دوحہ: التوا کے شکار افغان امن مذاکرات کا آغاز ایک بار پھر آج سے قطر میں ہو رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا اور طابان کے درمیان افغان امن مذاکرات کا نیا دور آج سے دوحہ میں شروع ہو رہا ہے۔ امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد طالبان نمائندوں سے مذاکرات کریں گے، امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا یہ چھٹا دور ہے۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مذاکرات کے آگاہ کی تصدیق کرتے ہوئے عالمی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ مذاکرات کا محور افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلاء اور اس کے عوض طالبان کی جانب سے امریکا کو دی جانے والی ضمانت ہوگا۔
دوسری جانب زلمی خلیل زاد پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ایسا ڈرافٹ تیار کرلیا گیا ہے جس میں طالبان افغان سرزمین کو دوسرے ممالک بالخصوص امریکا میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے اور افغان سرزمین کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہ بننے کی ضمانت دیں گے۔
ادھر زلمے خلیل زاد کے ساتھ کام کرنے والی ٹیم کے ایک اہلکار نے بتایا کہ آج سے شروع ہونے والے مذاکرات میں طالبان نمائندوں کو کابل حکومت سے براہ راست مذاکرات کرنے کے لیے آمادہ کیا جائے گا۔ قبل ازیں افغان طالبان کابل حکومت کو کٹھ پتلی حکومت قرار دیتے ہوئے مذاکرات سے گریز کرتی آئی ہے۔
The post امریکا اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے چھٹے دور کا آغاز appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2ZMQbcW
No comments:
Post a Comment