Urdu news

Wednesday, 1 May 2019

سرمائے پر محنت کی برتری کی تحریک

آج یکم مئی کو 133 سال پہلے امریکا کے شہر شکاگو کے “ہے پارک اسکوائر” میں بپھرے ہوئے مزدوروں کے جتھے سرمائے کے جبر کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہوئے تھے بالکل اسی طرح سارے دنیا بھر کے محنت کش چاہے معاشی و سیاسی ناانصافیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

مزدور طبقہ اپنے سرشت کے عین مطابق سرمایہ دارانہ استحصال کی بنیاد “اجرتی غلامی ” کے خلاف علم بغاوت بلند کیے ہوئے ہے۔ وہ نہ صرف اپنی آزادی بلکہ سماج کے دیگر مظلوم طبقات کی آزادی کے لیے فیصلہ کن جدوجہد کے لیے صف بندی کر رہا ہے۔ نئے مادی حالات میں محنت کش طبقہ سماج کی دیگر مظلوم پرتوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کے نئے راستے تلاش رہا ہے۔

ایسے وقت میں جب ساری دنیا میں سرمایہ داری، شدت اختیار کرتا معاشی بحران صنعتی طور پر ترقی یافتہ معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے تو اس کے بدترین سماجی، معاشی اور سیاسی اثرات ہر خطے پر مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک تو کیا یورپی ممالک فرانس، برطانیہ، اٹلی، اسپین، پرتگال، یونان اور قبرص نہ ختم ہونے والے معاشی بحران کے گرداب میں پھنس چکے ہیں۔ پچھلی صدی کے سب سے بڑے سام راجی وسرمایہ دار دنیا کے سیاسی و معاشی منصوبے یعنی یورپی یونین کی ایکتا اور بقا کو برطانیہ کے اخراج کے فیصلے نے خطرے میں ڈال دیا ہے۔

اس شدید معاشی بحران اور کساد بازاری کے اثرات ترقی یافتہ صنعتی ممالک سے نکل کر ایشیا، افریقا اور جنوبی امریکا کی معیشتوں اور سماجوں میں بڑے پیمانے پر خلفشار اور معاشرتی ابتری کو جنم دے رہے ہیں۔ کم زور اور دم توڑتی معیشتیں ہر آنے والے دن مزید نئے بحران کو جنم دے رہی ہیں۔ ابھی ایک مسئلے سے نجات ملتی ہی نہیں ہے کہ ایک نیا مسئلہ پہلے سے زیادہ پیچیدہ صورت حال کو جنم دیتا ہے۔ سرمایہ دار ی کا بحران مرض میں افاقے کی بجائے اس میں مسلسل اضافہ ہی نہیں کر رہا بلکہ مزید امراض بھی پیدا کر رہا ہے۔

ان بحرانوں سے نجات کے لیے سرمایہ دار ممالک کا جنگوں کو مسلط کرنا ایک آزمودہ طریقہ کار رہا ہے۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ امریکا کی قیادت میں صنعتی ممالک نے غریب اقوام کے خلاف ایک نہ ختم ہونے والی اعلانیہ اور غیراعلانیہ تیسری بین الاقوامی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ قوموں کے معدنی ذخائر خصوصاً ایندھن کے قدرتی وسائل اور محل وقوع کی نسبت سے اہمیت کے حامل علاقوں پر طاقت کے بَل پر قبضہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ امریکا، یورپ اور اب چین نے بھی کہیں باہمی رضامندی اور کہیں انفرادی قوت کے زور پر ایشیا کے اکثر ممالک جب کہ براعظم افریقا کے قیمتی وسائل پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ قدرتی وسائل سے مالامال خطوں کی بے دریغ لوٹ کھسوٹ جاری ہے۔

پاکستان کی معیشت بھی مکمل طور پر بین الاقوامی سرمایہ دارانہ نظام سے نتھی ہے۔ یوں سرمایہ داری کے مرکزے میں معاشی گراوٹ کے نتیجے میں ان ممالک کی طرح پاکستان میں بھی بحرانوں نے نئی گہرائیوں کو چھونا شروع کردیا ہے۔ پاکستان اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحران میں مبتلا ہے جس کے نتیجے میں پیداواری عمل مکمل طور پر انحطاط کا شکار ہے، حکم رانوں کے اپنے مستند مقامی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے مطابق پاکستان کی شرح نمود 7 فی صد سے گر کر 2.8 فی صد پر آپہنچی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف بنیادی سہولیات خصوصاً تعلیم، صحت، رہائش اور روزگار کے کیے مختص رقوم میں بھاری کٹوتی کی جا چکی ہے۔ قومی پیداوار میں آنے والی گراوٹ کے نتیجے میں ایک اندازے کے مطابق ہر سال 20 لاکھ سے زائد نوجوان بے روزگاروں کی فوج میں شامل ہوکر سماجی بے چینی کا ٹائم بم بن رہے ہیں۔

بحرانی کیفیت سے نکلنے کے لیے حکم راں طبقات اپنے مفادات پر ضرب لگانے کے بجائے عوام کے رہے سہے معاشی حقوق پر منصوبہ بند طریقہ سے ڈاکا ڈال رہے ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں کی ایما پر عوام کو ایک نئے عذاب میں مبتلا کرنے کے لیے نام نہاد معاشی ماہرین کے ٹولے کو مسلط کیا گیا ہے جو کہ حکومت کا مشیر ہونے سے زیادہ ورلڈبینک اور آئی ایم ایف کے مفادات کے ترجمان ہیں۔ آئی ایم ایف سے طے پاتے معاہدے سے بہت پہلے سے ہی عوام کی زندگیوں میں زہر گھول دیا گیا ہے۔ جہاں ایک طرف ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری نے محنت کشوں کی حقیقی اجرتوں میں 40 فی صد سے زیادہ کی کمی کردی ہے تو دوسری طرف بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے عوام پر نا قابل برداشت اضافی بوجھ لاد دیا ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرتا نیا بجٹ محنت کش عوام کے لیے مہنگائی اور سماجی ابتری کے نہ ختم ہونے والا طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔

انہی غیرملکی مالیاتی اداروں کے حکم پر ریاست سروسز کے شعبوں جن میں تعلیم، صحت، ٹرانس پورٹ، بجلی، گیس اور پانی جیسی بنیادی سہولتوں کی فراہمی شامل ہے سے دست بردار ہورہی ہے اور شہریوں کو نجی منافع خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی تیاری کرچکی ہے۔ ملکی منڈی کو غیرملکی تیار مال کے لیے کھول کر ملکی معیشت میں مضبوط مینوفیکچرنگ کے شعبے کو غرقاب کر کے بے روزگاری کے عفریت کو بے قابو کر دیا گیا ہے۔ ذرائع پیداوار کے مالک بڑے بڑے جاگیرداروں اور صنعت کاروں کو ملنے والی مزید چھوٹ نے معیشت کے کھوکھلے پن کو ظاہر کر دیا ہے۔ زراعت کی طرح صنعتی شعبے میں بھی پیداواری صلاحیت میں اضافہ رک گیا ہے۔ اجناس خصوصاً گندم، چاول، گنا وغیرہ کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود کروڑوں کسان اور چھوٹے کاشت کار بدترین بدحالی کا شکار ہیں اور خودکشیوں اور شہروں کی جانب بڑی تعداد میں ہجرت کی نوبت آگئی ہے۔

پاکستان میں صنعتی مزدور ہو یا کہ زرعی کھیت مزدور ابتر حالات میں کام کرنے پر مجبور کردیا گیا ہے۔ کار گاہوں میں کام کے اوقات کار عملاً طے نہیں، اجرتیں مہنگائی کے تناسب سے نہ ہونے کے برابر ہیں، مشینوں میں جدت کے باعث پیداواری صلاحیت میں ہزار گنا اضافے کے باوجود فیکٹریوں، کارخانوں اور کارگاہوں میں کام کے حالات نہایت ہی مخدوش اور غیرانسانی ہیں۔ صنعتی اداروں میں مزدوروں کے معاشی حقوق کے ساتھ ساتھ وہ بنیادی آئینی حقوق بھی مکمل طور پر سلب کر لیے گئے ہیں جو انھیں مقامی و بین الاقوامی لیبر قوانین کے تحت میسر ہونے چاہیے تھے۔

غیرقانونی ٹھیکے داری نظام نے نیم مردہ مزدور تحریک کی پیٹھ میں زہرآلود خنجر گھونپ رکھا پے۔ لیبر ڈپارٹمنٹ اور لیبر کورٹس مذبح بنے ہوئے ہیں جہاں سرمایہ داروں کے ساتھ مل کر مزدوروں کی نیم مردہ لاشوں کا سودا ہوتا ہے۔ سماجی تحفظ کے ادارے یعنی EOBI ، سوشل سیکیوریٹی، ورکرز ویلفیئر بورڈ مزدور بہبود کے لیے ٹھوس عملی اقدامات کرنے کی بجائے نوکر شاہی کی نہ ختم ہونے والی لوٹ مار کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں۔

ملک میں اس وقت پونے سات کروڑ سے زائد لیبر فورس موجود ہے جس میں سے 70 فی صد نوجوان ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ حکم راں طبقات اور ان کی جماعتوں کے پاس ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل اور حکمت عملی موجود نہیں۔ اکثر سیاسی جماعتوں کے منشور میں محنت کشوں خصوصاً مزدوروں اور کسانوں کے بارے میں غیرمعمولی طور پر عمومی انداز میں بات کی ہے جس سے ان کی ترجیحات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ بیش تر سیاسی جماعتیں نجکاری، اجرتوں میں اضافے، یونین سازی کے حق، رہائش، صحت اور تعلیم کی ضمانت، ٹھیکے داری نظام، انفارمل سیکٹر خصوصاً زرعی مزدور، ہاری گھر مزدور خواتین کے قانونی حقوق جیسے اہم مسائل پر خاموش ہیں۔ ان جماعتوں نے اکثریت میں ان افراد یا خاندانوں کو پارٹی ٹکٹ دیے ہیں جن کا تعلق جاگیرداروں، سرمایہ داروں، پیروں، نوابوں اور دولت مند گھرانوں سے ہے۔

ذرائع پیداوار یعنی فیکٹریوں، کارخانوں، کھیتوں کے مالک کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہو ان سب میں قدرے مشترک یہ ہے کہ ان کے اپنے اداروں میں مزدور سے آٹھ گھنٹے سے زائد کام لیا جاتا ہے، اجرتیں قانون کی مطابق نہیں دی جاتیں، ورکرز کے پاس تقررنامے نہیں ہیں، سوشل سیکیوریٹی کے اداروں سے محنت کش رجسٹرڈ نہیں ہیں، ٹھیکے داری نظام موجود ہے اور یونین سازی اور اجتماعی سودا کاری جیسے آئینی وقانونی حق کو تسلیم نہیں کیا جاتا، جب کہ ان پارٹیوں کے وہ راہ نما جو زرعی اراضی کے مالک ہیں ان کی فرعونیت دیکھنے کے قابل ہے اور ہاری، مزارعین، کھیت مزدور تمام قانونی حقوق بشمول تنظیم سازی کے حق سے نابلد ہیں۔

یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ جمہوریت تاریخی طور پر دراصل صنعتی دور کی پیداوار ہے اور اس کا پہلا زینہ کام کی جگہ پر کام کرنے والوں کے لیے تنظیم سازی یعنی یونین بنانے کا حق ہے مگر یہ حق قانون کی کتابوں میں ہونے کے باوجود حکم راں طبقات چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے ہوں، دینے کو تیار نہیں ہیں۔ اس لیے اگر آج جمہوری اقدار اور جمہوری اداروں پر غیرجمہوری قوتیں حملہ آور ہیں تو اس کے بچاؤ کا یہی طریقہ ہے کہ محنت کشوں کو جمہوریت کی روح کے عین مطابق سماجی انصاف پر مبنی حقوق دیے جائیں۔ یہ بدقسمتی ہے کہ آج بھی پاکستان میں صرف ایک فی صد محنت کش حقیقی معنی میں یونین سازی کے حق سے مستفید ہو رہے ہیں۔

اگر جمہوریت کے لیے ضروری بنیادی یونٹ یعنی فیکٹری اور کھیت میں کام کرنے والا محنت کش اپنے جمہوری حق سے محروم ہے تو کیا سماج میں جمہوری اقدار حقیقی معنوں میں پنپ سکتی ہیں؟

ان حالات سے نجات  کا واحد ذریعہ یہی ہے کہ فیکٹریوں اور زرعی اراضی میں کام کرنے والے کروڑوں مزدور کسان زرعی مزدور، ملازمین خود کو اپنی طبقاتی تنظیموں یعنی مزدور تنظیموں، ہاری کسان کمیٹیوں، ملازمین کی ایسوسی ایشنز و دیگر تنظیموں میں منظم کریں اور پھر ملک گیر پیمانے پر خود اپنی سیاسی تنظیم بنائیں اس طرح ذرائع پیداوار کو اجتماعی ملکیت بنانے کی تحریک کا آغاز کریں۔ اس طرح کی تحریکیں نہ صرف پاکستان بلکہ ساری دنیا میں جاری ہیں۔ نوعِ انسانی کی بقا اور سرمائے پر انسانی محنت کی برتری کے لیے 1886میں شکاگو کے محنت کشوں کے خون سے جاری ہونے والی تحریک آج نئے جوش وجذبے کے ساتھ اربوں انسانوں کو نئی صبح کی نوید سنا رہی ہے، جس کی کرنیں ہر سو منظم باشعور مسلسل جدوجہد کے ذریعے پھوٹ رہی ہیں، جس کی قیادت خود مزدور، کسان بشمول محنت کش خواتین کریں گی۔

The post سرمائے پر محنت کی برتری کی تحریک appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://bit.ly/2J62b3l

No comments:

Post a Comment

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...