Urdu news

Saturday, 29 February 2020

کرونا وائرس خطرے کے باعث پاک افغان بارڈر بند کرنے کا فیصلہ

چمن: کرونا وائرس خطرے کے پیش نظرپاک افغان بارڈر ایک ہفتے کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق کرونا وائرس خطرے کے پیش نظرپاک افغان بارڈر ایک ہفتے کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، بارڈر بند ہونے کے نتیجے میں آمدورفت اور تجارتی سرگرمیاں معطل رہیں گی جب کہ وفاقی وزارت داخلہ نے اس حوالے سے ایف سی حکام کو مطلع کردیا ہے۔

The post کرونا وائرس خطرے کے باعث پاک افغان بارڈر بند کرنے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/39f408q

افغان امن معاہدہ عمران خان کے نظریے کی تائید ہے، فردوس عاشق اعوان

سیالکوٹ: معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ افغان امن معاہدہ عمران خان کے نظریے کی تائید ہے۔

اپنی ٹوئٹ میں فردوس عاشق اعوان نے امریکا طالبان معاہدے سے متعلق کہا کہ افغان امن معاہدہ عمران خان کے نظریے کی تائید ہے، انہوں نے ہمیشہ یہی کہا کہ مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں، افغان امن عمل میں پاکستان کا کردار سنہری حروف میں لکھے جانے کے لائق ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ افغان بھائیوں نے جنگ کے باعث تکلیفیں اٹھائیں،امن و استحکام ان کا حق ہے، افغانستان میں امن پورے خطے کے استحکام کے لئے ضروری ہے۔

 

The post افغان امن معاہدہ عمران خان کے نظریے کی تائید ہے، فردوس عاشق اعوان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3cnJHY7

پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن: سالانہ 1 ارب 10 کروڑ ہڑپ

لاہور: پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پیف) کے تحت 2لاکھ 87 ہزار بچہ اسکولوں سے غائب ہے، متعلقہ اسکولز، این جی اوز اور سرکاری افسران کی مبینہ ملی بھگت سامنے آ گئی۔

پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت جعلی بچوں کوریکارڈمیں ظاہر کرکے سالانہ 1 ارب 10کروڑ روپے فنڈز ہڑپ کرنے کا انکشاف ہوا ہے، حکومت ماہانہ فی بچہ 550روپے کے حساب سے متعلقہ اسکول، این جی اوز کو پڑھانے کا ادا کرتی رہی۔ بچے اسکولوں سے غائب کی رپورٹ آنے کے باوجود پیسے دینے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق چیئرمین پیف واسع قیوم عباسی اور وزیر تعلیم مراد راس معاملے کو دبانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ معاملہ ایم ڈی پیف شمیم آصٗف کے علم میں آنے پر متعلقہ افسران کو نوٹس جاری کر دیے گئے جبکہ وزیرتعلیم مرادس راس اور چیئرمین پیف نے ایم ڈی کو معاملہ بورڈ آف ڈائریکٹرزمیں بھیجنے سے روک دیا ہے۔

ایم ڈی پیف شمیم آصف کا کہنا ہے کہ معاملات کی تحقیقات کررہے ہیں، متعلقہ افسران سے جواب مانگ لیے گئے ہیں۔

The post پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن: سالانہ 1 ارب 10 کروڑ ہڑپ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2VzAzcU

’’عمران خان دیانت دار مگر ان کی ٹیم نااہل ہے‘‘

اسلام آباد: ایک شہری نے کہا ہے کہ خان صاحب بہت اچھے آدمی ہیں لیکن ان کی ٹیم بالکل نااہل ہے۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام’’ سینٹر اسٹیج‘‘ میں میزبان رحمان اظہر سے  وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے لاہور کے شہریوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

ایک باریش شہری نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں لیکن اس میں عوام کیلیے کچھ نہیں کیاگیا، جس ریلیف کیلیے اصل حکومت آئی تھی وہ نہیں ملا۔ ایک دکاندار نے کہاکہ مجھے نہیں لگتا کہ عثمان بزدار وزیر اعلیٰ ہیں، آپ لوگوں سے پوچھیں گے کہ عثمان بزدار کون ہیں تو کافی لوگ کہیں گے کہ میں نہیں جانتا،عمران خان کواپنی پالیسی بہترکرنا چاہئے، پی ٹی آئی نے کہا تھاکہ وہ یوتھ کو آگے لائیں گے لیکن آپ دیکھ لیں کہ یوتھ کو آگے نہیں لایا گیا، لوگوں کی امیدیں پوری نہیں ہوئیں، مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے۔

ایک دکاندار نے کہاکہ حکومت کی کارکردگی سے بالکل مطمئن نہیں ہیں، عمران خان ذاتی طورپراچھے آدمی ہیں لیکن شاید ان کی ٹیم زیروہے، عثمان بزدار کی کارکردگی زیروہے، عثمان بزدار کبھی کہیں نظر نہیں آیا، عمران خان کو چاہیے کہ مہنگائی کوکنٹرول کریں، شہباز شریف ایک گریٹ آدمی تھے یہ دس بار بھی آجائیں تو میاں برادران نہیں بن سکتے، انھیں حکومت کرنی نہیں آتی یہ استعفیٰ دیں، ہم توکہتے ہیں کہ مڈٹرم الیکشن بے شک کل ہی ہوجائیں، جنھوں نے انھیں ووٹ دیے تھے وہ بھی مایوس ہو چکے ہیں۔

ایک موٹرسائیکل سوار شہری نے کہا کہ 70 سال کے مسائل صرف ڈیڑھ سال میں ٹھک نہیں ہوسکتے اس لیے اس حکومت کومزیدوقت دینا چاہیے۔ ایک نوجوان نے کہاکہ (ن)لیگ نے دس سال حکومت کی ہے اس لیے بزدارکی ڈیڑھ سال کی کارکردگی کا ان سے موازنہ بنتا نہیں ہے،خان صاحب خود اچھے آدمی ہیں لیکن انک ی ٹیم اچھی نہیں ہے۔

ایک شہری نے کہاکہ ابھی تک حکومت نے کچھ نہیں کیا کل کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ خان صاحب بہت اچھے آدمی ہیں لیکن ان کی ٹیم بالکل نااہل ہے عثمان بزدارزیروبٹا زیروہے۔

ایک باریش نوجوان نے کہاکہ اب توجھاڑو دینے والے بھی رشوت لینے لگے ہیں پہلے ہم اپنی شکایات ایم این اے او ایم پی اے کے پاس لے جاتے تھے لیکن اب وہ بھی کہتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے۔

 

The post ’’عمران خان دیانت دار مگر ان کی ٹیم نااہل ہے‘‘ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2PyzPRt

حکومت نجی اداروں اور این جی اوز کو دیے اسکولوں کا خرچہ اٹھانے لگی

کراچی: حکومت سندھ نے نجی اداروں اوراین جی اووزکے سپرد کیے گئے سرکاری اسکولوں کے اخراجات بھی برداشت کرنے شروع کردیے ہیں۔

حال ہی میں اس حوالے سے ایک دلچسپ اور عجیب حقیقت سامنے آئی ہے کہ صوبائی حکومت کے ادارے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے اخوت فاؤنڈیشن کو adoption پالیسی کے تحت گود دیے گئے این جے وی اسکول Narayan Jaganath High School (NJV High School) کی بورڈنگ کے تمام اخراجات اپنے ذمے لے لیے ہیں اخراجات فاؤنڈیشن کی جانب سے اس کے اپنے منصوبے ’’سندھ اسکول ایجوکیشن اسکالرشپ پروگرام‘‘ (SSESP) فیز 3 کے تحت پورے کیے جائیں گے، اور اس حوالے سے باقاعدہ اشتہار دے کر امیدوار طلبہ سے درخواستیں طلب کرنا شروع کر دی گئی ہیں، ادھر بورڈنگ کی سہولت کے لیے دی جانے والی اسکالرشپ کواندرون سندھ تک محدود کر دیاگیا ہے کراچی اوراس کی مضافاتی بستیوں میں بسنے والے طلبہ کویہ سہولت نہیں دی گئی۔

محکمہ اسکول ایجوکیشن کے ذرائع کہتے ہیں کہ تاریخی حیثیت کے حامل این جے وی اسکول کوگوددیے جانے کے سلسلے میں صوبائی محکمہ اسکول ایجوکیشن اوراخوت فاؤنڈیشن کے مابین کیے گئے اس معاہدے میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جس کے تحت طلبہ کے بورڈنگ کے اخراجات حکومت سندھ یااس کاکوئی ماتحت ادارہ اٹھائے گا۔

اس بات کی تصدیق سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے سربراہ اورریٹائربیوروکریٹ قاضی عبدالکبیرنے ’’ایکسپریس‘‘ سے بات چیت میں کی ہے اورکہاہے کہ معاہدے میں توکوئی ایسی بات نہیں تھی کہ این جے وی اسکول کے بورڈنگ کے اشتہارات حکومت سندھ برداشت کرے گی تاہم انھوں نے اس سلسلے میں دیے گئے اشتہار کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ اخوت فاؤنڈیشن کے تحت چلائے جانے والے این جے وی اسکول میں بورڈنگ کچھ عرصے قبل ہی شروع ہوئی ہے یہ منصوبہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن ہی کاہے۔

سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے ایک فیصلے کے بعد کچھ روزقبل ایک متنازع اشتہارجاری کیااس اشتہارکے مطابق حکومتی ادارہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن نجی ادارے کے ماتحت چلنے والے اس اسکول کے لیے سرکاری اسکول کے جن غریب طلبہ کواسکالرشپ دے گاان سے درخواستوں کے ساتھ 500روپے انٹری ٹیسٹ کی فیس کی مد میں بینک چالان کی صورت میں وصول کیے جارہے ہیں جوناقابل واپسی ہیں بات صرف سندھ کے پسماندہ علاقوں میں سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے غریب طلبہ سے 500روپے فیس پے آڈرکی صورت میں لینے تک محدود نہیں بلکہ اشتہارکے مطابق یہ فیس ’’اخوت این جے وی آپریشنل فنڈ‘‘نامی اکاؤنٹ میں جمع کرائی جائے گی جس سے معلوم ہوتاہے کہ اسکالرشپ کی رقم سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن دے گااورپے آرڈرکی رقم نجی ادارہ وصول کرے گی جوٹیسٹ کوالیفائی کرنے والے طالب علم یاان کے والدین واپس بھی نہیں لے سکیں گے۔

اس سلسلے میں فاؤنڈیشن کے چیئرمین کاموقف ہے کہ یہ رقم اسکول کے اکاؤنٹ میں جائے گی جس سے اسکول کے ہی اخراجات پورے کیے جائیں گے مزیدبراں یہ بھی معلوم ہواہے کہ حیرت انگیز طورپر اسکا لرشپ کی رقم سرکاری ادارہ دے گاتاہم اسکالرشپ کے لیے طلبہ کے انتخاب کے سلسلے میں طلبہ کاتحریری ٹیسٹ این جی اواخوت فاؤنڈیشن خود لے گی اس مرحلے پر ایجوکیشن فاؤنڈیشن کاکوئی اختیارنہیں ہوگاگویااخوت فاؤنڈیشن بظاہرٹیسٹ پاس کرنے والے امیدوارکی لسٹ فاؤنڈیشن کے حوالے کردے گی۔

واضح رہے کہ جوادارہ اسکالرشپ فراہم کرتاہے کہ ٹیسٹ کامیرٹ بھی وہی طے کرتاہے اورٹیسٹ کا انعقاد بھی اسی ادارے کااختیارہوتاہے تاہم سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت دیے گئے اشتہارمیں طلبہ سے کسی بھی معلومات کیلیے ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے بجائے اخوت فاؤنڈیشن کاای میل ایڈریس دیاگیاہے۔

اسی اشتہارمیں کہاگیاہے کہ ’’یہ موقع سندھ کے تمام اضلاع میں سے دلچسپی رکھنے والے اہل امیدواروں کے لیے ہے سوائے کراچی کے‘‘جس پر شدیداعتراضات سامنے آرہے ہیں اور کراچی واس کی مضافاتی بستیوں میں رہنے والے غریب طلبہ کواس اسکالرشپ سے محروم رکھنے پر سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن پر کڑی تنقید کی جارہی ہے تاہم اس معاملے پرسندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے چیئرمین کاموقف ہے کہ کراچی کے طلبہ کوبورڈنگ کی ضرورت نہیں تاہم ہم کراچی کے لیے علیحدہ اشتہاربھی دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اشتہارکے مطابق یہ موقع نویں سے بارہویں جماعت کے طلبہ کے لیے ہے،سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے سربراہ قاضی کبیرنے اس معاملے پر مزیدموقف اختیارکیاکہ این جے وی اسکول میں بورڈنگ کے سلسلے میں ایک بچے پرابتدا میں 15ہزارروپے کے اخراجات آتے ہیں جس میں ٹریک سوٹ ،اسکول کے جوتے ،یونفیفارم دیگرضروری اشیا شامل ہیں جبکہ ماہانہ اخراجات اس کے علاوہ ہیں تاہم ان کا کہنا تھاکہ اس وقت یہ نہیں بتاسکتاہے کتنی رقم اسکالر شپ کی مد میں رکھی گئی ہے، دوسال پہلے ہی بورڈنگ شروع ہوئی ہے یہ پروجیکٹ حکومت سندھ کا ہے کہ اس اسکالرشپ کی رقم ہم دے رہے ہیں۔

انھوں نے این جے وی اسکول چلانے والی انتظامی اخوت فاؤنڈیشن کادفاع کرتے ہوئے بتایاکہ بہت سے ٹیچراخوت نے خود رکھے ہوئے ہیں سرکاری ٹیچرزسے توکام نہیں چلتااخوت نہ اپنے ٹیچررکھے ہوئے ہیں ان اساتذہ کے اخراجات بھی اخوت پورے کرتی ہے۔

 

The post حکومت نجی اداروں اور این جی اوز کو دیے اسکولوں کا خرچہ اٹھانے لگی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2VxSnp1

کرونا وائرس خطرے کے باعث پاک افغان بارڈر بند کرنے کا فیصلہ

چمن: کرونا وائرس خطرے کے پیش نظرپاک افغان بارڈر ایک ہفتے کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق کرونا وائرس خطرے کے پیش نظرپاک افغان بارڈر ایک ہفتے کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، بارڈر بند ہونے کے نتیجے میں آمدورفت اور تجارتی سرگرمیاں معطل رہیں گی جب کہ وفاقی وزارت داخلہ نے اس حوالے سے ایف سی حکام کو مطلع کردیا ہے۔

The post کرونا وائرس خطرے کے باعث پاک افغان بارڈر بند کرنے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/39f408q

افغان امن معاہدہ عمران خان کے نظریے کی تائید ہے، فردوس عاشق اعوان

سیالکوٹ: معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ افغان امن معاہدہ عمران خان کے نظریے کی تائید ہے۔

اپنی ٹوئٹ میں فردوس عاشق اعوان نے امریکا طالبان معاہدے سے متعلق کہا کہ افغان امن معاہدہ عمران خان کے نظریے کی تائید ہے، انہوں نے ہمیشہ یہی کہا کہ مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں، افغان امن عمل میں پاکستان کا کردار سنہری حروف میں لکھے جانے کے لائق ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ افغان بھائیوں نے جنگ کے باعث تکلیفیں اٹھائیں،امن و استحکام ان کا حق ہے، افغانستان میں امن پورے خطے کے استحکام کے لئے ضروری ہے۔

 

The post افغان امن معاہدہ عمران خان کے نظریے کی تائید ہے، فردوس عاشق اعوان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3cnJHY7

پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن: سالانہ 1 ارب 10 کروڑ ہڑپ

لاہور: پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پیف) کے تحت 2لاکھ 87 ہزار بچہ اسکولوں سے غائب ہے، متعلقہ اسکولز، این جی اوز اور سرکاری افسران کی مبینہ ملی بھگت سامنے آ گئی۔

پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت جعلی بچوں کوریکارڈمیں ظاہر کرکے سالانہ 1 ارب 10کروڑ روپے فنڈز ہڑپ کرنے کا انکشاف ہوا ہے، حکومت ماہانہ فی بچہ 550روپے کے حساب سے متعلقہ اسکول، این جی اوز کو پڑھانے کا ادا کرتی رہی۔ بچے اسکولوں سے غائب کی رپورٹ آنے کے باوجود پیسے دینے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق چیئرمین پیف واسع قیوم عباسی اور وزیر تعلیم مراد راس معاملے کو دبانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ معاملہ ایم ڈی پیف شمیم آصٗف کے علم میں آنے پر متعلقہ افسران کو نوٹس جاری کر دیے گئے جبکہ وزیرتعلیم مرادس راس اور چیئرمین پیف نے ایم ڈی کو معاملہ بورڈ آف ڈائریکٹرزمیں بھیجنے سے روک دیا ہے۔

ایم ڈی پیف شمیم آصف کا کہنا ہے کہ معاملات کی تحقیقات کررہے ہیں، متعلقہ افسران سے جواب مانگ لیے گئے ہیں۔

The post پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن: سالانہ 1 ارب 10 کروڑ ہڑپ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2VzAzcU

’’عمران خان دیانت دار مگر ان کی ٹیم نااہل ہے‘‘

اسلام آباد: ایک شہری نے کہا ہے کہ خان صاحب بہت اچھے آدمی ہیں لیکن ان کی ٹیم بالکل نااہل ہے۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام’’ سینٹر اسٹیج‘‘ میں میزبان رحمان اظہر سے  وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے لاہور کے شہریوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

ایک باریش شہری نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں لیکن اس میں عوام کیلیے کچھ نہیں کیاگیا، جس ریلیف کیلیے اصل حکومت آئی تھی وہ نہیں ملا۔ ایک دکاندار نے کہاکہ مجھے نہیں لگتا کہ عثمان بزدار وزیر اعلیٰ ہیں، آپ لوگوں سے پوچھیں گے کہ عثمان بزدار کون ہیں تو کافی لوگ کہیں گے کہ میں نہیں جانتا،عمران خان کواپنی پالیسی بہترکرنا چاہئے، پی ٹی آئی نے کہا تھاکہ وہ یوتھ کو آگے لائیں گے لیکن آپ دیکھ لیں کہ یوتھ کو آگے نہیں لایا گیا، لوگوں کی امیدیں پوری نہیں ہوئیں، مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے۔

ایک دکاندار نے کہاکہ حکومت کی کارکردگی سے بالکل مطمئن نہیں ہیں، عمران خان ذاتی طورپراچھے آدمی ہیں لیکن شاید ان کی ٹیم زیروہے، عثمان بزدار کی کارکردگی زیروہے، عثمان بزدار کبھی کہیں نظر نہیں آیا، عمران خان کو چاہیے کہ مہنگائی کوکنٹرول کریں، شہباز شریف ایک گریٹ آدمی تھے یہ دس بار بھی آجائیں تو میاں برادران نہیں بن سکتے، انھیں حکومت کرنی نہیں آتی یہ استعفیٰ دیں، ہم توکہتے ہیں کہ مڈٹرم الیکشن بے شک کل ہی ہوجائیں، جنھوں نے انھیں ووٹ دیے تھے وہ بھی مایوس ہو چکے ہیں۔

ایک موٹرسائیکل سوار شہری نے کہا کہ 70 سال کے مسائل صرف ڈیڑھ سال میں ٹھک نہیں ہوسکتے اس لیے اس حکومت کومزیدوقت دینا چاہیے۔ ایک نوجوان نے کہاکہ (ن)لیگ نے دس سال حکومت کی ہے اس لیے بزدارکی ڈیڑھ سال کی کارکردگی کا ان سے موازنہ بنتا نہیں ہے،خان صاحب خود اچھے آدمی ہیں لیکن انک ی ٹیم اچھی نہیں ہے۔

ایک شہری نے کہاکہ ابھی تک حکومت نے کچھ نہیں کیا کل کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ خان صاحب بہت اچھے آدمی ہیں لیکن ان کی ٹیم بالکل نااہل ہے عثمان بزدارزیروبٹا زیروہے۔

ایک باریش نوجوان نے کہاکہ اب توجھاڑو دینے والے بھی رشوت لینے لگے ہیں پہلے ہم اپنی شکایات ایم این اے او ایم پی اے کے پاس لے جاتے تھے لیکن اب وہ بھی کہتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے۔

 

The post ’’عمران خان دیانت دار مگر ان کی ٹیم نااہل ہے‘‘ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2PyzPRt

اب کچھ برا ہوا تو پہلے سے زیادہ طاقت سے واپس افغانستان جائیں گے، امریکی صدر

 واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر اب بھی کچھ برا ہوا تو اتنی قوت سے واپس افغانستان جائیں گے جو کسی نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔

وائٹ ہاؤس میں خطاب کے دوران امریکا اور افغان طالبان کے درمیان قطر میں ہونے والے امن معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت اپنےفوجیوں کو واپس گھر لانے کا ہے جب کہ مستقبل قریب میں طالبان رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ رواں برس مئی تک افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں 5 ہزار تک کمی کی جائے گی جب کہ اگر اب بھی کچھ برا ہوتا ہے تو ہم اتنی قوت سے واپس افغانستان جائیں گے جو کسی نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔

اس خبر کو بھی پڑھیں : امریکا اور طالبان میں امن معاہدے پر دستخط

واضح رہے کہ گزشتہ روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغانستان میں امن کے لیے امریکا اور طالبان نے امن معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے مطابق القاعدہ اور داعش پر پابندی ہوگی جبکہ امریکی فوج 14 ماہ میں افغانستان سے مکمل انخلا کرے گی۔

امریکا طالبان معاہدے کے مطابق افغانستان میں القاعدہ اور داعش سمیت دیگر تنظیموں کے نیٹ ورک پر پابندی ہوگی، دہشت گرد تنظیموں کے لیے بھرتیاں کرنے اور فنڈز اکٹھا کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔

The post اب کچھ برا ہوا تو پہلے سے زیادہ طاقت سے واپس افغانستان جائیں گے، امریکی صدر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2I5hVld

حکومت نجی اداروں اور این جی اوز کو دیے اسکولوں کا خرچہ اٹھانے لگی

کراچی: حکومت سندھ نے نجی اداروں اوراین جی اووزکے سپرد کیے گئے سرکاری اسکولوں کے اخراجات بھی برداشت کرنے شروع کردیے ہیں۔

حال ہی میں اس حوالے سے ایک دلچسپ اور عجیب حقیقت سامنے آئی ہے کہ صوبائی حکومت کے ادارے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے اخوت فاؤنڈیشن کو adoption پالیسی کے تحت گود دیے گئے این جے وی اسکول Narayan Jaganath High School (NJV High School) کی بورڈنگ کے تمام اخراجات اپنے ذمے لے لیے ہیں اخراجات فاؤنڈیشن کی جانب سے اس کے اپنے منصوبے ’’سندھ اسکول ایجوکیشن اسکالرشپ پروگرام‘‘ (SSESP) فیز 3 کے تحت پورے کیے جائیں گے، اور اس حوالے سے باقاعدہ اشتہار دے کر امیدوار طلبہ سے درخواستیں طلب کرنا شروع کر دی گئی ہیں، ادھر بورڈنگ کی سہولت کے لیے دی جانے والی اسکالرشپ کواندرون سندھ تک محدود کر دیاگیا ہے کراچی اوراس کی مضافاتی بستیوں میں بسنے والے طلبہ کویہ سہولت نہیں دی گئی۔

محکمہ اسکول ایجوکیشن کے ذرائع کہتے ہیں کہ تاریخی حیثیت کے حامل این جے وی اسکول کوگوددیے جانے کے سلسلے میں صوبائی محکمہ اسکول ایجوکیشن اوراخوت فاؤنڈیشن کے مابین کیے گئے اس معاہدے میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جس کے تحت طلبہ کے بورڈنگ کے اخراجات حکومت سندھ یااس کاکوئی ماتحت ادارہ اٹھائے گا۔

اس بات کی تصدیق سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے سربراہ اورریٹائربیوروکریٹ قاضی عبدالکبیرنے ’’ایکسپریس‘‘ سے بات چیت میں کی ہے اورکہاہے کہ معاہدے میں توکوئی ایسی بات نہیں تھی کہ این جے وی اسکول کے بورڈنگ کے اشتہارات حکومت سندھ برداشت کرے گی تاہم انھوں نے اس سلسلے میں دیے گئے اشتہار کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ اخوت فاؤنڈیشن کے تحت چلائے جانے والے این جے وی اسکول میں بورڈنگ کچھ عرصے قبل ہی شروع ہوئی ہے یہ منصوبہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن ہی کاہے۔

سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے ایک فیصلے کے بعد کچھ روزقبل ایک متنازع اشتہارجاری کیااس اشتہارکے مطابق حکومتی ادارہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن نجی ادارے کے ماتحت چلنے والے اس اسکول کے لیے سرکاری اسکول کے جن غریب طلبہ کواسکالرشپ دے گاان سے درخواستوں کے ساتھ 500روپے انٹری ٹیسٹ کی فیس کی مد میں بینک چالان کی صورت میں وصول کیے جارہے ہیں جوناقابل واپسی ہیں بات صرف سندھ کے پسماندہ علاقوں میں سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے غریب طلبہ سے 500روپے فیس پے آڈرکی صورت میں لینے تک محدود نہیں بلکہ اشتہارکے مطابق یہ فیس ’’اخوت این جے وی آپریشنل فنڈ‘‘نامی اکاؤنٹ میں جمع کرائی جائے گی جس سے معلوم ہوتاہے کہ اسکالرشپ کی رقم سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن دے گااورپے آرڈرکی رقم نجی ادارہ وصول کرے گی جوٹیسٹ کوالیفائی کرنے والے طالب علم یاان کے والدین واپس بھی نہیں لے سکیں گے۔

اس سلسلے میں فاؤنڈیشن کے چیئرمین کاموقف ہے کہ یہ رقم اسکول کے اکاؤنٹ میں جائے گی جس سے اسکول کے ہی اخراجات پورے کیے جائیں گے مزیدبراں یہ بھی معلوم ہواہے کہ حیرت انگیز طورپر اسکا لرشپ کی رقم سرکاری ادارہ دے گاتاہم اسکالرشپ کے لیے طلبہ کے انتخاب کے سلسلے میں طلبہ کاتحریری ٹیسٹ این جی اواخوت فاؤنڈیشن خود لے گی اس مرحلے پر ایجوکیشن فاؤنڈیشن کاکوئی اختیارنہیں ہوگاگویااخوت فاؤنڈیشن بظاہرٹیسٹ پاس کرنے والے امیدوارکی لسٹ فاؤنڈیشن کے حوالے کردے گی۔

واضح رہے کہ جوادارہ اسکالرشپ فراہم کرتاہے کہ ٹیسٹ کامیرٹ بھی وہی طے کرتاہے اورٹیسٹ کا انعقاد بھی اسی ادارے کااختیارہوتاہے تاہم سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت دیے گئے اشتہارمیں طلبہ سے کسی بھی معلومات کیلیے ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے بجائے اخوت فاؤنڈیشن کاای میل ایڈریس دیاگیاہے۔

اسی اشتہارمیں کہاگیاہے کہ ’’یہ موقع سندھ کے تمام اضلاع میں سے دلچسپی رکھنے والے اہل امیدواروں کے لیے ہے سوائے کراچی کے‘‘جس پر شدیداعتراضات سامنے آرہے ہیں اور کراچی واس کی مضافاتی بستیوں میں رہنے والے غریب طلبہ کواس اسکالرشپ سے محروم رکھنے پر سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن پر کڑی تنقید کی جارہی ہے تاہم اس معاملے پرسندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے چیئرمین کاموقف ہے کہ کراچی کے طلبہ کوبورڈنگ کی ضرورت نہیں تاہم ہم کراچی کے لیے علیحدہ اشتہاربھی دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اشتہارکے مطابق یہ موقع نویں سے بارہویں جماعت کے طلبہ کے لیے ہے،سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے سربراہ قاضی کبیرنے اس معاملے پر مزیدموقف اختیارکیاکہ این جے وی اسکول میں بورڈنگ کے سلسلے میں ایک بچے پرابتدا میں 15ہزارروپے کے اخراجات آتے ہیں جس میں ٹریک سوٹ ،اسکول کے جوتے ،یونفیفارم دیگرضروری اشیا شامل ہیں جبکہ ماہانہ اخراجات اس کے علاوہ ہیں تاہم ان کا کہنا تھاکہ اس وقت یہ نہیں بتاسکتاہے کتنی رقم اسکالر شپ کی مد میں رکھی گئی ہے، دوسال پہلے ہی بورڈنگ شروع ہوئی ہے یہ پروجیکٹ حکومت سندھ کا ہے کہ اس اسکالرشپ کی رقم ہم دے رہے ہیں۔

انھوں نے این جے وی اسکول چلانے والی انتظامی اخوت فاؤنڈیشن کادفاع کرتے ہوئے بتایاکہ بہت سے ٹیچراخوت نے خود رکھے ہوئے ہیں سرکاری ٹیچرزسے توکام نہیں چلتااخوت نہ اپنے ٹیچررکھے ہوئے ہیں ان اساتذہ کے اخراجات بھی اخوت پورے کرتی ہے۔

 

The post حکومت نجی اداروں اور این جی اوز کو دیے اسکولوں کا خرچہ اٹھانے لگی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2VxSnp1

رینجرز نے ماسک بلیک میں بیچنے والے 2 ملزم کو گرفتار کرلیا

کراچی: رینجرز نے دو الگ الگ کارروائیوں میں سرجیکل ماسک بلیک میں فروخت کرنے والے 2 ملزمان کو گرفتارکرلیا۔

رینجرز اعلامیہ کے مطابق پی ای سی ایچ بلاک 2 سے ملزم محمد عثمان کو گرفتار کرکے اس کی نشاندہی پرگلشن اقبال بلاک تیرہ ڈی سے 74 ہزار سرجیکل ماسک اور 200 عدد انفلو واٹر ڈرپ بوتلیں برآمد کرلی ملزم محمد عثمان نے کورونا وائرس سے احتیاط کے لیے شہریوں کی جانب سے ماسک کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر شوروم مالک مزمل امام کے ساتھ شراکت داری کی۔ ملزم آن لائن شاپنگ کے ذریعے بڑے پیمانے پر ماسک فروخت کررہا تھا جس پر ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے۔

دوسری کارروائی واٹر پمپ پر کرتے ہوئے دکاندار عماد کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے بھاری مقدار میں فیس ماسک کے ڈبے برآمد کرلیے۔ ملزم ایک ڈبہ 1650 روپے میں فروخت کررہا تھا۔

 

The post رینجرز نے ماسک بلیک میں بیچنے والے 2 ملزم کو گرفتار کرلیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/389aggA

شہروز سبزواری اور سائرہ یوسف نے راہیں جدا کرلیں

کراچی: اداکار شہروز سبزواری اور ان کی اہلیہ سائرہ یوسف نے گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک دوسرے سے علیحدگی کی باقاعدہ تصدیق کردی۔

شہروزسبزاواری اور ان کی اہلیہ سائرہ کے حوالے سے گزشتہ کچھ عرصے خبریں گردش کررہی تھیں کہ دونوں نے اپنی راہیں جدا کرلی ہیں۔ ان خبروں کے منظرعام پر آنے کے بعد شہروز سبزواری نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے  بتایا تھا کہ میں اورسائرہ ہمارے رشتے میں موجود اختلافات کی وجہ سے کچھ عرصے سے ساتھ نہیں رہ رہے لیکن ہمارے درمیان طلاق نہیں ہوئی ہے۔ ہم کچھ وقت تک الگ رہ کر اپنے رشتے کو ایک موقع اور دینا چاہتے ہیں۔

تاہم گزشتہ روز شہروز سبزواری اور سائرہ نے سوشل میڈیا پر اپنی علیحدگی کی باقاعدہ تصدیق کردی۔ دونوں نے سوشل میڈیا پر ایک ساتھ ایک ہی وقت میں ایک جیسا پیغام شیئر کیا۔ پیغام میں درج تحریر کے مطابق دونوں نے ذاتی اختلافات کے باعث اپنی شادی کو باقاعدہ ختم کرنے کا اعلان کیا۔

دونوں نے مزید لکھا کہ ہمارے لیے یہ مشکل وقت ہےلیکن ہم امید کرتے ہیں کہ ہم دونوں اپنی بیٹی کے لیے بہترین والدین بنیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کو انجوائے کرے اور زندگی میں محبت اور عزت حاصل کرے۔ اس کے علاوہ دونوں نے میڈیا اورعوام سے درخواست کی کہ اس مشکل وقت میں ان کی پرائیویسی اورنجی زندگی کا خیال رکھا جائے۔ شہروز سبزواری اور سائرہ 2012 میں شادی کے بندھن میں بندھے تھے دونوں کی ایک بیٹی نورے ہے۔

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر دونوں کی علیحدگی کی وجہ ماڈل و اداکارہ صدف کنول کو قرار دیا جارہا تھا اور لوگوں کا کہنا تھا کہ شہروز اور صدف کنول کے درمیان تعلقات کی وجہ سے سائرہ اور شہروز کے درمیان علیحدگی ہوئی تاہم شہروز سبزواری نے ان افواہوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے اور صدف کے درمیان کسی قسم کے تعلقات نہیں ہیں۔

The post شہروز سبزواری اور سائرہ یوسف نے راہیں جدا کرلیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/389aape

ایف بی آر نے مزید 12 بے نامی جائیددادوں کا سراغ لگالیا

اسلام آباد: ایف بی آرنے 16 ارب روپے سے زائد مالیت کی بے نامی جائیدادیں رکھنے والوں کے خلاف آئندہ ہفتے مزید بارہ ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایف بی آر کے ڈائریکٹریٹ جنرل انسداد بے نامی اقدامات نے ملک میں مزید بارہ بے نامی جائیدادوں کا سراغ لگالیااور ان بے نامی جایئدادیں رکھنے والوں کے خلاف ریفرنس تیار کرلیے ہیں، اس کے علاوہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے بے نامی جائیداددیں رکھنے والے نصف درجن سے زائد بڑے سیاستدانوں کے خلاف بھی شواہد اکٹھے کرلیے ہیں اور اگلے پندرہ دنوں میں بے نامی جائیداددیں رکھنے والے ملک کے بڑے سیاستدانوں کے خلاف بھی نے نامی جائیدادیں رکھنے کے ریفرنس دائر کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ ملک بھر میں 590 بے نامیکیسوں کی تحقیقات جاری ہیں اور 62 ارب روپے سے زائد کے 727 بے نامی داروں کے 231 اصل مالکان کے بارے بھی چھان بین جاری ہے جبکہ اس سے پہلے ملک بھر میں بائیس بے نامی جائیدادوں کے ریفرنس دائر کئے جاچکے ہیں۔

 

The post ایف بی آر نے مزید 12 بے نامی جائیددادوں کا سراغ لگالیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/38bmHIz

زائرین کی آمد جاری، کلیئر ہونے والے 252 افراد کوئٹہ روانہ

تفتان / چاغی / کوئٹہ: تفتان بارڈر سے زائرین کی آمد کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا جب کہ 15 روز قرنطینہ میں رکھنے کے بعد 252 زائرین کو کوئٹہ روانہ کردیا۔

ڈپٹی کمشنر چاغی شیر زمان کے مطابق 252 زائرین کو 14 روز پاکستان ہاوس قرنطینہ میں رکھنے کے بعد بروز ہفتہ کوئٹہ روانہ کردیا جبکہ بروز جمعہ 340 زائرین ایران سے پاکستان تفتان بارڈر میں داخل ہو گئے۔

محکمہ صحت کی جانب سے اسکرننگ کے بعد 184 زائرین کو پاکستان ہاوس میں رکھا جبکہ 156 پاکستانی جس میں تاجر و دیگر پاکستانی شہری شامل تھے ان کا بھی مکمل طبی چیک اپ اور اسکریننگ کے بعد جو شہری ایران کے متاثرہ شہروں میں نہیں گئے تھے انھیں گھر روانہ کردیا۔

 

The post زائرین کی آمد جاری، کلیئر ہونے والے 252 افراد کوئٹہ روانہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2VxS11F

رینجرز نے ماسک بلیک میں بیچنے والے 2 ملزم کو گرفتار کرلیا

کراچی: رینجرز نے دو الگ الگ کارروائیوں میں سرجیکل ماسک بلیک میں فروخت کرنے والے 2 ملزمان کو گرفتارکرلیا۔

رینجرز اعلامیہ کے مطابق پی ای سی ایچ بلاک 2 سے ملزم محمد عثمان کو گرفتار کرکے اس کی نشاندہی پرگلشن اقبال بلاک تیرہ ڈی سے 74 ہزار سرجیکل ماسک اور 200 عدد انفلو واٹر ڈرپ بوتلیں برآمد کرلی ملزم محمد عثمان نے کورونا وائرس سے احتیاط کے لیے شہریوں کی جانب سے ماسک کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر شوروم مالک مزمل امام کے ساتھ شراکت داری کی۔ ملزم آن لائن شاپنگ کے ذریعے بڑے پیمانے پر ماسک فروخت کررہا تھا جس پر ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے۔

دوسری کارروائی واٹر پمپ پر کرتے ہوئے دکاندار عماد کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے بھاری مقدار میں فیس ماسک کے ڈبے برآمد کرلیے۔ ملزم ایک ڈبہ 1650 روپے میں فروخت کررہا تھا۔

 

The post رینجرز نے ماسک بلیک میں بیچنے والے 2 ملزم کو گرفتار کرلیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/389aggA

زائرین کی آمد جاری، کلیئر ہونے والے 252 افراد کوئٹہ روانہ

تفتان / چاغی / کوئٹہ: تفتان بارڈر سے زائرین کی آمد کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا جب کہ 15 روز قرنطینہ میں رکھنے کے بعد 252 زائرین کو کوئٹہ روانہ کردیا۔

ڈپٹی کمشنر چاغی شیر زمان کے مطابق 252 زائرین کو 14 روز پاکستان ہاوس قرنطینہ میں رکھنے کے بعد بروز ہفتہ کوئٹہ روانہ کردیا جبکہ بروز جمعہ 340 زائرین ایران سے پاکستان تفتان بارڈر میں داخل ہو گئے۔

محکمہ صحت کی جانب سے اسکرننگ کے بعد 184 زائرین کو پاکستان ہاوس میں رکھا جبکہ 156 پاکستانی جس میں تاجر و دیگر پاکستانی شہری شامل تھے ان کا بھی مکمل طبی چیک اپ اور اسکریننگ کے بعد جو شہری ایران کے متاثرہ شہروں میں نہیں گئے تھے انھیں گھر روانہ کردیا۔

 

The post زائرین کی آمد جاری، کلیئر ہونے والے 252 افراد کوئٹہ روانہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2VxS11F

میڈ ان پاکستان

ویسے تو پاکستان میں ہر مظلوم فرد اپنی زندگی کے سفرکی گاڑی چلانے میں دن رات ایک کر دیتا ہے مگر مسافت طے کرنے کے لیے اصل گاڑی بھی بے حد ضروری ہے، چاہے وہ موٹرسائیکل ہو، رکشہ ہو یا چمچماتی نایاب گاڑی کو پورا کرنے کے لیے ملک کا معاشی پہیہ مناسب اسپیڈ کے ساتھ چلتے رہنا چاہیے۔

اتفاق سے پچھلے دنوں میرا لاہور ایکسپو سینٹر میں ملک کی سب سے بڑی تین روزہ آٹو موبائل کی نمائش میں جانا ہوا اور اس نمائش کی سب سے خوبصورت بات یہی تھی “Make in Pakistan جس کے میزبان (PAAPAM) Pakistan Association of Automotive Parts and Accessories Manufacturers کا مقصد ہی پاکستانی آٹو کمپنیوں کی حوصلہ افزائی اور پروموٹ کرنا تھا۔

میرا بھی جی چاہا کہ اس نمائش سے حاصل ہونے والی معلومات کو اپنے قارئین کے ساتھ شیئر کروں تاکہ اس کی اہمیت اور افادیت سے ایک عام قاری بھی مستفید ہو سکے۔ میرے لیے اس نمائش میں شرکت کرنا ایک حیرت انگیز اور خوشگوار تجربہ یوں رہا کہ اس نمائش میں شرکت نے میری معلومات میں بہت اضافہ کیا ۔ 1999میں، اپنے قیام کے وقت سے، پی اے اے پی اے ایم نے کامیابی سے اپنا سفر طے کیا ہے اور اب اس کے رجسٹر شدہ ارکان کی تعداد 299 ہے۔

پاکستان میں تقریباً3,000 آٹو پارٹس مینوفیکچررز کام کر رہے ہیں اور اِس انڈسٹری نے باعزت روزگار اور آمدنی کے تقریباً 3 ملین مواقع پیدا کیے ہیں، پانچ لاکھ ماہر کاریگروں کو بلا واسطہ اور 2.4 ملین افراد کو بالواسطہ ملازمت فراہم کی ہے۔ اس انڈسٹری نے 400 ارب روپے کی غیر معمولی سرمایہ کاری کا حجم پیدا کیا ہے اور قومی خزانے کو سالانہ 90 ارب روپے بطور ٹیکس ادا کرتی ہے۔

یہ نمائش 21 سے 23 فروری تک جاری رہی جس میں، نئی ٹیکنالوجیز کے بارے میں آگاہی اور انڈسٹری میں ہونے والی پیشرفت کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کے شوقین سمیت ایک لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ نمائش کی خاص بات یہ تھی کہ 100 سے زائد مقامی اور بین الاقوامی آٹو مینوفیکچررز کی مصنوعات اور خدمات کی وسیع رینج موجود تھی۔ پاکستان کی آٹوموبیل انڈسٹری میں ہونے والے شاندار ترقی اور وسیع گنجائش کا مظاہرہ پیش کیا گیا تھا جس سے آٹو مینوفیکچرنگ میں مستقبل کا ہب بننے کے لیے قوم کی جدوجہد کا اظہار ہوتا ہے۔

آٹو شو میں مقامی کار، ٹرک، بس، ٹریکٹر، موٹرسائیکل سازکمپنیوں اور ان کے پرزہ جات بنانے والے کمپنیوں کے سو سے زائد اسٹالز لگائے گئے، افتتاحی تقریب میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں انجم نثار، لاہورچیمبر کے صدر عرفان اقبال شیخ، انجینئرنگ ڈویلپمینٹ بورڈ کے چیئرمین الماس حیدر، پاپام کے سینئر رہنما اور پڈمک کے چیئرمین نبیل ہاشمی، پاپام کے چیئرمین کیپٹن ریٹائرڈ محمد اکرم سمیت دیگر نے شرکت کی۔

(PAAPAM) کے چیئرمین کیپٹن (ر) محمد اکرم کا کہنا تھا کہ نمائش Make in Pakistan اس لیے منعقد کی گئی ہے تا کہ لوگوں کو آگاہی ہو کہ پاکستان میں آٹو کی بڑی صنعت موجود ہے اور اس میں جتنی بھی پاکستانی کمپنیاں ہیں وہ بہت اعلیٰ اور عمدہ کام کر رہی ہیں، بس یہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت پاکستان آٹو پارٹس کی لوکل مارکیٹ کو آگے لانے میں مدد کرے اور ایسی پالیسیز لائی جائیں جن سے یہ صنعت مزید ترقی کرے۔

صدر ایف پی سی سی آئی میاں انجم نثار کا کہنا تھا کہ پاکستان آٹوشو2020 کا انعقاد خوش آیند ہے، پاکستان کی آٹوکی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، تاہم اس وقت آٹو سمیت تمام صنعتی شعبوں کو سب سے اہم مسئلہ شرح سود ہے، حکومت شرح سود کو کم کرے تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔

نبیل ہاشمی کا کہنا تھا کہ پاپام کے زیر اہتمام یہ سولہواں آٹو شو ہے، اس آٹو شو میں دنیا بھرسے خریدار آ رہے ہیں، اگرحکومت آٹو سیکٹر کے لیے نرم پالیسیاں فراہم کرے تو یہ سیکٹر مزید ترقی کر سکتا ہے۔آٹو شو کے دیگر اہم پہلوؤں میں معلومات پر مبنی متعدد سیمینارز اور تربیتی ورکشاپس بھی تھے جن میں فاضل مقررین اور ماہرین نے شرکاء سے خطاب کیا اور اْنہیں قیمتی معلومات فراہم کیں۔ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد نے اِن سیمینارز اور ورکشاپس کو بہت سراہا۔

انڈسٹری کے رہنماؤں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ، ماہرین کی مشاورت سے، ایک مؤثرآٹو پالیسی تیار کرے کیوں کہ ہماری انڈسٹری کو تیزی سے ترقی کرنے کے قابل بنانے کے لیے ایک اہم پالیسی کا طویل عرصے سے انتظار ہے۔ ایسو سی ایشن آٹو انڈسٹری کو متحد رکھنے والی قوت کے طور پر اپنا اہم کردار ادا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

پاکستان آٹو شو 2020کے دوسرے دن ’’آٹوموٹیو انڈسٹری کا مستقبل‘‘ کے عنوان سے ایک سمپوزیم منعقد ہوا۔ پی اے اے پی اے ایم سمپوزیم 2020کے پہلے ایڈیشن کا مقصد ایک ایسا پلیٹ فراہم مہیا کرنا تھا جہاں صنعت کے اہم اسٹیک ہولڈرز اور اوریجنل ایکوپمنٹ مینوفیکچررز (او ای ایم ) کو ایک دوسرے کے قریب آ سکیں اور پائیدار ترقی کے لیے معلومات کا تبادلہ کرنے کے علاوہ پالیسیوں کو ہم آہنگ بنانے اور آٹو انجینئرنگ انڈسٹری کو درپیش حالیہ چیلنجوں سے نمٹنے اور مواقع سے فائدہ اٹھانے کی غرض سے تجاویز پیش کر سکیں۔

سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے چیف آرگنائزز، افتخار احمد نے کہا ’’اس ایونٹ کا بنیادی مقصد صنعت، حکومت، تعلیمی اداروں کے درمیان رابطہ، اسٹیک ہولڈروں، انجینئروں، اوریجنل ایکوپمنٹ مینوفیکچررز (او ای ایم)، آٹو پارٹس بنانے والوں (اے پی ایم)، اور استعمال کرنے والوں کو اکھٹا کرنا تھا تا کہ وہ بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو سمجھ سکیں اور اپنے شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے مناسب پالیسیاں تشکیل دینے کے علاوہ قومی معیشت میں اپنے حصے میں اضافہ کر سکیں۔‘‘

The post میڈ ان پاکستان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Vy9Ptq

جہالت ایک قوت ہے

ایک امریکن ریڈ انڈین سردارکا پوتا اپنے ایک دوست سے بہت رنجیدہ اور بدلے کی آگ میں جلتا ہوا اس کے پاس آیا تو اس نے اس سے، اس کی کہانی سن کر کہا ’’ہم میں سے ہر شخص کے اندر دو بھیڑئیے ہوتے ہیں جو آپس میں مسلسل برسر پیکار اورگتھم گتھا رہتے ہیں۔

ایک بھیڑیا اچھا ہے وہ محبت، استقامت، قربانی، امید، فیاضی، سچائی اور ایمان کی علامت ہے جب کہ دوسرا بھیڑیا شیطانی فطرت رکھتا ہے اور غصے، حسد، پچھتاوے، غم و حرص، بڑ بولے پن، غرور، جھوٹ، احساس کمتری اور انا کی علامت ہے بس پوری زندگی ہمارے اندر دونوں بھیڑئیے آپس میں لڑتے بھڑتے رہتے ہیں اور جو جیت جائے وہ ہمارے اندر پر حکمرانی کرتا ہے‘‘ پوتے نے اپنے سردار دادا کی آنکھوں میں جھانکا اور پوچھا ’’لیکن کون سا بھیڑیا جیتتا ہے؟‘‘

سردار مسکرایا اور اس کا کاندھا تھپک کر بولا ’’دونوں میں سے وہ بھیڑیا جیت جاتا ہے جسے تم زیادہ گوشت کھلاتے ہو‘‘ اسے ہم قدرت کی نا انصافی کہیں یا ہماری بدقسمتی کہیں کہ ہمارے حصے میں با اختیار و اقتدار، اشرافیہ، بیوروکریٹس، سرمایہ دار، تاجر، جاگیر دار جو آئے وہ سب کے سب دوسرے بھیڑئیے کو گوشت کھلاتے آ رہے ہیں۔

اس لیے وہ اختیار و اقتدار پا کر عوام دوستی، رحمدلی، انصاف وعدل، عقل و شعورکا ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں اور سنگدلی، بے رحمی، بے حسی،کرپشن، لوٹ مارکا ہاتھ تھام لیتے ہیں، پھر انھیں اپنے آپ، اپنے پیاروں اور ساتھیوں کے علاوہ اورکچھ نہ تو دکھائی دیتا ہے اور نہ سجھائی دیتا ہے ان کی ساری سوچ اپنے آپ سے شروع ہو کر اپنے آپ پر ختم ہو جاتی ہے وہ اس کے علاوہ اورکچھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے محروم کر دیے گئے ہیں اور دوسری طرف آخر امریکا، برطانیہ، یورپ، جاپان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، کینیڈا، روس اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کے نصیب اور مقدر میں ایسے لوگ کیوں آتے ہیں جو اختیار و اقتدار پا کر رحم دلی ، ایمانداری، عوام دوستی، انصاف و عدل اور اصولوں کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیتے ہیں اور یہ بھی کہ وہ ایک نارمل انسان کی زندگی کی طرح اپنی زندگی گزارتے ہیں۔

یہ بات کبھی بھی سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ آخر ہمارے اور ان لوگوں کے نصیب اور مقدر اتنے مختلف کیوں ہیں، آخر ان کی مٹی میں ایسا کیا ہے جو وہ ایسے انسانوں کو جنم دیتی ہے اورآخر ہماری مٹی میں ایسا کیا ہے جو ایسے انسانوں کو جنم نہیں دیتی۔

آخر ہماری مٹی اتنی بانجھ کیوں ہے اور یہ بات بھی سمجھ سے باہر ہے کہ آخر ان ممالک کے لوگ خدا کی ایسی کونسی عبادت کر رہے ہیں جو کہ ہم نہیں کرتے اور یہ بھی کہ وہ لوگ کونسے ایسے نیک کام اور اعمال کر رہے ہیں جو ہم نہیں کرتے یا کر رہے ہیں۔

یہ سوچ سوچ کر ذہن سن ہو جاتا ہے اپنا کام کرنا بند کر دیتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے وہ بھی ہمارے جیسے انسان ہیں خطا کے پتلے اورکمزور۔ لیکن خدا ان سے اتنا کیوں راضی ہے اور ہم سے اتنا کیوں ناراض ہے وہ ہم سے ترقی،کامیابی، خوشحالی، سکون، امن، چین میں اتنے آگے ہیں کہ ہمیں ان تک پہنچنے کے لیے صدیاں بھی کم پڑ جائیں گی اور دوسری طرف ہم جہالت، غربت، افلاس، بھوک، مہنگائی، بربادی، بیماریوں، ذلت و خواریوں، پریشانیوں، مصیبتوں، آفتوں، گندگیوں، غلامیوں، انتہا پسندیوں، کر پشن، لوٹ مار، بد انتظامی، بد اعمالی، میں ان سے اتنا آگے ہیں کہ انھیں ہم جیسا بننے کے لیے بھی صدیاں کم پڑ جائیں گی۔

یہ سن سن کر ہم سب بیزار ہو گئے ہیں کہ مشکل کے دن بس ختم ہونے ہی والے ہیں۔ ملک میں شہد اور دودھ کی نہریں بس بہنے ہی والی ہیں بہت جلد ہی ملک سے مہنگائی ، بیروزگاری، غربت اور افلاس کا خاتمہ ہونے ہی والا ہے۔ آخر یہ جھوٹ اور فریب کے دعوے اور وعدے ہمارا پیچھاچھوڑ کیوں نہیں دیتے ہیں۔ یہ سنگدل، بے رحم، بے حس، کرپٹ حکمران ہمیں سنہرے خواب دکھانا آخر بندکیوں نہیں کر دیتے ہیں۔ جب وہ ملک اور عوام کے حالات تبدیل نہیں کر سکتے تو وہ کیوں ایک روز عوام کے سامنے آ کر انھیں یہ سچ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ اس ملک میں کچھ بھی بدلنے والا نہیں ہے تمہیں ان ہی حالات میں اسی طرح جینا اور مرنا ہے اپنی تمام خواہشوں، آرزئوں کو آگ لگا دو اپنے سارے خواب جلا ڈالو، سوچنے پر خا ک ڈال دو۔

اپنی آنکھیں کرچیوں اورکنکر سے بھر لو۔ اپنے دل سینے سے نکال کر پھینک دو اورآیندہ ہم سے کوئی سوال نہ کرنا۔ دنیاکے مشہور ترین ادیب ڈاکٹر ڈینیل گول مین کہتا ہے کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ طبقہ امرا میں شامل لوگوں کو وہ کچھ سنائی اور دکھائی ہی نہیں دیتا ہے جس میں ان کے آس پاس کے غریب غربا وقت گزار رہے ہوتے ہیں۔ جارج اور ویل نے اپنی مشہور تصنیف’’ 1984‘‘ میں لکھا تھا کہ ایک تصوراتی مملکت کی ’’سچائی کی وزارت‘‘ پر پارٹی کا منشور تحریر تھا جو کچھ اس طرح سے تھا ’’جنگ امن ہے، آزادی ایک غلامی ہے، ’جہالت ایک قوت ہے۔‘‘

ان ہی سب چیزوں کو آج ہم اپنے ملک میں رونما ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں ہر وہ طریقہ اور راستہ جس سے لوگ کمزور سے کمزور تر ہوتے چلے جائیں ہمارے ملک میں اپنایا جاتا رہا ہے، نتیجے میں آج لوگ مردوں سے زیادہ بد ترین زندگی گزار رہے ہیں۔

مارکس آئیڈیالوجی کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ نظریہ وہ ہے جو حقیقت کو الٹ دیتا ہے۔ مارکس ہی کے الفاظ میں یہ اسے سر کے بل کھڑا کر دیتا ہے ،کسی سماج کی تبدیلی کے لیے عملی جدوجہد کی ضرورت نہیں ہوتی محض سوچ، فکر کی تبدیلی ہی سے سماج تبدیل کیاجا سکتا ہے اگر فکر کو تبدیل کر دیا جائے یا فکرکی توجیہہ کسی اور طریقے سے کر دی جائے تو سماجی تبدیلی کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ سماج کی تمام خرابیاں محض غلط فکر کی وجہ سے جنم لیتی ہیں، کچھ لوگ برا سوچنے لگتے ہیں جب کہ لوگوں کی اکثریت اچھا سوچتی ہے یہ برے لوگ تمام سماج کو خراب کر دیتے ہیں، نجانے وہ دن کب آئے گا جب ہمارے سماج کے برے لوگ اچھا سوچنے لگیں گے یا شاید کبھی نہ آئے۔

آج شیکسپیئر بہت یاد آتا ہے وہ اپنے ڈرامےKing Lear میں دکھاتا ہے کہ جب تک شاہ لیئر پاگل نہیں ہو جاتا زندگی کی ماہیت کو نہیں سمجھتا اور گلوسٹر کو زندگی کی حقیقت اس وقت تک نظر نہیں آتی جب تک وہ اندھا نہیں ہو جاتا۔

The post جہالت ایک قوت ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3ageHaF

عبدالسلام تھیم ، سندھ کی سیاست کا ایک ستون

سندھ کی سیاست میں بھٹو کے آنے کے بعد ایک بہت بڑا انقلاب آیا جس میں بڑے بڑے پرانے سیاست کے کھلاڑی ہارگئے اور کئی نوجوان قیادت نے سیاست میں قدم رکھا جس میں عوام کو فوقیت اور اہمیت حاصل ہوگئی۔ اس میں خاص طور پر سانگھڑ ضلع سیاست میں بڑی تبدیلی آئی اور پی پی پی نے ایک ریکارڈ قائم کیا اور یہ سلسلہ بھٹو کی شہادت کے بعد بینظیر کی موجودگی میں بھی پروان چڑھتا رہا جس میں سچائی اور عوام کے مسائل سے دلچسپی شامل تھی۔

ماضی کے سیاستدانوں میں ایک اچھا سچا اور وفادار سیاستدان عبدالسلام تھیم بھی تھا جو عوام کی خدمت کرتے کرتے 12 اپریل 2012 میں خالق حقیقی سے جا ملا۔ اس نے اپنی پوری زندگی عوام کی خدمت کے لیے وقف کردی تھی جس کے بدلے میں عوام اسے خادم عوام کہتے تھے اور جب ان کا انتقال ہوا تو ہر آنکھ سے آنسو بہہ رہے تھے اور یہی وجہ ہے کہ لوگ اسے اچھے نام سے یاد کرتے ہیں۔ جب بھٹو پر سانگھڑ کے دورے کے دوران 1970 والے الیکشن میں حملہ ہوا تھا تو عبدالسلام ان کے برابر کھڑے تھے اور اس کی حفاظت کے لیے اس کے آگے کھڑے ہوگئے۔

تھیم کی پارٹی کے ساتھ سچائی اور وفاداری کی وجہ سے انھیں تعلقہ شہداد پور کے صدر، ضلع سانگھڑ کے صدر، حیدرآباد ڈویژن کے صدر اور سندھ کے انفارمیشن سیکریٹری بھی رہے۔ جب بھٹو کو شہید کیا گیا اور جنرل ضیا الحق نے اقتدار پر قبضہ کیا تو تھیم کو بھی بڑا ڈرایا اور دھمکایا گیا کہ وہ پارٹی سے الگ ہو جائے مگر وہ اپنی وفاداری پر ڈٹا رہا۔ اس وفاداری کو مزید مضبوط رکھنے کے لیے اس نے مارشل لا حکومت کے خلاف احتجاج کرتے رہے اور پھر اسے جوڈیشل لاک اپ، پولیس لاک اپ، سب جیل، ڈسٹرکٹ جیل، سینٹرل جیل جانا پڑا اور یہ سلسلہ 7 سال مسلسل چلتا رہا مگر وہ پیچھے نہیں ہٹے اور وفاداری کا دامن تھامے پارٹی کا ساتھ دیا۔

جب ایم آر ڈی کی تحریک شروع ہوئی تو اس نے اس میں بڑا سرگرم کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں اس کے گاؤں طیب تھیم میں ایک بڑا آپریشن ہوا تاکہ اس کو ڈرایا جائے اور وہ اپنے ساتھیوں سمیت پارٹی چھوڑ دیں۔ اس آپریشن کے نتیجے میں اس کے دو ذاتی ملازم اور ان کی بیٹی ماری گئی اور باقی گاؤں والے شدید زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ پارٹی کے ورکروں کو جیل بھیج دیا گیا۔

تھیم پر بھی تشدد کیا گیا تاکہ وہ معافی لکھ کر دیں اور پارٹی سے الگ ہو جائیں جب کچھ نہیں ہوا تو اسے بڑے اقتدار اور پیسوں کی لالچ بھی دی گئی جنھیں اس نے ایک دم ٹھکرا دیا اور ظلم اور زیادتیوں کے آگے نہیں جھکے اور بھٹو کے لیے اپنے ارادوں میں مزید وفاداریاں دکھائیں۔ ان تمام مراحل کے بعد جب ضیا الحق ایک جہاز کے حادثے میں مارے گئے تو 1988 کے الیکشن کا اعلان ہوا جس میں تھیم اپنے علاقے سے ایم پی اے کی نشست پر کامیاب ہوئے اور وہ صوبائی کابینہ میں وزیر بن گئے۔

جب 1990 میں دوبارہ جنرل الیکشن ہوئے تو انھیں زبردستی ہرایا گیا مگر 1993 کے جنرل الیکشن میں وہ دوبارہ ایم پی اے بن گئے اور وزیر اعلیٰ کے منصب کے لیے پکے امیدوار تھے لیکن جیساکہ وہ گریجویٹ نہیں تھے جس کی وجہ سے ان کا نام ڈراپ ہو گیا اور وہ وزیر تعلیم بن گئے جب کہ اس سے 1988 والے الیکشن جیتنے کے بعد وہ ایکسائز اور ٹیکسیشن کے وزیر بنے تھے۔ اس نے 2008کے عام انتخابات میں بھی جیت کر سندھ کابینہ میں بطور وزیر برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن بن گئے۔

تھیم کی ایک خوبی یہ تھی کہ اس نے اپنے دفتر، اوطاق اور گھر پر عوام سے ملنے کے لیے دروازے کھلے رکھے، اس نے اپنے علاقے میں ہر قسم کی ترقی کروائی، بیروزگار نوجوانوں کو سرکاری اور غیر سرکاری نوکریاں دلوائیں۔ جب وہ وزیر تعلیم تھے تو اس نے کئی نئے اسکول بنوائے، پرانے اسکولوں اور کالجوں کی عمارتوں کی مرمت کروائی۔ اساتذہ کی کمی کو پر کرنے کے لیے پوسٹیں create کروائیں۔

اس کے علاوہ اپنے علاقوں میں میٹھا پانی پینے کے لیے کئی اسکیمیں شروع کروائیں، طبی سہولتیں دینے کے لیے نئے اسپتال قائم کروائے، ڈاکٹروں کا تقرر کروایا، گاؤں میں بجلی کے کنکشن دلوائے، ٹیلی فون کی سہولت کے لیے بھاگ دوڑ کی، شہروں اور گاؤں کے لیے ڈرینج سسٹم، سڑکوں کی مرمت اور نئے روڈ بنوانے کے لیے اور چھوٹے موٹے پول بنوائے اس کی یہ خواہش تھی کہ وہ ریلوے پھاٹک پر اوور ہیڈ پل اور اسٹیڈیم بنوائے جو اس کی کوششیں اس کے اس دنیا کو چھوڑنے کے بعد پوری ہوئیں۔

2011کی شدید بارشوں میں شہداد پور میں بھی بڑا نقصان ہوا تھا جس میں کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں، لوگ بے گھر ہوگئے اور شہر کی سڑکوں کو بھی نقصان پہنچا اور اس نقصان کو پورا کرنے کے لیے اس نے بڑی بھاگ دوڑ کی۔ تھیم کی اس بات سے آپ اندازہ لگائیں کہ اسے لوگوں سے کتنا پیار تھا کہ وہ اپنی گردوں کی بیماری کے باوجود گھر میں بیٹھ کر آرام نہیں کیا اور لوگوں کی مدد کرنے کے لیے لوگوں کے کاموں کے لیے، بارشوں سے ہونے والے نقصان کو پورا کرنے کے لیے نکل پڑے حالانکہ اسے شوگر اور سانس کے امراض بھی تھے اور ڈاکٹروں نے اسے کام سے سختی سے منع کیا تھا۔

وہ صبح کو نکلتے اور بارشوں اور سیلاب کے متاثر لوگوں کے لیے کھانے کا، دواؤں کا، ڈاکٹروں کا، بستروں کا انتظام کرنے میں لگے رہے اور متاثرین کے لیے جو کیمپ بنائے تھے وہاں جاکر خود پر کام کو دیکھتے تھے جس کی وجہ سے وہ زیادہ بیمار پڑ گئے اور انھیں زبردستی اسپتال میں داخل کردیا گیا مگر وہ وہاں سے بھاگ کر متاثرین کے پاس پہنچ جاتے تھے۔اس وجہ سے گردوں کی تکلیف میں زیادہ اضافہ ہوگیا اور اسے ڈائیلاسیس کے لیے کراچی آنا پڑتا تھا مگر وہ وہاں بھی فارغ وقت میں ترقیاتی کاموں کے بارے میں اور متاثرین کی امداد کے سلسلے میں افسران سے رابطے میں رہتے تھے۔

دفتر کا کام بھی اسپتال میں کرتے تھے۔تھیم 1 جنوری 1950 میں اپنے والد رئیس گل محمد خان کے گھر میں پیدا ہوئے تھے۔ اس فیملی کے بڑے سربراہ طیب خان تھیم جیکب آباد سے آکر یہاں آئے تھے اور تعلقہ شہداد پور میں طیب نام سے گاؤں آباد کیا۔ جب کہ ان کے آبا و اجداد سعودی عرب سے آکر سندھ میں آباد ہوئے تھے۔ عبدالسلام نے پرائمری تعلیم اپنے گاؤں سے، سیکنڈری تعلیم میونسپل ہائی اسکول شہداد پور سے، انٹرمیڈیٹ تعلیم ڈی سی ہائی اسکول نواب شاہ سے حاصل کی۔

جب اس نے سندھ یونیورسٹی جامشورو میں داخلہ حاصل کیا تو یونین آف اسٹوڈنٹس میں حصہ لینا شروع کیا۔ جب بھٹو نے پارٹی کا اعلان کیا تو تھیم نے بھٹو کی شخصیت کی وجہ سے پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور بھٹو کے سامنے ہی رکنیت کا فارم پرکیا۔ جب بھٹو سانگھڑ جایا کرتے تو ان کے بھائی کے پاس ناشتہ کیا کرتے تھے۔ ان کی وجہ اور کاوش سے سانگھڑ میں کیڈٹ کالج کا قیام عمل میں آیا تھا۔

The post عبدالسلام تھیم ، سندھ کی سیاست کا ایک ستون appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3ajwDkC

روہڑی : ٹرین کا الم ناک حادثہ

روہڑی ریلوے پھاٹک پر مسافر کوچ ٹرین کی زد میں آگئی جس کے نتیجے میں 20 افراد جاں بحق جب کہ ٹرین کے اسسٹنٹ ڈرائیور سمیت 25 سے زائد مسافر زخمی ہوگئے، جاں بحق ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہونے پر خون کے عطیات کی اپیل، صوبائی وزیر صحت نے سکھر اور روہڑی کے اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی۔

میڈیا کے مطابق روہڑی ریلوے اسٹیشن سے تقریباً تین کلو میٹر پہلے کندھرا ریلوے کراسنگ پر کراچی سے راولپنڈی جانے والی مسافر بس پاکستان ایکسپریس کے سامنے آگئی، جس کے نتیجے میں 20 افراد جاں بحق اور 25 سے زائد زخمی ہوگئے۔ بتایا جاتا ہے حادثہ پھاٹک نہ ہونے کے باعث پیش آیا۔ زخمیوں میں قمر الدین، یاسر، کمال الدین، شاہد، ایاز، ناصر، ممتاز، صلاح الدین، سلیم اور دیگر شامل ہیں۔

وزیر ریلوے شیخ رشید نے روہڑی حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔ ترجمان ریلوے کا کہنا ہے کہ حادثہ ان مینڈ لیول کراسنگ پر پیش آیا، ذرایع کا کہنا ہے کہ حادثہ کی وجہ بس ڈرائیور کی لاپروائی ہوسکتی ہے۔ حادثے کی انکوائری ایف جی آئی آر کریں گے۔

ٹرین حادثات کی الم ناکی متاثرہ خاندانوں کو مدتوں لہو رلاتی ہے کیونکہ جن مسافروں کو اپنے پیارے سلامتی کی دعاؤں کے ساتھ رخصت کرتے ہیں اکثر کو خبر نہیں ہوتی کہ اس سفر کے دامن میں کون سا حادثہ پرورش پا رہا ہے اور کون سے بدنصیب ریلوے اسٹیشن یا اس کے قریب مسافر ٹرین دردناک خبر کا حصہ بن جائے گی۔

پاکستان ریلوے کی تاریخ میں بعض حادثات آج تک ایسے حادثہ زدگان کے لواحقین کے ذہنوں پر ثبت ہیں جن میں بیشمار انسان لمحوں میں موت کی آغوش میں جا سوئے۔1953میں سندھ میں جم پیر کے مقام پر ٹرین سانحے میں 200افراد جان بحق جب کہ متعدد زخمی ہوئے، سانگی اسٹیشن پر1990 میں لرزہ خیز حاثہ پیش آیا جس میں 350 مسافر لقمہ اجل بن گئے، گھوٹکی میں 1991 میں ٹرین حادثہ ہوا جس میں  100مسافر جاںبحق اور کئی زخمی ہوئے۔

1954 میں جنگ شاہی کے مقام پر اسی طرح ایک ریلوے حادثہ کی نذر60 انسان ہوئے ،1969 میں لیاقت پور میں ٹرین سے سفر کے دوران سانحہ میں 80 مسافر ہلاک ہوئے۔ یوں دردناک حادثات کی ایک طویل فہرست ہے جس میں کبھی انسانی لغزش، کہیں تساہل، مجرمانہ غفلت اور غیر ذمے داری یا نادانستہ تکنیکی غلطی یا اسے بد نصیبی کہیے، عمربھر کے لیے اس سفر کی یادوں کواذیت ناک بنادیتی ہے، تاہم بنیادی نکتہ جو ٹرین کے سامنے پیش آنے والے حادثہ کا سبب بن سکتا ہے اس میں بس،کوچ، کار، ٹریلر، ٹرالی، گاڑی، رکشہ اور ٹرک شامل ہوتے ہیں یا ٹرین مقابل سے آنے والی ٹرین یا مال گاڑی سے ٹکراجاتی ہے ، بہر کیف ٹرین ڈرائیور کو شک کا فائدہ ملتا ہے اور ذمے داری پھاٹک ،سگنلز یا کراسنگ پر سنگین غلطی کا ارتکاب کرنے والے کی ہوتی ہے یا ریلوے ملازمین کی بے حسی یا فنی غلطی سے قیمتی انسانی جانیں تلف ہوجاتی ہیں۔

مذکورہ حادثے میں 20 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا کہ جاں بحق ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں ، زخمیوں کو تعلقہ اسپتال روہڑی اور سول اسپتال سکھر منتقل کیا گیا ہے جب کہ ایک کلومیٹر تک کے علاقے کی سرچنگ کی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق مسافر کوچ کراچی سے سرگودھا جا رہی تھی، خوفناک حادثے میں بس کے 2 ٹکڑے ہوگئے۔ آخری اطلاعات تک جائے حادثہ پر اندھیرے کے باعث صورت حال کافی خراب تھی اور امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا تھا۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق ٹریفک جام ہونے کے باعث ڈرائیور بس کو لنک روڈ پر لے آیا تھا، جہاں ریلوے کراسنگ پر پھاٹک نہ ہونے کے باعث حادثہ پیش آیا۔ علاقے کے لوگوں نے بتایا کہ قومی شاہراہ کے ریلوے اوورہیڈ پر طویل ٹریفک جام رہنے کی وجہ سے کراچی سے پنجاب جانے والی مسافر کوچ نے قومی شاہراہ کو چھوڑ کر متبادل راستہ اختیار کرکے ایسی جگہ سے ریلوے لائن کراس کرنے کی کوشش کی جہاں پر ریلوے کراسنگ تو موجود ہے مگر کوئی پھاٹک نہیں ہے۔

اس خطرناک کراسنگ کی نشاندہی بھی کی جا چکی ہے لیکن ریلوے سکھر ڈویژن کی انتظامیہ نے اس پر کبھی توجہ نہیں دی۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریلوے کی امدادی ٹیموں کے علاوہ ریسکیو ادارے جائے حادثہ پر پہنچ گئے، جب کہ پاک فوج کے جوانوں نے انتظام سنبھال لیا۔ رات کی تاریکی کے باعث ریسکیو کے کام میں شدید مشکلا پیش آئیں۔ زخمیوں کی چیخ وپکار سے دل دہل گئے ۔

صدر مملکت، وزیر اعظم، گورنر، وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر ریلوے شیخ رشید، پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری و دیگر نے اظہار افسوس کیا ہے۔ صوبائی وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کے احکامات پر سول اسپتال سکھر اور روہڑی کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے روہڑی ٹرین حادثے میں زخمی ہونے والوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ صوبائی وزیر صحت نے ٹرین حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

علاوہ ازیں ٹرین ڈرائیور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پھاٹک سے بہت کم فاصلے سے اچانک بس سامنے آگئی، ایمرجنسی بریک لگایا لیکن فاصلہ بہت کم تھا جس کے باعث ٹکر ہوگئی۔ ڈرائیور کے مطابق بیگمان جی ریلوے اسٹیشن سے ٹرین مقررہ رفتار سے جا رہی تھی، کم فاصلے سے ٹکرانے کی وجہ سے انجن اور بس دونوں کا نقصان ہوا۔ ڈی ایس سکھر نے بتایا کہ حادثے کا شکار پاکستان ایکسپریس کو روانہ کردیا گیا ہے، مختلف اسٹیشنز پر روکی گئی ٹرینوں کو بھی روانہ کیا جا رہا ہے۔ قراقرم، جناح اور علامہ اقبال ایکسپریس کو مختلف اسٹیشنز پر روکا گیا تھا۔ ایدھی رضاکاروں کے مطابق حادثے میں جاں بحق افراد کی لاشیں شناخت کے قابل نہیں ہیں، ان کی ناموں کے ذریعے شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔

واضح رہے وزیر ریلوے شیخ رشید نے ایک روز قبل ایک اخباری بیان میں کہا کہ 10مئی سے ریلوے میں انقلاب آئیگا۔ اس سے قبل الم ناک ریلوے حادثہ میں 70سے زائد مسافروں کے جھلس کر جاں بحق ہوجانے پر چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ان سے مستعفی ہونے کے لیے استفسار کیا تھا۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ریلوے انتظامیہ ریلوے سسٹم کو عہد جدید کے تقاضوں ، حسن انتظام اور جوابدہی و حفاظتی انفرااسٹرکچر کے شفاف میکنزم سے مربوط کرے ورنہ لوگ بدستور مرتے رہیں گے اور کسی ذمے دار کا احتساب نہیں ہوسکے گا۔

 

The post روہڑی : ٹرین کا الم ناک حادثہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/38dz1rI

بجلی چوری کیسے روکی جائے؟

وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں گزشتہ روز اسلام آباد میں ملک کی مجموعی معاشی صورت حال کا جائزہ اجلاس ہوا۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے ملک کی مجموعی معاشی صورت حال پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انھیں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ، بیرون ملک سے ترسیلات زر اور مہنگائی کی صورت حال پر بریفنگ دی گئی۔

وزیراعظم کی زیرصدارت کم آمدنی والے اور کمزور طبقات کو ریلیف کی فراہمی کے لیے مختلف شعبوں میں حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے بھی اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مختلف شعبوں میں حکومت کی جانب سے سبسڈی اور مالی سپورٹ کی فراہمی کا مقصد کمزور طبقے کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ انھوں نے اس عزم کا ایک بار پھر اعادہ کیا کہ حکومت اداروں کی کرپشن، انتظامی بدعنوانی اور غفلت کا بوجھ عوام پر ڈالنے کی اجازت نہیں دے گی۔

وزیراعظم نے بجلی چوروں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی ہدایت کی اور کہا کہ ملک میں مہنگی بجلی کے ذمے دار بڑے بجلی چور ہیں جنھیں کسی صورت نہ چھوڑا جائے۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ بڑوں کی بجلی چوری کا خمیازہ غریب عوام بھگت رہے ہیں جسے حکومت کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔ وزیراعظم کی ساری باتیں درست ہیں لیکن اصل مسئلہ عملی نتائج کا ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی عوام کو ریلیف مل رہا ہے۔ اگر بجلی چوری کے معاملے کو ہی دیکھا جائے تو اس پر پہلی بار بات نہیں ہوئی بلکہ یہ برسوں پرانا مسئلہ چلا آ رہا ہے۔ جو بااثر لوگ بجلی چوری کر رہے ہیں اور ملک کے جن علاقوں میں بجلی چوری ہو رہی ہے اس کا تقریباً سارا ریکارڈ اداروں کے پاس یقینی طور پر موجود ہو گا۔ مسئلہ تو قانون کو نافذ کرنے کا ہے۔ جن علاقوں میں بجلی چوری ہوتی ہے یا بجلی کے بل ادا نہیں کیے جاتے، وہاں پر اگر سختی کی جائے تو واویلا شروع ہو جاتا ہے۔

اسے صوبائیت کا رنگ بھی دے دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے حکومت پسپا ہو جاتی ہے۔ حکومت کو بجلی چوری روکنے کے لیے پوسٹ پیڈ بلنگ نظام نافذ کرنا چاہیے، بالکل ایسے ہی جیسے موبائل ٹیلی فون کمپنیاں کر رہی ہیں۔ اس طریقے سے بجلی چوری کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔

The post بجلی چوری کیسے روکی جائے؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/32EqME1

آج کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

سیاست سے تعلق رکھنے والے حضرات تھوڑی سی احتیاط کرلیں ۔ لہٰذا ہر قدم انتہائی سوچ بچار کے بعد اٹھائیے۔ اپنے دوستوں سے بھی ہوشیار رہیں۔

ثور:
22 اپریل تا 20 مئی

ہوش و حواس کو بحال رکھتے ہوئے اہم امور انجام دیں، اپنے حقوق کی حفاظت ضرور کریں لیکن جذباتی انداز سے نہیں ورنہ جذباتی پن آپ کو لے ڈوبے گا۔

جوزا:
21 مئی تا 21جون

حالات کی رفتار بے ڈھنگی سی رہے گی لیکن اتنی دشواریوں کا سامنا نہیں کرنا پڑ سکتا ہے جتنی کہ گزشتہ تھیں اگر آپ اپنی صلاحیتوں کو پورے اعتماد کے ساتھ بروئے کار لاتے رہیں۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

آپ کو عجیب و غریب خیالات سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے لہٰذا ہماری مانئے گھر میں کوئی بات آپ کی منشاء کے خلاف بھی ہو جائے تو اظہار ناراضگی نہ کریں بلکہ اپنی صحیح بات کی وضاحت کرنے کی کوشش کریں۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

اگر آپ کا کوئی مخالف صلح پر آمادہ ہو تو بلاتاخیر آپ بھی ایسا ہی کریں، کم از کم ایک پریشانی تو ختم ہو گی اپنے دشمنوں کو بھی دوست بنائیں۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

آپ کے دوست آپ کو اپنے کسی مقصد کے تحت غلط راستے پر چلانے کو کوششوں میں مصروف ہیں۔ کیا آپ کسی بہت بڑی پریشانی میں مبتلا ہونے سے قبل اپنا راستہ خود تبدیل نہیں کر سکتے۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

کاروباری مراسم میں بہت زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے بفضل خدا اس کے بڑے اچھے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور اچھی فرموں کے ساتھ معاہدہ ہو سکتا ہے۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

کسی کاروباری سکیم کو عملی شکل دے کر آپ خاصا مالی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں اپنے غصہ پر قابو رکھیں ورنہ اچھے بھلے دوست مخالف بن سکتے ہیں۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

مذہب میں بھی دلچسپی قدرے کم رہے گی اور یہ اچھی بات نہیں کیونکہ جب بھی انسان پر مصیبتوں اور پریشانیوں کا غلبہ ہو جائے تو اس کی نجات اسی صورت میں ہو سکتی ہے۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

کاروباری افراد اپنی محنت کی بدولت بہت جلد بلندی کو چھو سکتے ہیں، مزاج کی گرمی کو حتی الامکان کم کر دیجئے، کسی بھی معاملے کو جذباتی نقطہ نظر سے پرکھنا فائدہ مند ثابت نہ ہو سکے گا۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

اپنے مزاج میں ٹھہرائو پیدا کریں غیر مستقل مزاج لوگ ترقی کے راستے پر دوسروں سے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں، کسی بھی کام کی تکمیل کا ارادہ کر لیں تو پھر پیچھے نہ ہٹیں۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

پوشیدہ صلاحیتوں سے کام لیکر حالات سنوارنے کی کوشش کریں، ان گنت خوشیوں کے پھول آپکے دامن میں ہوں گے جذباتی بن کر احمقانہ اقدامات سے ہر راہ کانٹوں بھری ہو سکتی ہے۔

The post آج کا دن کیسا رہے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2SR95he

Friday, 28 February 2020

صدر مملکت کی کورونا وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیر کی ویڈیو

 اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کورونا وائرس سے تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر پر مشتمل ویڈیو جاری کردی۔

چین سمیت کئی ممالک میں تباہی مچانے کے بعد جان لیوا کورونا وائرس پاکستان بھی پہنچ چکا ہے اور ایران سے واپس آنے والے 2 زائرین میں اس خطرناک بیماری کی تصدیق ہوگئی ہے۔

کورونا وائرس سے ملک میں خوف کی فضا ہے اور ہر شخص احتیاطی تدابیر اختیار کررہا ہے۔ ایسے میں غلط معلومات خصوصا سوشل میڈیا پر جعلی ٹونے ٹوٹکوں کا بھی بازار گرم ہے۔

ایسے میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عوام میں آگاہی اور شعور اجاگر کرنے کےلیے کورونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر پر مشتمل ویڈیو جاری کی ہے۔

The post صدر مملکت کی کورونا وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیر کی ویڈیو appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2vfaMfD

دیگر امراض کی طرح کورونا وائرس کو بھی شکست دیں گے، فردوس عاشق

سیالکوٹ: معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ دیگر امراض کی طرح کورونا وائرس کو بھی شکست دیں گے۔

اپنی ٹوئٹ میں فردوس عاشق اعوان نے کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا عزم ہے کہ “کورونا وائرس سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے”۔ اس ضمن میں تمام صوبائی حکومتوں سے اقدامات اور انتظامات کی رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔عوام میں آگاہی اورشعور بیدار کرکے ان کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔باقی امراض کی طرح اسے بھی شکست دیں گے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ کوئٹہ، لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں مرض کی تشخیص کی سہولیات فراہم کر دی گئی ہیں۔ تشویش اور پریشانی کی بات نہیں۔ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اس مرض کے 98 فیصدسے زائد صحت مند ہوجاتے ہیں۔ کورونا وائرس سے نبرد آزما ہونے کیلئے تمام ضروری اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ یہ لاعلاج نہیں قابلِ علاج مرض ہے۔ اس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔البتہ حفاظتی تدابیر اختیار کرنا خصوصا صفائی کا اہتمام لازم ہے۔ مسلمانوں کیلئے تو “صفائی نصف ایمان ہے”۔

The post دیگر امراض کی طرح کورونا وائرس کو بھی شکست دیں گے، فردوس عاشق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Tt7bmb

کیا علی عظمت نے علی ظفر سے ہار مان لی؟

کراچی: علی عظمت نے علی ظفر کے لیے ویڈیو پیغام دیا ہے جس میں انہوں نے علی ظفر پر الزامات لگانے کے بجائے کہا ہے کہ وہ علی ظفر کے نئے گانے کے لیے ویڈیو بناکر بھیجیں گے۔

پاکستان سپر لیگ سیزن 5 کا گانا ریلیز ہوتے ہی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سےنہ صرف مسترد کردیا گیاتھا بلکہ گانے پر شدید تنقید بھی کی گئی تھی اورلوگوں کو پی ایس ایل کے ابتدائی تین سیزن کے گانے گانے والےعلی ظفر کی یاد ستانے لگی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  لوگوں کو علی ظفر کی یادستانے لگی

علی ظفر بھی لوگوں کی محبتوں سے انکار نہ کرسکے انہوں نے اپنے طور پر  پی ایس ایل کا نیا گانا بنانے کا اعلان کردیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے شائقین سے کہا کہ گانا میں بناؤں گا اور ڈانس کی ویڈیو آپ بناکر بھیجیں۔ بس پھر کیا تھا لوگوں نے علی ظفر کے نئے گانے کے لیے ڈانس ویڈیو بنابناکر اپ لوڈ کرنی شروع کردیں یہاں تک کہ پورے سوشل میڈیا پر صرف علی ظفر اور ان کا پی ایس ایل کا گانا چھایا ہوا ہے۔ علی ظفر کی شہرت دیکھ کراب شاید علی عظمت نے بھی ہار مان لی ہے اور وہ اپنے الزامات سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  علی عظمت کی تنقید

حال ہی میں ایک نجی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں علی عظمت نے کہا لوگ پی ایس ایل کے لیے اتنے پرجوش ہیں کہ ہر کوئی اپنا گانا بنانا چاہتا ہے اور علی ظفر کیوں نہ بنائے گانا، میں اس کے بالکل حق میں ہوں کہ علی ظفر بھی پی ایس ایل کے لیے اپنا گانا بنائے بلکہ اس نے چند روز قبل لوگوں سے ڈانس کی ویڈیو بناکر بھیجنے کے لیے بھی کہا تھا تو میں بھی اس کے گانے کے لیے اپنی ڈانس کی ویڈیو بناکر بھیجوں گا تاکہ وہ اپنی ویڈیو میں میرا ڈانس بھی ڈالے اور انشااللہ اس کا گانا بھی ہٹ ہوگا۔ ہمارے ملک میں ٹوٹل چار، پانچ تو آرٹسٹ ہیں انہیں بھی اگر لڑادیں گے تو کیا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: علی عظمت  کی عزت کروں گا

علی ظفر نے علی عظمت کی اس ویڈیو کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کراتے ہوئے کھلے دل سے انہیں خوش آمدید کہا اور یہ ’’یہ بات!، بھائی میں آپ کی ویڈیو کا انتظار کررہاہوں۔ اس کے ساتھ ہی علی ظفر نے اپنے گانے کی ریلیز کی تاریخ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ کوشش کریں گے کہ اپنا گانا اتوار کو ریلیز کردیں بس آپ کا شوٹ رہ گیا ہے۔‘‘

The post کیا علی عظمت نے علی ظفر سے ہار مان لی؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3cgNJ4A

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...