Urdu news

Monday, 30 November 2020

برطانوی طلبا کی ریموٹ کنٹرول گاڑیاں چاند پر دوڑیں گی

ہیوسٹن، ٹیکساس: اگلے سال چاند پر دو ریموٹ کنٹرول کاروں کے درمیان ریسنگ کا مقابلہ ہوگا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان گاڑیوں کو برطانوی ہائی اسکول کے طلباوطالبات نے ڈیزائن کیا ہے۔

اگلے برس اکتوبر میں یہ گاڑٰیاں اسپیس ایکس کے فالکن نائن کے راکٹ کے ذریعے بھیجی جائے گی اور انہیں چاند پر اترنے والی پہلی نجی کمپنی کی تیارکردہ سواری کے اندر رکھا جائے گا۔ گاڑیوں کو کچھ اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ چاند پر زمین کے چھٹے حصے کے برابر کم ثقل کے ماحول میں ایک مخصوص راہ پر دوڑیں گی۔

یہ مقابلہ مون مارک اسپیس نامی کمپنی نے منعقد کرایا ہے جو سائنسی اور تفریحی کمپنی ہے۔ کار کا ڈیزائن ابھی تک حتمی ہے اور منتخب ٹیم فرینک اسٹیفنسن کے ساتھ کام کرے گی جو مک لارن پی وی نامی مشہور کار ڈیزائن کرچکے ہیں۔ اس طرح دنیا کی پہلی گاڑی چاند کی سطح پر دوڑے گی۔

پہلے آٹھ ہفتے تک مختلف کالجوں کے طلباوطالبات کے درمیان مقابلے ہوں گے اور پانچ پانچ اراکین کی چھ ٹیموں کے درمیان مقابل ہوگا۔ آخر میں بچ رہنے والی دو ٹیموں کی دو کاروں کے درمیان چاند پر دوڑ کا میلہ لگے گا۔ ان چیلنجوں میں ای گیمنگ، ڈرون ریسنگ اور خلائی تجارتی عمل (کمرشلائزیشن) کے مراحل بھی شامل ہیں۔

اس مقابلے کو موبائل آٹونومس پروسپیکٹنگ پلیٹ فارم (ایم اے پی پی) کا نام دیا گیا ہے۔ جس کے تحت چاند کو وسیع مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے اور نوجوان نسل میں خلائی سائنس و ٹیکنالوجی کا شعور پہنچانا ہے۔  دونوں ریسنگ گاڑیوں کو نووا سی لینڈر(بڑی سواری) کے ذریعے چاند پر اتارا جائے گا جسے ہیوسٹن کی ایک کمپنی انٹیوٹو مشین نے تیار کیا ہے۔ اس سواری کو اسپیس ایکس فالکن نائن راکٹ سے چاند تک بھیجا جائے گا۔

مقابلے کے تحت ہر گاڑی کا وزن صرف ساڑھے پانچ پونڈ رکھا گیا ہے لیکن اسے چاند پر بھیجنا ایک بہت مہنگا نسخہ ہے کیونکہ چاند پر ایک پونڈ وزنی سامان بھیجنے پر 544,000 ڈالر خرچ ہوتے ہیں اور اس طرح دو کاروں کو بھیجنے پر ایک کروڑ ڈالر خرچ ہوں گے۔

نووا سی لینڈر دنیا کی پہلی قمری سواری ہے جو چاند کے ایک ہموار مقام اوشینیئس پروسیلرم پر اترے گی۔ تاہم اس سے قبل دونوں قمری گاڑیوں کا مقابلہ ہیوسٹن میں ہوگا جہاں ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔

The post برطانوی طلبا کی ریموٹ کنٹرول گاڑیاں چاند پر دوڑیں گی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/39vjKqA

جاپان میں ماہِ اکتوبر کی خودکشیاں، کورونا اموات سے تجاوز کرگئیں

ٹوکیو: گزشتہ ماہ (اکتوبر) میں جاپان میں جتنے لوگ خودکشی سے ہلاک ہوئے ہیں ان کی تعداد گزشتہ دس ماہ میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اس بات کا انکشاف خودکشی کے واقعات شمار کرنے والے اداروں نے کیا ہے۔ صرف اکتوبر میں ہی 2153 خودکشیاں ہوئی ہیں جن میں اکثریت خواتین کی ہیں۔

اس کی تصدیق خودکشی روکنے کی رضاکار تنظیم نے بھی ہے جو جاپان میں ہاٹ لائن چلاتی ہے۔ اس کے سربراہ میشیکو ناکایاما کے مطابق جاپان اور جنوبی کوریا میں یہ صورتحال گھمبیر ہوچکی ہے۔ اس کی اغلب وجہ کورونا وائرس کے دوران گھر میں قید، بے یقینی، خوف اور ذہنی تناؤ وغیرہ ہے۔ دوسری جانب جاپان کے تیزرفتار معاشرے میں لوگ ملنے کا وقت نہیں نکالتے اور ہر شخص تنہائی اور گھٹن کا شکار ہے۔

دوسری جانب پوری دنیا میں اس امر کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آیا اس وبا سے خودکشیاں بڑھی ہیں یا نہیں۔ لیکن جاپان اور جنوبی کوریا میں کووڈ 19 کا واضح اثر دیکھا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل جاپان میں خودکشیوں کا رحجان بہت زیادہ تھا جس میں اب مزید تیزی آگئی ہے۔

تاہم امریکہ اور برطانیہ میں چھوٹے پیمانے پر تحقیق ضرور ہوئی ہے وہاں بھی 18 سے 24 سالہ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں میں خودکشی کا رحجان زیادہ دیکھا گیا ہے۔ تاہم یہ شرح جاپان میں ہولناک سطح تک پہنچ چکی ہے۔

اس سال جولائی سے اکتوبر کے درمیان 2810 جاپانی خواتین نے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا اور 2019 میں ان کی تعداد 1994 تھی۔ خودکشی کرنے والی تمام خواتین کی عمریں 29 سال سے بھی کم تھیں۔ لیکن جنوبی کوریا بھی خودکشی کی شرح کچھ کم نہیں کیونکہ سال 2011 میں 16000 افراد نے اپنی جانیں ختم کی تھیں جو اب تک ایک پراسرار ریکارڈ ہی رہا ہے۔

The post جاپان میں ماہِ اکتوبر کی خودکشیاں، کورونا اموات سے تجاوز کرگئیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3qfpD19

سپریم کورٹ کا 10 بلین ٹری سونامی منصوبے کے معاملے پر نوٹس

 اسلام آباد: سپریم کورٹ نے حکومت کے 10بلین ٹری سونامی منصوبے کے معاملہ پر نوٹس لیتے ہوئے تمام ریکارڈ طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے دریاؤں اور نہروں کے کناروں پر شجرکاری سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے 10بلین ٹری سونامی منصوبے کے معاملہ پر نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی کو طلب کرلیا، عدالت نے سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی کو حکم دیا کہ 10 بلین منصوبہ کا سارا ریکارڈ بھی ساتھ لایا جائے۔

سندھ حکومت کی طرف سے رپورٹ نہ آنے پر عدالت نے سرزنش کرتے ہوئے حکم دیا جھیلوں اور شاہراؤں کے اطراف بھی درخت لگائے جائیں۔

The post سپریم کورٹ کا 10 بلین ٹری سونامی منصوبے کے معاملے پر نوٹس appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3fRqqjY

راولپنڈی پولیس کے 11 افسران واہلکاربھی کورونا کا شکار

 راولپنڈی: کورونا وبا کی دوسری لہرمیں راولپنڈی پولیس کے 11 افسران واہلکاربھی کورونا کا شکارہوگئے۔

کورونا وبا کی دوسری لہرمیں راولپنڈی پولیس کے 11 افسران واہلکاربھی کورونا کا شکارہوگئے۔ پولیس کے مطابق سی پی او آفس کے شکایات سیل کے انچارج انسپکڑ مشتاق شاہ حالت تشویشناک ہونے پراسپتال منتقل کیے گئے۔ دوسب انسپکڑ، ایک اے ایس آئی، تین ہیڈ کانسٹیبلز، دوکانسٹیلز اورایک کک سمیت 9 مریضوں کو گھروں میں قرنطینہ کردیا گیا ہے۔ وبا سے ایک انسپکڑمحمد عجائب شہید بھی ہوچکے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گھروں میں قرنطینہ کیے گئے پولیس افسران واہلکاروں کی مکمل دیکھ بھال کی جارہی ہے۔ ڈیوٹی کے دوران اورگھروں میں بھی فورس کے تمام افسران واہلکارفیس ماسک کا استعمال اور کورونا ایس اوپیزکی ہابندی یقینی بنائیں۔

The post راولپنڈی پولیس کے 11 افسران واہلکاربھی کورونا کا شکار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2I0QYmA

2020ء:دنیا کی 100بااثر خواتین

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ نے رواں برس دنیا کی 100 متاثر کن اور بااثر خواتین کی درجہ بندی کی ہے، اس میں جہاں دنیا بھر کی نام ور خواتین کے نام دکھائی دیتے ہیں، وہیں دو پاکستانی خواتین بھی یہاں اپنی جگہ بنانے میں کام یاب ہوئی ہیں۔

24 نومبر 2020ء کو جاری کی گئی اس فہرست میں ایسی خواتین کو شامل کیا گیا ہے، جو پریشان کُن حالات میں رہتے ہوئے بھی تبدیلی لانے کے لیے راہ نمائی کے ساتھ ساتھ اپنا متاثر کن کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس فہرست میں پہلا نمبر ایسی عورتوں کے اعزاز میں خالی چھوڑا گیا ہے، جنھوں نے تبدیلی کی کاوش میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔۔۔

سو بااثر خواتین میں شامل پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کو خواتین پر تشدد اور رنگ گورا کرنے والی کریموں کے خلاف بولنے پر اس کا حصہ بنایا گیا، جو جنسی ہراسانی کے خلاف بھی آواز اٹھاتی ہیں۔ ماہرہ اقوام متحدہ کے لیے ’نیشنل گُڈ وِل ایمبیسڈر‘ بھی ہیں، جو پاکستان میں افغان مہاجرین کو آگاہی فراہم کر رہی ہیں۔

ان کے ساتھ 2018ء سے ’احساس پروگرام‘ کی سربراہ اور وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے خاتمہ غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر بھی اس فہرست میں شامل کی گئی ہیں۔ انھوں نے بطور معاون خصوصی برائے انسداد غربت وہ اقدام اٹھائے ہیں، جس کی مدد سے پاکستان ایک فلاحی ریاست بن سکے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’کورونا‘ کے شدید اثرات نے ہمیں ایک ایسا موقع دیا ہے کہ ہم ایک انصاف پسند دنیا قائم کرنے کے ساتھ ساتھ غربت، عدم مساوات اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے مسائل کا خاتمہ کر سکیں، لیکن ان مقاصد کے حصول کے لیے عورتوں کو برابری کا درجہ ملنا ضروری ہے۔

ہندوستان کی 82 سالہ بلقیس، جنھوں نے نریندر مودی کے متنازع شہریت بل پر طویل احتجاج میں فعال حصہ لیا، وہ بھی اس زمرے میں شامل کی گئی ہیں، وہ رواں برس کے شروع تک دلی میں اُن شہریوں کے ساتھ آکر سڑک پر دھرنے میں بیٹھتی رہیں، جو اس قانون کے خلاف سراپا احتجاج رہے۔ ’دادی‘ کے نام سے مشہور ہونے والی بلقیس کو بھی ’بی بی سی‘ نے دنیا کی بااثر خواتین کی فہرست کا حصہ بنایا ہے، وہ کہتی ہیں کہ عورتوں کو اپنے حق کے لیے اپنے گھر سے باہر نکلنا چاہیے، وہ اگر آواز نہیں اٹھائیں گی تو اپنے آپ کو مضبوط کیسے ثابت کریں گی۔‘

اس فہرست میں اس کے علاوہ چینی مصنفہ فینگ فینگ(Fang Fang) بھی شامل ہیں، جنھوں نے لاک ڈاؤن کے دوران ’ووہان‘ میں ہونے والے واقعات کو قلم بند کیا، جسے عالمی سطح پر بہت زیادہ پذیرائی ملی۔۔۔ جنوبی افریقا کی ایک گلوکارہ بولیلوا میکو مکوٹو کانا (Bulelwa Mkutukana) بھی شمار کی گئی ہیں، جنھوں نے خواتین پر تشدد کے حوالے سے آواز اٹھائی۔۔۔

اس فہرست کا ایک نمایاں نام فن لینڈ کی وزیراعظم سنامرین (Sanna Marin) کا ہے، جو ’آل فی میل کوالیشن گورنمنٹ‘ کی سربراہی کرتی ہیں۔ وہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھتی ہیں، دل چسپ بات یہ ہے کہ ان کی حکومت میں جتنی سیاسی جماعتیں ہیں، وہ سب خواتین ہی چلا رہی ہیں اور اس ’کورونا‘ کی وبا میں فِن لینڈ دنیا کے سب سے کم متاثرہ ممالک میں شمار ہوا۔ اس حوالے اُن کا کہنا ہے کہ ’’ہم عورتوں کی حکومت یہ دکھا سکتی ہے کہ اس وبا سے لڑنا اور ساتھ ہی ماحول کی آلودگی کو دور کرنا، تعلیم کو صحیح کرنا یہ سب ممکن ہے۔‘‘

سارا گلبرٹ (Sarah Gilbert) اوکسفرڈ یونیورسٹی کی کورونا وائرس ویکسین کے تحقیق کی سربراہ ہیں۔ ایتھوپیا کے چھوٹے شہر سے تعلق رکھنے والی لوزا ابیرا جنیوا (Loza Abera Geinore) کو بھی اس ’عالمی قطار‘ میں شامل کیا گیا ہے، جنھوں نے ’ایتھوپین ویمن پریمیئر لیگ‘ کھیلا، جس کی وجہ سے وہ کلب کی ٹاپ گول بنانے والی بنیں اور اب وہ ایک پیشہ ور فٹ بالر اور ساتھ ساتھ ایتھوپین ویمن نیشنل ٹیم کی رکن بھی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ ’ہر عورت دنیا کی ہر چیز حاصل کر سکتی ہے، جو اس نے سوچا ہو۔‘

اس فہرست کا ایک اور نام ہودا ابوض (Houda Abouz) ہے، جو ایک مراکشی ریپر (Rapper) ہیں، وہ اپنے انوکھے انداز کے سبب زیادہ جانی جاتی ہیں اور وہ عورتوں کے حقوق اور برابری کے لیے کوشاں رہتی ہیں۔ اس مردوں کی دنیا میں وہ موسیقی کو بدلاؤ کا ذریعہ سمجھتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ’’عورتوں کی جدوجہد ابھی صرف شروع ہوئی ہے اور ہم عورتیں وہ سب کچھ ہیں، جو اس دنیا کی ضرورت ہے۔ اس فہرست میں کرسٹینا اڈین (Christina) بھی شامل ہیں، جو ’یوکے‘ میں اس مہم کی روح و رواں تھیں، جس کا مقصد یہ تھا کہ ہر بچے کو مفت کھانا ملنا چاہیے اور کوئی بچہ بھوکا نہیں سونا چاہیے۔

اس جدوجہد میں ان کا ساتھ ایک معروف فٹ بالر مارکس ریشفرڈ نے دیا۔ سیرا لیون(Sierra Leone) کی میئر یووان آکی سویرا (Yvonne Aki-Sawyerr) بھی دنیا کی پراثر خواتین کا ایک نام ہیں، انھوں نے دو بہت اچھے کام کیے پہلا بدلاؤ وہ یہ لائیں کہ انھوں نے ماحول کی آلودگی دور کرنے کے لیے درخت لگانے کی مہم شروع کی اور وہ اس میں کام یاب ہوئیں اور انھوں نے ان درختوں کو لگانے میں بے روزگار لوگوں کی مدد لی، ان کا کہنا ہے کہ ’ہم کبھی کبھار الجھن اور ناخوش گواری کا شکار ہوتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اسے ہر بار برائی کی طرف لیں، بلکہ ہم اس ایک اچھائی میں بھی تبدیل کر سکتے ہیں، اس طرح کہ ہم اپنی ناخوش گواری کو استعمال کرتے ہوئے، ایک ایسی تبدیلی لائیں جس کا ہم نے سوچا ہو۔‘‘

ایک اور بااثر نام سارہ ال امیری(Sarah Al-Amiri) ہے، جو متحدہ عرب امارات کی ٹیکنالوجی کی وزیر ہیں اور ’امارات‘ کی خلائی ایجینسی میں بھی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ امارات کے خلائی مشن ڈپٹی پروجیکٹ منیجر بھی رہ چکی ہیں، جو عرب دنیا کا پہلا خلائی مشن ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’اس وبا نے بہت بربادی پھیلا دی ہے، جس میں ہمیں بغیر کسی مدد کے خود آگے بڑھنا ہوگا۔ اور اس دنیا کو بچانا ہوگا۔‘‘

شام کی صحافی اور ایوارڈ یافتہ فلم ساز وعد الا خطیب (Waad al-Kateab) بھی دنیا کی ان 100 خواتین کی فہرست کا حصہ ہیں، رواں برس ان کی دستاویزی فلم کو بہترین فلم کا ایوارڈ بھی ملا اور یہ ’اکیڈمی ایوارڈ‘ کے لیے نام زَد بھی کی گئی، وہ کہتی ہیں کہ ’’ہم تب ہارتے ہیں جب ہم امید چھوڑ دیتے ہیں۔ ہر عورت کے لیے چاہے کچھ بھی ہو جائے، ہر اس چیز کے لیے لڑنا ہے، جس پر ہمیں یقین ہو۔ خواتین خواب دیکھتی رہیں اور ان سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ کبھی بھی امید نہ ہاریں۔‘‘

صومالی لینڈ کی ماہر تعلیم اُباہ علی (Ubah Ali) کا نام بھی اس شمار میں جگ مگا رہا ہے، وہ بچیوں کی تعلیم کے لیے سرگرم ہیں، وہ ’امریکن یونیورسٹی آف بیروت‘ کی طالبہ ہیں اور لبنان میں تارکین وطن کے حقوق کے لیے بھی آواز اٹھاتی رہتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ’’2020 میں دنیا بہت بدل گئی ہے اور اس میں عورتوں کی یک جہتی کی بہت ضرورت ہے۔

نصرین علون (Nisreen Alwan) ایک ڈاکٹر، محقق اور معلمہ ہیں، وہ برطانیہ میں جو عورتوں کی صحت پر تحقیق کرتی ہیں، خاص طور پر ماں بننے والی خواتین کے حوالے سے ان کا خاصا کام ہے۔ کورونا کی وبا کے دوران انھوں نے خاطر خواہ کام کیا، ان کا کہنا ہے کہ ’’اس سال میں نے زیادہ تین چیزیں کیں، اپنے دماغ کی سنی، اور وہ کیا جس سے ڈر لگتا تھا اور اپنے آپ کو معاف کیا، میں نے اور تین چیزیں یہ کیں کہ اس پر دھیان نہیں دیا کہ لوگ میرے بارے میں کیا سوچتے ہیں، اپنے آپ کو کم قصور وار ٹھیرایا اور یہ سوچا کہ میں دوسروں سے کم تر نہیں ہوں۔‘‘

افغانستان سے تعلق رکھنے والی لالہ عثمانی نے رواں برس عورتوں کو دھتکارنے کے خلاف ایک مہم میں کام یابی حاصل کی، جس کا نام تھا ’’میرا نام کہاں ہے؟‘‘ کیوں کہ افغانستان میں جب کوئی بیٹی پیدا ہوتی تھی تو ’پیدایشی سرٹیفکیٹ‘ میں اس کا نام نہیں آتا تھا، صرف والد کا نام لکھا ہوا ہوتا تھا، اسی طرح عورت کا نام ’شادی کارڈ‘ پر درج نہیں ہوتا تھا اور یہاں تک کہ جب وہ بیمار ہوتی تھی، تب بھی اس کا نام اسپتال کی رسید پر نہیں ہوتا تھا۔ ان سب چیزوں کی وجہ سے لالہ عثمانی نے یہ مہم شروع کی۔

تین سال لگاتار جدوجہد کے بعد 2020ء میں افغان حکومت نے سرکاری دستاویز پر لڑکیوں کے نام کو درج کرنے کی اجازت دے دی، ان کا کہنا ہے کہ ’’ہر انسان کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے کی کوشش کرے۔ تبدیلی لانا مشکل ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ اس کی مثال ہم عورتیں ہیں، جنھوں نے افغانستان جیسے ملک میں اپنی شناخت کے لیے لڑائی لڑی۔‘‘

جن خواتین کے بارے میں ہم نے آپ کو بتایا، ان کے علاوہ بھی بہت سے نام اس فہرست کا حصہ ہیں، ان عورتوں کی وجہ سے آج 90 فی صد عورتیں اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتی ہیں، لوگ غلط بات کے خلاف آواز اٹھانے سے کتراتے نہیں اور ان عورتوں کی وجہ سے دنیا میں لوگ یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ عورتیں کسی سے کم نہیں۔۔۔ اور وہ بھی خواب دیکھ کر پورا کرنا بہت اچھے طریقے سے جانتی ہیں۔

The post 2020ء:دنیا کی 100بااثر خواتین appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3mqaDel

اہتمام ’جاڑوں‘ کا۔۔۔

یہ سچ ہے کہ سردی میں خاتون خانہ کا کام بہت بڑھ جاتا ہے، صرف پہناوئوں کو ہی لیجیے، تو گرم ملبوسات کو سنبھالنا اور ان کی دھلائی وغیرہ، اپنے آپ میں ایک بہت بڑا کام ہے، لیکن بدلتے ہوئے موسموں کے ساتھ خود کو اس موسم میں ڈھالنا بھی ضروری ہوتا ہے، تاکہ ہر طرح کی پریشانی سے بچا جا سکے۔

گھر میں بچے اور بزرگ اس موسم سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے انھیں سردی سے بچانے کے لیے مناسب دیکھ بھال اور خصوصی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ بالخصوص کورونا کی دوسری لہر کے دوران اس امر کی ضرورت پہلے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس صور ت حال سے نمٹنے کے لیے اپنے ذہن کو الجھانے کی بہ جائے اپنے آپ کو معمول کے حساب سے بدلیں۔

صبح کے وقت بچوں کو اسکول کی کلاسوں کے لیے تیار کرنا، انھیں نہلانا اور ناشتا بنانا یہ سب کافی مشکل ہوتا ہے۔ پہلے سے ہی بچوں کی ایک سے زائد موزے اور جیکٹیں تیار رکھیں، تاکہ کسی وجہ سے بدلنا پڑیں تو انھیں تلاش کرنا آسان ہو۔

کوشش کیجیے، بچوں کے ناشتے میں انڈوں کا مختلف صورتوں میں استعمال رہے، کبھی آملیٹ کی شکل میں، تو کبھی ویسے ہی تل لیں یا کبھی ابال کر دے دیں، اور ساتھ میں بچوں کو سوتے وقت گرم دودھ استعمال کرائیں۔ بچوں سے لے کر بڑوں تک میں مضبوط قوت مدافعت کے لیے ان کی نیند پوری ہونا ضروری ہے، موسمی اثرات کی صورت میں جوشاندہ استعمال کرائیں۔۔۔ ’کورونا‘ کے حوالے سے مکمل احتیاطی تدابیر خود بھی اختیار کریں اور بچوں کو بھی اس کا پاس دار بنائیں۔

سردیوں کی آمد پر نزلہ، زکام اور کھانسی بچوں کے اردگرد ہی منڈلاتے رہتے ہیں اور بعض اوقات ان کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ بچے پانی میں زیادہ نہ رہیں، اسکول کی چھٹیوں میں بہت سے بچے مختلف کھیلوں سے شوق کرتے ہیں، جس میں بہت سے بچے پانی سے کھیلنا اور بھیگنا پسند کرتے ہیں۔ سرد موسم میں ایسا کرنا مہنگا پڑ سکتا ہے، اور اس وقت اور بھی زیادہ احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے اپنے رزمرہ کے کاموں کے ساتھ ساتھ ان پر بھی نظر رکھیں ۔ ان موسمی بیماریوں کے علاج کے لیے باورچی خانے میں شہد، ادرک یا سونٹھ رکھیں اور اس کے ساتھ ساتھ دار چینی اور گڑ بھی موجود رکھیں۔ ایک چمچے شہد میں چُٹکی بھر پسی ہوئی کالی مرچ ڈال کر بچوں کو استعمال کروائیں ۔اس کے علاوہ دودھ میں ہلدی، تھوڑا سا ادرک کا رس اور کالی مرچ ملا کر پلا دیں، اس سے کافی افاقہ ہو گا۔

سردیوں میں کان میں درد اور کبھی متلی کی شکایت سے بچے بہت تنگ کرتے ہیں۔ ٹھنڈی ہوائیں کانوں کو بہت متاثر کرتی ہیں اس لیے بچوں کو باہر جاتے ہوئے گرم ٹوپی ضرور پہنائیں۔ اس کے علاوہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے ادویات کا گھر میں موجود ہونا بہت ضروری ہے۔

بچوں کے ساتھ ساتھ اپنا بھی خیال رکھیں۔ اپنے کاموں کے دوران کان،گردن اور سر کو اچھی ڈھانپ کر رکھیں۔ گلا خراب ہو یا گلے کی خراش ہوتو ایک بڑے کپ میں پانی لے کر آدھا چمچا نمک ملا کر نیم گرم کرلیں اور دن میں دو سے تین مرتبہ غرارے کریں۔الرجی کی وجہ سے ناک بند اور سر بھاری ہو تو بھاپ لینا بہت کارآمد ثابت ہوتا ہے۔

سرد موسم میں بچوں اور بڑوں کی جلد خشک ہو جاتی ہے، اس لیے کوشش کریں، زیادہ گرم پانی سے نہ نہائیں اور نہانے کے بعد جلد کو نمی بخشنے والی کریم لگائیں۔گھر کے بزرگ افراد بھی بہت سی بیماریوں جیسے دمہ ،جوڑوں کے درد میں مبتلا ہوتے ہیں اور اس موسم میںیہ بیماریاں پہلے سے زیادہ پریشانی کا موجب بنتی ہیں اور کاموں کومزید بڑھادیتی ہیں ۔ اس لیے تحمل سے کام لیتے ہوئے اپنی ذمے داریوں کو اچھی طرح سے انداز سے انجام دینے کی کوشش کریں۔

چکن سوپ موسم سرما بچے اور بڑے بہ صد شوق پیتے ہیں۔ اس کی فرمائش بھی خاتونِ خانہ کو پریشان کر دیتی ہے، لیکن سمجھ داری سے کام لیتے ہوئے، اس سے نمٹنے کی کوشش کریں۔ اگر ایک دن پہلے اس کی منصوبہ بندی کر لی جائے، تو بہت آسانی ہو جائے گی، چکن کے ساتھ ساتھ سب ضروری اشیا منگوا کر رکھ لیں، اس طرح آپ کا وقت بھی بچ جائے اور پریشانی کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑے۔

’سبز چائے‘ جوڑوں کے درد کے لیے بہترین ہے اور اس کے علاوہ الرجی کی روک تھام کے لیے بھی اس کا استعمال بے حد مفید ہے۔ گھر کے بزرگوں کے لیے سبز چائے کا اہتمام ضروری ہے، تاکہ وہ ان سرد ہوائوں سے محفوظ ہوں، لیکن اس کے زیادہ استعمال سے بھی گریز کیا جائے۔ بچے ویسے تو خشک میوہ جات نہیں کھاتے، لیکن اگر انھیں ڈرائی فروٹ کیک بنا کر دیا جائے، تو وہ بہت شوق سے کھانا پسند کرتے ہیں۔

اس موسم میں ایک چھوٹا سا مسئلہ کافی بڑا ہو جاتا ہے، وہ یہ کہ کھانا بھی بہت جلدی ٹھنڈا ہو جاتا ہے، ادھر دستر خوان پر لا کر رکھا اور ادھر آن کی آن میں کھانا ٹھنڈا ہوگیا۔ یخ بستہ علاقوں میں اس کا حل دو پلیٹیں

کرکے ان کے درمیان گرم پانی ڈال کر نکالا جاتا ہے، بالخصوص شوربے والے سالن تو کھاتے ہوئے ہی رکابی میں ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ آپ بھی اس ترکیب پر عمل کرسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے علاقوں میں گیس کی لوڈ شیڈنگ کی شکایات بھی ہیں، تو اس موقع پر بہت زیادہ پریشانی ہوتی ہے، اس کا متبادل بندوبست ضرور کر لیجیے، گیس سلنڈر، الیکٹرک چولھا یا لکڑی وغیرہ جو مناسب اور قابل عمل ہو، ضرور انتظام کر کے رکھیں۔

چھوٹے بچوں کے کمرے کو گرم رکھنے کے لیے ہیٹر کا استعمال کریں، لیکن جب کمرا گرم ہو جائے، تو ہیٹر بند کر کے ایسی جگہ پر رکھیں جہاں تک بچے پہنچ نہ سکیں اس معاملے میں بہت احتیاط سے کام لینا ہو

گا۔ مسلسل ٹھنڈے پانی میں ہاتھ ڈالنے سے ہاتھ اور پائوں کی انگلیاں شل ہو جاتی ہیں اور کوئی کام ٹھیک طریقے سے نہیں ہو تا۔ اس کا ایک سبب آئرن کی کمی کا ہونا ہے، جس کی وجہ سے جسم میں گرمی پیدا نہیں ہوتی۔ آپ خشک خوبانی کا باقاعدگی سے استعمال کریں، جس سے آئرن کی کمی پوری ہو جائے گی۔ ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ہوتا ہے اگر سوچ بچار اور اچھی منصوبہ بندی سے کام لیا جائے تو ہر قسم کی پریشانی کا آسانی سے سامنا کیا جا سکتا ہے ۔

The post اہتمام ’جاڑوں‘ کا۔۔۔ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/33tRiBS

’پروین رحمٰن‘ کا قتل اورنگی پروجیکٹ کی زمین پر قبضہ کیلیے کیا گیا، جے آئی ٹی رپورٹ

 کراچی:  ہائی کورٹ نے پروین رحمٰن قتل میں ملزم عمران سواتی و دیگر کی درخواست ضمانت پر ٹرائل کورٹ سے کیس میں پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔

ہائی کورٹ میں پروین رحمن قتل میں ملزم عمران سواتی و دیگر کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی، کیس میں از سرنوتحقیقات کرنے والی ٹیم نے رپورٹ جمع کرادی۔

جے آئی ٹی رپورٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے کاوئنٹر ٹیررازم بابر بخت کی جانب سے تیار کی گئی ہے جس میں کہاگیاکہ ابتدائی تفتیش کرنے والے افسراں نے کیس خراب کیا،بطور سزا انھیں نوکری سے فارغ کیا جائے، ڈی آئی جی جاوید عالم اوڈھواورایس پی آصف اعجازبھی غفلت میں برابرکے شریک ہیں۔

پولیس کے سینئر افسران کے خلاف کارروائی آئی جی سندھ کا صوابدیدی اختیارہے جن ملزمان کا ٹرائل ہورہا ہے وہ قتل میں ملوث ہیں، پروین رحمن کا قتل اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کی زمین پر قبضہ کرنے کیلیے کیاگیا، ملزمان پشتون ہیں جبکہ پروجیکٹ کی سربراہ خاتون بہاری تھی ،ملزمان پشتون اورافغان آبادی میں خاتون کو برداشت نہیں کررہے تھے۔

قتل کے پیچھے بااثرافرادکے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے، پروین رحمنٰ نے اپنی زندگی میں بھی کسی با اثر شخص کا نام نہیں لیا تھا، پروین رحمن نے اپنی زندگی میں رحیم سواتی کا نام لیا تھا جو ان کا پڑوسی تھا، رحیم سواتی بھتہ خور اور لینڈ گریبر ہے جو اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کی زمین پر قبضہ کرنا چاہتا تھا، رحیم سواتی کے خلاف بھتہ خوری ،زمینوں پرقبضے کے مقدمات بھی درج کیے جائیں۔

عدالت نے ٹرائل کورٹ سے کیس میں پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

The post ’پروین رحمٰن‘ کا قتل اورنگی پروجیکٹ کی زمین پر قبضہ کیلیے کیا گیا، جے آئی ٹی رپورٹ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/37rwLig

آئی بی سی سی ضیاالدین یونیورسٹی امتحانی بورڈ کا دورہ نہ کرسکی

 کراچی:  میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طلبہ کی دستاویزات کی ایکویلنس اور ویریفیکیشن شروع ہوتے ہی ضیاء الدین یونیورسٹی امتحانی بورڈ نے اپنے امتحانی عمل اور کاپیوں کی جانچ کے نظام سے آگہی کے سلسلے میں آئی بی سی سی(انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمینز) کا طے شدہ دورہ ملتوی کرادیا۔

آئی بی سی سی کی جانب سے ضیا الدین یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کا یہ دورہ یکم دسمبر کو ہونا تھا جس میں کراچی کے علاوہ پنجاب، کے پی کے اور آزاد جموں کشمیر سے ماہرین تعلیم و بعض چیئرمین بورڈز کو شریک ہونا تھا تاہم آئی بی سی سی اسلام آباد کے ذرائع کے مطابق جیسے ہی آئی بی سی سی نے ضیا  الدین یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کے طلبہ کی دستاویزات کی تصدیق کا عمل شروع کیا۔

اسی اثنا میں ضیاالدین یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر اختر غوری کی جانب سے ایک خط کے ذریعے سیکریٹری آئی بی سی سی کو اطلاع دی گئی ہے کہ بورڈ میں ملازمت کرنے والے افراد میں سے کچھ کورونا 19 کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ کچھ ملازمین آئیسولیٹ ہوگئے ہیں لہذا فوری طور پر یہ دورہ ممکن نہیں ہے اس دورے کے التوا سے بورڈ کی جانب سے میٹرک اور انٹر کے امتحانات اور امتحانی کاپیوں کی اسسمنٹ اور ٹیبولیشن کے طریقہ کار سے متعلق آئی بی ایم سی کی جانب سے شروع ہونے والا ’’ایویلیو ایشن ‘‘ کا عمل ناصرف رک گیا ہے بلکہ اس پر شکوک وشبہات بھی پیدا ہوگئے ہیں۔

اس سلسلے میں ضیاء الدین یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کی جانب سے بھجوائے گئے گزٹ کی ابتدائی چھان بین شروع کی گئی ہے اسلام آباد کے ذراؤ کہتے ہیں کہ اس گزٹ میں بعض جگہوں پر ایک ہی رول نمبر ایک سے زائد طلبہ کو جاری کیا گیا ہے اور ایک بڑی تعداد میں رول نمبرز کے رزلٹ withheld کیے گئے ہیں، یاد رہے کہ ضیاالدین یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ نے آئی بی سی سی سے پاکستان بھر کے تمام تعلیمی بورڈز کی طرز پر رکنیت کی درخواست کی تھی۔

جب آئی بی سی سی کی سب کمیٹی کی جانب سے ضیاالدین یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کی ایکٹ کی پڑتال کی گئی تو معلوم ہوا کہ ایکٹ میں اس بات کا تو تذکرہ موجود ہے کہ آئی بی سی کا نمائندہ ضیا الدین یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کے ایگزیکیٹو بورڈ کا رکن ہوگا تاہم اس بات کا ذکر موجود ہی نہیں کہ خود مذکورہ بورڈ بھی آئی بی سی سی کا رکن ہوگا جو ضیا الدین یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کی آئی بی سی میں مستقل رکنیت میں بڑی رکاوٹ ہے جس پر آئی بی سی سی نے اپنی سب کمیٹی کی سفارش پر بورڈ کو پاکستان بھر کے تمام تعلیمی بورڈز کے اس فورم میں عارضی رکنیت provisional membership دی ہے۔

علاوہ ازیں آئی بی سی سی کے گزشتہ اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا تھا کہ چونکہ مذکورہ بورڈ کے’’ ایویلیو ایشن سسٹم‘‘ کے حوالے سے مسلسل شکایات موصول ہورہی ہیں لہذا چیئرمین آئی بی سی سی ، سیکریٹری آئی بی سی سی ، ادارے کے افسران اور دیگر نامزد ماہرین انسپیکشن کیلیے ضیاالدین یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کا دورہ کریں گے۔

The post آئی بی سی سی ضیاالدین یونیورسٹی امتحانی بورڈ کا دورہ نہ کرسکی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3fRiqzs

اوورسیز کیلیے امریکا، برطانیہ، سعودیہ اور یو اے ای میں اراضی ریکارڈ سینٹر قائم

 لاہور: امریکا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں قائم پاکستانی سفارتخانوں اور قونصل خانوں میں اراضی ریکارڈ سینٹر قائم کر دیے گئے۔

وزیر اعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے ’’ای گورننس‘‘ وژن کے تحت پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی(پی ایل آر اے) نے اوورسیز پاکستانیوں کی سہولت کیلیے پاکستانی سفارتخانوں اور قونصلیٹ میں اراضی ریکارڈ سینٹرز قائم کرنا شروع کردیے ہیں۔

ڈی جی پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی معظم سپرا نے وزارت خارجہ کے تعاون سے ابتدائی طور پر چار ممالک امریکا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں قائم پاکستانی سفارتخانوں اور قونصل خانوں میں اراضی ریکارڈ سینٹر قائم کر دیے ہیں۔

The post اوورسیز کیلیے امریکا، برطانیہ، سعودیہ اور یو اے ای میں اراضی ریکارڈ سینٹر قائم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/36mchZ5

حکومت نے اپوزیشن کا جلسہ کامیاب بنادیا، تجزیہ کار

 لاہور:  روزنامہ ایکسپریس  کے گروپ ایڈیٹر ایاز خان نے کہا کہ کہتے ہیں کہ عذر گناہ بدتر از گناہ، یہ جلسہ ہوتا یا ممکن ہے نہ ہوتا لیکن حکومت نے اپوزیشن کوکامیاب بنا دیا اورپورے ملک کو جلسہ گاہ بنا دیا۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام ’’ایکسپرٹس‘‘ میں میزبان دعاجمیل سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت کیلیے بہت آسان تھا کہ جلسہ آرا م سے ہونے دے اور لوگوں کو بتاتی کہ دیکھیے یہ لوگ ہیں جو ملک میں کورونا پھیلانے کے ذمے دار ہیں اور انھیں عوام کی جانوں کی کوئی پروا نہیں لیکن اس کے ساتھ آپ کو اپنی تقریبات پر ی پابندی لگانا پڑتی۔ یہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ جوہم نے کہنا ہے لوگوں نے وہی سمجھنا اور ماننا ہے اور جو نظر آرہاہے لوگ اس پر یقین نہیں کریں گے، یہ بہت غلط اپروچ ہے، انھیں بالکل پابندی نہیں لگانی چاہیے تھی، پابندی لگاکر انھوں نے ایک تماشہ لگایا اور اپنا بھی مذاق بنوایا۔

عامر الیاس رانا نے کہا کہ کہ لیڈروں کیلیے رستے اور عوام کیلیے ڈنڈے یہ ہے نیاپاکستان۔ کنٹینر اور رکاوٹوں کے باجود سب کے سب لیڈرپہنچ گئے، صرف گوجرانوالہ میں ہی نہیں بلکہ سارے پنجاب میں انھوں نے عوام کو پولیس سے گتھم گتھاکروایا۔ ان کے حواس پر اپوزیشن سوار ہے۔ کرونا پرحکومت اور اپوزیشن دونوں کو سنجیدہ ہو جاناچاہیے۔

بریگیڈیئر(ر)حارث نواز نے کہا کہ حکومت ایک مذاکراتی ٹیم تشکیل دے جو پی ڈی ایم اے کے قائدین سے بات چیت کرے کہ وباکے دنوں میں احتیاط سے کام لیں۔

فیصل حسین نے کہا کہ لگتاہے کہ اس جلسے کی پبلسٹی کیلیے حکومت نے رضاکارانہ اپنی خدمات پیش کردی تھیں۔ اگرحکومت کوئی اقدامات نہ کرتی تو اس جلسے کی زیادہ سے زیادہ کوریج پانچ گھنٹے کی ہوتی۔

شکیل انجم نے کہا کہ حکومت کے ہتھیارڈالنے کی وجہ یہ ہے کہ اسے اندازہ ہو گیاتھا کہ پی ڈی ایم اے جلسہ ضرور کرے گی۔

محمد الیاس نے کہا کہ یہ جلسہ نہیںہونا چاہیے تھا۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ ان کے ساتھ مذاکرات کرتی۔ اب لاہور اوردیگرجلسے بھی کامیاب ہوں گے۔

The post حکومت نے اپوزیشن کا جلسہ کامیاب بنادیا، تجزیہ کار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/39AXz2x

’کاوان‘ ہاتھی خصوصی پرواز سے براستہ دلی کمبوڈیا پہنچ گیا

 راولپنڈی: 39 سالہ دنیا کا اکیلا کاوان ہاتھی اسلام آباد سے کمبوڈیا پہنچ گیا۔

مرغزار چڑیا گھر سے رہائی پانے والے کاوان ہاتھی کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے خصوصی پرواز کے ذریعے بحفاظت کمبوڈیا پہنچا دیا گیا، بھارتی ایوی ایشن نے خصوصی جہاز کوتاخیر سے اجازت دی جس کی وجہ سے کاوان ہاتھی کی روانگی تاخیر سے ہوئی، کمبوڈیا پہنچنے پر مقامی پنڈتوں نے کاوان ہاتھی اور عملے کا روایتی طریقے سے استقبال کیا۔

عدالتی حکم پر اسلام آباد چڑیا گھر سے رہائی پانے والے کاوان ہاتھی کو عملے سمیت روسی ساختہ خصوصی طیارے سے کمبوڈیا پہنچایا گیا، کاوان ہاتھی کو اتوار کی شب 8 بجے روانہ کیا جانا تھا، لیکن بھارت کی جانب سے طیارے کو اجازت نہ ملنے پر کاوان ہاتھی تاخیر سے کمبوڈیا پہنچا، کاوان ہاتھی کوگزشتہ روز الصبح خصوصی پرواز سے براستہ نیو دہلی کمبوڈیا روانہ کیا گیا۔

The post ’کاوان‘ ہاتھی خصوصی پرواز سے براستہ دلی کمبوڈیا پہنچ گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2Jh3OxI

سپریم کورٹ: زیادتی اور قتل کا ملزم عدم شواہد پر14سال بعد بری

 اسلام آباد:  سپریم کورٹ نے بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے ملزم کو عدم شواہد پر 14سال بعد بری کردیا۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سماعت کی، ملزم خادم حسین کے وکیل نے موقف اپنایا کہ انکے موکل کو ایف آئی آر میں نامزد نہیں کیا گیا۔ گرفتاری کے بعد شواہد بنائے گئے۔

عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ ملزم کو ٹرائل کورٹ نے3مرتبہ سزائے موت سنائی جسے شریعت کورٹ نے برقرار رکھا۔ 10 سالہ مدثر اعظم کو 2006 میں راولپنڈی سے اغواء کیا گیا۔ اس کی لاش تھانہ گولڑہ کی حدود سے برآمد ہوئی۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں فل بنچ نے گاڑی کے ایکسیڈنٹ پر پولیس اہلکار کو سزا اور جرمانہ کی وصولی کیلئے موٹروے پولیس کی درخواست خارج کردی۔ اے ایس ائی ملک شجاعت سے2015 میں تیز رفتار گاڑی کا پیچھا کرتے ہوئے ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔

The post سپریم کورٹ: زیادتی اور قتل کا ملزم عدم شواہد پر14سال بعد بری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/33zyH7s

2020ء:دنیا کی 100بااثر خواتین

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ نے رواں برس دنیا کی 100 متاثر کن اور بااثر خواتین کی درجہ بندی کی ہے، اس میں جہاں دنیا بھر کی نام ور خواتین کے نام دکھائی دیتے ہیں، وہیں دو پاکستانی خواتین بھی یہاں اپنی جگہ بنانے میں کام یاب ہوئی ہیں۔

24 نومبر 2020ء کو جاری کی گئی اس فہرست میں ایسی خواتین کو شامل کیا گیا ہے، جو پریشان کُن حالات میں رہتے ہوئے بھی تبدیلی لانے کے لیے راہ نمائی کے ساتھ ساتھ اپنا متاثر کن کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس فہرست میں پہلا نمبر ایسی عورتوں کے اعزاز میں خالی چھوڑا گیا ہے، جنھوں نے تبدیلی کی کاوش میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔۔۔

سو بااثر خواتین میں شامل پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کو خواتین پر تشدد اور رنگ گورا کرنے والی کریموں کے خلاف بولنے پر اس کا حصہ بنایا گیا، جو جنسی ہراسانی کے خلاف بھی آواز اٹھاتی ہیں۔ ماہرہ اقوام متحدہ کے لیے ’نیشنل گُڈ وِل ایمبیسڈر‘ بھی ہیں، جو پاکستان میں افغان مہاجرین کو آگاہی فراہم کر رہی ہیں۔

ان کے ساتھ 2018ء سے ’احساس پروگرام‘ کی سربراہ اور وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے خاتمہ غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر بھی اس فہرست میں شامل کی گئی ہیں۔ انھوں نے بطور معاون خصوصی برائے انسداد غربت وہ اقدام اٹھائے ہیں، جس کی مدد سے پاکستان ایک فلاحی ریاست بن سکے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’کورونا‘ کے شدید اثرات نے ہمیں ایک ایسا موقع دیا ہے کہ ہم ایک انصاف پسند دنیا قائم کرنے کے ساتھ ساتھ غربت، عدم مساوات اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے مسائل کا خاتمہ کر سکیں، لیکن ان مقاصد کے حصول کے لیے عورتوں کو برابری کا درجہ ملنا ضروری ہے۔

ہندوستان کی 82 سالہ بلقیس، جنھوں نے نریندر مودی کے متنازع شہریت بل پر طویل احتجاج میں فعال حصہ لیا، وہ بھی اس زمرے میں شامل کی گئی ہیں، وہ رواں برس کے شروع تک دلی میں اُن شہریوں کے ساتھ آکر سڑک پر دھرنے میں بیٹھتی رہیں، جو اس قانون کے خلاف سراپا احتجاج رہے۔ ’دادی‘ کے نام سے مشہور ہونے والی بلقیس کو بھی ’بی بی سی‘ نے دنیا کی بااثر خواتین کی فہرست کا حصہ بنایا ہے، وہ کہتی ہیں کہ عورتوں کو اپنے حق کے لیے اپنے گھر سے باہر نکلنا چاہیے، وہ اگر آواز نہیں اٹھائیں گی تو اپنے آپ کو مضبوط کیسے ثابت کریں گی۔‘

اس فہرست میں اس کے علاوہ چینی مصنفہ فینگ فینگ(Fang Fang) بھی شامل ہیں، جنھوں نے لاک ڈاؤن کے دوران ’ووہان‘ میں ہونے والے واقعات کو قلم بند کیا، جسے عالمی سطح پر بہت زیادہ پذیرائی ملی۔۔۔ جنوبی افریقا کی ایک گلوکارہ بولیلوا میکو مکوٹو کانا (Bulelwa Mkutukana) بھی شمار کی گئی ہیں، جنھوں نے خواتین پر تشدد کے حوالے سے آواز اٹھائی۔۔۔

اس فہرست کا ایک نمایاں نام فن لینڈ کی وزیراعظم سنامرین (Sanna Marin) کا ہے، جو ’آل فی میل کوالیشن گورنمنٹ‘ کی سربراہی کرتی ہیں۔ وہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھتی ہیں، دل چسپ بات یہ ہے کہ ان کی حکومت میں جتنی سیاسی جماعتیں ہیں، وہ سب خواتین ہی چلا رہی ہیں اور اس ’کورونا‘ کی وبا میں فِن لینڈ دنیا کے سب سے کم متاثرہ ممالک میں شمار ہوا۔ اس حوالے اُن کا کہنا ہے کہ ’’ہم عورتوں کی حکومت یہ دکھا سکتی ہے کہ اس وبا سے لڑنا اور ساتھ ہی ماحول کی آلودگی کو دور کرنا، تعلیم کو صحیح کرنا یہ سب ممکن ہے۔‘‘

سارا گلبرٹ (Sarah Gilbert) اوکسفرڈ یونیورسٹی کی کورونا وائرس ویکسین کے تحقیق کی سربراہ ہیں۔ ایتھوپیا کے چھوٹے شہر سے تعلق رکھنے والی لوزا ابیرا جنیوا (Loza Abera Geinore) کو بھی اس ’عالمی قطار‘ میں شامل کیا گیا ہے، جنھوں نے ’ایتھوپین ویمن پریمیئر لیگ‘ کھیلا، جس کی وجہ سے وہ کلب کی ٹاپ گول بنانے والی بنیں اور اب وہ ایک پیشہ ور فٹ بالر اور ساتھ ساتھ ایتھوپین ویمن نیشنل ٹیم کی رکن بھی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ ’ہر عورت دنیا کی ہر چیز حاصل کر سکتی ہے، جو اس نے سوچا ہو۔‘

اس فہرست کا ایک اور نام ہودا ابوض (Houda Abouz) ہے، جو ایک مراکشی ریپر (Rapper) ہیں، وہ اپنے انوکھے انداز کے سبب زیادہ جانی جاتی ہیں اور وہ عورتوں کے حقوق اور برابری کے لیے کوشاں رہتی ہیں۔ اس مردوں کی دنیا میں وہ موسیقی کو بدلاؤ کا ذریعہ سمجھتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ’’عورتوں کی جدوجہد ابھی صرف شروع ہوئی ہے اور ہم عورتیں وہ سب کچھ ہیں، جو اس دنیا کی ضرورت ہے۔ اس فہرست میں کرسٹینا اڈین (Christina) بھی شامل ہیں، جو ’یوکے‘ میں اس مہم کی روح و رواں تھیں، جس کا مقصد یہ تھا کہ ہر بچے کو مفت کھانا ملنا چاہیے اور کوئی بچہ بھوکا نہیں سونا چاہیے۔

اس جدوجہد میں ان کا ساتھ ایک معروف فٹ بالر مارکس ریشفرڈ نے دیا۔ سیرا لیون(Sierra Leone) کی میئر یووان آکی سویرا (Yvonne Aki-Sawyerr) بھی دنیا کی پراثر خواتین کا ایک نام ہیں، انھوں نے دو بہت اچھے کام کیے پہلا بدلاؤ وہ یہ لائیں کہ انھوں نے ماحول کی آلودگی دور کرنے کے لیے درخت لگانے کی مہم شروع کی اور وہ اس میں کام یاب ہوئیں اور انھوں نے ان درختوں کو لگانے میں بے روزگار لوگوں کی مدد لی، ان کا کہنا ہے کہ ’ہم کبھی کبھار الجھن اور ناخوش گواری کا شکار ہوتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اسے ہر بار برائی کی طرف لیں، بلکہ ہم اس ایک اچھائی میں بھی تبدیل کر سکتے ہیں، اس طرح کہ ہم اپنی ناخوش گواری کو استعمال کرتے ہوئے، ایک ایسی تبدیلی لائیں جس کا ہم نے سوچا ہو۔‘‘

ایک اور بااثر نام سارہ ال امیری(Sarah Al-Amiri) ہے، جو متحدہ عرب امارات کی ٹیکنالوجی کی وزیر ہیں اور ’امارات‘ کی خلائی ایجینسی میں بھی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ امارات کے خلائی مشن ڈپٹی پروجیکٹ منیجر بھی رہ چکی ہیں، جو عرب دنیا کا پہلا خلائی مشن ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’اس وبا نے بہت بربادی پھیلا دی ہے، جس میں ہمیں بغیر کسی مدد کے خود آگے بڑھنا ہوگا۔ اور اس دنیا کو بچانا ہوگا۔‘‘

شام کی صحافی اور ایوارڈ یافتہ فلم ساز وعد الا خطیب (Waad al-Kateab) بھی دنیا کی ان 100 خواتین کی فہرست کا حصہ ہیں، رواں برس ان کی دستاویزی فلم کو بہترین فلم کا ایوارڈ بھی ملا اور یہ ’اکیڈمی ایوارڈ‘ کے لیے نام زَد بھی کی گئی، وہ کہتی ہیں کہ ’’ہم تب ہارتے ہیں جب ہم امید چھوڑ دیتے ہیں۔ ہر عورت کے لیے چاہے کچھ بھی ہو جائے، ہر اس چیز کے لیے لڑنا ہے، جس پر ہمیں یقین ہو۔ خواتین خواب دیکھتی رہیں اور ان سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ کبھی بھی امید نہ ہاریں۔‘‘

صومالی لینڈ کی ماہر تعلیم اُباہ علی (Ubah Ali) کا نام بھی اس شمار میں جگ مگا رہا ہے، وہ بچیوں کی تعلیم کے لیے سرگرم ہیں، وہ ’امریکن یونیورسٹی آف بیروت‘ کی طالبہ ہیں اور لبنان میں تارکین وطن کے حقوق کے لیے بھی آواز اٹھاتی رہتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ’’2020 میں دنیا بہت بدل گئی ہے اور اس میں عورتوں کی یک جہتی کی بہت ضرورت ہے۔

نصرین علون (Nisreen Alwan) ایک ڈاکٹر، محقق اور معلمہ ہیں، وہ برطانیہ میں جو عورتوں کی صحت پر تحقیق کرتی ہیں، خاص طور پر ماں بننے والی خواتین کے حوالے سے ان کا خاصا کام ہے۔ کورونا کی وبا کے دوران انھوں نے خاطر خواہ کام کیا، ان کا کہنا ہے کہ ’’اس سال میں نے زیادہ تین چیزیں کیں، اپنے دماغ کی سنی، اور وہ کیا جس سے ڈر لگتا تھا اور اپنے آپ کو معاف کیا، میں نے اور تین چیزیں یہ کیں کہ اس پر دھیان نہیں دیا کہ لوگ میرے بارے میں کیا سوچتے ہیں، اپنے آپ کو کم قصور وار ٹھیرایا اور یہ سوچا کہ میں دوسروں سے کم تر نہیں ہوں۔‘‘

افغانستان سے تعلق رکھنے والی لالہ عثمانی نے رواں برس عورتوں کو دھتکارنے کے خلاف ایک مہم میں کام یابی حاصل کی، جس کا نام تھا ’’میرا نام کہاں ہے؟‘‘ کیوں کہ افغانستان میں جب کوئی بیٹی پیدا ہوتی تھی تو ’پیدایشی سرٹیفکیٹ‘ میں اس کا نام نہیں آتا تھا، صرف والد کا نام لکھا ہوا ہوتا تھا، اسی طرح عورت کا نام ’شادی کارڈ‘ پر درج نہیں ہوتا تھا اور یہاں تک کہ جب وہ بیمار ہوتی تھی، تب بھی اس کا نام اسپتال کی رسید پر نہیں ہوتا تھا۔ ان سب چیزوں کی وجہ سے لالہ عثمانی نے یہ مہم شروع کی۔

تین سال لگاتار جدوجہد کے بعد 2020ء میں افغان حکومت نے سرکاری دستاویز پر لڑکیوں کے نام کو درج کرنے کی اجازت دے دی، ان کا کہنا ہے کہ ’’ہر انسان کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے کی کوشش کرے۔ تبدیلی لانا مشکل ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ اس کی مثال ہم عورتیں ہیں، جنھوں نے افغانستان جیسے ملک میں اپنی شناخت کے لیے لڑائی لڑی۔‘‘

جن خواتین کے بارے میں ہم نے آپ کو بتایا، ان کے علاوہ بھی بہت سے نام اس فہرست کا حصہ ہیں، ان عورتوں کی وجہ سے آج 90 فی صد عورتیں اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتی ہیں، لوگ غلط بات کے خلاف آواز اٹھانے سے کتراتے نہیں اور ان عورتوں کی وجہ سے دنیا میں لوگ یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ عورتیں کسی سے کم نہیں۔۔۔ اور وہ بھی خواب دیکھ کر پورا کرنا بہت اچھے طریقے سے جانتی ہیں۔

The post 2020ء:دنیا کی 100بااثر خواتین appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3mqaDel

اہتمام ’جاڑوں‘ کا۔۔۔

یہ سچ ہے کہ سردی میں خاتون خانہ کا کام بہت بڑھ جاتا ہے، صرف پہناوئوں کو ہی لیجیے، تو گرم ملبوسات کو سنبھالنا اور ان کی دھلائی وغیرہ، اپنے آپ میں ایک بہت بڑا کام ہے، لیکن بدلتے ہوئے موسموں کے ساتھ خود کو اس موسم میں ڈھالنا بھی ضروری ہوتا ہے، تاکہ ہر طرح کی پریشانی سے بچا جا سکے۔

گھر میں بچے اور بزرگ اس موسم سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے انھیں سردی سے بچانے کے لیے مناسب دیکھ بھال اور خصوصی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ بالخصوص کورونا کی دوسری لہر کے دوران اس امر کی ضرورت پہلے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس صور ت حال سے نمٹنے کے لیے اپنے ذہن کو الجھانے کی بہ جائے اپنے آپ کو معمول کے حساب سے بدلیں۔

صبح کے وقت بچوں کو اسکول کی کلاسوں کے لیے تیار کرنا، انھیں نہلانا اور ناشتا بنانا یہ سب کافی مشکل ہوتا ہے۔ پہلے سے ہی بچوں کی ایک سے زائد موزے اور جیکٹیں تیار رکھیں، تاکہ کسی وجہ سے بدلنا پڑیں تو انھیں تلاش کرنا آسان ہو۔

کوشش کیجیے، بچوں کے ناشتے میں انڈوں کا مختلف صورتوں میں استعمال رہے، کبھی آملیٹ کی شکل میں، تو کبھی ویسے ہی تل لیں یا کبھی ابال کر دے دیں، اور ساتھ میں بچوں کو سوتے وقت گرم دودھ استعمال کرائیں۔ بچوں سے لے کر بڑوں تک میں مضبوط قوت مدافعت کے لیے ان کی نیند پوری ہونا ضروری ہے، موسمی اثرات کی صورت میں جوشاندہ استعمال کرائیں۔۔۔ ’کورونا‘ کے حوالے سے مکمل احتیاطی تدابیر خود بھی اختیار کریں اور بچوں کو بھی اس کا پاس دار بنائیں۔

سردیوں کی آمد پر نزلہ، زکام اور کھانسی بچوں کے اردگرد ہی منڈلاتے رہتے ہیں اور بعض اوقات ان کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ بچے پانی میں زیادہ نہ رہیں، اسکول کی چھٹیوں میں بہت سے بچے مختلف کھیلوں سے شوق کرتے ہیں، جس میں بہت سے بچے پانی سے کھیلنا اور بھیگنا پسند کرتے ہیں۔ سرد موسم میں ایسا کرنا مہنگا پڑ سکتا ہے، اور اس وقت اور بھی زیادہ احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے اپنے رزمرہ کے کاموں کے ساتھ ساتھ ان پر بھی نظر رکھیں ۔ ان موسمی بیماریوں کے علاج کے لیے باورچی خانے میں شہد، ادرک یا سونٹھ رکھیں اور اس کے ساتھ ساتھ دار چینی اور گڑ بھی موجود رکھیں۔ ایک چمچے شہد میں چُٹکی بھر پسی ہوئی کالی مرچ ڈال کر بچوں کو استعمال کروائیں ۔اس کے علاوہ دودھ میں ہلدی، تھوڑا سا ادرک کا رس اور کالی مرچ ملا کر پلا دیں، اس سے کافی افاقہ ہو گا۔

سردیوں میں کان میں درد اور کبھی متلی کی شکایت سے بچے بہت تنگ کرتے ہیں۔ ٹھنڈی ہوائیں کانوں کو بہت متاثر کرتی ہیں اس لیے بچوں کو باہر جاتے ہوئے گرم ٹوپی ضرور پہنائیں۔ اس کے علاوہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے ادویات کا گھر میں موجود ہونا بہت ضروری ہے۔

بچوں کے ساتھ ساتھ اپنا بھی خیال رکھیں۔ اپنے کاموں کے دوران کان،گردن اور سر کو اچھی ڈھانپ کر رکھیں۔ گلا خراب ہو یا گلے کی خراش ہوتو ایک بڑے کپ میں پانی لے کر آدھا چمچا نمک ملا کر نیم گرم کرلیں اور دن میں دو سے تین مرتبہ غرارے کریں۔الرجی کی وجہ سے ناک بند اور سر بھاری ہو تو بھاپ لینا بہت کارآمد ثابت ہوتا ہے۔

سرد موسم میں بچوں اور بڑوں کی جلد خشک ہو جاتی ہے، اس لیے کوشش کریں، زیادہ گرم پانی سے نہ نہائیں اور نہانے کے بعد جلد کو نمی بخشنے والی کریم لگائیں۔گھر کے بزرگ افراد بھی بہت سی بیماریوں جیسے دمہ ،جوڑوں کے درد میں مبتلا ہوتے ہیں اور اس موسم میںیہ بیماریاں پہلے سے زیادہ پریشانی کا موجب بنتی ہیں اور کاموں کومزید بڑھادیتی ہیں ۔ اس لیے تحمل سے کام لیتے ہوئے اپنی ذمے داریوں کو اچھی طرح سے انداز سے انجام دینے کی کوشش کریں۔

چکن سوپ موسم سرما بچے اور بڑے بہ صد شوق پیتے ہیں۔ اس کی فرمائش بھی خاتونِ خانہ کو پریشان کر دیتی ہے، لیکن سمجھ داری سے کام لیتے ہوئے، اس سے نمٹنے کی کوشش کریں۔ اگر ایک دن پہلے اس کی منصوبہ بندی کر لی جائے، تو بہت آسانی ہو جائے گی، چکن کے ساتھ ساتھ سب ضروری اشیا منگوا کر رکھ لیں، اس طرح آپ کا وقت بھی بچ جائے اور پریشانی کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑے۔

’سبز چائے‘ جوڑوں کے درد کے لیے بہترین ہے اور اس کے علاوہ الرجی کی روک تھام کے لیے بھی اس کا استعمال بے حد مفید ہے۔ گھر کے بزرگوں کے لیے سبز چائے کا اہتمام ضروری ہے، تاکہ وہ ان سرد ہوائوں سے محفوظ ہوں، لیکن اس کے زیادہ استعمال سے بھی گریز کیا جائے۔ بچے ویسے تو خشک میوہ جات نہیں کھاتے، لیکن اگر انھیں ڈرائی فروٹ کیک بنا کر دیا جائے، تو وہ بہت شوق سے کھانا پسند کرتے ہیں۔

اس موسم میں ایک چھوٹا سا مسئلہ کافی بڑا ہو جاتا ہے، وہ یہ کہ کھانا بھی بہت جلدی ٹھنڈا ہو جاتا ہے، ادھر دستر خوان پر لا کر رکھا اور ادھر آن کی آن میں کھانا ٹھنڈا ہوگیا۔ یخ بستہ علاقوں میں اس کا حل دو پلیٹیں

کرکے ان کے درمیان گرم پانی ڈال کر نکالا جاتا ہے، بالخصوص شوربے والے سالن تو کھاتے ہوئے ہی رکابی میں ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ آپ بھی اس ترکیب پر عمل کرسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے علاقوں میں گیس کی لوڈ شیڈنگ کی شکایات بھی ہیں، تو اس موقع پر بہت زیادہ پریشانی ہوتی ہے، اس کا متبادل بندوبست ضرور کر لیجیے، گیس سلنڈر، الیکٹرک چولھا یا لکڑی وغیرہ جو مناسب اور قابل عمل ہو، ضرور انتظام کر کے رکھیں۔

چھوٹے بچوں کے کمرے کو گرم رکھنے کے لیے ہیٹر کا استعمال کریں، لیکن جب کمرا گرم ہو جائے، تو ہیٹر بند کر کے ایسی جگہ پر رکھیں جہاں تک بچے پہنچ نہ سکیں اس معاملے میں بہت احتیاط سے کام لینا ہو

گا۔ مسلسل ٹھنڈے پانی میں ہاتھ ڈالنے سے ہاتھ اور پائوں کی انگلیاں شل ہو جاتی ہیں اور کوئی کام ٹھیک طریقے سے نہیں ہو تا۔ اس کا ایک سبب آئرن کی کمی کا ہونا ہے، جس کی وجہ سے جسم میں گرمی پیدا نہیں ہوتی۔ آپ خشک خوبانی کا باقاعدگی سے استعمال کریں، جس سے آئرن کی کمی پوری ہو جائے گی۔ ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ہوتا ہے اگر سوچ بچار اور اچھی منصوبہ بندی سے کام لیا جائے تو ہر قسم کی پریشانی کا آسانی سے سامنا کیا جا سکتا ہے ۔

The post اہتمام ’جاڑوں‘ کا۔۔۔ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/33tRiBS

سرد رُتوں میں ’پاپوش‘ کا چناؤ۔۔۔

عالمی سطح پر بدلتے ہو ئے موسموں نے جہاں انسانی زندگی پر اثرات ڈالے ہیں، وہاں رہن سہن اور دیگر چیزوں میں بھی تغیرات آئے ہیں۔

گرمی اور سردی کی شدت میں پچھلے چند سالوں میں کافی شدت نوٹ کی گئی ہے۔ اسی بنا پر ہمارے ہاں بھی سردی میں خواتین کے پہناوؤں میں نمایاں تبدیلیاں نظر آرہی ہیں، وہ یہ کہ سردی میں پیروں کو موسم کی شدت سے محفوظ رکھنے کے لیے مختلف کمپنیوں  نے النواع اقسام کے جوتے، بوٹ اور چپلیں وغیرہ متعارف کرائی ہیں، جو نہ صرف سردی کی شدت کو کم کرنے میں معاون ہوتے ہیں، بلکہ خواتین کی جدت پسند طبیعت کو بھی تسکین پہنچاتے ہیں۔

ان جوتوں کے ذریعے جہاں خواتین کے فیشن اور نئے پن کے فطری احساس کو تقویت ملتی ہے، وہیں یہ کمپنیاں خوب منافع بھی حاصل کرتی ہیں۔ چند سالوں سے باقاعدہ ان جوتوں کی نمائشی تقریبات بھی منعقد ہو رہی ہیں، جس سے خواتین مزید ان جوتوں کے متعلق جان کاری حاصل کر کے اپنے لباس، جسمانی ساخت اور عمر کے مطابق ان جوتوں کا انتخاب کرتی ہیں۔

سردی کا پہلا اثر ہی ہاتھوں اور پیروں کے کھلے حصوں پر ہی ہوتا ہے اور ہاتھ پیروں کو اچھی طرح سے ڈھانپنے سے سردی سے کافی حد تک حفاظت ہو جاتی ہے۔ اس لیے سردی سے بچانے کے لیے معاون جوتوں کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

سردی لگے تو گرم کپڑے پہن کر سکون اور راحت ضرور مل جاتی ہے، لیکن اگر یہی ٹھنڈ پیروں کو جمانے لگے، تو پھر کبھی سوئیٹر بھی ناکافی لگنے لگتے ہیں۔ اس کے حل کے لیے، کسی نے اینکل بوٹس کو ترجیح دی، توکسی کی من پسند اور آرام دہ جوگرز کو۔  لانگ لیدر ڈریس بوٹس کا اسٹائل ہو یا پھر مڈ کالف لینتھ بوٹس کی ورائٹی۔ جس کی جو پسند، وہی پہناوے کا حصہ بنتا ہوا نظر آتا ہے۔

 لیڈی اینکل بوٹس

فیشن کے اس دور میں لانگ بوٹس یا لیڈی اینکل بوٹس کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ سردی سے بچانے کے ساتھ دل کش تاثر بھی دیتے ہیں، انھیں چوں کہ چمڑے سے بنایا جاتا ہے، اس لیے یہ صرف مخصوص رنگوں میں دست یاب ہوتے ہیں۔ یہ بہت آرام دہ اور دیر پا ہوتے ہیں۔ یہ بوٹس مختلف انداز کی ’ہیل‘ کے ساتھ بھی موجود ہیں اور خواتین میں بے حد مقبول ہیں۔ بالخصوص تقاریب وغیرہ کے لیے خواتین ان کا انتخاب کرتی ہیں اور مرکزِ نگاہ بن جاتی ہیں۔

مڈ کالف

 سلوچ بوٹس

یہ ہمارے پیروں کو پنڈلیوں تک ڈھانک دیتے ہیں۔ اس میں ’سائیڈ زپ‘ بھی ہوتی ہے، جو آپ کے پہننے میں آسانی فراہم کرتی ہے۔ ’اسپورٹس ویمن‘ اس کا انتخاب بہت شوق سے کرتی ہیں۔ یہ بوٹس برانڈڈ لیدر سے بنوائے جاتے ہیں۔ قیمتاً مہنگے ہوتے ہیں، لیکن موسم کی شدت میں بہترین ثابت ہوتے ہیں اور آپ کی شخصیت کو ایک انفرادیت بھی عطا کرتے ہیں۔

 کالف بوٹس

دیکھنے اور استعمال میں کالف بوٹس بھی مڈ کالف سلوچ بوٹس جیسے ہی ہیں، لیکن اس کی لمبائی کچھ کم ہوتی ہے اور ٹخنوں سے کچھ اوپر تک جاتی ہے، اس میں زپ نہیں ہوتی، لیکن اس کی بناوٹ میں اوپر کی جانب موزے نما سلوٹیں ہوتی ہیں، اس کی بناوٹ اور اسٹائل منفرد اور جداگانہ ہوتا ہے، جو خواتین میں خوب پسند کیا جاتا ہے۔ جن خواتین کو گھٹنوں تک والے سلوچ بوٹس پسند نہیں ہوتے، وہ کالف بوٹس کا انتخاب کرتی ہیں۔

فرشوز یا چپل

فرشوز اور چپل جدت پسندی کی ایک کڑی ہیں۔ ’فر‘ دراصل ایک نرم اون ہوتا ہے، جسے جوتوں اور چپلوں میں لگا کر انھیں جاذبِ نظر، آرام دہ اور گرم بنایا جاتا ہے۔ یہ پیروں کو بہت زیادہ حرارت تو  نہیں دیتے، مگر کسی حد تک شدید موسم سے بچاؤ کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ ’فر چپل‘ کا انتخاب عموماً گھریلو خواتین کرتی ہیں، جب کہ ’فر شوز‘ اسکول، کالج گرلز کا انتخاب بنتے ہیں۔ فر شوز اور چپل مارکیٹ میں مختلف اور دیدہ زیب رنگوں میں دست یاب ہیں، انھی خوب صورت رنگوں کے امتزاج کے باعث، انھیں بہت پسند کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ قیمتاً بھی مناسب ہوتے ہیں، اس وجہ سے عام طبقے کی پہنچ میں ہوتے ہیں، مگر فر کی بھی مختلف کوالٹیاں ہوتی ہیں، اچھی اور اعلیٰ کوالٹی والے فر شوز صرف برانڈڈ کمپنیاں ہی بناتی ہیں، جو مہنگے داموں ملتے ہیں۔ لیکن ان میں درمیانے درجے کے فر شوز اور چپل بھی مناسب اور دیرپا ثابت ہوتے ہیں۔

جوگرز

’جوگرز‘ کا نام سن کر جوگنگ یا ٹریکنگ کا خاکہ ذہن میں ابھرتا ہے، مگر سردی کی شدت سے بچاؤ کے لیے بھی جوگرز مفید اور کار آمد ثابت ہوتے ہیں۔ جن خواتین کو لیدر اور فر سے الرجی ہوتی ہے، وہ جوگرز کا انتخاب کر کے شدید موسم سے بچاؤ کا سامان کرتی نظر آتی ہیں۔ جوگرز آرام دہ اور گرم ہونے کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں مناسب قیمت میں دست یاب ہوتے ہیں۔ عام کمپنی کے جوگرزبھی قدرے معیاری ہوتے ہیں،جو عام طبقے کی پہنچ میں ہوتے ہیں۔

الغرض، سردی کی شدت سے بچاؤ کے لیے خواتین ہائی ہیل بوٹس، اینکل بوٹس ،اسپول ہیل بوٹس اور کئی قسم کے ایسے بوٹس اور شوز کا استعمال کرتی نظر آتی ہیں، جو انھیں موسم کی شدت سے محفوظ بھی رکھتے ہیں اور جاذب نظر بھی بناتے ہیں۔ یہ ہائی ہیل اور اینکل بوٹس سرد و خشک موسم کا اہم پہناوا سمجھے جاتے ہیں، جس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، چوں کہ خواتین فطری طور پر حسین نظر آنے کی خواہاں ہوتی ہیں اور اسی خواہش کے لیے ہر آن کوشاں رہتی ہیں، ان جوتوں اور بوٹس کا چناؤ اس حوالے سے کافی کارآمد ثابت ہوگا۔

The post سرد رُتوں میں ’پاپوش‘ کا چناؤ۔۔۔ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Vp4cfG

’پروین رحمٰن‘ کا قتل اورنگی پروجیکٹ کی زمین پر قبضہ کیلیے کیا گیا، جے آئی ٹی رپورٹ

 کراچی:  ہائی کورٹ نے پروین رحمٰن قتل میں ملزم عمران سواتی و دیگر کی درخواست ضمانت پر ٹرائل کورٹ سے کیس میں پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔

ہائی کورٹ میں پروین رحمن قتل میں ملزم عمران سواتی و دیگر کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی، کیس میں از سرنوتحقیقات کرنے والی ٹیم نے رپورٹ جمع کرادی۔

جے آئی ٹی رپورٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے کاوئنٹر ٹیررازم بابر بخت کی جانب سے تیار کی گئی ہے جس میں کہاگیاکہ ابتدائی تفتیش کرنے والے افسراں نے کیس خراب کیا،بطور سزا انھیں نوکری سے فارغ کیا جائے، ڈی آئی جی جاوید عالم اوڈھواورایس پی آصف اعجازبھی غفلت میں برابرکے شریک ہیں۔

پولیس کے سینئر افسران کے خلاف کارروائی آئی جی سندھ کا صوابدیدی اختیارہے جن ملزمان کا ٹرائل ہورہا ہے وہ قتل میں ملوث ہیں، پروین رحمن کا قتل اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کی زمین پر قبضہ کرنے کیلیے کیاگیا، ملزمان پشتون ہیں جبکہ پروجیکٹ کی سربراہ خاتون بہاری تھی ،ملزمان پشتون اورافغان آبادی میں خاتون کو برداشت نہیں کررہے تھے۔

قتل کے پیچھے بااثرافرادکے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے، پروین رحمنٰ نے اپنی زندگی میں بھی کسی با اثر شخص کا نام نہیں لیا تھا، پروین رحمن نے اپنی زندگی میں رحیم سواتی کا نام لیا تھا جو ان کا پڑوسی تھا، رحیم سواتی بھتہ خور اور لینڈ گریبر ہے جو اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کی زمین پر قبضہ کرنا چاہتا تھا، رحیم سواتی کے خلاف بھتہ خوری ،زمینوں پرقبضے کے مقدمات بھی درج کیے جائیں۔

عدالت نے ٹرائل کورٹ سے کیس میں پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

The post ’پروین رحمٰن‘ کا قتل اورنگی پروجیکٹ کی زمین پر قبضہ کیلیے کیا گیا، جے آئی ٹی رپورٹ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/37rwLig

آئی بی سی سی ضیاالدین یونیورسٹی امتحانی بورڈ کا دورہ نہ کرسکی

 کراچی:  میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طلبہ کی دستاویزات کی ایکویلنس اور ویریفیکیشن شروع ہوتے ہی ضیاء الدین یونیورسٹی امتحانی بورڈ نے اپنے امتحانی عمل اور کاپیوں کی جانچ کے نظام سے آگہی کے سلسلے میں آئی بی سی سی(انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمینز) کا طے شدہ دورہ ملتوی کرادیا۔

آئی بی سی سی کی جانب سے ضیا الدین یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کا یہ دورہ یکم دسمبر کو ہونا تھا جس میں کراچی کے علاوہ پنجاب، کے پی کے اور آزاد جموں کشمیر سے ماہرین تعلیم و بعض چیئرمین بورڈز کو شریک ہونا تھا تاہم آئی بی سی سی اسلام آباد کے ذرائع کے مطابق جیسے ہی آئی بی سی سی نے ضیا  الدین یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کے طلبہ کی دستاویزات کی تصدیق کا عمل شروع کیا۔

اسی اثنا میں ضیاالدین یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر اختر غوری کی جانب سے ایک خط کے ذریعے سیکریٹری آئی بی سی سی کو اطلاع دی گئی ہے کہ بورڈ میں ملازمت کرنے والے افراد میں سے کچھ کورونا 19 کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ کچھ ملازمین آئیسولیٹ ہوگئے ہیں لہذا فوری طور پر یہ دورہ ممکن نہیں ہے اس دورے کے التوا سے بورڈ کی جانب سے میٹرک اور انٹر کے امتحانات اور امتحانی کاپیوں کی اسسمنٹ اور ٹیبولیشن کے طریقہ کار سے متعلق آئی بی ایم سی کی جانب سے شروع ہونے والا ’’ایویلیو ایشن ‘‘ کا عمل ناصرف رک گیا ہے بلکہ اس پر شکوک وشبہات بھی پیدا ہوگئے ہیں۔

اس سلسلے میں ضیاء الدین یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کی جانب سے بھجوائے گئے گزٹ کی ابتدائی چھان بین شروع کی گئی ہے اسلام آباد کے ذراؤ کہتے ہیں کہ اس گزٹ میں بعض جگہوں پر ایک ہی رول نمبر ایک سے زائد طلبہ کو جاری کیا گیا ہے اور ایک بڑی تعداد میں رول نمبرز کے رزلٹ withheld کیے گئے ہیں، یاد رہے کہ ضیاالدین یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ نے آئی بی سی سی سے پاکستان بھر کے تمام تعلیمی بورڈز کی طرز پر رکنیت کی درخواست کی تھی۔

جب آئی بی سی سی کی سب کمیٹی کی جانب سے ضیاالدین یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کی ایکٹ کی پڑتال کی گئی تو معلوم ہوا کہ ایکٹ میں اس بات کا تو تذکرہ موجود ہے کہ آئی بی سی کا نمائندہ ضیا الدین یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کے ایگزیکیٹو بورڈ کا رکن ہوگا تاہم اس بات کا ذکر موجود ہی نہیں کہ خود مذکورہ بورڈ بھی آئی بی سی سی کا رکن ہوگا جو ضیا الدین یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کی آئی بی سی میں مستقل رکنیت میں بڑی رکاوٹ ہے جس پر آئی بی سی سی نے اپنی سب کمیٹی کی سفارش پر بورڈ کو پاکستان بھر کے تمام تعلیمی بورڈز کے اس فورم میں عارضی رکنیت provisional membership دی ہے۔

علاوہ ازیں آئی بی سی سی کے گزشتہ اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا تھا کہ چونکہ مذکورہ بورڈ کے’’ ایویلیو ایشن سسٹم‘‘ کے حوالے سے مسلسل شکایات موصول ہورہی ہیں لہذا چیئرمین آئی بی سی سی ، سیکریٹری آئی بی سی سی ، ادارے کے افسران اور دیگر نامزد ماہرین انسپیکشن کیلیے ضیاالدین یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کا دورہ کریں گے۔

The post آئی بی سی سی ضیاالدین یونیورسٹی امتحانی بورڈ کا دورہ نہ کرسکی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3fRiqzs

بابر اعظم نے محمد یوسف کو اپنا آئیڈیل قرار دے دیا

 لاہور: بابر اعظم نے محمد یوسف کو اپنا آئیڈیل قرار دے دیا۔

ایک بھارتی ویب سائٹ کو انٹرویو میں بابر اعظم نے کہاکہ محمد یونس میرے آئیڈیل کھلاڑی ہیں،سابق کپتان ایک کلاسک بیٹسمین تھے اور ان کے پاس اسٹروکس کھیلنے کیلیے بڑا وقت ہوتا تھا، میں ان کی بیٹنگ دیکھ کر لطف اندوز ہوتا ہوں۔

ایک سوال پر پاکستانیکپتان نے کہا کہ آؤٹ ہونے پر میں اپنی غلطی کی ویڈیو بار بار دیکھتا ہوں، کبھی تو پورا میچ ہی دیکھ لیتا ہوں،اپنی بڑی اننگز کو بھی دیکھتا ہوں، اس میں بھی کئی مثبت اور منفی پہلو قابل غور ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ میں اپنی بیٹنگ میں تکنیکی خامیاں دور کرنے کیلیے چھوٹے بھائی سفیر سے مدد لیتا ہوں،اس نے کامیابی کے سفر میں میرا بڑا ساتھ دیا ہے، بیٹنگ کی ہر بات سے واقف ہونے کی وجہ سے وہ مفید مشورہ دیتا ہے،کئی بار ناکامی پر اس سے بات کرتا ہوں، اسی کے ساتھ ماضی اور حال میں اپنے ساتھ وابستہ رہنے والے کوچز سے بھی رہنمائی لینے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

ایک سوال پر بابر اعظم نے کہا کہ میں کسی کو دیکھ کر اپنا اسٹائل نہیں بدلتا، نیچرل انداز میں کھیلنے کی کوشش کرتا ہوں، پاور ہٹنگ کیلیے پہلے سے کچھ طے کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، پچ اور کنڈیشنز کو سمجھتے ہوئے کبھی سنبھل کر تو کبھی کھل کر کھیلنا پڑتا ہے،بولرز مشکلات پیش کررہے ہوں تب بھی ٹیم کی ضرورت کے مطابق رنز بنانے پر توجہ مرکوز رکھنے سے ہی بیٹسمین اپنی افادیت ثابت کرسکتا ہے۔

The post بابر اعظم نے محمد یوسف کو اپنا آئیڈیل قرار دے دیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3mrsKRp

لنکا پریمیئر لیگ میں مشکوک سرگرمیاں بڑھنے لگیں

ہمبنٹوٹا: لنکا پریمیئر لیگ میں مشکوک سرگرمیاں بڑھنے لگیں جب کہ ایک بال نے آئی سی سی کو چوکنا کردیا۔

لنکا پریمیئر لیگ ہمبنٹوٹا میں جاری ہے، سری لنکا کے ساتھ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے اینٹی کرپشن حکام بھی اس پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں، ایونٹ کے آغاز سے قبل ہی مشکوک رابطے کی اطلاع پر ویسے ہی نگرانی سخت کردی گئی تھی، اسی وجہ سے دمبولا وکنگز اور کینڈی ٹسکرز کے درمیان میچ میں ایک مشکوک بال نے اے سی یو حکام کو چوکنا کردیا۔

میچ کے فوری بعد حکام نے دمبولا وکنگز کی نمائندگی کرنے والے مالندا پشپاکمارا سے پوچھ گچھ کی، سری لنکن بورڈ کے ٹاپ آفیشل نے اس حوالے سے استفسار پر کہاکہ صرف سوالات کیے گئے ہیں، پشپاکمارا پر کوئی الزام عائد نہیں ہوا، ہم اس پر مزید بات نہیں کرسکتے کیونکہ آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ آزادانہ طور پر کام کرتا ہے۔

یاد رہے کہ پشپاکمارا کو اپنے دیگر 9 ہم وطنوں کے ہمراہ ماریشس کرک 10 لیگ میں حصہ لینا تھا تاہم ایل پی ایل کھیلنے کیلیے وہ آخری لمحات پر دستبردار ہوگئے، لیفٹ آرم اسپنر اب تک سری لنکا کی جانب سے 4 ٹیسٹ اور 2 ون ڈے میچز کھیل چکے ہیں۔

ایل پی ایل میں شاہد خان آفریدی اور آندرے رسل جیسے عالمی ٹی 20 سپر اسٹارز شریک ہیں، ایس ایل سی اپنے اس ایونٹ کو کسی بھی قسم کے تنازع سے محفوظ رکھنے کیلیے کرپشن پر عدم برداشت کی سخت پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

The post لنکا پریمیئر لیگ میں مشکوک سرگرمیاں بڑھنے لگیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3mpM7dx

حریف سے ٹکر کی وجہ سے فٹبالر کی کھوپڑی چٹخ گئی

 لندن:  انگلش پریمیئر لیگ میں آرسنل کے ڈیوڈ لوئز سے ٹکر کی وجہ سے ولوز کے اسٹرائیکر رال جمینیز کی کھوپڑی چٹخ گئی۔

انگلش پریمیئر لیگ کے ایک مقابلے میں اسٹرائیکر رال جمینیز کی ٹیم 1-2 سے فتحیاب رہی تھی، یہ ولوز کی 40 برس میں آرسنل پر پہلی فتح ہے، جمینیز کو 10 منٹ تک فیلڈ میں ہی طبی امداد دی گئی بعد ازاں اسپتال لے جایا گیا۔

کلب کا کہنا ہے کہ اگلے چند روز تک وہ میڈیکل اسٹاف کی زیر نگرانی رہیں گے، ہم ان کی جلد صحتیابی کیلیے دعاگو ہیں۔

The post حریف سے ٹکر کی وجہ سے فٹبالر کی کھوپڑی چٹخ گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3ob2MBX

اسپیشل آئسولیشن ختم، 2 پلیئرز گروپس میں شامل

 لاہور:  نیوزی لینڈ میں موجود قومی اسکواڈ کی تیسری کورونا ٹیسٹنگ مکمل ہوگئی جب کہ ماضی میں وائرس زدہ ہونے کی وجہ سے پازیٹیو آنے والے 2کرکٹرز اسپیشل آئسولیشن چھوڑ کر اپنے گروپس میں شامل ہوگئے۔

کرائسٹ چرچ کے نواح میں موجود پاکستانی اسکواڈ کی پہلی کورونا ٹیسٹنگ میں 6کرکٹرز کی رپورٹس مثبت آگئی تھیں، اگلے مرحلے میں مزید ایک کھلاڑی پازیٹیو نکلا جس کے بعد کھلاڑیوں اور معاون اسٹاف ارکان کو اپنے گروپس کیلیے مخصوص اوقات و مقام پر چہل قدمی کی اجازت دے دی گئی۔

گذشتہ روز تیسری ٹیسٹنگ کیلیے بھی تمام کھلاڑیوں کے سیمپلز حاصل کرلیے گئے، پہلے ٹیسٹ کے6میں سے 2کرکٹرز ماضی میں وائرس زدہ ہونے کی وجہ سے پازیٹیو آئے تھے، خون کے سیرولوجی ٹیسٹ میں اس بات کی تصدیق اتوار کو ہوگئی تھی کہ طبی طور پر دونوں ارکان انفیکشن سے کلیئر ہیں، ان کو دوبارہ اسکواڈ جوائن کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ اتوار کی چھٹی کے سبب موخر کردیا گیا۔

گذشتہ روز دونوں نے اسپیشل آئسولیشن چھوڑ کر اپنے گروپس کیلیے مختص کمروں میں قیام کرلیا،یاد رہے کہ پہلے مرحلے میں 6 ٹیسٹ مثبت آنے کی وجہ سے قرنطینہ بھی دوبارہ شیڈول کیے جانے سے کھلاڑیوں کو ٹریننگ شروع کرنے کا موقع نہیں مل سکا، پی سی بی پْرامید ہے کہ پیر کو ہونے والے ٹیسٹ کے نتائج پر اسکواڈ کو جلدگراؤنڈ میں ٹریننگ کی اجازت مل جائے گی۔

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین 3میچز پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کا پہلا مقابلہ 18دسمبر کو ہوگا،اس کے بعد 2 ٹیسٹ بھی کھیلے جائیں گے۔

The post اسپیشل آئسولیشن ختم، 2 پلیئرز گروپس میں شامل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/36r4GZo

محمد اکرم آزادانہ و روایتی سلیکشن کمیٹی کے حامی

محمد اکرم آزادانہ حیثیت میں کام کرنے والی روایتی سلیکشن کمیٹی کے حامی ہیں۔

مصباح الحق کی جگہ چیف سلیکٹر کی پوسٹ سنبھالنے کیلیے محمد اکرم مضبوط امیدوار ہیں، پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ https://ift.tt/2QIuKoB کے پروگرام ’’کرکٹ کارنر ود سلیم خالق‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پی سی بی نے مجھ سے رابطہ کیا ہے،ان کی دیگر افراد سے بھی بات چیت ہورہی ہوگی، ابھی کچھ حتمی طورپر طے نہیں ہوا، جب ہماری بات شروع ہوئی تو پی ایس ایل کے میچز قریب تھے، میں پشاور زلمی کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نظر انداز نہیں کر سکتا تھا۔

باقاعدہ پیشکش پر عہدہ قبول کرنے کے سوال پر محمد اکرم نے کہا کہ پاکستان کے لیے کام کرنا بڑے اعزاز کی بات ہے، اس کے ساتھ پہلے سے موجود ذمہ داریوں کو بھی مکمل کرنا ہوتا ہے،  ابھی میرے پشاور زلمی کے ساتھ بھی چند کام زیر تکمیل ہیں، کوچنگ ہو یا سلیکشن پاکستان کے لیے کام کرنے کا ایک جذبہ ہمیشہ سے موجود ہے،اگر فرنچائز کے ساتھ ذمہ داریاں مکمل ہو جاتی ہیں اور اس دوران انٹرویو کے لیے بلایا گیا تو ضرور جاؤں گا۔

انھوں نے کہا کہ ایسوسی ایشنز کے 6کوچز بڑے تجربہ کار ہیں، ان کی رائے کی اہمیت ہے لیکن میری ذاتی رائے میں آزادانہ حیثیت میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی بہتر ہوگی، اگر میں خود کوچ کے طور پر کام کر رہا ہوں تو میری کوشش ہوگی کہ سلیکشن کمیٹی کا حصہ نہ بنوں،یہ بھی دیکھنا یہ ہوگا کہ کوچز ڈریسنگ روم میں کسی کرکٹر کو عدم انتخاب کی وجہ بتانے کوئی پریشانی تو محسوس نہیں کرتے،کسی بھی کوچ کی خواہش ہوتی ہے کہ ڈریسنگ روم کا ماحول خوشگوار رہے، اسی لیے بہتر ہے کہ ایک آزادانہ حیثیت میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی ہو۔

محمد اکرم نے کہا کہ اگر مجھے بطور چیف سلیکٹر کام کرنے کا موقع ملا تو پشاور زلمی کو خیرباد کہہ دوں گا، پی سی بی کی ذمہ داری اتنی بڑی ہے کہ دن رات کام کرنے کی ضرورت ہو گی، بیک وقت دونوں عہدوں سے انصاف نہیں کیا جا سکتا، کنسلٹنٹ کے طور پر مشورے دینا اور بات ہے لیکن فل ٹائم صرف ایک ہی کام کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بطور ہیڈ کوچ کام کرتے ہوئے میں نے فٹنس پر خصوصی توجہ دی کیونکہ پہلے ایسا کوئی کلچر ہی نہیں تھا، بطور چیف سلیکٹر بھی اس پر بھرپور توجہ دوں گا لیکن صرف یہی ایک چیز سلیکشن کا معیار نہیں ہے،ہیڈکوچ اور ہائی پرفارمنس سینٹر کے کوچز کی مشاورت سے فیصلے ہوں گے۔

ڈیرن سیمی آئندہ سیزن میں بطور ہیڈکوچ ہی سرگرم نظر آئیں گے

پشاور زلمی کے ڈائریکٹر کرکٹ محمد اکرم نے کہا ہے کہ ڈیرن سیمی آئندہ سیزن میں بطور ہیڈکوچ ہی سرگرم نظر آئیں گے،رواں پی ایس ایل سیزن میں پشاور زلمی کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہ رہنے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں جلدی مومینٹم حاصل کرنا بہت ضروری ہے،کتنے پلیئر ٹیم کو جوائن کرنے کیلیے وقت پر آ رہے ہیں، کس موقع پر انجریز ہوئی ہیں،یہ بھی اہم ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر ملتان سلطانز نے لیگ مرحلے میں اچھا مومینٹم حاصل کیا بعد ازاں پرفارم نہیں کرپائے اور باہر ہوگئے،پلے آف مرحلے میں گیند گیلی ہونے سے بھی مسائل ہوئے، پشاور زلمی کی انجریز اور کمبی نیشن کے مسائل اپنی جگہ بہرحال دوسری ٹیموں کو کریڈٹ دینا چاہیے کہ وہ اچھا کھیلیں۔

کیریئر میں توقعات کے مطابق کارکردگی نہ دکھانے پراکرم مایوس

اپنے کیریئر میں صلاحیت ہونے کے باوجود توقعات کے مطابق کارکردگی نہ پیش کرنے پر محمد اکرم مایوس ہیں،انھوں نے کہا کہ کئی دیگر نوجوان بولرز کے بھی اس طرح کے مسائل رہے، وسیم اکرم اور وقار یونس غیر معمولی کارکردگی پیش کر رہے تھے، اگر ان کی کوئی انجری وغیرہ ہوتی تو تب ہی کسی دوسرے کو موقع ملتا۔

انھوں نے کہا کہ حسرت ضرور رہ جاتی ہے مگر وہ ٹرین اب گزر گئی، اب جو ذمہ داریوں کی اننگز میں اچھا کھیلنے کی کوشش کر رہا ہوں، توجہ اس بات پر ہے کہ نوجوان بولرز کی کارکردگی کس طرح بہتر بنائی جا سکتی ہے تاکہ جو غلطیاں ہم کرتے رہے وہ یہ نہ کریں۔

The post محمد اکرم آزادانہ و روایتی سلیکشن کمیٹی کے حامی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/39tPOet

کورونا کی ہلاکت خیزیاں؛ 24 گھنٹوں میں 66 افراد جاں بحق

اسلام آباد: ملک بھر میں کورونا وائرس کے وار جاری ہیں فعال کیسز کی تعداد 49 ہزار سے زائد ہوگئی جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 66 افراد کورونا کے باعث جان سے ہاتھ دھوبیٹھے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرکے تازہ اعداد وشمارکے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 2 ہزار 458 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ جس کے بعد ملک بھرمیں مجموعی کیسز کی تعداد 4 لاکھ سے زائد ہوگئی۔

این سی او سی کے مطابق فعال کیسز کی تعداد بڑھ کر 49 ہزار 105 ہوگئی جن میں سے 2 ہزار 165 مریضوں کی تعداد تشویشناک ہے۔ اب تک کورونا وائرس میں مبتلا 3 لاکھ 43 ہزار 268 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 66 اموات رپورٹ ہوئیں جس کے بعد مجموعی اموات کی تعداد 8 ہزار 091 ہوگئی۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں 40 ہزار 969 کورونا ٹیسٹ کئے گئے، جس کے بعد مجموعی کوویڈ 19 ٹیسٹس کی تعداد 55 لاکھ 49 ہزار 779 ہوگئی۔

سندھ میں مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 74 ہزار 350 ، پنجاب میں ایک لاکھ 19 ہزار578، خیبرپختونخوا 47 ہزار 370 ، اسلام آباد میں 30 ہزار 406، بلوچستان میں 17 ہزار 187 ، آزاد کشمیر 6 ہزار 933 اورگلگت بلتستان میں 4 ہزار 658 تعداد ہوگئی۔

کورونا وائرس اوراحتیاطی تدابیر

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیراختیارکرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازے کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکربیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پرکوئی اثرنہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پا نی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اورہرایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

The post کورونا کی ہلاکت خیزیاں؛ 24 گھنٹوں میں 66 افراد جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3mtutpd

Sunday, 29 November 2020

کیا ’’خالص آکسیجن سے علاج‘‘ ہمیں دوبارہ جوان کرسکتا ہے؟

تل ابیب: اسرائیلی سائنسدانوں نے 35 عمر رسیدہ رضاکاروں پر تجربات کے بعد دریافت کیا ہے کہ اگر خالص آکسیجن والے ماحول روزانہ کچھ وقت گزارا جائے تو جوانی واپس آسکتی ہے۔

واضح رہے کہ خالص آکسیجن والے علاج کو ’’ہائپربیرک آکسیجن تھراپی‘‘ (ایچ بی او ٹی) کہا جاتا ہے۔

یہ طریقہ 100 سال پرانا ہے جس میں ایک خاص چیمبر کے اندر خالص آکسیجن گیس بھری جاتی ہے۔ گیس کا دباؤ، عام ہوائی دباؤ کے مقابلے میں ڈھائی گنا زیادہ رکھا جاتا ہے۔

علاج کروانے والے شخص کو خالص آکسیجن والے ماحول میں کم از کم 3 منٹ سے لے کر زیادہ سے زیادہ 120 منٹ (دو گھنٹے) تک رکھا جاتا ہے۔ مذکورہ طریقے پر آکسیجن سے علاج کروانے والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود کو پہلے سے زیادہ جوان اور صحت مند محسوس کیا۔

ایسی افواہیں بھی گردش میں رہی ہیں کہ مشہور گلوکار مائیکل جیکسن نے اپنی رہائش گاہ پر ’’ایچ بی او ٹی‘‘ کا مستقل بندوبست کر رکھا تھا اور وہ روزانہ کچھ وقت اپنے ’’آکسیجن چیمبر‘‘ میں گزارا کرتے تھے۔

لیکن کیا خالص آکسیجن سے واقعی کوئی فائدہ ہوتا ہے یا پھر یہ صرف ایک وہم سے بڑھ کر کچھ نہیں؟ یہ جاننے کےلیے اسرائیلی سائنسدانوں نے بزرگ افراد کے خلیوں پر آکسیجن تھراپی کے اثرات جاننے کا فیصلہ کیا۔

مطالعے میں شریک رضاکار بزرگوں کی عمریں 64 سال یا زیادہ تھیں جبکہ انہیں 60 دنوں تک روزانہ آکسیجن تھراپی کے عمل سے گزارا گیا۔

اگرچہ ریسرچ جرنل ’’ایجنگ‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہونے والی اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ہر رضاکار کو روزانہ کتنی دیر تک زیادہ دباؤ والی آکسیجن کے ماحول میں رکھا گیا، تاہم اتنا ضرور معلوم ہوا ہے کہ تحقیق شروع کرنے سے پہلے ہر رضاکار کے ’’مکمل خون‘‘ کا نمونہ حاصل کیا گیا۔ (’’مکمل خون‘‘ میں سرخ اور سفید خلیات کے علاوہ پلازما اور خون میں پائے جانے والے دیگر تمام اجزاء شامل ہوتے ہیں۔)

مطالعے کے دوران کسی بزرگ سے اس کا معمول تبدیل کرنے کےلیے نہیں کہا گیا۔ اس دوران 30 ویں روز، 60 ویں روز اور پھر، آکسیجن تھراپی ختم ہونے کے ایک ہفتے سے دو ہفتے بعد ان رضاکاروں سے مکمل خون کے نمونے لیے جاتے رہے۔

آکسیجن تھراپی سے پہلے اور بعد میں خون کے مختلف خلیوں کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد ماہرین کو معلوم ہوا کہ ان میں ’’بوڑھے خلیات‘‘ کی تعداد کم ہوچکی تھی جبکہ خون میں پائے جانے والے مختلف الاقسام ’’سفید خلیات‘‘ (وائٹ بلڈ سیلز) میں ٹیلومرز کی لمبائی بڑھ چکی تھی۔

بتاتے چلیں کہ ’’ٹیلومرز‘‘ (telomeres) خلیوں میں کروموسومز کے کناروں پر لمبوترے ڈھکنوں جیسے سالمات ہوتے ہیں۔ ہر بار جب کوئی خلیہ تقسیم ہوتا ہے تو ان ٹیلومرز کی لمبائی معمولی سی کم ہوجاتی ہے۔

عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ٹیلومرز کی لمبائی بھی بہت کم رہ جاتی ہے اور بالآخر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ خلیہ مزید تقسیم ہونے کے قابل نہیں رہتا۔ ایسی صورت میں یا تو خلیات بہت تیزی سے مرنے لگتے ہیں یا پھر وہ کسی نہ کسی طرح خود کو زندہ رکھتے ہوئے ’’بوڑھے خلیات‘‘ کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔

یعنی اس تحقیق میں رضاکاروں کے بوڑھے خلیات میں کمی اور ٹیلومرز کی لمبائی میں اضافہ، یہ دو ایسے خصوصی عوامل تھے جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ خالص آکسیجن کے ذریعے ’’علاج‘‘ واقعتاً انسان کو دوبارہ جوان کی طرف لوٹاتا ہے۔

اس اہم دریافت کے باوجود، ابھی یہ معلوم ہونا باقی ہے کہ دیگر جسمانی افعال (فنکشنز) اور نظاموں (سسٹمز) پر آکسیجن تھراپی کا طریقہ کس حد تک کارگر ہے اور یہ کس حد تک جوانی کو واپس لا سکتا ہے۔

The post کیا ’’خالص آکسیجن سے علاج‘‘ ہمیں دوبارہ جوان کرسکتا ہے؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3o8PmGy

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما عادل صدیقی کورونا سے انتقال کرگئے

 کراچی: کورونا وائرس کا شکار ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما عادل صدیقی انتقال کرگئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما عادل صدیقی انتقال کرگئے، عادل صدیقی گزشتہ ماہ ہی طویل عرصے بعد وطن واپس آئے تھے اور کورونا وائرس کا شکار ہوگئے تھے، عادل صدیقی کو 22 نومبر کو کراچی کے نجی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں ان کی حالت انتہائی تشویش ناک تھی اور وہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں وینٹی لیٹر پر تھے۔

واضح رہے کہ عادل صدیقی ایم کیو ایم پاکستان رابطہ کمیٹی کے سابق رکن اور صوبائی وزیر تجارت بھی رہ چکے ہیں، عادل صدیقی کورونا وائرس کے علاوہ پھیپڑوں کے مرض میں بھی مبتلا تھے۔

The post ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما عادل صدیقی کورونا سے انتقال کرگئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/33qJErC

آمدن سے زائد اثاثہ ریفرنس؛ اسپیکر سندھ اسمبلی سراج درانی پر فرد جرم عائد

 کراچی: احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق ریفرنس میں اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی اور دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کردی۔

کراچی کی احتساب عدالت کے روبرو آمدن سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق سماعت ہوئی۔  عدالت نے آغا سراج درانی سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کردی۔ ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا۔

ملزمان میں آغا سراج کی اہلیہ ناہید درانی، صاحبزادے آغا شہباز، آغا مسیح الدین خان درانی،  بیٹیاں صنم درانی، شہانہ درانی، سارہ درانی، طفیل احمد، ذوالفقار، آغا منور علی، غلام مرتضی اور گل بہار شامل ہیں۔

ملزمان کے صحت جرم سے انکار پر عدالت نے نیب گواہان کو 22 دسمبر کو طلب کر لیا۔ نیب کے مطابق ملزمان کے خلاف ایک ارب 60 کروڑ سے زائد مالیت کے غیر قانونی اثاثے بنانے کے الزام ہے۔

سماعت کے بعد آغا سراج درانی کی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کافی عرصے بعد فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔ کیس کی صورتحال ہمارے وکلا دیکھیں گے۔ تمام عرصے میں نیب نے مجھ سمیت کسی سے کوئی انکوائری نہیں کی۔ نیب کا کوئی افسر میرے علاقے میں انکوائری کے لئے آیا۔ میں نے اور ساتھیوں نے خود ریوینیو سمیت دیگر ریکارڈ نیب افسران کے حوالے کیا۔

The post آمدن سے زائد اثاثہ ریفرنس؛ اسپیکر سندھ اسمبلی سراج درانی پر فرد جرم عائد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3loEtyC

شیخوپورہ کے قریب بس اور وین میں تصادم، 12 افراد جاں بحق

شیخو پورہ: نارنگ منڈی میں کالاخطائی روڈ پردربار کے قریب بس اور ٹویوٹا وین کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں 12 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوگئے۔

نارنگ منڈی میں کالاخطائی روڈ پردربار کے قریب بس اور ٹویوٹا وین کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں 12 افراد جاں بحق اور 15 کے قریب زخمی ہوگئے، واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور دیگر امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے کے نتیجے میں بس اور وین کو آگ لگ گئی جس کے باعث متعدد مسافر جھلس کر زخمی ہوئے جب کہ آگ لگنے کی وجہ سے بس اور وین دونوں جل کر خاکستر ہوگئے، آگ لگنے کی وجہ وین میں لگا گیس سلنڈر بتائی جارہی ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے شیخوپورہ کے قریب ٹریفک حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، وزیراعلیٰ نے حادثے میں زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی افسران اور منتخب نمائندے زخمیوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولتوں کی مانیٹرنگ کریں۔

The post شیخوپورہ کے قریب بس اور وین میں تصادم، 12 افراد جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2VdNlMW

پاکستان میں بھی فٹبال لیجینڈ ڈیگومیرا ڈونا کوخراج عقیدت پیش

 لاہور: دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی فٹبال لیجینڈ ڈیگومیرا ڈونا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

لاہور کے پنجاب اسٹیڈیم میں نیشنل چیلنج کپ فٹبال کی افتتاحی تقریب میں ڈیگو میراڈونا اور قومی فٹبالرولی محمد کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ ترجمان فٹبال فیڈریشن کے مطابق بیس دسمبر تک ہر میچ سے میرا ڈونا کے ساتھ ساتھ سابق کپتان ولی محمد کی خدمات کے اعتراف کے طور پر چیلنج کپ کے ہر میچ سے پہلے ایک منٹ کی خاموشی ہواکرے گی۔بیس دسمبر تک جاری رہنے والے ایونٹ کے پہلے میچ میں دفاعی چیمپیئن آرمی اور بلوچ فٹبال کلب نوشکی مدمقابل تھے۔

ایونٹس میں مجموعی طور پر اٹھائیس ٹیمیں شریک ہیں اوران کے درمیان اٹھاون میچز کھیلے جائیں گے۔ آرمی کی ٹیم اپنے اعزاز کا دفاع کرے گی۔

The post پاکستان میں بھی فٹبال لیجینڈ ڈیگومیرا ڈونا کوخراج عقیدت پیش appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3qehycT

پاک ترک پروڈکشن کمپنیزکا معائدہ؛ عدنان صدیقی اورہمایوں سعید بھی منصوبے کا حصہ

 کراچی: پاک ترک پروڈکشن کمپنیوں کے درمیان معائدے میں اداکارعدنان صدیقی اورہمایوں سعید کوبھی منصوبے کا حصہ بنایا گیا ہے۔

انسٹاگرام ایپ پرپاکستان کے مایہ نازاداکارعدنان صدیقی نے ایک پوسٹ شیئرکی جس سے معلوم ہوا کہ پاکستان کے انصاری فلمزاور ترکی کے تکدن فلمزپروڈکشن ہاؤسزکے درمیان مشترکہ منصوبے پرکام کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاک ترک پروڈکشن کمپنیوں کے درمیان معائدہ میں اداکارعدنان صدیقی اورہمایوں سعید کو بھی منصوبے کا حصہ بنایا گیا ہے۔

اس متعلق اداکارعدنان صدیقی نے کہا کہ میں نے ہمیشہ اس بات پریقین رکھا ہے کہ آرٹ کو بین الاقوامی اور جغرافیائی سیاسی حدود کے بالا ترہونا چاہیئے، اوراس طرف یہ میرا چھوٹا قدم ہے۔

The post پاک ترک پروڈکشن کمپنیزکا معائدہ؛ عدنان صدیقی اورہمایوں سعید بھی منصوبے کا حصہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3ltHJsR

کورونا کے حامل سرفرازاورمحمد عباس کو دوبارہ اسکواڈ جوائن کرنے کی اجازت

 لاہور: دوہسٹارک کیسزکے حامل ارکان کودوبارہ اسکواڈ جوائن کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ میں موجود قومی اسکواڈ کی تیسری کوویڈ 19 ٹیسٹنگ مکمل ہوگئی۔ دوہسٹارک کیسزکے حامل ارکان کودوبارہ اسکواڈ جوائن کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ کرکٹر محمد عباس اور سرفراز احمد ہیں۔

طبی طور پر ان دونوں ارکان کو نان انفیکشیس قراردیا گیا ہے۔ یہاں لیے گئے پہلے کوویڈ 19 ٹیسٹ میں چھ ارکان کے رزلٹ مثبت آئے تھے۔ ان چھ میں سے دو اراکین کو ہسٹارک کیسزقراردیا گیا تھا۔

نیوزی لینڈ میں موجود قومی کرکٹرز اوراسپورٹ اسٹاف کی ہوٹل سے متصل گراؤنڈ میں چہل قدمی اور ہلکی پھلکی ٹریننگ جاری ہے
پی سی بی پرامید ہے کہ کوویڈ 19 کے آج ہونے والے ٹیسٹ کے نتائج کے بعد قومی اسکواڈ کو گراؤنڈ میں ٹریننگ کی اجازت مل جائے گی۔

The post کورونا کے حامل سرفرازاورمحمد عباس کو دوبارہ اسکواڈ جوائن کرنے کی اجازت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3odY5HP

’کاون‘ ہاتھی خصوصی پرواز کے ذریعے کمبوڈیا بھجوادیا گیا

 اسلام آباد: دنیا کے سب سے تنہا ہاتھی قرار دیئے گئے ’کاون‘ کو خصوصی پرواز کے ذریعے بالآخر کمبوڈیا روانہ کردیا گیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر اسلام آباد چڑیا گھر سے رہائی پانے والے کاون ہاتھی کو روسی ساختہ خصوصی طیارے کے ذریعے پیر کی صبح براستہ نئی دہلی بالآخر کمبوڈیا روانہ کردیا گیا ہے۔ کاون کے ہمراہ 8 ٹیکنیکل اور 2 ڈاکٹرز پر مشتمل غیرملکیوں کی 10 رکنی ٹیم بھی کمبوڈیا گئی ہے۔

کاون کو خصوصی کنٹینر میں اسلام آباد ائیرپورٹ لایا گیا تھا جہاں کرین کی مدد سے اسے جہاز میں لوڈ کیا گیا، کاون کو گزشتہ شب 8 بجے روانہ کیا جانا تھا لیکن بھارت کی جانب سے طیارے کا اجازت نہ ملنے پر کاون ہاتھی کی روانگی میں تاخیر ہوئی۔

’کاون‘ کی کہانی کیا ہے؟

’کاون‘ 1981 میں سری لنکا میں پیدا ہوا۔ 1985 میں سری لنکن حکومت نے اسے پپاکستان کو تحفے میں دیا تھا ۔ تب سے وہ اسلام آباد کے چڑیا گھر میں ہی تھا۔ 1991 میں بنگلا دیش نے پاکستان کو ایک ہتھنی تحفے میں دی جس کا نام ’سہیلی‘ رکھا گیا۔ 2012 میں سہیلی کے مر جانے کے بعد ’کاون‘ دن بدن ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا چلا گیا، ایک وقت ایسا آیا جب وہ اپنا سر ایک سے دوسری جانب ہلاتا رہتا یا دیواروں اور درختوں سے سر ٹکراتا۔

2016 میں سینیٹ کی کمیٹی نے کاون کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا حکم دیا گیا لیکن متعلقہ حکام کی جانب سے پس و پیش کی گئی، معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں گیا جہاں سے آنے والے حکم پر کاون کو بالآخر کمبوڈیا روانہ کردیا گیا جہاں وہ اپنی باقی کی زندگی دوسرے ہاتھیوں کے ساتھ گزارے گا۔

The post ’کاون‘ ہاتھی خصوصی پرواز کے ذریعے کمبوڈیا بھجوادیا گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3llOWL6

’کاون‘ ہاتھی خصوصی پرواز کے ذریعے کمبوڈیا بھجوادیا گیا

 اسلام آباد: دنیا کے سب سے تنہا ہاتھی قرار دیئے گئے ’کاون‘ کو خصوصی پرواز کے ذریعے بالآخر کمبوڈیا روانہ کردیا گیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر اسلام آباد چڑیا گھر سے رہائی پانے والے کاون ہاتھی کو روسی ساختہ خصوصی طیارے کے ذریعے پیر کی صبح براستہ نئی دہلی بالآخر کمبوڈیا روانہ کردیا گیا ہے۔ کاون کے ہمراہ 8 ٹیکنیکل اور 2 ڈاکٹرز پر مشتمل غیرملکیوں کی 10 رکنی ٹیم بھی کمبوڈیا گئی ہے۔

کاون کو خصوصی کنٹینر میں اسلام آباد ائیرپورٹ لایا گیا تھا جہاں کرین کی مدد سے اسے جہاز میں لوڈ کیا گیا، کاون کو گزشتہ شب 8 بجے روانہ کیا جانا تھا لیکن بھارت کی جانب سے طیارے کا اجازت نہ ملنے پر کاون ہاتھی کی روانگی میں تاخیر ہوئی۔

’کاون‘ کی کہانی کیا ہے؟

’کاون‘ 1981 میں سری لنکا میں پیدا ہوا۔ 1985 میں سری لنکن حکومت نے اسے پپاکستان کو تحفے میں دیا تھا ۔ تب سے وہ اسلام آباد کے چڑیا گھر میں ہی تھا۔ 1991 میں بنگلا دیش نے پاکستان کو ایک ہتھنی تحفے میں دی جس کا نام ’سہیلی‘ رکھا گیا۔ 2012 میں سہیلی کے مر جانے کے بعد ’کاون‘ دن بدن ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا چلا گیا، ایک وقت ایسا آیا جب وہ اپنا سر ایک سے دوسری جانب ہلاتا رہتا یا دیواروں اور درختوں سے سر ٹکراتا۔

2016 میں سینیٹ کی کمیٹی نے کاون کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا حکم دیا گیا لیکن متعلقہ حکام کی جانب سے پس و پیش کی گئی، معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں گیا جہاں سے آنے والے حکم پر کاون کو بالآخر کمبوڈیا روانہ کردیا گیا جہاں وہ اپنی باقی کی زندگی دوسرے ہاتھیوں کے ساتھ گزارے گا۔

The post ’کاون‘ ہاتھی خصوصی پرواز کے ذریعے کمبوڈیا بھجوادیا گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3llOWL6

نیوزی لینڈ میں موجود قومی اسکواڈ کی تیسری کوویڈ 19 ٹیسٹنگ مکمل ہوگئی

 لاہور: نیوزی لینڈ میں موجود قومی اسکواڈ کی تیسری کوویڈ 19 ٹیسٹنگ مکمل ہوگئی۔

پی سی بی ترجمان کے مطابق دوہسٹارک کیسز کے حامل ارکان کو دوبارہ اسکواڈ جوائن کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔طبی طور پر ان دونوں ارکان کو نان انفیکشیس قراردیا گیا ہے۔ یہاں لیے گئے پہلے کوویڈ 19 ٹیسٹ میں چھ ارکان کے رزلٹ مثبت آئے تھے
ان چھ میں سے دو اراکین کو ہسٹارک کیسزقراردیا گیا تھا۔

نیوزی لینڈ میں موجود قومی کرکٹرزاوراسپورٹ اسٹاف کی ہوٹل سے متصل گراؤنڈ میں چہل قدمی اورہلکی پھلکی ٹریننگ جاری ہے۔ پی سی بی پرامید ہے کہ کوویڈ 19 کے آج ہونے والے ٹیسٹ کے نتائج کے بعد قومی اسکواڈ کو گراؤنڈ میں ٹریننگ کی اجازت مل جائے گی۔

The post نیوزی لینڈ میں موجود قومی اسکواڈ کی تیسری کوویڈ 19 ٹیسٹنگ مکمل ہوگئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3mkGwVH

کورونا نے مزید 40 جانیں لے لیں، جاں بحق افراد کی تعداد 8025 ہوگئی

 اسلام آباد: کورونا وبا نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 40 افراد کی جانیں لے لیں جس کے بعد ملک میں اس وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 8025 ہوگئی ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں 33 ہزار 302 کورونا ٹیسٹ کئے گئے، جس کے بعد مجموعی کوویڈ 19 ٹیسٹس کی تعداد 55 لاکھ 8 ہزار 810 ہوگئی ہے۔

کورونا کی مریضوں کی تعداد کتنی؟

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید 2 ہزار 839 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے، اس طرح پاکستان میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 3 لاکھ 98 ہزار 24 ہوگئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک سندھ میں ایک لاکھ 73 ہزار 14، پنجاب میں ایک لاکھ 19 ہزار 35، بلوچستان میں 17 ہزار 158، خیبر پختونخوا میں 47 ہزار 190، اسلام آباد میں 30  ہزار 123، آزاد کشمیر میں 6 ہزار 855 اور گلگت بلتستان میں 4 ہزار649 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔

صحتیاب مریضوں کی تعداد

این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید ایک ہزار 613 افراد نے کورونا کو شکست دے دی ہے جس کے بعد اس وبا کے خلاف جاری جنگ جیتنے والے افراد کی تعداد 3 لاکھ 41 ہزار 423 ہوگئی ہے۔

جاں بحق افراد کی تعداد 8000 سے متجاوز

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا سے مزید 40 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جس کے بعد اب اس وبا سے جاں بحق ہونے والے مصدقہ مریضوں کی تعداد 8025 ہوگئی ہے۔

2046 کی حالت تشویشناک

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک بھر میں کورونا کے فعال مریضوں کی تعداد بڑھ کر 48 ہزار 576 ہوگئی ہے، جن میں سے 2 ہزار 46 کی حالت تشویشناک ہے۔

کورونا وائرس اوراحتیاطی تدابیر

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیراختیارکرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازے کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکربیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پرکوئی اثرنہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پا نی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اورہرایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

The post کورونا نے مزید 40 جانیں لے لیں، جاں بحق افراد کی تعداد 8025 ہوگئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3fRBIVE

سلواوورریٹ کی پاداش میں پی سی بی بلاسٹرزپرجرمانہ

 کراچی: قومی ویمنز ٹی 20 کرکٹ چیمپئن شپ میں سلو اوور ریٹ کے سبب پی سی بی بلاسٹرز پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیاگیا۔

چیلنجرزسے میچ میں بلاسٹرزکی ٹیم نے مقررہ وقت میں ایک اوور کم کیا، جرمانہ آن فیلڈ امپائرز عبدالمقیط اور حمیرا فرح نے عائد کیا تھا، ٹیم کیخلاف یہ کارروائی شکوڈ آف کنڈکٹ آرٹیکل 2.22 کے تحت عمل میں لائی گئی۔

بلاسٹرز کی کپتان عالیہ ریاض نے غلطی کو تسلیم کرلیا، اس کے بعد میچ ریفری ثمن ذوالفقار نے جرمانے کا فیصلہ صادر کردیا۔

The post سلواوورریٹ کی پاداش میں پی سی بی بلاسٹرزپرجرمانہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3q6MvQt

کمروں میں بندکرکٹرز ذہنی دباؤ کا شکار

 کراچی:  کمروں میں بند کرکٹرز ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئے، بعض نے ٹیم مینجمنٹ سے شکوہ بھی کردیا۔

انھیں ملک کیلیے ’’برداشت‘‘ کرنے کا جواب مل گیا،پیر کو تیسرے کورونا ٹیسٹ کے بعد ٹریننگ کی اجازت کا فیصلہ ہوگا، ڈبوں میں کھانا وصول کرنے اور صرف چند منٹ کیلیے چہل قدمی کی اجازت پر کھلاڑی سخت نالاں ہیں،  ان کے مطابق وہ ملک کے سفیربن کر نیوزی لینڈ آئے اور ایسے سلوک کی توقع نہ تھی،دوسری جانب پی سی بی کھلاڑیوں کی ذہنی حالت کو بہتر بنانے کیلیے رواں ہفتے ماہر نفسیات کے آن لائن سیشنز کا اہتمام کرے گا۔ دریں اثنا کورونا کا شکار ہونے والے ساتویں کرکٹر ایک نوجوان فاسٹ بولر ہیں۔

انھیں تینوں طرز کی کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے، صحتیاب ہونے پرحالیہ ٹور میں وہ شاہینز کی جانب سے ایکشن میں نظر آئیں گے۔ تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ میں ہوٹل کے کمروں میں بند رہنے سے پاکستانی کرکٹرز ذہنی دباؤ میں مبتلا ہو گئے ہیں،بعض نے اس حوالے سے ٹیم مینجمنٹ سے بات بھی کی ہے،بیشتر کھلاڑی دورۂ انگلینڈ سے ہی بائیو ببل میں رہ رہے ہیں،ٹور سے واپسی پر زمبابوے سے سیریز، ڈومیسٹک کرکٹ اور پی ایس ایل کے دوران بھی مختلف ماحول میں رہنا پڑا، اس دوران گنتی کے چند دن ہی گھر والوں کے ساتھ گذارے، نیوزی لینڈ آنے کے تین دن بعد گروپس کی شکل میں اگلے 11 روز ٹریننگ کی اجازت ملنا طے تھا مگر 6 کرکٹرز کی مثبت کورونا ٹیسٹ نے معاملہ خراب کر دیا، کھلاڑیوں کو نئے سرے سے آئسولیشن شروع کرنا پڑی، دوسری ٹیسٹنگ میں مزید ایک کھلاڑی کو وائرس کی زد میں پایا گیا، اب پیر کو تیسرے ٹیسٹ کے بعد ٹریننگ کی اجازت کا فیصلہ ہوگا۔

کرائسٹ چرچ کی لنکولن یونیورسٹی کے ہوٹل میں پاکستانی کرکٹرز بہت سخت دن گذار رہے ہیں، آغاز میں بغیر ماسک لیے کھانا لینے اور کمرے کے باہر کھڑے ہونے پر انھیں سرزنش کا سامنا کرنا پڑا تھا،وزارت صحت نے فائنل وارننگ دی ہوئی ہے کہ اب اگر ضوابط کی خلاف ورزی کی تو ٹیم کو واپس بھیج دیا جائے گا، بورڈ نے بھی کھلاڑیوں کو حد سے زیادہ محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے، اس صورتحال میں ٹیم بہت زیادہ دباؤ کا شکار ہوگئی، پلیئرز کمروں میں بند رہ کراکتا گئے اور ذہنی دباؤ میں مبتلا ہیں انھیں کھانا بھی اب پلیٹس کے بجائے ڈبوں میں دیا جاتا ہے، چند منٹ کی چہل قدمی کے دوران ہی فاصلہ رکھتے ہوئے ۔

ساتھیوں سے بات چیت کی اجازت ہوتی ہے،کئی کرکٹرز کا کہنا ہے کہ وہ یہاں پاکستانی سفیر بن کر آئے اور ایسے سلوک کی قطعی امید نہ تھی،ہمارے ملک میں غیرملکی ٹیموں کو اسٹیٹ گیسٹ کا درجہ دیا جاتا ہے اور ہم سے یہاں ایسا برتاؤ ہو رہا ہے، ٹیم مینجمنٹ نے ان سے کہا ہے کہ ملک کے لیے  یہ سب کچھ برداشت کر لیں۔

ذرائع نے بتایا کہ کئی کرکٹرز نے حکام سے ذہنی دباؤ کی شکایت کر دی،اس پر پی سی بی نے ماہرنفسیات کے سیشنز رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، انگلینڈ میں اسپیشلسٹ سے بات کی گئی تھی مگر وہاں کا ٹائم نیوزی لینڈ سے13 گھنٹے پیچھے ہے اس لیے مشکل ہونے لگی، اسی طرح مقامی ماہر نفسیات کی خدمات لیں تو لینگوئج کا زیادہ مسئلہ ہو سکتا ہے، البتہ بورڈ کو امید ہے کہ اسی ہفتے آن لائن سیشنز کیلیے کسی ماہرنفسیات سے بات ہو جائے گی،ذرائع نے مزید بتایا کہ نیوزی لینڈ کی جانب سے دورہ ختم کرنے کی دھمکی کا پاکستان نے خاصا بْرا منایا تھالیکن وہاں کے بورڈ نے اپنے ہاتھ کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ  حکومت کے سامنے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے، البتہ اس کے بعد سے سخت زبان  کا استعمال نہیں ہوا۔

اس کے برعکس پاکستانی ٹیم کے رویے کو سراہا ہی گیا ہے، ہفتے کو نیوزی لینڈ کرکٹ نے آئندہ  برس جوابی دورے کا عندیہ دے کر ماحول مزید  بہتر بنانے کی کوشش کی، پی سی بی کو یہ بھی فکر ہے کہ ٹریننگ نہ کرنے سے کہیں سیریز میں ٹیم کی کارکردگی متاثر نہ ہو جائے، اسی لیے نیوزی لینڈ کرکٹ سے جلد اجازت کے حوالے سے بھی رابطہ کیا کیا گیا ہے۔دریں اثنا کورونا کا شکار ہونے والے ساتویں کرکٹر ایک فاسٹ بولر ہیں،وہ دوسرے ٹیسٹ میں مثبت نتیجے کے حامل قرار پائے تھے، ممکنہ طور پر انھیں شاہینز کے کسی کھلاڑی سے ہی وائرس لگا، انھیں تینوں طرز کی کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے، صحتیاب ہونے پرحالیہ ٹور میں وہ شاہینز کی جانب سے ایکشن میں نظر آئیں گے، نمائندہ ’’ایکسپریس‘‘ کو ان کے نام کا علم ہے مگر پرائیوسی برقرار رکھنے کیلیے شائع نہیں کیا جا رہا۔

The post کمروں میں بندکرکٹرز ذہنی دباؤ کا شکار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3o7rQd3

2 پاکستانی کرکٹرزکا نتیجہ ماضی کی وجہ سے مثبت

 کراچی:  نیوزی لینڈ آتے ہی کورونا وائرس کا شکار پائے جانے والے 2 کھلاڑیوں کا نتیجہ ماضی کی وجہ سے مثبت آیا۔

نیوزی لینڈ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ انھیں اب متاثرہ نہیں سمجھا جائے گا،جلد باقی اسکواڈ کو جوائن کرنے کا امکان ہے، سیرولوجی ٹیسٹ سے53 رکنی دستے کے 11 کھلاڑیوں کے وبا کی زد میں پہلے آنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستانی ٹیم کے دورۂ نیوزی لینڈ کا آغاز اچھا نہیں ہوا، قدم رکھتے ہی اسسٹنٹ کوچ شاہد اسلم کو گلے میں خراش کی وجہ سے آئسولیٹ ہونا پڑا، پھر6 پلیئرز کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا، بعد میں مزید ایک کھلاڑی کا اضافہ ہوگیا۔

گذشتہ روز یہ انکشاف ہوا کہ آغاز میں ابتدائی6 پلیئرز میں سے 2 ماضی میں وبا کا شکار رہنے کی وجہ سے مثبت قرار پائے، اس بات کا اعتراف خود نیوزی لینڈ کی وزارت صحت کے حکام نے کیا ہے، ترجمان نے کہا کہ سیرولوجی ٹیسٹنگ کے بعد 6 میں سے 2 کو ماضی کے کیسز سمجھا جائے گا،ان دونوں کو اسپیشل آئسولیشن سے نکال کر نیگیٹو ارکان کے گروپس میں شامل کرنے کا فیصلہ پیر کو ہوگا۔ نیوزی لینڈ کے ہیلتھ آفیشل نے مزید کہاکہ کرائسٹ چرچ میں موجود پاکستانی دستے کے تمام 53 ممبران کا سیرولوجی ٹیسٹ ہوا، اس میں مذکورہ 2 کے علاوہ بھی 11 افراد کے ماضی میں کورونا وائرس کا شکار رہنے کا انکشاف ہوا ہے۔

یاد رہے کہ جولائی میں انگلینڈ روانگی سے قبل جب کھلاڑیوں کے کورونا وائرس ٹیسٹ لیے گئے تو حیدرعلی، حارث رؤف، شاداب خان، کاشف بھٹی، فخر زمان، عمران خان، محمد حفیظ، محمد رضوان، محمد حسنین، وہاب ریاض اور مساجر ملنگ علی کے نتائج مثبت آئے تھے، ان میں سے فخر، کاشف اور عمران خان موجودہ دورۂ نیوزی لینڈ کا حصہ نہیں ہیں۔ کیوی حکام کی جانب سے واضح نہیں کیا گیا کہ ماضی میں اس وائرس کا شکار رہنے والے 11 افراد کون سے ہیں۔

The post 2 پاکستانی کرکٹرزکا نتیجہ ماضی کی وجہ سے مثبت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/36kwVsr

اسٹیون اسمتھ بھارت کیلیے وبال جان بن گئے

سڈنی: اسٹیون اسمتھ بھارت کیلیے وبال جان بن گئے، لگاتار دوسری سنچری سے آسٹریلیا کو دوسرے ون ڈے میں 51 رنز سے فتح دلا دی۔

سیریز میں بھی 0-2 کی ناقابل شکست برتری مل گئی، فاتح سائیڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 4 وکٹ پر 389 رنز بنائے، اسمتھ نے 104 رنز اسکور کیے، ڈیوڈ وارنر، مارنس لبوشین، گلین میکسویل اور ایرون فنچ نے بھی ففٹیز سے فتح میں حصہ ڈالا، جواب میں مہمان ٹیم 9 وکٹ پر 338 رنز تک محدود رہی، ویرات کوہلی کے 89 اور لوکیش راہول کے 76 رنز ناکافی ثابت ہوئے۔

پیٹ کمنز نے 3وکٹیں لیں۔ تفصیلات کے مطابق آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ نے بیٹنگ کیلیے موزوں کنڈیشنز پر پہلے بیٹنگ کے اپنے فیصلے کو درست ثابت کر دیا، انھوں نے ساتھی اوپنر ڈیوڈ وارنر کے ہمراہ 142 رنز کی شراکت بنائی، انھوں نے 60 رنز بنائے،وارنر 83 کے انفرادی اسکور پر رن آؤٹ ہوئے، سابق کپتان اسٹیون اسمتھ نے مسلسل دوسرے میچ میں سنچری مکمل کرتے ہوئے 104 رنز بنائے، مارنس لبوشین نے 70 اور گلین میکسویل نے ناقابل شکست 63 رنز سے ٹیم کا ٹوٹل 4 وکٹ پر 389 تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

جواب میں بھارتی ٹیم نے سیریز میں واپسی کیلیے احتیاط سے اننگز کا آغاز کیا، میانک اگروال (28) اور شیکھر دھون (30) کے درمیان اوپننگ شراکت 58 رنز تک محدود رہی، کپتان ویرات کوہلی اور لوکیش راہول نے ٹیم کو ہدف کی جانب گامزن رکھنے کی بھرپور کوشش کرتے ہوئے بالترتیب 89 اور 76 رنز بنائے مگر ان کی یہ کاوش ناکافی ثابت ہوئی۔

بھارتی سائیڈ مقررہ اوورز میں 9 وکٹ پر 338 رنز تک محدود رہی، پیٹ کمنزنے 3 جبکہ جوش ہیزل ووڈ اور ایڈم زامپا نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

The post اسٹیون اسمتھ بھارت کیلیے وبال جان بن گئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3mmIbtV

ویسٹ انڈین کپتان کیویزسے شکست کے بعد اپنی ٹیم پربھڑک اٹھے

ماؤنٹ مانگونئی: نیوزی لینڈ سے دوسرے ٹی 20 میچ میں شکست کے بعد ویسٹ انڈین کپتان کیرون پولارڈ اپنی ٹیم پر بھڑک اٹھے۔

انھوں نے اسے غیرمعیاری پرفارمنس کا مرتکب قرار دیا۔ پولارڈ نے کہا کہ فیلڈ میں ہماری پرفارمنس اور فٹنس انٹرنیشنل کرکٹ کے معیارکی نہیں تھی، ایسی کارکردگی سے میچز نہیں جیتے جا سکتے۔

The post ویسٹ انڈین کپتان کیویزسے شکست کے بعد اپنی ٹیم پربھڑک اٹھے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2VhPc3q

آسٹریلوی دوست کوبھارتی لڑکے کا پروپوزل قبول، میکسویل بھی خوش

سڈنی:  دوسرے ون ڈے کے دوران سڈنی اسٹیڈیم میں موجود بھارتی لڑکے نے اپنی آسٹریلوی دوست کو شادی کی پیشکش کردی۔

یہ واقعہ اس وقت ہوا جب مہمان ٹیم 390 رنز کے ہدف کا تعاقب کررہی تھی، اسٹیڈیم میں نصب بڑی اسکرین پر لڑکے کو شادی کی پیشکش اور لڑکی کو اسے قبول کرتے ہوئے دکھایا گیا، اس دوران کیمرے نے آسٹریلوی آل راؤنڈر گلین میکسویل کو بھی فوکس کیا جنھوں نے ہنستے ہوئے اسے سراہا۔

لڑکی کے ’ہاں‘ کہنے سے قبل کمنٹری باکس میں موجود سابق آسٹریلوی کرکٹرز شین وارن اور ایڈم گلکرسٹ نے بھی دلچسپ تبصرے کیے۔

The post آسٹریلوی دوست کوبھارتی لڑکے کا پروپوزل قبول، میکسویل بھی خوش appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2JaQ9rX

بارسلونا کوفتح دلانے کے بعد میسی کا میراڈونا کو خراج عقیدت

بارسلونا: اسپینش فٹبال لیگ میں اوساسنا کے خلاف اپنی ٹیم بارسلونا کو 0-4 سے فتح دلانے کے بعد لیونل میسی نے آنجہانی ڈیگو میراڈونا کو خراج عقیدت پیش کیا۔

انھوں نے شرٹ اتاری جس کے نیچے اپنے آبائی کلب نیویل کی 10 نمبر کی شرٹ پہن رکھی تھی، میراڈونا نے 1993 میں مختصر وقت کیلیے اس کلب کی نمائندگی کے دوران 10 نمبر کی جرسی زیب تن کی تھی۔ میسی نے میراڈونا کی طرح ہی ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے مگر ان کا رخ آسمان کی جانب تھا۔

The post بارسلونا کوفتح دلانے کے بعد میسی کا میراڈونا کو خراج عقیدت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3fUWkw3

انٹرنیشنل کرکٹ میں 22 ہزاررنز، کوہلی آٹھویں کرکٹربن گئے

سڈنی: بھارتی کپتان ویرات کوہلی انٹرنیشنل کرکٹ میں 22 ہزار رنز مکمل کرنے والے آٹھویں کرکٹر بن گئے۔

وہ آسٹریلیا سے دوسرے ون ڈے میں 89 رنز کی اننگز کے دوران اس سنگ میل پر پہنچے۔ کوہلی ون ڈے کرکٹ میں 11 ہزار 977 رنز بنا چکے، وہ ٹیسٹ کرکٹ میں 7240 اور ٹی 20 میں 2794 رنز اسکور کرچکے ہیں۔ ان سے قبل سچن ٹنڈولکر (34357)، کمارسنگاکارا (28016)، رکی پونٹنگ (27483)، مہیلا جے وردنے (25957)، جیک کیلس (25534)، راہول ڈریوڈ (24208) اور برائن لارا (22358) یہ سنگ میل عبور کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

The post انٹرنیشنل کرکٹ میں 22 ہزاررنز، کوہلی آٹھویں کرکٹربن گئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/39vng4j

کرپٹ بلدیاتی افسران کو برطرف کرنیکی تیاری

 کراچی:  محکمہ بلدیات سندھ نے اشتہاری بورڈزکے ذریعے حکومتی خزانے کو اربوںکا نقصان پہنچانے والی بڑی اور طاقتور مافیا کے خلاف کارروائی کافیصلہ کرلیا ہے۔

غیر قانونی اسٹیمرز، بینرز، برج پینل،موونگ پبلسٹی اور ہورڈنگز سائٹس کے ذریعے بڑے پیمانے پرلوٹ مار میں مبینہ ملوث بلدیہ شرقی کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ اور کلرک کے خلاف چارج شیٹ جاری کر دی گئی، ذرائع کے مطابق سندھ حکومت محکمہ لوکل گورنمنٹ بورڈ نے بلدیاتی اداروں میںکرپشن اور لوٹ مار کا بازار گرم کرنے والی کرپٹ مافیا کے خلا ف شکنجہ سخت کرتے ہوئے بدعنوانیوں میں ملوث افسران کو ملازمتوں سے برطرف کرنے کی تیاری کرلی ہے اور اس سلسلے میں کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی کے لیے سفارشات تیارکی جارہی ہیں۔

سندھ حکومت محکمہ لوکل گورنمنٹ بورڈ نے بلدیہ شرقی میں اشتہاری سائٹس، اسٹیمرز، بینرز، برج پینل،مونگ پبلسٹی ودیگر مواد کے ذریعے حکومتی خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچانے میں مبینہ ملوث بلدیہ شرقی کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈورٹائزمنٹ وقاص سومرو،اسسٹنٹ فضل عباس اور کلرک اخلاق احمد کے خلاف تحقیقات کے بعد چارج شیٹ جاری کر دی ہے۔

کرپشن اور بدعنوانی کی تحقیقات کے بعد ملازمین کی نوکریوں سے برطرفی سمیت دیگر سزائیں دینے کے لیے سفارشات اعلیٰ حکام کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، واضح رہے کہ گزشتہ دنوں مذکورہ تینوں ملازمین سمیت میونسپل کمشنر وسیم سومرو اور ڈائریکٹر ایڈورٹائزمنٹ جاوید کلہوڑ کو سندھ حکومت نے مبینہ کرپشن اور بدعنوانی کے سنگین الزامات پر معطل کر دیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ افسران کی معطلی کے بعد کی جانے والی تحقیقات میں لوکل گورنمنٹ بورڈ کو مذکورہ افسران کے خلاف مزید کرپشن کے اہم ثبوت ملے ہیں جس کے بعد اسٹیمر بینرز کنگ فضل عباس، وقاص سومرو اور اخلاق احمدکے خلاف لوکل گورنمنٹ بورڈ نے چارج شیٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ افسران نے غیر قانونی اسٹیمرز کے ذریعے یومیہ بنیاد پر حکومتی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا،غیر قانونی برج پینل کے ذریعے لاکھوں روپے کی وصولی کی گئی، پورے بلدیہ شرقی میں عدالتی احکام کے خلاف آئرن اسٹرکچر کی ہورڈنگز سائٹس لگائی گئیں جبکہ پیسٹنگ سائٹس کے لیے بھاری نذرانے وصول کیے گئے۔

ڈی ایم سی ایسٹ کے افسران و ملازمین کی دونوں ہاتھوں سے کی جانے والی مبینہ لوٹ مار پرسندھ حکومت نے مذکورہ افسران کے خلاف بڑی کارروائی کا فیصلہ کر لیاہے اور اس سلسلے میںبلدیاتی اداروں کو کرپٹ افسران وملازمین سے نجات دلانے کے لیے ان کی ملازمتوں سے برطرفی کی سفارشات تیارکی جا رہی ہیں، موجودہ صورتحال پربلدیاتی اداروں میں تعینات کرپٹ مافیا میں زبردست کھلبلی مچ گئی ہے جبکہ غیر سیاسی اور ایماندار افسران نے لوکل گورنمنٹ بورڈ کی کارروائیوں کو احسن اقدام قرار دیا ہے۔

The post کرپٹ بلدیاتی افسران کو برطرف کرنیکی تیاری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3qbPhUm

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...