حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا ہے۔ اپنے متن اور معاشی مضمرات کے حوالے سے اس خبر نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے ، ابھی عوام بسوں منی بسوں اور کوچز کے کرایوں میں اضافے سے تلملائے ہوئے تھے کہ حکومت نے مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کو ایک اور تحفہ دیتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے ان کے مصائب کا کچھ بھی احساس نہیں کیا۔
بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 15 پیسے جب کہ ڈیزل کی قیمت میں5 روپے 65 پیسے اضافے کی منظوری دی گئی جس کا اطلاق بدھ کی رات 12 بجے سے ہوگیا۔
دوسری جانب رواں ماہ کے لیے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا، گھریلو سلنڈر 19روپے مہنگا جب کہ کمرشل سلنڈر کی قیمت میں 90 روپے مہنگا کر دیا گیا، ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن نے قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا، اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی پیداواری قیمت میں 1384 روپے فی میٹرک ٹن اضافہ کر دیا گیا ہے، کمرشل سلنڈر کی قیمت میں 90 روپے اور 2روپے فی کلو کا اضافہ کیا گیا ، گھریلو سلنڈر کی قیمت 1350 روپے، کمرشل سلنڈر5194 روپے مقرر کر دی گئی، ایل پی جی انڈسٹریز ایسوسی ایشن پاکستان نے کہا کہ اگست کے مہینے میں ایل پی جی کی قیمتوںمیں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
اگر معیشت کے عدم استحکام کے سنجیدہ سیاق وسباق میں عوام کو درپیش گراں بار معاشی دشواریوں کا کوئی حل تلاش کرنے کے لیے معاشی مسیحاؤں سے توقع رکھی جائے تو الٹا عوام مزید زیر بار ہوجاتے ہیں، حکومت شہریوں کے معاشی مسائل سے عملا ً لاتعلق تو ہوچکی ہے مگر سوال ملکی اقتصادیات کے اسٹرکچرل سیٹ اپ کا ہے جس میں عوام کے لیے ریلیف نام کی کوئی شئے نہیں، مہنگائی ہے کہ اسے پر لگ گئے ہیں، اور بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے مسائل کا جائزہ لیا جائے تو اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے پسینہ آجاتا ہے کہ ملک کے معتبرمعاشی ماہرین کئی عشرے پہلے اس بات کا اعلان کرچکے تھے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بے جا دائرے سے بچنے میں ناکام رہی تو ملکی معیشت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تسلسل سے کبھی خود کو سنبھال نہیں سکے گی اور عوام پر وقفے وقفے سے پٹرول بم کرتا رہے گا۔آج حقیقت میں عوام کی بے بسی دیدنی ہے، لوگ دو وقت کی روٹی کو ترس گئے ۔
غریب اور متوسط طبقہ مہنگائی سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں کیونکہ ان کی آمدنی میں تو اضافہ نہیں ہوا لیکن اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں۔ خوش آیند بات ہے کہ ای سی سی نے روٹی نان کی قیمتیں کم کرنے کا اعلان کیا، 1ارب 51 کروڑ روپے کی سبسڈی دی گئی ہے، یہ ایک اچھا فیصلہ ہے کیونکہ روٹی کی مہنگائی عوام کے لیے قابل برداشت نہیں ہے۔حکومت نے روٹی کی مد میں جو سبسڈی دی ہے، اسے حکمران طبقے کی جیب سے پورا کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے حکمران طبقے کے پاس دولت کی کوئی کمی نہیں ہے۔اسے خود بھی آگے بڑھ کر قربانی دینی چاہیے۔
اگر وطن عزیز کا حکمران طبقہ اپنے اخراجات میں کمی کرے اور اپنی دولت کو ظاہر کردے تاکہ اس پر ٹیکس لاگو ہوسکے ، اس طریقے سے معیشت کو خاصا فائدہ ہوگا۔ حکومت کو اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔
روز مرہ استعمال کی مزید چیزیں بھی سستی ہونی چاہئیں، غریبوں کے بچے سماجی پسماندگی،غذائی قلت اور بیماریوں جب کہ والدین غربت اور تنگدستی کے ہاتھوں لاچاری کی تصویر بنے ہوئے ہیں، ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں صرف دو دن کی بارش نے تباہی و بربادی کے ریکارڈ قائم کردیے ، بیشتر نشیبی علاقوں اور کچی آبادیوں میں زندگی مفلوج ہے اور تاحال پانی کھڑا ہے اور انتظامی ڈھانچہ مکمل طور پر ناکام ہوگیا ہے ۔
حکومتی وزرا کا طرز عمل اکثر معذرت خواہانہ بلکہ ظالمانہ ہوجاتا ہے جب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی بات آتی ہے تو وضاحتوں اور دیدہ دلیری سے ثابت کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں چیزیں دوسرے ملکوں اور ہمسایوں سے زیادہ سستی ہیں۔ لہذا عوام خون کے گھونٹ پینے کے سوا اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔
میڈیا پر بے بسی کے الم ناک مناظر دکھائے جاتے ہیں ، بے روزگار لوگ اپنی گھریلو اور سماجی و معاشی مجبوریاں اور مطالبات پیش کرتے ہوئے اشکبار ہوجاتے ہیں مگر حکمرانوں کی سنگدلی کا عالم یہ ہے کہ اس بیچارگی میں بھی پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ کی منظور دے دی گئی۔
سوال یہ ہے کہ معاشی ترجیحات کا پیٹرن کیوں نہیں بدلتا ،ایک سال گزرگیا ہے حکومت نے 6 ماہ مانگے تھے، سابقہ حکومتوں پر نکتہ چینی بجا سہی مگر اب تو ٹریکل ڈاؤن کی کوئی ادنی سی کرن عوامی زندگی میں نظر آجانی چاہیے، ریلیف کی نچلی سطح پر بھی معاشی بریک تھرو کا کوئی امکان کیوں نظر نہیں آتا ، آئی ایم ایف سے مدد مانگی، دوست ملکوں نے ڈالروں سے معاونت کی، اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کے نئے سربراہان اور نیا مشیر خزانہ لایا گیا،جب کہ وزیراعظم نے یقین دلایا تھا کہ دو تین ماہ مشکل ترین ہونگے پھر انشا اللہ عوام کے بہتر دن آجائیں گے۔
تاہم معاشی ثمرات کا تاحال عوام کو انتظار ہے، حکومت کی جانب سے مالیاتی عہدوں پر فائز کیے جانے کے بعد امید پیدا ہوچلی تھی کہ معاشی استحکام، روزگار کے مواقعے، غربت اور خط افلاس سے نیچے زندگی بسرکرنیوالے افراد کو سہولتیں میسر آئیں گی لیکن عوام کی معاشی حالت پتلی ہوگئی ہے، مہنگائی کا عذاب سب سے اذیت ناک ہے، جب متوسط طبقہ کے لیے اقتصادی حالات ابتر ہوگئے ہوں تو مزدور طبقہ کیسے افلاس اور تنگدستی سے نمٹ سکے گا، لہذا حکومت اس کے معاشی مسیحاؤں کو فوری ریلیف کی طرف توجہ دینی چاہیے جس سے عوام کو آسودگی ،اطمینان اور معاشی سہارا ملے۔
The post عوام کو معاشی ریلیف چاہیے appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2KjlPaZ
No comments:
Post a Comment