Urdu news

Tuesday, 30 June 2020

وزیر ہوا بازی غلام سرور کی برطرفی کیلیے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ

 اسلام آباد: ہائی کورٹ نے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان غلام سرور کی برطرفی کے لیے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے وفاقی وزیرغلام سرور خان کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ غلام سرور خان نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ 30 فیصد پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں، وزیر ہوابازی نے انکوائری کے بغیر 262 پائلٹس پر جعلی لائسنس کا الزام لگایا، اگر کسی کی ڈگری جعلی تھی تب بھی وزیر کو چاہیے تھا خفیہ انداز میں کارروائی کرتے، ان کے بیان کی وجہ سے پی آئی اے پر یورپ میں فلائیٹوں پر 6 ماہ کی پابندی لگ گئی ہے۔

درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ پائلٹس کے جعلی لائسنس کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے، وزیراعظم کو غلام سرور خان کو وفاقی وزیر کے عہدے سے برطرف کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں، اسپیکر قومی اسمبلی کو غلام سرور کی نااہلی کا معاملہ الیکشن کمیشن کو بھجوانے کی ہدایت کی جائے، درخواست پر فیصلے تک غلام سرور کو فوری کام سے روک دیا جائے۔

ہائی کورٹ نے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان غلام سرور کی برطرفی کے لیے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیا کہ عدالت معاملے کی احساسیت کو سمجھتی ہے،اس حوالے سے تفصیلی آرڈر پاس کریں گے۔

The post وزیر ہوا بازی غلام سرور کی برطرفی کیلیے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2VB1vbz

کورونا وبا؛ مصدقہ متاثرہ مریض 2 لاکھ 13 ہزار 470 ، ایک لاکھ سے زائد شفایاب

 اسلام آباد: ملک بھر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 13 ہزار 470 تک جاپہنچی ہے تاہم ان میں سے ایک لاکھ 802 افراد نے اس وائرس کو شکست دے دی ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 22 ہزار 418 ٹیسٹ کیے گئے، اس طرح ملک بھر میں مجموعی طور پر 13 لاکھ 5 ہزار 510 ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں، ملک بھر میں مزید 4 ہزار 133 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد ملک بھرمیں اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 13 ہزار470 تک جا پہنچی ہے۔

سندھ میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 84 ہزار 640 ، پنجاب میں 76 ہزار 262 ، خیبرپختونخوا میں 26 ہزار 598 ، بلوچستان میں 10 ہزار 476 ، اسلام آباد میں 12 ہزار 912، آزاد جموں وکشمیر میں ایک ہزار 93 اور گلگت بلتستان میں کورونا مریضوں کی تعداد ایک ہزار 489 ہوگئی ہے۔

ملک بھر میں کورونا کے ایک لاکھ 802 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں جب کہ اس وقت ملک بھر میں کورونا کے فعال کیسز کی تعداد ایک لاکھ 8 ہزار 273 ہے، جن میں سے 5 ہزار 50 کورونا مریض اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں جب کہ ملک بھر میں 491 کورونا مریض وینٹی لیٹر پر ہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 91 افراد کورونا کے ہاتھوں دار فانی سے کوچ کرگئے۔ جس کے بعد ملک میں اس وائرس سے ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد 4 ہزار 395 ہوگئی ، پنجاب میں ایک ہزار 762 ، سندھ میں ایک ہزار377 ، خیبرپختونخوا میں 951 ، اسلام آباد میں 128 ، بلوچستان میں 121 ، گلگت بلتستان 26 اور آزاد کشمیر میں 30 افراد اس وائرس کے ہاتھوں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

کورونا وائرس اور احتیاطی تدابیر:

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

The post کورونا وبا؛ مصدقہ متاثرہ مریض 2 لاکھ 13 ہزار 470 ، ایک لاکھ سے زائد شفایاب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2AiC9Yy

عالمی صنعت پٹرولیم سے جڑے چند حقائق

مسئلہ یہ نہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیوں ہوا۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ اضافہ اس وقت کیا گیا جب اس ملک کے عہدیدار ببانگ دہل اس بات کا اعلان کرچکے تھے کہ جون 2020 کے اوائل میں جنم لینے والے پٹرول بحران کے ذمے داران کو کٹہرے میں لاکر پٹرول مافیا کو بے نقاب کردیا جائے گا، جس سے نہ صرف پٹرولیم مصنوعات کا حالیہ بحران ختم ہوجائے گا بلکہ مستقبل میں کوئی نجی آئل کمپنی ذخیرہ اندوزی کی جرأت نہ کرسکے گی۔

عوام پُرامید تھے، لیکن یہ امید اس وقت چکنا چور ہوئی جب 26 جون 2020 کو اوگرا کی کسی ابتدائی سمری کے بغیر ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 26 روپے تک کا اضافہ کردیا گیا۔ یہی امید، پریشانی اور غصے میں تبدیل ہوئی اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس ایک بار پھر حکومت پر تنقید کا میدان بن گئیں۔ موجودہ حالات میں جہاں حکومتی کارکردگی پر ڈھیروں سوال اٹھتے ہیں، وہاں رسی کے دوسرے کونے پر موجود عوام بھی کئی حقائق کو تسلیم کرنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔

عالمی معاشی منڈیوں کی دوڑ میں خام تیل کی صنعت میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ کسی بھی دوسری صنعت کے مقابلے میں کچھ زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ خام تیل کی قیمت میں کمی یا اضافہ کسی بھی دوسری صنعت پر بالواسطہ یا بلاواسطہ ضرور اثر انداز ہوتا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ایران، عراق سمیت 13 ممالک پر مشتمل ’’آرگنائزیشن آف پٹرولیم ایکسپورٹنگ کنٹریز‘‘ (المعروف ’’اوپیک‘‘) خام تیل کی قیمتوں میں تبدیلی کا ایک بڑا محرک ہے۔

یہ ممالک عالمی طلب کے مطابق اپنی خام تیل کی پیداوار کو محدود کرتے ہیں۔ 1999 سے 2008 تک خام تیل کی قیمت 25 امریکی ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 160 امریکی ڈالرز فی بیرل تک جا پہنچی۔ امریکا، چین اور انڈیا جیسی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی طلب اور اوپیک کی جانب سے پیداوار میں کمی اس بڑھتی قیمت کی وجوہ بنے۔ 2008 کے عالمی معاشی بحران کے بعد یہ قیمت 53 امریکی ڈالرز فی بیرل تک کم ہوتی گئی۔ نئے سرے سے جنم لینے والے معاشی استحکام کے بعد 2014 کے اوائل تک یہ قیمت بڑھتے بڑھتے 125 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی تھی۔ 2014 کے وسط میں خام تیل کی صنعت میں ایک کھلبلی سی مچ گئی۔

امریکا نے اپنے علاقے جنوبی ڈکوٹا، جبکہ کینیڈا نے البرٹا کے ذخائر سے خام تیل نکالنا شروع کردیا۔ البرٹا کے ذخائر دنیا میں خام تیل کے تیسرے بڑے ذخائر تسلیم کیے گئے۔ بیسویں صدی کے پہلے عشرے میں معاشی طور پر پروان چڑھنے والا چین معاشی میدان میں ایک بار پھر سست روی کا شکار ہوا۔ دنیا کی سب سے بڑی آبادی رکھنے والے چین نے خام تیل کی طلب میں واضح کمی کردی۔ نائن الیون اور ڈاٹ کام ببل بسٹ کے بعد اپنی قدر کھو دینے والا امریکی ڈالر 2014 کے وسط میں اپنی مستحکم ترین سطح پر پہنچ چکا تھا۔ کیونکہ خام تیل کی تجارت امریکی ڈالر میں کی جاتی ہے، اس لیے ڈالر کا یہ استحکام خام تیل کی قیمتوں پر براہ راست اثرانداز ہوا۔

اس صورتحال میں سعودی عرب سمیت اوپیک کے 13 ممالک کے پاس دو آپشنز تھے: یا تو وہ خام تیل کی پیداوار میں کمی کرکے خام تیل کی مارکیٹ میں اپنے شیئرز کم کرلیتے یا پھر سستے داموں خام تیل کی تجارت جاری رکھتے۔ سعودی عرب نے سستے داموں خام تیل کی تجارت کے آپشن کا انتخاب کیا۔

ان تمام محرکات نے ایک ایسی فضا کو جنم دیا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 2014 کے اواخر میں 125 ڈالرز فی بیرل سے کم ہو کر 50 ڈالر فی بیرل کی کم سطح تک پہنچ گئی۔

ایک بار پھر 2020 کے اوائل میں خام تیل کی منڈیوں میں ایسا بحران پیدا ہوا کہ عالمی معیشت کے ماہرین انگشت بدنداں رہ گئے۔ طلب اور رسد کا اصول کسی بھی صنعت کا لازمی جزو ہوتا ہے۔ طلب اگر رسد سے تجاوز کر جائے تو صنعتی پیداوار کی قیمت میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے جسے دوسرے الفاظ میں ’’انفلیشن‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ جبکہ اس کے متضاد رسد اگر طلب سے تجاوز کرے تو صنعتی پیداوار کی قیمت مارکیٹ میں گرجاتی ہے۔ اپریل 2020 میں بھی یہی دیکھنے کو ملا۔

کورونا وائرس کے حملوں نے پوری دنیا میں نقل و حرکت کو محدود کردیا۔ تمام دنیا میں فلائٹ آپریشن معطل ہوگیا۔ 70 فیصد دنیا میں پبلک ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام ہوگیا۔ دنیا میں خام تیل کی طلب میں نمایاں کمی آئی لیکن خام تیل کی رسد اب بھی اسی رفتار سے جاری رہی۔ دوسرے الفاظ میں رسد، طلب سے اس قدر تجاوز کرگئی کہ آئل کمپنیوں کو اس زائد خام تیل کو اسٹور کرنے کےلیے ٹینکرز تک ادھار لینا پڑے۔ تاریخ میں پہلی بار خام تیل کی قیمت منفی 37 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ یعنی عالمی منڈی ایک بیرل تیل کے ساتھ 37 ڈالر بھی دینے کو تیار تھی۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا اثر جہاں دنیا کے ہر کونے میں ہوا، وہاں پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ مئی 2020 میں پٹرول کی قیمت میں 15 روپے کمی کی گئی جبکہ جون 2020 میں یہ مزید کم کرکے 74.52 روپے فی لیٹر کردی گئی۔ اسی دوران عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمت منفی 37 ڈالر سے پلٹ کر، مئی میں 29 ڈالر فی بیرل اور 20 جون 2020 تک 37 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا۔

یہاں یہ بات قابل فہم ہے کہ کوئی بھی ملک اپنے امپورٹ اور ریفائنری خرچ کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی قیمتوں کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ یا کمی کرتا ہے۔ ایک لیٹر پٹرول کی قیمت 74 روپے سے بڑھا کر سو روپے فی لیٹر کردی گئی لیکن مہنگائی سے پسے عوام اس اضافے سے تلملا اٹھے۔

اب اس سارے منظرنامے میں عوام کا قصور ہے اور نہ ہی حکومت کا۔ البتہ حکومت کی غلطی صرف غلط وقت کا تعین ہے۔ اگر حکومت پاکستانی میڈیا کے سارے میسر پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے عوام کو پہلے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمت میں اضافے کا بتاتی، پھر اوگرا اس کی سمری ارسال کرتا، وزارت پٹرولیم اس کی توثیق کرتی، اس کے بعد قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری ہوتا تو شاید حکومت تنقید کی اس آندھی سے ضرور بچ جاتی۔

لیکن ایک بات کا کریڈٹ موجودہ حکومت کو ضرور جاتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں سب سے سستا پٹرول اب بھی پاکستان میں ہی دستیاب ہے۔ بنگلہ دیش میں ایک لیٹر پٹرول کی قیمت 1.054 امریکی ڈالر، بھارت میں 1.090، سری لنکا میں 0.8 جبکہ پاکستان میں ایک لیٹر پٹرول اب بھی 0.6 امریکی ڈالر میں فروخت ہورہا ہے۔ حکومت پر عوام کی تنقید بجا لیکن اگر حقائق کو پرکھ لیا جائے تو یہ تعمیری سوچ کے فروغ میں مدد گار ثابت ہوسکتا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

The post عالمی صنعت پٹرولیم سے جڑے چند حقائق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/38kzRoy

وبا کے موسم میں سنسر شپ

ملکوں کی تاریخ میں اس بات کی بنیادی اہمیت ہوتی ہے کہ حکومتیں اختلاف رائے کو برداشت کرنے کی کس حد تک صلاحیت رکھتی ہیں۔

میڈیا کی آزادی عموماً حکومتوں اور طاقتور طبقات کو قطعاً گوارا نہیں ہوتی، اس آزادی کا فائدہ اٹھا کر حکومت مخالف عناصر اور حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں، حکومتوں کی ناکامیوں کو منظر عام پر لاتی ہیں اور انھیں شدید تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔ اخبارات،رسائل، جرائد اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے متبادل بیانیے سامنے آتے ہیں جو سرکاری بیانیے کے خلاف ہوتے ہیں۔ میڈیا کو پابند رکھنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سرکاری اور بعض حالات میں ریاستی بیانیے کا کوئی زیادہ قابل عمل متبادل بیانیہ لوگوں کے سامنے نہ آسکے۔

میڈیا کی آزادی جہاں حکومتوں اور اس سے وابستہ مراعات یافتہ عناصر کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے وہیں دوسری طرف یہ آزادی ملک کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ میڈیا کی آزادی دراصل اظہار رائے کی آزادی سے مشروط ہے۔ اظہار رائے کے حق کا بنیادی تعلق اختلاف رائے اور انحراف کی آزادی سے ہوتا ہے۔ یہ دونوں عناصر تحقیق اور ترقی کے عمل کو نہ صرف تیز تر کرتے ہیں بلکہ سماج میں جدت طرازی اورشعور و آگہی کو فروغ دیتے ہیں جس سے ایک متوازن اورصحت مند سماج وجود میں آتا ہے ، ہرقسم کی انتہا پسندی کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور اسے عوامی پذیرائی حاصل نہیں ہوتی۔

میڈیااور اظہار رائے کی آزادی صرف ان ملکوں میں برداشت کی جاتی ہے جہاں جمہوری نظام مضبوط و مستحکم ہوتا ہے۔ یہ بات زیادہ لوگوں کے علم میں شاید نہیں ہوگی کہ انسانی تاریخ میں آج تک کسی جمہوری ملک میں قحط نہیں پڑا۔ اس کے برعکس، قحط کے بدترین واقعات ان ملکوں میں رونما ہوئے جہاں بادشاہتیں، فوجی، شخصی یا یک جماعتی آمریتیں مسلط تھیں۔

غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ میڈیا کی آزادی اور جمہوریت کی موجودگی سے قحط جیسے حالات کے پیدا ہوتے ہی اخبارات میں اس کی باز گشت سنائی دینے لگتی ہے، حزب اختلاف کی جماعتیں اس مسئلے کو بنیاد بناکر حکومتوں کے خلاف صف آرا ہوجاتی ہیں جب کہ لوگوں کی مدد کے لیے امدادی تنظیمیں فوراً فعال ہوجاتی ہیں۔ یہ صورت حال حکومتوں کو فوری اقدامات پر مجبور کردیتی ہے۔ حکومت میں شامل جماعتیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ انھیں آنے والے انتخابات میں ووٹ لینے کے لیے عوام کے پاس جانا ہوگا اور اگر قحط سالی کے دوران انھوں نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا توان کا دوبارہ اقتدار میں آنا مشکل ہوجائے گا۔

مذکورہ بالا حقائق اپنی جگہ لیکن بعض معاملات ایسے ہوتے ہیں جن میں جمہوری حکومتیں بھی ’’وسیع تر قومی مفاد‘‘ کے نام پر خبروں پر پابندیاں عائد کردیتی ہیں یا یوں کہہ لیں کہ ایک طرح کی سنسر شپ نافذ کردی جاتی ہے۔ ان دنوں دنیا کورونا کی زد پر ہے۔

لہٰذا میں نے یہ دیکھنے کی کوشش کی ہے کہ حکومتیں خطرناک وباؤں کی صورت میں اس حوالے سے کس رد عمل کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ وہ ذرائع ابلاغ کو آزادانہ رپورٹنگ کے مواقع فراہم کرتی ہیں یا ان پر سنسر شپ نافذ کردی جاتی ہے۔ اس حوالے سے جب 20 ویں صدی کی سب سے ہلاکت خیز وبا اسپینش فلو کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس فلو کا وائرس امریکا میں پیدا ہوا تھا لیکن اسے اسپینش فلوکا نام دے دیا گیا جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ اس وائرس اور وبا کا آغاز اسپین سے ہوا تھا ۔ جب کہ صورتحال اور حقائق کچھ اور تھے۔ یاد رہے کہ اسپینش فلو کی عالمی وبا 1918 اور 1919 کے درمیان اپنے عروج پر تھی۔

یہ وہ زمانہ تھا جب  پہلی عالمی جنگ جاری تھی اور اس جنگ میں شامل ملکوںنے اخبارات، رسائل اور ریڈیوکو مجبور کیا کہ وہ اس وبا کی درست رپورٹنگ  نہ کریں کیونکہ جنگ میں شامل ہر ملک کو یہ خطرہ لاحق تھا کہ اگر دشمن ملک کو یہ معلوم ہوگیا کہ اس کے مخالف ملک کے فوجی مہلک وبا سے بیمار اور ہلاک ہورہے ہیں تو کہیں وہ اس پر حملہ نہ کردے۔

اس وبا کی تاریخ بتاتی ہے کہ امریکا کے شہر کینساس میں مارچ 1918 میں اس فلو کا آغاز ہوا تھا اور سب سے پہلے مریض کی اطلاع بھی یہیں سے ملی تھی۔ یہ وبا کس قدر بھیانک تھی اس کا اندازہ یوں لگا لیجیے کہ اس کے نتیجے میں اس وقت کی دنیاکی ایک تہائی آبادی صفحہ ہستی سے فناہو گئی تھی۔ یورپ کا ملک، اسپین پہلی جنگ عظیم میں شریک نہیں تھا اور اس نے اس جنگ میں خود کو غیر جانبدار رکھا تھا۔ اسے محض اتفاق کہیں کہ اسپین کا بادشاہ الفونسو اس وائرس کا شکار ہوگیا چونکہ اسپین کا میڈیا آزاد تھا لہٰذا اس خبر کی زبردست تشہیر ہوئی اور لوگوں نے یہ سمجھنا شروع کردیا کہ اس وبا کی ابتدا اسپین سے ہوئی ہے، اسی مناسبت سے اس وبا کا نام اسپینش فلو پڑگیا۔

پہلی جنگ عظیم کے دوران خبروں کو روکنے کے لیے یورپ میں پریس سنسر شپ کافی پہلے سے لگادی گئی تھی کیونکہ یورپ 1914 سے پہلی عالمی جنگ میں شامل تھا لہٰذا 1918 میں جب اسپینش فلو کی وبا آئی تو یورپی ملکوں نے اس کی خبروں کی اشاعت پر بھی پابندی عائد کردی۔ امریکا 1917 میں عالمی جنگ کا حصہ بنا تھا لہٰذا اس نے 1918 میں بغاوت ایکٹ منظور کرایا جس کے تحت ہر وہ بات جرم قرار پائی جو حکومت کی نظر میں ملکی مفاد یا جنگی کوششوں کے منافی تصور کی جاسکتی تھی۔

اخبارات  نے اس وبا کی خبروں کی اشاعت بھی اس خوف کی وجہ سے روک دی کہ حکومت کہیں اسے بھی بغاوت اور غداری کے زمرے میں نہ ڈال دے۔ برطانیہ کی جانب سے بھی خبروں کو روکنے کے لیے ایک قانون بنایا گیا جس کے تحت حکومت کو ایسی خبر کی اشاعت کے خلاف کارروائی کا اختیار مل گیا جسے وہ ’’قومی مفاد‘‘ کے خلاف تصور کرتی ہو۔ اس قانون کے ڈر سے اخبارات نے اس وبا کی خبروںکو مناسب کوریج نہیں دی۔ اٹلی کی صورت حال تو یہ تھی کہ وہاں کے وزیر دفاع نے یہ اعلان تک کردیا تھا کہ ان کے ملک میں یہ وبا سرے سے موجود ہی نہیں ہے ۔

جرمنی کے فوجی اسپینش فلو سے بہت زیادہ متاثر ہوئے تھے۔ اس کے ایک فوجی جنرل کا کہنا تھا کہ اگر دشمن کو یہ علم ہوگا کہ ہمارے فوجی فلو سے مررہے ہیں تو وہ ہم پر حملہ آور ہوجائے گا۔ لہٰذا یہاں بھی خبروں کو دبا دیا گیا۔ پہلی جنگ عظیم میں شامل ملکوں کو اس وبا نے معاشی طور پر اتنا تباہ کردیا تھا کہ جنگ کو جلد ختم کرناان کی ترجیح بن گئی تھی۔

اسپینش فلو کے 100 سال بعد دنیا، کورونا کے رحم و کرم پر ہے اور امریکا میں سب سے زیادہ لوگ ہلاک ہورہے ہیں۔ صرف نومبر 1918 میں فلو وائرس سے 195000 امریکی ہلاک ہوئے تھے لیکن اس وقت کے صدر وڈروولسن اس وبا کو بالکل اہمیت نہیں دے رہے تھے اور اخبارات بھی اس سے متعلق خبروںکونظر انداز کررہے تھے۔ کورونا وبا کے دوران صدر ٹرمپ نے بھی اسے نظر انداز کیا۔ ان کی خواہش تھی کہ ایسٹر سے پہلے لاک ڈاؤن ختم کردیا جائے تاکہ لوگ چرچ جاسکیں۔ حکومت کی غیرسنجیدگی سے میڈیا میں بھی اس وبا کو ابتدائی دنوں میں مناسب کوریج نہیں دی گئی۔

اٹلی، اسپین، برطانیہ اور فرانس کی حکومتوں نے بھی شروع میں اس وبا کی سنگینی کو کم کرکے دیکھا جس کا اثر میڈیا پر بھی پڑا۔ روس، ترکی، ایران، سعودی عرب، چین اور شمالی کوریا میں بھی میڈیا کی صورت حال سامنے ہے۔

میڈیا کی آزادی، کورونا جیسی عالمی وباؤں کو روکنے  کے لیے حکومتوں کے سامنے اصل حقائق لانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے جس سے حالات پر قابو پانے میں غیر معمولی مدد ملتی ہے۔ ذرائع ابلاغ کی آزادی سے ڈرنے والی حکومتیں ہمیشہ خسارے میں رہتی ہیں لیکن نہ جانے کیوں وہ ہمیشہ نقصان کا سودا کرتی ہیں۔

The post وبا کے موسم میں سنسر شپ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3gfrmxw

عمران خان کے پاس ابھی بھی وقت ہے

اس کی ذمے دار کون سی وزارت ہے، اس کا مجھے علم نہیں لیکن جو کوئی بھی ہے وہ وزیر اعظم عمران خان پر اقتدار کو تنگ کر رہا ہے۔

ناتجربہ کاری اور مہنگائی کے بے جواز ہونے میں کوئی شک نہیں ہے اور اس پر متعلقہ حکام جو ابہام پھیلا رہے ہیں، اس نے خلق خداکو زچ کر دیا ہے، ایک دن کچھ اعلان کیا جاتا ہے اور دوسرے دن کچھ ۔ایک دن روز مرہ کی انسانی ضروریات کی قیمتوں میں کمی کی نوید سنائی جاتی ہے اور دوسرے دن وہ ضروری اشیاء بازار سے غائب ہو جاتی ہیں ۔

دکاندار اپنی مرضی کی قیمتیں وصول کرنے کے لیے حربے استعمال کرتے ہیں اور حکومت کی جانب سے اعلان کردہ قیمتوں کو عملاً ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ ایک دن حکومت کی جانب سے وضاحت جاری ہوتی ہے اور دوسرے دن ایک اور وضاحت آجاتی ہے اور تیسرے دن کچھ اور بیان جاری کر دیا جاتا ہے لیکن تاجر حضرات جو موقع کی تلاش میں رہتے ہیں، ان اعلانات اور وضاحت سے صرف وہی مطلب برآمدکرتے ہیں جو ان کے مفاد میں ہوتا ہے اور یوں مارکیٹ میں جس چیز کے دام ایک بار بڑھ جاتے ہیں وہ کم نہیں ہوتے، بالکل اسی طرح جیسے ایک عید پر جو قیمتیں بڑھتی ہیں وہ عید ختم ہونے پر کم نہیں ہوتیں اور دوسری عید پر مزید بڑھ جاتی ہیں۔

اس ابہام کی ایک بڑی وجہ دلوں کا وہ چور ہے جو حکومت کی متعلقہ وزارت خزانہ کو صاف بات بتانے نہیں دیتا، وہ عوام کو اپنے نامکمل اور مبہم بیانات اور اعلانات سے اس قدر پریشان کر دینا چاہتے ہیں کہ وہ قیمتوں میں اضافے کو بھول کر اس چکر میں پڑ جائیں کہ قیمتیں کتنی بڑھی ہیں یا نہیں بڑھیں اور دکاندار صحیح کہہ رہے ہیں یا غلط۔ حکومت کے اعلان اس قدر مبہم اور غیر واضح ہوتے ہیں اور اس قدر الجھی ہوئی زبان میں جاری ہوتے ہیں کہ انھیں سمجھنے کے لیے ایف بی آر کے کسی استاد قسم کے پرانے افسر کی ضرورت پڑتی ہے۔

عمران خان کی حکومت میں وزیر اور مشیر بدلتے رہتے ہیں، انھیں اختیار ہے کہ وہ جسے چاہئیں وزیر بنا دیں اور جسے چاہئیں اپنا مشیر مقرر کر لیں لیکن یہ خود ان کے مفاد میں ہے کہ وہ کوئی ذمے داری ان لوگوں کے سپرد کریں جو اسے پورا کر سکتے ہوں ۔ ان کی ٹیم میں زیادہ ترایسے لوگ شامل ہیں جن کا سیاست اور حکومتی معاملات کو چلانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے لیکن پھر بھی وہ اپنی مقدور بھر کوشش سے معاملات چلانے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے بات بنتی نظر نہیں آرہی، ان کی وزیر اعظم سے وابستگی اور مخلصانہ پن میں کوئی شک و شبہ نہیں لیکن ان کی یہ قابلیت اور اہلیت نہیں ہے کہ وہ عوام کے مفاد کی خاطر اپنی پالیسیوں میں سب سے پہلے عوام کی سہولت اور قوت برداشت کو ذہن میں رکھیں۔

لگتا یہ ہے کہ ہماری حکومت کے حساب کتاب کرنے والے وہ لوگ ہیں جو وزراء وصولی کہلائے جانے چاہئیں جن کا فرض اور ڈیوٹی صرف یہ ہے کہ وہ ان عالمی ساہوکاروں کے مطالبات پورے کرتے رہیں خواہ اس میں عوام کے بھوکے پیٹوں کی انتڑیاں بھی باہر کیوں نہ نکل آئیں ۔ حیرت ہوتی ہے کہ جو حکمران قرض لینے کو لعنت قرار دیتے تھے اور اس پر خود کشی کو ترجیح دیتے تھے آج وہی قرض ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور قرض کی رقم جب خزانے میں آتی ہے تو لا محالہ اسے زرمبادلہ کا نام دے کر قوم کو خوش خبری سنائی جاتی ہے ۔

یہ وہی قرضے ہیں اور وہی لوگ اس کے مدارلمہام ہیں جو گزشتہ حکومتوں کے بھی وزیر اور مشیر رہے ہیں ۔ ان قرضوں کی خبریں تو عوام تک پہنچتی ہیں لیکن قوم کو اس بات کی خبر نہیں ہوتی کہ یہ غیر ملکی قرضے کہاں چلے جاتے ہیں ۔ عوام تک تو ان کی ایک پائی بھی نہیں پہنچتی لیکن ان کی وصولی عوام سے ضرور کی جاتی ہے جو ایک ریاستی جبر اور دھاندلی ہے اور یہ جبر اور دھاندلی آج کی بات نہیں قوم اس کو ایک مدت سے برداشت کرتی آرہی ہے بلکہ اب تو اس کی عادی ہو چکی ہے ۔

حکومت اپنے دعوؤں کے برعکس ملک کے بند کارخانوں کو چلانے کی بجائے بیچنے کی بات کر رہی ہے اور ملک کی برآمدات میں اضافے کے لیے اب تک کچھ نہیں کر سکی بلکہ برآمدات میں تیزی کے ساتھ کمی آرہی ہے اور بیرون ملک سے جو زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے اس میں بھی شدید کمی کے آثار ہیں۔ جب کہ ہماری حکومت نہایت بھدے انداز میں روزمرہ کی اشیاء ضروریات کی قیمتیں بڑھانے کے سوا اور کچھ نہیں کر سکی جس کی وجہ سے عوام کی شدید تنقید کی زد میںہے اور عوامی حمایت کھو رہی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان قوم سے براہ راست مخاطب ہوتے ہیں لیکن ان کی ٹیم ان کا ساتھ نہیں دے رہی اور جس طرح کی حکومت وہ چلانا چاہتے ہیںان کی ٹیم میں اس حکومت کے لیے قابلیت نہیں ہے جس کی وجہ سے معاملات روزبروز بگڑتے جارہے ہیں اور اس کے ذمے دار وزیر اعظم کی ٹیم ہے جس کو یہ معلوم نہیں کہ ہماری آمدنی کتنی ہے کتنا خرچ کرناہے یا عوام تک حکومتی اقدامات کے ثمرات کیسے پہنچانے ہیں۔ ٹیکس لگانا یا قرض لینا کون سی مہارت کا تقاضا کرتاہے ۔

اتنا حساب تو ہر کوئی جانتا ہے کہ قرض کی ادائیگی کے لیے کتنی رقم درکار ہوتی ہے۔ ملک کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے والے ماہرین ایسی پالیسیاں وضع کرتے ہیں جن سے ملک کی معاشی حالت سدھرنا شروع ہو جاتی ہے، گزشتہ ڈیڑھ برس میں خاص طور پر وزرات خزانہ نے کوئی ایک پالیسی بھی ایسی وضع نہیں کی جس کے اقتصادیات پر مثبت اثرات ہوتے ہوں۔ ہمارے سامنے تو قیمتیں بڑھنے اور ضرورت کی اشیاء کی قلت کی خبریں آئیں ہیں جنہوں نے ملک کے  عام آدمی کو بہت پریشان کیا ہے ۔

یوں لگتا ہے کہ ملک میں کوئی ایسا فرد موجود نہیں جو حکومت کی معاشی حالت کو درست سمت میں گامزن کر سکے یا پھر اگر موجود ہے تو وہ اس خدمت پر تیار نہیں یا پھر عمران خان کو کوئی موزوں آدمی میسر نہیں آرہا ۔ کچھ بھی ہو عمران خان کو اگر باقی ماندہ تین برس پورے کرنے ہیں تو وہ ملک کی معاشیات پر توجہ دیں ورنہ عمران خان کے ساتھ بھی وہی ہو گا جو پہلے حکمرانوں کے ساتھ ہوتا آیا ہے کہ وہ وقت جلد آجاتا ہے جب عوام حکومت سے اکتا جاتے ہیں، ابھی بھی وقت ہے کہ اکتانے والے وقت کو ٹال دیا جائے ۔

The post عمران خان کے پاس ابھی بھی وقت ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2BtdT6x

کورونا کے لوازمات

ان دنوں ہم خود کو شدید خطرناک صورت حال یعنی ’’ڈینجر زون‘‘ میں محسوس کررہے ہیں، اگرچہ اس کا تعلق بھی اس کم بخت مارے کورونا عرف کووڈ نائنٹین سے ہے لیکن ویسا نہیں جیسا آپ سمجھ رہے ہیں بلکہ جیسا آپ نہیں سمجھ رہے ہیں ویسا ہے۔

مطلب یہ کہ ٹیکنیکلی اسے خطرہ کہہ بھی نہیں سکتے لیکن اس ’’ناک‘‘ والے خاندان میں جتنی بھی ناکیں ہیں مثلاً غم ناک، دردناک، تشویشناک اور شرمناک وغیرہ سب اس میں سمائی بلکہ گھسی ہوئی ہیں۔بزرگوں نے کہاہے کہ خطرے ہزار ہوں یا ایک، سب کی منزل وہی ایک ہوتی ہے جہاں ہرکسی کو پہنچنا ہوتاہے اور ایک سالک نے اس کے بارے میں کہاہے کہ

موت بھی اس لیے گوارا کی

موت آتا نہیں ہے آتی ہے

ایک اور دانا کے راز بلکہ دانا کی ساس نے کہاہے کہ

آتی جاتی ’’ساس‘‘کا عالم نہ پوچھ

جیسے دوہری دھار کا خنجر چلے

جب کہ صوفیہ شیخہ سالکہ مرحومہ اقبال بانو نے تو دوٹوک بات کہی ہے کہ چاہے ہوا میں اڑو اس کے نشانے سے بچنا ممکن نہیں اور جس چیز سے بچنا ممکن ہی نہیں بچنے کی کوشش یونہی دل کو بہلانے والی بات ہے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتا ہے ،کل ملا کر بات یہ نہیں ہے کہ خطرہ ہمیں ’’مرض‘‘سے ہے بلکہ اس کے قبل ازموت لوازمات سے ہے، زیادہ سے زیادہ جان ہی لے گا تو وہ ویسے بھی ہماری جان پہ بھاری ہے غم کا افسانہ۔کہ اس زندگی عرف شرمندگی میں ہم نے کیا تیر مارا ہے جو اس کے بعد مار لیں گے۔

نہ تو ودستی نے مارا نہ تو دشمنی نے مارا

گلہ موت سے نہیں ہے ہمیں زندگی نے مارا

بچاری موت تو ویسی ہی بدنام ہے، بری تو زندگی ہے کہ انسان کو دونوں جہانوں میں رسوا کردیتی ہے جب کہ موت اس پر پردہ ڈال کر چھپالیتی ہے۔ہم نے اس ناہنجار نابکار سراسر آزار کورونا عرف کووڈ نائنٹین کے جن  ’’لوازمات‘‘کا ذکرکیاہے، اس کا معاملہ یوں ہے جیسا کہ ایک پشتو کہاوت میں کہاگیاہے کہ شادی تو آسان ہے لیکن اس کے ’’ٹکہ ٹوکا‘‘یعنی لوازمات مشکل ہیں۔

منگنی سے لے کر شادی تک جو لوازمات ہوتے ہیں، وہ انسان کا بھرکس نکال دیتے ہیں۔اسی طرح اس کورونا کے جو لوازمات ہیں جو یہ اپنے ساتھ جہیز میں لے آکر آئی ہے، انھی لوازمات نے ہمیں ہمہ اقسام کی ’’ناکوں‘‘کا نشانہ بنارکھاہے۔اب یہ ہاتھ دھونے کا جو سلسلہ یا پھانسی سے پہلے مشقت ہے، اسے لے لیجیے۔کوئی بیس منٹ  ہاتھ دھونے کے لیے وقت کہاں سے نکالے کہ آخر زندہ انسان ہے، کسی نہ کسی چیز کو تو ہاتھ لگانا پڑتاہے جب کہ اس کم بخت بے شرم وبے حیا کورونا عرف کووڈنائنٹین کو اتنا بھی احساس نہیں کہ کم ازکم بزرگوں کی تصاویر والی کرنسی کا تو احترام کرتا۔جب کہ قدم قدم اور سانس سانس کے ساتھ بچارا اس مہنگائی آئی ایم آئی اور انصاف کے مارے کو جیب میں ڈالنا پڑتا۔اب اگر صرف ’’نوٹوں‘‘ کے تبادلے کے حساب سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں تو…

ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہے

آبگینہ تندئی صہبا سے پگھلا جائے ہے

جب ہاتھوں پرپہلے ہی سے کسی’’میل‘‘کانام ونشان نہ ہو، انھیں بار بار دھونے سے توان کی وہ لکیریں بھی مٹ جائیں گی جو پہلے ہی سے نہایت شکستہ اور کٹی کٹی بلکہ مری مٹی ہیں۔انھی ہاتھوں کی شکستہ لکیروں کی وجہ ہی سے تو آج تک کسی ’’مسرت نذیر‘‘نے تو کیا ’’حسرت نذیر‘‘ نے بھی ہم سے نہیں کہاہے کہ

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں بسالے مجھ کو

کہ ان ہاتھوں کا نصیبہ صرف ملناہے میل نہیں

ہم یہ نہیں کہتے کہ ہاتھ دھونے کی تلقین کرنے والے غلط ہیں۔ وہ اچھے اور سچے لوگ ہیں۔ کبھی کچے بول بول ہی نہیں سکتے۔ اچھا ہے کہ ہاتھ ہر بیس سکنڈ کے بعد ہراس صابن سے دھوئے جائیں جومخیر لوگ آج کل ٹیوی وغیرہ پرپیش کررہے ہیں لیکن ہم اپنی مجبوریاں بیان کرنا چاہتے ہیں، اس بچاری نونو چوڑیوں والی کی طرح کہ

میرے ہاتھ میں نو نو چوڑیاں ہیں

ذرا دیکھو سجن مجبوریاں ہیں

ناک چھپانا یعنی منہ پر نقاب یا ڈھاٹا باندھنا بھی برا نہیں ہے بلکہ اس کے تو فوائد بے شمار ہیں صرف کورونا وائرس ہی کی وجہ سے نہیں بلکہ ’’لہسن‘‘کھانے کی وجہ سے کیونکہ پاکستان کے لوگ آج کل لہسن بہت زیادہ کھارہے ہیں جو آئی ایم ایف کی طرف سے فراہم کیا جارہاہے اور جس کی بدبوُ سے بچنے کے لیے چھ تو کیا دس فٹ کا فاصلہ بھی ناکافی ہے۔ارے ہاں اس چھ فٹ کے فاصلے کا رونا توہم نے ابھی رویا نہیں ہے جس نے ہماری ساری’’ان کمنگ‘‘کوختم کردیاہے۔ خوش قسمتی یا بدقسمتی سے ہماری شنوائی یعنی سماعت پاکستان کی معیشت اور لیڈروں افسروں کی دیانت سے بھی زیادہ کمزور ہے۔اب ذرا منہ پرنقاب اور دس فٹ کے فاصلے کا تصور قائم کیجیے اور پھر سمجھیے کہ کوئی صاحب ہمیں سمجھائے کہ ہم کسی کی بات کیاسنیں گے اور کیاسمجھیں گے، بس وہی چیونگم چبانے والی بات ہوجاتی ہے۔

وہ ہونٹ ہلا رہاہوتاہے اور ہم دیوار بنے بیٹھے رہتے ہیں کیونکہ نقاب کی وجہ سے ہونٹ نہیں دکھتے اور آپ ریڈنگ بھی نہیں کرسکتے،گویا بچارے’’بہروں‘‘کی ایک اور مجبوری۔پہلے تو بہروں کی مجبوری یہ ہوتی تھی کہ انھیں لطیفے پر دو مرتبہ ہنسنا پڑتا تھا، ایک بار سنے سمجھے بغیر لوگوں کو دیکھ کر ہنسنا اور دوسری بار لطیفہ سمجھ کر۔اسی طرح ہمیں ہربولنے والے کی بات پر دو دو دفعہ ’’رونا‘‘ پڑتا ہے۔ ایک مرتبہ نہ سننے کی محرومی پر اور دوسری دفعہ سمجھ میں آنے کے بعد۔کیابتائیں کہ آج کل کتنے لوگوں کے ساتھ ہمارا یہی معاملہ چل رہا ہے، وہ بولتے رہتے ہیں اور ہم کھولتے رہتے ہیں۔ یادل نہ دیا ہوتا یا غم نہ دیا ہوتا۔

وقت مجھ پرزندگی میں دو ہی گزرے ہیں کھٹن

اک ترے آنے سے پہلے اک ترے جانے کے بعد

The post کورونا کے لوازمات appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2BVVPlk

حضرت بلال ؓ کی کہانی ۔ اُن کی اپنی زبانی

امریکا اور یورپ میں نیگروز کے ساتھ زیادتیوں اوراُس پرا حتجاج کی خبریں پڑھیں تو حضرت بلالؓ یا د آگئے۔ مکہ اور مدینہ سے محبت رکھنے والوں کے لیے حضرت بلال ؓ کی شخصیت بڑی محبوبیت رکھتی ہے۔

صدیوں پہلے آقائے ؐدوجہاں نے انسانوں کے درمیان رنگ و نسل کا امتیاز ختم کر کے جو انسانی مساوات قائم کی تھی اس کی عملی صورت حضرتِ بلال ؓکے مقام اور مرتبے میں نظر آتی ہے۔ بلال ؓ کو خالقِ کائنات نے وہ ا عزاز عطا فرمائے تھے کہ بڑے بڑے صحابہ ؓ جن پر رشک کرتے تھے۔آئیے آقا ؐکے اس محبوب صحابیؓ کی روح پرور کہانی ان کی اپنی زبانی سنئیے!

’’میں بائیس برس آقاؐ کے ساتھ رہا جب رسولؐ  ِخدا اس سر زمین پر چلتے تھے، جو کچھ آقا ؐ نے کہا میں نے سنا اور جو کچھ آقاؐ نے کیا میں نے دیکھا‘‘ ۔ میرے والد رباح ایک حبشی غلام تھے مجھے ایک قریشی سردار امیّہ نے مکہ کے بازار سے خریدا۔

’’ حضرت محمدﷺ کا انقلابی پیغام زندگی کے پرانے ضابطوں کے لیے موت کا پیغام تھا۔ قریش کے سرداروں کو اپنی دستاریں اور سرداریاں ہوا میں اڑتی ہوئی نظر آرہی تھیں۔ اس لیے وہ پیغامِ محمد ؐ کی ہر قیمت پر مزاحمت کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ آغاز میں چند غریب نوجوان آپ ؐ کا ساتھ دینے پر تیار ہوئے، جو بھی ایسا کرتا قریش اس کی جان کے درپے ہوجاتے اور اُس پر ظلم و جبر کے پہاڑ گرا دیتے۔ اُس روز میں بحثیتِ غلام دیوار سے لگا کھڑا تھا جب وہ عمار کو لائے۔ ان لوگوں نے اسے گھُٹنوں کے بل جھکانے کی کوشش کی لیکن عمار نے اپنا سر اونچا رکھا۔

انُہوں نے پوچھا،’’ محمد ؐ تمہیں کیا سکھاتے ہیں؟‘‘ عمار نے کہا، ’’آ پؐ سکھاتے ہیں کہ تمام انسان خدا کے نزدیک برابر ہیںاور عبادت کے لائق صرف ایک خدا ہے جو ہم سب کا خالق ہے۔‘‘ اس پر سردار غضبناک ہو گئے۔ ابو سفیان بڑ بڑانے لگا، ہمارے تو تین سو ساٹھ خدا ہیں جو ہماری نگرانی کرتے اور رزق دیتے ہیں۔

یہ خدا ہماری عبادت بھی ہیں اور ہماری مالیات بھی۔ عمار نے پھر اسی اعتماد سے کہا، ’’محمد ؐ ہمیںسکھاتے ہیں کہ تمام انسان تمام نسلیں اور تمام رنگ خدا کے نزدیک برابر ہیں‘‘ ۔ اِس پر انھوں نے مجھے پکارا ۔ ’’بلال! تم بتاؤ ایک کبیرِ مکہ اور تمہارے درمیان کیا فرق ہے‘‘؟ اس کے چہرے پر کوڑا مارو تاکہ اسے سبق ملے‘‘۔ انھوں نے ایک دُرّہ میرے ہاتھ میں دے دیا اور عمار نے چہرہ آگے کر دیا۔

اس کی نظریں پاکیزہ ، پر سکون اور بے خوف تھیں۔ میںنے اس کی آنکھوں میں وہ توانائی دیکھی جو میری غلامی سے زیادہ طاقتور تھی ، اسی لمحے مجھے روشنی نظر آئی اور میں نے اپنی ملکیت تبدیل کر لی۔ میں نے کوڑا گراد یا اور خود کو اﷲ کی رضا کے سپر د کر دیا۔ میرے ہاتھ سے دُ رہ کیسے گرا؟ غلام تو اپنے آپ سے خوفزدہ ہوتا ہے۔میں نہ تو اتنا بہادر تھا اور نہ اتنا بے وقوف کہ بغاوت کرتا، پھر میں نے ایسا کیوں کیا؟، اس بات کا جواب کہاں تھا؟ صرف محمد (ﷺ) کے پاس۔ سردارروں نے مجھے زمین پر سولی سے باندھ دیا اور اُمیہ مجھے دُرے مارنے لگا۔

میں چیخ چیخ کر وہی پکارتا رہا جس کا مجھے علم تھا ۔’’خدائے واحد‘‘۔ میں جب بھی اس کا نام لیتا، وہ میرے دل میں جواب دیتا تھا۔ جب مجھ پر بڑے بڑے پتھر رکھے گئے تو میں نے آنکھیں بند کر لیں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگا۔ یکا یک میں نے اپنے سامنے ہرے بھرے میدان اور پھلوں سے لدے درخت دیکھے۔ میں نے چشموں سے بہنے کی آوازیں سنیں، میں ایک باغ میں داخل ہو گیا جہاں ہر نسل کے نوجوان مرد اور عورتیں پورے احترام سے چل رہے تھے۔

انھوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور ایک چشمے پر لے گئے جیسے ہی میں سیراب ہوا میری روح کی پیاس بجھ گئی اور مجھے محسوس ہوا میں اپنے اﷲ کے پاس ہوں‘‘…’’اور پھر ایک شریف النفس انسان ابو بکر ؓنے دو سو درہم میں مجھے خرید لیا۔ میں پانچ دن ابوبکر ؓ کے گھر پڑا رہا۔ چھٹی صبح میں اٹھنے کے قابل ہوا تو ابو بکرؓ بہت خوش ہوئے، انھوں نے مجھے بتایا کہ حضرت محمدؐ خود تمہارے سرہانے تین دن تک تمہارے لیے دعا کرتے رہے۔ یہاں تک کہ تمہارا بخار ختم ہو گیا۔ کل ہم دونوںحضور ؐ کے پاس چلیں گے۔ میں جب پیغمبرِ خدا سے ملا تو وہ ایک معمولی چٹائی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے میری طرف دیکھا تو آپ ؐ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور ساتھ بیٹھے علی ؓ سے کہا اس شخص نے اﷲ کو خوش کیا ہے۔ پھر خدا کے پیغمبر ؐ  اُٹھے اور مجھے سینے سے لگا لیا اور کہا ’’ بلال تمہارے بارے میں ہمیشہ یہ کہا جائے گا کہ تم پہلے شخص تھے جس پر اسلام کی خاطر تشدد کیا گیا‘‘۔

’’پھر محمد ﷺ میرے بازو پکڑ کر گھر لے گئے، مجھے اپنے پاس بٹھایا۔ میں پہلے کبھی کسی قریش کے ساتھ نہیں بیٹھاتھا، میری تو حیثیت ہی کھڑے رہنے والے کی تھی ۔ میں اب آسمانوں پر اُڑ رہا تھا‘‘۔

’’پھر رسولِ ؐخدا نے مجھے اسلام کے بارے میں سمجھاتے ہوئے بتایا کہ ’’اسلام رضائے خدا کے سامنے خود سپردگی کا نام ہے، اسلام تمام انسانوں سے اچھے سلوک کا نام ہے ، ہر نسل، ہر حیثیت اورہر رنگ کے انسان اسلام میں برابر ہیں‘‘ ۔ محمد رسول اللہﷺ سے میری پہلی ملاقات ختم ہو گئی۔

’’ میں ابو بکر ؓ کے پاس رہتا تھا جو غلاموں کے سارے کام خود کرتے تھے۔ میں نے آزاد کرنے پر ابوبکر ؓ کا شکریہ ادا کیا تو وہ میرے شکر گذار ہوئے۔ انھوں نے کہا آقا ؐ نے فرمایا ہے غلام کو آزاد کرنا خدا کی خوشنودی کا باعث ہو تاہے، پھر انھوں نے مجھے لکھنے اور پڑھنے کی ترغیب دی‘‘۔

’’پیغمبر خدا ؐ نے زندگی کا جو نیا نظریہ دیا تھا، اس میں حکم دیا گیا تھا کہ صاحبِ جائیداد انھیں حصہ دیں جن کے پاس نہیں ہے، خواہ وہ دولت ہو، پیداوار ہو یا ساز و سامان ہو ۔ یہ کمزوروں کو حقوق دینے والا انقلاب تھا۔ ابو سفیان بہت بڑا دانشور تھا، اُس نے خطرہ بھانپ لیا تھا۔ لہٰذا اس نے اور دوسرے سرداروں نے حضرت محمدؐ کو پیشکش کی بے پناہ دولت کی بھی اور اقتدار کی بھی۔ لیکن اﷲ کے پیغمبر ؐنے ہر پیشکش ٹھکرا دی‘‘۔

’’میں بلال غلام ابنِ غلام کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میں انسانوں کا رہبر بنایا جاوںگا۔ مکہ کے سرداروں کا ظلم و ستم نا قابلِ برداشت ہو گیا تو ہمیں مکہ چھوڑ دینے کا حکم ہوا۔ ہم مختصر گروہوں میں مکہ سے مدینہ کو روانہ ہوتے رہے۔ وقفے وقفے کے بعد رات کے وقت۔ ہمارے گروہ میں چھ مرد ،دو عورتیں اور تین بچے تھے۔

ایک بچے کو خود حضرت محمدﷺ ایک میل تک لے گئے۔ پھر آپ ؐ نے ہمیں آگے جانے کی اجازت دی۔ اب میں اپنے گروہ کا راہنما تھا۔ گرمیوں میں یہ سفر نو دنوں کا تھا۔ بچوں کے ساتھ گیارہ دنوں کا۔ چھٹے دن ہمیں حمزہ ؓ مل گئے۔شیروں کو ڈرا کر بھگاتے، گرے ہوؤں کو اٹھاتے، پیچھے رہ جانے والوں کو آگے بڑھنے کی ہمت دلاتے اور حفاظت کرتے ہوئے انھوں نے بتا یا کہ حضرت محمد ؐ نے طے کیا ہے کہ وہ مکہ میں اس وقت تک قیام کریں گے جب تک ہر شخص باہر نہ چلا جائے۔ ہم گہرے خدشات اور وسوسوں میں گھر گئے۔ ہم مدینہ پہنچ کر ہر روز آقا ؐ کی آمد کا انتظار کرنے لگے۔

پھر ایک روز دوپہر کے ذرا بعد شور بلند ہوا اور، پھر سب دوڑ پڑے۔ پیغمبرِ اسلامﷺ  مدینہ پہنچ گئے۔ مکہ سے مدینہ کا ھمارا یہ سفر اﷲ کے ہاں اتنا مقبول ہوا کہ جب تک دنیا میں گھڑیاں چلیں گی ہمارے نقشِ قدم قائم رہیں گے۔ ھمارا کیلینڈر ہمارے سفرِ ہجرت سے شروع ہوا۔ آقا ؐ کی اونٹنی قصویٰ ایک دو جگہوں پر رکنے کے بعد ایک جگہ بیٹھ گئی اورآپ ؐ نے اعلان فرمایا میں یہاں قیام کروںگا اور یہیں اپنی مسجد بناؤںگا۔ صبح سویرے کام شروع ہو گیا۔ آقا ؐ نے خود نیزے کی انی سے پانچ اونچے کجھور کے درختوں کے درمیان مسجد کے لیے لکیریں کھینچیں، حضورﷺ جس طرح کا خطرناک سفر کر کے آئے تھے، کوئی دوسرا ہوتا تو ایک ہفتہ بستر سے نہ اُٹھتا ۔ مگر آقا ؐ دوسرے روز ہی کام پر لگ گئے اور سب کے ساتھ پتھر ڈھوتے اور سیڑھیاں چڑھتے رہے‘‘۔

’’پھر مسجد بن گئی مگر علی ؓ نے بتایا کہ کوئی چیز کم ہے جس سے لوگوں کو بلایا جاسکے، وہ کیا ہو؟ جھنڈا ، گھنٹا،  طبل، قرنایا نقارہ ، کوئی بھی مطمئن نہیں تھا۔ پھر عبد اللہ بن زید ؓ حضور ؐ کے قریب آئے اور کہا، یارسول اﷲﷺ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ انسانی آواز ہمیں نماز کے لیے بلا رہی ہے، آقا ؐ نے فرمایا ،’’تمہارا خواب خدا کی طرف سے تھا۔ ایسا ہی ہو گا‘‘۔ لیکن کونسی آواز؟ نرم ، سریلی یا گرجدار، تب میں نے محسوس کیا کہ حضور ﷺ کا ہاتھ میرے کندھوں پر ہے ’’تمہاری آواز بلال‘‘ میں نے پوچھا یا رسولؐ اﷲکیسے بلاؤں ؟کیا کہوں؟ فرمایا ’’ پہلے خدا کی حمدکہو ، پھر رسالت کا اعلان کرو، پھر نماز کی طرف بلاؤ اور پھر خدا کی حمد اور بس۔ اور پھر میں دینِ حق کا پہلا مؤذن بن گیا۔ میں نے اذان دی تو آقا ؐ نے فرمایا، اب میری مسجد مکمل ہوگئی ہے۔

(جاری ہے)

The post حضرت بلال ؓ کی کہانی ۔ اُن کی اپنی زبانی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Zpnnrx

بلوچستان میں اسمارٹ لاک ڈاؤن میں مزید 15 دن کی توسیع

حکومت بلوچستان نے صوبے بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن میں مزید 15 دن کی توسیع کردی ہے۔

محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق صوبے بھر میں کورونا وبا کے پیش نظر جاری اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 15 جولائی تک توسیع کردی گئی ہے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق صوبے بھر کے صوبے بھر کے تعلیمی ادارے 15 جولائی تک بند رہیں گے ، بازار اور مارکیٹیں صبح 9 سے شام 7 بجے جب کہ میڈیکل اسٹورز، تندور، ڈیری پروڈکٹس، درزی کی دکانیں، ریسٹورنٹس اور ہوٹلز ہوم ڈیلیوری کے لئے 24 گھنٹے کھلے رہ سکتے ہیں تاہم فارم ہاؤسز ،شادی ہال اور پکنک پوائنٹس بدستور بند رہیں گے۔

The post بلوچستان میں اسمارٹ لاک ڈاؤن میں مزید 15 دن کی توسیع appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2CODDdV

وزیر ہوا بازی غلام سرور کی برطرفی کیلیے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ

 اسلام آباد: ہائی کورٹ نے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان غلام سرور کی برطرفی کے لیے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے وفاقی وزیرغلام سرور خان کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ غلام سرور خان نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ 30 فیصد پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں، وزیر ہوابازی نے انکوائری کے بغیر 262 پائلٹس پر جعلی لائسنس کا الزام لگایا، اگر کسی کی ڈگری جعلی تھی تب بھی وزیر کو چاہیے تھا خفیہ انداز میں کارروائی کرتے، ان کے بیان کی وجہ سے پی آئی اے پر یورپ میں فلائیٹوں پر 6 ماہ کی پابندی لگ گئی ہے۔

درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ پائلٹس کے جعلی لائسنس کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے، وزیراعظم کو غلام سرور خان کو وفاقی وزیر کے عہدے سے برطرف کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں، اسپیکر قومی اسمبلی کو غلام سرور کی نااہلی کا معاملہ الیکشن کمیشن کو بھجوانے کی ہدایت کی جائے، درخواست پر فیصلے تک غلام سرور کو فوری کام سے روک دیا جائے۔

ہائی کورٹ نے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان غلام سرور کی برطرفی کے لیے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیا کہ عدالت معاملے کی احساسیت کو سمجھتی ہے،اس حوالے سے تفصیلی آرڈر پاس کریں گے۔

The post وزیر ہوا بازی غلام سرور کی برطرفی کیلیے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2VB1vbz

سندھ ماڈل صوبہ ؟

سندھ کا بجٹ 12کھرب 41 ارب تک پہنچ گیا۔ تعلیم کے لیے 244 ارب اور شعبہ صحت کے لیے 139ارب روپے مختص کیے گئے۔ سندھ واحد صوبہ ہے جس کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا گیا۔ تعلیم اور صحت کے بجٹ میں یہ ریکارڈ اضافہ ہے۔

2010 میں 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔یہ رقم شفاف انداز میں خرچ کی جائے تو سندھ ماڈل صوبہ بن سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کی دعوؤں کے باوجود سندھ ایک پسماندہ صوبہ ہے۔ 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو  قائم علی شاہ دوسری دفعہ وزیر اعلیٰ بنے ۔ یہ خاصا مایوس کن تھا۔ اس وقت صوبہ میں قائم علی شاہ کے علاوہ کئی وزراء وزیر اعلیٰ سمجھے جاتے تھے۔

اس دور کی ایک اہم خصوصیت کرپشنرہی۔ یوں سندھ میں ترقی کے بہت سے منصوبوں کا اعلان ہوا مگر چند ایک ہی مکمل ہوسکے۔ کراچی کے سول اسپتال کا بے نظیر ٹراما سینٹر10سال میں تعمیر ہوا مگر مراد علی شاہ کی تعیناتی کے بعد ترقی کا عمل تیزتر ہوا۔

اس سال کووڈ ۔19 کے بحران میں سندھ حکومت کا قابل قدر کردار سامنے آیا۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے سب سے پہلے کووڈ کے خطرات کو محسوس کیا ، یوں سندھ میں سب سے پہلے لاک ڈاؤن ہوا اور حکومت نے کورونا کے مریضوں کے بارے میں اعداد و شمار جمع کرنے کے لیے ایک معیاری نظام قائم کیا۔ سندھ کی حکومت کی اس کارکردگی کو مخالفین بھی سراہنے پر مجبور ہوئے مگر ترقی کے دوسرے حقائق خاصے مایوس کن ہیں۔

ایک اہم مسئلہ ملازمتوں کا ہے۔ صنعتی ترقی نہ ہونے اور سروس سیکٹرکی غیر یقینی صورتحال کی بناء پر متوسط اور نچلے طبقہ کے لیے سرکاری ملازمتوں کے علاوہ زندگی گزارنے کا کوئی اور راستہ نہیں ہے مگر اس صوبہ میں میرٹ پر ملازمت ملنے کے واقعہ کو صدی کے اہم واقعات میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ ایک مسئلہ تو گریڈ 1 سے گریڈ 15 تک تقرریوں کا ہے۔

ان تقرریوں میں قواعد و ضوابط کا خیال نہیں رکھا جارہا ہے۔ گریڈ 16 سے20گریڈ تک دیہی اور شہری کوٹہ کا ہے۔ 1970ء میں جنرل یحییٰ خان کے دور میں گورنر لیفٹیننٹ جنرل رحمان گل نے دیہی اور شہری کوٹہ نافذ کیا تھا تو اس وقت اندرون سندھ میں تعلیمی سہولتیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ صوبہ میں دو یونیورسٹیاں اور دو میڈیکل کالج تھے مگر اب صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔

ہر ضلع میں اسکو لز اور کالجز ہیں۔ یونیورسٹیوں کی تعداد بھی بڑھی ہے۔ تعلیمی معیار بھی بلند ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سی ایس ایس کے امتحانات میں اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی شاندار کارکردگی سامنے آتی ہے۔ یوں کوٹہ کا نظام ان کی قابلیت کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے، سندھ پبلک سروس کمیشن کی ساکھ ختم ہوچکی ہے۔

جب بھی کمیشن کے امتحانات منعقد ہوتے ہیں کئی اسکینڈلز ذرائع ابلاغ کی زینت بنتے ہیں۔ اگر بلاول بھٹو زرداری یہ سمجھتے ہیں کہ میرٹ سے ہی ترقی ممکن ہے تو انھیں سندھ پبلک سروس کمیشن کی تنظیم نو کے بارے میں سوچ بچار کرنی چاہیے اور قانونی سقم کو دور کرکے اس ادارہ کو ایک طاقتور ادارہ بنانا چاہیے تاکہ باقی صوبے بھی مجبور ہو کر سندھ کی پیروی کریں۔ 5گریڈ اور اس سے اوپر کی تمام ملازمتوں پر تقرر کے لیے پبلک سروس کمیشن کو بااختیار بنانا وقت کی ضرورت ہے۔

سندھ کا محکمہ تعلیم بدعنوانی کی آماجگاہ ہے۔ اس  کلچر کی بناء پر کراچی کے اہم اسکولوں اور کالجوں کے مقدمات حکومت سندھ عدالتوں میں ہار گئی اور یہ تعلیمی ادارے نجی تحویل میں چلے گئے۔ ان تعلیمی اداروں کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی انقلابی تعلیمی پالیسی کے نتیجہ میں قومیایا گیا تھا اور یہاں طلبہ اور اساتذہ کا استحصال ختم ہوگیا تھا۔

حکومت سندھ تاحال تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے قابل عمل پالیسی نافذ نہیں کرسکی۔ اب بھی سندھ کے اسکولوں میں لڑکیوں کے ڈراپ آؤٹ ہونے کی شرح زیادہ ہے۔ اسکول نہ جانے والے بچوں کی شرح میں کمی نہیں ہوپائی۔ حکومت کو بجٹ میں اس طرح کی اسکیم شامل کرنی چاہیے تھی کہ والدین کے لیے اپنے بچوں خصوصاً لڑکیوں کو اسکول میں داخل کرانے میں کشش محسوس ہو۔ سندھ کے چار تعلیمی بورڈ کے سربراہوں کی تقرری کی سمری پانچ ماہ سے منظوری کی منتظر ہے۔

بجٹ پر ایک تنقید یہ ہے کہ تعلیمی منصوبوں میں کراچی اور حیدرآباد کو نظرانداز کیا گیا ہے، کراچی یونیورسٹی اس کا واضح شکار ہے۔ کراچی یونیورسٹی کی آمدنی کا انحصار ہائر ایجوکیشن کمیشن کی گرانٹ اور فیسوں پر ہے۔ ایچ ای سی کی گرانٹ ناکافی ہے۔ کراچی یونیورسٹی فیسوں میں اضافے سے کام چلاتی ہے جس سے غریب طالب علم براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔

کراچی یونیورسٹی انفرااسٹرکچر کے اعتبار سے دیگر یونیورسٹیوں سے پسماندہ ہے۔ یونیورسٹی کی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ بعض شعبوں میں اب بھی اساتذہ تخت سیاہ اور چاک استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ سندھ میں نثار کھوڑو چند سال قبل جب وزیر تعلیم تھے تو وہ کراچی یونیورسٹی کے کانووکیشن میں شرکت کے لیے آئے تھے۔

انھوں نے اس موقعے پر یہ خوش خبری سنائی تھی کہ شعبہ ابلاغ عامہ میں ٹیلی وژن لیب قائم کی جائے گی مگر وہ یہ خوش  خبری سنا کر بھول گئے۔ دو سال قبل وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر میں یہ زبردست اعلان کیا تھا کہ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ میں صحافیوں کی تربیت کے لیے انسٹی ٹیوٹ قائم کیا جائے گا۔ معروف صحافی مظہر عباس نے کوشش کی کہ وزیر اعلیٰ کا اعلان عملی شکل اختیار کرلے مگر ان کے پاس اس تناظر میں صرف مایوسی کیسوا کچھ نہیں تھا۔

پبلک ٹرانسپورٹ عوام کا انتہائی اہم مسئلہ ہے۔ حالت یہ ہے کہ عام شہری چائنہ موٹر سائیکل وین جو چنگ چی کے نام سے مشہور ہے کو ہی پبلک ٹرانسپورٹ سمجھتا ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بڑا بورڈ سے گرومندر تک میٹروبس کا ٹریک گرین لائن تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا ۔اس موقع پر قائم علی شاہ نے اعلان کیا تھا کہ شہر میں دیگر مرکزی شاہراہوں پر بھی ایسی لائنیں تعمیر کی جائیں گی مگر یہ محض اعلانات ہی رہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا مسئلہ صرف کراچی یا حیدرآباد نہیں بلکہ سندھ کے ہر شہر کا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے اقدامات ہوئے۔

ریلوے وفاق کا شعبہ ہے، یوں یہ معاملہ وزارت ریلوے کے سپرد ہوا۔ صوبوں کو بااختیار کرنے اور 18ویں ترمیم پر تحقیق کرنے والے امجد بھٹی کا کہنا ہے کہ 18ویں ترمیم کے ذریعہ صوبائی حکومتیں شہروں میں سرکلر ریلوے کا نظام قائم کرسکتی ہیں مگر حکومت سندھ کے پالیسی تیار کرنے والے اکابرین اس طرف توجہ دینے کے روادار نہیں ہیں۔

سندھ میں صحت کا شعبہ خاصا بہتر ہوا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا یہ دعویٰ درست ہے کہ سندھ کے چار اسپتالوں کا شمار ملک کے بہترین اسپتالوں میں ہوتا ہے۔ ان اسپتالوں کے معیار کی بہتری ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی، ڈاکٹر بھٹی اور ڈاکٹر قمر جیسے انسانیت دوست ڈاکٹروں کی ذاتی کوششوں کا نتیجہ ہے ۔

سندھ کے شہر اور گاؤں کوڑے کے ڈھیروں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ حکومت سندھ نے کراچی سے کچرا اٹھانے کے لیے چینی کمپنی کو ٹھیکہ دیا تھا۔ یہ تجربہ ناکام ہوگیا۔ سندھ میں منتخب بلدیاتی ادارے اگست میں اپنی معیاد پوری کریں گے مگر میئر صاحبان اختیارات نہ ہونے کا رونا روتے ہیں۔

بلدیات کا قانون اتنا ناقص ہے کہ شہر میں کئی اداروں کی ذمے داری کچرا اٹھانے اور سیوریج کے نظام کو بہتر بنانے کی ہے۔ بلدیاتی امور کی رپورٹنگ کرنے والے سینئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون اتنا گھمبیر ہے کہ کوئی ادارہ شہر کی Ownership نہیں لے سکتا۔ حکومت بااختیار بلدیاتی نظام قائم کر کے ترقی کے عمل کو تیز کرسکتی ہے۔بہرحال 12کھرب 14ارب روپے کے بجٹ کو شفافیت کے ساتھ خرچ کیا جائے تو سندھ ایک ماڈل صوبہ بن سکتا ہے۔

The post سندھ ماڈل صوبہ ؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2NIM50B

مافیاز پر کرم نوازیاں

خان صاحب کی حکومت کی انفرادیت اورخوبی ہے کہ وہ جس کے خلاف سب سے زیادہ شورمچاتی ہے اُسی پر نوازشیں اور کرم نوازیاں بھی خوب کرتی ہے۔ دوسال ہوگئے عوام کاتوایک مسئلہ بھی حل نہیں ہوا لیکن  مافیاگروپس کا ہر مسئلہ حل ہوگیا۔

وزیراعظم اپنی تقریروں اوربیانوں سے تو ہمیشہ یہ تاثر پیدا کرتے رہتے ہیں کہ جیسے وہ اِن عناصر کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔جب کہ دیکھا بالکل اِس کے برعکس گیا ہے۔وہ جتنازیادہ کسی کے خلاف بولتے ہیں درپردہ اُنہی کی سرپرستی یا حمایت اورمدد بھی کرتے رہتے ہیں۔عوام کے سامنے تو بظاہر وہ ملک میں ستر سالوں سے جاری لوٹ مار کے خلاف ایک جنگجووزیراعظم کاروپ دھارے ہوئے ہوتے ہیں اور اندر سے وہ اُن کے ساتھ ملے ہوئے ہی نظر آتے ہیں۔

سالِ رواں کے مہینہ جنوری میں جب آٹے اور چینی کابحران سامنے آیاتووہ ابتدامیں تو چپ چاپ بیٹھے رہے لیکن پھرعوام کی طرف سے زبردست شور مچانے اوراحتجاج کرنے پروہ کمیشن بناکر تحقیقات کرنے پر طوعاًوکرہاًراضی اوررضامند ہوگئے۔اُن کی تعریف وتوصیف میں ساتوں آسمانوں کے قلابے ملانے والوں نے اُن کی مدح سرائی شروع کردی اور کہنے لگے کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ کوئی حکومت اپنے ہی لوگوں کے خلاف تحقیقات کرانے جارہی ہے۔

سب سمجھے رپورٹ آنے پر ذخیرہ اندوزوںاورچینی ایکسپورٹ کرنے کی آڑ میں سبسڈی سے فائدہ اُٹھانے والوں کے خلاف زبردست تادیبی کارروائی عمل میںلائی جائے گی۔ایک ابتدائی رپورٹ آئی تو کہاگیا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ آجانے دیجیے پھر دیکھئے گا،ہماراخان کیسے اُس کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کرتا ہے۔وہ بھی آگئی اورپھر ہوا کیا۔ایک ملزم بھی قابل سزا قرار نہیں دیاگیا۔سبسڈی کو ایشو بناکر 2008سے اب تک دی جانے والی ساری سبسڈیوں کا کیس بناکے نیب کے حوالے کردیا۔یوںسارامعاملہ اتناپیچیدہ اورالجھادیا کہ کوئی بھی  ملزم یامجرم گردانہ نہ جاسکے۔

چینی کی قیمت اِس سال 53سے85تک کیسے پہنچی اُس ایشوکو چھیڑاتک نہیں گیا۔سابقہ ادوار میں اگر  چینی ایکسپورٹ کی گئی اور اُس پرسبسڈی دی بھی گئی ، لیکن اُسکی وجہ سے نہ مارکیٹ میںچینی کی ریٹیل پرائس بڑھی اور نہ چینی کی کوئی قلت یاکمی پیداہوئی ۔ضرورت سے زائد چینی پڑی تھی وہ ایکسپورٹ کردی گئی، جب کہ یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور تھا۔ اضافی چینی کابہانہ بناکر ایکسپورٹ کی اجازت لی گئی اورپھر اُس پر سبسڈی بھی حاصل کی گئی اورملک کے اندر چینی کابحران پیداکرکے یہاں بھی اپنی مرضی کے دام مقررکرا دیئے گئے۔

مزید برآں ایکسپورٹ کی جانے والی چینی کاکوئی ریکارڈ بھی نہیں دکھایاگیا۔ ملک اورقوم کو دونوں جانب سے لوٹا گیا۔اِس سارے کھیل کے پیچھے حکومت کے اپنے لوگ ملوث تھے لہذا خاموشی کے ساتھ اُنہیں بیرون ملک روانہ کردیا گیا۔ قوم آج بھی اُسی دام سے چینی خریدنے پر مجبورہے جو شوگر مافیانے ازخود مقرر کردیئے ہیں۔ خان صاحب نے اب تک شوگر کے اِس مافیا کے خلاف ایک بھی کارروائی نہیں کی۔اُلٹا اُنہیں چور دروازے سے باہرروانہ کر دیا۔ عوام کاکیاہے کچھ دنوںمیںبھول جائیں گے،اگر نہیں بھولے توکوئی دوسرابحران پیداکرکے پچھلابحران بھلا دینے پر مجبورکردیاجائے گا۔

ابھی قوم چینی اورآٹے کے بحرانوں ہی کورو رہی تھی کہ پیٹرول کی قلت پیداکردی گئی۔خان صاحب نے حسب عادت اِس کابھی نوٹس لے لیا،وہ جس کابھی نوٹس لیتے ہیں وہ معاملہ سلجھنے کی بجائے اوربھی گھمبیر ہوجاتاہے۔یہاں بھی ایسا ہی ہوا۔گزشتہ مہینے حکومت نے پٹرول کچھ سستا کرکے اُس کی فی لٹرخوردہ قیمت تقریباً 75روپے مقرر کردی ۔

عوام کولارے لپے دیئے گئے کہ دیکھوتمہاری ہمدرد حکومت اپنے عوام کا کتنا خیال رکھتی ہے۔لیکن اِس اعلان کے فوراًبعد پیٹرول ملنا دشوار ہوگیا۔ خان صاحب نے حسب دستور پھر نوٹس لیا اور ساتھ ہی یہ دعوی بھی کیاکہ وہ اِس بحران کے ذمے داروں کونہیں چھوڑیں گے۔پیٹرول کمپنیوں کے گروپس کو مافیا  کانام دیکر اُسے بھی خوفناک انجام سے ڈرایاگیا۔لیکن پھر ہواکیاوہ سب کے سامنے ہے ۔

حکومت کے اہل کاروں نے اِس مافیاکے سامنے بھی اپنے گھٹنے ٹیک دیئے اورسارا بوجھ ایک بار پھرعوام کے سرلاد دیا۔حکومت کی اِن مافیاز کے سامنے وقعت اورحیثیت کااندازہ اُس قبل ازوقت اعلان سے بھی کیاجاسکتا ہے کہ پیٹرول کی قیمت سوروپے فی لٹر تک لے جانے کا فیصلہ اتنی جلدی اور عجلت میں کیا کہ قیمتوں کے جائزے کے لیے طے شدہ تاریخ یعنی ہر مہینے کی پہلی کی بجائے چار روز قبل ہی کر دیا گیا۔پیٹرول سستا ہونے کا مکمل ریلیف عوام کوکیاملتا اُلٹا پہلے سے بھی زیادہ قیمت پر اب وہ فروخت ہونے لگا۔

31مئی 2020کو پیٹرول 86روپے فی لٹر مل رہاتھاجسے سستاکرنے کی غرض سے 75روپے پر یکم جون کولایاگیالیکن 26جون کی رات کو عوام پر شب خون مار کر واپس 86کرنے کی بجائے یکدم 100روپے فی لٹر کردیاگیا۔ قوم کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ اب خان صاحب کی کن باتوں پراعتبار کرے ، وہ جس کے خلاف بھی ایکشن لینے کا ارادہ ظاہرکرتے ہیں الٹااُسے نوازنے لگتے ہیں۔

نہ چینی سستی ہوئی اورنہ پٹرول ۔حکومت کے اخراجات کاسارا بوجھ صرف اورصرف عوام کے کمزور کاندھوں پر ڈال دیاگیاہے۔ذرا سوچیے،اربوں روپے چینی کی مد میں عوام کی جیبوں سے نکل کرآج بھی شوگرملز مالکان کے خزانوں میں جارہے ہیں اوراِسی طرح اب پٹرول کی مد میںکھربوں روپے عوام کی جیبوں سے نکل  رہے ہیں، کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ غریب عوام اپنا دکھڑا روئیں توکس کے سامنے۔شکوہ کریں توکس سے کریں ۔کوروناوائرس اورمسلسل لاک ڈاؤن کیوجہ سے وہ پہلے ہی ادھ موئے ہوئے بیٹھے ہیں۔ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ بیروزگار ہوچکے ہیں اورحکومت ہے کہ عوام پر مزید بوجھ لادے جارہی ہے۔

پی ٹی آئی حکومت نے ابھی تک عوام کاکوئی مسئلہ حل نہیںکیاہے اورنہ وہ لوٹا ہوا پیسہ ابھی تک واپس لانے میں کامیاب ہوپائی ہے اورنہ کسی کوسزادینے کی قابل ہوپائی ہے، بلکہ اگرغیر جانبدارانہ طور پر دیکھا جائے تو یہ حقیقت کھل کرعیاں ہوجائے گی کہ موجودہ دور حکومت میں ملک کے اندر موجود تمام مافیاز اور بھی مضبوط ہوئی ہیں۔جو ڈر اورخوف اگر پہلے کچھ باقی تھاوہ بھی اب رفع دفع ہوچکا ہے۔ وہ بلاخوف وخطر اپنی من مانیاں کررہی ہیںاور خان صاحب اُن کے خلاف صرف اورصرف زبانی جمع خرچ ہی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

اُن کی دلیری اوربہادری کی ساری باتیں اب ہوا چکی ہیں،وہ کسی کاکچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اُنکی حکومت جتنی بے بس اورلاچار حکومت ہے شاید ہی اِس سے پہلے ہماری کوئی حکومت رہی ہو۔وہ نہ اپنے وزراء کوسدھارسکتی ہے اورنہ باہر بیٹھی کسی مافیاکو۔ہر چندماہ بعد صرف عوام اورمیڈیاکودکھانے اوراُنہیں خاموش اور چپ کرانے کی غرض سے کچھ شیخیاں ضروربھگار ی جاتی ہیں مگرعملاً کوئی کارروائی سامنے نہیں آتی۔

The post مافیاز پر کرم نوازیاں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2BYrJxy

دہشت گردی سے فریادی عوام تک

گزشتہ روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت پر ہونے والے دہشت گردی کے حملے میں رینجرز اور پولیس حکام کی مشترکہ اور کامیاب کارروائی کے باعث جدید اسلحے اور دستی بموں سے لیس حملہ آور اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق عمارت میں داخل ہوکر دہشت گرد کوئی بڑی کارروائی کرنا چاہتے تھے تاہم بروقت جوابی کارروائی نے نہ صرف ان کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیئے بلکہ قومی سلامتی پر مامور اہلکاروں کو یہ عزم اور حوصلہ بھی دیا کہ جب بھی دہشت گرد کسی قومی ہدف کو ٹارگٹ کریں گے وہ قانون نافذ کرنے اور وطن کے دفاع میں جاں نثار کرنے والے اہلکاروں کو ہمہ وقت چاک و چوبند، مستعد اور تیار پائیں گے اور ملکی سلامتی کے دشمن عناصر کی ہر سازش اور بزدلانہ واردات کا جواب پوری طاقت سے دیا جائے گا۔

تاہم دہشت گردی کی اس ہولناک واردات کو بروقت ناکام بناتے ہوئے چند باتوں کی طرف قومی سلامتی پر مامور قوتوں کو غور کرنا پڑیگا کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے بیس ماہ کی مدت کے بعد پھر سے کراچی کو نشانہ پر لیا ہے، جو ان کے ماسٹر مائنڈز کے مطابق ان کے ٹارگٹ پر ہے، دہشتگرد نیٹ ورک کی طرف سے کہا گیا کہ ملکی معیشت اور چین کے منصوبوں کو نشانہ بنانا ان کا مقصد تھا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بھیجی گئی ایک ای میل میں کہا گیا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ساتھ ساتھ پاکستانی معیشت کو بھی ٹارگٹ کیا گیا ہے، کالعدم تنظیم کے مطابق چین غیر منصفانہ طور پر بلوچستان کے معدنی وسائل اور ہائیڈروکاربن وسائل کو استعمال میں لا رہا ہے۔

ارباب اختیار اور سیکیورٹی حکام اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کے کئی غور طلب پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں، ایڈیشنل آئی جی سندھ غلام نبی میمن کا کہنا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی اطلاعات تھیں، اسی باعث علاقے اور عمارت کی سیکیورٹی بڑھائی گئی، پاکستان رینجرز حکام کا بھی یکساں انداز نظر تھا، آئی جی نے کہا حملہ کسی ایک تنظیم کی جانب سے نہیں کیا گیا، مختلف گروپ اور سلیپنگ سیلز ایکٹیو ہیں، کراچی میں حملہ آوروں کو لاجسٹک سپورٹ ملی ہے، لیکن حملہ آوروں کے بیک اپ پر کوئی موجود نہیں تھا، حملہ آوروں سے ملنے والے اسلحہ اور ایمونیشن کی تحقیقات جاری ہیں۔

یاد رہے اس سے قبل 23 نومبر1918کو کلفٹن میں واقع چینی قونصلیٹ میں اسی تنظیم کی جانب سے کی جانے والی انتہا پسندانہ کارروائی میں 3 دہشت گرد ہلاک دو پولیس اہلکار اور دو شہری شہید ہوئے تھے، لہٰذا اسٹاک ایکسچینج واقعہ سے پہلے چند روز میں دہشتگردی کی بعض وارداتیں ہوئیں، جن میں رینجرز اہلکاروں پر حملے، لیاقت آباد میں احساس پروگرام سینٹر اور ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی صداقت حسین کی رہائش گاہ پر دہشتگردی کے واقعات رونما ہوچکے ہیں جب کہ اندرون سندھ بھی دہشتگردی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اگرچہ ملکی صورتحال دہشتگردی کے بڑے بھیانک دورانیے بھی دیکھ چکی ہے۔

طالبان نے ریاست مخالف سرگرمیوں کے دوران آگ اور خون کا جو کھیل کھیلا اسے قوم اپنے لاشعور سے کبھی بھی نہیں نکال سکتی، اسی طرح بلوچستان کی سیاست بھی ملکی سیاست سے جڑی ہوئی ہے، بلوچستان میں گیم چینجر منصوبہ سی پیک سمیت دیگر داخلی سیاسی معاملات بھی سوالیہ نشان ہیں، علیحدگی پسندوں کے ذہن کو بھی پڑھنا ضروری ہے، گوادر پورٹ سے جڑی سیاسی صورتحال کا تعلق پورے ملک کی سیاسی معروضیت سے بھی ہے، اس لیے سیاسی رہنماؤں کو اسٹاک ایکسچینج واقعہ کو ایک ویک اپ کال کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

زمینی حقائق دہشتگردی کے واقعہ کی کڑی ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی سیاست کو تشدد، بلیم گیم، تضاد آرائی اور مسلسل کشیدگی کے بھنور سے نکالا جائے اور سیاسی معقولیت اور افہام و تفہیم کو جمہوری راستہ دیا جائے تاکہ عوام دوست پالیسیاں حکومتی اقتصادی ترقی کے لیے معاون ثابت ہوسکیں، خطرہ کسی بات کا نہیں صرف اس بات کا ہی ہے کہ کہیں دہشتگرد ہمیں پھر سے بند گلی میں نہ لے جائیں جہاں سے نکلنے میں ایک عرصہ لگ گیا۔

چشم تخیل کو بروئے کار لایا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ کراچی اسٹاک ایکسچینج کی عمارت تک آنے میں دہشتگردوں کو کوئی خاص پریشانی نہیں ہوئی، وہ اپنے اسلحہ، ایمونیشن اور گاڑی کے ساتھ براستہ حب ٹاور کے راستے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت تک پہنچ گئے۔ باقی کارروائی تاریخ کا حصہ ہے لیکن ایک نکتہ جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، وہ دہشتگردوں کی فعالیت، ضد اور ہدف تک رسائی کا ہے، جیسا کہ پولیس چیف کا کہنا ہے کہ مختلف گروپ ایکٹیو ہیں۔

بلاشبہ مجرمانہ مافیاؤں کی نقل و حمل مشکل اس لیے نہیں ہے کہ کراچی ایک جنگل اور ہولناک کنکریٹ سٹی ہے، وہ زمانہ رخصت ہوگیا جب شہر قائد کے لیے منتخب لقب ’’عروس البلاد‘‘ استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ روشنیوں کا شہر تھا، ملک کے طول و عرض سے لوگ فکر معاش میں کراچی آکر بس جاتے تھے، یہ بندہ پرور میگا سٹی ہونے کا استحقاق رکھتا تھا، اسے یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ وہ وفاق کو 70 فیصد ریونیو دیتا ہے، لیکن عجیب ستم ظریفی ہے کہ ایک دہشتگردانہ واقعہ سے شہر کے اعصاب تو شل ہوجاتے ہیں مگر سٹریٹ کرائم، شہریوں کی زندگی سے کھیلی جانے والی ظلم پرستی کو کوئی حکومت روک نہیں سکتی، سٹریٹ کرمنلز کی روایات کے عین مطابق مرکزی دروازے پر لگے بیریئر کے سامنے سرمئی رنگ کی ٹویوٹا کرولا کار رکتی ہے۔

اس میں سوار 4 دہشت گرد اترتے ہی وہاں مامور پولیس اور گارڈز پر فائرنگ شروع کر دیتے ہیں، ٹاور کا علاقہ ہے، شہر کا دوسرا مصروف ترین کاروباری مرکز اور تجارتی سینٹر۔ تاہم انھیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہیں سے سیکیورٹی فورس کی موجودگی اور جان نثاری کی کہانی شروع ہوتی ہے، چینی قونصل خانے پر حملے میں جو گاڑی استعمال کی گئی، وہ بھی کلیئر تھی اور تب بھی دہشت گردوں نے خرید کر استعمال کی تھی۔ ڈی جی رینجرز میجر جنرل عمر بخاری نے انکشاف کیا ہے۔

ماضی میں چینی قونصل خانے اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے میں مماثلت ہے، جس میں ’’را‘‘ ملوث ہوسکتی ہے۔ انھوں نے ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن کے ساتھ پریس کانفرنس میں بتایا حملہ انٹیلی جنس کی ناکامی نہیں، رینجرز کی انسداد دہشت گردی فورس اور پولیس ریپڈ رسپانس فورس 10 منٹ میں وہاں پہنچی اور نجی گارڈوں کے ساتھ مل کر چاروں دہشت گردوں کو 8 منٹ میں مار گرایا، اگلے 25 منٹ میں پوری عمارت کلیئر قرار دے دی۔ دہشت گرد حصص گرانا چاہتے تھے لیکن ان کے پوائنٹس میں اضافہ ہوا۔ واقعہ کی چینی قونصل خانے پر حملے سے مماثلت اور ’’را‘‘ کی بے چینی کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر نے جوابی آپریشن کرنے والی بہادر ٹیم کو 20 لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

یہ دہشتگردی کے خلاف ایک مربوط کارروائی کی داستان ہے لیکن سیاست کے دیگر زمینی حقائق کی کہانی سب سے اندوہ ناک ہے، ذرا سنئے تو۔ قومی اسمبلی نے آیندہ مالی سال کے بجٹ کی کثرت رائے سے منظوری دیدی، اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کر دی گئیں، سابق حکومتی اتحادی بی این پی مینگل نے بجٹ پر اپوزیشن کو ووٹ دیا۔ بجٹ منظوری کے وقت وزیر اعظم عمران خان ایوان میں موجود تھے، حکومتی ارکان نے خوشی سے نعرے لگائے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان نوٹس لینا چھوڑ دیں اور استعفیٰ دیدیں، اس کے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا وزیر اعظم استعفیٰ نہیں دینگے۔عالمی یوم پارلیمان پر اپنے پیغام میں اسپیکر اسد قیصر نے کہا پارلیمنٹ کی مضبوطی ہی جمہوریت کی حقیقی روح ہے۔

ملک کو درپیش تمام مسائل کا حل پارلیمانی نظام کی مضبوطی میں ہی مضمر ہے۔ قوم وزیر اعظم عمران خان کے قومی اسمبلی میں طویل ترین خطاب اور اپنی مجبوریوں اور سماجی بدحالی اور غربت و بے روزگاری کے اژدہوں کو پھنکارتے ہوئے دیکھ رہی ہے، تجزیہ کار سوال کرتے ہیں کہ حکمران جن دعوؤں اور وعدوں کے ساتھ کنٹینر سے نیچے اترے تھے کیا انھیں اپنے نعرے آج یاد بھی ہیں، جس تبدیلی کے مشن کی تکمیل کا انھوں نے قوم سے کمٹمنٹ کیا تھا کیا اس عہد کو پورا کیا، لوگ کہتے ہیں کہ حکمرانوں نے بدترین عہد شکنی کی ہے۔

وہ آسمانی للکار پر کوئی توجہ نہیں دیتے، خلق خدا رُل گئی لیکن ان کی عیاشیوں میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا، مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے جو داستان سرائی کی، اس کا عوام کی زندگیوں سے کیا تعلق تھا، کیا ان کی قومی اسمبلی میں تقریر تاریخ کے عظیم مدبروں کی تقاریر سے بلند پایہ خطاب تھا۔

کیا نیا پاکستان بن گیا، کیا کرپشن اور احتساب کی شفافیت سے عام آدمی کے دن بدل گئے، عوام کے ہونٹوں پر جمہوریت کوئی نئی مسکان لے آئی، کہیں دور افتادہ گاؤں کی بے نام بوڑھی اماں کے جوان بیٹے کا قاتل کیفر کردار کو پہنچ گیا، کورونا کے خلاف ایک متحدہ قومی اور متفقہ لاک ڈاؤن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا؟ کیا نیچے سے کوئی غریب طبقہ حکومت کی مہربانیوں سے اوپر آیا؟ جوش ملیح آبادی نے کئی سال پہلے افتادگان خاک اور، بے منزل و مجبور لوگوں کے نام کچھ شعر کہے تھے جو ہوا کے گھوڑے پر سوار حکمران سے فریادی تھے، قارئین کرام آج وہ شعر سن لیں:

ادائے فقر میں عالم جہاں پناہوں کا

ترے گداؤں پہ دھوکا ہے بادشاہوں کا

عناں کشیدہ گزر اے خدیوِ کشورِ ناز

قدم قدم پر ہے اک شہر داد خواہوں کا

The post دہشت گردی سے فریادی عوام تک appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2BjycDE

فضائی آلودگی میں کمی سے امراضِ قلب کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے، تحقیق

لندن: طویل مدت تک آلودہ فضا میں رہنے سے امراض قلب کے خطرات میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے تاہم آلودگی میں معمولی کمی سے بھی دل کے مرض سے متعلق خدشات میں کمی واقع ہوتی ہے۔

محققین نے 21 ممالک سے تعلق رکھنے والے 35 سے 70 برس تک عمر کے 1 لاکھ 57 ہزار شرکا کی معلومات کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پی ایم ٹو پوائنٹ فائیو پولوشن میں دس مائیکرو گرام فی مربع میٹر اضافے سے دل کے تکلیف کے واقعات میں 5 فیصد تک اضافہ ہوجاتا ہے۔ PM2.5 سے مراد وہ آلودگی ہے جو دو اعشاریہ پانچ مائیکرون حجم کے ذرات کے باعث پیدا ہوتی ہے۔

دنیا بھر میں PM2.5 کی سطح جاننے کے لیے محققین نے مختلف ممالک کی تفصیلات کا جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ دل کی تکلیف کے ریکارڈ میں آنے والے 14 فیصد واقعات کا براہ راست تعلق فضائی آلودگی سے ہوتا ہے۔

2003 سے 2018 کے مابین ہونے والی اس تحقیق کے نگران اور ماحولیات کے باعث پھیلنے والے امراض کے ماہر پیری ہیسٹاڈ کا کہنا ہے کہ  اس تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ فضائی آلودگی اور دل کے دورے یا فالج وغیرہ کے مابین براہ راست کس نوعیت کا تعلق پایا جاتا ہے۔

PM2.5 ذرات کار انجن اور کوئلے سے چلنے والے پلانٹس وغیرہ سے نکلنے والے دھوئیں سے مل کر تشکیل پاتے ہیں۔ ان ذرات کا حجم اتنا معمولی ہوتا ہے کہ یہ بہ آسانی سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں داخل ہوجاتے ہیں جہاں یہ مستقل سوزش کا باعث بنتے ہیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق خوش خبری یہ ہے کہ اگر ان ذرات سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی میں کمی واقع ہو تو اس سے امراض قلب پر بھی انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

پیری ہیسٹاڈ کے مطابق اس تحقیق سے قبل ہم اس بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے تھے۔ بعض تحقیقات کے مطابق فضائی آلودگی کے مثبت اثرات حاصل کرنے کے لیے ترقی پذیر ممالک میں فضائی آلودگی کی کمی کے لیے غیر معمولی اقدامات درکار ہوں گے کیوں کہ وہاں فضا کو آلودہ کرنے والے ذرات کی کثرت ہوتی ہے۔

The post فضائی آلودگی میں کمی سے امراضِ قلب کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے، تحقیق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2NFI50W

پی ٹی آئی کے کارکنوں کو مایوسی سے نکالنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت

 لاہور:  وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے چند روز قبل اتحادی جماعتوں اور تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اعزاز میں دیئے گئے عشایئے میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہمارے علاوہ کوئی چوائس نہیں ہے‘‘۔ان کے اس بیان نے میر ظفر اللہ جمالی کی یاد دلا دی۔

26 جون2004 کی جس شب جمالی صاحب نے وزارت اعظٰمی کے عہدے سے استعفی دیا تھا اسی روز صبح کے اخبارات کی لیڈ نیوز وزیر اعظم کا یہ بیان تھا کہ’’میں کہیں نہیں جا رہا،وزیر اعظم ظفر جمالی‘‘۔تحریک انصاف حکومت کے پایہ تخت اب پہلے جیسے مضبوط نہیں رہے۔ اتحادی نگاہیں پھیر رہے ہیں لیکن سب سے اہم یہ کہ اپنوں کا شکوہ دل سے نکل کر اب زبان پر آگیا ہے اور وہ کھلے عام اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

ویسے تو کسی بھی سیاسی جماعت نے حکومت میں آنے کے بعد اپنے کارکنوں اور چھوٹے رہنماوں کو زیادہ محبت اور قربت نہیں بخشی لیکن اس وقت جو حالت زار تحریک انصاف کے کارکن اور رہنما کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔عام کارکن کی بات کرنے سے پہلے ٹکٹ ہولڈرز اور تنظیمی عہدیداروں کی حالت کا تذکرہ بھی اشد ضروری ہے۔ جن ٹکٹ ہولڈرز کو الیکشن سے قبل عمران خان اپنی طاقت اور اپنا سرمایہ قرار دیتے تھے اب وہ ’’راندہ درگاہ‘‘ قرار پا چکے ہیں ،ان کے ساتھ اچھوت جیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔

وزراء ان کا کام کرنا تو دور کی بات ان کا فون سننا بھی گوارہ نہیں کرتے ۔چند ایک ٹکٹ ہولڈر جو اپنی انفرادی ساکھ اور افسروں تک رسائی رکھتے ہیں وہ اپنے کام براہ راست کروا لیتے ہیں۔ اس وقت دوطرز کی تحریک انصاف موجود ہے ۔پہلی ان لوگوں پر مشتمل ہے جو نوازے جا چکے ہیں جو منتخب اراکین اسمبلی ہیں یا پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میں کم ازکم ضلعی سطح کے صدر یا جنرل سیکرٹری ہیں اور یا پھر وہ لوگ ہیں جنہیں پارٹی کے اندر موجود دھڑے بندی کی وجہ سے حکومتی محکموں میں چیئرمین، وائس چیئرمین  جیسے عہدوں سے نوازا گیا ہے ۔

دوسری تحریک انصاف ان پر مشتمل ہے جنہوں نے بحیثیت کارکن سالہا سال سے کپتان کے دعووں اور وعدوں پر اندھا یقین کیا، لانگ مارچ ہو یا دھرنا، لاک ڈاون ہو یا جلسہ ہر جگہ اپنی جیب سے خرچ کر کے پارٹی کے ساتھ حق وفاداری نبھانے کی کوشش کی ہے لیکن گزشتہ دو برس سے ان کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔

سب سے پہلے حکومتی تحریک انصاف کی بات کریں تو الیکشن جیتنے کی شام سے ہی ہر منتخب رکن اسمبلی خود کو وزیر سمجھنے لگ گیا تھا۔ حکومت کی تشکیل سازی میں بھی زیادہ تر وزراء ایسے لوگوں کو بنایا گیا جن کا پارٹی کی لئے کسی قسم کا نمایاں کام نہیں تھا اور آج یہی وزراء حکومت کی ناقص کارکردگی کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں۔ تحریک انصاف کے ہر طاقتور رہنما نے اپنے چہیتوں کو نوازا ہے۔ اندر کی خبر رکھنے کی ذمہ دار ایجنسیوں سمیت سرکاری محکموں کے حکام اور میڈیا بخوبی جانتا ہے کہ غیر سرکاری عہدوں پر تعینات سیاسی افراد کی اکثریت(چند لوگ واقعی پارسا ہیں)نے کیا لوٹ مار مچا رکھی ہے۔

بالکل یہی صورتحال بعض وزراء کی بھی ہے جن کے بارے میں آئے روز نت نئی کہانیاں سامنے آتی رہتی ہیں لیکن ارباب اختیار اتنے بے بس ہیں کہ ان کے خلاف ایکشن لینے کی ہمت آج تک تو ہوئی نہیں۔ ٹکٹ ہولڈرز کے ساتھ روز اول سے سوتیلا پن برتا جا رہا ہے نہ تو وزیر ان کی بات سنتے ہیں اور نہ ہی افسر شاہی ان کے کہنے پر کوئی کام کرتی ہے ۔جس ٹکٹ ہولڈر کی ’’اوپر‘‘ تک رسائی ہے یا وہ اپنی سیاسی یا مالی طاقت کے لحاظ سے تحریک انصاف کی بیساکھی کا مرہون منت نہیں ہے وہ تو اپنے کام اپنے زور بازو پر کروا لیتے ہیں۔

ٹکٹ ہولڈرز کو ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز کا وعدہ کیا گیا لیکن کسی’’ذہین‘‘ نے یہ فارمولہ طے کردیا کہ فنڈز صرف اسی ٹکٹ ہولڈر کو ملیں گے جس نے 85 فیصد سے زائد ووٹ لیے ہوں گے ۔اس فارمولہ نے اکثریت کو فنڈز کیلئے’’نا اہل‘‘ بنا ڈالا ہے۔مثال کے طور پر لاہور جو گزشتہ 35 برس سے مسلم لیگ(ن) کا سب سے مضبوط گڑھ رہا ہے اور تمام تر کمزوری کے باوجود آج بھی یہاں ان کا زور ہے وہاں کے ٹکٹ ہولڈرز کیلئے بھی 85 فیصد ووٹ کی شرط کا مطلب یہی ہے کہ’’اسے ہماری جانب سے انکار ہی سمجھا جائے‘‘۔

لاہور سمیت سنٹرل پنجاب بشمول فیصل آباد وغیرہ میں تو یہ شرح 70 فیصد سے بھی کم رکھنا چاہیے تھی۔لاہور میں ابھی تک گنتی کے چھ یا سات افراد کو ترقیاتی فنڈز ملے ہیں۔مرحوم نعیم الحق اپنی زندگی میں جمشید اقبال چیمہ سمیت چند دوسرے من پسند افراد کیلئے فنڈز کی زبانی منظوری تو کروا گئے تھے لیکن ان کی وفات کے بعد ان لوگوں کو ایک پیسہ بھی نہیں ملا۔ تنظیمی عہدیداروںکی بات کی جائے تونچلی سطح پر تقرریوں کے نوٹیفیکیشن اندھے کی ریوڑیوں کی مانند بانٹے جا رہے ہیں اور یہ نوٹیفیکیشن لینے والے بھی کاغذ کا ٹکڑا لیکر خوش ہوجاتے ہیں ۔

ماسوائے چند بڑے تنظیمی عہدوں کے باقی کے سب تنظیمی عہدیدار’’فارغ‘‘ ہیں ۔ عام کارکن کو ایک بڑا دھچکا اس وقت لگا تھا جب جہانگیر ترین کو ’’ٹارگٹ ‘‘ کیا گیا ،کارکن نے گزشتہ دس برس میں جس شخص کو دن رات اپنی صحت اور کاروبار کی پرواہ کیئے بغیر عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کیلئے انتھک محنت کرتے دیکھا، اپنی جیب سے اربوں روپے خرچ کرتے دیکھا ،حکومت بنانے کیلئے اراکین اسمبلی کی تعداد پوری کرنے کیلئے جدوجہد کرتے دیکھا اب یہی کارکن جہانگیر ترین کو کیسے ’’چور‘‘ تسلیم کرلے اسے بھی معلوم ہے کہ یہ سب کچھ ایک بڑی سازش کا نتیجہ ہے۔ یہ تو بھلا ہو گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور سینئر وزیر عبدالعلیم خان کا جنہوں نے اپنی حد تک کارکنوں کی دلجوئی کیلئے ان سے رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے۔

گورنر پنجاب ویسے بھی عوامی آدمی ہیں اور یہی ان کی خوبی بھی ہے اور طاقت بھی انہوں نے کورونا لاک ڈاون کے دوران 13 لاکھ خاندانوں میں 5 ارب روپے سے زائد مالیت کا راشن اور ادویات تقسیم کی ہیں۔ اسی طرح عبدالعلیم خان اور ان کے قریبی ساتھی شعیب صدیقی نے لاہور میں نہ صرف اپنے حلقوں بلکہ دیگر حلقوں کے کارکنوں اور رہنماوں کے ساتھ روابط برقرار رکھے ہیں اور جو کچھ ان کیلئے ہو سکتا ہے وہ کرتے ہیں۔

اعجاز چوہدری نے صدر سنٹرل پنجاب کی حیثیت سے اچھا ’’ٹیک آف‘‘  کیا تھا لیکن ضلعی  وتحصیل تنظیموں کی صورتحال بہت خراب ہے،اول تو کوئی تنظیمی سرگرمی نہیں ہو رہی اور اگر کرنے کا سوچا جاتا ہے تو تمام تنظیم کو جمع کر کے ’’چندہ‘‘ جمع کرنے کی تنظیمی رسم ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نچلی سطح کے کارکن اور رہنما کو مایوسی سے باہر نکالا جائے، عزت اور اہمیت دی جائے کیونکہ اگر مستقل قریب میں ’’تبدیلی‘‘ آ گئی تو پھر نئے دھرنے کیلئے انہی کارکنوں سے قربانی مانگی جائے گی۔

The post پی ٹی آئی کے کارکنوں کو مایوسی سے نکالنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2CXQFWJ

بن کباب خریدنے جانے والا شخص لکھ پتی بن کر واپس آگیا

ورجینیا: گھر سے بن کباب (ہاٹ ڈاگ) خریدنے کے لیے جانے والا شخص ایک لاکھ ڈالر لے کر گھر واپس آیا۔

امریکی ریاست ورجینیا سے تعلق رکھنے والا گیرارڈ فوری نے ورجینیا کے لاٹری حکام کو بتایا کہ وہ گھر سے ہاٹ ڈاگ خریدنے کے لیے نکلا تھا۔ کھانے پینے کی اشیا کے بڑے اسٹور پر ہاٹ ڈاگ خریدنے بعد اس نے جون میں ہونے وال کیش ڈرا کا ٹکٹ خریدنے کا خیال آیا۔

جیرارڈ فوری نے صرف ایک  دن پہلے جس لاٹری کا ٹکٹ خریدا تھا اس کے نتائج میں اپنا نمبر چیک کیا تو اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی کیوں کہ اس کا ایک لاکھ کا انعام نکل آیا تھا۔ فوری کا کہنا ہے کہ وہ بہ آسانی پُرجوش ہونے والا انسان نہیں لیکن اس غیر متوقع خوش خبری کے بعد وہ پھولے نہیں سما رہا تھا اور اس کا جوش و خروش آسمان سے باتیں کررہا تھا۔ فوری نے تاحال انعامی رقم کو خرچ کرنے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

The post بن کباب خریدنے جانے والا شخص لکھ پتی بن کر واپس آگیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2YLkous

ہاتھ کے اشاروں کی ترجمانی کرنے والا دَستانہ ایجاد کرلیا گیا

کیلیفورنیا: ہاتھ کے اشاروں کی ترجمانی کرنے والا دستانہ ایجاد کرلیا گیا ہے جو آسانی کے ساتھ سماعت سے محروم افراد کی بات سمجھنے میں مدد فراہم کرے گا۔

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق دستانے کی چاروں انگلیوں اور انگوٹھوں کے خانوں میں سینسرز لگائے گئے ہیں جن کی مدد سے امریکن سائن لینگوئج میں اشاروں سے ادا کیے گئے لفظ، فقرے یا حروف کی ترجمانی ممکن ہوگی۔ اشارے سے کسی لفظ یا فقرے کی ادائیگی کے بعد سینسرز کے ذریعے پیغام اسمارٹ فون تک فی سیکنڈ ایک لفظ کی رفتار سے منتقل ہوگا۔ منتقلی کے بعد فون سے آواز کے طورپر متعلقہ لفظ یا جملے کی ادائیگی ہوجائے گی۔

یہ دستانہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس (یوسی ایل اے) کے سائنس دانوں نے بنایا ہے۔ اس کا مقصد سماعت سے محروم افراد کو اظہار و ابلاغ میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس منصوبے کے نگران محقق جن چین کا کہنا ہے کہ امید ہے اس کے ذریعے اشاروں کی زبان استعمال کرنے والوں کو اپنی بات اس زبان سے ناواقف افراد تک پہنچانے میں آسانی میسر آئے گی۔ علاوہ ازیں اس دستانے کی مدد سے بہ آسانی اشاروں کی زبان سیکھنے میں مدد ملے گی۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس آلے کی آزمائش کےلیے اس میں ایسے انتہائی حساس سینسر بھی استعمال کیے گئے ہیں جو بھنوؤں اور منہ کے دہانے کی جنبش سے ظاہر ہونے والے تاثرات کی مدد سے بھی امریکی سائن لینگوئج کے اشاروں سے لفظ اخذ کریں گے۔

امریکا میں تقریباً دس لاکھ لوگ امریکن سائن لینگوئج استعمال کرتے ہیں جب کہ انگریزی بولنے والے ممالک میں اشاروں کی زبان کےلیے برطانوی طریقہ زیادہ رائج ہے۔ قوت سماعت سے محروم دنیا کے 7 کروڑ افراد اشاروں کی 300 سے زائد زبانیں استعمال کرتے ہیں تاہم یہ دستانہ صرف امریکن سائن لینگوئج ہی کی ترجمانی کرتا ہے۔ ماہرین کو امید ہے کہ مستقبل میں اسے دیگر زبانوں کےلیے بھی قابل استعمال بنا لیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے طالب علم آج سے 15 سال پہلے اسی طرح کا ایک دستانہ ’’بولتے ہاتھ‘‘ کے نام سے بنا چکے ہیں جسے کسی حد تک پذیرائی تو حاصل ہوئی لیکن یہ منصوبہ فائنل ایئر پروجیکٹ سے آگے نہیں بڑھ سکا۔

The post ہاتھ کے اشاروں کی ترجمانی کرنے والا دَستانہ ایجاد کرلیا گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Vva0F2

سندھ حکومت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پر عزم

کراچی:  پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نئے ہفتے کا آغاز ایک افسوسناک واقعہ ساتھ ہوا،جب دہشت گردوں نے پاکستان اسٹاک ایکس چینج پر حملہ کرکے ملک کو معاشی طور پر کاری ضرب لگانے کی کوشش کی لیکن سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے ملک دشمنوں کے اس حملے کو ناکام بنادیا۔اس واقعہ میں 4(تمام)دہشت گرد مارے گئے جبکہ ایک پولیس افسر اور 3سیکورٹی گارڈز شہید ہوئے۔اس واقعہ میں 7افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعہ کے حوالے سے کراچی پولیس چیف کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل عمر بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے میں بھارتی خفیہ ایجنسی را ملوث ہے اور یہ حملہ چینی قونصل خانے پر حملے سے مماثلت رکھتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی میں ڈیڑھ سال سے کوئی دہشت گردانہ کارروائی نہیں ہوئی، دہشت گرد کراچی کی رونقیں خراب کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آئی آئی چندریگر روڈ پاکستان اسٹاک ایکسچینج بلڈنگ پر صبح 10 بجکر 2 منٹ پر 4 دہشت گرد گاڑی میں سوار ہو کر آئے اور 10 بجکر 10 منٹ پر اس کارروائی کا اختتام ہوگیا، یعنی قانون نافذ کرنے والوں نے صرف 8 منٹ میں دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا۔

ڈی جی رینجرز کا واضح طور پر کہنا تھا کہ ہمیں ادراک ہے کہ ملک دشمن ایجنسیاں کوششیں کر رہی ہیں کہ بچے کچے دہشت گردوں کے پاکستان کے خلاف استعمال کریں مگر ہم واقف ہیں کہ کون کیا کر رہا ہے، ان کے خلاف کام شروع کرچکے ہیں اور انہیں نیست و نابود کریں گے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ رینجرز پولیس، دیگر اداروں پر اعتماد رکھیں۔کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن نے کہا کہ بہتر رسپانس کی وجہ سے دہشت گرد اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکے، دہشت گردوں نے دلبرداشتہ ہوکر کارروائی کی، دہشت گرد نیٹ ورک کے کچھ لوگوں کو پہلے پکڑا جاچکا تھا۔ ایسے کئی حملوں کو وقت سے پہلے ہی انٹیلی جنس انفارمیشن کی بنیاد پر ناکام بنایا گیا۔

ادھر گورنر سندھ عمران اسماعیل اور  وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہم نے دہشت گردوں کو بری طرح پسپا کیا ہے۔دہشت گردوں کو بھی سمجھ آگئی ہوگی کہ پاکستانی پولیس، رینجرز سو نہیں رہی۔ امن و امان سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھاکہ اسٹاک ایکس چینج پر حملہ دہشتگردی ہے، اس کو  برداشت نہیں کرسکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب چند دن پہلے گھوٹکی، لاڑکانہ اور کراچی میں ایک ہی وقت میں حملے ہوئے تو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت تھی۔انہوں نے انٹیلی جنس کے کام کو مزید تیز کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔اسپیکر سندھ اسمبلی نے دوران اجلاس اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے دہشت گردوں کی جانب سے سندھ اسمبلی پر حملے کی اطلاعات تھیں جبکہ دہشت گردوں سے سندھ اسمبلی کی تصاویر بھی برآمد ہوچکی ہیں۔ اس حوالے سے سندھ اسمبلی کی سکیورٹی ہم نے بڑھا دی ہے۔

اس ضمن میں مبصر ین کاکہنا ہے کہ دہشت گردوں نے ملک کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کے لیے پاکستان اسٹاک ایکس چینج کو اپنا ہدف بنایا لیکن سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرکے ان کے مذموم مقاصد کو ناکام بنا دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈی جی رینجرز سندھ نے واشگاف الفاظ میں حملے میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کی بات کی ہے۔

اس امر میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے کہ بھارت پاکستان کو استحکام کی طرف جاتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔اس وقت وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے انتہائی تندہی کے ساتھ اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف عمل ہیں امید ہے کہ سیکورٹی ادارے دہشت گرد تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی میں مزید تیزی لائیں گے۔اس کے لیے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

سندھ اسمبلی نے نئے مالی سال 21-2020کے لیے 12کھرب 41ارب روپے سے زائد مالیت کے صوبائی بجٹ کی کثرت رائے سے منظور ی دیدی جبکہ ایوان نے مالی سال 2019-20کے لیے 30ارب 16کروڑ روپے کا ضمنی بجٹ کی بھی منظور کرلیا۔بجٹ کی منظوری کے وقت اپوزیشن جماعتوں کی کٹوتی کی تحاریک بھی مستردکردی گئیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے بجٹ کی منظوری میں تعاون پر پی ٹی آئی کا شکریہ ادا کیا ہے۔اس موقع پر وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھاکہ یہاں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ حکومت سندھ نے صوبائی بجٹ میں کراچی کے لئے کچھ نہیں رکھا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ غیر ملکی امداد سے چلنے والے کراچی کے منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کئے جائیں گے۔

ادھر ایم کیو ایم پاکستان نے صوبائی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے سندھ حکومت کے خلاف احتجاج کے دائرہ کار کو کراچی بھر میں پھیلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر کنور نوید جمیل کا کہنا تھا کہ سندھ کا بجٹ صوبے میں بسنے والی مختلف اکائیوں کے درمیان تفریق کا سبب بنے گا۔

ترجمان سندھ حکومت اور مشیر قانون و ماحولیات بیرسٹر مرتضی وہاب کا ایم کیو ایم پاکستان کی پریس کانفرنس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کی پریس کانفرنس صرف میڈیا پبلسٹی کا بہانہ ہے۔ سندھ اسمبلی میں پالیسی بیان میں وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ  وفاق نے ہمیں آئین کے تحت ٹیکس جمع کرنے کا اختیار دیا ہے لیکن ہم اب وفاق کے لیے ٹیکس جمع نہیں کرینگے۔

کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے روکنے کے لیے لگائے گئے اسمارٹ لاک ڈاؤن کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آسکے ہیں۔صوبے میں کورونا سے متاثرہ مریضوں میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے،جس پر صوبائی حکومت کو بھی تشویش ہے۔طبی ماہرین نے ایک مرتبہ پھر ملک بھر میں دو ہفتے کے سخت لاک ڈاؤن کا مطالبہ کیا ہے۔

The post سندھ حکومت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پر عزم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3dVkPqx

بجٹ منظور، مگر حکومت کی مشکلات کم نہ ہوئیں

 اسلام آباد:  وفاقی بجٹ کی پارلیمنٹ سے منظوری کے لئے اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو ٹف ٹائم دینے اور مزاحمت کے تمام تر دعوے ریت کے گھروندے ثابت ہوئے اور ہر سال کی طرح اس سال بھی بجٹ پر بحث محض روایت پوری کرنے تک محدود رہی۔

منظوری سے قبل فنانس بل کا قائمہ کمیٹیوں برائے خزانہ کے اجلاسوںمیں بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے عرق ریزی کے ساتھ سفارشات تیار کرکے پارلیمنٹ کو بھجوائیں۔

اپوزیشن کی حالت یہ ہے کہ  فنانس بل میں کوئی ایک ترمیم بھی منظور نہیں کروا پائی۔ کپتان کی ٹیم کے اہم کھلاڑی اسد عمر نے  بجٹ منظوری کے بعد اپنے ٹویٹ میں اپوزیشن کو آئینہ دکھاتے ہوئے بتایا کہ اس سال بجٹ منظوری کیلئے پچھلے سال کی نسبت زیادہ ووٹ ملے ہیں۔

ان کا دعوی اپنی جگہ درست ہوگا لیکن اتحادی جماعتوں کے درمیان دراڑ مزید واضع ہوگئی ہے اور اہم اتحادی جماعت کے سربراہ سردار اختر مینگل نے حکومت کے بجائے اپوزیشن کو ووٹ دیا ہے۔  بجٹ منظور ہوچکا اور ان سطور کی اشاعت تک فنانس بل پر صدر مملکت کے دستخط کے بعد ایکٹ کی صورت میں یکم جولائی سے اگلے مالی سال کے بجٹ کا نفاذ بھی عمل میں آجائیگا اوراسکے اثرات بھی نمودار ہونا شروع ہوجائیں گے۔

ملک کے تمام نامور معاشی ماہرین،بڑے کاروباری ادارے، شخصیات اور عوامی حلقے بجٹ سے خوش نہیں۔ سرکاری ملازمین تنخواہیں نہ بڑھنے پر سراپا احتجاج ہیں۔ اب تو اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگ بھی کھلے عام کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ آگے بھی اندھیرا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت کے پہلے سال کی جو آڈٹ رپورٹس سامنے آرہی ہیں اس نے تو حکومتی دعووں کی مزید قلعی کھول کررکھ دی ہے۔ اب تک اطلاعات یہ ہیں کہ اس آڈٹ رپورٹس میں تحریک انصاف حکومت کے پہلے سال کے دوران دو سو ستر ارب روپے کے لگ بھگ کی مالی  بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ ابھی یہ رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش ہونا ہے اور تقدیر کی ستم ظریفی دیکھیں کہ آج اس آڈٹ رپورٹ پر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت وہی جواز اوردلائل پیش کررہی ہے جو ماضی میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں پیش کیا کرتی تھیں مگر اس وقت تحریک انصاف اپوزیشن بنچوں میں بیٹھ کر ان دلائل کو مسترد کیا کرتی تھی۔

جمعرات کو قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کی تقریر کا انداز اور باڈی لینگوئج اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ اب وہ پہلے والا ماحول نہیں رہا۔ پچھلے  دو سال تک کپتان کا بیانیہ رہا کہ کرپش کرنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا لیکن جب سے چینی سکینڈل اور اس طرح کے دوسرے سکینڈل منظرعام پر آئے ہیں اب یہ بیانیہ سامنے آیا ہے کہ کرپٹ مافیا کا دفاع کرنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا۔ بعض سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ اس وقت موجودہ حکومت کی ناکامی کا خوف زیادہ حاوی ہو چکا ہے جبکہ کوئی متبادل بھی دکھائی نہیں دیتا۔

میاں شہبازشریف جو کورونا وبا  میں قومی خدمت کا جذبہ لے کر پاکستان آئے تھے اب دوبارہ لندن اُڑان بھرنے کیلئے پر تولتے  دکھائی دے رہے ہیں اور خود حکومتی حلقوں سے لوگ ان کے کیلئے راہ ہموار کر رہے ہیں تو دوسری جانب خود حکومتی ٹیم کے اندر بھی پھر سے تبدیلی کی باتیں ہو رہی ہیں۔ حکومت اور اسکی اتحادی جماعتوں کے درمیان  کھچاو بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

پنجاب میں حکومت کی اہم اتحادی جماعت ق لیگ سے بھی دوریاں بڑھنے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے دیئے جانیوالے حالیہ اعشایئے میں شرکت نہ کرکے ق لیگ نے واضع پیغام دیا ہے اور پھر ق لیگ نے وزیراعظم کے مقابلہ میں اپنا عشائیہ دے کر مزید مشکل کھڑی کردی ہے۔ سیاسی عدم استحکام اپنی جگہ  مگر معاشی بگاڑ جس تیزی سے بڑھ رہا ہے  وہ بڑے خطرے کی علامت ہے اور اگر اسے کنٹرول نہ کیا گیا تو  حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔ ابھی حال ہی میں جو پارلیمانی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے اس نے سیاست پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔

وزیراعظم نے آنے والے چھ ماہ کو تخت یا تختے والی صورت قرار دیا ہے۔ یقیناً انہیں فرینڈلی اپوزیشن سے تو کوئی خطرہ نہیں پھر یہ صورت کیونکر سامنے آئی ہے اسے سمجھنا کوئی مشکل نہیں۔ دوسری جانب سیاسی جوڑ توڑ پھر سے جاری ہے۔  لندن میں جہانگیر ترین کی نوازشریف سے ملاقات کی کوششوں کی اطلاعات ہیں اور بعض حلقوں کا خیال ہے کہ سیاسی بساط  پلٹنے میں اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ ہی میاں نوازشریف اور مریم نواز ہیں جو اپنے بیانیہ سے پیچھے  ہٹنے پر آمادہ نہیں۔ سیاسی حلقوں کا خیال  ہے کہ ابھی نوازشریف سے کوئی ملاقات نہیں ہوسکی ہے۔

بعض سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال اس بات کی غماز ہے کہ اسمبلیوں کے تحلیل ہونے کے خدشات اپنی جگہ موجود ہیں اور ایسے میں 2020 وسط مدتی انتخابات کا سال ہو سکتا ہے  جبکہ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اگلے چند ماہ میں میاں نوازشریف کی ملکی سیاست میں انٹری ہونیوالی ہے اور نواز شریف بھی مکمل صحت مند ہو کر واپس آنے والے ہیں ان کی آمد کا خوف بھی حکومت کو پریشان کر رہا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوامی سطح پر اضطراب،ہیجان اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔یوں لگ رہا ہے کہ حالات مکمل طور پر وزیراعظم کی گرفت سے نکل چکے ہیں اسی لیے قومی اسمبلی میں کی جانے والی ان کی حالیہ تقریر کا لب و لہجہ اور اسلوب معذرت خواہانہ تھا۔ معاشی ابتری کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی میں چار نشستیں رکھنے والی بلوچستان کی اہم اتحادی جماعت  بی این پی نے حکومت کے ساتھ اتحاد ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ شازین بگٹی اور دوسرے اتحادی اور ہم خیال بھی ساتھ چھوڑتے جا رہے ہیں اور لگ یہی رہا ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سیاسی تبدیلی کا آغاز بلوچستان سے ہوا چاہتا ہے اور دوسری طرف  قومی اسمبلی میں حکمران پارٹی کے اپنے ایم این ایز وزیر اعظم کو مستعفی ہونے کے مشورے دے رہے ہیں اسکے ساتھ ساتھ اتحادی ق لیگ اور ایم کیو ایم کی ناراضی ڈھکی چھپی بات نہیں اورفواد چودھری کا انٹرویو بتا رہا ہے کہ اندرون خانہ حکومت کے حالات نہایت ہی پتلے ہیں۔جہانگیر خان گروپ کی طرف سے بغاوت کی تلوار الگ سر پر لٹک رہی ہے۔

The post بجٹ منظور، مگر حکومت کی مشکلات کم نہ ہوئیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Zoz5Tf

وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کیلئے جوڑ توڑ

کوئٹہ:  بلوچستان نیشنل پارٹی کی وفاق میں پی ٹی آئی کی مخلوط حکومت سے علیحدگی کے بعد اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں میں تیزی آگئی ہے جبکہ اس سیاسی صورتحال کے بلوچستان کی سیاست پر بھی اثرات مرتب ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

بی این پی جو بلوچستان میں جے یو آئی (ف) کی اتحادی جماعت ہے اور جام حکومت کے خلاف  اپوزیشن کا کردار ادا کررہی ہے  مرکز میں بی این پی کی علیحدگی کے بعد اب دونوں جماعتوں میں وفاقی سطح پر بھی قربتیں بڑھ رہی ہیں۔

جے یوآئی (ف) کی قیادت نے مرکزی اور بلوچستان کی سیاست کو اس حوالے سے فوکس کر رکھا ہے اور پی ٹی آئی کی حکومت سے ناراض بلوچستان سے تعلق رکھنے والے دیگر اتحادیوں جن میں جے ڈبلیو پی کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ شازین بگٹی اور آزاد رکن قومی اسمبلی اسلم بھوتانی شامل ہیں سے رابطے کئے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی قیادت نے بھی ان ناراض اتحادی اراکین قومی اسمبلی سے رابطے کئے۔

یہاں تک کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے شاہ زین بگٹی اور اسلم بھوتانی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جس کے بعد ان دونوں اراکین قومی اسمبلی نے بجٹ میں حکومت کی حمایت کی تاہم بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل اور نوابزادہ شاہ زین بگٹی کے حوالے سے یہ کہا جارہا ہے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں خصوصاً سردار اختر مینگل اور شاہ زین بگٹی سے بھی  پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری سمیت دیگر رہنماؤں نے رابطے کئے ہیں ان سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں مستقبل قریب میں کوئی بڑا اتحاد بنانے کیلئے سر توڑ کوششیں کررہی ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بلوچستان میں مرکز کی طرح جے ڈبلیو پی کی ایک نشست ہے اور نوابزادہ شازین بگٹی کے چھوٹے بھائی نوابزادہ گہرام بگٹی جام حکومت کی حمایت کر رہے ہیں اسی طرح آزاد رکن قومی اسمبلی اسلم بھوتانی کے بڑے بھائی سردار صالح بھوتانی جام کابینہ کا حصہ ہیں اور ان کا تعلق حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اپوزیشن جماعت جمعیت علماء اسلام (ف) کی کوشش ہے کہ وہ مرکز میں پی ٹی آئی حکومت سے نالاں ان دونوں اتحادی اراکین قومی اسمبلی کو بلوچستان کیلئے بھی تیار کرے تاکہ وہ اپنا ذاتی اثر و رسوخ اپنے بھائیوں پر استعمال کریں اور انہیں جام حکومت کے خلاف کردار ادا کرنے کیلئے تیار کیا جائے کیونکہ بلوچستان میں اس وقت متحدہ اپوزیشن کی تعداد24 ہے (جمعیت کے ایک اپوزیشن رکن سید فضل آغا کے انتقال کے بعد یہ تعداد گھٹ کر 23 ہوگئی ہے) اور65 کے ایوان میں متحدہ اپوزیشن کو33 ارکان کی ضرورت ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق بلوچستان میں متحدہ اپوزیشن جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاریاں کررہی ہے تاہم مطلوبہ تعداد حاصل کرنے کیلئے اُسے دس ارکان کی ضررت ہے جس کیلئے وہ جام حکومت کی اتحادی جماعتوں سے رابطے کر رہی ہے اپوزیشن جماعتوں کی کوشش ہے کہ وہ مرکز میں اپوزیشن جماعتوں کی سپورٹ کرنے والی جماعت اے این پی کو راضی کرلے کہ وہ بلوچستان میں اپوزیشن جماعتوں کا ساتھ دے جس کے بلوچستان اسمبلی میں 4 ارکان ہیں اسی طرح اپوزیشن جماعتیں بی این پی (عوامی) اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی سے بھی رابطے کررہی ہیں جن کی بلوچستان اسمبلی میں تعداد بالترتیب3 اور2 ہے اس کے علاوہ حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض ارکان سے بھی انڈر گراؤنڈ رابطوں کے دعوے کئے جارہے ہیں، اس میں کس حد تک صداقت ہے یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کیونکہ اس حوالے سے کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

بلوچستان میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم رئیسانی کی رہائش گاہ ’’ساراوان ہاؤس‘‘ اپوزیشن جماعتوں کے رابطوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی جو کہ بلوچستان اسمبلی میں آزاد حیثیت سے اپوزیشن بنچ پر بیٹھے ہیں اُن کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں یہ بات زیر بحث ہے کہ اگر اپوزیشن جماعتوں نے انہیں قیادت کی ذمہ داری سونپ دی تو وہ بی این پی یا جمعیت علماء اسلام میں سے کسی ایک جماعت کو جوائن کرسکتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حال ہی میں بجٹ اجلاس کے دوران انہیں اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن لیڈر کے ساتھ والی نشست جو کہ جے یو آئی(ف)کے سید فضل آغا کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی الاٹ کی گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بلوچستان میں جام حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے بی این پی کے مرکزی رہنما نوابزادہ لشکری رئیسانی نے بھی اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطوں کی تصدیق کی ہے دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں عددی اعتبار سے اپنا ہدف پورا کرتی ہیں یا نہیں۔

دوسری جانب جام حکومت نے اپوزیشن کی تنقید اور مخالفت کے باوجود صوبائی بجٹ2020-21 کو منظور کرا لیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے ارکان اسمبلی کے درمیان زبردست نوک جھونک ہوتی رہی بجٹ کے حوالے سے اپوزیشن ارکان کا کہنا تھا کہ یہ بجٹ غیر متوازن ہے اپوزیشن کے حلقوں اور اہم شعبوں کو نظر انداز کیا گیا اور  یہ بجٹ مفاد پرستوں کیلئے بنایا گیا ہے اسی لئے وہ اسے مسترد کرتے ہیں، جبکہ حکومتی ارکان نے بجٹ کو متوازن اور تاریخ ساز قرار دیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ بجٹ میں انفرادی اسکیموں کے بجائے اجتماعی منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے اور اپوزیشن کے ارکان کے حلقوں کو بھی یکساں اہمیت دی گئی ہے حالانکہ اپوزیشن ارکان اپنی ذاتی اسکیموں کو شامل کرانے کیلئے سڑکوں پر بیٹھے رہے۔ وزیراعلیٰ نے ان کی انفرادی اسکیموں کو مسترد کیا اور اجتماعی اسکیموں کو فوقیت دی۔

The post وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کیلئے جوڑ توڑ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Zr1IiM

پی ٹی آئی کے کارکنوں کو مایوسی سے نکالنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت

 لاہور:  وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے چند روز قبل اتحادی جماعتوں اور تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اعزاز میں دیئے گئے عشایئے میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہمارے علاوہ کوئی چوائس نہیں ہے‘‘۔ان کے اس بیان نے میر ظفر اللہ جمالی کی یاد دلا دی۔

26 جون2004 کی جس شب جمالی صاحب نے وزارت اعظٰمی کے عہدے سے استعفی دیا تھا اسی روز صبح کے اخبارات کی لیڈ نیوز وزیر اعظم کا یہ بیان تھا کہ’’میں کہیں نہیں جا رہا،وزیر اعظم ظفر جمالی‘‘۔تحریک انصاف حکومت کے پایہ تخت اب پہلے جیسے مضبوط نہیں رہے۔ اتحادی نگاہیں پھیر رہے ہیں لیکن سب سے اہم یہ کہ اپنوں کا شکوہ دل سے نکل کر اب زبان پر آگیا ہے اور وہ کھلے عام اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

ویسے تو کسی بھی سیاسی جماعت نے حکومت میں آنے کے بعد اپنے کارکنوں اور چھوٹے رہنماوں کو زیادہ محبت اور قربت نہیں بخشی لیکن اس وقت جو حالت زار تحریک انصاف کے کارکن اور رہنما کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔عام کارکن کی بات کرنے سے پہلے ٹکٹ ہولڈرز اور تنظیمی عہدیداروں کی حالت کا تذکرہ بھی اشد ضروری ہے۔ جن ٹکٹ ہولڈرز کو الیکشن سے قبل عمران خان اپنی طاقت اور اپنا سرمایہ قرار دیتے تھے اب وہ ’’راندہ درگاہ‘‘ قرار پا چکے ہیں ،ان کے ساتھ اچھوت جیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔

وزراء ان کا کام کرنا تو دور کی بات ان کا فون سننا بھی گوارہ نہیں کرتے ۔چند ایک ٹکٹ ہولڈر جو اپنی انفرادی ساکھ اور افسروں تک رسائی رکھتے ہیں وہ اپنے کام براہ راست کروا لیتے ہیں۔ اس وقت دوطرز کی تحریک انصاف موجود ہے ۔پہلی ان لوگوں پر مشتمل ہے جو نوازے جا چکے ہیں جو منتخب اراکین اسمبلی ہیں یا پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میں کم ازکم ضلعی سطح کے صدر یا جنرل سیکرٹری ہیں اور یا پھر وہ لوگ ہیں جنہیں پارٹی کے اندر موجود دھڑے بندی کی وجہ سے حکومتی محکموں میں چیئرمین، وائس چیئرمین  جیسے عہدوں سے نوازا گیا ہے ۔

دوسری تحریک انصاف ان پر مشتمل ہے جنہوں نے بحیثیت کارکن سالہا سال سے کپتان کے دعووں اور وعدوں پر اندھا یقین کیا، لانگ مارچ ہو یا دھرنا، لاک ڈاون ہو یا جلسہ ہر جگہ اپنی جیب سے خرچ کر کے پارٹی کے ساتھ حق وفاداری نبھانے کی کوشش کی ہے لیکن گزشتہ دو برس سے ان کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔

سب سے پہلے حکومتی تحریک انصاف کی بات کریں تو الیکشن جیتنے کی شام سے ہی ہر منتخب رکن اسمبلی خود کو وزیر سمجھنے لگ گیا تھا۔ حکومت کی تشکیل سازی میں بھی زیادہ تر وزراء ایسے لوگوں کو بنایا گیا جن کا پارٹی کی لئے کسی قسم کا نمایاں کام نہیں تھا اور آج یہی وزراء حکومت کی ناقص کارکردگی کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں۔ تحریک انصاف کے ہر طاقتور رہنما نے اپنے چہیتوں کو نوازا ہے۔ اندر کی خبر رکھنے کی ذمہ دار ایجنسیوں سمیت سرکاری محکموں کے حکام اور میڈیا بخوبی جانتا ہے کہ غیر سرکاری عہدوں پر تعینات سیاسی افراد کی اکثریت(چند لوگ واقعی پارسا ہیں)نے کیا لوٹ مار مچا رکھی ہے۔

بالکل یہی صورتحال بعض وزراء کی بھی ہے جن کے بارے میں آئے روز نت نئی کہانیاں سامنے آتی رہتی ہیں لیکن ارباب اختیار اتنے بے بس ہیں کہ ان کے خلاف ایکشن لینے کی ہمت آج تک تو ہوئی نہیں۔ ٹکٹ ہولڈرز کے ساتھ روز اول سے سوتیلا پن برتا جا رہا ہے نہ تو وزیر ان کی بات سنتے ہیں اور نہ ہی افسر شاہی ان کے کہنے پر کوئی کام کرتی ہے ۔جس ٹکٹ ہولڈر کی ’’اوپر‘‘ تک رسائی ہے یا وہ اپنی سیاسی یا مالی طاقت کے لحاظ سے تحریک انصاف کی بیساکھی کا مرہون منت نہیں ہے وہ تو اپنے کام اپنے زور بازو پر کروا لیتے ہیں۔

ٹکٹ ہولڈرز کو ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز کا وعدہ کیا گیا لیکن کسی’’ذہین‘‘ نے یہ فارمولہ طے کردیا کہ فنڈز صرف اسی ٹکٹ ہولڈر کو ملیں گے جس نے 85 فیصد سے زائد ووٹ لیے ہوں گے ۔اس فارمولہ نے اکثریت کو فنڈز کیلئے’’نا اہل‘‘ بنا ڈالا ہے۔مثال کے طور پر لاہور جو گزشتہ 35 برس سے مسلم لیگ(ن) کا سب سے مضبوط گڑھ رہا ہے اور تمام تر کمزوری کے باوجود آج بھی یہاں ان کا زور ہے وہاں کے ٹکٹ ہولڈرز کیلئے بھی 85 فیصد ووٹ کی شرط کا مطلب یہی ہے کہ’’اسے ہماری جانب سے انکار ہی سمجھا جائے‘‘۔

لاہور سمیت سنٹرل پنجاب بشمول فیصل آباد وغیرہ میں تو یہ شرح 70 فیصد سے بھی کم رکھنا چاہیے تھی۔لاہور میں ابھی تک گنتی کے چھ یا سات افراد کو ترقیاتی فنڈز ملے ہیں۔مرحوم نعیم الحق اپنی زندگی میں جمشید اقبال چیمہ سمیت چند دوسرے من پسند افراد کیلئے فنڈز کی زبانی منظوری تو کروا گئے تھے لیکن ان کی وفات کے بعد ان لوگوں کو ایک پیسہ بھی نہیں ملا۔ تنظیمی عہدیداروںکی بات کی جائے تونچلی سطح پر تقرریوں کے نوٹیفیکیشن اندھے کی ریوڑیوں کی مانند بانٹے جا رہے ہیں اور یہ نوٹیفیکیشن لینے والے بھی کاغذ کا ٹکڑا لیکر خوش ہوجاتے ہیں ۔

ماسوائے چند بڑے تنظیمی عہدوں کے باقی کے سب تنظیمی عہدیدار’’فارغ‘‘ ہیں ۔ عام کارکن کو ایک بڑا دھچکا اس وقت لگا تھا جب جہانگیر ترین کو ’’ٹارگٹ ‘‘ کیا گیا ،کارکن نے گزشتہ دس برس میں جس شخص کو دن رات اپنی صحت اور کاروبار کی پرواہ کیئے بغیر عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کیلئے انتھک محنت کرتے دیکھا، اپنی جیب سے اربوں روپے خرچ کرتے دیکھا ،حکومت بنانے کیلئے اراکین اسمبلی کی تعداد پوری کرنے کیلئے جدوجہد کرتے دیکھا اب یہی کارکن جہانگیر ترین کو کیسے ’’چور‘‘ تسلیم کرلے اسے بھی معلوم ہے کہ یہ سب کچھ ایک بڑی سازش کا نتیجہ ہے۔ یہ تو بھلا ہو گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور سینئر وزیر عبدالعلیم خان کا جنہوں نے اپنی حد تک کارکنوں کی دلجوئی کیلئے ان سے رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے۔

گورنر پنجاب ویسے بھی عوامی آدمی ہیں اور یہی ان کی خوبی بھی ہے اور طاقت بھی انہوں نے کورونا لاک ڈاون کے دوران 13 لاکھ خاندانوں میں 5 ارب روپے سے زائد مالیت کا راشن اور ادویات تقسیم کی ہیں۔ اسی طرح عبدالعلیم خان اور ان کے قریبی ساتھی شعیب صدیقی نے لاہور میں نہ صرف اپنے حلقوں بلکہ دیگر حلقوں کے کارکنوں اور رہنماوں کے ساتھ روابط برقرار رکھے ہیں اور جو کچھ ان کیلئے ہو سکتا ہے وہ کرتے ہیں۔

اعجاز چوہدری نے صدر سنٹرل پنجاب کی حیثیت سے اچھا ’’ٹیک آف‘‘  کیا تھا لیکن ضلعی  وتحصیل تنظیموں کی صورتحال بہت خراب ہے،اول تو کوئی تنظیمی سرگرمی نہیں ہو رہی اور اگر کرنے کا سوچا جاتا ہے تو تمام تنظیم کو جمع کر کے ’’چندہ‘‘ جمع کرنے کی تنظیمی رسم ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نچلی سطح کے کارکن اور رہنما کو مایوسی سے باہر نکالا جائے، عزت اور اہمیت دی جائے کیونکہ اگر مستقل قریب میں ’’تبدیلی‘‘ آ گئی تو پھر نئے دھرنے کیلئے انہی کارکنوں سے قربانی مانگی جائے گی۔

The post پی ٹی آئی کے کارکنوں کو مایوسی سے نکالنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2CXQFWJ

سندھ حکومت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پر عزم

کراچی:  پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نئے ہفتے کا آغاز ایک افسوسناک واقعہ ساتھ ہوا،جب دہشت گردوں نے پاکستان اسٹاک ایکس چینج پر حملہ کرکے ملک کو معاشی طور پر کاری ضرب لگانے کی کوشش کی لیکن سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے ملک دشمنوں کے اس حملے کو ناکام بنادیا۔اس واقعہ میں 4(تمام)دہشت گرد مارے گئے جبکہ ایک پولیس افسر اور 3سیکورٹی گارڈز شہید ہوئے۔اس واقعہ میں 7افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعہ کے حوالے سے کراچی پولیس چیف کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل عمر بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے میں بھارتی خفیہ ایجنسی را ملوث ہے اور یہ حملہ چینی قونصل خانے پر حملے سے مماثلت رکھتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی میں ڈیڑھ سال سے کوئی دہشت گردانہ کارروائی نہیں ہوئی، دہشت گرد کراچی کی رونقیں خراب کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آئی آئی چندریگر روڈ پاکستان اسٹاک ایکسچینج بلڈنگ پر صبح 10 بجکر 2 منٹ پر 4 دہشت گرد گاڑی میں سوار ہو کر آئے اور 10 بجکر 10 منٹ پر اس کارروائی کا اختتام ہوگیا، یعنی قانون نافذ کرنے والوں نے صرف 8 منٹ میں دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا۔

ڈی جی رینجرز کا واضح طور پر کہنا تھا کہ ہمیں ادراک ہے کہ ملک دشمن ایجنسیاں کوششیں کر رہی ہیں کہ بچے کچے دہشت گردوں کے پاکستان کے خلاف استعمال کریں مگر ہم واقف ہیں کہ کون کیا کر رہا ہے، ان کے خلاف کام شروع کرچکے ہیں اور انہیں نیست و نابود کریں گے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ رینجرز پولیس، دیگر اداروں پر اعتماد رکھیں۔کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن نے کہا کہ بہتر رسپانس کی وجہ سے دہشت گرد اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکے، دہشت گردوں نے دلبرداشتہ ہوکر کارروائی کی، دہشت گرد نیٹ ورک کے کچھ لوگوں کو پہلے پکڑا جاچکا تھا۔ ایسے کئی حملوں کو وقت سے پہلے ہی انٹیلی جنس انفارمیشن کی بنیاد پر ناکام بنایا گیا۔

ادھر گورنر سندھ عمران اسماعیل اور  وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہم نے دہشت گردوں کو بری طرح پسپا کیا ہے۔دہشت گردوں کو بھی سمجھ آگئی ہوگی کہ پاکستانی پولیس، رینجرز سو نہیں رہی۔ امن و امان سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھاکہ اسٹاک ایکس چینج پر حملہ دہشتگردی ہے، اس کو  برداشت نہیں کرسکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب چند دن پہلے گھوٹکی، لاڑکانہ اور کراچی میں ایک ہی وقت میں حملے ہوئے تو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت تھی۔انہوں نے انٹیلی جنس کے کام کو مزید تیز کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔اسپیکر سندھ اسمبلی نے دوران اجلاس اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے دہشت گردوں کی جانب سے سندھ اسمبلی پر حملے کی اطلاعات تھیں جبکہ دہشت گردوں سے سندھ اسمبلی کی تصاویر بھی برآمد ہوچکی ہیں۔ اس حوالے سے سندھ اسمبلی کی سکیورٹی ہم نے بڑھا دی ہے۔

اس ضمن میں مبصر ین کاکہنا ہے کہ دہشت گردوں نے ملک کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کے لیے پاکستان اسٹاک ایکس چینج کو اپنا ہدف بنایا لیکن سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرکے ان کے مذموم مقاصد کو ناکام بنا دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈی جی رینجرز سندھ نے واشگاف الفاظ میں حملے میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کی بات کی ہے۔

اس امر میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے کہ بھارت پاکستان کو استحکام کی طرف جاتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔اس وقت وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے انتہائی تندہی کے ساتھ اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف عمل ہیں امید ہے کہ سیکورٹی ادارے دہشت گرد تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی میں مزید تیزی لائیں گے۔اس کے لیے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

سندھ اسمبلی نے نئے مالی سال 21-2020کے لیے 12کھرب 41ارب روپے سے زائد مالیت کے صوبائی بجٹ کی کثرت رائے سے منظور ی دیدی جبکہ ایوان نے مالی سال 2019-20کے لیے 30ارب 16کروڑ روپے کا ضمنی بجٹ کی بھی منظور کرلیا۔بجٹ کی منظوری کے وقت اپوزیشن جماعتوں کی کٹوتی کی تحاریک بھی مستردکردی گئیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے بجٹ کی منظوری میں تعاون پر پی ٹی آئی کا شکریہ ادا کیا ہے۔اس موقع پر وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھاکہ یہاں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ حکومت سندھ نے صوبائی بجٹ میں کراچی کے لئے کچھ نہیں رکھا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ غیر ملکی امداد سے چلنے والے کراچی کے منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کئے جائیں گے۔

ادھر ایم کیو ایم پاکستان نے صوبائی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے سندھ حکومت کے خلاف احتجاج کے دائرہ کار کو کراچی بھر میں پھیلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر کنور نوید جمیل کا کہنا تھا کہ سندھ کا بجٹ صوبے میں بسنے والی مختلف اکائیوں کے درمیان تفریق کا سبب بنے گا۔

ترجمان سندھ حکومت اور مشیر قانون و ماحولیات بیرسٹر مرتضی وہاب کا ایم کیو ایم پاکستان کی پریس کانفرنس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کی پریس کانفرنس صرف میڈیا پبلسٹی کا بہانہ ہے۔ سندھ اسمبلی میں پالیسی بیان میں وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ  وفاق نے ہمیں آئین کے تحت ٹیکس جمع کرنے کا اختیار دیا ہے لیکن ہم اب وفاق کے لیے ٹیکس جمع نہیں کرینگے۔

کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے روکنے کے لیے لگائے گئے اسمارٹ لاک ڈاؤن کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آسکے ہیں۔صوبے میں کورونا سے متاثرہ مریضوں میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے،جس پر صوبائی حکومت کو بھی تشویش ہے۔طبی ماہرین نے ایک مرتبہ پھر ملک بھر میں دو ہفتے کے سخت لاک ڈاؤن کا مطالبہ کیا ہے۔

The post سندھ حکومت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پر عزم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3dVkPqx

بجٹ منظور، مگر حکومت کی مشکلات کم نہ ہوئیں

 اسلام آباد:  وفاقی بجٹ کی پارلیمنٹ سے منظوری کے لئے اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو ٹف ٹائم دینے اور مزاحمت کے تمام تر دعوے ریت کے گھروندے ثابت ہوئے اور ہر سال کی طرح اس سال بھی بجٹ پر بحث محض روایت پوری کرنے تک محدود رہی۔

منظوری سے قبل فنانس بل کا قائمہ کمیٹیوں برائے خزانہ کے اجلاسوںمیں بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے عرق ریزی کے ساتھ سفارشات تیار کرکے پارلیمنٹ کو بھجوائیں۔

اپوزیشن کی حالت یہ ہے کہ  فنانس بل میں کوئی ایک ترمیم بھی منظور نہیں کروا پائی۔ کپتان کی ٹیم کے اہم کھلاڑی اسد عمر نے  بجٹ منظوری کے بعد اپنے ٹویٹ میں اپوزیشن کو آئینہ دکھاتے ہوئے بتایا کہ اس سال بجٹ منظوری کیلئے پچھلے سال کی نسبت زیادہ ووٹ ملے ہیں۔

ان کا دعوی اپنی جگہ درست ہوگا لیکن اتحادی جماعتوں کے درمیان دراڑ مزید واضع ہوگئی ہے اور اہم اتحادی جماعت کے سربراہ سردار اختر مینگل نے حکومت کے بجائے اپوزیشن کو ووٹ دیا ہے۔  بجٹ منظور ہوچکا اور ان سطور کی اشاعت تک فنانس بل پر صدر مملکت کے دستخط کے بعد ایکٹ کی صورت میں یکم جولائی سے اگلے مالی سال کے بجٹ کا نفاذ بھی عمل میں آجائیگا اوراسکے اثرات بھی نمودار ہونا شروع ہوجائیں گے۔

ملک کے تمام نامور معاشی ماہرین،بڑے کاروباری ادارے، شخصیات اور عوامی حلقے بجٹ سے خوش نہیں۔ سرکاری ملازمین تنخواہیں نہ بڑھنے پر سراپا احتجاج ہیں۔ اب تو اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگ بھی کھلے عام کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ آگے بھی اندھیرا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت کے پہلے سال کی جو آڈٹ رپورٹس سامنے آرہی ہیں اس نے تو حکومتی دعووں کی مزید قلعی کھول کررکھ دی ہے۔ اب تک اطلاعات یہ ہیں کہ اس آڈٹ رپورٹس میں تحریک انصاف حکومت کے پہلے سال کے دوران دو سو ستر ارب روپے کے لگ بھگ کی مالی  بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ ابھی یہ رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش ہونا ہے اور تقدیر کی ستم ظریفی دیکھیں کہ آج اس آڈٹ رپورٹ پر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت وہی جواز اوردلائل پیش کررہی ہے جو ماضی میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں پیش کیا کرتی تھیں مگر اس وقت تحریک انصاف اپوزیشن بنچوں میں بیٹھ کر ان دلائل کو مسترد کیا کرتی تھی۔

جمعرات کو قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کی تقریر کا انداز اور باڈی لینگوئج اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ اب وہ پہلے والا ماحول نہیں رہا۔ پچھلے  دو سال تک کپتان کا بیانیہ رہا کہ کرپش کرنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا لیکن جب سے چینی سکینڈل اور اس طرح کے دوسرے سکینڈل منظرعام پر آئے ہیں اب یہ بیانیہ سامنے آیا ہے کہ کرپٹ مافیا کا دفاع کرنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا۔ بعض سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ اس وقت موجودہ حکومت کی ناکامی کا خوف زیادہ حاوی ہو چکا ہے جبکہ کوئی متبادل بھی دکھائی نہیں دیتا۔

میاں شہبازشریف جو کورونا وبا  میں قومی خدمت کا جذبہ لے کر پاکستان آئے تھے اب دوبارہ لندن اُڑان بھرنے کیلئے پر تولتے  دکھائی دے رہے ہیں اور خود حکومتی حلقوں سے لوگ ان کے کیلئے راہ ہموار کر رہے ہیں تو دوسری جانب خود حکومتی ٹیم کے اندر بھی پھر سے تبدیلی کی باتیں ہو رہی ہیں۔ حکومت اور اسکی اتحادی جماعتوں کے درمیان  کھچاو بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

پنجاب میں حکومت کی اہم اتحادی جماعت ق لیگ سے بھی دوریاں بڑھنے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے دیئے جانیوالے حالیہ اعشایئے میں شرکت نہ کرکے ق لیگ نے واضع پیغام دیا ہے اور پھر ق لیگ نے وزیراعظم کے مقابلہ میں اپنا عشائیہ دے کر مزید مشکل کھڑی کردی ہے۔ سیاسی عدم استحکام اپنی جگہ  مگر معاشی بگاڑ جس تیزی سے بڑھ رہا ہے  وہ بڑے خطرے کی علامت ہے اور اگر اسے کنٹرول نہ کیا گیا تو  حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔ ابھی حال ہی میں جو پارلیمانی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے اس نے سیاست پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔

وزیراعظم نے آنے والے چھ ماہ کو تخت یا تختے والی صورت قرار دیا ہے۔ یقیناً انہیں فرینڈلی اپوزیشن سے تو کوئی خطرہ نہیں پھر یہ صورت کیونکر سامنے آئی ہے اسے سمجھنا کوئی مشکل نہیں۔ دوسری جانب سیاسی جوڑ توڑ پھر سے جاری ہے۔  لندن میں جہانگیر ترین کی نوازشریف سے ملاقات کی کوششوں کی اطلاعات ہیں اور بعض حلقوں کا خیال ہے کہ سیاسی بساط  پلٹنے میں اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ ہی میاں نوازشریف اور مریم نواز ہیں جو اپنے بیانیہ سے پیچھے  ہٹنے پر آمادہ نہیں۔ سیاسی حلقوں کا خیال  ہے کہ ابھی نوازشریف سے کوئی ملاقات نہیں ہوسکی ہے۔

بعض سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال اس بات کی غماز ہے کہ اسمبلیوں کے تحلیل ہونے کے خدشات اپنی جگہ موجود ہیں اور ایسے میں 2020 وسط مدتی انتخابات کا سال ہو سکتا ہے  جبکہ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اگلے چند ماہ میں میاں نوازشریف کی ملکی سیاست میں انٹری ہونیوالی ہے اور نواز شریف بھی مکمل صحت مند ہو کر واپس آنے والے ہیں ان کی آمد کا خوف بھی حکومت کو پریشان کر رہا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوامی سطح پر اضطراب،ہیجان اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔یوں لگ رہا ہے کہ حالات مکمل طور پر وزیراعظم کی گرفت سے نکل چکے ہیں اسی لیے قومی اسمبلی میں کی جانے والی ان کی حالیہ تقریر کا لب و لہجہ اور اسلوب معذرت خواہانہ تھا۔ معاشی ابتری کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی میں چار نشستیں رکھنے والی بلوچستان کی اہم اتحادی جماعت  بی این پی نے حکومت کے ساتھ اتحاد ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ شازین بگٹی اور دوسرے اتحادی اور ہم خیال بھی ساتھ چھوڑتے جا رہے ہیں اور لگ یہی رہا ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سیاسی تبدیلی کا آغاز بلوچستان سے ہوا چاہتا ہے اور دوسری طرف  قومی اسمبلی میں حکمران پارٹی کے اپنے ایم این ایز وزیر اعظم کو مستعفی ہونے کے مشورے دے رہے ہیں اسکے ساتھ ساتھ اتحادی ق لیگ اور ایم کیو ایم کی ناراضی ڈھکی چھپی بات نہیں اورفواد چودھری کا انٹرویو بتا رہا ہے کہ اندرون خانہ حکومت کے حالات نہایت ہی پتلے ہیں۔جہانگیر خان گروپ کی طرف سے بغاوت کی تلوار الگ سر پر لٹک رہی ہے۔

The post بجٹ منظور، مگر حکومت کی مشکلات کم نہ ہوئیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2Zoz5Tf

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...