Urdu news

Thursday, 30 April 2020

دہشت گردی کیخلاف جنگ، پختونخوا کو آئندہ سال 59 ارب ملیں گے

پشاور: خیبرپختونخوا کو آئندہ مالی سال 2020-21 ء کیلیے دہشتگردی کیخلاف جنگ کے نام پر خطیر رقم ملے گی جو 59 ارب سے زائد رہنے کا امکان ہے۔

نیا قومی مالیاتی ایوارڈ جاری نہ ہونے کے باعث خیبرپختونخوا کو آئندہ مالی سال 2020-21 ء کیلیے بھی ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت دہشتگردی کیخلاف جنگ کے نام پر خطیر رقم ملے گی جو 59 ارب سے زائد رہنے کا امکان ہے۔

خیبرپختونخوا کو 2010ء میں جاری ہونے والے ساتویں این ایف سی ایوارڈمیں اس وقت کی پیپلزپارٹی کی حکومت نے مجموعی قومی وسائل کا ایک فیصد حصہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہونے والے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے دینے کا سلسلہ شروع کیاتھا اور یہ فیصلہ ہواتھا کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کی مدت ختم ہونے تک یہ سلسلہ جاری رہے گا تاہم ساتویں این ایف سی ایوارڈ کی آئینی مدت 2015ء میں مکمل ہونے کے باوجود نہ تو آٹھواں قومی مالیاتی کمیشن اور نہ ہی نواں کمیشن اپنا کام کرسکا۔

 

The post دہشت گردی کیخلاف جنگ، پختونخوا کو آئندہ سال 59 ارب ملیں گے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2VQvhJZ

بخت ٹاور کی اسٹوری آج سامنے آئی،98ء میں بینظیر نے یہ زمین خریدی

کراچی: سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ بخت ٹاور کی اسٹوری آج سامنے آئی ہے، 1998 میں بینظیر بھٹو نے یہ زمین رخسانہ اور شبنم بھٹو سے خریدی۔

قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ بخت ٹاور کی اسٹوری آج سامنے آئی ہے، 1998 میں بینظیر بھٹو نے یہ زمین رخسانہ اور شبنم بھٹو سے خریدی، بینظیر بھٹو نے خط لکھا کہ یہ زمین میرے نام کرائی جائے، ساتھ ہی انور مجید نے خط لکھا کہ یہ زمین میرے نام کی جائے، محترمہ نے کہا تھا کہ میری سیاست سے آصف زرداری کا کوئی تعلق نہیں، بعد میں پرچی آئی اور زرداری بھٹو بن گئے۔

انہوں نے کہا کہ ریجنٹ سروس کمپنی ایک بے نامی کمپنی ہے، اس بے نامی کمپنی میں حسین لوائی کو 950 ملین میں بیچا گیا، لوائی صاحب نے اسی بلڈنگ کے اندر تین منزلیں بھی خریدلیں، آج شبنم ناہید بھٹو کون ہیں اور کہاں ہیں، پی پی بتائے آج وہ لوگ کہاں گئے، ہم نے بات سنی کہ وہ روڈ حادثے میں مرگئیں، اس کی کوئی تفتیش نہیں ہوئی،مرتضیٰ بھٹو اور ناہید شبنم کا مرنا عجب کہانی ہے،دال میں کچھ کالا نظر آرہا ہے۔

انصاف ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فردوس شمیم نقوی نے مزید کہا کہ کورونا وائرس اتنی تیزی سے نہیں پھیلا جتنی تیزی سے اومنی کو قرضے دیے گئے، سمٹ بینک کو بھی سندھ بینک پر چپکایا جارہا تھا، پاکستان کے کسی گروپ کو اتنا قرضہ آج تک نہیں دیا گیا، 2008 میں اومنی گروپ کے پاس 6 کمپنیاں تھی،2018 تک 83 کمپنیاں ہوگئی۔

 

The post بخت ٹاور کی اسٹوری آج سامنے آئی،98ء میں بینظیر نے یہ زمین خریدی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3bRpx8s

گردن پر چوٹ کھانے والے بنگلادیش کے ووشو پلیئرکا انتقال

ڈھاکا: گردن پر چوٹ کھانے والے بنگلادیش کے پلیئرز آخر کار زندگی کی بازی ہار گئے۔

گردن پر چوٹ کھانے والے بنگلادیش کے ووشو پلیئر محمد عبیدالدین آخر کار زندگی کی بازی ہار گئے، 22 سالہ عبید 16 دسمبر 2018 کو نیشنل اسپورٹس کونسل جمنازیم میں ٹریننگ کے دوران گردن کی انجری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے مفلوج ہوگئے تھے، 17 ماہ تک وہ اس تکلیف سے دوچار رہے، وہ چوتھی سرجری کیلیے اسپتال میں داخل تھے جہاں موت واقع ہوگئی۔

 

The post گردن پر چوٹ کھانے والے بنگلادیش کے ووشو پلیئرکا انتقال appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3f7JVnA

وزارت مذہبی امورکی اقلیتی کمیشن میں قادیانیوں کو شامل نہ کرنے کی تجویز

وزارت مذہبی امور نے اقلیتی کمیشن قائم کرنے کے لیے کابینہ ڈویژن کو سمری بھجوادی جس میں قادیانیوں کو کمیشن میں شامل نہ کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

وزارت مذہبی امور کی جانب سے کابینہ ڈویژن کو بھجوائی گئی سمری کے مطابق 17 رکنی کمیشن میں 9 اقلیتی ارکان شامل ہوں گے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ قبلہ ایاز بھی کمیٹی کے ممبر ہوں گے۔ کمیشن میں بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا عبدالخبیر آزاد اور مفتی گلزار احمد نعیمی بھی شامل ہوں گے۔

سمری میں ہندو برادری کے تین ارکان جے پال چھابریا وشو راجہ قوی اور چلا رام کلوانی کا نام تجویز کیا گیا ہے، جب کہ چلا رام کلوانی کا نام کمیشن کے چیئرمین کے طور پر بھی تجویز کیا گیا ہے۔ سمری کے مطابق  کمیشن میں تین عیسائی ممبران سارہ صفدر، آرچ بشپ سباستان فرناس اور البرٹ ڈیوڈ کے نام شامل ہیں۔ سکھ برادری سے ممپال سنگھ اور سروپ سنگھ اور کالاش برادری سے داؤد شاہ کے نام شامل ہیں۔

اقلیتی کمیشن میں وزارت داخلہ وزارت قانون وزارت انسانی حقوق اور وزارت تعلیم کے گریڈ 20 کے افسران ممبران ہوں گے اس کے علاوہ وزارت مذہبی امور کے سیکریٹری بلحاظ عہدہ بھی کمیشن کے ممبر ہوں گے۔

The post وزارت مذہبی امورکی اقلیتی کمیشن میں قادیانیوں کو شامل نہ کرنے کی تجویز appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3f6OVsP

منہگائی اور ذخیرہ اندوزی کی لعنت

 حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: ’’ نفع کمانے والے کو رزق دیا جاتا ہے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والے پر لعنت ہوتی ہے۔‘‘

(رواہ ابن ماجہ و الدارمی)

ہمارے معاشرے میں ہر سطح پر یہ عجیب و غریب وبا پھیل چکی ہے کہ جہاں رمضان المبارک آیا وہاں عام ضرورت کی اشیاء کی قلت پیدا کردی جاتی ہے اور پھر منہ مانگے دام وصول کیے جاتے ہیں۔ اس میں بنیادی طریقہ ذخیرہ اندوزی ہے۔ ہر وقت اور ہر قسم کی ذخیرہ اندوزی اسلام میں ممنوع نہیں بل کہ اس کے لیے خاص لفظ ’’احتکار‘‘ کا استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی ’’ اشیائے ضرورت کا اس لیے ذخیرہ کرلینا تاکہ مصنوعی قلّت پیدا کرکے منہ مانگے دام وصول کیے جائیں جسے عرف عام میں منہگائی کہتے ہیں۔‘‘ بہ الفاظ دیگر منہگائی کے خیال سے ذخیرہ اندوزی احتکار ہے۔

صاحب ہدایہ کتاب البیوع میں لکھتے ہیں: ’’احتکار (ذخیرہ اندوزی ) سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص غلہ یا کوئی اور جنس بڑی مقدار میں اس لیے اکٹھی کرلے یا دوسرے سے خرید کر اس لیے جمع کرلے کہ بازار میں اس کی کمی واقع ہو اور منہگائی ہوجائے اور تمام خریدار، ضرورت مند اسی کی طرف رجوع کریں اور خریدار مجبور ہوکر ذخیرہ اندوزی کرنے والے کو اس کی مقرر کردہ قیمت ادا کرے۔ ہاں البتہ اگر اس چیز کی بازار میں کمی نہیں اور نہ اس کے جمع کرنے کی وجہ سے مصنوعی قلت پیدا ہو، اور اس کے جمع کرنے کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ نہ ہوتا ہوتو یہ ذخیرہ اندوزی نہیں۔‘‘

رسول اﷲ ﷺ نے واضح طور پر فرمایا: ’’ ذخیر اندوزی کرنے والا ملعون ہے۔‘‘ لعنت، رحمت کی ضد ہے جب معاشرے پر اﷲ کی رحمت کے بہ جائے لعنت نازل ہونے لگے تو پھر رحمت کے آثار غائب ہونے لگتے ہیں اور لعنت کے آثار نظر آتے ہیں۔ رحمت کے آثار یہ ہیں کہ اس رزق میں برکت ہو‘ ایسے رزق کمانے والے کو حقیقی سکون نصیب ہو اور پھر اس حلال روزی کمانے والے کے دل میں نیک کاموں کا، اﷲ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کا شوق پیدا ہو، لیکن جب معاشرے پر لعنت پڑنے لگے تو اس کے اثرات اس انداز میں نظر آتے ہیں کہ ہزاروں روپے کمائے جارہے ہیں لیکن زبان پر یہ الفاظ سننے میں آتے ہیں: ’’ اتنا کماتے ہیں پتا نہیں کہاں جاتا ہے۔‘‘ اس کی وجہ برکت کا ہاتھ اٹھ جانا ہے‘ پھر حرام مال کمانے کے بعد سکون ختم ہوا‘ عبادات کا شوق ہی نہ رہا‘ نیک کاموں کی طرف دل مائل ہی نہیں ہوتا یہ تمام لعنت کے آثار ہیں۔ حضرت معمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: ’’جو ذخیرہ اندوزی کرتا ہے وہ گناہ گار ہے۔‘‘

حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص کھانے پینے کی چیزیں ذخیرہ اندوزی کرکے مسلمانوں پر منہگائی کرتا ہے، اﷲ تعالیٰ اسے کوڑھ کے مرض اور محتاجی میں مبتلا کردیتا ہے۔‘‘ (رواہ ابن ماجہ)

ابن قدامہ المغنی کے باب الاحتکار میں روایت کرتے ہیں: ’’حضرت عمرؓ نے ایک دکان دار کو ذخیرہ اندوزی سے منع فرمایا اور ساتھ رسول اﷲ ﷺ کا اس کام سے روکنا بھی واضح کیا لیکن وہ باز نہ آیا اور کوڑھی بن گیا۔‘‘

علامہ شوکانی نیل الاوطار جلد دوم صفحہ 181میں لکھتے ہیں: ’’حضرت علی کرم اﷲ وجہہ نے ایک ذخیرہ کرنے والے کا غلہ جلادیا۔‘‘

صاحب ہدایہ کتاب الکراہیہ میں لکھتے ہیں: ’’جب ذخیرہ اندوز کا مقدمہ قاضی کے سامنے پیش کیا جائے تو وہ ذخیرہ اندوز کو حکم دے کہ وہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے کھانے پینے کا خرچہ علیحدہ کرکے جو کچھ بچے اسے بیچ دے اور قاضی اسے ذخیرہ اندوزی سے روک دے، اگر وہ تاجر دوبارہ اسی جرم میں ملوث ہوکر عدالت میں آئے تو قاضی اسے قید کردے تاکہ عام لوگوں کو نقصان پہنچنے کا ذریعہ ختم ہوجائے۔‘‘

حضرت عبداﷲ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص چالیس دن ذخیرہ اندوزی کرے اور ذخیرہ اندوزی کا مقصد منہگائی ہو تو وہ اﷲ تعالیٰ سے بَری ہے اور اﷲ تعالیٰ اس سے بَری ہے۔‘‘ (رواہ رزین)

حضرت ابواُمامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص چالیس دن تک غلہ منہگائی کے خیال سے ذخیرہ کرے پھر (غلطی کا احساس ہونے پر) وہ تمام غلہ صدقہ کردے پھر بھی اس کی غلطی کا کفارہ ادا نہیں ہوتا۔‘‘ (رواہ رزین)

حضرت معاذؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: ’’وہ ذخیرہ اندوز بندہ بُرا ہے کہ جب اﷲ تعالیٰ بھاؤ سستا کردے تو غمگین ہوجاتا ہے اور جب منہگا کردے تو خوش ہوجاتا ہے۔‘‘ (رواہ البیہقی)

ان تمام ارشادات نبویؐ اور تعلیمات اسلامی کے پیش نظر یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ ذخیرہ اندوزی کتنا گھناؤنا فعل ہے۔ اور پھر اتنا گھٹیا اور بُرا کام اور وہ بھی رمضان المبارک کے بابرکت دنوں میں۔ ان مبارک لمحوں کا تقاضا تو یہ ہے کہ انسان اس کے اندر ثواب کمائے، روزہ داروں کے روزے کھلوائے، غریبوں کی مدد کرے، روزہ داروں کے لیے سہولت پیدا کرے اور اپنے گناہوں کو دھلوائے، اپنی مغفرت کا سامان کرے۔ آپ ﷺ نے جبرائیل کی اس بدعا پر آمین بھی فرمائی : ’’برباد ہو وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی۔‘‘

ذخیرہ اندوزی کرنے والے ایسے ملعون تاجر ہیں جو صرف اپنے مسلمان بھائیوں ہی کا نہیں بل کہ اﷲ تعالیٰ کے مقرب روزہ داروں کا خون چوستے ہیں اور ایسے تاجروں کو ارشادات نبویؐ یاد رہنے چاہییں۔ ان کے مالوں میں برکت نہ رہے گی، اﷲ تعالیٰ انہیں محتاجی اور کوڑھ میں مبتلا کردیں گے‘ یہ حرام مال کھائیں گے تو ارشاد نبویؐ کے مطابق ان کی دعائیں بھی قبول نہ ہوں گی۔

The post منہگائی اور ذخیرہ اندوزی کی لعنت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3d3keTp

ماہ رحمت و برکات

رمضان المبارک، اﷲ رب العالمین کی نازل کردہ بے شمار رحمتوں کا مہینہ ہے۔ رب العالمین نے قران پاک میں ارشاد فرمایا ہے: ’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن پاک نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے باعث ہدایت اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے۔‘‘

اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں۔ اسی ماہ مبارک کے لیے ہی اﷲ رب العالمین جنّت کو سنوارتے ہیں۔ یہی وہ مبارک مہینہ ہے کہ جس میں مکہ فتح ہوا۔ اور اﷲ تعالی نے شعبان سن 2 ہجری میں روزے فرض کیے۔ ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ’’جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے اور جس شخص نے رمضان کے تقاضوں کو پہچانا اور ان کو پورا کیا اور جو رمضان کے دوران ان تمام باتوں سے محفوظ رہا جس سے اس کو محفوظ رہنا چاہیے تھا، جس نے ہر قسم کے گناہ سے اپنے آپ کو بچائے رکھا تو ایسے روزے دار کے لیے اس کے روزے اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔‘‘

مسلمانوں کے لیے یہ مقدس مہینہ ہے باقی سب مہینوں کا سردار۔ رمضان المبارک کی ہر ایک ساعت اس قدر برکتوں اور سعادتوں کی حامل ہے کہ باقی گیارہ مہینے مل کر بھی اس کی برابری نہیں کر سکتے۔

حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’میری امت کو ماہ رمضان میں پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں ملیں۔

٭ پہلی یہ کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو اﷲ تعالی ان کی طرف رحمت کی نظر فرماتا ہے اور جس کی طرف اﷲ نظر رحمت فرمائے اسے کبھی بھی عذاب نہ دے گا۔

٭ دوسری یہ کہ شام کے وقت ان کے منہ کی بُو (جو بھوک کی وجہ سے ہوتی ہے) اﷲ تعالی کے نزدیک مشک کی خوش بُو سے بھی بہتر ہے۔

٭ تیسرے یہ کہ فرشتے ہر رات اور دن ان کی مغفرت کی دعائیں کرتے ہیں۔

٭ چوتھی یہ کہ اﷲ تعالی جنّت کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ میرے بندوں کے لیے آراستہ ہوجا، عن قریب وہ دنیا کی مشقت سے میرے گھر اور کرم میں راحت پائیں گے۔

٭ پانچویں یہ کہ جب ماہ رمضان کی آخری رات آتی ہے تو اﷲ تعالی سب کی مغفرت فرما دیتا ہے۔

اسی مبارک مہینے میں لیلۃ القدر ہے۔ جس کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: ’’ لیلتہ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس میں فرشتے روح القدوس کی معیت میں بہ حکم الٰہی اترتے ہیں، یہ رات طلوع فجر تک سلامتی سے بھرپور ہوتی ہے۔‘‘ (القدر)

نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عظیم ہے: ’’ لیلۃ القدر  کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔‘‘

(صحیح بخاری)

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں: ’’رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم خود بھی جاگتے اور گھر والوں کو بھی جگایا کرتے تھے‘‘۔ (صحیح بخاری) رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو اس رات کی بھلائی سے محروم رہ گیا وہ ہر بھلائی سے محروم رہ گیا۔‘‘ (ابن ماجہ)

اﷲ رب العالمین ہم سب کو اس ماہ مبارک میں رحمتوں کی موسلادھار بارش میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

 

The post ماہ رحمت و برکات appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2yhicQL

کرو مہربانی تم اہل زمیں پر!

اﷲ تعالیٰ نے اس کائنات میں باہمی تعارف و پہچان کے لیے انسانوں کو جس طرح مختلف قبیلوں، قوموں اور خاندانوں میں پیدا کیا۔ اسی طرح بعض انتظامی و تکوینی حکمتوں اور آزمائشوں کے تحت، ان میں مال و دولت اور پیشہ و منصب کے اعتبار سے فرق رکھا، کسی کو مال دار بنایا تو کسی کو نادار، کسی کو حاکم تو کسی کو محکوم، لیکن ربّانی تعلیمات اور الوہی ہدایت سے بے خبر انسانوں نے اس تفاوت کو عزت و بڑائی کا معیار بنالیا۔

مادی وسائل کی فراوانی اور جاہ منصب کے نشے میں مست لوگوں نے، غریب و مفلس اور محکوم لوگوں کو نہ صرف ذلیل و حقیر جانا بل کہ ان بے چاروں کو ہر طرح کے مظالم اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ حضور اکرم ﷺ کی تشریف آوری سے قبل اس عالم میں جہاں اور بہت سی خرابیاں تھی وہاں ایک بہت بڑا فساد یہ تھا کہ دنیا میں ہر طرف غریب مفلس، مسکین اور بے کس لوگ نہ صرف معاشی و معاشرتی عزت سے محروم تھے بل کہ وہ ظلم کی چکّی میں پس رہے تھے اور ان کا پرسان حال نہ تھا۔

آپؐ کی سیرت طیبہ کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ آپؐ نے آسمانوں اور زمینوں کے خزانوں کی چابیاں رکھنے کے باوجود فقراء کی دل جوئی کے لیے ساری زندگی فقر و فاقہ میں گزاری، خندقیں کھودیں، بھوک کی شدت سے پیٹ پر پتھر باندھے، دو ماہ تک کاشانۂ مقدس میں آگ نہ جلی، قرض لیا اور ہر وہ کام کیا جس کا عام طور پر غرباء کو سامنا ہوتا ہے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا: ساری مخلوق اﷲ کا کنبہ ہے، اس لیے اﷲتعالیٰ کے نزدیک تمام مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب و پسندیدہ وہ ہے جو اس کے کنبے کے ساتھ نیکی کرے۔

حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’ بیواؤں اور محتاجوں کی خدمت و اعانت کرنے والا، اﷲ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے برابر ہے یا اس نیکو کار کے برابر ہے جو عمر بھر دن کے روزے اور ساری رات عبادت کرے۔‘‘ (بخاری)

حضور اکرمؐ نے حضرت عائشہؓ کو نصیحت فرمائی: ’’اے عائشہ! کسی بھی محتاج و ضرورت مند کو مایوس نہ لوٹانا خواہ کھجور کی گٹھلی ہی کیوں نہ دے سکو، مزید یہ کہ غریب اور محتاج لوگوں سے محبّت کیا کرو اور ان سے قُربت حاصل کیا کرو۔ بے شک (اس کے صلے میں) اﷲ تعالیٰ روزِ قیامت تمہیں اپنے قُرب سے نوازیں گے۔ (ترمذی)

مذکورہ بالا روایت متوجہ کررہی ہیں کہ رب کریم کی رضا کے طالبو! اس کے بندوں سے محبّت کرو۔ اس کی مخلوق کی مدد کرو، اس کے دُکھی اور پریشان حال لوگوں کے دکھوں کا مداوا کرو۔ یہی مقصود عبادت ہے اور یہی منشاء دین ہے۔

ایک ماں کو اپنی اولاد سے جتنی محبّت ہوتی ہے باری تعالیٰ کو اس سے کئی گناہ زیادہ اپنی مخلوق سے محبّت و شفقت ہوتی ہے۔ وہ ذات اسی سے زیادہ پیار کرے گی جو اس کے بندوں کے دُکھ سُکھ کو اپنا دُکھ سُکھ سمجھتے ہوئے ان کی دل جوئی اور غم خواری کرے گا۔ اس لیے تاج دار کائنات ﷺ نے انسانوں میں اُس شخص کو افضل و بہتر قرار دیا جو خالق کائنات کے بندوں کا زیادہ خیرخواہ اور نفع بخش ہوتا ہے۔ ارشاد نبویؐ ہے کہ بہترین انسان وہ ہے جو دوسرے انسانوں کو زیادہ نفع پہنچانے والا ہو۔

ایک مرتبہ مسجد نبوی میں سرکار دو عالمؐ تشریف لائے آپؐ نے غریب مہاجر صحابہ کو ایک طرف حلقہ باندھے دیکھا، آپؐ بھی انہی کے ساتھ آکر بیٹھ گئے۔ حضرت عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ روایت کرتے ہیں کہ میں بھی اپنی جگہ سے اُٹھ کر ان کے قریب کھڑا ہوگیا۔ سرکارؐ نے فرمایا: فقراء مہاجرین کو بشارت ہوکہ وہ دولت مندوں سے چالیس برس پہلے جنّت میں داخل ہوں گے، اس بات سے ان فقراء کے چہرے خوشی سے چمک اُٹھے۔ غریبوں کے والی، فقیروں کے غم گسار آقا ﷺ کی عادت کریمہ تھی کہ سرکا ر دو عالمؐ مساکین کی عیادت فرماتے، فقراء کے پاس مجلس کرتے اور کوئی غلام بھی دعوت دیتا تو اسے قبول فرماتے۔ (ترمذی)

تاج دار مدینہؐ نے ارشاد فرمایا: ’’ وہ شخص (کامل) مومن نہیں ہوسکتا جو خود تو پیٹ بھر کر کھا لے اور اُس کے پہلو میں اس کا پڑوسی بھوکا پڑا ہو۔‘‘ (بیہقی)

آج کے مشینی دور نے دنیا کو تو ’’گلوبل ویلیج ‘‘ بنادیا ہے لیکن پاس رہنے والوں سے غافل کردیا۔ ہمیں مشہور صوفی بزرگ حضرت بشر حافیؒ کے اس عمل سے بھی راہ نمائی لینا چاہیے جو شدید سردی میں گرم اور موٹے کپڑے دیوار سے لٹکا کر خود عام کپڑوں میں ٹھٹھرتے تھے، پوچھنے پر جواب دیتے کہ میں شہر یا گاؤں کے سارے محتاجوں اور ضرورت مندوں کو گرم کپڑے مہیا تو نہیں کرسکتا البتہ ان کی تکلیف کو محسوس کرنے کے لیے میں اپنے اوپر بھی ان جیسی کیفیت طاری کررہا ہوں۔

 

The post کرو مہربانی تم اہل زمیں پر! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2xoOp8p

انڈس اسپتال کے 6 ڈاکٹرز میں کورونا وائرس کی تصدیق

کراچی: انڈس اسپتال کے 6 ڈاکٹرز میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی جب کہ متاثرہ ڈاکٹرز کو آئسولیشن کیلیے چھٹیاں دے دی گئی ہیں۔

انڈس اسپتال کے شعبہ حادثات میں کام کرنے والے 6 ڈاکٹرز میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی، سربراہ انڈس اسپتال ڈاکٹر عبدالباری کا کہنا تھا کہ متاثرہ ڈاکٹرز کو قرنطین کیلیے چھٹیاں دے دی گئی ہیں جبکہ متاثرہ ڈاکٹرز کے ساتھ رابطے میں رہنے والے طبی عملے کے بھی ٹیسٹ کروائے جائیں گے۔

اسپتال کا شعبہ حادثات مکمل طور پر فعال ہے، دن میں 2 بار ایمرجنسی اور مختلف آئسولیشن وارڈ میں ڈس انفیکشن اسپرے کیا جاتا ہے، جب سے کورونا وائرس کے کیسز آرہے ہیں دو مرتبہ ایمرجنسی میں فیومیگیشن اسپرے معمول کی بات ہے، ایمرجنسی سمیت تمام شعبوں میں کام معمول کے مطابق جاری ہے۔

انڈس اسپتال میں وائرس سے بچاؤ کی ہر ممکن تدابیر اختیار کی جارہی ہیں، تمام تر حفاظتی تدابیر کے باوجود طبی عملے کے متاثر ہونے کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔

 

The post انڈس اسپتال کے 6 ڈاکٹرز میں کورونا وائرس کی تصدیق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2YnTauc

آن لائن کاروبار کی اجازت؛ 5 ہزار دکانداروں نے کوائف کمشنر کو ارسال کردیے

کراچی: سندھ حکومت کی جانب سے آن لائن کاروبارکی اجازت کے بعد کراچی کے 5000 ہزار دکانداروں نے اپنے کوائف کمشنر ہاؤس کو ارسال کردیے۔

سندھ حکومت کی جانب سے آن لائن کاروبارکی اجازت کے بعد کراچی کے 5000 ہزار دکانداروں نے اپنے کوائف کمشنر ہاؤس کو ارسال کر دیے ہیں جن میں الیکٹرانکس مارکیٹ کے دکانداروں کی تعداد نمایاں ہے تاہم موبائل فون کا کاروبار کرنے والوں کا کہناہے کہ موبائل چھینے جانے کے خدشہ کی وجہ سے گھروں پر ڈیلیوری نہیں دے رہے اور گاہکوں کو مارکیٹ میں ہی بلا کر ڈیلیوری دینا مجبوری ہے جس میں مشکلات کا سامنا ہے۔

یادرہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے آن لائن کاروبار کے لیے ہفتے میں3 روز مقرر تھے جن کے مطابق پیر تا جمعرات آن لائن کاروبار کیا جانا تھا پہلے ہفتے میں محدود تعداد میں تاجروں نے کوائف جمع کرائے، تاجروں کی سہولت کے لیے کمشنرکراچی نے ای میل کے ذریعے اجازت دینے اورکوائف جمع کرانے کی سہولت فراہم کی جس سے تاجروں کی مشکلات کم ہوئی ہیں۔

آل سٹی تاجر اتحادکے صدر شرجیل گوپلانی کے مطابق اب تک 5ہزار دکانداروں نے اجازت نامہ حاصل کیے ہیں جن میں سے زیادہ تر الیکٹرانک ڈیلرزاوردکاندارشامل ہیں، آل کراچی ماربل ایسوسی ایشن کے سینئر صدر محمد شعیب اسحاق نے بتایاکہ پاک کالونی اور منگھوپیر روڈ پر ماربل کی600 دکانیں اور شوروم ہیں جو ڈیڑھ ماہ سے بند ہیں حکومت نے تعمیراتی صنعت کو سرگرمیوں کو اجازت دی ہے اور ماربل تعمیراتی میٹریل کا اہم حصہ ہے اس لیے اب سندھ حکومت کی آن لائن کاروبار کی سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایسوسی ایشن نے ماربل کی آن لائن ٹریڈ کا فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اب تک 100دکانوں میں ایس او پی کے مطابق اقدامات کرکے اجازت ناموں کے لیے کوائف کمشنر ہاؤس کو بذریعہ ای میل ارسال کردی گئی ہیں جن کا جواب آنا شروع ہوگیا ہے اور پیر سے 100کے قریب دکانیں آن لائن کاروبار شروع کردیں گی جن میں بتدریج اضافہ ہوگا، ایس او پی پر عمل درآمد کی نگرانی خود ماربل ایسوسی ایشن کرے گی تاکہ کرون اکی وباسے دکانداروں اور گاہکوں کو محفوظ رکھا جاسکے۔

موبائل مارکیٹ کے چھوٹے دکانداروں کا کہنا تھا کہ دکانداروں اور گاہکوں کی اکثریت آن لائن کاروبار سے واقفیت نہیں رکھتی بالخصوص چھوٹے دکاندار ان جانے گاہکوں پر بھروسہ کرکے موبائل فون ان کے مطلوبہ مقام پر پہنچانے میں عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

 

The post آن لائن کاروبار کی اجازت؛ 5 ہزار دکانداروں نے کوائف کمشنر کو ارسال کردیے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2YmmLUM

سی این جی کی قیمت میں بھی 12.50 روپے فی لیٹر کمی

لاہور: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد سی این جی کی قیمت میں بھی ساڑھے 12روپے فی لیٹر کمی کر دی گئی۔

غیاث پراچہ صدر آل پاکستان سی این جی ایسوسیشن کے مطابق پنجاب اور اسلام آباد میں سی این جی کی قیمت میں بڑی کمی کی گئی ہے، سی این جی کی قیمت میں 12.50 فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے، نئی قیمت کا اطلاق یکم مئی سے ہو گا۔

The post سی این جی کی قیمت میں بھی 12.50 روپے فی لیٹر کمی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/35lS57q

دہشت گردی کیخلاف جنگ، پختونخوا کو آئندہ سال 59 ارب ملیں گے

پشاور: خیبرپختونخوا کو آئندہ مالی سال 2020-21 ء کیلیے دہشتگردی کیخلاف جنگ کے نام پر خطیر رقم ملے گی جو 59 ارب سے زائد رہنے کا امکان ہے۔

نیا قومی مالیاتی ایوارڈ جاری نہ ہونے کے باعث خیبرپختونخوا کو آئندہ مالی سال 2020-21 ء کیلیے بھی ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت دہشتگردی کیخلاف جنگ کے نام پر خطیر رقم ملے گی جو 59 ارب سے زائد رہنے کا امکان ہے۔

خیبرپختونخوا کو 2010ء میں جاری ہونے والے ساتویں این ایف سی ایوارڈمیں اس وقت کی پیپلزپارٹی کی حکومت نے مجموعی قومی وسائل کا ایک فیصد حصہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہونے والے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے دینے کا سلسلہ شروع کیاتھا اور یہ فیصلہ ہواتھا کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کی مدت ختم ہونے تک یہ سلسلہ جاری رہے گا تاہم ساتویں این ایف سی ایوارڈ کی آئینی مدت 2015ء میں مکمل ہونے کے باوجود نہ تو آٹھواں قومی مالیاتی کمیشن اور نہ ہی نواں کمیشن اپنا کام کرسکا۔

 

The post دہشت گردی کیخلاف جنگ، پختونخوا کو آئندہ سال 59 ارب ملیں گے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2VQvhJZ

بخت ٹاور کی اسٹوری آج سامنے آئی،98ء میں بینظیر نے یہ زمین خریدی

کراچی: سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ بخت ٹاور کی اسٹوری آج سامنے آئی ہے، 1998 میں بینظیر بھٹو نے یہ زمین رخسانہ اور شبنم بھٹو سے خریدی۔

قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ بخت ٹاور کی اسٹوری آج سامنے آئی ہے، 1998 میں بینظیر بھٹو نے یہ زمین رخسانہ اور شبنم بھٹو سے خریدی، بینظیر بھٹو نے خط لکھا کہ یہ زمین میرے نام کرائی جائے، ساتھ ہی انور مجید نے خط لکھا کہ یہ زمین میرے نام کی جائے، محترمہ نے کہا تھا کہ میری سیاست سے آصف زرداری کا کوئی تعلق نہیں، بعد میں پرچی آئی اور زرداری بھٹو بن گئے۔

انہوں نے کہا کہ ریجنٹ سروس کمپنی ایک بے نامی کمپنی ہے، اس بے نامی کمپنی میں حسین لوائی کو 950 ملین میں بیچا گیا، لوائی صاحب نے اسی بلڈنگ کے اندر تین منزلیں بھی خریدلیں، آج شبنم ناہید بھٹو کون ہیں اور کہاں ہیں، پی پی بتائے آج وہ لوگ کہاں گئے، ہم نے بات سنی کہ وہ روڈ حادثے میں مرگئیں، اس کی کوئی تفتیش نہیں ہوئی،مرتضیٰ بھٹو اور ناہید شبنم کا مرنا عجب کہانی ہے،دال میں کچھ کالا نظر آرہا ہے۔

انصاف ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فردوس شمیم نقوی نے مزید کہا کہ کورونا وائرس اتنی تیزی سے نہیں پھیلا جتنی تیزی سے اومنی کو قرضے دیے گئے، سمٹ بینک کو بھی سندھ بینک پر چپکایا جارہا تھا، پاکستان کے کسی گروپ کو اتنا قرضہ آج تک نہیں دیا گیا، 2008 میں اومنی گروپ کے پاس 6 کمپنیاں تھی،2018 تک 83 کمپنیاں ہوگئی۔

 

The post بخت ٹاور کی اسٹوری آج سامنے آئی،98ء میں بینظیر نے یہ زمین خریدی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3bRpx8s

نسٹ نے ٹیسٹنگ کٹس، کامسیٹس نے وینٹی لیٹر بنالیا

اسلام آباد: وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے نسٹ نے ٹیسٹنگ کٹس جبکہ کامسیٹس نے اپنا وینٹی لیٹر بنالیا تاہم سستے اور معیاری وینٹی لیٹرز جلددستیاب ہوں گے۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے جمعرات کو کامسٹیک ہیڈکوارٹرز میں  طبی آلات و مصنوعات کی نمائش کے موقع پر خطاب میں کہاپاکستان نے کورونا کے کیسز سامنے آتے ہی طبی  سامان کی تیاری کا منصوبہ بنایا اور قلیل وقت میں بہترین مصنوعات تیار کی ہیں جن سے نہ صرف اپنی ضرورت پوری بلکہ برآمد بھی کی جاسکتی ہیں،جو این۔ 95 ماسک 1100 کا منگواتے تھے وہ  90 روپے میں تیار کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا 26 فروری کو پاکستان میں کورونا کے دو کیس سامنے آئے اس وقت ہم طبی آلات اور سامان نہیں بنارہے تھے،بھاری مالیت کے طبی آلات و مصنوعات بیرون ملک سے درآمد کی جاتی تھیں۔ پوری دنیا میں وبا پھیلنے کے باعث ان کی قلت ہوگئی، امریکا، فرانس جیسے ملکوں میں ڈاکٹرز کیلئے طبی آلات و مصنوعات کی قلت پر احتجاج ہورہا تھا ،ہم نے اس صورت حال میں کوشش کی کہ خود یہ بنائیں۔

 

The post نسٹ نے ٹیسٹنگ کٹس، کامسیٹس نے وینٹی لیٹر بنالیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2y8hRjA

ملک بھر میں ایل پی جی 20 روپے کلو مہنگی کر دی گئی

 اسلام آباد: ملک بھر میں ایل پی جی 20 روپے فی کلو مہنگی کردی گئی۔

اوگرا نے مئی 2020 کیلئے ایل پی جی کی قیمت میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جس کے مطابق گھریلو سلنڈ 256روپے اور کمرشل سلنڈرکی قیمت میں 983روپے اضافہ کیا گیا ہے۔ملک بھر میں ایل پی جی 90 روپے فی کلوکی جگہ 112روپے فی کلو اور گھریلو سلنڈر1067روپے کی جگہ1323روپے اور کمرشل سلنڈر4107روپے کی جگہ 5090روپے میں فروخت ہو گا۔

ایل پی جی ڈسٹری بیوشن ایسوسی ایشن کے سربراہ عرفان کھوکھر نے کہا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں سعودی اریمکو کنٹریٹ ایل پی جی کی قیمت 237 ڈالر فی ٹن سے بڑھ کر 340  ڈالر فی ٹن پر آگئی۔

 

The post ملک بھر میں ایل پی جی 20 روپے کلو مہنگی کر دی گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3f9PQc3

پاکستان میں اب کورونا کے رویے میں شدت نظر نہیں آ رہی، طبی ماہرین

کراچی: نیشنل انسٹیٹوٹ آف بلڈ ڈیزیز کے سربراہ پروفیسر طاہرشمسی نے کہا ہے کہ مستقبل میں کووڈ19 کے ساتھ احتیاط سے زندگی گزارنا ہوگی جب کہ جنوری 2020 میں کوویڈ19 دنیا بھر میں طرز زندگی میں بتدریج تبدیلی پیدا کررہا ہے تاہم یقینی طورپر کہا جاسکتا ہے کہ نئی دنیا سماجی رابطوں سے دوری پرمنسلک ہوگی۔

پاکستان میں کووڈ19 کو 2 ماہ مکمل ہونے کے حوالے سے ایکسپریس ٹربیون کوڈاکٹرطاہرشمسی نے بتایا کہ دنیا بھر میں تباہی پھیلانے والا کوویڈ19 نے جنوبی ایشائی ممالک کے عوام کو سب سے کم متاثرکیا جبکہ امریکا سمیت یورپی ممالک میں کووڈ 19 مسلسل تباہی کا باعث بنا ہوا ہے۔ جنوبی ایشیا میں ڈیرھ ارب کی ابادی میں وائرس نے 31 ہزار افراد کو متاثرکیا جبکہ شرح اموات بھی 2 فیصد رہی۔

انھوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں کووڈ19 سے صحت یاب ہونے والے افراد کے پلازمہ میں کووڈ 19 ری ایکٹیو نہیں ہورہا یعنی کووڈ دوبارہ فعال نہیں ہوا۔ یہ ایک خوشخبری ہے۔

انفیکیشن کنٹرول سوسائٹی کے صدر اورمائیکروبیالوجسٹ پروفیسر رفیق خانانی اورعیسی لیب کے سربراہ پروفیسر فرحان عیسی نے کہاکہ کووڈ19 دنیا بھر کی جغرافیائی سرحدوں کو عبور کرتے ہوئے اپنی تباہ کاریوں کی جانب بڑھ رہا ہے اور خاموشی سے ہزاروں صحت مند افراد کواپنا نشانہ بنارہا ہے۔

ان ماہرین نے کہا کہ پاکستان میں کورونا کو سامنے آئے 2 ماہ ہوگئے، اس دوران کم ٹیسٹ کیے گئے تاکہ کم نتائج سامنے پیش کیے جاسکیں۔ دوسری جانب پاکستان نے دوسرے ممالک کی طرح وائرس کو سنجیدہ نہیں لیا۔

 

The post پاکستان میں اب کورونا کے رویے میں شدت نظر نہیں آ رہی، طبی ماہرین appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2WeoXuJ

آج کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

آپ کے یہ جذبات قابل قدر ہیں اگر آپ ہزار سال قبل پیدا ہوتے تو شاید آپ کے یہ اعلیٰ کارنامے تاریخ کے کسی صفحے پر درج ہو جاتے لیکن اب اس کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔

ثور:
22 اپریل تا 20 مئی

اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع مل سکتا ہے کسی کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرنے کی غلطی جسمانی نقصان کا موجب بن سکتی ہے۔ حتیٰ الامکان احتیاط برتنے کی کوشش کریں۔

جوزا:
21 مئی تا 21جون

اپنے مزاج میں بھی ٹھہرائو پیدا کریں، غیر مستقل مزاج لوگ ترقی کے راستے پر دوسروں سے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں کسی بھی کام کی تکمیل کا ارادہ کر لیں تو پھر پیچھے نہ ہٹیں۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ آپ دوست نہ بنائیں ضرور بنائیں لیکن پہلے دوستی کا ایک معیار تو قائم کر لیں جو اس معیار پر پورا اترے اس پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کر لیں۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

گھریلو حالات قدرے تسلی بخش رہیں گے لیکن اب آپ ہر بات اپنی ہی منوانے والی عادت ترک کر دیجئے، اپنی شریک زندگی کو بھی رائے اور فیصلے کا اختیار دے دیجئے۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

کچھ عرصے سے غیر متوقع پریشانیوں نے آپ کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے آپ جو کچھ چاہتے ہیں وہ نہیں ہو پاتا اس کے باوجود ہم یہی کہیں گے کہ ہمت نہ ہاریئے۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

بعض اوقات بہت ساری دیکھی بھالی چیزیں بھی دھوکہ دے جاتی ہیں اور پھر یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ آپکے مخالف کے پاس بھی اتنی صلاحیتیں ہوں جتنی کہ آپ کے پاس ہیں۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

من پسند فرد کے ساتھ شادی کا امکان ہے، ملازمت سے وابستہ افراد کی ترقی کے امکانات ہیں لیکن آپ متذکرہ عرصے بسلسلہ فرائض وغیرہ لاپرواہی کا مظاہرہ ہرگز نہ کریں۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

مخالفت کو مزید ہوا نہ دیں یہ تو جنگل کی آگ ہے اگر بھڑک اٹھی تو سب کچھ اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے لہٰذا اگر کوئی مخالف صلح کرنا چاہے تو بھی اسے مایوس نہ کیجئے۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

کسی شخص کیساتھ الجھنے کی غلطی نہ کریں اگر آپ خود پر قابو نہ پا کر کسی سے الجھ بیٹھے تو پھر بات بہت بڑھ سکتی ہے، آپکے اخراجات بھی کسی گھریلو تقریب کے سلسلے میں بڑھ سکتے ہیں۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

دماغ پر فضول خیالات کا غلبہ رہے گا، سفر شوق سے کیجئے، نتائج خوشگوار ہو سکتے ہیں، کاروباری سکیموں کو شوق سے عملی شکل دیجئے، نتائج شاندار برآمد ہو سکتے ہیں۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

حالات خاصے تشویشناک ہو سکتے ہیں، اب بھی وقت ہے احتیاط برت لیں تاکہ مزید پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے، اخراجات کی رفتار کچھ زیادہ تیز رہے گی۔

The post آج کا دن کیسا رہے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2wECHGy

عوام کا بچکانہ رویہ

ہماری دنیا کی ایک عجیب روایت ہے کہ قدرتی آفات کو گناہوں کی سزا کا نام دیا جاتا ہے۔ پاکستان تین ماہ سے کورونا وبا کی زد میں ہے اور یہ وبا صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر آئی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر مصیبت کو ہمارے گناہوں کی سزا کہنا کیا عقلمندی کی دلیل ہے؟ اس حوالے سے سب سے زیادہ دلچسپ مفروضہ یہ ہے کہ گناہوں کی ذمے داری غریب عوام پر ڈال دی جاتی ہے کہ عوام کے گناہوں کی یہ سزا ہے۔ اس حوالے سے افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جس ملک کی نوے فیصد آبادی غربت کی اذیت میں مبتلا ہے جو لوگ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے سارا دن محنت کرتے ہیں انھیں فرصت گناہ کہاں ملتی ہے۔

گناہ اور اعلیٰ درجے کے گناہ کے لیے بھاری رقم کی ضرورت پڑتی ہے اور دال روٹی پر گزارا کرنے والوں کے پاس بھاری رقم کہاں ہوتی ہے، ہمارے ملک کے غریبوں کی محنت کی کمائی کی دولت ان ڈاکوؤں کے قبضے میں ہوتی ہے جو سرمایہ دار ہوتے ہیں، جاگیردار ہوتے ہیں، صنعتکار ہوتے ہیں، ان طبقات کے قبضے میں ملک کی اسی(80) فیصد دولت ہوتی ہے۔ غریب عوام کی اس دولت کو یہ طبقات عیاشیوں پر اڑاتے ہیں ملک کے اندر اور ملک کے باہر اعلیٰ درجے کی عیاشی کے لیے بے پناہ دولت درکار ہوتی ہے اور غریب کے پاس روٹی کے لیے ہی پیسہ نہیں ہوتا وہ عیاشی کے لیے پیسہ کہاں سے لاسکتا ہے؟

پاکستان کی حکومت کورونا کی وجہ سے جو لوگ بے روزگار ہوئے ہیں ان کی بھرپور مدد کر رہی ہے دو مہینوں کے اندر دو مرتبہ بارہ بارہ ہزار روپے فی خاندان دیے گئے ہیں، اب تیسری بار بارہ ہزار فی خاندان امداد دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ پاکستان جیسے غریب اور پسماندہ ملک کے لیے کورونا کی وبا ایک بڑی آزمائش سے کم نہیں۔ حکومت جہاں جہاں ممکن ہو عوام کی مدد کی کوشش کر رہی ہے اس حوالے سے حکومت نے مئی سے تین ماہ کے بجلی کے بل خود یعنی حکومت کی طرف سے دینے کا اعلان کیا ہے جو ایک قابل ذکر امداد ہے۔ ایک اور امداد اس طرح کی گئی ہے کہ نجی اسکولوں کی فیسوں میں 20 فیصد کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پانی، گیس اور کرایوں میں رعایت کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

مالکان عام طور پر کسی ہنگامی صورت حال میں یا ذرا سے معاشی دباؤ کی وجہ اپنے ملازمین کو فارغ کرنے کا سلسلہ شروع کردیتے ہیں۔ مالکان کے اس ممکنہ اقدام سے ملازمین کے تحفظ کے لیے ملازمین کو ملازمتوں سے نہ نکالنے کا آرڈیننس بھی جاری کردیا ہے۔ بلاشبہ یہ امداد اور تحفظات موجودہ حکومت ہی میں دیکھے گئے ہیں۔ مشکل بات یہ ہے کہ عوام کی مدد کے لیے اٹھائے جانے والے ان اقدامات کی تعریف اور حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے ہماری اپوزیشن ڈھونڈ ڈھونڈ کر حکومتی کاموں میں کیڑے نکال رہی ہے اس قسم کی اوچھی حرکتیں کوئی ذی شعور اپوزیشن نہیں کرسکتی۔

جب یہ بات طے ہے کہ کورونا کا اب تک کوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا اور جو کچھ کرسکتے ہیں وہ عوام ہی کرسکتے ہیں یعنی احتیاط، تو پھر حکومت کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ عوام کو تفصیل سے احتیاط کا مطلب سمجھائے اور احتیاط پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ عام آدمی احتیاط کا جو مطلب لے رہا ہے وہ ہاتھ ملانے سے گریز اور کسی بھی حوالے سے گلے ملنے پر پابندی لیا جا رہا ہے ،لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ان دونوں پابندیوں پر جزوی عملدرآمد ہو رہا ہے جب کہ عوام کی اکثریت ان دونوں اہم نکات پر توجہ دینے اور عمل پیرا ہونے کے لیے تیار نہیں ہو رہی ہے۔ اگرچہ عوام کی اس لاپرواہی اور غیر ذمے داری کی ذمے داری عوام پر عائد ہوتی ہے لیکن ہمارے عوام شیراں دے پتر شیر کے مصداق اس حوالے یعنی احتیاط کے حوالے سے ذرہ برابر توجہ دینے کے لیے تیار نہیں۔

اس غیر ذمے داری کا مظاہرہ عوام اس لیے کر رہے ہیں کہ انھیں ابھی تک کورونا کی تباہ کاریوں کا ہی اندازہ نہیں۔ اس حوالے سے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ کورونا وائرس سے بیمار ہونے کے دوران اس کی تکلیف دہ کیفیات اور اس وبا سے متاثر ہوکر انتقال کر جانے والوں کے لواحقین کی اذیتناکی اور معاشی مسائل سے عوام کو بھرپور طریقے سے واقف کرائے اس حوالے سے الیکٹرانک میڈیا سے کام لے ۔

بعض افراد اور حلقوں کی جانب سے اس کی مخالفت کی جائے گی لیکن اس کی وجہ اس المیے کی تفصیل سے عوام کی ناواقفیت ہی ہوسکتی ہے۔ بلاشبہ دل دوز حقائق سے عوام میں ایک طرح کی مایوسی پیدا ہوسکتی ہے لیکن بھاری تعداد میں عوامی جانی نقصان سے متعلقین کو جس ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ،اس کا تقاضا ہے کہ حکومت میڈیا کے ذریعے کورونا سے ہونے والے جانی نقصانات اور متعلقین کو پیش آنے والی مشکلات سے آگہی کے بعد بلاشبہ عوام احتیاط کے حوالے سے کی جانے والی غیر ذمے داری اور نقصانات سے واقف ہوں گے تو لازماً احتیاط پر عمل کریں گے۔

حکومت اس حوالے سے اپوزیشن کے رویے کا نوٹس نہ لے کیونکہ کورونا نے حکومت اور اپوزیشن کی کارکردگی سے عوام کو باخبر کردیا ہے۔ اپوزیشن کے پاس اس وقت سوائے حکومت پر بے جا تنقید کے علاوہ کچھ نہیں کررہی ،جس کا احساس اب عوام کو اچھی طرح ہو رہا ہے۔ عوام کو اب ان تصورات سے باہر نکلنا چاہیے کہ کورونا عوام کے گناہوں کی سزا ہے۔ کورونا دوسری وبائی بیماریوں کی طرح ایک وبائی بیماری ہے چونکہ اب تک اس وبا کا علاج دریافت نہیں ہو سکا اور نقصانات لاکھوں جانوں کی شکل میں آ رہے ہیں اس لیے حکومت کو اس حوالے سے ہونے والے شدید اور خوفناک نقصانات سے عوام کو آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ اس خوفناک وبا کے خلاف سہل پسندی سے کام نہ لیں۔

The post عوام کا بچکانہ رویہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2VR7U2L

ولیم شیکسپیئر

دنیا کے تمام ادباء اور شعراء میں سے اگر کوئی شاعر عالمی سطح پر سب سے زیادہ جانا اور پہچانا جاتا ہے تو وہ شیکسپیئر ہے۔ڈاکٹر جانسن نے ولیم شیکسپیئر کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ He was not for age, but for all time.وہ کسی ایک دور کے لیے نہیں بلکہ تمام ادوار کے لیے ہے۔آج شاید ہی کوئی ایسا پڑھا لکھا شخص ہو جس نے شیکسپیئر کا نام نہ سنا ہو۔شیکسپیئر انگریزی زبان کا وہ واحد شاعر اور ڈرامہ نویس ہے جسے پوری دنیا جانتی ہے اور جسے ہر جگہ پڑھا جاتا ہے۔اس کی بڑائی کو سبھی مانتے ہیں۔

بہت بڑے بڑے لکھنے والوں کی رائے میں انسانی زندگی کے دکھ سکھ کا جتنا احاطہ شیکسپیئر نے کیا ہے اتنا کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔ دنیا کی تمام لائبریریوں میں اس کے فن پارے رکھے جاتے ہیں بلکہ دنیا کی کوئی بھی لائبریری اس کے فن پاروںخصوصی طور پر اس کے المیہ ڈراموں Tragedies کے بغیر نا مکمل سمجھی جاتی ہے۔ شیکسپیئرکے ڈراموں پر بے شمار مضامین اور کتابیں لکھی گئی ہیں اور لکھی جاتی رہیں گی۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کے ڈراموں پر لکھی جانے والی کتابیں اس کے ڈراموں سے کئی ہزار گنا زیادہ ہوں گی۔صرف اس کے ایک ڈرامے ہیملٹ پر 1970 تک دس ہزار سے زیادہ کتابیں اور مضامین لکھے جا چکے تھے۔

شیکسپیئر جتنا بڑا شاعر اور ڈرامہ نویس ہے اس کے مقابلے میں اس کی ذاتی زندگی پر بہت کم معلومات ملتی ہیں۔وہ جان شیکسپیئر اور میری آرڈن کے گھر اپریل 1564میں پیدا ہوا۔بالکل صحیح تاریخِ پیدائش کی ابھی تک جان کاری نہیں ہو سکی لیکن اس کی جائے پیدائش stratford- upon avonاسٹریٹفورڈ ایون ،جو لندن سے لگ بھگ کوئی ایک سو میل دریائے ایون  کے کنارے واقع ایک بستی تھی ،کے مقامی گرجا گھر میں 26اپریل 1564کو ولیم شیکسپیئر کا اندراج ہوا۔ اس کی والدہ کی تھوڑی سی زمین تھی اور اس کے والد دستانے بنانے کا کام کرتے تھے۔یہ دستانے بہت پسند کیے جاتے تھے لیکن ان سے کوئی خاص آمدنی نہیں ہوتی تھی البتہ جان شیکسپیئر مقامی انتظامیہ میں ایک عہدیدار رہے لیکن بعد میں وہ یہ حیثیت کھو بیٹھے۔

شیکسپیئر کے تین بھائی اور دو  بہنیں تھیں۔اسے ڈرامے دیکھنے کا جنون تھا۔شیکسپیئر کو غالباً 13سال کی ہی عمر میں اسکول سے اُٹھا لیا گیا۔ اٹھارہ سال کی عمر میں 28نومبر1582کو اس کی شادی  26سالہ این ہیتھ اوےAnn Hath Awayسے ہو گئی۔وہ اس شادی پر کوئی خاص رضا مند نہیں تھا لیکن  این نے کمال ہوشیاری سے ایسے حالات پیدا کر دئے کہ شیکسپیئر کے لیے اس شادی سے اعراض ممکن نہ رہا۔ شیکسپیئر کے گھر تین بچے پیدا ہوئے۔

ڈراموں کے شوق میں شیکسپیئر اپنے گھر سے  دور لندن پہنچ گیا۔وہاں تھیٹر کمپنیوں میں چھوٹے موٹے کام کرتا کرتا کمائی کرنے کے قابل بن گیا۔ 1590 میں وہ لندن کی ایک مشہور تھیٹر کمپنی لارڈ چیمبرلین کمپنی کا پارٹنر بن گیا یہی کمپنی بعد میں کنگز کمپنی میں تبدیل ہو گئی۔ 1597تک اس کے پاس اتنی آمدنی ہونی شروع ہو گئی تھی کہ اس نے اسٹریٹفورڈ میں نیو ہائوس نامی شہر کا دوسرا بڑا گھر خرید لیا،1599میں اس نے اپنے ساتھی فنکاروں کے ساتھ مل کر گلوب تھیٹر کمپنی کی بنیاد رکھی ۔گلوب تھیٹر بعد میں لندن کا اہم لینڈ مارک بن گیا۔

شیکسپیئر کی زندگی کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس کی اپنی زندگی میں اس کے ڈرامے چھپ نہ سکے۔ اس کی موت کے چند سالوں بعد اس کے دو اداکار ساتھیوں نے اس کے دو ڈرامے چھپوا کر مارکیٹ میں پہنچائے جہاں سے لوگ اس کے کام سے متعارف ہونے شروع ہوئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس کے ڈرامے ہاتھوں ہاتھ لیے جانے لگے۔

برطانوی فتوحات کے نتیجے میں برطانوی نوآبادیوں کا ہر طرف ایک نیٹ ورک قائم ہو گیا اور ایک وقت ایسا آ گیا کہ برطانوی سلطنت پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ان فتوحات کے ساتھ ساتھ انگریزی ادب بھی پھیلا اور شیکسپیئر کی مشہوری کا چار دانگ عالم ڈنکا بجنا شروع ہو گیا۔ اب دنیا کا ہر آدمی شیکسپیئر کو اپنے اندر کے حال کا نمایندہ ترجمان سمجھتا ہے۔اس کی شہرت تمام علاقائی سرحدیں عبور کر چکی ہے، وہ بین الاقوامی سچائیوں کا نمایندہ  ڈرامہ نویس بن گیا ہے۔برطانیہ میں تو اسے قومی شاعر کی سی حیثیت حاصل ہے۔

شیکسپیئر کی شاعری نے اس کے ڈراموں کو بے انتہا حسن بخشا۔اس کی خوش قسمتی تھی کہ کرسٹوفرمارلو  Christopher Marlowe اپنے مشہور ڈرامے ڈاکٹر فاسٹس Doctor Faustusمیں بلینک ورس Blank Verseکا کامیابی سے استعمال کر چکا تھا۔ بلینک ورس شاعری کی ایک بہت عمدہ اور طاقتور صنف کے طور پر ابھری جس نے شاعر کو اظہار کے لیے بہت گنجائش فراہم کی، شیکسپیئر نے اپنے ڈراموں میں بلینک ورس کا اتنی خوبصورتی سے استعمال کیا کہ اس صنف کو چار چاند لگا دیے۔ٹی ایس ایلیٹ کا خیال ہے کہ اپنی خوبصورت شاعرانہ خصوصیات کی بدولت شیکسپیئر جارج برنارڈ شا اور اِبسِن سے بہت بڑا ڈرامہ نویس ہے۔

ڈاکٹر جانسن کی طرح ٹی ایس ایلیٹ کا بھی خیال ہے کہ وہ ایک عہد سے وابستہ نہیں بلکہ تمام ادوار کا بڑا ڈرامہ نویس ہے۔ شیکسپیئر کواُس وقت بڑی کامیابی ملی جب 1603میں اس نے اپنا نام اداکاروں کی اس فہرست میں درج کروالیا جو بادشاہ جیمز اول کے منظورِ نظر تھے۔شیکسپیئر اپنی بستی کو کبھی نہیں بھُولا۔1597میں بستی کا دوسرا سب سے بڑا گھر خریدا اور پھر 1604 کے لگ بھگ لندن سے واپس اسٹریٹفورڈ آ گیا جہاں 25اپریل 1616کو مختصر سی علالت کے بعد فوت ہو کر ٹرینٹی چرچ میں دفن ہوا، وہ اپریل میں پیدا ہوا اور اپریل ہی میں اس دنیا سے رخصت ہوا۔اس نے اپنی جائیداد کا زیادہ تر حصہ بیٹی سوسان کے نام کیا۔

شیکسپیئر نے کُل37 ڈرامے لکھے۔اس کے ڈراموں کو عمومی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔اس کے المیہ ڈراموں میں سے کنگ لیئر،ہیملٹ،میکبتھ اور اوتھیلو، کامیڈی ڈراموں میں سے ٹویلتھ نائٹ، مرچنٹ آف وینس،ٹیمنگ آف شریو،کامیڈی آف ایررز اور تاریخی ڈراموں میں سے رچرڈ 3،ہنری ہشتم،جولیس سیزر اور انٹونی اینڈ قلوپطرہ کو  مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔شیکسپیئر کا ہر ڈرامہ کامیڈی ہو کہ ٹریجیڈی انسانی جذبات کی ایک روداد ہے ،اس کی سیکڑوں لائنیں زبان زدِ عام بن چکی ہیںچند لائنیں دیکھیں،The time is out of joint.Empty vessels make much noise.Nothing will come out of nothing.Brevity is the soul of wit.Music is the food of love. To be or not to be.

شیکسپیئر کے تقریباً تمام ہی ڈراموں میں پلاٹ کو  وہ اہمیت نہیں جتنی اہمیت کرداروں کو حاصل ہوئی۔ اس کے کردار جیسے کنگ لیئر ،ہیملٹ ،لیڈی میکبتھ ہمارے ذہنوں پر چھا جاتے ہیں۔

شیکسپیئر نے اپنے لازوال ڈراموں کے علاوہ  نظمیں بھی لکھیں جو سانٹsonnetکی فارم میں ہیں۔ شیکسپیئر کی سانٹ چودہ لائنوں چار،چار، چار اور دو لائنوں پر مشتمل ہے۔ شیکسپیئر نے کل 154 ایسی نظمیں لکھیں۔ پہلی ایک سو پچیس سانٹ نظمیں fair youthکی محبت میں ہیں جب کہ 126 سے 152تک ڈارک لیڈی  آف سانٹ سے مخاطب ہیں۔ آخری دونوں سانٹ محبت کے دیوتا کیوپڈ کے لیے ہیں۔

شیکسپیئر انسان کی زندگی کو اپنے ڈراموں کا موضوع بناتا ہے یوں وہ خالص ادب تخلیق کرتا ہے کیونکہ ادب  زندگی سے ہی متعلق ہے۔شیکسپیئر ڈرامہ لکھتے ہوئے کرداروں پر اپنے فیصلے صادر نہیں کرتا۔نہ تو اُس نے کوئی اصلاحی تحریک چلائی اور نہ ہی وہ مبلغ کے رُوپ میں سامنے آیا۔وہ تو اپنے کرداروں کو خوش ہوتے،دُکھ سہتے،ہنستے گاتے اور روتے دکھاتا ہے۔نہ ان کی حماقتوں پر ہنستا ہے اور نہ ہی ان کے جرم کو اچھالتا ہے۔وہ انسانوں کو ان کی برائیوں،دغابازیوں اور کمینگیوں کے باوصف ہمدردی کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں وہ زندگی کے حسن اور بدصورتی کو نمایاں کرتا ہے،وہ زندگی کا ڈرامہ نویس ہے۔

The post ولیم شیکسپیئر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2SEZgCP

’’ارطغرل ‘‘ پاکستان بھی ایسی پروڈکشن پیش کر سکتا!

آج کل پاکستان کے اُفق پر ایک ترکی ڈرامہ ’’ارطغرل‘‘ چھایا ہوا ہے، جو سرکاری ٹی وی سے اردو زبان میں نشر ہو رہا ہے، تاریخ سے میرا خاص لگائو اور خاص الخاص رشتہ ہونے کے ناطے مجھے اس طرح کے ’’سیزن‘‘ خاصے اچھے لگتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اس ڈرامے میں ایسی کیا خوبی ہے کہ ہم جیسے لوگ اس کے لیے تعریف کر رہے ہیں؟حقیقت میں یہ ایک بہترین پلاٹ کی گئی اسٹوری ہے، جسے میں ترکی کی ایک بہترین پروڈکشن کہوں گا۔ترکی میں صرف یہ ایک ہی ڈرامہ نہیں ہے بلکہ ایسے بہت سے ڈرامے تیار کیے جارہے ہیں جو ترک قوم کو ان کی تاریخ سے جوڑتے ہوئے تاریخ سے روشناس کروا رہے ہیں۔ اور شاید ترکی پہلا اسلامی ملک ہے جوبین الاقوامی معیار کے سیزن بنا رہا ہے اور جسکی پوری دنیا معترف بھی ہو چکی ہے۔

اور کم از کم مغرب کو اسلام کے حقیقی روپ کے بارے میں علم ہو رہا ہے۔ورنہ ہر ہالی ووڈ، بالی ووڈ اور دیگر انٹرنیشنل فلم انڈسٹریز میں مسلمانوں کو معذرت کے ساتھ جوتے پڑتے ہی دیکھا گیا ہے۔ خیر اگر ہم ارطغرل کی بات کریں تو اس کہانی میں ترکی کے خانہ بدوش قبیلے ـ’’قائی‘‘ کی کہانی ہے۔

قائی قبیلہ ایک جنگجو قبیلہ ہے جو ایک طرف بے رحم موسموں کے نشانے پر ہے اور دوسری جانب منگولوں اور صلیبیوں کے نشانے پر ہے۔ ہمت و جرات کی یہ عجیب داستان ہے کہ چرواہوں کا یہ خانہ بدوش قبیلہ جو جاڑے کے بے رحم موسم میں قحط سے بچنے کے لیے حلب کے امیر سے ایک زرخیز چراگاہ میں قیام پزیر ہونے کی اجازت مانگ رہا ہوتا ہے آگے چل کر ایک ایسی سلطنت کی بنیاد رکھ دیتا ہے جو آٹھ سو سال قائم رہتی ہے۔

’’ارطغرل‘‘ قائی قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا ہے۔ وہ منگولوں سے بھی لڑتا ہے اور صلیبیوں سے بھی۔ وہ اوغوز ترک قبائل کو یوں ایک لڑی میں سمو دیتا ہے کہ پھر چرواہوں کے اس قبیلے کی ایک اپنی سلطنت ہوتی ہے اور ارطغرل کا بیٹا عثمان اس سلطنت عثمانیہ کا پہلا بادشاہ ہوتا ہے۔ چرواہوں کا قائی قبیلہ ایک عظیم الشان سلطنت کی بنیاد کیسے رکھتا ہے اس غیر معمولی جدو جہد کی داستان کا نام ’’ارطغرل‘‘ ہے۔ ترکی نے بلاوجہ یہ ترقی حاصل نہیں کی۔ ارطغرل ڈرامہ دیکھتے ہوئے خوب معلوم ہو جاتا ہے کہ ترک سماج آرٹ اور کلچر میں کتنا آگے جا چکا ہے۔ ڈرامہ دیکھتے ہوئے آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ پلاٹ کی تعریف کرے، اداکاروں کی تعریف کرے یا پروڈکشن کے معیار پر ششدر رہ جائے۔

کچھ لوگ اس ڈرامہ سیریل کو ہالی ووڈ ڈرامہ سیریل ’’گیم آف تھرون‘‘ کے ساتھ موازنہ کررہے ہیں، یہ درست نہیں۔ دونوں مختلف انداز کے سیزن ہیں، ان کے وسائل میں بے پناہ فرق ہے۔ گیمز آف تھرون HBOکا ڈرامہ سیزن ہے، انھوں نے کروڑوں ڈالر خرچ کیے اور اس سے بہت زیادہ کمایا۔ انھیںبہت سے منجھے ہوئے اور بڑے فنکاروں، جدید ٹیکنالوجی کا ایڈوانٹیج حاصل تھا۔اس کی کہانی میں تمام کردار خیالی تھے، ڈریکولا بھی خیالی تھا جس کا حقیقی زندگی کے ساتھ تعلق نہیں بنتا۔ مگر ارطغرل اتنے بڑے بجٹ کا ڈرامہ سیریل تو نہیں مگر اس کے ڈائریکٹر ابراہیم ایرن بتاتے ہیں کہ یہ بیک وقت 60ممالک میں مختلف زبانوں میں دیکھا جا رہا ہے۔

المختصر یہ کہ یہ ڈرامہ فنی اعتبار سے تو یہ ایک شاہکار ہے ہی ، اس کی ایک اور خوبی بھی ہے۔ یہ مسلمانوں پر مسلط کردہ احساس کمتری کا طلسم کدہ توڑ کر پھینک دیتا ہے۔ خانہ بدوش قبیلے کے اس ڈرامے کی چند اقساط دیکھ کر آپ کے اندر سے وہ احساس کمتری دھیرے دھیرے ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے جو مغرب اور اس کے رضاکاروں نے بڑے اہتمام سے مسلم سماج میں پھیلا رکھا ہے۔ یہاں تک کہ ایک وقت آتا ہے کہ آپ کو مسلم تہذیب کے رنگوں پر فخر محسوس ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ڈرامے کا یہ تہذیبی پہلو  اتنا شاندار ہے کہ 2017 میں طیب اردوان کی جب ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع تھی تو نیویارک ٹائمز میں ولیم آرمسٹرانگ نے لکھا کہ طیب اردوان اور ترکی کی نفسیات جاننے کے لیے ’ارطغرل‘ ڈرامہ دیکھ لیجیے۔

ارطغرل ڈرامہ سب سے پہلے 2014 میں نشر کیا گیا تھا، اسے Takden Filmنامی پروڈکشن کمپنی نے بنایاتھا۔ اس سیریل کا سب سے پہلے آئیڈیا پیش کرنے والے مہمت بزداگ کہتے ہیں کہ انھوں نے بہت کم بجٹ سے اس کا پہلا سیزن مکمل کیا جس کے لیے بہت سے سپانسرز سے رابطہ کیا‘ ہم نے پہلا سیزن مکمل کیا اور لانچنگ کے بعد اس پہلے سیزن کی کمائی سے ہم نے اگلا سیزن بنایا۔ یعنی اگر انسان کچھ کرنا چاہے تو بہت کم وسائل میں بھی کچھ کر سکتا ہے۔

حکومت کو بھی چاہیے کہ اس طرح کے سیریلز میں معاونت کرے، اچھی پروپوزل پر کام کرے، اور سپانسر بھی کرے۔ لیکن پہلی شرط یہ ہے کہ کیا آپ کا پلان کسی کے دل میں گھر کرتا ہے یا نہیں!المیہ یہ بھی ہے کہ ہم لوگ ساس بہو کے ڈراموں سے باہر ہی نہیں نکل سکتے، میں نے ایک دوست پروڈیوسر سے پوچھا کہ آپ لوگ ایسے ڈرامے کیوں بناتے ہیں جس سے ہماری گھریلو انوسٹی گیشن آفیسر بن جاتی ہیں۔ بات بات پر بال کی کھال ادھیڑنے تک چلی جاتی ہیں تو موصوف فرمانے لگے، ہمارا تو یہی کچھ بکتا ہے بھائی جان۔ ہمارے لوگوں میں تعلیم نہیں ہے اس لیے وہ ایسے ڈراموں کو زیادہ پسند کرتے ہیں جس میں سازش کی ’’بو‘‘ آئے۔

اور پھر اہم بات یہ کہ پاک و ہند جتنا بڑا خطہ ہے یہاں سے تو کہانیاں بھی بہت سی جنم لے سکتی ہیں، یعنی یہاں تو بہت کچھ بیچا جا سکتا ہے۔ ہم بھی اسی طرز کی کئی ایک ڈرامہ سیریل بنا سکتے ہیں، ہمارے پاس تو شاید ترکی سے زیادہ کہانیاں موجود ہیں جو اس سرزمین پر رونماء ہوتی رہی ہیں۔ سیکڑوں کہانیاں اور سلطنیتیں ایسی ہیں جنھیں لوگ پڑھنا ، دیکھنا اور خریدنا چاہتے ہیں۔ ہمارے پاس ایسے بہت سے ’’سکندر‘‘ غازی، مجاہد، اور بادشاہ گزرے ہیں جن پر کئی ایک سیزن بن سکتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ ہمیں ساس بہو کے جھگڑوں، ایک خاوند کی دوشادیوں، نندوں کے بھابیوں پر مظالم، عورت عورت کی دشمن یا مرد باوفا یا عورت بے وفا جیسی کہانیوں کے چنگل سے نکلنا پڑے گا۔

یقین مانیں ہماری ڈرامہ انڈسٹری نے تو خوامخواہ رشتوں میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں، بھائی کو بھائی پر شک کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے، دوستی جیسے رشتوں کو رسوا کر دیا گیا ہے۔ داماد،سسر کی جائیداد پر نظر رکھے ہوئے ہے، بیٹا باپ کا جانی دشمن بنا بیٹھاہے، بیٹی ساس کی جانی دشمن بن بیٹھی ہے۔ اور تو اور ہماری خواتین ایسی کہانیوں کواپنی حقیقی زندگی میں عملی جامہ پہناتے نظر آتی ہیں، مثلاََ اکثر خواتین جب ان ڈراموں سے فراغت حاصل کرتی ہیں تو ’’خاوند‘‘ حضرات انھیں کسی بھی فلم کے بدترین کردار کے طور پر نظر آرہے ہوتے ہیں، جب کہ وہ خود کو ڈرامے کا سب سے مظلوم کردار تصور کرکے اندر ہی اندر کڑھتی رہتی ہیں۔

کئی احباب کا تو حال یہ ہوتا ہے کہ گھر میں موجود دور پڑے موبائل کو بھی وہ دیکھ لے اور بیگم کی نگاہ اُس غریب پر پڑجائے تو گھر میں بلاوجہ کی لڑائی کا آغاز ہو جاتا ہے، کیوں کہ بیگم یہی سوچ رہی ہوتی ہے کہ آیا اس نے موبائل کو بلاوجہ نہیں دیکھاہوگا، یقینا اسے کسی کے فون کا انتظار ہوگا۔

یعنی سمجھ سے باہر ہے کہ ہم کس کلچر کو پروموٹ کر رہے ہیں ؟اور پھر ہمارے ذہن ایسے بن گئے ہیں کہ ہم میں سے کئیوں نے ارطغرل کی کہانی کو بھی فراڈ سمجھ لیا ہے اور اسے ہم اب ترکی کی سازش قرار دے رہے ہیں۔ ہم یہ نہیں سوچ رہے کہ جب ہم نے ایک چیز کو ’’ڈرامہ‘‘ کہہ دیا تو اس کو انجوائے کریں تاریخ کو پرکھیں خود کھوج لگائیں، کہ حقیقت کیا ہے۔ اور پھر اسے دیکھتے ہوئے ذہن میں رکھیں کہ یہ ایک ’’ڈرامہ‘‘ ہے اسے سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں!لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اگر میزائلوں کے نام غزنوی، غوری، شاہین، بابروغیرہ رکھ سکتے ہیں تو ان کے ڈرامے کیوں نہیں بنا سکتے، تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہم کوشش ہی نہیں کرتے۔

21 ویں صدی میں بہانے تراش رہے ہوتے ہیں کہ جگہ نہیں مل رہی۔ حالانکہ اس دور میں آپ کو کسی رجسٹرڈ میڈیا ، پروڈکشن ہاؤس یا میگزین کی ضرورت نہیں ہے، یہاں آپ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا کام انجام دے سکتے ہیں، لیکن کام مثبت ہونا چاہیے، کسی کی دل آزاری نہیں ہونی چاہیے، تاریخ وہی صحیح جانتا ہے جو تاریخ سے شغف رکھتا ہو، جسے تاریخ سے محبت ہو۔ لہٰذاپاکستان کے ڈرامہ نگاروں اور پروڈکشن کے لوگوں سے میری گزارش ہے کہ انسانی دماغ تاریخ کو رنگوں کے ساتھ یاد رکھتا ہے، ناکہ لکھی پڑھی تاریخ انسان کو یاد رہتی ہے، اسی لیے ایسی کہانیاں ہمیں برسوں یاد رہتی ہیں جنھیں ہم ٹی وی اسکرین پر دیکھتے ہیں، اس لیے ہمیں اپنی کہانیاں تراشنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنا کلچر بھی پروموٹ کر سکیں اور پیسہ بھی کما سکیں!

The post ’’ارطغرل ‘‘ پاکستان بھی ایسی پروڈکشن پیش کر سکتا! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2SnQybS

یکم مئی کے شہیدوں کو سرخ سلام

چھو رہے تھے ظا لموں کے سر میرے پائوں کے ساتھ

کس قدر اونچا تھا میں سولی پہ چڑھ جانے کے بعد

آج سے ایک سو چونتیس برس قبل امریکا کے صنعتی شہر شکاگو میں ہزارہا مزدور امنڈ آئے تھے۔ مزدوروں کے مطا لبات یہ تھے کہ کام کے او قات آٹھ گھنٹے مقرر کر نا، کام کی جگہ پر سہو لتیں مہیا کر نا،کم عمر بچوں سے کام نہ لینا، خواتین کو مرد مزدوروں کے برابر تنخواہ دینا ،وغیرہ شا مل تھے۔ اس جلسے سے انارکو کمیو نسٹ کار کنان آگسٹس، البرٹ سیموئل، فیشر اور فلڈن وغیرہ نے خطاب کیا۔ جلسہ پر امن تھا۔

فلڈن کے خطاب کے دو ران سر کا ری اہلکا روں میں سے کوئی سادہ لباس میں مزدوروں میں گھس آ یا اور پولیس پر بم پھینکا، جس کے نتیجے میں فلڈن نام کا ایک پو لیس افسر ہلاک ہو گیا۔ اس کے بعد پو لیس نے جلسے کے حاضرین پر گو لیاں بر سا دیں، جب کہ آخری مقرر فلڈن نے اپنی تقریر کے بعد اجتماع کو پر امن طور پر منتشر ہو نے کی اپیل کی۔ بہر حال پو لیس کی گولیوں سے متعدد مزدور شہید ہو گئے اور چھ کو گرفتار کر لیا گیا، پھر سات ماہ بعد نومبر میں ایک جا نبدار عدالت نے مزدور رہنما ئوں کو سزا ئے موت سنا دی ، ایک کامریڈ لنک نے پہلے ہی خود کشی کر لی تھی۔

بعد میں شدید احتجاج کے بعد فلڈن کی سزا ئے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا اور چار کو جب سفید رنگ کے کفن نما کپڑے پہنا کر تختہ دار پر لے جا یا جا رہا تھا تو وہ مزدوروں کا عا لمی ترا نہ گا تے جا رہے تھے۔ اس ترانے کو شاعر اژینو پو تو نے لکھا تھا، جسے کرا چی کے محمد میاں نے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ شروع کے دو اشعار کچھ یوں ہیں۔

زمین کے بد بخت ساکنوں بھوک کے نا دار قیدیو، اٹھو کہ اب آ نے وا لا ہے نیاچلن، ہم کچھ نہیں تھے اب سب کچھ ہونگے، گا ئو انٹر نیشنل۔جب ان مزدور رہنمائوں کو تختہ دار پر کھڑا کر دیا گیا تو آگسٹس نے یہ نعرہ لگا یاکہ ہرے انارکزم۔ دوسرے ساتھی البرٹ نے جب مزید کچھ بولنا چا ہا تو جلاد نے تختے کی رسی کھینچ دی۔ ایک کے گلے میں رسی ا س کی ہڈی میں پھنس گئی جس سے وہ کچھ دیر لٹکتا رہا اور پھر پھانسی کے پھندے پر جھول گیا۔ سلام ہے تم پر کہ اپنی جان کو دا ئو پر لگاکر آج دنیا بھر میں بارہ اور چودہ گھنٹے کی ڈیو ٹی کو آٹھ گھنٹے میں تبدیل کر وا دی۔

پاکستان اور پسماندہ ملکوں میں آج بھی بیشتر مزدوروں سے بارہ گھنٹے کام لیا جا تا ہے۔ یکم مئی اٹھارہ سو چھیا سی میں مزدور فیڈریشن کی کال پر شکاگو سمیت امریکا کے متعدد شہروں میں لا کھوں مزدوروں نے ہڑ تال کی، ان سے یکجہتی کے لیے دنیا بھر میں مزدوروں نے بھی ہڑ تال کی۔ آج اقوام متحدہ نے آٹھ گھنٹے کی ڈیو ٹی کو قا نو نی درجہ دے دیاہے اور عا لمی طور پر یکم مئی کو چھٹی کا اعلان کیا ہے۔ پھر بھی بعض مسلم ممالک اور جا پان میں یکم مئی کی چھٹی نہیں ہو تی۔ اس لیے کہ یہاں ملا ئیت،بادشاہت اورمزدور دشمن حکومتیں ہیں۔

انار کسٹوں کو پھانسی دینے پر شکاگو کے گور نر نے بیان جا ری کیا تھا کہ پھانسی پا نے والے معصوم اور بے قصورتھے۔حے مارکیٹ کے جلسے سے گرفتار کیے گئے دو افراد کا امریکا سے،دو کا جر منی سے، ایک کا آئر لینڈ سے اور ایک کاانگلینڈ سے تھا۔اتنی عظیم قر با نیاں دینے اور دنیا بھر میں پیدا واری قوتوں، محنت کشوں اور شہریوں کو فا ئدہ پہنچا نے وا لوں کے بارے میں سکہ بندبیشتر کمیو نسٹ اور سو شلسٹ ان شہدا کے انار کسٹ ہو نے کا ذکر تک نہیں کر تے۔

جب انیس سو انیس میں سامراجی ملکوں نے روس پر حملہ کیا تھا اور فرانس، زار شاہی کی مدد کر نے کے لیے جہاز پر اسلحہ لا دے جا رہے تھے تو فرانس کے انار کسٹوں نے ہڑتال کر دی اور مزدوروں نے اسلحہ کی لو ڈنگ روک دی تو دنیا بھر کے مطلق کمیونسٹوں اور سو شلسٹوں نے انار کسٹوں کے اس اقدام کو سراہا اور جب زار شاہی کو شکست ہو گئی توان ہی کمیو نسٹوں اور سو شلسٹوں نے انار کسٹوں کو پھا نسی پہ لٹکا یا، قید کیا، تشدد کیااور ملک بدر کیا۔ یہی صورتحال یو کرائن میں انیس سو بائیس میں اور اسپین میں انیس سو انتا لیس میں پیش آئی۔ یو کرائن میں انیس سو اٹھارہ سے انیس سو بائیس تک اور اسپین میں انیس سو چھتیس سے انیس سو انتا لیس تک انار کسٹوں نے اپنی انتظامیہ قائم کر رکھی تھی۔

روس کی حکو مت اور کمیو نسٹ پارٹی نے انیس سو بائیس میں یو کرا ئن اور انیس سو انتالیس میں اسپین میں مدد کر نے کے بہا نے قبضہ جما یا اور انار کسٹوں کا قتل کیا،تشدد کیااورمطلق حکمرا نی قائم کر کے آ زاد اور غیر طبقا تی نظام کا خاتمہ کیا۔واضح رہے کہ انیس سو اٹھارہ سے انیس سو بائیس میں یوکرائن اور انیس سو چھتیس سے انتالیس تک اسپین میں جب تک انارکسٹوں کی انتظامیہ تھی۔بر صغیر کے معروف انار کسٹ کامریڈ بھگت سنگھ کو کمیو نسٹوں اور سوشلسٹوں نے انار کسٹ ہو نے کا در جہ دیا اور نہ وہ عزت جب کہ وہ آ زادی کے لیے پھانسی پر لٹک گئے۔

اب ہمیں اس ڈانواں ڈول کیفیت سے نکلنا ہو گا۔ اس سنگین صورتحال میں نیشنل ٹریڈ یو نین فیڈریشن اور ہوم بیس وو مین ور کرز فیڈریشن انتہا ئی سر گرم عمل ہے۔ ہزاروں ضرورت مند مزدوروں میں را شن تقسیم کر رہی ہے اور جان بچا نے کے لیے ایدھی فا ئونڈیشن سے تعاون کر رہی ہے۔ مو ثر پیش قدمی کر نے وا لوں میں نا صر منصور، زہرہ خان، سجاد ظہیر اور خضر قاضی وغیرہ شا مل ہیں۔ ایدھی فائونڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی قرنطینہ میں وقت گزار رہے ہیں، انھوں نے اعلان کیا ہے کہ میں صحت مند ہو کر کار کنوں کے ساتھ کام میں لگ جائوں گا۔نیشنل ٹریڈ یو نین فیڈریشن یوم مزدور کو کراچی سمیت ملک بھر میں منائے گی۔

The post یکم مئی کے شہیدوں کو سرخ سلام appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2SoHXWk

فتنہ ابلاغ اورکرسیوں کے کیڑے

محترم ڈاکٹر اے آرخالد کی دوکتابیں پڑھ کر اس وقت ہم فارغ ہوچکے ہیں ،ایک کانام ہے ’’فتنہ ابلاغ‘‘جب کہ دوسری کا عنوان ہے ’’کرسیوں کے چند کیڑے ملک سارا کھاگئے‘‘

محترم خالد صاحب ایک معروف لکھنے والے ہیں اورصحافت کا ایک طویل تجربہ رکھتے ہیں اس لیے ان دونوں کتابوں میں وہی کچھ ہوگا اورہے جو ’’چیونٹی کے اس گھر‘‘ پاکستان میں ہوتارہاہے یا اندھے کی بیوی بھی کہہ سکتے ہیں ،پشتو کہاوت کے مطابق ’’اندھے کی بیوی خدا کے حوالے‘‘۔لیکن ہم نے ان دونوں کتابوں کی تحریروں میں وہ ’’چیز‘‘بہت زیادہ محسوس کی ہے جو الفاظ میں نہیں ہے۔

یا ، وہ سارے فسانے میں جس کاذکر نہ تھا۔ وہ غیر موجود اور شدت سے محسوس چیزوہ ’’درد‘‘ ہے جو ہر محب وطن ملک و قوم کو اپنا سمجھنے والوں کے دل میں ہوتاہے لیکن ان کی حالت اس کسان کی سی ہوجاتی ہے جس کے کھیت میں کھڑی فصل پر بے مہار اور آوارہ جانوروں نے ہلہ بولا ہواہو ۔کسان کنارے بیٹھا اپنی فصل کا حشر نشر دیکھ رہاہوتاہے لیکن اس کے ہاتھ میں لاٹھی لکڑی نہیں ہوتی جس سے ان جانوروں کو بھگا سکے،بلکہ میں اپنے تجربے کی روشنی میں ان جانوروں کو ’’سوروں‘‘ کا گلہ کہوں گا۔

ہمارے علاقے میں پہلے سورنہیں ہوتے تھے لیکن گزشتہ سیلاب میں جب ترائی کاعلاقہ زیر آب آگیا تو یہ سور وہاں سے بھاگ کر ہمارے علاقے میں آگئے جو پہلے خشک علاقہ ہونے کی وجہ سے اس بدبخت جانورسے محفوظ تھا۔چنانچہ آج کل ہم ان سوروں کے ہاتھوںبہت بڑے عذاب میں مبتلا ہیں،ایک تو یہ کہ جھرمٹ کی شکل میں پھرتے ہیں، دوسرا یہ کہ بوقت ضرورت حملہ آورہوکر انسانوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں اورتیسری مصیبت یہ کہ سور اتنا کھاتا نہیں جتنا بربادکرتے ہیں،کھانے کے بعد فصلوں میں لوٹیں لگاتے ہیں اوربچی کچی فصل بھی برباد کرتے ہیں ،اوپر سے کم بخت اتنے عیارہوتے ہیں کہ معمولی اسلحہ کی تو پرواہی نہیں کرتے لیکن اکیلے انسان کو پاکر حملہ آور ہوجاتے ہیں ،چھریدار اور معمولی بورکااسلحہ بھی ان پر بے اثر ہوتاہے کیوں کہ بہت موٹی اورپھسلوان کھال اوڑھے ہوتے ہیں اوربہت زیادہ چربی دار ہونے کی وجہ سے ان کے زخم بھی بہت جلد مندمل ہوجاتے ہیں، مطلب یہ کہ ہرلحاظ سے وہ ہوتے ہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں۔

صرف خالد صاحب ہی نہیں ہم سب خالی ہاتھ والے ایک عرصے سے دیکھ رہے ہیں ،کھیت کا حشر نشر بھی اوراپنی بے بسی بھی۔

شد آں کہ اہل نظر درکنارہ می رفتند

ہزارگونہ سخن درد ہاں ولب خاموش

یعنی پھر یوں ہواکہ اہل نظر بیچارے ایک طرف ہو کر بیٹھ گئے ہزارہزار باتیں دل میں لیے اور خاموش لب۔دوسرا شعر حافظ شیراز کی اس غزل کا یہ ہے کہ ۔

بہ بانگ چنگ می گوئیم آں حکایت ہا

کہ ازتفتن آں دیگ سینہ می زد جوش

یعنی میں ’’چنگ‘‘ کی آواز میں باتیں کر رہا ہوں کیوں کہ اس ابلتے ہوئے دیگ سے سینہ جل رہاہے، لیکن حافظ کا زمانہ دوسرا تھا اس زمانے میں اگر کوئی بات ’’بہ بانگ چنگ‘‘بھی کی جاتی تھی تو لوگ سن لیتے تھے، لیکن بقول خالد صاحب آج کے فتنہ ابلاغ نے اتنا شور مچایاہے کہ کوئی نہ تو کسی کی سنتاہے نہ سمجھتاہے ،سارے کے ساے بول رہے ہیں بلکہ ’’ابلاغ‘‘ کے بڑے بڑے ’’نقاروں‘‘ کی آوازوں میں ’’طوطے‘‘ کی آواز ہی کھوگئی ہے،اس میں شک نہیں کہ ’’ابلاغیہ‘‘ ایک رحمت تھی،اس فن شریف میں صرف اہل درد ہوتے تھے جو درد سنتے بھی تھے اورسمجھتے بھی تھے ۔

لیکن بہت سی دوسری نعمتوں کی طرح  جب سے یہ نعمت بھی کمرشلائز اورانڈسٹریلائز ہوچکی ہے تب سے یہ نعمت کے بجائے لعنت بنتی جارہی ہے، ایک ایسی قتل گاہ جہاں انسانیت ،اخلاقیات، شرافت اورضمیروں، ایمانوں کو بڑی بے دردی سے ’’پی آر‘‘ کی شیطانی قربان گاہ میں ذبح کیا جارہا ہے،مفادات اورکمائیوں کا ایک عفریت ہے جو سب کچھ نگلتاجارہاہے ،مذہب اخلاق ،شرافت، سچائی ، معصومیت،حیا،شرم ،ایمان ضمیر اوررشتے ناطے۔

ویسے بھی یہ ’’شور‘‘ باقاعدہ منصوبہ بندی سے مچایاجارہاہے کہ کوئی کسی کی نہ سنے، آزادی کے خوبصورت نام سے ہربکواس کو پذیرائی مل رہی ہے کیوں کہ ’’اس آزاد ابلاغیہ ‘‘ میں پرانی پابند ابلاغیہ کا دل نہیں بلکہ دماغ کارفرما ہے ایسی کوئی چیز باقی نہیں بچی ہے جسے کمائی  کی قربان گاہ پر ذبح کرکے چڑھایا نہ گیاہو۔ چنانچہ اس ابلاغیہ کے نسبتاً کمزورشعبے پرنٹ میڈیا میں کچھ ہو بھی تو جنگل میں مورناچا کس نے دیکھا ۔

ہنسو آج  اتنا کہ اس شور میں

صدا سسکیوں کی سنائی نہ دے

بیچارے خالد صاحب نے بھی اپنے دل کادرد ان دونوں کتابوں میں بکھیر اہواہے اور ان سارے المیوں کا ذکر کیاہے جو اس ملک کو لاحق ہوچکے ہیں۔

’’کرسیوں کے چند کیڑے‘‘ ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ ملک سارا کھا چکے ہیں بلکہ اس ملک  کے رہنے والوں کو بھی تقریباً کھاچکے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ کرسیوں کے یہ کیڑے کوئی ڈھکے چھپے یا وائرس کی طرح نہیں کہ مائیکروسکوپ کے بغیر نظر نہ آسکیں، بالکل سامنے ہیں ازحد موٹے اورخاندانوں کے  خاندان دن دھاڑے کھا رہے ہیں لیکن کوئی ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا کیوں ؟ اس کیوں کا جواب ہے ہمارے پاس لیکن وہ جواب اگر دے دیا تو سارے ’’مقدسات‘‘چیخ اٹھیں گے کیوں کہ کافر بنانے کی مشین ان کے پاس بے شمارہیں،اس لیے پوراجواب دینے کے بجائے صرف اتنا اشارہ کافی ہے کہ یہ ملک بنایاہی کیڑوں کے لیے گیاہے عوام تو کالانعام ہوتے ہیں اگر وہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کے لیے بنایاگیاہے۔ تو۔۔۔۔ ان کی کیابات کریں یہ تو ہیں ناداں۔

The post فتنہ ابلاغ اورکرسیوں کے کیڑے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2YqKeUH

یکم مئی 1886 محنت کشوں کا عالمی دن

آج پھر یکم مئی 1886 کا دن یاد آ رہا ہے۔ آج سے ٹھیک 134 سال قبل امریکا کے صنعتی شہر شکاگو کے محنت کشوں نے اپنے اوقات کار کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے دنیا بھر کے محنت کشوں کے لیے آٹھ گھنٹے اوقات کار مقرر کروائے تھے۔ آج جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو دنیا بھر میں ایک ایسی وبا یا بیماری پھیلی ہوئی ہے جس نے اب تک دنیا بھر میںدو لاکھ سے زائد انسانی جانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ دیکھیں یہ وبا کب تک چلے گی؟ اور کتنی زندگیاں نگل جائے گی۔

ہم اس سال یکم مئی کیسے منائیں جب دنیا بھر میں لاکھوں لوگ اس وبا سے براہ راست متاثر ہیں، وہیں تمام مذاہب کے ماننے والوں نے اپنی اپنی عبادت گاہوں کو بند کردیا ہے۔ حد تو یہ بھی ہے کہ  دنیا بھر کی مساجد میں باجماعت نماز پڑھنے پر بھی احتیاط کرنے کی پابندی لگا دی گئی ہے۔ امریکا اور اسرائیل سمیت عالمی طاقتیں بھی صورتحال سے پریشان ہیں۔ خیر ہم یکم مئی 1886 شکاگو کے شہدا کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئے ان کی جدوجہد کی مختصر سی تاریخ لکھ کر اپنے پاکستان کے محنت کشوں کو یہ باور کرا سکیں کہ کس طرح یہ حقوق شکاگو کے محنت کشوں نے ہمیں دلوائے تھے۔ جو اب اکیسویں صدی میں ہم سے چھینے جا رہے ہیں۔

یوں تو محنت کاروں، مظلوموں، غلاموں، مجبوروں، محکوموں کی بڑی طویل اور صدیوں پر محیط جدوجہد رہی ہے مگر جو کام 1886 میں امریکا کے صنعتی شہر شکاگو کے محنت کش کر گئے وہ رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ محنت کشوں نے اس سے قبل بھی بے شمار مرتبہ حاکموں کے خلاف جنگ لڑی اور جب سے دنیا طبقات میں بٹی ہے جدوجہد جاری رہی ابتدائی معاشرہ اشتراکی تھا، سب مل جل کر رہتے تھے، مل جل کر شکار کرتے تھے، مل جل کر کھا پی جاتے تھے۔

دنیا اس وقت طبقات میں الجھی جب زمین پر موجود کچھ طاقتور لوگوں نے ظلم کرتے ہوئے کمزور و غریب، مجبور اور محکوم لوگوں کو طاقت کے زور پر اپنا غلام بنا لیا اور زمین پر لکیریں لگا کر اپنا حق ملکیت کا دعویٰ کرنا شروع کردیاتو یوں دنیا طبقات میں بٹ گئی۔ اس وقت کے ظالم لوگ جبر اور ظلم کرکے کمزور لوگوں سے جبری مشقت لیتے تھے۔ بعض اوقات ہنٹر اور کوڑے مار مار کر کام لیا جاتا تھا۔ خیر مظلوموں کی جدوجہد جاری رہی، غلام نیلام بھی ہوتے رہے۔ مذاہب بھی آتے رہے، لوگوں کا شعور بھی بلند ہوتا رہا۔ سائنس بھی ترقی کرنے لگی اور محنت کش بغاوت بھی کرتے رہے ان کے کوئی اوقات کار بھی نہ تھے لیکن 18 ویں اور 19 ویں صدی میں مزدور طبقہ ابھرنا اور منظم ہونا شروع ہو گیا تھا۔

یہ وہ دور تھا جب صنعت لگنا شروع ہوگئی تھی۔ کوئلے اور بھاپ سے چلنے والے کارخانے اور انجمن مشینی دور میں داخل ہونا شروع ہوگئے تھے۔ یورپ ترقی کی راہ پر گامزن تھا، پاپائیت بھی زور و شور سے جاری تھی۔ 1789 میں فرانس میں ادھورا انقلاب بھی آچکا تھا، یورپ میں بعض ترقی پسند شاعر، ادیب، دانشور، قلم کار، صحافی اور سیاسی رہنما محنت کشوں کو منظم کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ اشتراکیت اور سوشلزم کے نعرے بلند ہو رہے تھے۔ کارل مارکس اور اینگلز کے نظریات بڑی تیزی سے پھیل رہے تھے۔ کمیونسٹ لیگ بن چکی تھی، ان کا مینوفیسٹو آگیا تھا۔ مزدور انجمن سازی کی جانب چل پڑے تھے۔ سرمایہ داری عروج پر تھی۔ یہ وہی وقت تھا جب 1886 آ گیا۔

عین اسی سال یکم مئی 1886کو امریکا کے صنعتی شہر شکاگو کے محنت کشوں نے اعلان بغاوت کردیا۔ آج سے ٹھیک 134 سال قبل یکم مئی کا تاریخی سانحہ پیش آیا جب انقلابی شعور سے لیس ایسے جوشیلے انقلابی اور جدوجہد کرنے والے سیاسی اور مزدور رہنما پیدا ہوچکے تھے، جنھوں نے مارکیٹ چوک پر (Hay)  رخ، نیا موڑ اور اپنا خون دے کر محنت کشوں کا سر فخر سے بلند کر دیا تھا۔ یہ محنت کش جمع تھے، ان محنت کشوں نے اس وقت کے حکمرانوں، مل مالکوں، کارخانہ داروں، صنعت کاروں، سرمایہ داروں کو للکارتے ہوئے کہا تھا کہ ظالم حکمرانوں، ہم بھی انسان ہیں۔ ہمیں بھی زندہ رہنے کا حق ہے، ہمارے اوقات کار مقرر کرو۔ ہمیں روزگار دو، ہماری تنخواہوں میں اضافہ کرو، وہ نعرے لگا رہے تھے۔

دنیا کے مزدور، ایک ہو جاؤ، سرمایہ داری، مردہ باد، وہ بلا رنگ و نسل و مذہب ایک تھے، پورا صنعتی شہر شکاگو جام ہو گیا تھا۔ ملوں، کارخانوں کی چمنیوں سے دھواں نکلنا بند ہو گیا تھا۔ یہ یکم مئی 1886 تھا۔ پھر صبح کے ایک اخبار میں کسی گمنام صحافی نے اپنا انقلابی فرض ادا کرتے ہوئے صفحہ اول پر یہ لکھا تھا جو تاریخ کا حصہ بن گیا۔ مزدورو! تمہاری لڑائی شروع ہوچکی ہے، آگے بڑھو فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا۔ اپنے اوقات کار مقرر کراؤ۔ اپنے مطالبات منوانے کے لیے جدوجہد جاری رکھو۔ حاکموں کو جھکنا پڑے گا۔ جیت اور فتح تمہاری ہوگی، ہمت نہ ہارنا، متحد رہنا، اسی میں تمہاری فتح ہے۔ اسی میں تمہاری بقا ہے۔ لڑتے رہنا، مطالبات کی منظوری تک، مزدور، اتحاد، زندہ باد۔

صحافی کی اس تحریر نے مزدوروں میں مزید جذبہ پیدا کردیا۔ محنت کشوں نے زوردار نعرے کے ساتھ آٹھ گھنٹے اوقات کار کا مطالبہ پیش کردیا۔ ہم آٹھ گھنٹے کام کریں گے۔ ہم آٹھ گھنٹے آرام کریں گے۔ ہم آٹھ گھنٹے اپنے اہل خانہ اور بیوی بچوں میں گزاریں گے۔ حکمرانوں، مل مالکوں، سرمایہ داروں کو محنت کشوں کا یہ نعرہ اور اتحاد پسند نہ آیا۔ انھوں نے محنت کشوں کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے۔ ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ نہتے، کمزور اور پرامن محنت کشوں کو لہولہان کردیا۔ شکاگو کی سڑکوں پر مزدوروں کا خون بہنے لگا۔ محنت کشوں کا امن کا سفید پرچم لہو سے سرخ ہو گیا۔ ایک محنت کش کی قمیض لہو سے تر ہوگئی، پھر انھوں نے لہو میں ڈوبے ہوئے سرخ پرچم کو ہی اپنا پرچم بنالیا اور فیصلہ کیا کہ سرخ پرچم ہی اب ہمارا پرچم ہے۔

اس وقت سے ہی سرخ و لال پرچم دنیا بھر کے محنت کشوں کا پرچم بن گیا۔ آخر کار حکمرانوں نے محنت کشوں کے مطالبات تسلیم کیے اور اس طرح آٹھ گھنٹے اوقات کار مقرر ہوئے۔ اس موقع پر محنت کشوں کے چار سرکردہ رہنماؤں، فشر، انجل، پیٹر سنز اور اسپائیز سمیت 7 رہنماؤں کو پھانسی کی سزا جعلی مقدمہ چلا کر سنا دی گئی۔ یہ رہنما دنیا سے تو چلے گئے مگر اپنا نام، اپنا کام اور اپنی تحریک چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے۔

بعدازاں 1917 میں روس میں محنت کشوں کا انقلاب آیا اپنی تحریک چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے۔ بعدازاں 1917 میں روس میں محنت کشوں کا انقلاب آیا اور حکومت بنائی سرخ جھنڈے پر درانتی اور ہتھوڑے کا نشان آج بھی موجود ہے۔ چین میں انقلاب آیا۔ آج دنیا انقلابوں کی لپیٹ میں ہے۔ یورپ اور اوقات 6 گھنٹے ہوگئے ہیں۔ یورپ میں مزدوروں کو کئی ایک مراعات حاصل ہیں لیکن ہمارے ملک پاکستان میں 1886 سے زیادہ مشکلات ہیں۔

آج پورے پاکستان میں آٹھ گھنٹے سے زیادہ اوقات کار ہیں۔ حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ مہنگائی ہے، بے روزگاری ہے، بیماری ہے، جہالت ہے، غربت ہے، خودکشی ہے، ٹریڈ یونین دم توڑ رہی ہیں۔ مزدور تقسیم در تقسیم ہو رہے ہیں۔ حکمرانوں، سرمایہ داروں، فرقہ پرستوں، سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اپنے ونگ بنا لیے ہیں۔ مزدور سیاسی جماعتوں کے علاوہ مذہب، فرقہ، زبان، قومیت، لسانیت اور علاقے کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم ہو رہے ہیں۔ آئیے ہم ایک مرتبہ پھر یکم مئی 1886 شکاگو کے شہدا کو خراج عقیدت اور سرخ سلام پیش کریں۔

The post یکم مئی 1886 محنت کشوں کا عالمی دن appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/35iIwpZ

کورونا وائرس اور پارلیمنٹ

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا کیسز اور اموات کی تعداد اندازوں سے 30 سے35 فیصد کم ہیں، اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنیوالے دنوں میں لاک ڈاؤن کی پابندیاں مزید نرم ہو سکتی ہیں۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے اموات کی شرح دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اگرچہ کورونا کے مریض بڑھ رہے ہیں تاہم وبا کی صورتحال کنٹرول میں ہے تاہم معاشی لحاظ سے بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے کیونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے برآمدات اور محاصل میں کمی آئی ہے۔

سندھ حکومت نے بھی لاک ڈاؤن سے متاثرہ ٹرانسپورٹرزکی پابندیوں میں نرمی کا عندیہ دیا ہے، تاہم وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے بدھ کو کورونا کے 404 نئے کیسز سامنے آنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ وہ اس سے پہلے بھی کورونا وائرس کے حوالہ سے ایس او پیز پر عملدرآمد میں تساہل کی شکایت کرچکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اندرون سندھ اور دیگر مضافاتی و دیہی علاقوں میں عوام سماجی فاصلہ اختیار کرنے سے گریز کر رہے ہیں جس سے کورونا کیسز کو بڑھنے کا موقع ملا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کورونا وائرس پر دنیا بھر میںجو انداز نظر سامنے آیا ہے وہ گلوبل ولیج میں شہروں میں پیدا ہونے والے شعور اور تبدیلیوں کا عمل ہے۔ ماہرین کی رائے ہے کہ وبائی امراض نے ہر عہد کے انسانی سماج اور اربن ماحول کو متاثر کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ کورونا سے بہت پہلے ہیضہ، طاعون ، ایڈز اور ایبولا کے نتیجہ میں شہری لائف اسٹائل تبدیلیوں سے دوچار ہوا، خلیج کے ملکوں میں زندگی کورونا کے اثرات کے باعث تبدیلیوں کے عمل سے گزر رہی ہے۔

میڈیا کے مطابق خوشحال اور معاشی اعتبار سے مضبوط ممالک بھی داخلی بحران کی نذر ہوگئے، جن ملکوں کے شہر رات کو جاگتے تھے، جہاں زندگی ہر غم سے آزاد تھی لیکن کورونا نے معاشی مصائب دو چند کردیے، اس وبائی مرض نے موت اور زندگی کے درمیان کشمکش تیز کردی ہے، ہلاکتوں نے جو زقند بھری ہے وہ تاریخ میں کسی بھی وبائی مرض سے زیادہ تحیر خیز ہے۔

ملک میں کورونا کے تجربہ سے ہمارے ڈاکٹروں اور طبی عملے کی برادری نے انسانی خدمت اور جذبہ کی نئی تاریخ رقم کی ہے، ہلاکتیں ہورہی ہیں، طبی آلات اور دیگر ضروری سہولتوں کا فقدان ہے، حفاظتی لباس کی تعداد برائے نام ہے، اس لیے اپنی سطح پر میڈیکل برادری جو کچھ کر رہی ہے وہ مستحسن اقدام ہے، کورونا سے جنگ جاری ہے، شکست کورونا کی ہوگی انسانی عزم کو فتح حاصل ہوگی، یہی وجہ ہے کہ میڈیا، میڈیکل دنیا اور حکومتیں ہلاکتوں کو روکنے کے لیے اشتراک عمل کے لیے بے حد محنت کررہی ہیں تاکہ انسان موت سے بچ سکے۔

دریں اثنا ملک بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 15ہزار 526 ہوگئی جب کہ مزید21 افراد دم توڑ گئے جس کے بعد کل اموات343 ہوگئیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں5827، سندھ5695، خیبرپختونخوا 2313، بلوچستان 978 ، اسلام آباد313، گلگت بلتستان335 جب کہ آزاد کشمیر میں67 مریض ہیں جب کہ3774 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں۔

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس کے تین افسران ڈی ایس پی انیس الدین، سینئر پیٹرول آفیسر قیصر اعوان اورلیڈی جونیئر پیٹرول آفیسر نبیلہ رحیم میں وائرس کی تصدیق ہوگئی۔ اس کے علاوہ ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں ایف بی آر کے سیکریٹری پراجیکٹس انور زیب خان میں کورونا کی تشخیص ہونے کے بعد ہیڈکوارٹرز کا ساتواں فلور بند کرکے تمام اسٹاف کو چھٹی دیدی گئی۔ اسلام آباد میں کورونا سے متاثرہ 297 افراد میں39 ہیلتھ ورکرز، بیرون ملک سے آنیوالے18، ایک مذہبی جماعت کے12افراد شامل ہیں۔ آئیسولیشن وارڈ میں 19مریض داخل ہیں جن میں16کی حالت بہتر جب کہ3  کی تشویشناک ہے۔

ملتان کے نشتر اسپتال میں کورونا کا60 سالہ مریض دم توڑ گیا، سورج میانی قبرستان میں اس کی تدفین کر دی گئی۔ محکمہ صحت نے ملتان کے چھ علاقے سیل اور چار علاقوں کو ڈی سیل کرنیکی درخواست کر دی۔ اسپتال میں جاں بحق ہونیوالے چار مشتبہ مریضوں کی رپورٹ مثبت آ گئی۔ سندھ میں کورونا سے مزید8 افراد جاںبحق ہوگئے مجموعی اموات 100ہوگئیں، 404 نئے مریض سامنے آنے کے بعد صوبے میں متاثرین کی تعداد 5 ہزار 695 ہوگئی۔

صحتیاب ہونیوالوں کی تعداد 1 ہزار 169 ہوگئی ہے۔ خیبر پختونخوا میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 8 افراد کورونا وائرس کے باعث جاں بحق ہوگئے جب کہ صوبے میں نئے 153 مریض رپورٹ ہونے کے ساتھ صوبے میں مریضوں کی تعداد 2313 تک پہنچ گئی ہے، آٹھ افراد جاں بحق ہونے کے بعد اموات 122 ہو گئیں، 52 مزید مریض صحت یاب ہوگئے جس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 614 ہوگئی۔ این ڈی ایم اے نے بلوچستان اورگلگت بلتستان کے اسپتالوں کے ڈاکٹروں اور طبی عملہ کے لیے حفاظتی سامان کی چوتھی کھیپ بھیج دی ہے۔ سامان میں سرجیکل ماسک، حفاظتی سوٹ، دستانے، سینیٹائزر کی بوتلیں، عینکیں، فیس شیلڈ اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔

وزارت قومی صحت کے مطابق پاکستان میں کورونا مریضوں کی بڑی تعداد مردوں کی ہے، وائرس سے انتقال کرنے والے 80 فیصد افراد 51 برس سے زائد عمرکے مرد ہیں۔ ان میں 71 فیصد دیگر جان لیوا امراض کا بھی شکار تھے۔ متاثرین میں65 فیصد 50 سال سے کم عمر ہیں۔ ادھر چیچہ وطنی میں کورونا وائرس سے متاثرہ مشتبہ خاتون چک نمبر 166 نائن ایل کی رہائشی بشراں بی بی انتقال کر گئیں جسے احتیاطی تدابیر کے تحت گاؤں کے قبرستان میں دفنا دیا گیا۔ لاہور کے علاقہ واپڈا ٹاؤن میں کورونا وبا کے سبب کالونی کے تمام گیٹ بند کر دیے گئے، متاثرہ بلاک سیل، کالونی کو آئسولیشن علاقہ قرار دے دیا گیا، ایکسپو سینٹر میں مریضوں کی تعداد 325 ہوگئی، قطر سے آنے والے مسافروں کو نجی یونیورسٹی قرنطینہ ہاسٹل میں شفٹ کر دیا گیا۔

عالمی ادارہ محنت نے کہا ہے کہ کورونا وائرس بحران کی وجہ سے دنیا کے نصف محنت کشوں کا روزگار خطرے میں پڑگیا ہے، لاکھوں مزدور بیروزگار ہوگئے ہیں اور غیر رسمی معیشت سے وابستہ مزدوروں کی آمدنی میں60 فی صد کمی آئی ہے۔ اور اسی تناظر میں ایشیا، افریقہ، امریکا میں 81فیصد ، ایشیا اور بحرالکاہل میں21.6 فیصد اور یورپ و وسطی ایشیا میں20 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔

کورونا نے بلاشبہ دنیا میں صحت کے مسائل سے بیداری کی لہر پیدا کی ہے۔ افریقہ کے صحارا صحرا سے لے کر عرب دنیا اور یورپ و ایشیا کے عوام کورونا سے ششدر ہیں، ان کے صف اول کے ماہرین طب کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیا کریں، کوئی ویکسین نہیں، ٹیبلٹ نہیں، انجکشن نہیں، آج بھی ویکسین کی تیاری کی اطلاعات ہیں مگر اس کی دستیابی میں 12 سے 14 ماہ کا عرصہ درکار ہوگا، امریکا میں بھی ایک اینٹی وائرل دوائی پر تجربات جاری ہیں۔

ڈاکٹروں کو یقین ہے کہ کورونا کا علاج دریافت کر لیا جائے گا، افریقہ اور دیگر گرم موسمی ملکوں میں کورونا کی شدت اور اس کے اثرات کے کم ہونے پر ماہرین میں تبادلہ خیال ہورہا ہے، بتایا جاتا ہے کہ گرم ترین استوائی خطوں میں کورونا وائرس کی پیش قدمی نسبتاً کورونا کے شدید متاثرہ ملکوں میں کم دیکھی گئی ہے ، اسی لیے امریکی ماہرین نے گزشتہ دنوں پیشگوئی کی تھی کہ سورج کی حدت اور شعاعوں سے کورونا کا زور ٹوٹنا شروع ہوجائے گا ۔

عوامی حلقوں میں بلاشبہ حکومت اور کورونا کی پالیسی پر بددلی اور عدم اطمینان کا تاثر رد نہیں کیا جاسکتا، کورونا کے مریض کو دق وسل اور جذام کے مریض کا درجہ نہیں ملنا چاہیے، کراچی میں کورونا مریضوں کی تدفین کے لیے قبرستان مخصوص کیے جارہے ہیں۔ عوام کے حافظہ میں روتھ فاؤ کا نام آج بھی محفوظ ہوگا، ایک غیر ملکی لڑکی نے جذامی مریضوں کے علاج کے لیے اپنی ساری زندگی وقف کردی تھی، اس زمانے میں جذام کے مریضوں کوبھی لوگ خود سے الگ کرتے تھے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال میں حکومت دل کشادہ رکھے، یہ قومی ابتلا کا مرحلہ ہے ، سیاسی اختلافات کو کورونا کے خاتمہ کی ملک گیرجدوجہد میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے، یہ المیہ ہے کہ کورونا کی روک تھام کی بنیادی پالیسی میں وفاق اور سندھ حکومت میں پیدا ہونے والا تضاد ابھی تک ختم نہیں ہوا، جھگڑا لاک ڈاؤن شروع کرنے میں بازی جیت لینے سے شروع ہوا، وفاق اس مخمصہ میں رہا کہ سندھ کو اچانک لاک ڈاؤن نہیں کرنا چاہیے۔

وزیراعظم عمران خان ابھی تک اپنے استدلال پر قائم ہیں کہ ٹوٹل لاک ڈاؤن سے بھوک ، بیروزگاری اور موت کے خطرات زیادہ ہوسکتے ہیں، بہرحال اس فکری اور انتظامی تفاوت کو مزید سیاسی اشتراک عمل کے ذریعے دور کیا جاسکتا ہے ، اب بھی وقت ہے، حکومت کورونا کو گریٹر قومی ایشو قرار دے کر آل پارٹیز کانفرنس بلاسکتی ہے ۔ جمہوریت کا اصل حسن پارلیمنٹ میں ہونے والے سنجیدہ مکالمے اور فکر انگیز ڈیبیٹس ہی تو ہیں۔

The post کورونا وائرس اور پارلیمنٹ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3aUpQht

نئے کپڑے اور چپل کا لالچ دے کر 9 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل

حیدرآباد: نئے کپڑے اور چپل کا لالچ دے کر 9 سالہ بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم گرفتار کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق حیدرآباد کے علاقے بنگالی پاڑے سے گزشتہ روز 9 سالہ کمسن بچی رخسار لاپتہ ہوگئی تھی۔ بچی کے والد کا کہنا تھا کہ رخسار دوپہر میں یہ کہہ کر نکلی تھی کہ ایک انکل نے سامان دینے کے لیے بلوایا ہے۔ اس کے ساتھ چھوٹا بھائی بھی تھا جسے قاتل نے یہ کہہ کر گھر واپس بھجوا دیا کہ وہ بہن کو سامان دے دے گا۔

بچی کے لاپتہ ہونے پر پولیس نے جائے وقوعہ سے لے کر بچی کے گھر تک جیو فینسنگ کا عمل شروع کر دیا۔ اور ایک ملزم کو گرفتار کرکے اس کی نشاندہی پر رات گئے آٹوبھان روڈ پر واقع ایک پارک سے برآمد کرلی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد تشدد کرکے قتل کیا گیا ہے، صدیق نامی ملزم کا تعلق اسی علاقے سے ہے، اسے سی سی ٹی وی کیمروں سے حاصل کی گئی فوٹیج کی مدد سے شناخت کیا گیا۔ ملزم ہی نے گرفتاری کے بعد تشتیش کے دوران لاش کی نشاندہی کی تھی۔ بچی کے چچا کی مدیت میں جی او آر تھانے میں رخسار کو نئے کپڑے اور چپلیں دلانے کے بہانے اغواء کا مقدمہ پہلے ہی درج ہے، اغواء کی ایف آئی آر میں ملزم کے خلاف زیادتی اور قتل کی دفعات بھی شامل کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ پچھلے سال بھی جی او آر کالونی میں ایک ملزم نے کمسن بہن بھائی کو اغواء کے بعد قتل کیا تھا اور بچی کی تشدد زدہ لاش لطیف آباد یونٹ دس کے زیر تعمیر مکان سے برآمد کی گئی تھی۔

The post نئے کپڑے اور چپل کا لالچ دے کر 9 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3d48gJs

Wednesday, 29 April 2020

کورونا کی آڑ میں مودی سرکار فاشسٹ ہندووتوا نظریے پرعمل پیرا ہے،وزیراعظم

 اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کورونا کی آڑ میں مودی سرکار فاشسٹ ہندووتوا نظریے پرعمل پیرا ہے۔

اپنی ٹوئٹ میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا جیسی عالمی وبا میں بھی مقبوضہ کشمیر میں فاشسٹ ہندوتوا، آر ایس ایس کی بالا دستی کا نظریہ اور جنگی جرائم جاری ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر اقوام متحدہ کا تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے لیکن مودی حکومت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کررہی ہے، نسل کشی اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی کوشش چوتھے جنیوا کنونشن اور بین الالقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف اقدامات کرے۔

The post کورونا کی آڑ میں مودی سرکار فاشسٹ ہندووتوا نظریے پرعمل پیرا ہے،وزیراعظم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2YpJC1P

پی آئی اے کا ایک اورفضائی میزبان کورونا کی زد میں آگیا

 کراچی: پی آئی اے کا ایک اورفضائی میزبان کورونا کی زد میں آگیا ہے۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق پی آئی اے کا ایک اورفلائٹ اسٹیورڈ (فضائی میزبان) صفدرعلی کورونا کی زد میں آگیا۔ صفدرعلی کا تعلق قومی ایئرلائن کے لاہوربیس سے ہے۔ صفدروطن واپس لانے والی پروازپرڈیوٹی پرمامورتھا جودودن قبل لندن سے براستہ دبئی کراچی پہنچا تھا۔

صفدرعلی پی آئی اے کے ہوٹل میں قرنطینہ میں تھا، کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پرفضائی میزبان کواسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ پی آئی اے کے عملے میں ایک ہفتے کے دوران یہ دوسرا واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔

The post پی آئی اے کا ایک اورفضائی میزبان کورونا کی زد میں آگیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2VQiMOk

نئے کپڑے اور چپل کا لالچ دے کر 9 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل

حیدرآباد: نئے کپڑے اور چپل کا لالچ دے کر 9 سالہ بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم گرفتار کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق حیدرآباد کے علاقے بنگالی پاڑے سے گزشتہ روز 9 سالہ کمسن بچی رخسار لاپتہ ہوگئی تھی۔ بچی کے والد کا کہنا تھا کہ رخسار دوپہر میں یہ کہہ کر نکلی تھی کہ ایک انکل نے سامان دینے کے لیے بلوایا ہے۔ اس کے ساتھ چھوٹا بھائی بھی تھا جسے قاتل نے یہ کہہ کر گھر واپس بھجوا دیا کہ وہ بہن کو سامان دے دے گا۔

بچی کے لاپتہ ہونے پر پولیس نے جائے وقوعہ سے لے کر بچی کے گھر تک جیو فینسنگ کا عمل شروع کر دیا۔ اور ایک ملزم کو گرفتار کرکے اس کی نشاندہی پر رات گئے آٹوبھان روڈ پر واقع ایک پارک سے برآمد کرلی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد تشدد کرکے قتل کیا گیا ہے، صدیق نامی ملزم کا تعلق اسی علاقے سے ہے، اسے سی سی ٹی وی کیمروں سے حاصل کی گئی فوٹیج کی مدد سے شناخت کیا گیا۔ ملزم ہی نے گرفتاری کے بعد تشتیش کے دوران لاش کی نشاندہی کی تھی۔ بچی کے چچا کی مدیت میں جی او آر تھانے میں رخسار کو نئے کپڑے اور چپلیں دلانے کے بہانے اغواء کا مقدمہ پہلے ہی درج ہے، اغواء کی ایف آئی آر میں ملزم کے خلاف زیادتی اور قتل کی دفعات بھی شامل کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ پچھلے سال بھی جی او آر کالونی میں ایک ملزم نے کمسن بہن بھائی کو اغواء کے بعد قتل کیا تھا اور بچی کی تشدد زدہ لاش لطیف آباد یونٹ دس کے زیر تعمیر مکان سے برآمد کی گئی تھی۔

The post نئے کپڑے اور چپل کا لالچ دے کر 9 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3d48gJs

کورونا وبا؛ سندھ کے سرکاری اسپتالوں کے لیے مزید حفاظتی سامان بھجوادیا گیا

نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ سیل نے صوبہ سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کے لیے کورونا وائرس کا حفاظتی سامان بھجوادیا ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان کے سندھ کو ارسال کئے سامان میں 2لاکھ 90ہزار 986 فیس ماسک ، 12 ہزار این-95 ماسک، 54 ہزار 692 حفاظتی سوٹ، 16ہزار 800 جوڑے دستانے، 9 ہزار 777 جوڑے شُو کور، 12 ہزار 571 سرجیکل کیپ، 6 ہزار 64 فیس شیلڈ اور 2 ہزار 387 حفاظتی عینکیں، 12ہزار سینیٹائزر کی 5سو ملی لیٹر والی بوتلیں اور 3ہزار 969 ڈاکٹروں کے گاؤن شامل ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان کو چوتھی کھیپ کا سامان پہلے ہی بھجوایا جا چکا ہے جبکہ پنجاب اور آزاد کشمیر کے اسپتالوں کو سامان کی ترسیل کا سلسلہ جاری ہے۔

The post کورونا وبا؛ سندھ کے سرکاری اسپتالوں کے لیے مزید حفاظتی سامان بھجوادیا گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2SmoMMS

یمن میں کورونا وائرس سے اوّلین ہلاکتیں، اقوامِ متحدہ کو تشویش

عدن: گزشتہ روز یمن میں کورونا وائرس سے پانچ افراد کے متاثر ہونے اور دو اوّلین ہلاکتوں کے بعد اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ جنگ زدہ یمن میں کورونا وائرس کی وبائی صورتِ حال زیادہ خطرناک اور ہلاکت خیز ہوسکتی ہے۔

یمن کے وزیرِ صحت نے گزشتہ روز مقامی سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو میں بتایا کہ ناول کورونا وائرس سے متاثرین اور ہلاک شدگان کا تعلق ساحلی شہر عدن سے ہے، جہاں اس اطلاع کے فوراً بعد 24 گھنٹے کا سخت کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ یمن میں گزشتہ پانچ سال سے حوثی باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان شدید جنگ جاری ہے جس کے نتیجے میں وہاں ہر طرف تباہی و بربادی کا راج ہے جبکہ یمنی عوام کی اکثریت کا گزارا امداد پر ہے کیونکہ ان کے ذرائع آمدن تقریباً ختم ہوچکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جنگ کے باعث بھوک اور طبّی سہولیات میں کمی کے شکار یمن میں کورونا وائرس کی وبا نہ صرف زیادہ تیزی سے پھیل سکتی ہے بلکہ زیادہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

The post یمن میں کورونا وائرس سے اوّلین ہلاکتیں، اقوامِ متحدہ کو تشویش appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/35iiO4J

کورونا سے نجات کی بحث

کورونا وائرس سے نمٹنے کی کوششیں ہر سطح پر جاری ہیں۔ عالمی میڈیا خدشات، امکانات، پیشگوئیوں اور خوشخبریوں سے لبریز ہے، پاکستان میں کورونا نے سماجی، معاشی اور سیاسی زندگی کو منجمد اور بے روح کردیا ہے، مگر بے سروسامانی کے باوجود چین اور عالمی مالیاتی اداروں سے امداد کی رسد کے سلسلہ جاری ہیں، حکومت نے متعدد اعلانات کیے جس کے تحت احساس پروگرام کے ذریعے خطیر رقم کی ضرورت مندوں میں تقسیم جاری ہے۔

پروگرام کے انتظامات اور وائرس کے سدباب میں البتہ ایس او پیز پر عملدرآمد میں بے ضابطگیوں کی ملک گیر شکایات بھی ملی ہیں تاہم ایک مربوط امدادی میکنزم کی باثمر حکمت عملی سے عوام کو جلد مستفید ہونا چاہیے اور دیہاڑی دار مزدوروں کی فوری امداد سے لے کر لاکھوں غربت زدہ عوام بدستور خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں لیکن امید کی ڈور ابھی ٹوٹی نہیں، کورونا سے بچاؤ اور اس کے مکمل و مستقل سدباب کے لیے تحقیق کے دروازے کھلے ہوئے ہیں، ملک بھر میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی ٹیمیں عوام میں بیداری کی لہر برپا کرنے میں مصروف ہیں، ان کی جانب سے کورونا کو غیر سنجیدہ نہ لینے کے ہولناک مضمرات پر مہم کا تسلسل بھی جاری ہے۔

لیکن المیہ یہ ہے کہ ایک طرف سسکتی انسانیت کو مہلک وبائی مرض کا سامنا ہے اور دوسری طرف ترقی یافتہ ملکوں نے اربوں کے امدادی پیکیجز کا شور تو برپا کیا ہے مگر جنوبی ایشیا سمیت تیسری دنیا کے غریب ملکوں تک یہ امداد اس انداز سے نہیں پہنچی کہ عوام جو بدترین لاک ڈاؤن کی زد میں ہیں اس امدادی ثمرات کے ٹریکل ڈاؤن سے مستفید ہوجائیں۔ مگر پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ کے مصداق غریب عوام دیگر ترقی پذیر ملکوں کی طرح وطن عزیز میں بھی ایک معاشی بریک تھروکے منتظر ہیں ۔ ہر چیز لاک ڈاؤن اور اس پر عملدرآمد کے ہونے یا نہ ہونے کی بحث کی نذر نہ ہو۔

چنانچہ امید و امداد کے اس افق پر کورونا سے متعلق تحقیق کی خبریں بھی گردش میں ہیں، چین کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کورونا دنیا کی جان اتنی آسانی سے نہیں چھوڑے گا، ان کی تحقیق کے مطابق وائرس موسمی شکل میں ایک بار پھر آئیگا جب کہ سنگاپور کی ایک یونیورسٹی نے پیش گوئی کی ہے کہ کورونا سال رواں ماہ جون میں ختم ہوجائیگاتاہم مختلف ممالک کے حوالہ سے وائرس کے خاتمہ کی مدت میں فرق دیکھا جا سکے گا، تحقیقی نتائج میں یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ دسمبر تک کورونا کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔حقیقت بھی اتنی پیچیدہ ہوچکی ہے کہ ہر ملک کے سائنسدان اور ماہرین صحت اپنی تھیوری، تحقیق، تصور، عملی امکانات اور زمینی حقائق و معروضی حالات کے مطابق اقدامات اور طبی ایجاد و ویکسین، دوا اور اینٹی باڈیز ادویہ کے دلچسپ تجربات بیان کرتے ہیں، ہوسکتا ہے ان ہی تجربات کی روشنی میں کوئی نسخہ کیمیا کسی طرف سے دکھی انسانیت کے کام آجائے۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس پریس بریفنگ میں چین سے اظہار ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ ہونا چاہیے ، امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ میں کہا تھا کہ ہم چین سے خوش نہیں ہیں، کیونکہ کورونا وائرس جہاں پیدا ہوا تھا اسے وہیں روکا جا سکتا تھا۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی سیاستدان عوام کے مسائل پر توجہ دیں جھوٹ کا سہارا نہ لیں۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے بعد سابقہ معمول پر واپسی ممکن نہیں، حکومتیں حرکت میں آئیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کووِڈ 19 کے بعد دنیا سابقہ معمول کی طرف واپس نہیں لوٹ سکے گی لہٰذا حکومتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک نئی اقتصادیات اور زیادہ روزگار کی فراہمی کے لیے حرکت میں آئیں۔ پاکستان میں عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر الانگو پیچو موتو نے کہا ہے کہ کورونا وائرس وبا کے طویل المیعاد اثرات سے نمٹنے کے لیے عالمی بینک پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر قریبی کام کررہا ہے، ایک ٹویٹر پیغام میں انھوں نے کہا کہ وبا کے تناظر میں پاکستان میں روزگار کے تحفظ کے لیے اقدامات جب کہ طبی اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی کے لیے پہلے سے جاری منصوبوں کے لیے40 ملین ڈالر کی رقم جاری کرچکا ہے انھوں نے کہا کہ ملک بھر میں وبا سے فرنٹ لائن میں لڑنے والے طبی عملہ اور امدادی کارکنوں کو ضروری حفاظتی لباس کی فراہمی کے لیے بینک تعاون کر رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اشیائے خورونوش کی برآمد پر 2ہفتوں کے لیے پابندی لگادی جائے، 65 ہزار نوجوانوں اور دیہاڑی دار مزدوروں کو روزگار فراہم کیا جائے، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ میں کورونا انفیکشن شرح کم ہونا حوصلہ افزا ہے تاہم کورونا وائرس دیہی علاقوں میں پھیلنا شروع ہوگیا ہے، انھوں نے شکوہ کیا کہ ہماری سنجیدہ کوششوں کے باوجود لوگ سماجی فاصلہ اختیار نہیں کررہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کی اس قلبی کیفیت کا عوام کو اندازہ کرلینا چاہیے، اب جب کہ لاک ڈاؤن میں عالمی سطح پر نرمی لائی جارہی ہے، سعودی عرب، اٹلی،جرمنی سمیت دیگر یورپی ممالک جزوی لاک ڈاؤن پر مائل ہیں، اس لیے ملک میں وائرس کے خاتمہ کی کوششیں مربوط طریقے سے جاری رکھنا اشد ضروری ہے۔

نیوزی لینڈ نے قوم کو نوید دی ہے کہ ملک سے کورونا کا خاتمہ کردیا گیا ہے، نیوزی لینڈ نے پہلے دن سے ہی’’ نو لاک ڈاؤن‘‘ کی حکمت عملی اختیار کی اور اس پر ثابت قدم رہا، دبئی اور متحدہ عرب امارات نے کورونا سے بچاؤ کے لیے کئی الیکٹرانک گیٹ بنائے، دھند اور واک تھرو گیٹس پر درجہ حرارت ریکارڈ کرنے کے ساتھ ہیلتھ کوڈ بھی وضع کیا۔ شکر ہے ملک میں رمضان المبارک میں مساجد میں نماز اور تراویح میں تمام جملہ ہدایات پر عمل ہو رہا ہے۔

بی بی سی نے مشہور مورخ یوال نوح حریری کا ایک انٹرویو نشر کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ کورونا کے خلاف جنگ میں گلوبل لیڈروں نے انسانیت کی خدمت کے لیے اجتماعی قیادت پیش نہیں کی،رہنما بلیم گیم میں مصروف ہیں جب کہ دنیا کو ایک جدید عالمی طبی سرویلینس سسٹم کی ضرورت ہے جو نوع انسانی کی باطنی، طبی، اعصابی کیفیات کا ڈیٹا تیار کرے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت لاک ڈاؤن کے اندر سے عوامی فلاح اور معاشی بحالی کا کوئی اقدام اٹھائے تاکہ عوام کو کورونا، بے روزگاری اور بھوک سے نجات مل جائے۔

The post کورونا سے نجات کی بحث appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2VNibNq

سندھ حکومت کا لاک ڈاؤن پابندیوں میں مزید نرمی کا فیصلہ

کراچی: لاک ڈاؤن پابندیوں سے متاثر ٹرانسپورٹرز کیلیے بڑی خبر، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں پبلک ٹرانسپورٹ کی بحالی کے حوالے سے تجاویز پر غور کیاگیا۔

ذرائع کا کہنا کے کہ آئندہ ہفتے سے اندرون شہر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کی بحالی کا امکان ہے جبکہ لاک ڈاؤن میں نرمی اور مرحلہ وار تجارتی مراکز کھولنے کے حوالے سے بھی اسی او پی تیار کرلیا گیا ہے، سندھ حکومت کے ذرائع کے مطابق انٹراسٹی پبلک ٹرانسپورٹ کو ایس او پی پر عمل کی صورت میں بحال کیاجائیگا تاہم انٹرسٹی پبلک ٹرانسپورٹ سروس کی بحالی فی الحال نہیں ہوگی، سندھ حکومت کی جانب سے لاک ڈاون پابندیوں میں کمی کا فیصلہ مشروط ہوگا۔

ایس او پیز پر عمل کے ساتھ کاروباری اور عوامی سرگرمیاں بحال کی جائیں گی، ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلی مرادعلی شاہ کی جانب سے لاک ڈاون پابندیوں کے حوالے سے حتمی اعلان ہوگا، وزیراعلی مرادعلی شاہ نے ان فیصلوں کے حوالے سے کابینہ ارکان، طبی ماہرین انتظامی افسران اور اعلی حکام سے مشاورت کی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ میں کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کے حوالے سے وزیراعلی مرادعلی شاہ وزیراعظم عمران خان اور دیگر اعلی حکام سے بھی رابطے کرینگے، فیصلہ کیا گیا ہے کہ اہم فیصلے قومی اتفاق رائے سے کیے جائیں گے۔

The post سندھ حکومت کا لاک ڈاؤن پابندیوں میں مزید نرمی کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2yX1Mgm

اسکول مالکان فیس میں 20 فیصد رعایت دینے کے پابند

کراچی:  سندھ بھر کے نجی اسکولوں کی فیسوں میں رعایت دینے کے معاملے پر محکمہ تعلیم سندھ نے نجی اسکولوں کو خصوصی احکام جاری کردیے۔

ڈائریکٹریٹ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ نے تمام نجی اسکولوں کو متنبہ کردیا ہے کہ تمام نجی اسکول ماہ اپریل اور مئی کی فیسوں میں 20 فیصد رعایت دینے کے پابند ہوں گے،تمام نجی اسکول تدریسی و غیر تدریسی عملے کو مکمل تنخواہ کی ادائیگی کریں گے، ڈائریکٹریٹ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ کے مطابق جو اسکول والدین سے فیس لے چکے ہیں وہ ریفنڈ کریں یا آئندہ ماہ کی فیس میں ایڈجسٹ کریں۔

تمام نجی اسکولوں میں تدریسی عمل 31 مئی تک معطل رہے گا، 31 مئی تک  ماہ گرما کی تعطیلات سندھ بھر کے اسکولوں میں ہوں گی،نجی اسکولوں کے انتظامی امور جاری رہیں گے،فیس وصولی اور تنخواہوں کی ادائیگی کے وقت اسکول میں ماسک پہننا لازم ہوگا،اسکول کے داخلی راستوں پر سینیٹائزر ہونا لازم ہے، 3 افراد سے زیادہ اسکول کے انتظامی دفتر میں ہونے پر پابندی ہوگی، کوئی اسکول طالب علم کو فیس وصولی کے لیے طلب نہیں کر سکتا۔

The post اسکول مالکان فیس میں 20 فیصد رعایت دینے کے پابند appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2YlvlTA

کورونا مریض کی تدفین کیلیے الگ قبرستان مختص

کراچی: میئرکراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ مریض کی تدفین کے لیے لواحقین قبرستان کے عملے سے تعاون کریں۔

قبر کے لیے پسند کی جگہ کے انتخاب یا مخصوص احاطوں میں تدفین پر اصرار نہ کریں کیونکہ کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کی تدفین کا طریقہ کار الگ ہے اس کے لیے علیحدہ سے قبرستان مختص کیے گئے ہیں، یہ بات میئر وسیم اختر نے بدھ کے روز فریئر ہال میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن ‘ انچارج قبرستان اقبال پرویز ، ڈپٹی ڈائریکٹر قبرستان سرور عالم اور افسران بھی اجلاس میں موجود تھے، میئر کراچی نے کہا کہ بعض افراد قبرستان میں پسند کی جگہ کے حصول پر بضد ہوتے ہیں جس کے باعث ہنگامہ آرائی اور امن و امان کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے انھوں نے کہا کہ ایسے عناصرسے کوئی رعایت نہیں کی جائیگی۔

عالمی ادارہ صحت اور دیگر اداروں نے بتایا ہے کہ مئی کا مہینہ انتہائی اہم ہے اور اس ماہ میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد انتہا کو چھوسکتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہم گھروں میں رہنے کو ترجیح دیں اور تمام احتیاطی تدابیر لازمی طور پر اختیار کریں، انھوں نے کہا کہ سرجانی ٹاؤن میں 13ایکڑ رقبے پر مشتمل نیا قبرستان بنایا گیا ہے جو کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کی تدفین کیلیے مختص کیا گیا ہے۔

انچارج قبرستان اقبال پرویز نے میئر کراچی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ  قبرستانوں کی کل تعداد 208 ہے جن میں 41 قبرستان کے ایم سی اور 89 قبرستان مختلف جماعتوں اور برادریوں کے ہیں جبکہ 78 قبرستان ڈی ایچ اے، ریلوے، سول ایوی ایشن اتھارٹی،جامعات اور دیگر اداروں کے زیرانتظام ہیں، تمام قبرستانوں میں کے ایم سی کا عملہ موجود ہے اورگورکن کو مخصوص حفاظتی لباس بھی فراہم کر دیے  ہیں۔

The post کورونا مریض کی تدفین کیلیے الگ قبرستان مختص appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2VMitnM

امریکا میں غائب ہونے والے کراچی کے نوجوان کی لاش مل گئی

کراچی: ایک برس قبل امریکی شہر ہیوسٹن سے  غائب ہوجانے والے 21 سالہ پاکستانی  نوجوان کی لاش مل گئی۔

ہیوسٹن کے لون اسٹار کالج میں زیر تعلیم زوہیر کی مدفن لاش ٹوڈ مشن کے قریب لوب لولی لین کے علاقے میں ملی لی، ایک سال کی طویل تحقیقات کے بعد گرفتار کیے جانے والے ملزمان نے اقرار جرم کرلیا ہے، مقتول زوہیرکا تعلق کراچی سے تھا جبکہ اس کے والد کلیم احمد قریشی جامعہ کراچی کے سابق طالب علم ہیں۔

21 سالہ زوہیرکلیم احمد قریشی کوڈکیتی کے دوران قتل کرنے کے بعد دفن کردیا گیا تھا، مقتول 26 اپریل 2019 کے بعد سے غائب تھا۔

The post امریکا میں غائب ہونے والے کراچی کے نوجوان کی لاش مل گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2SnMgBj

کراچی :لاک ڈاؤن کو بھی پولیس نے کمائی کا ذریعہ بنا لیا

کراچی:  حکومت سندھ کی جانب سے شہریوں کو کورونا وائرس سے بچانے کے لیے لگائے جانے والے لاک ڈاؤن کو بھی پولیس نے کمائی کا ذریعہ بنا لیا۔

ناکوں پر تعینات پولیس اہلکار مبینہ طور پر مال بردار گاڑیوں اور شہریوں کو روک کر نہ صرف بلاوجہ ہراساں کرتے ہیں بلکہ رشوت وصولی کا موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ، رشوت وصولی کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ایس ایس پی سینٹرل عارف اسلم راؤ نے ایس ایچ او یوسف پلازہ سب انسپکٹر انیلا قادر کو معطل کر کے ویسٹ ہیڈکوارٹر تبادلہ کردیا جبکہ رشوت وصولی میں ملوث اے ایس آئی سمیت 2 اہلکاروں کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا گیا۔

 

The post کراچی :لاک ڈاؤن کو بھی پولیس نے کمائی کا ذریعہ بنا لیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2VNNNCz

سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ میں جعلی بھرتیوں کا انکشاف

کراچی: سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ میں مبینہ جعلی بھرتیوں کا انکشاف ہوا ہے، چیف سیکریٹری اور سیکریٹری بلدیات کے مبینہ جعلی لیٹرز کے ذریعے ڈسٹرکٹ لاڑکانہ کے8 بوگس افسران کو سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ میں نہ صرف جوائننگ بلکہ پوسٹنگ بھی دیدی گئی ،گریڈ17،گریڈ16 اور گریڈ 11کے مذکورہ آٹھ افسران کو ڈسٹرکٹ لاڑکانہ کا ملازم ظاہر کیا گیا تھا،لیٹر تصدیق کیلیے محکمہ لوکل گورنمنٹ بھیجا گیا تو جعل سازی کا بھانڈا پھوٹ گیا،ایم ڈی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے مذکورہ آٹھوں ملازمین کی تعیناتی ختم کرکے تحقیقات کی ہدایت کردی،جعل سازی کے ذریعے بوگس افسران کی تعیناتی میں محکمہ بلدیات کے بعض اہم افسران کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ میں مبینہ جعلسازی سے 8بوگس افسران کی تعیناتیوں کا انکشاف ہوا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو17مارچ کو لوکل گورنمنٹ کا لیٹر موصول ہوا جس کا نمبرSO(G)HTP/LKDA/11-03-2020 بتایا جاتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ لیٹر کے ذریعے محکمہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ میں8 افسران وملازمین کی تعیناتی کی گئی اور ان افسران کو ضلع لاڑکانہ کا ملازم ظاہر کیا گیا تھا،ذرائع کے مطابق محکمہ لوکل گورنمنٹ کے مذکورہ بوگس لیٹر کے ذریعے 8 افسران وملازمین جس میں گریڈ 17کے تین افسران جس میں محسن گل،جہانزیب قاضی،پیر سجاد احمد جبکہ گریڈ16کے دو افسران جس میں طارق عزیزاور محمد پریل،گریڈ14 کااسد علی قریشی، گریڈ 11کا ملازم صدام حسین جبکہ گریڈ5 کا ملازم ظفر اقبال شامل ہیں کو محکمہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ میں نہ صرف جوائننگ کی ہدایت کی گئی بلکہ ان کی انتہائی دیدہ دلیری سے من پسند پوسٹنگ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی جس میں گریڈ17کے تین بوگس افسران میں سے دو کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر ملیر جبکہ ایک کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر سینٹرل تعینات کیا گیا،جبکہ 16گریڈ کے دو بوگس افسران میں سے ایک کو اسسٹنٹ ضلع جنوبی اور دوسرے کو اسسٹنٹ ضلع ملیر تعینات کیا گیا،اسی طرح گریڈ14 اور گریڈ11کے بوگس افسران کو سب انجینئر تعینات کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ جعلسازی کے ذریعے انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ بوگس افسران کی تعیناتیاں کرائی گئیں تاہم مذکورہ تعیناتیوں پر ایم ڈی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی ہدایت پرتعیناتیوں کا لیٹر تصدیق کیلیے لوکل گورنمنٹ بھیجا گیا تو لیٹر بوگس ہونے کا انکشاف ہوا،ذرائع کا کہنا ہے کہ لیٹر کے جعلی ہونے کی تصدیق پر ایم ڈی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی ہدایت پر مذکورہ آٹھوں افسران وملازمین کی تعیناتیاں کالعدم قرار دیدی گئی ہیں ۔

The post سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ میں جعلی بھرتیوں کا انکشاف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2SkHqo9

بھارت کا انتہا پسند چہرہ بے نقاب

امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی سالانہ رپورٹ جاری کر دی گئی جس میں سوڈان میں قابل ذکر پیش رفت اور بھارت میں تیزی سے گراوٹ کا ذکر کیا گیا ہے ، بھارت کو پہلی مرتبہ اقلیتوں کے لیے خطرناک ملک قرار دے دیا گیا جب کہ پاکستان کے متعدد مثبت اقدامات کا اعتراف کیا گیا ہے ، یہ رپورٹ مذہبی آزادی پر مبنی ہے، اس رپورٹ میں بھارت کو پہلی مرتبہ اقلیتوں کے لیے خطرناک ملک قرار دیا گیا ہے ، بھارت ’’خطرناک ممالک‘‘ کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔سالانہ رپورٹ میں متنازع بھارتی شہریت بل پر امریکی کمیشن نے شدید تنقید کی اور بابری مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کیے جانے پر شدید تنقید کی۔

رپورٹ میں امریکی کانگریس کو بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر سماعت جاری رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اسی رپورٹ میں پاکستان میں متعدد مثبت پیشرفتوں کا اعتراف کیا گیا ہے۔ جن میں کرتار پور راہداری کھولنا، پاکستان کی پہلا سکھ یونیورسٹی کھولنا، ہندو مندر کو دوبارہ کھولنا، توہین مذہب الزامات پر سپریم کورٹ اور اقلیتوں کے خلاف امتیازی مواد کے ساتھ تعلیمی مواد پر نظر ثانی کے پاکستانی حکومتی اقدامات بھی شامل ہیں۔ امریکی کمیشن کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ 2019 کی رپورٹ میں بھارت مذہبی آزادی کے نقشے میں تیزی سے نیچے آیا۔ 2019 میں بھارت میں اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت میں دوسری مدت کے لیے حکومت بنانے کے بعد بی جے پی نے مسلمانوں کو نشانہ بنایا، بی جے پی حکومت نے اقلیتوں پر تشدد اور عبادت گاہوں کی بے حرمتی کی کھلی اجازت دی۔ امریکی کمیشن رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بی جے پی کے حکومت میں گاؤ کشی کے نام پرہجومی تشدد معمول بن گئے ہیں، بھارتی حکومت تاحال اقلیت مخالف پالیسیوں پر کاربند ہے۔

امریکی رپورٹ میں بھارت کو خصوصی تشویش والے ممالک کی فہرست میں ڈالنے کی سفارش کی گئی ہے، مذہبی آزادی کے خلاف کام کرنے والے بھارتی حکام پر پابندی کی بھی سفارش کی گئی ہے، اقلیتوں کے خلاف تشدد کی مانیٹرنگ کے لیے فنڈ قائم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں امریکی سفارتخانہ اقلیتی کمیونٹی کے ساتھ روابط بڑھائے اور مذہب مخالف جرائم کی مخالفت کرے۔ سالانہ رپورٹ میں بھی 15 ممالک کو شدید خلاف ورزیوں کے لیے محکمہ خارجہ کی خصوصی نگاہ کی فہرست میں جگہ دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ ان میں چار ممالک، کیوبا ، نکاراگوا ، سوڈان اور ازبکستان ہیں جنھیں امریکی محکمہ خارجہ نے دسمبر 2019 میں اس فہرست میں شامل کیا تھا، دیگر 11 ملکوں میں افغانستان ، الجیریا ، آذربائیجان ، بحرین ، وسطی افریقی جمہوریہ ، مصر ، انڈونیشیا ، عراق ، قازقستان ، ملائیشیا ، اور ترکی شامل ہیں۔

The post بھارت کا انتہا پسند چہرہ بے نقاب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2yX1Oou

جھوٹے میڈیا کے جھوٹے لوگ

میرے والد مجھے وکیل بنانا چاہتے تھے یا پھر سی ایس پی دیکھنا چاہتے تھے لیکن میں صحافی بننا چاہتا تھا‘ میں نے لاء کی تعلیم درمیان میں چھوڑی‘ پنجاب یونیورسٹی سے بھاگا اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں جرنلزم میں داخلہ لے لیا‘ یونیورسٹی میں پہلی پوزیشن حاصل کی‘ گولڈ میڈل لیا اور 1992 میں نوائے وقت لاہور میں جاب کر لی‘ میری تنخواہ 14 سو روپے تھی اور کام چپڑاسی کا تھا‘ میں سینئرز کے لیے چائے لاتا تھا‘ کولر سے پانی لا کر دیتا تھا اور ان کے کندھے بھی دباتا تھا‘ میری کل صحافت سلگ رجسٹر اور پروف ریڈنگ تک محدود تھی‘ والد خوش حال تھے لیکن وہ مجھ سے ناراض تھے چناں چہ میرا کل اثاثہ 14 سو روپے تھے‘ میں ہزار مرتبہ تسلیم کر چکا ہوں میرے پاس سائیکل بھی نہیں تھی‘ میں روز چھ کلو میٹر پیدل چل کر دفتر پہنچتا تھا‘ کمرے کا کرایہ 18 سو روپے تھا‘ چار سو روپے کا ڈیفسٹ تھا‘ کھانا پینا اس کے علاوہ تھا۔

لہٰذا میں خسارہ پورا کرنے کے لیے دوسری نوکری پر مجبور ہوگیا‘ میں دن کے وقت نوائے وقت میں کام کرتا تھا اور شام کے وقت مون ڈائجسٹ میں ادیب جاودانی مرحوم کے لیے فیچرز لکھتا تھا‘ وہ مجھے ہزار روپے دیتے تھے اور یوں میں کھانے‘ پینے اور رہائش کے قابل ہوجاتا تھا‘ مجھے اس مشقت نے سبق دیا باعزت اور خوش حال زندگی کے لیے انسان کے پاس کام‘ کام اور کام کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہوتا لہٰذا وہ دن ہے اور آج کا دن ہے میں نے کسی بھی زمانے میں تین سے کم کام نہیں کیے‘ آپ میرے 28 سال پرانے کولیگز سے پوچھ لیں یہ میرے نظریات‘ میرے لائف اسٹائل اور میرے مزاج پر اعتراض کر سکتے ہیں لیکن میں نے پیدل زندگی سے لگژری لائف تک جتنی محنت کی یا میں آج بھی جتنی مشقت کرتا ہوں ان میں سے ہر شخص اس کی گواہی دے گا‘ لوگ مجھ سے ٹائم مینجمنٹ اور وقت کا زیادہ سے زیادہ استعمال سیکھتے ہیں۔

میں اعتراف کرتا ہوں میرے پاس اﷲ اور محنت کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا تھا‘ میرے پاس آج بھی اﷲ اور محنت کے سوا کچھ نہیں لیکن یہاں تک پہنچنے کے لیے مجھے جتنی ایڑیاں رگڑنا پڑیں‘ مجھے زندگی کے توے پر جتنا بیٹھنا پڑا یہ بھی میں جانتا ہوں یا پھر میرا اﷲ تاہم مجھے کوئی ملال‘ کوئی تاسف نہیں کیوں کہ باعزت‘ خوش حال زندگی کی ایک قیمت ہوتی ہے اور یہ قیمت ہر انسان کو دینی پڑتی ہے‘ میں نے یہ دی مگر اﷲ نے مجھ پر اس قیمت سے زیادہ رحم فرمایا‘ یہ ہے اس جھوٹے میڈیا کے ایک جھوٹے ورکر کی جھوٹی داستان‘ اس جھوٹے ورکر کی داستان جو 15 سال فرش پر سوتا رہا‘ جو 30 سال سے روز لکھ رہا ہے اور جس کی زندگی میں ایک بھی دن ایسا نہیں گزرا جس میں اس نے کمر سیدھی کرنے سے پہلے کام ختم نہ کیا ہو اور اگلے دن کے کام کا میز پر ڈھیر نہ لگایا ہو۔میں میڈیا کا وکیل نہیں ہوں‘ آپ اسے کوئی بھی گالی دے دیں‘ مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن آپ یہ ضرور یاد رکھیں اس میڈیا میں چند ایسے ضرور ہوں گے جنہوں نے مجھ سے بھی زیادہ محنت کی۔

جنہوں نے تنکا تنکا جوڑ کر گھونسلا بنایا اور جو مرنے تک اس گھونسلے میں تنکے جوڑتے رہیں گے ‘مجھے خطرہ ہے آپ کہیں گالی دیتے ہوئے ان لوگوں کی دل آزاری نہ کر بیٹھیں‘ آپ کہیں ان کی بددعا نہ لے بیٹھیں‘ دعویٰ صرف اﷲ کی ذات اور پھر ہمارے علماء کرام کی منہ پر سجتا ہے لیکن ڈرتے ڈرتے‘ اﷲ سے معافی مانگتے ہوئے ایک دعویٰ میں بھی کرنا چاہتا ہوں‘ دنیا میں میڈیا کے تین ورژن ہیں‘ پرنٹ‘ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا‘ میں شاید گنتی کے چند میڈیا ورکرز میں شامل ہوں جو تینوں میڈیم میں کام کر رہے ہیں‘ میں ہفتے میں چار کالم لکھتا ہوں‘ چار سیاسی پروگرام کرتا ہوں اور سوشل میڈیا کی تین کمپنیوں کا نگران بھی ہوں‘ آپ گوگل کر کے دیکھ لیں آپ کو دنیا بھر کی میڈیا انڈسٹری میں ایسے پاگل نہیں ملیں گے‘ میڈیا کی تین گیندیں اور چار بزنسز کی چار گیندیں کل سات گیندیں ہوا میں اچھالنا اور پکڑنا آسان کام نہیں ہوتا‘ اس کے لیے ’’سپر جھوٹا‘‘ ہونا پڑتا ہے لہٰذا میں تجربے کی بنیاد پر میڈیا کے بارے میں کچھ عرض کرنے کی پوزیشن میں ہوں اور میں وہ عرض کر رہا ہوں۔

میڈیا کی تین قسمیں ہیں‘ پرنٹ‘ الیکٹرانک اور سوشل‘ یہ تینوں مزید تین حصوں میں تقسیم ہیں‘ مشینری‘ سپورٹنگ اسٹاف اور چہرے‘ آپ مجھ سے اتفاق کریں گے مشینیں جھوٹی نہیں ہوتیں‘ پرنٹنگ پریس‘ مائیک‘ کیمرے‘ اسٹوڈیو‘ لائیٹس اور فیس بک‘ ٹویٹر اور یوٹیوب یہ صرف مشینیں ہیں‘ یہ جھوٹ یا سچ دونوں نہیں بول سکتیں‘ دوسرے نمبر پر سپورٹنگ اسٹاف آتا ہے‘ یہ لوگ چوکی دار سے ایڈیٹر اور ریسپشنسٹ سے سینئر پروڈیوسر تک ہوتے ہیں‘ یہ میڈیا کا نوے فیصد ہیں‘ یہ بھی سچ اور جھوٹ نہیں بول سکتے کیوں کہ ان کا کام صرف خبروں اور مٹیریل کو پراسیس کرنا ہوتا ہے اور تیسرے نمبر پر میڈیا کے فیس آتے ہیں۔

یہ وہ رپورٹر ہوتے ہیں عوام جن کے نام اور چہرے دیکھتے اور پڑھتے ہیں‘ یہ کالم نگار‘ رپورٹرز‘ نیوز اینکرز اور پروگراموں کے میزبان ہوتے ہیں‘ میں رپورٹرز اور نیوز اینکرز کو بھی سائیڈ پر کر دیتا ہوں کیوں کہ رپورٹر کی خبر اگر غلط ثابت ہو جائے تو وہ نوکری سے فارغ ہو جاتا ہے‘ نیوز اینکرز صرف خبریں پڑھتے ہیں‘ یہ ایک لفظ بھی اپنی طرف سے نہیں بولتے لہٰذا یہ بھی بے گناہ ہیں‘ پیچھے رہ جاتے ہیں کالم نگار اور پروگراموں کے میزبان‘ یہ گنتی کے چند لوگ ہیں‘ملک میں دس بڑے اینکرز ہوں گے اور اتنے ہی کالم نگار ‘ یہ وہ لوگ ہیں جو سچ اور جھوٹ بول سکتے ہیں لیکن یہ لوگ کل میڈیا کا ایک فیصد بھی نہیں بنتے لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں 99فیصد میڈیا بے قصور ہے۔

صرف ایک فیصد گندی مچھلیاں ہیں‘ آپ بے شک ان گندی مچھلیوں کو الگ کریں اور ان کی مرمت شروع کر دیں لیکن آپ مرمت سے پہلے کم از کم گناہ گار اور جھوٹے کا فیصلہ تو کر لیں‘ اﷲ تعالیٰ بھی حشر کے دن فرشتوں کی رپورٹ پر فیصلہ نہیں کرے گا‘ وہ بھی ہم اور ہمارے اعضاء سے پوچھے گا اور ہم باقاعدہ اپنا مقدمہ لڑیں گے لیکن آپ (نعوذ باللہ) اﷲ تعالیٰ سے بھی بڑے ہیں کہ آپ گناہ گاروں اور بے گناہوں کو الگ کیے بغیر سب کی مرمت کر رہے ہیں‘ آپ ہیں کون؟ آپ کے سامنے دس بیس پچاس اینکرز اور کالم نگار موجود ہیں‘ آپ بتائیں کس نے کب جھوٹ بولا اور اس جھوٹے کو میڈیا کے کسی شخص نے سپورٹ کیا‘ ڈاکٹر شاہد مسعود ہمارے کولیگ تھے‘ یہ جنوری 2018 میں زینب کے قاتل عمران علی کے 37فارن بینک اکاؤنٹس کا غلط دعویٰ کر بیٹھے‘ان کے پروگرام پر تین ماہ کے لیے پابندی لگ گئی۔

پورے میڈیا میں کسی نے ان کا ساتھ نہیں دیا‘ یہ پی ٹی وی کرپشن کیس میں گرفتار ہوئے‘ جیل گئے‘ کسی نے اس وقت بھی ان کی مدد نہیں کی‘ میڈیا کا کوئی کارکن آج بھی ان کے ساتھ کھڑا نہیں ہوتا تاہم یہ درست ہے میڈیا سے متعلق چند لوگوں نے حکومتیں جوائن کیں مگر وہ لوگ آج کہاں ہیں؟ میڈیا نے ان کو ’’ڈس اون‘‘ کر دیا‘ وہ ماضی کا قصہ بن چکے ہیں‘ میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں الیکٹرانک میڈیا میں دو قسم کے اینکرز ہیں‘ جرنلسٹ اینکرز اور نان جرنلسٹ اینکرز‘ آپ کسی جرنلسٹ اینکر پر انگلی رکھ کر بتائیں اس نے فلاں وقت فلاں جھوٹ بولا تھا یا اس نے مائیک اور کیمرے کے ذریعے فلاں کو بلیک میل کیا تھا؟آپ کوئی نام لیں میڈیا انڈسٹری آ پ کا ساتھ دے گی تاہم یہ سچ ہے نان جرنلسٹ اینکرز کی وجہ سے میڈیا کو کئی بار سبکی اٹھانی پڑی لیکن کسی صحافی نے ان لوگوں کا ساتھ نہیں دیا۔

باقی رہ گیا میڈیا کا کنٹری بیوشن تو تازہ ترین تاریخ میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا سکینڈل ہو‘ پاناما سکینڈل ہو‘ فارن فنڈنگ کیس ہو یا پھر آٹا اور چینی سکینڈل کی رپورٹ ہو‘ قوم‘ حکومت اور عدالتوں کو یہ تمام کیچ میڈیا سے ملے تھے‘ کورونا کے بارے میں بھی میڈیا نے حکومتوں کو بتایا تھا‘ آپ آج دن میں دس دس مرتبہ ہاتھ دھوتے ہیں یا لوگوں سے دور رہتے ہیں تو یہ اس جھوٹے میڈیا کی مہربانی ہے جب کہ علماء کرام تو آج بھی کورونا کو یہودونصاریٰ کی سازش قرار دے رہے ہیں‘ یہ آج سوا دو لاکھ ہلاکتوں کے باوجود اسے نہیں مان رہے‘ یہ تو تفتان اور رائے ونڈ کے ذریعے اسے پورے ملک میں پھیلاتے رہے تھے چناں چہ میڈیا پر نظر آنے والے تیس چالیس پچاس لوگ جھوٹے ہوں گے لیکن آپ کم از کم قوم کو ان کے جھوٹ تو بتا دیں‘ ان کا جرم تو دنیا کے سامنے رکھ دیں‘ آپ میں اور چنگیز خان میں کوئی فرق توہونا چاہیے‘ وہ بھی لوگوں کو لٹکاتا پہلے تھا اور جرم بعد میں بتاتا تھا اور آپ نے بھی یہ کام شروع کر دیا۔

باقی رہ گیا سائیکل سے فائیو اسٹار لگژری زندگی تک کا سفر تو یہ حقیقت ہے میڈیا کے ایک فیصد لوگ خوش حال ہوئے لیکن اس خوش حالی کے لیے انھیں تیس سال لگے اور تیس سال کتنا بڑا عرصہ ہوتا ہے آپ اپنے دائیں بائیں دیکھ لیں‘ تیس برسوں میں ریڑھیاں لگانے والے کھرب پتی بن گئے‘ ٹھیکے دار اور بیوپاری بزنس ٹائی کون ہو گئے اور اے ایس پی‘ اسسٹنٹ کمشنر اور وکیل ملک میںآئی جی‘ فیڈرل سیکریٹری اور چیف جسٹس بن گئے‘ بیس پچیس تیس سال اتنا بڑا عرصہ ہوتا ہے کہ اس میں ایک ریٹائر کرکٹر ملک کا وزیراعظم بن جاتا ہے اور کالج کا ڈراپ آؤٹ اسٹوڈنٹ مولانا طارق جمیل‘ وقت اور محنت کیڑوں کو بھی نواز دیتی ہے۔

یہ مٹی اور گوبر کا مقدر بھی بدل دیتی ہے جب کہ ہم تو انسان ہیں‘ لوگ ہم سے زیادہ محنت کریںگے یہ ہم سے بھی آگے نکل جائیں گے تاہم نئے کام یاب ہونے والے یہ ضرور یاد رکھیں یہ بھی جب کام یاب ہوں گے تو لوگ ان کو بھی جھوٹا‘ درباری اور لفافہ ضرور کہیں گے‘ یہ ان کی کام یابی کی قیمت ہو گی اور ناکام اور چھوٹے معاشروں میں کام یاب لوگوں کو یہ قیمت ہر صورت چکانا پڑتی ہے‘ آپ اگر یہ چکا سکتے ہیں تو آگے بڑھیں ورنہ پتھر اٹھائیں اور اپنے سے آگے چلنے والوں کو مار مار کر زندگی گزار دیں‘ آپ کو کوئی برا نہیں کہے گا‘ لوگ آپ کے لیے تالی بجائیں گے۔

The post جھوٹے میڈیا کے جھوٹے لوگ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2zKjO6b

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...