج(اتوار)تک جاری رہ سکتا ہے،جس کے بعد یا تو ہوا کا کم دباؤ سمندر میں ختم ہوجائے گایا پھر کسی اور جانب منتقل ہو جائے گا۔

شاہد عباس کے مطابق 25ستمبر سے 7نومبر کے درمیان شہر میں ایک 40روزہ اسپیل ہرسال کی طرح اثراندازہوگا،جس کے دوران مون سون کے خاتمے کے بعد ابرآلود موسم میں کمی جبکہ تیز دھوپ میں اضافہ ریکارڈ ہوگا،شاہد عباس کے مطابق مذکورہ دورانیے میں شہرمیں درجہ حرارت 40ڈگری تک تجاوز کرسکتا ہے۔

قائم مقام چیف میٹرولوجسٹ کا مذید کہناہے کہ 4اور5ستمبر کے دوران شہر میں ایک لوکل ڈیولپمنٹ کی توقع کررہے ہیں،جس کے تحت ہلکی بارش ہونے کا امکان ہے اوردرجہ حرارت میں کمی واقع ہوگی۔

شہر میں ہفتے کو معتدل بارش کے بعد قوس وقزح ( دھنک) کے خوبصورت رنگ بکھرے،بارش تھمنے کے بعد ابرآلود موسم اور دھوپ کے امتزاج کے درمیان پیداہو نے والے حسین اور جاذب نظر منظر کو شہر کے کئی علاقوں میں دیکھا گیا،شہر میں ہفتے کی دوپہر مطلع مکمل اورجذوی ابر آلود ہونے کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں معتدل بارش پھوار اور بونداباندی ہوئی۔

بعدازاں بارش تھمنے کے بعد ایک اور انتہائی خوشگوار احساس شہریوں کو قوس وقزح یا پھر دھنک کے رنگوں کی شکل میں ہوا، کلفٹن، ڈیفنس اور گلشن اقبال سمیت چندعلاقوں میں آسمان کی بلندیوں پریہ انتہائی خوبصورت اور جاذب نظر منظر شہریوں کے مشاہدے میں آیا دھنک رنگوں کے دوران شہر میں دھوپ بھی نکلی ہوئی تھی ،جس کی وجہ سے بیک وقت ابر آلو د موسم اور کھلی کھلی دھوپ کا ایک حسین امتزاج دکھائی دیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق قوس وقزح یعنی( رینبو ) کے فضاؤں پر وجود میں آنے کی کچھ متفرق وجوہات ہیں،جب بارش یا بونداباندی ہو جاتی ہے،توا س دوران ہوا میں نمی کاتناسب معمول سے انتہائی زیادہ ہوتاہے،اوریہی وہ وقت ہوتاہے جب فضا میں ایک خاص بلندی پرموجود پانی کے قطرے ایک دوسرے کے ساتھ لڑیوں کی شکل میں پیوست ہو نا شروع ہوجاتے ہیں،اورپانی کے ان لاتعدا د بوندوں پرعین اوپر سے پڑنے والی سورج کی سفید براق روشنی ان بوندوں سے منعکس ہوتی ہے اور یوں اس عمل کے نتیجے میں سات رنگوں کی ایک چادر سی آسمان پر تن جاتی ہے،جسیعرف عام میں قوس وقزح یا پھر دھنک رنگ کہا جاتاہے۔

 

The post گرمی کی شدت آج بھی برقرار رہنے کا امکان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/32ix76B

بچوں سے بدسلوکی کیخلاف آواز اٹھانے کا وقت آگیا، مقررین

کراچی: ایکسپریس میڈیا گروپ کے اشتراک سے غیرسرکاری تنظیم کیٹ واک کیئرز کے زیر اہتمام کراچی کے مقامی ہوٹل میں بچوں سے بد سلوکی کے عنوان پر کانفرنس 2019 کا انعقاد کیا گیا۔

مقررین کا کہنا ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی، تشدد ، بدسلوکی ہمارے معاشرے میں پروان چڑھ رہی ہے اب وقت آگیا ہے کہ اس کے خلاف آواز اٹھانا شروع کی جائے۔ جاوید جبار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب لڑکیوں کو پانچویں سے آگے پڑھنے نہیں دیا جاتا تھا مگر اب پرائمری ایجوکیشن میں بتدریج بہتری آرہی ہے۔

کانفرنس میں غیر سرکاری تنظیم ساحل کی رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیاکہ 2018 میں بچوں کو اغوا کے923 ، بدفعلی کے 589، زیادتی کے 537، بچوں کی گمشدگی کے 452 ، زیادتی کی کوشش کے 345 ، اجتماعی بدفعلی کے 282 ، اجتماعی زیادتی کے 156 اور کم عمری کی شادی کے 99 واقعات رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا کہ بچوں سے زیادتی کے کل 3702 واقعات میں سے 1571 واقعات بند جگہوں اور 544 واقعات کھلے مقامات پر پیش آئے جبکہ 1587 واقعات میں تشدد کے مقام کے بارے میں کوئی معلومات ہی نہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کل واقعات میں 63 فیصد پنجاب سے، 27 فیصد سندھ، 4 فیصد خیبرپختونخوا، 3 فیصد اسلام آباد، 2 فیصد بلوچستان سے، 34 واقعات آزاد کشمیر اور 6 واقعات گلگت بلتستان سے سامنے آئے ہیں۔ کانفرنس میں پروٹیکشن از پریوینشن کے نام سے پینل گفتگو ہوئی جس میں ڈاکٹر فواد سلیمان، شہزاد رائے، ثروت گیلانی، انجلین مالک اور شہنیرا اکرام نے حصہ لیا جبکہ اداکارہ ماریہ واسطی نے بطور مینٹور فرائض انجام دیے۔

شہزاد رائے نے کہا کہ ہم نے چائلڈ ایبیوز پر بولنا بعد میں شروع کیا تھا اور کام کرنا پہلے شروع کیا تھا اب ضرورت اس بات کی ہے لوگوں کا مائنڈ سیٹ تبدیل کریں ، چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کا فعال ہونا انتہائی ضروری ہے ہم پورے پاکستان میں اس یونٹ کو مضبوط کرنے کی کوشش کررہے ہیں، معاشرے میں بچوں کو مارنے کا کلچر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اس سلسلے میں ہم اتنا کام کرچکے ہیں کہ اب کوئی استاد بچے کو مارتا ہے یا کوئی بھی وڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہے تو اسے سزا ملتی ہے، سوسائٹی میں بچہ پیدا ہوتا ہے تو پہلے ماں باپ مارتے ہیں، اسکول میں اساتذہ مارتے ہیں اور باہر پولیس والے، بچوں پر تشدد پر کھل کر کوئی بات کرنے کوتیار نہیں ہوتا، جب تک اس موضوع پر بات نہیں ہوگی تو مسائل کاحل نہیں ہوگا۔

ثروت گیلانی نے کہا کہ جن ممالک میں بچوں سے بدسلوکی کے قوانین پر عمل سختی سے ہورہا ہے ان سے پاکستان کہیں پیچھے ہے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو گڈ ٹچ ، بیڈ ٹچ سے متعلق آگاہ کریں اور اعتماد دیں کہ بچے ان سے ہر بات شیئر کریں بچوں کے ساتھ مارپیٹ کا طریقہ ٹھیک نہیں، ہمارے معاشرے میں بچوں کے ساتھ زیادتی، بدسلوکی سے متعلق بات کرنا اچھا نہیں سمجھا جاتا اور جب تک اس پر بات نہیں ہوگی آگاہی نہیں آئے گی۔

ڈائریکٹر و اداکارہ انجیلین ملک نے کہا کہ بچوں سے زیادتی سے متعلق والدین اور اسکولوں میں سیمنار کا انعقاد ہونا چاہیے اور اسکول کی سطح پر تربیت یافتہ لوگ ہونے چاہئیں جو اساتذہ اور والدین کو ٹریننگ دیں گے تو ہی اس طرح کے رجحانات کو ختم کرسکتے ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ معاملے کی سنگینی اور اہمیت کا احساس کیا جائے اور ایک جامع حکمت عملی ترتیب دی جائے۔

ڈاکٹر فواد سلیمان نے کہا کہ ہمارے ملک میں نفسیات کے ڈاکٹرز انتہائی کم ہیں اگر کوئی سائیکاٹرسٹ کے پاس جانا بھی جاتا ہے تو 3 سے 4 ماہ کا اپائنمنٹ ملتا ہے اس سلسلے میں ریاست کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور نفسیات کے ڈاکٹروں میں اضافہ کرنا ہوگا، ہمارے یہاں جتنے مسائل ہیں اس حساب سے یہاں پر سائیکاٹرسٹ کی بہتات ہونی چاہیے تاکہ ناصرف وقت پر بلکہ مفت علاج بھی ممکن ہو، پورے ملک میں چائلڈ سائیکاٹرسٹ کی تعداد صرف4 ہے جبکہ بچوں کے نفسیاتی مسائل میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، میرے پاس جو کیسز آتے ہیں ان میں 95ویں فیصد وربل ایبیوز کے ہوتے ہیں، کانفرنس میں معاشرے کا کردار اور ذمے داری پر حسان نیازی، عدنان ملک، زالے سرحدی، احسن خان اور شہریار منور نے روشنی ڈالی۔

 

The post بچوں سے بدسلوکی کیخلاف آواز اٹھانے کا وقت آگیا، مقررین appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2HEmp2x

لاہور میں کتابوں کا اتوار بازار آج بھی کتب بینوں کا منتظر

لاہور: لاہورمیں آج بھی کتابوں کا اتواربازارسجتاہے۔

مال روڈانارکلی کے قریب اور اورینٹل کالج کے باہرفٹ پاتھ پرہزاروں کتابیں سجی نظرآتی ہیں۔یہاں آپ کواردو،انگریزی ،عربی اور فارسی میں کئی نادر ونایاب پرانی کتابیں نظرآئیں گی۔

کتابیں بیچنے والوں میں ایک بزرگ حسیب بیگ بھی شامل ہیں۔جوگزشتہ 25 برس سے یہاں پرانی کتابیں فروخت کررہے ہیں۔وہ کہتے ہیں تاریخی ، ادبی ،سیاسی اور سماجی موضوعات پرلکھی قدیم اورنادرونایاب کتابوں کے محافظ ہیں،لاہور ، کراچی ،راولپنڈی اور پشاور میں بڑی عمدہ ، کم قیمت اور نادر کتب دستیاب ہیں اور لاہور کے فٹ پاتھ پر کتابیں بیچنے والوں کے لیے تو یہ کہا جاتا ہے کہ وہ خود بھی بہت اچھے کتب بین ہوتے ہیں۔

چالیس سے وابستہ کتب فروش عرفان نذیرنے بتایا کہ والدکے بعد یہ خزانہ ا نہیں مل گیا ، انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے کتب بینی کے رحجان میں کمی آئی ہے،طالب علم اپنے کورس یاپھرریسرچ کے لئے پرانی کتابیں ڈھونڈنے آتے ہیں۔ ان کتابوں کی اہمیت آج بھی برقرارہے۔

حسیب بیگ نے بتایا کہ پرانی کتب کا سب بڑاذریعہ کباڑخانے ہیں ، بیرون ملک سے جو کنٹینرز آتے ہیں ان میں سے بھی بعض اوقات انگریزی کی اچھی کتابیں مل جاتی ہیں۔

 

The post لاہور میں کتابوں کا اتوار بازار آج بھی کتب بینوں کا منتظر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2LbKvUz

پنجاب میں موٹر سائیکل رکشا ٹریفک کی بدنظمی و حادثات کا بڑا سبب

لاہور: نیشنل ٹرانسپورٹ ریسرچ سینٹر نے برطانوی حکومت کے اشتراک سے پنجاب میں موٹر سائیکل رکشا کے استعمال، مسائل اور تکنیکی خامیوں کے حوالے سے کی جانیوالی ریسرچ میں اہم ترین نکات کی نشاندہی کر دی ہے، یہ ریسرچ رپورٹ 5 ستمبر کو جاری کی جائے گی۔

پنجاب سمیت ملک بھر میں چلنے والے غیرمعیاری اور غیر قانونی 20لاکھ سے زائد موٹرسائیکل رکشا ٹریفک کی بدنظمی اور حادثات کا بڑا سبب بن گئے ہیں، 85 فیصد سے زائد موٹر سائیکل رکشوںکا بریک سسٹم غیرمحفوظ ہے۔

گزشتہ 15 برس کے دوران برسر اقدار آنے والی وفاقی و صوبائی حکومتیں سیاسی مفادات اور عوامی دباؤ کی وجہ سے اس معاملے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ، ٹریفک ، صنعت، ایکسائز، اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول کے وفاقی وصوبائی محکمے باہمی رابطے کے فقدان، قوانین میں سقم، متبادل نظام کیلیے مالی وسائل کی قلت کے سبب ریگولیٹ اور انفورسمنٹ کے معاملے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

پنجاب میں 2006-7 کے دوران موٹر سائیکل رکشا کی تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہوا تھا، 10، 15فیصد موٹر سائیکل رکشا چائنا کمپنیوں کے بنائے ہوئے ہیں جن کا معیار بہتر ہے اور یہ سنگل چیسز پر بنے ہوئے ہیں لیکن دیگر 85 فیصد رکشا ایسے ہیں جو لوہے کا فریم موٹر سائیکل ڈھانچہ کے ساتھ ویلڈنگ کرکے بنائے گئے ہیں۔

90 فیصد سے زائد موٹر سائیکل رکشوں میں 70 سی سی ہارس پاور کی استعمال کی جاتی ہیں جو 6 سواریوں اور ایک ڈرائیور کا وزن برداشت کرنے کیلیے ناکافی ہے، پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول کے ادارے کے مطابق موٹر سائیکل رکشا کا چیسز سنگل فریم ہونا چاہیے، خودساختہ موٹر سائیکل رکشے غیر قانونی ہیں۔

ریسرچ رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں20 لاکھ سے زائد موٹر سائیکل رکشا ہیں جو شہری اور دیہی علاقوں میں غریب عوام کیلیے آسان ٹرانسپورٹ کا ذریعہ ہیں لیکن عوام اور حکومت ان موٹر سائیکل رکشا کو غیر معیاری اور خطرناک ٹرانسپورٹ وہیکل قرار دیتی ہے، چیف نیشنل ٹرانسپورٹ ریسرچ سینٹر حمید اختر نے ایکسپریس کو بتایا کہ قوانین کا جائزہ لیا گیا ہے، مشاورت کے بعد عوام کے سامنے لایا جائے گا۔

 

The post پنجاب میں موٹر سائیکل رکشا ٹریفک کی بدنظمی و حادثات کا بڑا سبب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2ZHBKFy

ن لیگ اجلاس، کارکنوں کے شکوے، عہدوں کی تبدیلی کاامکان

لاہور: مسلم لیگ ن کے لاہور میں ہونیوالے اجلاس کی اندرونی کہانی کا ایکسپریس نے پتہ لگا لیا، شہباز شریف کی طبیعت بہتر ہونے پر نواز شریف کی مشاورت سے پارٹی عہدے متحرک اور فعال کارکنوں کو دیے جانے کا امکان ہے۔

پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق احسن اقبال کی زیر صدارت مسلم لیگ ن لاہور کا پارٹی اجلاس پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاون میں ہوا جس میں پرویز ملک ، خواجہ عمران نذیر ، رانا مشہود ، سعدیہ تیمور ، مبشر جاوید ، عطااللہ تارڑ ، سمیع اللہ خان ودیگر کارکنوں نے شرکت کی ، اجلاس میں شریک اندرونی ذرائع کے مطابق اجلاس میں مختلف تنظیموں کے عہدیداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں مختلف رہنماؤں نے کھل کر اظہار خیال کیا جبکہ کچھ رہنماؤں نے دبے الفاظ میں ضلع لاہور قیادت پر تنقید بھی کی ، اجلاس کے دوران پارٹی کارکنوں کو مائیک ملا تو انہوں نے شکووں اور شکایات کے انبار لگا دیئے ، احسن اقبال نے پارٹی کارکنوں کی شکایات دور کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے کارکنوں کو یقین دلایا کہ آپ کی خواہشات کا احترام کیا جائے گا ۔

 

The post ن لیگ اجلاس، کارکنوں کے شکوے، عہدوں کی تبدیلی کاامکان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2LpDNJk

لاہور میں کتابوں کا اتوار بازار آج بھی کتب بینوں کا منتظر

لاہور: لاہورمیں آج بھی کتابوں کا اتواربازارسجتاہے۔

مال روڈانارکلی کے قریب اور اورینٹل کالج کے باہرفٹ پاتھ پرہزاروں کتابیں سجی نظرآتی ہیں۔یہاں آپ کواردو،انگریزی ،عربی اور فارسی میں کئی نادر ونایاب پرانی کتابیں نظرآئیں گی۔

کتابیں بیچنے والوں میں ایک بزرگ حسیب بیگ بھی شامل ہیں۔جوگزشتہ 25 برس سے یہاں پرانی کتابیں فروخت کررہے ہیں۔وہ کہتے ہیں تاریخی ، ادبی ،سیاسی اور سماجی موضوعات پرلکھی قدیم اورنادرونایاب کتابوں کے محافظ ہیں،لاہور ، کراچی ،راولپنڈی اور پشاور میں بڑی عمدہ ، کم قیمت اور نادر کتب دستیاب ہیں اور لاہور کے فٹ پاتھ پر کتابیں بیچنے والوں کے لیے تو یہ کہا جاتا ہے کہ وہ خود بھی بہت اچھے کتب بین ہوتے ہیں۔

چالیس سے وابستہ کتب فروش عرفان نذیرنے بتایا کہ والدکے بعد یہ خزانہ ا نہیں مل گیا ، انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے کتب بینی کے رحجان میں کمی آئی ہے،طالب علم اپنے کورس یاپھرریسرچ کے لئے پرانی کتابیں ڈھونڈنے آتے ہیں۔ ان کتابوں کی اہمیت آج بھی برقرارہے۔

حسیب بیگ نے بتایا کہ پرانی کتب کا سب بڑاذریعہ کباڑخانے ہیں ، بیرون ملک سے جو کنٹینرز آتے ہیں ان میں سے بھی بعض اوقات انگریزی کی اچھی کتابیں مل جاتی ہیں۔

 

The post لاہور میں کتابوں کا اتوار بازار آج بھی کتب بینوں کا منتظر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2LbKvUz

پنجاب میں موٹر سائیکل رکشا ٹریفک کی بدنظمی و حادثات کا بڑا سبب

لاہور: نیشنل ٹرانسپورٹ ریسرچ سینٹر نے برطانوی حکومت کے اشتراک سے پنجاب میں موٹر سائیکل رکشا کے استعمال، مسائل اور تکنیکی خامیوں کے حوالے سے کی جانیوالی ریسرچ میں اہم ترین نکات کی نشاندہی کر دی ہے، یہ ریسرچ رپورٹ 5 ستمبر کو جاری کی جائے گی۔

پنجاب سمیت ملک بھر میں چلنے والے غیرمعیاری اور غیر قانونی 20لاکھ سے زائد موٹرسائیکل رکشا ٹریفک کی بدنظمی اور حادثات کا بڑا سبب بن گئے ہیں، 85 فیصد سے زائد موٹر سائیکل رکشوںکا بریک سسٹم غیرمحفوظ ہے۔

گزشتہ 15 برس کے دوران برسر اقدار آنے والی وفاقی و صوبائی حکومتیں سیاسی مفادات اور عوامی دباؤ کی وجہ سے اس معاملے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ، ٹریفک ، صنعت، ایکسائز، اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول کے وفاقی وصوبائی محکمے باہمی رابطے کے فقدان، قوانین میں سقم، متبادل نظام کیلیے مالی وسائل کی قلت کے سبب ریگولیٹ اور انفورسمنٹ کے معاملے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

پنجاب میں 2006-7 کے دوران موٹر سائیکل رکشا کی تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہوا تھا، 10، 15فیصد موٹر سائیکل رکشا چائنا کمپنیوں کے بنائے ہوئے ہیں جن کا معیار بہتر ہے اور یہ سنگل چیسز پر بنے ہوئے ہیں لیکن دیگر 85 فیصد رکشا ایسے ہیں جو لوہے کا فریم موٹر سائیکل ڈھانچہ کے ساتھ ویلڈنگ کرکے بنائے گئے ہیں۔

90 فیصد سے زائد موٹر سائیکل رکشوں میں 70 سی سی ہارس پاور کی استعمال کی جاتی ہیں جو 6 سواریوں اور ایک ڈرائیور کا وزن برداشت کرنے کیلیے ناکافی ہے، پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول کے ادارے کے مطابق موٹر سائیکل رکشا کا چیسز سنگل فریم ہونا چاہیے، خودساختہ موٹر سائیکل رکشے غیر قانونی ہیں۔

ریسرچ رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں20 لاکھ سے زائد موٹر سائیکل رکشا ہیں جو شہری اور دیہی علاقوں میں غریب عوام کیلیے آسان ٹرانسپورٹ کا ذریعہ ہیں لیکن عوام اور حکومت ان موٹر سائیکل رکشا کو غیر معیاری اور خطرناک ٹرانسپورٹ وہیکل قرار دیتی ہے، چیف نیشنل ٹرانسپورٹ ریسرچ سینٹر حمید اختر نے ایکسپریس کو بتایا کہ قوانین کا جائزہ لیا گیا ہے، مشاورت کے بعد عوام کے سامنے لایا جائے گا۔

 

The post پنجاب میں موٹر سائیکل رکشا ٹریفک کی بدنظمی و حادثات کا بڑا سبب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2ZHBKFy

ن لیگ اجلاس، کارکنوں کے شکوے، عہدوں کی تبدیلی کاامکان

لاہور: مسلم لیگ ن کے لاہور میں ہونیوالے اجلاس کی اندرونی کہانی کا ایکسپریس نے پتہ لگا لیا، شہباز شریف کی طبیعت بہتر ہونے پر نواز شریف کی مشاورت سے پارٹی عہدے متحرک اور فعال کارکنوں کو دیے جانے کا امکان ہے۔

پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق احسن اقبال کی زیر صدارت مسلم لیگ ن لاہور کا پارٹی اجلاس پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاون میں ہوا جس میں پرویز ملک ، خواجہ عمران نذیر ، رانا مشہود ، سعدیہ تیمور ، مبشر جاوید ، عطااللہ تارڑ ، سمیع اللہ خان ودیگر کارکنوں نے شرکت کی ، اجلاس میں شریک اندرونی ذرائع کے مطابق اجلاس میں مختلف تنظیموں کے عہدیداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں مختلف رہنماؤں نے کھل کر اظہار خیال کیا جبکہ کچھ رہنماؤں نے دبے الفاظ میں ضلع لاہور قیادت پر تنقید بھی کی ، اجلاس کے دوران پارٹی کارکنوں کو مائیک ملا تو انہوں نے شکووں اور شکایات کے انبار لگا دیئے ، احسن اقبال نے پارٹی کارکنوں کی شکایات دور کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے کارکنوں کو یقین دلایا کہ آپ کی خواہشات کا احترام کیا جائے گا ۔

 

The post ن لیگ اجلاس، کارکنوں کے شکوے، عہدوں کی تبدیلی کاامکان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2LpDNJk

2ماہ میں ٹیکس وصولی کا ہدف پورا نہ ہو سکا، 64 ارب کا شارٹ فال

اسلام آباد: رواں مالی سال کے پہلے 2 ماہ (جولائی،اگست)کے دوران ایف بی آر کا ٹیکس وصولی میں عبوری شارٹ فال64 ارب روپے ہو گیا ہے۔

’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب اعدادوشمار کے مطابق جولائی، اگست کے دوران مجموعی طور پر580 ارب روپے کی خالص ٹیکس وصولیاں کی گئی ہیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں498 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کے مقابلہ میں 16.47فیصد زیادہ ہیں مگر رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ کیلئے مقرر کردہ 644 ارب روپے کے ہدف کے مقابلہ میں64 ارب روپے کم ہیں۔

دوماہ کے دوران انکم ٹیکس کی مد میں189ارب روپے، سیلز ٹیکس کی مد میں265 ارب روپے، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں28 ارب روپے اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں98ارب روپے وصول کئے گئے۔

اگست کے دوران ایف بی آر نے مجموعی طور پر298 ارب روپے کی عبوری ٹیکس وصولیاں کی ہیں جو کہ اگست کیلیے مقرر کردہ352 ارب روپے کے ہدف کے مقابلہ میں54 ارب روپے کم ہیں جبکہ جولائی کیلئے مقرر کردہ نظر ثانی شْدہ ہدف بھی حاصل نہیں ہو سکا تھا اور جولائی میں دس ارب روپے کا ریونیو شارٹ فال تھا۔

2 ماہ کے شارٹ فال کے نتیجے میںرواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی(جولائی تا ستمبر) کیلئے آئی ایم ایف سے طے کردہ 1076 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ جسے حاصل کرنے کیلئے ایف بی آر کو رواں ماہ ستمبر میں 496 ارب روپے کی خالص ٹیکس وصولیاں کرنا ہوں گی۔

 

The post 2ماہ میں ٹیکس وصولی کا ہدف پورا نہ ہو سکا، 64 ارب کا شارٹ فال appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2ZvqW2k

ایف بی آر کی تنظیم نو کے بغیر ٹیکس ہدف پورا کرنا ممکن نہیں

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے ایف بی آر کی تنظیم نو کیے بغیرجو اس وقت بھی 80ء کی دہائی کی طرز پر کام کررہا ہے، 5.5 ٹریلین ٹیکس ہدف کا وعدہ کر لیا جب کہ ایف بی آر بڑے پیمانے پر تنظیم نو کے بغیر موثر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکتا۔

چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کی جانب سے حال ہی میں فیلڈ فارمیشنز کو لکھے گئے مراسلہ میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ ان لینڈ ریونیو سروس کا 75 فیصد محض 102 ارب روپے جمع کیا گیا جو گذشتہ مالی سال کے دوران 1.5کھرب روپے کے انکم ٹیکس کا 7 فیصد بنتا ہے،باقی 1.4 کھرب روپے انکم ٹیکس یا تو خودبخود اکٹھا ہوگیا ، یا باقی 25 فیصد افرادی قوت کی بہت کم کوشش کا اس میں دخل ہو گا۔

فیلڈ فارمیشنز کے 23 سربراہوں کو لکھے گئے خط میں چیئرمین شبر زیدی نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ دانشورانہ ان پٹ ، بہتری کی صلاحیت ، دیگر وسائل اور ظاہری ڈھانچہ اس وقت ٹیکس وصولی ہدف سے مطابقت نہیں رکھتا۔

چیئرمین ایف بی آر نے لکھا کہ 80ء کی دہائی میں 60 فیصد ریونیو ٹیکس اہلکاروں کی بلاواسطہ یا بالواسطہ تخمینہ کاری کے عمل سے اکٹھا کیا جاتا تھا جو اب سکٹر کر محض 7 فیصد رہ گیا ہے،گزشتہ 20 برسوں میں خصوصاً ( ن) لیگ کے 2013ء سے 2018ء کے دور میں ود ہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ بڑی تیزی سے کیا گیا اور اس وقت ان ٹیکسوں کی تعداد 50 کے قریب ہے جو لوگوں کے ہر ممکنہ لین دین اور اخراجات کا احاطہ کرتا ہے۔اس ٹیکس نے ایف بی آر کو محصول آمدنی کا آسان ذریعہ بھی فراہم کیا تاہم ایف بی آر کی افرادی قوت اس کا پوری طرح احاطہ نہیں کر سکی۔

ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے چیئر مین شبر زیدی نے کہا کہ 95 فیصد سے زائد ادائیگیاں بغیر کسی آڈٹ یا تخمینہ کے رضاکارانہ طور پر کی جاتی ہیں، انہوں نے کہا کہ اس خیال پر مکمل اتفاق پایا جاتا ہے کہ وسائل اور ترجیحات میں مطابقت پیدا کرنا ازحد ضروری ہے۔

 

The post ایف بی آر کی تنظیم نو کے بغیر ٹیکس ہدف پورا کرنا ممکن نہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2LpDMFg

قائد اعظمؒ، فاطمہ جناح، لیاقت علی کی وقف جائیدادوں پر قبضے کا انکشاف

لاہور: محکمہ اینٹی کرپشن لاہور ریجن نے قائد اعظم محمد علی جناح، فاطمہ جناح اور نواب لیاقت علی خان کی وقف شدہ جائیدادوں پر قبضے کیے جانے کا نوٹس لے لیا اور اس پر باقدعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔

محکمہ اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق گلبرگ میں واقع اربوں روپے مالیت کی بانی پاکستان، فاطمہ جناح اور نواب لیاقت علی خان کے نام سے وقف جائیداد پر قبضہ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے جس کی باقاعدہ نشاندہی کروائی گئی اور پھر ایک مکمل سورس رپورٹ کی بیناد پر محکمہ اینٹی کرپشن نے پٹوار سرکل اچھرہ میں واقع ریونیو اسٹاف سے ریکارڈ اور موقع کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

ایل ڈی اے کے متعلقہ افسران کو بھی نوٹسز جاری کرتے ہوئے ریکارڈ سمیت پیش ہونے کی ہدایت کر دی گئی ہے، ریکارڈ ملنے کے بعد اربوں روپے مالیت کی یہ قیمتی اراضی قبضہ مافیا سے جلد خالی کرا لی جائے گی۔

 

The post قائد اعظمؒ، فاطمہ جناح، لیاقت علی کی وقف جائیدادوں پر قبضے کا انکشاف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2ZvrnK0

وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے ’’سرکاری منرل واٹر‘‘ تیار کرلیا

اسلام آباد: وفاقی وزیر فواد چوہدری کی ہدایت پر سرکاری دفاتر میں پینے کے پانی کا خرچہ بچانے کے لیے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے سرکاری منرل واٹر تیار کرلیا ہے۔

پاکستان کونسل آف ریسرچ اینڈ واٹر ریسورسز نے ‘‘سیف ڈرنکنگ واٹر’’ کے نام سے منرل واٹر کی 500 ملی لیٹر کی بوتلیں تیارکرلی ہیں، پانی کی بوتلیں ابتدائی طور پر وزیراعظم آفس، ایوان صدر اور پارلیمنٹ ہاوس میں استعمال ہوں گی۔

وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ’’ایکسپریس‘‘ سے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کی کفایت شعاری مہم کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک روپے لیٹر میں سستا، معیاری منرل واٹر تیارکرلیا گیا، پہلے مرحلے میں یہ منرل واٹر سرکاری دفاتر میں متعارف کرایا جائے گا۔

 

The post وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے ’’سرکاری منرل واٹر‘‘ تیار کرلیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2LpDJt4

قائد اعظمؒ، فاطمہ جناح، لیاقت علی کی وقف جائیدادوں پر قبضے کا انکشاف

لاہور: محکمہ اینٹی کرپشن لاہور ریجن نے قائد اعظم محمد علی جناح، فاطمہ جناح اور نواب لیاقت علی خان کی وقف شدہ جائیدادوں پر قبضے کیے جانے کا نوٹس لے لیا اور اس پر باقدعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔

محکمہ اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق گلبرگ میں واقع اربوں روپے مالیت کی بانی پاکستان، فاطمہ جناح اور نواب لیاقت علی خان کے نام سے وقف جائیداد پر قبضہ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے جس کی باقاعدہ نشاندہی کروائی گئی اور پھر ایک مکمل سورس رپورٹ کی بیناد پر محکمہ اینٹی کرپشن نے پٹوار سرکل اچھرہ میں واقع ریونیو اسٹاف سے ریکارڈ اور موقع کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

ایل ڈی اے کے متعلقہ افسران کو بھی نوٹسز جاری کرتے ہوئے ریکارڈ سمیت پیش ہونے کی ہدایت کر دی گئی ہے، ریکارڈ ملنے کے بعد اربوں روپے مالیت کی یہ قیمتی اراضی قبضہ مافیا سے جلد خالی کرا لی جائے گی۔

 

The post قائد اعظمؒ، فاطمہ جناح، لیاقت علی کی وقف جائیدادوں پر قبضے کا انکشاف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2ZvrnK0

وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے ’’سرکاری منرل واٹر‘‘ تیار کرلیا

اسلام آباد: وفاقی وزیر فواد چوہدری کی ہدایت پر سرکاری دفاتر میں پینے کے پانی کا خرچہ بچانے کے لیے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے سرکاری منرل واٹر تیار کرلیا ہے۔

پاکستان کونسل آف ریسرچ اینڈ واٹر ریسورسز نے ‘‘سیف ڈرنکنگ واٹر’’ کے نام سے منرل واٹر کی 500 ملی لیٹر کی بوتلیں تیارکرلی ہیں، پانی کی بوتلیں ابتدائی طور پر وزیراعظم آفس، ایوان صدر اور پارلیمنٹ ہاوس میں استعمال ہوں گی۔

وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ’’ایکسپریس‘‘ سے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کی کفایت شعاری مہم کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک روپے لیٹر میں سستا، معیاری منرل واٹر تیارکرلیا گیا، پہلے مرحلے میں یہ منرل واٹر سرکاری دفاتر میں متعارف کرایا جائے گا۔

 

The post وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے ’’سرکاری منرل واٹر‘‘ تیار کرلیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2LpDJt4

ٹوکیو اولمپکس کوالیفائنگ؛ ہاکی پلیئرز کی فٹنس پر سوالیہ نشان لگ گیا

لاہور: ٹوکیو ٹوکیو اولمپک کوالیفائنگ راؤنڈ کی تیاریوں کے لیے قومی ہاکی کیمپ میں شریک کھلاڑیوں کی فٹنس پرسوالیہ نشان لگ گیا اور ٹیسٹ رپورٹ میں بیشتر پلیئرز انٹرنیشنل فٹنس معیارکوچھو بھی نہ سکے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے زیراہتمام ٹوکیواولمپکس کوالیفائنگ راؤنڈ کے لیے کھلاڑیوں کی جسمانی استعداد اور فٹنس کے لیے قومی ہاکی کیمپ نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں جاری ہے جس کی تیاری کے لیے معروف اسپورٹس ٹرینر اور ایشیا لیول انسٹرکٹر برائے فزیکل ٹرینرز نصراللہ رانا، ڈاکٹر اسد عباس سمیت قومی ہاکی کوچز اولمپئن وسیم احمد، اولمپئن سمیر حسین، رانا ظہیراحمد، اجمل خان لودھی انٹرنیشنل، ہیڈکوچ و مینجر قومی ہاکی ٹیم اولمپئن خواجہ جنید کی زیر نگرانی کھلاڑیوں کی فٹنس اور اسکلز ٹیسٹ لیے جارہے ہیں۔

ٹیسٹ کے نتائج سے کیمپ مینجمنٹ غیرمطمئن نظرآتی ہے،کھلاڑیوں کی فٹنس کا معیار عالمی معیار سے قطعی مطابقت نہیں رکھتا۔ذرائع کے مطابق کیمپ مینجمنٹ کھلاڑیوں کی فٹنس کے معیار کے حوالے سے غیر مطمئن نطر آتی ہے جبکہ قلیل وقت اور مقابلہ سخت کے حالات کومدنظر رکھتے ہوئے سینئر اور تجربہ کار کھلاڑیوں کوکیمپ میں بلائے جانے کا امکان بھی نظر آتا ہے جس میں کھلاڑیوں کی واپسی فٹنس ٹیسٹ سے مشروط کیے جانے کا آپشن بھی زیرغور ہے۔

ذرائع کے مطابق موجودہ کھلاڑی کیمپ مینجمنٹ کو اپنی کارکردگی اور فٹنس کے حوالے سے متاثر نہیں کرسکے تاہم لانگ ٹرم پلاننگ کے حوالے سے کھلاڑیوں کی فٹنس اور ٹریننگ کے لیے پروگرام مرتب کرکے انکو تربیت کے عمل سے گزارا جارہا ہے، جس میں کھلاڑیوں کے لیے کلاسیفائیڈ ٹریننگ پروگرام، ڈائٹ اینڈ نیوٹریشن مینو اور اسپورٹس وٹامنز وغیرہ دیے جارہے ہیں۔

مزید معلوم ہوا ہے کہ تجربہ کار کھلاڑی عمربھٹہ کی کیمپ میں واپسی ہو گئی ہے جبکہ عرفان سینئر اور رضوان سینئر سمیت متعدد تجربہ کار کھلاڑی بھی کیمپ کا حصہ بن سکتے ہیں۔

ادھر قومی ہاکی ٹیم کے ٹرینر و انٹرنیشنل ایتھلیٹکس کوچ نصر اللہ رانا نے کہا ہے کہ قومی ہاکی کیمپ میں بلائے گئے کھلاڑیوں کا فٹنس لیول عالمی معیار کے مطابق نہیں اس پر ابھی بہت کام کرنا پڑے گا۔ اسے بہتر بنانے میں کم از کم 5 سے 6 ہفتے لگ سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ فٹنس ٹیسٹ میں ہمیں کھلاڑیوں کے فٹنس لیول کا اندازہ ہوگیا ہے اب ہم ہیڈ کوچ اورکوچنگ اسٹاف کے ساتھ مل کر کھلاڑیوں کی فٹنس کوعالمی معیارکا بنانے کی کوشش کریں گے، انھوں نے کہا کہ پی ایچ ایف سربراہ خالد سجاد کھوکھر اور سیکریٹری آصف باجوہ نے مجھ سمیت قومی ہاکی ٹیم کے کوچنگ اسٹاف کو ہر حوالے سے فری ہینڈ دیتے ہوئے ہم سے بہترین پرفارمنس کا تقاضہ کیا ہے۔

نصر اللہ رانا نے کہاکہ جہاں تک کھلاڑیوں کی فٹنس کی بات ہے تو اس حوالے سے وہ اپنی ذمہ داری بھر پور طریقے سے ادا کریں اورکیمپ میں موجود کھلاڑیوں کو ہر اعتبار سے فٹ بنانے کے لیے کام کریں گے، گیم تیکنیک کے حوالے سے بہرحال کوچزکوکام کرنا ہے۔

انھوں نے امید ظاہر کی کہ ٹیم مینجمنٹ سے جڑے ہر فرد کی کوشش سے قومی ٹیم ہاکی کی پرفارمنس میں بہتری آئے گی اور مستقبل میں ٹیم پاکستان عالمی معیارکا کھیل پیش کرتی نظر آئے گی۔

 

The post ٹوکیو اولمپکس کوالیفائنگ؛ ہاکی پلیئرز کی فٹنس پر سوالیہ نشان لگ گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2ZEh0hZ

کم ٹیمیں، کم میچز، سخت مقابلہ اور زیادہ ٹیلنٹ، بورڈ نے مستقبل کے سہانے خواب دکھادیئے

لاہور: کم ٹیمیں،کم میچز، سخت مقابلہ،نیا ٹیلنٹ، بورڈ نے نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر سے مستقبل کے سہانے خواب دکھا دیئے۔

نئے ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر کی تقریب رونمائی گذشتہ روز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہوئی، چیئرمین پی سی بی احسان مانی،چیف ایگزیکٹیو وسیم خان اورڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ ہارون رشیدکے ہمراہ پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی، ملتان سلطانز کے مالک علی ترین اور دیگر بھی اس موقع پرموجود تھے، وسیم خان نے نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر پر پریزنٹیشن دی۔

انھوں نے بتایا کہ 16 ریجنز کو6 صوبائی ایسوسی ایشنز میں ضم کردیا گیا ہے، سٹی ایسوسی ایشنز کا صوبائی باڈیز کے ساتھ الحاق ہوگا، نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر کو 3 مختلف درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے، پہلے مرحلے میں 90 سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز اسکول اور کلب سطح جبکہ دوسرے میں انٹرا سٹی مقابلوں کا انعقاد کیا جائے گا، تیسرے درجے میں 6 ایسوسی ایشنز کی ٹیمیں پی سی بی کے زیراہتمام ٹورنامنٹس میں شرکت کریں گی،ایسوسی ایشنز کو انڈر 19کرکٹ کا بھی اسٹرکچر بنانا ہوگا۔

سٹی ایسوسی ایشن میں 12فعال کلبز ہوں گے، کلبز سطح پر میرٹ یقینی بنانے کیلیے مکمل مانیٹرنگ کے ساتھ ریکارڈ بھی مرتب کیا جائے گا، آن لائن اسکورنگ متعارف کرائی جائے گی، ہر صوبائی ایسوسی ایشن 32 کھلاڑیوں کو سالانہ کنٹریکٹ دے گی، یہ پی سی بی کے سینٹرل کنٹریکٹ کا حصہ نہیں ہوں گے،ایسوسی ایشن 32 کھلاڑیوں کے علاوہ بھی کسی کھلاڑی کو فی میچ معاوضہ دے کر میچ میں شامل کرسکتی ہے،ڈومیسٹک کرکٹ کنٹریکٹ رکھنے والے ہر کھلاڑی کو ماہانہ 50 ہزار روپے معاوضہ ملے گا۔

انھوں نے بتایا کہ ہر صوبائی ایسوسی ایشن کی پی سی بی ایک سال تک معاونت کرے گا، مینجمنٹ اور سلیکشن میں بھی مدد کی جائے گی، بعد ازاں اپنے مالی معاملات خود دیکھنا اور مارکیٹنگ و فنانس کیلیے آفیشلز کی خدمات حاصل کرنا ہوں گی،سٹی ایسوسی ایشنز کو بھی قانونی حیثیت دینے کے ساتھ سالانہ آڈٹ کرانا ہوگا۔

چیئرمین احسان مانی نے اس موقع پر پریس کانفرنس میں کہاکہ میں نے بورڈ کی کمان سنبھالتے ہی شفافیت، گڈگورننس اور مضبوط ڈومیسٹک سسٹم لانے کا عزم ظاہر کیا تھا، اب کرکٹ کے معیار میں بہتری لاکر اسے انٹرنیشنل تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اولین ترجیح ہے، اکثر کہا جاتا ہے کہ ہماری ٹیم اپنا معیار برقرار نہیں رکھ پاتی، بیرون ملک دوروں میں زیادہ مسائل سامنے آتے ہیں، ہمیں ہر طرح کی کنڈیشنز میں پرفارم کرنے والے کرکٹرز کی ضرورت ہے،موجودہ سسٹم سے سامنے آنے والے کھلاڑی عالمی سطح پر فٹنس مسائل میں بہت پیچھے نظر آتے ہیں، ان مسائل پر بھی گراس روٹ سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر سے قومی کھلاڑیوں کی کارکردگی میں تسلسل آئے گا، نئے اسٹرکچر کو کامیاب بنانے کیلیے پی سی بی صوبائی ایسوسی ایشنزکی مکمل معاونت کرے گا۔

چیف ایگزیکٹیو وسیم خان نے کہا کہ پی سی بی ٹیسٹ کرکٹ کی اہمیت پر یقین رکھتا ہے،ساتویں پوزیشن پاکستان کے شایان شان نہیں، یہ اسٹرکچر ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کیلیے بہترین ٹیم کے انتخاب میں مدد دے گا۔

انھوں نے کہا کہ ون ڈے کرکٹ میں بھی چھٹی پوزیشن قابل قبول نہیں،ہم صوبائی ایسوسی ایشنز کے ذریعے مسابقتی کرکٹ کو فروغ دیں گے، ٹیم میں غیر مستقل مزاجی ختم کرنے کا واحد ذریعہ یہی ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں مقابلے کی فضا پیدا کی جائے، رواں سیزن سے پچز کا معیار بہتر کیا جائے گا، ڈومیسٹک مقابلوں میں ڈیوک کے بجائے کوکا بورا گیند استعمال ہوگی تاکہ انٹرنیشنل سطح پر کھلاڑیوں کو پریشانی نہ ہو، نئے اسٹرکچر میں سابق کرکٹرز کیلیے کوچنگ اور مینجمنٹ میں مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں،ڈومیسٹک کرکٹ میں بہترکارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کی مراعات میں اضافہ ہوگا۔

ہر صوبائی ایسوسی ایشن کے معاملات8رکنی کمیٹی سنبھالے گی

ہرصوبائی ایسوسی ایشن کے معاملات8رکنی کمیٹی سنبھالے گی،لاہور میں نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان نے بتایاکہ صوبائی ایسوسی ایشنزکی ٹیموں کے معاملات چلانے کیلیے8رکنی کمیٹی کام کریگی،اس میں پی سی بی کے نامزد اور موجودہ ریجن سے 3،3نمائندے شامل ہونگے،2ارکان پرنسپل اسپانسرز کی جانب سے لیے جائیں گے،ہر ایسوسی ایشن کی اپنی سلیکشن کمیٹی بھی ہوگی، ابتدا میں سلیکشن کے معاملات میں پی سی بی معاونت کرے گا،آگے چل کر ایسوسی ایشن مکمل طور پر خود مختار ہوجائیںگی۔

The post کم ٹیمیں، کم میچز، سخت مقابلہ اور زیادہ ٹیلنٹ، بورڈ نے مستقبل کے سہانے خواب دکھادیئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2PzC35H

صوبائی ایسوسی ایشنز کی ٹیموں کا اگلے ہفتے اعلان

لاہور: صوبائی ایسوسی ایشنز کی ٹیموں کا اعلان اگلے ہفتے ہوگا۔

پی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان نے بتایا کہ مصباح الحق،راشد لطیف اور ندیم خان کو ڈومیسٹک کرکٹ میں تجربہ سامنے رکھتے ہوئے3رکنی پینل میں شامل کیا گیا، ان کی جانب سے منتخب کیے جانے والے صوبائی ایسوسی ایشنز کے حتمی اسکواڈز کا اعلان آئندہ ہفتے سامنے آئیگا۔

فرسٹ الیون اور سکینڈ الیون کا حصہ بننے والے کرکٹرز کے معاوضوں کا بھی اعلان کردیا جائیگا،فرسٹ کلاس کرکٹ میں پہلے اگر کسی کرکٹر کی آمدن 12 لاکھ سالانہ ہوتی تھی تو اب 20سے 25لاکھ تک ہوگی،گریڈ ٹو میں اگر کوئی کھلاڑی پہلے5لاکھ کماتا تھا تو اب اسے12لاکھ تک حاصل ہونگے۔

وسیم خان نے کہاکہ نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر کو 10سال تک تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، ہمارے کھلاڑی دباؤ میں کھیلنے کے عادی نہیں، مسائل حل کرنے کیلیے ڈومیسٹک کرکٹ کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ضروری ہے،راتوں رات بہتری نہیں آسکتی، غلطیاں بھی ہوں گی، ان سے سیکھیں گے لیکن مشکل فیصلے کرتے ہوئے تسلسل کے ساتھ مثبت پالیسیوں کو جاری رکھنا ہوگا،اس سسٹم کو 10سال تک تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہا کہ بہتری کیلیے دروازے ہمیشہ کھلے رکھنے چاہئیں،ہم آنے والے وقت کی ضرورت کے مطابق فیصلے کرسکتے ہیں، ہمارا مقصد ایسا اسٹرکچر بنانا ہے جس میں ہمارے بعد آنے والوں کو بھی آسانی ہو۔

شکر ہے میری تنخواہ کا نہیں پوچھا وسیم کی بات نے مسکراہٹیں بکھیردیں

’’شکر ہے آپ نے میری تخواہ کا نہیں پوچھا‘‘، چیف ایگزیکٹیو وسیم خان کی بات نے پریس کانفرنس میں مسکراہٹیں بکھیر دیں،ایک صحافی نے سوال کیا کہ ہماری دعا ہے کہ نیا ڈومیسٹک اسٹرکچر کامیاب ہو، ماضی میں پاکستان نے شوکت عزیز اور معین قریشی جیسے وزیر اعظم بھی غیر ملکوں سے درآمد کیے لیکن ملک کو نقصان ہوا، اب آپ کو انگلینڈ سے لایا گیا ہے کیا یہ تجربہ کامیاب ہوگا۔ جواب میں وسیم خان نے کہا کہ بھائی آپ نے دعا دی، یہی کرتے رہیں،اچھی بات ہے کہ آپ نے میری تنخواہ کی بات نہیں پوچھی۔

وسیم نے بے روزگار ہونے والے کرکٹرز کو تسلی دیدی

وسیم خان نے بتایا کہ گذشتہ سسٹم میں 16ٹیمیں69میچز کھیلتیں، اس دوران 353کرکٹرز سرگرم ہوتے تھے، ڈپارٹمنٹس کے 166کھلاڑیوں میں سے بیشتر کو 2یا اس سے کم فرسٹ کلاس میچ کھیلنے کو ملتے، نئے اسٹرکچر میں 6صوبائی ٹیمیں 31میچز کھیلیں گی،ان میں 192فل ٹائم اور کنٹریکٹ یافتہ کرکٹرز ہوں گے۔

بے روزگاری کا عنصر کم کرنے کے حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ 6صوبائی ٹیموں کے ساتھ 98کوچز اور معاون اسٹاف کے لوگوں کی خدمات حاصل کی جائیں گی،سٹی ایسوسی ایشنز، انڈر 19سمیت جونیئر ٹیموں کیلیے بھی سابق کرکٹرز کی ضرورت ہوگی،اسکول کی سطح پر کرکٹ کے فروغ کیلیے بھی کوچز درکار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہر صوبائی ایسوسی ایشن کے اسکواڈ کے ساتھ کوچز، فزیو اور اینالسٹ سمیت 6کا عملہ ہوگا، سیکنڈ الیون اور سٹی ایسوسی ایشنز کے ساتھ 5افرادکو رکھا جائے گا۔

وسیم خان نے کہا کہ گراس روٹ سطح سے صوبائی ٹیموں تک اتنی زیادہ اور منظم کرکٹ ہوگی کہ کھلاڑیوں کے معاوضوں میں اضافہ ہوگا، باہر رہ جانے والوں کیلیے سسٹم میں جگہ بنانے کے مواقع موجود ہوں گے، کوالیفائیڈ کوچز کیلیے تیاری کیلیے بھی بھرپور پلاننگ کی جا چکی،اسپانسرز سامنے آئے تو کھلاڑیوں اور اسٹاف کی مراعات میں بھی اضافہ ہونے کے امکانات بڑھیں گے۔

ہارون رشید کو پی سی بی کے ساتھ طویل وابستگی کا حساب دینا پڑگیا

ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ ہارون رشید کو پی سی بی کے ساتھ طویل وابستگی کا حساب دینا پڑگیا، قذافی اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس کے دوران ان سے سوال کیا گیا کہ آپ 30سال سے ڈومیسٹک کرکٹ کے ساتھ وابستہ اور کلبز اور آرگنائرز میں کرپشن کے بارے میں بھی جانتے ہیں،کیا آپ نے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان کو اس بارے میں بتایا ہے۔

جواب میں ہارون رشید نے کہا کہ میں اتنے عرصہ بورڈ سے وابستہ نہیں رہا، یوتھ ڈیولپمنٹ اور دیگر کئی شعبوں میں کام کیا، اس میں وقفہ بھی آیا جب ملازمت سے نکال دیا گیا تھا، میں نے ڈومیسٹک کرکٹ کیلیے تجاویز تیار کرکے بورڈ کو دی تھیں، ان کی روشنی میں کام ہورہا ہے۔

مرضی کی پچز تیار کرانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کریں گے،وسیم

وسیم خان نے کہا کہ پاکستانی بیٹنگ لائن کی غیر مستقل مزاجی کی بات کی جاتی ہے، اگر ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار بہتر نہیں ہوگا تو انٹرنیشنل میچز میں بھی اس کی جھلک نظر آئے گی، مثال کے طور پرپاکستان میں فرسٹ کلاس میچز میں پہلی اننگز کا اوسط ٹوٹل231زمبابوے سے بھی کم ہے،اس میں مرضی کی پچز تیار کرانے والی ہوم ٹیموں کا بھی کردار ہے،اس رجحان کی بھی حوصلہ شکنی کریں گے،پچز ایک نہیں 4دن کی کرکٹ کو سامنے رکھتے ہوئے تیار کرائی جائیں گی۔

صوبائی ایسوسی ایشنز ویمنز کرکٹ کے فروغ کی بھی ذمہ دار

نئے ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر میں صوبائی ایسوسی ایشنز ویمنز کرکٹ کے فروغ کی بھی ذمہ دار ہوں گی، وسیم خان نے بتایا کہ ہم ویمنز کرکٹ میں بھی تبدیلیاں کررہے ہیں، ابھی کرکٹرز کا پول چھوٹا ہے، اس میں اضافے کیلیے صوبائی ایسوسی ایشنز کام کریں گی۔

چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہا کہ کرکٹرز میں ہاتھ اور آنکھ کے تال میل پر 7 سال کی عمر میں کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے،اس کیلیے اسکول سطح پر کرکٹ شروع کرنا ہوگی، ہمارے ہاں تعلیمی ادارے لڑکیوں کے کھیلوں خاص طور پر کرکٹ پر کوئی توجہ نہیں دیتے،صوبائی ایسوسی ایشنز اس ضمن میں کام کریں گی تاہم ایک مربوط سسٹم بنانے میں 10سال بھی لگ سکتے ہیں۔

 

The post صوبائی ایسوسی ایشنز کی ٹیموں کا اگلے ہفتے اعلان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2zF0ioh

نئے ڈومیسٹک سیزن میں قومی ٹیم کی ضرورت نظرانداز

لاہور: نئے ڈومیسٹک سیزن میں قومی ٹیم کی ضرورت کو نظر انداز کردیا گیا جب کہ سری لنکا سے محدود اوورز کے میچز شیڈول ہونے پر بھی آغاز 14ستمبر کو قائد اعظم ٹرافی سے ہوگا۔

پی سی بی سری لنکا کیخلاف2ٹیسٹ میچز کی اکتوبر میں میزبانی کا خواہاں تھا،تیاری کیلیے فرسٹ کلاس سیزن کا قائداعظم ٹرافی سے آغاز کرنے کا منصوبہ بنایا گیا، آئی لینڈرز نے رواں ماہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میچز کیلیے پاکستان آنے پر رضا مندی ظاہر کی لیکن پی سی بی نے اپنے شیڈول میں کوئی تبدیلی نہ کرتے ہوئے نئے سیزن کا آغاز قائد اعظم ٹرافی سے ہی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب لاہور میں جاری پری سیزن کیمپ میں بھی بیشتر کھلاڑیوں کو ٹیسٹ فارمیٹ کی تیاری کو پیش نظر رکھتے ہوئے مدعو کیاگیا تھا،اس کا بھی مقصد پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا، گذشتہ روز پی سی بی کی جانب سے نئے ڈومیسٹک سیزن کا جو شیڈول جاری کیا گیا، اس کے مطابق قائداعظم ٹرافی کے فرسٹ کلاس میچز 14 ستمبر سے 8 اکتوبر اور پھر 28 اکتوبر سے 13 دسمبر تک جاری رہیں گے۔

قومی انڈر 19 کرکٹ ٹورنامنٹ یکم اکتوبر سے 12 نومبر تک ہوگا، قائداعظم ٹرافی سیکنڈ الیون کے میچز 14 ستمبر سے 10 اکتوبر اور28 اکتوبر سے 29 نومبر تک ہونگے، قومی ٹی ٹوئنٹی کپ 13 سے 24 اکتوبر تک کھیلا جائیگا، پاکستان کپ ون ڈے ٹورنامنٹ کے میچز 29 مار چ سے 24 اپریل 2020 تک جاری رہیں گے، ٹی ٹوئنٹی اور ایک روزہ کپ میں فرسٹ الیون اور سیکنڈ الیون کے میچز بیک وقت شروع ہونگے۔

 

The post نئے ڈومیسٹک سیزن میں قومی ٹیم کی ضرورت نظرانداز appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Pw63PS

ورلڈ کپ؛ ان فٹ کرکٹرز کا انتخاب مکی آرتھر کو لے ڈوبا

کراچی: گورننگ بورڈ میٹنگ میں چیف ایگزیکٹیو وسیم خان نے ارکان کو بتایا کہ قومی ٹیم کے کوچ جانتے تھے بعض ورلڈکپ اسکواڈ ارکان فٹ نہیں ہیں اس کے باوجود انھیں انگلینڈ لے کر گئے تاہم معاہدے میں توسیع نہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔

جمعے کے روز لاہور میں پی سی بی گورننگ بورڈ میٹنگ کے دوران کھلاڑیوں کی فٹنس کا معاملہ بھی  زیرغور آیا، ذرائع کے مطابق چیف ایگزیکٹیو وسیم خان نے کہا کہ کپتان سرفراز احمد سمیت بعض کرکٹرز کی فٹنس کا معیار اچھا نہ تھا اسی لیے ورلڈکپ میں ٹیم کی کارکردگی متاثر ہوئی۔

انھوں نے مکی آرتھرکے معاہدے میں توسیع نہ کرنے کی ایک وجہ ان فٹ کرکٹرز کے انتخاب کو قرار دیا، ان کے مطابق کوچ جانتے تھے کہ بعض کھلاڑیوں کی فٹنس عالمی معیار کی نہیں اس کے باوجود انھوں نے کوئی اعتراض نہ کیا اور انھیں انگلینڈ لے گئے، ہم نے انھیں عہدے پر برقرار نہ رکھنے کا فیصلہ کرنے میں اس پہلو کو بھی ذہن میں رکھا۔

دوسری جانب  خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ گورننگ بورڈ میٹنگ میں نئے ڈومیسٹک سسٹم پر گرماگرم بحث ہو گی مگر حیران کن طور پر کسی نے کوئی سوال نہ اٹھایا،اسی لیے ڈھائی سے تین گھنٹے میں تمام تر کارروائی مکمل ہو گئی، اس موقع پر ایسا محسوس ہوا کہ ریجنز ہمت ہار گئے ہیں کہ وہ کچھ بھی کر لیں پی سی بی فیصلہ تبدیل نہیں کرے گا، اسی لیے بحث مباحثے سے گریز کیا گیا۔

ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ ہارون رشید کی ڈومیسٹک کرکٹ پر پریزنٹیشن 10، 12 منٹ پر محیط تھی، ان سے کسی نے کوئی سوال تک نہ کیا۔

 

The post ورلڈ کپ؛ ان فٹ کرکٹرز کا انتخاب مکی آرتھر کو لے ڈوبا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2zDf3b8

شائقین اب مجھے بدلاہوا انسان پائیں گے، عمر اکمل

لاہور / لاہور: ٹیسٹ کرکٹر عمر اکمل کا کہنا ہے کہ شائقین اب مجھے بدلاہوا انسان پائیں گے، غلطیوں سے سبق سیکھنے کے ساتھ بیٹنگ میں بہتری لانے پر بھی بہت کام کررہا ہوں۔

29 سالہ باصلاحیت بیٹسمین نے پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ https://ift.tt/2QIuKoB کو خصوصی انٹرویو میں کہا کہ بورڈ حکام کرکٹ کی بہتری کیلیے جوکچھ کرنے جا رہے ہیں میری نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں، میں مصباح الحق کے ساتھ بہت زیادہ کرکٹ کھیل چکا، ڈپارٹمنٹ کیلیے کھیلنا شروع کیا تو وہ ساتھ تھے، محمد حفیظ میرے لیے رول ماڈل رہے ہیں، اگرمصباح کو قومی ٹیم کا ہیڈکوچ مقررکیا گیا تواس سے ٹیم کی کارکردگی کا معیاربلند ہوگا، بیٹسمینوں کوبھی ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔

انھوں نے کہا کہ فٹنس جانچنے کے وضع کردہ پیمانے کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن میرے نزدیک اسکلز کو پہلی ترجیح دینی چاہیے، مجھے عمدہ پرفارمنس کے باوجود ماضی میں زیادہ کھیلنے کا موقع نہیں مل سکا لیکن یقین ہے کہ نئی انتظامیہ کے آنے سے صورتحال میں بہتری آئیگی۔

عمر اکمل نے کہا کہ مجھے ایک بار پھر ملک کی نمائندگی کا موقع ملنے کا یقین ہے، ٹیم کیلیے بہترین صلاحیتوں کوبروئے کار لانا چاہتا ہوں، انھوں نے کہا کہ ہمیشہ کی طرح کلب کرکٹ پر ہی زیادہ توجہ ہے، نیٹ پرروز ایک گھنٹے سے زیادہ وقت پریکٹس کررہا ہوں۔

 

The post شائقین اب مجھے بدلاہوا انسان پائیں گے، عمر اکمل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2PzAvsp

کیا اب ٹیلنٹ کی برسات ہو جائے گی؟

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جب تاریخ لکھی جائے گی  تو اس میں  ہارون رشید کا نام  ابتدا میں ہی شامل ہوگا، اب یہ نہ پوچھیے گا کہ کون سے حروف میں، سابق ٹیسٹ بیٹسمین میں ایک خوبی ہے کہ چیئرمین جو بھی ہو وہ اسے بس میں کر لیتے ہیں اور پھر جو  ہدایت ملے اس پر سو فیصد عمل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

یہی خوبی انھیں سب کی آنکھ کا تارا بنا دیتی ہے،نئی انتظامیہ  نے آتے ہی سب سے پہلے وزیراعظم عمران خان کی ہدایت کے مطابق ڈومیسٹک سسٹم کی تبدیلی کا نعرہ لگایا،اس میں ہارون رشید ہم آواز ہو کر دن رات جت گئے، انھوں نے کل احسان مانی اور وسیم خان کے ساتھ میڈیا سے گفتگو میں اس نئے منصوبے کی تفصیلات بتائیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ  ماضی میں بھی وہ ڈومیسٹک سسٹم میں تبدیلیوں میں پیش پیش رہے اور تعریف میں زمین آسمان کی قلابے ملاتے نظر آئے، پھراپنا ہی بنایا ہوا پلان تبدیل کر دیتے، خیروہ یس مین ہیں اور ایسے لوگوں کو جو حکم ملے ویسا ہی کرتے ہیں۔

پی سی بی نے جو  نئے ڈومیسٹک سسٹم کی تفصیلات جاری کیں،اس کے بعد حکام کا اعتماد دیکھ کرایسا لگتا ہے کہ اب پاکستانی ٹیم جلد ہی ٹیسٹ میں بھی نمبر ون بن جائے گی، ہمیں ویرات کوہلی جیسے بیٹسمین اور پیٹ کمنز جیسے فاسٹ بولرز ملنے لگیں گے لیکن ہم خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت میں واپس آئیں تو ایسا کچھ نہیں ہونے والا، آپ دیکھ لیجیے گا چند برس بعد بھی ہم وہیں کھڑے ہوں گے جہاں آج ہیں، تب یہ کہیں گے کہ نیا سسٹم ہے نتائج آنے میں وقت لگے گا، پھر چار سال بعد اگر نئی حکومت آئی تو وہ پھر کرکٹ بورڈ انتظامیہ اور نظام تبدیل کر دے گی۔

پی سی بی  کو ایکدم سے اتنی ساری تبدیلیوں سے گریز کرتے ہوئے2،3 سال کاکوئی منصوبہ بنانا چاہیے تھا جس پر آہستہ آہستہ عمل کرتے، ملک ابھی بہت ساری مشکلات میں گھرا ہوا ہے، عمران خان کو انھیں حل کرنے دیں، ان کے منصوبوں پر عمل کرنے کی اتنی جلدی کیا تھی، آپ 2ہفتے بعد  قائد اعظم ٹرافی شروع کر رہے ہیں اور ابھی پلان کا اعلان ہوا ہے، کاغذ پر تو کوئی بھی لکھ سکتا ہے کہ وہ ایسا ایسا کردے گا جس سے دودھ کی ندیاں بہنے لگیں گی، پڑھنے میں یہ اچھا بھی لگتا ہے مگر عمل درآمد کرتے وقت حقیقت کا علم ہوتا ہے،آپ نے تمام ڈپارٹمنٹس کو ختم کر دیا،16ریجنز کی جگہ اب6 صوبائی ٹیمیں ہوں گی۔

ٹھیک ہے بورڈ ڈومیسٹک کرکٹرز سے بھی معاہدے کرے گا مگر پھر بھی بہت سے بے روزگار ہو جائیں گے، ہر ٹیم کے ساتھ منیجر،کوچ اور دیگر سپورٹنگ اسٹاف بھی ہوتا تھا وہ کہاں جائے گا،موجودہ سسٹم اگر اتنا بُرا تھا تو اس دوران پاکستان نے  بڑے بڑے ایونٹس کیسے جیتے، زیادہ دور کیوں جائیں، یاسر شاہ اور بابر اعظم بھی تو اسی سسٹم سے سامنے آئے، ٹیم نے چیمپئنز ٹرافی جیتی،اگر ورلڈکپ میں سیمی فائنل میں پہنچ جاتے تو کیا یہ نظام ٹھیک کہلاتا؟

کرکٹ ایک کھیل اور پاکستان کے ہر نوجوان کو اسے کھیلنے کا حق حاصل ہے لیکن اب چند خوش نصیب ہی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل سکیں گے، ڈپارٹمنٹس میں کسی نوجوان کھلاڑی کی بھی کم از کم ماہانہ تنخواہ 50 ہزار روپے ہوتی تھی،بورڈ تو شاید سب کو ہی اتنی رقم دینے کا منصوبہ بنا رہا ہے، ڈپارٹمنٹل ٹیمیں اب ختم ہو گئی ہیں،آپ یہ امید نہ رکھیں کہ چند سال بعد اگر موجودہ سسٹم پسند نہ آیا تو پھر انھیں واپسی پر قائل کر لیں گے۔

پی سی بی کے پاس بھی قارون کا خزانہ موجود نہیں، وہ ایک حد تک ہی ڈومیسٹک نظام پر رقم خرچ کر سکتا ہے، بعد میں صوبوں کو اپنی آمدنی کا انتظام خود کرنا ہوگا، فی الحال تو مارکیٹ اتنی بڑی نظر نہیں آرہی، پی ایس ایل ٹیموں کو تو اسپانسر ملتے نہیں صوبوں کو کیسے ملیں گے، آپ کہہ رہے ہیں کہ مسابقت سے بھرپور مقابلے ہوں گے تو کیا انھیں دیکھنے شائقین آئیں گے؟

مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہوگا، بورڈ کا مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ قومی ٹیم کیلیے تو اسپانسرز ڈھونڈ نہیں پاتا اور ایک کمپنی کو یہ کام سونپ دیا جاتا ہے، کیا اب وہ 6ڈومیسٹک ٹیموں کیلیے اسپانسر شپ کا انتظام کر پائے گا؟ آپ سرکاری اداروں پر حکومت سے دباؤ ڈلوا کر کسی ٹیم کو اسپانسر کرا لیں گے، مگر پرائیوٹ سیکٹر سے کتنے لوگ سامنے آئیں گے اور اگر آ بھی گئے تو کتنے عرصے ایسا کرتے رہیں گے، پی ایس ایل کی کئی فرنچائزز اپنی مالی ذمہ داریاں تو پوری نہیں کرتیں وہ ڈومیسٹک کرکٹ کو کیسے اسپانسر کریں گی؟

پنجاب کی آپ نے 2 کرکٹ ایسوسی ایشنز بنا دیں سندھ کی صرف ایک  ہوگی،کروڑوں کی آبادی والے شہر کے کرکٹرز اب کہاں جائیں گے، مجھے ایسا لگتا ہے کہ کرکٹ کو  بہتر بنانے کے بجائے محدود کردیاگیا ہے،اب غریب گھرانوں کے کم ہی کھلاڑی اس کھیل کو اپنائیں گے،  سلیکشن کے معاملات میں بورڈ حکام کہتے ہیں کہ پہلے سفارش کلچر موجود اور پیسے لے کر کھلایا جاتا تھا تو کیا اب ایسا نہیں ہوگا۔

نئے سسٹم میں آفیشلز کے ساتھ پرانے لوگ بھی ہوں گے، جو شہروں کی ایسوسی ایشنز والے تھے اب صوبوں میں آ جائیں گے، دیکھتے ہیں بورڈ کیسے ان پر نظر رکھ پاتا ہے، مگر اب تک تو بورڈ کے معاملات میں بھی زیادہ شفافیت  نظر نہیں آ رہی، ایم ڈی اور ڈائریکٹر میڈیا کے بعد اب کوچزکے نام بھی اشتہار سامنے آنے سے پہلے ہی سب جان چکے ہیں،سب کچھ پہلے ہی طے ہوتا ہے، پہلے بھی ایسا ہی کیا جاتا تھا۔

نئے ڈومیسٹک سسٹم کے حوالے سے ہو سکتا ہے کہ میں غلط ہوں اور جلد ہماری ڈومیسٹک کرکٹ آسٹریلیا اور انگلینڈ کے جیسی ہو جائے، ٹیم ورلڈ چیمپئن بن جائے اور رینکنگ میں ہم نمبر ون ہوں، البتہ ایسا نہ ہونے پر یہ جواز نہ دیجیے گا کہ راتوں رات ایسا  ممکن نہیں، ہمیں تو نتائج چاہئیں،  مجھے یہی ڈر ہے کہ2،3 سال بعد وسیم خان اپنا سامان پیک کر کے واپس برطانیہ چلے جائیں گے اورہماری کرکٹ مزید پیچھے جا چکی ہوگی، دعا تو یہی ہے کہ اﷲ کرے ایسا نہ ہو۔

نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں

 

The post کیا اب ٹیلنٹ کی برسات ہو جائے گی؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2PsUed5

Friday, 30 August 2019

امریکیوں سے میری ’’تلخی ، تُرشی ‘‘ اور چوتھا منصوبہ

آج ایک دلچسپ بات سے آغاز کرتے ہیں، جنرل الیکٹرک سے معاہدے کے بعد ان کے چیئرمین / سی ای او Jeff Immeltنے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔انہی دنوں لاہور میں امریکی قونصل جنرل Zack سے ملاقات ہوئی، میں نے اُنھیں چیئرمین جنرل الیکٹرک کی پاکستان آمد کا بتایا تو اُن کا کہنا تھا، چیف منسٹر! مجھے اس کا علم نہیں، مگر وہ تو صدر اوباما سے بھی زیادہ مصروف آدمی ہے۔ وہ پاکستان آنے کا وقت کیسے نکال سکتا ہے جبکہ یہاں سیکیورٹی کے مسائل بھی ہیں۔ مسڑ جیف نومبر 2015 میں پاکستان آئے۔

اسلام آباد میں وزیر اعظم نواز شریف سے ان کی ملاقات میں، دیگر شرکا کے ساتھ میں بھی موجودتھا۔ مسٹر جیف کی یہ بات ہم سب کے لیے بے پناہ مسرت کا باعث تھی۔ وزیرا عظم صاحب کا چہرہ بھی خوشی سے کھِل اٹھا جب انھوں نے کہا ، مسٹر پرائم منسٹر! میرے پاکستان آنے کا مقصد آپ کا شکریہ ادا کرنا تو تھا ہی مگراس سے بڑھ کر میں آپ کو یہ بتانے آیا ہوں کہ جنرل الیکٹرک نے دنیا بھر میں ہزاروں میگا واٹ کے پلانٹ فروخت کئے، اِن میںمڈل ایسٹ میں بڑے بڑے پراجیکٹس بھی تھے، مگر شفاف بولی (Transparent Bidding) کا جو نظام آپ کے ہاں دیکھا اور قیمتیں کم کروانے اور اپنے ملک و قوم کے لیے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لیے جو کاوشیں آپ لوگوں کی طرف سے بروئے کار آئیں ، ایسی مثال میں نے دنیا میں کہیں نہیں دیکھی۔آپ کی زیر قیادت آپ کی ٹیم نے جس لگن اور فرض شناسی کا مظاہرہ کیا ، اس سے متاثر ہو کر میں نے فیصلہ کیا کہ خود پاکستان جا کر اپنے تاثرات سے آپ کوآگاہ کروں۔ یہ بلا شبہ پاکستان کے لیے بے پناہ اعزاز اور وقار کی بات تھی کہ دنیا کی اتنی بڑی کمپنی کا سربراہ پاکستان آکر ہماری کاوش کا اعتراف کر رہا تھا۔

دوپہر کے کھانے پر مسٹر جیف نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا ، چیف منسٹر! جنرل الیکٹرک نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم؛” “Corporate Social Responsibility (CSR) کے ساتھ صنعتی میدان میں سرمایہ کاری کے طور پر50ملین ڈالر (اُس دور کے تقریباً 5 ارب روپے) پاکستان میں خرچ کریں گے۔اس پر میں نے اپنے ایک ساتھی سے مذاقاً کہا کہ چونکہ جنرل الیکٹرک کوایک دھیلا بھی ” نذرانے” کے طور پر دینا نہیںپڑااس لیے انھوں نے سوچا ہوگا کہ جو رقم ” نذرانے ”  کی مد میں رکھی تھی، اس میں سے کچھ رقم کا CSR کے طور پر اعلان کر دیں۔

یہاں میں امریکیوں کے ساتھ اپنے دلچسپ مکالمے کا ذکر بھی کرتا چلوں۔ جنرل الیکٹرک کے پلانٹ جدیدترین تھے اور نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ کام کے آغازمیں کچھ ٹیکنیکل مسائل بھی سامنے آتے ہیں (جن کا پہلے اندازہ نہیں ہوتا)تکنیکی زبان میں انھیں Teething Problems کہا جاتا ہے مگر ان منصوبوں میں کچھ زیادہ ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے فوری حل کے لیے دن رات میٹنگز ہوتیں۔ ضروری پرزوں کی جلد از جلد فراہمی کے لیے (جنرل الیکٹرک کے خرچ پر) جہازچارٹر کرانے سے بھی گریز نہ کیا جاتا۔بسا اوقات میں اس صورتحال پررنجیدہ بھی ہو جاتا ۔ ایسے میں امریکیوں کے ساتھ” تلخی ترشی” بھی ہو جاتی۔ ایک بار مجھے یہ کہنے میں بھی عار نہ تھی کہ امریکی دوستوں نے پاکستان کواسلحہ سے لے کر بجلی کے منصوبوں تک” ٹیسٹنگ گراؤنڈ” سمجھ لیا ہے۔

بجلی کے منصوبوں کے لیے ، میںنے تُرک سرمایہ کاروں کو بھی پنجاب میں سولر پاور پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی اورانھیں ان پراجیکٹس پر ، فی یونٹ 6سینٹ سے بھی کم ریٹ پر آمادہ کر لیا۔یہ 2017 کی بات ہے جب سولر پروجیکٹ میں نیپرا کا ٹیرف 10.5 سینٹ فی یونٹ تھا ۔اس کے مقابلے میں،ٹیرف میں فی یونٹ 4.5 سینٹ کی کمی سے ،فی 100 میگا واٹ یہ 45 ملین )ساڑھے چارارب)ڈالر کی بچت تھی۔ترک کمپنیوں نے سرمایہ کاری شروع کردی، مگر سیاسی حالات کی تبدیلی کے بعد یہ شاندار منصوبہ سرخ فیتے کی نذر ہو گیااور میری معلومات کے مطابق اب کام بند پڑ ا ہے جس سے تُرک سرمایہ کاروں کو نقصان اُٹھانا پڑا اور جس سے پاکستان کی نیک نامی متاثر ہو ئی۔

CPECکے تحت ساہیوال کول پراجیکٹ میں میرے اصرار پر چینی کمپنی اپنے منافع سے سالانہ2 فیصدپنجاب میں تعلیم اور صحت کے منصوبوں کے لیے عطیہ کرنے پر آمادہ ہو گئی۔ یہ رقم سالانہ تقریباً پچیس، تیس کروڑ روپے بنتی ہے، جو اس پلانٹ کی مد ت (تقریباً تیس سال) تک ملتی رہے گی( یعنی تیس سال میں تقریباً 7.5 ارب روپے)۔کسی سرمایہ کار کی طرف سے اپنے خالص منافع میں سے اتنی بڑی رقم کا عطیہ پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی مثال تھی۔

یہ منصوبے ، تمام تر مشکلات اور غیر متوقع مسائل کے باوجود تاریخ کی مختصر ترین مدت میں مکمل ہوئے۔ (ہمارے اپنے وسائل سے بننے والے گیس سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے دنیا کی حالیہ تاریخ میں سستے ترین بھی تھے) CPECکے تحت ساہیوال کول پاور پروجیکٹ نے جون 2017 میں سپلائی شروع کردی تھی اورپورٹ قاسم نے بھی2018میں پیداوار شروع کردی ۔بھکی شیخوپورہ ،بلوکی اور حویلی بہادر شاہ کے (تینوں) گیس پاور پراجیکٹس بھی 2018 میں بجلی پیدا کرنے لگے۔بہاولپور میںCPEC کے تحت 300 میگاواٹ کا سولر پروجیکٹ بھی تھا۔ اس پر بھی” دیوانوں” کی طرح کام ہوا ۔ کچھ سامان چین سے )چینی سرمایہ کار کے خرچ پر)ہوائی جہازوں پر بھی لایا گیا جس کی کلیئرنس کے لیے کسٹم والوں نے عید کی چھٹیوں میں بھی کام کیا تا کہ بجلی کی پیداوار شروع ہونے میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہ ہو۔

یہاں نندی پور کے المیے کا ذکر بھی ہو جائے ۔ تیل اور گیس سے بجلی پیدا کرنے کے 500 میگاواٹ کے اس منصوبے پر اخراجات کا ابتدائی تخمینہ 30 ارب روپے تھا(جسے بولی(Bidding)کے بغیر غیر شفاف طریقے سے ایوارڈ کر دیا گیا تھا) اس کا سامان تین سال تک کراچی کی بندرگاہ پر گلتا سڑتا رہا ۔قیمتی ترین پُرزے چوری ہوتے رہے۔ اس کی فائل اُس دور کی وزارتِ قانون کی الماری میں کہیں بہت نیچے پڑی رہی۔ جسٹس رحمت حسین جعفری پر مشتمل سپریم کورٹ کے کمیشن نے اُس دور کے وزیر قانون کو اس تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

وزیراعظم نواز شریف صاحب نے نندی پور کے اِس مُردے کو زندہ کرنے کی ذمے داری بھی میرے سپرد کی۔ تین برسوں کی تاخیر اور اس دوران سامان کی تباہی و بربادی کے باعث یہ منصوبہ 27 ارب روپے کی اضافی لاگت کے ساتھ تقریباََ57 ارب روپے میں مکمل ہوا۔یہ غریب پاکستانی قوم کے ساتھ سخت ظلم اورزیادتی تھی، نہایت تکلیف دہ اور شرم ناک بات ۔نندی پور کے مردے کو نئی زندگی دینے میں متلقہ وفاقی و صوبائی وزراء اور افسران کے ساتھ،اس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کیپٹن (ر)محمود احمد کی شبانہ روز محنت کا بھی اہم کردار تھا ۔

اب میں حویلی بہادر شاہ میں حکومت پنجاب کے بجلی کے دوسرے منصوبے کی کہانی سُناتا ہوں۔ جیساکہ گزشتہ کالم میں بیان ہوچکا کہ کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے میری تجویز کی سخت مخالفت کے بعد بالآخر اسکی منظوری دیدی، لیکن میرے مجوزہ منصوبوں کو 5000 کی بجائے 3600 میگا واٹ کر دیا۔(گیس پاور پلانٹس کے ان 3 منصوبوں میں سے 2 کے لیے وفاقی حکومت نے اور ایک کے لیے پنجاب نے وسائل فراہم کرنا تھے۔میرے ذہن میں 5000میگا واٹ کا ٹارگٹ موجود رہا۔ اس کی دو تین وجوہات تھیں،کسی بجلی گھر میں بڑی فنی خرابی کی صورت میں پھر لوڈ شیڈنگ کے عذاب کا سامنا ہو گا۔کئی دہائیوں پرانے ،تیل سے چلنے والے بجلی گھرناکارہ ہو چکے ہیں ۔یہ تیل زیادہ پیتے اور بجلی کم پیدا کرتے ہیں۔(ان کی تبدیلی بھی وقت کی ضرورت ہے )۔چنانچہ میں نے وزیراعظم اور کابینہ کمیٹی کو چوتھے گیس پاور پلانٹ کی تجویز پیش کی جو منظور کر لی گئی ۔ ماضی قریب و بعید میں گیس سے چلنے والے ایسے منصوبوں کے مقابلے میں ان منصوبوں کی قیمت آدھی جبکہ ان کی صلاحیت (Efficiency) کہیں زیادہ تھی۔قیمت میں کمی سے ان 3منصوبوں میں 112اورب روپے کی بچت ہوئی۔ یہ چوتھا منصوبہ وفاقی حکومت کے سپردہوا لیکن کچھ ابتدائی اقدامات کے بعد مزید پیش رفت نہ ہو سکی۔ 2017 میں کابینہ کمیٹی کی منظوری کے ساتھ یہ منصوبہ پنجاب نے اپنے ذمے لے لیا اور اللہ کا نام لیکر کمر کس لی۔

گزشتہ منصوبے امریکہ کی جنرل الیکٹرک کمپنی کے سپرد ہوئے تھے اور آغاز میں کافی Teeting Problems کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب میری خواہش تھی کہ اس چوتھے منصوبے کی ـ”بولی”(بڈنگ) جنرل الیکٹرک کی ہم پلہ کوئی اور بین الا قوامی کمپنی میرٹ پر (اور شفاف مسابقت کے ساتھ)جیت لے۔ اس سے یہ بھی ہوگا کہ (انگریزی محاورے کے مطابق) ہمارے تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں نہیں ہوں گے۔لیکن ہوا یہ کہ چوتھے منصوبے کی بولی بھی جنرل الیکٹرک نے جیت لی جس نے گزشتہ منصوبوں والی “قیمتوں” ہی کی پیشکش کر دی۔

یہ چوتھا منصوبہ1250 میگا واٹ کا تھا(بھکی منصوبے سے 100 میگا واٹ زیادہ)۔میں نے جنرل الیکٹرک سے بھکی منصوبے والی شرائط اور اُسی قیمت کا مطالبہ کیا ، حالانکہ یہ منصوبہ اس سے 100 میگا واٹ زیادہ تھااور یوں اس کی قیمت 10 ارب روپے مزید کم ہو جانا تھی۔میں نے اس کے لیے جنرل الیکٹرک کو 24 گھنٹے کا وقت دیا۔ اُنھوں نے اپنی جوائنٹ وینچر پارٹنر (JV Partner) ، چینی کمپنی سے مشاورت کے لیے 48 گھنٹے مانگے۔چینی کمپنی کے انکار پر یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی چنانچہ ہم دوبارہ ٹینڈرنگ کی طرف چلے گئے۔ اس بار جرمن کمپنی سیمنز(SIEMENS) نے زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور سب سے کم بولی پر ٹینڈر جیت لیا۔ لیکن ان سے بھی میرا وہی مطالبہ تھا، جو جنرل الیکٹرک سے تھا۔

میرے لیے یہ بات خوشگوار حیرت سے کم نہ تھی کہ سیمنز(SIEMENS) ہماری شرائط مان گئی۔ بھکی منصوبے کی قیمت 4 لاکھ 55 ہزار ڈالر فی میگا واٹ تھی جبکہ حویلی بہادر شاہ ،پنجاب حکومت کا یہ دوسرا منصوبہ (1250میگا واٹ )ہمیں 4 لاکھ 15 ہزار ڈالر فی میگا واٹ میں پڑا۔سیمنز(SIEMENS)نے CSR کے طور پر ایک ٹیکنیکل کالج بنانے کا بھی اعلان کیا۔ڈیڑھ سال میںشروع ہونے والے4منصوبوں میں162 ارب روپے کی بچت کیا تاریخ کا عجوبہ نہ تھا ؟ملک کو لوڈشیڈنگ کے اندھیروں سے نجات دلانا وقت کی اہم ترین ضرورت تھی ایسے میں قیمت ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہے لیکن اللہ کے فضل وکرم سے یہ منصوبے کم ترین مدت میں اور کم ترین قیمت میں مکمل ہوئے۔

مزید یہ کہ یہاں اس افسوسناک حقیقت کا اظہار بھی کرتا چلوں کہ ہماری حکومت سے پہلے کے منصوبے مقررہ مدت میں مکمل ہوئے، نہ مقررہ قیمت میں۔ مثلاً 970 میگا واٹ کے نیلم جہلم منصوبے کی اصل قیمت 800 ملین ڈالر اور مقررہ مدت 6 سال تھی لیکن یہ 19 سال میں 5 بلین ڈالر(اُس دور کے پانچ سو ارب روپے میں مکمل ہوا)۔ نندی پور منصوبے کی اصل قیمت 30ارب روپے تھی اور مدت 3 سال تھی، یہ 8 سال میں 57 ارب روپے میں مکمل ہوا۔

ہر حساس دل یہ سوچ کر تڑپ اُٹھتا ہے کہ مملکت خداداد اور اسکے عوام کے ساتھ کیا کیا ظلم ہوتے رہے۔ یہ المیہ بھی اپنی جگہ کہ سستے ترین منصوبوں سے حاصل ہونے والے بجلی کے بل اب ہر ماہ غریب گھرانوں پر بجلی بن کرگرِ رہے ہیں۔آئیے ! ہم سب اپنے رب کے حضور مغفرت کی التجا کے ساتھ، ملک و قوم کی خدمت کے لیے مزید توفیق اور استطا عت کی دُعا کریں۔

The post امریکیوں سے میری ’’تلخی ، تُرشی ‘‘ اور چوتھا منصوبہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2MNlQrf

تبدیلیوں کا نقارہ بج گیا، نئے ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر کی آج نقاب کشائی

 لاہور: تبدیلیوں کا نقارہ بج گیا نئے ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچرکی ہفتے کو نقاب کشائی ہوگی۔

ڈپارٹمنٹل ٹیموں اور ریجنز کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی جا چکی، اب6صوبائی ایسوسی ایشنز کی ٹیموںاور فرسٹ کلاس سیزن کے شیڈول کا اعلان بھی متوقع ہے، سری لنکا سے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز پہلے ہونے کے پیش نظر ڈومیسٹک کرکٹ پلان میں تبدیلی کا امکان ہے، گورننگ بورڈ کے اجلاس میں نئے سسٹم کی منظوری بھی مل گئی،پی سی بی کے چیئرمین، چیف ایگزیکٹیو، چیف آپریٹنگ آفیسر اور چیف فنانشل آفیسر کے اختیارات سے متعلق آئین میں تبدیلیوں پر بھی اراکین نے ’’قبول ہے، قبول ہے‘‘ کے الفاظ دہرا دیے۔

چیف ایگزیکٹیو وسیم خان نے گورننگ بورڈکو ٹیم مینجمنٹ کے انتخاب میں ہونے والی پیش رفت پر اعتماد میں لیا،ہوم سیریز کیلیے بہترین انتظامات کرنے کی ہدایت کردی گئی۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم اور پیٹرن انچیف پی سی بی عمران خان کے ویژن کو پیش نظر رکھتے ہوئے ڈومیسٹک اسٹرکچر کو آسٹریلوی طرز پر استوار کرنے کیلیے پیپر ورک کئی ماہ سے جاری تھا،ڈپارٹمنٹس اور ریجنز کی ٹیموں کو ختم کرکے 6صوبائی ایسوسی ایشنز کا نظام لانے کا پلان تیار کیا گیا، وفاقی کابینہ سے منظوری پانے والے نئے آئین میں انتظامی سسٹم کے ساتھ ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر میں تبدیلی بھی شامل تھی۔

لاہور ہائیکورٹ کے ایک فیصلے میں نئے آئین کا نوٹیفکیشن معطل ہوا تو فرسٹ کلاس سیزن سمیت کئی امور پر سوالیہ نشان لگا، درخواستیں خارج ہونے پر یہ دیوار بھی گر گئی،ہفتے کو قذافی اسٹیڈیم میں چیئرمین پی سی بی احسان مانی،چیف ایگزیکٹیو وسیم خان اور ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ ہارون رشید پریس کانفرنس میں نئے اسٹرکچر کے نقش و نگار نمایاں کریں گے،مصباح الحق، راشد لطیف اور ندیم خان پر مشتمل 3 رکنی پینل کی جانب سے تشکیل دیے جانے والے 6صوبائی ایسوسی ایشنز کے اسکواڈز کی رونمائی کا بھی امکان ہے۔

سری لنکا سے ٹیسٹ سیریز اکتوبر میں تجویز ہونے کی وجہ سے پی سی بی نے قائد اعظم ٹرافی کا آغاز 14ستمبر کو کرانے کا پروگرام بنایا تھا، اب شیڈول میں تبدیلی کے بعد آئی لینڈرز پہلے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کھیلنے کیلیے آرہے ہیں، ایسے میں ڈومیسٹک سیزن کا پلان تبدیل کیے جانے کا امکان بھی ہے۔ گذشتہ روز نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں ہونے والے گورننگ بورڈ کے 55ویں اجلاس میں نئے ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر کے تحت کرکٹ ایسوسی ایشنز اور ڈومیسٹک سیزن کا مجوزہ پلان پیش کیا گیا جسے اراکین نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

چیف ایگزیکٹیو وسیم خان نے ارکان کو کرکٹ کمیٹی کے 2اگست کو ہونے والے گذشتہ اجلاس سے متعلق بریفنگ دی، اس میں آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ 2019 سمیت پاکستان ٹیم کی گذشتہ 3 سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا گیا تھا، انھوں نے اراکین کو ٹیم مینجمنٹ کے انتخاب کیلیے ہونے والی پیش رفت پر بھی اعتماد میں لیا،گورننگ بورڈ نے سری لنکا سے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلیے بہترین انتظامات کرنے کی ہدایت دی، پی سی بی چیئرمین، چیف ایگزیکٹیو، چیف آپریٹنگ آفیسر اور چیف فنانشل آفیسر کے اختیارات سے متعلق آئین میں تبدیلیوں پر بھی ’’قبول ہے، قبول ہے‘‘ کے الفاظ دہرا دیے گئے، ایجنٹس کی رجسٹریشن کیلیے قواعد و ضوابط بھی منظور کرلیے گئے۔

The post تبدیلیوں کا نقارہ بج گیا، نئے ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر کی آج نقاب کشائی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2zyfeoe

پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کا سفر تیز

 لاہور: پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کا سفر تیز ہونے لگا،بنگلہ دیشی ویمنز ٹیم 3ٹی ٹوئنٹی اور 2ون ڈے مقابلوں کیلیے لاہور آئے گی، تمام میچز قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔

پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق بنگلہ دیشی ویمنز3 ٹی ٹوئنٹی اور 2 ون ڈے میچز پر مشتمل سیریز میں شرکت کیلیے اکتوبر میں لاہور آئیں گی، مہمان ٹیم 2 ہفتے کے ٹور کیلیے 23 اکتوبر کو پہنچے گی۔

سیریز کا پہلا ٹی ٹوئنٹی26، دوسرا 28 اور تیسرا 30 اکتوبر کو کھیلا جائے گا، ون ڈے مقابلے 2 اور 4 نومبر کو ہوں گے، تمام میچز کا میزبان قذافی اسٹیڈیم ہوگا۔ یاد رہے کہ گذشتہ 4 سال میں بنگلہ دیشی ویمنز ٹیم دوسری بار پاکستان کا دورہ کررہی ہے، اس سے قبل 2015 میں ٹور کیا، اس دوران 2 ٹی ٹوئنٹی اوراتنے ہی ون ڈے میچز کھیلے گئے تھے۔

قومی ویمنز ٹیم نے گذشتہ سال 4 ٹی ٹوئنٹی اور ایک ون ڈے میچ کیلیے بنگلہ دیش کا دورہ کیا تھا، گرین شرٹس نے ٹی ٹوئنٹی سیریز3-0 سے جیتی، واحد ایک روزہ میچ میں میزبان ٹیم نے کامیابی سمیٹی تھی،رواں سال ویسٹ انڈین ویمنز ٹیم بھی ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلیے کراچی آئی تھی، سری لنکا مینز ٹیم بھی 3ون ڈے اور اتنے ہی ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز میں شرکت کیلیے آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کررہی ہے جس کے میچز کراچی اور لاہور میں کھیلے جائیں گے۔

The post پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کا سفر تیز appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2PuSqjX

کرکٹ حلقوں میں نئے گورننگ بورڈ کو غیر جمہوری قرار دیا جانے لگا

 لاہور: موجودہ گورننگ بورڈ  پی سی بی کو صرف نئے فارمیٹ کے تحت باڈی تشکیل دیے جانے تک کام کرنا ہے۔

ماضی میں بھی اراکین ربڑ اسٹمپ کا کردار ادا کرتے رہے ہیں، نئے سیٹ اپ میں تو ایسوسی ایشنز کے صرف 3نمائندے، 4آزاد ڈائریکٹرز، 2پیٹرن انچیف کے نامزد نمائندوں سمیت چیئرمین اور چیف ایگزیکٹیو پی سی بی شامل ہوں گے،کرکٹ حلقوں میں اسے غیر جمہوری قرار دیا جارہا ہے۔

The post کرکٹ حلقوں میں نئے گورننگ بورڈ کو غیر جمہوری قرار دیا جانے لگا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2zDwckV

مصباح کو ہیڈکوچ کا عہدہ سونپنا جلدبازی قرار

 لاہور: ثقلین مشتاق نے کہا ہے کہ مصباح الحق کو ہیڈکوچ کا عہدہ سونپنا جلدبازی ہوگی۔

سابق کپتان کو بھاری ذمہ داری سنبھالنے سے قبل1،2 سال نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں کام کرنا چاہیے، متعلقہ تجربہ نہ ہوتو سیکھنے کیلیے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ثقلین مشتاق نے اپنے یوٹیوب چینل پر جاری کردہ ویڈیو میں کہاکہ مصباح الحق کو فوری طور پر ہیڈ کوچ کا عہدہ سونپنا جلد بازی ہوگی۔

سابق کپتان ایک بہترین نظم وضبط کے پابند عظیم کرکٹر تھے،انھوں نے پوری دیانتداری سے قوم کی خدمت کی لیکن میرے خیال میں انھیں ہیڈ کوچ بنانا عجلت کا مظاہرہ ہوگا،اگر اس عہدے کو سنبھالنے سے قبل وہ1،2 سال کوچنگ سیٹ اپ میں کام کرلیں تو نوجوان کرکٹرز کی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں نکھار سکتے تھے،سابق اسپنر نے کہا کہ میری رائے غلط بھی ہوسکتی ہے۔

انسان ہمیشہ سیکھتا رہتا لیکن اگر متعلقہ تجربہ نہ ہوتو سیکھنے کیلیے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے،اگرمصباح پہلے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں مختلف ایج گروپس، سینئرز، نوجوانوں اور ابھرتے ہوئے کرکٹرز کے ساتھ کام کرتے تو اس تجربے کی بنیاد پر ہیڈ کوچ کی ذمہ داری سے بہتر انداز میں انصاف کرپاتے۔

اب پی سی بی ان کو یہ عہدہ سونپنے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو تمام امور پر بات کرلینی چاہیے،دونوں کو مل کر آئندہ سیریز اور ورلڈکپ کا پلان بنانا ہوگا،مستقبل میں ریٹائر ہونے والے کرکٹرز کے ناموں پر بھی غور کرنا چاہیے،پی سی بی اور مصباح الحق کیلیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ یاد رہے کہ ثقلین مشتاق نے خود بھی انڈر19ٹیم کے کوچ کیلیے درخواست دی تھی لیکن ان کو نظر انداز کرتے ہوئے اعجاز احمد کو منتخب کرلیا گیا۔

The post مصباح کو ہیڈکوچ کا عہدہ سونپنا جلدبازی قرار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2PDLeSu

140 کلوکے کورنویل ’بھاری بھرکم‘ ٹیسٹ کرکٹربن گئے

کنگسٹن / جمیکا:  ویسٹ انڈیز کے ’ ماؤنٹین مین ‘ راہکیم کورنویل نے ٹیسٹ ڈیبیو پر منفرد ریکارڈ بنادیا۔

6 فٹ5 انچ کی قامت اور 140 کلو وزن کے حامل 26 سالہ نوجوان ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے ’ بھاری بھرکم ‘ پلیئر بن گئے، بولنگ آل راؤنڈر نے سابق آسٹریلوی کپتان واروک آرمسٹرانگ کا ریکارڈ توڑدیا جو اس سے قبل 133سے139 کے جی وزن کے حامل تھے، فٹنس کی کمی پر شائی ہوپ کے ساتھ میگوئل کمنز کو بھی ڈراپ  کردیاگیا۔

جھامر ہیملٹن کو ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی بار صلاحیتوں کے اظہار کا موقع میسر آگیا۔ میچ میں بھارت نے لنچ تک72 رنز پر 2 وکٹیں گنوا دیں، میانک اگروال 41 اور ویرات کوہلی 5 پر ناٹ آؤٹ تھے، لوکیش راہول 13 رنز بنا کر ہولڈر کا شکار بنے،6 رنز اسکور کرنے والے پجارا کی وکٹ کورنویل نے حاصل کی،میزبان الیون نے ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ کیا تھا۔

The post 140 کلوکے کورنویل ’بھاری بھرکم‘ ٹیسٹ کرکٹربن گئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Us9ZjH

بد امنی پھر سر اٹھانے لگی، لوٹ مار کی کئی وارداتیں

قاسم آبادمیں بدامنی، مسلح افراد نے گھر کا صفایا کرنے کے ساتھ اے ٹی ایم مشین سے رقم نکلوانے والے شہری کو بھی لوٹ لیا۔

تفصیلات کے مطابق تھانہ قاسم آباد کی حدود اولڈ وحدت کالونی میں عبدالقادر کے گھر 3 نامعلوم افراد داخل ہوئے اور اہلخانہ کو اسلحہ کے زور پر یرغمال بناکر ڈیڑھ تولے کے طلائی زیورات، ایک لاکھ 8 ہزار روپے نقد اور دیگر قیمتی سامان لوٹ لیا۔ ملزمان اہلخانہ کو ایک کمرے میں بند کرکے فرار ہوگئے۔

قاسم آباد تھانے ہی کی حدود پکوڑا اسٹاپ کے مقام پر موٹرسائیکل سوار 2 نامعلوم افراد نے نجی بنک کی اے ٹی ایم مشین سے پیسے نکلوا کر گھر جانے والے مراد علی سولنگی کو یرغمال بنا کر20 ہزار روپے اور موبائل فون چھین  لیا۔ جبکہ تھانہ فورٹ کی حدود اسٹیشن روڈ سے نامعلوم چور ایچ ایم سی کے اقلیتی رکن رومس بھٹی کی موٹرسائیکل لے اڑے۔

The post بد امنی پھر سر اٹھانے لگی، لوٹ مار کی کئی وارداتیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2zA6gqD

زابل کے نئے وائس چانسلر کی تقرری کیلیے متنازع افراد کی سفارش

کراچی:  ملک میں قانون کی تعلیم کے لیے قائم پہلی سرکاری جامعہ’’ شہید ذوالفقار علی بھٹویونیورسٹی آف لا‘‘(زابل)کراچی میں نئے مستقل وائس چانسلرکی تقرری کے سلسلے میں تلاش کمیٹی (search committee)کی جانب سے سفارش کیے گئے نام سامنے آئے ہیں جس کے سبب تلاش کمیٹی کی جانب سے اسکروٹنی کے پورے عمل پر سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔

’’ایکسپریس‘‘ کو حکومت سندھ کے ذرائع سے معلوم ہواہے کہ سندھ میں سرکاری جامعات میں وائس چانسلرکی تقرری کیلیے ناموں کی سفارش کرنے والی تلاش کمیٹی نے زابل کے لیے جن امیدواروں کے ناموں کی سفارش کی ہے ان میں ڈاکٹررعنا شمیم، زابل کے سابق ڈین ڈاکٹر رخسار احمد اور جسٹس (ر) حسن فیروزکوانٹرویوکے لیے بلایاگیاتھا۔

تلاش کمیٹی نے انٹرویوکے بعد ڈاکٹررعنا شمیم اورزابل کے سابق ڈین ڈاکٹررخساراحمد کے نام شارٹ لسٹ کرکے کنٹرولنگ اتھارٹی وزیر اعلیٰ سندھ کوبھجوانے کافیصلہ کیاگیا، تاہم ذرائع کے مطابق 3 ناموں کی شرط کوپوراکرنے کے لیے جسٹس (ر) حسن فیروزکانام بھی شارٹ لسٹ کیے گئے امیدواروں میں شامل کرنے پر غورکیاگیا۔

واضح رہے کہ مذکورہ ناموں کی سمری اب وزیراعلیٰ ہاؤس جاچکی ہے تاہم ’’ایکسپریس‘‘ کو ذرائع نے بتایاکہ اول الذکرڈاکٹررعنا شمیم کی جانب سے اپنے نام کے ساتھ ’’رٹائرجج ‘‘ لکھنے پرسپریم کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاتھاکہ ’’کوئی شخص؍ایڈووکیٹ جوکبھی ہائی کورٹ کامستقل جج نہ رہاہووہ اپنے نام کے ساتھ رٹائرجج کے الفاظ کسی بھی فورم پر استعمال کرنے کامجاز نہیں‘‘بتایا جا رہاہے کہ انھیں گلگت بلتستان کی عدالت میں جج مقررکیا گیا تھاتاہم ان کی عمرکے معاملے پر تنازع سامنے آنے کے بعد وہ مستقل جج کی حیثیت حاصل نہیں کر سکے تھے۔

ذرائع کہتے ہیں کہ سندھ بارکونسل کے ریکارڈمیں ان کی عمراورشناختی کارڈمیں درج تاریخ پیدائش سے مختلف ہے۔ یادرہے کہ زابل کے موجودہ قائم مقام وائس چانسلر جسٹس(ر)ضیا پرویزاسی بنیادپرانٹرویوکے لیے بلائے گئے امیدواروں کی فہرست میں شامل نہیں ہوسکے کہ ان کی عمراشتہارمیں دی گئی عمر سے کچھ ماہ زیادہ تھی جبکہ زابل کے وائس چانسلرکے لیے دیے گئے۔

اشتہارمیں عمرکی حد70برس لکھی گئی ہے۔ مزیدبراں وائس چانسلرکے لیے سفارش کردہ دوسرے نام کے حامل زابل کے سابق ڈین ڈاکٹر رخسار احمد کویونیورسٹی کی سابق انتظامیہ کے دورمیں بعض غلط معلومات دینے کی بنیاد پر کنٹرولنگ اتھارٹی نے ڈین کے عہدے سے قبل از وقت ہٹادیاگیاتھا جس کے بعد جسٹس(ر) منیب احمد خان اورازاں بعد موجودہ قائم مقام وائس چانسلرجسٹس(ر) ضیا پرویزڈین کے عہدے پر فائز ہوئے۔

The post زابل کے نئے وائس چانسلر کی تقرری کیلیے متنازع افراد کی سفارش appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2PtJvPQ

ڈالر مزید 37 پیسہ کم

کراچی: درآمدات کی مد میں ادائیگیوں کے دباؤ میں کمی اور ڈالر کی بڑھتی ہوئی رسدکے باعث انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر157روپے سے بھی گرگئی۔

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مزید 37 پیسے کی کمی سے156روپے85پیسے پربندہوئی اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر30پیسے کی کمی سے 157 روپے 20 پیسے پر بند ہوئی۔

The post ڈالر مزید 37 پیسہ کم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2LjTnWX

کشمیر سے اظہار یکجہتی، جیلوں کے قیدی بھارت کے خلاف سرحد پر لڑنے کیلیے تیار

کراچی:  کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا دن سندھ بھر کی جیلوں میں بھی منایا گیا۔

تمام جیلوں کے سپرنٹنڈنٹس ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس اور افسران نے شرکت کی، اس موقع پر قومی ترانہ پڑھا گیا، پاکستان اور کشمیر کے پرچم بھی لہرائے گئے تقریبات میں قیدی بھی شریک ہوئے، قیدیوں کا کہنا تھا کہ وہ بھارت کیخلاف سرحد  پر لڑنے کیلیے تیار ہیں۔

کراچی سینٹرل جیل میں سپرنٹنڈنٹ حسن سہتو نے جیل میں تقریب کا اہتمام کیا،ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ شکیل درانی ، جیلر سعید سومرو ، جیلر کمال شاہ اور افسران تقریب میں شریک ہوئے ، سپرنٹنڈنٹ شہاب صدیقی نے قیدیوں سے خطاب کیا جس میں مسئلہ کشمیر پر روشنی ڈالی گئی۔

The post کشمیر سے اظہار یکجہتی، جیلوں کے قیدی بھارت کے خلاف سرحد پر لڑنے کیلیے تیار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2zAp5tD

امریکیوں سے میری ’’تلخی ، تُرشی ‘‘ اور چوتھا منصوبہ

آج ایک دلچسپ بات سے آغاز کرتے ہیں، جنرل الیکٹرک سے معاہدے کے بعد ان کے چیئرمین / سی ای او Jeff Immeltنے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔انہی دنوں لاہور میں امریکی قونصل جنرل Zack سے ملاقات ہوئی، میں نے اُنھیں چیئرمین جنرل الیکٹرک کی پاکستان آمد کا بتایا تو اُن کا کہنا تھا، چیف منسٹر! مجھے اس کا علم نہیں، مگر وہ تو صدر اوباما سے بھی زیادہ مصروف آدمی ہے۔ وہ پاکستان آنے کا وقت کیسے نکال سکتا ہے جبکہ یہاں سیکیورٹی کے مسائل بھی ہیں۔ مسڑ جیف نومبر 2015 میں پاکستان آئے۔

اسلام آباد میں وزیر اعظم نواز شریف سے ان کی ملاقات میں، دیگر شرکا کے ساتھ میں بھی موجودتھا۔ مسٹر جیف کی یہ بات ہم سب کے لیے بے پناہ مسرت کا باعث تھی۔ وزیرا عظم صاحب کا چہرہ بھی خوشی سے کھِل اٹھا جب انھوں نے کہا ، مسٹر پرائم منسٹر! میرے پاکستان آنے کا مقصد آپ کا شکریہ ادا کرنا تو تھا ہی مگراس سے بڑھ کر میں آپ کو یہ بتانے آیا ہوں کہ جنرل الیکٹرک نے دنیا بھر میں ہزاروں میگا واٹ کے پلانٹ فروخت کئے، اِن میںمڈل ایسٹ میں بڑے بڑے پراجیکٹس بھی تھے، مگر شفاف بولی (Transparent Bidding) کا جو نظام آپ کے ہاں دیکھا اور قیمتیں کم کروانے اور اپنے ملک و قوم کے لیے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لیے جو کاوشیں آپ لوگوں کی طرف سے بروئے کار آئیں ، ایسی مثال میں نے دنیا میں کہیں نہیں دیکھی۔آپ کی زیر قیادت آپ کی ٹیم نے جس لگن اور فرض شناسی کا مظاہرہ کیا ، اس سے متاثر ہو کر میں نے فیصلہ کیا کہ خود پاکستان جا کر اپنے تاثرات سے آپ کوآگاہ کروں۔ یہ بلا شبہ پاکستان کے لیے بے پناہ اعزاز اور وقار کی بات تھی کہ دنیا کی اتنی بڑی کمپنی کا سربراہ پاکستان آکر ہماری کاوش کا اعتراف کر رہا تھا۔

دوپہر کے کھانے پر مسٹر جیف نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا ، چیف منسٹر! جنرل الیکٹرک نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم؛” “Corporate Social Responsibility (CSR) کے ساتھ صنعتی میدان میں سرمایہ کاری کے طور پر50ملین ڈالر (اُس دور کے تقریباً 5 ارب روپے) پاکستان میں خرچ کریں گے۔اس پر میں نے اپنے ایک ساتھی سے مذاقاً کہا کہ چونکہ جنرل الیکٹرک کوایک دھیلا بھی ” نذرانے” کے طور پر دینا نہیںپڑااس لیے انھوں نے سوچا ہوگا کہ جو رقم ” نذرانے ”  کی مد میں رکھی تھی، اس میں سے کچھ رقم کا CSR کے طور پر اعلان کر دیں۔

یہاں میں امریکیوں کے ساتھ اپنے دلچسپ مکالمے کا ذکر بھی کرتا چلوں۔ جنرل الیکٹرک کے پلانٹ جدیدترین تھے اور نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ کام کے آغازمیں کچھ ٹیکنیکل مسائل بھی سامنے آتے ہیں (جن کا پہلے اندازہ نہیں ہوتا)تکنیکی زبان میں انھیں Teething Problems کہا جاتا ہے مگر ان منصوبوں میں کچھ زیادہ ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے فوری حل کے لیے دن رات میٹنگز ہوتیں۔ ضروری پرزوں کی جلد از جلد فراہمی کے لیے (جنرل الیکٹرک کے خرچ پر) جہازچارٹر کرانے سے بھی گریز نہ کیا جاتا۔بسا اوقات میں اس صورتحال پررنجیدہ بھی ہو جاتا ۔ ایسے میں امریکیوں کے ساتھ” تلخی ترشی” بھی ہو جاتی۔ ایک بار مجھے یہ کہنے میں بھی عار نہ تھی کہ امریکی دوستوں نے پاکستان کواسلحہ سے لے کر بجلی کے منصوبوں تک” ٹیسٹنگ گراؤنڈ” سمجھ لیا ہے۔

بجلی کے منصوبوں کے لیے ، میںنے تُرک سرمایہ کاروں کو بھی پنجاب میں سولر پاور پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی اورانھیں ان پراجیکٹس پر ، فی یونٹ 6سینٹ سے بھی کم ریٹ پر آمادہ کر لیا۔یہ 2017 کی بات ہے جب سولر پروجیکٹ میں نیپرا کا ٹیرف 10.5 سینٹ فی یونٹ تھا ۔اس کے مقابلے میں،ٹیرف میں فی یونٹ 4.5 سینٹ کی کمی سے ،فی 100 میگا واٹ یہ 45 ملین )ساڑھے چارارب)ڈالر کی بچت تھی۔ترک کمپنیوں نے سرمایہ کاری شروع کردی، مگر سیاسی حالات کی تبدیلی کے بعد یہ شاندار منصوبہ سرخ فیتے کی نذر ہو گیااور میری معلومات کے مطابق اب کام بند پڑ ا ہے جس سے تُرک سرمایہ کاروں کو نقصان اُٹھانا پڑا اور جس سے پاکستان کی نیک نامی متاثر ہو ئی۔

CPECکے تحت ساہیوال کول پراجیکٹ میں میرے اصرار پر چینی کمپنی اپنے منافع سے سالانہ2 فیصدپنجاب میں تعلیم اور صحت کے منصوبوں کے لیے عطیہ کرنے پر آمادہ ہو گئی۔ یہ رقم سالانہ تقریباً پچیس، تیس کروڑ روپے بنتی ہے، جو اس پلانٹ کی مد ت (تقریباً تیس سال) تک ملتی رہے گی( یعنی تیس سال میں تقریباً 7.5 ارب روپے)۔کسی سرمایہ کار کی طرف سے اپنے خالص منافع میں سے اتنی بڑی رقم کا عطیہ پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی مثال تھی۔

یہ منصوبے ، تمام تر مشکلات اور غیر متوقع مسائل کے باوجود تاریخ کی مختصر ترین مدت میں مکمل ہوئے۔ (ہمارے اپنے وسائل سے بننے والے گیس سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے دنیا کی حالیہ تاریخ میں سستے ترین بھی تھے) CPECکے تحت ساہیوال کول پاور پروجیکٹ نے جون 2017 میں سپلائی شروع کردی تھی اورپورٹ قاسم نے بھی2018میں پیداوار شروع کردی ۔بھکی شیخوپورہ ،بلوکی اور حویلی بہادر شاہ کے (تینوں) گیس پاور پراجیکٹس بھی 2018 میں بجلی پیدا کرنے لگے۔بہاولپور میںCPEC کے تحت 300 میگاواٹ کا سولر پروجیکٹ بھی تھا۔ اس پر بھی” دیوانوں” کی طرح کام ہوا ۔ کچھ سامان چین سے )چینی سرمایہ کار کے خرچ پر)ہوائی جہازوں پر بھی لایا گیا جس کی کلیئرنس کے لیے کسٹم والوں نے عید کی چھٹیوں میں بھی کام کیا تا کہ بجلی کی پیداوار شروع ہونے میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہ ہو۔

یہاں نندی پور کے المیے کا ذکر بھی ہو جائے ۔ تیل اور گیس سے بجلی پیدا کرنے کے 500 میگاواٹ کے اس منصوبے پر اخراجات کا ابتدائی تخمینہ 30 ارب روپے تھا(جسے بولی(Bidding)کے بغیر غیر شفاف طریقے سے ایوارڈ کر دیا گیا تھا) اس کا سامان تین سال تک کراچی کی بندرگاہ پر گلتا سڑتا رہا ۔قیمتی ترین پُرزے چوری ہوتے رہے۔ اس کی فائل اُس دور کی وزارتِ قانون کی الماری میں کہیں بہت نیچے پڑی رہی۔ جسٹس رحمت حسین جعفری پر مشتمل سپریم کورٹ کے کمیشن نے اُس دور کے وزیر قانون کو اس تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

وزیراعظم نواز شریف صاحب نے نندی پور کے اِس مُردے کو زندہ کرنے کی ذمے داری بھی میرے سپرد کی۔ تین برسوں کی تاخیر اور اس دوران سامان کی تباہی و بربادی کے باعث یہ منصوبہ 27 ارب روپے کی اضافی لاگت کے ساتھ تقریباََ57 ارب روپے میں مکمل ہوا۔یہ غریب پاکستانی قوم کے ساتھ سخت ظلم اورزیادتی تھی، نہایت تکلیف دہ اور شرم ناک بات ۔نندی پور کے مردے کو نئی زندگی دینے میں متلقہ وفاقی و صوبائی وزراء اور افسران کے ساتھ،اس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کیپٹن (ر)محمود احمد کی شبانہ روز محنت کا بھی اہم کردار تھا ۔

اب میں حویلی بہادر شاہ میں حکومت پنجاب کے بجلی کے دوسرے منصوبے کی کہانی سُناتا ہوں۔ جیساکہ گزشتہ کالم میں بیان ہوچکا کہ کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے میری تجویز کی سخت مخالفت کے بعد بالآخر اسکی منظوری دیدی، لیکن میرے مجوزہ منصوبوں کو 5000 کی بجائے 3600 میگا واٹ کر دیا۔(گیس پاور پلانٹس کے ان 3 منصوبوں میں سے 2 کے لیے وفاقی حکومت نے اور ایک کے لیے پنجاب نے وسائل فراہم کرنا تھے۔میرے ذہن میں 5000میگا واٹ کا ٹارگٹ موجود رہا۔ اس کی دو تین وجوہات تھیں،کسی بجلی گھر میں بڑی فنی خرابی کی صورت میں پھر لوڈ شیڈنگ کے عذاب کا سامنا ہو گا۔کئی دہائیوں پرانے ،تیل سے چلنے والے بجلی گھرناکارہ ہو چکے ہیں ۔یہ تیل زیادہ پیتے اور بجلی کم پیدا کرتے ہیں۔(ان کی تبدیلی بھی وقت کی ضرورت ہے )۔چنانچہ میں نے وزیراعظم اور کابینہ کمیٹی کو چوتھے گیس پاور پلانٹ کی تجویز پیش کی جو منظور کر لی گئی ۔ ماضی قریب و بعید میں گیس سے چلنے والے ایسے منصوبوں کے مقابلے میں ان منصوبوں کی قیمت آدھی جبکہ ان کی صلاحیت (Efficiency) کہیں زیادہ تھی۔قیمت میں کمی سے ان 3منصوبوں میں 112اورب روپے کی بچت ہوئی۔ یہ چوتھا منصوبہ وفاقی حکومت کے سپردہوا لیکن کچھ ابتدائی اقدامات کے بعد مزید پیش رفت نہ ہو سکی۔ 2017 میں کابینہ کمیٹی کی منظوری کے ساتھ یہ منصوبہ پنجاب نے اپنے ذمے لے لیا اور اللہ کا نام لیکر کمر کس لی۔

گزشتہ منصوبے امریکہ کی جنرل الیکٹرک کمپنی کے سپرد ہوئے تھے اور آغاز میں کافی Teeting Problems کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب میری خواہش تھی کہ اس چوتھے منصوبے کی ـ”بولی”(بڈنگ) جنرل الیکٹرک کی ہم پلہ کوئی اور بین الا قوامی کمپنی میرٹ پر (اور شفاف مسابقت کے ساتھ)جیت لے۔ اس سے یہ بھی ہوگا کہ (انگریزی محاورے کے مطابق) ہمارے تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں نہیں ہوں گے۔لیکن ہوا یہ کہ چوتھے منصوبے کی بولی بھی جنرل الیکٹرک نے جیت لی جس نے گزشتہ منصوبوں والی “قیمتوں” ہی کی پیشکش کر دی۔

یہ چوتھا منصوبہ1250 میگا واٹ کا تھا(بھکی منصوبے سے 100 میگا واٹ زیادہ)۔میں نے جنرل الیکٹرک سے بھکی منصوبے والی شرائط اور اُسی قیمت کا مطالبہ کیا ، حالانکہ یہ منصوبہ اس سے 100 میگا واٹ زیادہ تھااور یوں اس کی قیمت 10 ارب روپے مزید کم ہو جانا تھی۔میں نے اس کے لیے جنرل الیکٹرک کو 24 گھنٹے کا وقت دیا۔ اُنھوں نے اپنی جوائنٹ وینچر پارٹنر (JV Partner) ، چینی کمپنی سے مشاورت کے لیے 48 گھنٹے مانگے۔چینی کمپنی کے انکار پر یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی چنانچہ ہم دوبارہ ٹینڈرنگ کی طرف چلے گئے۔ اس بار جرمن کمپنی سیمنز(SIEMENS) نے زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور سب سے کم بولی پر ٹینڈر جیت لیا۔ لیکن ان سے بھی میرا وہی مطالبہ تھا، جو جنرل الیکٹرک سے تھا۔

میرے لیے یہ بات خوشگوار حیرت سے کم نہ تھی کہ سیمنز(SIEMENS) ہماری شرائط مان گئی۔ بھکی منصوبے کی قیمت 4 لاکھ 55 ہزار ڈالر فی میگا واٹ تھی جبکہ حویلی بہادر شاہ ،پنجاب حکومت کا یہ دوسرا منصوبہ (1250میگا واٹ )ہمیں 4 لاکھ 15 ہزار ڈالر فی میگا واٹ میں پڑا۔سیمنز(SIEMENS)نے CSR کے طور پر ایک ٹیکنیکل کالج بنانے کا بھی اعلان کیا۔ڈیڑھ سال میںشروع ہونے والے4منصوبوں میں162 ارب روپے کی بچت کیا تاریخ کا عجوبہ نہ تھا ؟ملک کو لوڈشیڈنگ کے اندھیروں سے نجات دلانا وقت کی اہم ترین ضرورت تھی ایسے میں قیمت ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہے لیکن اللہ کے فضل وکرم سے یہ منصوبے کم ترین مدت میں اور کم ترین قیمت میں مکمل ہوئے۔

مزید یہ کہ یہاں اس افسوسناک حقیقت کا اظہار بھی کرتا چلوں کہ ہماری حکومت سے پہلے کے منصوبے مقررہ مدت میں مکمل ہوئے، نہ مقررہ قیمت میں۔ مثلاً 970 میگا واٹ کے نیلم جہلم منصوبے کی اصل قیمت 800 ملین ڈالر اور مقررہ مدت 6 سال تھی لیکن یہ 19 سال میں 5 بلین ڈالر(اُس دور کے پانچ سو ارب روپے میں مکمل ہوا)۔ نندی پور منصوبے کی اصل قیمت 30ارب روپے تھی اور مدت 3 سال تھی، یہ 8 سال میں 57 ارب روپے میں مکمل ہوا۔

ہر حساس دل یہ سوچ کر تڑپ اُٹھتا ہے کہ مملکت خداداد اور اسکے عوام کے ساتھ کیا کیا ظلم ہوتے رہے۔ یہ المیہ بھی اپنی جگہ کہ سستے ترین منصوبوں سے حاصل ہونے والے بجلی کے بل اب ہر ماہ غریب گھرانوں پر بجلی بن کرگرِ رہے ہیں۔آئیے ! ہم سب اپنے رب کے حضور مغفرت کی التجا کے ساتھ، ملک و قوم کی خدمت کے لیے مزید توفیق اور استطا عت کی دُعا کریں۔

The post امریکیوں سے میری ’’تلخی ، تُرشی ‘‘ اور چوتھا منصوبہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2MNlQrf

پاک چین فضائی مشقوں کا مقصد صلاحیتیں بڑھانا ہے، چینی فوجی مبصر

بیجنگ: چین کے فوجی مبصر سینئر کرنل ڈو وین لانگ نے کہا ہے کہ پاک فضائیہ کی چینی فضائیہ کے ساتھ حقیقی جنگ کے قریب ترین ماحول میں چین میں جاری مشترکہ سالانہ فوجی مشقوں ’’شاہین- ہشتم‘‘ کا مقصد دونوں ممالک کی فضائی افواج کی جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔

یہ تربیتی سرگرمیاں دونوں ممالک کی فضائی افواج کو ایک دوسرے کے مقابل آکر سیکھنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہیں، چینی فوج کی آفیشل نیوز ویب سائٹ چائنا ملٹری کو انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ان مشقوں کے دوران پاک فضائیہ نے بہترین جنگی تجربے اور چینی فضائیہ نے جدید ترین ہتھیاروں، آلات اور ٹیکنالوجیز کے استعمال کا مظاہرہ کیا ہے۔

دونوں افواج نے مشقوں میں اپنے روایتی، کلاسیکل اور اہم آلات کا استعمال کرتے ہوئے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ وہ ان سالانہ مشقوں کو بے حد اہیمت دیتی ہیں، اس سال ان مشقوں کی خاص بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کی فضائی افواج کو ایک دوسرے کی جنگی سرگرمیوں اور منصوبوں سے مکمل طور پر بے خبر رکھ کر ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے کا موقع فراہم کیا جاتاہے، چینی فضائیہ ان مشقوں میں جے۔10 سی، جے۔16 اور جے ایچ۔17 لٖڑاکا طیارے اور ارلی وارننگ ایئر کرافٹس کے ساتھ ساتھ زمین پر نصب ارلی وارننگ ایکوپمنٹ استعمال کر رہی ہے۔

The post پاک چین فضائی مشقوں کا مقصد صلاحیتیں بڑھانا ہے، چینی فوجی مبصر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2HAUArI

کرتارپور راہداری، پاکستانی وفد نے دوران اجلاس کشمیر آورمنایا

 لاہور: کرتارپور راہداری پر بھارت کے ساتھ جاری تکنیکی مذاکرات کے دوران ہی پاکستانی وفد نے کشمیر آور منالیا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد ٹھیک 12 بجے اجلاس کے دوران کھڑا ہو گیا، قومی ترانہ بجایا گیا، پاکستانی وفد نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔

تکنیکی مذاکرات کا چوتھا دور کرتارپور اور ڈیرہ بابا نانک زیرولائن پر ہوا جس میں ایف آئی اے، کسٹمز، تعمیراتی کمپنی، پنجاب رینجرز اور سروے آف پاکستان کے نمائندے شریک ہوئے جب کہ بھارت کی طرف سے نیشنل ہائی ویز انڈیا، بی ایس ایف، کسٹمز اور امیگریشن کے حکام نے شرکت کی۔

The post کرتارپور راہداری، پاکستانی وفد نے دوران اجلاس کشمیر آورمنایا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/32l4zcX

سمندر سے بھی حملے ہوں گے، بھارت میں خوف

کراچی: بھارتی بحریہ کے سربراہ کے جیش محمد سے منسوب زیرآب حملوں کے حالیہ بیان کو ماہرین اور تجزیہ کاروں نے محض ایک سیاسی بیان قراردے دیاجس کا زمینی حقائق سے دوردورکا واسطہ نہیں ہے۔

بھارتی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل کرم بھیر سنگھ نے ایک متنازع بیان دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ زیر آب حملوں کے لیے جیشِ محمد کا عسکری گروہ اپنے کارندوں کو تربیت دے رہا ہے اور بھارتی نیوی کسی بھی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیارہے۔

بھارتی بحریہ کے سر براہ کا دعویٰ نام نہادبھارتی ماہرین کی طرف سے بڑے پیمانے پر پھیلائے جانے والے شکوک وشبہات کا شاخسانہ ہے، اس طرح کے بیانات پر مبنی دعوے لازماً بھارتی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے وسوسوں کا نتیجہ ہوتے ہیں جو ایسے گروہوں کوحریفوں کے خلاف تسلسل سے استعمال کرتی ہے۔

ماہرین اور تجزیہ کاروں نے بھارتی نیول چیف کا دعویٰ یکسر مسترد کردیا ہے اور اسے محض ایک سیاسی بیان قراردیا ہے جس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ واضح رہے کہ جیشِ محمد پرپاکستان میں بڑے پیمانے پر پابندی عائد کی جاچکی ہے تاکہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کیا جاسکے۔

The post سمندر سے بھی حملے ہوں گے، بھارت میں خوف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Hy472L

ریکوڈک کیس؛ عالمی ٹریبونل نے پاکستانی الزامات مستردکردیے

 اسلام آباد: سرمایہ کاری سے وابستہ تصفیہ تنازعات کے بین الاقوامی مرکز نے پاکستان کے اس الزام کو مسترد کردیا ہے کہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کو ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی ) نے 2009ء ریکو ڈیک کیس میں 10 لاکھ ڈالر رشوت کی پیش کش کی تھی۔

ٹریبونل نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ جواب دہندہ (پاکستان) اپنے انفرادی الزامات میں ایسی بدعنوانی ثابت نہیں کرسکا جو دعویدار (ٹی ٹی سی ) سے منسوب ہو، ریکو ڈیک کیس میں پاکستان کی جانب سے عائد کردہ الزامات پر 425 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں تصفیہ تنازعات کے بین الاقوامی مرکز(آئی سی ایس آئی ڈی) نے کہا ہے کہ اس کے سامنے دعویدار کی جانب سے اپنی سرمایہ کاری کو فائدہ پہنچانے کیلئے سرکاری اہلکاروں پر ناجائز اثر و رسوخ استعمال کرنے کا کوئی ثابت شدہ واقعہ سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب پاکستان اگلے ماہ جرمانے کی منسوخی کیلئے عالمی ٹریبونل سے رابطہ کرے گا،ریکو ڈیک کیس آئی سی ایس آئی ڈی کی تاریخ کا دوسرا بڑا کیس سمجھا جا رہا ہے۔

The post ریکوڈک کیس؛ عالمی ٹریبونل نے پاکستانی الزامات مستردکردیے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/32iEY4m

سینیٹ، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف قرارداد مذمت منظور

 اسلام آباد: مقبوضہ کشمیر میں نہتے مسلمانوں پر بھارتی جارحیت اورمظالم کے خلاف سینیٹ میں قرارداد مذمت منظورجبکہ خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کا اقدام مسترد کردیاگیا۔

اجلاس کی صدارت صادق سنجرانی نے کی۔قائد ایوان شبلی فراز نے قرارداد پیش کی،جس میں کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کرتے ہوئے کہاگیا نریندر مودی کے اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہے،وہاں غیر قانونی کرفیو نافذ کیا گیا۔

قراردادمیں مطالبہ کیا گیا کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کی مرضی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کیا جائے۔ اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے ہر فورم کا استعمال کیا جائے۔ایوان میں بحث کے دوران عبد الغفار حیدری نے کہا بہتر ہے ٹیپو سلطان کی مثال دینے والے جرات کریں، مودی نے اپنے منشور پر عملدرآمد کیا۔

The post سینیٹ، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف قرارداد مذمت منظور appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2HxAH4Y

مشکل فیصلے کے جاچکے، اب استحکام کی جانب گامزن ہیں، گورنر اسٹیٹ بینک

کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے کہا ہے کہ آسٹریلیا میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے ذیلی ایشیا پیسفک گروپ میں بعض ممالک نے پاکستان کی ریٹنگ گرانے کی کوشش کی۔

تاہم حکومت اور اسٹیٹ بینک کے اقدامات کی بدولت ان ممالک کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور اس اجلاس میں پاکستان کو کامیابی ملی، اکتوبر میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے پاکستان کے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ معیشت درست سمت میں گامزن ہے حالات بہتر ہوتے ہی شرح سود میں کمی اور زرمبادلہ کے انخلا پر عائد پابندیاں بتدریج کم کریں گے رواں مالی سال مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو 3.5 فیصد تک رہے گی معیشت کو مستحکم کرنے میں نجی شعبہ کے کردار کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔

وہ گذشتہ روز فیڈریشن ہاؤس کراچی میں ایف پی سی سی آئی کے اراکین اور عہدے داران سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر اسٹیٹ بینک کے ڈائریکٹرز اور کمرشل بینکوں کے سربراہان کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے تاجر برادری کو آئی ایم ایف سے رجوع کرنے اور شرح مبادلہ کو مارکیٹ پر چھوڑنے کی وجوہ سے آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2017 سے بیرونی خسارہ بڑھتے بڑھتے تاریخی سطح تک پہنچ گیا۔یہ شرح مبادلہ کو مصنوعی طور پر ایک جگہ رکھنے کا نتیجہ تھا بلند کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے ساتھ شرح مبادلہ ایک جگہ رکھنے سے زرمبادلہ کے ذخائر کم ترین سطح پر آگئے۔

The post مشکل فیصلے کے جاچکے، اب استحکام کی جانب گامزن ہیں، گورنر اسٹیٹ بینک appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2UgRs9T

ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان کو 3سال میں7 ارب ڈالر دیگا

 اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک کے نائب صدرشی زن چن نے کہا ہے کہ آئندہ 3 سال میں پاکستان کو 7 ارب ڈالر مالیت کی معاونت فراہم کی جائے گی۔

2 روزہ دورہ پاکستان کے اختتام پرجاری ہونے والے بیان میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ 5 دہائیوں میں پاکستان اوراے ڈی بی نے بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر، برآمدات کے فروغ، نجی شعبہ کی استعداد میں بہتری، سرکاری شعبوں کی کارکردگی میں بہتری اوراصلاحات، ملکی مالیاتی مارکیٹوں کے فروغ اور استحکام اورشہری خدمات کی فراہمی سمیت متنوع شعبوں میں مل کرکام کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پائیدارترقی کی منزل کے حصول کے ہدف کیلیے پاکستان کی حکومت کے اصلاحات کے ایجنڈا کو کامیاب بنانے میں ایشیائی ترقیاتی بنک پرعزم ہے۔

دورہ پاکستان کے دوران ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر نے وزیراعظم عمران خان، مشیر خزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ، وفاقی وزیراقتصادی امورحماداظہر، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن ڈاکٹرثانیہ نشتر، وفاقی وزیرتوانائی عمرایوب خان، وزیرمنصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار سے ملاقاتیں کیں اور بینک کے تعاون سے جاری مختلف منصوبوں کا دورہ بھی کیا۔

The post ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان کو 3سال میں7 ارب ڈالر دیگا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/34c32aJ

پاک چین فضائی مشقوں کا مقصد صلاحیتیں بڑھانا ہے، چینی فوجی مبصر

بیجنگ: چین کے فوجی مبصر سینئر کرنل ڈو وین لانگ نے کہا ہے کہ پاک فضائیہ کی چینی فضائیہ کے ساتھ حقیقی جنگ کے قریب ترین ماحول میں چین میں جاری مشترکہ سالانہ فوجی مشقوں ’’شاہین- ہشتم‘‘ کا مقصد دونوں ممالک کی فضائی افواج کی جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔

یہ تربیتی سرگرمیاں دونوں ممالک کی فضائی افواج کو ایک دوسرے کے مقابل آکر سیکھنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہیں، چینی فوج کی آفیشل نیوز ویب سائٹ چائنا ملٹری کو انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ان مشقوں کے دوران پاک فضائیہ نے بہترین جنگی تجربے اور چینی فضائیہ نے جدید ترین ہتھیاروں، آلات اور ٹیکنالوجیز کے استعمال کا مظاہرہ کیا ہے۔

دونوں افواج نے مشقوں میں اپنے روایتی، کلاسیکل اور اہم آلات کا استعمال کرتے ہوئے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ وہ ان سالانہ مشقوں کو بے حد اہیمت دیتی ہیں، اس سال ان مشقوں کی خاص بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کی فضائی افواج کو ایک دوسرے کی جنگی سرگرمیوں اور منصوبوں سے مکمل طور پر بے خبر رکھ کر ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے کا موقع فراہم کیا جاتاہے، چینی فضائیہ ان مشقوں میں جے۔10 سی، جے۔16 اور جے ایچ۔17 لٖڑاکا طیارے اور ارلی وارننگ ایئر کرافٹس کے ساتھ ساتھ زمین پر نصب ارلی وارننگ ایکوپمنٹ استعمال کر رہی ہے۔

The post پاک چین فضائی مشقوں کا مقصد صلاحیتیں بڑھانا ہے، چینی فوجی مبصر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2HAUArI

کرتارپور راہداری، پاکستانی وفد نے دوران اجلاس کشمیر آورمنایا

 لاہور: کرتارپور راہداری پر بھارت کے ساتھ جاری تکنیکی مذاکرات کے دوران ہی پاکستانی وفد نے کشمیر آور منالیا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد ٹھیک 12 بجے اجلاس کے دوران کھڑا ہو گیا، قومی ترانہ بجایا گیا، پاکستانی وفد نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔

تکنیکی مذاکرات کا چوتھا دور کرتارپور اور ڈیرہ بابا نانک زیرولائن پر ہوا جس میں ایف آئی اے، کسٹمز، تعمیراتی کمپنی، پنجاب رینجرز اور سروے آف پاکستان کے نمائندے شریک ہوئے جب کہ بھارت کی طرف سے نیشنل ہائی ویز انڈیا، بی ایس ایف، کسٹمز اور امیگریشن کے حکام نے شرکت کی۔

The post کرتارپور راہداری، پاکستانی وفد نے دوران اجلاس کشمیر آورمنایا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/32l4zcX

سمندر سے بھی حملے ہوں گے، بھارت میں خوف

کراچی: بھارتی بحریہ کے سربراہ کے جیش محمد سے منسوب زیرآب حملوں کے حالیہ بیان کو ماہرین اور تجزیہ کاروں نے محض ایک سیاسی بیان قراردے دیاجس کا زمینی حقائق سے دوردورکا واسطہ نہیں ہے۔

بھارتی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل کرم بھیر سنگھ نے ایک متنازع بیان دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ زیر آب حملوں کے لیے جیشِ محمد کا عسکری گروہ اپنے کارندوں کو تربیت دے رہا ہے اور بھارتی نیوی کسی بھی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیارہے۔

بھارتی بحریہ کے سر براہ کا دعویٰ نام نہادبھارتی ماہرین کی طرف سے بڑے پیمانے پر پھیلائے جانے والے شکوک وشبہات کا شاخسانہ ہے، اس طرح کے بیانات پر مبنی دعوے لازماً بھارتی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے وسوسوں کا نتیجہ ہوتے ہیں جو ایسے گروہوں کوحریفوں کے خلاف تسلسل سے استعمال کرتی ہے۔

ماہرین اور تجزیہ کاروں نے بھارتی نیول چیف کا دعویٰ یکسر مسترد کردیا ہے اور اسے محض ایک سیاسی بیان قراردیا ہے جس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ واضح رہے کہ جیشِ محمد پرپاکستان میں بڑے پیمانے پر پابندی عائد کی جاچکی ہے تاکہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کیا جاسکے۔

The post سمندر سے بھی حملے ہوں گے، بھارت میں خوف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2Hy472L

ریکوڈک کیس؛ عالمی ٹریبونل نے پاکستانی الزامات مستردکردیے

 اسلام آباد: سرمایہ کاری سے وابستہ تصفیہ تنازعات کے بین الاقوامی مرکز نے پاکستان کے اس الزام کو مسترد کردیا ہے کہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کو ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی ) نے 2009ء ریکو ڈیک کیس میں 10 لاکھ ڈالر رشوت کی پیش کش کی تھی۔

ٹریبونل نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ جواب دہندہ (پاکستان) اپنے انفرادی الزامات میں ایسی بدعنوانی ثابت نہیں کرسکا جو دعویدار (ٹی ٹی سی ) سے منسوب ہو، ریکو ڈیک کیس میں پاکستان کی جانب سے عائد کردہ الزامات پر 425 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں تصفیہ تنازعات کے بین الاقوامی مرکز(آئی سی ایس آئی ڈی) نے کہا ہے کہ اس کے سامنے دعویدار کی جانب سے اپنی سرمایہ کاری کو فائدہ پہنچانے کیلئے سرکاری اہلکاروں پر ناجائز اثر و رسوخ استعمال کرنے کا کوئی ثابت شدہ واقعہ سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب پاکستان اگلے ماہ جرمانے کی منسوخی کیلئے عالمی ٹریبونل سے رابطہ کرے گا،ریکو ڈیک کیس آئی سی ایس آئی ڈی کی تاریخ کا دوسرا بڑا کیس سمجھا جا رہا ہے۔

The post ریکوڈک کیس؛ عالمی ٹریبونل نے پاکستانی الزامات مستردکردیے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/32iEY4m

سینیٹ، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف قرارداد مذمت منظور

 اسلام آباد: مقبوضہ کشمیر میں نہتے مسلمانوں پر بھارتی جارحیت اورمظالم کے خلاف سینیٹ میں قرارداد مذمت منظورجبکہ خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کا اقدام مسترد کردیاگیا۔

اجلاس کی صدارت صادق سنجرانی نے کی۔قائد ایوان شبلی فراز نے قرارداد پیش کی،جس میں کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کرتے ہوئے کہاگیا نریندر مودی کے اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہے،وہاں غیر قانونی کرفیو نافذ کیا گیا۔

قراردادمیں مطالبہ کیا گیا کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کی مرضی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کیا جائے۔ اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے ہر فورم کا استعمال کیا جائے۔ایوان میں بحث کے دوران عبد الغفار حیدری نے کہا بہتر ہے ٹیپو سلطان کی مثال دینے والے جرات کریں، مودی نے اپنے منشور پر عملدرآمد کیا۔

The post سینیٹ، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف قرارداد مذمت منظور appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2HxAH4Y

Thursday, 29 August 2019

ماسٹر شیف کرکٹ امپائرنگ میں بھی نام کمانے لگیں

 میلبورن:  آسٹریلیا کی ماسٹر شیف لیزا میک کیب اب کرکٹ امپائرنگ میں بھی نام کمانے لگیں۔

چار برس قبل لیزا میک کیب ایک کیفے میں پیسٹری شیف کی ذمہ داری انجام دیتی تھیں مگر ویک اینڈ پر کرکٹ میچز سے لطف اندوز ہوتیں، جس کا شوق انھیں اپنی دادی کی وجہ سے ہوا، بعد میں انھوں نے مقامی میچز میں امپائرنگ شروع کی اور پھر کرکٹ وکٹوریہ کے امپائرنگ پینل کا حصہ بن گئیں۔ وہ کئی مقامی مقابلوں میں ذمہ داری انجام دے چکیں اور اب ویمنز بگ بیش میں بھی امپائرنگ کرنے والی ہیں۔

37 سالہ لیز میک کیب خاص طور پر کلیئر پولوسیک اور ایلوئس شیریڈین سے کافی متاثر ہیں جو ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کوالیفائرز میں امپائرنگ کریں گی۔

The post ماسٹر شیف کرکٹ امپائرنگ میں بھی نام کمانے لگیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2ZkCaGG

جیٹ کار اسپیڈ ریسر اپنا ہی ریکارڈ توڑنے کی کوشش میں جان گنوا بیٹھیں

پورٹ لینڈ / اوریگن: جیٹ کار اسپیڈ ریسر جیسی کومبز اپنا ہی ریکارڈ توڑنے کی کوشش میں جان گنوا بیٹھیں۔

شیرف لیفٹیننٹ برین نیڈھم کا کہنا ہے کہ کومبز الوورڈ ڈیزرٹ کی ایک خشک جھیل میں دوپہر کے وقت ریسنگ کے دوران جان کی بازی ہار گئیں۔

جیٹ انجن کی حامل 4 وہیل والی گاڑی کو 398 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑانے کا ریکارڈ ان کے نام ہے تاہم وہ 1976 میں کیٹی نیل کی جانب سے 512 میل فی گھنٹہ کی رفتار کا ریکارڈ توڑنے کی خواہاں تھیں جوکیٹی نے 3 وہیل والی گاڑی پر بنایا تھا۔

The post جیٹ کار اسپیڈ ریسر اپنا ہی ریکارڈ توڑنے کی کوشش میں جان گنوا بیٹھیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Lmbqf4

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...