Urdu news

Sunday, 31 May 2020

واہگہ بارڈر پر کھڑی بھارتی ریلوے کی 10 بوگیاں 9 ماہ سے واپسی کی منتظر

 لاہور: بھارتی ریلوے کی 10 بوگیاں گزشتہ 9 ماہ سے واہگہ بارڈر ٹریک پر کھڑی ہے جنہیں بھارت واپس لینے کو تیار نہیں ہے۔

پاکستان اوربھارت کے مابین چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس کی بوگیوں کا ہرسال تبادلہ کیا جاتا ہے، 6 ماہ کے لئے پاکستانی جب کہ 6 ماہ کے لئے بھارتی بوگیاں استعمال کی جاتی ہے۔ 4 جون سے 4 دسمبرتک بھارتی بوگیاں استعمال ہوتی ہیں جبکہ سال کے باقی عرصے میں پاکستانی بوگیاں استعمال کی جاتی ہے۔ تاہم سال بھرانجن پاکستان کا ہی استعمال ہوتا ہے لیکن اب چونکہ 8اگست 2019 سے پاکستان اوربھارت کے مابین چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس بند ہوچکی ہے تو بوگیوں کا تبادلہ بھی نہیں ہوگا۔ آخری بار پاکستان آنے والی بھارتی ریلوے کی 10 بوگیاں ابھی تک لاہورکے واہگہ ریلوے اسٹیشن پرکھڑی ہیں جنہیں بھارت واپس لینے کو تیار نہیں ہے۔

ریلوے حکام کے مطابق بھارتی ریلوے کو بوگیوں کی واپسی سے متعلق متعددخطوط لکھے جاچکے ہیں مگران کی طرف سے کوئی رسپانس نہیں ملا ہے۔ ادھر وزیرریلوے شیخ رشید متعدد بار یہ واضح کرچکے ہیں کہ جب تک وہ وزیر ہیں سمجھوتہ ایکسپریس نہیں چلے گی۔ پاکستان نے بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد بھارت کے ساتھ ریل رابطے منقطع کردیئے تھے اور 8 اگست 2019 کو سمجھوتہ ایکسپریس کا پہیہ رک گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی مال بردار گاڑی کی بھی 9 کوچز بھارت میں موجود ہیں، پاکستان اور بھارت کے مابین شملہ معاہدےک ے تحت 22 جولائی 1976 کو لاہور سے اٹاری تک سمجھوتہ ایکسپریس شروع کی گئی تھی، اس ٹرین میں 936 سیٹوں والی اس ٹرین سے متعلق ابتدا میں 3 سال کا معاہدہ ہواتھا۔ جولائی 1991 میں دونوں ملکوں کے مابین سمجھوتہ ایکسپریس سروس بحال رکھنے سے متعلق ایک اور معاہدہ ہوا جبکہ مئی 1994 کو روزانہ کی بنیاد پر چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس کے شیڈول میں تبدیلی کردی گئی اور یہ ٹرین ہفتے میں 2 بار چلنے لگی۔ یہ ٹرین لاہور سے دہلی تک جاتی تھی تاہم بعد میں اس کا سفر کم کردیا گیا اور پاکستانی ٹرین مسافروں کو بھارت کے اٹاری بارڈر پر اتاردیتی ہے جہاں سے انہیں بھارتی ٹرین سے دہلی تک پہنچایا جاتا ہے۔

بھارت سے مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے سکھوں کے اسپیشل جتھے بھی ٹرین کے ذریعے ہی پاکستان آتے اور واپس جاتے ہیں تاہم اب ٹرین کا پہیہ بند ہونے سے یہ سکھوں کی آمدورفت بھی واہگہ بارڈر کے راستے پیدل ہوتی ہے۔

 

The post واہگہ بارڈر پر کھڑی بھارتی ریلوے کی 10 بوگیاں 9 ماہ سے واپسی کی منتظر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3gI0Y0w

حکومت جھوٹ پر جھوٹ بول کر قوم کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے ، ترجمان (ن) لیگ

 اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر صحت عمران صاحب لاپتہ ہیں اور صحت کا نظام ٹھیکے پر چل رہا ہے اور حکومت جھوٹ پر جھوٹ بول کر قوم کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے۔

اپنے بیان میں مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں کورونا مریضوں کی تعداد 2400 سے زائد ہوچکی ہے اور صرف 12 وینٹی لیٹر کام کررہے ہیں، اسلام آباد کے سرکاری اسپتالوں میں کل 90 بستر کے کورونا آئیسولیشن وارڈ کے سوا اور کوئی انتظام نہیں، لواحقین اپنے کورونا مریضوں کی جان بچانے کے لئے وینٹی لیٹرز کے حصول کی خاطر سفارشیں اور منتیں کرنے پر مجبور ہیں۔

ترجمان (ن) لیگ وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے اسپتال پمز میں 9 وینٹی لیٹرز کام کررہے ہیں، یہ 9 وینٹی لیٹرز پمز میں 80 بستر کے آئیسولیشن وارڈ میں دیگر آئی سی یوز سے منتقل کئے گئے ، سرجیکل آئی سی یو کے 4، میڈیکل آئی سی یو کے 2 اور کارڈیالوجی سرجری آئی سی یو کے 3 وینٹی لیٹرز کورونا وارڈ میں منتقل کئے گئے۔ اسلام آباد کے دوسرے بڑے اسپتال پولی کلینک میں کورونا مریضوں کے لئے صرف 10 بستروں کا آئیسولیشن وارڈ قائم ہے اور یہاں صرف 4 وینٹی لیٹر ہیں۔ بتایا جائے کہ کورونا مریضوں کے لئے جو وینٹی لیٹر آئے تھے، وہ کہاں ہیں؟ ان وینٹی لیٹرز میں سے اسلام آباد کے اسپتالوں کو کتنے ملے؟

مریم اورنگزیب نے کہا کہ کورونا کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر انتظامات اور اقدامات کے بجائے لوگوں کی زندگی خطرے میں ڈالی جارہی ہے، حکومت جھوٹ پر جھوٹ بول کر قوم کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے ، وفاقی وزیر صحت عمران صاحب لاپتہ ہیں اور صحت کا نظام ٹھیکے پر چل رہا ہے، عمران خان سرف پریس کانفرنس، بیانات اور دعوؤں کے ذریعے کورونا کا مقابلہ کررہے ہیں۔

The post حکومت جھوٹ پر جھوٹ بول کر قوم کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے ، ترجمان (ن) لیگ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2ZWTOzs

واہگہ بارڈر پر کھڑی بھارتی ریلوے کی 10 بوگیاں 9 ماہ سے واپسی کی منتظر

 لاہور: بھارتی ریلوے کی 10 بوگیاں گزشتہ 9 ماہ سے واہگہ بارڈر ٹریک پر کھڑی ہے جنہیں بھارت واپس لینے کو تیار نہیں ہے۔

پاکستان اوربھارت کے مابین چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس کی بوگیوں کا ہرسال تبادلہ کیا جاتا ہے، 6 ماہ کے لئے پاکستانی جب کہ 6 ماہ کے لئے بھارتی بوگیاں استعمال کی جاتی ہے۔ 4 جون سے 4 دسمبرتک بھارتی بوگیاں استعمال ہوتی ہیں جبکہ سال کے باقی عرصے میں پاکستانی بوگیاں استعمال کی جاتی ہے۔ تاہم سال بھرانجن پاکستان کا ہی استعمال ہوتا ہے لیکن اب چونکہ 8اگست 2019 سے پاکستان اوربھارت کے مابین چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس بند ہوچکی ہے تو بوگیوں کا تبادلہ بھی نہیں ہوگا۔ آخری بار پاکستان آنے والی بھارتی ریلوے کی 10 بوگیاں ابھی تک لاہورکے واہگہ ریلوے اسٹیشن پرکھڑی ہیں جنہیں بھارت واپس لینے کو تیار نہیں ہے۔

ریلوے حکام کے مطابق بھارتی ریلوے کو بوگیوں کی واپسی سے متعلق متعددخطوط لکھے جاچکے ہیں مگران کی طرف سے کوئی رسپانس نہیں ملا ہے۔ ادھر وزیرریلوے شیخ رشید متعدد بار یہ واضح کرچکے ہیں کہ جب تک وہ وزیر ہیں سمجھوتہ ایکسپریس نہیں چلے گی۔ پاکستان نے بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد بھارت کے ساتھ ریل رابطے منقطع کردیئے تھے اور 8 اگست 2019 کو سمجھوتہ ایکسپریس کا پہیہ رک گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی مال بردار گاڑی کی بھی 9 کوچز بھارت میں موجود ہیں، پاکستان اور بھارت کے مابین شملہ معاہدےک ے تحت 22 جولائی 1976 کو لاہور سے اٹاری تک سمجھوتہ ایکسپریس شروع کی گئی تھی، اس ٹرین میں 936 سیٹوں والی اس ٹرین سے متعلق ابتدا میں 3 سال کا معاہدہ ہواتھا۔ جولائی 1991 میں دونوں ملکوں کے مابین سمجھوتہ ایکسپریس سروس بحال رکھنے سے متعلق ایک اور معاہدہ ہوا جبکہ مئی 1994 کو روزانہ کی بنیاد پر چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس کے شیڈول میں تبدیلی کردی گئی اور یہ ٹرین ہفتے میں 2 بار چلنے لگی۔ یہ ٹرین لاہور سے دہلی تک جاتی تھی تاہم بعد میں اس کا سفر کم کردیا گیا اور پاکستانی ٹرین مسافروں کو بھارت کے اٹاری بارڈر پر اتاردیتی ہے جہاں سے انہیں بھارتی ٹرین سے دہلی تک پہنچایا جاتا ہے۔

بھارت سے مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے سکھوں کے اسپیشل جتھے بھی ٹرین کے ذریعے ہی پاکستان آتے اور واپس جاتے ہیں تاہم اب ٹرین کا پہیہ بند ہونے سے یہ سکھوں کی آمدورفت بھی واہگہ بارڈر کے راستے پیدل ہوتی ہے۔

 

The post واہگہ بارڈر پر کھڑی بھارتی ریلوے کی 10 بوگیاں 9 ماہ سے واپسی کی منتظر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3gI0Y0w

حکومت جھوٹ پر جھوٹ بول کر قوم کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے ، ترجمان (ن) لیگ

 اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر صحت عمران صاحب لاپتہ ہیں اور صحت کا نظام ٹھیکے پر چل رہا ہے اور حکومت جھوٹ پر جھوٹ بول کر قوم کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے۔

اپنے بیان میں مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں کورونا مریضوں کی تعداد 2400 سے زائد ہوچکی ہے اور صرف 12 وینٹی لیٹر کام کررہے ہیں، اسلام آباد کے سرکاری اسپتالوں میں کل 90 بستر کے کورونا آئیسولیشن وارڈ کے سوا اور کوئی انتظام نہیں، لواحقین اپنے کورونا مریضوں کی جان بچانے کے لئے وینٹی لیٹرز کے حصول کی خاطر سفارشیں اور منتیں کرنے پر مجبور ہیں۔

ترجمان (ن) لیگ وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے اسپتال پمز میں 9 وینٹی لیٹرز کام کررہے ہیں، یہ 9 وینٹی لیٹرز پمز میں 80 بستر کے آئیسولیشن وارڈ میں دیگر آئی سی یوز سے منتقل کئے گئے ، سرجیکل آئی سی یو کے 4، میڈیکل آئی سی یو کے 2 اور کارڈیالوجی سرجری آئی سی یو کے 3 وینٹی لیٹرز کورونا وارڈ میں منتقل کئے گئے۔ اسلام آباد کے دوسرے بڑے اسپتال پولی کلینک میں کورونا مریضوں کے لئے صرف 10 بستروں کا آئیسولیشن وارڈ قائم ہے اور یہاں صرف 4 وینٹی لیٹر ہیں۔ بتایا جائے کہ کورونا مریضوں کے لئے جو وینٹی لیٹر آئے تھے، وہ کہاں ہیں؟ ان وینٹی لیٹرز میں سے اسلام آباد کے اسپتالوں کو کتنے ملے؟

مریم اورنگزیب نے کہا کہ کورونا کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر انتظامات اور اقدامات کے بجائے لوگوں کی زندگی خطرے میں ڈالی جارہی ہے، حکومت جھوٹ پر جھوٹ بول کر قوم کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے ، وفاقی وزیر صحت عمران صاحب لاپتہ ہیں اور صحت کا نظام ٹھیکے پر چل رہا ہے، عمران خان سرف پریس کانفرنس، بیانات اور دعوؤں کے ذریعے کورونا کا مقابلہ کررہے ہیں۔

The post حکومت جھوٹ پر جھوٹ بول کر قوم کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے ، ترجمان (ن) لیگ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2ZWTOzs

انسانی آبادی اور بڑھتی آلودگی کے باعث تتلیوں کی معدومی کا خطرہ

 لاہور: تیزی سے بڑھتی انسانی آبادی اور ماحولیاتی آلودگی نے تتلیوں کی نسل کو معدوم ہونے کے خطرات سے دوچار کردیا ہے۔

ہمیں احساس ہی نہیں کہ خوبصورتی کا استعارہ ، رومانوی اور جمالیاتی حسن کی عکاس یہ تتلیاں کس تیزی سے ہمارے ماحول سے غائب ہو رہی ہیں۔اسی وجہ سے پنجاب حکومت نے لاہورمیں تتلیوں کی افزائش، ان سے متعلق آگاہی ،ریسرچ اورافزائش کے لئے دو تتلی گھر بنا رکھے ہیں جہاں موسم کے مطابق مختلف اقسام کی سیکڑوں تتلیاں موجود ہوتی ہیں۔

2016 میں لاہورکے جلوپارک میں پہلا جب کہ 2019 میں جوہر ٹاؤن لاہور میں دوسرا تتلی گھر بنایا گیا،یہاں پاکستان کی مقامی تتلیوں کی افزائش کا خاص اہتمام کیا گیا ہے۔ ان دنوں گرمی کے سیزن میں یہاں 8 سے 10 اقسام کی تتلیاں موجود ہیں جن میں لٹل ییلو، پلین ٹائیگر، مارمن،سلفر،پی کاک پانسی، پینٹیڈ لیڈی اورکامن کاسٹر شامل ہیں۔

تتلی گھرمیں کام کرنیوالے ملازمین کے مطابق ابتدامیں فلپائن سے مختلف تتلیوں کے لاروے منگوائے گئے تھے تاہم اب مقامی نسل کی تتلیوں کی ہی بریڈنگ کی جارہی ہے۔ پی ایچ اے کے ملازمین شام کے وقت بوٹینکل گارڈن کی آزادفضاؤں میں اڑنے والی تتلیوں کو پکڑتے اور پھر انہیں یہاں بٹر فلائی ہاؤس کے اندر چھوڑ دیتے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق تتلی ایک کیڑا ہے جو اپنے خوبصورت پروں کی وجہ سے ممتاز ہے۔ دنیا بھر میں 17500 کے قریب تتلی کی انواع پائی جاتی ہیں تاہم پاکستان میں ابھی تک تتلیوں کی 58 اقسام دریافت ہوسکی ہیں، پھولوں کا رس تتلیوں کی بنیادی خوراک ہے۔ اس کے علاوہ زرگل دانے درختوں کے رس، پھل اور کئی چیزیں بھی ان کی خوراک میں شامل ہیں۔تتلی دیگر جانوروں کی طرح چیزوں کو زبان سے نہیں چکھتی بلکہ اس کے لیے وہ اپنی پتلی پتلی ٹانگوں کو استعمال میں لاتی ہے۔ تتلی کی عمر بہت مختصر ہوتی ہے، جو ایک ہفتے سے ایک ماہ تک ہوسکتی ہے،تتلی کے پروں کی خوبصورتی اس کے پروں پر موجود نظر نہ آنے والے ’’کرسٹلز‘‘ کی بدولت ہوتی ہے۔ تتلی کے پروں میں سیاہ اور براؤن رنگ کچھ پگمنٹس کی بدولت ہوتا ہے جبکہ باقی سات رنگ درحقیقت ان کرسٹلز پر روشنی پڑنے کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں، جو تتلیوں کے پروں کو بے بہا خوبصورتی دیتے ہیں اور دیکھنے والے کی آنکھ کو بہت بھلے سات رنگ کے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ کرسٹل اس قدر نرم ہوتے ہیں کہ چھونے پر ریشم کا احساس ہوتا ہے۔ تتلیاں آسانی سے اپنے پروں کا بوجھ اٹھاتی ہیں اور ہواوں میں لہراتی ہیں۔

نرم ونازک اوررنگ برنگی تتلیوں سے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ یہ زہریلی نہیں ہوتیں اس لیے اکثر افراد انہیں چھونے اورپکڑنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے تتلیاں دم توڑجاتی ہیں لیکن اب تحقیق نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ تتلیوں کی کچھ اقسام بے حد زہریلی اور خطرناک بھی ہیں تاہم پاکستان میں ابھی تک ایسی کوئی قسم سامنے نہیں آئی ہے۔

تتلی گھرکی انچارج نازین سحر کا کہنا ہے پاکستان میں مختلف موسموں کے دوران مختلف قسم کی تتلیاں پائی جاتی ہیں تاہم چنداقسام ایسی بھی ہیں جو پورا سال نظرآتی ہیں۔ گرمی کے موسم میں تتلیوں کو زندہ رکھنے کے لئے خاص انتظامات کرناپڑتے ہیں۔ بوٹینکل گارڈن میں تتلیوں کے لئے فائبرکی خاص ٹنل بنائی گئی ہے جس کے اندر درجہ حرارت کو 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک رکھا جاتا ہے۔

نازنین سحر کہتی ہیں کہ ہم تتلیوں کی 8 سے 10 اقسام کی افزائش بھی کررہے ہیں، ہم نے ان کے لئے الگ سے پروڈکشن ہاؤس بنایا ہے ، ان کی افزائش اتنی آسان نہیں ہے ،مختلف مقامات پر تتلیوں کے ہوسٹ پلانٹ لگائے گئے ہیں ،انہوں نے کہا پاکستان میں تتلیوں کی افزائش ابھی تجرباتی مراحل میں ہے اورہم نے ابھی آغازکیاہے، آنیوالے سالوں میں یہاں مزیدکئی اقسام کی تتلیاں نظرآئیں گی۔

نئے موسم اور نئی نسل کی سو سے ڈیڑھ سو تتلیاں جب اس مصنوعی مسکن میں چھوڑی جاتی ہیں تو دو ہفتوں میں ان کی تعداد ہزاروں میں پہنچ جاتی ہے کیوں کہ اس مسکن میں ہر وہ چیز دستیاب ہوتی ہے جو تتلیوں کے قدرتی ماحول سے مطابقت رکھتی ہے تاہم ان کی شرح اموات بھی بہت زیادہ ہے اوران کی طبعی عمربھی چند دن ہی ہوتی ہے۔

نازنین سحریہ بھی کہتی ہیں کہ ابھی توان کے یہاں تتلیوں کی جو افزائش ہورہی ہے وہ تتلی گھروں کے لئے بھی کم ہے، اس لئے باہرسے تتلیاں پکڑنا پڑتی ہیں تاہم آنیوالے چندسالوں میں تتلیوں کی افزائش اس سطح پر پہنچ جائے گی کہ ہم انہیں کھلی فضا میں چھوڑ سکیں۔

The post انسانی آبادی اور بڑھتی آلودگی کے باعث تتلیوں کی معدومی کا خطرہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2TUOubS

لاک ڈاؤن میں نرمی یا سختی کا فیصلہ آج ہوگا

 اسلام آباد: ملک میں کورونا کی صورت حال کے تناظر میں نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی لاک ڈاون میں مزید نرمی کی جائے گی یا سختی کا فیصلہ آج کرے گی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس آج ہورہا ہے، جس میں اجلاس میں صوبائی وزرائے اعلیٰ، وزیر اعظم آزاد کشمیر، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان ، وفاقی وزرا، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، صوبائی اور وزارت صحت کے حکام شریک ہوں گے۔

قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران ملک میں کورونا کی صورتحال، اس سے نمٹنے کے لیے کئے جانے والے اقدامات پر بات ہوگی۔ اجلاس میں ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں مزید نرمی یا سختی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وافقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی سربراہی میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا اجلاس ہوا تھا جس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ لاک ڈاؤن صرف اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ جب ہمیں لگے کہ مک کا نظام صحت پر حد سے زیادہ بوجھ پڑ گیا ہے لیکن اس وقت ایسی صورتحال نہیں۔ حکومت پرزور طریقے سے ٹی ٹی کیو (ٹریکنگ، ٹیسٹنگ اور قرنطینہ) کی پالیسی پر عمل کررہی ہے اور ٹریکنگ اور ٹیسٹ کے سافٹ ویئر کے ساتھ ایئرپورٹس پر اسکریننگ کے نظام کو بھی بہتر کیا گیا ہے۔

The post لاک ڈاؤن میں نرمی یا سختی کا فیصلہ آج ہوگا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2XiUiOw

پی سی بی کے تبدیلی مشن میں ایک اورسنگ میل عبور

 لاہور:  پی سی بی نے تبدیلی مشن میں ایک اور سنگ میل عبور کرلیا، ڈائریکٹر اکیڈمیز مدثر نذر،ڈائریکٹر ڈومیسٹک ہارون رشید،سینئر جنرل منیجر آپریشنز این سی اے مشتاق احمد اور چیف کیوریٹر آغا زاہد کے عہدے ماضی کا قصہ بن گئے،ہائی پرفارمنس سینٹر کے منصوبے نے طویل عرصے سے بورڈ کے ساتھ وابستہ آفیشلزکو ’’لوپروفائل‘‘ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر کرکٹ اکیڈمی مدثر نذر نے نوشتہ دیوار پڑھتے ہوئے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ وہ اپنے کنٹریکٹ میں توسیع کے بجائے عہدہ چھوڑ دیں گے،بعد ازاں بورڈ نے ڈائریکٹر ڈومیسٹک ہارون رشید اور چیف کیوریٹر آغا زاہد کے ساتھ بھی نیا کنٹریکٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا،تبدیلی مشن سے متاثرہ چوتھے پرانے آفیشل مشتاق احمد نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں سینئر جنرل منیجر آپریشنز کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔

اس سے قبل سینئر جنرل منیجر اکیڈمیز علی ضیاکو بھی رخصتی کا پروانہ جاری کردیا گیا تھا، احسان مانی کو چیئرمین پی سی بی بنائے جانے کے بعد چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد سمیت درجن بھر کے قریب عہدیدار گھر کی راہ دیکھ چکے ہیں،ایک طرف ہائی پرفارمنس سینٹر منصوبے سے کئی نامی گرامی سابق کرکٹرز لو پروفائل ہوگئے، دوسری جانب صرف ایک ٹیسٹ میچ کھیلنے کا تجربہ رکھنے والے ندیم خان کو ڈائریکٹر بنا دیا گیا۔

البتہ ان کا ساتھ دینے کے لیے دنیائے کرکٹ کے ایک بڑے نام ثقلین مشتاق کی خدمات حاصل کرلی گئی ہیں جو انٹرنیشنل پلیئرز ڈیولپمنٹ کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے، کوچنگ کے شعبے کا سربراہ گرانٹ بریڈبرن کو مقررکیاگیا جو پہلے ہی پاکستان ٹیم کے ساتھ بطور فیلڈنگ کوچ کام کر رہے تھے،عصر ملک کو آپریشنز کی ذمہ داریاں سنبھالنا ہیں،یاد رہے کہ کورونا وائرس سے پی سی بی دفاتر کی بندش کے بعد  مدثر نذر  برطانوی شہر مانچسٹر میں مقیم ہیں۔سابق ٹیسٹ کرکٹر کا کہنا ہے کہ مجھے جتنا عرصہ کام کا موقع ملا پوری ایمانداری سے معاملات کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہا،میں پی سی بی کے ساتھ 4 سالہ دور میں بہت کچھ کرنے کا خواہشمند تھا لیکن کوشش کے  باوجود اہداف حاصل نہ کر سکا۔

انھوں نے واضح کیا کہ نیا سیٹ اپ آنے کے بعد میں چاہتا تو وزیر اعظم عمران خان سے دوستی کا  فائدہ اٹھا سکتا تھا لیکن  میں ایسی سوچ نہیں رکھتا،مجھے خوشی ہے کہ انڈر 13 پروگرامز شروع کرنے میں کامیاب ہوا جو مستقبل کیلیے مفید ثابت ہوں گے، نسیم شاہ، شاہین شاہ آفریدی اور محمد حسنین کی پرفارمنس میں نیشنل اکیڈمی کے پروگرامز اور کوچز کی محنت سے ہی بہتری آئی،افسوس ہے کہ میں جس طرح کا ڈیولپمنٹ کا کام چاہتا تھااس کا موقع نہیں دیاگیا،رکاوٹیں زیادہ پیش آئیں، ہمیشہ مثبت کام کے باوجود تنقید کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ہمارے ہاں تنقید کرنا سب سے آسان ہے۔

مدثر نذر نے نیشنل اکیڈمی میں آنے والے نئے لوگوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا، انھوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے سوچا، اب وطن واپسی کا کوئی ارادہ نہیں،فی الحال مکمل آرام کرنے کا پلان ہے،کہیں ملازمت کرنے کا نہیں سوچ رہا، ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں کوئی کاروبارکروں۔

The post پی سی بی کے تبدیلی مشن میں ایک اورسنگ میل عبور appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/36OpfgI

تربیتی کیمپ، بائیو سیکیورٹی بورڈ کیلیے سخت چیلنج بن گئی

 لاہور:  تربیتی کیمپ کی بائیو سیکیورٹی پی سی بی کیلیے سخت چیلنج بن گئی، نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں 30 کرکٹرز کو الگ رکھنے کا انتظام نہیں،کورونا فری ماحول یقینی بنانے کے بعد کھلاڑیوں کو گھر آنے جانے کی اجازت دینا خطرے سے خالی نہیں ہوگا،لاک ڈاؤن کی پالیسی میں تبدیلی پر ٹریننگ کے لیے حکومت کو اعتماد میں لینا ہوگا، احتیاطی تدابیر کے پلان کی تیاری جاری ہے، مجوزہ ایس او پیز کے مطابق کرکٹرز اپنے کمروں سے تیار ہو کر آئیں گے۔

ڈریسنگ روم کے بجائے کھلی جگہ پر بیٹھیں گے، سماجی فاصلے کا خیال رکھا جائے گا، ایک دوسرے کا سامان استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔  تفصیلات کے مطابق انگلینڈ بائیو سیکیور ماحول میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلیے کوشاں اور ہر ممکن اقدامات اٹھا رہا ہے، ویسٹ انڈیز نے جولائی اور پاکستان نے اگست میں سیریز کے لیے حامی بھر لی، دونوں ٹیمیں قبل از وقت پہنچ کر قرنطینہ بھی کریں گی،پاکستانی کرکٹرزدورے کے لیے رضا مندی کا اظہار کرچکے ہیں،لاہور میں ٹریننگ کیلیے 30 ممکنہ کھلاڑیوں کو طلب کیا جائے گا۔

ان میں سے 25 یا 27 کو چارٹرڈ طیارے کے ذریعے انگلینڈ روانہ ہونا ہے،3 ٹیسٹ اور اتنے ہی ٹی ٹوئنٹی میچز کے لیے ٹیموں کا انتخاب انہی پلیئرز میں سے ہوگا، میزبان ملک نے میچز کیلیے ایسے وینیوز کا انتخاب کرلیا جہاں ساتھ ہی ہوٹل موجود اور سفر بہت کم ہوگا،البتہ فی الحال پی سی بی کیلیے سب سے پہلا اور بڑا چیلنج اپنے ملک میں ٹریننگ کیلیے آئی سی سی کی گائیڈلائنز کے مطابق بائیو سیکیور ماحول ممکن بنانا ہے، نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں تمام تر احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لیے سیف زون قائم ہورہا ہے لیکن یہاں 16 کے قریب کرکٹرز اور 4 آفیشلز کو الگ الگ کمروں میں رہائش فراہم کی جا سکتی ہے،30  کرکٹرزکے قیام کیلیے ایک کمرے میں 2،2 کو رکھنا پڑے گا جو ایس او پیز کی خلاف ورزی ہوگی۔

اگر لاہور کے کھلاڑیوں کو سیکیور ببل سے نکل کر گھروں سے آنے جانے کی اجازت دے دی جائے تو یہ فیصلہ بھی خطرے سے خالی نہیں ہوگا، اصولی طور پر کرکٹرز کو کیمپ شروع ہونے سے دورۂ انگلینڈ مکمل ہونے اور واپسی پر قرنطینہ مکمل ہونے تک گھروں سے دور رہنا اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کے ساتھ رابطے سے گریز کرنا ہے،کھلاڑیوں کو قذافی اسٹیڈیم میں بھی ٹریننگ کرنا ہے،اس وینیو کو بھی ڈس انفیکٹ رکھنے کیلیے خصوصی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی، پاکستان میں  کورونا کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

کھیلوں کی سرگرمیوں کی پہلے ہی اجازت نہیں، لاک ڈاؤن سے متعلق اگر حکومتی پالیسی سخت ہوئی تو کرکٹرز کو استثنیٰ دلانے کیلیے خصوصی اجازت کی ضرورت بھی ہوگی،ان سوالات کے جواب تلاش کرنے کیلیے کوشاں پی سی بی نے ایس او پیز کی تیاری پر کام جاری رکھا ہوا ہے، ڈاکٹر سہیل سلیم مسلسل معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے ہیڈ کوچ چیف سلیکٹر مصباح الحق اور چیف ایگزیکٹیو وسیم خان سے مشاورت کر رہے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ ایس او پیز  کے مطابق ابتدا میں کرکٹرز اور متعلقہ اسٹاف کے  کورونا ٹیسٹ اور پھر شروع میں انفرادی ٹریننگ ہوگی۔

کرکٹرز اپنے کمرے سے تیار ہوکر آئیں گے، ڈریسنگ روم میں آنے جانے کے بجائے گراؤنڈ میں کھلی جگہ بیٹھیں گے، ٹریننگ کے دوران سماجی فاصلہ رکھا جائے گا، ہاتھ ملانے اور گلے لگانے سے گریز کیا جائے گا، ایک دوسرے کا سامان استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی، وقفے وقفے سے ہینڈ سینٹائزر کا استعمال جاری رکھا جائے گا، ہر کھلاڑی پانی کی الگ بوتل استعمال کرے گا، ٹریننگ سے پہلے اور دوران ٹمپریچر چیک کیا جائے گا، بولرز گیند کو چمکانے کے لیے تھوک کا استعمال ہرگز نہیں کریں گے۔

سپورٹ اسٹاف بھی سوشل ڈسٹنس کا خیال رکھتے ہوئے تمام تر احتیاطی تدابیر اختیار کرے گا، ان کو ماسک اور گلوز پہننے کا پابند بھی کیا جا سکتا ہے، کھلاڑیوں کی خدمت پر مامور عملے کو بھی کم رکھتے ہوئے این سی اے تک محدود کرنے پر غور کیا جارہا ہے، ذرائع کے مطابق ایس او پیز حکومت کو بھی  بھجوائے جائیں گے جو لاک ڈاؤن میں نرمی یا سختی فیصلہ پیر کوکرے گی۔

The post تربیتی کیمپ، بائیو سیکیورٹی بورڈ کیلیے سخت چیلنج بن گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2zPqSP5

کرکٹ سے منسلک ہر شخص کی خواہش بورڈ میں ملازمت ہے،عاقب جاوید

 لاہور: سابق ٹیسٹ کرکٹر عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ سلیم ملک ہوں یا شکیل شیخ کرکٹ سے منسلک ہر شخص کی خواہش ہے کہ اسے بورڈ میں ملازمت مل جائے۔

اپنے ایک انٹرویو میں جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ آج تک کوئی ایسی مثال موجود نہیں کہ جو پی سی بی میں جاب کرے وہ دوٹوک باتیں بھی کر رہا ہو، اس ملک میں جس کی پی سی بی سے وابستہ  ہونے کی تمنا پوری ہوجائے وہ چین سے سوتا ہے،جس کو موقع نہیں ملتا وہ بے چین نظر آتا ہے۔

عاقب جاوید نے کہاکہ پاکستان میں ریجن اور ایسوسی ایشن کا کلچر ٹھیک نہیں،  اوپر سے نیچے تک ووٹ کے ذریعے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرکے لوگ عہدہ پاتے ہیں،ملکی کرکٹ کی بہتری کا حل اسکول، کالج اور کمیونٹی کرکٹ  ہے، بیٹل آف قلندرز اس کی مثال ہے۔

The post کرکٹ سے منسلک ہر شخص کی خواہش بورڈ میں ملازمت ہے،عاقب جاوید appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3cncjzI

عمر اکمل کی آخری ’’لائف لائن‘‘ کا جلد فیصلہ

 لاہور: عمر اکمل کی آخری ’’لائف لائن‘‘ کا جلد فیصلہ ہوگا،3 سالہ پابندی کے خلاف اپیل کو سپریم کورٹ کے سابق جج سنیں گے،جسٹس (ر) فقیر محمد کھوکھر کا تقرر کردیا گیا، سماعت کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق پی ایس ایل 5 کے آغاز سے قبل 2الگ واقعات میں عمر اکمل نے بکیز  کی جانب سے رابطے کا پی سی بی کو نہیں بتایا،اس پر انھیں عبوری طور پر معطل کرنے کے بعد چارج شیٹ جاری کردی گئی تھی، انھوں نے الزامات کو چیلنج نہیں کیا۔

اس لیے ٹریبیونل تشکیل دینے کے بجائے معاملہ ڈسپلنری پینل کے چیئرمین جسٹس(ر) فضل میراں چوہان کے سپرد کر دیا گیا، انھوں نے فریقین کا موقف سننے کے بعد عمر اکمل پر 3 سال کی پابندی عائد کردی،مڈل آرڈر بیٹسمین نے اپنا قانونی حق استعمال کرتے ہوئے 19 مئی کو اپیل دائر کی تھی، کیس کی سماعت کیلیے گذشتہ روز سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس(ر) فقیر محمد کھوکھر کو انڈیپینڈنٹ ایڈجوڈیکٹر مقرر کردیا گیا، سماعت کی تاریخ کا فیصلہ ہونے پرپی سی بی اعلان کردے گا۔

یاد رہے کہ عمر اکمل نے اپنا کیس لڑنے کیلیے پی ٹی آئی کے رہنما بابر اعوان کی لاء فرم سے رجوع کیا ہے، عام طور پر بکیز کے رابطہ کی اطلاع نہ کرنے پر 6 ماہ کی پابندی عائد ہوتی ہے لیکن عمر اکمل کے تفصیلی فیصلے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ وہ صاف لفظوں میں الزامات تسلیم کرنے کے بجائے حقائق  چھپانے کیلیے جواز تراشتے رہے، اسی لیے 3 سال کی پابندی عائد ہوئی، ان کے وکلا کی کوشش ہوگی کہ اگر سزا ختم نہیں ہوتی تو کم ضرور کرا دی جائے۔

The post عمر اکمل کی آخری ’’لائف لائن‘‘ کا جلد فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3ezfzth

عالمی بینک ماحولیاتی بحالی منصوبے کے لیے 188 ملین ڈالرامداد دے گا

 اسلام آباد: عالمی بینک موسمی خطرات اور ماحولیاتی بحالی کے 5سالہ منصوبے کے لیے 188 ملین ڈالرامداد دے گا۔

وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ترجمان کے مطابق یہ امدادی رقم موسمی پیشگوئیوں کا نظام بہتر بنانے کیلیے ہائیڈرومیٹرولاجیکل ٹیکنالوجی اور متعلقہ اداروں کی تکنیکی صلاحیتوں کے ساتھ موسمیاتی تباہ کاریوں ،منفی معاشی و سماجی اثرات کی روک تھام کیلیے خرچ کی جائے گی۔

اس منصوبے کے تحت تین اہم شعبوں پرتوجہ دی جائے گی جس کے تحت ہائیڈرو میٹرولاجیکل اینڈ کلائیمیٹ سروسز کو بہتر جب کہ ماحولیاتی نظام بحال کیا جائے گا۔ مزیدبراں قدرتی آفات سے متاثرین کی بحالی کیلئے اقدامات کیے جائیں گے۔

The post عالمی بینک ماحولیاتی بحالی منصوبے کے لیے 188 ملین ڈالرامداد دے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2ZVnpJJ

جعلی پیر نے اپنی ہی 3ماہ کی بچی کو مار ڈالا

چنیوٹ: جعلی پیر نے اپنی ہی 3ماہ کی معصوم بچی کا مبینہ طور پر قتل کردیا۔

ذرائع کے مطابق چنیوٹ کے تھانہ سٹی کے علاقہ شمس الحسن ٹاؤن میں جعلی پیر اللہ یار نے مبینہ طور پر اپنی 3 ماہ کی بچی کو قتل کردیا ، پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ، جعلی پیر کے بیٹے کے مطابق وہ اکثر اپنے بچوں پر تشدد کرتا اور چلہ کرتا تھا۔

جعلی پیر کے بیٹے محمدعلی اور علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اس نے پہلے بھی 3بچوں کو مبینہ طور پر گلہ دبا کر قتل کیا تھا اور جیل کاٹ چکا ہے، اس بار بھی بچی کا قتل کرنے کے بعد بچی کی لاش کو دفنانے نہیں دے رہا تھا۔

The post جعلی پیر نے اپنی ہی 3ماہ کی بچی کو مار ڈالا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3dlvY4r

دنیا میں کورونا سے مردوں کے مقابلے میں خواتین کم متا ثر ہوئیں، ماہرین طب

کراچی:  دنیا بھر میں 75 فیصد طبی عملہ خواتین پر مشتمل ہے، نرسوں کی90 فیصد تعداد عورتوں پر مشتمل ہے جنھوں نے کورونا کی وبا میں انسانی جان بچانے میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے جن ممالک میں خواتین وزرائے اعظم اور صدور ہیں وہاں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد کہیں کم ہے، عورتیں مردوں کے مقابلے میں وبا سے کم تعداد میں جاں بحق ہوئی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار دنیا کی خواتین ماہرین صحت نے ’’کرونا وائرس اور خواتین کا کردار‘‘ کے عنوان سے عالمی آن لائن سیمینار سے خطاب میں کیا، ملائیشیا کی ماہر صحت ڈاکٹر شرمیلا ساچی ننتھن کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد جہاں مرد سربراہان مملکت نے وقت ضایع کیا وہاں خواتین لیڈروں نے فوری فیصلے کیے جس سے نیوزی لینڈ سے لیکر ناروے، ڈنمارک اور تائیوان میں شرح اموات کافی کم رہی دنیا بھر میں خواتین طبی عملے کی تعداد 75 فیصد سے زیادہ ہے جبکہ کہ نرسوں کی90 فیصد سے زائد تعداد خواتین پر مشتمل ہے جو کہ انسانی جان بچانے میں انتہائی اہم کردار ادا کررہی ہیں۔

ڈاکٹر لبنیٰ کامانی نے کہا کہ خواتین لیڈروں نے کرونا وائرس کی وبا کے دوران بہترین قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے ہزاروں جانیں بچائی ہیں، کورونا وائرس کے نتیجے میں خواتین کی ہلاکتوں کی تعداد تعداد مردوں سے انتہائی کم رہی ہے جس کی اہم ترین وجہ ان کی احتیاط پسندی اور انسانی جان کی اہمیت کو سمجھنا ہے، حاملہ خواتین میں کورونا وائرس سمیت دیگر بیماریوں سے متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ، ڈاکٹر بشریٰ جمیل کا کہنا تھا کہ عورتیں نہ صرف قدرتی طور پر بلکہ اپنے عادات و اطوار کی وجہ سے بھی کورونا وائرس سے کم متاثر ہورہی ہیں۔

عورتوں میں سگریٹ اور شراب نوشی سمیت دیگر منشیات کا استعمال انتہائی کم ہے، عورتوں میں صفائی کا رجحان مردوں سے زیادہ ہے جبکہ وہ زیادہ احتیاط پسندی کی وجہ سے اس وائرس سے ناصرف کم متاثر ہورہی ہے بلکہ ان میں شرح اموات بھی اسی مناسبت سے انتہائی کم ہے۔

سعودی عرب کی ماہر صحت ڈاکٹر ماجدہ عبدالفتح نے کہا کہ حاملہ خواتین میں کورونا سے متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ، جناح اسپتال کراچی کی ڈاکٹر نازش بٹ نے خواتین ماہرین صحت کے کردار کو مزید بڑھانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جن ممالک یا ریاستوں میں خواتین وزرائے صحت موجود ہیں وہاں کے لوگوں میں صحتیابی کی شرح دوسرے ممالک کے لوگوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، سیمینار سے برازیل سے ڈاکٹر سیمون، امریکا سے ڈاکٹر امریتا سیٹھی، جنوبی کوریا سے ڈاکٹر ان ینگ کم نے بھی خطاب کیا۔

The post دنیا میں کورونا سے مردوں کے مقابلے میں خواتین کم متا ثر ہوئیں، ماہرین طب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3eDrJ4l

میڈیکل کے داخلے بھی انٹر سال اول کے نتائج پر دینے کی سفارش

کراچی:  ملک بھر کے تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز کے مشترکہ فورم ’آئی بی سی سی‘(انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمینز) نے پاکستان بھر کے میٹرک اور انٹر کے طلبا کی براہ راست گریڈنگ کے طریقہ کار پر مشتمل پروموشن پالیسی تیار کرکے اسے وفاقی وزارت تعلیم کے حوالے کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت تعلیم نے اس پالیسی کی منظوری دے دی ہے اور چونکہ ملک بھر کے طلبا انٹر سال دوم کے امتحانات دینے کے بجائے سال اول کی بنیاد پر فائنل ایئر کے نتائج حاصل کریں گے لہٰذا آئی بی سی سی نے پروموشن پالیسی میں میڈیکل جامعات اور کالجوں میں ایم بی بی ایس کے داخلے انٹر سال اول کی بنیاد پر دینے کی سفارش بھی کردی ہے اور کہا ہے کہ میڈیکل جامعات انٹرسال اول کی بنیاد پر میڈیکل کے داخلے دے سکتے ہیں، سندھ کے تعلیمی بورڈز کی جانب سے بھی آئی بی سی سی کی پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے صوبے کے نویں سے بارہویں جماعت کے طلبا کے لیے پروموشن پالیسی محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے حوالے کردی گئی ہے۔

ایم بی بی ایس کے داخلے انٹر سال اول کی بنیاد پر دینے کے حوالے سے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے رکن اور جناب سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع کا کہنا ہے کہ میڈیکل کے داخلوں کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ پی ایم ڈی سی حکومتی پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے کرے گی۔ اگر حکومتی پالیسی میں انٹر سال اول کی بنیاد پر میڈیکل کے داخلے دینے کی کوئی بات کی گئی تو پھر فیصلہ اسی تناظر میں ہوسکتا ہے۔ علاوہ ازیں آئی بی سی سی کی جانب سے میٹرک اور انٹر کی گریڈنگ کے لیے وزارت تعلیم کو بھجوائی گئی پروموشن پالیسی میں کہا گیا ہے کہ ملک کے تمام تعلیمی بورڈز کو 40 لاکھ طلبا کے امتحانات لینے تھے جو COVID 19 کی وبا کے باعث ممکن نہیں رہے۔

لہٰذا گریڈنگ کے لیے جو پروموشن پالیسی دی جارہی ہے اس میں ملک کے تمام تعلیمی بورڈز، متعلقہ وزارتوں اور اتھارٹیز اور فیصلہ ساز اداروں bodies statutoryکی تجاویز شامل ہیں ، پالیسی گائیڈ لائن کے مطابق چونکہ ملک کے 25 فیصد امتحانی بورڈز کے سال آخر کے نتائج سال اول سے مطابقت رکھتے ہیں اور یہ ایک ٹھوس مثال ہے کہ طلبا کا سال اول کا نتیجہ سال آخر کے نتائج کی بنیاد پر تیارہوسکتا ہے لہٰذا میٹرک اور انٹر کے 70 فیصد طلبا اس سے فائدہ لے سکیں گے جبکہ باقی 30 فیصد طلبا امتحان میں شامل ہوسکتے ہیں۔

30 فیصد بچ جانے والے یہ وہ طلبا ہیں ہیں جو سال اول میں ایک یا اس سے زائد مضامین میں فیل ہوئے ہیں۔ طلبا کی اس کیٹیگری نے باقی مضامین میں اگر 60 فیصد مارکس لیے ہیں تو انھیں صرف پاسنگ مارکس ایوارڈ کیے جائیں گے۔ سال اول میں کسی پرچے میں غیر حاضر طلبا بھی اسی کیٹیگری میں شامل ہونگے۔ پروموشن پالیسی کے مطابق امپروومنٹ آف ڈویژن، اضافی مضامین اور کمبائن امتحانات دینے والے طلبا کی انتہائی مختصر تعداد اس پالیسی کا حصہ نہیں ہوگی۔ ان کے لیے ستمبر سے نومبر تک صورتحال اور متعلقہ حکومت کی اجازت سے خصوصی امتحانات کی پالیسی دی جاسکتی ہے۔

ان طلبا کی امتحانی فیس ری ایڈجسٹ ہوجائے گی ، پالیسی کے مطابق طلبا کی transcript میں صرف score aggregate شامل ہوگا۔ پارٹ ٹو کے علیحدہ علیحدہ مضامین (تھیوری اینڈ پریکٹیکل) کے نمبر مارکس شیٹ میں شامل نہیں ہونگے۔ بورڈ مارک شیٹ اور سرٹیفیکیٹ میں اس بات کی وضاحت کریں گے کہ پارٹ ٹو میں دیے گئے مارکس طلبا کی کارکردگی کے حوالے سے ایک بہتر قیاس یا اندازے سے دیے گئے ہیں جسے متعلقہ حکومت اور آئی بی سی سی کی منظوری بھی حاصل ہے، پالیسی کے مطابق اگر کوئی تعلیمی بورڈ طلبا کا امتحان لے چکا ہے تو یہ اس پر منحصر ہے کہ وہ اس گائیڈ لائن کا استعمال کرے یا پھر لیے گئے امتحان کی بنیاد پر نتیجہ جاری کرے ، پالیسی کے مطابق جن طلبا کو 2021 میں دسویں اور بارہویں کے امتحان میں شریک ہونا ہے ان کا اس سال کا نویں اور گیارہویں کا نتیجہ آئندہ برس دسویں اور بارہویں جماعت کی کارکردگی کی بنیاد پر دیا جائے گا۔

پالیسی کو مطابق وہ طلبا جو اس پروموشن گائیڈ لائن سے اتفاق نہیں کرتے وہ ستمبر سے نومبر تک متوقع خصوصی امتحانات میں شریک ہوسکتے ہیں تاہم ایسے طلبا کو یکم جولائی تک اپنی دستبرداری کے فیصلے سے بورڈ کو آگاہ کرنا ہوگا۔ دوسری جانب سندھ میں اس پالیسی گائیڈ لائن کے اطلاق کے معاملے پر جب ’ایکسپریس‘ نے وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کے رکن اور حیدرآباد تعلیمی بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر محمد میمن سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں آئی بی سی سی کی بنائی گئی پالیسیز کو ہی مختصر رد و بدل کے ساتھ پروموشن کے لیے لیا جارہا ہے اور پورے ملک میں اس کا طریقہ کار تقریباً یکساں ہی ہوگا، بنیادی نکات ایک ہی ہونگے مندرجات مختلف ہوسکتے ہیں تاہم خصوصی امتحانات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حالات کے تناظر میں ہم سندھ میں خصوصی امتحانات کی پالیسی کی یقین دہانی نہیں کراسکتے ۔

The post میڈیکل کے داخلے بھی انٹر سال اول کے نتائج پر دینے کی سفارش appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2XlXgBY

کورونا وبا؛ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 60 افراد جاں بحق، 72460 مصدقہ مریض

 اسلام آباد: پاکستان بھر میں کورونا کے مجموعی کیسز کی تعداد 72ہزار 460 تک جا پہنچی ہے جن میں سے 26 ہزار 83 افراد نے کورونا کو شکست دے دی ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 14 ہزار 398 ٹیسٹ کیے گئے جب کہ مجموعی طور پر 5 لاکھ 61 ہزار 136 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2 ہزار 964 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ جس کے بعد پاکستان بھر میں کورونا کے مجموعی کیسز کی تعداد 72ہزار 460 تک جا پہنچی ہے جن میں سے 26 ہزار 83 افراد نے کورونا کو شکست دے دی ہے۔

سندھ میں 28 ہزار 245، پنجاب میں 26 ہزار 240 ، خیبرپختون خوا میں 10 ہزار27، بلوچستان میں 4 ہزار 393 ، اسلام آباد میں 2 ہزار 589، گلگت بلتستان 711 اور آزاد کشمیر میں کورونا کیسز کی تعداد 255 ہوگئی۔

سرکاری اعداد شمار کے مطابق پاکستان میں ایک روز میں کورونا سے مزید 60 افراد زندگی کی بازی ہار گئے، جس کے بعد ملک بھر میں جاں بحق افراد کی مجموعی تعدادایک ہزار 543 ہوگئی۔ کورونا وائرس کے باعث سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 497 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ سندھ میں 481، خیبر پختونخوا میں 473، اسلام آباد میں 28، گلگت بلتستان میں 11، بلوچستان میں 47 اور آزاد کشمیر میں 6 افراد کورونا وائرس سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

کورونا وائرس اور احتیاطی تدابیر:

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اور وہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

The post کورونا وبا؛ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 60 افراد جاں بحق، 72460 مصدقہ مریض appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2XNpQLB

جعلی پیر نے اپنی ہی 3ماہ کی بچی کو مار ڈالا

چنیوٹ: جعلی پیر نے اپنی ہی 3ماہ کی معصوم بچی کا مبینہ طور پر قتل کردیا۔

ذرائع کے مطابق چنیوٹ کے تھانہ سٹی کے علاقہ شمس الحسن ٹاؤن میں جعلی پیر اللہ یار نے مبینہ طور پر اپنی 3 ماہ کی بچی کو قتل کردیا ، پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ، جعلی پیر کے بیٹے کے مطابق وہ اکثر اپنے بچوں پر تشدد کرتا اور چلہ کرتا تھا۔

جعلی پیر کے بیٹے محمدعلی اور علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اس نے پہلے بھی 3بچوں کو مبینہ طور پر گلہ دبا کر قتل کیا تھا اور جیل کاٹ چکا ہے، اس بار بھی بچی کا قتل کرنے کے بعد بچی کی لاش کو دفنانے نہیں دے رہا تھا۔

The post جعلی پیر نے اپنی ہی 3ماہ کی بچی کو مار ڈالا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3dlvY4r

میڈیکل کے داخلے بھی انٹر سال اول کے نتائج پر دینے کی سفارش

کراچی:  ملک بھر کے تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز کے مشترکہ فورم ’آئی بی سی سی‘(انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمینز) نے پاکستان بھر کے میٹرک اور انٹر کے طلبا کی براہ راست گریڈنگ کے طریقہ کار پر مشتمل پروموشن پالیسی تیار کرکے اسے وفاقی وزارت تعلیم کے حوالے کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت تعلیم نے اس پالیسی کی منظوری دے دی ہے اور چونکہ ملک بھر کے طلبا انٹر سال دوم کے امتحانات دینے کے بجائے سال اول کی بنیاد پر فائنل ایئر کے نتائج حاصل کریں گے لہٰذا آئی بی سی سی نے پروموشن پالیسی میں میڈیکل جامعات اور کالجوں میں ایم بی بی ایس کے داخلے انٹر سال اول کی بنیاد پر دینے کی سفارش بھی کردی ہے اور کہا ہے کہ میڈیکل جامعات انٹرسال اول کی بنیاد پر میڈیکل کے داخلے دے سکتے ہیں، سندھ کے تعلیمی بورڈز کی جانب سے بھی آئی بی سی سی کی پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے صوبے کے نویں سے بارہویں جماعت کے طلبا کے لیے پروموشن پالیسی محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے حوالے کردی گئی ہے۔

ایم بی بی ایس کے داخلے انٹر سال اول کی بنیاد پر دینے کے حوالے سے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے رکن اور جناب سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع کا کہنا ہے کہ میڈیکل کے داخلوں کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ پی ایم ڈی سی حکومتی پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے کرے گی۔ اگر حکومتی پالیسی میں انٹر سال اول کی بنیاد پر میڈیکل کے داخلے دینے کی کوئی بات کی گئی تو پھر فیصلہ اسی تناظر میں ہوسکتا ہے۔ علاوہ ازیں آئی بی سی سی کی جانب سے میٹرک اور انٹر کی گریڈنگ کے لیے وزارت تعلیم کو بھجوائی گئی پروموشن پالیسی میں کہا گیا ہے کہ ملک کے تمام تعلیمی بورڈز کو 40 لاکھ طلبا کے امتحانات لینے تھے جو COVID 19 کی وبا کے باعث ممکن نہیں رہے۔

لہٰذا گریڈنگ کے لیے جو پروموشن پالیسی دی جارہی ہے اس میں ملک کے تمام تعلیمی بورڈز، متعلقہ وزارتوں اور اتھارٹیز اور فیصلہ ساز اداروں bodies statutoryکی تجاویز شامل ہیں ، پالیسی گائیڈ لائن کے مطابق چونکہ ملک کے 25 فیصد امتحانی بورڈز کے سال آخر کے نتائج سال اول سے مطابقت رکھتے ہیں اور یہ ایک ٹھوس مثال ہے کہ طلبا کا سال اول کا نتیجہ سال آخر کے نتائج کی بنیاد پر تیارہوسکتا ہے لہٰذا میٹرک اور انٹر کے 70 فیصد طلبا اس سے فائدہ لے سکیں گے جبکہ باقی 30 فیصد طلبا امتحان میں شامل ہوسکتے ہیں۔

30 فیصد بچ جانے والے یہ وہ طلبا ہیں ہیں جو سال اول میں ایک یا اس سے زائد مضامین میں فیل ہوئے ہیں۔ طلبا کی اس کیٹیگری نے باقی مضامین میں اگر 60 فیصد مارکس لیے ہیں تو انھیں صرف پاسنگ مارکس ایوارڈ کیے جائیں گے۔ سال اول میں کسی پرچے میں غیر حاضر طلبا بھی اسی کیٹیگری میں شامل ہونگے۔ پروموشن پالیسی کے مطابق امپروومنٹ آف ڈویژن، اضافی مضامین اور کمبائن امتحانات دینے والے طلبا کی انتہائی مختصر تعداد اس پالیسی کا حصہ نہیں ہوگی۔ ان کے لیے ستمبر سے نومبر تک صورتحال اور متعلقہ حکومت کی اجازت سے خصوصی امتحانات کی پالیسی دی جاسکتی ہے۔

ان طلبا کی امتحانی فیس ری ایڈجسٹ ہوجائے گی ، پالیسی کے مطابق طلبا کی transcript میں صرف score aggregate شامل ہوگا۔ پارٹ ٹو کے علیحدہ علیحدہ مضامین (تھیوری اینڈ پریکٹیکل) کے نمبر مارکس شیٹ میں شامل نہیں ہونگے۔ بورڈ مارک شیٹ اور سرٹیفیکیٹ میں اس بات کی وضاحت کریں گے کہ پارٹ ٹو میں دیے گئے مارکس طلبا کی کارکردگی کے حوالے سے ایک بہتر قیاس یا اندازے سے دیے گئے ہیں جسے متعلقہ حکومت اور آئی بی سی سی کی منظوری بھی حاصل ہے، پالیسی کے مطابق اگر کوئی تعلیمی بورڈ طلبا کا امتحان لے چکا ہے تو یہ اس پر منحصر ہے کہ وہ اس گائیڈ لائن کا استعمال کرے یا پھر لیے گئے امتحان کی بنیاد پر نتیجہ جاری کرے ، پالیسی کے مطابق جن طلبا کو 2021 میں دسویں اور بارہویں کے امتحان میں شریک ہونا ہے ان کا اس سال کا نویں اور گیارہویں کا نتیجہ آئندہ برس دسویں اور بارہویں جماعت کی کارکردگی کی بنیاد پر دیا جائے گا۔

پالیسی کو مطابق وہ طلبا جو اس پروموشن گائیڈ لائن سے اتفاق نہیں کرتے وہ ستمبر سے نومبر تک متوقع خصوصی امتحانات میں شریک ہوسکتے ہیں تاہم ایسے طلبا کو یکم جولائی تک اپنی دستبرداری کے فیصلے سے بورڈ کو آگاہ کرنا ہوگا۔ دوسری جانب سندھ میں اس پالیسی گائیڈ لائن کے اطلاق کے معاملے پر جب ’ایکسپریس‘ نے وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کے رکن اور حیدرآباد تعلیمی بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر محمد میمن سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں آئی بی سی سی کی بنائی گئی پالیسیز کو ہی مختصر رد و بدل کے ساتھ پروموشن کے لیے لیا جارہا ہے اور پورے ملک میں اس کا طریقہ کار تقریباً یکساں ہی ہوگا، بنیادی نکات ایک ہی ہونگے مندرجات مختلف ہوسکتے ہیں تاہم خصوصی امتحانات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حالات کے تناظر میں ہم سندھ میں خصوصی امتحانات کی پالیسی کی یقین دہانی نہیں کراسکتے ۔

The post میڈیکل کے داخلے بھی انٹر سال اول کے نتائج پر دینے کی سفارش appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2XlXgBY

Saturday, 30 May 2020

مرنا تو ہے اک دن!!

روایت ہے کہ جب اللہ تعالی فرشتوں کو ان کی ذمے داریاں تفویض کر رہے تھے اور عزرائیل علیہ السلام کو موت کے فرشتے کے طور پر مقرر کیا گیا تو انھیں احساس ہوا کہ ان کی ذمے داری تو ایسی ہے کہ لوگ انھیں بر ا بھلا کہتے رہیں گے۔ جب بھی کسی کے پیارے کی موت ہو گی تو وہ انھیں مورد الزام ٹھہرائے گا۔ اس پر اللہ تعالی نے ان سے کہا کہ وہ فکر نہ کریں، لوگ کسی کے مرنے پر بھی یہ نہیں کہیں گے کہ اس کی جان عزرائیل نے امر ربی پر لی ہے بلکہ وہ دیگر عناصر کو قصور وار ٹھہرائیں گے۔

فلاں کو فلاں نے قتل کر دیا، فلاں بیماری سے مرا، فلاں کینسر سے اور فلاں حادثے سے۔ پیدائش اور موت کا وقت اور جگہ تو ہر کسی کی مقرر ہیں مگر کسے کس طرح موت سے ہمکنار ہونا ہے، وہ اصل میں اللہ کے مقرب ترین فرشتوں میں سے ایک فرشتے ، عزرائیل علیہ السلام کا کام ہے۔

کسی ایک جگہ پر ایک وقت میں اٹھانوے لوگوں کو مرنا ہو تو ان اٹھانوے لوگوں کے لیے ایک پرواز میں بیٹھنے کے حالات پیدا کرنا۔ ایک خاتون اپنے بچوں کے ساتھ بیرون ممالک سے پی ایچ ڈی مکمل کر کے آ رہی ہے، اس کی اور اس کے بچوں کی موت کی جگہ اور وقت مقرر ہے، مگران کے ساتھ اس عورت کے شوہر کو بھی مرنا ہے، تو وہ کراچی سے لاہور آتا ہے اور اس پرواز پر ان پیاروں کے ساتھ اپنے آخری سفر پر روانہ ہوتا ہے ۔

ایک نوجوان جو کہ اسی پرواز کی ٹکٹ کے حصول کے لیے سر توڑ کوشش کر رہا تھا مگر یقینا اس نے لنک ڈاؤن ہونے اور ٹکٹ نہ مل سکنے پر سسٹم کو کئی گالیاں دی ہوں گی۔ بعد ازاں جب اسے علم ہوا کہ اسی پرواز کو حادثہ پیش آیا ہے جس پر وہ نہ جا سکا تھا اور اس نے صد شکر ادا کیا ہوگا۔ مگر اسے علم ہونا چاہیے کہ یہ سب اتفاقات نہیں ہیں، اگر وہ اس پرواز پر چلا بھی جاتا تو بھی وہ اس وقت ان لوگوں میں ہوتا جو اس پرواز پر ہوتے ہوئے بھی اس المناک حادثے میں زندہ بچ گئے ہیں۔ وہ دو لوگ ، جن کا وقت موت مقرر نہ تھا، اسی پرواز پر روانہ ہوئے مگر اس کے زندہ اجسام جہاز سے باہر گر گئے اور وہ لوگ لقمہء اجل نہیں بنے۔

آپ سوچیں، ہم سب اس وقت کورونا کے باعث جس خوف میں مبتلا ہیں، ہر کوئی اپنے طور احتیاطی تدبیر کرتا ہے، دوسروں کے لیے نہ سہی، اپنے لیے تو ہر کوئی بچاؤ کے طریقوں پر عمل کرتا ہے۔ اس پرواز سے جانے والے بھی احتیاط کے کن کن مرحلوں سے گزر کر جہازمیں بیٹھے ہوں گے کہ کہیں سے کورونا کا وائرس ساتھ نہ چل دے اور مبتلا نہ کردے ۔

لوگوں نے ماسک لگا رکھے تھے، دستانے پہن رکھے تھے، ہاتھوں کو کئی کئی بار دھویا یا  sanitize  کیا ہوگا۔ بچ بچ کر چلے ہوں گے، کسی سطح کو نہیں چھوا ہو گا کہ خطرہ ہر طرف منڈلا رہا تھا۔ ہر کوئی مجبوری سے سفر کر رہا تھا، عید سے دو دن قبل اپنے پیاروں کے پاس پہنچ کر ان کے ساتھ عید منا کر خوشیاں دوبالا کرنے کے لیے۔ اگرچہ موجودہ حالات میں اس سے بڑ ھ کر احتیاط لازم تھی کہ کوئی ہوائی سفر بھی نہ کرے مگر ان بد قسمت مسافروں کے سفر کی منصوبہ بندی تو کسی بڑے دماغ کی کاوش تھی، انھیں تو اس سفر پر روانہ ہونا ہی تھا!

اس المناک سانحے پر پوری قوم رنج میں ڈوب گئی، عید سے عین دو دن پہلے جب ہر کوئی دل میں خوشیاں اور امنگیں لیے ہوئے تھا اور اللہ کی طرف سے ماہ رمضان کے اختتام پر عید سعید کی خوشیوں کے استقبال کی تیاریوں میں مگن تھا، ایسے میں لگ بھگ نوے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی ۔ کون جانتاہے کہ کس وقت موت کا فرشتہ ہماری گھات میں ہوتا ہے۔ ہم بظاہر اپنی زندگی کی حفاظت کرتے ہیں مگر دراصل ملک الموت خود ہماری زندگی کی حفاظت کرتے ہیں، اس لمحے اور اس مقام تک، جہاں پر ان کا اہم ترین فریضہ مقرر ہوتا ہے ۔

ہم دریا یا سمندر میں ڈوب کر مرنے سے خوفزدہ رہتے ہیں مگر جب کسی کو پانی سے ہی مرنا ہو تو باتھ ٹب میں بھرا ہوا پانی بھی اس کی موت کا سبب بن جاتا ہے ۔ پہاڑوں سے یا کسی بھی بلندی سے گرنے کا تصور ہمیں خوفزدہ کرتا ہے تو کسی دو انچ کی جگہ سے بھی پاؤں پھسلنا ، موت کا سبب بن جاتا ہے ۔ بھڑکتی ہوئی آگ سے انسان موت کا خوفناک تصور کرتا ہے مگر ایک ذرا سا چولہا پھٹ جانے اور تھوڑا سا بجلی کا کرنٹ لگ جانے سے بھی انسان ختم ہو جاتا ہے ۔ سواری پر حادثے کا ڈر رہتا ہے تو پیدل چلنے والے بھی تو مرتے ہی ہیں ۔

بیماری میں مبتلا انسان کی طرف سے ہر وقت موت کا دھڑکا لگا رہتا ہے مگر کبھی کبھار کوئی صحت مند انسان اس کی عیادت کو آتا ہے اور اچانک وہ مر جاتا ہے ۔ بعض لوگ سالوںکسی بیماری میں مبتلا رہتے ہیں اور بالآخر صحت یاب ہو جاتے ہیں اور کئی لوگ بظاہر صحت مند اور تندرست نظر آتے ہیں مگر اچانک ان پر کسی بیماری کی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور علم ہوتا ہے کہ وہ بیماری سال ہا سال سے اندر ہی اندر پنپ رہی تھی اور ظاہر ہوئی ہے تو بالکل آخری اسٹیج پر ہے اور اچھا خاصا انسان دنوں میں چٹ ہو جاتا ہے ۔

اگر ہم موجودہ حالات کو دیکھیں تو کورونا وائرس کا تیزی سے پھیلاؤ اور اس سے واقع ہونے والی اموات نے ہمیں اس طرح خوفزدہ نہیں کیا جیسے کہ کوئی اور خطرہ کرتا ہے ۔ ملک میں چند سالوں سے ڈینگی سے بھی ہزاروں اموات واقع ہو چکی ہیں اور اب کورونا کہ جس نے ساری دنیا کو بے بس کردیا ہے مگر ہم پاکستانی قوم اتنی مجاہد ہیں اور ایسی ایسی پوسٹ نظر سے گزرتی ہیں کہ کورونا شاید ہم سے ڈر رہا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا اور کوئی اسے چین کی اور کوئی امریکا کی سازش کہتا ہے۔

کوئی کہتا ہے کہ بل گیٹس نے اس بیماری کے جراثیم دنیا بھر میں پھیلائے ہیں، اب اس کے بعد وہ اس کی ویکسین متعارف کروائے گا، جو کہ اصل میں مایع ’’ چپ‘‘  chips ہوں گی اور وہ دنیا کے ہر شخص کے جسم میں داخل کر دی جائیں گی اور ان کے ذریعے ہم سب کو ہر وقت track کیا جا سکے گا، اسی وجہ سے ہمارے ہاں اسے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ ابھی تو یہ شکر ہے کہ حکومت کی طرف سے اپوزیشن جماعتوں کو اور اپوزیشن کی طرف سے حکومت کو کورونا کے پھیلاؤ کا سبب قرار نہیں دیا گیا۔

جن ممالک نے سخت ترین اقدامات کیے ہیں اور مکمل لاک ڈاؤن کیا ہے ان کے ہاں صورت حال سنبھل گئی ہے۔ ہماری حکومت کی طرف سے یہ غوغا ہے کہ دیہاڑی دار متاثر ہوتا ہے اس لیے لاک ڈاؤن میں نرمی کی جانا چاہیے۔ حکومت اگر جائزہ لے تو علم ہو گا کہ اس ملک میں صاحب حیثیت لوگ، صاحبان دل بھی ہیں، کسی بھی ابتلا کی صورت میں کسی کو بھوکا نہیں مرنے دیتے اور اپنے ہاتھ کھلے کردیتے ہیں ۔

کیا گزشتہ تین ماہ میں کسی دیہاڑی دار کی بھوک کی وجہ سے موت رپورٹ ہوئی ہے؟ جن لوگوں کو آپ نے گھروں کا چولہا جلانے کے لیے بارہ ہزار روپے کی امدادی رقوم دی ہیں وہ اس رقم سے عید کی خریداری کرنے کو نکل کھڑے ہوئے ہیں ۔ ایک اپنے گاؤں کی مثال دوں تو ہمارے گاؤں کے غریبوں کے گھروں میں کسی ایک نے نہیں بلکہ دس دس لوگوںنے ایک ایک ماہ کا راشن بھجوایا ہے۔

جن بچوں کے تحفظ کی خاطر آپ نے تعلیمی ادارے بند کیے تھے… وہ سارا رمضان اپنے والدین کے ساتھ پہلے دکانوں میں اور عین عید کے قریب بڑے بڑے مالز میں عید کی خریداری کے لیے سر عام گھوم رہے تھے۔ جہاں بھی چلے جائیں لوگوں کے جم غفیر ہیں ۔ پبلک ٹرانسپورٹ کو حکومت نے عید کے قریب کھول دیا کہ لوگ محفوظ فاصلہ قائم رکھتے ہوئے سفر کرلیں مگر سوشل میڈیا پر شئیر کی گئی، پبلک ٹرانسپورٹ کی تصاویر نے خوف میں مبتلا کردیا ۔ جو ملازمین ہمارے گھروں میں کام کرتے ہیں اور عید پر اپنے گھروں پر عید منانے کے لیے گئے ہیں، کیا وہ واپس آکر چودہ دن کے لیے قرنطینہ کریں گے یا ہماری اپنی مجبوریاں ہمیں بغیر احتیاط کے انھیں اپنے گھروں کے اندر آنے اور ہمیں بھی خطرے میں مبتلا کر دیں گے؟

سوشل میڈیا پر یہ بھی خبریں ہیں کہ حکومتی ارکان نے بڑے مالز اور مارکیٹیں کھولنے کی اجازت دینے کے لیے تاجروں سے رقوم وصول کی ہیں ؟یوں تو ہمارا نظام ایسا ہی ہے مگر تف ہے ایسے لوگوں پر جو ایسے اقدامات کر کے نہ صرف حکومت کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں بلکہ انسانی جانوں سے کھیل بھی رہے ہیں۔

ماہ رمضان کے اواخر سے ہمارے ہاں ، ہر روز بڑھتے ہوئے کورونا کے مریضوں کی تعداد خطرے کے نشانات کو چھو رہی ہے ۔ ابھی اگر حکومت چاہے تو اس بلی کو تھیلے میں بند کرنے کی ایک کوشش کر سکتی ہے کیونکہ ہم ایک غریب اور محدود طبی وسائل رکھنے والے ملک کے باشندے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ ہم جہاں کرپشن اور کئی اور منفی پہلوؤں سے دنیا میں سر فہرست ہیں، کہیں کورونا میں مبتلا ملکوں میں بھی سر فہرست نہ ہو جائیں !

The post مرنا تو ہے اک دن!! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3gBy0iJ

کورونا، طیارہ حادثہ اور عید

قومی ایئرلائن کا بدقسمت طیارہ پی کے 8303 کراچی میں کریش ہو گیا، جائے حادثہ جناح گارڈن کا رہائشی علاقہ تھا تقریباً سو افراد سوار تھے، 97 لاشیں نکال لی گئیں جب کہ دو افراد معجزانہ طور پر بچ گئے۔

بے شک جسے اللہ رکھے یہ دلخراش خبر ان لوگوں کے لیے جان لیوا تھی جن کے پیارے شہید ہوگئے تھے، بے شمار گھرانوں میں صف ماتم بچھ گئی ہمارے حلقہ احباب میں معروف شاعرہ ہما بیگ کے صاحبزادے وحید بیگ بھی دنیا چھوڑنے والوں میں شامل تھے یہ خبر مجھے ممتاز ادیبہ عذرا اصغر نے فون پر سنائی، کلیجہ منہ کو آگیا، وہ بھی سسک رہی تھیں میری آنکھیں بھی اشکبار ہوگئیں۔ ماؤں اور لواحقین پر غم کا پہاڑ ٹوٹا تھا، زخمیوں کی اطلاع آنے پر امید کا چراغ ٹمٹماتا رہا آخر کار ہوا کے تیز جھونکے نے اسے بھی گل کردیا، اب آنسو، آہیں اور سسکیاں تھیں۔

ہما بیگ نے تقریباً 10-9 سال قبل اپنا شعری مجموعہ کیکٹس کے روپ (Cacktus Ky Roop) مجھے عنایت کیا تھا، میں نے سوچا تھا کہ اس پر ضرور لکھوں گی لیکن یہ کتاب دوسری کئی کتابوں کی طرح کتابوں کے انبار تلے دب گئی، جس کا مجھے ملال تھا، اب مجھے اس بات کا دکھ ہے کہ ان کی کتاب بھی مجھے کس موقع پر یاد آئی، بہرحال تلاش بسیار کے بعد وہ کتاب مجھے مل گئی، پہلا ہی شعر حسب حال ہے:

دہر میں موت کی چادر نے لپیٹا سب کو

اب جو سورج نکل آیا تو قیامت ہوگی

موت کے گہرے سمندر میں اترنے والو

یاد آئے گی تمہاری تو اذیت ہوگی

ایک شعر اور بھی سنیے!

باندھ لو رختِ سفر آنکھ بھی بیدار ہے

حادثہ عمر کے داماں میں کوئی اور بھی ہے

شاعری کی چھٹی حس نے انھیں پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ ان کی زندگی میں کوئی بڑا سانحہ ہونے کو ہے، جو ہو گیا، جواں سالہ بیٹے کی موت سے بڑھ کر بھی کوئی سانحہ ہو سکتا ہے۔ انھوں نے قبل ازوقت موت کی وادی میں اترنے والوں کو آواز دی ہے اور موت کا بار بار ذکر کیا ہے۔ اللہ انھیں اور شہدا کے چاہنے والوں کو صبر کا امرت دھارا پلا دے۔( آمین۔)

ہما کی یہ کتاب 150 صفحات کا احاطہ کرتی ہے، وہ محبت کی شاعرہ ہیں ان کی غزلیات ہجر و وصال کے دلکش رنگوں سے مرصع نظر آتی ہیں، سہل ممتنع میں کی گئی شاعری قاری کو متاثر کرتی ہے اپنے تجربات اور مشاہدات کو شعری آہنگ اس طرح عطا کیا ہے:

میرے خلاف تو یوں بھی نیا زمانہ ہے

کہ مرا طرزِ محبت بہت پرانا ہے

میں زخم زخم ہوئی ہوں کچھ اس طرح کہ مجھے

نسیم صبح کا جھونکا بھی تازیانہ ہے

تباہ شدہ طیارے کے کیپٹن سجاد گل کا حوصلہ بھی قابل توصیف تھا، موت سامنے تھی لیکن وہ بڑے اعتماد کے ساتھ جہاز اور اس کے انجن کی تباہی کی اطلاع بے حد سکون کے ساتھ دے رہے تھے، وہ جانتے تھے، یہ موت عام نہیں بلکہ خاص الخاص ہے، شہادت کا تاج ان کے سر پر سجنے والا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق جہاز کے ملبے سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوتی رہیں۔ اللہ اکبر۔

طیارہ حادثے کا غم اور عید تقریباً ایک ساتھ ہی منظر عام پر آئی، خوشی کی بات یہ تھی کہ چاند کے طلوع ہونے پر مفتی منیب الرحمن اور وفاقی وزیر فواد چوہدری ایک ہی پیج پر نظر آئے جوکہ خوش آیند بات تھی اس طرح پوری دنیا میں اچھا تصور گیا اور پورے پاکستان میں ایک ہی دن عید منائی گئی، ورنہ ہر سال دو عیدیں منائی جاتی ہیں ، آپس میں اتحاد و یگانگت کی شدید کمی ہے ۔ حادثے کے حوالے سے اس وقت مجھے ایک صاحب کی پوسٹ یاد آگئی وہ لکھتے ہیں کہ میں جب نماز پڑھ کر آیا تو دیکھا چاروں طرف دھواں ہی دھواں تھا ، میں جائے حادثہ پر بہت جلد پہنچ گیا ملیر کینٹ کی چیک پوسٹ نمبر 2 سے پاک فوج کی گاڑیاں نکل کر علاقے کو کور کرنے میں مصروف تھیں ہر طرف وردی ہی وردی نظر آرہی تھی۔

میرے سامنے آگ ہی آگ تھی، فوج کے جوان علاقے کو خالی کروا رہے تھے تاکہ مزید نقصان نہ پہنچے، میں بھی رضاکاروں میں شامل ہو گیا مگر جو رویے اور جو حرکات و سکنات میں نے مختلف شعبہ ہائے زندگی کی دیکھیں اس کا ذکر بھی ضروری ہے، پہلے تو اہل علاقہ کا ذکر اپنا اخلاقی فرض سمجھتا ہوں ہمارے جوان اور رضاکار دھوئیں کے باعث گھٹن اور روزے سے نڈھال ہو رہے تھے لیکن اسی دوران محلے کے لوگ فرشتوں کی مانند ہماری مدد کے لیے آگے بڑھتے چلے آئے جو ہمارے سروں پر ٹھنڈا پانی ڈالتے، ٹھنڈے پانی سے منہ دھلا کر تازہ دم کرتے اور پھر سے ہم ریسکیو کرنے میں لگ جاتے ۔

اور یہ وہ وقت ہے جب انسان ہر لمحہ توبہ کرے کہ ایک ننھے جرثومے نے انسان کو جیتے جی مار دیا ہے اور اب حالات یہ ہیں کہ مرنا بھی مشکل اور جینا بھی مشکل۔ دکھ اس بات کا بھی ہے ہمارے اپنے لوگ اس قدر ناعاقبت اندیش ہیں کہ بغیر احتیاطی تدبیر کے سڑکوں اور بازاروں میں گھومتے پھرتے نظر آرہے ہیں ایک موٹرسائیکل پر تین سے چار لوگ اطمینان و سکون کے ساتھ بیٹھ کر سفر کر رہے ہیں یہی گاڑیوں کا حال ہے پورا خاندان بیٹھا ہوا ہے، نہ اپنی جانوں کی پرواہ نہ اپنے بچوں کا خیال اسی لیے کورونا کے مریضوں میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کاش لوگ سمجھیں کہ وہ دانستہ طور پر موت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اللہ ہمیں اپنا رحم عطا فرمائے اور کوتاہ عقل کے مالکان کو عقل سلیم سے نوازے ۔(آمین)

The post کورونا، طیارہ حادثہ اور عید appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2AtV56f

کیسے کیسے لوگ جدا ہوگئے

پاکستان کے مقامی ہیروز پر نظر ڈالیں تو ایسے بے شمار سیاسی ، سماجی ساتھیوںکی ایک طویل فہرست ہے جنھوں نے دائیں اور بائیں بازو کی بنیاد پر علمی و فکری اور انقلابی بنیادوں پر بہت اعلی کام کیا ہے۔

اگرچہ ہمارے ہاں ہیروز کی پزیرائی میں کھیل ، فن ، اداکاری سمیت کچھ شعبوں کو زیادہ پزیرائی ملی ہے ، جب کہ سیاسی ،سماجی اور علمی و فکری میدان میں کام کرنے والے حقیقی ساتھیوں کو زیادہ پزیرائی نہیں مل سکی اور بہت سے لوگ ان کے کاموںسمیت ان کی جدوجہد سے بھی آگاہ نہیں ۔سماج میں وہ لوگ جو کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہوں اور وہ اپنی ذاتی زندگی کے ساتھ ساتھ سماج میں رہنے والے کمزور طبقات کی جدوجہد میں نمایاں طور پر نظر آتے ہیں ۔

پاکستان کی سیاست اورجمہوریت سے جڑی جدوجہد پر جب بھی مورخ بات کرے گا تو اس میں سے مزدور اور طلبہ تحریک کے کردار کو کسی بھی سطح پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔کیونکہ ان دونوں تحریکوں نے مزدور اور طلبہ کے ساتھ ساتھ ملک کی سیاست میں جمہوریت کی بڑی جنگ لڑی ہے ۔ سیاسی جماعتوں اور سیاسی تحریکوں کا حسن بھی ان ہی طلبہ اور مزدور تحریکوں سے جڑا ہوا تھا ۔دونوں تحریکوں نے سیاسی جماعتوں اور اپنے اپنے پلیٹ فارم سے ملکی سطح پر غیر سیاسی اور سیاسی آمریتوں کے خلاف خوب جنگ لڑی، قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں ، کوڑے کھائے ، بے روزگاری اور معاشی بدحالی سمیت خاندانی سطح پر کئی بڑی مشکلات کا سامنا کیا ، مگر ہمت نہ ہاری ۔

ان ہی کرداروں میں ایک معاشرے کا چلتا پھرتا کردار معروف مزدور راہنما اور ساری زندگی مزدوروں کے حقوق سمیت سیاسی ، سماجی ، انسانی حقوق ، بچوں ، عورتوں ، اقلیتوں ، خواجہ سرا ، کسان حقوق کی جنگ بغیر کسی تضاد کے لڑتا رہا ۔ اس جنگ میں کئی کردار آئے اور کچھ ساتھ بھی چھوڑ گئے مگر یوسف بلوچ کو حقیقی معنوں میں داد دینی ہوگی جو آخری سانس تک اس جدوجہد کی جنگ کا سپاہی رہا اور اسی جنگ کو لڑتے لڑتے بیاسی برس کی عمر میں عید سے چند دن قبل انتقال کر گیا جس سے مزدور تحریک کا ایک اہم باب بند ہوگیا۔کیا کمال کا درویش انسان تھا ۔ وہ اس عمر میں بھی مزدور فیڈریشنوں کے اتحاداور پاکستان ورکزر فیڈریشن کے سربراہ تھے۔جب کہ نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے چیئرمین جب کہ پروگریسیو لیبر فیڈریشن کے بانی راہنما تھے ۔

میں نے یوسف بلوچ کو اسی شہر میں مزدوروں کے حقوق کی جنگ لڑتے دیکھا ہے ۔ بسوں ، ویگنوں اورکئی کئی گھنٹے پیدل چل کر اس تحریک کا حصہ بننے والا یوسف بلوچ واقعی ہمارا حسن تھا ۔ نہایت ہی ملنسار اور دوسروں کی بات کو سننے ، سمجھنے اور ساتھ چلنے والا کردار اس کا خاصہ تھا ۔ جب بھی ملاقات ہوتی تو میرا ماتھا چومتے ، بوسہ دیتے اور سر پر شفقت اور محبت کا ہاتھ رکھ کر ہمیشہ کہتے کہ تم سے مل کر تمارے والد کی یاد آجاتی ہے ۔ میرے والد اور ان کے خیالات میں زمین آسمان کا فرق اور خود میرے اور یوسف بلوچ کے خیالات میں فرق کے باوجود ہم میں بطور انسان کا ایک دوسرے کے باہمی احترام کے رشتے کو فوقیت حاصل رہی ۔ اپنے مخالفین اور سوچ اور فکر سے مخالف فرد کے بارے میں بھی ان کا لہجہ شائستگی کا عملی خاکہ پیش کرتا تھا تنقید کرتے ہوئے کبھی کسی کے لیے تضحیک کا پہلو خود پر غالب نہ ہونے دیا ۔ کئی دہائیوں سے لاہورکی مجلسوں میں یوسف بلوچ کے ساتھ بیٹھتا اورکئی رسمی اجلاس میں ہم شریک ہوتے تو اس رشتہ کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے ۔

ساری زندگی ریلوے سے منسلک رہے اور اسی کی ٹریڈ یونین کا حصہ رہے ۔ اگرچہ بہت زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھے ، مگر سوچ کے پکے دانشور اور اپنے خیالات میں گہرائی تک معاملات کو پرکھنے والے یوسف بلوچ بڑی جرات کے ساتھ نہ صرف مسائل پر تنقید کرتے بلکہ بے لاگ انداز میں مسائل کا حل بھی پیش کرتے تھے ۔ٹھراو ان میں خوب تھا کبھی جلدی میں نہیں دیکھا آخر تک مجلس میں رہتے سب سے ملتے تصویریں بھی اتارتے اور مزاح بھی ان کا خوب تھا ۔لاہور میں جہاں سیاست ، جمہوریت، مزدور، بچوں ، عورتوں ، کسانوں ، خواجہ سرا کے مسائل پر بات ہوتی یا ان کا کوئی اجتجاج ہوتا تو یوسف بلوچ صف اول ہمیں میدان میں کھڑا نظر آتا۔ پچاس برس تک مزدور اور سیاسی جدوجہد کا یہ سپاہی عملا اب اس دنیا میں نہیں رہا ، لیکن مجھ سمیت بہت سے دوست اس کو اپنا حقیقی ہیرو سمجھتے ہیں اور وہ ہمیشہ دلوں پر راج کرے گا۔

ایک اور کردار اور میرا جگری دوست سماجی و سیاسی تبدیلیوں کا حقیقی سپاہی رانا شفیق الرحمن بھی عید کی چھٹیوں میں مجھ سمیت اپنے دوستوں کو تنہا چھوڑ گیا ۔ اس کی اچانک موت نے واقعی دل اداس کردیا ۔ کئی ماہ سے اس سے ملنے کی خواہش مگر کورونا بحران نے سب کچھ ہی بدل ڈالا اور اس سے وعدے کے باوجود نہ مل سکا ۔ خیال تھا عید کے فوری بعد ملوں گا ، مگر وہ واقعی جلدی میں تھا اور چلا گیا ۔پنجاب میں سماجی تبدیلی کے حوالے سے اسے کنگ آف پنجاب کہا جاتاتھا ۔کئی برسوں تک میں نے اس کے ساتھ سفر کیا اور سفر کرنے والے کو ایک دوسرے کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا ہے۔

بغیر کسی لالچ کے ہر ایک کی مدد میں پیش پیش رانا شفیق الرحمن کا کوئی متبادل نہ تھا۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر وہ اور میں نے لاہور سے یکجہتی کے لیے دوستی بس کے نام سے تیس کے قریب سول سوسائٹی کے دوستوں کے ساتھ بے نظیر بھٹو کی قبر پر فاتحہ پڑھنے گئے اور یہ پیغام دیا کہ اہل پنجاب بھی سندھ کے اس قومی دکھ میں ان کے ساتھ ہیں ۔پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں چھوٹے کسانوں کو خوب موبلائز کیا ، تربیت اور شعور و آگاہی کے پروگرام کیے ، زراعت پر وہ نہ صرف کتابی بلکہ عملی پی ایچ ڈی بھی تھے اوراس شعبہ میں ان کی مہارت کا سکہ پاکستان سمیت بھارت میں بھی مانا جاتا تھا ۔

کسان میلوں کا انعقاد اسی کے ذہن کی اختراح تھی اور کئی صوبوں اور اضلاع میں کسان میلوں کا انعقاد کرکے ان کے حقیقی مسائل میں وہ خود بھی اور اس کی تنظیم ’’ گرین سرکل آرگنائزشن )جی سی او(میدان میں موجود ہوتی ۔ سیاست پر بھی اس کی گہری نظر تھی اور ہر سیاست کے پہلو پر کمال کی گفتگو کرتا ۔ راو طارق لطیف، حارث خلیق، بلال نقیب، شہبازملک ، مصطفی بلوچ، زیشان نوئیل، امتیاز الحق ، عطا شیخ اور راقم کے ساتھ اس کے مکالمے خوب تھے ۔ بڑی سے بڑی مشکل بات کا بہت آسان سا جواب اس کے پاس ہمیشہ ہوتا ۔ پاکستان این جی کوارڈنیشن پنجاب کے صدر کی حیثیت سے اس کا کام ہمیشہ یاد رکھا جانے والا ہے ۔

کمزور اورمظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا اور جس حد تک اس کی مدد کرنا وہ اس کا خاص شوق تھا۔ ہمیشہ نئے سے نئے خیالات لے کر مجلس میں آتا اور پھر اپنے مقدمہ کی بنیاد پر چھا جاتا ۔زرعی شعبوں میں عالمی ٹرینڈز کے مقابلے میں مقامی روایات کو مضبوط بنا کر پیش کرنا او راسی طرح مورینگا کے پودوں کے ادوایاتی استعمال میں تحقیق کے لیے نہایت محنت سے کام کیا ۔کاش ہم سب حکومتوں کو یہ باور کرواسکیں کہ یوسف بلوچ اور رانا شفیق جیسے دوست بھی ہمارے قومی ہیروز ہیں اور ان کی بھی ہر سطح پر بڑی پزیرائی ہونی چاہیے کیونکہ یہ اس سماج کے جیتے جاگتے کردار تھے جن کی محنت ، جدوجہد ، دیانت اور عملی کاموں کی وجہ سے آج اس معاشرے میں کچھ خیر کے پہلو بھی موجود ہیں ۔

The post کیسے کیسے لوگ جدا ہوگئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3eAv6ZG

موجودہ عالمی حالات اور ہماری خارجہ پالیسی

پاکستان کی سفارتی محاذ پر کمزوری میاں نواز شریف کے دور سے شروع ہوئی اس وقت میاں صاحب نے خود ہی وزارت خارجہ کا قلم دان اپنے پاس رکھ لیا تھا مگر وہ اندرونی مسائل میں ایسے الجھے کہ خارجہ امور کی جانب توجہ دینے کے لیے وقت ہی نہ نکال سکے۔ سرتاج عزیز اس وقت مشیر خارجہ تھے۔

سفارتی محاذ پر ہماری سست روی سے بھارت نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اسی وقت یمن میں ہماری طرف سے فوجیں نہ بھیجنے کے فیصلے سے اسے سنہری موقع ہاتھ آگیا۔ اس نے ہمارے اس فیصلے کو ایران کی جانب ہمارے جھکاؤ اور عربوں سے بے وفائی سے تعبیر کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے ممالک کو ہمارے خلاف بھڑکانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور اپنے مذموم مقاصد میں کامیابی حاصل کرلی۔ اس وقت ہم نے ایران سے تعلقات کو استوار رکھنے کو زیادہ اہمیت دی ۔

بھارت چاہ بہار بندرگاہ کو ایران سے لیز پر حاصل کرکے وہاں تیزی سے تعمیراتی کام آگے بڑھا رہا تھا۔ اسی دور میں کلبھوشن یادیو بلوچستان کے علاوہ کراچی میں دہشت گردی کی کمان سنبھالے ہوئے تھا۔ اسی نے دہشت گردوں کی تربیت کے کئی کیمپ قائم کرلیے تھے جہاں  نوجوانوں کو دہشت گردی کی تربیت دی جاتی تھی۔ اس وقت پورا بلوچستان دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا۔ حالات یہاں تک دگرگوں ہوچکے تھے کہ وہاں اہم مقامات پر قومی پرچم تک لہرانا مشکل ہو گیا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ موقع غنیمت جان کر اس وقت کی بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے  ایسی سفارت کاری کی کہ  عرب ممالک  کھل کر بھارت کی طرف داری کرنے لگے حتیٰ کہ انھوں نے او آئی سی میں بھارت کو مستقل ممبر بنانے کی مہم شروع کردی۔اور پھر یہ ہوا کہ مارچ 2019 میں ابو ظہبی میں منعقدہ او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بھارت کو اپنی طرف سے شرکت کی دعوت دے دی۔

بھارتی وزیر خارجہ اس سنہری موقع کو ضایع کیے بغیر اپنے وفد کو لے کر اس اجلاس میں شریک ہوگئیں۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ صورت حال دیکھ کر اس اجلاس کا بائیکاٹ کردیا مگر اس بائیکاٹ کو کوئی اہمیت نہ دی گئی اور سشما سوراج کو اجلاس سے خطاب کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ اماراتی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں تمام ممبر ممالک سے بھارت کو او آئی سی کا مستقل ممبر بنانے کی اپیل کی مگر ترکی اور ملائیشیا نے اس کی مخالفت کی جس کی وجہ سے بھارت ناکام ہوگیا۔

ادھر ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد کوالالمپور کانفرنس کا آغاز کرچکے تھے جو مسلم امہ کے مفاد میں اپنی آواز بلند کرکے اکثر مسلم ممالک کو اپنی جانب متوجہ کرچکی ہے۔ یہ کانفرنس کئی سالوں سے کامیابی سے منعقد ہو رہی ہے۔ ترکی کے صدر اردوان بھی  کوالالمپور کانفرنس کی حمایت کر رہے تھے اور اب بھی حمایت کر رہے ہیں۔

کوالالمپور کانفرنس کے حالیہ دسمبر 2019 میں منعقدہ اجلاس میں  پاکستان شریک نہیں ہوا حالانکہ وزیراعظم  عمران خان  اس کانفرنس میں شرکت کے لیے بہت پرجوش تھے شرکت سے محروم رہے مگر  پاکستان  کی سفارتی محاذ پر کمزوری واضح ہوگئی ۔ ہمیں ہماری  خارجہ  پالیسی سے کچھ حاصل نہ ہو سکا نہ تو ایران سے ہی تعلقات مثالی ہو سکے اور عرب ممالک بھی ناراض ہوئے ۔

یہ بات درست ہے کہ سابقہ حکومت کے دور میں خارجہ پالیسی پر کوئی توجہ مرکوز نہیں کی گئی جس کی وجہ سے بھارت کو پاکستان کے خلاف سفارتی کامیابیاں حاصل ہوئیں مگر اس وقت بھی سفارتی سطح پر حالات پہلے جیسے ہی ہیں۔ اگرچہ امریکا سے کچھ تعلقات بہتر ہوئے ہیں مگر اس میں بھی افغان مسئلے کے حل میں ہماری محنت کا عمل دخل ہے۔

عرب ممالک سے اب بھی سرد تعلقات چل رہے ہیں ان پر اب بھی بھارت کی خارجہ پالیسی کا اثر موجود ہے۔  وہ کشمیر کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دے  رہے ہیں۔  جہاں تک او آئی سی کا تعلق ہے اس پر  عرب ممالک نے اپنا مکمل کنٹرول قائم کر رکھا ہے ایسے ماحول میں ترکی، ملائیشیا اور انڈونیشیا کی حکومتوں کا کوالالمپور کانفرنس کا دائرہ کار وسیع کرنے اور اسے اسلامی ممالک کی نمایندہ تنظیم کی شکل دینے کی کوششیں جاری ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ  اب اسی کے ذریعے دنیا میں پھیلے اسلاموفوبیا اور اسلامی ممالک کو دشمنوں کی جانب سے درپیش خطرات کا تدارک کیا جاسکے گا۔ گوکہ او آئی سی اپنے قیام کے پچاس سال پورے کرچکی ہے مگر افسوس کہ یہ مسلم امہ کا ایک بھی مسئلہ حل نہیں کرسکی ہے۔ فلسطین کا مسئلہ نہ صرف اب بھی باقی ہے بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے، یہی حال مسئلہ کشمیر کا بھی ہے۔

عرب ممالک کشمیریوں کی آزادی  کی کھل کر بات نہیں کرتے ۔ اس وقت  کئی عرب ممالک اسرائیل سے اپنے تعلقات کو استوار کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں، اس لیے کہ  اسی میں ان کا مفاد ہے۔ وہ کشمیر کو بھارت کا اندرونی مسئلہ قرار دینے کے ساتھ فلسطین کے مسئلے  پر بھی کچھ لو اور دو کا اصول لاگو کرنے لگے ہیں۔

پاکستان اب بھی اسرائیل کے خلاف ڈٹا ہوا ہے مگر ہماری اس پالیسی سے بھارت بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اب تو پاکستان کے خلاف بھارتی دہشت گردی میں اسرائیل بھی اس کا ساتھ دے رہا ہے۔ محض اسرائیل کی وجہ سے امریکا بھی ہمارا دشمن بنا ہوا ہے۔ چنانچہ اب موجودہ حالات کے تناظر میں ہمیں اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی ازحد ضرورت ہے۔

The post موجودہ عالمی حالات اور ہماری خارجہ پالیسی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/36LNSus

فورٹ منرو؛ جنوبی پنجاب کا مَری

جنوبی پنجاب میں سیاحت کے وہ تمام لوازمات موجود ہیں جو کسی بھی خِطے کی سیاحت کو پنپنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہاں موجود صحرا، میدانی علاقے ، پہاڑ، تاریخی و ثقافتی ورثہ، ہل اسٹیشن، عجائب گھر، مقبرے، دریائی بند اور جھیلیں اس خطے کی سیاحتی شناخت اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

اگر ٹھنڈے پہاڑی علاقے یا ہِل اسٹیشن کی بات کی جائے تو ضلع ڈیرہ غازی خان کا علاقہ ”فورٹ منرو” اور ضلع راجن پور کا علاقہ ”ماڑی” پورے جنوبی پنجاب میں اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں، بلکہ اگر میں یوں کہوں کہ ڈیرہ جات کا پورا خطہ ہی بہت منفرد ہے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔

یہاں ایک طرف آپ کو سرسبز میدان اور لہلہاتے کھیت ملیں گے تو دوسری جانب کوہِ سلیمان کے خوبصورت پہاڑ۔ ایک جانب ٹھاٹھیں مارتا دریائے سندھ بہتا ہے تو دوسری جانب کوہِ سلیمان کے نالے یہاں کا حسن بڑھاتے ہیں۔ غرض یہ علاقہ جنوبی پنجاب کی سیاحت میں ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو سکتا ہے۔

بات کریں اگر یہاں کے سب سے مشہور مقام فورٹ منرو کی تو بہت سے احباب اسے جنوبی پنجاب کا مری بھی کہتے ہیں، لیکن مجھے اس سے اختلاف ہے۔ ہر شہر اور ہر علاقے کی اپنی الگ خصوصیات ہوتی ہیں، جیسے کے اس خطے کی بھی ہیں۔ کوئی کسی جیسا یا اس کا متبادل نہیں ہوا کرتا۔ فورٹ منرو بھی مری سے مختلف ہے۔ اور اگر اس کو جدید خطوط پر ڈیویلپ کیا جائے تو قوی امکان ہے کہ یہ مستقبل کا ایک مشہور ہل اسٹیشن ہو گا۔

برصغیر پر انگریز سامراج کے قبضے کے بعد انگریزوں نے بہت سے مقامات کو دریافت کر کے انہیں ڈیویلپ کیا اور اپنی رہائش کا انتظام کیا۔ انگریز چوںکہ سرد علاقوں سے آئے تھے لہٰذا یہاں کی گرمی ان کی برداشت سے باہر تھی سو انہوں نے برصغیر کے طول و عرض میں ٹھنڈی جگہیں تلاش کیں جو کہ زیادہ تر پہاڑوں پر تھیں۔ اس کے بعد وہاں تک راستے نکالے گئے اور سڑکیں لے جائی گئیں۔ ان جگہوں پر انتظامیہ کے دفاتر، رہائش کے لیے گھر، تفریح گاہیں، کھیل کے میدان، بیمار فوجیوں کے لیے سینی ٹوریم، لانڈریز اور دیگر دوسرے لوازمات کا انتظام کیا گیا۔ مقامیوں کو ملازم بھرتی کر کے وہیں سرونٹ کوارٹرز الاٹ کیے گئے جس سے مقامی لوگوں کو روزگار ملا اور ان علاقوں کی ترقی کا ایک نیا سفر شروع ہوا۔

انگریزوں کے بسائے ان ہل اسٹیشنز میں سری نگر، مری، اوٹی، زیارت، لہہ، ایبٹ آباد، پہلگام، سکیسر، شیلانگ، مسوری، نتھیا گلی اور فورٹ منرو شامل ہیں۔

فورٹ منرو جسے بلوچی زبان میں ”تْمن لغاری” بھی کہا جاتا ہے ضلع ڈیرہ غازی خان کے انتہائی مغربی کونے میں بلوچستان و پنجاب کے سنگم پر واقع ہے۔ سطحِ سمندر سے 6470 فیٹ (1970 میٹر) بلند یہ مقام انیسویں صدی کے اواخر میں انگریز فوجی آفیسر سر رابرٹ گرووز سنڈیمن نے دریافت کیا تھا اور اس کا نام اس وقت کے ڈیرہ جات ڈویژن کے کمشنر، کرنل اے اے منرو کے نام پر رکھا گیا تھا۔

لغاری قبیلے کے خانہ بدوشوں کی جنت ، فورٹ منرو ملتان سے 185 کلو میٹر اور ڈیرہ غازی خان سے قریباً 85 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

یہاں میں جنرل سنڈیمن کا تعارف کروانا ضروری سمجھتا ہوں۔ 1835 میں جنرل رابرٹ ٹرنبل سنڈیمن کے گھر آنکھ کھولنے والے اس افسر نے ڈیرہ جات اور بلوچستان کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 1866 میں جب ان کو ڈیرہ غازی خان کا ضلعی افسر تعینات کیا گیا تو آپ نے پہلی بار قبائیلیوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان پر اپنی شخصیت کی دھاک بٹھا دی۔

1871 کی مٹھن کوٹ کانفرنس میں ان کو پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں کی طرف سے کوہِ سلیمان کے مَری، بُگٹی اور مزاری قبیلوں کے بارے سیاسی فیصلوں کا حق دے دیا گیا جس سے ان علاقوں اور وہاں کے لوگوں پر آپ کا کنٹرول اور مضبوط ہو گیا۔جنرل سنڈیمن ہی کے ذریعے انگریز حکومت نے خان آف قلات سے مذاکرات کیے اور بلوچ قبائل کے سرداروں کی مالی معاونت بھی کی۔ یہ اپنی وفات تک بلوچستان کے گورنر جنرل کے ایجنٹ رہے اور انہوں نے شورش زدہ بلوچستان کو انگریز سامراج کے اندر ایک پر امن علاقہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سر رابرٹ سنڈیمن نے 1892 میں لسبیلہ کے شہر بیلہ میں وفات پائی۔ بلوچستان کے شہر ژوب کا پرانا نام آپ ہی کے نام پر فورٹ سنڈیمن رکھا گیا تھا۔

جنوبی پنجاب کے اکلوتے ہل اسٹیشن تک رسائی کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے۔ اس مقام تک پہنچنے کے کئی راستے ہیں۔ سب سے سیدھا اور خوب صورت راستہ تو ملتان یا راجن پور سے ڈیرہ غازی خان، سخی سرور اور فورٹ منرو ہے، جب کہ بلوچستان میں ژوب اور کوئٹہ سے آنے والے پہلے لورالائی اور پھر میختر اور رکھنی سے ہو کر فورٹ منرو پہنچ سکتے ہیں۔

میرے نزدیک فورٹ منرو کا سب سے خوب صورت مقام دماس جھیل ہے۔ یہاں پاکستان ٹوارزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے خوب صورت سے موٹیل کے عقب میں فورٹ منرو کی سب سے بڑی اور خوب صورت جھیل ’’دماس‘‘ اپنی دل کشی اور حُسن کے جلوے بکھیر رہی ہے۔ یہ جھیل یہاں واقع تین جھیلوں میں سب سے بڑی ہے۔ نقشے پر ایک ”انسانی گُردے” کی سی شکل میں نظر آنے والی یہ جھیل سردیوں میں سکڑ جاتی ہے جب کہ برسات اور گرمیوں کے دنوں میں اس کا جوبن دیکھنے والا ہوتا ہے۔ بقیہ دو جھیلوں کا نام تریموں اور لال خان جھیل ہے۔

فورٹ منرو میں ہی ایک پہاڑ کے اوپر ایک قلعے کے آثار ہیں جس کو لوگ قلعہ فورٹ منرو ہی کہتے ہیں۔ یہ پہاڑی کے اوپر ڈپٹی کمشنر ہاؤس کے ساتھ واقع ہے۔ پیلے رنگ میں رنگی اس کی ایک برجی آج بھی جیسے تیسے اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔

اسی ہل ٹاپ پر ایک اور اہم مقام ”گورا قبرستان” ہے۔برصغیر پر قبضے کے بعد اپنے تسلط کو مضبوط کرنے کے لیے، تاجِ برطانیہ نے اس خطے کے طول و عرض میں اپنے نمائندے، فوجی اور انجنیئر بھیجے جنہوں نے مرتے دم تک ان علاقوں میں رہائش رکھی۔ ان انگریز نمائندوں نے مختلف علاقوں میں پُختہ سڑکیں، نت نئی عمارتیں ، دفاتر، اور مکانات تعمیر کیے اور برسوں ان علاقوں میں خدمات سر انجام دیں۔ ان میں سے بہت سے افسروں اور ان کے خاندان کے دیگر افراد نے اسی دھرتی پر اپنی جان دی اور ان کا مدفن بھی یہیں بننا ٹھرا۔ بہت سے شہروں جن میں لاہور، کراچی، ایبٹ آباد، خانپور اور فورٹ منرو شامل ہیں، میں گورا قبرستان وجود میں آئے جو آج بھی قائم ہیں۔چھوٹی سی چار دیواری کے اندر واقع فورٹ منرو کے گورا قبرستان میں لگ بھگ پانچ قبریں ہیں جو جنگلے میں بند ہیں۔

نہ جانے کیا وجہ ہوئی ہو گی کہ قبروں کو بھی قید کرنا پڑ گیا۔ اب بھی ان جنگلوں کے اندر سے سفید کُتبے بہ آسانی پڑھے جا سکتے ہیں۔ ایک قبر جنوبی افریقہ کے مسٹر ایچ سمتھ کی ہے جو30 سال کی عمر میں فورٹ منرو کے کسی مقام پر نہاتے ہوئے ڈوب گئے تھے۔

اس قبرستان کی بائیں دیوار کے ساتھ ڈپٹی کمشنر ہاؤس (جو منرو لاج بھی کہلاتا ہے) واقع ہے۔ اور اس کے پہلو میں سو سال سے بھی قدیم ایک عمارت تنہا کھڑی ہے جس کے ماتھے پر جلی حروف میں ”دفتر عدالت پولیٹیکل اسسٹنٹ” لکھا ہے۔ اسی کے قریب ایک بورڈ پر Proposed PA Museum لکھا ہے۔ شاید کہ مستقبل میں یہاں کوئی اچھا میوزیم بن جائے۔اسی عمارت کے پیچھے اور قلعے کے ساتھ وہ پوائنٹ واقع ہے جہاں مختلف قومی دنوں پر پاکستانی پرچم لہرایا جاتا ہے اور ایک پتھر کے مانومنٹ پر ”پاکستان زندہ باد” اور بلوچ سرداروں کے نام لکھے ہیں۔اسی پہاڑی کے گرد ایک پکی اور خوب صورت سڑک بَل کھاتی ہوئے گزرتی ہے جو آپ کو فورٹ منرو کے دیگر مقامات تک لے کر جاتی ہے۔

فورٹ منرو سے چند ہی کلومیٹر دور “اناری” نام کی جگہ ہے جہاں آپ بادلوں سے اٹھکھیلیاں کرسکتے ہیں، یہاں آپ بادلوں سے اُوپر اور بادل نیچے ہوتے ہیں۔

کھانے کی بات کریں تو یہاں کی سب سے مشہور سوغات مٹن سجی ہے۔ اس بلوچی سجی کے لیے لوگ خاص طور پر یہاں آتے ہیں۔ اس کے علاوہ کھانوں کا حال کوئی بہت اچھا نہیں ہے۔ البتہ یہاں پر ضروریات زندگی بہت مناسب داموں پر دستیاب ہیں۔ اکثر لوگ اپنے کھانے کا سامان ساتھ لاتے ہیں۔

یہاں اب کئی نئے ہوٹل اور لاجز بھی کھل رہے ہیں۔اس علاقے کے لوگوں کی مہمان نوازی کا کوئی جواب نہیں۔ بلوچ اور سرائیکی تو ویسے بھی اپنی مہمان نواز طبیعت کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ یہ آپ کو فری چائے بھی پیش کریں گے اور راستہ بتانے بھی آپ کے ساتھ آخر تک آئیں گے۔ سردیوں میں یہاں مری، چترال، سوات اور دیگر شمالی علاقہ جات کی طرح برفباری ہوتی ہے۔ فورٹ منرو میں بلوچوں کے مُختلف قبائل آباد ہیں جن میں علیانی، احمدانی، بجرانی، شاہوانی، ہندیانی وغیرہ شامل ہیں اور یہ تمام قبائل لغاری قبیلے کو اپنا سردار تسلیم کرتے ہیں۔

فورٹ منرو سے کچھ آگے جائیں تو کوہِ سلیمان کے بیچ واقع بلوچستان کے ضلعے بارکھان کا شہر رکھنی آتا ہے جہاں کے بازار ایرانی و افغانی سامان سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہاں ہر طرف چہل پہل ہے۔

ہر سال جنوبی پنجاب کی گرمی کے ستائے ہزاروں سیاح یہاں آتے ہیں جب کہ ملتان، ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ اور دیگر قریبی علاقوں کے لوگ تو ہفتہ وار یہاں کا چکر لگاتے ہیں۔ یہاں کی مقامی سیاحتی تنظیموں (جن میں وسیب ایکسپلوررز سر فہرست ہے) کی محنت اور کوہِ سلیمان کے نت نئے علاقوں کی کھوج کی بدولت اب تو لاہور، کراچی اور پختونخواہ کے سیاح بھی یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

یہاں زیادہ تر گلہ بان اور خانہ بدوش رہتے ہیں۔ وہ افراد جنہوں نے یہاں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ آس پاس کے بڑے شہروں سے تعلق رکھتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے 2015 میں اس علاقے کی تعمیر و ترقی کے لیے بڑی گرانٹ منظور کی تھی جس میں ایک چیئر لفٹ کا منصوبہ بھی شامل تھا جو ابھی تک شروع نہیں ہوسکا۔ اگر یہاں کھانے پینے کے مناسب انتظام کے ساتھ ساتھ عوام کی تفریح کے لیے ایسے ہی چند پراجیکٹ لگا دیے جائیں تو یہ خطہ مہینوں نہیں دنوں میں ترقی کی منازل طے کرے گا۔

جو شوقین حضرات ٹھنڈے موسم کے ساتھ ساتھ سکون، خاموشی، تنہائی، سادگی، اور ایک کپ چائے کا مزہ لینا چاہتے ہیں وہ یہاں ضرور آئیں۔ بلکہ یہاں کے پہاڑوں اور اڑتے بادلوں کے سامنے بیٹھ کہ کتاب پڑھنے کا جو مزہ ہے وہ بیان سے باہر ہے۔

تو کب جا رہے ہیں پھر آپ جنوبی پنجاب کے مَری؟

The post فورٹ منرو؛ جنوبی پنجاب کا مَری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2TRAH5R

یومِ والدین

محمد احسان کی عمر اس وقت 64 سال ہے، یہ کسی زمانے میں ملک کے مایہ ناز سرکاری انجنیئر ہوا کرتے تھے، ساری زندگی انہوں خوب عیش و عشرت میں گزاری جس چیز کی تمنا کی، وہ ان کے سامنے دوڑتی ہوئی حاضر ہوگئی۔

اپنی بیوی سے انہیں شدید محبت بلکہ عشق تھا اس لیے ساری زندگی وہ اُس کے لبوں کے متحرک ہونے کے انتظار میں رہے کہ کب اُس کی زبان سے کوئی فرمائش کی جائے اور وہ اُسے پورا کردیں اور محمد احسان کا اکلوتا بیٹا کامران جس کے لیے انہوں نے جائز و ناجائز دولت کے انبار پوری لگن سے جمع کیے تھے۔

اُسے تو انہوں نے دنیا کی ہر آسائش وقت اور عمر سے بھی بہت پہلے ہی لاکر دینا شروع کردی تھی ، کامران کی جب سائیکل چلانے کی عمر ہوئی تو موٹر بائیک لاکر دے دی، جب موٹر مائیک چلانے کی عمر آئی تو گاڑی خرید کر دے دی اور جب اُس کی ملازمت ڈھونڈنے کا وقت آیا تو اپنی برسوں کی جمع پونچی اور تمام جائیداد اُس کے ہاتھوں میں تھماکر خود سکون سے ایک بھرپور ریٹائر زندگی گزارنے کے زعم میں آرام دہ بستر پر دراز ہوگئے اور آنکھیں بند کرکے دن میں خواب دیکھنے لگے کہ جس جاں سے پیارے بیٹے کی وہ ساری زندگی ’’چیزوں سے خدمت‘‘ کرتے رہے اب وہ اکلوتا بیٹا اپنی چاند سی نئی نویلی دلہن کے ساتھ ان کی پورے ’’اخلاص سے خدمت‘‘ کرے گا۔

یہ خواب چونکہ دن کو دیکھا گیا تھا اس لیے جلد ہی ٹوٹ گیا۔ ابھی محمد احسان کو بستر سے لگے پورے چار دن بھی نہیں گزرے تھے کہ انہیں رات میں باربار اُٹھنے کی بیماری لاحق ہوگئی، جس سے ان کے بیٹے اور اُس کی نئی نویلی دلہن کو سخت کوفت ہونے لگی۔ بڑے ارمان اور چاؤ سے لائی گئی بہو نے اس کا حل یہ ڈھونڈا کہ انہیں شہر کے کسی اچھے سے ’’اولڈ ہوم‘‘ میں داخل کرادیں اور ان کی زوجہ محترمہ کو ملازمہ کا روزمرہ کام کاج میں ہاتھ بٹانے کے لیے گھر میں ہی رکھ چھوڑیں۔ محمد احسان نے اپنی رفیقِ زندگی کے بغیر ’’اولڈ ہوم‘‘ جانے سے لاکھ انکار کیا لیکن اُن کی ایک نہ چلی اور اب حالت یہ ہے کہ ہر چھ ماہ میں ایک بار ملاقات کرنے کے لیے اُن کا بیٹا اور بہو ’’اولڈ ہوم‘‘ اُن سے ملنے آجاتے ہیں۔

محمد احسان اپنے پیارے ملاقاتیوں کے چلے جانے کے بعد ساری دنیا کو چیخ چیخ کر کہنا چاہتا ہے کہ ’’جب تک وہ تن درست تھا، کماتا تھا، اس وقت تک ان کے گھر والوں کا برتاؤ ان کے ساتھ مناسب رہا لیکن اب وہ ساری زندگی اُن کی ضرورتوں کا بوجھ اُٹھانے والے کو ہی خود پر بوجھ تصور کرتے ہوئے ’’اپنے‘‘ گھر میں رکھنا نہیں چاہتے۔ سب کا خون سفید ہوگیا ہے لیکن پھر وہ یہ سوچ کر چُپ ہوجاتا ہے کہ بھلے ہی وہ اپنے وقت کا ایک کام یاب انجنیئر رہا ہو مگر اُس نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارنے کے لیے خود کو ٹھیک سے’’ انجنیئرڈ‘‘ نہیں کیا، ورنہ اُس کی بیوی اور بیٹا اُس کے ساتھ ایسی ’’بے رحمانہ حرکت‘‘ آخر کرتے ہی کیوں۔‘‘

زمانہ جتنی تیزی سے ترقی کررہا ہے انسانی اقدار اسی تیزی سے زوال پذیر ہورہی ہیں جہاں پر ایک انسان کو دوسرے انسان سے کوئی ہم دردی باقی نہیں رہی۔ خصوصی طور پر ناخلف اولاد اپنے والدین کے ساتھ جو سلوک کررہی ہے۔ اسے ضبط تحریر میں لانا بے حد مشکل ہے۔ ویسے تو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کے شعور کی کمی کسی نہ کسی صورت ہر دور میں رہی ہے لیکن موجودہ دورِ جدید میں جس تواتر اور کثرت کے ساتھ والدین کے ساتھ بدسلوکی کے دل دہلا دینے والے لرزہ خیز واقعات دنیا بھر میں سامنے آ رہے ہیں، یقیناً اس کی مثال تو ماضی کی تاریخ میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی۔

والدین کے ساتھ زیادتی و بدسلوکی کے واقعات دنیا کے ہر ملک، ہر معاشرہ، ہر فرقہ اور ہر قوم میں اس تواتر کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ہی اقوام ِ متحدہ نے 17 ستمبر 2012 ؁ء کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے اپنے تمام رکن ممالک کو پابند کیا کہ وہ ہر سال یکم جون کو بطورِ یوم والدین منانے کے پابند ہوں گے۔

اُس وقت سے ہر سال یکم جون کو دنیا بھر میں ’’یوم والدین ‘‘ منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے یکم جون کو والدین کے عالمی دن کے طور پر منانے کا مقصد لوگوں میں اس بات کا شعور پیدا کرنا ہے کہ والدین کی عزت و توقیر معاشرہ کی نشوونما کا سب سے اہم جز ہے۔ اس کے بغیر معاشرے کو جس افراط و تفریط کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اُس کا آخری نتیجہ انسانیت کی موت کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ اپنے تمام رُکن ممالک کو اس دن کے ذریعے سے یہ ترغیب بھی دیتا ہے کہ وہ اپنے اپنے ملک میں ایسے قوانین اور پالیسیاں بھی بنائیں جن سے والدین کو معاشرہ میں عزت، وقار، ستائش اور تحفظ حاصل ہوسکے۔

گو کہ دنیا بھر میں ’’والدین‘‘ اپنی اولاد کے ہاتھوں جس قسم کے الم ناک رویوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں اُن کے مقابلے میں پاکستان میں حالات فی الحال قدرے بہتر ہیں لیکن اتنے بھی بہتر نہیں ہیں کہ جنہیں ہم اطمینان بخش قرار دے کر صرفِ نظر کر سکیں، کیوںکہ روز بہ روز ہمارے ہاں بھی والدین کے ساتھ توہین آمیز سلوک کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

آج سے 25 سے 30 سال پہلے ہمارے والدین انفرادی اور اجتماعی طور پر جس اہمیت، احترام اور تحفظ کا احساس رکھتے تھے آج اُس کا عشر عشیر بھی معاشرے میں باقی نہیں رہا۔ اُس وقت یہ تصور بھی نہیں پایا جاتا تھا کہ پاکستان میں کبھی ’’اولڈ ہوم‘‘ بھی کھلیں گے۔ مگر حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ پاکستان کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں ’’اولڈ ہوم‘‘ کھل چکے ہیں اور مزید کھل رہے۔

اولڈ ہوم چاہے کتنے ہی خوب صورت اور آرام دہ کیوں نہ ہوں مگر معاشرہ کے لیے ان کا وجود ایک المیہ کی علامت ہی ہوا کرتا ہے۔ یہ وقتی طور پر والدین کی مادی ضروریات کی تکلیف تو کچھ کم کر سکتے ہیں مگر کسی بھی صورت اُن کے اُن نفسیاتی و ذہنی دکھ درد کا مداوا نہیں بن سکتے، جس کا شکار اولڈ ہوم میں آنے والے اکثر و بیشتر والدین ہوتے ہیں۔ اولڈ ہوم ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے غیرفطری رویوں کا مظہر ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر ان عوامل کا نہ صرف سراغ لگائیں جن کی وجہ سے ہمارے مضبوط خاندانی معاشرے میں ’’والدین‘‘ ادب و احترام کے حوالے سے شکست و ریخت کا شکارہو رہے ہیں بلکہ اُن کے تدارک کے لیے ہر ممکن عملی قدم بھی اُٹھائیں۔ اسی بات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے دنیا بھر میں سالانہ عالمی ٹیچر ایوارڈ کا انعقاد کرنے والی تنظیم ’’ورکی فاؤنڈیشن‘‘ نے والدین کے ترجیحات اور رویوں کو جاننے کے لیے 29 ممالک کے 83,027 والدین کا سروے کیا تاکہ جائزہ لیا جاسکے کہ والدین اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت میں کس مقام پر ’’سنگین غلطی‘‘ کے مرتکب ہورہے ہیں کہ بچے بڑے ہوکر اپنے آپ کو والدین سے وابستہ ہونے میں عدم دل چسپی سے کام لے رہے ہیں۔

سروے رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی کہ زیادہ تر ماں باپ کے رویوں میں اپنے بچوں کے مستقبل اور ان کے روزگار کے حوالے سے یکسانیت پائی جاتی ہے۔ دنیا کے اکثر والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہونے کے بجائے گھریلو جھگڑوں، کیریئر یا کاروباری ترقی، ملکی سیاست اور دیگر تنازعات پر زیادہ غور کرتے ہیں، اوربچوں کو اُن کی ذہنی صلاحیت، کارکردگی اور فیصلہ سازی میں معاون اشیاء مثلاً غیرنصابی کتابیں، کیلکولیٹر، برقی ڈکشنری یا اس نوعیت کی دیگر سائنسی آلات فراہم کرنے کی بہ نسبت اسکول کی فیس، آمدورفت کے اخراجات اور ٹیوٹر کو تنخواہ دینے میں زیادہ رقم خرچ کرتے ہیں، جب کہ دنیا کے صرف گیارہ فی صد والدین ہی اپنے بچوں کے ساتھ چوبیس گھنٹوں میں ایک گھنٹہ گزار پاتے ہیں۔ رپورٹ سے حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق والدین کے یہی غیردانش مندانہ رویے بچوں کو ذہنی و قلبی طور پر والدین سے دور کر رہے ہیں۔

یکم جون ’’یوم والدین ‘‘ کے صورت میں جہاں ہماری نئی نسل سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنے والدین کی محبتوں، قربانیوں اور شفقتوں کا احساس کریں اور اُنہیں وہی عزت، احترام اور مقام دیں جس کا ہم سے ہمارا مذہب، ہمارا معاشرہ، ہماری اقدار اور سب سے بڑھ کر انسانیت ہم سے تقاضا کرتی ہے۔ وہیں والدین پر ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ اپنے اور اولاد کے درمیان مزاج آشنائی کا ایک مناسب ماحول تخلیق کریں۔

اس کے لیے فریقین کا ایک دوسرے کے مزاج اور رویوں سے ہم آہنگی حاصل کرنا ازحد ضروری ہے اور ہم آہنگی تب ہی حاصل ہوگی جب دونوں فریق ایک دوسرے کی ذہنی و نفسیاتی ضروریات سے متعلق آگاہی حاصل کرنے کی کوئی مخلصانہ کوشش کریں گے۔ اولاد کو یہ سوچنا ہو گا کہ زمانہ چاہے کتنا بھی جدید ہوجائے بہرحال کچھ روایات ایسی ضرور ہوتی ہیں جن کی پابندی والدین کا دل جیتنے کے لیے ضروری ہوتی ہے، جب کہ والدین کو بھی اچھی طرح ذہن نشین کرنا ہوگا کہ وہ اولاد سے متعلق تمام فیصلے صرف اپنے ماضی کے محدود مشاہدے اور تجربے کی روشنی میں نہیں کر سکتے۔ اُنہیں بھی جدید اطلاعات کے سمندر سے اپنے آپ کو کچھ نہ کچھ ضرور مستفید کرنا ہوگا۔

جیسا کہ امامِ علم و حکمت حضرت علی ؓ نے ارشاد فرمایا تھا کہ ’’اے لوگو! کبھی بھی اپنی اولاد کو اپنے جیسا بننے پر مجبور نہ کرو کیوںکہ یہ اپنے زمانے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں اگر انہیں بھی تمہارے جیسا بنانا ہی قدرت کا منشا ہوتا تو پھر وہ انہیں پیدا ہی کیوں کرتا، اس کے لیے تو تم لوگ ہی کافی تھے۔‘‘ آج کا دور کیوںکہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا دور ہے اور ہم میں سے ہر شخص کا زیادہ تروقت انٹرنیٹ پر ہی صرف ہوتا ہے اس لیے یہاں ہم والدین کی تربیت، اولاد کی آگاہی کے حوالے سے دنیا کی چند بہترین ویب سائیٹس دے رہے جو ہماری رائے میں ہر کسی کے لیے معلومات افزا ثابت ہوں گی:

1 ۔www.understood.org

تمام والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو بہترین اور سازگار ماحول فراہم کریں جو ان کی ذہنی و جسمانی نشوونما میں مددگار ثابت ہو۔ یہ ویب سائیٹ اُن تمام امور کا احاطہ کرتی ہے جو آپ کو بچوں کے مسائل کو سمجھنے یا اُن کو حل کرنے کے سلسلے میںآپ کو کبھی بھی درپیش ہوسکتے ہیں۔

2 ۔www.parentmap.com

یہ ویب سائیٹ جہاں دنیا بھر کے کام یاب والدین کے تجربے، مشاہدے اور معلومات کا نچوڑ آپ کے سامنے پیش کرتی ہے، وہیں ایسے مقابلے بھی کرواتی ہے جن میں آپ کو ایک اچھا والد یا والدہ بننے کا چیلینج دیا جاتا ہے، اگر آپ اس چیلینج کو پورا کرنے میں کام یاب ہوجائیں تو یہ ویب سائیٹ آپ کو انتہائی قیمتی انعامات سے بھی نوازتی ہے۔

3 ۔www.freeprintablebehaviorcharts.com

اس ویب سائیٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں بچوں کی تربیت کے حوالے سے ہر بات، رویہ اور کام کو لمبے چوڑے مضامین یا لیکچرز کے بجائے مختلف چارٹس کی شکل میں سمجھا یا جاتا تاکہ آپ کو اس ویب سائیٹ میں دیے گئے مشورے عملی طور پر اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے میں آسانی ہو۔ آپ ان چارٹس کو مفت میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے ساتھ، ساتھ پرنٹ بھی کر سکتے ہیں۔

4 ۔https://www.fathers.com

جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے یہ ویب سائیٹ اچھا باپ بننے کے لیے آپ کو وہ تمام آزمودہ نسخے اور حل فراہم کرتی ہے جو آپ کے اور بچوں کے درمیان اچھے تعلقات کے لیے معاون ہوسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ، ساتھ یہاں آپ اچھا والدین بننے کے لیے خصوصی کورسز بھی کرسکتے ہیں اور وہ بھی بالکل مفت! تو کیا پھر تیار ہیں آپ کوالیفائیڈ والد بننے کے لیے؟

5 ۔www.workingmother.com

اگر آپ ورکنگ مدر ہیں اور آپ پریشان رہتی ہیں کہ کم سے کم وقت میں کس طرح اپنے بچوں کے لیے ایک مہربان ماں کا درجہ حاصل کر یں تو یہ ویب سائیٹ آپ ہی کے لیے ہے۔ یہاں آپ کے لیے وہ سب معلومات موجود ہیں جس کے ذریعے آپ اپنے کام یا ملازمت کو متاثر کیے بغیر اپنے بچوں کی درست سمت میں تربیت و راہ نمائی بالکل کسی گھریلو خاتون خانہ کی طرح کر سکتی ہیں۔

آج کے جدید دور میں فلم بھی ایک ایسا میڈیم ہے جو ہر ذہن کو بہت کم وقت میں متاثر کر کے اُس کے رویوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں تو معاشرے کی شکست و ریخت کا ذمہ دار بھی اسے ہی قرار دیا جاتا ہے۔ ہم فی الحال اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ اس میں کتنی سچائی ہے مگر ایک بات طے ہے کہ آپ کلیتاً اس میڈیم پر پابندی بھی نہیں لگا سکتے لیکن اگر آپ چاہیں تو ایک کام ضرور کر سکتے ہیں اور وہ یہ کہ آپ ایسی فلمیں بھی دیکھیں جو آپ کے لیے والدین کے مسائل اجاگر کرنے بلکہ ان کے حل کے لیے بھی آپ کو کوئی راہ سجھاسکیں۔ یقین مانیے دنیا بھر میں ہر سال بے شمار فلمیں والدین کے مسائل، شعور اور تربیت کے لیے بھی بنائی جاتی ہیں۔ اگر آپ کو ہماری بات پر یقین نہیں تو یہاں ہم چند فلموں کے نام دے رہے آپ انہیں دیکھیں اور اپنے بچوں کو بھی دکھائیں اُمید ہے کہ پھر آپ ہماری رائے سے متفق ہوجائیں گے۔

1 ۔پیرنٹل گائیڈنس (Parental Guidance)

2012 ء میں اینڈی فک مین کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ فلم ایک ایسی کہانی پر مشتمل ہے جس میں ہنسی مذاق میں والدین کے عزت و احترم کی اہمیت کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ دنیا بھر میں اس فلم نے 119.8 ملین ڈالر کا بزنس کیا جس سے آپ اس فلم کی مقبولیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

2 ۔ لائم لائف (Lymelife)

دو بھائیوں ڈیرک مارٹینی اور اسٹیون مارٹینی کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں والدین کی بڑھتی عمر کے مسائل اور پریشانیوں کو انتہائی موثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ فلم 2008ء میں پردہ اسکرین پیش کی گئی تھی۔

3 ۔ باغبان

2003 ء میں بننے والی اس بھارتی فلم میں ایسے والدین کو بطور مرکزی کردار پیش کیا گیا ہے، جو اپنی ریٹائرمنٹ کی عمر کی عمر کے بعد اپنے بچوں کی طرف سے ناقدری اور توہین آمیز سلوک کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مگر بجائے ہمت ہارنے یا رونے دھونے کہ وہ کیسے ان نامساعد حالات سے واپس نکلتے ہیں۔ یہی اس فلم کی خاص بات ہے، جس میں والدین اور بچوں کے لیے بہت سے سبق پوشیدہ ہیں۔

4 ۔ مسز ڈاؤٹ فائر(Mrs. Doutfire)

والدین کی محبت اور خاندانی رویوں کو مزاحیہ انداز میں پیش کرتی یہ فلم 1993ء میں پردۂ سیمیں پر پیش کی گئی ۔ اس فلم میں اولاد کی تربیت کے کئی پوشیدہ زاویے منکشف کیے گئے ہیں۔

5 ۔ پیرنٹ ہڈ(Parenthood)

126 ملین ڈالر سے زائد کا بزنس کرنے والی یہ کامیڈی، ڈراما فلم ایسے والد کے گر د گھومتی ہے جو اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت اور کیریئر میں توازن پیدا کرنا چاہتا ہے، اپنے اس ہدف کو پورا کرنے کے لیے اسے کیسے کیسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ اس فلم میں ہی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

The post یومِ والدین appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2XZnHwD

’’پختون ولی‘‘ کیا ہے؟

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پانچ ہزار سالہ پرانی تاریخ کی حامل پختون قوم نے تاریخ کے مختلف ادوار میں جغرافیے کی تقسیم درتقسیم حد بندیوں کے باوجود ثقافتی طرز پر ایک قوم ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

دریائے آمو اور دریائے سندھ (اباسین) کے درمیان رہتے ہوئے پختونوں کے مختلف قبائل، مختلف رسم ورواج اور روایات کے باوجود ایک ہی قومی دھارے اور ثقافتی تہذیبی دائرے میں اپنی اپنی مخصوص قبائلی شناخت کے ساتھ رہتے چلے آرہے ہیں، اور اس دھارے اور دائرے کو ’’پختون ولی‘‘ کہا جاتا ہے، جس میں ان کی تاریخ، تہذیب، ثقافت، قانون، آئین اور قومیت کی اصل روح اور مادی قوت پنہاں ہے۔

پختون ثقافت اسی ضابطۂ اخلاق (code of life) کا عملی اظہار ہے، اور ان کی زبان پشتو اس کے ابلاغ، پھیلاؤ اور ترقی وترویج میں بنیادی کردار کا سب سے اہم حوالہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پشتو نہ صرف اظہار وبیان کا ذریعہ اور وسیلہ ہے بلکہ پوری سماجی، نفسیاتی، ثقافتی زندگی، ضابطہ اخلاق اور تہذیبی تاریخ کو بھی ’’پختو‘‘ کہا جاتا ہے جو اسے دنیا کی دیگر زبانوں سے ممتاز کرتی ہے کیوں کہ پشتو زبان بھی ہے اور سماجی وثقافتی اعتبار سے ایک ضابطہ اخلاق اور قانون بھی ہے، جو پختونوں کی قومی وتہذیبی زندگی کی عکاس اور ترجمان ہے۔

لہٰذا ’’پختون ولی‘‘ پختونوں کی اجتماعی اور معاشرتی زندگی کے ایک ایسے ضابطے اور آئین کا نام ہے، جس کی روشنی میں ان کی سماجی اور تہذیبی زندگی کے تقریباً تمام پہلو کا جائزہ لیا جاسکتا ہے اور اس ضابطہ حیات میں ان کی طرززندگی، سیاست، ادب، ثقافت، تہذیب یہاں تک کہ مذہب بھی شامل ہے۔ یہ ضابطہ اس قدر مضبوط ہے کہ اگر کوئی پختون اس کی اقدار و روایات سے روگردانی کا مرتکب ہوجاتا ہے تو اس پر لعن طعن کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ اگر کسی سے کوئی غیراسلامی وغیرشرعی حرکت بھی سرزد ہوجائے تو اس کی اتنی پروا نہیں کی جاتی جتنا سخت نوٹس ’’پختون ولی‘‘ سے انحراف یا روگردانی پر لیا جاتا ہے۔

گوکہ دنیا کے دیگر اقوام بھی اپنا اپنا منفرد ضابطہ حیات رکھتا ہے، اور بیش تر اقوام چند ایسے منفرد اصول اور ضابطے رکھتی ہیں، جس کی وہ پابند ہوتی ہیں، مگر ’’پختون ولی‘‘ کے جو اصول، سانچے اور ضابطے ہزاروں سالوں سے متوارث چلے آرہے ہیں۔ ہر پختون ان اصولوں، سانچوں اور ضابطوں پر عمل کرنے کی ہرممکن کوشش کرتا ہے، تاکہ معاشرے کے طعنوں اور باتوں سے بچا رہے۔ اگر کسی پختون کو کوئی یہ کہے کہ آپ افغان نہیں ہو تو شاید شعراء، ادبا اور دانشوروں کے علاوہ اس موضوع پر کوئی اس بندے سے بحث وتکرار نہ کرے، اسی طرح اگر اسے کہا جائے کہ آپ تو روھی، سلیمانی یا پٹھان نہیں ہو تو اس کا بھی اتنا برا نہیں مانے گا۔

تاہم اگر کسی پختون سے یہ کہا جائے کہ تم تو سرے سے پختون ہی نہیں ہو یا تم تو ’’پختو‘‘ اور ’’پختون ولی‘‘ سے عاری ہو تو حقیقت یہ ہے کہ وہ اس بات پر اسی وقت الجھ پڑے گا کہ اس قسم کے الفاظ وہ اپنے لیے ایک بہت بڑا طعنہ سمجھتا ہے، کیوںکہ ’’پختو‘‘ اور ’’پختون ولی‘‘ کو وہ اپنا ایمان سمجھتا ہے۔ اس قسم کے اصولوں سے بنا ہوا ضابطہ دراصل ایک ایسا قالب ہوتا ہے جو کسی قوم کو جداگانہ حیثیت بخشتا ہے۔ دنیا کی ہر قوم ظاہری اور باطنی طور پر ایک دوسرے سے منفرد ہوتی ہے، اور ہر قوم چند ایسی اقدار رکھتی ہیں جو دیگر قومیں نہیں رکھتیں، اور انہی منفرد اقدار وروایات اور رسم ورواج سے اس قوم کی پہچان ہوتی ہے، پختون قوم بھی بیشتر ایسی منفرد اقدار، رسم ورواج اور روایات رکھتی ہیں، جن کی بدولت اسے دنیا کے دیگر اقوام سے ایک جداگانہ حیثیت اور شناخت دی جاسکتی ہے اور جیسا ذکر کیا گیا کہ ان منفرد اقدار، روایات، رسم ورواج، اجتماعی نفسیات اور میراث پر مشتمل مجموعہ کو ’’پختون ولی‘‘ کہا جاتا ہے۔

اور یہ ’’پختون ولی‘‘ پختونوں کے مجموعی طرزعمل میں ظاہر ہوتا ہے، اور یہ طرزعمل پختون سماج کے ان بنیادی اداروں سے متعین ہوتا ہے، جنہیں ہم اقدار، روایات، رسم ورواج، معیشت، فنون وہنر، سیاست، زبان، علم وغیرہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ یہ بنیادی ادارے معاشرے کی فکر اور اس فکر سے پیدا شدہ اقدار ومعیار کا نتیجہ ہیں جو بحیثیت مجموعی معاشرے کے طرزعمل کو متعین کرتے ہیں۔ ان میں بہت سے تصورات، معیار اور اقدار ایسے ہیں جو ہمیں اپنے اسلاف سے ورثے میں ملے ہیں۔ بہت ایسے ہیں جو کسی دوسری قوم کے اختلاط سے حاصل ہوئے ہیں۔ بہت سے ایسے ہیں جو گردوپیش کے طبعی حالات اور آب وہوا کی وجہ سے پیدا ہوگئے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جو معاشرے کے تاریخی بہاؤ میں ترقی یا تنزل کی حالت میں پیدا ہوگئے ہیں۔

یہی وہ عوامل ہیں جن کے سمجھنے سے کسی قوم کی ثقافت اور تہذیب کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا ہر پختون جو اپنی جو اپنی تہذیب وثقافت میں زندگی گزارنا چاہتا ہو اسے ان قدروں کا پاس رکھنا پڑتا ہے جو ’’پختون ولی‘‘ میں فرض کا درجہ رکھتے ہیں۔ پختون کردار کی سینہ بسینہ ایک روایتی تاویل یہ بھی کی جاتی ہے کہ لفظ پختو پانچ حروف سے بنا ہے جس میں کردار کے لحاظ سے ’’پ‘‘ سے مراد ’’پت‘‘ہے۔

پت کے معنی ہیں عزت وناموس، حرف ’’خ‘‘ یا خین) کا مطلب ہے ’’خیگڑہ‘‘ یعنی نیکی، خیر، مدد اور احسان کے معنوں میں آتا ہے اس کے بعد حرف ’’ت‘‘ ہے جس سے مراد ہے ’’تورہ‘‘ تورہ پشتو میں تلوار کو بھی کہتے ہیں لیکن اصطلاحی طور پر تورہ کا مطلب شجاعت، بہادری اور دلیری کے ہیں، حرف ’’و‘‘ وفا کے لیے ہے وفا ووفاداری پختونیت سے مشروط ہے جو دوستی میں راستی کی صفت کو ظاہر کرتی ہے، حرف ’’ن‘‘ ننگ کے لیے ہے۔ ننگ پشتو میں غیرت کو کہتے ہیں اگر ان اوصاف اور خصوصیات کو مدنظر رکھا جائے تو پختون کہلانے کا مستحق وہ شخص ہوسکتا ہے جو ان اوصاف کا حامل ہو حقیقی پختون یا پشتون میں اس قسم کے اوصاف ضروری سمجھے جاتے ہیں جو بھی ان اوصاف سے عاری ہو اس کے لیے کسی پختون معاشرے میں زندگی بسر کرنا مشکل ہوجاتا ہے یا اگر ان کے بغیر رہتا بھی ہو تو اصطلاح میں اسے موذی کہتے ہیں۔ اور پشتو میں موذی ایک قسم کی گالی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پشتون ثقافت میں لوگ اس طعنے سے بچنے کے لیے پشتو کی قدروں کا پاس رکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

پشتو کی ان قدروں کی تاویل وتفسیر کی گئی ہے۔ پشتو ایک فلسفہ ہے، ایک اخلاقی نظام ہے۔ اس اخلاقی نظام میں نیک وبد کا اپنا ایک تصور ہے جو اگرچہ اسلام کے اصولوں سے بھی کئی سرحدوں پر ملتا ہوا نظر آتا ہے، لیکن اکثر خصوصیات پشتو کی ایسی ہیں جو انفرادیت کے بھی حامل ہیں اور ممتاز بھی سمجھے جاتے ہیں۔ اگر آفاقی حیثیت نہ بھی رکھتے ہوں تو پھر بھی آفاقیت کے قریب ضرور ہیں۔ اس لیے کہ اعلیٰ انسانی قدروں کا رنگ لیے ہوئے ہیں۔ پختونوں کی سرزمین پر مسلط عالمی جنگوں، بیرونی مداخلت، دہشت گردی، مذہبی انتہاپسندی، فرقہ واریت، ثقافتی یلغاروں اور عالم گیریت کے اثرات کی وجہ سے پختون ولی میں کچھ منفی اثرات بھی نفوذ کرچکے ہیں، خیر وشر کے فطری اثرات سے بھی پشتو مبرا نہیں، لیکن ایک معاشرے کے اخلاقی نظام کے طور پر اصل پشتو اپنی نوعیت میں مثبت اقدار کی حامل ہے۔

اعلیٰ انسانی صفات سے مزین کردار کا تصور پشتو کا اخلاقی فلسفہ ہے۔ بقول پروفیسر پریشان خٹک (مرحوم) کہ پشتو مردانگی ہے اور مردانگی پشتو ہے۔ پشتو خدمت انسانیت کا نام ہے۔ پشتو میں تکبر کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ پشتو میں ظلم کا تصور نہیں ہے۔ کم زوروں کے ساتھ زورآزمائی پشتو نہیں ہے۔ پشتو میں مظلومیت بھی نہیں ہے۔ پشتو اپنے قول پر برقرار رہنا اپنی بات کو پایہ تکمیل تک پہنچانا اور اپنے وعدے کو نبھانا اور ایفا کرنا ہے۔

پشتو غنا ہے، پشتو استغنا ہے، پشتو میں مانگنا نہیں ہوتا، پشتو قناعت ہے، پشتو حق کی حمایت ہے پشتو میں ناروا نہیں ہے اور نہ ہی ناروا پشتو ہے۔ پشتو صبر کا نام ہے پشتو حوصلہ مندی ہے، پشتو برداشت کا نام ہے، پشتو کام کرنا ہے پشتو محنت کرنا ہے، پشتو جہد مسلسل ہے، جدوجہد پشتو کی صفت ہے جس پر پشتون تفخر کرتے ہیں اور پشتون کی ستائش اس سے ہوتی ہے۔

سستی بے کاری پشتونیت کا متضاد ہیں۔ پشتو دین، ملک اور عوام کی خدمت ہے، پشتو سچائی ہے پشتو خیانت نہیں ہے پشتو میں دغا نہیں ہے، پشتو میں دھوکا بازی نہیں ہے، پشتو میں چوری نہیں ہے، پشتو میں لوٹ نہیں ہے، پشتو میں ظالم نہیں ہے، پشتو مظلوم کی حمایت ہے، چور ڈاکو اور خائن کے خلاف آواز بلند کرنا یا ان کو پکڑنا پشتو ہے۔ پشتو صداقت کا نام ہے، پشتو میں جھوٹ کی کوئی گنجائش نہیں ہے، کیوں کہ جھوٹ پشتونیت کی ضد ہے، یہ پشتون کے شان کے خلاف ہے کہ اپنے آپ کو بچانے کی خاطر جھوٹ کا سہارا لے، پشتو ہر کسی کے سامنے سچ بولنے کا نام ہے، پشتو جوانوں کی وجاہت اور لڑکیوں کی خوب صورتی ہے۔ پشتو زیور ہے پشتو مردوں کی پگڑی اور عورتوں کی چادر ہے۔ پشتو عورتوں کی عفت اور پردہ ہے۔ اس قسم کے بے شمار اعلیٰ اخلاقی تصورات پشتو سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں۔

ہر معاشرے کا اپنا ایک سماجی نظام ہوتا ہے۔ یہ نظام زندگی کی راہوں کے تعین کا جو بندوبست کرتا ہے وہ چند اخلاقی قدروں پر قائم ہوتا ہے۔ ان اقدار سے اگر ایک طرف کسی قوم کی اجتماعی زندگی نفسیات اور رجحانات کا پتا چلتا ہے تو دوسری طرف کسی قوم کے تشخص اور شناخت کی تصویر بھی اسی سے بنتی ہے۔ ’’پختون ولی‘‘ پختون تمدن وثقافت کا نام ہے، اس ثقافت کے اپنے قاعدے اور قوانین ہیں، یہ قاعدے اور قوانین پشتو زبان کی ان اصطلاحات کے ذریعے پہچان رکھتے ہیں جو زندگی کے مختلف امور سے متعلق ہیں۔ ہر اصطلاح اپنے معانی میں کسی قانون یا رسم ورواج کی تشریح وتعریف رکھتی ہے۔ پشتو زبان میں ہر رسم اور ہر قانون ان اصطلاحات کے ذریعے پختونوں میں جانا جاتا ہے۔

وہ جو کہتے ہیں کہ پختون ولی ایک ناتحریر شدہ آئین کی حیثیت رکھتی ہے تو اس لیے بھی کہ یہ صرف پشتو زبان میں زندہ ہے۔ جن لوگوں نے ’’پختون ولی‘‘ کے بارے میں پڑھا ہے وہ ان چند خصوصیات کے متعلق متفق ہیں جن میں ایک ’’میلمستیا‘‘ (مہمان نوازی) ہے جس میں اکثر اوقات میزبان اپنی اوقات سے بڑھ کر مہمان کے لیے کھانے کا بندوبست کرتا ہے۔ مہمان کا میزبان کے حجرے یا گھر میں داخل ہونے سے میزبان پر مہمان نوازی فرض ہوجاتی ہے۔ یہ مہمان نوازی شادی بیاہ اور کسی کی وفات کی رسم وراج کے وقت اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔ مہمان نوازی کے ساتھ پختون ولی میں ایک اور اہم جز ’’پناہ‘‘ دینا ہوتا ہے۔ پناہ ہر اس شخص کو دینا فرض ہوجاتا ہے جو پناہ دینے کی درخواست کرے۔

اور کسی کی پناہ میں رہ کر اس کا ’’ہمسایہ‘‘ بن جاتا ہے، مگر پناہ لینے والے کو اس علاقے اور قبیلے کے معاملات میں فیصلے کا اختیار نہیں ہوتا۔ پختون ولی میں ’’پناہ‘‘ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ جب کوئی مظلوم کسی ظالم کی زور زیادتی سے تنگ آکر پختونوں کے کسی علاقے یا گاؤں اور قبیلے کی حدود میں داخل ہوجاتا ہے تو گویا اس نے پناہ حاصل کی اور اپنی حفاظت مانگی۔ اس حفاظت اور بچاؤ کو پناہ کہا جاتا ہے۔ پناہ لینے والا کسی گاؤں، قبیلے اور علاقے میں پناہ حاصل کرلے پھر وہاں کے لوگوں کا فرض اور غیرت کا تقاضا گردانا جاتا ہے کہ پناہ لینے والے کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔ اس کی خاطر پناہ دینے والا شخص اور قبیلہ اپنی جان پر کھیل جاتا ہے۔ بڑی بڑی دشمنی اپنے سر لیتا ہے مگر پناہ لینے والے کی حفاظت کرتا ہے پناہ دینے میں بھی مہمان نوازی کی طرح کسی رنگ ونسل زبان اور مذہب کے امتیاز سے کام نہیں لیا جاتا ہے۔

اس طرح ایک دوسرا اہم جز پختون طرز زندگی میں ’’بدل‘‘ (انتقام) ہوتا ہے۔ عام اصطلاح میں بدل سے مراد انتقام لیا جاتا ہے، تاہم بدل اپنے اعلیٰ معنوں میں شریعت موسوی کی مانند ایک معاشرتی نظام عدل کا نام ہے ’’بدل‘‘ کے معنیٰ کو صرف خونی انتقام تک محدود نہیں کیا جاسکتا ہے جیسے کہ عام لوگوں کا خیال ہے اور جس کو کوئی اچھی نظر سے نہیں دیکھتا ہے۔ بدل صرف آنکھ کے بدلے آنکھ کا نام نہیں بل کہ دوستی اور سماجی زندگی کے لین دین میں اچھائی کے بدلے اچھائی اور احسان کے بدلے احسان کو بھی کہا جاتا ہے یا کسی کو اس کی شادی کے موقع پر کوئی تحفہ دے یا کسی آڑے وقت میں کسی کی مدد کرے تو وہ پھر اسے اپنے اوپر ایک قرض سمجھتا ہے اور کہتا ہے ’’دفلانی پہ ما بدل پور دے‘‘فلاں کا مجھ پر بدل قرض ہے۔

پختونوں کے معاشرے میں ’’جرگہ‘‘ نظام نے گاؤں محلے کے چھوٹے چھوٹے معمولی تنازعات سے لے کر قبیلے اور علاقے کے بڑے بڑے سنگین مسائل اور دشمنیوں تک کو بات چیت کے ذریعے پرامن طور پر حل کرنے کا بہترین فریضہ سرانجام دیا ہے۔ آج بھی اس کی اہمیت اور طاقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا تاہم پختون قوم اس وقت تین حصوں (خیبرپختون خوا، بلوچستان اور افغانستان) میں تقسیم ہے اور ایک الگ الگ سیاسی اور انتظامی ڈھانچے تلے زندگی گزار رہی ہے۔ اسی الگ الگ قانون اور نظام کے زیراثر جرگہ نظام کی اپنی اصل روح اور شکل پر بھی کچھ منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور جس طرح آج ملک کی عدالتیں، تھانے، کچہریاں اور دیگر دفاتر و ادارے رشوت و سفارش کے نرغے میں ہیں۔ اس طرح بعض علاقوں میں جرگہ کرنے والے یا ماہرین جرگہ بھی باقاعدہ پہلے اپنی فیس کا مطالبہ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے آج کے اکثر جرگوں میں جرائم پیشہ اور بدمعاش قسم کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس قسم کے جرگہ کرنے والے سنگین سے سنگین نوعیت کا مسئلہ اور تنازعہ باقاعدہ ٹھیکے پر لیتے ہیں۔

جرگہ اور حجرہ پختونوں کی زندگی میں لازم و ملزوم سمجھے جاتے ہیں اور دونوں روایات کا کردار بڑا مثبت رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی جن جن علاقوں میں جرگہ اور حجرہ اپنی اصل روح اور جواہر کے ساتھ موجود اپنا کردار نبھا رہے ہیں وہاں دیگر علاقوں کے مقابل جرائم، قتل و غارت، ڈاکا زنی اور اغواء جیسے جرائم کی شرح بہت کم ہے۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ پختونوں کا جرگہ نظام جمہوریت، عدل و انصاف اور اظہار رائے کی آزادی کا ایک بہترین فورم ہے۔ جرگہ نظام کے ساتھ دو رسمیں اور بھی ہیں جن کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔

ان میں ایک دستور کا نام ’’ننواتے‘‘ (کسی کے گھر میں داخل ہونا) ہے ۔ اپنی کسی غلطی پر پشیمان ہونے، کسی کا عذر کے ساتھ کسی کے پاس جانے یا اپنے مخالف کے گھر معافی مانگنے کیے لیے جانے کو پشتو میں ’’ننواتے‘‘ کہتے ہیں۔ اس لیے ’’ننواتے‘‘ کو تسلیم کرنا، آنے والے کو بخش دینا بھی ایک دستور ہے۔ اس دستور کے ذریعے بڑے بڑے جرائم اور قتل جیسے سنگین گناہ بھی بخش دیے جاتے ہیں۔ ’’ننواتے‘‘ میں اکثر علاقوں میں اپنے ساتھ دنبہ یا بکرا بھی ساتھ لے جایا جاتا ہے اور جب ننواتے منظور ہوجاتی ہے تو اس جگہ دنبہ یا بکرا ذبح کرکے مشترکہ طور پر کھانے کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ اس طرح جب خواتین اپنے کسی مخالف کے گھر بطور ننواتے جاتی ہیں تو اپنے ساتھ قرآن پاک بھی سر پر رکھ کر جاتی ہیں۔

دوسرے متعلقہ دستور کو ’’تیگہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ تیگہ پشتو میں پتھر کو کہا جاتا ہے۔ جب جرگہ دو فریقین کی آپس میں صلح کرانا چاہے تو بیچ میں ’’تیگہ‘‘ رکھ دیا جاتا ہے۔ یہ ایک علامتی پابندی ہوتی ہے کہ آپ دونوں اس وقت تک ایک دوسرے پر حملہ نہیں کریں گے جب تک جرگہ کا یہ فیصلہ سامنے نہیں آجاتا ۔ تیگہ کی خلاف ورزی کی جائے تو جرگہ خلاف ورزی کرنے والے فریق سے مقررہ جرمانہ بھی وصول کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اسے علاقہ بدر بھی کیا جاتا ہے اور اس سے قطع تعلق بھی کیا جاتا ہے جب کہ فیصلہ متاثرہ فریق کے حق میں دے دیا جاتا ہے۔ تیگہ کی روایت کو اب بعض علاقوں میں دورجدید کی اصطلاح میں عارضی جنگ بندی، فائر بندی (جسے پشتو میں ڈز بندی کہتے ہیں) جیسے نام دیے گئے ہیں۔

’’حجرہ‘‘ آپ جیسے ہی قبائلی معاشرے میں داخل ہوتے ہیں۔ آپ کی نظر ایک بڑی عمارت پر پڑتی ہے عام طور پر مٹی اور پھتروں کی بنی اس عمارت میں ایک بڑا اور وسیع وعریض کمرا اور ایک میدان ہوتا ہے جس میں جگہ جگہ چارپائیاں بچھائی جاتی ہیں اور تکیے لگے ہوتے ہیں۔ یہ ایک طرح سے قبائلیوں کا کلب اور کمیونٹی سینٹر ہوتا ہے اسے حجرہ کہتے ہیں۔ یہ اس لحاظ سے مذکورہ کیمونٹی سینٹر یا کلب سے ممتاز حیثیت رکھتا ہے کہ اس کے کچھ تحریری رواج نہیں ہوتے، کوئی بھی اجنبی اس میں داخل ہو تو وہ پورے محلے یا قبیلے کا مہمان بن جاتا ہے اور اگر اس کو کوئی نقصان پہنچائے تو وہ شخص پورے محلے اور قبیلے کا دشمن بن جاتا ہے۔ حجرے میں ہر عمر کے مرد افراد بیٹھ سکتے ہیں۔

گاؤں، محلہ اور قبیلے کے تمام اہم فیصلوں کے علاوہ ملک کی سیاسی، معاشی اور تہذیبی صورت حال پر بحث مباحثے بھی اسی مرکز میں ہوتے ہیں کسی کی فوتگی کے وقت تین دن تک فاتحہ خوانی بھی حجرے میں ہوتی ہے گاؤں اور محلہ والے والے تین دن تک فوتگی والے گھر میں کھانا لاتے ہیں اور اس گھر میں تین دن تک چولہا نہیں جلنے دیا جاتا۔ حجرے میں عورت کے آنے پر سخت پابندی ہے کوئی عورت حجرے میں آنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ پہلے عموماً پورے گاؤں اور محلے کا ایک ہی حجرہ ہوا کرتا تھا اور وہاں آنے والا مہمان سب کا مشترکہ مہمان سمجھا جاتا تھا اور ان کی مہمان نوازی سب مشترکہ طور پر کیا کرتے تھے۔ تاہم اب حجرہ صرف غمی اور خوشی کے مواقع پر آباد رہتا ہے کیوں کہ اب ہر کسی نے اپنے لیے الگ الگ حجرہ، ڈرائنگ روم اور بیٹھک بنایا ہوا ہے۔

The post ’’پختون ولی‘‘ کیا ہے؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3ciqwha

تحویل قبلہ کا حکم

تحویل قبلہ سمجھنے کے لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ قبلے کی تاریخ پر ایک مختصر سی نظر ڈال لی جائے۔

کعبہ، یہ نام کعبہ کی تعکیب یعنی مربع ہونے کی وجہ سے پڑ گیا لغوی اعتبار سے ہر بلند اور مربع عمارت کو کعبہ کہتے ہیں۔ قرآن حکیم کی سورۂ آل عمران آیت96میں اس کا پرانا نام بکّہ آیا ہے جس کے معنی توڑ دینے کے ہیں۔ گویا کعبہ کو بکہ اس لیے بھی کہتے ہیں کہ یہ سرکش لوگوں کی گردن توڑ دیتا ہے۔ بعد میں یہی نام شہر مکہ کا بھی پڑ گیا۔

کعبہ کی تعمیر کے سلسلے میں مختلف روایات آئی ہیں۔ ارزقی لکھتے ہیں کہ کعبہ کی تعمیر فرشتوں نے کی تھی۔ اس وقت حضرت آدم ؑ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ اس کے اثبات میں حضرت زین ؓ العابدین سے منقول ایک روایت اور ایک روایت حضرت ابن عباسؓ سے نقل کی ہے۔ النودی نے بھی تہذیب الاسماء واللغات میں فرشتوں کی تعمیر کا ذکر کیا ہے۔ اس کے بعد حضرت آدم ؑ نے کعبہ کی تعمیر کروائی۔ ایک اور روایت میں حضرت نوحؑ کے حج کا ذکر ملتا ہے۔ پھر اس کی تعمیر حضرت ابراہیم ؑ نے کی جس کا ذکر ہمیں قرآن حکیم میں سورۂ بقرہ میں ملتا ہے۔ یہاں بھی تعمیر سے قبل چند تاریخی حوالات کا ذکر برمحل ہوگا۔

جدالانبیاء حضرت ابراہیم ؑ کی دو بیویاں تھیں (۱) حضرت ہاجرہ ؓ(۲) حضرت سارہؓ۔ حضرت ہاجرہؓ کے بطن سے حضرت اسماعیل ؑپیدا ہوئے تھے یہ آپؑ کے پہلے بیٹے تھے جب حضرت اسماعیل ؑ13برس کے ہوگئے تو حضرت سارہ ؓ کے بطن سے حضرت اسحٰق پیدا ہوئے۔ حضرت سارہ ؓ نے حضرت ابراہیم ؑ کو قسم دلائی کہ ہاجرہ ؓ اور اسماعیل ؑ کو لے کر کہیں چلے جائیں۔

یعنی انہیں اپنے گھر سے نکال دیں۔ چناںچہ حکم الٰہی ہوا کہ انہیں مکہ کی طرف لے جاؤ۔ آپؑ حکم الٰہی کے عین مطابق دونوں کو اس جگہ لے آئے، جہاں آج مکہ مکرمہ یعنی بیت الحرام ہے۔ یہ بے آب و گیا صحرا تھا۔ آپؑ نے ان دونوں کے قریب کھجور کا ایک تھیلا اور پانی کا مشکیزہ رکھ دیا اور شام کی جانب چل دیے۔ بی بی ہاجرہ ؓ دوڑتی ہوئی آئیں اور پوچھا آپ کہاں جا رہے ہیں؟ اور ہمیں کس پر چھوڑے جا رہے ہیں؟ آپؑ نے جواب دیا ’’اللہ پر۔‘‘ پھر پوچھا کیا اللہ نے آپؑ کو حکم دیا ہے؟ فرمایا ’’ہاں ‘‘ تب وہ یوں گویا ہوئیں ’’پھر تو ہمیں وہ ضائع نہیں کرے گا۔‘‘ اور یہ کہتے ہوئے واپس لوٹ آئیں۔

حضرت ابراہیم ؑکچھ آگے بڑھ کر دعا گو ہوئے ’’اے پروردگار! میں نے اپنی اولاد کو ایک بنجر زمین (وادی) میں چھوڑ دیا ہے جو تیرے حرمت والے گھر کے پاس ہے کہ وہ نماز قائم کریں تو لوگوں کو ان کی طرف مائل کردے اور انہیں پھل عطا فرما کہ وہ تیرا شکر ادا کرسکیں۔‘‘ (سورۂ ابراہیم آیت 37) نبی کی دعا تھی اثر کیوں نہ ہوتا؟ فوراً ہی قبیلۂ بنو جرہم کا قافلہ وہاں سے گزا۔ انہوں نے بی بی ہاجرہؓ سے وہاں قیام کی اجازت چاہی جو منظور کرلی گئی۔

پھر حضرت ہاجرہؓ نے اسی قبیلے میں حضرت اسماعیل ؑ کی شادی کردی، جس کے بعد حضرت ہاجرہ ؓ کا انتقال ہوگیا۔ اس دوران دو مرتبہ حضرت ابراہیم ؑمکہ مکرمہ تشریف لائے تھے مگر یہاں قیام نہیں فرمایا تھا، مگر جب تیسری مرتبہ تشریف لائے تو آپؑ کو حکم ہوا ’’ابراہیم کعبہ کی تعمیر کرو۔‘‘ آپؑ نے حکم خداوندی کا اظہار اپنے پیارے بیٹے اسماعیل ؑ سے کیا۔ بیٹے نے عرض کیا، ابا جان! حکم خداوندی کی اطاعت کیجیے۔

کعبہ کی ابتدائی تعمیر کے آثار مٹ چکے تھے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے بیٹے کے ساتھ مل کر اسے از سرنو تعمیر کیا۔ آپؑ نے اس کی تعمیر میں نہ مٹی استعمال کی اور نہ چونا۔ بس حضرت اسماعیل ؑ پتھر اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے اور حضرت ابراہیم ؑ ایک پر ایک پتھر رکھتے جا رہے تھے اور اس کی چھت بھی نہیں بنائی تھی۔ جب تعمیر بلند ہوگئی تو دونوں باپ اور بیٹے دعا کررہے تھے۔

’’اے پروردگار! ہم سے (یہ) قبول فرما تو سننے والا اور جاننے والا ہے۔‘‘ (سورہ بقرہ آیت 127) جب ابراہیم ؑ کعبہ کی تعمیر سے فارغ ہوگئے تو جبرئیل ؑ آئے اور انہوں نے تمام مقامات حج دکھائے پھر حکم دیا کہ لوگوں کو حج کے لیے بلاؤ ’’اعلان کر دیجیے لوگوں کو حج کے لیے۔ وہ آئیں گے پیدل اور دبلی اونٹنیوں پر سوار جو آئیں گی ہر وسیع گہرے راستے سے۔‘‘ (سورہ الحج آیت27) مجاہد لکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ ہر سال پیدل حج فرماتے تھے۔ ان کے علاوہ دیگر 75انبیاء بھی حج کی سعادت حاصل کر چکے تھے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ہر نبی نے حج کیا تھا۔

کعبہ کی تعمیر 11بار ہوئی تھی جس میں 8بار قبل از اسلام اور 3 مرتبہ بعثت نبوی کے بعد مختلف ادوار میں ہوئی۔ قبل از اسلام تعمیر میں یہ نام آتے ہیں (۱) فرشتے (۲) حضرت آدم ؑ (۳) شیث ؑ(۴) حضرت ابراہیم ؑ (۵) عمالقہ (۶) بنو جرہم (۷) قصّی (۸) قریش۔

بعدازسلام یہ نام تعمیر کروانے میں شریک ہوئے (۹) عبداللہ ابن زبیرؓ(۱۰) حجاج (۱۱) سلطان مراد رابع۔ ان تعمیرات میں صرف ایک خصوصیت یہ تھی کہ حضرت ابراہیم ؑ کی تعمیر حضرت آدم ؑ کی بنیاد پر تعمیر تھی گویا پیغمبر نے پیغمبر کی تقلید کی۔

کعبہ سے متعلق ایک دل چسپ حقیقت یہ ہے کہ اسے کسی بھی فرد یا بادشاہ نے ذاتی ملکیت قرار نہیں دیا بلکہ عرب کے بت پرست اور مشرکین بھی اسے بیت اللہ ہی کہہ کر پکارتے تھے۔ اقبال نے کیا خوب کہا ہے کہ

دنیا کے بت کدے میں پہلا وہ گھر خدا کا

ہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہمارا

ہر قوم اور ہر مذہب میں عبادات کے خاص امتیازی شعائر ہوتے ہیں جن کے بغیر ان کی شناخت مشکل سے ہوتی ہے ۔ یہ شعائر اکثر مستقل ہوتے ہیں۔ چناںچہ اسلام کے بھی کچھ شعائر ہیں جو قرآن سے ثابت ہیں (۱) کوہ صفاء و مروہ (سورہ بقرہ آیت158)(۲) مشعر حرام (مزدلفہ میں ) سورہ بقرہ آیت 198)(۳) خدا کے نام کی چیزیں ان کی بے حرمتی سے منع کیا گیا ہے۔ (سورہ مائدہ آیت2) (۴) خدا کی مقرر کی ہوئی ادب کی چیزیں ان کی عظمت رکھنا (سورہ الحج آیت32) (۵) قربانی کے اونٹ (سورہ حج آیت36) شعائر میں کوہ صفا و مروہ کے ساتھ خدا کے نام کی چیزوں میں بیت اللہ بھی شامل ہے، جو اس وقت کم وبیش ایک ارب مسلمانوں کا قبلہ ہے۔

اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک بیت المقدس پہلے سے موجود تھا تو دوسرے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ یہاں اس کا جواب یہی ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کی عبادت میں سب سے پہلی عبادت نماز ہے جو ہر روز پنجگانہ ادا کی جاتی ہے۔ انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی۔ اجتماعی طور پر امام کی اقتدا میں جسکی تمام حرکات وسکنات کی مقتدی پیروی کرتا ہے۔ فقہاء لکھتے ہیں کہ اگر مقتدی ایسا نہیں کریگا تو اس کی نماز ہی ادا نہیں ہوگی بشرطیکہ مقتدی کو کوئی شرعی عذر نہ ہو۔ ادائیگی نماز سے قبل نیت شرط ہے اور پھر قبلہ رو ہوکر زبان سے الفاظ ادا کرنا بس یہی ایک اصول ہے کہ جس کی بنا پر مسلمانوں کو ایک علیحدہ قبلہ دیا گیا جو حضرت ابراہیم ؑ کی یاد تازہ کرنے کے لیے توحید کا خاص مظہر بنا۔

یہودی اور عیسائی بیت المقدس کو قبلہ سمجھتے تھے۔ مشرکین مکہ اور کفار، کعبہ کو قبلہ سمجھتے تھے۔ آنحضور ؐ مقام ابراہیم کے سامنے نماز ادا فرماتے تھے جس کا رخ بیت المقدس کی طرف تھا۔ اس طرح آپؐ کی پیش نظر دونوں قبلے رہتے تھے اس طرح آپؐ نے 16ماہ تک نمازیں ادا فرمائی ہیں اور جب اسلام زیادہ پھیل گیا تو ضرورت کے تحت حکم ہوا ’’تم اپنا رخ مسجد الحرام کی طرف پھیرو اور جہاں کہیں رہو اسی طرف منہ پھیرو۔‘‘ (سورہ بقرہ آیت 142) یہ عظیم واقعہ وحی کی شکل میں نماز کے دوران مدینہ منورہ کی ایک مسجد میں پیش آیا جو آج کل مسجد قبلتین کے نام سے مشہور ہے، یعنی (دو قبلوں کی مسجد) اس میں چند سال قبل تک دو محرابیں تھیں جو دو قبلوں کی نشان دہی کر رہی ہیں۔ واضح ہوکہ اب مسجد اقصٰی کی سمت والی محراب ہٹا دی گئی ہے صرف اس کی سمت پر محراب کا نشان لگا دیا گیا ہے۔ تاکہ شناخت رہے کہ یہ قبلہ رخ تھا۔ معتمرو حجاج کرام پورے سال اس کی زیارت کرتے ہیں۔

تحویل قبلہ کے حکم نے یہودیوں کو چراغ پا کردیا۔ وہ اپنے آپ کو نصرانیوں سے بلند سمجھتے تھے۔ وہ منتیں مانتے تھے کہ بچہ زندہ رہے گا تو ہم اسے یہودی بنائیں گے (ابوداؤد)۔ مسلمانوں کا بھی قبلہ اب تک بیت المقدس ہی تھا۔ اس لیے وہ یہ بھی فخر کرتے تھے کہ مسلمانوں کا بھی یہی قبلہ ہے۔ لیکن جب کعبہ قبلہ بنا تو وہ برہم ہوگئے اور کہنے لگے محمدﷺ کو تو ہماری ہر بات کی مخالفت مقصود ہے۔

اس لیے قبلہ بھی بدل لیا۔ اس ضمن میں پھر وحی نازل ہوئی،’’سفہاء یہ اعتراض کریں گے کہ مسلمانوں کا جو قبلہ تھا اس سے ان کو کس نے پھیر دیا، کہہ دو کہ مشرق و مغرب سب خدا ہی کا ہے تیرا جو پہلے قبلہ تھا اس سے ان کو کس نے پھیر دیا، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ معلوم ہو جائے کہ پیغمبر کا پیرو کون ہے اور پیچھے پھر جانے والا کون ہے اور بلاشبہہ یہ قبلہ نہایت گراں اور ناگوار ہے بجز ان لوگوں کے جن کو خدا نے ہدایت کی ہے۔‘‘ (بقرہ آیت142) پھر دوسری جگہ ارشاد ہوا: ’’مشرق اور مغرب رخ کرنا یہی کوئی ثواب کی بات نہیں ثواب تو یہ ہے کہ آدمی خدا پر قیامت پر ملائکہ پر خدا کی کتابوں پر پیغمبروں پر ایمان لائے اور خدا کی محبت میں عزیزوں کو یتیموں کو، مسکینوں کو، مسافروں کو، سائلوں کو، غلاموں کو آزاد کرانے میں اپنی دولت دے۔‘‘ (سورہ بقرہ آیت 177)۔ یہودی منافقت کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے ساتھ نمازیں ادا کر رہے تھے تو جب سورۂ بقرہ کی یہ آیات نازل ہوئیں تو وہ اپنے قبلے کی طرف بھاگے۔ یوں ان کی منافقت کا راز تحویل قبلہ کی شکل میں فاش ہوگیا۔

اسی سورہ بقرہ کی آیات ہم سے تقاضا کرتی ہیں کہ ان تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے پیغمبر اسلامﷺ کے سچے پیروکار بنیں۔

The post تحویل قبلہ کا حکم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2ZQbDjG

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...