اسلام آباد: پاک بھارتی کشیدگی پر دوسرے روز بھی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا اور حکومت نے او آئی سی اجلاس میں بھارت کو مدعو کرنے پر اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کردیا۔
وزیر خارجہ
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کو دعوت دینے پر او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت کو او آئی سی کا مبصر رکن بنانے کی کوشش کی گئی تو اس کی بھرپور مخالفت کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، حکومت اوراپوزیشن دشمن کیخلاف یک زبان
آصف زرداری
سابق صدر آصف زرداری نے او آئی سی اجلاس کا بائیکٹ کرنے کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں او آئی سی میں جا کر اپنا موقف بتانا چاہیے اور اجلاس کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ مودی کا ایڈونچر ناکام ہو چکا ہے، نہ جانا مسئلےکا حل نہیں،ہمیں دوستوں کو نہیں بھلانا چاہیے، لیکن اگر پارلیمان کا متفقہ فیصلہ ہے کہ او آئی سی اجلاس میں نہ جایا جائے تو میں اس کا احترام کرتے ہوئے اسے تسلیم کرتا ہوں۔
شہباز شریف
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بائیکاٹ کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے مزید سفارت کاری کی تجویز بھی دے دی۔ انہوں نے کہا کہ دوست ممالک کو چاہئے کہ وہ کھل کر ہماری حمایت میں سامنے آئیں، پاکستان کے عوام کی ترجمانی ہے کہ او آئی سی اجلاس میں نہیں جارہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ شیخ زید پاکستان کے مداح تھے اور موجودہ حکمران بھی پاکستان کے دوست ہیں، یہ بات تاریخ میں رقم ہو جائے گی کہ بھارتی جارحیت کے دوران ان کی وزیر خارجہ سشما سوراج او آئی سی اجلاس میں شرکت کررہی تھیں، موجودہ صورت حال میں حکومت و اپوزیشن پر مشتمل وفود دوست ممالک بھجوانے چاہئیں اور ایک مرتبہ پھر اپنا نکتہ نظر متحدہ عرب امارات کو بتانا چاہیے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔
The post پاک بھارتی کشیدگی پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2tGbrlK
No comments:
Post a Comment