Urdu news

Sunday, 31 October 2021

نیوزی لینڈ سے میچ میں بہادری کا مظاہرہ نہیں کرپائے، کوہلی کا اعتراف

 دبئی:  بھارتی کپتان ویراٹ کوہلی نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی ٹیم نیوزی لینڈ کے خلاف بیٹ اور گیند کے ساتھ بہادری کا مظاہرہ نہیں کرپائی۔

میچ کے بعد پریس کانفرنس کے دوران ویرات کوہلی کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس دفاع کے لیے زیادہ کچھ نہیں تھا، بیٹنگ کے بعد ہم بولنگ میں بھی زیادہ بہادری کا مظاہر نہیں کرپائے، بھارتی ٹیم سے سب کو توقعات بہت ہوتی ہیں، لہذا ہمارے کھیل میں ہمیشہ دباؤ رہتا ہے، ہم نے کئی برس اس کا عمدگی سے سامنا بھی کیا ہے، جو بھی ملک کے لیے کھیلتا ہے اس کیلیے اسے تیار رہنا ہوگا۔

کوہلی کا کہنا تھا کہ بطور ٹیم کسی بھی مسئلے پر قابو پایا جاسکتاہے، کیویز کے خلاف ہم سے یہ سب کچھ نہیں ہوسکا، توقعات کا مطلب یہ نہیں کہ آپ مختلف انداز سے کھیلنا شروع کردیں، مجھے لگتا ہے ہماری سمت درست ہے، ابھی بہت کرکٹ کھیلنی باقی ہے۔

The post نیوزی لینڈ سے میچ میں بہادری کا مظاہرہ نہیں کرپائے، کوہلی کا اعتراف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3mv7BYL

عمران نذیر کو پاکستان سے ٹرافی لانے کی امید

 لاہور:  سابق ٹیسٹ کرکٹر عمران نذیر نے پاکستانی ٹیم سے ورلڈکپ ٹرافی جیتنے کی امید لگالی، آصف علی کی صورت میں پاکستان کو میچ فنشر مل گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مدت بعد پاکستانی ٹیم کو اس کے اصل روپ میں دیکھا، تینوں شعبوں میں مثالی کارکردگی دکھانے کا مزہ آرہاہے۔ پاکستان کی سب سے  بڑی کرکٹ ویب سائٹ کرکٹ پاکستان ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے،  کو انٹرویو میں ماضی کے جارج مزاج اوپنر نے کہا کہ پاکستانی ٹیم نے بھارت، نیوزی لینڈ اور افغانستان کو آؤٹ کلاس کرکے برتری ثابت کردی اور اگر باقی میچز میں کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہے تو مجھے یقین ہے کہ اس بار پاکستان ورلڈ چیمپئن ہوگا۔

عمران نذیر سے جب محمدآصف کی دھواں دھار اننگز کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہاکہ آصف کی اننگز لاجواب تھی،ان میں ہر بال کو باؤنڈری لائن کے پار پہنچانے کی اہلیت ہے اور افغانستان کے خلاف میچ میں انھوں نے یہ ثابت بھی کیا، اس سے پہلے نیوزی لینڈ  کے خلاف بھی آصف نے عمدہ پرفارمنس دی، ان دونوں میچز میں اس کی پرفارمنس دیکھ کر بلاشبہ یہ کہاجاسکتا ہے کہ پاکستان کو اب حقیقی میچ فنشر مل گیا ہے،اگر وہ لمبی ہٹنگ کے ساتھ میچ کی ڈیمانڈ کے مطابق سنگل رنز بنانے کی اہلیت کو مزید بہتر کرلے تو پھر وہ کسی بھی ٹیم کے لیے زیادہ خطرناک بیٹر ہوسکتاہے۔

ورلڈکپ کے شروع ہونے سے پہلے وہ اچھی فارم میں نہیں تھا لیکن اس نے محنت کی اور اب اس کواس کا پھل مل رہاہے۔ دائیں ہاتھ کے اوپنر کے مطابق میچ میں اصل چیلنج ایسی اننگز کھیلنی ہی ہے جس سے ٹیم کو فائدہ ہو، پوزیشن  اہم نہیں ہوتی کہ آپ کسی نمبرپر کھیل رہے ہیں۔

عمران نذیر نے شائقین کومشورہ دیا کہ وہ آصف پر توقعات کا بوجھ کم رکھیں، ایک دو میچ کی پرفارمنس سے کوئی ہیرو بنتاہے اور نہ ہی اسے زیرو بنانا چاہیے، آصف کو بھی اس بات کا بخوبی اندازہ ہوگاکہ اب لوگ ہرمیچ میں اس سے بہتر سے بہتر پرفارمنس چاہتے ہیں، لوگوں کی توقعات پر پورااترنے کے لییآصف کو پہلے سے زیادہ محنت کرنا پڑے گی۔

عمران نذیر کے خیال میں بابر اعظم اور رضوان نے بڑی محنت کے ساتھ مقام بنایاہے، بیٹنگ میں وہ مرکز نگاہ ہوتے ہیں، شاٹ سلیکشن میں انھیں خاصا محتاط ہونا پڑے گا۔ عمران نذیر نے شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف کی پرفارمنس کو بھی سراہا تاہم ان کا موقف تھا کہ حسن علی ابھی اس ردھم میں دکھائی نہیں دیے جس کے لیے وہ مشہور ہیں۔

ابھی ان کے پاس دو میچز ہیں، سیمی فائنل  سے پہلے اگر وہ فارم حاصل کرلیتے ہیں تو سونے پر سہاگہ والی بات ہوجائے گی، عمران نذیر نے فائنل میں پاکستان کے ساتھ بھارت کو دیکھنے کی خواہش کی، ان کا یقین تھا کہ فائنل میں بھارت مدمقابل ہو تو مزہ آجائے گا لیکن کوئی دوسری ٹیم بھی پہنچی تو جیت پاکستان کی ہی ہوگی۔

The post عمران نذیر کو پاکستان سے ٹرافی لانے کی امید appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3nNYrpM

سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ نیشنل پارٹی کے بلامقابلہ صدر منتخب

 کوئٹہ: سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ نیشنل پارٹی کے بلامقابلہ صدر منتخب ہوگئے ہیں۔  

کوئٹہ میں نیشنل پارٹی کی چھٹی قومی کانگریس اور میر حاصل خان بزنجوکی یاد میں کنونشن تیسرے روز بھی جاری رہا۔ کنونشن میں پارٹی کارکنان، سینئر رہنمائوں ، مرکزی، صوبائی اور ضلعی کونسلروں نے شرکت کی، اس دوران انٹرا پارٹی الیکشن میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نیشنل پارٹی کے بلامقابلہ صدر اور جان محمد بلیدی جنرل سیکرٹری منتخب ہوگئے ۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے ڈاکٹر عبد المالک بلوچ کوصدر اور میر جان محمد بلیدی کو جنرل سیکرٹری منتخب ہونے پر مبارکباد دی ۔

The post سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ نیشنل پارٹی کے بلامقابلہ صدر منتخب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3q9y7th

سیاسی عدم استحکام سے اقتصادی غیریقینی میں اضافہ

 لاہور:  اکتوبر کے دوران سیاسی عدم استحکام میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب اقتصادی محاز پر آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کی بھی رپورٹنگ ہوتی رہی ہے۔ حکومت آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کے لیے پیشگی اقدامات بھی کرتی رہی ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام معطل ہونے کے بعد حکومت  نے پیٹرول اور یوٹیلٹی کے نرخوں میں اضافہ بھی کیا۔ اس کا حکومت نے یہ جواز پیش کیا کہ پاکستان کی نسبت دیگر ممالک میں نرخ بلند ہیں۔

کووڈ کے دوران جب تجارتی سرگرمیاں نسبتاً سست تھیں  تو روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مستحکم رہیں۔ تاہم 2021کے آغاز سے روپے کی قدر میں نشیب و فراز کا سلسلہ شروع ہوا، اور پھر مختلف وجوہات کی بنا پر ڈالر کی مانگ میں اضافے کے ساتھ روپے کی قدر گرتی چلی گئی۔  کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ برآمدات کے فروغ کے نقطۂ نظر سے کرنسی کی لچکدار شرح مبادلہ ضروری ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا وزارت خزانہ سے آزاد ہونا ضروری ہے۔  لچکدار شرح مبادلہ کے مثبت نتائج آنے میں وقت درکار ہوگا۔ روپے کا اوور ویلیو ہونا  درآمدات کو ارزاں اور برآمدات کو مہنگا کردیتا ہے جس  کی وجہ سے تجارتی خسارے میں بھی نمایاں اضافہ ہوجاتا  ہے۔

اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ  روپے کی قدر میں گراوٹ کے باوجود برآمدات کے مقابلے میں درآمدات نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہیں۔ روپے کی قدر میں کمی بیشی نے  صنعتی سرمایہ داروں کو  مشکلات سے دوچار کردیا ہے کیوں کہ وہ غیریقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ مختصراً  یہ کہ  سیاسی  عدم استحکام اقتصادی غیریقینی میں اضافہ کررہا ہے۔ برآمدات  بڑھانے کے لیے ملک میں برآمداتی مصنوعات سرپلس ہونی چاہییں۔ سوال یہ ہے کہ  روپے کی قدر میں گراوٹ کب برآمدات میں اضافے کا باعث بنے گی۔

The post سیاسی عدم استحکام سے اقتصادی غیریقینی میں اضافہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3buhJuG

بلوچستان میں سیاسی تبدیلی

سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عوامی پارٹی  کے جام کمال کے مستعفی ہونے کے بعد عبدالقدوس بزنجو بلوچستان کے بلامقابلہ نئے وزیر اعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پچھلے ایک ماہ میں جو بلوچستان میں جام کمال کے خلاف سیاسی کچھڑی پک رہی تھی جو ان ہی کی اپنی سیاسی جماعت کی پیدا کردہ تھی وہ نئے وزیر اعلیٰ کے بعد ختم ہوگئی ہے۔

کیونکہ سابق وزیر اعلیٰ جام کمال کے بقول وہ اپنے تمام تر اختلافات کو بھول کر نئی حکومت کی حمایت کریں گے ۔اگر واقعی ایسا ہوتا ہے اور جا م کمال سمیت ان کے حامی افراد نئی حکومت کی حمایت کرتے ہیں تو اس سے اختلافات کا خاتمہ ممکن ہوگا۔ کیونکہ جام کمال نے بطور وزیر اعلیٰ اپنے خلاف اپنی ہی جماعت اور کچھ اتحادی جماعتوں کی سیاسی سازشوں پر بات کی تھی جو ان کے مستعفی ہونے کا سبب بھی بنی ہیں ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جام کمال کے خلاف نئے وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کو نہ صرف اپنی ہی جماعت میں ایک بڑی حمایت حاصل تھی بلکہ ان کو حزب اختلاف کی جماعتوں کی بھی مکمل حمایت حاصل تھی ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آخر میں جام کمال نے اپنے مخالفین کی طرف سے تحریک عدم اعتماد کا سامنے کرنے کے بجائے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ۔ کیونکہ ان کو جب یقین ہوگیا کہ وہ اپنی اکثریت کھوچکے ہیں تو ان کے پاس مستعفی ہونے کے سوا کوئی سیاسی آپشن موجود نہیں تھا ۔

حالانکہ پہلے جام کمال نے ڈٹ کا تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ کرنیکا فیصلہ کیا تھااور اسی تناظر میں ان کی اسلام آباد سیاسی یاترا بھی ہوئی تھی ۔ ان کا خیال تھا کہ وہ وفاقی حکومت اوراپنے مصالحتی مشن اسلام آباد کی مدد سے حکومت بچانے میں کامیاب ہوجائیں گے ، مگر ایسا نہیں ہوسکا اور ان کو اپنے سیاسی مخالفین کے مقابلے میں سیاسی پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔

بلوچستان میں سیاسی تبدیلی کا یہ کھیل کوئی نیا نہیں بلکہ ہمیشہ سے مختلف سیاسی اور غیر سیاسی ادوار میں ہم یہ دیکھتے رہے ہیں کہ مختلف نوعیت کی سیاسی تبدیلیوں یا سازشوں کو بنیاد بنا کر بلوچستان میں سیاسی استحکام کے نام پر سیاسی بحران پیدا کیا گیا ۔ کوئی بھی وزیر اعلیٰ منتخب ہوتا ہے تو اسے اول تو کام نہیں کرنے دیا جاتا یا دوئم اس کے خلاف حکومت میں شامل افراد ہی مختلف سیاسی یا اسٹیبلیشمنٹ کی پشت پناہی کی بنیاد پر سازشوں سے حکومت کو گھر بھیجنے کا کھیل شروع کردیتے ہیں۔

جام کمال کو بھی حکومت سنبھالتے ہی اسی طرز کے بحران کا سامنا تھا اور اب یہ بحران ان کی حکومت کے خاتمہ کی صورت میں سامنے آیاہے ۔بلوچستان میں بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں کی حیثیت ہمیشہ سے کمزور رہی ہے اور وہاں سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں سرداری نظام زیادہ مضبوط رہا ہے۔ اس لیے اسلام آباد میں بیٹھی سیاسی قیادت یا بڑی جماعتوں کی بھی اہمیت سیاسی جماعتیں کم اور سرداری سیاست کی اہمیت زیادہ رہتی ہے ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نئے وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کی کامیابی میں ایک فیکٹر ان کی اپنی جماعت کے ساتھیوں کی معاونت تھی تو ان کو حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کی حمایت بھی حاصل تھی اور وہ ان کی حمایت سے ہی وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ہمارے سیاسی کھیل میں بلوچستان کی حزب اختلاف اپنی اس سیاسی حمایت کی کیا قیمت نئے وزیر اعلیٰ یا بلوچستان حکومت سے وصول کرتی ہے۔

اگرچہ یہ امکان کم ہے کہ ان کو کابینہ میں شامل کیا جائے لیکن اس بات کی ان کو مکمل ضمانت دی جائے گی کہ بلوچستان حکومت اور وزیر اعلیٰ ان کے تمام سیاسی مفادات جن میں ترقیاتی فنڈز، نوکریوں یا تبادلوں میں مدد اور ان کے حلقوں میں اہم تقرری میں ان کی مرضی کو شامل کیا جائے گا ۔

یہ بات بھی واضح تھی کہ جام کمال کے دور میں حزب اختلاف سمجھتی تھی کہ ان کو دیوار سے لگایا گیا ہے اور ہمیں جام کمال وہ اہمیت نہیں دیتے جو ہمیں ملنی چاہیے تھی ۔ نئے وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کے لیے حزب اختلاف کے سیاسی نخرے اٹھانا بھی ایک بڑا چیلنج ہوگا اور اگروہ ان کے تمام مطالبات پورے نہیں کریں گے تو ان کی کمزور حکومت کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اب سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ عبدالقدوس بزنجو کے وزیر اعلیٰ بننے کے سیاسی کھیل میں کون ان کی سیاسی سرپرستی کررہا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ کچھ لوگ جام کمال کو مستقبل کی سیاست اور بالخصوص بلوچستان عوامی پارٹی کے تناظر میں خطرہ سمجھتے تھے ۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اگرچہ ایسا لگتا تھا کہ وہ جام کمال کے ساتھ تھے ، لیکن پس پردہ حقایق بتاتے ہیں کہ اس کھیل میں صادق سنجرانی کا کردار نمایاں تھا اور کہا جاتا ہے کہ وہ اگلے انتخابات میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کے طور پر بھی سامنے آنا چاہتے ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جام کمال جیسی مضبوط سیاسی شخصیت کوتبدیل کرنا سیاسی ضرورت بنتا تھا ۔

اس وقت بلوچستان کی ضرورت بڑے کرداروں کے لیے ایک کمزور وزیراعلیٰ کی تھی اور نئے وزیر اعلیٰ کی عملی کمانڈ ان کے مقابلے میں کسی اور کے ہاتھوں میں ہی ہوگی۔ اس لیے جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیںکہ بلوچستان کا بحران ٹل گیا ہے وہ درست نہیں اور کچھ عرصہ کے بعد ہمیں بلوچستان ہی کے تناظر میں نئے بحران بھی دیکھنے کو ملیں گے۔ ویسے دلچسپ بات یہ ہے کہ حزب اختلاف جو ہمیشہ سے بلوچستان عوامی پارٹی کو اسٹیبلیشمنٹ کی بنائی ہوئی بی ٹیم کے طور پر پیش کرتی رہی ہیں اور بالخصوص مولانا فضل الرحمن تو باپ پارٹی کے خلاف سخت گیررویہ رکھتے تھے لیکن اس نئی تبدیلی کے کھیل میں فضل الرحمن کی جماعت سمیت پی ڈی ایم نے وہی کھیل کھیلا ہے جو ہمیشہ سے پاکستان کی مفاداتی سیاست کے کھیل کا حصہ ہے ۔

جام کمال بھی خوب جانتے ہیں کہ ان کو اقتدار کی سیاست سے کیسے الگ کیا گیا ہے اور اس کے پیچھے کون لوگ ہیں جو کوئٹہ اور اسلام آباد کے درمیان سیاسی کھیل کھیلنے کے ماہر ہیں۔ اگرچہ وقتی طور پر انھوں نے سیاسی خاموشی اختیار کرلی ہے اور اس کی وجہ یہ ہی ہے کہ وہ موجودہ نئی سیاسی تبدیلی کو قبول کرکے پارٹی معاملات پر اپنی گرفت قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔ کیونکہ وہ بھی جانتے ہیں ۔

ان کی تبدیلی کو بنیاد بنا کر جو کھیل کوئٹہ میں مستقبل کی سیاست کے تناظر میں بنایاجارہا ہے وہ اس میں خود کو سیاسی طور پر تنہا لڑنے کے بجائے سیاسی میدان اور بالخصوص اپنی جماعت میں رہ کر یہ لڑائی لڑنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ان کا مسئلہ اب بلوچستان میں بننے والی نئی حکومت نہیں ہوگی بلکہ وہ اپنے سیاسی کارڈ 2023کے انتخابات کے تناظر میں کھیلنے کی کوشش کریں گے تاکہ وہ سیاسی طور پر اپنی اہمیت کو برقرار رکھ سکیں ۔

بلوچستان کا مسئلہ ایک مضبوط سیاسی حکومت ہے کیونکہ جو مسائل بلوچستان اور وہاں کی عوام کو درپیش ہیں ان کا حل بھی ایک مضبوط سیاسی اور جمہوری نظام سے وابستہ ہے۔ بلوچستان میں سیاسی کٹھ پتلیوں کا کھیل وہاں کے عوام کوکوئی بڑا سیاسی اور معاشی فائدہ نہیں دے سکے گا ۔

یہ جو بلوچستان میں محرومی کی سیاست ہے اس کا علاج مصنوعی سیاسی تبدیلیوں کا کھیل نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے بڑے لوگوں کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ وہ بلوچستان کا مستقل علاج سیاسی اور جمہوری فریم ورک میں رہ کر ہی تلاش کریں ۔بظاہر بلوچستان کا بحران ٹل گیا ہے لیکن یہ عمل عارضی ہے اور مستقل وہاں بحران کی مختلف شکلیں عدم استحکام کی سیاست کو پیدا کرتے رہیں گی۔کیونکہ ڈرائنگ روم کی طرزپر ہونے والی سیاست کے تانے بانے بھی مصنوعی ہوتے ہیں اور اس کھیل کا بڑا دار مدار پس پردہ سازشوں اور جوڑ توڑ کی سیاست کے علاوہ بڑی یا طاقت ور کے کھیل کا حصہ ہوتی ہے۔

اب دیکھنا ہوگا کہ بلوچستان کا بحران کس کروٹ بیٹھتا ہے او رکون کس کی پراکسی وار کھیل کر کھیل میں اپنے لیے نیا سیاسی حصہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ کیونکہ بندوبست کی سیاست ہمیشہ قومی سیاست کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتی ہے اوراس سے قومی سیاست کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتا ہے ۔

The post بلوچستان میں سیاسی تبدیلی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Y3vCNf

وفاقی حکومت نے ایک اور نیب ترمیمی آرڈیننس جاری کردیا

 اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ایک اور نیب ترمیمی آرڈیننس جاری کردیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق  صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے نیب کے تیسرے ترمیمی آرڈیننس 2021 کی منظوری کے بعد نیا آرڈیننس جاری کردیا گیا ہے۔ نئے نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت دائر ریفرنس نیب کے دائرہ اختیار میں رہیں گے اور اس حوالے سے دائر ریفرنسز پر احتساب عدالتیں ہی سماعت کریں گی۔ زر ضمانت کے تعین کا اختیار احتساب عدالتوں کو ہوگا۔

نئے نیب ترمیمی آرڈیننس کے مطابق چیئرمین نیب کو عہدے سے ہٹانے کا اختیار صدر مملکت کے پاس ہوگا ، چیئرمین نیب کو ہٹانے کیلئے وہی طریقہ اپنایا جائے گا جو ججز کی برطرفی کے لئے ہے۔

نیب ترمیمی آرڈیننس کا اطلاق 6 اکتوبر سے ہو گا منی لانڈرنگ سے متعلق 6 اکتوبر سے پہلے شروع کیسز سابقہ آرڈیننس کے تحت جاری رہ سکیں گے۔

The post وفاقی حکومت نے ایک اور نیب ترمیمی آرڈیننس جاری کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2ZH9U2C

ہواؤں کا رخ بدل گیا پی ٹی آئی کے بہت لوگ پیپلز پارٹی میں آئیں گے، مراد علی شاہ

 اسلام آباد: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہواؤں کا رخ بدل گیا ہے اب جب بھی انتخابات ہوئے تو تحریک انصاف ضمانتیں ضبط کروائے گی۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ 2018 میں تحریک انصاف جس طرح جیتی ہے وہ بھی سب کو معلوم ہے، جب بھی انتخابات ہوئے تو تحریک انصاف ضمانتیں ضبط کروائے گی۔ ہواؤں کارخ بدل گیا ہے، تحریک انصاف کے بہت سے لوگ پیپلز پارٹی میں آئیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کہتی ہے کہ کراچی کی سب سے بڑی جماعت بن چکی ہے لیکن کراچی والوں سے تو کچھ پوچھیں، ہر بات کی ذمہ داری ہم پرڈال دی جاتی ہے تو پھر وفاق بھی ہمارےحوالے کردیں، انشاللہ ملک کے لوگ جلد پوری ذمہ داری پیپلز پارٹی کو دیں گے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ کالعدم ٹی ایل پی کے معاملے پر حکومت کی نااہلی کے باعث قیمتی جانوں کو نقصان پہنچا، حکومت خود ایسے کام کرتی ہے کہ نہ اگل سکتی ہے اور نہ نگل سکتی ہے، حکومت مشکل میں آتی ہے تو دوسروں کو مدد کے لیے پکارتی ہے، یہ لوگ معاملات خراب کرکے مبارکباد وصول کرنا چاہتے ہیں، گزشتہ دنوں جو کچھ ہوا معاملہ بہتر اندازمیں حل ہوسکتا تھا۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی کارکردگی کے حوالے سے مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستانی ٹیم بہت اچھا کھیل رہی ہے ،ان کی کارکردگی قابل تعریف ہے، پاکستان ٹیم کو بہتر کھیلنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔امید ہے پاکستان ٹی ٹونٹی ورلڈکپ جیتے گا۔ سنا ہے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ان کی وجہ سے پاکستان اچھا کھیل کھیل رہی، میں نے پہلے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ میں کام کرنا زیادہ بہتر ہے۔

The post ہواؤں کا رخ بدل گیا پی ٹی آئی کے بہت لوگ پیپلز پارٹی میں آئیں گے، مراد علی شاہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3pVT6zh

رنگ لاوے گی ہماری قرضہ مستی ایک دن

قرض لینا کبھی ہماری مجبوری ہوا کرتی تھی لیکن اب ایک عادت اور خصلت بن چکی ہے۔ کوئی بھی حکومت ہو برسر اقتدار آنے کے بعد اس کا پہلا بیانیہ یہی ہوا کرتا ہے کہ پچھلی حکومت سارا خزانہ خالی چھوڑ گئی ہے اور ہمارے لیے قرض مانگنے کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔

موجودہ حکومت نے تو اس معاملے میں پچھلے سارے ریکارڈ توڑ دیے، حکمران جماعت قرض کو زبانی و کلامی طور پر جتنا برا سمجھا کرتی تھی عملی طور پر ایسا نہیں ہوا۔ شروع شروع میں تو قوم نے سمجھا کہ واقعی بہت مجبوری ہوگی اور حکمران جو قرض کو انتہائی برا اور ناگوار سمجھا کرتے تھے بلکہ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ وہ کسی سے قرض نہیں مانگیں گے ،کبھی اپنا عہد نہ توڑتے ۔

2018 کے انتخابات کے بعد جب ہماری یہ حکومت برسر اقتدار آئی تو خزانے کے خالی ہونے کا گلہ سابقہ حکومتوں کی طرح اس نے بھی شروع کردیا ، حالانکہ الیکشن سے پہلے ایک عبوری حکومت بھی قائم کی گئی تھی لیکن اس حکومت نے کبھی ایسا تاثر ظاہر نہیں کیا کہ ایک دن کا بھی گذارا ناممکن ہے۔

وہ جب انتخابات کروا کے واپس گئی تو اُس وقت بھی قومی خزانے میں 18ارب ڈالرز سے زائد فارن ایکسچینج موجود تھا۔ جولائی 2018 میں ملک پر غیر ملکی قرضوں کا انبار تقریباً 25 یا 26 ارب ڈالرکے قریب تھا۔ حکومت نے کہا کہ ملک قرضوں میں ڈوب چکا ہے اور ہمیں قرض کی رقم بمع سود ادا کرنے کے لیے طوعاً و کرہاً دوست ممالک سے امداد مانگنی پڑے گی۔

حکمران قیادت نے ہمت کرکے قرض لینے کا فریضہ نبھایا اور سعودی عرب اور یو اے ای سے امداد لی۔ عوام کو یہ نوید سنائی گئی کہ الحمد للہ ہم قرض حاصل کرنے کے ایک بہت بڑے مشن میں کامیاب و سرخرو ہوئے ہیں ، مگر یہ سلسلہ یہیں پر نہیں رک گیا بلکہ ہم چائنا کے ساتھ ساتھ IMF سے بھی قرض لینے کے طریقے ڈھونڈنے لگے۔

اس مقصد کے لیے وزیر خزانہ اسد عمر کی بھی قربانی دینا پڑی اور باہر سے امپورٹ کرکے حفیظ شیخ کو اس اہم عہدے پر براجمان کروانا پڑا۔ ساتھ ہی ساتھ اسٹیٹ بینک کے گورنر کے عہدے کے لیے بھی IMF کے ایک نمایندے کو بھی نامزد کرنا پڑا۔ وہ دن ہے اور آج کا دن ہمیں ابھی تک معاشی طور پر سکھ چین کا ایک سانس بھی نصیب نہیں ہوا۔ ہر تھوڑے دنوں بعدIMF کے معاہدے کے مطابق قرض کی قسط حاصل کرنے کے لیے گفت و شنید کرنا پڑتی ہے اور جواب میں عوام پر بے تحاشہ مہنگائی کے بم بھی گرانے پڑتے ہیں۔ پچھلے قرض اتارنے کے لیے نئے قرض لینا پڑتے ہیں اور اُن کے بارے میں عوام کو بتانے سے بھی گریز کرنا پڑتا ہے۔

اپنے روپے کو مزید بے توقیر اور بے عزت بھی کرنا پڑتا ہے اور گھر کی چیزیں بھی گروی رکھنا پڑتی ہیں ، وہ موٹر ویز جو بنتے وقت تحریک انصاف کی قیادت کی زبردست تنقید کا شکار رہی آج گروی رکھ کر قرض حاصل کرنے کا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔ گھر کے مالی معاملات ہیں کہ سدھر ہی نہیں پا رہے۔ پی آئی اے اور اسٹیل ملز ایسے سفید ہاتھی ہیں جو منافع تو درکنا مسلسل خسارے کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

ہر چند ماہ بعد انھیں بیچنے کی باتیں تو ضرورکی جاتی ہیں لیکن کوئی خریدار نہ ملنے کی صورت میں جوں کا توں رکھنے پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے ، یہ حلق کا وہ کانٹا ہے جو نہ نکالا جاتا ہے اورنہ نگلاجاتا ہے۔

وزیراعظم صاحب ابھی چند روز پہلے سعودی عرب کے دورے پر تشریف لے گئے اور واپسی پر پھر ایک نیا پیکیج لے آئے۔ کہا گیا کہ ریاض میں وہ انویسٹمنٹ فورم کے اجلاس میں شرکت کرنے جارہے ہیں لیکن اجلاس سے پہلے ہی وہ چار ارب ڈالرز کی امداد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ، وہ ملک جو ابھی چند ماہ پہلے ہم سے اپنے پرانے قرض کے پیسوں کی واپسی کا تقاضا کررہا تھا، یہ اچانک پھر کیسے تین چار ارب ڈالر دینے پر راضی ہوگیا۔

وزیراعظم جانے سے پہلے قوم کو باور کروا رہے تھے کہ ملک ترقی کی راہ پر چل پڑا ہے اور مشکل وقت گذر چکا ہے ، پھر یہ امداد اور قرض لینے کی وجہ کیا ہے۔ کیا قرض لینا ہماری عادت بن چکی ہے ، یعنی جب اس کی ضرورت بھی نہ ہو لیکن ہمیں ہرچند ماہ بعد ہر کسی سے قرض لینا ضروری ہے۔ کہنے کو ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر 24 ارب ڈالرز کے لگ بھگ ہیں مگر ہم پھر بھی قرض لے رہے ہیں۔

ایسا لگتا ہے ہم جب بھی کسی غیر ملکی دورے پر جاتے ہیں تو ہماری پہلی ترجیح یہی ہوتی ہے کہ کس طرح اس ملک سے بھی کچھ پیسے ادھار یا مستعار کر لیے جائیں۔ تین سال سے زائد کاعرصہ بیت چکا ہے ہم قوم کو یہ خوش خبری سنا نہیں سکے ہیں کہ ہم نے اب قرض لینے کو خیر باد کہہ دیا ہے۔

قوم اب امداد اور قرضوں کے بغیر ترقی و خوشحالی کی منازل طے کریگی۔ ایک اندازے کے مطابق 2018 میں جو غیر ملکی قرضہ 26 ارب ڈالرز کے لگ بھگ تھا اب بڑھ کر صرف ان تین سالوں میں 46ارب ڈالرز تک پہنچ چکا ہے اور ہماری حالت مرزا غالب کے اس شعر کی مانند ہوچکی ہے۔

قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

The post رنگ لاوے گی ہماری قرضہ مستی ایک دن appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3pScHAD

کراچی جو ایک شہر تھا

ہمارے درمیان ایک شخص ایسا ہے جسے دیکھ کر خوشی ہوتی ہے، حیرت ہوتی ہے اور رشک بھی آتا ہے۔ ماں باپ نے اس سے امیدیں وابستہ کیں،محنت مزدوری کر جو تھوڑا بہت جمع کر پائے، اس کی تعلیم پر لگا دیا، بچہ ہونہار نکلا، ذہن کا تیز تھا، اس پر مستزاد محنتی اور وہ بھی اتنا محنتی کہ چشمہ لگانا پڑ گیا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ ایک روز انجینئر کی امتیازی ڈگری لیے گھر داخل ہوا۔ ماں باپ نے آگے بڑھ کر بلائیں لیں اور اللہ کا شکر ادا کر کے سوچا کہ مشقت کے دن ختم ہوئے، آگے اللہ مہربانی فرمائے گا۔ ہمارے متوسط طبقے کے گھرانوں کے حالات بھی ایسے ہوتے ہیں اور انداز فکر بھی۔ لڑکا صرف ذہین اور محنتی نہیں تھا، مزاج بھی تخلیقی پایا تھا۔ اس شخص کے تخلیقی مزاج کی کہانی بھی عجیب ہے۔

کراچی ایک عظیم شہر ہے، پروفیسر ڈاکٹر طاہر مسعود اسے شہر بے کراں کہا کرتے ہیں۔ سبب یہ ہے کہ شہر کے اندر ہی فاصلے اتنے زیادہ ہیں کہ چلتے چلتے پہر بیت جاتے ہیں لیکن سفر ختم نہیں ہوتا۔ شہروں کے ایسے ہی مسائل ہوتے ہیں جن کی وجہ سے سواریاں ایجاد ہوئیں۔

سب سے آسان اور سستی سواری تو بائیسکل ہے لیکن کراچی کے فاصلوں سے نمٹنا ان دو پہیوں کے بس میں نہیں۔ کراچی شہر میں اس مشکل کا حل موٹر سائیکل ہے لیکن سستے زمانوں میں بھی موٹر سائیکل کی خریداری پر پانچ سات ہزار تو لگ ہی جاتے تھے۔

ہمارے عہد کے بچے اتنے پیسے تو سوچے سمجھے بغیر خرچ کر ڈالتے ہیں لیکن جس زمانے کا یہ واقعہ ہے، اتنے پیسے جمع کرنے کے لیے برسوں نہیں تو مہینے تو لگ ہی جایا کرتے تھے۔ ایسی صورت میں کے ٹی سی(کراچی ٹرانسپورٹ سروس) کی بس یا اڑے بیٹ(بیٹھ) یا آگے بڑ، آگے بڑ(بڑھ) والی منی بس کے کرایوں سے بھی کم پاکٹ منی پانے والا نوجوان کیا کرے؟ اس نونہال نے اس سوال پر غور کیا اور سوچا کہ چلو موٹر سائیکل خریدنا مشکل ہے تو مشکل ہی سہی، کیوں نہ اپنی بائیسکل کو ہی موٹر سائیکل بنا لیا جائے، پھر یہ نوجوان یہ کارنامہ کر گزرا۔ یہ شخص اپنی خداداد ذہانت کو کام میں لایا اور سائیکل کے پہیے کے ساتھ ایک ایسا چھوٹا سا انجن منسلک کرنے میں کامیاب ہو گیا جس نے پیڈل مار مار چند کلومیٹر فی گھنٹہ سفر کرنے والی بائیسکل کو تھکے بغیر میلوں بھاگنے والی آٹو سائیکل میں بدل دیا۔

ایک شام گھر کے ویران پچھواڑے میں اپنی ایجاد مکمل کرنے کے بعد جب وہ سڑک پر اسے لایا اور اس کی۔ قد ساختہ آٹو سائیکل زوں زوں کرتی ہوئی منی بس کی رفتار کا مقابلہ کرنے لگی تو دیکھنے والوں نے دانتوں میں انگلیاں داب لیں۔

اس کا یہی کارنامہ محبت کرنے والے والدین کے ذہن میں تھا، یہی سبب تھا کہ اس کے انجینئر بننے پر خوشی منائی گئی اور توقع رکھی گئی کہ یہ بچہ یقینا ہمارا نام روشن کرے گا۔ پھر یہی ہوا۔

اس لڑکے نے ماں باپ کا نام روشن کیا لیکن انجینئر بن کر نہیں بلکہ ایک اور کارنامہ انجام دے کر۔ اس شخص نے اپنی تعلیم، ذہانت اور محنت ایک طرف رکھی اور سیاح بن گیا۔ سیاح بننے کے بعد ایک اور دور کی ایک اور کوڑی اسے سوجھی، وہ سیاح کے ساتھ ساتھ سفر نامہ نگار بھی بن گیا، یوں وہ دیکھتے ہی دیکھتے آٹھ دس سفر ناموں کا مصنف بن گیا۔ آج اپنی اسی شہرت کی وجہ سے وہ یہاں وہاں معروف ہی نہیں، مقبول بھی ہے۔ یہاں تک کہ اس کی کتابوں نے اہل تحقیق کو بھی متوجہ کیا اور کرنے والوں نے ان پر ایم فل کر لیا۔

سیاح بننے کے بعد اس کے ذوق جہاں گردی میں سب سے بڑی رکاوٹ روزگار نے ڈالی۔ آپ نوکری بھی کریں اور بیگ اٹھا کر جب چاہے چل دیں، آج کے کارپوریٹ معاشرے میں کون آجر اس کی اجازت دیتا ہے؟ بس، وہ پہلا ہی دن ر
ہا ہو گا جب کوئی باس اس کی سیاحت میں رکاوٹ بنا تو اس نے معاش کے اس ذریعے یعنی نوکری کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیا۔ اب وہ پشاور جاتا ہے، شہد خریدتا ہے اور اپنی شہد جیسی باتوں کے ساتھ شہد کی بوتلیں بیچ ڈالتا ہے۔

اس میں کچھ کمی رہ جائے تو اونے پونے کے نام وہ چیزیں جو ہم کبھی خریدتے ہیں، ایک آدھ بار استعمال کرتے ہیں پھر انھیں بھول جاتے ہیں یا کچھ ایسی کتابیں جنھیں لوگ پڑھ کر کسی کونے کھدرے میں پھینک دیتے ہیں، یہ سب چیزیں دوست احباب اس تک پہنچا دیتے ہیں اور وہ انھیں اونے پونے کے نام سے بیچ دیتا ہے۔ میں خود تھرڈ کلاس الیکٹرک ایکسٹینشنز خرید خرید کر تنگ آچکا تھا، اس کے اونے پونے اسٹور سے مجھے تھوڑے سے پیسوں سے ایک ایسی ایکسٹینشن مل گئی کہ سارے دلدر دور ہو گئے۔

یہ تذکرہ تھوڑا طویل ہو گیا، اصل میں بتانا یہ تھا کہ سفر نامے لکھتے لکھتے ہمیشہ کی طرح اس کے ذہن میں ایک اور سودا سمایا، اس نے اپنے بچپن سے اب تک کے کراچی کی لفظی تصویریں بنانی شروع کر دیں جو کچھ عرصہ قبل ’’کراچی جو ایک شہر تھا‘‘کے عنوان سے شایع ہو کر مقبول ہو چکی ہیں۔ اصل میں انسانوں کی طرح شہروں پر بھی بچپن، جوانی اور بڑھاپے کی طرح اچھے برے ادوار آتے ہیں۔

یہ سب کیفیات شہروں کے چہروں پر کندہ ہوتی ہیں، بس، انھیں پڑھنے والا چاہیے۔ خوش قسمتی سے ہمارے اس دوست یعنی عبیداللہ کیہر میں یہ صلاحیت موجود تھی۔ عبید کی یہ کتاب پڑھئے تو لگتا ہے، جیسے آپ فلم دیکھ رہے ہیں۔ ایک ہی نشست میں وہ شہر بھی آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے، ماہی گیروں کی بستی کے نام سے تاریخ میں جس کے تذکرے ملتے ہیں۔ وہ راستے گلی محلے اور جھونپڑ جھونپڑیاں بھی دکھائی دیتی ہیں جو کھوکھراپار کے راستے پاکستان ہجرت کرنے والوں نے بنائی ہوں گی اور ان بلوچوں اور سندھیوں اور ان کی بستیوں سے بھی ملاقات ہو جاتی ہے جن کے پرکھوں نے اس شہر کی بنیاد رکھی ہوگی۔

اس کتاب میں وہ آثار بھی دکھائی دیتے ہیں جن کی مدد سے قیام پاکستان کے بعد اس شہر نے چٹکیوں میں ترقی کی اور اس تباہی کے مناظر دیکھنے کا موقع بھی ملتا ہے جو اسی اور نوے کی دہائیوں میں اس شہر کی تباہی کا باعث بنے۔ سب سے بڑھ کر ملیر کی بارشیں جن سے بھیگ کر یہاں کے لوگوں میں زندہ دلی پیدا ہوئی اور زمینوں میں زرخیری۔

سچ پوچھئے تو یہ کتاب پڑھ کر یقین آ جاتا ہے کہ کراچی ایک شہر خوباں ہے۔ حسنیوں کو قدرت کی طرف سے اگر حسن کی دولت ملتی تو یہ بھی حقیقت ہے کہ انھیں آزمائشوں کا سامنا بھی دوسروں سے بڑھ کر کرنا پڑتا ہے۔ اس شہر پر بھی یہی کچھ بیتا ہے۔

عبید کی اس کتاب میں ہمیں یہ سب مناظر دیکھنے اور پڑھنے کو ملتے ہیں۔ میں نے یہ سب پڑھا اور دیکھا تو اس پر لکھنے کی خواہش نے سر اٹھایا لیکن معلوم ہوا کہ یہ شخص بہت تیز رفتار ہے جتنی دیر میں ہم لوگ کالم لکھتے ہیں، یہ کتاب مکمل کر لیتا ہے۔ میں ابھی کراچی کے تذکرے سے ہی لطف اندوز ہو رہا تھا کہ اتنے میں اس کی دو تین کتابیں مزید سامنے آگئیں۔ کیا کیا جائے، یہ شخص ہے ہی اتنا تیز رفتار۔ ابھی میں اس کی کتابوں سے نمٹ نہیں پایا تھا کہ اب اس نے کرا چی کے دلچسپ محاوروں پر پروگرام شروع کر دیے ہیں اور بتایا ہے کہ ’’الاہٹ‘‘ کوئی لفظ یاترکیب ہو یا نہ ہو لیکن کراچی میں اس کا مطلب ہوتا ہے،تیز رفتار۔

The post کراچی جو ایک شہر تھا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Y1zluI

کورونا سے مزید 6 افراد جان کی بازی ہار گئے، 482 نئے کیسز رپورٹ

 اسلام آباد: ملک میں گزشتہ روز کورونا کے 482 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ مزید 6 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔

این سی او سی کے مطابق ملک بھر میں کورونا کے 40 ہزار 621 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 482 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی، اس طرح ملک میں گزشتہ 24 کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 1.18 فیصد رہی۔

ملک میں اب تک مجموعی طور پر 12 لاکھ 73 ہزار 560 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے جن میں سے 12 لاکھ 22 ہزار 559 صحت یاب ہوچکے ہیں۔

گزشتہ روز ملک میں مزید 6 افراد کورونا کے ہاتھوں جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد ملک میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 28 ہزار 456 ہو گئی ہے۔

ملک میں اس وقت کورونا کے فعال کیسز کی تعداد 22 ہزار 545 ہے، جن میں سے ایک ہزار 338 کی حالت تشویشناک ہے۔

The post کورونا سے مزید 6 افراد جان کی بازی ہار گئے، 482 نئے کیسز رپورٹ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3btMuzV

راولپنڈی اسلام آباد میں 11 روز بعد معمولات زندگی بحال

 اسلام آباد: حکومت اور کالعدم تنظیم کے درمیان نئے معاہدے کے بعد جڑواں شہروں میں 11 روز بعد معمولات زندگی بحال ہوگئے۔

حکومت اور کالعدم تنظیم کے درمیان کامیاب مزاکرات کے بعد دیگر شہروں کی طرح اسلام آباد اور راولپنڈی میں معمولات زندگی مکمل بحال ہوچکے ہیں، فیض آباد انٹرچینج کو 10 روز بعد ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

مری روڈ پر قائم تمام تعلیمی ادارے، بینک اور کاروباری مراکز آج معمول کے مطابق کھلے ہیں، مظاہرین کو روکنے کے لیے مری روڈ پر لگائی گی تمام رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں، مری روڈ کو مریڑ چوک سے فیض آباد انٹرچینج تک کھول دیا گیا، مری روڈ کی تمام رابطہ سڑکوں پر بھی ٹریفک رواں دواں ہے، میٹرو بس سروس اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی بحال ہے۔

میٹرو بس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ رحمان آباد اسٹیشن پولیس کی موجودگی کے باعث بند ہے، باقی تمام اسٹیشنز مسافروں کے لیے کھلے ہیں۔

دوسری جانب جی ٹی روڈ جہلم سے وزیرآباد تک بند ہے، نیشنل ہائی ویز پولیس کے مطابق جی ٹی روڈ پر کل تک ٹریفک بحال ہوجائے گی۔

The post راولپنڈی اسلام آباد میں 11 روز بعد معمولات زندگی بحال appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3nIdK3r

سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ نیشنل پارٹی کے بلامقابلہ صدر منتخب

 کوئٹہ: سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ نیشنل پارٹی کے بلامقابلہ صدر منتخب ہوگئے ہیں۔  

کوئٹہ میں نیشنل پارٹی کی چھٹی قومی کانگریس اور میر حاصل خان بزنجوکی یاد میں کنونشن تیسرے روز بھی جاری رہا۔ کنونشن میں پارٹی کارکنان، سینئر رہنمائوں ، مرکزی، صوبائی اور ضلعی کونسلروں نے شرکت کی، اس دوران انٹرا پارٹی الیکشن میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نیشنل پارٹی کے بلامقابلہ صدر اور جان محمد بلیدی جنرل سیکرٹری منتخب ہوگئے ۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے ڈاکٹر عبد المالک بلوچ کوصدر اور میر جان محمد بلیدی کو جنرل سیکرٹری منتخب ہونے پر مبارکباد دی ۔

The post سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ نیشنل پارٹی کے بلامقابلہ صدر منتخب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3q9y7th

چلغوزے کی قیمت میں حیرت انگیز کمی، قیمت 10 ہزار روپے سے گھٹ کر 3600 پر آ گئی

 پشاور:  2 ماہ میں چلغوزے کی قیمت 6400 روپے کلو سے کم ہو کر 3600 روپے کلو پر آ گئی ہے۔

دو ماہ قبل چلغوزہ 10 ہزار روپے کلو فروخت ہو رہا تھا، جو چند یفتے قبل چھ ہزار روپے کلو پر آ چکا تھا، گزشتہ روز مزید 2400 روپے سستا ہو کر 3600 روپے کلو تک آ گیا۔

مقامی تاجر سعید خان کہنا ہے قیمتیں گرنے کی بڑی وجہ افغانستان اور وزیرستان میں فصل کی اچھی پیداوار ہے، اگر چین و دیگر ممالک کو برآمد نہ ہوا تو قیمت مزید کم ہو سکتی ہے۔

The post چلغوزے کی قیمت میں حیرت انگیز کمی، قیمت 10 ہزار روپے سے گھٹ کر 3600 پر آ گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2ZDbu5d

مکھیاں بھی مرض سے بچنے کے لیے سماجی فاصلہ رکھتی ہیں

 لندن: جب جب شہد کے چھتے میں کوئی طفیلیہ (پیراسائٹ) آجاتا ہے تو مکھیاں اس سےسماجی فاصلہ اختیار کرلیتی ہیں۔ اس پر یونیورسٹی کالج لندن اور اٹلی کی جامعہ سیساری نے مشترکہ تحقیق کی ہے۔

تحقیق میں شریک ماہر پروفیسر ایلی سانڈرو سائنی کہتے ہیں کہ ’ یہ عام طفیلیے (پیراسائٹ) کی چھتے پر موجودگی اور مکھیوں کے سماجی تعلقات میں تبدیلی کی پہلی واضح شہادت ہے۔ـ

مکھیاں سماجی جاندار ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کو پروان چڑھاتی ہیں۔ لیکن جب جب ان کے سماجی روابط میں کسی انفیکشن کا خطرہ ہوتا ہے تو وہ باہمی فاصلے سمیت کئی باتوں پر عمل کرتی ہیں۔

اس سے قبل ببون بندروں اور چیونٹیوں میں اسی طرح کا رویہ دیکھا گیا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق واروا نامی ایک جوں نما کیٹرا عموماً شہد کے چھتوں پر حملہ کرتا ہے۔ یہ وائرس پھیلا کر مکھیوں اور چھتے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ چھتے کو دو حصوں میں بانٹا جاسکتا ہے۔ بیرونی چھتے پر خوراک، رس اور نگرانی کرنے والی مکھیاں رہتی ہیں اور اندرونی حصے میں بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی نرس مکھیاں، ملکہ مکھی اور بچہ مکھیاں اور انڈے ہوتے ہیں۔ تاکہ انہیں بیرونی حملوں اورامراض سے محفوظ رکھا جاسکے۔

سائنسدانوں نے ایک چھتے کو جب کیڑے سے آلودہ کیا تو باہر والی مکھیوں نے اسے محسوس کرلیا اور اپنا مشہور رقص روک دیا کیونکہ اس طرح کیڑے دیگر حصوں تک پھیل سکتے تھے۔ عین یہی حال چھتے کے مرکزی حصے کا بھی تھا۔ جہاں نرس مکھیاں بچوں کو لے کر مزید اندر چلی گئیں اور دونوں اقسام کی مکھیوں کے درمیان فاصلہ مزید بڑھ گیا۔

یہ تحقیق بلاشبہ مکھیوں کی اس عقلمندانہ عادت کو ظاہر کرتی ہیں جس کی بدولت وہ جراثیم اور طفیلیوں سے بچی رہتی ہیں۔

 

 

The post مکھیاں بھی مرض سے بچنے کے لیے سماجی فاصلہ رکھتی ہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3GDTsRm

رنگ بدل کر امراض شناخت کرنے والی نینوٹیک پٹی

 میلبورن: اس کی تیاری میں پانچ سال لگے ہیں لیکن اب مرض لاحق ہونے کی صورت میں رنگ بدلنے والی سلائیڈ کو خردبین سے دیکھ کر بہت آسانی سے مرض کی شدت معلوم کی جاسکتی ہے۔

اسے نینوایم سلائیڈ کا نام دیا گیا ہے جسے پلازمون فزکس کی بنیاد  پر بنایا گیا ہے جس میں چارج شدہ ذرات میں الیکٹرون کی طرح تھرتھراہٹ ہوتی ہے۔ اس میں چاندی کے ذرات کی باریک پرت چڑھائی جاتی ہے اور آزاد پھرنے والے الیکٹرون کے لئے فیلڈ بن جاتا ہے۔ جب ان پر روشنی پڑتی ہے تو وہ ایک خاص ترتیب میں آجاتے ہیں۔

چاندی کی پرت میں نینوپیمانے کے باریک سوراخ پر جب روشنی پڑتی ہے تو وہ خلوی نمونے (سیمپل) سے گزرتی ہے اور یہاں کئی رنگ منتخب ہوجاتے ہیں۔ اس طرح رنگوں کا ایک طیف بنتا ہے جو فیلڈ میں موجود آزاد الیکٹرون کی بنیاد پر تشکیل پاتا ہے۔ اس طرح یہ نینوسلائیڈ جب خردبین کے نیچے رکھی جاتی ہے تو ایک طرح کا سینسر بن جاتی ہے۔ یوں کینسر زدہ خلیات مخصوص رنگ میں دکھائی دیتے ہیں۔ اس طرح نمونے میں مرض کی شناخت آسان ہوجاتی ہے۔ اس سے نمونوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور بہت آسانی سے کینسر زدہ خلیات (سیلز) کی شناخت ہوجاتی ہے۔

یہ کارنامہ آسٹریلیا کی لا ٹروب یونیورسٹی کی بیلنڈا پارکر نے انجام دیا ہے۔ وہ کہتی ہے کہ اس تجربے میں کینسرذدہ خلیات اطراف سے بالکل الگ دکھائی دیئے جنہیں شناخت کرنا بہت آسان تھا۔ اس سے قبل یہ کام بھوسے کے ڈھیر میں سوئی ڈھونڈنے جیسا ہی مشکل تھا۔

ماہرین پرامید ہیں کہ ٹیکنالوجی کو بڑھا کر ایسے تجارتی آلات بنائے جاسکتے ہیں جن کے طبی اور غیرطبی دونوں طرح کے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نمونوں پر مبنی سلائیڈ کو صرف دس منٹ میں تیار کیا جاسکتا ہے۔

The post رنگ بدل کر امراض شناخت کرنے والی نینوٹیک پٹی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3CxJ5fb

’ہم تو فنا ہوگئے، آپ خود کو بچائیے،‘ اقوامِ متحدہ میں ڈائنوسار کا پیغام

 نیویارک: ’معدومیت کو منتخب نہ کیجیے!‘ یہ اہم پیغام کمپیوٹر گرافکس سے بنے ایک ڈائنوسار کی ویڈیو میں دیکھی جاسکتی ہے۔ یہ ویڈیو بدلتے ہوئے موسمی اور ماحولیاتی تناظر میں عالمی تقریب، یعنی ’کانفرنس آف پارٹیز‘ (سی او پی)26 کے موقع پر جاری کی گئی ہے جسے خود عالمی ادارے نے سراہا اور ٹویٹ کیا ہے۔

ویڈیو میں فرینکی نامی ڈائنوسار نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اندرداخل ہوتا ہے۔ سیکیورٹی گارڈ سے مضحکہ خیز مکالمے کے بعد فرینکی ڈائس پر جاتا ہے اور اپنی مختصر تقریر کرتا ہے جسے وہ انسانیت کے لیے ایک سبق قرار دیتا ہے۔

ڈائنوسارفرینکی کہتا ہے کہ ’ میں ناپیدگی (ایکسٹنکشن) کے متعلق ایک دو باتیں جانتا ہوں۔ میں کہنا چاہوں گا کہ ناپید ہونا ایک خوفناک عمل ہے۔ ہم تو آسمانی پتھر یعنی شہابی ٹکر سے فنا ہوئے لیکن اب آپ انسانوں کے پاس کیا عذر ہے؟ آپ موسمیاتی تباہی کے دھانے پر کھڑے ہیں اور طرفہ تماشہ یہ ہے کہ عالمی حکومتیں ہر سال رکازی ایندھن پر کروڑوں اربوں ڈالر کی سبسڈی دے رہی ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ کوئی زمین سے ٹکرانے کے لیے آسمانی پتھر کو خود دعوت دے۔ ـ

ڈائنوسار نے اقوامِ متحدہ میں اپنے خطاب میں کووڈ 19 وبا کا بھی ذکر کیا اور دنیا سے کہا کہ وہ اس سیارے کو بچانے کے لیے سنجیدہ کوشش کرے۔

واضح رہے کہ سی اوپی کانفرنس میں دنیا کے سربراہان اور دیگر ماہرین بدلتی ہوئی آب وہوا سے انسانیت کو لاحق ہونے والے خطرات اور ان کے حل پر غور کرے گی جس کے بعد عالمی بیانیہ جاری کیا جائے گا۔

The post ’ہم تو فنا ہوگئے، آپ خود کو بچائیے،‘ اقوامِ متحدہ میں ڈائنوسار کا پیغام appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2ZEBGwJ

چلغوزے کی قیمت میں حیرت انگیز کمی، قیمت 10 ہزار روپے سے گھٹ کر 3600 پر آ گئی

 پشاور:  2 ماہ میں چلغوزے کی قیمت 6400 روپے کلو سے کم ہو کر 3600 روپے کلو پر آ گئی ہے۔

دو ماہ قبل چلغوزہ 10 ہزار روپے کلو فروخت ہو رہا تھا، جو چند یفتے قبل چھ ہزار روپے کلو پر آ چکا تھا، گزشتہ روز مزید 2400 روپے سستا ہو کر 3600 روپے کلو تک آ گیا۔

مقامی تاجر سعید خان کہنا ہے قیمتیں گرنے کی بڑی وجہ افغانستان اور وزیرستان میں فصل کی اچھی پیداوار ہے، اگر چین و دیگر ممالک کو برآمد نہ ہوا تو قیمت مزید کم ہو سکتی ہے۔

The post چلغوزے کی قیمت میں حیرت انگیز کمی، قیمت 10 ہزار روپے سے گھٹ کر 3600 پر آ گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2ZDbu5d

نیشنل بینک پر سائبر حملے کا خاتمہ، صارفین کو آج سے خدمات کی فراہمی بحال

 کراچی: نیشنل بینک کے نظام پر سائبر حملہ کے خدشات کا خاتمہ ہوگیا، آئندہ چند روز میں خدمات مکمل طور پر بحال کردی جائیں گی، نیشنل بینک کی شاخیں معمول کے مطابق کھلیں گی اور کسٹمرز کو حتی الامکان خدمات فراہم کی جائیں گی۔

نیشنل بینک آف پاکستان کی انتظامیہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نیشنل بینک کے سسٹم کے متاثرہ حصوں کو بحال کرلیا گیا ہے، اے ٹی ایم آپریشن، پنشنرز کو پنشن اور تنخواہوں کی ادائیگی یکم نومبر سے معمول کے مطابق ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے : قومی بینک کے سرورز پر سائبر حملہ، صارفین کو خدمات کی فراہمی معطل

ترجمان نیشنل بینک کی تمام شاخیں یکم نومبر کو معمول کے مطابق کھلیں گی اور کسٹمرز کو خدمات فراہم کی جائیں گی، نیشنل بینک کی ہیلپ لائن بھی بحال کردی گئی ہے جب کہ بینک کے کھاتے داروں کا مالیاتی ڈیٹا بھی محفوظ ہے۔

The post نیشنل بینک پر سائبر حملے کا خاتمہ، صارفین کو آج سے خدمات کی فراہمی بحال appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3GDm6BQ

نیشنل بینک پر سائبر حملے کا خاتمہ، صارفین کو آج سے خدمات کی فراہمی بحال

 کراچی: نیشنل بینک کے نظام پر سائبر حملہ کے خدشات کا خاتمہ ہوگیا، آئندہ چند روز میں خدمات مکمل طور پر بحال کردی جائیں گی، نیشنل بینک کی شاخیں معمول کے مطابق کھلیں گی اور کسٹمرز کو حتی الامکان خدمات فراہم کی جائیں گی۔

نیشنل بینک آف پاکستان کی انتظامیہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نیشنل بینک کے سسٹم کے متاثرہ حصوں کو بحال کرلیا گیا ہے، اے ٹی ایم آپریشن، پنشنرز کو پنشن اور تنخواہوں کی ادائیگی یکم نومبر سے معمول کے مطابق ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے : قومی بینک کے سرورز پر سائبر حملہ، صارفین کو خدمات کی فراہمی معطل

ترجمان نیشنل بینک کی تمام شاخیں یکم نومبر کو معمول کے مطابق کھلیں گی اور کسٹمرز کو خدمات فراہم کی جائیں گی، نیشنل بینک کی ہیلپ لائن بھی بحال کردی گئی ہے جب کہ بینک کے کھاتے داروں کا مالیاتی ڈیٹا بھی محفوظ ہے۔

The post نیشنل بینک پر سائبر حملے کا خاتمہ، صارفین کو آج سے خدمات کی فراہمی بحال appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3GDm6BQ

آج کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

مایوسی کے اندھیرے اجالوں کی دبیز چادر تلے دم توڑ سکتے ہیں ہمت و استقلال کی بنیادوں پر کاروبار کو ابھارنے کی کوشش کیجئے پھر دیکھیں ہر مسئلہ بفضل خدا حل ہوتا چلا جائے گا۔

ثور:
22 اپریل تا 20 مئی

راہ چلتے اور گاڑی چلاتے ہوئے محتاط رہیں اپنے اخراجات بھی گھٹا دیجئے تاکہ موجودہ آمدنی میں اضافہ ہو سکے اور آپ خوشحال رہ سکیں۔

جوزا:
21 مئی تا 21جون

ہر بات کا فیصلہ خود کرنے کی بجائے بہتر ہے شریک حیات کی رائے کو اولیت دیں تاکہ آپ کے تعلقات مضبوط ہو سکیں اپنی رقم کی حفاظت کریں۔

 

سرطان:
22جون تا23جولائی

دماغ پر جنسی خیالات کو غالب نہ آنے دیں اس طرح آپکی اعلیٰ صلاحیتوں کو زنگ لگ سکتا ہے کاروبار میں خصوصی دلچسپی لے لیں تاکہ نقصان کا احتمال نہ رہے۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

اپنے دل کا راز آج آپ کسی سے بھی نہ کہیں چاہے یہ آپ کا کتنا ہی بھروسے مند ساتھی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اگر آپ نے ایسا کیا تو بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

ملازمت پیشہ افراد پوری یکسوئی سے اپنے فرائض انجام دیں دوستوں کی تعداد میں خاطر کواہ اضافہ ہو سکتا ہے مگر ان سے فائدہ نہ ہو سکے گا۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

ان گنت رکاوٹیں آپ کے راستے میں حائل رہیں گی مگر بلاشبہ آپ ان رکاوٹوں کو گِرا کر کامیابی کا سفر طے کرتے جائیں گے رہائش کی تبدیلی ممکن ہے۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

ہمارے سابقہ دئیے ہوئے مشوروں کو اپنا نصب العین بنائے رکھیں تاکہ زندگی بہتر انداز سے گزار سکیں کسی بھی معاملے میں جلد بازی ہرگز نہ کریں۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

اگر آپکا تعلق گارمنٹس کے شعبے سے ہے تو خاطر خواہ آمدنی میں اضافہ ہونے کی توقع ہے آمدنی بڑھ جانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اسے فضول کاموں میں خرچ کر دیں لہٰذا احتیاط برتیں۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

ذہنی انتشار بڑھے گا خود کو جذباتیت سے آزاد رکھیں تو بہتر ہے آج آپ کو چھوٹی سی چھوٹی چیز کیلئے بھی تگ و دو کرنا پڑسکتی ہے اس لئے ہمت سے کام لیجئے۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

بلاشبہ آپ اپنے زوربازو سے بہت کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے نزدیکی سفر آپ کے مقاصد کی تکمیل کا باعث بن سکتا ہے ضرور کریں۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

لڑائی جھگڑے کے معاملات سے خود کو دور ہی رکھیں تو بہتر ہے کہیں یہ نہ ہو کہ لڑائی آپ کے گلے کا ہار بن جائے محبوب سے وابستہ توقعات پوری ہوں گی۔

The post آج کا دن کیسا رہے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3iwZBVb

آئندہ ووٹوں پر ڈاکا ڈالا گیا تو بغاوت کردیں گے، فضل الرحمان

ڈی جی خان: پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آئندہ حکومت ہوگی تو عوام کے ووٹ کے بنیاد پر ہوگی، دوبارہ ووٹوں پر ڈاکا مارا گیا تو بغاوت کریں گے۔

پی ڈی ایم کی جانب سے ڈیرہ غازی خان میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 25 جولائی 2018ء پاکستان کی جمہوریہ اور سیاسی تاریخ کا سیاہ دن تھا، موجودہ حکمران پہلے تو ناجائز تھے اب نالائق اور نااہل بھی ثابت ہوئے ہیں اور ہم نے دنیا کو بتا دیا کہ حکومت جعلی ہے، ایک کروڑ نوکری دینے والوں نے لوگوں کو بے روزگار کر دیا، آج کسان، ڈاکٹر، وکیل غرض سب پریشان ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا حکمران جہاں جاتا ہے بھکاری کی طرح جاتا ہے، ہمارے حکمران کو شرم نہیں آتی لیکن ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے، جس ملک کی معیشت گر جاتی ہے وہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا جب کہ ملکی سالانہ ترقی کا تخمینہ صفر سے بھی نیچے جا چکا ہے، ہمیں ابھی اس ملک کو بچانا ہے۔

فضل الرحمان نے کہا کہ ملک کا نظام نیب کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، ملک پر آج ایک آمرانہ حکومت ہے، عمران خان نے کشمیر کو بیچ دیا، سی پیک کے منصوبے کو خراب کر کے چین کو ناراض کر دیا، نیو یارک میں دنیا کا کوئی حکمران عمران خان سے ہاتھ ملانے کے لیے تیار نہیں تھا، ایشیاء کا کوئی ملک پاکستان سے تجارت کر نے کو تیار نہیں ہے۔

سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ آئندہ حکومت ہوگی تو عوام کے ووٹ کے بنیاد پر ہوگی، دوبارہ ووٹوں پر ڈاکا مارا گیا تو بغاوت کریں گے، پی ڈی ایم کی تحریک انشاءاللہ آگے بڑھے گی، پی ڈی ایم کا پیغام ملک کے ہر شہر، گلی اور چوکوں میں پھیلانا ہے۔

The post آئندہ ووٹوں پر ڈاکا ڈالا گیا تو بغاوت کردیں گے، فضل الرحمان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2ZFqUpf

آئندہ ووٹوں پر ڈاکا ڈالا گیا تو بغاوت کردیں گے، فضل الرحمان

ڈی جی خان: پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آئندہ حکومت ہوگی تو عوام کے ووٹ کے بنیاد پر ہوگی، دوبارہ ووٹوں پر ڈاکا مارا گیا تو بغاوت کریں گے۔

پی ڈی ایم کی جانب سے ڈیرہ غازی خان میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 25 جولائی 2018ء پاکستان کی جمہوریہ اور سیاسی تاریخ کا سیاہ دن تھا، موجودہ حکمران پہلے تو ناجائز تھے اب نالائق اور نااہل بھی ثابت ہوئے ہیں اور ہم نے دنیا کو بتا دیا کہ حکومت جعلی ہے، ایک کروڑ نوکری دینے والوں نے لوگوں کو بے روزگار کر دیا، آج کسان، ڈاکٹر، وکیل غرض سب پریشان ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا حکمران جہاں جاتا ہے بھکاری کی طرح جاتا ہے، ہمارے حکمران کو شرم نہیں آتی لیکن ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے، جس ملک کی معیشت گر جاتی ہے وہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا جب کہ ملکی سالانہ ترقی کا تخمینہ صفر سے بھی نیچے جا چکا ہے، ہمیں ابھی اس ملک کو بچانا ہے۔

فضل الرحمان نے کہا کہ ملک کا نظام نیب کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، ملک پر آج ایک آمرانہ حکومت ہے، عمران خان نے کشمیر کو بیچ دیا، سی پیک کے منصوبے کو خراب کر کے چین کو ناراض کر دیا، نیو یارک میں دنیا کا کوئی حکمران عمران خان سے ہاتھ ملانے کے لیے تیار نہیں تھا، ایشیاء کا کوئی ملک پاکستان سے تجارت کر نے کو تیار نہیں ہے۔

سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ آئندہ حکومت ہوگی تو عوام کے ووٹ کے بنیاد پر ہوگی، دوبارہ ووٹوں پر ڈاکا مارا گیا تو بغاوت کریں گے، پی ڈی ایم کی تحریک انشاءاللہ آگے بڑھے گی، پی ڈی ایم کا پیغام ملک کے ہر شہر، گلی اور چوکوں میں پھیلانا ہے۔

The post آئندہ ووٹوں پر ڈاکا ڈالا گیا تو بغاوت کردیں گے، فضل الرحمان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2ZFqUpf

Saturday, 30 October 2021

ٹی 20 ورلڈ کپ؛ گرین شرٹس ناقابل شکست رہنے کیلیے پُراعتماد

لاہور: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں گرین شرٹس ناقابل شکست رہنے کیلیے پراعتماد ہیں جب کہ کپتان بابر اعظم کہتے ہیں کہ آئندہ میچز میں بھی کسی سہل پسندی کا شکار نہیں ہوں گے۔

جمعے کو دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے گروپ ٹو میچ میں افغانستان نے پاکستان کو 148 رنز کا ہدف دیا تھا، ایک مرحلے پر گرین شرٹس کو فتح کیلیے 12 گیندوں پر 24 رنز درکار تھے کہ آصف علی نے 19 ویں اوور میں 4 چھکے لگا کر مشن مکمل کردیا۔

پی سی بی کی جانب سے جاری کیے جانے والے ویڈیو پیغام میں کپتان بابر اعظم نے کہا کہ ہماری بولنگ کی قوت کو دیکھا جائے تو افغانستان نے توقع سے زیادہ رنز اسکور کیے مگر یہ کوئی بات نہیں میچز میں ایسا ہوجاتا ہے، کوشش کریں گے کہ آئندہ میچز میں اسی غلطیاں نہ ہوں کہ حریف کو اننگز کے آخری میں بھی واپسی کا موقع ملے، ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے میرا رول یہی تھا کہ میچ کو آخر تک لیکر جاؤں، اس وقت ضرورت محسوس کرتے ہوئے راشد خان کو اسٹروک کھیلا، کریڈٹ افغانستان کو بھی دوں گا انھوں نے اچھی بولنگ کی، انھیں بہترین بولرز کی خدمات حاصل ہیں، افغانستان کے خلاف جیت کا کریڈٹ آصف علی کو جاتا ہے انھوں نے میچ ایک اوور میں ہی ختم کردیا، جارح مزاج بیٹسمین نے گزشتہ دونوں میچز میں شاندار کارکردگی دکھائی ہے، آصف علی اسی پاور ہٹنگ کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں، باحیثیت کپتان بہت اعتماد ملتا ہے کہ ٹیم میں مشکل صورتحال میچ جتوانے والے کھلاڑی موجود ہیں۔

بابر اعظم نے شائقین سے درخواست کی کہ اچھے اور برے وقت میں آپ کی سپورٹ چاہیے جو کہ آپ کرتے بھی ہیں لیکن جب کسی کھلاڑی کا برا وقت ہوتا ہے تب آپ اس کو سپورٹ کریں تو کھلاڑی بھی زیادہ اعتماد کے ساتھ اچھا پرفارم کر کے دکھا ئیں گے، کوشش کریں گے کہ کسی سہل پسندی کا شکار نہ ہوں اور آئندہ میچز میں بھی اچھی کارکردگی دکھائیں۔

آصف علی نے کہا ہے کہ خوش قسمت ہوں کہ ان ملکی حالات میں بھی میری وجہ سے پاکستانیوں کو خوشی ملی، شاداب خان کے اصرار کے باوجود سنگل نہیں لی،اعتماد تھا کہ اگلے اوور میں میچ ختم کرسکتا ہوں، یہی سوچ رہا تھا کہ جو گیند ملے گا اسے مڈل کروں گا، اس سائیڈ کی چھوٹی بائونڈری کو ذہن میں رکھتے ہوئے گیند کو باہر پھینکنے کا پلان بنایا جو کامیاب رہا۔

انھوں نے کہا پاکستان ٹیم کا ماحول بہت خوشگوار ہے،ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا،تمام کھلاڑی ایک دوسرے کو بھرپور سپورٹ کرتے ہیں، سینئرز دیگر پلیئرز کو جونیئر ہونے کا احساس نہیں ہونے دیتے، جونیئرز اپنے سینئرز کا احترام کرتے ہیں، کیمپ میں بڑا دوستانہ ماحول ہے، پرستاروں سے گزارش ہے کہ ہمیں سپورٹ کرتے رہیں، ورلڈ کپ جیتنا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کا اگلا میچ منگل کو نمیبا سے ہوگا، ابوظبی میں ہونے والے اس مقابلے میں کمزور حریف کیخلاف پلیئنگ الیون میں تبدیلیوں کی تجویز زیر غور ہے، محمد حفیظ ابھی تک اپنے تجربے اور ٹیلنٹ سے انصاف نہیں کرپائے، ان کی جگہ نوجوان بیٹسمین حیدر علی کو پہلی بار میگا ایونٹ میں صلاحیتوں کا اظہار کا موقع دیا جاسکتا ہے،حسن علی کی کارکردگی میں بھی تسلسل کی کمی نظر آئی ہے،ان کو آرام دیکر وسیم جونیئر کو میدان میں اتارا جاسکتا ہے،حتمی فیصلہ میچ سے قبل کیا جائے گا،گرین شرٹس نے گزشتہ روز آرام کو ترجیح دی،قومی کرکٹرز کی کوئی سرگرمی شیڈول نہیں کی گئی تھی، اتوار کو بھی افغانستان سے میچ کی فاتح الیون آرام کرے گی، اسکواڈ می شامل باقی 7 کھلاڑی ٹریننگ کریں گے۔

یاد رہے کہ فتوحات کی ہیٹ ٹرک مکمل کرنے والی پاکستان ٹیم کے گروپ ٹو میں سرفہرست رہنے کا امکان روشن ہے کیونکہ نمیبیا کے بعد اگلا میچ ایک اور کمزور ٹیم اسکاٹ لینڈ سے ہوگا۔

The post ٹی 20 ورلڈ کپ؛ گرین شرٹس ناقابل شکست رہنے کیلیے پُراعتماد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3mwDr7q

حکومت اور کالعدم تنظیم کے مابین معاملات طے پا گئے

 اسلام آباد: حکومت اور کالعدم تنظیم کے مابین معاملات طے پا گئے۔ 

ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی حکومت اور کالعدم تحریک لبین کے مابین مذاکرات میں معاملات طے پاگئے ہیں، اور حالات بہتر ہونے کا امکان ہے، طے شدہ معاملات کا اعلان کچھ دیر بعد پریس کانفرنس میں کیا جائے گا، طے شدہ معاملات پر عملدرآمد کی ذمہ داری سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کو دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق حکومتی کمیٹی کے ارکان اسد قیصر،شاہ محمود قریشی اورعلی محمد خان کچھ دیر بعد پریس کانفرنس کریں گے، اور سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان بھی پریس کانفرنس میں شریک ہوں گے، حکومتی و مذہبی قیادت پریس کانفرنس میں مذاکرات میں پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ معاملات معمول پر لانے سے پہلے کالعدم تنظیم کے لوگ جی ٹی روڈ پر دھرنا ختم کر کے واپس جائیں گے، گرفتار کارکنوں کی رہائی قانونی ضابطے پورے کر کے عمل میں لائی جائے گی، وفاقی حکومت بین الاقوامی ضابطوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مرحلہ وار اقدامات کرے گی۔

 

The post حکومت اور کالعدم تنظیم کے مابین معاملات طے پا گئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3pPlh32

آصف علی کوپاکستان کا نیا ’بوم بوم‘ قراردیا جانے لگا

لاہور: آصف علی کو پاکستان کا نیا ’بوم بوم‘ قرار دیا جانے لگا جب کہ سابق ٹیسٹ کرکٹر اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے معاون کوچ سعید اجمل کہتے ہیں کہ ہارڈ ہٹر میں شاہد آفریدی اور عبدالرزاق کی جھلک دکھائی دی، وہ آگے بھی ٹیم کی فتوحات میں کردار ادا کریں گے۔

آصف علی نے نیوزی لینڈ اور افغانستان کے خلاف میچز میں ہارڈ ہٹنگ کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان ٹیم کو فتوحات سے ہمکنار کیا، انھیں اپنے بلند وبالا چھکوں کی وجہ سے نیا ’بوم بوم’ قرار دیا جارہا ہے۔

سعید اجمل کا کہنا ہے کہ افغانستان کے خلاف میچ میں آصف علی میں بوم بوم شاہد آفریدی اور عبدالرزاق کی جھلک نظر آئی، انھوں نے اپنی پی ایس ایل فرنچائز اسلام آباد یونائیٹڈ کا بھی نام روشن کردیا، اگرچہ پانچویں ایڈیشن میں ان کی فارم اچھی نہیں تھی مگر ہم نے بھرپور سپورٹ کیا۔

سعید اجمل نے کہا کہ بڑی مدت کے بعد شاہد آفریدی کی طرح کسی کو چھکے لگاتے دیکھا، امید ہے کہ آصف اگلے میچز میں بھی پاکستان کی فتوحات میں اہم کردار ادا کریں گے۔

دریں اثنا پی ایس ایل کے ساتویں ایڈیشن کے لیے جوموڈاٹ پی کے اسلام آباد یونائٹیڈ کا پارٹنر بن گیا۔ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں اسلام آباد یونائیٹڈ اور جومو ڈاٹ پی کے، کے درمیان ایم او یو کے معاہدے پر دستخط کی تقریب کا سعید اجمل بھی حصہ تھے۔ انھوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ 2022 کے پی ایس، ایل ایڈیشن میں اسلام آباد کی ٹیم ایک نئے روپ میں پرفارم کرتی ہوئی نظر آئے گی۔

تقریب میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے جی ایم ریحان الحق کا کہنا تھا کہ آصف علی پر فخر ہے کہ اس نے اسلام آباد یونائیٹڈ کی عزت میں اضافہ کیا، ہم نے کھلاڑیوں کی ڈویلپمنٹ کے لیے جو مہم شروع کی وہ کامیابی سے جاری اور اس سے پاکستان کرکٹ کو نیا ٹیلنٹ بھی مل رہا ہے۔

The post آصف علی کوپاکستان کا نیا ’بوم بوم‘ قراردیا جانے لگا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2ZJ3mjS

اٹک کے قریب مسافر وین کھائی میں گرنے سے 3 افراد جاں بحق

اٹک: جنڈ جھمٹ روڈ پر مسافر وین کھائی میں گرنے سے 3 افراد جاں بحق جب کہ 8 شدید زخمی ہوگئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اٹک کے قریب جنڈ جھمٹ روڈ پر مسافر وین بے قابو ہوکر کھائی میں جاگری ، جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق جب کہ 8 زخمی ہوگئے، لاشوں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا، زخمیوں میں سے کچھ کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار مسافر وین راولپنڈی سے کالا باغ جارہی تھی، ابتدائی طور پر یہ معلوم ہوا ہے کہ وین کو حادثہ بریک فیل ہو جانے کے باعث پیش آیا۔

The post اٹک کے قریب مسافر وین کھائی میں گرنے سے 3 افراد جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3boK9Gm

بھارت و کیویز پاکستانی شکست بھلانے کے خواہاں

دبئی: بھارت اور کیویز کوپاکستانی شکست بھلانے کا چیلنج درپیش ہے جب کہ  دونوں ٹیمیں آج سیمی فائنل میں رسائی کی امیدوں کا دیا جلانے کی کوشش کریں گی۔

آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ میں اتوار کے روز گروپ 2 میں پاکستان سے شکست کھانے والی 3 ٹیمیں ایکشن میں ہوں گی اور تینوں کی نگاہیں میگا ایونٹ کے سیمی فائنل میں رسائی کی امیدوں کا دیا جلانے پر مرکوز ہوں گی۔

بڑا مقابلہ بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہوگا، دونوں ہی اپنے ابتدائی میچز میں گرین شرٹس کے ہاتھوں شکست کا منہ دیکھ چکی ہیں، دونوں کو ہی اسی ناکامی کے اثرات سے باہر آنے کا سخت چیلنج درپیش ہوگا۔ ٹاس اور اوس دونوں ہی اس مقابلے میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔

کیویز اپنے فاسٹ بولنگ اٹیک سے بھارت کی مضبوط بیٹنگ لائن کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی تیار کیے ہوئے ہے، فاسٹ بولر ٹم ساؤدی کہتے ہیں کہ بھارت ایک بہترین ٹیم اور وہ بھی ہماری طرح فتح کیلیے بے چین ہوں گے، اس لیے یہ ایک زبردست مقابلہ ثابت ہونے والا ہے، پہلا میچ ہمیشہ ہی کافی مشکل اور ہمیں پاکستان کی بہترین ٹیم کے ہاتھوں ناکامی ہوئی مگر اب ہم اس مختصر ٹورنامنٹ میں آگے کی جانب دیکھ رہے ہیں۔

دوسری جانب بھارت بھی اپنے تجربہ کار بیٹسمینوں کی مدد سے فتح حاصل کرنے کیلیے پراعتماد ہے، ٹیم میں فوری طور پر کسی ردوبدل کا امکان بظاہر کم ہے، جیت سے ویرات کوہلی بھی گرین شرٹس سے ملنے والی شکست کا غم کچھ کم کرنا چاہتی ہے۔

آج پہلے میچ میں پاکستان سے زیر ہونے والی افغان ٹیم کا سامنا نمیبیا سے ہوگا، افغانستان اور نمیبیا دونوں ہی اسکاٹ لینڈ کے خلاف سپر 12 راؤنڈ میں فتح کی بدولت 2، 2 پوائنٹس حاصل کرچکے ہیں، دونوں ہی ایک اور فتح سے اپنے سیمی فائنل میں رسائی کے امکانات کو تقویت پہنچانے کی کوشش کریں گے۔

The post بھارت و کیویز پاکستانی شکست بھلانے کے خواہاں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3w0QuRI

نان پی ایچ ڈی سرچ کمیٹی کے قیام کی سفارش، اساتذہ اور تعلیمی حلقوں میں چہ مہ گوئیاں

کراچی: سندھ میں سرکاری جامعات کے سربراہوں کے تقرر کے سلسلے میں قائم موجودہ تلاش کمیٹی کی جگہ ’’نان پی ایچ ڈی‘‘ افراد پر مشتمل سرچ کمیٹی کا ممکنہ قیام متنازع ہوگیا۔

حکومت سندھ کی جانب سے وائس چانسلرکے تقرر کے سلسلے میں اکثریتی پی ایچ ڈی اراکین پر مشتمل موجودہ تلاش کمیٹی (سرچ کمیٹی)کوختم کرکے ایک ایسی نئی تلاش کمیٹی قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جوقاعدے و روایت کے برعکس غیرپی ایچ ڈی سربراہ اورغیرپی ایچ ڈی مستقل اراکین پر مشتمل ہو گی۔

یہ سرچ کمیٹی سندھ بھرکی سرکاری جامعات اور اسناد تفویض کرنے والے اداروں (ڈگری ایوارڈنگ انسٹی ٹیوٹس) میں پروفیسرزکے طورپرکام کرنے والے پی ایچ ڈی امیدواروں کے انٹرویوز کر کے بحیثیت وائس چانسلر ان کے تقررکی سفارش کرے گی تاہم اس کی ماضی میں مثال موجودنہیں جس سے سندھ میں سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کے تقرر کا پورا عمل ہی سوالیہ نشان بن سکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کی جانب سے ایک سمری سندھ کی جامعات کی کنٹرولنگ اتھارتی وزیر اعلیٰ سندھ کوبھجوائی گئی ہے جس میں وزیراعلیٰ سندھ سے سفارش کی گئی ہے کہ موجودہ تلاش کمیٹی کوختم کردیا جائے اورنئی تلاش کمیٹی قائم کی جائے جو 3 مستقل اراکین پر مشتمل ہو، اس تلاش کمیٹی کے سربراہ سندھ ایچ ای سی کے چیئرمین ہوں گے جبکہ دیگر2 اراکین میں سیکریٹری سندھ ایچ ای سی اور سیکریٹری یونیورسٹیزاینڈ بورڈشامل ہوںگے جبکہ غیرمستقل اراکین وہ ماہرین ہوں گے جومتعلقہ یونیورسٹی (بزنس،میڈیکل،انجینیئرنگ،جنرل یونیورسٹی یادیگرکسی شعبے یا ڈسپلن)سے متعلق ہوں۔

اس وقت سندھ ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹرعاصم حسین ہیں جواپنے عہدے کی دوسری 4 سالہ مدت کے آخری 6ماہ پورے کررہے ہیں، وہ سندھ ایچ ای سی کے گزشتہ 7 سال سے چیئرمین بھی ہیں تاہم وہ ایک نجی جامعہ ضیاء الدین میڈیکل یونیورسٹی کے چانسلر ہیں۔ سندھ کی جامعات کے اساتذہ کا ایک حلقہ اس معاملے پر اختلاف رکھتا ہے اور نام نہ ظاہر کرنے پر کچھ اساتذہ نے خیال ظاہر کیا کہ اس سے مزیدتضاد جنم لیتاہے کہ کس طرح ایک نجی یونیورسٹی کاچانسلرسرکاری جامعات کے وائس چانسلرکے تقررکے لیے قائم تلاش کمیٹی کاسربراہ ہوسکتاہے جو خود نان پی ایچ ڈی بھی ہواورپی ایچ ڈی امیدواروں کاتقررکرے جبکہ اسی طرح سیکریٹری ایچ ای سی اورسیکریٹری یونیورسٹیزاینڈبورڈزدونوں بیوروکریٹس ہیں۔

واضح رہے کہ موجودہ سرچ کمیٹی میں اکثریت سابق وائس چانسلرزکی ہے جوفل پروفیسرکے ساتھ ساتھ پی ایچ ڈی ڈاکٹرزبھی ہیں۔ موجودہ سرچ کمیٹی کے کنوینرمہران انجینیئرنگ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرعبدالقدیر راجپوت ہیں جبکہ دیگراراکین میں جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرمحمد قیصر، سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے سابق وائس چانسلرڈاکٹراے کیومغل شامل اورشاہ عبدالطیف یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرنیلوفرشیخ ہیں جبکہ نان پی ایچ ڈی اراکین میں سابق بیوروکریٹ امتیازقاضی اورآرکیٹکچرحمیرسومروشامل ہیں، اس طرح کمیٹی کے مستقل اراکین میں 4 پی ایچ ڈی اور 3 نان پی ایچ ڈیز ہیں۔

اس معاملے پر ’’ ایکسپریس‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور تلاش کمیٹی کے متوقع سربراہ ڈاکٹر عاصم حسین سے رابطہ کیا تو انھوں نے اپنے منفرد انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر میرا تعلق نجی شعبے سے ہے تو گورنمنٹ اور پرائیویٹ سے کیا فرق پڑتا ہے، یہ 17 سے 18 افراد کا ٹولہ ہے، ہر یونیورسٹی کا اشتہار آتے ہی اپلائی کردیتا ہے وہی لوگ مخالفت کریں گے۔

نان پی ایچ ڈی کے معاملے پر ڈاکٹر عاصم کا کہنا تھا کہ پھر تو وزیر اعلی بھی نان پی ایچ ڈی ہیں وہ امیدواروں کے تقرر سے قبل انٹرویو کرتے ہیں انھیں بھی انٹرویو نہیں کرنا چاہیے۔

علاوہ ازیں ’’ایکسپریس‘‘کومحکمہ یونیورسٹیزاینڈبورڈزکے ذرائع نے بتایاکہ سیکریٹری یونیورسٹیزاینڈبورڈزمنصورعباس نئی تلاش کمیٹی کے قیام کے اصولی طورپر مخالف ہیں کیونکہ موجودہ کمیٹی پر وہ مکمل طورپر حاوی ہیں۔

’’ایکسپریس‘‘ نے اس معاملے پر اساتذہ کی تشویش کے ضمن میں جب فپواسا( فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن) سندھ چیپٹر کے سیکریٹری اور سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے فیکلٹی رکن آصف حسین سے اس سلسلے میں دریافت کیا تو ان کا کہنا تھا کہ فپواسا کا یہ مطالبہ ہے کہ سرچ کمیٹی کو revamp ہونا چاہیے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سربراہ ہی نان پی ایچ ڈی ہو۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس ادارے کے سربراہ کو ہی پبلک سیکٹر سے لایا جائے جو کسی بھی یونیورسٹی کا سینیئر پروفیسر ہو۔

The post نان پی ایچ ڈی سرچ کمیٹی کے قیام کی سفارش، اساتذہ اور تعلیمی حلقوں میں چہ مہ گوئیاں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3BvdCcp

محکمہ صحت کا چھاپہ، دولہے اور بارات کوویکسین لگادی

جھنگ: محکمہ صحت کی ٹیم نے دولہا کے گھر چھاپہ مار کر ہار وسہرا پہنے دولہے اور 110 باراتیوں کو ویکسین لگا دی۔

جھنگ کے علاقے شاہ جیونہ میں دولہا مظہر عباس ویکسین لگوائے بغیر بارات لے کر جانے لگا تھا کہ محکمہ صحت کی ٹیم پہنچ گئی۔

ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر ہیلتھ ڈاکٹر عاصم رضا شاہ کے مطابق ویکسینیشن سرٹیفکیٹس طلب کیے گئے تو معلوم ہوا کہ دولہے سمیت کم وبیش تمام افراد نے ویکسین نہیں لگوائی جس پر محکمہ صحت کی ٹیم نے موقع پر ہی دولہے اور مرد و خواتین سمیت 110افراد کو ویکسین کی پہلی خوراک لگائی۔

The post محکمہ صحت کا چھاپہ، دولہے اور بارات کوویکسین لگادی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3kcqfU3

امریکا کیساتھ مثبت بات چیت میں مصروف ہیں، معید یوسف

اسلام آباد / واشنگٹن: مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ امریکا اور پاکستان باہمی تعلقات پر چھائی ہوئی بداعتمادی کو دور کرنے کے لیے مثبت بات چیت میں مصروف ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2 روز قبل امریکی انڈر سیکریٹری دفاع برائے پالیسی کولِن کاہل نے سینیٹ پینل کو بتایا تھا کہ پاکستان، افغان سرزمین کو نہ صرف اپنے بلکہ دیگر ممالک کے خلاف بھی دہشت گرد، بیرونی حملوں کے لیے محفوظ ٹھکانے کے طور نہیں دیکھنا چاہتا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے ہمیں اپنی فضائی حدود تک رسائی جاری رکھی ہوئی ہے اور ہم یہ رسائی کھلی رکھنے کے لیے ان سے بات چیت کر رہے ہیں۔

ایک انٹرویو میں معید یوسف نے اس رائے سے اتفاق نہیں کیا کہ امریکا اور پاکستان تصادم کے راستے پر ہیں اور یہاں سے ان کے تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

امریکی نائب سیکریٹری خارجہ وینڈی شرمن کے حالیہ دورہ اسلام آباد کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ بداعتمادی ہے جس پر دونوں فریقین کو قابو پانا ہے اور ہم ایسا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ادھرامریکی انڈر سیکرٹر ی عذراضیا نے واشگٹن میں پاکستانی سفیر ڈاکٹر اسد مجید خان سے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان، امریکا کے ساتھ مشترکہ مفادات، اقدار اور دو طرفہ تعلقات کی مزید بہتری کیلئے مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے، انسداد دہشت گردی، انسانی حقوق کے تحفظ، مذہبی آزادی، اور انسانی ہمدردی کے تحت ، افغان عوام کی مدد کے حوالے سے دو طرفہ جاری مثبت بات چیت کو سراہتے ہیں۔

The post امریکا کیساتھ مثبت بات چیت میں مصروف ہیں، معید یوسف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3BwmTRe

پٹرولیم بحران؛ اوگرا کے 4 افسر اور آئل کمپنی کا چیف ایگزیکٹو گرفتار

لاہور: ایف آئی اے نے پٹرولیم مافیا کے خلاف گھیرا تنگ تنگ کردیا۔

لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی میں آپریشن کرتے ہوئے اوگرا کے 4 افسر ان اور آئل کمپنی کے چیف ایگزیکٹوکوگرفتار کرلیا ، ان پر غیر قانونی لائسنس دینے، پٹرول کی غیر قانونی امپورٹ اور ذخیرہ کرکے اربوں روپے کا نقصان پہنچا نے کا الزام تھا۔

ا یف آئی اے لاہورنے وفاقی حکومت کے احکامات پرجون 2020میں پیٹرولیم بحران پر درج ہونے والی انکوائریزکے بعد نجی پٹرول مارکیٹنگ کمپنیوں(فوسل انرجی اور عاسکر آئل) پر مقدمات درج کرکے متعدد افراد کو گرفتار کیا۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق ایف آئی اے لاہورنے سی ای او فوسل انرجی ندیم بٹ ،اوگرا کے ممبر گیس عامر نسیم ، ممبر آئل عبداللہ ملک اور منسٹری آف انرجی و پٹرولیم کے ڈی جی آئل شفیع اللہ آفرید ی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئل عمران ابڑو کو گرفتار کیا۔

اوگرا کے افسران نے غیر قانونی پیٹرولیم مارکیٹنگ لائسنس جاری کئے، منسٹری آف انرجی و پٹرولیم ڈویژن کے افسران نے ناجائز پیٹرولیم امپورٹ کوٹہ جاری کیا، پیٹرولیم مارکیٹنگ کمپنیز نے اوگرا کی آشیر آباد سے منظور شدہ پیٹرول پمپس سے زیادہ غیر قانونی پیٹرول پمپس کا ملک بھر میں جال بچھادیا۔

ملزمان کے خلاف باہمی ملی بھگت سے غیر قانونی پیٹرولیم مارکیٹنگ لائسنس، ناجائز پیٹرولیم امپورٹ کوٹہ اور غیر قانونی پیٹرولیم امپورٹس کی خریدوفروخت سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے اور اس سے کمائے جانے والے اربوں روپے کے ناجائز دھن کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے نے تمام گرفتار ملزمان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا ہے اور ان سے مذید تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔

The post پٹرولیم بحران؛ اوگرا کے 4 افسر اور آئل کمپنی کا چیف ایگزیکٹو گرفتار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3mCaKGB

NA133؛ پی ٹی آ ئی کے جمشید چیمہ کے کاغذ ات مسترد

لاہور: تحریک انصاف کوجھٹکا لگ گیا،این اے 133سے پی ٹی آئی کے جمشید اقبال چیمہ کے کاغذ ات نامزدگی پر لیگی امیدوار کے اعتراض کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے کاغذات مسترد کر دیئے۔

ریٹرننگ آفیسر نے فیصلے میں کہا جمشید چیمہ اور مسرت چیمہ کے تجویز کنندہ کا تعلق این اے 133سے نہیں، لیگی امیدوار شائستہ پرویز ملک نے جمشید اقبال چیمہ کے تجویز کنندہ پر اعتراض اٹھایا۔

وکیل نے کہا تجویز کنندہ محمد بلال ماڈل ٹاؤن این اے 130کا رہائشی ہے جبکہ الیکشن این اے 133میں ہو رہا ہے، تائید کنندہ اورتجویز کنندہ کے متعلق عدالت عظمی اور الیکشن کمشن کے فیصلے موجود ہیں، دونوں کو موجودہ حلقے سے ہونا چاہیے۔

متبادل امیدوار مسرت جمشید چیمہ کے کاغذات بھی مسترد ہو گئے۔دوسری جانب تحریک انصاف نے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کر دیا۔

علاوہ ازیں پی ٹی آئی رہنما اعجاز چودھری نے کہا ایک ووٹ اٹھا کر دوسری جگہ منتقل کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے ،ن لیگ تکنیکی کاموں کے پیچھے چھپنے کی کوشش نہ کرے،کارکن الیکشن کی تیاری رکھیں ہم انتخاب کے اندر موجود ہیں۔

دریں اثنان لیگ کے رہنمائوں خواجہ سعد رفیق،علی پرویز ملک و دیگر نے ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا مقبولیت کی دعویدار تحریک انصاف کو تجویز اور تائید کنندہ میسر نہیں ، امن و امان کو جواز بنا کر الیکشن کمیشن کو ضمنی انتخاب ملتوی کرنے کیلئے خط لکھنا ثابت کرتا ہے حکومت فرار چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن ملتوی نہیں ہونے دینگے،جب کوروناعروج پر تھا اس وقت ضمنی انتخابات ہوئے، شیڈول کے مطابق 5دسمبر کو انتخاب ہونا چاہیے ، این اے 133میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا کسی صورت اطلاق نہیں ہو سکتا۔

The post NA133؛ پی ٹی آ ئی کے جمشید چیمہ کے کاغذ ات مسترد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3bteFig

کالعدم تنظیم سے حکومت وعلماء کمیٹی کے مذکرات؛ مظاہرین کے خلاف ایک اور بھی مقدمہ

 راولپنڈی / کامونکی: کالعدم ٹی ایل پی کی قیادت سے حکومت اور علمائے کرام کی کمیٹی کے مذاکرات کا سلسلہ گزشتہ رات بھی جاری رہا جب کہ اسلام آباد سے لاہور براستہ جی ٹی روڈ زمینی رابطہ مسلسل گیاریویں روز منقطع ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کالعدم ٹی ایل پی کے اسلام آباد مارچ کا قافلہ وزیر آباد میں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے، اسلام آباد سے لاہور براستہ جی ٹی روڈ زمینی رابطہ مسلسل گیاریویں روز منقطع ہے، مظاہرین کو روکنے کے لیے جی ٹی روڈ پانچ مختلف مقامات راولپنڈی، چناب ٹول پلازہ، گجرات ، دریائے جہلم پل اور کینٹ چوک سے سیل ہے، اس کے علاوہ جہلم، بکرالا، سوہاوہ، بھائی خان پل اور گوجرخان سے بھی جی ٹی روڈ بند ہے تاہم پشاور سے اسلام آباد اور اسلام آباد سے لاہور موٹرویز پر ٹریفک معمول کے مطابق ہے۔

راولپنڈی میں غیر یقینی صورت حال برقرار

کالعدم ٹی ایل پی کی ریلی کو روکنے کے لئے کئے گئے اقدامات کی وجہ سے راولپنڈی میں 9 روز سے غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے، راولپنڈی میٹرو بس ٹریک کا کنٹرول. تاحال رینجرز و پولیس نے سنبھال رکھا ہے، میٹرو بس سروس اور پبلک ٹرانسپورٹ بند ہے، مری روڈ مسلسل پانچویں روز بھی فلیش مین چوک سے لیکر فیض آباد انٹر چینج تک مکمل سیل ہے، اس کے علاوہ فلیش مین چوک سے مریڑھ چوک اور فیض آباد تک تمام ملحقہ سڑکیں بھی مکمل بند ہیں۔ راولپنڈی راستوں کی مسلسل بندش سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہورہی ہیں جب کہ راستے سیل ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

مظاہرین کے خلاف کامونکی میں مقدمہ

کالعدم ٹی ایل پی کی ریلی کے شرکا اس وقت وزیر آباد میں موجود ہیں اور مارچ کے شرکا اپنے قائدین کی ہدایات کا انتظار کررہے ہیں۔ گزشتہ روز ہونے والی ہنگامہ آرائی پر رکن سندھ اسمبلی قاسم فخری اور کالعدم ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی سمیت 187 افراد اور 500 نامعلوم افراد کے خلاف تھانہ سٹی کامونکی میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ایس ایچ او عاصم شہزاد کی مدعیت میں درج مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ ملزمان نے پولیس ملزمان کو یرغمال بنایا اور سرکاری سامان بھی چھینا، نے راہگیر شہریوں سے بھی لوٹ مار کی،ملزمان نے اشتعال انگیز تقاریر کیں اور جی ٹی روڈ پر لگا جنگلہ بھی توڑ دیا۔

مزاکرات بھی جاری

ساری صورت حال کے باوجود کالعدم ٹی ایل پی کی قیادت سے حکومت اور علمائے کرام کی کمیٹی کت مذاکرات کا سلسلہ کزشتہ رات بھی جاری رہا، کالعدم تحریک لبیک اور حکومت کی نئی مذاکراتی ٹیم نے گزشتہ روز دو مرتبہ بات چیت کی۔

The post کالعدم تنظیم سے حکومت وعلماء کمیٹی کے مذکرات؛ مظاہرین کے خلاف ایک اور بھی مقدمہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3GzRuBj

قلعہ تُلاجہ…وادی سون کا 5 ہزار سال قدیم شہر

بلاشبہ تمام تہذیبیں مختلف مدارج کے ساتھ اپنے عروج و زوال کی داستانیں تاریخ کے اوراق میں محفوظ کرتے ہوئے ختم ہوتی چلی جاتی ہیں مگر ان کے آثار اور باقیات اُس تہذیب کی چاشنی سے ہمیں روشناس کرواتی ہیں۔

ہم اس تہذیب سے لے کر اپنے وقت کے تہذیب و تمدن کا جائزہ انہیں آثار اور باقیات سے کرتے ہیں۔ دنیا میں زمانہ قدیم سے مختلف اوقات میں مختلف تہذیبیں پرورش پاتی رہیں اور پھر گردش دوراں کا شکار ہو کر زوال پذیر ہوتے ہوئے دنیا کے منظرنامہ سے غائب ہوتی چلی گئیں۔ وادی سندھ کی تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک اور کسی صورت بھی بابل‘ عراق‘ فرات یا مصروروم کی تہذیبوں سے کم نہیں تھی مگر گردش دوراں کے اوراق پلٹ جانے سے تہذیب کہیں گم ہو گئی۔

پاکستان تہذیب اور ثقافت کے لحاظ سے خوبصورت رنگوں سے مزین ایک بھرپور ملک ہے، جہاں مختلف ثقافتوں کا خوبصورت امتزاج پایا جاتا ہے مگر حیف صد افسوس کہ عرصہ دراز گزارنے کے باوجود بھی پاکستان کے اس خوبصورت چہرے کی عکاسی کے لیے کوئی واضح اور مدلل کوشش نہیں کی گئی۔ پچھلے ادوار کی نسبت موجودہ حکومت نے تہذیب و ثقافت کی تصویر کو اُجاگر کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے اور سیاحتی نقطہ نظر کے ساتھ ساتھ ثقافتی زاویوں سے بھی پاکستان کی مثبت تصویر سیاحوں اور دنیا کے سامنے پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔

حکومت کی دلچسپی اس بات کی مکمل عکاس ہے کہ حکومتی ارباب اس ضمن میں پوری طرح آگاہ ہیں کہ سیاحت کو فروغ دینے سے نہ صرف ہم پاکستان کی مثبت تصویر دنیا کے سامنے رکھ سکتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سیاحتی صنعت کی ترویج سے ملکی معیشت اور روزگار کو بھی پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔

پاکستان تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف تہذیبوں کی آماجگاہ رہا ہے اور وادی سندھ کی تہذیب سے لے کر یونانیوں کی آمدکے اثرات تک اور بعدازاں مسلمانوں کی آمد کے ساتھ مسلم فنِ تعمیر سے لے کر ثقافتی اثرات تک بہت سے ادوار دیکھے ہیں۔ مزید برآں سکھ اور برٹش ثقافتی ورثہ بھی نمایاں اہمیت کے حامل ہیں اور ہماری شاندار تاریخ اور تہذیب کی عکاسی کرتے ہیں۔

موجودہ حکومت نے سیاحتی صنعت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ آثارِ قدیمہ کو بھی تلاش کرنے کے لیے خاطر خواہ کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور حکومت پنجاب کے ویژن کے مطابق اس ضمن میں مختلف پراجیکٹس چل رہے ہیں، جو آثارِ قدیمہ اور تاریخی ورثہ کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ اسی حوالے سے حکومتِ پنجاب نے ایک کمیٹی تشکیل دی، جن میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ آثار قدیمہ کی ٹیم ڈاکٹر محمد حمید کی زیرنگرانی شامل ہے اور نمایاں کام کر رہی ہے۔

وادیِ سون کی تہذیب اپنے نمایاںخدوخال اور ثقافت کی وجہ سے نمایاں ہے اور حکومتی سربراہی میں یہ کام مذکورہ تحقیقاتی ٹیم کے سپرد کیا گیا ہے کہ وہ تاریخ اور آثارِ قدیمہ کے حوالے سے اہم مقامات کا تعین کریں اور اس کی تاریخی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے اس کے تاریخی مقام کو بحال کرنے کی کوشش کریں۔ ڈاکٹر محمد حمید کی سربراہی میں شعبہ آرکیالوجی نہ صرف نندنہ فورٹ تک پہنچا بلکہ تُلاجہ فورٹ جیسی تاریخی اور ثقافتی جگہ کا بھی دورہ کیا۔

سالٹ رینج بنیادی طور پر کم اوسط کی اونچائی والے پہاڑوں کا سلسلہ ہے جو کہ دریائے سندھ کی وادی اور دریائے جہلم کے درمیان واقع ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ علاقہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ البیرونی نے اسی علاقے میں نندنہ کے قریب زمین کی پیمائش کا تجزیہ کیا تھا اوراسی علاقے میں موجود کئی قدیم معبد مختلف اقوام کے لیے مذہبی اہمیت کی حامل ہیں، جن میں بدھ مت کے سٹوپا اور ہندوؤں کے لیے کٹاس راج مندر اور بھی بہت سے اہم جگہیں شامل ہیں۔

وادی سون میں موجود بے شمار تاریخی اہمیت کے حامل مقامات میں سے تُلاجہ فورٹ یا قلعہ تُلاجہ ہے، جس کو حالات کے تھپیڑوں نے معدوم یا بالکل ختم کر دیا ہے، لیکن موجودہ حکومت کی کوششیں بار آور ثابت ہو رہی ہیں اور اس کی بحالی پر کام جاری ہے۔ تُلاجہ قلعہ یا شہر تک جس کو مقامی آبادی شہرِ گُمشدہ بھی کہتی ہے‘  تک ایک غیرہموار اور نا پختہ راستوں سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی پیدل مسافت سے پہنچا جا سکتا ہے۔  سبزے کے ساتھ ساتھ ایک خوبصورت ندی بھی اس علاقے کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتی ہے، جہاں سے لوگ اپنی پانی کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔

تُلاجہ قلعہ رکھ خور سے مشرق اور دربار بابا کچھی والا سے شمال مشرق میں واقع ہے۔ مقامی روایات قلعہ کو 5000 سال سے بھی زیادہ پُرانا بتاتی ہیں جبکہ مقامی آبادی کے مطابق اس کو منگولوں کی ریشہ دوانیوں سے بچنے کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ اس قلعہ کی تعمیر تکونی پتھروں کے ساتھ کی گئی اور مقامی روایات کے مطابق اس کا دروازہ ایک غار میں کھلتا تھا جس کو ایک بھاری پتھر کے ساتھ بند کر دیا جاتا تھا۔

جا بجا سکیورٹی چیک پوسٹیں موجود ہونے کے آثار اب بھی باقی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جلا ل الدین خوارزم شاہ منگولوں سے شکست کھانے کے بعد اس علاقے میں آ بسا اور اس کے بعد اس کے جنرل سیف الدین قرلاغ نے اس علاقے پر حکومت کی۔ اس علاقے کے لوگ دراز قد اور مضبوط جسم کے حامل ہیں جو کہ دنیا کے بہترین فوجیوں کا علاقہ ہے۔  جلال الدین خوارزم شاہ 1221ء میں منگولوں سے ہارنے کے بعد اس علاقے میں پہنچا اور مقامی کھوکھر سردار رائے سنگین کا دوست بنا اور یہاں اس قلعہ میں قیام پذیر ہوا۔ بعدازاں جلال الدین خوارزم نے یہ علاقہ بھی چھو ڑ دیا اور ایران کی طرف چلا گیا۔

اِن تمام تر سینہ بہ سینہ روایات اور تاریخی حقائق سے پردہ اُٹھانے کے لیے اس علاقے کی تفصیلی رپورٹ مرتب کرنے کے لیے شعبہ آثار قدیمہ جامعہ پنجاب نے تُلاجہ فورٹ پر تحقیقی کام شروع کیا۔ جس میں جامعہ پنجاب کے پروفیشنل ماہرین پر مشتمل ماہرین آثار قدیمہ‘ تاریخ دان‘ فوٹوگرافر‘ ڈرافٹسمین اور ماہرڈرون نے مسلسل کئی دِن تک اس قلعے کے مختلف حصوں کا سروے کیا اور روزانہ مشکل چڑھائی چڑھتے ہوئے اس جگہ کی خصوصیات کو ریکارڈ کیا ۔

تُلاجہ قلعہ کی تفصیلی پیمائش کی گئی۔ نمایاں آثار میں ایک مساوی پیمائش کی مسجد ہے، جس سے منسلک ایک مرکزی گلی اور قریبی چھوٹے اور بڑے گھر اور سب سے اہم ایک 30×30 میٹر کا تالاب دریافت کیا گیا۔ اس سارے عمل میں عمارتوں میں استعمال ہونے والے پتھروں کے سائز‘ اینٹوں کا استعمال اور آبادی کے مختلف حصوں کی بھی نشاندہی کی گئی۔ بعدازں اس سارے کام کی تفصیلی رپورٹ محکمہ سیاحت اور آرکیالوجی کے عہدیداران کو پیش کی گئی، جسے خوب سراہا گیا۔

تاریخی اعتبار سے تُلاجہ قلعہ ایک پہاڑی پر واقع ہے جس کے چاروں اطراف میں گہری کھائیاں ہیں جس کی وجہ سے اس قلعے کو قدرتی طور پر ایک مضبوط اور ناقابل تسخیر تصور کیا جاتا ہے۔ اس کا رقبہ تقریباً 22ایکڑ ہے اور اس جگہ پر رہنے والی آبادی تقریبًا200 سے زائد گھروں پر مشتمل تھی۔ یہ لوگ مکمل طور پر طرزِ زندگی کے تمام آداب سے واقف تھے ۔ قوی امکان ہے کہ بنیادی ضروریات کے ناپید ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی نے نقل مکانی اختیار کی اور یوں یہ قلعہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ اپنی تمام تر رعنائیوں سے محروم ہو گیا اور موجودہ آثار کی شکل میں موجود ہے ۔

اس قلعے سے متعلق کئی اہم رازوں اور سوالات سے پردہ اُٹھانا ابھی باقی ہے۔ مثال کے طور پر یہ قلعہ سب سے پہلے کب بنا ‘ کن لوگوں نے بنایا ‘ کون اس کے پہلے باسی تھے‘ کس مذہب کے پیروکار تھے‘ یہ قلعہ کتنے سو سال تک آباد رہا اور کن کن خاندانوں کے زیراثر رہا ‘ کتنی دفعہ اُجڑا اور آبادی ہوا  اور آخری نقل مکانی کب ہوئی؟ اب حکومتِ پنجاب کی کوششوں سے اس کی بحالی کے لیے کام کیا جا رہا ہے اور ڈاکٹر محمد حمید کی سربراہی میں کیے جانے والے کام کی حکومت پنجاب بھی معترف ہے۔

The post قلعہ تُلاجہ…وادی سون کا 5 ہزار سال قدیم شہر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3jSFZuV

سوشل لیڈرز سماجی ترقی کے سفیر

لیڈرشپ ایک بہت وسیع اور دل چسپ موضوع ہے۔ جدید ریسرچ نے اس کے کئی نئے پہلوئوں کو واضح کیا ہے۔

اسی کی ایک شاخ سوشل لیڈرشپ ہے۔ ہماری دُنیا میں اس وقت سوشل لیڈرز کی اشد ضرورت ہے۔ مذہبی اور سیاسی قیادت کی عالمی سطح پر پرفارمنس کے بعد اس چیز کو بڑی شدت سے محسوس کیا گیا کہ سوشل لیڈرز کیسے دُنیا میں تبدیلی لاسکتے ہیں؟

دُنیا کو ایسے لیڈرز کی ضرورت ہے جو رنگ، نسل، مذہب وملک کی تفریق کے بغیر انسانیت کی بھلائی اور معاشرتی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرسکیں۔ آج کے اس مضمون میں ہم سماجی قیادت کیا ہے؟ اس کا معاشرے میں کیا کردار ہے اور کون لوگ سوشل لیڈرز بن سکتے ہیں؟ پر تفصیلی گفتگو کریں گے۔

٭ سوشل لیڈرشپ کیا ہے؟
سوشل لیڈرشپ، لیڈرشپ کا ایک انداز ہے جو سماجی دُنیا کے لیے موزوں ترین ہے، آج ہم مسلسل بدلتی دُنیا میں رہتے ہیں۔ سماجی قیادت معاشروں میں حاصل کردہ اختیار کی ایک شکل ہے اور فرد کی ذاتی تشخیص کی بنیاد پر قائم ہے۔ یہ کسی بھی سماجی راہ نما کی رسمی اتھارٹی کو ایک درجہ بندی کے اندر تکمیل دے سکتی ہے، لیکن یہ ان لوگوں کے لیے بھی موزوں ہے جن کے پاس کوئی رسمی طاقت نہیں ہے۔

دُنیا بھر میں افراد اور ٹیموں کے لیے سماجی لیڈرشپ کی صلاحیت کو تیار کرنے کے لیے مختلف کورسز تیار کیے جاتے ہیں جن کا مقصد لوگوں کو سماجی دور کے ذریعے اُن کے سفر میں راہ نمائی فراہم کرنا اور اُن کو سماجی تعاون اور تخلیق کا تجربہ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی اپنی کمیونٹی کے روزمرہ کے کاموں، چیلنجوں کو حل کرسکیں۔

علاوہ ازیں سماجی راہ نما کی کسی تنظیم کو ترقی کی منازل طے کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ سماجی قیادت عاجزی، انصاف اور مہربانی پر بنائی جاتی ہے، لیکن یہ طاقت کی کوئی عام شکل نہیں ہے۔ یہ ایک طاقت ہے جو کمائی جاتی ہے اور اس کی وجہ سے اس کا بہت زیادہ وزن ہوتا ہے۔ یہ اعتماد سے بنائی گئی مضبوط عمارت ہے۔ ہم سب کے پاس علم اور تجربے کا قیمتی خزانہ ہے اور ہماری ذمے داری ہے کہ ہم اس علم اور تجربے کو ان لوگوں تک پہنچائیں جو اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اگر آپ بطور مینیجر کام کر رہے ہیں، مثال کے طور پر ٹیم لیڈر یا پراجیکٹ مینیجر۔ اگر آپ سنیئر مینجمنٹ سے لے کر مڈل مینجمنٹ تک کی تنظیم یا کمیونٹی ریسپونڈر کے رکن ہیں، تو سماجی قیادت کی صلاحیت آپ کو ایسی مہارتیں پیدا کرنے میں بھی مدد دے گی جو آپ کو انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں روایتی انداز سے کام کرنے سے بڑھ کر پرفارم کرنے کے لیے متحرک کرے گی تاکہ آپ دوسرے انسانوں کو زندگی میں آگے بڑھنے میں راہ نمائی کر سکیں۔

کیا آپ بھی سوشل لیڈرز بن سکتے ہیں؟ جی ہاں ہر وہ انسان جو معاشرے میں دوسرے انسانوں کے ساتھ سماجی تعلقات رکھتا ہے اور سماجی شعور کا حامل ہے وہ اپنے اندر چند بنیادی صلاحیتوں کو پروان چڑھا کر ایک بہترین سماجی لیڈر بن سکتا ہے۔

سماجی لیڈر کے لیے یہ چند صلاحیتیں ہونی چاہئیں۔ دوسرے لفظوں میں اپنی ذات کا SWOT تجزیہ کرنا ہے ۔اپنی بہترین مہارتوں کا پتا لگائیں۔ خاص طور پر جن پر آپ کام کرنا چاہتے ہیں ان کی شناخت کریں۔ایسی کمیونٹی کو تلاش کریں جس میں شامل ہوکر آپ اپنا خاص شعبہ میں نام ومقام حاصل کرتے ہیں۔اپنے رویے سے معاشرے میں مثبت اثر پیدا کریں۔اپنے ذاتی، مذہبی، علاقائی اور سیاسی اختلافات کو پس پردہ رکھ کر معاشرے کی بہتری کیلئے سماجی راہ نما بنیں۔

سماجی راہ نماؤں کے لیے کاروباری اور سماجی معاملات کو چلانے کے لیے ضروری مہارت، نقطہ نظر اور خود آگاہی سے روشناسی حا صل کریں۔

یاد رکھیں ہماری دُنیا کو سماجی راہنماؤں کی اشد ضرورت ہے۔ سماجی قیادت ایک ابھرتی ہوئی قیادت کا انداز ہے جو جدید معاشرے کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کیوںکہ سماجی راہ نما معاشرے میں مضبوط تعلقات قائم کرسکتے ہیں۔

ہم ڈیجیٹل تبدیلی کے درمیان راہ نماؤں کے ساتھ مزید ردِعمل اور مضبوط انسانی تعلقات کی توقع کرتے ہیں۔ اس سماجی دور میں، راہ نما نہ صرف اپنے ملازمین اور صارفین کے ساتھ حقیقی مکالمہ کرتے ہیں، بلکہ انہیں معاشرے میں اپنے کردار پر نظرثانی کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ سماجی راہ نما سماجی اثرات کی اسٹریٹجک قدر کو سمجھتے ہیں۔

اپنے پائے دار اہداف کو پورا کرنے کے لیے تنظیموں اور معاشروں کو ایسے سماجی راہ نماؤں کی ضرورت ہوتی ہے جن کے پاس کاروباری نتائج اور سماجی اثرات دونوں کو چلانے کے لیے مہارت، نقطہ نظر اور قابلیت ہو۔ سماجی راہ نما سمجھتے ہیں کہ مشترکہ قدر پیدا کرنے اور مثبت معاشرتی اثرات کے نتیجے میں کاروباری کارکردگی مضبوط ہوتی ہے۔ سماجی راہ نما دوسروں کی کام یابی کے لیے ضروری ماحول قائم کرتے ہیں۔

دُنیا علم کی کمی سے علم کی کثرت کی طرف بڑھ گئی ہے۔ اب یہ فرق نہیں پڑتا کہ میں وہ نہیں جانتا جو آپ جانتے ہیں لیکن اس سے فرق پڑتا ہے کہ آپ جو کچھ جانتے ہیں اس کے ساتھ آپ کیا کرسکتے ہیں۔ مواد پر مہارت اب کافی نہیں ہے۔ راہ نماؤں کو ان چیزوں کو فلٹر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو وہ سنتے، دیکھتے اور پڑھتے ہیں، مختلف نمونوں کو پہچانتے ہیں اور دوسروں کو کام یاب ہونے کے لیے موثر ترتیب دیتے ہیں۔ ہمیں مؤثر سماجی راہ نما بنانے کے لیے منظم منصوبہ سازی اور تنظیم سازی کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمیں تنظیموں کو اپنے سماجی مقصد کو اپنے لوگوں کے ذریعے زندگی میں حا صل کرنے میں مدد کرنی ہے۔ ہمیں ایک ایسی دُنیا بنانے میں مدد کرنی چاہے جہاں تمام تنظیموں کی قیادت ان لوگوں کی طرف سے کی جائے جو دوسروں کو عظمت کی طرف راغب کرتے ہیں۔ ایسے تجربات کے ذریعے جو لوگوں میں خود آگاہی پیدا کرتے ہیں، ان کے عالمی نقطہ نظر کو وسعت دیتے ہیں اور ان کی ہنرمندی کو تقویت بخشتے ہیں، ہمیں ایسے راہ نما تیار کرنے ہیں جو پوری تنظیم کو ایک مشترکہ مقصد کے گرد ترتیب دینے کے لیے تیار ہوں۔

٭ سماجی قیادت کس طرح ہماری قیادت کا انداز بدل رہی ہے؟
ایک وقت تھا، اور اب بھی ہے، جب جذباتی یا ہمدرد ہونے کو کمزور مہارت کے طور پر دیکھا جاتا تھا جس کا موثر انتظام میں کوئی مقام نہیں تھا۔ آج کے کاروباری ماحول میں، کام یاب قیادت میں تیزی سے پیچیدہ عوامل کو سمجھنے بلکہ راہ نماؤں کو نہ صرف ذہین اور مضبوط فیصلہ ساز ہونے کی ضرورت ہے، بلکہ ان کے پاس بہترین سماجی مہارتوں بھی ہونی چا ہیں۔

٭ سماجی قیادت کیوں ضروری ہے؟
ایک سماجی راہ نما ہونے کی حیثیت سے، سب سے پہلے، ہمیں یہ تسلیم کرنا کہ لوگوں کی ایک ٹیم ہے جو تمام فیصلوں، نظریات کی تخلیق اور نفاذ کے لیے ذمہ دار ہے۔ ایک راہ نما کے طور پر ’’میں‘‘ کی بجائے ’’ہم‘‘ کے ساتھ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ایک سماجی راہ نما ہونا صرف یہ جاننے سے زیادہ ہے کہ ہم ایک ٹیم ہیں، ایک سماجی راہ نما کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ٹیم کے اندر اعتماد، باہمی اشتراک اور احترام کیسے پیدا کیا جائے۔

ٹیم کے اندر یہ اقدار تمام اراکین کو خیالات کو تبادلہ کرنے یعنی مکالمہ کرنے اور تعاون کرنے بدولت ہی پروان چڑھے گا۔ ایسا ماحول ایک کھلی فضا پیدا کرے گا جہاں سے ہر ایک کو بدلتی ہوئی ہوا کے ذریعے راہ نمائی میں زیادہ حصہ داری حاصل ہوگی۔ تعلقات کی تعمیر اور کمیونٹی کے ذریعے سماجی قیادت کی مہارت حاصل کرنا، ایک مؤثر راہ نما بننا اور پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

کچھ لوگ بہت متاثر کن سماجی مہارتوں کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، جب کہ دوسروں کے لیے یہ ایک جدوجہد ہوسکتی ہے۔ لیڈر سماجی راہ نما کے طور پر پیدا ہوتا ہے یا نہیں، یہ ایک الگ سوال ہے ۔ لیکن سماجی مہارتیں سیکھی اور ان پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ کچھ کے لیے یہ مشکل ہوسکتا ہے، لیکن وہ ایک کام یاب ٹیم کو منظم کرنے کے لیے اہم مہارت رکھتے ہیں۔ بہت سی خصوصیات ہیں جو قدرتی سماجی راہ نماؤں میں ہوتی ہیں۔

ان میں چند کا ذکر مندرجہ ذیل ہے۔
احساس کا جذبہ: سماجی راہ نما دوسروں کا احساس اور ان کی فلاح وبہبود کا خیال رکھتے ہیں۔
تعاون: سماجی راہ نما یہ سمجھتے ہیں کہ فیصلے ایک ٹیم کے طور پر کیے جاتے ہیں اور وہ دوسروں کی رائے کا احترام کرتے ہیں۔
شفافیت: سماجی راہ نما اپنے ارد گر لوگوں کے ساتھ دیانت دار اور مستند ہونے کے قابل ہوتے ہیں۔
ہمدردی: سماجی راہ نما یہ دیکھنے کی اہلیت رکھتے ہیں کہ فیصلے دوسرے لوگوں پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں اور واقعات کو سمجھنے کے لیے دوسرے شخص کے نقطہ نظر سے استفادہ حاصل کرتے ہیں۔
خود آگاہی :سماجی راہ نما خود کو جاننے اور اپنی طاقت، کم زوریوں، احساسات اور اقدار کا جائزہ لینے کے قابل ہوتے ہیں۔
متوازن: سماجی راہ نما مشکلات حالات اور دبائو کے دوران متوازن رہتے ہیں۔
لوگ سے مضبوط تعلقات: سماجی راہ نما جانتے ہیں کہ لوگ اور رشتے کسی تنظیم کی ترقی کے لیے اہم ہوتے ہیں، اور تنظیم کے سماجی پہلو کو مضبوط بنانے کے لیے سخت محنت کرتے ہیں۔
ہمت: سماجی راہ نما درست کام کرنے کی جرأت اور قابلیت رکھتے ہیں، حالاںکہ یہ آسان نہیں ہوتا ہے۔
ان میں سے بہت سی خصوصیات اعلٰی سطح کی جذباتی ذہانت کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جو بہتر انتظام کے لیے اراکین کی بہتر کارگردگی کا باعث بن سکتی ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جن ملازمین کے پاس اعلٰی EQ کے مینیجرز تھے ان کی کمپنی چھوڑنے کے امکانات چار گنا کم تھے اور کمپنی کلچر کے بارے میں ان کے 70 فی صد سے زیادہ متاثر ان مینیجر کی جذباتی ذہانت کی سطح کے نتیجے میں ہوئے تھے۔

٭ تو کیا آپ سماجی راہ نما ہیں؟
یہ 10 سوالات کے ساتھ آپ کو ایک عام احساس ہوگا کہ آپ میں سماجی راہ نما کی خصوصیات ہیں یا نہیں اور اگر آپ انہیں اپنے قائدانہ اسٹائل میں استعمال کر رہے ہیں:
کیا آپ عام طور پر اپنے ملازمین پر مکمل کام کرنے اور صحیح کام کرنے پر اعتماد کرتے ہیں؟
کیا آپ مسائل سے قبل ازوقت بچائو کے طریقوں کے بارے میں سوچتے ہیں یا مسائل درپیش ہونے پر عمل کرتے ہیں؟
جب آپ کوئی فیصلے کرتے ہیں تو کیا دوسروں کے خیالات سننا پسند کرتے ہیں؟
کیا آپ تبدیلی پسند کرتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ چیزیں کیسے مختلف اور بہتر ہو سکتی ہیں؟
کیا آپ اپنے ملازمین کے ساتھ اقدار کو فروغ دینے اور انسانی عظمت کی حوصلہ افزائی کے لیے کام کرنا پسند کرتے ہیں؟
کیا آپ عام طور پر روشن پہلو دیکھنے کو تیار ہوتے ہیں؟
کیا آپ اپنی غلطیوں کی ذمے داری قبول کر سکتے ہیں؟
کیا آپ اپنے سے مخالف نقطہ نظر کے حامل افراد کے ساتھ بات چیت کرسکتے ہیں؟
کیا آپ انفرادی نقطہ نظر پر ٹیم کے نقطہ نظر کی قدر کرتے ہیں؟
کیا آپ گروپ کو آئیڈیاز اور مثبت نتائج کا کریڈٹ دینے کے قابل ہیں؟

اگر آپ نے ان میں سے بیشتر یا تمام سوالات کے ہاں میں جواب دیے ہیں تو آپ میں پہلے ہی سے سماجی راہ نما کی بہت سی خوبیاں موجود ہیں۔ ان سوالات کے لیے جہاں آپ کا جواب نہیں تھا، یہ جاننے کی کوشش کریں کہ یہ معیار آپ کے ساتھیوں کو کس طرح متاثر کرتا ہے۔

اگر یہ ایسی چیز ہے جسے آپ مزید ترقی دینے اور بہتر کرنے میں دل چسپی رکھتے ہیں تو، ان سوالات کو اپنی ٹیم کے ساتھ شیئر کریں اور دیکھیں کہ ان کے جوابات کیا ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ اس مشق کو اپنے لیے بھی استعمال کریں، تاکہ ان کی اپنی سماجی قیادت کی صلاحیت کا بھی جائزہ لیا جا سکے۔

سماجی راہ نما بننا ایک طویل اور مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔ ہم سب سماجی ہیں، لہٰذا ہر ایک میں سماجی راہ نما ہونے کے عناصر موجود ہوتے ہیں۔ لیکن اگر مذکورہ بالا سوالات کے بہت سے جوابات دوسری صورت میں بیان کیے گئے ہیں تو، کچھ چیزیں ایسی ہیں جن پر عمل کرکے کسی کو بھی بہتر سماجی راہ نما بنایا جا سکتا ہے۔ ایک سماجی لیڈر سننے اور سمجھنے کے قابل ہوتا ہے تاکہ دوسرے لوگ اس مسئلے کو تیزی سے اور آسانی سے آگے بڑھا سکیں۔ راہ نماؤں کو ملازمین سے اتفاق کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے اور ان کے پاس تمام جوابات بھی نہیں ہوتے ہیں، لیکن وہ سن سکتے ہیں اور مشورے دے سکتے ہیں۔

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ زیادہ تر لوگ کہتے ہیں کہ سپورٹیو باس کے لیے کام کرنا بہت زیادہ پیسہ کمانے سے زیادہ اہم ہے۔ ایسے لیڈر جو اپنے ملازمین کا خیال رکھتے ہیں وہ اُن پیداواری صلاحیت کو بڑھاتے ہیں۔ کام اور لوگوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ہم دردی سے سننا اور جواب دینا سیکھنا نہ صرف ایک بہتر لیڈر بننے کے لیے، بلکہ ٹیم کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے بہترین ذریعہ ہے۔

٭ پاکستانی معاشرے میں سماجی لیڈر، عملی مثالیں:
پاکستانی معاشرہ ایک متحرک اور منفرد معاشرہ ہے۔ اس میں کئی اہم اور مثبت پہلو ہیں جو اسے توانا رکھے ہوئے ہیں۔ صحت مند اور بھرپور معاشروں میں سماجی راہ نما وہ افراد ہوتے ہیں جو معاشرے کی اجتماعی فلاح و بہتری کے لیے رول ماڈلز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان میں عبدالستار ایدھی، ڈاکٹر روتھ فائو، ڈاکٹر ادیب رضوی، ڈاکٹر امجد ثاقب، دارالسکون کی سسٹر روتھ لوئیس اور ایسے بے شمار نام ہیں جنہوں نے اپنی گراں قدر خدمات سرانجام دیں ہیں۔

بنیادی طور پر اُن کے پاس کو مذہبی اور سیاسی اختیار اور عہدہ نہ تھا لیکن اُن کے خیالات کا اثر ضرور معاشرے پر مثبت اندازہ ہوتا۔ ہمیں اپنے معاشرے میں بہتری، ترقی اور رواداری اور بھائی چارے کو قائم کرنے کے لیے نوجوانوں کو سماجی قیادت کی افادیت سے آگاہ کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہمارا معاشرہ سماجی برائیوں کے خلاف ایک موثر، منظم اور مستحکم دیوار بن سکے۔

The post سوشل لیڈرز سماجی ترقی کے سفیر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3pSVGGr

بُک شیلف

سفر زندگی کا
مصنف: جسٹس (ر) بشیر ۔اے۔ مجاہد، قیمت:600 روپے، صفحات:240،

ناشر: بک ہوم، مزنگ روڈ ، لاہور (03014568820)


حالات کیسے بھی ہوں محنتی ، ذہین اور حوصلہ نہ ہارنے والے اپنی منزل تک پہنچ ہی جاتے ہیں، زندگی میں آنے والے نشیب و فراز ان کا سفر مشکل ضرور بناتے ہیں مگر سفر روک نہیں سکتے ۔ جسٹس (ر) بشیر۔ اے۔ مجاہد کی زندگی بھی ایسی ہی ہے، انھوں نے اپنی زندگی بلاکم و کاست سب کے سامنے کھول کر رکھ دی ہے ۔

جسٹس ( ر) خلیل الرحمان رمدے کہتے ہیں ’’ان کے والد محترم نے ان کو تعلیم حاصل کرنے کی ہدایت کی اور وہ بچہ علم کے حصول کے لئے روزانہ دس کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرتا کچھ عرصے کے بعد اس معصوم بچے کے ننھے منے پائوں تھک جاتے ہیں اور وہ اس تعلیمی سلسلے کو ترک کر دیتا ہے لیکن جلد ہی وہ تازہ دم ہو کر ایک نئے عزم اور ولولے کے ساتھ اپنا تعلیمی سفر دوبارہ جاری کر دیتا ہے۔

وسائل کی کمی اور ہمہ قسم کی دیگر مشکلات اور رکاوٹوں کا جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہوئے وہ بچہ بی اے اور پھر ایم اے کی ڈگری حاصل کرتا ہے۔ لنکنز ان سے بیرسٹر ایٹ لاء کی اعلٰی ڈگری حاصل کر کے وطن واپس لوٹتا ہے اور پیشہ وکالت سے منسلک ہو جاتا ہے۔ ان کی محنت ، قابلیت اور دیانت داری بھل لاتی ہے اور ان کو صوبہ پنجاب کی اعلیٰ ترین عدالت یعنی لاہور ہائیکورٹ کا جج مقرر کر دیا جاتا ہے‘‘۔

معروف صحافی میاں محمد اسلم کہتے ہیں ’’بشیر اے مجاہد کی زندگی ان نوجوانوں کے لیے روشنی کی کرن ہے جو اپنی ذاتی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس غیر منصفانہ نظام میں محدود وسائل کے ساتھ اپنا مقام بنانا چاہتے ہیں ۔

عام آدمی جو کچھ کرتا ہے وہ اسی گردوپیش کو قبول کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہے مشکلات کو بہانہ تو ہر شخص بنا سکتا ہے قابل ذکر صرف وہ شخص ہوتا ہے جو مشکلات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنی منزل کو پالے۔ بشیر احمد مجاہد بیرسٹری کے بعد برطانیہ ،کینیڈا اور امریکہ سیٹل ہو سکتے تھے مگر انھوں نے بیرون ملک تمام پرکشش مواقع رد کرتے ہوئے وطن واپس آنے کا فیصلہ کیا اور مستقل طور پر اپنے معاشرہ سے وابستہ رہے۔‘‘ یہ آپ بیتی نوجوان نسل کے لئے مشعل راہ ہے ۔ کتاب میں رنگین تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں ۔ مجلد کتاب کو مصنف کے عکس کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔

کیا کورونا کچھ نہیں؟
مصنف: محمد طاہر اشتیاق، قیمت:600 روپے، صفحات:148
ناشر: بک ہوم، مزنگ روڈ، لاہور 03014568820) (


کورونا کی وباء کیا پھیلی اس نے پوری دنیا کو بدل کر رکھ دیا ۔ حکومتوں کو مجبوراً لاک ڈائون کرنا پڑا تاکہ بھاگتی دوڑتی زندگی کو لگام دی جا سکے تاکہ تیزی سے پھیلتی ہوئی بیماری کو بریک لگ جائیں مگر اس سے نظام زندگی تلپٹ ہو کر رہ گیا ، معاشی پہیہ جو سو کی رفتار سے چل رہا تھا چیونٹی کی چال چلنے لگا ، وباء کا شکار ہو کر دنیا سے جانے والے تو چل دیئے مگر زندوں کو زندہ رہنا مشکل ہو گیا ۔

جو تندرست تھے وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو گئے ، روزانہ کمانے والوں کے لئے چولہا جلانا مشکل ہو گیا ۔ مگر ہمارے معاشرے میں پھر بھی ایک طبقہ ایسا ہے جو ابھی تک کورونا کی وبائی حیثیت کو ماننے کے لئے تیار نہیں بلکہ اسے اغیار کی سازش قرار دیتا ہے۔ زیر تبصرہ ناول بھی اسی صورتحال سے متاثر ہو کر لکھا گیا ہے ۔ یہ ایک خاندان کی کہانی جس میں ایک شخص اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے کورونا کا شکار ہو جاتا ہے۔ حتی کہ گھر والوں کی بات بھی نہیں مانتا۔ علاج میں ٹال مٹول سے کام لیتا ہے جس کا نتیجہ بالآخر موت کی صورت میں نکلتا ہے۔

یوں اس کی لاپروائی کی وجہ سے اس کا خاندان بے آسرا ہو جاتا ہے۔ موجودہ حالات میں اس ناول کا لکھا جانا بہت ضروری تھا کیونکہ ادب ہی معاشرے کی سمت کا تعین کرتا ہے۔ مصنف کی یہ کاوش لائق تحسین ہے ۔ کیونکہ اس سے ہمارے معاشرتی رحجانات کی بھرپور عکاسی ہو رہی ہے۔ ناول کے شوقین قارئین کو اس کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیئے ۔ مجلد کتاب کو خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے ۔

اپنی شوگر اپنا علاج
مصنف : فیاض احمد قادری، قیمت:400 روپے، صفحات:103
ناشر: بک ہوم، مزنگ روڈ ، لاہور 03014568820) (

بیماری کوئی سی بھی ہو تکلیف کا باعث ہے، معمولی سے سردرد کو ہی لے لیں، زندگی کے معمولات بدل کر رہ جاتے ہیں اور انسان اس تکلیف سے چھٹکارہ پانے کے لئے ہر ممکن طریقے اپناتا ہے ۔ جبکہ شوگر تو ایسی بیماری ہے جو بہت سی بیماریوں کا باعث بنتی ہے، جس شخص کو شوگر کی بیماری لاحق ہو جائے تو اس کی زندگی کے طور طریقے ہی بدل جاتے ہیں کیونکہ شوگر میں جتنا زیادہ پرہیز کیا جاتا ہے اتنا ہی بہتر خیال کیا جاتا ہے، یوں شوگر کا مریض پرہیز کی وجہ سے عام لوگوں کی طرح کھا نے پینے سے بھی دور ہونے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ مریض کے عزیز و اقارب بھی اس کے پرہیزی کھانے کی طرف توجہ دلاتے رہتے ہیں ۔

مصنف ایک سرکاری ادارے سے ریٹائر ملازم ہیں ، یہ ان کی کوئی پہلی تصنیف نہیں، وہ اس سے قبل ’’میں اور میرا گائوں ‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھ چکے ہیں جو پسند کی گئی ۔ زیر تبصرہ کتاب لکھنے کا خیال انھیں اس وقت آیا جب وہ شوگر کے مرض میں مبتلا ہوئے اور پھر صحتیاب ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ شوگر جیسے موذی مرض سے چھٹکارہ پانے کے بعد انھیں فکر لاحق ہوئی کہ اپنے تجربات کو دوسروں سے بھی بانٹا جائے تاکہ دوسرے بھی اس سے مستفید ہو سکیں ۔ ان کی سوچ بہت مثبت ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے پوری روداد بیان کی ہے کہ کیسے وہ اس بیماری سے لڑتے رہے۔

انھوں نے ڈاکٹر ہوتے ہوئے بھی اس بیماری پر خود تحقیق کی جس کا ذریعہ انٹرنیٹ بنا اس کے علاوہ مختلف رسالے بھی ان کے زیر مطالعہ آئے ۔ دنیا بھر کی تحقیق ان کے سامنے تھی ۔ مصنف اس کتاب میں اپنی تحقیق کو بھی قاری کے سامنے رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ قاری کو خود تحقیق کرنے کو موقع بھی دیتے ہیں جس کے لئے انٹرنیٹ کے لنگ بھی دیئے گئے ہیں ، شوگر کنٹرول کرنے کے دیسی طریقے بھی بیان کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ورزشیں بھی بتائی گئی ہیں جو کافی مفید ہیں ۔ شوگر کے مریضوں کو اس کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔

ڈھاکہ! میں آئوں گا (ناول)
مصنف : سہیل پرواز ، قیمت :900 روپے
ناشر : بک کارنر، جہلم ، رابطہ : 03215440882


ناول نگار ایک ادبی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔ زندگی کے کئی برس پاک فوج کا حصہ رہے۔ اس دوران ریڈیو، ٹی وی اور اخبارات کے لئے لکھتے رہے لیکن محدود انداز میں۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ میں گئے تو کھل کر لکھنا شروع کر دیا اور پھر بطور میجر ریٹائر ہوئے۔ بعدازاں میڈیا سے کل وقتی منسلک ہوئے۔ ریڈیو اور ٹی وی کے لئے ڈاکومنٹریز اور قومی اردو ، انگریزی اخبارات کے لئے کالم لکھتے رہے۔

پاکستان کے حالات پر انگریزی ناول The Cornered Rogue لکھا ۔ اردو میں ایک سرگزشت لکھی ’ جو تنہا کر گئی مجھ کو‘۔ اور اب یہ زیرنظر ناول، جس کا عنوان ہی اس کا بنیادی تعارف ہے۔

مصنف اپنے ناول کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’اس ناول میں نہ تو سیاست کی جزئیات کو چھیڑا گیا ہے اور نہ ہی فوجی آپریشنز پر پیشہ وارانہ بحث کی گئی ہے۔ اس میں صرف اس حقیقت پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ ایک بنگالی بھی اتنا ہی محب وطن ہو سکتا ہے جتنا کہ کوئی پنجابی، پشتون، سندھی اور بلوچ … کہانی بنیادی طور پر تین موضوعات کا احاطہ کرتی ہے، وطن سے محبت، ذات سے محبت اور ناقابل یقین عزم و استقامت کا مظاہرہ۔ کہانی میں چند مختصر کہانیاں اور دیگر واقعات ساتھ ساتھ چلتے ہیں جو اس کہانی کو مہمیز کرتے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ المیہ مشرقی پاکستان کے بعد جنم لینے والی دو نسلیں جنھیں سقوط ڈھاکہ کے بارے سچ نہیں بتایا گیا یا سرے سے اندھیرے میں رکھا گیا ہے، یہ ناول پڑھ کر نہ صرف اہل بنگال کے بارے میں اپنے ذہنوں میں پلنے والے شکوک و شبہات اور دلوں میں جنم لینے والی بدگمانیوں دور کر لیں گے بلکہ ان کے دلوں میں نرم گوشہ بھی پیدا ہو گا۔ پاک فوج کی بھی سن اکہتر کے حوالے سے جس طرح چند مخصوص حلقوں نے تضحیک کی یا اب بھی کوئی موقع جانے نہیں دیا جاتا، اس کا بھی بہت حد تک مداوا ہوگا ۔‘‘

اس ناول کا ہیرو ایک سچا محب وطن بنگالی گوریلا افسر ہے۔ اس کے احساسات بھی ثابت کرتے ہیں کہ وطن سے محبت کسی کی میراث نہیں ہوتی ۔ اس ناول میں کئی ایسے خوبصورت اتار چڑھائو آتے ہیں کہ پڑھنے والا سرزمین بنگال میں پلنے والی کہانیوں کا حصہ بننے کے لئے مچلتا ہے۔ بڑے عرصہ بعد مشرقی پاکستان کے تناظر میں ایسا شاندار ناول دیکھنے کو ملا ۔ آپ ضرور پڑھئے گا ۔

اشرافیہ اور عوام
مصنف : سعید آسی ، قیمت : 1500 روپے
ناشر : قلم فائونڈیشن انٹرنیشنل ، یثرب کالونی ، بینک سٹاپ ، والٹن روڈ، لاہور کینٹ ، رابطہ :0300 0515101

سعید آسی صف اول کے سینئر صحافی ہیں۔ انھوں نے ساری زندگی اسی شعبے میں بسر کی ۔ 70ء کی دہائی سے صحافت کا آغاز کیا۔ طویل عرصہ ’ نوائے وقت ‘ میں گزارا۔ اس دوران شاعری بھی کرتے رہے اور کالم بھی لکھتے رہے۔ بلامبالغہ ہزاروں کالم لکھے۔ زیر نظر مجموعہ میں ان کے صرف ڈیڑھ سو سے کچھ زیادہ کالم شامل ہیں۔

مصنف لکھتے ہیں : ’’آئین اور قانون کے تحت قائم کسی سسٹم پر مجھے انسانی نخوت و تکبر حاوی ہوتا نظر آتا ہے تو میرا قلم بھی اس پر سراپا احتجاج بن جاتا ہے۔ میں نے اپنے قلم کے اس احتجاج کو ہی اپنے منتخب کالموں کے نئے مجموعہ ’ اشرافیہ اور عوام ‘ کے صفحات میں سمویا ہے۔

جس عرصے کے دوران یہ کالم لکھے گئے اس میں کورونا وائرس کی غضب ناکیوں سے انسانی معاشروں اور معیشتوں میں رونما ہوتی اتھل پتھل کے مناظر بھی شامل ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے ریاست مدینہ کی طرز پر پاکستانی معاشرہ تشکیل دینے کے دعوئوں کے برعکس انسانی کسمپرسی اور بے حالی و بدحالی کے اندوہناک مناظر بھی اسی عرصہ کا خاصہ بنے ہیں جس کی جھلک آپ کو ’’ اشرافیہ اور عوام‘‘ میں شامل میرے کالموں میں نظر آئے گی۔‘‘

زیرنظر کتاب کے بارے میں عطاالحق قاسمی لکھتے ہیں :’’ سعید آسی کالم لکھتا ہے جس سے اتفاق بھی کیا جاتا ہے اور اختلاف بھی۔ اس کا تعلق میڈیا کی لفافہ کلاس سے نہیں ہے۔ اس کی اپنی کلاس ہے اور یوں سعید آسی اپنی ’’ کیتی کرائی‘‘ کا خود ذمہ دار ہے۔‘‘ مجیب الرحمن شامی کی رائے میں بھی ’’سعید آسی سو فیصد دیانت دار صحافی ہیں جنھوں نے متانت اور وقار کے ساتھ زندگی گزاری ہے اور مجید نظامی کی مسند پر بیٹھنے کا حق ادا کر دیا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ ہم اس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جس میں سعید آسی بھی شامل ہے۔ سعید آسی نے اپنے کالموں میں ہمیشہ یہ پیغام دیا کہ امید کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑو ۔‘‘

رہ نوردان شوق
مصنف : محمد الیاس کھوکھر ایڈووکیٹ، قیمت : 600 روپے
ناشر: مکتبہ فروغ فکر اقبالؒ ،970 نظام بلاک ، اقبال ٹائون لاہور ۔ رابطہ : 03328076918
مصنف درد دل رکھنے والے انسان ہیں، اور انسانوں کی حالت زار پر شب و روزکڑھتے ہیں، غور وفکر کرتے ہیں، مسائل کا تذکرہ کرتے ہیں ، ان کا حل بتاتے ہیں ۔ درجن بھر کتابوں کے مصنف ہیں ۔ ’’ بوستان اقبال‘‘ ،’’ اقبال کا ایوان دل‘‘ ، ’’آیات الٰہی کا نگہبان‘‘ ، ’’دیدہ دل‘‘ ، ’’دن جو گزر گئے‘‘ ، ’’تو کجا من کجا ‘‘ ، ’’پدر جان پسر‘‘ ، ’’نوائے پریشان‘‘ ، ’’مرضی خدا کی‘‘ ، ’’ نور کی داستان‘‘ ، ’’ سن مجھ سے داستان میری‘‘ اور زیر نظر کتاب ۔ ان کی یہ سب تصانیف دل درمند کی آوازیں ہیں ۔

مصنف مسلسل تڑپتے ہیں کہ حالانکہ یہ دور نبوت محمدی ﷺ ہے ۔ رسالت محمدیﷺ جاری و ساری ہے، نور کا ایک روان کبیر ہے جو مسلمانوں کے دلوں کی کھیتیوں کو آج بھی سیراب کر رہا ہے، تاہم ایسے مردان عظیم کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے جو اللہ کے آخری پیغمبر ﷺ کی نیابت کا حق ادا کر سکیں ۔ جو چند ایک تھے یا ہیں، ان کا تذکرہ زیر نظر کتاب کے مختلف ابواب کی صورت میں قارئین کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔

بقول مصنف :’’ میں نے مے خانہ محمدیﷺ کے چند شعلہ آشاموں کو اس کتاب میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے … نظریاتی اعتدال ان سب شخصیات کا حسن ہے جن کا میں گرویدہ ہوں ۔ جس منزل تک ہمیں پہنچنا ہے اس منزل کے راستوں میں لگے ہوئے یہ خوش نصیب انسان سنگ میل ہیں ۔ یہ سمندر میں لگے ’’ لائٹ ہائوس ‘‘ ہیں جنھیں دیکھ کر جہاز اپنی منزل کا تعین کرتے ہیں ۔‘‘ ان رہ نوردان شوق میں علامہ محمد اقبال، غازی علم دین ، مولانا طارق جمیل ، محمد متین خالد ، علامہ خادم رضوی ، سید قطب ، مولانا محمد اکرم اعوان ، ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم ، سرور قریشی ، اعجاز الحق ملک اور مصنف کے والد محترم ہیں ۔

کتاب ایک منفر انداز میں لکھی گئی ہے ، جو یقیناً ہر پڑھنے والے کی برسوں کی تشنگی دور کرے گی اور اسے ایک عجب جذبے سے سرشار کرے گی جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا مطلوب ہے اور موجودہ انسانوں کی ضرورت۔

کتاب: خلا کے اُس پار سفر
مترجم: محمد عبدہ، ناشر: گرین ہارٹ پبلشرز، فیصل آباد
قیمت: 900، صفحات: 436، سن اشاعت: 2021،


ترجمہ نگاری ایک بڑا فن ہے۔ترجمہ نگار پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ناصرف پورے مضمون کو ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کر کے آپ کے سامنے رکھتا ہے بلکہ اس مضمون کو آپ ہی کی زبان میں اس طرح سے بیان کرتا ہے گویا قاری کو یہی گمان ہوتا ہے کہ یہ کتاب اسی کی زبان میں لکھی گئی ہے۔ یہی ایک بڑے ترجمہ نگار کی کامیابی ہے کہ اصل مصنف کا بیان کردہ پورا مدعا آپ کے سامنے آپ ہی کی زبان میں رکھتا ہے کہ کتاب میں روانی بھی خوب رہے اور مصنف کی کہی ہوئی بات بھی آپ تک پہنچ جائے۔

ان تمام ذمہ داریوں کو محمد عبدہ نے ایرک شپٹن کی کتاب Blank on the Map کا اردو زبان میں ترجمہ کر کے بہ خوبی پورا کیا ہے۔ انگریزی زبان میں لکھی گئی کتاب کا نام اس کتاب کے اسلوب و بیاں کو مدِنظر رکھتے ہوئے اردو میں مترجم نے ”خلا کے اُس پار سفر” منتخب کیا۔ یہ کتاب احاطہ کرتی ہے اس تمام سفر کا جو مصنف نے اپنی ٹیم، دارجلنگ کے سات شرپا اور سکردو کے چند قلیوں کی مدد سے کیا۔

یہ سفر دراصل 1937 میں کیا گیا۔ اس سفر کی خاص بات یہ تھی کہ تب ایرک اور اس کی ٹیم کے پاس کوئی نقشے نہ تھے اور اس ٹیم کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا K-2 کے شمال اور شمال مغربی حصے میں موجود گلیشئیائی نظام کو سمجھا جائے، گزرگاہوں کے نقشے بنائے جائیں، دریائے شکسگام کے منبع اور اس کی گزرگاہوں کو تلاش کی جائے اور درہ آغیل کے اصل جغرافیائی مقام کا تعین کیا جائے۔

یہ کتاب ایک سفر نامہ سے زیادہ تحقیق پر مشتمل ہے۔ گلگت بلتستان کے آج بھی بہت سے مقامات ایسے ہیں جن کے بارے لوگ بہت کم جانتے ہیں، ان تمام جگہوں کے بارے یہ کتاب مکمل معلومات رکھتی ہے۔ ایک خوشگوار حیرت یہ بھی ہے کہ 1937 میں بنا کسی ٹیکنالوجی کے ایرک نے ان تمام علاقوں کے جو نقشے بنائے، معلومات فراہم کیں وہ آج بھی نا صرف درست مانی جاتی ہیں بلکہ بڑی مہمات پر جانے والے اس کتاب سے بھرپور استفادہ بھی کرتے ہیں۔ پہلے ایک غیر ملکی زبان ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ اس سے استفادہ نہیں کر پا رہے تھے۔

اسی بات کو مترجم محمد عبدہ نے سمجھا اور کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا۔ محمد عبدہ خود بھی ایک مایہ ناز ٹریکر ہیں اور بہت سے غیر ملکی ان کی سربراہی میں مختلف مہمات سر انجام دے چکے ہیں۔ کتاب کے آخری دو ابواب خصوصی طور پر مجھ جیسے بہت سے ان طلباء کے لئے شامل کئے گئے ہیں جو تحقیق، تاریخ اور معلومات تینوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان دونوں ابواب میں پوری مہم کی نقشہ سازی اور ارضیاتی تحقیق کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں ٹیم کے کام کرنے کے طریقہ کار کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ معلومات اور تحقیق کے علاوہ اس کتاب کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ اس کتاب میں 1937 کے گلگت بلتستان کی وادیوں، دریاؤں اور موسموں کو بیان کیا گیا ہے۔ اب یقیناً بہت کچھ بدل چکا ہے۔

کیا اب کبھی تار کول سے بنے پُل پر سے دریائے شگر کو چند سیکنڈوں میں پار کرتے ہوئے آپ نے سوچا ہے کہ دریائے شگر پر کبھی یاک کے بالوں سے بنا ہوا پل تھا اور دریا کو اسی پُل کی مدد سے پار کیا جاتا

تھا۔ ایسی بے شمار خوشگوار باتیں پڑھنے کو آپ کو اس کتاب میں ملیں گی۔ اس لئے آپ کو یہ کتاب پہلی فرصت میں ہی پڑھنی چاہئے۔

The post بُک شیلف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2ZI6r3H

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...