Urdu news

Tuesday, 31 August 2021

کورونا کی بوسٹر ڈوز 3 مقامات پر لگانے کا اعلان

 کراچی: کراچی سمیت صوبے بھر میں کورونا کی بوسٹر ڈوز 5 مقامات پر لگائی جائے گی۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق کورونا کی بوسٹر ڈوز سندھ کے شہر کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں لگائی جائے گی،کراچی میں ڈاؤ یونیورسٹی کے اوجھا کیمپس،جناح اسپتال اور چلڈرن اسپتال (ڈسٹرکٹ سینٹرل) میں بوسٹر ویکسین لگائی جائے گی۔

حیدرآباد میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز جبکہ سکھر میں پراچہ اسپتال میں سہولت میسر ہوگی،بیرون ملک جانے والے افراد اپنی تمام تصدیق شدہ اور مطلوبہ دستاویزات جمع کروا کر بوسٹر ویکسین لگواسکیں گے، کورونا کی بوسٹر ڈوز لگانے کا عمل رواں ہفتے شروع کردیا جائے گا۔

پاکستان میں کورونا کی بوسٹر ڈوز سے متعلق جاری رہنما ہدایات کے مطابق شہری اپنی مطلوبہ ویکسین بطور بوسٹر ڈوز کے طور پر لگواسکیں گے،پاکستان میں بیرون ملک مقیم، ملازم، طلبہ، سیاحوں اور عمرہ حج کی ادائیگی کیلیے جانے والے بوسٹر ڈوز کے اہل ہوں گے، بوسٹر کے لیے صرف سائنو فارم، سائنوویک، فائزر ویکسین لگائی جائے گی۔

12 سے 17 سال تک کی عمر کے بچے فائزر ویکسین لگوا سکیں گے، 18 سال سے زائد عمر کے افراد سائنو فارم، سائنوویک اور فائزر لگوا سکیں گے جن افراد کو ویکسین لگوائے28 دن یا اس سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے صرف وہی بوسٹر ڈوز کے لیے اہل ہوں گے، فی ڈوز ویکسین فیس 1270 روپے مقرر ہے، بوسٹر ویکسین کی فیس نیشنل بینک کی برانچ میں جمع کرائی جاسکتی ہے۔

The post کورونا کی بوسٹر ڈوز 3 مقامات پر لگانے کا اعلان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3jyBLJj

2 ماہ میں ہدف سے 160ارب زائد ٹیکس اکٹھا کیا، چیئرمین ایف بی آر

 اسلام آباد: چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہا ہے کہ جولائی اور اگست کے دو ماہ میں ہدف سے160ارب روپے زیادہ ٹیکس وصول کیا گیا۔

چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق احمد کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کا کام بیرون ملک سے پیسہ واپس لانا نہیں، بیرون ملک موجود غیر ٹیکس شدہ جائیداد اور اکاؤنٹس پر ٹیکس لگایا جائیگا، ان جائیدادوں کی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں، بہت سارا ڈیٹا مل چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں اضافہ درآمدات کی وجہ سے ہے معیشت جب بہتر ہوتی ہے تو اس کا اثر اشیاء کے نرخوں پر ہوتا ہے۔

عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی پریس کانفرنس میں ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہا آئی ایم ایف اور ہماری منزل ایک ہے، ٹیکس ہدف حاصل کریں گے۔ اگست میں434 ارب روپے ٹیکس جمع کیا، ہدف349 ارب تھا۔ جولائی اور اگست کے دو ماہ میں ہدف سے160ارب روپے زیادہ ٹیکس وصول کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں850ارب روپے اکٹھے کئے، ہدف690 ارب روپے تھا۔ اسمگلنگ کیخلاف بھر پور کارروائی سے محصولات بڑھے،1600غیر قانونی پٹرول پمپس کو بند کیا گیا انڈر انوائسنگ کے خلاف کارروائی کی گئی۔ ٹیکس قوانین آسان بنائیں گے۔

The post 2 ماہ میں ہدف سے 160ارب زائد ٹیکس اکٹھا کیا، چیئرمین ایف بی آر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3zzG78C

2021؛ پنجاب میں 6754 خواتین اغوا، 1890 سے زیادتی

 لاہور: 2021 کی پہلی ششماہی میں سرکاری ڈیٹا کے مطابق پنجاب میں 6,754 خواتین اغوا، 1890 خواتین کو زیادتی اور 3,721 کو تشد د کا نشانہ بنایا گیا جبکہ 752 بچوں سے زیادتی کے واقعات درج ہوئے۔

سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او)  کی طرف سے جاری تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق میڈیا میں رپورٹ ہونے والے واقعات کی تعداد سرکاری طور پر درج ہونے والے واقعات کے اعدادوشمار سے بہت کم ہیں۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 1890 خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ میڈیا میں صرف 396 واقعات کو رپورٹ کیا گیا۔ اسلام آباد میں سرکاری طور پر 34 زیادتی کے واقعات پیش آئے جبکہ میڈیا میں 27 واقعات کو جگہ ملی۔

2021 کی پہلی ششماہی رپورٹ میں پنجاب میں سرکاری طور پر درج ہونے والے تشدد کے واقعات کی تعداد 3,721 ہے جس کے برعکس مرکزی میڈیا کے ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہونے والے واقعات کی تعداد صرف 938 ہے۔

پنجاب میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق خواتین کے اغواء کے 6,754 واقعات درج کیے گئے جبکہ میڈیا میں 635 واقعات کو رپورٹ کیا گیا جو کہ ایک چوتھائی سے بھی کم ہیں۔

The post 2021؛ پنجاب میں 6754 خواتین اغوا، 1890 سے زیادتی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3jwa57O

راولپنڈی؛ طالبہ زیادتی کیس کیلیے جے آئی ٹی تشکیل، تفتیش شروع

 راولپنڈی: دینی مدرسہ کی16 سالہ طالبہ سے مبینہ زیادتی کیس کی شفاف انکوائری کیلیے باقاعدہ 6 رکنی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنا دی گئی۔

سول جج نوشین زرتاج کے حکم پر پولیس نے تھانہ پیرودھائی کے دینی مدرسہ کی16 سالہ طالبہ سے مبینہ زیادتی کیس کی شفاف انکوائری کیلیے باقاعدہ 6 رکنی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنا دی۔

سربراہ ایس ایس پی انوسٹی گیشن ہوں گے ممبران میں خاتون ایس پی ہیڈ کوارٹر زنیرہ اظفر،ایس پی رورل ضیا الدین احمد، ڈی ایس پی سٹی عصر علی، ایس ایچ او تھانہ پیرودھائی اویس اور تفتیشی آفیسر سب انسپکٹر اسلم شامل ہیں۔

جے آئی ٹی نے ملزمان مہتم مدرسہ مفتی شاہ نواز، شریک ملزمہ ٹیچر عشرت بی بی اور متاثرہ طالبہ کو طلب کر کے تفتیش کی۔ملزم مفتی شاہ نواز کا ڈی این اے ٹیسٹ، پولی گرافک ٹیسٹ اور پوٹینسی ٹیسٹ کرانے کی بھی منظوری دی گئی۔

دریں اثنا تفتیش کا جائزہ لینے کے لیے سی پی او راولپنڈی احسن یونس کی سربراہی میں اجلاس ہوا۔

The post راولپنڈی؛ طالبہ زیادتی کیس کیلیے جے آئی ٹی تشکیل، تفتیش شروع appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3mQckoD

جولائی 2021؛ حکومت نے 1.6 ارب ڈالر کے قرضے لیے

 اسلام آباد:  جولائی 2021ء میں حکومت نے 1.6 ارب ڈالر کے غیرملکی قرضے لیے جب کہ یہ حجم جولائی 2020ء میں لیے گئے قرضوں کے مقابلے میں دگنا ہے۔

وفاقی حکومت نے 1.6 ارب ڈالر کے قرضے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور پہلے سے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی کیلیے حاصل کیے۔ وزارت اقتصادی  امور کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے مہینے میں مختلف ذرائع سے حکومت نے 1.6 ارب ڈالر کے قرضے لیے۔ یہ حجم گذشتہ مالی سال کے اسی مہینے میں لیے گئے قرض سے 100  فیصد زائد ہے۔

واضح رہے کہ 1.6 ارب ڈالرکا یہ مجموعی  قرض  نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے عوض 7 فیصد شرح سود پر لیے گئے انتہائی مہنگے قرض کے علاوہ ہے۔

وزارت اقتصادی امور  نے اپنی  رپورٹ اکنامک ایڈوائزری کونسل کی نئے غیرملکی قرضوں کے معاہدوں پر مکمل پابندی کی سفارش کیے جانے کے چار روز بعد جاری کی ہے۔ تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا وزیرخزانہ کی سربراہی میں اکنامک ایڈوائزری کونسل  کی سفارشات پر عمل ہوتا ہے یا نہیں کیوں کہ وزارت خزانہ  کے لگائے گئے تخمینے کے مطابق  بیرونی ادائیگیوں اور  وصولیوں کے درمیان توازن  برقرار کھنے کے لیے 20 ارب ڈالر کے نئے قرضے لینے ہوں گے۔

وزارت اقتصادی امور کے مطابق 1.6ارب ڈالر کے قرضوں میں سے  1.2 ارب ڈالر  بجٹ سپورٹ کے لیے  حاصل کیے گئے ، اس کا مطلب ہے کہ  اس قرض کا استعمال کرتے ہوئے کوئی اثاثے نہیں بنائے گئے اور یہ قرضہ مزید نیا قرض لے کر واپس کیا جائے گا۔ اسی طرح 176  ملین ڈالر مزید قرض خام تیل کی درآمد کے لیے لیا گیا۔ حکومت نے 1.04 ارب ڈالر کا قرضہ یوروبانڈز کے ذریعے حاصل کیا۔

The post جولائی 2021؛ حکومت نے 1.6 ارب ڈالر کے قرضے لیے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2V2VY0m

کورونا کی بوسٹر ڈوز 3 مقامات پر لگانے کا اعلان

 کراچی: کراچی سمیت صوبے بھر میں کورونا کی بوسٹر ڈوز 5 مقامات پر لگائی جائے گی۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق کورونا کی بوسٹر ڈوز سندھ کے شہر کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں لگائی جائے گی،کراچی میں ڈاؤ یونیورسٹی کے اوجھا کیمپس،جناح اسپتال اور چلڈرن اسپتال (ڈسٹرکٹ سینٹرل) میں بوسٹر ویکسین لگائی جائے گی۔

حیدرآباد میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز جبکہ سکھر میں پراچہ اسپتال میں سہولت میسر ہوگی،بیرون ملک جانے والے افراد اپنی تمام تصدیق شدہ اور مطلوبہ دستاویزات جمع کروا کر بوسٹر ویکسین لگواسکیں گے، کورونا کی بوسٹر ڈوز لگانے کا عمل رواں ہفتے شروع کردیا جائے گا۔

پاکستان میں کورونا کی بوسٹر ڈوز سے متعلق جاری رہنما ہدایات کے مطابق شہری اپنی مطلوبہ ویکسین بطور بوسٹر ڈوز کے طور پر لگواسکیں گے،پاکستان میں بیرون ملک مقیم، ملازم، طلبہ، سیاحوں اور عمرہ حج کی ادائیگی کیلیے جانے والے بوسٹر ڈوز کے اہل ہوں گے، بوسٹر کے لیے صرف سائنو فارم، سائنوویک، فائزر ویکسین لگائی جائے گی۔

12 سے 17 سال تک کی عمر کے بچے فائزر ویکسین لگوا سکیں گے، 18 سال سے زائد عمر کے افراد سائنو فارم، سائنوویک اور فائزر لگوا سکیں گے جن افراد کو ویکسین لگوائے28 دن یا اس سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے صرف وہی بوسٹر ڈوز کے لیے اہل ہوں گے، فی ڈوز ویکسین فیس 1270 روپے مقرر ہے، بوسٹر ویکسین کی فیس نیشنل بینک کی برانچ میں جمع کرائی جاسکتی ہے۔

The post کورونا کی بوسٹر ڈوز 3 مقامات پر لگانے کا اعلان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3jyBLJj

2021؛ پنجاب میں 6754 خواتین اغوا، 1890 سے زیادتی

 لاہور: 2021 کی پہلی ششماہی میں سرکاری ڈیٹا کے مطابق پنجاب میں 6,754 خواتین اغوا، 1890 خواتین کو زیادتی اور 3,721 کو تشد د کا نشانہ بنایا گیا جبکہ 752 بچوں سے زیادتی کے واقعات درج ہوئے۔

سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او)  کی طرف سے جاری تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق میڈیا میں رپورٹ ہونے والے واقعات کی تعداد سرکاری طور پر درج ہونے والے واقعات کے اعدادوشمار سے بہت کم ہیں۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 1890 خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ میڈیا میں صرف 396 واقعات کو رپورٹ کیا گیا۔ اسلام آباد میں سرکاری طور پر 34 زیادتی کے واقعات پیش آئے جبکہ میڈیا میں 27 واقعات کو جگہ ملی۔

2021 کی پہلی ششماہی رپورٹ میں پنجاب میں سرکاری طور پر درج ہونے والے تشدد کے واقعات کی تعداد 3,721 ہے جس کے برعکس مرکزی میڈیا کے ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہونے والے واقعات کی تعداد صرف 938 ہے۔

پنجاب میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق خواتین کے اغواء کے 6,754 واقعات درج کیے گئے جبکہ میڈیا میں 635 واقعات کو رپورٹ کیا گیا جو کہ ایک چوتھائی سے بھی کم ہیں۔

The post 2021؛ پنجاب میں 6754 خواتین اغوا، 1890 سے زیادتی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3jwa57O

راولپنڈی؛ طالبہ زیادتی کیس کیلیے جے آئی ٹی تشکیل، تفتیش شروع

 راولپنڈی: دینی مدرسہ کی16 سالہ طالبہ سے مبینہ زیادتی کیس کی شفاف انکوائری کیلیے باقاعدہ 6 رکنی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنا دی گئی۔

سول جج نوشین زرتاج کے حکم پر پولیس نے تھانہ پیرودھائی کے دینی مدرسہ کی16 سالہ طالبہ سے مبینہ زیادتی کیس کی شفاف انکوائری کیلیے باقاعدہ 6 رکنی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنا دی۔

سربراہ ایس ایس پی انوسٹی گیشن ہوں گے ممبران میں خاتون ایس پی ہیڈ کوارٹر زنیرہ اظفر،ایس پی رورل ضیا الدین احمد، ڈی ایس پی سٹی عصر علی، ایس ایچ او تھانہ پیرودھائی اویس اور تفتیشی آفیسر سب انسپکٹر اسلم شامل ہیں۔

جے آئی ٹی نے ملزمان مہتم مدرسہ مفتی شاہ نواز، شریک ملزمہ ٹیچر عشرت بی بی اور متاثرہ طالبہ کو طلب کر کے تفتیش کی۔ملزم مفتی شاہ نواز کا ڈی این اے ٹیسٹ، پولی گرافک ٹیسٹ اور پوٹینسی ٹیسٹ کرانے کی بھی منظوری دی گئی۔

دریں اثنا تفتیش کا جائزہ لینے کے لیے سی پی او راولپنڈی احسن یونس کی سربراہی میں اجلاس ہوا۔

The post راولپنڈی؛ طالبہ زیادتی کیس کیلیے جے آئی ٹی تشکیل، تفتیش شروع appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3mQckoD

طالبانی اقتدار کا سورج پھر افغان سرزمین پر طلوع

 اسلام آباد: افغانستان میں سپر طاقتوں کی بنائی ہوئی ریت کی دیوار گر گئی اور 20 سال بعد46 ممالک پر مشتمل اتحاد افغانستان سے نکل گیا۔

طالبان کے اقتدار کا سورج ایک مرتبہ پھر افغان سرزمین پر طلوع ہوگیا، امید کی ایک نئی کرن پیدا ہوئی کہ افغانستان میں آئندہ چند روز میں نئی حکومت بن جائے گی، امریکی بیساکھیوں پر کھڑی افغان حکومت چند لمحوں میں زمین بوس ہوگئی اور تین ٹریلین ڈالر سے تیار کردہ تین لاکھ فوج عوام میں ضم ہوگئی، کوئی نشان بھی نہ چھوڑا۔

20 سال میں 10 لاکھ افغان اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے، اس کی سزا پاکستان کو 86 ہزار افراد کی قربانیوں کی شکل میں بھگتنا پڑی،کابل پر قبضہ کے بعد غیر ملکی افواج اور شہریوں کا انخلا مسلہ بن گیا، اس انخلا کو بھی پاکستان نے سہارا دیا، پانچ دن میں430 فلائیٹس غیر ملکیوں کو لے کر اسلام آباد پہنچیں،50 ہزار افراد اسلام آباد کے ہوٹلوں میں مقیم ہیں۔

غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد جنگ سے متاثرہ اس ملک کے مستقبل کے بارے میں افغانستان کے اندر اور عالمی سطح پر یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ افغانستان میں نوے کی دہائی جیسے حالات تو پیدا ہوں گے،کیا ایک مرتبہ پھر افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے کیا بے امنی کی وجہ سے افغانستان سے ایک مرتبہ پھر بڑی تعداد میں لوگوں کی نقل مکانی ہو سکتی ہے۔

کیا اگر افغانستان میں حالات خراب ہوتے ہیں تو اس کے اثرات پاکستان اور دیگر پڑوسی ممالک یا خطے میں پڑیں گے،یہ بے یقینی بھی پائی جاتی ہے کہ غیر ملکی فورسز کے انخلا کے بعد افغانستان میں اقتدار کس کے پاس رہے گا، کیا طالبان مفاہمت کے تحت معاملات حل کرلیں گے یا یہ خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کریں گے۔

ماضی کی مثالیں سامنے ہیں جب روس کے افغانستان سے جانے کے بعد حالات کسی کے قابو میں نہ رہے، مجاہدین آپس میں لڑنے لگے ،ایسے حالات میں عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ جانی نقصان زیادہ ہوتا ہے اور ملک کا انفراسٹرکچر بھی تباہ ہوتا ہے۔

The post طالبانی اقتدار کا سورج پھر افغان سرزمین پر طلوع appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3kKArCi

انتہائی افسوسناک

ہماری دینی اور مشرقی اقدار اور روایات اتنی ارفعٰ اور شاندار ہیں کہ ہر طبقہ فکر کے لوگ  قبیلے، پارٹی اور مسلک سے بالاتر ہوکر اُن کا احترام کرتے ہیں اور مغربی معاشرہ انھیں رشک سے دیکھتا ہے۔

مخالفت اور دشمنی بھلا کر ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں شریک ہونا اور متعلقہ فرد یا فیملی کے جذبات کا احترام کرنا، ہمارے معاشرے کی ایسی ہی سنہری روایت ہے جسکی سب دل و جان سے پیروی کرتے ہیں۔

خاندانی لوگ اور اعلیٰ روایات کے حامل سیاستدان تمام تر مخالفت اور رنجش کو فراموش کرکے ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں اور خوشی و مسرت کے موقعوں پر ایک دوسرے کو مبارکباد دینا بھی نہیں بھولتے۔ چند روز پہلے لندن میں پاکستان کے سابق وزیرِاعظم میاں نواز شریف کے نواسے کی شادی کے موقعے پر جو افسوسناک اور شرمناک حرکت کی گئی وہ ناقابلِ تصور ہے۔

کم از کم میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ حکمران جماعت اپنی دینی اور معاشرتی روایات کو روندتے ہوئے اس حد تک چلی جائے گی کہ اپنے سیاسی حریف کی گھریلوتقریب کو خراب کرنے کے لیے کارندے بھیج دے گی۔ اعلیٰ عدلیہ کے کئی سابق جج صاحبان سے بھی بات ہوئی اور معروف ماہرینِ تعلیم سے بھی، سب نے یہی کہا It was shamful (یہ شرمناک حرکت تھی)۔

آج سے پانچ سال پہلے میاں نوازشریف کی آزمائشوں اور امتحانوں کا دور شروع ہوا، اُن سے پہلے وزارتِ عظمیٰ اور پھر پارٹی کی صدارت چھین کر سزا دلوا دی گئی۔ اب تو یہ راز بھی طشت از بام ہوچکا ہے کہ میاں نواز شریف کو جس ’’جرم‘‘کی سزا دی گئی وہ کرپشن ہرگز نہیں تھا۔ اس کی تصدیق کئی ریٹائرڈ جنرل اور سابق جج صاحبا ن بھی کرچکے ہیں اور سابق وزیرِداخلہ بریگیڈیئر اعجاز شاہ تواندر کی بات بتا چکے ہیں کہ اگر فلاں فلاں شخص میاں نوازشریف کا وزیر نہ ہوتا تو وہ چوتھی بار بھی وزیرِاعظم ہوتے، یعنی انھیں ہٹانے اور سزا دلانے میں کرپشن کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

بات یقیناً درست ہے،  جنرل مشرف اپنی تمام تر ایجنسیوں کے ذریعے کھوج لگانے کی سرتوڑ کوشش کرتا رہا، موجودہ حکمرانوں نے نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر کو اسی کام پر لگایا ہوا ہے، اگر انھوں نے کرپشن کی ہوتی تو یقیناً سامنے آجاتی اور موجودہ حکومت تو ہر روز میڈیا پر دکھاتی رہتی کہ فلاں کیس میں میاں نوازشریف نے اتنی رشوت لی ہے۔

فلاں پراجیکٹ میں اتنا کمیشن لیا گیا ہے، اگر کوئی ایسی چیز ثابت ہوتی تو میرا قلم آج اُن کے خلاف لکھ رہا ہوتا۔ مگر ایسا کچھ بھی نہیں نکلا ، صرف ان کے سیاسی نظریات کی بناء پر پچھلے کئی سالوں سے ان کی اور ان کے خاندان کی تضحیک اور تذلیل کی جارہی ہے۔ اس ضمن میں ایسی ایسی گھٹیا اور قبیح حرکتیں ہوئیں کہ ان کا ذکر کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔

میاں نوازشریف کی اہلیہ بسترِمرگ پر تھیں اور اسپتال میں ورکر بھیج دیے گئے کہ جاؤ جاکر فلمیں بناؤ اور ڈھول بجاؤ کہ بیماری کا ڈراما کیا جارہا ہے، تو بہ استغفار توبہ۔ سوسائٹی کے غریب اور اَن پڑھ طبقے سے بھی ایسی گھٹیا اور غیر انسانی حرکت کی توقع نہیں کی جاسکتی۔

نواز شریف صاحب کی رفیقۂ حیات ، موت و حیات کی کشمکش میں تھیں جب انھیں سزا سنا دی گئی۔ وہ اپنی اہلیہ کو بسترِ مرگ پر چھوڑ کر وطن واپس آگئے اور اس ملک میں جسے انھوں نے ناقابلِ تسخیر بنادیا تھا، انھیں یہ صلہ دیا گیا کہ بیٹی سمیت جیل میں بند کردیا گیا۔

معزولی، نااہلی، تضحیک، تذلیل، جیلوں، سزاؤں، بیماریوں اور اَن گنت امتحانوں اور آزمائشوں کے کئی سالوں کے بعدفیملی میں خوشی کا ایک موقع آیا کہ اُن کے نواسے کی شادی طے ہوگئی، میں دل میں حسنِ ظن پالتا رہا کہ ممکن ہے حکومت اس موقعے پر فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دولہا کے والدین کو لندن جانے کی اجازت دے دے،  مگر فراخدلی تو ایک طرف پاکستان میں اقتدار کے تخت پر براجمان سنگدل حکمرانوں کو اپنے سیاسی حریف کی ایک گھریلو خوشی بھی برداشت نہ ہوئی اور اس میں بھی بھنگ ڈالنے کے لیے پارٹی ورکر بھیج دیے گئے۔

بزرگ ٹھیک کہا کرتے تھے کہ اللہ کسی کو دشمن بھی کم ظرف نہ دے۔ میں اس مسئلے پر ہرگز قلم نہ اُٹھاتا مگر شادی میں گڑ بڑ کے لیے بھیجے جانے والے ورکروں میں سے ایک نے کیمرے کے سامنے کہہ دیا کہ ’’یہ طے ہوا تھا کہ پی ٹی آئی کے ورکرز یہاں پہنچیں گے‘‘ اگرپارٹی ورکروں نے پہنچنا تھا تو انھیں ہدایت اسلام آباد سے ہی ملی ہوگی، وہ اپنے طور پر اتنا بڑا فیصلہ نہیں کرسکتے تھے۔

احتجاج کرنے والے ایک اور شخص نے سوشل میڈیا پر اپنی تصویر لگائی ہے جس کے نیچے یہ کیپشن لکھا ہے کہ ’’یہ ہے وہ شیر جس نے جنید صفدر کی شادی برباد کرکے رکھ دی‘‘ ۔  یہ سب اس لیے ہے کہ وہ لوگ جانتے ہیں کہ قیادت کا قرب حاصل کرنے کا یہی معیار ہے۔ کون نہیں جانتا کہ ہماری سیاست میں گالی اور دشنام کا کلچر پی ٹی آئی نے پروان چڑھایا ہے۔

عمران خان صاحب سیاسی مخالفین کے بارے میں بدزبانی اور بدکلامی کرنے والے وزراء اور کارکنوںکوٹائیگر قرار دیتے ہیں۔ فرض کریں کہ اگر نوازشریف صاحب، وزیرِاعظم ہوتے اور عمران خان صاحب ان کے سیاسی حریف ہوتے تو کیا ان کا طرزِعمل وہی ہوتا جو آج خان صاحب کا ہے؟  ہرگز نہیں، 1992 میں میری تعیناتی وزیرِاعظم کے اسٹاف آفیسر کے طور پر ہوئی۔

میں نے نوازشریف صاحب کو بہت قریب سے دیکھا اور پرکھا ہے، مجھے یقین ہے کہ وہ عمران خان صاحب کے قریب ترین عزیز کی بیماری پر نہ صرف گلدستہ بھیجتے بلکہ تیمارداری کے لیے خود چلے جاتے اور جب کبھی ان کے سیاسی حریف کے نواسے یا بیٹے کی شادی کا موقع آتا تو وہ مبارکباد کا پیغام بھیجتے۔ شادی میں گڑبڑ کے لیے بندے بھیجنے کا تو سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ محترمہ جمائمہ خان کے خلاف چوری کا کیس بنانے کا صرف الزام ہے۔ کہیں کوئی ایف آئی آر نہیں ہے۔ میاں صاحبان اس قسم کی ہدایات دینے کی سختی سے تردید کر چکے ہیں۔

خیال تھا کہ حکمران جماعت کی قیادت کی طرف سے لندن میں کی جانے والی ایسی شرمناک حرکت کرنے والوں کی مذمت کی جائے گی ، مگر یہ دیکھ کر دکھ ہوا کہ ٹی وی چینلوں پر کئی وفاقی وزراء نے اس نیچ اور غلیظ حرکت کو درست قرار دیا، پہلے ہی ملک کے اندر اور باہر ہمارے سیاسی لیڈروں کی اخلاقی گراوٹ کے بڑے چرچے ہوتے ہیں، لندن میں ہونے والی اس حرکت نے اخلاقی پستی کا نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا محض کرپشن سے نفرت کی بناء پر یہ حرکت کی گئی ہے؟ہرگز نہیں! برطانیہ، امریکا سوئیٹزر لینڈ، دبئی، فرانس، اسپین، آسٹریلیا اور کئی دیگر ممالک میں پاکستان میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والے سیکڑوں لوگوں کی غیر قانونی ذرایع سے بنائی گئی جائیدادیں ہیں، کیا پی ٹی آئی کے ورکروں نے کبھی ان کے گھروں کے سامنے جاکر مظاہرے کیے ہیں؟اگر وہ احترامِ عدالت میں ایسا کرتے ہیں تو کیا کبھی عدالتوں کو مطلوب پرویز مشرف یا الطاف حسین کے فلیٹ کے سامنے بھی مظاہرہ ہوا ہے؟ اسی لندن میں کیا کبھی جہانگیر ترین کے وسیع و عریض بنگلے کے سامنے بھی مظاہرہ کیا گیا تھا؟ہرگز نہیں۔

برطانیہ میں سیکڑوں پاکستانیوں کے فلیٹ یا مکان ناجائز ذرایع سے خریدے گئے ہوں گے مگر لاہور سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے ممبران خود نجی محفلوں میں اقرار کرتے ہیں کہ میاں نوازشریف کے والد اُن کے سیاست میں آنے سے بہت پہلے کروڑ پتی تھے جولندن میں چار کے بجائے چالیس فلیٹ بھی خرید سکتے تھے۔

مگر معاملہ کرپشن کا توہے ہی نہیں، سزا کی وجوہات تو کچھ اور ہیں جن میں سے ایک سی پیک کا منصوبہ بھی ہے، عمران خان صاحب کو بھی میاں نواز شریف کے خلاف غصہ کسی کرپشن کے باعث نہیں ہے، اگر انھیں کرپشن سے نفرت ہوتی تو ان کے بہت سے وزیر اور مشیر جیل میں ہوتے، اگر انھیں لندن کے فلیٹ خریدنے (جو 1995 میں خریدے گئے) پر غصہ ہوتا تو وہ  جون 2014 میں میاں نواز شریف کواپنے بنی گالہ کے گھر میں بڑی پُر تکلف چائے پر مدعو نہ کرتے۔

جہاں خوشگوار ماحول میں خان صاحب  نے سڑک کا مطالبہ کیا، جس پر وزیرِاعظم نواز شریف نے اُن کے گھر تک اعلیٰ معیار کی سڑک بنوادی۔ 2014 کے دھرنوں کی بھی جو وجہ بتائی گئی وہ چار حلقوں میں دھاندلی کا الزام تھا، کرپشن کا کوئی ذکر نہیں تھا، یہ بیانیہ تو بعد میں تراشا گیا ۔

آخر میں بصد احترام میں وزیرِاعظم عمران خان صاحب سے پوچھنا چاہوں گاکہ کیا اپنے سیاسی حریف کو زچ کرنے اور تکلیف پہنچانے کے لیے  دینی اور اخلاقی قدروں کو پامال کرنا، اُس کی رہائش گاہ کے سامنے گالیاں دینے کے لیے  ورکر بھیجنا اور ایسا کرکے پوری دنیا میں اپنے ملک کی تضحیک کرانا، آپ درست سمجھتے ہیں؟ کیا برطانیہ ، ترکی، ملائیشیا یا بھارت کے سیاسی رہنما بیرونِ ملک جاکر اپنے سیاسی مخالفین پر الزام تراشی کرتے ہیں؟ اور آخری بات یہ کہ جس طرح آپ سیاسی مخالفت کو دشمنی میں بدل رہے ہیں، کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کا انجام کتنا خطرناک ہوسکتا ہے ؟

The post انتہائی افسوسناک appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3mQEHmw

اپوزیشن اور حکومت

پاکستان کی اپوزیشن پارٹیوں کے سیاسی اہداف ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے لیکن سب پارٹیاں اپنے اپنے انداز میں حکومت کی مخالفت میں مصروف ہیں۔ اپوزیشن کی بڑی پارٹیوں کا اتحاد بھی آگ اور پانی کے ملاپ کا معاملہ رہا۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے وارثتی لیڈر بلاول بھٹو زرداری اور محترمہ مریم نواز چند ماہ پہلے تک اپوزیشن اتحاد میں اس طرح شیر و شکر ہو گئے تھے کہ مریم نواز گڑھی خدا بخش میں جئے بھٹو کے نعرے پر داد دیتی نظر آئیں اور بلاول بھٹو رائے ونڈ میں لاہوری کھابوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ لیکن مطلب کی یہ دوستی زیادہ دیرپا ثابت نہ ہوئی اور پیپلز پارٹی نے اپنی راہیں جدا کر لیں۔

یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ اپوزیشن اتحاد میں جتنے بھی لیڈر صاحبان ہیں وہ سب وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں۔ وزیر اعظم تو کسی ایک نے منتخب ہونا ہے، شاید یہی وجہ تھی کہ پیپلز پارٹی  کو بہت جلد اس بات کا احساس ہو گیا کہ وہ آیندہ حکمرانی کے لیے نواز لیگ کی راہ ہموار کر رہے ہیں، اس لیے انھوں نے اپوزیشن اتحاد سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

پیپلز پارٹی کی بے وفائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکل گئی ۔ اب ایک بار پھر اپوزیشن نے انگڑائی لی ہے ۔ انھوں نے تحریک کے دوسرے مرحلے میں پہلا جلسہ کراچی میں منعقد کیا ہے ۔ میاں شہباز شریف بھی کراچی پہنچے ہیں جہاں پر انھوں نے اپنے کارکنوں سے ملاقاتیں بھی کی ہیں اورمزار قائد پر میڈیا نمایندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مفاہمت اور مزاحمت کی سیاست کے بجائے 2023 میں شفاف الیکشن اور قانون کی حکمرانی کی بات کی ہے جس کا بظاہر مطلب یہی نکلتا ہے کہ اپوزیشن کی حکومت مخالف موجودہ تحریک میں بھی کوئی دم خم نہیں ہے، اس لیے وہ آیندہ الیکشن کی شفافیت پر زور دے رہے ہیں۔

وزرائے اعظم کی جو تعداد اس ملک میں موجود ہے، ان میں ایک نام میاں شہباز شریف کا بھی ہے، ان کی قسمت کب کھلتی ہے، اس کا انحصار ان کے بھائی پر ہے جو لندن سے پارٹی کنٹرول کر رہے ہیں اور  مزاحمت کے بیانیے پر ڈٹے ہوئے ہیں جب کہ شہباز شریف مفاہمتی سیاست کے حامی ہیں۔ اسی گو مگو کی سیاست میں عوام کا ذہن بھی چکرا گیا ہے اور وہ ابھی تک یکسو ہو کر یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ وہ کس کے بیانیے کی حمایت کریں اور اپنا وزن کس کے پلڑے میں ڈالیں ۔

اگر نواز لیگ کی سیاست اسی نہج اور ڈگر پر چلتی رہی تو پھر ان کا ووٹر یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے گا کہ آیندہ انتخابات میں وہ کس سیاسی جماعت کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال دے۔ یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وقت کے ساتھ پاکستان میں دائیں اور بائیں بازو کی سیاست دم توڑ چکی ہے اور اب ووٹر نظریات سے نکل آیا ہے اور اس کا نظریہ صرف دو وقت کی روٹی رہ گیا ہے جس کے حصول کو ہر دور حکومت میں مشکل سے مشکل تر بنایا جاتا رہا ہے ۔

موجودہ حکومت نے عوام کے سامنے اپنی تین سالہ کار کردگی پیش کی ہے۔ وزیر اعظم نے بتایا ہے کہ لوگ خوشحال ہو رہے ہیں، ان کی حکومت کے اعدادو شمار اصل ہیں۔ ہر حکمران کی طرح ہمارے وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت سنبھالی تو ملک دیوالیہ ہونے والا تھا۔ سعودی عرب، امارات اور چین مدد نہ کرتے تو ملکی معیشت مشکل میں پھنس جاتی۔ انھوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ان کی ٹیم ناتجربہ کار تھی لیکن تبدیلی کا راستہ کٹھن ہے اور کامیابی کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔

جناب وزیر اعظم حکومت کی تین سالہ کارکردگی میں کوئی ایسا کارنامہ گنوانے سے قاصر رہے ہیں جس کے ثمرات براہ راست عوام تک پہنچے ہوں۔ تحریک انصاف کی حکومت اپنے تین سالہ دور حکومت میں اپنے منشور کے بنیادی نکات پر عمل درآمد سے پہلوتہی کرتی نظر آرہی ہے ۔

ان کے منشور کے دو بنیادی نکات میں بلدیاتی حکومتوں کا قیام اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقعے پیدا کرنا تھا لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ تین سالہ کا طویل عرصہ گزارنے کے بعد بھی حکومت بلدیاتی انتخابات سے بہت دور کھڑی نظر آرہی ہے اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ایک خواب نظر آرہی ہے جب کہ نوجوان جنھوں نے اپنے سہانے مستقبل کے خواب دیکھ کر تحریک انصاف کا علم بلند کیا تھا وہ بھی خفا اور مایوس نظر آتے ہیں۔ معیشت، میرٹ، شفاف احتساب، گڈ گورنس اور کروڑوں گھروں اور نوکریوں کی فراہمی بھی خواب بن چکی ہے ۔

میری ناقص عقل کے مطابق حکومت کے پاس ابھی دو سال کا وقت باقی ہے اور وہ اس عرصے میں اگر نیک نیتی سے کام کرے تو اپنے منشور کے بہت سارے نکات پر عمل کر کے عوام کے سامنے سرخرو ہو سکتی ہے لیکن حکمرانوں کو اپنے رویوں اور پالیسیوں پر فوری نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

عوام سے کھل کر بات کریں، عوام کو یہ بتایا جائے کہ ان سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے ۔ قوم کو اپنی قومی معیشت اور حالت سے باخبر کیجیے اور اس کے ساتھ ہی دوسروں سے قربانی مانگنے کے بجائے اپنی قربانی پیش کریں۔ یہ قوم ابھی زندہ ہے اور زندہ رہنا چاہتی ہے اسے زندہ رہنے دیجیے۔

The post اپوزیشن اور حکومت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3zB5K8W

ہم اس بھول بھلیاں سے کب نکلیں گے؟

اب ایک بار پھر نئے انتخابات کا غلغلہ ہے اور اس کے ساتھ ہی جمہوریت کا ذکر ہورہا ہے۔ ہمارے لوگوں نے جس جمہوریت کے لیے عذاب سہے تھے، ماریں کھائی تھیں، جان سے گئے تھے، وہ آئی تو ہے اس کے باوجود ملک کے ہر کونے سے دہشت گردی، ظلم اور جبر کی خبریں چلی آتی ہیں۔

کہیں خلق خدا ان لوگوں کے ہاتھوں ماری جارہی ہے، جن کے خیال میں خدا نے انھیں اس ’’کار خیر‘‘ پر مامورکیا ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کو ابدال آباد کا راستہ دکھائیں جو اسلام کی ان سے قدرے مختلف تفہیم رکھتے ہیں اورکہیں سیاست کو اپنے رنگ میں ڈھالنے کی چالیں ہیں۔ اس سے بڑا ظلم اور جبرکیا ہوسکتا ہے کہ عالمی مالیاتی بحران اور ملکی معیشت کی تباہ حالی نے لاکھوں نہیں کروڑوں کو احتیاج سے دوچارکردیا ہو اور دوسری طرف سے رشوت ستانیوں اور بدعنوانیوں کی خبریں آرہی ہوں۔

یہ وہ زمانہ ہے جب کئی انگریزی ناول یاد آتے ہیں۔ جارج آرویل کا “Animal Farm”  این رانڈکا “Atlas Shrugged” وہ دواہم سیاسی ناول ہیں جنھوں نے اپنے زمانے کی سیاست کے منافق اور بد اعمال افراد کے حقیقی چہروں کو لوگوںکے سامنے پیش کیا۔ بدعنوان اور ہوس اقتدار میں سب کچھ کرگزرنے والے افراد کے بارے میں انیسویں صدی کے آخر  میں ایک ناول امریکا میں لکھا گیا جسے اپنے زمانے میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی اور اس نے امریکی سیاست کو راہ راست پر لانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔

’’جمہوریت‘‘ نامی یہ ناول 1880 میں لکھا گیا۔ اس کی ہیروئن 30 سالہ میڈلین ہے جو بیوہ ہوگئی ہے اور اپنی بیٹی بھی کھو چکی ہے۔ ایک غم زدہ عورت جو اپنے دکھ کو دنیا کی آسائشوں سے نہیں بہلانا چاہتی۔ وہ پڑھی لکھی ہے، ذہین اور حسین ہے، خوشحال ہے، سیاست میں گہری دلچسپی رکھتی ہے اور اس کا خیال ہے کہ سیاست کے میدان میں ہی اس کی ملاقات کسی جوہر قابل سے ہوسکتی ہے، وہ نیو یارک سے واشنگٹن کا رخ کرتی ہے جو طاقت و اقتدارکا سرچشمہ ہے۔ وہاں اس کی ملاقات ایک نوجوان کیرنگٹن سے ہوتی ہے جو متوسط درجے سے تعلق رکھتا ہے۔

ایماندار اور باضمیر ہے، دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں، لیکن اس وقت کی امریکی سیاست کا ایک شاطر و عیار شخص ان دونوں کے درمیان آجاتا ہے ۔ یہ شخص امریکی سینیٹ کا رکن ہے اور اس سے پہلے ریاست ایلی نوائے کا گورنر رہ چکا ہے ، وہ امریکی سیاست کے اعلیٰ ترین عہدے پر پہنچنے کے لیے بساط بچھا رہا ہے اور با اثر افراد سے قریبی تعلقات قائم کررہا ہے۔

یہ شخص جس کا نام ریٹ کلف ہے وہ میڈلین کے حسن اور اس کی ذہانت کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے وہ اس سے اظہار عشق کرتا ہے اور شادی کے لیے خواستگاری کرتا ہے۔

چار برس بعد اس کا ارادہ امریکی صدارتی انتخابات میں حصہ لینے اورکامیاب ہونے کا ہے، وہ سوچتا ہے کہ اگر میڈیلن جیسی خوشحال نازنین اورذہین عورت اس کی بیگم ہوگی تو اسے با اثر لوگوں کی حمایت حاصل کرنے میں آسانی ہوگی اور عوامی جلسوں میں جب وہ میڈیلن کو ساتھ لے کر نکلے گا تو ووٹ ڈالنے والوں کی ہمدردیاں  اس کے ساتھ ہوں گی جس نے ایک نوجوان بیوہ اور اکلوتی بچی سے محروم ہوجانے والی غمزدہ ماں کی دل جوئی کے لیے اسے شریک زندگی بنا لیا اور توقعات کے برعکس کسی نو خیز اور ناتجربہ کار حسینہ کا بہ طور بیگم انتخاب نہیں کیا۔

ریٹ کلف ان لوگوں کو ناپسند کرتا ہے جو سیاست کو خلق خدا کے کام آنے کے لیے اختیارکرتے ہیں اور اسے عبادت کا درجہ دیتے ہیں۔ اس کا خیال ہے کہ سیاست ایک عشوہ طراز حسینہ کی طرح ہے جس کے ذریعے دولت، اقتدار اور بے پناہ اثرو رسوخ حاصل کیا جاسکتا ہے۔

ادھرمیڈیلن ہے جو اس خیال سے واشنگٹن آئی تھی کہ یہاں اسے اچھے اورکامیاب سیاستدانوں سے ملنے کا موقع ملے گا لیکن جب وہ اس شہر کے بااثر طبقات سے گھلتی ملتی ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ کامیاب سیاستدان کے لیے لازم ہے کہ وہ با ضمیر نہ ہو، اس کے ہاتھ ناجائز دولت کو سمیٹنے میں دن رات مصروف ہوں، وہ راگ عوام کی خدمت کا الاپتاہو جب کہ درحقیقت کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا ہو جس میں عوام کا خون پی سکے اور ان کی بھلائی کے لیے ہونے والے سرکاری کاموں میں سے بھاری رشوت نہ سمیٹتا ہو۔ میڈیلن کا دل واشنگٹن کی اس منافقانہ اور عفونت زدہ فضا سے اوبھ چکا ہے۔

وہ شادی کے لیے اصرار کرنے والے سیاستدان ریٹ کلف سے پوچھتی ہے کہ کیا ہم ہمیشہ چور، اچکوں اور لٹیروں کے رحم و کرم پر ہی رہیں گے؟ کیا جمہوری طرز حکومت کے تحت ایک ایماندار اور انصاف پسند حکومت کا قیام ممکن نہیں؟

ریٹ کلف کہتا ہے کہ عوام کی نمایندہ کوئی بھی حکومت اس وقت تک صاف ستھری اور ایماندار نہیں ہوسکتی جب تک اس کو ووٹ دینے والے ایماندار اور بے غرض نہ ہوں۔ میڈیلن یہ جواب سن کر ششدر رہ جاتی ہے۔ گویا ریٹ کلف مقتدر اور اعلیٰ عہدوں پر متمکن سیاستدانوں اور خود اپنے تمام اخلاقی اور مالیاتی جرائم کی ذمے داری ان لوگوں پر ڈال دیتا ہے جنھوں نے ان سب کو منتخب کیا ہے۔ خود کو وہ دودھ سے دھلے ہوئے ایک ایسے اجلے انسان کی طرح پیش کرتا ہے جس سے شادی کرکے میڈیلن بہت فائدے میں رہے گی اور صرف چار برس بعد اسے امریکا کی خاتون اول ہونے کا اعزاز حاصل ہوجائے گا۔

وہ میڈیلن کو یقین دلاتا  ہے کہ اس نے امریکی صدر بننے کا جو منصوبہ بنایا ہے اس میں ہر قیمت پر کامیابی حاصل کرے گا۔ میڈیلن کو اب اچھی طرح اندازہ ہوچکا ہے کہ ریٹ کلف اور اس کے دوست اخلاقی گراوٹ کی کن پستیوں میں اترے ہوئے ہیں۔

ان ہی دنوں ریٹ کلف اس سیاستدان سے بے حد قریب ہوجاتا ہے جو صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرچکا ہے اورصدارتی حلف اٹھانے والا ہے ، وہ اس کا مشیر بن جاتا ہے اور اس کی افتتاحی صدارتی تقریر لکھنے میں مصروف ہے۔کھوکھلے وعدوں سے بھری ہوئی تقریر۔ اعلیٰ قسم کی ہلکی گلابی اور سفید پیاز جسے چھیلتے چلے جائیے ، ہر پرت الگ ہوتی جائے گی اور ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ اس ناول میں اخلاقی اورمالیاتی اعتبار سے بدعنوان ایک فرد ہے جو صدر امریکا منتخب ہوچکا ہے ، اس کے مشیر، وزیر اور سفیر ہیں۔ اقربا پروری اپنے عروج پر ہے۔ عوام کے سامنے شاندارمنصوبوں کے ڈھیر لگائے جاتے ہیں جن پر عمل کا کوئی ارادہ نہیں اور ایوان اقتدار میں ہر طرف بدعنوانی اور رشوت ستانی کی بدبو ہے۔

یہ ناول ہنری ایڈمز نے لکھا جس کے باپ چارلس ایڈمزکو امریکی صدر ابراہم لنکن نے برطانیہ میں امریکی سفیر بناکر بھیجا تھا۔ ہنری ایڈمز باپ کے ساتھ لندن گیا، ذہین اور تحریری اعتبار سے منجھا ہوا تھا ، لندن سے وہ نیویارک ٹائمز کے لیے کالم لکھتا رہا لیکن قلمی نام سے۔ سفارتی زندگی کے تزک و احتشام سے وہ اپنے باپ کے وسیلے سے آشنا ہوا لیکن پھر اس زندگی کو ترک کرکے ادب ، تحقیق اور صحافت سے وابستہ ہوا۔ امریکا واپس آیا اور لکھنے پڑھنے کے کام میں دل وجان سے مصروف ہوگیا۔ اسے یقین تھا کہ جمہوری نظام کو اگر ایمانداری سے نافذ کیا جائے تو یہ دروبست خلق خدا کو آلام و اندوہ سے نجات دلا سکتا ہے۔

واشنگٹن میں ایڈمز اور اس کی دانش جو شریک حیات کلوور ہوپر نے اقتدارکی غلام گردشوں میں حرص اور رشوت ستانی ‘ بھتہ خوری میں مبتلا سیاستدانوں کی اکثریت دیکھی اور ان کی سازشیں دیکھیں۔ یہی وہ پس منظر تھا جس نے ہنری ایڈمز کو ناول ’’جمہوریت‘‘ لکھنے پر مجبورکیا۔ اس کے متعدد کردار حقیقی تھے، اتنے حقیقی کہ نام بدل دینے کے باوجود وہ پہچانے جاتے تھے۔ اس ناول نے امریکی عوام کویہ سوچنے پر مجبورکیا کہ اگر انھوں نے اپنے غلط کار سیاستدانوں کا محاسبہ نہیں کیا تو وہ نظام عدل وجود میں نہیں آسکے گا جو بدعنوان افراد کا دیانتداری سے احتساب کرے اور انھیں سزائیں دے۔

اس ناول میں اس وقت کی امریکی سیاست کا اتنا سچا اورکھرا عکس تھا کہ ایڈمز کی ہمت نہ ہوئی کہ اسے اپنے نام سے چھپوائے اور مقتدر ترین لوگوں کے غیض وغصب کا نشانہ بننے ‘ اسی لیے یہ ناول اس کی زندگی میں ایک فرضی  نام سے شایع ہوا۔ اس کی موت کے فوراً بعد اس کے پبلشر نے یہ اعلان کیا کہ یہ شاندار ناول کس نے اپنے خون جگر سے لکھا تھا۔ امریکی سیاست کے بارے میں لکھے جانے والے اس ناول پر سے 141 برس گزر چکے ہیں۔

امریکی عوام اسے بھلا چکے ہیں لیکن آج اگر ہم اسے پڑھیں تو جی چاہتا ہے کہ ہنری ایڈمزکو داد دیں جس نے ہمارے ملک کے وجود میں آنے اور یہاں کے صاحبان اقتدار کی پیدائش سے پہلے ہی ان کی بے مثال تصویرکشی کردی تھی۔اسے پڑھیے اور یہ ضرور سوچیے کہ ہم اس بھول بھلیاں سے کب نکلیں گے؟

The post ہم اس بھول بھلیاں سے کب نکلیں گے؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2WGU4Du

شہر تباہی سے بچ سکتا ہے

Devolution of Power is not Karachi’s major problem, Bilawal۔ دنیا کی قدیم یونیورسٹی آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن کی سند حاصل کرنے والے بلاول بھٹو زرداری نے کراچی کے مسائل کا حل بتا دیا۔

بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان سے پیپلز پارٹی کی قیادت تو مطمئن ہوگئی مگر جمہوری اداروں کے ارتقاء پر نظر رکھنے والے وہ صاحبانِ علم جو پیپلز پارٹی سے امیدیں لگائے ہوئے ہیں، پھر مایوسی کا شکار ہوگئے۔

بے نظیر بھٹو جب 1987 میں اپنی جلاوطنی ختم کر کے پاکستان آئی تھیں تو انھوں نے پیپلز پارٹی کے منشور میں نیا سماجی معاہدہ New Social Contract کو شامل کرایا تھا ، ان کے ذہن میں برطانیہ کا جمہوری نظام تھا۔ برطانیہ کے جمہوری نظام میں کاؤنٹی کا اہم کردار ہے۔ برطانیہ کے شہروں اور دیہی علاقوں میں کاؤنٹی  خود مختار ہوتی ہے۔

کاؤنٹی کی قیادت منتخب میئرکرتا ہے اور میئر کے پاس تعلیم، صحت ، ہاؤسنگ، پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ حتیٰ کہ پولیس کو کنٹرول کرنے کے اختیارات بھی ہوتے ہیں۔ لندن کے میئر کے پاس لامحدود اختیارات ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی پارلیمنٹ قانون سازی اور پالیسی بنانے کا فریضہ انجام دیتی ہے۔

نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی ادارے یورپ ، امریکا ، جاپان ، بھارت اور چین میں قائم ہیں اور بلدیاتی اداروں کو جمہوریت کی پہلی سیڑھی کہا جاتا ہے۔ ان ممالک میں یہ ادارے اتنے زیادہ بااختیار ہیں کہ قدرتی آفات ، حادثات، وبائی امراض کے بحران اور امن و امان کی صورتحال سمیت تمام نوعیت کے بحرانوں کو کنٹرول کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر مرکزی حکومتوں سے مدد طلب کرتے ہیں۔ بلدیاتی اداروں کے میئر ہنگامی صورتحال میں پیراملٹری دستوں اور مسلح افواج کے دستوں کو بلانے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

امریکا اور یورپی ممالک کے تجربات سے متاثر ہو کر بے نظیر بھٹو نے نئے سماجی معاہدہ کا تصور پیش کیا تھا مگر پیپلز پارٹی کی مختلف ادوار میں اقتدار میں آنے والی حکومتوں نے اس پر توجہ نہیں دی۔

سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے قریبی مشیر جنرل نقوی کے تیار کردہ نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی نظام کو نافذ کیا۔ اس بلدیاتی نظام کی بناء پر کراچی اور لاہور میں خوب ترقی ہوئی۔ اس نظام کے تحت کراچی کے پہلے ناظم جماعت اسلامی کے نعمت اﷲ خان تھے۔ دوسرے ناظم ایم کیو ایم کے مصطفی کمال تھے۔ ان ادوار میں کراچی میں اوورہیڈ برج اور انڈر پاس تعمیر ہوئے۔ چوڑی سڑکیں تعمیر ہوئیں، سہراب گوٹھ سے کلفٹن تک جانے کے لیے جدید طرز پر سڑکوں کی تعمیر کی گئی اور شہر میں صفائی کا نظام بہتر ہوا۔

کراچی کے شہریوں کو پہلی دفعہ احساس ہوا کہ عیدالاضحیٰ کے تین دنوں میں قربانی کے جانوروں کی آلائشیں اٹھانے کا کام ہوسکتا ہے۔ اسی طرح تعلیم اور صحت کے شعبہ ناظم کی نگرانی میں آنے سے عوامی نمایندوں کی نگرانی کا تصور عملی شکل اختیار کرنے لگا۔ اس بلدیاتی نظام میں خواتین کی نمایندگی لازمی طور پر 24فیصد کی گئی۔ اس بناء پر یونین کونسل، ٹاؤن اور کراچی سٹی گورنمنٹ کے ایوانوں میں خواتین کی نمایندگی بڑھ گئی۔ اقلیتوں، مزدور اور کسانوں کے نمایندوں کو ان اداروں میں نمایندگی مل گئی مگر اس نظام میں چند نقائص تھے۔

آئین میں دی گئی صوبائی خودمختاری کے تصور کو مجروح کیا گیا تھا۔ وفاق براہِ راست اضلاع سے رابطہ میں تھا۔ ایم کیو ایم کے دور میں ساری ترقی متوسط طبقہ کے لیے مختص ہوگئی۔ کراچی کے مضافاتی علاقوں کو نظرانداز کیا گیا۔ لیاری ٹاؤن میں ایک بھی اوورہیڈ برج اور انڈر پاس تعمیر نہ ہوا، شہر کے اطراف کے گوٹھوں اور کچی بستیوں کو مکمل طور پر نظرانداز کیاگیا۔ نعمت اﷲ خان نے پرائیویٹ سیکٹر کو جدید بسیں چلانے کی طرف راغب کیا مگر ان کے جاتے ہی یہ بسیں لاپتہ ہوگئیں۔

ایم کیو ایم نے انڈرگراؤنڈ ٹرین، میٹرو بس، سرکولر ریلوے کی تعمیر پر توجہ نہیں دی، صرف مصطفی کمال کے آخری دور میں سی این جی سے چلنے والی گرین بسیں لانڈھی سے ٹاورکی طرف دوڑتی نظر آتی تھیں۔ 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی۔

اس حکومت نے بلدیاتی اداروں کی مدت پوری ہونے کے بعد دوبارہ انتخابات نہیں کرائے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر سندھ اور دیگر صوبوں میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے مگر حکومت نے نچلی سطح کے نظام کو ختم کردیا۔ سندھ میں جو بلدیاتی قانون نافذ ہوا اس میں کونسلر کو تمام اختیارات سے محروم کیا گیا۔

حکومت نے کوڑا اٹھانے کی ذمے داری ایک چینی فرم کے سپرد کردی۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو بلدیاتی کنٹرول سے علیحدہ کردیا گیا۔ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو ختم کر کے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی تحویل میں دیا گیا۔ کونسلر کے اختیارات ختم ہونے سے کوڑے اور سیوریج کے پانی کا مسئلہ عالمی مسئلہ بن گیا۔ ٹرانسپورٹ کے سابق وزیر ناصر شاہ کو ٹی وی پروگرام میں اس ناقص کارکردگی پر معذرت کرنی پڑی۔ بلدیہ کراچی کے موجودہ ایڈمنسٹریٹر مرتضیٰ وہاب کو اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد صحافیوں کے سامنے یہ اقرارکرنا پڑا کہ صورتحال مایوس کن ہے۔

گزشتہ سال اسی مہینہ میں ہونے والی موسلادھار بارش سے شہر ڈوب گیا جس سے ثابت ہوگیا کہ کراچی کا بلدیاتی نظام ٹھپ ہوچکا ہے۔ پیپلز پارٹی بلدیاتی انتخابات کرانے کو تیار نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ 2017 کی مردم شماری کے نتائج میں تبدیلی کی گئی ہے۔ نئے مردم شماری کے بعد بلدیاتی انتخابات ہونے چاہئیں۔یہ کیسی عجیب صورتحال ہے کہ پیپلز پارٹی 2017کی متنازعہ مردم شماری کی بنیاد پر ہونے والے انتخابات میں حصہ لے چکی ہے ، سندھ میں حکومت بناچکی ہے اور اب قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا مسلسل مطالبہ کررہی ہے۔

بلدیاتی انتخابات کے بارے میں حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن کو کرنا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے سندھ میں 12 سالہ دور حکومت سے نئے تضادات پیدا ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق شہر کے مضافاتی علاقوں میں لینڈ مافیا کی لڑائی لسانی شکل اختیار کررہی ہے۔

کراچی کے شہریوں میں یہ تاثر عام ہے کہ حکومت کوٹہ سسٹم پر عمل نہیں کرتی اور انھیں ملازمتوں میں مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔ ان تمام مسائل کا حل ایک سپر بلدیہ کراچی ہے۔ شہر کے تمام علاقے اس ادارہ کی زیرِ نگرانی ہونے چاہئیں اور اختیارات نچلی سطح تک (کونسلر) منتقل ہونے چاہئیں۔ یوں یہ شہر تباہی سے بچ سکتا ہے۔

The post شہر تباہی سے بچ سکتا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3yxYvxl

ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

کیا پہلی بارکراچی کے علاقے مہران ٹاؤن ،کورنگی میں واقع فیکٹری میں مزدور جھلس کر جاں بحق ہوئے؟ مزدوروں کا قتل مختلف طریقوں سے مختلف ملکوں اور خطوں میں کیا جاتا رہا ہے۔

ایک تو معاشی قتل، بے روزگاری سے تنگ آ کر خودکشیاں کرنا،  معدنیات کی کانوں میں دب کر مرنا ، جنگوں میں مرنا، زلزلوں، طوفانوں، گرمی اور سردی میں ٹھٹھرکر مرنا اور سب سے زیادہ بھوک سے مرتے ہیں۔ قدر زائد کو چوری کرکے سرمایہ دار خود تو ارب پتی اور کھرب پتی بن جاتا ہے جب کہ مزدور فاقوں سے مر جاتے ہیں۔

کم وقت میں زیادہ کام لینے سے مزدور کی حیات تنگ ہو جاتی ہے اورکم تنخواہ دے کر زیادہ وقت کام لینے سے بھی وہ جوانی میں ہی بوڑھا لگتا ہے۔ یہ تو رہا مزدوروں کا عالم گیر استحصال۔ جہاں تک پسماندہ ملکوں میں مزدوروں کے استحصال کا تعلق ہے تو وہ انتہائی ہیبت ناک اور خوف ناک ہوتا ہے۔ پاکستان، بنگلہ دیش، ہندوستان، برازیل، جنوبی افریقہ اور نائیجیریا میں برملا اور دھڑلے سے استحصال ہوتا ہے۔

سانحہ کورنگی سے قبل اسی کراچی میں بلدیہ ٹاؤن میں ایک فیکٹری میں آگ سے جھلس کر اور دم گھٹنے سے 268 مزدور شہید ہوئے تھے اور پھر گڈانی شپ یارڈ میں شپ بریکنگ کے دوران 10 مزدور جھلس کر شہید ہوئے تھے۔ ان دونوں اندوہناک سانحے انتظامیہ کی  غفلت اور لاپرواہی کے نتیجے ہیں۔

ان میں شہید ہونے والے مزدوروں کے لواحقین کو نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کی کاوشوں سے معاوضہ تو ادا کیا گیا لیکن ابھی تک مزدوروںشہادت کے قصور واروں کی شناخت ہوئی اور نہ کوئی سزا۔ ایسی صورت حال کورنگی مہران ٹاؤن میں سفری بیگ بنانے والی فیکٹری کے شہیدوں کے ساتھ بھی نہ ہو۔ کراچی اور پاکستان بھر میں فیکٹریوں، ملز، کارخانوں اور بیشتر صنعتی اداروں میں حادثات سے بچنے کے لیے قبل از وقت احتیاتی تدابیر اختیار نہیں کی جاتی ہیں۔ عالمی مزدور قوانین کے مطابق آگ لگنے پر خبرداری کی گھنٹی بجانا ضروری ہے۔

ہر فیکٹری کے عقب میں نکلنے کا راستہ رکھنا ضروری ہے۔ فائر فائٹنگ کے آلات، دیوار توڑ کر نکلنے کا بندوبست، کھڑکیاں اور دروازے کشادہ ہوں اور حفظان صحت کے مطابق فیکٹری کی تعمیر ہونی چاہیے۔ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے بعد تو صوبائی، وفاقی حکومتوں، لیبر ڈپارٹمنٹ، قانون نافذ کرنے والے اداروں، فائر بریگیڈروں اور فیکٹری مالکان کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے تھی ، مگر اب بھی 90 فیصد ملوں، کارخانوں اور فیکٹریوں میں مزدوروں کے تحفظات کے لیے عالمی لیبر لاز پر قطعی کوئی عمل نہیں کیا جاتا ہے۔

حالیہ کورنگی کی فیکٹری میں پیچھے سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا، چھت پر جانے کی مزدوروں نے کوششیں کیں تو اوپر کے دروازے پر تالا پڑا ہوا تھا۔ مرکزی داخلی دروازہ بھی بند تھا۔ فیکٹری کی کھڑکیوں میں لوہے کی سلاخیں لگی ہوئی تھیں جہاں سے کوئی چھلانگ بھی نہیں لگا سکتا تھا۔ فیکٹری میں آگ لگنے کے بعد بھی انتظامیہ مزدوروں کو فیکٹری سے اندر کا مال نکالنے پر زور دیتی رہی۔ ایسا لگتا تھا کہ مزدوروں کی زندگی سے زیادہ مال کی فکر تھی۔ آگ لگنے کے بعد لوگوں نے فائر بریگیڈ کو 30 سے 35 کالیں کیں مگر فائر بریگیڈ کی گاڑی کوئی ڈھائی گھنٹے کے بعد آئی۔

حکومت سندھ نے صنعتی علاقوں کے لیے الگ سے خصوصی فائر بریگیڈ کی ٹیم شکیل دی تھی ، مگر جب فائر بریگیڈ کی گاڑیاں پہنچیں تو ان کے پاس پانی کی کمی تھی۔ آگ لگنے کے بعد سے بجھنے تک کوئی وزیر، کوئی مشیر یا حکام اعلیٰ نہیں پہنچے۔ ہاں مگر نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری ناصر منصور اور فیڈریشن سندھ کے صدر گل رحمن اور سعیدہ بروقت پہنچے۔ مزدوروں کے لواحقین سے ملے، ایدھی سینٹر کے اہل کاروں سے ملاقات کی اور احتجاج کیا اور طبقاتی جدوجہد کے رہنما جنت حسین بھی موقع پر موجود تھے۔

بعدازں فیکٹری کی آگ بجھنے کے بعد  نماز جنازہ میں مرتضیٰ وہاب، وقار مہدی اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ فیکٹری قانونی تھی یا غیر قانونی۔ مسئلہ ہے مزدوروں کی جان کی حفاظت کا نظام ہونا ILO اور پاکستان لیبر لاز کے مطابق لازم ہے کہ ہر فیکٹری میں فائر الارم، فائر فائٹنگ کے آلاگ، فیکٹری سے نکلنے کا محفوظ راستہ، کھڑکیاں کشادہ اور بغیر سلاخوں کے ہوں، چھت پر جانے کا راستہ کشادہ اور گزرنے کے لیے کوئی رکاوٹ نہ ہو۔

جب بلدیہ ٹاؤن سانحے کے ذمے داروں کی شناخت آج تک نہیں ہوئی اور نہ کوئی سزا کا مرتکب ٹھہرا۔ پھر مزدور اس سانحے کے بہتر نتائج کی کیونکر توقع کریں۔ اس سلسلے میں بہت سی سیاسی، سماجی، مذہبی اور ٹریڈ یونین نے مذمتی بیانات دیے ہیں لیکن شہید مزدوروں کے قاتلوں کی گرفتاری اور جلدازجلد انھیں کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ بہت کم جماعتیں کر رہی ہیں۔

فیکٹری میں لگنے والی آگ اتنی شدید تھی کہ پہلی اور دوسری منزل پر موجود ملازمین کو نکلنے کا موقع ہی نہ مل سکا اور وہ بے بسی کی موت مارے گئے۔ فائر افسر سعید اللہ کے مطابق جیسے ہی آگ کی اطلاع ملی اور اس کی شدت کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر  ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور شہر بھر سے فائر بریگیڈ کے عملے کو طلب کرلیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی 12 گاڑیاں، اسنارکل اور باؤزر کے علاوہ واٹر ٹینکروں کی مدد سے پانی فراہم کیا گیا۔ بدقسمتی یہرہی کہ فیکٹری میں جانے اور آنے کا ایک ہی راستہ ہے جب کہ کھڑکیوں پر گرل لگی ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، تاہم فائر بریگیڈ کے عملے نے سخت جدوجہد کے بعد فیکٹری کی ایک دیوار توڑ کر آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری رکھیں۔

فیکٹری گراؤنڈ پلس ٹو میں صمد بونڈ اور مٹی کا تیل بھی رکھا تھا، جس کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی۔ آگ پر قابو پانے کے دوران کرین کی مدد سے فیکٹری کی پہلی اور دوسری منزل پر جان بچاتے ہوئے دم گھٹنے اور جھلس کر جاں بحق ہونے والوں کی لاشوں کو نکالا گیا۔ جب لاشیں جناح اسپتال پہنچنے لگیں تو اسپتال انتظامیہ نے ایمرجنسی نافذ کردی۔ وہاں مزدوروں کے لواحقین پہنچ گئے جہاں کئی رقت انگیز مناظر دیکھنے کو ملے۔

ایدھی اور چھیپا کے 3 رضاکار آگ بجھانے اور مزدوروں کو نکالتے ہوئے دم گھٹنے کی وجہ سے چھت سے زمین پر گر پڑے جنھیں جناح اسپتال پہنچایا گیا،اگر شروع میں ہی دیوار توڑ دی جاتی تو مزدوروں کو زندہ نکالا جاسکتا تھا۔ یہ بھی حکومت انتظامیہ کی شدید غلطی بلکہ جرم ہے کہ شروع میں ہی دیوار کیوں نہیں توڑی گئی۔

جب کوئی صاحب جائیداد طبقات کا شخص مرتا ہے تو اس کے لواحقین کے پاس جاکر تعزیت کی جاتی ہے اور صدر ، وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ اور دیگر اعلیٰ حکام ان کے جنازے میں شرکت کرتے ہیں، مگر جب مزدور مرتا ہے تو ان کے لواحقین کے پاس صدر اور وزیر اعظم جاتے ہیں اور نہ جنازے میں شرکت کرتے ہیں۔ یہ ہے طبقاتی نظام۔ یہ نظام ہی سرمایہ داروں اور صاحب جائیداد طبقات ہے وہ کیونکر مزدوروں کی شہادت پر اتنی تکلیف کریں گے۔

The post ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3mQVPsC

جہاں نہ پہنچے شکاری وہاں پہنچے بھکاری

اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ دنیا میں طاقتور ترین کون ہے تو آپ کا جواب کیاہوگا؟ اپنے آؤٹ آف آرڈر دماغ کو تکلیف مت دیجیے، ہم بتائے دیتے ہیں بلکہ ہم بھی کیا بتائیں گے، ایک پشتو کہاوت میں پہلے ہی بتا دیاگیا ہے کہ ’’دنیا زورآوروں‘‘ کی ہے یا  پھر بے شرموں کی۔ صحیح الفاظ یہ ہیں کہ دنیا دو لوگوں نے کھائی ہے۔

ایک طاقتوروں نے اور دوسرے بے شرموں نے۔ لیکن ہم نے دونوں کو غور کے حوض میں غوطے دیے تو زورآور بھی ڈوب گئے، صرف بے شرم ہی باقی رہ گئے جس طرح سوویت یونین کے انہدام کے بعد صرف امریکا ہی واحد سپر پاور باقی رہ گیا ہے۔

ویسے  طاقتور اور زورآور بھی بے شرموںکے آگے چیں بول گئے کیونکہ زورآور بھی وہی بنتے ہیں جوبے شرمی میں ٹاپ کر لیتے ہیں۔ بیچارے شرم دار، حیا داراور خوددار تو سامنے طاقت کا یا کسی بھی چیز کا پہاڑ بھی پڑا ہو تو مارے شرم و حیا اور خودداری کے اسے ہاتھ بھی نہ لگائیں۔ مرشد نے بھی اس کی تصدیق کی ہے :

بندگی میں بھی وہ آزاد وخود بیںکہ ہم

الٹے پھر آئے درکعبہ اگر وانہ ہوا

لیکن بے شرم، بے حیا بن پوچھے، بن بلائے، آگے بڑھ کر اپنی جھولی بھرنا شروع کر دیتے ہیں۔  اردو میں بھی محاورہ ہے کہ’’ جس نے کی شرم اس کے پھوٹے کرم ـ‘‘ اس لیے صرف بے شرم ہی دنیا کے واحد سپر پاور ہیں، تھے اور رہیں گے۔

نہ یہ چاند ہوگا نہ تارے رہیں گے

مگر ان کے وارے نیارے رہیں گے

اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم کسی خاص قسم کے بے شرموں کو نشانہ بنانے کے لیے بندوق لوڈ کر رہے ہیں تو غلط سمجھ رہے ہیں کیونکہ بے شرموں کی نہ اقسام ہوتی ہیں نہ کٹیگریاں، بے شرم صرف بے شرم ہوتے ہیں یعنی نام ہی میں سب کچھ رکھا ہوا ہے بلکہ نام ہی ان کے پہچان ہے۔

بے شرم چھوٹا ہو یا بڑا یہاں ہو یا وہاں کسی بھی ملک کسی بھی پارٹی اور کسی بھی کمیونٹی میں ہوں۔ صرف بے شرم ہوتے ہیں اور شرموں کے سوا کچھ نہیں ہوتے

بے شرمیاں سمٹ کے سارے جہا ں کی

جب کچھ نہ بن سکا تو بے شرم بنا دیا

بے شرم بھی پرانی بنیان پہنے لنگر کی روٹی کھاتے ہوئے جھلنگی چارپائی پر بیٹھ کر بھی مونچھیں بھی نہ ہونے کے باوجود مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہیں گے یعنی ہم تو صرف اچھا کھانے،اچھا پینے اور اچھا کہنے کے قائل ہیں ۔ پیسے ہیں ، بنگلہ ہے لیکن پھر بھی عزت ہے لہٰذا اور کیا چاہیے نظر یا ویژن کے لیے ۔اور یہ ہم سنی سنائی نہیں کہہ رہے ہیں، اپنا چشم دید چشمہ دیدہ  بیان کر رہے ہیں۔

ہمارے کھیتوں والے مکان میں کوئی کوہستانی اجڈ گھرانا مقیم تھا۔ جو ہمارے کارپرداز نے ڈالا ہوا تھا۔ ہم کئی بار وہاں گئے اور آئے لیکن اس گھرانے میں بچوں کے علاوہ اور کسی کو بھی نہیں دیکھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ بچوں کے ماں باپ صبح سویرے بھیک مانگنے کے لیے نکل جاتے ہیں ۔ باپ بازاروں میں بھیک مانگتا ہے اور ماں گھروں میں پھٹے پرانے کپڑے پہن کر اور روایتی لاٹھی لے کر مانگتی پھرتی ہے۔

ان دنوں افغان مہاجروں کا زور تھا۔ ہمارے ہاں بھی مہاجر کیمپ تھے۔ کچھ مہاجر ہمارے کھیتوں میں کام کرنے یا آگ جلانے کے لیے ایندھن لینے آجاتے تھے۔ ایک دن ایک مہاجر ہمارے پاس بیٹھا تھا کہ اتفاق سے اس بھکاری گھرانے کی عورت لدی پھندی آگئی۔ افغان مہاجر نے دیکھا تو بولا ،یہ عورت تو ہمارے کیمپ میں بھی جب راشن تقسیم ہوتا تب وہاں آتی ہے۔

افغان مہاجر جب مفت کا راشن لے لیتے ہیں تو یہ ان سے بھیک مانگتی ہے یہاں تک کہ گھی کے لیے برتن بھی ساتھ لاتی ہے یعنی جو افغان مہاجر خود ہماری خیرات پر پل رہے تھے، وہ عورت ان سے بھی بھیک مانگتی تھی، آفرین ہے ، خیرات میں راشن لینے والوں پر بھی کہ وہ اسے آگے دان کرکے ثواب دارین بھی کماتے تھے۔ اسے کہتے ہیں بھکاری سے بھیک یا بھکاری کا دوسرے بھکاری کو بھیک دینا۔ یہ تو خیر بھیک کی بات ہو گئی جو دنیا کا سب سے بڑا منافع بخش پیشہ ہی نہیں کاروبار اور روزگار بھی ہے جو بے شرمی کے سکوں سے چلتی ہے یا چلتا ہے۔

حیرت اس وقت ہوئی جب یونہی گزرتے ہوئے ہم نے ان کے کوڑے کے ڈھیر پر خربوزے کے چھلکے دیکھے۔ سیزن کے نئے خربوزے بازار میں آئے تھے۔ کل ہی ہم نے نرخ پوچھا جو ہماری استطاعت سے باہر تھا۔ لیکن وہ بھکاری کھا چکے تھے، چھلکے بتا رہے تھے کہ پیٹ بھر کر کھائے ہیں۔ اب اس کو آپ کیا کہیں  گے؟ زورآور؟ جی نہیں۔ زورآوروں کی پہنچ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے لیکن بے شرمی کی کوئی حد نہیں ہوتی،کہیں بھی ہر وقت پہنچ سکتی ہے اور پہنچ جاتی ہے ۔

پڑوسی ملک میں ایک کہاوت ہے جہاں نہ پہنچے ’’روی‘‘ وہاں پہنچے ’’کوی‘‘(شاعر) ہمیں کرنا صرف یہ ہے کہ کوی کی جگہ بھکاری کیے دیتے ہیں جہاں نہ پہنچے شکار وہاں پہنچے بھکاری اور بے شرم ۔ شاہوں کے خزانے ختم ہو جائیں گے لیکن بے شرموں کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوںگے ۔

The post جہاں نہ پہنچے شکاری وہاں پہنچے بھکاری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3kGBGCF

افغانستان؛ چیلنجز ، خدشات اور امکانات

افغانستان سے امریکی انخلا مکمل ہوگیا۔ امریکی قبضہ کے بیس سال مکمل ہونے پر اب افغانستان اور طالبان کا مسئلہ نصف النہار پر ہے، ایک اہم سیاسی فیصلے نے دنیا کو متحرک کردیا ہے مگرکوئی چیز واضح نہیں، کیا ہونے جا رہا ہے اورکیا فیصلے ہو رہے ہیں، کیا ان سے افغانستان کی امریکی قبضہ سے آزادی ایک شاندار حقیقت بن کر ابھرے گی ، ابھی دنیا اس معمہ کو دیکھنے کی منتظر ہے۔

امریکی انخلا ایک اہم تاریخی واقعہ ہے، یہ امریکی ہزیمت اور طالبان کی پیش رفت سے زیادہ خطے کے مفاد اور قوم کی بقا کا معاملہ ہے، ابھی تو ثابت ہونا ہے کہ افغانستان کی عالمی قبولیت کی راہ کیسے ہموار ہوگی ، سب کی دعا ہے کہ افغانستان کسی خانہ جنگی کا شکار نہ ہو ، یہی ایک بڑی کامیابی ہوگی۔

خطے کی صورتحال خاصی ہیجان انگیز ہے، طالبان دنیا سے رابطہ کی کوششوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، انھیں اکیلا چھوڑنے پر نہ امریکا تیار ہے اور نہ القاعدہ اور داعش، افغانستان کی جان چھوڑنے کا کوئی ارادہ رکھتی ہیں، ان کی طالبان سے کشمکش پرانی ہے ، بالادستی کی اس جنگ کا ابھی اختتام باقی ہے، القاعدہ اور داعش کے لیے امریکی انخلا ایک دھچکا ہے۔

اسٹریٹجکل تبدیلیاں آسکتی ہیں، خطے کے ایک وسیع علاقے پر پھیلا ہوا  دہشت گردانہ نیٹ ورک طالبان کے لیے ایک اعصاب شکن دائرہ ہے، داعش نے گزشتہ دنوں اپنی صفیں درست کرنے کا عندیہ دیا تاہم طالبان کو یقین ہے کہ داعش کے حملے کم ہوجائیں گے، لیکن طالبان قیادت نے کہا ہے کہ ’’ کالعدم ٹی ٹی پی کا مسئلہ پاکستان کا ہے جو اس نے خود حل کرنا ہے، ہمارا اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔‘‘ اگر صورتحال یہ بنتی ہے تو پاکستان کو بھی انداز فکر اور پالیسی بدلنا ہوگی۔

ٹی ٹی پی کی پرورش اور اس کی قہر سامانیوں کوکس کے کھاتہ میں ڈالا جائے گا ، ابھی بہت سے آپشن آزمائے جائیں گے، طالبان کے حوالے سے مختلف ممالک واضح سوچ، سیاسی حکمت عملی کے فقدان کا شکار ہیں، پاکستان کی فیصلہ کن پوزیشن اس سارے گیم پلان میں واضح کامیابی کے بغیر اپنا معاملہ خطے کے مفاد سے الگ نہیں کریگی۔

ابھی طالبان کو تسلیم کرنے کا معاملہ الجھا ہوا ہے، دنیا افغانستان سے تعلق جوڑنے پر تیار نہیں ہوگی جس کے عزائم ابھی واضح نہیں اور جو عالمی اتحاد سے جڑنے کی خواہش کا اظہار تو کررہی ہے مگر پائیدار امن کے قیام اور افغانستان میں امن و سلامتی کی ایک یقینی حکمت عملی کی بنیاد اور موجودگی کے بغیر کسی کو یقین نہیں آسکتا کہ علاقے میں ایک آزاد افغانستان اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پاکستان سمیت دیگر پڑوسی ملکوں سے کیسا دوستانہ مراسم یا کسی قسم کے عمرانی معاہدہ قائم کرنے کے لیے تیار ہوگا، طالبان پر بہت بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے اسے اپنے تشخص، انتظامی اہداف اور امن و سلامتی کے امکانات کو خدشات اور تنازعات سے پاک کرنا ہوگا۔

ایک صاف ستھری سلیٹ سے نئے رشتے قائم کرنا ہوںگے، بین الاقوامیت درکار ہوگی، انتظامی اساس، خارجہ پالیسی اور داخلی امن وامان کی یقینیت سب اسٹیک ہولڈروں کے لیے یقینی ہو۔ پاکستان کو موجودہ صورتحال میں ایک اہم کردار ادا کرنا ہے، اس نے اپنا کردار نبھایا ہے، اسے اپنی کمٹمنٹس اور دیگر معاملات میں کسی قسم کے مصلحت کو پیش نظر نہیں رکھا۔ اس نے کہا کہ پاکستان کے لیے کوئی خاص نہیں، ضرورت امن کی ہے، وہ ہر صورت حال کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے۔ پینٹاگان نے تصدیق کر دی ہے، کہ آخری پرواز بھی کابل سے چلی گئی ہے۔

جس کے بعد ایئر پورٹ کو طالبان کے حوالے کردیا گیا ہے، جس کا انھوں نے مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کی طرف سے آخری فوجی کے افغانستان سے چلے جانے کے کا اعلان ہوتے ہی طالبان نے دارالحکومت میں قائم اپنی چیک پوسٹوں سے خوشی میں شدید ہوائی فائرنگ کی ۔

دریں اثناء کابل ایئرپورٹ پر پیرکی صبح متعدد راکٹ فائر کیے گئے تاہم امریکا نے کہا ہے کہ اس کے اینٹی میزائل سسٹم نے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی انھیں فضا میں ناکارہ بنا دیا۔ داعش نے راکٹ حملوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ کامیاب حملہ تھا ، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے کہا کہ امریکی صدر کو کابل ایئرپورٹ پر راکٹ حملوں پر بریفنگ دی گئی۔

ادھر افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امید کا اظہارکیا ہے کہ غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد داعش کے حملے ختم ہو جائیں گے ، انھوں نے داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا بھی اعلان کیا۔ میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا امید ہے کہ داعش سے متاثر ہونے والے افراد غیر ملکیوں کی غیر موجودگی میں اسلامی حکومت کی تشکیل کے بعد اپنی کارروائیاں ترک کردیں گے۔

تاہم اگر انھوں نے جنگ کی صورتحال پیدا کی اور اپنی کارروائیاں جاری رکھیں تو ہم ان سے نمٹ لیں گے۔ ڈرون حملے پر امریکا پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایسی کارروائیوں کی اجازت نہیں ہے، ہماری آزادی کا احترام کرنا چاہیے۔ حملہ طالبان کو بتائے بغیر کیا گیا۔ غیرملکی سرزمین پر امریکی کارروائی غیرقانونی تھی۔ اگر افغانستان میں کوئی خطرہ تھا اس کی اطلاع ہمیں دی جانی چاہیے تھی نہ کہ حملہ کرتے جس میں شہری مارے گئے۔

طالبان نے100ممالک کو یقین دہانی کرائی ہے کہ 31اگست کو امریکی انخلا کے بعد بھی وہ غیر ملکیوں اور بیرون ملک سفر کے کاغذات رکھنے والے افغان شہریوں کو ’’محفوظ اور منظم انداز میں‘‘ ملک سے جانے دیں گے۔ ان ممالک میں امریکا، فرانس، برطانیہ اور جرمنی شامل ہیں۔ دریں اثنا اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ افغان انخلا کے بعد پناہ گزینوں کا بڑا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ ہائی کمشنر برائے پناہ گزین فلیپوگرینڈی نے کہا کہ افغانستان میں تقریباً تین کروڑ 90 لاکھ لوگوں میں سے تین کروڑ 50 لاکھ لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔

ہمسایہ ممالک اپنی سرحدیں ایسے لوگوں کے لیے کھول دیں جو پرتشدد واقعات کے خوف سے وہاں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ دریں اثنا یونیسف کے ریجنل ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا جارج لیریا ادجی نے کہا ہے کہ افغان بچوں کو غذائی قلت اور دیگر مشکلات کا سامنا ہے اور انھیں ان کے حال پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ صورتحال برقرار رہی تو5سال تک کے 10لاکھ بچوں کو شدید غذائی کمی کا سامنا ہو گا۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق طالبان نے افغانستان میں پوست کی کاشت پر پابندی عائد کر دی، پنجشیر میں مزاحمتی اتحاد کے ترجمان جمشید دستی نے کہا ہے کہ طالبان اور مخالف اتحاد کے مذاکرات جاری ہیں، ڈیڈلاک نہیں مگر پیشرفت کم ہے۔ سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح نے کہا کہ وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔

افغان طالبان کے قائم مقام وزیر برائے اعلیٰ تعلیم عبدالباقی حقانی نے کہا ہے کہ خواتین کو یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہوگی لیکن مخلوط تعلیم پر پابندی ہوگی۔ اسکولوں میں پرائمری اور سیکنڈری سطح پر بھی لڑکوں اور لڑکیوں کو علیحدہ علیحدہ کیا جائے گا۔ حقوق نسواں کا احترام کریں گے لیکن اسلامی اصولوں اور قوانین کی روشنی میں۔

ادھر روس نے امریکا سے کہا ہے کہ افغان عوام کو مشکلات سے بچانے کے لیے وہ افغان مرکزی بینک کے منجمد شدہ اثاثے فوری طور پر بحال کردے۔ روس کے نمایندہ خصوصی نے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو نئی افغان حکومت افیون کی غیر قانونی اسمگلنگ اور امریکا اور افغان آرمی کے چھوڑے ہوئے اسلحے کی بلیک مارکیٹ میں فروخت کی طرف متوجہ ہوجائے گی۔

علاوہ ازیں چین اور امریکی وزراء خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں افغان صورتحال پر گفتگوکی گئی۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے کہا کہ طالبان محفوظ انخلا اور امدادی سامان کی رسائی کو یقینی بنائیں جب کہ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا کہ عالمی برادری طالبان سے رابطہ رکھے اور رہنمائی کرے۔ جلد بازی میں انخلا نے دہشت گردوں کو دوبارہ فعال ہونے کا موقع دیا۔

امریکی ٹی وی سے گفتگو میں امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے کہا کہ طالبان عالمی برادری سے تعلقات کا قیام چاہتے ہیں تو انھیں اپنے وعدے ایفا کرنا ہوں گے۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ فرانس افغانستان کے انسانی بحران اور انخلا پر طالبان سے بات کر رہا ہے مگر بات کرنے کا مقصد انھیں تسلیم کرنا نہیں ہے۔

توقع کرنی چاہیے کہ افغانستان میں امن اور طالبان کے سیاسی تدبر اور سیاسی بصیرت سے خطے کو امن، سلامتی، سیاسی آزادی اور انسانی حقوق کے احترام کی اہمیت سے آگاہی ملے گی اور افغانستان قوم کے ساتھ مل کر امن و استحکام کے نئے امکانات سے آشنا ہوگا۔

The post افغانستان؛ چیلنجز ، خدشات اور امکانات appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/38Jg6rP

کورونا وبا؛ مزید101 افراد جاں بحق، مثبت کیسز کی شرح 6 فیصد سے زائد

اسلام آباد: ملک بھر میں کورونا وائرس سے 24 گھنٹوں کے دوران مزید 101 افراد انتقال کرگئے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کی تشخیص کے لیے 53 ہزار 637 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 3559 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔

گزشتہ روز اس وبا نے مزید 101 افراد کی زندگیوں کو نگل لیا۔ جب کہ مثبت کیسز کی شرح6.63 فیصد ریکارڈ ہوئی ہے۔

کورونا وائرس اوراحتیاطی تدابیر:

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیراختیارکرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازے کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلا کربیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پرکوئی اثرنہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اورہرایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

The post کورونا وبا؛ مزید101 افراد جاں بحق، مثبت کیسز کی شرح 6 فیصد سے زائد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3gP0WWh

پاکستانی کمپنیوں نے ابوظہبی میں تیل و گیس کی تلاش کیلیے ٹھیکا حاصل کرلیا

 کراچی: پاکستان کی قومی آئل اینڈ گیس کمپنیوں نے ابوظہبی میں سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے 6223 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط بلاک فائیو حاصل کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کی قیادت میں قائم کردہ کنسورشیم نے ابوظہبی میں ہونے والی بولیوں کے دوسرے مسابقتی مرحلے میں آف شور بلاک 5 حاصل کرلیا۔ یہ آف شوربلاک 6223 مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط ہے اور ابوظہبی شہر سے 100 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔

کنسور شیم میں شامل پی پی ایل دریافتی مرحلے میں آپریٹر ہے جب کہ دیگر کمپنیوں میں تین بڑی پاکستانی ای اینڈ پی کمپنیاں ’’آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل)، ماری پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ (ایم پی سی ایل) اور گورنمنٹ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل)‘‘ شامل ہیں۔

ایکسپلوریشن کنسیشن معاہدے پر کنسورشیم کی جانب سے ایم ڈی پی پی ایل معین رضا خان اور یو اے ای کے وزیر صنعت و جدید ٹیکنالوجی اور ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (اے ڈی این او سی) کے مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر سلطان احمد الجابرنے منگل کو دستخط کیے۔

وزیرِ توانائی حماد اظہر نے اس حوالے سے کہا ہے کہ پاک یو اے ای تعلقات کے باوجود یہ ایوارڈ دونوں ممالک کے درمیان ایک نئی شروعات ہے، یہ تاریخی معاہدہ یو اے ای اور پاکستان کے درمیان قائم گہرے باہمی تعلقات کا مظہر ہے۔

ایم ڈی پی پی ایل معین رضا خان نے کہا کہ پی پی ایل کی قیادت میں کنسورشیم، ابوظہبی کے بلا ک 5 کے کنسیشن کے لیے منتخب ہونے پر بہت خوش ہے۔

وزیر صنعت و جدید ٹیکنالوجی یو اے ای ڈاکٹر احمد الجابر نے کہا کہ دریافتی کنسیشن کا یہ تاریخی ایوارڈ متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے 50 سالہ تعلقات میں توانائی کے تعاون کا ایک نیا باب ہے۔

The post پاکستانی کمپنیوں نے ابوظہبی میں تیل و گیس کی تلاش کیلیے ٹھیکا حاصل کرلیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3t3EHAY

امریکا کی طویل ترین افغان جنگ کا خاتمہ ہوگیا، بائیڈن

 واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ امریکا کی طویل ترین افغان جنگ کا خاتمہ ہوگیا، ہم نے داعش کی کمر توڑی دی، انخلا کا فیصلہ میرا اپنا تھا جس کی تمام تر ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔

اتحادی افواج کے افغانستان سے مکمل انخلا کے بعد امریکی قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر جوبائیڈن نے افغانستان سے عجلت میں انخلا کے فیصلے کا دفاع کیا اور کہا کہ ہم نے 31 اگست کو افغانستان سے انخلا کا معاہدہ کیا تھا اگر ہم دی گئی ڈیڈ لائن پر عمل درآمد نہ کرتے تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوتی اور طالبان کو حق حاصل ہوجاتا کہ وہ امریکیوں پر حملے کرتے۔

جوبائیڈن نے کہا کہ افغانستان سے انخلا کا فیصلہ پہلے سے طے شدہ تھا، یہ فیصلہ میرا تھا کیوں کہ طالبان آرہے تھے اور ہمیں جنگ بڑھانے یا وہاں سے نکل جانے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا، بیس برس تک افغانستان میں روزانہ 20 کروڑ ڈالر خرچ ہوتے رہے، روس اور چین چاہتے ہیں امریکا افغانستان میں الجھا رہے لیکن ہم نے افغانستان سے نکل کر امریکا کے مفاد میں فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ میرے اس فیصلے کی فوجی اور سول قیادت نے بھرپور تائید کی ہے اور میں اس فیصلے کی تمام تر ذمہ دار قبول کرتا ہوں، افغان جنگ دو دہائیوں تک جاری رہی، جو لوگ تیسری دہائی میں بھی افغان جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ کہوں گا کہ یہ اب ممکن نہ تھا کیوں کہ اب افغانستان سے ہماری سرزمین پر حملے کا کوئی امکان نہیں۔

یہ پڑھیں : امریکی فوج کے کابل ایئرپورٹ سے نکلنے میں طالبان کی مدد کا انکشاف

ان کا کہنا تھا کہ میرا اولین فرض ہے کہ امریکا کا دفاع کیا جائے اور اب امریکا کو 11 ستمبر جیسے خطرے کا سامنا نہیں ہے، ہم نے افغانستان میں داعش کی کمر توڑ دی، ہماری ہزاروں افواج اور اربوں ڈالر خرچ ہوئے ہیں، داعش خراسان کے خلاف ہماری جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، دہشت گردی دیگر ممالک تک پھیل رہی ہے ہمیں اب اس کا مقابلہ بھی کرنا ہوگا۔

انھوں ںے کہا کہ میں نے افغانستان چھوڑنے کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے چھ ہزار فوجی کابل ایئرپورٹ بھیجے جنھوں نے امریکی اور غیر ملکی سفارت کاروں، امریکی شہریوں اور افغان باشندوں کا باحفاظت انخلا کا چیلنج مکمل کیا، میں کامیاب انخلا پر سفارت کاروں اور فوجیوں کا شکر گزار ہوں۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ ہم نے ایک لاکھ افغانوں کو فضائی پروازوں کے ذریعے افغانستان سے نکالا جو تاریخ میں پہلی مرتبہ ممکن ہوا ہے، یہ بہت مشکل اور خطرناک مشن تھا لیکن ہم نے اسے مکمل کیا۔

جوبائیڈن نے کہا کہ ہم 90 فیصد امریکی شہریوں کو افغانستان سے نکال چکے ہیں، مجھے یقین ہے کہ افغانستان میں اب بھی سو سے 200 امریکی شہری موجود ہیں جو افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں ہم ان کی مدد کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جو امریکا پر حملہ کرنا چاہتے ہیں اور ان کے اتحادیوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں وہ سن لیں کہ ہم آرام سے نہیں بیٹھے ہوئے، ہم زمین کے آخری کنارے تک ان کا مقابلہ کریں گے، میں اپنے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اب افغان جنگ ختم ہوچکی ہے اور میں نے اس جنگ کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، 20 سالہ طویل جنگ کے بعد میں نے اگلی نسل کو افغان جنگ میں جھونکنے کا انکار کردیا تھا اور اب میں نے اس پر عمل کر دکھایا ہے۔

طالبان کی حکومت کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ ہم طالبان کے الفاظ پر یقین نہیں کریں گے ہم ان کے عمل کو دیکھیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ  ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ سابق افغان صدر اشرف غنی ملک سے فرار ہوجائے گا۔

اس موقع پر انہوں نے افریقا میں شدت پسند تنظیم الشباب اور دیگر ممالک میں داعش کا بھی ذکر کیا کہ ان سے امریکا کو بچایا جائے گا۔ انہوں نے روسی سائبر حملوں، ایٹمی پھیلاؤ اور چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو بھی امریکا کے لیے چیلنج قرار دیا جسے انہوں نے اکیسویں صدی کے بدلتے ہوئے چیلنجز قرار دیا۔

The post امریکا کی طویل ترین افغان جنگ کا خاتمہ ہوگیا، بائیڈن appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3juq9Hh

آج کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

آپ حالات کا بنظر غور جائزہ لے کر قدم آگے بڑھائیں اپنی عادت کے مطابق اگر جلد بازی کا مظاہرہ آپ نے کر دیا تو پھر ایک بڑے نقصان کے لئے بھی خود کو تیار رکھ لیں۔

ثور:
22 اپریل تا 20 مئی

گزشتہ آپ نے اپنے دوستوں کی بہتری کے لئے بہت کچھ کرنا چاہا لیکن کچھ نہیں ہو سکا چند نئے دوست آپ کے قریبی آ سکتے ہیں بلکہ آپ اپنا مطلوبہ مفاد بھی پا سکیں گے۔

جوزا:
21 مئی تا 21جون

اہم مقدمات میں کامیابی کے امکان ہیں البتہ آپ کے ہم پیالہ و ہم نوالہ دوست آپ کی جڑیں کاٹنے میں مصروف رہیں گے لہٰذا محتاط رہیں۔

 

سرطان:
22جون تا23جولائی

بسلسلہ کاروبار دی ہوئی رقوم واپس مل سکتی ہیں اور آپ کا بنک بیلنس توقع سے زیادہ بڑھ سکتا ہے، کوئی غیر ملکی سفر پیش آ سکتا ہے۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

جنس مخالف میں ذاتی دلچسپی نہ لیں، سوائے بدنامی کے کچھ حاصل نہ ہو سکے گا البتہ شریک حیات سے تعلقات بہتر ہونے کی امید ہے۔

 

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

ہمارے گزشتہ دیئے گئے مشوروں کو اپنا نصب العین بنائے رکھئے تاکہ مستقبل میں آپ کو کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کر نا پڑے۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

مستقبل کے اندیشوں سے نجات مل سکتی ہے شریک حیات سے تعاون کیجئے۔ امپورٹ ایکسپورٹ کرنے والے حضرات بڑی ڈیل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

سیاسی اور سماجی کارکن کے لئے محتاط رہنے کا وقت ہے سفر بہ شوق کریں کوئی دیرینہ آرزو پوری ہونے کی توقع ہے ۔ مزاج کی گرمی کو بھی کم کر دیں۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

ننھیالی رشتہ داروں سے کوئی خوشی حاصل ہو گی بیوپاری حضرات نہایت سوچ بچار کے بعد ڈیل پکی کریں گے توفائدہ ہو گا۔ بسلسلہ تعلیم کامیابی کا امکان ہے۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

ذہنی طور پر آپ تھوڑے سے الجھ سکتے ہیں، فضول قسم کی سوچوں میں گم نہ رہیں ورنہ حالات زوال پذیر ہو سکتے ہیں۔ ملازمت کے سلسلے میں الجھنیں ختم ہو سکتی ہیں۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

زنگ آلود صلاحیتوں کا حقیقی رنگ ابھر کر سامنے آ سکتا ہے گویا نئی زندگی ملے گی آج کے دن کسی قسم کا کاروباری معاہدہ ہرگز نہ کریں۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

آپ کا مخالف میدان سے بھاگتا نظر آ رہا ہے، جیت آپ کی ہو گی اور یقینا ہو سکتی ہے اس کامیابی کے نشہ میں آپ اپنے اچھے ساتھیوں کو ہرگز نہ بھولیں ۔

The post آج کا دن کیسا رہے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3iwZBVb

امریکا کی طویل ترین افغان جنگ کا خاتمہ ہوگیا، بائیڈن

 واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ امریکا کی طویل ترین افغان جنگ کا خاتمہ ہوگیا، ہم نے داعش کی کمر توڑی دی، انخلا کا فیصلہ میرا اپنا تھا جس کی تمام تر ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔

اتحادی افواج کے افغانستان سے مکمل انخلا کے بعد امریکی قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر جوبائیڈن نے افغانستان سے عجلت میں انخلا کے فیصلے کا دفاع کیا اور کہا کہ ہم نے 31 اگست کو افغانستان سے انخلا کا معاہدہ کیا تھا اگر ہم دی گئی ڈیڈ لائن پر عمل درآمد نہ کرتے تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوتی اور طالبان کو حق حاصل ہوجاتا کہ وہ امریکیوں پر حملے کرتے۔

جوبائیڈن نے کہا کہ افغانستان سے انخلا کا فیصلہ پہلے سے طے شدہ تھا، یہ فیصلہ میرا تھا کیوں کہ طالبان آرہے تھے اور ہمیں جنگ بڑھانے یا وہاں سے نکل جانے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا، بیس برس تک افغانستان میں روزانہ 20 کروڑ ڈالر خرچ ہوتے رہے، روس اور چین چاہتے ہیں امریکا افغانستان میں الجھا رہے لیکن ہم نے افغانستان سے نکل کر امریکا کے مفاد میں فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ میرے اس فیصلے کی فوجی اور سول قیادت نے بھرپور تائید کی ہے اور میں اس فیصلے کی تمام تر ذمہ دار قبول کرتا ہوں، افغان جنگ دو دہائیوں تک جاری رہی، جو لوگ تیسری دہائی میں بھی افغان جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ کہوں گا کہ یہ اب ممکن نہ تھا کیوں کہ اب افغانستان سے ہماری سرزمین پر حملے کا کوئی امکان نہیں۔

یہ پڑھیں : امریکی فوج کے کابل ایئرپورٹ سے نکلنے میں طالبان کی مدد کا انکشاف

ان کا کہنا تھا کہ میرا اولین فرض ہے کہ امریکا کا دفاع کیا جائے اور اب امریکا کو 11 ستمبر جیسے خطرے کا سامنا نہیں ہے، ہم نے افغانستان میں داعش کی کمر توڑ دی، ہماری ہزاروں افواج اور اربوں ڈالر خرچ ہوئے ہیں، داعش خراسان کے خلاف ہماری جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، دہشت گردی دیگر ممالک تک پھیل رہی ہے ہمیں اب اس کا مقابلہ بھی کرنا ہوگا۔

انھوں ںے کہا کہ میں نے افغانستان چھوڑنے کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے چھ ہزار فوجی کابل ایئرپورٹ بھیجے جنھوں نے امریکی اور غیر ملکی سفارت کاروں، امریکی شہریوں اور افغان باشندوں کا باحفاظت انخلا کا چیلنج مکمل کیا، میں کامیاب انخلا پر سفارت کاروں اور فوجیوں کا شکر گزار ہوں۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ ہم نے ایک لاکھ افغانوں کو فضائی پروازوں کے ذریعے افغانستان سے نکالا جو تاریخ میں پہلی مرتبہ ممکن ہوا ہے، یہ بہت مشکل اور خطرناک مشن تھا لیکن ہم نے اسے مکمل کیا۔

جوبائیڈن نے کہا کہ ہم 90 فیصد امریکی شہریوں کو افغانستان سے نکال چکے ہیں، مجھے یقین ہے کہ افغانستان میں اب بھی سو سے 200 امریکی شہری موجود ہیں جو افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں ہم ان کی مدد کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جو امریکا پر حملہ کرنا چاہتے ہیں اور ان کے اتحادیوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں وہ سن لیں کہ ہم آرام سے نہیں بیٹھے ہوئے، ہم زمین کے آخری کنارے تک ان کا مقابلہ کریں گے، میں اپنے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اب افغان جنگ ختم ہوچکی ہے اور میں نے اس جنگ کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، 20 سالہ طویل جنگ کے بعد میں نے اگلی نسل کو افغان جنگ میں جھونکنے کا انکار کردیا تھا اور اب میں نے اس پر عمل کر دکھایا ہے۔

طالبان کی حکومت کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ ہم طالبان کے الفاظ پر یقین نہیں کریں گے ہم ان کے عمل کو دیکھیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ  ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ سابق افغان صدر اشرف غنی ملک سے فرار ہوجائے گا۔

اس موقع پر انہوں نے افریقا میں شدت پسند تنظیم الشباب اور دیگر ممالک میں داعش کا بھی ذکر کیا کہ ان سے امریکا کو بچایا جائے گا۔ انہوں نے روسی سائبر حملوں، ایٹمی پھیلاؤ اور چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو بھی امریکا کے لیے چیلنج قرار دیا جسے انہوں نے اکیسویں صدی کے بدلتے ہوئے چیلنجز قرار دیا۔

The post امریکا کی طویل ترین افغان جنگ کا خاتمہ ہوگیا، بائیڈن appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3juq9Hh

امریکی فوج کے کابل ایئرپورٹ سے نکلنے میں طالبان کی مدد کا انکشاف

 واشنگٹن: 

کابل ایئرپورٹ سے امریکی باشندوں کا باحفاظت انخلا طالبان کی مدد اور ان کی نگرانی میں ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

سی این این کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کے کچھ عہدے داروں نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج نے طالبان سے خفیہ مذاکرات کیے جس کے نتیجے میں طالبان کابل شہر میں موجود امریکی باشندوں کو گروپس کی شکل میں ایئرپورٹ کے خفیہ دروازوں پر چھوڑ گئے جہاں سے انہیں طیاروں کے ذریعے امریکا واپس لایا گیا۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل امریکی جنرل میکنزی نے کہا تھا کہ کابل ایئرپورٹ سے انخلا میں طالبان نے ہمارے ساتھ تعاون کیا

ایک اور اعلی اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا کی اسپیشل فورسز نے کابل کے حامد کرزئی ایئر پورٹ پر ایک خفیہ دروازہ اور کال سینٹرز قائم کیے تھے جس کے ذریعے امریکیوں کو انخلا کا طریقہ کار سمجھایا گیا۔

حکام کا مزید کہنا ہے کہ اس کال سینٹر کے ذریعے امریکیوں کو ایئرپورٹ کے نزدیک ایک خفیہ مقام پر جمع ہونے کا کہہ دیا گیا تھا اور طالبان نے ان امریکیوں کی شناختی دستاویزات چیک کرکے انہیں اس خفیہ دروازے تک پہنچایا جو خصوصی طور پر امریکیوں کے ایئر پورٹ کے اندر جانے کے لیےبنایا گیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان کی مدد سے ہونے والے ’ باحفاظت انخلا‘ کے ایک دن میں کئی مشن سرانجام دیے گئے۔ جب کہ امریکیوں کو ایک جگہ جمع کرنے کا مقام حامد کرزئی ایئرپورٹ کے گیٹ سے تھوڑے فاصلے پر موجود وزارت داخلہ کی عمارت میں بنایا گیا تھا۔ امریکیوں کو با حفاظت نکالنے کے اس سارے انتظام کے بارے میں محکمہ دفاع کے افسر کا کہنا ہے کہ امریکیوں کو ایک جگہ جمع ہونے کے بارے میں متعدد پیغامات دیے گئے اور اس طریقے نے بہت خوبصورتی سے کام کیا۔

امریکی محکمہ دفاع کے ایک اور اعلی اہل کار نے سی این این کو بتایا کہ ایلیٹ جوائنٹ اسپیشل آپریشن کمانڈ اور دیگر اسپیشل آپریشن یونٹس نے مل کر امریکیوں کو نکالنے کے لیے ’ کال سینٹرز‘ کا علحیدہ سے ایک اور انتظام کیاتھا، جسے انخلا کا عمل مکمل ہونے تک خفیہ رکھا گیا۔ ان کال سینٹرز سے امریکیوں کو ’ خفیہ دروازے ‘ تک  پہنچنے کے بارے میں ہدایت دی گئیں۔

یاد رہے کہ امریکا کی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل میکینزی نے گزشتہ روز ہونے والی پریس بریفنگ میں پہلی بار انخلا میں امریکا کی اسپیشل آپریشنز فورسز کے شامل ہونے کا انکشاف کیا تھا اور بتایا تھا کہ ان فورسز کی وجہ سے 1 ہزار سے زائد امریکی شہریوں اور 2 ہزار سے زائد افغانیوں کی فون کالز اور ویکٹرز کے ذریعے انخلا میں مدد کی گئی۔

The post امریکی فوج کے کابل ایئرپورٹ سے نکلنے میں طالبان کی مدد کا انکشاف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3DrzqHY

کراچی، قتل ہونے والا برطرف رینجرزاہلکارڈکیت گینگ کا سرغنہ نکلا

 کراچی: لیاقت آباد میں فائرنگ سے قتل کیے جانے والا رینجرز کا برطرف اہلکار عرفان ڈکیت گینگ کو سرغنہ نکلا۔

لیاقت آباد میں فائرنگ سے قتل کیے جانے والا رینجرز کا برطرف اہلکار عرفان ڈکیت گینگ کو سرغنہ نکلا ، پولیس نے مقتول کے ساتھی پولیس اہلکار یعقوب اور بختاور کو ڈکیتی کے الزام میں گرفتار کرلیا۔

اس حوالے سے ایس ایچ او سپرمارکیٹ انسپکٹر کامران حیدر نے بتایا کہ برطرف رینجرز اہلکار عرفان نے ڈکیت گینگ بنایا ہوا تھا جو شہر کے مختلف علاقوں میں ساتھیوں کے ہمراہ وارداتیں کرتا تھا، گرفتار ملزمان میں ڈی ایس پی لیاقت آباد کا ڈرائیور یعقوب بھی شامل ہے جسے پولیس نے پہلے روز ہی واردات کے بعد حراست میں لے لیا تھا اور اس کی جانب سے کیے جانے والے انکشاف پر پولیس نے ان کے گینگ میں شامل دوسرے ملزم بختاور کو بھی گرفتار کرلیا۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں ملزمان نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ مقتول عرفان صدیقی کے ہمراہ 14 اگست کو لیاقت آباد کے ایک گھر میں ڈکیتی کے دوران 15 تولہ سونا اور نقدی لوٹی تھی جب کہ جس گھر میں ڈکیتی کی واردات کی گئی تھی اس نے بھی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے عرفان اور 2 گرفتار ساتھیوں کو شناخت کرلیا ہے۔

پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مقتول عرفان کا اپنے ساتھی حمزہ سے لوٹ مار سے ملنے والے سونے اور پیسوں کے بٹوارے پر بھی جھگڑا چل رہا تھا، جس وقت فائرنگ کا واقعہ ہوا حمزہ بھی وہاں پر موجود بتایا جاتا ہے جب کہ برطرف رینجرز اہلکار کے قبضے سے ملنے والی 4 لاکھ سے زائد نقدی بھی ڈکیتی کی واردات میں لوٹی گئی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس ڈکیت گینگ میں کئی کارندے شامل ہیں جن کی فہرست مرتب کی جا رہی ہے جب کہ ملزم حمزہ کو سرگرمی سے تلاش کیا جارہا ہے، جس کی گرفتاری کے بعد تحقیقات میں مزید پیش رفت ہو سکے گی۔

The post کراچی، قتل ہونے والا برطرف رینجرزاہلکارڈکیت گینگ کا سرغنہ نکلا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3mNLAVK

Monday, 30 August 2021

سمندر پار مقیم پاکستانیوں کیلیے سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ

 کراچی:  اسٹیٹ بینک کی جانب سے نان ریزیڈنٹ پاکستانیوں کیلیے سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ اور منی ٹرانسفر آپریٹروں کے ذریعے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں رقوم کی آمد میں سہولت کا اعلان کردیا گیا ہے۔

بینک دولت پاکستان نے نان ریزیڈنٹ پاکستانیوں (این آر پیز) کو سرمایہ کاری اور فنانسنگ کے مزید مواقع فراہم کرنے کی غرض سے روپے پر مبنی روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس (آر ڈی اے) کے ذریعے پاکستان میں کمپنیوں کے حصص اور  ایس ای سی پی کی لائسنس یافتہ پرائیویٹ فنڈ منیجمنٹ کمپنی کے تحت قائم اور آپریٹ کیے جانے والے  پرائیویٹ فنڈ کے یونٹوں میں براہ راست سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دے دی ہے۔  پاکستان کی ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری میں  سہولت دینے کے لیے آرڈی اے رکھنے والوں کو ان کے پاکستانی روپے میں اکاؤنٹ کے ذریعے ڈیجیٹل ذرائع استعمال کرتے ہوئے  فنانسنگ کی  سہولت سے استفادے کی اجازت دی گئی ہے۔

مزید برآں،  روپے پر مبنی  روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں منی ٹرانسفر آپریٹروں کے ذریعے  رقوم کی آمد کی اجازت دی گئی ہے۔ قبل ازیں پاکستانی روپے والے  آر ڈی اے میں رجسٹرڈ حکومتی تمسکات، اسٹاک ایکس چینج پر فہرست شدہ تمسکات، میوچل فنڈز ، ریئل اسٹیٹ سیلف فنانسنگ اور بینکوں کے میعادی ڈپازٹ میں سرمایہ کاری کی اجازت تھی۔ مذکورہ تبدیلی سے نان ریزیڈنٹ پاکستانیوں کو نہ صرف سرمایہ کاری کے مزید مواقع فراہم ہوں گے بلکہ  انھیں پاکستان  میں  بینکوں کی فنانسنگ کے ذریعے پراپرٹی خریدنے میں بھی سہولت ملے گی۔

اسی طرح، قبل ازیں آر ڈی اے میں صرف بینکاری چینلز سے رقوم کے بہاؤ کی  اجازت تھی۔   تاہم این آر پیز کی موصول شدہ  رائے کی بنیاد پر بیرون ملک سے آر ڈی اے میں منی ٹرانسفر آپریٹروں کے ذریعے رقوم  کی آمد کی اجازت دی گئی ہے۔ اس اقدام  سے خصوصاً ایسے نان ریزیڈنٹ پاکستانیوں کو ترسیلات زر بھیجنے کا ایک اور  باسہولت اور باکفایت طریقہ فراہم ہو جائے گا۔

The post سمندر پار مقیم پاکستانیوں کیلیے سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3zCPncg

ٹک ٹاکر عائشہ اور ساتھی ریمبو کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر پولیس سے جواب طلب

 لاہور: عدالت نے مینار پاکستان میں ہراسانی کا شکار ہونے والی ٹک ٹاکر عائشہ اور اس کے ساتھی ریمبو کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر پولیس سے جواب طلب کرلیا۔ 

ایڈشنل سیشن جج لاہور اعجاز گوندل نے مینار پاکستان میں ہراسانی کا شکار ہونے والی ٹک ٹاکر عائشہ اور اس کے ساتھی ریمبو کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت کی۔ پولیس نے درخواست کا موقف سننے کے بعد پولیس سے جواب طلب کرلیا۔ کیس پر مزید سماعت 4 ستمبر کو ہوگی۔

علاوہ ازیں لاہور مینار پاکستان پرٹک ٹاکر سے بدسلوکی کا مقدمہ میں گرفتار ملزمان کی بعد ازگرفتاری ضمانت پر سماعت ہوئی، دو ملزمان نے ضمانت کی درخواستیں واپس لے لیں۔ عدالت نے درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی، ملزمان عبد الرحمان اور علی احمد  نے اپنے وکیل کے ذریعے درخواستیں ضمانت دائر کی تھیں۔

The post ٹک ٹاکر عائشہ اور ساتھی ریمبو کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر پولیس سے جواب طلب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3BlG8NQ

سوشل میڈیا صارفین کا نگار جوہر کے کردار کیلئے ماہرہ خان کو کاسٹ کرنے پر اعتراض

کراچی: سوشل میڈیا صارفین نے پاکستان کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر کی زندگی پر بننے والی فلم میں ماہرہ خان کو مرکزی کردار کے لیے کاسٹ کرنے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ انڈسٹری میں اور بھی اداکارائیں تھیں جنہیں کاسٹ کیا جاسکتا تھا۔

چند روز قبل پاکستان کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر کی زندگی پر بننے والی ٹیلی فلم ’’ایک ہے نگار‘‘ کا پہلا ٹیزر جاری کیا گیا تھا۔ فلم میں ماہرہ خان نے نگار جوہر کا مرکزی کردارادا کیا ہے۔ یہ فلم پاک فوج کی پہلی تھری اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی پاکر ملک کی پہلی لیفٹیننٹ جنرل اور پاکستان کی پہلی خاتون سرجن نگار جوہر کی زندگی پر مبنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل کی زندگی پر بننے والی ٹیلی فلم کا ٹیزرجاری

دوروز قبل ٹیلی فلم کا دوسرا ٹیزر جاری کیا گیا۔ پہلے تو لوگوں نے ٹیلی فلم کے ٹیزر کو سراہا۔ تاہم اب سوشل میڈیا صارفین نے نگار جوہر کے کردار کے لیے ماہرہ خان کو کاسٹ کرنے پر اعتراض اٹھایا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ جب کسی کی بائیوگرافی پر فلم یا ڈراما بنایاجاتا ہے تو کوشش کی جاتی ہے کہ اداکار کے چہرے اور اُس شخص کے درمیان تھوڑی بہت مشابہت ہو جس کی زندگی پر فلم بنائی جارہی ہے۔ لیکن یہاں تو اس بات کا خیال ہی نہیں رکھا گیا۔ کیونکہ جنرل نگار جوہر اور ماہرہ خان کے چہرے میں مشابہت نہیں ہے۔

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ جنرل نگار جوہر اور اداکارہ اریبہ حبیب کے چہرے میں بہت زیادہ مماثلت ہے لہذا اس کردار کے لیے ماہرہ خان کی جگہ اریبہ حبیب کو کاسٹ کرنا چاہئے تھا۔ قرۃ العین ندیم نے کہا یہ کردار اریبہ حبیب پر بہت زیادہ سوٹ کرتا۔ تاہم کچھ لوگوں نے جنرل نگار جوہر کے کردار کے لیے اداکارہ صنم بلوچ کا نام بھی تجویز کیا۔

ٹیلی فلم ’’ایک ہے نگار‘‘ کی کہانی عمیرہ احمد نے تحریر کی ہے۔ فلم کی ہدایت عدنان سرور نے دی ہے جب کہ نینا کاشف اور ماہرہ خان کی  پروڈکشن کمپنی سلفری فلمز کے بینر تلے اس فلم کو تیار کیا گیا ہے۔

نگار جوہر ایک شاندار سرجن ہیں جنہوں نے اپنی زندگی لگن کے ساتھ میڈیکل کے شعبے میں کام کرتے ہوئے گزاری۔ وہ اس شعبے سے 1985 سے وابستہ ہیں۔ ٹیلی فلم میں نگار جوہر کا کردار ماہرہ خان نے ادا کیا ہے جب کہ ان کے مقابل اداکار بلال اشرف مرکزی کردار میں نظرآئیں گے۔

ٹیلی فلم کا ابتدائی حصہ آرمی میڈیکل کالج میں شوٹ کیاگیا ہے جس میں نگار جوہر کی طالبعلمی کی زندگی اور اس کے بعد پیشہ ورانہ زندگی کو دکھایا جائے گا۔ یہ ٹیلی فلم نجی ٹی وی چینل اے آر وائے ڈیجیٹل پر پیش کی جائے گی تاہم ابھی تک اس کی ریلیزکی تاریخ منظرعام پر نہیں آئی ہے۔

The post سوشل میڈیا صارفین کا نگار جوہر کے کردار کیلئے ماہرہ خان کو کاسٹ کرنے پر اعتراض appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3gIJF0Q

زرعی آمدن کے بہانے ٹیکس سے بچنے والے بڑے زمینداروں کے گرد گھیرا تنگ

 اسلام آباد: ذریعہ آمدن زراعت ظاہر کر کے ٹیکسز سے بچنے والے بڑے زمینداروں کے گرد وفاقی حکومت نے گھیرا تنگ کردیا۔

وفاق نے ٹیکسز سے بچنے کیلیے ذریعہ آمدن زراعت ڈکلیئر کرنے والوں سے ٹیکسز کے حصول کے لئے صوبوں سے تعاون مانگ لیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ 61 ہزار سے زائد ایسے لوگ ہیں جنھوں نے وفاقی ٹیکس ریٹرنز میں 79 ارب روپے زرعی آمدن ظاہر کی ہے۔

اس حوالے سے گزشتہ روز ہونے والی پیشرفت میں حکومت نے منی سروس بیوروز اور ایکسچینج کمپنیز کو فارن ترسیلات کی منتقلی کے لیگل ذریعہ کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ چیئرمین فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) ڈاکٹر محمد اشفاق احمد نے ٹیکس سے بچنے کے شبہ پر 35 فیصد سے زائد انکم ٹیکس ریکوری کے لئے فائل کئے گئے ٹیکس کیسز واپس لینے کے لئے سرکلر جاری کر دیا ہے جیسا کہ یہ فارن ترسیلات ایکسچینج کمپنیوں اور منی سروس پرووائیڈرز کے ذریعے وصول ہوئی تھیں۔

چیئرمین ایف بی آر نے قومی ریونیو بڑھانے کی خاطر 4 صوبائی وزرائے خزانہ کو تعاون کے لئے خطوط لکھ دیئے ہیں۔ وزیر خزانہ پنجاب ہاشم جواں بخت کو لکھے گئے خط میں انہوں نے لکھا کہ ٹیکس ایئر 2020 میں پنجاب کے ڈومیسائل کے حامل تقریباََ ایک لاکھ 28 ہزار 550 ایسے لوگ ہیں جنہوں نے زرعی آمدن استشنیٰ میں 51.4 ارب روپے ڈیکلیئر کئے۔ شبہ ہے کہ ایسی آمدن صوبائی انکم ٹیکس واجبات سے ڈسچارج نہیں کی گئی ۔

ایف بی آر کے مطابق چار صوبوں سے ایک لاکھ 61 ہزار 69  فائلرز نے زراعت سے 79 ارب روپے کمائے جو انہوں نے ڈیکلیئر کئے اور انکم ٹیکس چھوٹ کا دعویٰ کیا۔ سندھ سے 25 ہزار زمینداروں نے فیڈرل انکم ٹیکس سے 23.2 ارب روپے کی چھوٹ حاصل کی۔ خیبرپختونخوا سے 6140 سے 2.7 ارب اور بلوچستان سے 1500 زمینداروں نے 1.5 ارب روپے کی وفاقی انکم ٹیکس چھوٹ ڈیکلیئر کی۔ آئین پاکستان کے مطابق زراعت سے حاصل ہونے والی آمدن صوبوں کا معاملہ ہے ۔ تقریباَََ ہر بااثر زمیندار اور صنعتکار کوشش کرتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ آمدن زمین سے حاصل ہونے کا دعویٰ کر کے ٹیکس سے بچا جائے۔

The post زرعی آمدن کے بہانے ٹیکس سے بچنے والے بڑے زمینداروں کے گرد گھیرا تنگ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3t070A4

پی ٹی آئی دور؛ سرکاری قرضوں میں 149کھرب روپے کا اضافہ، حجم 399 کھرب روپے تک جا پہنچا

 اسلام آباد:  پاکستان پر واجب الادا سرکاری قرضوں کا حجم 399 کھرب روپے تک پہنچ گیا۔

وزیراعظم عمران خان کے 3 سالہ دورحکومت میں سرکاری قرضوں میں 149کھرب روپے کا اضافہ ہوا۔ گذشتہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ سالانہ بلیٹن کے مطابق رواں برس جون کے اختتام پر  سرکاری قرضے 399 کھرب روپے تک پہنچ گئے۔ پچھلے 3 برسوں میں سرکاری قرضوں میں 149کھرب روپے کا اضافہ ہوا۔

2018 سے 2021  تک  سرکاری قرضوں میں ہر سال 20 فیصد کی شرح سے 60 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پی ٹی آئی حکومت کا 3سال میں لیا گیا قرض مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے 10سالہ دور میں لیے گئے قرضوں کے 82 فیصد مساوی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2018-19  سے لے کر 2020-21  کے اختتام پر سرکاری قرضے جی ڈی پی کے 83.5 فیصد ( 399 کھرب روپے ) تک پہنچ گئے۔ تاہم معیشت کا حجم  جی ڈی پی کے 11 فیصد سے زیادہ ہے۔ قرض میں اضافے کو اگر یومیہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کی حکومت  نے روزانہ 13.6 ارب روپے  کا سرکاری قرض لیا۔ یہ اوسط مسلم لیگ ن کے دور کی اوسط  (5.8 ارب روپے) سے دگنی ہے۔

The post پی ٹی آئی دور؛ سرکاری قرضوں میں 149کھرب روپے کا اضافہ، حجم 399 کھرب روپے تک جا پہنچا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/38oQEY7

یوم دفاع وشہداء سے متعلق ایک اوروڈیوشیئر؛ شہداء وغازیوں کوسلام

 راولپنڈی:  

ڈی جی آئی ایس پی آرنے یوم دفاع و شہداء سے متعلق ایک اور وڈیو شیئرکردی۔

ڈی جی آئی ایس پی آرنے یوم دفاع وشہداء سے متعلق پانچویں مختصردورانیے کی ویڈیوجاری کردی۔ پانچویں ویڈیومیں شہداء کے والدین کے بلند عزم اورجذبہ کی عکاسی کی گئی ہے۔ شہداء کے والدین کا پہاڑوں جیسا حوصلہ اوروطن سے لازوال محبت دکھائی گئی۔

وڈیومیں دیکھا جاسکتا ہے کہ والد ایک بیٹے کی شہادت کے بعد دوسرے کو بھی قوم کی خدمت کیلئے بھیجنے کو تیارہے۔

The post یوم دفاع وشہداء سے متعلق ایک اوروڈیوشیئر؛ شہداء وغازیوں کوسلام appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2WDdlVQ

لاہور میں ڈاکوؤں سے مقابلے میں 2 پولیس اہلکار جاں بحق

 لاہور: مانگہ منڈی قبرستان کے قریب ڈاکوؤں سے مقابلے میں 2 پولیس اہلکار جاں بحق ہوگئے۔

سی سی پی او لاہور کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب مانگہ منڈی قبرستان کے قریب شہری سے 60 ہزار روپے نقد اور موبائل فون چھیننے کی واردات کی کال موصول ہوئی، واردات کی اطلاع ملتے ہوئے محافظ  فورس کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے، ان کے پہنچتے ہی ڈاکوؤں نے فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی، محافظ فورس کے اہلکاروں نے ڈاکوؤں کا تعاقب جاری رکھا، مانگہ بائی پاس کے قریب ڈاکوؤں نے ایک بار پھر پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کردی، جس سے 2 اہلکار جاں بحق ہوگئے۔

جاں بحق پولیس اہلکاروں کی شناخت کانسٹیبل عادل شاہ اور عباد کے نام سے ہوئی ہے، عادل شاہ کو سینے جبکہ عباد کو کنپٹی پر گولی لگی۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی آئی جی آپریشنز لاہور سہیل چوہدری اسپتال پہنچ گئے، انہوں نے پولیس مقابلے سے متعلق اہلکاروں سے تفصیلات حاصل کیں، انہوں نے شہید کانسٹیبلز عادل شاہ اور عباد ڈوگر کے ورثاء سے اظہار تعزیت بھی کی۔

The post لاہور میں ڈاکوؤں سے مقابلے میں 2 پولیس اہلکار جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3kGIC2v

پاکستان کی قیادت کے خواہشمند لوگوں کے اپنے فیصلے بھی اورلوگ کرتے ہیں، فواد چوہدری

 اسلام آباد: وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ‏ ایسے لوگ پاکستان کی قیادت کےخواہشمند ہیں جن کے اپنے فیصلے بھی اورلوگ کرتے ہیں۔

وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ شہباز شریف اوربلاول بھٹو نے الیکشن اصلاحات اورپی ڈی ایم اے کا ایک لفظ نہیں پڑھا، نہ ہی انھیں کوئی پتہ ہے کہ تجاویزہیں کیا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ہمارے ہاں اپوزیشن کا ایک ہی رول ہے کہ حکومت کے مخالف شیطان سے بھی اتحاد ہوجائے توکرنا ہے۔ ایسے لوگ پاکستان کی قیادت کےخواہشمند ہیں جن کےاپنے فیصلے بھی اور لوگ کرتے ہیں۔

The post پاکستان کی قیادت کے خواہشمند لوگوں کے اپنے فیصلے بھی اورلوگ کرتے ہیں، فواد چوہدری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3zwCxMx

جامعہ کراچی؛ الحاق شدہ کالجز میں ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ

 کراچی:  جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے حکومت سندھ کی سفارش پر الحاق شدہ کالجوں میں دو سالہ گریجویشن(بی اے، بی کام اور بی ایس سی) پروگرام ختم کرتے ہوئے اس کی جگہ دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام شروع کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔

تاہم ابتدا میں ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام گریجویشن پروگرام کی طرز پر سالانہ امتحانی نظام کے تحت شروع ہو گا اور سیمسٹر سسٹم اس پروگرام میں لاگو نہیں ہوگا جبکہ ریگولر کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ طلبا بھی ایسوسی ایٹ ڈگری میں انرولڈ ہوسکیں گے،مذکورہ فیصلے کی منظوری کیلیے اکیڈمک کونسل کا اجلاس جمعرات2ستمبر کی دوپہر طلب کیا گیا ہے جس کی صدارت جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی کریں گے۔

اس سلسلے میں جامعہ کراچی کے رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر عبدالوحید کے دستخط سے جاری ایجنڈے میں محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز میں منعقدہ ایک اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بی کام ، بی اے اور بی ایس سی پروگرام(ریگولر/ پرائیویٹ) عدالتی احکامات کے تناظر میں ختم کیا جارہا ہے، اس اجلاس میں دی گئی تجاویز کے مطابق اب بی ایس سی ، بی کام اور بی اے کی ڈگری کاnomenclature تبدیل ہوجائے گا اور اس کی جگہ نیا ڈگری ٹائٹل  ایسوسی ایٹ ڈگری ان سائنس، کامرس اور آرٹس شروع ہوگا۔

تاہم واضح رہے شروع ہونے والے یہ تینوں پروگرام گریجویشن کے مساوی نہیں ہونگے بلکہ گریجویشن کے خواہشمند طلبا کو دو سال ایسوسی ایٹ ڈگری کی تکمیل کے بعد یونیورسٹی کے سال سوئم میں داخلہ لینا ہوگا اور مزید دو سال پڑھنے کے بعد طالب علم متعلقہ شعبے میں اپنی گریجویشن مکمل کرسکے گا،مزید براں رجسٹرار جامعہ کراچی کی جانب سے اکیڈمک کونسل کے اجلاس کے جاری ایجنڈے کے مطابق فی الحال ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کے لیے کورس آؤٹ لائن ،سلیبس اور قوانین میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جائے گی بلکہ وہ کورس آؤٹ لائن اور سلیبس جو بی اے ، بی ایس سی اور بی کام میں رائج ہے  وہی ایسوسی ایٹ ڈگری میں بھی قابل عمل ہوں گے اور یونیورسٹی کی جانب سے انھیں اکیڈمک قوانین کو نوٹیفائی کیا جائے گا۔

اسی طرح ایسوسی ایٹ ڈگری کا امتحانی نظام گریجویشن کی طرز پر سالانہ اور ضمنی ہوگا، علاوہ ازیں اس سلسلے میں پہلے سے قائم کمیٹی نصاب اور امتحانی نظام کی تبدیلی کے حوالے سے اپنی سفارشات ایچ ای سی کی گائیڈ لائن کے تناظر میں پیش کرے گی جسے اکیڈمک کونسل سے منظور کرایا جائے گا۔

The post جامعہ کراچی؛ الحاق شدہ کالجز میں ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3sYZSDY

ٹک ٹاکر عائشہ اور ساتھی ریمبو کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر پولیس سے جواب طلب

 لاہور: عدالت نے مینار پاکستان میں ہراسانی کا شکار ہونے والی ٹک ٹاکر عائشہ اور اس کے ساتھی ریمبو کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر پولیس سے جواب طلب کرلیا۔ 

ایڈشنل سیشن جج لاہور اعجاز گوندل نے مینار پاکستان میں ہراسانی کا شکار ہونے والی ٹک ٹاکر عائشہ اور اس کے ساتھی ریمبو کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت کی۔ پولیس نے درخواست کا موقف سننے کے بعد پولیس سے جواب طلب کرلیا۔ کیس پر مزید سماعت 4 ستمبر کو ہوگی۔

علاوہ ازیں لاہور مینار پاکستان پرٹک ٹاکر سے بدسلوکی کا مقدمہ میں گرفتار ملزمان کی بعد ازگرفتاری ضمانت پر سماعت ہوئی، دو ملزمان نے ضمانت کی درخواستیں واپس لے لیں۔ عدالت نے درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی، ملزمان عبد الرحمان اور علی احمد  نے اپنے وکیل کے ذریعے درخواستیں ضمانت دائر کی تھیں۔

The post ٹک ٹاکر عائشہ اور ساتھی ریمبو کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر پولیس سے جواب طلب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3BlG8NQ

پی ٹی آئی دور؛ سرکاری قرضوں میں 149کھرب روپے کا اضافہ، حجم 399 کھرب روپے تک جا پہنچا

 اسلام آباد:  پاکستان پر واجب الادا سرکاری قرضوں کا حجم 399 کھرب روپے تک پہنچ گیا۔

وزیراعظم عمران خان کے 3 سالہ دورحکومت میں سرکاری قرضوں میں 149کھرب روپے کا اضافہ ہوا۔ گذشتہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ سالانہ بلیٹن کے مطابق رواں برس جون کے اختتام پر  سرکاری قرضے 399 کھرب روپے تک پہنچ گئے۔ پچھلے 3 برسوں میں سرکاری قرضوں میں 149کھرب روپے کا اضافہ ہوا۔

2018 سے 2021  تک  سرکاری قرضوں میں ہر سال 20 فیصد کی شرح سے 60 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پی ٹی آئی حکومت کا 3سال میں لیا گیا قرض مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے 10سالہ دور میں لیے گئے قرضوں کے 82 فیصد مساوی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2018-19  سے لے کر 2020-21  کے اختتام پر سرکاری قرضے جی ڈی پی کے 83.5 فیصد ( 399 کھرب روپے ) تک پہنچ گئے۔ تاہم معیشت کا حجم  جی ڈی پی کے 11 فیصد سے زیادہ ہے۔ قرض میں اضافے کو اگر یومیہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کی حکومت  نے روزانہ 13.6 ارب روپے  کا سرکاری قرض لیا۔ یہ اوسط مسلم لیگ ن کے دور کی اوسط  (5.8 ارب روپے) سے دگنی ہے۔

The post پی ٹی آئی دور؛ سرکاری قرضوں میں 149کھرب روپے کا اضافہ، حجم 399 کھرب روپے تک جا پہنچا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/38oQEY7

اقتصادی پیش رفت کے لیے کاوشیں

وزارت خزانہ کے مطابق جولائی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2.8 فیصد، مالی خسارہ7.1 فیصد رہا، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں گزشتہ سال کی نسبت 30.1 فیصد ، نان ٹیکس ریونیو میں 12.3فیصد کمی ہوئی۔

برآمدات میں جولائی میں 19.7فیصد، درآمدات میں 51.7 فیصد اضافہ ہوا ، حالیہ معاشی اقدامات سے پاکستان کے میکرو اکنامک اعشاریوں میں مثبت تبدیلی آئی ہے اور پاکستان کی معیشت متوازن اور پائیدارگروتھ کے راستے پرگامزن ہے، تاہم پائیدار گروتھ کے کی سمت کو آگے کی جانب گامزن رکھتے ہوئے اس کو اوپر کی سطح پر لے جانا ایک بڑا چیلنج ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کی پیداواری استعداد میں اضافہ کیا جائے اور مقامی صارفین کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے اس اضافی پیداوار کا خاطر خواہ حصہ برآمد کرنے کو یقینی بنا نا ہوگا ، پیداواری استعداد اور اس کی کارکردگی میں اضافہ دستیاب اور مستقبل کے وسائل کے بڑے حصے کو سرمایہ کاری کی جانب گامزن کیے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی گروتھ ریٹ سمیت دیگر معاشی عوامل اور اقتصادی حقائق کی مشترکہ رپورٹ اگر ایک سہ سالہ معاشی بیانیہ کے طور پر سامنے لائی جاتی تو اس کے بہتر نتائج پر تفصیلی بات چیت ہوسکتی تھی۔ ملکی سہ سالہ اقتصادی رپورٹ نہ صرف معاشی سرگرمیوں کی مبسوط دستاویزی رپورٹ کی جگہ لیتی اور عوام کو سہ سالہ ترقیاتی، اقتصادی اور معاشی جائزے کی صورت میں گزرے سالوں کے معاشی اثرات و واقعات کی ایک جامع تصویر بھی عوام کے سامنے آجاتی۔ دوسری طرف اس سے ان حلقوں کی بھی تسلی ہوجاتی جو اقتصادی صورت حال کو ڈاکومینٹڈ انداز میں اپنے تجزیوں کی بنیاد بناتے ہیں، اور سالانہ اقتصادی رپورٹس کی شکل میں ملکی معاشی پیز رفت کا جائزہ لینے کی روایت کا تسلسل قرار دیتے ہوئے ایک ضروری اقدام سمجھتے، ان ماہرین کا انداز نظر ملکی معیشت کے منظر نامہ کو مزید دستاویزی بنانے اور اور ملکی اقتصادی نظام کے استحکام اور معنوی ترقی کو مہنگائی کے خاتمہ اور افراط زر کو روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات کو نتیجہ خیز بنانے کے ایسے اقدامات ناگزیر ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کی خواہشات کے درمیان ایک بنیادی نکتہ سیاسی و سماجی اور تاریخی معروضیت کا ہے، دنیا کا کوئی معاشی نظام عوام کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے بغیر نتائج نہیں دے سکتا اور معاشی نتائج ہی ایک بہتر جمہوری نظام کی میراث بنتے ہیں۔

ان ماہرین نے جو اجتماعی اقتصادی نتائج کو ایک بہتر نظام کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ایک بہتر اقتصادی ٹیم اس بات کی مکمل ذمے دار ہوتی ہے کہ ملکی ترقی کا انحصار کن باتوں پر ہے اور کون سے اکنامک اعشاریے اس بات کا ثبوت ہوتے ہیں کہ ملک سائنسی اور معاشی سمت میں بہترین پیش قدمی کر رہا ہے اور عوام ملکی معاشی نظام سے استحکام اور جمہوری و معاشی ثمرات کی امید رکھ سکتا ہے، ایک نامور اقتصادی ماہر کا کہنا ہے کہ معاشی اقدامات اور معاشی حقائق کو بہر طور عوام کی روزمرہ زندگی کا عکاس ہونا چاہیے۔

عوام کی زندگی سیاسی و سماجی اور معاشی حقائق سے جڑی ہوئی ہے، لوگ جس دن اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی کے اعلان کے بغیرکوئی بنیادی تبدیلی دیکھتے ہیں تو ان کی خوشی کو کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا وہ قیمتوں میں اس کمی کو اقتصادی ترقی کی طرف ایک اہم اقدام قرار دیتے ہوئے اس امرکا یقین کرلیتے ہیں کہ اب ان کی زندگی کے بہتر دن آ رہے ہیں، موجودہ حالات بلاشبہ ایک غیر معمولی پیش رفت کا تقاضہ کرتے ہیں۔

اتوار کو وزارت خزانہ کی جانب سے جاری معاشی آؤٹ لک کے مطابق گزشتہ مالی سال کورونا وائرس کے باوجود پاکستان کی برآمدات اور ترسیلات زر میں صحت مندانہ گروتھ ہوئی۔ کورونا کی ویکسی نیشن کے ساتھ معاشی سرگرمیوں کی بحالی بھی جاری رہی ، جس کے باعث مضبوط اقتصادی گروتھ ہوئی۔

وزارت خزانہ کے جاری اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کا رواں مالی سال کے پہلے ماہ جولائی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 80کروڑ ڈالر کے ساتھ2.8فیصد اور مالی خسارہ 3403ارب روپے کے ساتھ7.1فیصد رہا۔ 24 اگست2021 کو پاکستان کے تاریخ کے بلند ترین زرمبادلہ کے ذخائر رہے جو 27 ارب 30کروڑ ڈالر رہے جب کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر 20 ارب26 کروڑ ڈالر رہے۔

ماہرین کا کہنا یہ ہے کہ امکانات سے بھرپور معیشت ہی عوام کی معاشی ضرورتوں کی تکمیل کرسکتی ہے اور وہی اس بات کا درست اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اقتصادی ترقی کے ثمرات ان کی دہلیز تک کس طرح پہنچ سکتے ہیں، اس حوالے سے حکومت کے تین سال کی کارکردگی کا باب مزید وضاحت مانگتا ہے، لوگ چاہتے ہیں کہ ان تین سالوں جو ٹھوس اقدامات ہوئے ، ان ہی کے نتائج کی روشنی میں ملک ایک اقتصادی نشاۃ ثانیہ سے دوچار ہوا، حکومت نے بہتر اقتصادی اور معاشی پیش رفت کی کامیابی پر جشن منایا اور اقتصادی کامیابیوں ایک بنیاد بنا کر مزید پیش قدمی کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔

کیونکہ ابھی مشکلات ختم نہیں ہوئیں، دشواریاں بہت ہیں، مسائل بے پناہ ہیں، بیروزگاری بڑھ گئی ہے، غربت کے خاتمے کی باتیں بہت ہوئیں مگر عملی حقیقت سخت درد انگیز ہے، غربت نے اپنے اثرات و نتائج پھیلا دیے ہیں، اقتصادی حالات بہتر ہونگے تب ہی سماجی جرائم، بے چینی اور غیر انسانی صورتحال کے خاتمہ کے امکانات پیدا ہوں گے۔

حکومت کو ملکی اقتصادی حالات کی بہتری کو اولیت دینی ہوگی، ایک آسودہ معاشرہ ہی عوام کو بہتر اور روشن مستقبل کی ضمانت دے گا۔ یاد رہے وزارت خزانہ نے کچھ روز پہلے کہا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں کھانے پینے کی اشیاء مہنگی ہوگئی ہیں ، مہنگائی اور ادائیگیوں کا عدم توازن پاکستانی معیشت کے لیے خطرہ ہے ، وبائی امراض کا خطرہ اب بھی موجود ہے اور لاک ڈاؤن پالیسیوں سے نجی خدمات سے متعلق کاروبار پر اثر پڑسکتا ہے۔ افراط زر کی شرح میں کمی کا رجحان ہے جو 8.4سے گھٹ کر7.7 فیصد ہوجائے گی ، خوراک کی منڈیوں کی کارکردگی بڑھانے کے لیے حکومتی کوششیں جاری ہیں ، سامان اور خدمات میں تجارتی خسارہ 3 ارب ڈالر تک مستحکم ہوسکتا ہے ، ٹیکس وصولی 42.5 فیصد بڑھ گئی۔

وزارت خزانہ نے پاکستان کی معیشت کے لیے ممکنہ خطرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کسی ملک کی گھریلو افراط زر اور ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ اگست 2021کے ماہانہ معاشی نقطہ نظر میں وزارت خزانہ نے کہا کہ وبائی امراض کا خطرہ اب بھی موجود ہے، حکومت نے اندرونی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے ساتھ اسمارٹ لاک ڈاؤن پالیسیوں پر عمل کیا ہے جس کا خصوصی طور پر دیگر نجی خدمات سے متعلق کاروبار پر اثر پڑ سکتا ہے۔

وزارت کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی اقدامات خاص طور پر خوراک سے متعلق اسٹرٹیجک ذخائر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کے اقدامات یقینی طور پر متعلقہ خطرات کو کم کریں گے۔ مزید یہ کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی صورتحال پاکستان کو برآمدات کے ذریعے زیادہ مارکیٹ شیئر حاصل کرنے میں مدد دے گی۔ حالیہ مہینوں میں سال بہ سال افراط زر کی شرح میں کمی کا رجحان ہے۔ توقع ہے کہ کسی بڑے غیر متوقع افراط زر کی شورش کی عدم موجودگی میں آنے والے مہینوں میں اس کے نیچے آنے والے رجحان کو دوبارہ شروع کرنے سے پہلے مہنگائی اگست میں مستحکم ہو سکتی ہے۔

اگر اگست میں مہنگائی کی کوئی نئی تحریک نہیں آئے گی تو سال بہ سال مہنگائی جولائی میں 8.4 فیصد سے گھٹ کر اگست میں 7.7 فیصد ہو جائے گی۔ مزید یہ کہ گھریلو خوراک کی منڈیوں کی کارکردگی بڑھانے کے لیے حکومتی کوششیں اب بھی موجود ہیں اور ان کی مسلسل نگرانی اور مضبوطی کی جا رہی ہے۔

عام طور پر جون اور جولائی دونوں لیکن خاص طور پر جون مثبت موسمی اثرات کی خصوصیت رکھتے ہیں۔ یہ مثبت موسمی تسلسل اگست میں غائب ہونے کی توقع ہے۔ توقع ہے کہ اگست میں سامان اور خدمات میں تجارتی خسارہ تقریباً 3 ارب ڈالر تک مستحکم ہو سکتا ہے جب کہ ترسیلات زر کے حوالے سے توقعات کے ساتھ ڈھائی ارب ڈالرز مستحکم ہوسکتا ہے۔ اور دوسری ثانوی آمدنی اور بنیادی آمدنی کے بہاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے آنے والے مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ 0.5 ارب ڈالرز کی اعتدال پسند ماہانہ سطح پر خسارے میں رہے گا۔

یہ توقعات کسی غیر متوقع منفی شورش کی عدم موجودگی پر منحصر ہیں جو بیرون ملک معاشی بحالی کی ممکنہ سست روی سے پیدا ہو سکتی ہیں۔ مالی سال 2021 کے دوران مالی استحکام کی کوششیں ٹریک پر رہیں۔ مالی سال 2021 میں ٹیکس آمدنی میں 18.4 فیصد اضافہ ہوا جب کہ مالی سال 2022 جولائی میں ٹیکس وصولی 42.5 فیصد بڑھ گئی جو نئے مالی سال کی اچھی شروعات کی نشاندہی کرتی ہے۔ مالی سال 2022 کے لیے ٹیکس کلیکشن 5829 ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔

بہرکیف امید و توقعات کا عمل جاری رہنا چاہیے، اقتصادی اور معاشی اقدامات میں حقیقت پسندی برقرار رہی اور اگر بیروزگاری، مہنگائی میں کمی کے خوشگوار اثرات کا سلسلہ عوام کی مشکلات کم کرگیا تو یہ حکومت کی بہت اہم کامیابی ہوگی ۔ عوام کو ایک بہتر معاشی مستقل کے لیے مصروف معیشت درکار ہے جس سے اپنی وابستگی قائم رکھنے کے لیے معاشی ثمرات کی بہر طور عوام ہمیشہ توقع رکھیں گے۔

The post اقتصادی پیش رفت کے لیے کاوشیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/38GkQhT

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...