Urdu news

Sunday, 30 December 2018

اصغر خان عملدرآمد کیس

ایف آئی اے نے سپریم کورٹ سے اصغرخان عملدرآمدکیس کی فائل بندکرنے کی سفارش کرتے ہوئے جمع کرائی گئی رپورٹ میں موقف اختیارکیا ہے کہ یہ معاملہ 25 سال پرانا ہے، کیس میں اتنے شواہد نہیں کہ کارروائی ہو سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اہم گواہوں کے بیانات میں تضاد ہے جب کہ بینکوں سے ٹرانزیکشنزکا ریکارڈ بھی نہیں ملا،کیس میں اتنے شواہد نہیں کہ کارروائی ہو سکے لہٰذا اسے بندکر دینا چاہیے، جن سیاستدانوں پر الزام تھا انھوں نے بھی رقم کی وصولی سے انکار کیا ہے، گواہوں کے بیانات ایک دوسرے سے نہیں ملتے اور متعلقہ بینکوں سے پیسہ اکاؤنٹس میں جمع ہونے کا مکمل ریکارڈ نہیں ہے۔

اصغر خان کیس میں پاکستان کے بڑے بڑے سیاست دانوں پر 1990کے الیکشن میں پیسہ لے کر الیکشن لڑنے کا الزام عائد کیا گیا تھا، الیکشن میں دھاندلی کی بھی باتیں کی گئی تھیں اور سپریم کورٹ نے1990 کے الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دیا تھا، سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو دھاندلی کے لیے رقوم تقسیم اور وصول کرنے کے معاملہ کی انکوائری کا حکم دیا تھا۔خبروں کے مطابق اکتوبر 2012میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے ایئرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان کی درخواست پر 1990کے الیکشن میں دھاندلی سے متعلق کیس کا فیصلہ سنایا تھا، عدالت نے 1990 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات پر وفاقی حکومت کو قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا تاہم اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

پھر عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر ہوئی جسے اصغر خان عملدرآمد کیس کا نام دیا گیا اور رواں سال مئی میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کارروائی کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس 1996 میں دائر ہوا۔ مقدمے کی رو سے اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کی ہدایت پر ایوان صدر میں 1990کے انتخابات کے لیے الیکشن سیل بنایا گیا ۔ مقدمے میں کہا گیا تھا کہ 1990 کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو کو شکست دینے کے مبینہ طور پر سیاست دانوں میں 14 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے جس سے عوام کو شفاف انتخابات اور حق رائے دہی سے محروم رکھ کر حلف کی روگردانی کی گئی۔ بعدازاں 16 سال بعد عدالت نے 2012میں مذکورہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے رقموں تقسیم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا اور رقم وصول کرنے والے سیاست دانوں کے خلاف ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

سیاسی شطرنج کے اس کھیل میں سیاست دانوں پر مختلف اداروں کی جانب سے کرپشن اور اقتدار کے حصول کے لیے ہر نوعیت کے ہتھکنڈوں کے استعمال کے الزامات نے جہاں سیاسی میدان میں ہل چل پیدا کی وہاں سیاست اور انتخابات میں شفافیت کے عمل کو بھی مشکوک کر دیا جس سے جمہوریت کی ریل بار بار پٹری سے اترتی رہی اور جب بھی جمہوری حکومت قائم ہوئی، اس پر دھاندلی اور انجینئرڈ حربوں سے انتخابات جیتنے کے الزامات کی بوچھاڑ شروع ہو گئی جس سے جمہوری حکومتوں کو استحکام نصیب نہ ہو سکا اور ان کا پورا عرصہ اپوزیشن کے ہنگاموں، الزامات اور افراتفری کی نذر ہو گیا، نتیجہ یہ نکلا کہ ہر جمہوری حکومت کے خلاف اپوزیشن نے تحریک چلائی اور مقتدر طبقے کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔ اگر سیاست دانوں نے کرپشن کی تو ان کے خلاف کارروائی کے لیے ادارے موجود ہیں۔ کرپٹ سیاست دانوں کے خلاف ہرممکن طور پر احتساب ہونا چاہیے مگر اس ساری کارروائی کے دوران انتقام کا پہلو نمایاں نہیں ہونا چاہیے۔

دوسری طرف ان مقتدر شخصیات کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے جو دھاندلی کا سبب بنیں۔عدالتی نظام اس قدر شفاف، مضبوط اور ہر قسم کے امتیاز سے بالاتر ہونا چاہیے تاکہ کوئی فریق اپنے خلاف ہونے والی کارروائی کو سیاسی انتقام کا نام دے کر اسے مشکوک بنانے کی کوشش نہ کرے۔ عدالتی نظام جس قدر مضبوط اور شفاف ہو گا، جمہوری نظام کو بھی اسی قدر تحفظ ملے گا۔ 1996میں دائر ہونے والے اصغر خان کیس کو اب ایف آئی اے نے شواہد نہ ملنے پر بند کرنے کی درخواست کی ہے۔ اتنے عرصے تک چلنے والے اس کیس نے فہرست میں درج افراد کے کردار کو مشکوک بنائے رکھا مگر اب اس کا کوئی بھی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ جب بھی کسی کے خلاف کوئی کارروائی مطلوب ہو تو ناگزیر ہے کہ مکمل شواہد اور ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ کیس دائر کیا جائے، ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر دائر ہونے والے مقدمات کا جہاں کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا وہاں اس کیس سے متعلقہ افراد کی بھی کردار شکنی ہوتی ہے۔

The post اصغر خان عملدرآمد کیس appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2GMGqGg

No comments:

Post a Comment

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...