Urdu news

Sunday, 31 March 2024

کسان کارڈ پر نواز شریف کی تصویر لگانے کیخلاف درخواست خارج

 لاہور: ہائیکورٹ نے کسان کارڈ پر نواز شریف کی تصویر لگانے کے خلاف دائر درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی۔

جسٹس شاہد کریم نے شہری مشکور حسین کی درخواست پر سماعت کی۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ متعدد بار ایسی ذاتی تشہیر سے منع کر چکی ہے، آپ عوام کے پیسے سے تو تشہیر نہیں کر سکتے، حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کیا گیا آفیشل ہینڈ آوٹ ساتھ لف ہے۔

وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہو رہا اور یہ درخواست وقت سے پہلے آگئی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر حکومت پنجاب ایسا کرے تو آپ دوبارہ درخواست دائر کر دیں۔

شہری کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے نواز شریف کی تصویر کے ساتھ کسان کارڈ کی منظوری دی ہے، پبلک فنڈز ذاتی تشہیر کے لیے استعمال نہیں ہو سکتے اس لیے کسان کارڈ پر نواز شریف کی تصویر لگانا آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے جبکہ قومی خزانے کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کرنا سپریم کورٹ کے فیصلوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ لاہور ہائیکورٹ پنجاب حکومت کو نواز شریف کی تصویر والے کسان کارڈ جاری کرنے سے روکے اور کسان کارڈ پر نواز شریف کی تصویر لگانے پر آنے والے اخراجات نواز شریف سے وصول کیے جائیں، لاہور ہائیکورٹ درخواست کے حتمی فیصلے تک کسان کارڈ کی پرنٹنگ روکنے کا حکم دے۔

The post کسان کارڈ پر نواز شریف کی تصویر لگانے کیخلاف درخواست خارج appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/89cp0xP

حکومت نے ایل پی جی کی قیمت میں کمی کردی

  کراچی: اوگرا نے ماہ اپریل کیلئے ایل پی جی کی قیمت میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

ترجمان اوگرا عمران غزنوی کے مطابق سعودی آرامکو کنٹریکٹ پرائس میں کمی کے بعد اوگرا نے بھی ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کردی ہے جس سے ایل پی جی کا 11.8 کلو گرام گھریلو سلنڈر 76 روپے 9 پیسے سستا ہوگیا۔

اپریل کے لیے ایل پی جی کی فی کلو قیمت 6 روپے 44 پیسے کی کمی کے بعد 250 روپے 34 پیسے مقرر کی گئی ہے۔

قیمتوں میں کمی کے بعد گھریلو سلینڈر 3030 روپے 12 پیسے سے کم ہوکر 2954.03 روپے ہوگیا۔

یاد رہے کہ مارچ میں ایل پی جی کی فی کلو قیمت 256 روپے 78 پیسے اور گھریلو سلنڈر 3 ہزار 30 روپے 12 پیسے کا تھا۔

The post حکومت نے ایل پی جی کی قیمت میں کمی کردی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/pGLyftd

ملک بھر میں یوم شہادت حضرت علیؓ عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے

کراچی: ملک بھر میں یوم شہادت حضرت علی کرم اللہ وجہہ آج عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے۔ 

ملک بھر میں مجالس عزا برپا ہوں گی اور ماتمی جلوس برآمد ہونگے۔ کراچی میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے یوم شہادت کے سلسلے میں ضمیر الحسن ٹرسٹ کے زیر اہتمام مرکزی مجلس شہادت حضرت علی ؓبدھ21 رمضان کو صبح 12 بجے نشترپارک میں منعقد ہوگی۔

جس میں سوز خوانی و سلام کے بعد علامہ ریحان حیدر رضوی مجلس سے خطاب کرینگے، بعد مجلس جلوس علم و تابوت و ذوالجناح برآمد ہوگا۔ جلوس کی قیادت بوتراب اسکاؤٹس کرینگے، شرکاء جلوس محفل شاہ خراساں سے نمائش چورنگی پہنچیں گے۔

نماز ظہریں باجماعت کا اہتمام  دوپہر 02:00 بجے دن ایم .اے جناح روڈ بامقابل بندو خان ہوٹل پر حجتہ السلام والمسلمین مولانا محمد حسین رئیسی کی اقتداد میں ادا کی جائے۔ نماز ظہرین کے بعد امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی جانب سے مظلوم فلسطینی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیلئے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔

مظاہرے کے بعد جلوس اپنے روایتی راستوں ایم اے جناح روڈ، سی بریز، صدر دواخانہ منسفیلڈ اسٹریٹ، ریگل چوک، پریڈی اسٹریٹ، دوبارہ ایم اے جناح روڈ، بولٹن مارکیٹ، بھٹی بازار، کھارادر، نواب محبت خانجی روڈ سے ہوتا ہوا حسینیہ ایرانیاں امام بارگاہ کھارادر پر اختتام پذیر ہوگا۔

یوم علی کی جلوس کے لیے کراچی  بھر میں فول پروف سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں کراچی میں یوم شہادت حضرت علی کے مرکزی جلوس کی سیکورٹی پر بڑی تعداد میں ڈیوٹی دیں گے۔

جلوس برآمد ہونے سے قبل بم ڈسپوزل اسکواڈ سے گزرگاہوں کی مکمل سوئپنگ کی جائے گی۔ جلوس برآمد ہونے کے بعد سی سی ٹی وی کیمروں اور فضائی نگرانی بھی کی جائی گی جبکہ  سیکورٹی اداروں کے ماہر نشانہ باز بلند و بالا عمارتوں پر تعینات ہوں گے۔ جلوس کے روٹ اور اس سے متصل بازار اور گلیاں سیل کردی گئی ہیں۔

The post ملک بھر میں یوم شہادت حضرت علیؓ عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/CoMznSB

راولپنڈی؛ جنرل اسٹور میں ڈکیتی، ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

 راولپنڈی: تھانہ ریس کورس کے علاقے افشاں کالونی میں جنرل اسٹور میں ڈکیتی کے بعد ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔

پولیس کے مطابق چار مسلح ڈاکو دکاندار سے نقدی، موبائل فون اور شناختی کارڈ وغیرہ چھین کر فرار ہونے لگے تو دکاندار نے اپنی پستول سے ان پر فائرنگ شروع کر دی۔ ملزمان نے بھی جواب میں اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک گولی انکے اپنے ساتھی کو لگی جو موقع پر دم توڑ گیا جبکہ تین ڈاکو فرار ہونے میں کامیاب رہے۔

ڈکیتی کی واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی جس میں دکاندار کو دکان میں مصروف دیکھا جا سکتا ہے جبکہ چہروں پر ماسک لگائے دو ڈاکوؤں کو بھی دکان کے اندر آکر جائزہ لیتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ فوٹیج میں جینز کی پینٹ و براؤن جیکٹ پہنے ڈاکو کو پسٹل نکالتے اور پھر شوکیس پر ہی دکاندار پر تان کر نقدی وغیرہ کا مطالبہ کرتے دیکھا جاسکتا ہے جبکہ شلوار قمیض پہنے دوسرا ڈاکو دکان میں لوٹ مار کرتا ہے۔

ڈاکو کی جانب سے دکاندار کا پرس طلب کیا جاتا ہے لیکن اس دوران دکاندار ڈاکو کی توجہ ہٹانے کے لیے پرس دکان کے دروازے کی جانب اچھال دیتا ہے۔ ڈاکو پرس اٹھانے جاتا ہے تو دکاندار موقع پاکر اپنے پاس موجود پسٹل بھی نکال لیتا ہے، ڈاکو پرس سے بھی نقدی نکال کر پرس واپس شوکیس کی جانب اچھال کر فرار ہو جاتا ہے۔

جیسے ہی ڈاکو دکان سے فرار ہوتے ہیں، دکاندار بھی شوکیس کے نیچے سے نکل کر ڈاکوؤں پر فائرنگ کر دیتا ہے لیکن دکان کے باہر موجود ڈاکوؤں کے ساتھی بدحواسی میں پے در پے فائرنگ شروع کر دیتے ہیں اور اسی دوران ملزمان کی گولی انکے اپنے ساتھی کے سر میں لگتی ہے جس سے ڈاکو موقع پر دم توڑ دیتا ہے۔

ایس ایچ او تھانہ ریس کورس  راجہ افتخار کے مطابق فرار ہونے والے ڈاکوؤں کی تلاش کے لیے پولیس ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہے، ہلاک ہونے والے ملزم سے دکاندار کا موبائل، شناختی کارڈ اور ایک پسٹل بھی برآمد ہوا ہے۔

The post راولپنڈی؛ جنرل اسٹور میں ڈکیتی، ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/dTg1RWQ

Saturday, 30 March 2024

ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا اعلان کردیا

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا اعلان کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ اسمبلی میں علی خورشیدی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کا اعلان کردیا۔

ترجمان ایم کیو ایم کے مطابق سندھ اسمبلی میں بحور انداز سے اپوزیشن کا کردار ادا کریں گی جبکہ ایم کیو ایم کی جانب سے سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی علی خورشیدی اپوزیشن لیڈر ہوں گے۔

The post ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا اعلان کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2ASpVi9

Friday, 29 March 2024

بشام خود کش حملہ؛ پاکستان سیکیورٹی بڑھائے اور سیکیورٹی رسک مکمل ختم کرے، چین

بیجنگ: چین نے خیبرپختونخوا میں چائنیز انجیئنروں پر ہوئے خود کش حملے کے بعد پاکستان سے ٹھوس اقدامات اور سیکیورٹی بڑھانے سمیت سیکیورٹی رسک کو مکمل ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 

ترجمان چینی وزارت خارجہ لی جیان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ 28 مارچ کو چینی انٹر ایجنسی ورکنگ گروپ پاکستان بھیجا جس نے فوری طور پر پاکستان میں سفارتخانے اور متعلقہ کمپنی کے ساتھ ایمرجنسی ریسپانس پر کام شروع کردیا۔

انہوں نے بتایا کہ ورکنگ گروپ کے سربراہ بائی تیان نے پاکستانی وزیر خارجہ، سیکریٹری خارجہ اور وزیر داخلہ سے ملاقات کی اور پاکستانی فریق سے بشام حملے کی فوری اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

لی جیان بائی تیان نے کہا پاکستان ٹھوس اقدامات کرتے ہوئے سیکیورٹی بڑھائے اور سیکیورٹی رسک کو مکمل ختم کرے، پاکستان چینی اہلکاروں، اداروں اور منصوبوں کی مکمل حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔

 

The post بشام خود کش حملہ؛ پاکستان سیکیورٹی بڑھائے اور سیکیورٹی رسک مکمل ختم کرے، چین appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/CnaS9o8

Thursday, 28 March 2024

رمضان الکریم ماہِ نزول قرآن حکیم

یہ ماہ رمضان المبارک ہی تھا کہ جس کی مقدس ساعتوں میں اﷲ کا آخری پیغام ہدایت قرآن مجید آپؐ کے قلب اطہر پر نازل کیا گیا۔ سیدنا آدمؑ سے لے کر جناب عیسیٰؑ تک جتنے بھی اﷲ کے فرستادہ انبیاء و رسل دنیا میں تشریف لائے، سب کی دعوت کا محور و مرکز اﷲ کی ذات والا صفات کا تعارف تھا۔

سرزمین عرب روئے زمین پر سب سے زیادہ ظلم و ستم سے بھر چکی تھی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ کسی قوم کی تباہی و بربادی کے جس قدر اسباب ہوسکتے ہیں وہ سب کے سب اہل عرب میں اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ رچ بس چکے تھے اور قریب تھا کہ اﷲ انہیں کسی عذاب میں مبتلا کر کے صفحۂ ہستی سے مٹا دیتا کہ اس کی رحمت جوش میں آئی اور اس نے اپنی آخری دعوت حق اور آخری چہیتے رسول امام الانبیاء رحمت للعالمین صلی اﷲ علیہ وسلم کو مکۃ المکرمہ کے ایک معزز گھرانے میں پیدا فرمایا۔ یہ ماہ رمضان المبارک ہی تھا کہ جس کی مقدس ساعتوں میں اﷲ کا آخری پیغام ہدایت قرآن مجید آپؐ کے قلب اطہر پر نازل کیا گیا۔

حالاں کہ رمضان پہلے بھی آتا تھا لیکن نزول قرآن کی برکت سے ماہ رمضان کو جو تقدس حاصل ہوا وہ عظمت رمضان کو اس سے قبل حاصل نہ تھی۔ گویا رمضان اور قرآن کا تعلق اس قدر گہرا اور پختہ ہوگیا کہ دونوں ایک دوسرے کا جزو لاینفک ہوگئے۔ رمضان نزول قرآن کا مہینہ ہے۔ اس ماہ مقدس کی تمام تر ساعتیں جو باعث برکت و رحمت اور مغفرت ہیں تو قرآن مجید پر کماحقہ عقیدہ و عمل کی بنیاد پر ہیں۔ چوں کہ رسالت محمدیؐ کی پہچان کا عنوان قرآن ہے۔ ابتدا ہی میں قرآن کی عظمت یوں آشکار کی گئی، مفہوم:

’’الٰم! یہ کتاب اس میں کچھ شک نہیں، ڈرنے والوں کے لیے سامان ہدایت ہے۔‘‘

’’اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ اﷲ کے سوا کوئی ا س کو اپنی طرف سے بنا لائے۔ ہاں! ( یہ اﷲ کا کلام ہے) جو (کتابیں) اس سے پہلے (کی) ہیں۔ ان کی تصدیق کرتا ہے اور انہی کتابوں کی (اس میں) تفصیل ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں (کہ) یہ رب العالمین کی طرف سے (نازل ہُوا) ہے۔ کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبرؐ نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا۔ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی ایک سورۃ بنا لاؤ اور اﷲ کے سوا جن کو بلا سکو (ان کو ) بلا بھی لو۔‘‘

ان آیات مبارکہ میں قرآن مجید کے منزل من اﷲ اور مبنی برحق ہونے کا چیلنج دیا گیا۔ یہ ایسا کھلا چیلنج ہے جو آج تک انسانیت قبول کرنے سے عاجز ہیِ، اور کیوں نہ ہو کہ اس جیسا کوئی بنا ہی نہیں سکتا، کیوں کہ یہ رب رحمٰن کا کلام ہے۔ نزول قرآن مجید ماہ رمضان سے بالکل جُڑا ہوا ہے کہ رمضان آتا ہے تو قرآن بھی کثرت سے تلاوت کیا جانے لگتا ہے اور یہ اتنا عظیم کلام ہے کہ اس کے نزول کی رات کو کہ جس میں یہ نازل کیا گیا اسے بھی اﷲ رب العالمین نے عظمتیں اور رفعتیں عطا فرما دیں اور ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’بے شک! ہم نے اس (قرآن مجید) کو قدر (منزلت) والی رات میں نازل کیا۔ اور آپ کو کیا خبر کہ شب قدر کیا چیز ہے۔ (سو) شب قدر (خیر و برکت میں) ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ فرشتے اور جبرائیل اپنے پروردگار کے حکم سے ہر ایک انتظام کے لیے اس رات (زمین پر) اترتے ہیں۔ وہ امن و سلامتی کی رات ہے اور وہ فجر ہونے تک رہتی ہے۔‘‘ (سوۃالقدر)

یہ کتاب قرآن مجید اس قدر اہمیت و فضیلت کی حامل ہے کہ اس کے نزول کی برکت سے وہ رات بھی عظمتوں اور برکتوں والی ہوگئی کہ اس ایک رات کی خیر و برکت اس قدر وسیع ہوگئی کہ جس قدر ایک ہزار مہینوں کی عبادت و ریاضت کوئی بندہ حاصل کرسکتا ہے۔ اﷲ نے قرآن کی برکت سے امت مسلمہ کو محض ایک رات کی عبادت کا اجر و ثواب ایک ہزار مہینوں کی عبادت کے برابر عطا فرمانے کا اعلان کردیا۔ اندازہ کیجیے! ہماری زندگی میں یہ رات کتنی مرتبہ آتی ہے۔ ہم اس کے فیوض و برکات سے کس قدر فیض یاب ہوسکتے ہیں۔ یہ قرآن مجید کی برکات کا نتیجہ ہے کہ روزے جیسی عظیم عبادت میسر آئی کہ جس کے متعلق حدیث قدسی ہے کہ اﷲ فرماتا ہے: ’’روزہ میرے لیے ہے اور میںہی اس کی جزا دوں گا۔‘‘

قرآن مجید انسانی فوز و فلاح کا دائمی چارٹر ہے جس میں ایک طرف حقوق اﷲ کی پاس داری ہے تو دوسری طرف حقوق العباد کا التزام ہے۔ گویا یہ قرآن ہماری روحانی و جسمانی تسکین و شفا کا باعث ہے۔ اس میں پورا نظام حیات عطا کیا گیا ہے جس پر عمل پیرا ہوکر انسانیت اپنا کھویا ہوا وقار اور گمشدہ متاع عزیز یعنی جنت بھی حاصل کرسکتی ہے۔ قرآن راہ نجات ہے اور ہمارے تمام دکھوں کا مداوا بھی ہے۔ چناں چہ ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’ اور ہم قرآن (کے ذریعے) سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے۔‘‘ (بنی اسرائیل)

نزول قرآن کا مقصد: اﷲ خالق و مالک نے نزول قرآن کا مقصد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’وہ اﷲ تعالیٰ بہت برکت والا ہے جس نے قرآن مجید کو اپنے بندے (محمدؐ) پر نازل فرمایا تاکہ وہ سب لوگوں کے لیے آگاہ کرنے والا ہوجائے۔ اسی اﷲ (یکتا) کی حکومت و سلطنت ہے، آسمانوں اور زمین کی، اور اس نے کوئی اولاد نہیں بنائی اور نہ کوئی اس کی سلطنت میں شریک ہے۔ اس (اﷲ) نے ہر چیز کو پیدا کیا اور مناسب اندازے پر رکھا۔‘‘ (سورۃالفرقان)

اسی طرح ایک مقام پر قرآن کی عظمت کا یوں اظہار کیا گیا:

’’ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم۔ اگر تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے۔ کہ یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے۔ (جو) کتاب محفوظ میں (لکھا ہوا ہے)۔ اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں۔ پروردگار عالم کی طرف سے اتارا گیا ہے۔ کیا تم اس کلام سے انکار کرتے ہو؟۔ اور اپنا وظیفہ یہ بناتے ہو کہ (اسے) جھٹلاتے ہو۔‘‘ (سورۃ الواقعہ)

مذکورہ بالا آیات قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول قرآن کا مقصد انسانیت کے عقائد و اعمال اور اخلاق کی تطہیر کرکے رب کے پسندیدہ بندے بناکر اس کے اصل مقام جنت اور رضائے الٰہی کی شاہ راہ مستقیم پر گام زن کرانا ہے۔ تاکہ انسانیت اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرلے، جو اس کی شامت اعمال کی بنا اس کے ہاتھوں سے جاتا رہا ہے۔

یہ قرآن مجید اتنی عظمتوں اور رفعتوں کا حامل ہے کہ اگر ایمان کے جذبے کے ساتھ محض اس کی تلاوت کرلی جائے تو وہ بھی مومن کے لیے انتہائی اجر و ثواب کا باعث ہوتی ہے۔ چناں چہ اﷲ کے آخری محبوب پیغمبر صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’جس نے قرآن مجید کا ایک حرف پڑھا اس کو نیکی ملے گی اور ایک نیکی کا ثواب دس نیکیوں کے برابر ہے۔ الٰم ایک حرف نہیں ہے بل کہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور م ایک حرف ہے۔‘‘ (ترمذی‘ دارمی)

اندازہ کیجیے کہ محض تلاوت کرنے پر اس قدر اجر و ثواب ہے تو پھر سمجھ کر سیکھنے اور اس کے علوم کے حصول اور عمل پر کیا اجر و ثواب ہوگا، اس کا احاطہ کرنا ناممکن ہے۔ قرآن سیکھنے سکھانے اور اس پر عمل کرنے سے اﷲ کا تقرب حاصل ہوسکتا ہے اور ان شاء اﷲ تعالیٰ اس کی برکت سے جنت کے حصول اور جہنم کی ہول ناکیوں سے محفوظ رہنے میں کام یاب ہوسکتے ہیں۔ جو اگر حاصل ہوگئی تو یقیناً بڑی کام یابی ہے۔

یاد رکھیے! دنیا کی مختصر زندگی بہ ہر صورت گزر ہی جائے گی لیکن اگر یہ زندگی رب کی رضا کے مطابق گزری تو دنیا و آخرت دونوں کی کام یابی ہے، وگرنہ من چاہی، شتر بے مہار زندگی یا اﷲ کی بغاوت و نافرمانی، قرآن کی تکفیر و تکذیب میں گزری تو ایسی زندگی دنیاوی لحاظ سے شاید کام یاب ہوجائے، لیکن ابدی زندگی جہنم کی نذر ہو کر خسران کا باعث ہوگی۔

اﷲ تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوظ و مامون رکھے۔ قرآن مجید سے تعلق استوار اور مضبوط سے مضبوط تر رکھنا مؤمن کا شعار ہے۔ یہ نازل ہی اس لیے ہوا ہے کہ ہم اپنا تزکیہ کرلیں اور اپنے پالن ہار اﷲ رب العالمین کے پسندیدہ بندے بن جائیں۔ اور یہ قرآن معمولی کتاب نہیں کہ ہم اسے محض ایک کتاب سمجھیں بل کہ اس میں ہمارے لیے دنیا و آخرت کی کام رانیوں کا مکمل لائحہ عمل موجود ہے ۔ قرآن دلوں کے زنگ دور کرکے صاف شفا ف بناتا ہے۔

رحمت کائنات صلی اﷲ علیہ وسلم کے ارشاد عالی کا مفہوم ہے:

’’دلوں کو زنگ لگ جاتا ہے جس طرح لوہے کو پانی لگ جانے سے زنگ لگ جاتا ہے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اﷲ ﷺ! پھر ان کو کس طرح صا ف کیا جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: موت کو زیادہ یاد کیا کرو اور قرآن مجید کو بہت پڑھا کرو۔‘‘ (بہیقی)

’’ جو اپنے رب سے بات چیت کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ قرآن مجید پڑھے۔‘‘

’’ قرآن پڑھا کرو۔ کیوں کہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے شفیع بن کر آئے گا۔‘‘

’’میری امت کی بہترین عبادت قرآن مجید کی تلاوت ہے۔‘‘

قرآن مجید کی تلاوت کرنے والوں کے درجات: رسول رحمتؐ کا ارشاد عالی شان ہے۔

مفہوم: ’’ قرآن مجید پڑھنے والے سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور (جنت کے ) اونچے درجات پر چڑھتا جا اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جیسا کہ دنیا میں پڑھتے تھے تمہارا جنت میں آخری درجہ وہ ہوگا جہاں تم پڑھتے پڑھتے ٹھہر جاؤ گے۔‘‘ (ترمذی)

حدیث قدسی میں ارشاد ہُوا، مفہوم: ’’اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت نے جس کو باز رکھا مجھ سے سوال کرنے سے یعنی قرآن مجید پڑھنے میں مشغول رہا، جس کی وجہ سے وہ مجھ سے سوال نہ کرسکا تو اس کو اس سے بہتر دوں گا جو مانگنے والے کو دیتا ہوں۔ یعنی مانگنے والوں سے زیادہ تلاوت قرآن مجید کرنے والوں کو دوں گا اور کلام الٰہی کی فضیلت تمام کلاموں پر ایسی ہے جیسے اﷲ تعالیٰ کی فضیلت تمام مخلوقات پر ہے۔‘‘ (ترمذی)

قرآن مجید سراسر خیر و برکت اور فوز و فلاح اور کام یابیوں و کام رانیوں کا نشان امتیاز ہے۔ اس پر ایمان لانا اس کی تلاوت کرنا اور اس کے احکامات یعنی اوامر و نواہی پر کماحقہ عمل پیرا ہونا اور صاحب قرآن‘ پیغمبر آخرالزماں حضرت محمد ﷺ کی لائی ہوئی شریعت یعنی قرآن و حدیث کی اتباع و فرماں برداری کرنا دنیا و آخرت کی بھلائیوں اور نجات کا ذریعہ ہے۔ اگر ہمارا تعلق قرآن سے گہرا ہے تو اسے مزید مضبوط تر بنائیے اور اﷲ کا شکر ادا کیجیے۔ اور اگر صورت حال مختلف ہے تو فکر کیجیے اور اﷲ سے لو لگانے کے لیے قرآن سے اپنا رابطہ استوار کیجیے اور کثرت تلاوت سے اس کے ساتھ وابستہ ہوجائیے۔

ان شاء اﷲ تعالیٰ اس کے نزول کے مقاصد بھی پورے ہوں گے اور ہماری زندگی میں پاکیزہ اور صالح انقلاب برپا ہوجائے گا۔ جس کے معاشرے پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ نیز ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی بہترین سانچے میں ڈھل جائے گی اور تعلق بالقرآن کی وجہ سے انفرادی و اجتماعی کوتاہیاں‘ نیکیوں سے بدل جائیں گی اور اﷲ کی زمین پر جہاں انتہائی پاکیزہ معاشرہ تشکیل پاجائے گا اور ہر طرف امن و سکون اطمینان حاصل ہوگا وہیں اخروی زندگی جو ہمیشہ رہنے والی ہے وہ بھی سنور جائے گی اور اﷲ تعالیٰ اپنی اور اپنے حبیب محمد رسول اﷲ ﷺ کی اتباع و تابعداری اور تعلق بالقرآن کے نتیجے میں جنت کے اعلیٰ و ارفع درجات پر بھی فائز فرما دے گا۔ وہ لوگ بڑے خوش نصیب ہیں جو رمضان اور قرآن سے وابستگی اختیار کرکے اپنے رب کی رضا کے حصول میں کام یاب ہوتے ہیں۔ ماہ رمضان اور قرآن لازم و ملزوم ہیں۔

رمضان المبارک میں جہاں روزے رکھ کر اﷲ کو راضی کرنے والے کام کیے جاتے ہیں، وہیں راتوں کو تراویح کا قیام کرکے قرآن سنایا اور سنا جاتا ہے۔ اسی طرح عام دنوں کی نسبت رمضان میں ذوق و شوق کے ساتھ ہر مسلمان تلاوت قرآن کی سعادت حاصل کرتا ہے۔ کاش! ہم سارا سال قرآن مجید کے ساتھ اسی طرح ربط و تعلق برقرار رکھیں اور تلاوت کے ساتھ ترجمہ و تفسیر سے بھی آگاہی حاصل کریں تاکہ ہمیں صحیح معنوں میں قرآن کے مفاہیم و مطالب سمجھ میں آجائیں اور ہم اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو قرآن کے اسلوب کے مطابق گزار کر دنیا و آخرت کی لازوال نعمتوں کے حق دار بن جائیں۔

نزول قرآن اﷲ کی عظیم نعمت ہے‘ جو بھٹکی ہوئی انسانیت کے لیے زاد راہ اور جادۂ مستقیم ہے۔ اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحیح معنوں میں قرآن کا فہم عطا فرمائے اور ہمارے عقائد و اعمال کی اصلاح فرما دے اور ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی میں قرآن کو نافذ فرما دے۔ ہماری لغزشوں اور خطاؤں سے درگزر فرمائے۔ قرآن و صاحب قرآن ﷺ کی سچی فرماں برداری کے ذریعے اپنی رضا کا حصول آسان فرما دے۔ آمین

The post رمضان الکریم ماہِ نزول قرآن حکیم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/mG5Lq67

سندھ میں کتوں کے کاٹنے کی شکایت کیلئے ہیلپ لائن 1093 بحال

  کراچی: سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کی شکایات کیلئے ہیلپ لائن 1093 بحال کردی گئی۔

سندھ ہائیکورٹ میں آوارہ کتوں کیخلاف کارروائی اور ویکسین کی عدم فراہمی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی جس میں پروجیکٹ ڈائریکٹر اینٹی ربیز کنٹرول پروگرام نے جواب عدالت میں جمع کرادیا۔

جواب میں کہا گیا کہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات کہ شکایت کے لیے بنائی گئی ہیلپ لائن 1093 بحال کردی ہے۔ جنوری 2022 سے مارچ 2024 تک 19 ہزار سے زائد کتوں کو ویکسین لگائی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 4 اضلاع میں ربیز کنٹرول سینیٹرز بنائے گئے ہیں۔ آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کے قوانین بنا دئیے گئے ہیں۔ صوبے کے ہر ضلع میں ڈاگس پاپولیشن کنٹرول سینٹر بنائے جائیں گے۔

29 فروری کو ہر ضلع میں ڈاگس پاپولیشن کنٹرول سینٹر بنانے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ آوارہ کتوں کی شکایت اور کاٹنے کے واقعات سے متعلق شکایت کے لیے موبائل ایپ بھی بنا لی ہے۔

رمضان کے بعد عوام الناس کیلئے یہ ایپ فعال کردی جائے گی۔ شہری آوارہ کتوں سے متعلق تصویر اور پتے کے ساتھ شکایت کر سکتے ہیں۔ آوارہ کتوں کو ویکسینیشن کا سلسلہ جاری ہے۔ عدالت نے سماعت 4 مئی تک ملتوی کردی۔

The post سندھ میں کتوں کے کاٹنے کی شکایت کیلئے ہیلپ لائن 1093 بحال appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/zDfeqoh

Wednesday, 27 March 2024

سفاک بھائی اور باپ نے ملکر کر لڑکی کو سفاکانہ انداز سے قتل کردیا

پنجاب کے علاقے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں سفاک بھائی اور باپ نے ملکر جواں عمر لڑکی کو قتل کردیا۔

تفصیلات کے مطابق ٹوبہ ٹیک سنگھ کے تھانہ صدر ٹوبہ کی حدود کے علاقے چک نمبر 477 ج ب آلو وال میں بھائی اور باپ نے 17 اور 18 مارچ کی شب ماریہ نامی لڑکی کو قتل کیا۔

باپ اور بیٹے نے لڑکی کو قتل کر کے اُس کی ویڈیو بھی بنائی اور پھر اُسے خاموشی سے دفنا دیا۔ ملزمان کے خلاف پولیس کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا جبکہ مقتولہ کے دوسرے بھائی نے قبرکشائی کی درخواست بھی دے دی۔

اُدھر تھانہ صدر ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ پولیس کا ہکنا ہے کہ 24 مارچ کو پولیس کو اطلاع موصول ہوئی کہ محمد فیصل نامی شخص نے اپنے والد عبد الستار کے ساتھ مل کر بہن کو گلہ دبا کر قتل کردیا۔

اس اطلاع پر احمد رضا ایس آئی تھانہ صدر ٹوبہ موقع پر گئے تو ملزمان فرار ھو گئے جس پر مقدمہ نمبر۔ 229/24 مورخہ 24.3.24 بجرم 302 ت پ 201 ت پ اور 34 ت پ درج کیا گیا۔

ملزمان نے مقتولہ کو گاؤں کے قبرستان میں دفنا دیا تھا، مقدمہ اندراج کے بعد پولیس نے 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا جبکہ مزید کی تلاش جاری ہے۔

پولیس نے بتایا کہ مقتولہ کی قبر کشائی کروا کر پوسٹمارٹم کروایا گیا ہے جبکہ مزید قانونی کارروائی کے لیے مقدمے کی تفتیش میرٹ پر کی جارہی ہے۔ ایس آئی نے یقین دہانی کرائی کہ سفاک مجرمان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

The post سفاک بھائی اور باپ نے ملکر کر لڑکی کو سفاکانہ انداز سے قتل کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/ivQDCB3

کراچی: رشتے کے تنازع پر فائرنگ سے ماں جاں بحق، بیٹی زخمی

  کراچی: پیر آباد فرنٹیئر کالونی میں گھر کے اندر فائرنگ کے واقعہ میں ماں جاں بحق جبکہ بیٹی شدید زخمی ہوگئی۔

پیر آباد فرنٹیئر کالونی فرحانیہ محلہ میں گھر کے اندر نامعلوم ملزم کی فائرنگ کے واقعہ میں ماں جاں بحق جبکہ بیٹی زخمی ہوگئی ، واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ویسٹ عبدالحفیظ بگٹی اور ایس ایچ او پیر آباد شاہد تاج موقع پر پہنچ گئے۔

پولیس نے فوری طور پر مقتولہ کی لاش اور زخمی بیٹی کو عباسی شہید اسپتال منتقل کرایا جبکہ کرائم سین یونٹ کو طلب کر کے شواہد بھی محفوظ کرلیے گئے۔

اس حوالے سے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ویسٹ نے بتایا کہ فائرنگ سے جاں بحق ماں کی شناخت 40 سالہ حبیبہ کے نام سے کی گئی جبکہ اس کی بیٹی 18 سالہ مروہ دختر فضل کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

انہوں ںے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق مقتولہ خاتون کی شوہر سے کچھ عرصے سے ناراضگی چل رہی تھی اور دونوں ماں بیٹی نے مذکورہ مکان 6 ماہ سے کرایے پر لیا ہوا تھا جبکہ مقتولہ حبیبہ اپنی بیٹی کی رشتہ طے کررہی تھی۔

ایس ایس پی ویسٹ کے مطابق دونوں ماں بیٹی افطاری کے لیے دسترخوان پر بیٹھے تھیں کہ اس دوران ملزم نے گھر میں داخل ہو کر ان پر فائرنگ کر کے ماں کو قتل اور بیٹی کو زخمی کر دیا اور موقع سے فرار ہوگیا۔

ایس ایچ او شاہد تاج نے بتایا کہ مقتولہ مکان کی پہلی منزل پر رہائش پذیر تھی جبکہ نیچے گراؤنڈ فلور پر بھی کرایے دار رہتے ہیں۔

مقتولہ کے شوہر کا کہنا ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ اس کی اہلیہ اور بچے یہاں رہتے تھے جبکہ مقتولہ کا آبائی تعلق خیبر پختونخوا سے تھا، پولیس کو جائے وقوعہ سے 30 بور پستول کا خول ملا ہے۔

پولیس علاقے میں نصب کلوز سرکٹ کیمروں کو تلاش کر کے ان کی فوٹیجز حاصل کرنے کی کوششیں کر رہی ہے اور جلد ہی قتل کا معمہ حل کرلیا جائے گا۔

The post کراچی: رشتے کے تنازع پر فائرنگ سے ماں جاں بحق، بیٹی زخمی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/JTUOYp0

Tuesday, 26 March 2024

اسلام آباد؛ آئس کے نشے سے منع کرنے پر دوست کے ہاتھوں دوست قتل

 اسلام آباد: جی نائن ٹو میں آئس کے نشے سے منع کرنے پر دوست نے دوست کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق مقتول احسان اللہ اپنے گہرے دوست جواد کو آئس کے نشے سے چھٹکارا دلانا چاہتا تھا جس کے لیے مقتول منشیات سے چھٹکارا دلانے والے ادارے سے علاج کرانا چاہتا تھا۔

جواد نے پتہ چلنے پر گہرے دوست مقتول احسان اللہ کو گھر سے باہر بلوا کر گوکیاں مار دیں جس سے مقتول موقع پر جاں بحق ہوگیا۔

مقتول احسان اللہ پی ڈبلیو ڈی میں ملازمت کرتا تھا جبکہ جواد بے روزگار تھا۔

The post اسلام آباد؛ آئس کے نشے سے منع کرنے پر دوست کے ہاتھوں دوست قتل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/puIiVsE

اسلام آباد، پنجاب اورخیبرپختونخوا میں گیس مہنگی ہونے کا امکان

 اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت سمیت پنجاب اور خیبر پختونخوا میں گیس کی قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔

سوئی ناردرن کی گیس کی قیمت میں اضافے کی درخواست پر سماعت آج ہوگی۔ اوگرا پشاور میں درخواست کی سماعت کرے گی۔ایس این جی پی ایل نے گیس کی قیمت میں 147فیصد تک مزید اضافہ مانگ رکھا ہے۔

سوئی ناردرن نے گیس کی قیمت میں2646.18روپے فی ایم ایم بی ٹی یو جبکہ گیس کی نئی اوسط قیمت  4446.89روپے  کرنے کی درخواست کی ہے۔ سوئی ناردرن نےگیس کی قیمت میں اضافے کااطلاق یکم جولائی 2024 سےکرنے کی بھی استدعا کی ہے۔

سوئی ناردرن نے189 ارب 18کروڑروپے ریونیو شارٹ فال کا تخمینہ لگایا ہے۔ اوگرا سوئی ناردرن کی درخواست پر   لاہور میں سماعت  کر چکی ہے۔

The post اسلام آباد، پنجاب اورخیبرپختونخوا میں گیس مہنگی ہونے کا امکان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/U0yYkLI

خفیہ ادارے کی مداخلت، اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کا جوڈیشل کونسل کو خط

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس محسن اختر کیانی سمیت 6 ججز نے عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مداخلت اور دباؤ ڈال کر اثرانداز ہونے پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ دیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز نے جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کے 2018 میں لگائے الزامات کی تحقیقات کرانے کی مکمل حمایت بھی کردی، خط جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحق، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کی جانب سے لکھا گیا۔

خط کے مطابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو انٹیلی جنس ادارے کی مداخلت کا بتانے پر 11 اکتوبر 2018 کوعہدے سے برطرف کیا گیا، ججز نے موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ نے 22 مارچ کے فیصلے میں جسٹس شوکت صدیقی کی برطرفی کو غلط قرار دیا اور انھیں رٹائرڈ جج کہا اس لیے جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ان کے عائد کردہ الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئیں،ججز نے کہا ہے کہ ہم جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کے تحقیقات کرانے کے موقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

خط میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر عدلیہ کی آزادی میں مداخلت ہو رہی تھی تو عدلیہ کی آزادی کو محدود کرنے والے کون تھے، ان کی معاونت کس نے کی، سب کو جوابدہ بنایا جائے تاکہ یہ عمل دہرایا نہ جا سکے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا کہنا ہے کہ ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ میں کوئی رہنمائی نہیں کہ ایسی صورتحال کو کیسے رپورٹ کریں۔

ججز نے اپنے خط میں مزید لکھا کہ تحقیقات کا سکوپ وسیع ہونا چاہئے کہ کہیں اب بھی تو اس طرح کی مداخلت جاری نہیں، کہیں کیسز کی سماعت کیلیے مارکنگ اور بینچز کی تشکیل میں اب بھی تو مداخلت جاری نہیں، انکوائری ہونی چاہئے کہ کیا سیاسی کیسز میں عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونا ریاستی پالیسی تو نہیں،کہیں انٹیلی جنس آپریٹوز کے ذریعے ججز کو دھمکا کر اس پالیسی کا نفاذ تو نہیں کیا جا رہا۔

ججز نے سپریم جوڈیشل کونسل کو اپنے خط میں لکھا کہ ٹیریان وائٹ کیس کے قابل سماعت ہونے کے معاملے پر بنچ میں شامل ججز کا اختلاف سامنے آیا،پریذائیڈنگ جج نے اپنی رائے کا ڈرافٹ بھجوایا جس سے دیگر دو ججز نے اختلاف کیا، الزام عائد کیا گیا ہے کہ آئی ایس آئی کے آپریٹوز نے پٹیشن ناقابل سماعت قرار دینے والے ججز پر دوستوں، رشتہ داروں کے ذریعے دباؤ ڈالا جس کے بعد ایک جج شدید ذہنی دباؤ کے باعث ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہوکر ہسپتال داخل ہوئے۔

ہائیکورٹ کے چھ ججز نے خط میں لکھا کہ اس کے باوجود آئی ایس آئی کے آپریٹوز کی مداخلت جاری رہی، ججز نے اپنے خط میں الزام عائد کیا ہے کہ مئی 2023ء میں ہائیکورٹ کے ایک جج کے برادر نسبتی کو مسلح افراد نے اغوا کیا اور 24 گھنٹے بعد چھوڑا، برادر نسبتی کو حراست کے دوران الیکٹرک شاک لگائے گئے اور وڈیو بیان ریکارڈ کرنے پر مجبور کیا گیا، ایک ہائیکورٹ جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر کے استعفی دینے پر دباؤ ڈالا گیا۔

عدالت عالیہ کے چھ ججز نے خط میں بتایا کہ 10 مئی 2023 کو چیف جسٹس کو مراسلہ لکھا کہ آئی ایس آئی آپریٹوز کی مداخلت پر توہین عدالت کی کارروائی کی جائے، ججز کا کہنا ہے کہ ایک جج سرکاری گھر میں شفٹ ہوئے تو ان کے ڈرائنگ روم اور ماسٹر بیڈ روم میں کیمرے نصب تھے، کیمرے کے ساتھ سم کارڈ بھی موجود تھا جو آڈیو وڈیو ریکارڈنگ کسی جگہ پہنچا رہا تھا، جج اور اس کی فیملی کی پرائیویٹ وڈیو اور یو ایس بی دریافت ہوئیں۔

6 ججز کا خط، اگلا لائحہ عمل کیا ہو گا، نظریں جوڈیشل کونسل پر

اداروں کی مداخلت کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کی جانب سے لکھے گئے خط کے بعد اب سب کی نظریں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل پر ہیں کہ اگلا لائحہ عمل کیا ہو گا، خط کی کاپی سپریم کورٹ کے تمام جج صاحبان کو بھی ارسال کی گئی ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد ابراہیم خان اس کے ارکان ہیں۔

سندھ ہائیکورٹ بار کے سابق صدر صلاح الدین احمد کا کہنا ہے کہ مذکورہ خط پر سپریم کورٹ کی جانب سے فوری از خود نوٹس کی ضرورت ہے،شوکت صدیقی کے کیس میں، میں نے سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ وہ انٹیلی جنس ایجنسیوں پر الزامات کی تحقیقات کرے، تاہم یہ اب بہت ضروری ہو گیا ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کی توثیق کے بعد اب چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین ججوں کی کمیٹی ازخود نوٹس کے دائرہ اختیار پر فیصلہ کرے گی۔

سینئر وکلا حیران ہیں کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مداخلت پر اپنے ساتھی ججوں کے خط پر سخت ایکشن کیوں نہ لیا، سابق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6ججوں نے چیف جسٹس فائز عیسی کو امتحان میں ڈال دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بظاہر اس معاملے میں ناکام رہے ہیں۔

The post خفیہ ادارے کی مداخلت، اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کا جوڈیشل کونسل کو خط appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/MyOI8Xl

وزیراعظم شہباز شریف نے سیکیورٹی صورتحال پر اہم اجلاس طلب کرلیا

وزیراعظم شہباز شریف نے سیکیورٹی صورتحال پر اہم اجلاس طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے سیکیورٹی صورتحال پر آج اہم اجلاس طلب کرلیا جب کہ اجلاس میں ملکی داخلی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

واضح رہے کہ وفاقی کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی کر دیا گیا، وفاقی کابینہ کا اجلاس اب 28 مارچ جمعرات کے روز ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: شانگلہ میں گاڑی پر خودکش حملے میں 5 چینی انجینئرز سمیت 6 افراد جاں بحق

سیکیورٹی سے متعلق اجلاس میں وزارت داخلہ اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی اور مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے چینی باشندوں کی سیکیورٹی کا جائزہ لیا جائے گا۔

The post وزیراعظم شہباز شریف نے سیکیورٹی صورتحال پر اہم اجلاس طلب کرلیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/Th4fNJ7

Monday, 25 March 2024

اولادِ نرینہ کی خواہش

کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ آج ہم دین اسلام کے آنے کے بعد لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی موت کے گھاٹ تو نہیں اتارتے، لیکن ان کا درجہ عملاً ہمارے ہاں کم تر ہی رہ گیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کیا لوگ اولاد نرینہ کی خواہش کیوں کرتے، اور کیوں لوگ بیٹوں کی خواہش کرتے ہیں۔

جب کہ اگر بیٹے ہی ہوں تو بیٹیوں کی خواہش اس شدت سے نہیں ہوتی، تبھی تو اس کے لیے مختلف قسم کے عمل اور ٹوٹکے بتائے جاتے ہیں اور ان پر عمل کرنے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی موجود ہے۔ آخر اولاد نرینہ کے لیے ہی اتنے جتن کیوں کیے جاتے ہیں؟ کیا ہمارے معاشرے میں لڑکی غیر اہم اور بے وقعت ہے یا اولادِ نرینہ کی پیدائش عورت کے لیے کسی قسم کی جیت یا رشتے کی مضبوطی کی ضمانت ہے؟

ہمارا معاشرہ اولادِ نرینہ کی خواہش میں دیوانہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں عورت کے ہاں ایک کے بعد دوسری یا تیسری بیٹی پیدا ہونے کی صورت میں یا تو طلاق یا پھر شوہر کی دوسری شادی کی تلوار لٹکنا شروع ہو جاتی ہے۔ ایسے میں عورت کی جسمانی اور نفسیاتی صحت کس مقام پر ہو گی؟

چلیے ٹھیک ہے آپ کسی بھی وجہ سے اگر بیٹے کی خواہش کر رہے ہیں تو ایسا کرنا آپ کی صوابدید ہے، لیکن بیٹا نہ ہونے کی صورت میں صرف عورت کو ہی قصوروار ٹھہرانا، رشتے میں سرد مہری آجانا یا اذدواجی تعلق جمود کا شکار ہوجانا کہاں کا انصاف ہے؟

دورانِ تعلیم مجھے لگتا تھا کہ لڑکیوں کے لیے ہمارے معاشرے کے رویوں میں تبدیلی آرہی ہے، لیکن گزشتہ دو روز ایک ہی طرز کی چار وارداتوں نے مجھے اپنی سوچ اور نظریہ تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔ ایسے واقعات بلوچستان، میانوالی، پشاور میں پیش آئے۔

جہاں کسی نے تیسری بیٹی کی پیدائش پر بیوی کو قتل کر دیا، تو کہیں بیٹے کی خواہش میں پاگل باپ نے سات دن کی بچی کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ ستم ظریفی تو یہ کہ پہلے سے بیٹے ہونے کے باوجود مزید بیٹوں کی خواہش میں خاتون نے پیر صاحب کے حکم پر سر میں کِیل بھی ٹھکوا لی۔

اولاد کی خواہش ہر جوڑے کو ہوتی ہے، لیکن بیٹے کی خواہش ہمارے معاشرے میں کچھ زیادہ ہی اہمیت کی حامل ہے۔ شادی شدہ خواتین سے سب سے پہلے ان کے بچوں کی تعداد اور دوسرا سوال کتنے بیٹے کتنے بیٹیاں ہیں، ہوتا ہے۔ بیٹوں کی مائیں ہی نہیں باپ بھی بڑے فخر سے بیٹوں کی تعداد بتاتے ہوئے نظر آتے ہیں، جب کہ بیٹیوں کے والدین کو لوگ بیٹوں کی پیدائش کے نسخے، ٹوٹکے، دوائیں، دْعائیں اس کی اہمیت اور افادیت پر لیکچر دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ چاہے خود ان کی اپنی پانچ چھے بیٹیاں ہی کیوں نہ ہوں۔

سائنس چاہے کچھ کہہ لے یا ثابت کرے، لیکن ہمارے معاشرے کے پڑھے لکھے افراد بھی اولاد نرینہ کے لیے ایسے ایسے ٹوٹکے اور نسخے بتاتے اور استعمال کرتے نظر آتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

یاد رہے کہ ماں کا وجود بچے کا پہلا گھر ہوتی ہے، اس لیے ماں کی ذہنی اور جسمانی صحت بچے کی نشوو نما پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

عام طور پر بہت سارے ایسے عوامل ہوتے ہیں، جو کہ حمل کے دوران خواتین کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کر سکتے ہیں اور ان عوامل میں سب سے زیادہ اہم بیٹے کی ماں بننے کی خواہش یا ڈر ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ زیادہ تر خواتین اولاد نرینہ کی پیدائش کے حوالے سے سخت ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں۔حمل کے ابتدائی دنوں میں ذہنی دباؤ میں مبتلا خواتین میں بہت ساری جسمانی اور نفسیاتی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں۔ جس کا براہِ راست اثر بچے کی نشو ونما پر پڑتا ہے۔

بچے کی پیدائش عموماً خواتین کے لیے خوشی کا باعث ہوتی ہے، لیکن حمل کے دوران لڑکے کی پیدائش کی خواہش کے باعث مسلسل تناؤ یا لڑکے کا نہ پیدا ہونا خواتین کے لیے مختلف قسم کے تناؤ جیسا کہ ’پوسٹ پارٹم ڈپریشن‘ بھی باعث بنتا ہے۔

ہمارے جیسے معاشروں میں ایک عام تاثر یہ بھی ہے بیٹے بڑھاپے میں والدین کی دیکھ بھال کرتے ہیں، ان کا سہارا بنتے ہیں اور ان کے مالی معاملات کے نہ صرف امین بھی ہوتے ہیں، بلکہ خاندانی جائیداد اور دولت میں اضافہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

بیٹے خاندانی نسب کو جاری رکھتے ہیں، جب کہ بیٹیوں کی شادی کسی دوسرے گھر میں کر دی جاتی ہے اور ساتھ ان کو جہیز بھی دینا پڑتا ہے۔

بیٹے خاندان کی عزت اور وقار کا دفاع کرتے ہیں، جب کہ بیٹیوں کو دفاع اور تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے( جو کہ خاندان پر بوجھ ہوتا ہے)۔

جب کہ سائنس کہتی ہے کہ لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں میں پیدائشی پیچیدگیوں کا زیادہ خدشہ ہوتا ہے۔ لڑکیوں اور لڑکوں کے درمیان شرح اموات کا موازنہ ظاہر کرتا ہے کہ لڑکوں کو قبل از وقت پیدائش، دم گھٹنے، پیدائشی نقائص اور دل کی بے ضابطگیوں کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ حمل کی مدت ختم ہونے سے پہلے لڑکوں میں پیدائش کے دوران پیچیدگیوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

اگرچہ لڑکے پیدائش کے وقت لڑکیوں کے مقابلے میں اوسطاً بھاری ہوتے ہیں، لیکن پیدائش کے وقت وہ جسمانی طور پر کم میچور ہوتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ان کے جسمانی افعال میں تاخیر کا خطرہ ہوتا ہے، جیسے کہ پھیپھڑوں کی نشوونما وغیرہ۔

اس ہی طرح لڑکیوں کے مقابلے میں  لڑکوں کو متعدد انفیکشن جیسی بیماریوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق لڑکوں کو انفیکشن جیسا کہ ملیریا، سانس کے انفیکشن، تشنج اور اسہال کی بیماریوں کا بھی زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

لہٰذا ضروری نہیں کہ خاندانی حسب نسب کو بڑھانے کے علاوہ آپ کا بیٹا آپ کے خوابوں کو پورا کرے۔ اللہ سب کے بچوں کو اپنے ماں باپ کے لیے خوشی کا باعث بنائے، لیکن ہو سکتا ہے آپ کے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا وہ شوق نہ ہو جو آپ کی بیٹی کو ہو اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ وہ اولاد نرینہ جس کے لیے آپ نے ترقی اور کام یابی کے جو خواب سجائے ہوں وہ آپ کی بیٹی پایہ تکمیل تک پہنچادے، تو پھر لڑکا اور لڑکی کی تفریق چھوڑیں اور اولاد میں برابری کو معیارِزندگی بنائیں۔

The post اولادِ نرینہ کی خواہش appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/6OwhJs1

آئی جی سندھ کا منشیات کے خلاف ٹاسک فورس کو فوری بحال کرنے کا حکم

  کراچی: آئی جی سندھ پولیس غلام نبی میمن نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالتے ہی سینٹرل پولیس آفس میں پہلے اجلاس اور ویڈیو لنک کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے احکامات جاری کر دیئے۔

اجلاس میں صوبائی سطح پر فرائض پر مامور تمام ایڈیشنل آئی جیز، ڈی آئی جیز ، ایس ایس پیز و دیگر سینئر افسران نے ویڈیولنک کے ذریعے شرکت کی۔

اجلاس میں سندھ میں امن و امان کی موجودہ صورتحال ، پولیس سیکیورٹی پلانز سمیت انسداد جرائم، منظم جرائم ودیگر سنگین جرائم کے خلاف پولیس حکمت عملی اور لائحہ عمل سمیت شعبہ تفتیش کو تقویت دینے پر غور اور ضروری ہدایات دی گئیں۔

آئی جی سندھ نے گٹکا ، ماوا اور منشیات کے خلاف ٹاسک فورس کو فوری بحال کرنے کے احکام جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسپیشل برانچ کی جانب سے ایسے جرائم کے خلاف دی گئی اںٹیلیجینس رپورٹ اگر غلط ثابت ہوتی ہے تو انٹیلیجنس رپورٹس (آئی آرز) دینے والے کو ملازمت سے فوری فارغ کر دیا جائیگا جبکہ علاقوں میں گٹکا ماوا، منظم جرائم ، منشیات کے اڈے اگر سرگرم ہیں اور ان کی رپورٹ نہ دینے کی صورت میں متعلقہ ایس ایس پی اور ایس ایچ او کو ذمہ دار ٹہراتے ہوئے سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ پولیس میں کالی بھیڑوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے، تمام ایس ایس پیز اپنے اپنے سرکاری دفاتر میں صبح 10 بجے سے  سے دوپہر 2 بجے تک اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں گے اور اس دوران عام لوگوں سے ناصرف شیڈول ملاقاتیں کی جائیں بلکہ اُن کی شکایات کا بروقت ازالہ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آرز کی فری رجسٹریشن کے عمل کو حقیقی معنوں میں فعال اور عوام دوست بنایا جائے، بصورت دیگر علاقہ ایس ایچ اوز و دیگر کو محکمانہ کاروائیوں کا سامنا کرنا پڑیگا۔

آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے ایس ایس پیز کو ہدایات دیں کہ معمولی نوعیت کے جرائم کی پاداش میں علاقہ ایس ایچ اوز کو ہر گز شوکاز نوٹس نہ دیئے جائیں، ایس ایچ اوز کی تقرریوں کے اعلامیے کی طرح ایڈیشنل ایس ایچ اوز کی تعیناتیوں کے بھی اعلامیہ جاری کیئے جائیں جن کا مقصد ایس ایچ اوز کی عدم موجودگی پر علاقہ سپروائزری کی ذمہ داریوں کا تعین کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ خواتین پولیس افسران کو بھی محکمانہ سطح پر اہم ذمہ داریاں تفویض کی جائیں تاکہ باالخصوص خواتین اور بچوں کے خلاف ہونیوالے جرائم کی روک تھام سمیت ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جاسکے۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ باصلاحیت اور تعلیم یافتہ پولیس افسران کو تھانہ ڈیوٹی افسر تعینات کیا جائے اور انھیں شکایات کے اندراج ، لوگوں کے مسائل ، مشکلات کے ازالوں کی باقاعدہ اتھارٹی و اختیار بھی دیا جائے ۔

شعبہ تفتیش کے حوالے سے آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ شعبہ تفتیش میں آنیوالے ماہر ، تجربہ کار اور باصلاحیت افسران کو ون اسٹیپ پروموشن دی جائیگی تاہم اس کا سینیارٹی سے کوئی تعلق نہ ہو، ہر انویسٹی گیٹر آفیسر کی پروگریس کو ناصرف چیک کیا جائیگا بلکہ ان کی تعیناتیاں مکمل کوائف اور کارکردگی کو سامنے رکھ کر کی جائیں گی۔

شہر میں موجود 171 ٹریفک لائٹس سگنلز میں سے صرف 54 ٹریفک سگنلز درست ہونیکی رپورٹ پر آئی جی سندھ نے کہا کہ اس حوالے سے جامع سفارشات پر مشتمل مسودہ حکومت سندھ کو منظوری  ارسال کیا جائے تاکہ ٹریفک لائٹ سگنلز کی مرمت اور بحالی کے حوالے سے ٹریفک انجینئرنگ بیورو کی ذمہ دارایاں محکمہ ٹریفک پولیس کو باقاعدہ تفویض کی جاسکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان رہنما اقدامات سے ٹریفک لائٹ سگنلز کی بروقت مرمت سمیت سڑکوں شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی کو بھی برقرار رکھا جاسکے گا ، انھوں نے کہا کہ ٹریفک لائٹ سگنلز پر کیمروں کی تنصیب اور مسلح پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے اقدامات کیے جائیں تاکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی روک تھام سمیت انسداد جرائم جیسے اقدامات کو بھی یقینی بنایا جاسکے۔

آئی جی سندھ مزید کہا کہ ٹکٹس چالان کے جرمانوں کی مد میں حاصل ہونیوالی رقم کا کچھ حصہ ان کیمروں کو بحال رکھنے اور مرمت جیسے امور کے لیے بھی رکھا جائے ، اوور اسپیڈنگ اور خطرناک ڈرائیونگ کی روک تھام سمیت موٹر سائیکلسٹ کو ہیلمٹ کے استعمال کا بھی پابند بنایا جائے ، آئی جی سندھ نے ٹریفک پولیس کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سڑکوں ، شاہراہوں و دیگر مقامات پر ٹولیوں کی صورت میں موجود ٹریفک پولیس افسران اور جوانوں کو فوری ختم کیا جائے بصورت دیگر سخت انضباطی کارروائی کو یقینی بنایا جائیگا۔

The post آئی جی سندھ کا منشیات کے خلاف ٹاسک فورس کو فوری بحال کرنے کا حکم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/7biLavK

کراچی میں شام پانچ سے افطار تک چالان نہ کرنے کی ہدایت

  کراچی: ڈی آئی جی ٹریفک احمد نواز چیمہ نے عہدہ سنبھالتے ہی ہدایت کی ہے کہ شام پانچ بجے کے بعد سے افطار تک شہریوں کے چالان نہ کیے جائیں اور افسران یا اہلکار شہریوں کے ساتھ بدتمیزی نہ کریں۔

ڈی آئی جی ٹریفک احمد نواز چیمہ نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد ماتحت افسران سے اسکاؤٹ آڈیٹوریم میں اپنے پہلے خطاب میں پالیسی گائیڈ لائن دے دی۔

انہوں نے ہدایت کی کہ شہر میں ٹریفک کی روانی کو ہر صورت یقینی بنانا اولین ترجیحات میں شامل ہے ، ٹریفک اہلکار عوام کے ساتھ اچھا رویہ اپنائیں۔ ڈی آئی جی نے ہدایت کی کہ شام 5 بجے سے افطار تک ٹریفک پولیس کا کوئی بھی افسر چالان نہیں کریگا بلکہ ٹریفک کی روانی کو یقینی بنائے گا تاکہ شہری باآسانی اپنے گھروں کو پہنچ کر روزہ افطار کر سکیں۔

احمد نواز چیمہ نے کہا کہ اگر کوئی فیملی کے ہمراہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کو چالان کے بجائے وارننگ دی جائے اور ان کی رہنمائی کی جائے جبکہ ون وے کی خلاف ورزی پر توجہ مرکوز رکھی جائے جس کی وجہ سے نہ صرف حادثات رونما ہوتے ہیں بلکہ ٹریفک کی روانی میں متاثر ہو جاتی ہے۔

انہوں نے واضح طور پر احکام جاری کیے ہیں کہ افسران و اہلکار اگر کسی کے ساتھ بدتمیزی یا جھگڑا کریں گے تو ان کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائیگی ، چالاننگ افسران صرف موونگ وائلیشن کے چالان کریںگے ، شاہراہوں اور اہم سڑکوں کے موڑ پر گاڑیوں ، رکشوں اور موٹر سائیکلوں کی پارکنگ کی وجہ سے ٹریفک کی روانی کو ہوتی ہے لہذا ان مقامات پر پارکنگ کے عمل کو روکا جائے۔

ڈی آئی جی نے ہدایت دی کہ چلاننگ آفیسر باڈی وارن کیمرے کے بغیر چالان نہیں کریںگے اور نہ ہی افسران و اہلکار ایک ساتھ کھڑے ہونگے ، شاہراہ فیصل پر فاسٹ لین کی پابندی کو یقینی بنائیں اس کے ساتھ ساتھ موٹر سائیکل سواروں کو بائیں جانب لین میں چلنے کی ہدایت دیں۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ افسران اضافی نشستوں والے رکشوں کی جگہ جگہ پارکنگ ختم کروائیں۔ احمد نواز چیمہ نے کہا کہ تمام سیکشن اپنے ایریاز کے حساب سے لفٹنگ کی ٹائمنگ کے بورڈ آویزاں کریںگے اور گاڑیوں کی لفٹنگ کا ایک مخصوص ٹائم مقرر کیا جائے۔

The post کراچی میں شام پانچ سے افطار تک چالان نہ کرنے کی ہدایت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/PlHjQ5V

Sunday, 24 March 2024

چیمپئنز ٹرافی، آئی سی سی انتظامات کا جائزہ لے گی

لاہور: آئی سی سی کی ٹیم چیمپئنز ٹرافی 2025کے انتظامات کا جائزہ لے گی، ٹیم کی گزشتہ شب پاکستان آمد شیڈول تھی۔

پاکستان نے آئندہ برس چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کرنا ہے، جس کے انتظامات کا جائزہ لینے کیلیے آئی سی سی کی ٹیم کو گذشتہ شب پاکستان پہنچنا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت سے چیمپئنز ٹرافی پر مثبت تاثر سامنے آیا ہے، چیئرمین پی سی بی

قذافی اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا کہ ہم ایونٹ کی پاکستان میں میزبانی کیلیے پلاننگ کررہے ہیں، اس ضمن میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے،گزشتہ دنوں دبئی میں ہونے والی آئی سی سی میٹنگ میں بھی میزبانی کیلیے اپنا عزم دہرایا تھا، آئی سی سی کی ٹیم بھی پاکستان آرہی ہے، دعا کریں کہ ایونٹ شیڈول کے مطابق ہو،بھارتی بورڈ کے ساتھ بات چیت کے بارے میں فی الحال کچھ کہنا تھوڑا جلدی ہوجائے گا، بہر حال اچھے کی امید رکھنا چاہیے،ایونٹ کی میزبانی کیلیے تیار ہیں، لاہور، کراچی اور پنڈی میں وینیوز کو بہتر بنانے کیلیے کام کررہے ہیں، مجموعی انفرا اسٹرکچر بھی بہتر بنانے کیلیے کوشاں ہیں، کوئٹہ اور پشاور کے اسٹیڈیمز پر کام ہورہا ہے۔

یاد رہے کہ آئی سی سی ٹیم کی چیمپئنز ٹرافی کے انتظامات کا جائزہ لینے کیلیے کراچی آمد گزشتہ رات شیڈول تھی، محسن نقوی نے یہ بھی کہا وزارت داخلہ اور پی سی بی سمیت میرے دونوں شعبوں میں سب اچھا نظر آئے گا۔

The post چیمپئنز ٹرافی، آئی سی سی انتظامات کا جائزہ لے گی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/R7xgJoP

خاتون کو جعلی بینک اسٹیٹمنٹ جاری کرنے میں ملوث ملزم گرفتار

  کراچی: ایف آئی اے انسداد انسانی سمگلنگ سرکل نے خاتون کو جعلی بینک اسٹیٹمنٹ جاری کرنے میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا۔

ڈائریکٹر کراچی زون ضعیم اقبال شیخ کی ہدایت پر چھاپہ مار ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے ایجنٹ کو پی آئی بی کالونی کے علاقے سے گرفتار کیا۔

گرفتار ملزم برین سلیم ویزا فراڈ کے گھناؤنے جرم میں ملوث تھا۔ ملزم خاتون شہری کو جعلی بینک اسٹیٹمنٹ جاری کی تھی۔

خاتون نے اسٹڈی ویزے کے لیے امریکن ایمبیسی میں درخواست دی رکھی تھی، ملزم کے خلاف کارروائی امریکی سفارتخانے کی درخواست پر عمل میں لائی گئی۔

ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

The post خاتون کو جعلی بینک اسٹیٹمنٹ جاری کرنے میں ملوث ملزم گرفتار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/rBohSFD

پانی بقائے زندگی… ضیاع روکنے کیلئے رویے بدلنا ہونگے!

22 مارچ کو دنیا بھر میں پانی کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد پانی کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور اسے محفوظ بنانے پر زور دینا ہے۔

اس دن کی مناسبت سے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک خصوصی مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس کی رپورٹ نذر قارئین ہے۔

سید زاہد عزیز

(سی ای او آب پاک اتھارٹی پنجاب ایم ڈی پنجاب میونسپل ڈویلپمنٹ فنڈ کمپنی)

پانی بقائے زندگی ہے۔ اس سے ہمارا ذہنی و جسمانی سکون اور امن جڑا ہے۔ اسی لیے رواں بر س پانی کے عالمی دن کا موضوع ’’واٹر فار پیس‘‘ رکھا گیا ہے۔ یہ بارہا کہا جا رہا ہے کہ آئندہ جنگیں پانی پر ہونے کا خطرہ ہے لہٰذا پانی کی قلت سے بچنے اور اس کا ضیاع روکنے کیلئے ہمیں اپنے طور طریقے اور رویے بدلنا ہوں گے۔ پاکستان ان چند خوش قسمت ممالک میں شامل ہے جہاں پانی بڑی مقدار میں موجود ہے۔ دنیا میں صرف 16 ممالک ایسے ہیں جن کے پانی کی مقدار پاکستان سے زیادہ ہے۔

ہمارے ہاں دریائے سندھ، چناب اور جہلم پورا سال بہتے ہیں۔ دریائے راوی اور بیاس معاہدے کے تحت بھارت کے زیر کنٹرول ہیں لیکن ان میں بھی پانی آتا ہے۔ میرے نزدیک ہمارے ہاں مسئلہ پانی کی مقدار کا نہیں بلکہ بڑھتی ہوئی آبادی کا ہے۔ 1960ء میں فی کس پانی 6 ہزار مکعب فٹ سالانہ تھا جو اب ایک ہزار مکعب فٹ سالانہ پر آگیا ہے۔میرے نزدیک پانی اتنا ہی ہے لیکن آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے فی کس مقدار کم ہوگئی ہے۔

دیہی علاقوں کی نسبت شہری آبادی میں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انفراسٹرکچر، سہولیات اور مواقع ہونے کی وجہ سے لوگ شہری علاقوں میں تعلیم، روزگار، کاروبار و دیگر معمولات زندگی کیلئے نقل مکانی کر لیتے ہیں یا عارضی طور پر رہتے ہیں۔ اس سے آبادی میں اضافہ ہوتا ہے اور وسائل کی تقسیم زیادہ لوگوں میں ہوتی ہے۔ میرے نزدیک پانی کے مسئلے کا حل کفایت شعاری اور اعتدال میں ہے۔پاکستان زرعی ملک ہے۔ زراعت کے ساتھ پانی کا گہرا تعلق ہے۔ ہم فلڈ اریگیشن کرتے ہیں جس میں پانی زیادہ لگتا ہے اور ضائع بھی ہوتا ہے۔ دنیا میں ڈرپ اریگیشن کے جدید طریقے اپنائے جارہے ہیں۔

ہم چاول نہیں پانی برآمد کرتے ہیں کیونکہ اس فصل میں پانی بہت زیادہ خرچ ہوتا ہے۔ ہمیں اپنی غذائی ضرورت پوری کرنے کیلئے چاول اگانا چاہیے اور کسانوں کو ایسی فصلوں کے بارے میں آگاہی دینی چاہیے جن میں پانی کم خرچ ہو اور منافع زیادہ ہو۔ ہمیں اریگیشن کے جدید طریقے اپنانا ہوں گے۔ خوردنی تیل ہماری درآمدات میں دوسرے نمبر پر ہے۔

اگر ہم یہ اجناس یہاں اگائیں تو اس سے تیل کی ضروریات بھی پوری ہونگی اور امپورٹ کا متبادل بھی مل جائے گا۔ افسوس ہے کہ ہم نے پانی کے گھریلو استعمال کے طریقے بھی نہیں بدلے۔ آج بھی ہم صاف پانی سے گلی دھوتے ہیں، چھت پر پانی چھڑک کر تپش کم کی جاتی ہے، موٹر سائیکل، گاڑی، صحن دھونے کیلئے بھی پانی کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے جو سراسر غلط ہے۔ پانی کا ضیاع روکنے کیلئے ہمیں اپنے رویے بدلنا ہوں گے۔

پانی کا ضیاع روکنے کیلئے ٹیوب ویل چلنے کے اوقات میں کمی کی گئی جس سے خاطر خواہ فائدہ ہوا۔ اب پانی کے میٹرز لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، آئندہ دو برسوں میں ہر گھر میں پانی کا میٹر لگا دیا جائے گا۔ لاہور میں زیر زمین پانی کی سطح 160 فٹ کے قریب ہے۔ 1300 فٹ کے بعد پانی آنا بند ہوجاتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں سالانہ 3 فٹ پانی نیچے جاتا رہا مگر اب چند برسوں سے پانی کی سطح کی گرواٹ میں کمی آئی ہے جس میں واسا لاہور کے مختلف اقدامات شامل ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ 750 فٹ گہرائی پر پانی چلا گیا ہے جو درست نہیں۔ ٹیوب ویل کے بور کی گہرائی 750 فٹ کی جاتی ہے اس لیے لوگ سمجھتے ہیں کہ پانی بہت نیچے چلا گیا ہے۔

بور کی مختلف تکنیکی وجوہات ہیں، پانی کا لیول 160 فٹ ہی ہے۔ لاہور میں پانی کی مقدار بھی ٹھیک ہے اور اس کا معیار بھی عالمی ادارہ صحت کی گائیڈ لائنز اور پیرامیٹرز کے مطابق ہے۔ آرسینک کی مقدار 50 مائیکروگرام فی لیٹر سے کم ہے۔ اس کا کوئی ذائقہ، رنگ یا بو نہیں ہے۔ گہرائی سے نکالا جانے والا پانی جراثیم اور کیمیکلز سے پاک ہے۔ ہمارے ہاں فلٹریشن پلانٹس فیشن بن گیا ہے۔ لاہور کا پانی صاف اور پینے کے قابل ہے۔

یہاں فلٹریشن پلانٹ کی ضرورت نہیں۔ جہاں پانی کی پائپ لائن یا ترسیل کا نظام خراب ہے، اسے ٹھیک کرنا ہوگا۔2013ء میں لاہور کے تین مقامات پر آرسینک کی مقدار 50 مائیکرو گرام فی لیٹر سے زیادہ آئی۔ ا سکے بعد فلٹریشن پلانٹ لگایا گیا اور پھر سرکاری و نجی اداروں کی جانب سے 573 فلٹریشن پلانٹس لگا دیے گئے۔ 2016ء میں ان 3 علاقوں میں بھی آرسینک کی مقدار کم ہوگئی اور پانی پینے کے قابل ہوگیا۔ شہری اپنے گھر آنے والا پانی واسا کی لیب سے چیک کروا لیں۔

بسااوقات گھر میں موجود پانی کی ٹینکی صاف نہیں ہوتی، اس کی وجہ سے بھی پانی آلودہ ہوجاتا ہے۔بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کیلئے لاہور میں 3 زیر زمین ٹینکس بنائے گئے ہیں، یہاں کل 11 ٹینک بنائے جائیں گے، یہ پانی پارکس اور گرین بیلٹس کو فراہم کیا جاتا ہے۔ فیصل آباد کا زیر زمین پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔ یہاں 50 فیصد پانی چنیوٹ سے پائپ کے ذریعے لایا جاتا ہے، رکھ برانچ و دیگر کینال سے بھی ٹیوب ویل کے ذریعے پانی فرام کیا جاتا ہے، نہری پانی بھی صاف کرکے لوگوں تک پہنچایا جارہا ہے۔ لاہور میں بھی جلد بی آر بی نہر کا پانی صاف کرنے کا پلانٹ نصب کر دیا جائے گا جو پانی کی 10 فیصد ضرورت پوری کرے گا۔ راولپنڈی میں خانپور ڈیم اور زمین سے نکال کر پانی فراہم کیا جاتا ہے، یہ پانی دن میں ایک سے دو گھنٹے فراہم کیا جاتا ہے۔

ملتان اور گوجرانوالہ میں زیر زمین پانی ٹھیک ہے، یہاں معیار اور مقدار دونوں کا مسئلہ نہیں ہے۔ کراچی کا زیرزمین پانی پینے کے قابل نہیں، و ہاں صاف پانی کی کمی ہے اور ٹینکر کی ڈیمانڈ زیادہ ہے۔ پنجاب آب پاک اتھارٹی، پنجاب صاف پانی کمپنی کا تسلسل ہے۔ 5 شہروں میں واسا کام کر رہا ہے۔ پنجاب رورل واٹر سپلائی کمپنی 16 تحصیلوں میں کام کر رہی ہے۔ پنجاب انٹرمیڈیٹ سٹیز پراجیکٹ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے تعاون سے سیالکوٹ اور ساہیوال میں کام کر رہا ہے،ا ب راولپنڈی میں بھی کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔دیہی آبادی میں آب پاک اتھارٹی کام کر رہی ہے۔ اس وقت تک ہم نے دیہات میں ایک ہزار سے زائد پانی کے پوائنٹس فعال بنائے ہیں۔

ہم فوری فلٹریشن پلانٹ یا آر او پلانٹ نہیں لگاتے بلکہ پانی کے معیار، علاقے کی ضرورت و دیگر پہلوؤں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور اس کی روشنی میں مناسب اقدامات کیے جاتے ہیں۔ چک جھمرہ میں ہم نے ’’مرکز آب‘‘ کے نام سے واٹر ٹینک بنایا جہاں سے 15 دیہاتوں کو پانی فراہم کیا جاتا ہے، اس منصوبے کو پنجاب بھر میں پھیلایا جا رہا ہے۔ہم نے رینالہ خورد میں نہر کا پانی لے کر اس کی پراسیسنگ کی۔ اس میں پھٹکری ڈالی، پھر اس میں ریت و مٹی کی فلٹریشن، کلورینیشن، اوزنیشن کرکے اسے دو دیہاتوں میں سپلائی کیا۔

اس میں ہم نے ’’آر او‘‘ کا طریقہ استعمال نہیں کیا بلکہ ’’کوگیولیشن‘‘ کی گئی۔ قصور میں زیر زمین پانی میں آرسینک کی مقدار 2000 مائیکرو گرام تھی۔ وہاں سوئے آصل سے پانی لیکر پراسیس کیا اور اب یہاں سے دو دیہاتوں کو یومیہ10 ہزار لیٹر پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ فورٹ منرو میں ہم نے 31 تالابوں پر ایسے ہینڈ پمپ لگائے ہیں جو خود ہی پانی صاف کر دیتے ہیں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ’آر او‘ پلانٹ نہ لگانا پڑے، پانی کے حوالے سے دیگر آپشنز کو پہلے دیکھا جاتا ہے۔ رفاہی اداروں کا خدمت کا جذبہ اچھا ہے، بعض تنظیموں نے مختلف محکموں کے خراب فلٹریشن پلانٹس ٹھیک کروائے ، ہم این جی اوز کو تکنیکی تعاون اور مشاورت کرتے ہیں۔

مبارک علی سرور

(واٹر ایکسپرٹ)

اس سال پانی کے عالمی دن کا موضوع ’’واٹر فار پیس‘‘ ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں صاف پانی کی صورتحال حوصلہ افزاء نہیں ہے۔ پاکستان میں 89فیصد افراد کی پانی تک رسائی ہے۔ اس میں سے 21 ملین افراد ایسے ہیں جنہیں صاف پانی میسر نہیں ہے۔ 58 فیصد افراد کو پانی کے بہتر بنائے گئے ریسورسز تک رسائی حاصل ہے۔ پانی کے معیار کی بات کریں تو دیہی اور شہری علاقوں میں صاف پانی کی دستیابی کا مسئلہ ہے۔ آئندہ برسوں میں پاکستان کا شمار پانی کی قلت والے ممالک میں ہوسکتا ہے جو تشویشناک ہے،اس پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ پانی کی آلودگی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔

واٹر فلٹریشن پلانٹس اور سکیموں کی دیکھ بھال اور مرمت موثر میکنزم نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری و نجی پلانٹس اور سکیمیں مسائل کا شکار ہیں لہٰذا اس حوالے سے موثر حکمت عملی بنانا ہوگی تاکہ لوگوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کیا جاسکے۔ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے جو اس سے شدید متاثر ہورہے ہیں۔ ہمیں زیادہ بارشوں، سیلاب اور کبھی خشک سالی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے نقصان ہو رہا ہے۔

لہٰذا ہمیں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کیلئے کام کرنا ہوگا۔ صاف پانی کی کمی، سیوریج اور صفائی ستھرائی کے ناقص نظام کی وجہ سے شعبہ صحت اور معیشت پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔ ہمیں علاج کے بجائے پریوینشن پر توجہ دینا ہوگی۔ اس کے لیے پانی کے مسائل حل کیے جائیں۔ عام لوگوں کی صاف پانی تک رسائی یقینی بنائی جائے۔ ہمیں پانی، سیوریج، نکاسی آب جیسے معاملات کیلئے پالیسی ریفارمز کی ضرورت ہے۔ تمام متعلقہ محکموں، ڈویلپمنٹ پارٹنرز، این جی اوز اور سٹیک ہولڈر ز کی مشاورت سے پالیسیوں میں موجود نقائص دور کرکے انہیں بہتر بنانااور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ ہمیں دنیا کے بہترین طریقے اپنانے کی ضرورت ہے۔

اس کے لیے ایک ایسا فورم تشکیل دینے ضرورت ہے جس میں سرکاری محکمے، ڈویلپمنٹ پارٹنرز، این جی اوز ، میڈیا، اکیڈیمیا، سول سوسائٹی سمیت تمام سٹیک ہولڈر ز شامل ہوں،ا س کی باقاعدہ میٹنگز ہوںاور سب مل کر مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کریں۔ ہمیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کوبھی فروغ دینا ہوگا۔ ضلعی سطح پر ’’واش‘‘ ماسٹر پلان بنانے کی ضرورت ہے، صوبائی سطح پر بھی یہ پلان بنانا ہوگا۔ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، لوکل گورنمنٹ و متعلقہ اداروں کی مشاورت سے یہ پلان ترتیب دینا ہوگا اور اس کا عملدرآمد کا میکنزم بھی بنانا ہوگا۔

پانی، سیوریج و دیگر مسائل پر خرچ کی جانے والی رقم کافی نہیں ہے، اس کیلئے مزید مالی وسائل کی ضرورت ہے تاکہ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جاسکے۔ ان میں ہدف نمبر 6 اس وقت ہی حاصل ہوسکتا ہے جب اس کیلئے پبلک یا پرائیوٹ سیکٹر دونوں آن بورڈ ہوں اور سرمایہ کاری کریں۔

ہمیں مختلف محکموں کے افسران، پالیسی میکرز اور قانون سازوں کی کپیسٹی بلڈنگ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وسائل کی تفویض ہوسکے اور اس سے بھی ضروری یہ ہے کہ وسائل خرچ کیے جائیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کو اپ گریڈ کرنے اور اس میں جدت لانے کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے اکیڈیمیا، ریسرچ کے اداروں کے ساتھ مل کر جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ نیوٹریشن کی بات کریں تو اس میں سب سے بڑا مسئلہ پانی کے معیار اور صاف پانی کی دستیابی کا ہے۔ اس میں ’’ملٹی سیکٹر اپروچ‘‘ اپنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں زراعت، پانی، تعلیم، چائلڈ پروٹیکشن سمیت مختلف جہتوں میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس سے وسائل میں مزید کمی آرہی ہے۔ ہمیں گروتھ ریٹ کو بہتر اور آبادی کو کنٹرول کرنے پر کام کرنا ہوگا۔

شاہنواز خان

(نمائندہ سول سوسائٹی)

22 مارچ دنیا بھر میں پانی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی مختلف ادارے یہ دن مناتے ہیں تاکہ پانی کی صورتحال کے بارے میں آگاہی پیدا کی جاسکے۔ پاکستان میں پانی کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان دس ممالک میں ہوتا ہے جو ماحولیاتی مسائل کا بدترین شکار ہیں۔ پاکستان میں پانی کی صورتحال ان تمام ماحولیاتی مسائل میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ اس سب کے باوجود ہمارے پاس کوئی ماحولیاتی پالیسی نہیں ہے۔

پنجاب ملک کا سب بڑا صوبہ ہے، یہاں گزشتہ کئی برسوں سے ماحولیاتی پالیسی التوا کا شکار ہے، اس پر فوری کام کرنا ہوگا۔ ہمارے ہاں پانی کے بے دریغ استعمال کو روکنے کے لیے کوئی قانون موجود نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ زیر زمین پانی کی سطح کم ہوتی جا رہی ہے۔ آنے والے وقت میں ہمیں پانی کے سنگین مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اگر اسی طرح زیر زمین پانی کو ٹیوب ویل اور موٹر کے ذریعے نکالا جاتا رہا تو آئندہ 25 برسوں میں ہم پانی کے لیے ترس رہے ہونگے۔ جنوبی پنجاب کے اضلاع کو پانی کے مسائل کا سامنا ہے۔ وہاںا ٓرسینک کی مقدار زیادہ ہے۔ بہاولپور سب سے زیادہ متاثر ہے۔ اسی طرح ملتان ، ڈیرہ غازی خان اور جنوبی خانیوال کے پانی میں آرسیکنک کی مقدار خطرناک حد تک موجود ہے، اس حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

مختلف حکومتوں نے اپنے اپنے دور میں صاف پانی کی فراہمی کے دعووے کیے۔ اس ضمن میں صاف اپنی کمپنی بھی بنائی گئی مگر لوگوں کو پینے کیلئے صاف پانی میسر نہ ہوسکا۔ حکومت کی جانب سے مختلف اضلاع میں فلٹریشن پلانٹس لگائے گئے، ان میں سے بیشتر پلانٹس بند پڑے ہیں۔ جہاں فلٹریشن پلانٹس کام کر رہے ہیں وہاں بھی بروقت فلٹرز تبدیل کرنے کا کوئی میکنزم نہیں لہٰذا فلٹریشن پلانٹس کی دیکھ بھال کا موثر نظام بنانا ہوگا۔

پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی جانب سے دیہاتوں میں پانی کی جو سکیمیں بنائی گئی تھی ماسوائے چند کے، سب بند پڑی ہیں۔ پنجاب رورل میونسپل سروسز کمپنی کے زیر انتظام حکومت پنجاب کا بڑ ا منصوبہ چل رہا ہے جو صاف پانی کی فراہمی، سیوریج، صفائی اور ہائی جین کے حوالے سے ہے،یہ دو سو دیہاتوں میں چل رہا ہے جس کا دائرہ کار دو ہزار دیہات تک پھیلایا جائے گا۔

یہ پروگرام ورلڈ بینک کے تعاون سے جاری ہے جس سے کافی بہتری کی توقع ہے۔ انتخابات کے بعد نئی حکومت بن چکی ہے، اسے بھی ہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ موسمیاتی تبدیلی مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے منشور میں شامل ہے۔ موجودہ حکومت کو پینے کے صاف پانی کے حوالے سے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ پنجاب میں واٹر پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے لیے بجٹ مختص کرنے اور اس کے خرچ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ اسمبلی میں ’واش کو ر گروپ‘ کو موثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ بہتر انداز میں پانی اور نکاسی آب کے حوالے سے آواز اٹھائی جاسکے۔

The post پانی بقائے زندگی… ضیاع روکنے کیلئے رویے بدلنا ہونگے! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/UzLI7KV

Saturday, 23 March 2024

‏ڈی سی اسلام آباد کا پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت دینے سے انکار

 اسلام آباد: ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے پی ٹی آئی کو وفاقی دارالحکومت میں 30 مارچ کو جلسے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

ڈی سی اسلام آباد نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر درخواست مسترد کرتے ہوئے موقف دیا کہ پی ٹی آئی نے پہلے بھی این او سی شکوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

جلسے کی درخواست ریجنل صدر عامر مسعود مغل نے دی تھی جن کی درخواست پر ہائیکورٹ نے ڈی سی اسلام آباد کو 2 دن میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت کیلیے انتظامیہ کو 2روز میں فیصلہ کرنیکا حکم

چیف جسٹس عامر فاروق نے دو دن میں فیصلہ کر کے رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائیں۔

پی ٹی آئی نے درخواست میں استدعا کی تھی کہ عدالت فریقین کو 30 مارچ کو رات 10 بجے اسلام آباد میں جلسہ کرنے کی اجازت دینے کا حکم دے، پی ٹی آئی کو پریڈ گراؤنڈ ایف 9 پارک یا ڈی چوک پر جلسے کی اجازت دی جائے۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ عدالت فریقین کو جلسے کے روز سڑکیں بند کرنے، شرکاء کے خلاف پر تشدد کارروائی نہ کرنے کے احکامات جاری کرے۔

The post ‏ڈی سی اسلام آباد کا پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت دینے سے انکار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/H1iRKf6

بھارت کے ساتھ تجارت کو بحال کرنے پر سنجیدگی سے غور کررہے ہیں، وزیر خارجہ

برسلز: وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات پر نظر ثانی کرنے کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔

واضح رہے کہ اگست 2019 میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی خود مختار حیثیت کو منسوخ کرنے کے متنازع اقدام کے بعد سے تجارتی تعلقات معطل ہو گئے تھے۔

اسحاق ڈار نے برسلز میں نیوکلیئر انرجی سمٹ میں شرکت کے بعد لندن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بھارت کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے پاکستان کی تاجر برادری کے مطالبے کا ذکر کیا۔

 

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ تجارت کے معاملات کو سنجیدگی سے دیکھیں گے۔ وزیر خارجہ نے ذکر کیا کہ اگست 2019 میں بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی آئینی اور قانونی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات کو دھچکا لگا۔

اسحاق ڈار نے نشاندہی کی کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی 16 ماہ کی حکومت نے سابقہ حکومت کی خراب پالیسیوں کے بعد پاکستان کو معاشی تباہی سے بچایا جس نے ملکی معیشت کو تباہ کیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت پاکستان کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور عام آدمی کی معاشی مشکلات کو کم کرنے کے لیے مہنگائی میں کمی لانے کے لیے پانچ سالہ روڈ میپ پر عمل درآمد کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان 1960 کی دہائی سے ایٹمی توانائی کا وژن رکھتا تھا اور عالمی اسکروٹنی کے باوجود اس نے جوہری توانائی کے فوائد سے فائدہ اٹھانا جاری رکھا اور اب دنیا کہہ رہی ہے کہ جوہری اور ہائیڈرو انرجی موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے سب سے محفوظ اور بہترین ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی قیادت کو پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کرنی چاہیے جو افغانستان میں مقیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے کیے گئے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے دہشت گرد گروپ کے خلاف افغانستان میں انٹیلی جنس پر مبنی انسداد دہشت گردی آپریشن کیا، پڑوسی ممالک کو باہمی تعاون کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بجٹ خسارے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے جال سے نکلنے کی ضرورت ہے۔

ڈار نے کہا کہ اقتصادی سفارت کاری حکومت کی اولین ترجیح ہے اور نئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے پاس پاکستان کے معاشی مسائل سے نمٹنے کی تمام تر مہارت ہے۔

The post بھارت کے ساتھ تجارت کو بحال کرنے پر سنجیدگی سے غور کررہے ہیں، وزیر خارجہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/vbi9F5T

Friday, 22 March 2024

صدر مملکت آصف علی زرداری کا یوم پاکستان کے موقع پر قوم کو پیغام

صدر مملکت آصف علی زرداری نے یوم پاکستان کے موقع پر قوم کو پیغام دیا ہے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے یوم پاکستان، 23 مارچ 2024ء کے پُرمسرت موقع پر قوم کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپ سب کیلئے نیک خواہشات کا اظہار اور دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہم تاریخی قرارداد ِپاکستان کی منظوری کی یاد منا رہے ہیں۔ جب 23 مارچ 1940ء کو ہماری عزیر قوم اور ایک آزاد وطن کی تعمیر کی بنیاد رکھی گئی۔ آئیے ، آج ہم اپنے گزشتہ سفر پر غور کریں، اپنی کامیابیوں کا جشن منائیں، آئیے ایک خوشحال اور متحد پاکستان کیلئےاپنے عزم کا اعادہ کریں۔ تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالیں تو ہمارے آباؤ اجداد کے وژن اور عزم کی یاد تازہ ہوتی ہے۔

صدر نے کہا کہ 1940ء کی قرارداد ِپاکستان ہماری تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ قرارداد سے 14 اگست 1947 ء کو پاکستان کے قیام کا راستہ ہموار ہوا۔ قائدِاعظم محمد علی جناح اور ان کے ساتھیوں نے علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کے خواب کو حقیقت میں ڈھالنے کیلئے انتھک محنت کی آزادی سے لے کر اب تک کے سفر میں ہم نے مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری مسلح افواج، سول انتظامیہ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے غیر متزلزل عزم کے ساتھ، ہماری قوم کی حفاظت، سلامتی اور خودمختاری کو یقینی بنایا ۔ دہشت گردی کے خلاف دو دہائیوں پر محیط جنگ میں اُن کا فاتحانہ کردار، قدرتی آفات کے دوران فرض کی پکار پر تیز ردِعمل، اور دنیا بھر میں امن مشنز میں ہمارا کردار عالمی امن اور پرامن بقائے باہمی کیلئے ہمارے غیر متزلزل عزم کا نمایاں اظہار ہے۔

آصف زرداری نے کہا کہ کشمیری بھائیوں کی تحریک ِپاکستان کے دوران اور غیر قانونی بھارتی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی آزادی کیلئے جاری جدوجہد میں دی جانے والی بے مثال قربانیوں کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام قابض بھارتی افواج کے ہاتھوں بدترین جبر اور ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا سامنا کررہے ہیں۔ ہندوتوا کے ایجنڈے سے متاثرہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کی یکطرفہ منسوخی اِس کی ایک مثال ہے۔ اقوام ِمتحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اس تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی ضمانت ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان مظلوم کشمیری عوام کو ان کےحق ِخودارادیت کی فراہمی تک ہر قسم کی اخلاقی اور سفارتی مدد فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ پاکستان کو اسرائیلی ڈیفنس فورسز کی جانب سے معصوم فلسطینیوں کے اندھا دھند قتل ، تعلیمی اداروں اور اسپتالوں پر مسلسل حملوں پر گہری تشویش ہے۔

آصف زرداری نے کہا کہ پاکستان 1967ءسے قبل کی سرحدوں کے مطابق القدس شریف میں دارالحکومت پر مبنی ایک آزاد، پائیدار اور ملحقہ فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے اپنی اصولی مؤقف پر قائم ہے ۔ آئیے ، آج ہم یوم پاکستان کی روح کے مطابق جمہوریت، انصاف اور مساوات کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ سب سے محنت، دیانتداری اور ہمدردی کی اقدار اپناتے ہوئے ملک کی تعمیر کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کرتا ہوں۔ ہم متحد ہو کر رکاوٹوں کو عبور کریں گے اور اپنے پیارے پاکستان کیلئے ایک بہتر اور روشن مستقبل کی جانب گامزن ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اسلامی جمہوریہ پاکستان پر رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے!

The post صدر مملکت آصف علی زرداری کا یوم پاکستان کے موقع پر قوم کو پیغام appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/0LfJUnw

ریکوڈک منصوبہ بلوچستان کی ترقی کیلیے گیم چینجر ثابت ہوگا، وزیراعظم

 اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ریکوڈک منصوبہ بلوچستان کے علاقے کی ترقی کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف سے بیرک گولڈ کمپنی کے وفد کی چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک برسٹوو کی سربراہی میں ملاقات کی۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ریکوڈک منصوبہ بلوچستان اور علاقے کی ترقی کیلئے گیم چینجر ثابت ہو گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس منصوبے سے صوبے کی ترقی اور لوگوں کی خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا، بلوچستان میں معدنیات سے بھرپور فائیدہ اٹھانے کے لئے مواصلات کے انفراسٹرکچر، خصوصاً ریلوے لائن کے حوالے سے منصوبہ سازی کی جائے گی۔

وزیراعظم نے بیرک گولڈ کو بلوچستان میں معدنیات کے دیگر منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ ضلع چاغی میں ٹیکنیکل یونیورسٹی کے قیام کے حوالے سے حکومت اور بیرک گولڈ مل کر کام کر سکتے ہیں۔حکومت سرمایہ کاروں کی سہولت کے لئے ہرممکن اقدامات کر رہی ہے جن میں سڑکوں اور مواصلات کے بہتر نظام کے منصوبے بھی شامل ہیں۔

بیرک گولڈ کے وفد نے وزیراعظم کو ریکو ڈک منصوبے پر پیشرفت پر بریفنگ دی اور بتایا کہ منصوبے کی فزیبیلٹی اس سال کے آخر تک مکمل کر لی جائے گی۔ منصوبے پر کام کرنے کے لئے مقامی اور بلوچستان ڈومیسائل کے افراد کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

بیرک گولڈ نے کارپوریٹ سوشل رسپانسی بیلیٹی کے تحت ریکوڈک کے قریب تین اسکولز قائم کئے ہیں بریفنگ میں بتایا گیا کہ بیرک گولڈ کی جانب سے اب تک سو افراد کو فنی تربیت فراہم کی جا چکی ہے،  جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔

ملاقات میں وزیر پیٹرولیم مصدق ملک ، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ ، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن محمد جہانزیب اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

The post ریکوڈک منصوبہ بلوچستان کی ترقی کیلیے گیم چینجر ثابت ہوگا، وزیراعظم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/WTpDxnj

Thursday, 21 March 2024

رمضان المبارک میں تربیت نفس

سورہ البقرۃ میں اﷲ تعالی ارشاد فرماتے ہیں، مفہوم: ’’کہو! ہم نے اﷲ کا رنگ اختیار کرلیا ہے اور اﷲ کے رنگ سے بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے اور ہم اﷲ کی عبادت کرنے والے ہیں۔‘‘

انسانی شخصیت پر اﷲ کا رنگ اﷲ کی بندگی سے چڑھتا ہے۔ ہر لمحے ظاہر و باطن میں اﷲ کی خوشی کی تلاش مطمعٔ نظر رہے تو اﷲ کا رنگ نصیب ہوتا ہے۔ اس آیت میں اﷲ کے رنگ اور اﷲ کی عبادت کا ایک ساتھ ذکر معنی خیز ہے۔ روزے پر غور کریں تو روزے کے دوران ہر لمحے ظاہر و باطن میں اﷲ کی بندگی کی جا رہی ہوتی ہے۔

آپ ٹھنڈے میٹھے پانی سے گریز کرتے ہیں، کس لیے؟ صرف اﷲ کے لیے۔ آپ گرم نرم روٹی اور مزے دار سالن سے اجتناب کرتے ہیں، کس لیے۔۔۔ ؟ صرف اﷲ کے لیے۔ آپ میٹھے رس بھرے پھلوں اور دیگر نعمتوں سے اجتناب کرتے ہیں، کس لیے۔۔۔ ؟

اگر فی الحقیقت آپ کا یہ سب کچھ اﷲ ہی کے لیے ہے تو آپ اﷲ کا رنگ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ نماز میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے کہ ہر حرکت سے پہلے اﷲ کا نام یوں لیا جاتا ہے گویا ہر جنبش اﷲ سے پوچھ کر کی جا رہی ہو۔ روز مرہ زندگی میں، نماز جیسی اﷲ کے رنگ میں رنگی مطابقت استوار رکھنے کے لیے آپؐ نے ہمیں ماشاء اﷲ، ان شاء اﷲ، الحمدﷲ، سبحان اﷲ، انا ﷲ و انا الیہ راجعون، وغیرہ جیسے کلمات سکھائے ہیں۔

ہر کام سے پہلے بسم اﷲ الرحمن الرحیم کی آیت پڑھنا بھی اﷲ کے رنگ میں رنگ جانے کے لیے ہی ہے۔ ملاقات پر السلام علیکم ورحمۃ اﷲ کہہ کر اﷲ تعالی کی رحمت کے ساتھ اﷲ کی یاد کرائی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ ہم پر انفرادی و اجتماعی طور پر، اﷲ کا رنگ غالب رہے۔

ہماری روحانی شخصیت کی خوب صورتی اﷲ کی ذات کے لیے کیے گئے اعمال سے ہے۔ سنن ابنِ ماجہ میں حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں: ’’بہت سے روزہ داروں کو بھوک کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا اور بہت سے قیام کرنے والوں کو جاگنے کے علاوہ کچھ وصول نہیں ہوتا۔‘‘

اس حدیث پر غور کریں کہ اس کی وجہ اس کے سوا کیا ہوسکتی ہے کہ ایسے روزے میں اور ایسے جاگنے میں، اﷲ کا رنگ شامل نہیں ہوا ہوگا۔ حضرت نوحؑ کے بیٹے کی زندگی اﷲ کے رنگ سے خالی تھی۔ اس نے سیلابی پانی سے بچنے کے لیے اﷲ کے سوا پہاڑ کو سہارا قرار دیا۔ یوں اس کی روحانی شخصیت ناشائستہ اعمال ٹھہری۔

ہمارے اعمال کی شکل میں، ہماری روحانی شخصیت اﷲ کے ہاں ایک روپ دھارتی ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول کریمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہ کیا تو اﷲ تعالی کو اس کے کھانا پینا چھوڑ دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘

آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ روزہ ڈھال ہے۔ روزہ شیطانی حملوں سے روکتا ہے۔ شیطانی حملوں کا دائرہ ہماری زندگی میں ہمیں اﷲ کا رنگ اختیار کرنے سے روکنے تک پھیلا ہوا ہے۔ اگر چھوٹی چھوٹی چیزوں اور باتوں میں بھی ہم اﷲ کے رنگ میں رنگتے چلے جائیں تو ہم شیطان کے اس ہتھکنڈے سے محفوظ ہوجائیں گے۔ اسی لیے ابلیس انسانی زندگی میں، اﷲ کے ایسے رنگ چڑھنے کو ہر ممکن حد تک روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد تو یہاں تک ہے کہ اگر جوتے کا تسمہ بھی درکار ہو تو اﷲ سے مانگو۔ حضرت رسول کریم ﷺ اﷲ کے رنگ میں کامل رنگے ہوئے تھے۔

فی زمانہ جو دنیاوی حالات ہیں، اس اعتبار سے دنیا میں شمولیت، مادے اور اس سے متعلق مہارتوں کے حصول سے عبارت ہو چکی ہے۔ نوحؑ کے بیٹے کی طرح مادی سہاروں پر انحصار شعوری سطح پر کیا جانے لگا ہے۔ آج کے انسان کو، مادے اور اس سے متعلق مہارتوں پر دست رس کے لیے اپنے سال ہا سال کھپانے پڑتے ہیں۔ ان مہارتوں میں ڈوبنا پڑتا ہے تب کہیں اسے مہارت ملتی ہے۔ یوں آج ہم میں سے اکثر کے پاس اﷲ کی نشانیوں پر غور کا وقت نہیں۔ ماضی کے انسان نے اپنی کم زوریوں کے باعث مادے اور مادی قوتوں کو خدا بنایا، آج ان پر قدرے قابو پاکر انسان نے اپنی صلاحیت کو خدا بنا لیا ہے۔ انسان تب بھی غلطی پر تھا، آج بھی غلطی پر ہے۔

روحانیت میں فروغ کے لیے مادے اور متعلقہ صلاحیتوں کے حصول اور برتنے کے تناظر میں اﷲ کی ذات کو، پس منظر اور پیش منظر میں رکھنا پڑتا ہے۔ یہیں سے ہمیں شیطان ورغلانے میں کام یاب ہوجاتا ہے اور مادے اور اس سے متعلق مہارتوں کے حصول کے تناظر میں، ہم پر اﷲ کا رنگ چڑھ نہیں پاتا۔ یوں ہمارا پڑھنا، لکھنا، کھانا، پینا اور دیگر امور روحانیت سے خالی رہتے ہیں۔ روزہ اس رنگ میں رنگے جانے کی ایک کام یاب ابتداء اس طرح بنتا ہے کہ روزے کی حالت میں ہم ہر ایسے کام کو اﷲ کی کسوٹی پر پرکھنے پر مجبور ہوتے ہیں ورنہ روزہ شرف ِ قبولیت کیسے پا سکتا ہے۔

روزہ مادے اور اس سے جڑی مہارتوں کے برتنے کو کم سے کم سطح پر رکھنے کی بھی مشق کرواتا ہے تاکہ اﷲ کی نشانیوں پر غور کا وقت نکل پائے۔ آپ نے غور کیا ہوگا کہ شدید گرمی، پیاس اور بھوک کئی ایک کام نہ کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ یوں ہم اس احساس کے ساتھ اﷲ کا رنگ اختیار کرنے کے لیے معاشرے کے بعض ان افراد کے متعلق بھی سوچتے ہیں کہ جو عدم ِ رمضان میں بھی مادے اور اس سے متعلق مہارتوں کی کم سے کم سطح سے بعض اوقات محروم ہوتے ہوئے بھی زندگی میں بھرپور حصہ لیتے ہیں۔

روحانی سطح پر روزہ باور کراتا ہے کہ آپ اﷲ کے مقابلے میں دنیاوی حدود میں کس قدر تجاوز کرچکے ہیں۔ ہر بندے میں تجاوز کی صورتیں مختلف ہوسکتی ہیں۔ ایک بزرگ کا قصہ ہے کہ انہوں نے اﷲ سے پاؤں میں جوتے نہ ہونے کا شکوہ کیا۔ کچھ آگے گئے تو اﷲ نے ایک معذور شخص کو زمین پر گھسٹتے اور رینگتے دکھا کر شکر میں آزما لیا۔ اس پر وہ اﷲ کے شکر گزار ہوئے کہ اﷲ نے پاؤں تو سلامت دے رکھے ہیں۔ اسی طرح ہم میں سے کسی کو خواہشات کا روزہ درکار ہے تو، کسی کو آنکھ کا، کسی کو کان کا اور کسی کو زبان کا۔

حضرت معاذ ؓ سے ابن ماجہ میں مروی ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا: ’’اس کو روک رکھو۔ میں نے عرض کیا: اے اﷲ کے نبی ﷺ! جو گفت گو ہم عام طور پر کرتے ہیں کیا اس پر بھی مواخذہ ہے؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا: اے معاذ! لوگوں کو جہنم میں اوندھے منہ گرانے کا باعث صرف ان کی زبان کی کھیتیاں ( غیبت، بہتان، گالیوں بھری باتیں) ہی تو ہوں گی۔‘‘

قبر میں پیش آنے والے سوالات ہوں یا پل ِ صراط جیسی آزمائش، یہاں وہی کام یاب ہوں گے جن کی شخصیت پر اﷲ کا جگ مگاتا رنگ چڑھا ہوا ہو۔ آپ کی قبر کے اندھیروں کو اﷲ کا یہی رنگ جگ مگانے کی مسلمہ ضمانت ہے۔ سنن نسائی کی حدیث ﷺ کے مطابق ایک دن کا روزہ جہنم سے ستّر سال کی دوری کا باعث بن جاتا ہے۔ سنن ابن ماجہ میں مروی ہے کہ جب روزہ دار کے سامنے کھانا کھایا جا رہا ہوتا ہے تو فرشتے روزہ دار کے لیے دعا کرتے ہیں۔ آپ ﷺ کے مطابق اﷲ فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لیے ہے تو اس کا بدلہ بھی پھر میں ہی دوں گا۔

اب کیا ہم اس بادشاہ ِ بے مثال کی عطا بے بہا سنبھال پائیں گے؟ جب عطا بڑی تو عمل بھی بڑا، عمل بڑا وہ جو اﷲ کے رنگ میں رنگا ہوا ہو۔ اس رمضان میں، جناب رسول اکرم ﷺ کی پیروی میں، اپنے ہر لمحے کو اﷲ کے رنگ میں رنگ دیجیے۔

The post رمضان المبارک میں تربیت نفس appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/HTWnmRw

نیکیوں کا موسم بہار

ماہِ رمضان بہت ہی برکتوں والا مہینہ ہے۔ اس ماہِ مبارک میں اﷲ کی رحمت گویا ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی مانند ہو جاتی ہے اور ہر نیک عمل کا اجر ستّر گنا بڑھ کر ملتا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ انسان کسی بھی مشق سے بغیر منصوبہ بندی اور ذہنی تیاری کے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ انسان کی اسی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے اﷲ کے رسول ﷺ نے بھی شعبان کے آخری روز ایک بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا تھا، جس میں رمضان کے فضائل کے ساتھ اس کی خصوصیات کا بھی ذکر فرمایا اور اس میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمانے کی تلقین بھی کی۔

حضرت سلمان فارسیؓ بیان کرتے ہیں کہ ماہِ شعبان کے آخری دن رسول اﷲ ﷺ نے ہمیں ایک اہم خطبہ دیا اور اس میں آپؐ نے فرمایا: ’’اے لوگو! تم پر ایک عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے جس کی ایک رات (شب قدر) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ‘‘

سورۃ البقرۃ میں بھی اس مہینے کے روزے کی فرضیت کا اعلان کیا گیا ہے:

’’ تو جو کوئی بھی تم میں سے اس مہینے کو پائے اس پر لازم ہے کہ روزہ رکھے۔‘‘

اس مہینے میں روزہ رکھنا تو فرض ہے‘ جب کہ رات کا قیام نفل ہونے کے باوجود بہت ہی اجر و ثواب کا باعث ہے۔ قیام اللیل کا اطلاق سورۃ المزمل کی آیات کی روشنی میں کم سے کم ایک تہائی رات پر ہوتا ہے‘ لیکن خلفائے راشدینؓ کے دور سے ہی اس کا کم سے کم نصاب اُمت کے اندر رواج پاگیا ہے اور وہ ہے نظامِ تراویح۔ یہ قیام اللیل بہت اجر و فضیلت کا باعث ہے۔

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اس مہینے میں اﷲ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے کوئی غیر فرض عبادت (یعنی سنّت یا نفل) ادا کرے گا تو اس کو دوسرے زمانے کے فرضوں کے برابر اس کا ثواب ملے گا اور اس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانے کے ستّر فرضوں کے برابر ملے گا۔‘‘

انسان جو بھی نیکی کرے وہ خالصتاً اﷲ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے اس لیے کہ اگر نیّت ریا کاری اور شہرت کی ہو تو وہ نیکی برباد ہوجائے گی۔ اس ماہ میں خلوصِ نیت سے ادا کیے گئے نفل کا ثواب فرض کے برابر اور ایک فرض کا ثواب ستّر فرضوں کے برابر ہو جاتا ہے۔ اسی لیے اس ماہ کو نیکیوں کا موسم بہار کہا جاتا ہے۔

اس ماہ کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے رسول اکرمؐ نے فرمایا: ’’یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنّت ہے۔‘‘ یہ مہینہ واقعی صبر کا ہے اس لیے کہ اس میں جائز، حلال اور طیّب چیزوں سے بھی انسان صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک رُکتا ہے۔ یہ رکنا دراصل صبر اور تقویٰ کی تربیت ہے۔

انسان کی نفسانی خواہشات میں حدود کو پھلانگنے کا رجحان پایا جاتا ہے‘ جب کہ تقویٰ یہ ہے کہ انسان سارا سال اپنے آپ کو حرام سے روکے رکھے، گناہ سے باز آجائے اور منکرات سے اجتناب کرے، اسی کا نام صبر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی تکلیف یا مصیبت کو خندہ پیشانی سے برداشت کرلینا ہی صبر ہے‘ جب کہ حقیقت میں صبر کا مفہوم بہت جامع اور ہمہ گیر ہے۔ چناں چہ امام راغب اصفہانیؒ نے صبر کے تین درجے مقرر کیے ہیں:

(1) گناہوں سے اپنے آپ کو روکنا۔

(2) اطاعت، بندگی اور دینی فرائض کی ادائی پر کاربند ہونا۔

(3) مشکلات اور سختیوں میں صبر کرنا۔

خاص طور پر اقامت دین کی جدوجہد کے مراحل میں آنے والی سختیوں کو جھیلنا، برداشت کرنا اور پھر استقامت کا مظاہرہ کرنا۔ اس اعتبار سے گویا پورا دین صبر کی تشریح میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں کئی مقامات پر صبر کو جنّت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

اس مبارک مہینے کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ یہ ہم دردی اور غم خواری کا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں غم گساری اور ہم دردی کے احساسات انسان میں پیدا ہوتے ہیں۔ غالباً اس کا سبب یہ ہے کہ خوش حال اور کھاتے پیتے گھرانے کے لوگ جب روزہ رکھتے ہیں تو انہیں کم از کم ان لوگوں کا احساس ضرور ہوتا ہے جو فاقوں میں زندگی گزارتے ہیں۔

اس ماہ کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں مومن بندوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ عام طور پر روزہ رکھنے سے کچھ لوگ اس لیے بھی کتراتے ہیں کہ سارا دن مشقت نہیں ہوسکے گی تو ہماری کارکردگی پر فرق پڑے گا اور اس طرح ہماری کمائی میں کمی آسکتی ہے۔ اس اندیشے کا ازالہ کردیا کہ ہرگز ایسا نہیں ہے۔ بندۂ مومن کو یقین ہونا چاہیے کہ روزے کی وجہ سے اس کے رزق میں کوئی کمی نہیں آئے گی، چاہے کارکردگی عام دنوں سے کم ہوجائے۔

آپؐ نے فرمایا: ’’جس نے اس میں کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو یہ اس کے گناہوں کی مغفرت اور آتش دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہوگا اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے۔‘‘

یہاں ایک لمحے رک کر سوچنا چاہیے کہ ہماری ہم دردی اور غم گساری کے سب سے زیادہ مستحق کون لوگ ہیں۔۔۔ ؟

اس کا جواب یقیناً یہ ہے کہ ہماری ہم دردی کے مستحق معاشرے کے وہ لوگ ہیں جنہیں عام دنوں میں دو وقت کی روٹی بھی میسّر نہیں آتی۔ اگر آپ ان کا روزہ افطار کرائیں تو اس سے معاشرے کے اندر جو بھائی چارے کی فضا بنے گی اس کا ہم اندازہ بھی نہیں کرسکتے۔

رسول اکرمؐ کا انتہائی پُرمغز خطبہ جاری تھا کہ حضرت سلمان فارسیؓ نے گویا درمیان میں یہ سوال پوچھ لیا: ’’اے اﷲ کے رسولؐ! ہم میں سے ہر ایک کو تو افطار کرانے کا سامان میسر نہیں ہوتا۔‘‘ اس پر آنحضورؐ نے فرمایا: ’’اﷲ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی دے گا جو دودھ کی تھوڑی سی لسی پر یا ایک کھجور پر یا صرف پانی ہی کے ایک گھونٹ پر کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرا دے۔ اور جو کوئی کسی روزہ دار کو پورا کھانا کھلا دے اس کو اﷲ تعالیٰ میرے حوض (کوثر) سے ایسا سیراب کرے گا کہ جس کے بعد اس کو کبھی پیاس ہی نہیں لگے گی تاآںکہ وہ جنت میں پہنچ جائے گا۔ ‘‘

یہاں بین السطور یہ پیغام پنہاں ہے کہ جس کو کچھ میسر نہیں ہے وہ اپنے ساتھ کسی کو پانی‘ دودھ یا لسّی کے ایک گلاس میں بھی شریک کرلیتا ہے تو یہ بہت اجر و ثواب کی بات ہے۔ لیکن اگر معاملہ یہ ہو کہ خود اپنے لیے تو پکوان سجے ہوئے ہوں اور دوسروں کو صرف شربت یا لسی کے دو گھونٹ پر افطار کروایا جا رہا ہے تو یہ پسندیدہ عمل نہیں ہے۔ اس حوالے سے اصل بات یہ ہے کہ اس کی عملی تعبیر سامنے آنی چاہیے اور ہمیں اس پر بالفعل عمل بھی کرنا چاہیے۔

رسول اکرمؐ نے اس ماہ کو تین حصوں میں تقسیم فرماتے ہوئے ہر عشرے کی الگ خصوصیات کا ذکر فرمایا: ’’اس ماہِ مبارک کا ابتدائی حصہ رحمت، درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ آتش دوزخ سے آزادی ہے۔‘‘

استقبالِ رمضان کے حوالے سے انتہائی اہم خطبے کے آخری الفاظ یہ ہیں:

’’اور جو آدمی اس مہینے میں اپنے غلام و خادم کے کام میں تخفیف و کمی کر دے گا، اﷲ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے گا اور اس کو دوزخ سے رہائی اور آزادی دے گا۔‘‘

یہ بھی گویا ہم دردی اور غم گساری کا ایک مظہر ہے کہ اپنے ماتحت لوگوں کی ذمے داریوں میں تخفیف کردی جائے۔

رسول اکرمؐ نے فرمایا: ’’کتنے ہی روزے دار ایسے ہیں کہ انہیں روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘ ایک حدیث میں اس کی وجہ بھی بیان کی گئی ہے: جو شخص (روزہ رکھ کر) جھوٹی بات بنانا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اﷲ کو اس بات کی ضرورت نہیں کہ وہ محض اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔ اصل میں روزہ وہی ہے جو مکمل آداب اور شرائط کے ساتھ رکھا جائے۔

رمضان واقعی نیکیوں کی برسات کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں اگر ہم صحیح معنوں میں محنت کرکے اپنے نفس کی تربیت کرلیں تو اس کا اور کوئی بدل نہیں ہوسکتا اور اگر ہم اس ماہ میں بھی اﷲ کی رحمت سمیٹنے اور اپنی بخشش کرانے سے محروم رہ جائیں تو پھر ہم سے بڑا بدنصیب اور کوئی نہیں ہوسکتا۔

درحقیقت رمضان المبارک کے دو متوازی پروگرام ہیں، ایک ہے دن کا روزہ اور دوسرا ہے رات کا قیام۔ رسول کریمؐ نے فرمایا: ’’جس نے رمضان کے روزے رکھے ایمان اور اجر و ثواب کی امید کے ساتھ اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے گئے، اور جس نے رمضان (کی راتوں) میں قیام کیا (قرآن سننے اور سنانے کے لیے) ایمان اور اجر و ثواب کی امید کے ساتھ اس کے بھی تمام سابقہ گناہ معاف کر دیے گئے، اور جو لیلۃ القدر میں کھڑا رہا (قرآن سننے اور سنانے کے لیے) ایمان اور اجر و ثواب کی امید کے ساتھ اس کی بھی سابقہ تمام خطائیں بخش دی گئیں۔‘‘

اسی طرح ایک اور حدیث میں فرمایا: روزہ اور قرآن (قیامت کے روز) بندے کے حق میں شفاعت کریں گے۔ روزہ عرض کرے گا: اے ربّ! میں نے اس شخص کو دن میں کھانے پینے اور خواہشاتِ نفس سے روکے رکھا، تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔ اور قرآن یہ کہے گا: اے پروردگار! میں نے اسے رات کے وقت سونے اور آرام کرنے سے روکے رکھا، لہٰذا اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔ چناں چہ (روزہ اور قرآن) دونوں کی شفاعت بندے کے حق میں قبول کی جائے گی اور اس کے لیے جنّت اور مغفرت کا فیصلہ فرما دیا جائے گا۔

The post نیکیوں کا موسم بہار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/TNIAt8p

افغانستان کی بھارت کے ساتھ تجارتی راہداری روک سکتے ہیں، وزیر دفاع

 کراچی: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان کی بھارت کے ساتھ تجارتی راہداری روک سکتے ہیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے وائس آف امریکا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہ افغانستان کو خبردار کیا ہے کہ اگر افغانستان دشمن جیسا سلوک کرتا ہے تو ہم اس کی بھارت کے ساتھ تجارتی راہداری روک سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان اپنی سرزمین پر پاکستان مخالف دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام رہا لہٰذا افغانستان کو بھارت کے ساتھ تجارت کیلئے فراہم راہداری بند کرسکتے ہیں۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ یہ پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ سرحدپار سے دہشتگردی بہت بڑھ چکی، ٹی ٹی پی نےاحسان کیا اور آپ شکرگزار ہیں تو ان کو روکیے، ہمسایہ ملک کے ساتھ مسلح تصادم نہیں چاہتے، طاقت آخری حربہ ہے۔ افغانستان دشمن جیسا سلوک کرتا ہے تو ہم تجارتی راہداری کیوں فراہم کریں؟

The post افغانستان کی بھارت کے ساتھ تجارتی راہداری روک سکتے ہیں، وزیر دفاع appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/o5lj2ui

Wednesday, 20 March 2024

ملک بھر میں بجلی و گیس چوروں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

 اسلام آباد: بجلی اور گیس چوروں کے خلاف ملک بھر میں کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا گیا۔

وفاقی وزیرداخلہ محسن   نقوی کی ہدایت پر  بجلی اور گیس چوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے لئے اسپیشل ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں۔ وزیرداخلہ نے اس سلسلے میں ایف آئی اے کو خصوصی ٹاسک دے دیا۔

وزیر داخلہ  کی زیر صدارت اسلام آباد میں اجلاس ہوا۔ ایف آئی اے حکام نے یونان کشتی حادثے کی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ محسن نقوی نے کہا کہ اس سانحہ میں ملوث تمام عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانا ہوگا۔ انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ اس ناسور کا خاتمہ ہوسکے۔

اجلاس کو بریفنگ میں کہا گیا کہ ہنڈی حوالہ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی سے پاکستانی روپے کی قدر میں بہتری آئی ہے۔  وزیر داخلہ نے ایف آئی اے کو ہنڈی حوالہ میں ملوث افراد کے خلاف گھیرا مزید تنگ کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری داخلہ، ایڈیشنل ڈی جیز اور پاکستان کے  تمام  ریجن کے ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔

 

The post ملک بھر میں بجلی و گیس چوروں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/j8TXino

وزیراعظم کی زیر صدارت خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس جاری

 اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس جاری ہے۔

اجلاس میں سول و عسکری قیادت نے شرکت کی، آرمی چیف جنرل عاصم منیر ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہیں جبکہ اجلاس میں سابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اور نگراں کابینہ بھی شریک ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وفاقی وزراء بھی ایپکس کمیٹی اجلاس میں شریک ہیں۔

اجلاس میں تمام وزرائے اعلیٰ کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے جس میں ایس آئی ایف سی سے متعلق ارکان کو تفصیلی بریفنگ دی جا رہی ہے۔ اجلاس میں ملک میں سرمایہ کاری سے متعلق امور کا جائزہ لیا جائے گا۔

The post وزیراعظم کی زیر صدارت خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس جاری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/DsLij5f

کراچی میں کھلے گٹر نے ایک اور بچے کی جان لے لی

  کراچی: شاہ لطیف ٹاؤن میں کھلے ہوئے گٹر نے ایک اور کمسن بچے کی جان لے لی۔

شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے سیکٹر 22 بی میں گھر کے باہر کھیلتے ہوئے 4 سالہ محسن لاشاری ولد محمد مصطفیٰ گٹر میں گر گیا تھا جسے مکینوں نے فوری طور پر باہر نکال کر قریبی اسپتال پہنچایا۔

اسپتال میں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد اس کی موت کی تصدیق کردی بعدازاں متوفی کے ورثا لاش بغیر کارروائی کے لیکر چلے گئے۔ لواحقین میں متعلقہ حکام کے خلاف شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔

واقعہ کے بعد متوفی حسن کے لواحقین نے متعلقہ حکام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی مجرمانہ غفلت و لاپروائی کی وجہ سے ہمارا بچہ زندگی سے محروم ہوگیا۔

دوسری جانب علاقے میں جگہ جگہ گٹر کھلے ہوئے ہیں اور ان پر ڈھکن لگانے کی زحمت تک گوارا نہیں کی جا رہی جس کے باعث یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔

The post کراچی میں کھلے گٹر نے ایک اور بچے کی جان لے لی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/tVOs3C0

Tuesday, 19 March 2024

مختلف شعبوں میں مدد کیلئے چینی قیادت کے مشکور ہیں، وزیر خزانہ

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ مختلف شعبوں میں مدد کیلئے چینی قیادت کے مشکور ہیں۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق وفاقی وزیرخزانہ اورنگزیب سے چین کے سفیرزیانگ ڈونگ نے ملاقات کی ہےوزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق ملاقات میں وزیرخزانہ نے چینی سفیر سے اقتصادی تعاون اورباہمی تعلقات پربات چیت کی جبکہ چینی سفیر نے وزیرخزانہ کو عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد دی۔

چینی سفیر کا کہنا تھا کہ پاک چین معاشی تعلقات کی مزید مضبوطی کیلئے پُراعتماد ہوں اس موقع پر وزیر خزانہ نے کہا کہ مختلف شعبوں میں مدد کیلئے چینی قیادت کے مشکور ہیں، سیف ڈپازٹ رول اوورکرنے پر چین کے خصوصی طورپرمشکورہیں، رول اوور اور کمرشل قرض سے پاکستان کی معیشت میں استحکام آیا ان کا کہنا تھاکہ پاکستان کی ترقی اور معاشی بحالی کیلئے سی پیک بہت اہم ہے۔

اعلامیے کے مطابق ملاقات میں صنعتی زون، زراعت، معدنیات، قابل تجدید توانائی شعبےمیں تعاون پراتفاق کیا گیاہے پاکستان اورچین کے درمیان معاشی تعلقات مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا اور کہا گیا کہ سی پیک کے اگلے مرحلے میں موجودہ سی پیک منصوبوں پرتوجہ مرکوز ہوگی۔

The post مختلف شعبوں میں مدد کیلئے چینی قیادت کے مشکور ہیں، وزیر خزانہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/qoxPwiD

آرمی چیف کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، سیکورٹی تعاون سمیت دیگرامورپرتبادلہ خیال

ریاض: آرمی چیف جنرل سید عاصم منیرسعودی عرب کا سرکاری دورہ کیا اور سعودی قیادت سے ملاقات کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن و سلامتی، دو طرفہ دفاع اور سیکورٹی تعاون سمیت باہمی دلچپسی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات میں شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود،  سعودی وزیر دفاع جنرل فیاض بن حمید الرویلی، چیف آف جنرل اسٹاف سعودی مسلح افواج اور انجینئر طلال عبداللہ العتیبی کے معاون وزیر دفاع اور دیگر اعلیٰ عسکری قیادت موجود تھی۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تاریخی برادرانہ اور مضبوط تعلقات ہیں اور دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔

شہزادہ  محمد بن سلمان نے دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب مستقبل میں بھی ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ آرمی چیف نے پاکستان کے لیے گرمجوشی کے جذبات اور حمایت پر سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

The post آرمی چیف کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، سیکورٹی تعاون سمیت دیگرامورپرتبادلہ خیال appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/0cCY3UR

کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

 کوئٹہ: بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، پیما مرکز کے مطابق پیشن، نوشکی، چمن اور قلعہ عبداللہ میں 5.6 کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔ زلزلے کے باعث لوگوں گھروں سے باہر نکل آئے۔

پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی گہرائی 30 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی جب کہ زلزلے کا مرکز کوئٹہ سے جنوب مغرب میں 166 کلومیٹر دور پاک افغان سرحد کے قریب ضلع نوشکی سے ملحقہ افغان صوبہ کندھار کا علاقہ شوراوک تھا۔

واضح رہے کہ قلعہ عبداللہ میں آج مسلسل دوسرے روز زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے، قلعہ عبداللہ میں آج علی الصبح بھی قلعہ عبداللہ اور دیگر علاقوں میں جھٹکے محسوس کئے گئے تھے۔

The post کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/GypIgU9

الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز کے انٹرا پارٹی الیکشن تسلیم کرلیے

 اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف پارلیمنٹرینز کے ضمنی انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم کرلیے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی پی کے ضمنی الیکشن کو تسلیم کرنے کے بعد انہیں پارٹی رجسٹریشن کا سرٹیفیکٹ جاری کردیا گیا۔

نوٹی فکیشن کے مطابق محمود خان پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز کے چیئرمین جبکہ ملک افضل دین نائب چیئرمین ہوں گے۔

 

واضح رہے کہ پرویز خٹک کےاستعفی کیوجہ سے پی ٹی آئی پی کے چئیرمین کا عہدہ خالی ہوا تھا۔

The post الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز کے انٹرا پارٹی الیکشن تسلیم کرلیے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/BcC5q2F

Monday, 18 March 2024

بھارت سے چیمپئنز ٹرافی پر مثبت تاثر سامنے آیا ہے، چیئرمین پی سی بی

  کراچی: پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے کہا ہے کہ چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کے لیے پوری طرح پرامید ہیں اور بھارت کی جانب سے بھی مثبت تاثر سامنے آیا ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار نیشنل بینک اسٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،محسن نقوی نے کہا کہ کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں چیمپئنز ٹرافی کے میچز ہونگے، چیمپئنز ٹرافی کا ایشو آئی سی سی کے ایجنڈے میں تھا، چیمپئنز ٹرافی کے تمام میچز پاکستان میں کرانے کی پوری کوشش ہے، قومی ٹیم کے لیےہیڈ کوچ کی تلاش جاری ہے، ایک ہفتے تک فیصلہ متوقع ہے،پی سی بی میں ضروری تبدیلیاں کی جائیں گی، اگلے چار ماہ میں نو ہزار ڈومیسٹک میچز کرانے کا ہدف ہے۔

انہوں نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی ہی کپتان کا فیصلہ کرے گی، میری مرضی سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان نہیں آئے گا،قومی سلیکشن کمیٹی میں چند تبدیلیاں کریں گے، قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کے لیے شین واٹسن سے معاملات پر بات چیت جاری تھی،تاہم بات چیت قبل از وقت باہر آنے سے مسائل پیدا ہوئے۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ میرے پاس جادو کا چراغ نہیں، ہار جیت کھیل کا حصہ ہے، آئی سی سی میٹنگ کے دوران بھارتی کرکٹ بورڈ کے جے شاہ سے ملاقات اچھی رہی، امید ہے کہ ان کی جانب سے مثبت رویہ اپنایا جائے گا، لاہور کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی پر کھیل کی ترقی کے حوالے سے اقدامات کیے جا رہے ہیں اس ضمن میں چار سے پانچ پچز بن رہی ہیں، ایک پچ آسٹریلیا اور ایک پچ انگلینڈ سے مٹی منگوا کر بنوا رہے ہیں،معیاری وکٹیں بنانے کے لیے افرادی قوت کی کمی کا سامنا درپیش ہے،اس حوالے سے کام کیا جا رہا ہے اگر ضرورت پڑی تو بیرون ملک سے افرادی قوت کو لائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کے لیے سینٹرل کانٹریکٹ کی پالیسی پر عمل درآمد کیا جائے گا،جلد ہی پی سی بی کی جانب سے پالیسی واضح کی جائے گی کہ ادارے میں کام کرنے والا دوسری جگہ اپنی خدمات سرانجام نہیں دے گا،اسٹیڈیمز کو اسٹیٹ آف دی آرٹ بنوائیں گے،اس حوالے سے ضروری اقدامات بھی کیے جائیں گے،چیمپٸنز ٹرافی کی میزبانی کے لیے پوری تیاری ہے،پر امید ہیں کہ امید ہے ٹرافی پاکستان میں ہوگی، کرکٹ کے مراکز کو اپ گریڈ کر رہے ہیں،امید ہے کراچی لاہور اور اسلام آباد کے وینیوز تیار ہوجاٸیں گے،پاکستان کی بہتری کے لیے ہرممکن کام کرنے کی کوشش کریں گے۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ میں وفاقی وزیر داخلہ اور چیئرمین پی سی بی ایک ساتھ دونوں عہدوں پر خدمات انجام دینے کو تیار ہوں،ایک ہفتے میں غیرملکی کوچ کا معاملہ حل ہوجاٸے گا، پی سی بی میں ملازمین کی بہتات ہے،پاکستان ٹیم کے 11 کھلاڑی ہیں اور بورڈ میں ملازمین کی تعداد 900 کے لگ بھگ ہے، کسی کو نوکری سے نکالنا نہیں چاہتا،لیکن ہم نے پیسے بھی بچانے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ پچھلے سال ہم نے27 سو ڈومیسٹک میچ کرواٸے، اب ہمارا ٹارگٹ ہے اگلے 4 ماہ میں 9 ہزار میچ کرواٸیں گے، جتنا گراس روٹ پر توجہ دیں گے،اسکول اور کالج ٹورنامنٹ شروع کرنے جارہے ہیں،میچز کروانا صرف مقصد نہیں ہمیں لڑکوں کو آگے لانا ہے،کپتان کی تعیناتی سلیکشن کمیٹی کرے گی،سلیکشن کمیٹی میں تبدیلیاں لاوں گا،سلیکشن کمیٹی کو باختیار کریں گے اور وہی جوابدہ ہوں گے، میں ابھی کسی کا نام نہیں لوں گا کیونکہ اتنی باتیں چلتی ہیں جس کی وجہ سے تو میں بڑا غیر ملکی شخصیات کے نعرہ کش ہو جاتی ہیں،پہلے لوگ پیسے بچا بینک میں جمع کرتے تھے،اب وہ پیسے کرکٹ کے اوپر لگیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میچز کے موقع پر اسٹیڈیم میں فلسطین کے جھنڈے لانے کا معاملہ دیکھنا صوبائی حکومتوں کا کام ہے میں اس حوالے سے اور پالیسی نہیں بنا سکتا،حارث رؤف اچھا کھلاڑی ہے لیکن ٹیم کی ترجیح پر کوٸی سمجھوتا نہیں ہوگا، جو ملک سے نہیں کھیلے گا اس کے لیے یہی پالیسی ہے، کراچی کے نیشنل بینک اسٹیڈیم میں تماشائیوں کا نہ آنا ایک سوالیہ نشان ہے اس حوالے سے میں خود بھی حیران زدہ ہوں،ہم کو اس پہلو پر سوچنا ہوگا کہ کراچی میں تماشائی میچ دیکھنے کیوں نہیں اتے۔

محسن نقوی نے مزید کہا کہ پہلی دفعہ لاہور اور راولپنڈی کے اسٹیڈیمز میں تماشائیوں کی بڑی تعداد نے میچ دیکھنے کے لیے میدانوں کا رخ کیا تا ہم کراچی میں تماشائیوں کا نہ آنا حیران کن ہے،کراچی میں سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں تا ہم تماشائیوں کو میدان میں لانے کے لیے لائے عمل تیار کریں گے۔

The post بھارت سے چیمپئنز ٹرافی پر مثبت تاثر سامنے آیا ہے، چیئرمین پی سی بی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/0N6whBT

کچلاک میں سڑک کنارے نصب بم دھماکے سے پھٹ گیا

 کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے کچلاک میں بم دھماکے کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوگئے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق کچلاس میں سڑک کنارے نصب بم زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے جنہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

دھماکے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے نفری نے جائے وقوعہ پہنچ کر جگہ کو سیل کر کے شواہد اکھٹے کرلیے تاہم کسی بھی گروپ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

اُدھر وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کی اور زخمیوں کو بہترین علاج کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

The post کچلاک میں سڑک کنارے نصب بم دھماکے سے پھٹ گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/GKa6EOI

Sunday, 17 March 2024

رمضان المبارک رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ؛ ملکی استحکام کیلئے خصوصی دعائیں کی جائیں!

 مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد ایک معروف عالم دین ہیں۔اس وقت آپ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان کے چیئرمین اور بادشاہی مسجد لاہور کے خطیب اور امام کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

’’رمضان المبارک‘‘ کی آمد پر ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ’’استقبال رمضان‘‘ کے حوالے سے مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد کے خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا گیا جس کی رپورٹ نذر قارئین ہے۔

یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِیَامُ۔

وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرُ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ

(البقرۃ:183,184 )

’’اے ایمان والو! جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر روزہ فرض کیا گیا تھا اسی طرح تم پر روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے اس امید پر کہ تم پرہیز گار ہو جاؤ۔ (یہ روزے کے) چند گنے ہوئے دن ہیں۔ (کوئی بڑی مدت نہیں) پھرجو کوئی تم میں بیمار ہو یا سفر میں ہو تو اس کے لیے اجازت ہے کہ دوسرے دنوں میں روزے رکھ کر روزے کے دنوں کی گنتی پوری کر لے اور جو لوگ ایسے ہوں کہ ان کے لیے روزہ رکھنا ناقابل برداشت ہو (جیسے نہایت بوڑھا آدمی کہ نہ تو روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو نہ یہ توقع رکھتا ہے کہ آگے چل کر قضاء کر سکے گا) تو اس کے لیے روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دینا ہے ۔پھر اگر کوئی( معذور)اپنی خوشی سے کچھ زیادہ کرے (یعنی زیادہ مسکینوں کو کھلائے)تو یہ اس کے لیے مزید اجر و ثواب کا موجب ہو گا۔لیکن اگر تم سمجھ بوجھ رکھتے ہوکہ روزہ رکھنا تمہارے لیے (ہر حال میں )بہتر ہے‘‘۔

حدیث: الصوم لی وانا اجزی بہ

ترجمہ: (نبیؐ نے فرمایا) اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لیے ہے اور اس کا بدلہ میں ہی دوں گا۔

رمضان المبارک نزول قرآن اوراللہ تعالیٰ کی رحمتیں لوٹنے کا مہینہ ہے جس میں بندے اللہ تعالیٰ کی بندگی کی طرف محنت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں اپنی بندگی کے لیے ہی بھیجا ہے انسان تو چند روز کا مہمان ہے ،اپنی مہلت اور مدت مکمل ہونے کے بعد سفر آخرت پر روانہ ہو گا۔ خوش نصیب ہے وہ انسان جو یاد الٰہی میں اپنا وقت گزارے ،اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے ہر لمحہ بے قرار رہے ،جس کا ہر عمل سنت نبوی ؐ کے مطابق ہو اور جس کا ہر کام شریعت مطہرہ کے مطابق ہو تو ایسے انسان دنیا میں بھی کامیاب ہونگے اور آخرت میں بھی ۔ رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کو منانے کا مہینہ ہے ۔

رمضان المبارک کی فضیلت

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا : جب ماہ رمضان المبارک شروع ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ (متفق علیہ)

اولہ رحمۃ ، اوسطہ مغفرۃ ، وآخرہ عتق من النار

حضرت نبی کریم ؐ کا فرمان ہے کہ رمضان کا پہلاعشرہ رحمت ہے ،درمیانی عشرہ مغفرت اور آخری عشرہ آگ سے نجات کاذریعہ ہے (حدیث)

صحابہ کرام ؓ فرماتے ہیں کہ جب بھی ماہ رمضان المبارک کا مہینہ آتا تو ہم رسول اللہ ؐ کے اعمال میں تین باتوں کا اضافہ محسوس کرتے۔ پہلی بات یہ کہ آپؐ عبادت میں بہت زیادہ کوشاں اور جستجو فرمایا کرتے حالانکہ آپ ؐ کی عام دنوں کی عبادت بھی ایسی تھی کہ آپؐ کے قدم مبارک پر ورم ا ٓ جاتا تھا تو رمضان المبارک میں آپؐ کی عبادت اس سے زیادہ ہو جایا کرتی تھی۔ دوسری بات یہ کہ اللہ رب العزت کے راستے میں خوب خرچ فرماتے تھے، اپنے ہاتھوں کو بہت کھول دیتے تھے یعنی بہت کھلے دل کے ساتھ صدقہ اور خیرات کیا کرتے تھے ،تیسری بات یہ کہ آپؐ مناجات میں بہت زیادہ گریہ زاری فرمایا کرتے تھے ،آپ ؐ رمضان المبارک میں ان اعمال کا خصوصی اہتمام کرتے تھے۔

اپنے جسم کو تھکائیں ،ہمارے جسم دنیا کے کام کے لیے روز تھکتے ہیں زندگی میں کوئی ایسا وقت بھی آئے کہ یہ اللہ کی عبادت میں تھک جایا کریں۔ کوئی ایسا وقت آئے کہ ہماری آنکھیں نیند کو ترس جائیں اور ہم اپنے آپ کو سمجھائیں کہ اگر تم اللہ کی رضا کے لیے جاگو گے تو قیامت کے دن اللہ رب العزت کا دیدار نصیب ہو گا، یہ آنکھیں آج جاگیں گی تو کل قبر کے اندر میٹھی نیند سوئیں گی۔

جو لوگ اپنے گناہ معاف کروانا چاہتے ہیں، اللہ کا قرب حاصل کرناچاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ جب  روزہ رکھیں تو ان کا روزہ محض کھانے پینے سے رکنے تک محدود نہ ہوبلکہ روزہ دار کی آنکھیں، زبان، کان، شرم گاہ، دل، دماغ غرض کے سر سے لے کر پاؤں تک ہر چیزروزہ دار ہو۔

حدیث میں آتاہے کہ جو انسان روزہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے پانچ انعامات عطا ء فرماتے ہیں۔ روزہ دارکے لیے پہلا انعام ،روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں مشک وعنبر سے زیادہ پسندیدہ ہے ،دوسرا انعام، سمندر کی تہہ میں رہنے والی مچھلیاں روزہ دار کے لیے دعا کرتی ہیں ،تیسراانعام ، شیطان کو قید کر دیا جاتا ہے،چوتھا انعام ،روزہ دارکے لیے جنت کو سجایا جاتا ہے ،پانچواں انعام ،روزہ دار کی دن رات کی عبادت اور دعاؤں کو اللہ تعالیٰ قبول فرماتے ہیں۔ حضرت امام ابو حنیفہؒ کے حالات میں لکھا ہے کہ آپ ؒرمضان میں 63مرتبہ قرآن پاک کی تلاوت کیا کرتے تھے، ایک قرآن پاک دن میں پڑھتے ،ایک قرآن پاک رات میں پڑھتے اور تین قرآن تراویح میں سنایا کرتے تھے۔

جبرائیل ؑ کی دعاء پر آمین

حضورنبی کریم ؐ ایک مرتبہ خلاف عادت منبر پر تشریف لے جارہے تھے تو آپؐ نے آمین فرمایا۔ جب دوسراقدم مبارک رکھا پھر آمین فرمایا۔ جب تیسرا قدم مبارک رکھا تب بھی آمین فرمایا۔ صحابہ کرامؓ نے آمین کی وجہ دریافت کی تو آپؐ نے فرمایا سنو! حضرت جبرائیل ؑ تشریف لائے اور فرمایا کہ ہلاک ہو جائے وہ شخص جس کو رمضان المبارک کا مہینہ نصیب ہواور وہ اپنی مغفرت نہ کروا سکا۔ آپؐ نے بھی آمین فرمایا ،دوسری مرتبہ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا ہلاک ہو جائے وہ شخص جس کے ماں باپ یا کوئی ایک حیات ہو اور وہ انکی خدمت کر کے مغفرت نہ کروا سکے، آپؐ نے بھی آمین فرمایا ،تیسری مرتبہ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا ہلاک ہو جائے وہ شخص جو آپؐ کا نام مبارک سنے تو درود نہ بھیجے، آپؐ نے بھی آمین فرمایا۔

رمضان المبارک برکتوں کا مہینہ

حضرت مجدد الف ثانیؒ فرماتے ہیں کہ رمضان المبارک کے مہینے میں اتنی برکات کا نزول ہوتا ہے کہ بقیہ پورے سال کی برکتوں کو رمضان المبارک کی برکتوں کے ساتھ وہ نسبت بھی نہیں جو قطرے کو سمندر کے ساتھ ہوتی ہے ۔ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک اس مہینے میں نازل فرمایا بلکہ جتنی بھی آسمانی کتابیں نازل ہوئیں سب کی سب رمضان المبارک میں نازل کی گئیں ۔ کوئی کتاب چار رمضان المبارک کو ،کوئی ستائیس رمضان المبارک کو ،اللہ اکبر اس مہینے کو اللہ کے کلام سے بہت زیادہ مناسبت ہے لہٰذا اس میں قرآن پاک کی خوب تلاوت کرنی چاہیے ۔

سلف صالحین اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے یوں عبادت کیاکرتے تھے جیسے کوئی کسی روٹھے ہوئے کو مناتا ہے سبحان اللہ!روٹھے ہوئے رب کو مناتے تھے۔ اگر کوئی غلام بھاگ جائے تو پھر پکڑا جائے تواپنے مالک کے سامنے آتا ہے تو کیا کرتا ہے،اپنے مالک کے سامنے آکر ہاتھ جوڑتا ہے اپنے مالک کے پاؤں پکڑلیتا ہے اور کہتا ہے کہ اے میرے مالک آپ درگزر فرمائیں آئندہ احتیاط کروں گا ۔ رمضان المبارک میں ہم اللہ رب العزت کے سامنے اسی طرح اپنے ہاتھ جوڑیں ،سربسجود ہو جائیں اور عرض کریں کہ اے اللہ! ہم نادم ہیں ،شرمندہ ہیں۔ جو کوتاہیاں اب تک کر بیٹھے ہیں ان کو تو معاف کردے ،آئندہ زندگی ہم تقویٰ اور پرہیزگاری کے ساتھ گزرانے کی کوشش کریں گے۔

رمضان المبارک ہم سب کے لیے خیر وبرکت ،رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا مہینہ ہے۔ اس ماہ مبارک کی ستائیسویں شب کو اللہ تعالیٰ نے نعمت عظمیٰ وطن عزیز پاکستان عطا فرمایا جس پر ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو قائم و دائم رکھے اور ترقیاں عطا فرمائے ۔ماہ رمضان میں ملکی سلامتی اور استحکام کیلئے خصوصی دعائیں کریں۔ شب قدر مناجات اور اللہ تعالیٰ کو منانے کی رات ہے،آئیں مل کر توبہ استغفار اور رجوع الی اللہ کریں۔ پوری پاکستانی قوم اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے گناہوں کی معافی مانگے ،موجودہ حالات میں رجو ع الی اللہ ہی تمام مشکلات کا حل ہے۔ رمضان المبارک قبولیت کا مہینہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے جو بھی دعا مانگو گے اللہ تعالیٰ اسے شرف قبولیت عطاء فرمائیں گے۔

رمضان المبارک ہم سب کے لیے خیر و برکت کا مہینہ ہے۔ امت مسلمہ کی کامیابی اور خوشحالی کا راز اسلام اور قرآن پاک کی تعلیمات پر عمل کرنے میں پوشید ہ ہے۔ امت مسلمہ اسلام اور قرآن پاک پر عمل کر کے ساری مشکلات پر قابو پا سکتی ہے۔ آج دنیا کی بڑھتی ہوئی مشکلات کی ایک بڑی وجہ اسلام سے رو گردانی ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنی زندگی اسلام کے تابع کرے ،قرآن اور اسلام ہی تمام دنیا کے تمام لوگوں کو قلبی سکون دے سکتے ہیں ۔

روزہ دار کی فضیلت

حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا : جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے ایک دروازے کا نام ریان ہے اور اس دروازے سے صرف روزہ داروں کا ہی داخلہ ہو سکے گا۔

روزہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے ایمان کے ساتھ شریعت کو سچ جانتے ہوئے اور طلب ثواب کی خاطر رمضان کا روزہ رکھا اسکے وہ گناہ بخش دیے جائیں گے جو اس نے پہلے کیے تھے ۔

روزہ بندے کی سفارش کرے گا

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا : روزہ اور قرآن دونوں بندے کے لیے شفاعت کریں گے ۔

جان بوجھ کر روزہ نہ رکھنا

جان بوجھ کر روزہ نہ رکھنا انتہائی محرومی اور شقاوت کی بات ہے ،ایک حدیث میں ہے :من افطر یومامن رمضان من غیررخصۃ ولامرض لم یقض عنہ صوم الدھر کلہ وان صامہ (مشکاۃ:۲۰۱۳) یعنی جو شخص بلا کسی عذر کے ایک دن بھی ماہ رمضان کا روزہ چھوڑے گاتو پوری زندگی کے روزے بھی اس ایک دن کے روزے کے ثواب کی تلافی نہ کر سکیں گے ۔اگر کسی سے قصداََ روزہ نہ رکھنے کا گناہ صادر ہوگیا ہے تو اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کرے ،گڑ گڑائے ،پشیمانی کا اظہار کر ے اور جتنی جلدی ہوسکے چھوڑے ہوئے روزوں کا قضا کر لے۔

فوائد روزہ

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ روزہ رکھنا ایک بہت بڑی نیکی ہے ، جس سے ملکیت کو تقویت حاصل ہوتی ہے (ملک فرشتے کو کہتے ہیں ،اللہ تعالیٰ نے انسان میں ہر طرح کے اوصاف (عادات)رکھے ہیں، اس کے وجود میں ملکیت یعنی فرشتوں کے اوصاف، بہیمیت یعنی حیوانوں کے اوصاف، سبعیت یعنی درندوں کے اوصاف اور شیطنت یعنی جنات و شیاطین کے اوصاف موجود ہیں۔ کمال انسانیت کا تقاضایہ ہے کہ انسان کے اندر کا فرشتہ اس کے باقی اوصاف پر غالب آجائے ) روزہ سے انسان کی بہیمیت کمزور ہوتی ہے ،یہ طبیعت کی سرکشی کو مغلوب کرنے ،روح کو پاکیزہ اور صاف کرنے کا بہترین نسخہ ہے جو کہ روحانی اطباء نے تجویز کیا ہے ‘‘۔

روزے کا فدیہ

آج کل بہت سے افراد روزوں کا فدیہ اس طور پر دیتے ہیں کہ کسی شخص کو پیسے دے کر روزہ رکھوا دیتے ہیں ۔اس طرح نہ تو فدیہ ادا ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی شخص کسی کی طرف سے روزہ رکھ سکتا ہے ،بالفرض اگر وہ رمضان کے روزے کسی شخص کی طرف سے رکھتا بھی ہے ،تو رمضان کے روزے رکھنا تو ہر مسلمان پر فرض ہے ،تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے فرض روزے کے ساتھ کسی دوسرے انسان کا روزہ بھی رکھ لے ؟روزہ ان عبادات میں سے ہے جو کسی کی طرف سے ادا نہیں کیا جا سکتا ۔جس پر فرض کیا گیا ،وہ خود ہی ادا کرے گا تو ہی ادا ہوگا۔رہی بات فدیہ کی تو فدیہ ایک صدقہ ہے ،جوکسی مستحق صدقہ کو دینا ضروری ہے۔یہ فدیہ پونے دو کلو آٹا یا اس کی قیمت ادا کرنے سے ادا ہو جائے گا۔اور یہ فدیہ صرف ان حضرات کی طرف سے دیا جا سکتا ہے جو یا تو وفات پا گئے ہوں اور انہوں نے روزے نہ رکھے ہوں یا اس قدر معذور ہوں کہ آئندہ زندگی میں( آرام دہ موسم میں بھی) کبھی روزہ نہ رکھ سکتے ہوں۔

ایام رمضان کیلئے خاص دعائیں

پہلاعشرہ رحمت :

رَبِِّ اغْفِرْ وارْحمْ و انْت خیْرُ الرّٰحِمِیْنْ

ترجمہ: اے میرے رب مجھے بخش دے ،مجھ پر رحم فرما،تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

دوسرا عشرہ مغفرت:

اَسَتَغْفِرُاللّٰہَ رَبّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبِِ وَّ اَتُوْبُ اِلَیْہِ

ترجمہ: میں اللہ سے تمام گناہوں کی بخشش مانگتا /مانگتی ہوں جو میرا رب ہے،اور اسی کی طرف رجوع کرتا/کرتی ہوں

تیسرا عشرہ نجات :

اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوُّاتُحِبُّ الْعَفْوَفَاعْفُ عَنَّا

ترجمہ: اے اللہ بے شک تو معاف کرنے والا ہے معاف کرنے کو پسند کرتا ہے پس ہمیں معاف فرمادے

لیلۃ القدر کی فضیلت

مناجات اور فضیلتوں کی رات، قرآن پاک میں پوری سورۃ نازل ہوئی جسے سورۃ القدر کہتے ہیں

اناانزلنہ فی لیلۃ القدر

ترجمہ : بے شک ہم نے قرآن (پاک) کو شب قدر میں اتارا ہے ،آپ کو معلوم ہے کہ شب قدر کیا ہے ؟

شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اس رات میں فرشتے اور روح القدس اپنے پروردگار کے حکم سے ہر اَمرخیر کو لے کر اترتے ہیں ، وہ (شب) سراپا سلام ہے وہ شب قدر طلوع فجر تک رہتی ہے ۔ یہ سورۃ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی جس میں پانچ آیات ، 30کلمات اور 121حروف ہیں۔

حضرت ابوہریرہ ؓ نبی علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا جو شخص لیلۃ القدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے اس کے پچھلے سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ؐ نے فرمایا جو کوئی رمضان میں (راتوںکو) ایمان رکھ کر اور ثواب کے لیے عبادت کرے اس کے اگلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔

لیلۃ القدر بڑی عظمت و بزرگی، بڑی خیر و برکت والی ہے۔ یہ مناجات اور فضیلتوں کی رات ہے، اسی رات میں قرآن مجید نازل ہوا اور اسی رات میں آسمان سے زمین پر فرشتے اترتے ہیں۔ اسے ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا گیا ہے، اسے اگر ’’سید اللیالی ‘‘ تمام راتوں کی سردار کہا جائے تو بجا ہے ۔

شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کا ارشاد: کہا گیا ہے کہ انسانوں کے سردار آدم ؑ ہیں۔عربوں کے سردار حضرت محمدؐہیں ۔ اہل فارس کے سردار حضرت سیدنا سلمان فارسی ؓ ہیں۔ رومیوں کے سردار حضرت صہیبؓ ہیں۔ حبشیوں کے سردار حضرت بلال حبشی ؓ ہیں۔تمام شہروں کا سردار مکہ مکرمہ ہے ۔ تمام وادیوں کی سردار بیت المقدس ہے۔ تمام دنوں کا سردار جمعۃ المبارک ہے اور تمام راتوں کی سردار لیلۃ القدر ہے ۔

جمہور علماء کا مؤقف ہے کہ لیلۃ القدر امت محمدیہؐ کے ساتھ خاص ہے ۔ کسی اور امت کو یہ رات عطاء نہیں کی گئی۔ حدیث شریف میں اسی مؤقف کے تائید ہوتی ہے:

ان اللہ وھب لامتی لیلۃ القدر لم یعطھا من کان قبلھم(الدر المنثور جلدنمبر 6صفحہ نمبر 371)

حضرت امام مالک ؒ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک ثقہ و معتبر عالم سے یہ بات سنی کہ رسول اللہ  ؐ کو اگلے لوگوں کی عمریں بتلائیں گئیں توآپ علیہ السلام نے اپنی امت کے لوگوں کی عمروں کو کم سمجھااور یہ خیال کیا کہ میری عمر کے لوگ (اتنی سی عمر میں )ان پہلے لوگوں کے برابر عمل نہ کر سکیں گے تو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو لیلۃ القدر عطاء فرمائی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔

حضرت مجاہد ؓ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک عبادت گزار شخص کا یہ حال تھا کہ وہ ساری رات عبادت میں مشغول رہتا اور صبح ہوتے ہی دشمن سے جہاد کے لیے نکل جاتا دن بھر جہاد میں مشغول رہتا ایک ہزار مہینے اس نے اسی عبادت میں گزار دئیے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ’’لیلۃ القدر خیرمن الف شہر‘‘ لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔

اس رات کو لیلۃ القدر کہنے کی وجوہات

پہلی وجہ: لیلۃ القدر میں جو لفظ ’’قدر‘‘ہے اس کے معنی تقدیر و حکم کے ہیں چونکہ اس رات میں تمام مخلوقات کے لیے جو کچھ تقدیر ازلی میں لکھا ہے اس کا جو حصہ اس سال میں رمضان سے اگلے رمضان تک پیش آنے والا ہے وہ ان فرشتوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے جو کائنات کے تدبیر اور تنقیدامور کے لیے مامور ہیں اس لیے اس رات کا نام لیلۃ القدر رکھا گیا ۔

دوسری وجہ : ’’قدر‘‘ کے ایک معنی عظمت و شرافت کے بھی آتے ہیں چنانچہ عربوں کا ایک مقولہ ہے ’’لفلان قدر عند فلان‘‘فلاں شخص کی فلاں شخص کے نزدیک بڑی قدر ہے یعنی یہ شخص اس کے نزدیک بہت بزرگ اورمرتبہ والا ہے چونکہ یہ رات بھی عظمت و شرافت والی ہے اس لیے اس کا نام ’’لیلۃ القدر ‘‘رکھا گیا ،پھر اسی رات میں عظمت و بزرگی کے ہونے کے بھی دو احتمال ہیں :

(1) جو شخص اس رات میں عبادت کرتا ہے وہ اللہ کے ہاں بزرگی والا بن جاتا ہے ۔

(2) جو عبادت اس رات میں کی جاتی ہے وہ دوسری راتوں کی عبادت سے شرف و مرتبہ میں بہت بڑھ جاتی ہے ۔

تیسری وجہ : ’’قدر‘‘کے ایک معنی تنگی کے آتے ہیں چونکہ اس رات میں زمین پر فرشتے اس قدر زیادہ تعداد میں اترتے ہیں کہ زمین باوجوداپنی وسعت کے تنگ پڑ جاتی ہے اس لیے اس رات کا نام ’’لیلۃ القدر ‘‘رکھا گیا۔

لیلۃ القدر میں قرآن پاک کا نزول

قرآن پاک کے نزول کی بنا پر جو فضیلت اس رات کو حاصل ہے اس کے بعد کسی اور فضیلت کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔

ایک شبہ کا ازالہ

قرآن مجید میں قرآن کے نازل ہونے کا اشارہ تین وقتوں کی طرف کیا گیا ہے

(1) رمضان میں نازل ہوا (2) شب قدر میں نازل ہوا (3) شب برأت میں نازل ہوا

تو ان تینوں اوقات میں کیسے مطابقت ہوگی؟

جواب : لوح محفوظ سے قرآن مجید کا نزول ’’بیت العزت ‘‘میں (کہ وہ ایک جگہ ہے آسمان دنیا پر اور ملائکہ ذی قدر سے گھری ہوئی ہے )

شب قدر میں ہوا جو کہ رمضان کے مہینہ میں واقع ہے اور پھر اس کا نسخہ نقل کر کے آسمان دنیا پر پہنچانے کا فرشتوں کو حکم دیا گیا شب برأت میں ۔

حضرت ابن عباس  ؓ نقل کر تے ہیں کہ جب لیلۃ القدر کی شب ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ جبرائیل ؑ کو حکم دیتے ہیں ،چنانچہ وہ ملائکہ کے جھرمٹ میں زمین کی طرف اترتے ہیں ،ان ملائکہ کے پاس سبز جھنڈے ہوتے ہیں جو وہ بیت اللہ کی چھت پر گاڑھ دیتے ہیں ،جبرائیل ؑ کے 100پر ہیں جن میں سے وہ دو پر صرف اسی رات کھولتے ہیں وہ دو پر مشرق و مغرب سے تجاوز کر جاتے ہیں،جبرائیل ؑ امین اس رات فرشتوں کو ابھارتے ہیں چنانچہ وہ فرشتے ہر اس بندے سے سلام کرتے ہیں جو کھڑا ہو (عبادت کے لیے )یا بیٹھا ہو (عبادت کے لیے) نماز پڑھ رہا ہو یا ذکر میں مشغول ہواور ان لوگوں سے مصافحہ کرتے اور ان کی دعاؤں پر آمین کہتے ہیں یہاں تک صبح ہو جاتی ہے ،پھر جب صبح ہوجاتی ہے تو جبرائیل ؑ فرشتوں کو آوازدیتے ہیں کہ بس اب چلو ،فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے جبرائیل ؑ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کے مومنوں کی ضروریات کے بارے میں کیا فیصلہ فرمایا ہے ؟ جبرائیل امین کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نظررحمت سے دیکھتے ہوئے ان سے درگزرفرما کر انہیں بخش دیا ہے سوائے چار شخصوں کے ،صحابہ کرام کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہؐ وہ چار اشخاص کون ہیں آپؐ نے فرمایا

(1) شراب خور (2) والدین کا نافرمان (3) رشتے ناطے توڑنے والا (4) مشاحن۔

ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ؐ مشاحن سے کون مراد ہے ؟ فرمایامصارم یعنی کینہ ور

لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر

مفسرین کرام فرماتے ہیں لیلۃ القدر کے ہزار مہینوں سے بہتر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس ایک رات میں کی جانے والی عبادت ان ہزار راتوں کی عبادت سے بہترہے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو ،ایک ہزار مہینوں کے 83سال اور 4ماہ بنتے ہیں تو اس لحاظ سے معلوم ہواکہ جس نے اس رات کوپالیااس نے83سال عبادت میں گزار دئیے۔

لیلۃ القدر میں خیرو برکات اور امن و سلامتی

اللہ نے لیلۃ القدر کو ’’سلام ‘‘ فرمایاکہ یہ رات سراپا سلامتی ہے ،مفسرین اس کا ایک مطلب یہ بتاتے ہیں کہ فرشتے اس رات ابتداء سے لے کر صبح صادق تک فوج در فوج آسمان سے زمین پر اترتے رہتے ہیں اور شب بیداروں عبادت گزاروں کو سلام کرتے ہیں، امام شعبی ؒ فرماتے ہیں فرشتوں کے سلام کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، اس میں امت محمدیہ کی بڑی فضیلت ہے کیونکہ فرشتے پہلے صرف انبیاء پر اترتے تھے وحی لے کر ،اب امت محمدیہ پر اترتے ہیں سلام کرنے کیلئے اور دعاء کرنے کے لئے۔

لیلۃ القدر میں عبادت کرنے سے اگلے پچھلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں

حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ؐ نے فرمایا جو شخص لیلۃ القدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی امید سے عبادت کے لیے کھڑا ہو گا اسکے پچھلے سب گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔

حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہؐ سے لیلۃ القدر کے بارے میں سوال کیا تو آپؐ نے فرمایا وہ رمضان میں ہوتی ہے تم اسے رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو وہ طاق راتوں میں ہوتی ہے، جوشخص اس شب میں اس کی جستجو میں کھڑا ہوتا ہے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے اور اسے یہ شب نصیب بھی ہوجائے تواس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں ۔

لیلۃ القدر میں شب بیداری کیسے کی جائے

شب قدر میں توجہ اور خشوع و خضوع کے ساتھ جب تک تھکاوٹ نہ ہو تو اپنے رب کو یاد کرتے رہیں چاہے نوافل کی صورت میں یاتلاوت ،ذکرو اذکار،توبہ واستغفاراور دعاء کی صورت میں ۔

اعتکاف رضائے الٰہی کے حصول کا بہترین ذریعہ

رمضان المبارک میں تمام عبادات کا محور رضائے الٰہی کا حصول اور قرب خداوندی ہی ہوتا ہے، اعتکاف کا اصل مقصد یہ ہے کہ بندہ صرف اللہ رب العٰالمین کے ساتھ اپنا تعلق قائم کرے اور شب قدر کو تلاش کرے ،ساری مصروفیات کو ترک کر کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ مشغول ہو جائے، ہمیں چاہیے کہ ہم دوران اعتکاف تلاوت قرآن، ذکر الٰہی ،نفلی عبادات ،قضاء نمازیں اور دعاؤں کا خاص اہتمام کریں۔

صدقہ الفطر ادا کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے

صدقہ فطر رمضان شروع ہونے سے لیکر نماز عید سے پہلے تک ادا کر دینا چاہیے اگر کسی وجہ سے نماز عید تک صدقہ فطر ادا نہ کر سکا ہو تو اسکے بعد بھی دیا جا سکتا ہے لیکن اس کی ادائیگی میں جلدی کرنی چاہیے ،ہمیں چاہیے کہ مخلوق خداکی دل کھول کر امداد کریں ،اللہ تعالیٰ خدمت انسانیت کے کام کرنے والوں کو اپنا محبوب رکھتا ہے ۔

لیلۃ القدر کی خاص دعاء

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ؐ سے عرض کیا کہ مجھے بتائیے کہ اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کونسی رات شب قدر ہے تو میں اس رات اللہ سے کیاعرض کروں اور کیا دعا مانگوں ،آپؐ نے فرمایایہ عرض کرو ’’ اللھم انک عفوتحب العفوفاعف عنی ‘‘ اے میرے اللہ تو بہت معاف کرنے والا ہے اور بڑا کرم فرمانے والاہے اور معاف کردینا تجھے پسند ہے بس تو میری خطائیں معاف فرما دے۔

The post رمضان المبارک رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ؛ ملکی استحکام کیلئے خصوصی دعائیں کی جائیں! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/tAYOykf

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...