Urdu news

Thursday, 30 September 2021

اسٹیٹ بینک؛ 114 اشیا کی درآمد پر 100 فیصد کیش مارجن کی شرط عائد

کراچی: بینک دولت پاکستان نے 114 اشیا کی درآمد پر سو فیصد کیش مارجن کی شرط عائد کر دی۔

بینک دولت پاکستان نے 114 اشیا کی درآمد پر سو فیصد کیش مارجن کی شرط (سی ایم آر) عائد کر دی جس کے بعد اْن اشیا کی مجموعی تعداد 525 ہوگئی جن پر سی ایم آر عائد ہے۔ اس اقدام سے ان اشیا کی درآمد کی حوصلہ شکنی میں مدد ملے گی اور توازنِ ادائیگی کو سہارا ملے گا۔

اس سلسلے میں حالیہ عرصے میں کیا گیا یہ دوسرا اقدام ہے۔ قبل ازیں، اسٹیٹ بینک نے درآمدشدہ گاڑیوں کے لیے قرضے ممنوع قرار دیتے ہوئے صارفی قرضوں کے محتاطیہ ضوابط پرنظرِ ثانی کی تھی۔

کیش مارجن اس رقم کو کہا جاتا ہے جو درآمد کنندہ کو درآمدی سودے کا آغاز کرنے کے لیے، جیسے لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) کھولنا، اپنے بینک میں جمع کرانی ہوتی ہے، اور یہ درآمدی شے کی مجموعی مالیت کے برابر ہو سکتی ہے۔

کیش مارجن سے درآمدات کی لاگت جمع کرائی گئی رقم کی موقع لاگت کے  لحاظ سے بڑھ جاتی ہے، اور اس طرح درآمدات کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ابتدا میں 2017ء  میں سو فیصد کیش مارجن کی شرط 404 اشیا پر عائد کی گئی تھی تاکہ بڑی حد تک  غیر ضروری اور صارفی اشیا کی درآمد کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

اس فہرست میں 2018ء میں مزید اضافہ کیا گیا۔ تاہم کاروباری اداروں کو کووڈ کی وبا کے دھچکے برداشت کرنے کے قابل بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک نے 116 اشیا پر سی ایم آر ہٹا کر ریلیف فراہم کیا تھا۔اب جبکہ اقتصادی نمو بحال ہو چکی ہے اور اس کی رفتار بڑھ رہی ہے تو اسٹیٹ بینک نے مزید 114 درآمدی اشیا پر کیش مارجن کی شرط عائد کرکے اپنی پالیسی میں مطابقت لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ اقدام اسٹیٹ بینک کے اْن دیگر پالیسی اقدامات کی تکمیل کرے گا جو درآمدی بل کا دباؤ کم کرنے اور کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ پائیدار سطح پر محدود رکھنے میں مدد دینے کے لیے کیے گئے ہیں۔

The post اسٹیٹ بینک؛ 114 اشیا کی درآمد پر 100 فیصد کیش مارجن کی شرط عائد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3inswdZ

حکومت سے عوام کی بڑھتی ناراضیاں

میرے یہ پرانے اور پیارے دوست لاہور میں رہتے ہیں۔ چوبرجی اور ایم اے او کالج کے درمیان بسے ریواز گارڈن میں اُن کی رہائش گاہ ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا درمیانے درجے کا گھر ہے ، جیسا کہ ایک دیانتدار ، ریٹائرڈ سرکاری ملازم کا ہونا چاہیے۔ میرے یہ دوست پنجاب کے ایک درمیانے درجے کے سرکاری افسر کی حیثیت میں اپنی ملازمت سے ریٹائر ہُوئے۔ اب پنشن پر گزارہ کرتے ہیں۔

وہ یوں خوش قسمت ہیں کہ اُن کے تین صاحبزادے ہیں اور تینوں ہی سرکاری ملازم۔ بڑا صاحبزادہ ایک سرکاری اسپتال میں جونئیر ڈاکٹر ہے، دوسرا بیٹا کنٹریکٹ پر معمولی تنخواہ پانے والا آئی ٹی انجینئر اور تیسرا لختِ جگر لاہور کے مضافات میں بروئے کار  ایک سرکاری کالج میں لیکچرار۔ کسی بیٹے کی شادی نہیں ہُوئی۔

تینوں بیٹوں سے جب بھی شادی کے موضوع پر میری بات ہُوئی، تینوں ہی بیک زبان اپنے گھر کی جغرافیائی تنگی کی طرف اشارہ کرکے کہتے ہیں: ’’اِس گھر میں شادی ہوگی ؟‘‘ ۔منجھلا بیٹا نسبتاً زیادہ ہی منہ پھٹ ہے : ’’ یہ جو ہمیں تنخواہ مل رہی ہے، موجودہ دَورِ حکومت میں اس تنخواہ سے بیوی اور بچے تو نہیں پالے جا سکتے، اس لیے بھائی ہم لنڈورے ہی بھلے۔‘‘والد صاحب یہ طنزیہ اشارہ دیکھ اور سُن کر بے بسی سے کہتے ہیں : برخوردارو، ایک دیانتدار سرکاری افسر کی حیثیت میں مجھ سے جو بن سکا، یہی بنا ، اب آپ لوگ ہمت کر کے دیکھ لیں۔

مذکورہ عزیز دوست کے ہاں میرا آنا جانا لگا رہتا ہے کہ اُن کے گھر میں پڑی قدیم کتابیں میرے لیے خاص باعثِ کشش ہیں۔ 2018کے انتخابات کے دوران تینوں بیٹے اور اُن کے والد صاحب پی ٹی آئی کے بڑے ہی پُر جوش حمائتی تھے۔گزشتہ روز میرا ریٹائرڈ دوست مجھے کہنے لگا: ’’ 2018 کے جس حبس آلود دن وہ انتخابات تھے، چند دن پہلے ہی مَیں دل کے اسپتال سے دو اسٹنٹ ڈلوا کر گھر آیا تھا۔ تمہیں تو اچھی طرح معلوم ہے ہی کہ ہمارے گھر میں خان صاحب کے لیے کتنی محبت اور جوش تھا۔ مَیں طبیعت کی خرابی اور حساسیت کے باوجود ووٹ ڈالنے گیا۔

لائن میں کھڑا تھا کہ میری زرد رنگت دیکھ کر بندوق بردار ایک محافظ میرے پاس آیا اوراز راہِ کرم مجھے اور میری اہلیہ کو اندر پولنگ بوتھ والے کمرے میں لے گیا جہاں ائر کنڈیشنر بھی لگا تھا۔ باری آنے پر ہم دونوں نے محبت اور چاؤ کے ساتھ پی ٹی آئی کو ووٹ ڈالا۔ میرے تینوں بیٹوں نے بھی خان صاحب کی پارٹی کو ووٹ دیا۔‘‘ بات ختم ہونے سے پہلے ہی اُن کے ایک صاحبزادے نے درمیان میں ٹوکتے ہُوئے شوخی سے کہا: ’’ اور اب ابا جی ؟۔‘‘ ابا جی نے بے بسی اور نہائت افسردگی سے خالصتاً لاہوری لہجے اور اسٹائل میں کہا: ’’ یار ، مَیں نے تو اب اِس پارٹی کی محبت کے سامنے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں، جس طرح نہتا اور بے بس شخص حملہ آور اور طاقتور کے سامنے شکست میں ہاتھ کھڑے کر دیتا ہے۔‘‘تینوں بیٹے بھی حکومت اور اس کے اقدامات سے نالاں اور ناراض تھے اور بے حد ناراض۔چھوٹا بیٹا عجب سے بے زار لہجے میں ، پنجابی میںبولا:’’ اور کچھ نہیں تو ہمارے صاحب جنرل اسمبلی میں اپنی قومی زبان ہی میں خطاب کرلیتے،جیسا کہ بھارتی و بنگلہ دیشی وزرائے اعظم نے اپنی قومی زبان میں کیا۔ ہمارے صاحب تو آجکل انگریزی زبان کے خلاف  خاصے ناراض بیانات دیتے بھی سنائی دیتے ہیں لیکن یو این جی اے سے خطاب انگریزی میں کیا۔‘‘

ریٹائرڈ دوست کے چھوٹے سے ڈرائنگ رُوم، جس کا فرسودہ فرنیچر پچھلی صدی کی نشانیوں میں سے ایک ہے، میں بیٹھے ہُوئے مجھے افسوس کے ساتھ دُکھ بھی ہُوا۔ میرے یہ ریٹائرڈ دوست امراضِ قلب کا شکار ہیں۔ اُن کے ایک گردے کی سرجری بھی ہو چکی ہے۔ اُن کے ساتھ اُن کی اہلیہ بھی تشریف فرما تھیں۔ اُن کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے کہنے لگے:’’ اِس کا حال بھی مجھ سے مختلف نہیں ہے۔

چھوٹے بیٹے کی تقریباً نصف تنخواہ تو اِس کی دوائیوں پر خرچ ہو جاتی ہے ۔‘‘ پھر وہ کھانسے اور توقف کے بعد مجھے مخاطب کرتے ہُوئے بولے: ’’ یار ، تم تو مجھے برسوں سے جانتے ہو۔ مجھے تم نے ملازمت کرتے بھی دیکھا ہے۔ اتنا ہاتھ کبھی تنگ نہیں ہُوا، جتنا اب تنگ ہے۔ اِس حکومت نے تو جان ہی نکال لی ہے۔‘‘ میز پر پڑے ٹیبلٹ دوائی کے ایک نیلے سے پتّے کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے کہنے لگے :’’ اس پتّے میں 10ٹیبلٹس ہوتی ہیں۔ دو سال پہلے یہ ایک پتّا 160روپے میں آتا تھا اور اب 490روپے میں ‘‘۔

وہ زہر خند ہُوئے : ’’ باقی دوائیوں کا حال کیا پوچھتے ہو؟ میری پنشن تو اب ڈاکٹروں اور دوائیوں کی نذر ہو جاتی ہے ۔ ‘‘ کچھ لمحے سفید ڈاڑھی میں اُنگلیوں کی کنگھی کرتے رہے۔ پھر بولے: ’’ کبھی مَیں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ دیانتدارانہ سرکاری افسری کرنے کی یہ سزا بھی ملے گی۔اِس حکومت نے تو ہمارا کچومر نکال دیا ہے۔ہم سے کیے گئے سارے وعدے توڑ ڈالے ہیں اس نے۔شکر ہے بیٹے سرکاری ملازم ہیں ، بصورتِ دیگر اب تک نوکریوں سے نکال دیے گئے ہوتے۔‘‘میرے بزرگ ، ریٹائرڈ دوست سر کو پنڈولم کی طرح دائیں بائیں ہلاتے رہے اور پھر سامنے اخبار کے بکھرے صفحات کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے بولے: ’’ پہلے ہمارے گھر میں تین اخبارآتے تھے ۔ ایک انگریزی کا اور دو اُردو کے ۔ اب صرف ایک آتا ہے ‘‘۔

بیٹھک میں مایوسی ، بددلی اور دُکھ کی بھاری اور بوجھل سی فضا غالب آ گئی تھی۔یہ ایک زیریں متوسط سرکاری ملازموں کے گھر کی کہانی ہے۔اور یہ ہر گھر کی کہانی ہے۔ ہمارے حکمران مگر مُصر ہیں کہ ملک میں خوشحالی اور خوشیوں کا دَور دَورہ ہے، ملک معاشی ترقی کی شاہراہ پر بگٹٹ بھاگ رہا ہے، لوگ کاریں اور موٹر سائیکلیں دھڑا دھڑ خرید رہے ہیں، اس لیے ملک معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ وہ کہتے ہیں: یہ ملک دشمن ہیں جو میری حکومت کی ناکامی اورملک میں کمر شکن مہنگائی کا منفی پروپیگنڈہ کررہے ہیں۔

اُن کے وزیر خزانہ ارشاد فرماتے ہیں: ہر ملک میں مہنگائی ہے، پاکستان دُنیا کا انوکھا ملک  نہیں ہے۔اُن کے دوسرے بڑے وزیر ، جو ہمہ وقت عوام اور میڈیا کے حواس پر سوار رہتے ہیں، کا ارشادِ گرامی ہے:یہ سراسر جھوٹ ہے کہ ملک میں مہنگائی ہے، مہنگائی اگر ہے تو ملک میں لوگوں کی آمدن بھی تو بڑھی ہے ۔ اور اگر کوئی میرے ریٹائرڈ دوست کی طرح کسی حکومتی شخصیت کے سامنے آٹے، چینی، پٹرول، بجلی اور وائیوں کے نرخوں میں تین تین، چار چار سو گُنا اضافے کی دبے لفظوں میں بھی شکائت کی جرأت اور جسارت کر ڈالے تو آگے سے حکومت کا گھڑا گھڑایا جواب یوں ملتا ہے :’’اگر یہ سب کچھ مہنگا ہورہا ہے تو یہ سارا گناہ اور قصور سابق نون لیگی اور پیپلز پارٹی کے ’’کرپٹ‘‘ حکمرانوں کی ’’کرپشن‘‘ کے سبب ہے۔‘‘ شکائت کنندہ نادم ہو کر اپنا سا منہ لے کررہ جاتا ہے۔

اور اب تو ایک نیا حکومتی اور وزارتی ٹرینڈ یہ چلا ہے کہ جب میڈیا پر کسی وزیر سے نااہلی، مبینہ کرپشن اور بے لگام مہنگائی بارے استفسار کیا جاتا ہے تو آگے سے جواب یوں آتا ہے: ’’ آپ کو کچھ پتہ ہے نہ آپ کی تیاری ہے ۔پہلے تیاری تو کر لیں۔‘‘ حکومتی کار پرداز اور حکومتی کارندے کیااِس تحقیر وتخفیف سے، snub کرنے والے اس لہجے سے اُس عوامی ناراضی اور غصے کو ختم کرسکتے ہیں جو اِس وقت عوام کے دل و دماغ میں ایک طوفان کی طرح پنپ رہا ہے؟؟

The post حکومت سے عوام کی بڑھتی ناراضیاں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3mhaVp8

طالبان کا افغانستان

افغانستان میں طالبان کی آمد کے بعد پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں کنفیوژن پیدا ہو گیا تھا، وہ کنفیوژن یہ تھا کہ طالبان حکومت میں پاکستان کا کردار کیا ہوگا، چار عشرے افغانستان میں رہنے کے بعد امریکی سامراج کے لیے آسانی کے ساتھ افغانستان سے دستبردار ہونا مشکل تھا لیکن طالبان جس یقین کے ساتھ افغانستان آئے تھے۔

اس کے پیش نظر امریکا کے لیے افغانستان چھوڑنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ تھا، اگر امریکا میں موجودہ صدر کے بجائے سابقہ صدر ٹرمپ برسر اقتدار ہوتے تو شاید صورتحال میں کچھ تبدیلی ہوتی، موجودہ امریکی صدر مرنجان مرنج آدمی ہے، غالباً وہ طالبان سے جنگ کی جھنجھٹ میں پڑنا نہیں چاہتے تھے، اس لیے انھوں نے افغانستان طالبان کے حوالے کردیا۔

طالبان کے بارے میں بڑی افواہیں تھیں کہ وہ افغانستان میں طالبانی نظام لا کر افغانوں کی زندگی مشکل کردیں گے لیکن باوجوہ ایسا نہ ہوا، اس کے برخلاف طالبان نے افغان عوام کو بہت ساری آزادیاں دیں جن میں عورتوں کی آزادی کا خاص طور پر ذکر کیا جانا چاہیے، افغانستان میں عورت کٹھ پتلی کی حیثیت سے زندگی گزار رہی تھی، موجودہ طالبان حکومت نے عورت کو بڑی حد تک اپنے فریم ورک میں رہتے  ہوئے آزادی دی ہے جو بڑی بات سمجھی جا رہی ہے، اصل بات یہ ہے کہ افغان معاشرہ ایک قبائلی معاشرہ ہے جو قبائلی معاشرے میں سختیاں ہوتی ہیں وہ افغانستان میں بھی تھیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا طالبان حکومت عورتوں کو واقعی آزادی دینا چاہتی ہے یا دنیا کے عوام اور حکومتوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے اگر ایسا ہے کہ یہ بیل منڈھے نہیں چڑھے گی۔ انسان چاند پر پہنچ کر آیا ہے، دنیا اور دنیا کی تہذیب بدل گئی ہے۔

افغانستان ایک دم نئی تہذیب کا ساتھ نہیں دے سکتا لیکن اس سمت میں محتاط طریقے سے پیش قدمی کرسکتا ہے اور دنیا کا کوئی ملک افغانستان کو نئی تہذیب سے جڑنے کا مشورہ بھی نہیں دے سکتا کیونکہ صدیوں سے پھیلے رسم و رواج کسی بھی صورت میں چھلانگ لگانے کی اجازت نہیں دیتے ، افغان حکومت کو بتدریج آگے بڑھنا ہوگا۔بھارت اس تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ بھارت کو گمان بھی نہ تھا کہ وہ جس بڑے پیمانے پر افغانستان میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، اس پر ایک دن ایسا برا وقت بھی آسکتا ہے۔

اگر طالبان حکومت آنے کا سب سے زیادہ نقصان کسی کو ہوا ہے تو وہ بھارت ہے۔ بھارت کے لیے مشکل یہ ہے کہ طالبان کے آنے سے بھارت اپنی سرمایہ کاری کا تحفظ نہ کرسکا، ادھر امریکا بھی اس سے ملتی جلتی مشکلات کا شکار ہے اور امریکا کے لیے فی الوقت کوئی بڑا قدم اٹھانا مشکل ہے۔ابھی تک دنیا کے کسی ملک نے موجودہ افغان حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔

پاکستان بھی اس حوالے سے بہت محتاط ہے۔ حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان کو تسلیم کرنے میں جلد بازی نہیں کریں گے اور دنیا کے ملکوں کے ساتھ ساتھ چلیں گے، اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ دنیا کے ملک جن میں پاکستان بھی شامل ہے، افغانستان کے بارے میں اس قدر محتاط رویہ رکھے ہوئے ہیں، اس کی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ افغانستان میں اب تک کوئی ایسی مضبوط اور عوام کے لیے قابل قبول حکومت نہیں بنائی جاسکی۔

بھارت ایک بڑا ملک ہے۔ پچھلے عشروں میں بھارت نے افغانستان سے بہت فائدے اٹھائے ہیں، سوال یہ ہے کہ اب بھارت کے لیے حساب چکانے کا وقت آگیا ہے۔عرب ممالک مجموعی طور پر ایک بڑی طاقت ہے اور مال دار بھی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ طالبان حکومت کے حوالے سے عرب ملکوں کا رویہ کیا ہوتا ہے۔

امکان اس بات کا ہے کہ عرب ممالک جلد بازی میں کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جو بعد میں ان کے لیے مصیبت کا باعث بن جائے۔ عرب ممالک بے پناہ دولت کے مالک ہیں لیکن وہ آنکھ بند کرکے افغانستان کی مدد نہیں کریں گے۔ وہ تیل اور تیل کی دھار دیکھ رہے ہیں۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے وہ بہت محتاط ہے۔ عمران خان اپنے آپ کو موجودہ فریم ورک میں سیٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس حوالے سے ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان کی موجودہ تبدیلیوں میں عمران خان نے اہم کردار ادا کیا ہے لیکن افغانستان کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، اس کے بارے میں ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ مغربی ملکوں کو جو سب سے زیادہ تشویش ہے وہ ایک تو اپنے شہریوں کی بحفاظت واپسی کی ہے دوسرے افغانستان سے مستقبل میں کیا تعلقات ہو سکتے ہیں اس حوالے سے بھی مغربی ملکوں کو تشویش ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ عشروں سے جو سیٹ اپ افغانستان میں موجود رہا ہے اس کو کس طرح تبدیل کیا جائے۔ افغان معاشرہ ایک قبائلی معاشرہ ہے، قبائل کے کچھ اصول اور ضوابط بہت سخت ہوتے ہیں، ان میں آسانی سے تبدیلی ممکن نہیں، اس کے لیے ایک لمبا عرصہ درکار ہے۔

طالبان کی موجودہ حکومت بلاشبہ بہت محتاط طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے، یہ ایک اچھی علامت ہے خاص طور پر خواتین اور سوشل سیٹ اپ میں تبدیلی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اس سے طالبان کس طرح نمٹیں گے، یہ دیکھنا ہے۔ اس حوالے سے امریکا اور مغربی ملکوں کا کردار بہت اہمیت رکھتا ہے۔ طالبان قیادت جانتی ہے کہ امریکا کو قابو میں رکھنا بھی ضروری ہے۔

The post طالبان کا افغانستان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3opbQq7

روح محمد پھونکنے والا سائباں (دوسرا اور آخری حصہ)

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سب سے پہلے صدر میرے دادا جان شیخ القرآن و الحدیث حضرت مولانا عبد الحکیمؒ کے شاگرد رشید شیخ التفسیر مولانا شمس الحق افغانی  ؒبنے جو تین سال تک اس عہدے پر فائز رہے، میرے والد محترم شیخ القرآن و الحدیث مولانا حمد اللہ جان ڈاگئی باباجی  ؒ کو عرب و عجم کے بہت سارے  اکابرین کے علاوہ تفسیر و حدیث کی اجازت مولانا شمس افغانیؒ نے بھی دی تھی۔

مولانا شمس الحق افغانیؒ کے بعد مولانا خیر محمد جالندھریؒ وفاق کے صدر بنے اور سات سال تک اسی عہدے پر ذمے داریاں نبھاتے رہے۔ ان کے بعد یہ اس منصب پر چار سال چار ماہ تک مولانا محمد یوسف بنوریؒ فائز رہے۔ مولانا مفتی محمودؒ کے پاس یہ عہدہ دو سال پانچ ماہ اور مولانا محمد ادریس میرٹھیؒ کے پاس آٹھ سال تک رہا۔ مولانا میرٹھیؒ کے بعد شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خانؒ وفاق کے صدر منتخب ہوئے اور وہ 27 سال سات ماہ تک وفاق کے صدر رہے۔

مولانا سلیم اللہ خانؒ کے انتقال کے بعداس منصب مولانا  ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندرفائز ہوئے، وہ تادم حیات اسی عہدے پر فائز رہے۔ ان کے انتقال کے بعد اب وفاق کی باگ ڈور شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کو سونپ دی گئی ہے، ان کے ساتھ ایک بار پھر ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری ہی کو منتخب کیا گیا ہے۔

جالندھری صاحب کے خانوادے کی وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے لیے گران قدر خدمات ہیں۔ پہلے ان کی والد مولانا خیر محمد جالندھریؒ بطور صدر وفاق کی ذمے داریاں نبھاتے رہے اب کئی سالوں سے قاری محمد حنیف جالندھری یہ خدمات انجام دے رہے ہیں، وہ بہت احسن طریقے سے وفاق المدارس عربیہ کی ترجمانی اور نگہبانی کر رہے ہیں۔ان کے صاحبزادے مولانا احمد بھی ہر وقت ان کی معاونت میں سرگرم نظر آتے ہیں۔

شیخ الاسلام حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب اور قاری محمد حنیف جالندھری کے انتخاب پر ملک بھر میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے علم دوست، دین دوست اور مخلص حلقوں میں جس طرح خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مدارس کے ذمے داران ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے ہیں اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہ سب اللہ رب العزت کا خصوصی فضل وکرم ہے۔

اس حوالے سے ماضی کی طرح آج بھی بہت سے حضرات کا اپنا اپنا کردار اور حصہ ہے۔ بظاہر تو صدارت کے منصب پر حضرت شیخ الاسلام جلوہ افروز ہوئے لیکن حقیقت میں مسلک اہل سنت والجماعت علمائے کے اکابرین خاص طور پر سینئر نائب صدر وفاق حضرت مولانا انوار الحق صاحب، حضرت مولانا مفتی سید مختار الدین شاہ صاحب، حضرت مولاناحافظ فضل الرحیم اشرفی صاحب، مولاناقاضی عبدالرشید صاحب، مولاناامداداللہ صاحب، مولاناحسین احمد صاحب، مولاناصلاح الدین صاحب، مولاناسعید یوسف صاحب کے علاوہ دیوبند مکتبہ فکر سے وابستہ ہر عالم، تحصیل، ضلع اور صوبائی ذمے داران، مدارس کے مہتمیمین اور ایک ایک طالب علم خاص طور پر وفاق المدارس کے مرکزی دفتر میں مختلف ذمے داریاں سرانجام دینے والے احباب نے بہت بھرپور اور موثر کردار ادا کیا۔

وفاق المدارس کی نئی قیادت کے سامنے بہت سے چیلنجز ہیں، مفتی تقی عثمانی اور قاری حنیف جالندھری کے لیے وفاق کی ذمے داری ہر گز پھولوں کی سیج نہیں ہوگی بلکہ کانٹوں کی راہ گزر ہوگی، جہاں قدم قدم پر انھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ کالے انگریز بھی گورے انگریز کے نقش قدم پر چل نکلے ہیں۔

چند کو چھوڑ کر تقریباً ہر حکمران نے اپنے اپنے انداز سے دینی مدارس کی روح کو مسخ کرنے کی کوشش کی، دینی مدارس کے اثرات کو کم کرنے، دینی مدارس کے نصاب و نظام کو  تبدیل کرنے، دینی مدارس کی حریت و آزادی پر قدغنیں لگانے کی اپنی اپنی سی کوششیں کیں لیکن الحمدللہ صرف وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے ہی نہیں بلکہ اتحاد تنظیمات مدارس نے یکساں اور مربوط حکمت عملی باہمی اتحاد و یکجہتی کے ذریعے ان تمام چالوں اور سازشوں کو ناکام بنایا۔

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے لیے سیاسی ڈھال اور سیاسی میدان میں ترجمانی اور حفاظت کے لیے مولانا فضل الرحمٰن صاحب جیسے قد آور اور موثر شخصیت کی موجودگی ایک نعمت غیر مترقبہ، ان کی بصیرت دفاع کی وجہ سے مدارس کے ہر دشمن کو منہ کی کھانی پڑی، مولانا نے ہمیشہ مدارس کی حریت و آزادی اور فکرو عمل کا دفاع کیا اور کرتے رہیں گے۔

اہل مدارس نے بے سروسامانی کے باوجود اپنی خودداری اور خود مختاری پر حرف نہیں آنے دیا۔ نصاب اور نظام پر بیرونی ڈکٹیشن اور دباؤ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا، اور ان کی استقامت سے مدارس دینیہ کے سارے دشمن ناکام اور نامراد ٹھہر ے۔

اب آگے کے سفر کے لیے وفاق المدارس کے ارباب حل وعقد نے جو حکمت عملی وضع کی ہے۔ جس عظیم ہستی کے ہاتھ میں وفاق المدارس کی باگ ڈور دی گئی ہے اور جن عظیم لوگوں نے دینی مدارس اور وفاق المدارس کے گرد پہرہ دینے کا عزم کیا ہے وہ سب خراج تحسین کے لائق ہیں۔ اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے اہل مدارس کا انتخاب لاجواب ہے۔

آج بھی کالے انگریز باز نہیں آرہے ہیں اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے صرف دیوبند مکتبہ فکر کے لیے پانچ نئے وفاق ان کے مقابلے میں کھڑے کرنے کی بھونڈی کوشش کر رہے ہیں، اب تک سرکاری وفاقوں کو خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔ ان کم عقلوں کو کون سمجھائے کہ خالق کائنات کے آسرے پر قائم وفاق المدارس عربیہ کا مقابلہ کمزور مخلوق کیسے کرسکتی ہے۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان اللہ تبارک و تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، یہ وہ چھت اور سائبان ہے جس کے نیچے بیٹھ کرہم صرف ایک مقصدکے لیے جمع ہوتے ہیں اور وہ ہے مسلمانوں میں روح محمد پھونکنے والے مدارس کاتحفظ۔

اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان مدارس کے بوری نشین طلباء کے ذریعے دنیاکی ساری طاقتوں کو افغانستان میں اس طرح ذلیل و رسواکیاہے کہ اس کوئی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ برطانیہ جوپہلی سپرپاورتھی، اس وقت بھی انھوں نے افغانوں کامقابلہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پہاڑوں سے ٹکراکرپاش پاش ہوگئے تھے۔

برطانیہ ، روس اورآخرمیں امریکا کابھی یہ ایجنڈا تھا۔ “کہ ملاکواس کے کوہ ودمن سے نکال دو”، اور روح محمد کو ان کے جسم و جان سے نکال دو مگروہ” مْلا” اتناسخت جان تھاکہ چالیس پچاس ہزارآدمیوں نے تمام تکنیکی اسلحہ سے لیس پچاس ملکوں کی فوجوں کواس طرح رسواکیاکہ آج پوری دنیاچیخ رہی ہے، چلارہی ہے اورخاص طورپر اگر بھارت کامیڈیا سن لیں یااس کے چینل دیکھ لیں تو اس کی چیخیں آسمانوں سے باتیں کرتی نظر آئیں گی، وہ ملا کو نکالنے اور ان کے بدن سے روح محمد نکالنے کے لیے آیے تھے مگر ملا نے ان کونکال باہرپھینکا۔

اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ عزت اورشرف الحمدللہ طالبان کوعطا فرمایا۔ وفاق درحقیقت ہے توخالص تعلیمی ادارہ، لیکن یہ ایسی تعلیم دینے والاادارہ ہے کہ جوانسان کو انسان بنائے، جواْس میں ایمان کی روح پھونکے، وہ جو روحِ محمدصلی اللہ علیہ وسلم، جس کے بدن سے نکالنے کے لیے ساری سازشیں چل رہی ہیں، وہ روح محمد پیداکرنے کے لیے یہ ادارہ ہے اورآج ایک طرف تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے دکھا دیاہے کہ “ملا” کیاہوتاہے۔

لیکن اس کے باوجود کالی چمڑی والے انگریز اس فکرمیں ہیں کہ کسی طرح اِس ملا کو پاکستان سے نکالیں، اوراس کے لیے طرح طرح کی سازشیں اور منصوبے بنائے جا رہے ہیں، ہمیشہ دشمنِ اسلام طاقتوں کاجوسب سے بڑاہتھیار ہوتا ہے وہ کوئی اصول اور نظریہ نہیں بلکہ پھوٹ ڈالناہوتاہے، تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی ہوتی ہے۔ علماء نے ایسی سازشیں پہلے بھی ناکام بنائی تھیں، آج بھی ناکام بنائی اور آیندہ بھی ناکام بنائیں گے۔ دنیا کی کوئی طاقت مدارس کو ختم نہیں کرسکتی کیونکہ اس کا پشتی بان اللہ رب العزت ہے۔

The post روح محمد پھونکنے والا سائباں (دوسرا اور آخری حصہ) appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2WwHpmA

کرپشن کے خلاف فعال سسٹم بنائیں!

ملکی سیاسی اُفق پر گزشتہ دو تین دن سے اوپر نیچے حکومتی اور اپوزیشن کے عہدیداروں کی دسیوں پریس کانفرنس ہو چکی ہیں، ان کا عنوان ایک ہی ہے، اور وہ ہے ’’لندن فیصلہ‘‘! لندن فیصلہ کیا اس پر تو بعد میں بات کرتے ہیں مگر دونوں اطراف کو ایک بات کی داد تو دینا پڑے گی کہ بھیا! دونوں کے دلائل بڑے ’’مضبوط ‘‘ ہیں۔

اتنے ’’مضبوط ‘‘کہ جھوٹ بھی پناہ مانگ رہا ہوگا، وہ اس لیے کہ نہ تو اپوزیشن اتنی پارسا ہے اور نہ ہی حکومت۔ اس لیے سب لوگ Face Saving گیم کھیل رہے ہیں، جس کا ملک اور عوام کی معاشی حالت پر کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے۔

آپ دیکھ لیجیے گا کہ شہباز شریف کیس کا پاکستان میں بھی کچھ نہیں بنے گا کیوں کہ یا تو موجودہ حکومت اس قابل نہیں کہ وہ کچھ ثابت کرسکے یا پورے کا پورا سسٹم ہی بیٹھا ہوا ہے۔ میں ایک سے زیادہ مرتبہ اس بات کا ذکر اپنے کالموں میں کر چکا ہوں کہ خان صاحب ان مقدمات پر فضول پیسہ اور وقت برباد کرنے کے بجائے ایسا سسٹم بنا ڈالیں کہ دوبارہ کوئی کرپشن نہ کر سکے ۔

موجودہ حکومت کے پاس اب 2سال سے بھی کم عرصہ رہ چکا ہے۔ عمران خان کرپشن ختم کرنے کے ایک نکاتی ایجنڈے پر پاکستانی قوم کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے لیکن حکومت بدعنوانی میں کمی تو درکنار کسی ایسے شخص کے خلاف بھی کوئی فیصلہ سامنے نہیں آ سکا جنھیں حکومت تواتر سے ’چور اور لٹیرے‘ قرار دیتی رہی ہے۔

اس لیے خان صاحب اور ان کی کابینہ کو چاہیے کہ وہ لمبی چوڑی بحثیں یا تقریریں کرنے کے بجائے ایسی قانون سازی پر توجہ دیں کہ کرپشن کرنے سے پہلے کوئی سو مرتبہ سوچے۔ یا اس حوالے سے سوچیں کہ بدعنوانی کے خلاف پاکستان کا قانونی ڈھانچہ کیوں تسلسل سے ناکام ہو رہا ہے۔ کیوں کہ جب بھی کسی مرض کا علاج شروع کیا جاتا ہے تو اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر مرض کی شدت اور گہرائی جانچی جاتی ہے اور پھر اس کا ایسا علاج تجویز کیا جاتا ہے جس سے مرض بھی ختم ہو جائے اور مریض کی تکلیف میں بھی کمی واقع ہو۔

بدعنوانی کو اگر سماجی بیماری مان لیا جائے تو اس کے بارے میں بھی ایسا ہی طریقہ علاج اختیار کرنا اہم ہوگا۔جب کوئی مرض کسی ایک علاج سے درست نہیں ہوتا تو معالج دوا یا طریقہ علاج تبدیل کرتا ہے۔ اس طرح حتمی مقصد یعنی بیماری سے نجات حاصل کرنے کے لیے کام جاری رکھا جاتا ہے۔ کسی نے کبھی کوئی ایسا حکیم یا ڈاکٹر نہیں دیکھا ہوگا جو مرض بڑھنے کے باوجود پرانی دوا جاری رکھنے پر اصرار کرتا ہو۔

پاکستان میں کرپشن کا علاج کرنے کے لیے البتہ یہی عجیب و غریب طریقہ علاج اختیار کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی کرپشن کے خلاف نعروں اور اقدامات کا آغاز ہو گیا تھا۔ مرض تو دور نہیں ہوسکا البتہ مریض جاں بلب ہے۔

اور موجودہ حکومت کو یہ ہر گز نہیں بھولنا چاہیے کہ اُن کے دور میں کرپشن کم ہونے کے بجائے 124درجے سے 128درجے پر آن پہنچی ہے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان 1995 میں 39ویں نمبر پر موجود تھا، اور آج 124 ویں نمبر پر ہے، یہاں یہ بتاتا چلوں کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے 1993 میں کام کا آغاز کیا اس لیے اُس کے پاس تمام ملکوں کا ڈیٹا 1995کے بعد کا موجود ہے، جب کہ اس سے پہلے ورلڈ بینک اور دیگر مالیاتی ادارے ہی ہلکے پھلکے انداز میں کسی بھی ملک کی کرپشن رینکنگ کیا کرتے تھے۔

اور ایک اندازے کے مطابق 80 کی دہائی میں پاکستان کی کرپشن رینکنگ 25ویں سے 30ویں نمبر میں رہتی تھی، 1995 میں 39ویں نمبر پر ،2000 میں 87ویں نمبر ، اگلے پانچ سالوں میں یعنی 2005 میں 144ویں نمبر ، پھر 2010میں ہم 143ویں نمبر پر تھے۔ جب ن لیگ 2013 میں تیسری بار اقتدار میں آئی تو اُس وقت ہم 127ویں نمبر پر تھے۔ جب ن لیگ کی حکومت ختم ہوئی تو ہمارا درجہ 124واں تھااور آج ہم 128ویں پر ہیں۔

اب اگر گزشتہ سالوں کا ریکارڈ دیکھیں تو ہم نے اپنے ملک کے 35سالوں میں 100’’درجات‘‘ بلند کیے ہیں۔آپ ان 100درجات کا حکمران طبقات سے حساب مانگ کر دیکھ لیں،آپ کو پتہ چل جائے گا ۔ لہٰذاہمیں ایک دوسرے میں کیڑے نکالنے اور الزامات لگانے کے بجائے ایسی وجوہات تلاش کرنا ہوں گی جن کی وجہ سے کرپشن کا ناسور اس ملک کی جان نہیں چھوڑ رہا۔

رہی بات امریکا ، لندن ،سوئٹزر لینڈ یا کسی دوسرے ملک کے بینکوں میں جمع کرپشن کی کمائی کو ملک میں لانے کے لیے اقدامات کرنے کی تو میرے بھائی! کونسا ملک ہے جو اربوں ڈالر اپنے بینکوں سے نکال کر آپ کی جھولی میں ڈال دے گا یا اکاؤنٹس تک رسائی دے گا۔ لہٰذا یہ سوچنا چھوڑ دیں کہ کوئی ملک آپ لوٹی ہوئی رقوم واپس کر دے گا۔ برطانیہ میں ہر سال پانچ لاکھ مشکوک فنانشل سرگرمیاں رپورٹ ہوتی ہیں جب کہ thetimes.co.ukکی ایک رپورٹ کے مطابق دس سال میں صرف پانچ افرادکو منی لانڈرنگ کے الزامات ثابت کر کے سزادی جا سکی۔

اور یہ الزامات ایسے تھے جن میں منی لانڈرنگ کے ذریعے دہشت گردوں کو رقوم فراہم کی گئی، باقی 4لاکھ 99ہزار 95افراد جو ملک میں پیسہ لے کر آئے انھیں ’’معاف‘‘ کر دیا گیا۔ الغرض جب حالات ایسے ہوں تو پھر سب کچھ چھوڑ کر اپنے ملک کو ٹھیک کرنا زیادہ مناسب ہوتا ہے، نہ کہ کسی دوسرے ملک میں جاکر پیسے نکلوانے کی باتیں کرنا۔ اس لیے خان صاحب وطن عزیز میں ایسا سسٹم بنائیں اور کرپشن کے خلاف ایسی سزائیں متعارف کروائیں کہ کوئی کرپشن کرنے کی جرأت نہ کر سکے !

The post کرپشن کے خلاف فعال سسٹم بنائیں! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3kVU8bK

کورونا مثبت کیسز کی شرح میں مسلسل کمی، 2.87 فیصد ریکارڈ

 اسلام آباد: ملک بھر میں کورونا مثبت کیسز کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی اور یہ شرح 2.87 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے باعث 56 اموات رپورٹ ہوئیں جس کے ساتھ ہی ملک بھر میں وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 27 ہزار 785 ہوگئی۔

این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 49 ہزار 49 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے ایک ہزار 411 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی جب کہ کورونا مثبت کیسز کی شرح 2.87 فیصد رہی تاہم ملک بھر میں کورونا کے مجموعی کیسز کی تعداد12 لاکھ 46 ہزار 538 ہوگئی ہے۔

کورونا وائرس اوراحتیاطی تدابیر:

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیراختیارکرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازے کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلا کربیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پرکوئی اثرنہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اورہرایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

The post کورونا مثبت کیسز کی شرح میں مسلسل کمی، 2.87 فیصد ریکارڈ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3zVLqOT

ڈنگی تیزی سے پھیل رہا، تیز حکومتی اقدامات نظر نہیں آرہے، ایکسپریس فورم

 لاہور: ڈنگی طبی نہیں، معاشرتی اور انتظامی مسئلہ ہے، ڈنگی اور کورونا جیسی وباؤں سے نمٹنے کیلیے ہمیں صحتمند رویے اپنانا ہوں گے۔

ایسی وبائیں شعبہ صحت اور معیشت پر بوجھ ہوتی ہیں جن سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات ضروری ہوتے ہیں، یہ باعث تشویش ہے کہ جتنی تیزی سے ڈنگی پھیل رہا ہے اتنی تیزی سے حکومتی اقدامات نہیں ہو رہے۔

ان خیالات کا اظہار حکومت، شعبہ صحت اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے ’’ڈنگی کے بڑھتے ہوئے کیسز اور اس کا تدارک‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں کیا۔

پارلیمانی سیکریٹری برائے انفارمیشن و کلچر پنجاب ندیم قریشی نے کہا کہ ڈینگی کا تدارک ہماری ترجیحات میں شامل ہے، اس وقت پنجاب میں 1600 سے زائد ڈینگی کے کیسز آئے ہیں ،ہم نے ماضی کی حکومتوں سے بہتر نظام بنایا ہے، اب تک 4 لاکھ سے زائد آؤٹ ڈور سروے ہوچکے ہیں۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور کے جنرل سیکریٹری پروفیسر ڈاکٹر شاہد ملک نے کہا کہ ڈنگی طبی نہیں یہ معاشرتی اور انتظامی مسئلہ بھی ہے، ایسے مسائل کا حل مقامی حکومتوں کے ادارے ہوتے ہیں مگربدقسمتی سے ہمارے ہاں لوکل گورنمنٹ کے الیکشن ہی نہیں ہوئے، ہمارے معاشرتی بھی رویے بیمار ہیں لہٰذا ڈینگی اور کورونا جیسی وباؤں سے نمٹنے کے لیے ہمیں صحتمند رویے اپنانا ہوں گے، 92 فیصد لوگوں میں ڈینگی بخار خود بخود ٹھیک ہوجاتا ہے۔

The post ڈنگی تیزی سے پھیل رہا، تیز حکومتی اقدامات نظر نہیں آرہے، ایکسپریس فورم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3CWeI1K

آج بزرگوں کا عالمی دن، تقریبات سیمینارز کا انعقاد کیا جائے گا

 لاہور: پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج بزرگوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔

بزرگوں کے عالمی دن کو منانے کا مقصد بزرگ شہریوں کے حقوق کے حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنا ہے تاکہ نئی نسل کو رٹائرڈ، عمر رسیدہ اور بزرگ افراد کی زندگی کے آخری ایام میں در پیش مصائب سے آگاہ کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ بزرگوں کی لائف اچیومنٹ سروسز کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے۔ 73 سالہ معذور بزرگ رحمت علی گزشتہ چالیس برس سے جوتیاں گانٹھ کر روزی کماتے ہیں۔

 

 

The post آج بزرگوں کا عالمی دن، تقریبات سیمینارز کا انعقاد کیا جائے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3kVaGRh

کراچی؛ گلستان جوہر میں شاپنگ مال کے سامنے تیز ہواؤں کے باعث 3 کھمبے گر گئے

 کراچی: گلستان جوہر میں ملینیئم شاپنگ مال کے سامنے تیز ہواؤں کے باعث 3 کھمبے گرگئے۔

گزشتہ روز شہر کے مختلف علاقوں میں تیز ہوائیں اور آندھی چلتی رہی، سہ پہر میں گلستان جوہر میں ملینیئم شاپنگ مال کے سامنے تین کھمبے گرگئے، کھمبے گرنے سے 2 رکشے تباہ ہوگئے، تینوں کھمبے فاصلے سے ہی ملینئم مال کے سامنے تھے اور سڑک پر گرگئے، خوش قسمتی سے تینوں کھمبے گرنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

کچھ دیر کے لیے سڑک پر ٹریفک معطل ہوگئی، ٹریفک پولیس کے اہلکاروں نے فوری طور پر ٹریفک کو متبادل راستوں کی جانب بھیج دیا، بعدازاں کچھ دیر بعد مشینری موقع پر پہنچ گئی اور کھمبوں کو سڑک سے ہٹادیا گیا جس کے بعد ٹریفک کی روانی بحال ہوگئی۔

The post کراچی؛ گلستان جوہر میں شاپنگ مال کے سامنے تیز ہواؤں کے باعث 3 کھمبے گر گئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3mkKfUK

24گھنٹوں کے دوران مزید 21 افراد ڈنگی کا شکار

 کراچی: سندھ بھر میں ڈنگی کے کیسزمیں تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

سندھ میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران 21 افراد ڈنگی کا شکار ہوئے جن میں سے 8 کا تعلق کراچی سے ہے، رواں سال سندھ بھر میں ڈنگی وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 6 ہوگئی۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق سندھ میں 24گھنٹوں میں ڈنگی وائرس کے 21 کیس رپورٹ ہوئے جبکہ کراچی میں 24گھنٹوں کے دوران ڈنگی کے 8 کیس رپورٹ ہوئے۔

سندھ بھر میں ماہ ستمبر میں ڈنگی کے اب تک 557 کیس رپورٹ ہوچکے ہیں جن میں سے 371 کا تعلق کراچی سے ہے، ماہ ستمبر میں کراچی کے ضلع وسطی سے 132، ضلع شرقی سے 84، ضلع جنوب سے 48، ضلع کورنگی سے 39، ضلع غربی سے 40 اور ضلع ملیر سے 28 کیس رپورٹ ہوچکے ہیں۔

رواں سال سندھ میں اب تک ڈنگی وائرس کے 1922 کیس رپورٹ ہوچکے ہیں جبکہ سندھ میں رواں سال ڈینگی وائرس کے باعث 6 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جاں بحق ہونیوالوں میں4افرادکاتعلق کراچی سے ہے۔

The post 24گھنٹوں کے دوران مزید 21 افراد ڈنگی کا شکار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3oC5Pa3

اسرائیلی وزیر خارجہ کا بحرین کا پہلا سرکاری دورہ

مناما: اسرائیلی وزیر خارجہ نے بحرین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد پہلی بار سرکاری دورہ کیا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق بحرین نے گزشتہ سال اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لیپڈ نے بحرین کے شاہ حماد ال خلیفہ کے ساتھ  بحرین میں اسرائیل کے پہلے سفارت خانے کا افتتاح بھی کیا۔

گزشتہ سال اسرائیل کا دورہ کرنے والے بحرین کے وزیر خارجہ عبدالطیف بن راشد الثانی نے مناما ہوائی اڈے پر اپنے اسرائیلی ہم منصب کا استقبال کیا، بعد ازاں اسرائیلی وزیر خارجہ نے شاہ حماد سے ملاقات کی جس میں معاشی اور سیکیورٹی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس دوطرفہ بات چیت میں دونوں ممالک نے ایران کو خطرہ قرار دیا۔

اسرائیلی اور بحرینی وزیر دفاع نے اسپتال، پانی اور بجلی کے مختلف معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی کیے۔

بعدازاں ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس میں بحرینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی ہم منصب کے اس دورے سے مشرق وسطی میں امن و استحکام کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے عوام بھی خوش حال ہوں گے۔ اس موقع پر اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل اور خلیج میں اس کے دوست ممالک کا اتحاد ایک دلیرانہ اتحاد ہے، جس سے خطے میں رواداری، استحکام اور خوش حالی کو فروغ ملے گا۔

واضح رہے کہ بحرین امریکی ثالثی میں ہونے والے ابراہام معاہدے کا حصہ ہے، جس کے تحت متحدہ عرب امارات، مراکو اور سوڈان نے اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کیے تھے۔ جب کہ دوعرب ممالک مصر اور یمن نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ کے دورے پر ابراہام معاہدے کے مخالفین کی جانب سے مناما کے مضافات میں سڑکوں پر ٹائر جلا کر احتجاج بھی کیا گیا۔ اس موقع پر کالعدم شیعہ تنظیم الوفاق کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل شیخ حسین ال دیہہ کا کہنا تھا کہ ہم بحرین میں اسرائیلی وزیر خارجہ کے دورے کوبحرینی عوام کی جانب سے مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔

The post اسرائیلی وزیر خارجہ کا بحرین کا پہلا سرکاری دورہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/39PzmnY

آج کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

آپ کو اپنے کاروبار کو چلانے اور مالی فائدہ حاصل کرنے کے لئے بڑی سخت جدو جہد کی ضرورت ہے۔ لاپرواہی ہر گز نہ برتیں ورنہ بڑی سخت دشواریوں کا بھی سامنا کر نا پڑ سکتا ہے۔

ثور:
22 اپریل تا 20 مئی

 چند نام نہاد دوست آپ کے خلاف سازش کر سکتے ہیں ۔ بہر حال آپ کو اتنا اندازہ تو ہو ہی چکا ہو گا کہ برے وقت کے دوران کوئی بھی کسی کا ساتھ نہیں دیتا۔

جوزا:
21 مئی تا 21جون

من پسند فرد کے ساتھ شادی کا امکان ہے، ملازمت سے وابستہ افراد کی ترقی کے امکانات ہیں لیکن آپ آج کے دن بسلسلہ فرائض وغیرہ میں لاپرواہی کا مظاہرہ ہرگز نہ کریں۔

 

سرطان:
22جون تا23جولائی

وہ لوگ جو جائیداد کی خرید و فروخت کا بزنس کرتے ہیں بہت زیادہ احتیاط برتیں، اپنے قریبی عزیزوں کو اپنے گھریلو معاملات میں مداخلت نہ کرنے دیں۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

آپ کا ذہن فضول سوچوں میں الجھ سکتا ہے مزاج بھی قدرے رنگین رہے گا ہر خوبصورت چیز کو اپنا حق سمجھنے کی غلطی بھی نہ کریں حسن پرستی کا جذبہ شدت اختیار کر سکتا ہے ۔

 

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

امپورٹ ایکسپورٹ کرنے والے حضرات کے لئے آج کا دن اہم ہے کاروباری سکیمیں جو آپ بہت عرصے سے بنا رہے ہیں ان پر عمل کرنے کا وقت آ گیا ہے ۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

تمام حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم آپ کو یہ رائے دیں گے کہ کوئی لاکھ کوشش کرے آپ جذباتی نہ ہوں بلکہ ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ ہر سازش کا توڑ سیاسی انداز سے کرتے رہئے۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

عزیز و اقارب اور دوستوں سے خوشگوار مراسم پر مبنی تعلقات قائم ہو سکتے ہیں، آپ اپنے گھر کا ماحول درست رکھنا چاہتے ہیں تو پھر خود کو نارمل رکھنے کی کوشش کریں۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

کافی رقم کی بچت ہو سکے گی، قریبی عزیزوں کے ساتھ تعلقات بحال ہو سکیں گے، عشق و محبت کے معاملات میں سوائے مایوسی کے کچھ حاصل نہ ہو سکے گا۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

نزدیکی سفر کا پروگرام بن سکتا ہے مگر اس کے نتائج آپ کی توقع کے مطابق برآمد نہ ہو سکیں گے عشق و محبت کے معاملات میں سوائے مایوسی کچھ حاصل نہ ہو سکے گا۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

بسلسلہ تعلیم خصوصی توجہ کی ضرورت ہے مفت کی دولت ملنے کا امکان ہے سیاسی و سماجی کارکن آج کے دن اپنی سرگرمیوں کو محدود ہی رکھیں تو بہتر ہے۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

مخالفین کی سازشوں کا سدباب قبل از وقت کر لیجئے ہر معاملے کی تحقیق خود کریں آج آپ کو شریک حیات کی بھرپور توجہ حاصل رہے گی۔ آپ بھی ان کی عزت کریں۔

The post آج کا دن کیسا رہے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3iwZBVb

شدید بارشوں کے پیش نظر سندھ حکومت نے کراچی میں عام تعطیل کا اعلان کردیا

کراچی  : حکومت سندھ نے بحیرہ عرب میں سمندری طوفان اور شدید بارشوں کے پیش نظر آج کراچی میں عام تعطیل کا فیصلہ کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بحیرہ عرب میں آنے والے سمندری طوفان اور شدید بارشوں کی وجہ سے آج کراچی میں عام تعطیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کمشنر کراچی کی جانب سے جاری نوٹیفیکشن کے مطابق کراچی میں جمعہ کےروز تمام صوبائی دفاتر بند رکھنےکا بھی فیصلہ کیاہے۔ جب کہ نجی وسرکاری اسکول، کالجز اور جامعات کو بھی بند رکھا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق اس تعطیل کا اطلاق اسپتال، بلدیاتی اداروں اور لازمی سروس کےاداروں میں نہیں ہوگا۔ حکومت سندھ نے شدید بارش کے خدشے کے پیش نظر تاجر برادری سے تجارتی وکاروباری سرگرمیاں بھی بند رکھنے کی اپیل کی ہے۔

The post شدید بارشوں کے پیش نظر سندھ حکومت نے کراچی میں عام تعطیل کا اعلان کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3ioWpdR

شدید بارشوں کے پیش نظر سندھ حکومت نے کراچی میں عام تعطیل کا اعلان کردیا

کراچی  : حکومت سندھ نے بحیرہ عرب میں سمندری طوفان اور شدید بارشوں کے پیش نظر آج کراچی میں عام تعطیل کا فیصلہ کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بحیرہ عرب میں آنے والے سمندری طوفان اور شدید بارشوں کی وجہ سے آج کراچی میں عام تعطیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کمشنر کراچی کی جانب سے جاری نوٹیفیکشن کے مطابق کراچی میں جمعہ کےروز تمام صوبائی دفاتر بند رکھنےکا بھی فیصلہ کیاہے۔ جب کہ نجی وسرکاری اسکول، کالجز اور جامعات کو بھی بند رکھا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق اس تعطیل کا اطلاق اسپتال، بلدیاتی اداروں اور لازمی سروس کےاداروں میں نہیں ہوگا۔ حکومت سندھ نے شدید بارش کے خدشے کے پیش نظر تاجر برادری سے تجارتی وکاروباری سرگرمیاں بھی بند رکھنے کی اپیل کی ہے۔

The post شدید بارشوں کے پیش نظر سندھ حکومت نے کراچی میں عام تعطیل کا اعلان کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3ioWpdR

کراچی میں طوفانی بارشوں کی پیشگوئی، اسپیشل سیکیورٹی کا اربن فلڈنگ ریسکیو یونٹ سڑکوں پر آگیا

 کراچی: شہر قائد میں طوفانی بارشوں کی پیش گوئی کے پیش نظر اسپیشل سیکیورٹی کا اربن فلڈنگ ریسکیو یونٹ سڑکوں پر آگیا ہے۔

روزنامہ ایکسپریس میں خبر کی اشاعت کے بعد بالآخر اسپیشل سیکیورٹی یونٹ کا اربن فلڈنگ ریسکیو یونٹ سڑکوں پر آگیا۔ شدید بارشوں کی پیش گوئی کے بعد یونٹ کے ارکان کو ناگن چورنگی پر تعینات کردیا گیا۔

مذکورہ یونٹ ڈی آئی جی سیکیورٹی ڈویژن مقصود میمن نے قائم کیا تھا جس کا افتتاح 7 جولائی کو کراچی پولیس چیف عمران یعقوب منہاس نے کیا تھا۔ افتتاح کے بعد سے مذکورہ یونٹ مکمل طور پر غائب تھا۔

جولائی سے ستمبر تک متعدد مرتبہ بارش ہوئی اور شہری پانی میں پھنسے رہے حتیٰ کہ شہریوں کی گاڑیاں تک پانی میں بہہ گئیں لیکن اربن فلڈنگ یونٹ شہریوں کی مدد کو نہیں پہنچا۔

روزنامہ ایکسپریس نے جمعہ 24 ستمبر کو اس حوالے سے خبر شائع کی تھی جس کے بعد بالآخر ایس ایس یو حکام کو بھی خیال آہی گیا اور یونٹ کے ارکان کو کشتیوں، لائف جیکٹس اور دیگر ضروری سامان کے ساتھ ناگن چورنگی پر تعینات کردیا گیا۔

The post کراچی میں طوفانی بارشوں کی پیشگوئی، اسپیشل سیکیورٹی کا اربن فلڈنگ ریسکیو یونٹ سڑکوں پر آگیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Y5ZhFm

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا

 اسلام آباد: وزارت خزانہ نے پیٹرول  کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر کااضافہ کردیا ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ قیمت میں اضافے کے بعد پیٹرول کی قیمت 123 روپے 30 پیسے سے بڑھ کر 127روپے 30 پیسے فی لیٹر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل  کی قیمت میں 2روپے فی لیٹر،مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 5 پیسے جب کہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 8 روپے 82 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: حکومت نے ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی کلو اضافہ کردیا

قیمتوں میں اضافے کے بعد ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 120 روپے 4 پیسے سے بڑھ کر 122 روپے 4 پیسے، مٹی کے تیل کی قیمت 92 روپے 26 پیسےسے بڑھ کر 99 روپے31 پیسے جب کہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 90 روپے 69 پیسے فی لیٹر سے بڑھ کر 99 روپے 51 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

The post حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3ok2QCT

کراچی میں طوفانی بارشوں کی پیشگوئی، اسپیشل سیکیورٹی کا اربن فلڈنگ ریسکیو یونٹ سڑکوں پر آگیا

 کراچی: شہر قائد میں طوفانی بارشوں کی پیش گوئی کے پیش نظر اسپیشل سیکیورٹی کا اربن فلڈنگ ریسکیو یونٹ سڑکوں پر آگیا ہے۔

روزنامہ ایکسپریس میں خبر کی اشاعت کے بعد بالآخر اسپیشل سیکیورٹی یونٹ کا اربن فلڈنگ ریسکیو یونٹ سڑکوں پر آگیا۔ شدید بارشوں کی پیش گوئی کے بعد یونٹ کے ارکان کو ناگن چورنگی پر تعینات کردیا گیا۔

مذکورہ یونٹ ڈی آئی جی سیکیورٹی ڈویژن مقصود میمن نے قائم کیا تھا جس کا افتتاح 7 جولائی کو کراچی پولیس چیف عمران یعقوب منہاس نے کیا تھا۔ افتتاح کے بعد سے مذکورہ یونٹ مکمل طور پر غائب تھا۔

جولائی سے ستمبر تک متعدد مرتبہ بارش ہوئی اور شہری پانی میں پھنسے رہے حتیٰ کہ شہریوں کی گاڑیاں تک پانی میں بہہ گئیں لیکن اربن فلڈنگ یونٹ شہریوں کی مدد کو نہیں پہنچا۔

روزنامہ ایکسپریس نے جمعہ 24 ستمبر کو اس حوالے سے خبر شائع کی تھی جس کے بعد بالآخر ایس ایس یو حکام کو بھی خیال آہی گیا اور یونٹ کے ارکان کو کشتیوں، لائف جیکٹس اور دیگر ضروری سامان کے ساتھ ناگن چورنگی پر تعینات کردیا گیا۔

The post کراچی میں طوفانی بارشوں کی پیشگوئی، اسپیشل سیکیورٹی کا اربن فلڈنگ ریسکیو یونٹ سڑکوں پر آگیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2Y5ZhFm

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا

 اسلام آباد: وزارت خزانہ نے پیٹرول  کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر کااضافہ کردیا ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ قیمت میں اضافے کے بعد پیٹرول کی قیمت 123 روپے 30 پیسے سے بڑھ کر 127روپے 30 پیسے فی لیٹر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل  کی قیمت میں 2روپے فی لیٹر،مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 5 پیسے جب کہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 8 روپے 82 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: حکومت نے ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی کلو اضافہ کردیا

قیمتوں میں اضافے کے بعد ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 120 روپے 4 پیسے سے بڑھ کر 122 روپے 4 پیسے، مٹی کے تیل کی قیمت 92 روپے 26 پیسےسے بڑھ کر 99 روپے31 پیسے جب کہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 90 روپے 69 پیسے فی لیٹر سے بڑھ کر 99 روپے 51 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

The post حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3ok2QCT

Wednesday, 29 September 2021

پی سی بی میں عاقب اور معین خان کو اہم ذمہ داریاں سونپنے کا امکان

 لاہور: عاقب جاوید اور معین خان کو پی سی بی میں اہم ذمہ داریاں سونپے جانے کا امکان ہے۔

ورلڈکپ 1992 کے فاتح اسکواڈ میں شامل کھلاڑی فیورٹ ہیں، عاقب جاوید اور معین خان کو اہم ذمہ داریاں سونپے جانے کا امکان ہے، مدثر نذر بھی امیدواروں میں شامل ہیں۔

واضح رہے کہ پی سی بی میں مزید تبدیلیاں بھی ہوں گی۔

The post پی سی بی میں عاقب اور معین خان کو اہم ذمہ داریاں سونپنے کا امکان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3ikne2J

امریکا نے افغانستان میں باضابطہ شکست تسلیم کرلی

 واشنگٹن: امریکا نے افغانستان میں اپنی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے افغانستان میں 20 سالہ جنگ ہاری ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی جنرل مارک ملی نے ہاؤس آف آرمڈ سروسز کمیٹی میں امریکا کی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ بہت واضح ہے کہ افغانستان میں جنگ کا اختتام اس طرح نہیں ہوا جیسے امریکا چاہتا تھا، یہ مکمل طور پر اسٹریٹیجک ناکامی ہے جو ہم نے آخری کے 20 دن یا 20 مہینوں میں نہیں بلکہ 20 سال کی جنگ ہاری ہے تاہم امریکا نے افغان جنگ سے کئی سبق سیکھے ہیں۔

The post امریکا نے افغانستان میں باضابطہ شکست تسلیم کرلی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3AUlmoV

پیٹرول مزید 5 روپے 25 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کا امکان

 اسلام آباد: حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں مزید 5 روپے 25 پیسے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔

اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری پٹرولیم ڈویژن کو بھجوادی ہے جس میں پٹرول کی قیمت 5 روپے 25 پیسے فی لیٹر جب کہ ڈیزل کی قیمت میں ساڑھے 3 فی لیٹر تک اضافے کی شفارش کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کا حتمی فیصلہ وزارت خزانہ وزیراعظم کی مشاورت سے کرے گی جب کہ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہوگا۔

اس خبر کو بھی پڑھیں : حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے، ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے ایک پیسہ جب کہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 5 روپے 92 پیسے اور مٹی کی تیل کی قیمت میں 5 روپے 42 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔

The post پیٹرول مزید 5 روپے 25 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کا امکان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/39OfZf1

گھبرائے ہوئے کرکٹرز کا حوصلہ بڑھایا جانے لگا

 لاہور: گھبرائے ہوئے کرکٹرز کا حوصلہ بڑھایا جانے لگا جب کہ چیف سلیکٹر نے میٹنگ میں خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ٹی ٹوئنٹی کپ میں ورلڈکپ کے ٹرائل میچز نہیں ہورہے۔

راولپنڈی میں جاری نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں ورلڈکپ کیلیے منتخب کئی کرکٹرز کی کارکردگی اچھی نہیں رہی، صہیب مقصود، خوشدل شاہ، اعظم خان اور محمد حسنین توقعات کے بوجھ تلے دبے نظر آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق محمد وسیم نے منگل کی شب کرکٹرز سے اسلام آباد کے ہوٹل میں ملاقات کرتے ہوئے ان کا کھویا ہوا اعتماد واپس لانے کیلیے کوشش کی، انھوں نے کھلاڑیوں کو باور کرایا کہ نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں ٹرائل میچز نہیں ہورہے، بے خوف ہو کر اپنے نیچرل کھیل کا مظاہرہ کریں،صلاحیتوں کے مطابق کھیل پیش کرنا خود ان کے اپنے اور قومی ٹیم کے مفاد میں ہو گا۔

ذرائع کے مطابق کپتان بابر اعظم نے بھی کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ آپ بہتر پرفارم کر سکتے ہیں، بغیر کسی گھبراہٹ کا شکار ہوئے اچھا کھیل پیش کریں۔

یاد رہے کہ مصباح الحق اور وقار یونس کی رخصتی کے بعد نیوزی لینڈ اور انگلینڈ سے ہوم سیریز کیلیے ثقلین مشتاق کو کوچ اور عبدالرزاق کو معاون مقرر کیا گیا تھا،انھوں نے راولپنڈی میں کیمپ کے دوران ذمہ داریاں بھی سنبھالیں مگر دونوں سیریز ہی منسوخ ہوگئیں، چیف سلیکٹر محمد وسیم اسکواڈ منتخب کرکے کوچ کا کردار ادا کرتے ہوئے کرکٹرز سے خطاب کیلیے پہنچ گئے۔

دوسری جانب قومی ٹیم میں تبدیلیوں کی بازگشت مسلسل سنائی دے رہی ہے،ڈومیسٹک کرکٹ میں پرفارم نہ کرپانے والے کھلاڑیوں کی جگہ ریزروز میں شامل فخرزمان اور شاہنواز دھانی کے ساتھ سینئر آل راؤنڈر شعیب ملک کو بھی ورلڈکپ اسکواڈ کا حصہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔

The post گھبرائے ہوئے کرکٹرز کا حوصلہ بڑھایا جانے لگا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3l0l36x

13 سال بعد گارڈن پولیس اسپتال کا آپریشن تھیٹر فعال

 کراچی: ایڈیشنل آئی جی کراچی کی جانب سے پولیس ملازمین کے لیے 13 سال بعد گارڈن پولیس اسپتال کا آپریشن تھیٹر فعال کردیا گیا ہے۔

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پولیس اسپتال، ڈاکٹر ہاشمانی اور ویلفیئر برانچ کی کاوشیں رنگ لائیں، ایڈیشنل آئی جی کراچی کی محنت سے 13 سال بعد گارڈن پولیس اسپتال کا آپریشن تھیٹر فعال کردیا گیا ہے، اسپتال کے آپریشن تھیٹر میں موتیا کے 27 مریضوں کا کامیاب آپریشن کیا گیا۔

اے ڈی آئی جی پی فنانس اینڈ ویلفیئر عارف اسلم راؤ کے مطابق27 مریضوں کے موتیا کا کامیاب آپریشن کے ساتھ ساتھ مریضوں کو دوائیں اور لینز مفت فراہم کیے گئے ہیں، پولیس ملازمین اور ان کے والدین کی بہبود کے اقدامات جاری ہیں۔

گارڈن پولیس اسپتال میں موتیا کے مفت آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے تمام پولیس ملازمین اس کے لیے آئی ای او پی ڈی میں آسکتے ہیں صبح 9 سے 12 بجے اپنا معائنہ اور آپریشن کے لیے وقت حاصل سکتے ہیں۔

The post 13 سال بعد گارڈن پولیس اسپتال کا آپریشن تھیٹر فعال appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3ojqIXb

نیوزی لینڈ ٹیم کے معاملے پر نتیجے تک پہنچ گئے، وزیر داخلہ

 اسلام آباد: وزیر داخلہ شیخ رشیداحمد نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی واپسی کے معاملے پر نتیجے پر پہنچ گئے ہیں۔

اسلام آباد وومن چیمبرز آف کامرس کی تقریب حلف  برداری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ نیوزی لینڈ ٹیم کیلئے ان کی فوج سے زیادہ سکیورٹی فورس تعینات کی گئی، نیوزی لینڈ ٹیم کے معاملے پر بھارت نے غلط خبریں پھیلائیں، ہمارے لوگ کرکٹ کو پسند کرتے ہیں مگر نیوزی لینڈ ٹیم کے جانے سے ہم مرے نہیں جارہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ  20اکتوبر سے پہلے خواتین بازار کا آغاز کردیا جائے گا، وزیر داخلہ نے کہا کہ سلمان شہباز کو پاکستان آنے کی اجازت ملی ہے تو اپنے تایا کو بھی ساتھ لے آئے،(ن) لیگ تقسیم کا شکار ہے، ’’ن‘‘ سے ’’ش‘‘ نکلے گی کہتا تھا، اب  کہتا ہوں ’م‘ بھی نکلے گی۔

وزیر داخلہ نے مہنگائی بڑھنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی ہے حکومت چار بنیادی چیزیں اور چار دوائیاں انسولین، بلڈ پریشر،  وغیرہ سستی کرنے جارہی ہے۔

اس سے قبل اسلام آباد ویمن چیمبر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ رشید احمد  نے کہا کہ راولپنڈی میں دو یونیورسٹی بنائی اب تیسری بھی بناوں گا۔

 

 

The post نیوزی لینڈ ٹیم کے معاملے پر نتیجے تک پہنچ گئے، وزیر داخلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3oo5tn4

13 سال بعد گارڈن پولیس اسپتال کا آپریشن تھیٹر فعال

 کراچی: ایڈیشنل آئی جی کراچی کی جانب سے پولیس ملازمین کے لیے 13 سال بعد گارڈن پولیس اسپتال کا آپریشن تھیٹر فعال کردیا گیا ہے۔

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پولیس اسپتال، ڈاکٹر ہاشمانی اور ویلفیئر برانچ کی کاوشیں رنگ لائیں، ایڈیشنل آئی جی کراچی کی محنت سے 13 سال بعد گارڈن پولیس اسپتال کا آپریشن تھیٹر فعال کردیا گیا ہے، اسپتال کے آپریشن تھیٹر میں موتیا کے 27 مریضوں کا کامیاب آپریشن کیا گیا۔

اے ڈی آئی جی پی فنانس اینڈ ویلفیئر عارف اسلم راؤ کے مطابق27 مریضوں کے موتیا کا کامیاب آپریشن کے ساتھ ساتھ مریضوں کو دوائیں اور لینز مفت فراہم کیے گئے ہیں، پولیس ملازمین اور ان کے والدین کی بہبود کے اقدامات جاری ہیں۔

گارڈن پولیس اسپتال میں موتیا کے مفت آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے تمام پولیس ملازمین اس کے لیے آئی ای او پی ڈی میں آسکتے ہیں صبح 9 سے 12 بجے اپنا معائنہ اور آپریشن کے لیے وقت حاصل سکتے ہیں۔

The post 13 سال بعد گارڈن پولیس اسپتال کا آپریشن تھیٹر فعال appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3ojqIXb

نیوزی لینڈ ٹیم کے معاملے پر نتیجے تک پہنچ گئے، وزیر داخلہ

 اسلام آباد: وزیر داخلہ شیخ رشیداحمد نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی واپسی کے معاملے پر نتیجے پر پہنچ گئے ہیں۔

اسلام آباد وومن چیمبرز آف کامرس کی تقریب حلف  برداری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ نیوزی لینڈ ٹیم کیلئے ان کی فوج سے زیادہ سکیورٹی فورس تعینات کی گئی، نیوزی لینڈ ٹیم کے معاملے پر بھارت نے غلط خبریں پھیلائیں، ہمارے لوگ کرکٹ کو پسند کرتے ہیں مگر نیوزی لینڈ ٹیم کے جانے سے ہم مرے نہیں جارہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ  20اکتوبر سے پہلے خواتین بازار کا آغاز کردیا جائے گا، وزیر داخلہ نے کہا کہ سلمان شہباز کو پاکستان آنے کی اجازت ملی ہے تو اپنے تایا کو بھی ساتھ لے آئے،(ن) لیگ تقسیم کا شکار ہے، ’’ن‘‘ سے ’’ش‘‘ نکلے گی کہتا تھا، اب  کہتا ہوں ’م‘ بھی نکلے گی۔

وزیر داخلہ نے مہنگائی بڑھنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی ہے حکومت چار بنیادی چیزیں اور چار دوائیاں انسولین، بلڈ پریشر،  وغیرہ سستی کرنے جارہی ہے۔

اس سے قبل اسلام آباد ویمن چیمبر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ رشید احمد  نے کہا کہ راولپنڈی میں دو یونیورسٹی بنائی اب تیسری بھی بناوں گا۔

 

 

The post نیوزی لینڈ ٹیم کے معاملے پر نتیجے تک پہنچ گئے، وزیر داخلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3oo5tn4

رضائے الٰہی

میرے ایک دوست نے گجرات میں اپنے ڈیرے پر ملازم رکھ لیا‘ وہ بے چارہ فاٹا کے کسی گاؤں سے آیا تھا اور پنجابی زبان اور پنجابی روایات دونوں سے ناواقف تھا‘ وہ مہینے بھر کی نوکری کے بعد اپنے مالک کے پاس آیا اور اس سے کہا ’’صاحب میں ایک بات پر بہت حیران ہوں‘‘ ہمارے دوست نے پوچھا ’’کیوں کیا ہوا؟‘‘ وہ شرما کر بولا ’’آپ کے گاؤں میں ایک ہی بندہ بار بار کیوں مرتا ہے؟‘‘ مالک نے جواب دیا ’’یہ کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘

خان تھوڑی دیر شرمایا اور پھر بولا ’’آپ کی مسجد کا مولوی صاحب روز اسپیکر پر اعلان کرتا ہے رضائے الٰہی فوت ہو گیا آپ کے گاؤں میں رضائے الٰہی روز کیوں مرتا ہے‘‘ میرے دوست نے یہ واقعہ سنایا تو میں بھی دیر تک ہنستا رہا لیکن پھر رک کر اپنے دوست سے کہا’’ہمارے پاکستان میں بھی رضائے الٰہی روز فوت ہو رہے ہیں‘‘۔میرے دوست کو میری بات عجیب لگی۔

مجھے یقین ہے آپ کو بھی میرے دوست کی طرح میری بات عجیب محسوس ہو گی لیکن آپ یقین کریں ہمارے معاشرے میں جتنی خوبیاں تھیں وہ سب رضائے الٰہی کی طرح ایک ایک کر کے فوت ہو رہی ہیں جب کہ برائیاں روز بچے دے رہی ہیں‘ آپ انحطاط کا لیول ملاحظہ کیجیے‘ محمد زبیر کے حوالے سے چند کلپس نکلے اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے ٹاپ ٹرینڈ بن گئے اور پورا ملک چسکے لینے لگا‘ کسی نے کسی کو نہیں روکا‘ 22 کروڑ لوگ یہ بھول گئے محمد زبیر کی فیملی بھی ہے‘ اس کے پوتے پوتیاں اور نواسے نوسیاں بھی ہو سکتی ہیں۔

کلپس صحیح ہیں یا غلط اس کا فیصلہ وقت کرے گا لیکن اس شخص کی بے عزتی اور ہتک ہم نے آج کر دی‘ یہ سلسلہ اگر یہاں تک رہتا تو بھی شاید برداشت ہو جاتا لیکن ان کلپس کے بعد اس کے مرحوم والد کے بارے میں جو میمز بنائے گئے یا جس طرح مریم نواز کو میمز کے ذریعے بے عزت کیا گیا اس کی کیا جسٹی فکیشن ہے؟ گناہ ثواب یا جنت دوزخ کا فیصلہ اللہ تعالیٰ حشر کے دن کرے گا لیکن ہم جس طرح روزانہ کی بنیاد پر اپنے آدرش اور اپنی معاشرتی اخلاقیات قتل کر رہے ہیں کیا ہمیں اس کا حساب نہیں دینا پڑے گا‘ کیا ہمیں اس کا تاوان ادا نہیں کرنا پڑے گا؟

حضرت عمرؓ کے بارے میں تاریخ کی کتابوں میں ایک واقعہ درج ہے‘ یہ واقعہ اگرچہ غیر مستند ہے لیکن یہ اس کے باوجود قابل توجہ ہے‘حضرت عمرؓ حضرت ابن مسعود ؓ کے ساتھ رات کے وقت گشت کر رہے تھے‘ ایک گھر سے گانے کی آوازآئی‘آپؓ نے دروازے کے سوراخ سے جھانکا تو اندر ایک بوڑھا شخص دکھائی دیا‘ اس کے سامنے شراب تھی اور گانے والی لڑکی گا رہی تھی‘آپؓگھر کی پچھلی دیوار پھلانگ کر بوڑھے کے سر پر پہنچ گئے۔

بوڑھا امیر المومنین کو سامنے دیکھ کر گھبرا گیا‘ آپؓ نے فرمایا‘’’تم پر حد نافذ ہو گی‘‘ بوڑھے نے چند لمحے سوچا اور پھر بولا ’’ اے امیرالمومنین! میں نے اللہ تعالیٰ کی صرف ایک نافرمانی کی لیکن آپؓ نے تین غلطیاں کیں‘‘حضرت عمرؓ نے فرمایا‘ وہ کون کون سی ہیں ؟اس نے کہا’’ آپ نے تجسس کیا‘ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے‘دوسری غلطی‘ آپؓ گھر کے پیچھے سے کود کراندر داخل ہوئے‘ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے اور تیسری غلطی آپؓ بغیراجازت میرے گھر میں تشریف لائے جب کہ اللہ تعالیٰ نے دوسروں کے گھروں میں بلااجازت داخل ہونے سے روک دیا تھا‘‘۔حضرت عمر ؓ نے فرمایا ‘تم نے سچ کہا‘ کیا تم مجھے معاف کر دوگے؟بوڑھے نے جواب دیا‘ اللہ تعالیٰ آپ کو معاف فرمائے‘حضرت عمرؓ اس کے بعد روتے ہوئے باہر نکلے۔

آپؓ بار بار فرما رہے تھے ہلاکت ہے عمر کے لیے اگر اللہ تعالیٰ نے مغفرت نہ فرمائی۔ آپؓ خود کو مخاطب کرکے فرماتے تھے ’’ تم جانتے ہو آدمی ایسی حالت کو اپنے اہل وعیال سے بھی چھپانا چاہتا ہے اور یہ اب سوچے گا مجھے امیر المومنین نے دیکھ لیا‘‘۔وہ بوڑھا اس واقعے کے بعد شرم کی وجہ سے کافی عرصہ آپؓ کی مجلس میں نہ آیا ‘کافی عرصہ بعد اس نے سوچا امیر المومنین اب یہ واقعہ بھول چکے ہونگے تو وہ ایک دن آپؓ کی مجلس میں حاضر ہوگیا‘حضرت عمر ؓ نے جیسے ہی اسے دیکھا ‘ آپؓ نے اشارے سے اسے پاس بلایا‘ وہ ڈرتا ہوا آپؓ کے قریب آیا تو آپؓ نے اس کے کان میں کہا’’ میں نے اس دن کے واقعے کا ذکر کسی سے نہیں کیا حتیٰ کہ اپنے ساتھی سے بھی نہیں‘‘ بوڑھے نے جواب دیا’’ امیرالمومنین میں بھی قسم کھا کر کہتا ہوں میں نے بھی اس دن سے شراب کو ہاتھ نہیں لگایا‘میں پکی توبہ کرچکا ہوں‘‘۔

ہم یہ تھے اور ہم آج رضائے الٰہی کے انتقال کے بعد کیا ہو چکے ہیں؟۔میں سمجھتا ہوں محمد زبیر سے تحقیقات کی باری بعد میں آئے گی لیکن ہمیں کلپس اور میمز بنانے والوں سے پہلے پوچھنا چاہیے کہ آپ لوگوں کو کس نے اجازت دی آپ دوسرے لوگوں کی پردہ شکنی کرتے رہیں اور پھر اس کو پوری دنیا میں بدنام کرتے رہیں‘ سوشل میڈیا پر ان کلپس پر تبصرہ کرنے والوں کامحاسبہ بھی ہونا چاہیے ورنہ یہ معاشرہ رہنے کے قابل نہیں رہے گا۔

ہم اگر پچھلے تین برسوں کا تجزیہ کریں تو ہمیں یہ ماننا ہوگا حکومت کے سارے جرم ‘ساری غلطیاں ایک طرف لیکن اس دور میں جتنا قتل سچ اور اخلاقیات کا ہوا اس کا کوئی شمار نہیں‘ آپ کوئی ایشو اٹھا کر دیکھ لیں آپ کے لیے جھوٹ یا سچ کا فیصلہ مشکل ہو جائے گا‘ قرضے 2018 تک لعنت ہوتے تھے‘ پٹرول‘ گیس اور ڈالر کی مالیت میں اضافے کا مطلب ’’وزیراعظم چور ہے‘‘ ہوتا تھا‘ روپے کی مالیت میں ایک روپے کی کمی سے قرضوں میں 100 ارب روپے اضافہ ہو جاتا تھا‘ پی ایس ایل کے غیر ملکی کھلاڑی ریلو کٹے ہوتے تھے۔

سیکیورٹی میں زمبابوے‘ سری لنکا اور ویسٹ انڈیزکے ساتھ میچ کرفیو میں ہوتا تھا اور عمران خان یہ میچ عراق میں بھی کرا سکتے تھے‘ خوراک میں دو تین روپے کا اضافہ بھی ’’لوٹ گئے‘ کھا گئے‘‘ ہوتا تھا‘ ایکسٹینشن اداروں کا زوال اور تباہی ہوتی تھی‘ چیئرمین نیب ذاتی ملازم اور غلام ہوتا تھا‘ آئی ایم ایف خودکشی کے برابر ہوتی تھی‘ بجلی کے ریٹس میں کمی کے لیے بل جلاناجائز ہوتا تھا اور افسروں کے تبادلے بیوروکریسی کے زوال کی وجہ تھے لیکن آج ماضی کے سارے گناہ ثواب بن چکے ہیں۔

آپ زوال دیکھیے پاکستان مسلم لیگ ن نے 27 ستمبر کو برطانیہ کی این سی اے (نیشنل کرائم ایجنسی) کا ایک آرڈر ریلیز کیا اور یہ لوگ دعویٰ کر رہے ہیں این سی اے نے 21 ماہ کی تحقیقات کے بعد میاں شہباز شریف کی فیملی کے 20 سال کے اثاثے کلیئر کر دیے‘ یہ دعویٰ غلط ہو سکتا ہے لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے اس فیصلے سے حکومت کے بیانیے کو ٹھیک ٹھاک ٹھیس پہنچی‘ نیب اور ایسٹ ریکوری یونٹ (اے آر یو) کوبھی تاریخی سبکی اٹھانا پڑی لیکن حکومت اپنی چار پائی کے نیچے ڈانگ پھیرنے کی بجائے ’’تمہارا کچھا بھی پھٹا ہوا ہے‘‘ جیسی گردان کر رہی ہے۔

حکومت کو چاہیے تھا یہ اے آر یو سے پوچھتی‘ آپ نے دسمبر 2019 میں این سی اے کو ثبوتوں کے ساتھ بتایا تھا سلیمان شہباز کے اکاؤنٹس میں شہباز شریف نے پاپڑ والوں‘ فالودے والوں اور چینی والوں کے ذریعے پیسے جمع کرائے تھے اور یہ آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم اور پاور پلانٹس کی ’’رشوت‘‘ تھی‘ اے آر یو نے این سی اے کو ثبوت بھی دیے تھے لیکن یہ 21 ماہ میں برطانوی ایجنسی کو مطمئن نہ کر سکی اور یوں سلیمان شہباز اور ذوالفقار احمد کے منجمد اکاؤنٹس بحال ہو گئے۔

حکومت اپنی اصلاح کی بجائے این سی اے کے آرڈر کو فیصلہ ماننے کے لیے تیار نہیں اور وزراء آرگومنٹ دے رہے ہیں یہ فیصلہ نہیں حکم ہے ‘ ن لیگ نے 10 ستمبر کا فیصلہ 27 ستمبر کو کیوں جاری کیا؟ فیصلے میں شہباز شریف کا نام نہیں اور یہ تحقیقات صرف ایک بینک کی ایک ٹرانزیکشن کے بارے میں تھی وغیرہ وغیرہ‘ یہ تمام جواز بالکل ایسے ہیں جیسے لکھنؤ کے کسی بانکے نے گالی کھانے کے بعد پان چباتے ہوئے کہا تھا’’ ہمیں گالی نہیں لگی کیوں کہ گالی دینے والے نے ہمشیرہ کی ہ پر زبر نہیں لگائی تھی‘‘ کوئی ان سے پوچھے‘ جناب فیصلے میں شہباز شریف کا نام ہے یا نہیں‘ ن لیگ اس فیصلے کو خواہ 217 دن دبا کر بیٹھی رہے یا یہ فیصلہ ہے یا حکم آپ یہ چھوڑیں ‘ آپ صرف یہ بتائیں کیا اے آر یو نے 11 دسمبر 2019 کو این سی اے کو خط نہیں لکھا تھا اور کیا اس خط میں حکومت نے یہ ثابت نہیں کیا تھا سلیمان شہباز کے اکاؤنٹس میں شہباز شریف کی کرپشن کے پیسے ہیں اور شریف فیملی ایک کرپٹ سیاسی خاندان ہے۔

یہ منی لانڈرنگ‘ کرپشن اور لوٹ کھسوٹ میں ملوث ہیں اور اس کے خلاف پاکستان میں مقدمات چل رہے ہیں‘ حکومت صرف یہ بتائے اے آر یو 21 ماہ میں این سی اے میں اپنے الزامات ثابت کیوں نہیں کر سکا‘ یہ ڈی میں پہنچ کرگول کیوں نہیں کر سکا؟حکومت اس کا حساب دے۔

حکومت یہ نہیں کرے گی‘ یہ اپنی غلطی کبھی نہیں مانے گی‘ کیوں؟ کیوں کہ اس ملک میں سچ کا رضائے الٰہی انتقال کر چکا ہے‘ اب یہاں صرف اور صرف جھوٹ کا مقابلہ ہے اور جو زیادہ ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ بول لیتا ہے وہ جیت جاتا ہے اور کم زور جھوٹا ہار جاتا ہے لہٰذا آیے اور رضائے الٰہی کو انجوائے کیجیے۔

The post رضائے الٰہی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3oeCBxE

پاکستان بدل رہا ہے

گزشتہ دنوں صدر پاکستان عارف علوی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان بدل رہا ہے، وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے حیرانگی ہوئی کہ خواتین حکومتی فنڈز کے لیے اداروں کا رخ نہیں کر رہی ہیں۔ صدر صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ نرسوں کے مطالبات کیوں نہیں مانے جا رہے ہیں، لیڈی ہیلتھ ورکرزکو مہینوں تنخواہیں کیوں ادا نہیں کی جاتیں، پولیوکے قطرے پلانے والی خواتین ورکرز کو تحفظ کیوں نہیں دیا جاتا اور تنخواہیں وقت پر کیوں ادا نہیں کی جاتیں، ہاں مگر پاکستان بدل رہا ہے۔

بجلی کی پیداواری لاگت میں ایک سال کے دوران 60 فیصد اضافہ ہوا ہے، ملک بھر میں 4 لاکھ 11 ہزار سے زائد رجسٹرڈ معذور افراد ہیں، ان کی کتنی دادرسی کی جا رہی ہے، اس کے علاوہ دال، چاول، آٹا، گھی، چینی، چائے، دودھ، گوشت، مسالہ جات اور سبزیوں کی قیمتوں میں صرف بدلاؤ نہیں آیا بلکہ 100 گنا اضافہ ہوا۔ اس لحاظ سے تو ترقی ہو رہی ہے۔ طالبان بھی بدل رہے ہیں۔ طالبان نمایندے نے اعلان کیا ہے کہ طالبان امن کے لیے امریکا کے شراکت دار ہو سکتے ہیں۔ ادھر شمالی کوریا نے جنوبی کوریا سے تعلقات بہتر بنانے پر مشروط عندیہ دیا ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا اگر دشمنی کی پالیسی کو ترک کردے تو ہم بات چیت کرنے کو تیار ہیں۔ ادھر مذہبی انتہا پسندی ہر فرقے کے لیے زہر قاتل ہے۔ اگر افغان طالبان افغانستان میں خواتین کی آزادی کو سلب کرتے ہیں تو یمن میں حوثی بھی یہی کام کر رہے ہیں۔

حوثیوں نے صنعاء، یمن میں خواتین کو ٹچ فون استعمال کرنے اور سنگھار (میک اپ) کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔دوسری جانب افغانستان کے لاکھوں بچے پاکستان اور ایران میں کچرا چننے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ یمن میں تو لاکھوں بچے فاقوں اور بھوک سے مر رہے ہیں۔ افغان شہریوں کو عرب ممالک اور پاکستان اشیا خورو نوش پہنچا رہے ہیں جب کہ یمن کو اقوام متحدہ اور دیگر ممالک خورونوش کی اشیا پہنچا رہے ہیں۔

نایاب نسل کے پرندے پینگولین اور فیلکون کے غیر قانونی شکار پر کارروائی کرتے ہوئے 11 افراد گرفتار ہوئے، ان سے سارے پرندے حکومت نے اپنی طویل میں لے لیے اور بھاری جرمانے کیے۔ دوسری جانب جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں غیر ملکی شہزادوں کو تلور اور باز کے شکار کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

ان نایاب پرندوں کی حفاظت ہمارا فریضہ بنتا ہے، مگر یہ غلط کام ہے کہ عام لوگوں پر جرمانے کیے جائیں اور حکمرانوں کو سہولتیں فراہم کی جائیں۔ آج کل ایسا کوئی دن نہیں کہ 8/10 افراد حادثات کے شکار نہ ہوتے ہوں۔ ہر سال ہزاروں افراد حادثات کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں، اس سلسلے میں حکومت اس کی روک تھام کے لیے کوئی انتظام نہیں کر پا رہی ہے۔

عالمی مارکیٹ میں روپے کی بے قدری جاری ہے، ڈالر 171 روپے کی بلند سطح پر پہنچ گیا۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے کا بنیادی ڈھانچہ منظور ہو گیا ہے اور دو سال میں کام مکمل ہو جائے گا۔ ایسا ہو تو اچھا ہے۔ ویسے تو ہم 2002 سے سرکلر ریلوے کی بحالی کی بات سنتے آ رہے ہیں۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق سالانہ شرح مہنگائی 13.88 فیصد رہی جب کہ ہفتہ وار مہنگائی میں 0.07 فیصد کمی آئی ہے۔ چینی اور گھی سمیت 20 اشیا مہنگی ہوئی ہیں ، جب کہ دس اشیا سستی ہوئی ہیں۔ جس میں آلو، پیاز، لہسن، آٹا، گندم، دال مسور، دال ماش، دال چنا اور دال مونگ شامل ہیں ، جب کہ آلو اور پیاز 60 روپے کلو فروخت ہو رہے ہیں اورکسی بھی دال کی قیمت میں کمی نہیں ہوئی۔ سندھ میں کورونا ویکسین کی 59 ہزار خوراکیں ضایع ہوگئی ہیں۔ کالاشا کاکو میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پولیو ٹیم جب پہنچی تو مالک مکان اورگارڈز نے پولیو ٹیم پر تشدد شروع کردیا، پالتو کتے بھی چھوڑ دیے۔

تین افراد اسی سلسلے میں گرفتار ہوئے۔ فیکٹری اور گودام پر چھاپہ مار کر 6 کروڑ 93 لاکھ کی مضر صحت چھالیہ اور سپاری برآمد۔ اس کے باوجود ہر پان کی دکان پر خفیہ طور پر روزانہ لاکھوں ٹن کا گٹکا، چھالیہ اور پان فروخت ہو رہا ہے۔ یقیناً پولیس، کسٹم اور خفیہ اداروں کی ایجنسیوں کی مدد کے بغیر بڑے پیمانے پر گٹکے کی فروخت ناممکن ہے۔ محنت کشوں کے ان تمام مسائل کا حل ایک غیر طبقاتی امداد باہمی کے سماج میں ہی ممکن ہے۔

The post پاکستان بدل رہا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3uwVJIo

قیامِ چین کی بہترویں سالگرہ

برادرم شعیب بن عزیز خود تو اچھا بندہ ہے ہی مگر اس کی ایک اضافی خوبی یہ ہے کہ وہ آپ کو اچھے لوگوں سے ملوانے کے لیے بھی ہمیشہ سرگرم رہتا ہے۔

میں ماہرِ چشم عزیزی ڈاکٹر علی زین العابدین سے آنکھوں کی طوطا چشمی کے علاج کے لیے دونوں آنکھوں میں انجکشن لگوانے کے بعد پوری دنیا سے یکسر کٹ کر بیٹھا تھا کہ شعیب کا فون آگیا اور اس نے بتایا کہ برادرِ ملک چین کے قیام کی بہترویں سالگرہ منانے کے لیے  UCF کے دوستوں نے ایک تقریب کا اہتمام کیا ہے اور چونکہ آپ نہ صرف ایک سے زیادہ مرتبہ چین جاچکے ہیں بلکہ آپ کے ٹی وی سیریل ’’وارث‘‘ کو بھی چینی زبان میں ڈب کرکے وہاں دکھایا جاچکا ہے۔

اس لیے آپ کی وہاں موجودگی چینی مہمانوں کے لیے بھی اہمیت اور خوشی کا باعث ہوگی اور چونکہ یہ تقریب ابھی تین دن بعد ہے اس لیے یہ آنکھوں شانکھوں والا معاملہ بھی تب تک انشاء اللہ کسی رکاوٹ کا باعث نہیں بنے گا اور یہ کہ جن صاحب ڈاکٹر ظفر الدین محمود کے گھر پر یہ تقریب ہے نہ صرف یہ کہ وہ آپ سے ملنے کے بے حد مشتاق ہیں بلکہ آپ کی آسانی کے لیے انھوں نے گھربھی تقریباً آپ کے علاقے میں ہی بنایا ہوا ہے ۔

میں نے کہا بندہ خدا میرے لیے تمہاری ضمانت ہی کافی ہے میں ضرور آجاؤں گا مگر یہ تو بتاؤ کہ اس  UCF سے بنتا کیا ہے اور ہمارے ان محمود ظفر الدین بھائی صاحب کا اس میزبانی سے کیا تعلق ہے ؟ بولا تفصیل بعد میں بتاؤں گا البتہ محمود بھائی کے اس میزبانی کے تعلق کی وجہ ان کا تقریباً چالیس برس پر محیط عوامی جمہوریہ چین میں وہ خوشگوار قیام ہے جو نہ صرف اُن کی یادوں کا خوب صورت ترین حصہ ہے بلکہ اس کے تشکر کے اظہار کا کوئی موقع بھی وہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔

میں نے تقریب کی نوعیت کے اعتبار سے اپنے سفرنامہ چین ’’ریشم ریشم‘‘ کے میزبان کے لیے بطور تحفہ ایک کاپی تو ساتھ رکھ لی مگر اُن کے گھر کے گیٹ میں داخلے تک مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہاںکیا ہوگا اور یہ UCF کس چیز کا مخفف ہے۔

ایک بڑے سے کمرے میں شعیب بن عزیز سمیت پندرہ بیس خواتین و حضرات کووڈ کی حفاظتی تدابیر کی مکمل اور باقاعدہ پابندی کرتے ہوئے ماسک پہنے موجود تھے جن میں سے چینی احباب تو اس کے باوجود بھی پہچانے جاسکتے تھے مگر شعیب کے علاوہ دیگر تین چار پاکستانیوں میں میزبان کو پہچاننا اپنی جگہ پر ایک مرحلہ تھا لیکن اس سپنس کا کل دورانیہ ایک منٹ سے زیادہ کا نہیں تھا کہ میزبان یعنی ڈاکٹر محمود ظفر الدین نے فوراً ہی مہمانوں سے میرا اس طرح سے تعارف کرانا شروع کردیا کہ اُن کے اپنے تعارف کی خوبصورت گرہیں بھی ایک ایک کرکے کُھلتی چلی گئیں۔

دس کے قریب چینی مہمانوں میں سے صرف تین دوست انگریزی میں بات کرسکتے تھے سو باقیوں سے جتنی گفتگو اور دعا سلام ہوئی اُس کا تعلق آنکھوں سے 80%اور 20% مسکراہٹوں سے رہا کہ انھوں نے چائے کے دوران بھی ماسک کچھ اس طرح سے اتارے یا اِدھر اُدھر کیے کہ بقول غالبؔ غنچہ ناشگفتہ کو دُور سے ہی دیکھا یا دکھایا گیا۔

حکومتی سطح پر تو بلاشبہ دونوں برادر ملکوں میں دوستی کے رشتے گہرے بھی اور مثالی اور مستقل بھی ہیں لیکن دیکھا گیا ہے کہ عوامی سطح پر اس کے اظہار کے مواقعے تقریباً نہ ہونے کے برابرہیں اس کی ایک بنیادی وجہ یقینا زبان ہی ہے کہ دونوں طرف سے اِکا دُکا لوگ ہی ایک دوسرے کی زبان سمجھ ا ور بول سکتے ہیں۔

گزشتہ دو تین دہائیوں سے چین میں انگریزی بولنے اور سیکھنے کا رواج بوجوہ ایک دم بہت زیادہ بڑھ گیا ہے جب کہ ماؤ اور چواین لائی کے زمانے تک اس کی شدبُد بھی فارن سروس اور یونیورسٹیوں کے کچھ شعبوں سے قطع نظر خال خال لوگوں کو ہی تھی لیکن اُس وقت بھی وہ لوگ ہماری طرح نہ تو اس سے مرعوب تھے اور نہ اسے نہ جاننے کی وجہ سے کسی بھی قسم کے کمپلیکس کے شکار تھے۔

امریکا کے صدر رچرڈ نکسن کے اولین دورہ چین کا وہ واقعہ اِس کی ایک زندہ اور روشن مثال ہے جب اس نے چینی وزیراعظم چو این لائی سے بغیر کسی ترجمان کے براہ راست بات کرنے کی یہ کہہ کر درخواست کی تھی کہ یہ بات اس کے علم میں ہے کہ چو این لائی بہت اچھی انگریزی جانتا ہے اور اس کے جواب میں چو این لائی نے مسکرا کر انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی ہی زبان میں بات کرے گا کیونکہ چین گونگا نہیں ہے۔

میرے استفسار پر ڈاکٹر محمود نے بتایا کہ UCF اصل میں  Understanding China Forum کا مختصر نام ہے ، یہ تنظیم چند ماہ پیشتر ہی اس طرز سے قائم کی گئی ہے کہ اس کی معرفت چین اور پاکستان کے باہمی تعلقات کی افہام و تفہیم میں مزید وسعت اور گہرائی پید اکی جاسکے۔

ا س کے چیئرمین خورشید محمود قصوری اور صدرنشین ہمارے میزبان ڈاکٹر محمود ظفر الدین ہیں جو 1976 میں میڈیکل کی تعلیم کے لیے چین گئے تھے تعلیم تو مکمل ہوگئی مگر ساری زندگی انھیں میڈیکل پریکٹس کا موقع نہیں مل سکا کہ پہلے اُن پر بی سی سی آئی کے حسن عابدی صاحب کی نظر پڑی اور وہ وہیں چین میں بینکر بن گئے اور پھر پاکستان کے مختلف سربراہانِ مملکت نے چینی زبان پر اُن کی گرفت اور عمومی لیاقت کو دیکھتے ہوئے اُن کی خدمات سفارت خانہ پاکستان کے لیے حاصل کرلیں، کچھ برس وہ شنگھائی قونصلیٹ میں بطور قونصل جنرل متعین رہے پھر انھیں پاکستان میں سی پیک اور پاک چائنا فورم سے منسلک کردیا گیا اور یوں  2017میں سرکاری ملازمت چھوڑنے تک وہ تقریباً  35 برس کسی نہ کسی طرح چین سے ہی متعلق رہے۔

یہ فورم اور اس کے تحت منعقد کی جانے والی یہ تقریب تمام پاکستانیوں کی طرف سے اس محبت کی آئینہ دار تھی جو وہ چین کے لیے اپنے دل میں رکھتے ہیں، اس موقعے پر چینی دوستوں کی گفتگو سے یہی اندازہ ہُوا کہ وہ عوام کی سطح پر اس رابطے کے قیام سے نہ صرف بہت خوش ہیں بلکہ وہ خود بھی چین میں اس طرح کے عوامی فورم بنانے کے لیے بھرپور کوشش کریں گے، اتفاق سے چند دن قبل ہی مجھے چین میں متعین ہمارے نئے سفیر معین صاحب کا (جن سے اُن کی پیرس تعیناتی کے دوران بھی دوبار ملاقاتوں کا بہت خوشگوار تاثر قائم تھا) کا فون آیا کہ وہ اُردو اور چینی زبانوں کے منتخب ادب کے باہمی تراجم کے سلسلے میں بھی یہاں کے متعلقہ اداروں سے مل کر ایک باقاعدہ منصوبہ بنا رہے ہیں ۔

سیاسی بیانات ، لین دین، تعمیراتی منصوبے اور عالمی برادری میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے کی اہمیت سے یقیناً کسی کو انکار نہیں ہوسکتا لیکن ایک دوسرے کے معاشروں کی خوب صورتیوں اور اشتراکات کو سمجھنے کے لیے زبان و ادب اور فنونِ لطیفہ کی ضرورت اور اہمیت اپنی جگہ ہے۔

اس کا بھر پور احساس بہت پہلے کیا جانا چاہیے تھا لیکن ہمیں تاخیر کی روداد میں سر کھپانے کے بجائے آگے کی طرف دیکھنا چاہیے۔ یو سی ایف والوں نے اپنے تعارفی بروشر میں رسول پاکؐ کی دو احادیث کے بعد دو چینی مفکروں لاؤ تسو اور کنفیوشس کے بھی اقوال درج کیے ہیں جنھیں بلاشبہ علم و دانش کے مرقعے کہا جاسکتا ہے تو آیے آخر میں ان کے معانی کی گہرائی تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

رسول کریمؐ نے فرمایا۔

’’علم حاصل کرو چاہے اس کے لیے تمہیں چین کے دور دراز کا سفر ہی کیوں نہ کرنا پڑے‘‘

’’علم اور عاجزی میں خیر ہی خیر ہے‘‘

لاؤتسو جسے انگریزی میں  Lau Tsu لکھتے ہیں کہتا ہے ۔

’’سفر چاہے ایک ہزار میل کا ہی کیوں نہ ہو شروع وہ ایک ہی قدم سے ہوتا ہے‘‘

مشہور چینی فلسفی کنفیوشس کا کہنا ہے کہ

’’ایسا کام یا پیشہ چنوجو تمہیںدل سے پسند ہو اور اگر ایسا ہوجائے تو تمہیں ساری زندگی کبھی کام کا بوجھ محسوس نہیں ہوگا‘‘

The post قیامِ چین کی بہترویں سالگرہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3F0J5pM

انارکی کی صورتحال کا خطرہ

تحریک انصاف کی حکومت کی ناقص پالیسوں کی بناء پر دو آئینی اداروں کا تشخص خطرہ میں پڑگیا ہے۔ حکومت نے الیکشن کمیشن اور احتساب کے قومی ادارہ نیب کو اپنے قبضہ میں لینے کے لیے ممکنہ اقدامات شروع کردیے۔

الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی میعاد کو ختم ہوئے خاصہ عرصہ ہوا ، وفاقی وزراء نے ماضی کی روایت پر عمل کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ آئین میں درج طریقہ کار پر عملدرآمد نہیں کریں گے۔

آئین کے تحت الیکشن کمیشن کے سربراہ اور اس کے چاروں ارکان کے تقرر کے لیے وزیر اعظم اور قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف کے درمیان اتفاق رائے ہونا ضروری ہے۔ دو سال قبل جب سندھ اور بلوچستان کے اراکین ریٹائر ہوئے تھے تو وزیر اعظم نے اسی طرح کے اعلانات کیے تھے، پھر اس معاملہ میں وزارت خارجہ کو شامل کیا گیا تھا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے الیکشن کمیشن کے اراکین کے تقرر کے لیے دو نام تجویز کیے تھے مگر قائد حزب اختلاف نے وزیر خارجہ کے جاری کردہ ناموں سے اتفاق نہ کیا۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے ایک آرڈیننس جاری کیا اور ان ارکان کو الیکشن کمیشن کے اراکین کی حیثیت دیدی تھی۔ اس اقدام سے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان اٹھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔

چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر نے اپنے قانونی فرائض کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ان ارکان سے حلف لینے سے انکار کیا تھا۔ وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم کی رائے تھی کہ الیکشن کمیشن کے اراکین کے لیے حلف اٹھانا لازمی نہیں ہے۔ بہرحال یہ تنازع اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے پیش ہوا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس آرڈیننس کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا تھا اور چیف الیکشن کمشنر کے فیصلہ کو برقرار رکھا تھا ، جس کے بعد وزیر اعظم تین ناموں کا پینل قائد حزب اختلاف کے سامنے پیش کرنے پر مجبور ہوئے تھے اور پارلیمانی کمیٹی کی مشاورت سے الیکشن کمیشن کے دو ناموں پر اتفاق ہوا اور کمیشن مکمل ہوگیا تھا۔

الیکشن کمیشن نے آزادانہ فیصلوں کی ایک نئی روایت ڈالی۔ ڈسکہ میں قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں 15 پریزائیڈنگ افسر اغواء ہوگئے۔ نامعلوم افراد ان پریزائیڈنگ افسروں کو کسی سیف ہاؤس میں لے گئے۔ چیف الیکشن کمشنر نے ڈسکہ کے ڈپٹی کمشنر ،سیالکوٹ کے کمشنر ، پنجاب کے چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس سے رات گئے تک رابطے کیے مگر کسی نے چیف الیکشن کمشنر کی بات پر توجہ نہ دی۔ یہ پریزائیڈنگ افسر انتخابی نتائج کے ہمراہ علی الصبح ریٹرننگ افسر کے دفتر پہنچ گئے۔

چیف الیکشن کمشنر نے ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ اپنا آئینی حق استعمال کرتے ہوئے ضمنی انتخاب کا نتیجہ روک دیا اور دوبارہ انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا۔ تحریک انصاف کے امیدوار نے اس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا مگر سپریم کورٹ نے دوبارہ انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ برقرار رکھا۔ چیف الیکشن کمشنر نے اس کے ساتھ حکم جاری کیا کہ پریزائیڈنگ افسروں کو اغواء کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو الیکشن کمیشن کا جرات مندانہ فیصلہ پسند نہیں آیا۔ الیکشن کمیشن کے حکم کے مطابق پریزائیڈنگ افسروں اور اغواء کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ وزیر اعظم نے چیف الیکشن کمشنر پر جانبداری کے الزامات لگائے۔

کراچی میں بلدیہ ٹاؤن کے قومی اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں یہی کہانی دہرائی گئی اور چیف الیکشن کمشنر کے آزادانہ فیصلوں سے اقتدار کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی۔ جب چیف الیکشن کمشنر نے سینیٹ کے انتخاب کے طریقہ کار میں غیر آئینی ترمیم ماننے سے انکارکیا تو وفاقی وزراء نے ان کے خلاف محاذ کھول دیے ، حتیٰ کہ وزیر اعظم بھی اس مہم میں شامل ہوگئے۔

سائنس و ٹیکنالوجی کے سابق وزیر کو الیکٹرونک ووٹنگ مشین کا نسخہ مل گیا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ 2023 کے انتخابات اس مشین کے ذریعے کرائے جائیں۔ تمام سیاسی جماعتوں نے اس مشین کو مسترد کیا۔ ان جماعتوں کا کہنا تھا کہ 2018 کے انتخابات میں RTS کے نظام کو ایک منصوبہ کے تحت ناکارہ کیا گیا۔ حکومت نے کبھی بھی RTSکو ناکارہ کرنے والے عناصر کی نشاندہی نہیں کی۔ اس بناء پر خطرہ ہے کہ مشین بھی مینیج ہوجائے گی۔ الیکشن کمیشن نے اس مشین کے استعمال پر مختلف نوعیت کے 37 اعتراضات عائد کیے۔

سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت نے اس مشین کا Source Code دینے سے انکار کیا ، وفاقی وزراء نے چیف الیکشن کمشنر پر حزب اختلاف سے پیسے لینے کے الزامات لگائے۔ چیف الیکشن کمشنر نے نوٹس جار ی کیے تو یہ وزراء نوٹس کا جواب دینے کے لیے وقت مانگ رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ کی اکثریت سے قانون منظور کرایا جائے گا، اگر حکومت نے اکثریت کی بنیاد پر الیکٹرونک مشین کے ذریعہ انتخاب کے انعقاد کا فیصلہ کیا تو چیف الیکشن کمشنر اور تمام اراکین کے پاس مستعفی ہونے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں رہے گا۔

بعض صحافیوں کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے اپنے مستعفی ہونے کے فیصلے کا کئی دفعہ اظہارکیا ہے، یوں الیکشن کمیشن ختم ہوجائے گا۔ ایسی ہی صورتحال نیب کے چیئرمین کی ہے۔ نیب کے چیئرمین جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال کی میعاد اگلے چند دنوں میں ختم ہونے والی ہے۔ حکومتی قیادت نیب کے نئے چیئرمین کے تقرر کے لیے آئینی راستہ اختیار کرنے کو تیار نہیں ۔ وفاقی وزراء کہتے ہیں کہ قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کے مقدمات نیب میں زیرِ تفتیش ہیں، اس لیے ان سے اس بارے میں بات چیت نہیں ہوسکتی۔

قانونی ماہرین اس دلیل کوغلط قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومت کے وزراء پہلے حزب اختلاف کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کی پیشگوئی کرتے ہیں پھر نیب ان کے خلاف مقدمات قائم کرتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ نیب حکومت کی بی ٹیم ہے۔ نیب کے افسران کسی سیاستدان کو تفتیش کے لیے بلاتے ہیں تو تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی کمنٹری شروع کردیتے ہیں۔ موجودہ وزیر خزانہ شوکت ترین نیب کے رویہ کے سب سے بڑے ناقد رہے ہیں۔ ان کے خلاف اب بھی کئی ریفرنس نیب میں زیرِ التواء ہیں ۔ جب حکومتی عہدیداروں کے ریفرنس نیب میں گئے تھے تو وہ سب پاک صاف قرار پائے۔

وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کے سب سے بڑے فنانسر جہانگیر ترین کے خلاف شوگر اسکینڈل میں اربوں روپے کمانے کے خلاف تحقیقات شروع کی تھیں اور پھر اچانک فریقین کسی سمجھوتہ پر پہنچ گئے۔ حکومت نے یہ معاملہ ایف آئی اے یا نیب کے بجائے اپنے رکن بیرسٹر علی ظفر کے سپرد کردیا جنھوں نے جہانگیر ترین کو پاک و صاف قرار دے دیا۔ ایک اعلیٰ افسر کے خلاف امریکا کے اخبار میں لاکھوں ڈالر کی منی لانڈرنگ کا اسکینڈل شائع ہوا ۔ وزیر اعظم نے اس اعلیٰ افسر سے ایک ہی ملاقات میں یہ بات جان لی کہ اس سے زیادہ کوئی شفاف افسر پاکستان میں نہیں ہے۔

اس بناء پر حزب اختلاف کی تمام جماعتیں نیب کو حکومت کی بی ٹیم قرار دیتی ہیں مگر وزیر داخلہ شیخ رشید کہتے ہیں کہ نیب کے اگلے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال ہونگے۔ حکومت اپنے مقصد کے لیے یکطرفہ قانون سازی کرے گی۔ حکومت نے فی الحال پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کے قیام پر آمادگی کا اظہار کیا ہے، اگر حکومت نے اکثریت کی آمریت کی بناء پر ان دونوں اداروں کے تشخص کو نقصان پہنچایا تو ملک میں انارکی کی صورتحال پیدا ہوگی جس کا سب سے زیادہ نقصان خود وفاقی حکومت کو ہوگا۔

The post انارکی کی صورتحال کا خطرہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3AU8miN

روح محمد پھونکنے والا سائباں (حصہ اول)

گزشتہ دنوں امت کے جسموں میں روح محمد پھونکنے والے مدارس دینیہ کے سب سے مضبوط اور بڑے پلیٹ فارم سائباں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نئے عہدیداروں کے چناؤ کے لیے خصوصی اجلاس جامعہ اشرفیہ لاہور میں منعقد ہوا جس میں ملک بھر کے ہزاروں علمائے کرام و شیوخ اور مدارس کے مہتممین شریک ہوئے۔

باباجانؒ کی وفات کے بعد دارالعلوم عربیہ مظہر العلوم کی اہتمام کی ذمے داری کی وجہ سے مجھے بھی شرکت کی سعادت نصیب ہوئی جس سے روح آج تک سرشار ہے۔ اور دست بہ دعا ہوں کہ اے اللہ رب العزت اگر ان اکابرین اور اولیاء اللہ سے اس دنیا میں یہ نسبت دی ہے تو بروز محشر ان کے ساتھ رکھنا۔

مولانا کی دشمنی میں سیاسی بصیرت اور عقل و شعور سے محروم ’’ مشروم سرکار‘‘ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی وحدت ختم اور مرکزیت کو توڑنے کے لیے باقاعدہ ایک منظم مہم چلا رہی ہے۔ آج سے کوئی دو سال قبل ایک اردو روزنامہ میں خبر شائع کروائی گئی کہ ’’مولانا فضل الرحمن وفاق کے صدر بننے کی کوششیں کرنے لگے۔‘‘ یہ خبر بھی اس سلسلے کی ایک کڑی تھی۔

تقریباً تین ماہ پہلے پیر طریقت رہبر شریعت حضرت مولانا عزیز الرحمان ہزارویؒ کے علمی گلشن دارالعلوم زکریا اسلام آباد میں وفاق المدارس کا انتخابی اجلاس ہوا۔ مولانا فضل الرحمٰن سمیت ملک بھر سے ہزاروں علماء کرام شریک ہوئے۔ ایک بار پھر ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر رحمہ اللہ اور قاری حنیف جالندھری صاحب کو بلا مقابلہ صدر اور ناظم اعلیٰ منتخب کر لیا۔ اجلاس میں ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر علالت کے باعث شریک نہیں تھے۔

چند ہی ہفتے گزرے تھے کہ ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب ہمیں داغِ مفارقت دے کر خالق حقیقی سے جا ملے اور ایک بار پھر خلا پیدا ہوگیا۔ اس وقت مدارس دینیہ کو جن مشکلات کا سامنا ہے اسی تناظر میں سیاسی فہم رکھنے والے مدارس کے اکثر ذمے داران کی رائے تھی کہ موجودہ حالات میں اگر صدارت کے لیے کوئی موثر اور موزوں ترین شخصیت ہے تو وہ مولانا فضل الرحمن ہی ہیں۔

کیوں کہ اس حوالے سے خبر قریباً دو سال قبل ’’بڑوں‘‘ کے زیر اثر اخبار میں چھپ چکی تھی۔ اس لیے اس کے پیچھے مذموم مقاصد کا ہونا لازم تھا۔ میری ناقص عقل و فہم کے مطابق ’’بڑوں‘‘ کے سامنے مولانا کو صدر بنانے کے پیچھے کچھ مقاصد تھے ان میں سرفہرست ’’تقسیم کرو اور استعمال کرو‘‘ کا مقصد تھا اس حکمت عملی کے تحت مدرسوں کی وحدت اور مرکزیت کو ختم کرنا اور وفاق المدارس العربیہ کو توڑ کر مختلف حصوں میں بانٹنا تھا اور مولانا کی صدارت کی آڑ میں چند جمعیت مخالف، فرقہ پرست مدارس اور تنظیموں کو وفاق سے علیحدگی اختیار کرنے کا راستہ ہموار کرنا تھا۔

دوسرا مولانا کے صدر ہونے کے بعد مشروم سرکار کو پراپیگنڈا کرنے کے لیے ایک نیا موضوع مل جاتا کہ ’’دیکھیں جی اب تو مولانا براہ راست مدارس اور طلباء کو سیاست میں لارہے ہیں‘‘ اور اس طرح ایک تیر سے دو شکار کرتے ایک مدارس کا اور دوسرا مولانا کی سیاسی قوت کا، یقینا ان کے علاوہ کچھ اور مقاصد بھی ہوں گے، مگر ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے یہی کافی ہے۔

دینی حلقوں میں مولانا کی مقبولیت کا نہ کوئی جوڑ ہے اور نہ توڑ ، اگر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے مجلس عمومی کا کوئی رکن مولانا کا نام صدارت کے لیے پیش کرتا تو بلامقابلہ اور بالاتفاق صدر منتخب ہوتے مگر قربان جاؤں مولانا کی فراست و بصیرت پر۔ جنھوں نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مدارس کے خلاف اس سازش کو بھانپ لیا۔ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب جیسی بین الاقوامی علمی شخصیت کا نام خود پیش کرکے وفاق المدارس العربیہ پاکستان پر ایک اور حملے کو پسپا اور دشمنان مدارس کو اپنی فہم و فراست سے چاروں شانے چت کر دیا۔

شیخ الاسلام حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب کا نام پیش کرنے کی دیر تھی کہ حسب روایت ہال میں موجود تمام علماء نے کھڑے ہوکر اس نامزدگی کی تائید کردی اور یوں مفتی تقی عثمانی وفاق المدارس العربیہ کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے بلا مقابلہ نئے صدر منتخب ہوگئے۔ موجودہ نامساعد حالات میں شیخ الاسلام جیسے بین الاقوامی حیثیت کے مالک اور کئی بین الاقوامی اداروں کے سرپرست کا انتخاب نہایت مبارک اور احسن فیصلہ ہے۔

یقینی طور پر اس کے مثبت اثرات ہم آنے والے دنوں میں دیکھیں گے۔ رہی مولانا کی بات تو وفاق المدارس کے ساتھ ان کا رشتہ بہت مضبوط اور سب سے طاقتور ہے حسب سابق حکومتی ریشہ دوانیوں کے خلاف پارلیمنٹ سمیت ہر سیاسی فورم پر مولانا وفاق المدارس العربیہ کے لیے ایک آہنی ڈھال اور شیشہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے رہیں گے۔

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا قیام کیسے عمل میں آیا، اس کے پیچھے کیا محرکات تھے، اب تک وفاق نے کیا فریضہ انجام دیا اور مستقبل کے لیے اس سے کیا توقعات وابستہ ہیں، آج کے کالم میں اسی پر گفتگو ہوگی۔ آیئے! پہلے پس منظر پر نظر ڈالتے ہیں۔

قرآن و حدیث کی تعلیمات ہی اسلامی معاشرے کی تشکیل و بقا کی ضامن ہوسکتی ہیں، اگر قرآن و حدیث کی تعلیمات کا دامن چھوڑ دیا جائے اس کے بعد کوئی لاکھ جتن کرلے نہ اسلامی معاشرہ تشکیل پاسکتاہے اور نہ ہی کوئی اسلامی معاشرہ قائم رہ سکتا۔ کیونکہ قرآن و حدیث ہی اسلامی تعلیمات کا سرچشمہ ہیں۔

روئے زمین پر جہاں کہیں بھی دینی مدارس موجود ہیں ان کی موجودگی کا سب سے بڑا اور بنیادی مقصد صرف یہی ہے کہ اسلامی تعلیمات کے ماہرین، قرآن و حدیث کا فہم رکھنے والے علماء اور علوم اسلامیہ میں دسترس رکھنے والے رجال کار پیدا ہوں کیونکہ یہی علماء کرام آگے چل کر مسلم معاشرے کی تشکیل میں ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں اور آگے چل کر یہی علماء کرام معاشروں کا ناتا اسلام سے جوڑنے کا باعث بنتے ہیں۔

برصغیر پاک و ہند میں آج اگر کہیں نام اور کہیں کام کے جو مسلمان نظر آتے ہیں یہ انھیں مدارس دینیہ کا فیضان ہے۔ برصغیر میں اسلام کی کرنیں نمودار ہونے کے بعد یہاں دینی روایات اور اسلامی اقدار کے قیام، تحفظ اور سربلندی کے لیے علمائے حق نے جو مجاہدانہ و سرفروشانہ کردار ادا کیا ہے وہ اسلامی تاریخ کا ناقابل فراموش اور درخشندہ باب ہے۔

برصغیر کے علماء کو اللہ کریم نے یہ اعزاز بخشا کہ انھوں نے مدارس دینیہ کے قیام و استحکام کا عظیم و بے مثال کارنامہ سر انجام دیا۔ مدارس دینیہ کے یہ عظیم ادارے انفرادی حیثیت میں کام کر رہے تھے۔

قیام پاکستان کے بعد اکابر علماء نے مسلمانان پاکستان کے اسلامی تشخص کو قائم و دائم رکھنے کے لیے مدارس دینیہ کے ربط و استحکام کی غرض سے ملک کے طول و ارض میں پھیلے ان مدارس کی ایک تنظیم کی ضرورت محسوس کی۔ 1957 میں علماء کی اس مسئلہ پر مشاورت کا سلسلہ شروع ہوا۔ مدارس اور اہل مدارس کا یہ مبارک سلسلہ دوسال تک مسلسل جاری رہا اور فکرو مشاورت ہوتی رہی۔

راتوں کو دعاؤں اور مناجات کا اہتمام ہوتا تھا، ہر پہلو پر غور کیا گیا اور بالآخر اللہ رب العزت کے فضل وکرم سے وفاق المدارس جیسی عالمگیر تحریک، عظیم ادارہ، مشترکہ پلیٹ فارم اور وسیع نیٹ ورک معرض وجود میں آیا۔ ابتدا میں تو وفاق المدارس العربیہ کا مقصد ایک امتحانی بورڈ بنانا اور یکساں نصاب تعلیم کا تعین تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے مدارس کے خلاف سازشیں شروع ہوئیں تو وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے مدارس دینیہ کے لیے سائبانی اور چوکیداری کا کام بھی اپنے ذمہ لے لیا۔

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کو اپنے قیام سے لے کر تاحال یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس ادارے کی قیادت وسیادت اور نگرانی وسرپرستی اکابر، اہل اللہ اور ایسے مشائخ کے ذمے رہی جن کا اخلاص، تقویٰ، للہیت، بزرگی، صلاحیت، بصیرت، الغرض ہر خوبی اپنی مثال آپ تھی، جیسے اس بار شیخ الاسلام حضرت اقدس مولانا مفتی محمد تقی عثمانی جیسی عظیم ہستی جو علم وعمل، زہد وتقوی، للہیت، مہارت وبصیرت ہر حوالے سے اپنی مثال آپ ہیں۔ اسی طرح ہر دورمیں ہی اپنے اپنے عہد کی ایسی عبقری ہستیاں اس ادارے کی قیادت و سیادت کے منصب پر فائز رہیں کہ سبحان اللہ۔    (جاری ہے)

The post روح محمد پھونکنے والا سائباں (حصہ اول) appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2ZINpKd

وژن اورگاڑی

کیا کریں مجبوری ہے خودکو دانا ،دانشور ،کالم نگار پوزکرنے کے لیے کرنا پڑتا ہے ورنہ یہ بعض اصطلاحات یا الفاظ یا سرکاری استعمال کے نام ہم بالکل بھی نہیں سمجھ پارہے ہیں، مثال کے طور پر ’’تحفظات‘‘ کا لفظ لے لیجیے جسے اکثرسیاستدان مستعمل کرتے رہتے ہیں۔

ہم بھی روز ہی لکھ دیتے ہیں لیکن قسم لے لیجیے اگر ہمیں یہ پتہ ہو کہ ’’تحفظات‘‘ کوئی چڑیا ہے یا بطخ ہے یا مرغی جسے انڈوں پر بٹھایا گیا ہو، ایسا ہی آج کا ایک بیسٹ سیلر لفظ ’’وژن‘‘ بھی ہے اس پر ہم پہلے بھی اپنا سر بہت دکھا چکے ہیں جب تک لفظ ’’ٹیلی‘‘ اس کے ساتھ تھا تو ہمارا بھی ان کے ساتھ تھا لیکن جب سے دونوں میں جدائی یا علیحدگی واقع ہو چکی ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ خالی خولی ’’وژن‘‘ کا کیا مطلب ہوتا ہے۔

اس دن تو بڑی شرمندگی ہوئی ایک جگہ کچھ لوگ جمع تھے اورآپس میں کچھ جمع تفریق کر رہے تھے، سارے وژن وژن کر رہے تھے لیکن ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آیا، دراصل کسی لفظ سے معنی نکالنا بھی ایک فن ہے جو ہمیں نہیں آتا۔

ہمارے پشاور میں کافی عرصہ پہلے ایک شاعر ہوتا تھا اس نے اپنا ایک مجموعہ کلام چھاپا لیکن کسی نے بھی نوٹس نہیں لیا پھر کچھ مدت بعد اس شاعر کا بیٹا ایک بہت بڑا ضلعی افسر بن کر آیا تو یار لوگوں کو وہ شاعر بھی یاد آیا اور اس کا مجموعہ کلام بھی، چنانچہ ایک بہت بڑی تقریب مقامی ادب شناسوں اور افسرشناسوں نے برپا کی، مہمان خصوصی شاعر کا افسر بیٹا تھا چنانچہ اس شاعر کے کلام پر انتہائی ٹاپ کلاس کے مقالے پڑھے جانے لگے۔

وہ شاعر تو کوئی اور تھا لیکن ہم مثال کے طور پر ایک دوسرا شعر لکھ دیتے ہیں جو اس شاعر نے کہا تھا اور اس پر مقالہ پڑھا جا رہا تھا شعر یہ ہے کہ…

گاڑی آتی ہے گاڑی جاتی ہے

گاڑی جاتی ہے گاڑی آتی ہے

مقالہ نگار نے دوچار غیرملکی کتابوں اور لکھنے والوں کے نام لے کر کہا، اس شعر میں جو فلسفہ ہے وہ حرف بہ حرف ہمارے اس محترم شاعر کا وژن ہے، گاڑی آتی ہے گاڑی جاتی ہے میں یہ فلسفہ ہے گاڑی آتی بھی ہے اور جاتی بھی ہے، اکثر لوگ صرف یک طرفہ وژن والے ہوتے ہیں چنانچہ وہ گاڑی جاتی ہے کہہ دیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ گاڑی آئے گی تو جائے گی اگر آئے گی نہیں تو جائے گی کیسے یا اگر صرف جائے گی تو آئے گی کیا، جیسا ہم بجلی کے بارے میں کہتے ہیں کہ بجلی جاتی ہے لیکن آنے کا ذکر نہیں کرتے اگر بجلی دن میں بیس بار جائے گی تو اس سے پہلے بیس بار آئے گی بھی، یہی حال گاڑیوں کا ہے۔

بلکہ شاعر نے اس میں ایک اور اچھوتے خیال کی نشاندہی کی ہے گاڑی آتی اور جاتی ’’سڑک‘‘ پر ہے اور سڑک کا کمال یہ ہے کہ یہ جاتی بھی ہے آتی بھی ہے اور اپنی جگہ سے ہلتی بھی نہیں۔ ہم اتنے دانا دانشوروں کے درمیان وژن کی کیا وضاحت کر سکتے ہیں یہ صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو وژن کے قرب وجوار میں ہوں۔ ہم جیسے لوگوں کے لیے تو وژن صرف ایک لفظ ہے ، یعنی بقول جگر مراد آبادی…

ایک لفظ محبت کا اتنا ہی فسانہ ہے

سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے

اور پھیلانے کا یہ کام کو ئی معاون خصوصی برائے وژن ہی کر سکتا ہے ہم جیسے نالائق پھسڈی نہیں اور اس کے لیے بھی جگر مراد آبادی نے ایک شرط اسی غزل میں رکھی ہے۔

یہ’’عشق‘‘ نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجے

اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

مطلب کہ ایسی باتوں کے سمجھنے کے لیے یا معاون خصوصی بننے کے لیے بھی لیاقت بلکہ وژن چاہیے۔

The post وژن اورگاڑی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3uraLz3

پاکستان کے خلاف امریکا کی دوہری پالیسی

امریکی سینیٹ میں طالبان اور ان کی حمایت کرنے والے ممالک اور اداروں پر پابندیوں کا بل پیش کردیا گیا ہے۔

بل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سمیت ایسے تمام ممالک ، اداروں اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کی ہر قسم کی اقتصادی، مالی اور فوجی امداد بند کر دی جائے جن کے بارے میں امریکی وزیر خارجہ رپورٹ دیں گے جب کہ بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے یہ جائزہ رپورٹ دیں کہ کیا پاکستان کی حکومت نے افغان حکومت کو گرانے میں طالبان کی کسی بھی طرح سے مدد کی ہے یا پنج شیر میں طالبان کی فتح میں اس کا کوئی کردار ہے، نیز اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد بھارت کی سیکیورٹی صورتحال میں کیا تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔

بلاشبہ امریکی سینیٹ میں پیش ہونے والا یہ بل پاکستان پر دباؤ بڑھانے کا حربہ ہے، اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان یہ فیصلہ کرے کہ ایسے اتحادی کے ساتھ کیا اس عدم اعتماد کے رویے کے ساتھ آگے بڑھا جائے؟ امریکا کی دہری پالیسیوں کا دباؤ قبول کیا جائے؟ فیصلہ کن گھڑی آگئی ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں کھل کر یہ مباحثہ ہونا چاہیے جس میں امریکی پالیسیوں کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے۔

اسی حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ پاکستان کو ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا اتحادی ہونے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی جب کہ وزیر اعظم عمران خان نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لیے ایک کالم لکھا ہے جس میں انھوں نے دنیا سے کہا ہے کہ افغانستان میں جنگ کے نتیجے کا پاکستان کو ذمے دار قرار نہ دیا جائے۔

امریکی صدر جوبائیڈن کا خیال ہے کہ امریکا کے اندرونی مسائل بہت ہیں لیکن خارجہ پالیسی اب بھی امریکی اثر و رسوخ کی کنجی ہے۔ امریکا کی نئی خارجہ پالیسی بنانے والی اشرافیہ کا خیال ہے کہ دنیا خود کو منظم رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، اس کا واحد حل عالمی نظام کی تعمیر نو ہے جس کے بلیو پرنٹ بھی امریکا کے پاس ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکا نے پاکستان سے معاملات میں ہمیشہ اپنے قومی مفادات کو ترجیح دی ہے، جب بھی پاکستان پر نازک وقت آیا تو اس نے غیر جانبداری اختیار کرلی۔ 1965میں جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو امریکا غیر جانبدار ہوگیا۔

1971میں جب مشرقی پاکستان میں بھارت کی مداخلت سے حالات خراب ہورہے تھے تو کہا جارہا تھا امریکا اپنے ساتویں بحری بیڑے کے ذریعے پاکستان کی مدد کرے گا ، یہ ساتواں بحری بیڑہ نہیں پہنچا۔ بھارت نے کھلی جارحیت کے ذریعے مشرقی پاکستان پر قبضہ کرلیا۔ سلامتی کونسل میں شور مچتا رہا۔ روس بھارت کی کھلی سفارتی اور فوجی مدد کرتا رہا۔

امریکا نے اپنے اتحادی کا ساتھ نہیں دیا۔ امریکا نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی ہمیشہ مخالفت کی۔ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر جن کو 1971میں پاکستان نے چین کے خفیہ دورے کی تاریخی سہولت فراہم کی جس سے دنیا میں ایک نیا سفارتی نظام قائم ہوا، انھی کسنجر صاحب نے 1972میں پاکستان کے وزیر اعظم کو دھمکی دی کہ اگر ایٹمی پروگرام بند نہ کیا تو تمہیں عبرتناک مثال بنادیا جائے گا اور اس پر امریکا نے عمل بھی کیا ، جب 1998میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے مجبوراً ایٹمی دھماکے کیے تو اتحادی ہونے کے باوجود پاکستان پر پریسلر ترمیم کی پابندیاں عائد کردی گئیں۔

افغانستان سے فوجی انخلا کے بعد پاکستان امریکا کی ترجیحی فہرست میں کہیں بہت نیچے جاچکا ہے اور وہ اب امریکا کے مقاصد میں کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ امریکی فوجی انخلا کو دنیا کی سپر پاور کی ناکامی تصور کیا جا رہا ہے لیکن اصل میں اب پاکستان کی پالیسی دنیا کے نشانے پر ہے، افغان امن عمل کو ادھورا چھوڑ کر واشنگٹن چلتا بنا۔

امریکا نے افغان امن عمل کی ذمے داری مکمل طور پر افغانستان اور خطے کے ملکوں پر چھوڑ دی ہے اور اس خلا کو پر کرنے کے لیے چین ، بھارت، ایران اور ترکی بھی میدان میں کود چکے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان ابھی تک سمت کا تعین نہیں کر پایا اور خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑنے پر مجبور ہو چکا ہے۔

امریکا کے ساتھ افغانستان میں کردار کے حوالے سے اختلاف رائے کے باوجود پاکستان بدستور افغانستان ہی کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی نکتہ سمجھتا ہے اور اسے خوب اندازہ ہے کہ افغانستان میں وقوع پذیر ہونیوالے واقعات پاکستان کے مستقبل پر اثر انداز ہونگے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی غلطیوں کی نشاندہی کے باوجود امریکا کے ساتھ مواصلت و مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کو یہ بھی احساس ہے کہ اس وقت امریکا اور اس کے حلیف ممالک میں پاکستان کو افغانستان میں اپنے کردار ہی کی وجہ سے سفارتی اہمیت و وقعت حاصل ہے۔

اس کے اظہار میں بخل سے کام بھی نہیں لیا جاتا۔ وزیر اعظم، وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر سب ہی یہ کریڈٹ لیتے ہیں کہ طالبان کو امریکا کے ساتھ مذاکرات اور امن معاہدہ پر پاکستان نے آمادہ کیا تھا اور پاکستان کی سہولت کاری کے بغیر یہ کام ممکن نہیں تھا۔ امریکا بھی اس کردار کو اہم سمجھتا ہے اور مختلف مواقعے پر اس کا اظہار بھی کیا جاچکا ہے، لیکن کیا وجہ ہے کہ پاکستان اب اسی کردار سے گریز کا راستہ تلاش کررہا ہے جس کی بنیاد پر وہ خود کو دنیا کے سامنے سرخرو بھی کرتا ہے۔

ایک بات تو واضح ہوگئی ہے کہ امریکا ایک بار پھر دنیا کو دو کیمپوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے، اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہوتے ہیں، امریکا کو بھی شاید یہی انتظار ہے کہ ہم اس پر پوزیشن واضح کریں، اس کے بعد ہی رابطے رکھنے یا نہ رکھنے کا معاملہ طے پائے گا۔

پاکستان اور چین ایک دوسرے کے قریبی دوست ہیں۔ پاکستان نے چین کی عالمی برادری میں رسائی کے لیے بنیادی کردار ادا کیا۔ اب چین اپنے مفادات کے تحت بھی، اور جنوبی ایشیا میں اقتصادی ترقی کے لیے’’ون بیلٹ، ون روڈ‘‘کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے پاکستان میں 55ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کررہا ہے۔

اصولاً تو یہ سرمایہ کاری امریکا کو آج سے کئی عشرے پہلے کرنی چاہیے تھی۔ اب جب چین پاکستان اقتصادی راہداری پر کام شروع ہوچکا ہے تو امریکا کو اس کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے، بلکہ اس میں شرکت کرکے اسے مزید مستحکم بنانا چاہیے۔ اپنے محبوب بھارت کو سمجھانا چاہیے کہ سی پیک کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی نہ کرے، اس سے بالآخر بھارت کے عوام کو بھی فائدہ ہوگا۔

بھارت کی سازشوں، بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘کی پاکستان میں کارروائیوں، کلبھوشن یادیو کے حوالے سے ’’را‘‘کی وارداتوں، افغانستان سے سرحد پار کرکے آنے والے افغان دہشت گردوں کی کارروائیوں کو بھی ریکارڈ پر لایا جائے۔ بھارت نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران افغانستان میں پاکستان دشمن عناصر کو آلہ کار بنا کر پاکستان میں انتشار و بدامنی میں کردار ادا کیا ہے۔

چین کو روکنے کے لیے امریکا نے ایک غیر رسمی اتحاد بنا رکھا ہے جو مستقبل میں باضابطہ اتحاد کی شکل اختیار کرسکتا ہے اور یہ اتحاد کواڈ کے نام سے ہے، آسٹریلیا اس اتحاد کا اہم رکن ہے جس نے چین کے ساتھ سینگ پھنسا لیے ہیں۔

آسٹریلیا جنوبی بحیرہ چین، تائیوان، ہانگ کانگ کے علاوہ کورونا وائرس کے حوالے سے بھی کھل کر چین مخالف بیانیہ اپنائے ہوئے ہے جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے معاشی تعلقات بھی متاثر ہوئے ہیں۔ امریکا ابھی آسٹریلیا کو سامنے لاکر چین کو اُکسا رہا ہے اور اس کا ضبط آزما رہا ہے۔ اس اتحاد کا اہم رکن بھارت بھی ہے جس کا چین کے ساتھ سرحدی تنازع موجود ہے جب کہ جاپان جنوبی بحیرہ چین میں امریکی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔

دنیا کو دباؤ ڈالنے اور طالبان حکومت کو ایک طرف دھکیلنے کی غلطی سے اجتناب کرنا چاہیے، اس ضمن میں ماضی کے تجربات و عوامل کا تجزیہ بہتر ہو گا۔ طالبان کے پاس حکومت سے قبل کھونے کے لیے کچھ نہ تھا، ایک مرتبہ ان سے حکومت چھینی بھی گئی تھی لیکن یہ بھی مسئلے کا حل نہ نکلا اب بھی ان کے پاس کھونے کے لیے جو کچھ ہے اسے ان کے پاس رہنے دے اور ان کی بین الاقوامی دست گیری اور تعاون کے ساتھ ہی دنیا کے لیے قابل قبول بنانے کے لیے راہ ہموار کی جائے تو بہتر ہو گا۔

یہ بھی واضح ہورہا ہے کہ طالبان اگرچہ سیاسی اقتدار ملنے کے بعد القاعدہ اور مشرقی ترکستان اسلامی تحریک جیسے گروہوں سے قطع تعلق کرنے کا اشارہ دے رہے ہیں لیکن ممکنہ عسکری تصادم کے اندیشے کی بنا پر وہ فی الوقت ان روابط کو مکمل طور سے ختم کرنے پر تیار نہیں ہیں، یہی رویہ واشنگٹن کی تشویش میں اضافہ کرتا ہے۔ طالبان حکومت کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ جن عوامل کی حامی بھر چکے ہیں ان پر عملدرآمد کے راستے نکالنے کی ذمے داری اور وعدے کی تکمیل میں سنجیدگی اختیار کریں۔

پاکستان کی پارلیمنٹ پھر امریکا سے آیندہ تعلقات کی شرائط طے کرے۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کابل سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد انسداد دہشت گردی اور افغانستان کے مسئلے پر تعاون کے علاوہ امریکا کے ساتھ مضبوط تعلقات چاہتا ہے۔ پاکستان علاقائی تجارت اور اقتصادی ترقی کے لیے چین پاکستان اقتصادی راہداری سمیت رابطوں کے دیگر منصوبوں سے استفادہ کرنا چاہتا ہے، اس سلسلے میں امریکا اہم شراکت دار ہوگا۔ اس حقیقت کو سمجھا جائے کہ پاکستان کو اب امریکا کی اتنی ضرورت نہیں ہے جتنی امریکا کو ہماری ضرورت ہے۔

The post پاکستان کے خلاف امریکا کی دوہری پالیسی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3F3NyrD

لاہورپولیس نے شادی کا جھانسہ دے کرخاتون سے زیادتی کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا

 لاہور: پولیس نے شادی کا جھانسہ دے کرخاتون سے زیادتی اور بلیک میل کرنے والے ملزم کوگرفتار کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نواں کوٹ پولیس نے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کے حکم پر شادی کا جھانسہ دے کر خاتون سے زیادتی کرنے والے ملزم کو چند گھنٹوں میں ہی گرفتار کر لیا۔

ملزم نعمان نے خاتون کو شادی کا جھانسہ دے موبائل سے اس کی نازیبا ویڈیوز بنا لی تھیں اور اس بنیاد پر اسے بلیک میل کر رہا تھا۔ خاتون نے 15 پر کال کر کے ملزم کے خلاف کارروائی کی درخواست کی تھی۔

خاتون کی کال پر ایس پی اقبال ٹاؤن ڈاکٹر رضا تنویر نے ملزم کی فوری گرفتاری کے لیے ٹیم تشکیل دی۔ جس نے چند ہی گھنٹوں میں ملزم کو گرفتار کرلیا۔

اس بارے میں سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کا کہنا ہے کہ خواتین کو ہراساں اور زیادتی کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

The post لاہورپولیس نے شادی کا جھانسہ دے کرخاتون سے زیادتی کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3D1ZJnh

آج کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

بلا شبہ آپ اپنے زور بازو سے بہت کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے نزدیکی سفر آپ کے مقاصد کی تکمیل کا باعث بن سکتا ہے ضرور کریں۔

ثور:
22 اپریل تا 20 مئی

کسی ایسی خواہش کے پورا ہونے کا امکان ہے جس کیلئے آپ کافی عرصہ سے تگ دو کررہے تھے آج کا دن آپ کیلئے خوشیوں بھرا ثابت ہو گا۔

جوزا:
21 مئی تا 21جون

تعلیمی معاملات تسلی بخش رہیں گے البتہ جائیداد کے معاملات الجھ سکتے ہیں بہتر ہے آپ انہیں باہمی مشاورت سے مل بیٹھ کر حل کرلیں ورنہ ہو سکتا ہے معاملات عدالت تک پہنچ جائیں۔

 

سرطان:
22جون تا23جولائی

صحت جسمانی گاہے بگاہے خراب ہو سکتی ہے لیکن علاج کی جانب سے غفلت نہ برتیں مقدمہ کا نتیجہ خلاف امنشاء نکل سکتا ہے کوئی شخص آپ کیخلاف سازش کر سکتا ہے۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

آج آپ کا مخالف ایسی سازشوں کی داغ بیل ڈال سکتا ہے جن کے بنیادی ستون آپ کے اپنے لوگ ہو سکتے ہیں گھر کا بھیدی لنکا ڈھانے والی مثل درست ثابت ہو سکتی ہے۔

 

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

لین دین کے معاملات انجام دینے کیلئے آج کا دن آپ کیلئے اہمیت کا حامل ہے مذہبی امور کی طرف رحجان کچھ زیادہ ہی رہے گا۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

آپ اپنی تعلیم میں خصوصی دلچسپی لیں تاکہ مایوسی کے خود ساختہ خول سے باہر آسکیں آپ کے شریک حیات کا ذہن بھی خاصا منتشر رہے گا۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

ملازمت پیشہ افراد پوری یکسوٹی سے فرائض انجام دیں دوستوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے لیکن ان سے کسی بھی فائدے کی توقع رکھنا بے کار ہے۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

دماغ پر جنسی خیالات کو غالب نہ آنے دیں اس طرح آپ کی اعلیٰ صلاحیتوں کو زنگ لگ سکتا ہے کاروبار میں خصوصی دلچسپی لیں تاکہ نقصان کا احتمال نہ رہے۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

لڑائی جھگڑے کے معاملے سے خود کو دور ہی رکھیں تو بہتر ہے یہ نہ ہو کہ یہ لڑائی آپ کے گلے کا ہاربن جائے محبوب سے وابستہ توقعات پوری ہو سکتی ہے۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

آج آپ کی طبیعت کافی حد تک بوجھل رہے گی اور آپ ہر ایک کے ساتھ لڑتے نظر آئیں گے بندا خدا آج اپنے آپ کو قابو میں رکھیں یہ نہ ہو کہ آپ مسائل میں گھر جائیں۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

ان گنت رکاوٹیں آپ کے راستے میں حائل رہیں گی لیکن بلاشبہ ان رکاوٹوں کو گرا کر کامیابی کا سفر طے کرتے جائیں گے آج کوئی لاٹری وغیرہ نکل سکتی ہے۔

The post آج کا دن کیسا رہے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3iwZBVb

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...