Urdu news

Friday, 31 July 2020

ملک کو لوٹنے والے نیب قانون میں ترمیم چاہتے ہیں، شیخ رشید

 اسلام آباد: وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ ملک کو لوٹنے والے نیب قانون میں ترمیم چاہتے ہیں۔

لیاقت باغ راولپنڈی میں نماز عید کی ادائیگی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ کورونا میں عید منارہے ہیں پوری قوم بہت احتیاط کرے، آج بھارت اور چین کے کیا حالات ہیں، ساری معیشت تباہ ہوچکی ہے، اسی طرح پاکستان کی معیشت بھی متاثر ہوئی ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ملک کو لوٹنے والے نیب قانون میں ترمیم چاہتے ہیں، جو چاہتے ہیں کہ نیب قوانین میں ترامیم ہو تو ایسا کبھی نہیں ہوگا،عمران خان آخری شخص ہوگا جو نیب قانون میں ترمیم کرے گا، وزیراعظم عمران خان کہیں نہیں جارہے، اپوزیشن اگست اور ستمبر میں شور شرابا ضرور کرے گی، ان کا جمہوری حق ہے، مولانا فضل الرحمان بات کو سمجھیں، اگر کسی نے قانون توڑنے کی کوشش کی تو اب حالات ویسے نہیں ہیں، کشمیر میں ایک سال سے کرفیو ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ بھارت میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر تعمیر کیا جارہا ہے یہ پوری امت مسلمہ کے لیے ایک پیغام ہے، کشمیر میں ایک سال سے کرفیو ہے، بھارت رافیل طیارے منگوا رہا ہے، مودی کو بتانا چاہتا ہوں پاکستانی سائنسدانوں نے ایسا کام کیا ہے کہ بھارت نیست و نابوت ہوجائے گا۔

وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ چینی، آٹا اور پیٹرول کے تین سکینڈل آچکے ہیں، چوتھا سکینڈل یوٹیلیٹی اسٹور کا ہے، عمران خان اسکینڈل میں ملوث افراد کو نہیں چھوڑے گا۔ مانتا ہوں کہ ملک میں مہنگائی ہوئی ہے، عمران خان آٹا اور چینی سبسڈی میں دے کر یہ اشیا سستا فراہم کریں گے۔

 

The post ملک کو لوٹنے والے نیب قانون میں ترمیم چاہتے ہیں، شیخ رشید appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3k3gKob

کورونا آزمائش، رحمت کا درکھلا ہے

آج اہل وطن عید الضحیٰ منا رہے ہیں، مسلمانوں کے لیے یہ عید سعید بابرکت ہونے کے ساتھ سنت ابراہیمی کی پیروی کرنے کا عملی موقعہ فراہم کرتی ہے۔

نبی آخرالزماں حضرت محمدﷺ نے خطبہ الحجۃ الوداع کے موقعے پر پورے عالم کے لیے جو منشور انسانیت پیش کیا تھا ، اسی پر عمل پیرا ہونے میں  عالم انسانیت کی فلاح وبھلائی پوشیدہ ہے۔ اس بار یہ عید ایک عالمی وبا کی موجودگی میں آئی ہے اور اسی تناظرکی روشنی میں امام خانہ کعبہ شیخ عبداللہ بن سلیمان نے مسجد نمرہ سے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا کہ کورونا اگر آزمائش ہے تواللہ کی رحمت کے دروازے بھی کھلے ہیں اورہمارے گناہوں کی وجہ سے ہی اللہ نے ہمیں اس آزمائش میں ڈالا۔

نبی کریمﷺ ہمارے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے، تقویٰ اختیار کرنے والے تنگ دستی سے دور رہتے ہیں، تم لوگوں کو تقویٰ کی نصیحت کی جاتی ہے،آج بہت بڑی تعداد میں مسلمان اللہ کی تعلیمات سے غافل نظرآتے ہیں۔حج کا اجتماع آج بھی امت مسلمہ کیلیے اتحاد واتفاق کا اہم ذریعہ ہے، ہم نے فلسفہ حج وقربانی کومحض ایک رسمی عبادت تک محدودکر دیاہے، ہمیں چاہیے کہ حج وقربانی کے روحانی برکات واجتماع سے اپناجائزہ لیں قربانی کرتے وقت ہمیں غریبوں کاخاص خیال رکھنا چاہیے۔

درحقیقت عیدالاضحی ہمیں احکامات الہی کی پیروی کے لیے اپنی عزیز سے عزیزچیز بھی اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا پیغام دیتی ہے۔ مملکت خدا داد پاکستان کی بنیادوں میں لاتعداد شہیدوں کا لہو ہے اور اسلام دشمن قوتیں آئے دن اس کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتی ہیں ان اندرونی اور بیرونی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے معاشرے میں باہمی اتحاد، اتفاق، بھائی چارہ اور یگانگت کے کلچرکو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

عید الاضحی ہمیں سنت ابراہیمی پر کاربند رہنے کے لیے اس بات کا سبق دیتی ہے کہ دور حاضر میں ہر قسم کی ترغیب، مادیت پرستی اور دنیا کی محبت پر اس عظیم پیغام کو دل میں بسا لینا چاہیے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انسانیت اور ملت ابراھیمی کو دیا ہے۔ علامہ اقبال کا یہ شعر نئی نسل کے لیے مشعل راہ ہونا چاہیے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ

براہیمی نظر پیدا بڑی مشکل سے ہوتی ہے

ہوس چھپ چھپ کے سینوںمیں بنا لیتی ہیں تصویریں

عید الاضحی کے موقع پرکورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے یہ سادگی سے منائی جائے، احتیاط میں ہی حیات ہے اپنے اور اپنے پیاروں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے اس عید پر ذمے داری کا مظاہرہ انتہائی ضروری ہے، ہمارا ملک خوش قسمت ہے کہ اللہ پاک نے دیگر ممالک کی نسبت ہمیں ابھی تک کورونا وباء کی شدت سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔

جب کہ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کے خاتمے سے متعلق باتوں میں حقیقت نہیں کیوں کہ ابھی کورونا ہمارے درمیان موجود ہے اور روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کو متاثرکر رہا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی ترجمان مارگریٹ ہیرس نے جرمنی میں کورونا کیسز میں دوبارہ اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جرمنی جیسے ممالک میں کورونا کے کیسز میں دوبارہ اضافے کی وجہ ایس او پیز پر عمل نہ کرنا ہے۔

مارگریٹ ہیرس کا مزید کہنا تھا کہ کورونا وبا کو پہلی، دوسری یا تیسری لہر میں تقسیم کرنا یا بیان کرنا گمراہ کن عمل ہے کیونکہ کورونا وائرس توکہیں گیا ہی نہیں کہ کسی لہر میں واپس آجائے، یہ وائرس ہر وقت ہمارے ساتھ ہے اور ہمیں اس کے ساتھ جینا ہے۔ عالمی سطح پر دیکھا جائے تو امریکا، برازیل، میکسیکو اور جرمنی سمیت کئی ممالک میں کورونا وبا کے متاثرین کی تعداد میں خاطر خواہ کمی ہونے کے بعد دوبارہ سے نئے کیسز میں اضافہ ہوگیا ہے۔

اگر پاکستان کی بات کرتے ہیں تو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 20 ہزار 507 کورونا ٹیسٹ کیے گئے، ملک بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 78 ہزار تک جا پہنچی ہے جب کہ اس وائرس صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 47 ہزار ہوگئی ہے اور فعال کیسزکی تعداد 25 ہزار رہ گئی ہے۔ ماہرین طب کے مطابق احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔

سینیٹ نے بھی حکومت کی طرف سے پیش کردہ انسداد دہشتگردی (ترمیمی) بل اور اقوام متحدہ (سیکیورٹی کونسل) ترمیمی بل 2020کی کثرت رائے سے منظوری دیدی، بلزمیں اپوزیشن کی ترامیم بھی شامل کی گئی ہیں۔درحقیقت سینیٹ اور قومی اسمبلی نے فنانشل  ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے یہ بل کثرت رائے سے منظور کیے ہیں۔اب اس قانون سازی کو ایشیا پیسفک گروپ کو بھجوایا جائے گا امکان ہے کہ وہ جائزہ لے کر اکتوبر کے ’’پلانری‘‘ اجلاس میں پیش کرے گا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کافی عرصے سے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل کرانے کی کوشش کررہا ہے تاکہ ہم مالی مشکلات کا شکار رہیں ۔پاکستان نے تمام مراحل  طے کرلیے ، اب جواز نہیں بنتا کہ گرے لسٹ میں بدستور رکھا جائے ۔ ہم ان سطور کے ذریعے دعا گو ہیں کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکل کر وائٹ لسٹ میں آجائے تاکہ ملک کی مشکلات میں خاطر خواہ کمی آئے اور قوم کو اس ضمن میں خوشخبری سننے کو ملے۔

ایک جانب تو ان دونوں بلز کی منظوری حکومت اور اپوزیشن کا مشترکہ اور احسن اقدام ہے البتہ جے یو آئی (ف) نے دونوں بلزکی مخالفت کی ہے ، تاہم ن لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں نے بل کی حمایت کی‘اس موقعے پر مولانا فضل الرحمن کے بھائی مولانا عطاء الرحمن اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں سے سخت ناراض نظرآئے۔

اگلے روز اپوزیشن رہنماؤں شاہد خاقان عباسی ،شیری رحمن ،خواجہ آصف اورشاہد اختر علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئی این آر او نہیں مانگا،اپوزیشن ارکان نیب کو بھگت رہے ہیں‘حکومت اپنے آرڈیننس کا این آر او واپس لے آئے‘حکومت نے پارلیمان کا غلط استعمال کیا، ہم کوئی قانون بلڈوز نہیں کرنے دیں گے۔

نیب قوانین کے سلسلے میں حکومت اوراپوزیشن کی سیاسی جماعتوں میں شدید اختلاف رائے کی صورتحال کو کسی طور پر حوصلہ افزا نہیں کہا جاسکتا۔ اپوزیشن اور حکومت کو اس سلسلے میں گفت وشنید کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے تاکہ مسئلے کا پائیدار اور مثبت حل نکل سکے۔ارباب اختیارکو اپنی سیاسی روش میں متانت اور سنجیدگی کو جگہ دینا ہوگی، ملک کو مسائل کا سامنا ہے اور قوم کو ایک لیڈرشپ چاہیے جو سرنگ کی تاریکی سے اسے عہد حاضر کی سائنسی روشنی میں لے آ سکے۔

اس حقیقت کو سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ قانون کی حکمرانی آپشنل نہیں بلکہ اسے سیاسی اسٹیک ہولڈرز must سمجھیں۔ عوام کے سامنے سیاست دان اسٹریٹیجسٹ کی شکل میں ابھریں، قوم کو راستہ دکھائیں، نئی نسل کو ہر قسم کے تعصبات سے بالا تر رہتے ہوئے علم اور انسانیت سے محبت کا درس دیں۔ دینی اقدارکے فروغ کی سائنسی اور علمی روایت اورآدرش کو آگے بڑھانا ناگزیر ہے، معاشرے میں رحمدلی، مروت، ہمدردی اور صبروتحمل کی اشد ضرورت ہے، نئی نسل کو ایسی سیاست درکار ہے جو ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا ہنر بھی رکھتی ہو اور قوم کو نیا وژن بھی دے ۔

دوسری جانب کراچی کے ڈرینیج سسٹم (نکاسی آب کے نظام) کو ٹھیک کرنے کے لیے وزیراعظم نے سمری پر دستخط کردیے ہیں۔کراچی میں کچرے اور نالوں کی صفائی کا کام نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کو سونپ دیا گیا ہے،کچرا لینڈ فل سائٹ پہنچایا جائے گا، بند نالوں کو کھولا جائے گا اور لانگ ٹرم پلان مرتب دیا جائے گا۔ درحقیقت کراچی کو بلیم گیم نے شدید نقصان پہنچایا ہے، اس میں تمام صوبائی اورشہری اداروں کی غفلت کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کے اختلافات نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ کراچی کی حالیہ بارشوں میں بلدیاتی ادارے ناکامی کھل کر سامنے آئی ہے۔

اسی ضمن میں ایک بڑا مسئلہ ہے کہ نالوں پرغیرقانونی تعمیرات نے مسئلہ کی شدت میں اضافہ کیا ہے۔ نالوں پر قائم انکروچمنٹ اور قابضین کو ہٹانے کے لیے سندھ حکومت کو فعال کردارادا کرنا ہوگا۔کراچی کے جتنے بھی مسائل ہیں، ان کا حل مثبت انداز میں نکالنے سے شہریوں کو ریلیف ملے گا۔ البتہ عوام میں اس تاثرکو فوری طور پر رد کردینا چاہیے کہ سندھ میں کوئی متوازی حکومت قائم کی جارہی ہے۔

عید قربان پر بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کو پریشان کردیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات سمیت اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، عید پر جو خودساختہ مہنگائی ہوئی ہے اسے بھی کسی نے نہیں روکا ہے۔ آلو، پیاز، ٹماٹر اور مصالحہ جات کی قیمتیں دگنی ہوگئیں۔اس وقت ملک میں چینی سو روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے، شوگر مافیا طاقتور ہے ،حکومت کمزور ہے اور قوم مشکلات سے دوچار ہے، لیکن اس کو ریلیف فراہم کرنے والا کوئی نظر نہیں آرہا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ وزیراعظم کو کسی کو معاون رکھنے کا بھی اختیار نہ دیں تو نظام کیسے چلے گا۔عدالت نے دہری شہریت والے معاونین خصوصی کو عہدوں سے ہٹانے کی درخواست کی سماعت کے دوران یہ ریمارکس دیے ہیں۔ اس عدالتی فیصلے کی روشنی میں حکومت پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ معاونین سے بھرپورکام لے ، تاکہ عوام کی مشکلات میں کچھ نہ کچھ کمی آسکے۔

حرف آخر عیدالاضحی ایثار اور احساس کا پیغام بھی دیتی ہے جس پر تمام مسلمانوں کو عمل پیرا ہونے کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔ عید کی خوشیوں میں اپنے مستحق بھائیوں کو ضرور یاد رکھیں۔

The post کورونا آزمائش، رحمت کا درکھلا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2PfILuI

دورہ انگلینڈ؛ شاہد آفریدی کوٹیم سے عمدہ کارکردگی کی امیدیں

شاہد آفریدی نے دورہ انگلینڈ میں قومی کرکٹ ٹیم سے عمدہ کارکردگی کی امیدیں وابستہ کرلیں۔

پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ https://ift.tt/2QIuKoB کے پروگرام ’’کرکٹ کارنر ود سلیم خالق‘‘ میں گفتگوکرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ مشکل انگلش کنڈیشنز میں ڈرا سیریز بھی جیت کے برابر ہے،2016 میں کپتان مصباح الحق اور یونس خان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، دونوں انگلینڈ کے ماحول کا بہترین تجربہ رکھتے ہیں، کھلاڑیوں کو اچھی ٹیم مینجمنٹ کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے،کس سیشن میں کس حکمت عملی کے ساتھ کھیلنا ہے اس کیلیے پلیئرز کی بھرپور رہنمائی کرنے والے کوچز موجود ہیں،امید ہے کہ ٹیم  بیٹنگ اور بولنگ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔

بابر اعظم سے بلند توقعات وابستہ کیے جانے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ نوجوان بیٹسمین نے کوئی اضافی دباؤ لیا بلکہ کپتانی بھی ان کے کھیل پر اثر انداز نہیں ہوئی،بابر کی توجہ اپنی کارکردگی پر مرکوز ہے، انھیں بجا طور پر پاکستانی بیٹنگ میں ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جا سکتا ہے، آنے والے وقتوں میں وہ تن تنہا پاکستان کو میچز جتوائیں گے۔

ایک سوال پر سابق کپتان نے کہا کہ فاسٹ بولرز کے حوالے سے پاکستان کی مٹی بڑی زرخیز ہے، وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر کے بعد اب نیا ٹیلنٹ بھی نظر آرہا ہے،یہ پیسرز طویل عرصے کرکٹ کھیل سکتے ہیں، شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ باصلاحیت ہیں، محمد عباس، وہاب ریاض اور محمد عامر کا تجربہ بھی کارآمد ثابت ہوگا، پی ایس ایل سے مزید بولرز سامنے آئیں گے۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ شاداب خان ایک اچھے آل راؤنڈر بن سکتے ہیں، وہاب ریاض عمدہ پاور ہٹنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، عمادوسیم بھی بیٹ اور بال سے پرفارم کرنے کے اہل ہیں، آل راؤنڈر سے ٹیم کو 25 یا 30رنز اور بطور بولر اچھی کارکردگی درکار ہوتی ہے، کپتان کو اعتماد ہونا چاہیے کہ اسے کسی بھی بیٹنگ نمبر پر آزما سکے۔ انھوں نے کہا کہ شعیب ملک نے قومی ٹیم سے باہر ہونے کے دور میں بھی خود کو سپر فٹ رکھا، پاکستان آئندہ سیریز اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ان کے تجربے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

فلاحی کاموں سے صرف خدمت کی سیاست کرنا چاہتا ہوں

شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ میں صرف خدمت کی سیاست کرنا چاہتا ہوں،کورونا وائرس کی وجہ سے فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا موقع ملا، ملک بھر میں براہ راست لوگوں سے رابطہ کیا، خوش آئند بات یہ ہے کہ خود وائرس کا شکار ہونے سے قبل لوگوں تک خوراک وغیرہ پہنچانے کا موقع ملا، اس دوران کرکٹ سرگرمیوں سے دور رہا، ٹریننگ کا سلسلہ تو چلتا رہا، بیٹ اور بال کو ہاتھ نہیں لگایا، سیاست میں تو ہوں لیکن صرف خدمت کی سیاست کرنا چاہتا ہوں۔

انسانیت پر جہاں بھی ظلم ہو اس کے خلاف بولنا چاہیے

شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ انسانیت پر جہاں بھی ظلم ہو اس کے خلاف بولنا چاہیے، سوشل میڈیا پر بھارتی صارفین کی شدید مخالفت کے باوجود کڑوے حقائق بیان کرنے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ دنیا کا ہر مذہب انسانیت کا درس دیتا ہے،بطور مسلمان بھی جہاں ظلم ہو اس کے خلاف بولنا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ گوتم گھمبیر کے خلاف جنگ میدان میں تھی اور اس میں کوئی خرابی بھی نہیں، بہر حال اس طرح کی باتوں کا اثر عام زندگی پر نہیں ہونا چاہیے،میدان سے باہر سب دوست ہیں۔

عامر کا ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ درست تھا

شاہد آفریدی نے محمد عامرکا ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ درست قرار دے دیا، آل راؤنڈر کا کہنا ہے کہ جس کام سے لطف اندوز نہ ہوں اسے چھوڑ دینا چاہیے،ٹیسٹ  کرکٹ میں بولر کو نئی اور پرانی گیند سے سوئنگ کے ساتھ اسپیڈ کی بھی ضرورت ہوتی ہے، عامر کی نئی گیند سے تو اسپیڈ اچھی رہتی، پرانی سے مشکل پیش آتی،طویل فارمیٹ میں اس کے بغیر گزارا نہیں، اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اپنی فٹنس کو پیش نظر رکھتے ہوئے محمد عامر نے درست فیصلہ کیا۔

قومی ٹیم سیکھنے کا نہیں پرفارم کرنے کا پلیٹ فارم ہے

شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم سیکھنے کا نہیں کارکردگی دکھانے کا پلیٹ فارم ہے، کوچنگ کے لیے تو انڈر14 اور 16 کرکٹرز پر اکیڈمیز میں توجہ دینا مناسب ہے، جب کوئی کھلاڑی قومی ٹیم میں جگہ بنا لے تو اسے پرفارمنس کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے، سپورٹ اسٹاف میں موجود لوگ پلیئرز کو دباؤ میں بہتر کارکردگی دکھانے میں رہنمائی کر سکتے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ مشکل حالات میں ثابت قدم رہتے ہوئے کس طرح توجہ مرکوز رکھنا ہے،اسکلز کے بارے میں سکھانے کا کام جونیئر سطح پر ممکن ہے۔

پی ایس ایل 5 کی چیمپئن ٹیم کا فیصلہ مارچ میں ہی کر دینا چاہیے تھا

شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل 5 کی چیمپئن ٹیم کا فیصلہ مارچ میں ہی کر دینا چاہیے تھا،ایونٹ ختم کرنے کا اعلان کرکے لیگ مرحلے میں سرفہرست ٹیم کو ٹرافی دینا مناسب ہوتا لیکن پی سی بی کا خیال تھا کہ شاید حالات بہتر ہو جائیں گے،افسوس ایسا نہیں ہوا۔یاد رہے کہ مارچ میں کورونا وائرس کی وجہ سے پی ایس ایل کے پلے آف میچز ملتوی کردیے گئے تھے جن کے انعقاد کا امکان بھی نظر نہیں آتا۔

آفریدی نے ملتان سلطانز کی نمائندگی کو کامیاب تجربہ قرار دے دیا،انھوں نے کہا کہ پی ایس ایل 5 میں فرنچائز نے اچھی کوچنگ اور بہتر پلاننگ کی بدولت لیگ مرحلے میں ٹاپ پوزیشن حاصل کی، اینڈی فلاور، مشتاق احمد اور اظہر محمود نے ٹیم کو بھرپور سپورٹ فراہم کی، شان مسعود بطور کپتان گروم ہوئے، غیر ملکی کرکٹرز نے بھی اچھی کارکردگی دکھائی، اونر علی ترین نے معاملات بہتر انداز میں چلائے، ملتان سلطانز پر منحصر ہے کہ آئندہ سیزن کے لیے وہ میرے  ساتھ آگے بھی چلنا چاہتے ہیں یا پھر کوئی اور ٹیم میری خدمات حاصل کرتی ہے۔

کچھ کہنے سے پہلے کنیریا کو اپنے کردار پر نظر ڈالنا چاہیے

شاہد آفریدی نے دانش کنیریا کو اپنے کردار پر نظر ڈالنے کا مشورہ دے دیا، آل راؤنڈر کا کہنا ہے کہ میں نے بطور کپتان اور ایک عام کھلاڑی کے بھی ہمیشہ جونیئرز کو سپورٹ کیا، کئی کرکٹرز کا اپنے بچوں کی طرح خیال رکھا،انھیں بھائیوں کی طرح ساتھ لے کر چلا، دانش کنیریا بھی اچھے بچے تھے، اب 11،12 سال بعد انھوں نے بیان بازی شروع کر دی توبڑا عجیب سا لگ رہا ہے،کنیریا کے حوالے سے یہی کہوں گا کہ اپنا کردار دیکھو،تم نے پاکستان کا نام بدنام کیا،میں اسی لیے ان کی کسی بات کو سنجیدہ نہیں لیتا۔

ریٹائرمنٹ کا دل چاہتا ہے فینز اور فیملی کے لوگ روک دیتے ہیں

شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ جب تک جوش اور جذبہ برقرار ہے کرکٹ کھیلتا رہوں گا، دل تو چاہتا ہے کہ ریٹائرمنٹ لے لوں لیکن پرستاروں اور فیملی کا مطالبہ ہے کہ لیگز میں شرکت جاری رکھوں،خود بھی ابھی کھیل کیلیے جوش اور جذبہ محسوس کرتا ہوں، جب لگا کہ فٹنس ساتھ نہیں دے رہی، ٹیموں پر بوجھ بن رہا ہوں،جوش اور جذبہ برقرار نہیں رہا تو کرکٹ چھوڑ جاؤں گا۔

 

The post دورہ انگلینڈ؛ شاہد آفریدی کوٹیم سے عمدہ کارکردگی کی امیدیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3fkrgnF

ٹیسٹ سیریز؛ فتح کی 24 سالہ پیاس پاکستانی بے تابی برھانے لگی

کراچی: انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز فتح کی 24 سالہ پیاس پاکستانی بے تابی بڑھانے لگی جب کہ 1996 کے بعد سے اب تک5 ٹورز میں ٹرافی پر تنہا قبضے کی خواہش ادھوری رہی۔

پاکستان کرکٹ ٹیم انگلینڈ میں کئی ہفتوں سے ڈیرے ڈالے ہوئے ہے، وہ مقامی کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے کے لیے وارم اپ میچز بھی کھیل چکی، اس کی اصل آزمائش5اگست سے انگلش ٹیم کے خلاف 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز میں ہوگی۔ گرین کیپس کیلیے سب سے بڑا چیلنج انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز فتح کی 24 برس پرانی پیاس بجھانا ہے۔

آخری مرتبہ پاکستان نے انگلش ٹیم کو اس کے میدانوں پر 1996 میں 3 ٹیسٹ کی سیریز میں 0-2 سے شکست دی تھی،2001 میں جب پاکستان ٹیم دوبارہ انگلینڈ گئی تو 2 میچز کی سیریز 1-1 سے برابر رہی، 2006 کے تنازعات سے بھرپور ٹور میں پاکستان ٹیم کو 4 میچز کی سیریز میں 0-3 سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، گرین کیپس نے اگلا ٹور 2010 میں کیا جومیچ فکسنگ اسکینڈل کی وجہ سے آلودہ رہا، اس میں پاکستان ٹیم کو 4 ٹیسٹ میچز کی سیریز میں 3-1 سے شکست ہوئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گرین شرٹس کے اگلے دونوں ٹیسٹ دورے ڈرا ہوئے، 2016 میں 4 میچز کی سیریز 2-2 اور 2018 میں 3 ٹیسٹ کی سیریز 1-1 سے برابر رہی۔ اس بار سیریز کورونا وائرس کی وجہ سے مختلف صورتحال میں ہورہی ہے، گرین کیپس بائیو ببل میں ٹریننگ کررہے جبکہ یہ سیریز بھی بائیوسیکیور ماحول میں ہی کھیلی جائے گی، پاکستان کا انحصارایک بار پھر اپنے پیس اٹیک پر ہوگا جس میں اسے نسیم شاہ اور شاہین شاہ آفریدی جیسے نوجوان اور پْرجوش فاسٹ بولرز کا ساتھ حاصل ہے۔

انٹراسکواڈ میچز میں پاکستانی بیٹسمین خاطر خواہ پرفارم کرنے میں ناکام رہے تاہم ان سے اصل آزمائش میں زیادہ ذمہ داری کی توقع ہو رہی ہے، توقعات کا بہت زیادہ بوجھ بابر اعظم کے کندھوں پر ہوگا جنھوں نے سفیدکے بعد ریڈ بال کی کرکٹ میں بھی اپنی صلاحیتوں کو منوایا ہے، پیس اٹیک کو تباہی کا لائسنس فراہم کرنے کیلیے بیٹنگ لائن کو بہرحال 300 پلس کی اننگز کھیلنا ہوں گی۔

پہلے ٹیسٹ کے دوران بارش کا بھی خدشہ موجود ہوگا جس کی وجہ سے کھیل کا زیادہ تر حصہ متاثر ہوسکتا ہے، پیشگوئی کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان ٹیم مینجمنٹ کو ٹاس کے حوالے سے موزوں حکمت عملی تیار کرنا ہوگی۔

دریں اثنا گذشتہ روز قومی کرکٹرز نے  ٹریننگ نہیں کی، چونکہ باہر مسجد نہیں جا سکتے تھے اس لیے ہوٹل میں ہی سرفراز احمد کی امامت میں نماز عید ادا کی، کھلاڑیوں اور معاون اسٹاف نے ایک دوسرے کوگلے لگ کر مبارکباد دی، گرین کیپس اب ہفتے کی دوپہر12 بجے مانچسٹر روانہ ہوں گے جہاں 5اگست سے انگلینڈکیخلاف سیریز کا پہلا ٹیسٹ شیڈول ہے۔

 

The post ٹیسٹ سیریز؛ فتح کی 24 سالہ پیاس پاکستانی بے تابی برھانے لگی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/39KwfNb

فیصلے دینے والے امپائرز خود آزمائش میں پڑ گئے

لاہور: میدان میں فیصلے دینے والے امپائرز خود آزمائش میں پڑ گئے جب کہ پی سی بی نے نئے ڈومیسٹک سیزن سے قبل میچ آفیشلزکے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کرلیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے نئے ڈومیسٹک سیزن سے قبل میچ آفیشلزکی آئی سائیٹ اور کان چیک کرانے کا فیصلہ کیا ہے، سی ایم ایچ سے ٹیسٹ کرانے کے لیے خطوط لکھ دیے گئے ہیں، جہاں سی ایم ایچ نہیں وہاں کے میچ آفیشلز مقامی ڈی ایچ کیو سے ٹیسٹ کرائیں گے۔

ذرائع کے مطابق سی ایم ایچ نے انتظامی معاملات اور چھٹیوں کے باعث ٹیسٹ کرنے سے معذرت کرلی ہے،اس کے بعد تمام میچ آفیشلز ٹیسٹ کرانے کے لیے پریشانی کا شکار ہوگئے ہیں، بورڈ کا میڈیکل پینل متبادل آپشنز پرغور کررہا ہے، ماضی میں ریفریشرکورسز کے دوران میچ آفیشلز کے ٹیسٹ پی سی بی کی نگرانی میں ہوتے تھے۔

ذرائع کے مطابق میچ آفیشلز سے کرکٹ میں اہلیت سمیت  کوائف بھی طلب کئے گئے ہیں جس کے بعد اہم امپائرز کا مستقبل خطرے سے دوچار ہوگیا،3 انٹرنیشنل امپائرز آصف یعقوب، ضمیر حیدر اور شوذب رضا کا کیرئیر خطرے میں ہے۔

یاد رہے کہ بورڈ کے پینل آف امپائرز میں صرف15 فرسٹ کلاس اور انٹرنیشنل کرکٹرز شامل ہیں، اہلیت کی تفصیلات طلب کرنے پر میچ آفیشلز میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ترجمان پی سی بی کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر سی ایم ایچ سے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا، سی ایم ایچ کی معذرت کے بعد میڈیکل پینل متبادل آپشنز پر غور کررہا ہے،میچ آفیشلزکے کوائف طلب کرنا معمول کی بات ہے۔

 

The post فیصلے دینے والے امپائرز خود آزمائش میں پڑ گئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2PffRuQ

آن لائن جوئے کو فروغ دینے کاالزام،کوہلی کی گرفتاری کیلیے درخواست

لاہور: آن لائن جوئے کو فروغ دینے کے الزام میں ویرات کوہلی کیخلاف مدراس ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی۔

چنئی کے ایک وکیل نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے کہا کہ آن لائن جوئے کی ایپس نوجوانوں کا مستقبل تباہ کررہی ہیں،بھارتی کپتان ویرات کوہلی اور اداکارہ تمنا بھاٹیہ جیسے اسٹارز نئی نسل کا ذہن خراب کرنے کا باعث بن رہے ہیں،دونوں کو گرفتار کیا جائے۔

وکیل کا کہنا ہے کہ جوا کھیلنے والے نوجوان داؤ پر لگانے کیلیے بھاری سود پر قرض لیتے ہیں جس کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار ہوکر چند نے خودکشی بھی کرلی، دیگر لوگ کئی معاشرتی برائیوں میں بھی تیزی سے ملوث ہورہے ہیں، لہٰذا ہائیکورٹ فوری طور سخت ایکشن لے۔

 

The post آن لائن جوئے کو فروغ دینے کاالزام،کوہلی کی گرفتاری کیلیے درخواست appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2XgwI4R

فلسفۂ قربانی

انسان کی فطری و بنیادی خوبیوں میں سے ایک اہم ترین خصلت ایثار و قربانی ہے اور یہ وہ عظیم وصف ہے، جو انسان کو حیوان سے ممتاز بناتا ہے، ورنہ تو خود غرض اور مفاد پرست انسان اور ایک حیوان کے درمیان کوئی جوہری فرق کیا باقی رہ جاتا ہے ۔۔۔ ؟

ازروئے قرآن حکیم تو ایسے انسان حیوانات اور درندوں سے بھی بدتر ہیں، جنہیں خدا نے فطری طور پر اجتماعی شعور ودیعت فرمایا مگر وہ محض اپنی ذات اور خاندان کے مفاد تک ہی محدود اور محصور رہے۔ اب خیر سے قربانی کا دن آن پہنچا ہے۔ لیکن بنیادی مسئلہ حسب معمول ابھی تک مبہم اور غیر واضح ہے کہ یہ تمام تر مشقّت آخر کس مقصد کے لیے ہے ۔۔۔ ؟

کہنے اور سننے کی حد تک تو سبھی کا ماننا ہے کہ یہ عمل خدا کی خوش نُودی کے لیے سرانجام دیا جاتا ہے لیکن سماج اور معاشرے میں مطلوبہ نتائج پیدا نہ ہونے کے باعث لگتا یوں ہے کہ یہ عظیم الشان سنتِ ابراہیمیؑ اب محض ایک رسم اور دکھاوا بن چکی ہے۔

امام انسانیت سیّدنا ابراہیمؑ نے خدا کی خوش نُودی اور خلقِ خدا کی بہبود کے لیے آتشِ نمرود میں چھلانگ لگانے سے بھی اعراض نہ فرمایا اور پھر اپنے لاڈلے صاحب زادے سیّدنا اسمٰعیلؑ اور سیّدہ ہاجرہؓ کو خدا کے حکم سے بے آب و گیاہ صحرا میں چھوڑ دیا۔ بعدازاں ایک اور سخت ترین امتحان اپنے لاڈلے بیٹے کو قربان کر دینے کے حکمِ خداوندی سے شروع ہوا تو آپؑ کی ثابت قدمی و استقلال سے دُنبے کو ذبح کردینے پر منتج ہوگیا۔ اپنے چنیدہ بندے کی اطاعت شعاری و وفا کیشی کی یہ عظیم ادا خالق ارض و سماء کو اس قدر محبوب ٹھہری کہ تب سے ابد تک قربانی کی یہ سنّت ملّتِ ابراہیمی کا شعار، سنگھار اور حسنِ اظہار قرار پائی۔

بعض لوگ جب سطحی نظر سے قربانی کے لیے جانوروں کے ذبح کرنے کا مشاہدہ کرتے ہیں تو انہیں یہ عمل خدا نہ خواستہ خلافِ انسانیت اور ظلم دکھائی دیتا ہے، حالاں کہ عام حالات میں دورانِ سال اس سے کہیں زیادہ جانور اور پرندے انسانی خوراک بنتے ہیں تو اس کا کوئی نوٹس تک نہیں لیا جاتا، دوسرا یہ کہ کائنات کے اندر دیگر مخلوقات کے مقابلے میں انسانی شرف اور مقام کا صحیح ادراک نہ ہونے سے اس طرح کے جدید توّہمات کا پیدا ہونا کوئی اچنبھے کی بات بھی نہیں۔ اسی طرح ہم میں سے بعض مسلمانوں کا اخلاقی زوال اور ہمارے دُہرے معیارات بھی اِس طرز کی غلط فہمیوں اور فکری مغالطوں کی وجہ بنتے ہیں۔ نماز سے لے کر روزہ و قربانی تک تمام عبادات کا اساسی مقصد تقوٰی کا حصول ہے۔ قرآن حکیم سے ہمیں یہ راہ نمائی ملتی ہے کہ خدا تک ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بل کہ اس تک تمہارا تقوٰی پہنچتا ہے۔ آیت کریمہ کا یہ جزو قربانی کے فلسفے اور بنیادی مقصد کو واضح کرنے کے لیے خدائے بزرگ و برتر کا دوٹوک اور حتمی اعلان ہے۔

اب غور فرمائیے کہ بُخل اور حرص و طمع پر مبنی فکر و عمل سے ہماری تمام کوشش رائیگاں چلی جائے تو کس قدر بدنصیبی ہوگی ؟ ’’اپنے رب کے لیے نماز ادا کیجیے اور قربانی کیجیے۔‘‘ اور جب اپنے رب کی خاطر نماز اور قربانی کا اہتمام ہوگا تو یہ اعمال بندوں کے ظاہر و باطن میں وہ انقلاب پیدا کریں گے کہ اگلی آیت کریمہ کے مطابق: تمہارا دشمن ہی ابتر اور ذلیل و رُسوا ہوگا۔‘‘ جب نماز اور قربانی کا عمل بھی موجود ہو لیکن انسانی قلوب اور معاشرتی اسلوب میں تقوٰی و طہارت اور عدل و ایثار ناپید ہو تو پھر یک لمحہ سکوت و سکون سے سوچنا ہوگا کہ قربانی کی عظیم ترین سنّت ابراہیمی کہیں رسمِ محض تو بن کر نہیں رہ گئی ۔۔۔ ؟

خدا کو تو روح بلالی کے بغیر رسمِ اذان اور روح ابراہیمی کے سوا رسم قربانی کی کوئی حاجت اور ضرورت نہیں، وہ تو غنی اور بے نیاز ہے اور اُسے تو ان اعمال سے فقط ہماری اصلاح و فلاح اور ارتقاء مطلوب ہے تاکہ ہم اس کے مقرب و محبوب بن سکیں۔ ہمارے خالق و مالک کو بہ خوبی علم تھا کہ انسان نفع عاجل اور ظاہری مفاد کے حصول میں بے قرار مگر خفیہ و پائیدار فائدے سے بے زار رہتا ہے، سو قربانی کی غایتِ اصل یعنی تقوٰی کو بُھلا کر گوشت اور خون کے بہانے اور بڑھانے سے آگے نہ بڑھ پائے گا۔ یہی تو ایک انسان اور مسلمان کا امتحان ہے کہ وہ پائیدار و ناپائیدار میں سے کس کا انتخاب کرتا ہے ۔۔۔ ؟

سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ جو ’’بندۂ مومن‘‘ اپنی قربانی کے گوشت سے کسی مجبور اور ضرورت مند کو کچھ دینے سے معذور ہے بھلا وہ اپنی جان سے گوشت اور خون کب راہِ خدا میں قربان کرنے کی ہمّت کر سکے گا ۔۔۔ ؟

یاد رہے کہ ہر سال راہ خدا میں جانوروں کا خون بہانا دراصل ایک اعلی ترین نصب العین کی خاطر اپنے جان و مال کی قربانی کے لازوال انسانی جذبے کا اظہار کرنا ہے۔

قرآن حکیم کی ایک آیت کے مفہوم کے مطابق اﷲ تعالٰی نے مومنوں سے ان کی جان و مال کے عوض جنّت کا سودا کر چھوڑا ہے۔ ہماری تمام تر صلاحیتیں اور نعمتیں ہمارے پاس خدا کی امانت ہیں جب کہ دوسری طرف کرۂ ارضی پر آتش نمرودی بھی برابر بھڑکتی ہوئی دامن انسانیت کو خاکستر کیے جا رہی ہے۔

بہ قول ڈاکٹر محمد اقبالؒ

آگ ہے، اولاد ابراہیمؑ ہے، نمرود ہے

کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے

اگر ہماری قربانی ہمارے اندر موجودہ عالمی نمرودی نظام کے خلاف جدوجہد کا داعیہ پیدا نہیں کرتی تو اس کا مطلب ہے کہ ہم روح سے خالی رسمِ قربانی پر تو کاربند ہیں مگر تاحال ظلم و استحصال سے نفرت اور عدل و ایثار سے محبّت ہمارے اندر جاگزیں نہیں ہو سکی۔ المیہ یہ ہے کہ سرمایہ داری نظام سے انسانوں کی اصل فطرت اس قدر مسخ اور تباہ ہوچکی ہے کہ افراد کی اکثریت اپنی ناک سے آگے دیکھنا تک گوارا نہیں کرتی اور حکم رانوں سے لے کر عوام الناس تک سبھی انفرادیت پسندی اور مفاد پرستی کے مرض کا بُری طرح شکار ہو چکے ہیں۔

قربانی کا بنیادی مقصد ہی یہی ہے کہ ہم اپنی انانیت کو اجتماعیت کے اندر فنا کر ڈالیں اور دوسرے انسانوں کی بقاء و ارتقاء کے لیے اپنا تن، من اور دھن وار دیں۔ ابھی ماضی قریب کی معاشرتی و مذہبی روایت یہی تھی کہ قربانی کے گوشت کو تین برابر حصوں میں تقسیم کیا جاتا یعنی ایک محتاج اور غریب طبقے کے لیے، دوسرا عزیز و اقارب اور تیسرا حصہ گھر کے لیے رکھ لیا جاتا جس میں سے عید کے مہمانوں کی تواضع بھی کی جاتی۔ لیکن اب گزشتہ چند سالوں سے بعض افراد نے سارے گوشت کو گھر میں منجمد کرنے کی گنجائش تک نکال لی ہے جس سے عمومی حالات میں انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کہ جب لوگوں کی اکثریت کھاتی پیتی اور خوش حال ہو۔

مگر وطن عزیز میں تو اسّی فی صد آبادی غذائیت کی کمی کا شکار ہے اور گوشت، پھلوں کے بغیر سادہ و یک ساں خوراک پر گزر بسر کرتی ہے۔ نصف آبادی صرف گوشت چکھنے کے لیے سال بھر عیدِ قربان کی منتظر رہتی ہے، ایسے میں دوسروں کو مرعوب کرنے کے لیے منہگے ترین بکروں، گائے اور بیلوں کی نمائش اور قربانی کرکے ذخیرہ کر ڈالنا سنّت ابراہیمیؑ اور شریعت محمدیؐ کی اصل روح سے متصادم ہی ٹھہرے گا۔ جب معاشرے اور سماج میں اکثریت ضرورت مند اور محروم المعیشت طبقے کی ہوگی تو قربانی کے گوشت کو تقسیم کرکے حق داروں تک پہنچانا لازم ٹھہرے گا البتہ اگر معاشرہ خوش حال و ترقی یافتہ ہے تو گوشت کو ذخیرہ کر لینے میں بھی کوئی حرج نہ ہوگا۔

اسی لیے تو قرآن حکیم ہمیں تعلیم دیتا ہے ہم اس کا عملی مظاہرہ کریں کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اُس اﷲ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ گویا بندۂ خدا تو خدا کی منشاء و رضا میں مکمل فدا و فنا ہوتا ہے اور یہی قربانی کی عظیم الشان سنّت ابراہیمی کا مقصد و مدّعا بھی ہے ورنہ تو سبھی کچھ نمود و دکھاوا ہے۔

عید قرباں پر اپنے ڈیپ فریزر بھرنے سے احتراز کیجیے اور نادار و بے کس خلق خدا کا حصہ کشادہ دلی اور خندہ پیشانی سے ان تک پہنچائیے کہ یہی ایثار و قربانی کا درس اور قربانی کا مقصد و منشاء ہے۔

 

The post فلسفۂ قربانی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2XeDSq2

تسلیم و رضا کا عظیم مظاہرہ

تقابل ادیان کے تجزیہ نگار اور محقق اس حقیقت کا واضح ادراک رکھتے ہیں کہ دین خدائے لم یزل ہر اعتبار سے دیگر ادیان پر فوقیت اور برتری رکھتا ہے۔

اس بات کی اہمیت سے انکار کرنا گویا طلوعِ آفتاب سے انکار کرنے کے مترادف ہے۔ اسلام کی حقانیت اور صداقت کو دل و جان سے قبول کرنے والے اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ اسلام جہاں اپنے ماننے والوں پر اس کارگہہ حیات میں فانی زندگی کے ایام گزارنے کے لیے مذہبی، سماجی، معاشرتی اور سیاسی اعتبار سے شب و روز کے معمولات میں آسانیاں پیدا فرماتا ہے وہاں بعض غیرمعمولی حالات میں اپنے فداکاروں سے ایسی صبرآزما قربانیاں طلب کرتا ہے جن کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے اثرات بڑے دور رس ہوتے ہیں۔

ایسی جاں گداز آزمائشوں سے آتشِ نمرود کے بپھرے ہوئے شعلوں میں بے خطر کود جانے والے امام انسانیت کے ارفع منصب پر فائز ہو جاتے ہیں۔ ایسے خوش بخت لوگوں کا فردوسِ بریں کی جاں بخش بہاریں استقبال کرنے کے لیے بے تاب ہوتی ہیں۔

معرکہ ہائے تسلیم و رضا میں صدقِ خلیلؑ اور تسلیم و رضائے اسمٰعیلؑ ہر سال ایک نیا روپ لے کر دین خدا و مصطفٰے ﷺ کے علم برداروں کو زندگی بخش حقیقت کی نوید دینے کے لیے جلوہ گر ہوتا ہے۔ تذکرہِ قربانی اسمٰعیل ؑ سے پہلے اس بات کا بھی جائزہ لینا ہوگا کہ اگرچہ اسلام مالی قربانیاں پیش کرنے والوں کو بھی نہ صرف نجاتِ اُخروی کی نویدِ جاں فزا سے مالامال کرتا ہے بل کہ جنت کی کیف آفرین فضاؤں میں اُن کے مقامات کا تعین بھی کرتا ہے۔

مگر اپنے لختِ جگر کے گلے پر خود اپنے ہاتھوں سے چُھری چلا دینا اور پھر یہ بھی خیال رکھنا کہ کہیں اس لامثال اور عظیم الشان اور ارفع و اعلیٰ کام کو انجام دیتے وقت شفقتِ پِدری کروٹیں نہ لینے لگے اور اس نرالے اور جداگانہ حکمِ الٰہی کی انجام دہی میں یک سرِمو انحراف نہ ہوجائے۔ یہ نُدرت آفریں کارنامہ انجام دینا حضرت ابراہیم خلیل اﷲ اور حضرت اسمٰعیل ذبیح اﷲ کا ہی کام ہے۔ صدقِ خلیل اﷲ وہ جاودانہ ترکیب و اضافت ہے جو اہل ایمان کے حوصلوں کو نیا ولولہ اور تازگی عطا کرتی ہے۔

ہم سنتِ ابراہیمی کو یوں تو ہر برس اپنے روایتی انداز میں تازہ رکھنے کے لیے قربانی کرتے ہیں لیکن اس کا ایمان افروز پس منظر یاد رکھنا بہت ضروری ہے۔ نام لینا بہت آسان ہوتا ہے مگر شیطانی قوتوں کی بھرپُور اور گُم راہ کُن ترغیبات کو پائے استحقار سے ٹھکراتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو بے نیازانہ مقتل کی طرف لے چلنا اور بے مثال استقامت و عزیمت اور بے نظیر استقلال کے ساتھ اس انداز سے زمین پر لٹا دینا کہ چھُری کا چلنا یقینی امر بن جائے۔

اور پھر ذرا اُس رفعت ِ تخیّل کو ذہن میں لائیے جب سعادت مند بیٹا اپنے عظیم باپ سے خود عرض کر رہا ہے کہ ابا جان آنکھوں پر پٹی ضرور باندھ لیں کہ کہیں وہ فطری محبت کی غایت میرے گلے اور آپ کے ہاتھوں میں لرزش نہ پیدا کر دے اور حکم ِ خداوندی میں کوئی ناقابلِ معافی تساہل نہ واقع ہو جائے۔ چشم ِ فلک نے بہ ظاہر دل ربا مگر دل کو درد سے سرشار کر دینے والا ایسا منظر کبھی نہ دیکھا ہوگا۔ دستِ خلیل اﷲ نہ کپکپاتا ہے، نہ لرزتا ہے، نہ ڈگمگاتا ہے اور بیٹا موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چھری کو دیکھ کر مُسکراتا ہے۔ اس ظرفِ ابراہیمؑ و اسمٰعیلؑ کو دیکھ کر آسمان سے نِدا آتی ہے اے خلیل! تم نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا اب ہم اسے ذبحِ عظیم کے نام سے قیامت تک کے لیے باقی رکھیں گے۔

اے ابراہیم خلیل اﷲ! آپ کی شانِ فیاضی پر لاکھوں دُرہائے تاب دار نثار ہوتے رہیں گے کہ آپؑ نے اپنی متاعِ گراں بہا کو راہِ خداوندی میں نثار کرنے میں ذرا تامل سے کام نہیں لیا۔ اے سیّدنا ابراہیمؑ زمین کے اُتنے حصے پر جبین تقدیسِ محبت خم ہوتی رہے گی جہاں اسمٰعیلؑ کو لٹا کر آپؑ نے تسلیم و رضا کا اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ اے اسمٰعیل ذبیح اﷲ! تیرے آدابِ فرزندی کو نسیم ِ بہار، رحمتِ پروردگار کی صورت میں عقیدت کا نذرانہ پیش کرتی رہے گی۔

ستاروں کی رعنائی خورشیدِ جہاں تاب کی زرفشانی آپؑ کے جذبہ ِ اطاعت پر تاقیامت نثار ہوتی رہے گی۔ اہل ِ فراست کے فکر و نظر کی چاندنی تا ابد آپؑ پر نچھاور ہوتی رہے گی۔ ہر آنے والی صبحِ بہاراں اپنے حریم ِ گُلستاں کو اسمٰعیلؑ کی معصوم ادائے نیازمندی کی خوش بُو سے سجاتی رہے گی۔ سلام ہو ابراہیمؑ کے جذبۂ ایثار کو جو ہر سال فدایانِ اسلام کے دلوں میں نقشِ جمالِ عید کو مرتسم کرتا چلا جاتا ہے۔ سلام ہو اُس ذبح ِ عظیم کی اوج و رفعت کو جو اہل دل کی نگاہوں میں دلیل ِ عشقِ حقیقی بن کر راسخ تر ہوتی چلی جارہی ہے۔

عندلیبانِ گلستانِ جہاں اسمٰعیلؑ کی اُس معصومانہ مُسکراہٹ پر ہزار زمزمے نثار کرتے رہیں گے جو قربان گاہ کی جانب جاتے وقت ذوقِ شہادت سے معمور اُن لب ہائے نزاکت پر طاری تھے۔ اے فرزندِ ابراہیمؑ! آپ نے اہل دنیا کو بتا دیا کہ وہ زندگی ستاروں سے بھی زیادہ جھلملاتی اور پھولوں سے بھی زیادہ مُسکراتی ہے جو رضائے خالقِ کائنات پر نثار ہوتی ہے۔

قربانیِ اسمٰعیلؑ نے دنیا والوں کو یہ بھی بتا دیا کہ اُس ارتقا کو کبھی زوال کا شائبہ تک بھی نہیں ہوسکتا جس میں خلوص کی بُوئے حلاوت آتی ہو۔ اور یہ وہ اوج و کمال ہوتا ہے جو تا ابد عروسِ صبح کے رُخ سے نقاب اُلٹ کر دینِ ابراہیمی کے پیروکاروں کو اپنے دور کے ابراہیم کی تلاش کا درس دیتا ہے اور دنیا کے صنم کدوں میں لات و عزیٰ کو فنا کر دینے کی ترغیب دیتا رہے گا۔

 

The post تسلیم و رضا کا عظیم مظاہرہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/30fIkqt

خلیل و ذبیح اﷲ علیہ السلام کی فدائیت

تصور کیجیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں کا! کیسی آزمائش کی گھڑی رہی ہوگی حضرت ابراہیمؑ کے لیے جب نمرود نے دہکتی ہوئی آگ تیار کرائی تھی، ایک طرف نارِ نمرود اور اس کے وہ چیلے چپاٹے ہیں جو حضرت ابراہیمؑ کے آگ میں جلنے کا تماشا دیکھنے کے لیے بے تاب تھے، اور دوسری طرف حضرت ابراہیمؑ کا عشقِ حقیقی تھا جو بار بار آگ میں کودنے کے لیے بے تاب تھا، بالآخر حضرت ابراہیمؑ بے دھڑک آگ میں کود پڑے، اور خدائی فرمان: ’’اے آگ! تُو ٹھنڈی اور سلامتی بن جا حضرت ابراہیمؑ پر۔‘‘ کے حکم پر آگ اُن کا کچھ نہ بگاڑ سکی، اور دنیا نے دیکھا کہ آتشِ نمرود میں عشقِ حقیقی کس طرح پنپتا اور پروان چڑھتا ہے۔

پھر تصور میں لائیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی فدائیت کا کہ حکم ہوتا ہے اپنی بیوی اور بچے کو اُس سنسان وادی میں چھوڑ کر آئیے جہاں آدم نہ آدم زاد، ایسا ویرانہ جہاں صرف چلچلاتی دھوپ ہے، کھانا ہے نہ پانی، نہ کوئی قریب اور عزیز، کوئی خبر گیری کرنے والا اور نہ کوئی راہ گیر، جہاں نہ اپنوں کا معلوم اور نہ بیگانوں کی خیر خبر۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام خدا کا حکم پاتے ہی بیوی اور بچے کو اُس جھلسی ہوئی پہاڑیوں اور کھانے پانی سے خالی وادی میں چھوڑ کر آگئے، یہ بالکل نہ سوچا کہ اُس تپتی ہوئی وادی میں ممتا کی ماری ایک ماں اور شیرخوار بچے کا کیا ہوگا۔ بس اﷲ تعالی کا حکم ملتے ہی تعمیل کے لیے فوراً تیار ہوگئے اور حکم کو تجسیمی شکل دینے میں ذرّہ برابر بھی تاخیر نہ کی۔ حضرت ہاجرہؓ اور ان کے ننھے منے بچے پر اس وحشت ناک وادی میں کیا گذری؟ یہ بھی تاریخ کا ایک باب ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کی فدائیت کا مظہر ہے۔

اُس تپتی ہوئی وادی میں وہ شیرخوار بچہ جب دیوارِ کعبہ سے ایڑیاں رگڑتا تو ماں تڑپ تڑپ کر کبھی صفا کی طرف دیکھتی کہ شاید کوئی قافلہ نظر آجائے اور پانی مل جائے، اور کبھی دوڑتی ہوئی مروہ پر چڑھتی کہ شاید ادھر کوئی قافلہ گذرتا ہوا دکھائی دے، پھر بھاگی بھاگی بچے کو دیکھنے آتی کہ کس حال میں ہے، اس معصوم کو دیکھ کر پھر پانی کی تلاش میں صفا و مروہ کا چکر لگاتی، اور جب امید کی کوئی کرن نظر نہ آتی تو بے قرار ہوجاتی، کلیجہ منہ کو آنے لگتا، تاآں کہ اﷲ رب العزت نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لاڈلے کی ایڑیوں کی رگڑ سے پانی کا چشمہ جاری فرما دیا جو ’’زم زم‘‘ کے نام سے مشہور ہے، اور اُس وقت سے اب تک اسی طرح جاری ہے۔

اﷲ اکبر! فدائیت کا یہ نمونہ اب کون پیش کرسکتا ہے کہ ابھی ایک امتحان ختم نہیں ہوا کہ دوسرا شروع ہوگیا، جب بچہ بڑا ہوگیا اور بوڑھے باپ کو کچھ سہارا دینے کے لائق ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں دکھایا گیا کہ وہ اپنے لاڈلے کو اﷲ کی راہ میں قربان کررہے ہیں، چوں کہ انبیائے کرام علیہم السلام کا خواب بھی وحی کے درجے میں ہوتا ہے اِس لیے صبح اٹھتے ہی اس خواب کا تذکرہ اپنے بیٹے سے کیا، اِس موقع پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کوئی ہچکچاہٹ اور سراسیمگی نہیں ہوئی، اور نہ ہی کوئی قلق ہوا، کیوں کہ ان کا قلب حُبّ الہی سے سرشار تھا اور بہ طورِ امتحان بیٹے سے سوال کیا: تمہاری رائے اِس کے بارے میں کیا ہے؟

یہاں کسی شخص کے دل میں یہ خلجان پیدا ہوسکتا ہے کہ کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خدائی حکم کی تعمیل کرنا بیٹے کے اتباعی جواب پر منحصر تھا؟ ایسی کوئی بات نہیں، بل کہ ان سے صلاح و مشورے میں بہت سارے اسرار و حکمتیں پنہاں ہیں۔ پہلی حکمت یہ تھی کہ ان میں اطاعتِ خداوندی کا جذبہ اور ولولہ کس حد تک ہے، یہ بات کھل کر سامنے آجائے، نیز ان کے حوصلے کو بھی پرکھنا اور جانچنا مقصود تھا۔ دوسری حکمت یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ اسے قبول کریں گے تو مستحق اجر ہوں گے۔ تیسری حکمت یہ تھی کہ عین ذبح کے وقت ممکن تھا کہ محبتِ پدری، محبت طبعی اور تقاضائے انسانی فعل مامور میں آڑے نہ آجائے، اِس وجہ سے جناب ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام سے مشورہ لیا تھا۔

قرآنِ کریم نے اِس واقعے کو اِس انداز سے بیان فرمایا ہے، مفہوم : ’’سو! جب وہ لڑکا ایسی عمر کو پہنچا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ چلنے پھرنے لگا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا: برخوردار! میں دیکھتا ہوں کہ تم کو (بہ امرالٰہی) ذبح کررہا ہوں، سو تم بھی سوچ لو تمہاری کیا رائے ہے؟ وہ بولے: ابا جان! آپ کو جو حکم ہوا ہے آپ کیجیے ان شاء اﷲ آپ مجھ کو صبر کرنے والوں میں سے دیکھیں گے۔‘‘

یہ امتحان کس قدر سخت تھا اِس کی طرف خود اﷲ رب العزت نے اشارہ فرما دیا کہ ارمانوں سے مانگے ہوئے اس بیٹے کو قربان کرنے کا حکم اس وقت دیا گیا جب یہ بیٹا اپنے باپ کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا تھا، اور پرورش کی مشقتیں برداشت کرنے کے بعد اب وقت آیا تھا کہ وہ قوتِ بازو بن کر باپ کا سہارا ثابت ہو۔ مفسّرین نے لکھا ہے کہ اس وقت حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی عمر تیرہ سال تھی، اور بعض مفسّرین نے فرمایا ہے کہ بالغ ہوچکے تھے۔

یوں تو ذبح کرنے کا یہ حکم بہ راہِ راست کسی فرشتے کے ذریعے بھی نازل کیا جاسکتا تھا، لیکن خواب میں دکھانے کی بہ ظاہر حکمت یہ تھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت شعاری اپنے کمال کے ساتھ ظاہر ہو، خواب کے ذریعے دیے ہوئے حکم میں انسانی نفس کے لیے تاویلات کی بڑی گنجائش تھی، لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تاویلات کا راستہ اختیار کرنے کے بہ جائے اﷲ رب العزت کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کردیا اور اِس امتحان میں سو فی صد کام یاب ہوئے۔

قربانی کا یہ واقعہ جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی فدائیت کا عظیم مظہر ہے وہیں اِس واقعے سے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے بھی بے مثال جذبۂ جاں نثاری کی شہادت ملتی ہے، اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کم سنی ہی میں اﷲ رب العزت نے انھیں کیسی ذہانت اور کیسا علم عطا فرمایا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے سامنے اﷲ کے کسی حکم کا حوالہ نہیں دیا تھا، بل کہ محض ایک خواب کا تذکرہ فرمایا تھا، لیکن حضرت اسمٰعیل علیہ السلام سمجھ گئے کہ انبیائے علیہم السلام کا خواب وحی ہوتا ہے، اور یہ خواب بھی درحقیقت حکمِ الٰہی کی ہی ایک شکل ہے، چناں چہ انہوں نے جواب میں خواب کے بہ جائے حکمِ الٰہی کا ذکر کیا اور والد بزرگوار کو یہ کہہ کر یقین دلایا: ’’ابّا جان! جس بات کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اسے کر گزریے، ان شاء اﷲ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘

مفتی محمد شفیعؒ اپنی تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ میں اِس آیت کے ذیل میں تحریر فرماتے ہیں: ’’اِس جملے میں حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی غایتِ ادب اور غایتِ تواضع کو دیکھیے، ایک تو ان شاء اﷲ کہہ کر معاملہ اﷲ کے حوالے کردیا، اور اِس وعدے میں دعوے کی جو ظاہری صورت پیدا ہوسکتی تھی اسے بالکل ختم فرما دیا، دوسرے آپ یہ بھی فرما سکتے تھے کہ ’’آپ ان شاء اﷲ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے۔‘‘ لیکن اس کے بہ جائے آپ نے فرمایا ’’ ان شاء اﷲ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ جس سے اِس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ یہ صبر و ضبط تنہا میرا کمال نہیں ہے، بل کہ دنیا میں اور بھی بہت سے صبر کرنے والے ہوئے ہیں، ان شاء اﷲ میں بھی ان میں شامل ہو جاؤں گا، اِس طرح آپ نے اِس جملے میں فخر و تکبر، خود پسندی اور پندار کے ادنیٰ شائبے کو ختم کرکے اس میں انتہا درجے کی تواضع اور انکسار کا اظہار فرما دیا۔‘‘

(روح المعانی، بہ حوالہ معارف القرآن)

سبحان اﷲ! یہ جذبۂ قربانی اور یہ فدائیت، کہ بیٹے کے گلے پر چُھری چلادی، اور آفرین صد آفرین یہ اِقدامِ فداکاری کہ چُھری تلے گردن رکھ دی اور خلیلؑ و ذبیحؑ دونوں نے اپنا اپنا حق ادا کریا۔ قرآن نے بھی اعلان کردیا، مفہوم: ’’تم نے خواب سچ کر دکھایا ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔‘‘ یعنی اﷲ کے حکم کی تعمیل میں جو کام تمہارے کرنے کا تھا اس میں تم نے اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی اور آزمائش میں پورے کام یاب رہے، اور یہ ادائے قربانی اﷲ کو اتنی پسند آئی کہ رہتی دنیا تک کے لیے یادگار اور قربِ خداوندی کا ذریعہ بنادیا جسے امت مسلمہ ہر سال مناتی ہے اور اِس قربانی میں درحقیقت مسلمانوں کے اِس عقیدے کا اعلان ہوتا ہے کہ انسان کو اﷲ رب العزت کے حکم کے آگے اپنی عزیز سے عزیز ترین چیز کو بھی قربان کرنے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔

اﷲ رب العزت پوری امت مسلمہ میں جذبۂ ایثار و قربانی پیدا فرمائے۔ آمین

 

The post خلیل و ذبیح اﷲ علیہ السلام کی فدائیت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/39Lq8rP

کورونا وبا کے دوران اجتماعی قربانی کا رجحان بڑھ گیا

کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والے معاشی بحران کے سبب رواں سال عیدالاضحی پر ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی انفرادی کے بجائے اجتماعی قربانی کا رجحان بڑھ گیا ہے۔

مقامی مسجد کے منتظم آصف اقبال اور  مقامی فلاحی تنظیم کے رضا کار عمران الحق نے بتایا کہ عید الاضحی پر مسلمان سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے اپنی حیثیت کے مطابق انفرادی اور اجتماعی طور پر جانور اللہ کی راہ میں قربان کرتے ہیں  کورونا وائرس،مہنگائی اور معاشی مسائل کے سبب شہریوں کی قوت خرید کم ہونے سے کراچی میں اجتماعی قربانی کے رحجان میں گزشتہ برس کی نسبت 40 فیصداضافہ ہوا ہے قربانی کے جانور مہنگے ہونے کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد انفرادی قربانی کی بجائے اجتماعی قربانی کو ترجیح دے رہی ہے۔

اجتماعی قربانی کے لیے مختلف فلاحی اداروں، مدارس، مساجد اور محلوں کی سطح پر مختلف پیکیج متعارف کرائے گئے ہیں، شہری اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اجتماعی قربانی میں حصہ لے رہے ہیں، اجتماعی قربانی کے حوالے سے شہر بھر کے مختلف مقامات، شاہراہوں اور محلوں میں بینرز لگائے گئے ہیں جبکہ محلوں کی سطح پر پڑوسی آپس میں مل کر اجتماعی قربانی کرتے ہیں، رواں سال چھوٹے جانوروں کی قیمت 50 فیصد بڑھ گئی ہے۔

بڑی جانوروں کی قیمت میں بھی بے حد اضافہ ہوگیا ہے بڑے جانوروں کی قیمت50  ہزار سے 2 لاکھ روپے اور بکرے اور دنبہ کی قیمت 16ہزار سے 50 ہزار روپے تک ہے  شہریوں کی ترجیح ہوتی ہے کہ وہ علاقائی سطح پر فلاحی اداروں، مدارس اور مساجد کی سطح پر یا پھر محلے میں آپس میں مل کر اجتماعی قربانی میں حصہ لیں، اجتماعی قربانی کے مختلف پیکیج ہیں اور رواں عیدالاضحی پر گائے میں ایک حصہ 9 ہزار روپے سے شروع ہو کر 15 ہزار روپے تک ہے۔

اداروں اورمدارس میں2لاکھ جانوروں کی اجتماعی قربانی ہوگی

اجتماعی قربانی کے لیے شہر کے مختلف مقامات پر بینرز آویزاں ہیں اور مدارس اور مساجد کے ذریعے اجتماعی قربانی میں حصہ لینے کے لیے پمفلٹس بھی تقسیم کیے گئے ہیں جن پر ٹیلی فون نمبرز پر اندراج کراکے شہری اجتماعی قربانی کے لیے بکنگ کراچکے ہیں اجتماعی قربانی کی رقم یکمشت ادا کی جاتی ہے اجتماعی قربانی کے لیے رقم میں جانوروں کی خوراک، خدمت اور قصاب کی رقم بھی شامل ہوتی ہے مدارس اور فلاحی تنظیموں کے تحت اجتماعی قربانی کا گوشت غریبوں اور مستحقین میں تقسیم کردیا جاتا ہے۔

فلاحی اداروں، مدارس اور  مساجد کے تحت کم و بیش 2 لاکھ تک جانوروں کی اجتماعی قربانی کی جائے گی ، فلاحی تنظیموں اور مدارس کے تحت سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے ذریعہ آن لائن اجتماعی قربانی کی بکنگ بھی کی جا رہی ہے، فلاحی تنظیموں اور مدارس کے تحت اجتماعی قربانی کی کھالیں خود رکھی جاتی ہے جنھیں فروخت کرکے حاصل ہونے والی رقم کو فلاحی سرگرمیوں اور مستحقین کی مدد میں خرچ کیا جاتا ہے، بیرون ممالک میں موجود پاکستانی مختلف فلاحی اداروں میں آن لائن بکنگ کے ذریعے آن لائن قربانی میں شریک ہورہے ہیں۔

الخدمت کے تحت 40ہزارجانوروں کی اجتماعی قربانی ہوگی

کراچی میں فلاحی اداروں نے اجتماعی قربانی کی تیاریاں مکمل کرلیں الخدمت کے تحت 40ہزار جانور وں کی اجتماعی قربانی کی جائے گی،الخدمت کے قاضی صدر الدین کے بتایا کہ اجتماعی قربانی کا فی حصہ 9 سے14ہزار روپے تک ہے، ایدھی کے ٹرسٹی فیصل ایدھی نے بتایاکہ ہم 4 ہزار جانوروں کی اجتماعی قربانی کریں گے، اجتماعی قربانی کا فی حصہ9000 روپی اور بکرا 14000 کا ہے۔

سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے  ترجمان  رئیس کے مطابق ٹرسٹ کے تحت 3 ہزار سے زائد جانور قربان کیے جائیں گے، گائے کا فی حصہ 10000 روپے جبکہ بکرا16000 روپے کا ہے، المصطفی ویلفیئر سوسائٹی کے ٹرسٹی احمد رضا کے مطابق ٹرسٹ کے تحت ایک ہزار جانور قربان کے جائیں گے، گائے کا فی حصہ9800 روپے جبکہ بکرا16500روپے کا ہے۔

چھیپافاؤنڈیشن کے سربراہ رمضان چھیپاکے مطابق ہماری جانب سے1500تک جانورقربان کیے جائیں گے، گائے کا فی حصہ 8000 روپے جبکہ بکرا12000 روپے کا ہے، جے ڈی سی کے سیکریٹری ظفر عباس کے مطابق ٹرسٹ کے تحت کئی ہزار جانورقربان کے جائیں گے،گائے کا فی حصہ 9000 روپے جبکہ بکرا18000روپے کا ہے۔

عالمگیر ویلفیئر کے جوائنٹ سیکریٹری شکیل دہلوی کے مطابق ہماری جانب سے 3ہزار جانور قربان کیے جائیں گے، گائے کا فی حصہ 13550 روپے جبکہ بکرا16550روپے کا ہے  ان فلاحی اداروں کے علاوہ بڑے مدارس،مساجداور دیگر فلاحی تنظیموں اور اداروں کی جانب سے بھی اجتماعی قربانی کی جائے گی۔

اجتماعی قربان گاہوں میں جانور قربان کیے جائیں،ڈاکٹررؤف عثمانی

طبی ماہر ڈاکٹر عبدالرؤف عثمانی نے بتایا ہے کہ عیدالاضحی کے موقع پر سماجی فاصلے کا خصوصی خیال رکھنا ہوگا ، گھروں پر قربانی کے بجائے اجتماعی قربان گاہ میں جانوروں کی قربانی دی جائے تو بہتر ہے۔

فلاحی ادارے اور مدارس شہریوں سے ایس او پیز پر عمل کرانے لگے

مذہبی جماعتیں ، مدارس اور دیگر فلاحی ادارے اجتماعی قربانی میں حصہ لینے والے خواہشمند شہریوں سے کیش ادائیگی وصول کرنے کے بعد دیگر تمام انتظامات ایس او پیز پر عملدرآمد کرتے ہوئے پورے کررہے ہیں ان کے کارکنان  نہ صرف مویشی منڈیوں سے قربانی کے جانور خریدرہے ہیں بلکہ انھیں مخصوص علیحدہ مقامات پر رکھا جارہا ہے۔

فلاحی ادارے ذبح سے لے کر گوشت کی تقسیم کے بھی ذمے دار ہوں گے

رواں سال عید الاضحی کے موقع پر وبائی مرض کووڈ 19 سے بچنے کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد اجتماعی قربانی میں حصہ لے رہی ہے، اجتماعی قربانی میں حصہ لینے کے لیے شہریوں کو صرف نقد رقم ادائیگی کرنی ہے بقیہ تمام کام مذہبی جماعتیں اور فلاحی ادارے کررہے ہیں ، جانوروں کی خریداری سے لیکر ان کے ذبیحہ تک سارے انتظامات یہ ادارے کریں گے اور شہریوں کو گھر بیٹھے گوشت فراہم کیا جائے گا۔

کوروناپھیلاؤروکنے کیلیے عیدالاضحی پرسختی بڑھ گئی

کورونا وائرس کووڈ 19نے 6 ماہ سے دنیا بھر میں تباہی مچائی ہوئی ہے، پاکستان میں بھی اس مرض سے بچنے کے لیے 4 ماہ سے مکمل اور جزوی لاک ڈاؤن جاری ہے، عیدالفطر کے موقع پر وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے لاک ڈاؤن میں نرمی کی تھی اور شاپنگ سینٹرز کھول دیے تھے شہریوں نے بھی سماجی فاصلے کا خیال نہ رکھا جس کی وجہ سے ملک بھر میں کووڈ 19تیزی سے پھیلا ، ہزاروں لاکھوں افراد اس مرض سے متاثر اور سیکڑوں ہلاک ہوئے، اب تک ملک بھر میں 275288 شہری کووڈ 19سے متاثر ہوچکے ہیں جبکہ اموات 5892 ہیں ، صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 244883 ہے۔

اگرچہ کہ پاکستان میں کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والوں کا تناسب دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نہایت کم ہے اور ا ب اس مرض کی شدت میں کمی واقع ہوچکی ہے تاہم عیدالفطر کے تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر مذہبی و فلاحی تنظیموں کی معاونت سے اجتماعی قربانی میں حصہ لیں اور سماجی فاصلے کا خصوصی خیال رکھیں۔

The post کورونا وبا کے دوران اجتماعی قربانی کا رجحان بڑھ گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/30hSSp6

پنجاب میں رواں مال سال بھی کفایت شعاری مہم کا فیصلہ

لاہور: پنجاب کے مالی حالات کے پیش نظر رواں مالی سال بھی حکومت نے کفایت شعاری مہم اپنانے کافیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں محکمہ خزانہ پنجاب کی جانب سے سمری وزیراعلی پنجاب کو بھجوا دی گئی جس کی منظوری عید کی چھٹیوں کے بعد دیدی جائیگی۔

بزدار حکومت کی جانب سے اس بات کو مدنظر رکھا جا رہا ہے کہ پنجاب میں کوئی اضافی اخراجات نہ کئے جائیں تاکہ پنجاب کو ضمنی بجٹ کی طرف نہ جانا پڑے ، پنجاب کے مالی ماہرین کے مطابق صوبوں کو اپنے رواں مالی سال کے بجٹ کو سرپلس رکھنا ہوگا اور اس کیلئے پنجاب کی جانب سے دوسرے صوبوں کی طرح اضافی اخراجات نہیں کئے جارہے اس وجہ سے سمری مالی سال 2020-21 منظوری کیلئے بھیجوائی گئی ہے۔

محکمہ خزانہ پنجاب کے مطابق سرکاری محکموں کی جانب سے کوئی سمپلمنٹری گرانٹس جاری نہیں کی جائیں انہیں اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اخراجات کرنا ہوں گے ، اگر کسی کو فنڈز کی ضرورت ہوگی تو اس کیلئے کابینہ، اسٹینڈنگ کمیٹی برائے کابینہ مالی امور سے منظوری لینا ہوگی ۔

نئی کفایت شعاری پالیسی کے مطابق کوئی بھی وزیر اور رکن اسمبلی سرکاری خرچوں پر بیرون ممالک نہیں جائے گا لیکن اگر انہوں نے جانا ہے تو اس کیلئے کفایت شعاری کمیٹی کی سفارشات کو مدنظر رکھا جائیگا اور اس کیلئے وزیراعلی کی باقائدہ منظوری لینا پڑیگی، اسی طرح بیرون ممالک میں علاج پر مکمل پابندی ہوگی اور اس کیلئے وزیراعلی منظوری دیں گے۔

سرکاری محکموں کی جانب سے مکمل طورپر درآمدی اور مقامی بننے والی گاڑیوں پر پابندی ہوگی اور اگر کسی نے گاڑی کی خریداری ضروری کرنا ہے تو اس کیلئے بھی وزیراعلی سے منظوری لینا ہوگی۔

The post پنجاب میں رواں مال سال بھی کفایت شعاری مہم کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2XiIWtz

محروم رہنے والے 12ہزارٹیکس دہندگان کو اثاثے ظاہر کرنیکی اجازت

اسلام آباد: وفاقی ٹیکس محتسب نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم 2019 کے تحت چالان جمع کرانے کے باوجود اثاثے ظاہر کرنے سے محروم رہ جانیوالے 12 ہزار سے زائد ٹیکس دہندگان کو اثاثے ظاہر کرنیکی اجازت دیدی ہے۔

چالان جمع کروانے کے باوجود ڈکلیئریشن جمع کروانے سے محرومی کا ذمہ دارایف بی آرکے افسران کی غفلت،نا اہلی و ناقص کارکردگی کو قراردیدیا ہے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو وفاقی ٹیکس محتسب کے فیصلے پر45 دن میں عملدرآمد کرکے کمپلائنس رپورٹ جمع کروانے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

ایف بی آر کو ڈکلیرجئیشن جمع کروانے کے انتظامات مکمل کرکے ٹیکس چالان جمع کروانے کے باوجود اثاثے ظاہر کرنے سے محروم رہ جانیوالے تمام متاثرہ ٹیکس دہندگان کو انکم ٹیکس گوشواروں میں ڈکلیرئیشن جمع کروانے کی سہولت فراہم کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

وفاقی ٹیکس محتسب نے پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کی طرف سے دائر کردہ درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے، ’’ایکسپریس‘‘کو دستیاب وفاقی ٹیکس محتسب کے تفصیلی فیصلے کی کاپی کے مطابق وفاقی ٹیکس محتسب نے اپنے فیصلے میں کہا ایف بی آرکے افسران ایمنسٹی سکیم کے تحت ڈکلیئریشن جمع کروانے کیلئے سسٹم متعارف کروانے میں ناکام رہے ہیں۔

 

The post محروم رہنے والے 12ہزارٹیکس دہندگان کو اثاثے ظاہر کرنیکی اجازت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/33gq0zh

کراچی میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن شروع

 کراچی: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے شہر میں بڑے پیمانے پر غیرقانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن شروع کردیا۔

ایس بی سی اے نے تعطیل کے دن بھی گلبر ک اور صدر ٹاون میں بڑے پیما نے پر کا رو ائی کی آٹھ منزلہ غیر قانونی طور پر تعمیر ہو نے والے عمار ت کو مسمار کیا جا رہا ہے جبکہ تعمیر ہو نے والی اضافی منزل کو مسما ر کیا جا رہا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھا رٹی آشکار داوڑ خود انہد امی کا رو ائی کی نگرانی کر تے ر ہے صدر ٹاون میں غیر قانونی طور تعمیر ہو نے والی عمار ت کو مہندم کیا جا رہا تھا جس پر ڈی جی ایس بی سی اے ڈیمولیشن اسکواڈ پر بر ہمی کا ظہار کرتے ہو ئے کہا کہ عمار ت کو مکمل مہندم کیا جا ئے اور کام کی رفتار تیز کی جائے۔

ڈی جی ایس بی سی اے آشکار داوڑ نے کہا کہ یہ آٹھ منزلہ عمار ت زمین بوس مقرر وقت میں نہ ہو سکی تو صدر ٹاون کے عملے کو معطل نہیں نو کر ی سے فا رغ کر نے کی سفار ش کر وں گا کرا چی میں اب کو ئی نما ئشی ڈیمو لیشن نہیں چلے گی غیر قانو نی عمار تیں ہر صورت میں مسما ر دیکھنا چاہتا ہوں۔

 

The post کراچی میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن شروع appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2XeCiV8

کورونا؛ پنجاب میں نئے پرانے کاروبار کیلیے 50 لاکھ تک قرضے دینے کا فیصلہ

لاہور: پنجاب حکومت نے کورونا کی وجہ سے صوبہ کی معاشی صورتحال کی بحالی کیلیے سستے اور آسان قرضے دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلیے محکمہ صنعت نے سمری وزیراعلی عثمان بزدار کوبھجوا کر منظوری بھی حاصل کرلی۔

صوبہ کی معاشی صورتحال کی بحالی کیلیے سستے اور آسان قرض اسکیم کے تحت 5سے 50لاکھ روپے تک کے چھوٹے قرضے لوگوں دیے جائیں گے جس میں نئے کاروبار اور پرانے ایسے کاروبار جو کورونا کی وجہ سے متاثر ہوئے ان کوبحال کرنے کے لیے دیے جائیں گے۔

اب تک پنجاب حکومت کی جانب سے ایسی اسکیم موجودہ حکومت کی جانب سے پہلے شروع نہیں کی گئی تھی لیکن اب حکومت کی جانب سے بیس ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں جس کیلیے پنجاب حکومت کی جانب سے ساڑھے نو ارب روپے جبکہ باقی ساڑھے دس ارب روپے بنک آف پنجاب کی جانب سے دیئے جائیں گے تاکہ اس سکیم کوشروع کیا جاسکے ، اس بارے میں محکمہ صنعت کی جانب سے حکمت عملی طے کرلی گئی ۔

وزیر صنعت اسلم اقبال نے بتایا کہ اسکیم عید کے بعد شروع کی جارہی ہے اور اس کیلئے بہت حد تک کام کر لیا گیا، پنجاب حکومت صوبہ میں صنعت کی بحالی کیلئے کام کررہی ہے اس اقدام کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کو روزگا ملے گا جبکہ چھوٹی صنعتوں سے لوگ اپنا روزگار خود پید ا کرسکیں گے اور یہ چھوٹی صنعتیں بعدازاں بڑی صنعتوں میں تبدیل ہوں گی اور اس کی وجہ سے نہ صرف ملک میں خوشحالی آئیگی بلکہ حکومت کو ریونیو بھی ملے گا۔

 

The post کورونا؛ پنجاب میں نئے پرانے کاروبار کیلیے 50 لاکھ تک قرضے دینے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/33eSNEz

 ڈکیتیاں کرنیوالا پولیس اہلکار ساتھیوں سمیت گرفتار

کراچی: پولیس نے سچل سے پولیس اہلکارسمیت 3ملزمان کو گرفتارکرکے قبضے سے اسلحہ، پولیس کی وردیاں ، جعلی نمبر پلیٹس اور نقدی سمیت دیگر سامان برآمدکرلیا۔

سچل تھانے کے شعبہ تفتیش نے 3ملزمان سپاہی واصف شاہد ، طاہر احمد اور راشد کوگرفتارکرلیا ،اسٹیشن انویسٹی گیشن افسر (ایس آئی او) انسپکٹر ذوالفقار نے ایکسپریس کو بتایاکہ ملزم واصف سچل تھانے کاہی پولیس اہلکار ہے اور وہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ مل کر پہلے خود ہی ریکی کرتا تھا اور موقع ملتے ہی گھروں کاصفایاکردیتا تھا۔

انھوں نے بتایاکہ ملزمان پولیس کی وردیاں پہن کرجاتے تھے جس کی وجہ سے انھیں گھروں میں داخل ہونے میںکوئی دشواری پیش نہیںآتی تھی اور وہ چھاپے کی آڑ میں لوٹ مار کرکے باآسانی فرار ہوجاتے تھے، پولیس نے کئی وارداتوں کی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کرلی ہیں جس میں ملزمان کواپنی گاڑی میں گھروں کے باہر پہنچے اور وارداتوں کے بعد فرارہوتے ہوئے دیکھاجاسکتاہے۔

ایس آئی او کا کہنا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے پولیس کے سب انسپکٹر رینک کی وردیاں ، اسلحہ ، گاڑی ، جعلی نمبر پلیٹس اور نقدی کے علاوہ دیگر سامان برآمدہواہے۔

 

The post  ڈکیتیاں کرنیوالا پولیس اہلکار ساتھیوں سمیت گرفتار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2PfclAE

ڈپلومیسی کے باعث پاکستان سے تعلقات بہترہوئے،بنگلادیش

ڈھاکا: بنگلادیش کی ’’کوئی دشمن نہیں‘‘کی ڈپلومیسی کے باعث پاکستان سے تعلقات بہتر ہورہے ہیں اور اس قربت پر بھارت میں ہونے والے تبصروں پر بنگلادیش کے وزیر خارجہ عبدالمومن نے کہا ہے کہ بھارتی ذرائع ابلاغ کے تبصرے بیمار ذہنیت کی نشانی ہیں، کسی کو ہمیں ڈکٹیٹ کرنے کا حق نہیں۔

ترک خبر ایجنسی کے مطابق پاکستان اور بنگلادیشی رہنماؤں کے درمیان حالیہ رابطوں سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کی تھوڑی  سی امید پیدا ہو چلی ہے۔مبصرین کے مطابق دسمبر 1971 میں انتہائی خون خرابے کے بعد زوال مشرق پاکستان اور بنگلہ دیش کے قیام کے ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات اتار چڑھاؤ کے ساتھ نازک مراحل سے گزرے ہیں۔

حالیہ عرصہ میں جماعت اسلامی بنگلادیش کے متعدد رہنماؤں کو نام نہاد متنازع ٹریبونلز بناکر پاکستان سے وفاداری کے پاداش میں پھانسی پر چڑھا دیا گیا لیکن حالیہ دنوں میں بنگلادیش نے اسلام آباد کیساتھ دوستی سب سے، دشمنی کسی سے نہیں َکی پالیسی اختیار کی۔

وزیر خارجہ اے کے عبدالمومن نے کہا کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں پاکستان سمیت دیگر ممالک سے تعلقات کو بہتر بنایا جا ئے گا۔

 

The post ڈپلومیسی کے باعث پاکستان سے تعلقات بہترہوئے،بنگلادیش appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/30fFFgt

افغانستان کے لیے 17ہزار ٹن کھاد گوادر پہنچ گئی،عاصم سلیم باجوہ

اسلام آباد: چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل رٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ گوادرمیں مال بردار بحری جہاز افغانستان کیلئے 17ہزار ٹن کھاد لیکر پہنچ گیاہے۔

لیفٹیننٹ جنرل رٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ گوادر پورٹ پر اقتصادی سرگرمیاں زور و شور سے جاری ہیں،سی پیک کے تحت منصوبے روزگار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں۔

اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا ہے کہ گوادرمیں مال بردار بحری جہاز افغانستان کیلئے 17ہزار ٹن ڈی اے پی کھاد لیکر پہنچ گیاہے،یہ کھاد براستہ چمن 550 ٹرکوں سے افغانستان بھیجی جائے گی۔پہلی بار کارگو کی ہینڈلنگ مقامی سطح پر کی گئی،سی پیک کے تحت منصوبے روزگار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں۔

 

The post افغانستان کے لیے 17ہزار ٹن کھاد گوادر پہنچ گئی،عاصم سلیم باجوہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/39JCXTu

غیرتربیت یافتہ افرادی قوت پاکستانی معاشی ترقی میں رکاوٹ

کراچی: پاکستانی معیشت ہمیشہ سے ایک ایسے دوراہے پر رہی ہے کہ جہاں اس نے درمیانی مدت کے معاشی اہداف تو حاصل کیے ہیں تاہم طویل مدت کی بنیاد پر مستحکم ترقی حاصل نہیں کرسکی اور اس کی وجوہات میں تعلیم یافتہ اور ہنرمند افرادی قوت کی کمی کے علاوہ سرمایہ کاری کا فقدان بھی شامل ہے۔

افرادی قوت کے غیر تربیت یافتہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف صنعتی اور زرعی پیداوار میں کمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے کاروبار کے فروغ میں رکاوٹ آتی ہے بلکہ مناسب تربیت نہ ہونے کی وجہ سے انھیں معاوضے اور اجرتوں میں بھی کمی کا سامنا ہوتا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ملکی معیشت کی تیسری سہ ماہی کی صورت حال پر جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں افرادی قوت کی خراب صورت حال ترقی اور افزائش کی بہتر شرح کے حصول میں ایک رکاوٹ ہے۔

سرمایہ کاری میں اضافہ اور برآمدگی صنعتوں کی ترقی کسی بھی ملک کی مستحکم اور پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہوتے ہیں اسی طرح آزاد تجارتی پالیسی، برآمدات میں تنوع، مقامی وسائل پر کم سے کم انحصار اور پیداواری عمل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا پاییدار ترقی کے لیے ناگزیر ہیں تاہم اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق پیداواری عمل میں افرادی قوت کی دگرگوں صورحال ایک ایسی بنیادی وجہ ہے جس نے پاکستان کو ترقی سے روک رکھا رکھا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تعلیم اور تربیت کا فقدان تو ایک طرف رہا، موجودہ افرادی قوت میں اس سطح کی صلاحیت بھی نہیں کہ وہ معاشی سرگرمیوں میں موثر طور پر حصہ لے سکیں،پاکستان میں افرادی قوت کی پیداواری سطح خطے میں سب سے کم ہے جو کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران ڈالر کی قدر کے لحاظ سے محض 32 فیصد پر ہے جبکہ بنگلادیش میں 109 فیصد، سری لنکا میں 116 فیسد، ویت نام میں 137 فیسد، بھارت میں 177 فیصد اور چین میں 388 فیصد ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس کی بنیادی وجہ حکومتوں کی جانب سے سالانہ بجٹ میں تعلیم کے لیے رکھا جانے والا کم بجٹ ہے۔ اس وقت حکومت کی جانب سے مجموعی قومی پیداوار میں محض 2 فیصد تعلیم کے لیے مختص کیا گیا ہے جبکہ اس کے برعکس پائیدار ترقی کے اہداف کے مطابق اسے کم سے کم 4 فیصد ہونا چاہیے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک میں موجود تکنیکی اور ہنر سکھانے کے اداروں میں کمی ہے جبکہ وہاں دیگر افراد کو سکھانے کے لیے ماہرین کی تعداد نہ صرف کم ہے بلکہ مقامی، خطے اور عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق وہ دیگر مزدوروں کو تربیت دینے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔

 

The post غیرتربیت یافتہ افرادی قوت پاکستانی معاشی ترقی میں رکاوٹ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/316aCD8

اپنی قربانی کو رائیگاں نہ جانے دیجئے

عیدالاضحیٰ ہر سال اسلامی مہینہ ذی الحج کی دس تاریخ کو منائی جاتی ہے۔ اس دن سنت ابراہیمی کو پورا کرنے کےلیے جانور قربان کیے جاتے ہیں، اس لیے اسے عیدِ قربان بھی کہتے ہیں۔ قربانی کی قبولیت کےلیے شرط ہے کہ اس کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ جس میں سے ایک حصہ اپنے لیے، دوسرا حصہ رشتے داروں کےلیے اور تیسرا حصہ غریبوں کےلیے وقف کیا جاتا ہے۔ صاحبِ استطاعت اور مالی حیثیت سے مضبوط ہر شخص پر قربانی واجب ہے۔

قربانی کا جذبہ انسان کے اندر اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ میری جان، میرا مال سب کچھ اللہ کےلیے ہے۔ ایسا پیسہ جو اللہ کی رضا کےلیے اور اس کی خوشنودی کےلیے قربانی کے جانور پر خرچ کیا جائے، اس سے پیارا پیسہ اور کوئی نہیں۔ قربانی کی قبولیت کےلیے اخلاص، روحانیت، تقویٰ اور ایثار شرط ہیں۔ اس کے بغیر قربانی اللہ کی بارگاہ میں افضل نہیں۔ کیونکہ قربانی کا اصل مقصد انسان کے اندر ایثار کے جذبے کو پروان چڑھاتا ہے اور اللہ کی رضا کی خاطر ہر شے کو قربان کرنے کا جذبہ کارفرما رہتا ہے۔ اس لیے سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے ہم اپنے رب کی رضا اور اطاعت کےلیے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔

قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ ’’اللہ کو ہرگز نہ ان کے خون پہنچتے ہیں نہ ان کا گوشت، ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے‘‘۔

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا ’’عید کے دن قربانی کا جانورخریدنے کےلیے رقم خرچ کرنا اللہ تعالیٰ کے یہاں اور چیزوں میں خرچ کرنے سے زیادہ افضل ہے‘‘۔

قربانی کا گوشت غریب، نادار اور تمام مستحق افراد کو دیا جاسکتا ہے، خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم۔ کیونکہ ہماری قربانی صرف اور صرف اللہ کی رضا کےلیے ہے، اس لیے تمام مستحق مسلم یا غیر مسلم افراد میں قربانی کا گوشت یکساں تقسیم کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

قرآن مجید میں سورۃ البقرہ میں بھی ارشاد ہے ’’وہ اپنے مال اس کی محبت کے باوجود قرابت مندوں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سائلوں اور گردنیں چھڑانے یعنی (غلام آزاد) کرنے پر خرچ کرتے ہیں‘‘۔

قربانی کا مقصد نمودونمائش اور ریاکاری بالکل نہیں بلکہ یہ خالصتاً اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ آج کل دینوی فائدے سے زیادہ دنیاوی فائدے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ دوسروں کے سامنے نمبر بنانے اور شوخیاں مارنا آج کل کے دور کی سب سے اہم ضرورت بن چکا ہے۔ دکھاوا اور ریاکاری اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ ہم اللہ کی خوشنودی کےلیے اس کی رضا کےلیے قربانی کرنے کے بجائے دوسروں کو دکھانے اور قربانی کے گوشت کو غریبوں میں تقسیم کرنے کے بجائے اپنے فریزر کو بھرنے پر مامور رہتے ہیں۔ جبکہ قربانی کا دوسرا حصہ رشتے داروں اور تیسرا حصہ غریبوں کےلیے وقف ہے۔ اب تو یہ حال ہے کہ لوگ غریب رشتے داروں کے ہاں گوشت بھیجنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ جبکہ تیسرا حصہ جو ناداروں اور مفلسوں کا ہوتا ہے ان بے چاروں کے نصیب میں بچا ہوا ایسا گوشت ہوتا ہے جن میں زیادہ تر ہڈیاں شامل ہوتی ہیں اور باقی کا سارا گوشت ایسے لوگوں کے فریج کی زینت بن جاتا ہے اور پھر سال بھر وہ اس قربانی کے گوشت سے مستفید ہوتے رہتے ہیں۔ اللہ بچائے ایسی قربانی سے جس میں تقویٰ کی جگہ اپنا پیٹ بھرنا مقصود ہو اور اللہ کی ناراضی کا ڈر ہو۔

عیدالاضحیٰ پر جانوروں کی قربانی کے ساتھ اپنی جھوٹی انا کو بھی قربان کردیجیے۔ صدق دل، خلوص نیت سے دی گئی قربانی اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ اللہ ہمارے دلوں کے حال کو بہتر جاننے والا ہے۔ لہٰذا ہم سب کی قربانی سے پہلے ضروری ہے کہ اپنے دلوں کو ہر قسم کے حسد، بغض، عدوات، نفرت اور بدگمانیوں سے پاک کرلیجیے تاکہ آپ کی دی گئی قربانی کا یہ عمل اللہ کے ہاں مقبول ہو۔

خدارا اپنی قربانی کو رائیگاں نہ جانے دیجئے۔ عیدالاضحیٰ کے اس پرمسرت موقع پر غریبوں، مسکینوں اور ناداروں کا ہر ممکن خیال رکھیے۔ جو آپ اپنے لیے پسند کرتے ہیں وہی دوسروں کےلیے بھی پسند کیجئے۔ اپنی قربانی کا صحیح معنوں میں حق ادا کیجئے۔ اپنی دی گئی قربانی سے اللہ کو راضی کیجئے اور سنت ابراہیمی کو پورا کرتے ہوئے دوسروں کی خوشیوں کا بھی خیال کرتے ہوئے اس عید کا مزہ دوبالا کریں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

The post اپنی قربانی کو رائیگاں نہ جانے دیجئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3172ouj

پنجاب میں رواں مال سال بھی کفایت شعاری مہم کا فیصلہ

لاہور: پنجاب کے مالی حالات کے پیش نظر رواں مالی سال بھی حکومت نے کفایت شعاری مہم اپنانے کافیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں محکمہ خزانہ پنجاب کی جانب سے سمری وزیراعلی پنجاب کو بھجوا دی گئی جس کی منظوری عید کی چھٹیوں کے بعد دیدی جائیگی۔

بزدار حکومت کی جانب سے اس بات کو مدنظر رکھا جا رہا ہے کہ پنجاب میں کوئی اضافی اخراجات نہ کئے جائیں تاکہ پنجاب کو ضمنی بجٹ کی طرف نہ جانا پڑے ، پنجاب کے مالی ماہرین کے مطابق صوبوں کو اپنے رواں مالی سال کے بجٹ کو سرپلس رکھنا ہوگا اور اس کیلئے پنجاب کی جانب سے دوسرے صوبوں کی طرح اضافی اخراجات نہیں کئے جارہے اس وجہ سے سمری مالی سال 2020-21 منظوری کیلئے بھیجوائی گئی ہے۔

محکمہ خزانہ پنجاب کے مطابق سرکاری محکموں کی جانب سے کوئی سمپلمنٹری گرانٹس جاری نہیں کی جائیں انہیں اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اخراجات کرنا ہوں گے ، اگر کسی کو فنڈز کی ضرورت ہوگی تو اس کیلئے کابینہ، اسٹینڈنگ کمیٹی برائے کابینہ مالی امور سے منظوری لینا ہوگی ۔

نئی کفایت شعاری پالیسی کے مطابق کوئی بھی وزیر اور رکن اسمبلی سرکاری خرچوں پر بیرون ممالک نہیں جائے گا لیکن اگر انہوں نے جانا ہے تو اس کیلئے کفایت شعاری کمیٹی کی سفارشات کو مدنظر رکھا جائیگا اور اس کیلئے وزیراعلی کی باقائدہ منظوری لینا پڑیگی، اسی طرح بیرون ممالک میں علاج پر مکمل پابندی ہوگی اور اس کیلئے وزیراعلی منظوری دیں گے۔

سرکاری محکموں کی جانب سے مکمل طورپر درآمدی اور مقامی بننے والی گاڑیوں پر پابندی ہوگی اور اگر کسی نے گاڑی کی خریداری ضروری کرنا ہے تو اس کیلئے بھی وزیراعلی سے منظوری لینا ہوگی۔

The post پنجاب میں رواں مال سال بھی کفایت شعاری مہم کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2XiIWtz

کراچی میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن شروع

 کراچی: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے شہر میں بڑے پیمانے پر غیرقانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن شروع کردیا۔

ایس بی سی اے نے تعطیل کے دن بھی گلبر ک اور صدر ٹاون میں بڑے پیما نے پر کا رو ائی کی آٹھ منزلہ غیر قانونی طور پر تعمیر ہو نے والے عمار ت کو مسمار کیا جا رہا ہے جبکہ تعمیر ہو نے والی اضافی منزل کو مسما ر کیا جا رہا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھا رٹی آشکار داوڑ خود انہد امی کا رو ائی کی نگرانی کر تے ر ہے صدر ٹاون میں غیر قانونی طور تعمیر ہو نے والی عمار ت کو مہندم کیا جا رہا تھا جس پر ڈی جی ایس بی سی اے ڈیمولیشن اسکواڈ پر بر ہمی کا ظہار کرتے ہو ئے کہا کہ عمار ت کو مکمل مہندم کیا جا ئے اور کام کی رفتار تیز کی جائے۔

ڈی جی ایس بی سی اے آشکار داوڑ نے کہا کہ یہ آٹھ منزلہ عمار ت زمین بوس مقرر وقت میں نہ ہو سکی تو صدر ٹاون کے عملے کو معطل نہیں نو کر ی سے فا رغ کر نے کی سفار ش کر وں گا کرا چی میں اب کو ئی نما ئشی ڈیمو لیشن نہیں چلے گی غیر قانو نی عمار تیں ہر صورت میں مسما ر دیکھنا چاہتا ہوں۔

 

The post کراچی میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن شروع appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2XeCiV8

کورونا؛ پنجاب میں نئے پرانے کاروبار کیلیے 50 لاکھ تک قرضے دینے کا فیصلہ

لاہور: پنجاب حکومت نے کورونا کی وجہ سے صوبہ کی معاشی صورتحال کی بحالی کیلیے سستے اور آسان قرضے دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلیے محکمہ صنعت نے سمری وزیراعلی عثمان بزدار کوبھجوا کر منظوری بھی حاصل کرلی۔

صوبہ کی معاشی صورتحال کی بحالی کیلیے سستے اور آسان قرض اسکیم کے تحت 5سے 50لاکھ روپے تک کے چھوٹے قرضے لوگوں دیے جائیں گے جس میں نئے کاروبار اور پرانے ایسے کاروبار جو کورونا کی وجہ سے متاثر ہوئے ان کوبحال کرنے کے لیے دیے جائیں گے۔

اب تک پنجاب حکومت کی جانب سے ایسی اسکیم موجودہ حکومت کی جانب سے پہلے شروع نہیں کی گئی تھی لیکن اب حکومت کی جانب سے بیس ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں جس کیلیے پنجاب حکومت کی جانب سے ساڑھے نو ارب روپے جبکہ باقی ساڑھے دس ارب روپے بنک آف پنجاب کی جانب سے دیئے جائیں گے تاکہ اس سکیم کوشروع کیا جاسکے ، اس بارے میں محکمہ صنعت کی جانب سے حکمت عملی طے کرلی گئی ۔

وزیر صنعت اسلم اقبال نے بتایا کہ اسکیم عید کے بعد شروع کی جارہی ہے اور اس کیلئے بہت حد تک کام کر لیا گیا، پنجاب حکومت صوبہ میں صنعت کی بحالی کیلئے کام کررہی ہے اس اقدام کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کو روزگا ملے گا جبکہ چھوٹی صنعتوں سے لوگ اپنا روزگار خود پید ا کرسکیں گے اور یہ چھوٹی صنعتیں بعدازاں بڑی صنعتوں میں تبدیل ہوں گی اور اس کی وجہ سے نہ صرف ملک میں خوشحالی آئیگی بلکہ حکومت کو ریونیو بھی ملے گا۔

 

The post کورونا؛ پنجاب میں نئے پرانے کاروبار کیلیے 50 لاکھ تک قرضے دینے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/33eSNEz

 ڈکیتیاں کرنیوالا پولیس اہلکار ساتھیوں سمیت گرفتار

کراچی: پولیس نے سچل سے پولیس اہلکارسمیت 3ملزمان کو گرفتارکرکے قبضے سے اسلحہ، پولیس کی وردیاں ، جعلی نمبر پلیٹس اور نقدی سمیت دیگر سامان برآمدکرلیا۔

سچل تھانے کے شعبہ تفتیش نے 3ملزمان سپاہی واصف شاہد ، طاہر احمد اور راشد کوگرفتارکرلیا ،اسٹیشن انویسٹی گیشن افسر (ایس آئی او) انسپکٹر ذوالفقار نے ایکسپریس کو بتایاکہ ملزم واصف سچل تھانے کاہی پولیس اہلکار ہے اور وہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ مل کر پہلے خود ہی ریکی کرتا تھا اور موقع ملتے ہی گھروں کاصفایاکردیتا تھا۔

انھوں نے بتایاکہ ملزمان پولیس کی وردیاں پہن کرجاتے تھے جس کی وجہ سے انھیں گھروں میں داخل ہونے میںکوئی دشواری پیش نہیںآتی تھی اور وہ چھاپے کی آڑ میں لوٹ مار کرکے باآسانی فرار ہوجاتے تھے، پولیس نے کئی وارداتوں کی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کرلی ہیں جس میں ملزمان کواپنی گاڑی میں گھروں کے باہر پہنچے اور وارداتوں کے بعد فرارہوتے ہوئے دیکھاجاسکتاہے۔

ایس آئی او کا کہنا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے پولیس کے سب انسپکٹر رینک کی وردیاں ، اسلحہ ، گاڑی ، جعلی نمبر پلیٹس اور نقدی کے علاوہ دیگر سامان برآمدہواہے۔

 

The post  ڈکیتیاں کرنیوالا پولیس اہلکار ساتھیوں سمیت گرفتار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2PfclAE

Thursday, 30 July 2020

ہیلی کاپٹر اور خلائی گاڑی کے ساتھ، نیا خلائی مشن مریخ کی سمت گامزن

فلوریڈا: ناسا نے مریخ کی جانب اب تک سب سے جدید خلائی گاڑی اور پہلی مرتبہ ہیلی کاپٹر مریخ کی جانب روانہ کردیا ہے جسے اٹلس پنجم راکٹ کے ذریعے فلوریڈا کے کیپ کناورل سے سرخ سیارے کی سمت بھیجا گیا ہے۔

سات ماہ بعد فروری 2021 میں یہ مشن مریخ کی سطح پر اترے گا جس کا مقصد ایک جانب تو مریخی پتھر جمع کرنا ہے تو دوسری جانب یہ سیارے پر زندگی کی ممکنہ آثار کی تلاش بھی کرے گا۔ اچھی بات یہ ہے کہ زمین چھوڑتے ہی اس مشن نے اپنی خیریت کی خبر دیدی ہے۔

اس خلائی روور کا نام ’پرسیویئرنس‘  اور اس کے ساتھ ہیلی کاپٹر کا نام ’انجینیئٹی‘ رکھا گیا ہے۔ اس میں سے پرسیویئرنس کا مطلب مشکلات کے باوجود مستقل مزاجی سے آگے بڑھنا ہے جبکہ انجینیئٹی کا مطلب ذہانت بھری اختراع ہوتا ہے۔ اس میں روور کی جسامت ایک کار کے برابر ہے لیکن اس میں چھ عدد پہیئے نصب ہے۔ پرسیویئرنس میں جدید ترین لیزر کیمرہ، زیرِ زمین ریڈار، موسمیاتی اسٹیشن، دو طرح کے جدید ترین کیمرے ، اور طویل بازو پر نصب ایک کیمیائی تجربہ گاہ بھی لگائی گئی ہے۔

اس مشن کے سربراہ عمر بیز نے بتایا کہ سات ماہ بعد یہ مشن مریخ پر پہنچ جائے گا۔ اس میں ایک چھوٹا سا ہیلی کاپٹرمشکل سے دو کلوگرام وزنی ہے جسے مریخ کی فضا کے مطالعے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ہیلی کاپٹر شمسی توانائی سے پرواز کرتا ہے اور وہ گاڑی کو راستہ دکھانے میں بھی مدد کرتا ہے۔

خلائی گاڑی کو ایک گہرے گڑھے جزیرو میں اتارا جائے گا اور شاید اربوں سال قبل یہاں کوئی جھیل موجود تھی ۔ واضح رہے کہ یہ زندگی کے آثار دیکھنے کی ایک بہترین جگہ ہوسکتی ہے کیونکہ ایک طویل عرصے تک یہاں پانی موجود تھا۔ روور پلوٹینیئم کی قوت سے چلتا ہے اوریہ ارضیاتی نمونے جمع کرے گا۔

واضح رہے کہ 17 جولائی کو اسے خلا کے حوالے کرنا تھا لیکن اس کی تاریخ تین مرتبہ بدلی گئی اور 30 جولائی کو بہترین موسم کے تحت اسے مریخ کی سمت بھیجا گیا ہے۔

لانچنگ کے ایک گھنٹے بعد پورا مشن راکٹ سے الگ ہوگیا اور اب اپنی منزل کی جانب گامزن ہے۔  اگر مریخ پر کروڑوں اربوں سال قبل حیات کے باریک آثار موجود ہیں تو جدید تجربہ گاہ اسے پہچاننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

پہلے اس مشن کا نام مارس 2020 رکھا گیا تھا لیکن اسکول کے بچوں کے درمیان اس کا نام رکھنے کا ایک مقابلہ کرایا گیا جس کے بعد اس کا نام ’پریزروئینس‘ رکھا گیا ہے۔ کورونا وبا کے بعد خلائی مشن کا پورا اسٹاف چھوٹی ٹیموں کی صورت میں کام کرنے لگا جس کی وجہ سے مشن میں تاخیر بھی ہوئی۔ واضح رہے کہ اس منصوبے سے سینکڑوں سائنسداں، انجینیئر اور دیگر اسٹاف وابستہ ہے۔

The post ہیلی کاپٹر اور خلائی گاڑی کے ساتھ، نیا خلائی مشن مریخ کی سمت گامزن appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/39G8QMK

کراچی، حیدر آباد اور سکھر کی جیلوں میں رینجرز اور پولیس کا مشترکہ سرچ آپریشن

 کراچی: سندھ رینجرز اور پولیس نے حالیہ دہشت گردی اور درپیش خطرات کے پیش نظر صوبے کے 3 بٓڑے شہروں کی جیلوں میں سرچ آپریشن کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ میں حالیہ دہشت گردی اور درپیش خطرات کے پیش نظر رینجرز اور پولیس نے کراچی، حیدرآباد اور سکھر کی تینوں سینٹرل جیلوں میں مشترکہ سرچ آپریشن کیا ہے۔ سرچ آپریشن میں رینجرز کے مختلف ونگز نے حصہ لیا۔ تینوں جیلوں کی تمام قیدی بیرکس اور سیلز کی تفصیلی تلاشی بذریعہ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور سونگھنے والے کتوں کی مدد سے لی گئی۔ اس دوران جیلوں کے داخلی و خارجی راستوں اور دیگر سیکیورٹی سے متعلق انتظامات بھی چیک کئے گئے۔

سندھ رینجرز کے حکام کا کہنا ہے کہ جیلوں کی تلاشی کے دوران بڑی تعداد میں مختلف ممنوعہ اشیاء کی برآمد گی کی گئی جن میں ٹیلی ویژن، چاقو ،قینچی، یو ایس بی ، میموری کارڈ، ایم پی فائیو ، لائٹرز، ناخن تراش ، اورہیٹر شامل ہیں۔

The post کراچی، حیدر آباد اور سکھر کی جیلوں میں رینجرز اور پولیس کا مشترکہ سرچ آپریشن appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2XfWRRf

شہر کے مختلف مقامات پر عیدالاضحی کی نماز کے اوقات کار

اہل سنت

6:15

جامع میمن مسجد مصلح الدین گارڈن جوڑیا بازاز، امامت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری ،جامع مسجد کنز الایمان گرو مندرامامت مولانا حنیف عطاری،میمن مسجد بولٹن مارکیٹ امامت مولانا اکرام المصطفی،زینب مسجد جمشید روڈ امامت مولانا الطاف قادری،جامع مسجد گلستان غوثیہ چونا بھٹی رنچھوڑ لائن امامت مولانا شہزاد ترابی،مجامع مسجد مسلم ٹاؤن سیکٹر 11-E نارتھ کراچی امامت مولانا اصغر تونسوی،مدنی عید گاہ مدنی مسجد بی ہائنڈ جیکب لائن،امامت مولانا نو ر عالم برکاتی

6:30

جامع مسجد قباچاول گودام موڑ شیر پاؤ لانڈھی ،امام و خطیب مولانا محمد طارق شامزئی،مسجد عثمان غنی گلستان جوپر بلاک 12 امام مولانا عبیداللہ

6:45

جامع مسجد سینٹرل فائر بریگیڈ نزد سول اسپتال امامت مولانا شوکت سیالوی،جامع مسجد الیاس گھانچی پاڑہ ہ امامت  مولانا سعید قاسمی،جامع مسجد خدیجہ الکبریٰ امامت لیا ری مولانا جنید ہاشمی

6:50

جامع مسجد فاروق اعظم  جامعہ اسلامیہ محمودیہ امامت خطابت مولانامحمدضیا الدین سواتی

7:00

جامع مسجد باب السلام سیکٹر 5,A,2نارتھ کراچی خطابات و امامت مولانا محمد الیاس، قائد پارک جامع مسجد قادریہ ملیرامامت مولانا عبد الوہاب قادری،جامع مسجد خلفاراشدین گلشن،امامت علامہ کامران قادری،جامع مسجد حنفیہ محمود آباد نمبر 3،مولانا خالد ماتریدی، صابری مسجد رنچھوڑ لائن ،عالم نقشبندی ،جامعہ حنفیہ نظامی روڈ جیکب لائن،کچھی میمن مسجد صدر،جمشیدانصاری پارک نزد جامعہ مدنیہ اسلامیہ گلشن اقبال کراچی امامت وخطابت مولانا عبدالکریم عابد،  جامع مسجد ہادی اسلام اتحاد ٹاؤن امامت مولانا عابدالدین ، مرکزی جامع مسجد نورانی آدم جی روڈ لانڈھی خطیب مولانا عزیز الرحمن صدیقی،جامع مسجد قبائکیماڑی،امامت خطابت، مولانا محمد بلال  ،جامع مسجد سبحانی فیوچر کالونی لانڈھی قائد آباد،امامت وخطابت، مفتی محمد صادق ،جامع مسجد اقصی مظفر آباد کالونی لانڈھی،امامت خطابت مولانا احسان اللہ ٹکروی،جامع مسجد فیضان مدینہ گلشن حدید فیز 2

7:15

اویس قرنی مسجد منوڑہ امامت عباس رضا الباروی،رحمت مسجد بھیم پورہ لیاری امامت مولانا عمیر ترابی،جامع مسجد غوثیہ گلشن حدید ،جامع مسجد ہدی گلشن حدید ،جامع مسجد گلزار مدینہ اسٹیل ٹاؤن

7:30

جامع مسجدقدسیہ مدرسہ انوارالقرآن صدیقیہ ناظم آباد ،امامت وخطابت مولاناقاری خیرالحق ابرار

جامعہ شمس العلوم وجامع مسجد پٹھان کیماڑی،امامت وخطابت مولانا قاضی فخرالحسن ،جامع مسجد طور،جامعہ عثمانیہ شیرشاہ،امامت خطابت،مولاناعظیم اللہ عثمان،جامع عثمانیہ یوسف گوٹھ بکراپیڑی  مولانا عبدالعزیز ملازئی  ، جامع مسجد نعمان سیکٹر 8/ای گلزار کالونی کورنگی انڈسٹریل ایریاخطابت مولانا کفایت اللہ ، جامع مسجد حقانی علی محمد بروہی گوٹھ بنگالی پاڑہ امام وخطیب مولانا سید علی خان ،جامع مسجدنوررحیم شاہ کالونی اورنگی ٹاؤن کراچی امامت خطابت، مولاناطاہرین، جامع مسجد مظہرالعلوم حمادیہ اتحاٹاؤن،امامت مولانا فخرالدین کھوسو ،جامع مسجدباب الاسلام نواب کالونی اتحادٹاؤن مولاناسراج محمداختر،جامع مسجد مدنی کیماڑی امامت قاری اخترزادہ سواتی ،اقصیٰ عید گاہ صوفی غلام نبی روڈ کھوکراپار نمبر 2،جامع مسجد کیماڑی جیکسن مارکیٹ،امامت مولانا غلام مصطفی، جامع مسجد مریم مہران ٹاؤن کورنگی امامت مفتی بلال قادری،جامع مسجد نور محمدی صادق آباد امامت مولانا مہتاب عالم،گلشن حدید فیز1 دیارحبیب مسجد ،جامع مسجد شہید بھٹو اسٹیل ٹاؤن

7:45

جامع مسجد نورانی بلوچ گوٹھ اورنگی ٹاؤن سیکٹر 7اے کراچی امامت خطابت مولانا قاری محمد ایوب ہزاروی ،جامع مسجد تقویٰ جھتیال گوٹھ نزد گلشن معمارکراچی امامت مفتی سعیداللہ کوثری ،عیدگاہ عبداللہ گبول گوٹھ نزد گلشن معمار،امامت وخطابت مولانا محمد خان گبول، جامع مسجد درگاہ عبداللہ شاہ غازی  کلفٹن امامت مولانا محمد مسکین حنفی ،جامع مسجدنور مصطفی سیکٹر4-B سرجانی ٹاؤن امامت مولانافخر الحسن شاہ،جامعہ غوثیہ شیرازیہ قائد آباد بن قاسم امامت مولانا عبدالقادر شاہ شیرازی امام احمدرضاعید گاہ شاہ فیصل نمبر 4 ،امامت سید راشد علی قادری

8:00

عید گاہ شہدائے میلاد بشارت پارک پریڈی لائنز ایریا ،امامت حافظ ارشاد قادری،عید گاہ امام احمد رضا ایچ ایم گراؤنڈ کورنگی نمبر 2 ،امامت مولانا جمیل امینی،جامع مسجدفاروق اعظم 1-A اورنگی ٹا ؤن،امامت مولاناعاشق سعیدی،پیپلز گراؤنڈلیاری ،امامت عامر سعیدی مہروی،جامع مسجدبسم اللہ کورنگی نمبر 6،امامت علامہ شاہ مظہر الحق،جامع مسجد رحمت عالم گلشن ضیااورنگی،

8:30

عید گاہ وحیدآبادگلبہار چار سو کوارٹر امامت قاضی جواد حسین اشرفی،جامع مسجد رحمان، معماربنگلوز احسن آباد کراچی امامت خطابت مولانا عبدالبصیراعوان ،جامع مسجد عثمان غنی  جونجھار گوٹھ متصل نئی سبزی منڈی سپرہائی وے امامت خطابت مولانا قاری طلحہ زبیر سواتی

8:45

جامع مسجد قباجمالی پاڑہ گل گوٹھ امامت مولانا محمد قاسم بن رفیق ،جامع مسجد بیت االمکرم،فیضان ٹاؤن نئی سبزی منڈی امامت مولانا عبدالولی

9:00

جامع مسجد گلزار حبیب سولجر بازار،امامت علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی

جماعت اہل حدیث

6:00

مولاناحافظ عبدالحنان سامرودی  سراج الدولہ عثمانیہ پارک شہیدملت  روڈ بہادرآباد ،مولانا حافظ ذکریا  ٹیولپس بینکوٹ مین شاہراع فیصل عوامی مرکز  ،مولاناشیخ معراج الہدی  جامع مسجد علی بن ابی طالب مکہ اپرٹمنٹ فورا ہ چوک گاڈن

6:30

مولاناپروفیسرحافظ محمدسلفی جامعہ ستاریہ الاسلامیہ جامع مسجد امام ابن تیمیہ گلشن اقبال ،مولانامفتی صہیب شاہد  دی مونٹ لاننزد پیراگون اسکول بلاک 6  PECHS ،مولانامحمداحمدنجیب جامع مسجد دارالسلا بفرزون 16/A نارتھ کراچی ،مولانافضل جلال جامع مسجد قبااتحاد ٹاؤن، مولانا عبدالوکیل ثاقب  جامع مسجدابوبکرصدیق ، مولاناطاہر اشرف بندہانی  وینس پمپ نزد انڈس اسپتال کورنگی کارسنگ،مولاناعمیر ثاقب جامع مسجد مرکزاسلامیہ   5/E نیوکراچی ، مولانامحمدبشیر حسرت موہانی پردہ باغ  بارود خانہ اسکول پاک کالونی ،مولاناجواد جامع مسجدالہدی  لال مارکیٹ نیوکراچی،مولانامحمدعابد  جامع مسجد باب السلام  سیکٹر 7.Cنارتھ کراچی ،مولانامفتی یوسف قصوری  جامع مسجد عثمان بن عفان قیوم آباد،  علامہ محمدحسین بلتستانی  کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل  کالج  ۔ مولانا شیخ طحہ پاشاہ جامسجد اہلحدیث  زہرہ امین  منظورکالونی،مولانا قاری محمد ندیم ایاز جامع مسجد ابرہیم خلیل کیماڑی،مولانا مفتی محب اللہ  جامع مسجد ابو زرغفاری   شاہ لطیف ٹاؤن، مولاناحماد امین چاؤلہ  جامع مسجد سعدبن ابی وقاص فیز 4 ڈیفنس،مولانامفتی رفیق سلفی مدرسہ ابوبکرالصدیق الاسلامیہ ملیر، مولاناعبدالوہاب  جامع مسجد قبااہلحدیث سعیدآباد بلدیہ ٹاؤن،حافظ عبدالرحمن عیسی  غریب آباد ریلوے گراونڈ نزد Kالیکٹرک، مولانا حافظ شیخ عبداللہ شمیم   کے ایم سی گراؤنڈ کشمیرروڈ

6:45

علامہ ڈاکٹرعامرعبداللہ محمدی  جامع مسجد ابرہیم خلیل اللہنارتھ کراچی ، مولانامفتی انس مدنی افغان اسٹیڈیم روشن باغ پاورہاؤس سہراب گوٹھ روڈ، مولاناحافظ جنیدذکی  جمنازیم پارک شمسی سوسائٹی ،مولاناسلیمان چنگوانی  جامع مسجد عمرعبدالعزیز غریب آبادسپرہائی وے،مولاناحق نواز  جامع مسجدمحمدی   عظیم پورہ

7:00

مولانامفتی منور ذکی  گلستان انیس شہید ملت روڈ،مولانامفتی عبدالوکیل ناصر  جامع مسجدتوحید نیوکراچی ،مولاناابرہیم جوناگڑھی جامع مسجدمحمدی اہلحدیث اونگی ،مولانامفتی جاسم سلفی  جامع مسجد اہلحدیث لائق آباد ،مولاناعبدالروف  جامع مسجدمحمدی اہلحدیث شریف کالونی ، مولانامحمدنعیم جامع مسجدعمراہلحدیث اشفاق انعام الہی  روڈ،مولاناحمزہ عبداللہ جامع مسجد محمدی سوسائٹی نیوکراچی، مولانا جواد مدنی جامع مسجدالہدی چراغ ہوٹل لانڈھی  ،مولانا محمد سلطان جامع مسجداہلحدیث لاسی گوٹھ

7:15

مولاناجمیل اظہروتھرا جامعہ الصدیق   گلستان جوہر منورچورنگی، مولاناعبدالباسط 24 مارکیٹ چاندنی چوک سعیدآباد

7:30

مولاناعبدالرحمن سلفی کے ایم سی فٹبال اسٹیڈیم چاندبی بی روڈ،مولانا حافظ محمدحارث  سعید جامع مسجد بیت السلام ،مولانایوسف نعیم مھدتعلیم السلامی و دارالفنون پیرکالونی ،مولانا وحیداللہ سلفی  جامع مسجد طاہربن یوسف خاضتخیلی گوٹھ

اہل تشیع

6:30

بجے مسجد عزاخانہ ابو طالب سولجر بازار۔

7:00

محفل شاہ خراسان نمائش چورنگی پہلی جماعت،مسجد پنجتنی پہلی جماعت ،مسجد کاظمیہ ،محفل مر تضی (پی ی سی ایچ ایس پہلی جماعت،مسجد و امام بارگاہ تقویٰ بلاک 4گلشن پہلی جماعت

7:15

بارگاہ حسینی پی ی سی ایچ ایس ۔

7:30

مسجد محمدی ،محمدی ڈیرہ پہلی جماعت،مسجد و امام بارگاہ ناصرانشاہ فیصل کالونی ،حسینی مسجد ،جامع مسجد نجف کارساز، پہلی جماعت ،مسجد پنجتنی فائیوایف ،مسجد جعفریہ ملیر کینٹپہلی جماعت،مسجد علمدار،باب حوائج امام بارگاہ پہلی جماعت،مسجد و امام بارگاہ العباس مدینہ کالونی کھوکھراپار

7:45

جامع مسجد یثرب

8:00

محفل شاہ خراسان نمائش چورنگی دوسری جماعت،مسجد یثرب ڈیفنس فیز 4 پہلی جماعت،جامع مسجد نورایمان ناظم آباد پہلی جماعت ،مسجد پنجتنی دوسری جماعت،مسجد علی رضاایم اے جناح روڈ،امامیہ مسجد ،مسجد باب العلم ناظم آبادپہلی جماعت،مسجد آل عباگلبرگ پہلی جماعت،مسجد خیر العمل انچولی بلاک 20 پہلی جماعت،مسجد و امام بارگاہ مدینتہ العلم نیپا چورنگی پہلی جماعت،مسجدصاحب الزمان گلستان جوہر بلاک۔14پہلی جماعت،مسجد صاحب العصر جوہر موڑ،مسجد شریکتہ الحسین پہلی جماعت،جامع مسجد مصطفی عباس ٹاؤن پہلی جماعت،جامع مسجد علایت علی شاہ،مسجد بزم فاطمہ،مر کزی مسجد و امام بارگاہ جعفر طیار سوسائٹی پہلی جماعت،مسجد حسنین،کیماڑی منوڑہ،جامع مسجد علی ،مسجد اثناعشری 36-Bلانڈھی،امامیہ مسجد جے ون ،مسجد و امام بارگاہ حسینی کورنگی ڈھائی،مسجد مدینتہ العلم گھگرپھاٹک،مسجد یاسین صفورہ چورنگی پہلی جماعت،مسجد محبان مصطفی ،مسجد یاسین صفورہ چورنگی پہلی جماعت،جامع مسجد و امام بارگاہ جعفریD 5،پہلی جماعت،مسجد و امام بارگاہ کاروان حیدری،جامع مسجد سکینہ 11-G پہلی جماعت، مسجدمصطفوی11-B،پہلی جماعت، جامع مسجد حیدری اورنگی ،مسجد وامام بارگاہ العباس سیکٹر 10،مسجد علی اکبر سادات کواٹر،جامع مسجد خدیجہ الکبریٰ بلدیہ ٹاؤن،مسجد حسینی نگار بلدیہ ٹاؤن،مسجد در زہراشمائل ہومزپہلی جماعت،جامع مسجد و امام بارگاہ جعفریہ پورٹ قاسم کالونی

8:30

کھارادر،خوجا جامع مسجدکھارادر،جامع مسجد نجف کارسازدوسری جماعت،مسجد پہلوان گوٹھ ایئر پورٹ،مسجد کاظمین گولیمار،جعفریہ امام بارگاہ گولیمار،جامع مسجد نجف کارساز دوسری جماعت ،مسجد ارم محمود آباد نمبر4،مسجد ابو فضل عباس پی آئی بی کالونی،جامع مسجد ابو تراب عزیز آباد،ایف سی ایریا،حسینی مسجد و امام بارگاہ،جامع مسجد حسن مجتبی،مسجد سلمان فارسی طوری بنگش کالونی، مسجد محمدیہ سیکٹر 11اورنگی ٹاؤن ،مسجد امام بارگاہ حسینی،مسجد حیدری ،مسجد ابو تراب،مسجد و امام بارگاہ تقویٰ بلاک 4گلشن دوسری جماعت،مسجد آل محمد پہلی جماعت ،مسجد و امام بارگاہ جامع امامیہ ناظم آباد نمبر2،جعفریہ مسجد اسٹیل میل پلانٹ

9:00

اسلامک ریسرچ سینٹر عائشہ منزل،پاک محرم ہال ،مسجد یثرب ڈیفنس فیز 4دوسری جماعت ،مسجد پنجتنی تیسری جماعت ،مسجد شاہ کر بلا رضویہ سو سائٹی گولیمار،پہلی جماعت،جامع مسجد نورایمان ناظم آباد،دوسری جماعت،مسجد باب العلم ناظم آباددوسری جماعت،مسجد آل عباگلبرگ دوسری جماعت ،مسجد خیر العمل انچولی بلاک 20 دوسری جماعت،مسجد و امام بارگاہ مدینتہ العلم نیپا چورنگی دوسری جماعت،مسجدصاحب الزمان گلستان جوہر بلاک 14دوسری جماعت، مسجد شریکتہ الحسین دوسری جماعت ،جامع مسجد مصطفی عباس ٹاؤن دوسری جماعت،مسجد امام رضانیورضویہ سو سائٹی،دوسری جماعت،مسجد یاسین صفورہ چورنگی دوسری جماعت،جامع مسجدو امام بارگاہ جعفری نیوکراچی،دوسری جماعت،جامع مسجد سکینہ 11-G دوسری جماعت،مسجد مصطفوی11-B، دوسری جماعت،مسجد و امام بارگاہ یادگار پنجتنی حبیب بینک کواٹر،مسجد و امام بارگاہ ایرانی کیمپ ،مسجد و امام بارگاہ کاظمین ،مسجد در زہراشمائل ہومزدوسری جماعت ،امامیہ مسجد حیدری میشن ایف این ایریا

9:15

بارگاہ شیر یزدان رحیم شاہ کالونی اونگی ٹاؤن ،مسجد وامام بارگاہ دربار حسینی ملیردوسری جماعت

The post شہر کے مختلف مقامات پر عیدالاضحی کی نماز کے اوقات کار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2EC4IC8

جانوروں کی خوراک ’’عارضی روزگار‘‘ کا ذریعہ بن گئی

کراچی: کورونا وائرس کے سبب خراب معاشی صورتحال کے باعث ہزاروں افراد بے روزگار ہوئے ہیں جب کہ کئی افرادنے اپنے اہل خانہ کی کفالت کے لیے عید الاضحی پر ’’عارضی روزگار‘‘ کا انتظام کرلیا۔

مختلف علاقوں میں جگہ جگہ جانوروں کی خوراک میں استعمال ہونے والی اشیا کی فروخت کے اسٹال قائم  کیے گئے ہیں جہاں 24 گھنٹے جانوروں کی خوراک دستیاب ہے، اس کام سے منسلک محمد نعیم نے بتایا کہ عیدالاضحی پر قربانی کے جانوروں کی خدمت بڑوں کی نسبت بچے زیادہ شوق سے کرتے ہیں اور وہی ان کی خوراک اور پانی کا خیال رکھتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ شہر کے تمام علاقوں، اہم شاہراہوں اور مقامات پر جانوروں کو خوراک کی فراہمی کی اشیاکے اسٹال قائم ہوگئے ہیں، یہ کاروبار عارضی ہوتا ہے، جو عیدالاضحیٰ سے 15 روز قبل شروع کیا جاتا ہے اور عید کے تیسرے دن تک جاری رہتا ہے، اس کاروبار کے سبب سیکڑوں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار حاصل ہوا ہے، جانوروں کی خوراک کیلیے تھل، چوکر، دانا بھوسا، مکئی، جو، گیہوں، ہرا چارا، سوکھا چارا، کٹا ہوا چارا (گڈی)، چنے کا چھلکا، بھوسی اور دیگر اشیا استعمال ہوتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ چارے کی ہول سیل منڈی لی مارکیٹ پر قائم ہے، اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی ہول سیل قیمتوں پر جانوروں کی خوراک کی اشیا فروخت ہو رہی ہیں اور ہول سیل سے خریدنے کے بعد عام اسٹالوں پر یہ اشیا 10 سے 15 فیصد منافع رکھ کر فروخت کی جاتی ہیں۔،ماضی کی نسبت جانوروں کی خوراک میں استعمال ہونے والی اشیاکی قیمتوں میں اس عیدالاضحیٰ سے قبل بھی25سے30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ کھل 60روپے فی کلو، چوکر 55روپے فی کلو، دانا65روپے فی کلو، بھوسی 30 سے 35 روپے فی کلو، بھوسا 30 سے 35 روپے فی کلو، جو 50 سے 55 روپے فی کلو، گیہوں 60روپے فی کلو، ہرا چارا 20 سے 25 روپے فی کلو، ہر گھاس 15 روپے فی کلو، سوکھی گھاس 25 سے 30 روپے فی کلو، چنے کا چھلکا 60روپے فی کلو، بڑے جانور کا مکس چارا 85 روپے فی کلو اور چھوٹے جانور کا سوکھا مکس چارا 70روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے،زیادہ تر لوگ مکس چارا خرید کر لے کر جاتے ہیں، جو بکروں، دنبوں اور دیگر چھوٹے جانوروں کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ بڑے جانور کے لیے ہرا چارا زیادہ استعمال ہے۔

خاندانی قصابوں کی عید کے پہلے روز بکنگ مکمل

خاندانی قصابوں نے عید الاضحی کے پہلے روز کے لیے ایڈوانس بکنگ بند کردی ہے، قصابوں نے گزشتہ عید کی نسبت رواں عید الاضحی پر اپنے معاوضے میں 30 سے 50 فیصد اضافہ کردیاہے۔

قصاب کامران قریشی نے بتایا کہ عید الاضحی پر بڑے اور چھوٹے جانوروں کی قربانی کا معاوضہ جانوروں کے وزن کو دیکھ کر طے کیا جاتا ہے اور ہر علاقے میں معاوضہ الگ الگ ہوتا ہے۔عید کے پہلے روز بڑے جانور کی قربانی کا معاوضہ 10ہزار روپے سے 15ہزار روپے تک ہوتا ہے جبکہ پوش علاقوں میں 15سے 20ہزار روپے تک معاوضہ لیا جاتا ہے۔چھوٹے جانور کی قربانی کا معاوضہ 3 ہزار سے 6 ہزار روپے تک جبکہ پوش علاقوں میں 5 سے 10 ہزار روپے تک معاوضہ لیا جاتا ہے۔

دوسرے دن بڑے جانور کی قربانی کا معاوضہ 7ہزار سے 10ہزار اور چھوٹے جانور کے 3سے 5ہزار اور تیسرے دن بڑے جانور کے 5سے 8ہزار اور چھوٹے جانور کے 2سے 3ہزار روپے لیے جاتے ہیں،صوبے کے مختلف اضلاع کے علاوہ دیگر ہنرمند افراد بھی عید الاضحی پر تین دن کی دہاڑی لگاتے ہیں اور یہ موسمی قصاب ٹولیوں کی شکل میں مختلف علاقوں میں گشت کرتے ہیں اور اصل قصاب کی نسبت 50فیصد کم معاوضے پر جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔ان میں سے بعض افراد اناڑی ہوتے ہیں جو کھال اور گوشت کو خراب کردیتے ہیں۔

سیکڑوں بے روزگار نوجوانوں نے عارضی باڑے بھی بنالیے

جانوروں کی حفاظت کیلیے سیکڑوں بے روزگار نوجوانوں نے عارضی باڑے قائم کر لیے ہیں۔ یہ عارضی باڑے مختلف علاقوں میں سڑکوں، گلیوں، فلیٹوں اور کھلے مقامات پر قائم کیے گئے ہیں۔ ان باڑوں کو شامیانے لگا کر قائم کیے گئے ہیں۔ یہ باڑے عید سے 10 روز ہی قائم ہو گئے تھے اور یہ باڑے عید کے تیسرے روز تک قائم رہیں گے۔ ان باڑوں میں قربانی کے بڑے چھوٹے جانور باندھے جاتے ہیں۔ جہاں 24 گھنٹے کے لیے بڑے جانور کا کرایہ 300 روپے  اور چھوٹے جانور کا کرایہ 200 روپے تک لیا جاتا ہے۔ ان باڑوں میں جانوروں کی دیکھ بھال اور حفاظت کی جاتی ہے۔ ان باڑوں میں نوجوان شفٹوں میں چوکیداری کرتے ہیں۔

جانوروں کی خوراک کا بندوبست جانور کے مالکان خود کرتے ہیں یا کئی افراد اپنے جانوروں کو خوراک کی فراہمی کیلیے الگ سے معاوضہ ادا کرتے ہیں۔ باڑا مالکان تین وقت بڑے جانور کی خوراک کا معاوضہ 500 روپے اور چھوٹے جانور کے 200 روپے ادا کرتے ہیں۔ ان باڑوں کے ساتھ چارے والوں نے اپنے اسٹال قائم کیے ہوتے ہیں۔

کارگو ٹرانسپورٹ سے منسلک افراد کا کاروبار بھی چمک اٹھا

کارگو ٹرانسپورٹ سے منسلک افراد کا کاروبار بھی چمک اٹھا ہے۔ گاڑیوں میں ڈرائیور کے علاوہ 2 افراد بطور مددگار کام کرتے ہیں، وہ جانوروں کو اتارتے اور چڑھاتے ہیں، یہ ٹرانسپورٹ والے ہر علاقے کے حساب سے معاوضہ طلب کرتے ہیں، کم از کم علاقے کا معاوضہ 1000 روپے اور دور علاقوں کا معاوضہ 3 سے 4 ہزار روپے طلب کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ مختلف مقامات پر بکرے اور دنبوں کی فروخت کے بعد خریدار سی این جی رکشوں میں ان کو اپنے گھروں تک لے جاتے ہیں اور رکشے والے  300 سے 700 روپے تک طلب کرتے ہیں۔

چٹائی 400روپے سے 1000 روپے تک فروخت

مختلف سائز کی چٹائی 400روپے سے 1000 روپے تک فروخت ہورہی ہے، مختلف اقسام اور سائز کی ٹوکریاں 150 سے 500 روپے تک فروخت کی جارہی ہیں، زیادہ تر ٹوکریاں اور چٹائیاں اجتماعی قربانی کرنے والے افراد اور ادارے خریدتے ہیں۔

 

 

The post جانوروں کی خوراک ’’عارضی روزگار‘‘ کا ذریعہ بن گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3hSkiaX

ماتحت عدلیہ کے ججز، ملازمین کے یوٹیلٹی الاؤنس میں اضافہ

لاہور / راولپنڈی: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان کے حکم پر پنجاب حکومت نے صوبہ بھر کی ماتحت عدلیہ کے ججز، عدالتی افسران و ملازمین کے یوٹیلیٹی الاؤنس میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق گریڈ 1 سے گریڈ 6  کے  ملازمین کا یوٹیلیٹی الاؤنس 3 ہزار سے بڑھا کر 6 ہزار ، گریڈ 7اور 8 کے ملازمین کا 4 ہزار سے بڑھا کر 6 ہزار ، گریڈ 9 سے گریڈ 14  کے ملازمین کا 4 ہزار سے بڑھا کر 8 ہزار ، گریڈ 15 اور 16 کے افسروں کا 4 ہزار سے بڑھا کر بالترتیب 10ہزار اور 14 ہزار ، گریڈ 17 اور 18 کے افسروں کا  5 ہزار سے بڑھا کر بالترتیب 15 ہزار اور 20 ہزار، گریڈ 19 کے افسروں کا 8 ہزار سے بڑھا کر 25 ہزار ، گریڈ 20 اور اس سے اگلے گریڈ کے افسروں کا یوٹیلیٹی الاؤنس  8 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کر دیا گیا۔

وزارت خزانہ پنجاب نے نوٹیفیکیشن کی نقول رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ اور پنجاب کے تمام36 اضلاع کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو  ارسال کر دی ہیں۔

 

The post ماتحت عدلیہ کے ججز، ملازمین کے یوٹیلٹی الاؤنس میں اضافہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3hTfq5E

کورونا وبا میں کمی ؛ ملک میں فعال مریضوں کی تعداد 25 ہزار رہ گئی

 اسلام آباد: ملک میں کورونا وائرس کے وار مزید کم ہونے لگے ہیں اور اس وقت پاکستان میں اس وبا کے فعال مصدقہ کیسز کی تعداد 25 ہزار 177 رہ گئی ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 20 ہزار 507 کورونا ٹیسٹ کیے گئے، ملک بھر میں اب تک 19 لاکھ 73 ہزار 237 ٹیسٹ ہو چکے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں صرف 903 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، اس طرح ملک بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 78 ہزار 305 تک جا پہنچی ہے جب کہ اس وائرس صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 47 ہزار 177 ہوگئی ہے اور فعال کیسز کی تعداد 25 ہزار 177 رہ گئی ہے۔

سندھ میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 20 ہزار 550 ہے، پنجاب میں 90 ہزار 873 ، خیبر پختونخوا میں 33 ہزار 958 ، بلوچستان میں 11 ہزار 732 ، اسلام آباد میں 15 ہزار 14 ، آزاد جموں و کشمیر 2 ہزار 73 اور گلگت بلتستان میں 2 ہزار 105 ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 27 افراد کورونا کا شکار ہوکر جاں بحق ہوگئے، اس طرح ملک بھر میں مجموعی اموات کی تعداد 5951 ہو گئی ہے جب کہ ‏ملک بھر کے اسپتالوں میں 210 مریض وینٹی لیٹر پر ہیں۔

کورونا وائرس اور احتیاطی تدابیر:

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

The post کورونا وبا میں کمی ؛ ملک میں فعال مریضوں کی تعداد 25 ہزار رہ گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3gfw1jJ

قربانی کے فضائل و مسائل

’’قربانی کرنے والے کو قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملتی ہے۔‘‘

’’جس نے خوش دلی سے طالب ِ ثواب ہو کر قربانی کی تو وہ آتش جہنم سے حجاب (یعنی روک) ہوجائے گی۔‘‘ (العجم الکبیر)

’’ جس شخص میں قربانی کرنے کی وسعت ہو پھر بھی وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔‘‘ (ابن ماجہ)

جو لوگ قربانی کی استطاعت رکھنے کے باوجود اپنی قربانی واجب نہیں کرتے، ان کے لیے لمحۂ فکر ہے، اوّل یہی نقصان کیا کم تھا کہ قربانی نہ کرنے سے اتنے بڑے ثواب سے محروم ہوگئے، مزید یہ کہ وہ گناہ گار اور جہنم کے حق دار بھی ہیں۔ فتاویٰ امجدیہ میں ہے: ’’اگر کسی پر قربانی واجب ہے اور اس وقت اس کے پاس روپے نہیں ہیں تو قرض لے کر یا کوئی چیز فروخت کرکے قربانی کرے۔‘‘

حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی کا مفہوم ہے: ’’انسان بقرہ عید کے دن کوئی ایسی نیکی نہیں کرتا جو اﷲ عزوجل کو خون بہانے سے زیادہ پیاری ہو، یہ قربانی قیامت میں اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گی اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اﷲ کے ہاں قبول ہو جاتا ہے لہٰذا خوش دلی سے قربانی کرو۔‘‘ (ترمذی)

ہر بالغ، مقیم مسلمان مرد و عورت، مالک نصاب پر قربانی واجب ہے۔ مالک نصاب ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس شخص کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی یا اتنی مالیت کی رقم یا اتنی مالیت کا تجارت کا مال یا اتنی مالیت کا حاجت اصلیہ کے علاوہ سامان ہو اور اس پر اﷲ عزوجل یا بندوں کا اتنا قرض نہ ہو جسے ادا کردہ ذکر کردہ نصاب باقی نہ رہے۔

فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ حاجت اصلیہ (ضروریاتِ زندگی) سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کی عموماً انسان کو ضرورت ہوتی ہے اور ان کے بغیر گزر اوقات میں شدید تنگی و دشواری ہوتی ہے جیسے رہنے کا گھر، پہننے کے کپڑے، سواری، علم دین سے متعلق کتابیں اور پیشے سے متعلق اوزار وغیرہ۔ اگر ’’حاجت اصلیہ‘‘ کی تعریف پیش نظر رکھی جائے تو بہ خوبی معلوم ہو گا کہ ہمارے گھروں میں بے شمار چیزیں ایسی ہیں کہ جو حاجت اصلیہ میں داخل نہیں چناں چہ اگر ان کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر پہنچ گئی تو قربانی واجب ہوگئی۔

’’مال اور دیگر شرائط قربانی کے ایام (یعنی 10ذوالحجہ کی صبح صادق سے لے کر 12 ذوالحجہ کے غروبِ آفتاب تک) میں پائے جائیں جبھی قربانی واجب ہوگی، اس کا مسئلہ بیان کرتے ہوئے حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی ’’بہارِ شریعت‘‘ میں فرماتے ہیں کہ یہ ضروری نہیں کہ دسویں ہی کو قربانی کر ڈالے، اس کے لیے گنجائش ہے کہ پورے وقت میں جب چاہے کرے لہٰذا اگر ابتدائے وقت میں (10ذوالحجہ کی صبح) اس کا اہل نہ تھا، وجوب کے شرائط نہیں پائے جاتے تھے اور آخر وقت میں (یعنی 12 ذوالحجہ کو غروبِ آفتاب سے پہلے) اہل ہوگیا یعنی وجوب کے شرائط پائے گئے تو اس پر قربانی واجب ہوگئی اور اگر ابتدائے وقت میں واجب تھی اور ابھی (قربانی) نہیں کی اور آخر وقت میں شرائط جاتے رہے تو (قربانی) واجب نہ رہی۔‘‘ (عالمگیری)

بعض لوگ پورے گھر کی طرف سے صرف ایک بکرا قربان کرتے ہیں حالاں کہ بعض اوقات گھر کے کئی افراد صاحب ِ نصاب ہوتے ہیں اور اس بناء پر ان سب پر قربانی واجب ہوتی ہے ان سب کی طرف سے الگ الگ قربانی کی جائے۔ ایک بکرا جو سب کی طرف سے کیا گیا کسی کا بھی واجب ادا نہ ہوا کہ بکرے میں ایک سے زیادہ حصے نہیں ہوسکتے، کسی ایک طے شدہ فرد ہی کی طرف سے بکرا قربان ہوسکتا ہے۔ گائے (بھینس) اور اونٹ میں سات قربانیاں ہو سکتی ہیں۔ نابالغ کی طرف سے اگرچہ واجب نہیں مگر کر دینا بہتر ہے (اور اجازت بھی ضروری نہیں)۔ بالغ اولاد یا زوجہ کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو ان سے اجازت طلب کرے اگر ان سے اجازت لیے بغیر کر دی تو ان کی طرف سے واجب ادا نہیں ہو گا۔ (عالمگیری)

اجازت دو طرح سے ہوتی ہے: صراحۃً : مثلاً ان میں سے کوئی واضح طور پر کہہ دے کہ میری طرف سے قربانی کردو۔ دولۃً : مثلاً یہ اپنی زوجہ یا اولاد کی طرف سے قربانی کرتا ہے اور انہیں اس کا علم ہے اور وہ راضی ہیں۔

(فتاویٰ اہل سنّت)

قربانی کے وقت میں قربانی کرنا ہی لازم ہے، کوئی دوسری چیز اس کے قائم مقام نہیں ہوسکتی مثلاً بہ جائے قربانی کے بکرا یا اس کی قیمت صدقہ (خیرات) کر دی جائے یہ ناکافی ہے۔ (عالمگیری)

قربانی کے جانور کی عمر‘ اونٹ پانچ سال کا، گائے دو سال کی، بکرا (اس میں بکری، دنبہ، دنبی اور بھیر نر و مادہ دونوں شامل ہیں) ایک سال کا۔ اس سے کم عمر ہو تو قربانی جائز نہیں، زیادہ ہو تو جائز بل کہ افضل ہے۔ ہاں دنبہ یا بھیڑ کا چھے مہینے کا بچہ اگر اتنا بڑا ہو کہ دُور سے دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔ یاد رکھیے! مطلقاً چھے ماہ کے دنبے کی قربانی جائز نہیں، اس کا اتنا فربہ (یعنی تگڑا) اور قدآور ہونا ضروری ہے کہ دُور سے دیکھنے میں سال بھر کا لگے۔ اگر چھے ماہ بل کہ سال میں ایک دن بھی کم عمر کا دنبے یا بھیڑ کا بچہ دُور سے دیکھنے میں سال بھر کا نہیں لگتا تو اس کی قربانی نہیں ہوگی، قربانی کا جانور بے عیب ہونا ضروری ہے۔ اگر تھوڑا سا عیب (مثلاً کان میں چیرا یا سوراخ ہو) تو قربانی مکروہ ہوگی اور زیادہ عیب ہو تو قربانی نہیں ہوگی۔ (بہارِ شریعت)

ایسا پاگل جانور جو چرتا نہ ہو، اتنا کم زور کہ ہڈیوں میں مغز نہ رہا، (اس کی علامت یہ ہے کہ وہ دبلے پن کی وجہ سے کھڑا نہ ہو سکے) اندھا یا ایسا کانا جس کا کاناپن ظاہر ہو، ایسا بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو (یعنی جو بیماری کی وجہ سے چارہ نہ کھائے) ایسا لنگڑا جو خود اپنے پاؤں سے قربان گاہ تک نہ جا سکے، جس کے پیدائشی کان نہ ہوں یا ایک کان نہ ہو، وحشی (یعنی جنگلی) جانور جیسے نیل گائے، جنگلی بکرا یا خنثی جانور (یعنی جس میں نر و مادہ دونوں کی علامتیں ہوں) یا جلالہ جو صرف غلیظ کھاتا ہو یا جس کا ایک پاؤں کاٹ لیا گیا ہو، کان، دم یا چکی ایک تہائی سے زیادہ کٹے ہوئے ہوں، ناک کٹی ہوئی ہو، دانت نہ ہوں (یعنی جھڑ گئے ہوں)، تھن کٹے ہوئے ہوں یا خشک ہوں، ان سب کی قربانی ناجائز ہے۔ بکری میں ایک تھن کا خشک ہونا اور گائے، بھینس میں دو کا خشک ہونا ’’ناجائز‘‘ ہونے کے لیے کافی ہے۔ (درمختار)

جس کے پیدائشی سینگ نہ ہوں، اس کی قربانی جائز ہے اور اگر سینگ تھے مگر ٹوٹ گئے، اگر جڑ سمیت ٹوٹے ہیں تو قربانی نہ ہوگی اور صرف اوپر سے ٹوٹے ہیں جڑ سلامت ہے تو ہوجائے گی۔ قربانی کرتے وقت جانور اچھلا کودا جس کی وجہ سے عیب پیدا ہو گیا یہ عیب مضر نہیں یعنی قربانی ہو جائے گی اور اگر اچھلنے کودنے سے عیب پیدا ہوگیا اور وہ چھوٹ کر بھاگ گیا اور فوراً پکڑ کر لایا گیا اور ذبح کر دیا گیا جب بھی قربانی ہو جائے گی۔ (بہار شریعت)

بہتر ہے کہ اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے کرے جب کہ اچھی طرح ذبح کرنا جانتا ہو اور اگر اچھی طرح نہ جانتا ہو تو دوسرے کو ذبح کرنے کا حکم دے مگر اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ وقت قربانی وہاں حاضر ہو۔ (عالمگیری)

قربانی کی اور اس کے پیٹ میں سے زندہ بچہ نکلا تو اسے بھی ذبح کردے اور اسے (یعنی بچے کا گوشت) کھایا جا سکتا ہے اور مرا ہوا بچہ ہو تو اسے پھینک دے کہ مردار ہے۔ (قربانی ہو گئی اور اس مرے ہوئے بچے کی ماں کا گوشت کھا سکتے ہیں)۔

(بہ حوالہ: بہارِ شریعت)

The post قربانی کے فضائل و مسائل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3119cda

عیدِ قرباں؛ مظہرِتسلیم و اطاعت

عیدِ قرباں کا فلسفہ، سیدھا اور سادہ سا ہے کہ اپنی تمام تر خواہشات کو بلائے طاق رکھتے ہوئے حکمِ ربی کے سامنے من و عن سرِتسلیم خم کیا جائے۔

اس حوالے سے تاریخِ اسلام کے اوراق قربانیوں کے واقعات سے بھرے پڑے ہیں۔ ان میں کچھ واقعات تو ایسے ہیں کہ جن کی مثال نہیں ملتی، بالخصوص حضرت ابراہیمؑ کا اپنے لختِ جگر حضرت اسمٰعیلؑ کی قربانی پیش کرنا، اور دوسرا حضرت امام حسینؓ کا اپنے بہتّر عزیز و اقارب کے ساتھ بارگاہِ خداوندی میں اسلام کو زندہ رکھنے کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنا۔ اور ذرا نظامِ قدرت دیکھیے کہ سن ہجری کا آغاز بھی خاندانِ نبوت ﷺ کی قربانیوں سے ہوا اور اختتام بھی رضائے الہیٰ کے حصول کے لیے قربانی کے عظیم الشان جذبۂ ایمانی پر ہی ہوتا ہے۔

یہ وہ دن ہے کہ جس دن حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیلؑ کی قربانی ربِ قدوس کی بارگاہِ مقدس میں پیش کی تھی، جو اﷲ تبارک و تعالیٰ نے قبول فرمائی، اسی خوشی میں ہم عید مناتے ہیں۔ رحمتِ عالم ﷺ جب مدینہ شریف تشریف لائے تو آپؐ نے دیکھا کہ یہود و نصاریٰ سال میں دو دن خوشی اور مسرت کے مناتے ہیں اور وہ انہیں عید کہتے ہیں وہ اس دن ہر ناجائز کام مثلا شراب، جوا اور زنا وغیرہ کو جائز سمجھتے تھے۔

رسولِ کریمؐ نے بھی امتِ مسلمہ کے لیے دو دن خوشیاں منانے کے لیے عطا فرمائے جنہیں ہم عیدالفطر اور عیدالاضحٰی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اسلام دینِ فطرت ہے، اسلام میں خوشی اور غم ہر موقع پر گناہوں سے پر ہیز کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مسلمان نماز ِعید ہو یا نمازِ جنازہ، پڑھ کر اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ غم ہو یا خوشی، ہم ہر حال اور ہر موقع پر اپنے پروردگارِ عالم کو یاد کرتے ہیں۔

آج سے کئی ہزار سال قبل اﷲ رب العزت کے خلیل حضرت ابراہیمؑ نے ایک خواب دیکھا کہ جس میں حکم تھا: ’’اے میرے خلیل! میرے لیے قربانی پیش کرو۔‘‘ نبی کا خواب وحی الٰہی ہوتا ہے، سو آپؑ نے نے سو اونٹ ربِ قدوس کی راہ میں قربان کردیے۔ دوسری رات پھر وہی خواب دیکھا، صبح اُٹھ کر آپؑ نے پھر سو اونٹ راہِ خدا میں قربان کر دیے۔ تیسری رات پھر خواب ملاحظہ فرمایا کہ ’’اے میرے خلیل! میری راہ میں وہ چیز قربان کرو جو تمہیں سب سے زیادہ پیاری ہے۔‘‘

حضرت ابراہیم علیہ السلام بیدار ہوئے تو سمجھ گئے کہ اﷲ تعالیٰ کی ذاتِ کریم مجھ سے میرے بیٹے حضرت اسمٰعیلؑ کی قربانی مانگ رہی ہے۔ آپؑ نے اپنی بیوی حضرت حاجرہؓ سے فرمایا: میرے بیٹے اسمعیلؑ کو تیار کردو، میں نے اسے ایک دعوت میں لے کرجانا ہے۔ حضرت حاجرہ ؓنے اسمٰعیلؑ کو نہلا دھلا کر خوب صورت لباس پہنا کر تیار کردیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک تیز دھار دار چھری اور رسی لی اور حضرت اسمٰعیلؑ کو لے کر دور ایک جنگل کی طرف چل پڑے۔

دوسری طرف شیطان نے اس بات کا عزم کیا کہ میں ابراہیم علیہ السلام کو قربانی کے اس عظیم مقصد میں کام یاب نہیں ہونے دوں گا، چناں چہ سب سے پہلے شیطان حضرت حاجرہ ؓ کے پاس پہنچا اور انہیں پوری حقیقت سے آگاہ کیا۔ حضرت حاجرہ ؓنے یہ سن کر فرمایا: ’’اگر اﷲ کا یہی حکم ہے تو ایک اسمٰعیل کیا، ہزاروں اسمٰعیل بھی ہوں تو اﷲ کی راہ میں قربان ہونے کے لیے حاضر ہیں، اے مردود! تو شیطان ہے۔‘‘ حضرت حاجرہؓ نے لاحول پڑھی تو شیطان وہاں سے بھاگ گیا۔ پھر وہ حضرت اسمٰعیلؑ کے پاس پہنچا اور انہیں بھی پوری حقیقت سے آگاہ کیا۔

حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے فرمایا: ’’اگر اﷲ کی یہی منشاء ہے تو میں حاضر ہوں۔ اے مردود تو شیطان ہے۔‘‘ پھر حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے بھی لاحول پڑھی اور اُسے کنکریاں ماریں۔ پھر شیطان حضرت ابراہیمؑ کے پاس پہنچا اور انہیں بھی ورغلانے کی خوب کوشش کی، اس موقع پر آپؑ نے بھی لاحول پڑھی اور شیطان مردود کو کنکریاں ماریں۔ یاد رہے کہ آج بھی حجاج کرام ان تینوں جگہوں پر کنکریاں مار اُن کی یاد تازہ کرتے ہوئے سنتِ ابراہیمیؑ ادا کرتے ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے لختِ جگر حضرت اسمٰعیلؑ کو لے کر ایک پہاڑ کے قریب پہنچے اور ان سے فرمایا: ’’اے میرے پیارے بیٹے! میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، بتا تیری کیا رضا ہے؟‘‘

سعادت مند اور فرماں بردار بیٹے نے جواب دیا: ’’ابّاجان! آپؑ کو جو حکم ملا ہے، اسے بلا خوف و خطر بجا لائیے، مجھے آپؑ ان شاء اﷲ صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔‘‘

جب باپ اور بیٹا دونوں ربِ کریم کی رضا پر راضی ہوگئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو زمین پر ماتھے کے بل لِٹا دیا۔ چھری چلانے سے پہلے بیٹے نے کہا: ’’ابّاجان! میری تین باتیں قبول فرمالیں، پہلی یہ کہ میرے ہاتھ پاؤں رسی سے باندھ دیں تاکہ میرے تڑپنے پر خون کا کوئی چھینٹا آپؑ کے لباس پہ نہ گرے۔ دوسری بات یہ کہ آپؑ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ چھری چلاتے ہوئے میری محبت میں، آپؑ کے ہاتھ مبارک رک جائیں۔ تیسری بات یہ کہ میرا خون آلود کُرتا میری والدہ محترمہ کو دے دیجیے گا، وہ اس کُرتے کو دیکھ کر اپنے دل کو قدرے تسلی دے لیا کریں گی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسمٰعیلؑ کے ہاتھ پاؤں کو رسی سے باندھ دیا اور اپنی آنکھوں پر بھی پٹی باندھ لی۔ تسلیم و رضا کا یہ حسین منظر آج تک چشمِ فلک نے نہیں دیکھا کہ ایک باپ نے اﷲ رب العزت کی خوش نودی کے لیے اپنے لختِ جگر کے گلے پر چھری رکھ دی۔ آپؑ نے تیزی سے چھری چلادی۔ بعد از ذبح آپؑ نے اپنی آنکھوں سے پٹی اتاری تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی جگہ ایک ’’مینڈھا‘‘ ذبح ہوا پڑا ہے اور اس کے پاس حضرت اسمٰعیلؑ کھڑے تبسم فرما رہے ہیں۔ اسی وقت غیب سے ندا آئی: ’’اے ابراہیم! تُونے اپنا خواب سچ کر دکھایا، ہم نیکوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔‘‘

ربِ غفور نے حضرت ابراہیمؑ کی اس قربانی کو اس قدر پسند فرمایا کہ قیامت تک امتِ مسلمہ کے لیے قربانی کو ضروری قرار دیتے ہوئے یادگار بنا دیا۔ ہر سال پوری دنیا میں بسنے والے بے شمار مسلمان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تقلید میں جانوروں کی قربانی کا نذرانہ، بارگاہِ خداوندِ قدوس میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔

احکاماتِ خداوندی کو بجا لانے میں اخلاص کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ حضورِ اقدسؐ کا فرمانِ مقدس کا مفہوم ہے: ’’بے شک! اﷲ تعالیٰ تمہاری طرف اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتا، بل کہ وہ تو تمہاری نیّت کو دیکھتا ہے۔‘‘

اﷲ تعالیٰ نے اپنی عظیم کتاب قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: ’’اﷲ تعالیٰ کو قربانی کا گوشت یا خون نہیں پہنچتا بل کہ اُسے تو صرف تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘

قارئینِ محترم! عیدِ قرباں کے منانے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر بھی وہ ’’روحِ ایمان‘‘ پیدا ہو جس کا عملی مظاہرہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے ہزاروں سال قبل کیا تھا۔ لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ یہ عظیم الشان دن بھی فقط ایک تہوار بن کر رہ گیا ہے۔ اہلِ ثروت لوگ اس مقدس تہوار کے ذریعے بھی نمود و نمائش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ جس سے معاشرے کے غریب اور نادار طبقوں میں اس روز احساسِ کمتری پوری شدت سے جنم لیتا ہے۔ آج امتِ مسلمہ جن مسائل اور حالات سے دوچار ہے اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم نے اپنے دینی شعار کی اصل روح کو بھلا دیا ہے۔ دنیا کی چاہت میں اسلام سے کوسوں دور ہو چکے ہیں اور دنیا تو ایسی ظالم ہے کہ جس کے بارے میں اﷲ کے پیارے حبیب ﷺ کا فرمان مقدس ہے: ’’دنیا ایک مُردار ہے، اور اس کا چاہنے والا کتّا ہے۔‘‘

اﷲ کریم کی بارگاہِ مقدس میں دعا ہے کہ اﷲ کریم اپنے پیارے محبوب صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے صدقے ہمیں شیطان کے شر سے بچا کر، اسلام میں پورا داخل ہو نے کی توفیق و ہمت عطا فرماتے ہوئے۔ ہمارے ایمان کی سلامتی فرمائے اور ہمارے دلوں سے دنیا کی محبت نکال کر، اپنی اور رحمتِ عالم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت پیدا فرمائے۔ آمین

The post عیدِ قرباں؛ مظہرِتسلیم و اطاعت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3jTdg7M

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...