Urdu news

Saturday, 31 October 2020

دھوکا دہی سے BISP رقوم کا حصول، مزید 10خواتین کو سزائیں

حیدرآباد: دھوکا دہی سے امدادی رقم حاصل کرنے کے جرم میں سرکاری ملازمین کی بیگمات اور قریبی رشتے دار مزید10خواتین کو سزائیں سنا دی گئیں۔

سول جج وجوڈیشل مجسٹریٹ نمبر9 منظورعلی پنہور کی عدالت نے دھوکا دہی کے ذریعے بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی مالی امداد حاصل کرنے پر سرکاری ملازمین کی بیگمات یا قریبی رشتے دار مزید 10 خواتین  کو قید وجرمانے کی سزائیں سنادیں۔

فاضل عدالت نے ایف آئی اے حیدرآباد میں اس سے متعلق درج کیے گئے 10 مقدمات کی سماعت کی۔ ان مقدمات میں نامزد 10 خواتین نے عدالت کے روبروتحریری طورپر اعتراف جرم کیا جس پر عدالت نے ملزمان کو تا برخاست عدالت  قید اور فی کس8 ہزار روپے جرمانے کی سزائیں سنادیں۔

جن خواتین  کوقید وجرمانے کی سزائیں سنائی گئیں ان میں سے ملزمہ مسماۃ رحمت عبدالستارببر کے خلاف 14 جولائی 2020 کو، 5 خواتین صغراں الیاس ابڑو، شہناز سردار خان، مسماۃ بیگم منٹھار علی، عائشہ غلام شبیر، نشاء خاتون غلام مرتضی کے خلاف 2ستمبر 2020 جبکہ 4خواتین  زینب عبدالرحمان، اسما دھنی بخش، ملیکہ عبداللطیف پنہور اور غلام صغرٰی نور محمد کے خلاف3 ستمبر 2020کو ایف آئی اے نے مقدمات درج کیے تھے۔ مقدمات کے اندراج کے بعدملزم خواتین  ضمانت پر رہا تھیں۔

 

The post دھوکا دہی سے BISP رقوم کا حصول، مزید 10خواتین کو سزائیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3oT6l15

یوٹیلٹی اسٹورز پر دالیں 20روپے کلو تک مہنگی

اسلام آباد: یوٹیلٹی اسٹورز پر دالوں کی قیمتوں میں 20 روپے کلو تک کا اضافہ کردیا گیا۔

یوٹیلٹی اسٹورز پر دالوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا۔دال ماش 15 سے 20 روپے فی کلو مہنگی کی گئی اور دال ماش کی قیمت 235 روپے فی کلو سے بڑھا کر 250 روپے کر دی گئی،دال مسور 10 سے 15 روپے فی کلو مہنگی کردی گئی، دال مسور کی قیمت 135 سے بڑھا کر 150 روپے کر دی گئی۔

قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری اطلاق بھی ہوگیا۔

 

The post یوٹیلٹی اسٹورز پر دالیں 20روپے کلو تک مہنگی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/35VvKyn

پاکستان، چین کے 3 ارب ڈالر کی واپسی کی مدت میں توسیع کا خواہاں

اسلام آباد: پاکستان نے چین سے 3 ارب ڈالر ( 20ارب یوآن ) کے قرض کی واپسی کی مدت میں توسیع کی درخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان نے چین سے یہ قرض دونوں ممالک کی کرنسیوں میں باہمی تجارت کے فروغ کے لیے لیا تھا مگر اسے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مالیاتی اکاؤنٹس برائے 2019-20 سے ظاہر ہوتا ہے کہ بینک چین سے حاصل کردہ 3 ارب ڈالر ( 20ارب یوآن )   پورا استعمال کرچکا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے قراہم کردہ یہ رقم بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور  غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے میں استعمال کی گئی۔

واضح رہے کہ چین سے یہ قرض  bilateral currency swap agreement ( CSA) کے تحت حاصل کیا گیا تھا۔ اسٹیٹ بینک اور پیپلزبینک آف چائنا کے درمیان یہ معاہدہ  2011 میں طے پایا تھا جس کا مقصد دوطرفہ تجارت، براہ راست سرمایہ کاری کا فروغ اور  مختصر مدتی لکوڈٹی سپورٹ فراہم کرنا تھا۔

اسٹیٹ بینک کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم سی ایس اے میں مزید 3 سال کی توسیع چاہتے ہیں۔ 3 ارب ڈالر ( 20ارب یوآن ) کی یہ رقم مرکزی بینک کے پاس محفوظ زرمبادلہ کے موجودہ 12.1 ارب ڈالر کے ذخائر کا حصہ ہے۔

 

The post پاکستان، چین کے 3 ارب ڈالر کی واپسی کی مدت میں توسیع کا خواہاں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3kZNqPP

آج کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

سیاسی اور سماجی کارکن کو کسی اہم شخصیت کے ساتھ ملنے کا موقع مل سکتا ہے۔ خرید و فروخت کسی بھی چیز کی کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کریں فائدے کی امید ہے۔

ثور:
22 اپریل تا 20 مئی

رہائش کا الجھا ہوا مسئلہ حل ہو جائے گا مفت کی دولت ملنے کے امکان روشن ہیں مگر اخراجات کی رفتار تیز ہونے کے سبب آپ اسے سنبھال نہ سکیں گے۔

جوزا:
21 مئی تا 21جون

اپنے رشتے داروں سے ہوشیار رہیں یہ درپردہ آپ کے خلاف سازش کا بازار گرم کر رہے ہیں، موجودہ رہائشی مقام ہرگز نہ چھوڑیں دوستوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

کافی رقم فضول کاموں کی نذر ہو جائے گی اپنے ملازمین پر کڑی نظر رکھیں یہ آپ کو دھوکا دے سکتے ہیں، خاص طور پر وہ ملازمین جنہیں آپ ذاتی طور پر بھی اہمیت دیتے ہیں۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

آج کا دن آپ کیلئے بہت مصروف رہیں گے۔ کاروباری معاملات توقع کے مطابق حل ہو سکتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ آپ ذاتی طور پر بھی کاروبار میں دلچسپی لیں۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

رہائش میں تبدیلی کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کریں قریبی عزیزوں کے ساتھ تعلقات بحال ہوں گے بہتر ہے صلح کر لیں تاکہ آپ ذہنی طور پر اپنے آپ کو پرسکون محسوس کریں۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

آپ خواہ مخواہ اپنے ذہن کو الجھائے رکھیں گے۔ بندہ خدا ہونا تو وہی ہے جو خدا چاہتا ہے تمام معاملات اللہ کے سپرد کر دیں بفضل خدا تمام کام حسب توقع ہی حل جائیں گے۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

آپ کے کسی قریبی دوست کی وجہ سے آپ کا کوئی اہم مسئلہ حل ہو جائے گا، ہو سکتا ہے اس کا تعلق جائیداد وغیرہ سے ہو، محبوب آپ کی توقعات پر پورا اترے گا۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

ہر ایک پر اعتبار کر لینا آپ کی بری عادت ہے اور آج اسی عادت کی وجہ سے آپ کو مالی نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے، لہٰذا محتاط رہئے۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

بسلسلہ ملازمت کی جانے والی کوشش کامیاب ہو گی۔ دلی طور پر بھی آپ کافی پرسکون ہو جائیں گے۔ گھریلو معاملات میں شریک حیات کی رائے کو بھی اہمیت دیں۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

گھر پر مہمانوں کی آمدورفت کے سبب سارا دن مصروفیت میں گزر جائے گا،امپورٹ ایکسپورٹ کرنے والے حضرات کو کوئی اہم ڈیل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

آپ کافی عرصہ کے بعد اپنے والدین کو منانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور وہ آپ کی من پسند جگہ پر رشتہ طے کرنے پر راضی ہو جائیں گے، آج آپ کافی مسرور نظر آئیں گے۔

The post آج کا دن کیسا رہے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3iaih9K

پہلا ون ڈے: امام الحق کے مضحکہ خیز رن آؤٹ کا کرکٹ کی دنیا میں چرچا

لاہور: پاک زمبابوے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میں امام الحق کے مضحکہ خیز رن آؤٹ کا کرکٹ کی دنیا میں بھرپور چرچا جاری ہے۔

اوپنر امام الحق 58رنز بنا چکے تھے،اننگز کے 26ویں اوور میں انھوں نے سکندر رضا کی ایک گیند کو بیک ورڈ پوائنٹ کی جانب کھیل کر ساتھی بیٹسمین کے بجائے فیلڈر پر نظریں جمائے رکھیں،اس دوران حارث سہیل سنگل مکمل کرنے کا ارادہ لیے پاس پہنچ گئے،دونوں بیٹسمین ایک ہی اینڈ کی کریز میں واپس آکر اپنی وکٹ بچانے کی کوشش کررہے تھے۔

اسٹمپس اکھڑنے کے بعد امپائر نے تھوڑا سوچا کہ کس کو آؤٹ قرار دینا چاہیے، بالآخر امام الحق کو پویلین واپس جانا پڑا۔

یاد رہے کہ اکتوبر 2018میں آسٹریلیا کیخلاف ابوظبی ٹیسٹ کے دوران اظہر علی اور اسد شفیق پچ کے وسط میں بے خبر صلاح مشورے کرتے رہ گئے،نتیجہ رن آؤٹ کی صورت میں نکلا تھا۔

 

The post پہلا ون ڈے: امام الحق کے مضحکہ خیز رن آؤٹ کا کرکٹ کی دنیا میں چرچا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/37Y9tmb

پاکستان شوبز انڈسٹری کے بہترین دوست

کراچی: شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے فنکاروں کو ایک دوسرے کا حریف سمجھاجاتا ہے اور اداکاراؤں کے درمیان سیٹ پر ہونے والی لڑائیوں کی خبریں اکثر میڈیا کی زینت بنتی ہیں جس کے باعث عوام میں ایسا تاثر جاتا ہے کہ اداکارائیں ہمیشہ لڑتی جھگڑتی رہتی ہیں۔

لیکن یہ سچ نہیں ہے فنکار آپس میں بہت اچھے دوست بھی ہوتے ہیں۔ یہاں ہم آپ کو پاکستان شوبز انڈسٹری کے ان فنکاروں کے بارے میں بتائیں گے جو آپس میں بہترین دوست ہیں۔

فواد خان اور احمد علی بٹ

معروف پاکستانی اداکار فواد خان اور احمد علی بٹ کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ دونوں کیریئر کی ابتدا سے ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ دونوں نہ صرف میوزک بینڈ اینٹیٹی پیراڈائم میں ایک ساتھ تھے بلکہ دونوں نے ایک ساتھ ہی سٹ کام ’’جٹ اینڈ بانڈ‘‘ کے ذریعے اداکاری کا آغاز کیا تھا۔

حالانکہ دونوں ایک دوسرے کے بالکل برعکس ہیں فواد خان شرمیلے جب کہ احمد علی بٹ بڑھ چڑھ بولنے والے ہیں لیکن اس کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے بہترین دوست ہیں۔

سجل علی اور زارا نور عباس

اداکارہ سجل علی اور زارا نور عباس کی دوستی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں دونوں ایک دوسرے کی بہترین دوست ہیں اور کئی انٹرویوز سمیت مختلف مواقعوں پر اس بات کا اظہار بھی کرچکی ہیں۔

حریم فاروق اورعلی رحمان

اداکارہ حریم فاروق اور علی رحمان ایک ساتھ کئی پراجیکٹس میں کام کرچکے ہیں اور ایک دوسرے کے نہ صرف بہت اچھے دوست ہیں بلکہ دونوں کی حس مزاح بھی بہترین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی کمپنی کو انجوائے کرتے ہیں۔

صنم سعید اور ثروت گیلانی

اداکارہ صنم سعید اور ثروت گیلانی پہلی بار ایک ٹیلی فلم ’’دل میرا دھڑکن تیری‘‘ میں ایک ساتھ نظر آئی تھیں۔ اس ٹیلی فلم کے سیٹ پر دونوں کے درمیان بہت اچھی دوستی ہوگئی۔ اس کے بعد یہ دوستی ایک اسٹیج شو ’’دھانی‘‘ کے دوران مضبوط ہوگئی۔ ایک انٹرویو کے دوران صنم سعید نے اپنی پسندیدہ ساتھی اداکارہ کے طور پر ثروت گیلانی کا نام لیا تھا۔

ماہرہ خان اور فیہا جمشید

اداکارہ ماہرہ خان بہت دوستانہ فطرت کی مالک ہیں۔ ان کا شوبز انڈسٹری میں کبھی کسی کے ساتھ کوئی جھگڑا سامنے نہیں آیا۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ماہرہ خان اور معروف فیشن ڈیزائنر فیہا جمشید آپس میں بہترین دوست ہیں۔ اور یہ دوستی دونوں کے ابتدائی کیریئر سے قائم ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس دوستی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

ماہرہ خان اکثر فیہا جمشید کے ڈیزائن کردہ ملبوسات میں نظر آتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں فیہا کے ڈیزائن کردہ لباس بے حد پسند ہیں اس لیے وہ انہیں پہنتی ہیں دوستی کی وجہ سے نہیں۔

مایا علی اور عثمان خالد بٹ

اس لسٹ کی آخری بہترین دوستوں کی جوڑی مایا علی اور عثمان خالد بٹ کی ہے۔ دونوں نے ایک ساتھ شوبز کی فیلڈ میں قدم رکھا اور ’’درشہوار‘‘، ’’ایک نئی سنڈریلا‘‘ اور’’عون زارا‘‘ جیسے کامیاب ڈراموں میں کام کیا۔ ان دونوں کی جوڑی کو شائقین کی جانب سے بھی بے حد پسند کیا گیا۔

ماضی میں مایا علی اور عثمان خالد بٹ کے بارے میں افواہیں بھی گردش کرنے لگی تھیں کہ دونوں کے درمیان رشتے کی نوعیت دوستی سے زیادہ ہے۔ لیکن دونوں نے ان افواہوں کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔

The post پاکستان شوبز انڈسٹری کے بہترین دوست appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/37YyBJn

مین آف دی میچ کا حقدار میں نہیں شاہین شاہ آفریدی تھے، برینڈن ٹیلر

لاہور: زمبابوین بیٹسمین برینڈن ٹیلر کا کہنا ہے کہ مین آف دی میچ کا حقدار میں نہیں بلکہ شاہین شاہ آفریدی تھے۔

پہلے ون ڈے کے بعد ویڈیو میڈیا کانفرنس میں برینڈن ٹیلر نے کہا کہ پاکستانی پیسرز نے آخر میں بھرپور مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہم سے فتح چھین لی،میری خوش قسمتی ہے کہ مین آف دی میچ قرار دیا گیا، اصل میں اس کے حقدار شاہین شاہ آفریدی تھے۔

انھوں نے کہا کہ منزل کے اتنا قریب پہنچ کر ہمت ہار جانے پر ہمیں مایوسی ہوئی لیکن اس نوعیت کی بولنگ کو کھیلنا کبھی آسان نہیں ہوتا۔

 

The post مین آف دی میچ کا حقدار میں نہیں شاہین شاہ آفریدی تھے، برینڈن ٹیلر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3kPB24w

فیضان عشق رسول کے نام سے1212 مساجد بنائیں گے، الیاس قادری

کراچی: امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری نے 12 ربیع الاول کی شب عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ  میں محفل میلاد میں دشمنان اسلام کی جانب گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے متعلق ایک اہم اعلان کرتے ہوئے فیضان عشق رسول کے نام سے 1212 مساجد بنانے اعلان کردیا۔

امیر اہلسنت نے کہا کہ گستاخوں نے جو خاکے بنائے اس سے مسلمانوں کے دل چھلنی ہوئے، اللہ ان بد بختوں کو ہدایت دے اور اگر ہدایت نہیں تو انھیں نست ونابود کردے ،اللہ انھیں تباہ وبرباد کردے اور انھیں نشان عبرت بنادے، امیر اہلسنت نے کہاکہ  اللہ کرے سرکار کی محبت ہمارے دل میں رہے، دل میں عشق رسول کی شمع روشن رہے جشن ولادت کے موقع پر سجدہ شکر کریں، کیونکہ ہمیں بہت بڑی نعمت ملی ہے ہمیں جو عزت ملی ہم اس عزت سے لوگوں کو اللہ کی بارگاہ میں جھکائیں، نمازی بنائیں انھیں سنتوں کا پابند بنائیں۔

مولانا محمد الیاس عطار قادری نے کہا کہ گستاخان رسول کے رد میں دعوت اسلامی فیضان عشق رسول مساجد بنائے گی، مساجد بناتے رہیں بڑھاتے رہیں اور انھیں بڑھاتے رہیں، ہم مزید دین کے ساتھ مربوط ہوجائیں گے، اگر وہ ہمارے نبی کی شان میں گستاخی کریں گے تو ہم مساجد کی تعداد بڑھادیں گے نمازی  بنائیں گے، امیر اہلسنت نے کہا کہ ہمارے لیے سرکار کی ذات قابل تقلید ہے اور ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں۔

 

The post فیضان عشق رسول کے نام سے1212 مساجد بنائیں گے، الیاس قادری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/34IjDoR

کے ایم سی میں مالی بحران، ادائیگیاں روک دی گئیں

کراچی: بلدیہ عظمیٰ کراچی کے میٹرو پولیٹن کمشنر نے ادارے میں مالیاتی بحران کے باعث لیو انکیشمنٹ اور صرف ایک ماہ کے سپلیمنٹری تنخواہی بل کے سوا فوری طور پر تمام سپلیمنٹری بلوں کی پرنٹنگ اور ادائیگی پر پابندی عائد کر دی ہے۔

میٹرو پولیٹن کمشنر کے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق آئندہ کے ایم سی پے رول میں ایڈمنسٹریٹر کراچی کی منظوری کے بغیر کسی نئی انٹری کا اضافہ نہیں ہو گا اس حوالے سے ہدایات کی خلاف ورزی سنگین غفلت شمار ہو گی اور ای اینڈ ڈی رولز کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اس اقدام کا مقصد بلدیہ عظمیٰ کراچی میں مالیاتی نظم قائم کرنا اور اس کے ساتھ اخراجات میں کفایت شعاری لانا ہے۔

میٹرو پولیٹن کمشنر کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی کو بدترین مالی بحران کا سامنا ہے اور وہ ملازمین کو وقت پر ماہانہ تنخواہ ادا نہیں کر پا رہی جبکہ مختلف مدات میں سپلیمنٹری کلیمز میں بڑے پیمانے پر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جن میں پروموشن، اپ گریڈیشن، تنخواہ کے فرق کے بل اور واجب و وصول تنخواہ وغیرہ شامل ہے جس کے بھاری مالی مضمرات ہوئے ہیں اور کے ایم سی مزید اس صورتحال کی متحمل نہیں ہو سکتی لہٰذا یہی وقت ہے کہ ایسے تنخواہی کلیمز کی حوصلہ شکنی کی جائے اور ادارے کے وسائل کی صرف اشد ضروری مدات میں ہی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔

 

The post کے ایم سی میں مالی بحران، ادائیگیاں روک دی گئیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2TEQJ2L

دھوکا دہی سے BISP رقوم کا حصول، مزید 10خواتین کو سزائیں

حیدرآباد: دھوکا دہی سے امدادی رقم حاصل کرنے کے جرم میں سرکاری ملازمین کی بیگمات اور قریبی رشتے دار مزید10خواتین کو سزائیں سنا دی گئیں۔

سول جج وجوڈیشل مجسٹریٹ نمبر9 منظورعلی پنہور کی عدالت نے دھوکا دہی کے ذریعے بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی مالی امداد حاصل کرنے پر سرکاری ملازمین کی بیگمات یا قریبی رشتے دار مزید 10 خواتین  کو قید وجرمانے کی سزائیں سنادیں۔

فاضل عدالت نے ایف آئی اے حیدرآباد میں اس سے متعلق درج کیے گئے 10 مقدمات کی سماعت کی۔ ان مقدمات میں نامزد 10 خواتین نے عدالت کے روبروتحریری طورپر اعتراف جرم کیا جس پر عدالت نے ملزمان کو تا برخاست عدالت  قید اور فی کس8 ہزار روپے جرمانے کی سزائیں سنادیں۔

جن خواتین  کوقید وجرمانے کی سزائیں سنائی گئیں ان میں سے ملزمہ مسماۃ رحمت عبدالستارببر کے خلاف 14 جولائی 2020 کو، 5 خواتین صغراں الیاس ابڑو، شہناز سردار خان، مسماۃ بیگم منٹھار علی، عائشہ غلام شبیر، نشاء خاتون غلام مرتضی کے خلاف 2ستمبر 2020 جبکہ 4خواتین  زینب عبدالرحمان، اسما دھنی بخش، ملیکہ عبداللطیف پنہور اور غلام صغرٰی نور محمد کے خلاف3 ستمبر 2020کو ایف آئی اے نے مقدمات درج کیے تھے۔ مقدمات کے اندراج کے بعدملزم خواتین  ضمانت پر رہا تھیں۔

 

The post دھوکا دہی سے BISP رقوم کا حصول، مزید 10خواتین کو سزائیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3oT6l15

بُک شیلف

منبع طاقت
مولف: صوفی شوکت رضا سرکار
قیمت: 100 روپے۔۔۔صفحات:96
ناشر: ادبستان، پاک ٹاور ، کبیر سٹریٹ، اردو بازار، لاہور (03004140207)

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت سی طاقتوں سے نوازا ہے۔ کچھ طاقتوں کو انسان روزمرہ کے کاموں کے لئے استعمال کرتا ہے اور کچھ کے بارے میں اسے علم ہی نہیں ہوتا جیسے ذہنی یا روحانی طاقت ۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ روز مرہ زندگی میں اپنے کام کاج کے لئے انسان اپنے دماغ کو استعمال کرتا ہے بس یہی دماغ کا استعمال ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسانی دماغ کو حیرتوں کا مجموعہ بنایا ہے، روزمرہ میں اس کا استعمال اس کا ایک چھوٹا سے حصہ ہے، انسانی دماغ کی طاقت بہت زیادہ ہے مگر وہ انسان سے پوشیدہ ہے جو افراد اپنی ان طاقتوں کو جگا لیتے ہیں وہ دوسروں سے بہت آگے نکل جاتے ہیں، یہی عالم روحانی طاقت کا ہے۔

زیرتبصرہ کتاب میں صوفی شوکت رضا سرکار نے انھی طاقتوں کو استعمال کرنے کے حوالے سے پردہ اٹھایا ہے، وہ انسان کو احساس دلانا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کن طاقتوں سے نوازا ہے اور انھیں استعمال کیسے کرنا ہے، انھوں نے موضوعات کو تہتر عنوانات میں تقسیم کیا ہے جیسے حقیقت رساں انسان، انسان ہی طاقتوں پر خودمختار، طاقتوں کی پہچان بذریعہ علم، فضیلت علم، باطن پر یقین کامل، طاقت یقین، طاقت عمل ، طاقت جہاد، طاقت نور، طاقت اسماء الہیٰ، خود سے خود کو پانا؛ اک سوال، خود اعتمادی، احتساب طاقت ۔ عنوانات سے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ قاری کو کس عالم سے روشناس کرانا چاہتے ہیں ۔ کم قیمت کی معیاری کتاب ہے ناصرف روحانیت سے دلچسپی رکھنے والوں کو بلکہ مایوسی کا شکار افراد کو بھی اس کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ تاریکی سے نکل کر روشنی میں آ سکیں ۔

آگہی
مولف: نسیم طاہر (ایڈووکیٹ)
قیمت:400 روپے۔۔۔۔صفحات: 176
ناشر: ادبستان، پاک ٹاور،کبیر سٹریٹ، اردو بازار، لاہور (03004140207)

اللہ تعالیٰ عقل سے ماورا ہے، صرف روحانیت کی دنیا میں جھانکنے کی اہلیت رکھنے والے ہی عین الیقین رکھتے ہیں پھر وہ لوگ بے چارے کیا کریں جن میں دوسرے عالموں میں جھانک لینے کی استطاعت ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے ان عقل کے جویائوں کے لئے ایسی نشانیاں چھوڑی ہیں کہ انھیں اس کے ہونے کا احساس دلاتی ہیں۔

اسی لئے تو قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ عقل والوں کے لئے ان میں نشانیاں ہیں، زیر تبصرہ کتاب اللہ تعالیٰ سے تعلق پر روشنی ڈالتی ہے۔ ڈاکٹر محمود اکرم کہتے ہیں ’’آگہی ‘‘ کے متعلق میرا تاثر یہ ہے کہ اس میں ’’ذات انسانی‘‘ کا مطالعہ ندرت فکر و نظر اور ایک نئی نہج سے کیا گیا ہے۔ صاحب کتاب نے گہرے تحقیقی اور مشاہداتی تجربات سے گزر کر انسان کی بدنی، روحانی، ذہنی، نفسی اور نفسیاتی کیفیات کو بیان کیا ہے۔

انداز بیان بھی منفرد اور قابل ستائش ہے۔ مطالعے کے دوران قاری دلچسپی اور مسرت کی لہروں کے مدوجذر سے گزرتا اور ساتھ ہی اس کا دل بے اختیار اللہ کریم کی بے شمار عنایات پہ شکر گزاری کے جذبات سے لبریز ہوتا چلا جاتا ہے ۔ دوران مطالعہ آدمی فکر و تخیل کے ان آفاقی مقامات کی سیر کرتا چلا جاتا ہے جہاں کا اس نے کبھی سوچا نہ تھا ۔ میری نظر میں یہی ’’ آگہی‘‘ کا حاصل مقصود ہے ۔‘‘ اس کتاب سے قبل بھی مولف ’’ قرآنی آیات‘‘ اور ’’ رخت ہستی ‘‘ کے نام سے دو کتب تصنیف کر چکے ہیں۔ ان کی موجودہ کاوش بھی انتہائی شاندار ہے، روحانیت سے دلچسپی رکھنے والوں کو ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔ مجلد کتاب کو خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔

اعدلوا
مصنف : ڈاکٹر اے آر خالد
صفحات : 238۔۔۔۔قیمت : 1800 روپے
ناشر : قلم فاونڈیشن ، والٹن روڈ ، لاہور، کینٹ
’’ اعدلوا ‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب عدل کا قیام ہے۔ عدل ایک ہمہ جہت لفظ ہے جو اپنے اندر غیر معمولی وسعت اور گہرائی رکھتا ہے۔ اسلام جو دین ِ فطرت ہے زندگی کے تمام شعبوں میں عدل کے قیام پر زور دیتا ہے ۔ پوری کائنات ہی درحقیقت نظام ِ عدل پر قائم اور استوار ہے۔ کہ اس کے بغیر کائنات کا سارا نظم ہی درہم برہم ہوجائے۔ ڈاکٹر اے آر خالد نے اسی عدل کی ہمہ گیری کے پیش نظر اسے ایک کتاب کی صورت میں اہل ِ علم و دانش اور اہل حکم و اقتدار کے سامنے پیش کیا ہے۔

انہوں نے کتاب کے آغاز میں ’’ کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق ۔۔۔‘‘ کے زیر ِعنوان ایک مبسوط مقالے کی شکل میں جو پیش لفظ تحریر کیا ہے وہ کتاب کے موضوع کی گویا تشریح و توضیح ہی پر مبنی ہے۔ جبکہ کتاب میں شامل باقی سارا مواد ان کے ان کالموں کے انتخاب پر مشتمل ہے جو انہوں نے مختلف مواقع پر ملک کے عدالتی نظام ، عدلیہ کے فیصلوں، عدلیہ کے کردار و اہمیت کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ ، جمہوریت ، سیاست اور امور ِ مملکت کے موضوع پر سپرد ِ قلم کیے تھے۔ ڈاکٹر اے آر خالد کا کہنا ہے کہ پاکستان کے تمام مسائل و مشکلات کی وجہ نظام ِ عدل کا نہ ہونا ہے اگر تمام شعبہ ہائے زندگی میں نظام عدل کی فرمانروائی ہو جائے تو تمام مسائل ازخود حل ہو جائیں۔ وہ اس معاملے کو البتہ محض عدلیہ پر چھوڑنے کو مناسب نہیں سمجھتے بلکہ پورے نظام ِ حیات پر اس کا اطلاق چاہتے ہیں اور ان کے اس نقطہ نظر سے ظاہر ہے اختلاف ممکن نہیں۔کتاب کو قلم فاونڈیشن نے حسب ِ روایت عمدہ کاغذ اور بہترین طباعتی معیار کے ساتھ شائع کیا ہے پاکستان کی سیاسی، پارلیمانی اور عدالتی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ کتاب یقینی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

منزل سے قریب (تراجم لالہ صحرائی)
مرتبہ: ڈاکٹر زاہرہ نثار
ناشر: دارالنوادر، الحمد مارکیٹ اردو بازار، لاہور ۔ 03008898939

ادیب، نعت گو اور دانش ورلالہ صحرائی کا اصل نام محمد صادق تھا۔ اوائلِ عمر ہی سے مطالعے کا رجحان رکھتے تھے۔ جو رسالہ کہیں سے مل جاتا یا کوئی کتاب دستیاب ہوجاتی، اس کے مطالعے کو سب کاموں پر فوقیت دیتے۔ رفتہ رفتہ خود بھی لکھنا شروع کر دیا۔ سال ہا سال تک ملک کے معتبر علمی و ادبی جرائد میں آپ کے تحریر کردہ افسانے ، شخصی خاکے، انشائیے،طنزو مزاح اور سیاسی و تنقیدی مضامین شائع ہوتے رہے۔

نعتیہ شاعری کے مجموعے خود انھوں نے مرتب کرکے اپنی زندگی ہی میں شائع کر دیے تھے۔ ان کی وفات کے بعد مرحوم کے لائق فرزندوں ( ڈاکٹر جاوید صادق، ڈاکٹر نوید صادق) نے ان کے بقیہ تخلیقی مسودوں کو منظر عام پر لانے کے لیے’لالہ صحرائی فائونڈیشن‘ قائم کی جس کے تحت دو سال قبل ’’ کلیاتِ لالہ ء صحرائی‘‘ کے نام سے مرحوم کے جملہ شعری سرمائے کو یکجا شائع کیا گیا ۔ اس کے بعد نثر کی دو جلدیں سامنے آئی ہیں ۔ ( منزل سے قریب۔ نگارشاتِ لالہ ء صحرائی)

زیرِ نظر کتاب لالہ صحرائی کے ان تراجم پر مشتمل ہے جو انھوں نے مختلف اوقات میں کیے اور انھیں مختلف رسائل و جرائد نے شائع کیا۔ انھیں مرتب کرنے کا کام ڈاکٹر زاہرہ نثار نے کیا ہے۔ اس مجموعے میں ٹالسٹائی، موپساں، لی ایم اوفلاہرٹی، ایچ ایچ مرو، الفریڈ ہیلر، مریم جمیلہ ، ولیرس ڈی لانیٹل ایڈم، علامہ محمد اسد و دیگر اہل قلم کے افسانے اور مضامین شامل ہیں جنھیںلالہ صحرائی نے اردو کے قالب میں ڈھالا۔

پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا (پروفیسر امریطس اردو پنجاب یونی ورسٹی لاہور) نے لالہ صحرائی کی ترجمہ نگاری کی تحسین کرتے ہوئے لکھا ہے’’ یہ تراجم ، افسانہ ، سفر نامہ ، مضمون ، طنزومزاح اور دیگر متفرق تحریروں پر مشتمل ہیں۔ ان میں اتنی روانی ہے کہ مطالعے کے دوران ہرگز احساس نہیں ہوتا کہ یہ ترجمہ شدہ تحریریں ہیں۔ ایسی ہنر مندی اکثر مترجمین کے ہاں شاذ ہی دکھائی دیتی ہے۔‘‘

اسی طرح ایک اور نام ور ادیب الطاف حسن قریشی نے لالہ صحرائی کو یوں داد دی ہے:’’انھوں نے غیر ملکی کلاسیکی اد ب سے بلند پایہ افسانوں، سفرناموں ، قلبی وارداتوں اور فکر انگیز مضامین کے تراجم اس کمال سے کیے کہ وہ اصل سے کہیں زیادہ اثر انگیز محسوس ہوتے ہیں ۔ ان تراجم میں روسی شاعری بھی اردو قالب میں ڈھلی ہوئی ہے، جس کا اپنا ایک لطیف ذائقہ ہے۔‘‘

زیر نظر کتاب لالہ ء صحرائی کے اعلی علمی و ادبی ذوق اور ترجمہ نگاری میں ان کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تراجم ایسے عمدہ اور خو ب صورت انداز میں کیے ہیںکہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ تراجم نہیں، اصل اردو تحریریں ہیں۔

پریشاں سا پریشاں
مصنف: ڈاکٹر مجاہد مرزا
قیمت:1500 روپے۔۔۔۔صفحات:702
ناشر: سنگی کتاب گھر، ہری پور (03345958597)

اپنی زندگی کی کہانی بلاکم کاست بیان کرنا گویا اپنے گناہوں کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑ دینا ہے اس لئے قلم قبیلے کی اکثریت اس سے دور ہی رہتی ہے یا پھر ان کا انداز استعارے کا یا پھر فکشن کا رنگ لئے ہوئے ہوتا ہے، ڈاکٹر مجاہد مرزا اپنی آپ بیتی ایسے مزے مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں جیسے کسی کار خیر میں مصروف ہوں۔

خیر یہ تو بطور اظہار تفنن لکھ دیا، لفظ کارخیر تو ان کی آپ بیتی پر واقعتاً پورا اترتا ہے کیونکہ وہ جتنے بڑے انسان ہیں ( گو انھوں نے اپنی آپ بیتی کو عام آدمی کی آپ بیتی قرار دیا ہے جس سے ہم تو کیا کوئی بھی متفق نہیں ہو گا ) اور زندگی کے نشیب و فراز سے گزر کر جس مقام پر پہنچے ہیں وہ تو نئی نسل کے لئے ایک مثال ہے، وہ ان کی آپ بیتی سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں کہ کیسے حالات کا مقابلہ کیا جاتا ہے اور منزل کی طرف رواں دواں رہا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر مجاہد مرزا کی متعدد کتابیں منصفہ شہود پر آ چکی ہیں، جن میں ’’ گمشدہ شہر اور ملیا میٹ تہذیبیں‘‘ ، ’’انگلیوں میں دھوپ‘‘، ’’ یہودیوں کا نسلی تفاخر‘‘ اور ’’ محبت ۔۔ تصور اور حقیقت ‘‘ شامل ہیں ۔ قومی اخبارات اور رسائل میں ان کے مضامین چھپتے رہے۔ ماسکو میں ریڈیو صدائے روس کے ساتھ بطور مترجم اور براڈ کاسٹر منسلک رہے۔

ان کی آپ بیتی کے حوالے سے محمد حسن معراج کہتے ہیں ’’ کتاب ختم ہوئی تو جیسے قیمتی کرسٹل کا ایک گلاس ٹوٹ گیا۔ اس کی ہرکرچی میں اپنا ہی عکس بہت سے حصوں میں بٹا دکھائی دیتا ہے۔ یہ حساب کی وہ مساوات ہے جہاں نوے فیصد آپ کا دل چاہتا ہے کہ آپ مجاہد مرزا ہوتے اور نوے فیصد خواہش ہوتی ہے کہ بالکل بھی نہ ہوتے ۔۔۔ پہلی بار حساب کی بنیادی سوجھ بوجھ رکھتے ہوئے میرا دل چاہا کہ سو فیصد میں ایک سو اسی ہوتے ۔۔۔ مجاہد صاحب نے لکھا ہے کہ ان کی زندگی ایک عام آدمی کی زندگی ہے۔

کتاب پڑھیے اور خود بتائیے بھلا ایسی بھرپور، پر خطر، دل آویز اور دل فگار کہانی عام آدمی کی ہو سکتی ہے۔ ‘‘ مصنف کا انداز بیاں ایسے ہے جیسے وہ آپ کو ساتھ لئے گھوم رہے ہوں، قاری کو سب کچھ آنکھوں دیکھا معلوم ہوتا ہے، آپ بیتی جب شروع کرتے ہیں تو چھوڑنے کو جی نہیں کرتا ۔ ٹائٹل بھی کیا شاندار ہے، پریشانی تو عیاں ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ فکر کے اور بھی کئی زاویئے عطاکرتا ہے۔

ملفوظات، سلطان الحقیقت حضرت فضل شاہؒ
مرتب: متین رفیق ملک
قیمت:300 روپے۔۔۔صفحات:144
ناشر:ادبستان،پاک ٹاور، کبیر سٹریٹ، اردو بازار، لاہور (03004140207)
دانش اور معرفت اللہ تعالیٰ کا کسی فرد پر خصوصی انعام ہے، ورنہ دل و دماغ تو اللہ تعالیٰ نے سب کو ایک سے ہی عطا کئے ہیں ۔ یوں لگتا ہے اللہ تعالیٰ جب کسی فرد سے خوش ہوتا ہے یا کسی قوم کی حالت بدلنا چاہتا ہے تو ان میں ایسے نفوس قدسیہ پیدا فرماتا ہے جو اس قوم کی حالت بدلنے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔

ایسے اللہ والوں کی قربت انسان کے لئے فیض کا ذریعہ بنتی ہے اور ان کی صحبت سے افراد کے دل و دماغ میں انقلاب برپا ہونے لگتے ہیں کیونکہ ایسے نفوس قدسیہ اپنی سوچ اور طرز انھیں ودیعت کر دیتے ہیں ۔ وہ ایک بہت بڑے مقناطیس کی طرح ہوتے ہیں ان کی کشش دوسروں کو کھینچ لیتی ہے اور پھر انھیں بھی مقناطیس بنا دیتی ہے۔

سلطان الحقیقت حضرت فضل شاہ ؒ صاحب خود امی تھے مگر ان کی صحبت میں حنیف رامےؒ، واصف علی واصفؒ، اشفاق احمدؒ، بانوقدسیہؒ، ممتاز مفتی اور دیگر بہت سے مفکرین بیٹھا کرتے تھے۔ شاہ صاحبؒ ایسے ایسے نقطے بیان کرتے تھے کہ یہ صاحبان علم بھی ششدر رہ جاتے تھے، شاہ صاحب سے ملاقات سے قبل بھی ایسے افراد کتابی اور اکستابی علم سے مالامال تھے مگر ان کی نظر کیمیا نے انھیں کتاب و شنید سے ماورا علم کی بھی راہ دکھا دی اور ان کے روشن کئے ہوئے ان چراغوں نے معاشرے میں چھائی تاریکی کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ۔

علم لدنی سے مالا مال سلطان الحقیقت حضرت فضل شاہؒ جب اپنے مرشد حضرت میاں خدا بخشؒ کی خدمت میں حاضر رہا کرتے تھے تو خاموش بیٹھے رہتے تھے، آپؒ کو خاموش دیکھ کر لوگ حضورؒ پرنور سے فرماتے کہ اس بچے کو کبھی بولتے نہیں دیکھا۔ حضرت میاں صاحبؒ فرماتے کہ یہ بچہ اپنے وقت پر بولے گا اور اس وقت کائنات میں اس کا جواب نہیں ہو گا۔ اور ایسا ہی ہوا ، آپؒ کی نکتہ آفرینی نے انسانی دل ودماغ کو حیران کر کے رکھ دیا۔

دنیا جہان کا کوئی بھی سوال ، کوئی مسئلہ آپ سے پوچھا گیا تو آپؒ نے اس کا مدلل جواب دیا اور ایسا دیا کہ اس سے بہتر جواب ہو نہیں سکتا تھا ۔ ملفوظات میں آپؒ کے بیانات اور اقوال ترتیب دیئے گئے جو ہم سب کے لئے مشعل راہ ہیں، نئی نسل کو بالخصوص اس کا مطالعہ کرنا چاہیے اس سے ان کے ابہام دور ہوں گے ، دل کی تشفی ہو گئی ۔ مجلد کتاب کے سرورق کو سلطان الحقیقتؒ کی تصویر سے مزین کیا گیا ہے، اور کیا خوب کیا گیا ہے کہ دیدہ زیبی انتہا کو پہنچ گئی ہے۔

فاضلی انوار الٰہی
مرتبین: احمد دستگیرؒ، پروفیسر حافظ نذر السلامؒ
قیمت:200 روپے۔۔۔۔صفحات:144
ناشر:ادبستان،پاک ٹاور ،کبیر سٹریٹ، اردو بازار، لاہور (03004140207)
اللہ والے اس دنیا میں ایسے ہیں جیسے گھپ اندھیرے میں روشن چراغ ، جو ہر دم روشنی بانٹتے رہتے ہیں، اندھیروں میں بھٹک جانے والوں کو راستہ دکھاتے ہیں۔ ان سے روشنی پانے والے نئے چراغ روشن کرتے ہیں، یوں ایک ایسا روشن اور تابناک سلسلہ شروع رہتا ہے جو ختم ہونے میں نہیں آتا۔ ان کا قرب انسان کو اللہ کی رحمت کے سائے تلے لے جاتا ہے کیونکہ ان بزرگان دین کا وجود ہی باعث رحمت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب حضرت فضل شاہ قطب عالم ؒ ( بہ معروف نور والے) کے بیانات پر مبنی ہے۔

حضرت فضل شاہؒ صاحب کا بیان علم ، عمل ، اخلاص اور دوسرے شرعی امور کے متعلق ہے۔ آپ ؒ کا ایک ایک بیان اور قول سنہرے حروف سے لکھا جانا چاہیئے ۔ باباجی خود کوئی بیان تجویز نہ فرماتے تھے کیونکہ آپ کا تمام اظہار عطائے الٰہی پر مبنی ہوتا تھا اور اس بارے میں آپؒ کا ایک بیان ہے کہ ’’ جو صاحب علم کسب جانتا ہو اسے صرف مشاہدہ ہوتا ہے جو علم کسب نہ رکھتا ہو اسے مشاہدہ بھی ہوتا ہے اور اس کے لیے عبارت بھی اترتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے امی کے لیے مشاہدہ اور عبارت دو مقام ہیں‘‘۔ پروفیسر حافظ نذر السلام کہتے ہیں ’’ آپ ؒ جو فرماتے ہیں ایک ایک حرف اولیائی کا مقام رکھتا ہے اور ایک ایک جملہ پر کتاب بن سکتی ہے۔ اس کتاب میں آپ کے ارشادات عالیہ ہیں جو آپؒ نے وقتاً فوقتاً مجلسوں میں ارشاد فرمائے جو صاحب صداقت کی آنکھ سے دیکھے گا دنیا میں وہ کامیاب ہو گا اور دین میں با مراد ہو گا۔‘‘ حضرت فضل شاہ صاحبؒ نور والے کتاب کے نام کے حوالے سے فرماتے ہیں ’’ فقیر نے طلبگاران راہ حق کو نیاز مند بنانے کے لیے اس کتاب کا نام فاضلی انوار الٰہی رکھا ہے‘‘۔ مجلد کتاب کو خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔

The post بُک شیلف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2HP42em

جھیل دودی پت کے کنارے ایک رات

کل_شب_میں_نے_جھیل_سیف_الملوک_کو_آخری_سانسیں_لیتے_دیکھااُسے کہیں سے بھی سانس نہیں آ رہا تھا۔

کہیں دکانوں، ورکشاپوں، رہائش گاہوں اور بھدی کاروباری عمارتوں کے درمیان اسے کہیں سے بھی سانس نہیں آ رہا تھا۔

بڑھتی ہوئی آبادی نے ایک بھدی دنیا کو جنم دیا تھا۔

ایک نوخیز دوشیزہ کے دامن پر پریاں اتر سکتی تھیں۔ اس پر دیو بھی عاشق ہو سکتے تھے مگر ایک طوائف کی کیا اوقات ہو سکتی تھی؟ طوائف بھی وہ جسے جس جس نے چاہا، جہاں جہاں سے چاہا اور جیسا چاہ لوٹا۔ سب اس حمام میں ننگے تھے۔ کسی نے اس دیوی پر آہنی دیواریں لگا کر اس ہر اپنا حق جما لیا تھا۔ جس نے اُس پاک بدن کو جہاں سے چُھوا، اسے اپنی ملکیت ہی سمجھ لیا اور پھر آہستہ آہستہ اسے نوچتا رہا۔

اسے کہیں سے بھی سانس نہ آ رہا تھا۔

پریاں دور کھڑی بے بسی سے اسے دیکھ رہی تھیں۔ پہلے وہ بے دھڑک اس پر اترتی تھیں۔ اس کی ہم جولی تھیں اور کسی نے بھی آج تک پریوں کو ہاتھ تک نہ لگایا تھا۔ پریاں اس کے گھر کو اپنا مسکن سمجھتی تھیں۔

مگر اب پرستان سے ایک ِحکم نامہ جاری ہوا تھا جس کے مطابق تمام پریوں کو اس طوائف پر اترنے سے روک دیا گیا تھا۔ دیو سخت نگرانی کے لیے تعینات کردیے گئے تھے۔ مگر اچنبھے کی بات یہ تھی کہ مسلسل دیو حضرات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا۔ کسی پری نے پرستان کا قانون نہ توڑا تھا اور نہ ہی اب کبھی اس پر اترنے کی کوشش کی تھی مگر پھر بھی قانون کی حفاظت کے نام پر دیو بڑھتے ہی جا رہے تھے۔

اسی لیے اسے سانس نہیں آ رہا تھا۔ شاید وہ مر رہی تھی۔ اپنی آخری سانوں پر تھی۔ دیو مسلسل اسے نوچ رہے تھے۔

سب نے ہی اسے اپنی رکھیل بنا رکھا تھا۔ ہر کوئی اس سے کھیل رہا تھا۔ اس کی خوب صورتی کو تباہ کر رہا تھا۔

اسے سانس لینے میں دقت ہو رہی تھی۔ وہ سسک رہی تھی، مر رہی تھی، ختم ہو رہی تھی مگر مسکرانے کی کوشش کر رہی تھی۔

شاید وہ مسکرا رہی تھی۔ وہ قابلِ رحم تھی مگر کسی کو بھی اس پر رحم نہیں آرہا تھا۔

اسے سانس نہیں آ رہا تھا۔

جھیل سیف الملوک کو سانس نہیں آ رہا تھا۔

کل شب میں نے خواب میں جھیل سیف الملوک کو آخری سانسیں لیتے دیکھا.

اسے سانس نہیں آ رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔

پچھلی شب میں نے جھیل سیف الملوک کو خواب میں دیکھا تھا کہ اسے سانس نہیں آ رہا تھا اور اگلی شب میں جھیل سیف الملوک کو دیکھنے چل پڑا تھا۔

وہی سیف الملوک جس کے بارے بچپن سے سنا کرتے تھے کہ وہاں پرستان سے پریاں اترتی ہیں۔ ملکہ پربت جو شاید پریوں کا سرائے بھی تھا کہ جہاں پری اور پری زادوں کے نوبیاہتا جوڑے شاید اپنا ہنی مون گزارنے آتے تھے اور پھر سارا دن جھیل سیف الملوک پر اٹھکیلیاں کرتے رہتے تھے۔ جھیل کے مختلف رنگ انہی پریوں کی وجہ سے تھے۔ سنا کرتے تھے جھیلیں عورتوں کی مانند ہوتی ہیں۔

پل میں تولا، پل میں ماشا۔ آپ ایک جھیل کو دیکھ کر نہیں کہہ سکتے کہ آپ نے اسے دیکھ لیا ہے۔ جھیلیں بدلتی رہتی ہیں۔ جھیل سیف الملوک پر صبح کے وقت صرف کنواری پریوں اور پری زادوں اترنے کی اجازت ہے۔ یہی وجہ ہے جھیل ہمیشہ صبح کے وقت اپنے حسن کے جوبن پر ہوتی ہے، جس جس طرح سورج چڑھتا ہے، جھیل کا حسن ماند پڑنا شروع ہوجاتا ہے۔ شام سے ذرا پہلے کے وقت پریوں کی بڑی بوڑھیاں ہی جھیل پر اترتی ہیں۔ اسی لیے شام کو جھیل کچھ پھیکی پھیکی سی معلوم ہوتی ہے۔ شام کا آنچل پھیلتے ہی جھیل پر صرف دیو اترتے ہیں۔

مگر اب ایک عجیب معاملہ تھا۔ جھیل سیف الملوک پر بہت سارے انسان نما دیو قابض ہوچکے تھے۔ ایسے تو شاید کوئی کسی رکھیل کو بھی نہیں نوچتا جیسے میری عظیم ریاست نے اس پاکیزہ کو نوچا تھا۔ نہ جانے کتنا بڑا زرِمبادلہ دیتے ہیں یہ پکوڑوں والے دیو جو ریاست نے یہ جگہ مستقل ان لوگوں کو دے رکھی ہے۔

آہنی دیواروں سے اس نازک اور معصوم جھیل کو باندھ دیا گیا ہے جیسے وہ شاید بھاگنے کا ارادہ رکھتی ہو۔ میرے پاس اگر ذرا سا بھی اختیار ہوتا تو میں جھیل کے اردگرد کی ساری جگہ خالی کروا دیتا کہ سیاحوں کو ایک مکمل نظارہ دیکھنے کو ملے، مگر میرے ہاتھوں میں سوائے بے کار کی لکیروں کے اور کچھ بھی نہیں۔

دھوپ رفتہ رفتہ سڑک پر پھیل رہی تھی اور ہم بیسل پہنچ چکے تھے۔ بیسل کیا ہے؟؟؟

بیسل نہایت ہی ہری بھری وادی ہے۔ ڈھلوانیں عجیب مگر خوب صورت ہیں اور سب سے اچھی اور منفرد ہے بیسل کی صبح۔ بیسل کی سڑکوں پر پھیلی ہلکی ہلکی دھوپ جولائی کے موسم میں بھی بہت سکون دیتی ہے۔

ہم نے جیپ والے کو گھوڑے کا بندوبست کرنے کے لیے بھیج دیا۔ کچھ دیر بعد وہ واپس آیا تو بولا چلو بھائی سامان اٹھاؤ۔ میں نے قدرے حیرت سے پوچھا کہ جب گھوڑے کا بندوبست ہو گیا ہے تو گھوڑا کدھر ہے؟

صاحب گھوڑا ڈولی پر کیسے پورے آئے گا؟ آپ ہی ڈولی پر بیٹھ کر گھوڑے کے پاس جائیں گے۔

تو گویا ہم نے اب ڈولی چڑھنا تھا اور ہم بڑے مزے سے ڈولی چڑھ گئے۔

مگر یہ ڈولی شیزان کی بوتل کی طرح تھی۔ مزہ آنے ہی لگا تھا کہ ڈولی صاحبہ نے ہمیں ہماری منزل پر لا پھینکا۔ یہ کوئی موٹر والی ڈولی نہ تھی اور نہ ہی اس پر کوئی ٹکٹ تھا۔ ایک خودساختہ سا جھولا تھا جسے مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت بنایا ہوا تھا کہ بیسل کے رہائشیوں اور سڑک کے درمیان دریائے کنہار رکاوٹ تھا لہذا آپ کی مردانگی جائے بھاڑ میں۔ اگر آپ نے دودی پت کے ٹریک پر جانا ہے تو آپ کو ڈولی چڑھنا ہی پڑے گا۔

ہم نے ڈولی سے دریا پار کیا تو آگے ہمارا گھوڑا ہمارا منتظر تھا۔ ظاہر سی بات ہے اس کے ساتھ ایک گھوڑے والا بھی تھا۔ اب ہم دونوں میں سے کوئی گھوڑا ہانکنے سے رہا۔ گھوڑے پر سامان باندھا گیا اور ہمارا دودی پت کی جانب سفر شروع ہو گیا۔ بڑے پتھروں اور چھوٹے چھوٹے سنگ ریزوں پر چلتے چلتے ہم نے بیسل گاؤں کو پیچھے چھوڑ دیا۔

حاجی لوک مکے ول جاندے تے میرا رانجھا میرا مکہ نی میں کملی آں

بلھے شاہ اگر رانجھے کو اپنا مکہ مان بیٹھا تھا تو ہمارے لیے بھی اب جھیل دودی پت ہی سب کچھ تھی اور ہم یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ جھیل دودی پت کو چھو لینا کوئی آسان کام نہیں، اس کے راستے میں دریا تھے، دو بچہ گلیشئر اور ایک بڑا گلیشئر تھا، موسم کی سختی تھی، بلندی تھی اور سب سے بڑھ کر راستے کی طوالت تھی۔ ان سب کے باوجود بہت سے لوگ دودی پت کی جانب جا رہے تھے۔

جن میں ہم دو، ہمارا گھوڑا اور ہمارا گھوڑے والا یاسر تھا۔ جھیل دور ہونے کے باوجود اس پر بُری نگاہ ڈالنے والے ابھی کچھ کم تھے۔ جھیل سیف الملوک تک چونکہ عام لوگوں کی رسائی زیادہ تھی، اس لیے عوام نے اسے طوائف بنا دیا تھا۔ ہمارے ہاں جھیل کی قسمت میں طوائف بننا ہی لکھا ہے۔ طوائف کی بیٹی ایک طوائف سے زیادہ اور بن بھی کیا سکتی ہے۔ سیف الملوک طوائف بن چکی تھی، دودی پت کے طوائف بننے میں ابھی کچھ دیری تھی اس لئے وہ نخرے دیکھا رہی تھی. دودی پت کا جوبن عروج پر تھا۔

ہم مزے سے چلتے جا رہے تھے کہ پانی نے ہمارا راستہ روک دیا۔ دو بچے فوراً گھوڑے لے کر آ گئے۔

صاحب۔۔۔۔گھوڑا لے گا۔۔۔۔

ہم فوراً گھوڑے پر ہوگئے مگر گھوڑے پر یہ پانی پار کرنا ہمیں دو سو روپے میں پڑا۔ دریا پار کرنے کے بعد اب آہستہ آہستہ بلندی میں اضافہ ہو رہا تھا۔

ہم کبھی بلند ہو رہے تھے اور کبھی کبھی ہلکا پھلکا اتر رہے تھے کہ یک دم سے سیدھا راستہ ختم ہو گیا اور ہمیں پھر سے دریا پار کرنا پڑ گیا۔ اب کی بار دریا کا پاٹ کافی چوڑا اور گہرا تھا۔ گھوڑے والے بچے ہمارے ساتھ ساتھ تھے۔ ہماری جیبوں سے ایک بار پھر دو سو روپے نکلے اور ہم نے سکون سے بنا کپڑے گیلے کیے دریا پار کر لیا۔ ہم کافی آگے آ چکے تھے اس لئے گھوڑے والے اب واپس چلے گئے۔ آگے جو کچھ بھی ہونا تھا، وہ ہمیں خود جھیلنا تھا۔ اب کی بار جب دریا کو پار کیا تو ایک عدد بچہ گلیشئر ہمارے سامنے کھڑا تھا۔

اسی بچہ گلیشئر کے نیچے سے دریا گزر رہا تھا۔ ہم احتیاط سے قدم اٹھا رہے تھے کہ ہماری ہائکنگ اسٹکس مٹی کے لئے تو ٹھیک تھیں مگرگلیشئر کے لیے نہ مناسب تھیں۔ اس لیے احتیاط لازم تھی۔ بچہ گلیشئر کو بچہ بالکل مت لیں۔ گلیشئر بچہ ہو یا بڑا، گلیشئر، گلیشئر ہی ہوتا ہے۔ ذرا سی بے اختیاطی پر آپ سیدھے دریا میں جا کر گرتے ہیں اور دریا آپ کو سیدھا بیسل تک پہنچے گا۔ اگر قسمت اچھی ہوئی تو آپ کی بریکیں بیسل پر لگ جائیں گی ورنہ پھر آپ دریائے سندھ سے ہی برآمد ہوں گے۔ یہاں اب اگر آپ کے گھر والوں کی قسمت اچھی ہوئی تو آپ برآمد ہو جائیں گے ورنہ پھر بحیرۂ عرب کی مچھلیوں کے پیٹ ہی آپ کا مسکن ٹھہرے۔

بچہ گلیشئر کو پار کرنے کے بعد راستہ تھوڑا سا بلند ہوا اور ہمیں ہمارے ٹریک کا پہلا چھوٹا سا چشمہ ملا۔ میرا انرجی لیول ذرا کم ہو رہا تھا لہٰذا میں نے فوراً پانی میں انرئل جائل ملا کر پیا اور ہشاش بشاش ہو کر آگے کو چل پڑا۔ تنگ راستہ ختم ہوا تو ایک اور بچہ گلیشئر سامنے کھڑا تھا جسے اب ہم نے بڑے پیار سے پار کرنا تھا۔ بیسل بہت پیچھے رہ گیا تھا۔

ابھی تک وادی ہم پر مکمل طور پر نہ کھلی تھی۔ کبھی ہم دریا سے زیادہ بلند ہو جاتے تو کبھی بلندی میں ذرا سی کمی آ جاتی کہ اچانک ہم دریا کے بالکل برابر آگئے۔ ہم بائیں جانب چل رہے تھے جب کہ بقیہ ٹریک دائیں جانب تھا۔ جس کا مطلب تھا کہ ہمیں اب دریا پار کرنا تھا۔ یہ دریا پار کرنا بالکل بھی آسان نہ تھا۔ پانی گھٹنوں سے ذرا اوپر اوپر تھا مگر بے حد تیز اور یخ ٹھنڈا اور سب سے زیادہ دریا کے نوکیلے پتھر تنگ کرتے تھے۔ دریا کے تیز بہاؤ میں کھڑا ہونا بہت مشکل تھا۔ دو دو بندے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے دریا پار کر رہے تھے۔

یخ ٹھنڈے پانی کو پار کرنے کا قدرے آسان طریقہ یہی ہے کہ آپ شَڑاپ شَڑاپ کر کے دریا پار کریں یعنی کہ قدم کو مکمل طور پر باہر نکالیں پھر پانی میں رکھیں۔ ایسے ہی دوسرے قدم کو مکمل طور پر پہلے پانی سے باہر نکالیں پھر اسے آگے بڑھا کر پانی دوبارہ ڈالیں۔ مسلسل پانی کے اندر ہی چلنے سے ٹانگیں شدید سُن ہو جاتی ہیں۔ جیسے تیسے کرکے ہم نے دریا پار تو کر لیا مگر آگے ٹریک قدرے چھوٹا، تنگ اور بلند تھا۔

اتنا بلند کہ اسے دیکھنے کے لیے ’’بُوتھا‘‘ اٹھانا پڑتا تھا۔ بس سمجھ لیں کہ یہیں سے اصل ٹریک شروع ہوتا ہے۔ ہم نے اللہ کا نام لیا اور ٹریک پر چلنا شروع کیا۔ بلندی شدید سے شدید ہوتی جا رہی تھی اور میری ہمت جواب دے رہی تھی۔ میں تھوڑے تھوڑے وقفے سے کچھ نہ کچھ میٹھا کھا رہا تھا کہ پہاڑوں پر آپ کا شوگر اور بلڈ پریشر نارمل رہنا بہت ضروری ہے ورنہ آپ کو پونترتے ہوئے دیر نہیں لگتی۔ میٹھے کے لیے سب سے بہتر یہ ہے آپ اپنے ساتھ کچھ کھجوریں اور خشک میوہ جات ضرور رکھیں۔

اگر پانی کی بوتل میں شہد ملا کر گھر سے لائیں ہیں تو اس سے بہتر اور کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ بلندی مسلسل بڑھ رہی تھی اور راستہ صرف اتنا تھا کہ آپ آسانی سے اس پر بس کھڑے ہو سکیں۔ ہم چلتے جا رہے تھے کہ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی آپشن نہ تھا کہ ہمارے ٹریک کا واحد بڑا گلیشئر ہمارے سامنے آن کھڑا ہوا۔ گلیشئر کی برفوں نے پگڈنڈیوں کو مکمل طور پر ڈھانپ رکھا تھا اس لئے ہمیں مجبوراً گلیشئر پر چلنا پڑ رہا تھا۔ گلیشئر چوںکہ بڑا تھا اور ڈھلوان بھی درمیانی تھی تو اس پر چلنے کا لطف آ رہا تھا۔

تنگ راستوں والی بلندیاں ختم ہوئیں تو آگے کھلے راستوں والی بلندیاں شروع ہوگئیں۔ محض راستہ کھلا ہوا، بلندی میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ دور۔۔۔بہت دور ایک بلندی پر پاکستانی پرچم لہرا رہا تھا۔ حالانکہ وہ قریب تھا مگر میری رفتار کی وجہ سے بہت دور تھا۔ یاسر بتا رہا تھا کہ پرچم والی جگہ کا نام ”گلمہ بستی” ہے۔ وجہِ تسمیہ اسے معلوم نہ تھی اور مجھے پوچھنے میں دل چسپی نہ تھی۔ وہاں پہلے ایک کمرے کا سرائے بنا ہوا تھا جسے بعد میں ڈھا دیا گیا۔ اب وہاں صرف ایک کچن ٹینٹ تھا جس میں چائے بسکٹ کے لوازمات موجود تھے۔

دودی پت ٹریک کی زیادہ بلندیاں گلمہ بستی سے پیچھے ہی ہیں۔ گلمہ بستی کے اطراف اور اس سے آگے بس ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں جیسے رستے ہیں۔ گلمہ بستی کے پہلے کی بلندیاں آپ کو اس قدر تھکا دیتی ہیں کہ آگے نظر آنے والے ٹیلے بھی آپ کو پہاڑ لگتے ہیں اور مجھ جیسا کم زور بندہ ان ٹیلوں پر چڑھتا نہیں بلکہ ریگتا ہے۔ گلمہ بستی کے ٹیلوں پر بھی میرا یہی حال تھا۔

میں جوں جوں پرچم کے قریب ہوتا تھا، پرچم مجھ سے دور ہو رہا تھا۔ گرتا پڑتا میں گلمہ بستی کے پرچم کے پاس پہنچ ہی گیا جہاں سے بہت نیچے دریا بہہ رہا تھا کہ وہ صرف نظر آ رہا تھا مگر اس کا شور سنائی نہ دیتا تھا۔

دودی پت کے یہ راستے مجھے ”سنو لیک” کے راستے لگ رہے تھے۔ سنو لیک دیکھی تو نہیں مگر بھلا ہو تارڑ کا جس بے ہمیں گھر بیٹھے ہوئے بھی بہت کچھ دکھا دیا ہے۔ گلمہ بستی سے آگے بہت سے چوپائے گھوم رہے تھے، جن میں جنگلی گائے بھی تھی۔

میں نے جنگلی گائے پہلی مرتبہ دیکھی تھی۔ گردن پر بورے بال، سینگ۔ مجھے پہلے تو یہ یاک لگا مگر یاک یہاں ہو نہیں سکتا تھا۔ جنگلی گائے اپنی شکل سے یاک اور میدانی گائے کی کوئی درمیانی سی حالت معلوم ہوتی ہے۔ سرخ پھولوں کی راستے پر بھرمار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ نیلے پھول بھی تھے جو پھول نہیں بلکہ زہر تھا۔ مقامی جانور اور لوگ، سب ان نیلی بوٹیوں سے دور رہتے ہیں۔ اس لیے اگر آپ بھی کبھی دودی پت کے راستوں پر چلیں تو ان دل کش نیلی بوٹیوں سے دور رہیں۔

ہم اب جس وادی میں اتر رہے تھے، اس وادی کا شاید کوئی نام ہو مگر بے شمار پھول ہونے پر میں اسے پھولوں والی وادی قرار دیتا ہوں۔ ہر طرف رَت (سرخ) ہی رت تھا۔ ذرا تصور کیجیے کہ وادی کی ڈھلوانیں سبز ہوں اور ان پر لمبے لمبے رتے پھول اور کہیں کہیں نیلی زہریلی ڈنڈیاں۔ آپ ان رنگوں کے درمیان موجود ہوں، نیچے دریا بہہ رہا ہو، ٹھنڈی ہوا چل رہی ہو اور آپ کے سامنے دور سیاہ پہاڑ ہوں جن کو بادلوں نے ڈھانپ رکھا ہو۔۔۔سیاہ پہاڑ۔۔۔انہی سیاہ پہاڑوں کے درمیان کہیں جھیل دودی پت تھی۔ پتا نہیں تھی بھی یا نہیں تھی۔

یہی دیکھنے کے لیے ہم اس قدر خوار ہو رہے تھے اور یقین کر بیٹھے تھے کہ وہاں ایک جھیل ہے مگر پھر بھی کچھ کچھ شک تھا کہ شاید وہ وہاں نہ ہو۔ فی الحال تو ہم پھولوں والی وادی میں تھے۔ ہمارا پورٹر یاسر ہمیں بتا رہا تھا کہ پہلے یہ پھول سرخ نہیں تھے۔ برفوں سے ڈھکی ڈھلوانوں سے جب یہ پھول نکلتے ہیں تو سفید ہوتے ہیں۔ جوں جوں برف پگھلتی ہے تو رتے ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ ان کا رنگ پھر آہستہ آہستہ بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔ سرخ رنگ نشانی ہے کہ یہی صحیح موسم ہے دودی پت جانے کا۔ ستمبر میں ہی ان پھولوں کا رنگ بدلنا شروع ہو جاتا ہے جو مقامی افراد کے لیے الارم ہوتا ہے کہ اب سخت سردی آنے کو ہے، کیوںکہ ان پہاڑوں پر اصل میں تین ہی موسم ہوتے ہیں۔ کچھ دن بہار کے، سردی اور سخت سردی۔

میں مکمل طور پر ان پھولوں میں کھویا ہوا تھا۔ دودی پت کے راستے بالکل سیدھے ہیں، جلیبی کی طرح بل نہیں کھاتے۔ اس لیے آپ اس فکر سے آزاد ہو جائیں کہ آپ گم ہو سکتے ہیں۔ میں آنکھیں بند کیے ان پھولوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا۔ ٹھنڈی ہوائیں اپنی زبان میں کچھ گا رہی تھیں۔ میں جو اس راستے کی طوالت کی وجہ سے جھیل کو دیکھنے کی دلچسپی کھو بیٹھا تھا، ایک دم سے تازہ دم ہو گیا تھا کہ وہ ٹھنڈی ہوائیں میرے جسم کو سکون دے رہی تھیں، کانوں میں رس گھول رہی تھیں۔ کہ خذیفہ نے مجھے آ لیا۔

کتنی پیاری جگہ ہے نا۔

بہت زیادہ۔

یہ پھولوں والی وادی مزید پیاری لگنے لگتی تھی جب سورج کے سامنے ایک آدھا بادل آ جاتا تھا۔

کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم یہی رہ جائیں۔

نہیں یہ نا ممکنات میں سے ہے۔

منزل ہم نے ابھی دیکھی نہ تھی اور جو دیکھ رہے تھے وہاں سے نظر ہٹانے کو دل نہ چاہ رہا تھا کہ ہم جانتے تھے کہ یہ رنگیناں صرف سفر کی ہیں۔ منزل آنے کا مطلب سفر ختم ہونے کا ہے. سفر ختم تو سمجھو سب کچھ ختم۔

نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں اٹھنا پڑا کہ ہماری منزل ابھی دور تھی۔ شاید بہت دور۔ ہمیں کالے پہاڑ نظر آرہے تھے جن کے دامن میں جھیل دودی پت تھی۔ یہ پہاڑ اصل میں کالے نہ تھے، سبز تھے، طوالت اور گہرے بادلوں کے سائے کی وجہ سے یہ پہاڑ کالے نظر آ رہے تھے۔ ہمیں جوں جوں ان پہاڑوں کے قریب ہونا تھا، ان کالے رنگوں نے رفتہ رفتہ سبز ہو جانا تھا۔

جوں جوں ہم چل رہے تھے، خنکی میں اضافہ ہو رہا تھا، کالے پہاڑ بڑے اور نزدیک تو ہو رہے تھے مگر کم بخت سبز نہیں ہو رہے تھے۔ بقول ہمارے پورٹر یاسر کے ابھی ہم دریا کو پل سے پار کریں اور وہ گھوڑے کو لے کر دریا کے اندر سے گزرے گا۔ میں نے یاسر کو عقل مندانہ آفر کی کہ وہ بھی گھوڑے کے ساتھ پُل پر سے گزرے۔ تب معلوم ہوا کہ پل سے مراد ایک عدد لکڑی کا پھٹا ہے جسے ہم بمشکل پار کریں گے۔ میری سِٹّی گم ہو چکی تھی اور میں نے پل پار کرنے سے بغاوت کر دی۔ مرتا کیا نہ کرتا، پل پار کرنا ہی تھا۔ اللہ بھلا کرے یاسر کا، جس نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے پل پار کروایا۔ اس طرح تو شاید کوہ نورد بیافو گلیشئر کے نالے بھی پار نہ کرتے ہوں گے جس نے میں نے اس پھٹے نما پل کو پار کیا۔

ہماری کیمپ سائیٹ کتنا دور تھی، اب مجھے یہ جاننے میں ذرا بھی دل چسپی نہ تھی کیوںکہ مجھے اچھی طرح سمجھ آ چکا تھا کہ مجھے بس چلتے جانا ہے۔ راستہ ایک نیم پہاڑ لے ساتھ مڑ رہا تھا اور مڑ کر نہ جانے کہاں گم ہو رہا تھا۔ میرے کانوں میں یاسر کی آواز پڑی کہ جونہی ہم اس راستے پر مڑیں گے تو سامنے کیمپ سائیٹ ”ملاں کی بستی” نظر آ جائے گی۔

میں خوشی خوشی موڑ مڑ گیا کہ کیمپ سائیٹ ساتھ ہی ہو گی مگر مڑتے ہی میرا لٹکا ہوا منہ مزید لٹک گیا اور میرے دو کمینے ہم سفر زور دار قہقہے لگا دیے۔ کیمپ سائٹ نظر تو آ رہی تھی مگر بہت دور تھی۔ میں نے یاسر اور اپنے دوست خذیفہ کو آگے روانہ کیا کہ وہ جا کر کیمپ لگائیں اور میرے لیے بستر اور نوڈلز تیار کریں۔ میری مرتی ہوئی شکل دیکھ کر شاید دونوں کو ترس آ گیا تھا اور دونوں چپ چاپ آگے کو چل دیے اور میں نے رینگنا شروع کر دیا کہ مجھے میں فقط رینگنے کی ہی طاقت تھی۔

کوئی چڑھائی نہ تھی، کوئی ٹیلا نہ تھا۔ میں تقریباً ساڑھے چھ یا پونے سات گھنٹوں سے چل رہا تھا اور میرا برا حال ہو چکا تھا۔ میں رینگتا رینگتا کیمپ سائٹ پر پہنچ ہی گیا۔ میرا کیمپ لگا ہوا تھا۔ میں نے جوتے اتارے، سلیپنگ بیگ کھولا اور لم لیٹ ہو گیا۔

یار اس مریض کو نوڈلز یہی دے دو اور پھر مریض کو نوڈلز اسی کیمپ اسپتال میں دے دیے گئے۔ نوڈلز کھانے کے بعد میں ایسا سویا کہ دنیا جہاں کا ہوش نہ تھا۔ سورج غروب ہونے پر شفق کی سرخی ہر سو پھیلی تو ہر طرف پھیلا سبزا رَت میں تبدیل ہو گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں چاند نکل آیا اور پوری وادی اور اس کے پانی چاندی میں نہا گئے۔ میرے نم آلود جسم پر چاند کی ٹھنڈی لُو نے مجھے خوش قسمتی اور اور آزادی کے ایک ان جانے احساس سے روشناس کیا۔ ہر طرف سحرانگیز سکون تھا۔ میں خیمے کے اندر جا کر لیٹ گیا۔

چمکتا ہوا پانی یہاں سے دکھائی دے رہا تھا۔ چاند کی کرنوں کی وجہ سے خیمے کے اندر بھی ہلکی ہلکی روشنی تھی۔ مجھ پر غنودگی طاری ہوگئی اور میں جلد ہی سو گیا۔ تقریباً رات کے نو بجے حذیفہ نے مجھے زبردستی جگا دیا کہ میں کیمپ سے باہر نکلو اور آسمان دیکھو۔ مجھے شدید ترین غصہ آ رہا تھا مگر خذیفہ کے بے حد اصرار پر میں نے ہلکی سی اپنی ٹنڈ کیمپ سے باہر نکال ہی لی۔ باہر چاندنی میں نہایا ہوا چمکتا دمکتا شفاف پانی تھا۔ آسمان دیکھ کر میں ششدر رہ گیا۔ ایسا آسمان پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔

میں کہکشاں کے اصل تصور سے ناواقف تھا اور اکثر سوچتا تھا کہ کہکشاں کیسی ہوتی ہوگی؟ اس رات پتا چل رہا تھا کہ کہکشاں کیسی ہوتی ہے۔ یہاں ہم شہروں میں صرف سیاہ آسمان دیکھتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ چند گنتی کے ستارے مگر وہاں کے آسمان کی بات ہی کچھ الگ تھی۔ سارا آسمان ستاروں سے بھرا پڑا تھا اور درمیان سے دودھیا کہکشاں۔ آسمان سے نظریں ہٹانے کو جی نہ چاہتا تھا مگر ٹھنڈ اس قدر زیادہ تھی کہ ہمیں واپس کیمپ میں آنا پڑا۔ سردی اس قدر زیادہ تھی کہ دو جرابیں، گرم ٹوپی اور دستانے پہننے کے باوجود میں کانپ رہا تھا۔ رات جیسے تیسے کر کے ٹھٹھرتے مرتے گزر ہی گئی۔ گیلی زمین کے لمس میں کتنی آسودگی تھی۔

اگلی صبح جب آنکھ کھلی تو گھاس پر اوس جمی ہوئی تھی۔ پہاڑوں پر شام جتنی جلدی اترتی ہے، اتنی ہی دیر سے سویر ہوتی ہے۔ سورج کی روشنی ابھی پہاڑوں کی صرف چوٹیوں پر تھی۔ ہم میں سے کوئی بھی باہر نہیں نکلنا چاہتا تھا مگر کچھ جسمانی ضروریات کے لیے ہمیں نکلنا ہی پڑا۔ ہمارے سامنے جھیل سے آنے والا یخ ٹھنڈا پانی انتہائی خاموشی سے بہہ رہا تھا۔ پانی اس قدر یخ تھا کہ ہاتھ بھی نہ لگتا تھا۔ ہم نے منہ دھونے کے نام پر آنکھوں کو فقط گیلے ٹشوز سے صاف کیا۔ اس سے کچھ زیادہ کرنے کی ہم ہمت بھی نہ رکھتے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں سویر کی دھندلی سفیدی کی گھلاوٹ میں سورج کی ٹھٹھرتی ہوئی کرنیں ہم تک پہنچنا شروع ہو گئیں۔ سورج میں ذرا بھی گرمی نہ تھی۔ جھیل کا پانی اب ذرا شور کرنے لگا تھا۔

دھوپ نیچے تک اتر آئی تھی مگر وہ، وہ دھوپ نہ تھی جس کی ہمیں اس وقت ضرورت تھی۔ دھوپ نے بھی ہم سے دغا کردی تھی۔ یہ وہ دھوپ نہ تھی جس سے ہم واقف تھے۔ یہ دو نمبر دھوپ تھی جس نے ہمیں شدید مایوس کیا تھا۔ سویرا اب مکمل صبح میں بدل چکا تھا۔ ایک بڑا مگ کافی اور کچھ بسکٹ اپنے پاپی پیٹ میں ڈالنے کے بعد ہم جھیل دودی پت جانے کو تیار تھے۔ لوگ ٹریک کے دوسرے دن گھوڑا ہو جاتے ہیں۔

پہلے دن کی نسبت زیادہ تیزی سے چلتے ہیں مگر میں گھوڑا ہونے کی بجائے گھر پر ہو گیا تھا۔ ہمارا سارا سامان چونکہ کیمپ سائیٹ پر ہی تھا اس لیے گھوڑا فارغ تھا۔ میں نے موقع غنیمت جانا اور گھوڑے پر سوار ہوگیا۔ اب کالے نظر آنے والے پہاڑ رفتہ رفتہ سبز ہو رہے تھے۔

موسم صاف اور ابر آلود نہ تھا۔ سارے مناظر ہم پر کھلے ہوئے تھے۔ چراگاہیں بلا کی خوب صورت تھیں۔ دودی پت۔ جہاں دودھ بہت ہوتا تھا کہ وہاں جانور بہت تھے مگر اب ان میں کافی حد تک کمی آچکی تھی۔ انسانوں کی طرح جانوروں کو بھی اب جھیل سے بہت پیچھے روک لیا جاتا تھا مگر دودی پت اب بھی دودی پت ہی تھی۔ سو ہم دودی پت جا رہے تھے جو ہمیں گذشتہ دن سے خوار کروا رہی تھی۔ ظالم نظر ہی نہیں آ رہی تھی۔ ہمیں ترسا ترسا کر مار رہی تھی۔ پہاڑ اب مکمل طور پر سبز ہو چکے تھے، مطلب ہم جھیل کے قریب تھے۔

”اس ٹیلے کو پار کرنے کے بعد آپ کو جھیل نظر آجائے گی۔” ہمارے گائیڈ نے ہمیں خوش خبری سنا دی۔ میرا اس پر یقین کرنے کو جی تو نہ چاہتا تھا مگر اس بار وہ سچا تھا۔ ٹیلے کے پار جھیل تھی۔ سبز پہاڑ جن پر کہیں کہیں برف تھی، انہی کے دامن میں جھیل دودی پت تھی اور ہماری نظروں کے سامنے تھی۔ ہم سب مسکرا دیے۔ پانیوں کی قربت میں، تیرہ ہزار فٹ کی بلندی پر کھڑے ہم مسکرا رہے تھے۔ نہ تو ہم پر بلندی کا اثر ہوا تھا اور نہ ہم پاگل ہوئے تھے مگر پھر بھی ہم مسکرا رہے تھے۔ جھیل سیف الملوک کی چھوٹی بہن ہماری قربت میں تھی، ہمارے سامنے تھی۔ ہم نے اسے پا لیا تھا۔

ہم اسے چھو سکتے تھے، اس کے پانیوں میں اتر سکتے تھے اور ہم نے اسے چھوا بھی اور چھوٹی بہن کے پانیوں میں اتر بھی گے۔ اتنی مشقت کے بعد اتنا حق تو ہمارا بنتا تھا۔ جھیل سیف الملوک سے مشابہت رکھنے والی جھیل کی خاص بات یہ تھی کہ وہ ہر کسی کے نصیب میں نہ رکھی گئی تھی۔ چند آنکھیں ہی اسے دیکھ سکتی تھی، چند ہاتھ ہی اسے چھو سکتے تھے۔

ہم اسے دیکھ بھی رہے تھے، چھو بھی رہے تھے، اس لیے ہمیں خود پر فخر ہونے لگا۔ ہم جھیل کے رو بہ رو تھے۔ میرے لیے جھیل کی پہلی جھلک جوانی کے فریبوں اور پہلی محبت کے احساسات سے زیادہ حسین اور ہیجان خیز ثابت ہو رہی تھی۔ جھیل دودی پت کو دیکھتے ہی میرے ذہن میں جھیل سیف الملوک کی پہلی جھلک کے تاثرات ابھرے جو جوانی کے فریبوں اور پہلی محبت کی کسک سے زیادہ حسین اور ہیجان خیز تھے لیکن اب میں چاہے کتنی بار ہی اس جھیل پر کیوں نہ آؤں، میرے احساسات میں وہ گرمی اور وارفتگی نہ ہو گی۔ جھیل دودی پت کے حسن میں نفاست کے ساتھ ساتھ معصومیت اور لڑکپن بھی ہے۔ ایسی نفاست جسے قدرت نے خاص لوگوں کی تفریح طبع کے لیے ایک خاص منصوبے کے تحت ترتیب دیا ہو۔

جھیل کا پانی ریشم کی طرح ملائم اور کھنکتے شیشوں کی مانند شفاف تھا۔ ہمارا ساقی ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہمیں پلا رہا تھا اور ہم پی رہے تھے۔ جوں جوں سورج چڑھ رہا تھا، جھیل کے رنگ بدل رہے تھے۔ لوگوں کی آمد میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔ ہر کوئی اپنے اپنے فریم میں رہتے ہوئے جھیل کے پانیوں سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔

ہمیں چوںکہ اسی دن واپس مانسہرہ بھی پہنچنا تھا لہٰذا واپسی کا نقارہ بجا دیا گیا۔ دل تو نہیں تھا مگر بوجھل دل کے ساتھ جھیل کو الوداع کہنا ہی پڑا کہ ہم ہمیشہ کے لیے یہاں نہیں آئے تھے۔ وقت پر واپسی کا سفر شروع کرنے میں ہی عقل مندی تھی۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے مختصر سفر کے بعد ہم اپنی کیمپ سائیٹ پر واپس پہنچ چکے تھے جہاں ہم نے اپنی اب تک کی زندگی کی بہترین سبزی کھائی۔

ہاں تیل ذرا زیادہ تھا مگر وہ مقامی سبزی اپنے اندر بہترین ذائقہ لیے ہوئے تھی. ناشتے کے بعد سارا سامان باندھ کر گھوڑے پر رکھ دیا گیا۔ واپسی کے مناظر بالکل ہی مختلف تھے، جس طرف پہلے ہماری پشت تھی، اب اس وقت رخ تھا۔ ایسے معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے ہم پہلے ان راستوں پر آئے ہی نہیں۔ یہ راہیں وہی تھیں مگر سمت کا فرق تھا۔ راستے میں بہت سے لوگ مل رہے تھے جو دودی پت کو جاتے تھے۔ اکثریت بالکل میری طرح معصوم منہ بنائے اب مجھ سے ہی پوچھ رہی تھی کہ کیمپ سائیٹ کتنی دور ہے اور میں ہنس کر کہہ دیتا تھا کہ بس چپ کر کے چلتے جاؤ۔ چڑھائی کی اپنی تھکن ہوتی ہے اور اترائی کی اپنی۔ کوئی بھی آسان نہیں۔ دونوں صورتوں میں تھکتے ہیں۔ ہم میدانی لوگ تو کچھ زیادہ ہی تھکتے ہیں۔ اترائی بے شک آسان ہوتی ہے مگر اپنا آپ وہ بھی دکھاتی ہے۔

چڑھائیاں اب اترائیاں بن رہی تھیں اور اترائیاں چڑھائی میں بدل رہی تھیں۔ وہی گلیشئر، دریا، میدان پھر سے آ رہے تھے تو ایک خوش گوار سا احساس ہو رہا تھا، ایک جیت کا احساس تھا کہ ہم نے ایک مشکل کام کر دکھایا ہے۔

اپنے آپ پر ایک فخر سا محسوس ہو رہا تھا۔ وہی ڈولی اب پھر سامنے آ چکی تھی جس پر بیٹھ کر ہم نے دودی پت کو جاتے راستوں پر قدم رکھا تھا اور اب اسی ڈولی پر بیٹھ کر ہمیں ان راہوں کو چھوڑ دینا تھا اور ہم نے چھوڑ بھی دیا۔ جھیل دودی پت سے آتے ہوئے پانیوں کو دیکھ کر عجیب سا احساس ہو رہا تھا۔ یہ پانی جھیل کے دامن سے پھوٹ رہے تھے اور ہم بھی جھیل کے پانیوں کو چھو کر آئے تھے۔ نہ ان پانیوں کو اب واپس جھیل دودی پت نہیں جانا تھا اور نہ ہمیں۔

The post جھیل دودی پت کے کنارے ایک رات appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3ed7rjb

محاوروں کا مسئلہ

کم بخت ادب میں جہاں اور بیس مصیبتیں ہیں وہاں ایک جھگڑا یہ بھی ہے کہ اس کے ایک عنصر کو باقی عناصر سے الگ کر کے سمجھنا چاہیں تو بات آدھی پونی رہ جاتی ہے۔

یہاں وہ ڈاکٹروں والی بات نہیں چلتی کہ کوئی کان کے امراض کا ماہر ہے تو کوئی ناک کی بیماریوں کا‘ ادب پارہ عناصر کا مجموعہ نہیں ہوتا۔ یہاں تو کُل ہی اصل چیز ہے۔ کہیں سے اینٹ، کہیں سے روڑا لے کے اور چاہے جو بن جائے ادب نہیں بنتا۔ ادب کا معاملہ تو وہی ہے جو اشیا کا ہے۔ اشیا میں لمبائی بھی ہوتی ہے اور چوڑائی بھی۔ لیکن ایک کے بغیر دوسری وجود میں نہیں آ سکتی۔

ادب کے بارے میں سوچنے بیٹھیں تو یہی الجھن پیش آتی ہے۔ ابھی ایک پہلو کے متعلق کوئی بات کہہ کے مطمئن بھی نہیں ہونے پائے تھے کہ پتہ چلا یہ پہلو دوسرے پہلو سے جڑا ہوا ہے۔ جبھی تو ادبی تنقید کا کام ہوا سے لڑنے کے برابر ہے۔

مثلاً میں نے کچھ دن سے غل مچا رکھا ہے کہ ہمارے ادیبوں کو الفاظ پر قدرت حاصل نہیں‘ اس لئے ہمارا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ الفاظ کو قابو میں لائیں۔ اس سیدھے سادے بیان سے بظاہر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ادیب لوگ روز صبح اٹھ کے نہار منہ لغت کاا یک صفحہ رٹ لیا کریں۔ یا پرانی کتابیں پڑھ پڑھ کے اچھے اچھے لفظوں کی ایک فہرست تیار کریں اور پھر اس فکر میں رہیں کہ موقع بے موقع ایک زور دار سا لفظ ٹکا دیں۔

اگر بغرض محال اس طرح اچھی نثر یا نظم لکھی بھی جا سکے تو محض ایک افسانہ چھپوانے کی خاطر ا تنا جھنجھٹ کون پالے گا کہ نوراللغات کی چار جلدیں ہر وقت کندھے پہ اٹھائے پھرے۔ اصل پوچھنے کی بات تو یہ ہے کہ لفظ یاد کس طرح رہتے  ہیں اور لفظوں پر قابو کیسے پایا جاتا ہے۔ آخر وہ کیا چیز تھی جس نے اکیلے شیکسپئیر کو چھبیس ہزار الفاظ دے دیئے۔ حالانکہ ہماری پوری اردو زبان میں  کُل ملا کے چھپن ہزار الفاظ ہیں‘ اور آج  کل کے اردو ادیبوں کے پاس تو شاید دو تین ہزار سے زیادہ نہ ہوں گے۔ یہ کیا قصہ ہے؟

الفاظ اس آدمی کو یاد ہوتے ہیں جو زندہ ہو۔ یعنی جسے زندگی کے عوامل اور مظاہر سے جذباتی تعلق ہو اور جو اس تعلق سے جھجکے یا گھبرائے نہیں۔ ادیبوں کو چھوڑیئے ہم آپ جیسے عام آدمی روزانہ جوالفاظ بولتے ہیں ان میں ہماری پوری جسمانی‘ ذہنی اور جذباتی سوانح عمری بند ہوتی ہے۔ گویا ہر آدمی دن بھر ا پنی داستان اور بچپن سے لے کر آج تک کی تاریخ بیان کرتا پھرتا ہے۔

ان میں سے بہت سے لفظ تو ایسے تجربات کی نمائندگی کرتے ہیں جنہیں ہمارے شعور نے بھی قبول کر لیا ہے۔ بہت سے لفظوں میں وہ تجربات چھپے بیٹھے رہتے ہیں جن سے شعور بچتا ہے۔ لیکن جنہیں لاشعور ہمارے اوپر ٹھونستا ہے۔ دوسری طرف ایسے بھی لفظ ہوتے ہیں جنہیں ہم حافظے کی گولیاں کھانے کے بعد بھی یاد نہیں رکھ سکتے۔ کیونکہ ‘ ا ن کا تعلق ایسے ناخوشگوار تجربات سے ہوتا ہے، جن سے ہم دامن چھڑانا چاہتے ہیں۔

ہم کتنے اور کس قسم کے الفاظ پر قابو حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہمیں زندگی سے ربط کتنا ہے اور ہم خوشگوار اور ناخوشگوار دونوں طرح کے تجربات قبول کرنے کی ہمت کتنی رکھتے ہیں۔ جی ہاں‘ خوشگوار تجربے کو قبول کرنے کے لئے بھی ہمت چاہئے۔

بقول فراق صاحب‘ ’’بلائیں یہ بھی محبت کے سر گئی ہوں گی‘‘، اس میں بھی نفی خودی کا کرب برداشت کئے بغیر گزارا نہیں ہوتا۔ خودپرست آدمی نشاط کے قابل رہتا ہے نہ غم کے۔ اگر کوئی سکڑ سمٹ کے بالکل اپنے اندر بند ہو جائے تو اسے لفظوں کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

کیونکہ الفاظ تو اس تعلق کا ذریعہ اظہار ہیں جو ہمارے اور خارجی چیزوں کے درمیان ہوتا ہے۔ خدا نے حضرت آدم علیہ السلام کو سب سے پہلے چیزوں کے نام سکھائے تھے پھر الفاظ محض اظہار کا ذریعہ ہی نہیں ہیں‘ ان کے پیچھے یہ خواہش کام کرتی ہے کہ ہم دوسروں سے تعلق پیدا کریں۔ چنانچہ لفظوں کو قابو میں لانے کے لئے آدمی کے اندر دو چیزیں ہونی چاہیں۔

ایک تو زندہ رہنے اور زندگی سے دلچسپی رکھنے کی خواہش۔ دوسرے انسانوں سے تعلق رکھنے کی خواہش۔ شیکسپیئر نے چھبیس ہزار الفاظ لغت میں سے نقل نہیں کئے تھے‘ بلکہ چیزوں اور انسانوں کی دنیا سے چھبیس ہزار طرح متاثر ہوا تھا۔ کیونکہ ایک سیدھا سادا اور بذات خود مہمل سا لفظ ’’اور‘‘استعمال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی شخصیت میں اتنی لچک موجود ہے کہ وہ اپنی دلچسپی کو ایک چیز سے دوسری چیز تک منتقل کر سکے۔

اس کے اندر گیرائی ہے کہ بیک وقت دو چیزوں کا احاطہ کر سکے۔ بہت سے لوگوں کی شخصیت ٹھٹھر کے رہ جاتی ہے تو اسی لئے کہ وہ اپنی روح کی گہرائیوں میں سے ’’اور‘‘ کہنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ میں شاعرانہ مبالغے سے کام نہیں لے رہا۔ یہ ذرا سا لفظ ’’اور‘‘ کتنا عظیم ہے۔ اس میں تو ایک پوری کائنات سما سکتی ہے۔

اتنی جھک سے مقصود میرا بس اتنا تھا کہ ادیبوں کے پاس لفظ کم رہ جائیں تو پورے معاشرے کو گھبرا جانا چاہئے۔ یہ تو ایک بہت بڑے سماجی خلل کی علامت ہے۔ باعمل لوگ ادب جیسی بے مصرف چیز سے ہزار بیگانہ رہیں۔ لیکن ادب میں ان کی نبض بھی دھڑکتی ہے۔ ادب میں لفظوں کا توڑا ہو جائے تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ معاشرے کو زندگی سے وسیع دلچسپی نہیں رہی یا تجربات کو قبول کرنے کی ہمت نہیں پڑتی۔ جب ادب مرنے لگے تو ادیبوں ہی کو نہیں بلکہ سارے معاشرے کو دعائے قنوت پڑھنی ہے۔

خیر اب لمبی چوڑی باتیں چھوڑ کے یہ دیکھیں کہ آج  کل کے ادب میں لفظوں کے قحط کی نوعیت کیا ہے۔ فی الحال محاورے کا معاملہ لیجئے! بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ محاروں کے استعمال کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اگر سیدھے سادھے لفظوں سے کام چل جائے تو اس تکلف میں کیوں پڑیں؟ دو چار لوگ ایسے بھی ہیں جو چاہتے ہیں کہ محاورے استعمال ہوں اور اس کی صورت وہ یہ بتاتے ہیں کہ پرانا ادب پڑھا جائے۔

اگر اس طرح محاوروں کا استعمال سیکھا جا سکتا ہے تو پھر وہ لغت والا نسخہ ہی کیا برا ہے؟ خیر اپنی اپنی رائے تو اس معاملے میں سبھی دے لیتے ہیں۔ کوئی محاوروں کو قبول کرتا ہے کوئی رد۔ لیکن جو بات پوچھنے کی ہے وہ کوئی نہیں پوچھتا‘ اصل سوال تو یہ ہے کہ محاورے کب استعمال ہوتے ہیں اور کیوں؟ اور محاورں میں ہوتا کیا ہے؟ وہ ہمیں پسند کیوں آتے ہیں؟ ان سے بیان میں اضافہ کیا ہوتا ہے:

خالص نظریاتی بحث تو مجھے آتی نہیں۔ ایک آدھ محاورے کو الٹ پلٹ کر دیکھتا ہوں کہ اس کے کیا معنی نکلتے ہیں۔ سر شار نے کہیں لکھا ہے، ’’…چراغ میں بتی پڑی اور اس نیک بخت نے چادر تانی۔‘‘ اس اچھے خاصے طویل جملے کا سیدھا سادا مطلب یہ ہے کہ وہ لڑکی شام ہی سے سو جاتی ہے‘ تو جو بات کم لفظوں میں ادا ہو جائے اسے زیادہ لفظوں میں کیوں کہا جائے؟ اس سے فائدہ؟ فائدہ یہ ہے کہ جملے کا اصل مطلب وہ نہیں جو میں نے بیان کیا بلکہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔

’’شام ہونا‘‘ تو فطرت کا عمل ہے ’’چراغ میں بتی پڑنا‘‘ انسانوں کی دنیا کا عمل ہے جو ایک فطری عمل کے ساتھ وقوع پذیر ہوتا ہے اور یہ عمل خاصا ہنگامہ خیز ہے۔ جن لوگوں نے وہ زمانہ دیکھا ہے‘ جب سرسوں کے تیل کے چراغ جلتے تھے‘ انہیں یاد ہو گا کہ چراغ میں بتی پڑنے کے بعد کتنی چل پول مچتی تھی‘ اندھیرا ہو چلا‘ ادھر بتی کے لئے روئی ڈھونڈی جا رہی ہے۔ روئی مل گئی تو جلدی میں بتی ٹھیک طرح نہیں بٹی جا رہی۔ کبھی بہت موٹی ہو گئی‘ کبھی بہت پتلی۔ دوسری طرف بچے بڑی بہن کے ہاتھ سے روئی چھین رہے ہیں۔

یہی وقت کھانا پکنے کا ہے توے پر روٹی نظر نہیں آ رہی۔ روٹی پکانے والی الگ چلا رہی ہے‘ وغیرہ وغیرہ۔ ’’چراغ میں بتی پڑنے‘‘ کے معنی محض یہ نہیں کہ شام ہو گئی۔ اس فقرے کے ساتھ اجتماعی زندگی کا ایک پورا منظر سامنے آتا ہے۔ اس محاورے میں فطرت کی زندگی اور انسانی زندگی گھل مل کر ایک ہو گئی ہے۔ بلکہ شام کے اندھیرے اور سناٹے پر انسانوں کی زندگی کی ہماہمی غالب آ گئی ہے۔

سرشار نے یہ نہیں کہا کہ سورج غروب ہوتے ہی سو جانا صحت کے لئے مضر ہے۔ انہیں تو اس پر تعجب ہوا ہے کہ ایسے وقت جب گھر کے چھوٹے بڑے سب ایک جگہ جمع ہوں اور اتنی چہل پہل ہو رہی ہو‘ ایک آدمی سب سے منہ موڑ کر الگ جا لیٹے۔ انہیں اعتراض یہ ہے کہ سونے والی نے اجتماعی زندگی سے بے تعلقی کیسے برتی؟ پھر’’چادر تاننا‘‘ بھی سو جانے سے مختلف چیز ہے۔

اس میں ایک اکتاہٹ کا احساس ہے۔ یعنی آدمی زندگی کی سرگرمیوں سے تھک جانے کے بعد ایک شعوری فعل کے ذریعے اپنے آپ کو دوسروں سے الگ کر کے چادر کے نیچے پناہ لیتا ہے۔ سرشار نے محض ایک واقعہ نہیں بیان کیا۔ بلکہ عام انسانوں کے طرز عمل اور ایک فرد کے طرز عمل کا تضاد دکھایا ہے۔ اس انفرادی فعل کے پیچھے سے اجتماعی زندگی جھانک رہی ہے۔ محاوروں کے ذریعے پس منظر‘ اور پیش منظر دونوں ایک دوسرے میں پیوست ہو گئے ہیں۔

اب ایک ضرب المثل لیجئے۔ ’’بلی کے بھاگوں چھنیکا ٹوٹا۔‘‘  اس میں ایک عمومی تصور ایک خاص واقعے کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ ایک استعارہ ہے جو بقول ارستو شاعری کی جان ہے۔ تو ایسے بھی محاورے اور ضرب الامثال ہوتی ہیں جو محض بیان سے آگے بڑھ کے شاعری بن جاتی ہیں۔ پھر مندرجہ بالا فقرے میں گھریلو زندگی کے کئی پہلو نظر آتے ہیں۔ خاص طور سے بعض جانوروں کو انسانوں کی زندگی میں جو دخل ہے اس کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے۔

غرض محاوروں میں اجتماعی زندگی کی تصویریں‘ سماج کے تصورات اور معتقدات‘ انسان‘ فطرت اور کائنات کے متعلق سماج کا رویہ‘ یہ سب باتیں جھلکتی ہیں۔ محاورے صرف خوب صورت فقرے نہیں‘ یہ تو اجتماعی تجربے کے ٹکڑے ہیں۔

اور ایسے ٹکڑے جن میں سماج کی پوری شخصیت بستی ہے۔ محاورہ استعمال کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے انفرادی تجربے کو اجتماعی تجربے کے پس منظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ محاورہ فرد کو معاشرے میں گھلا دیتا ہے۔ تخصیض میں تعمیم اور تعمیم میں تخصیص پیدا کرتا ہے۔ محاورہ ہمیں بتاتا ہے کہ فرد کے ایک تجربے کو اس کے د وسرے تجربوں سے، فرد کے تجربے کو سماج کے تجربے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔

محاورہ جزو کو خالی جزو نہیں رہنے دیتا‘ اسے  کُل میں ڈبوتا ہے… ہمیں زندگی کی پیچیدگی اور نگارنگی یاد لاتا ہے۔ اس کے ذریعے مختلف تجربات کا تضاد اور تقابل نظر کے سامنے آتا ہے۔ چونکہ محاورہ فرد کو کھینچ کے پھر اجتماعی زندگی میں واپس لے آتا ہے‘ اس لئے اسی وقت استعمال ہوتا ہے، جب فرد اپنے معاشرے سے تعلق برقرار رکھنا چاہئے۔ یعنی محاورہ ایک مربوط اور منضبط معاشرے کی پیداوار ہے۔ جب فرد اپنے معاشرے سے بچھڑ جائے اور وہ دوبارہ معاشرے میں گھل مل جانے کی خواہش بھی نہ رکھتا ہو تو پھر نہ تو محاورے استعمال ہو سکتے ہیں نہ ان کی ضرورت باقی رہتی ہے۔

اردو شاعری میں محاوروں سے اجتناب سب سے پہلے ہمیں غالب کے یہاں نظر آتا ہے ۔ کیونکہ ان کی خواہش تو یہ تھی کہ ’’عرش سے پرے ہوتا کاش کہ مکاں اپنا۔‘‘ آسماں سے پرے کوئی مطلق اور مجرد تجربہ ہوتا ہو تو ہوتا ہو۔ انسانوں کا اجتماعی تجربہ نہیں ہوتا۔ اس دنیا میں تو فرد اپنے تجربے ہی کو ایک مطلق چیز سمجھ سکتا ہے۔ اسے اوروں کے تجربے سے اپنے تجربے کا مقابلہ کرنے کی ضرورت نہیں پیش آتی۔ تو پھر غالب محاورے کیوں استعمال کرتے؟ اگر غالب کے خطوط موجود نہ ہوتے تو ہمیں ان کی شخصیت بڑی چھوٹی اور گھٹی ہوئی نظر آتی۔

غالب کی غزل میں ان کی شخصیت کی عظمت چاہے آ گئی ہو‘ وسعت نہیں آنے پائی۔ غالب کو دو چیزوں نے مارا۔ ایک تو اپنے آپ کو دوسرے انسانوں سے الگ رکھنے کی خواہش‘ دوسرے فلسفہ بگھارنے کا شوق ’’عالم تمام حلقہ دام خیال ہے‘‘… یہ بات اپنی جگہ درست سہی‘ مگر سچا خیال بھی اسی وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب ٹھوس چیزوں پر نظر ہو۔ ارسطو نے کہا ہے کہ نوجوان لوگ فلسفی نہیں بن سکتے۔ کیونکہ ان کی اصول سازی اور خیال آرائی کے پیچھے خصوصی تجربات کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے غالب اپنی فکری زندگی میں ہمیشہ لڑکے ہی رہے۔

جہاں تک مفکر ہونے کا تعلق ہے، غالب کیرکے گورکے گھٹنے تک بھی نہیں پہنچتے۔ لیکن کیرکے گورکا زبردست امتیاز یہی ہے کہ اس کا ہر خیال انفرادی یا اجتماعی زندگی کے کسی نہ کسی ٹھوس تجربے سے نکلتا ہے۔

بہرحال غالب تو ایک ایسے رجحان کی نمائندگی کر رہے تھے جو ہمارے معاشرے میں پیدا ہو چکا تھا۔ یعنی فرد کے دل میں سماج سے الگ ہونے کی خواہش۔ جب فرد کی زندگی پرانے اجتماعی مناسبات سے واقعی الگ ہو گئی تو نیاز فتح پوری وغیرہ کا ادب سامنے آیا۔ ان لوگوں کا عقیدہ تھا کہ ادیب کے تجربات عام انسانوں کے تجربات سے الگ اور جمالیاتی نوعیت کے ہوتے ہیں‘ اور ادیب تصورات کی دنیا میں رہتا ہے۔

فارسی اور عربی کے الفاظ کی تعداد زیادہ ہو جانے اور محاوروں کے ادب سے غائب ہو جانے کے یہی معنی ہیں۔ ان ادیبوں کو تو یہی منظور تھا کہ اپنے تجربات کا اختصاص اور ندرت دکھائیں‘ اور اجتماعی تجربات کا سایہ تک اپنے اوپر نہ پڑنے پائے۔ چنانچہ محاورے اسی لئے ترک کئے گئے تاکہ اجتماعی زندگی بن بلائے مہمان کی طرح نہ گھس پڑے۔

رہے 36ء کے بعد والے ادیب تو عقیدے کے اعتبار سے تو وہ اجتماعی زندگی کے قائل تھے‘ مگر خاندان‘ مذہب وغیرہ سماجی اداروں پر یقین نہ رکھتے تھے۔ یعنی وہ موجودہ اجتماعی زندگی کو رد کر کے اپنا تعلق ایک آئندہ اور خیالی اجتماعی زندگی سے استوار کرنا چاہتے تھے۔ پھر دوسری طرف کسی طرح کی اجتماعی زندگی سے انہیں جذباتی علاقہ نہ تھا… اس کے مشاہدے کی خواہش ضرور تھی۔ (یہاں میں ایک عام رجحان کا ذکر کر رہا ہوں‘ انفرادی حیثیت سے احمد علی‘ عصمت چغتائی ‘ انتظار حسین‘ وغیرہ میں اجتماعی زندگی سے محبت نظر آتی ہے۔) جولوگ اجتماعی زندگی سے اس بری طرح کٹ گئے ہوں، وہ اگر چاہیں بھی تو محاورے استعمال نہیں کر سکتے۔

کیونکہ اجتماعی زندگی ان کی شخصیت میں اس طرح جذب ہی نہیں ہوئی‘ جیسے سرشار‘ نذیر احمد اور راشد الخیری میں رس بس گئی تھی۔ یہ لوگ’’چراغ میں بتی پڑی‘‘ کہہ ہی نہیں سکتے۔ کیونکہ شام کے تصور کے ساتھ ان کے ذہن میں اجتماعی زندگی کا کوئی منظر نہیں ابھرتا۔ یہ لوگ ’’چادر تاننا‘‘ بھی نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ انہیں انسانوں کے چھوٹے سے چھوٹے فعل سے وہ دلچسپی نہیں جو سرشار کو تھی۔ یہ لوگ تو ایسی جگہ محض ’’سونا‘‘ کہیں گے یعنی ایسا لفظ استعمال کریں گے جو ا یک جسمانی فعل تو ضرور دکھائے مگر انسانی مناسبات سے خالی ہو۔

تو محاورے کا مسئلہ محض ادبی مسئلہ نہیں‘ بلکہ ہماری پوری انفرادی اور اجتماعی زندگی کا مسئلہ ہے۔ ہمارے ذہن میں محاورے اس وقت آئیں گے جب ہم اجتماعی زندگی سے جذباتی تعلق رکھتے ہوں‘ اور اپنے معاشرے کو قبول کریں۔

محاورے تو اجتماعی زندگی کی شاعری ہیں۔ اجتماعی زندگی کے (Myths) ہیں۔ جب تک ہمیں اپنی اجتماعی زندگی میں شاعری نظر نہ آئے گی ہم محاورے بھی استعمال نہیں کر سکیں گے۔ اتنی بات میں مانتا ہوں کہ بہت سے پرانے محاورے ہمارے کام نہیں آئیں گے۔ کیونکہ سماجی پس منظر بدل چکا ہے‘ اور اب ان کے ذریعے ہمارے ذہن میں کوئی تصویر نہیں ابھرتی۔ زندگی کی شکلیں بدل جائیں تو محاورے بھی نئے بننے چاہیں۔ لیکن غضب تو یہی ہوا ہے کہ نئے محاورں کی پیدائش بالکل رک گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی سے تخلیقی دلچسپی اور گہرا جذباتی تعلق باقی نہیں رہا‘ دوسرے ہماری زندگی اجزا میں بٹ گئی ہے۔ کُل کا احساس غائب ہو گیا ہے، ہم اپنے تجربات کو ایک دوسرے میں گھلا ملا کر انہیں ایک نہیں بنا سکتے۔

اسی لئے ہمارا ذہن نئے محاورے ایجاد نہیں کرتا۔ ذہن میں یہ صلاحیت تو اسی وقت آتی ہے‘ جب فرد اور معاشرے میں سچا ربط ہو۔ جان بوجھ کر محاوروں کی لین ڈوری لگا دینے کا مطلب اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ یہ ایک نقلی ربط پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ محاورے اسی وقت قابو میں آئیں گے کہ جب ادیبوں کو ہی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے سب افراد کو اجتماعی زندگی میں ڈوب جانے کی لگن ہو‘ اور نئے محاورے اس وقت پیدا ہوں گے، جب فرد اور جماعت کا ربط اتنا گہرا ہو کہ ہمیں اس ربط کی موجودگی کا خیال بھی نہ آئے۔

The post محاوروں کا مسئلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3mMutAB

وسیم خان مستقبل کے حوالے سے تذبذب کا شکار

لاہور: وسیم خان مستقبل کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہوگئے۔

چیف ایگزیکٹیو وسیم خان کا پی سی بی کے ساتھ 3سالہ معاہدہ فروری 2022 میں ختم ہوگا، فریقین میں طے پایا تھا کہ ایک سال باقی رہنے پر باہمی اتفاق رائے سے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کریں گے،اس لحاظ سے آئندہ سال جنوری معاہدے میں توسیع کے حوالے سے کسی نتیجے تک پہنچنا ضروری ہے، ذرائع کے مطابق پی سی بی ان کی خدمات سے مزید فائدہ اٹھانے کا خواہاں اور فریقین میں ابتدائی بات چیت ہوئی ہے لیکن وسیم خان تذبذب کا شکار ہیں۔

’’کرک انفو‘‘ کو انٹرویو میں وسیم خان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کیلیے کام کرنا ایک آنکھیں کھول دینے والا تجربہ رہا،حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ اکثریت نے ہمیں سپورٹ کیا،وہ سمجھتے ہیں کہ ہم کیا مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور کیا تبدیل ہونا ضروری ہے،دوسری جانب ایک مختصر حلقہ ایسا بھی ہے جس کی زبانی مخالفت سے زندگی میں ایسی مشکلات ہوتی ہیں جو نہیں ہونا چاہیئں،مجھے ایسا فیصلہ کرنا ہے جو پاکستان کرکٹ کے ساتھ میری فیملی کیلیے درست ہو، احساس ہے کہ ابھی جتنا کام کرلیا اس کو تکمیل تک پہنچانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے معاہدے میں توسیع کی پیشکش کردی، یہ ایک بڑا فیصلہ ہے، ابھی میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں، پوری سوچ بچار اور اپنی فیملی سے بات کرنا ہے، بورڈ نے 5 سالہ پلان بنا لیا، احسان مانی چاہتے ہیں کہ میں اس کو مکمل کروں،فیوچر ٹور پروگرام اور آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی کے معاملات چل رہے ہیں، میں توسیع پر غور کرنا چاہتا ہوں مگر یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ کتنے سال کیلیے ہوگی۔

یاد رہے کہ پاکستان میں سیٹ نہ ہوپانے والی وسیم خان کی فیملی پہلے ہی انگلینڈ واپس جا چکی ہے۔

 

The post وسیم خان مستقبل کے حوالے سے تذبذب کا شکار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3kMUTS2

کرس گیل 1000 ٹی 20 چھکے جڑنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے

دبئی: ویسٹ انڈین بیٹسمین کرس گیل 1000 ٹی 20 چھکے جڑنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بن گئے۔

کرس گیل نے راجستھان رائلز سے آئی پی ایل میچ میں کنگز الیون پنجاب کی نمائندگی کے دوران 1000 ٹی 20 چھکے جڑنے کا سنگ میل عبور کیا، گیل نے 63 بالز پر 99 رنز کے دوران 8 چھکے لگائے،وہ آخری اوور میں جوفرا آرچر کی گیند پر کلین بولڈ ہونے کی وجہ سے آئی پی ایل میں اپنی ساتویں سنچری مکمل نہیں کرپائے۔

ٹی 20 میں سب سے زیادہ چھکوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر موجود کیرون پولارڈ نے اب تک 690 چھکے جڑے ہیں۔

 

The post کرس گیل 1000 ٹی 20 چھکے جڑنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/324nNG2

پاکستان اور زمبابوے کے درمیان دوسرا ون ڈے میچ آج کھیلا جائے گا

لاہور: پہلا ون ڈے بمشکل جیتنے کے بعد دوسرے میچ میں گرین شرٹس کو دفاعی خول سے نکلنے کا چیلنج درپیش ہوگا۔

راولپنڈی میں منعقدہ پہلے ون ڈے میں پاکستان نے گرتے پڑتے 26رنز سے فتح حاصل کرتے ہوئے آئی سی سی سپر لیگ میں 10پوائنٹس کے ساتھ  کھاتہ تو کھول لیا، البتہ کارکردگی قطعی طور پر سابق عالمی چیمپئن ٹیم کے شایان شان نہیں تھی،بیٹنگ ڈری سہمی نظر آئی،زمبابوین اسپنرز نے مڈل آرڈر کو مشکل میں  رکھا،پاور ہٹنگ ہوئی نہ کوئی تسلسل کے ساتھ رنز بناکر حریف بولرز کو دباؤ میں نہ لا سکا۔

دفاعی بیٹنگ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان نے اننگز کی 300 میں سے 154ڈاٹ بال کھیلیں، بولنگ میں غلطیوں کے سبب برینڈن ٹیلر اور ویزلے مدھیویرے تقریباً میچ چھین کر لے گئے تھے،حارث رؤف،فہیم اشرف اور عماد وسیم نے کھل کر حریف کو اسٹروکس کھیلنے کا موقع فراہم کیا،اختتامی اوورز میں شاہین شاہ آفریدی اور وہاب ریاض نے عمدہ بولنگ سے پریشان حال میزبان ٹیم کی سانسیں بحال کیں،دوسرا ون ڈے اتوار کوکھیلا جائے گا،پاکستان ٹیم شایان شان کارکردگی دکھانے کی خواہاں ہوگی،دفاعی خول سے نکل کر عمدہ کھیل پیش کرنا ہوگا۔

دوسرے ون ڈے کے لیے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان گذشتہ روز کیا گیا، صرف ایک تبدیلی ہوئی،گروئن انجری کا شکار ہونے والے پہلے مقابلے کے ٹاپ اسکورر حارث سہیل کی جگہ حیدر علی کو شامل کرلیا گیا، نوجوان بیٹسمین کے ڈیبیو کا امکان روشن ہوگیا ہے، دوسری جانب افتخار احمد کو ایک موقع اور دیے جانے کا امکان ہے، شاداب خان نے ٹریننگ کا آغاز کردیا لیکن انھیں بدستور آرام دیا جائے گا، گذشتہ میچ میں اسپنر کی کمی محسوس ہوئی تھی، اگر فہیم اشرف کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ ہوا تو عثمان قادر کو موقع دیے جانے کا امکان ہے۔

پلیئنگ الیون کا انتخاب بابر اعظم (کپتان)، امام الحق، عابد علی، فخر زمان، حیدر علی،محمد رضوان، افتخار احمد، خوشدل شاہ، فہیم اشرف، عماد وسیم، عثمان قادر، وہاب ریاض، شاہین آفریدی، حارث رؤف اور موسیٰ خان میں سے ہوگا۔کپتان بابر اعظم پْرامید ہیں کہ دوسرے ون ڈے میں کھلاڑی اپنی صلاحیتوں پر لگا زنگ اتارنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

پہلے میچ کے بعد ویڈیو میڈیاکانفرنس میں انھوں نے کہا کہ ہم نے بیٹنگ میں اچھا آغاز کیا تھا لیکن بڑا اسکور نہیں کرسکے، ٹیم ایک سال بعد ون ڈے کھیل رہی تھی، پچ میں ڈبل پیس موجود رہا اور سلو بریک بھی ہورہی تھی، اس صورتحال میں سیٹ بیٹسمین اننگز کو مطلوبہ رفتار سے آگے بڑھانے کا موقع گنوا دے تو آنے والے کیلیے آسان نہیں ہوتا،ہم سے غلطیاں ہوئی ہیں،آئندہ میچز میں بہتری لانے کی کوشش کریں گے۔

پیس بیٹری کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حارث رؤف کے کیریئر کا پہلا ون ڈے تھا،ابتدا میں مشکل کے بعد دوسرے اسپیل میں انھوں نے بہتر بولنگ کی،شاہین شاہ آفریدی نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔ تجربہ کار وہاب ریاض نے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے فتح کا راستہ ہموار کیا۔

بابر اعظم نے برینڈن ٹیلر کے آؤٹ کو میچ کا ٹرننگ پوائنٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے غیر معمولی اننگز کھیلی،ایک بڑی شراکت قائم ہونے کے باوجود مجھے اپنے بولرز پر اعتماد تھا کہ وہ میچ کو ہاتھ سے نہیں جانے دینگے،وہاب ریاض تجربہ کار ہیں، شاہین شاہ آفریدی بھی تیزی سے سیکھتے ہوئے بہترین بولر بنتے جارہے ہیں،ان کو معلوم ہوتا ہے کہ مشکل صورتحال میں 110فیصد کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کیلیے کیا کرنا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ون ڈے کرکٹ میں پاکستان 2اسپنرز کے ساتھ کھیلتا رہا ہے،پہلے میچ میں فاسٹ بولنگ آل راؤنڈر کو کھلانے کا تجربہ کیا،اتوار کو دوسرے اسپنر کی شمولیت کا فیصلہ ٹیم میٹنگ میں کریں گے، غلطیوں کے باوجود جیت تو جیت ہے،اس سے اعتماد میں اضافہ ہوا،آئی سی سی سپرلیگ میں ہر پوائنٹ اہمیت کا حامل ہے۔

دوسری جانب زمبابوین ٹیم ایک بار پھر برینڈن ٹیلر اور ان فارم نوجوان بیٹسمین ویزلے مدھیویرے پر انحصار کرے گی، سین ولیمز اور سکندررضا سے بھی بہتر کارکردگی کی امیدیں وابستہ ہیں، ٹینڈائی چسورو کی جگہ ایلٹن چگمبرا کو شامل کیا جا سکتا ہے۔

The post پاکستان اور زمبابوے کے درمیان دوسرا ون ڈے میچ آج کھیلا جائے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3eei6Ko

ایسی نوبت ہی کیوں آئی؟

اگر ہم ہندوستان کی تاریخ کا جائزہ لیں تو پاکستان مخالف بیانیہ کو ہمیشہ پذیرائی حاصل رہی ہے۔ مثال کے طور 1967 کے انتخابات میں کانگریس نے پاکستان مخالف بیانیے کی بدولت 283 نشستیں جیت کر حکومت بنائی تو اسی بیانیہ کی بدولت 1971 میں 352 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ کارگل اِنکاؤنٹر کے بعد ہونے والے انتخابات سے پہلے بی جے پی کی حکومت نے بھی پاکستان مخالف بیانیہ خوب بیچا۔ موجودہ وزیراعظم مودی بھی پاکستان مخالفت کا منجن بیچنے میں کامیاب رہے۔ ایک موقع پر انہوں نے ہریانہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کو وہ مزہ چکھاؤں گا جو اس نے پچھلے ساٹھ سال میں نہیں چکھا ہوگا۔ الغرض جس نے بھی پاکستان کے خلاف بات کی اس نے پذیرائی حاصل کی۔

اس سے ملتی جلتی صورت حال آج کل پاکستان میں ہے۔ آج کل پاکستان میں جو حکومت کے خلاف بولتا ہے وہ نہ صرف عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے بلکہ خبروں کی زینت بھی بن جاتا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ندیم افضل چن ہیں، جنہوں نے سیاسی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کابینہ کے اجلاس میں چینی مہنگی ہونے پر آواز بلند کی۔ انہوں نے انکوائری کمیشن کو چینی مہنگی ہونے کا ذمے دار ٹھہرایا اور کہا کہ شہزاد اکبر چینی مافیا کے خلاف انکوائری کے نام پر دھوکا دیتے رہے۔ اپنی اس ’’جرأت‘‘ کی بدولت وہ گزشتہ ایک ہفتے سے خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ سیاسی ٹاک شوز، نجی یوٹیوب چینلز، سوشل میڈیا، ہر جگہ پر ان کی تعریف کی جارہی ہے کہ انہوں نے عوام کا درد محسوس کرتے ہوئے اپنی نوکری کی پرواہ کیے بغیر کلمہ حق بلند کیا۔

یہاں پر عرض کرتا چلوں کہ چن صاحب اس سے پہلے بھی اپنی ہی حکومت کے فیصلوں سے اختلاف کرچکے ہیں۔ ماضی قریب میں آر پی او گوجرانوالہ طارق عباس قریشی کو تبدیل کیے جانے پر انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں عوام دوست، ایماندار آفیسر قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ کسی طاقتور کے کہنے پر ان کو او ایس ڈی بنانا انتہائی افسوس کا مقام ہے۔ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی بھی حکومت مخالف بیانات کی وجہ سے خبروں کی زینت بن چکے ہیں۔

غور طلب امر یہ ہے کہ ایسی صورت حال کیوں پیدا ہوئی؟ اگر ہم پی ٹی آئی کی دو سالہ کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں تو علم ہوتا ہے کہ گزشتہ دو سال میں مہنگائی کی شرح میں ریکارڈ دس اعشاریہ سات فیصد اضافہ ہوا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی نااہلی کی بدولت گزشتہ پانچ سال کے بعد پہلی بار انڈے اور دودھ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق ملک میں بیروزگار افراد کی تعداد 40 لاکھ سے بڑھ کر 60 لاکھ ہونے کا خدشہ ہے۔ جبکہ غیر سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ایک کروڑ سے زائد افراد بیروزگار ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت انتظامی فیصلوں میں بہتری لائے تاکہ ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کو روکا جائے۔ درآمدات اور برآمدات سے متعلق درست اور بروقت فیصلے کیے جائیں۔ یاد رہے کہ ماضی میں حکومت نے گندم درآمد کی تاہم اس میں اتنی تاخیر کی کہ اس نے قیمتوں کی کمی میں مدد نہیں دی۔ اور آخری بات کہ اسٹیٹ بینک کو بھی اپنی مانیٹری پالیسی زمینی حقائق کے مطابق ڈھالنی چاہیے کہ جس سے ایک طرف کاروباری سرگرمیاں بڑھ سکیں تو دوسری طرف مہنگائی کو بھی قابو میں رکھا جاسکے۔

اگر ایسا نہ کیا گیا تو ایک چن سے ’چن گروپ‘ تشکیل پانے میں دیر نہیں لگے گی۔ کیونکہ سیاستدان چاہے وہ معاون خصوصی ہی کیوں نہ ہو، وہ بہرحال عوام کو جواب دہ ہوتا ہے اور اس نے جلد یا بدیر عوام کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے وہ عوام کے حق میں بولے بغیر نہیں رہ سکتا ہے۔ اور سہاروں کی محتاج موجودہ حکومت ایسے کسی گروپ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

The post ایسی نوبت ہی کیوں آئی؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/37W1OEZ

قوت مدافعت جانچنے کیلیے خود کو کورونا سے بیمار کرنے والے وائرولوجسٹ کے اہم انکشافات

 ماسکو: سائبیریا سے تعلق رکھنے والے ماہرِ وائرسز 68 سالہ الیگزینڈر سیفرنوف نے کورونا وائرس کو سمجھنے کے لیے خود کو جان بوجھ کر کورونا وائرس لگایا اور اس اہم مطالعے کے نتائج میں حیرت انگیز انکشافات کیے ہیں۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نووسیبیرسک سے تعلق رکھنے والے معروف وائرولوجسٹ الیگزینڈر سیفرنوف رواں برس مارچ میں کورونا کا شکار ہوگئے تھے، انہیں  بخار، سینے میں درد اور سونگھنے کی حس ختم ہونے کی شکایت تھی تاہم ان میں تشخیص نمونیا کی ہوئی تھی۔

بعد ازاں 68 سالہ وائرولوجسٹ نے کورونا اینٹی باڈیز ٹیسٹ کرایا جو کہ مثبت آیا جس پر انسٹیٹوٹ آف کلینیکل اینڈ ایکسپیرمنٹل میڈیسین سے رجوع کیا جہاں انہوں نے اپنے جسم میں پیدا ہونے والی اینٹی باڈیز کا مطالعہ کیا جس میں انکشاف ہوا کہ بیماری سے تحفظ فراہم کرنے والی اینٹی باڈیز 3 ماہ بعد ہی ختم ہوگئیں۔

اینٹی باڈیز کے ختم ہو جانے پر وائرسز کے ماہر الیگزینڈر سیفرنوف  نے خود کو جان بوجھ کر دوبارہ کورونا وائرس سے متاثر کیا لیکن جسم میں اینٹی باڈیز ختم ہو جانے کے باعث ان میں نا صرف شدت سے علامتیں ظاہر ہوئیں بلکہ اسپتال میں بھی داخل ہونا پڑا۔

الیگزینڈر سیفرنوف کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کئی برسوں تک ہمارے درمیان ہی رہے گا جب کہ ان کا تجربہ اجتماعی مدافعت کی حکت عملی کے خلاف ایک انتباہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مہلک وائرس کیخلاف ویکسین کے کئی ڈوز استعمال کرنا ہوں گے۔

واضح رہے کہ اب تک کووڈ 19 سے 2 بار متاثر ہونے کے چند ہی کیسز کی تصدیق ہوئی ہے اور ان میں سے بھی اکثریت ان لوگوں کی تھی جو دو قسم کے وائرسز سے متاثر ہوئے تھے اور غالب امکان یہی ہے کہ الیگزینڈر سیفرنوف بھی دو قسم کے وائرسز کا شکار ہوئے ہوں تاہم ان کی تحقیق نے طبی ماہرین میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

The post قوت مدافعت جانچنے کیلیے خود کو کورونا سے بیمار کرنے والے وائرولوجسٹ کے اہم انکشافات appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3efYfKM

پاؤں کی بدبو اور پیروں کے بیکٹریل انفیکشن کو ختم کرنے والی جرابیں ایجاد

بنکاک: سائنس دان ایسی جرابیں تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے جنہیں پہننے کے بعد پاؤں کی بدبو سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تھائی لینڈ میں واقع مہیڈول یونیورسٹی کے سریراج اسپتال کے محققین کا کہنا ہے کہ ایک تحقیق سے ثابت ہوگیا ہے کہ زنک آکسائڈ کے نینو پارٹیکلز (زیڈنو – این پیز) سے پاؤں میں پسینے کی وجہ سے پیدا ہونے والے بیکٹریا اور بدبو سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے جس کی بنیاد پر محققین نے رائل تھائی ایئرفورس کی مدد سے  ZnO-NP-coated جرابیں تیار کرلی ہیں۔

رائل تھائی ایئرفورس سے تعلق رکھنے والے تحقیقی مطالعے کے مرکزی مصنف پنیاوے اونگسری نے بتایا کہ ZnO-NP-coated جرابیں پیروں کی بدبو ختم کرنے اور پیٹڈ کیراٹولیسس (ایک طرح کا بیکٹیریل انفیکش) کو روکنے میں کامیاب ثابت ہوئی ہیں۔

محققین کا دعویٰ ہے کہ ZnO-NPs کے اینٹی بیکٹیریل، محفوظ اور انسانی جلد کے ساتھ مطابقت ہونے کی وجہ سے ان جرابوں کو پذیرائی ملے گی اور یہ جرابیں پیروں کی ناخوشگوار بیماریوں کو روکنے کے لئے استعمال ہونے کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں بھی استعمال ہو سکیں گی۔

واضح رہے کہ یہ ٹرائل 14 تھائی نیول ریٹنگ اسکول میں 148 کیڈٹوں پر کیے گئے جو کہ ڈبل بلائنڈ ، بے ترتیب اور کنٹرول ٹرائل تھے۔

The post پاؤں کی بدبو اور پیروں کے بیکٹریل انفیکشن کو ختم کرنے والی جرابیں ایجاد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2HNDY38

کورونا کی دوسری لہر میں شدت؛ 24 گھنٹوں میں 17 افراد جاں بحق

اسلام آباد: ملک بھر میں کورونا وائرس کے فعال کیسز  کی تعداد بڑھ کر 12 ہزار 592 ہوگئی جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 17 افراد کورونا کے باعث جان سے ہاتھ دھوبیٹھے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرکے تازہ اعداد وشمارکے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے977 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد ملک بھرمیں مجموعی کیسز کی تعداد 3  لاکھ 33 ہزار 970 ہوگئی۔

این سی او سی کے مطابق فعال کیسز کی تعداد برھ کر 12 ہزار 592 ہوگئی جب کہ اب تک کورونا وائرس میں مبتلا 3 لاکھ 14 ہزار 555 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 17 اموات رپورٹ ہوئیں جس کے بعد مجموعی اموات کی تعداد 6 ہزار 823 ہوگئی۔

سندھ میں مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 45 ہزار 851 ، پنجاب میں ایک لاکھ 4 ہزار 271، خیبرپختونخوا 39 ہزار 564 ، اسلام آباد میں 19 ہزار 970، بلوچستان میں 15 ہزار 920 ، آزاد کشمیر 4 ہزار 133 اورگلگت بلتستان میں 4 ہزار 261 تعداد ہوگئی۔

کورونا وائرس اوراحتیاطی تدابیر

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیراختیارکرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازے کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکربیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پرکوئی اثرنہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پا نی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اورہرایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

The post کورونا کی دوسری لہر میں شدت؛ 24 گھنٹوں میں 17 افراد جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3oLC2Ju

بُک شیلف

منبع طاقت
مولف: صوفی شوکت رضا سرکار
قیمت: 100 روپے۔۔۔صفحات:96
ناشر: ادبستان، پاک ٹاور ، کبیر سٹریٹ، اردو بازار، لاہور (03004140207)

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت سی طاقتوں سے نوازا ہے۔ کچھ طاقتوں کو انسان روزمرہ کے کاموں کے لئے استعمال کرتا ہے اور کچھ کے بارے میں اسے علم ہی نہیں ہوتا جیسے ذہنی یا روحانی طاقت ۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ روز مرہ زندگی میں اپنے کام کاج کے لئے انسان اپنے دماغ کو استعمال کرتا ہے بس یہی دماغ کا استعمال ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسانی دماغ کو حیرتوں کا مجموعہ بنایا ہے، روزمرہ میں اس کا استعمال اس کا ایک چھوٹا سے حصہ ہے، انسانی دماغ کی طاقت بہت زیادہ ہے مگر وہ انسان سے پوشیدہ ہے جو افراد اپنی ان طاقتوں کو جگا لیتے ہیں وہ دوسروں سے بہت آگے نکل جاتے ہیں، یہی عالم روحانی طاقت کا ہے۔

زیرتبصرہ کتاب میں صوفی شوکت رضا سرکار نے انھی طاقتوں کو استعمال کرنے کے حوالے سے پردہ اٹھایا ہے، وہ انسان کو احساس دلانا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کن طاقتوں سے نوازا ہے اور انھیں استعمال کیسے کرنا ہے، انھوں نے موضوعات کو تہتر عنوانات میں تقسیم کیا ہے جیسے حقیقت رساں انسان، انسان ہی طاقتوں پر خودمختار، طاقتوں کی پہچان بذریعہ علم، فضیلت علم، باطن پر یقین کامل، طاقت یقین، طاقت عمل ، طاقت جہاد، طاقت نور، طاقت اسماء الہیٰ، خود سے خود کو پانا؛ اک سوال، خود اعتمادی، احتساب طاقت ۔ عنوانات سے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ قاری کو کس عالم سے روشناس کرانا چاہتے ہیں ۔ کم قیمت کی معیاری کتاب ہے ناصرف روحانیت سے دلچسپی رکھنے والوں کو بلکہ مایوسی کا شکار افراد کو بھی اس کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ تاریکی سے نکل کر روشنی میں آ سکیں ۔

آگہی
مولف: نسیم طاہر (ایڈووکیٹ)
قیمت:400 روپے۔۔۔۔صفحات: 176
ناشر: ادبستان، پاک ٹاور،کبیر سٹریٹ، اردو بازار، لاہور (03004140207)

اللہ تعالیٰ عقل سے ماورا ہے، صرف روحانیت کی دنیا میں جھانکنے کی اہلیت رکھنے والے ہی عین الیقین رکھتے ہیں پھر وہ لوگ بے چارے کیا کریں جن میں دوسرے عالموں میں جھانک لینے کی استطاعت ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے ان عقل کے جویائوں کے لئے ایسی نشانیاں چھوڑی ہیں کہ انھیں اس کے ہونے کا احساس دلاتی ہیں۔

اسی لئے تو قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ عقل والوں کے لئے ان میں نشانیاں ہیں، زیر تبصرہ کتاب اللہ تعالیٰ سے تعلق پر روشنی ڈالتی ہے۔ ڈاکٹر محمود اکرم کہتے ہیں ’’آگہی ‘‘ کے متعلق میرا تاثر یہ ہے کہ اس میں ’’ذات انسانی‘‘ کا مطالعہ ندرت فکر و نظر اور ایک نئی نہج سے کیا گیا ہے۔ صاحب کتاب نے گہرے تحقیقی اور مشاہداتی تجربات سے گزر کر انسان کی بدنی، روحانی، ذہنی، نفسی اور نفسیاتی کیفیات کو بیان کیا ہے۔

انداز بیان بھی منفرد اور قابل ستائش ہے۔ مطالعے کے دوران قاری دلچسپی اور مسرت کی لہروں کے مدوجذر سے گزرتا اور ساتھ ہی اس کا دل بے اختیار اللہ کریم کی بے شمار عنایات پہ شکر گزاری کے جذبات سے لبریز ہوتا چلا جاتا ہے ۔ دوران مطالعہ آدمی فکر و تخیل کے ان آفاقی مقامات کی سیر کرتا چلا جاتا ہے جہاں کا اس نے کبھی سوچا نہ تھا ۔ میری نظر میں یہی ’’ آگہی‘‘ کا حاصل مقصود ہے ۔‘‘ اس کتاب سے قبل بھی مولف ’’ قرآنی آیات‘‘ اور ’’ رخت ہستی ‘‘ کے نام سے دو کتب تصنیف کر چکے ہیں۔ ان کی موجودہ کاوش بھی انتہائی شاندار ہے، روحانیت سے دلچسپی رکھنے والوں کو ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔ مجلد کتاب کو خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔

اعدلوا
مصنف : ڈاکٹر اے آر خالد
صفحات : 238۔۔۔۔قیمت : 1800 روپے
ناشر : قلم فاونڈیشن ، والٹن روڈ ، لاہور، کینٹ
’’ اعدلوا ‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب عدل کا قیام ہے۔ عدل ایک ہمہ جہت لفظ ہے جو اپنے اندر غیر معمولی وسعت اور گہرائی رکھتا ہے۔ اسلام جو دین ِ فطرت ہے زندگی کے تمام شعبوں میں عدل کے قیام پر زور دیتا ہے ۔ پوری کائنات ہی درحقیقت نظام ِ عدل پر قائم اور استوار ہے۔ کہ اس کے بغیر کائنات کا سارا نظم ہی درہم برہم ہوجائے۔ ڈاکٹر اے آر خالد نے اسی عدل کی ہمہ گیری کے پیش نظر اسے ایک کتاب کی صورت میں اہل ِ علم و دانش اور اہل حکم و اقتدار کے سامنے پیش کیا ہے۔

انہوں نے کتاب کے آغاز میں ’’ کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق ۔۔۔‘‘ کے زیر ِعنوان ایک مبسوط مقالے کی شکل میں جو پیش لفظ تحریر کیا ہے وہ کتاب کے موضوع کی گویا تشریح و توضیح ہی پر مبنی ہے۔ جبکہ کتاب میں شامل باقی سارا مواد ان کے ان کالموں کے انتخاب پر مشتمل ہے جو انہوں نے مختلف مواقع پر ملک کے عدالتی نظام ، عدلیہ کے فیصلوں، عدلیہ کے کردار و اہمیت کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ ، جمہوریت ، سیاست اور امور ِ مملکت کے موضوع پر سپرد ِ قلم کیے تھے۔ ڈاکٹر اے آر خالد کا کہنا ہے کہ پاکستان کے تمام مسائل و مشکلات کی وجہ نظام ِ عدل کا نہ ہونا ہے اگر تمام شعبہ ہائے زندگی میں نظام عدل کی فرمانروائی ہو جائے تو تمام مسائل ازخود حل ہو جائیں۔ وہ اس معاملے کو البتہ محض عدلیہ پر چھوڑنے کو مناسب نہیں سمجھتے بلکہ پورے نظام ِ حیات پر اس کا اطلاق چاہتے ہیں اور ان کے اس نقطہ نظر سے ظاہر ہے اختلاف ممکن نہیں۔کتاب کو قلم فاونڈیشن نے حسب ِ روایت عمدہ کاغذ اور بہترین طباعتی معیار کے ساتھ شائع کیا ہے پاکستان کی سیاسی، پارلیمانی اور عدالتی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ کتاب یقینی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

منزل سے قریب (تراجم لالہ صحرائی)
مرتبہ: ڈاکٹر زاہرہ نثار
ناشر: دارالنوادر، الحمد مارکیٹ اردو بازار، لاہور ۔ 03008898939

ادیب، نعت گو اور دانش ورلالہ صحرائی کا اصل نام محمد صادق تھا۔ اوائلِ عمر ہی سے مطالعے کا رجحان رکھتے تھے۔ جو رسالہ کہیں سے مل جاتا یا کوئی کتاب دستیاب ہوجاتی، اس کے مطالعے کو سب کاموں پر فوقیت دیتے۔ رفتہ رفتہ خود بھی لکھنا شروع کر دیا۔ سال ہا سال تک ملک کے معتبر علمی و ادبی جرائد میں آپ کے تحریر کردہ افسانے ، شخصی خاکے، انشائیے،طنزو مزاح اور سیاسی و تنقیدی مضامین شائع ہوتے رہے۔

نعتیہ شاعری کے مجموعے خود انھوں نے مرتب کرکے اپنی زندگی ہی میں شائع کر دیے تھے۔ ان کی وفات کے بعد مرحوم کے لائق فرزندوں ( ڈاکٹر جاوید صادق، ڈاکٹر نوید صادق) نے ان کے بقیہ تخلیقی مسودوں کو منظر عام پر لانے کے لیے’لالہ صحرائی فائونڈیشن‘ قائم کی جس کے تحت دو سال قبل ’’ کلیاتِ لالہ ء صحرائی‘‘ کے نام سے مرحوم کے جملہ شعری سرمائے کو یکجا شائع کیا گیا ۔ اس کے بعد نثر کی دو جلدیں سامنے آئی ہیں ۔ ( منزل سے قریب۔ نگارشاتِ لالہ ء صحرائی)

زیرِ نظر کتاب لالہ صحرائی کے ان تراجم پر مشتمل ہے جو انھوں نے مختلف اوقات میں کیے اور انھیں مختلف رسائل و جرائد نے شائع کیا۔ انھیں مرتب کرنے کا کام ڈاکٹر زاہرہ نثار نے کیا ہے۔ اس مجموعے میں ٹالسٹائی، موپساں، لی ایم اوفلاہرٹی، ایچ ایچ مرو، الفریڈ ہیلر، مریم جمیلہ ، ولیرس ڈی لانیٹل ایڈم، علامہ محمد اسد و دیگر اہل قلم کے افسانے اور مضامین شامل ہیں جنھیںلالہ صحرائی نے اردو کے قالب میں ڈھالا۔

پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا (پروفیسر امریطس اردو پنجاب یونی ورسٹی لاہور) نے لالہ صحرائی کی ترجمہ نگاری کی تحسین کرتے ہوئے لکھا ہے’’ یہ تراجم ، افسانہ ، سفر نامہ ، مضمون ، طنزومزاح اور دیگر متفرق تحریروں پر مشتمل ہیں۔ ان میں اتنی روانی ہے کہ مطالعے کے دوران ہرگز احساس نہیں ہوتا کہ یہ ترجمہ شدہ تحریریں ہیں۔ ایسی ہنر مندی اکثر مترجمین کے ہاں شاذ ہی دکھائی دیتی ہے۔‘‘

اسی طرح ایک اور نام ور ادیب الطاف حسن قریشی نے لالہ صحرائی کو یوں داد دی ہے:’’انھوں نے غیر ملکی کلاسیکی اد ب سے بلند پایہ افسانوں، سفرناموں ، قلبی وارداتوں اور فکر انگیز مضامین کے تراجم اس کمال سے کیے کہ وہ اصل سے کہیں زیادہ اثر انگیز محسوس ہوتے ہیں ۔ ان تراجم میں روسی شاعری بھی اردو قالب میں ڈھلی ہوئی ہے، جس کا اپنا ایک لطیف ذائقہ ہے۔‘‘

زیر نظر کتاب لالہ ء صحرائی کے اعلی علمی و ادبی ذوق اور ترجمہ نگاری میں ان کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تراجم ایسے عمدہ اور خو ب صورت انداز میں کیے ہیںکہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ تراجم نہیں، اصل اردو تحریریں ہیں۔

پریشاں سا پریشاں
مصنف: ڈاکٹر مجاہد مرزا
قیمت:1500 روپے۔۔۔۔صفحات:702
ناشر: سنگی کتاب گھر، ہری پور (03345958597)

اپنی زندگی کی کہانی بلاکم کاست بیان کرنا گویا اپنے گناہوں کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑ دینا ہے اس لئے قلم قبیلے کی اکثریت اس سے دور ہی رہتی ہے یا پھر ان کا انداز استعارے کا یا پھر فکشن کا رنگ لئے ہوئے ہوتا ہے، ڈاکٹر مجاہد مرزا اپنی آپ بیتی ایسے مزے مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں جیسے کسی کار خیر میں مصروف ہوں۔

خیر یہ تو بطور اظہار تفنن لکھ دیا، لفظ کارخیر تو ان کی آپ بیتی پر واقعتاً پورا اترتا ہے کیونکہ وہ جتنے بڑے انسان ہیں ( گو انھوں نے اپنی آپ بیتی کو عام آدمی کی آپ بیتی قرار دیا ہے جس سے ہم تو کیا کوئی بھی متفق نہیں ہو گا ) اور زندگی کے نشیب و فراز سے گزر کر جس مقام پر پہنچے ہیں وہ تو نئی نسل کے لئے ایک مثال ہے، وہ ان کی آپ بیتی سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں کہ کیسے حالات کا مقابلہ کیا جاتا ہے اور منزل کی طرف رواں دواں رہا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر مجاہد مرزا کی متعدد کتابیں منصفہ شہود پر آ چکی ہیں، جن میں ’’ گمشدہ شہر اور ملیا میٹ تہذیبیں‘‘ ، ’’انگلیوں میں دھوپ‘‘، ’’ یہودیوں کا نسلی تفاخر‘‘ اور ’’ محبت ۔۔ تصور اور حقیقت ‘‘ شامل ہیں ۔ قومی اخبارات اور رسائل میں ان کے مضامین چھپتے رہے۔ ماسکو میں ریڈیو صدائے روس کے ساتھ بطور مترجم اور براڈ کاسٹر منسلک رہے۔

ان کی آپ بیتی کے حوالے سے محمد حسن معراج کہتے ہیں ’’ کتاب ختم ہوئی تو جیسے قیمتی کرسٹل کا ایک گلاس ٹوٹ گیا۔ اس کی ہرکرچی میں اپنا ہی عکس بہت سے حصوں میں بٹا دکھائی دیتا ہے۔ یہ حساب کی وہ مساوات ہے جہاں نوے فیصد آپ کا دل چاہتا ہے کہ آپ مجاہد مرزا ہوتے اور نوے فیصد خواہش ہوتی ہے کہ بالکل بھی نہ ہوتے ۔۔۔ پہلی بار حساب کی بنیادی سوجھ بوجھ رکھتے ہوئے میرا دل چاہا کہ سو فیصد میں ایک سو اسی ہوتے ۔۔۔ مجاہد صاحب نے لکھا ہے کہ ان کی زندگی ایک عام آدمی کی زندگی ہے۔

کتاب پڑھیے اور خود بتائیے بھلا ایسی بھرپور، پر خطر، دل آویز اور دل فگار کہانی عام آدمی کی ہو سکتی ہے۔ ‘‘ مصنف کا انداز بیاں ایسے ہے جیسے وہ آپ کو ساتھ لئے گھوم رہے ہوں، قاری کو سب کچھ آنکھوں دیکھا معلوم ہوتا ہے، آپ بیتی جب شروع کرتے ہیں تو چھوڑنے کو جی نہیں کرتا ۔ ٹائٹل بھی کیا شاندار ہے، پریشانی تو عیاں ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ فکر کے اور بھی کئی زاویئے عطاکرتا ہے۔

ملفوظات، سلطان الحقیقت حضرت فضل شاہؒ
مرتب: متین رفیق ملک
قیمت:300 روپے۔۔۔صفحات:144
ناشر:ادبستان،پاک ٹاور، کبیر سٹریٹ، اردو بازار، لاہور (03004140207)
دانش اور معرفت اللہ تعالیٰ کا کسی فرد پر خصوصی انعام ہے، ورنہ دل و دماغ تو اللہ تعالیٰ نے سب کو ایک سے ہی عطا کئے ہیں ۔ یوں لگتا ہے اللہ تعالیٰ جب کسی فرد سے خوش ہوتا ہے یا کسی قوم کی حالت بدلنا چاہتا ہے تو ان میں ایسے نفوس قدسیہ پیدا فرماتا ہے جو اس قوم کی حالت بدلنے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔

ایسے اللہ والوں کی قربت انسان کے لئے فیض کا ذریعہ بنتی ہے اور ان کی صحبت سے افراد کے دل و دماغ میں انقلاب برپا ہونے لگتے ہیں کیونکہ ایسے نفوس قدسیہ اپنی سوچ اور طرز انھیں ودیعت کر دیتے ہیں ۔ وہ ایک بہت بڑے مقناطیس کی طرح ہوتے ہیں ان کی کشش دوسروں کو کھینچ لیتی ہے اور پھر انھیں بھی مقناطیس بنا دیتی ہے۔

سلطان الحقیقت حضرت فضل شاہ ؒ صاحب خود امی تھے مگر ان کی صحبت میں حنیف رامےؒ، واصف علی واصفؒ، اشفاق احمدؒ، بانوقدسیہؒ، ممتاز مفتی اور دیگر بہت سے مفکرین بیٹھا کرتے تھے۔ شاہ صاحبؒ ایسے ایسے نقطے بیان کرتے تھے کہ یہ صاحبان علم بھی ششدر رہ جاتے تھے، شاہ صاحب سے ملاقات سے قبل بھی ایسے افراد کتابی اور اکستابی علم سے مالامال تھے مگر ان کی نظر کیمیا نے انھیں کتاب و شنید سے ماورا علم کی بھی راہ دکھا دی اور ان کے روشن کئے ہوئے ان چراغوں نے معاشرے میں چھائی تاریکی کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ۔

علم لدنی سے مالا مال سلطان الحقیقت حضرت فضل شاہؒ جب اپنے مرشد حضرت میاں خدا بخشؒ کی خدمت میں حاضر رہا کرتے تھے تو خاموش بیٹھے رہتے تھے، آپؒ کو خاموش دیکھ کر لوگ حضورؒ پرنور سے فرماتے کہ اس بچے کو کبھی بولتے نہیں دیکھا۔ حضرت میاں صاحبؒ فرماتے کہ یہ بچہ اپنے وقت پر بولے گا اور اس وقت کائنات میں اس کا جواب نہیں ہو گا۔ اور ایسا ہی ہوا ، آپؒ کی نکتہ آفرینی نے انسانی دل ودماغ کو حیران کر کے رکھ دیا۔

دنیا جہان کا کوئی بھی سوال ، کوئی مسئلہ آپ سے پوچھا گیا تو آپؒ نے اس کا مدلل جواب دیا اور ایسا دیا کہ اس سے بہتر جواب ہو نہیں سکتا تھا ۔ ملفوظات میں آپؒ کے بیانات اور اقوال ترتیب دیئے گئے جو ہم سب کے لئے مشعل راہ ہیں، نئی نسل کو بالخصوص اس کا مطالعہ کرنا چاہیے اس سے ان کے ابہام دور ہوں گے ، دل کی تشفی ہو گئی ۔ مجلد کتاب کے سرورق کو سلطان الحقیقتؒ کی تصویر سے مزین کیا گیا ہے، اور کیا خوب کیا گیا ہے کہ دیدہ زیبی انتہا کو پہنچ گئی ہے۔

فاضلی انوار الٰہی
مرتبین: احمد دستگیرؒ، پروفیسر حافظ نذر السلامؒ
قیمت:200 روپے۔۔۔۔صفحات:144
ناشر:ادبستان،پاک ٹاور ،کبیر سٹریٹ، اردو بازار، لاہور (03004140207)
اللہ والے اس دنیا میں ایسے ہیں جیسے گھپ اندھیرے میں روشن چراغ ، جو ہر دم روشنی بانٹتے رہتے ہیں، اندھیروں میں بھٹک جانے والوں کو راستہ دکھاتے ہیں۔ ان سے روشنی پانے والے نئے چراغ روشن کرتے ہیں، یوں ایک ایسا روشن اور تابناک سلسلہ شروع رہتا ہے جو ختم ہونے میں نہیں آتا۔ ان کا قرب انسان کو اللہ کی رحمت کے سائے تلے لے جاتا ہے کیونکہ ان بزرگان دین کا وجود ہی باعث رحمت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب حضرت فضل شاہ قطب عالم ؒ ( بہ معروف نور والے) کے بیانات پر مبنی ہے۔

حضرت فضل شاہؒ صاحب کا بیان علم ، عمل ، اخلاص اور دوسرے شرعی امور کے متعلق ہے۔ آپ ؒ کا ایک ایک بیان اور قول سنہرے حروف سے لکھا جانا چاہیئے ۔ باباجی خود کوئی بیان تجویز نہ فرماتے تھے کیونکہ آپ کا تمام اظہار عطائے الٰہی پر مبنی ہوتا تھا اور اس بارے میں آپؒ کا ایک بیان ہے کہ ’’ جو صاحب علم کسب جانتا ہو اسے صرف مشاہدہ ہوتا ہے جو علم کسب نہ رکھتا ہو اسے مشاہدہ بھی ہوتا ہے اور اس کے لیے عبارت بھی اترتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے امی کے لیے مشاہدہ اور عبارت دو مقام ہیں‘‘۔ پروفیسر حافظ نذر السلام کہتے ہیں ’’ آپ ؒ جو فرماتے ہیں ایک ایک حرف اولیائی کا مقام رکھتا ہے اور ایک ایک جملہ پر کتاب بن سکتی ہے۔ اس کتاب میں آپ کے ارشادات عالیہ ہیں جو آپؒ نے وقتاً فوقتاً مجلسوں میں ارشاد فرمائے جو صاحب صداقت کی آنکھ سے دیکھے گا دنیا میں وہ کامیاب ہو گا اور دین میں با مراد ہو گا۔‘‘ حضرت فضل شاہ صاحبؒ نور والے کتاب کے نام کے حوالے سے فرماتے ہیں ’’ فقیر نے طلبگاران راہ حق کو نیاز مند بنانے کے لیے اس کتاب کا نام فاضلی انوار الٰہی رکھا ہے‘‘۔ مجلد کتاب کو خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔

The post بُک شیلف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2HP42em

ڈینگی…کرونا کی موجودگی میں مزید خطرناک ہو سکتا ہے

ان دنوں پاکستان میں کرونا کی دوسری لہر کے ساتھ ڈینگی بھی دوبارہ سر اٹھا رہا ہے، جو کہ صحت عامہ کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔

دونوں امرا ض خطرناک اس لیے بھی ہیں کہ ان کے خلاف عالمی سطح پر تاحال نہ تو کوئی ویکسین بن سکی ہے اور نہ ہی ان کا کوئی مستند علاج دریافت ہوا ہے۔ تاہم احتیاطی تدابیر اور عوامی شعور و آگاہی کے ذریعے ان پر پر قابو پانا ممکن ہو سکتا ہے۔ اس سنگین مسئلے کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک مکمل اور جامع تحریر قارئین کی نظر کی جارہی ہے، جس سے استفادہ کرتے ہوئے ہوئے ڈینگی پر قابو پانے میں معاونت حاصل ہوگی۔

پاکستان میں ڈینگی کا پہلا کیس 1994 ء میں کراچی میں سامنے آیا لیکن بڑے پیمانے پر ڈینگی بخار 2010ء اور 2011ء میں نمودار ہوا۔ ایک محدود اندازے کے مطابق 2011ء میں 370 کے قریب لوگ موت کا شکار ہوئے اور 15000 لوگ اس وباء سے متاثر ہوئے۔ اس کے بعد ایک تسلسل سے پشاور سے گوادر تک کم یا زیادہ ڈینگی کیس نمودار ہورہے ہیں۔

ڈینگی افریقی زبان کا لفظ ہے۔ یہ افریقہ کی سواہیلی (Swahili) زبان سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے(Seizure) جھٹکے لگنا، اس بیماری کا آغاز بھی افریقہ سے ہوا اور یہاں سے یہ بیماری دیگر براعظموں تک پھیلی۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق اس وقت آدھی سے زیادہ دنیا ڈینگی بخار میں مبتلا ہونے کے رسک پر ہے۔ دنیا میں سالانہ تقریباً 2 کروڑ افراد اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

ہر سال 25,000 افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ڈینگی کا پہلا وبائی حملہ 1780ئکی دہائی میں منظر عام پر آیا، جس میں براعظم ایشیا، افریقہ اور شمالی امریکہ بیک وقت شدید متاثر ہوئے۔ 1789ء میں Benjamin Rush پہلا انسان تھا، جس نے اس بیماری کو کمر توڑ بخار(Break Bone fever) کا نہ صرف نام دیا بلکہ پہلے کیس کو باقاعدہ تشخیص کیا۔اس کو کمرتوڑ بخار اس لیے کہتے ہیں کہ متاثرہ مریض کی کمر،پٹھوں اور جوڑوں میں شدید درد ہوتا ہے اور مریض چلنے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔

انسانی تاریخ میں ڈینگی کے سب سے پہلے کیس کا تذکرہ چینی انسائکلوپیڈیامیں 365-420 میں ملتا ہے، جہاں اس کو ’’آبی زہر‘‘ (Water Poision) کا نام دیا گیا۔

ڈینگی بخار ایک مخصوص جراثیم (وائرس) کی وجہ سے ہوتا ہے، جس کی چار اقسامDENV-1,DENV-2,DENV-3,DENV-4 ہیں۔ یہ جراثیم کرہ ارض پر پائے جانے والے تین ہزار سے زیادہ اقسام کے مچھروں میں سے صر ف دو مخصوص مچھرAedes Albopictus اورAedes Aegypti، ایک انسان سے دوسرے انسان اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں۔ (Aedes Albopictus) کا مطلب سفید رنگے کے دھبے ہوتا ہے۔ یہ لاطینی زبان سے نکالے گئے الفاظ ہیں۔ Alboکا مطلب سفید اور pictus کا مطلب دھبہ ہے۔دوسرے مچھر کو  Aegypti Aedes اس لیے کہتے ہیں کہ یہ مچھر مصر(Egypt)  میں دریافت ہواتھا۔

یہ بات بڑے تعجب کے ساتھ پڑھی جائے کہ مچھر چاہے ملیریا کا ہو یا ڈینگی کاصرف مادہ مچھر ہی خون چوستی ہے۔ نرمچھر بے چارہ گھاس پھوس پر گزارا کر لیتا ہے۔ ڈینگی کے مادہ مچھر کو انڈے بنانے کے لیے ایک خاص پروٹین درکار ہوتی ہے جو کہ خون میں موجود ہوتی ہے۔مادہ مچھر یہ انسانوں اور جانوروں کے خون سے چوس کر حاصل کرتا ہے۔

جب مادہ مچھر ڈینگی سے متاثرہ شخص کا خون چوستی ہے تو ڈینگی کا جراثیم مادہ مچھر کے جسم میں داخل جاتا ہے اور اس طرح صحت مند مچھر ڈینگی سے متاثر ہوجاتا ہے۔ جب یہ ڈینگی سے متاثرہ مچھر ایک صحت مند انسان کوکاٹتی ہے تو یہ جراثیم (وائرس) انسان میں داخل ہوجاتا ہے اور انسان ڈینگی بخار کے مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس طرح ڈینگی کا انسان سے مچھر اور مچھر سے انسان کا سائیکل چل پڑتا ہے۔

ڈینگی کے مچھر عام مچھروں کے مقابلے میں جسامت میں ذرا بڑے ہوتے ہیں اور دو اوقات سورج نکلنے اور غروب آفتاب سے قبل زیادہ متحرک ہوتے ہیں۔  ڈینگی کے ایک قسم کے وائرس کا حملہ صرف ایک بار ہی ہو سکتا ہے۔ دوسری مرتبہ ڈینگی بخار دوسری قسم کے وائرس سے ہو سکتا ہے اور یوں زندگی میں کسی بھی شخص کو زیادہ سے زیادہ چار مرتبہ یہ عارضہ لاحق ہو سکتا ہے۔ یہ بیماری گرم اور نیم گرم علاقوں میں پائی جاتی ہے۔

دیگر مچھروں کے برعکس ڈینگی بخار کا باعث بننے والا مچھر بڑا صفائی پسند ہوتا ہے۔ گندے تالابوں اور جوہڑوں کے بجائے یہ مچھر گھریلو واٹر کولر، ٹینکوں کے قرب و جوار، صاف پانی سے بھرے برتنوں، پودوں کے گملوں، غسل خانوں اور بارش کے صاف پانی میںتقریباً سارا سال ہی پلتا رہتا ہے، تاہم برسات کے موسم میں یہ تیزی سے افزائش نسل کرتا ہے۔

یہاں اس بات کو بھی سمجھنا ضروری ہے کہ یہ بیماری براہ راست ایک شخص سے دوسرے شخص(From Person to Person) کو منتقل نہیں ہوتی بلکہ مخصوص مچھر ہی اس کے انتقال کا باعث بنتا ہے۔متاثرہ مریض کے ساتھ رہنا،کھانا پینا، تولیہ ،کنگھی ،برتن وغیرہ استعمال کرنا ہر طرح سے محفوظ ہے۔

یہ یاد رہے کہ متاثرہ مچھر کا صرف ایک بار ہی کاٹنا ڈینگی بخار کا باعث بن سکتا ہے۔ڈینگی کا مچھر زیادہ سے زیادہ 100 میٹر یا 300فٹ تک پرواز کرسکتا ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ اگر کسی گھر میں ڈینگی کا مریض ہے یا ڈینگی مچھر یا لاروا موجود ہوتو اس علاقے کے300 فٹ کے اردگرد مچھر مار سپرے کیا جائے۔ ڈینگی مچھر کی عمر 3 دن سے لے کر 3 ماہ ہوسکتی ہے لیکن اوسط عمر کا دورانیہ 7 سے 14 دن ہوتا ہے۔

اس بات کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ اگر ایک مچھر ڈینگی سے بیمار یا متاثر ہوتا ہے تو وہ زندگی بھر بیماری پھیلانے کا باعث بنتا ہے۔پاکستان میں کیونکہ یہ بیماری اب مستقل موجود ہے اس لیے پورا سال لوگ اس کا شکار رہیں گے۔

البتہ جون تا نومبر تک ڈینگی مچھر کے لیے آئیڈیل ہوتا ہے، سردیوں میں مچھر زیادہ متحرک نہیں ہوتا۔ اس بات کوبھی توجہ کے ساتھ پڑھا جائے کہ ڈینگی کا مچھر ہر اس جگہ پر پرورش پاسکتا ہے جہاں انسانی سوچ تصور نہیں کر سکتی۔ ڈینگی مچھر گچھوں کی صورت میں انڈے دیتی ہے اور یہ ایک خاص گوند کی طرح کے مواد کے ذریعے خالی جگہوں مثلاً کباڑ ، خالی ڈبوں ،خول ،ڈرم، کٹے ہوئے تنے،گملے ، پرانے ٹائرز اور ایئر کولر وغیرہ میں چپک جاتے ہیں اور یہ انڈے 10سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔

جونہی ان کو ساز گار ماحول یعنی پانی اور نمی ملتی ہے ان انڈوں کی افزائش شروع ہوجاتی ہے۔2011ء کے سیلاب نے بڑے پیمانے پر پاکستان میں تباہی مچائی اور پانی وسیع جگہوں پر گیا جس سے ان پرانے چپکے ہوئے انڈوں کو سازگار ماحول ملا اور اس بیماری نے پاکستان میں اپنے ہونے کا واضح ثبوت دے دیا۔ ڈینگی کا مچھر صرف ڈینگی بخار کا باعث نہیں ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ دیگر بیماریاں مثلاًییلوفیور(Yellow fever) اور چکن گنیا( Chikungunya,) وغیرہ کا بھی باعث ہے۔

وائرس کو لے جانے والے مچھر کے کاٹنے کے دو سے سات روز کے اندر ڈینگی کی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ ان علامات میں تیز بخار، سردی لگنا، جسم میں شدید درد اور کمزوری، منہ کا ذائقہ کڑوا ہوناشامل ہیں۔ ڈینگی بخار کی یہ علامات دو تا چار دن رہنے کے بعد ختم ہو جاتی ہیں۔

مریض کو پسینہ زیادہ آتا ہے اور نارمل محسوس کرنے لگتا ہے مگر بہتری کی یہ حالت تقریباً ایک دن رہتی ہے جس کے بعد بخار دوبارہ تیزی سے چڑھ جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی جسم پرسرخ باریک دانے نمودار ہوسکتے ہیں۔ ڈینگی بخار کی شدید شکل جو بہت خطرناک اور جان لیوا ہو سکتی ہے، اسے ڈینگی ہیمریجک فیور(Dengue Hemorragic Fever)  یا خونی بخارکہتے ہیں۔

اس کی نمایاں علامات میں آنکھوں کے پیچھے شدید درد، پیٹ درد اور جسم کے مختلف حصوںدانتوں، مسوڑھوں، ناک ، پیشاب پخانے،زنانہ راستے سے خون یا خون سے ملتی جلتی رطوبات کا رسنا شامل ہیں۔ خون میں Platelets ذرات کی تعداد خطرناک حد تک کم ہو سکتی ہے۔ خون کے اس غیر ضروری بہاؤ کی وجہ سے خون کے دباؤ میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس حالت کو  Dengue Shock Syndrome کہا جاتا ہے جو کہ موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ایسی حالت میں مریض کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈینگی بخار کی تشخیص دو طریقوں سے ہوتی ہے۔مریض کی علامات سے اور لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے۔ ابتداء میں اس کا انحصار علامات پر ہوتا ہے جیسے بخار، جلد پر سرخ دھبے بننا، جسم میں درد اور آنکھوں کے پیچھے درد وغیرہ۔ خون کے ٹیسٹ میں  Plateletsکی تعداد میں کمی ہوجاتی ہے۔

دوسری قسم کے ٹیسٹ میں ڈینگی کے خلاف خون میں مخصوص اینٹی باڈیزIGM  اورIGG کی موجودگی کو دیکھاجاتا ہے اور ڈینگی بخار میں ان دونوں اینٹی باڈیز کا لیول بڑھ جاتا ہے۔ یہ ٹیسٹ اگر ابتدائی علامات میں کروا لیا جائے تو Negative بھی ہو سکتا ہے کیونکہ عام طور پر اس اینٹی باڈی کو جسم میں بننے اور شناخت کرنے میں چار سے پانچ دن لگتے ہیں۔ آج کے جدید دور میں بھی ڈینگی کا کوئی مستند علاج دریافت نہیں ہوا۔اس بیماری کے علاج کے لیے مریض کو  supportive therapy دی جاتی ہے۔

اس سے کہا جاتا ہے کہ پانی اور دوسرے مشروبات کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرے۔ بخار اور جسم درد کی صورت میں  Paracetamolدی جاتی ہے ۔ اگر مریض زیادہ کھاپی نہ رہا ہو تو Drip لگانی چاہیے۔ اگر Platelets بہت کم ہو جائیں جس سے خون جاری ہونے کا احتمال ہو تو اس صورت میں Platelets کی  Pack لگانا ضروری ہو جاتا ہے۔ مریض کو مسلسل زیر نگرانی رکھ کر اس کے خون کے دباؤ، درجہ حرارت اور خون کے نظام کو نارمل رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

پوری دنیا میں ڈینگی کے مرض پر قابو پانے کے لیے مختلف احتیاطی تدابیر کی جارہی ہیں جس میں اس کے خلاف مؤثر Vacine ویکسین کی تیاری بھی شامل ہے۔ یہ ویکسینDengvaxiaکے نام سے مارکیٹ میں دستیاب ہے۔البتہ اس سے فائدہ صرف ان لوگوں کو ہوتا ہے جو انتہائی رسک والے علاقے میں رہ رہے ہوتے ہیںاور پہلے اس بیماری کا شکار ہوچکے ہوتے ہیں۔

نوسال سے کم عمر کے بچوں کے لیے عالمی ادارہ صحت اس کو تجویز نہیں کرتا۔Biological Control حیاتیاتی کنٹرول سے مچھر پرقابوپانے کے لیے تالابوں اور جھیلوں میں مخصوص مچھلیوں کی اقسام جن میں Guppies،Kataba Gambusia affinisاور Koi carp fish شامل ہیں،استعمال کی جاتی ہیں۔ جوکہ ڈینگی مچھر کے لاروے کو کھا جاتی ہیں اس طرح مچھر کی افزائش کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ان مچھلیوںکی اقسام پاکستان میں بھی دستیاب ہیں۔

اس کے علاوپ چند مفید درخت اور پودے لگانے سے بھی یہ مچھر مرجاتے ہیں جن میںClove Plants,Euphorbia ,Catnip,(تلسی)Basil plant l,(لیمن گراس)Lemongrass  ،)اسطوخودوس( Lavender (لیونڈر)، Rosemary ،(موتیا)Marigoldاور( سفیدہ)Eucalyptus وغیرہ شامل ہیں۔یہ تمام مچھر کو نہ صرف بھگاتے ہیں بلکہ ان کو مارنے میں بھی اہم ہیں۔ ان پودوں کو گھروں، دفاتر اور عوامی جگہوں پر لگانا ضروری ہے۔

یہ پودے پاکستان میںہر جگہ باآسانی دستیاب ہیں۔ یہ سرکاری و نیم سرکاری اور پرائیویٹ نرسریوں سے حاصل کیے ساسکتے ہیں۔ ڈینگی کے مچھر کو ایک مخصوص جراثیم سے بھی قابو کرنے کی کوشش جاری ہے ۔جراثیم Wolbachia Bacteria سے مچھر کو متاثر کیا جاتا ہے اس طرح اس بیمار مچھر میں ڈینگی کے خلاف مزاحمت پیدا ہو جاتی ہے اور یہ بیماری پھیلانے کا باعث نہیں بنتے۔

ڈینگی کو قابو کرنے کے لیے جہاںکیمیائی کنٹرول( Chemical Control ) جس میں مچھر مار اسپرے کا استعمال ،میٹ ،کوئل یا جلیبی،تیل ،لوشن کا استعمال شامل ہے وہاں جدید خطوط پر مندرجہ بالاحیاتیاتی کنٹرول کو(Biological control)یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہوچکا ہے جہاں سارا سال ڈینگی متحرک رہے گا ۔اور جیسے کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ اس موذی مرض کے لیے آج کے موجودہ دور میں کوئی مستند علاج دریافت نہیں ہوا۔یہی وجہ ہے کہ اس کے پھیلاؤ اور بچاؤکے لیے عوامی شعور وآگاہی کے ساتھ ایک منظم ومربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

اگرچہ رواں سال ملک میں مون سون کا دورانیہ بھی بڑھ گیا، جس کی وجہ سے بارشیں زیادہ ہوئیں، شہری علاقوں میں پانی زیادہ جمع رہا ،سیوریج کا نظام متاثر ہوا، سیلابی صورتحال بھی رہی جوکہ ڈینگی کی وبائی صورت میں معاون ثابت ہورہے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس امر کا اظہار بھی بہت ضروری ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں ڈینگی کے خلاف کوئی موثر منصوبہ بندی کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں۔

کرونا کی موجودگی میں ڈینگی کا بھی دوبارہ سر اٹھانا ہر سطح پر ایک توجہ طلب مسئلہ ہے۔ پاکستان میں اگرچہ ڈینگی وباء موسم سرما کی آمد کے ساتھ کم ہوجائے گی لیکن بچاؤکے ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں ۔حکومت وقت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ عوام کی صحت کے معاملات کو اپنی ترجیحات میں صف اول پر رکھے تاکہ اس موذی مرض پر قابو پانا ممکن ہو سکے۔

میںہر جگہ باآسانی دستیاب ہیں۔ یہ سرکاری و نیم سرکاری اور پرائیویٹ نرسریوں سے حاصل کیے ساسکتے ہیں۔ ڈینگی کے مچھر کو ایک مخصوص جراثیم سے بھی قابو کرنے کی کوشش جاری ہے ۔جراثیم Wolbachia Bacteria سے مچھر کو متاثر کیا جاتا ہے اس طرح اس بیمار مچھر میں ڈینگی کے خلاف مزاحمت پیدا ہو جاتی ہے اور یہ بیماری پھیلانے کا باعث نہیں بنتے۔

ڈینگی کو قابو کرنے کے لیے جہاںکیمیائی کنٹرول( Chemical Control ) جس میں مچھر مار اسپرے کا استعمال ،میٹ ،کوئل یا جلیبی،تیل ،لوشن کا استعمال شامل ہے وہاں جدید خطوط پر مندرجہ بالاحیاتیاتی کنٹرول کو(Biological control)یقینی بنایا جاسکتا ہے۔بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہوچکا ہے جہاں سارا سال ڈینگی متحرک رہے گا ۔اور جیسے کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ اس موذی مرض کے لیے آج کے موجودہ دور میں کوئی مستند علاج دریافت نہیں ہوا۔

یہی وجہ ہے کہ اس کے پھیلاؤ اور بچاؤکے لیے عوامی شعور وآگاہی کے ساتھ ایک منظم ومربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اگرچہ رواں سال ملک میں مون سون کا دورانیہ بھی بڑھ گیا، جس کی وجہ سے بارشیں زیادہ ہوئیں، شہری علاقوں میں پانی زیادہ جمع رہا ،سیوریج کا نظام متاثر ہوا، سیلابی صورتحال بھی رہی جوکہ ڈینگی کی وبائی صورت میں معاون ثابت ہورہے ہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس امر کا اظہار بھی بہت ضروری ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں ڈینگی کے خلاف کوئی موثر منصوبہ بندی کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں۔کرونا کی موجودگی میں ڈینگی کا بھی دوبارہ سر اٹھانا ہر  سطح پر ایک توجہ طلب مسئلہ ہے۔ پاکستان میں اگرچہ ڈینگی وباء موسم سرما کی آمد کے ساتھ کم ہوجائے گی لیکن بچاؤکے ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں ۔حکومت وقت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ عوام کی صحت کے معاملات کو اپنی ترجیحات میں صف اول پر رکھے تاکہ اس موذی مرض پر قابو پانا ممکن ہو سکے۔

The post ڈینگی…کرونا کی موجودگی میں مزید خطرناک ہو سکتا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3mFUzVD

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...