Urdu news

Monday, 30 September 2019

آصف زرداری پر دہشت گرد حملے کا خدشہ

 اسلام آباد:  سابق صدر آصف علی زرداری پر دہشتگرد حملے کے خدشے کے پیش نظر سیکیورٹی اداروں نے سابق صدر کی سیکیورٹی کو سخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ذرائع کے مطابق آصف زرداری پر جان لیوا حملہ ہونے کا خدشہ ہے،سیکیورٹی اداروں نے عدالت پیشی کے موقع پر حملے کا خدشہ ظاہر کیا ہے جس کے بعد سیکیورٹی پلان کو از سر نو ترتیب دینے کیلیے انتظامیہ کو تنبیہ کی گئی ہے۔

The post آصف زرداری پر دہشت گرد حملے کا خدشہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2nhUoH5

قومی اسمبلی میں منی لانڈرنگ ترمیمی بل منظور، سزاؤں میں اضافہ

 اسلام آباد: ترمیمی بل کے تحت منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کی سزائیں بڑھا دی جائیں گی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔اس کے تحت مشکوک لین دین میں ملوث افراد کو 10سال تک سزا مل سکے گی، منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کو50 لاکھ روپے تک جرمانہ بھی ہوگا۔منی لانڈرنگ قابل دست اندازی جرم ہوگا،اس میں ملوث شخص کو تفتیشی افسر گرفتار کرکے وجوہات سے آگاہ کرے گا۔

مالیاتی اینٹلی جنس یونٹ مشکوک ٹرانزیکشننز کی تحقیقات کرے گا۔بل فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی سفارشات کے مطابق بنایا گیا۔اینٹی منی لانڈرنگ  قانون عالمی معیارات کے ساتھ منظم کیا جائے گا۔ قومی اسمبلی میں غیر ملکی زرمبادلہ انضباط ترمیمی بل 2019 ء بھی منظور کرلیا گیا۔

The post قومی اسمبلی میں منی لانڈرنگ ترمیمی بل منظور، سزاؤں میں اضافہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2nkbEeJ

پہلی سہ ماہی، ٹیکس وصولیاں ہدف سے 119 ارب روپے کم

 اسلام آباد:  بجٹ میں 700ارب روپے کے ٹیکس لگانے اور ٹیکس وصولیوں میں اضافے کی تمام ترحکومتی کوششوں کے باوجود رواں مالی سال2019-20کی پہلی سہ ماہی(جولائی تا ستمبر)ایف بی آر کا عبوری ریونیو شارٹ فال بڑھ کر 119 ارب روپے تک جاپہنچا ہے۔

آئی ایم ایف کے ساتھ رواں مالی سال کی پہلی سہہ ماہی کیلئے مقرر کردہ ٹیکس وصولیوں کے اہداف اور ٹیکس دہندگان کو 75 ارب روپے کے ریفنڈز کے اجرا کی شرائط پوری نہیں کی جاسکی ہیں۔ٹیکس دہندگان کو صرف 30 ارب روپے ریفنڈ جاری کیے جاسکے۔

ایف بی آر کو گزشتہ رات گئے تک موصول عبوری ٹیکس وصولیوں کے ’’ایکسپریس‘‘کو دستیاب اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہہ ماہی (جولائی تاستمبر)کے دوران مجموعی طور پر 952ارب روپے کی خالص ٹیکس وصولیاں کی گئیں جو گذشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران حاصل ہونیوالی ٹیکس وصولیوں سے اگرچہ15 فیصد زیادہ ہیں مگر سہ ماہی( جولائی ستمبر 2019)کیلیے مقرر کردہ 1071ارب روپے کے نظر ثانی شدہ ہدف کے مقابلہ میں 119 ارب روپے کم ہیںجبکہ مقرر کردہ اصل ہدف 1111 ارب روپے کے مقابلے میں 159 ارب روپے کم ہیں۔

The post پہلی سہ ماہی، ٹیکس وصولیاں ہدف سے 119 ارب روپے کم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2o1HxJ6

لوئردیر: سیلابی ریلے میں مکان بہنے سے 3 بچے جاں بحق

دیر لوئر: تیز بارش کے دوران سیلابی ریلے میں مکان بہہ گیا جس میں 3بچے بھی بہہ کر جاں بحق ہوگئے۔

لوئردیر میں تیز بارش کے دوران سیلابی ریلہ مکان کو بہا کر لے گیا جس میں 3بچے بھی بہہ کر جاں بحق ہوگئے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق واقعہ تحصیل میدان لر میرگام میں پیش آیا، ریلہ میں بہنے والے بچوں کی لاشیں نکال لی گئیں،تینوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔

The post لوئردیر: سیلابی ریلے میں مکان بہنے سے 3 بچے جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2o5FZ0y

آصف زرداری پر دہشت گرد حملے کا خدشہ

 اسلام آباد:  سابق صدر آصف علی زرداری پر دہشتگرد حملے کے خدشے کے پیش نظر سیکیورٹی اداروں نے سابق صدر کی سیکیورٹی کو سخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ذرائع کے مطابق آصف زرداری پر جان لیوا حملہ ہونے کا خدشہ ہے،سیکیورٹی اداروں نے عدالت پیشی کے موقع پر حملے کا خدشہ ظاہر کیا ہے جس کے بعد سیکیورٹی پلان کو از سر نو ترتیب دینے کیلیے انتظامیہ کو تنبیہ کی گئی ہے۔

The post آصف زرداری پر دہشت گرد حملے کا خدشہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2nhUoH5

میں نے بھی تالی بجائی

عمران خان نے 27 ستمبر کو سلامتی کونسل میں خطاب کر کے میچ اور دل دونوں جیت لیے‘ پورے پاکستان نے کھل کر تالیاں بجائیں‘ میں نے بھی دل سے کھل کر عمران خان کو شاباش دی اور تعریف بھی کی‘ عمران خان کی تقریر میں کیا تھا جس نے مجھ جیسے ناقد کو بھی تعریف پر مجبور کر دیا‘ میں اس طرف آنے سے پہلے آپ کو چند لمحوں کے لیے 1971 میں لے جاؤں گا۔

بھارت نے مکتی باہنی کے ذریعے 1969میں مشرقی پاکستان میں چھیڑ چھاڑ شروع کر دی تھی‘ پاکستان کے معاشی اور سیاسی حالات آج جیسے تھے‘ انڈسٹری بند ہو رہی تھی‘ جنرل یحییٰ خان نے 303 بیورو کریٹس کو نوکریوں سے نکال دیا چناں چہ افسروں نے خوف زدہ ہو کر کام بند کر دیا تھا‘ فائلیں رک گئی تھیں اور محکمے نیچے آنا شروع ہو گئے تھے۔

ملک میں عیاشی اور طوائف الملوکی کا دور بھی شروع ہو گیا تھا‘ گانے والیاں بڑے بڑے فیصلے کرا دیتی تھیں اور رہی سہی کسر 1970 کے انتخابات نے پوری کر دی‘ ذوالفقار علی بھٹو نے مغربی پاکستان اور شیخ مجیب الرحمن نے مشرقی پاکستان سے اکثریت حاصل کر لی‘ شیخ مجیب کی نشستیں ذوالفقار علی بھٹو سے کہیں زیادہ تھیں مگر خوب صورت اور بہادر جنرل یحییٰ خان ’’بدصورت اور ٹھگنے‘‘ بنگالیوں کو اقتدار نہیں دینا چاہتے تھے لہٰذا ملک میں خوف ناک سیاسی بحران پیدا ہو گیا‘ 1970 میں قومی اسمبلی ڈھاکا اور وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہوتا تھا گویا آئینی قبلہ مشرقی پاکستان اور حکومتی مرکز مغربی پاکستان ہوتا تھا‘الیکشن کو چارماہ گزر گئے مگر قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس نہ ہو سکا۔

جنرل یحییٰ خان اجلاس کے راستے میں رکاوٹ بن گئے‘ کیوں؟ کیوں کہ وہ جانتے تھے شیخ مجیب الرحمن اسمبلی کے پہلے اجلاس ہی میں وزیراعظم بن جائیں گے اوریہ لوگ کسی بھی قیمت پر یہ دن نہیں دیکھنا چاہتے تھے‘ ذوالفقار علی بھٹو بھی شیخ مجیب کو مسند اقتدار پر دیکھنے کے لیے تیار نہیں تھے چناں چہ انھوں نے مینار پاکستان کے سائے میں کھڑے ہو کر اعلان کر دیا ’’جو بھی ڈھاکا جائے گا ہم اس کی ٹانگیں توڑ دیں گے‘‘ یہ سیاسی بحران تیزی سے فوج کے امیج کو نقصان پہنچانے لگا‘ بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کو مشیروں نے مشورہ دیا ہم اگر پاکستان پر حملہ کریں تو عوام اپنی فوج کا ساتھ نہیں دے گی لہٰذا ہم 1965 کی ہزیمت کا بدلہ لے لیں گے۔

اندراگاندھی قائل ہو گئی اور اس نے 22 نومبر کو عیدالفطر کے دن اپنی فوجیں مشرقی پاکستان میں داخل کر دیں‘ پاکستانی فوج نے بھارتی توقعات کے برعکس بے جگری سے جواب دیا‘ بھارت کے چھکے چھوٹ گئے‘ بھارت کا خیال تھا یہ مغربی سرحدوں کو چھیڑے بغیر مشرقی پاکستان پر قبضہ کر لے گا لیکن پاک فوج کے ردعمل نے اسے پریشان کر دیااور یہ پاکستان کی توجہ تقسیم کرنے کے لیے 3 دسمبر کو مغربی پاکستان پر بھی حملہ کرنے پر مجبور ہو گیا‘ پاکستانی فوج جذبے کے ساتھ لڑ رہی تھی لیکن سیاسی طاقت اس وقت فوج کے ساتھ نہیں تھی۔

لہٰذا پاکستان دباؤ میں آ گیا‘ آغا شاہی اس وقت اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے تھے‘ یہ چار دسمبر کو سلامتی کونسل چلے گئے‘ سوویت یونین بھارت کا اتحادی تھا‘ روس نے بنگلہ دیش کی جلاوطن حکومت کو سلامتی کونسل میں فریق بنانے کی قرارداد پیش کر دی‘ چین اس وقت بھی پاکستان کا دوست تھا‘ چین نے اس قرارداد کو ویٹو کر دیا‘ جنرل یحییٰ خان کو پاکستان اور فوج دونوں کو بچانے کے لیے سلامتی کونسل میں مؤثر آواز چاہیے تھی اور ملک میں اس وقت ذوالفقار علی بھٹو کے علاوہ کوئی مؤثر آواز نہیں تھی‘ جنرل یحییٰ خان نے بھٹو صاحب کو تیار کیا اور انھیں وزیر خارجہ کا اعزازی ٹائٹل دے کر سلامتی کونسل بھجوا دیا‘ بھٹو صاحب 11 دسمبر 1971 کو نیویارک پہنچ گئے۔

امریکا اور چین نے فائر بندی کی قرارداد پیش کر رکھی تھی‘ اس دوران پولینڈ نے بھی سوویت یونین کی مدد سے سیز فائر کی درخواست جمع کرا دی چناں چہ اقوام متحدہ کے پانچ میں سے تین مستقل ارکان سیز فائر پر متفق ہو گئے‘ پاکستان جنگ ہار رہا تھا‘ ہمارے 90 ہزار فوجی مشرقی پاکستان میں پھنس چکے تھے‘ فائر بندی اس وقت پاکستان اور پاک فوج کے لیے واحد آپشن بچا تھا‘ 15 دسمبر کا دن آ گیا‘ ذوالفقار علی بھٹو سلامتی کونسل پہنچے‘ ایک خوف ناک جذباتی تقریر کی‘ سلامتی کونسل کو برا بھلا کہا‘ پولش قرارداد پھاڑ کر پھینکی اور یہ فرما کر ’’ہم (ہزار سال تک) لڑیں گے‘‘ سلامتی کونسل کے فلور سے اٹھ گئے۔

یہ تقریر پوری قوم کے جذبات کی ترجمانی تھی‘ قوم نے حلق کی پوری طاقت سے جیے بھٹو کا نعرہ لگایا اور تالیاں بجا کر آسمان سر پر اٹھا لیا لیکن اس شان دار تقریر کے اگلے دن کیا ہوا؟ 16 دسمبر 1971 کو جنرل نیازی نے ڈھاکا کے پلٹن میدان میں ہتھیار ڈال دیے‘ پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا‘ بھٹو صاحب کی تقریر شان دار تھی‘ شان دار ہے اور شان دار رہے گی لیکن ہم نے اس شان دار تقریر کے بدلے میں کیا پایا؟ ہم نے آدھا پاکستان گنوا دیا‘ مورخین آج بھی کہتے ہیں ذوالفقار علی بھٹو اگر اس دن جذباتی تقریراور کاغذات پھاڑنے کی بجائے پولینڈ کی قرار داد پاس ہونے دیتے تو سیز فائر ہو جاتا‘ فوجیں واپس چلی جاتیں اور شاید پاکستان بچ جاتا لیکن یہ نہ ہو سکا اور یہ حقیقت ہے ماضی ماضی ہی ہوتا ہے اور شاید قدرت بھی ماضی کو نہیں بدل سکتی۔

وزیراعظم عمران خان کی 27 ستمبر کی تقریر بلاشبہ ذوالفقار علی بھٹو کی 15 دسمبر 1971 کی تقریر سے زیادہ شان دار اور جان دار تھی‘ میں نے بھی تقریر کے بعد قوم کے ساتھ کھڑے ہو کر عمران خان کے لیے تالی بجائی تھی‘ ہم بہادر لیڈر شپ کو ترسے ہوئے لوگ ہیں‘ ہم جب بھی اپنے کسی لیڈر کو دنیا کو للکارتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ہمارے اندر جذبہ بھی پیدا ہو جاتا ہے اور ہم دل کھول کر اس کی تعریف بھی کرتے ہیں‘ عمران خان نے بھی 27 ستمبر کو سلامتی کونسل کے ڈائس پر کھڑے ہو کر جو کہا قوم یہ دہائیوں سے سننا چاہتی تھی‘ ہم چاہتے تھے ہمارے لیڈر اقوام عالم کے درمیان کھڑے ہو کر پاکستان اور کشمیر کا مقدمہ لڑیں لیکن بدقسمتی سے ماضی کا کوئی بھی لیڈر اقوام متحدہ میں عمران خان کی طرح کھل کر بات نہیں کر سکا۔

عمران خان کی باتوں میں درد بھی تھا‘ جذبہ بھی‘ دلیل بھی اور اثر بھی‘ پوری دنیا نے اس تقریر کو سراہا اور میں دل سے سمجھتا ہوں عمران خان نے 27 ستمبر 2019  کودوسری بار ورلڈ کپ حاصل کر لیا‘ یہ مدر آف آل ورلڈ کپس لے کر پاکستان آئے‘ مجھے افسوس ہے میں ان کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ نہیں جا سکا‘ یہ تقریر واقعی جان دار اور شان دار تھی لیکن اس شان دار تقریر کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے آج مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو 58دن ہو چکے ہیں اور دنیا کے 245 اور اقوام متحدہ کے 193رکن ملکوں میں سے کسی ملک نے بھارت کو کرفیو اٹھانے کا حکم نہیں دیا۔

سعودی عرب کے ولی عہد نے ہمارے وزیراعظم کو نیویارک جانے کے لیے اپنا جہاز دے دیا مگر نریندر مودی کو’’کرفیو اٹھا دو‘‘ کا ایک ایس ایم ایس تک نہیں کیا‘ طیب اردگان اور مہاتیر محمد نے بھی سلامتی کونسل میں کشمیر کا ذکر کیا مگر بھارت کے ساتھ تجارتی اور سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا‘ چین‘ روس اور امریکا کشمیر کے ایشو پر ہمارے ساتھ ہیں مگر یہ نریندر مودی کونہیں سمجھا رہے اور ہم نے شان دار خطاب فرما کر دوسری بار ورلڈ کپ بھی لے لیا مگر ہم اس تقریر کے باوجود کشمیر حاصل کر سکے اور نہ ہی کشمیریوں کو ’’کرفیو اٹھ گیا‘‘ کی خوش خبری دے سکے ‘ تقریر کے باوجود حالات جوں کے توں رہے۔

میں دل پر بھاری پتھر رکھ کر یہ کہنے پر مجبور ہوں دنیا کے مسئلے اگر تقریروں سے حل ہو سکتے تو کشمیر 27 ستمبر کو آزاد ہو چکا ہوتا‘ دنیا میں اگر تقریریں سب کچھ ہوتیں تو عمران خان 27 ستمبر کو دنیا کے سپر اسٹار اور نریندر مودی زیرو اسٹار بن چکے ہوتے اور راوی صرف اور صرف عمران خان کے لیے بانسری بجا رہے ہوتے مگر یہ دنیا بڑی ظالم ہے‘ اس میں مودی تقریر کا مقابلہ ہارنے کے باوجود جیت کر دہلی پہنچ جاتا ہے اور ہم تقریر کا ورلڈ کپ لے کر بھی خالی ہاتھ اسلام آباد آتے ہیں‘ ہم سچے ہیں لیکن ہماری جھولی خالی ہے جب کہ مودی جھوٹا ہے اور اس کی جھولی میں کشمیر چمک رہا ہے۔

ہمیں تقریریں ضرور کرنی چاہئیں‘ لیڈروں کو دلائل اور بے خوفی بڑا لیڈر بناتی ہے ہمیں بھی بڑا لیڈر بننا چاہیے مگر یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے قوموں کو تقریریں نہیں اندرونی استحکام‘ معاشی توازن اور سیاسی اتحاد بچایا کرتے ہیں چناں چہ کشمیرجب بھی آزاد ہوگا مضبوط پاکستان کے ذریعے آزاد ہو گا‘ تقریروں اور خطبوں سے نہیں‘ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کے سو سالوں سے بہتر ہوتی ہے‘ یہ بات صرف کتابوں میں اچھی لگتی ہے جب کہ حقیقت تو یہ ہے بنگال گیدڑ چھین کر لے گئے تھے اور میسور کے شیر کے ہاتھ میں اس ایک فقرے کے سوا کچھ نہیں بچا تھا۔

لہٰذا محترم وزیراعظم! مقدمے جیتنے کے لیے لڑے جاتے ہیں یہ سننے کے لیے نہیں کہ بے گناہ ملزم پھانسی پر لٹک گیا مگر وکیل کے دلائل نے جج کو انگلی دانتوں میں دابنے پر مجبور کر دیا اور جنگیں بھی جیتنے کے لیے لڑی جاتی ہیں مخالف فوجوں سے تالیاں بجوانے کے لیے نہیں۔عمران خان کی تقریر ذوالفقار علی بھٹو کے خطاب سے اچھی تھی مگر سوال یہ ہے قوم کو چسکے کے علاوہ تقریر سے کیا ملا؟آپ اگر مزید چسکا لینا چاہتے ہیں تو آپ سلامتی کونسل کے آرکائیو سے یاسرعرفات‘ ہیوگو شاویز‘ معمر قذافی اور خروشیف کی تقریریں نکال کر سن لیں‘ آپ تالیاں بجا بجا کر پاگل ہو جائیں گے۔

خروشیف نے تو اپنا جوتا ڈائس پر مار کر کہاتھا ’’میں تمہیں دفن کردوں گا‘‘ لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ سوویت یونین ٹوٹ گیا‘ قذافی کی لاش گلیوں میں گھسیٹی گئی‘ ہیوگوشاویز کاملک خوف ناک کساد بازاری کا شکار ہوگیا اور یاسرعرفات کا فلسطین آج بھی اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہے لہٰذا تاریخ کہتی ہے قوموں کو محمد بن قاسم چاہیے ہوتے ہیں‘ محمد بن قاسم کی تقریریں نہیں اور ہم خطاب کے ذریعے دنیا فتح کرنا چاہتے ہیں اور یہ صرف ہم ہی کر سکتے ہیں۔

The post میں نے بھی تالی بجائی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2n93vdg

تقریر ہو تو مہاتیر جیسی ورنہ نہ ہو

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے چوہترویں سالانہ اجلاس میں عمران خان کے علاوہ جن دو رہنماؤں نے کشمیر پر واضح گفتگو کی وہ رجب طیب اردگان اور ملائیشیا کے وزیرِ اعظم مہاتیر محمد ہیں۔ٹرمپ اور خلیجی ریاستوں کے سربراہان کا فوکس ایران رہا۔مودی کی بیشتر تقریر اندرونِ بھارت ترقیاتی منصوبوں کی تفصیل بتانے میں صرف ہو گئی۔

اگر جامعیت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو سب سے بہتر اور متوازن خطاب مہاتیر محمد کا تھا۔چورانوے سالہ مہاتیر محمد ایک ایسے عالمی رہنما ہیں جنہوں نے صرف باتوں کے خربوزے نہیں کاٹے بلکہ اپنے ملک کو ناداری سے اٹھا کر صرف بیس برس کی مدت میں درمیانہ درجے کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کر دیا۔

اقوامِ متحدہ میں اپنے ستائیس منٹ کے خطاب میں کہیں محسوس نہیں ہوا کہ ڈاکٹر مہاتیر محمد کسی انتخابی جلسے سے خطاب کر رہے ہوں یا اپنی مقرری کی دھاک بٹھا رہے ہوں  یا کسی ایک موضوع سے بری طرح لٹک گئے ہوں۔میں دراصل کیا کہہ رہا ہوں۔یہ آپ کو مہاتیر محمد کے خطاب کا خلاصہ پڑھ کے زیادہ بہتر سمجھ میں آئے گا۔

’’ محترم صدرِ مجلس۔لگ بھگ پچھتر برس پہلے پانچ ممالک نے دوسری عالمی جنگ کے فاتح ہونے کا دعویٰ کیا اور اس دعویٰ کی بنیاد پر انھوں نے خود کو ویٹو کا اختیار دے کر باقی دنیا پر حکمرانی کا حق اپنے تئیں اپنے نام کر لیا۔یہ حق اس تنظیم ( اقوامِ متحدہ ) کو قائم کرتے ہوئے حاصل کیا گیا جس کا منشور ہی جنگوں کا خاتمہ اور تنازعات کا پرامن حل ڈھونڈنا قرارپایا۔یہ ممالک بھول گئے کہ جن انسانی حقوق اور مساوات کے وہ چیمپئن ہیں۔ ویٹو پاور بذاتِ خود ان کے اس دعویٰ کی کتنی بڑی نفی ہے۔

ویٹو پاور کا نتیجہ یہ نکلا کہ نظریاتی بنیادوں پر بٹی ان طاقتوں نے نہ صرف عالمی مسائل کے پرامن حل کا دروازہ بند کر دیا بلکہ تنظیم کے رکن باقی دو سو ارکان کی خواہشات کے احترام سے بھی انکار کر دیا۔مگر ان ویٹو پاورز کی ڈھٹائی ملاخطہ کیجیے کہ وہ دیگر ممالک کو کہتی ہیں کہ وہ مناسب حد تک جمہوری نہیں۔یہ پانچوں اپنے ویٹو کے حق کو برقرار رکھنے کے لیے اسلحے کی دوڑ اور جنگوں کے فروغ کو جائز سمجھتے ہیں۔  لڑائی کی وجوہات ایجاد کرتے ہیں تاکہ کاروبار پھلتا رہے اور کوئی انھیں چیلنج نہ کر سکے۔کیا یہی مقصد تھا اقوامِ متحدہ کے قیام کا ؟ کیا یہ ڈھانچہ تاحیات اسی طرح رہے گا ؟

یہ درست ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد مغربی ممالک کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہوئی مگر یہ بھی تو دیکھیے کہ انھوں نے میدانِ جنگ مغرب سے مشرق میں منتقل کر دیا۔

جنابِ صدر اس حکمتِ عملی کا پہلا ثبوت فلسطینی زمینوں پر قبضے اور نوے فیصد عرب آبادی کو بے دخل کر کے اسرائیل کا قیام تھا۔تب سے اب تک اس تنازعے نے کئی بڑی جنگوں کو جنم دیا اور ان جنگوں کے کوکھ سے دہشت گردی نے جنم لیا۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ ویٹو پاورز اس دہشت گردی کے بنیادی اسباب کی طرف دھیان دیتیں۔مگر انھوں نے اس کا حل فوجی طاقت اور اقتصادی پابندیوں میں ڈھونڈھ لیا۔یہ وہ نسخہ ہے جو کبھی بدامنی کی بیماری ٹھیک نہیں کر سکتا۔

جنابِ صدر بلاشبہ جمہوریت آمریت سے بدرجہا بہتر ہے۔مگر جمہوریت راتوں رات جڑ نہیں پکڑ سکتی۔جو اس نظام کو جادو کی چھڑی سے نافذ کرنا چاہ رہے ہیں خود انھیں اس نظام کو اپنانے میں صدیاں نہیں تو عشرے ضرور لگ گئے۔راتوں رات اپنی مرضی کا جمہوری نظام تھوپنے کا مطلب عدم استحکام اور خانہ جنگی ہے۔کئی ممالک اس ادھ کچے پکے تجربے کے دوران دوبارہ ایک بھیانک شخصی یا عسکری آمریت میں جکڑ دیے گئے۔

مگر یہاں بھی دہرا معیار برقرار ہے۔قانون کی حکمرانی کی دعویٰ دار ریاستوں کی جانب سے حریفوں کے لیے ہر طرح کی جکڑ بندی کا سامان ہے۔لیکن جو دوست ہیں انھیں بین الاقوامی قوانین سمیت ہر طرح کی روایت توڑنے کی کھلی چھوٹ ہے۔مثلاً اسرائیل کو کھلی چھوٹ ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ تعریف بھی کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کا واحد جمہوری ملک ہے۔مگر جو ممالک دوست نہیں ان کے بارے میں فرض کر لیا گیا ہے کہ وہاں کچھ بھی اچھا نہیں ہو سکتا۔جنابِ صدر واقعی اس دنیا میں انصاف نہیں ہے۔

جنابِ صدر سامراج سے آزادی کے بعد جن جن نوآزاد ممالک سے اقلیتی نسلوں اور گروہوں کو باہر نکالنے کی ظالمانہ کوشش ہوئی، ان میں سب سے افسوسناک مثال میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کی ہے۔ہم سب کی آنکھوں کے سامنے قتل، ریپ اور گھروں کی آتشزدگی جاری ہے مگر ہمارا جو بھی اجتماعی ردِعمل ہے اس کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ کی توقیر اور کم ہو رہی ہے۔

جنابِ صدر ایک اور مثال جموں و کشمیر کی ہے۔اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے باوجود اس خطے پر حملہ ہوا اور قبضہ ہوا۔اس اقدام کے پیچھے جو بھی وجہ یا جواز ہو غلط ہے۔ بھارت اور پاکستان کو بیٹھ کر مسئلے کا پرامن حل نکالنا چاہیے۔ اس معاملے میں اقوامِ متحدہ کو نظرانداز کرنا قانون کی بالا دستی کے تصور کو نظرانداز کرنے کے برابر ہے۔

جنابِ صدر آزاد تجارت کی بہت بات ہوتی ہے مگر اس کے پردے میں جو قوانین و ضابطے بنائے جا رہے ہیں، وہ امیر ممالک خفیہ طور پر بناتے ہیں اور پھر غریب ممالک پر تھوپ دیتے ہیں۔ان قواعد و ضوابط کا مقصد غریب معیشتوں کی قیمت پر امیر ممالک کی کمپنیوں کے منافع کو یقینی بنانا اور  تحفظ دینا ہے۔غریب ممالک کو امید نہیں کہ نوآبادیاتی دور میں انھیں جس طرح لوٹا گیا اس کا کوئی ازالہ کرے گا۔یہ ممالک بس اتنا چاہتے ہیں کہ انھیں بھی مساوی بنیادوں پر ترقی کرنے کی اجازت ہو۔

جنابِ صدر ملائشیا بحیثیت ریاست کسی بھی تنازعے کے حل کے لیے جنگ کے خلاف ہے۔تنازعات کے حل کے بہانے انسانوں کو ہلاک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اب تک قدیم دور سے جدید تہذیبی دور میں داخل نہیں ہو سکے۔حالانکہ جنگ کا سہارا لیے بغیر بھی تنازعات بات چیت، ثالثی اور عدالت کے ذریعے نمٹائے جا سکتے ہیں۔ ملائشیا نے اپنے ہمسائیوں کے ساتھ تمام تنازعات دو طرفہ بنیادوں پر بات چیت یا بین الاقوامی قانون کی مدد سے حل کیے ہیں۔کچھ میں ہم ہارے کچھ میں جیتے مگر کوئی انسانی جان ضایع نہیں ہوئی۔

جنابِ صدر مجھے یہ بات کبھی پلے نہیں پڑی کہ ہم اپنے ایک ایک انچ کے لیے جان لے لیں گے یا دے دیں گے۔ایک ایک انچ کے لیے جنگ اس انچ کی قیمت سے کہیں بھاری قیمت لے لیتی ہے۔جنگ جیتنے کا مطلب ہے کہ کسی ایک کو ہارنا ہے۔اگر ہم کسی بھی تنازعے کے حل کے لیے جنگ کے علاوہ کوئی بھی راستہ اختیار کریں تو بے شک کوئی ایک ہارے یا جیتے مگر مرے گا بہرحال نہیں ، نہ ہی کسی کی زمین برباد ہو گی۔

جنابِ صدر اس کرہِ ارض کا ماحول جس تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔اگر ہم نے فوراً کچھ نہ کیا تو اتنے جمع ہونے والے ہتھیار ہمارے کس کام آئیں گے جب ہم ہی نہ ہوں گے۔ کیا ہتھیاروں پر صرف ہونے والا پیسہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہو رہے نقصان کو کم کرنے کے لیے استعمال کرنے کا وقت آن نہیں پہنچا ؟ کیا ہلاکت خیزی کے لیے مختص بجٹ کا رخ زندگی کی بقا کی جانب موڑنے کے لیے اوسط ذہانت کے بجائے کوئی غیر معمولی ذہانت درکار ہے ؟ اگر ایسا ہے تو اس سے بڑا المیہ کیا ہو سکتا ہے ؟

جنابِ صدر میں سرمایہ دارانہ نظام کے حق میں ہوں مگر لگتا ہے سرمایہ داری پاگل ہو چکی ہے۔مجھے وحشت ہوتی ہے جب کمپنیاں اور افراد کھربوں ڈالر کمانے کی باتیں کرتے ہیں۔کسی بھی شخص یا کمپنی کے پاس بے تحاشا سرمایہ خطرناک عمل ہے۔بے تحاشا و بے لگام سرمایہ  باقیوں کو جھکا سکتا ہے ، ان کی پالیسیوں اور ذہنوں پر قبضہ کر سکتا ہے اور دنیا کو ایسی سمت میں ہانک سکتا ہے جہاں کوئی بھی نہیں جانا چاہتا۔

جنابِ صدر ہر کوئی بل گیٹس نہیں ہوتا جو اپنے منافع میں دوسروں کو بھی تھوڑا بہت حصہ دار بنائے۔بے تحاشا منافع کی ہوس ہم سب کی زندگیوں کو کم سے کم کرتی چلی جا رہی ہے۔وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ ہنگامی ضرورت ہے بین الاقوامی سطح پر نئے اینٹی ٹرسٹ قوانین بنانے کی تاکہ زیادہ سے زیادہ وسائل و سرمایہ کم سے کم ہاتھوں میں مرتکز ہونے کو روکا جا سکے۔بصورتِ دیگر آخر میں بس ایک ہی ہاتھ بچے گا جو ہم سب کا گلا گھونٹ کر خود بھی خودکشی کر لے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے  bbcurdu.com پر کلک کیجیے )

The post تقریر ہو تو مہاتیر جیسی ورنہ نہ ہو appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2oHPun0

قتل کی اجرت وصول ازمقتول

یہ قول زریں یا ڈاکٹرائن چونکہ ہمارا نہیں ہے، قہرخداوندی چشم گل چشم عرف سوائن فلو کا ہے، اس لیے اس کاجوبھی ثواب وعذاب یاحساب کتاب بنتاہے وہ اسی کوجانا چاہیے۔ ویسے تویہ قول زریں یامقتولین یا ڈاکٹراین خاص ہے یعنی اس نے خاص طورپر ڈاکٹرامرود، مردود کے بارے میں لانچ کیا ہواہے لیکن اسے عمومی بھی کہا جا سکتا ہے۔

قہرخداوندی نے اس ضمن میں جوبیان بزبان عیان اعلان کیاہے، اس میں کہاگیاہے کہ اجرتی قاتل کئی اقسام اور کیٹگری کے ہوتے ہیں جو طرح طرح کے آلات قتل سے واردات سرانجام دیتے ہیں یعنی قتل بذریعہ ترازو،قتل بذریعہ بازو اور قتل بذریعہ ’’مازو‘‘یعنی ملاوٹ وغیرہ کے کرتے ہیں لیکن دو اقسام کے اجرتی قاتل زیادہ مشہور ومعروف اور مصرف فی شغوف ہوتے ہیں ایک تو وہ جوقتل کا معاوضہ کسی اور سے لے کرکسی اور کوقتل کرتے ہیں۔

یہ سیدھے اور عام اجرتی ہوتے ہیں اور بہت پرانے زمانے سے چلے آرہے ہیں لیکن دوسری قسم کے جونسبتاً جدیداور ماڈرن اجرتی ہیں، یہ قتل کا معاوضہ مقتول ہی سے وصول کرتے ہیں اور پیشگی وصول کرتے ہیں اور ان کے آلات قتل بھی مختلف ہوتے ہیں جسے ڈاکٹر امرود مردود دوائیوںکے ذریعے وارداتیں کرتاہے یاجیسے علامہ بریانی تعویزات اور عملیات سے کرتاہے یالیڈر ٹائپ لوگ کچھ اور نادیدہ آلات استعمال کرتے ہیں۔

یہ تو وہ خود بھی جانتا ہے، ہم بھی جانتے ہیں اور مانتے ہیں کیونکہ اس کو پہچانتے ہیں اور اس کے اقوال وافعال واعمال کو چھانٹے اورچھانتے ہیں،کہ اس کا اصل نشانہ علامہ اور ڈاکٹر ہی ہوتے ہیں لیکن بات کو عمومی جامہ حجامہ بلکہ پجامہ پہناکر مشتہرعامہ کردیتاہے۔یہ اس دن کی بات ہے جب ڈاکٹر امرود مردود نے مفت’’کارمنیو‘‘مکسچر پلانے سے انکار کر دیاتھا ۔

ڈاکٹرامردو نے خود یہ مکسچرایجاد کیاہواہے جس میں ایک مشہور اشتہاری دوا کی طرح صرف آٹے کا سوڈا ہوتاہے لیکن اسے رنگارنگ فیلور کے  شربتوں سے ایک خوش ذائقہ مشروب بنایاہواہے اور بعض لوگوں کو مفت پلاتاہے خاص طور پرقہرخداوندی یا علامہ بریانی جب کسی خانہ بربادی جمعہ جمعرات یا چہلم، برسی سے اوور لوڈ ہوکر آتے ہیں، ایک دن ہم نے علامہ بریانی سے پوچھا بھی تھا کہ آپ کے پاس تواپنا جدی پشتی اور ڈویلپ کیاہوا چورن’’سب کچھ ہضم‘‘بھی ہے توبولے کہ وہ کم ازکم مفت سے تو مہنگا پڑتا ہے۔

اس لیے یہاں وہاں پیرٹکانے کی کوشش کرے گا لیکن میں بھی اسے چھوڑنے والا نہیں ہوں، پیر کے انگوٹھے تک اس کا پیچھاکروں گا اور اس نے واقعی پیچھا کیا۔ مرض نے بھی یہاں وہاں دوڑا دوڑا ،بھاگم بھاگ کا سلسلہ جاری رکھا۔کان سے آنکھوں پھرناک میں پھر یکے بعد دیگرے نتھنوں، آنتوں میں، ٹھوڑی میں،گردن میں گلے میں یہاں تک کہ زبان میں چھپنے کی کوشش کی لیکن وہ بھی ڈاکٹر امرود تھا اور پھر مردود بھی تھا۔چنانچہ دل جگر گردوں پھیپھڑوں اور آنتوں میں یہ تعاقب جاری رہا۔آخرکار دس سال گزرنے کے بعد وہ گھٹنوں تک جاچکاہے اور ڈاکٹرامرود کا یہ دعویٰ اپنی جگہ قائم ہے کہ میں اسے پیر کے انگوٹھے میں پہنچا کر دم لوں گا۔

اور مرض کادم نکالوں گا، چاہے اس کے ساتھ مریض کابھی دم کیوں نہ نکل جائے کیونکہ’’دام‘‘ تواسے برابرمل رہے ہیں۔ چنانچہ اسی مریض کودیکھتے ہوئے بظاہرہم سے لیکن حقیقت میں ڈاکٹرپر ضرب لگائے ہوئے کہنے لگا، یہ کیازمانہ آگیا، کیسے کیسے اجرتی قاتل پیدا ہوگئے کہ قتل بھی کرتے ہیں اور اجرت کسی دشمن کے بجائے اسی مقتول یا ہونے  والے مقتول سے لیتے ہیں۔ پھر اسی موضوع کوہدف مان کر وہ تیراندازی کی کہ ڈاکٹر امرود مردود کی بجائے کوئی اور ہوتا تویا تواس کا جبڑا توڑ چکا ہوتا یا اپنی دکان چھوڑ چکاہوتا۔اجرتی قاتلوں کے اس موضوع کے گرد حکایتوں اور لطیفوں کے جال بھی بنتاچلا گیا، پھر ایک اجرتی کی حکایت بیان کرتے ہوئے بولا،اس اجرتی قاتل نے نناوے قتل کیے تھے۔

آخر میں وہ توبہ تائب ہوکر کفارہ ادا کرنے کی کوشش کرنے لگا، اس نے لق ودق صحرا میں زرکثیر صرف کرکے ایک باغ لگایا جس میں خربوز تربوز کے ساتھ دوسرے بہت سارے پھل بھی تھے، یہاں تک کہ اس میں امرود جیسے فضول اور کیڑوں بھرے پھل کے درخت بھی تھے، یہاں اس نے امرود پر اچھا خاصا ’’کودم کود‘‘ کرتے ہوئے اسے دنیا کا سب سے مردود پھل قرار دیا۔پھر کہانی کو آگے کوبڑھاتے بولا کہ وہ اجرتی قاتل جس نے صرف نناوے قتل کیے تھے۔

آج کے اجرتیوں (ڈاکٹر امرود کی طرف دیکھ) مردودوں کی طرح کشتوں کے پشتے نہیں لگاتے تھے، اپنے گناہوں کا کفارہ اس طرح ادا کرنے لگا کہ راہ چلتے مسافروں کو پھل کھلاتا، پانی پلاتا اور ہرطرح کی خدمت کرتا۔ایک دن ایک نہایت ہی خستہ حال اور جگہ جگہ سے زخمی مسافرآیا تو اس نے جلدی سے پانی پلایااور پھل کاٹ کرکھلانے لگا۔

جب مسافر کی جان میں جان آئی تواس نے اس خستہ حالی اور جگہ جگہ سے ادھیڑنے کی وجہ پوچھی۔مسافر نے کہا،کیا بتاؤں، میں اس ایک گاؤں میں ڈاکٹری کی دکان کرتا تھا۔ لوگوں کو ان کے بوڑھے ’’بوجھوں‘‘ سے نجات دلاتا تھا لیکن ایک میری اور اس کی بدقسمتی سے ایک ایسی بڑھیا زد میں آئی جو اپنی اولاد پربوجھ تھی لیکن مجھے کیاپتہ تھا، میں نے تواس کی اولادوں پراحسان کی غرض سے انجکشن  کے نشانے پرلیا اور وہ ٹیں ہوگئی۔ اس پر گاؤں والے میرے خلاف ہوگئے اور سب اپنے اپنے بوڑھوں کے مدعی ہوگئے۔ میں بھاگا لیکن پھر بھی پتھروں کانشانہ بن گیا۔اب ارادہ ہے کہ اگلے گاؤں میں اپنی دکان کھولوں گا۔

اتفاق سے وہ اگلا گاؤں اس سابق اجرتی قاتل کاتھا جس میں اس کے والدین بھی تھے جن کی دعاؤں کی اسے سخت ضرورت تھی۔چنانچہ اس نے تلوار نکالی اور اس ڈاکٹر کا بھٹہ سا سر اڑادیا اور قتل الموذی قبل الایزا پرعمل کیا۔ کہتے ہیں، خدانے اس آخری قتل پراس کے سابقہ نناوے قتلوں کومعاف کردیا۔ وللہ اعلم۔

The post قتل کی اجرت وصول ازمقتول appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2nk6bEH

آزادی مارچ کیوں؟

مولانا فضل الرحمن کا تازہ شاہکار آزادی مارچ پلس دھرنا ہے۔ دھرنے کی بات تو سمجھ میں آتی ہے لیکن آزادی مارچ والا مسئلہ سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ اگست کا مہینہ ہوتا تو آزادی مارچ کی گنجائش نکال لی جاسکتی تھی ، بہرحال مولانا کا کوئی کام چونکہ مصلحت سے خالی نہیں ہوتا لہٰذا ہم اس حوالے سے زیادہ فکرمندی یا تشویش کا اظہار نہیں کریں گے۔

مولانا ایک مستند عالم دین ہیں اور ایک مذہبی کم سیاسی جماعت کے امیر بھی ہیں۔ مولانا کی نرم خو طبیعت کا خاصہ ہے کہ وہ کسی نیک کام میں ہاتھ بٹانے بلکہ قیادت کرنے سے گریز نہیں کرتے، اسے ہم اتفاق کہیں یا حسن اتفاق کہ مولانا عموماً برسر اقتدار جماعتوں سے دوستی رکھتے ہیں۔ حکمران جماعتوں سے دوستی کے باوجود مجال ہے کہ دل میں کوئی برا خیال آجائے۔

اصل میں مولانا ہمیشہ مصروف رہنا چاہتے ہیں اور مصروف رہنے کے لیے کوئی نہ کوئی مثبت یا منفی کام ضروری ہے ، اس حوالے سے دلچسپی کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ وہ حق دوستی ادا کرنا چاہتے ہیں۔ میاں محمد نواز شریف سے ان کی بہت پرانی یاد اللہ ہے، وہ دوست ہی کیا جو برے وقت میں دوست کے کام نہ آئے۔ میاں محمد نواز شریف آج کل ایک بہت برے دور سے گزر رہے ہیں۔

ہمارے خیال میں شریف فیملی کا ان کی تاریخ میں اس سے برا دور نہیں گزرا۔ بڑے میاں صاحب بڑی پامردی سے اس برے دور کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ ’’اچھے وقت‘‘ کے تو سب ہی دوست ہوتے ہیں، برے وقت کا دوست سہی معنوں میں سچا دوست ہوتا ہے۔ اور یہ مولانا کا بڑا بلکہ بہت بڑا پن ہے کہ وہ میاں محمد نواز شریف کا ایسے وقت میں ساتھ دے رہے ہیں جب سایہ بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے عمران خان سے ستارے نہیں ملتے۔ اصل میں عمران خان کی عادت ہے کہ وہ مولانا کا نام آتا ہے تو بے مزہ ہوجاتے ہیں اور بدمزگی میں عمران خان کے منہ سے کچھ نہ کچھ الٹی سیدھی باتیں نکل جاتی ہیں اور یہی رنجش کا سبب بن جاتی ہیں۔اصل میں عمران خان کا اقتدار میں آنا ان کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ اسے ہم اتفاق نہیں کہہ سکتے بلکہ لگتا ہے کہ جو لوگ بھی عمران خان کو اقتدار میں لائے ہیں، وہ مولانا کو تنگ کرنا چاہتے ہیں۔ عمران خان کل کا بچہ ہی کہلا سکتا ہے ، مولانا ایک میچور انسان ہیں وہ مذہب پر جتنا عبور رکھتے ہیں اتنا ہی بلکہ اس سے زیادہ عبور سیاست پر رکھتے ہیں۔ یہ عمران خان کی بدقسمتی ہے کہ انھوں نے مولانا سے پنگا لیا ہے۔

عمران خان غالباً نہیں جانتے کہ مولوی اور مولانا صاحبان کی پکڑ بہت مضبوط ہوتی ہے۔ عمران خان اب ملک کے وزیر اعظم ہیں اور مولانا حزب اختلاف کے ایک ذمے دار اور مضبوط نمایندے ہیں۔ عمران خان کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ ان کا مقابلہ کسی للو پنجو سے نہیں بلکہ ایک ایسے مولانا صاحب سے ہے جو اپنے مخالفین کو دھول چٹوائے بغیر نہیں چھوڑتے۔ میاں محمد نواز شریف دوستوں کے دوست اور دشمنوں کے بڑے دشمن ہوتے ہیں، عمران خان لاکھ وزیر اعظم سہی لیکن سیاست میں تو وہ جونیئر ہی ہیں۔ اور اخلاقاً بھی سینئر کے سامنے جونیئرز کو حد و ادب کا خیال رکھنا چاہیے۔

سیاست بنیادی طور پر دشمنیوں کا کھیل ہے۔ عمران خان اور مولانا صاحب کے درمیان کوئی ذاتی تنازعہ ہے نہ کوئی پرانی دشمنی، بس کمبخت سیاست کی آگ ہے جو لگائے نہیں لگتی اور لگتی ہے تو دامن کو خاکستر کرکے رکھ دیتی ہے۔ کہتے ہیں کہ اونٹ کی دشمنی بہت مہنگی پڑتی ہے ہوسکتا ہے یہ بات درست ہو لیکن سیاستدانوں کی دشمنی اونٹ کی دشمنی سے زیادہ جان لیوا ہوتی ہے، اس لیے سمجھدار لوگ سیاستدانوں کی اگاڑی سے دور رہتے ہیں۔

اصل میں قضیہ بہت معمولی ہے۔ حضرت مولانا حزب اختلاف ہی نہیں بلکہ حزب اختلاف کی جان ہیں۔ اگرچہ بعض وقت خود اپنے مولانا کو رہنما دغا دے جاتے ہیں جیساکہ پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو دے گئے ہیں۔ بلاول کا کہنا ہے کہ مولانا طاقت کے ذریعے حکومت کو گرانا چاہتے ہیں اور ہم اس کے خلاف ہیں۔ بلاول بھٹو کا حافظہ کمزور لگتا ہے کیونکہ بلاول بھٹو عمران خان کو ووٹ کے ذریعے نہیں طاقت کے ذریعے ہی اقتدار سے الگ کرنا چاہتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ووٹ کے ذریعے عمران خان کو اقتدار سے نکالنے کے لیے ابھی چار سال چاہئیں اور یہاں حال یہ ہے کہ اقتدار کے بغیر ’’ساتھیوں‘‘ کو ایک پل بھی پہاڑ لگتا ہے۔ اگر شارٹ کٹ کرنا ہو تو مولانا جیسے طاقتور لوگوں کو ہی آگے لانا پڑے گا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ بلاول بھٹو کے غچا دینے سے مولانا کے جوش و جذبے پر کچھ اثر پڑا ہے یا نہیں البتہ نواز شریف جس راستے سے اقتدار کی منزل تک پہنچنا چاہتے ہیں وہ راستہ مولانا والا ہی ہے۔ مولانا کے ہزاروں کارکن نظم و ضبط کے اس قدر پابند ہیں کہ اگر مولانا کہیں کہ کارکن اپنے مورچوں سے نہ ہٹیں تو کیا مجال کہ کوئی کارکن اپنی جگہ چھوڑ دے۔مہنگائی اتنی شدید ہے کہ چیل انڈہ چھوڑ رہی ہے۔

ہماری حزب اختلاف کو امید تھی کہ مہنگائی کی گرمی سے عوام تنگ آکر باہر نکلیں گے لیکن پتا نہیں عمران خان نے کیا پھونک ماری ہے عوام کسی حوالے سے باہر نکل کر ہی نہیں دے رہے ہیں۔ حزب اختلاف آج گئی یا کل گئی کا ورد کر رہے تھے لیکن آئی ایم ایف کی رپورٹ، اسٹیٹ بینک کی رپورٹ عمران خان کے جانے میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ ادھر عمران خان چین کو اس قدر پسند آگئے ہیں کہ وہ پاکستان کو چین سے زیادہ اہمیت دے رہا ہے اور انکل ٹرمپ بھی خان کی پیٹھ ٹھونک رہے ہیں تو مولانا کی دال گلنے کے تمام راستے مسدود نظر آرہے ہیں۔

The post آزادی مارچ کیوں؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2oQMpBl

وزیر اعظم عمران خان کا جنرل اسمبلی سے فقید المثال خطاب

گزشتہ 27 ستمبر کو جمعہ کے مبارک دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس سے تاریخ ساز خطاب کرکے وزیر اعظم عمران خان نے مظلوم کشمیریوں کے سفیر اور مسلم امہ کے ابھرتے ہوئے ترجمان کی حیثیت سے اپنی زبردست اور شاندار کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔ سچ پوچھیے تو ادبی زبان میں انھوں نے ایک قادرالکلام شاعر کے طور پر پورا مشاعرہ لوٹ لیا۔ ان کی تقریر کا ایک ایک لفظ حقیقت کا ترجمان تھا ،اس لیے اس میں بلا کی اثر انگیزی تھی۔ بقول اقبال:

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

پر نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے

تقریباً ایک گھنٹہ طویل دورانیے پر مشتمل ان کی یہ تقریر فکرانگیز تھی۔ اس تقریر کی ایک اور نمایاں اور قابل ذکر خوبی یہ تھی کہ مقرر نے اپنے انداز و بیان سے یہ ثابت کردیا کہ اسے انگریزی پر اہل زبان سے بھی زیادہ عبور حاصل ہے۔ سب سے بڑا کمال یہ کہ دنیا کے سب سے بڑے فورم سے وزیر اعظم عمران خان کا یہ تاریخی خطاب اولین بھی تھا اور فی البدیہ بھی۔ یوں لگتا تھا گویا:

عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں

فی البدیہ تقریر کو روایتی لکھی ہوئی تقریر پر ترجیح دے کر وزیر اعظم عمران خان نے اپنے پیش رو کی اہلیت و قابلیت پر اپنی نمایاں اور واضح برتری کا کھلا ثبوت پیش کردیا ہے اور شاعر بے بدل مرزا غالب کے اس مشہور شعر کی تائید کردی ہے:

ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور

اگرچہ وزیر اعظم عمران خان کی اس تقریر کو تین دن کا عرصہ گزر چکا ہے مگر ابھی تک اس کے چرچے جاری ہیں ۔ عمران خان کے مخالف حلقے بھی ان کی صلاحیت و کامیابی کا اعتراف کرنے پر مجبور دکھائی دے رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والوں میں عمران خان کا نمبر بہ لحاظ ترتیب ساتواں تھا جب کہ ان کے حریف ہم منصب بھارتی پردھان منتری نریندر مودی ان سے قبل نہایت عیاری کے ساتھ چوتھے نمبر پر مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کی حالت زار اور اپنی اور اپنی حکومت کی بربریت کا تذکرہ گول کرنے کے بعد اپنی حکومت کی امن و آشتی کا جھوٹا پرچار کرکے جاچکے تھے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اسٹیج پر آتے ہی ثابت کردیا کہ وہ اول درجے کی حیثیت کے حامل ہیں اور ان کا بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے کوئی موازنہ نہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے بلاتکلف اور بلاتامل نریندر مودی اور ان کی انتہا پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ المعروف آر ایس ایس کا کچا چٹھا کھول کر سب کے سامنے رکھ دیا اور ببانگ دہل اس حقیقت کا انکشاف کردیا کہ بی جے پی کی مادر جماعت آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والا سرگرم کارکن ناتھورام گوڈسے ہی گاندھی جی کا  قاتل تھا جو سزائے موت پاکر اپنے کیفرکردار کو پہنچا تھا۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں 1925 میں قائم ہونے والی ’’ہندوتوا‘‘ کا نعرہ لگانے والی ہندو انتہا پسند جماعت آر ایس ایس کے بانیوں اور سرغنوں گروگول والکر اور ساورکر کا مختصر حوالہ بھی دیا۔ برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ بھارت کی موجودہ حکمران جماعت دراصل آر ایس ایس ہی کے بطن سے پیدا ہوئی ہے اور دیگر متعصب ہندو تنظیمیں بشمول شیو سینا اور بجرنگ دل بھی اسی قبیل سے تعلق رکھتی ہے۔

شیواجی مرہٹہ ان تمام ہندو انتہا پسند جماعتوں کا ہیرو ہے۔ شیوا جی مرہٹہ  نے طاقت کے بل بوتے پر ایک گروہ بنایا اور بالآخر کچھ علاقے پر قبضہ کرکے حکمران بن بیٹھا۔ مغل شہنشاہ اورنگزیب کے دور میں مغلیہ فوج نے اسے کافی تگ و دو کے بعد گرفتار کرلیا۔ مگر کچھ عرصے کے بعد یہ اپنی چالاکی اور عیاری سے مغلوں کی قید سے فرار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ کوئی بھوشتن نامی وزیر ہندی شاعر اس کا درباری شاعر تھا جس نے اس کی جھوٹی شان میں قصیدہ گوئی کرکے خوب خوب عزت، دولت اور شہرت پائی۔

وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس میں اپنے تاریخی خطاب کے ذریعے جس غیر معمولی انداز میں مظلوم کشمیریوں کا مقدمہ لڑا ہے اس کی جتنی بھی تعریف و تحسین کی جائے وہ کم ہے۔ ان کی اس دلیرانہ اور بے مثل وکالت نے ایک جانب سوئے ہوئے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے تو دوسری جانب مظلوم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔

اس کے ساتھ ہی ساتھ وزیر اعظم نے ہٹلر اور مسولینی کے فسطائی فلسفے پر عمل پیرا بھارتی سفاک حکمرانوں کے مکروہ چہرے بھی بالکل بے نقاب کردیے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے معذرت خواہانہ روایت کو ترک کرکے مقبوضہ کشمیر کے تنازعے کے حوالے سے ایک جرأت مندانہ، حقیقت پسندانہ اور منصفانہ موقف پیش کرکے نہ صرف اقوام متحدہ بلکہ اقوام عالم کو اس حقیقت کا احساس اور اعتراف کرنے پر مجبور کردیا کہ بھارت نہ صرف مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرکے اس عالمی ادارے کے تقدس کو پامال کر رہا ہے بلکہ مظلوم کشمیریوں کا ناطقہ بند کرکے ان پر انسانیت سوز مظالم ڈھا ڈھا کر ان پر عرصہ حیات تنگ کر رہا ہے۔

جابر و ظالم بھارتی حکمرانوں کا یہ طرز عمل انسانیت کی بدترین تذلیل اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے نہایت جرأت مندی اور حق گوئی کے ساتھ عالمی قوتوں کو ان کے دوغلے پن کا بھی خوب احساس دلایا ہے اور دو ٹوک الفاظ میں یہ باور کرایا ہے کہ عالم اسلام اور دنیا کے مسلمانوں کے ساتھ انصاف کے معاملے میں ان کے رویے اور پیمانے قطعی مختلف ہیں۔ جب دیگر اقوام عالم پر کوئی افتاد پڑتی ہے تو ان کی انسانیت جاگ اٹھتی ہے اور جب مسلمانوں کو کوئی مشکل پیش آتی ہے اور ان کے ساتھ کوئی زیادتی ہوتی ہے تو انھیں سانپ سونگھ جاتا ہے۔ عمران خان نے مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کا بڑی حوصلہ مندی اور دل سوزی سے تذکرہ کیا۔ ان کا یہ شکوہ بالکل بجا، برمحل اور بروقت تھا کہ بزبان علامہ اقبال:

برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر

وزیر اعظم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ دہشت گردی کے حوالے سے اسلام کو خواہ مخواہ بدنام کیا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے جو بھی غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں وہ مغربی رہنماؤں کی متضاد باتوں سے پیدا ہوتی ہیں۔ انھوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ اسلامو فوبیا کا تصور مغرب کا اپنا پیدا کردہ ہے۔

نائن الیون کے بعد اسلاموفوبیا کو بہت تیزی سے دنیا بھر میں پھیلایا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے باآواز بلند یہ بھی کہا کہ مغرب میں پیغمبر اسلامؐ کی شان میں گستاخیوں کی وجہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم نے جنرل اسمبلی سے تاریخی خطاب میں اپنا دل کھول کر رکھ دیا۔ انھوں نے جو کچھ بھی کہا حرف  بہ حرف درست اور بالکل بجا اور ڈنکے کی چوٹ پر کہا۔ ان کا پورا خطاب حق گوئی اور ناقابل تردید حقائق کا آئینہ دار تھا۔

انھوں نے ضرورت سے زیادہ ایک لفظ بھی استعمال نہیں کیا اور قیمتی وقت کا ایک لمحہ بھی ضایع نہیں کیا۔ انھوں نے ایوان کے تقدس کا بھرپور احترام کرتے ہوئے ہر بات سلیقے اور انتہائی شائستگی سے کہی۔ ان کی ہر بات پوری دلچسپی اور توجہ سے سنی گئی اور ان کی تائید و تحسین میں کئی بار شرکائے مجلس نے تالیاں بھی بجائیں۔

تاہم بھارتی مندوبین کو وزیر اعظم کا شاندار خطاب ہضم نہیں ہوسکا۔ وہ اس میں کیڑے تو نہیں نکال سکے لیکن ان کے پیٹ میں یہ مروڑ  اٹھ رہے ہیں کہ عمران خان کو خطاب کے لیے 15 منٹ کے بجائے 45 منٹ کیوں دیے گئے؟ اس کا جواب شاید پنجابی زبان کی کہاوت ’’جیسا منہ ویسی چپیڑ‘‘ کی صورت میں مضمر ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے پہلی مرتبہ فی البدیہ رواں اور انتہائی متاثر کن خطاب کرکے نہ صرف ایک بلند پایہ اور ثقہ مقرر کی حیثیت سے اپنی غیر معمولی صلاحیت کا عالمی سطح پر لوہا منوالیا ہے بلکہ اندرون ملک اپنی گرتی ہوئی ساکھ اور کم ہوتی ہوئی مقبولیت کو بھی بچا لیا ہے۔ بے شک عزت بخشنے والی اور ذلت سے دوچار کرنے والی ذات اللہ اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔

The post وزیر اعظم عمران خان کا جنرل اسمبلی سے فقید المثال خطاب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2mvKEsv

ظلم کی ہوگئی ہے حد‘ یا رب

پچھلے ایک دو ہفتے میں جو خبریں آئی ہیں ، انھوں نے دہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ کون عفریت ہیں جو ملک پر چھا گئے ہیں، نہ یہ کسی سے ڈرتے ہیں، نہ انھیں قانون کا خوف ہے اور حد تو یہ ہے کہ یہ اللہ سے بھی نہیں ڈرتے۔ موت، قبر، قیامت ان باتوں پر ان کا ایمان ہی نہیں ہے۔

ابھی ہم صلاح الدین کا ہی رونا رو رہے تھے، جسے پولیس والوں نے مار ڈالا۔ صلاح الدین کا جثہ اور اس کا حوصلہ دیکھ کر یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اگر ایک ایک پولیس والا اس سے مقابلہ کرتا تو وہ سب کو ’’لم لیٹ‘‘ کر دیتا ، مگر اس پر تو سات آٹھ پولیس والے پل پڑے اور آخر وہ مرگیا۔ ’’ پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی۔‘‘ ابھی صلاح الدین کی ہاہا کار مچی ہوئی تھی کہ تحصیل چونیاں ضلع قصور سے تین بچوں کی لاشیں سامنے آگئیں جنھیں زیادتی کے بعد مار دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد پورا شہر باہر نکل آیا اور تھانہ چونیاں پر عوام نے دھاوا بول دیا جن والدین کے لال مارے گئے ان کا حال خراب تھا اور لوگ دہائیاں دے رہے تھے ’’عمران خان! چونیاں تمہیں للکار رہا ہے‘‘ مگر عمران اعلیٰ درجے کے عفریتوں سے لڑ رہا ہے۔

چونیاں میں عوام سراپا احتجاج تھے کہ اس شہر میں دو موٹر سائیکل سوار دو بچوں کو اغوا کرکے لے جا رہے تھے کہ لوگوں نے انھیں دیکھ لیا تو وہ ایک بے ہوش بچے کو گرا کر دوسرے کو لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔ سوچنے کا مقام ہے کہ ’’یہ بچے اغوا کرنے والا مافیا اتنا طاقتور ہے؟‘‘ ابھی یہی غم و غصے کی عوامی لہر چل رہی تھی کہ لٹن روڈ لاہور سے ایک رکشے والا تین بچوں کو لے جاتا ہوا لوگوں نے پکڑ لیا، رکشے والے کا بیان ہے کہ بچے خود رکشے میں بیٹھے تھے تو بھائی رکشے والے! تو ان بچوں کے رکشے سے اتارنے کا کہتا، مگر تو ان بچوں کو لے کر چل دیا، رکشے والے سے پوچھا جائے تو بچوں کو کہاں لے جا رہا تھا؟

یہ سب چل رہا تھا کہ اپنے لاڑکانے میں کمشنر لاڑکانہ کے دفتر کے سامنے ایک ماں کی گود میں اس کے دس سالہ بیٹے نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی، اس بچے کوکتے نے کاٹ لیا تھا، اس کے ماں باپ لاڑکانے کے علاوہ شکارپور بھی گئے مگر وہاں کہیں بھی کتے کے کاٹنے کی ویکسین نہیں تھی۔ کتے نے کاٹا، کتوں نے مار دیا۔ پھر اپنے سندھ سے ایک خبر آئی تصویر چھپی موٹرسائیکل والے درمیان میں ایک لاش رکھے جا رہے تھے۔

ان غریبوں کے پاس ایمبولینس کو دینے کے لیے پانچ ہزار روپے نہیں تھے اور کہانی یوں ختم ہوئی کہ موٹرسائیکل سوار باپ اور چچا لاش سمیت ایکسیڈنٹ میں مارے گئے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایمبولینس نہ دینے کا نوٹس لے لیا ہے۔

یہی دل دہلا دینے والی فضا چل رہی تھی کہ سجاول شہر سے خبر آئی، تمام ٹی وی چینلز پر دکھایا گیا، ایک تختے پر چارپائی ہے جس پر سات آٹھ سال کی بچی کی لاش ہے اور وارث ، لاش کو رسے کی مدد سے نہر کے دوسرے کنارے لے جا رہے ہیں۔ ’’وعدے‘‘ کے باوجود پل نہ بن سکا۔ اداکار علاؤالدین نے ایک پنجابی فلم کا گانا لکھا تھا، اسے مہدی حسن نے گایا تھا، یاد رہے کہ علاؤالدین پنجابی کے دبنگ، نڈر، بے خوف عوامی شاعر استاد دامن کے منہ بولے بیٹے بھی تھے۔گانے کی چند لائنیں دیکھیے:

گھنڈ مکھڑے تو لا او یار

سامنے آ کے سن لے دکھڑے

نہ لک کے تڑفا او یار

جیڑے اندروں باہروں کھوٹے

کون ایناں نوں ربّا روکے

تیتھوں ودھ کے ناز اینا دے

بن بن بین خدا او یار

ترجمہ کچھ یوں ہے ’’چہرے سے نقاب اتار اور سامنے آکے ہمارے دکھڑے سن لے۔ جو اندر اور باہر سے کھوٹے ہیں، اے رب! ان کو کون روکے، تجھ سے بڑھ کر ان کے ناز ہیں اور یہ خدا بن بن کر قابض ہیں، بیٹھے ہیں، ابھی دکھوں کی داستان چل رہی تھی کہ عروس البلاد روشنیوں کے شہر آسمان کو چھوتی ایمپائر کا شہر، جس کا نام کبھی کراچی ہوتا تھا، اب یہ کچرا چی کہلاتا ہے۔

اس شہر کے ایک پوش علاقے پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی میں واقع 2000 گز یعنی 4 کنال کے گھر پر نیب کے اہلکار چھاپہ مارتے ہیں۔ گھر کا مالک لیاقت قائم خانی گھر میں موجود تھا، اس گھرکی کار پارکنگ میں آٹھ گاڑیاں (مالیت کروڑوں روپے) پائی جاتی ہیں۔ 40 گز یعنی دو مرلے پر بنا ہوا باتھ روم ، ٹی وی لگا ہوا، ڈبل بیڈ بچھا ہوا، صوفے رکھے ہوئے، یہ دو مرلہ زمین وہ ہے جس پر ہمارے ملک کے غریب ذرا سے کھاتے پیتے لوگوں کا مکمل گھر ہوتا ہے۔

لیاقت قائم خانی گرفتار ہوکر جا رہا ہے اور صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہتا ہے ’’میرا تعلق زمیندار گھرانے سے ہے اور یہ گھر میرا آبائی گھر ہے‘‘ اگلے روز لیاقت قائم خانی کو پھر اس کے گھر لایا جاتا ہے اور لاکر کھلوایا جاتا ہے، اندر سے سونے کے زیورات نکلتے ہیں، نیب کے اہلکار کہتے ہیں دس ارب کا خزانہ ہے جو سابق ڈائریکٹر جنرل باغات حکومت کے گھر سے ملا ہے۔ ایک بات اور لیاقت قائم خانی نے اسلام آباد جاتے ہوئے کہی ’’سب پتا پڑ جائے گا اور میں باعزت بری ہوکر آؤں گا‘‘ او شاباشے قربان تیرے حوصلے تے۔ قارئین! یہ گھر تو پدی کا شوربا ہے۔ ابھی پنجاب کی طرف بھی نیب کی یلغار ہونے دیں ’’لگ پتا جائے گا‘‘ اور خیبر پختونخوا کے باغات میں بنے ہوئے محل، لہلہاتے ریشم و کم خواب کے پردے وغیرہ وغیرہ۔

یہ ہیں وہ خزانے جن کی وجہ سے گھر گھر اندھیارا ہے۔ مگر ان خزانوں تک پہنچنا بہت مشکل ہے بقول جگر ’’اک آگ کا دریا ہے‘‘ اس آگ کے دریا کو کون عبور کرے گا۔ جالب خدا کی بارگاہ میں التجائی ہے:

اپنے بندوں کی کر مدد یا رب

ظلم کی ہو گئی ہے حد یا رب

توڑ دے سامراج کا یہ غرور

کر اس آئی بلا کو رد یا رب

غیر تیری ہنسی اڑاتے ہیں

تجھ پہ بھی پڑ رہی ہے زد یا رب

نیک لوگوں پہ حکمراں بن کر

آتے ہیں کیسے کیسے بد یا رب

کیوں مسلط نہیں آسماں کے تلے

ہم پہ صدیوں سے چند صد یا رب

اے محل سراؤں کے باسیو! میں خود سے کچھ نہیں کہہ رہا۔ ماضی قریب ہی کا واقعہ ہے۔ انقلاب فرانس، حریت پسند انقلابی دستے، سارے ظلمت کے نشانات مٹانے کے شہر شہر لوگوں کے ہاتھ دیکھتے ہیں، ہاتھ نرم ہیں ’’گولی مار دو‘‘ ہاتھ کھردرے ہیں چھوڑ دو، یہ ہما محنت کش مزدور ساتھی ہے۔ غاصبو! قابضو تم نہیں تو تمہاری اولادیں یہ دن ضرور دیکھیں گی۔

اور یہ جو تحریک انصاف والے جاگیردار ہیں تحریک اور انصاف کا تقاضا ہے۔ اپنی اپنی آدھی جائیدادیں سرکاری خزانے میں جمع کروادیں، ورنہ وقت کا انتظارکریں۔

The post ظلم کی ہوگئی ہے حد‘ یا رب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2oQ0Fdz

زیرحراست ہلاکتوں کا معاملہ

پنجاب میں پولیس حراست میں ملزمان کی ہلاکت کے واقعات پر آج کل بہت شور ہے۔پنجاب کے دیہی علاقوں میں ایسے واقعات پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ دیہی او ر جاگیردارنہ کلچر کی وجہ سے ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ لیکن میرے لیے زیادہ پریشانی کی بات لاہور جیسے اربن اور بڑے شہر میں ایسے واقعات کا ہونا ہے۔

لاہور میں گزشتہ ایک ماہ میں پولیس حراست میں ہلاکت کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔ جب کہ پنجاب میں عمومی طور پر یہ چھٹا واقعہ ہے۔ اعدادو شمار کے تناظر میں دیکھا جائے تو پورا پنجاب ایک طرف جب کہ لاہور ایک طرف۔

یہ درست ہے کہ حکومت نے اب پولیس حراست میں ملزمان کی ہلاکت پر عدم برادشت کی پالیسی بنائی ہے۔ متعلقہ پولیس اہلکاران کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت پرچے درج کیے جا رہے ہیں۔ انھیں نوکری سے نکالا جا رہا ہے۔ لیکن پھر بھی یہ واقعات ختم نہیں ہو رہے۔ شاید جن عہدیداران کے خلاف پرچے درج کیے جا رہے ہیں وہ بہت جونیئر ہیں۔ اور پولیس میں جونیئر کی قربانی کی ایک رسم موجود ہے۔

جونیئر اپنے سنیئر افسران کے لیے ڈسپلن کی خاطرقربانی دیتے آئے ہیں۔اور ایسا لگ رہا ہے کہ آج بھی یہی جونیئر افسران اپنے سنیئر کے لیے قربانی دے رہے ہیں۔ اب گزشتہ روز لاہور کے علاقہ نواب ٹاؤن میں ہونے والے واقعہ کو ہی دیکھ لیں۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں نواب ٹاؤن کے علاقے میں پولیس کی ٹیم نے ایک گھر میں ریڈ کیا ہے۔

اس ریڈ میں ایک نوجوان اشفاق کی موت واقعہ ہو گئی ہے۔ اشفاق کے والد کے مطابق پولیس کی ریڈنگ پارٹی نے اشفاق کو ریڈ کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس کے سر پر بندوق کے بٹ مارے گئے۔ جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔ اور اس کی موت ہو گئی۔ جب کہ دوسری طرف پولیس کا موقف ہے کہ ریڈ کے دوران اشفاق نے بھاگنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے اس کے سر پر چوٹ آئی اور بعد ازاں دل کا دورہ پڑنے سے وہ جاں بحق ہو گیا ہے۔ پولیس کا موقف ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے سچ سامنے آجائے گا۔

ایک طرف لاہور پولیس اپنے پیٹی بھائیوں کا کھل کر دفاع کر رہی ہے دوسری طرف عوامی غصہ کم کرنے کے لیے متعلقہ پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔ حیرانی کی بات ہے، لاہور پولیس افسران کا موقف ہے کہ ریڈ کے لیے متعلقہ ایس ایچ او سے اجازت بھی نہیں لی گئی تھی۔

اور ایک اے ایس آئی چند پولیس کانسٹیبلز کے ساتھ ایک گھر میں گھس گیا اور اس نے بندہ مار دیا۔ یہ کیا ہے؟ کیا لاہور میں کسی کے گھر ریڈ کرنے کے لیے کوئی قواعد ہی نہیں ہیں؟ آپ جب چاہیں جس کے مرضی گھر گھس جائیں۔ اور جو مرضی کریں۔ یہ کیسے ممکن ہے۔پولیس کے مطابق اشفاق کے گھر میں جوا ہوتا تھا۔ اس لیے ریڈ کی گئی۔ نواب ٹاؤن لاہور کا کوئی پوش علاقہ نہیں ہے۔

یہ کوئی متوسط طبقہ یعنی مڈل کلاس کا بھی علاقہ نہیں ہے۔پولیس نے جھگیوں میں ریڈ کی ہے۔ اور جگی نشینوں کو پکڑنے کی کوشش کی ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ جھگیوں میں غریب لوگ ہی رہتے ہیں۔ان جھگیوں میں کسی بہت بڑے جوئے خانے کا وجود ممکن نہیں۔ میں اشفاق کی بے گناہی ثابت نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن لاہور میں تیس سال صحافت کرنے کے بعد مجھے اتنا تو اندازہ ہے کہ جھگیوں میں جوئے کا کوئی بڑا اڈا ممکن نہیں ہے۔

وہاں کوئی دولت مند جو ا کھیلنے نہیں جاتا۔ شاید لاہور پولیس کو نہیں معلوم لاہور کے بڑے جوئے کہاں ہوتے؟ لاہور کے جوئے کی بڑی بک کہاں ہیں؟ لاہور کے کونسے علاقوں کو جوئے کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے؟ میں حیران ہوں کہ کیا لاہور پولیس نے امیروں کے تمام جوئے خانے بند کروا دیے ہیں جو جھگیوں میں ریڈ شروع کر دی ہے۔ پتہ نہیں سارے کام غریب سے ہی کیوں شروع کیے جاتے ہیں۔ ورنہ جہاں امیروں کے عشرت کدے ہیں وہاں لیکن پولیس کی رسائی نہیں ہے۔ یہ وہی معاملہ ہے کہ فائیو اسٹار ہوٹلز میں تو پولیس کے گھسنے کی ہمت نہیں لیکن عام گیسٹ ہاؤ سز میں چھاپے پر چھاپے مارے جاتے ہیں۔ ریسٹورنٹس پر چھاپے مارنے شروع کیے ہوئے ہیں۔

رحیم یار خان میں صلاح الدین کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد پوسٹ مارٹم کی جعلی رپورٹ نے بھی ابہام اور عدم اعتماد پیدا کر دیا ہے۔ اس لیے اب اس دلیل میں بھی وزن نہیں رہا کہ پوسٹ مارٹم سے حقیقت سامنے آجائے گی۔ سب کو معلوم ہے کہ پولیس اپنی مرضی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ حاصل کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیتی ہے تا کہ کیس کو خراب کیا جا سکے۔

پولیس حراست میں ہلاک ہونے والے ملزمان کا مقدمہ بھی پولیس خود ہی درج کرتی ہے۔ اس کی تفتیش اور کیس کی پیروی بھی پولیس ہی کرتی ہے۔ اس لیے آج تک ایسے کسی مقدمے میں کسی پولیس اہلکار کوکوئی سزا نہیں ہوئی ہے۔ کون پولیس کے خلاف کیس کی پیروی کرے؟ اکثر پولیس جن کو مارتی ہے وہ کوئی با اثر ملزم نہیں ہوتے۔ ان کا تعلق معاشرہ کے کمزور طبقہ سے ہوتا ہے۔ آپ اشفاق کے کیس کو ہی دیکھ لیں، جھگی میں ریڈ کے لیے کسی اجازت کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

ایک سال سے لاہور میںپولیس کا ایک نیا نظام متعارف کروایا ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس کے خاطرہ خواہ نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔ یہ پولیس ہے کوئی ملٹی نیشنل کارپوریٹ ادارہ نہیں ہے۔ افسروں کو بہر حال اپنے دفتر سے نکل کر تھانے تک جانا ہوگا ۔ انھیں خود کو ہر تھانہ کا ذمے دار سمجھنا ہوگا ۔ تب ہی ایسے واقعات رکیں گے۔ ورنہ بڑھتے جائیں گے۔

یہ درست ہے کہ رحیم یار خان کے واقعہ کا جب میڈیا میں بہت شور مچ گیا تو ڈی پی او رحیم یار خان کو تبدیل کیا گیا تا ہم لاہور میں ایک ماہ میں تین ہلاکتیں ہو گئی ہیں لیکن لاہور سے کسی کی قربانی نہیں ہوئی۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ آج کل میڈیا میں کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کا شور ہے۔  صلاح الدین کے واقعہ کے بعد اب مزید واقعات کو روکنے کے لیے ابھی تک کوئی موثر اقدمات نہیں کیے گئے ہیں ۔

آج کل ویسے بھی پولیس اور ڈی ایم جی گروپ کے درمیان ایک لڑائی چل رہی ہے۔ ڈی ایم جی گروپ ایک مرتبہ پھر پولیس کو اپنے زیر اثر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جب کہ پولیس اپنی خود مختاری قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔  شنید یہی ہے کہ نئے قواعد کے تحت ڈی سی او کو پولیس پر کنٹرول دینے کی بات کی جا رہی ہے جب کہ پولیس اس ضمن میں اپنی خود مختاری قائم رکھنا چاہتی ہے۔

پولیس ڈیپارٹمنٹ اپنا کلچرکیوں نہیں دیکھتا۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ پولیس کلچر میں سفاکی اور انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ پولیس گردی اس رائے کو مضبوط کر رہی ہے کہ پولیس پر چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔ لاہور جیسے بڑے شہر میں پولیس گردی کے پے درپے واقعات معاشرہ پر بد نما داغ ہیں۔ اس ضمن میں بڑے اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ در گزر کی پالیسی کوئی کامیاب پالیسی نہیں ہے۔ انسانی جان کی قیمت کو سمجھنا ہوگا۔

The post زیرحراست ہلاکتوں کا معاملہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2oQRdqt

زمینوں کی بڑی کرپشن

کراچی کی زمین کو ملک بھر میں سب سے مہنگی اور سونا تسلیم کی جاتی ہے اور یہ سو فیصد حقیقت بھی ہے۔

کراچی میں سرکاری زمینوں کی بندربانٹ پیپلزپارٹی کے پہلے دور حکومت میں شروع ہوئی تھی ، جام صادق علی سندھ کے وزیر بلدیات و ہاؤسنگ تھے اور وہ زمینوں کے معاملے میں اتنے مخیر تھے کہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو انھیں کہنا پڑا تھا کہ جام صاحب قائد اعظم کا مزار بھی فروخت مت کر دینا۔ 48 سال قبل جب ملک اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تھی ،اس وقت جام صادق علی نے کراچی کی سونے جیسی قیمتی زمینوں کی بندر بانٹ کی ابتدا کی تھی۔

اس کی انتہا بھی پیپلز پارٹی ہی کے دور میں ہوئی مگر انتہا میں صرف پیپلز پارٹی ہی شامل نہیں رہی بلکہ ایم کیو ایم اپنے مختلف ادوار میں خاص کر جب مشرف دور میں وزارت بلدیات اور ہاؤسنگ ایم کیو ایم کے پاس تھی وہ زمینوں کی بندر بانٹ میں پیپلز پارٹی سے بھی آگے نکل گئی تھی اور مشہور چائنا کٹنگ کا بڑا زرعی اسکینڈل بھی سامنے آیا تھا جس میں مبینہ طور پر سابق سٹی ناظم ، ایم کیو ایم کے سابق رہنما انیس قائم خانی اور متحدہ کے متعدد رہنماؤں کے نام بھی شامل تھے اور ان سمیت متعدد رہنماؤں پر زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔

کراچی میں سرکاری زمین جب شہری علاقوں میں باقی نہیں رہی تو پیپلز پارٹی کے وزرائے بلدیات نے کراچی کے نواحی علاقوں میں گوٹھوں کے گوٹھ فروخت کرنا شروع کیے کیونکہ کراچی کے نواحی علاقوں میں سندھیوں کی پرانی آبادیاں قائم تھیں جو پیپلز پارٹی کا پکا ووٹ بینک تھا۔ نواحی علاقوں میں کچی آبادیوں کو بڑے پیمانے پر پی پی رہنماؤں نے ریگولرائزکرایا جس سے اورکراچی کے باہر پھیلنے کی وجہ سے نواحی علاقوں میں رہائشی اور صنعتی زمینوں کی ویلیو بڑھتی چلی گئی۔

سپر ہائی وے پر متعدد صنعتوں کے قیام اور سپر ہائی وے کے دونوں اطراف بڑے لوگوں کے فارم ہاؤسز اور تفریحی واٹر پارکوں نے نواحی علاقوں کی زمینوں کو بھی سونا بنا دیا تھا۔ کراچی کے نواحی علاقوں میں زرعی اراضی ختم ہوتی گئی، سپر ہائی وے کے دونوں اطراف ہوٹلوں اور پٹرول پمپس کی بھرمار ہوتی گئی۔

ناردرن بائی پاس نے تو نواحی علاقوں کو شہروں میں تبدیل کردیا۔ کراچی میں سرکاری ترقیاتی اداروں کے پاس نئے رہائشی منصوبوں کی جگہ ہی باقی نہیں رہی تھی۔ کے ڈی اے کے آخری رہائشی منصوبوں سرجانی ٹاؤن، خدا کی بستی اور شاہ لطیف ٹاؤن کے بعد دو عشروں تک کوئی رہائشی منصوبہ سرکاری طور پر نہیں بنایا گیا۔ لیاری ندی کے دونوں طرف سے آباد لوگوں کو پچاس ہزار روپے اور متبادل طور پر 80 گز کے پلاٹوں کی تیسر ٹاؤن، بلدیہ اور ہاکس بے میں منتقلی سے بھی ان علاقوں کی اہمیت بڑھی۔

لیاری ندی جو اندرون شہر کے مختلف علاقوں سے گزرتی ہے وہاں دونوں اطراف ٹریفک کے مسائل حل کرانے کے لیے لیاری ایکسپریس وے بنانے کے منصوبے میں سب سے زیادہ کرپشن ہوئی۔ لیاری ندی کے کنارے جن کے پلاٹ نہیں تھے اور جو لوگ رہائش پذیر تھے ان سے سٹی حکومت میں لینڈ ڈپارٹمنٹ والے رشوت لے کر کروڑوں پتی بن گئے۔

جنھیں منہ مانگی رشوت دے کر چھوٹے گھر میں دو دروازے لگوا کر، بھینسوں کے باڑے والوں اور قبضہ مافیا نے حکومت سے پچاس پچاس ہزار روپے اور متبادل پلاٹ اپنی مرضی کی تعداد میں حاصل کیے اور حکومت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا۔ حکومت نے لیاری ایکسپریس وے تو بنا لیا مگر اس سلسلے میں کرپشن کا بھی نیا ریکارڈ بنا اور سرکاری اور غیر سرکاری لوگ بڑے پیمانے پر فیض یاب ہوئے۔

کراچی میں پہلے کے ڈی اے تھی جو بعد میں ایم ڈی اے اور ایل ڈی اے تین ترقیاتی ادارے تو بن گئے مگر ان تینوں اداروں کے کرپٹ افسروں اور اہلکاروں نے جو مال بنایا وہ کسی تحقیقاتی ادارے کو نظر نہیں آیا۔ ان کے حد سے بڑھے ہوئے اثاثوں کی اداروں کو تحقیقات کا موقعہ نہیں ملا۔ کراچی کی سرکاری زمینوں پر قبضے کرانے میں نواحی علاقوں کے پولیس تھانوں، پولیس افسروں اور سپاہیوں تک نے اہم کردار ادا کیا۔

نواحی علاقوں کے تھانوں گڈاپ، بن قاسم، شاہ لطیف ٹاؤن، ملیر، کیماڑی، گلزار ہجری، اجمیر نگری، سرجانی، ابراہیم حیدری، منگھو پیر، بلدیہ، کورنگی و دیگر میں سرکاری زمینوں پر نہ صرف پولیس رشوت لے کر قبضے کراتی تھی بلکہ گھروں کی تعمیر بھی پولیس کو رشوت دیے بغیر ممکن نہیں ہوتی تھی۔ حال ہی میں منگھوپیر تھانہ کے ایس ایچ او کی خبر میڈیا میں آئی ہے جس نے مبینہ طور پر زمینوں پر قبضے کے لیے 15 لاکھ رشوت دینے پر اپنے ہی اے ایس آئی کو گرفتار کرایا ہے۔ گرفتار پولیس افسر کے خلاف ایس ایچ او نے اپنی ہی مدعیت میں ایف آئی آر درج کرائی ہے کہ اس نے علاقے کے ایک قبضہ مافیا کے لیے دیہہ چاکرو میں زمین پر قبضہ کرانے کے لیے 15 لاکھ روپے رشوت دینے کی کوشش کی تھی۔ مذکورہ سرکاری زمین کے تین دعوے دار تھے۔

اینٹی کرپشن پولیس نے گلستان جوہر میں 6 سے 7 ارب کی سرکاری زمین کی چائنا کٹنگ کرکے فروخت کرنے کے الزام میں خلد آباد پولیس چوکی کے انچارج سمیت تین ملزموں کو گرفتار کرلیا ہے۔ اینٹی کرپشن ایسٹ زون نے بھی سرکاری زمینوں کی فروخت میں انتہائی مطلوب ملزم احسان نقوی کو گرفتار کیا ہے جب کہ ملزم کا ایک ساتھی سب رجسٹرار گڈاپ پہلے ہی گرفتار ہے ملزم کے خلاف پولیس اور ایف آئی اے میں تین مقدمات درج تھے۔

زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ میں ریونیو افسران اور پولیس تو ملوث ہے ہی مگر کراچی کے دو اضلاع ملیر اور شرقی کے دو ڈپٹی کمشنر قاضی جان محمد اور شوکت جوکھیو بھی گرفتار ہوچکے ہیں۔ کراچی میں لینڈ مافیا نے سرکاری افسروں اور پولیس کے ذریعے اربوں کھربوں روپے کی سرکاری زمینیں غیر قانونی طور پر فروخت کرائیں جس میں متعدد ارکان اسمبلی بھی ملوث ہیں اور لینڈ مافیا انتہائی بااثر و طاقتور ہے۔

The post زمینوں کی بڑی کرپشن appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2oPgQb1

انوکھا بازار، جہاں مردوں کا داخلہ ممنوع ہے

بھارت کی شمال مشرقی صوبے ’مانی  پور‘ کے دارالحکومت امپھال کے قلب میں واقع ’اما کیتھل‘ ایک انوکھا بازار ہے، جہاں مردوں کا آنا ممنوع ہے۔

مقامی زبان میں ’اما‘ کا مطلب ماں اور ’کیتھل‘ کا مطلب بازار یعنی ماؤں کا بازار ہے، جس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ صرف خواتین کا بازار ہے، جو وہاں خواتین کو بااختیار بنانے کی ایک بڑی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس بازار کو ’’اما ’کیتھل‘ ‘‘ یا ’’ماں کی منڈی‘‘ کہا جاتا ہے، یہ پورے  ایشیا میں تاجر خواتین کی سب سے بڑی  منڈی ہے اور اسی وجہ سے یہ ایک ثقافتی مرکز کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔

ہندوستان کا چار ہزار  دکانوں اور خوانچہ فروشوں پر مشتمل یہ بازار لگ بھگ 500 سال  پرانا ہے، یہ صرف تجارت ہی کی وجہ سے نہیں پہچانا جاتا، بلکہ اس کی اپنی ایک پوری تاریخ خواتین کی جدوجہد سے عبارت ہے۔ تاریخ دانوں کے مطابق، مارکیٹ کی شروعات 16 ویں صدی میں ہوئی۔ اس وقت مانی  پور میں ایک قدیم جبری ’لیبر سسٹم‘ عام تھا۔

خطے کے مردوں کو جنگ لڑنے یا کھیتوں میں کام کرنے کے لیے دور دراز کے علاقوں میں بحکم سرکار روانہ کیا جاتا، کیوں کہ اس دور میں بادشاہت تھی اور ان کا فرمان ماننا خطے کے مردوں پر واجب تھا، تاہم خواتین کو بچوں کے ساتھ رہنے کی اجازت ہوتی۔ اس دوران اپنی بقا کی خاطر خواتین نے اپنی زمینوں پر  فصلیں اگانا شروع کر دیں، جسے تیاری کے بعد وہ منڈیوں میں بھی خود جا کر بیچتیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مکمل طور پر خواتین کی زیر انتظام منڈی ’اما کیتھل‘ وجود میں آگئی۔

اس بازار کی دوسری خاصیت یہ ہے کہ یہ ایک تسلسل کے ساتھ ’حقوق نسواں‘ کی انوکھی تاریخی مثال ساری دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے، جہاں صرف خواتین ہی ایک دوسرے کی مدد گار ہیں اور خواتین ہی ایک دوسرے کا سہارا بھی! اما ’کیتھل‘ ، مانی  پور کی راج دھانی کا سب سے رنگ برنگا مقام کہا جاتا ہے اس بازار میں 6 سے 7 ہزار عورتیں اپنا مختلف  سامان بیچنے آتی ہیں جس کی وجہ سے یہ ایشیا میں عورتوں کا سب سے بڑا بازار بن چکا ہے۔ یہاں خشک کی گئی مچھلی سے لے کر مختلف قسم کے مسالا جات، سبزیاں، کوسمیٹک، زیورات غرض ہر چھوٹی بڑی چیز دست یاب ہے، گویا یہاں آوازوں، نظاروں اور خوش بوؤں کی ایک پوری دنیا آباد رہتی ہے۔

برصغیر میں اپنے پنجے گاڑتے ہوئے جب ’سلطنتِ برطانیہ‘ نے مانی پور پر قبضہ کیا، تو یہاں کی خواتین نے برطانوی پالیسی اور تجارتی اصلاحات کے خلاف بھرپور مزاحمت کی، اُن کا کہنا تھا کہ برطانوی پالیسیاں مانی پور کے لوگوں کو مزید کم زور کرنے کا باعث بنیں گی، انہوں نے اس کے خلاف 1939ء میں ایک لڑائی بھی لڑی جو تاریخ میں ’خواتین کی جنگ‘ کہلائی۔ برطانیہ نے اس مزاحمت کو روکنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی، حتی کہ اس مارکیٹ کو غیر ملکیوں کے ہاتھ بیچنے کی بھی کوشش کی، لیکن ’اما ’کیتھل‘ ‘ کی خواتین بہادری کے ساتھ جان کی پرواہ کیے بغیر ڈٹی رہیں اور بالآخر فتح مند ہوئیں۔

اس بازار کی ہر صبح خوب صورت رنگوں کے ساتھ طلوع ہوتی ہے، یہاں کی دکان دار خواتین کو مخصوص روایتی ملبوسات میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں خواتین تاجروں کی ہنسی اور گپ شپ سے لے کر خریداروں اور فروخت کنندگان کے مابین بھاؤ تاؤ، بحث مباحثے تک بہت سی صدائیں سنائی دیتی ہیں، جو بھاری بھرکم ’اما ’کیتھل‘ ‘ کا ایک الگ ہی ماحول بنا دیتی ہیں۔

دن ڈھلتے کے ساتھ ہی یہ آوازیں کم ہونے لگتی ہیں، حتیٰ کہ شام قریب آتے ہی، یہ ساری رسیلی آوازیں مدھم ہونے لگتی ہیں اور خواتین اکثر کئی میل دور دراز کے دیہاتوں میں اپنے گھروں کو واپس جانے کے لیے تیاری شروع کر دیتی ہیں۔ یہاں کی خواتین نے اپنی ایک یونین بھی تشکیل دی ہے، جو بازار کے امور کی نگرانی کرتی ہے۔ اس میں ایک ’ادھار نظام‘ بھی ہے، جس کی مدد سے خواتین سامان خریدنے کے لیے رقم لے سکتی ہیں۔

’اما ’کیتھل‘ ‘ دراصل مضبوط، بااختیار خواتین کے ایک بڑے سے خاندان کی مانند ہے، جو نہ صرف اپنی تجارت کا مالک ہے، بلکہ معاشرتی اور سیاسی طور پر بھی اپنے حقوق سے آگاہ ہے۔ خواتین کی کام یابی اس حقیقت کا بھی زندہ ثبوت ہے کہ یہاں ’’مرد کی دنیا‘‘ یا ’’عورت کی دنیا‘‘ کہلانے والی کوئی چیز نہیں، بلکہ یہ ان لوگوں کی دنیا ہے جو کچھ کر کے دکھانا چاہتے ہیں۔

The post انوکھا بازار، جہاں مردوں کا داخلہ ممنوع ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2oNlnKZ

پشپا کماری

ہمارے ملک میں جب اعلیٰ سرکاری عہدوں کی بات کی جاتی ہے، تو بہت کم تو دیگر مذاہب کے افراد کے نام شاذ ونادر ہی سننے میں آتے ہیں، کبھی تو ایسا لگنے لگتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر عوامی عہدوں کو اقلیتوں کی پہنچ سے دور دور رکھا جاتا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد کی تقرریوں کی خبریں آئیں، جس میں ’سندھ پولیس‘ میں پہلی بار ایک خاتون پشپا کماری کی پہلی ہندو خاتون اسسٹنٹ سب ا نسپکٹر بننے کی خبر خاصی نمایاں رہی۔

29سا لہ پشپا کماری ہندو مت کی ’کوہلی‘ برادری سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے2014 ء میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ سائنسسز (DOW UNIVERSITY OF HEALTH AND SCIENCES) سے ’’نازک نگہداشت‘‘ (CRITICAL CARE)میں کریجویشن کیا، جس کے بعد گزشتہ سال تک وہ کراچی میں ’بے نظیر بھٹو ایمر جینسی ٹراما سینٹر‘ میں انتہائی نگہداشت یونٹ (ICU) میں تیکنیکی ماہر کی حیثیت سے کام کرتی رہیں۔

تاہم بعد میں انہوں نے ایک مختلف راستہ اختیار کرنے کا خواب دیکھا اور ’پبلک سروس کمیشن‘ کے امتحان میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا۔ پشپا کماری نے 2018ء میں صرف اے ایس آئی (ASI) کے عہدے کے لیے درخواست دی۔ وہ رواں سال جنوری میں ’پبلک سروس کمیشن‘ کے امتحان میں بیٹھیں۔ امتحان کے بعد ایک حتمی انٹرویو بھی ہوا۔

جب انہوں نے اہلِ امیدواروں کی حتمی فہرست میں اپنا نام دیکھا، تو پشپا کو ایسا لگا کہ جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہیں، لیکن یہ حقیقت تھی۔ ہندو برادری کی بہت سی خواتین پولیس کانسٹیبل کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں، لیکن پشپا  ’اے ایس آئی‘ (ASI) کے لیے ’پبلک سروس کمیشن‘ کا امتحان پاس کرنے والی پہلی ہندو خاتون ہیں۔ پشپا کے خواب یہیں ختم نہیں ہوتے۔ پشپا کا ارادہ ہے کہ وہ دوسرے امتحانات میں بھی حصہ لے، خاص طور پر اگر سندھ حکومت ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کے لیے کسی پوسٹ کا اعلان کرتی ہے، تو وہ اس میں بھی امیدوار بنیں۔

پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی پشپا کماری، سندھ کے ضلعے میر پور خاص کے قصبے سامارو میں ایک متوسط طبقے میں پیدا ہوئی۔ ان کی والدہ محکمہ بہبود آبادی میں ایک افسر کے طور پر کام کرتی ہیں۔ پشپا کے والد کا ذریعہ معاش ایک پرچون کی دکان ہے۔ پشپا نے خود بھی میڈیکل کے شعبے میں آنے سے پہلے اپنے آبائی شہر میںایک غیر سرکاری تنظیم کے لیے بھی خدمات انجام دیں۔

وہ اب اپنے شوہر نارائن داس کے ساتھ کراچی میں مقیم ہیں۔ ان کے شوہر ایک تعمیراتی ادارے میں میں بطور سپر وائزر کام کرتے ہیں۔ دو دیگر ہندو خواتین ڈینا کمار اور سمن پون بودانی نے بھی کچھ عرصے قبل ہی ’پبلک سروس کمیشن‘ کا امتحان پاس کیا تھا، یہ دونوں خواتین اب سوِل جج کی حیثیت سے اپنی اپنی خد مات انجام دے رہی ہیں، جب کہ پشپا پولیس کے شعبے میں ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ دوران تعلیم کبھی انہوں نے اس شعبے میں آنے کا نہیں سوچا، 2018 میں پہلی بار پولیس میں شمولیت کا خیال آیا جس کے نتیجے میں وہ جنوری میں مقابلے کے امتحان بیٹھیں اور امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا، جس کے بعد انٹرویو کا مرحلہ بھی کام یابی سے طے کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے پولیس میں کچھ نچلے عہدوں پر دوسری ہندو خواتین بھی موجود ہوں، لیکن وہ پہلی ہندو خاتون ہیں، جس نے مقابلے کا امتحان پاس کر کے پولیس میں شمولیت کی ہے۔ اُن کا خیال ہے کہ انہیں دیکھ کر دیگر لڑکیاں اور خواتین بھی پولیس فورس، آرمی، نیوی اور پاک فضائیہ میں شمولیت اختیار کرنے پر راغب ہوں گی۔

پشپا کماری نے انکشاف کیا کہ ان کے ایک بھائی بھارت کمار نے وظیفہ ملنے کے بعد نئی دہلی میں قائم ’ساؤتھ ایشیا یونیورسٹی سے ’عمرانیات‘ میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی، جب کہ پشپا جرمیات (criminology) میں  ایم اے کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ  اگر سندھ حکومت ڈپٹی سپریٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کی پوسٹوں کا اعلان کرتی ہے، تو وہ ضرور اس میں شرکت کریں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ والدین کی  طرف سے حوصلہ افزائی کی بدولت آج ان کے سارے بھائی اور بہنیں پڑھ لکھ گئے ہیں اور وہ تمام اب مقابلے کے امتحان میں بیٹھنا چاہتے ہیں۔

The post پشپا کماری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2nl2tdY

پشپا کماری

ہمارے ملک میں جب اعلیٰ سرکاری عہدوں کی بات کی جاتی ہے، تو بہت کم تو دیگر مذاہب کے افراد کے نام شاذ ونادر ہی سننے میں آتے ہیں، کبھی تو ایسا لگنے لگتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر عوامی عہدوں کو اقلیتوں کی پہنچ سے دور دور رکھا جاتا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد کی تقرریوں کی خبریں آئیں، جس میں ’سندھ پولیس‘ میں پہلی بار ایک خاتون پشپا کماری کی پہلی ہندو خاتون اسسٹنٹ سب ا نسپکٹر بننے کی خبر خاصی نمایاں رہی۔

29سا لہ پشپا کماری ہندو مت کی ’کوہلی‘ برادری سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے2014 ء میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ سائنسسز (DOW UNIVERSITY OF HEALTH AND SCIENCES) سے ’’نازک نگہداشت‘‘ (CRITICAL CARE)میں کریجویشن کیا، جس کے بعد گزشتہ سال تک وہ کراچی میں ’بے نظیر بھٹو ایمر جینسی ٹراما سینٹر‘ میں انتہائی نگہداشت یونٹ (ICU) میں تیکنیکی ماہر کی حیثیت سے کام کرتی رہیں۔

تاہم بعد میں انہوں نے ایک مختلف راستہ اختیار کرنے کا خواب دیکھا اور ’پبلک سروس کمیشن‘ کے امتحان میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا۔ پشپا کماری نے 2018ء میں صرف اے ایس آئی (ASI) کے عہدے کے لیے درخواست دی۔ وہ رواں سال جنوری میں ’پبلک سروس کمیشن‘ کے امتحان میں بیٹھیں۔ امتحان کے بعد ایک حتمی انٹرویو بھی ہوا۔

جب انہوں نے اہلِ امیدواروں کی حتمی فہرست میں اپنا نام دیکھا، تو پشپا کو ایسا لگا کہ جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہیں، لیکن یہ حقیقت تھی۔ ہندو برادری کی بہت سی خواتین پولیس کانسٹیبل کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں، لیکن پشپا  ’اے ایس آئی‘ (ASI) کے لیے ’پبلک سروس کمیشن‘ کا امتحان پاس کرنے والی پہلی ہندو خاتون ہیں۔ پشپا کے خواب یہیں ختم نہیں ہوتے۔ پشپا کا ارادہ ہے کہ وہ دوسرے امتحانات میں بھی حصہ لے، خاص طور پر اگر سندھ حکومت ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کے لیے کسی پوسٹ کا اعلان کرتی ہے، تو وہ اس میں بھی امیدوار بنیں۔

پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی پشپا کماری، سندھ کے ضلعے میر پور خاص کے قصبے سامارو میں ایک متوسط طبقے میں پیدا ہوئی۔ ان کی والدہ محکمہ بہبود آبادی میں ایک افسر کے طور پر کام کرتی ہیں۔ پشپا کے والد کا ذریعہ معاش ایک پرچون کی دکان ہے۔ پشپا نے خود بھی میڈیکل کے شعبے میں آنے سے پہلے اپنے آبائی شہر میںایک غیر سرکاری تنظیم کے لیے بھی خدمات انجام دیں۔

وہ اب اپنے شوہر نارائن داس کے ساتھ کراچی میں مقیم ہیں۔ ان کے شوہر ایک تعمیراتی ادارے میں میں بطور سپر وائزر کام کرتے ہیں۔ دو دیگر ہندو خواتین ڈینا کمار اور سمن پون بودانی نے بھی کچھ عرصے قبل ہی ’پبلک سروس کمیشن‘ کا امتحان پاس کیا تھا، یہ دونوں خواتین اب سوِل جج کی حیثیت سے اپنی اپنی خد مات انجام دے رہی ہیں، جب کہ پشپا پولیس کے شعبے میں ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ دوران تعلیم کبھی انہوں نے اس شعبے میں آنے کا نہیں سوچا، 2018 میں پہلی بار پولیس میں شمولیت کا خیال آیا جس کے نتیجے میں وہ جنوری میں مقابلے کے امتحان بیٹھیں اور امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا، جس کے بعد انٹرویو کا مرحلہ بھی کام یابی سے طے کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے پولیس میں کچھ نچلے عہدوں پر دوسری ہندو خواتین بھی موجود ہوں، لیکن وہ پہلی ہندو خاتون ہیں، جس نے مقابلے کا امتحان پاس کر کے پولیس میں شمولیت کی ہے۔ اُن کا خیال ہے کہ انہیں دیکھ کر دیگر لڑکیاں اور خواتین بھی پولیس فورس، آرمی، نیوی اور پاک فضائیہ میں شمولیت اختیار کرنے پر راغب ہوں گی۔

پشپا کماری نے انکشاف کیا کہ ان کے ایک بھائی بھارت کمار نے وظیفہ ملنے کے بعد نئی دہلی میں قائم ’ساؤتھ ایشیا یونیورسٹی سے ’عمرانیات‘ میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی، جب کہ پشپا جرمیات (criminology) میں  ایم اے کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ  اگر سندھ حکومت ڈپٹی سپریٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کی پوسٹوں کا اعلان کرتی ہے، تو وہ ضرور اس میں شرکت کریں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ والدین کی  طرف سے حوصلہ افزائی کی بدولت آج ان کے سارے بھائی اور بہنیں پڑھ لکھ گئے ہیں اور وہ تمام اب مقابلے کے امتحان میں بیٹھنا چاہتے ہیں۔

The post پشپا کماری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2nl2tdY

ہاکس بے، سرکاری اراضی پر سیکڑوں غیر قانونی ہٹ بنا دیئے گئے

کراچی: کراچی کے ساحل پر سرکاری زمیوں کی بندر بانٹ کا سلسلہ جاری ہے جب کہ ہاکس بے پر قائم قیمتی ہٹ کو بلدیہ عظمیٰ کراچی کے افسران نے مبینہ کر پشن کے عوض ٹھکانے لگا دیے۔

کراچی میں سب سے سستی تفریح سمندر ہے لیکن مافیا نے اس ساحل کے قریب سرکاری اراضی کو بھی نہیں بخشا، ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری اراضی پر قائم ہٹ پرائیو یٹ کمپنیوں کو 10سال ،20 سال یا اس سے زیادہ عرصے کے لیے لیز پر دیے گئے لیکن حیران کن طو ر پر ان ہٹ کے دیے جانے کے سرکاری چالان جمع ہی نہیں ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ایک ہزارکے قریب لگ بھگ بلد یہ عظمیٰ کراچی کی اراضی پر ہٹ دیے گئے فی ہٹ 80گز پر محیط تھا لیکن بلد یہ عظمیٰ کراچی کے افسران کی ملی بھگت سے 80 گزکے ہٹ میں سیکڑوں گز اضا فی زمین پر قبضہ کیا گیا، 80 گز کے ہٹ پر پارکنگ کی سہولت بھی موجود ہے جو تمام کی تمام غیرقانونی ہے،کراچی کے ساحل پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کی اراضی پر قائم ہٹ کو کمر شل بنیادوں پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

شہریوں سے چند گھنٹوں کے ہزارو ں روپے وصول کیے جاتے ہیں لیکن بلد یہ عظمیٰ کراچی کو چالان جمع نہیں کرائے جارہے ہیں ،ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کر اچی کے لینڈ ڈپارٹمنٹ کے افسران کی مبینہ ملی بھگت سے یہ کاررو ائی جا رہی ہے جس سے کے ایم سی کو ماہانہ کر وڑوں روپے کا نقصان ہو ر ہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مافیا نے ڈولفن چورنگی کے قریب بلد یہ عظمیٰ کر اچی کے ملا زمین کے لیے قائم کے ایم سی ایمپلائزہٹ کی بنیا دیں تک ختم کردی ہیں۔ ڈولفن چور نگی کے قریب ایک ہوٹل جس کے با رے میں بتا یا جا تا ہے کہ وہ بھی کے ا یم سی کی لینڈ پر قائم ہے اسی ہو ٹل کے مالک کو ایمپلائز ہٹ کی اراضی دے دی گئی جس پر اس نے بھیٹک بنا ئی ہو ئی ہے۔

ذرا ئع نے بتایا کہ ہا کس بے، پیراڈائز پوائنٹ اور اسی ساحلی پٹی پر محکمہ لینڈ اور ڈپٹی ڈا ئر یکٹر لیز تا جدار کی سر پر ستی میں لینڈ ما فیا سرگرم ہے جس کی وجہ سے ساحلی پٹی پر غیرقانونی تعمیرات بھی ہورہی ہیں اور قبضہ بھی کیاجا رہا ہے جس سے کے ایم سی کو کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے،ڈپٹی ڈائریکٹر لیز تاجدار سے رابط کر نے کی کوشش کی گئی لیکن انھوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

The post ہاکس بے، سرکاری اراضی پر سیکڑوں غیر قانونی ہٹ بنا دیئے گئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2njXzxR

کرنسی کے کاروبار کے نام پر 20 کروڑ لوٹنے والا 8 رکنی گروہ گرفتار

کراچی:  رینجرز اور پولیس نے ملیر سے کرنسی کا جعلی کاروبار کرنے والے گروہ کے8 کارندوں کو گرفتار کرکے اسلحہ، گاڑی، گاڑی کی جعلی سرکاری نمبر پلیٹ، رینجرز اور پولیس کی وردیاں برآمد کرلی۔

ابتدائی تفتیش کے دوران گرفتار ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ ان کا تعلق منظم مافیا سے ہے جو اب تک 20 کروڑ سے زیادہ کی رقم 8 مختلف وارداتوں میں لوٹ چکے ہیں،گروہ کے کارندے شہریوں کو پاکستانی کرنسی کے بدلے مارکیٹ سے کم ریٹ پر امریکی ڈالر دینے کا جھانسہ دیتے تھے اور جال میں پھنسنے والے شہریوں کو جعلی رینجرز اور پولیس اہلکار بن کر اسلحہ کے زور رپر لوٹ لیتے تھے۔

گرفتار ملزمان میں نور محمد عرف نور عرف حاجی ولد دودو، مول چند پٹواری ولد سکریو مل، حسین بخش لاہوتی ولد ہوت خان،محمد اختر عرف چوہدری ولد غلام سرور،اللہ داد ولد شیر محمد،محمد حنیف عرف شیخ ولد محمد مستان، عامر علی کھٹیان ولد اللہ بخش اور مٹھو خان میر جت ولد حاجی خان میر جت شامل ہیں۔

ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق ملزمان نے اعتراف کیا کہ ان کا تعلق منظم مافیا سے ہے جو کہ اب تک 20 کروڑ سے زیادہ کی رقم 8 مختلف وارداتوں میں لوٹ چکے ہیں۔ تمام گرفتار ملزمان کو قانونی کارروائی کیلیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

ترجمان رینجرز نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ایسے عناصر کے بارے میں اطلاع رینجرز ہیلپ لائن 1101 اور رینجرز مددگار واٹس ایپ نمبر 03479001111 پر کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے دیں۔

The post کرنسی کے کاروبار کے نام پر 20 کروڑ لوٹنے والا 8 رکنی گروہ گرفتار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2o00rAf

ہاکس بے، سرکاری اراضی پر سیکڑوں غیر قانونی ہٹ بنا دیئے گئے

کراچی: کراچی کے ساحل پر سرکاری زمیوں کی بندر بانٹ کا سلسلہ جاری ہے جب کہ ہاکس بے پر قائم قیمتی ہٹ کو بلدیہ عظمیٰ کراچی کے افسران نے مبینہ کر پشن کے عوض ٹھکانے لگا دیے۔

کراچی میں سب سے سستی تفریح سمندر ہے لیکن مافیا نے اس ساحل کے قریب سرکاری اراضی کو بھی نہیں بخشا، ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری اراضی پر قائم ہٹ پرائیو یٹ کمپنیوں کو 10سال ،20 سال یا اس سے زیادہ عرصے کے لیے لیز پر دیے گئے لیکن حیران کن طو ر پر ان ہٹ کے دیے جانے کے سرکاری چالان جمع ہی نہیں ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ایک ہزارکے قریب لگ بھگ بلد یہ عظمیٰ کراچی کی اراضی پر ہٹ دیے گئے فی ہٹ 80گز پر محیط تھا لیکن بلد یہ عظمیٰ کراچی کے افسران کی ملی بھگت سے 80 گزکے ہٹ میں سیکڑوں گز اضا فی زمین پر قبضہ کیا گیا، 80 گز کے ہٹ پر پارکنگ کی سہولت بھی موجود ہے جو تمام کی تمام غیرقانونی ہے،کراچی کے ساحل پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کی اراضی پر قائم ہٹ کو کمر شل بنیادوں پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

شہریوں سے چند گھنٹوں کے ہزارو ں روپے وصول کیے جاتے ہیں لیکن بلد یہ عظمیٰ کراچی کو چالان جمع نہیں کرائے جارہے ہیں ،ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کر اچی کے لینڈ ڈپارٹمنٹ کے افسران کی مبینہ ملی بھگت سے یہ کاررو ائی جا رہی ہے جس سے کے ایم سی کو ماہانہ کر وڑوں روپے کا نقصان ہو ر ہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مافیا نے ڈولفن چورنگی کے قریب بلد یہ عظمیٰ کر اچی کے ملا زمین کے لیے قائم کے ایم سی ایمپلائزہٹ کی بنیا دیں تک ختم کردی ہیں۔ ڈولفن چور نگی کے قریب ایک ہوٹل جس کے با رے میں بتا یا جا تا ہے کہ وہ بھی کے ا یم سی کی لینڈ پر قائم ہے اسی ہو ٹل کے مالک کو ایمپلائز ہٹ کی اراضی دے دی گئی جس پر اس نے بھیٹک بنا ئی ہو ئی ہے۔

ذرا ئع نے بتایا کہ ہا کس بے، پیراڈائز پوائنٹ اور اسی ساحلی پٹی پر محکمہ لینڈ اور ڈپٹی ڈا ئر یکٹر لیز تا جدار کی سر پر ستی میں لینڈ ما فیا سرگرم ہے جس کی وجہ سے ساحلی پٹی پر غیرقانونی تعمیرات بھی ہورہی ہیں اور قبضہ بھی کیاجا رہا ہے جس سے کے ایم سی کو کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے،ڈپٹی ڈائریکٹر لیز تاجدار سے رابط کر نے کی کوشش کی گئی لیکن انھوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

The post ہاکس بے، سرکاری اراضی پر سیکڑوں غیر قانونی ہٹ بنا دیئے گئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2njXzxR

کرنسی کے کاروبار کے نام پر 20 کروڑ لوٹنے والا 8 رکنی گروہ گرفتار

کراچی:  رینجرز اور پولیس نے ملیر سے کرنسی کا جعلی کاروبار کرنے والے گروہ کے8 کارندوں کو گرفتار کرکے اسلحہ، گاڑی، گاڑی کی جعلی سرکاری نمبر پلیٹ، رینجرز اور پولیس کی وردیاں برآمد کرلی۔

ابتدائی تفتیش کے دوران گرفتار ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ ان کا تعلق منظم مافیا سے ہے جو اب تک 20 کروڑ سے زیادہ کی رقم 8 مختلف وارداتوں میں لوٹ چکے ہیں،گروہ کے کارندے شہریوں کو پاکستانی کرنسی کے بدلے مارکیٹ سے کم ریٹ پر امریکی ڈالر دینے کا جھانسہ دیتے تھے اور جال میں پھنسنے والے شہریوں کو جعلی رینجرز اور پولیس اہلکار بن کر اسلحہ کے زور رپر لوٹ لیتے تھے۔

گرفتار ملزمان میں نور محمد عرف نور عرف حاجی ولد دودو، مول چند پٹواری ولد سکریو مل، حسین بخش لاہوتی ولد ہوت خان،محمد اختر عرف چوہدری ولد غلام سرور،اللہ داد ولد شیر محمد،محمد حنیف عرف شیخ ولد محمد مستان، عامر علی کھٹیان ولد اللہ بخش اور مٹھو خان میر جت ولد حاجی خان میر جت شامل ہیں۔

ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق ملزمان نے اعتراف کیا کہ ان کا تعلق منظم مافیا سے ہے جو کہ اب تک 20 کروڑ سے زیادہ کی رقم 8 مختلف وارداتوں میں لوٹ چکے ہیں۔ تمام گرفتار ملزمان کو قانونی کارروائی کیلیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

ترجمان رینجرز نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ایسے عناصر کے بارے میں اطلاع رینجرز ہیلپ لائن 1101 اور رینجرز مددگار واٹس ایپ نمبر 03479001111 پر کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے دیں۔

The post کرنسی کے کاروبار کے نام پر 20 کروڑ لوٹنے والا 8 رکنی گروہ گرفتار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2o00rAf

پاکستان ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہے

وزیراعظم عمران خان نے اتوارکواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے ولولہ انگیزاور پراثر تاریخی خطاب کے بعد وطن واپس لوٹنے پر نیواسلام آباد ایئرپورٹ پراستقبال کے لیے آنے والے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ نریندر مودی کی فاشسٹ اورمسلمانوں سے نفرت کرنے والی حکومت کو دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر بے نقاب کریں گے، برے وقت میں پاکستانیوں کوگھبرانا یا مایوس نہیں ہونا، کشمیر کے لوگ پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں، دنیا ان کے ساتھ کھڑی ہو نہ ہو پاکستان ان کے ساتھ کھڑا رہے گا، جب تک ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں وہ اپنی جدوجہد میں ضرورکامیاب ہوں گے اورکشمیرکو آزادی ملے گی۔

وہ اپنی قوم کے شکرگزار ہیں جنہوں نے اقوام متحدہ میں کشمیریوں کا کیس بھرپور انداز میں پیش کرنے کے لیے کامیابی کی دعائیں کیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں، ان کے اوپر جو ظلم ہو رہا ہے، اس لیے ہم ان کے ساتھ اللہ کی خوشنودی اور رضاکے لیے کھڑے ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ 80 لاکھ کشمیریوںکو ہندوستان کی فوجوں نے کرفیو میں بند کرکے رکھا ہے۔ ادھر نکیال سکیٹر پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری سے 2 شہری شہید جب کہ 2 خواتین سمیت3 زخمی ہو گئے۔

اتوار کوبھارتی فوج نے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک بار پھر لائن آف کنٹرول کے سرحدی علاقوں اندرلہ ناڑ، اندروٹھ، پلڈا، اولی، جیر مرگ، موہڑہ دھروتی، بالاکوٹ، موہڑہ گھمب، دریڑی،دوٹھلہ اور دہری کی سول آبادی پر بلااشتعال فائرنگ و گولہ باری کی، بھارتی فوج کی اشتعال انگیزی پر پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کی، دونوں اطراف سے شدید گولہ باری کے بعد شام کے وقت یہ سلسلہ بند ہو گیا۔

وزیراعظم عمران خان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد پاک بھارت ماحول میں بیانات کی حد تک کافی گرما گرمی آ گئی ہے‘ پاکستان بھرپور انداز میں مسئلہ کشمیر اور بھارتی جارحیت کو عالمی سطح پر اجاگر کرکے اور اقوام متحدہ سمیت عالمی دنیا کو یہ احساس دلا رہا ہے کہ وہ آگے بڑھ کر اس مسئلے کو حل کرائے ورنہ ان کی بے حسی‘ غفلت اور لاپروائی کی سزا نہ صرف پورے جنوبی ایشیا کے عوام کو ملے گی بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

اقوام متحدہ میں پاکستانی سفارتکارذوالقرنین چھینہ نے جواب دینے کا حق استعمال کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا اصل ظالمانہ چہرہ عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کیا ہے۔بھارت گزشتہ 30 سال سے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے، بھارتی حکومت آر ایس ایس کا ایجنڈا آگے بڑھا رہی ہے، مہاتما گاندھی کے قاتل مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے سیکولر چہرے کو مسخ کررہے ہیں۔ ذوالقرنین چھینہ نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے جاسوس کلبھوشن یادیو کو گرفتارکیا جس نے ملک میں دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نے ریاستی دہشتگردی کو چھپایا، مودی حکومت سیکولر بھارت کے نظریئے کا قتل کررہی ہے، آر ایس ایس کو تین بار بھارت میں پابندی کا شکار ہونا پڑا، بھارت مقبوضہ کشمیرکا ذکر تک کرنے سے کترا رہا ہے، کیا بھارت کے پاس اتنا حوصلہ ہے کہ وہ عالمی مبصرین کومقبوضہ کشمیر میں سب دکھا سکے؟ کشمیریوں کوبولنے کی اجازت دینے سے بھارت کیوں گھبرا رہا ہے؟ بھارت میں ہندو انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے رہنما کرشن گوپال نے وزیراعظم عمران خان کی تقریر پر ردعمل میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہاں ہم دہشت گرد ہیں‘ مودی‘ بھارت اور آر ایس ایس ایک ہی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں تقریر نے پوری دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول اور بھارتی مظالم کا پردہ فاش کر دیا ہے اور یہ ایک ہاٹ ایشو بن کر سامنے آیا ہے، اسی کا ماحصل ہے کہ پہلی بار امریکی کانگریس کے 14ارکان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ‘ ان ارکان نے وادی میں مواصلاتی پابندیاں اٹھانے اور صورت حال میں بہتری لانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

عالمی سطح پر کشمیر کا مسئلہ اجاگر ہونے کے باوجود بھارت اپنی جارحانہ روش سے باز نہیں آ رہا، ایک طرف اس نے پاکستان کی سرحدوں پر بلا اشتعال گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ تیز کر دیا تو دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں 57روز سے جاری کرفیو کو نرم کرنے کے بجائے مزید سختیاں اور ظلم و ستم کا بازار گرم کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی قوتیں فوری طور پر مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے خاتمے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالیں اور اُسے اِس سلگتے ہوئے مسئلے کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے مجبور کریں۔

The post پاکستان ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2n8tsJZ

ایران، سعودی عرب اور امریکا مصالحت وقت کا تقاضا

مشرق وسطیٰ میں عالمی طاقتوں کے مابین صورتحال میں موجود کشیدگی کے خاتمے کے لیے کثیر جہتی اقدامات کی ضرورت ہے، جس میں ایران و امریکا کے مابین موثر اور متحرک سفارت کاری کاکردار اہم ہوگا۔

اس بات کا اشارہ سیاسی مبصرین نے گزشتہ دنوں ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی جانب سے اقوام متحدہ کے اجلاس کے سائیڈ لائن پر دیے گئے انٹرویو کے تناظر میں دیا ہے جس میں جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایران کا امریکی صدارتی انتخابات پر اثرانداز یا ان میں مداخلت کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔جواد ظریف نے یہ بھی کہا کہ تہران حکومت امریکی صدارتی الیکشن میں کسی بھی امیدوار کو ترجیح دینے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

دریں اثنا امریکی ٹیلی وژن کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ ایران کے خلاف سائبر جنگ شروع کیے ہوئے ہے۔ اس انٹرویو میں جواد ظریف نے واضح طور پر کہا کہ جو بھی جنگ امریکا شروع کرے گا، اس کو ختم کرنا اس کے بس میں نہیں ہو گا ۔

یہ حقیقت ہے کہ ایران سے جوہری معاہدے کے خاتمے کے عجلت آمیز اقدام کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے پاس آپشنز کا فقدان ہے اور اس  نے ایران پر جتنی پابندیاں عائد کی ہیں اس سے دونوں ملکوں میں تناؤ کا گراف بڑھتا جارہا ہے، سفارت کاروں کا خیال تھا کہ امریکی انتظامیہ میں جان بولٹن کی رخصتی کے بعد ٹرمپ اور ایران میں سفارتی گرم جوشی کا نیا باب شروع ہوگا کیونکہ بولٹن ایران کے ایٹمی پروگرام کے خاتمے کے  بانی فیصلہ سازوں میں شمار ہوتے تھے اور خطرہ تھا کہ سعودی عرب سے کشیدگی اور ایران جوہری معاہدہ پر ہونے والی بات چیت کہیں ایک نئی جنگ کا نکتہ آغاز نہ بن جائے۔

ادھر اخباری اطلاعات سے یہی محسوس ہورہا تھا کہ امریکا جنگ کی تیاری کررہا ہے تاہم جب صدر ٹرمپ کی طرف سے سعودی عرب  میں آل ریفائنریز پر حملے کی خبروں پر معنی خیز بیان آنے شروع ہوئے تو ایرانی میڈیا نے اندازہ  لگایا کہ جنگ ناگزیر نہیں جب کہ ایران نے خطے میں جنگ  سے گریز اور امریکا سے صورتحال کے گہرے ادراک کا مطالبہ کیا تھا،اسی دوراں صدر ٹرمپ کا بیان آیا کہ امریکا ایران سے جنگ نہیں چاہتا، بلکہ انھوں نے کہا کہ ایران نے ہم پر حملہ نہیں کیا ہے اور ہمارے لیے سعودی عرب کا تحفظ ضروری بھی نہیں۔

یہ انتباہی اشارہ تھا جس کا خطے کے اہم کرداروں نے نوٹس بھی لیا۔ اس اعتبار سے صائب اسٹریٹجی یہی ہے کہ ایران، یمن اور سعودی عرب  حکام مشرق وسطیٰ اور گلف کی سیاسی، عسکری ،معاشی اور تزویراتی معاملات کا ٹھنڈے دل ودماغ سے جائزہ لیں، گلف ریاستوں کو بھی ان مذاکرات میں شریک ہونا چاہیے تاکہ ایران اور امریکا میں بڑھتا ہوا تناؤ کسی پرامن منطقی انجام تک پہنچے اور بات چیت سے تنازعات کا کوئی مستقل حل تلاش کیاجائے۔ ایران نے غالباً اسی سیاسی پیش رفت کے تحت برطانیہ کے پرچم بردار ٹینکر کو 10  ہفتے تک زیرحراست رکھنے کے بعد اتوار کو رہاکردیا جو اب دبئی کی ایک برتھ پر لنگرانداز ہوچکا ہے۔

عالمی برادری کے لیے پیداشدہ صورتحال کثیر جہتی اقدامات اور غیر معمولی سفارت کاری کی متقاضی ہے۔ ضرورت اس بات کی کہ مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس کے ڈیپ واٹر سمیت عمومی سیاسی دیتانت کے لیے ایک ہمہ جہتی روڈ میپ کا اعلان کیا جائے۔ایسا کرنا وقت کا تقاضا ہے۔

The post ایران، سعودی عرب اور امریکا مصالحت وقت کا تقاضا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2oP8xvS

صحت میکنزم ڈنگی کے نشانے پر

گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران ملک بھر سے مزید 690 افراد میں ڈنگی کی تصدیق ہوئی ہے، متاثرہ افراد کی مجموعی تعدادکا سولہ ہزار سے تجاوزکرجانا انتہائی تشویش ناک امر ہے۔ پورے ملک میں ڈنگی سے 30 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ایک ایکشن پلان بنایا جانا چاہیے۔

ڈنگی کے خاتمہ کے لیے تمام اداروں کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، بالخصوص محکمہ صحت کو اپنی ذمے داریاں اور پیشہ وارانہ امور قومی فریضہ سمجھ کر انجام دینی ہونگی۔ صرف راولپنڈی میں ابتک  4125 افراد ڈنگی کا نشانہ بن چکے ہیں۔کراچی میں 103 اور لاہورمیں7 نئے کیس سامنے آئے ہیں، ملتان کے نشتر اسپتال میں بھی ڈنگی مریضوں کی آمدکا سلسلہ جاری ہے۔

پنجاب میں3 ہزار 554 افراد، خیبرپختونخوامیں 3 ہزار 412 افراد ، سندھ میں 3 ہزار120 افراد، بلوچستان میں 2 ہزار681 افراد ، اسلام آباد میں 2 ہزار 777 ، آزاد کشمیر میں 373 اور قبائلی اضلاع میں 312 افراد میں ڈنگی کے کیسز سامنے آئے، یہ اعداد وشمار اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ حکومتی سطح پر ڈنگی پر قابو پانے کے اقدامات ناکافی ہیں۔ڈنگی مچھرکے وائرس سے بچاؤکے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہر شہر ی کا فرض ہے۔

گھروں میں صاف پانی کھلے برتنوں میں رکھنے کے بجائے برتنوں کو ڈھانپ کر رکھا جائے، ڈنگی وائرس کے لاروے کو چیک کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ ان سطورکے ذریعے ہمارا محکمہ صحت کے حکام سے مطالبہ ہے کہ ڈنگی کے مریضوں کی تشخیص کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور ڈنگی سر وئلنس بھی تیزکی جائے۔ حکومت اورعوام کو ملکر مچھروں کی افزائش گاہوں کو ختم کرنا ہوگا،تاکہ اس مرض کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔

The post صحت میکنزم ڈنگی کے نشانے پر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2mpFvlw

Sunday, 29 September 2019

شادی پر زیادہ جہیزمانگنے کے خلاف شکنجہ تیار

گوجرانوالہ:  شادی پر زیادہ جہیز مانگنے کیخلاف شکنجہ تیار کرلیا گیا، نکاح نامہ کے ساتھ جہیزکی تفصیل حکومت کو فراہم کرنا لازمی قراردے گئی۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے جہیز کی لعنت ختم کرنے  کیلیے شادی ایکٹ میں ترمیم و قانون سازی تیز کر دی ہے۔ شادی پر زیادہ جہیزمانگنے والوں کو نکیل ڈالنے  کیلیے تصدیق شدہ فارم بلدیہ و یونین کونسل میں جمع کرانا لازمی قرار دیدیا گیا ہے، تجاوز کرنیوالے دولہا اور والدین کو جیل جانا ہو گا۔

The post شادی پر زیادہ جہیزمانگنے کے خلاف شکنجہ تیار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2os23CR

شادی پر زیادہ جہیزمانگنے کے خلاف شکنجہ تیار

گوجرانوالہ:  شادی پر زیادہ جہیز مانگنے کیخلاف شکنجہ تیار کرلیا گیا، نکاح نامہ کے ساتھ جہیزکی تفصیل حکومت کو فراہم کرنا لازمی قراردے گئی۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے جہیز کی لعنت ختم کرنے  کیلیے شادی ایکٹ میں ترمیم و قانون سازی تیز کر دی ہے۔ شادی پر زیادہ جہیزمانگنے والوں کو نکیل ڈالنے  کیلیے تصدیق شدہ فارم بلدیہ و یونین کونسل میں جمع کرانا لازمی قرار دیدیا گیا ہے، تجاوز کرنیوالے دولہا اور والدین کو جیل جانا ہو گا۔

The post شادی پر زیادہ جہیزمانگنے کے خلاف شکنجہ تیار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2os23CR

قائد اعظم ٹرافی ، سینٹرل پنجاب نے بلوچستان کو رنز کے انبار تلے دبا دیا

 لاہور:  قائداعظم ٹرافی فرسٹ الیون ٹورنامنٹ کے تیسرے راؤنڈ میں سینٹرل پنجاب نے بلوچستان کو رنز کے انبار تلے دبادیا۔

مہمان ٹیم نے 6 وکٹ 521 رنز اننگز ڈیکلیئرڈ کی، سلمان بٹ نے ڈبل سنچری جڑڈالی، میزبان الیون نے 119 رنز تک پہنچنے میں نصف ٹیم گنوادی، سندھ سے میچ میں روحیل نذیراور حماد اعظم نے ناردرن کی مشکلات کم کردیں ، ٹیم نے 9 وکٹ پر 271 رنز جوڑلیے، جبکہ ایبٹ آباد میں سدرن پنجاب کیخلاف بارش سے متاثرہ میچ میں خیبرپختونخوا کی بیٹنگ جاری ہے، صاحبزادہ فرحان نصف سنچری بناکر پویلین واپس ہوگئے۔

اسرار 77 پر ناٹ آؤٹ ہیں۔تفصیلات کے مطابق قائداعظم ٹرافی فرسٹ لیگ میں دوسرے دن بگٹی اسٹیڈیم کوئٹہ میں سینٹرل پنجاب نے سلمان بٹ کی شاندار ڈبل سنچری کی بدولت 521 رنز پر پہلی اننگز ڈیکلیئرڈکردی، سینٹرل پنجاب کے اوپنر سلمان بٹ (152)اور آل راؤنڈر ظفر گوہر(11) نے دوسرے روز کھیل کوآگے بڑھایا، ان کے درمیان205 رنز کی ساجھے داری بنی، سلمان بٹ نے لنچ سے قبل ڈبل سنچری مکمل کرلی۔

وہ 237 رنز کی اننگز کھیل کر میدان بدر ہوئے، 376 گیندوں کا سامنا کرنے والے اوپنر نے 33 چوکے جڑے، ظفرگوہر نے 14 چوکوں اور 3 سکسرز کی مدد سے ناقابل شکست 100 رنز نام درج کرائے، ان کی سنچری مکمل ہوتے ہی کپتان اظہر علی اننگز نے سینٹرل پنجاب کی اننگز 6وکٹ 521 رنز پر ختم کرنے کا اعلان کردیا، یاسر شاہ نے 3 جبکہ عماد بٹ، عمر گل اور خرم شہزاد نے 1،1 وکٹ لی، میزبان الیون کے 5 کھلاڑی 119رنز کے سفر میں پویلین واپس ہوچکے۔

عمران بٹ 33، کپتان عمران فرحت 15 اور ابوبکر 14رنز بناکر نمایاں رہے، نسیم شاہ نے 2 پلیئرز کو آؤٹ کیا، بسم اللہ خان 23 اور حسین طلعت 21 رنز پر ناٹ آؤٹ ہیں۔ایبٹ آبادکرکٹ اسٹیڈیم میں جاری خیبرپختونخوا اورسدرن پنجاب کے درمیان میچ کا دوسرا روز بھی بارش سے متاثر رہا، خراب موسم کے باعث دن بھر محض15.1 اوورز کا کھیل ہی ممکن ہوسکا۔

میزبان ٹیم کے کپتان صاحبزادہ فرحان نے اسرار اللہ کے ہمراہ 126رنزبغیرکسی نقصان سے دوسرے روزکھیل کا آغازکیا تو وہ اپنے انفرادی اسکور میں 15رنزکا ہی اضافہ کرسکے، صاحبزادہ فرحان 78 رنزبناکربلاول بھٹی کا شکاربنے، اسراراللہ77 پرناٹ آؤٹ ہیں، خیبرپختونخوا نے48 اوورز میں1وکٹ پر176رنزاسکور بورڈ پرجوڑلیے۔راولپنڈی میں رات بھر ہونے والی بارش کے باوجود کے آر ایل اسٹیڈیم پر میچ مقررہ وقت پر شروع کیا گیا تاہم خراب موسم کے باعث دوسرے روزصرف 61.4 اوورز کا کھیل ہی ممکن ہوسکا۔

روحیل نذیراورحماد اعظم کی نصف سنچریوں کے ساتھ ساتھ خراب موسم نے ناردرن کرکٹ ٹیم کی مشکلات کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، ٹیم نے 9 وکٹ پر271رنز بنالیے، روحیل نذیر67، حماد اعظم58 ، عمر وحید35 اور حیدرعلی26 رنز بنانے میں کامیاب رہے، سدرن پنجاب کے کاشف بھٹی نے 51رنز کے عوض 3 وکٹوں کا سودا کیا، سہیل خان اور تابش خان نے 2،2 کھلاڑیوں کو واپسی کے پروانے تھمائے۔

The post قائد اعظم ٹرافی ، سینٹرل پنجاب نے بلوچستان کو رنز کے انبار تلے دبا دیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2mYhBOf

ڈینگی جان لیوا نہیں۔۔۔اجتماعی کوششوں سے خاتمہ ممکن ہے!!

ملک بھر میں ڈینگی وبائی شکل اختیار کر گیا ہے اور ایک رپورٹ کے مطابق ڈینگی سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 ہزار سے زائد ہوچکی ہے جبکہ ڈینگی سے متاثرہ افراد کی اموات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

ان حالات میں سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ حکومت کیا کر رہی اور متعلقہ ادارے ڈینگی کے تدارک کے لیے کیا کام کر رہے ہیں؟ ’’ڈینگی کی موجودہ صورتحال اور حکومتی اقدامات‘‘ کے موضوع پر ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں ڈاکٹرز، محکمہ صحت اور سوسائٹی کے نمائندوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر محکمہ صحت پنجاب کے ترجمان سید حماد رضا بھی موجود تھے۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

ڈاکٹر شہناز نعیم
( پروگرام منیجراینٹی ڈینگی پروگرام پنجاب)

پنجاب میں ڈینگی کے3076مریض رپورٹ ہوئے جن میں سے 2410 مریض صحت یاب ہوکر گھر جا چکے ہیں۔ گزشتہ روز220 مریض آئے جن میں 150مریض علاج کرواکر گھر جاچکے ہیں۔ گزشتہ روزراولپنڈی میں 140، لاہور میں 8 اور گجرات میں 6مریض رپورٹ ہوئے۔ہم روزانہ کی بنیاد پر ڈیٹا مرتب کرتے ہیں۔

راولپنڈی کی ایک یونین کونسل کے علاقے پوٹوہار ٹاؤن میں ڈینگی وباء کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ یہ علاقہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی دونوں کی حدود میں آتا ہے۔ پوٹوہار ٹاؤن کے علاقے میں وقت سے پہلے بارشیں ہوئیں، وہاں واٹر سپلائی سکیم نہیں ہے، لوگ پانی زیر زمین یا پلاسٹک کے ٹینکوں میں ذخیرہ کرتے ہیں، غفلت کی وجہ سے لاروا بن جاتا ہے جو ڈینگی کا سبب ہے۔راولپنڈی کی انتظامیہ تو کام کرتی رہی مگر اسلام آباد میں کام نہیں ہوا۔

جس کی وجہ سے یہ مسئلہ خراب ہوگیا۔ اب کووارڈینیشن میٹنگ کے بعد بہتری آئی ہے اور اسلام آباد کی طرف سے بھی مریضوں کی رپورٹنگ کی جارہی ہے۔

18 ویں ترمیم کے بعد صحت کو صوبائی سبجیکٹ بنا دیا گیا جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے۔ہر صوبہ خود پلاننگ کرتا ہے اور صوبوں کے درمیان رابطوں کا مسئلہ ہے۔ محکمہ صحت کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے اور ان کے مابین بھی رابطوں کے مسائل ہیں۔

صوبوں اور اداروں کے درمیان روابط بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ تمام ہسپتال ڈینگی کے مریضوں کو ڈھونڈھتے ہیں۔ جس بھی مریض پر ڈینگی لاحق ہونے کا شعبہ ہو اسے رجسٹرڈ کیا جاتا ہے کیونکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جتنے زیادہ مریض رجسٹرڈ ہوں گے اتنا ہی اس مرض کا خاتمہ آسان ہوگا۔ جس مریض کو 2 سے 10 دن کے قریب بخار ہو، جسم میں درد ہو، آنکھوں میں درد ہو، یا اس طرح کی کوئی بھی دو علامات ہوں تو اس پر شک کا اظہار کرکے ڈینگی کے مبینہ مریض کے طور پر رپورٹ کر دیا جاتا ہے۔ بعدازاں اس کا CBC ٹیسٹ کیا جاتا جس سے صورتحال واضح ہوجاتی ہے۔

سی بی سی کرنے کے بعد جس کے WBC چار ہزار سے کم ہو یا پلیٹ لیٹس ایک لاکھ سے کم ہوں تو ایسے مریض کا ڈینگی ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ اگر ٹیسٹ میں ڈینگی ثابت ہوجائے تو وہ ڈینگی کا مریض ہوتا ہے ورنہ اس کا دوسرا علاج کرکے گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ ڈینگی مچھر سے پھیلتا ہے اور جہاں بھی صاف پانی کھڑا ہو اس کی افزائش ہوجاتی ہے۔ جب تک ہم مل کر اس بیماری پر توجہ نہیں دیں گے تب تک اس پر قابو نہیںپایا جاسکتا۔ تمام سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی کے مریضوں کے ٹیسٹ اور علاج معالجہ مفت ہے جبکہ نجی لیبارٹریوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 90 روپے میں ’سی بی سی‘ ٹیسٹ کریں، یہ فیصلہ کیبنٹ کمیٹی نے کیا۔

جس مریض پر شبہ ہوتا ہے ڈینگی ٹیمیںاس کے گھر جاتی ہیں اور ارد گرد کے 17 گھروں کی سرویلنس کرتی ہیں کہ کہیں کوئی انڈہ، بچہ یا مچھر تو نہیں ہے، اگر ہے تو اس کا خاتمہ کیا جانا ہے۔ اگر مریض دوسرے مرحلے میں چلا جاتا ہے تو پھر 29 گھروں میں سرویلنس کی جاتی ہے لیکن اگر مرض کنفرم ہوگیا ہے تو 49 گھروں میں سرویلنس اور سپرے کیا جاتا ہے۔

اب تک ڈینگی کے کیس سامنے آنے والے 100 فیصد مریضوں کے گھروں ،کام کی جگہ اور ان کے ارد گرد سرویلنس کی گئی ہے۔ اسی طرح اگر کہیں سے لاروا ملتا ہے تو اسے تلف کرتے ہیں۔ اگر زمین پر پانی گرا دیا جائے تو لاروا مر جاتا ہے۔ اس برتن کو اچھی طرح صاف کردیا جائے تاکہ برتن میں انڈے ، بچے لگے نہ رہ جائیں کیونکہ جب اس میں پانی بھریں گے تو وہ انڈے دوبارہ سے لاروا میں بدل سکتے ہیں۔

اگر کہیں اڑتا ہوا مچھر نظر آتا ہے یا جس علاقے سے زیادہ مریض آتے ہیں وہاں ٹارگٹڈ فوگنگ کی جاتی ہے۔ فوگ زہر ہے۔ جب تک گھروں میں دھواں نہ چھوڑا جائے لوگ سمجھتے ہیں کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی۔ ہم اپنے ایس او پیز کے تحت کام کر رہے ہیں۔ تتلیاں اور جگنو دیکھے عرصہ ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ آلودگی ہے۔ ہمیں اپنی صحت بھی عزیز ہے اور اپنے بزرگوں اور بچوں کی بھی ۔ لاہور جیسے بڑے شہر میں ڈینگی کے صرف 90مریض سامنے آنے کا مطلب ہے کہ حکومت اور محکمے اپنا کام کر رہے ہیں۔

ڈینگی کے حوالے سے احتیاط انتہائی اہم ہے، خوف پھیلانے کے بجائے لوگوں کو احتیاطی تدابیر بتائی جائیں اور انہیں ذمہ داری کا احساس دلوایا جائے تاکہ بہتری لائی جاسکے۔ سکولوں میں ڈینگی کے حوالے سے زیرو پیریڈ جاری ہیں جبکہ ہم آگاہی مہم کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم بلاوجہ ایف آئی آر نہیں کرواتے، پہلے وارننگ جاری کی جاتی ہے اور جو ہمارے ساتھ تعاون نہیں کرتا تو عوام کے وسیع تر مفاد اور ان کے صحت کے تحفظ کی خاطر مقدمہ درج کروایا جاتا ہے تاکہ ڈینگی کو پھیلنے سے روکا جاسکے، اب تک 32 ہزار لوگوں کو وارننگ جاری کی جاچکی ہے، اگر وہ تعاون نہیں کریں گے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

ڈی سی لاہور اور ڈی سی راولپنڈی کو بھی ناقص کارکردگی پر معطل کیا گیا ہے لہٰذا حکومت کی توجہ عوام کا تحفظ اور بہتر سہولیات ہیں۔ ڈینگی کا خاتمہ صرف ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کا کام نہیں بلکہ یہ محکمہ ماحولیات، عوام و معاشرے کے تمام سٹیک ہولڈرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں۔

 ڈاکٹر شعیب الرحمن گرمانی
(سی ای او ہیلتھ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ لاہور )

2010ء میں بلا سوچے سمجھے بے جا فوگنگ سے لوگوں کو سینہ، دمہ، الرجی و دیگرامراض لاحق ہوگئے جس کے بعد حکومتی پالیسی میں تبدیلی آئی اور فیصلہ کیا گیا کہ ہر جگہ فوگنگ نہ کی جائے بلکہ اب صرف ٹارگٹڈ فوگنگ کی جاتی ہے۔لوگوں کو سپرے کے حوالے سے آگاہی نہیں ہے اور لوگ فوگنگ کو ہی سپرے سمجھتے ہیں۔ ہم جہاں IRS کرواتے ہیں وہاں بھی لوگ کہتے ہیں کہ سپرے کریں حالانہ آئی آر ایس ایک سپرے ہے۔

لاہور میں ہماری 1400 ’ ان ڈور‘ جبکہ 500 ’آؤٹ ڈور‘ ٹیمیں ہیں ۔ہماری ان ڈور ٹیمیں گھروں میں جاتی ہیں۔ پہلے ہماری ٹیم 25 گھروں میں جاتی تھی جو اب 40 سے 45 گھروں میں جاتی ہے۔ ہم لاہور میں روزانہ 60 سے 65 ہزار گھروں کی سرویلنس کرتے ہیں اور یہ واضح رہے کہ ہم ہر گھر میں IRS یا فوگنگ نہیں کرتے۔ جس گھر میں لاروا ملے ، اس گھر میں اور اس کے اردگرد کے 4 گھروں میں IRS کرواتے ہیں۔ اگر ان 4 گھروں میں سے کسی اور گھر میں لاروا مل جاتا ہے تو اس گھر کے اردگرد بھی چار گھروں میں سپرے کروایا جاتا ہے۔

جہاں ضرورت ہووہاں سپرے کرواتے ہیں اور جہاں ضرورت نہ ہو وہاں نہیں کرواتے۔ جہاں ایڈلٹ لاروا ملے وہاں ماہرین کی نگرانی میں فوگنگ کروائی جاتی ہے کیونکہ یہ صحت کے لیے نقصاندہ ہے۔ ڈینگی کا ہر مریض رجسٹرڈ کیا جارہا ہے، لاہور میں ڈینگی کے اب تک صرف 90 مریض سامنے آئے ہیں اور کوئی موت نہیں ہوئی۔

ڈیڑھ کروڑ کی آبادی میں یہ تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم دن رات محنت کے ساتھ کام کر رہے ہیں لہٰذا ہمارے کام کی تعریف کی جائے۔ جس مریض پر بھی شبہ ہو اس کی رجسٹریشن کرتے ہیں، بعدازاں ٹیسٹ کیا جاتا ہے، ابھی تک ڈینگی کے شبہ والے 5000 مریض رپورٹ ہوئے جن میں سے 90 کو ڈینگی تھا جبکہ باقی لوگوں کو کوئی اور مرض تھا۔ یہ ڈیٹا صرف سرکاری ہی نہیں بلکہ نجی ہسپتال بھی مرتب کر رہے ہیں۔

وہاں آنے والے مریض بھی ڈیش بورڈ پر ہمارے سامنے آرہے ہیں۔ 24 گھنٹے میں مریض کا مکمل ریکارڈ دیکھا جاتا ہے کہ وہ کہاں کام کرتا ہے،ا س کا گھر کہاں ہے۔ ہم اس کے گھر اور کام کی جگہ جاتے ہیں اور وہاں ڈینگی کی سرویلنس کرتے ہیں۔ اگر مریض کو ڈینگی کنفرم ہوجائے تو ہم ا س کے گھر کے 49 گھروں میں IRS کرواتے ہیں تاکہ ڈینگی کا تدارک کیا جاسکے۔ وزیرصحت کی ہدایت کے مطابق لاہور کے سرکاری و نجی ہسپتالوں میں 670 بیڈزڈینگی کے مریضوں کیلئے مختص کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹا جاسکے۔

پروفیسر ڈاکٹر شاہد ملک
( سیکرٹری جنرل پی ایم اے)

ڈینگی صرف پاکستان نہیں بلکہ 107 ممالک کی بیماری ہے اور اس کی تین پوزیشنز ہیں۔پہلی یہ کہ self limited بیماری ہے۔ 10 دن کا بخار ہے، جس طرح نزلہ ہوتا ہے اسی قسم کی بیماری ہے۔ اس مرض سے موت کی شرح انتہائی کم ہے۔ ایک ہزار میں سے صرف ایک مریض کی موت واقع ہوسکتی ہے وہ بھی اس لیے کہ اگر اس کا علاج نہ ہو یا غلط علاج ہو۔

یہ مچھر سے لاحق ہونے والی بیماری ہے اور اس قسم کی 93 بیماریاں کتابوں میں موجود ہیں۔ افسوس ہے کہ صرف ہمارا ملک ایسا ہے جہاں محض ڈینگی کا ڈیش بورڈ بنایا ہے۔ 2010ء میں بھی اس پر سیاست کی گئی جو غلط تھی۔ڈینگی صرف صحت نہیں بلکہ سماجی ایشو ہے جس کا تعلق ماحول اور رویوں سے بھی ہے۔ ڈینگی بیماری کے حوالے سے لوگوں کو یہ سمجھانا ہے کہ اس بیماری نے خود بخود ختم ہونا ہے لہٰذا خوف ہراس نہ پھیلایا جائے۔

ڈینگی کے ایسے مریض جن کا علاج نہ ہو تو ان میں سے صرف 2 فیصد ڈینگی ہیمرجک فیور میں جائیں گے۔ پلیٹ لیٹ کاؤنٹ گرے گا اور اوپر آئے گا۔ ڈینگی کے حوالے سے 107 ممالک میں خوف نہیں ہے لہٰذا یہاں بھی لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی ضرورت نہیں مگر بدقسمتی سے یہاں اس بیماری پر سیاست کی جاتی ہے۔

اس وقت 8 ہزار کے قریب ڈینگی کے مریض رپورٹ ہوئے ہیں ، یہ اصل میں ڈینگی کے مریض نہیں ہیں بلکہ وہ ہیں جن پر ڈینگی ہونے کا شبہ ہوا۔ان میں سے بیشتر مریض صحت یاب ہوکر گھر جاچکے ہیں۔ ہسپتالوں میں ڈینگی وارڈز بن رہی ہیں اور حکومت اپنی کپیسٹی کے مطابق کام کر رہی ہے۔ اہم یہ ہے کہ ہمیں بیماریوں پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔

ہمیں عوام کو آگاہی دینی چاہیے کہ اس سے بچنا کیسے ہے۔ یہ مچھر طلوع اور غروب کا مچھر ہے۔ اس مچھر نے صبح صبح کاٹنا ہے یا پھر رات کے وقت کاٹنا ہے۔ صاف پانی کے اندر اس کی افزائش ہوتی ہے۔ سب سے پہلے لاروا بنتا ہے۔ یہ بھی ذہن میں ہونا چاہیے کہ ہر لاروا خطرناک نہیں ہے۔ اگر اس لاروے میں وائرس ہی نہیں ہے تو اس سے خطرہ نہیں ہے۔ ہمارے ہاں ٹیمیں جاتی ہیں، پانی دیکھتی ہیں اور لاروا کا کہہ کر ایف آئی آر کروا دی جاتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ ان کے پاس کون سی خوردبین ہے جس سے معلوم ہوا کہ یہ لاروا ہے۔ میرے نزدیک یہ خراب ڈینگی ریگولیشنز ہیں جن کا فائدہ نہیں ہے۔ اگر آبادی کا 10 فیصد حصہ کسی بیماری کا شکار ہو تو اسے وبائی مرض کہا جاسکتا ہے مگر یہاں تو صرف 8 ہزار مریض ہیں مگر خوف پھیلایا جارہا ہے جو افسوسناک ہے۔ اگر درست وقت پر سپرے کردیا جاتا اور لاروا تلف ہوجاتا تو پھر بیماری نہ پھیلتی۔ اب اگر بخار ہوگیا ہے تو اس کے تین فیز ہیں۔ماضی میں جو اموات ہوئیں وہ CLD کی بیماری تھی۔

ڈینگی سے موت صرف اس شخص کی ہوگی جسے اور بیماریاں بھی ہیں۔ 0.02 فیصد اس کی شرح اموات ہے۔ لوگوں کو اس بیماری کے حوالے سے آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے اور احتیاطی تدابیر اپنانے سے اس بیماری کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر ماحول کو صاف کرلیا اور صاف پانی کو محفوظ بنا لیا تو بیماری کی شرح خودبخود کم ہوجائے گی۔

آئمہ محمود
(نمائندہ سول سوسائٹی )

حکومت 10 ہزار ڈینگی کے مریض خود تسلیم کرچکی ہے جبکہ حقیقت میں تعداد اس سے زیادہ ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس مرتبہ یہ تعداد اس لیے زیادہ لگ رہی ہے کیونکہ ماضی میں ڈینگی کے حوالے سے بہت زیادہ کام ہوچکا تھا اور ادارے اپنا کام کر رہے تھے۔ امید کی جارہی تھی کہ اب بھی ادارے موثر کام کریں مگر افسوس ہے کہ حکومتی اقدامات نظر نہیں آئے۔ ڈینگی کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔

لہٰذا ہم یہ خیال کر رہے تھے کہ ہمارے ادارے اس مرض سے نمٹنے کے حوالے سے قابل اور تجربہ کار ہیں، اس لیے ڈینگی اب پہلے جیسی صورتحال اختیار نہیں کرے گا مگر سب کچھ اس کے برعکس ہوا۔ ڈینگی صرف مخصوص موسم میں آتا ہے اور پہلے سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ مشکل صورتحال پیدا ہوسکتی ہے لہٰذا اداروں کی کارکردگی نظر آنی چاہیے تھی جو نہیں آئی۔ گزشتہ دور حکومت میں ڈینگی کنٹرول ٹیم لوگوں کے گھروں میں جاتی تھی اور واٹر کولر، گملوں و دیگر جگہ پانی چیک کرتی تھی مگر اس مرتبہ کوئی ٹیم نظر نہیںآئی۔ اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور محکمہ صحت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی مہم نہیں چلائی گئی۔

70 فیصد مریضوں کا تعلق پنجاب سے ہے جن میں لاہور کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ لاہور ملک کا دل ہے، یہاںہر قسم کی سہولیات موجود ہیں، بڑے ہسپتال ہیں لہٰذایہاں حکومتی مشینری کو موثر ہونا چاہیے تھا ، سوال یہ ہے کہ کوتاہی کیوں برتی گئی؟ افسوس ہے کہ مسئلہ درپیش آنے پر ہم موثر کام کرنے کے بجائے نمائشی اقدامات شروع کردیتے ہیں جن کا فائدہ نہیں ہوتا۔بعض افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔ جو غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اس کے خلاف کارروائی ضرورہونی چاہیے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عوام کو اداروں کی غیر ذمہ داری کے خلاف ایف آئی آر کروانے کا اختیار حاصل ہے؟

میرے نزدیک اگر محکمانہ غفلت پر عوام کو ایف آئی آر درج کروانے کا اختیار دے دیا جائے تو اداروں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔جب ہر تھانے میں اس بات پر ایف آئی آر ہوگی کہ ہمارے ہاں ڈینگی سروے ٹیمیں نہیںآئیں، سپرے نہیں ہوا ، سکولوں میں ٹیمیں نہیں گئیں تو پھر ادارے خود بخود کام کریں گے۔ بدقسمتی سے ڈینگی سے ہلاکتوں کے بعد چند واکس کی گئیں جن کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا اور نہ ہی ان کو آگاہی ملی۔چاہیے تو یہ تھا سکولوں میں جاتے اور بچوں کو آگاہی دیتے۔ اس وقت ہسپتالوں کی حالت یہ ہے کہ ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں، اس صورتحال میں ڈینگی مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور وہ ریکارڈ پر ہی نہیں آرہے۔

موجودہ حکومت نے صحت کے قوانین میں جو تبدیلی کی ہے اس پر ڈاکٹر ناخوش ہیں۔ عام مریض کو مفت علاج اور ادویات نہیں مل رہیں، ٹیسٹ مفت نہیں ہے۔ اس ساری صورتحال میں سوال یہ ہے کہ کیا نجی لیبارٹریوں کو کہا گیا ہے کہ وہ ڈینگی کا تشخیصی ٹیسٹ سستے داموں کریں۔ کیا انہیں ڈینگی مریضوں کو علاج میں سبسڈی دینے کی کوئی ہدایت کی گئی ہے؟ ڈاکٹرز ہڑتال پر ہیں تو ان کو متبادل کیا سہولیات فراہم کی جارہی ہیں؟ میرے نزدیک ہسپتالوں میں صرف خصوصی وارڈ قائم کردنیا اور چند مریضوں کو وہاں سہولیات دینا کافی نہیں بلکہ ہر شہر ، قصبہ، گلی میں لوگوں کو آگاہی دی جائے اور موثر سٹرٹیجی بنا کر ڈینگی کے بارے میں آگاہی مہم وسیع پیمانے پر چلائی جائے۔

ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی کارکردگی دیکھی جائے تو پھل و سبزی منڈیوں میں کیچڑ اور پانی کھڑا ہے اس کے علاوہ اور بہت سارے معاملات خراب ہیں۔ دیکھنا تو یہ ہے کہ کن کن اداروں نے ڈینگی کے حوالے سے کام کرنا ہے اور کہاں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

اس وقت اہم سوال یہ ہے کہ گزشتہ ایک برس میں ڈینگی کے حوالے سے اداروں کی کیا کپیسٹی بلڈنگ کی گئی؟آج یہ کہا جا رہا ہے کہ ملازمین دن رات ڈیوٹی کریں کیونکہ ڈینگی کے حوالے سے ہنگامی صورتحال ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ انہیں خدمات کے بدلے میں کیا سہولیات دی جارہی ہیں ؟ حکومت اوور ٹائم لگانے والوں کیلئے کیا اقدامات کر رہی ہے؟

بدقسمتی سے صحت کا گزشتہ برس کا بجٹ مکمل طور پر استعمال نہیں کیا جاسکا۔ حکومت نے ادویات کی مفت فراہمی بند کر دی ہے، ہسپتالوں کا بنیادی انفراسٹرکچر تبدیل کیا جارہا ہے لہٰذا اس صورتحال میں ڈینگی کا جو چیلنج سامنے آیا ہے، دیکھنا ہے کہ حکومت کا پلان آف ایکشن کیا ہے۔ عوام کو چند واکس اور بینرز نہیں چاہئیں بلکہ انہیں ڈینگی سے نجات اوربنیادی سہولیات چائیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اس وقت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ تمام میڈیا ہاؤسز کو چاہیے کہ وہ ڈینگی کے حوالے سے خوف و ہراس نہ پھیلائیںبلکہ خبر کے ساتھ ساتھ مریضوں کو ڈینگی سے احتیاط کیلئے آگاہی دی جائے۔ حکومت اور اپوزیشن کو بلیم گیم اور ایک دوسرے سے موازنہ کرنے کے بجائے مل کر عوام کو ریلیف دینے پر توجہ دینی چاہیے۔ ڈینگی کے خاتمے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کو یک زبان اور یک جان ہو کر محنت کرنا ہوگی، اس کے ساتھ ساتھ اداروں کی کپیسٹی بلڈنگ کی جائے۔ بدقسمتی ہم علاج پر توجہ دے رہے ہیں مگر علاج سے پہلے احتیاط پر توجہ نہیں ہے لہٰذا ہمیںا پنے رویے بدلنا ہوں گے اور یہ سمجھنا ہوگا کہ ’احتیاط، علاج سے بہتر ہے‘۔

The post ڈینگی جان لیوا نہیں۔۔۔اجتماعی کوششوں سے خاتمہ ممکن ہے!! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2op49Du

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...