Urdu news

Saturday, 29 September 2018

پاکستان کے پاس آپشنز کی کمی نہیں

وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کی ملاقات میں بیرون ملک دوروں اور خطے میں سلامتی و استحکام سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی۔

یہ ملاقات عالمی، علاقائی اور داخلی صورتحال کے تیزی سے بدلتے ہوئے تناظر میں ہوئی جہاں پاک امریکا تعلقات، وزیر خارجہ کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سارک وزرائے خارجہ کانفرنس سمیت وزیراعظم کے حالیہ دورہ سعودی عرب و عرب امارات کے نتائج اور برادر اسلامی ملک سعودی عرب سے دفاعی اورا سٹرٹیجک معاہدوں کے بریک تھرو پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات کے دوران آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے اپنے دورہ چین اور پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے حوالے سے وزیراعظم کو آگاہ کیا جب کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حوالے سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو آگاہ کیا جب کہ خطے میں سیکیورٹی و استحکام سے متعلق بھی بات چیت کی گئی۔

حکومت کو ادراک ہے کہ ملک کو سیاسی، اقتصادی اور سفارتی محاذ پر ایک متحرک ، فعال ڈپلومیسی کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کو درپیش چیلنجز میں عالمی حمایت، اقتصادی معاونت اور سفارتی پیش قدمی میں کسی قسم کی دشواریوں کا سامنا نہ ہو اور دنیا پاکستان کے بارے میں جن جامد تصورات کو لے کے بیٹھی ہے اسے بدلنے اور پاکستان کا سافٹ امیج عالمی سطح پر نمایاں کرنے کے لیے داخلی سیاسی استحکام، جمہوری اقدار اور پارلیمانی روایات کے مطابق ترقی واستحکام کے اہداف تک پہنچا جا سکے، یہ انتہائی کٹھن سفر ہے جس میں اداروں کے مابین ایک پیج پر ہونے کا عملی تصوردنیا کے کونے کونے تک پہنچنا ناگزیر ہے۔

جمعے کو پشاور کے ایک روزہ دورہ میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں اہمیت کا حامل ہے، پاکستان خطے کے استحکام و ترقی کے لیے کردار ادا کرے گا، انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اور چین سی پیک میں اہم پارٹنر ہیں اور اب سعودی عرب نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی کمٹمنٹ کی ہے، گورنر پختونخوا شاہ فرمان اور وزیراعلیٰ محمود خان نے استقبال کیا، وفاقی وزیر دفاع پرویزخٹک اور شہزاد ارباب بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔ وزیراعظم کو صوبے میں ضم کیے گئے اضلاع کے حوالے سے بریفنگ دی گئی جس پر وزیراعظم نے اس سلسلے میں جاری اقدامات کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں کئی اہم فیصلے ہوئے ۔ حکومت کو فاٹا کے انضمام سے متعلق غیر معمولی اقدامات کے نتائج کا انتظار تو ہوگا تاہم اس ضمن میں بڑے اتفاق رائے کی ضرورت ہے تاکہ یقین کامل سے فاٹا کے عوام کو انضمام کے ثمرات مل سکیں، چنانچہ وزیراعظم نے فاٹا میں انتظامی، قانونی، بلدیاتی اور ترقیاتی انضمام کے لیے تیز تر کام پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ فاٹا کے عوام کو باقی شہریوں کے برابر حقوق حاصل ہیں، وزیراعظم کی یہ یقین دہانی کافی ہے کہ علاقے کی ترقی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے، انھوں نے ہدایت کی کہ ضم شدہ قبائلی علاقہ جات میں خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کے ساتھ بیک وقت اور یکساں نظام کے تحت جلد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جائے تاکہ ضم شدہ قبائلی علاقوں میں ترقی کا عمل شروع ہوسکے، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضم شدہ قبائلی علاقہ جات میں فوری طور پر اصلاحات کی جائیں گی۔

اجلاس میں گورنر اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ، وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک، وفاقی وزیر مذہبی امور مولانا نورالحق، چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا، انسپکٹر جنرل پولیس، فاٹا سیکریٹریٹ اور پاک آرمی کے سینئر نمائندگان نے شرکت کی۔امید کی جانی چاہیے کہ فاٹا کی تقدیر بدلنے میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہوگی کیونکہ ڈرون حملوں، دہشتگردی اور سیاسی کشمکش نے فاٹا کے عوام کو مین اسٹریم سیاسی ثمرات سے دور رکھا، اب خیبر پختونخوا میں فاٹا انضمام کے بعد ہمہ گیر ترقی کا نتیجہ خیزسفر شروع ہوجانا چاہیے۔

جہاں تک افغان صورتحال کا تعلق ہے ، امریکا کی سوئی ابھی تک ڈو مور پر اٹکی ہوئی ہے، امریکا نے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ایک بار پھر پاکستان سے ’’ڈو مور ‘‘ کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ایک انٹرویو میں امریکی نائب معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا ایلس ویلز نے پرانی تھیوری پیش کی ہے کہ افغان طالبان کے مذاکرات کی میز پر آنے سے خطے میں امن بحال ہوسکے گا جس کے لیے پاکستان کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا جب کہ افغانستان کی کوشش ہے کہ طالبان کو امن مذاکرات کے لیے قائل کرے۔

ایلس کے مطابق امریکا عمران خان کے امن کی بحالی اور ہمسایوں کے ساتھ بہتر تعلقات کے بارے میں بیانات کی حمایت کرتا ہے، پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے کے خواہاں ہیں تاہم ایلس ویلز نے ساتھ ہی پاکستان پر ایک بار پھر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں، یہ دہشتگرد افغانستان میں امریکی فوج کو نشانہ بناتے ہیں اس لیے ان محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ ضروری ہے، افغانستان میں امن پاکستان کے بغیر ممکن نہیں، مسئلہ سارا امریکی انتشار خیالی کا ہے ، اور انکل سام کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ طاقت کے استعمال سے افغان مسئلہ کبھی حل نہیں ہو گا، وہ پاکستان سے ڈو مور کی گردان بند کرکے خطے کی جیوپولیٹیکل حرکیات کا ادراک کرے۔

پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے جنگ کے آپشن سے پیچھے ہٹے تاکہ امریکا ،افغانستان اور پاکستان مل کر طالبان کو ٹیبل ٹاک کے لیے آمادہ کرسکیں، طالبان کی بھی سنی جائے کہ وہ خطے میں سیاسی ڈائیلاگ اور امن کے قیام کے لیے کس حد تک جانے پر تیار ہونگے، لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایلس ویلز بھارت اور افغانستان کے درمیان تجارت کو خطے کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے پاکستان سے کچھ اور ہی ڈیمانڈ کررہی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ پاکستان کو افغانستان کی اقتصادی ترقی اور استحکام کی حمایت ’’کرنی‘‘ ہے خاص طور پر افغانستان سے آنے والی اشیا کو انڈیا پہنچانے کی اجازت دینا ہے کیونکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اقتصادی تعلقات کی بحالی سب سے زیادہ اہم ہے جس سے مشرق اور مغرب کی تجارت کو سینٹرل ایشین مارکیٹ تک رسائی ملے۔

اب دیکھنا یہ ہے پاکستان ڈومور کی نئی تکرار پر کیا رد عمل دیتا ہے،ادھر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکا خطے میں نئے دوست تلاش کررہا ہے، تو پاکستان بھی تنہا نہیں، آپشن سب کے پاس ہوتے ہیں، نیویارک میں غیرملکی میڈیا کو انٹرویو میں وزیر خارجہ نے تسلیم کیا کہ امریکا ایک عالمی طاقت ہے، سپر پاور کے ناتے امریکا سے خصوصی برتاؤ کی توقع رکھتے ہیں، پاکستان امریکا کے ساتھ دوستی چاہتا ہے لیکن استثنائی بنیادوں پر نہیں، پاکستان چین اوردیگر ملکوں کے ساتھ بھی تعلقات کا فروغ چاہتا ہے، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے افغانستان کے لیے امریکی مندوب زلمے خلیل زاد اور بحرینی ہم منصب شیخ خالد بن احمد الخلیفہ نے الگ ملاقاتیں کیں۔

یہ خوش آئند بات ہے کہ جب وزیرخارجہ نے افغانستان میں امن کے لیے پاکستانی تعاون کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کو اپنے دیرپا استحکام اور ترقی کے لیے ضروری سمجھتا ہے تو زلمے خلیل زاد کا کہنا تھاکہ وہ افغانستان میں امن کے لیے پاکستان سے مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ بھارت سے جنگ کا آپشن نہیں، مسائل صرف مذاکرات سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ کاش عالمی طاقتیں پاکستان کے صائب انداز نظر کی صداقت کا جلد ادراک کرلیں تاکہ خطے میں امن و استحکام کا خواب شرمندہ ہوجائے۔

 

The post پاکستان کے پاس آپشنز کی کمی نہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Iq5u30

No comments:

Post a Comment

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...