کراچی: ایکسپریس میڈیا گروپ کے اشتراک سے غیرسرکاری تنظیم کیٹ واک کیئرز کے زیر اہتمام کراچی کے مقامی ہوٹل میں بچوں سے بد سلوکی کے عنوان پر کانفرنس 2019 کا انعقاد کیا گیا۔
مقررین کا کہنا ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی، تشدد ، بدسلوکی ہمارے معاشرے میں پروان چڑھ رہی ہے اب وقت آگیا ہے کہ اس کے خلاف آواز اٹھانا شروع کی جائے۔ جاوید جبار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب لڑکیوں کو پانچویں سے آگے پڑھنے نہیں دیا جاتا تھا مگر اب پرائمری ایجوکیشن میں بتدریج بہتری آرہی ہے۔
کانفرنس میں غیر سرکاری تنظیم ساحل کی رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیاکہ 2018 میں بچوں کو اغوا کے923 ، بدفعلی کے 589، زیادتی کے 537، بچوں کی گمشدگی کے 452 ، زیادتی کی کوشش کے 345 ، اجتماعی بدفعلی کے 282 ، اجتماعی زیادتی کے 156 اور کم عمری کی شادی کے 99 واقعات رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا کہ بچوں سے زیادتی کے کل 3702 واقعات میں سے 1571 واقعات بند جگہوں اور 544 واقعات کھلے مقامات پر پیش آئے جبکہ 1587 واقعات میں تشدد کے مقام کے بارے میں کوئی معلومات ہی نہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ کل واقعات میں 63 فیصد پنجاب سے، 27 فیصد سندھ، 4 فیصد خیبرپختونخوا، 3 فیصد اسلام آباد، 2 فیصد بلوچستان سے، 34 واقعات آزاد کشمیر اور 6 واقعات گلگت بلتستان سے سامنے آئے ہیں۔ کانفرنس میں پروٹیکشن از پریوینشن کے نام سے پینل گفتگو ہوئی جس میں ڈاکٹر فواد سلیمان، شہزاد رائے، ثروت گیلانی، انجلین مالک اور شہنیرا اکرام نے حصہ لیا جبکہ اداکارہ ماریہ واسطی نے بطور مینٹور فرائض انجام دیے۔
شہزاد رائے نے کہا کہ ہم نے چائلڈ ایبیوز پر بولنا بعد میں شروع کیا تھا اور کام کرنا پہلے شروع کیا تھا اب ضرورت اس بات کی ہے لوگوں کا مائنڈ سیٹ تبدیل کریں ، چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کا فعال ہونا انتہائی ضروری ہے ہم پورے پاکستان میں اس یونٹ کو مضبوط کرنے کی کوشش کررہے ہیں، معاشرے میں بچوں کو مارنے کا کلچر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اس سلسلے میں ہم اتنا کام کرچکے ہیں کہ اب کوئی استاد بچے کو مارتا ہے یا کوئی بھی وڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہے تو اسے سزا ملتی ہے، سوسائٹی میں بچہ پیدا ہوتا ہے تو پہلے ماں باپ مارتے ہیں، اسکول میں اساتذہ مارتے ہیں اور باہر پولیس والے، بچوں پر تشدد پر کھل کر کوئی بات کرنے کوتیار نہیں ہوتا، جب تک اس موضوع پر بات نہیں ہوگی تو مسائل کاحل نہیں ہوگا۔
ثروت گیلانی نے کہا کہ جن ممالک میں بچوں سے بدسلوکی کے قوانین پر عمل سختی سے ہورہا ہے ان سے پاکستان کہیں پیچھے ہے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو گڈ ٹچ ، بیڈ ٹچ سے متعلق آگاہ کریں اور اعتماد دیں کہ بچے ان سے ہر بات شیئر کریں بچوں کے ساتھ مارپیٹ کا طریقہ ٹھیک نہیں، ہمارے معاشرے میں بچوں کے ساتھ زیادتی، بدسلوکی سے متعلق بات کرنا اچھا نہیں سمجھا جاتا اور جب تک اس پر بات نہیں ہوگی آگاہی نہیں آئے گی۔
ڈائریکٹر و اداکارہ انجیلین ملک نے کہا کہ بچوں سے زیادتی سے متعلق والدین اور اسکولوں میں سیمنار کا انعقاد ہونا چاہیے اور اسکول کی سطح پر تربیت یافتہ لوگ ہونے چاہئیں جو اساتذہ اور والدین کو ٹریننگ دیں گے تو ہی اس طرح کے رجحانات کو ختم کرسکتے ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ معاملے کی سنگینی اور اہمیت کا احساس کیا جائے اور ایک جامع حکمت عملی ترتیب دی جائے۔
ڈاکٹر فواد سلیمان نے کہا کہ ہمارے ملک میں نفسیات کے ڈاکٹرز انتہائی کم ہیں اگر کوئی سائیکاٹرسٹ کے پاس جانا بھی جاتا ہے تو 3 سے 4 ماہ کا اپائنمنٹ ملتا ہے اس سلسلے میں ریاست کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور نفسیات کے ڈاکٹروں میں اضافہ کرنا ہوگا، ہمارے یہاں جتنے مسائل ہیں اس حساب سے یہاں پر سائیکاٹرسٹ کی بہتات ہونی چاہیے تاکہ ناصرف وقت پر بلکہ مفت علاج بھی ممکن ہو، پورے ملک میں چائلڈ سائیکاٹرسٹ کی تعداد صرف4 ہے جبکہ بچوں کے نفسیاتی مسائل میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، میرے پاس جو کیسز آتے ہیں ان میں 95ویں فیصد وربل ایبیوز کے ہوتے ہیں، کانفرنس میں معاشرے کا کردار اور ذمے داری پر حسان نیازی، عدنان ملک، زالے سرحدی، احسن خان اور شہریار منور نے روشنی ڈالی۔
The post بچوں سے بدسلوکی کیخلاف آواز اٹھانے کا وقت آگیا، مقررین appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2HEmp2x
No comments:
Post a Comment