Urdu news

Tuesday, 30 November 2021

این سی او سی کا ویکسینیشن کے حوالے سے سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ

 اسلام آباد: این سی او سی نے ویکسینیشن کے حوالے سے سخت اقدامات کرنے فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ویکسینیشن ٹیموں کو مختلف عوامی مقامات پر تعینات کیا جائے تاکہ موقع پر موجود افراد کو ویکسین لگائی جا سکے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات اسد عمر کی زیرصدارت این سی اوسی کا اجلاس ہوا، نیشنل کوآرڈینیٹر میجر جنرل محمد ظفر اقبال، معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان، اور صوبائی وزراء صحت اور چیف سیکرٹریز نے ورچوئل شرکت کی۔

اجلاس میں گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں وبائی مرض کے چارٹ کے اعداد و شمار، قومی ویکسین کی حکمت عملی اور ملک بھر میں بیماری کے پھیلاوٴ کی روک تھام سے متعلق اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا، فورم کو کوویڈ کے مثبت کیسز کی شرح، بیماری کے پھیلاوٴ، اموات کی تعداد اور نئے داخلوں کے بارے میں بتایا گیا، فورم نے شہروں کے لحاظ سے کوویڈ ویکسینیشن کے مجموعی پراسز پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔

این سی او سی کے مطابق فورم نے تین کیٹیگریز کے لیے بوسٹر ڈوز ایڈمنسٹریشن کی منظوری دے دی، ان کیٹیگریز میں ہیلتھ کیئر ورکرز، 50 سال سے اوپر اور امیونو کمپرو مائزڈ شامل ہیں، یہ خوراک مفت ہوگی اور اسے ویکسین کی آخری خوراک کے 6 ماہ بعد دیا جا سکتا ہے۔

فورم کا ویکسینیشن کے حوالے سے سخت اقدامات کرنے پر اتفاق ہوا، ویکسی نیشن ٹیموں کو مختلف عوامی مقامات پر تعینات کیا جائے تاکہ موقع پر موجود افراد کو ویکسین لگائی جا سکے، آج یکم دسمبر سے خصوصی مہم چلائی جائے گی، فورم نے صوبوں اور متعلقہ حکام کو ویکسینیشن کے حوالے سے زیرو ٹالرینس کی پالیسی کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا کہ تمام صوبے ویکسینیشن کے اہداف حاصل کرنے کے لیے فوری طور پر ویکسینیشن آوٴٹ ریچ مہم شروع کریں گے۔ اجلاس میں صوبائی نمائندوں نے کورونا وائرس کی نئی قسم پر توجہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا، اور ویکسینیشن کی صورتحال اور تارکین وطن کی جانچ کے لیے ہوائی اڈوں پر ضروری اقدامات کرنے کی تجویز دی۔

این سی او سی کا کہنا ہے کہ جنہیں دوسری خوراک نہیں ملی ہے ان لوگوں تک پہنچنے کے لیے کال سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، ملک بھر میں کل 40 کال سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، ویکسین کی دوسری خوراک کو یقینی بنانے کے لیے ان نمبروں میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔

 

The post این سی او سی کا ویکسینیشن کے حوالے سے سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3d81qog

کراچی میں گاڑی پر فائرنگ سے وکیل ہلاک

 کراچی: گلستان جوہر بلاک 13 میں گاڑی پر فائرنگ سے وکیل ہلاک ہوگیا۔

فائرنگ کے واقعے کی اطلاع پر پولیس افسران موقع پر پہنچ گئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے لاش کو اسپتال منتقل کیا۔ جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت 40 سالہ عرفان کے نام سے کی گئی۔

مقتول عرفان علی پیشے کے لحاظ سے وکیل اور سندھ بارکونسل میں سیکریٹری تھا۔ مقتول عرفان بچوں کو اسکول چھوڑ کر واپس گھر جارہا تھا کہ موٹر سائیکل سوار ملزموں نے اسے قتل کیا۔ مقتول کو چہرے پر بہت قریب سے 3 گولیاں ماری گئیں۔ پولیس کو جائے وقوع سے 30 بور پستول کے 3 خول ملے ہیں۔

موٹرسائیکل سوار ملزمان نے ہیلمٹ پہن رکھا تھا اور مقتول سے کوئی لوٹ مار نہیں کی۔ واقعہ ابتدائی طور ٹارگٹ کلنگ یا ذاتی دشمنی کا لگتا ہے۔

ایس ایس پی ایسٹ قمر رضا جسکانی نے بتایا کہ گاڑی میں مقتول عرفان مہر کے ہمراہ ان کا بھتیجا بھی موجود تھا جو معجزانہ طور پرمحفوظ رہا۔

فائرنگ کی سی سی ٹی وی فوٹیج ایکسپریس نیوز نے حاصل کر لی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مسلح ملزمان نے اطمینان سے گاڑی پر فائرنگ کی اور فرار ہوئے، واقعہ موٹر سائیکل پر اسکول جاتے طالب علموں کے سامنے ہوا، مسلح ملزمان نے وکیل پر متعدد گولیاں چلائیں۔

The post کراچی میں گاڑی پر فائرنگ سے وکیل ہلاک appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3DbA8aQ

شادی میں آتشزدگی کے باوجود مہمانوں کی دعوت اڑانے کی ویڈیو وائرل

مہاراشٹر: بھارت کی شادی میں آتشزدگی کے باوجود مہمانوں کی جانب سے دعوت اڑانے کے عمل کی ویڈیو وائرل ہورہی ہے۔

مہاراشٹر کے شہر بھوانڈی میں شادی کی ایک تقریب میں برابر کے ہال یا غالباً اسی ہال میں لگنے والی آگ سے جہاں کچھ لوگ مضطرب ہوئے وہیں دو افراد کو قورمہ کھاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

اس ویڈیو میں دعوت میں شریک ایک شخص پیچھے مڑکر دیکھتا ہے لیکن اس کے باوجود مفت کی دعوت کا سلسلہ جاری رکھتا ہے۔ مجموعی طور پر اس ویڈیو میں دو افراد کھانا کھاتے نظر آرہے ہیں۔

اخباری ذرائع کے مطابق یہ آگ پٹاخوں سے لگی جس سے کئی لوگ خوف کے شکار ہوئے لیکن دو افراد نے کھانا نہیں روکا اور اپنی آتشِ شکم کو بجھانے کا عمل جاری رکھا۔

اس شدید آگ کی لپیٹ میں دو موٹرسائیکل، میز اور کرسیوں سمیت پردے اور ٹینٹ جل کر خاک ہوگئے۔ آگ اتنی بڑھ گئی کہ چار فائرٹینڈروں کی مدد سے آس آگ پر قابو پایا گیا تھا۔

The post شادی میں آتشزدگی کے باوجود مہمانوں کی دعوت اڑانے کی ویڈیو وائرل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3EcDYCa

جلد کی رنگت دیکھ کر کولیسٹرول کا پتا لگانے والی ٹیکنالوجی

بیجنگ: موٹاپے اور دل کے مریضوں کو مسلسل اپنے کولیسٹرول پر نظر رکھنا ہوتی ہے۔ لیکن اب چینی ماہرین نے ایسی ٹیکنالوجی پیش کی ہے جو کسی تکلیف اور ٹیسٹ کے بغیر صرف جلد دیکھ کر خون میں کولیسٹرول کی مقدار کا بہت حد تک درست اندازہ لگاسکتی ہے۔

چینی اکادمی برائے سائنس اور جامعہ سائنس و ٹیکنالوجی نے مشترکہ طور پر ایک بہت سادہ طریقہ وضع کیا ہے۔

اس میں کم استعمال ہونے والے ہاتھ کو الکحل کے پھائے سے صاف کیا جاتا ہے۔ پھر صاف کردہ جگہ پر ایک چھلا چپکایا جاتا ہے۔ اس کے بعد ہاتھ کو اسکیر پر رکھا جاتا ہے تاکہ چھلا اسکینر کے ساتھ فٹ ہوجاتا ہے۔ واضح رہے کہ کم استعمال ہونے والا ہاتھ نرم ہوتا ہے جسے پڑھ کر’کولیسٹرول‘ کا اندازہ لگانا آسان ہوتا ہے۔

جس طرح جلد سے روشنی ٹکراکر بکھرتی یا جذب ہوتی ہے عین اسی طرح روشنی کی خاص طیفی (اسپیکٹرل) کیفیت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ پھر اسی چھلے والی جگہ پر ایک مائع کیمیکل لگایا جاتا ہے۔ اب دوبارہ جلد کو اسکین کیا جاتا ہے۔

اگر جلد میں کولیسٹرول کی معمولی مقدار بھی ہو تو وہ اس کیمیکل سے چمکنے لگتی ہے اور یوں جلد کی روشنی کا طیف بدل جاتا ہے۔ اب پہلے اور دوسرے اسکین کا باہم موازنہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح مریض کے جسم میں کولیسٹرول کی مقدار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

اس طریقے کو 121 مریضوں پر آزمایا گیا جو دل کی شریانوں کے مرض میں مبتلا تھے۔ عام طریقے سے انہیں اپنا کولیسٹرول معلوم تھا۔ اب نئے سسٹم نے بہت درستگی کے ساتھ کولیسٹرول کی پیمائش کی جو اس کی افادیت کو ظاہر کرتا ہے۔

اس تحقیق کی تفصیل لپڈز اینڈ ہیلتھ ڈزیز میں شائع ہوئی ہے۔

The post جلد کی رنگت دیکھ کر کولیسٹرول کا پتا لگانے والی ٹیکنالوجی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3o7nx4r

دنیا کا پہلا ’زندہ روبوٹ‘ جو اپنی نسل بڑھا سکتا ہے!

ہارورڈ: یہ نہ ہی پودا ہے، نہ جانور ہے بلکہ یہ ایک زندہ روبوٹ ہے جو اب اپنی نسل بڑھا سکتا ہے۔ اسے زینوبوٹ کا نام دیا گیا ہے۔

پنجے والے افریقی مینڈک (زینوپس لیوس) کے خلیاتِ ساق (اسٹیم سیل) کو بطورخام مال استعمال کیا گیا ہے۔ زینوبوٹ کی چوڑائی ایک ملی میٹر سے تھوڑی کم ہے۔ اگرچہ 2020 میں اسے بنایا گیا تھا جو حرکت کرسکتا تھا، اپنے جیسے روبوٹ سے ملکر کام کرسکتا تھا لیکن اب اس میں ایک بالکل انوکھی خاصیت پیدا ہوگئی ہے۔

ورمونٹ، ٹفٹس اور ہارورڈ یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر اسی زینوبوٹ کے متعلق کہا ہے کہ انہوں نے اس روبوٹ میں مزید تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ اب یہ اپنی نسل بڑھا سکتا ہے لیکن اس کا انداز بالکل مختلف ہے جو کسی پودے اور جانور جیسی نہیں۔

ٹفٹس یونیورسٹی کے مائیکل لیون اس کام کے اہم رکن ہے جو کہتے ہیں کہ ہم نے حیاتیاتی پیدائش (ری پروڈکشن) کا بالکل نیا طریقہ دیکھا ہے جو بہت حیرت انگیز ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق اگر کچھ خلیات کو باقی ماندہ بیضے (ایمبریو) سے الگ کرکے موزوں ماحول میں رکھا جائے تو نہ صرف وہ نئے انداز سے حرکت کرتے ہیں بلکہ نئے انداز سے نسل خیزی بھی کرسکتے ہیں۔

اس میں حرف C کی شکل کا باپ زینو بوٹ ادھر ادھر بکھرے اسٹیم سیلز جمع کرتا ہے، ڈھیر لگاتا ہے اور وہ اگے چل کر بچے بن جاتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ خلیاتِ ساق کی اقسام کے خلیات میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ زینوبوٹ بنانے کے لیے ماہرین نے انہیں مینڈکوں کے انڈوں سے الگ کیا اور انکیوبیٹ کرایا لیکن اس میں کوئی خاص جین شامل نہ تھا۔

ایک اور ماہر جوش بوگارڈ کہتے ہیں کہ لوگ دھات اور الیکٹرونک کے مجموعے کو ہی روبوٹ سمجھے ہیں، تاہم اس معاملے میں ایسا نہیں ہے۔ ہم اپنے حیاتیاتی روبوٹ کو ایک جاندار بھی کہہ سکتے ہیں جسے مینڈک کے خلیات سے بنایا گیا ہے۔

ایک زینوبوٹ گول دانے جیسا ہے جو 3000 خلیات سے بنایا گیا ہے۔ یہ اپنی نقل بناسکتا ہے لیکن بہت خاص حالات میں ایسا کرتا ہے۔ لیکن یہ حرکی (کائنیٹک) نقول بناتا ہے اور یہ عمل حیاتیات میں اس سے پہلے نہیں دیکھا گیا تھا۔

لیکن یہاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو استعمال کیا گیا جس سے اربوں جسمانی ساختیں بنائی گئیں اور ان میں سے بہترین منتخب کی گئیں۔ ان میں سی شکل کا روبوٹ بہترین تجویز کیا گیا جو پیک مین ویڈیو گیم کی شکل کا تھا۔

پیٹری ڈش میں سی شکل والے زینوبوٹ نے بہت سارے ننھے منے اسٹیم خلیات کو اپنے منہ میں رکھا اور چند روز بعد ان سے نئے نینو بوٹس وجود میں آئے۔

تاہم یہ بہت ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن زندہ روبوٹ کے ضمن میں ایک اہم پشرفت ہے۔

The post دنیا کا پہلا ’زندہ روبوٹ‘ جو اپنی نسل بڑھا سکتا ہے! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3G3L4Jy

ایک بھولی بسری کتاب

میں جب نوعمری میں طرح طرح کی کتابیں اور رسالے پڑھ رہی تھی، اسی زمانے میں ’’ پیسہ اخبار ‘‘ کا اور مولوی محبوب عالم کا نام پڑھا تھا۔ اخبار کا نام اتنا دلچسپ تھا کہ جی چاہتا تھا اسے دیکھوں اور اگر کچھ شمارے ہاتھ لگیں تو انھیں پڑھ بھی ڈالوں۔ اب چند دنوں پہلے برادرم طاہر مسعود کی مرتبہ کتاب نظر سے گزری جس میں انھوں نے ’’ پیسہ اخبار‘‘ اور مرحوم منشی محبوب عالم کی کتاب کو ازسر نو مرتب کیا اور اس پر مقدمہ لکھا۔

منشی محبوب عالم کا نام ہمارے ان لوگوں میں سے ہے، جنھوں نے انیسویں صدی کے اختتام پر صحافت میں قدم رکھا۔ ان کے اخبار کا صرف نام ہی ’’ پیسہ اخبار ‘‘ نہ تھا وہ واقعی ایک پیسے میں فروخت ہوتا تھا۔اس کی خبریں مستند ہوتی تھیں اور مضامین وقیع۔ وہ پابندی سے نکلتا تھا اوریہی اس کی وجہ شہرت تھی۔

انھوں نے منشی محبوب عالم کے ’’ سفر نامہ لندن ‘‘ سے چند صفحات اس کتاب میں شامل کرکے اسے بہت وقیع بنادیا ہے۔ منشی صاحب نے اس سفر نامے لندن کی علمی زندگی کے ساتھ ہی لندن کے اخبارات کی اشاعت ، اس کے مالکان اور مدیران کی خبروں کے لیے جستجو اور نت نئے طریقوں سے اپنا اخبار پڑھنے والوں کو اخبار خریدنے کی ترغیب دینے جیسے معاملات پر روشنی ڈالی ہے۔ان کے سفر نامے کے ان صفحات سے اندازہ ہوتاہے کہ ہندوستان میں اردو اخبار نکالنے والے کن مسائل اور مشکلات سے دوچار تھے۔

دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح ہندوستان جنت نشان میں بھی سیکڑوں برس سے وقایع نگار اپنے اپنے حکمرانوں کے لیے خبر رسانی کی خدمات سر انجام دیتے رہے اور ملک کے کونے کونے سے خبریں ان راجوں، مہاراجوں اور بادشاہوں تک پہنچتی تھیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی اور دوسری غیر ملکی تجارتی کمپنیوں نے ہندوستان میں قدم رکھا تو وہ اخبارات کا نیا چلن ساتھ لائیں اور ان کی پیروی میں ہندوستان میں بھی صحافیوں کی وہ کھیپ پیدا ہوئی جن میں سے بیش تر ادیب اور شاعر تھے ، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ صحافت کو ایک باعزت ذریعہ روزگار اور سرکار دربار میں بار پانے کا ذریعہ جانتے تھے۔ انیسویں صدی میں جب صحافت نے پر پرزے نکالے تو اسے مالی اعانت بھی ملنے لگی ۔ شروع میں یہ زیادہ تھی لیکن آہستہ آہستہ کم ہوتی گئی جس کی شکایت بھی کی گئی۔

ڈاکٹر طاہر مسعود مزاج کے اعتبار سے ایک سنجیدہ محقق ہیں۔ ان کے اس شوق کو مہمیز مخدومی مشفق خواجہ مرحوم نے دی اور ان ہی کے کہے پر اردو صحافت کی صخیم تاریخ جناب طاہر مسعود نے لکھی جسے محققین اور ادب و صحافت کے قارئین نے بہت اہمیت دی۔

زیر نظر کتاب ’’ اردو اور عالمی صحافت کی ایک نادر تاریخ ‘‘ اردو کے مشہور و معروف صحافی اور ’’ پیسہ اخبار‘‘ لاہورکے مدیرکی تالیف ہے اور ’’ فہرست اخبارات ہند ‘‘ کے عنوان سے پہلی مرتبہ نومبر1903 میں شایع ہوئی تھی۔ اس کا دوسرا ایڈیشن اپریل 1909 میں شایع ہوا۔ زمانے گزر گئے، ہندوستان تقسیم ہوگیا۔ 1992 میں یہ ایک بار پھر شایع ہوئی اور دوسرا ایڈیشن 2021میں منظر عام پرآرہا ہے۔ ہمارے یہاں کوئی کتاب اور وہ بھی تحقیقی تین مرتبہ شایع ہوجائے تو اسے معجزہ جانیے۔ اس میں صرف ہندوستانی اخبارات کی مختصر تاریخ کے ساتھ ہی بقول طاہر مسعود:

’’ اس میں اخبارات کی تاریخ ، ہندوستان کے اخبارات اورلندن کے اخبار فروشوں کے موضوعات پر نہایت اہم اور توجہ طلب مضامین شامل ہیں۔ اردو اور دوسری زبانوں کے اخبارات کی فہرست میںبھی اضافے کیے گئے ہیں اور مزید اخباروں اور رسالوں کا تذکرہ شامل کیا گیا ہے۔ ہم نے ایسے اخباروں اور رسالوں کی فہرست علیحدہ سے بنادی ہے تاکہ ان کا اندراج بھی ہوجائے اور پہلے اور دوسرے ایڈیشن کا فرق بھی باقی رہے۔ چوں کہ اشاعت ثانی میں عالمی صحافت کی تاریخ کی بابت بہت اہم معلومات مضامین کی صورت میں شامل کی گئی ہیں، اس لیے ہم نے کتاب کا نام تبدیل کرکے ’’ اردو اور عالمی صحافت کی ایک نادر تاریخ‘‘ رکھ دیا ہے جو ’’فہرست اخبارات ہند‘‘ کی جملہ اندراجات کا احاطہ کرتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مولوی محبوب عالم نے اضافے اور اصلاح کے جوش میں پہلے ایڈیشن کے شایع شدہ پیش لفظ میں بھی تبدیلیاں کردی ہیں لیکن یہ تبدیلی چونکہ زیادہ تر زبان وبیان کی اصلاح و ترمیم سے متعلق ہے اس لیے ہم نے بھی اسی پیش لفظ کو شامل اشاعت کیا ہے۔ دوسرے ایڈیشن میں جن اخبارات اور رسائل کے اضافے کیے گئے ہیں اس میں مرتب کو یہ پریشانی ضرور لاحق ہوئی کہ بہت سے اخبار و سالے کی بابت یہ نشاندہی نہیں کی گئی کہ یہ کس زبان کے ہیں۔ چنانچہ نام کی رعایت سے جو اخبار اردو کے لگے،انھیں اردو اخباروں کی فہرست میں درج کردیا گیا اور جہاں شبہ ہوا وہاں چھوڑ دیا گیا۔

وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد 1830 میں فارسی زبان کی سرکاری حیثیت ختم کردی گئی اور اس کی جگہ اردو سرکاری زبان قرار پائی۔ چند برس کے اندر ہندوستانی اخبارات پر عائد پابندیاں ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے اٹھالی گئیں۔ لیتھوکا پریس رائج ہوا اور اردو ٹائپ جو عموماً پڑھنے والوں کی نگاہوں میں نہیں کھبتا تھا، اس سے بھی نجات ملی۔ یہی وجوہ تھیں جن کی بناء پر 1857 تک اردو میں نکلنے والے اخبارات کی تعداد 118 تھی۔ ان میں سے 25 اخبارات قانونی معاملات و مسائل سے جڑے ہوئے تھے ، کچھ ایسے تھے جو سراسر منظوم تھے۔

کتاب کا آخری حصہ بہت دلچسپ ہے اور تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ اس میں اردو کے گمشدہ اخبارات کی فہرست کے ساتھ ہی انگریزی ، بنگالی ، گجراتی، ہندی اور دیگر زبانوں کے اخبارات کی فہرست شامل ہے۔ ایسے 16 اخبارات کی فہرست بھی ملتی ہے جن کے بارے میں یہ نہیں معلوم کی یہ کن زبانوں کے اخبارات تھے۔ بعض اخبارات اپنے نام سے انگریزی زبان کے محسوس ہوتے ہیں لیکن ان کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ اس کتاب کی قدرو قیمت ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ بڑھتی جائے گی اوریہ تحقیق کرنے والوں کے لیے ایک بیش بہا خزانہ ہوگی۔

مرحوم مولوی محبوب عالم نے اردو صحافت کے لیے جو گراں قدر خدمات سرانجام دیں، اس میں ’’پیسہ اخبار‘‘ اور ’’شریف بی بی‘‘ کے اجرا کے ساتھ ہی ’’ فہرست اخبارات ہند ‘‘ کی تالیف بھی کسی کارنامے سے کم نہیں۔ اس کتاب سے جسے بھی دلچسپی ہو وہ ضرور اس کا مطالعہ کرے۔

The post ایک بھولی بسری کتاب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3D4prqI

پردہ ہے پردہ

علامہ بریانی عرف برڈفلواورقہرخداوندی چشم گل چشم عرف سوائن فلوکے درمیان بڑا شدید بلکہ ہائی فائی ٹاکرا ہوگیا،اگر ہم موجود نہ ہوتے تو بات بہت آگے تک پہنچ سکتی تھی۔

علامہ حسب معمول، حسب عادت اورحسب پیشہ زمانے پر حملہ آورتھے اور موجودہ بے راہرواوربرائی سے بھرپورمعاشرے پر برس رہے تھے کہ دیکھو بازاروں میں عورت کیا سے کیا بن گئی ہے، پردہ نہ حجاب ، شرم نہ حیا،کھلے عام پھرتی ہے، وہ بھی تقریباً بے لباس ہوکر۔کیایہ قرب قیامت کی نشانیاں نہیں۔

قہرخداوندی توچھپکلی کی طرح مچھر کی تاک میں بٹیھاتھا، اچانک پھٹ پڑا۔

خداسے ڈرو، اتنابڑا جھوٹ مت بولو۔عورت بیچاری بے پردہ کہاں ہے، وہ تو پہلے سے زیادہ باپردہ اورباحجاب ہے، ہاں چند عورتیں مجبوریوںسے  باہر نکلتی ہیں لیکن یہ سراسر غلط ہے کہ بے لباس ہوتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ آج کل مہنگائی کی وجہ سے میک اپ کرکے نکلتی ہے ۔

پھر علامہ کی ذات بے برکات کوٹارگٹ کرتے ہوئے بولا، اب اگر آپ کا’’ایمان ‘‘ اتنا نازک ہے کہ عورت کی آوازسن کر یا قدموں کی آہٹ پاکر کرچی کرچی ہوجاتاہے، تصویر دیکھ کربھی چھوئی موئی ہوجاتاہے اورخالی لباس دیکھ کر بھی تڑخ تڑخ جاتاہے تو اس میں عورت کاکیاقصورہے، اپنے ایمان کا کچھ کیجیے جو کچے دھاگے، مٹی کے دیے اورموم بتی سے بھی زیادہ کمزورہے ۔

اس موقعے پرعلامہ کچھ بولنا چاہتے تھے لیکن قہرخداوندی نے ہاتھ اٹھا کر والیوم بڑھا کرکہا، بس تمہاری باری گزرچکی ہے، اب میری سنو۔یہ جوتم بازارمیں عورتیں دیکھتے ہو، اتنا زیادہ میک اپ چڑھائے ہوتی ہیں کہ اصل چہرہ چھپ جاتا ہے، اگرتم مجھے ایک بھی عورت ایسی دکھادو جو میک اپ کا پردہ ڈال کرنظر آتی ہوتو میں دو روپے نقدآپ کی نذرکروں گا،اس کے بعد قہرخداوندی نے دلائل وشواہد کے ڈھیرلگاتے ہوئے کہاکہ عورت اورخاص طورماڈرن عورت بے پردہ نہیںہے بلکہ سرسے پیروں بلکہ ناخنوں تک میک اپ پوش ہوتی ہے جو پردے کی جدید شکل ہے۔

قہرخداوندی نے چندواقعات بھی سنائے مثلاً ایک امریکی جوڑے نے شادی کی توسہاگ رات کوپتہ چلاکہ وہ اس سے پہلے بھی ایک مرتبہ میاں بیوی رہ چکے تھے لیکن اس وقت دونوںنے ایک دوسرے کوبغیر میک اپ کے دیکھا تھا۔ہمیں بھی اس کی تائید میں بولنا پڑاکیوں کہ ہمارے ساتھ بھی اسے واقعات ہوچکے تھے،جب ہم ریڈیومیں تھے تواچانک ہیڈکوارٹر سے حکم آگیاکہ کچھ خاص قسم کے گانے فوری طور پر ریکارڈ کرکے بجھوادو،اس زمانے میں ٹیلی فون عام نہیں تھا چنانچہ پروڈیوسر نے ہمیں گاڑی دیتے ہوئے کہا کہ فلاں گلوکارہ کو فوراً مطلع کردوکہ آجائے ۔گھر کا پتہ بھی بتادیا۔

ہم نے دروازے کی گھنٹی بجائی تواس کی ماں نے دروازہ کھولا اورہمیں نام سے بلا کر علیک سلیک کیا۔ ہم حیران تھے کہ ہم تواس کی ماں سے کبھی نہیں ملے تویہ ہمیں کیسے پہچان گئی البتہ بیٹی کو ریڈیومیں دیکھا تھا اوراس کے لیے اپنے دل کاایک گوشہ بھی مخصوص کیاہوا تھا اورجب بھی وہ ریڈیو آتی تھی ہم بہانے بہانے اس کے گرد پھیرتے اوردل ہی دل میں واری صدقے کرتے رہتے تھے لیکن اس کی ماں… دونوں کی شکلیں ہوبہو ایک دوسرے پر گئی تھیں، صرف عمر کافرق تھا۔ہم نے اس سے کہاکہ فلاں بیگم کہاں ہے، اس کے لیے ارجنٹ پیغام ہے۔

وہ مسکراتی ہوئی بولی، برق صاحب آپ اندرتو آئیں۔ ہم اندرگئے، بیٹھک میں بیٹھ گئے اورایک مرتبہ پھر فلاں بیگم کاپوچھا تو وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔بولی، آپ مذاق کررہے ہیں شاید۔ میں تو آپ کے سامنے ہوں۔وہ بیٹی بھی خود تھی اور ا پنی بیٹی کی ماں بھی خود۔

اورواقعی جب دوگھنٹے بعد ریڈیو اسٹیشن آئی توماں کوگھرچھوڑکرآئی تھی اورخود ہی اپنی بیٹی بنی ہوئی تھی۔چنانچہ ہم نے قہرخداوندی کی تائید کرتے ہوئے علامہ کوسمجھایاکہ آپ دوردورسے دیکھ رہے ہیں، واقعی عورت بے پردہ نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ باپردہ ہوگئی ہے، صرف لباس بدل چکی ہے کیوں کہ دنیا میں عمرکم کرنے اورجلد کو ملبوس کرنے کے لیے بہت ساری ایجادات ہوچکی ہیں بلکہ اب توبیوٹی پارلروالے بھی کہتے ہیں کہ ہمارے پارلر سے نکلنے والی کسی لڑکی کو ہرگزنہ چھیڑئیے،ہوسکتاہے کہ وہ آپ کی نانی یا دادی ہو۔

The post پردہ ہے پردہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3FZvwXp

بیوروکریسی اور اظہارِ رائے کا حق

گریڈ 21 کے ایک افسر جو آج کل کیبنٹ ڈویژن میں تعینات ہیں۔ انھوں نے اور ان کے ساتھیوں نے ایک واٹس ایپ گروپ بنایا ہوا ہے جہاں مختلف بیوروکریٹس مختلف ایشوز پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔انھوں نے اس گروپ میں  حکومت اور افغانستان میں طالبان حکومت کے بارے میں اظہار خیال کیا۔

“PTI Government and Taliban regime resemble as both are confused how to run the Government after assuming Power and both pin hopes on Aabpera.”

(پی ٹی آئی کی حکومت اور طالبان کی حکومت میں کچھ مشابہت پائی جاتی ہیں۔ دونوں حکومتوں کو چلانے کے معاملہ میں کنفیوژ ہیں اور مدد کے لیے آب پارہ کی طرف دیکھتی ہیں۔) یہ ایک معصومانہ تبصرہ تھا جو معروضیت کے اصول کے تحت حقائق کے مطابق ہے ، مگر اس واٹس ایپ گروپ کے کسی رکن نے یہ واٹس ایپ نامعلوم افراد کو منتقل کیا اور بات وزیر اعظم عمران خان تک پہنچی۔

وزیر اعظم نے ایف آئی اے کو اس معاملے کی تحقیقات کے احکامات صادرکیے۔ چارج شیٹ میں لکھا گیا ہے کہ مذکورہ افسر نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ حکومتی قواعد و ضوابط کے تحت سرکاری ملازم کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پرکوئی رائے نہیں دے سکتے۔

پاکستان میں اس وقت 1973 کا آئین نافذ ہے۔ اس آئین میں انسانی حقوق کے باب کو تفصیل سے درج کیاگیا ہے۔ انسانی حقوق کے باب میں درج ہے کہ ہر شہری کو سوچنے کی آزادی ہے۔اسی طرح اس باب کے آرٹیکل 19 میں آزادئ اظہار اور آزادئ صحافت کے تحفظ کی آزادی دی گئی ہے۔ اس آئین کے تحت 18 سال سے زیادہ عمرکے نوجوان ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں اور ان کا نام انتخابی فہرستوں میں شامل ہوتا ہے۔

جب ہر فرد کو خواہ اس کا پیشہ کوئی بھی ہو ووٹ ڈالنے کی آزادی ہے تو محض ووٹ ڈالنے کی نہیں وہ کسی فرد کو قومی اور صوبائی اسمبلی کے امیدوارکی حیثیت سے تجویز بھی کرسکتا ہے اور کسی تجویز کی تائید بھی کرسکتا ہے، اورکسی سرکاری ملازم کا تجویز کردہ امیدوار قومی اسمبلی کا رکن اور بعد میں وزیر اعظم اور وفاقی وزیر بننے کی اہلیت بھی رکھتا ہے۔

پاکستان نے 1948 میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر پر دستخط کیے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سول و پولیٹیکل رائٹس کے کنونشن کی مختلف شقوں کو پڑھیں تو ان بین الاقوامی چارٹر میں شہریوں کے سوچنے، ووٹ ڈالنے، انتخاب لڑنے، سیاسی جماعت بنانے اور کسی جماعت میں شامل ہونے کے حق کی توثیق کی گئی ہے۔ ملک میں ایک طرف تو 1973 کے آئین کے تحت انسانی حقوق کے تحفظ کی واضح یقین دہانی موجود ہے مگر پاکستان کے 72 برسوں میں ہونے والی سیاسی صورتحال کے جائزہ لینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی آئینی ریاست کے اوپر ایک اور بظاہر نظر نہ آنے والی ریاست قائم ہے۔

اس ریاست نے قیام پاکستان کے بعد سے ہی آزادئ اظہار اور آزادئ صحافت پر قدغن لگانی شروع کیں۔ اس غیر جمہوری رویہ کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب 11اگست 1947ء کو نئے ملک کی پہلی آئین ساز اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تھا۔ اس ملک کے بانی بیرسٹر محمد علی جناح نے اسمبلی کے اجلاس کے دوسرے روز 11 اگست 1947 کو نئی ریاست کے خدوخال کی اپنی اساسی تقریر میں واضح نشاندہی کی تھی۔

تاریخ کی کتابوں میں لکھا گیا ہے کہ چوہدری محمد علی جن کا تعلق برطانوی ہندکی بیوروکریسی سے تھا ،اور ساری عمر آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس کی وزارت میں کام کیا تھا وہ طاقتور بیوروکریٹ بن گئے تھے اور نئی ریاست میں سیکریٹری جنرل کے عہدہ پر تعینات ہوئے۔

وہ بیرسٹر محمد علی جناح کے جدید ریاست کے آئیڈیا سے متفق نہیں تھے، ان کی ہدایت پر اخبارات کو پہلی پریس ایڈوائز بھیجی گئی۔ اس ایڈوائز میں اخبارات کے ایڈیٹرز کو پابند کیا گیا تھا کہ ملک کے بانی کی تقریر کے ریاست کو سیکولر قرار دینے سے متعلق پیراگراف شایع نہ کیا جائے۔ یہ ایڈوائز روزنامہ ڈان کے نیوز روم میں وصول ہوئی تو نیوز ایڈیٹر نے اپنے ایڈیٹر الطاف حسین کو آگاہ کیا۔

الطاف حسین کا شمار ملک کے سینئر ترین ایڈیٹروں میں ہوتا تھا۔ انھوں نے پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ مجید ملک کو بتایا کہ وہ کل صبح بانی پاکستان سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ آیا واقعی ان کی ہدایت پر یہ پریس ایڈوائز جاری کی گئی ہے تو سینئر بیوروکریٹس نے فیصلہ کیا کہ ایڈوائز واپس لی جائے۔ بانی پاکستان کی یہ تقریر تو مکمل شایع ہوئی مگر اس رویہ نے نئی ریاست میں اظہارِ رائے اور آزادئ صحافت کو کچلنے کی روایت ڈال دی۔

انگریزوں کے طرزِ حکومت پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دور میں کسی ہندوستانی بیوروکریٹ کا کوئی دوسرا بیانیہ ہو ہی نہیں سکتا تھا ، اگر کوئی فرد سرکاری افسر بننے کے باوجود ہندوستان کی آزادی کی تحریک یا کسی اور تبدیلی کے بیانیہ سے منسلک ہوتا تھا تو وہ معتوب سمجھا جاتا تھا۔ کارل مارکس کے نظریات سے واقفیت ہونا خطرناک جرم سمجھا جاتا تھا۔

آزادی کے بعد بھی یہی پالیسی برقرار رہی۔ سرکاری افسروں کو حکومتی بیانیہ کے مطابق سوچنے اور اس پر عمل کرنے کا پابند کیا گیا۔ ترقی پسند ادب تخلیق کرنے والے سرکاری ملازمین مستقل زیرِ عتاب رہے، کچھ کو ملازمتوں سے نکال دیا گیا جب کہ دوسری طرف بیوروکریسی کو اختیارات کے ناجائز استعمال، رشوت اور دولت کمانے اور غریبوں کے ساتھ حیانت آمیز سلوک کرنے کے لیے کھلا چھوڑ دیا گیاتھا۔

یہی وجہ ہے کہ پہلے مشرقی پاکستان کی عوام میں بیوروکریسی کے خلاف نفرت پیدا ہوئی جس کا اظہار بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک کے دوران ہوا ، اب یہی صورتحال بلوچستان میں ہے۔ بیوروکریسی بلوچستان کو نوآبادی سمجھتی ہے جس کی بناء پر وہاں کے عوام اسلام آباد کی بیوروکریسی کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

بیوروکریسی کا کام محض مجاز حکام کی پالیسیوں کی تکمیل کرنا رہ گیا ہے۔ انھیں سوچنے اور اظہار کی آزادی نہ ہونے کی وجہ سے ان کی تخلیقی صلاحیتیں کم ہوجاتی ہیں۔ اب تو سوشل میڈیا کا دور ہے، اگر کوئی افسر واٹس ایپ پر کوئی ریمارکس لکھتا ہے تو اس کو کسی صورت حکومت یا ملک دشمنی نہیں سمجھنا چاہیے۔

ان سرکاری ملازمین کی تخلیقی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ انھیں غور و فکر اور آزادئ اظہار کا حق دیا جائے، مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ 2021میں بھی موجودہ حکومت برطانوی ہند کی حکومت کی قائم کردہ روایات پر عمل کررہی ہے۔ شمیمی صاحب معتوب ہوئے تو صرف ایک فرد کا نقصان نہیں ہوگا بلکہ پوری بیوروکریسی میں سوچ و فکر کا رجحان ختم ہوجائے گا۔

The post بیوروکریسی اور اظہارِ رائے کا حق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3d4lojJ

پیپلزپارٹی اور وراثتی سیاست

کسی سیاسی پارٹی کا جنم دن اُس کے کارکنوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، خصوصاً اُس پارٹی کے ساتھ آپ کی دلی وابستگی ہو، جیسے پیپلزپارٹی کے ساتھ ہماری دلی وابستگی رہی۔ یہ پارٹی ہمارے ساتھ جوان ہوئی ، عروج دیکھا اور اب ’’بڑھاپے‘‘ کی جانب گامزن ہے۔ 30نومبر کو پی پی پی کی 54واں یوم تاسیس منایا گیا۔

اس پارٹی کو کیسے عروج سے زوال آیا اور کیوں کر آیا اور چاروں صوبوں کی’’زنجیر‘‘ پیپلزپارٹی کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت صرف ایک صوبے تک محدود کیوں کر دیا گیا، اس پر تو بعد میں آتے ہیں پہلے اس پارٹی کی تاریخ پر طائرانہ سی نظر ڈالتے ہیں کہ

پیپلز پارٹی کا قیام1967میں عمل میں آیا۔ 1966 میں جب ذوالفقار علی بھٹو سیاسی اختلافات کی بنا پر صدر جنرل ایوب خان کی کابینہ سے مستعفیٰ ہوئے تبھی سے وہ ایک سیاسی جماعت کے قیام کے لیے کوشاں تھے۔ اسی زمانے میں لاہور میں کچھ دانشور، جن میں اخبار نویس، اساتذہ، وکلا، ادیب اور سرکاری ملازم شامل تھے، ایک ہفتہ وار ادبی اجلاس میں ملک کے مسائل پر بحث کرکے ان مسائل کے ممکنہ حل کے بارے میں گفتگو کیا کرتے تھے۔ یہ اجلاس ڈاکٹر مبشر حسن کی گلبرگ لاہور میں رہائش گاہ میں منعقد ہوا کرتے تھے۔

ان افراد نے مسٹر بھٹو سے رابطہ قائم کیا اور مسٹر بھٹو اور جے اے رحیم کے ساتھ مل کر ایک نئی سیاسی جماعت قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ 30 نومبر اور یکم دسمبر 1967 کو لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر اس نئی پارٹی کا تاسیسی اجلاس منعقد ہوا جس میں پارٹی کا نام پاکستان پیپلز پارٹی تجویز کیا گیا اور پارٹی کے چار رہنما اصول منظور کیے گئے: (الف) اسلام ہمارا دین ہے۔ (ب)جمہوریت ہماری سیاست ہے۔(ج) سوشل ازم ہماری معیشت ہے۔ (د)طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے تایسی اجلاس میں جو افراد شریک ہوئے، ان میں رسول بخش تالپور‘ حنیف رامے‘ شیخ محمد رشید‘ حیات محمد خان شیرپاؤ‘ عبدالوحید کٹپر‘ معراج محمد خان‘ حق نواز گنڈا پور‘ ڈاکٹر مبشر حسن‘ جے اے رحیم‘ بیگم شاہین رامے‘ ملک حامد سرفراز‘ اسلم گورداسپوری‘ رفیق احمد باجوہ اور امان اللہ خان وغیرہ شامل تھے۔

اس اجلاس میں ذوالفقار علی بھٹو کو پارٹی کا چیئرمین اور جے اے رحیم کو جنرل سیکریٹری منتخب کیا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو بہت جلد ملک کے غریب طبقے کی حمایت حاصل ہونا شروع ہوئی۔ پارٹی کی اصل قوت مغربی پاکستان کا نوجوان طبقہ تھا جو ملک میں سوشل ازم اور مساوات پر مبنی معاشرے کے قیام کا خواہش مند تھا۔ یوں یہ پارٹی مغربی پاکستان کی مقبول ترین پارٹی بن گئی اور 1970 کے انتخابات میں اس نے اپنی یہ مقبولیت ثابت بھی کردی۔ لیکن 1977 میں جنرل ضیاء الحق نے ماضی سے سبق حاصل کیے بغیر دوبارہ اقتدار پر قبضہ کر لیا،اور بھٹو صاحب کو پھانسی دے دی۔

جنرل ضیاء الحق نے اپنے دس سالہ دور آمریت میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے علاوہ ہر اُس شخص پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا، جس نے کسی بھی شکل میں یا تو آمریت کی مزاحمت کی، یا کسی بھی سطح پر پیپلز پارٹی اور بھٹو شہید کا مقدمہ لڑنے کی کوشش کی۔راقم بھی انھی جیالوں میں سے ایک تھا جنھیں لاہور کے شاہی قلعہ میں قید و بند کی صعوبتیں جھیلنا پڑیں، اُس وقت آتش جواں تھا، اس لیے ہم بھی صف اول کے جیالوں میں شامل رہتے تھے۔

سیاسی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اور آمریت کے خلاف خوب زہر اُگلتے تھے۔ الغرض یہ وہ سیاہ ترین دور تھا کہ بھٹو صاحب کو جسمانی طور پر ختم کرنے سمیت پیپلز پارٹی کا جسمانی و نظریاتی وجود ختم کرنے کی پوری کوششیں کی گئیں، لیکن 1988 کے انتخابات کے نتائج نے واضح کردیا کہ نہ تو لوگوں کے دلوں سے بھٹو کو نکالا جاسکا اور نہ پیپلز پارٹی کی عوامی مقبولیت ختم کی جاسکی۔ دس سال میں آمرانہ طاقتوں کے ہاتھوں زیر عتاب رہنے والی پیپلز پارٹی 1988  کے انتخابات میں آمریت کے دودھ پر پلے ہوئے سیاسی پہلوانوں کو شکست سے دوچار کرتے ہوئے دوبارہ حکومت بنا نے میں کامیاب رہی۔ پیپلز پارٹی نے وفاق میں تیسری بار 1993 جب کہ چوتھی اور آخری بار 2008 میں حکومت بنائی۔

اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے کئی ایک اچھے کام بھی کیے جن میں ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایک متفقہ آئین بنایا اور نافذ کیا، پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع کیا۔ پاکستان اسٹیل مل اور ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا شروع کیں۔لاہور میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کی۔اور پھر 1971 کی جنگ کے بعد بھارت کی قید سے 90 ہزار فوجیوں کو رہا کروایا۔

بے زمین کسانوں میں زمینیں تقسیم کیں۔ بے نظیر بھٹو نے خواتین کے پولیس اسٹیشنز قائم کرنے، کاروبار کے لیے قرض فراہم کرنے، خواتین کے حقوق کو انسانی حقوق کے طور پر تسلیم کرانے اور اعلیٰ عدلیہ میں خواتین ججز کا تقرر ممکن بنانے سمیت عورتوں کو ہر میدان میں آگے لانے کے لیے قابل ستائش اقدامات کیے۔لیکن آہستہ آہستہ اس سیاسی پارٹی کا گراف بھی نیچے جاتا گیااور ایک وقت آیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی بھٹو کی سیاسی پارٹی نہیں رہی۔ اس پارٹی کی سوچ اور نظریے میں بڑا بدلاؤ اُس وقت آیا جب محترمہ کی موجودگی اور اُن کی قیادت میں پیپلزپارٹی نے ن لیگ کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کیے اور اقتدار کے لیے تمام اختلافات بھلانے پر اتفاق کیا۔

اور پھر رہی سہی کسر محترمہ کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری صاحب کے فیصلوں نے نکال دی جیسے 2008 کا الیکشن جیتنے کے بعد پیپلزپارٹی نے ن لیگ کے ساتھ اشتراک کر لیا، پھر ق لیگ کے ساتھ اتحاد کرلیا ، اس موقع پرست پالیسی نے پنجاب سے پیپلزپارٹی کا صفایا کردیا۔ اگر محترمہ کی شہادت کے بعد پارٹی کاکوئی سینئر ممبر پارٹی صدر یا چیئرمین بن جاتا تو پیپلزپارٹی بچ سکتی تھی۔کیوں کہ یہ درست حکمت عملی نہیں تھی کہ رضا ربانی، اعتزاز احسن، قمر الزمان کائرہ، فاروق ایچ نائیک، جہانگیر بدر جیسے سینئر سیاستدانوں کے ہوتے ہوئے خاندانی سیاست کو آگے بڑھایا جاتا۔

اس لیے یہاں یہ کہنا بجا ہو گا کہ جس پارٹی نے بھی اپنی پارٹی کو وراثتی پارٹی بنایا ہے وہ زوال کا شکار ہو گئی، جیسے اے این پی، ن لیگ، جمعیت علمائے اسلام ف وغیرہ جیسی پارٹیاں سب کے سامنے ہیں ۔ پاکستان دنیا کا واحد جمہوری ملک ہے جہاں موروثی سیاست سب سے زیادہ گہری ہے۔ یہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان سیاسی پارٹیوں کو کہیں اور سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔

خیر یہ ایک الگ بحث ہے لیکن اگر ہم دنیا پر نظر ڈالیں تو آپ کو ترقی یافتہ ممالک میں کہیں موروثی سیاست نظر نہیں آئے گی مثلاََ امریکی کانگریس میں موروثی سیاست کا حصہ تقریباً 6 فیصد، انگلینڈ میں یہ تناسب 7فیصد، کینیڈا میں 3فیصد، فرانس میں یہ تناسب 6فیصد جب کہ ارد گرد کے ممالک میں دیکھیں تو بھارت کی لوک سبھا میں 28 فیصد،بنگلہ دیش میں 36فیصد اور پاکستان کی موروثی سیاست دانوں کا حصہ 53 فیصد ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان جمہوری ملکوں کی فہرست میں 110ویں نمبر پر موجود ہے اور پیپلزپارٹی پاکستان میں موجود سیاسی جماعتوں میں سر فہرست دکھائی دیتی ہے۔ تبھی اس کا گراف ہر گزرتے دن ڈاؤن ہو رہا ہے اور سینئر ممبران کے اندر پارٹی کی اپنائیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔

لہٰذا پیپلزپارٹی خاص طور پر آصف علی زرداری کو سوچنا ہوگا کہ اُن کے کارکن اُن کی پارٹی سے بددل کیوں ہیں؟ اُن کی پارٹی کا پنجاب سے صفایا کیوں اور کیسے ہوگیا ہے؟اور اگر اسے دوبارہ اقتدار میں آنا ہے تواُس کے لیے اُسے کیا کرنا ہوگا؟ سب سے پہلے زرداری صاحب حالیہ ضمنی انتخاب کو دیکھ لیں کہ اُن کی پارٹی کہاں کھڑی ہے۔ انھیں ہر ضمنی انتخاب میں ضمانت ضبط ہونے کا طعنہ سننے کو ملتا ہے۔

لاہور کے حلقہ 133میں اتوار کو ضمنی انتخاب ہونے والا ہے جہاں ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا ٹاکرا ہے، تحریک انصاف کا اُمیدوار ڈسکوالیفائی ہو چکا ہے لہٰذا پیپلزپارٹی کی قیادت کو خود ہی اندازہ ہو جائے گا کہ وہ پنجاب اور لاہور میں کتنی مقبول ہے!

The post پیپلزپارٹی اور وراثتی سیاست appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3De9WfQ

مقبوضہ کشمیر،بھارتی فورسزنے2کشمیری نوجوانوں کوشہید کردیا

سرینگر: مقبوضہ کشمیرمیں قابض بھارتی فورسزکی فائرنگ سے مزید2کشمیری نوجوان شہید ہوگئے۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی سے مزید2کشمیری نوجوان شہید ہوگئے۔ دونوں نہتے نوجوان پلواما میں قابض فورسزکی فائرنگ سے شہید ہوئے۔ بھارتی فوج نے پلواما کا محاصرہ کرلیا اورنام نہاد سرچ آپریشن میں متعدد نوجوانوں کوگرفتارکرلیا۔

پلواما اورقریبی علاقوں میں موبائل اورانٹرنیٹ سروس بند کردی گئی۔ بھارتی فورسزنے گھروں میں گھس کرلوگوں کوہراساں کیا اورسنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ پلواما کا محاصرہ جاری ہے اوربھارتی فورسز نے لوگوں کوگھروں سے باہرنہ نکلنے کا حکم دیا ہے۔

The post مقبوضہ کشمیر،بھارتی فورسزنے2کشمیری نوجوانوں کوشہید کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3pjajke

چٹاگانگ ٹیسٹ؛ اوپنرز کی ثابت قدمی نے کپتان کا دل جیت لیا

 لاہور: اوپنرزکی ثابت قدمی نے کپتان کا دل جیت لیا جب کہ بابر اعظم کا کہنا ہے کہ مشکل کنڈیشنز میں عابد علی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، عبداللہ شفیق نے بھی ڈیبیو میچ میں اپنی اننگز عمدگی سے آگے بڑھائی۔

چٹاگانگ ٹیسٹ میں فتح کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کپتان بابر اعظم نے کہاکہ طویل فارمیٹ کی کرکٹ میں اتار چڑھاؤآتے ہیں مگر کم بیک کا موقع بھی ہوتا ہے، یہی ٹیسٹ فارمیٹ کی خوبصورتی بھی ہے، ہمیں پہلے میچ سے قبل تیاری کا زیادہ وقت نہیں مل سکا مگر خوشی کی بات ہے کہ بنگلادیش کی جانب سے ایک بڑی شراکت قائم ہونے کے بعد فاسٹ بولرز نے اچھا کم بیک کیا۔

انہوں نے کہا کہ حسن علی اور شاہین شاہ آفریدی نے عمدہ بولنگ سے بیٹنگ پر دباؤکم کیا، پارٹنرشپس توڑنے کیلیے آئندہ ہمیں بولنگ میں مزید بہتری لانا پڑے گی، مشکل کنڈیشنز میں عابد علی نے دونوں اننگز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا،عبداللہ شفیق نے ڈیبیو میچ میں اپنی اننگز عمدگی سے آگے بڑھائی، نوجوان اوپنرز سے آئندہ بھی اسی طرح کی ذمہ دارانہ بیٹنگ کی توقعات وابستہ ہیں، دونوں کی بہترین پرفارمنس کی وجہ سے ٹیم مشکل صورتحال سے نکلنے میں کامیاب ہوئی۔

مین آف دی میچ عابد علی نے کہا کہ دوسری اننگز میں سنچری مکمل نہ کرنے پر افسوس ہوا مگر یہ کھیل کا حصہ اور خوشی ہے کہ پاکستان میچ جیت گیا، ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی فارم کی بدولت پْراعتماد ہونے کی وجہ سے بنگلادیش کیخلاف اچھی اننگز کھیلنے میں کامیابی ہوئی، دوسرے میچ میں بھی کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش کروں گا۔

انھوں نے کہا کہ عبداللہ نے میرا ساتھ بخوبی نبھایا، ہم دونوں ایک دوسرے کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے رہے، آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا ہر میچ اہم ہے، دوسرے میچ میں فتح کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل میں پوزیشن بہتر بنائیں گے۔

The post چٹاگانگ ٹیسٹ؛ اوپنرز کی ثابت قدمی نے کپتان کا دل جیت لیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3loOPl4

ثانیہ اوراعصام کی ایک ساتھ ٹینس پریکٹس

 لاہور: ثانیہ مرزا اور اعصام الحق نے ٹینس کورٹ پرساتھ پریکٹس کی۔

ٹینس اسٹارثانیہ مرزا اور اعصام الحق نے نشترپارک اسپورٹس کمپلیکس لاہورکے ٹینس کورٹ پرساتھ پریکٹس کی۔

بھارتی اسٹار نے 2گھنٹے اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹینس کورٹ میں گزارے، انھوں نے کہا کہ شاندارکورٹ پر کھیل کر لطف آیا، عالمی معیار کی سہولیات دیکھ کر خوشی ہوئی۔

The post ثانیہ اوراعصام کی ایک ساتھ ٹینس پریکٹس appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3d65PrH

سمندری کرایوں میں اضافہ، کینو کی برآمد متاثر ہونیکا خدشہ

 کراچی:  سمندری کرایوں میں اضافہ اور موسمی اثرات کی وجہ سے پیداوار میں کمی پاکستان سے کینو کی ایکسپورٹ کے لیے رکاوٹ بن گئی۔

کینو کے ایکسپورٹرز بے یقینی کا شکار، رواں سیزن کینو کی ایکسپورٹ گذشتہ سال سے 35فیصد کم رہنے کا خدشہ پیدا ہوگیا، ایکسپورٹ 3لاکھ ٹن تک محدور رہنے کا امکان ہے۔

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد کے مطابق رواں سیزن کینو کے ایکسپورٹرز بے یقینی کا شکار ہیں اور یکم دسمبر سے شروع ہونیوالے ایکسپورٹ سیزن کے لیے تاحال بڑے پیمانے پر تیاریاں نہیں کی گئیں۔ سرگودھا میں اکا دکا فیکٹریاں ایکسپورٹ کی تیار ی کررہی ہیں۔ کینو کی ایکسپورٹ کو سمندری کرایوں میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔

کینو کی ایکسپورٹ گزشتہ سال ساڑھے 3 لاکھ ٹن کے ہدف کے مقابلے میں ساڑھے 4لاکھ ٹن رہی تھی۔ رواں سال کینو کی ایکسپورٹ گزشتہ سال سے 35فیصد کمی سے 3لاکھ ٹن تک رہنے کا امکان ہے۔سمندری کرایوں کے بحران کی وجہ سے روس، کینیڈا، یوکرین، انڈونیشیا اور فلپائن کی منڈیوں میں پاکستانی کینو کی ایکسپورٹ زیادہ متاثر ہوگی، ان ملکوں میں پاکستان سے 50فیصد کینو ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔

وحید احمد کے مطابق پاکستانی کینو کی اہم منڈی روس کے لیے سمندری کرایہ جو گزشتہ سیزن میں 2500سے 3000ڈالر تھا اب بڑھ کر 7000ڈالر فی کنٹینر تک پہنچ چکا ہے۔اسی طرح فلپائن، اندونیشیاکا کرایہ 2000 ڈالر سے بڑھ کر 4000سے 5000ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

سمندری کرایوں میں غیرمعمولی اضافے کے ساتھ شپنگ کمپنیوں کا شیڈول بھی مقرر نہیں ہے۔ جلد تلف ہونیوالے پھلوں کی کھیپ بروقت اپنی منزل تک پہنچنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے، ایسے حالات میں ایکسپورٹ کی لاگت کے ساتھ خدشات بھی بڑھ گئے ہیں جس سے پاکستان کی کینو کی ایکسپورٹ متاثر ہوگی۔

The post سمندری کرایوں میں اضافہ، کینو کی برآمد متاثر ہونیکا خدشہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3FZrnTi

چینی فرم کا جدید ٹیکنالوجی سیکٹر میں سرمایہ کاری کا اعلان

 اسلام آباد: چینی فرم ہوتیان نے پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اظہار دلچسپی کیا ہے۔

چین کی معروف آلات ٹیسٹنگ کی ٹیکنالوجی فراہم کرنیوالی فرم تونگ گوان ہوتیان ٹیسٹنگ ایکوپمنٹ کو لمیٹڈ گروپ کے چیئرمین یوچنگ یانگ نے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ پاکستان میں صارفین کیلیے مینوفیکچرنگ/ اسمبلی، سیلز اور بعد از فروخت سروس کیلیے ان کا ادارہ سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتا ہے جبکہ ملک بھر میں ووکیشنل سینٹرز بھی قائم کئے جائیں گے۔

چینی فرم نے ہنر مند افراد تیار کرنے کیلیے پاکستان میں ٹیسٹنگ آلات کے شعبے میں پیشہ ورانہ تربیتی مرکز سمیت فیکٹری قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یوچنگ یانگ نے کہا، ہم برادر ممالک ہیں! ہم مستقبل میں پاکستان میں فیکٹری لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں، اور متعلقہ تکنیکی عملے کی تربیت کو جامع طریقے سے انجام دیں گے تاکہ مینوفیکچرنگ کے شعبے ہماری مصنوعات تک رسائی حاصل کر سکیں، اور پاکستان میں تکنیکی خلا کو کم کر سکیں۔

انھوں نے کہا پاکستان ایک دوست ملک ہے اور پاکستانی حکومت چینی کاروباری اداروں کے لیے مزید سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے جو کہ پاکستان میں مزید چینی صنعتوں کو فروغ دینے کیلیے اہم ہے۔

The post چینی فرم کا جدید ٹیکنالوجی سیکٹر میں سرمایہ کاری کا اعلان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3lqguCe

امریکا میں اسکول میں طالب علم کی فائرنگ،3طلبا ہلاک

امریکی ریاست مشی گن کے اسکول میں طالب علم کی فائرنگ سے3 طلبا ہلاک اور6طلبا سمیت 8افراد  زخمی ہوگئے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست مشی گن کے اسکول میں15سال کے طالب علم نے ساتھی طلبا پرفائرنگ کردی جس کے نتیجے میں3طلبا ہلاک اور6طلبا اورایک ٹیچر سمیت8 افراد زخمی ہوگئے۔

پولیس نے فائرنگ کرنے والے طالب علم کوگرفتارکرکے ہینڈ گن قبضے میں لے لی۔ پولیس کے مطابق طالب علم نے سیمی آٹومیٹک گن سے15سے20 راؤنڈ فائرکئے۔

پولیس حکام کا مزید کہنا تھا کہ فائرنگ سے قبل طالب علم نے کلاس اٹینڈ کی۔ پولیس کی حراست میں موجود حملہ آور طالب علم نے پولیس سے بات کرنے سے انکارکردیا اوروہ پولیس کے ساتھ تعاون نہیں کررہا ہے۔

The post امریکا میں اسکول میں طالب علم کی فائرنگ،3طلبا ہلاک appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3xDVSLH

اوگرا نے ایل پی جی کی قیمت میں کمی کا اعلان کردیا

اوگرا نے دسمبر کیلئے ایل پی جی کی قیمت میں کمی کا اعلان کردیا۔ 

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے دسمبر کے لیے ایل پی جی کی قیمت میں کمی کا اعلان کیا ہے جس کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 14 روپے 31 پیسے فی کلو گرام کمی کی گئی ہے ، ایل پی جی کی ایک کلوگرام کی نئی قیمت202 روپے 89 پیسے مقرر کردی گئی ہے۔

ایل پی جی کا 11.8 کلو کا گھریلو سلنڈر 168 روپے 90 پیسے سستا ہوگیا ، گھریلو سلنڈر کی نئی قیمت 2390 روپے 44 پیسے مقرر کی گئی ہے۔

نومبر میں ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 2559 روپے 35 پیسے کا تھا۔ ایل پی جی کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم دسمبر 2021ء کیلئے ہے۔

The post اوگرا نے ایل پی جی کی قیمت میں کمی کا اعلان کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3xFVIU8

نومبر میں مہنگائی21ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

اسلا آباد:  پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں مہنگائی نئی بلندیوں کو چھورہی ہے اور نومبر میں مہنگائی کی شرح 21ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

حکومت کے انتظامی فیصلے اور  روپے کی گرتی ہوئی قدر کے باعث اشیائے خوراک، بجلی سمیت  ہر شے عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جارہی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق  نومبر میںافراطِ  زر کی شرح 11.5 فیصد ریکارڈ کی گئی جو 21ماہ میں بلند ترین ہے۔

کنزیومر پرائس انڈیکس ( سی پی آئی ) 3 فیصد رہا جو پچھلے ساڑھے 13سال میں سب سے زیادہ ہے۔ اسی طرح گذشتہ ماہ ہول سیل پرائس انڈیکس (  ڈبلیو پی آئی ) 27 فیصد تک پہنچ گیا ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ  آنے والے مہینوں میں قیمتیں بدستور بلند رہیں گی۔   تازہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ اشیاء کی قیمتوں پر سے حکومت کا کنٹرول ختم ہوگیا ہے۔

مشیر خزانہ  شوکت ترین اور وزیرمنصوبہ بندی اسدعمر نے اعلان کیا تھا کہ ٹیکسوں  میں کمی کی جائے گی  جسے کوکنگ آئل اور گھی کی قیمتوں میں 45 روپے فی کلو کمی آئے گی۔ ان کے اعلان کے برعکس کھانے کا تیل اور گھی مزید مہنگا ہوکر 400روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔

روپے کی قدر میں برق رفتار  گراوٹ سے مہنگائی بڑھتے بڑھتے بلندترین سطح پر پہنچ   چکی ہے۔ 3 مئی کو امریکی ڈالر کی قدر 153.36 روپے تھی جو صرف 6 ماہ میں بڑھ کر 176 تک پہنچ گئی۔ روپے کی یہ بے قدری گندم، چینی، کوکنگ آئل، خام تیل اور  خام مال سمیت  تمام درآمد شدہ اجناس کی قیمتوں میں اضافہ کررہی ہے۔

پاکستان بیوروآف اسٹیٹکس کے مطابق نومبر میں گھی 58 فیصد،  کوکنگ آئل 54 فیصد، گوشت 20 فیصد، آٹا 19 فیصد، دودھ 12 اور سبزیاں 11 فیصد مہنگی ہوئیں۔ بجلی، گیس اور تیل  کے نرخ 15 فیصد بڑھے۔

The post نومبر میں مہنگائی21ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3xCSAIq

میسی نے ریکارڈ ساتویں بار بیلون ڈی آر ایوارڈ جیت لیا

پیرس: ارجنٹائنی اسٹرائیکر لیونل میسی نے ریکارڈ ساتویں بار بیلون ڈی آر ایوارڈ جیت لیا۔

وہ سردست پیرس سینٹ جرمین سے وابستہ ہیں، رواں برس انھوں نے بارسلونا سے طویل رفاقت کا خاتمہ کیا اور ارجنٹائن کے لیے کوپا امریکا کی صورت میں پہلی انٹرنیشنل ٹرافی جیتی۔ میسی نے 613 پوائنٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن پائی۔

بائرن میونخ کے پولش اسٹرائیکر روبرٹ لیوانڈوسکی 580 پوائنٹس لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔ میسی کی جیت پر دنیا بھر سے پرستاروں اور ساتھی پلیئرز نے ستائشی پیغامات بھیجے ہیں۔

The post میسی نے ریکارڈ ساتویں بار بیلون ڈی آر ایوارڈ جیت لیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3lppUhb

نومبر میں مہنگائی21ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

اسلا آباد:  پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں مہنگائی نئی بلندیوں کو چھورہی ہے اور نومبر میں مہنگائی کی شرح 21ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

حکومت کے انتظامی فیصلے اور  روپے کی گرتی ہوئی قدر کے باعث اشیائے خوراک، بجلی سمیت  ہر شے عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جارہی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق  نومبر میںافراطِ  زر کی شرح 11.5 فیصد ریکارڈ کی گئی جو 21ماہ میں بلند ترین ہے۔

کنزیومر پرائس انڈیکس ( سی پی آئی ) 3 فیصد رہا جو پچھلے ساڑھے 13سال میں سب سے زیادہ ہے۔ اسی طرح گذشتہ ماہ ہول سیل پرائس انڈیکس (  ڈبلیو پی آئی ) 27 فیصد تک پہنچ گیا ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ  آنے والے مہینوں میں قیمتیں بدستور بلند رہیں گی۔   تازہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ اشیاء کی قیمتوں پر سے حکومت کا کنٹرول ختم ہوگیا ہے۔

مشیر خزانہ  شوکت ترین اور وزیرمنصوبہ بندی اسدعمر نے اعلان کیا تھا کہ ٹیکسوں  میں کمی کی جائے گی  جسے کوکنگ آئل اور گھی کی قیمتوں میں 45 روپے فی کلو کمی آئے گی۔ ان کے اعلان کے برعکس کھانے کا تیل اور گھی مزید مہنگا ہوکر 400روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔

روپے کی قدر میں برق رفتار  گراوٹ سے مہنگائی بڑھتے بڑھتے بلندترین سطح پر پہنچ   چکی ہے۔ 3 مئی کو امریکی ڈالر کی قدر 153.36 روپے تھی جو صرف 6 ماہ میں بڑھ کر 176 تک پہنچ گئی۔ روپے کی یہ بے قدری گندم، چینی، کوکنگ آئل، خام تیل اور  خام مال سمیت  تمام درآمد شدہ اجناس کی قیمتوں میں اضافہ کررہی ہے۔

پاکستان بیوروآف اسٹیٹکس کے مطابق نومبر میں گھی 58 فیصد،  کوکنگ آئل 54 فیصد، گوشت 20 فیصد، آٹا 19 فیصد، دودھ 12 اور سبزیاں 11 فیصد مہنگی ہوئیں۔ بجلی، گیس اور تیل  کے نرخ 15 فیصد بڑھے۔

The post نومبر میں مہنگائی21ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3xCSAIq

آج کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

کاروباری سلسلے میں کسی پارٹی کو ناراض نہ ہونے دیں بلکہ ہر ایک سے اچھا برتائو کیجئے رہائش کی تبدیلی بھی اچھے نتائج کی حامل بن سکتی ہے۔

ثور:
22 اپریل تا 20 مئی

کسی قریبی عزیز سے کافی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اپنی پوزیشن کو کاروبار میں مضبوط کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ جائیداد وغیرہ کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔

جوزا:
21 مئی تا 21جون

مخالفین کی سازشوں کا سدباب قبل از وقت کر لیجئے ہر معاملے کی تحقیق خود کریں اپنی صحت کے معاملے میں ذرا محتاط ہی رہیں تو زیادہ بہتر ہے۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

آمدنی میں اضافہ کی امید ہے مگر کسی کو بطور قرض رقم ہرگز نہ دیں کیونکہ واپسی کی امید ہرگز نہ ہے، دماغ پر خیالات کا بوجھ قدرے کم ہو سکے گا۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

کسی مقتدر شخصیت کے ساتھ تعلقات استوار ہوں گے اور آپ کے الجھے ہوئے کام حل ہو سکیں گے، آمدنی میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

آپ کے گھریلو حالات بہت زیادہ بہتر رہیں گے، شریک حیات آپ کی ہر خواہش پوری کرنے کے لئے ہمہ وقت مستعد رہیں گے۔ بات بات پر الجھنا چھوڑ دیں۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

دشواریاں سنگ راہ تو بنے گی اس کے باوجود آپ ان پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے، اخراجات کی زیادتی کے سبب بھی پریشانی رہے گی۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

اپنی بنائی ہوئی سکیموں کا ایک بار پھر جائزہ لے لیں تاکہ پھر پچھتانا نہ پڑے، ممکن ہو تو اپنے حقیقی ہمدردوں سے بھی مشورہ لے لیں، کاروبار میں خصوصی توجہ رکھیں۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس کرنے والے حضرات کوئی اہم ڈیل کرنے میں کیابم ہو سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کے گھریلو معاملات بھی آج صلح صفائی سے سلجھ جائیں۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

آپ اپنی تعلیم میں خصوصی دلچسپی لے لیں تاکہ مایوسی کے خول سے باہر آ سکیں آپ کے شریک حیات کا ذہن بھی خاصا منتشر رہے گا۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

ماضی کی تلخ یادوں کو مٹا کر حالیہ ملنے والی خوشیوں کو گلے لگا لیجئے۔ مزاج کی گرمی کو ذرا قابو میں رکھیں تو حالات قابو میں رہ سکتے ہیں۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

ذہنی انتشار بڑھے گا خود کو جذباتیت سے آزاد ہی رکھیں تو بہتر ہے آج آپ کو چھوٹی سے چھوٹی چیز کے لئے بھی تگ و دو کرنا پڑ سکتی ہے۔

The post آج کا دن کیسا رہے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3EQx5pW

Monday, 29 November 2021

گوگل،مائیکروسوفٹ کےبعدٹوئٹرکا نیا سی ای اوبھی بھارتی نژاد

 واشنگٹن: ٹیکنالوجی کی دنیا کا ایک اور اہم عہدہ بھارتی نژاد شخص کے حوالے کردیا گیا۔پراگ اگرووال ٹوئٹرکے نئے سی ای اوبن گئے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گوگل، مائیکروسوفٹ اورآئی بی ایم کے اہم عہدوں پرکام کرنے والے بھارتیوں کے بعد اب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرکے نئے چیف ایگزیکٹوآفیسر(سی ای او)بھی بھارتی نژاد پراگ اگرووال بن گئے۔

بھارتی نژاد امریکی پراگ اگروول امریکی ٹیکنالوجی ایگزیکٹو اور ٹوئٹر کے موجودہ چیف ٹیکنالوجی آفیسر ہیں۔

پراگ اگروال نے انڈین انسٹیٹوٹ  آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی)  ممبئی سے بی ٹیک  کمپیوٹر سائنس اور انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا ہے۔

دنیا کی معروف کمپنیوں میں سی ای او کی حیثیت سے کام کرنے والے بھارتیوں میں گوگل کے سی ای او سندرپیچائی،مائیکروسوفٹ کے سی ای اوستیا ناڈیلا اورآئی بی ایم کے کمپنی کے سی ای اواروند کرشنا شامل ہیں۔

ٹوئٹر نے گزشتہ روز شریک بانی جیک ڈورسی  کے فوری طور پر سی ای او کے عہدے سے دستبرادار ہونے کا اعلان کیا تھا۔

جیک ڈورسی کا بیان میں کہنا تھا کہ ٹوئٹر چھوڑنے کا فیصلہ اس لیے کیا ہے کیونکہ  یقین ہے کہ کمپنی اپنے بانیوں کی مدد سے  مزید آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔

 

The post گوگل،مائیکروسوفٹ کےبعدٹوئٹرکا نیا سی ای اوبھی بھارتی نژاد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3lnvQXZ

یہ جمہوریت ہے؟

اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی شکست کے بعد کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان پاکستان میں بادشاہت قائم کرنا چاہتے ہیں مگر اپوزیشن ایسا نہیں ہونے دے گی، حکومت نے پارلیمنٹ پر خود کش حملہ کیا ہے۔ متحدہ اپوزیشن پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حکومت کی آئین دشمنی کو چیلنج کرے گی۔

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت نے پارلیمنٹ میں قانون سازی میں بدترین آمریت کا مظاہرہ کیا اور چند ووٹوں کی اکثریت سے پورا نظام بلڈوز کردیا ہے۔ ایوان میں کی جانے والی کارروائی جعلی ہے۔ جبر اور زور کے ذریعے کیے گئے فیصلے برقرار نہیں رہ سکتے۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام ایکسپرٹ میں تجزیہ کاروں نے کہا کہ جو معاملات اتفاق رائے سے طے نہ ہوں تو نگراں حکومتیں انھیں منسوخ کرسکتی ہیں۔ حکومت نے اپنے تئیں 2023 کا الیکشن محفوظ کرلیا ہے مگر ہوسکتا ہے کہ نگراں وزیراعظم آکر موجودہ حکومت کے اقدامات کو آرڈیننس کے ذریعے ختم کر دے تو پھرکیا ہوگا۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی انتخابی اصلاحات کا حشر سب دیکھیں گے۔

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ ہم حکومت کی یکطرفہ کی گئی انتخابی اصلاحات جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں جب کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں چند ووٹوں کی عددی اکثریت سے جو کچھ کیا گیا اور حکومت اس بیج کی آبیاری کے لیے جو کچھ کررہی ہے پھل کوئی اور ہی کھائے گا۔ حکومت نے جو کچھ کسی اور کی شہ پر کیا ہے اسے عدالت میں چیلنج کرکے حکومت کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

حکومتی اتحادیوں کی مدد سے پی ٹی آئی حکومت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اور سینیٹ کے اجلاس میں جو قانون سازی کی ہے اس پر پی ڈی ایم، جماعت اسلامی سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہوکر حکومتی اقدامات کی شدید مخالفت، احتجاج اور عدالتی کارروائی کرنے کے دعوے کررہی ہیں مگر حکومتی حلقے مطمئن ہیں کہ پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت کے زور پر جو قانون سازی ہوئی ہے اس پر عدلیہ کچھ نہیں کرے گی کیوں کہ ہم نے اپنی عددی اکثریت سے جمہوری طور پر پارلیمنٹ میں بل منظور کرائے ہیں اور جمہوریت کے مطابق ہوا ہے۔

حکومت کا یہ کہنا درست ہے کیوں کہ جمہوریت میں اکثریت کے زور پر پارلیمنٹ میں قانون سازی کرائی جاتی ہے اور حکومت نے بھی یہی کچھ کیا ہے، کوئی غیر جمہوری کام نہیں کیا۔ حکومت کے خلاف اپوزیشن خوامخواہ واویلا کررہی ہے، ہم پر اعتماد تھے اپوزیشن خود کو ایکسپوز کررہی ہے مگر وہ کمزور ہے اور حکومت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔

حکومت کا موقف بظاہر درست ہے کیوں کہ جو کچھ ہوا پارلیمنٹ میں ہوا۔ حکومت نے اپنی عددی اکثریت ثابت کرکے اپنی مرضی کے اہم بل منظور کرالیے اور اس سلسلے میں اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا۔ حکومت زبانی طور پر اپوزیشن سے انتخابی اصلاحات میں تعاون کے لیے کہتی رہی اور اسپیکر قومی اسمبلی کو اپوزیشن سے رابطوں کا ٹاسک دیا گیا مگر عملی طور پر کچھ نہیں ہوا۔

کوئی پارلیمانی کمیٹی نہیں بنائی گئی اور نہ بل متعلقہ پارلیمانی روایت کے مطابق قائمہ کمیٹی کو بھجوائے گئے اور قومی اسمبلی سے منظور شدہ بل سینیٹ میں پاس نہ ہونے کے باعث پارلیمنٹ کا اجلاس جلدی میں بلایا اور مرضی کے بل جس طرح سے منظور کرالیے اس پر اپوزیشن کا اعتراض تو بنتا ہے۔

اہم بلوں کی منظوری اور انتخابی اصلاحات پر اگر قانون و پارلیمانی طریقہ اختیار کیا جاتا اور جلد بازی کرکے اپنے اتحادیوں کی طرح اپوزیشن کو مطمئن کرکے ان کی بھی سن کر انھیں اعتماد میں لیا جاتا تو موجودہ صورت حال پیدا نہ ہوتی کیوں کہ ماضی میں پی پی اور مسلم لیگ ن کی حکومت میں اپوزیشن کی مدد سے اہم فیصلے کیے جاتے تھے اور ان پر اتنا احتجاج ہوتا تھا نہ اتنی شدید مخالفت کبھی ماضی میں ہوئی جتنی آج ہورہی ہے اور حکومتی اقدامات اور اپوزیشن کو مکمل نظر انداز کرنے کے نتیجہ میں اپوزیشن متحد ہوکر ایک زبان ہوچکی ہے اور حکومت کے اقدامات کو جمہوری ماننے کو تیار نہیں ہے۔

سابق وزیراعظم بھٹو کے دور کو بھی اپوزیشن کے لیے برا دور تو قرار دیا جاتا ہے مگر بھٹو نے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کے ساتھ ہاتھ ملاؤں گا نہ اپوزیشن کے ساتھ کسی اجلاس میں شریک ہوں گا۔ بھٹو نے تو اپوزیشن سے مل کر 1973 کا آئین متفقہ طور پر منظور کرایا تھا اور جمہوری آمر قرار دیے جانے پر بھی انتخابی دھاندلیوں پر پوری اپوزیشن کو آل پاکستان کانفرنس میں ایک جگہ بٹھایا تھا اور خود اپوزیشن لیڈر اور اپوزیشن سے رابطے برقرار رکھے تھے۔

مشترکہ اجلاس میں شریک ارکان نے حکومتی مسودے، مجوزہ بلوں کی موٹی موٹی کتابیں پڑھیں نہ بلوں پر ممبران نے بحث کی۔کسی کو نہیں معلوم کہ کتنے بل منظور کرائے گئے۔ وزراء بھی تعداد مختلف بتا رہے ہیں اور حکومت نے یہ سب کچھ جمہوریت کے نام پر کیا مگر جمہوریت میں ایسا کہیں نہیں ہوتا۔ حکومت اکثریت سے جبری فیصلے تو کراسکی ہے مگر وہ جمہوری نہیں آمرانہ فیصلے قرار دیے جاتے ہیں اور اپوزیشن کا یہ کہنا درست ہے کہ یہ جمہوریت نہیں۔

The post یہ جمہوریت ہے؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/31aYIvL

ماتحت عدلیہ بمقابلہ افسر شاہی

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج منڈی بہاؤالدین راؤ عبدالجبار خان نے توہین عدالت کے مقدمہ میں اس ضلع کے ڈپٹی کمشنرطارق بسرا اور اسسٹنٹ کمشنر امتیاز علی کو تین تین ماہ کی سزا سنا دی ہے۔ اس خبر کے بعد افسر شاہی میں ایک طوفان آگیا ہے۔ بیوروکریسی میں جہاں غصہ نظر آرہا ہے، وہاں تقسیم بھی نظر آرہی ہے۔

ڈپٹی کمشنر کا تعلق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس سے نہیں ہے۔ وہ پنجاب سروس سے ہیں۔ اس لیے بیوروکریسی کی برہمن کلاس کا موقف ہے کہ پنجاب سروس کے دلت لوگ ڈپٹی کمشنر جیسے انتظامی عہدے کے قابل ہی نہیں ہوتے۔ اگر وہاں ڈی ایم جی کا کوئی افسر ہوتا تو وہ حالات کو اس نہج تک پہنچنے ہی نہیں دیتا۔اس لیے ہمیں افسر شاہی کی طرف سے سخت رد عمل دیکھنے میں نہیں ملا‘ صرف پنجاب سروس کے افسران نے کہنے کو ہڑتال کی۔ لیکن وہ بھی کوئی موثر ہڑتال نہیں تھی جس سے کوئی کاروبار حکومت متاثر ہوا ہو۔

بہر حال یہ بھی حقیقت ہے کہ عدالت کی جانب سے توہین عدالت جیسے سنگین جرم میں سزا دینے کے باوجود افسر شاہی کا نظام اس قدر مضبوط ہے کہ متعلقہ افسران کو نہ تو ہتھکڑی لگی اور نہ ہی انھیں جیل منتقل کیا جا سکا۔ یوں دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ عدالت کے احکامات پر عمل نہیں ہو سکا ہے۔ پولیس نے عدالتی احکامات پر عمل کروانا تھا لیکن ڈی پی او صاحب  بھی چھٹی چلے گئے اور یوں افسران بھی گھر چلے گئے‘ انھیں جیل منتقل نہیں کیا جا سکا۔

گزشتہ سال ساہیوال کے سول جج نے عدالتی احکامات نہ ماننے پر ساہیوال کے اسسٹنٹ کمشنر کو ہتھکڑی لگانے کے احکامات دیے تھے جس کے بعد پنجاب بھر کے اسسٹنٹ کمشنرز نے ہڑتال کر دی تھی۔ یہ معاملہ اس قدر بڑھ گیا کہ اس وقت کے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو مداخلت کرنا پڑ گئی اور معاملات طے ہوئے۔ میں نے تب بھی لکھا تھا کہ عدالتی احکامات پر ہر صورت عمل ہونا چاہیے۔ عدالتی احکامات کے خلاف ہڑتال کوئی اچھا کلچر نہیں ہے۔ آج دیکھیں ایک سال بعد ہم دوبارہ وہیں کھڑے ہیں۔ افسر شاہی پھر عدالتی احکامات ماننے کے لیے تیار نہیں ہے اور ایک انتظامی بحران کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔

دراصل پاکستان کی افسر شاہی ماتحت عدلیہ کو ذہنی طور پر عدلیہ ماننے کے لیے ہی تیار نہیں ہے۔ ماتحت عدلیہ کے نوٹسز اور عدالتی کارروائی کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا۔ ماتحت عدلیہ کے ججز کو غیر اہم سمجھا جاتا ہے‘ ان کے احکامات کو بھی سنجیدہ نہیں لیا جاتا۔ ان کو اکثر ہوا میں اڑا دیا جاتا ہے۔ اس واقعہ میں معزز ڈپٹی کمشنر نے عدالت کے نوٹس پر اپنے کلر ک کو بھیجا اور اس نے بھی اپنے افسر کے زعم میں عدالتی پیشی کو سنجیدہ نہیں لیا۔

جب جج صاحب نے کلرک کو عدالت میں بٹھا لیا تو کلرک نے افسر کو اطلاع دی ڈپٹی کمشنر اپنے کلرک کو چھڑانے کے لیے وہاں پہنچ گئے۔ میں سمجھتا ہوں یہاں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے قانون کے مطابق اور سمجھداری سے کام لیا اور کلرک کے بجائے محترم ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کو عدالت آنے پر مجبورکر دیا، اور انھیں تین تین ماہ کی سزا سنا دی۔

پاکستان کے عدالتی نظام میں مسائل ہیں۔ انصاف کی فراہمی میں مسائل ہیں۔ بالخصوص ماتحت عدلیہ کی کارکردگی پر بہت سے سوالیہ نشان ہیں۔ ماتحت عدلیہ، انصاف کا پہلا دروازہ ہے۔ اگر وہاں مسائل ٹھیک ہو جائیں تو کافی مسائل ٹھیک ہو جائیں۔ وہاں کی خرابی کافی مسائل کو جنم دیتی ہے۔ اس لیے اعلیٰ عدلیہ کو بھی ماتحت عدلیہ کو ٹھیک کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

افسوس کی بات ہے کہ وکلا برادری بھی ماتحت عدلیہ کے وقار کا کوئی خاص خیال نہیں رکھتی۔ ہم نے متعدد بار ایسے واقعات دیکھے ہیں جہاں وکلا برادری نے ماتحت عدلیہ کے ججز کو نہ صرف یرغمال بنایا ہے بلکہ ان کی عدالتوں کی تالہ بندی بھی کی ہے۔ ماتحت عدلیہ کے ججز کی توہین، وکلا کی جانب سے ایک معمول ہی بن گیا ہے۔ شاید اسی کو دیکھتے ہوئے افسر شاہی نے بھی ماتحت عدلیہ کی توہین شروع کر دی ہے۔چھوٹے اضلاع کے بالخصوص اور بڑے اضلاع کے بار عہدیداران ماتحت عدلیہ کے ججز کو اپنے ماتحت ہی سمجھتے ہیں۔بار کا صدر خود کو اعلیٰ سیشن جج کے اوپر ہی سمجھتا ہے۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ماتحت عدلیہ کے پاس توہین عدالت کے اس طرح اختیارات نہیں ہیں جیسے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے پاس ہیں۔ اسی لیے ماتحت عدلیہ کے ججز کے ساتھ بد تمیزی کے واقعات زیادہ سامنے آتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ماتحت عدلیہ کے ججز کو بھی اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی طرح توہین عدالت کے اختیارات دے دیے جائیں۔ لیکن صورتحال یہ بھی بتا رہی ہے کہ ان کے نہ ہونے کی وجہ سے بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اس کا کوئی قابل عمل حل نکالنا چاہیے۔

افسر شاہی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ عدالت عدالت ہوتی ہے۔ اس میں ماتحت عدلیہ اور اعلیٰ عدلیہ کا کوئی فرق نہیں ہے۔ انھیں ہر عدالت کو برابر عزت اور احترام دینا ہوگا۔ افسر شاہی کی سرکشی پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ افسر شاہی کا یہ رویہ کوئی ان کا مثبت چہرہ نہیں ہے۔ افسر شاہی اور عدلیہ کی محاذ آرائی پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ عدالتی احکامات کا مذاق اڑا کر افسر شاہی نے کوئی پاکستان کی خدمت نہیں کی ہے۔ بلکہ پاکستان کو نقصان ہی پہنچایا ہے۔

میری چیف جسٹس سے بھی درخواست ہے کہ وہ اس معاملے میں نرمی نہ دکھائیں ۔ ایک سال قبل جب پنجاب کے اسسٹنٹ کمشنر زنے ہڑتال کی تھی تب بھی عدلیہ اور افسر شاہی کے ذمے داران کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جنھیں میں نے نظام عدل کے لیے خطرناک قرار دیا تھا۔ اور دیکھیں آج پھر واقعہ ہو گیا۔

اگر افسر شاہی عدلیہ کے احکامات نہیں مانے گی تو کل عام آدمی بھی نہیں مانے گا۔ آج ڈپٹی کمشنر کو جیل نہیں بھیجا گیا کل وزیر بھی جیل نہیں جائیں گے۔ ہر بااثر آدمی خود کو عدلیہ کے احکامات سے بالاتر سمجھنے لگ جائے گا۔ اس لیے عدالتی احکامات کی بجا آوری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج منڈی بہاؤالدین راؤ عبدالجبار خان کو بھی خراج تحسین پیش کرنا چاہیے۔ انھوں نے عدلیہ کی بالادستی کے لیے جرات دکھائی ہے۔

The post ماتحت عدلیہ بمقابلہ افسر شاہی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3o3d2PB

معاشی اطمینان اور علمی بحثیں

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کے اقتدار میں آنے کا مقصد لوگوں کو غربت سے نکالنا ، دولت پیدا کرنا، اسے پھیلانا ہے۔ وسائل پر اشرافیہ اور مافیاز کی اجارہ داری ختم کریں گے۔

پاکستان میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، ہمارے عوام بھی باصلاحیت ہیں، میرٹ اور قانون کی حکمرانی نہ ہونے سے اشرافیہ قابض ہو جاتی ہے، جس نے کوئی جدوجہد ہی نہیں کی ہوتی وہ بھی اہم عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں۔

معروف اسلامی اسکالر شیخ حمزہ یوسف سے آن لائن گفتگو میں وزیر اعظم نے ملکی سسٹم ، عالم اسلام میں قیادت کے معیار، اہمیت، کردار کے علاوہ انھوں پاکستان کی سیاست پر تقریباً یکساں خیالات کا حوالہ دیا ہے جن کا وہ ملکی، غیر ملکی میڈیا اور ماہرین سے مکالمہ اور بات چیت کی صورت میں اظہار خیال کرتے رہے ہیں، البتہ ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جو سیاسی وژن اور طاقت وزیراعظم کو اپنے پولیٹیکل فلاسفی میں ظاہر کرنی چاہیے، وہ حکمرانی کو اپنے علمی خیالات کا عکس بنا کر پیش کررہے ہیں جب کہ عوام کو آپ کی حکومت کی کارکردگی سے فیض یاب ہونا ہے، لوگ آپ کی حکمرانی میں ایک اسلامی فلاحی ریاست کی روح دیکھنے کے متمنی ہیں۔

صورتحال اس رخ پر جارہی ہے کہ عوام اب کسی فکر وفلسفے سے متاثر نہیں ہوں گے، وہ طیش میں ہیں ، انھیں کسی قسم کیا ریلیف نہیں ملا ، زندگی کے حوالے سے کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ وزیراعظم نے دولت لوٹنے اور ملکی سسٹم میں بے پناہ پیسے کی ریل پیل کا ذکر بہت کیا ، لیکن ایک شفاف سسٹم کے بنیاد رکھنے کے لیے جس پیسے کو لٹیروں سے لے کر ملکی خزانے میں شامل کرنے کا وعدہ تھا وہ بھی پورا نہیں ہوا، بہیمانہ جرائم بڑھ گئے، کورونا نے الگ آفت ڈھائی، اب اس کی نئی قسم آگئی ہے، عوام ابھی کورونا سے سنبھل نہیں پائے کہ ایک نئی مصیبت سر پر کھڑی ہو گئی، عوام کو دو وقت کی روٹی کے حصول نے پریشان کررکھا ہے، تعلیم بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

بلاشبہ وزیراعظم کی گفتگو خالص علمی استدلال کے ساتھ پیش کی گئی، وہ ایک اسلامی دانشور سے گفتگو کررہے تھے، لیکن ان کی حکومت تین سال میں عوام کو اب تک کیا دے چکی ہے، عوام اس کا حساب مانگ رہے ہیں، وہ بے تاب ہیں، مہنگائی نے فی الواقع جو قیامت برپا کر رکھی ہے، اس بارے میں وزیراعظم قوم کے سامنے صحیح حقائق رکھیں، یہ بتائیں کہ بے لگام اشرافیہ اور مافیا کیسے انھیں بے بس کرچکی ہیں، وہ کون سے سرکش قوتیں ہیں جو فلاحی اسلامی ریاست کے قیام میں رکاوٹ بنی ہیں اور حکومت ان کے خلاف کارروائی سے معذور کیوں ہے، وہ ہاتھ اتنے لمبے کیسے بن گئے کہ تین سال ہوگئے۔

وزیراعظم عوام کو جمہوری ثمرات نہیں دے سکے، چینی، آٹا، گھی، دودھ، دالیں اور روزگار بھی نہیں ہے، عوام کی بے بسی کی تصویر سے قطعی مختلف تصویر شیخ حمزہ یوسف سے مکالمے میں پیش کی گئی، ایک درست تصویر بھی عوام کے سامنے آنی چاہیے۔ اس لیے عوام کی برہمی فطری ہوگی، حالات تاریخی حقائق، ملکی سیاست کی گراوٹ اور انتظامی انحطاط کی کوئی اور تصویر دکھا رہے ہیں، زمینی حقیقت اور علمی گفتگو میں کوئی ہم آہنگی نہ ہو تو عوام علمی گفتگو سے بھی تنگ آجاتے ہیں، موجودہ حالات میں چونکہ سیاسی صورتحال پر علمی گفتگو کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ محل وقوع ، تناظر اور وقت ایسی میڈیائی گفتگو پر سوالات اٹھا دیتا ہے، جب کہ ملکی ماحول علمی تناظر پر سیاسی حقائق کا غلبہ فکری طور پر ایسے مکالمے پر بحث کو متضاد سیاق و سباق کی نذرکردیتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ملکی وسائل پر اشرافیہ کے قبضہ کی وجہ سے پاکستانی عوام کی اکثریت صحت، تعلیم اور انصاف جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے، لوگ یکساں سازگار ماحول کے لیے پاکستان سے باہر جاتے ہیں اور وہاں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان حقائق کا اظہار وزیر اعظم ساڑھے تین سال کی سیاسی کارکردگی کے بعد قوم کے سامنے کر رہے ہیں جب کہ ’’ پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہہ چکا ہے‘‘ وقت بدل گیا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے اپنے سیاسی سفر اور اقتدارکا آغاز تبدیلی کے وعدے سے کیا تھا، آج ان الفاظ کی کیا حرمت باقی رہ گئی ہے۔

اقتصادی حالات اور معاشی صورتحال نے پوری سیاسی فضا بدل چکی ہے، لیکن ملک میں وہ تبدیلی نہ آسکی جس کا وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا، تاہم جہاں تک اظہار رائے اور علمی سطح پر ملکی سیاست، سسٹم، مسائل، ریاستی معاملات اور سیاسی قیادت اور مسلم امہ کے فکری زوال اور طرز حکمرانی میں ابتذال اورکرپشن کا سوال ہے، اس کا شیخ یوسف نے صائب علمی جواب دیا ہے، وہ پاکستانی کمیونٹی کے امریکی میں کردار وکارکردگی کے معترف ہیں، اہلیت کے معترف ہیں، تاہم علمی حلقے ملکی سماجی صورتحال کے مخدوش ہونے کے حوالے سے وزیراعظم سے سوال کرنا چاہیں گے کہ وہ پیدا شدہ صورتحال میں سیاسی فکر اور فلسفے پر عملدرآمد کب کریں گے۔

ان کی گفتگو ایک وزیر اعظم کی ہونی چاہیے، ان سے عوام توقع رکھتے ہیں کہ جو وژن ان کا ہے، ملک کے 22 کروڑ عوام کو اسلام سمیت دنیا کی قیادت کے علمی و فکری استنباط سے آگاہ کرنا بھی ناگزیر ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کے لوگوں کی صلاحیتیں جدوجہد سے اجاگر ہوں گی تو انھیں غربت سے نکالا جا سکے گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ عقیدہ انسان کو باوقار بناتا ہے اور اسی سے انسان کو آزادی ملتی ہے۔ مذہب کے معاملے پر کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کی جا سکتی اور اسلام بھی ہمیں یہی سکھاتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا امیر وہ ہوتا ہے جس کا ضمیر خریدا نہ جا سکے، خود اعتمادی انسان کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ انسان کے اندر غیرت بہت ضروری ہے، عزت دار شخص کو کبھی خود کو ذلت میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ سچا ایمان آپ کو اپنی انا پرکنٹرول کرنا سکھاتا ہے، انا کسی بھی شخص کو برباد کردیتی ہے، دوسرے انسانوں کا سوچنے والا اللہ کا ولی بنتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ میں ذاتی مفادات یا اقتدار کے فوائد حاصل کرنے کے لیے سیاست میں نہیں آیا بلکہ اپنے عقیدے کی وجہ سے سیاست میں آیا ہوں۔ جب میں نے سیاست شروع کی تو لوگ سیاست میں آنے سے ڈرتے تھے، سیاست میں آیا تو طاقتور لوگوں نے میری کردار کشی کی لیکن آپ اپنی ناکامیوں سے سیکھتے ہیں، انھوں نے کہا کہ ماضی میں سیاسی نظام کے ذریعے جو قیادت سامنے آئی وہ عقیدہ کے اصولوں سے بالکل الگ ہوگئی، وہ اقتدار کے لیے آئی اور اس نے اقتدار میں رہنے کے لیے سمجھوتہ کیا اور بیشتر سیاستدانوں نے اقتدار ذاتی فائدہ کے لیے حاصل کیا۔ ترقی پذیر دنیا میں زیادہ تر سیاستدان اپنے مفاد اور پیسہ کمانے کے لیے ہی اقتدار میں آتے ہیں۔

بدقسمتی سے بہت کم نیلسن منڈیلا کی طرح تھے جو کسی اعلیٰ مقصد کے لیے اقتدار میں آئے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح وہ شخصیت تھے جو ایک عظیم مقصد کے لیے آئے تھے۔ موجودہ دور میں سیاست دانوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ وہ کہتے تو ہیں کہ ہم عوام کی خدمت کے لیے آئے ہیں لیکن حقیقت میں وہ اپنی ذات کی ہی خدمت کرتے ہیں۔

پاکستان میں صرف ایک فیصد عوام کو معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہے جب کہ دوسروں کے پاس مواقعے ہی نہیں ہیں۔ اپنی حکومت کے بارے میں انھوں نے کہا موجودہ حکومت نے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا فلاحی پروگرام شروع کیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آپ موجودہ وقت میں جو کچھ بھی کر رہے ہیں اس کے اثرات کے بارے میں سوچنا چاہیے جو انسانیت پر مزید ہزار سال تک مرتب ہوں گے۔

پاکستان کے عوام غربت، مہنگائی اور بیروزگاری سے تنگ آگئے ہیں، وہ تنگ آمد بجنگ آمد کی دہلیز پر کھڑے ہیں، انھیں ایک تبدیل شدہ معاشی صورتحال ہی مطمئن کرسکتی ہے، اسی ایک نکتہ پر وزیر اعظم حکمرانی کی عملی تصویر دنیا کو دکھا سکتے اور پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔ عوام ان سے عمل کی توقع رکھتے ہیں۔ کسی علمی شخصیت سے گفتگو بھی لازم ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ملک میں ان حقائق سے آگاہی دلانا ماہرین اقتصادیات کا کام ہے، معاشی، سیاسی اور اقتصادی حالات کی سنگینی کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔

انتخابی معاملات پر بحث جاری ہے، الیکٹرانک ووٹنگ پر تنازعہ چل رہا ہے، مہنگائی عروج پر ہے، گیس نہیں مل رہی، بجلی کے بل ناقابل برداشت ہیں، غربت، افراط زر اور مہنگائی میں ایک جنگ جاری ہے، چنانچہ حکومت عوام کو بتائے کہ اصل جنگ غربت کی ہے، باقی سب اس کے ذیلی اثرات ہیں، لیکن یہ اطمینان صرف وہی معاشی مسیحا ہی دلا سکتے ہیں جو عوام کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہیں۔

حکومت اپنے معاشی چارہ گروں سے مناسب کام لے، ان کو متحرک کرے، انھیں عوام کو مہنگائی، غربت اور افراط زر سے بچانا ہوگا، اپنے عوام کو مطمئن رکھنا اور سیاسی نظام کو بچانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

The post معاشی اطمینان اور علمی بحثیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3puPNh1

چٹاگانگ ٹیسٹ؛ پاکستان نے بنگلہ دیش کو 8 وکٹ سے شکست دے دی

پاکستان نے چٹاگانگ ٹیسٹ میں بنگلہ دیش کو 8 وکٹ سے شکست دے دی۔

پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان 2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ چٹاگانگ کے ظہور احمد چوہدری اسٹیڈیم میں کھیلا گیا۔ کھیل کے پانچویں اور آخری دن پاکستان نے بغیر کسی نقصان کے 109 رنز سے کھیل کا آغاز کیا۔ اوپنر عابد علی 91 اور عبداللہ شفیق 73 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔ اظہر علی 24 اور بابر اعظم 13 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

کھیل کا چوتھا دن؛

کھیل کے چوتھے روز دوسری اننگز میں بنگلادیش کی پوری ٹیم 157 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی پاکستان کو جیت کے لیے 202 رنز کا ہدف ملا جس کے تعاقب میں قومی ٹیم نے پراعتماد آغاز کیا اور دن کے اختتام تک بغیر کسی نقصان کے 109 رنز بنالیے۔

پاکستان کی جانب سے دوسری اننگز میں شاہین شاہ آفریدی نے زبردست بولنگ کا مظاہرہ کیا اور 5 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی جب کہ ساجد خان نے 3 اور حسن علی نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

کھیل کا تیسرا دن؛

گزشتہ روز کھیل کے تیسرے دن پاکستان نے اننگز کا آغاز بغیر کسی نقصان کے 145 رنز سے شروع کیا تو 52 رنز پر عبداللہ شفیق پویلین لوٹ گئے جب کہ سنچری اسکور کرنے والے عابدعلی نے شاندار 133 رنز کی اننگز کھیلی اور آؤٹ ہوگئے، دونوں اوپنرز کے بعد پاکستان کا کوئی بھی کھلاڑی زیادہ دیر تک وکٹ پر کھڑا نہ رہ سکا اور پوری ٹیم 286 رنز بناکر پویلین لوٹ گئی۔

بنگلا دیش نے دوسری اننگز کا آغاز کیا تو ابتدائی 4 کھلاڑی صرف 39 رنز پر پویلین لوٹ گئے تاہم دن کے اختتام پر بنگلادیش نے پاکستان پر 93 رنزکی سبقت حاصل کرلی تھی۔

کھیل کا دوسرا دن؛

گزشتہ روز کھیل کے دوسرے روز بنگلا دیش کی ٹیم اسکور میں صرف 77 رنز کا ہی اضافہ کرسکی اور 330 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی تھی جب کہ پاکستان نے بغیر کسی نقصان کے کھیل کے اختتام پر 145 رنز بنالیے تھے۔

پاکستان کی جانب سے حسن علی نے عمدہ پرفارمنس دکھاتے ہوئے 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جب کہ شاہین شاہ آفریدی اور فخرزمان نے دو دو کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

کھیل کا پہلا دن؛

کھیل کے پہلے دن بنگلادیش نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو صرف 49 رنز پر 4 کھلاڑی پویلین لوٹ گئے تاہم بعد میں لٹن داس اور مشفق الرحیم کی 206 رنز کی شراکت نے بنگلادیش کو مستحکم پوزیشن میں لاکھڑا کیا، دن کے اختتام تک میزبان ٹیم نے 4 وکٹوں کے نقصان پر 253 رنز بنائے تھے۔

The post چٹاگانگ ٹیسٹ؛ پاکستان نے بنگلہ دیش کو 8 وکٹ سے شکست دے دی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3xoHTch

راولپنڈی بورڈ کا سپرنٹنڈنٹ زیادہ نمبرز دینے کےلیے رشوت لیتے ہوئے گرفتار

 راولپنڈی: امتحانی مرکز پر کرپشن کی ایک اور داستان بے نقاب ہوگئی۔

اینٹی کرپشن راولپنڈی نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کے امتحانات لینے والے راولپنڈی بورڈ کے سپرنٹنڈنٹ اشتیاق احمد کو ہزاروں روپے رشوت لیتے ہوئے گرفتار کرلیا۔ واقعے کی ویڈیو بھی بنالی گئی جس میں ریڈ کے دوران ملزم کو رنگے ہاتھوں گرفتار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب محمد گوہر نفیس نے کہا کہ ملزم گورنمنٹ کرسچین ہائیر سکینڈری اسکول راجہ بازار کے امتحانی سینٹر پر سپریٹنڈنٹ تعینات تھا۔ راولپنڈی بورڈ کے تحت طلبا و طالبات سے انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کے امتحانات لئے جا رہے ہیں ۔ اینٹی کرپشن راولپنڈی نے ٹریپ ریڈ کرکے ایس ایس ٹی ٹیچراشتیاق کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا۔

ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب محمد گوہر نفیس نے کہا کہ سرکل آفیسر راولپنڈی ذوالفقار بازید نے مجسٹریٹ طلعت وحید کی سربراہی میں کامیاب ٹریپ ریڈ کیا۔ ملزم سے موقع پر رشوت کے نشان زدہ 25 ہزار روپے برآمد ہوئے۔ ملزم نے مدعی سے زیادہ نمبرز لگانے کے مجموعی طور پر 65 ہزار روپے رشوت وصول کی تھی ۔

مدعی دانش رضا بارہویں جماعت کا طالب علم اور امتحانی مرکز پر امیدوار تھا ۔ ملزم اشتیاق احمد محکمہ تعلیم میں سینیئر سبجیکٹ اسپیشلسٹ ہے جو راجہ بازار امتحانی سینٹر پر بطور سپریٹنڈنٹ ڈیوٹی دے رہا تھا۔ ملزم کو گرفتار کرکے مقدمہ نمبر 43/21 درج کرلیا گیا ہے۔

The post راولپنڈی بورڈ کا سپرنٹنڈنٹ زیادہ نمبرز دینے کےلیے رشوت لیتے ہوئے گرفتار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3o6jXY9

اسلام آباد کے تعلیمی ادارے میونسپل کارپوریشن کے ماتحت کرنے کے خلاف اساتذہ کی ہڑتال

 اسلام آباد: آرڈیننس کے ذریعے اسلام آباد کے تعلیمی ادارے میونسپل کارپوریشن کے ماتحت کرنے کے خلاف جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے تحت آج اسکولوں میں ہڑتال و بائیکاٹ کیا گیا۔

چیئرمین ایکشن کمیٹی فضل مولیٰ نے کہا کہ اساتذہ کے احتجاج کے باعث لاکھوں طلباء کی تعلیمی سرگرمیاں معطل ہو گئیں، مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں اساتذہ 2 دسمبر کو وزیراعظم ہاؤس کے باہر دھرنا دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے تمام تعلیمی ادارے بطور احتجاج کل سے بند کرنے کا اعلان

انہوں نے کہا کہ آرڈیننس کی منسوخی تک وزیر اعظم ہاؤس کے باہر کلاسیں ہو گی، ہم وزیر اعظم ہاؤس کے باہر اور اندر پڑھانے کے لیے تیار ہیں۔ ہمارے ملازمین 2دسمبر سے وزیر اعظم ہاؤس کی چوکیداری اور اندر صفائی کریں گے۔ چیئرمین جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے کہا کہ وزیر اعظم ہاؤس یونیورسٹی نہ بن سکا مگر ہم اس کے باہر کلاسیں لگائیں گے۔

The post اسلام آباد کے تعلیمی ادارے میونسپل کارپوریشن کے ماتحت کرنے کے خلاف اساتذہ کی ہڑتال appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3rmnfIX

عمرہ زائرین کےلئے ٹکٹس اورقرنطینہ پیکیجز ویب سائٹ پر بک کرنے کی سہولت

 لاہور: قومی و مختلف ایئر لائنز نے عمرہ زائرین کےلئے ٹکٹس اورقرنطینہ پیکجز اپنی ویب سائٹ پر بک کرنے کی سہولت فراہم کر دی ہے۔

پی آئی اے نے مدینہ شریف میں تھری اسٹار ہوٹل اور قرنطینہ پیکیج 2225 سعودی ریال اور فور اسٹار ہوٹل اور قرنطینہ پیکیج 3125 سعودی ریال میں مقرر کئے ہیں۔ سعودی عرب کے شہر ریاض کےلئے1650 سعودی ریال اور قرنطینہ پیکیج بک کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔ جدہ اور دمام کے تھری اسٹار ہوٹل اور قرنطینہ 1825 سعودی ریال جبکہ فائیو اسٹار ہوٹل اور پانچ دن کا قرنطینہ پیکیج 3050 سعودی ریال کا مقرر کیا گیا ہے ۔

سعودی گورنمنٹ نے منظور شدہ کورونا ویکسین لگوانے والے غیر ملکی عمرہ زائرین کو سعودیہ آمد کے ساتھ ہی بغیر کسی قرنطینہ کے عمرہ ادا کرنے کی اجازت دی ہے۔

ویب سائٹ پر زائرین اپنی آمد کا وقت ، شہر اور تاریخ درج کرنے کے بعد تھری،فور اور فائیو اسٹار ہوٹل منتخب کر سکتے ہیں،مختلف شہروں کے ہوٹلز کے قرنطینہ کے پیکیجز مختلف ہیں اور مسافر فضائی ٹکٹ کے پی این آر نمبر کی بنیاد پر پیکیج بک کروا سکتے ہیں۔

قومی ایرلائن کی انتظامیہ نے قرنطینہ پیکجزکےلئے اپنی ویب سائٹ پر پورٹل فراہم کیا ہے۔ ان تمام پیکجز میں ائیر پورٹ سے ہوٹل تک یکطرفہ ٹرانسپورٹ کی سہولت،رہائش،تین ٹائم کا کھانا اور دوکورنا پی سی آر ٹیسٹ شامل ہیں۔

پہلا کورونا پی سی آر ٹیسٹ ہوٹل پہنچنے پر جب کہ دوسرا قرنطینہ کے پانچ روز مکمل ہونے کے بعد لیا جائے گا،جدہ اور دمام کا تھری اسٹار ہوٹل اور قرنطینہ پیکیج 1825 سعودی ریال جبکہ فائیو اسٹار ہوٹل اور پانچ دن کا قرنطینہ پیکیج 3050 سعودی ریال مقرر کیا گیا ہے ۔ ایسے افراد جنہوں نے عالمی ادارہ صحت کی طرف سے منظور شدہ ویکسین لگوائی ہوئی ہے انہیں عمرہ کی ادائیگی سے قبل تین دن تک قرنطینہ میں رہنا پڑے گا ۔

اس حوالے سے قومی و نجی ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ عمرہ زائرین کو ویب سائٹ کے ذریعے اپنی مرضی کا پیکیج حاصل کرنے میں آسانی ہوگی اور موجودہ حالات کے پیش نظر ویکسین کے مطابق اپنا اپنا پیکیج منتخب کرسکیں گے تاکہ عمرہ کے لیے سہولت اور آسانی کے ساتھ جا سکیں۔

The post عمرہ زائرین کےلئے ٹکٹس اورقرنطینہ پیکیجز ویب سائٹ پر بک کرنے کی سہولت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3p9hVGd

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ GDP کے4.7 فیصد، 13.8ارب ڈالر پر پہنچ گیا

 اسلام آباد: رواں مالی سال پہلے چار ماہ کے دوران ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ کر جی ڈی پی کے 4.7 فیصدہوگیا ہے جبکہ تجارتی خسارہ 13.8 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔

رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران برآمدات سمیت درآمدات، ایف بی آر محصولات، ترسیلات زر،برآمدات، اور بڑی صنعتوں کی پیداوار میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے البتہ نان ٹیکس آمدنی اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے ملکی معیشت پر ماہانہ اپ ڈیٹ آوٹ لک رپورٹ جاری کردی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال اب تک ترسیلات زر 11.9 فیصد اضافے سے 10.6 ارب ڈالر ریکارڈکی گئیں ملکی برآمدات 32.2فیصد اضافے سے 9.7ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گئیں،ملکی درآمدات 66.3فیصد اضافے سے 23.5ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گئی۔

پہلے 4 ماہ میں تجارتی خسارہ 13.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیاجبکہ کرنٹ اکاو’نٹ خسارے میں 5.1 ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 4فیصد کمی سے 662.1 ملین ڈالر رہی،فولیو سرمایہ کاری مثبت رجحان کے ساتھ 60.1 فیصد کی کمی ہوئی زرمبادلہ ذخائر 23 نومبر تک 22 ارب 98 کروڑ ڈالر سے زائد ہوگئے اورڈالر کی شرح تبادلہ 174.30روپے فی ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی جبکہ4 ماہ میں ٹیکس ریونیو 36.8 فیصد اضافے سے 1843ارب روپے رہا۔

جولائی میں نان ٹیکس آمدنی 27.4 فیصد کمی سے 249ارب ،4 ماہ میں پی ایس ڈی پی کی مد میں 392.7ارب روپے منظورکئے گئے اور3 ستمبر تک میں مالیاتی خسارہ بڑھ کر 438 ارب روپے کی سطح تک پہنچ گیا ، زرعی قرضے 6.5 فیصد اضافے سے 381.3ارب روپے کی سطح پررہے،اکتوبر میں مہنگائی کی ماہانہ شرح 9.2فیصد ریکارڈ کی گئی۔

The post کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ GDP کے4.7 فیصد، 13.8ارب ڈالر پر پہنچ گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/31dmnM6

او آئی سی کا افغان صورت حال پر اجلاس بلانے کا فیصلہ

 اسلام آباد: او آئی سی نے افغانستان کی صورت حال پر اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال پر غور کے لئے او۔آئی۔سی وزرا خارجہ کونسل کا غیرمعمولی اجلاس بلا کر سعودی عرب نے اہم قدم اٹھایا ہے، پاکستان اس اقدام کی مکمل تائید وحمایت کرتا ہے، ہم نے 17 دسمبر 2021 ء کو اسلام آباد میں اجلاس کی میزبانی کی پیشکش بھی کی ہے، ہم پراعتماد ہیں کہ او۔آئی۔سی رکن ممالک اس پیشکش کی تائید کریں گے۔

انہوں کہا کہ افغانستان او۔آئی۔سی کا بانی رکن ہے، وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ او۔آئی۔سی کو افغان بھائیوں کی مدد کے لئے آگے بڑھنا ہوگا، افغان عوام کی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کی ہماری اجتماعی کوششوں کو تیز کرنا ہوگا، انہیں فوری اور مسلسل مدد فراہم کرنا ہوگی اور افغانستان کی فلاح وبہبود اور خوش حالی کیلیے ان کے ساتھ رابطے جاری رکھنے چاہئیں۔

واضح رہے کہ افغانستان کی صورتحال پر او۔آئی۔سی کی وزرا خارجہ کونسل کا پہلا غیرمعمولی اجلاس جنوری 1980 ء میں اسلام آباد میں ہوا تھا۔

The post او آئی سی کا افغان صورت حال پر اجلاس بلانے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/31b34Tu

یہ گیند نہیں بلکہ آگ بجھانے والا دستی بم ہے

 نیویارک: کسی بھی جگہ آگ لگ جانے کی صورت میں سیلنڈر نما آگ بجھانے والے آلے سے مدد لی جاسکتی ہے لیکن ایلائڈ نامی گیند بہت آسانی سے ازخود پھٹ کر آگ کو بجھاسکتی ہے۔

اس کی قیمت 80 سے 110 ڈالر ہے جو ماڈل کے حساب سے اور یہ سات سال تک قابلِ عمل رہتی ہے۔ ائلائڈ گیند کا استعمال بہت آسان ہے۔ اسے آگ سے حساس جگہوں پر رکھا جاسکتا ہے جہاں معمولی حرارت بڑھنے پر گیند ازخود پھٹ جاتی ہے اور وسیع رقبے کی آگ سیکنڈوں میں بجھ جاتی ہے۔

اس کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کسی انسانی مداخلت کے بغیر ایلائڈ گیم اپنا کام کرسکتی ہے اور اسے آتشزدگی کے خطرے سے دوچار مقامات پر رکھا جاسکتا ہے۔ معمولی حرارت بڑھنے پر یہ ازخود روبہ عمل ہوجاتی ہے۔ اپنی خصوصیت کی بنا پر اسے الٹا دستی بم کہا جاسکتا ہے ۔ اس کا الٹ بھی ہے یعنی آگ بھڑکنے والے مقام پر اسے پھینک دیا جائے تو یہ ٹھنڈے بم کی طرح پھٹ کر اسے بھی سرد کردیتی ہے۔

اسے بجلی کے تاروں والے مقامات اور دیگر جگہوں پر رکھا جاسکتا ہے۔ چھوٹی گیند 19 مربع فٹ اور بڑی گیند 60 مربع فٹ رقبے کی آگ ٹھنڈا کرسکتی ہے۔

The post یہ گیند نہیں بلکہ آگ بجھانے والا دستی بم ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3D4s3oE

کافی پینے سے الزائیمر کا خطرہ کم ہوسکتا ہے

میلبرن: کافی پینے والوں کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ اب اس کا باقاعدہ استعمال دماغی انحطاط کے امراض مثلاً ڈیمنشیا اور الزائیمر کو ٹال سکتا ہے۔

آسٹریلیا کی ایڈتھ کووان یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ’عمررسیدگی، طرزِحیات اور اس کی عکس نگاری اور بایومارکر تحقیق‘ کے قومی پروگرام ‘ کے تحت یہ مشاہدات جمع کئے ہیں۔ اس میں 200 آسٹریلوی باشندوں پر ایک عشرے تک سروے کیا گیا تھا۔

تحقیق میں شامل مرکزی سائنسداں ڈاکٹر سمانتھا گارڈنر نے کافی اور کئی اہم بایومارکر( جسم میں مرض اور صحت بتانے والے عناصر مثلاً کولیسٹرول وغیرہ) کا جائزہ لیا ہے۔

’ہم نے دیکھا کہ بظاہر یادداشت میں کوئی خرابی نہ رکھنے والے لیکن زیادہ کافی پینے والے افراد میں اکتسابی خرابی کا رحجان قدرے کم تھا۔ اسے مائلڈ کوگنیٹو امپیئرمنٹ کہتے ہیں جو بڑھتے بڑھتے الزائیمر کی وجہ بنتا ہے اور پھر یہ مرض پیدا بھی ہوجاتا ہے۔

دوسری جانب کافی پینے سے دماغی افعال مثلاً کام کرنے کی صلاحیت، منصوبہ بندی، خود پر کنٹرول اور توجہ بھی بڑھتی ہے۔ پھر یہ بھی دیکھا گیا کہ کافی پینے سے دماغ میں ایمولوئڈ پروٹین جمع ہونے کا عمل سست ہوجاتا ہے۔ یہ پروٹین اگر دماغ میں بڑھ جائے تو بھی الزائیمر لاحق ہوسکتا ہے۔

تاہم سائنسدانوں نے اتفاق کیا ہے کہ اس ضمن میں غیرمعمولی اور مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔  تاہم ان کا خیال ہے کہ روزانہ ایک سے زائد کافی کپ پینے سے زائد فوائد سمیٹے جاسکتے ہیں۔ مثلاً 18 ماہ تک روزانہ دو کپ کافی پینے سے دماغی زوال کا خطرہ 18 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

The post کافی پینے سے الزائیمر کا خطرہ کم ہوسکتا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3D2Z98d

رسیوں میں جکڑی 800 سال قدیم ممی دریافت

لیما، پیرو: قدیم آثار، ممی اور حیرت انگیز داستانوں کی سرزمین پیرو سے ایک اور دریافت ہوئی ہے۔ یہ ایک ممی ہے جو رسیوں میں جکڑی گئی ہے اور بہت تکلیف دہ حالت میں اکڑوں بیٹھی ہے۔

نیشنل یونیورسٹی آف سان مارکوس کے محققین نے پیرو کے دارالحکومت لیما سے 25 کلومیٹر دور، آثارِ قدیمہ کی ایک ویب سائٹ کاہا مورکیلا میں اس ممی کو دریافت کیا ہے۔

ممی نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپا ہوا ہے اور اسے اکڑوں بٹھایا گیا ہے۔ لیکن ماہرین کے مطابق یہ مردے کی بے حرمتی یا تشدد نہیں بلکہ اس وقت دفنانے کی ایک رسم تھی جو اس تہذیب میں عام تھی۔ محتاط انادازے کے مطابق یہ 800 سے 1200 سال قدیم ہے جو ہسپانوی عہد سے پہلے کا دور تھا بلکہ شاید انکا تہذیب سے بھی پہلے کے عہد سے تعلق رکھتی ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ یہ 25 سے 30 سالہ نوجوان کی لاش ہے جو اسی علاقے کی پہاڑوں پر رہتا تھا۔ ماہرین نے اس سال اکتوبر میں یہاں دوبارہ تحقیق اور کھدائی شروع کی جس کے بعد کئی اہم اشیا سامنے آئیں تاہم ممی ان میں سب سے اہم دریافت ہے۔ ماہرین کو توقع نہیں تھی کہ وہ اتنی اہم دریافت کرسکیں گے۔

ممی کے مقبرے کے باہر سیپیاں اور دیگر ٹکڑے ملے ہیں لیکن ساحلِ سمندر یہاں سے 25 کلومیٹر دور ہے۔ کئی قبروں سے اونٹ نما جانور لاما کی ہڈیاں بھی ملی ہیں کیونکہ قدیم پیرو میں ان کا گوشت رغبت سے کھایا جاتا تھا۔

The post رسیوں میں جکڑی 800 سال قدیم ممی دریافت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3FVOxda

صارفین کے لئے بجلی فی یونٹ4 روپے 75 مہنگی ہونے کا امکان

 اسلام آباد: فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں فی یونٹ بجلی5روپے75پیسے مہنگی ہونے کا امکان ہے۔

فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کرنے کی درخواست پر سماعت آج ہوگی۔ سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے نیپرا میں بجلی مہنگی کرنے کی درخواست دی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر میں ڈیزل سے 25 روپے 22 پیسے فی یونٹ اورفرنس آئل سے 22 روپے 21 پیسے فی یونٹ بجلی پیدا کی گئی۔ پانی سے بجلی کی پیداوار 23.26 فیصد اور کوئلے سے 16.69فیصد رہی۔

درخواست کے مطابق  فرنس آئل سے 10.88 اور ڈیزل سے بجلی کی پیداوار0.51 فیصد رہی۔گزشتہ ماہ گیس سے 9.67 اور ایل این جی سے 23.96 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔

درخواست منظورہونے کی صورت میں بجلی صارفین پر 60 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

The post صارفین کے لئے بجلی فی یونٹ4 روپے 75 مہنگی ہونے کا امکان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3xBAdn7

سی پیک کا سب سے بڑا کردار گوادر بنیادی سہولیات سے محروم

سی پیک کو حکومت پاکستان کی جانب سے گیم چینجر تو قرار دیا جاتا ہے اور اس گیم چینجر منصوبے میں سب سے بڑا کردار گوادر کا ہے تاہم گوادر میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی کے حالیہ دورے سے ایسا محسوس ہوتاہے کہ گوادر کے ترقی کے دعوے صرف دعوؤں تک محدود ہیں اور جی او سی ایس ایس ڈی 44 میجر جنرل عنایت حسین نے بھی انتباہ کیا ہے کہ سرخ فیتے کاٹنے سے کام آگے بڑھایا جائے۔

گوادر کی ترقی کیلئے گوادر کے گورننس ماڈل کو تبدیل کیے جانے کی ضرورت ہے،آئندہ گرمیوں سے پہلے ہمیں گوادر کے مکینوں کیلئے بجلی، پانی چاہیے۔گوادر کے دورے میں معلوم ہوا کہ گوادر کے لوگ بجلی ، گیس ، پانی جیسی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں ،چائنہ بزنس سینٹر اور چین کی گرانٹ سے ایک ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ سینٹر قائم جبکہ ایک تین سوبیڈ کے ہسپتال پر کام جا ری ہے۔

گوادر میں ہمارادورہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی کے ہمراہ تھا، اس دورے کے دوران گوادر کو بہت قریب سے دیکھنے اور جاننے کا موقع ملا تو ایسا محسوس ہوا کہ گوادر ترقی سے بہت دور ہے،گوادر میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت منعقد ہوا ،اجلاس میں معاون خصوصی سی پیک خالد منصور، سینیٹر پلوشہ خان، سینیٹر دوست محمد اور سینیٹر شفیق ترین بھی شریک تھے۔

گوادر پورٹ اتھارٹی پرائیویٹ کمپنی کو گوادر کیلئے ایل این جی امپورٹ کا این او سی دینے سے انکاری ہے، سات ماہ میں مکمل ہونے والاگیس فراہمی کا منصوبہ تاخیر کا شکار ہورہا ہے۔ گوادرمیں موجود جی او سی، ایس ایس ڈی 44 نے بھی مکینوں کو بجلی، گیس اور پانی جیسی سہولیات کی جلد ازجلد فراہمی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

معاون خصوصی سی پیک خالد منصور نے کہاکہ 300 میگا واٹ کول پاور پلانٹ ترجیحی لسٹ میں ہے۔چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی شاہزیب کاکڑنے بھی گوادر میں سرمایہ کا ری لانے کا بہت مشکل قرار دیا ، سرمایہ کاروں کو 25 اداروں سے این او سی لینے پڑتے ہیں۔

سینٹ کی پلاننگ کمیٹی کی جانب سے بھی مایوسی کا اظہار کر تے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو گوادر میں کم سے کم گیس بجلی اور پانی جیسی سہولیات فوری پہنچانے کے اقدامات کرنے کیلئے لیٹر لکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

The post سی پیک کا سب سے بڑا کردار گوادر بنیادی سہولیات سے محروم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3G36zuf

سندھ، خلاف ضابطہ تعمیرات کو ریگولرائز کرنے کیلیے آرڈیننس لانے کا فیصلہ

 کراچی: حکومت سندھ نے صوبے بھر میں خلاف ضابطہ تعمیرات و خلاف ضابطہ بنائے گئے رہائشی یونٹس کو ایک مرتبہ ریگولرائز کرنے کے لیے آرڈیننس لانے کا فیصلہ کرلیا۔

حکومت سندھ کے ذرائع کے مطابق مجوزہ آرڈیننس کے ذریعے ایک مخصوص عرصے کے دوران تمام غیرتجارتی تعمیرات کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا اور اس مقصد کیلیے آرڈیننس کے ذریعے ایک کمیشن بنایا جائے گا جو تعین کرے گا کہ سرکاری زمین پر بنے رہائشی یونٹس، قواعد کی خلاف ورزی کرکے بنائے گئے کثیر المنزلہ عمارتوں سمیت ایسی دیگر تعمیرات جوصرف رہائشی مقاصد کیلیے اب استعمال ہورہی ہیں یاجن کو خالی کرانے سے کوئی انسانی المیہ جنم لے سکتاہو اس کو بعض شرائط و جرمانے کے ساتھ ریگولرائز کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ آرڈیننس میں خلاف ضابطہ تعمیرات کی اجازت دینے والوں یا قبضوں اور تعمیرات کیخلاف کارروائی نہ کرنے والے حکام کے خلاف تادیبی ایکشن  کے لیے سزائیں اور طریقہ کار بھی تجویز کیاجائے گا۔

امکان ہے کہ غیر تجارتی تعمیرات جہاں لوگ آباد ہیں ان کو عمارت ، علاقے کی نوعیت کے اعتبار سے جرمانہ وصول کیاجائے گا اور پھر اس عمارت کو ریگولیٹ کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق آئین کے تحت سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد مجوزہ آرڈیننس توثیق  کے لیے گورنر سندھ کو بھیجاجائے گا۔ گورنر سندھ کی منظوری کی صورت میں آرڈیننس نافذ العمل ہوگا۔

سندھ حکومت کا مجوزہ آرڈیننس سندھ اسمبلی کی منظورکردہ قرارداد کی روشنی میں بنایا جارہا ہے۔ آرڈیننس کی روشنی میں بنایا جانے والا کمیشن جس میں ریٹائرڈ جج بھی شامل ہوں گے وہ تعین کرے گا کہ کون سے رہائشی یونٹ کو ریگولرائز کرنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ کمیشن کا سربراہ اعلی عدالت کا ریٹائرڈ جج ہوسکتا ہے۔ اس ضمن میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے آرڈیننس کی تیاری شروع کردی ہے۔

The post سندھ، خلاف ضابطہ تعمیرات کو ریگولرائز کرنے کیلیے آرڈیننس لانے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3E9ipCf

او آئی سی کا افغان صورت حال پر اجلاس بلانے کا فیصلہ

 اسلام آباد: او آئی سی نے افغانستان کی صورت حال پر اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال پر غور کے لئے او۔آئی۔سی وزرا خارجہ کونسل کا غیرمعمولی اجلاس بلا کر سعودی عرب نے اہم قدم اٹھایا ہے، پاکستان اس اقدام کی مکمل تائید وحمایت کرتا ہے، ہم نے 17 دسمبر 2021 ء کو اسلام آباد میں اجلاس کی میزبانی کی پیشکش بھی کی ہے، ہم پراعتماد ہیں کہ او۔آئی۔سی رکن ممالک اس پیشکش کی تائید کریں گے۔

انہوں کہا کہ افغانستان او۔آئی۔سی کا بانی رکن ہے، وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ او۔آئی۔سی کو افغان بھائیوں کی مدد کے لئے آگے بڑھنا ہوگا، افغان عوام کی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کی ہماری اجتماعی کوششوں کو تیز کرنا ہوگا، انہیں فوری اور مسلسل مدد فراہم کرنا ہوگی اور افغانستان کی فلاح وبہبود اور خوش حالی کیلیے ان کے ساتھ رابطے جاری رکھنے چاہئیں۔

واضح رہے کہ افغانستان کی صورتحال پر او۔آئی۔سی کی وزرا خارجہ کونسل کا پہلا غیرمعمولی اجلاس جنوری 1980 ء میں اسلام آباد میں ہوا تھا۔

The post او آئی سی کا افغان صورت حال پر اجلاس بلانے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/31b34Tu

سعودی ڈیولپمنٹ بینک اور اسٹیٹ بینک کے درمیان 3 ارب ڈالر ڈپازٹ کا معاہدہ

 کراچی: سعودی ڈیولپمنٹ بینک اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے درمیان ڈپازٹ معاہدہ طے پاگیا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ کے جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق سعودی عرب اور حکومت پاکستان کے درمیان ایک ڈپازٹ معاہدے پر پیر کو دستخط کیے گئے جس میں سعودی عرب کی نمائندگی سعودی فنڈ برائے ترقی اور حکومتِ پاکستان کی نمائندگی اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کی۔

معاہدے پر سعودی فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلطان بن عبدالرحمٰن المرشد اور گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے اسٹیٹ بینک کے ہیڈ آفس کراچی میں دستخط کیے۔ اس ڈپازٹ معاہدے کے تحت، سعودی فنڈ اسٹیٹ بینک کے پاس 3.0 ارب ڈالر رکھوائے گا۔ معاہدے کے تحت ڈپازٹ کی رقم اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر کا حصہ بن جائے گی۔

یہ رقم پاکستان کے زرِ مبادلہ ذخائر میں معاونت کرے گی اور کووڈ 19 کی وبا کے منفی اثرات دور کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ یہ ڈپازٹ معاہدہ مملکت سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مضبوط اور خصوصی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور دونوں برادر ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دے گا۔

The post سعودی ڈیولپمنٹ بینک اور اسٹیٹ بینک کے درمیان 3 ارب ڈالر ڈپازٹ کا معاہدہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3rnR2kr

وزیراعلیٰ نے11پولیس افسران کو چارج چھوڑنے سے روک دیا

 کراچی: روٹیشن پالیسی کے تحت پی اے ایس اور سندھ پولیس کے11افسران کے تبادلوں کا معاملے پر وفاق اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے ہیں۔

اس حوالے سے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کی منظوری سے حکومت سندھ نے نیا حکم نامہ جاری کردیا ہے جس کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ نے تمام ڈی آئی جیز اور پی اے ایس افسران کو چارج چھوڑنے سے روک دیا ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ افسران اگلے حکم تک اپنے عہدوں پر کام کرتے رہیں اور کہا گیا ہے کہ وزیر اعلی سندھ کے حکم پر عملدرآمد کیا جائے۔

ان افسران میں گریڈ20کے سید حسن نقوی، کاظم حسین جتوئی، زاہد علی عباسی، خالد حیدر شاہ، محمد نعمان شیخ، جاوید اکبر ریاض، عبداللہ شیخ، ثاقب اسماعیل میمن، نعیم احمد شیخ، عمر شاہد حامد اور لیفٹنٹ ریٹائرڈ مقصود احمد شامل ہیں۔

The post وزیراعلیٰ نے11پولیس افسران کو چارج چھوڑنے سے روک دیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3G1uKJd

جواری مالکان بھارتی بورڈ کیلیے دردِ سر بن گئے

 کراچی: آئی پی ایل ٹیم احمد آباد کے جواری مالکان بھارتی بورڈ کیلیے دردِ سر بن گئے،ان کی بیٹنگ انڈسٹری سے وابستگی کے بارے میں تحقیقات ہوں گی۔

بھارتی کرکٹ بورڈ نئی آئی پی ایل فرنچائز احمد آباد خریدنے والی کمپنی سی وی سی کیپیٹل کے مالکان کی تحقیقات کے لیے غیرجانبدار پینل تشکیل دے گا، مذکورہ کمپنی نے اس فرنچائز کے لیے سب سے زیادہ 5625 کروڑ روپے کی بولی دی تھی، بعد میں انکشاف ہوا کہ اس کے کچھ مالکان کا تعلق انگلینڈکی بیٹنگ انڈسٹری سے ہے، جس پر بی سی سی آئی اب ایک ایسی کمیٹی کی تشکیل پر غور کررہا ہے جس میں سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ جج کو بھی شامل کیا جائے گا۔

اس حوالے سے آئی پی ایل گورننگ کونسل کی 4 دسمبر کو میٹنگ شیڈول ہے۔ اگر بی سی سی آئی نے سی وی سی کیپیٹلز کو احمد آبادکی ملکیت کے لیے نااہل قرار دیا تو دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ بولی دینے والے ادانی کو فرنچائز سونپی جا سکتی ہے،اس نے ٹیم کے لیے 5100 کروڑ روپے کی بولی دی تھی۔

سب سے پہلے آئی پی ایل کے سابق چیئرمین للت مودی نے سی وی سی کیپیٹل کے حوالے سے کہا تھا کہ میرے خیال میں اب جوا کھلانے والی کمپنیزبھی ٹیم خرید سکتی ہیں، یہ ایک نیا قانون ہوگا، کوالیفائیڈ بولی دہندہ ایک بڑی بیٹنگ کمپنی کی مالک ہے، بی سی سی آئی نے اپنا ہوم ورک پورا نہیں کیا، اس قسم کے کیسز میں آخر اینٹی کرپشن یونٹ کیا کررہا ہے؟ یاد رہے کہ مذکورہ کمپنی یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ امریکا میں مقیم چند مالکان کا بیٹنگ کاروبار قانونی ہے۔

The post جواری مالکان بھارتی بورڈ کیلیے دردِ سر بن گئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3xyhQ2B

آج کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

بے شک اس وقت آپ ایک مضبوط پوزیشن اختیار کئے ہوئے ہیں لیکن اپنے اردگرد نظر رکھیں تاکہ مخالف آپ کے خلاف سازش نہ کر سکے۔

ثور:
22 اپریل تا 20 مئی

کھانسی، نزلہ زکام کی بدولت آج طبیعت ناساز ہو سکتی ہے۔ لہٰذا محتاط رہئے۔مزاج کی تلخی کو بھی کم کر دیں تو زیادہ بہتر ہے۔

جوزا:
21 مئی تا 21جون

اپنے خیالات پر کنٹرول کیجئے کامیابی آپ کے ہمراہ چلے گی لیکن شرط یہ ہے کہ آپ ہمت نہ ہاریں بسلسلہ جائیداد مایوسی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

آپ کا مخالف میدان سے بھاگتا نظر آ رہا ہے، جیت آپ کی ہو گی اور یقینا ہو سکتی ہے اس کامیابی کے نشہ میں آپ اپنے اچھے ساتھیوں کو ہرگز نہ بھولیں ۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

محبت کے حالات قدرے بہتر ثابت ہو سکتے ہیں اس نئے کاروبار کو ہرگز نہ بھولیں جو آپ نے دوسروں کے بھروسے شروع کیا تھا لہٰذا شریک کاروبار پر بھی نظر رکھیں۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

آپ چونکہ وفادار ہیں اس لئے دوسروں سے بھی وفا کی ہی توقع رکھتے ہیں جبکہ ایسا ہوتا نہیں لہٰذا ہر ایک پر اعتماد کرنے والی عادت کو ختم کر دیجئے تاکہ نقصان نہ اٹھانا پڑے۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

کاروبار آپ کا کوئی بھی ہے ان دنوں آپ کو غیر معمولی ذہانت سے کام لینا ہو گا اور اور آپ اپنی صلاحیتوں کی بدولت کاروبار کو وسعت دینے میں کامیاب رہیں گے۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

چند رشتہ دار آپ کو آپ کے شریک حیات کے بارے میں بہکا سکتے ہیں۔ بہتر ہے ان کی باتوں میں نہ آیئے ورنہ آپ کے گھر کا رہا سہا سکون بھی برباد ہو جائے گا۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

اگر آپ نے عقلی غلطیاں نہ کیں اور اپنی صلاحیتوں کو حقیقی معنوں میں بروئے کار لے آئے تو پھر یقین کیجئے کہ آپ کے قدموں میں لاتعداد کامیابیاں ڈھیر ہو سکتی ہیں۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

بسلسلہ شادی اپنے والدین کے فیصلے کو ہی تسلیم کرلینا آپ کے حق میں بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔ غیر شادی شدہ افراد عشق و محبت کے ڈراموں کا حقیقی کردار بننے کی غلطی نہ کریں۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

صدقہ خیرات کرتے رہنا آپ کے لئے کافی بہتر ہے۔ آج کل حالات بالکل آپ کے لئے سازگار نہ ہیں۔ اچھے بھلے دوست بھی مخالفت پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

بسلسلہ تعلیم خصوصی توجہ کی ضرورت ہے مفت کی دولت ملنے کا امکان ہے سیاسی و سماجی کارکن آج کے دن اپنی سرگرمیوں کو محدود ہی رکھیں تو بہتر ہے۔

The post آج کا دن کیسا رہے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3EQx5pW

وزیراعلیٰ نے11پولیس افسران کو چارج چھوڑنے سے روک دیا

 کراچی: روٹیشن پالیسی کے تحت پی اے ایس اور سندھ پولیس کے11افسران کے تبادلوں کا معاملے پر وفاق اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے ہیں۔

اس حوالے سے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کی منظوری سے حکومت سندھ نے نیا حکم نامہ جاری کردیا ہے جس کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ نے تمام ڈی آئی جیز اور پی اے ایس افسران کو چارج چھوڑنے سے روک دیا ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ افسران اگلے حکم تک اپنے عہدوں پر کام کرتے رہیں اور کہا گیا ہے کہ وزیر اعلی سندھ کے حکم پر عملدرآمد کیا جائے۔

ان افسران میں گریڈ20کے سید حسن نقوی، کاظم حسین جتوئی، زاہد علی عباسی، خالد حیدر شاہ، محمد نعمان شیخ، جاوید اکبر ریاض، عبداللہ شیخ، ثاقب اسماعیل میمن، نعیم احمد شیخ، عمر شاہد حامد اور لیفٹنٹ ریٹائرڈ مقصود احمد شامل ہیں۔

The post وزیراعلیٰ نے11پولیس افسران کو چارج چھوڑنے سے روک دیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3G1uKJd

Sunday, 28 November 2021

کراچی میں کوسٹر اور کوچ میں تصادم، 3 افراد جاں بحق اور 9 زخمی

کراچی:  لانڈھی بچہ جیل کے قریب کوسٹر اور کوچ میں تصادم کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق اور 9 افراد زخمی ہوگئے، جاں بحق اور زخمی ہونے والے ملیر جعفر طیار کے رہائشی اور نجی موٹر کمپنی کے ملازم ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی کے علاقے شاہ لطیف کے علاقے نیشنل ہائی وے بچہ جیل کے گیٹ کے سامنے کوسٹر اور کوچ میں تصادم کے نتیجے میں کوسٹر میں سوار 3 افراد جاں بحق اور 9 افراد زخمی ہوگئے،

حادثے کی اطلاع ملتے ہی، پولیس، رینجرز اور چھیپا کی ایمبولینسیں موقع پر پہنچ گئیں، اور جاں بحق ہونے والوں کی لاشیں اور زخمیوں کو کوسٹر سے نکال کر ایمبولینسوں کے ذریعے جناح اسپتال پہنچایا ، جہاں جاں بحق ہونے والوں کی شناخت28 سالہ محمد وقاص ولد محمد اکبر ، 28 سالہ علی رضا ولد سلمان رضا اور29 سالہ زبیر کے نام سے کی گئی جبکہ زخمیوں میں کوسٹر کا ڈرائیور 24 سالہ حارث ولد عبد الغفار ، 38 سالہ عمران ولد محمد رمضان ، 31 سالہ مدثر عباس ولد سید عباس ، 30 سالہ حسنین مہدی ولد حسن مہدی ، 39 سالہ نذر محمد ولد سید محمد عباس ، عمران ولد سید علی رضوی ، جعفر علی اور جعفر عباس شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق حادثے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے تمام افراد ملیر جعفر طیار کے رہائشی اور انڈس موٹرز کے ملازم ہیں، پیر کی صبح شفٹ والی کوسٹر میں پورٹ قاسم میں واقعے انڈس موٹرز جا رہے تھے، حادثے کی اطلاع ملنے پر کمپنی مینجمنٹ کے افسران اور دیگر ملازمین فوری طور پر جناح اسپتال پہنچ گئے اور تمام زخمیوں کو جناح اسپتال سے ابتدائی طبی امداد کے بعد اسٹیڈیم روڈ پر نجی اسپتال منتقل کر دیا۔

دوسری جانب سپرہائی وے الجدہ ریسٹورنٹ کے قریب بس اور ٹریلر میں تصادم کے نتیجے میں بس میں سوار خواتین اور بچوں سمیت 25 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ، زخمیوں کو ایدھی ایمبولینس کے ذریعے بقائی ٹول پلازہ اسپتال منتقل کیا گیا ، موٹروے پولیس کے انسپکٹر لیاقت علی بھٹی نے بتایا کہ تمام زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد عباسی شہید اور سول اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

زخمی ہونے والی ایک بچی اور ایک شخص کی حالت تشویشناک تھی ۔ باقی تمام افراد معمولی زخمی تھے ، زخمیوں کی شناخت 35 سالہ ردا ، 20 سالہ کائنات ، 32 سالہ عائشہ، 40 سالہ شازیہ، 55 سالہ رقیہ، 36 سالہ ارم شکیل، 65 سالہ ثوبیہ بانو، 11 سالہ احمد، 27 سالہ غلام، 30 سالہ قاضی نوید، 36 سالہ ولی محمد اور دیگر شامل ہیں۔ موٹروے پولیس کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والے کورنگی کے رہائشی تھے جو شادی کے سلسلے میں حیدرآباد  گئے تھے ، اتوار اور پیر کی درمیانی شب حیدرآباد سے واپس آتے ہوئے باراتیوں سے بھری بس ٹریلر سے ٹکرا گئی ۔

The post کراچی میں کوسٹر اور کوچ میں تصادم، 3 افراد جاں بحق اور 9 زخمی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3E2Dtdz

خواتین پر تشدد کی روک تھام کیلئے ذہن سازی کی ضرورت ہے!!

25 نومبر کو دنیا بھر میں خواتین پر تشدد کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور اس دن سے 16 روزہ بین الاقوامی آگاہی مہم کا آغاز بھی ہوجاتا ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں خواتین پر ہونے والے تشدد پر آواز اٹھانا، لوگوں کو اس حوالے سے آگاہی دینا اور تشدد کی روک تھام کیلئے اقدامات کرنے پر زور دینا ہے۔

پاکستان میں بھی نہ صرف یہ دن منایا جاتا ہے بلکہ 16 روزہ عالمی مہم کے تحت سرکاری و نجی سطح پر مختلف پروگرامز منعقد کیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں خواتین کی حالت زار ، ان پر ہونے والے تشدد اور اس کی روک تھام کیلئے حکومتی اقدامات کا جائزہ لینے کیلئے ’’خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن‘‘ کے موقع پر ’’ایکسپریس فورم ‘‘ کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین کو مدعو کیا گیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

کنیز فاطمہ چدھڑ
(چیئرپرسن پنجاب وویمن پروٹیکشن اتھارٹی)

ماضی کی نسبت خواتین کی نمائندگی میں بہتری آئی ہے اور ان کی آواز قدرے مضبوط ہورہی ہے۔ اب پارلیمنٹ سمیت دیگر اداروں میں خواتین کی نمائندگی نظر آتی ہے،  بعض اہم اداروں میں خواتین فیصلہ ساز عہدوں پر بھی فائز ہیں اور بہترین کام کر رہی ہیں۔ خواتین کے حقوق و تحفظ کے حوالے سے بہت سارے معاملات بہتر ہوئے ہیں تاہم ابھی بھی بہتری کی بہت گنجائش موجود ہے جس پر کام جاری ہے۔

2016ء میں پنجاب میں خواتین کے حقوق و تحفظ کے حوالے سے قانون سازی ہوئی جس میں بہتری لائی جارہی ہے۔ خواتین کے تحفظ کو یقینی اور آسان بنانے کیلئے محکمہ پولیس میں جینڈر کرائم سیل قائم کیے گئے ہیں جہاں خواتین پولیس آفیسرز تعینات ہیں جس کی وجہ سے خواتین کو کسی بھی افسوسناک واقعہ کو رپورٹ کرنے میں اور دوران تفتیش بھی آسانی ہوتی ہے۔

اسی طرح پنجاب سیف سٹیز اتھارتی کی جانب سے خواتین کے تحفظ کیلئے خصوصی ’ایپ‘ قائم کی گئی جس سے خواتین ہراسمنٹ و کسی اور مشکل کی صورت میںآن لائن رپورٹ کرسکتی ہیں۔ ہمارے ہاں ایک بڑا مسئلہ ’وکٹم بلیمنگ‘ ہے جو افسوسناک ہے۔ جب کسی ادارے میں بڑے عہدے پر فائز شخص ایسا کرتا ہے تو وہ نہ صرف اپنی بلکہ ادارے کی ساکھ بھی متاثر کرتا ہے لہٰذا ہمیں ایسے رویوں کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔

ہراسمنٹ کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ خواتین جھوٹے کیسز کراتی ہیں جو درست نہیں۔ ممکن ہے کہ کوئی اکا دکا واقعہ غلط ہولیکن آج تک میرے پاس ہراسمنٹ کا کوئی بھی جھوٹا کیس نہیںآیا، ہم خواتین کو اعتماد دیتے ہیں، انہیں قانونی مدد فراہم کرتے ہیں، ان کی کونسلنگ کرتے ہیں جس سے وہ اپنا کیس درست طریقے سے پیش کر پاتی ہیں۔ عمومی طور پر متاثرہ خواتین کو تفتیش و دیگر مراحل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،اس حوالے سے اداروں میں موجود افراد کی گرومنگ اور کپیسٹی بلڈنگ کرنا ہوگی تاکہ خواتین کیلئے آسانیاں پیدا کی جاسکیں۔

2017ء میں پنجاب وویمن پروٹیکشن اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا، میں نے 2019ء میں اس کا چارج سنبھالا اور ادھار کے دفتر میں کام کا آغاز کیا۔ پنجاب وویمن پروٹیکشن اتھارٹی نے خواتین کے حقوق و تحفظ اور آگاہی کیلئے بین الاقوامی این جی اوز اور مقامی اداروں کے ساتھ معاہدے کیے ہیں، ان کے تعاون سے خواتین کو قانونی امداد و دیگر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، ہم نے سرکاری خزانے پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر سول سوسائٹی، آئی این جی اوز اور تعلیمی اداروں کے تعاون سے بیسیوں آگاہی سمینارز اور کپیسٹی بلڈنگ ورکشاپس کا انعقاد کیا ہے جن سے لوگوں کی تربیت اور ذہن سازی کرنے میں مدد ملی ہے۔

ان اداروں کے تعاون سے خواتین پر تشدد کے خاتمے کے حوالے سے 16 روزہ عالمی آگاہی مہم کا حصہ بن کر بڑے پیمانے پر آگاہی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ہم نے محکمہ پولیس کے ساتھ بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت دونوں اداروں کے نمائندے ایک دوسرے کے پروگراموں میں شرکت کریں گے، مل کر کام کریں گے۔میرے ادارے کی جانب سے خواتین کے مسائل کے حوالے سے پولیس کی تربیت بھی کی جارہی ہے، اب تک 6 اضلاع میں پولیس کی تربیت ہوچکی ہے، پنجاب کے تمام اضلاع میں یہ تربیت دی جائے گی۔

خواتین کو ایک ہی چھت تلے تحفظ کی تمام سہولیات فراہم کرنے کیلئے پنجاب کے تمام اضلاع میں وائلنس اگینسٹ وویمن سینٹرز قائم کیے جارہے ہیں۔ پہلے صرف ملتان میں یہ سینٹر موجود تھا، ہم نے لاہور سمیت 4 اضلاع میں یہ سینٹرز قائم کیے ہیں جبکہ اب دیگر اضلاع کے حوالے سے بھی تیاری کی جارہی ہے۔

خواتین کو تعلیم، تنخواہ، ملازمت و دیگر حوالے سے مسائل درپیش ہیں جن کے حل کیلئے کام کیا جا رہا ہے، تمام اداروں میں ہراسمنٹ کمیٹیاں قائم کی جا چکی ہیں ، خواتین کو سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اچھی زندگی گزار سکیں۔ بھٹہ مالکان خواتین کا استحصال کرتے ہیں، لہذا خواتین کی تنخواہ و دیگر حوالے سے ڈیٹا اکٹھا کیا جارہا ہے، 2,3 بڑے مگر مچھوں کو ہاتھ ڈالا گیا ہے، خواتین کا استحصال کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ اداروں میں کووارڈینیشن کے مسائل ہیں،جنہیں دور کیا جا رہا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ خواتین کے مسائل کا حل اکیلے ممکن نہیں، ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

تیزاب گردی کے ایک کیس میں متاثرہ بچی نے ہسپتال سے ڈریسنگ نہ کروانے کا کہا کیونکہ ایک مرد اس کی پٹی کرتا تھا، معلوم کرنے پر پتا چلا کہ ہسپتالوں میں لیڈی ڈریسرز موجود نہیں، تیزاب گردی و دیگر کیسز میں مرد ہی خواتین کی ڈریسنگ کرتے ہیں جو درست نہیں، اس بارے میں وزیر صحت سے بات کی ہے کہ ہسپتالوں میں خواتین ڈریسرز بھرتی کریں، امید ہے اس پر جلد کام کیا جائے گا۔

ایک اور افسوسناک بات اس فورم میں سامنے آئی ہے کہ زیادتی کی شکار خاتون کے میڈیکل کیلئے سرکاری ہسپتالوں میں متاثرہ خاتون سے ہی 500 روپے فیس وصول کی جاتی ہے جو ظلم ہے،اس پر آواز اٹھائوں گی اور وزیر صحت سے بات بھی کروں گی۔

بشریٰ خالق
(نمائندہ سول سوسائٹی)

خواتین پر تشدد کے خاتمے کے حوالے سے آگاہی کیلئے 16 روزہ بین الاقوامی مہم دنیا بھر میں جاری ہے ۔ پاکستان میں بھی سماجی تنظیموں نے خود کواس مہم کے ساتھ جوڑا ہے اور ہر سال وسیع پیمانے پر آگہی سیمینار، ورکشاپ، واک و دیگر پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ 8 مارچ (خواتین کا عالمی دن) ہو یا 25 نومبر(خواتین پر تشدد کے خاتمے کا عالمی دن)، ہم نہ صرف یہ دن مناتے ہیں بلکہ حالات اور اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے مطالبات بھی سامنے رکھتے ہیں۔ دنیا میں تبدیلیاں آرہی ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ نئے نئے چیلنجز پیدا ہورہے۔

لہٰذا ایسے میں ہمیں نئے اقدامات کرنے کی ضرورت بھی محسوس ہوتی ہے۔میرے نزدیک انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی روک تھام کیلئے ہر دن اہم ہے۔ جرم یا تشدد کا ہر ایک واقعہ توجہ طلب ہوتا ہے لہٰذا ہم نے تمام پہلوئوں کا جائزہ لیتے ہوئے ہر صورت وہ راستے بند کرنے ہیں جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور تشدد کی طرف جاتے ہیں۔  یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب بھی میڈیا، ریاستی اداروں اور حکومتی نمائندوں نے ہمیں سپورٹ کیا حالات میں بہتری آئی ہے۔

آج ماضی کی نسبت اداروں میں خواتین کی نمائندگی نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کیلئے خصوصی ادارے بھی بنائے گئے ہیں جنہیں خود خواتین چلا رہی ہیں۔ شعبہ صحت، پولیس و دیگر محکموں میں بھی خواتین کی نمائندگی پہلے سے بہتر ہوئی ہے تاہم ابھی بہت کام باقی ہے ۔ صنفی مساوات کے حوالے سے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو ورلڈاکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق جینڈر گیپ انڈیکس میں پاکستان 156 ممالک میں سے 153 ویں نمبر پر ہے، خواتین کی تعلیم کے حوالے سے 144، صحت کی سہولیات میں 153، سیاسی شمولیت میں 98 جبکہ معاشی حالت کے حوالے سے 152 ویں نمبر پر  ہے جو الارمنگ ہے، اگر اسی رفتار سے کام ہوا تو جینڈر گیپ پورا کرنے کیلئے 267 برس درکار ہونگے۔

یہ ایک طویل عرصہ ہے جس میں خواتین کا استحصال ہوتا رہے گا لہٰذا انہیں تعلیم، صحت، روزگار، انصاف سمیت تمام انسانی حقوق فراہم کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا، اس حوالے سے اداروں میں اصلاحات لانا ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کی ذہن سازی، تربیت اور کپیسٹی بلڈنگ کرنا ہوگی۔ خواتین پر تشدد کے واقعات افسوسناک ہیں۔ پنجاب کمیشن آن سٹیٹس آف وویمن کی رپورٹ کے مطابق 2019-20ء میں خواتین پر تشدد کے 8 ہزار 797 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں ریپ کے 3 ہزار 773 اور گینگ ریپ کے 219 واقعات رپورٹ ہوئے جو افسوسناک ہے۔

خواتین سے زیادتی کے واقعات میں معاشرے کا وہ چہرہ دکھاتے ہیں جو مرد کی طاقت کی سوچ کو ظاہر کرتا ہے، مرد خود کو طاقتور اور مضبوط سمجھتے ہوئے عورت پر ظلم و جبر کرتا ہے، ہمیں اس سوچ کو بدلنا ہوگا۔ پنجاب میں خواتین کے حوالے سے موثر اور پروگریسیو قانون سازی ہوئی ہے اور یہاں خواتین کے حقوق و تحفظ کے ادارے بھی اچھا کام کررہے ہیں۔ 2016ء کی قانون سازی کے بعد پنجاب وویمن پروٹیکشن اتھارٹی بنائی گئی جو خواتین کے تحفظ کیلئے اچھے اقدامات کر رہی ہے۔

یہ حوصلہ افزاء ہے کہ خواتین کے حقوق کی تحریک آگے بڑھی ہے، اب تنہائی میں بات نہیں ہوتی بلکہ خواتین کے مسائل پر تمام ادارے مل کر کام کرتے ہیں۔ جہاں ہمیں اس چیز کا اعتراف کرنا ہے کہ خواتین محروم ہیں اور تشدد کا شکار ہیں وہیں ہمیں مسائل پر بھی نظر رکھنی ہے جن کی وجہ سے یہ سب ہو رہا ہے، ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ خواتین کا تعلق کسی بھی رنگ، نسل، مذہب سے ہو، اس سے تفریق نہ کی جائے بلکہ آئین و قانون کے مطابق سب کو برابر حقوق دیے جائیں۔

آئندہ مالی بجٹ کے حوالے سے ابھی سے بات چیت شروع ہوگئی ہے لہٰذا وائلنس اگینسٹ وویمن سینٹرز اور خواتین کے دیگر اقدامات کیلئے درکار بجٹ پر کام کا آغاز کر دینا چاہیے تاکہ آئندہ مالی بجٹ میں یہ وسائل فراہم کر دیے جائیں جن سے معاملات کو آگے بڑھایا جاسکے۔

صدف رشید
(انچارج جینڈر کرائم سیل)

پاکستان میں ہر 3 میں سے 1 خاتون ڈومیسٹک وائلنس کا شکار ہورہی ہے جو الارمنگ ہے۔ افسوس ہے کہ اس جدید دور میں بھی خواتین کومساوی حقوق اور ترقی کے برابر مواقع نہیں مل رہے۔ انہیں تعلیم، صحت، تحفظ و دیگر حوالے سے مسائل کا سامنا ہے جس سے ان کی زندگی میں مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔ ہراسمنٹ و زیادتی کی صورت میں خواتین واقعہ رپورٹ کرنے سے گھبراتی ہیں، اس معاملے میں ان کی عزت کا مسئلہ سب سے اہم ہے۔ کیس رپورٹ کرنے کیلئے خاتون کو اپنے خاندان اور معاشرے کے خلاف کھڑا ہونا پڑتا ہے اور اسے سکینڈل بننے کا خوف بھی ہوتا ہے۔

اس میں ایک بڑی وجہ ’وکٹم بلیمنگ‘ اور معاشرتی رویہ ہے جسے بدلنا انتہائی اہم ہے۔ خواتین کے تحفظ کے حوالے سے محکمہ پولیس میں انقلابی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ ہر ڈویژن میں جینڈر کرائم سیل قائم کیا گیا ہے جس میں خواتین موجود ہیں اور ’ایس پی‘ کو اس کا انچارج بنایا گیا۔ ان سیلز کے قیام سے خواتین کو کافی آسانی ملی ہے اوراب انہیں کیس رپورٹ کرنے میں مشکل کا سامنا نہیں ہوتا۔  زیادتی کے کیس میں 24 گھنٹے کے اندر اندر ایف آئی آر درج کی جاتی ہے، متاثرہ خاتون کا فوری میڈیکل ہوتا ہے اور پھر ڈی این اے کرایا جاتا ہے۔

ایک افسوسناک بات قابل ذکر ہے کہ ملزمان کو سزا کی شرح انتہائی کم ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ 70فیصد کیسز میں عدالت کے باہر ہی تصفیہ کر لیا جاتا ہے، اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے عوامل ہیں جن پر غور کرنا ہوگا اور جہاں بہتری کی ضرورت ہے وہاں کام کرنا ہوگا۔ ہم خواتین کو ایف آئی آر کرنے میں تو مدد دیتے ہیں مگر اس کی مالی امداد یا قانونی معاونت نہیں کرتے، یہ ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں ہے مگر خواتین کو اس کی ضرورت ہوتی ہے، اس حوالے سے میکنزم بنانا چاہیے۔

زیادتی کی شکار خاتون کے میڈیکل کیلئے سرکاری ہسپتال میں 500 روپیہ فیس متاثرہ خاتون سے لی جاتی ہے جو افسوسناک ہے، وہ پہلے ہی ایک مشکل سے گزر رہی ہوتی ہے لہٰذا اسے میڈیکل کی مفت سہولت فراہم کرنی چاہیے۔ متاثرہ خواتین کو ماہر نفسیات کی ضرورت ہوتی ہے مگر وہ بھی سرکاری ہسپتالوں میں نظر نہیں آتے، خواتین کو ان کا خاندان بھی سپورٹ نہیں کرتا اور مجبوراََ انہیں دارالامان یا ایدھی سینٹر جانا پڑتا ہے۔ ضرورت یہ ہے کہ خواتین کو حوصلہ دیا جائے، ان کی بات پر یقین کیا جائے اور ان کے ساتھ کھڑے ہوکر ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔

فاخرہ ارشاد
(ڈپٹی ایگزیکٹیو آفیسر پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی)

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی جانب سے قائم کردہ ’ویمن سیفٹی ایپ‘ خواتین کو تحفظ اور مشکل کی صورت میں فوری مدد فراہم کرنے کیلئے بہترین قدم ہے۔ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں اس ایپ سے کال کی جائے گی تو لوکیشن ہونے کی وجہ سے خاتون کو فوری طور پر مدد فراہم کی جاسکے گی، اس میں خاندان کے کسی فرد کا نمبر اور ای میل درج کرانے کا آپشن بھی موجود ہے۔ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں متعلقہ اداروں کے ساتھ ساتھ خاندان کے فرد کو بھی فوری طور آگاہ کر دیا جائے گا، اس طرح پولیس اور خاندان دونوں بیک وقت خاتون کو ریسکیو کر سکیں گے۔

اس ایپ میں خواتین کے حقوق و تحفظ سے منسلک اداروں کو لنک کیا گیا ہے، جس طرح کا مسئلہ ہو اس سے متعلقہ ادارہ متحرک ہوجاتا ہے، اگر پولیس کی مدد چاہیے تو معاملہ پویس کو ریفر کر دیا جاتا ہے، اگر مشورہ یا رہنمائی درکار ہو تو پنجاب کمیشن آن سٹیٹس آف وویمن کی ہیلپ لائن 1043 پر ریفر کر دیا جاتا ہے۔

اس میں لوکیشن ریویو کا آپشن بھی موجود ہے، اگر کسی خاتون کو کوئی جگہ غیر محفوظ محسوس ہو تو وہ اپنی رائے دے سکتی ہے، اس سے ایپ پر تفصیل آجائے گی اور دیگر خواتین بھی اسے چیک کرسکیں گی۔ ہماری ٹیم 24 گھنٹے رہنمائی کیلئے موجود ہوتی ہے، ویمن سیفٹی ایپ کے حوالے سے آئی جی پی کی ہیلپ لائن 1787 پر شکایت کی جاسکتی ہے۔

خواتین کی رہنمائی کیلئے پی ٹی اے، فون بلاکنگ، دارالامان، خاتون محتسب کا ادارہ و دیگر حوالے سے بھی تفصیلات دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ اس ایپ پر خواتین کی رہنمائی کیلئے قانونی دستاویزات اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں موجود ہیں۔

The post خواتین پر تشدد کی روک تھام کیلئے ذہن سازی کی ضرورت ہے!! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3xzmMEv

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...