Urdu news

Friday, 31 May 2024

ٹی20 ورلڈکپ میں شرکت کیلیے قومی ٹیم لندن سے امریکا پہنچ گئی

ڈلاس: آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ میں شرکت کیلیے قومی ٹیم برطانیہ سے امریکا پہنچ گئی۔

تفصیلات کے مطابق بابر اعظم کی قیادت میں قومی ٹیم اور مینجمنٹ کمیٹی کے اراکین برطانوی دارالحکومت لندن سے امریکا کے شہر ڈلاس پہنچے۔

پاکستانی ٹیم نے ورلڈکپ سے قبل دورہ یورپ کیا جس میں آئرلینڈ کے ساتھ سیریز ہوئی اور پھر برطانیہ میں انگلینڈ کے ساتھ چار ٹی 20 میچز کی سیریز کھیلی۔

واضح رہے کہ ٹی 20 ورلڈکپ کا انعقاد یکم جون سے ہوگا اور ایونٹ کے میچز امریکا و ویسٹ انڈیز میں کھیلے جائیں گے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنا پہلا میچ 6 جون کو میزبان امریکا کے خلاف ڈلاس میں کھیلے گی۔ پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے گروپ اے میں انڈیا ۔ امریکہ ۔ کینیڈا اور آئرلینڈ کے ساتھ ہے۔

The post ٹی20 ورلڈکپ میں شرکت کیلیے قومی ٹیم لندن سے امریکا پہنچ گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/MeIdlrz

سی پی این ای کے سالانہ انتخابات، ارشاد احمد صدر، اعجاز الحق سیکریٹری جنرل منتخب

  کراچی: کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز(سی پی این ای) کے سالانہ انتخابات 2024-25 میں ارشاد احمد عارف(روزنامہ 92 نیوز لاہور)کو اتفاق رائے سے صدر جبکہ اعجاز الحق(روزنامہ ایکسپریس کراچی ) کو سیکریٹری جنرل منتخب کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سی پی این ای کے سالانہ انتخابات میں انورساجدی(روزنامہ انتخاب کراچی) کو سینئر نائب صدر ،عامر محمود(کرن گروپ کراچی)کو نائب صدر سندھ ،بابر نظامی(ڈیلی پاکستان ٹوڈے لاہور) کونائب صدر پنجاب، طاہر فاروق(ڈیلی اتحاد پشاور) نائب صدر کے پی کے ،یحییٰ خان سدوزئی(ڈیلی لیڈ پاکستان اسلام آباد) نائب صدر اسلام آباد، منیر بلوچ(روزنامہ نوائے وطن کوئٹہ) کو نائب صدر بلوچستان منتخب کیا گیا۔

غلام نبی چانڈیو(روزنامہ پاک کراچی) کو ڈپٹی سیکریٹری جنرل  ،سید حامد حسین عابدی (روزنامہ امن کراچی) کوفنانس سیکریٹری اورضیاء تنولی(روزنامہ فائنل نیوز لاہور) کوانفارمیشن سیکریٹری،رافع نیازی کو جوائنٹ سیکریٹری (اسلام آباد)،وقاص طارق فاروق کو جوائنٹ سیکریٹری (پنجاب)، منزہ سہام کو جوائنٹ سیکریٹری (سندھ)، ممتاز احمد صادق کو جوائنٹ سیکریٹری(کے پی)، عارف بلوچ کو جوائنٹ سیکریٹری (بلوچستان) منتخب کیا گیاجبکہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے دیگر اراکین کے لیے ڈاکٹر جبار خٹک، مقصود یوسفی، قاضی اسد عابد،اکرام سہگل ،محمد اویس رازی،محمد اسلم میاں ،شیر محمد کھاوڑ،عبدالخالق علی ،احمد شفیق ،ذوالفقار راحت ،شہزاد امین، سردار محمد سراج،کاظم خان،عدنان ظفر،ایاز علی میمن،فقیر منٹھار منگریو،عبدالرحمن منگریو،محمد اکمل چوہان ،تنویرشوکت،ڈاکٹر زبیر محمود،فضل الحق،تزئین اختر ،شکیل ترابی،اعتزازحسین شاہ،علی احمد ڈھلوں،محمود عالم خالد ،علی حمزہ افغان اورسید انتظار حسین زنجانی منتخب ہوئے۔

سی پی این ای کے نئے منتخب صدر ارشاداحمد عارف نے اپنے انتخاب پر اراکین سی پی این کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے کہا کہ حکومت ماضی کی طرح آج بھی تنقیدی آواز سننے کو تیار نہیں ہے ۔جس کی تازہ مثال پنجاب حکومت کا ہتک عزت بل اور الیکٹرانک کرائم ایکٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے قانون کا بنانا آزادی صحافت پر نت نئی قدغنیں لگانے کے مترادف ہے، اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر کوئی بھی قانون قبول نہیں کیا جائے گا، حالات کو مزید بد سے بدتر بنایا جارہا، ارباب اختیار چاہتے ہیں کہ میڈیا ان کی من و عن تائید کرے ، مگر ہم اس دشوار گزار سفر میں حتی المقدور اپنے ساتھیوں کے ساتھ ثابت قدمی سے صحافت اور اظہار رائے کی آزادی کے آئینی و جمہوری حق کے لیے سرگرم عمل رہیں گے۔

نو منتخب صدر نے کہا کہ ہم اپنا یہ سفر ان شاء اللہ آئندہ بھی احسن طریقے سے حالات کا بھرپور انداز میں مقابلہ کرتے ہوئے جاری رکھیں گے۔ آخر میں انھوں نے تمام اراکین سی پی این ای کا شکریہ ادا کیا۔

اُدھر صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سمیت دیگر نے سی پی این ای کے نو منتخب اراکین کو مبارک باد پیش کی ہے۔

صدر مملکت نے نومنتخب عہدیداران کو مبارک باد دیتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور کہا کہ امید ہے کہ نو منتخب عہدے داران ملک میں ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے، کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز کے نو منتخب اراکین ملک میں جمہوریت کے فروغ کے لیے کوششیں کریں۔

انہوں نے کہا کہ امید کرتا ہوں کہ نو منتخب عہدے داران ملک میں اخبارات اور صحافت کے شعبے کی ترقی کے لیے کاوشیں کریں گے جبکہ ملک میں جمہوری اقدار اور اخلاقیات کے فروغ کے لیے میڈیا مثبت کردار ادا کریں گے۔

صدر مملکت نے کہا کہ آزاد صحافت ملکی ترقی، جمہوریت اور احتساب کیلئے ناگزیر ہے، کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز کے اراکین فیک نیوز کے تدارک اور عوام میں سماجی موضوعات پر آگاہی پیدا کریں۔

The post سی پی این ای کے سالانہ انتخابات، ارشاد احمد صدر، اعجاز الحق سیکریٹری جنرل منتخب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/5YH1QUF

Thursday, 30 May 2024

یہ وقت ٹیم کی سپورٹ کا ہے چار ہفتے تک تنقید نہ کریں، چیئرمین پی سی بی

  لندن: پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بابر اعظم ہی اکیلا سب پر بھاری ہے، یہ وقت ٹیم کو سپورٹ کرنے کا ہے لہذا چار ہفتے تک تنقید سے گریز کریں۔

لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے ایک بار پھر بابر اعظم کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ کپتان اکیلا ہی بابر اعظم سب پر بھاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ وقت ٹیم کو سپورٹ کرنے کا ہے لہذا چار ہفتے ٹیم کی کارکردگی پر تنقید نہ کریں، قوم کی سپورٹ رہی تو یہ ٹیم ورلڈکپ جیتے گی۔

محسن نقوی نے کہا کہ ورلڈکپ میں پاکستان بھارت پر جانے کا پروگرام ابھی فائنل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ لڑکوں سے کہا ہے کہ وہ بے خوف ہوکر کھیلیں کیونکہ ہار جیت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

The post یہ وقت ٹیم کی سپورٹ کا ہے چار ہفتے تک تنقید نہ کریں، چیئرمین پی سی بی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/jJ3u8nf

پی ٹی آئی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہونا شروع ہوگئے، فیصل واوڈا

 اسلام آباد: سینٹرفیصل واوڈا نے کہا ہے کہ پہلے 9 مئی کو پی ٹی آئی نے اپنے پاﺅں پرکلہاڑی ماری تھی اوریہ جو 71 والا ٹوئٹر پیغام ہے اس کے اندر اپنے اوپر کلہاڑا مار دیا ہے اور جوپس پردہ کالی بھیڑیں ان دونوں چیزوں کو تقویت دے رہی تھیں ان سب کی باری آگئی ہے، یہ اب خطرناک کام شروع ہوگیا ہے اوریہ منطقی انجام تک پہنچے گا۔

ایکسپریس نیوزکے پروگرام کل تک میں گفتگوکرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ میرا تجزیہ تویہ ہے کہ یہ پارٹی بین کرنے کی طرف بھی جاسکتی ہے کیونکہ جب ایم کیوایم لندن پر پابندی عائد کی گئی تو اس کی وجوہات بھی یہی تھیں،آپ نے تحریک لبیک کو فورتھ شیڈول میں ڈالا ہوا ہے جبکہ وہ بھی مخلص لوگ ہیں، یہ جو 75 سالوں سے ملک میں ناانصافی چل رہی ہے جب تک یہ ٹھیک نہیں ہوگا ملک ٹھیک نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اب وہ حماقت کردی ہے کہ عام آدمی جو عمران خان کی پارٹی کو پسند کرتے تھے وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم اس مار دھاڑ اور ملک توڑنے کی سازش کا حصہ نہیں بن سکتے، اب انھوں نے ریورس گیئر لگائے ہوئے ہیں لیکن ریورس گیئر کا کوئی فائدہ نہیں ہے، میں نہیں سمجھتاکہ عمران خان کے پاس فون کی سہولت ہے، یہ میں مان سکتا ہوں کہ ان کا اکاﺅنٹ کوئی اور چلا رہا ہے کیونکہ عام زندگی میں بھی جب وہ باہرتھے تب بھی ان کا اکاﺅنٹ کوئی اورہی چلاتا تھا۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ ان کی ہدایت پر، اب کون چلارہاہے اس سے بات آگے چلی گئی ہوئی ہے، انڈیابھی اس نیریٹوکولےکرچل رہاہے، تانے بانے مل گئے ہیں،اب اگرہمارا ریاستی نظام اندھا بہرہ بنناچاہتا ہے تواس کی مرضی ہے، اگراس صورت حال میں اسٹیبلشمنٹ نے بھی اپنا رول ادا نہیں کیا تو پھر ہم اس کو بھی اسی صف میں ڈالیں گے جس صف میں 9مئی کے واقعات کوڈالا کیونکہ یہ سیاست نہیں دہشت گردی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ملک توڑنے کی سازش ہے، پی ٹی آئی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوناشروع ہوگئے ہیں اور مزید ٹکڑے ہونگے، عمرایوب یاوہ لوگ جواپنے آپ کواس بیانیے سے ڈسکنیٹک کررہے ہیں، یہ گورنمنٹ سے ملے ہوئے ہیں،یہ ایسے ہی سیاست نہیں کررہے، یہ سب ڈرامے بازی ہے، اس ڈرامے بازی میں جوچنگاڑ رہے ہیں وہ رات کو پیر پڑے ہوئے ہیں اب آپ کوایک فیصلہ کرنا پڑے گا،عمران خان ایک پاپولر لیڈر ہیں اس میں کسی کواعتراض نہیں وہ ان سب کی پرفارمنس اور نفرت کی وجہ سے زیادہ پاپولر ہیں جوآج ہم شکلیں دیکھ رہے ہیں لیکن اس کایہ نہیں کہ آپ ریاست کو آگ لگادیں۔

سینیٹر فیصل واواڈا نے کہا کہ یہ ایک مافیاکی طرح آپریشنل ہوگئے ہیں، ایسانہیں کہ پی ٹی آئی اکیلے سب کر رہی ہے اس کی پشت پناہی میں بہت ساری ملک کی کالی بھیڑیں ہیں، اب ان کوایکسپوزکرنے کا وقت آگیا ہے اور وہ بہت جلد ایکسپوز ہونگے، جو جمہوریت کے ٹھیکیداربنے ہوئے ہیں، ان سب کے اپنے مقاصد ہیں، وہ کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں، حکومت مزے لے رہی ہے کہ دونوں ادارے آپس میں ٹکرارہے ہیں، اداروں کی پی ٹی آئی سے لڑائی ہورہی ہے تو ہم اپنی نااہلی چھپاکرمزے لیتے ہیں اوراپناٹائم گزارلیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دوسرا ریاست نے جوآٹھویں دفعہ کہاہے کہ 9مئی کے ملزموں کوسزادیں توشاید ایک دودفعہ اوربول دے گی،اس کے بعد پھردیکھیں گے کیاہوتاہے،خاورمانیکاکے ساتھ جوکچھ چونکہ احاطہ عدالت میں ہواتواس پرنوٹس ہوجاناچاہیے تھا، قطع نظر اس کے خاورمانیکاجیسے جتنے بھی پرانے ایکس شوہر ہیں میں ان کوبڑا بے شرم آدمی سمجھتا ہوں جو اپنی پرانی بیوی سے اربوں روپے کے فائدے بھی لے لیں اور پھراس کی عزت کا جنازہ بھی اڑادیں، ایسے لوگ ہمارے ملک میں گینگ آپریٹ کرتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ عمران خان اگرسماعت کے دوران لائیو بولتے ہیں تو اس پرکوئی اعتراض نہیں، یہ عدالت کی مرضی ہے کس کودکھائیں کس کونہ دکھائیں، اس وقت کہتے تھے ایکیوزڈ نوازشریف کونہیں دکھاسکتے آج کہتے ہیں دکھاسکتے ہیں۔

تحریک انصاف کے رہنما نعیم حید رپنجوتھانے کہاکہ ایک وکیل نے خاورمانیکا کو تھپڑ مارا جو ان کو لگا بھی نہیں، اس وکیل کو پی ایم ایل این کے وکلا پکڑ کر پیچھے دھکیل کرلے گئے، جیسے عطا تارڑ صاحب پہلے توشہ خانہ کیس میں وکلا کو لیکرآئے تھے اور اس دن بھی انھوں نے اسی طرح حملہ کیا اور عدالت کے اندر ماحول خراب کرنے کی کوشش کی تھی، جوان کا منصوبہ تھا۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ اس کو ہم نے ناکام کیا تھا، فتح اللہ مروت کوئی وکیل ہیں جنھوں نے تھپڑ مارا، ایف آئی آر میں یہ ہے کہ میں نے اس کو مکے مارے ہیں اور میں نے کوئی بندوق بھی چھینی ہے پولیس سے تو یہ ساری چیزیں سی سی فوٹیجزسے بھی آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میں نے کیا ہے یا نہیں کیا۔

مسلم لیگ(ن) کے رہنما رانا احسان افضل خان نے کہاکہ خاور مانیکا کے ساتھ ان کے اپنے وکلا ہونگے ہمارے وکلانہیں تھے، اگر انھوں نے خان صاحب کے بارے میں کوئی نازیباالفاظ استعمال کیے تو یہ ان کا فیملی میٹر تھا، پی ٹی آئی نے اپنے ورکرز جمع کرکے جو بدمعاشی کی اس سے یہ سیاسی معاملہ بن گیا اور ایک نیشنل نیوز بن گئی، وہ فمیلی میٹر تھاجس کو انھوں نے ہوا دی، میں تو نہیں کہتا کہ دہشت گردی کا پرچہ ہونا چاہیے تھا، ہم نے تو نہیں کہاکہ پرچاہو، میرے خیال میں دہشت گردی کا پرچہ نہیں بنتاتھا ہاں اگر تشدد کا کاٹ دیتے تو ٹھیک تھا۔

The post پی ٹی آئی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہونا شروع ہوگئے، فیصل واوڈا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/OScAC1s

کراچی: بجلی کی عدم فراہمی پر لیاری اور شاہ فیصل کالونی میں احتجاج

  کراچی: بجلی کی عدم فراہمی پر شہریوں کے احتجاجی مظاہروں اور شدید گرمی کے باوجود بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

آگ برستاتی گرمی اور بجلی کی عدم فراہمی پر میران ناکہ اور شاہ فیصل کالونی میں بلبلائے ہوئے شہریوں کو بالآخر احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑا جس کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ٹریفک پولیس کے مطابق جمعرات کی دوپہر لیاری میراں ناکہ جانب شیر شاہ آنے جانے والے دونوں اطراف پنکھا ہوٹل کے سامنے علاقہ مکینوں کی جانب سے بجلی اور پانی کی عدم فراہمی پر احتجاج کیا گیا جس کی اطلاع پر ٹریفک پولیس نے گاڑیوں کو میراں ناکہ چوک سے مرزا آدم خان روڈ کی جانب اور بکرا پیڑی کی جانب موڑ دیا، اس کے علاوہ شیر شاہ سے آنے والی ٹریفک کو گلبائی کی طرف بھیج موڑ دیا گیا۔

دوسری جانب جمعرات کی شام شاہ فیصل کالونی 2 نمبر ریتا پلاٹ باغ کورنگی روڈ پر بھی علاقہ مکینون ںے بجلی اور پانی کی عدم فراہمی پر احتجاج کیا ، ٹریفک پولیس کے مطابق احتجاج کی اطلاع ملتے ہی عملہ موقع پر پہنچ گیا اور گاڑیوں کو متبادل راستوں سنگر چورنگی سے داؤد چورنگی اور شاہ فیصل کالونی نمبر 2 سے عظیم پورہ کی طرف موڑ دیا۔

تاہم دونوں مقامات پر کیے جانے والے احتجاج مظاہروں کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہونے کی وجہ سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا اور گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ شہر میں روز کی بنیاد پر بجلی کی عدم فراہمی پر احتجاج ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے ناصرف امن و امان بلکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہونے سے عام شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ وہ خود بھی اپنے علاقوں میں بجلی کی بندش سے متاثر ہیں۔

اس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ  شدید گرمی میں گھروں میں نہ تو بجلی ہے اور نہ ہی پانی میسر آرہا ہے آخر کس کے در پر جا کر فریاد کریں،  کبھی شیڈول لوڈشیڈنگ کے نام پر بجلی بند کی جا رہی ہے تو کبھی مینٹینس اور کیبل فالٹس سمیت دیگر بہانوں سے بجلی بند کی جا رہی ہے جس کا نیپرا حکام کو سختی سے نوٹس لینا چاہیے۔

The post کراچی: بجلی کی عدم فراہمی پر لیاری اور شاہ فیصل کالونی میں احتجاج appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/QWhjDB9

Wednesday, 29 May 2024

سانحہ 9مئی؛ عمران خان ناکافی شواہد کی بنیاد پر دو مقدمات سے بری

 اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو سانحہ 9 مئی سے متعلق تھانہ شہزاد ٹاؤن کے دونوں مقدمات سے بری کر دیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر نے بانی پی ٹی آئی کی بریت کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر ملزم کو مقدمات سے بری کیا۔

وکلا مرزا عاصم بیگ اور  نعیم پنجوتھہ نے بانی پی ٹی آئی کی بریت پر دلائل دیے تھے۔

وکیل مرزا عاصم بیگ کا اپنے دلائل میں کہنا تھا کہ غیر مجاز شخص کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے خلاف ایف آئی درج کروائی گئیں تھیں، بانی پی ٹی آئی پر 109 کا الزام عائد کیا گیا مگر کوئی شواہد پیش نہیں کیے جا سکے۔

The post سانحہ 9مئی؛ عمران خان ناکافی شواہد کی بنیاد پر دو مقدمات سے بری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/YabItkS

لاہور: مضر صحت نوڈلز کھانے سے بہن بھائی جاں بحق

 لاہور: مناواں میں مبینہ طور پر مضر صحت نوڈلز کھانے سے دو بہن بھائی جاں بحق ہوگئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق مناواں کے علاقے میں گھر میں مبینہ طور پر مضر صحت نوڈلز کھانے سے دو کمسن بہن بھائی جاں بحق ہوگئے جن کی شناخت 9 سالہ رافع اور11 سالہ مریم کے ناموں سے ہوئی۔

اہلخانہ کے مطابق بچوں نے نوڈلز کھائے تھے جس سے اُن کو  الٹیاں آنا شروع ہوگئیں، طبعیت خراب ہونے پر بچوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زیر علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئے۔

The post لاہور: مضر صحت نوڈلز کھانے سے بہن بھائی جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/foguzaR

کراچی: 100 روپے کیلئے سرکہ پینے کی شرط طالب علم کی جان لے گئی

  کراچی: گلشن معمار میں سو روپے کی شرط لگا کر سرکہ کی بوتل پینے سے کلاس 2 کا طالبعلم جاں بحق ہوگیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق گلشن معمار کے علاقے افغان کیمپ میں ایک لڑکا جاں بحق ہوگیا جس کی لاش عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی جہاں متوفی کی شناخت 12 سالہ شاہ محمد ولد شیر خان کے نام سےہوئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ نجی اسکول کے پرنسپل امین اللہ نے پولیس کو بتایا کہ گلی میں نمکو والے دکاندار نظام الدین نے متوفی سے شرط لگائی تھی کہ اگر تم سرکہ پی جاؤ گے تو تمہیں سو روپے دونگا۔

پرنسپل نے بتایا کہ بچے نے جذبات میں زیادہ مقدار میں سرکہ پی لیا اور اس پر کولڈ ڈرنگ بھی پی لی جبکہ سو روپے شرط کے جیت کر چلا گیا اس کے بعد اسکی طبعیت خراب ہوئی۔

پرنسپل کے بیان کے بعد پولیس نے نظام الدین کو  حراست میں لے لیا ہے، بچے کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے اسپتال منتقل کیا گیا ہے، پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد وجہ موت سامنے آسکے گی، واقعے سے متعلق مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔

The post کراچی: 100 روپے کیلئے سرکہ پینے کی شرط طالب علم کی جان لے گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/ihkUcR7

گلشن معمار میں مبینہ ڈکیتی مزاحمت پر گولی لگنے سے واٹر بورڈ کا عہدیدار جاں بحق

  کراچی: گلشن معمار کے علاقے جنجال گوٹھ میں نامعلوم مسلح ملزمان نے مبینہ طور پر ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ کرکے واٹر بورڈ کے ملازم کو سر پر گولی مار کر قتل کردیا۔

پولیس کے مطابق گلشن معمار کے علاقے جنجال گوٹھ میں واٹر بورڈ سوسائٹی کے قریب  فائرنگ سے ایک شہری جاں بحق ہوگئے، جن کی لاش عباسی شہید اسپتال منتقل کردی گئی جہاں مقتول کی شناخت 45 سالہ رستم کے نام سے ہوئی۔

پولیس نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملنے پر  ایس ایس پی ویسٹ حفیظ الرحمان بگٹی جائے وقوع پر پہنچے جبکہ ایس ایس پی ویسٹ کا کہنا تھا کہ فوری طور واقعے کی نوعیت کاعلم نہیں ہوسکا تاہم مختلف پہلوؤں سے تفتیش کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقتول واٹر بورڈ کا ملازم تھا اور وہ موٹر سائیکل پر جارہے تھے کہ نامعلوم ملزمان نے ان کے سر پر ایک گولی ماری جو جان لیوا ثابت ہوئی، پولیس نے جائے وقوع پر کرائم سین یونٹ کو طلب کرکے شواہد اکھٹے کرلیے ہیں، مقتول کی جیب میں موبائل فون اور رقم بھی موجود ہے۔

ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ واقعہ ڈکیتی مزاحمت کے دوران پیش آیا، مقتول کے اہل خانہ اور رشتے داروں نے بھی واقعے کو ڈکیتی مزاحمت پر قتل قرار دیا ہے تاہم پولیس نے ڈکیتی مزاحمت سمیت دیگر پہلوؤں پر تفتیش شروع کردی ہے۔

ایس ایس پی نے کہا کہ جائے وقوع پر سی سی ٹی وی کیمرے موجود نہیں ہیں اور جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت علاقے میں بجلی بھی نہیں تھی۔

The post گلشن معمار میں مبینہ ڈکیتی مزاحمت پر گولی لگنے سے واٹر بورڈ کا عہدیدار جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/G1Bpz7q

Tuesday, 28 May 2024

ٹیلی کام کمپنیز کو شہریوں کی نگرانی کیلئے فون کال، ڈیٹا ریکارڈنگ سے روکنے کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنیز کو سرویلینس کیلئے فون کال، ڈیٹا ریکارڈنگ سے روکنے کا حکم دے دیا۔

ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے بشری بی بی اور سابق چیف جسٹس کے بیٹے نجم الثاقب کی آڈیو لیکس کیس میں درخواستوں کی سماعت کی۔

عدالت نے کہا کہ قانون بتائیں کس قانون کے تحت پی ٹی اے سرویلینس کر رہے ہیں ، کس سیکشن کے تحت پی ٹی اے والے سرویلینس کر رہے ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے جواب دیا کہ لیگل فریم ورک کے ذریعے کر رہے۔

جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ شہریوں کی کالز کس قانون کے تحت آپ کالز ریکارڈ کر رہے ہیں، باضابطہ طور پر بتائیں ، آپ بتائیں آپ نے کس کو اجازت دے رکھی ہے، کس نے اتھارٹی دی ہوئی ہے کہ لوگوں کی کالز ریکارڈ کی جائیں؟ آپ کے مطابق کسی کو فون ٹیپنگ کی اجازت نہیں دی گئی، اگر آپ اب اس موقف سے پیچھے ہٹیں گے تو اس کے نتائج ہوں گے، قانون کہتا ہے کہ وفاقی حکومت اجازت دے سکتی ہے مگر آپ کے مطابق اس کی اجازت نہیں دی گئی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وہ جواب پٹیشنر کی آڈیو لیکس کی حد تک تھا۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت عدالت میں جھوٹ بولے گی تو بات کیسے آگے بڑھے گی، وزیراعظم آفس سمیت دیگر اداروں کی جانب سے رپورٹس جمع کرائی جا چکی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ کسی کو لیگل انٹرسیپشن کی اجازت نہیں دی گئی، سرویلینس کا اختیار اگر دیا گیا ہے تو بتائیں کہاں موجود ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس حوالے سے اگر رولز نہیں بنے ہوئے تو بننے چاہئیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ کون بنائے گا رولز کس کے ماتحت بنیں گے رولز؟ ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم آئی اور دیگر گریڈ بیس کے افسر کو نوٹیفائی کریں گے، یہ بتائیں کہ اداروں نے نوٹیفائی کر رکھا ہے اس حوالے سے؟ کیا کبھی کسی خفیہ ریکارڈنگ کے لئیے اِس قانون کے تحت آج تک عدالت سے اجازت مانگی گئی؟ قانون کے تحت ہر چھ ماہ بعد کسی کی ایسی خفیہ ریکارڈنگ کے اجازت نامے پر نظر ثانی کی جائے گی، کیا کوئی ایسی نظر ثانی کمیٹی آج تک بنی؟

جسٹس بابر ستار نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ عدالتی اجازت کے بغیر فون ریکارڈنگ اور فون ریکارڈنگ کی فراہمی بھی قابلِ سزا ہے، کیا پی ٹی اے کے لائسنس کی شرائط میں یہ چیزیں شامل ہیں یا پی ٹی اے نے اس حوالے سے کوئی پالیسی دی ہے؟ اس قانون کو پچھلے ایک سال میں فالو کیا گیا ہے یا نہیں؟

عدالت نے استفسار کیا کہ بتائیں کہ غیر قانونی ٹیلی فون ریکارڈنگ پر کیا ایکشن لیا گیا؟ آپ نے کیا تحقیقات کیں کہ سوشل میڈیا پر آڈیو لیکس کیسے وائرل ہوئیں؟ سوشل میڈیا پر کوئی چیز اپلوڈ ہو تو آئی پی ایڈریس سے ٹریک کر سکتی ہے، ایف آئی اے سمیت دیگر اداروں کو کہا کہ ٹریک کر کے بتائیں تو انہوں نے کہا کہ ان کی صلاحیت نہیں، پھر تو یہ اداروں کی ناکامی ہوئی، ایف آئی اور اور پولیس کا کیا کام ہے؟ اس معاملے میں ابھی تک ایف آئی آرز درج کیوں نہیں کی گئیں؟ ایک ملک میں اگر کرائم ہوا ہے تو آپ انتظار کریں گے کہ کوئی آ کر شکایت کرے تو انوسٹی گیٹ کریں، چیف جسٹس کی سرویلنس بھی ہوئی تھی جس پر جواب سپریم کورٹ میں داخل ہوئے، آپ اس متعلق بھی جواب دیں کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے کس قانون کے تحت کیں؟

عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو وفاقی حکومت سے ہدایات لے کر عدالتی سوالوں کے جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیلی کام کمپنیز کو سرویلینس کے لئے فون کال اور ڈیٹا کے استعمال سے روکتے ہوئے کہا کہ اگر ٹیلی کام کمپنیز کے آلات غیرقانونی سرویلنس کے لیے استعمال ہوئے تو ان پر اس کی ذمہ داری عائد ہو گی۔

ہائیکورٹ نے وفاق سے خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی گفتگو کے اعدادوشمار کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔

The post ٹیلی کام کمپنیز کو شہریوں کی نگرانی کیلئے فون کال، ڈیٹا ریکارڈنگ سے روکنے کا حکم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/W6erKpR

ایچ ای سی کا بجٹ 65 سے کم ہو کر 25ارب ہوگیا، صوبوں کی جامعات کی فنڈنگ بند

  کراچی: ہائر ایجوکیشن کمیشن کا بجٹ 65 سے 25 ارب ہوگیا جس کے باعث فنڈنگ صرف وفاقی جامعات تک محدود ہوگئی۔

وفاقی حکومت نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مالی سال 2024-25 کے ری کرنٹ بجٹ (متواتر بجٹ) میں بڑا کٹ لگا کر اسے 25ارب روپے کر دیا ہے اور اسے صرف وفاقی جامعات تک محدود کر دیا گیا ہے، اب وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن صوبوں کی جامعات کو فنڈنگ نہیں کرسکے گی اور صوبے اپنی جامعات کی خود فنڈنگ کریں گے۔

اس حوالے سے وزارت خزانہ نے ہائر ایجوکیشن کو خط بھی لکھ دیا ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ملک کی 160 سے زائد سرکاری جامعات کے لیے 126 ارب کی درخواست کر رکھی تھی۔

اس حوالے سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزارت خزانہ کی جانب ری کرنٹ گرانٹ جب کہ پلاننگ کمیشن کی جانب سے ترقیاتی گرانٹ کم کرنے سے متعلق خطوط موصول ہوئے ہیں اور اس معاملے پر وزیر اعظم کو خطوط بھی لکھے ہیں، انھوں نے کہا صوبوں اور فیڈریشن کو چاہیے کہ تعاون کرے۔

The post ایچ ای سی کا بجٹ 65 سے کم ہو کر 25ارب ہوگیا، صوبوں کی جامعات کی فنڈنگ بند appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/U5IZKOt

بلوچستان میں مسافر بس کھائی میں جاگری، خواتین و بچوں سمیت 28 جاں بحق

 کوئٹہ: بلوچستان میں مسافر بس گہری کھائی میں گر جانے سے خواتین اور بچوں سمیت 28 افراد جاں بحق ہو گئے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق تربت سے کوئٹہ آنے والی مسافر کوچ واشک کے علاقے میں حادثے کا شکار ہوئی۔ بس گہری کھائی میں گرنے سے 28 افراد جاں بحق اور کئی دیگر زخمی ہو گئے، جن میں خواتین و بچے بھی شامل ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق مسافر بس کو حادثہ ٹائرپھٹنے کی وجہ سے پیش آیا۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچیں اور لاشوں و زخمیوں کو نکال کر سول اسپتال بسیمہ منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں زخمیوں کو مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق حادثے میں 20 سے زیادہ افراد زخمی ہیں، جن میں سے بیشتر کی حالت تشویش ناک ہے، جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

The post بلوچستان میں مسافر بس کھائی میں جاگری، خواتین و بچوں سمیت 28 جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/AEYtWwD

کیا سچی بات کرنے پر آپ وزیراعظم کو بھی بلائیں گے؟، فیصل واوڈا

 اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ ہم کسی جج کی تذلیل کرنے تو نہیں آئے، انصاف کا جو نظام ہے اس میں چوبیس کروڑ لوگوں کی تو یہی آواز ہے جو ہماری آواز ہے۔ کیا چوبیس کروڑ لوگوں کو آپ بلا لیں گے۔

میں نے جج کی تقرری پر سوال کیا تھا۔ اس کا جواب جب آیا ہے تو بابر ستار اور جسٹس اطہر من اللہ کے جواب میں تضاد ہے۔ تاثر غلط نکلا ہے۔ اس میں کیا کچھ چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔ وہ تو سرعام بات ہو گئی ہے۔ اس کیس میں میں نے اگر 19(a)کے تحت سچ مانگا اور وہ سچ نہیں نکلا تو کیا میں جرم میں آ گیا ہوں یا میں نے دہشت گردی کر دی ہے، یا مجھے پھانسی کی سزا ہو جائے گی۔

نجی ٹی وی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ جن سے سوال کیا تھا ان ججوں کے نام تومیں لوںگا۔ پھران میں سے ایک جج نے مجھے پراکسی کہہ دیا۔ اتنی زیادہ جرات دکھائی۔ قانونی طور پر جج کوئی الزام نہیں لگا سکتا۔ اب میں اس جج سے کہہ رہا ہوں کہ میرے پراکسی ہونے کے ثبوت بھی دے دیں، ورنہ میں تو پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ میں نے تو کہیں کچھ کیا نہیں۔ جرمنی میں کچھ ہوا ہے۔ جرمنی میںتیز ہوا چلی ہے ، سٹریٹ لائٹ گری ہے ، مجھے بلا لیا ہے۔

لنڈن میں انڈے کم ہو گئے ہیں۔ بھئی میں نے تو کچھ کیا ہی نہیں ہے، میں تو زمرے میں ہی نہیںہوں۔ جنہوں نے کیا ہے، کیا پرائم منسٹر کو بھی بلائیں گے؟سچی بات کرنے پہ۔ کیا نواز شریف کو بھی بلائیں گے؟کیا وہ ایم این ایز کو بھی بلائیں گے؟ کیا دیگر چوبیس کروڑ لوگ ہیں ان کو بھی بلائیں گے۔

بھئی جواب تو دینا ہوگا۔ سب کے لیے قانون تو برابر ہے۔ آج جو انقلابی ہیں انکی بیک گراؤنڈ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اتنے اتنے شواہد ہیں بلیک اینڈ وائٹ۔ میں نے جو سینیٹ میں تقریر کی ہے، بیکڈ بائی ایویڈنس کی ہے۔ اس پر بھی ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔ مجھے پراکسی کہا اس پر بھی کچھ نہیں ہوا۔ ایک سوال پر فیصل واوڈا نے کہا کہ میں نے تو کہا کہ آپ عمران خان سے ضرور اس بارے میں پوچھیں، ان کو بھی ایک چانس دیں ۔

میں تو بہت عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ پی ٹی آئی کے جو لوگ ہیں وہ اپنے لیڈر کیلئے مزید قبر کھود رہے ہیں سیاسی طور پر۔ چاہتے ہیں کہ وہ بند رہیں تاکہ یہ اس کے فائدے اٹھاتے رہیں۔ عمران خان سے پوچھ لیں کہ یہ بیانیہ آپ کا ہے یا نہیں ہے۔ کیونکہ وہ تو جیل میں ہیں۔ یہ بیانیہ تو ملک توڑنے کی سازش ہو رہی ہے۔ پی ٹی آئی کا یہ بیانیہ آپ کو بتاتا ہے کہ 9مئی انہوں نے ہی کیا ہے۔ کیونکہ سزائیں نہیں ہوئیں تو یہ آگے آ گئے۔ پھر ایس آئی ایف سی آ گئی۔ پھر ایس آئی ایف سی کی تصویریں لگا دی۔ اب 71کی جنگ کا حوالہ دے کر آگے بڑھے ہیں اور پھر قدموں میں پڑگئے ہیں۔

اب تو قدموں میں پڑنے کا ٹائم گزر گیا ہے۔ دیر ہو گئی ہے۔ مجھے جہاں تک لگتا ہے ، میرا تجزیہ ہے کہ جو بھی پی ٹی آئی نے کام کیا۔ آپ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ہی بھروسہ نہ کریں۔ پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ پر ہی بھروسہ نہ کریں۔ اس کو انڈینز بھی ٹرولنگ کر رہے ہیں۔ اتفاق سے یہ بھی ہو گیا ہے اور پھر کچھ کالی بھیٹریں انہیں بچانے کیلئے بھی لگی ہوئی ہیں۔ دائیں بائیں، آگے پیچھے، اوپر نیچے۔ تو سب چیزوں کا موازنہ آپ کریں تویہ ملک توڑنے کی سازش ہوئی۔

اپنی سیاست کے لیے آپ ملک تو نہیں توڑ سکتے۔ اور اگر آپ ملک توڑنے کی طرف جا رہے ہیں اور نائن مئی میں آپ کنیکٹ ہو گئے ہیں تو ابہام نہیں ہونا چاہیے ۔ گوہر صاحب کہہ رہے ہیں کہ ٹویٹ کے پیچھے عمران صاحب نہیں ہیں تو پارٹی کے وہ لوگ جنہوں نے ملک توڑنے کی پہلے بھی سازش کی اس میں چیئرمین صاحب کی کتنی حمایت تھی، کتنی نہیں تھی وہ پتہ کر کے بتائیں۔ میں بہت واضح طور پر کہتا ہوں مجھے تو لگتا ہے کہ یہ پی ٹی آئی اب پابندی کی طرف جائے گی۔

کیونکہ اگر آپ نے ایم کیو ایم لندن پر پابندی لگائی تھی ، تحریک لبیک جو کہ محب وطن لوگ ہیں ، دشمن نہیں ہیں پاکستان کے ، ان کو آپ نے شیڈول ٹو میں ڈالا تھا  تو یہاں تو آپ نے ملک کی سلامتی خطرے میں ڈال دی ہے۔ یہاں آپ نے ملک کو توڑنے کی سازش کر دی ہے۔ یہاں آپ نے ملک کے اندر شہیدوں کے تمسخر اڑا دیے ہیں۔

آپ نے آگ لگا دی ہے۔ آپ نے وہ کام کیا ہے جو دشمن کرتا ہے اور آپ اس بیانیے کو مزید فروغ دیتے چلے جا رہے ہیں، دیتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر آپ ایس آئی ایف سی پر تصویریں لگا دیتے ہیں۔ پھرآپ اس سے نکلتے ہیں اور 71کی جنگ  میں چلے جاتے ہیں۔ اب رہ کیا گیا ہے۔ رہ یہ گیا ہے کہ پی ٹی آئی سے کوئی آئے ، کلاشنکوف لے  اور سب کو گولی مار دے۔ اگر ہم  (ن) کے خلاف تھے، اگر ایم کیو ایم لندن کے خلاف تھے تو آج کس طرح کہتے ہیں کہ یہ جسٹیفائڈ ہے، کیونکہ آپ پاپولر لیڈرہیں۔ آپ نے پہلے کلہاڑی ماری تھی اب آپ نے اپنے پاؤں پر کلہاڑا مار لیا ہے۔

یہ صرف پی ٹی آئی کے لوگ نہیں ہیں۔ اس پی ٹی آئی میں پوری گیم ہے۔ کالی بھیٹروں کے اندر آپ کو خاص بھی ملیں گے۔ عام بھی ملیں گے۔ بہت بڑے ستارے بھی ملیں گے۔ بہت بڑی علمدار جو پاکستان کے ٹھیکیدار ہیں ، وہ بھی آپ کو ملیں گے۔ یہ اتنا سمپل نہیں ہے۔ یہ پورا ایک مافیا آپریٹ کر رہا ہے۔ جو چور، بے ایمان اور ملک دشمن عناصر ہیں۔ وہ کچھ لوگ ہیں، شاید کچھ درجن  یا ہنڈرڈز۔ اس سے زیادہ میں بول نہیں سکتا۔ لیکن جتنا میرا تجزیہ ہے، مجھے تو نہیں لگ رہا کہ اس کے اندر اور کچھ مزید  ہوگا۔ میں نے کل بھی بات کہی تھی کہ آپ پکڑتے جائیں، وہ چھوڑتے جائیں گے۔

آپ پکڑتے جائیں ، وہ چھوڑتے جائیں گے۔ اینڈ میں کرتوتوں کے تحت سب ہی اندر جائیں گے۔ پی ٹی آئی پر پابندی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ میرا تجزیہ ہے کہ  اس طرف چلی جائے گی۔ میرا خیال اس لیے ہے  کیونکہ جتنی پارٹیاں میں نے گنوائیں ایم کیو ایم پاکستان گنوائی، تحریک لبیک جو میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے دشمن بالکل بھی نہیں ہیں ، میں سمجھتا ہوں کہ اگر آپ ان کو شیڈول ٹو میں ڈال رہے ہیں تو یہ تو ایسی سٹیج پر لے آئی ہے۔

پی ٹی آئی خود ریورس کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کا طرز سیاست تو آپ کو نظر آ رہا ہے۔ جب چاہتے  ہیں گلے پڑ جاتے ہیں، جب  چاہتے ہیں پاؤں پڑ جاتے ہیں۔ پہلے باجوہ صاحب برے تھے۔ پھر باجوہ صاحب کو ایکسٹیشن دے رہے تھے۔ پھر یہ فوج بری تھی اب اس فوج سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ سیاست اگر آگ لگانے  کا نام ہے ، ملک دشمنی کا نام ہے،اس کی ٹرولنگ کے شواہد مل گئے جس میں انڈیا بھی پارٹ اینڈ پارسل نظر آ رہا ہے۔ تو اگر آپ ان سب چیزوں کے اندر آ رہے ہیں تو پھر آپ دوسروں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ آپ اس سے زیادہ بڑھ گئے اور نو مئی کے واقعہ سے آپ ڈسٹنس یا  ڈس انگیج کر کے  آپ نے کیا بتا دیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ جنہوں نے یہ ٹویٹر اکاؤنٹ چلایا ہے ، جنہوں نے پی ٹی آئی آفیشل سے یہ کام کیے ہیں  کیا  وہ پی ٹی آئی کے ہیں یا عام لوگ ہیں۔PTI جوکر رہی،کالعدم ہونے کی طرف جائیگی۔1971کے حوالے سے ٹویٹ پر بھارتی ٹرولنگ کر رہے، ملک توڑنے کی سازش ہو رہی۔  پراکسی کے ثبوت دیئے جائیں پیچھے نہیں ہٹوں گا، PTI کے لوگ عمران کودفن کررہے ہیں۔ اس پارٹی پر پابندی لگانے کی بات نہیں ہو رہی تو وہ بھی تو ملک کے مخلص نہیں ہوں گے۔

اب تو ملک کو بچانے والی بات ہو گئی ہے۔ پارٹی کے لوگ منصوبے کے تحت خان کو مزید سیاسی طور پر دفن کر رہے ہیں، سیاسی طور پر ان کو ایسی جگہ پر لے جا رہے ہیں ، جہاں سے واپسی نہ ہو۔ میری تو آج بات سچی ہو گئی ہے۔ جتنے دلیر تھے جو بل سے نکلے تھے ، کسی کے اشارے کے تحت، وہ بلوں میں پھر کیوں چلے گئے ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت یا ڈیل کے حوالے سے سوال پر فیصل واوڈا نے کہا کہ غلط بیانیے کا جو تسلسل اور سلسلہ جو ہے، یہ یو ٹرن پہ یو ٹرن ، اتنے یوٹرن ہو گئے ہیں کہ  اس کو کیا کہیں مجھے تو سمجھ نہیں آ رہا۔ ہر بات کر کے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

 

The post کیا سچی بات کرنے پر آپ وزیراعظم کو بھی بلائیں گے؟، فیصل واوڈا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/qKOBFbN

Monday, 27 May 2024

پشاور رنگ روڈ پر ٹریفک حادثے میں 4 فراد جاں بحق

 پشاور: رنگ روڈ پر خطرناک ٹریفک حادثے میں 4 افراد جاں بحق ہو گئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پشاور رنگ روڈ پر ٹریفک حادثہ پشتخرہ چوک کے قریب گاڑیاں ٹکرانے کے باعث ہوا۔ ریسکیو 1122 کے مطابق محکمے کی 4 ایمبولینسز کو اطلاع ملنے پر فوراً موقع پر روانہ کیا گیا، جہاں امدادی ٹیموں نے لاشوں اور زخمیوں کو نکالا۔

خطرناک حادثہ مہران اور ویگو کے مابین ہوا، جس میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 4 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ امدادی ٹیموں نے لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔

حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

The post پشاور رنگ روڈ پر ٹریفک حادثے میں 4 فراد جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/sFRndmU

پاکستان کی رفح میں پناہ گزینوں کے کیمپ پر اسرائیلی بربریت کی شدید مذمت

پاکستان نے رفح میں پناہ گزینوں کے کیمپ پر اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین القوامی قوانین اور عالمی عدالت انصاف کے حکم کی صریحا خلاف ورزی قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان نے رفح میں پناہ گزینوں کے کیمپ پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے گھر اور کیمپ میں پناہ لینے والے افراد کو نشانہ بنانابین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

مزید پڑھیں: فرانس،اسپین اور اٹلی سمیت متعدد ممالک کی اسرائیل کے رفح پر حملے کی مذمت

دفتر خارجہ کی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہا 24 مئی 2024 کو اسرائیل کی جانب سے کیا جانے والا حملہ بین الاقوامی عدالت انصاف کے حکم کی بھی صریح خلاف ورزی ہے، اسرائیلی قابض افواج نے ایک بار پھرقابل قبول بین الاقوامی طرز عمل کی توہین کا مظاہرہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا خیمہ بستی پر آگ و بارود سے حملہ، 45 فلسطینی شہید، بچوں کی سربریدہ لاشیں برآمد

دفترخارجہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان 24 مئی 2024 کے آئی سی جے کے احکامات پر فوری عمل درآمد کے مطالبے کا اعادہ کرتا ہے، غزہ میں شہریوں کے مکمل تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں اور غزہ کی نسل کشی کے لیے اسرائیلی قابض افواج کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

اسے بھی پڑھیں: رفح پر حملے ’انتہائی سنگین‘ ہیں، تحقیقات کریں گے؛ اسرائیلی فوجی پراسیکیوٹر

پاکستان نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اسرائیل کو رفح میں شہریوں کے خلاف مزید حملوں سے روکے۔

The post پاکستان کی رفح میں پناہ گزینوں کے کیمپ پر اسرائیلی بربریت کی شدید مذمت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/rn1ey2B

Sunday, 26 May 2024

پریشر ککر کسی بھی دن پھٹ کر اقتدار پرغاصبانہ  قبضہ کرنے والوں کو جھلسا دے گا، عارف علوی

  کراچی: سابق صدر عارف علوی کا کہنا ہے کہ پریشر کُکر کسی بھی دن پھٹ جائے گا اور اقتدار پرغاصبانہ اور جھوٹا قبضہ کرنے والوں کو جھلسا دے گا۔

سوشل میڈیا پر بیان میں سابق صدر عارف علوی نے بیان میں کہا کہ بھاگنے والے راہ فرار اختیار کریں گے۔ جنہوں نے بیرون ملک راستے ہموار کیے ہوئے ہیں اور ہمارا لوٹا ہوا مال ودولت باہر رکھا ہوا ہے۔

عارف علوی نے مزید کہا کہ مافیا یہ سمجھ لے اور ہم ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کرتے ہیں کہ ہم بچائیں گے پاکستان کو۔ پریشر ککر کسی بھی دن پھٹ جائے گا اور اقتدار پرجھوٹا اور غاصبانہ قبضہ کرنے والوں کو جھلسا دے گا۔ ہم وفادار پاکستانی ہیں  جنھوں نے اپنے ملک میں جینے اور مرنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ  ہم بھی دیکھیں گے یہ کہاں جایئں گے۔ اللہ ایسے لوگوں پر دنیا بھی تنگ کرتا ہے۔ ہم پاکستان کو قوموں کی برادری میں عزت سے کھڑا کریں گے اور ترقی کریں گے۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اس جھوٹی ، غیر قانونی، جابر اور سفاک حکومت کے تحت جاری لوٹ مار کی راکھ پر وطن کو تعمیر کریں گے۔

The post پریشر ککر کسی بھی دن پھٹ کر اقتدار پرغاصبانہ  قبضہ کرنے والوں کو جھلسا دے گا، عارف علوی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/9YnZfX2

چائلڈ میرج اب نہیں… روک تھام کا بل اسمبلی میں پیش!

کم عمری کی شادی ایک بڑا معاشرتی مسئلہ ہے جس سے بچوں کی زندگی متاثر ہورہی ہے۔ اس کی روک تھام کیلئے حکومت پنجاب کی جانب سے قانون میں ترمیم کی جا رہی ہے۔

اس ضمن میں اسمبلی میں متعدد بلز پیش کیے گئے ہیں ۔ اس معاملے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ’’کم عمری کی شادی کی روک تھام اور حکومتی اقدامات‘‘ کے موضوع پر ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں حکومت، اکیڈیمیا اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

شفیق رتیال

(آفیسر انچارج ہیڈ کوارٹر، چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب)

حکومت چائلڈ میرج روک تھام ایکٹ میں ترمیم پر کام کر رہی ہے۔ اس حوالے سے پنجاب اسمبلی میں تین بلز پیش کیے گئے ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ہماری چیئرپرسن و رکن پنجاب اسمبلی سارہ احمد نے بھی اسمبلی میں بل پیش کیا جس پر سپیشل کمیٹی نمبر 1 غور کر رہی ہے۔ اس بل کے مطابق چائلڈ میرج، بچے کے تحفظ کا معاملہ ہے لہٰذا اسے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کے دائرہ کار میں ہونا چاہیے۔

ہمارے پاس شکایت کا آسان اور موثر میکنزم موجود ہے، ہماری ہیلپ لائن بھی ہے جس پر شہری شکایت کر سکیں گے اور پھر قانون حرکت میں آئے گااور فوری کارروائی کی جائے گی۔ اس ایکٹ میں شادی کیلئے لڑکے، لڑکی کی عمر میں امتیاز ختم کرنے کی بات بھی کی گئی ہے جس کے بعد عمر کی کم ازکم حد 18برس کی جائے گی اور شادی کیلئے شناختی کارڈ کی شرط بھی لازمی ہوگی۔ تمام اضلاع میں ہماری چائلڈ پروٹیکشن کورٹس موجود ہیں، اگر یہ معاملہ ہمارے دائرہ اختیار میں آگیا تو بچوں کو فوری تحفظ اور انصاف ملے گا۔

چائلڈ میرج کا معاملہ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے دائرہ کار میں ہے لہٰذا انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو سمری بھجوائی ہے جس میں عدالتی حکم کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف لڑکے، لڑکی کی شادی کی عمر کی کم از کم یکساں کرکے 18 برس کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ہم نے چائلڈ میرج کے حوالے سے جو بل پیش کیا ہے اس میں اور معاملات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ہم نے یہ بل محکمہ داخلہ کو بھی بھجوایا اور اسمبلی میں بھی پیش کیا گیا۔ چائلڈ میرج ایک اہم ایشو ہے اور حکومت اس بارے میں سنجیدہ ہے، یہ مفاد عامہ کا معاملہ ہے لہٰذا اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، عجلت میں اقدامات نہیں اٹھائے جاسکتے، سوچ سمجھ کر آگے بڑھا جا رہا ہے تاکہ بعدازاں عملدرآمد کے مسائل پیدا نہ ہوں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ چائلڈ پروٹیکشن پالیسی بھی اسمبلی میں بہت پہلے پیش کی جا چکی ہے، اگر اس کی منظوری ہوگئی تو تمام متعلقہ ادارے آپس میں لنک ہوجائیں گے جس سے چائلڈ میرج کی روک تھام میں بھی بہتری آئے گی۔

ہمارا مقصد لوگوں کو سزا دینا نہیں، ہم چائلڈ میرج کی روک تھام چاہتے ہیں جس کے لیے لوگوں کو آگاہی دی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں آگاہی مہم، سیمینارز، ٹی وی اشتہارات و دیگر اقدامات کیے جا رہے ہیں، سب کو اپنا اپنا کردار موثر انداز میں ادا کرنا ہوگا۔

ڈاکٹر مریم گُل

(اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اپلائڈ سائیکالوجی لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی)

ہر بچے کو اپنی پسند، شمولیت اور رائے کی آزادی ہے۔ ا سے وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو دیگر انسانوں کو میسر ہیں لیکن اگر یہ حقوق صلب کیے جائیں گے توبچے میں ذہنی اور جسمانی مسائل جنم لیں گے جس سے ہمارے سماجی مسائل میں اضافہ ہوگا۔ بچے اپنی بڑھتی عمر کے ساتھ کشمکش کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے کیسز بھی سامنے آئے ہیں کہ عمر کے ساتھ بچے کی آواز بھاری ہوگئی، چھوٹے بچے کہتے ہیں کہ بڑوں میں کھیلو اور بڑے اسے بچہ کہتے ہیں، وہ ایسے معاملات پر نفسیاتی مسائل کا شکار ہوجا تا ہے۔ کم عمری کی شادی کی وجہ سے تو وہ سنگین نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔

یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق ہمارے 2 کروڑ بچوں کی درست ذہنی نشونما نہیں ہوئی، اگر انہیں نفسیاتی اور سماجی تعاون نہ ملا تو یہ کارآمد شہری کیسے بنیں گے؟ اگر ان کی کم عمر میں ہی شادی کر دی گئی تو یہ گھر کیسے چلائیں گے؟ ان کے پاس تو ’پیرنٹنگ سکلز‘ ہی نہیں ہیں، ا ن کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔کم عمری کی شادی سے لڑکیوں میں ہارمونز کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں، ماں، بچے کی دوران زچگی اموات کی شرح بھی زیادہ ہے، بچوں خصوصاََ لڑکیوں میں ڈپریشن میں اضافہ ہو رہا ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔ اس کے معاشرے پر بھی برے اثرات پڑیں گے۔

ہمارے ہاں والدین فیصلہ سازی کا اختیار اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح مائیں بڑے بچوں کو بھی خود کھانا کھلا رہی ہوتی ہیں، انہیں اپنا خیال خود رکھنے کے قابل نہیں بناتی۔ اگر ایسے کمزور بچوں کی شادی کر دی جائے تو وہ کس طرح حالات کا سامنا کریں گے۔ میرے نزدیک احتیاط علاج سے بہتر ہے۔

ہمیں کم عمری کی شادی کے نقصانات کے بارے میں لوگوں کو آگاہی دینی ہے۔ انہیں یہ بتانا ہے کہ اس کے نہ صرف بچوں کی زندگی پر برے اثرات پڑیں گے بلکہ معاشرہ بھی متاثر ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر 18 برس کے بعد بچہ گاری چلانے کا لائسنس حاصل کرتا ہے تو اس پر کم عمری میں گھر چلانے کی ذمہ داری کیسے ڈالی جاسکتی ہے؟ دیہات میں کم عمری کی شادی کی شرح زیادہ ہے جس کی مختلف وجوہات ہیں۔ وہاں تعلیم کی کمی اور غربت زیادہ ہے لہٰذا لوگ اولاد کو پیسہ کمانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ہمیں بچوں کے محفوظ مستقبل کیلئے کم عمری کی شادی جیسے رویوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہونگی۔

بشریٰ خالق

(نمائندہ سول سوسائٹی)

بچے سے مراد جنس کے اعتبار سے مرد، عورت اور خواجہ سرا، تینوں ہیں۔ بچے معصوم اور کمزور ہوتے ہیں، وہ خود اپنی آواز نہیں اٹھا سکتے لہٰذا ایسی عمر کا تعین ضروری تھا کہ جس میں بچے میں اپنے لیے بات کرنے کا حوصلہ ہو اور وہ اپنے معاملات پر گفتگو بھی کر سکے۔ اس حوالے سے دنیا کی ریاستوں نے متفقہ فیصلہ کیا کہ بچہ ایک مکمل فرد ہے اور اسے تمام انسانی حقوق حاصل ہیں، اس کی عمر کی حد بھی 18 برس رکھی گئی۔

اس حولے سے اقوام متحدہ کا چارٹر برائے حقوق اطفال موجود ہے جو متفقہ طور پر تیار کیا گیا، دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان نے بھی اس پر دستخط کیے اور اس کی توثیق بھی کی مگر افسوس ہے کہ اس کی روشنی میں ہمارے ہاں خاطر خواہ اقدامات نہیں ہوسکے۔ آج بھی مختلف قوانین اور طبقات میں بچے کی عمر الگ، الگ ہے۔ بچے کے حوالے سے سب کے رویے اپنے اپنے ہیں، کوئی بلوغت کی عمر تک بچہ سمجھتا ہے تو کسی کا پیمانہ اور ہے۔

ہمارے رویوں کی وجہ سے بچوں کیلئے مسائل پیدا ہورہے ہیں لہٰذا اقوام متحدہ کے چارٹر کی روشنی میں بچے کی عمر کا تعین کیا جائے، اس کے بعد تو کوئی دوسری رائے نہیں ہونی چاہیے، اس چارٹر پر تو سب راضی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ بچوں کی ذہنی، جسمانی اور جنسی صحت کو یقینی بنانے کیلئے اقوام متحدہ کے مذکورہ چارٹر کی روشنی میں قانون و پالیسی سازی کرے اور اس پرعملدرآمد کا موثر میکنزم بھی بنایا جائے۔ 18 برس سے کم عمر کو بچہ تسلیم کیا جائے۔ یہاں ایک غور طلب بات یہ بھی ہے کہ بچوں کی شادیاں کیونکہ ان کی رضامندی سے نہیں ہوتی، ان پر والدین یا خاندان کی مرضی مسلط کی جاتی ہے لہٰذا یہ چائلڈ میرج کے ساتھ ساتھ جبری شادیاں بھی ہیں جو سنگین جرم ہے۔

بچے خود اپنا تحفظ نہیں کرسکتے لہٰذا ہمیں ان کیلئے نہ صرف آواز اٹھانی ہے بلکہ ارباب اختیار پر زور دینا ہے کہ وہ ان کے تحفظ کیلئے اقدامات کریں جو بلا امتیاز رنگ، نسل، مذہب، امیر، غیرب، تعلیم یافتہ، ان پڑھ و دیگر تفریق کے ہوں،ا س حوالے اقوام متحدہ کا چارٹر رہنما ہے۔ پنجاب میں شادی کا معاملہ قانونی اعتبار سے صنفی برابری پر بڑا سوال ہے۔ 18 برس سے کم عمر بچے، بچیاں کم عمری کی شادی کا شکار ہو رہی ہیں۔ قانون میں لڑکے کی شادی کی کم از کم عمر 18 برس اور لڑکی کی 16 برس ہے جو بڑا امتیاز ہے جبکہ آئین کے مطابق تمام شہری برابر ہیں، کسی امتیاز کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ ہمارے ہاں والدین بچوں پر اپنا حق سمجھتے ہیں، وہ انہیں فیصلہ سازی میں شریک نہیں کرتے بلکہ خود فیصلہ لیتے ہیں اور بچے اس پر عمل کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔

یہ صورتحال بچوں کی شادی کے حوالے سے بھی ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 27 فیصد شادیاں کم عمری کی ہیں۔ دیہات میں یہ شرح 47 فیصد جبکہ شہروں میں 25 فیصد ہے، اس میں ذہنی پسماندگی، غربت، رسم و رواج،  مذہبی وجوہات و دیگر شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار ہوشربا ہیں، ایسے میں ہم کس طرح اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کر سکیں گے؟کم عمری کی شادی کی وجہ سے بچیوں کی صحت اور زندگی متاثر ہو رہی ہے، دوران زچگی ماں اور بچے کی شرح اموات بڑھ گئی ہے، آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے، معاشی مسائل پیدا ہو رہے ہیں جبکہ دنیا میں مختلف اہداف کے حوالے سے ہماری ریٹنگ شرمناک ہوچکی ہے۔ ہمارے پاس کوئی جامع پالیسی نہیں کہ کس طرح بچوں کو تحفظ دنیا ہے اور ان کی بحالی کرنی ہے۔

افسوس ہے کہ اس صدی میں بھی ہمارے بچوں کی زندگی خطرے میں ہے، ان کی صحت، بچپن، زندگی، آگے بڑھنے کے مواقع سمیت بیشتر معاملات ایسے ہیں جن سے بچے محروم ہو رہے ہیں۔ سماجی و معاشی منظر نامے میں 27 فیصد لڑکیوں کی تعلیم اور صحت متاثر ہو رہی ہے۔ لڑکیوں پر گھریلو تشدد بھی ہو رہا ہے، کم عمری کی شادی کی صورت میں یہ زیادہ ہو جاتاہے۔ خواتین کے حقوق کے حوالے سے سیڈا اور اقوام متحدہ کے چارٹر موجود ہیں۔

میرے نزدیک ہمیں بچوں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ میں کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہیے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر برائے حقوق اطفال پر اس کی اصل روح کے مطابق کام ہونا چاہیے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ پنجاب میں لڑکی کی شادی کی کم از کم عمر بھی 8 1برس اور شادی کیلئے شناختی کارڈ کی شرط لازمی رکھی جائے۔ چائلڈ میرج کی روک تھام کے ایکٹ میں ترمیم کیلئے حکومت کو چاہیے کہ سول سوسائٹی اور سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرے، ایسی قانون سازی کی جائے جس سے بچوں کے مسائل حل ہوسکیں۔

مقداد سید

(چائلڈ رائٹس ایکٹیوسٹ وماہر قانون)

صوبہ سندھ میں کم عمری کی شادی کی روک تھام کا قانون بہترین ہے۔ اس میں لڑکے اور لڑکی کی کم از کم عمر 18 برس رکھی گئی ہے، چائلڈ میرج پر کریمنل کارروائی ہوتی ہے، صلح نامہ نہیں ہوسکتا اور نہ ہی ضمانت ہوتی ہے۔ اس میں شکایت کا میکنزم بھی اچھا ہے، فون کال پر پولیس کو اطلاع دی جاسکتی ہے جس کے بعد قانون حرکت میں آتا ہے اور جرم کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ پنجاب کے قانون میں شادی کیلئے لڑکے کی کم از کم عمر 18برس جبکہ لڑکی کی 16 برس ہے۔

یہ ایک بڑا امتیاز ہے جس کے خاتمے کیلئے عرصہ دراز سے مطالبہ کیا جا رہا ہے، ہر مرتبہ اس میں کوئی رکاوٹ آجاتی ہے اور قانون میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ اس قانون میں شکایت کا موثر میکنزم بھی موجود نہیں ہے ، یونین کونسل کے سیکرٹری کو شکایت کی جاسکتی ہے۔ قانون کی کمزوری کا فائدہ لوگ اٹھاتے ہیں، صورتحال یہ ہے کہ پنجاب میں آج تک چائلڈ میرج پر کسی کو سزا نہیں ہوئی۔ ہائی کورٹ کے حکم پر پنجاب حکومت اس قانون میں لڑکے اور لڑکی کی عمر میں تفریق کو ختم کرنے پر کام کر رہی ہے، ہماری تجاویز ہیں کہ سندھ کے ایکٹ کی طرح اس میں سزا اور رپورٹنگ کو شامل کیا جائے، بچوں کی بحالی کے حوالے سے بھی لائحہ عمل بنایا جائے۔

کم عمری کی شادی ایک منحوس چکر ہے جس کے اثرات نسل در نسل چلتے ہیں اور ملک و قوم کا نقصان ہوتا ہے۔ کم عمری کی شادی سے معاشرے کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، سب سے زیادہ اثر بچوں پر ہوتا ہے۔ ایک مسئلہ زندگی کا ہے، دوران زچگی ماں، بچے کی شرح اموات زیادہ ہے۔ اسی طرح کم عمر ی کی شادی میں بچوں کے تحفظ کا مسئلہ ہے، بچوں سے جبری مشقت بھی لی جاتی ہے، رسم و رواج بھی کچھ ایسے ہیں جن سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ بچوں کی ڈویلپمنٹ کا مسئلہ بھی ہے، ان کی تعلیم، کھیل و دیگر سرگرمیوں میں شمولیت ختم ہوجاتی ہے جس سے ان کی ڈویلپمنٹ رک جاتی ہے۔

کم عمری کی شادی سے بچوں کے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہو رہے ہیں جو افسوسناک ہے۔کم عمری کی شادی کے اثرات کے نتیجے میں ہمارا جی ایس پی پلس سٹیٹس بھی متاثر ہوگا۔ ہم نے اقوام متحدہ کے چارٹر برائے حقوق اطفال کی توثیق کر رکھی ہے، سیڈا و دیگر کنونشنز موجود ہیں، ہمیں اپنی عالمی ساکھ بہتر بنانے کیلئے چائلڈ میرج کی روک تھام سمیت وہ تمام اقدامات کرنا ہونگے جن کی ہم نے کمٹمنٹ کر رکھی ہے۔ ہمارے ہاں لڑکی کی شادی کی کم از کم عمر 18 برس کرنے پر اعتراضات اٹھائے جا تے ہیں۔ سعودی عرب اور مصر جیسے اسلامی ممالک میں بھی شادی کی کم از کم عمر 18 برس مقرر کر دی گئی ہے، یہ معاملہ بچوں کے تحفظ ، زندگی اور مستقبل کا ہے لہٰذا ہمیں ہر ممکن اقدامات کرنا ہونگے۔

The post چائلڈ میرج اب نہیں… روک تھام کا بل اسمبلی میں پیش! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/1XABLNI

لاہور میں شدید گرمی، پارہ 44ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان

لاہور میں شدید گرمی کے باعث آج پارہ 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں شام کے وقت گردآلود ہوائیں چلنے کے امکانات ہیں تاہم آئندہ دو روز تک موسم خشک اور گرم رہے گا۔

آج دن 11 بجے جیکب آباد اور موہنجو داڑو میں 47، لاڑکانہ اور سبی میں 46، ڈیرہ غازی خان، بھکر اور رحیم یار خان میں  45 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

اسلام آباد میں 38، لاہور میں 41، کراچی میں 35، پشاور میں 39، کوئٹہ میں 33، گلگت اور مظفر آباد میں 32، اسکردو اور مری میں 28، فیصل آباد اور ملتان میں 41 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند روز سے پنجاب شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔

The post لاہور میں شدید گرمی، پارہ 44ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/MoT8UQh

Saturday, 25 May 2024

خیبرپختونخوا حکومت کا عالمی مالیاتی اداروں سے بھاری قرض لینے کا فیصلہ

پشاور: حکومت خیبرپختونخوا نے مالی سال 25-2024 کے دوران عالمی مالیاتی اداروں سے بھاری قرضے لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت خیبرپختونخوا نے مالی سال 25-2024 میں عالمی مالیاتی اداروں سے آئندہ مالی سال کے لیے 121 ارب 75 کروڑ 40 لاکھ روپے قرض لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ بجٹ میں عالمی بینک سے 60 ارب 52 کروڑ ، ایشیائی ترقیاتی بینک سے 46 ارب 93 کروڑ قرض لیا جائے گا۔اس کے علاوہ صوبائی حکومت کو دوست ملک چین سے بھی ایک ارب 49 کروڑ کا قرض ملنے کی توقع ہے۔

دستاویز میں کہا گیا کہ امریکی امدادی ادارے یو ایس ایڈ سے تین ارب 90 کروڑ، بین الاقوامی ترقیاتی ایجنسی سے 12 ارب، کے ایف ڈبلیو سے دو ارب 49کروڑ کا قرض لیا جائے گا۔اس کے علاوہ بین الاقوامی امدادی اداروں سیآٹھ ارب 83 کروڑ 30 لاکھ کی گرانٹ ملنے کا بھی امکان ہے۔

The post خیبرپختونخوا حکومت کا عالمی مالیاتی اداروں سے بھاری قرض لینے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/UtHTGOD

وزیراعظم سے پیپلز پارٹی وفد کی ملاقات، بجٹ کے حوالے سے مشاورت

 اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد کی ملاقات ہوئی جس میں مالی سال 2024-25 کے بجٹ کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔

ملاقات میں ملک کی مجموعی و سیاسی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پیپلز پارٹی وفد میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سید نوید قمر، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور شیری رحمان شامل تھے۔

ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، مشیر وزیراعظم برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ اور وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ بھی موجود تھے۔

The post وزیراعظم سے پیپلز پارٹی وفد کی ملاقات، بجٹ کے حوالے سے مشاورت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/Tsgjynp

کراچی: خواتین سے ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث میاں بیوی گرفتار

  کراچی: پولیس نے خواتین سے ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث میاں بیوی کو گرفتار کرلیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق لانڈھی پولیس نے تیکنیکی بنیاد پر موبائل ٹریسنگ کی مدد سے خواتین سے لوٹ مار کی وارداتوں میں ملوث میاں بیوی کو گرفتار کرلیا۔

پولیس نے ملزمان کے قبضے سے خواتین سے چھینے گئے 76 بیگ، اسلحہ، 4 موبائل فونز اور اے ٹی ایم کارڈز برآمد کرلیے۔

پولیس کے مطابق گرفتار جوڑے کی شناخت پلوشہ اور اس کے شوہر شہریار کے نام سے کی گئی جو کہ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر راہ چلتی خواتین سے اسلحے کے زور پر پرس چھین کر فرار ہوجاتے تھے۔

دونوں میاں بیوی کی لانڈھی کے علاقے میں ایک راہگیر خاتون سے پرس چھین کر فرار ہونے کی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی ہے۔

ملزمان کی گرفتاری تکنیکی بنیادوں پر موبائل فون ٹریسنگ کی مدد سے عمل میں لائی گئی۔

The post کراچی: خواتین سے ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث میاں بیوی گرفتار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/TDH1EpU

Friday, 24 May 2024

کراچی؛ گھر میں گیس لیکیج دھماکے سے خواتین و بچوں سمیت 8 افراد جھلس گئے

 کراچی: گھر میں گیس لیکیج کے باعث زور دار دھماکےسے بچوں اور خواتین سمیت 8 افراد جھلس کر زخمی ہوگئے۔

سولجر بازار نمبر ایک کے قریب گھر میں گیس لیکیج کے باعث زور دار دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد زخمی ہوگئے، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں 45 سالہ محمد موسیٰ ، اس کی اہلیہ 40 سالہ رابعہ موسیٰ ، 10 سالہ نوید موسیٰ ، 8 سالہ رفیق موسیٰ 20 سالہ گلشن موسیٰ ، 15 سالہ روشنی موسیٰ ، 11 سالہ امبرین موسیٰ 12 سالہ نسرین شامل ہیں۔

زخمیوں کو فوری طور پر سول اسپتال کے برنس وارڈ منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ تمام افراد 15 سے 20 فیصد جھلسے ہیں۔ پولیس کا کہناہے کہ ابتدائی طور پر واقعہ حادثہ لگتا ہے ، تاہم ہر زاویے کو پیش نظر رکھتے ہوئے تفتیش کی جارہی ہے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں گیس کی عدم فراہمی ہے، زیادہ تر مکین گیس سلنڈر کا استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اس طرح کے حادثات رونما ہوتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ علاقے میں گیس کی فراہمی کو بحال کرے ۔

The post کراچی؛ گھر میں گیس لیکیج دھماکے سے خواتین و بچوں سمیت 8 افراد جھلس گئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/xbGTuz0

کم عمری کی شادی بنیادی انسانی حقوق چھیننے کے مترادف، ایکسپریس فورم

 لاہور: کم عمری کی شادی کی بڑی وجہ بچوں کی فیصلہ سازی میں شمولیت نہ ہونا ہے جو کہ ا ن کے بنیادی انسانی حقوق چھیننے کے مترادف ہے، اس سے سنگین معاشی و معاشرتی مسائل پیدا ہورہے ہیں۔

دوران زچگی ماں، بچے کی موت سمیت نفسیاتی، ذہنی و جسمانی مسائل سرفہرست ہیں، صرف پنجاب میںچائلڈ میرج کی شرح 27 فیصد ہے، سندھ میں لڑکے، لڑکی کی شادی کی کم از کم عمر 18 برس، پنجاب میں لڑکی کی عمر 16 برس ہے، امتیاز ختم کرنے کے عدالتی حکم پر پنجاب حکومت نے ترمیمی بل اسمبلی میں پیش کر دیا،اس ضمن میں حکومت کو سول سوسائٹی کی سفارشات پر بھی غور کرنا چاہیے،چائلڈ میرج کو قابل سزا اور ناقابل ضمانت جرم قرار دیا جائے۔

ان خیالات کا اظہارشرکا نے ’کم عمری کی شادی کی روک تھام اور حکومتی اقدامات‘ کے حوالے سے منعقدہ ’ایکسپریس فورم‘ میں کیا۔ فورم کی معاونت کے فرائض احسن کامرے نے سر انجام دیئے۔

آفیسر انچارج ہیڈ کوارٹر، چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب شفیق رتیال نے کہا کہ عدالتی حکم کے بعد حکومت چائلڈ میرج روک تھام ایکٹ میں ترمیم پر کام کر رہی ہے،اسمبلی میں بل پیش کیا جس کے مطابق چائلڈ میرج بچے کے تحفظ کا معاملہ ہے۔

اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اپلائڈ سائیکالوجی لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر مریم گُل نے کہا کہ ہر بچے کو اپنی پسند، شمولیت اور رائے کی آزادی ہے، اسے وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو دیگر انسانوں کو میسر ہیں، اگر اس کے حقوق سلب کیے جائیں گے تو اس میں ذہنی اور جسمانی مسائل جنم لیں گے جس سے ہمارے سماجی مسائل میں اضافہ ہوگا، ہمیں لوگوں کو کم عمری کی شادی کے نقصانات کے حوالے سے آگاہی دینی ہے۔

نمائندہ سول سوسائٹی بشریٰ خالق نے کہا کہ اقوام متحدہ کا چارٹر برائے حقوق اطفال دنیا نے متفقہ طور پر تیار کیا ہے، پاکستان نے بھی اس پر دستخط اور توثیق کر رکھی ہے،بچوں کی ذہنی، جسمانی اور جنسی صحت کو یقینی بنانے کیلیے اقوام متحدہ کے مذکورہ چارٹر کی روشنی میں قانون اور پالیسی سازی کی جائے اور عملدرآمد کا موثر میکنزم بنایا جائے۔

The post کم عمری کی شادی بنیادی انسانی حقوق چھیننے کے مترادف، ایکسپریس فورم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/IzHu6mc

عدلیہ کو اپنی صفوں میں بہتری کی ضرورت ہے، خواجہ آصف

 اسلام آباد: وزیر دفاع اور سینئر لیگی رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عدلیہ کو بھی اپنی صفوں میں بہتری کی بہت ضرورت ہے، ججز کو نہیں بلکہ اُن کے فیصلوں کو بولنا چاہیے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے عدلیہ کے ساتھ کسی قسم کے کوئی تصادم کی کیفیت نہیں ہے ، عالمی رینکنگ میں ہماری عدلیہ 138 ویں نمبر پر ہے۔ سیاسی نمائندوں کو اپنی صفوں میں بہتری کی ضرورت ہے لیکن عدلیہ میں بھی اپنی صفوں میں بہتری کی بہت ضرورت ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ لوئر اور اعلیٰ عداتیں بتا دیں کہ ہمارا 138 ویں نمبر پر کیوں ہیں ؟ اور عدلیہ کے حوالے سے ہم نہیں کہہ رہے بلکہ یہ بین الاقوامی رینکنگ ہے۔ ماضی میں عدلیہ نے اپنے آپ کو استعمال ہونے کی اجازت دی ،عدلیہ سیاسی انتقام کا آلہ کار بنی یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے معاملے پر جو اب صورتحال ہے وہ غیر معمولی ہے اور اگر عدلیہ کی عالمی سطح پر رینکنگ بہتر ہوتی ہے تو ہم ججز کے ہاتھ چومیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ نے اپنے فیصلوں میں کہا کہ ججز کوئی بادشاہ نہیں، ججز کو آئین کو قانون کے دائرے میں رہ کر آپریٹ کرنا چاہیے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ چند ماہ سے ٹی وی پر عدلیہ کی پریزنس بہت بڑھ گیا ہے، ٹی وی پر عدلیہ کے ٹکرز کی تعداد بہت زیادہ ہے جو کہ عدلیہ کے لیے خود بھی ٹھیک نہیں، منصف کو اتنا ویزیبل نہیں ہونا چاہیے، ججز کو نہیں بولنا چاہیے ان کے فیصلے بولنے چاہیں ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ موجودہ چیف جسٹس کے دور میں کچھ بہتری بھی ہوئی ہے ،یہ اچھی بات ہے کہ وہ اپنے ہاوس کو ان آرڈر بھی کر رہے ہیں۔

لا پتا افراد کے معاملے پر وفاقی وزیر خواجہ آصف نے بتایا کہ 2013 میں مجھے لاپتا افراد کیس میں عدالت بلایا گیا میں بطور وزیر دفاع عدالت میں پیش ہوا تھا، ڈیفنس سیکریٹری نے عذر پیش کیا اور مسنگ پرسن کے کیس میں ڈیفنس سیکریٹری پیش نہیں ہوئے تھے، مسنگ پرسن کی لسٹ میں تقریبا 3 سے 4 ہزار لوگوں کے نام تھے، ہم نے کہا تھا کہ یہ لسٹ مستند اور ٹھیک نہیں ہے، جس کے بعد فہرست تین ہزار سے ایک ہزار پر آگئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہم نے لوکیشنز بتائیں ، اس وقت کوہاٹ ، ایبٹ آباد کے قریب کچھ کیمپس تھے کچھ لوگ وہاں پر تھے، کچھ لوگ ملک سے باہر چلے گئے تھے اور وہ بھی لاپتا افراد میں شمار ہوئے تھے، ان میں کچھ لوگ دبئی ، مسقط یورپ میں بیٹھے تھے۔ ان کے گھر والوں کو حکومت کی طرف سے پیسے ملتے تھے اور وہ وصول کرتے تھے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ میں لاپتا افراد کیس میں تعاون کرنے کو تیار ہوں، لاپتا افراد مسئلے کا سیاسی معاملہ بھی ہے لیکن مسنگ پرسن ہونے کے اور بھی بہت سے اسباب ہو سکتے ہیں، بہت سے کیسز ایسے ہیں کہ لوگ خود لاپتا ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے ایران کے حدود میں حملے میں مسنگ پرسن مارے گئے تھے، جب دہشت گرد مارے جاتے ہیں اور شناخت ہوتی ہے تو وہ مسنگ پرسن نکلتا ہے، عدلیہ کو بھی اس معاملے کو دیکھنا چاہیے اور اس کا تعین کیا جائے کہ کتنے افراد مسنگ پرسنز ہیں ۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ڈائیلاگ کا منقطع ہونا یا نہ ہونا ایک بڑا ظلم ہے کیونکہ بات چیت کا عمل منقطع ہونے کے عام آدمی کی زندگی پر گھناؤنے اثرات ہوں گے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ: لاپتا افراد کے تمام مقدمات براہ راست نشر کرنے کا حکم

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے بعد میں نے جو پی ٹی آئی کے لیے معافی کی بات کی تھی وہ یہ کہا تھا کہ اگر پی ٹی آئی والے 9 مئی واقعات کی ذمہ داری لیتے ہیں تو معافی کی آفر ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اگر سیاسی دھارے کا حصہ بنتی ہے تو معافی کے  کو سنجیدہ لینا چاہیے۔

پروگرام اینکر رحمان اظہر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے کس کی بات مانی جائے؟ کل پی ٹی آئی کی جانب سے ایک دن میں تین بیانات آئے، بیرسٹر گوہر ، عمر ایوب اور شاید شبلی فراز کا بیان سامنے آئے۔ ان تینوں رہنماؤں کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف تھے،پی ٹی آئی والے پہلے گھر بیٹھ کر اپنے بیانات تو آپس میں ملا لیں پھر بیانات دیں ، جو بھی بانی پی ٹی آئی سے مل کر آتا ہے وہ میڈیا پر اپنی دکان کھول لیتا ہے ،جن کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہوتی وہ اپنی الگ دکان کھول لیتے ہیں۔

سینئرلیگی رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور وزیر اعظم شہباز شریف کو ملنے آئے، ہم اتنی محبت سے شہباز شریف سے بات نہیں کرتے جتنی گنڈا پور صاحب نے کی، اندر اتنی محبت دکھاتے اور باہر بیٹھ کر بڑھکیں مارتے ہیں،ایسی صورتحال میں اب بندہ کس کے ساتھ ڈیل کرے ؟

پی ٹی آئی کے الزامات سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ انتخابی دھاندلی اور ناجائز کیسز کے معاملے پر سینکڑوں لوگ عدالتوں میں چلے گئے، جہاں جہاں پی ٹی آئی ہاری وہاں کے امیدوار عدالتوں میں چلے گئے، ہمارے لوگ بھی عدالتوں میں گئے ہوئے ہیں ، دھاندلی کی تحقیقات کی بات تو عدالتوں میں چلی گئی، عدالتی نظام موجود ہے، ،عدالتیں انکوائری کر کے ، فارم 47 منگوا کر ریکارڈ منگوا کر فیصلہ کریں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ نو مئی واقعات میں ملوث لوگ ویڈیو میں آئے ہوئے ہیں جو 9 مئی واقعات میں ملوث تھے اُن کی شناخت ہو چکی ہے،کچھ لوگوں نے ٹی وی پر آ کر اعتراف بھی کیا ہے کہ ہم سے غلطی ہوئی، انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے غلط کیا اور انہیں ایسانہیں کرنا چاہیے تھا۔ اگر وہ کہتے ہیں کہ ان سے زبردستی حملہ کروایا گیا تو وہ ٹی وی پر آ کر کہیں کہ ہم سے زبردستی کرا یا ،نو مئی میں ملوث افراد کے لیے یہ آپشن بھی موجود ہے۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے والا معاملہ تجاوزات کا پہلا نوٹس پی ٹی آئی دور میں ہی گیا، پی ٹی آئی کے دفتر کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا،اس حوالے سے پی ٹی آئی کے رہنما جھوٹ بول رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روف حسن معاملے کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے،ایسے واقعات ہو جاتے ہیں، الیکشن میں میرے منہ پر موبل آئل پھینکا گیا، احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ رؤف حسن کو ذاتی طور پر جانتا ہوں، ان کے ساتھ ہمارے خاندانی تعلقات ہیں، روف حسن نواز شریف کے ایڈوائزر رہے ہوئے ہیں، نواز شریف کی جلا وطنی کے دور میں رؤف حسن ان کے بہت قریب رہے، مجھے دکھ ہے کہ ان کے سا تھ یہ واقعہ ہوا میری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں، مجھ پر موبل آئل پھینکنے والا پکڑا گیا تھا، میں نے پولیس کو اس کیخلاف کارروائی سے منع کر دیا ، اس وقت ہمارے خلاف فیض آباد والا پروپیگنڈا کیا گیا۔

پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ معاملات پر بات کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ میں افغانستان کو قصوروار نہیں ٹھہراوں گا، ہماری 70 سے 80 کی دہائیوں کی پالیسی ناقص تھی، وہ پالیسی پاکستان کے مفادات کے مطابق نہیں تھی، یہ افغانستان والوں کا قصور نہیں بلکہ ہمارا قصور تھا، جنگ میں پنگا ہم نے لیا تھا ، اگر ہم جنگ میں شامل نہ ہوتے تو ایسی صورت حال نہ ہوتی، امریکا سے چار پیسے لینے تھے ، ہم نے اپنا ملک کرائے پر چڑھا دیا اور اس کی قیمت ہم آج تک چُکا رہے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ افغا نستان کے خطے سے ہمارے خلاف اقدامات نہ ہوں، ہمیں روسی مداخلت کیخلاف امریکا کا بغل بچہ نہیں بننا چاہیے تھا۔یہ ہم نے تاریخ میں غلطی کی،اس پر ہمیں اللہ سے معافی مانگنی چاہیے، ضیاالحق دور میں غلطی کی مشرف دور میں دوبارہ غلطی کی، دو دفعہ ہم نے خود کو بیچا۔

افغان حکام سے مذاکرات متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں افغان حکام سے خود بات چیت کرنے کابل چلا گیا تھا،ان کے دروازے پر جا کر دستک دی اور کہا کہ ہمسائیوں کی طرح رہیں ، لیکن اس کے بعد امن نہیں ہوا، افسوسناک ہے کہ ہمارے محافظ ، ہمارے بچے ، پولیس والے شہید ہو رہے ہیں اور ہمارے رابطوں کے باوجود یہ سلسلہ جاری ہے۔ ٹی ٹی پی پاکستان کے معاملے پر ہمارے رابطے چلتے رہتے ہیں لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا،ا فغان حکام نے ہم سے کہا کہ ہمیں 10 ارب روپے دو،ہم انہیں ری لوکیٹ کر دیتے ہیں ، مغربی افغانستان کے صوبے میں بھیج دیتے ہیں، ہم نے کہا کہ 10 ارب بھی دیں اور اس کے بعد دو تین ماہ میں چل کر پھر ہمارے بارڈر پر آجائیں۔

خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا موقف تھا کہ اس کی کیا گارنٹی ہے کہ ایسی صورتحال دوبارہ پیدا نہیں ہو گی؟ اس کی کوئی گارنٹی نہیں تھی، صورتحال اب بھی جوں کی توں ہی ہے، ہم تو چاہتے ہیں افغانستان میں امن ہو ہمارے ساتھ بھی تعلقات اچھے ہوں۔ وہ زبانی گارنٹی دینے کو تیار تھے،انہوں نے کئی دفعہ گارنٹیاں دی ہیں لیکن ایسا نہیں ہو سکا جیسا انہوں نے کہا اور ہم نے چاہا تھا، ہم دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں، اللہ ہمیں کامیابی دے گا۔

The post عدلیہ کو اپنی صفوں میں بہتری کی ضرورت ہے، خواجہ آصف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/sq14biG

Thursday, 23 May 2024

سندھ سمیت ملک کے دیگر حصوں میں سورج آگ برسانے لگا

سندھ اور پنجاب سمیت ملک کے مختلف حصوں میں سورج آگ برسانے لگا جب کہ شدید گرمی اور ہیٹ ویو کا سلسلہ جاری ہے۔

بڑھتی ہوئی شدید گرمی کی لہر نے ملک کے بیشتر علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، دن کے وقت درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، لاڑکانہ میں سب سے زیادہ 50 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیاشدید گرمی کی یہ لہرآئندہ چند روز تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔

اسی طرح ڈیرہ غازی خان، ملتان اور فیصل آباد میں 44 ڈگری، لاہور میں 43 ڈگری جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں 41 ڈگری سینٹی گریڈ کیا گیا۔

ماہرِ موسمیات جواد میمن کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں گرمی مزید قیامت ڈھا سکتی ہے۔کراچی میں میں ہوامیں نمی کاتناسب 62فیصد کی خطرناک سطح تک بڑھنے کے سبب انتہائی گرم و مرطوب دن ریکارڈ، شہری بلبلا اٹھے، جمعرات کی صبح سے ہی سمندری ہوائیں معطل ہونے کے سبب شدید حبس محسوس کی گئی، دن کے وقت اصل درجہ حرارت سے3ڈگری زائد گرمی محسوس کی گئی۔

آج(جمعے)کو بھی پارہ 39ڈگری تک تجاوزکرسکتا ہے،ہیٹ ویو کے زیراثردیہی سندھ کے اضلاع بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں رہے، جیکب آباد میں گرمی کا پارہ 50ڈگری کو چھوگیا،

سردارسرفراز چیف میٹرولوجسٹ کراچی کے مطابق کراچی میں گرمی کی شدت میں 2تا 3ڈگری اضافے کا امکان ہے، محکمہ موسمیات ہیٹ ویو الرٹ سینٹرکراچی سمیت دیہی سندھ میں جاری گرمی کی لہررواں ماہ کے آخرتک برقراررہ سکتی ہے، جمعرات کی صبح شہر کا کم سے کم درجہ حرارت خطرناک حدتک اضافے سے29.5ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا، اس دوران نمی کاتناسب 72فیصد کے انتہائی حدتک بڑھاجس کی وجہ سے شہرمیں گرم ومرطوب دن کا آغازہوا۔

دن 11بجے پارہ 36اور2بجے 37ڈگری سینٹی گریڈ کو چھوگیا،اس دوران شدید حبس محسوس کی گئی اورلو کے تھپیڑے چلے، سمندری ہوائیں غیرفعال ہونے اورمتوازی سمت کی مغربی ہوائیں چلنے کے سبب ہوا میں نمی کاتناسب 62فیصد پر برقرار رہا جس کی وجہ سے گرمی کی شدت اصل درجہ حرارت سے کئی ڈگری زیادہ محسوس کی گئی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق شہرکا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیاگیا،محکمہ موسمیات کے مطابق آج(جمعے)اورکل درجہ حرارت 39ڈگری تک تجاوز کرسکتا ہے۔

چیف میٹرولوجسٹ کراچی سردارسرفرازکے مطابق گرمی کی حالیہ لہراس ماہ کے آخرتک برقراررہ سکتی ہے۔جمعرات کو سب سے زیادہ پارہ جیکب آباد میں 50ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا، موہن جو دڑو کا پارہ 49.7جبکہ دادومیں 49.5ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔

The post سندھ سمیت ملک کے دیگر حصوں میں سورج آگ برسانے لگا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/YZ8nhEi

سبھی کو بخت پر نازاں نہایت شادماں دیکھا۔۔۔ !

حاجی کی جمع حجاج ہے اس کے ساتھ ایک اور لفظ عازم جس کی جمع عازمین ہے استعمال کیا جاتا ہے کہ اس کے معنٰے پختہ ارادہ کرنے والے کے ہیں۔

گویا عازمین حج وہ لوگ ہوئے جنہوں نے ابھی حج نہیں کیا ہے اور وہ آئند ہ حج کا پکا ارادہ کر چکے ہوں ایسے عازمین کو رب ذوالجلال کا شکر ادا کرنا چاہیے جس نے حج جیسی مبارک و مقدس سعادت کے لیے انہیں چنا اور اپنے دربار میں مہمان بننے کا موقع فراہم کیا۔ اس کے دربار میں سب سے مقدس جگہ خانہ کعبہ ہی ہے جس کے گرد 24 گھنٹے طواف ہوتا رہتا ہے اور پوری دنیا میں جہاں بھی مسلمان ہیں اسی کی سمت پنج گانہ و دیگر نمازیں ادا کرتے ہیں۔

اس با برکت مقام پر کئی ایک اشیاء ایسی نصب ہیں جنہیں ہر مسلمان بڑی عقیدت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس سے مس ہونے کو سعادت سمجھتا ہے۔ حجر اسود کے سمیت اس کے اردگرد اور باب کعبہ کے قریب ترین جگہ کا نام ملتزم ہے اس چھوٹی سی جگہ (پیمائش کے اعتبار سے) خصوصی طور پر دعا قبول ہوتی ہے، رتبہ کے اعتبار سے بڑی بلند ہے۔

حضرت عبداﷲ ابن عباسؓ فرماتے ہیں: ’’آپ جنابؐ نے خدا کی قسم کھا کر فرمایا کہ جب بھی ملتزم کے پاس دعا کی تو وہ ضرور قبول ہوئی۔‘‘ آنحضورؐ اسی مقام پر اپنے دونوں ہاتھ اس طرح رکھتے کہ لگتا تھا کہ اس سے لپٹ گئے ہوں اور پھر بلک بلک کر دعائیں فرماتے تھے۔

خانہ کعبہ کی قدیم تعمیر حضرت ابراہیمؑ کے دست مبارک سے ہوئی جب تعمیر مکمل ہوگئی تو آپؑ نے مشرقی سمت کی جانب زمین سے ملا ہوا ایک دروازہ رکھا جس میں نہ چوکھٹ تھی اور نہ ہی کواڑ یا پٹ۔ یہ خانۂ کعبہ میں اندر داخل ہونے کے لیے راستہ کہا جاسکتا ہے۔ قریش مکہ نے جب اسے دوبارہ تعمیر کیا تو اپنی برتری کو برقرار ثابت کرنے کے لیے اس دروازے کو زمین سے سات فٹ بلندی پر نصب کیا اور پھر اس میں پٹ یا کواڑ لگا کر تالا لگا دیا اور کلید (چابی) اپنے پاس رکھ لی۔

اس کلید بردار کو شیبی کہا جاتا ہے۔ خانۂ کعبہ پر تالا لگانے کا مقصد کتابوں میں یہ لکھا گیا ہے کہ قریش سب سے بہتر اور برتر قبیلہ اپنے آپ کو کہا کرتے تھے وہ یہ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ کوئی بھی غیر قریش قبیلہ بغیر ان کی اجازت خانۂ کعبہ میں داخل ہو، تاکہ ان کی سرداری کو کوئی آنچ نہ پہنچ سکے۔ آنحضور ﷺ کی بعثت سے تقریباً سات سو سال قبل سلاطین یمن میں تبع نام کا ایک بادشاہ گزرا ہے جس کا ذکر قرآن حکیم میں بھی ہے، مفہوم: ’’بھلا یہ بہتر ہیں یا قوم تبع ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا یقیناً وہ گناہ گار تھے۔‘‘ (سورہ الدخان)

مفسرین کرام لکھتے ہیں کہ تبع سے مراد قوم سبا ہے، سبا میں حمیر قبیلہ تھا جو اپنے بادشاہ کو تبع کہا کرتے تھے۔ جیسے سلطنت روم (یورپ نہیں) بل کہ شام وغیرہ کے علاقے کے بادشاہ کو قیصر فارس کے شاہ کو کسٰری، مصر کے سلطان کو فرعون اور حبشہ کے حکم رانوں کو ہیل سلاسی اور نجاشی کہا جاتا ہے۔

تبع ایک بڑی اور بہادر قوم گزری ہے جو اپنے انبیاء کی تکذیب کی پاداش میں تہس نہس کردی گئی۔ خانۂ کعبہ کا پہلا دروازہ اسی قوم نے لگایا تھا۔ باب کعبہ مختلف ادوار میں تبدیل ہوتا رہا بعض تاریخی کتب میں ہمیں اس کی تفصیل اس طرح ملتی ہے 550ھ میں گورنر موصل (عراق) نے بڑا دیدہ زیب دروازہ بھجوایا پھر659ھ جب شاہ یمن مظفر حج پر آیا تو اس نے ایک نیا دروازہ تیار کروایا جس پر 60 رطل چاندی کے پترے چڑھے ہوئے تھے۔

اس کے بعد شاہ مصر محمد بن ملادون نے چوبی دروازہ جس پر 35300 درہم چاندی چڑھی تھی بھیجا اس طرح 25 دروازے بدلے گئے پھر سلطان مراد نے 1045ھ میں دروازہ بدلا اور بہ مقدار ایک ہزار دینار سونا چڑھوایا پھر1119ھ سلطان احمد خان اور پھر ملک عبدالعزیز فرماں رواء سعودی عرب نے 1370ھ میں چاندی اور سونے سے مزین دروازہ اسی بلندی پر لگوایا جو آج تک خانۂ کعبہ کی زینت بنا ہُوا ہے اسے ہر وقت دیکھنے کو جی چاہتا ہے ۔ بازار میں آج کل اسی کا ماڈل فروخت ہو رہا ہے ۔

باب کعبہ کی سمت کے آخری کونے پر رکن عراقی اور دوسرے کونے پر رکن شامی ہیں ان دونوں کونوں (ارکان) کے درمیان حطیم کا علاقہ ہے جو ہلالی شکل میں بنا ہُوا ہے جسے 1396ھ میں شاہ خالد نے سفید مرمر سے تعمیر کروایا ہے اب یہ دیوار 3 فٹ چوڑی ہے اس تعمیر سے قبل یہ دیوار کافی بلند تھی جس پر قرآنی آیات خط کوفی میں لکھی ہوئی تھیں۔

حطیم کی فضیلت یہ ہے کہ اسے بھی خانۂ کعبہ کا حصہ کہا جاتا ہے اس کے بارے میں حدیث میں آیا ہے: (مفہوم) حضرت عائشہؓ نے عرض کیا کہ میں چاہتی ہوں کہ بیت اﷲ کے اندر نماز پڑھو ں تو حضور اکرم ؐ نے حضرت عائشہؓ کے ہاتھ پکڑ کر حطیم کے اندر داخل کردیا اور فرمایا کہ جب کبھی تمہارا خانۂ کعبہ میں داخل ہونے کو جی چاہے تو حطیم میں آجایا کرو۔‘‘ یہ آٹھ فٹ کا حصہ جو کہ میزاب رحمت کے نیچے ہے بیت اﷲ شریف کے اندر کا حصہ ہے جو تعمیر قریش کے وقت سرمائے کی قلت کی بناء پر چھوٹ گیا تھا۔

ایک روایت میں ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ نے حضورؐ سے دریافت فرمایا: یا رسول اﷲ ﷺ! یہ حطیم کیا بیت اﷲ کا حصہ ہے ؟ تو آپؐ نے فرمایا: ’’ہاں!‘‘ تو پھر حضرت عائشہؓ نے اس کی وجہ دریافت کی کہ اس حصے کو خانۂ کعبہ میں کیوں شامل نہیں کیا؟ تو آپ نے فرمایا: ’’تیری قوم کے پاس سرمایہ کی کمی تھی اس لیے اس حصے کو رہنے دیا۔‘‘ ہم گناہ گاروں کو اپنی قسمت پر ناز کرنا چاہیے کہ جو حصہ اس وقت تعمیر میں چھوٹ گیا وہ آج ہمارے لیے باعث رحمت بن گیا ذرا تصور کیجیے! اگر یہ تعمیر ہوجاتا تو آج کے دور میں جو تیس لاکھ سے زاید حجاج حج کی سعادت حاصل کررہے ہیں خانۂ کعبہ میں داخل نہیں ہو سکتے تھے صرف معدودے چند ہی افراد سات فٹ کی بلندی پر سیڑھی کے ذریعہ خانۂ خدا میں داخل ہوتے اور وہ بھی بڑی دھکم پیل اور دشواری کے ساتھ، خواتین اور بزرگ تو شاید اس سعادت سے محروم ہی رہ جاتے اس طرح اس کا کھلا رہنا ہمارے لیے باعث رحمت بنا اب ہر حاجی اور معتمر یہاں نوافل ادا کر سکتا ہے اور خوب برکات سمیٹتا ہے۔ حطیم کی دونوں سمتیں یعنی رکن عراقی اور رکن شامی کا استلام یا بوسہ نہیں لیا جاتا کیوں کہ یہ دونوں ارکان بنیادِ ابراہیمی سے ہٹ کر بنائے گئے ہیں جس کی وجہ سرمائے کی قلت بتائی جاتی ہے کچھ اور نہیں حطیم کی اصل شرعی حد 6 گز ہے مگر اس وقت کچھ زیادہ ہے۔ (بہ حوالہ: معلم الحجاج)

میزاب رحمت: اگر ہم حطیم میں کھڑے ہوں تو ہمارے سروں پر میزاب رحمت ہوگا یہ خانۂ کعبہ کی چھت میں نصب پرنالے کا نام ہے۔ دور قدیم میں خانۂ کعبہ پر چھت نہیں تھی جب آنحضور ﷺ کی عمر مبارک 35 برس ہوئی تو قریش مکہ نے اس کی تعمیر کا فیصلہ کیا اور یہ بھی عہد کیا کہ اس کی تعمیر میں صرف حلال کمائی لگائی جائے گی، ڈکیتی، غبن، غرض ہر قسم کی ناجائز دولت کے تصرف سے پرہیز کیا جائے گا۔ چناں چہ قدیم بوسیدہ تعمیر کو شہید کرکے نئی تعمیر کی گئی اور پھر اس پر چھت بھی ڈال دی گئی اسی کے ساتھ میزاب رحمت بھی لگا دیا گیا۔(ابن سعد، تذکرۃ الانبیاء)

میزاب رحمت کے ذریعے بارش کا پانی حطیم میں گرتا ہے وہاں پر موجود ہر زائر کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس گرتے ہوئے پانی سے نہا کر اپنے گناہوں کو دھولے۔ یہ دعا کی قبولیت کا مقام ہے حطیم سے نکل کر رکن شامی سے رکن یمانی کی جانب چلتے ہیں اس مقام پر استلام کرلیں یہاں سے حجر اسود تک دعا کی قبولیت کا مقام ہے۔ حضورؐ نے خود بھی یہاں دعا فرمائی اور امت کو بھی تلقین دعا کی اور سب سے اچھی دعا دین و دنیا کے لیے یہ بتائی، مفہوم: ’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔‘‘ (سورہ بقرہ)

مقام ابراہیم: خانہ کعبہ کے مطاف میں (طواف کرنے والی جگہ) ایک جنگلہ بنا ہوا ہے اس میں محفوظ ایک پتھر کا نام مقام ابراہیمؑ ہے جس کے بارے میں متعدد روایات آئی ہیں کہ اس پر کھڑے ہوکر حضرت ابراہیمؑ نے کعبۃ اﷲ کو تعمیر کیا تھا، تعمیری مرحلوں کے دوران یہ پتھر نرم پڑ جاتا تھا اور ضرورت کے تحت یہ پتھر اوپر نیچے بلند و پست اور طول و عرض میں گھٹتا اور بڑھ بھی جاتا تھا اس کی اسی نرمی والی کیفیت کی بناء پر حضرت ابراہیمؑ کے قدموں کے نشان اس پر ثبت ہوگئے اور آج ہزاروں سال گزر جانے کے باوجود موسمی اور بیرونی تغیرات اس پر حاوی نہ ہوسکے، یہ اپنے نقوش کے ساتھ جوں کا توں موجود ہے جو ایک معجزہ ہے۔ اس مبارک پتھر کا ذکر قرآن حکیم میں موجود ہے، مفہوم: ’’جس میں کھلی کھلی نشانیاں ہیں۔ مقام ابراہیم ہے۔‘‘

(سورہ آل عمران) مذہبی کتب و تواریخ میں لکھا ہے کہ سترہ ھجری میں زبردست سیلاب آیا تھا جس کی وجہ سے یہ پتھر اپنی جگہ سے ہٹ کر دیوار کعبہ کے پاس آگیا تھا خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق ؓاپنے دور خلافت میں جب حج کے لیے تشریف لے گئے تو اس کو اپنے سابقہ مقام پر واپس رکھوا دیا مگر اس مرتبہ اس میں سیسہ پلا کر رکھوایا تاکہ اپنی جگہ سے دوبارہ نہ ہل سکے۔ مقام ابرہیمؑ زمانۂ قدیم میں ایک قبّہ نما چھوٹی سی عمارت میں رکھا ہوا تھا۔

اس قبے کی وجہ سے مطاف چھوٹا پڑ رہا تھا کیوں کہ ہر سال حجاج کرام کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے چناں چہ 1960ء کے عشرہ میں ملک عبدالعزیز کے بیٹوں نے جب حرمین شریفین میں توسیع کے منصوبے بنائے تو مطاف میں کشادگی کو برقرار رکھنے کے لیے اس قبہ نما عمارت کو شہید کیا اور پھر باب کعبہ سے مزید کچھ اور فاصلہ بڑھایا تاکہ طواف کرنے والوں کو دشواری نہ ہو۔ 22 اکتوبر1967ء مطابق 19 رجب1387ھ کو شاہ فیصل شہید نے اپنے ہاتھوں افتتاح کے بعد زائرین کے لیے کھول دیا۔ عمدۃ المناسک میں لکھا ہے کہ مقام ابراہیمؑ کی لمبائی دس بالشت اور چوڑائی سات بالشت ہے اور زمین سے ایک ہاتھ اونچا رکھا ہُوا ہے۔ جو باب کعبہ کے بالمقابل مطاف میں ہے۔

یہ جنّت کا پتھر ہے اس کی ایک اور فضیلت یہ ہے کہ ہر طواف کرنے والے کو حکم ہے کہ جب وہ اپنا طواف جو کہ سات چکروں پر مشتمل ہوتا ہے عربی میں چکر کو شوط جس کی جمع اشواط ہے مکمل کرلیں تو دو رکعت نماز نفل اس کے پیچھے ادا کرلیں۔ ارشاد باری کا مفہوم: ’’اور مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لیا کرو۔‘‘ مشاہد ہ میں آیا ہے کہ اس مقام پر اکثر لوگ نظم و ضبط اور اسلامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے دکھائی دیتے ہیں استفسار پر جواب دیتے ہیں کہ اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم ہے جواب تو بجا ہے مگر غور کیجیے کہ اگر آپ کسی مسجد میں نماز ادا کر رہے ہوں تو آپ کی نیّت امام کے پیچھے ہوتی ہے کتنا پیچھے پہلی صف میں ہوتے یا ہزارویں صف میں آپ امام کے پیچھے ہی کہلائیں گے، یہی اصول مقام ابرہیمؑ کا بھی ہے رش ہو تو جتنی پیچھے جگہ ملے نماز پڑھ لیں ورنہ حرم میں جہاں بھی جگہ ملے نماز ادا فرمالیں کیوں کہ پورا حرم قبولیت دعا کا مقام ہے۔

The post سبھی کو بخت پر نازاں نہایت شادماں دیکھا۔۔۔ ! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/vS1W8GC

تجاوزات آپریشن، اسلام آباد میں تحریک انصاف کا مرکزی سیکرٹریٹ سیل، عامر مغل گرفتار

 اسلام آباد: کیپیٹل ڈویلمپنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد میں قائم تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹریٹ کو سیل کر کے غیر قانونی تعمیرات کو منہدم  جبکہ پی ٹی آئی رہنما عامر مغل کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

تفصیلات کے مطابق سی ڈی اے کی ٹیم نے پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ آپریشن کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹریٹ پر موجود غیر قانونی تعمیرات و تجاوزات کو ختم کر کے دفتر کو سیل کردیا۔

سی ڈی اے حکام کے مطابق پلاٹ پر بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی کرتے ہوہے اضافی منزل بھی تعمیر کی گئی تھی۔ مرکزی سیکرٹریٹ سیل ہونے کی خبر پھیلتے ہی پی ٹی آئی قائدین، چیئرمین مرکزی دفتر پہنچے۔

سی ڈی اے حکام نے بتایا کہ سیکٹر جی 8/4 میں قائم سیاسی جماعت کی جانب سے پلاٹ پر تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات قائم کی گئی، مذکورہ پلاٹ سرتاج علی نامی شخص کو الاٹ کیا گیا ہے جس کی اراضی پر قبضہ کر کے تجاوزات قائم کی گئیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پلاٹ کے مالک کی طرف سے متعدد دیگر خلاف ورزیاں بھی کی گئیں، جس پر متعدد بار خبردار کرنے کے ساتھ ساتھ نوٹسسز بھی جاری کیے گئے، پہلا نوٹس 19 نومبر 2020 اور دوسرا نوٹس 22فروری 2021 کو جاری کیا گیا پھر خلاف ورزیاں ختم کرنے کے لیے ایک اور نوٹس 14 جون 2022 کو جاری کیا گیا اور 4 ستمبر 2023کو خلاف ورزیاں ختم نہ کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔

سی ڈی اے حکام کے مطابق احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے اور خلاف ورزیاں ختم نہ کرنے 10 مئی 2024 کو اس پلاٹ کو سر بمہر کرنے کے احکامات جاری کئے گئے، بلڈنگ قوانین پر عملدرآمد کرنے اور تجاوزات کے خاتمے کے لئے آپریشن عمل میں لایا گیا ہے۔ ترجمان سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کے خاتمے کے لئے مہم بلا تفریق شہر بھر میں جاری رہے گی۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے موقع پر موجود کارکنان کو پُرامن رہنے کی ہدایت کردی۔

پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری عمر ایوب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عامر مغل میرے ساتھ کھڑے تھے جنہیں پولیس نے اچانک گرفتار کر کے سفید رنگ کی گاڑی میں بٹھایا اور نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سی ڈی اے کا آپریشن رات کی تاریکی میں کیوں ہوا؟ جس طرح غزہ میں آپریشن ہورہا ہے اُسی طرح پی ٹی آئی کے خلاف آج آپریشن کیا گیا اور رات کی تاریکی میں اسرائیلی فورسز نے جیسے غزہ فتح کیا اُسی طرح سی ڈی اے نے سیکریٹریٹ کو سیل اور منہدم کر کے علاقے فتح کرلیا۔

عمر ایوب نے کہا کہ اگر اعتراض ہے تو ہم سے رابطہ کر کے مہلت دی جاتی، جس پر ہم دستاویزات سامنے رکھتے، اچھے ماحول میں بات ہوسکتی تھی لیکن نہیں کیونکہ عمران خان پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی اور حقیقی آزادی کی بات کررہے ہیں، تو یہ بات حکومت اور کئی شخصیات کو اچھی نہیں لگ رہی۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہم اس عمل کی مذمت کرتے ہیں، قومی اسمبلی میں اس معاملے کو اٹھائیں گے، یہاں میرا اور بیرسٹر گوہر کا استحقاق مجروح ہوا ہے، ہم سی ڈی اے افسران اور آئی جی کو استحقاق کمیٹی میں طلب کر کے جواب مانگیں گے۔

The post تجاوزات آپریشن، اسلام آباد میں تحریک انصاف کا مرکزی سیکرٹریٹ سیل، عامر مغل گرفتار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/AgKz3JM

Wednesday, 22 May 2024

ملک میں سرمایہ کاری 50 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی

 اسلام آباد: اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی جانب سے سرمایہ کاری کو بڑھانے کی کوششوں کے باوجود ملک میں سرمایہ کاری کا رجحان کم ہوا ہے اور سرمایہ کاری کی شرح گزشتہ 50 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے منظور کردہ اعداد و شمار کے مطابق ختم ہونے والے مالی سال کے دوران ملک میں سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 13.1 فیصد رہی ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ سفک اکیلے کچھ نہیں کرسکتی، جب تک ملک کے تمام معاشی فنڈامینٹلز درست نہیں ہوتے اور سیاسی استحکام حاصل نہیں کیا جاتا، تب تک سرمایہ کاری کے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کیے جاسکیں گے، سرکاری اعداد و شمار میں پر کیپیٹا انکم 1674 ڈالر فی شخص ظاہر کی گئی ہے۔

سرمایہ کاری اور بچت کا تناسب بھی مطلوبہ اہداف سے کم رہا، جس نے بیرونی شعبے کے بحران کو جنم دیا ہے، سرمایہ کاری کا ہدف 15.1 فیصد مقرر کیا گیا تھا لیکن یہ 13.1 فیصد رہی جو کہ 50 سال کی کم ترین سطح ہے، آخری بار 1973-74 میں سرمایہ کاری کی شرح 13.2 فیصد دیکھی گئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جاری مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف نے پاکستان سے سرمایہ کاری اہداف کے متعلق بھی سوال کیا ہے، ٹیکس پالیسیوں میں مسلسل تبدیلیوں اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کے ساتھ تعصبانہ رویے نے مینوفیکچرنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کو کم کر دیا ہے، ملکی پیداوار کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، سرمایہ کاری میں کمی کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اس نے اپنے وسائل سے انفراسٹرکچر اور سوشل اسٹرکچر میں اصلاحات کرنے کی حکومت کی صلاحیتوں کو بھی کم کر دیا ہے، اس طرح حکومت کا قرضوں پر انحصار مزید بڑھے گا۔

The post ملک میں سرمایہ کاری 50 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/4ZG9ez2

اورنگی ٹاؤن میں بچوں سے بدفعلی کرنے والے گروہ کے 6 کارندے گرفتار

  کراچی: اورنگی ٹائون پولیس نے کم عمر بچوں سے بد فعلی کرنے والے گروہ کے 6 کارندوں کو گرفتار اور 3 بچوں کو بازیاب کرالیا۔

ایس پی اورنگی ٹاؤن سعد بن عبید نے پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ ملزمان کا گروہ 10 سے 14 سال کے درمیانی عمر کے بچوں کے ساتھ بدفعلی کرتے تھے اور پولیس نے تین بچوں کو بازیاب کرایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گرفتار ملزمان کے موبائل فونز سے بچوں کی متعدد ویڈیوز ملی ہیں۔

ایس پی نے بتایا کہ ملزمان بچوں کے اغوا اور انہیں بدفعلی کے لیے سپلائی کرنے میں بھی ملوث ہیں، 11مئی کو ایک بچہ لاپتہ ہوا تھا، اس کیس سے اس گینگ کے بارے میں معلوم ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزم نثار بچوں کو 100 سے 200 روپے دے کر گیم سے بچوں کو اپنے ساتھ لے جاتا تھا، ان بچوں کو وہ اپنے پاس رکھتا تھا اور ان سے بدفعلی کرکے آگے سپلائی  بھی کیا کرتا تھا۔

ایس پی اورنگی ٹاؤں نے کہا کہ ملزمان انتہائی شاطر ہے، پولیس سے بچنے کے لیے آن لائن موٹرسائیکل سروس کے ہیلمٹ استعمال کرتے تھے، ہیلمٹ لگا کر ایک بچے کو کسی ایک مقام سے دوسرے مقام کی جانب لے کر جاتے تھے۔

سعد بن عبید نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے ملزمان میں مرکزی ملزم نیاز اس کے ساتھیوں میں بہادر شاہ، علی اکبر، ملک قاسم، تنویر عباس اور رحیم اللہ شامل ہیں۔

The post اورنگی ٹاؤن میں بچوں سے بدفعلی کرنے والے گروہ کے 6 کارندے گرفتار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/Xiz4uvj

Tuesday, 21 May 2024

وزیراعظم کا اس ہفتے دورہ متحدہ عرب امارت متوقع

اسلام آباد: وزیراعظم شہبازشریف کا اس ہفتے متحدہ عرب امارت کا دورہ متوقع ہے، وہ اس دورے کے دوران خلیجی ملک کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیں گے۔

متحدہ عرب امارت کے دورہ میں وزیراعظم وہاں کی قیادت سے ملاقات کرینگے۔پاکستان اپنے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کیلئے سعودی عرب اور امارات سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی توقع کررہا ہے۔

پاکستان نے غیرملکی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے کیلئے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل(SIFC) قائم کر رکھی ہے جو سرمایہ کاروں کو ون ونڈوسہولت فراہم کرے گی۔کونسل سعودی اور اماراتی سرمایہ کاروں کو زراعت ،کان کنی ،معدنیات،انرجی اوردیگر مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے ایریازکی نشاندہی کرتی ہے۔

گزشتہ سال لاہورمیں بزنس کمیونٹی سے خطاب کے دوران آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے امید ظاہرکی تھی کہ سعودی عرب اور امارات اگلے تین سے پانچ برسوں میں پاکستان میں 70 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔

ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے علاوہ پاکستان امارات سے بھی سرمایہ کاری کیلئے رابطے کررہا ہے اور وہاں کے سرمایہ کاروں کو مختلف ترغیبات پیش کی جارہی ہیں۔

سعودی عرب اور امارات پاکستان کو مالی بحران سے بچانے والے دو بڑے ملک ہیںجو اب پاکستان کو بیل آؤٹ پیکج دینے کے بجائے یہاں سرمایہ کاری پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔

The post وزیراعظم کا اس ہفتے دورہ متحدہ عرب امارت متوقع appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/ZvSw1eP

عدلیہ مخالف مہم، رؤف حسن اور شعیب شاہین کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر

 اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عدلیہ اور ججز کے خلاف مہم چلانے پر پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن اور ترجمان شعیب شاہین کے خلاف توہین عدالت کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق میاں داؤد ایڈوکیٹ نے سپریم کورٹ اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف درخواست دائر کی جس میں رؤف حسن اور شعیب شاہین کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست کے ساتھ رؤف حسن اور شعیب شاہین کے توہین آمیز انٹرویز کے ٹرانسکرپٹس بھی لف کیے گئے ہیں۔

درخواست گزار میاں داؤد ایڈوکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ تحریک انصاف ایک منظم مہم کے تحت عدلیہ کو اسکینڈلائز کر رہی ہے، رؤف حسن اور شعیب شاہین مجرمانہ منصوبے کے تحت ججز کے خلاف مہم چلارہے ہیں اور انہوں نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی۔

درخواست گزار کے مطابق رؤف حسن کا چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو ٹاؤٹ کہنا عدلیہ کو اسکینڈلائز کرنا ہے جبکہ اس سے قبل انہوں نے بے بنیاد الزامات لگا کر چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی کو بھی سکینڈلائز کیا ہے۔

میاں داؤد ایڈوکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ تحریک انصاف کے دونوں رہنماؤں کے بیانات آئین کے آرٹیکل 204 کی خلاف ورزی ہیں اور تحریک انصاف مجرمانہ منصوبے کے تحت عوام کا عدلیہ پر قائم اعتماد کو تباہ کر رہی ہے، سپریم کورٹ نے عمران خان کیخلاف تسلیم شدہ توہین عدالت پر کارروائی آگے نہیں بڑھائی۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان کیخلاف کارروائی آگے نہ بڑھانے سے تحریک انصاف کو توہین آمیز بیانات  دینے کا حوصلہ ملا، سپریم کورٹ نے عمران خان کو توہین عدالت کیس میں سزا دی ہوتی تو آج یہ نوبت نہ آتی۔ ماضی میں سپریم کورٹ نے ججز کو اسکینڈلائز کرنے پر سیاستدانوں کو سزائیں سنائیں۔

درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں رؤف حسن اور شعیب شاہین کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

The post عدلیہ مخالف مہم، رؤف حسن اور شعیب شاہین کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/lRN0GTV

کراچی: رینجرز کا سی ٹی ڈی کے دفتر پر چھاپہ، دو اہلکار گرفتار

  کراچی: سندھ رینجرز نے سی ٹی ڈی سول لائن پر چھاپے کے دوران مبینہ ملزم کو لین دین پر چھوڑنے والی پولیس پارٹی کو گرفتار کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق کائونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ نے 19 تاریخ کو بیرون ملک سے کراچی پہنچنے والے مبینہ ملزم علیان کو حراست میں لیا تھا جس کو رہا کرنے کیلئے تاوان کا مطالبہ کیا گیا۔

معاملے کی اطلاع سندھ رینجرز کو موصول ہوئی جس کے بعد سندھ رینجرز کے افسران نے سی ٹی ڈی کو رقم دینے کی حامی بھری۔

سندھ رینجرز کے افسران سی ٹی ڈی سول لائن کے دفتر رقم دینے پہنچے تو سی ٹی ڈی کا مخبر اسامہ ملزم علیان کے ساتھ مرکزی دروازے پر آگیا جس پر رینجرز نے  سی ٹی ڈی کے دفتر کو گھیرے میں لے لیا اور سی ٹی ڈی کے اعلیٰ افسران کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔

اسامہ اور پولیس پارٹی میں شامل عمر خان  رینجرز کو دیکھتے ہی فرار ہوگئے جبکہ سی ٹی ڈی کے سب انسپکٹر طاہر تنویر اور اے ایس آئی شاہد حسین کو گرفتار کرلیا گیا، تفتیش میں نا اہلی ثابت ہونے پر ایس ایچ او سی ٹی ڈی سول لائن امداد خواجہ کو معطل کردیا گیا۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی آصف اعجاز شیخ کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی سول لائن نے 19 تاریخ کو بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم کے کارندے کی اطلاع پر کارروائی کرکے علیان نامی شخص کو حراست میں لیا تھا، سی ٹی ڈی نے مبینہ ملزم سے تفتیش کی اور پھر پیسوں کے لین دین پر مبینہ ملزم کو چھوڑنے کی ڈیل کی گئی۔

سندھ رینجرز کو اطلاع ملی تو رینجرز کے افسران سی ٹی ڈی کے دفتر پہنچ گئے اور سب انسپکٹر طاہر تنویر اور اے ایس آئی شاہد حسین کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ پولیس پارٹی میں شامل پولیس کانسٹیبل عمر خان اور مخبر اسامہ فرار ہوگئے جن کی گرفتاری کیلئے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ایس ایس پی سی ٹی ڈی آپریشن عمران شوکت نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ سندھ رینجرز نے افسران نے سی ٹی ڈی سول لائن پر چھاپے سے آگاہ کیا اور معاملے کی تفتیش کی گئی تو سی ٹی ڈی کے تین پولیس اہلکاروں کو اغوا برائے تاوان میں ملوث پایا گیا ہے جن کے خلاف 365-A کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور سی ٹی ڈی سول لائن کے ایس ایچ او امداد خواجہ کو معطل کردیا گیا ہے۔

ایس ایس پی آپریشن سی ٹی ڈی عمران شوکت نے بتایا کہ سی ٹی ڈی کے مخبر نے علیان نامی شہری کو چھوڑنے کیلئے عراق فون کیا اور تاوان کی رقم طلب کی جس کی تفتیش بھی کی جارہی ہے، پولیس پارٹی نے پانچ لاکھ روپے تاوان طلب کیا اور ایک لاکھ روپے میں ڈیل کی جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہیں۔

The post کراچی: رینجرز کا سی ٹی ڈی کے دفتر پر چھاپہ، دو اہلکار گرفتار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/UrBSaKF

Monday, 20 May 2024

بچے کے ہر قصور کی ذمہ دار، ماں۔۔۔؟

اپنی اولاد کے معاملے میں ماؤں کے دل نازک آبگینے کی مانند ہوتے ہیں۔ ذرا سی کسی کے سخت الفاظ یا رویے کی ٹھیس لگے، تو فوراً ٹوٹ جاتے ہیں، جب کہ کہنے والوں کو اس کا  اندازہ بھی نہیں ہو پاتا کہ ان کے لفظوں سے یا رویے سے ایک ماں کی آنکھوں کے گوشے نم ہوگئے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہنے والے کی نیت کسی ماں کا دل دکھانے کی نہ ہو وہ عام فہم انداز میں کوئی بات کررہے ہوں، مگر عورت مزاج میں کیسی بھی ہو، لیکن بطور ماں اس کا دل بہت نازک اور حساس ہوا جاتا ہے۔

اسی طرح  بعض اوقات اولاد میں اگر خدانخواستہ پیدائشی کچھ کمی یا کمزوری ہو جس کو دور کرنا والدین کے اختیار میں نہ ہو تو یہ باتیں یہ رویے بے حد گراں اور تکلیف دہ ہو جاتے ہیں۔ بہ ظاہر وہ دوسروں کے سامنے اپنے آنسو ضبط بھی کرلیں، لیکن تنہائی میں یہ مائیں اپنی بے بسی پر بہت روتی ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اگر ہم سب لوگ اپنے طرز عمل سے کسی کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں بکھیر سکتے، تو کسی کی آنکھوں میں آنسو بھی لانے کا سبب نہ بنیں۔  وہ بھی ایک ماں کے۔

یہاں ہم چند چھوٹی چھوٹی سی باتیں پیش کر رہے ہیں، جن سے گفتگو میں اجتناب کرنا چاہیے، تاکہ کسی بھی ماں کا دل نہ دکھے۔

 ’’تمھارا بچہ کتنا کمزور ہے!‘‘

بچہ چھوٹا ہو یا بڑا، یا چاہے نومولود ہی ہو، لیکن اگر بچے کا وزن کم ہو تو اس حوالے سے سب سے پہلے اس کی ماں ہی کو مورد الزام ٹھیرایا جاتا ہے۔ چوں کہ بچے کی پیدائش کے بعد اکثر ماؤں کا وزن بڑھ جاتا ہے، تو یہی وجہ سمجھی جاتی ہے کہ ماں اپنے کھانے پینے کا تو پورا خیال رکھتی ہے، لیکن بچے کی غذائی صورت حال کا ذرا خیال نہیں رکھتی۔  حالاں کہ بھلا کبھی یہ بھی ممکن ہوا ہے کہ ماں خود کھالے اور بچے کو بھوکا رکھے۔ یہ تو آفاقی حقیقت ہے کہ والدین اور بالخصوص ماں خود پیٹ پر پتھر باندھ سکتے ہیں، لیکن اولاد کی بنیادی ضرورتوں کو لازمی پورا کرتے ہیں۔

ہمیں سوچنا چاہیے کہ مائیں تو بچے کی ولادت سے پہلے اور پیدائش کے بعد تک اس بچے کی نشوونما کے واسطے سارا خیال رکھتی ہیں، حتیٰ کہ بڑے بچوں کو ان کی پسند کے کھانے بنا کر کھلانا پوری ذمہ داری سے کرتی ہے اور ہر ماں بچوں کو کھانا کھلانے کے لیے کتنے ہی جتن کرتی ہے۔ کبھی کھانا کھلانے کے ساتھ کہانی سناتی ہے تو کبھی کھانا کھلانے کے دوران چڑیا کبوتر کا کھیل کھیلا جاتا ہے۔

بچہ کتنی مشکل سے کھانا کھاتا ہے۔ یہ وہی ماں جانتی ہے لیکن کبھی کسی طبی وجوہ کی بنا پر بھی بچہ کمزور ہوسکتا ہے۔ ایک ماں کے لیے اس کا بچہ دنیا میں سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے،آپ چاہے بچے سے کوئی بھی تعلق اور ناتا رکھتے ہوں، لیکن وہ ایک ماں سے زیادہ طاقت ور تعلق نہیں ہو سکتا۔ اس لیے پہلے تولیے اور پھر بولیے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں اور کس سے کہہ رہے ہیں!

 ’’یہ بچہ ایسا کیوں ہے ؟‘‘

خدانخواستہ اگر بچے میں کوئی پیدائشی نقص یا بعد میں کوئی معذوری بھی پیدا ہو تو عموماً ماؤں کو اس سوال کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ مزید یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ’’تم نے شاید سورج گرہن یا چاند گرہن میں خیال نہیں رکھا ہوگا!‘‘ یا یہ کہ ’’یہ آج کل کی لڑکیاں سمجھتی کہاں ہیں!‘‘،  ’’کیا سمندر پر اور باغ میں سیر کے لیے گئی تھیں؟‘‘ وغیرہ یا اس جیسی بہت سی باتیں اور توہمات کا تذکرے بھی ضرور کیے جاتے ہیں۔ جب کہ حقیقت میں وہ ماں جو اپنے بچے کی وجہ سے اندر ہی اندر نہ جانے کس کرب سے گزر رہی ہوگی۔ ایسی باتوں کا کیا جواب دے۔ اور ستم بالائے ستم، جب کوئی یہ کہہ دے کہ ’’یہ تو تمھارے ہی کیے کی سزا ہے!‘‘ ایسی باتیں سن کر ماؤں کا دل درد سے شق ہونے لگتا ہے۔

یہ تو قدرت کی طرف سے عطا کردہ اولاد ہے۔ اگر اس میں۔کوئی کمزوری یا کمی یا خدانخواستہ کوئی معذوری ہے، تو اس میں ماں کا کیا اور کتنا دوش۔ بظاہر چہرے پر مسکان سجائے آپ سے ملنے والی یہ مائیں اپنے دل میں درد کا کیا طوفان چھپائے بیٹھی ہوتی ہیں۔ یہ صرف وہی جانتی ہیں۔ اس لیے آپ گھڑی دو گھڑی کے لیے ملنے آتے ہیں، اس دوران اچھی باتیں کیجیے، نہ کہ ان کے زخموں پر نمک چھڑکیں۔ سوچیے یہ ماں جب  دوسرے بچوں کو معمول کے مطابق ہنستے، کھیلتے، بھاگتے، دوڑتے باتیں کرتے ہوئے دیکھتی ہوں گی، تو ان کے دل کی کیا کیفیت ہوتی ہوگی کہ ان کا بچہ یہ سب نہیں کرسکتا، یہ کیفیات صرف وہی جانتی ہیں۔

یہی نہیں ہر جگہ مثلاً کسی پارک، تفریح گاہ کسی تقریب میں غرض ہر جگہ بن مانگے مشورے دینے والے بھی ان کو زچ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ ’’اس کو فلاں عامل کو دکھا دو۔ فلاں مزار پر چلی جاو وغیرہ وغیرہ‘‘ اکثر انھی باتوں کی وجہ سے مائیں ایسے بچوں کو کسی پارک یا تقر یب میں بھی ساتھ لے جانے سے گریز کرتی ہیں۔ یوں وہ خود بھی گھر سے نکلنا چھوڑ دیتی ہیں اور تنہائی اور یاسیت کا شکار ہونے لگتی ہیں ۔

’’اتنے کم نمبر کیوں آئے؟‘‘

پڑھائی میں بچہ کمزور ہو یا امتحان کے نتیجے میں اس کے نمبر کم آئیں تو ماں کو ہی اس کا مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔

’’کیا بچوں کی پڑھائی پر توجہ نہیں دیتیں؟ آج کل کی ماؤں کو موبائل سے فرصت ہی نہیں ملتی!‘‘

اور اگر ماں ملازمت پیشہ ہو یا کوئی ’آن لائن‘ کام کرتی ہو تو نمبر کم آنے کی وجہ اسی کو ٹھیرایا جاتا ہے اور فوری طور پر ایسی تمام سرگرمیاں ختم کرنے کا مطالبہ یا فیصلہ صادر کر دیا جاتا ہے، گو کہ کچھ مائیں واقعی اولاد کی پڑھائی کو اتنی توجہ نہیں دے پاتیں، کیوں کہ وہ اپنی دیگر سرگرمیوں میں مصروف رہتی ہیں۔ ان کے لئے یہ بات کہنا درست ہوسکتا ہے مگر ماؤں کی اکثریت اولاد کو کام یاب دیکھنے کی خواہاں ہوتی ہے۔

درحقیقت ہر ماں چاہتی ہے اس کی اولاد بہترین تعلیم حاصل کرے اور وہ زندگی کے ہر مرحلے میں کام یاب رہے، مگر ہر بچے کی ذہنی استعداد مختلف ہوتی ہے۔ ایک ہی جماعت میں ایک ہی استاد سے پڑھنے والے دسیوں طلبہ میں سے اکثر صرف ایک ہی اول پوزیش حاصل کرتا ہے، لہٰذا ماؤں کو اس کا قصوروار گرداننا کسی صورت مناسب طرز عمل نہیں۔ عموماً ایسی باتوں کا ردعمل یہ ہوتا ہے کہ مائیں پڑھائی کے معاملے میں سختی کرتی ہیں اور اکثر جسمانی سزا سے بھی گریز نہیں کرتیں۔ امتحانات کے دنوں میں طلبہ سے زیادہ ان کی مائیں ذہنی تناؤ کا شکار رہتی ہیں، جس کی وجہ سے اکثر بلند فشار خون کا شکار ہو جاتی ہیں۔

مائیں دن رات پڑھائی کے لیے زور دے کر ڈرا دھمکا کر بچوں کو بھی ذہنی تناؤ کا شکار کر دیتی ہیں۔ انھیں بس ایک ہی فکر رہتی ہے کہ اگر بچے کے نمبر کم آئے تو لوگ کیا کہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ امتحانات کے دنوں میں اکثر بچے بیمار پڑ جاتے ہیں۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ بچوں کے امتحانات میں بہترین نتیجے یعنی اچھے نمبروں کے حصول کے لیے اکثر بچوں کو ٹیوشن یا کوچنگ سینٹر بھی بھیجا جاتا ہے۔ ٹیوشن یا کوچنگ سینٹرز میں پڑھائی کا طریقہ کار اگر سمجھا کر پڑھانے کے بہ جائے رٹا لگانے پر زور دیتا ہو تو یہ طریقہ کار بھی اکثر بچوں کے لیے ذہنی دباؤ کا سبب بنتا ہے۔

’’بچوں کی کیسی تربیت کی ہے؟‘‘

بچے کوئی بھی حرکت کریں، کوئی نقصان کر دیں، مثلا کوئی گلاس توڑ دیا، پانی گرادیا، یا کھیل کے دوران آپس میں لڑ پڑیں، تو یہ جملے اکثر ماؤں کو سننے پڑتے ہیں۔

چھوٹے بچے بے حد شرارتی ہوتے ہیں۔ سارا دن اچھل کود اور شرارتوں میں مگن رہتے ہیں۔ لہٰذا بچوں سے عموماً ایسے چھوٹے موٹے نقصان ہو جاتے ہیں۔ مائیں بچوںکو کھیل کی جانب راغب کرتی ہیں، لیکن بچہ اپنی عمر کے لحاظ سے فطری طور پر شرارتیں کرنے لگتے ہیں، ان کا فطری تجسس ان کو نئی نئی حرکتیں کرنے پر اکساتا ہے اس دوران کسی چیز کا نقصان ہو جانا ارادتاً نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ بات خود بھی ذہن میں رکھیں اور دوسرون کو بھی باور کرائیں کہ بچوں کی فطرت میں شرارت کرنا ہے، لہٰذا ماؤں کی تربیت پر سوال اٹھانا کسی طور مناسب طرز عمل نہیں۔

ایسی بہت سی باتیں ہیں، جو سماعتوں کے ذریعے دل تک پہنچ کر دکھ کا وہ احساس پیدا کرتی ہیں کہ بے بسی آنکھوں کو نم کر دیتی ہے۔ اگرہم بہ ذات فرد واحد ان باتوں کو اپنی گفتگو کے ذخیرۂ الفاظ سے منہا کر دیں، تو یقیناً بہت سی ماؤں کے دل دکھی ہونے سے بچ جائیں گے اور یہ عمل سچی خوشی کا وہ احساس جاگزیں کرے گا جس کا لفظوں میں اظہار ممکن نہیں۔

The post بچے کے ہر قصور کی ذمہ دار، ماں۔۔۔؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/8bOGKPJ

ایرانی صدر کی شہادت آج سندھ میں یوم سوگ کا اعلان

  کراچی: ایرانی صدر کی شہادت آج سندھ میں یوم سوگ کا اعلان

حکومت سندھ اور صوبے کے عوام کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت اور عوام کے ساتھ صدر ابراہیم رئیسی اور دیگر ایرانی معززین کے انتقال پر برادرانہ یکجہتی کے اظہار میں وزیر اعلیٰ سندھ نے منگل 21 مئی 2024 کو صوبہ سندھ میں یوم سوگ کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔ 21 مئی 2024 کو پورے صوبے میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔

The post ایرانی صدر کی شہادت آج سندھ میں یوم سوگ کا اعلان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/TFlp0uG

پینشن کی مد میں خطیر اخراجات؛ جامعات میں نیا سروس اسٹرکچر لانے کی تیاریاں

  کراچی: سرکاری جامعات کی سالانہ غیر ترقیاتی گرانٹ کا ایک بڑا حصہ ملازمین کی پینشن پر خرچ ہوجانے کی وجہ سے اب وفاقی سطح پر اساتذہ کے سروس اسٹرکچر میں تبدیلی پر کام شروع کردیا گیا ہے۔

امکان ہے کہ وفاقی ایچ ای سی کی جانب سے نیا سروس اسٹرکچر جلد اور بڑی تبدیلیوں کے ساتھ سرکاری جامعات کے حوالے کردیا جائے گا۔  اس سلسلے میں وفاقی اعلی تعلیمی کمیشن کی جانب سے اپنے افسران اور کچھ سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز پر مشتمل کمیٹی نئی تجاویز پر مشتمل سروس اسٹرکچر کو حتمی شکل دے رہی ہے۔

اس کمیٹی کی تجاویز کے مطابق ابتدائی طور پر ملک بھر کی سرکاری جامعات میں لیکچرر کی ریگولر اسامی ختم کی جارہی ہے جبکہ نئے سروس اسٹرکچر میں اساتذہ اس بات کے پابند ہوں گے کہ پروویڈنٹ فنڈ کی طرز پر اب پینشن فنڈ بھی ان کی ماہانہ تنخواہ سے منہا کیا جائے گا۔
کمیٹی کی مذکورہ تجاویز کو وفاقی محکمہ خزانہ کی مشاورت سے ایچ ای سی کمیشن میں منظوری کے لیے پیش کیا جارہا ہے جس کے بعد اسے جامعات کے حوالے کیا جاسکے گا۔

ذرائع کے مطابق ایچ ای سی آئندہ بجٹ کے لیے جامعات کو اس اس امر کا پابند کرنے کی خواہش بھی رکھتی ہے کہ متعلقہ سرکاری جامعات غیر ترقیاتی گرانٹ کو پینشن فنڈ کے طور پر مزید خرچ کرنے سے گریز کریں۔

ادھر ’’ ایکسپریس‘‘ کے رابطہ کرنے پر وفاقی اعلی تعلیمی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد کا کہنا تھا کہ ہم اس سلسلے میں حتمی مشاورت کے لیے اس طرح کے تمام proposals کو فنانس ڈویژن میں لے کر جارہے ہیں جس کے بعد اسے کمیشن میں پیش کیا جائے گا۔

انھوں نے انکشاف کیا کہ محتاط اندازے کے مطابق جامعات کو دی جانے والی ایچ ای سی کی سالانہ 65 ارب روپے کی غیر ترقیاتی گرانٹ کا تقریباً 40 فیصد جامعات اپنے ملازمین کی پینشن میں خرچ کررہی ہیں،  یہ اس وجہ سے ہے کہ سرکاری جامعات اپنا پینشن فنڈ قائم نہیں کرسکی ہیں جس سے پینشن ادا کی جاسکے اور recurring گرانٹ پینشن میں جارہی ہے۔

چیئرمین ایچ ای سی نے واضح کیا کہ وفاق کی جانب سے صوبائی جامعات کو گرانٹ کی فراہمی بند نہیں کی جارہی،  ہم نے 2024/25 کے سالانہ بجٹ کے لیے فنانس ڈویژن سے 125 ارب روپے مانگے ہیں تاہم بجٹ میں کتنی گرانٹ منظور کی جائے گی اس بارے میں ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا۔

چیئرمین ایچ ای سی کا یہ بھی کہنا تھا کہ گزشتہ 6 سال سے سرکاری جامعات کے سالانہ بجٹ میں اضافہ نہیں ہوا جبکہ اس دوران صرف تنخواہوں میں 135 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے۔

واضح رہے کہ سندھ سمیت ملکی جامعات میں سے بیشتر میں پینشن فنڈ قائم نہیں ہے اور یہ جامعات مجموعی طور پر ہزاروں ملازمین کو پینشن کی ادائیگیاں ایچ ای سی سے ملنے والی غیر ترقیاتی گرانٹ ہی سے کرتی ہیں تاہم سندھ میں قائم این ای ڈی یونیورسٹی ایک ایسی جامعہ ہے جہاں پینشن فنڈ 3 ہزار ملین کے قریب ہوچکا ہے اور یونیورسٹی پر پینشن کی ادائیگی کی مد میں مالی بوجھ کی صورتحال دیگر یونیورسٹیز کے برعکس ہے۔

اس کے برعکس جامعہ کراچی کا ماہانہ پے رول 400 ملین روپے ہے جس میں سے پینشن کی ادائیگی 135 ملین روپے ماہانہ ہے، اسی طرح  جامعہ اردو میں ماہانہ پے رول 200 ملین روپے ہے جس میں پینشن کی ادائیگی کی مد میں 34 ملین روپے غیر ترقیاتی گرانٹ سے دیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ ہری پور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور ایچ ای سی اسلام آباد کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر انوار الحسن گیلانی کی سربراہی میں کام کرنے والی کمیٹی اپنی تجاویز میں اب تک اس نتیجے تک پہنچ چکی ہے کہ آئندہ اساتذہ بھی تنخواہوں سے پینشن فنڈ کے نام پر کٹوتی کرائیں گے اور اس کٹوتی کو contributory pension fund کا نام دیا گیا ہے۔

مزید براں اس کمیٹی کی تجاویز کے مطابق مالی بوجھ کو کم کرنے کی غرض سے جامعات میں ریگولر ٹیچنگ کیڈر اب لیکچرر کے بجائے اسسٹنٹ پروفیسر سے شروع ہوگا اور لیکچرر جیسی جونیئر پوزیشن کنٹریکٹ بنیادوں پر ہوگی جنھیں مارکیٹ کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے fixed pay دی جائے گی۔

مزید یہ کہ تدریس یونیورسٹی فیکلٹی کی بنیادی ذمےداری ہے لہذا ٹیچنگ ایکسیلنس کو ریسرچ آؤٹ پٹ، ٹیچنگ لوڈ ،ریسرچ گرانٹ اور گریجویٹ طلبا کی سپرویژن پر پرکھا جاسکے گا اور اب سینیئر فیکلٹی کو بھی ٹیچنگ لوڈ کے سلسلے میں اپنا contribution بڑھانا ہوگا۔

واضح رہے کہ ایچ ای سی گزشتہ کافی عرصے سے یہ موقف اختیار کیے ہوئی ہے کہ ملک کی موجودہ مالی صورتحال کے ضمن اور گرانٹ میں اضافہ نہ ہونے کے باوجود سالانہ گرانٹ سے ایک خطیر رقم پینشن کی مد میں جاری ہوتی ہے، لہذا جامعات کو اس حوالے سے نہ صرف اپنا فنڈ قائم کرنے کی ضرورت ہے بلکہ تنخواہ کے ساتھ دیے جانے والے دیگر الائونسز پر بھی از سر نو غور کرنا ہوگا۔

The post پینشن کی مد میں خطیر اخراجات؛ جامعات میں نیا سروس اسٹرکچر لانے کی تیاریاں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/vaeqrum

Sunday, 19 May 2024

ہیٹ ویوو کا خدشہ، کراچی میں  میٹرک کے 21 سے 27 مئی تک ہونے والے امتحانات ملتوی

  کراچی: شدید گرمی کے باعث کراچی میں میٹرک کے 21 سے 27 مئی تک ہونے والے امتحانات ملتوی کردئیے گئے۔

ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چئیرمین کے بیان کے مطابق میٹرک کے 21 سے 27 مئی تک ہونے والے سالانہ امتحانات ملتوی کردئیے گئے ہیں جبکہ میٹرک بورڈ کے تحت 28 مئی کو ہونے والا پرچہ شیڈول کے مطابق لیا جائے گا۔جماعت نہم اور دہم کے ملتوی ہونے والے پرچوں کی نئی تاریخ کا اعلاب بعد میں کیا جائے گا۔

ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے تحت جاری سالانہ امتحانات 2024 میں نویں اور دسویں جماعت سائنس، جنرل ، ریگولر گروپ اور پرائیوٹ کے پرچوں کو ملتوی کیا گیا ہے۔

حکومت سندھ کی جانب سے محکمہ تعلیم ، یونیورسٹیز اینڈ بورڈزڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نوٹیکفیشن کے مطابق این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کی طرف سے جاری الرٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ بھر میں شدید گرمی کی وجہ سے ہیٹ ویوو آنے کا خدشہ ہے۔

The post ہیٹ ویوو کا خدشہ، کراچی میں  میٹرک کے 21 سے 27 مئی تک ہونے والے امتحانات ملتوی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/x1oVCId

پراکسی ثابت کریں،فیصل واوڈا کا سپریم کورٹ جج کو پھر چیلنج

لاہور: سینیٹرفیصل واوڈا نے سپریم کورٹ کے جج کو ایک بار پھر چیلنج کر دیا کہ انھیں پراکسی ثابت کریں۔

سینیٹرفیصل واوڈا نے کہاکہ میرے اوپرکوئی پابندی تونہیں ہے کہ میں پریس کانفرنس نہیں کر سکتا، میں آزاد پاکستانی ہوں،بھارتی و بین الاقوامی اخباروں نے شہ سرخیاں لگائیں میں پراکسی ہوں،کیا عزت رہ گئی،آپ نے تو میرے باپ داداکی عزت اچھال دی،اب آپ ثبوت دیں گے،ہرحالت میں دینا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے تو سمجھ نہیں آرہی کہ مجھے توہین عدالت کا شوکازنوٹس کیوں آیا میں نے تو پاکستان کے عام آدمی کی بات کی ہے،اگرکوئی مجھے جان بوجھ کر بیچ میں گھسیٹنا ہیں، میری کنپٹی پربندوق رکھ کرمجھے پھانسی کی سزا دینی ہے تومیں حاضرہوں،میری سزاسے آپ عدل کا نظام ٹھیک کرسکتے ہیں تومیں حاضرہوں،کل نواز شریف نے جوبات کی مجھے پہلی دفعہ لگاکہ ان کے ساتھ بہت زیادتی ہوئی ہے۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ بیانیہ تواب کسی کے پاس نہیں، سب کا بیانیہ پٹ گیاہے،بیانیہ تواب صر ف فیصل واوڈاکا ہی چلتاہے اورپاکستان کی قوم اس کے پیچھے کھڑی ہوگئی ہے،اس سے پاکستان کی تقدیر بدل جائے گی،میں اٹارنی جنرل کواپنے کیس میں لاتعلق سجھتاہوں بلکہ متعصب سمجھتاہوں، میری بیک گرائونڈ کا سب کو پتا ہے ،میں نے دنیاکی ہرچیزدیکھ لی ہے،میرے لیے آپ ایک کاز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نسلہ ٹاورمیں غریب لوگوں کے گھرگرے،ان میں میراگھرنہیں تھا، کانسٹیٹوشن ٹاورآپ کیوں نہیں گرا سکتے، دو پاکستان اوردوقانون نہیں ہونگے،جنہوں نے آپ کی عزت اچھالی ہے ،جنہوں نے آپ کوگالیاں دی ہیں، پی ٹی آئی کے لوگوں نے ،ن لیگ نے ،آپ نے ان کاکیا کیا آج تک،انہوں نے تونام لے کر بات کی ہے،میں نے توجنرل بات کی ہے ،مجھے لگ رہاہے کہ مجھے یہ روک رہے ہیں، درست بات کرنے سے کیونکہ کیسے ثابت ہوگا یہ توہین عدالت ہے۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ میں تاحال اپنی پریس کانفرنس کے ایک ایک لفظ پرقائم ہوں،جوبھی میری پگڑی اچھالے گا میں اس کی پگڑی اچھالوں گا،یہ میرا حق ہے ،میں اپنی غیرت کا سودانہیں ہونے دوں گا،میر ی پریس کانفرنس میڈیا پرچلانے کی اجازت نہیں ،کیا میں دہشت گرد ہوں، میں نے بم پھاڑاہے ، میں تھڑے پر بیٹھے آدمی کے کیمرے کے سامنے پیرپکڑ سکتا ہوں، لیکن ٹھیک ہوں گا تواپنی گردن کٹوادوں گا پیچھے نہیں ہٹوں گا۔

انہوں نے کہا کہ آپ کویاد ہوگاجب بوٹ کامعاملہ ہوا تھا تومجھے فوج نے یوں پریشرککرمیں ڈالا،عمران خان نے بھی پریشرمیں ڈالاکہ معافی مانگو،میں نے فوج کی تذلیل نہیں کی تھی نہ میراارادہ تھا،میں پیچھے نہیں ہٹااپنی بات سے،آج میں نے پاکستان کوایک چیز دے دی ہے جوپاکستان کا کوئی لیڈرنہیں دے سکتا، میں نے پاکستان کوایک بیانیہ دے دیا ہے جس پرپاکستانی کھڑے ہوگئے ہیں، آپ نے اچھا کام کیا 46 سال بعد تسلیم کرلیاکہ بھٹو کو غلط پھانسی دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پہلے دن سے پتا تھا،لیکن آپ نے اس جج اور ڈکٹیٹر کو کوئی علامتی سزادی،آپ نے آصف زرداری کو14سال قید دی اس جج کا کیاکیا، نسلہ ٹاور گرانے والے جج کاکیاکیا،مجھے پہلے بھی گھسیٹا، دو سال میرے پیسے کا نقصان ہوا،میں وزیر اور سینیٹر تھا،میں نے گناہ کیاکیاتھا،اب میں نشان دہی کررہا ہوں،میں آج بھی چیف جسٹس اور بنچ کے سامنے اس لیے پیش ہو رہا ہوں کہ مجھے یقین ہے وہ ایماندار آدمی ہیں۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ میں جسٹس منصور علی خان ،جسٹس عائشہ ملک اورچیف جسٹس (ر) عمرعطابندیال کے سامنے پیش ہوا،معافی بھی مانگی اور عہدہ بھی چھوڑا کیونکہ یہ پی ٹی آئی کا تھا،آج بھی میرے دل میں ان کی عزت ہے ،غلط کو غلط کہوں گا چاہے وہ کرسی پر بیٹھا ہو، یہ نہیں کہ کرسی سے ہٹے گاتوبولوں گا،میں اگر چیف جسٹس کے سامنے پیش ہونگا توان کے ڈیکورم کا خیال کرکے بات کروں گا،میں تویہی کہوں گاکہ میں توتوہین عدالت کے قریب بھی نہیں گیا۔

سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ میں گھٹیا سیاست نہیں کرتا،جومیری پگڑی اچھالے گامیں اس کی پگڑی کافٹ بال بنادوں گا،میں جوبات بھی کروں گا ثبوت کیساتھ کروں گا۔میری پاکستانیت پر توآپ نے پہلے بھی سوال اٹھایاتھا اب آپ کی پاکستانیت پرسوال ہوگا،جواب تودیناپڑے گا،دیسی گورے نامنظور،میاں نوازشریف توبڑی اچھی پوزیشن پربیٹھے ہوئے ہیں۔

The post پراکسی ثابت کریں،فیصل واوڈا کا سپریم کورٹ جج کو پھر چیلنج appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/9TLritH

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...