Urdu news

Wednesday, 30 June 2021

خدا کے لہجوں میں بات کرنے والے لوگ

سلطان راہی اور مصطفی قریشی پاکستان فلم انڈسٹری کے دو طلسماتی نام تھے‘ ملک میں ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے جب فلم ساز کہانی سے پہلے ان دونوں کو بک کرتے تھے اور فلم بننے سے پہلے ہی ہٹ ہو جاتی تھی‘ یہ دونوں فلم کی کام یابی کی ضمانت ہوتے تھے‘ فلموں کے اس زمانے میں مصطفی قریشی ولن ہوتے تھے اور سلطان راہی ہیرو‘ یہ دونوں مستقل ہوتے تھے۔

تاہم ہیروئن اور کہانی بدلتی رہتی تھی‘ یہ سلسلہ ٹھیک چل رہا تھا لیکن پھر 9 جنوری 1996کی رات آئی اورسلطان راہی اسلام آباد سے لاہور جاتے ہوئے گوجرانوالہ کے قریب ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل ہو گئے‘ میں اس وقت روزنامہ پاکستان میں معمولی سا سب ایڈیٹر تھا‘مظہر بخاری شفٹ انچارج ہوتے تھے‘ انھوں نے بہت خوب صورت سرخی بنا کر صحافت کی ٹرافی جیت لی‘ سرخی تھی ’’فن کا سلطان راہ میں مارا گیا‘‘ عباس اطہر اردو صحافت میں سرخیوں کے سچن ٹنڈولکر تھے‘وہ یہ سرخی دیکھ کر مظہر بخاری کو سو روپے کا دستخط شدہ نوٹ دینے پر مجبور ہو گئے۔

بخاری صاحب نے بعدازاں صحافت ترک کر دی اور آسٹریلیا نقل مکانی کر گئے‘ میں سلطان راہی کی طرف واپس آتا ہوں‘ 9 جنوری 1996 کی رات صرف سلطان راہی قتل نہیں ہواتھا مصطفی قریشی کا کیریئر بھی فوت ہو گیا تھا‘ مصطفی قریشی کی عمر اس وقت 81 برس ہے‘ یہ 1996 تک ستارہ بن کر چمک رہے تھے لیکن جوں ہی سلطان راہی غروب ہواسکرین مصطفی قریشی کو بھی بھول گئی۔

ہم زندگی میں لوگوں سے نفرت کرتے ہیں‘ہمارا لوگوں کے ساتھ مقابلہ بھی ہوتا ہے‘ یہ ایک قدرتی عمل ہے‘ انسان ایک ایسا جانور ہے جسے ہر لمحہ دشمن چاہیے ہوتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے ہمارے مخالف اکثر اوقات ہماری بقا بن جاتے ہیں‘ ہم ان کی وجہ سے بڑے ہو جاتے ہیں اور اس وقت تک بڑے رہتے ہیں جب تک ہمارے دشمن سلامت رہتے ہیں‘ شاید اسی لیے صوفی شاعر میاں محمد بخش نے کہا تھا‘ دشمن مرے تے خوشی نہ کریے سجناں وی مرجاناں اور سجن ہم ہوتے ہیں اور ہم اکثر اوقات دشمن کے ساتھ ہی مر جاتے ہیں‘ یہ یاد رکھیں دنیا کی کوئی بھی اسپورٹس ہو یہ ہمیشہ دو ٹیموں کے درمیان کھیلی جاتی ہے‘ میدان میں اگر ایک ٹیم نہیں آئے گی تو دوسری بھی نہیں کھیل سکے گی۔

کھیل میں جب تک ہارنے والا نہیں ہوتا جیتنے والا بھی نہیں ہوتا لہٰذا آپ اگر جیتنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو اپنے مخالف کا وجود بھی ماننا پڑتا ہے اور اس کی عزت بھی کرنا پڑتی ہے کیوں کہ اگر وہ میدان چھوڑ جائے گا یا آپ کے ساتھ کھیلنے سے انکار کر دے گا تو پھر آپ بھی جیت نہیں سکیں گے اور اگر فرض محال ریفری آپ کو فاتح قرار دے بھی دے تو بھی آپ کی فتح‘ فتح نہیں ہوگی اورہم اگر آج کی پاکستان تحریک انصاف کا تجزیہ کریں تو ہمیں یہ سمجھتے دیر نہیں لگے گی حکومت میچ کھیلنے کی بجائے مخالفین کو اسٹیڈیم سے باہر پھینکنے میں مصروف ہے‘ یہ لوگ ایسے مصطفی قریشی بن چکے ہیں جو کسی سلطان راہی کا وجود ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ وہ کوئی شخص ہو یا ادارہ۔

تحریک انصاف اس وقت تین قسم کے لوگوں میں بٹی ہوئی ہے‘ پی ٹی آئی کے پرانے اور جینوئن ورکرز‘ یہ لوگ شروع دن سے پارٹی کے ساتھ ہیں‘ یہ ماضی میں ملک کی سڑکوں اور گلیوں میں مار کھاتا تھا اور یہ آج اقتدار کی گلیوں میں اپنی پارٹی سے کوڑے کھا رہا ہے لیکن یہ لوگ ا س کے باوجود آج پارٹی کی تصویر کے کسی بھی ڈاٹ میں شامل نہیں ہیں لہٰذا ان کے دل دکھی اور جذبات زخمی ہیں‘ دوسرے لوگ ان پارٹیوں کا جلا ہوا سالن ہیں جن کو عمران خان روز ملک کی تباہی کا ذمے دار قرار دیتے ہیں‘ حکومت کی ساٹھ فیصد کابینہ آج ان لوگوں پر مشتمل ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو کل تک عمران خان کو معمولی کھلاڑی‘ تانگہ پارٹی اور فیس بک لیڈر کہتے تھے اور عمران خان انھیں اپنا چپڑاسی رکھنے کے لیے تیار نہیں تھے‘ آپ جس دن تحقیق کریں گے آپ کو آج کے ہر سیاسی فساد کے پیچھے یہ لوگ ملیں گے۔

یہ اپنی پرانی پارٹیوں سے شرمندہ بھی ہیں اور اپنے ماضی کے اسیر بھی ہیں چناں چہ یہ نہیں چاہتے عمران خان کبھی آصف علی زرداری‘ میاں شہباز شریف یا مولانا فضل الرحمن کے ساتھ بیٹھیں‘ آپ خود سوچیے عمران خان جس دن بلاول بھٹو یا آصف علی زرداری سے ملاقات کے لیے جائیں گے تو وہ فواد چوہدری جو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کے پولیٹیکل افیئرز اور انفارمیشن کے معاون خصوصی تھے‘ وہ شاہ محمود قریشی جو آصف علی زرداری کو اپنا لیڈر اور بلاول بھٹو کو جناب چیئرمین کہتے تھے‘ وہ فہمیدہ مرزا جو آصف علی زرداری کی بہن ہوتی تھیں‘ وہ فخر امام جن کی اہلیہ عابدہ حسین محترمہ بے نظیر بھٹو کے ٹرک میں سوار ہوتی تھیں اور جن کے مشورے پر محترمہ نے بلاول کے ساتھ زرداری اور بھٹو دونوں لگائے تھے۔

وہ بابر اعوان جنھوں نے اپنا وکالتی لائسنس داؤپر لگا لیا تھا لیکن آصف علی زرداری کے خلاف سوئس کورٹ کو خط نہیں لکھا تھااور وہ اعظم سواتی جو مولانا فضل الرحمن کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے تھے اور یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں وفاقی وزیر تھے اور اسی طرح جب عمران خان اور شبہاز شریف اکٹھے بیٹھیں گے تو عمر ایوب سمیت وہ تمام لوگ جو شریف برادران کو قائد محترم‘ فخر پاکستان اور شیر پنجاب کہا کرتے تھے وہ ایک دوسرے اور اپنی پرانی پارٹیوں کے قائدین سے کیسے آنکھیں ملائیں گے؟

لہٰذا ان کی بقا اسی میں ہے یہ وزیراعظم کو اپوزیشن اور اپوزیشن کو وزیراعظم کے قریب نہ آنے دیں اور یہ آج تک اس میں کام یاب ہیں‘ میں آج دعوے سے کہتا ہوں یہ ملک اگر خدانخواستہ ٹوٹ بھی گیا تو بھی یہ لوگ عمران خان کو اپوزیشن کے ساتھ نہیں بیٹھنے دیں گے اور تیسرے لوگ چھاتہ بردار ہیں‘ یہ کمال لوگ ہیں‘ یہ ہر پارٹی کو نصیب ہو جاتے ہیں‘یہ یورپ‘ امریکا‘ کینیڈا اور عرب ملکوں کے باسی ہوتے ہیں‘ یہ جب وہاں کوئی کمال نہیں کر پاتے تو یہ مختلف سیاسی قائدین کے خدمت گزاربن جاتے ہیں اور جب یہ قائدین حکومت میں آ جاتے ہیں تو یہ اپنی خدمات کا جی بھر کر فائدہ اٹھاتے ہیں۔

عمران خان کی حکومت بھی اس وقت بری طرح ان چھاتہ برداروں کے نرغے میں ہے‘ یہ لوگ پتا نہیں کیسے اور کہاں سے آئے اور سیدھا وزیراعظم کے کان تک پہنچ گئے اور ان میں زہر گھولنا شروع کر دیا‘ وزیراعظم کے یہ مشیر تین کام کر رہے ہیں‘ یہ ان کی میڈیا سے جنگ کرارہے ہیں‘ ان مشیروں نے پہلے وزیراعظم کے ذریعے سوشل میڈیا پر کریک ڈاؤن کی کوشش کی‘ پھر پاکستان میڈیاڈویلپمنٹ اتھارٹی کا بل متعارف کرایا اور یہ آج کل وزیراعظم کو بتا رہے ہیں کس اینکر کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے‘ ہمیں لائیو شوز میں کیا کرنا چاہیے اور ہمیں کس شخص کو کس شو میں بھجوانا چاہیے اوراسے کس موقع پر کیا کرنا چاہیے؟ دوسرا یہ وزیراعظم کی عدلیہ سے لڑائی کرانا چاہتے ہیں۔

یہ انھیں بار بار بتا رہے ہیں عدالتیں سیاسی مجرموں کی ضمانت لے لیتی ہیں لہٰذا ہمیں انھیں پابند کرنا ہوگا اور تیسرا یہ حکومت کی الیکشن کمیشن سے لڑائی کرانا چاہتے ہیں اور یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب افغانستان سے امریکی فوج واپس جا رہی ہے‘ طالبان افغانستان کے 407اضلاع میں سے 142اضلاع پر قابض ہو چکے ہیں اور یہ تین لاکھ مجاہدین پر مشتمل فوج بھی بنا چکے ہیں‘ بھارت تاجکستان کی درخواست پر اپنی فوج افغان تاجک سرحد پر لگا رہا ہے‘ نریندر مودی مسلمان کشمیری قیادت سے مذاکرات کر رہا ہے۔

پاکستان کا نام 27 میں سے 26شرائط پوری ہونے کے باوجود ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نہیں نکل رہا‘ آئی ایم ایف نے قرض کی قسط روک دی ہے اور امریکی صدر جوبائیڈن افغانستان سے  افواج کے انخلاء کے وقت بھی ہمارے وزیراعظم کو ’’کر ٹسی کال‘‘ کے قابل نہیں سمجھ رہا اور اس نازک وقت میں ہمارے ملک میں کیا ہو رہا ہے؟ حکومت کو میڈیا‘ عدلیہ اور الیکشن کمیشن سے لڑایا جا رہا ہے‘اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ورکنگ ریلیشن تک موجود نہیں‘ یہ ایک دوسرے کی شکل تک نہیں دیکھتی اور اس عالم میں اگر ادارے بھی لڑ پڑے تو پھر کیا ہوگا؟ آپ خود سمجھ دار ہیں اور اس کا کس کو فائدہ اور کس کو نقصان ہو گا‘ آپ خودفیصلہ کر لیجیے۔

میں 1992میں صحافت میں آیا تھا‘ میں نے اس دوران 12حکومتوں کی رعونت دیکھی اور پھراس رعونت کو خزاں کے پتوں کی طرح بکھرتے بھی دیکھا لیکن آپ یقین کریں میں جتنا ان لوگوں کو خدا کے لہجے میں بولتا ہوا دیکھ رہا ہوں اتنا غرورمیں نے آج تک کسی حکومت میں نہیں دیکھا تھا‘ پرفارمنس دیکھیں تو انسان سر پکڑ لیتا ہے۔

دعوے سنیں تو ہنسی نکل جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتا ہوں یہ لوگ جب تخت سے اتریں گے تو اس وقت ان کی انا‘ تکبر اور رعونت لوگوں کا سامناکیسے کرے گی؟ اور یہ لوگ جب جائیں گے تو ملک اس وقت کہاں ہو گا؟اللہ تعالیٰ اس ملک پر رحم کرے لیکن آپ یقین کریں ہم بڑی تیزی سے کسی بڑے حادثے کی طرف بڑھ رہے ہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ قدرت انسانوں اور قوموں کے سارے جرائم معاف کر دیتی ہے لیکن یہ تکبر معاف نہیں کرتی اور پورا ملک اس وقت اکڑی ہوئی گردنوں کے درمیان فٹ بال بنا ہوا ہے‘قدرت آخر یہ میچ کب تک برداشت کرے گی؟ کبھی تو سیٹی بجنی ہے اور کبھی تو کراؤڈ نے حدیں پھلانگ کر میدان میں آنا ہے‘ ذرا تصور کیجیے اس وقت کیا ہوگا؟

The post خدا کے لہجوں میں بات کرنے والے لوگ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3y9cTMG

میٹھے بول میں جادو نہیں جھوٹ ہوتا ہے

ہمارے گاؤں کا ایک نامی گرامی،چیمپئین اور ریکارڈ ہولڈرجھوٹا مرگیا تو لوگوں کویقین نہیں آیا اور اسے بھی اس کاکوئی جھوٹ سمجھے لیکن پھر جب وہ نہیں اٹھا تو یقین آگیا کہ آخر کار اس کا پالا اس عظیم الشان ’’پہلوان‘‘سے پڑہی گیا جس سے آج تک کوئی نہیں جیتاہے، چاہے وہ جھوٹا ہو یا سچا بلکہ لیڈر ہی کیوں نہ ہو۔

ایک دن سب کو چکانا ہے عناصر کاحساب

زندگی چھوڑ بھی دے موت کہاں چھوڑتی ہے

اس کی وفات مسرت آیات اورانتقال بے ملال پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک شخص نے کہا ،آج ’’جھوٹ‘‘ کے ہاں جشن کا سماں ہوگا،اس یوم نجات پر عید جیسی خوشیاں منائی جا رہی ہوںگی کہ کس’’بلا‘‘سے چھٹکارا مل گیا کہ وہ ایسے ایسے جھوٹ بھی بولتاتھا جو جھوٹ کے ماں یاباپ کو بھی بولنانہیں آتا تھا۔ جھوٹ نے کہاں کہاں اس سے چھپنے کی کوشش نہیں کی ہوگی لیکن اس کی ناک کسی کتے سے بھی زیادہ تیزتھی سونگھ سونگھ کر ڈھونڈ نکالتا اور پھر اسے بول بول کو شرمسار کرتا،اتنا زیادہ کہ جھوٹ کے ماتھے پر پسینے آجاتے لیکن اس کے ماتھے پر بل تک نہیں پڑتا تھا۔

مرحوم یا مردود جھوٹے کے حق میں دعائے بے خیری کرنے کے بعد اس شخص نے ہم سے کہا تم نے بھی توجھوٹ میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے، میرا مطلب ہے کہ جھوٹ کے بارے میں بہت جھوٹ بولاہے لیکن میں تمہیں بتا دوں کہ دنیا میں نہ تو کہیں جھوٹ ہے نہ سچ ،جو کچھ ہے وہ یہی ’’گل سر‘‘ ہے جو اپنے آپ کو نہ جانے کیاکیاخطاب دیتارہتا ہے حالاں کہ اس کااگر کوئی موزوں نام ہوسکتا ہے تو وہ ’’جھوٹا‘‘ ہو سکتاہے، کیوں کہ دنیا میں آج تک نہ تو کسی ’’جماد‘‘ نے جھوٹ بولاہے نہ نباتات نے اورنہ کسی حیوان نے ،جھوٹ کاموجد بھی یہی ہے، معلم بھی،طالب علم بھی علامہ بھی اورباپ بھی۔

کسی نے ’’سچ‘‘ سے ایک دن پوچھا بھی تھا کہ اگر جھوٹ کو ماردیاجائے تو کیسا لگے گا ،سچ نے کہاکچھ بھی فرق نہیں پڑے گا ہاں اگر اس کے ’’ماں باپ‘‘ کو ماردو تو مجھے کچھ اطمینان ہوسکتاہے لیکن مجھے پتہ ہے تم خود کشی نہیں کروگے۔

ایک دن ہم نے اپنے جاننے والے ایک لیڈر سے پوچھا تم لوگوں کااتنا جھوٹ سن کیسے لیتے ہو۔ بولا، وہ بھی تو میرا جھوٹ سن لیتے ہیں نا۔پھر پوچھاتم اتنا جھوٹ بول کر شرماتے نہیں ہو۔ہنس کر بولا،میں اپنی آنکھیں اورکان بند کرکے بولتا ہوں۔ اچھایہ بتاؤ کبھی سچ بھی بولو گے۔ بولا ہاں میراارادہ ہے کہ مرتے وقت سچ بولوں گا ۔پوچھا کیا بولو گے۔ کہنے لگا، یہی کہ میں مرگیا ہوں۔ مگر یہ بھی تو جھوٹ ہوگیا کیوں کہ مرنے سے پہلے بولوگے کہ مرنے کے بعد کوئی بول ہی نہیں سکتا۔

ہم نے ایک ایسا گونگا بھی دیکھاہے جو گونگا نہیں تھا لیکن انسانوں سے نہیں بولتا تھا البتہ کھیت میں بیلوں سے باتیں کرتا تھا،اپنے گاؤں کے ایک گڈرئیے کے بارے میں ہمیں پکایقین تھا کہ وہ گونگا ہے لیکن پھر کسی نے بتایا کہ وہ گونگا نہیں ہے صرف انسانوں سے نہیں بولتا ورنہ اپنی بھیڑوں سے دنیا جہاں کی باتیں کرتاہے۔ ایک دن ہم نے اسے پکڑ لیا،پوچھا ،تم صرف بھیڑوں سے بولتے ہو،انسانوں سے کیوں نہیں بولتے۔ بولا۔اس لیے کہ صرف بھیڑیں سچ کہتی ہیں انسان توسن کر پتھر اٹھالیتے ہیں۔

لیکن بعض لوگ بڑے اچھے ہوتے ہیں منہ میں باقاعدہ ترازوفٹ کیے ہوئے ہوتے ہیں اورجب بھی بولتے ہیں تول تول کربولتے ہیں ایسے لوگوں کو آج کل معاون خصوصی برائے کہتے ہیں جن کا تقرر ہی تب ہوتاہے جب اپنے منہ میں فٹ کیے ہوئے ’’ترازو‘‘کو لائسنس کی طرح دکھا دیتے ہیں۔سب سے اچھے اوراعلیٰ کیٹگری کے معاون خصوصی وہ ہوتے ہیں جو منہ میں ترازواوردماغ میں ڈیل کارنیگی فٹ کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ ایک امریکی تھاجس نے ثابت کردیاتھاکہ جھوٹ کاذائقہ میٹھا ہوتاہے اور اس میں جادوبھی ہوتا ہے۔ مرشد نے بھی کہاتھا کہ …

کتنے شیریں ہیں تیرے لب کے رقیب

گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا

The post میٹھے بول میں جادو نہیں جھوٹ ہوتا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2UhB6BW

خورشید شاہد اور اللہ دِتّا لُونے والا

گزشتہ ہفتے میں ایک ہی دن کے فرق سے ہماری (غالباً) سینئر ترین اداکارہ خورشید شاہد اور لوک موسیقی کا ایک بہت بڑا نام اللہ دتا لُونے والا آگے پیچھے اُس سفر پر روانہ ہوگئے ہیں جس پر جانا تو ہر ذِی رُوح نے ہے مگر اسے کوئی بھی دل سے اور آسانی سے قبول نہیں کرتا۔

جانے والوں کے رشتے دار اور عزیز دوست بھی حقیقت کو جاننے کے باوجود اُس سے انکار کی کیفیت میں رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں اور بعض اوقات بہت دیر تک اسی میں مبتلا رہتے ہیں جب کہ اُن کو کسی نہ کسی حوالے سے جاننے والوں میں بہت کم ایسے ہوتے ہیں جن کو مرحومین کی پہلی برسی کی تاریخ بھی یاد رہتی ہو البتہ پریس، کیمرے اور ٹیپ ریکارڈر کی ایجاد کے بعد صُورتِ حال کچھ کچھ بدلی ہے کہ اب فنکار اپنی جسمانی موت کے بعد بھی اپنی فن کے حوالے سے دیر تک زندہ رہ سکتے ہیں۔

خورشید شاہد اور اللہ دتہ لُونے والا اگرچہ فن کے اعتبار سے بظاہر دو مختلف میدانوں سے تعلق رکھتے تھے کہ مرحومہ خورشید شاہد کو دنیا ریڈیو ، فلم اور بالخصوص ٹی وی ڈرامے کے حوالے سے جانتی ہے جب کہ اللہ دتہ لُونے والا کی وجہ شہرت اُن کا لوک گائک ہونا تھا مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ مرحومہ خورشید شاہد کا بھی موسیقی سے گہرا تعلق رہا ہے اور وہ عظیم کلاسیکی موسیقار روشن آرا بیگم کے ساتھ تانپورے پر سنگت بھی کیا کرتی تھیں۔

گزشتہ چند برسوں سے علالت اور بڑھاپے کے باعث انھوں نے کیمرے کے سامنے آنا چھوڑ دیا تھا مگر جن لوگوں نے ستر، اّسی اور نوّے کی دہائیوں کا ٹی وی ڈرامہ دیکھا ہے اُن کے ذہنوں میں آج بھی اُن کے کیے ہوئے بہت سے کردار زندہ ہیں، خود مجھے ذاتی طور پر یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ انھوں نے کچھ سیریلز کے علاوہ میرے کچھ انفرادی ڈراموں میں بھی پرفارم کیا ہے اپنے فن کے ساتھ اُن کا لگاؤ اور کمٹ منٹ ہمارے آج کے نوجوان فن کاروں کے لیے یقیناً ایک قیمتی ورثے کی حیثیت رکھتی ہے، اپنے رول کو سمجھنے کے لیے جستجو، اسے ادا کرنے میں محنت اور ذمے داری اور وقت کی پابندی ایسی خوبیاں تھیں جنھیں مثالی کہا جاسکتاہے۔

مجھے یاد ہے اَسّی کی دہائی میں میرے ایک انفرادی کھیل کی ریکارڈنگ کے لیے شدید گرمی میں ایک ویرانہ نما جگہ پرانھیں ایک ایسی مظلوم ماں کا کردار کرنا تھا جو اپنے بچے کی تلاش میں سر گرداں ہے اور پھٹے پرانے کپڑوں کے ساتھ کئی دن کے فاقے سے ہے۔

شوٹنگ جلو کے قریب ایک میدان میں ہورہی تھی شدید گرمی اور حبس کے باوجود انھوں نے ائیر کنڈیشنڈ لوبی وین میں یہ کہہ کر بیٹھنے سے انکار کردیا کہ اس رول میں اُن سے جس قسم کی مظلومیت کی توقع ہے اُس کا تقاضا یہی ہے کہ وہ اس تکلیف کو عملی طور پر جھیلیں۔ نوجوان نسل شائد انھیں اُن کے باکمال بیٹے اور غیر معمولی فن کار سلمان شاہد کی ماں ہونے کے حوالے سے زیادہ جانتی تھی مگر یہ بات شائد کم لوگوں کے علم میں ہو کہ سلمان کے والد نے جو ایک ریڈیو پروڈیوسر تھے خورشید شاہد سے شادی کے لیے اپنا آبائی ہندو مذہب چھوڑ کر مسلمان ہوگئے تھے اور سلیم شاہد کے نام سے  BBC ریڈیو کے ساتھ وابستہ رہ کر بہت نام کمایا ، بدقسمتی سے یہ شادی بوجوہ زیادہ دیر نہ چل سکی ۔

وہ ایک بے حد مہذب اور باوقار خاتون تھیں، اُن کے اعترافِ فن کے لیے حکومت نے انھیں تمغہ حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا۔ اشفاق صاحب کے ایک شاندار کھیل فہمیدہ کی کہانی اُستانی راحت کی زبانی میں اُن کی پرفارمنس کو بے حد سراہا گیا انھوں نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ ہال روڈ لاہور سے منسلک ایک ایسے احاطے میں گزارا جس کے مکینوں میں منٹو صاحب ، ملک معراج خالد اور مستنصر حسین تارڑ بھی شامل ہیں۔

اللہ دِتا لُونے والا کا تعلق عالم لوہار ، طفیل نیازی اور عنایت حسین بھٹی سے کچھ دیر بعد اُبھرنے والی فوک گلوکاروں کی اُس نسل سے تھا جس میں ریشماں، اقبال باہو، شوکت علی اور عطا اللہ عیسیٰ خیلوی نے بھی اپنے اپنے کمال فن کے جوہر دکھائے اگرچہ یہ سب لوگ اپنے اپنے مخصوص انداز کے حوالے سے نمایاں اور مقبول ہوئے مگر اللہ دتہ لُونے والا کا کمال یہ ہے کہ اُس نے پنجابی فوک سے باہر کچھ دیکھنے اور گانے کی کوشش ہی نہیں کی۔

برادرم ڈاکٹر عمر عادل کے گھر مجھے اُس کے بہت ہونہار بیٹے ندیم عباس کو تو سامنے بیٹھ کر سننے کا موقع ملا ہے مگر اللہ دِتا لُونے والا سے یہ واسطہ اُس کی ریکارڈنگز تک ہی محدود رہا۔میں موسیقی کے بارے میں زیادہ جانکاری کا دعویٰ کرنے کی پوزیشن میں تو نہیں ہوں مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ لوک گیت صرف گلے سے نہیں بلکہ پورے وجود سے گایا جاتاہے اور اس میں لگائی جانے والی تانیں کبھی کبھی راگوں کی شکلیں بھی بدل دیتی ہیں لیکن یہ کام ہماشما کے بس کا نہیں ہوتا اس کے لیے اللہ دِتا لُونے والا جیسے ریاض اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے بلاشبہ وہ اپنے گیتوں میں تب بھی زندہ رہے گا جب ہم نہیں ہوں گے ۔

The post خورشید شاہد اور اللہ دِتّا لُونے والا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3jzVqJc

صدارتی نظام یا خواہش بادشاہت

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ صدارتی نظام کے حامی ملک کے خیر خواہ نہیں ہیں ملک صدارتی نظام سے ہی ٹوٹا تھا۔ الیکشن چوری کرنا چھوڑ دیں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ملک کی سب جماعتیں ہی نہیں بلکہ مقتدر حلقے بھی ملک میں پارلیمانی نظام کے حامی نظر آتے ہیں اور صرف وزیر اعظم عمران خان ہی ہیں جو پارلیمانی نظام سے مطمئن نظر نہیں آ رہے۔

اسی لیے وہ کبھی چین کی مثال دیتے ہیں کبھی انھیں سعودی عرب کا بادشاہی نظام اچھا لگتا ہے جہاں حکمرانوں کو تمام اختیارات حاصل ہیں۔ حکومتی حلقوں میں صدارتی نظام کی باتیں سننے کو مل رہی ہیں اور وزیر اعظم کی طرف سے پارلیمانی نظام کی کھلے عام حمایت نہ کیے جانے کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ ملک میں کمزور پارلیمانی نظام کی بجائے بااختیار صدارتی نظام کے حامی ہیں مگر کھلے عام ایسی بات نہیں کر رہے یا ابھی وہ وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔

پاکستان میں صدارتی موثر اور مضبوط نظام غیر جمہوری حکومتوں میں قائم رہا ویسے تو ملک کے پہلے سویلین صدر اسکندر مرزا تھے اور 1958تک ملک میں آئے دن وزیر اعظم تبدیل ہوتے رہے جس سے دنیا میں ہمارا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ اسکندر مرزا کو معزول کرکے بیرون ممالک جانے دیا گیا اور جنرل ایوب خان نے بااختیار صدر بن کر دس سال سے زائد حکومت کرکے ملک کو صنعتی اور مواصلاتی ترقی دلائی جن کے بعد جنرل یحییٰ نے ملک کا منتخب صدر بننے کے لیے منصفانہ انتخابات کرائے مگر نتائج ان کی توقع کے خلاف رہے اور ملک دولخت ہو گیا۔

جس کا فائدہ ایوب دور کے وزیر خارجہ ذوالفقار بھٹو کو ہوا اور وہ صدر مملکت ہی نہیں سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی بنے اور 1973 کا متفقہ آئین بنوا کر وزیر اعظم منتخب ہوئے اور ایک خود ساختہ بے اختیار صدر بھی منتخب کرایا جس کے بعد متفقہ آئین میں اختیارات حاصل کرنے کے لیے ترامیم کرکے اتنے بااختیار ہوئے کہ انھوں نے مخالفین کو قید کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور بااختیار وزیر اعظم غیر سول صدر کے ہاتھوں پھانسی پر لٹکائے گئے۔

بھٹو دور کے بعد دو طویل مارشل لا لگے اور تقریباً بیس سال بااختیار غیر سول صدارتی دور رہا۔ اس دوران مختلف وزرائے اعظم آئے اور بااختیار سویلین اور غیر سویلین صدور کے ہاتھوں برطرف ہوئے۔ 1999 کے بعد نام نہاد جمہوری و پارلیمانی نظام چلا آ رہا ہے۔ غیر سویلین صدور کے علاوہ کوئی سویلین وزیر اعظم اپنی 5 سالہ مدت پوری نہ کرسکا البتہ دو بے اختیار سویلین صدور نے اپنی 5 سالہ مدت اس لیے پوری کی کہ اختیارات منتخب کروائے گئے وزرائے عظم کے پاس رہے مگر ان کی راہ میں حائل کی گئی رکاوٹیں بھی برقرار رہیں۔

جنرل مشرف کے دور میں (ق) لیگ کے تین وزرائے اعظم رہے جن میں ایک غیر ملکی تھے جو واپس چلے گئے۔ پہلے فوت ہوگئے، دوسرے مختصر مدت کے وزیر اعظم حیات اور موجودہ حکومت کے اہم اتحادی ہیں۔ عمران خان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے دس سال مدت کے اقتدار کو کرپٹ قرار دیتے رہے اور اسی وجہ سے وزیر اعظم بنائے گئے جب کہ دیگر پارٹیوں کے دور کو ایسا نہیں کہتے۔

ایک سینئر اینکر کے بقول موجودہ آئینحکومتی قیادت کی راہ میں رکاوٹ ہے اور اسے وہ کچھ نہیں کرنے دے رہا جو وہ کرنا چاہتی ہیں۔ بھٹو دورکی طرح موجودہ حکومت کے اپوزیشن رہنما نیب کے ذریعے بار بار گرفتار ہوتے رہے مگر حکومتی قیادت  کی خواہش کے برعکس عدالتوں سے ضمانت حاصل کرتے رہے اور سپریم کورٹ میں یہ تک کہا گیا کہ ثبوت کے بغیر نیب کی خواہش پر حکومت مخالف رہنماؤں کو قید نہیں رکھا جاسکتا۔ حکومت نے تو بھٹو دور کی طرح اپنے مخالف کو ہیروئن کیس میں کئی ماہ تک قید بھی رکھا مگر عدلیہ کے ذریعے وہ رہا ہوگئے جو آئینی طریقہ تھا۔

موجودہ پارلیمانی نظام میں حکومت کے مخالف عدالتوں سے رہا ہو جاتے ہیں، کرپشن کے الزامات ثابت نہ ہونے پر کسی کو سزا نہیں ہو رہی، اگر ملک میں صدارتی نظام امریکا جیسا ہوتا تب بھی موجودہ حکمران قیادت صدر بن کر وہ کچھ نہ کر پاتی جو وہ چاہتی ہے کیونکہ صدارتی نظام میں پارلیمنٹ رکاوٹ ڈال دیتی اسی لیے وہ ملک میں چین جیسا بااختیار صدر بننے کے خواہاں ہیں۔

امریکا میں صدر اپوزیشن کو برداشت کرتا ہے جب کہ چین اور بادشاہت میں اپوزیشن ہوتی ہی نہیں اور عدالتیں حکمرانوں کی مرضی کے برعکس فیصلے نہیں کرسکتیں اس لیے امریکا جیسا صدارتی نظام بھی ملکی پارلیمانی نظام جیسا اور منتخب پارلیمنٹ کے آگے مجبور اور حکمران کو من مانی نہیں کرنے دے گا اور پاکستان حکمران مطمئن نہیں ہوں گے۔ وہ دوسری بار بھی اپنی حکمرانی چاہتے ہیں مگر ملک میں صدارتی نظام آئے یا موجودہ پارلیمانی نظام چلے مگر ان دونوں کی جگہ بادشاہی نظام آ نہیں سکتا تاکہ حکمرانوں کی مکمل بادشاہت کی خواہش پوری ہو اور وہ مطمئن ہوں۔

The post صدارتی نظام یا خواہش بادشاہت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2TgcfhN

خطرہ کی گھنٹی

لاہور کے جوہر ٹاؤن میں دھماکہ اور تین افراد کی ہلاکت مستقبل کی خطرناک صورتحال کی نشاندہی کررہا ہے۔ وزیر داخلہ شیخ رشید نے دھماکہ کے دوسرے روز، پرزور دعویٰ کیاکہ پولیس دہشت گردوں کے قریب پہنچ گئی ہے اور دہشت گردی میں ملوث کار کے مالکان کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔

کراچی پولیس نے لاہور پولیس کی اطلاع پر محمود آباد کے علاقہ میں چھاپہ مارا ہے۔ وزیر داخلہ نے یہ بھی فرمایا کہ کراچی میں بھی دہشت گردوں کے ایک گروپ کا قلع قمع کیا گیا ہے۔ یہ گروہ جس میں ایم کیو ایم کے بعض رہنما شامل ہیں بھارت کی خفیہ ایجنسی را سے منسلک نیٹ ورک کا حصہ تھا مگر ان تمام دعوؤں کے باوجود جوہر ٹاؤن میں دھماکہ وفاقی اور صوبائی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور پولیس نیٹ ورک کی ناکامی ہے۔ اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دھماکہ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے والی کار دوسال قبل چوری ہوئی تھی ۔

سندھ اور پنجاب پولیس نے اس دھماکہ میں ملوث کئی افراد کی گرفتاری کا دعوی کیا ہے۔ پاکستان میں ادارے دھماکوں کے بعد ملزمان تک پہنچنے کا دعوی کرتے ہیں۔ پنجاب پولیس کے ریکارڈ میں دھماکہ میں استعمال ہونے والی گاڑی سے متعلق معلومات موجود ہونی چاہیے تھی مگر یہ گولہ بارود سے بھری گاڑی تمام چیک پوسٹوں سے گزرتی ہوئی اپنے مقررہ ہدف تک پہنچ گئی۔

ماہرین نے دھماکے کی جگہ اور دھماکہ میں استعمال ہونے والے مواد کے معائنہ کے بعد رائے دی کہ یہ خودکش دھماکہ نہیں تھا بلکہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعہ کار میں موجود 15کلوگرام بارودی مواد کو دھماکہ سے اڑایا گیا اور یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ دھماکہ کرنے والے انتہائی تربیت یافتہ تھے جنھوں نے ایک بھرے بازار میں پارک کی گئی کار میں دھماکہ کرکے اپنا ہدف پورا کیا۔

پاکستان میں دہشت گردی کا معاملہ افغانستان کی صورتحال سے منسلک ہے۔ افغانستان میں لڑی جانے والی لڑائی کئی وجوہات کی بناء پر پشاور اورکوئٹہ سے ہوتی ہوئی ،کراچی تک پہنچ گئی تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں طالبان کے خلاف امریکا اور اتحادی افواج کا ساتھ دیا تو پاکستانی طالبان نے ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کیں۔ دہشت گردوں نے اسلام آباد اور راولپنڈی سے لے کر لاہور ، ملتان ، سکھر اور کراچی تک اپنے اہداف مکمل کیے۔

کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقے مسلسل دہشت گردی کا شکار رہے۔ پشاور آرمی پبلک اسکول کے بچوں کو جب دہشت گردوں نے نشانہ بنایا تو منتخب حکومت اور دیگر سیاسی جماعتیں نیشنل ایکشن پلان پر متفق ہوئیں۔ مسلح افواج نے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کا عہد کیا۔ قبائلی علاقوں، خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع ہوا۔ قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کی کمین گاہوں کو تباہ کیا گیا۔ دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث بعض مجرموں کو سزائے موت دی گئی جس سے دہشت گردی کی وارداتوں میں کمی آئی۔ کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقے مسلسل دہشت گردی کا شکار رہے مگر ملک کے باقی حصوں میں امن قائم ہوا۔

نیشنل ایکشن پلان میں بہت سے نکات شامل تھے۔ ان نکات میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ایک مربوط نیٹ ورک کا قیام ، مذہبی اداروں اور علماء کے لیے ضابطہ اخلاق، ملک میں پڑھائے جانے والے نصاب سے انتہا پسندانہ مواد کا اخراج شامل تھا مگر عرصہ دراز تک انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ایک مربوط نیٹ ورک قائم نہ ہوسکا۔ برسر اقتدار حکومتوں کے اہلکار نیشنل ایکشن پلان کے اس فیصلہ پر عملدرآمد میں رکاوٹ کی مختلف تاویلیں پیش کرتے رہے مگر اب بتایا گیا ہے کہ National Intelligence Coordination Committee(N.C.O.C) کا قیام شامل ہے۔

یہ ایک امید افزاء خبر ہے۔ اب NCOC کا دہشت گردوں کے عزائم کو روکنے میں کردار ابھر کر سامنے آنا چاہیے۔ ملک میں اسلحہ گولہ بارود کی فراوانی ہے مگر ملک کے کسی بھی حصے میں غیر قانونی ہتھیار اور گولہ بارود بنانے والے کیمیکلز وغیرہ آسانی سے دستیاب ہوجاتے ہیں۔ ہر حکومت دعوی کرتی ہے کہ اسلحے کی فراہمی کو روکنے کے لیے حتمی اقدامات کیے گئے ہیں مگر پھر کوئی دھماکہ ان کے دعوؤں کی دھجیاں اڑادیتا ہے۔ دہشت گردی پر تحقیق کرنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ اسلحہ زیادہ تر افغانستان کے راستہ قبائلی علاقوں میں آتا ہے۔

قبائلی علاقوں میں ہتھیار بنانے کے کارخانے ہیں۔ دنیا کا جدید ترین اسلحہ آسانی سے اسمگل ہوتا ہے۔ اس کاروبار میں قبائلی سردار، بڑے پیر، سیاسی رہنما اور بعض سرکاری افسران ملوث ہیں۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رابطہ کمیٹی کے افسران کو بہت پہلے اسلحہ اورگولہ بارود کی اسمگلنگ کے خاتمہ کی حکمت عملی تیار کرلینی چاہیے تھی۔ امریکا اور یورپی ممالک نے اب ہر جگہ بندوق بردار سپاہیوں کو تعینات کرنے کے بجائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جدید طریقوں پر عملدرآمد کیا ہے، یوں برطانیہ اور یورپی ممالک میں غیر قانونی اسلحہ ناپید ہے۔

اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام انٹیلی جنس ایجنسیاں، پولیس اور قانون نافذ کرنے والی تمام ایجنسیاں ایک کمانڈ میں فرائض انجام دیں۔ ڈرون ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعہ پاکستان کی سرحد میں داخل ہونے والی ہر گاڑی پر نظر رکھی جائے۔ قبائلی علاقوں سمیت ملک بھر میں موجود اسلحے کے اسمگلروں کو گرفتار کیا جائے ۔ اسلحہ کے ڈیلروں پر کڑی نظر رکھی جائے اور پیپلز پارٹی کی تیسری حکومت میں وزیر داخلہ میجر جنرل ریٹائرڈ نصیر اﷲ بابر نے اسلحہ کی فراہمی کو روکنے کی جو حکمت عملی استعمال کی تھی ،اس حکمت عملی کو اپ ڈیٹ کر کے بلاتفریق استعمال کیا جائے۔

ان غیر ریاستی اداکاروںNon-State Actors کو ایکسپوز کیا جائے جو ماضی میں کسی نہ کسی طرح دہشت گردوں کی سرپرستی کرتے رہے ہیں۔ ملک بھر کی پولیس کے ریکارڈ میں ان عناصر کے بارے میں تفصیلات موجود ہونگی۔ حکومت کو ایسی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے کہ دہشت گردی کا پرچار کرکے اپنے مفادات حاصل کرنے والے عناصر تنہا ہوجائیں۔ اس کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ تمام آپریشن غیر جانبدارانہ ہوں، کسی بھی اقدام سے سیاسی انتقام کی بو نہ آئے۔

یورپی ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ محض سڑکوں کو بند کرکے اور عمارتوں کے گرد رکاوٹیں کھڑی کر کے اور نفری تعینات کرنے سے ممکن نہیں ہے۔ دہشت گردوں کو ان کی پناہ گاہوں میں ہی تنہا کرنا تاکہ وہ اپنے عزائم کو عملی شکل کا روپ نہ دے سکیں، یہی دراصل قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کامیابی سمجھی جانی چاہیے۔ اب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جدید طریقوں کو استعمال کرکے حقیقی مجرموں تک پہنچا جاسکتا ہے۔

افغانستان میں خانہ جنگی کے اثرات پاکستان میں پہنچنے والے ہیں۔ لاہورکا دھماکہ خطرہ کی گھنٹی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ابھی سے ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے کہ جوہر ٹاؤن کے بعد کہیں بھی دھماکہ نہ ہو۔

The post خطرہ کی گھنٹی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3jAMhQD

کراچی کے کئی علاقوں میں پانی کی قلت، ہزاروں مکین پریشان

 کراچی: سمندر کے کنارے بسنے والے شہری پینے کے پانی کی قلت کاشکار ہیں جب کہ کئی علاقوں میں کئی روز سے صاف پانی کی فراہمی نہ ہوسکی۔

ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے شہر کے باسی بنیادی سہولت پانی سے بھی محروم ہیں،لانڈھی ،کورنگی، ملیر،ناظم آباد،گلستان جوہر،لیاری ،کھارادر، بلدیہ ٹاؤن،شاہ فیصل کالونی ،نارتھ کراچی ،نیوکراچی ،سرجانی ٹاؤن  کے کئی علاقوںمیں صاف پانی فراہم نہیں کیا جاسکا۔

نیوکراچی گودھرا کالونی کے مکینوں نے بجلی اور پانی کی عدم فراہمی پر گودھرا چوک پر دھرنا دیا اور متعلقہ حکام کے خلاف نعرے لگائے ، احتجاج کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوگئی جس کی وجہ سے عام شہریوں کو مشکلات اور دقت کا سامنا کرنا پڑا۔

مشتعل مظاہرین کا کہنا تھا کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور پانی کی عدم فراہمی نے مکینوں کو دہری مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، شدید گرمی میں نہ تو گھروں میں بجلی ہے اور نہ ہی پانی آخر کس کے در پر جا کر فریاد کریں جو مجبور اور بے بس عوام کی سن کر انھیں زندگی کی بنیادی سہولت کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کر سکے تاہم احتجاج کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی اور مشتعل مظاہرین کو بات چیت کے بعد منتشر کر کے ٹریفک بحال کرا دیا۔

تحریک تحفظ دفاع پاکستان کے رہنما سید وسیم پاشا نے ذمے داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لانڈھی  اور کورنگی کے کئی علاقوں میں ازخود پانی کی لائنیں ڈال کر شہریوں کا پانی چوری کیاجارہاہے، لانڈھی کے علاقے خرم آباد میں بااثر افراد مبینہ طور پر لائن مینوں سے ملی بھگت کرکے اپنے علاقے میں زیادہ پریشر سے والو کھلواتے ہیں۔

انھوں نے ایم ڈی واٹر بورڈ،پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو،وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ سے مطالبہ کیا کہ قلت آب کے شکار ہزاروں  افراد کا مسئلہ حل کیا جائے ،پانی کی جلد از جلد فراہمی کو مکمن بنایاجائے ۔

The post کراچی کے کئی علاقوں میں پانی کی قلت، ہزاروں مکین پریشان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3h6uijf

وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر کا سلامتی کمیٹی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان

 اسلام آباد:  وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر راجا فاروق حیدر نے قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کردیا۔

وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر راجا فاروق حیدر نے احتجاجاً قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کردیا، انھوں نے وزیر اعظم عمراں خان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عمراں خان اور مودی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، 5 اگست کا اقدام مودی اور عمران خان کی رضا مندی سے ہوا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان آزاد جموں وکشمیر الیکشن کیلیے جارحیت کر رہے ہیں، آزادجموں وکشمیر کے حالیہ انتخابات تقسیم کشمیر کے ایجنڈے کے خلاف لڑے جائیں گے۔

راجہ فاروق حیدر کا کابینہ ارکان کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھا کہ 25 جولائی کو آزادجموں و کشمیر میں انتخابات ہونگے انتخابات قومی ایجنڈے کے تحت لڑے جا رہے ہیں۔

The post وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر کا سلامتی کمیٹی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3xb7N2v

پاک چین دوستی اور عالمی منظرنامہ

چین کے سرکاری ٹی وی ’’گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک ‘‘ سے خصوصی انٹرویو میں وزیر اعظم نے کہا کہ اگر پاکستان پر دباؤڈالا جاتا ہے کہ وہ اپنے تعلقات میں تبدیلی لائے یا چین کے ساتھ اپنے تعلقات کوڈاؤن گریڈ کرے تو ایسا نہیں ہوگا۔ پاکستان اور چین کے مابین تعلقات بہت گہرے ہیں اور یہ تعلقات نہ صرف حکومتوں بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان قائم ہیں۔

وزیراعظم پاکستان نے انٹرویو میں جن صائب خیالات کا اظہار کیا ہے ، وہ قومی امنگوں کے عین مطابق ہے ۔چین نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ دوستی بھرپور طریقے سے نبھائی ہے  اور پاکستان کو ٹیکنالوجی ، ہتھیار اور سرمایہ کاری کی فراہمی اور مختلف بحرانوں میں نکلنے میں انتہائی خلوص سے مدد کی ہے ، اور اب سی پیک کا منصوبہ ہمارے اور خطے کے لیے گیم چینجر ثابت ہونے جارہا ہے۔

پاکستان مسلم دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے چین کو تسلیم کیا، اس سفارتی پیش قدم کو چین نے کبھی نہیں بھلایا ، باضابطہ سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد دوطرفہ تعلقات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو تمام موسموں اور حالات کے اتار،چڑھاؤ کے باوجود قائم ودائم ہے ۔پاکستان اور چین کی دوستی دنیا میں ایک مثال بن چکی ہے ۔

دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے پاکستان کے ساتھ واشنگٹن کی پارٹنرشپ بہتر کرنے کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان میں ماہرین کے مطابق اس کی گنجائش تو ہے لیکن شاید بہت زیادہ نہیں۔ امریکااور یورپی ممالک چین کے گرد گھیرا تنگ کرنا چاہ رہے ہیں ، جب کہ پاکستان اس وقت ایک آزادانہ خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے جس میں چین اس کا ایک بہت بڑا اتحادی ہے۔

خطے کی صورتحال پرایک نظر ڈالیں تومنظرنامہ کچھ یوں نظر آرہا ہے کہ امریکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد بھی افغانستان میں شورش جاری رہی تو اس سے دہشت گردی پروان چڑھے گی، یہ دہشت گردی ناصرف افغانستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہوگی بلکہ اس سے پاکستان میں بھی دہشت گردی کو ہوا ملے گی اور یوں ایک ایٹمی ملک عدم استحکام کا شکار ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب بھارت کو بھی جہادیوں سے خطرہ ہے اور اس کا اثر امریکا کی چین کے حوالے سے پالیسی پر پڑسکتا ہے۔ یہی شعبے دونوں ممالک کے درمیان تاثر، پالیسی اور مفادات کے تصادم کا باعث بھی ہیں۔

امریکا ان مسائل کو کس طرح حل کرے گا اس کا دار و مدار امریکا کی چین اور افغان پالیسوں پر تو ہوگا ہی کہ جن پر اس وقت نظرثانی جاری ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ امریکا کی جانب سے یہ بھی دیکھا جائے گا کہ پاکستان کی پالیسیاں امریکی مفادات سے کس حد تک مطابقت رکھتی ہیں،تاہم اس کام کے لیے اسے پاکستان کی مدد ضرور درکار ہوگی، لیکن اس وقت افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی کوئی واضح پالیسی نظر نہیں آرہی ہے۔

امریکی پالیسیوں میں تواتر کے ساتھ اعتماد کا فقدان نظر آرہا ہے،جو لوگ ایک اتحادی کی حیثیت سے امریکا کے حوالے سے شبہات کا شکار ہیں انھیں پاکستان کی تاریخ پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔پاکستان بھارت کے ساتھ بھی تعلقات کی بہتری چاہتا ہے جس میں امریکا کا اہم کردار ہے۔ افغان صدر اشرف غنی اور بھارت امن مذاکرات کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔

ایسا لگ رہا ہے کہ امریکا افغانستان میں امن معاہدے کے حوالے سے اپنے وعدوں سے پِھر رہا ہے جس سے یقینا طالبان اور اسلام آباد کو دھچکا لگے گا۔ ایسا ہوا تو افغان طالبان پاکستان پر بھروسہ نہیں کریں گے اور دوبارہ ان کو مذاکرات کی میز پر لانا مشکل ہو جائے گااور افغانستان ایک بار پھر خانہ جنگی کا شکار ہوجائے گا۔

اس وقت عالمی سیاسی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہورہا ہے ، دنیا ایک بار پھر سرد جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے ، پرانے اتحاد ختم ہونے جارہے ہیں جب کہ نئے اتحاد اور بلاگس بننے جارہے ہیں ،لہذا ہم تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں ، اگرہم چین کی طرف مکمل طور گئے تو پھر یورپی ممالک اور خلیجی ریاستوں میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کے لیے روزگارکے مواقعے محدود ہوسکتے ہیں ،لہذا ہمیں آنیوالے وقت میں تمام پالیسیاں بناتے وقت ملکی مفادات کو مقدم رکھنا ہوگا، ہر پالیسی کے مضمرات اور فوائد کومدنظر رکھ کرہی فیصلہ کیا جائے تاکہ پاکستان دنیا میں مستحکم بنیادوں پر قائم ودائم رہے اور اپنا عالمی کردار بھی احسن طریقے پر ادا کرتا رہے ۔

The post پاک چین دوستی اور عالمی منظرنامہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3hlo26p

گل سرخ کے فوائد

گھروں اور باغوں میں پائے جانے والے انمول پھول جو امراضِ قلب ، سینہ ، جلد ، بال ، معدہ وجگرمیں بے انتہا مفید ہے۔

گلِ سرخ (گلاب کا پھول ) آنکھوں کی بصارت اور خون کی صفائی میں کمال کا درجہ رکھتا ہے۔ گرتے بالوں، گرمی کا اثر کم کرنے ، وزن کم کرنے جلد کا رنگ نکھارنے میں گلاب کے پھول کا ثانی ملنا بہت مشکل ہے۔  اس کے علاوہ گلاب کے پھول کے قہوے میں شہد ڈال لیا جائے تو امراضِ سینہ و قلب کے لیے تریاق سے کم نہیں ۔

گلِ سرخ کا شمار ان نادر ادویہ میں ہے جن کی تاثیر چبانے میں اور ہے اور قہوے میں اور۔ مشروب میں اور ہے تو دودھ میں ملا کر ابالنے میں اور۔ نہار منہ چبائیں یا پیٹ بھرے منہ چبائیں تو گرمی میں لو لگے ہوئے کو مفید ہے۔ اگر گل سرخ کی چائے بغیر شہد پی جائے تو معدہ ، جگر اور خون کی نالیوں کی اندرونی صفائی میں موثر ہے، اگر دودھ میں ابال کر پئیں تو امراضِ قلب، سینہ اور قبض کھولنے کے لیے بہت موثر دوا ہے۔

گلاب کے پھول کا شربت ( شربتِ گل سرخ ) صفراوی امراض مثلاً یرقان، جگر کی گرمی، زبان کی خشکی، جلد پر خارش کے لیے تریاق کا مقام رکھتی ہے۔ ان افادیات کے علاوہ گلاب کے پھول سے خاص طریقے سے قطرے نکالے جاتے ہیں۔

یہ قطرے آنکھ کے امراض میں نہایت فائدہ مند ثابت ہوئے ہیں۔ یہ قطرے آشوبِ چشم کو دور کرنے ، آنکھ کے آنسو کے غدود سے خارج ہونے والی میل ( آنکھ کی میل) کو بغیر نقصان پہنچائے صاف کرتے ہیں۔ جلد پر پھپوندی، بیکٹریا وغیرہ سے بھرے زخم کو صاف کرنے میں معاون ہیں۔شہد جو گلِ سرخ سے اخذ کیا جاتاہے، بہت سے امراض کا شفا ء بخش علاج ہے۔ گلاب کے پھول کا مزاج سرد اور تر ہے، اس لیے گرم امراض کو خصوصی طور پر فائدہ دیتا ہے، مگر شہد گائے کا دودھ ، یا قہوے کے طور پر استعمال کیا جائے تومزاج کی تعدیل ہو جاتی ہے۔

کیا گلِ سرخ میں غذائیت ہے؟

گلِ سرخ وٹامن سی، وٹامن ای، فولک ایسڈ، جست ( زنک)، فولاد ، وٹامن اے، وٹامن بی بارہ، وٹامن بی دو سے بھرا ہوا ہے۔ان کے علاوہ اس میں معدنیات مثلاً مولب ڈینم بھی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اینٹی اکسیڈینٹ لیسی تھین، تورین، اپتھوسیائن، فی نولزوغیرہ بھی موجود ہیں۔انہی اینٹی آکسیڈینٹ کی وجہ سے گلِ سرخ جلد کا رنگ نکھارنے، جھریاں دور کرنے ، جلد پر نشانات وغیرہ کو دور کرنے کے لیے مستعمل ہیں۔ نیز گلِ سرخ میں موجود وٹامن سی قوتِ مدافعت بڑھانے ، خون کی گردش کو معتدل کرنے ، مردہ خلیات کو دفع کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ گلِ سرخ میں پائے جانے والا جز ’ فولاد ‘ خون پیدا کرنے ، خون کے سرخ خلیے بنانے، چہرے اور ناخونوں پر سرخ رنگ لانے اور بڑھانے کا ضامن ہے۔

وٹامن اے آنکھوں ، ہڈیوں ، جلد کے نیچے پائے جانے والی پتلی چربی کی جھلی پیدا کرنے اور بڑھانے ، آنکھوں کے گرد حلقے دور کرنے کا ضامن ہے، یہ گلِ سرخ میں کافی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ فالک ایسڈ ایک ایسا خامرہ ہے جو خون میں فولاد بنانے کا عمل تیز کرتا ہے، نیز شوگر، بلڈ پریشر اور بالوں کے نئے مسامات پیدا کرنے میںمدد گار ہے۔ جست قوتِ مدافعت پیدا کرنے والے اجزاء کو بڑھاتا ہے، ورزش کرنے والوں کے اجسام میں گوشت کی مقدار کو بڑھاتا ہے۔ اینٹی آکسیڈینٹ وہ اجزاء ہیں ، جن کی قلت سے سرطان ، شوگر ، جھریاں ، خشکی پیدا ہوتی ہیں۔ لہذا گلِ سرخ ان تمام امورِ صحت ونشونما میں بہت کارگر ثابت ہوچکا ہے۔

گلِ سرخ کن بیماریوں میں مستعمل ہے؟

1۔ امراضِ قلب ، 2۔ امراض گردہ ، 3۔ گرمی سے سر کا درد ( صداعِ خار) ، 4۔ ایڈیما،5 ۔ بول کی مقدار بڑھانے ، 6۔ زخم کو مندمل کرنے ،7۔ وزن کم کرنے، 8۔ آنکھوں کی کمزوری ، 9۔ بھوک لگانے ، 10۔ کاسمیٹکس ،11۔ بال خور (جو سر یا جلد کے خاص حصے پر بال ختم کرتا اور گول نشان بناتا ہے)

گلِ سرخ کا استعمال کیسے کریں؟

1۔اگر گرمی کی وجہ سے سر میں درد ہے تو گلِ سرخ کی چائے بمعہ چینی یا شکر استعمال کریں یا اس کا لیپ ماتھے پر لگا ئیں۔

2۔ اگر قبض دفع کرنے کے لیے استعمال کرنا ہو تو گائے کے دودھ میں تھوڑی شکر ملا کر گلِ سرخ کے پتے ڈالیں ، ابال کر نوش کریں ، نہار منہ زیادہ اثر کرتا ہے۔

3۔ اگر جلد کا رنگ نکھارنے کے لیے استعمال کرنا ہو تو گلِ سرخ کی چائے یا شربت پئیں، نیز کسی کریم میں گلِ سرخ کے پتوں کا سفوف ملا کر رات کو چہرے پر لگانا اور کم از کم دو گھنٹے یا بہتر ہے کہ رات بھر لگے رہنے دیں، دن کو اچھے صابن یا فیس واش سے دھوئیں۔

4۔ آنکھ میں خارش یا آشوبِ چشم کے غرض سے گلِ سرخ کے قطرے استعمال کریں۔

5۔ بلڈ پریشر کے لیے شربتِ گلِ سرخ کا استعمال زیادہ موزوں ہے۔

کیا گلِ سرخ کا استعمال ہر شخص کر سکتا ہے؟

جن کے مزاج بلغمی ہوں یا نزلہ زکام زیادہ رہتا ہو، انہیں چاہیے کہ اصلاح کے ساتھ استعمال کریں۔ گرم مزاج والے اشخاص یا خشکی کے مبتلا حضرات استعمال کرسکتے ہیں، خاص طو ر پر خواتین کے لیے گلِ سرخ بہت مناسب دوا اور غذا ہے۔

مقدار خوراک

کسی بھی دوا کی مقدار ِ خوراک کا تعین وزن، عمر، قد، جسامت کے اعتبار سے کیا جاتاہے، اکثر تین تا پانچ پتے استعمال کیے جاتے ہیں۔

انتباہ:

کمزور افراد کو اس کی خوشبو سے نزلہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ گلِ سرخ کی بو اکثر لوگوں کے دماغ کو قوت، دل کو فرحت بخشتی ہے، اسی سے گلقند تیار کیا جاتا ہے جو اسہال لانے میں معاون ہے۔ فالج کے مبتلا مریضوں ، جھٹکے جسے پڑتے ہوں اور رعشہ کی بیماری کے مبتلا حضرات کو اس کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اس کا مصلح انیسون رومی ہے۔

The post گل سرخ کے فوائد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3qGYgOi

ہدف کا تعین کیسے ہو؟

انسانی نفسیات ایک ایسی پہیلی ہے جسے بوجھنے اور اس کی گتھیاں سلجھانے کاشوق ہمیں اس راہ پہ لے آیا کہ جس کی منزل ہسپتال کے شعبہ نفسیات کا ایک کمرہ تھا، اب اس کمرے میں داخل ہونے والے نفوس اپنی الجھنوں کی پوٹلیاں اٹھائے ہم تک آتے ہیں۔

مسائل کی اس پوٹلی سے جو برآمد ہوتا ہے وہ بعض اوقات بظاہر اتنا بے ضرر ہوتا ہے کہ مریض کو اس بات پہ قائل کرنا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے کہ اس کے مسائل کی جڑ یہی ہے۔ میرے پاس سیشن کے لئے آنے والے بہت سے مریض ہدایت کردہ معمولات اور طے کردہ اہداف کے حصول میں ناکامی کی شکایت کرتے ہیں۔ ہدف کے تعین کی اہمیت نفسیاتی الجھنوں میں گرفتار ایک شخص کے ساتھ صحت مند انسان کی زندگی میں بھی مسلم ہے۔

ایک بچے کے دنیا میں آنکھ کھولتے ہی اس پر اس کے اردگرد کے ماحول، اس کے والدین ، عزیز و اقارب، مذہب ، معاشرے اور تہذیب و تمدن کی جانب سے توقعات کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے اور خاک کا پتلا اپنی زندگی کے شب و روز گزارتے ہوئے یہ بوجھ بھی ڈھوتا ہے۔ کوئی جرات مند ان میں سے کوئی ایک بوجھ ڈھونے سے انکار کرنے کی جرات تو کرسکتا ہے لیکن ان سب سے ایک ساتھ انحراف ممکن نہیں۔

یہ سب زندگی گزارنے اور جینے کے لوازمات ہیں۔ ان کے بغیر زندگی کے رنگ پھیکے ہیں۔ جب انسان ان توقعات کے دائروں میں گھِرتا ہے تو اپنی ذات کو کیسے فراموش کرسکتا ہے۔ وہ خود سے کچھ امیدیں وابستہ کرتا ہے، اپنی زندگی کے مقاصد کا تعین انہی عوامل سے کشید کرتا ہے۔ ان امیدوں اور توقعات کو مختصر ترین الفاظ میں سمویا جائے تو وہ ہے Goal Setting یعنی ہدف کا تعین۔

ہدف کیوں مقرر کیا جاتا ہے؟

اس کا مقصد ’’ کامیابی ‘‘ ہوتا ہے۔ اس کامیابی کی تعریف ہر انسان کے لئے مختلف ہے۔ کسی کے لئے دولت کے انبار کا حصول کامیابی ہے تو کسی دوسرے کے لئے اچھے نمبر حاصل کرنا ۔ کسی کے لئے کامیابی کی تعریف دوسروں کی نظروں میں اپنا معتبر وجود ہے تو کسی کو اپنی نظروں میں معتبر بننا اور خود کو ہر گزرے کل سے بہتر دیکھنا مقصود ہوتا ہے۔ غرض اس کامیابی کے ہزار رنگ ہیں بالکل اسی طرح ہدف کا تعین بھی ہر انسان کے نزدیک اس کی اپنی مقرر کردہ کامیابی کی تعریف کا عکاس ہوتا ہے۔

زندگی میں آپ کا کوئی بھی مقصد ہو، آپ کے ہدف کے سمت کوئی بھی ہو ، آپ کے نزدیک کامیابی کا چہر ہ جیسا بھی ہو کچھ چیزیں ایسی ہیں جنھیں ہدف کا تعین کرتے ہوئے ملحوظِ خاطر رکھا جائے تو کامیابی کے امکانا ت بڑھ جاتے ہیں۔

1۔ ایسا ہدف مقرر کریں جو آپ کو متحرک رکھے

زندگی حرکت کا نام ہے اس لئے ہد ف ایسا ہونا چاہئیے جو اس حرکت کو یقینی بنائے۔ بستر پر دراز ہوکر آپ چھت سے نوٹوں کی بارش کی توقع میں ٹکٹکی باندھے اگر عمر بھی گزار دیں تو رائیگاں ٹھہرے گی لیکن اگر دولت کے حصول کے لئے آپ اپنی تعلیم کے معیار کو یقینی بنائیں گے۔ کتابیں رٹنے کی اور نمبروں کی دوڑ میں پڑنے کی بجائے سیکھنے کی کوشش کریں گے تو انشاء اللہ زندگی آپ کو مایوس نہیں کرے گی۔

ہدف مقرر کرتے ہوئے یہ اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ جو کچھ آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کی اہمیت کیا ہے؟ انسان کسی بھی شے کے حصول کی کوشش اپنی خواہش اور ضرورت کے مطابق کرتا ہے۔ وہ خواہش جتنی زور آور اور ضرورت جتنی زیادہ ہوگی حدف کے حصول کے امکانات اتنے ہی روشن ہوں گے۔

2۔ چھوٹے ہدف سے آغاز کرنا

ایک بچہ پیدا ہوتے ہی دوڑنا شروع نہیں کردیتا یا سکول کے پہلے دن ہی کتابیں اس کے دماغ میں نہیں سما جاتیں۔ کائنات کی ہرچیز میں ایک تسلسل ہے جس میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے چھوٹے چھوٹے عوامل بڑی تبدیلی میں ڈھلتے ہیں۔ رات سے دن کا سفر چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے جس میں چاند اور سورج لحظہ بہ لحظہ اپنی پوزیشن بدلتے دن اور رات کا باعث بنتے ہیں۔

بالکل اسی طرح ہدف کے حصول کے لئے لمبی چھلانگ لگانے سے پہلے چلنا ، دوڑنا اور چھوٹی چھلانگ لگانے کی زحمت کرنی پڑتی ہے۔ اپنی زندگی کے قابل حصول اہداف کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں بانٹ لیں اور اپنی تر جیحات کے مطابق ان کی فہرست بنائیں۔ ان میں سے پہلے تین ، پہلے پانچ یا اپنی سہولت کے مطابق ایک ہدف کو اپنی توجہ کا مرکز بنائیں اور اس کے حصول کے لئے اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لائیں۔

3۔ SMART ہدف مقرر کریں

ہدف مقرر کرتے وقت لفظ SMART کو ذہن میں رکھیے اور اپنے ہدف کو اس کی کسوٹی پر پرکھیے۔

……..S Specificیعنی ہدف مخصوص اور واضح ہونا چاہئیے۔ مخصوص ہدف کامیابی کے امکانات کو یقینی بناتا ہے کیونکہ ہدف کی مثال اس روشنی کی سی ہے جو کامیابی کی جانب جانے والے آپ کے راستے کو آپ کی سہولت اور آسانی کے لئے روشن کرتا ہے۔

M……Measurable ہدف ایسا ہو جسے پرکھا جاسکے۔

A …………….. Attainable ہدف قابلِ حصول ہونا چاہئیے۔

R …………….. Relevant   ہدف ایسا ہو جو آپ کی کامیابی کی تعریف سے مطابقت رکھتا ہو۔

T …………….. Time Boundہدف کے حصول کا وقت مقر ر ہو پھر بھلے وہ ایک دن ہو، ایک ہفتہ  ، ایک مہینہ ہو یا ایک سال۔

3۔ اپنے ہدف کو کاغذ پہ تحریر کریں

مطلوبہ ہدف کو کاغذ پہ تحریر کرنا اور گاہے بگاہے اس پر نظر ڈالتے رہنا آپ کو درست سمت میں رواں رکھتا ہے۔ دن کے آغاز کے ساتھ مطلوبہ اہداف کی فہرست مرتب کرنے اور دن کے اختتام کے ساتھ ان پر تنقیدی نگاہ ڈالنے سے آپ شعوری اور لاشعوری طور پر اپنی منزل کو پانے کے لئے متحرک رہتے ہیں۔ کاغذ پر تحریر کردہ ہدف کی تفصیلات کی مثال نقشے کی سی ہے جس طرح نقشہ آپ کو درپیش سفر کے لئے مدد فراہم کرتا ہے بالکل اسی طرح یہ مشق آپ کی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

4۔ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

تمام تیاری کے بعد اب باری آتی ہے عمل کرنے کی۔ ان تمام باتوں اور منصوبہ بندی کے مطابق عمل کیجیے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ تفریح کا پروگرام بنائیں۔ سب سے پہلے آپ کو جگہ کا تعین کرنا ہے کہ آخر آپ جانا کہاں چاہتے ہیں۔ یہ فیصلہ آپ اپنے وسائل، ضرورت اور حالات کے مطابق کریں گے۔ جگہ کے تعین کے بعد آپ زادِ راہ تیار کریں گے اس میں سفر میں پیش آنے والے متوقع حالات کے مطابق تیاری اور backup پلان بھی شامل ہیں۔ یہ سب کرنے کے بعد سفر آسان بھی ہوگا اور خوبصورت بھی۔

کھول یوں مٹھی کہ اک جگنو نہ نکلے ہاتھ سے

آنکھ کو ایسے جھپک ، لمحہ کوئی اوجھل نہ ہو

پہلی سیڑھی پہ قدم رکھ، آخری پہ آنکھ

منزلوں کی جستجو میں رائیگاں اک پل نہ ہو

The post ہدف کا تعین کیسے ہو؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3qDqmK1

بغیرہتھیاروں کے گلیڈی ایٹرزکیسے لڑتے

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم نے عروج سے زوال کا سفر بہت تیزی سے طے کیا ہے،2019میں ٹائٹل جیتنے کے بعد توقع تھی کہ وہ مزید ترقی ملے گی مگر اگلے برس6 ٹیموں میں پانچواں نمبر رہا، اب تو حد ہی ہو گئی اور آخری پوزیشن پر رہنا پڑا،10میں سے صرف 2 میچز ہی جیتے،اس کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو سب سے اہم متوازن کمبی نیشن نہ بن پانا نظر آتی ہے۔

اگرآپ اسکواڈ دیکھیں تومحسوس ہوگا کہ وہ دیگر ٹیموں کے مقابلے میں کمزور تھا، چند میچز کیلیے بڑے ناموں سے معاہدہ اور ایمرجنگ کیٹیگری میں بعض کرکٹرز کا انتخاب بھی غلط فیصلہ ثابت ہوا،پی ایس ایل4 کی فتح میں احمد شہزاد اورعمر اکمل کا نمایاں کردار رہا تھا، اب دونوں خود بھولی بسری داستان بن چکے، شین واٹسن ریٹائر ہو گئے،رلی روسو، سہیل تنویر اور فواد احمد ٹیم میں برقرار نہ رہ سکے، اس بار کرس گیل سے صرف 2 میچز کا معاہدہ ہوا، کہنے کو تو یہ بات ہو گئی کہ اتنا بڑا بیٹسمین ٹیم سے منسلک رہا لیکن اس کاکوئٹہ کو کیا فائدہ ہوا؟دونوں میچز میں شکست ہی ہوئی۔

گیل نے ایک ففٹی ضرور بنائی لیکن اگر وہ زیادہ میچز کیلیے آتے تو بات بنتی، ڈیل اسٹین اپنے کیریئر کا سنہری دور گذار چکے،انھوں نے صرف3 ہی میچز کھیلے اور کوئی تاثر نہ چھوڑ سکے،فاف ڈوپلیسی آئی ایل میں رنز کے ڈھیر لگاتے ہیں مگر پی ایس ایل میں ان کی بیٹنگ کو نجانے کیا ہوجاتا ہے،رسل بھی کامیاب نہ رہے،غیرملکی کرکٹرز میں دیگر انتخاب بھی کوئی اتنے اچھے نہیں تھے،پک آرڈر اور دستیاب کھلاڑیوں میں مناسب آپشنز کی کمی بھی مسئلہ بنی،اس کا ٹیم کو بیحد نقصان ہوا۔

گلیڈی ایٹرز کو لڑائی کیلیے ہتھیار ہی میسر نہ تھے، ماضی کی فتوحات میں کوچ معین خان اور کپتان سرفراز احمد کے مثالی تال میل کا اہم کردار رہا، معین نے سینئر وکٹ کیپر کوکیریئر میں ہمیشہ بہت سپورٹ کیا اور ہر مشکل میں ڈھال بن کر سامنے کھڑے نظر آئے، معاملہ تب خراب ہونا شروع ہوا جب انھوں نے اپنے بیٹے اعظم خان کو ٹیم میں انٹری دلائی،دونوں ہی وکٹ کیپرز ہیں،اعظم بہت محنت کر رہے ہیں۔

گوکہ انھوں نے کچھ وزن کم کیا مگر اب بھی انٹرنیشنل کرکٹر کے لحاظ سے وہ زائد الوزن ہی ہیں، اس وجہ سے فیلڈنگ میں مشکل ہوتی ہے، مگر سرفراز کی موجودگی میں وہ وکٹ کیپنگ بھی نہیں کر سکتے،کوچ نے مرضی کے برخلاف پہلے ہی میچ میں کپتان سے اوپننگ کرا دی اور وہ بڑی اننگز بھی نہ کھیل پائے،اس سے ظاہر ہوگیا کہ معاملات اتنے اچھے نہیں ہیں،بعد میں سرفراز نے ردھم پکڑا اور ایونٹ میں بہتر بیٹنگ کی۔

ٹورنامنٹ کے ٹاپ 10بیٹسمینوں میں 321 رنز کے ساتھ وہ چھٹے نمبر پر رہے، ٹیم کا کوئی دوسرا کھلاڑی200 رنز بھی نہیں بنا سکا، ٹاپ18میں کوئی دوسرا بیٹسمین موجود نہیں، اسی طرح نمایاں 14بولرز میں ڈھونڈنے سے بھی کوئی کوئٹہ کا کھلاڑی نہیں ملتا، سرفراز کو کھلاڑیوں سے اتنی سپورٹ نہ ملی جس کی وجہ سے کئی بار وہ اپنے نیچرل انداز سے نہیں کھیل پائے۔

اعظم خان کی بڑی ہائپ بنائی گئی مگر وہ 10 میچز میں 17 کی اوسط سے 174رنز ہی بنا سکے،ان کی میچ وننگ اننگز کے شائقین منتظر ہی رہے،اعظم کے ٹیلنٹ پر کسی کو شک نہیں مگر ایسے مواقع گنوانا نہیں چاہیئں، نوجوان صائم ایوب کو نام کمانے کا اس سے اچھا چانس کیا ملتا مگر وہ 7 میچز میں 16 کی اوسط سے 114 رنزہی بنا سکے۔

عثمان خان نے ملتان سلطانزکے خلاف اپنے پہلے میچ میں 81رنز کی عمدہ اننگز سے ٹیم کو فتح دلائی مگر پھر کچھ نہ کر سکے،پورے ٹورنامنٹ میں کوئٹہ کا کوئی بولر 10 وکٹیں بھی نہ لے سکا ایسی ٹیم کیسے میچ جیتتی؟ محمد نواز اور محمد حسنین قومی ٹیم میں بھی شامل ہیں مگر دونوں کی کارکردگی مایوس کن رہی،قومی ٹیسٹ اسکواڈ کے رکن زاہد محمود بھی کامیابی کو ترس گئے۔

کراچی میں صرف ایک فتح حاصل کرنے والی ٹیم سے ابوظبی میں بہتر کارکردگی کی توقع تھی مگرآب وہوا بدلنے سے بھی تقدیر نہ بدلی، واحد جیت عثمان شنواری اور خرم شہزاد کی بولنگ نے دلائی مگر اس میں بھی حریف لاہور قلندرز کی اپنی غلطیوں کا اہم کردار تھا، مسلسل 2 برس انتہائی غیرمعیاری کارکردگی ٹیم اونر ندیم عمر کیلیے بھی لمحہ فکریہ ہے، سرفراز بچپن سے ان کے ساتھ ہیں،معین خان سے بھی پرانی دوستی ہے،وہ شاید ہی انھیں تبدیل کریں مگر اب ان دونوں کا ساتھ چلناآسان نہیں لگتا۔

ایک آپشن یہ ہو سکتا ہے کہ اعظم خان کسی دوسری فرنچائز کو جوائن کر لیں اس سے نہ صرف ان پر والد کا پریشر کم ہوگا بلکہ کوچ اور کپتان کو بھی ورکنگ ریلیشن شپ بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ سرفراز کواپنی روایتی جارحیت میں بھی تھوڑی کمی لانا ہوگی۔

بعض اوقات ڈانٹ ڈپٹ کا کھلاڑی بْرا بھی مان جاتے ہیں جس کے بعد ان سے کام لینا آسان نہیں ہوتا، غصہ ضرور کریں مگر ایک حد بنا لیں، دیگر کپتان بھی تو اپنے اوپر کنٹرول رکھتے ہیں سرفراز کو بھی ایسا کرنا ہوگا،اگلے ایڈیشن کیلیے متوازن اسکواڈ کی تشکیل بھی بیحد ضروری ہے، کوئی کھلاڑی برسوں سے آپ کے ساتھ ہے تو ضروری نہیں کہ ہمیشہ رہے گا، اگر اب ماضی جیسا کارآمد نہیں تو اسے تبدیل کر لیں، غیرملکی کرکٹرز کے انتخاب میں نام نہیں زیادہ میچز کیلیے دستیابی اور کارکردگی دیکھیں۔

ماضی میں کئی اچھے کھلاڑی اسکواڈ کا حصہ بنے مگر کوئٹہ نے انھیں بعد میں خود ہی ریلیز کر دیا، آئندہ ڈرافٹ میں کسے برقرار رکھنا اور کسے ریلیز کرنا ہے یہ فیصلہ بھی بیحد سوچ سمجھ کر کریں،بطور ایمرجنگ کرکٹر کسی بیٹسمین کو لینا زیادہ اچھا نہیں رہتا، بولر کو لیں گے تو فائدہ ہوگا جیسے ملتان سلطانز کے شاہنواز دھانی ایونٹ کے بہترین بولر بن گئے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی فرنچائز شائقین میں بیحد مقبول ہے، ندیم عمر، معین خان، سرفراز احمد اورمنیجر اعظم خان نے اسے کامیاب بھی بنایا مگر بدقسمتی سے اب کارکردگی کا معیار بہتر نہ رہا،ہر ٹیم پر بْرا وقت آتا ہے مگر اس سے باہر نکلنا درست فیصلوں سے ہی ممکن ہوتا ہے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے بھی جو غلطیاں کیں انھیں نہ دہرایا تو آئندہ سال پھر ٹیم فتوحات کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے، امید ہے ایسا ہی ہوگا، نہ صرف فرنچائز بلکہ پی ایس ایل کیلیے بھی یہ بیحد ضروری ہے تاکہ شائقین کو مقابلوں سے بھرپور کرکٹ دیکھنے کو مل سکے۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پرمجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

The post بغیرہتھیاروں کے گلیڈی ایٹرزکیسے لڑتے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3hiU3Mi

پی ایس ایل، فرنچائزز کی خالی تجوریاں بھرنے کے اقدامات شروع

 کراچی: پی ایس ایل فرنچائززکی خالی تجوریاں بھرنے کے اقدامات شروع ہوگئے جب کہ نئے فنانشل ماڈل کے معاملات تیزی سے آگے بڑھنے لگے۔

پی سی بی اور پی ایس ایل فرنچائزز میں مالی معاملات پر کافی عرصے سے اختلافات چل رہے ہیں، معاملہ جب گذشتہ برس عدالت پہنچا تو سب کو سنگینی کا اندازہ ہوا، بعد میں مسائل حل کرنے کی سنجیدہ کوششوں کا آغاز ہوا،ٹیم مالکان کا موقف ہے کہ لیگ کے آغاز سے ہی وہ مالی نقصانات کا شکار ہیں،فنانشل ماڈل کو ہر حال میں ٹھیک کرنا چاہیے،پس پردہ بورڈ حکام بھی ان کے موقف سے متفق نظر آتے ہیں۔

وہ تبدیلی پر آمادہ مگر ساتھ یہ خدشات بھی ستا رہے ہیں کہ اگر مستقبل میں حکومت یا بورڈ کی تبدیلی ہوئی توکہیں انھیں نیب اور ایف آئی اے کے سامنے اس حوالے سے پیشیاں نہ بھگتنی پڑ جائیں، نئے ماڈل کو قانونی تحفظ دینے کیلیے مختلف اقدامات ہو رہے ہیں۔

بورڈ ذرائع کے مطابق انگلینڈ روانگی سے قبل گذشتہ دنوں چیئرمین احسان مانی نے وزیر اعظم عمران خان کو بھی فرنچائزز کے تحفظات سے آگاہ کیا تھا، انھوں نے  ریلیف دینے کی صورت میں ممکنہ مسائل کا تذکرہ کیا۔

سرپرست اعلیٰ  نے ’’جوڈیشل ریویو‘‘ کی تجویز دی جس پر پی سی بی نے سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی خدمات حاصل کر لی ہیں،اس سے قبل ایک بزنس مینجمنٹ کنسلٹنٹ کمپنی ای وائی فورڈ رہوڈز سے معاہدہ کیا گیا جس نے تمام فرنچائزز سے اکاؤنٹس کی تفصیلات حاصل کیں،اس کی رپورٹ ریٹائرڈ جج کو دی جائیں گی جو حتمی تجاویز پیش کریں گے،پھر بورڈ فرنچائزز کو فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے اتفاق کی صورت میں نئے فنانشل ماڈل کو لاگو کر دے گا۔

گذشتہ عرصے تشکیل کردہ تیسرے مجوزہ ماڈل کے مطابق فیس کیلیے 31 دسمبر 2020کا ڈالر ریٹ آئندہ 14برس کیلیے فکسڈ کرنے، اخراجات نکال کرسینٹرل انکم پول میں 7 ارب روپے جمع ہونے یا پی ایس ایل 20 میں سے جو بھی پہلے ہو فیس لینے کا طریقہ کار برقرار رکھنے، اس دوران تمام معاہدوں میں سے92.5 فیصد حصہ فرنچائزز اور باقی7.5 بورڈ کو دینے کا ذکر ہے، اس کے بعد آئندہ 30 برس تک فیس نہیں لی جائے گی مگر تمام معاہدوں میں سے70 فیصد حصہ پی سی بی اور باقی 30 فیصد فرنچائزز کا ہوگا۔

ٹیم اونرز نے چند ماہ قبل ڈالر ریٹ کو پھر فکسڈ کرنے کے حوالے سے بورڈ کو ای میل بھیجی ہے،155 کا نرخ اگلے چند برس کیلیے مختص کرنے کی تجویز دی گئی،اس میں 5 فیصد اضافہ یا کمی ہی ہو سکے گی، ابھی تک انھیں اس کا کوئی  جواب نہیں ملا۔

رابطے پر ایک ٹیم اونر نے کہا کہ پی سی بی ہمارے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہے، خاص طور پر چیئرمین احسان مانی کا رویہ بڑا مثبت نظر آتا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ بورڈ اور فرنچائززکے تعلقات مثالی ہوں،اس کے لیے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں،اگر مالی معاملات ایک بار طے ہو گئے تو پی ایس ایل مزید ترقی کرے گی۔

The post پی ایس ایل، فرنچائزز کی خالی تجوریاں بھرنے کے اقدامات شروع appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3hreBlK

ڈربی میں موجود پاکستانی کرکٹرز کی مشقوں میں تیزی آگئی

 لاہور: ڈربی میں موجود پاکستانی کرکٹرز کی مشقوں میں تیزی آگئی۔

پہلے روز بارش کی وجہ سے انڈور پریکٹس تک محدود رہنے والے کھلاڑیوں نے منگل کو میدان کا رخ کرتے ہوئے ہاتھ کھولے تھے، بدھ کو بھی مشقوں کا سلسلہ 4 گھنٹے تک جاری رہا۔

کرکٹرز نے وارم اپ سے آغاز کرنے کے بعد جسمانی استعداد بہتر بنانے کیلیے مختلف ڈرلز کیں، فیلڈنگ سیشن کے دوران باؤنڈری کے قریب کیچز اور وکٹوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا،نیٹ میں پہلے ٹاپ آرڈر بیٹسمینوں نے نئی گیند کا سامنا کیا، اس کے بعد مڈل آرڈر اور ٹیل اینڈرز نے بھی صلاحیتوں کو نکھارا۔

ہیڈ کوچ مصباح الحق نے انگلش کنڈیشنز میں بہتر کارکردگی کے نسخے بتائے، پیسرز بڑے پْرجوش انداز میں بولنگ کرتے نظر آئے، شاہین شاہ آفریدی اور حسن علی نوجوان پیسرز کی رہنمائی بھی کرتے رہے، اسپنرز نے لائن و لینتھ بہتر بنانے پرکام کیا۔

The post ڈربی میں موجود پاکستانی کرکٹرز کی مشقوں میں تیزی آگئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3jxd00k

اسلام آباد میں ملک کا سب سے بڑا اسٹیڈیم بنے گا

 اسلام آباد:  اسلام آباد میں ملک کا سب سے بڑا کرکٹ اسٹیڈیم بنایا جائے گا جب کہ اسٹیٹ آف دی آرٹ منصوبے کی تکمیل کیلیے پیش رفت کا آغاز ہوگیا۔

وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر اسلام آبا د میں ملک کا سب سے بڑا کرکٹ اسٹیڈیم تعمیر ہوگا، اسٹیٹ آف دی آرٹ منصوبے میں پی سی بی کے زیر اہتمام ہائی پرفارمنس سینٹر قائم ہوگا، ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل میچز کی میزبانی بھی کی جائے گی۔

بورڈ کے سربراہ احسان مانی اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین عامر علی احمد میں اسٹیڈیم کی تعمیر کے حوالے سے معاملات طے پا گئے ہیں، سی ڈی اے کے ڈائریکٹر لینڈ، پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ نے اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں ممکنہ طور پر دستیاب اراضی کا سروے مکمل کرلیا، آئندہ ماہ وزیر اعظم کو رپورٹ پیش کی جائے گی، منظوری کے بعد منصوبہ پبلک، پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کیا جائے گا۔

پی سی بی نیشنل ہائی پرفارمنس کے ڈائریکٹر ندیم خان کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ آف دی آرٹ اسٹیڈیم کی تعمیر سے ملک میں کرکٹ کو فروغ حاصل ہوگا، یہ جنوبی ایشا کا جدید ترین سہولیات سے آراستہ وینیو بنے گا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں نمائندہ ’’ایکسپریس‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ منصوبے کے حوالے سے تیزی سے کام جاری ہے، سنگ بنیاد وزیر اعظم رکھیں گے، چیئرمین پی سی بی کی ہدایت پر بورڈ عہدیدار سی ڈی اے حکام سے رابطے میں ہیں، رواں برس فیصل آباد اور پشاور میں بھی ہائی پرفارمنس سینٹرزقائم کیے جائیں گے۔

The post اسلام آباد میں ملک کا سب سے بڑا اسٹیڈیم بنے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2UdLdHY

دورہ انگلینڈ؛ صہیب مقصود بے خوف کرکٹ کھیلنے کیلیے پرُعزم

 لاہور:  صہیب مقصود نے قومی ٹیم میں کم بیک یادگار بنانے کیلیے بے خوف کرکٹ کھیلنے کا عزم کر لیا۔

صہیب مقصود نے پی ایس ایل میں شاندار کارکردگی کی بدولت قومی ٹیم میں جگہ بنائی، گزشتہ روز ورچوئل پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ ابوظبی کی سخت گرمی میں کھیلنے کے بعد اب ہم انگلینڈ کی کنڈیشنز سے مطابقت لانے کی کوشش کررہے ہیں،ہمیں یہاں جتنے بھی دن میسر ہیں ان میں اچھی پریکٹس کرکے بہترین پرفارمنس کی کوشش کریں گے، میں اپنے کم بیک کو یادگار بنانے کے لیے کسی ناکامی کا خوف دل سے نکال کر میدان میں اتروں گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ میری ساڑھے 5 سال بعد ٹیم میں واپسی ہوئی، کوشش ہوگی کہ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی جگہ پکی کرلوں، پی ایس ایل میں اچھی کارکردگی کے بعد میرے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، ٹیم کی ضرورت کے مطابق کسی بھی پوزیشن پر کھیلنے کے لیے تیار ہوں، ڈومیسٹک کرکٹ اور پی ایس ایل میں بے خوف ہوکر کھیلا، اسی سوچ کے ساتھ بغیر کوئی دباؤ لیے پاکستان کی نمائندگی کرؤں گا، نیچرل انداز میں کھیل کر ناکام بھی ہوا تو کوئی دکھ ہوگا نہ ہی کرکٹ کا سفر ختم ہونے کا خدشہ ہے۔

صہیب مقصود نے کہا کہ میں انگلش کنڈیشنز سے واقف اور یہاں لیگ کرکٹ کھیل چکا ہوں، اینڈی فلاور ایک زبردست کوچ ہیں، انھوں نے تمام کھلاڑیوں کے ساتھ اپنا تجربہ شیئر کیا،ان کی ہدایات اور مشوروں سے مجھے بھی پرفارمنس میں بہتری لانے کاموقع ملا، کوشش ہوگی کہ پاکستان کی جانب سے کھیلتے ہوئے اسی فارم کو برقرار رکھتے ہوئے توقعات پر پورا اتروں۔

The post دورہ انگلینڈ؛ صہیب مقصود بے خوف کرکٹ کھیلنے کیلیے پرُعزم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3h9DRhK

فرانس کا یورو کپ سے اخراج،فٹبالرز کی فیملیز آپس میں الجھ پڑیں

 لاہور:  فرانس کے یورو کپ سے اخراج کے بعد فٹبالرز کی فیملیز آپس میں الجھ پڑیں۔

سوئٹزرلینڈ کیخلاف بخارسٹ میں کھیلے جانے والے میچ کے دوران ہی ایڈرائن کی والدہ ویرونیکا ریبوئیٹ اور ساتھ موجود رشتہ داروں نے پوگبا کی فیملی سے جھگڑا شروع کردیااور جلی کٹی سنائیں۔

میچ ختم ہونے کی وسل بجتے ہی ویرونیکا نے اپنی توپوں کا رخ میباپے کے والد کی طرف کرتے ہوئے کہا کہ اپنے بیٹے کو سمجھاؤ، اس میں بڑا غرور ہے مگر بڑے مواقع پر تو ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

تلخی کی یہ صورتحال نہ صرف اسٹینڈز میں نظر آئی بلکہ پلیئرز آپس میں بھی ایک دوسرے پر ملبہ ڈالنے کی کوشش کرتے رہے،ان کی آپس میں چپقلش بھی جاری تھی، ساتھی کھلاڑی میباپے کے رویے سے خوش نہیں تھے، ہوٹل میں سہولیات اور فیملیز سے ملاقات کا موقع نہ ملنے کے حوالے سے بھی کھلاڑی شکوے کرتے نظر آتے تھے۔

The post فرانس کا یورو کپ سے اخراج،فٹبالرز کی فیملیز آپس میں الجھ پڑیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Uhv9F6

ومبلڈن ٹینس، انجرڈ سرینا ولیمزنمناک آنکھوں کے ساتھ رخصت

 لندن: ومبلڈن ٹینس میں سرینا ولیمز نمناک آنکھوں سے رخصت ہوگئیں۔

سرینا ولیمز کو انجرڈ ہونے پرپہلے راؤنڈ میں الیکسینڈرا سیسانوچ کیخلاف میچ ادھورا چھوڑنا پڑگیا، وہ ریکارڈ برابر کرنے کے لیے 24 ویں گرینڈ سلم ٹرافی کی راہ 2017 سے دیکھ رہی ہیں لیکن ومبلڈن میں بھی اس بار یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوپایا۔

سرینا نے پانچویں گیم میں اپنی ٹانگ پر پٹیاں باندھ کر میچ جاری رکھنے کی ناکام کوشش کی لیکن ساتویں گیم میں وہ ایک بار پھر گرپڑیں اور آخرکار ریٹائر ہونا پڑگیا۔

اس موقع پر ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے تھے، سینٹر کورٹ سے واپسی پر شائقین نے نشستوں سے اٹھ کر انھیں خراج تحسین پیش کیا، ویمنز سنگلز کے دیگر میچز میں آلیز کورنیٹ نے 5 سیڈ بیانکا اینڈریسکو کیخلاف کامیابی سمیٹ لی، وکٹوریا آذرنیکا نے کیٹرینا کوزولووا کو واپسی کا راستہ دکھادیا۔

مینز سنگلز میں ٹاپ سیڈ نووک جوکووک نے کیون اینڈرسن کو مات دے کر تیسرے راؤنڈ میں قدم رکھ دیے،نک کریگوئس نے یوگو ہمبرٹ کو مات دی۔

The post ومبلڈن ٹینس، انجرڈ سرینا ولیمزنمناک آنکھوں کے ساتھ رخصت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3qBwd2J

ہڈیوں کے عارضے میں مبتلا بچی کی وزیرِاعظم عمران خان سے مدد کی اپیل

 کراچی:  تباہ حال غزہ سے تعلق رکھنے والے شہری یوسف حسن نے پاکستانی وزیرِ اعظم اور دیگر شخصیات سے اپیل کی ہے کہ ان کی بیٹی ولاء یوسف کے پاکستان میں علاج میں مدد کی جائے۔

یوسف حسن نے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا ہے کہ ان کی بیٹی ہڈیوں کے ایک تکلیف دہ لیکن قابلِ علاج عارضے ’ملٹی پل آرتھروگرائپوسِس‘ کی شکار ہیں۔ اس میں ہڈیوں کی نشوونما رک جاتی ہے اور ہڈیاں مڑنے لگتی ہیں۔ اسی بنا پر ننھی ولاء سخت تکلیف میں ہے۔ وہ اٹھنے، بیٹھنے اور چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہے۔ یہ مرض پیدائشی طور پر ہی حملہ آور ہوتا ہے۔ اس میں کئی آپریشن سے ہڈیوں کے جوڑوں کو درست کیا جاتا ہے۔ مریض کو مختلف فزیوتھراپی سے گزارا جاتا ہے اور علاج سے خاصی حد تک افاقہ ہوجاتا ہے۔

اسی لیے پوری امید کے ساتھ ولاء یوسف کےوالد نے اپنی 15 سالہ بیٹی کے لیے وزیرِ اعظم عمران خان سے مدد کی اپیل کی ہے۔ ولاء یوسف کے والد انتہائی کسمپرسی کے شکار ہیں۔ اول ناکافی وسائل اور دوم جدید طبی سہولیات نہ ہونے کی بنا پر وہ اپنی بیٹی کا فلسطین میں علاج کرانے سے قاصر ہیں۔

 

فلسطین میں ایک جانب تو سادہ انفراسٹرکچر بھی تباہ ہوچکا ہے اور دوم صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہزاروں معصوم فلسطینی بچے کینسر کے شکار ہیں اور ادویہ اور مہنگے علاج سے قاصر ہیں۔ دوسری جانب قابض اسرائیلی افواج نے 14 برس سے غزہ کا محاصرہ کررکھا ہے جس کی بدولت دوا تو درکنار، اشیائے خوردونوش کا کال پڑچکا ہے۔

حال ہی میں ماہِ رمضان میں فلسطین پر وحشیانہ بمباری کی گئی ہے جس سے رہے سہے مکانات اور کاروباری مراکز مٹی کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ اس سے قبل 2017 میں فلسطین پر ہولناک بمباری کی گئی تھی جس  سے 50 فیصد رہائشی مکانات تباہ ہوگئے تھے۔

مظلوم فلسطینی پیچیدہ امراض کے علاج کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں اور بہت مشکل سے مصر تک ہی پہنچ پاتےہیں۔

The post ہڈیوں کے عارضے میں مبتلا بچی کی وزیرِاعظم عمران خان سے مدد کی اپیل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3dsPi1K

ہڈیوں کے عارضے میں مبتلا بچی کی وزیرِاعظم عمران خان سے مدد کی اپیل

 کراچی:  تباہ حال غزہ سے تعلق رکھنے والے شہری یوسف حسن نے پاکستانی وزیرِ اعظم اور دیگر شخصیات سے اپیل کی ہے کہ ان کی بیٹی ولاء یوسف کے پاکستان میں علاج میں مدد کی جائے۔

یوسف حسن نے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا ہے کہ ان کی بیٹی ہڈیوں کے ایک تکلیف دہ لیکن قابلِ علاج عارضے ’ملٹی پل آرتھروگرائپوسِس‘ کی شکار ہیں۔ اس میں ہڈیوں کی نشوونما رک جاتی ہے اور ہڈیاں مڑنے لگتی ہیں۔ اسی بنا پر ننھی ولاء سخت تکلیف میں ہے۔ وہ اٹھنے، بیٹھنے اور چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہے۔ یہ مرض پیدائشی طور پر ہی حملہ آور ہوتا ہے۔ اس میں کئی آپریشن سے ہڈیوں کے جوڑوں کو درست کیا جاتا ہے۔ مریض کو مختلف فزیوتھراپی سے گزارا جاتا ہے اور علاج سے خاصی حد تک افاقہ ہوجاتا ہے۔

اسی لیے پوری امید کے ساتھ ولاء یوسف کےوالد نے اپنی 15 سالہ بیٹی کے لیے وزیرِ اعظم عمران خان سے مدد کی اپیل کی ہے۔ ولاء یوسف کے والد انتہائی کسمپرسی کے شکار ہیں۔ اول ناکافی وسائل اور دوم جدید طبی سہولیات نہ ہونے کی بنا پر وہ اپنی بیٹی کا فلسطین میں علاج کرانے سے قاصر ہیں۔

 

فلسطین میں ایک جانب تو سادہ انفراسٹرکچر بھی تباہ ہوچکا ہے اور دوم صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہزاروں معصوم فلسطینی بچے کینسر کے شکار ہیں اور ادویہ اور مہنگے علاج سے قاصر ہیں۔ دوسری جانب قابض اسرائیلی افواج نے 14 برس سے غزہ کا محاصرہ کررکھا ہے جس کی بدولت دوا تو درکنار، اشیائے خوردونوش کا کال پڑچکا ہے۔

حال ہی میں ماہِ رمضان میں فلسطین پر وحشیانہ بمباری کی گئی ہے جس سے رہے سہے مکانات اور کاروباری مراکز مٹی کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ اس سے قبل 2017 میں فلسطین پر ہولناک بمباری کی گئی تھی جس  سے 50 فیصد رہائشی مکانات تباہ ہوگئے تھے۔

مظلوم فلسطینی پیچیدہ امراض کے علاج کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں اور بہت مشکل سے مصر تک ہی پہنچ پاتےہیں۔

The post ہڈیوں کے عارضے میں مبتلا بچی کی وزیرِاعظم عمران خان سے مدد کی اپیل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3dsPi1K

آج کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

بے شک اس وقت آپ ایک مضبوط پوزیشن اختیار کیے ہوئے ہیں لیکن اپنے اردگرد نظر رکھیں تاکہ کوئی آپ کے خلاف سازش نہ کر سکے۔

ثور:
22 اپریل تا 20 مئی

کھانسی، نزلہ و زکام کی بدولت آج آپ کی طبیعت ناساز ہو سکتی ہے لہٰذا محتاط رہیں مزاج کی تلخی کو بھی کم کر دیں تو زیادہ بہتر ہے۔

جوزا:
21 مئی تا 21جون

اپنے خیالات پر کنٹرول کیجئے کامیابی آپ کے ہمراہ چلے گی لیکن شرط یہ ہے کہ آپ ہمت نہ ہاریں بسلسلہ جائیداد مایوسی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

آپ کا مخالف میدان سے بھاگتا نظر آرہا ہے جیت آپ کی ہوگی اور یقینا ہو سکتی ہے اس کامیابی کے نشے میں آپ اپنے اچھے ساتھیوں کو ہرگز نہ بھولیں۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

محبت کے حالات قدرے بہتر ثابت ہو سکتے ہیں اس نئے کاروبار کو ہرگز نہ بھولیں جو آپ نے دوسروں کے بھروسے شروع کیا تھا لہٰذا شریک کاروبار پر بھی نظر رکھیں۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

چونکہ آپ وفادار ہیں اس لیے دوسروں سے بھی وفا کی ہی توقع رکھتے ہیں جبکہ ایسا ہوتا نہیں لہٰذا ہر ایک پر اعتماد کرنے والی عادت کو ختم کر دیجئے۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

کاروبار آپ کا کوئی بھی ہے ان دنوں آپ کو غیر معمولی ذہانت سے کام لینا ہو گا اور بلاشبہ آپ ایک با صلاحیت انسان ہیں۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

چند رشتہ دار آپ کو آپ کے شریک حیات کے بارے میں بہکا سکتے ہیں بہتر ہے ان کی باتوں میں نہ آیئے ورنہ آپ کے گھر کا رہا سہا سکون بھی برباد ہو جائے گا۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

اگر آپ نے غلطیاں نہ کیں اور اپنی صلاحیتوں کو حقیقی معنوں میں بروئے کار لے آئے تو پھر یقین کیجئے کہ آپ کے قدموں میں لا تعداد کامیابیاں ڈھیر ہو سکتی ہے۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

بسلسلہ شادی اپنے والدین کے فیصلے کو بہتر کر لینا آپ کے حق میں بہتر ثابت ہو سکتا ہے غیر شادی شدہ افراد عشق و محبت کے ڈراموں کو حقیقی کردار بنانے کی غلطی نہ کریں۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

صدقہ خیرات کرتے رہنا آپ کے لیے کافی بہتر ہے آج کل حالات بالکل بھی آپ کیلئے سازبار نہ ہیں اچھے بھلے دوست بھی مخالفت پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

بسلسلہ تعلیم توجہ کی ضرورت ہے مفت کی دولت ملنے کا امکان ہے سیاسی و سماجی کارکن آج کے دن اپنی سرگرمیوں کو محدود ہی رکھیں تو بہتر ہے۔

The post آج کا دن کیسا رہے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3qbNSxv

ایل پی جی کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ

 کراچی: اوگرا نے ایل پی جی کی قیمت میں ایک بار پھر 19 روپے فی کلو اضافہ کر دیا ہے

اوگرا نے ایل پی جی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔  اضافے کے بعد ایل پی جی کے گھریلو سلنڈر کی قیمت224 روپے اور کمرشل سلنڈر کی قیمت میں 863 روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔

اس بارے میں ایل پی جی انڈسٹریز ایسوسی کے چیئرمین عرفان کھوکھر کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی قیمت میں رواں ماہ  چوتھی بار اضافہ کیا گیا ہے۔ وسم گرما کے دوران پہلی بار ایل پی جی کی قیمت میں اتنا خطیر اضافہ اضافہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 60 فیصد ایل پی جی کی درآمد بہت ضروری ہے، درآمدی ایل پی جی پر ٹیکس ختم کیا جائے تاکہ عوام کو سستی ایل پی جی ملے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ زمینی راستے سے ایل پی جی پر ٹیکس عائد ہونے کی وجہ سے اسے درآمد نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے او جی ڈی سی ایل سمیت دیگر اداروں نے قیمت میں اضافہ کردیا۔

انہوں نے بتایا کہ جام شورو جوائنٹ وینچر ایک سال سے بند ہے، جس کی وجہ سے اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ ہم نے ایل پی جی پر ٹیکس کے خاتمےکے لیے حکومت کو31 جولائی تک کی مہلت دے دی ہے اور اگر ٹیکس ختم نہیں ہوا توپھر ہم ملک گیر ہڑتال کریں گے ۔

The post ایل پی جی کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3AeMBdN

پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی پاک فوج کا طرہ امتیاز ہے، آرمی چیف

 راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی پاک فوج کا طرہ امتیاز ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس کے شرکاء سے خطاب کیا۔ اسٹریٹیجک اور بدلتی علاقائی صورتحال پر تفصیلی اظہار خیال کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان ہر سطح پر امن کیلیے کوشاں ہے، پاکستان خطوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔

آرمی چیف نے کہا کہ افغان مفاہمتی عمل میں پاکستان نے سنجیدہ کردار ادا کیا، افغانستان میں امن کے دشمن خطے میں عدم استحکام چاہتے ہیں، کشمیر کے مسئلے کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فوری پرامن اور دیرپا حل ہونا چاہیے، مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کی جدوجہد کی حمائیت کرتے ہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ موجودہ ڈاکٹرائن کو بہتر سے بہتر بنانے کیلیے کوشاں ہیں، مختلف نوعیت کے خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کیلئے پرعزم ہیں، پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی پاک فوج کا طرہ امتیاز ہے۔

آرمی چیف نے تربیتی اور آپریشنل تیاریوں کو مزید نکھارنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ماڈرنائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، بہترین تربیت یافتہ اور متحرک فوج کسی بھی چیلنج سے نمٹ سکتی ہے۔ آرمی چیف نے واضح کیا کہ مسلح افواج اور قوم کے اعتماد کے بندھن کو توڑنے کے خواہشمند ناکام ہوں گے۔

آرمی چیف نے کورس مکمل کرنے والوں کو مبارکباد دی اور افسران کو بہترین مہارتیں اور صلاحیتیں بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔ قبل ازیں این ڈی یو پہنچنے پر صدر این ڈی یو لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔

The post پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی پاک فوج کا طرہ امتیاز ہے، آرمی چیف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2UU12DX

پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی پاک فوج کا طرہ امتیاز ہے، آرمی چیف

 راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی پاک فوج کا طرہ امتیاز ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس کے شرکاء سے خطاب کیا۔ اسٹریٹیجک اور بدلتی علاقائی صورتحال پر تفصیلی اظہار خیال کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان ہر سطح پر امن کیلیے کوشاں ہے، پاکستان خطوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔

آرمی چیف نے کہا کہ افغان مفاہمتی عمل میں پاکستان نے سنجیدہ کردار ادا کیا، افغانستان میں امن کے دشمن خطے میں عدم استحکام چاہتے ہیں، کشمیر کے مسئلے کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فوری پرامن اور دیرپا حل ہونا چاہیے، مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کی جدوجہد کی حمائیت کرتے ہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ موجودہ ڈاکٹرائن کو بہتر سے بہتر بنانے کیلیے کوشاں ہیں، مختلف نوعیت کے خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کیلئے پرعزم ہیں، پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی پاک فوج کا طرہ امتیاز ہے۔

آرمی چیف نے تربیتی اور آپریشنل تیاریوں کو مزید نکھارنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ماڈرنائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، بہترین تربیت یافتہ اور متحرک فوج کسی بھی چیلنج سے نمٹ سکتی ہے۔ آرمی چیف نے واضح کیا کہ مسلح افواج اور قوم کے اعتماد کے بندھن کو توڑنے کے خواہشمند ناکام ہوں گے۔

آرمی چیف نے کورس مکمل کرنے والوں کو مبارکباد دی اور افسران کو بہترین مہارتیں اور صلاحیتیں بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔ قبل ازیں این ڈی یو پہنچنے پر صدر این ڈی یو لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔

The post پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی پاک فوج کا طرہ امتیاز ہے، آرمی چیف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2UU12DX

Tuesday, 29 June 2021

زرعی پیکج کا صرف اعلان ہی کافی نہیں، عملدرآمد بھی ضروری ہے

 لاہور:  وزیر اعظم عمران خان اپنے اقتدار کی نصف سے زیادہ مدت گذر جانے کے بعد آخری دو برس میں کچھ ایسا کرنا چاہتے ہیں کہ پہلے کے تین برس کی ناکامیوں اور خامیوں کا ازالہ بھی ہو جائے اور ہر طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے ووٹرزبھی راضی ہو جائیں۔

تین برس تک تو معیشت شدید دباو میں رہی ہے، ابتداء میں حکومت نے غلط فیصلے کئے اور پھر کورونا وائرس کی تباہ کاریوں نے مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ حکومت کے تیسرے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا دعوی ہے کہ اس مرتبہ جو بجٹ تیار کیا گیا ہے وہ ہر لحاظ سے منفرد ہے ،ملکی تاریخ میں پہلی بار عام آدمی کو ریلیف دینے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے ،حکومت کے تمام دعوے اپنی جگہ لیکن زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے۔

معاشی ماہرین کے تجزیوں میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وفاقی بجٹ میں پوشیدہ ٹیکسز سے مہنگائی کی نئی لہر آسکتی ہے بالخصوص آئندہ کچھ عرصہ میں حکومت جب عالمی اداروں کے دباو پر پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرے گی تب ’’منی بجٹ‘‘ آئے گاجس کا نمایاں اثر فوڈ آئٹمزکی قیمتوں پر آ سکتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے ارکان پارلیمنٹ کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود کھانے پینے کی اشیاء مثلا گندم اور دالیں امپورٹ کرنا پڑ رہی ہیں، حکومت زرعی شعبے کی ترقی کیلئے پیکج لیکر آ رہی ہے، کمزور طبقے کو سبسڈی دیں گے جبکہ کسانوں کو منڈیوں اور صارفین کے ساتھ براہ راست جوڑا جائے گا۔

وزیر اعظم شاید بھول رہے ہیں کہ ان کی ہی حکومت نے 2019 ء میں 309 ارب روپے مالیت کا ’’وزیر اعظم زرعی ایمرجنسی پروگرام‘‘ شروع کیا تھا جسے ان کے ’’سابق‘‘ دوست جہانگیر ترین نے تیار کیا تھا ،یہ پروگرام اپنی ترجیحات اور حکمت عملی کے لحاظ سے ایک جامع اور فائدہ مند پروگرام تھا لیکن جس تیزی سے عمران خان اور جہانگیر ترین کے درمیان فاصلے بڑھتے گئے ویسے ہی اس پروگرام پر عملدرآمد کی رفتار سست ہوتی چلی گئی اور عملی طور پر اس پروگرام پر کام رک چکا ہے ۔

وزیر اعظم جس نئے زرعی  پیکج کی ’’نوید‘‘ سنا رہے ہیں اس کے مرکزی تخلیق کار وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی سید فخر امام اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی جمشید اقبال چیمہ ہیں۔ سید فخر امام بذات خود ایک بڑے کاشتکار ہیں جبکہ جمشید چیمہ ایک مضبوط زرعی پس منظر سے منسلک ہیں، ان کا ذاتی بزنس بھی زرعی ادویات اور بیجوں سے متعلق ہے ،اپنے کاروبار کی وجہ سے انہیں مختلف ممالک بالخصوص چین میں ہونے والی زرعی ٹیکنالوجی پیش رفت سے بخوبی آگاہی ہے، وہ کسان کے بنیادی مسائل کی وجوہات سے واقف ہیں لیکن یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ سب خوبیاں اور مہارت تو جہانگیر ترین کے پاس بھی موجود تھی اور جمشید چیمہ سے کہیں زیادہ انہیں زراعت پر عبور حاصل ہے تو پھر ان کا زرعی پیکج کیوں ترک کیا گیا۔ ارباب اقتدار کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ منصوبہ سازی میں نہیں بلکہ عملدرآمد کا نہ ہوناہے ۔

جتنا بھی اچھا پروگرام ہو جب تک اس پر درست انداز میں عملدرآمد نہیں ہوگا، وہ ناکام ہی رہے گا۔ اب آخری دو برسوں میں جب کہ سیاسی دباو بڑھ رہا ہے اور عوام حکومت سے بہت ناراض دکھائی دیتے ہیں تو ایسے میں ایک نئے زرعی پیکج پر کامیابی اور تیزی سے عمل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اس مرتبہ ملک میں گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود حکومت 40 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر چکی ہے اور سب سے زیادہ تشویش اس بارے میں ہے کہ گزشتہ برس کی مانند اس مرتبہ بھی ملک میں گندم آٹا کی قیمتوں کا بحران آ سکتا ہے۔

وزیر اعظم یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ کمزور طبقہ کو براہ راست سبسڈی دینا چاہتے ہیں ،اس حوالے سے ان کی مشیر ڈاکٹر ثانیہ نشتر کام کر رہی ہیں۔وزیر اعظم اور ان کی حکومت کے بہت سے لوگ آٹا چینی وغیرہ پر ہر خاص وعام کو سبسڈی دینے کی بجائے ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کے حق میں ہیں لیکن اراکین اسمبلی، وزراء اور پارٹی رہنماؤں کی اکثریت موجودہ سیاسی صورتحال اور الیکشن کا وقت نزدیک آنے کی وجہ سے یہ رائے دے رہے ہیں کہ فی الوقت ٹارگٹڈ سبسڈی پروگرام ملتوی کردیا جائے اور آئندہ لیکشن جیتنے کے بعد اس پر کام شروع ہونا چاہئے۔

حکومت کی بوکھلاہٹ کا یہ عالم ہے کہ وفاقی فنانس بل جب اسمبلی میں پیش کیا گیا تو اس میں فلورملز پر ٹرن اوور کی کم ازکم شرح کو ختم کردیا گیا جبکہ چوکر پر سیلز ٹیکس میں اضافہ کردیا گیا۔ ٹیکسز کے اس اضافہ سے عام آدمی کو بیس کلو آٹا تھیلا خریدتے وقت مزید 100 روپے دینا پڑنے تھے، پاکستان فلورملز ایسوسی ایشن کی قیادت نے معاملے کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے پوری طاقت کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا، اس معاملے میں فلورملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عاصم رضا، لیاقت علی خان، حافظ احمد قادر، میاں ریاض، حاجی یوسف، نعیم بٹ، بدرالدین کاکڑ نے لیڈنگ رول ادا کیا جبکہ حکومتی سائیڈ سے وفاقی سیکرٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی غفران میمن نے بحران کے خاتمہ میں نمایاں کردار نبھایا ،غفران میمن نے فلورملز ایسوسی ایشن کے ساتھ بھی رابطہ کیا اور انہوں نے ایف بی آر حکام کے ساتھ بھی بات کی۔

فلورملز کی دو روزہ علامتی ہڑتال شروع ہونے پر ایف بی آر نے ٹیکسز میں اضافے کو ’’تحریری غلطی‘‘ قرار دیتے ہوئے ٹیکس اضافہ واپس لیا۔یہ واقعی تحریری غلطی تھی یا پھر دانستہ طور پر ایک کوشش کی گئی اس بحث کو اب چھوڑ دیتے ہیں لیکن حکومت کو چاہئے کہ مستقبل میں ایسی ’’غلطی‘‘ سے بچنے کیلئے فلورملز ایسوسی ایشن اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بامعنی مشاورت کا ایک موثر نظام بنائے،اب تو یہ عالم ہے کہ چند ہفتے قبل وزیرا عظم نے فلورملز ایسوسی ایشن کے ساتھ ملاقات میں گندم کی ایکسپورٹ برائے ایکسپورٹ کی اصولی منظوری دیتے ہوئے رزاق داود کو فلورملز ایسوسی ایشن کے ساتھ ملکر اس پر حتمی طریقہ کار تیار کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن کئی ہفتوں بعد بھی رزاق داود کو ملاقات کی فرصت نہیں ملی ہے۔

کسانوں کو منڈیوں اور صارفین تک براہ راست رسائی دینے کی حکومتی سوچ عمدہ ہے لیکن قابل عمل نہیں ہے۔بیوپاری یا آڑھتی دیہاتوں میں کسانوں کیلئے ’’مائیکرو فنانس بنک‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے، فصل کی کاشت کیلئے بیج کھاد اور پیسٹی سائیڈ کی خریداری سے لیکر خوشی غمی کی تقریبات کے اخراجات کیلئے چھوٹا کاشتکار اپنے بیوپاری سے رقم لیکر استعمال کرتا ہے اور پھر جب زرعی جنس کی پیداوار آتی ہے تو اسی بیوپاری کو اسے فروخت کر کے حساب کتاب کلیئر کیا جاتا ہے۔حکومت اگر سنجیدہ ہے تو پھر نچلی سطح پر کسانوں کی مالی ضروریات کی تکمیل کیلئے سود سے پاک قرضوں کا اہتمام کرے۔

سیاسی نعرے بازی اورد عوے اپنی جگہ لیکن بیوپاری کا کردار ختم کرنا ممکن نہیں اس لئے زیادہ مناسب یہی ہوگا کہ بیوپاری کو زرعی نظام میں باضابطہ طور پر ایک اہم سٹیک ہولڈر تسلیم کر کے اسے ریگولیٹ کیا جائے تا کہ کسانوں کی حق تلفی نہ ہو ویسے بھی مہنگائی منڈیوں میں نہیں ہو رہی بلکہ اصل مہنگائی شہروں میں انتظامیہ کی جانب سے موثر پرائس کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔زرعی پیداوار بڑھانے کیلئے بیجوں کی نئی اقسام کی دریافت سب سے اہم ہے اور بدقسمتی سے آج تک اسی کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا ہے۔

اربوں روپے سالانہ بجٹ استعمال کرنے والے زرعی تحقیقاتی اداروں سے کبھی باز پرس نہیں کی گئی۔ یکم جولائی کو وزیرا عظم اسلام آباد میں ایک کسان کنونشن سے خطاب کرنے والے ہیں، اس موقع پر انہیں سیاسی طفل تسلیوں کی بجائے عملی اقدامات کا اعلان کرنا چاہئے۔جو بھی زرعی پیکج آئے اس پر مکمل سنجیدگی اور رفتار کے ساتھ عمل کرنے سے ہی زرعی ترقی ممکن ہو سکتی ہے۔

The post زرعی پیکج کا صرف اعلان ہی کافی نہیں، عملدرآمد بھی ضروری ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2SCNBrh

بڑھتی ہوئی سیاسی محاذ آرائی، جمہوریت کیلئے خطرہ، عوام پریشان

 اسلام آباد: حکومت کی جانب سے اعلان کردہ اگلے مالی سال کا بجٹ وفاقی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد رواں ہفتے ایکٹ کی صورت لاگو ہو جائے گا جس کے اصل اثرات تو یکم جولائی کے بعد ظاہر ہونا شروع ہونگے مگر اس سے پہلے بجٹ کے  پارلیمنٹ میں ہونے کے فوری بعد سے ہی آفٹر شاکس محسوس ہونا شروع ہو چکے ہیں اور بجٹ نافذ ہونے سے پہلے ہی پٹرول،آٹا، چینی، دال،گھی سمیت تمام اشیائے خورونوش عوامی دسترس سے دور ہوگئے ہیں۔

بجٹ سے ایک روز قبل تک مہنگائی کا گراف نیچے آرہا تھا مگر بجٹ کے پیش ہوتے ہی پھر سے اوپر جانا شروع ہوگیا، جس کا اظہار وفاقی ادارہ شماریات کے اعداد وشمار سے واضح ہے۔ بجٹ سے ایک رو قبل ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مہگائی کی شرح میں کمی واقع ہوئی تھی لیکن بجٹ پیش ہونے کے بعد والے پچھلے دوہفتوں کے دوران مہنگائی کا گراف مسلسل اوپر جا رہا ہے ابھی بجٹ منظور نہیں ہوا مہنگائی کو بڑھوتری دینے کے اسباب پہلے سے پیدا کر دیئے گئے ہیں ۔

یکم جولائی سے پھر سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تو اضافے کے آثار نظر آہی رہے ہیں لیکن اب  توانائی کے سر اٹھاتے ہوئے بحران سے بچنے کیلئے پاور پلانٹس کو فرنس آئل درآمد کرانے کے لیے این او سی جاری کر کے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی صورت میں بجلی مہنگی کرنے کا سامان بھی مہیاکر دیا گیا ہے جس کیلئے ملک بھر میں گیس کا بحران بڑھنے سے پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی بند، وزارت توانائی نے بجلی کی پیداوار برقرار رکھنے کے لیے پاور پلانٹس کو فرنس آئل درآمد کرانے کے لیے این او سی جاری کردیا ہے۔

پاور پلانٹس کو فرنس آئل پر چلانے سے بجلی کے بحران پر قابو پانے میں تو مدد ملے گی مگر اس کی قیمت مہنگی بجلی کی صورت عوام چکائیں گے کیونکہ فرنس آئل پر پیدا ہونے والی مہنگی بجلی کی کا بوجھ بھی ماہانہ فیول پرائس کی مد میں صارفین برداشت کریں گے، یاد رہے کہ کے الیکٹرک کو اکتوبر 2020 میں بھی 50 ہزار میٹرک ٹن فرنس آئل امپورٹ کی اجازت دی گئی تھی، اب  یہ فرنس آئل مافیا کی طاقت کا کمال ہے  یا ناقص منصوبہ بندی کا شاخسانہ ہے کہ گیس سے سستی بجلی پیدا کرنے پر فرنس آئل سے مہنگی بجلی پیدا کرنے کے آپشن کو اختیار کیا جا رہا ہے۔

حکومت مخالفین کا خیال ہے کہ حکومت نے  چونکہ بروقت ایل این جی درآمد کرنے کے سودے نہیں کئے  اس لئے فرنس آئل کا مہنگا متبادل ذریعہ اختیار کیا جا رہا ہے جو آٹا،چینی، ادویات سکینڈل کی طرح مستقبل کا بڑا سکینڈل بننے جا رہا ہے۔

دوسری طرف اس بات کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملک میں جاری گیس بحران کی وجہ سے بجلی بنانے والے پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی بند ہونے سے بجلی کی رسد میں کمی ہو سکتی ہے اور حکومت نے گیس بحران میں شدت کے باعث پنجاب اور خیبر پختونخوا میں مختلف سیکٹرز کی گیس بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، سی این جی سمیت دیگر سیکٹرز کو پانچ جولائی تک گیس کی فراہمی معطل رہے گی۔

سوئی ناردرن گیس کمپنی انتظامیہ کی جانب سے نان ایکسپورٹ انڈسٹری، سی این جی سیکٹر کو گیس کی سپلائی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان سطور کی اشاعت تک اس فیصلے پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہوگا اور پانچ جولائی تک گیس کی فراہمی معطل رہے گی جس سے یقینی طور پر ملک کی صنعتی پیداوار متاثر ہوگی اور لگ یہ رہا ہے کہ وزیر خزانہ شوکت ترین نے  جادو کی چھڑی گھما کر عوام کو جن اقتصادی اعشاریوں کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا تھا اب وہ جادو بھی اترنے کو ہے کیونکہ ابھی جو اشاریئے آرہے ہیں ان میں کرنٹ اکاونٹ کی صورتحال بھی خراب ہو رہی ہے، مالیاتی خسارہ بھی بڑھ رہا ہے اور قرضوں کا تو کوئی حال ہی نہیں ہے۔

اقتصادی امور ڈویژن کے اپنے اعدادوشمار بتا رہے ہیں کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان نے مجموعی طور پر 12 ارب 13 کروڑ ڈالر سے زائد کا بیرونی قرض لیا ہے اور جولائی سے مئی کے دوران کثیر الجہتی معاہدوں کے تحت 3 ارب 37 کروڑ ڈالر موصول ہوئے، سب سے زیادہ قرض اے ڈی بی کی جانب سے 1 ارب 28کروڑ ڈالر قرض جاری کیا گیا، دوطرفہ معاہدوں کے تحت مختلف ممالک سے 41 کروڑ 70 لاکھ ڈالر موصول ہوئے،پاکستان نے کمرشل بنکوں سے بھی 3 ارب 60 کروڑ ڈالر کا قرض لیا ہے۔

دوسری جانب متحدہ اپوزیشن بھی ان حکومتی اعدادوشمار کو غلط ثابت کرنے کیلئے پورا زور لگا رہی ہے، کسی ملک کی مجموعی ترقی اور خوشحالی دیکھنی ہو تو معاشی اشاریوں کے علاوہ انسانی وسائل،جمہوری حقوق،آزادی اظہار اور غربت کے پیمانوں کو دیکھا جاتا ہے، گو ابھی پاکستان میں معیشت بہتر ہو رہی ہے لیکن سیاست کے فرنٹ پر فی الحال بہتری کا امکان نظر نہیں آرہا ۔

اگر تو ملک کی مجموعی صورتحال میں بہتری لانی ہے تو پھر سیاست اور معیشت سمیت تمام محاذوں پر بہتری لانا پڑے گی جوکہ دور دور تک نظر نہیں آرہا  ہے اور یوں لگ رہا ہے کہ جیسے کپتان اور اسکی ٹیم نے ہاتھ کھڑے کر دئیے یا انہیں معلوم پڑ گیا ہے کہ شاید کارکردگی ان کے بس کا روگ نہیں ہے، لہذا زیادہ وقت گذر گیا ہے، تھوڑا باقی رہ گیا ہے۔ وزراء اور ترجمانوں کی فوج کو اپوزیشن پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ اب یہ دو سال شکوہ جواب شکوہ میں ہی گزارنا ہے بس اپوزیشن رہنماؤں کے بیانات کے جوابات دینا ہیں پریس کانفرنس کرنا ہے۔

وہی پی ائی ڈی جس پر ن لیگ کے دور میں تحریک انصاف کے رہنما چڑھ دوڑا کرتے تھے اور سرکاری ادارے پر صرف ن لیگ کے وزراء کو ہی پریس کانفرنس کرنے پر اعتراض ہوا کرتا تھا اور تحریک انصاف کے لوگ پی آئی ڈی پہنچ جایا کرتے تھے، زبردستی پریس کانفرنس کیلئے دھمکایا جاتا تھا آج اسی پی آئی ڈی کو ن لیگ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے کپتان کی ٹیم اسی طرح مخالفین کے جوابات دینے کیلئے پریس کانفرنس کیلئے استعمال کر رہی ہے لیکن مجال ہے کہ کسی کو ماضی یاد آیا ہو اور خود آگے بڑھ کر ماضی کی روایات کے بت توڑنے کا خیال آیا ہو اور اپوزیشن کیلئے پی آئی ڈی کے دروازے کھولنے کی پیشکش کر کے انہیں بتاتے کہ کل آپ کا رویہ کیا تھا اور ہمارا کیا ہے۔

یہ ہوتی ہے اصل تبدیلی ، مگر شائد یہ سب کتابی باتیں ہیں، ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے، دنیا کے ہر ملک میں حکومت اور اپوزیشن ہوتی ہے ان کے آپس میں اختلافات بھی فطری ہیں لیکن مہذب جمہوری ممالک اور پسماندہ ممالک میں فرق یہ ہے کہ وہاں حکومت خارجہ پالیسی اور مالیاتی پالیسی سمیت ہر اہم ریاستی معاملے پر اپوزیشن سے ڈائیلاگ کرتی ہے۔

قانون سازی کے معاملے میں تو حکومت اور اپوزیشن میں مسلسل تعاون اور مشورہ جاری رہتا ہے، ہمارا المیہ یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن آپس میں بات تک کرنے کو تیار نہیں، حکومت یہ سمجھتی ہے کہ ہم اپوزیشن سے بات کرتے ہیں تو وہ این آر او مانگتے ہیں یہ بھی ایک عجیب اور غور طلب مسئلہ ہے، حزب اختلاف کے بیش تر اراکین نیب زدہ ہیں، حکومت کا کہنا ہے نیب ایک غیر جانبدار ادارہ ہے اگر اس مفروضہ کو مان لیا جائے تو حکومت کے اس دعویٰ کا کیا کہ ’’ہم جب بھی مذاکرات کی بات کرتے ہیں حزب اختلاف این آر او مانگتی ہے اگر واقعی نیب حکومت کے زیر اثر نہیں تو پھر حزب اختلاف یہ بے وقوفانہ مطالبہ کیوں کرتی ہے؟ گوکہ نیب اپنے عمل اور کارکردگی سے حزب اختلاف کے ان بیانات کو سچ ثابت کرتی ہے، یہاں تک پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں بھی اس کا اظہار کر چکی ہیں الزام و شک کے شعبے میں حزب اختلاف کے اراکین گرفتار ہو کر پہلے جیل جاتے ہیں اور جبکہ حکومتی اراکین کی صرف تحقیق ہوتی ہے اور وہ سیر سپاٹے کرتے پھرتے ہیں۔

اپوزیشن یہ کہتی ہے کہ ایک طرف یہ ہمیں جیلوں میں ڈال رہے ہیں دوسری طرف ہم سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، یہ دو عملی کیوں؟ حکومت کچھ عرصے سے قانون سازی پر مذاکرات کرنا چاہتی ہے لیکن اپوزیشن کو ماضی میں ایسے تلخ تجربات ہو چکے ہیں کہ وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنے کو تیار نہیں ہیں۔

The post بڑھتی ہوئی سیاسی محاذ آرائی، جمہوریت کیلئے خطرہ، عوام پریشان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3w6ZaEA

گیس بحران ، معیشت کیلئے تباہی کا باعث، ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت

 کراچی:  صوبہ سندھ میں گیس اور ایل این جی کے بحران نے صنعتکاروں ، ٹرانسپورٹرز اور عوام کو ایک نئی اذیت کا شکار کردیا ہے۔

جون کے گرم مہینے میں گیس کی قلت نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔کراچی کے صنعتکاروں نے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ وہ کراچی کی صنعتوں کو تباہی سے بچانے اور ہزاروں ورکرز کو بے روزگاری سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں اور صنعتوں کی فوری گیس بحال کرنے کی ہدایت کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ آر ایل این جی وافر مقدار میں دستیاب ہونے کے باوجود کراچی کی صنعتوں کی گیس بند کی جا رہی ہے جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔کراچی کی صنعتوں کو گیس بحا ل کر کے تباہ ہونے سے بچایا جائے تاکہ پیداواری سرگرمیاں معمول کے مطابق دوبارہ شروع کی جاسکیں اور ورکرز کو بے روزگار ہونے سے بچایا جاسکے۔

ادھر سندھ کے وزیر توانائی امتیاز شیخ نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں کو ناکامی شکار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں گیس اور ایل این جی بحران پیدا کرکے صنعتی عمل کو شدید نقصان پہنچایا جارہا ہے جس سے ہزاروں محنت کش بے روزگار ہورہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلی سندھ سید مراد علی شاہ ہر فورم پر سندھ کے مسائل کی نشاندہی کررہے ہیں جس سے وفاقی حکومت پریشانی کا شکار ہے اور چونکہ سندھ کے وزیر اعلی کی اہلیت کا حامل کسی اور صوبے کا وزیرِ اعلی نہیں لہذا سندھ حکومت کی کارکردگی پر اثر انداز ہونے کے لئے سندھ حکومت کی راہ میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں۔ صوبے میں گیس بحران پر ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے بھی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران ان سے اس معاملے پر مداخلت پر زور دیا ہے۔

انہوں نے سوئی سدرن گیس کی جانب سے مینٹیننس کے نام پر غیر برآمدی صنعتی یونٹوں کو 21 روز کیلئے گیس کی فراہمی معطل کرنے پرگہری تشویش کا اظہارکیا ہے۔دوسری جانب وزارت پیٹرولیم کی سستی اور گیس فیلڈ کی سالانہ مرمت کے باعث سندھ کے بعد اب خیبرپختون خوا اور پنجاب کی صنعتوں کو بھی 10 روز کیلئے گیس کی فراہمی بند ہونے کا امکان ہے۔اس ضمن میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اچانک سوئی سدرن گیس پر کیا افتاد آن پڑی کہ اس نے اچانک 21 روز کیلئے گیس کی فراہمی معطل کرنے کا اعلان کر دیا اس نا اہلی کے باعث چھوٹی بڑی صنعتوں کا اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے جو پاکستان کی نازک معیشت کیلئے زہر قاتل ہے۔

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ کس طرح کی مینٹینس ہے جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔سندھ میں 22 جون سے سی این جی اسٹیشنز بند ہیں اور اب اطلاعات یہ ہیں کہ ان کو 9 جولائی کو کھولا جائے گا۔کراچی میں زیادہ تر پبلک ٹرانسپورٹ سی این جی پر چلتی ہے ،اتنی طویل بندش سے گاڑیوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے اور شہریوں کو آمدو رفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کوموجودہ صورت حال میں اس معاملے پر خود مداخلت کرنا ہوگی تاکہ صنعتکاروں اور عوام کو ریلیف مل سکے۔

سندھ اسمبلی نے اپنے اجلاس میں آئندہ مالی سال 2021-22 کے بجٹ کی چند لمحوں میں منظوری دیدی ، قائد ایوان اور وزیر اعلی سندھ نے جن کے پا س وزارت خزانہ کا قلمدان بھی ہے ایوان میں ضمنی مطالبات زر پیش کئے انہیں بھی منظور کرلیا گیا۔

اپوزیشن ایوان میں موجود تھی وہ احتجاج اورنعرے بازی کرتی رہ گئی لیکن اس کی کسی نے نہیں سنی۔اسپیکر آغا سراج درانی کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپوزیشن کو بہت سمجھانے کی کوشش کی لیکن کسی نے ان کی بات نہیں مانی۔واضح رہے کہ حزب اختلاف کی کسی بھی پارلیمانی جماعت کی جانب سے نئے مالی سال کے بجٹ پر کٹوتی کی تحاریک جمع نہ کروانے سے حکمراں جماعت پیپلزپارٹی کو بجٹ پر واک اوور ملا جس کا پیپلزپارٹی نے بھرپور فائدہ اْٹھایا۔سندھ اسمبلی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ بجٹ پر قائد حزب اختلاف اورقائد ایوان دونوں کو بجٹ کی منظوری سے قبل پارلیمانی روایت کے مطابق تقریرکرنے کا موقع نہیں ملا، کئی پارلیمانی لیڈر اور وزرابھی اظہار خیال کرنے سے محروم رہے۔

سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم اور جی ڈی اے کے ارکان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے جس طرح آمرانہ انداز میں بجٹ پاس کرایا ہے وہ سندھ اسمبلی کی تاریخ کا سیاہ ترین دین ہے ،پیپلز پارٹی کی کراچی دشمن حکومت نے بجٹ منظوری کیلئے تمام جمہوری روایات کو پامال کردیا۔سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی بجٹ کی منظوری پر کافی برہم نظر آئے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بجٹ کی اس قدر آسانی سے منظوری میں اپوزیشن کی کوتاہی شامل ہے۔ اپوزیشن کے ارکان بجٹ سیشن کے دوران ہنگامہ آرائی اور شور شرابے میں مشغول رہے اور بجٹ پر تنقید برائے تنقید کرتے رہے، جس کے باعث حکومت نے بغیر کسی مشکل کے ایوان سے بجٹ کی منظوری حاصل کر لی۔

ملک بھر کی طرح سندھ میں بھی کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے بعد وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں کورونا ٹاسک فورس کے اجلاس میں صوبے بھر میں مزارات، انڈور جمز، سوئمنگ پول کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے ملک میں کورونا وائرس کی وجہ سے مختلف شعبوں میں عائد پابندیوں میں نرمی کر دی ہے۔

ان فیصلوں پر یکم جولائی سے عمل درآٓمد شروع ہوگا اور یہ 31 جولائی 2021 تک کے لیے ہے۔ان احکامات کے مطابق  مارکیٹس، دیگر کاروباری سرگرمیاں رات 10 بجے تک جاری رکھنے کی اجازت ہوگی جبکہ پیٹرول پمپس، طبی سہولیات، ادویات کی دکانیں، ویکسینشین سینٹر، دودھ دہی کی دکانیں، تندور اور ٹیک اوے کے لیے 24 گھنٹے کی اجازت ہو گی۔اس کے علاوہ ماسک کو لازمی قرار دیاگیا ہے۔عوام کو کہا گیا ہے کہ وہ کورونا ویکسین کرائیں۔

دوسری جانب وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کایہ بھی کہنا تھا کہ این سی او سی جن شعبوں کو کھولنے کا فیصلہ کرے گی وہ سندھ حکومت بھی کھول دے گی، تاہم تشویشناک بات یہ ہے کہ وفاقی وزیر اسد عمر کی جانب سے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی چوتھی لہر بھی سامنے آسکتی ہے۔اس ممکنہ لہر سے بچاؤ کے لیے حکومتی اداروں کے ساتھ عوام کو بھی تیار رہنا ہوگا اور حفاظتی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اس لہر سے بچاؤ کے لیے اقدامات کرنا ہوںگے۔

ایم کیو ایم پاکستان نے پاکستان پیپلزپارٹی کے خلاف اب عملی طور پر میدان میں نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔سربراہ ایم کیو ایم پاکستان کا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی بدعنوانی و ملک دشمنی کے خلاف 3جولائی کو کراچی میں مظاہرہ  کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ 3جو لا ئی کو پر یس کلب تک جا رہے ہیں اور اگر اس سے بھی با ت نہ بنی تو پھر محلا ت کو خا لی کرانے نکلیں گے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اس موقع پر یہ اعلان بھی کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان اس سال اگست کو ماہ آزادی کے طور پر منائے۔

ماہ ستمبر میں ایم کیو ایم پاکستان ایام ہجرت منائے گی۔ ہجرت کی تاریخ اور مہاجر ثقافت کو اجاگر کیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی پریس کانفرنس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کو اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ عوام کے پاس جائے بغیر اس کو دوبارہ اپنا کھویا ہوا مقام نہیں مل سکتا ہے۔n

The post گیس بحران ، معیشت کیلئے تباہی کا باعث، ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3h38iWI

حکومت اور اپوزیشن کی محاذ آرائی کیا رنگ لائے گی ؟

 کوئٹہ:  بلوچستان اسمبلی نے مالی سال 2021-22 کا بجٹ منظور کر لیا ہے ۔ جبکہ اپوزیشن نے بجٹ اجلاس کا مکمل بائیکاٹ کیا، بلوچستان کا سیاسی ماحول اس وقت شدید گرم ہے۔

بجٹ اجلاس کے دوران تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر تعلیم سردار یار محمد رند نے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال پر شدید تنقید کرتے ہوئے اپنی وزارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا اور بعد ازاں اپنا استعفیٰ گورنر بلوچستان جسٹس (ر) امان اللہ یاسین زئی کو بھیج دیا، اسی طرح حکومت اور متحدہ اپوزیشن ایف آئی آر اندراج اور اندراج نہ کرنے کے معاملے پر ایک د وسرے کے سامنے ڈٹ گئی ہیں۔

17اپوزیشن ارکان اپنے خلاف حکومت کی جانب سے ایف آئی آر کے اندراج پر گرفتاریاں پیش کرنے پولیس اسٹیشن پہنچ گئے جہاں حکومت نے انہیں گرفتار کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد اپوزیشن ارکان تھانے کے اندر ہی دھرنا دے کر بیٹھ گئے ہیں اور ان کا یہ مطالبہ ہے کہ حکومت ان کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لے۔

اس کے بعد وہ پولیس اسٹیشن سے باہر نکلیں گے  ورنہ انہیں گرفتار کیا جائے اس کے علاوہ متحدہ اپوزیشن نے بھی حکومت کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست دے رکھی ہے جس پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا اور ایف آئی آر درج نہ ہونے پر عدالت سے رجوع کر لیا ہے ۔ جبکہ متحدہ اپوزیشن نے اسمبلی اجلاس طلب کرنے کے لئے ریکوزیشن اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی ہے ۔

بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو نے بھی اس تمام صورتحال کے پیش نظر حکومت سے متحدہ اپوزیشن کے ارکان کے خلاف درج آیف آئی آر واپس لینے کے لئے رولنگ دے رکھی ہے اس رولنگ کے بعد حکومتی وزراء اور ارکان اسمبلی کا ایک وفد متحدہ اپوزیشن کے ارکان کے پاس پولیس اسٹیشن 4 مرتبہ آچکا ہے اور چوتھی مرتبہ دونوں فریقین میں مذاکرات میں کافی پیش رفت دکھائی دی جس میں اپوزیشن نے لچک دکھاتے ہوئے حکومتی وفد کے سامنے یہ بات رکھی کہ وہ ایف آئی آر واپس لینے کا نوٹیفیکیشن لیکر آجائیں تو وہ پولیس اسٹیشن سے نکل جائیں گے جس پر حکومتی وفد نے انہیں یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ نوٹیفکیشن لیکر آدھے گھنٹے میں واپس آتے ہیں لیکن کئی گھنٹے گزرنے کے بعد جب حکومتی وفد واپس نہیں آیا تو متحدہ اپوزیشن نے بھی ایک پریس کانفرنس کے ذریعے حکومت کو یہ پیغام بھیجا کہ اب مزید مذاکرات نہیں ہوسکتے اور حکومت بے اختیار لوگوں پر مشتمل وفد کو ان کے پاس نہ بھیجے اپوزیشن اب پورے صوبے کو جام کرے گی اور احتجاج کا راستہ اپنائے گی ۔ دوسری جانب وزیراعلی بلوچستان جام کمال کے لہجے میں بھی سختی دیکھنے میں آرہی ہے۔

انہوں نے بلوچستان اسمبلی میں بجٹ کی منظوری کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ ایوان کا تقدس پامال کرنے پر اپوزیشن رہنما عوام سے معذرت کریں کیونکہ بلوچستان اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران جو کچھ ہوا وہ یاد رکھا جائے گا۔

اپوزیشن نے جو رویہ اپنا رکھا ہے وہ اگر حکومت کو بلیک میل کرنا چاہتی تو یہ ممکن نہیں ہم اپوزیشن کی بات سنتے ہیں لیکن اپوزیشن عوامی نمائندگی کا حق ادا نہیں کررہی اپوزیشن چاہتی ہے کہ ترقیاتی کام نہ ہوں بلوچستان کی ترقی ، ترقی یافتہ سیاسی سوچ سے ممکن ہے موجودہ صوبائی حکومت نے تین سال میں وہ کام کرکے دکھائے جو ماضی کی حکومتیں کئی برسوں میں نہیں کرسکیں ہم میڈیا  پر داد سمیٹنے نہیں بلکہ عوام کی جانب سے دی جانے والی ذمہ داری کو پورا کر رہے ہیں۔

اپوزیشن اسمبلی میں آئے اپنے عوام کے مسائل پر گفتگو کرے ہم ان کی بات سننے کو تیار ہیں ۔ سیاسی مبصرین کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان دوریاں بڑھتی نظر آرہی ہیں اور دونوں جانب سے جو تلخ لہجہ اپنایا جارہا ہے وہ اس بات کو تقویت دے رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی کشمکش میں اضافہ ہوگا اور سیاسی ٹکراؤ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی مفاہمت کے لئے بعض سیاسی شخصیات کو اپنا کرداراداکرنا ہوگا۔

ان سیاسی مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند کی جانب سے وزارت سے مستعفی ہونے اور وزیراعلیٰ جام کمال پر الزامات کو بھی سیاسی حلقوں میں کافی سنجیدگی سے لیا جارہا ہے جبکہ بعض اطراف سے مفاہمت کے لئے بھی کوششیں کی جا رہی یں اور یہ اطلاعات بھی آرہی ہیں کہ سردار یار محمد رند کو منانے کے لئے اسلام آباد کی بھی بعض اہم شخصیات متحرک ہوئی ہیں۔

سردار یار محمد رند جنہوں نے سینیٹ الیکشن کے دوران بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اپنی پارٹی کی قیادت اور وزیراعلیٰ جام کمال سے ناراضگی کا اظہار کیا تھا جنہیں بعد میں منالیا گیا تھا اور اس وقت بھی ان سے کچھ وعدے کئے گئے تھے لیکن بقول ان کے کہ ان وعدوں پر بھی کوئی عملدرآمد نہیں ہوسکا بلکہ ان کو دیوار سے لگانے کے لئے مزید ایسے اقدامات وزیراعلی جام کمال کی طرف سے اٹھائے گئے کہ انہوں نے مجبوراً انکی کابینہ سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا جس پر وہ شدید دباؤ کے باوجود ابھی تک ڈٹے ہوئے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق بجٹ اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ جام کمال اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو کے اسمبلی اجلاس میں متحدہ اپوزیشن کے حوالے سے پیش آنے والے واقعہ پر رویے اور کردار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا اور یہ بات سیاسی حلقوں میں گردش کررہی تھی کہ اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو کو انکے عہدے سے ہٹایا جارہا ہے لیکن وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے گزشتہ دنوں کوئٹہ میں اخبارات کے ایڈیٹرز اور سینئر صحافیوں اور لکھاریوں سے ملاقات کے دوران اس بات کی سختی سے تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو جن کا تعلق ان کی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا ارادہ نہیں۔

دوسری جانب پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری و صوبائی صدر اور سابق سینٹر لالا عثمان خان کاکڑ کی وفات بھی ایک معمہ بن گئی ہے پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی سمیت دیگر رہنماؤں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ لالا عثمان خان کاکڑ کو شہید کیا گیا ہے جس کے ان کے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں لالا عثمان خان کاکڑ کو لاکھوں سوگواروں کی موجودگی میں مسلم باغ میں سپرد خاک کیا گیا۔

لالا عثمان کاکڑ کی سیاسی جدوجہد 42سال پر محیط ہے، انہوں نے جس انداز میں محکوم و مظلوم اقوام اور عوام کے حقوق کی آواز بلند کی وہ نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک کی تاریخ میں سنہرے حروف سے درج کی جائے گی بلکہ بلوچ، پشتون، ہزارہ آباد کار اور سندھی عوام نے جس والہانہ انداز میں کراچی سے مسلم باغ بلوچستان تک ان کی میت کا استقبال کیا ، میت پر گل پاشی کی جاتی رہی اور غم کا اظہار کیا وہ ان کی شخصیت کے ساتھ پیار و محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ عثمان خان کاکڑ ایک مدبر سیاستدان تھے اپنی حق گوئی کیوجہ سے وہ عوام میں بیحد مقبول تھے۔

انہوں نے بحیثیت سینیٹر سینٹ میں بلوچستان کی آواز کو موثر طور پر اٹھایا وہ کرپشن کے خلاف تھے ۔ ان کی وفات پشتون قوم کے لئے جہاں ایک بڑا سانحہ ہے وہاں ملک و صوبے میں بسنے والی تمام اقوام ان کی موت پر شدید رنج و غم کا اظہار کر رہی ہیں اور ہر فرد کی آنکھ اشکبار نظر آتی ہے ۔ گو کہ حکومت بلوچستان نے ان کی شہادت کے حوالے سے جوڈیشل انکوائری کرانے کا اعلان کیا ہے ۔ لیکن ملک و صوبے کے عوام اصل حقائق سامنے لانے کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں امید کی جاتی ہے کہ دیگر معاملات میں کی جانے والی جوڈیشل انکوائری کی رپورٹس کو منظر عام پر نہ لانے کی ماضی کی روایات کو بالا ئے طاق رکھ کر اس افسوسناک سانحہ کی رپورٹ اور اصل حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے ۔

The post حکومت اور اپوزیشن کی محاذ آرائی کیا رنگ لائے گی ؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/35Zg2Te

بجٹ منظور؛ حکومت کی طرف سے انقلابی اقدامات کا اعلان خوش آئند

 پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی نے اگلے مالی سال کے بجٹ کی منظوری دے دی ہے اور یہ منظوری بڑے پرسکون انداز میں ہوئی ہے۔

صوبائی اسمبلی میں بجٹ کے موقع پر جو سکون اور پرامن ماحول دکھائی دیا اسے اب بھلے صوبہ کی روایات سے جوڑا جائے یا حکومت واپوزیشن کے درمیان مفاہمت سے تاہم حقیقت یہ ہے کہ وزیراعلیٰ نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات میں انھیں یقین دہانی کرائی کہ اگلے مالی سال کے دوران ان کے حلقوں کا خیال رکھا جائے گا اور اسی لیے اگلے مالی سال کے لیے وزیراعلیٰ نے ڈسٹرکٹ ڈیویلپمنٹ فنڈ کے نام سے 61 ارب روپے اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں جنھیں وہ اپنی صوابدید کے مطابق مختلف اضلاع اور حلقوں میں استعمال کریں گے۔

گو کہ عدالت کے حکم پر امبریلا اے ڈی پی اور مجموعی تخصیص کا معاملہ تو ختم ہوا تاہم حکومت نے نیا طریقہ اختیار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کو 61 ارب روپے کا یہ ہتھیار فراہم کیا ہے جسے وہ حکومت واپوزیشن دونوں کے لیے استعمال کریں گے ۔

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ فنڈز انہی اراکین اسمبلی کو مل پائیں گے کہ جن کے تعلقات وزیراعلیٰ اور صوبائی حکومت کے ساتھ خوشگوار ہوں گے۔ وزیراعلیٰ کے ساتھ کمٹمنٹ کا بعض اراکین اسمبلی نے حقیقی معنوں میں پاس رکھتے ہوئے بجٹ سے متعلق مطالبات زر کی منظوری کے عمل کے دوران لاتعلقی اختیار کیے رکھی جبکہ بعض ارکان نے کچھ محکموں کے حوالے سے اظہار خیال کیا جس کا بنیادی مقصد وزیراعلیٰ یا حکومت کو تنگ کرنا نہیں بلکہ سرکاری محکموں کو اپنی موجودگی کا احساس دلانا تھا کیونکہ بجٹ کے بعد جب انہی محکموں سے ارکان کو واسطہ پڑے گا تو ان کی تقاریر کی وجہ سے ان کی مشکلات سہل ہو سکتی ہیں۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان جو کم گو مشہور ہیں۔

انہوں نے ایوان سے بجٹ کی منظوری کے بعد لمبی چوڑی تقریر کی جس میں نہ صرف یہ کہ انہوں نے اپنی حکومت کی تین سالہ کارکردگی بیان کی بلکہ ساتھ ہی اگلے مالی سال کے بجٹ میں شامل اقدامات بھی انگلیوں پر گنوا دیئے ، وزیراعلیٰ نے کئی امور پر اظہار خیال کیا تاہم ان میں چار اقدامات حقیقی معنوں میں اہمیت کے حامل ہیں ، وزیراعلیٰ نے اپنی تقریر میں کہا کہ اگلے مالی سال کے دوران صوبہ کے بے روزگار نوجوانوں کو دس ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ یقینی طور پر یہ بڑا اقدام ہے کیونکہ ان دس ارب روپے سے نوجوانوں کو پانچ سے بیس لاکھ روپے تک کے قرضے فراہم کیے جائیں گے تاکہ غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے جس کے ساتھ ہی انہوں نے غرباء کے لیے راشن کارڈ جاری کرنے کا بھی اعلان کیا۔

مذکورہ راشن کارڈز کے ذریعے غرباء کو آٹا اور دیگر خوراک کی اشیاء فراہم کی جائیں گی، راشن کارڈ کا تصور نیا نہیں بلکہ تین، چار دہائیاں قبل بھی عوام راشن کارڈ کے ذریعے ہی آٹا اور چینی حاصل کیا کرتے تھے اور ہر جگہ پر اس مقصد کے لیے ڈپو قائم تھے۔

جہاں رجسٹرڈ لوگوں کو ان کے اہل خانہ کی ضروریات کی بنیاد پر آٹا اور چینی فراہم کیے جاتے تھے تاہم بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ راشن کارڈ کا یہ نظام ختم ہوکر رہ گیا جسے اب دوبارہ متعارف کرایا جا رہا ہے تاہم اب یہ مخصوص لوگوں کے لیے ہوگا اور ممکنہ طور پراس کے لیے احساس پروگرام کا ڈیٹا استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے حوالے سے ایسا نظام وضع کیا جا رہا ہے کہ لوگوں کو خود راشن لینے کے لیے نہ جانا پڑے بلکہ انھیں ان کی گھر کی دہلیز پر ہی راشن کارڈ کے ذریعے ضرورت کی اشیاء فراہم کی جائیں ۔

راشن کارڈ کے ساتھ کسان کارڈ بھی متعارف کرانے کا اعلان کیاگیاہے جن کے ذریعے کسانوں کوسستے داموں بیج اور کھاد وغیرہ فراہم کیے جائیں گے جو یقینی طور پر زراعت سے وابستہ افراد کے لیے اہم اعلان ہے تاہم سب سے اہم اور بنیادی نوعیت کا اعلان ایجوکیشن کارڈ کا اجراء ہے ،یہ خیبرپختونخوا حکومت ہی ہے جس نے صحت سہولت کارڈ متعارف کرائے جس کی بدولت صوبہ میں بسنے والے ہر ایک خاندان کو سالانہ بنیادوں پر دس لاکھ روپے تک علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جس میں اب جگر کی پیوند کاری کو بھی شامل کر لیا گیا ہے جبکہ اس کے بعد دیگر امور بھی اس میں شامل کیے جائیں گے اور صحت کارڈ کے تحت ملنے والی صحت سے متعلق سہولیات میں اضافہ ہوتا چلاجائے گا۔

صحت سہولت کارڈ یقینی طور پر صوبائی حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے کہ جس کی بدولت وہ آئندہ انتخابات میں اپنی کامیابی کے لیے راہ ہموار کر سکتی ہے اور اب اسی تسلسل میں ایجوکیشن کارڈ کے اجراء کا اعلان کیا گیا ہے، یقینی طور پر دن بدن اعلیٰ تعلیم مہنگی ہوتی چلی جا رہی ہے اور ایسے میں اگر اعلیٰ تعلیم کے اخراجات حکومت اٹھانا شروع کردے تو اس سے صوبہ میں بسنے والوں کو بڑی سہولت ملے گی۔ ایجوکیشن کارڈ کے تحت طلبہ کے اعلیٰ تعلیم کے اخراجات اٹھانے کا کیا طریقہ کار وضع کیا جاتا ہے۔

یہ تو ابھی واضح نہیں اور اس سلسلے میں ہوم ورک جاری ہے تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ صوبائی حکومت جس ٹریک پر چل رہی ہے اس پر دیگر جماعتوں کے لیے پی ٹی آئی کو پکڑنا مشکل ہوتا چلا جا رہاہے اور اگر ان حالات میں وزیراعلیٰ کے اعلان کے مطابق سوات موٹر وے فیز ٹو ،دیر ایکسپریس وے ،پشاور ،ڈی آئی خان موٹر وے اور چشمہ رائٹ بنک لفٹ کنال منصوبوں پر کام کا آغاز ہو جاتا ہے تو اس سے پی ٹی آئی کو اگلے الیکشن کے لیے اچھا خاصا مواد مل جائے گا جس کے بل بوتے پر وہ اپنی کامیابی کی راہ ہموار کرتی چلی جائے گی اور یہ بھی واضح رہے کہ ابھی موجودہ حکومتیں مزید دو بجٹ دیں گی اور اگلے دوبجٹس میں صوبائی حکومت نے جاری منصوبوں کو پختگی دینے کے ساتھ نئے منصوبوں کا بھی اعلان کرنا ہے جن کی وجہ سے اپوزیشن جماعتوں کے لیے یقینی طور پر مشکلات بڑھیں گی کیونکہ صحت کارڈ ہو یا ایجوکیشن کارڈ ، یہ ایسے منصوبے ہیں جن کا فائدہ ہر شخص کو پہنچ رہا ہے اور پہنچے گا ایسے میں عوام کی ہمدردیاں بھی پی ٹی آئی کے لیے بڑھیں گی ۔

ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپوزیشن جماعتیں اگلے عام انتخابات کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہیں؟ یہ تو ابھی دور کی بات ہے تاہم پہلا مرحلہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہے جس پر پی ٹی آئی پورے طریقے سے نظریں جمائے ہوئے ہے کیونکہ اس سال منتخب ہونے والے بلدیاتی نمائندے اگلے چار سالوں کے لیے اپنے عہدوں پر رہیں گے اور جس بھی پارٹی نے بلدیاتی انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کی اس کا فائدہ وہ اگلے عام انتخابات میں اٹھائے گی۔

اس بات کو مد نظررکھتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کو مشترکہ امیدواروں کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا تاکہ پی ٹی آئی کو نقصان پہنچا سکیں لیکن اگر اپوزیشن جماعتوں نے تنہا پرواز کی تو اس کا فائدہ اور کوئی نہیں بلکہ پی ٹی آئی ہی اٹھائے گی ۔ عام انتخابات اور بلدیاتی انتخابات کے لیے حکمت عملی مناسب وقت پر ہی سامنے آئے گی لیکن اس وقت تک کی صورت حال یہ ہے کہ پی ڈی ایم ایک مرتبہ پھر حکومت کے خلاف میدان میں اترنے کے لیے تیار ہو چکی ہے اور 4 جولائی کو سوات سے اس کا آغاز کیا جا رہا ہے، سوات جلسہ میں مسلم لیگ ن کے مرکزی صدر شہباز شریف بھی شرکت کریں گے ۔

جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانافضل الرحمٰن علیل اور کراچی میں زیر علاج ہیں تاہم امکان یہی ہے کہ وہ سوات جلسے کے لیے فٹ ہوکر میدان میں واپس آجائیں گے کیونکہ مولانا فضل الرحمٰن کے بغیر مذکورہ جلسہ مسلم لیگ ن کے شو میں تبدیل ہوکر رہ جائے گا۔

سوات کے بعد پی ڈی ایم کے زیر اہتمام کراچی اور اسلام آباد میں بھی جلسے منعقد ہونگے تاہم قرائن بتا رہے ہیں کہ ان جلسوں سے عمران خان حکومت کو شاید ہی کوئی نقصان پہنچے، پی ٹی آئی کی حکومت اپنے چوتھے سال میں داخل ہونے کے لیے تیار ہے جس کے بعد ویسے ہی سب کی نظریں اگلے عام انتخابات پر لگ جاتی ہیں اور امیدواروں کی تلاش شروع کر دی جاتی ہے اس لیے پی ڈی ایم کی حکومت مخالف تحریک اب حکومت کے لیے کسی ٹف ٹائم کا سبب بننے کی بجائے اگلے عام انتخابات کی تیاری ہی قرار دی جا سکتی ہے جس کے لیے اس میں شامل ہر پارٹی کی کوشش یہی ہوگی کہ وہ ان جلسوں اور احتجاجی پروگراموں کو اگلے عام انتخابات میں کیش کرائے کیونکہ اس تحریک سے فوری طور پر اور موجودہ حکومت کے لیے کسی قسم کی خطرے کی کوئی گھنٹی بجتی سنائی نہیں دے رہی۔

The post بجٹ منظور؛ حکومت کی طرف سے انقلابی اقدامات کا اعلان خوش آئند appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3AcjDv5

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...