ایک اورسال بیت گیا اورایک نئے سال کا سورج طلوع ہوگیا ، دنیا کے نقشے میں کوئی خاص تبدیلی واقع نہیں ہوئی،کوئی پیرا ڈائم شفٹ نہیں ہوا،البتہ ملکی اور عالمی سطح پر سیاسی منظرنامے میں کافی تبدیلیاں رونما ہوئیں ۔سال گزشتہ کا مکمل حساب کتاب ،ڈالرکی اڑان، کون ہارا ، کون جیتا،کون بچھڑا ، کون جدا ہوا ، کسی کے لیے مسند اقتدار خوش بختی بنی اور کوئی پس زنداں گیا ، اہل دل کے لیے ہجر وصل کی راتیں کسی گذریں، یہ ایک طویل داستان ہے، جس کوچند سو الفاظ میں نہ تو سمویا جاسکتا ہے نہ ہی بیان کیا جاسکتا ہے ۔
ہر نئے کا سال ہم پرزور استقبال کرتے ہیں ، جشن مناتے ہیں ، پھر ایک نئی منزل کی جستجو بھی کرتے ہیں ۔ یہاں پر یہ بات دلچسپی سے قطعی خالی نہیں ہوگی کہ ہم نئے سال کی آمد کا جشن تو خوب مناتے ہیں لیکن ہم نے ہمیشہ سے کسی بھی سال کے اختتام پہ کوئی تقریب منعقد نہیں کی لیکن ہمیں اصل میں تقریب سال کے اختتام پہ رکھنی چاہیے تا کہ ہمیں اس میں علم ہو سکے کہ ہم نے اس سال کیا کھویا ، کیا پایا ، کیا دیکھا اورکیا سیکھا، یہ ایک خود احتسابی کا عمل ہے ، جو بحیثیت پاکستانی قوم ہم نہیں کر پاتے،کیونکہ فلسفہ حیات اب صرف کتابوں میں درج ہے جسے کھول کر پڑھنے کی ہمت ہم نے کبھی نہیں کی، لیکن ترقی یافتہ اقوام سال کے اختتام پر اپنی غلطیوں ، کوتاہیوں اور لغزشوں کا جائزہ لیتی ہیں اور پھر آنے والے نئے سال میں ترقی وخوشحالی کی منصوبہ بندی کرتی ہیں ۔
کیا حکومتی سطح پر کوئی پلاننگ نئے سال کے حوالے سے کسی کی بھی نظر سے گزریں ، ہرگز نہ تو ہم بحیثیت قوم اور فرد کوئی پلاننگ کرتے ہیں اور نہ ہی اس پر سوچتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرے اور ملک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا ہے ۔ ہماری مشرقی اور اسلامی اقدار رخصت ہوچکی ہیں ، اس کی جگہ دنیا کی طلب نے لے لی ہے ، دوسروں سے آگے بڑھ جانے کی تگ ودو میں روندنے کا عمل اپنی دانست میں عقل کی معراج سمجھا جانے لگا ہے۔ بیوقوف انسان تصورکیا جاتا ہے جو اپنا مستقبل، بڑھاپا اور اولاد کی جوانی محفوظ نہیں رکھتا ۔ مفاد پرستی،کینہ و بغض ، جھوٹ اور دھوکا ہمارے معاشرے ، قوم اور ملک کا چلن بنتے جارہے ہیں ۔سیاست سے لے کرکاروبار تک اور حکومت سے لے کر گھریلو انتظامات تک فرد فرد سے شکوہ و شکایت نظر آتا ہے دولت کا حصول ہی مقصدحیات ٹھہر چکا، رشتوں میں بناوٹ و تصنع نے اصل چہرے چھپا لیے، یہ ہے پاکستانی معاشرے کا نوحہ جو چند الفاظ میں بیان کیا گیا ۔
اگر ملک میں انصاف نہیں تو خود ہم بھی برداشت کا مادہ نہیں رہا ۔جلوس ریلیاں نکال نکال کر نوجوانوں کو توڑ پھوڑ کا ڈھنگ سکھا دیتے۔ پھر شکوہ دوسروں سے کہ اپنی حدوں سے آگے گزرگئے ہیں۔روزانہ ٹی وی ٹاک شوز نے کردار کشی کی روش کو عادت بنا ڈالا ، تھپڑوں، گھونسوں کے مناظر جو قوم کو گھروں میں دیکھنے کو ملے۔کوئی ہر الزام سے بری الذمہ ہوگیا، توکوئی ان کے کندھوں پر ہی پوری قوم کا ناخدا بن جاتا ہے۔اس سال کے آغاز میں ہم نے ایک دوسرے کو مبارکبادی دی،پھولوں کے تحفے بھیجے، مٹھائیاں منہ میں ڈالیں، کپڑے بدلے کارڈز بانٹے اورہم نے صرف کیلنڈر بدلا ہم نے دل نہیں بدلے ،کیونکہ ہم نے اپنے پرانے تعلقات پہ پڑی گرد ہٹانے کا نہ سوچا روٹھے ہوؤں کو منانے کا نہ سوچا،ہم صرف اپنے آگے کی طرف بڑھتے رہے۔
ہمیں نیا سال اس عزم کے ساتھ منانا چاہیے کہ 2018 میں جو کوتاہیاں ، لغزشیں، فکری مغالطے، سماجی، اقتصادی اور سفارتی محاذ پر مشکلات پیش آئیں، ہزیمتیں ہوئیں، دشمنوں نے صدمے دیے مگر ہمارا عزم جوان تھا، ہے اور رہے گا۔ چیلنجزدرپیش ہوئے، قوم نے ہمت نہیں ہاری، حکومت کی ناکامیاں اورکامیابیاں دونوں قومی نقطہ نظر سے مزید پیش قدمی کی درس دیتی ہیں، قومیں اپنے آدرش اور نصب العین کے باعث مستقبل کی طرف گرم سفر ہوتی ہیں، ہر ناکامی کے بطن سے ہمت مرداں مدد خدا کی صدا بلند ہوتی ہے۔
وطن عزیز 2018 کے سفر میں نئے تاریخی عوامل سے روشناس ہوا، ملک کو دہشتگردی کے حوالے سے جس نام سے پکارا جاتا تھا، آج امریکا سمیت عالمی برادری کے لیے پاکستان کا نام توقیر اور وقار کے ساتھ لیا جانے لگا ہے، ہم مستقبل کی ایک بڑی امید ہیں ،ہمارا محل وقوع کو کوئی نظر انداز نہیں کرسکتا، بس ضرورت عزم مسلسل، اتحاد ، یقین اور تنظیم کی ہے، بابائے قوم نے جو راہ ہمارے لیے متعین کی ہے ہم دینی و ملی جذبے سے مستقبل پر نظریں مرکوز رکھتے ہوئے آگے بڑھیں ،کل ہم دنیا میں تنہا تھے آج ہر ہمارے رازدان اور بھی ہیں، یہ تاریخی سفر کامیابی کی منزلیں طے کرتا ہوا قوم کو ان دیکھی دنیا کے سربستہ رازوں سے آگاہ کرنے کو بے تاب ہے۔ قوم سال رفتہ کے تجربات کی روشنی میں ، نئے سال کا استقبال ایک نئے عزم ،جوش وجذبے اور توقعات وامکانات کے ساتھ کرے ۔ قوم کو نیا سال مبارک ہو ۔
The post نیا سال ، نئی امنگیں appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2EYtECH
No comments:
Post a Comment