Urdu news

Tuesday, 31 December 2019

2019ء میں 1692 گاڑیاں، 29743 موٹر سائیکلیں چوری اور چھین لی گئیں

کراچی: گزشتہ سال شہر کے مختلف علاقوں میں شہریوں کو کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں سے محروم کر دیا گیا۔

گزشتہ سال مجموعی طور پر شہر کے مختلف علاقوں سے 1692 گاڑیاں ، 29 ہزار 743 موٹر سائیکلیں چوری اور چھین لی گئیں، جولائی میں سب سے زیادہ 29 گاڑیاں ، 211 موٹر سائیکلیں چوری اور چھین لی گئیں اسی طرح سے ستمبر میں گاڑیاں چوری کی سب سے زیادہ 163 جبکہ 2 ہزار 806 موٹر سائیکلیں چوری کی وارداتیں ہوئیں، پولیس کی جانب سے شہر میں امن و امان کے بلند و بانگ دعوؤوں کے باوجود شہر میں گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں اور موبائل فونز کی چھینا جھپٹی کے واقعات کا بھی سلسلہ بدستور جاری رہا۔

سی پی ایل سی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال شہر کے مختلف علاقوں سے 245 گاڑیاں چھینی اور 1447 گاڑیوں کو چوری کرلیا گیا جبکہ 1856 موٹر سائیکلیں چھین لی گئیں جبکہ 27 ہزار 887 موٹر سائیکلیں چوری کرلی گئیں ، پولیس کی جانب سے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود گزشتہ سال گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں اور موبائل فونز کی چھینا جھپٹی اور چوری کے واقعات شہریوں کے ساتھ تواتر سے پیش آتے رہے جبکہ پولیس کی جانب سے روزانہ کی بیناد پر اسٹریٹ کرمنلز کی گرفتاری کے دعوے بھی سامنے آتے رہے۔

ڈاکوئوں نے شہریوں سے 44454 قیمتی موبائل فونز چھین لیے

سال  2019 کے دوران راستوں سڑکوں اور گاڑیوں میں سوار نہتے شہری مسلح ڈاکوئوں کے ہاتھوں اپنے قیمتی ہزاروں موبائل فونز سے محروم ہوگئے پولیس کی جانب سے شہر میں امن و امان کے بلند و بانگ دعوئووں کے باوجود شہر میں موبائل فونز کی چھینا جھپٹی کے واقعات کا سلسلہ بدستور جاری ہے.

سی پی ایل سی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال موبائل فونز کے چوری اور چھینے جانے کے واقعات میں شہری مجموعی طور پر 44 ہزار 454 موبائل فونز سے محروم ہوگئے، شہریوں سے موبائل فون چوری اور چھیننے کی سب سے زیادہ وارداتیں ماہ جولائی میں ہوئیں۔

واضح رہے کہ یہ وہ وارداتیں ہیں جن کی رپورٹ پولیس کو کی گئی ہے جبکہ بیشتر شہری موبائل فون چھیننے اور چوری ہونے کی وارداتوں کے لیے تھانے جاکررپورٹ لکھوانے سے کتراتے ہیں جس کے باعث بیشتر لوٹ مار کی وارداتیں رپورٹ ہی نہیں ہوتی۔

The post 2019ء میں 1692 گاڑیاں، 29743 موٹر سائیکلیں چوری اور چھین لی گئیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/39uhpd0

پولیس انویسٹی گیشن یونٹس کی مایوس کن کارکردگی، اہم کیسز حل نہ ہوسکے

کراچی:  پولیس کے انویسٹی گیشن یونٹس گزشتہ سال پیش آنے والے بڑے کیس حل کرنے میں مکمل طور پرناکام دکھائی دیے۔

گزشتہ سال مارچ میں گلشن اقبال نیپافلائی اوورکے قریب عالم دین مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے میں ملوث دہشت گردتاحال قانون کی گرفت سے آزاد ہیں جبکہ اس واقعے میں مفتی تقی عثمانی کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکارفاروق اور ان کا محافظ صنوبر خان زندگی کی بازی ہار گئے تھے جبکہ دوسری کار میں شدید زخمی ہونے والے مولانا عامر بھی چند روز کے بعد خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔

پولیس گزشتہ سال  ڈیفنس سے اغواکی جانے والی2 خواتین بسمہ سلیم اور دعا منگی کے اغوامیںملوث اغواکاروں کا بھی سراغ نہیں لگا سکی جبکہ دونوں خواتین تاوان کی ادائیگی کے بعد گھروں کو پہنچ گئیں۔

گزشتہ سال بوٹ بیسن کے پارک سے3 مزدروں کو سوتے ہوئے سر پر وزنی چیز مار کر قتل کرنے کی واردات میں ملوث ملزمان تاحال پولیس کی گرفت میں نہ آسکے جبکہ تہرے قتل کی واردات کی تحقیقات کے لیے ایک ٹیم بھی تشکیل دی گئی تھی جو تاحال ملزمان کا سراغ لگانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

گزشتہ سال نامعلوم ملزمان کے ہاتھوں کلفٹن میں بنگلے کے اندرقتل کیے جانے والے پروفیسرڈاکٹرفتح عثمانی اوران کے بیٹے کے قاتل تاحال قانون کی گرفت میں نہ آسکے جبکہ دوہرے قتل کی واردات کے بعد بنگلے میں چوری کی واردات نے بھی پولیس کی کارکردگی پر کئی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔

مقتول پروفیسرکی اہلیہ نے بھی پولیس کی تفتیش پرعدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے گزشتہ سال پریس کلب میں اس حوالے سے پریس کانفرنس کی تھی، ڈسٹرکٹ سینٹرل کے علاقے نیوکراچی میں سوزوکی ہائی روف میںسوار 2 افراد کی ٹارگٹ کلنگ ، عزیز آباد کے علاقے میں ٹارگٹ کلنگ کی 2 وارداتوں میں پی ٹی آئی کے کارکن آصف چکلی اور مرغی کا گوشت سپلائی کرنے والے شخص کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

فیروز آباد میں دن دیہاڑے کار سوار کے ڈی اے کے افسر محمد علی کی ٹارگٹ کلنگ، گلشن اقبال میں ماہر امراض قلب ڈاکٹر حیدر عسکری کی ٹارگٹ کلنگ اور بریگیڈ میں مذہبی جماعت کے کارکن ندیم کی ٹارگٹ کلنگ سمیت قتل کی دیگر وارداتوں میں ملوث تاحال قانون کی گرفت سے باہر ہیں جبکہ کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈپارٹمنٹ ، اینٹی وائلنٹ کرائم سیل ، کرائم برانچ اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے لیے یہ ایسے کئی مقدمات آج بھی ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔

The post پولیس انویسٹی گیشن یونٹس کی مایوس کن کارکردگی، اہم کیسز حل نہ ہوسکے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/37p5b3G

کوہ پیما اسد علی ارجنٹائن کی چوٹی ایکونکا گوا سر کریں گے

کراچی: لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان کوہ پیما اسد علی میمن ارجنٹائن میں واقع برف سے ڈھکی 6 ہزار 962 میٹر بلندچوٹی ایکونکا گوا سر کرکے پاکستان کا جھنڈا لہرانے کی کوشش کریں گے۔

4 جنوری کو اپنی منزل کے جانب روانگی کے لیے پر عزم اسد علی میمن کے مطابق ان کو چوٹی سر کرنے میں21 دن لگیں گے جبکہ ہوائیں چلنے کی صورت میں  درجہ حرارت منفی 40 تک ہوسکتا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس مہم میں 10 لاکھ روپے کے مساوی اخرجات میں سندھ حکومت کے محکمہ کھیل نے3 لاکھ روپے کی اعانت کی ہے۔

واضح رہے اسد علی میمن نے23 اگست2019 کو روس کے جنوب میں جارجیا کی سرحد کے قریب ایشیا اور یورپ کو ملانے والے پہاڑی سلسلے میں برف سے ڈھکی یورپ کی سب سے   اونچی6 ہزار 642 میٹر بلند چوٹی ماونٹ البرس سر کرکے پاکستان کا جھنڈا لہرایا تھا۔

The post کوہ پیما اسد علی ارجنٹائن کی چوٹی ایکونکا گوا سر کریں گے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2u8I4fs

2019ء میں 1692 گاڑیاں، 29743 موٹر سائیکلیں چوری اور چھین لی گئیں

کراچی: گزشتہ سال شہر کے مختلف علاقوں میں شہریوں کو کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں سے محروم کر دیا گیا۔

گزشتہ سال مجموعی طور پر شہر کے مختلف علاقوں سے 1692 گاڑیاں ، 29 ہزار 743 موٹر سائیکلیں چوری اور چھین لی گئیں، جولائی میں سب سے زیادہ 29 گاڑیاں ، 211 موٹر سائیکلیں چوری اور چھین لی گئیں اسی طرح سے ستمبر میں گاڑیاں چوری کی سب سے زیادہ 163 جبکہ 2 ہزار 806 موٹر سائیکلیں چوری کی وارداتیں ہوئیں، پولیس کی جانب سے شہر میں امن و امان کے بلند و بانگ دعوؤوں کے باوجود شہر میں گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں اور موبائل فونز کی چھینا جھپٹی کے واقعات کا بھی سلسلہ بدستور جاری رہا۔

سی پی ایل سی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال شہر کے مختلف علاقوں سے 245 گاڑیاں چھینی اور 1447 گاڑیوں کو چوری کرلیا گیا جبکہ 1856 موٹر سائیکلیں چھین لی گئیں جبکہ 27 ہزار 887 موٹر سائیکلیں چوری کرلی گئیں ، پولیس کی جانب سے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود گزشتہ سال گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں اور موبائل فونز کی چھینا جھپٹی اور چوری کے واقعات شہریوں کے ساتھ تواتر سے پیش آتے رہے جبکہ پولیس کی جانب سے روزانہ کی بیناد پر اسٹریٹ کرمنلز کی گرفتاری کے دعوے بھی سامنے آتے رہے۔

ڈاکوئوں نے شہریوں سے 44454 قیمتی موبائل فونز چھین لیے

سال  2019 کے دوران راستوں سڑکوں اور گاڑیوں میں سوار نہتے شہری مسلح ڈاکوئوں کے ہاتھوں اپنے قیمتی ہزاروں موبائل فونز سے محروم ہوگئے پولیس کی جانب سے شہر میں امن و امان کے بلند و بانگ دعوئووں کے باوجود شہر میں موبائل فونز کی چھینا جھپٹی کے واقعات کا سلسلہ بدستور جاری ہے.

سی پی ایل سی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال موبائل فونز کے چوری اور چھینے جانے کے واقعات میں شہری مجموعی طور پر 44 ہزار 454 موبائل فونز سے محروم ہوگئے، شہریوں سے موبائل فون چوری اور چھیننے کی سب سے زیادہ وارداتیں ماہ جولائی میں ہوئیں۔

واضح رہے کہ یہ وہ وارداتیں ہیں جن کی رپورٹ پولیس کو کی گئی ہے جبکہ بیشتر شہری موبائل فون چھیننے اور چوری ہونے کی وارداتوں کے لیے تھانے جاکررپورٹ لکھوانے سے کتراتے ہیں جس کے باعث بیشتر لوٹ مار کی وارداتیں رپورٹ ہی نہیں ہوتی۔

The post 2019ء میں 1692 گاڑیاں، 29743 موٹر سائیکلیں چوری اور چھین لی گئیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/39uhpd0

پولیس انویسٹی گیشن یونٹس کی مایوس کن کارکردگی، اہم کیسز حل نہ ہوسکے

کراچی:  پولیس کے انویسٹی گیشن یونٹس گزشتہ سال پیش آنے والے بڑے کیس حل کرنے میں مکمل طور پرناکام دکھائی دیے۔

گزشتہ سال مارچ میں گلشن اقبال نیپافلائی اوورکے قریب عالم دین مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے میں ملوث دہشت گردتاحال قانون کی گرفت سے آزاد ہیں جبکہ اس واقعے میں مفتی تقی عثمانی کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکارفاروق اور ان کا محافظ صنوبر خان زندگی کی بازی ہار گئے تھے جبکہ دوسری کار میں شدید زخمی ہونے والے مولانا عامر بھی چند روز کے بعد خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔

پولیس گزشتہ سال  ڈیفنس سے اغواکی جانے والی2 خواتین بسمہ سلیم اور دعا منگی کے اغوامیںملوث اغواکاروں کا بھی سراغ نہیں لگا سکی جبکہ دونوں خواتین تاوان کی ادائیگی کے بعد گھروں کو پہنچ گئیں۔

گزشتہ سال بوٹ بیسن کے پارک سے3 مزدروں کو سوتے ہوئے سر پر وزنی چیز مار کر قتل کرنے کی واردات میں ملوث ملزمان تاحال پولیس کی گرفت میں نہ آسکے جبکہ تہرے قتل کی واردات کی تحقیقات کے لیے ایک ٹیم بھی تشکیل دی گئی تھی جو تاحال ملزمان کا سراغ لگانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

گزشتہ سال نامعلوم ملزمان کے ہاتھوں کلفٹن میں بنگلے کے اندرقتل کیے جانے والے پروفیسرڈاکٹرفتح عثمانی اوران کے بیٹے کے قاتل تاحال قانون کی گرفت میں نہ آسکے جبکہ دوہرے قتل کی واردات کے بعد بنگلے میں چوری کی واردات نے بھی پولیس کی کارکردگی پر کئی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔

مقتول پروفیسرکی اہلیہ نے بھی پولیس کی تفتیش پرعدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے گزشتہ سال پریس کلب میں اس حوالے سے پریس کانفرنس کی تھی، ڈسٹرکٹ سینٹرل کے علاقے نیوکراچی میں سوزوکی ہائی روف میںسوار 2 افراد کی ٹارگٹ کلنگ ، عزیز آباد کے علاقے میں ٹارگٹ کلنگ کی 2 وارداتوں میں پی ٹی آئی کے کارکن آصف چکلی اور مرغی کا گوشت سپلائی کرنے والے شخص کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

فیروز آباد میں دن دیہاڑے کار سوار کے ڈی اے کے افسر محمد علی کی ٹارگٹ کلنگ، گلشن اقبال میں ماہر امراض قلب ڈاکٹر حیدر عسکری کی ٹارگٹ کلنگ اور بریگیڈ میں مذہبی جماعت کے کارکن ندیم کی ٹارگٹ کلنگ سمیت قتل کی دیگر وارداتوں میں ملوث تاحال قانون کی گرفت سے باہر ہیں جبکہ کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈپارٹمنٹ ، اینٹی وائلنٹ کرائم سیل ، کرائم برانچ اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے لیے یہ ایسے کئی مقدمات آج بھی ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔

The post پولیس انویسٹی گیشن یونٹس کی مایوس کن کارکردگی، اہم کیسز حل نہ ہوسکے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/37p5b3G

ٹمبر مارکیٹ میں ایک اور مخدوش عمارت، درجنوں زندگیاں داؤ پر لگ گئیں

کراچی: پرانا حاجی کیمپ ٹمبر مارکیٹ میں ایک اور4منزلہ مخدوش عمارت سامنے آگئی۔

آل پاکستان ٹمبر ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے عمارت کی نشاندہی کرتے ہوئے عمارت کے کسی بھی وقت منہدم ہوجانے کے باعث جانی و مالی نقصان ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے ۔

پرانا حاجی کیمپ رنچھوڑ لائن ٹمبر مارکیٹ میں بندوق والاروڈ پر ایک اور گراوئنڈ پلس 4منزلہ مخدوش عمارت سامنے آگئی ہے حالت مخدوش ہونے کے باوجود عمارت کوخالی نہیں کرایا گیا، عمارت کے پلرز اور دیواروں میں گہری دراڑیں پڑ گئی ہیں جس کی وجہ سے عمارت کے کسی بھی وقت منہدم ہوسکتی ہے جبکہ عمارت سے متصل عمارتوں کو بھی نقصان پہنچنے کاخدشہ ہے۔

آل پاکستان ٹمبر ٹریڈرزایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد شرجیل گوپلانی نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ مخدوش عمارت 2004 میں تعمیر ہوئی تھی جس میں 8 فلیٹس اور محنت کش افراد رہائش پذیر ہیں، عمارت کی حالت انتہائی مخدوش ہے اور اس حوالے سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو بھی آگاہ کرچکے ہیں لیکن ان کی جانب سے اب تک کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ہے نہ ہی کوئی ٹیم اب تک عمارت کا جائزہ لینے یہاں پہنچی ہے، خدانخواستہ اگر عمارت گرگئی تو بڑا جانی اورمالی نقصان ہوگا۔

انھوں نے بتایاکہ عمارت غیر قانونی طور فٹ پاتھ پر تعمیرکی گئی ہے جس کو مسمار کیا جاناچاہیے، حکام بالا کسی حادثے کا انتظارکرنے کے بجائے فوری طور پر اقدامات کریں، مکینوں کا کہنا تھا کہ حکام بالا نوٹس لیں، متعلقہ افسران فوری ایکشن لیں تاکہ کسی بھی قسم کے مالی یا جانی نقصان سے بچا جاسکے۔

The post ٹمبر مارکیٹ میں ایک اور مخدوش عمارت، درجنوں زندگیاں داؤ پر لگ گئیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2MIPs7u

وفاقی کابینہ، ثنا اللہ کیس پر وفاقی وزرا کے ڈی جی اے این ایف سے سخت سوالات

 اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت منگل کو وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ڈی جی اے این ایف  میجر جنرل محمد عارف نے رانا ثناء اللہ کیس پربریفنگ دی، اس موقع پر وزرا نے ڈی جی کے سامنے سخت سوالات اٹھا دیے۔

ڈی جی اے این ایف نے کہا ہمارے پاس رانا ثناء اللہ کیس سے متعلق ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، رانا ثناء اللہ کئی برسوں  تک وزیرقانون رہے، کوئی جج انکا کیس سننے کو تیار نہیں تھا، ہمارے پاس ایک لاکھ روپے فیس والا وکیل ہے، رانا ثناء اللہ کا کیس ایک ریٹائرڈ جج لڑ رہا ہے، 9 سی کے ملزم کو آج تک کسی عدالت نے ضمانت نہیں دی۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا رانا ثناء اللہ کیس کومس ہینڈل کیا گیا، جس سے حکومت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔

ایف آئی آر اور پریس کانفرنس کے موقف میں واضح تضاد تھا، شیریں مزاری نے کہا آج کل ہر کارروائی کی فوٹیج ضرور بنائی جاتی ہے، اے این ایف کی کارروائی کی فوٹیج کیوں نہیں بنائی؟ مراد سعید کا کہنا تھا کارروائی اور کیس کی مس ہینڈلنگ کے باعث اپوزیشن کو تنقید کا موقع ملا۔

اس پر ڈی جی این ایف نے کہا ہماری کوئی سیاسی وابستگی نہیں، شواہد کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہیں،رانا ثناء اللہ کو چار مرلے کا مکان وراثت میں ملا، اب ان کے اثاثوں کی مالیت 25 سے 30 ارب ہے۔

وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے سوال کیا کہ ہائی پروفائل کیس کو روٹین کے کیس کے طور پر کیوں لیا؟ اس پر ڈی جی اے این ایف کا کہنا تھا رانا ثناء اللہ سیاسیشخصیت ہیں، اس لیے کارروائی سے پہلے مکمل تسلی کی، مراد سعید نے کہا مافیا نے اے این ایف کو شکست دے دی ہے ۔ میجر جنرل محمد عارف نے کہا اے این ایف کے پاس رانا ثناء اللہ کے خلاف ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔

رانا ثناء اللہ کے خلاف مضبوط کیس تیار ہے، کیس کاٹرائل ہوگا تو حقائق قوم کے سامنے آجائیں گے، اے این ایف آزاد ادارہ ہے، قانون کے مطابق کام جاری رکھے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے ڈی جی اے این ایف کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قانون کے ساتھ کھڑی ہوگی۔

اے این ایف کا مقابلہ سمگلرز اور قوم کی نسلوں کے دشمن مافیا سے ہے، ادارہ اپنی قانونی اور میڈیا سے متعلق استعداد بڑھائے، حکومت اس حوالے سے ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں معصوم اور نہتے کشمیریوں کے ساتھ پانچ ماہ سے جاری ریاستی دہشت گردی اور بھارت میں منظور کیے گئے متنازع شہریت قانون کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

قرارداد میں عالمی فورمز پر کشمیریوں کا مقدمہ بہتر انداز میں لڑنے پر وزیراعظم کی کاوشوں تعریف کی گئی اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی گئی کہ وہ فی الفور کشمیریوں کے ساتھ ہونے والی ان زیادتیوں، ناانصافیوں اور جبر و ستم کا نوٹس لیں۔اجلاس میں نیب ترمیمی آرڈیننس ، سمیت 9 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔

وفاقی کابینہ نے وزیراعظم کے پناہ گاہ پروگرام کو سراہا،اجلاس میں ہرشہرمیں لنگرخانے کھولنے کے عزم کا بھی اظہارکیا گیا۔کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 23 دسمبر کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق اور نیپرا ایکٹ میں ترمیم کی تجویز اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بھجوانے کی سفارش کی۔کابینہ نے نیشنل کالج آف آرٹس انسٹیٹیوٹ کے مجوزہ بل کی بھی منظوری دی۔ہاشم رضا کو سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کا سربراہ،شاہد سلیم کو ایم ڈی او جی ڈی سی ایل تعینات کرنے کی منظوری دی گئی۔

اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اجلاس میں گنے کے کاشتکاروں کے مسائل پربات چیت کی گئی ہے۔انہوں نے کہا جنوری کے پہلے ہفتے بنیادی ضرورت کی اشیاء پر 6ارب کی سبسڈی اور جنوری کے آخری ہفتے میں عام پسے ہوئے طبقے کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مالی معاونت کارڈ کا اجراء کرینگے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس وصولی میں 17فیصد اضافہ ہواہے۔ حق داروں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والے آٹھ لاکھ افراد کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نکالا گیا ہے۔رواں سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں گزشتہ سال کی نسبت 73فیصد، تجارتی خسارے میں 43فیصد کمی جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں 14فیصد اضافہ ہوا ہے،وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ روزگارکے زیادہ مواقع پیدا کرنے کیلئے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ کو زیادہ ترجیح دی جائے ۔

نیب آرڈیننس کا ذکرکرتے ہوئے فردوس عاشق نے کہا کہ آرڈیننس پارلیمنٹ میں لایا جائے گا ،پارلمینٹ کی منظوری کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔ انہوں نے کہا بچوں کو ہر قسم کے استحصال سے تحفظ فراہم کرنے کے لئے وزارتِ انسانی حقوق کی جانب سے بچوں کے تحفظ کے لئے12 ٹیمیں تشکیل دی جا چکی ہیں ، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے ملک میں خیالات اور آئیڈیاز کے فرو غ کے لئے آئیڈیا بنک کا قیام اور “اظہار خیال”کے نام سے ایک اپلیکیشن بنائی جا رہی ہے، “رابطہ آسان”کے نام سے عوام کی خدمت کے لئے سمارٹ ہیلپ ڈیسک کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے، خواتین اور خصوصاً بچیوں کو ان کے حقوق کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کے لئے “بیٹی”کے نام سے اپلیکیشن تیار کی جا رہی ہے۔

وزیرِ اعظم نے ہدایت کی ہے کہ اب تک کابینہ میں مختلف وزارتوں کی جانب سے مفاد عامہ میں مجوزہ اقدامات پر عمل درآمد کی رپورٹ اگلے اجلاس میں پیش کی جائے۔کابینہ نے سٹیٹ بنک آف پاکستان کی فنانشل اسٹیٹمنٹ برائے مالی سال 2018ء کی اشاعت کی منظوری دی۔کابینہ نے ناروے شہریت کے حامل محمد اویس کی ناروے حکام کو حوالگی سے متعلق سے درخواست پر غور کیا ۔ محمد اویس پر ریپ اور گھریلو تشدد کے سنگین الزام عائد ہیں۔

اس ضمن میں کابینہ نے فیصلہ کیا کہ پہلے مرحلے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے ذریعے معاملے کی انکوائری کرائی جائے۔سہیل احمد خان کی برطانوی حکام کو حوالگی سے متعلق برطانوی حکومت کی درخواست پر غور کرتے ہوئے کابینہ نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر یا فرسٹ کلاس مجسٹریٹ سے معاملے کی انکوائری کا فیصلہ کیا۔ سہیل احمد خان پر قتل میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

The post وفاقی کابینہ، ثنا اللہ کیس پر وفاقی وزرا کے ڈی جی اے این ایف سے سخت سوالات appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/39q77ed

سال 2019 میں حکومت نے پہلی بار طبی این آر و متعارف کرایا

کراچی:  وفاقی حکومت کو آئے ’’ 100 ‘‘ دن توکب کے گزر چکے، حکمرانوں کی ترجیحات موسم کی طرح بدلتی رہیں، منجھے ہوئے سیاسی کھلاڑیوں میں پھنسی حکومت کے اس رویے سے ملک کے عوام شدید مایوسی واضطراب کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔

موجودہ حکومت کے وزرا علیحدہ علیحدہ اپنی مارکیٹنگ میں مصروف رہے لیکن عوام میں پائی جانے والی غیر یقینی کی صورتحال ختم کرنے میں تاحال کامیاب نظر نہیں آئی، مہنگائی کے عفریت میں جکڑے عوام وزیر اعظم پاکستان کی اس امید پر قائم ہیں کہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی 2020 سال خوشحالی کا سال ہوگا۔

اپوزیشن کی جانب سے حکومت کوٹف ٹائم دیا جا رہا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اپنی کمزوروزرا کی ٹیم کے ساتھ کب تک میدان حکومت میں رہتی ہے ، وزیر اعظم کی جانب سے ایک ہی’’ گیت ‘‘ کہ کرپٹ افرادکو پکڑئیں گے اوراربوں روپے واپس لائیں گے لیکن2019میںکسی بھی بدعنوان نے ملک کی لوٹی جانے والی دولت قومی خزانے میں جمع نہیںکرائی تاہم پہلی بار قومی اداروں نے پیپلزپارٹی کے سربراہ اور سابق صدر آصف زرداری ،مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف، سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ ، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزرا اعلیٰ قائم علی شاہ، اسپیکر سندھ اسمبلی سابق وزرا سمیت کئی اہم سیاستدانوںکو پکڑا گیا، وفاقی حکومت ایک سال میں سنگین مقدمات میں پکڑے گئے سیاسی ملزموں کو ’’مجرم‘‘ نہ بنا سکی۔

’’قومی مجرموں‘‘ کے پاس قوم کی رقم سے ’’چونی ‘‘ بھی برآمد نہ کی جاسکی جبکہ موجودہ حکومت ان قومی مجرموں پر سرکاری خزانے سے خطیر رقم بھی خرچ کرچکی،پوری دنیا میں جاکر این آر او نہ دینے کی نوید سنانے والی حکومت نے حیرت انگیز طور پر طبی این آر و بھی دے دیا، ملک کی تاریخ میں پہلی بار سابق صدر پاکستان سمیت3بار وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہنے والے سیاستدان کو بھی جیل کی ہوا کھلائی گئی،اہم سیاسی جماعتوں کے اہم ترین رہنماؤںکو سنگین کرپشن کے مقدمات کا سامنا ہے،کئی جیل بھیجے گئے کئی عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔

کئی سیاسی رہنماؤں کی گردن تک ہاتھ پہنچنے ہی والے ہیں ،ان تمام اقدامات کیلیے انتہائی بااختیار اور طاقت ور ہونا ضروری تھا، اور ایسا ہوبھی گیا کہ کھلی دھمکیاں دینے والے سیاستدان بھی جیل دیکھ آئے ، پہلی بار یہ بھی ہوا کہ بااثر سیاسی خاندانوں کی خواتین سیاسی رہنماؤں کو نیب کی سخت تفتیش سے لیکر جیل کی بیرک تک کاسفر کرناپڑا ،پورے سال یہ ہی گانا گایا کہ ’’کرپٹ افراد کو پکڑیں گے ‘‘ ’’ ہم قومی خزانہ بھریں گے ‘‘قوم نے یہاں بھی کئی یوٹرن دیکھے،ملک کی سیاسی تاریخ میں2019 میں پہلی بار وفاقی حکومت نے ’’طبی این آر او‘‘متعارف کرایا،جس کے بعد ’’ملین ڈالرکی کرپشن‘‘ میں پکڑے جانیوالے سابق صدر آصف زرداری ،سابق وزیراعظم نواز شریف نے ضمانت لیں۔

طبی این آر او سے لیکر جیل سے اپنی پسندیدہ منزل کی جانب اڑانیں بھری جبکہ دونوں اہم سیاسی پارٹیوں کی سیکنڈر لیڈر شپ بھی جیل میں رہی اور مقدمات کا سامنا کررہی ہے،سال 2019میں وزیراعظم کے کریڈٹ میں صرف ایک ’’یادگار تقریر‘‘ ہی آئی جو انھوں نے اقوام متحدہ میں کی تھی۔

2019 میں وزیراعظم نے کئی عالمی فضاؤں میں سفرکیا،متعدد ممالک کے دورے بھی کیے اور ہندوستان کے وزیراعظم کو 2 بار پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے سے بھی روکا، 27فروری 2019 میں پاک فضائیہ نے پاکستان کی حدود میں گھسنے پر بھارتی طیارے کو نشانہ بنایا اور بھارتی پائلٹ ابھی نندن کوگرفتار کیا،سال 2019 میں سرحدی علاقوں میں جنگ کی سماں رہا،کوئی ماہ ایسا نہ گزار جب ہندوستان کی جانب سے کشیدگی پیدا نہ کی گئی۔

بھارت کی جانب سے بلاجواز فائرنگ کی جاتی رہی ،تجارتی سرگرمیاں بھی بھارت سے روکی گئیں، خطے کی تاریخ میں پہلی بارکشمیر میں اتنا طویل لاک ڈاؤن کیا گیا کہ انسانیت بھی شرما گئی ،2019 میں پاکستان میں مہنگائی کے ریکارڈ توڑ دیے گئے، ڈالر نے کی قیمت نے آسمان چھولیا، بے روزگاری نقطہ عروج پر پہنچی ،فیکڑیوں میں اشیا سازی انتہائی محدود ہوگئی۔

2019 میں ملک میں بے روزگاری کا سیلاب آیا،حکومت کے تمام دعوؤںکے باوجود نوکریوں کے مواقع اور ذرائع پیدا نہ کیے جاسکے،ملک کے بڑے شہروں میںکوئی میگا منصوبہ شروع نہ کیا جا سکا، عوام بنیادی سہولتوں سے سال 2019 میں بھی محروم رہے۔

The post سال 2019 میں حکومت نے پہلی بار طبی این آر و متعارف کرایا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2QO56jx

شہباز شریف کی 35 فیصد کے مقابلے میں بزدار سرکار کی کارکردگی ایک فیصد

 لاہور: صوبہ پنجاب میں مسلسل 10 سال اقتدار میں رہنے والی مسلم لیگ ن اور گزشتہ 16 ماہ اقتدار میں آئی پی ٹی آئی کے درمیان ترقیاتی فنڈز استعمال کرنے کے حوالے سے اعداد و شمار سامنے آ گئے۔

ترقیاتی فنڈز کے استعمال میں پنجاب حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے جو اعدادوشمارسامنے آئے ہیں ان میں بزدار حکومت متعدد اہم شعبوں کے ترقیاتی فنڈز استعمال کرنے میں شہباز حکومت سے بھی پیچھے رہ گئی،سکول ایجوکیشن ،ہائر ایجوکیشن ،بلدیات ،پبلک بلڈنگز، لائیو سٹاک اور آئی ٹی کے شعبوں میں ترقیاتی فنڈز کے استعمال کے اہداف کے حصول میں موجودہ حکومت کی کارکردگی شہباز شریف حکومت سے پیچھے رہ گئی۔

اکتوبر 2016 میں شہباز حکومت نے سکول ایجوکیشن اور ہائر ایجوکیشن کے 47  ترقیاتی فنڈز استعمال کیے ،اکتوبر 2019 تک موجودہ حکومت سکول ایجوکیشن اور ہائر ایجوکیشن کے صرف 28  فیصد ترقیاتی فنڈز ہی استعمال کر سکی۔

سابق پنجاب حکومت نے اکتوبر 2016 تک بلدیات کے 69،روڈز کے 42 اور پبلک بلڈنگز کے 30 فیصد ترقیاتی فنڈز استعمال کیے تھے جبکہ موجودہ پنجاب حکومت اکتوبر 2019 تک لوکل گورنمنٹ کے 52،روڈز کے 39 اور پبلک بلڈنگز کے صرف 22 ترقیاتی فنڈز ہی استعمال کئے۔ لائیو سٹاک اور آئی ٹی کے شعبے میں بھی موجودہ پنجاب حکومت سابق حکمرانوں سے پیچھے ہی رہی۔

شہباز شریف نے اکتوبر 2016 تک لائیو سٹاک کے 42 فیصد ترقیاتی فنڈز استعمال کرکے اہداف حاصل کیے جبکہ موجودہ حکومت صرف 20 فیصدہی کارکردگی دکھا سکی ۔گورننس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بھی ترقیاتی فنڈز کے استعمال کے اہداف کے حصول میں موجودہ پنجاب حکومت کی کارکردگی صرف ایک فیصد رہی جبکہ شہباز شریف کی کارکردگی 35 فیصد تھی۔

اعدادوشمار کے مطابق محکمہ صحت کے ترقیاتی فنڈز کے استعمال میں موجودہ پنجاب حکومت سابق حکمرانوں سے آگے رہی ۔

The post شہباز شریف کی 35 فیصد کے مقابلے میں بزدار سرکار کی کارکردگی ایک فیصد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2ZKK1u7

2010ء کا عشرہ، سندھ کی سیاست میں نئی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں

کراچی:  2010 کے عشرے میں سندھ کی سیاست میں نئی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، ایم کیو ایم کے اثر و رسوخ کا سروج غروب ہوگیا جب کہ تحریک انصاف متحدہ کے متبادل کے طور پر ابھری۔

2010 کا عشرہ سیاسی اعتبار سے سندھ کے لیے خاصا دلچسپ رہا، اب جب کہ قوم ایک نئے عشرے میں داخل ہورہی ہے تو بیشتر صوبے کی حالت جوں کی توں ہی ہے جبکہ کراچی میں بنیادی سیاسی تبدیلی نظر آئی ہے۔

جانے والے عشرے کے ابتدائی نصف یعنی پانچ برسوں میں متحدہ قومی موومنٹ کا شہر مکمل کنٹرول نظر آتا ہے کیونکہ وہ اس سے قبل تین دہائیوں سے شہر پر حکومت کرتے آئے تھے تاہم بعد کے پانچ برسوں میں آہستہ آہستہ یہ کنٹرول جاتا نظر آنا شروع ہوا اور شہر کی سیاست میں ایم کیو ایم کا اثر و رسوخ تقریبا زائل ہی ہوگیا جب گزشتہ انتخابات میں پارٹی شہر سے محض چند سیٹیں ہی جیت پائی۔

ایم کیو ایم کا زوال اس وقت شروع ہوا جب اس وقت کی وفاقی حکومت نے شہر کا امن و امان بحال کرانیکی خاطر 2013 میں آپریشن کا آغاز کیا کیونکہ شہر میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بہت زیادہ بڑھ گئی تھیں۔ 2015 میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز نے دور بار چھاپا مارا اور پارٹی کے بہت سے سینئر رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔

ایم کیو ایم کی جانب سے وفاقی حکومت پر سیاسی انتقام کا الزام عائد کیا گیا تاہم اس کے بہت سے رینما بیرون ملک چلے گئے جس سے پارٹی کے انتظامی سیٹ اپ کو شدید نقصان پہنچا۔اگلے سال اگست میں ایم کیو ایم کے قائد کی جانب سے باغیانہ قسم کی تقریر نشر کی گئی جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو کو سیل کردیا اور پارٹی کے بہت سے رہنماؤں نے اپنے آپ کو اس تقریر کے بعد پارٹی سے علیحدہ کرلیا ، اسی طرح ایک گروپ فارق ستار کی قیادت میں علیحدہ ہوگیا۔

انہی واقعات کے دوران کراچی کے سابق میئر مصطفی کمال کی پارٹی کے سابق ڈپٹی کنوینر انیس قائم خانی کے ہمراہ ایک دھماکے دار واپسی کی صورت میں ہوتی ہے جس سے بھی ایم کیو ایم کے اثر و رسوخ میں کمی ہوتی ہے کیونکہ دونوں رہنما نہ صرف کھل کر ایم کیو ایم کے خلاف بیان دیتے ہیں بلکہ اپنی علیحدہ جماعت پاک سرزمین پارٹی کے قئام کا بھی اعلان کرتے ہیں۔ پاک سرزمین پارٹی انتخابات میں بری طرح ناکام ہوجاتی ہے تاہم ایم کیو ایم کے ووٹ بینک کو ضرور متاثر کرتی ہے۔

دوسری جانب سینیٹ کے ٹکٹ کی تقسیم کے معاملے پر اختلافات پید ہرنے کے بعد فاروق ستار کو پارٹی سے باہر کردیا جاتا ہے جبکہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو ایم کیو ایم پاکستان کا نیا کنوینر منتخب کرلیا جاتا ہے تو فاروق ستار کی جانب سے ایک نیا دھڑا ایم کیو ایم آرگنائزینشن ریسٹوریشن کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا جاتا ہے۔

اس تمام سیاسی انتشار کا تنیجہ انتخابات میں ایم کیو ایم کی جانب سے بری کارکردگی کی صورت سامنے آتا ہے جہاں ایم کیو ایم پاکستان کو قومی اسمبلی کی محض چار سیٹیں ہی مل پاتی ہیں۔ یہی وہ سیاسی خلا تھا جس پر سب کی نظریں جمی ہوئی تھیں کہ 2018 کے انتخابات میں کون سی جماعت اسے پر کرپاتی ہے بہت سے لوگوں کو یہ سرپرائز لگا کہ اس خلا کو پاکستان تحریک انصاف نے پورا کیا اور وہ شہر کی ایک نئی آواز بن کر سامنے آئی۔

شہر میں باقاعدہ کوئی انتظامی سیٹ اپ کے پی ٹی آئی نے لاکھوں ووٹ حاصل کیے اور قومی اسمبلی کی 20 میں سے ٍ14 سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی۔2018 کے انتخات میں یہی نہیں کہ صرف ایم کیو ایم کو ہی چیلنج کا سامنا رہا بلکہ پی ٹی آئی اے عبدالشکور شاد نے لیاری میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو بری طرح شکست دی حالانکہ لیاری کو پی پی کا گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے اور اس طرح پیپز پارٹی کراچی سے صرف دو سیٹیں جیت سکیں جبکہ مسلم لیگ نون کوئی بھی نشست حاصل نہ کرسکی۔

ایک طرف جہاں کراچی میں بنیادی سیاسی تبدیلیی نظر آئی وہیں دوسری طرف باقی ماندہ صوبے میں حالت بدستور ویسی ہی رہی جیسا کی چلتی آرہی تھی کہ جہاں کم و بیش پیپلز پارٹی گزشتہ دس برسوں سے حکومت کررہی ہے۔

2018 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے دیہی علاقوں سے زیادہ سیٹیں حاصل کیں۔ صوبائی انتخابات میں پی پی نے 90 سیٹیں حاصل کیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ ق نے 11 سیٹیں، مسلم لیگ فنکشنل نے 8، نیشنل پیپلز پارٹی نے 3، جبکہ عوامی نیشنل پارٹی دو نشستیں جیت سکی۔

کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص سے ایم کیو ایم نے 50 سیٹیں حاصل کی۔گزشتہ انتخابات کے دوران چار سابق وزرئے اعلی سندھ جن میں لیاقت جتوئی، ارباب غلام رحیم، غوث علی شاہ اور ممتاز علی بھٹو کے علاوہ سابق وزیر داخلہ ذوالفقار علی مرزا، صفدر عباسی، ناہید خان، ایاز لطیف پلیجو (قومی عوامی تحریک)، پی ٹی آئی، این پی پی کے مرتضی جتوئی ان سب نے مل کر گرینڈ ڈیموکریٹک الائس کی بنیاد رکھی جس نے انتخابات میں 14 سیٹیں حاصل کیں۔

ان انتخابات کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف شہری علاقوں کی دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری جس نے 30 سیٹیں حاصل کیں۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ گزشتہ انتخابات پیپلز پارٹی نے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر نہیں جیتے بلکہ اس نے ان لوگوں کو انتخابات میں ٹکٹ دیے جن کے اپنے حلقے میں اثر و رسوخ تھے۔

The post 2010ء کا عشرہ، سندھ کی سیاست میں نئی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2QE82Pg

نئے سال 4 چاند گرہن اور 2 سورج گرہن ہونگے، محکمہ موسمیات

 لاہور: محکمہ موسمیات اور ماہرین ارضیات نے نئے سال2020کے حوالے سے پیش گوئیاں کی ہیں۔

پاکستان میڑیالوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے اعدادوشمارکے نئے سال میں2سورج اور4چاند گرہن ہوں گے ۔ 2020 میں 10 اور 11 جنوری کی درمیانی شب پہلا چاندگرہن ہوگا جسے پاکستان میں دیکھاجاسکے گا، اسی طرح 5 اور6 جون کی درمیانی شب ہونے والاچاندگرہن بھی پاکستان میں دیکھاجاسکے گا۔30نومبرکو بھی چاندگرہن لگے گا لیکن یہ مناظرپاکستان میں نہیں دیکھے جاسکیں گے۔ پہلا سورج گرہن 21 جون اوردوسراسورج گرہن14دسمبرکوہوگا اوردونوں گرہن پاکستان میں بھی دیکھے جاسکیں گے۔

دوسری طرف ماہرین ارضیات نے خبردار کیا ہے کہ کوہ ہندوکش میں زیر زمین ارضیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہے جس کے باعث مستقبل مں زلزلوں کی تعداد میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔

The post نئے سال 4 چاند گرہن اور 2 سورج گرہن ہونگے، محکمہ موسمیات appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2MMsEnD

شدید سردی، سبی 100 سالہ اور لاہور میں 17 برس کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

 لاہور / سبی / کراچی:  ملک بھر میں شدیدسردی کے باعث ٹھند کے ریکارڈ پرریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں تاہم سبی اورگردونواح میں سردی کا100سالہ جبکہ لاہورمیں 2019کا دسمبر17برس کاسرد ترین مہینہ ریکارڈ کیاگیا۔

ملک بھر میں سردی کی شدت برقرار ہے تاہم شدیدسردی کے باعث ٹھند کے ریکارڈ پرریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں، سبی اورگردونواح میں سردی کا100سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے جبکہ لاہورمیں 2019کا دسمبر17برس کاسرد ترین مہینہ ریکارڈ کیاگیا۔

 

کراچی سے خیبر اور گوادر سے گلگت تک ملک کو سردی نے جھکڑ لیا ہے۔پنجاب کے کئی شہروں میں شدید سردی کے باعث  درجہ حرارت کم ہو کر دو ڈگری سینٹی گریڈ تک آ گیا ہے۔خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بیشتر  علاقے بھی شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں۔

محکمہ موسمیات نے بھی آئندہ چند روز تک سردی کی شدت جاری رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔بالائی علاقوں میں برف اور میدانی علاقوں میں سرد ہواؤں اوردھندکا راج رہا۔

خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ سردی بنوں میں پڑی جہاں درجہ حرارت منفی چار ریکارڈ کیا گیا۔زیارت کا درجہ حرارت منفی چھ، قلات منفی دو اور کوئٹہ کا درجہ حرارت ایک ڈگری سینٹی گریڈ  ریکارڈ کیا گیا۔سکردو منفی22ڈگری کے ساتھ ملک کا سرد ترین مقام رہا۔گلگت سے دیگر اضلاع کا رابطہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ختم ہوگیا۔

The post شدید سردی، سبی 100 سالہ اور لاہور میں 17 برس کا ریکارڈ ٹوٹ گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2thOd8A

عمارت منہدم ہونے سے 24 خاندان آسمان تلے آگئے، جمع پونجی لٹ گئی

کراچی:  رنچھوڑ لائن میں منہدم ہونے والی6 منزلہ عمارت میں رہنے والے24 خاندان کھلے آسمان تلے بے یارومددگار بیٹھے ہیں اوران کی ساری جمع پونجی عمارت کے ملبے میں دب گئی ہے۔

کراچی کے علاقے پرانا حاجی کیمپ رنچھوڑ لائن ٹمبر مارکیٹ میں واقع 6منزلہ مخدوش عمارت کا ملبہ اٹھانے کاکام دوسرے روز بھی جاری رہا، عمارت منہدم ہونے سے 24 خاندان بے گھر اور اپنی زندگی بھرکی جمع پونجی سے محروم ہوکر آسمان تلے بیٹھے ہیں۔

متاثرین کا کہنا تھا کہ ہمیں قیمتی سامان نکالنے تک کا وقت نہیں ملا، سرد موسم میں سر چھپانے کو چھت تک میسر نہیں ہے، آسمان تلے بیٹھے ہیں اورکوئی مددکرنے والانہیں ہے، عمارت میں ایک فلیٹ کی قیمت 30 سے 40 لاکھ تھی نقصان کاازالہ کون کرے گا، عمارت کے رہائشی 15 سالہ طالبعلم نے کہاکہ میری اسکول کی کتابیں اور تمام سامان ملبے تلے دب گیا ہے۔

متاثرہ خاتون نے بتایاکہ انھوں نے بی سی کے لیے 6لاکھ روپے جمع کیے تھے جو ملبے میں دب گئے ہیں، تمام جمع کیے ہوئے پیسے کہاں سے لائیں؟ رہنے کے لیے گھر نہیں جبکہ قرضے کے بوجھ نے مزید پریشانی میں مبتلا کردیاہے، متاثرین نے حکومت سے مددکی بھی اپیل کی۔

علاوہ ازیں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے تحقیقات کے لیے7رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس کے چیئرمین ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے ہیں، کمیٹی عمارت گرنے کی وجوہات، اس کی منظوری اور استعمال ہونے والے مٹیریل کی جانچ کرے گی اور 15دنوں میں تحقیقات مکمل کرکے ڈائریکٹر جنرل کو رپورٹ پیش کرے گی مخدوش عمارت 2004 میں تعمیر ہوئی تھی جس میں 24 خاندان رہائش پذیر تھے، متاثرین سے اظہار ہمدردی کے لیے مین شاہراہ پرسیاسی جماعتوںکی جانب سے کیمپس لگائے گئے ہیں۔

The post عمارت منہدم ہونے سے 24 خاندان آسمان تلے آگئے، جمع پونجی لٹ گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/37q7LpZ

عمارت منہدم ہونے سے 24 خاندان آسمان تلے آگئے، جمع پونجی لٹ گئی

کراچی:  رنچھوڑ لائن میں منہدم ہونے والی6 منزلہ عمارت میں رہنے والے24 خاندان کھلے آسمان تلے بے یارومددگار بیٹھے ہیں اوران کی ساری جمع پونجی عمارت کے ملبے میں دب گئی ہے۔

کراچی کے علاقے پرانا حاجی کیمپ رنچھوڑ لائن ٹمبر مارکیٹ میں واقع 6منزلہ مخدوش عمارت کا ملبہ اٹھانے کاکام دوسرے روز بھی جاری رہا، عمارت منہدم ہونے سے 24 خاندان بے گھر اور اپنی زندگی بھرکی جمع پونجی سے محروم ہوکر آسمان تلے بیٹھے ہیں۔

متاثرین کا کہنا تھا کہ ہمیں قیمتی سامان نکالنے تک کا وقت نہیں ملا، سرد موسم میں سر چھپانے کو چھت تک میسر نہیں ہے، آسمان تلے بیٹھے ہیں اورکوئی مددکرنے والانہیں ہے، عمارت میں ایک فلیٹ کی قیمت 30 سے 40 لاکھ تھی نقصان کاازالہ کون کرے گا، عمارت کے رہائشی 15 سالہ طالبعلم نے کہاکہ میری اسکول کی کتابیں اور تمام سامان ملبے تلے دب گیا ہے۔

متاثرہ خاتون نے بتایاکہ انھوں نے بی سی کے لیے 6لاکھ روپے جمع کیے تھے جو ملبے میں دب گئے ہیں، تمام جمع کیے ہوئے پیسے کہاں سے لائیں؟ رہنے کے لیے گھر نہیں جبکہ قرضے کے بوجھ نے مزید پریشانی میں مبتلا کردیاہے، متاثرین نے حکومت سے مددکی بھی اپیل کی۔

علاوہ ازیں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے تحقیقات کے لیے7رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس کے چیئرمین ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے ہیں، کمیٹی عمارت گرنے کی وجوہات، اس کی منظوری اور استعمال ہونے والے مٹیریل کی جانچ کرے گی اور 15دنوں میں تحقیقات مکمل کرکے ڈائریکٹر جنرل کو رپورٹ پیش کرے گی مخدوش عمارت 2004 میں تعمیر ہوئی تھی جس میں 24 خاندان رہائش پذیر تھے، متاثرین سے اظہار ہمدردی کے لیے مین شاہراہ پرسیاسی جماعتوںکی جانب سے کیمپس لگائے گئے ہیں۔

The post عمارت منہدم ہونے سے 24 خاندان آسمان تلے آگئے، جمع پونجی لٹ گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/37q7LpZ

تیز رفتار کار کھڑے ٹرک سے ٹکرا گئی، 3 دوست جاں بحق، 2 زخمی

کراچی:  شیرشاہ پراچہ چوک پر تیز رفتار کار سڑک پر کھڑے ٹرک سے ٹکراگئی جس کے نتیجے میں کار میں سوار 3 دوست جاں بحق اور 2 زخمی ہوگئے، جاں بحق ہونے والے تینوں نوجوان آپس میں دوست اور شیرشاہ کے رہائشی تھے۔

سائٹ بی تھانے کی حدود شیرشاہ پراچہ سگنل پر تیز رفتار ٹویوٹا کرولا کار سڑک پرکھڑے ٹرک سے ٹکراگئی جسے کے نتیجے میں کار میں سوار 2 نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گئے اور 3 نوجوان شدید زخمی ہوگئے، ٹرک اور کار کے ٹکرانے کی آواز اتنی زوردار تھی کہ چوک سے متصل چائے کے ریسٹورنٹ کے سامنے کھڑی پولیس موبائل ، چھیپا ایمبولینس اور ریسٹورنٹ میں بیٹھے لوگ فوری موقع پر پہنچ گئے۔

جاں بحق اور زخمی نوجوانوں کو چھیپا ایمبولینسوں کے ذریعے سول اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ایک نوجوان دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا جسکے بعد ہلاک نوجوانوں کی تعداد 3 اور زخمیوں کی 2 ہوگئی، موقع پر پہنچنے والے اہل محلہ نے جاں بحق ہونے والوں کی شناخت30سالہ فاروق علی ولد رستم علی ، 35سالہ افتخار مجید ولد عبد المجید اور25 سالہ کامران ولد فضل کے نام سے کی جبکہ زخمیوں کی شناخت 20 سالہ جمیل ولد امین اور 20 سالہ سہیل ولد عبدالغفارکے نام سے کی گئی۔

علاقہ مکینوں نے بتایا کہ جاں بحق اور زخمی ہونے والے نوجوان آپس میں دوست تھے ، متوفی فاروق گلی نمبر 44 محمدی روڈ شیر شاہ ، متوفی اقتخار گلی نمبر65 جناح روڈ شیر شاہ جبکہ کامران اور دیگر زخمی ہونے والے دونوں افراد بھی جناح روڈ کے رہائشی تھے۔

جاں بحق ہونیوالے تینوں نوجوان ذاتی کاروبار کرتے تھے جبکہ جاں بحق ہونے والے افتخار نے 2 روز قبل نئی ٹویوٹا کار خریدی تھی ، تمام دوست حادثے سے کچھ دیر قبل تک پراچہ چوک کے قریب سگنل پر چائے کے ریسٹورنٹ پر بیٹھے ہوئے تھے، تمام دوستوں کے اسرار پر افتخار اپنی نئی کار میں دوستوں کو مٹھائی کھلانے لے جارہا تھا کہ سگنل کے قریب اس کی وہی کار حادثے کا شکار ہو گئی۔

زخمیوں کو ان کے ورثا کے کہنے پر سول اسپتال میں طبی امداد کے بعد جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد لاشیں ورثا کے حوالے کردیں۔

The post تیز رفتار کار کھڑے ٹرک سے ٹکرا گئی، 3 دوست جاں بحق، 2 زخمی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2QFdfXa

ناراض رہنما متحرک، سیاسی تبدیلی کی افواہیں گردش کرنے لگیں

کوئٹہ:  بلوچستان کی سیاست میں ایک مرتبہ پھر ہلچل سی مچ گئی ہے۔

صوبے میں سیاسی تبدیلی کی باتیں گردش کرنے لگی ہیں۔ اس سیاسی تبدیلی کی باتوں میں کتنا ’’دم خم‘‘ ہے یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا؟۔ سیاسی تبدیلی کی باتیں صوبے میں مختلف محفلوں میں زیر بحث ہیں اور ان باتوں کو تقویت اُس وقت ملی جب صوبے کی برسر اقتار پارٹی بلوچستان عوامی پارٹی کے اہم سینئر رہنما اور اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو نے گورنر ہاؤس میں قائم مقام گورنر کی حیثیت سے قدم رکھتے ہی اپنی ہی جماعت کے صدر اور وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بیان داغ دیا۔

جس میں اُن کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ جام کمال ایک اچھے انسان ہیں لیکن اچھے وزیراعلیٰ ثابت نہیں ہو سکے، وہ ڈیڑھ سال خاموش رہے لیکن جام حکومت میں کوئی بہتری نہیں آئی یہاں تک کہ اُن کی جماعت بی اے پی سے صوبے کے عوام کو جو توقعات وابستہ تھیں وہ ان کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہی، یہ جماعت عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے بنائی  گئی تھی لیکن وزیراعلیٰ جام کمال نے صوبے کے عوام کی بہتری کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے بلکہ عوام سے اُن کا روزگار بھی چھینا جا رہا ہے جس سے عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے ہم اس جماعت کو صرف ایک شخص کی وجہ سے خراب نہیں ہونے  دینگے۔

اُن کا یہ بھی کہنا تھاکہ اُنہیں عہدے اور اقتدار کی کبھی خواہش نہیں رہی عوام نے اُنہیں عہدے اور پروٹوکول کیلئے منتخب کرکے نہیں بھیجا بلکہ اپنے مسائل کے حل کیلئے بھیجا ہے۔ اس سے قبل بلوچستان عوامی پارٹی کے سینئر رہنما اور جام کمال کابینہ کے اہم رکن صوبائی وزیر بلدیات سردار صالح بھوتانی کے حوالے سے یہ باتیں گردش کرتی رہی ہیں کہ وہ وزیراعلیٰ جام کمال سے ناراض ہیں اور جام حکومت کے خلاف سرگرم ہیں کچھ عرصہ قبل سردار صالح بھوتانی نے مخلوط حکومت میں شامل اتحادی و اپوزیشن جماعتوں ،بی اے پی کے وزراء و ارکان اسمبلی اور پارٹی کے رہنماؤں کے اعزاز میں ایک عشائیہ بھی دیا تھا۔

اُن کے اس عشائیے کو بھی بعض سیاسی حلقوں میں سیاسی رنگ دیا گیا جبکہ اُن کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے نیک نیتی سے اپنے تمام ساتھیوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کھانے کیلئے وہ کافی عرصے سے پلان کر رہے تھے کہ ہم سب ساتھی مل بیٹھ کر کھانا کھائیں لیکن کوئی ایسی ترتیب نہیں بن پا رہی تھی کبھی کوئی مصروف تھا تو کبھی ہہم مصروف رہے ۔ تاہم سیاسی حلقوں میں صوبائی وزیر بلدیات سردار صالح بھوتانی کے اس عشائیے کا کافی چرچا ہے۔

دوسری جانب اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو کے اس بیان کے بعد وزیراعلیٰ جام کمال کی کابینہ کے ارکان جن میں صوبائی وزراء میر ظہور بلیدی، سردار عبدالرحمان کھیتران، سلیم کھوسہ اور ترجمان حکومت بلوچستان لیاقت شاہوانی نے ایک میڈیا ٹاک کے دوران اس بات کا اظہار کیا کہ جام حکومت کو کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں اور یہ تاثر بھی غلط ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی میں اندرونی اختلافات ہیں۔

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ میر عبدالقدوس بزنجو اسپیکر بلوچستان اسمبلی ہونے کے ساتھ ساتھ پارٹی کے سینئر رہنما بھی ہیں انہیں اگر کوئی شکایت ہے تو وہ براہ راست وزیراعلیٰ کو بتاسکتے ہیں۔ بلوچستان کی مخلوط حکومت وزیراعلیٰ جام کمال کی سربراہی میں مضبوط اور متحرک ہے اور اتحادیوں کے ساتھ ملکر صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام کر رہی ہے، سیاسی مبصرین کے مطابق بلوچستان میں ہمیشہ سے مخلوط حکومتیں تشکیل پاتی رہی ہیں اور اس وقت ایک مخلوط حکومت قائم ہے اتحادیوں میں اونچ نیچ رہتی ہے اور سیاسی  نوک جھونک بھی معمول کا حصہ ہے۔

جب سے صوبے میں  جام کمال حکومت قائم ہوئی ہے اسے شروع سے ہی سیاسی طور پر ٹف ٹائم ملا ہے اور یہ ٹف ٹائم انہیں اتحادیوں کی جانب سے نہیں بلکہ اپنی جماعت کے اندر سے مل رہا ہے اس کے علاوہ اُن کی جماعت کے اندر بھی انہیں تنقید کا سامنا ہے  جس کا برملا اظہار حال ہی میں اسپیکر عبدالقدوس بزنجو نے بیان میں کیا ہے اس کے علاوہ پارٹی کارکنوں سے رابطوں اور ان کے مسائل پر خصوصی توجہ دینے کے باعث پارٹی کے اندر سردار صالح بھوتانی کی شخصیت کو بھی کافی پذیرائی مل رہی ہے۔

چونکہ سیاسی میدان میں بی اے پی ابھی نومولود ہے اور اس نئی جماعت میں مختلف نظریات اور سوچ کے حامل سیاسی لوگ اکٹھے ہوئے ہیںجس کی وجہ سے پارٹی کے اندر نا صرف گروپنگ ہے بلکہ شخصی اختلاف بھی ہے جس کی وجہ سے پارٹی اقتدار میں آنے کے باوجود ڈیلیور نہیں کر پا رہی ہے ۔ بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ نئی جماعت بی اے پی میں اس گروپنگ کے باعث صوبے میں ایک سیاسی کھیل کے آغاز کیلئے بعض کھلاڑی وارم اپ ہو رہے ہیں تاہم ان سیاسی کھلاڑیوں کا زیادہ تر تعلق جام کمال کی اپنی جماعت سے ہی ہے ۔

ان سیاسی مبصرین کے مطابق اس میں شک نہیں کہ بلوچستان میں جام کمال کی حکومت ابھی بھی مضبوط ہے اور انہیں اتحادی جماعتوں کی بھی مکمل حمایت و تائید حاصل ہے اور جام کمال کو ایک بیٹنگ پچ ملی ہے جس پر وہ بڑے محتاط انداز میں بیٹنگ کر رہے ہیں گو کہ ان پر بعض مخالفین کی جانب سے اکا دُکا باؤنسر بھی پھینکے جا رہے ہیں لیکن وہ ان باؤنسرز کابڑی مہارت سے سامنا کر رہے ہیں ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اپنے گھر یعنی جماعت بی اے پی کو بھی مضبوط اور فعال کرنے کیلئے عملی اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ پارٹی منشور پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں اور پارٹی  کے ورکر جو ان سے بہت سی اُمیدیں لگائے بیٹھے ہیں کو بھی اعتماد میں لیں اور حکومتی اُمورکی بجا آوری کے ساتھ ساتھ پارٹی پر بھی خصوصی توجہ دیں کیونکہ وہ بلوچستان میں وزارت اعلیٰ کے منصب پر اسی جماعت کی اکثریت لے کر فائز ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ صوبے میں اپنی حکومت کو مزید مضبوط بنانے کیلئے انہیں اپنے اتحادیوں کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہوگا ورنہ بلوچستان کی متحدہ اپوزیشن عددی اعتبار سے اُن سے کچھ ہی فاصلے پر ہے اور کسی وقت بھی ان کی حکومت کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کر سکتی ہے کیونکہ ان کے ساتھ اس سیاسی پچ پر کھیلنے والے دوسرے اینڈ پراپنے ہی سیاسی کھلاڑیوں میں سے بعض نے پہلے ہی سے میچ فکس کیا ہوا ہے ایسے سیاسی کھلاڑیوں پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔؟

سیاسی مبصرین کے مطابق جام حکومت کی بڑی سیاسی اتحادی جماعت تحریک انصاف بھی بعض معاملات میں وزیر اعلیٰ جام کمال سے نالاں دکھائی دے رہی ہے جس کا اظہار حال ہی میں تحریک انصاف کے پارلیمانی گروپ نے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات کے دوران کیا جو کہ پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند کی قیادت میں وزیراعظم عمران خان سے ملا تھا ۔ پارلیمانی گروپ سے ملاقات کے بعد پارلیمانی لیڈر و وزیراعظم کے معاون خصوصی سردار یار محمد رند نے الگ ون ٹو ون بھی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ۔

وزیراعظم عمران خان سے سردار یار محمد رند کی ملاقات کو بعض سیاسی حلقے اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ بات بھی گردش کر رہی ہے کہ وزیراعظم عمران خان جو کہ تحریک انصاف کے سربراہ بھی ہیں بلوچستان میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والی کسی شخصیت کو گورنر تعینات کرنے کی خواہش رکھتے ہیں جس کیلئے مختلف ناموں پر غور کیا جا رہا ہے ان سیاسی حلقوں کے مطابق تحریک انصاف کے سربراہ اور وزیراعظم عمران خان بلوچستان میں جام حکومت کی مکمل حمایت بھی جاری رکھنے کا عندیہ دے چکے ہیں اور یہ عندیہ اُنہوں نے تحریک انصاف کے پارلیمانی گروپ سے ملاقات اور وزیراعلیٰ جام کمال سے اپنی الگ الگ ملاقاتوں میں دیا۔

The post ناراض رہنما متحرک، سیاسی تبدیلی کی افواہیں گردش کرنے لگیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2rJ0JNY

اصلاحاتی ایجنڈے کے ساتھ بجلی منافع کے بقایاجات جلد ادا کرنا ہوں گے

پشاور: وزیراعظم عمران خان نے ہفتہ کے روز پشاور کا دورہ تو کرنا ہی تھا تاہم یہ دورہ ہنگامی حالات میں ہوگیا۔

وزیراعظم کراچی سے اسلام آباد جا رہے تھے تاہم موسم نے انھیں اسلام آباد اترنے کی اجازت نہیں دی جس کے باعث وہ پشاور آگئے اور اگلے ہی روز انہوں نے پشاور میں نہ صرف صوبائی کابینہ کے ارکان سے ملاقات کی بلکہ اوورسیز پاکستانیوں سے بھی انہوں نے خطاب کیا، وزیراعظم نے کابینہ اجلاس کے دوران واضح کردیا کہ خیبرپختونخوا کی عوام نے پی ٹی آئی پر دوبارہ اعتماد کا اظہارکیا ہے اس لیے اب ہمارا نمبر ہے کہ ہم ان کی خدمت کریں۔

وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت کی کہ قبائلی اضلاع کے مسائل کو حل کرتے ہوئے انھیں ہر ممکن سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اورتیسری بات انہوں نے اداروں میں اصلاحات کے ایجنڈے کے نفاذ سے متعلق کی ہے اور واضح کیا کہ اصلاحاتی ایجنڈے کا نفاذ ہر صورت میں کیا جائے گا اور اس کا نفاذ صرف محکمہ صحت کی حد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے بعد یہ سلسلہ محکمہ تعلیم اور دیگر شعبہ جات تک بھی چلتا رہے گا اور اس کا دائرہ دیگر صوبوں تک بھی وسیع کیا جائے گا۔ وزیراعظم کا خیبرپختونخوا میں کھڑے ہوکر یہاں کی عوام کو مثبت پیغام دینا یقینی طور پرخوش آئند ہے۔

تاہم یہ زیادہ مناسب ہوتا کہ وہ پشاورمیں کھڑے ہوکرخیبرپختونخوا کے لیے بجلی منافع کے بقایاجات کا مسلہ حل کرنے کا اعلان کرتے کیونکہ یہ مسلہ تاحال حل طلب ہے، یہ معاملہ مشترکہ مفادات کی کونسل میں بھی ایجنڈے پر رہا اور وہاں ایک مرتبہ پھر کمیٹی کے حوالے کردیا گیا۔

تاہم یہ معاملہ کمیٹیوں کے ذریعے حل نہیں ہو سکتا بلکہ اسے اسی طرح حل کرنا ہوگا جس طرح پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت میں حل ہوا تھا اور خیبرپختونخوا کو بقایاجات کی مد میں 110 ارب کی ادائیگی کا آغاز کرتے ہوئے اس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی نے فوری طور پر خیبرپختونخوا کو دس ارب روپے کا چیک دے دیا تھا جبکہ بقایا سو ارب چار سالوں میں یکساں طور پر پچیس، پچیس ارب کی اقساط میں ادا کرنے کا اعلان کیا گیا جس پر عمل درآمد بھی کیا گیا، موجودہ وزیراعظم عمران خان کو بھی اسی طرح کا اقدام کرنا ہوگا اور بقایاجات کی ادائیگی کے ساتھ سالانہ منافع میں بھی خاطر خواہ اضافہ کرنا چاہیے تاکہ خیبرپختونخوا میں زیادہ پیسہ آئے، عوام پر لگے اور خوشحالی آسکے۔

قبائلی اضلاع کے حوالے سے بھی انہوں نے بجاطور پر کہا کہ وہاں سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے جو نہایت ہی ضروری ہے کیونکہ قبائلی اضلاع میں ترقیاتی فنڈز کا استعمال نہایت ہی سست روی کے ساتھ کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے رواں مالی سال کے دوران قبائلی اضلاع کے لیے مختص ترقیاتی فنڈز کا نہایت ہی کم حصہ وہاں استعمال ہو سکا ہے اور اس صورت حال کی وجہ سے قبائلی عوام کو ترقیاتی فنڈز کے استعمال کے ثمرات نہیں مل پا رہے لہٰذا وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم کو قبائلی اضلاع کے حوالے سے خصوصی حکمت عملی اپنانی ہوگی تاکہ روایتی کی بجائے غیر روایتی انداز سے قبائلی اضلاع میں ترقیاتی فنڈز کا استعمال کیا جا سکے اور وہاں تبدیلی نظر آنا شروع ہو جائے۔

جس کے ساتھ ہی وہاں امن وامان کی صورت حال پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے کیونکہ قبائلی اضلاع میں امن وامان کے حوالے سے مسائل نے پھر سر اٹھانا شروع کردیا ہے جن پر ابھی سے توجہ دینا ضروری ہے کیونکہ قبائلی اضلاع جو مشکل وقت دیکھ چکے ہیں انھیں دوبارہ ان حالات کی طرف دھکیلنا کسی بھی طور مناسب نہیں۔قبائلی اضلاع میں چونکہ سکیورٹی فورسز تو پہلے سے موجود ہیں جبکہ اب پولیس وہاں قدم رکھ چکی ہے اس لیے معاملات کو کنٹرول میں لانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ عسکریت پسند جنہوں نے قبائلی اضلاع میں تباہی پھیلائی اور دہشت وبربریت کی داستانیں رقم کیں انھیں دوبارہ قدم جمانے کا موقع نہ مل سکے۔

وزیراعظم کی جانب سے اصلاحاتی پروگرام پر ہر صورت عمل درآمد کرنے کی بات بھی پورا پیغام لیے ہوئے ہے کیونکہ سمجھا یہ جا رہا تھا کہ ڈاکٹروں نے ڈیڑھ ماہ کے لگ بھگ جو ہڑتال کی تھی اس کے نتیجے میں محکمہ صحت میں ریجنل اور اضلاع کی سطح پر ہیلتھ اتھارٹیز کے قیام اور اس منصوبے پر عمل درآمد کو روک دیاگیا ہے اور اب معاملات کسی اور رخ چلیں گے۔

تاہم وزیراعظم کی جانب سے واضح کردیا گیا ہے کہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے پر کام جاری رہے گا اور محکمہ صحت کے بعد تعلیم اور دیگر اداروں اور شعبہ جات میں بھی اصلاحات لائی جائیں گی اور پھر یہی ماڈل اب پنجاب میں بھی اپنایاجائے گا، وزیراعظم کی جانب سے کہی گئی یہ بات حکومتی پالیسی کو واضح کرگئی ہے۔

ڈائریکشن تو سابق صوبائی سینئر وزیر فریدطوفان کوبھی بالآخر مل ہی گئی ہے جو اے این پی سے نکال باہر کیے جانے کے بعد ڈولتی ہوئی پتنگ کی طرح ادھر،ادھر اڑتے پھر رہے تھے اور ایک کے بعد ایک پارٹی میں شمولیت اختیار اور اسے چھوڑکر آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے تاہم اب وہ دوبارہ اے این پی سے آن ملے ہیں اور بس ان کی شمولیت کے اعلان کی رسمی کاروائی ہونا باقی رہ گئی ہے۔

فرید طوفان، بیگم نسیم ولی خان کے ساتھ اکٹھے ہی زیر عتاب آئے تھے جب پارٹی کے اندر بغاوت ہوئی اور بیگم نسیم ولی خان کو پارٹی صدارت سے ہٹاتے ہوئے بشیر بلور کو پارٹی صدر بنایا گیا تھا تو ساتھ ہی فرید طوفان کو بھی پارٹی سے نکال باہر کردیا گیا جو اس وقت پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری بھی تھے اور روح رواں بھی اور بات یہیں تک محدود نہیں رہی بلکہ فرید طوفان پر پارٹی کے دروازے دس سالوں کے لیے بند کرتے ہوئے ان کی واپسی کی راہ روک دی گئی۔

فرید طوفان اس صورت حال سے دوچار ہونے کے بعد پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن سے ہوتے ہوئے دوبارہ بیگم نسیم ولی خان سے آن ملے اور دونوں نے مشترکہ طور پر اے این پی ولی کے نام سے پارٹی کی بنیاد رکھی تاہم جب ولی خان فیملی کے چھوٹے اٹھے اور انہوں نے بڑوں کو ایک کردیا تو بیگم نسیم ولی خان اے این پی ولی سے بھی کنارہ کش ہوکر گھر تک محدود ہوگئیں جس کے باعث فرید طوفان ایک مرتبہ پھر بے یارومددگار رہ گئے۔

جنہوں نے اپنی عافیت اسی میں جانی کہ وہ چڑھتے سورج کی پوجا شروع کردیں جس کے لیے انہوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی اور گزشتہ سال کے انتخابات میں بھی پی ٹی آئی ہی کے ٹکٹ پر حصہ لیا تاہم انکی قسمت نے یاوری نہیں کی اور وہ الیکشن میں کامیابی حاصل نہ کر سکے لیکن شاید اس طریقے سے ان کی اے این پی میں واپسی کی راہ ہموار ہونی تھی یہی وجہ ہے کہ فرید طوفان ،اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان سے ملاقات کے لیے ولی باغ پہنچ گئے جہاں انہوں نے اسفندیارولی خان اور ایمل ولی خان ، دونوں سے ملاقات کی اور اے این پی میں ان کی واپسی کی راہ ہموار ہوگئی ۔

آنے والے دنوں میں وہ اسفندیارولی خان کی موجودگی میں جلسہ عام میں اے این پی میں دوبارہ شامل ہونے کا اعلان کردیں گے،اے این پی میں آپریشن کلین اپ بھی جاری ہے اور بہت سے رہنماؤں آؤٹ ہو چکے ہیں تاہم یہ عمل ابھی پوری طرح مکمل نہیں ہوا اور شنید ہے کہ آنے والے دنوں میں کچھ مزید صفائی بھی ہوگی۔

ایسے میں فرید طوفان کی آمد کسی نئے طوفان کا پیش خیمہ ہی ثابت نہ ہو؟ کیونکہ کچھ لوگوں کی نظریں پارٹی کے ایک بڑے لیڈر کی طرف اٹھ رہی ہیں اور فرید طوفان کی آمد کے بعد ان کے شک کو مزید تقویت بھی مل رہی ہے۔

تاہم یہ بات بھی واضح رہے کہ فرید طوفان اب پندرہ سال پہلے والے طوفان نہیں، اس عرصے میں پلوں کے نیچے سے بہت سے پانی بہہ چکاہے اور وہ لوگ جو بیگم نسیم ولی خان اور فرید طوفان کے دور میں دوسرے اور تیسرے درجے کے قائدین سمجھے جاتے تھے وہ اب بہت سی منازل طے کرتے ہوئے صف اول کے لیڈر بن چکے ہیں جنھیں ان کے مقام سے ہٹانا اور وہ بھی فوری طور پر شاید اتنا آساں نہ ہو کہ جتنا سمجھ لیا گیا ہے۔

The post اصلاحاتی ایجنڈے کے ساتھ بجلی منافع کے بقایاجات جلد ادا کرنا ہوں گے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2stCB2q

وفاق سے علیحدگی اور سندھ میں شمولیت، ایم کیو ایم کا پی پی کو ٹھنڈا جواب

کراچی: وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اپنے دورہ کراچی میں شہریوں کے مسائل حل کرنے کی نوید سنائی ہے۔ اپنے مصروف دورے میں وزیراعظم نے  پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں ایوارڈز کی تقسیم، بزنس کمیونٹی اور ارکان اسمبلی سے ملاقات کے علاوہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت بھی کی۔

وزیراعظم کا پی ایس ای کی تقریب  سے خطاب میں کہنا تھاکہ  بزنس کمیونٹی کو نیب کا خوف تھا، بزنس کمیونٹی کو نئے آرڈیننس کے ذریعے نیب سے الگ کر دیا، نئے نیب آرڈیننس کے ذریعے تاجر برادری کے لیے مزید آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں اس آرڈیننس کے تحت نیب بزنس کمیونٹی سے پوچھ گچھ نہیں کر سکتا، یہ کام ایف بی آر اور دیگر اداروں کا ہے۔

وزیراعظم نے کہاکہ مشکل وقت گزرنے کے بعد ملک میں معاشی استحکام آگیا ہے، 2019 معاشی استحکام کا سال تھا اور 2020 ترقی کا سال ہوگا۔ بزنس کمیونٹی کے رہنماؤں سے ملاقات میں ان کا کہنا تھاکہ کاروباری طبقہ ملک کی معاشی ترقی میں ایک اہم ستون کا درجہ رکھتا ہے، حقیقی ترقی پرائیوٹ سیکٹر کی طرف سے سرمایہ کاری  سے ہی ممکن ہے۔

حکومت کا کام کاروباری طبقے کو سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو ہدایات دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ  وہ  اپنے حلقوں میں عوام کے مسائل حل کرانے پر بھرپور توجہ دیں، اپوزیشن اس لیے شور مچا رہی ہے کہ ہم نے ان کی کرپشن پکڑی ہے۔ تحریک انصاف کی طویل جدوجہد ہے جس کا مقصد غریب عوام کی خدمت کرنا اور ان کو تحفظ فراہم کرنا ہے منتخب نمائندے اندرون سندھ کے علاقوں پر خصوصی توجہ دیں جہاں انتہائی غربت اور کسمپرسی کی وجہ سے لوگوں کوکئی مسائل کا سامنا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کو ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں حکام کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ  سندھ پیکیج کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2019-2020 کے لیے مختص کی جانے والی  پوری رقم ریلیز کی جا چکی ہے۔ گرین لائن منصوبے کا پہلا مرحلہ جس میں تعمیراتی کام شامل تھا مکمل کر لیا گیا ہے تاہم آپریشنل مرحلہ ایکنیک کی منظوری کے لیے پیش کر دیا جائے گا۔ تھر کے لیے پانی کے فلٹریشن پلانٹس اور اسپتالوں کے منصوبے جلد مکمل ہو جائیں گے۔

وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اپنے ماضی میں کیے گئے دوروں میں عوامی مسائل کے حل کے لیے ہدایات جاری کر چکے ہیں لیکن اصل مسئلہ ان احکامات پر عملدرآمد کا ہے۔

اگر سندھ پیکج کے لیے وفاق کی جانب سے جاری کی گئی تمام رقم فراہم کی جا چکی ہے تو اس کے ثمرات عوام تک پہنچتے ہوئے نظر کیوں نہیں آرہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو وزیراعظم کی جانب سے دی گئی ہدایات بھی انتہائی اہم ہیں۔ پی ٹی آئی اس وقت شہر کی سب سے بڑی پارلیمانی جماعت ہے اور عوام اس سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کے مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ کوشش کرتی ہوئی نظر آئے گی تاہم دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ ان ارکان اسمبلی کی اکثریت اپنے حلقوں میں اجنبی نظر آتی ہے ، جس کے نقصانات پی ٹی آئی کو آنے والے بلدیاتی انتخابات میں اٹھانا پڑ سکتے ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایم کیو ایم پاکستان کو سندھ حکومت میں شمولیت کی دعوت دے کر سیاسی ہلچل پیدا کردی ہے۔کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے ایم کیو ایم پاکستان کو پیشکش کی کہ اگر وہ وفاق میں تحریک انصاف کے ساتھ اپنا اتحاد ختم کرکے حکومت گرانے میںاپوزیشن کا ساتھ دے تو پیپلزپارٹی سندھ حکومت میں اسے حصہ دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ کراچی کے عوام کو معلوم ہے کہ عمران خان نے انہیں دھوکا دیا ہے۔

ان کا ہر وعدہ جھوٹا نکلا ہے اور 2020 میں جب انتخابات ہوں گے تو یہ عوام عمران خان کے حوالے سے یوٹرن ہی لیںگے۔ بلاول بھٹو زراری نے صوبے میں گیس بحران کے حوالے سے بھی وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ وفاق کی گیس کی پالیسی کی مزاحمت کرتے ہیں، ہمارے صوبے کا حق مارا جا رہا ہے، آپ وہاں سے گیس چھین رہے ہیں جہاں سے گیس پیدا ہو رہی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کی ایم کیو ایم کو کی گئی پیشکش کے حوالے سے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ چیئرمین پیپلزپارٹی نے سندھ کے شہری علاقوں کی سیاست اور بلدیاتی انتخابات سے قبل اس طرح کی آفر کرکے ایم کیو ایم پاکستان کو امتحان میں ڈال دیا ہے۔ ایم کیو ایم کی جانب سے وفاقی حکومت کے حوالے سے متعدد بار تحفظات سامنے آچکے ہیں اور اس کو شکایات ہیں کہ تحریک انصاف حکومت سازی کے وقت ان کے ساتھ کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہی ہے۔

ایسے وقت میں جب ایم کیو ایم پاکستان کو سیاسی مشکلات کا سامنا ہے بلاول بھٹو زرداری کی اس طرح پیشکش اس کے لیے مزید مشکلات پیداکرے گی ۔ دوسری جانب ترجمان ایم کیو ایم پاکستان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایم کیوایم پاکستان نے وفاقی حکومت سے اتحاد کراچی کے مفاد کی خاطر کیا ہے، وزارتوں کے لیے نہیں۔ وفاقی حکومت کی ڈیڑھ سالہ کارکردگی سے مطمئن نہیں لیکن حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ کسی کی خواہش پر نہیں کریںگے۔ایم کیو ایم وزارتوں کے بجائے عوامی حقوق کی سیاست کر رہی ہے۔

بلاول بھٹو اپنی جماعت کے بارہ سالہ دور حکومت میں سندھ اور بالخصوص کراچی کے ساتھ ہونیوالی زیادتیوں کے ازالے کو اپنے ایجنڈا میں شامل کریں۔ایم کیو ایم کو وزارتوں کی پیشکش کے بجائے بلاول بھٹو مقامی حکومتوں کے نظام کو بااختیار بنائیں۔ پیپلز پارٹی سندھ اسمبلی میں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے قانون میں ترمیمی بل لائے تو متحدہ بھرپور ساتھ دے گی۔

پیپلز پارٹی اگر سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں اور کی تلافی چاہتی ہے تو واٹربورڈ،  کے ڈی اے، ایل ڈی اے اور بلڈنگ کنٹرول سمیت تمام شہری اداروں کو مقامی حکومت کے ماتحت کرے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ متحدہ پاکستان نے اپنے بیان میں بلاول بھٹوزرداری  کی ایم کیوایم پاکستان کوسندھ حکومت میں شامل ہونے کی پیشکش تو فی الحال مسترد کردی ہے تاہم  متحدہ نے پیپلز پارٹی کو سندھ میں بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کے لیے قانون سازی کرنے پر اپنے  تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ایم کیوایم پاکستان کا طویل عرصہ سے یہ مطالبہ ہے کہ مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ ان کو  فنڈز دئیے جائیں۔اب یہ دیکھنا ہوگا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اگر واقعی ایم کیوایم پاکستان کو سندھ حکومت  میں شامل کرنا چاہتی ہے تو اس کو متحدہ  کے بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کے مطالبہ کو تسلیم کرنا ہوگا۔اگر پیپلزپارٹی کی جانب سے متحدہ کے اس  مطالبہ کو تسلیم کرلیا گیا تو ’’ ملکی سیاست ‘‘ میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔اب ایم کیوایم پاکستان نے پی پی کی اس  ’’سیاسی پیشکش  ‘‘کا جواب ٹھنڈی پالیسی میں دے کر پیپلزپارٹی کو ہی امتحان میں ڈال دیا ہے۔

صوبہ سندھ میں تجاوزات کے حوالے سے آپریشن ایک انسانی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔کئی سالوں سے جاری آپریشن میں مختلف علاقوں میں رہائش پذیر افراد کو ان کے گھروں سے محروم کردیا گیا ہے۔ یہ آپریشن کراچی سے سکھر سمیت  مختلف شہروں میں جاری ہے۔ سندھ کابینہ نے اپنے حالیہ اجلاس میں اس حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا ہے اور عدلیہ سے مودبانہ گزارش کی ہے کہ ہمیں عدالتوں کا بے حد احترام ہے، گھر مسمار کرنے سے پہلے متبادل گھروں کا انتظام کرنا انتہائی ضروری ہے، جن لوگوں کو بے گھر کریں گے وہ کہیں اور جا کر قبضہ کرکے گھر بنائیں گے۔

اس حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے بے گھر ہونے والوں کو خیمے اور کمبل فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ حکومتوں اور انتظامیہ کی نااہلی ہے کہ پہلے تو انہوں نے مختلف مقامات پر تجاوزات کو قائم ہونے دیا اور جب یہاں رہائش پزیر افراد اور کاروبار کرنے والوں نے اپنا مستقبل ان مقامات سے وابستہ کرلیا تو انہیں کوئی متبادل جگہ دیئے بغیر بے گھر کردیا گیا۔

یہ انتہائی حساس مسئلہ ہے جس پر حکومت ،عدلیہ اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو انسانی ہمدردی کے جذبہ کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی فیصلہ کرنا ہوگا ورنہ مستقبل میں اس کے منفی اثرات سامنے آسکتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ اس معاملے پر مربوط پلان بنایا جائے۔

The post وفاق سے علیحدگی اور سندھ میں شمولیت، ایم کیو ایم کا پی پی کو ٹھنڈا جواب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2sAogkw

حکومت کو چیلنجز کا سامنا رہا، نئے سال سے بہتر توقعات وابستہ

 اسلام آباد: بہت سی کامیابیوں و ناکامیوں اور معاشی و سیاسی اتار چڑھاو، تبدیلی کی صداوں کی گونج میں سال 2019 کا سورج غروب اور نئی امیدوں و امنگوں کے ساتھ نئے چیلنجز کا سورج طلوع ہوگیا ہے اور داد کے مستحق ہیں  پاکستانی جنہوں نے ختم ہوتا ہوا سال حوصلے سے برداشت کیا اور پچھلے ڈیڑھ سال کی صورتحال نے نئے سال  کی آمد سے پہلے پھر سے 2013 کے دور میں  دھکیل دیا ہے وہی سی این جی اسٹیشنز پر گاڑیوں کی طویل قطاریں، وہی مہنگائی، غربت و بے روزگاری  دیکھنے میں آرہی ہے جو 2013 میں تھی اور اب بجلی کی صورتحال بھی پھر سے خراب ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور ان مسائل کی وجہ سے امن و امان کے مسائل بھی پھر سے سراٹھانا شروع ہوگئے ہیں۔

جڑواں شہرو راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت  دیگر شہروں میں سٹریٹ کرائم بڑھنا شروع ہوگیا ہے اور یوں معلوم ہو رہا ہے نئے سال کے آغاز سے ہی نئے ولولے کے ساتھ ایک نئے امتحان سے دوچار ہونے کیلئے قوم تیار کھڑی ہے اور اس تحریر کی اشاعت تک نئے مالی سال کا سورج طلوع ہو چکا ہوگا یہ نئے سال کا سورج عوام کیلیے بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافے سمیت بہت سی نئی آزمائشیوں اور عوام سے مزید قربانیوں کی توقعات کی وابستگیوں کی نوید لے کر طلوع ہوگیا ہے اور گزشتہ برس وفاقی کابینہ میں ردو بدل کا سلسلہ مسلسل جاری رہا اور اب سال نو یعنی 2020 میں بھی وزارتوں میں تبدیلی کا امکان ہے جسکا عندیہ وزیراعظم عمران خان نومبر میں پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس میں  دے چکے ہیں کہ وہ جلد خیبرپختونخوا، پنجاب اور وفاقی کابینہ میں تبدیلیوں کا اعلان کریں گے۔

سیاسی ذرائع بتاتے ہیں کہ کابینہ میں دوبار تبدیلی کے باوجود مطلوبہ نتائج نہیں مل سکے ہیں جس کی وجہ سے اب نئے سال میں پھر کابینہ میں تبدیلی کی جائے گی اس کے ساتھ ساتھ نئے مالی سال میں معاشی، سفارتی، دفاعی اور داخلی و خارجی  محاذ پر بھی عوام کیلئے نئے چیلنجز سر اٹھانے کو تیار کھڑے ہیں جس کے آثار گزرتے مالی سال کے اختتام سے ہی ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں اور عالمی مالیاتی اداروں کے شکنجوں میں جکڑی معیشت کے حامل ملک کی عوام کیلئے نئے سال کا آغاز بھی آئی ایم ایف سے کئے گئے بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ سمیت دیگر وعدوں کی تکمیل سے ہونے جا رہا ہے اور غالب امکان ہے کہ پہلا تحفہ تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی صورت ان سطور کی اشاعت تک عوام کو مل چکا ہوگا، باقی تحائف کا سلسلہ بھی بتدریج جاری رہے گا اور پھر نئے سال کی پہلی سہہ ماہی میں ہی منی بجٹ کی بازگشت بھی آئی ایم ایف سے کئے گئے وعدے وعید کی  ایک کڑی ہے۔

یہ نئے مالی سال پر تبدیلی سرکار کے معاشی فرنٹ پر وہ چند تحائف ہیں جن کا سلسلہ گذشتہ ڈیڑھ سال سے جاری و ساری ہے اور ملک کی جی ڈی پی گروتھ پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد سے گر کر دو اعشاریہ چار فیصد پر آنا ، بوتل سے نکلا بے قابو مہنگائی کا جن، دس لاکھ افراد کابے روزگار ہونا، بند ہوتے کاروبار، خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، امید سے ناامیدی کا سفر، معاشی زبوں حالی کی داستان، زوال پزیر ہوتی معیشت، پکڑو بچاؤ کی صدائیں، سول ملٹری تعلقات کا ایک صفحہ، پچھلی حکومتوں کا حساب کتاب، بدعنوانی  و کرپشن کا دم توڑتا بیانیہ، اندر باہر آتے جاتے سیاستدان، بند پڑی پارلیمان، اوپر نیچے ہوتی اسٹاک مارکیٹ کی دکان، بیمار رہنما اور ضمانتیں، این آر او دینے اور نہ دینے کی صدائیں، آرمی چیف کی توسیع پر غیر متوقع عدالتی کارروائی اور پھر غیر معمولی فیصلہ، سابق آمر جنرل مشرف کو پھانسی کی سزا کا تاریخی فیصلہ اور گھسیٹنے  و لاش کو لٹکانے جیسی سخت سزا یہ سب گزرے تین سو پینسٹھ دنوں کے ہی تحائف وداستانیں ہیں۔

انصاف کے دور میں عوام کے ساتھ بے انصافی، احتساب کے دور میں خود احتسابی سے دور، عوام کو رلاتے، تکلیف پہنچاتے یہ ایک سال بیت گیا مگر اس گزرے ایک سال کے تاریک پہلووں پر روشنی ڈالنا بے حد ضروری ہے تاکہ آنے والا کل گزرے کل سے مختلف بنایا جا سکے  ورنہ 2020 میں پاکستان میں زندگی گزارنے کے لیے عوام کو کھانے پینے میں احتیاط برتنی ہوگی اور بیماریوں سے پاک  زندگی گزارنے کیلئے  آٹا، چینی، دودھ، دال سبزیوں سمیت مہنگائی کا منہ چڑھاتی اشیائے خورونوش سے ناطہ توڑ کر کفایت شعاری اپنانا ہوگی  کیونکہ سال2019 کے اختتام پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے یہ تحفے 2020 میں اس سے بھی زیادہ قیمتی ہو جائیں گے ۔2020 میں قوم کو بیمار نہ ہونے کا عہد کرنا پڑے گا اور اگر کسی وجہ سے صحت کی کوئی خرابی آن لیتی ہے تو دوائیوں کی بجائے دعاؤں اور کالے جادو پر انحصار کرنا ہوگا۔ تقریباً 500 کے قریب دوائیوں کی قیمتوں میں مزید کمر توڑ اضافہ ہو چکا ہے۔ ہسپتالوں میں مفت ٹیسٹ اور علاج کی سہولت ختم ہو گئی ہے۔اس سب کے باوجود 2020 سے قطعی مایوس نہیں ہوں۔

اْمید ہے کہ نئے سال میں معیشت بہتر ہو گی، روزگار بڑھے گا، سیاسی استحکام آئے گا۔ سول ملٹری تعلقات کا ایک صفحہ اپنی جگہ قائم رہے گا اور ہو سکتا ہے کہ عوام بھی اْس صفحے کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں اور نئے سال میں امید ہے کہ اپوزیشن خواب غفلت سے بیدار ہو گی، پارلیمان اپنا حق تسلیم کرائے گی، عوامی راج کے سْہانے نعرے پر عمل ہو گا، جوڑ توڑ اور محلاتی سازشوں سے جمہوریت محفوظ رہے گی، ووٹ کو عزت دینے کے عملی اقدامات کیے جائیں گے، احتساب بلا امتیاز ہو گا، انصاف بلا روک ٹوک ملے گا جبکہ روٹی، کپڑا اور مکان کے ساتھ ساتھ پانی، بجلی اور گیس بھی سستے نرخوں دستیاب ہوں گے۔

آنے والے سال میں عوام کو خشوع و خضوع کے ساتھ خصوصی دعائیں بھی مانگنی ہوں گی تاکہ ہماری مملکت خداداد دشمنوں کی سازشوں کو روندتی ہوئی تاریخ انسانی میں یکتا مقام حاصل کرے۔ ہماری پہلی دعا آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت سے متعلق ہونی چاہیے۔ اگرچہ وہ خود ایسی کوئی خواہش نہیں رکھتے لیکن وہ اس بے کس قوم کی ضرورت بن چکے ہیں۔ وہ جب تک چاہیں موجود رہیں۔ وہ ہمیں دیکھیں اور ہم انہیں اور یوں یہ سلسلہ چلتا رہے۔ ہمیں بنی گالہ میں موجود عمران خان کے تحفظ، مزید ترقی اور سیاسی تسلسل کی دعا بھی مانگنی چاہیے۔

ہمارے چمن میں اتنی مشکل سے دیدہ ور پیدا ہوا ہے۔ خدا نہ کرے کہ 2020 میں یہ مرجھا جائے۔ ہمیں بھارت کو نیست و نابود کرنے کے لیے بھی اجتماعی ہاتھ اٹھانے ہوں گے۔ 2019 میں جو اس نے کشمیر پر ظلم ڈھایا ہے اور 71 سال کی تاریخ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے اس کے نتیجے میں وہ بدترین بد دعاؤں کا مستحق ٹھہر چکا ہے۔ ہمیں علم ہے کہ مفلس کی بددعا میں کتنا اثر ہوتا ہے۔ تمام جنگی سامان ایک طرف اور بددعا دوسری طرف۔اگر ہم یہ سب کچھ کر پائیں تو 2020 کا سورج تابناک اور مکمل روشن ہو گا۔ عوام کی ایسی کی تیسی ہو گی لیکن قوم ترقی کرے گی ۔ لوگوں کے حالات بگڑیں گے لیکن ملک کی سمت بہتر ہو گی اور کچھ بھی نہ ہوا توعمران تو ہوگا اور جنرل باجوہ بھی  2020 میں ہمیں اس سے زیادہ اور کیا چاہیے۔

دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے رواں سال کے اختتام پر متحدہ قومی موومنٹ کو وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت گرانے میں تعاون پر وفاق میں وزارتوں کے ساتھ ساتھ سندھ میں بھی وزارتوں کی پیشکش کرکے سیاست کا ترب پتہ پھینکا ہے اگرچہ ابھی سردست ایم کیو ایم نے وفاق میں حکومت گرانے میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دینے سے انکار کردیا ہے مگر جوابی پتہ خوب پھینکا ہے جو حکومت اور اپوزیشن دونوں کیلئے ایک خاموش پیغام ہے۔

اور ویسے بھی پنجاب میں چوہدریوں کی مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنا کے بعد کی سیاسی سرگرمیوں سے بھی بہت سے سوالات اٹھے ہیں جو ابھی بھی اپنی جگہ موجود ہیں اور پھر خود پی ٹی آئی کے آپسی اختلافات اور پی ٹی آئی رہنماوں کے خلاف نیب کا شکنجہ ٹائٹ ہونے کے خوف نے بھی قیادت کیلئے مشکلات پیدا کر رکھی ہیں اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے صدارتی آردئننس کے ذریعے نیب کے دانت کھٹے کرنے کی بھی بڑی وجہ یہی مشکلات ہیں،   اس اقدام سے عوامی و سیاسی حلقوں میں تحریک انصاف اور وزیراعظم عمران خان کے کرپشن کے خلاف بیانیہ پر بڑا ڈنت پڑا ہے۔

The post حکومت کو چیلنجز کا سامنا رہا، نئے سال سے بہتر توقعات وابستہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2ZER4oc

حکومت کو نئے سال میں پرانی غلطیوں سے بچنا ہوگا

 لاہور: پاکستان تحریک انصاف کیلئے 2019 ء بہت مشکل سال ثابت ہوا ہے اور اس برس حکومت یکے بعد دیگرے بحرانوں کا شکار رہی ہے جن میں سے زیادہ تر بحران خود حکومت کے غلط فیصلوں کے پیدا کردہ تھے ۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع اور سابق صدر پرویز مشرف کو سزائے موت کے عدالتی معاملات بھی ملک میں بحرانی کیفیت کا باعث بنے۔ نئے پاکستان کے ’’معماروں‘‘ کا پرانا برس تو جیسا بھی گزرا لیکن اب نئے سال میں انہیں پرانی غلطیاں دہرانے سے پرہیز کرنا ہو گا ۔ نیا پاکستان بنانے کا ٹھیکہ عمران خان کو دینے والوں کو قطعی یہ امید نہیں تھی کہ ٹھیکیدار کے پاس اچھی لیبر ٹیم موجود نہیں ہے ۔

وہ تو یہی سمجھ رہے تھے کہ اتنے برسوں سے کپتان کو معلوم ہے کہ اسے’’باری‘‘ ملے گی لہذا کپتان نے اپنی سٹار ٹیم تیار کر لی ہو گی اور جیسے ہی حکومت تشکیل پائے گی تو بنا کسی تاخیر کے نئے پاکستان کیلئے جدت انگیز پالیسیاں اور اقدامات کی بوچھاڑ ہو جائے گی لیکن افسوس کہ عوام کی طرح ’’انہیں‘‘ بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔

اس میں کوئی شک اور دو رائے نہیں کہ عمران خان فنانشل کرپٹ نہیں ہیں اور ان کی حب الوطنی بھی شریف برادران اور زرداری سے قدرے زیادہ ہے لیکن ان دونوں انفرادی خوبیوں کا کیا فائدہ جب کپتان کو حکومت چلانا ہی سمجھ میں نہیں آرہا اور اس کی ٹیم میںگنتی کے چند ایک عمدہ کھلاڑیوں کو  چھوڑ کر باقی سب’’ریلو کٹے‘‘ دکھائی دے رہے ہیں ۔

عوام کو قوی امید تھی کہ 2019 ء میں حکومت روزگار، کاروبار اور صحت و تعلیم کے حوالے سے انقلابی اقدامات کرے گی لیکن حکومت نہ تو 50 لاکھ گھروں کے منصوبے کو حقیقی معنوں میں آگے بڑھا سکی اور نہ ہی صحت و تعلیم کے حوالے سے کوئی نمایاں تبدیلی دکھائی دی ۔

انصاف صحت کارڈ کا اجراء ’’تبدیلی‘‘کے زمرے میں نہیں آتا ، شوکت خانم ہسپتال جیسا سٹیٹ آف دی آرٹ پراجیکٹ چلانے والے عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد ہر عام پاکستانی یہ امید لگائے بیٹھا تھا کہ اب سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار بھی بدلے گی اور بنا سفارش کے بہترین علاج کی سہولت بھی میسر ہوگی اور چار مریضوں کیلئے ایک بستر کی’’سزا‘‘ بھی ختم ہو جائے گی لیکن ایسا نہیں ہو سکا ، گزشتہ سال میں وفاقی سطح پر ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور اس میں مبینہ طور پر حکومتی عناصر کی ملی بھگت کا سکینڈل سامنے آیا۔

جس کے نتیجہ میں وفاقی وزیر صحت عامر کیانی کو کابینہ سے برخاست کر دیا گیا جبکہ پنجاب میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی کارکردگی عمران خان اور عثمان بزدار کیلئے ناکامی کا بوجھ بنی رہی ہے ۔ تعلیم کے شعبے میں بھی حکومت اپنے انتخابی منشور پر عملدرآمد میں کامیاب نہیں ہو پائی ہے، یکساں نصاب کا نعرہ فی الوقت تو صرف نعرہ ہی رہ گیا ہے۔

وفاقی کابینہ میں غیر منتخب ارکان کی شمولیت کے حوالے سے بھی 2019 ء بہت اہم رہا ۔ اس وقت عمران خان کی کابینہ میں 30 وفاقی وزیر اور وزیر مملکت شامل ہیں جبکہ 5 مشیر اور 14 معاونین خصوصی بھی کابینہ کا حصہ ہیں ، غیر منتخب ارکان کی اتنی بڑی تعداد میں شمولیت بالخصوص اہم ترین وزارتیں اور محکمے ان کے سپرد کیئے جانے پر باقی کے کابینہ ارکان، اراکین قومی اسمبلی اور تحریک انصاف کے رہنما خوش نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ غیر منتخب ارکان کو ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھانے سے یہ پیغام پھیل رہا ہے کہ منتخب ارکان اسمبلی میں اہم افراد موجود نہیں ہیں۔

باخبر حلقوں کو بخوبی علم ہے کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، حفیظ شیخ، معید یوسف سمیت بعض دیگر غیر منتخب افراد کونسے’’گیٹ‘‘ کے راستے آئے ہیں ۔کابینہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو 2019 ء میں مراد راس سب سے نمایاں رہے ہیں۔ حماد اظہر نے بطور وزیر مملکت ریونیو غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا لیکن حفیظ شیخ شاید تنہا ریونیو ڈویژن چلانے کو زیادہ مناسب سمجھتے ہیں۔ اسد عمر اور اعظم سواتی کی کابینہ سے رخصتی اور واپسی بھی 2019 ء میں ہوئی ۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بہت عمدہ کام کیا ہے اور ساڑھے آٹھ لاکھ سے زائد بوگس اکاونٹ بند کر دیئے ہیں ۔

شیخ رشید تمام تر دعووں کے باوجود محکمہ ریلوے کو ترقی کی راہ پر آگے نہیں بڑھا سکے ہیں اور اس وقت محکمہ ریلوے خواجہ سعد رفیق کو MISS کر رہا ہے ۔ زراعت کی بات کی جائے تو تحریک انصاف کی حکومت نے ماضی کی حکومتوں کے مقابلے سب سے زیادہ کام اسی شعبہ میں کیا ہے اور اس حوالے سے عمران خان کا سب سے بڑا ’’فخر‘‘ جہانگیر ترین ہیں جنہوں نے زرعی شعبہ کو تبدیل کرنا شروع کردیا ہے ۔309 ارب روپے مالیت کا وزیر اعظم زرعی ایمرجنسی پروگرام درحقیقت ’’گیم چینجر‘‘ ہے اور اس کے کامیاب نتائج برآمد ہونا شروع ہو گئے ہیں ۔

پنجاب کی بات کریں تو 2019 ء وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کیلئے کٹھن اور اذیت ناک ثابت ہوا ہے اس برس میں تین سے چار مرتبہ انہیں تبدیل کیئے جانے کا طاقتور تاثر ابھرا ، پنجاب میں ’’بیڈ گورننس‘‘ اس سال چھائی رہی ، تقرر وتبادلوں کی منڈی میں کاروبار ہوتا رہا اور آخر کار وزیرا عظم نے معاملات براہ راست اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے چیف سیکرٹری اور آئی جی سمیت پنجاب کی تمام انتظامی ٹیم تبدیل کردی ہے، عثمان بزدار کے قریبی رشتے داروں سمیت چہیتے افسر پنجاب بدر ہو چکے ہیں ۔

پنجاب کابینہ کے 26 سے زائد وزراء کی کارکردگی 2019 ء میں ’صفر‘‘ رہی اور اس کا وزن بھی عثمان بزدار کو اٹھانا پڑا ہے ۔ فیاض الحسن چوہان وزارت اطلاعات سے فارغ ہوئے اور چند ماہ بعد دوبارہ اسی وزارت پر آگئے ۔

پنجاب کابینہ میں تبدیلیوں کے حوالے سے بھی نشیب وفراز جاری رہے لیکن 2019 میں تو کابینہ تبدیل نہیں ہوئی اب دیکھنا ہے کہ 2020 میں کیا ہوتا ہے ۔ گزشتہ برس عبدالعلیم خان اور سبطین خان نیب کے ہاتھوں ’’بیلنسنگ احتساب‘‘ کا شکار ہوئے ، علیم خان نے 100 دن پوری استقامت کے ساتھ نیب کا سامنا کیا اور رہائی کے بعد ابھی تک وہ عمران خان کی شدید خواہش کے باوجود پنجاب کابینہ میں واپس آنے سے گریزاں ہیں جس کی بہت سی اہم وجوہات ہیں۔گزشتہ برس میں پنجاب کابینہ کے سٹار کھلاڑیوں میں مخدوم ہاشم جواں بخت، میاں محمود الرشید، میاں اسلم اقبال، نعمان لنگڑیال اور حافظ ممتاز سر فہرست رہے ۔

2019ء کی آخری شب پنجاب کابینہ کے رکن ملک اسد کھوکھر کو 109دن بعد محکمہ تفویض ہوہی گیا۔ امید ہے کہ 2020 میں تحریک انصاف بطور حکومت اور بطور تنظیم ایک نئے اور کامیاب روپ میں دکھائی دے گی ۔

The post حکومت کو نئے سال میں پرانی غلطیوں سے بچنا ہوگا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2tl4klE

یہ وضعدار لوگ

ہم نے جس خطے کو اپنی جائے سکونت بنانے کاشرف بخشا ہے اِس میں لوگوں کے آپس میں بہت سے اختلاف ہیں، مذہبی،مسلکی اور سیاسی معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ شدید رنجشیں ہیں، لیکن ایک معاملے پر سب کا اتفاق ہے اور وہی اس خطے کے باسیوں کاسب سے بڑا نظریہّ ہے اور وہ ہے چڑھتے سورج کی پوجا یعنی صاحبِ اقتدار کی خوشامد ۔چڑ ھے ہوئے سورج یاصاحبِ اقتدار کی پر ستش یا اُس سے عقیدت اور محبّت پر ہمار ا پختہ ایمان ہے۔ماشاء اللہ ہمارے پورے معاشرے کا یہی چلن ہے اور یہی عقیدہ ۔

دیہاتوں اور شہروں کی بے شمار مثالیں قارئین نے سنی ہوںگی۔ کسی علاقے میں تحصیلدار کی بھینس کے مرنے پر دیہاتوں کی مساجد میں اعلان کیے گئے کہ ’’جناب تحصیلدار صاحب کی’ بھَینس شریف رضائے الٰہی سے انتقال فرما گئی ہیں اُنکی رسمِ قل کل شام چاربجے ٹھیکیدار حشمت علی کی حویلی میں ادا کی جائے گی۔

آپ سب شامل ہو کر ثوابِ دارین حاصل کریں۔‘‘ ٹھیکیدار کی حویلی میں ثوابِ دارین کے خواہشمند وں کا جَّمِ غفیر تھا، کچھ عرصے بعد خود تحصیلدار صاحب قضائے الٰہی سے انتقال فرماگئے تو جنازے میں چند قریبی رشتے داروں کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔علاقے کے تمام معززّین واکابرین نئے تحصیلدار کو مبارک باد دینے چلے گئے تھے۔

پولیس اور دیگر سول سروسز کے بے تکلف دوستوں سے کئی واقعات سن چکاہوں کہ کس طرح جُونیئر افسران اپنے Bossکے لیے بیرونِ ملک سے لائے ہوئے گفٹ لے کر روانہ ہوئے،راستے میں جب Boss کے تبادلے کی اطلاع ملی تو انھوں نے یوٹرن لینے میں ذرا دیرنہ کی اورنئے Boss کی پیشوائی کے لیے پہنچ گئے۔ اور یہ تو بہت سے افسروں نے بتایا ہے کہ ساؤتھ پنجاب میں تعیّناتی کے دوران اعلیٰ کوالٹی کے آموں کی اتنی پیٹیاں آیا کرتی تھیں کہ ڈی آئی جی ہاؤس، ڈی پی او ہاؤس یا کمشنر ہاؤس کے برآمدے بھر جاتے تھے اور فروٹ منڈی کا نقشہ پیش کرتے تھے۔مگر وہاں سے ٹرانسفر کے فورًا  بعد کریٹوں کی تعداد اور آموں کا معیار پنجاب میں گورننس کے معیار کی طرح نیچے آگیا ۔

سرگودھا میں تعیّنات رہنے والے اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ تعیّناتی کے دوران وہاں کے زمیندار سردیوں میں نہایت اعلیٰ قسم کے کنّو بھیجا کرتے تھے،  مگر تبادلے کے بعد جوکنّو تحفتاً آتے ہیں ان میں اور بیروں میں فرق کرنا مشکل ہوتا ہے۔

ایک کولیگ نے بتایا کہ ’’ایک دفعہ تحفے میں آنے والے کنّوجسامت میں اسقدر مَنحنی اور کمزور تھے کہ میں نے اپنے ڈرائیور (جسکا تعلق سرگودھا سے ہے) کو بلایا اور پوچھا ’’بھئی اتنے چھوٹے سائز کے فالج زدہ کنّو دنیا کے کس علاقے میں پائے جاتے ہیں اور یہ درختوں پر اُگتے ہیں یا بیلوں پر؟‘‘کہنے لگا ‘‘حضور افسر اگر شہر ی بابو ہو تو ہم کہہ دیتے ہیں کہ’ سرجی کنّو زکام شکام لگنے سے چھوٹے رہ گئے ہیں‘ ۔مگر آپ چونکہ خود زمیندار ہیں اس لیے آپ کو سچی بات بتائے دیتا ہوں کہ اس نوعیّت کے کنّو کو کیرا کہا جاتا ہے۔ یہ وہ کنّو ہوتے ہیںجو کمزور ہونے کی وجہ سے خود بخود پودے سے گر جاتے ہیں۔ اب چونکہ زمینداربھی دنیا دار اور کھَچرے ہو گئے ہیں، لہٰذااب وہ تبدیلی زدہ افسروں کو صرف کیرا ہی بھیجتے ہیں۔

مگر دنیا داری اور مطلب پرستی کے اس دَور میں اب بھی کچھ ایسے لوگ ہیں جو اپنی روایات اور اَقدار کی پاسبانی کر رہے ہیں اور جنھوں نے اب بھی اپنی خاندانی وضعداری کے چراغ جلا رکھّے ہیں۔کچھ ایسے ہی لوگ راقم کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بڑے خلوص اور محبّت کے ساتھ آم اور کنّو کے تحائف بڑی باقاعدگی سے بھیج رہے ہیں۔

ان وضعدار لوگوںمیں ایک نوابزادہ نصراللہ خان صاحب(مرحوم ومغفور)کے پوتے نواب بَیرم خان صاحب ہیں جنکے ضلع مظفر گڑھ کے قصبے خان گڑھ (نوابزادہ نصراللہ خان صاحب کا آبائی قصبہ جہا ں نواب صاحب کا گھر اور زمینیں ہیں)میں آموں کے باغات ہیں۔

آج سے اکتیس سال پہلے سروس کے اوائل میں کچھ عرصے کے لیے میں مظفرگڑھ تعیّنات رہا۔اُسوقت نوابزادہ صاحب کے صاحبزادے نثار خان مجھے ملاکرتے تھے ،ایک آدھ دفعہ بیرم خان بھی ملے ہوں گے،مجھے آج تک انھوں نے کبھی کوئی کا م نہیں کہا، مگر ہر سال باقاعدگی سے آم بھجواتے ہیں، ایک بار فون پر میں انوررٹول کے لیے اپنی پسندیدگی کا اظہار کر بیٹھا تو اس کے بعد سے انھوں نے ہی بھجوانا شروع کر دیے۔ تیس سالوںمیں انھیں پولیس سے کوئی کام پڑا بھی ہوگا تو انھوں نے مجھے کبھی نہیں کہا، مگر ان کے خلوص اور وضعداری میں کبھی کمی نہیں آئی۔

اسی طرح خانیوال کی ایک وضعدارشخصیت ہیں سردار مظفّر حسین سیال، سالہا سال سے آموں کا تحفہ بھیج رہے ہیں ، انھوں نے زندگی میں ایک ہی فرمائش کی تھی جو مجھ سے پوری نہ ہو سکی۔ جس پر مجھے شرمندگی ہے۔ان کے بیٹے کی شادی تھی اور انھوں نے مجھے شرکت کے لیے فون کیا تھا۔ میں بھی شادی میں شرکت کا پورا ارادہ رکھتا تھا مگر اچانک بیمار ی کے باعث نہ جاسکا۔مگر انھوں نے اس کوتاہی پر بھی درگذر کیا اور اس کا گلہ تک نہ کیا۔وہ بھی ہر سال پورے خلوص اور محبّت کے ساتھ آموں کا تحفہ بھجواتے ہیں ۔

ڈیرہ اسمعٰیل خان میں تعیّناتی کے دوران جن لوگوں کے ساتھ دوستی ہوگئی ان میں ڈاکٹر عبداللہ شاہ صاحب بہت نمایاں ہیں،اپنی پرائیویٹ پریکٹیس کرتے ہیں،انتہائی نفیس، وضعدار اور باکردار شخص ہیں،وہ میری پسند سے بخوبی واقف ہیں اس لیے ہر سال اسی نوع کے آم بھجواتے ہیں، انھوں نے بھی آج تک کبھی کوئی کام نہیں کہا۔ان کے بیٹے کی شادی میں شامل نہ ہونے کا مجھے خود بہت افسوس ہے۔

مجھے آموں کا تحفہ (ایک بڑی کھیپ) ڈاکٹر نجف مرزا کی طرف سے بھی آتا ہے،نجف میرے لیے بھائیوں کی طرح ہے۔ کئی سال پہلے جب میں لاہور پولیس کا سربراہ تھا تو نجف میرے ساتھ ایس ایس پی ایڈمن تھا(اب وہ ماشاء اللہ ایڈیشنل آئی جی ہے) برسوں پہلے چند مہینے کا ساتھ ہمیشہ کے تعلّق میں بدل گیاہے۔

وہ ایک پاکیزہ کردار اور اعلیٰ  پائے کا انسان ، اور ایک دیانتدار ،بااصول اور بہادر پولیس افسر ہے،متقّی اسقدر کہ اس پر رشک آتا ہے،وہ بلاشبہ اُن پولیس افسروں میں سے ہے جن پر پولیس سروس فخر کر سکتی ہے۔نوابشاہ میں نجف کے خوبصورت فارم ہاؤس پر کئی بار جا کے کئی راتیں گزار چکا ہوں،فارم ہاؤس پر سردیوں میں رات کو آگ کی انگیٹھی کے گرد بیٹھ کر گپ شپ ، علی الصبح باغ کی سیر اور پھرخالص مکھن ،خالص شہد اور دیسی انڈوں کا ناشتہ ایسی ٹریٹ ہے جو بھلائی نہیں جا سکتی۔

بشیر میمن ایک اور زبردست افسر ہیںان کے باغات سے بھی ہر سال آم آتے ہیں،بشیر میمن بھی بھائیوں کی طرح ہے ۔بڑازمیندار ہے مگر بڑا باضمیر، ایماندار، باکردار بلکہ پرھیزگار، پکاّ نمازی، سال میں کئی بار عمرے کرنیوالا، زیرک، سمجھدار،فراخد ل اور بہادر افسراورانتہائی مخلص اور محبت کرنیوالا انسان ہے ۔جس سے ایک بار مل لے اس کے دل میں اترجا تاہے۔ چند روز پہلے تک ایف آئی اے کا سرابراہ تھا، وزیراعظم کے غیر قانونی احکام نہ ماننے پر حکومت سے اختلاف ہو گیا اور اس نے استعفیٰ دے دیا۔ اُس جیسے زیرک اور وضعدار افسر بہت کم دیکھے ہیں۔

1992 میں مَیں ضلع رحیم یار خان پولیس کا سربراہ تھا تو اُسوقت وہاں پر مخدوم احمد محمود (سابق گورنر پنجاب ) اور جعفر اقبال گجر (سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی)کا طوطی بولتا تھا۔معروف کاروباری شخصیّت چوہدری محمد منیر نے ابھی نمایاں حیثیّت حاصل نہیں کی تھی، اُن کے والد صاحب ایس ایس پی آفس ملنے آیا کرتے تھے،اور کبھی کبھی اپنی محنت اور ترقی کی داستان سنایا کرتے تھے۔

منیر صاحب جب کبھی رحیم یار خان آتے تو ملنے ضرور آتے،ایک خوش اخلاق،خوش اطوار ،خوش لباس،نوجوان کے طور پر انھیں سرکاری حلقوں میں عزت واحترام سے دیکھا جاتا تھا۔وہاں سے تبدیل ہوئے کئی سال ہوچکے مگر انھوں نے اپنے فارم کے آم(جو اعلیٰ ترین کوالٹی اور بہترین پیکنگ میں ہوتے ہیں) بھیجنے کی روایت قائم رکھی ہے۔بیچ میں ناغہ ہوا تو ایک بار کسی تقریب میں مل گئے جہاں میں نے کہہ دیا ’’چوہدری صاحب لگتا ہے آپ افسروں کے پوسٹنگ آڈر دیکھ کر آم بھیجتے ہیں‘‘۔وہ سمجھ گئے اور اس کے بعد کبھی ناغہ نہیں ہوا۔

میر ے بھائی ڈاکٹر نثار احمد صاحب (جو ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کے طور پر ریٹائر ہوئے اور اب وزیرآباد سے قومی اسمبلی کے رکن ہیں)کے کلاس فیلواور دوست ڈاکٹر ظفر تنویر صاحب ایک دبنگ شخص اور ڈاکٹروں کے جیّد لیڈر ہیں وہ سیالکوٹ میں پریکٹس کے ساتھ ساتھ زمیندارا بھی کرتے ہیں وہ بھی ہر سال اپنے باغ کی الیچی بھجواتے ہیں ۔

کنّوکا سیزن بھی اچھا جارہا ہے، والدصاحب نے اپنے علاقے میں کنّو اگانے کی ابتداء کی تھی،کئی سال تک ہماراباغ سرگودھاکا مقابلہ کرتا رہامگرپھر زمین نے ساتھ نہ دیا اور اور پودے سوکھنے لگے،تو ہمیں چاول اور دانہء گندم کی جانب لَوٹنا پڑا مگر میرے کلاس فیلوز اور دوست میری کنّو پسندی سے واقف ہیں اس لیے سرگودھا اور بھلوال کے دوستوں اور عزیزوں کی جانب سے کنّو کی ترسیل بھی جاری وساری رہتی ہے۔کالج کے دوستوں میں جمیل افضل چیمہ، ارشد محمود میلہ، ظفرعبّاس لک اور چوہدری افتخار (امریکا میں معروف پاکستانی ڈاکٹر نثار چوہدری صاحب کے بھائی ) کی طرف سے کنّو کا تحفہ باقاعدگی سے موصول ہوتا ہے۔

ارشد میلہ بھلوال کے بڑے زمیندار ہیں،جمیل افضل چیمہ ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہیں۔ رزقِ حلال سے بچو ں کی پرورش وتربیّت کی ہے تو خالق ومالک نے قابل اولاد کی صورت میں صلہ دیاہے،ایک بیٹا فارن سروس میں ہے اور بیٹی ڈی ایم جی میں ہے ۔ سابق آئی جی مَہرصاحب بھی ہمیشہ کنّو بھجواتے ہیں ، کنّو بھیجنے والوں میں خُرمّ شہزاد(جوایک ایماندار اور قابل سول سرونٹ ہے) اور چوہدری شجاعت علی بھی شامل ہیں۔ چوہدری شجاعت صاحب بڑے لائق سول سرونٹ ہیں،سی ایس ایس کے امتحا ن میں ملک بھر میں اوّل آئے تھے۔

فیڈرل سیکریٹری کے طورپر ریٹائر ہوئے اور اب ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہونے کے علاوہ بھلوال کے ایک پروگریسو زمیندار ہیں۔وہ میرے اسوقت کے دوست ہیں جب میں مانسہرہ کے ایک خوبصورت پہاڑی قصبے اوگی میں تعینّات تھا اور وہ مانسہرہ میں زیرِ تربیّت تھے۔میر ی دعاہے کہ میرے ان مہربانوں اور وضعدار انسانوں کے باغات خوب پھلیں پھولیںاوربرگ وبار سے لد ے رہیں تاکہ ان کی کنّو پروری جاری رہے اور میرے بہار کے دن اچھے گذرتے رہیں ۔

The post یہ وضعدار لوگ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2MKc7k0

نیا سال، نئی صبح، نئی اُمیدیں!

بالآخر سال 2019بھی اچھی اور بری یادوں کو اپنے دامن میں سمیٹے تاریخ کا حصہ بن گیا۔ زندگی رواں دواں ہے۔ وقت برا ہو یا اچھا بہرحال گزرنا اس کا مقدر ہے۔

2020 میں ہم ایسے عالم میں داخل ہو رہے ہیں کہ 13کروڑ سے زائد پاکستانی غذائی عدم تحفظ سے دوچار ہیں، انفلیشن ریٹ 13فیصد سے زائد ہو چکا ہے، تعلیمی پسماندگی میں اضافہ ہو چکا ہے، صحت کی سہولیات سے عوام مطمئن نہیں، لوگوں کو عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا، پولیس تفتیش ناقص ترین ہو چکی ہے، پس عوام نا اُمید ہیں۔ ایسے میں ہمیں ماضی بھول کر آگے کی جانب دیکھنا ہوگا۔ بقول شاعر

سفر حیات کا تاریکیوں میں گزرا ہے

نئے چراغ تمنا جلائیں گے ہم لوگ

جو سال گزرا ہے مداوا نہ تھا کسی غم کا

یہ سال نو ہے اسے آزمائیں گے ہم لوگ

مرض کے بعد صحت ، برائی کے ساتھ اچھائی، ستم کے ساتھ کرم، زخم کے ساتھ مرہم ، بدی کے ساتھ نیکی اور خزاں کے ساتھ بہار کی روایت ابھی ختم نہیں ہوئی اس لیے مایوسی کفر ہے۔ ہم سب کو بدلنا ہوگا، جب تک ہم نہ بدلیں گے تبدیلی نہیں آسکتی۔ میرا دل کہتا ہے کہ موجودہ حکومت کے آنے والے ساڑھے تین سال عوام کو ایک سسٹم مہیا کریں گے۔اور اُمید ہے 2020میں ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پہلا قدم ہی اٹھایا جائے۔

کیوں کہ جس طرح گزشتہ سال احتساب میں گزرا،کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ بڑے بڑے کرپٹ لوگ حوالات کے پیچھے ہوں گے۔الغرض آسمان کی آنکھ نے بڑے بڑے مقتدر اور با اثرلوگوں کو عدالتوں کے کٹہروں میں کھڑے دیکھا۔ جیل کی کوٹھڑی میں تنہا سوچوں میں گم پایا۔ اربوں روپے کی خورد برد کے حقائق سامنے آئے۔ خلق خدا حیرت زدہ ہوگئی۔

نئے حکمرانوں کو 5سال کے لیے منتخب کیا۔ بنیادی مقصد تھا کہ سرکاری خزانے کی لوٹ مار روکی جائے۔ چالیس برس کی چالبازیاں، بدعنوانیاں۔چند مہینے میں تو صرف گرد جھاڑی جاسکتی ہے۔ اس کے نیچے کیا کچھ چھپا ہے، اسے اتنی جلد صاف نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے اپنے تجربے اور مشاہدے کے تناظر میں بلا خوفِ تردید کہہ سکتا ہوں کہ2020مشکلات سے نمٹنے کا سال ہوگا۔

حکمرانوں کے لیے بھی، اور رعایا کے لیے بھی۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ امید بھی ہے کہ حکمرانوں کی نیت درست ہے۔ وہ اپنی سمت متعین کرنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔ عام پاکستانیوں کو اگر چہ اب بھی مایوس کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں۔کچھ لوگ اب تک اپنی تجوریاں بھرتے آئے ہیں۔ اپنے مفادات کی تکمیل کرتے رہے۔ غیر ملکی قرضے جن منصوبوں کے لیے حاصل کیے گئے وہ نا مکمل رہے۔ لیکن ان کی املاک میں توسیع ہوتی رہی۔ سمندر پار ان کی بلڈنگیں کھڑی ہوتی رہیں۔ اس کا ثبوت کئی ہزار ارب روپے کے بیرونی قرضے ہیں اور پاکستانی روپے کی ڈالر کے سامنے گرتی ہوئی قیمت۔

اب 2020کا پہلا تقاضا تو یہ ہوگا کہ حکومت عوام کے درمیان اپنا اعتماد بحال کرے، معیشت کو آکسیجن فراہم کی جائے۔ روپے کو سہارا دے کر ڈالر کے مقابلے میں کھڑا کیا جائے۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے کراں وسائل سے نوازا ہے۔

افرادی قوت بھی بے مثال ہے۔یہی پاکستانی جب خلیجی اور یورپی ریاستوں، سعودی عرب، بحرین ، دبئی، لندن، مانچسٹراور کینیڈا جاتے ہیں تو وہاں ان کی کارکردگی لائق صد تحسین ہوتی ہے۔ مانچسٹر کے کارخانے، دبئی کے تجارتی مراکز، سعودی عرب کی فیکٹریاںاور تعلیمی ادارے پاکستانی ماہرین کی صلاحیتوں سے ہی تیز رفتار ہیں۔ اپنی افرادی قوت کو ہم اگر پاکستان میں ویسا ہی حوصلہ افزا ماحول فراہم کرسکیں تو ہمارے نوجوان یہاں بھی صحراؤں کو گل و گلزار کرسکتے ہیں۔

لہٰذااُمید کی جاسکتی ہے کہ حکومتی وزراء 2020 میں ’’حریم شاہ‘‘ کے سحر سے باہر نکلیں گے اور اقتدار کی چکا چوند روشنیوں میں غائب ہونے کے بجائے اس ملک کے لیے کچھ کرتے نظر آئیں گے ، ان وزیروں سے صرف یہ گزارش ہے کہ یہ وہ ملک ہے جس کے اقتصادی ماہرین سے دنیا بھر کی حکومتیں اپنے مسائل کے حل کے لیے مشاورت کرتی ہیں۔

عالمی مالیاتی ادارے ان کی خدمات مہنگے داموں حاصل کرتے ہیں۔ان سے مل کر حکومت کو آیندہ کم از کم پندرہ سال کا روڈ میپ بنانا چاہیے۔ پاکستان کے لوگوں کو ہی یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ اپنے بیٹوں، بیٹیوں، پوتوں، پوتیوں، نواسوں اور نواسیوں کے لیے کیسا ملک چاہتے ہیں۔

سیاسی طور پر کیسا؟ مذہبی حوالے سے کیسا؟ صنعت و تجارت کے اعتبار سے کیسا؟ پاکستان اپنے دفاعی اور عسکری امور میں تو دنیا کے ساتھ ہے بلکہ کئی معاملات میں بہت سے ملکوں سے آگے۔ پاکستان کی تینوں افواج جدید ترین ہتھیاروں سے آشنا ہیں۔ خارجہ پالیسی میںجو مقام ایک ڈیڑھ سال میں ہم نے حاصل کیا تھا وہ کوالالمپور سمٹ کانفرنس میں غائب ہو گیا۔

اس لیے اکیلے عمران خان کی ذمے داری نہیں کہ وہ 2020 کو ہمارے لیے ایک کارگر دور بنا دے بلکہ یہ ہم سب کی کوشش ہونی چاہیے کہ ماضی کو چھوڑ کر آگے بڑھیں۔ یہی ہمارا وژن ہونا چاہیے اور یہی ہمارا مقصد !

The post نیا سال، نئی صبح، نئی اُمیدیں! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/39s7Nj3

اے آر کارنیلیس : اب ایسے منصف کہاں

ان دنوں کئی حوالوں سے مجھے پاکستان کے چوتھے چیف جسٹس جناب جسٹس ایلون رابرٹ کارنیلیس کی یاد بار بار آتی ہے۔ ہندوستان کے شہر آگرہ میں8 مئی 1903 کو پیدا ہونے والا غیر معمولی ذہانت اور علم کا حامل یہ قانون دان اور فلسفی 21 دسمبر 1991 کو 88 برس کی عمر میں لاہور میں اس دار فانی سے کوچ کرگیا۔

کارنیلیس نے الہ آباد اور کیمبرج یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، انڈین سول سروس کا امتحان پاس کیا اور اپنے کیرئیر کا آغاز اسسٹنٹ کمشنر کے طور پر کیا۔ بعد ازاں انھوں نے عدالتی کیریئر اختیارکر لیا اور اپنی منفرد ذہانت اور محنت سے بڑی شہرت اور نام کمایا ، کئی کتابیں تصنیف کیں اور تحریک پاکستان میں سرگرم کارکن کی حیثیت سے جدوجہد بھی کی۔

تقسیم سے قبل 1946 میں انھیں لاہور ہائی کورٹ کا ایسوسی ایٹ جج مقرر کیا گیا لیکن پاکستان کی تشکیل کے بعد انھوں نے اپنے آبائی وطن میں رہنے کے بجائے اس ملک کی جانب کوچ کرنے کا فیصلہ کیا جس کے قیام کے لیے انھوں نے بڑی جدوجہد کی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب نو تخلیق ملک پاکستان کو ہر شعبہ زندگی میں تعلیم یافتہ افراد اور ماہرین کی شدید ضرورت تھی۔

وہ مسلمان نہیں تھے لیکن مسلمانوں کے لیے حاصل کیے جانے والے ملک کی خدمت کے لیے انھوں نے رضاکارانہ نقل مکانی کی۔ ذرا اندازہ کریں کہ ہندوستان کتنی فرقہ وارانہ کشیدگی کے ماحول میں تقسیم ہوا تھا۔ تقسیم کے بعد ہونے والی خوں ریز نقل مکانی کے دوران ہندو، مسلم اور سکھوں نے ایک دوسرے کا کس قدر بہیمانہ قتل عام کیا تھا۔

تاہم ، یہ اس دورکی قیادت بالخصوص جناح صاحب کا کمال تھا کہ انھوں نے اسلام کے نام پر حاصل کیے جانے والے ملک میں مذہبی رواداری کی عملی مثالیں قائم کیں۔ انھوں نے جوگندرناتھ منڈل کو پاکستان کا پہلا وزیر قانون مقرر کیا۔ اے۔ آر۔ کارنیلیس نے پاکستان کا انتخاب کیا تھا، یہاں آنے کے بعد انھیں وزیر قانون کا سیکریٹری قانون بنا دیا گیا۔ آج ہم کو پاکستان میں جو اعلیٰ عدالتی اور زیریں عدالتی نظام نظر آتا ہے۔

اس کو قائم کرنے میں جسٹس کارنیلیس نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔   پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان اور وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل نے ان کی صلاحیتیوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور ان کے بہترین مشوروں پر عمل کرتے ہوئے ملک میں ایک موثر قانونی و عدالتی نظام قائم کیا۔

جسٹس اے آرکارنیلیس کو 1960میںپاکستان کا چیف جسٹس مقررکیا گیا۔ اب تک اس معزز عہدے پر جتنے بھی لوگوں نے فرائض سر انجام دیے ہیں ان میں جن چند لوگوں کو غیر معمولی عزت اور احترام حاصل ہوا ہے ان میں جسٹس کارنیلیس کا نام بھی شامل ہے۔ انھوں نے پاکستان کو صحیح معنوں میں مذہبی امتیاز اور انتہا پسندی سے پاک ریاست بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

انھیں اندازہ تھا کہ مذہبی انتہا پسندی نو آزاد ملک کے مستقبل کے لیے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔ لہٰذا ان کا زیادہ زور اس بات پر تھا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور ریاست کے تمام شہریوں کو اپنے عقائد پر عمل کرنے کی مکمل آزادی فراہم کی جائے۔ یہ تمام کام وہ انسان کررہا تھا جس کا تعلق ان  مسلم اکثریتی صوبوں سے نہیں تھا جہاں پاکستان بنا تھا۔  وہ مسلمان نہیں عیسائی تھے اور اینگلو انڈین خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

ایسا بھی نہیں تھا کہ وہ کسی غریب خاندان کا ایک ایسا تعلیم یافتہ نوجوان تھا جو اپنے شاندار مستقبل کی تلاش میں پاکستان آگیا تھا۔ ان کے والدین رومن کیتھولک برادری میں بہت معزز مقام رکھتے تھے۔ ان کے والد میتھ میٹکس کے پروفیسر تھے۔ ان کی خاندانی حیثیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھیں قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے کیمبرج جیسی یونیورسٹی میں بھیجا گیا تھا۔

وہ ہندوستان کی سول سروس کا حصہ تھے۔ اپنی قابلیت اور خاندانی اثرورسوخ کی بنیاد پر وہ ہندوستان میں بھی اعلیٰ مقام تک پہنچ سکتے تھے لیکن وہ ایک فلسفی اور خواب دیکھنے والے انسان تھے لہٰذا انھوں نے انسانی وسائل سے محروم ایک نو  آزاد ملک ، پاکستان جانے اور اس کے قانونی نظام کو اپنے پیروں پرکھڑا کرنے کے مشکل کام کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا اور اس میں سرخرو ہوئے۔

جسٹس اے آر کارنیلیس ایک سیکولر قانون دان اور دانشور تھے۔ برصغیر کی تاریخ کا یہ وہ سنہرا دور تھا جب دانشوروں پر مذہبی، مسلکی، نسلی یا لسانی تنگ نظری کا غلبہ نہیں تھا۔ روا داری ، برداشت اور تحمل سے ایک دوسرے کا نقطہ نظر سنا اور مخالف کی رائے کا احترام کیا جاتا تھا۔

یہ ہمارے ملک کا ایک بڑا المیہ تھا کہ ہماری عدلیہ ، مقننہ، انتظامیہ فوجی و تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے سیکولر فکر کے حامل لوگوں نے چھوٹے چھوٹے مفاد کی خاطر اپنے اصولوں کو ترک کرکے تنگ نظری اختیار کر لی ، جس کی وجہ سے  ملک میں قانون کی بلا امتیاز حکمرانی قائم نہ ہوسکی اور آمریت نے مضبوطی سے اپنے پنجے گاڑ لیے۔ اس حوالے سے جسٹس منیر کی مثال ہی کافی ہوگی۔

وہ ایک آزاد فکر رکھنے والے کھلے ذہن کے جج تھے۔ ان کی مرتب کردہ منیر رپورٹ اعلیٰ سیکولر اقدار کی شاندار عکاسی کرتی ہے لیکن اسے ایک المیہ کے سوا اور کیا کہا جائے کہ انھوں نے ’’ نظریہ ضرورت ‘‘ ایجاد کیا اور اس کے تحت گورنر جنرل غلام محمد سے دستور ساز اسمبلی کی تحلیل کو جائز اقدام قرار دیا۔

اس وقت کی فیڈرل کورٹ (سپریم کورٹ) جب اس غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام کو جائز قرار دے رہی تھی  تو جسٹس اے۔ آر کارنیلیس وہ واحد جج تھے جنھوںنے جسٹس منیر کے اس فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔ جسٹس منیر کے اس فیصلے کے بعد ہر آنے والے مہم جو آمر کے لیے راستہ ہموار ہوگیا اور اعلیٰ عدلیہ نے پے در پے ان کے حق میں فیصلے دینے شروع کر دیے۔

کیا اس کو محض حسن اتفاق کہا جائے گا کہ مولوی تمیز الدین مقدمے  میں جس سندھ ہائی کورٹ نے غلام محمد کے اقدام کو کالعدم قرار دیا تھا اس کے سربراہ جسٹس جارج کانسٹینٹائن تھے۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرنے والی فیڈرل کورٹ میں جس واحد جج نے فیصلے سے اختلاف کیا تھا وہ اے۔ آر۔ کارنیلیس تھے۔ مسلم ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے دو غیر مسلم ججوں نے عدل ، انصاف اور قانون کی حکمرانی کا پرچم بلند رکھا اور جذبہ ایمانی سے سرشار ججوں نے آمرانہ طاقتوں کے ہاتھوں پر بیعت کر لی۔

جن ملکوں کی اعلیٰ عدلیہ نے آزادی کے حصول اور جمہوری عمل کے آغاز کے فوراً بعد سے آئین و قانون کی بالادستی کے لیے تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اپنا تاریخی کردار اداکیا وہ ملک دنیا کے مضبوط جمہوری ملک بن چکے ہیں۔ اس حوالے سے امریکا کی مثال پیش کی جاسکتی ہے۔

آج سے تقریباً 225 سال قبل اس کی سپریم کورٹ کے پہلے چیف جسٹس جون جے نے جنھیں صدر جارج واشنگٹن نے اس عہدے پر فائزکیا تھا ، اپنا منصب سنبھالتے ہی یہ مثال قائم کر دی تھی کہ سپریم کورٹ قانون سازی کے بارے میں رائے نہیں دے گی یعنی وہ قانون سازی کے عمل میں کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔ وہ صرف ان معاملات کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے گی جو اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ اسی طرح امریکی سپریم کورٹ میں سب سے زیادہ مدت تک چیف جسٹس رہنے کا اعزاز رکھنے والے جج جون مارشل نے 218 سال پہلے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

انھیں امریکا کی سپریم کورٹ کا سب سے با اثر جج تصور کیا جاتا ہے جنھوں نے سپریم کورٹ کو حکومت سے آزاد طاقتور ادارے کے طور پر منظم کیا جو ریاست کا تیسرا مضبوط ستون بن گیا۔ انھوں نے  ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے لیے مثالی فیصلے کیے۔ امریکا میں ایسا اس لیے ہوسکا کہ حکومتوں نے عدلیہ کو غلام بنانے پر اصرار نہیںکیا اور اس ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے جج بھی انصاف کے اصولوں کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوگئے۔ ہمارے یہاں یہ نہیں ہوسکا۔ حکمرانوں نے ابتدا سے ہی عدلیہ کو اپنے تابع کرلیا اور جج ان کی مزاحمت  کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

کاش ہمارے ملک کا ہر ادارہ یہ طے کر لے کہ خواہ کچھ بھی ہو آئین اور قانون سے انحراف کی راہ اختیار نہیں کی جائے گی تاکہ جسٹس اے آر کارنیلیس کا اپنے آبائی وطن میں بہترین مستقبل کو چھوڑ کر پاکستان آنے اور یہاں کسی شاندار گھر یا کوٹھی کے بجائے 40 سال تک لاہور کے فلیٹیز ہوٹل کے ایک کمرے میں زندگی گزارنے کا فیصلہ غلط ثابت نہ ہو۔

The post اے آر کارنیلیس : اب ایسے منصف کہاں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2SHlzbF

Monday, 30 December 2019

رواں سال 25 پولیس افسران و جوانوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا

کراچی:  آئی جی سندھ ڈکٹر کلیم امام نے سال 2019 کے دوران سندھ پولیس کے تمام شعبوںکی جرائم کے خلاف کارکردگی کو سراہتے ہوئے شاباش دی اور قیام امن کی خاطر شہدائے سندھ پولیس کی خدمات کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی قربانیوں کو سیلیوٹ پیش کیا۔

آئی جی سندھ کو پیش کی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبے بھر سے مجموعی طور پر 49 ہزار 834 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ، ترجمان سندھ پولیس کے مطابق رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ ایک ہزار114 پولیس مقابلوں میں ایک ہزار 534 ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا جبکہ مجموعی طور پر سندھ بھر سے جرائم پیشہ عناصر کے 504 گروہوں کا خاتمہ کیا گیا سال 2019 کے دوران 13 ہزار 697 اشتہاری جبکہ 20 ہزار 976 مفرورملزمان ،21 ٹارگٹ کلرز ، 6 خطرناک ڈکیت ، 39 دہشت گردوں اور 13 ہزار 547 ڈکیت و دیگر ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا۔

پولیس کی دفاعی فائرنگ کے نتیجے میں48 ملزمان مارے گئے، ترجمان کے مطابق پولیس نے مختلف کاروائیوں کے نتیجے میںگرفتار و ہلاک ملزمان کے قبضے سے4 اینٹی ایئرکرافٹ گنز ، 3 جی تھری رائفل ، 6 ایم پی فائیو ، 213 ایس ایم جیز ، 749 شاٹ گنز ،167 رائفلز ، 9 ہزار 530 پستول ، ریوالورز ، ماؤذر ، 37 ہزار 527 کارتوس و گولیاں ،8 خودکش جیکٹس ، 31 تیار بم ، 2 آئی ای ڈیز ، 17 راکٹس ، 412 دستی بم ، 42 میزائل ،665 فیوز/ ڈیٹونیٹرز ، 50 عدد بم بنانی کے آلات اور 219.9 کلو گرام دھماکا خیز مواد برآمد ہوا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ آئی جی سندھ کے امن و امان کے حالات پر موثر کنٹرول اور جرائم کی بیخ کنی کے حوالے سے واضح احکام پر سندھ کی سطح پر سال 2019 کے دوران مفرور ، اشتہاری ملزمان ، منشیات اور غیر قانونی اسلحہ کے سمیت دیگر جرائم کے خلاف بالترتیب مہمیں چلائی گئیں جبکہ کمیونٹی پولیسنگ کے فروغ اور سیکیورٹی اقدامات میں نمایاں بہتری کے حوالے سے بھی مہم چلائی گئی ۔

The post رواں سال 25 پولیس افسران و جوانوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2MHBH9m

وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر صوبے بھر میں ڈبل سواری پر عائد پابندی ختم

کراچی: کمشنر کراچی نے وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر عائد پابندی ختم کردی۔

کمشنر کراچی کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر ڈبل سواری پر پابندی ختم کی جارہی ہے تاہم اسلحہ کی نمائش، آتش گیر مواد رکھنے اور ون ویلنگ پر پابندی جاری رہے۔ کمشنر کراچی کا کہنا ہے کہ شہری نئے سال کا جشن ذمہ داری کے ساتھ اور مہذب انداز میں منائیں۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے عوام کو نئے سال کی مبارکباد دی اورسی ویو پر کنٹینر لگانے سے انتظامیہ کو سختی سے منع کیا، وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر کرا چی اور پولیس چیف کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو کسی طریقے سے بھی تنگ نہیں کیا جائے، یہ شہر آپ کا ہے اس کی خوبصورتی اور صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ عوام سے اپیل ہے کہ اسلحہ اور نشہ آور اشیاء کا استعمال نہیں کیا جائے، کسی سے بھی بتمیزی کرنا ناقبل برداشت ہوگا، یہ سی ویو آپ کا ہے عزت، محبت اور قانون کے احترام سے نئے سال کی خوشیاں منائیں، امید ہے کہ 2020 سندھ کی خوشحالی کا سال ثابت ہوگا۔

The post وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر صوبے بھر میں ڈبل سواری پر عائد پابندی ختم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2ZHZHhY

نیب ترمیمی آرڈیننس سے ثابت ہوا حکومت ملک کو تباہ کر رہی ہے، مریم اورنگزیب

 لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ نیب قانون میں ترمیم سے ثابت ہوا کہ نالائق اور نااہل حکومت ملک تباہ کر رہی ہے۔

مریم اورنگزیب نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا موقف سچ ثابت ہوا کہ ہم سے سیاسی انتقام، حسد اور بغض میں عمران صاحب نے پورے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا، سلیکٹڈ حکومت سے نہ کوئی ریلیف چاہئے اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے، مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور ہنماوں کی بے گناہی عدالتوں میں ثابت ہوئی۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ نیب قانون میں ترمیم سے مسلم لیگ (ن) کا یہ موقف سچ ثابت ہوا کہ نالائق اور نااہل حکومت ملک تباہ کر رہی ہے، ملک اس وقت بند ہے، کاروبار بند ہے،سرمایہ کاری بند ہے، صنعت بند ہے، حکومت کی نالائقی اور نااہلی کی وجہ سے بزنس مین سرمایہ کاری نہیں کررہا، بیوروکریٹ کام نہیں کر رہا گورننس ختم ہو چکی ہے۔

The post نیب ترمیمی آرڈیننس سے ثابت ہوا حکومت ملک کو تباہ کر رہی ہے، مریم اورنگزیب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2QykC2F

پیر رواں سال کا سرد ترین دن رہا، سردی کی لہر 3 دن برقرار رہے گی

کراچی: کراچی میں گزشتہ روز (پیر) سال کا اب تک سرد ترین دن رہا، سرد ترین دن میں پارہ 9 ڈگری تک گرگیا۔

صبح کے وقت کہرا اور دھند چھانے سے حدنگاہ کم ہوگئی،سردی کی موجودہ لہر مزید 3 دن برقرار رہے گی، بعدازاں سردی معتدل ہوجائے گی، کوئٹہ کی شمال مشرقی سمت سے چلنے والی ہواؤں کی رفتار20 کلومیٹر فی گھنٹہ رہی،آج منگل کو کم سے کم پارہ 9 سے11 ڈگری رہنے اور موسم خشک اور سردرہنے کی توقع ہے۔

6جنوری سے سردی کی ایک نئی لہر شہر کا رخ کرسکتی ہے، تفصیلات کے مطابق کراچی میں گزشتہ روز پیر رواں سال کا اب تک سرد ترین دن ریکارڈ کیا گیا، سال کے سرد ترین دن میں درجہ حرارت 9 ڈگری رہا،صبح کے وقت کہرا اور دھند چھانے کی وجہ سے حدنگاہ بھی متاثر رہی، محکمہ موسمیات کے مطابق پیرکو صبح کے وقت ہوا میں نمی کاتناسب81 فیصد تک بڑھنے کے سبب دھند چھائی۔

جس کی وجہ سے حد نگاہ 6کلومیٹر سے کم ہوکر3کلومیٹر رہ گئی تھی تاہم دھوپ نکلنے کے بعد حدنگاہ بہتر ہونا شروع ہوئی محکمہ موسمیات کے مطابق پیر کو شہرکا کم سے کم درجہ حرارت 9 اور زیادہ سے زیادہ 25 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ سردارسرفراز کے مطابق پیر کی صبح2019 کا اب تک سردترین دن ریکارڈ کیا گیا۔

اس سے قبل ماہ دسمبر میں کم سے کم پارہ9.5 ڈگری ریکارڈ ہوچکا ہے،گزشتہ روز کوئٹہ کی شمال مشرقی سمت سے چلنے والی ہواؤں کی رفتار20 کلومیٹر فی گھنٹہ رہی، آج منگل کو کم سے کم درجہ حرارت 9 سے11 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے اور موسم دن میں خشک اور رات میں سردرہنے کی توقع ہے، محکمہ موسمیات کے مطابق موجودہ سردی کی لہر 2 جنوری تک برقراررہ سکتی ہے بعدازاں سردی معتدل رہنے کی توقع ہے، تاہم 6جنوری سے سردی کی ایک نئی لہر شہر کا رخ کرسکتی ہے جس کا سبب ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہونے والے مغربی ہواؤں اوربارشوں کا سلسلہ ہے۔

The post پیر رواں سال کا سرد ترین دن رہا، سردی کی لہر 3 دن برقرار رہے گی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2Qffhyt

الیکشن کمیشن ممبران کی تعیناتی کے لیے 15 جنوری تک مہلت

 اسلام آباد: ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے 2 نئے ممبران کی تعیناتی کے لیے 15 جنوری تک کی مہلت دے دی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے ممبران کی تعیناتی کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی، اس موقع پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس میں کہا کہ اگر پرانے ناموں پر اتفاق نہیں ہورہا تو نئے نام دے دیں، قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر 22 کروڑ میں سے ایک بندہ نہیں ڈھونڈ سکتے تو یہ درست نہیں، عدالت توقع کرتی ہے 22 کروڑ عوام میں سے کسی قابل شخص پر اتفاق ہو جائے گا۔

قومی اسمبلی کے لیگل ایڈوائزر نے کہا کہ آخری اجلاس کل ہوا تھا مگر دھند کی وجہ سے کچھ ممبرز نہیں آ سکے، گذشتہ کمیٹی نے جو رولز بنائے تھے وہ موجودہ حالات میں قابل عمل نہیں تاہم 10 دن کا وقت دے دیں، آئندہ سماعت پر آپ کو گڈ نیوز دیں گے۔

عدالت نے فریقین کا موقف سننے کے بعد الیکشن کمیشن کے 2 نئے ممبران کی 15 جنوری تک تعیناتی کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے آئندہ سماعت تک پارلیمنٹ عوام کو خوشخبری سنائے گی، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 15 جنوری تک ملتوی کردی۔

The post الیکشن کمیشن ممبران کی تعیناتی کے لیے 15 جنوری تک مہلت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2MJA3Ux

وفاقی کابینہ کا اجلاس آج، نیب آرڈیننس پر ردعمل کا جائزہ لیا جائے گا

 اسلام آباد: وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا جس میں نیب آرڈیننس پر ردعمل کا جائزہ لیا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا جس میں ملکی معاشی اور سیاسی صورتحال سمیت 8نکاتی ایجنڈے پر غور کیا جائے گا۔ کابینہ نیب ترمیمی آرڈیننس پر اپوزیشن کے ردعمل کا بھی جائزہ لے گی۔

کابینہ میں نیشنل کالج آف آرٹس انسٹی ٹیوٹ کے بل کا مسودہ پیش کیا جائے گا اور اہم معاشی اعشاریوں پر بریفنگ دی جائے گی جبکہ اسٹیٹ بینک کی اسٹیٹمنٹ برائے مالی سال 2018کے اجراء اور اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزر کے سی ای او کی منظوری بھی دی جائے گی۔

اجلاس میں ناروے کے شہری کی پاکستان سے ناروے کو حوالگی کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا اور وزارت داخلہ کی جانب سے سہیل احمد کو برطانیہ کے حوالے کرنے کی درخواست پر بھی غور کیا جائے گا۔

The post وفاقی کابینہ کا اجلاس آج، نیب آرڈیننس پر ردعمل کا جائزہ لیا جائے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2F5cLEs

سیاسی مخالفین چور دروازے سے نقب لگانے کی کوشش میں ہیں، فردوس عاشق اعوان

 اسلام آباد: وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ سیاسی مخالفین نقب زنی کی کوشش میں ہیں۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے پاکستان تحریک انصاف کو مینڈیٹ دیا ہے، اتحادیوں کے ساتھ مل کر عوامی مسائل حل کریں گے، عوام اور سیاست کے میدان میں ناکام ہونے کے بعد سیاسی مخالفین چور دروازہ ڈھونڈ رہے ہیں اور سیاسی نقب زنی کی کوشش میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم عمران خان کی حکومت گرانے میں ہمارا ساتھ دے، بلاول بھٹو

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ بلاول صاحب! کراچی کے مسائل سیاسی جماعت کا اتحاد توڑنے سے نہیں بلکہ کرپشن، لوٹ مار اور کمیشن سے اتحاد توڑنے پر حل ہوں گے، کراچی کا اصل مسئلہ ایک دہائی سے سندھ پر مسلط کرپٹ ٹولہ ہے، جب تک وہ رہے گا سندھ اور کراچی کی قسمت نہیں بدلے گی۔

معاون خصوصی نے مزید کہا کہ آپ کی سیاہ حرکتوں کی وجہ سے پاکستان کے عوام نے ان سے سیاسی اتحاد توڑا، وزیراعظم عمران خان نے قوم کو جوڑ توڑ اور لین دین کی سیاست سے پاک کردیا ہے، بلاول کو حقیقی جمہوری رویوں سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو اور بی بی شہید کی عوامی سیاست کے وارث ہیں۔

The post سیاسی مخالفین چور دروازے سے نقب لگانے کی کوشش میں ہیں، فردوس عاشق اعوان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2Q8Vy3f

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...