Urdu news

Monday, 31 August 2020

سندھ ہریالی کی راہ پر

تاریخی اعتبار سے کراچی اور اس سے ملحقہ کئی سو میل دور تک زیر زمین میٹھے پانی کا لیول ستر اسی فٹ سے زیادہ گہرائی پر ہوا کرتا تھا۔ جو اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ سندھ میں برسات سالانہ دو سو ملی میٹر سے بھی کم ہوا کرتی تھی۔ کراچی سے میرپور خاص جانے والے مسافر جب ریل میں دائیں بائیں دیکھا کرتے تھے تو خشک جھاڑیاں اور سورج کی تپش سے جلے ہوئے پودوں کو دیکھ کر ہی اپنا دل بہلا لیتے تھے، مگر گزشتہ چند برسوں سے علاقے کا رنگ ہی بدل گیا ہے۔

اگر اخبارات اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہفتہ بھر پہلے سرجانی میں تقریباً دو سو ملی میٹر برسات ریکارڈ کی گئی۔ اگر یہاں برسات کا رنگ ڈھنگ ان ملکوں جیسا ہوتا جہاں تواتر سے موسم گرما کے جاتے ہی برسات کے آنے کی توقع رکھتے۔ ساون کی آمد پر دھوم دھڑکا ہوتا۔ کھلے علاقوں میں کسان خود ہی گیہوں اور باجرے چھینٹ دیا کرتے جیساکہ بھارت کے دیہاتوں میں ہوتا ہے اور کچے اور چھوٹے مکانات بھی بارش کے حساب کتاب سے بنائے جاتے۔

لیکن آفت زدہ سرجانی کی کہانی سن کر یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہاں کے گاؤں گوٹھ کے لوگ برسات کی نعمتوں سے واقف ہی نہیں ہیں۔ یہی حال کراچی اور حیدرآباد کے شہروں کا ہے کہ نکاسی آب پر یہاں کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے ازخود یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ بارش تو کہیں آٹھ دس سال میں چند روزہ ہوتی ہے۔ اس کے لیے نہ خصوصی گھر بنانے چاہئیں نہ ایسی راہداریاں ہوں کہ پانی خوش اسلوبی سے نکل جائے۔

اس کے علاوہ آب پاشی کے لیے چھوٹے چھوٹے ڈیم جو بھارت کے تمام شہروں میں موجود ہیں یہاں پر ناپید ہیں۔ البتہ سپرہائی وے پر بائیں جانب ایک چھوٹا ڈیم ہے جس کا نام تھڈو ڈیم ہے۔ یہ کسی حد تک آب پاشی میں علاقائی لوگوں کے استعمال میں ہے۔ مگر چھوٹے ڈیم کا کلچر تو پاکستان میں ناپید ہے۔اگر کہیں کہیں ہوگا بھی تو عوام الناس اس کی فیضیابی سے دلچسپی نہیں رکھتے۔

البتہ سپرہائی وے پر تفریحات کے لیے سوئمنگ پول اور ریسٹ ہاؤس بنائے جا چکے ہیں، لیکن تعمیری اور زرعی اصلاحات کی طرف نہ حکومت کی توجہ ہے اور نہ ہی عوام کی۔ کیونکہ عوام تو حکومت کی راہ پر چلنا پسند کرتے ہیں۔ اسی لیے کراچی سے حیدرآباد تک زمینیں ویران پڑی ہیں۔

گزشتہ چند برسوں سے البتہ جو قافلے پاکستان سے اجمیر شریف کی درگاہ پر جاتے ہیں وہ وہاں پر جو دعائیں مانگتے ہیں ان میں یہ دعا بھی نمایاں ہوتی ہے کہ اللہ پاکستان کو بھی زرخیز کردے، کیونکہ اجمیر شریف کی پہاڑیوں سے جو پانی گزرتا ہے وہ بہت بڑے علاقے کو سیراب کرتا ہے۔ ہند کے حکمران اکبر نے سب سے پہلے درگاہ پر توجہ دی۔ بعدازاں مغلیہ خاندان کے دیگر دو حکمرانوں جہانگیر اور شاہجہان نے ڈیم نما تالاب، آناساگر کے کنارے بارہ دری اور باغات بنوائے جن کو دولت باغ کا نام دیا۔ ان باغات کی آبیاری اناساگر کے پانیوں سے آٹومیٹک طریقے سے ہوتی ہے۔ اناساگر پیالے کی طرح لبالب پانیوں سے بھرا ہوتا ہے اور فاضل پانی سرکتا ہوا بڑی کیاریوں میں گرتا ہے وہاں سے اوپر سے نیچے کی طرف چھوٹی کیاریوں میں پہنچ جاتا ہے۔

جب میں نے پاکستانی اخبارات میں یہ خبر پڑھی کہ گزشتہ دنوں سرجانی میں جو بارش ہوئی تھی تو اس کا بادل راجستھان سے چلا تھا۔ ظاہر ہے راجستھان میں بڑی ندیاں نہیں ہیں جن کی گہرائی اور پانی کا ٹھہراؤ اس قدر ہو کہ وہاں سے فیومز اٹھیں اور ایسے ملک میں جاکر برسیں جہاں قحط کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ خصوصاً تھر، میرپورخاص اور کراچی، حیدرآباد کے علاقوں کو اپنا نشیمن بنا لیں اور کراچی کے بعض علاقوں میں چند گھنٹوں میں 200ملی میٹر بارش ایک نئی تاریخ ہے،جس سے صوبہ سندھ کی ہریالی قابل دید ہوجائے گی۔

کراچی میں بارشیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیںمگر وہ تین تین چار چار سال کے وقفوں سے۔ اس لیے یہاں کے باسیوں کو آب پروری کی کوئی تربیت نہیں ہے۔ نہ ہی بچاؤ کی اور نہ ہی پانی کی ذخیرہ اندوزی کی۔ بس ایک دریائے سندھ ہے جس کے راستے میں کھیتی باڑی اور باغبانی کا راج ہے۔ باقی اگر آپ پورا سندھ دیکھیں تو چند مقامات چھوڑ کر ہر جگہ درختوں کے سوکھے پتے موجود ہیں۔ اسی لیے یہاں پر مویشیوں کی افزائش کا باقاعدہ کوئی انتظام نہیں ہے، البتہ اگر آپ دادو کی طرف یا سیہون شریف کی طرف جا رہے ہوں تو آپ اونٹوں کے قافلے بڑی تعداد میں دیکھیں گے جو ریگستانی ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔

مگر گزشتہ چند برسوں میں تو کراچی اور سندھ کے دوسرے شہروں نے اپنا روپ ہی بدل ڈالا ہے۔ اب سنا ہے کہ حکومت سندھ درختوں کی افزائش میں کوشاں ہے اور اس سال بقول اس کے کئی ہزار درخت لگائے گئے ہیں۔ کاش ایسا ہی ہو۔ مگر جو درخت لگائے گئے ہیں ان میں پھول اور پھل والے درخت نہیں ہیں۔ جب کہ ملائیشیا میں مہاتیر محمد نے ناریل اور کیلوں کے اتنے درخت لگائے ہیں کہ لوگوں کو اس کی خریداری کا کوئی شوق نہیں رہا۔ وہاں ناریل کے درختوں سے پکانے کا تیل بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستانی حکمرانوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ درختوں کی افزائش کا مطلب ملک میں کھانے پینے کی کفالت کی طرف ایک جدید قدم ہوگا۔

یہ سوچنا کہ چڑیاں اور دیگر پرندے ماحول کو آلودہ کردیں گے یہ غلط فہمی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ پرندے جب پولن کو توڑتے ہیں تو صرف اس کو استعمال ہی نہیں کرتے بلکہ انسانوں کے لیے مفید تر بنا دیتے ہیں۔ اسلام آباد میں جو سن ساٹھ میں شجرکاری کی گئی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پولن الرجی دور دور تک پھیل گئی اور وہاں لوگوں کا رہنا دشوار ہو گیا۔

لہٰذا درختوں کو لگانے سے پہلے یہ سوچنا ضروری ہے کہ کیا یہ درخت ہمارے انسانوں اور جانوروں کے لیے بار آور بھی ہے یا نہیں۔ شجرکاری کی مہم شروع کرنے سے پہلے پاکستان کے فاریسٹ آفیسروں کا مشورہ اور اردگرد کے دیگر ممالک کا دورہ ضروری ہے جو حکومت پاکستان ازخود منظم کرے۔اس طرح ملک کی معیشت بھی ایسی ہو جائے گی کہ دوسرے ملکوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی نوبت نہ آئے گی اور ہم بھار ت سے کہیں زیادہ آگے نکل جائیں گے۔ ہمارے یہاں اگر کسی قسم کی صنعتی منصوبہ بندی میں رکاوٹیں ہیں تو کم ازکم زرعی منصوبہ بندی تو کی جاسکتی ہے۔ جس میں زمینوں کی حد ملکیت کئی ہزار ایکڑ نہ ہو بلکہ منصوبہ بندی سے تقسیم کیا جائے تو پھر سپر ہائی وے پر دونوں جانب لہلہاتے درخت اور کھیتیاں نظر آئیں گی۔

The post سندھ ہریالی کی راہ پر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3gGxq20

اسرا ئیل کو تسلیم کرنے کا مسئلہ

جمعرات 13 اگست کو آخر کار اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین معاہدہ ہوگیا ۔ اس بات کا سہرا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سر ہے۔ اب اگلے مرحلے میں اومان اور بحیرین کا نام لیا جا رہا ہے ۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات نہایت قریبی اور گہرے ہیں۔ اس میں تاریخ ، ثقافت اور دینی عقائدکی ہم آہنگی کے علاوہ تجارت و معیشت کا بھی بڑا عمل دخل ہے ۔تاہم اس تاریخی معاہدے کے حوالے سے کوئی فوری رد ِ عمل سامنے نہیں آیا جس وجہ سے اس بارے میں کوئی تبصرہ کرنامناسب نہیں ہے۔

البتہ سعودی میڈیا نے اماراتی اقدام کو ان کا ’’ حق ‘‘ تسلیم کیا ہے ۔ غیر عرب ممالک میں ترکی نے اسرا ئیل کو نہ صرف تسلیم کیا ہوا ہے بلکہ تجارتی تعلقات بھی قائم ہیں، اسرائیل کے سیاح ہرسال ترکی آتے ہیں جس سے ترکی کو کافی ذرِمبادلہ بھی حاصل ہوتا ہے ، اس کے باوجود  ترکی نے اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان طے پائے جانے والے 13 اگست کے معاہدے کو مسترد کر دیا ہے۔ اُدھر دیگر غیر عرب برادر مسلم ملک ایران نے نہ صرف اس معاہدے کو نہایت سختی کے ساتھ مسترد کر دیا ہے بلکہ شدید غم و غصے کا اظہار بھی کیا ہے۔ پاکستان  کا ردعمل خاصا محتاط اور لچکدار ہے۔

مسئلہ کشمیر اور فلسطین ایک مدت ِ دراز سے حل طلب چلا آرہا ہے۔ ان دونوں مسائل کی نوعیت ایک جیسی ہے اور بہت سی باتیں مشترک ہیں۔ دونوں ہی مسائل کی وجہ سے عالمی امن کو سنگین خطرات لا حق ہیں۔ اتفاق سے دونوں ہی مسئلوں کے حل کی کنجی امریکا کے پاس ہے اور او آئی سی کا اثر ورسوخ بھی ان تنازعات کا حل تلاش کرنے میں بہت زیادہ ممدو معاون ثابت ہوسکتا ہے ۔

ہمیں 1980کی دہائی کے اواخر اور 1990  کی دہائی کے وسط کا وہ زمانہ بھی یاد ہے جب عرب  ممالک میں اسرائیل کا نام لینا بھی ممنوع تھا۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ امریکا کی کوشش سے طے پایا ہے ۔ سعودی عرب نے اس سلسلے میں واضح کیا ہے کہ اسرائیل پہلے فلسطین کی ایک ایسی آزاد اور خود مختار ریاست کے قیام کو قبول کر لے گا،بیت المقدس(یروشلم)جس کا دارالخلافہ ہوگا۔ یہ عندیہ گزشتہ21 اگست بروز جمعہ سعودی شاہی خاندان کے ایک اعلیٰ رکن کی جانب سے دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ ماضی میں شاہ عبداللہ (مرحوم) نے بھی یہی شرط رکھی تھی ۔

سعودی شاہی خاندان کے ان اعلیٰ رُکن کا نامِ نامی اسم ِ گرامی کسی تعارف کا محتاج نہیں،یہ صاحبِ موصوف ہیں شہزادہ ترکی الفیصل، سابق سعودی سفیر برائے امریکا۔ اس عہدے کے علاوہ وہ ماضی میں انٹیلی جنس چیف(Intelligence Cheif  ) کے انتہائی اہم عہدے پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل نے واشگاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ جب تک اسرائیل فسلطینوں کے ساتھ امن کے معاہدے پر دستخط نہیں کرتا اس وقت تک اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ یہ بات انھوں نے جرمنی کے حالیہ دورے میں جرمن وزیر ِ خارجہ کے ساتھ برلن میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔

ادھر وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بھی یہ کہہ کر اپنے ملک کا موقف بیان کر دیا ہے کہ جب تک فلسطین کی ریاست کا قیام عمل میں نہیں آتا اُس وقت تک پاکستان بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرسکتا۔ اسلام آباد میں فلسطین کے سفارت خانے کی جانب سے جاری کیے گئے میڈیا بیان میں حکومت ِ فلسطین اور فلسطینی عوام نے وزیر ِ اعظم عمران خان کو پرُ زور الفاظ میں خراج ِ تحسین ادا کیا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطین کی عوام پاکستان کواپنا دوسرا گھر اور پاکستان کے لوگوں کو اپنے برادرانِ عزیز مانتے ہیں ۔

وزیر ِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ فلسطین کے مسئلے پر ہمارا موقف بالکل واضح اور بانیِ پاکستان قائد ِ اعظم محمد علی جناح ؒ کے نقطہ نظر کے عین مطابق ہے۔ اگر ہم نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا تو ہمیں بھارت کے غیر قانونی طور پر زیرِ تسلط مقبوضہ کشمیر پر بھی اپنے موقف اور دعویٰ سے دستبر دار ہونا پڑے گا۔

حقیقت بھی یہی ہے مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین میں بڑی گہری مماثلت ہے۔ بس دونوں میں فرق صرف اتنا سا ہے کہ اول الذکر میں غاصب ِ ہنود ہیںجب کہ دوسرے مسئلے میں غاصبِ یہود ہیں اور دونوں کا آپس میں بڑا زبردست گٹھ جوڑ ہے ۔ یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ کے لاہور میں منعقدہ تاریخی اجلاس میں بتاریخ 23مارچ 1940 میں قرار دادِ پاکستان کے ساتھ ساتھ قرار دادِ فلسطین بھی منظور کی گئی تھی ۔

The post اسرا ئیل کو تسلیم کرنے کا مسئلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/32G7zCt

بارش کی تباہ کاریاں

جب شہر بسائے جاتے ہیں تو سب سے پہلے گندے پانی کی نکاسی کے علاوہ بارشوں کے پانی کے آسانی سے بہاؤ کا انتظام کیا جاتا ہے، ممبئی جیسے بڑے شہر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ گندے اور بارشوں کے پانی کی نکاسی کا ایسا انتظام ہے کہ بارشیں کتنی ہی شدید کیوں نہ ہوں آدھے گھنٹے میں پانی نکل جاتا ہے اور ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ سخت بارش ہوئی ہے اس کے برعکس ہمارے ملک کا حال یہ ہے کہ سارے سال گندے پانی کی نکاسی کا کوئی اہتمام نہیں ،ہر گلی گٹر کا منظر پیش کرتی ہے۔

اگست میں کراچی سمیت ملک بھر میں شدید بارشیں ہوئیں، ہر سال مون سون میں جب بارشیں ہوتی ہیں تو سڑکیں تالاب بن جاتی ہیں اور بارش کا پانی سڑکوں اور گھروں کو تالاب بنا دیتا ہے۔ پانی اور بجلی کے کرنٹ سے بے شمار جانیں ضایع ہو جاتی ہیں اور غریبوں کی بستیوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ آبادیاں اور سڑکیں تالابوں میں بدل جاتی ہیں اور مکین سروں پر ضروری سامان رکھ کر جائے پناہ کی تلاش میں نکل جاتے ہیں۔

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے جہاں ڈھائی کروڑ انسان بستے ہیں۔ حال یہ ہے کہ ایک بارش میں شہر جل تھل ہو جاتا ہے، قیمتی جانی نقصان کے علاوہ غریب بستیوں کے مکینوں کے اثاثے بارش کے پانی کی نظر ہو جاتے ہیں اور ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں رہتی۔ اول تو غریب طبقے کے اثاثے ہوتے کیا ہیں، کھانے پینے کا سامان، چند چارپائیاں، میلے کچیلے بستر، دو تین ٹین کے صندوق یہی ان کی کل کائنات ہوتی ہے جو بارش کے پانی کی نظر ہو جاتی ہے۔

کراچی پاکستان کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہر ہے ، اس شہر میں بجلی کا عالم یہ ہے کہ بارش کی آمد کے ساتھ ہی بجلی کی روانگی لازمی ہو جاتی ہے۔ اوپر سے بارش اور شہر اندھیروں کی نظر،گھر کا سامان بارش کی نظر۔ ایک ہڑبونگ مچ جاتی ہے، خوف اور افراتفری کا عالم یہ ہوتا ہے کہ ایسا لگتا ہے، شہر پر حملہ ہو گیا ہے۔ ٹرانسپورٹ کا عالم یہ ہوتا  ہے کہ بارش کے چند چھینٹے پڑے، سڑکوں سے بسیں، منی بسیں، ٹیکسی، رکشہ سب غائب۔ بے چارے مکین سروں پر ضروری سامان اٹھائے، چھوٹے بچوں کو اپنی گودوں اور کندھوں پر بٹھائے، خواتین کو ساتھ لیے جائے پناہ کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں اور مسجدوں اور اسکولوں میں پناہ لیتے ہیں۔ یہ تو ہوا غریب بستیوں کا حال۔

اس کے برعکس امیروں کی بستیوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ سامان محفوظ، بارش کے پانی کی نکاسی کا بہتر انتظام، عام طور پر یہ بستیاں اس قسم کے عذابوں سے محفوظ ہوتی ہیں اور ایلیٹ کلاس کے لیے بارشیں رحمت بن کر آتی ہیں ، بچے، بڑے، عورتیں ، مرد خاص طور پر نوجوان طبقہ بارشوں کو خوب انجوائے کرتا ہے لیکن ہماری غیر محفوظ بستیوں میں بارش کو انجوائے کرنا جان جوکھم کا کام ہے۔ ہماری غریب بستیوں کا عالم یہ ہوتا ہے کہ گلیاں گندے پانی سے بھری رہتی ہیں اس پر بارش کا پانی نالوں کی طرح گلیوں میں بہتا ہے۔اکثر بچے کھیل کود کے شوق میں پانی میں اتر جاتے ہیں اور جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ہمارے یہاں دوسرے شعبوں کی طرح الیکٹریسٹی کا بھی عالم یہ ہے کہ بارش کی پہلی بوچھاڑ کے ساتھ ہی بجلی غائب۔

یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ کراچی جیسے ترقی یافتہ شہر گھنٹے آدھے گھنٹے کی بارش سے تالاب میں بدل جاتے ہیں اور کشتیاں چلنے لگتی ہیں۔ پاکستان کے اس سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہر میں گندے پانی کی نکاسی کا انتظام نہیں ہو سکا، شہر کی گلیاں گندے پانی سے اٹی ہوئی ہوتی ہیں جب بارش ہوتی ہے تو بارش کا پانی گندے پانی کے ساتھ گھروں کو تالاب بنا دیتا ہے اور گھر گندے پانی اور گندگی سے اٹ جاتے ہیں۔ بارشوں کے پانی سے جو بیماریاں پھیلتی ہیں اس سے انسانی جانوں کوخطرہ لاحق ہو جاتا ہے، سڑے ہوئے باتھ روموں سے غلاظت نکل کر گلیوں پھر سڑکوں پر آجاتی ہے، گلیاں محلے سب گندے پانی سے اٹ جاتے ہیں۔

اب تک گندے پانی اور بارشوں کے پانی کی نکاسی کا کوئی اہتمام نہیں ہو سکا، اس سے ہماری میونسپل کارپوریشن کی کارکردگی کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ ایک تو کرپشن کی بھرمار کی وجہ میونسپل کارپوریشنوں کا حال بدتر ہے، دنیا بھر میں میونسپل کارپوریشنیں آزاد اور خودمختار ہوتی ہیں، اس کا بجٹ علیحدہ ہوتاہے لیکن کراچی میں میونسپل کارپوریشن کو فنڈنگ صوبائی حکومت کرتی ہے، اس لیے میونسپل کارپوریشن اپنے ترقیاتی کاموں میں صوبائی حکومت کی محتاج ہوتی ہے جس کا نتیجہ ترقیاتی کام کھٹائی میں پڑے رہتے ہیں اور لوٹ مار کا بازار گرم رہتا ہے۔

کراچی کے مختلف علاقوں میں خالی جگہوں پر ہزاروں لوگ چٹائی کی بنی ہوئی جھگیوں میں رہتے ہیں۔ بارش میں نقصان اٹھانے والوں میں یہ جھگی نشین سرفہرست ہیں، بارش کا سارا پانی چٹائیوں کی مٹی دھول کے ساتھ ان پر گرتا ہے اور یہ سلسلہ گھنٹوں جاری رہتا ہے جس میں نومولود سمیت چھوٹے بچے، ضعیف اور بیمار اشخاص رات رات بھر پانی میں بھیگتے ہیں، یہ جھگی نشین کراچی کے مختلف علاقوں میں عشروں سے سکونت پذیر ہیں عموماً یہ لوگ خالی پلاٹوں یا سرکاری زمین پر رہتے ہیں اور جب چاہے نکالے جاتے ہیں چونکہ یہ لوگ عشروں سے بارش اور گرمی ،سردی برداشت کررہے ہیں۔

کیا یہ ممکن نہیں کہ انھیں ایسی جھگیاں ہی سہی بنا کر دی جائیں یا سیمنٹ کی چادروں کی چھت والی جھگیاں بنا کر دی جائیں تاکہ یہ ستم رسیدہ لوگ دھوپ بارش سردی سے محفوظ رہ سکیں۔ آرمی چیف کے حکم پر 73 ٹیمیں بارش زدگان کی مدد کر رہی ہیں، انھیں بارش زدہ علاقوں سے نکال کر محفوظ جگہوں پر پہنچایا جا رہا ہے، انھیں کھانا بھی فراہم کیا جا رہا ہے، یہ صورتحال ہر برسات میں پیدا ہوتی ہے۔ کیا اس کا مستقل حل تلاش کرکے انھیں یعنی جھگی نشینوں کو محفوظ مقامات پر مستقل طور پر شفٹ نہیں کیا جاسکتا، تیز اور مسلسل بارش سے بعض بند ٹوٹ گئے ہیں اور پانی آبادیوںمیں داخل ہو رہا ہے۔

The post بارش کی تباہ کاریاں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/34RP28I

بارشیں اور سیلاب

پاکستان کے چاروں صوبوں ‘شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے جہاں ندی نالوں میں طغیانی آئی ہوئی ہے وہیں دریاؤں میں بھی سیلابی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کی سطح مسلسل بلند ہوتی جا رہی ہے اور آنے والے دنوں میں بارشوں کے ساتھ دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی سے سیلاب بھی آ سکتا ہے۔

ادھر ملک بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔پنجاب کے بالائی علاقے ‘ آزاد کشمیر ‘خیبرپختونخوا اور شمالی علاقہ جات میں شدید بارشوں کی لپیٹ میں  ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ تیز ہے اور کئی علاقوں میں سیلاب کی کیفیت ہے ‘ کئی علاقوں میں کچے گھر گرنے کے باعث جانی نقصانات بھی ہو رہے ہیں۔

سندھ کا ذکر کیا جائے تو حالیہ مون سون میں یہاں ریکارڈ بارشیں ہوئی ہیں۔کراچی کا حال تو سب کے سامنے ہے‘ کراچی میں مون سون بارشوں کا 7واں اسپیل شروع ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق رواں مون سون سیزن میں اب تک کراچی میں معمول سے 220 فیصد زائد بارشیں ہوچکی ہیں جب کہ اگست میں بارشوں کے کئی ریکارڈ بھی ٹوٹ چکے ہیں۔کراچی میں حالیہ بارشوں سے شہر کا تقریباًسارا انفرا اسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز گورنر ہاؤس سندھ کے قریب سڑک زمین میں دھنس گئی،جس کی وجہ سے وہاں ایک ٹریلر پھنس گیا ، کورنگی انڈسٹریل ایریا، جام صادق پل اور کازوے پر ٹریفک بری طرح جام ہو گئی۔ کے پی ٹی انٹرچینج اور قیوم آباد میں بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریںلگی رہیں ۔

اداروں کی ناکامی ‘وفاقی اور سندھ حکومت کی چپقلش اور وزراء کی بے تکی بیان بازیوں نے شہریوں کو اس قدر ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا کہ تنگ آ کر گزشتہ روز کراچی کلفٹن اور ڈیفنس کے رہائشی سڑکوں پر آ گئے۔انھوں نے شدیدحکومتی اداروں کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرہ کیا،شہریوں کی سی بی سی کے عملے سے تلخ کلامی بھی ہوئی‘مظاہرین کنٹونمنٹ بورڈ کے دفتر میں گھس گئے اور حکام کے خلاف شدید نعرے بازی کی،مشتعل شہری نو مور ٹیکس اور پولیس کے خلاف نعرے بلند کرتے رہے اوران کی پولیس کے ساتھ دھکم پیل بھی ہوئی ۔پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کرتی رہی تاہم مظاہرین کی جانب سے بھرپور مزاحمت کی گئی۔بعض اطلاعات کے مطابق پولیس نے شہریوں پر لاٹھی چارج بھی کیا۔ بہر حال معاملات سدھر گئے ۔

یہ صورت حال کیوں پیدا ہوئی‘اسے سمجھنے کے لیے کسی سائنسی یا حساب کے سوال کو حل کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ذرا سوچیے کہ کراچی کے جن علاقوں میں بارشوں کے بعد سڑکیں تالاب بن جائیں‘بارش کا پانی شہریوں کے گھروں میں داخل ہو جائے‘ان کا قیمتی سامان بارش کے پانی کی نذر ہو جائے اور اوپر سے ظلم یہ ہو کہ پانی کا نکاس بھی نہ ہو اورپھر بجلی بھی بند ہو جائے ‘وہ متعلقہ اداروں کے دفاتر میں شکایت درج کرانے کے لیے ٹیلی فون کریں تو وہاں کوئی اٹھانے والا نہ ہو تو پھرشہریوں کی ذہنی حالت کیا ہو گی اسے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔کراچی میں گزشتہ روز جو کچھ ہوا‘یہ ہمارے حکمران طبقوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔

یہ عوام کے غیض و غضب کا ایک معمولی سا مظاہرہ ہے۔ کراچی ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان میں خود کو سیاسی قائدین کہلانے والوں اور ان کے حاشیہ برداروں کے لیے وارننگ ہے کہ عوام ان کی جھوٹی اور الزام تراشی کی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں۔ اسی طرح سرکاری اداروں میں بیٹھی افسر شاہی اور سرکاری ملازمین کے لیے بھی یہ وارننگ ہے کہ اگر انھوں نے ایمانداری اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی تنخواہوں کو حلال ثابت نہ کیا تو ایک دن وہ آ جائے گا جب کراچی ہی نہیں بلکہ ملک کے ہر شہر کے لوگ سڑکوں پر آ کر سیاستدانوں اور افسر شاہی سے اپنا حساب خود کریں گے۔

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق کراچی میں بارشوں سے نقصانات اور متعلقہ اداروں کی ناقص کارکردگی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کی گئی ہے۔’’میڈیا اطلاعات کے مطابق درخواست گزار نے حکومت سندھ، کے ایم سی، ڈی ایم سیز اور کنٹونمنٹ بورڈز کو فریق بناتے ہوئے کہا کہ طوفانی بارش کے باوجود ادارے متحرک نہیں ہوئے، ان کا آپس میں کوئی رابطہ نہیں تھا جس کے باعث لوگوں کا زیادہ نقصان ہوا، سندھ ہائی کورٹ میں کئی روز پانی کھڑا رہا اور درجنوں گاڑیاں ڈوبی رہیں۔‘‘

اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ کراچی میںشہر کی صفائی کے ذمے دار اداروں کی کارکردگی صفر رہی ہے۔سندھ حکومت بھی عوام کی توقعات پر پوری نہیں اتری۔وفاق میں برسراقتدار پی ٹی آئی میںکراچی سے منتخب ہونے والے ایم این ایز‘وزراء اور ایم پی ایز نے بھی اپنے ووٹروں کو مایوس کیا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان جو مرکز میں پی ٹی آئی کی اتحادی ہے‘ اس نے بھی کراچی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کوئی عوامی سطح پر سیاسی جدوجہد نہیں کی۔ جس کے باعث سندھ حکومت اور شہر کے انتظامی اداروں پر دباؤ بڑھتا۔ یہی وجہ ہے کہ تنگ آ کر لوگ خود سڑکوں پر آنا شروع ہو گئے ہیں اور معاملات اسی طرح جاری رہے تو صورت حال مزید خراب ہوتی جائے گی۔

مون سون کی شدید بارشوں کے باعث پورا کراچی شہر تالاب کی شکل اختیار کرگیا، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ گئیں، بارشوں کا پانی گلیوں اور گھروں سے اب تک نہیں نکالا جاسکا۔کئی علاقوں میں چار چا ر روز سے بجلی بھی بند ہے اور انھیں پینے کا پانی حاصل کرنے کے لیے بھی انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ کراچی شہر کی تباہی کے ذمے داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے ‘ اس میں کسی قسم کی مصلحت یا تعصب کا مظاہرہ کیے بغیر سب کو قانون کے مطابق عدالتوں میں طلب کیا جانا چاہیے۔

کراچی کی شہری انتظامیہ کی بیوروکریسی ہو ‘سندھ حکومت کے وزیراعلیٰ اور وزراء ہوں ‘ وفاقی اداروں کی بیوروکریسی ہو اور وفاقی وزراء ہوں جن کا بھی کراچی کے کسی معاملے سے کوئی تعلق بنتا ہے ان سب کو عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا چاہیے بلکہ قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کو قانون سازی کرنی چاہیے کہ گزشتہ چالیس برس میں کراچی ‘ لاہور‘ راولپنڈی‘اسلام آباد‘پشاور اور دیگر شہروں میں بغیرنقشے منظور کرائے جو خود رو آبادیاں قائم ہوئیں‘ اس کی اجازت کن افسروں نے کن با اثر سیاستدانوں یا وزراء کے کہنے پر دی۔اسی طرح سرکاری زمینوں پر جو قبضے ہوئے یا الاٹمنٹیں ہوئیں ‘ وہ کن کن خاندانوں کو عطا کی گئیں۔ اس معاملے میں جو جو ذمے دار ثابت ہوجائے ‘ اس سے ساری رقم واپس لی جائے اور اس کی ریٹائرمنٹ کو ڈسمثل میں تبدیل کر دیا جائے۔

سندھ میں کراچی کے علاوہ دیگر شہربھی ہیں۔ وہاں بھی کوئی حالات اتنے اچھے نہیں ہیں۔ گزشتہ روز میر پور خاص، تھر اور عمر کوٹ میںشدید بارش ہوئی ہے جب کہ سکھر، گھوٹکی، میرپور ماتھیلو، اوباڑو، شکارپور، کندھکوٹ اور پنوعاقل بھی بارش کی زد میں ہیں۔شدید بارشوں کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔

ان شہروں میں بھی سیوریج کا نظام بیٹھ گیا ہے جس کی وجہ سے گندا پانی بھی بارش کے پانی کے ساتھ مل گیا ہے۔ شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔جوہی میں کھیر تھر کے پہاڑی سلسلے سے آنے والے پانی کے باعث نئی گاج ندی میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بارش اور سیلاب کے باعث 300 دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

کراچی کے بعد لاہورپاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس شہر میں بھی جگہ جگہ کچی بستیاں آباد ہیں۔حالت یہ ہے کہ گندے نالوں کے عین کناروں کے اوپر بھی آبادیاں قائم ہیں۔نجی ہاؤسنگ سوسائٹیاں جن کی حدود میں کوئی گندا نالہ یا برساتی ڈرین آتی ہے تو وہ بھی پیسوں کے لالچ میں گندے نالوں کے قریب بھی پلاٹنگ کر دیتے ہیں۔

برساتی ڈرینز کو سیمنٹ کی سیلیبوں سے ڈھک دیتے ہیں۔ ماحولیات کے اصول کے تحت ایسا نہیں ہو سکتا۔ گندے نالوں کے دونوں کناروں پردو ڈھائی سو فٹ کے چوڑائی کے ساتھ پورے نالے پر ایسے موسمی درخت لگائے جاتے ہیں جو گندے نالوں سے اٹھنے والے تعفن کو جذب کر لیتے ہیںاور صبح صبح تازہ آکسیجن چھوڑتے ہیںاس سے کسی قسم کی بدبو نہیں آتی اور ماحول اور فضابھی صاف ستھرے رہتے ہیں۔

The post بارشیں اور سیلاب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3jv87ll

ملک میں کورونا کیسزکی تعداد میں نمایاں کمی

 اسلام آباد: ملک بھرمیں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وبا کے 300 نئے کیسزاور4 اموات رپورٹ ہوئیں۔

این سی اوسی کے مطابق ملک بھرمیں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وبا کے 300 نئے کیسزاور4 اموات رپورٹ ہوئیں جس کے بعد کورونا وائرس کے مجموعی مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 96 ہزار149 اورمجموعی اموات کی تعداد 6298 ہوگئی۔

ملک بھرمیں کورونا وبا کے فعال کیسزکی تعداد صرف 8881 ہے، صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد دولاکھ 80 ہزار970 ہو گئی ہے۔ سندھ میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 29 ہزار469، دوسرے نمبرپرپنجاب میں مریضوں کی تعداد 96 ہزار832، کے پی میں کورونا وائرس سے متاثرمریضوں کی تعداد 36118، بلوچستان میں تعداد 12879، اسلام آباد میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 15649، آزاد جموں وکشمیر2299 اورگلگت میں 2903 ہوگئی ہے۔

این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 20 ہزار 882 ٹیسٹ کیے گئے، ملک بھر میں اب تک 26 لاکھ 42 ہزار 028 ٹیسٹ ہو چکے، ‏ملک بھرکےاسپتالوں میں 92 مریض وینٹی لیٹرپر ہیں، اسپتالوں میں کوروناوینٹی لیٹرزکی تعداد 1920 ہے، ملک بھر میں 735 اسپتالوں میں کورونا مریضوں کے لیے سہولیات ہیں اوراس وقت 1 ہزار044 مریض ہسپتالوں میں داخل ہیں۔

کورونا وائرس اوراحتیاطی تدابیر

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیراختیارکرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اورہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکربیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پرکوئی اثرنہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اورہرایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

The post ملک میں کورونا کیسزکی تعداد میں نمایاں کمی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2ETrDc2

’’یہ‘‘ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارہ کرتے ہیں۔۔۔

شہر قائد میں بارشوں کا سلسلہ گذشتہ پندرہ روز سے وقتاً فوقتاً جاری ہے، محکمہ موسمیات نے موسلا دھار برسات کی پیشگی اطلاعات کے ساتھ شہر میں سیلابی صورت حال سے بھی خبردار کیا تھا۔۔۔ جس کے بعد ابتدائی بارشوں میں نکاسی کی ناکافی صورت حال کے حوالے سے صوبائی حکومت کی صفائی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے ’این ڈی ایم اے‘ آئی اور پھر یوں لگا کہ بس اب تو سب ٹھیک ہو گیا ہے۔

کراچی کے سب نالے صاف ہوگئے ہیں اور اب بارش ہوئی تو پانی دیکھنا کیسے اڑن چھو ہو جائے گا۔۔۔ مگر جمعرات 27 اگست 2020ء کو کراچی میں ہونے والی طوفانی بارش سبھی کے دعوے اپنے ساتھ بہا لے گئی، بھلا ہو کہ شدید بارشوں کا کئی دہائیوں کا ریکارڈ ٹوٹا اور حکام نے اس ’ٹوٹے ریکارڈ‘ کے پیچھے پناہ لی اور بڑی ہمت پیدا کر کے فرمایا کہ کیا کیجیے صاحب، ہم نے اپنا ’کام‘ کر دیا تھا، لیکن یہ موئی بارش ہی اتنی تیز ہوگئی، کہ بہت زیادہ پانی آگیا اور اتنی بارش تو دنیا میں کہیں بھی ہو جائے سبھی کچھ ڈوب جاتا ہے۔ کسی دل جلے نے اس میں ٹکڑا لگایا کہ ’ڈوب مرنے‘ کے سوا۔۔۔

دوسری طرف جدید ٹیکنالوجی سے آنے والی آفات اور مظاہر قدرت کے بارے میں بہت پہلے سے پتا چل جاتا ہے، تو کیا وجہ ہے کہ کراچی جیسے اہم ترین شہر کے لیے ریاست اتنا بھی اندازہ نہیں لگا سکی کہ اس کا نکاسی آب کا نظام کس قدر ناقص ہے یا اس کے نالے اور پانی کی قدرتی گزر گاہ کتنی کارآمد رہی ہیں۔۔۔ بارش کے پانی کی سیلابی صورت سے بچنے کے لیے کون کون سی جگہوں سے نکاسی کی رکاوٹوں کو دور کرنا چاہیے، مرکز میں گذشتہ دو برس سے بلند وبانگ دعووں والی ’پاکستان تحریک انصاف‘ برسراقتدار ہے، نواز شریف کی مسلم لیگ (ن) بھی اپنے پانچ سال گزار کر گئی ہے، کراچی میں جس کے دور کی گرین بس ابھی تک رل رہی ہے۔

صوبائی حکومت میں مسلسل 12 برس سے ’پاکستان پیپلز پارٹی‘ بیٹھی ہوئی ہے،  رہی ’متحدہ قومی موومنٹ‘ تو اسے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اپنے وجود کے ہی لالے پڑے ہوئے ہیں،  اس کی ’بلدیہ عظمیٰ‘ کا سارا وقت کبھی بے اختیاری کا رونا رونے اور باقی وقت پرسکون رہنے میں گزر گیا۔۔۔

یوں تو ملک بھر میں ہی غیر معمولی مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، لیکن کراچی اور سندھ بھر میں صورت حال کافی خراب ہو چکی ہے، حکومت سندھ کی جانب سے صوبے بھر کے  بیس اضلاع کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے، لوگوں کی داد رسی کی کارروائیاں جاری ہیں، لیکن موسمی آفت اپنے پیچھے بہت ساری کہانیاں اور سوالات چھوڑ گئی  ہے۔

مواصلاتی رابطوں کی معطلی نے صورت حال ابتر کر دی

شہر قائد میں موسلا دھار بارش کے بعد بجلی کی طویل بندش کا سلسلہ رہا۔ ’کے الیکٹرک‘ کے مطابق بہت سے علاقوں میں سیلابی صورت حال کے سبب حفظ ماتقدم کے طور پر یہ اقدام کیا گیا۔۔۔ جب کہ بہت سے علاقوں میں پانی جمع ہونے کے سبب پیدا ہونے والے نقص دور نہیں کیے جا سکے۔

اس لیے یہ سطور لکھے جانے تک مختلف علاقوں میں بجلی بحال نہیں ہو سکی تھی، بہت سے علاقوں میں جب اگلے روز بجلی بحال ہوئی، تو موبائل کے سگنل ہی غائب تھے اور لوگوں کو اپنے پیاروں کی خیریت دریافت کرنے میں شدید دشواری کا سامنا تھا۔۔۔ یہ آفت پر ایک اور آفت تھی، پھر رات گئے موبائل فون بحال ہو سکے جب کہ بہت سے علاقوں میں یہ بندش مسلسل جاری رہی۔ کہا گیا کہ محرم الحرام میں حفاظتی اقدام کو جواز بنا کر بھی اس بندش کو طول دیا گیا، حالاں کہ کچھ برسوں سے یہ سلسلہ موقوف ہو چکا تھا، اور اب ایک ایسے موقع پر جب پورا شہر ایک قدرتی آفت سے جوجھ رہا ہو، بنیادی رابطے بند کر دینا سنگین غفلت اور شہریوں کی زندگی خطرے میں ڈالنے والی بات تھی، کیوں کہ لائن والے فون اب بہت کم گھروں میں ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں شہری موبائل فون کے ذریعے ہی مدد طلب کرتے ہیں۔

عام آبادیوں کے مکینوں سے  لے کر صاحب ثروت لوگوں کے گھروں تک

برساتی پانی سے شہر کی کچی بستیوں اور نشیبی علاقوں کے ساتھ ڈیفینس سوسائٹی کے مختلف علاقوں میں بھی کئی فٹ پانی کھڑا ہے، لوگوں کے گھروں میں پانی داخل ہونے سے زیر زمین پانی کے ٹینک خراب ہوئے اور گھر کا قیمتی سامان برباد ہوگیا۔ شہر کی متوسط اور غریب بستیوں میں بھی صورت حال ابتر رہی۔ لوگوں کو فرنیچر اور قیمتی برقی آلات کی مد میں ہزاروں، لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ شہر کے مختلف بازاروں میں کھربوں روپوں کا سامان خراب ہوگیا۔

بند ٹوٹنے کی افواہیں اور پانی کے ریلے

جمعرات کے روز شدید بارش کے بعد رات کو شہر کے مختلف علاقوں میں اس وقت شدید سراسیمگی پھیل گئی، جب ملیر ندی کے ساتھ واقع دادا بھائی ٹاؤن کے علاقے سے متصل بند ٹوٹنے کی افواہیں  پھیل گئیں، جس کے نتیجے میں کراچی ایڈمن سوسائٹی، بلوچ کالونی، محمود آباد اور منظور کالونی وغیرہ کے مکینوں کو رات چھتوں پر بسر کرنے اور بہت سوں کو گھر خالی کرنے کی صلاح دی گئی۔۔۔

لاؤڈ اسپیکر پر اعلانات ہوئے کہ لوگ محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو جائیں، تاہم بعد میں صورت حال واضح ہوئی کہ بند نہیں ٹوٹا، بلکہ اس کے دروازے سے پانی کا اخراج ہوا تھا، جس کی وجہ سے پانی کا بہاؤ بڑھ گیا تھا، دروازہ بند کرنے کے بعد حالات قابو میں آگئے، لیکن خوف کی وجہ سے مکینوں نے رات جاگ کر گزاری، کیوں کہ شہر بھر میں سیلابی ریلے میں متعدد افراد کے بہہ جانے کی اطلاعات تھیں، جن کی لاشیں اگلے روز نکالی گئیں اور بہت سی لاشوں کی تلاش کا کام جاری ہے۔

سعید غنی کی ویڈیو کی ’صاف سڑکیں‘

27اگست کو شدید بارش کے بعد صوبائی وزیر سعید غنی سب ٹھیک کا پرچار کرتے ہوئے ’سوشل میڈیا‘ پر مختلف ویڈیو لگاتے رہے، جس میں وہ بتا رہے تھے کہ کراچی کی فلاں فلاں سڑک بالکل صاف ہے اور وہاں پانی بالکل نہیں ہے۔ صوبائی وزیر کے اس اقدام کو اہل کراچی کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ کراچی کی اکا دکا مثالوں کو پورے ڈوبے ہوئے شہر پر منطبق کر کے ہمارے زخموں پر نمک چھڑک ر ہے ہیں۔ کسی دل جلے نے کہا ہو سکتا ہے کہ صوبائی وزیر جہاں سے گزرتے ہوں، وہاں سے پانی اپنے آپ خشک ہو جاتا ہو، اس لیے ضروری ہے کہ انہیں سیلابی صورت حال کا سامنا کرنے والے علاقوں میں لے جا کر اس خوبی سے فائدہ اٹھایا جائے۔

سعید غنی مستقل یہ دعویٰ کرتے رہے کہ چند گھنٹوں میں ہی سڑکوں سے پانی نکال دیا گیا، ہر چند کہ پانی اپنے آپ ہی راستہ بنا گیا ہو۔ جب کہ ان کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ بھی تو اس اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پائے گئے کہ زیادہ برسات کے باوجود اب صورت حال پہلے سے اچھی ہے، کہ پہلے تو شاہراہ فیصل پر چار چار دن پانی کھڑا رہتا تھا۔ انھوں نے شہر بھر کے دورے کر کے بہت پھرتی دکھائی۔ وہ واٹر بورڈ، کے الیکٹرک، کنٹونمنٹ بورڈ وغیرہ کے دفاتر بھی پہنچے اور انھیں ’ہدایات‘ بھی جاری کرتے رہے، لیکن بات وہی ہے کہ اب جب موج دریا سر سے گزر گئی۔۔۔

سیوریج والے کہتے ہیں کہ ’بارش رکنے کی دعا کرو!‘

نارتھ ناظم آباد بلاک ’بی‘ سے زبیر مدنی بتاتے ہیں کہ ان کے علاقے میں بارش شروع ہونے سے پہلے ہی گیس بند ہو گئی تھی، تیسرا روز ہے، گیس بحال ہی نہیں ہوئی، اب گھر کے اندر تین فٹ پانی نے ہر چیز تباہ کر دی۔  پانی کی نکاسی کے لیے سیوریج والوں سے رابطہ کیا گیا، تو وہ بولے کہ بارش رکنے کی دعا کریں، پانی خود نکل جائے گا۔ یہ اربوں روپے ٹیکس دینے والے شہر کا حال ہے، ہم سے بہتر تو غیر قانونی طریقے سے قبضے کر کے گھر بنانے والے رہے، جو حکام چند ہزار بھتا دے کر گھر بناتے ہیں اور ساری بنیادی سہولیات سے مستفید ہوتے ہیں اور آفات کی صورت میں امداد لے کر پھر کہیں اور جم جاتے ہیں۔

بالآخر کراچی آفت زدہ قرار پایا

ابتداً حکومت سندھ کی جانب سے کراچی کے مضافاتی علاقے میمن گوٹھ اور ابراہیم حیدری کو آفت زدہ قرار دینے کی اطلاعات سامنے آئیں، تو ’سماجی ذرایع اِبلاغ‘ (سوشل میڈیا) پر شہریوں نے اس پر شدید ردعمل دیا اور اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے اسے ’حکومت سندھ‘ کا متعصبانہ رویے سے تعبیر کیا، کہ ایک ہفتے سے سرجانی ٹاؤن اور اس سے ملحقہ علاقے سیلابی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں، اور اب پورا کراچی ڈوب چکا ہے، بازاروں میں تاجروں کا اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے، گھروں میں لوگوں کے فریج اور دیگر قیمتی برقی آلات خراب ہوگئے، لیکن کیا وجہ ہے کہ ’حکومت سندھ‘ کو ان علاقوں کی آفت دکھائی ہی نہیں دے رہی۔ شاید یہ احتجاج رنگ لایا کہ پھر ’حکومت سندھ‘ کی جانب سے کراچی اور حیدرآباد کو سندھ بھر کے 20 اضلاع کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا۔

پیٹرول 250 روپے فی لیٹر فروخت ہوا

سیلابی صورت حال میں ملک کو 70 فی صد ریوینیو دینے والے شہر کے باسی جہاں صاف پانی، بجلی اور گیس جیسی بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہے تھے، وہیں شہر بھر میں بطور ایندھن استعمال ہونے والا پیٹرول بھی نایاب ہوگیا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض پمپ مالکان نے صارفین سے من مانے نرخ وصول کیے۔۔۔ ہماری اطلاعات کے مطابق محمود آباد اور بلوچ کالونی کے علاقے میں فی لیٹر پیٹرول کی قیمت 250 روپے تک وصول کی گئی، یوں کراچی کے باسیوں کو افتاد میں ایک اور افتاد کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔

’راستوں‘ کی عمارتیں ضرور گرائیں مگر۔۔۔

موسلا دھار بارش سے بے قابو ہوتی ہوئی صورت حال کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے عندیہ دیا کہ وہ برساتی نالوں کے راستوں پر تعمیر عمارتیں گرائیں گے، بعد ازاں انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ یہ عمارتیں گرا نہیں سکتے، انھوں نے 2001ء کے نظام کی خود مختار بلدیاتی حکومتوں پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ آبی گزرگاہوں اور نالوں پر تعمیرات کی اجازت دے کر شہر کی یہ حالت کی گئی۔ دوسری طرف ماہرین کہتے ہیں کہ ’ڈی ایچ اے‘ فیز 8 کے لیے جو زمین سمندر سے ’چھینی‘ گئی ہے، اس نے ملیر ندی کا آدھا راستہ روک لیا ہے، جب کہ فیز 7 ایکسٹینشن کے لیے کی گئی بھرائی نے بھی پانی کی گزرگاہ میں رکاوٹ کھڑی کی ہے۔

یہ امر شہر میں سیلاب کی صورت حال کی بڑی وجہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی تجاوزات کے خاتمے کے ساتھ ان کی تعمیرات میں مال بٹورنے والوں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، تاکہ تجاوزات کے نام پر شہریوں کو بے گھر کرنا ہی مقصد دکھائی نہ دے۔ شہری کہتے ہیں کہ وہ اپنے گھر کے آگے ایک چبوترا تک تو ’قانون‘ سے چھپ کر بنا نہیں سکتے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ شہر کے بیچوں بیچ اتنی تعمیرات ہوجائیں اور ’قانون‘ کو اس کی ہوا تک نہ لگی ہو؟ ’کراچی چیمبر آف کامرس‘ کے سابق صدر ہارون فاروقی کا کہنا ہے کہ ڈیفینس میں کون سی تجاوزات ہیں جو وہاں پانی بھرا۔ تاجر راہ نما سراج قاسم تیلی کہتے ہیں کہ ڈیفنس فیز 6 اور ملحقہ علاقوں میں پانی موجود ہے، خیابان نشاط، بدر، محافظ اور شہباز میں مکین بے یارو مددگار ہیں۔ ’ڈی ایچ اے‘ اور کنٹونمٹ بورڈ کلفٹن رہایشیوں کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔

 چائنا کٹنگ پھر موضوع بن گئی!

شہر میں سیلابی صورت حال کے بعد ایک بار پھر شہر میں غیر قانونی تعمیرات کا غلغلہ ہے۔ بہت سے حلقے موجودہ صورت حال کا ذمہ ’چائنا کٹنگ‘ کو قرار دے رہے ہیں، جہاں رشوتیں دے کر شہر کی مختلف زمینوں پر قبضے کیے گئے، نالوں پر دکانیں اور عمارتیں قائم کی گئیں۔۔۔ لیکن بات اتنی سیدھی ہے نہیں، یہ تو غیر قانونی قبضوں کے وہ ’ملزمان‘ ہیں جن کا نام آپ ڈنکے کی چوٹ پر لے سکتے ہیں اور انہیں قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ پورا سچ یہ ہے کہ کراچی میں غیر قانونی قبضوں اور تعمیرات کی تاریخ کوئی نئی نہیں اور اس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے علاوہ مبینہ طور پر کچھ ایسے بااثر لوگوں نے بھی اپنا پورا پورا حصہ ڈالا ہے کہ آپ جن کا نام بھی نہیں لے سکتے۔۔۔

سوال تو پھر وہی پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک ہی شہر میں آبادی کا سارا دباؤ ہوگا، تو پھر لامحالہ جس کے جہاں سینگ سمائیں گے، وہ وہاں چلا جائے گا۔۔۔ قطعہ نظر اس سے کہ غیر قانونی تعمیرات میں کوئی بھی ملوث تھا، ہماری ریاست نے اس پر اپنا کردار ادا کیوں نہیں کیا؟ اس پر بھی کھل کر بات ہونا چاہیے۔ عدالتی حکم پر عمارتیں گرا دینا اور قبضے اور غیر قانونی قرار دے کر سفید پوش خاندانوں کو کھلے آسمان تلے پھینک دینا بہت آسان ہے، کیوں کہ انہیں کسی سیاسی مافیا کی مدد حاصل نہیں ہے، ان کی جمع پونجی لٹ گئی، مال بنانے والے مال بنا کر ملک سے بھی نکل گئے، کوئی اگر برباد ہوا تو وہ جس کی زندگی بھر کی پونجی لٹ گئی اور اب اس کا اس شہر کے سوا کوئی اور گھر بھی نہیں، وہ جس نے عمر بھر کی کمائی لگا کر اپنے سر پر ایک چھت کر لی تھی، آج پھر مصیبتوں سے دوچار ہے، اس سمت بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔

بارشیں اور ’زیر زمین‘ پانی کی سطح

ان دنوں سندھ بھر کی طرح شہر قائد بھی غیر معمولی بارشوں کا سامنا کر رہا ہے۔ چند برس پہلے کراچی میں کم بارشوں کی شکایات عام ہوگئی تھیں۔۔۔ کچھ لوگوں نے ’گلوبل وارمنگ‘ کو اس کا سبب قرار دیا تو بہت سوں کا کہنا تھا کہ شہر میں بڑے پیمانے پر لگائے گئے غیر مقامی درخت ’کونوکارپس‘ کی وجہ سے کراچی سے باران رحمت روٹھ گئی ہے اور درجہ حرارت پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔

دوسری طرف شہر میں بڑھتی ہوئی پانی کی طلب کے باعث بڑے پیمانے پر کی جانے والی بورنگ سے زیر زمین پانی کی سطح نیچے چلی گئی تھی، جس سے گنجان آباد شہر کی عمارتوں کو شدید خطرات لاحق ہوگئے تھے، کیوں کہ زیر زمین نمی خشک ہونے سے زمین بھربھری ہو رہی تھی، جو عمارتوں کی بنیادوں کو سہارنے کی سکت کھو سکتی تھی۔۔۔ بہرحال اب باران رحمت جو اگرچہ بد انتظامی کے سبب کسی طور بھی رحمت دکھائی نہیں دیتی، اس سے یہ امید تو ہو چلی ہے کہ کراچی کے زیر زمین پانی کی سطح ضرور بہتر ہوگی اور اس شہر کی بلندوبالا عمارات کو لاحق خطرات میں کمی آئے گی۔ دوسری طرف بہت سے مکینوں کا کہنا ہے کہ بارش کے بعد ان کے بورنگ کے پانی کے کھارے پن میں نمایاں کمی محسوس کی گئی ہے۔

اتنی بارش کے بعد بھی پانی ’ٹینکر‘ سے ہی ملے گا؟

کراچی کی موسلا دھار بارش کے بعد جہاں ایک طرف شہر کو پانی فراہم کرنے والے ڈیم لبریز ہو چکے ہیں، وہیں شہری یہ سوال کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ بارش سے پانی تو اتنا آگیا کہ پورا شہر بھی ڈوب گیا، لیکن کیا اب اس آفت کے بعد ہم کراچی والوں کے گھروں کے خشک نلکوں میں بھی پانی آسکے گا۔۔۔؟ یا پھر ہمیں بدستور بورنگ کے کھارے پانی پر انحصار کرنا پڑے گا اور مہنگے داموں ٹینکر خرید کر اپنے گھروں میں ڈلوانے  پڑیں گے۔۔۔؟

کیا کوئی عوامی نمائندہ ہماری یہ آواز بھی اقتدار کے ایوانوں میں اٹھائے گا کہ بارش میں پانی پانی ہونے والے کراچی کو اتنی بارشوں کے بعد کم از اکم  ہمیں پانی کی لائنوں میں پانی مل سکے، دروغ برگردن راوی کہ پانی کا بحران پیدا ہی اسی لیے کیا جاتا ہے تاکہ شہر میں ’ٹینکر مافیا‘ کا راج چل سکے!

اور جب پانی ہمارے گھر کی دہلیز پار کرنے لگا۔۔۔

جمعرات کو موسلا دھار بارش کے دوران نہ صرف ہمارے غریب خانے کی چھتیں بھی ٹپکیں، بلکہ گلی اونچی ہونے کے سبب پانی گھر میں داخل ہونے کے خطرات بھی لاحق ہوگئے، جو نالی ہم نے گھر سے پانی باہر نکلنے کے لیے بنائی تھی وہ الٹا باہر کا پانی اندر لانے کا باعث بننے لگی، اس طرح فوری طور پر پانی کے ٹینک خراب ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔۔۔ شہر کراچی کے پانی کے بحران میں یہ خطرہ کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا، پہلے تو باہر سے آنے والے پانی کی رکاوٹ کھڑی کی اور اس کے بعد دیکھا تو نوتعمیر شدہ گلی میں گھر سے چند میٹر کے فاصلے پر ایک عدد ’اسپیڈ بریکر‘ پانی کی نکاسی میں رکاوٹ بنا ہوا ہے، جس کی وجہ سے اگلی گلیوں سے آنے والے پانی کے ریلے نے پانی کی سطح اونچی کر دی تھی۔۔۔ برسات برستے سمے پانی نالیوں میں بھی نہیں جا رہا تھا۔۔۔ بلکہ روڈ کی سمت کے مین ہول سے تو کسی فوارے کی طرح پانی ابلا پڑتا تھا۔۔۔ اس لیے فوری طور پر یہ ضروری تھا کہ ’اسپیڈ بریکر‘ سے پانی کی نکاسی کی جائے۔

تاکہ پانی کو گلی سے باہر جانے کا راستہ مل سکے۔ چناں چہ ہم نے گھر میں موجود کیل ٹھونکنے والی ہتھوڑی سے اسے توڑنے کی سعی کی، زیر آب گلی میں یہ ایک امر محال تھا، وہ تو بھلا ہو ہمارے پڑوسیوں کا کہ ان کے ہاں سے ایک عدد ’چھینی‘ میسر ہوگئی اور یوں یہ کام آسان ہوا، اس کے بعد گلی میں پانی کی سطح نیچی تو ہوئی، لیکن اندر جمع ہونے والے برساتی پانی کو تو بدستور باہر نکالنا تھا، یوں ہمہ وقت تین چار گھنٹے جب تک موسلا دھار بارش جاری رہی، یہ مشق مسلسل جاری رہی، ساتھ ہی نظر رہتی کہ اگر گلی سے پانی اونچا ہوا تو پھر اندر سے پانی نکالنا اور نہ نکالنا برابر ہو جائے گا، بہرحال اللہ کا کرم ہوا کہ ہماری مشقت کام آئی اور اس نوبت کے آنے سے پہلے برسات دھیمی پڑنے لگی، پھر پانی بھی نکلنے لگا اور گلی کے مین ہول بھی پانی قبولنے پر آمادہ ہوگئے، یوں تھوڑی دیر میں گلی کا پانی بھی ختم ہوا اور ہم نے بھی سکھ کا سانس لیا۔

The post ’’یہ‘‘ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارہ کرتے ہیں۔۔۔ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2GfWhNI

قائد اعظم کی مادر علمی سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کا 136 واں یوم تاسیس

آج پاکستان کی تاریخی درس گاہ سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کا 136واں یوم تاسیس ہے۔

یکم ستمبر 1885میں سندھ کے دارلخلافہ کراچی میں قائم ہونے والے جدید تعلیمی ادارے کا بنیادی مقصد سندھ کے مسلمانوں کے بچوں کو جدید تعلیمی زیور سے آراستہ کرنا تھا،سندھ مدرستہ الاسلا م جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے تاریخی اور معتبر تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے۔

اس ادارے کو یہ امتیاز حاصل رہا ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے تعلیمی کیرئیر کا سب سے زیادہ عرصہ 1887 تا 1892 تک اس ادارے میں گزارا، قائد اعظم محمد علی جناح کی یہ مادر علمی برصغیر پا ک وہند کے مسلمانوں کا علی گڑھ کالج کے بعد دوسرا جدید علمی ادارہ ہے،یکم ستمبر 1885 کو کراچی میں قائم ہونے والے اس عظیم ادارے کے سابق طلبانے قیام پاکستان اور اس کے بعد تعمیر پاکستان میں مرکزی کردار کیاہے۔

اس ادارے کو قائد اعظم محمد علی جناح نے 1943   میں یونیورسٹی کا درجہ دیا تھا اور یہ 2012 میں یونیورسٹی بنا، سندھ مدرسہ یونیورسٹی نے اپنے ایک سو پینتیس برسوں کے سفر میں ملک و قوم کی بڑی خدمت کی ہے، اس ادارے کے سابق طالب علموں نے زندگی کے ہر شعبے میں اپنی خدمات قومی جذبے کے ساتھ انجا م دی ہیںیہ ایک چارٹرڈ یونیورسٹی ہے، جو ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان سے منظور شدہ ہے۔

یونیورسٹی نے اپنے سفر کا آغاز پانچ شعبوں سے کیا جس میں درس و تدریس کیلیے اعلیٰ قابلیت اور تجربے کے حامل تدریسی عملے کی تقرری کی گئی جن میں سے تقریباً آدھے افراد پی ایچ ڈی ہیں، ان میں شعبہ ایجوکیشن، بزنس ایڈمنسٹریشن، میڈیا اسٹڈیز، کمپیوٹر سائنس اور انوائرمینٹل اسٹڈیز شامل ہیں جبکہ اس وقت اس میں مزید پانچ اور شعبہ جات کا اضافہ کیا گیا ہے جن میں سوشل ڈیولپمنٹ، اکاؤنٹنگ ،بینکنگ اور فنانس، آرٹیفیشل انٹلیجنس، سافٹ ویئر انجینئرنگ اور شعبہ انگلش شامل ہیں۔

یونیورسٹی کا سٹی کیمپس کراچی کے کمرشل حب  آئی آئی چندریگر روڈ کے نزدیک حبیب بینک پلازہ کے قرب میں واقع ہے یہ ساڑھے آٹھ ایکڑ کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور جس میں کالونیل دور کی خوبصورت عمارات بھی موجود ہیں یہا ں کی حسن علی آفندی لائبریری میں بیس ہزار سے زائد کتابیں موجود ہیں۔

سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے پاس جدید ترین کمپیوٹر لیبارٹریز میں سے ایک انفارمیشن ٹیکنالوجی لیبارٹری ہے۔ یونیورسٹی نے اپنے طالب علموں کومفت انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کر رکھی ہے ، یونیورسٹی کا ایف ایم ریڈیو ’وائس آف ایجوکیشن‘ (فریکوئنسی 96.6)کے نام سے بہت سے سامعین کی توجہ حاصل کر رہا ہے، یونیورسٹی سٹی کیمپس میں توسیع اور ایجوکیشن سٹی (نزدڈی ایچ اے سٹی)، کراچی کے نزدیک ایک اور کیمپس کا تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے جہاں 100 ایکڑ زمین ایس ایم آئی یو کو مختص کی گئی ہے، سٹی کیمپس میں اس وقت دو ٹاورز تعمیر ہوچکے ہیں۔

سندھ مدرسہ یونیورسٹی میں طالب علموں میں تحریر اور تحقیق کی صلاحیتیں پیدا کرنے کیلیے سیمینارز اور کانفرنسز بھی منعقد کی جاتی ہیں، اس کے ساتھ طالب علموں کی مختلف سوسائٹیز بھی قائم کی گئی ہیں، فیکلٹی کو بھی تحقیقی عمل میں شامل کرنے کیلیے ان کے ریسرچ جرنلز شایع ہورہے ہیں، شعبہ میڈیا اسٹڈیز اینڈ کمیونی کیشن کے طالب علم پندرہ روزہ اخبار بھی نکالتے ہیں۔

وائس چانسلر ڈاکٹر مجیب الدین صحرائی میمن کا کہنا ہے کہ انکا عزم ہے کہ وہ بانی پاکستان قائد اعظم کی مادر علمی کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی ٹاپ یونیورسٹیز کی سطح پر لے جائیں۔

The post قائد اعظم کی مادر علمی سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کا 136 واں یوم تاسیس appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2YT0M79

’’یہ‘‘ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارہ کرتے ہیں۔۔۔

شہر قائد میں بارشوں کا سلسلہ گذشتہ پندرہ روز سے وقتاً فوقتاً جاری ہے، محکمہ موسمیات نے موسلا دھار برسات کی پیشگی اطلاعات کے ساتھ شہر میں سیلابی صورت حال سے بھی خبردار کیا تھا۔۔۔ جس کے بعد ابتدائی بارشوں میں نکاسی کی ناکافی صورت حال کے حوالے سے صوبائی حکومت کی صفائی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے ’این ڈی ایم اے‘ آئی اور پھر یوں لگا کہ بس اب تو سب ٹھیک ہو گیا ہے۔

کراچی کے سب نالے صاف ہوگئے ہیں اور اب بارش ہوئی تو پانی دیکھنا کیسے اڑن چھو ہو جائے گا۔۔۔ مگر جمعرات 27 اگست 2020ء کو کراچی میں ہونے والی طوفانی بارش سبھی کے دعوے اپنے ساتھ بہا لے گئی، بھلا ہو کہ شدید بارشوں کا کئی دہائیوں کا ریکارڈ ٹوٹا اور حکام نے اس ’ٹوٹے ریکارڈ‘ کے پیچھے پناہ لی اور بڑی ہمت پیدا کر کے فرمایا کہ کیا کیجیے صاحب، ہم نے اپنا ’کام‘ کر دیا تھا، لیکن یہ موئی بارش ہی اتنی تیز ہوگئی، کہ بہت زیادہ پانی آگیا اور اتنی بارش تو دنیا میں کہیں بھی ہو جائے سبھی کچھ ڈوب جاتا ہے۔ کسی دل جلے نے اس میں ٹکڑا لگایا کہ ’ڈوب مرنے‘ کے سوا۔۔۔

دوسری طرف جدید ٹیکنالوجی سے آنے والی آفات اور مظاہر قدرت کے بارے میں بہت پہلے سے پتا چل جاتا ہے، تو کیا وجہ ہے کہ کراچی جیسے اہم ترین شہر کے لیے ریاست اتنا بھی اندازہ نہیں لگا سکی کہ اس کا نکاسی آب کا نظام کس قدر ناقص ہے یا اس کے نالے اور پانی کی قدرتی گزر گاہ کتنی کارآمد رہی ہیں۔۔۔ بارش کے پانی کی سیلابی صورت سے بچنے کے لیے کون کون سی جگہوں سے نکاسی کی رکاوٹوں کو دور کرنا چاہیے، مرکز میں گذشتہ دو برس سے بلند وبانگ دعووں والی ’پاکستان تحریک انصاف‘ برسراقتدار ہے، نواز شریف کی مسلم لیگ (ن) بھی اپنے پانچ سال گزار کر گئی ہے، کراچی میں جس کے دور کی گرین بس ابھی تک رل رہی ہے۔

صوبائی حکومت میں مسلسل 12 برس سے ’پاکستان پیپلز پارٹی‘ بیٹھی ہوئی ہے،  رہی ’متحدہ قومی موومنٹ‘ تو اسے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اپنے وجود کے ہی لالے پڑے ہوئے ہیں،  اس کی ’بلدیہ عظمیٰ‘ کا سارا وقت کبھی بے اختیاری کا رونا رونے اور باقی وقت پرسکون رہنے میں گزر گیا۔۔۔

یوں تو ملک بھر میں ہی غیر معمولی مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، لیکن کراچی اور سندھ بھر میں صورت حال کافی خراب ہو چکی ہے، حکومت سندھ کی جانب سے صوبے بھر کے  بیس اضلاع کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے، لوگوں کی داد رسی کی کارروائیاں جاری ہیں، لیکن موسمی آفت اپنے پیچھے بہت ساری کہانیاں اور سوالات چھوڑ گئی  ہے۔

مواصلاتی رابطوں کی معطلی نے صورت حال ابتر کر دی

شہر قائد میں موسلا دھار بارش کے بعد بجلی کی طویل بندش کا سلسلہ رہا۔ ’کے الیکٹرک‘ کے مطابق بہت سے علاقوں میں سیلابی صورت حال کے سبب حفظ ماتقدم کے طور پر یہ اقدام کیا گیا۔۔۔ جب کہ بہت سے علاقوں میں پانی جمع ہونے کے سبب پیدا ہونے والے نقص دور نہیں کیے جا سکے۔

اس لیے یہ سطور لکھے جانے تک مختلف علاقوں میں بجلی بحال نہیں ہو سکی تھی، بہت سے علاقوں میں جب اگلے روز بجلی بحال ہوئی، تو موبائل کے سگنل ہی غائب تھے اور لوگوں کو اپنے پیاروں کی خیریت دریافت کرنے میں شدید دشواری کا سامنا تھا۔۔۔ یہ آفت پر ایک اور آفت تھی، پھر رات گئے موبائل فون بحال ہو سکے جب کہ بہت سے علاقوں میں یہ بندش مسلسل جاری رہی۔ کہا گیا کہ محرم الحرام میں حفاظتی اقدام کو جواز بنا کر بھی اس بندش کو طول دیا گیا، حالاں کہ کچھ برسوں سے یہ سلسلہ موقوف ہو چکا تھا، اور اب ایک ایسے موقع پر جب پورا شہر ایک قدرتی آفت سے جوجھ رہا ہو، بنیادی رابطے بند کر دینا سنگین غفلت اور شہریوں کی زندگی خطرے میں ڈالنے والی بات تھی، کیوں کہ لائن والے فون اب بہت کم گھروں میں ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں شہری موبائل فون کے ذریعے ہی مدد طلب کرتے ہیں۔

عام آبادیوں کے مکینوں سے  لے کر صاحب ثروت لوگوں کے گھروں تک

برساتی پانی سے شہر کی کچی بستیوں اور نشیبی علاقوں کے ساتھ ڈیفینس سوسائٹی کے مختلف علاقوں میں بھی کئی فٹ پانی کھڑا ہے، لوگوں کے گھروں میں پانی داخل ہونے سے زیر زمین پانی کے ٹینک خراب ہوئے اور گھر کا قیمتی سامان برباد ہوگیا۔ شہر کی متوسط اور غریب بستیوں میں بھی صورت حال ابتر رہی۔ لوگوں کو فرنیچر اور قیمتی برقی آلات کی مد میں ہزاروں، لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ شہر کے مختلف بازاروں میں کھربوں روپوں کا سامان خراب ہوگیا۔

بند ٹوٹنے کی افواہیں اور پانی کے ریلے

جمعرات کے روز شدید بارش کے بعد رات کو شہر کے مختلف علاقوں میں اس وقت شدید سراسیمگی پھیل گئی، جب ملیر ندی کے ساتھ واقع دادا بھائی ٹاؤن کے علاقے سے متصل بند ٹوٹنے کی افواہیں  پھیل گئیں، جس کے نتیجے میں کراچی ایڈمن سوسائٹی، بلوچ کالونی، محمود آباد اور منظور کالونی وغیرہ کے مکینوں کو رات چھتوں پر بسر کرنے اور بہت سوں کو گھر خالی کرنے کی صلاح دی گئی۔۔۔

لاؤڈ اسپیکر پر اعلانات ہوئے کہ لوگ محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو جائیں، تاہم بعد میں صورت حال واضح ہوئی کہ بند نہیں ٹوٹا، بلکہ اس کے دروازے سے پانی کا اخراج ہوا تھا، جس کی وجہ سے پانی کا بہاؤ بڑھ گیا تھا، دروازہ بند کرنے کے بعد حالات قابو میں آگئے، لیکن خوف کی وجہ سے مکینوں نے رات جاگ کر گزاری، کیوں کہ شہر بھر میں سیلابی ریلے میں متعدد افراد کے بہہ جانے کی اطلاعات تھیں، جن کی لاشیں اگلے روز نکالی گئیں اور بہت سی لاشوں کی تلاش کا کام جاری ہے۔

سعید غنی کی ویڈیو کی ’صاف سڑکیں‘

27اگست کو شدید بارش کے بعد صوبائی وزیر سعید غنی سب ٹھیک کا پرچار کرتے ہوئے ’سوشل میڈیا‘ پر مختلف ویڈیو لگاتے رہے، جس میں وہ بتا رہے تھے کہ کراچی کی فلاں فلاں سڑک بالکل صاف ہے اور وہاں پانی بالکل نہیں ہے۔ صوبائی وزیر کے اس اقدام کو اہل کراچی کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ کراچی کی اکا دکا مثالوں کو پورے ڈوبے ہوئے شہر پر منطبق کر کے ہمارے زخموں پر نمک چھڑک ر ہے ہیں۔ کسی دل جلے نے کہا ہو سکتا ہے کہ صوبائی وزیر جہاں سے گزرتے ہوں، وہاں سے پانی اپنے آپ خشک ہو جاتا ہو، اس لیے ضروری ہے کہ انہیں سیلابی صورت حال کا سامنا کرنے والے علاقوں میں لے جا کر اس خوبی سے فائدہ اٹھایا جائے۔

سعید غنی مستقل یہ دعویٰ کرتے رہے کہ چند گھنٹوں میں ہی سڑکوں سے پانی نکال دیا گیا، ہر چند کہ پانی اپنے آپ ہی راستہ بنا گیا ہو۔ جب کہ ان کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ بھی تو اس اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پائے گئے کہ زیادہ برسات کے باوجود اب صورت حال پہلے سے اچھی ہے، کہ پہلے تو شاہراہ فیصل پر چار چار دن پانی کھڑا رہتا تھا۔ انھوں نے شہر بھر کے دورے کر کے بہت پھرتی دکھائی۔ وہ واٹر بورڈ، کے الیکٹرک، کنٹونمنٹ بورڈ وغیرہ کے دفاتر بھی پہنچے اور انھیں ’ہدایات‘ بھی جاری کرتے رہے، لیکن بات وہی ہے کہ اب جب موج دریا سر سے گزر گئی۔۔۔

سیوریج والے کہتے ہیں کہ ’بارش رکنے کی دعا کرو!‘

نارتھ ناظم آباد بلاک ’بی‘ سے زبیر مدنی بتاتے ہیں کہ ان کے علاقے میں بارش شروع ہونے سے پہلے ہی گیس بند ہو گئی تھی، تیسرا روز ہے، گیس بحال ہی نہیں ہوئی، اب گھر کے اندر تین فٹ پانی نے ہر چیز تباہ کر دی۔  پانی کی نکاسی کے لیے سیوریج والوں سے رابطہ کیا گیا، تو وہ بولے کہ بارش رکنے کی دعا کریں، پانی خود نکل جائے گا۔ یہ اربوں روپے ٹیکس دینے والے شہر کا حال ہے، ہم سے بہتر تو غیر قانونی طریقے سے قبضے کر کے گھر بنانے والے رہے، جو حکام چند ہزار بھتا دے کر گھر بناتے ہیں اور ساری بنیادی سہولیات سے مستفید ہوتے ہیں اور آفات کی صورت میں امداد لے کر پھر کہیں اور جم جاتے ہیں۔

بالآخر کراچی آفت زدہ قرار پایا

ابتداً حکومت سندھ کی جانب سے کراچی کے مضافاتی علاقے میمن گوٹھ اور ابراہیم حیدری کو آفت زدہ قرار دینے کی اطلاعات سامنے آئیں، تو ’سماجی ذرایع اِبلاغ‘ (سوشل میڈیا) پر شہریوں نے اس پر شدید ردعمل دیا اور اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے اسے ’حکومت سندھ‘ کا متعصبانہ رویے سے تعبیر کیا، کہ ایک ہفتے سے سرجانی ٹاؤن اور اس سے ملحقہ علاقے سیلابی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں، اور اب پورا کراچی ڈوب چکا ہے، بازاروں میں تاجروں کا اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے، گھروں میں لوگوں کے فریج اور دیگر قیمتی برقی آلات خراب ہوگئے، لیکن کیا وجہ ہے کہ ’حکومت سندھ‘ کو ان علاقوں کی آفت دکھائی ہی نہیں دے رہی۔ شاید یہ احتجاج رنگ لایا کہ پھر ’حکومت سندھ‘ کی جانب سے کراچی اور حیدرآباد کو سندھ بھر کے 20 اضلاع کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا۔

پیٹرول 250 روپے فی لیٹر فروخت ہوا

سیلابی صورت حال میں ملک کو 70 فی صد ریوینیو دینے والے شہر کے باسی جہاں صاف پانی، بجلی اور گیس جیسی بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہے تھے، وہیں شہر بھر میں بطور ایندھن استعمال ہونے والا پیٹرول بھی نایاب ہوگیا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض پمپ مالکان نے صارفین سے من مانے نرخ وصول کیے۔۔۔ ہماری اطلاعات کے مطابق محمود آباد اور بلوچ کالونی کے علاقے میں فی لیٹر پیٹرول کی قیمت 250 روپے تک وصول کی گئی، یوں کراچی کے باسیوں کو افتاد میں ایک اور افتاد کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔

’راستوں‘ کی عمارتیں ضرور گرائیں مگر۔۔۔

موسلا دھار بارش سے بے قابو ہوتی ہوئی صورت حال کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے عندیہ دیا کہ وہ برساتی نالوں کے راستوں پر تعمیر عمارتیں گرائیں گے، بعد ازاں انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ یہ عمارتیں گرا نہیں سکتے، انھوں نے 2001ء کے نظام کی خود مختار بلدیاتی حکومتوں پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ آبی گزرگاہوں اور نالوں پر تعمیرات کی اجازت دے کر شہر کی یہ حالت کی گئی۔ دوسری طرف ماہرین کہتے ہیں کہ ’ڈی ایچ اے‘ فیز 8 کے لیے جو زمین سمندر سے ’چھینی‘ گئی ہے، اس نے ملیر ندی کا آدھا راستہ روک لیا ہے، جب کہ فیز 7 ایکسٹینشن کے لیے کی گئی بھرائی نے بھی پانی کی گزرگاہ میں رکاوٹ کھڑی کی ہے۔

یہ امر شہر میں سیلاب کی صورت حال کی بڑی وجہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی تجاوزات کے خاتمے کے ساتھ ان کی تعمیرات میں مال بٹورنے والوں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، تاکہ تجاوزات کے نام پر شہریوں کو بے گھر کرنا ہی مقصد دکھائی نہ دے۔ شہری کہتے ہیں کہ وہ اپنے گھر کے آگے ایک چبوترا تک تو ’قانون‘ سے چھپ کر بنا نہیں سکتے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ شہر کے بیچوں بیچ اتنی تعمیرات ہوجائیں اور ’قانون‘ کو اس کی ہوا تک نہ لگی ہو؟ ’کراچی چیمبر آف کامرس‘ کے سابق صدر ہارون فاروقی کا کہنا ہے کہ ڈیفینس میں کون سی تجاوزات ہیں جو وہاں پانی بھرا۔ تاجر راہ نما سراج قاسم تیلی کہتے ہیں کہ ڈیفنس فیز 6 اور ملحقہ علاقوں میں پانی موجود ہے، خیابان نشاط، بدر، محافظ اور شہباز میں مکین بے یارو مددگار ہیں۔ ’ڈی ایچ اے‘ اور کنٹونمٹ بورڈ کلفٹن رہایشیوں کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔

 چائنا کٹنگ پھر موضوع بن گئی!

شہر میں سیلابی صورت حال کے بعد ایک بار پھر شہر میں غیر قانونی تعمیرات کا غلغلہ ہے۔ بہت سے حلقے موجودہ صورت حال کا ذمہ ’چائنا کٹنگ‘ کو قرار دے رہے ہیں، جہاں رشوتیں دے کر شہر کی مختلف زمینوں پر قبضے کیے گئے، نالوں پر دکانیں اور عمارتیں قائم کی گئیں۔۔۔ لیکن بات اتنی سیدھی ہے نہیں، یہ تو غیر قانونی قبضوں کے وہ ’ملزمان‘ ہیں جن کا نام آپ ڈنکے کی چوٹ پر لے سکتے ہیں اور انہیں قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ پورا سچ یہ ہے کہ کراچی میں غیر قانونی قبضوں اور تعمیرات کی تاریخ کوئی نئی نہیں اور اس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے علاوہ مبینہ طور پر کچھ ایسے بااثر لوگوں نے بھی اپنا پورا پورا حصہ ڈالا ہے کہ آپ جن کا نام بھی نہیں لے سکتے۔۔۔

سوال تو پھر وہی پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک ہی شہر میں آبادی کا سارا دباؤ ہوگا، تو پھر لامحالہ جس کے جہاں سینگ سمائیں گے، وہ وہاں چلا جائے گا۔۔۔ قطعہ نظر اس سے کہ غیر قانونی تعمیرات میں کوئی بھی ملوث تھا، ہماری ریاست نے اس پر اپنا کردار ادا کیوں نہیں کیا؟ اس پر بھی کھل کر بات ہونا چاہیے۔ عدالتی حکم پر عمارتیں گرا دینا اور قبضے اور غیر قانونی قرار دے کر سفید پوش خاندانوں کو کھلے آسمان تلے پھینک دینا بہت آسان ہے، کیوں کہ انہیں کسی سیاسی مافیا کی مدد حاصل نہیں ہے، ان کی جمع پونجی لٹ گئی، مال بنانے والے مال بنا کر ملک سے بھی نکل گئے، کوئی اگر برباد ہوا تو وہ جس کی زندگی بھر کی پونجی لٹ گئی اور اب اس کا اس شہر کے سوا کوئی اور گھر بھی نہیں، وہ جس نے عمر بھر کی کمائی لگا کر اپنے سر پر ایک چھت کر لی تھی، آج پھر مصیبتوں سے دوچار ہے، اس سمت بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔

بارشیں اور ’زیر زمین‘ پانی کی سطح

ان دنوں سندھ بھر کی طرح شہر قائد بھی غیر معمولی بارشوں کا سامنا کر رہا ہے۔ چند برس پہلے کراچی میں کم بارشوں کی شکایات عام ہوگئی تھیں۔۔۔ کچھ لوگوں نے ’گلوبل وارمنگ‘ کو اس کا سبب قرار دیا تو بہت سوں کا کہنا تھا کہ شہر میں بڑے پیمانے پر لگائے گئے غیر مقامی درخت ’کونوکارپس‘ کی وجہ سے کراچی سے باران رحمت روٹھ گئی ہے اور درجہ حرارت پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔

دوسری طرف شہر میں بڑھتی ہوئی پانی کی طلب کے باعث بڑے پیمانے پر کی جانے والی بورنگ سے زیر زمین پانی کی سطح نیچے چلی گئی تھی، جس سے گنجان آباد شہر کی عمارتوں کو شدید خطرات لاحق ہوگئے تھے، کیوں کہ زیر زمین نمی خشک ہونے سے زمین بھربھری ہو رہی تھی، جو عمارتوں کی بنیادوں کو سہارنے کی سکت کھو سکتی تھی۔۔۔ بہرحال اب باران رحمت جو اگرچہ بد انتظامی کے سبب کسی طور بھی رحمت دکھائی نہیں دیتی، اس سے یہ امید تو ہو چلی ہے کہ کراچی کے زیر زمین پانی کی سطح ضرور بہتر ہوگی اور اس شہر کی بلندوبالا عمارات کو لاحق خطرات میں کمی آئے گی۔ دوسری طرف بہت سے مکینوں کا کہنا ہے کہ بارش کے بعد ان کے بورنگ کے پانی کے کھارے پن میں نمایاں کمی محسوس کی گئی ہے۔

اتنی بارش کے بعد بھی پانی ’ٹینکر‘ سے ہی ملے گا؟

کراچی کی موسلا دھار بارش کے بعد جہاں ایک طرف شہر کو پانی فراہم کرنے والے ڈیم لبریز ہو چکے ہیں، وہیں شہری یہ سوال کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ بارش سے پانی تو اتنا آگیا کہ پورا شہر بھی ڈوب گیا، لیکن کیا اب اس آفت کے بعد ہم کراچی والوں کے گھروں کے خشک نلکوں میں بھی پانی آسکے گا۔۔۔؟ یا پھر ہمیں بدستور بورنگ کے کھارے پانی پر انحصار کرنا پڑے گا اور مہنگے داموں ٹینکر خرید کر اپنے گھروں میں ڈلوانے  پڑیں گے۔۔۔؟

کیا کوئی عوامی نمائندہ ہماری یہ آواز بھی اقتدار کے ایوانوں میں اٹھائے گا کہ بارش میں پانی پانی ہونے والے کراچی کو اتنی بارشوں کے بعد کم از اکم  ہمیں پانی کی لائنوں میں پانی مل سکے، دروغ برگردن راوی کہ پانی کا بحران پیدا ہی اسی لیے کیا جاتا ہے تاکہ شہر میں ’ٹینکر مافیا‘ کا راج چل سکے!

اور جب پانی ہمارے گھر کی دہلیز پار کرنے لگا۔۔۔

جمعرات کو موسلا دھار بارش کے دوران نہ صرف ہمارے غریب خانے کی چھتیں بھی ٹپکیں، بلکہ گلی اونچی ہونے کے سبب پانی گھر میں داخل ہونے کے خطرات بھی لاحق ہوگئے، جو نالی ہم نے گھر سے پانی باہر نکلنے کے لیے بنائی تھی وہ الٹا باہر کا پانی اندر لانے کا باعث بننے لگی، اس طرح فوری طور پر پانی کے ٹینک خراب ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔۔۔ شہر کراچی کے پانی کے بحران میں یہ خطرہ کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا، پہلے تو باہر سے آنے والے پانی کی رکاوٹ کھڑی کی اور اس کے بعد دیکھا تو نوتعمیر شدہ گلی میں گھر سے چند میٹر کے فاصلے پر ایک عدد ’اسپیڈ بریکر‘ پانی کی نکاسی میں رکاوٹ بنا ہوا ہے، جس کی وجہ سے اگلی گلیوں سے آنے والے پانی کے ریلے نے پانی کی سطح اونچی کر دی تھی۔۔۔ برسات برستے سمے پانی نالیوں میں بھی نہیں جا رہا تھا۔۔۔ بلکہ روڈ کی سمت کے مین ہول سے تو کسی فوارے کی طرح پانی ابلا پڑتا تھا۔۔۔ اس لیے فوری طور پر یہ ضروری تھا کہ ’اسپیڈ بریکر‘ سے پانی کی نکاسی کی جائے۔

تاکہ پانی کو گلی سے باہر جانے کا راستہ مل سکے۔ چناں چہ ہم نے گھر میں موجود کیل ٹھونکنے والی ہتھوڑی سے اسے توڑنے کی سعی کی، زیر آب گلی میں یہ ایک امر محال تھا، وہ تو بھلا ہو ہمارے پڑوسیوں کا کہ ان کے ہاں سے ایک عدد ’چھینی‘ میسر ہوگئی اور یوں یہ کام آسان ہوا، اس کے بعد گلی میں پانی کی سطح نیچی تو ہوئی، لیکن اندر جمع ہونے والے برساتی پانی کو تو بدستور باہر نکالنا تھا، یوں ہمہ وقت تین چار گھنٹے جب تک موسلا دھار بارش جاری رہی، یہ مشق مسلسل جاری رہی، ساتھ ہی نظر رہتی کہ اگر گلی سے پانی اونچا ہوا تو پھر اندر سے پانی نکالنا اور نہ نکالنا برابر ہو جائے گا، بہرحال اللہ کا کرم ہوا کہ ہماری مشقت کام آئی اور اس نوبت کے آنے سے پہلے برسات دھیمی پڑنے لگی، پھر پانی بھی نکلنے لگا اور گلی کے مین ہول بھی پانی قبولنے پر آمادہ ہوگئے، یوں تھوڑی دیر میں گلی کا پانی بھی ختم ہوا اور ہم نے بھی سکھ کا سانس لیا۔

The post ’’یہ‘‘ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارہ کرتے ہیں۔۔۔ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2GfWhNI

قائد اعظم کی مادر علمی سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کا 136 واں یوم تاسیس

آج پاکستان کی تاریخی درس گاہ سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کا 136واں یوم تاسیس ہے۔

یکم ستمبر 1885میں سندھ کے دارلخلافہ کراچی میں قائم ہونے والے جدید تعلیمی ادارے کا بنیادی مقصد سندھ کے مسلمانوں کے بچوں کو جدید تعلیمی زیور سے آراستہ کرنا تھا،سندھ مدرستہ الاسلا م جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے تاریخی اور معتبر تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے۔

اس ادارے کو یہ امتیاز حاصل رہا ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے تعلیمی کیرئیر کا سب سے زیادہ عرصہ 1887 تا 1892 تک اس ادارے میں گزارا، قائد اعظم محمد علی جناح کی یہ مادر علمی برصغیر پا ک وہند کے مسلمانوں کا علی گڑھ کالج کے بعد دوسرا جدید علمی ادارہ ہے،یکم ستمبر 1885 کو کراچی میں قائم ہونے والے اس عظیم ادارے کے سابق طلبانے قیام پاکستان اور اس کے بعد تعمیر پاکستان میں مرکزی کردار کیاہے۔

اس ادارے کو قائد اعظم محمد علی جناح نے 1943   میں یونیورسٹی کا درجہ دیا تھا اور یہ 2012 میں یونیورسٹی بنا، سندھ مدرسہ یونیورسٹی نے اپنے ایک سو پینتیس برسوں کے سفر میں ملک و قوم کی بڑی خدمت کی ہے، اس ادارے کے سابق طالب علموں نے زندگی کے ہر شعبے میں اپنی خدمات قومی جذبے کے ساتھ انجا م دی ہیںیہ ایک چارٹرڈ یونیورسٹی ہے، جو ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان سے منظور شدہ ہے۔

یونیورسٹی نے اپنے سفر کا آغاز پانچ شعبوں سے کیا جس میں درس و تدریس کیلیے اعلیٰ قابلیت اور تجربے کے حامل تدریسی عملے کی تقرری کی گئی جن میں سے تقریباً آدھے افراد پی ایچ ڈی ہیں، ان میں شعبہ ایجوکیشن، بزنس ایڈمنسٹریشن، میڈیا اسٹڈیز، کمپیوٹر سائنس اور انوائرمینٹل اسٹڈیز شامل ہیں جبکہ اس وقت اس میں مزید پانچ اور شعبہ جات کا اضافہ کیا گیا ہے جن میں سوشل ڈیولپمنٹ، اکاؤنٹنگ ،بینکنگ اور فنانس، آرٹیفیشل انٹلیجنس، سافٹ ویئر انجینئرنگ اور شعبہ انگلش شامل ہیں۔

یونیورسٹی کا سٹی کیمپس کراچی کے کمرشل حب  آئی آئی چندریگر روڈ کے نزدیک حبیب بینک پلازہ کے قرب میں واقع ہے یہ ساڑھے آٹھ ایکڑ کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور جس میں کالونیل دور کی خوبصورت عمارات بھی موجود ہیں یہا ں کی حسن علی آفندی لائبریری میں بیس ہزار سے زائد کتابیں موجود ہیں۔

سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے پاس جدید ترین کمپیوٹر لیبارٹریز میں سے ایک انفارمیشن ٹیکنالوجی لیبارٹری ہے۔ یونیورسٹی نے اپنے طالب علموں کومفت انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کر رکھی ہے ، یونیورسٹی کا ایف ایم ریڈیو ’وائس آف ایجوکیشن‘ (فریکوئنسی 96.6)کے نام سے بہت سے سامعین کی توجہ حاصل کر رہا ہے، یونیورسٹی سٹی کیمپس میں توسیع اور ایجوکیشن سٹی (نزدڈی ایچ اے سٹی)، کراچی کے نزدیک ایک اور کیمپس کا تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے جہاں 100 ایکڑ زمین ایس ایم آئی یو کو مختص کی گئی ہے، سٹی کیمپس میں اس وقت دو ٹاورز تعمیر ہوچکے ہیں۔

سندھ مدرسہ یونیورسٹی میں طالب علموں میں تحریر اور تحقیق کی صلاحیتیں پیدا کرنے کیلیے سیمینارز اور کانفرنسز بھی منعقد کی جاتی ہیں، اس کے ساتھ طالب علموں کی مختلف سوسائٹیز بھی قائم کی گئی ہیں، فیکلٹی کو بھی تحقیقی عمل میں شامل کرنے کیلیے ان کے ریسرچ جرنلز شایع ہورہے ہیں، شعبہ میڈیا اسٹڈیز اینڈ کمیونی کیشن کے طالب علم پندرہ روزہ اخبار بھی نکالتے ہیں۔

وائس چانسلر ڈاکٹر مجیب الدین صحرائی میمن کا کہنا ہے کہ انکا عزم ہے کہ وہ بانی پاکستان قائد اعظم کی مادر علمی کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی ٹاپ یونیورسٹیز کی سطح پر لے جائیں۔

The post قائد اعظم کی مادر علمی سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کا 136 واں یوم تاسیس appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2YT0M79

کے پی اسمبلی اڑانے کی دھمکی، ایم پی اے مولانا اعصام الدین معطل

 پشاور:  اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی مشتاق غنی نے اسمبلی کو بموں سے اڑانے کی دھمکی دینے والے جے یو آئی کے رکن اسمبلی مولانا اعصام الدین کومعطل کرتے ہوئے ایوان سے باہر نکال دیا جبکہ ان کے خلاف مذمتی قرارداد بھی منظورکرلی گئی جس کی اے این پی نے بھی حمایت کی۔

صوبائی اسمبلی کا اجلاس پیر کے روز جب اسپیکر مشتاق غنی کی زیر صدارت پانچ دنوں بعد شروع ہوا تو صوبائی وزیر محنت شوکت یوسفزئی نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ قبائلی رکن اعصام الدین نے اسمبلی پر خودکش حملے کی دھمکی دی لیکن اسپیکر نے ایکشن نہیں لیا، جمہوریت کیلئے بڑی قربانیاں دی گئی ہیں، یہ عام معاملہ نہیں ایسے افراد کو ٹکٹ کیوں دیے جاتے ہیں؟ ان کی پارٹی کیوں خاموش ہے؟ سیکورٹی فورسز نے قربانیاں دے کر امن قائم کیا۔

اس دوران جے یو آئی و ایم ایم اے ارکان نے ایوان میں شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے قرارداد کی منظوری اور مولانا اعصام الدین کو ایوان سے باہر نکالنے کے احکامات پر عمل درآمد رکوانے کی کوشش کی جو اجلاس میں وقفہ کے باعث ناکام ہوگئی جبکہ بعدازاں جے یو آئی ارکان نے بھی ایوان کی کاروائی کا بائیکاٹ کیا۔جے یو آئی نے مذکورہ کارروائی کو ناجائز جبکہ حکومت نے بالکل جائز قراردے دیا۔

The post کے پی اسمبلی اڑانے کی دھمکی، ایم پی اے مولانا اعصام الدین معطل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/31KjiAq

افغانستان میں تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں، پاکستان

 اسلام آباد:  پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان میں تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے جب کہ ایک وسیع البنیاد اور جامع سیاسی تصفیہ ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔

افغانستان پاکستان ایکشن پلان برائے امن و یکجہتی پر دوسرا جائزہ اجلاس کابل میں ہوا، ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری کے مطابق سیکریٹری خارجہ امور سہیل محمود کی قیادت میں سینئر دفتر خارجہ حکام نے پاکستان کی نمائندگی کی جبکہ افغانستان کے نائب وزیر خارجہ میرواعظ ناب نے افغانستان کی نمائندگی کی، اجلاس میں پاک افغان تعلقات کی تمام جہتوں کا جائزہ لیا گیا۔

پولیٹیکو ڈپلومیٹک ورکنگ گروپ میں پاکستان نے باضابطہ اعلی سطح کے تبادلوں، ایپٹیکا، جے ای سی سمیت موجودہ میکانزم کے استعمال ، معاشی شراکت میں اضافہ اور عوام سے عوام کے تبادلے کو تیز کرنے پر توجہ دی گئی۔

مہاجر ورکنگ گروپ نے پاکستان میں افغان مہاجرین سے متعلق تمام پہلوں پر تبادلہ خیال کیا پاکستان کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ امن اور مفاہمتی عمل سے افغان مہاجرین کی باوقار وطن واپسی کو ممکن بنایا جائے گا۔

The post افغانستان میں تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں، پاکستان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2DfzBMg

حکومت سندھ کا بارش کے متاثرین کی مالی معاونت کا فیصلہ

 کراچی:  حکومت سندھ نے بارش سے متاثرہ افراد کی مالی معاونت کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت سندھ کی جانب سے کراچی سمیت متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو بارش سے نقصانات کا تخمینہ لگانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز سے بارش سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ڈپٹی کمشنرز کو سات روز میں نقصانات پر مبنی رپورٹ محکمہ ریلیف میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ تباہ کن بارشوں کے باعث لوگوں کے مکانات، کاروبار، فصلوں اور گھریلو آلات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ اس ضمن میں ڈپٹی کمشنر ضلع ملیر نے بھی تمام تحصیلوں میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ طلب کیا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنرز کو تباہ حال گھروں، املاک، قیمتی سامان اور جانی نقصانات کی سروے رپورٹ دینے کی ہدایت کی ہے۔

The post حکومت سندھ کا بارش کے متاثرین کی مالی معاونت کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3jsjMkI

خود کشی کرنیوالی ڈاکٹر ماہا کے والد کا قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ

 کراچی:  ڈیفنس میں خود کو گولی مار کر خودکشی کرنے والی لیڈی ڈاکٹر ماہا علی شاہ کے والد آصف شاہ نے انفرادی طور پر قانونی جنگ لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم و دیگر متعلقہ حکام سے جنید کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیا۔

آصف شاہ نے اپنی بیٹی ڈاکٹر ماہا کو خودکشی پر مجبور کرنے اور خودکشی کا ذمہ دار اسپتال میں کام کرنے والے اس کے دوست جنید کو قرار دے دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ڈاکٹر ماہا کے دوست جنید نے اسپتال کے ٹیکنیشن وقاص کے ساتھ مل کر ایم ایل او تبدیل کرایا، جنید میری بیٹی ماہا کو بلیک میل کرتا رہا اس نے میری بیٹی کو جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔

متوفیہ کے ڈاکٹر ماہا کے والد آصف شاہ اکیلے ہی قانونی جنگ لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ جنید کا مکمل گینگ ہے جس میں لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ عرفان نامی ڈاکٹر کے کلینک کے اوپر بار موجود ہے جہاں منشیات کا کھلے عام استعمال کیا جاتا ہے ، میرے پاس ان کے خلاف بہت سارا مواد موجود ہے ،یہ لوگ تعلیمی اداروں میں منشیات کا کام کرتے ہیں ، میڈیا پر اعتماد ہے اور ان کے سامنے حقائق رکھوں گا ، ان لوگوں نے میری بیٹی کو ٹریپ کر کے بلیک میل کیا ، تابش نے پستول دی جبکہ جنید میری بیٹی پر تشدد بھی کرتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا تعلق پڑھی لکھی فیملی سے ہے میرے دادا کے کلاس فیلوز نواب اکبر بگٹی اور سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو تھے، ، بارشوں اور محرم کی وجہ سے میں پولیس کے مسائل سمجھ سکتا ہوں ان کا کہنا تھا کہ میری بیٹی تو چلی گئی مگر لوگ اپنی بیٹیوں کو جنید سے لوگوں سے بچائیں ، پولیس جنید کو اب تک گرفتار نہیں کر سکی جبکہ جنید نے میری بیٹی سے رشتے کے متعلق کبھی کوئی بات نہیں کی تھی ، ان کا کہنا تھا کہ میں انصاف کے حصول کے لیے ہر در پر جاؤنگا چاہے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنا پڑے۔

دریں اثنا مقامی عدالت نے ڈاکٹر ماہا خودکشی سے متعلق تفتیشی افسر سے پولیس فائل طلب کرلی۔ کراچی سٹی کورٹ میں ڈسٹرکٹ عدالت جنوبی کے روبرو ڈاکٹر ماہا خودکشی کیس کی سماعت ہوئی۔ ڈاکٹر ماہا کو اسلحہ فراہم کرنے والے ملزم تابش یاسین قریشی کے وکیل نے درخواست ضمانت دائر کی۔

عدالت نے درخواست پر تفتیشی افسر سے پولیس فائل طلب کرلی۔ سرکاری مدعیت میں درج مقدمے میں غیر قانونی اسلحہ اور ایما قتل کی دفعات شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ڈاکٹر ماہا کی خودکشی میں سعد کا پستول استعمال ہوا تھا۔ سعد کا لائسنس یافتہ اسلحہ تابش نے ڈاکٹر ماہا کو دیا۔ ملزم تابش جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے۔

The post خود کشی کرنیوالی ڈاکٹر ماہا کے والد کا قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3lv3d9I

مصباح الحق کا سر پکڑ کر بیٹھ جانا وسیم اور انضمام کو ایک آنکھ نہ بھایا

 لاہور:  مصباح الحق کا مایوسی میں سر پکڑکر بیٹھ جانا وسیم اکرم کو ایک آنکھ نہ بھایا۔

سابق کپتان کا کہنا ہے کہ ہیڈ کوچ کا کام ہے کہ مثبت نظر آئے، یاد رہے کہ مانچسٹر میں دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستانی بولرز کی پٹائی کے دوران مصباح الحق کو انتہائی مایوسی کے عالم میں ہاتھوں میں سر پکڑ کر بیٹھے دیکھا گیا۔

سابق کپتان وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ ٹیم اور بولرز کی پٹائی ہورہی تھی لیکن کوچ کی باڈی لینگویج بڑی اہمیت کی حامل ہے، ہاتھوں میں سر پکڑ کر بیٹھ جانا انھیں زیب نہیں دیتا۔

دوسری جانب سابق کپتان انضمام الحق نے بھی کہاکہ اس طرح کی باتوں سے بڑا غلط پیغام جاتا ہے،کوچ ایسا ردعمل ظاہر کرے تو ٹیم پر بْرا اثر پڑتا ہے، اسی طرح کا رویہ سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر کا بھی ہوتا تھا، اس کی کھلاڑی مجھ سے شکایت بھی کرتے رہے۔

The post مصباح الحق کا سر پکڑ کر بیٹھ جانا وسیم اور انضمام کو ایک آنکھ نہ بھایا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2EA5u2Z

گرین شرٹس کا زوال کی جانب سفر مزید تیز

 لاہور: پانچ میں سے چوتھی ٹی ٹوئنٹی سیریز ہارنے کا خطرہ پاکستان کے سر پر منڈلانے لگا جب کہ سرفراز احمد کی قیادت میں مسلسل 11بار سرخرو ہونے والے گرین شرٹس کا زوال کی جانب سفر مزید تیز ہو جائے گا۔

پاکستان نے سرفراز احمد کی قیادت میں 2016سے 2019 تک مسلسل 11ٹی ٹوئنٹی سیریز جیتیں،27ماہ تک عالمی نمبر ون پوزیشن پر بھی قبضہ رہا، ناکامیوں کا سلسلہ شروع ہوا تو گذشتہ 4میں سے صرف ایک سیریز بنگلہ دیش کیخلاف جیتی، منگل کو انگلینڈ سے میچ میں بھی ناکامی ہوئی یا مقابلہ بے نتیجہ بھی رہا تو یہ چوتھی سیریز میں شکست ہوگی۔

دوسری جانب اتوار کو دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بابراعظم نے 15سو رنزمکمل کرلیے،انھوں نے یہ سنگ میل 39ویں اننگزمیں عبور کرتے ہوئے کوہلی اور ایرون فنچ کو جوائن کرلیا ہے، اسی میچ میں محمد حفیظ کیرئیر میں 2ہزار رنز بنانے والے دوسرے پاکستانی بن گئے۔ ان سے پہلے شعیب ملک یہ سنگ میل عبور کرچکے ہیں۔

گرین شرٹس یہ میچ انگلینڈ کیخلاف اپنی تاریخ کا سب سے بڑا ٹوٹل 195بنانے کے باوجود ہار گئے،اس سے قبل مئی 2019میں کارڈف میں 172رنز بنائے تھے جو ناکافی ثابت ہوئے۔

پاکستان ٹیم اپنی تاریخ میں دوسری بار 180سے زائد رنز بنانے کے باوجود ہاری ہے، اس سے قبل ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2010میں مائیک ہسی نے سعید اجمل کی پٹائی کرتے ہوئے فتح چھین لی تھی۔

The post گرین شرٹس کا زوال کی جانب سفر مزید تیز appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/32G5ypK

’’کئی کپتانوں‘‘ کی موجودگی، بابر پر دباؤ بڑھ گیا

 کراچی:  ٹیم میں ’’کئی کپتانوں‘‘ کی موجودگی بابر اعظم پر دباؤ بڑھانے لگی جب کہ مشوروں کی بھرمار سے اپنے فیصلوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

انگلینڈ سے دوسرے ٹی ٹوئنٹی کے دوران پاکستانی ٹیم میں ’’کئی کپتان‘‘ ایکشن میں نظر آئے، ایک موقع پر تو 4 سینئرز نے بابر اعظم کو گھیر کر مشوروں کی بھرمار کر دی،ذرائع کے مطابق اس سے کپتان کو فائدے کے بجائے مشکلات کا سامنا ہے، وہ اپنے فیصلے نہیں کر پا رہے ہیں، میچ میں ایک موقع پر تیسرے اوور کیلیے شاداب خان آ چکے  تھے مگر اچانک کسی کے کہنے پر ان سے گیند لے کر افتخار احمد کو تھما دی گئی جنھوں نے 12 رنز دے کر ٹیم پر دباؤ بڑھا دیا۔

ذرائع نے بتایا کہ وکٹ کیپر محمد رضوان  کی بولرز کو پشتو میں براہ راست ہدایات پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں، وہ اکثر کپتان کو نظرانداز کر کے خود دوڑ کر بولرزکے پاس جا کرمشورے دینے لگتے ہیں۔ گوکہ ماضی میں سرفرازاحمد بھی ایسا کرتے رہے مگر وہ ٹیم کے کپتان تھے، ٹیم مینجمنٹ بھی بابر کو میدان سے باہر سے ہدایات دیتی ہے، البتہ اب اس کی جانب سے سینئرز پر واضح کر دیا گیاکہ پوچھنے پر ہی کپتان کو رائے سے نوازیں۔

ذرائع نے مزید بتایاکہ پاکستان کے کئی کرکٹرز اس وقت ٹیم سے زیادہ اپنے لیے کھیل رہے ہیں، ان کی کوشش ہوتی ہے کہ بس اتنا پرفارم کریں جس سے  جگہ بچ جائے، اس انفرادی سوچ کا بھی گرین شرٹس کو نقصان ہو رہا ہے،اگر منگل کے میچ میں ٹیم کی کارکردگی اچھی نہ رہی تو کئی سینئرز کے کیریئر کا اختتام ہو جائے گا۔

The post ’’کئی کپتانوں‘‘ کی موجودگی، بابر پر دباؤ بڑھ گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2YRA0w8

لنکا پریمیئر لیگ میں پاکستان کی فرنچائز ٹیم گال گلیڈی ایٹرز بھی شامل

کراچی:  نومبر میں شیڈول لنکا پریمیئر لیگ میں پاکستان کی فرنچائز ٹیم گال گلیڈی ایٹرز بھی شامل ہوگی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق ٹیسٹ کپتان سرفراز احمد ہی گال گلیڈی ایٹرز کے کپتان ہوں گے،معین خان ہیڈ کوچ اور اعظم خان منیجر کی ذمہ داری نبھائیں گے،آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی بھی اس ٹیم کا حصہ بن سکتے ہیں۔ بعض دیگر اہم کھلاڑیوں اور کوئٹہ گلیڈی ایٹر اسٹارزکے ساتھ مقامی باصلاحیت کرکٹرز کو بھی مواقع میسر آئیں گے۔ اس کے روح رواں پی ایس ایل ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹر کے مالک ندیم عمر ہیں۔

دریں اثناء ایل پی ایل کے افتتاحی ایڈیشن کے حوالے سے بدھ کو مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کا انعقاد ہو گا،آرگنائزنگ کمیٹی آئی پی جی پاکستان کے صدر ایئر وائس مارشل(ر) سید رضی نواب، ایم ڈی جاوید غلام رسول اور ندیم عمر  تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

The post لنکا پریمیئر لیگ میں پاکستان کی فرنچائز ٹیم گال گلیڈی ایٹرز بھی شامل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3hZBVq5

قومی ٹیم کی انگلینڈ میں ناکامی پر ظہیرعباس بھی مایوس

 لاہور:  قومی ٹیم کی انگلینڈ میں ناکامی پر ظہیرعباس بھی مایوس ہیں جب کہ ایشین بریڈ مین کا کہنا ہے کہ کارکردگی میں تسلسل نہیں۔

پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pkکے پروگرام ’’کرکٹ کارنر ود سلیم خالق‘‘ میں گفتگوکرتے ہوئے سابق کپتان ظہیر عباس نے کہا کہ مانچسٹر ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 100 سے زائد رنز کی برتری حاصل کرنے کے بعد پاکستان کو میچ جیتنا چاہیے تھا، شکست پر سخت مجھے مایوسی ہوئی،میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا مگر ٹیم نے غلطیاں کیں اور ان کا خمیازہ ناکامی کی صورت میں بھگت لیا، کارکردگی میں تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان بڑی ٹیموں سے پیچھے نظر آتا ہے، ہم سب ایسی ٹیم کے طور پر پہچان نہیں چاہتے جو صرف کمزور حریفوں کے خلاف اچھی کارکردگی دکھا سکے۔

ایشین بریڈ مین نے کہا کہ بابر اعظم نے سیریز میں اچھی کارکردگی دکھائی اور پْراعتماد نظر آئے لیکن بیٹنگ کا تمام تر بوجھ کسی ایک بیٹسمین کے کندھوں پر نہیں ڈالا جا سکتا، امید ہے کہ پاکستان بابر جیسے مزید بیٹسمین تلاش کرنے میں کامیاب ہوگا۔

ایک سوال پر سابق کپتان نے کہا کہ اظہرعلی کو کپتان برقرار رکھنا تو بورڈ کا فیصلہ ہے لیکن اتنی زیادہ کرکٹ کھیلنے کے بعد ان کو اتنا میچور ہوجانا چاہیے تھا کہ رنز بنانے کی اہمیت کو سمجھ سکیں، انھیں بطور کپتان ذمہ داری کا بوجھ اٹھا کر دوسروں کیلیے مثال قائم کرنا چاہیے۔

ظہیر عباس نے کہا کہ اسد شفیق کی تکنیک اچھی ہے،وہ اس میں معمولی بہتری لا کر کامیاب ہو سکتے ہیں، آف اسٹمپ سے باہر جاتی گیندیں ان کی کمزوری ہے، اگر وہ تکنیک میں معمولی تبدیلی کرتے ہوئے اپنے سینے کے بجائے کندھا بولر کی طرف رکھیں تو نمایاں فرق سامنے آئے گا۔

The post قومی ٹیم کی انگلینڈ میں ناکامی پر ظہیرعباس بھی مایوس appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3lvJHKp

پاک سرزمین میں بنت حوا کی حرمت؟

گزشتہ چار برسوں سے سال کے یہ دن ہمیشہ سے میرے لیے گزارنا مشکل ہوتے ہیں۔ مجھے بارش کے بعد لاہور اپنے گھر کے لان میں اکلوتے آم کے درخت کے نیچے بیٹھ کر فیملی کے ساتھ سہ پہر کی چائے پینا یاد آتا ہے۔ مظفرگڑھ، بہاولپور کے باغات سے آئے تازہ آموں سے لطف اندوز ہونا یاد آتا ہے اور شام میں بچوں کے ساتھ بارش سے بھیگی لاہور کی سڑکوں اور فوڈ اسٹریٹس پر وقت گزارنا یاد آتا ہے۔

یہاں پردیس میں اول تو بارشیں ہوتی نہیں، اگر اِکا دُکا ہوتی ہیں تو وہ ایسی بے رنگ اور بے مزہ ہوتی ہیں کہ نہ پوچھئے۔ جتنے مرضی مہنگے داموں درجہ اول آم خرید لو لیکن وہ اپنے تازہ رسیلے میٹھے آموں کا عشر عشیر بھی نہیں کہلا سکتے۔ کہنے کو دبئی رنگوں، روشنیوں اور بلند عمارتوں کا شہر ہے، لیکن کورونا نے ساری رونقیں ماند کر ڈالیں۔ اگر کبھی تقریبات میں ہم وطنوں سے یا ہم خیال لوگوں سے ملنا ملانا ہو بھی تو ہر کوئی ڈرا ڈرا سہما سہما سا ایک میٹر دور سے ہی گفتگو میں شریک ہوتا ہے۔ اور پھر اگر دل ہی ہمارے میلوں دور ہوں تو یہ زمینی دوریاں ہوں یا نہ ہوں، کیا فرق پڑتا ہے۔

آج کا دن بھی ایک ایسا ہی اداس کردینے والا دن تھا جب میں نے ٹوئٹر وال کھولی تو اسکرول کرتے ہوئے ایک انتہائی تکلیف دہ بلکہ دہشت ناک ویڈیو نے میری توجہ کھینچ لی۔

ویڈیو ایک خاتون کی تھی جسے 14 اگست، جب ہم سب آزادی کا جشن منا رہے تھے، دن دہاڑے زبردستی اس کے دفتر سے اغوا کیا گیا اور مسلسل ایک ہفتہ دورانِ قید بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جسے بعد ازاں دیپالپور کی ایک تحصیل میلسی کے کھیتوں سے پولیس نے بازیاب کروایا۔

بدقسمتی سے ہمارے ملک میں آئے روز ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں لیکن میں نے اس ویڈیو کو تکلیف دہ اور دہشت ناک کیوں کہا؟

اس خاتون کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے۔ جب اسے بازیاب کروایا گیا تو اس کے منہ میں بھی ایک رسی سختی سے باندھی گئی تھی، جسے جب کھولا گیا تو دہشت زدہ آنکھوں سے لاشعوری طور پر کچھ ٹوٹے پھوٹے الفاظ بولنے کی کوشش کرتی ہوئی نظر آئی۔ وہ کیا کہہ رہی تھی؟ یہ سمجھنے کےلیے میں نے بار بار ویڈیو کو دیکھا تو پتا چلا کہ اس نے ٹوٹے پھوٹے لہجے میں شاید دو ہی جملے بولے۔ ایک یہ کہ میں وکیل ہوں اور دوسرا میرے سر پر دوپٹہ اوڑھا دیں۔

جی ہاں خواتین و حضرات! یہ کھلا ظلم اور ناانصافی ایک ایسی خاتون کے ساتھ تھی جو دوسروں کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کےلیے ریاست کی طرف سے لائسنس یافتہ ہے۔ جو دوسروں کو انصاف دلانے کےلیے کورٹ کچہری کی تنگ و تاریک اور پان کی پیک زدہ سگریٹ کے دھوئیں میں اٹی راہداریوں میں روز اپنی جوتیاں چٹخاتی ہے۔

کہتے ہیں آنکھیں دماغ کی کھڑکیاں ہوتی ہیں۔ اس خاتون کی آنکھوں میں جو دہشت، جو خوف، جو ڈر تھا، وہ ابھی تک میری نگاہوں کے سامنے گھوم رہا ہے۔ نجانے اس پر کیا کچھ بیتی ہوگی۔

اگر ایک وکیل، ایک قانون دان اس ملک میں محفوظ نہیں تو پھر کون محفوظ ہے؟

دوسروں کے حق کےلیے لڑنے والے کو اگر اس طرح نشانِ عبرت بنایا جاسکتا ہے تو پھر عام آدمی کی کیا اوقات ہے؟

اور پھر ایک عورت، جس کے قدموں تلے جنت ہے، جو ایک ماں بھی ہے، ایک بیٹی بھی، ایک بیوی اور اس ملک کی آزاد شہری بھی۔

کیا ہمیں اپنی بیٹیوں کو اسکول، کالج، یونیورسٹی نہیں بھیجنا چاہیے؟

اس مہنگائی اور مشکل حالات میں اگر وہ گھر کا بوجھ کم کرنے کےلیے مجبوراً باہر نوکری کےلیے نکلیں تو ہمیں نہیں بھیجنا چاہیے کہ باہر شاید درندے کھلے عام پھر رہے ہیں؟

مجھے بتائیے اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد کون سے والدین اپنی بیٹیوں کو وکالت کی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دیں گے؟

لکھنے کو بہت کچھ ہے، لیکن آخر میں کچھ سال پہلے سیالکوٹ کے دو معصوم بھائیوں منیب اور مغیث کےلیے لکھی گئی اپنی نظم کی آخری کچھ سطریں یاد آرہی ہیں، وہ لکھ رہی ہوں۔

اُن درندوں کا کچھ پتا کیجیے
اُن کی روحیں تلک سسکتی رہیں
اُنہیں ایسی کڑی سزا دیجیے
یا پھر انصاف کی کتابوں سے
لفظ انسانیت
مٹا دیجیے

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

The post پاک سرزمین میں بنت حوا کی حرمت؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2QJ7GY8

ڈائری پر کارٹون نہیں بناتا، خود کو مصروف رکھتا ہوں، یونس خان

 لاہور:  یونس خان نے کہا ہے کہ میں ڈائری پر کارٹون نہیں بناتا صرف خود کو مصروف رکھتا ہوں۔

سابق کپتان یونس خان نے کہا ہے کہ میں ڈائری پر کارٹون نہیں بناتا،خود کو مصروف رکھتا ہوں تاکہ چھوٹی چھوٹی باتیں بھول نہ جاؤں اور وقت آنے پر کھلاڑیوں کو بتا سکوں، میرا مزاج کافی تبدیل ہوچکا، کافی پیتا اور مطمئن رہتا ہوں۔

انھوں نے کہا کہ میں کھلاڑیوں کے ساتھ وابستگی ضروری سمجھتا ہوں، محمد حفیظ کی نہ صرف بیٹنگ پر کام کیا بلکہ گالف میں سوئنگ بھی بہتر بنانے کیلیے رہنمائی کرتا رہا، یاسر کے بال بنائے، دیگرکھلاڑیوں کے ساتھ بھی بے تکلفی کی فضا پیدا کی تاکہ میرے ساتھ بات کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہ کریں، مجھے وولمر اسی طرح بیٹا سمجھ کر ڈیل کرتے تھے۔

The post ڈائری پر کارٹون نہیں بناتا، خود کو مصروف رکھتا ہوں، یونس خان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2GgFqKF

بابر اعظم کو ناقص کپتانی کے طعنے سننے پڑگئے

کراچی:  بابر اعظم کو ناقص کپتانی کے طعنے سننے پڑگئے۔

واحد پاکستانی ان فارم بیٹسمین بابر اعظم کو اب اپنے کھیل کے ساتھ قیادت کا اضافی بوجھ بھی اٹھانا پڑرہا ہے، انگلینڈ سے دوسرے ٹی 20 میں ففٹی اسکور کرنے کے باوجود ٹیم کو میچ نہ جتوانے پر بطور کپتان وہ تنقید کی زد میں آگئے، انھیں اب اس حوالے سے طعنے سننا پڑرہے ہیں جس سے دہری ذمہ داری سنبھالنے والے نوجوان کرکٹرکی اصل آزمائش شروع ہوگئی۔

ٹیم کی کارکردگی پر لگی لپٹی رکھے بغیر تبصرے کرنے والے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے بابر اعظم کوتنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بابر اعظم فیلڈ میں موجود تو تھے تو مگر انھیں معلوم نہیں تھا کہ کرنا کیا ہے، ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ فیلڈ میں اپنی مرضی کے فیصلے کریں تاکہ مستقبل میں ایک اچھے کپتان کے طور پر سامنے آسکیں، بابر کو سمجھنا چاہے کہ ان کو جو مواقع اب مل رہے ہیں وہ زندگی بھر نہیں ملتے رہیں گے، اس لیے انھیں ان سے ہی زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔

شعیب اختر نے بڑے اسکور کے باوجود شکست پر پاکستان ٹیم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان ٹیم بائیو ’ان سیکیور‘ ببل میں کرکٹ کھیل رہی ہے، اس وقت ہر کرکٹر غیرمحفوظ ہے، کسی کو بھی معلوم نہیں کہ کیا وہ ایک اچھا کپتان یا اچھی برانڈ بننا چاہتا ہے یا نہیں، سلیکشن، مینجمنٹ، کپتان، ٹیم اور ہر چیز کنفیوڑن کا شکار ہے، ٹیمیں اس طرح نہیں بنا کرتیں۔

یاد رہے کہ ٹیسٹ سیریز میں 0-1 سے فتح حاصل کرنے والی انگلش ٹیم کو مختصرترین فارمیٹ بھی اس مارجن سے برتری حاصل ہوچکی ہے۔

The post بابر اعظم کو ناقص کپتانی کے طعنے سننے پڑگئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3gT1704

مصباح خود پر ظلم نہ کریں

واہ پاکستان نے 195 رنز بنا لیے اب تو ہم آرام سے میچ جیت جائیں گے، یہ سوچ کر میں نے چین کا سانس لیا اور ٹی وی پر وقت گذارنے کیلیے چینلز تبدیل کر کے دیکھنے لگا،کچھ دیر بعد جب انگلینڈ کی بیٹنگ شروع ہوئی تو بینٹن اور بیئراسٹو کی بیٹنگ دیکھ کر دل کو تسلی دیتے رہا کہ کوئی بات نہیں ابھی ایک وکٹ گرے گی تو رنز رک جائیں گے،پھر ایک کیا شاداب خان نے ایک ہی اوور میں دونوں اوپنرز کو آؤٹ کر دیا، اب تو ایسا لگتا تھا کہ بس میزبان بیٹنگ کی کمر ٹوٹ گئی، مگر ہمارے بولرز کے کیا کہنے کہ دونوں نئے بیٹسمینوں میلان اور مورگن کو بھی سیٹ کرا دیا، 112 رنز کی یہ شراکت میچ ہمارے ہاتھ سے چھین کر لے گئی۔

آپ یہ دیکھیں کہ بہت کم ایسے لمحات آئے جب انگلینڈ کا ایک اوور میں اوسط اسکور10رنز سے کم رہا، جب مرضی ہوتی دونوں بیٹسمین گیند کو باؤنڈری کے پار پہنچا دیتے، ہماری خود ساختہ ’’ورلڈ کلاس‘‘ بولنگ نے 5بالز قبل ہی 199 رنز بنوا دیے، اس کی کوئی سمت نظر نہ آئی، تین وکٹیں لینے والے شاداب خان کے سوا سب بے بسی کی تصویر بنے رہے، شاہین آفریدی نے3.1 اوورز میں 44 رنز دے دیے،عماد، عامر اور افتخار کی بھی خوب پٹائی ہوئی،حارث رؤف بھی خاص تاثر نہ چھوڑ پائے، بیچارے بابر اعظم کو بھی کچھ نہیں سوجھ رہی تھی کہ کیا کرے،اس دوران باقی سب ’’سینئرز‘‘ بھی کپتان بن گئے۔

سب آ کر اپنے مشورے دینے لگے، میدان ہی میٹنگ روم بن گیا اور ان سب نے مل کر ہانڈی ہی جلا دی،یہ واضح نظر آ رہا تھا کہ نوجوان بابر قیادت کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہیں، رضوان ان دنوں کیریئر کی بہترین فارم میں ہیں اس لیے ان کا عقب سے چلانا بھی ادا لگتا ہے، دونوں میچز میں یہ بھی محسوس ہوا کہ وہ اصل کپتان ہیں،بولرز اور فیلڈرز کووہی ہدایات دیتے رہے، ویسے ہمارے ملک میں یہ رواج ہے کہ جو اچھا کھیلے اسے قیادت سونپ دو، بعض لوگ ’’جدھر کی ہوا چلے اس رخ پر چلو‘‘ والی پالیسی بھی اپناتے ہیں اس لیے اب رضوان کو کپتان بناؤ مہم بھی شروع ہو چکی ہے، عامر کو کھلانے کا کوئی فائدہ دکھائی نہ دیا، پٹائی ہونے پر وہ ہیمسٹرنگ انجری کا کہہ کر باہر چلے گئے۔

وسیم اکرم نے دوران کمنٹری ان کی ’’سلوور ون‘‘ گیندوں کی بھی نشاندہی کی، زیادہ سلو بالز کا مطلب یہی تھا کہ وہ مکمل زور نہیں لگا رہے تھے، اگر عامر فٹ نہیں تھے تو انھیں کیوں کھلایا گیا؟ کاغذات کے مطابق ’’29سالہ نوجوان‘‘ آل راؤنڈر افتخار احمد کوچ کے لاڈلے ہیں ورنہ10 ٹی ٹوئنٹی،4 ون ڈے اور تین ٹیسٹ میں بالترتیب 1،1وکٹ لینے کے باوجود مسلسل نہ کھلایا جاتا، تینوں طرز میں ان کی بولنگ اوسط 141، 101 اور 57 ہے، اس سے ’’صلاحیتوں‘‘ کا اندازہ لگا لیں، بیٹنگ میں سوائے ایک ٹی20میں ففٹی کے وہ کچھ نہ کر سکے، پاکستانی بولرز کی پٹائی دیکھ کر سوچاکہ آسٹریلوی بولنگ کوچ وقار یونس کو ماہانہ27 لاکھ روپے کس بات کے دیے جا رہے ہیں۔

انگلینڈ سے ٹیسٹ سیریز کے بعد اب ٹی ٹوئنٹی میچز میں بھی بولرز بدترین ناکامی کا شکار ہیں، کوچ نے انھیں کیا سیکھایا ہے؟ بیٹنگ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی ٹھیک رہی، بابر اعظم نے گوکہ نصف سنچری بنائی مگر انھیں ڈاٹ بالز کا مسئلہ حل کرنا ہوگا،فخرزمان اچھی فارم میں دکھائی دے رہے تھے مگر پھر سیٹ ہوکر وکٹ گنوا دی، حفیظ کی بیٹنگ بہت عمدہ رہی،اتنا تو آئیڈیا ہو گیا تھا کہ جس پچ پر حفیظ بھی بریڈمین لگیں اس میں بولرز کیلیے کوئی مدد موجود نہ ہوگی مگر ایسی ناکامی کا اندازہ نہیں تھا، اب اس ایک اننگز پر حفیظ مزید 6 ماہ سے ایک سال تک کھیل جائینگے۔

البتہ آپ ٹھنڈے دل سے سوچیں پھر بتائیں کہ اگر ہم یہاں نوجوان حیدرعلی کو موقع دیتے تو کیا وہ بھی ایسی کنڈیشنزمیں اچھا پرفارم نہ کرتا؟ اوسط درجے کی انگلش بولنگ کا تو یہ حال ہے کہ آئرلینڈ نے اسی ماہ اس کیخلاف 329رنز کا ہدف عبور کر کے یادگار کامیابی حاصل کی تھی،اظہرمحمود اب انگلش بولنگ کوچ ہیں، کہا جا رہا تھا کہ وہ میزبان بیٹسمینوں کو پاکستانی بولرزکی خامیاں بتا دیں گے، البتہ انھوں نے کیا سیکھایا وہ میچ سے واضح تھا، محض پی آر کی بنیاد پر یہ اوسط درجے کے سابق کرکٹرز خود کو نجانے کیا کچھ بنا کر پیش کرتے ہیں اور کام بھی ملتا رہتا ہے مگر نتائج اہلیت ظاہر کردیتے ہیں۔

میچ کے دوران جب کبھی کیمرہ ڈریسنگ روم میں مصباح الحق کی طرف گیا وہ دونوں ہاتھوں سے سر پکڑے پریشان دکھائی دیے، یقین مانیے مجھے ان کی حالت دیکھ کر بہت افسوس ہوا، محض طاقت کا سرچشمہ ہونے اور 32 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ حلال کرنے کیلیے انھوں نے ہرکام اپنے ذمہ لے لیا جس کے اثرات اب نظر آنے لگے ہیں، وہی چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ ہیں، تمام تر ملبہ انہی پر گرے گا، اسی بات کا مصباح دباؤ بھی لے رہے ہیں، جب کوچ ہی حواس باختہ ہو تو وہ کھلاڑیوں کی کیا رہنمائی کر سکے گا۔

پی سی بی کے موجودہ حکام نے کرکٹ کا جو بیڑہ غرق کیا وہ نتائج سے واضح ہے، مصباح کو بھی ان لوگوں نے ہی یہ ذمہ داریاں سونپی ہیں، مگر انھیں اپنے آپ پر ظلم نہیں کرنا چاہیے، کوچ یا چیف سلیکٹر میں سے کوئی ایک عہدہ رکھیں اور اس سے انصاف کرنے کی کوشش کریں، پاکستانی ٹیم کو انگلینڈ میں 2 ماہ سے زائد وقت گذر چکا مگر وہ مسلسل ہار ہی رہی ہے، ہم اپنی دانست میں ملک کے30 بہترین کھلاڑی وہاں لے کر گئے مگرکنڈیشنز سے مکمل ہم آہنگی کے باوجود مثبت نتائج سامنے نہ آنا لمحہ فکریہ ہے، اس کی ذمہ داری کوئی لینے کو تیار بھی ہوگا یا ایک بار پھر تشکیل نو کے دور کا نعرہ لگا کر سب اس کے پیچھے چھپ جائیں گے۔

(نوٹ:آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

The post مصباح خود پر ظلم نہ کریں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/32FW8uA

قیلولہ کیجیے لیکن ایک گھنٹے سے کم، ماہرین کا مشورہ

بیجنگ: چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ قیلولہ کرتے ہیں تو بہتر ہے کہ اس کا دورانیہ ایک گھنٹے سے کم رکھیے ورنہ یہ مفید ہونے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ دوپہر میں کھانے کے بعد کچھ دیر سستانے یعنی قیلولہ کرنے کے فوائد آج سائنسی طور پر ثابت شدہ ہیں لیکن یہ معاملہ ابھی تک طے نہیں ہو پایا ہے کہ کتنی دیر کا قیلولہ مناسب ہے۔ ایک تحقیق کہتی ہے کہ صرف دس منٹ کا قیلولہ کافی ہے تو دوسری تحقیق دو گھنٹے قیلولہ کرنے کے حق میں ہے۔

یہ بحث حل کرنے کےلیے چینی سائنسدانوں نے گزشتہ چند عشروں کے دوران قیلولہ سے متعلق کیے گئے 20 مطالعات کا نئے سرے سے جائزِہ لیا جن میں تین لاکھ سے زائد افراد شریک تھے؛ اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جن لوگوں نے ایک گھنٹے روزانہ ایک گھنٹے سے زیادہ وقت کےلیے قیلولہ کرنے کو اپنا معمول بنایا ہوا تھا، انہیں دل کی بیماری ہونے کا امکان ایسے لوگوں کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ تھا جو ایک گھنٹے سے کم قیلولہ کرتے تھے؛ جبکہ کسی بھی جان لیوا کیفیت میں ان کے مبتلا ہونے کا امکان 30 فیصد تک زیادہ دیکھا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایک گھنٹے سے زیادہ قیلولہ کرنا ہی دل کی بیماریوں یا کسی دوسری جان لیوا کیفیت کی وجہ ہے، تاہم ان دونوں میں گہرا تعلق ضرور ثابت ہوگیا ہے۔

علاوہ ازیں، یہ بھی معلوم ہوا کہ 30 سے 45 منٹ تک قیلولہ کرنا سب سے محفوظ حکمتِ عملی ہے جسے اپنا کر آپ اپنی صحت کو معمول پر رکھ سکتے ہیں۔

اسی تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ جو لوگ رات کے وقت چھ سے آٹھ گھنٹے کی نیند نہیں لیتے اور دن میں اونگھتے رہتے ہیں، ان کےلیے امراضِ قلب کے خطرات بہت زیادہ ہیں۔ ماہرین نے اس کیفیت کو ’’نیند کا قرض‘‘ کا عنوان دیا ہے۔

فی الحال یہ تحقیق کسی ریسرچ جرنل میں شائع نہیں ہوئی ہے البتہ ’’یوروپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی‘‘ کی سالانہ کانگریس برائے 2020 کے ایک سیشن میں ضرور پیش کی جاچکی ہے۔

The post قیلولہ کیجیے لیکن ایک گھنٹے سے کم، ماہرین کا مشورہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3lBwjV3

پنجاب حکومت نے منصوبے کے تحت ضمانت میں توسیع مسترد کی ، نواز شریف

لندن: سابق وزیراعظم نوازشریف نے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں حاضری سے استثنیٰ کے لئے دائر درخواست میں کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں ایون فیلڈ ریفرنس میں حاضری سے استثنیٰ مانگی گئی ہے۔ انہوں نے اپنی درخواست میں ضمانت میں توسیع کے معاملے کی وضاحت بھی کی ہے۔

درخواست میں سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ کورونا کے بعد لاک ڈاؤن کی وجہ سے میرا برطانیہ میں علاج مکمل نہیں ہو سکا، پنجاب حکومت کو ضمانت میں توسیع کے لیے کئی دستاویزات فراہم کی تھیں لیکن پنجاب حکومت نے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کی۔

اس خبر کو بھی پڑھیں؛ نوازشریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کرنے کا خط عدالت میں جمع

مسلم لیگ (ن) کے قائد نے کہا کہ وکیل نے مشورہ دیا تھا کہ پنجاب حکومت کا فیصلہ بیرون ملک سے چیلنج نہ کیا جائے، وکیل نے کہا تھا عدالت میں خود پیش ہوئے بغیر فیصلہ چیلنج نہیں کیا جا سکتا لیکن بیرون ملک ہونے کی وجہ سے عدالت میں  پیش ہونا ممکن نہیں ہے۔

سماعت ملتوی کی جائے، مریم نواز کے وکیل کی درخواست

دوسری جانب مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل امجد پرویز نے کیس کی سماعت 5 ستمبر تک ملتوی کرنے کی درخواست دائر کردی ہے۔ ان کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ 5 ستمبر تک چھٹیوں پر ہیں، اس کے بعد کیس سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

واضح رہے اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی ایون فیلڈ ریفرنس میں ضمانت 24 دسمبر 2019 تک منظور کی تھی اور اس میں مزید توسیع کے لیے پنجاب حکومت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی تھی تاہم مارچ میں پنجاب حکومت نے ضمانت میں توسیع مسترد کر دی تھی۔

The post پنجاب حکومت نے منصوبے کے تحت ضمانت میں توسیع مسترد کی ، نواز شریف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3hKn4Q7

وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی جنوبی پنجاب میں 12 سیکرٹریز تعینات کرنے کی منظوری

 لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے جنوبی پنجاب میں 12 سیکرٹریز تعینات کرنے کی منظوری دیدی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے جنوبی پنجاب میں 12 سیکرٹریز تعینات کرنے کی منظوری دیتے ہوئے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کو نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیدیا  ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے جن 12 سیکرٹریز تعینات کرنے کی منظوری دی گئی ہے ان میں سیکرٹری سروسز، سیکرٹری وائلڈ لائف، سیکرٹری آبپاشی، سیکرٹری انرجی، سیکرٹری مواصلات اور سیکرٹری اسپورٹس جنوبی پنجاب سمیت دیگر 6 سیکرٹریز شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ تعینات ہونے والے سیکرٹریز جنوبی پنجاب میں بیٹھیں گے اور مکمل اختیارات کے ساتھ افسران فرائض انجام دیں گے جب کہ جنوبی پنجاب میں الگ سیکرٹریز تعینات کرنے سے مسائل عوام کی دہلیز پر حل ہوں گے۔

The post وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی جنوبی پنجاب میں 12 سیکرٹریز تعینات کرنے کی منظوری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2QENS8l

کراچی میں بارش سے نقصانات پر ڈی ایچ اے اور کنٹونمنٹ بورڈ کیخلاف شدید احتجاج

کراچی میں بارش کی تباہی کاریوں اور نقصانات کے خلاف کلفٹن اور ڈیفنس کے مکینوں نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) اور کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن کے دفتر کے باہر شدید احتجاج کیا۔

مظاہرین کی بڑی تعداد نے سی بی سی کے خلاف نعرے بازی کی اور سی بی سی کی عمارت کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ تو پولیس کی بھاری نفری سی بی سی دفتر پہنچ گئی اور مظاہرین کو منتشر کرنے کیلیے لاٹھی چارج کیا۔

مظاہرین نے چیئرمین سی بی سی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید ٹیکسز نہ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی بی سی کے اکاؤنٹس کا آڈٹ کیا جائے اور شفاف تحقیقات کرکے رپورٹ سامنے لائی جائے، ساتھ ہی ساتھ شہریوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔

کراچی میں بارشوں سے ڈیفنس اور کنٹونمنٹ کے پوش علاقے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں جہاں نالے اوور فلو ہوگئے اور نکاسی آب کے مناسب انتظامات نہ ہونے سے لوگوں کو شدید مشکلات اٹھانی پڑیں۔ ڈیفنس اور کلفٹن کے کئی علاقوں میں نہ صرف تاحال برساتی پانی کی نکاسی نہ ہوسکی بلکہ بجلی بھی بحال نہ ہوسکی۔

خیابان سحر ، خیابان شجاعت، ڈیفنس 22 اسٹریٹ ، 26 اسٹریٹ پر تاحال بارش کا پانی جمع ہے۔ بدر کمرشل اسٹریٹ پر بھی پانی جمع ہونے سے شہریوں کو مشکلات درپیش ہیں۔

The post کراچی میں بارش سے نقصانات پر ڈی ایچ اے اور کنٹونمنٹ بورڈ کیخلاف شدید احتجاج appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/32ISBLZ

پنجاب حکومت نے منصوبے کے تحت ضمانت میں توسیع مسترد کی ، نواز شریف

لندن: سابق وزیراعظم نوازشریف نے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں حاضری سے استثنیٰ کے لئے دائر درخواست میں کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں ایون فیلڈ ریفرنس میں حاضری سے استثنیٰ مانگی گئی ہے۔ انہوں نے اپنی درخواست میں ضمانت میں توسیع کے معاملے کی وضاحت بھی کی ہے۔

درخواست میں سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ کورونا کے بعد لاک ڈاؤن کی وجہ سے میرا برطانیہ میں علاج مکمل نہیں ہو سکا، پنجاب حکومت کو ضمانت میں توسیع کے لیے کئی دستاویزات فراہم کی تھیں لیکن پنجاب حکومت نے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کی۔

اس خبر کو بھی پڑھیں؛ نوازشریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کرنے کا خط عدالت میں جمع

مسلم لیگ (ن) کے قائد نے کہا کہ وکیل نے مشورہ دیا تھا کہ پنجاب حکومت کا فیصلہ بیرون ملک سے چیلنج نہ کیا جائے، وکیل نے کہا تھا عدالت میں خود پیش ہوئے بغیر فیصلہ چیلنج نہیں کیا جا سکتا لیکن بیرون ملک ہونے کی وجہ سے عدالت میں  پیش ہونا ممکن نہیں ہے۔

سماعت ملتوی کی جائے، مریم نواز کے وکیل کی درخواست

دوسری جانب مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل امجد پرویز نے کیس کی سماعت 5 ستمبر تک ملتوی کرنے کی درخواست دائر کردی ہے۔ ان کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ 5 ستمبر تک چھٹیوں پر ہیں، اس کے بعد کیس سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

واضح رہے اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی ایون فیلڈ ریفرنس میں ضمانت 24 دسمبر 2019 تک منظور کی تھی اور اس میں مزید توسیع کے لیے پنجاب حکومت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی تھی تاہم مارچ میں پنجاب حکومت نے ضمانت میں توسیع مسترد کر دی تھی۔

The post پنجاب حکومت نے منصوبے کے تحت ضمانت میں توسیع مسترد کی ، نواز شریف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3hKn4Q7

وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی جنوبی پنجاب میں 12 سیکرٹریز تعینات کرنے کی منظوری

 لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے جنوبی پنجاب میں 12 سیکرٹریز تعینات کرنے کی منظوری دیدی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے جنوبی پنجاب میں 12 سیکرٹریز تعینات کرنے کی منظوری دیتے ہوئے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کو نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیدیا  ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے جن 12 سیکرٹریز تعینات کرنے کی منظوری دی گئی ہے ان میں سیکرٹری سروسز، سیکرٹری وائلڈ لائف، سیکرٹری آبپاشی، سیکرٹری انرجی، سیکرٹری مواصلات اور سیکرٹری اسپورٹس جنوبی پنجاب سمیت دیگر 6 سیکرٹریز شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ تعینات ہونے والے سیکرٹریز جنوبی پنجاب میں بیٹھیں گے اور مکمل اختیارات کے ساتھ افسران فرائض انجام دیں گے جب کہ جنوبی پنجاب میں الگ سیکرٹریز تعینات کرنے سے مسائل عوام کی دہلیز پر حل ہوں گے۔

The post وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی جنوبی پنجاب میں 12 سیکرٹریز تعینات کرنے کی منظوری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2QENS8l

وزیراعظم کا عاشورہ پر فرقہ واریت پھیلانے والوں کیخلاف سخت کارروائی کا اعلان

 اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے 10 محرم الحرام کے موقع پر فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کرنے والے شرپسند عناصر کے خلاف سخت ایکشن لینے کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹ کرتے ہوئے عاشورہ کو پر امن طریقے سے منانے پر قوم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں عاشورہ کو پر امن طریقے سے منانے پر میں قوم کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، تاہم بدقسمتی سے مجھے اطلاع ملی ہے کہ کچھ عناصر نے اس موقع پر فرقہ واریت کی آگ کو بھڑکانے کی کوشش کی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کروں گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر بعض عناصر کی جانب سے فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کی گئی جس کے خلاف تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور ایک نجی ٹی وی کی نشریات کو معطل کردیا گیا ہے۔

The post وزیراعظم کا عاشورہ پر فرقہ واریت پھیلانے والوں کیخلاف سخت کارروائی کا اعلان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3gR8ViV

بلڈ پریشر کی دوائیں کورونا وائرس بچانے میں مفید

لندن: برطانیہ میں کورونا وائرس کے تقریباً 29 ہزار مریضوں پر کیے گئے ایک مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کنٹرول کرنے والی بعض دوائیں مریضوں کی جان بچانے میں مفید ہیں۔ دواؤں کی یہ اقسام ’’ایس انہیبیٹر‘‘ اور ’’اے آر بیز‘‘ کے طبّی ناموں سے پہچانی جاتی ہیں۔

یہ تحقیق برطانیہ کی یونیورسٹی آف نورفوک، نوروِچ یونیورسٹی ہاسپٹل اور یونیورسٹی آف ایسٹ اینجلیا کے ماہرین نے مشترکہ طور پر انجام دی ہے۔

کورونا وبا کی ابتداء میں بعض تحقیقات سے یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ ہائی بلڈ پریشر اور امراضِ قلب میں خون پتلا کرنے اور رگوں کو نرم کرنے کےلیے دی جانے والی مذکورہ دوائیں نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔

اس خیال کی صداقت کرنے کےلیے ان تینوں جامعات کے ماہرین نے گزشتہ چند ماہ کے دوران کیے گئے 19 مطالعات کا ایک بار پھر جائزہ لیا، جو مجموعی طور پر ایسے 28872 مریضوں پر کیے گئے تھے جو کورونا وائرس کے باعث مختلف اسپتالوں میں داخل کیے گئے تھے۔

ان میں سے 25 فیصد مریض پہلے ہی دل کی کسی بیماری یا ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا تھے۔ توقعات کے برعکس، انہیں معلوم ہوا کہ ایس انہیبیٹر اور اے آر بیز نے ان مریضوں کو نقصان پہنچانے کے بجائے فائدہ پہنچایا اور ان کی جانیں بچائیں۔

آن لائن ریسرچ جرنل ’’کرنٹ ایتھیروکلیروسس رپورٹس‘‘ کے تازہ شمارے میں اس حوالے سے شائع شدہ تحقیق میں ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ امراضِ قلب اور ہائی بلڈ پریشر کے مریض اگر کورونا وائرس کا شکار ہوجاتے ہیں تو وہ اپنی دوائیں معمول کے مطابق جاری رکھ سکتے ہیں، کیونکہ یہ دوائیں اضافی طور پر کورونا وائرس کی شدت کم کرنے میں بھی ان کی مددگار رہیں گی۔

The post بلڈ پریشر کی دوائیں کورونا وائرس بچانے میں مفید appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2G9ZpdP

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...