وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روزپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنے پالیسی خطاب میں بھارت کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وزیراعظم عمران خان نے خیرسگالی کے جذبے کے تحت پاکستان میں موجود بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو رہا کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
وزیراعظم نے بھارت کو یہ بھی بتادیا ہے کہ ہمارے پاس صلاحیت ہے ، ہم اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ذرایع کے مطابق اجلاس میں ملکی سلامتی کی تازہ صورتحال سمیت 12 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا ، وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کی جانب سے پاک بھارت کشیدگی پر بریفنگ دی گئی جب کہ وزیراعظم نے امن اقدامات سے متعلق حکمت عملی پر کابینہ کو اعتماد میں لیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان اور بھارت کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرینگے، ویتنام کے شہر ہنوئی میں پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت سے حوصلہ افزا خبریں موصول ہورہی ہیں اور امید ہے بڑے عرصے سے جاری پاک بھارت کشیدگی جلد ختم ہونے جارہی ہے، خطے میں جلد امن قائم ہوگا، اس سلسلے میں ہماری کوششیں بھی جاری ہیں۔
جب کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارتی پائلٹ کی واپسی سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اگر کم ہوتی ہے تو وزیر اعظم عمران خان بھی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ٹیلی فون پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہیں، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا ڈونلڈ ٹرمپ کے پیغام کا خیرمقدم کیا، اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ ہم خطے میں امن اور خوشحالی چاہتے ہیں۔ادھر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ دنیاکو جان لینا چاہیے کہ پاک بھارت تنازع خطے اور دنیاکوغیرمستحکم کریگا۔
دریں اثنا وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں بھارتی دراندازی کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، وزیراعظم عمران خان نے بروقت کارروائی پر پاک فضائیہ کو خراج تحسین پیش کیا، وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس میں بھارتی دراندازی کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ ڈی جی اسٹرٹیجک پلانز ڈویژن نے پاکستان کی جوہری صلاحیت پر بریفنگ دی۔ اجلاس کے شرکاء نے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
مزید برآں پارلیمانی جماعتوں کے سربراہوں کا ان کیمرا اجلاس ہوا جس میں پارلیمانی قیادت کو بھارت کی جانب سے فضائی دراندازی، پاکستان کی جوابی کارروائی اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے فیصلوں پر اعتماد میں لیا گیا جب کہ ارکان کے سوالات کے جواب بھی دیے گئے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل آصف غفور نے پاک بھارت کشیدگی پر بریفنگ دی۔
اجلاس میں شہباز شریف ،آصف زرداری، خواجہ آصف،احسن اقبال، راجہ ظفر الحق ،مشاہد اللہ، شاہد خاقان عباسی،ایازصادق،رانا ثناء اﷲ ،مریم اورنگزیب، شیری رحمن، سلیم مانڈوی والا، میاں رضا ربانی، خورشید شاہ، راجہ پرویز اشرف، سید نوید قمر ،مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا عطا ء الرحمان،مولانا اسعدمحمود، مولاناواسع، پرویز خٹک، شیریں مزاری اورشفقت محمود نے شرکت کی۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ پاکستان پڑوسیوں کے بارے میں کوئی جارحانہ عزائم نہیں رکھتا، بھارتی کی جانب سے فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد جوابی کارروائی کرنا پیشہ وارانہ ذمے داری بن گئی تھی۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بریفنگ کے دوران کہاکہ بھارت کو ہم نے موثر جواب دیدیا ہے تاہم بھارت کی جانب سے مزید خلاف ورزیوں کا خدشہ ہے، بھارت نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کر کے جارحیت کا ارتکاب کیا، جوابی کارروائی کرنا پیشہ وارانہ ذمے داری بن گئی تھی، شاہ محمودقریشی نے کہاکہ بھارتی ہٹ دھرمی پر عالمی برادری کو اعتماد میں لیا ہے جس پران کامثبت جواب مل رہا ہے ، پارلیمانی رہنماؤں کی جانب سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیاگیا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں ہم متحد ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے مطابق پاکستان نے کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کرنیوالے دو بھارتی جنگی طیارے مار گرانے کی تفصیل سے قوم کو آگاہ کیا۔
میجر جنرل آصف غفور نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ کوئی فوجی ٹارگٹ نہیں لیں گے،کسی انسانی زندگی کا نقصان نہ ہو بلکہ کولیٹرل نقصان بھی نہ ہو۔ ترجمان پاک فوج نے کہا مسلح افواج اور پاک فضائیہ کے پاس جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ہم نے ذمے داری کا ثبوت دیا اور اپنے ٹارگٹ کو پورا کیا جس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ ہم سب کچھ کرسکتے ہیں لیکن خطے کے امن کی وجہ سے نہیں کرنا چاہتے۔ ہم ذمے دار رہنا چاہتے ہیں اور جنگ کی طرف نہیں جانا چاہتے۔
ادھر بھارت نے پشیماں ہوکر پاکستان کی پلوامہ واقعے کی تحقیقات کی پیشکش قبول کی ہے اور ایک ڈوزئیر پاکستان کے حوالے کر دیا ہے جب کہ بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج فرماتی ہیں کہ بھارت موجودہ صورتحال میں صبر اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزیدکشیدگی نہیں چاہتا، بھارتی جارحیت کے خلاف چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے او آئی سی ممالک کے پارلیمانی سربراہوں ، اسپیکروں اور پریذائیڈنگ افسروں کو خط لکھا ہے جس میں بھارت کو شرکت کی دعوت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیاگیا ہے۔
برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے برطانوی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت قیام امن اور کشیدگی میں خاتمے کے لیے مذاکرات کی میز پر آئیں جب کہ معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف الزام تراشی بند کرے اور پاکستان کی جانب سے پلوامہ واقعے کی تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کا مثبت جواب دینا چاہیے۔
جارح بھارتی طیاروں کو مارگرانے کے عمل نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ ہم اپنا دفاع کرسکتے ہیں۔ ہندوستان کے ایک چینل نے خبر دی ہے کہ بھارت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کوجواب دے گا ۔ ہم بحیثیت قوم جواب الجواب کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ ایک جانب ہماری سرحدوں کی حفاظت پاک فوج کے جواں کر رہے ہیں تو دوسری جانب ہماری پوری قوم اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال متحد ہوچکی ہے۔ سول انتظامیہ ملک کے اندر قیام امن کے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔
اس ضمن میں سندھ حکومت نے کسی بھی واقعے سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی ہے جب کہ وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا محمود خان نے کہا ہے کہ مودی سرکارکو جنگ کا بخار ہوگیا ہے اور جب کسی کو بخار ہو تو اس کا علاج کرنا ضروری ہوتا ہے، ہم نے ٹھیک ٹھاک انجکشن لگا دیا ہے۔ باچا خان ایئرپورٹ ہر قسم کی سویلین پروازوں کے لیے بند کردیا گیا، اسپتالوں میں الرٹ جاری کردیا گیا ہے جب کہ پولیس، ریسکیو ملازمین کی چھٹیاں بند کردی گئیں۔
ذرایع کا کہنا ہے کہ ملک کے دوسرے ہوائی اڈوں کی طرح باچا خان انٹرنیشنل ایئر پورٹ صرف عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جب کہ کمرشل آپریشن تا حکم ثانی بند رہے گا۔ پاکستان ریلوے کا نظام قومی یکجہتی کی علامت اور چاروں صوبوں کی زنجیر ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ اگر پاک، بھارت جنگ ہوئی تو یہ آخری ہوگی ۔
وفاقی وزیر نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ریلوے میں ایمرجنسی لگا کر عملے کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے45 دن کا ذخیرہ محفوظ کر رہے ہیں ۔ جنگ ہونے کی صورت میں ریلوے تو پاک فوج کی اہم ترین سپلائی لائن ہوگی ، لہٰذا ریلوے کی تنصیبات اور مین ریلوے لائنوں کی حفاظت کے اقدامات جلد ازجلد مکمل کیے جانے چاہیئیں۔ پنجاب اسمبلی نے بھارتی جارحیت کے خلاف متفقہ طور پر مذمتی قراؑر داد منظورکی ہے۔
متوقع جنگی صورتحال کے حوالے سے مصنوعی گرانی پیدا کرنے، اشیائے خورونوش کا ذخیرہ کرنے پر بھی پابندی لگائی جائے اورکسی کو بھی مہنگائی کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ سویلین انتظامیہ کی جانب سے ملک کے اندر امن و امان کی صورتحال کوکنٹرول کرنے کے تمام انتظام مکمل کیے جا رہے ہیں، یہ بھی دفاع وطن کا اہم ترین پہلو ہے ۔ دوسری جانب جنگی صورتحال کے باوجود بھارتی افواج نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم وبربریت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیرکے ضلع شوپیاں میں قابض بھارتی فورسز نے سرچ آپریشن کی آڑ میں دوکشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا ہے ۔ وادی بھر میں مکمل ہڑتال کی گئی ، دوروزہ ہڑتال کی کال حریت رہنماؤں کی جانب سے دی گئی تھی ۔ علاوہ ازیں قابض انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کوگزشتہ روز سرینگر میں پریس کانفرنس کرنے سے روک دیا۔
بھارت آخرکب تک کشمیریوں کو اپنا غلام بنا کر رکھ سکتا ہے، یہ وہ سوال ہے جس کا جواب گزشتہ سات دہائیوں میں کشمیریوں نے اپنی جانیں جدوجہد آزادی پر نچھاورکردیا ہے کہ وہ بھارتی ظلم کے ضابطے نہیں مانتے،انھیں کوئی غلام نہیں بنا سکتا ، بلکہ وہ آزاد ہیں، آزاد رہنا چاہتے ہیں ، بس ایک دن ، ان کی جدوجہد الحاق پاکستان کی صورت میں رنگ لائے گی ۔ کشمیرکی آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا ، ظلم کی طویل اندھیری رات ختم ہوگی۔
دریں اثناء مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے ضلع بانڈی پورہ میں اسلامی اور پاکستانی چینلزکی نشریات پر پابندی لگائی دی ہے تاکہ پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہونی والی صورتحال سے عوام کو بے خبر رکھا جائے۔ آزادی اظہارکا گلا گھونٹ دینے سے کیا بھارت سمجھتا ہے کہ وہ جدوجہد آزادی کوکچل دے گا، ہرگز نہیں ۔ مقبوضہ وادی کشمیر میں والدین اپنے بچوں کو بھارت کے ان تعلیمی اداروں میں واپس بھیجنے پر تذبذب کا شکار ہیں جو مختلف بھارتی ریاستوں میں حملوں کے بعد واپس اپنے اپنے گھر لوٹے۔ ان حملوں سے ہزاروں کشمیری طلباء کی تعلیم شدید متاثر ہوئی ہے اوروہ تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبورکردیے گئے ہیں ۔
کشمیریوں کی ہمت وجرات کو سلام ہے، جنھوں نے جبرکے سامنے ستر برس سے کبھی سر نہیں جھکایا، درختوں سے الٹا لٹکا کر ان کی کھال اتاری گئی یا پیلٹ گنوں سے نشانہ بنایا گیا لیکن انھوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ برحق ہے سچ باطل پر غالب آتا ہے، آزادی کے متوالوں کو نوید صبح آزادی جلد ملے گی ۔(انشاء اللہ)
The post پاکستان امن کا خواہاں appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2VpzSzD
No comments:
Post a Comment