Urdu news

Sunday, 31 December 2023

پاکستان میں سادگی سے نئے سال 2024 کا استقبال

  کراچی: پاکستان میں نئی امیدوں اور عزم کے ساتھ نئے سال 2024 کا آغاز ہوگیا۔

پاکستان میں نئے سال کا استقبال اسرائیلی دہشت گردی کا شکار مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے سادگی سے کیا گیا۔ پاکستان کے کسی بھی شہر میں سال نو کی آمد کے حوالے سے روایتی جشن اور تقاریب منعقد نہیں ہوئیں۔

دریں اثنا صدر ڈاکٹر عارف علوی نے سال نو کے آغاز پر قوم، امت ِ مسلمہ اور عالمی برادری کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے ایک پیغام میں پاکستان اور پوری دنیا میں خوشحالی، سیاسی اور اقتصادی استحکام کی دعا کی۔

صدر نے کہا نئے سال کے آغاز پر فلسطین کے بھائی بہنوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا جو اسرائیل کے مسلسل وحشیانہ حملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

صدر نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پُرتشدد کارروائیوں پر تشویش کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ عالمی برادری دنیا میں امن اور استحکام کیلئے اِن دیرینہ مسائل کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرے۔

انہوں نے پاکستان میں اقتصادی ترقی، بین المذاہب ہم آہنگی، درگزر، برداشت اور باہمی احترام کو عام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر نے سال نو کی آمد پر پیغام میں کہا کہ نیا سال اہل وطن کے لیے نئی امنگوں، نئے جذبوں اور نئے ولولوں کے ساتھ طلوع ہو رہا ہے۔ عوام سے گزارش ہے کہ قانون کے احترام کے ساتھ سال نو کی خوشیاں منائیں۔

The post پاکستان میں سادگی سے نئے سال 2024 کا استقبال appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/fCgshmz

انجمن اساتذہ کا شاہ لطیف یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی مبینہ نازیبا وڈیو کی تحقیقات کا مطالبہ

  کراچی:  شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیرپور کے وائس چانسلرکی مبینہ طور پر  نازیبا وڈیو وائرل ہونے کے معاملے  پر انجمن اساتذہ نے نگراں وزیراعلیٰ سے تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔ 

سندھ کی اکیڈمک تاریخ میں نازیبا حرکات پر مشتمل وڈیو کا ایک حیران کن اور تازہ معاملہ سامنے آیا ہے اور سوشل میڈیا پر شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیرپور کے وائس چانسلر ڈاکٹر خلیل ابوپوٹو کی مبینہ طور پر نازیبا وڈیو نے سندھ کے اکیڈمک حلقوں میں سراسیمگی پھیلا دی ہے۔

وائس چانسلر کی مبینہ نازیبا ویڈیو وائرل ہونے سے شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیرپور کے اساتذہ و ملازمین میں چہ مہ گوئیوں سے شروع ہونے والے معاملے کی بازگشت اب وزیر اعلی ہائوس تک پہنچ گئی ہے۔

فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا) پاکستان کے جنرل سیکریٹری اور شاہ لطیف یونیورسٹی کی اساتذہ کی انجمن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر اختیار علی گھمرو اور انجمن کے سیکریٹری پروفیسر ڈاکٹر حسام الدین شیخ نے اس معاملے کو قرطاس پر لاتے ہوئے نگراں وزیر اعلی سندھ جسٹس(ر) مقبول باقر سے وائس چانسلر کو عہدے سے ہٹاکر فوری تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے۔

دوسری جانب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یونیورسٹی کے ڈینز نے اساتذہ کو بتایا ہے کہ اگر وزیر اعلی ہائوس اس معاملے کا فوری نوٹس نہیں لیتا تو وہ پیر سے وائس چانسلر کی صدارت میں منعقد ہونے والے کسی بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔

فپواسا کے جنرل سیکریٹری اور انجمن اساتذہ شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیرپور کے صدر ڈاکٹر گھمرو نے ’’ ایکسپریس‘‘ سے بات چیت میں یونیورسٹی ڈینز کے اس ارادے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں بھی سوشل میڈیا پر بعض ڈینز کے کچھ اس طرح کے تحریری پیغامات موصول ہوئے ہیں جبکہ پیر کو ڈینز وزیر اعلی ہائوس کو خطوط بھی لکھ رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وائس چانسلر کی مبینہ ویڈیو 3 روز قبل منظر عام پر آئی ہے جس کے بعد یونیورسٹی کی صورتحال بہتر نہیں ہے، ہم نے وزیر اعلی سندھ سے گزارش کی ہے کہ وہ اس معاملے کی غیر جانبدار تحقیقات کرائیں اور تحقیقات کے دورانیے میں ڈاکٹر ابوپوٹو کو اس عہدے سے علیحدہ کردیں۔

اس سلسلے میں صوبے کی سرکاری جامعات کی کنٹرولنگ اتھارٹی وزیر اعلی سندھ کو لکھے گئے مکتوب میں انجمن اساتذہ کے صدر اور جنرل سیکریٹری نے موقف اختیار کیا ہے کہ  وہ وائس چانسلر کی مبینہ نازیبا وڈیو پر سنجیدگی سے فوری نوٹس لیں کیونکہ اس وڈیو سے شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیرپور کی ساکھ شدید مجروح ہوئی ہے جس میں بظاہر وائس چانسلر ملوث ہیں۔

مکتوب میں مزید کہا گیا ہے کہ اس وائرل وڈیو نے یونیورسٹیز کی لیڈر شپ پر سنجیدہ سوالات اٹھادیے ہیں جو اداروں کی ساکھ کے لیے شدید خطرے والی بات ہے،  یہ وڈیو یونیورسٹی کے طلبہ، اساتذہ اور عام لوگوں کے لیے حیران کن ہے اور سب کو اس پر شدید تحفظات ہیں۔

خط میں نگراں وزیر اعلی سندھ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جامعات پر عوام کے اعتماد کو بحال رکھنے کے لیے اس معاملے کی فوری اور غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں۔
واضح رہے کہ مبینہ نازیبا وڈیو سے شدید تنقید کی زد میں آنے والے شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیرپور کے وائس چانسلر ڈاکٹر خلیل ابوپوٹو کے عہدے کی مدت کا یہ آخری سال ہے،  ان کے عہدے کی مدت اکتوبر 2024 میں پوری ہوجائے گی ان کی تقرری سابق سندھ حکومت کے دور میں تلاش کمیٹی(سرچ کمیٹی) کی سفارش پر کی گئی تھی۔

ایکسپریس نے اس معاملے پر وائس چانسلر کا موقف جاننے کے لیے ان سے رابطہ کیا جس پر ان کا پیغام موصول ہوا کہ یونیورسٹی کے پی آر او سے رابطہ کرلیں۔  یونیورسٹی کے پی آر او سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ  وائس چانسلر اپنے جاری وڈیو پیغام میں اس وڈیو کو جعلی قرار دے چکے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ اس وڈیو کو ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے بنایا گیا ہے۔

پی آر او کا مزید کہنا تھا کہ اس یونیورسٹی کے اندر اور باہر سے کئی لوگ اس میں ملوث ہیں جو وائس چانسلر سے کہتے ہیں کہ سابق انتظامیہ کی طرز پر انھیں accommodate کیا جائے۔  ان کا کہنا تھا کہ وائس چانسلر نے تمام ملوث متعلقین کے خلاف ایف آئی آے سائبر کرائم میں درخواست بھی دے دی ہے۔

اس سلسلے میں حکومت سندھ کا موقف جاننے کے لیے وزیر اعلی سندھ کے ترجمان رشید چنا سے بھی رابطے کی کوشش کی گئی تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

The post انجمن اساتذہ کا شاہ لطیف یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی مبینہ نازیبا وڈیو کی تحقیقات کا مطالبہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/TzDOlfV

Saturday, 30 December 2023

لیفیننٹ جنرل (ر) عارف حسن نے 19 سال بعد اولمپک ایسوسی ایشن کی صدارت چھوڑ دی

 اسلام آباد: پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹیننٹ جنرل (ر)عارف حسن 19 سال بعد عہدے سے مستعفی ہوگئے۔

لیفٹیننٹ جنرل(ر)عارف حسن نے اپنے استعفے میں کہا ہے کہ وہ خرابی صحت کی وجہ سے عہدہ چھوڑ رہے ہیں اور یکم جنوری 2004 کو پی او اے سے الگ ہو جائیں گے۔

انہوں نے اپنے استعفے میں لکھا ہے کہ انہیں فخر ہے وہ طویل عرصے تک پاکستان میں میں کھیلوں کی خدمت کر سکے اور جو سفر شروع کیا اس کے دوران نہ صرف ایسوسی ایشن کے لیے اہم سنگ میل عبور کیے ہیں بلکہ ذاتی سطح پر بھی مجھے اطمینان اور حصول کا احساس دلایا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عارف حسن نے لکھا کہ میں پی او اے میں اپنے وقت کے دوران ملنے والی حمایت کا دلی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔

واضح رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عارف حسن 19 سال پی او اے کی صدارت کے منصب پر رہے، وہ پہلی بار مارچ 2004 کو صدر پی او اے منتخب ہوئے تھے۔ رواں سال اولمپک مقابلوں میں پاکستان کی بدترین کارکردگی کے بعد جنرل عارف حسن پر استفعے کیلئے شدید دباؤ تھا جبکہ وفاقی حکومت نے بھی انہیں مستعفی ہونے کی ہدایت کی تھی جسے انہوں نے مسترد کردیا تھا۔

 

The post لیفیننٹ جنرل (ر) عارف حسن نے 19 سال بعد اولمپک ایسوسی ایشن کی صدارت چھوڑ دی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/QYfF4eu

انڈس ہائی وے پر باراتیوں کی کوسٹر کو حادثہ، 3 افراد جاں بحق

نصیرآباد: انڈس ہائی وے پر باراتیوں کی کوسٹر حادثے کا شکار ہوگئی جب کہ 3 افراد جاں بحق ہوگئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نصیرآباد کے قریب انڈس ہائی وے پر باراتیوں کے کوسٹر حادثے کا شکار ہو گئی، حادثے میں 3 افراد جاں بحق ہو گئے جب کہ دولہا، دلہن سمیت 15 افراد زخمی ہوئے۔

حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں 24 سالہ نجیب علی، 30 سالہ جاوید علی اور 25 سالہ محمد شہریار شامل ہیں جب کہ زخمیوں میں دولہا صدورو، دلہن بصراں، بچی صائمہ، بچی طاہرہ، اختیار علی حمیر علی زبیر احمد، ذاکر علی، مزمل علی حسین، مدثر علی عبدالطیف ودیگر شامل ہیں۔

زخمیوں اور جاں بحق افراد کو نصیرآباد اسپتال لایا گیا اور فوری طبی امداد کے بعد لاڑکانہ منتقل کیا گیا۔ باراتیوں کا کوسٹر کراچی سے شادی کروا کر واپس لاڑکانہ کے قریب بنگل دیرو جارہا تھا کہ کوسٹر ڈرائیور کے کنٹرول سے نکل کر نصیرآباد کے قریب گاؤں چنھڑ کے قریب درخت سے ٹکرا گیا۔

The post انڈس ہائی وے پر باراتیوں کی کوسٹر کو حادثہ، 3 افراد جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/Hs7Q1P5

مچھ میں پولیس تھانے کے قریب دھماکا، دو بچے جاں بحق

بولان: بلوچستان کے علاقے مچھ میں پولیس تھانے کے قریب ہونے والے دھماکے میں دو بچے جاں بحق ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق بولان کی تحصیل مچھ میں پولیس تھانے کے قریب زور دار دھماکے میں ایک بچہ موقع پر جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہوا، جو اسپتال میں علاج کے دوران دم توڑ دیا۔

دھماکے کی آواز اتنی شدید تھی کہ علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔

واقعے کے بعد ریسکیو ٹیموں نے جائے وقوعہ پہنچ کر لاش اور زخمی کو اسپتال منتقل کیا جبکہ پولیس نے بھی شواہد اکھٹے کیے۔

دھماکے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی تاہم سرکاری ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس واقعے میں علیحدگی پسند تنظیم ملوث ہوسکتی ہے۔

The post مچھ میں پولیس تھانے کے قریب دھماکا، دو بچے جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/4gQVK1I

ہاکس بے کینپ پوائنٹ کے قریب سمندر میں ڈوب کر نوجوان جاں بحق

کراچی: ہاکس بے کینپ پوائنٹ کے قریب سمندر میں ڈوب کر نوجوان جاں بحق ہوگیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق متوفی کی شناخت 26 سالہ نادر خان کے نام سے کی گئی جو کہ پی ای سی ایچ ایس کا رہائشی تھا جبکہ بتایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ پکنیک منانے آیا تھا کہ سمندر میں نہاتے ہوئے ڈوب گیا تھا۔

ایس ایچ او ماڑی پور آصف کیانی نے بتایا کہ پولیس کو اس حوالے سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی جبکہ میڈیا کے رابطہ کرنے پر جب معلومات کی گئی تو پتا چلا کہ ایدھی کے رضا کاروں نے لاش نکال کر منوڑہ میں قائم اسپتال پہنچائی جہاں سے ورثا لاش اپنے ہمراہ لے گئے۔

The post ہاکس بے کینپ پوائنٹ کے قریب سمندر میں ڈوب کر نوجوان جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/ykhc5zX

Friday, 29 December 2023

گھر میں آتشزدگی سے والدین اور بیٹی جھلس کر جاں بحق

 لاہور: گھر میں آتشزدگی سے والدین اور بیٹی جھلس کر جاں بحق ہو گئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور کے علاقہ چوہنگ میں ایک گھر میں آتشزدگی کے باعث تین افراد جھلس گئے، جھلسنے والوں میں افتخار حسین، اس کی بیوی اور بیٹی شامل ہیں۔ تینوں افراد پانچ مرلہ مکان کی پہلی منزل پر رہائش پذیر تھے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق گھر میں آتشزدگی کا وقوعہ ایک بجے کے قریب پیش آیا، مکان کے گراؤنڈ فلور پر کرایہ داروں نے ریسکیو کو آگ لگنے کی اطلاع دی، محلہ داروں نے دروازہ توڑ کر آگ پر قابو پانے کی بھی کوشش کی، مگر ناکام رہے، تنگ گلیاں ہونے کی وجہ سے ریسکیو کو آگ پر قابو پانے میں دشواری کا سامنا رہا۔

ریسکیو نے پانی واٹر پائپ جوڑ کر پانی جائے وقوعہ پر پہنچایا اور آگ پر قابو پایا، تینوں جھلسنے والے افراد بالائی منزل پر واقع ایک ہی کمرے میں سوئے ہوئے تھے، تینوں افراد کی لاشوں کو پولیس نے ایدھی ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کر دیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی وجوہات کا تعین فی الحال نہ ہو سکا۔

The post گھر میں آتشزدگی سے والدین اور بیٹی جھلس کر جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/xSw3yQ1

بلے کا انتخابی نشان: الیکشن کمیشن کا پشاور ہائیکورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کرنے کا فیصلہ

 اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بلے کا نشان بحال کرنے کے حوالے سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر انٹرا کورٹ اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری ہونے والے فیصلے پر مشاورت کے بعد قانونی ماہرین سے مشاورت کی جو مکمل ہوگئی۔

مشاورت مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پشاور ہائیکورٹ نے انٹرا کورٹ اپیل پر ریلیف نہ دیا تو پھر دوسرے مرحلے میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا تھا جسکے بعد تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو پشاور ہائیکورٹ میں چلینج کیا۔

پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو گیارہ جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے بلے کا انتخابی نشان بحال کردیا تھا۔

The post بلے کا انتخابی نشان: الیکشن کمیشن کا پشاور ہائیکورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کرنے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/Wx0Zcuv

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابی شیڈول 2024 میں تبدیلی کردی

 اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے ایک بار پھر انتخابی شیڈول میں تبدیلی کردی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نئے شیڈول کے مطابق مخصوص نشستوں پر کھڑے ہونے والے امیدواروں کی اسکروٹنی تیس دسمبر کے بجائے اب 13 جنوری تک ہوگی اور  ٹربیونلز20 جنوی تک اعتراضات پر فیصلہ کرسکیں گے۔

امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی 22جنوری تک واپس لے سکیں گے جس کے بعد حتمی فہرست 23جنوری کوجاری کی جائے گی۔

اعلامیے کے مطابق پشاور ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے کے تناظر میں مخصوص نشستوں کے شیڈول میں تبدیلی کی گئی ہے جس کا اطلاق جرنل نشوتوں پر نہوں ہوگا۔

The post الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابی شیڈول 2024 میں تبدیلی کردی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2gMDGzw

محکمہ کالج ایجوکیشن کی اکیڈمکس سے لاتعلقی؛ 4 سال سے کالجوں میں گریجوکیشن کے دروازے بند

کراچی: محکمہ کالج ایجوکیشن کی اکیڈمکس سے لاتعلقی کے بعد کراچی کے نوجوانوں پر چار سال سے کالجوں میں گریجوکیشن کے دروازے بند ہیں۔ 

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ کی لاپرواہی اوراکیڈمک معاملات سے لاتعلقی کے سبب کراچی کے نوجوان گزشتہ 4برس سے گریجویشن پروگرام سے محروم ہیں اورانٹرمیدیٹ کرکے سرکاری کالجوں سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے کے خواہش مند ہزاروں متوسط اورغریب طلبہ پر گورنمنٹ کالجوں میں ڈگری پروگرام کے دروازے بند کردیے گئے ہیں اورشہرکے ہزاروں ایسے نوجوان جوجامعہ کراچی اورپبلک سیکٹرکی دیگرکسی جنرل یونیورسٹی میں داخلوں سے محروم رہ جاتے ہیں وہ لاکھوں روپے خرچ کرکے یاتونجی یونیورسٹیزکارخ کررہے ہیں یاپھر سرمایہ نہ ہونے کے سبب اعلیٰ تعلیم سے محروم ہوکرگھروں پر بیٹھ گئے تاہم ان پر گریجویشن کے دروازے بند ہوچکے ہیں جبکہ سندھ کے دیگر ریجن میں بھی یہی صورتحال ہے اور اب پیپلز پارٹی کی سابقہ صوبائی حکومت کے بعد نگراں صوبائی حکومت بھی اس سلسلے میں کسی پیش رفت کرنے میں ناکام ہے۔

محکمہ کالج ایجوکیشن کورواں سال اکتوبرمیں سرکاری کالجوں میں 4سالہ بی ایس ڈگری پروگرام شروع کرنے کااچانک خیال آیا تھا اس سلسلے میں ایک پہلے سے تیارشدہ ڈرافٹ پالیسی کاجائزہ لینے کے لیے 9رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جس کاایک بھی اجلاس تاحال نہیں ہوسکے جس سے محکمہ کی اس سلسلے میں سنجیدگی کاانداز بخوبی لگایاجاسکتاہے

قصہ یوں ہے کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن آف پاکستان اسلام آباد نے چار برس قبل سندھ سمیت پورے پاکستان سے دوسالہ گریجوکیشن ”بی اے، بی ایس سی اوربی کام“ختم کردیاتھا اورکالجوں میں بی ایس چار سالہ ڈگری پروگرام شروع کرنے کی ہدایت جاری کی تھی جوگریجوکیشن کے مساوی ہوگااس اثناء میں کالجوں میں کئی عشروں سے جاری دوسالہ گریجویشن کوایک درجے کم کرکے ”ایسوسی ایٹ ڈگری“میں تبدیل کردیاگیایہی پروگرام انتہائی معمولی انرولمنٹ کے ساتھ آج تک جاری ہے کیونکہ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام گریجویشن کے مساوی نہ ہونے کے سبب طلبہ اس میں داخلہ لینے سے کتراتے ہیں کیونکہ بیشترطلبہ کایہ کہناہے کہ”ان دوبرسوں میں پڑھ کرجب انھیں گریجوکیشن کی سندنہیں ملنی تواس پروگرام کاکیافائدہ ہوگابہتریہ ہے کہ براہ کسے ایسے تعلیمی ادارے میں داخلہ لیں جہاں چارسالہ گریجویشن ڈگری پروگرام میسرہوایک طالب علم حماد نے بتایاکہ جب انٹرمیڈیٹ کے بعد انھوں نے کالج سے گریجویشن کاسوچاتومعلوم ہواہے کہ اب گریجویشن کی ڈگری نہیں مل رہی اس کے لیے یونیورسٹی ہی جاناپڑے گامجھے یونیورسٹی میں اپنے مطلوبہ پروگرام میں داخلہ نہیں مل سکااورنجی یونیورسٹی سے گریجویشن کے اخراجات کے لیے میرے پاس رقم نہیں تھی لہذااب میں کالج میں داخلہ لینے کے بجائے پرائیویٹ بنیادپر ایسوسی ایٹ ڈگری میں رجسٹرڈہوگیاہوں کیونکہ اس پروگرام کے لیے کالج جاکراپنے پیسے خرچ کرناایک فضول بات ہے“

واضح رہے کہ اس وقت صرف کراچی میں 92سرکاری کالج ایسے ہیں جنھیں محکمہ کالج ایجوکیشن سے ڈگری کالج کاٹائیٹل ملاہواہے اوران کالجوں میں چارسال قبل تک دوسالہ گریجوکیشن بی اے،بی کام اوربی ایس سی چلایاجارہاتھا تاہم اب ان کالجوں میں انٹرمیڈیٹ کے بعد انرولمنٹ نہ ہونے کے برابرہے کیونکہ طلبہ کی دوسالہ ایسوسی ایٹ ڈگری میں کسی قسم کی دلچسپی نہیں پائی جاتی 92میں سے کراچی میں صرف پانج سرکاری کالج ایسے ہیں جہاں انتہائی محدودپیمانے پر بی ایس چارسالہ ڈگری پروگرام جاری ہے ان میں سے گورنمنٹ کامرس کالج اورخورشید گرلز کالج نے حال ہی میں جامعہ کراچی سے بی ایس پروگرام کی منظوری حاصل کی ہے جبکہ جامعہ ملیہ اورایجوکیشن کالج میں پہلے سے بی ایڈ اوررعنا لیاقت علی کالج میں ہوم اکنامکس پروگرام چلایاجارہاہے باقی 87سرکاری کالجوں میں سے کسی میں بھی سائنس، آرٹس،ہیومینیٹیز،تجارت،کامرس،ایڈمنسٹریشن اوراسلامک لرننگ سمیت کسی بھی ضابطے کے ڈگری پروگرام آفرنہیں کیے جارہے۔

”ایکسرپیس“نے اس سلسلے میں کراچی ریجن کے سرکاری کالجوں کے ڈائریکٹرپروفیسرسلیمان سیال سے رابطہ کیااوران سے پوچھاکہ آخرکالجوں میں ڈگری پروگرام شروع کرنے میں کارکاوٹ ہے اوراس سلسلے میں اب تک کوئی پیش رفت کیوں نہیں ہوئی ”جس پر انھوں نے دعویٰ کیاکہ پیش رفت ہورہی ہے ہم جلد اجلاس بلارہے ہیں ہمیں ایچ ای سی نے کہاہے کہ ابھی رکیں تاہم جب ان سے سوال کیاگیاکہ ایچ ای سی نے کیوں روکاہے جس پر وہ کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکے“

یادرہے کہ محکمہ کالج ایجوکیشن نے تقریباچار سال کی تاخیرکے بعد 4اکتوبرکوسرکاری کالجوں میں بی ایس چارسالہ گریجویشن شروع کرنے کے لیے پہلے سے تیار شدہ ایک ڈرافٹ پالیسی جاری کی تھی اس پالیسی کے اجراء کے ضمن میں 12اور13اکتوبرکودوعلیحدہ علیحدہ نوٹیفیکیشن جاری کیے گئے جس کے تحت سندھ کے تمام ریجنز کے کالجوں کے ڈائریکٹرزاورچند پرنسپلز پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی اوراس وقت کے ڈائریکٹرجنرل کالجز سندھ پروفیسرسلیان سیال اس کمیٹی کے خود کنوینرمقررہوئے تاہم ان تین مہینوں میں اس کمیٹی کاایک اجلاس بھی نہیں ہوااس تساہلی سے محکمہ کالج ایجوکیشن کی اکیڈمک معاملات میں سنجیدگی کااندازلگایاجاسکتاہے۔
اس صورتحال پر جب ”ایکسپریس“نے سیکریٹری کالج ایجوکیشن صدف شیخ سے رابطہ کرکے سرکاری کالجوں کو ڈگری پروگرام سے محروم رکھنے کی وجہ دریافت کرنی چاہی جس پر ان کا کہناتھا ابھی اجلاس میں مصروف ہیں شام کو رابطہ کریں شام کو رابطہ کرنے پر انھوں نے فون ریسیو نہیں کیا انھیں اس سلسلے میں ایس ایم ایس اور ووٹس ایپ بھی کیا گیا تاہم ان کی جانب سے محکمے کا موقف موصول نہیں ہوا۔

The post محکمہ کالج ایجوکیشن کی اکیڈمکس سے لاتعلقی؛ 4 سال سے کالجوں میں گریجوکیشن کے دروازے بند appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/syfGPNu

Thursday, 28 December 2023

نعمتِ خداوندی اور انسانی رویّے

حضرت صہیبؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ’’ بندۂ مومن کا بھی عجیب حال ہے کہ اس کے ہر حال میں خیر ہی خیر ہے اور یہ بات کسی کو حاصل نہیں سوائے اس بندۂ مومن کے کہ اگر اسے کوئی تکلیف بھی پہنچی تو اسے نے شکر کیا تو اس کے لیے اس میں بھی ثواب ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچا اور اس نے صبر کیا تو اس کے لیے اس میں بھی ثواب ہے۔‘‘ ( صحیح مسلم)

شُکر کی تعریف: شُکر کے لغوی معنی نعمت دینے والے کی نعمت کا اقرارِ کرنا اور کسی کی عنایت یا نوازش کے سلسلے میں اس کا احسان ماننے کے ہیں۔ اصطلاحی طور پر اﷲ کے شُکر سے مراد اﷲ کی بے پایاں رحمت، شفقت، ربوبیت، رزاقی اور دیگر احسانات کے بدلے میں دل سے اٹھنے والی کیفیت و جذبے کا نام ہے۔

انسان جب شعور کی نگاہ سے انفس و آفاق کا جائزہ لیتا ہے تو اسے اپنا وجود، اپنی زندگی اور اس کا ارتقاء ایک معجزہ نظر آتا ہے۔ وہ اپنے اندر بھوک، پیاس، تھکاوٹ اور جنس کا تقاضا پاتا ہے تو خارج میں اسے ان تقاضوں کے لیے غذا، پانی، نیند اور جوڑے کی شکل میں اسباب کو دست یاب دیکھتا ہے۔

وہ دیکھتا ہے کہ ساری کائنات اس کی خدمت میں لگی ہوئی ہے تاکہ اس کی زندگی کو ممکن اور مستحکم بناسکے۔ چناں چہ وہ ان اسباب کے فراہم کرنے والے خدا کے احسانوں کو پہچانتا اور دل سے اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ یہی ابتدائی مفہوم ہے اﷲ کے شکر کا۔ پھر جوں جوں یہ معرفت ارتقاء پذیر ہوتی ہے تو اس تشکر کی گہرائی اور صورتوں میں ارتقاء ہوتا چلا جاتا ہے۔

اجتماعی نعمتوں پر شُکر کی وجوہات: اجتماعی شکر کرنے کی پہلی وجہ اﷲ تعالیٰ کی بے پایاں شفقت اور رحمت ہے جو اس نے انسان کے ساتھ کی ہے ۔

صفات رحم و کرم اﷲ تعالیٰ کا مخلوق کے ساتھ انتہائی مہربانی، شفقت، رحم، نرم دلی اور سخاوت اور بخشش کا اظہار ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا کیا، ان میں تقاضے پیدا کیے اور پھر ان تقاضوں کو انتہائی خوبی کے ساتھ پورا کرتے ہوئے اپنی رحمت، لطف اور کرم نوازی کا اظہار کیا۔ چناں چہ کبھی وہ مخلوق پر محبت اور شفقت نچھاور کرتا نظر آتا ہے تو کبھی مخلوق کی بات سنتا، ان کی غلطیوں پر تحمل سے پیش آتا، ان کی خطاؤں سے درگزر کرتا، نیکو کاروں کی قدر دانی کرتا اور اپنی حکمت کے تحت انہیں بے تحاشا نوازتا دکھائی دیتا ہے۔

یہی نہیں بل کہ ایک بندہ جب مشکل میں گرفتار ہوتا تو وہ اس کے لیے سلامتی بن جاتا، اسے اپنی پناہ میں لے لیتا، اس کی مشکلات کے سامنے ڈھال بن جاتا، آگے بڑھ کر اس کی مدد کرتا اور گھٹا گھوپ اندھیروں میں ہدایت کا نور بن جاتا ہے۔ یہی لطف و کرم اﷲ کا پہلا تعارف ہے جو انسان کو اس کے سامنے جھکاتا، اس کا احسان مند بناتا اور اسے شُکر پر مجبور کرتا ہے۔

اجتماعی شکر کی دوسری وجہ خدا کی صفت ربوبیت ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی ربوبیت کا مفہوم یہ ہے کہ اﷲ مخلوقات کو پیدا کرکے ان سے غافل نہیں ہوگیا۔ بل کہ دن رات ان کو ہر قسم کی سہولت فراہم کررہا ہے۔

وہ زندگی کے لیے آکسیجن، حرارت کے لیے سورج کی روشنی، نشو و نما کے لیے سازگار ماحول، جسمانی نمو کے لیے غذا اور ذائقے کی تسکین کے لیے انواع و اقسام کے میوے اور پھل بنا کر اپنی ربوبیت و رزاقیت کا اظہار کررہا ہے۔ اسی طرح وہ ایک نومولود کو ماں کے پیٹ میں ایک سازگار ماحول اور رز ق فراہم کرتا، دنیا میں آتے ہی ماں کی گود میں اس کی نشو و نما کا بندوبست کرتا اور دنیا کے ماحول کو اس کی خدمت میں لگا دیتا ہے۔

انفرادی نعمتوں پر شُکر کی وجوہات: اجتماعی شکر کے ساتھ ساتھ انفرادی طور پر شکر کرنے کی بھی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، کیوں کہ اﷲ تعالیٰ ہر بندے کے ساتھ انفرادی معاملہ کرتے اور خاص طور پر اسے اپنی نعمتوں سے نوازتے ہیں تاکہ اسے شکر کے امتحان میں ڈال کر آزمائیں۔ انفرادی طور پر شکر کرنے کے درج ذیل مواقع یا وجوہات ہوسکتی ہیں :

٭ مال اور جائیداد میں فراوانی پر شکر ۔ یعنی نقدی، بنک بیلنس، مکان، جائیداد، مویشی اور نعمتوں کی دیگر صورتوں میں فراوانی پر اﷲ کا شکر ادا کرنا۔

٭ اولاد میں کثرت یا حسب توقع اولاد کے حصول میں کام یابی پر اﷲ کا شکر گزار ہونا۔

٭ بہتر اور اعلی میعار زندگی پر تشکر۔ یعنی ایسی زندگی جس میں مادی و روحانی دونوں پہلوؤں سے سکون حاصل ہو۔

٭ صحت کی بہتری پر تشکر۔ صحت میں تمام اعضاء کی سلامتی، بیماری سے حفاظت، یا بیماری سے صحت یابی، کسی بھی جسمانی معذوری سے مبراء ہونا وغیرہ شامل ہیں۔

٭ ماں باپ کا سایہ سر پر موجود ہونے پر اﷲ کا شکر گزار ہونا۔

٭ تعلیم میں اضافے پر شکر گزار ہونا۔

٭ غیر معمولی ظاہری حسن پر تشکر کرنا۔

٭ اچھے حافظہ اور عقل پر شکر گزار ہونا۔

٭ شہرت اور عزت حاصل ہو نے پر تشکر کرنا۔

٭ کسی مصیبت یا بیماری سے نجات پانے پر شکر گزار ہونا۔

٭ کسی گناہ سے بچنے پر یا نیکی کرنے پر شکر کا اظہار کرنا۔

٭ نعمت کا کسی اور صورت میں ملنے پر شکر کرنا۔

شکر کے امتحان کی آفات: شکر کے امتحان سے مراد یہ ہے کہ اﷲ نے ایک شخص کے لیے آسانیاں اور نعمتیں رکھی ہوئی ہیں اور وہ بہ حیثیت مجموعی جسمانی، روحانی، نفسیاتی یا دیگر تکالیف سے محفوظ ہے۔

شکر کے امتحان میں درج ذیل مشکلات و آفات پیش آسکتی ہیں: نعمت کو آزمائش کے بہ جائے خدا کا انعام سمجھ لینا: اگر کسی شخص پر نعمتوں کی بارش ہورہی ہو تو اس کا نفسیاتی اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ ان نعمتوں کو خدا کی رضا سمجھ بیٹھتا ہے اور وہ اس مغالطے میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ اﷲ اس سے راضی ہے۔ حالاں کہ نعمتوں کا اس دنیا میں عطا کیا جانا آزمائش کے اصول پر ہے ناکہ خدا کی رضا اور ناراضی پر۔

تکبر: خدا کی نعمتیں اگر تواتر کے ساتھ ملتی رہیں تو انسان عام طور پر خود کو دوسروں سے برتر محسوس کرتا ہے۔ یہ برتری کا احساس ایک حد سے بڑھ جائے تو تکبّر میں تبدیل ہوجاتا ہے، حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ نعمتیں محض آزمائش کے لیے دی گئی ہیں۔

نعمتوں کو حق سمجھ لینا: شکر کے امتحان کی ایک اور آفت یہ ہے کہ انسان ملنے والی نعمتوں کو اپنا حق سمجھ لیتا ہے کہ یہ نعمتیں تو اسے ملنا ہی چاہیے تھیں۔ جب یہ سوچ پیدا ہو جاتی ہے ان نعمتوں کو انسان ایک معمول کی شے سمجھ لیتا ہے ۔ یوں وہ ان کا عادی ہوجاتا اور شکر کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے ۔

نعمتوں کو معمولی و حقیر جاننا: جب انسان تواتر کے ساتھ کسی نعمت کو استعمال کرتا ہے تو وہ انہیں معمولی اور حقیر سمجھنے لگتا ہے بل کہ وہ انہیں نعمت کی حیثیت سے قبول کرنے کی صلاحیت ہی کھو بیٹھتا ہے۔ مثال کے طور پر آنکھیں بڑی نعمت ہیں۔

لیکن ان آنکھوں کا استعمال دن اور رات تواتر ہونے کی بنا پر انسان بینائی کی نعمت کو سراہنے سے قاصر رہ جاتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کی جانب ایک نگاہ ڈالیں جو ان انمول نعمتوں سے محروم ہیں۔ اس کے لیے سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کی ضرورت ہے ۔

شکر کرنے کے طریقے: شکر کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ ایک شخص اپنے ذوق، حالات اور ماحول کے مطابق ان مختلف طریقوں کا انتخاب کرسکتا ہے۔

زبان سے شکر: شکر کرنے کا پہلا طریقہ یہ ہے کہ زبان سے اﷲ کا شکر ادا کیا جائے۔ جب دل میں کسی نعمت کی ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے تو اس کا اظہار سب سے پہلے زبان ہی سے ہوتا ہے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ عربی میں ہی شکر ادا کیا جائے۔

زیادہ بہتر یہ ہے کہ اپنے الفاظ میں شکر گزاری کی کیفیت کو بیان کردیا جائے۔ البتہ کبھی کبھی اگر پیغمبر کائنات ﷺ کی مانگی ہوئی شکر گزاری کی دعاؤں پر بھی غور کرلیا جائے تو شکر گزاری کے کئی مضامین ذہن میں آجائیں گے۔

نماز کے ذریعے شکر: اﷲ کی نعمتوں کی شکر گزاری کا ایک اور مسنون طریقہ یہ ہے کہ نعمت کے ملنے پر دو رکعت نماز شکرانے کی ادا کی جائے۔ اس میں طویل قیام اور لمبے سجدے کیے جائیں اور خدا کا شکر ادا کیا جائے۔

روزے یا انفاق کے ذریعے شکر: شکر گزاری کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ روزہ رکھا جائے یا اﷲ کی راہ میں مال خرچ کیا جائے۔

عمل کو خدا کی مرضی کے تابع کرنے کے ذریعے شکر: سب سے مشکل لیکن مؤثر طریقہ یہ ہے کہ اپنی مرضی کو خدا کی مرضی کے تابع کرنے کی کوشش کی جائے، اپنی خواہش کو خدا کے حکم کے تحت فنا کیا جائے۔ یہ شکر گزار ی کی حقیقی صور ت یہ ہے کہ اپنے منعم کے احسانات پر ممنون ہوتے ہوئے اس کی کامل اطاعت کی جائے۔

بندوں کی مدد کے ذریعے شکر: اﷲ کے بندوں کی مدد کرکے بھی اﷲ کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر گزاری اختیار کی جاسکتی ہے۔

ناشکری سے بچنے کی تدابیر: ناشکری سے بچنے کے لیے درج ذیل ہدایات کو غور سے پڑھیں۔

٭ کائنات پر غور و فکر کرکے اﷲ کے احسانات تلاش کرِیں اور اس پر اﷲ کا شکر ادا کریں۔

٭ اپنے نفسیاتی، مادی اور دیگر تقاضوں اور کم زوریوں پر غور کریں اور ان کی تکمیل پر اﷲ کے شکر گزار رہیں۔

٭ جب کوئی غیر معمولی نعمت (جیسے بیماری کے بعد صحت وغیرہ) ملے تو اس پر اﷲ کا شکر ادا کریں اور وقت گزرنے کے ساتھ انہیں اپنی یاد میں تازہ کریں اور اﷲ کے احسان مند ہوں۔

٭ ہمیشہ نعمتوں کا موازنہ کرتے وقت اپنے سے نیچے والوں پر غور کریں تاکہ اﷲ کے شکر کی عادت پیدا ہو۔

٭ چوبیس گھنٹوں میں سے دس پندرہ منٹ خدا کی نعمتوں اور احسانات پر غور کرنے کے لیے نکالیں۔

اﷲ تعالیٰ ہمیں بھی صحیح شکر ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین

The post نعمتِ خداوندی اور انسانی رویّے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/9qnos3l

ایمان مزاری رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئیں

 اسلام آباد: معروف وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئیں۔

ایمان مزاری نے اپنے دوست عبدالہادی سے شادی کی خبر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر دی۔ انہوں نے اپنے دولہے کے ساتھ تصویر پوسٹ کرتے ہوئے انگوٹھی، دل اور نظر کا ایموجی استعمال کیا۔

ایمان مزاری کی شادی اپنے ہی پیشے سے تعلق رکھنے اور انسانی حقوق کے مقدمات لڑنے والے وکیل عبد الہادی سے ہوئی ہے۔ عبدالہادی نے بھی اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ شیئر کرکے اپنی شادی کا اعلان کیا۔

واضح رہے کہ ایمان مزاری انسانی حقوق کی سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی صاحبزادی ہیں۔ صارفین کی جانب سے جوڑے کو مبارکباد دی جارہی ہے اور نیک خواہشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔

The post ایمان مزاری رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/g3evN9t

الیکشن کمیشن نے ڈائریکٹرآئی بی اے کراچی کی مدت ملازمت میں توسیع سے روک دیا

  کراچی: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حکومت سندھ کو آئی بی اے کراچی کے موجودہ ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر اکبر زیدی کی مدت ملازمت میں توسیع سے روک دیا۔ 

ڈاکٹر اکبر زیدی کی پہلی چار سالہ مدت ملازمت 15 روز بعد 12جنوری 2024 کو پوری ہوجائے گی،  انھیں سابق سندھ حکومت نے 13 جنوری سن 2020 کو آئی بی اے کراچی کا ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مقرر کیا تھا جس کے بعد وہ جوائننگ دیتے ہی 6 ماہ کی تعطیل پر امریکا روانہ ہوگئے تھے اور وہاں سے آئی بی اے کا انتظام چلا رہے تھے۔

موجودہ نگراں سندھ حکومت نے ڈاکٹر اکبر زیدی کی مدت ملازمت میں ایک بار پھر توسیع کی منظوری دی تھی اور سرکاری جامعات اور اسناد تفویض کرنے والے اداروں کی کنٹرولنگ اتھارٹی وزیر اعلی سندھ جسٹس( ر ) مقبول باقر نے اس سمری کی منظوری 13 نومبر کو دیتے ہوئے سمری کو حتمی منظوری کے لیے الیکشن کمیشن بھجوایا تھا جس کے بعد الیکشن کمیشن نے اس سمری کو مسترد کردیا ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ وزیر اعلی سندھ ( ر ) جسٹس مقبول نے آئی بی اے کی فیکلٹی اور اسٹاف کی جانب سے اس سلسلے میں موصولہ کچھ درخواستوں پر غور نہیں کیا تھا جس کے بعد متعلقہ افراد نے معاملے پر باقاعدہ کمیشن سے رابطہ بھی کیا۔

’’ ایکسپریس‘‘ کو سندھ حکومت کے ایک افسر نے بتایا کہ چونکہ موجودہ نگراں صوبائی حکومت آئی بی اے کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کو سابقہ حکومت سندھ  کی طرز پر برقرار دیکھناچاہتی ہے لہٰذا معاملے پر قانونی  جنگ کے بارے میں سوچا جارہا ہے۔

سندھ حکومت کو اس کا راہ حل نہیں مل رہا ماسوائے اس بات کہ انھیں فی الحال تاحکم ثانی اس آسامی پر کام کرنے دیا جائے اور اس دوران اگر شیڈول کے مطابق الیکشن ہوجاتے ہیں تو آئندہ قائم ہونے والی صوبائی حکومت ڈاکٹر اکبر زیدی کی ملازمت میں توسیع کردے۔

اگر الیکشن کمیشن کے موصولہ خط پر اس کی رُو کے مطابق عمل کیا جائے تو نگراں حکومت سندھ کو اس سلسلے میں آئی بی اے کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کی آسامی مشتہر کرنی پڑے گی۔

The post الیکشن کمیشن نے ڈائریکٹرآئی بی اے کراچی کی مدت ملازمت میں توسیع سے روک دیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/LJwfiXT

Wednesday, 27 December 2023

سسٹم میں ڈیٹا اپ گریڈ کیے بغیر ٹیکس نوٹسز کا اجرا

  کراچی: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سسٹم میں ڈیٹا اَپ گریڈ کیے بغیر ٹیکس نوٹسز کا اجرا کرنا شروع کر دیا ہے۔

اس بات کا انکشاف پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے صدر کاشف انور ممتاز نے چیئرمین ایف بی آر کو بھیجے گئے مکتوب میں کیا ہے۔

مکتوب میں کہا گیا ہے کہ انکم ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے والوں کو ایف بی ار کی جانب سے سیکشن 114 کے تحت نوٹسز کا اجرا کر رہا ہے، دلچسپ امر یہ ہے کہ ایف بی آر نے انتقال کر جانے والے افراد کو بھی ٹیکس وصولیوں کے نوٹسز جاری کیے ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ کاروبار کی بندش یا موت کی اطلاع ایف بی آر کو سیکشن 117 کے تحت دی جاچکی ہے لہٰذا انہیں ٹیکس نوٹس کا اجرا کیوں کیا گیا ہے۔

پاکستان ٹیکس بار نے مطالبہ کیا ہے کہ ایف بی آر پہلے اپنا ڈیٹا بیس کو اپ گریڈ کرے اور آئرس میں تمام معلومات کو اپ لوڈ کرے اور ڈیٹا بیس کے اپ گریڈیشن کے بعد نوٹسز جاری کیے جائیں۔

The post سسٹم میں ڈیٹا اپ گریڈ کیے بغیر ٹیکس نوٹسز کا اجرا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/klRK0i2

شہر قائد کے اہم منصوبے K4 کو اربوں روپوں کا ٹیکہ لگنے سے بچ گیا

  کراچی: شہر قائد کے اہم منصوبے کے فور کو اربوں روپوں کا ٹیکہ لگنے سے بچ گیا۔

کراچی کو پانی پہنچانے کے منصوبے کے فورکے اہم حصے کلری بگھاڑ فیڈر کو پختہ کرنے کے 27 ارب روپے کے ٹھیکے میں قواعد کی خلاف ورزی، سنگین بے قاعدگیوں اور من پسند ٹھیکیداروں کو نوازنے کا انکشاف ہوا ہے۔ غیر قانونی اقدامات سامنے آنے کے بعد سندھ حکومت نے محکمہ آبپاشی کی جانب سے اعلان کردہ ٹھیکے کے پراسیس کو منسوخ کردیا ہے جبکہ متعلقہ حکام اور پراجیکٹ ڈائریکٹر کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کا آغاز بھی کردیا گیا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق کے فور منصوبے کے اہم حصے کلری بگھاڑ فیڈر کی پکی لائنگ کے ٹھیکے میں من پسند ٹھیکیداروں کو ٹھیکہ دینے کی غرض سے پراجیکٹ کو قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 9 حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا جس پر منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر حاجی خان جمالی پر سخت تادیبی کارروائی شروع کرکے ان کو شوکاز نوٹس دیا گیا ہے۔

پراجیکٹ ڈاریکٹر پر قانون کی خلاف ورزی کرنے، سرکاری احکامات نہ ماننے اور من مانی کرنے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں، سرکاری دستاویزات کے مطابق بین الاقوامی فرمز کو ٹھیکہ کے عمل سے باہر رکھنے اور نیب کے ممکنہ ایکشن کے پیش نظر 27 ارب روپے کے پراجیکٹ کو 3 ارب روپے کے 9 حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔

اہم ترین منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر حاجی خان جمالی کو ریٹائرمنٹ سے چند روز قبل سندھ ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقرر کیا گیا تھا، پراجیکٹ کی مدت 36 مہینے تھی جبکہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کی مدت ملازمت صرف ایک مہینے تھی جو دسمبر 27 کو ریٹائرڈ ہو گئے ہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق سیپرا رولز کی خلاف ورزی اور شفافیت اور بنیادی اصول کو نظر انداز کرکے پراجیکٹ کا اعلان پراجیکٹ ڈائریکٹر کی بجائے چیف انجینئر کی جانب سے کیا گیا، سندھ حکومت کی جانب سے ٹھیکے کی منسوخی کا باظابطہ اعلان کیا گیا ہے جبکہ سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم ترین منصوبے کا ٹھیکہ جلد ہی دیا جائے گا۔

The post شہر قائد کے اہم منصوبے K4 کو اربوں روپوں کا ٹیکہ لگنے سے بچ گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/S1wf6on

افغان باشندوں کو شناختی کارڈ بنا کر دینے والے نادرا کے چار سابق افسران گرفتار

 اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ بنا کر دینے کے کیس میں نادرا کے چار سابق افسران کو حراست میں لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق شناختی کارڈز کے غیر قانونی اجرا  کیس میں بڑی پیشرفت اُس وقت سامنے آئی جب وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے کارروائی کرکے جعلی شناختی کارڈ بنانے پر نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے 4 افسران گرفتار کیا۔

ایف آئی اے ترجمان کے مطابق گرفتار افراد میں طاہر، عدنان، عامر اور طیب شامل ہیں جو میگا سینٹرل میں بطور ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور سینئر ایگزیکٹیو کے عہدوں پر تعینات تھے۔

ایف آئی کے مطابق ملزمان نے 2019 اور 2020 میں غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ جاری کیے اور مختلف لوگوں کے بائیو میٹرک کی مدد سے افغان شہریوں کا پاکستانی فیملیز کے ساتھ اندراج کیا۔

دوران تفتیش یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزمان دیہاڑی دار اور نشے کے عادی افراد کو افغان شہریوں کا والد ظاہر کرکے کارروائی مکمل کرتے اور شناختی کارڈ جاری کرتے تھے۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزمان نے شناختی کارڈ جاری کرنے کی آڑ میں بھاری رقوم وصول کیں اور کئی شناختی کارڈ بنا کر دیے۔

The post افغان باشندوں کو شناختی کارڈ بنا کر دینے والے نادرا کے چار سابق افسران گرفتار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/9RM1gSj

Tuesday, 26 December 2023

کراچی میں سہراب گوٹھ سے اغوا ہونے والا افریقی شہری بازیاب

  کراچی: شہر قائد کے علاقے سہراب گوٹھ کی پولیس نے الآصف اسکوائر کے قریب بیرون شہر جانے والی بسوں کے اڈے سے اغوا ہونے والے شہری کو بازیاب کروا کے تین اغوا کاروں کو گرفتار کرلیا۔

پولیس حکام کے مطابق اموبی نامی افریقی شہری 26 دسمبر دسمبر کو شام ساڑھے پانچ بجے سہراب گوٹھ بس اڈے پر پہنچا تو سفید رنگ کی گاڑی میں اُسے چار سے پانچ لوگ زبردستی اغوا کر کے لے گئے تھے۔

اس واقعے کا مقدمہ تھانہ سہراب گوٹھ میں اے ایس آئی کی مدعیت میں درج کیا گیا اور پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اموبی کو بازیاب کروایا۔ پولیس کی کارروائی میں تین اغوا کار بھی گرفتار ہوئے۔

پولیس کے مطابق ملزمان غیر ملکی شہری کو زبردستی بس اڈے سے گاڑی میں بٹھا کر روانہ ہو گئے تھے۔

The post کراچی میں سہراب گوٹھ سے اغوا ہونے والا افریقی شہری بازیاب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/Vxv6Gfc

الیکشن 2024، کئی نامور سیاست دانوں کی انتخابی دنگل سے کنارہ کشی

 اسلام آباد: عام انتخابات 2024 کیلیے بڑے بڑے سیاست دانوں نے میدان خالی چھوڑ دیا اور سابق قومی و صوبائی اسمبلی ممبران سمیت سینئر سیاست دانوں کی بڑی تعداد نے کنارہ کشی اختیار کرلی۔

تفصیلات کے مطابق عام انتخابات 2024 کے لئے سنیئر سیاستدانوں کی بڑی تعداد نے کاغذات نامزدگی جمع ہی نہ کرائے۔

اسد عمر، ولی خان ،شاہد خاقان عباسی ، فیصل واوڈا، خسرو بختیار کاغذات نامزدگی جمع نہ کرانے والوں میں شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عمران اسماعیل ، علی زیدی ،علی اعوان بھی میدان چھوڑ گئے۔

خواتین سیاست دانوں میں ملیکہ بخاری ، شیری مزاری ،سمیراملک ،عندیب عباس، مسرت جمشید چیمہ بھی میدان خالی چھوڑ گئیں۔

اس کے علاوہ فخر امام ، سردار ریاض احمد خان ، نواب یوسف تالپور، اسلم بھوتانی ،محسن داوڑ، علی وزیر، نور الحق قادری ، جمشید چیمہ، مفتاح اسماعیل نے بھی کاغذات جمع نہ کرائے۔ علاوہ ازیں امجد نیازی، چوہدری شجاعت ،صداقت عباسی ، جاوید ہاشمی بھی کاغذات نامزدگی جمع نہ کرانے والوں میں شامل ہیں۔

The post الیکشن 2024، کئی نامور سیاست دانوں کی انتخابی دنگل سے کنارہ کشی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/0nPwEF7

سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے معاملے پر ن لیگ اور مرکزی جمعیت اہل حدیث میں اختلافات

 لاہور: مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے اختلافات پیدا ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیر ساجد میر نے نواز شریف سے ملاقات کی جس میں عام انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے گفتگو کی۔

ذرائع کے مطابق مرکزی جمعیت اہل حدیث نے عام انتخابات میں ن لیگ کی حمایت کے عوض چار صوبائی اور ایک قومی اسمبلی کی نشست کا تقاضہ کیا، جس پر ن لیگ کے صدر شہباز شریف اور پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ نے مخالفت کی۔

لیگی رہنماؤں کی مخالفت کے بعد صورت حال کشیدہ ہوئی اور تاہم نواز شریف نے ساجد میر کے مطالبے پر غور کیلیے مزید وقت مانگا۔

جمعیت اہل حدیث کے وفد میں شامل جماعت کے چیف آرگنائزر کاشف نواز رندھاوا نے لیگی قیادت کے رویے پر دلبرداشتہ ہوکر عہدے سے استعفیٰ بھی دیا جسے ساجد میر نے مسترد کرتے ہوئے کام جاری رکھنے کی ہدایت کی۔

کاشف نواز نے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث مسلم لیگ ن کی باندھی نہیں، ہم ن لیگ کے اتحادی ضرور ہیں لیکن غلام نہیں ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اب مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان انتخابات میں سیٹ ایڈجسمنٹ کے لیے ہر سیاسی جماعت کے ساتھ مذاکرات کرے گی اور ہمارے دروازے ہر سیاسی جماعت کے لیے کھلے ہیں۔

The post سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے معاملے پر ن لیگ اور مرکزی جمعیت اہل حدیث میں اختلافات appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/Ap5VYb0

Monday, 25 December 2023

سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام یقینی بنائیں!

بلدیاتی نظام کی اہمیت کے حوالے سے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں سیاسی اور سماجی رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

عظمی کاردار

(رہنما پاکستان مسلم لیگ ن سابق رکن پنجاب اسمبلی)

جمہوریت کے تین درجے ہوتے ہیں۔ پہلا درجہ وفاقی حکومت، دوسرا صوبائی حکومتیں اور تیسرا مقامی حکومتیں ہوتی ہیں۔

آئین کا آرٹیکل 140 (اے) بااختیار مقامی حکومتوں کی بات کرتا ہے مگر ہمارے ہاں وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے اختیارات کی تقسیم میں ابہام ہے، بیشترمعاملات مشترک ہیں جس کی وجہ سے حکومتیں ایک دوسرے کومد مقابل سمجھتی ہیں۔ قانون سازی میں موجود ابہام کا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے ، اسے دور کرنا ہوگا۔

ہمیں سیاسی قیادت کو بھی سمجھانا ہے کہ مقامی حکومتیں کسی کے مدمقابل نہیں بلکہ یہ تو سیاسی جماعتوں کی طاقت بن سکتی ہیں۔ اگر ملک میں میں مضبوط بلدیاتی نظام لایا جائے جو صحیح معنوں میں عوام کے مسائل حل کرے تو یہ کارکردگی انتخابات میں کام آئے گی، لوگ اس کی بنیاد پر ووٹ دیں گے،نچلی سطح تک عوام میں پذیرائی ہوگی۔

ہمیں مقامی حکومتوں کے حوالے سے سیاستدانوں کی سوچ تبدیل کرنا ہوگی، انہیں بااختیار، موثر اور مضبوط بلدیاتی نظام پر قائل کرنا ہوگا۔ میں نے لوکل باڈیز سے سیاست میں قدم رکھا، دو مرتبہ کونسلر منتخب ہوچکی ہوں۔ لوکل باڈیز سے سیکھ کر اسمبلی میں پہنچی ہوں۔

ہماری خواتین لوکل باڈیز میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں، ہزاروں خواتین سیاست میں قدم رکھتی ہیں اور اس طرح وہ ایمپاور بھی ہوتی ہیں لیکن بدقسمتی سے بلدیاتی نظام نہ ہونے کے باعث ان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور استحصال بھی ہوتا ہے۔

میرے نزدیک مضبوط بلدیاتی نظام کیلئے سیاسی ول چاہیے۔ اس کیلئے سیاسی جماعتوں کو بڑے دل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ گلاسگو، سکاٹ لینڈ، برطانیہ کی سٹی کونسل کا نظام بہترین ہے۔ وہاں اختیارات ضلعی انتظامیہ کے پاس ہیں اور وہی انتظامات چلاتی ہے جس سے لوگوں کے مسائل موثر انداز میں حل ہورہے ہیں۔ ہمارے ہاں عام آدمی کا کوئی پرسان حال نہیں۔

بلدیاتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے اس کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ افسوس ہے کہ 2015ء کے بعد بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے۔ اس وقت سپریم کورٹ کے حکم پر ہوئے اور بعد میں آنے والی حکومت نے بلدیاتی نظام لپیٹ دیا۔ اتنے بڑے خلاء کی وجہ سے لوکل باڈیز میں حصہ لینے والوں سمیت عوام کے غم وغصہ میں اضافہ ہورہا ہے۔

ان کا کوئی پرسال حال نہیں ہے۔ تعلیم، صحت، سیوریج، صفائی ستھرائی، گھریلو ناچاقی، طلاق، لڑائی جھگڑے جیسے مسائل مقامی سطح پر ہی حل کرلیے جاتے تھے مگر اب نہیں ہورہے۔ عام آدمی کیلئے تو اس کا کونسلر یا یونین کونسل کے نمائندے قابل رسائی ہوتے ہیں، ہر کسی کیلئے ایم این اے یا ایم پی اے تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ اب ملک میں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں لہٰذا سیاسی جماعتوں کے پاس یہ سنہری موقع ہے کہ عوام کے زخموں پر مرہم رکھیں اور ان کے مسائل حل کرنے کی پالیسی دیں۔

اس وقت سب سے اہم یہ ہے کہ سیاسی جماعتیںاپنے منشور میں آئین کے آرٹیکل 140(اے) کے مطابق بااختیار اور مضبوط بلدیاتی نظام کی یقین دہانی کرائیں اور یہ بھی وعدہ کیا جائے کہ بلدیاتی نظام کا تسلسل قائم کیا جائے گا۔ یہاں عام انتخابات کے روز ہی بلدیاتی انتخابات کی تجویز آئی ہے میرے نزدیک یہ موثر نہیں ہے ۔

لوکل باڈیز کا الیکشن آسان نہیں ہے،ا س کے لیے بڑی مشینری اور وسائل درکار ہیں۔ عام انتخابات کے فوری بعد بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں اور ان میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ سپریم کورٹ جمہوریت کی مضبوطی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے، بلدیاتی نظام کے بغیر جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکتی، اس پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ ہم عام انتخابات سے پہلے اور بعد میں بھی بلدیاتی نظام کے قیام کے حوالے سے آواز اٹھاتے رہیں گے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ملک میں امن کے قیام میں مقامی حکومتوں کے نمائندوں کا کردار اہم رہا ہے، پولیو کا مسئلہ ہو یا کوئی اور، مقامی نمائندے پر اچھے کام میں پیش پیش رہتے ہیں، اگر ملک میں مقامی حکومتوں کا بااختیار اور مضبوط نظام قائم کر دیا جائے تو ہمارے بیشتر مسائل خود ہی حل ہوجائیں گے۔

سابق حکومت میں ہم نے خواجہ سراء اور خصوصی افراد کیلئے مقامی حکومت میں کوٹہ مختص کیا، سندھ نے بھی ہمارے نظام کو فالو کیا، اب بھی ہمیں ایسا بلدیاتی نظام قائم کرنا ہے جس میں سب کی شمولیت ہو اور سب مل کر ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔

سعدیہ سہیل رانا

(رہنما پاکستان استحکام پارٹی سابق رکن پنجاب اسمبلی)

بدقسمتی سے جو بھی حکومت آتی ہے سب سے پہلے بلدیاتی نظام کو ختم کرتی ہے۔ اس وقت لوکل باڈیز کا جو بھی قانون موجود ہوتا ہے اسے ختم کر دیا جاتا ہے اور نیا قانون بنایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے ملک میں آج تک بلدیاتی نظام کا تسلسل قائم نہیں ہو سکا۔بلدیاتی نظام کا تسلسل یقینی بنانے کیلئے آئینی ترمیم کی جائے۔ عوام اور تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے قانون سازی کی جائے جسے کوئی بھی حکومت موخر نہ کر سکے ۔

قومی و صوبائی اسمبلیوں اور لوکل باڈیز کی مدت مختلف ہے اور ان کے انتخابات بھی الگ الگ ہوتے ہیں۔ میری رائے ہے کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کی طرح بلدیاتی حکومتوں کی مدت بھی 5 برس کی جائے اور عام انتخابات کے روز ہی لوکل باڈیز کے انتخابات کروائے جائیں۔

اس طرح مقامی حکومتوں کا تسلسل قائم ہوجائے گا اور عوام کو بھی اپنے نمائندے منتخب کرنے میں آسانی ہوگی۔ میں نے مختلف ممالک کے بلدیاتی نظام کا مشاہدہ کیا ہے۔ ناروے، برطانیہ اور ترکی میں مقامی حکومتوں کا نظام موثر انداز میں چل رہا ہے۔

ان میں ناروے کا نظام بہترین ہے۔ شہریوں کو ان کے علاقے میں تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، میونسپل سروسز سمیت ہر طرح کی سہولیات مل رہی ہیں۔ وارڈ کی سطح تک لاء اینڈ آرڈر سسٹم موجود ہے، جج ہو یا چوکیدار، سب ایک ہی کمیونٹی میں رہ رہے ہیں اور انہیں ایک ہی طرح کی سہولیات اسی وارڈ میں میسر ہیں۔

سب کے لیے آگے بڑھنے کے یکساں مواقع ہیں لہٰذا ہمیں بھی یہ ماڈل اپنانا ہوگا۔ اگر ہم یہ ماڈل اپنا لیں اور یونین کونسل کی سطح پر گاڑیوں کی چیکنگ، آلودگی، ماحول، سینی ٹیشن، کوڑا کرکٹ جیسے مسائل ڈیل کیے جائیں تو سب اچھا ہوجائے گا۔ سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں تو مقامی حکومتوں کی بات کرتی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اس پر عملدرآمد کتنا ہوتا ہے؟

خواتین مخصوص نشستوں پر اسمبلی میں آتی ہیں، حلقے کے منتخب امیدواران ان کے ساتھ بھی طاقت شیئر کرنے کو تیار نہیں ہوتے، مقامی نمائندوں کے ساتھ کیسے کریں گے؟ عملی طور پر دیکھا جائے تو ایک امیدوار کیلئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ حلقے کے ہر فرد کے مسائل سنے یا حل کر سکے۔

اس کیلئے یونین کونسل کی سطح تک ایک بہترین ٹیم بنانے کی ضرورت ہے۔ میں نے مقامی حکومتوں میں نوجوان، خواجہ سرائ، خصوصی افراد کی نشستوں کی بات کی۔ سابق دور حکومت میں مقامی حکومتوں کو براہ راست فنڈنگ بھی اچھا کام تھا۔

ہمیں بلدیاتی نظام کو آئین کے مطابق مالی، سیاسی اور انتظامی حوالے سے بااختیار بنانا ہوگا۔مقامی حکومتوں کی عدم موجودگی یا ان کے پاس اختیارات کے نہ ہونے کا مطلب ہے کہ ملک میں جمہوریت نہیں ۔ اگر سب اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر جمہوریت کی مضبوطی کیلئے کام کریں تو ملک و قوم کا فائدہ ہوگا۔

پروفیسر ارشد مرزا

(نمائندہ سول سوسائٹی)

جمہوریت کے حوالے سے تین پہلو اہم ہیں۔ پہلا یہ کہ مقامی حکومتوں کے بغیر جمہوری نظام مکمل نہیں ہوسکتا۔ دوسرا یہ کہ وفاقی سطح پر پالیسی سازی کا کام ہوتا ہے اور تیسرا یہ کہ صوبائی حکومتیں اپنی حدود میں رہ کر اپنا آئینی کردار ادا کرتی ہیں۔

وفاقی اور صوبائی حکومتیں وسیع دائرہ کارمیں کام کرتی ہیں۔ ان کے فرائض کی نوعیت الگ ہے، اس میں قانون سازی جیسے معاملات ہیں جبکہ گراس روٹ لیول پر مقامی حکومتوں کا کام ہوتا ہے جو عوام کو ان کے گھر کی دہلیز پر میونسپل سروسز کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کے مسائل کا ازالہ کرتی ہیں۔

حلقوں میں ترقیاتی کام اور گلی محلوں کے مسائل حل کرنا قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کا کام نہیں، نہ ہی حلقے کے ہر فرد تک ان کی رسائی ہوسکتی ہے۔

آئین سازوں نے سوچ سمجھ کر اختیارات تقسیم کیے ہیں لہٰذا سب کو اپنے دائرہ کار میں رہ کام کرنا ہوگا اور اختیارات کی تقسیم میں موجود ابہام کو دور کرنا ہوگا۔ اگر ہم ملک کو سیاسی اور آئینی لحاظ سے آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو جمہوریت کے تینوں درجے کی حکومتوں کو ان کے اختیارات دینا ہوں گے۔ مقامی حکومتیں مستقبل کی قیادت کیلئے ہیچری کا کام کرتی ہیں۔

یہاں سے تربیت حاصل کرکے بہتر قیادت ابھرتی ہے اور وہ اپنے فرائض کو اچھے انداز میں ادا کرنا بھی سیکھ لیتے ہیں۔ ہمارے ہاں لوکل باڈیز کی عدم موجودگی مسائل میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ نہ عوام کے مسائل حل ہو رہے ہیں اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کے، انہیں مضبوط امیدوار ہی نہیں ملتے جن کی گراس روٹ لیول تک جڑیں ہوں۔

افسوس ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں ،مقامی حکومتوں کو اپنا مدمقابل سمجھتی ہیں حالانکہ یہ لوکل باڈیز کا بہترین نظام ان کی طاقت کا باعث بن سکتا ہے۔ ہماری بیوروکریسی نہیں چاہتی کہ اختیارات مقامی حکومتوں اور نمائندوں کو منتقل ہوں۔وہ مالی و انتظامی اختیارات اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔ بیوروکریسی سمجھتی ہے کہ وہ خود اچھے انداز میں فرائض سرانجام دے سکتی ہے اور یہ نمائندے قابل نہیں ہیں۔

انہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ ملک عوامی نمائندوں نے بنایا تھا، جنہوں نے بنایا وہ اسے بہتر انداز میں چلانے کی قابلیت بھی رکھتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ جن کے پاس ووٹ کی طاقت ہے ان کے پاس اختیارات کیوں نہیں؟ہمارے نظام کے بنیادی ڈھانچے میں مسائل ہیں جنہیں دور کرنا ہوگا، ترجیحات درست کرنا ہوں گی۔

ایک بات قابل ذکر ہے کہ انتخابات سے پہلے ہمارے اراکین اسمبلی کی ترجیحات میں عوام شامل ہوتے ہیں لیکن جیسے ہی وہ منتخب ہو جاتے ہیں۔ ان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے ڈیروں کی رونقیں بحال رہیں اس لیے وہ مقامی حکومتیں نہیں چاہتے۔ اگر مقامی حکومتیں بن جائیں اور عوام کے مسائل نچلی سطح پر ہی حل ہونے لگیں تو ان کے پاس کون آئے گا؟ملک میں 8 فروری کو عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور سیاسی جماعتیں اپنا انتخابی منشور تیار کر رہی ہیں۔

میرے نزدیک یہ وقت انتہائی اہم ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں واضح طور پر مضبوط اور با اختیار بلدیاتی نظام قائم کرنے کی یقین دہانی کروائیں۔ اس حوالے سے آئینی ترامیم کی بھی ضرورت ہے لہٰذا پہلے عام انتخابات ہو جائیں اور اس کے بعد بلدیاتی نظام کے حوالے سے ہنگامی اقدامات اٹھائے جائیں۔ سیاسی جماعتیں یہ وعدہ کریں کہ وہ عام انتخابات کے فوری بعد لوکل باڈیز کے انتخابات کروائیں گی۔

سلمان عابد

(دانشور)

8 فروری 2024ء کو ملک میں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں جس کے حوالے سے سیاسی جماعتیں عوام سے مختلف وعدے کر رہی ہیں۔

سیاسی جماعتوں کو سب سے پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ ملک میں بیڈ گورننس کا مسئلہ مقامی حکومتوں کے نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ جب تک خودمختار، شفاف اور بااختیار مقامی حکومتیں نہیں ہونگی تب تک ملکی مسائل حل نہیں ہوں گے۔

اسلام آباد سے پاکستان اورلاہور سے پنجاب نہیں چلایا جاسکتا۔ جدید حکمرانی کے ماڈل میں اختیارات کی تقسیم اور منتقلی بحرانوں کا حل ہے۔ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو تو اختیارات منتقل ہوگئے مگر مقامی حکومتوں کو نہیں ہوئے۔ صوبائی حکومتیں بلدیاتی انتخابات نہیں کرواتی، اس کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں۔ ہر صوبے کا اپنا اپنا بلدیاتی نظام ہوتا ہے اور ان میں معاملات بھی مختلف ہوتے ہیں۔

صوبائی حکومتوں کی جانب سے کمپنیزاور اتھارٹیز بنا کر ایک متوازی نظام بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کسی بھی طور درست نہیں۔ جمہوریت کی مضبوطی کیلئے آئین کے مطابق بااختیار مقامی حکومتیں قائم کرنا ہونگی۔بلدیاتی نظام میں حائل رکاوٹیں دور اور اس کا تسلسل یقینی بنانے کیلئے وفاق کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،اس کیلئے آئینی ترمیم کی جائے۔

اس حوالے سے ایم کیو ایم نے اپنا منشور ڈرافٹ کیا ہے، مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے بھی آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ بھارت کے آئین میں مقامی حکومتوں کے حوالے سے ایک الگ چیپٹرموجود ہے جس میں تینوں درجوں کی حکومت کے الگ الگ کردار بھی واضح کیے گئے ہیں۔ ہمارے ہاں قومی و صوبائی اسمبلیوں کی مدت 5 برس جبکہ بلدیاتی حکومتوں کی مدت 4 برس ہوتی ہے۔ نئی حکومت آتے ہی سب سے پہلے بلدیاتی نظام ختم کرتی ہے۔

اس کیلئے ضروری ہے کہ تمام حکومتوں کی مدت 4 سال یا 5 سال کر دی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ عام انتخابات کے بعد منتخب ہونے والی حکومت کو پابند کیا جائے کہ وہ 120 روز میں بلدیاتی انتخابات کروائے گی۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ ترقیاتی فنڈز اور کاموں کے حوالے سے وفاق، صوبوں اور مقامی حکومتوں کا کردار متعین کرنا ہوگا، تمام صوبوں میں یکساں بلدیاتی نظام لایا جائے، خواتین کو 33 فیصد نمائندگی دی جائے اور براہ راست انتخابات کروائے جائیں۔سویڈن میں کمیونٹی پولیس اور فارمل پولیس الگ الگ ہے۔

چھوٹے جرائم پر تو کمیونٹی پولیس ہی ایکشن لے لیتی ہے۔ سکول، کالج، ہسپتال و دیگر معاملات بھی کمیونٹی کی سطح پر ہی ہینڈل ہوتے ہیں۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں 9 ٹاؤنز تھے اور بااختیار تھے۔

کسی کو میئرکے پاس نہیں جانا پڑتا تھا بلکہ ٹاؤن میں ہی مسائل حل ہوجاتے تھے۔اس وقت بھی ایک مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے انتخابی منشور میںیقین دہانی کرائیں کہ عام انتخابات کے بعد 120 روز میں بلدیاتی انتخابات کرواکر مقامی حکومتیں قائم کریں گی اور انہیں آئین کے مطابق بااختیار بنایا جائے گا۔

The post سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام یقینی بنائیں! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/uXm4b6f

عام انتخابات 2024، خیبرپختونخوا سے 5 ہزار 278 امیدوار میدان میں آگئے

عام انتخابات 2024ء کے لیے خیبرپختونخوا سے 5 ہزار 278 امیدوار میدان میں آگئے، صوبائی اسمبلی لوئر کوہستان کی ایک نشست سے صرف دو افراد نے اور اپر کوہستان کی ایک نشست پر 56 افراد نے کاغذات جمع کراکے دو منفرد ریکارڈ قائم کرادیے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق عام انتخابات 2024ء کے لیے خیبرپختونخوا سے 5 ہزار 278 امیدوارمیدان میں آگئے، قومی اسمبلی کے لیے 1 ہزار 283 اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے لیے 3 ہزار 349 امیدواروں نے کاغذات ںامزدگی جمع کرادیئے۔

قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کے لیے 1 ہزار 322 امیدوار سامنے آگئے، قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں پر 39 خواتین اور صوبائی اسمبلی کے لیے 115 خواتین نے کاغذات جمع کرائے ہیں۔

خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی خواتین کی مخصوص نشستوں پر 97 خواتین نے کاغذات جمع کرائے ہیں۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کے لیے خواتین کی مخصوص نشستوں پر 321 امیدوار سامنے آئے ہیں، خیبرپختونخوا اسمبلی میں اقلیتی نشستوں پر 68 مرد اور 6 خواتین نے کاغذات جمع کرائے۔

کے پی اسمبلی کے انتخابات کے لیے لوئر کوہستان و اپر کوہستان کے اضلاع میں منفرد ریکارڈ قائم ہوا ہے۔ کے پی اسمبلی کی نشست پی کے 32 لوئر کوہستان پر ون ٹو ون مقابلہ ہوگا الیکشن کمیشن کی ابتدائی فہرست کے مطابق پی کے 32 لوئر کوہستان سے صرف 2 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

اسی طرح اَپر کوہستان کی ایک نشست کے لیے سب سے زیادہ 56 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

The post عام انتخابات 2024، خیبرپختونخوا سے 5 ہزار 278 امیدوار میدان میں آگئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/gxAyfTt

نگراں سندھ حکومت کی ناتجربہ کاری، لاکھوں طلبا کا مستقبل داؤ پر لگ گیا

  کراچی:  نگراں حکومت سندھ نے اپنی ناتجربہ کاری کے سبب سرکاری تعلیمی بورڈز کو ایڈہاک ازم کے راستے پر چلا دیا ہے جس کے سبب کراچی میں میٹرک اور انٹر کی سطح پر ثانوی تعلیمی بورڈ اور اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ میں صورتحال انتہائی خراب ہے اور اس کے اثرات شہر کے لاکھوں طلبہ پر آرہے ہیں۔

کراچی میں نویں جماعت سائنس اور جنرل گروپ کے نتائج جاری نہیں ہوپارہے ہیں جبکہ انٹر سال اول کے نتائج بھی بورڈ میں پے در پے تبدیلیوں کے سبب اب تک تیاری کے مرحلے سے باہر ہی نہیں آسکے ہیں جس کے سبب نویں اور گیارہویں جماعتوں کے اسکول اور کالجوں کے تقریبا 2 لاکھ طلبہ شدید ذہنی اذیت سے دوچار ہیں جبکہ انٹر کے ضمنی امتحانات کے انعقاد کا اعلان تاخیر سے کیے جانے کے سبب خدشہ ہے کہ عام انتخابات کی تیاریوں کے سبب اس کے بھی چند پرچے ملتوی کردیے جائیں۔

یاد رہے کہ کراچی میں سال 2023 کے میٹرک(نویں اور دسویں) کے سالانہ امتحانات مئی میں جبکہ انٹر سال اول گیارہویں جماعت کے سالانہ امتحانات جولائی میں ہوئے تھے تاہم اب رواں سال ختم ہونے میں ایک ہفتے سے بھی کم کا وقت رہ گیا ہے لیکن میٹرک بورڈ نویں جماعت کا نتیجہ جاری کرسکا ہے اور نہ ہی انٹرمیڈیٹ بورڈ میں گیارہویں جماعت کے نتائج تیار ہوسکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق میٹرک بورڈ میں نویں جماعت سائنس اور جنرل گروپ کے نتائج تو تیار ہیں لیکن ان نتائج پر دستخط کرنے کے لیے کوئی ناظم امتحانات موجود نہیں ہے حکومت سندھ اپنے 22 نومبر کے نوٹیفیکیشن میں ثانوی تعلیمی بورڈ کے ناظم امتحانات کو بھی ہٹاچکی ہے اور ایک ماہ بعد بھی کسی افسر کی بحیثیت ناظم امتحانات تقرری نہیں ہوسکی ہے جس کے سبب نتائج جاری نہیں ہوپارہے ہیں۔

چیئرمین ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی پروفیسر شرف علی شاہ کے مطابق کئی بار محکمے کو اس بات کی اطلاع دی جاچکی ہے لیکن مسلسل سوال و جواب میں ہی معاملہ الجھا ہوا ہے، نتائج تیار ہیں لیکن ناظم امتحانات کے نہ ہونے کے سبب اجراء ممکن نہیں ہورہا۔

واضح رہے کہ کراچی میں نویں جماعت کے نتائج کے منتظر طلبہ کی تعداد 1 لاکھ کے لگ بھگ ہے صورتحال یہ ہے کہ طلبہ 7 ماہ بعد بھی یہ ایک لاکھ طلبہ اپنے امتحانی نتائج سے لاعلم ہیں ان کے میٹرک کے امتحانات میں اب ساڑھے 4 ماہ کا وقت باقی ہے لیکن طلبہ یہ نہیں جانتے کہ وہ کتنے پرچوں میں پاس ہیں اور دسویں جماعت کھ ساتھ انھیں نویں کے کون کون سے پرچے دینے ہیں اور فیل ہونے کی صورت میں انھیں نویں کے کتنے یا کونسے پرچوں کی تیاری کرنی ہے۔

دوسری جانب انٹر بورڈ کراچی کے ذرائع کے مطابق کمشنر کراچی سلیم راجپوت نے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس منعقد کیا ہے اور اسی اثناء میں کنٹرولر آف ایکزامینیشن اور سیکریٹری بورڈ کی ذمے داریاں 2 ہفتے کے لیے بالترتیب دو مختلف افسران ڈپٹی کنٹرولر زاہد رشید اور ڈپٹی سیکریٹری ہارون رشید کے حوالے کردی ہیں۔

یہ دونوں افسران دیے گئے مناصب کے حوالے سے روزمرہ امور کے ذمےدار ہونگے ۔ واضح رہے کہ میٹرک بورڈ کی طرح انٹر بورڈ میں بھی گیارہویں جماعت کی تمام فیکلٹیز کے نتائج تاخیر سے دوچار ہیں یہ امتحانات جولائی میں ہوئے تھے اور ان کے نتائج اس سال جاری نہیں ہو پائیں گے جس کے سبب انٹر سال اول کے طلبہ بھی شدید ذہنی کرب سے گزر رہے ہیں بتایا جارہا ہے کہ انگریزی سمیت کئی مضامین کی امتحانی کاپیاں تو تاحال جانچ کے مرحلے سے باہر ہی نہیں آسکے ہیں جبکہ کامرس ریگولر کے بھی کئی مضامین کی کاپیوں کی جانچ بھی تاحال مکمل نہیں ہوسکی ہے اور یہ امکان ہے کہ انٹر کے ضمنی امتحانات شروع ہوجائیں گے لیکن سال اول کا نتائج رکے رہیں گے۔

ادھر انٹر بورڈ کی موجودہ انتظامیہ نے ضمنی امتحانات کے انعقاد میں اس قدر تاخیر کردی ہے کہ شیڈول میں دیے گئے آخری کچھ پرچے ملک میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے سبب متاثر ہوسکتے ہیں۔

شیڈول کے مطابق 15 جنوری 2024 سے شروع ہونے والے انٹر کے ضمنی امتحانات 6 فروری تک جاری رہیں گے جبکہ الیکشن کمیشن اسکولوں اور کالجوں میں ہی پولنگ اسٹیشن قائم کرتا ہے جس کے لیے کئی روز پہلے تیاریوں کے سلسلے میں ان مراکز کا کنٹرول قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کمیشن کے پاس چلا جاتا ہے ایسے میں انتخابات سے صرف ایک روز قبل تک مراکز میں ضمنی امتحانات کا انعقاد ممکن نہیں رہے گا جس کے سبب کئی پرچے ملتوی ہوکر ری شیڈول ہونے کا خدشہ ہے اور ان امتحانات اور اس کے نتائج میں بھی مزید تاخیر ہوگی۔

The post نگراں سندھ حکومت کی ناتجربہ کاری، لاکھوں طلبا کا مستقبل داؤ پر لگ گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/cICZo18

Sunday, 24 December 2023

اسلام آباد ایکسپریس وے پر خوفناک ٹریفک حادثہ؛ 4 افراد جاں بحق

 راولپنڈی: اسلام آباد ایکسپریس وے پر خوفناک ٹریفک حادثے میں 4 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوگئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق راولپنڈی میں اسلام آباد ایکسپریس وے کے مقام پر ڈھوک کالا خان اسٹاپ کے قریب خوفناک ٹریفک حادثہ پیش آیا جس میں 4 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوگئے، تمام زخمیوں کو فوری ابتدائی طبی امداد کیلیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ترجمان 1122 کا کہنا ہے کہ حادثہ کار اور موٹرسائیکل کے درمیان پیش آیا، زخمیوں میں 4 افراد کی حالت انتہائی تشویشناک ہے جب کہ جاں بحق افراد کی لاشیں پمز ہسپتال منتقل کردی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ٹریفک حادثہ میں جاں بحق 2 افراد کا تعلق مسیح برادی سے ہے، تمام زخمی افراد کا تعلق بھی مسیح برادری سے ہے جب کہ کار میں سوار تمام افراد نشے کی حالت میں تھے۔

The post اسلام آباد ایکسپریس وے پر خوفناک ٹریفک حادثہ؛ 4 افراد جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/yglcUqv

بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح کا یوم پیدائش آج منایا جائے گا

  کراچی: بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا یوم پیدائش آج  ملک بھر میں منایا جائے گا، مرکزی تقریب کراچی میں بانی پاکستان کےمزار پر ہوگی، پاکستان ملٹری اکیڈمی(کاکول) کا چاق چوبند دستہ گارڈز کے فرائض سنبھالے گا۔

قائداعظم کے یوم پیدائش پر کراچی سمیت ملک بھر میں خصوصی تقریبات منعقد ہوں گی۔ بانی پاکستان کے یوم پیدائش پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب مزار قائد پر منعقد ہوگی۔

پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کا چاق چوبند دستہ مزار قائد پر گارڈز کے فرائض سنبھالے گا،اس وقت پاک فضائیہ کے جوان مزار قائد پر گارڈز کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

بابائے قوم کے یوم پیدائش کے موقع پر گورنر سندھ کامران ٹیسوری ،نگراں وزیراعلی سندھ جسٹس مقبول باقر صوبائی کابینہ کے ارکان سمیت دیگر اعلی سول فوجی حکام اور اہم شخصیات مزار قائد پر حاضری دیں گی،پھولوں کی چادر چڑھائیں گی اور فاتحہ خوانی کریں گی۔ یہ شخصیات قائد اعظم کی خدمات پر ان کو خراج عقیدت پیش کریں گی۔

بانی پاکستان کے یوم پیدائش کی مناسبت سے ملک بھر میں سیمینار، کانفرنسیں اور دیگر تقریبات ہوں گی۔

ان تقریبات میں قائد اعظم محمد علی جناح کوبرصغیر کے مسلمانوں کے لیے آزاد اور خود مختار پاکستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے ان کی جدوجہد پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔

The post بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح کا یوم پیدائش آج منایا جائے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/4k3d6jm

Saturday, 23 December 2023

پاکستان کا بھارت میں ٹریڈ افسر تعینات نہ کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: نگراں حکومت نے بھارت میں ٹریڈ آفیسر تعینات نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع وزارتِ تجارت کے مطابق بھارت میں ٹریڈ آفیسر تعیناتی کے سابقہ حکومتی پلان پر عملدرآمد روک دیا گیا۔

سابق وزیراعظم شہباز شریف نے نئی دلی میں ٹریڈ آفیسر تعینات کرنے کی منظوری دی تھی۔اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ اتحادی دور میں ٹریڈ آفیسرز کے لیے مشتہر 40 اسامیوں میں نئی دلی بھی تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک نئے ٹریڈ افسران کی تعیناتی کیلیے سفارشات تیار

ذرائع وزارتِ تجارت کے مطابق نگراں وزیراعظم نے نئی دلی کے سوا باقی مشتہر 39 بیرونِ ملک ٹریڈ افسران کی اسامیوں پر تعیناتی کی منظوری دی۔

The post پاکستان کا بھارت میں ٹریڈ افسر تعینات نہ کرنے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/NJL9nVt

کاغذات نامزدگی جمع کروانے میں ’اداروں کی مداخلت‘ پر ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کا خط

 لاہور: ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر لاہور نے پولیس اور اداروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے معاملے میں رکاوٹیں ڈالنے پر صوبائی الیکشن کمشنر کو خط لکھ دیا۔

تفصیلات کے مطابق پولیس کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے میں رکاوٹیں ڈالنے کے معاملے پر ضلعی الیکشن کمشنر لاہور عبدالودود نے صوبائی الیکشن کمشنر کو مراسلہ لکھ دیا۔

مراسلے میں انہوں نے لکھا کہ ’ریٹرننگ افسران کی جانب سے متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کام میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں‘۔

انہوں نے خط میں لکھا کہ پولیس اور دیگر انتظامیہ کو ٹیلی فونک اور تحریری شکایات دیں مگر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا، اب اس معاملے کو آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری پنجاب کے سامنے اٹھایا جائے۔

The post کاغذات نامزدگی جمع کروانے میں ’اداروں کی مداخلت‘ پر ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کا خط appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/gCzv40d

کراچی میں ’ٹارگٹ کلنگ‘ کے واقعات میں دو نوجوان جاں بحق

  کراچی: شہر قائد کے دو مختلف علاقوں میں چند گھنٹوں کے دوران فائرنگ کے واقعات میں دو کاروباری شخصیات کوقتل کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق نیوکراچی صنعتی ایریا میں گھات لگائے مسلح افراد نے دھاگے کی فیکٹری کے مالک کی گاڑی پر فائرنگ کی جس کی زد میں 28 سالہ اسامہ مامون آیا اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔

پولیس نے بتایا کہ واقعے کے وقت کار میں مقتول کے والد اور دو بھائی بھی موجود تھے جو معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔

صنعت کار سلیم مامون اپنے تین جوان بیٹوں کے ہمراہ رہائش گاہ ڈیفنس سے نیوکراچی صنعتی ایریا سیکٹر 12 ڈی پہنچے تو موٹر سائیکل پر سوار افراد نے گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی۔

فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ کے ساتھ آگے بیٹھے 28 سالہ اسامہ مامون کو ایک گولی لگی جو الٹے ہاتھ کو چھو کر پسلیوں میں پیوست ہوئی اور نوجوان موقع پر ہی دم توڑ دیا۔

پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم کے چار خول برآمد ہوئے۔ عینی شاہدین نے پولیس کو بتایا کہ گلی میں دو موٹرسائیکلوں پر چار لڑکے تھے جبکہ اُن کے بیک اپ پر بھی مزید لوگ موجود تھے۔

سولجر بازار تھانے کی حدود میں گرومندر پر قائم بلیو ربن بیکری کے سامنے 8 سے 10 مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کی جس میں راجو آئس کریم کا 25 سالہ مالک اعجاز جاں بحق جبکہ ملازم عدیل شاہ زخمی ہوا۔

پولیس کے مطابق وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کے 25 خول ملے، ابتدائی طور پر واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔

ایس ایس پی  علینہ راجپر نے بتایا کہ جس طرح سے ملزمان نے فائرنگ کی ہے اس سے تو اندازہ ہوتا ہے کہ واقعہ کوئی بہت ہی ذاتی چپقلش کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے تاہم مقتول کا بھائی اسپتال پہنچ گیا ہے جس سے مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہے جبکہ پولیس جائے وقوعہ سمیت ملزمان کے فرار ہونے والے راستوں پر نصب کلوز سرکٹ کیمروں کو تلاش کر رہی ہے تاکہ ان کی فوٹیجز کی مدد سے ملزمان کی شناخت میں کوئی اہم کامیابی حاصل ہو سکے۔

انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کے واقعہ میں ایک راہگیر نوجوان 18 سالہ عدیل محمد شاہ بھی ٹانگ پر گولی لگنے سے زخمی ہوا ہے جبکہ اطلاعات کے مطابق ملزمان آئسکریم کی دکان پر آئے تھے جنھیں دیکھ کر دکاندار اعجاز بھاگا لیکن وہ کچھ قدم کے بعد ہی فائرنگ کا نشانہ بنا دیا گیا ۔

The post کراچی میں ’ٹارگٹ کلنگ‘ کے واقعات میں دو نوجوان جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/smjAwQa

Friday, 22 December 2023

الیکشن کمیشن کے فیصلے سے دکھ ہوا، ہمارے پاس پلان بی بھی موجود ہے، بیرسٹر گوہر

 پشاور: پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے دکھ ہوا، ہمارے پاس پلان بی موجود ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پی ٹی آئی  انٹرا پارٹی الیکشن سے  متعلق فیصلے کے خلاف تحریک انصاف نے پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: انٹراپارٹی انتخابات کالعدم قرار، پی ٹی آئی بلے کے انتخابی نشان سے محروم ہوگئی

ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ بہت کمزور ہے۔ یہ ارجنٹ میٹر ہے، جس کے لیے ہم عدالت جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ہمیں دکھ ہوا ہے۔ ہمارے پاس پلان بی بھی موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اپنے امیدواروں کو عام انتخابات میں حصہ لینے کےلیے  کاغذاتِ نامزدگی جمع کرنے کی ہدایات کی ہیں۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے محفوظ کیا گیا فیصلہ گزشتہ روز سنادیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنے انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہیں کروائے، پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لے لیا گیا ہے۔ فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی اور پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن کو کالعدم قرار دیا۔

The post الیکشن کمیشن کے فیصلے سے دکھ ہوا، ہمارے پاس پلان بی بھی موجود ہے، بیرسٹر گوہر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/AJ1CoX6

کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، پشاور سے آنے والی ٹرین سے بم برآمد

  کراچی: پشاور سے کراچی کے کینٹ اسٹیشن آنے والی ٹرین عوام ایکسپریس سے ٹائم ڈیوائس بم برآمد ہوا جسے تین گھنٹے کی طویل کوشش کے بعد ناکارہ بنادیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق پشاور سے رات نو بجے کے قریب کراچی کینٹ اسٹیشن پہنچنے والی ٹرین عوام ایکسپریس کی کوچ نمبر پانچ کی سیٹ 71 اور 72 کے نیچے سے صفائی کے دوران ایک مشکوک بیگ برآمد ہوا، جس کی اطلاع صفائی کرنے والے نے محکمہ ریلوے کے حکام کو دی۔

ریلوے انتظامیہ نے مشکوک بیگ کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دی جس کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری پلیٹ فارم نمبر دو پر پہنچی اور پھر علاقے کو سیل کردیا۔

بعد ازاں بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کر کے بیگ کا معائنہ کیا گیا تو اُس میں سے بم برآمد ہوا جسے ناکارہ بنادیا گیا۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق ٹائم ڈیوائس کا مجموعی وزن پانچ کلو تھا جس میں دو کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا، ڈیوائس کے ساتھ موٹر سائیکل کی بیٹری لگی ہوئی تھی۔

پولیس نے بتایا کہ ائی ڈی بم کو ٹائمر کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا تاہم بروقت اطلاع پر کارروائی کر کے اسے ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔

دوسری جانب محکمہ پولیس نے مذکورہ نشستوں پر بیٹھ کر آنے والے مسافروں کی کھوج لگانے کیلیے اقدامات شروع کردیے ہیں۔

The post کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، پشاور سے آنے والی ٹرین سے بم برآمد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/lKC3v8q

ن لیگ میں ٹکٹوں پر کوئی گروپ بندی نہیں اختلاف فطری بات ہے، خواجہ آصف

 لاہور: مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ٹکٹوں کے معاملے پر ن لیگ میں کوئی گروپ بندی نہیں البتہ اختلاف ہونا فطری بات ہے۔

مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ آصف  نے ایکسپریس نیوز کے  پروگرام  سینٹر اسٹیج  میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ انتخابات میں یک طرفہ مقابلہ ہو، یہ پیغام ضرور جانا چاہیے کہ انتخابات صاف و  شفاف ہوں گے، ووٹر کو حق ملنا چاہیے کہ وہ اپنے پسند کے امیدوار کو ووٹ دے اور کسی جماعت کو انتخابی عمل پر کوئی شکایت بھی نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ  انتخابات کے حوالے سے  کسی کی شکایات سامنے نہیں آنی چاہیے ،مجھے کوئی شک نہیں کہ عوام کو مکمل فری ہینڈ دیا جائے گا ۔ ان شاء اللہ ہم  سادہ اکثریت حاصل کر ہی لیں گے، ہمارا ٹارگٹ ہے کہ  انتخابات  میں سادہ اکثریت حاصل کریں۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیر دفاع نے کہا کہ  ’’ٹکٹوں کی تقسیم سے حوالے سے پارٹی میں کوئی گروپ بندی نہیں،انتخابات  قریب آتے ہیں تو ایک ایک حلقے پر کئی امیدوار ہوتے ہیں، ایسی صورتحال میں اختلافات ہونا فطری بات ہے البتہ پارٹی کے مفاد میں جو بہتر ہو گا اس کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے ہوں گے۔‘‘

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پارٹی  سے  وفاداری رکھنے والوں کو ترجیح دی جائے گی، پارٹی ٹکٹوں کے حوا لے سے  فیصلہ2 سے 4 دن میں ہو جائے گا اور حتمی فیصلہ نواز شریف کو کرنا ہے، پارٹی کا  ٹکٹوں کے معاملے پر اگر اتفاق  نہیں  ہوتا تو پھر معاملہ نواز شریف کے پاس جائے گا۔

استحکام پاکستان پارٹی کے ساتھ  الحاق اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے  خواجہ آصف نے کہا کہ  مجھے اس بارے میں  مجھے  کوئی علم نہیں  ہے کیونکہ ہم ابھی  اپنی پارٹی میں  ٹکٹوں کے معاملات طے کر رہے ہیں۔جب ہم اپنے معاملات طے کر لیں گے تو  ہی اتحاد سے متعلق  فیصلے  کیے جائیں گے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ مسلم لیگ ق سے ہماری ہم آہنگی اُس وقت سے ہے جب ہم اتحادی تھے جبکہ ایم کیو ایم اور جے یو آئی سے بھی انڈراسٹینڈنگ موجود ہے ،میرا نہیں خیال کہ اس زمانے میں استحکام پاکستان پارٹی کا وجود تھا ،استحکام پاکستان پارٹی سے کسی نکتے پر اتفاق ہو گیا تو ٹھیک ورنہ  ہم اپنے نمائندے لائیں گے۔

The post ن لیگ میں ٹکٹوں پر کوئی گروپ بندی نہیں اختلاف فطری بات ہے، خواجہ آصف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/6HqE9Ie

سیاسی منظر نامے پر بڑی ہلچل، فیصل واؤڈا کی آصف زرداری سے اہم ملاقات

سابق وفاقی وزیر و سینیٹر فیصل واؤڈا کی پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری سے اہم ملاقات ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ملکی سیاسی منظر نامے پر ہلچل اُس وقت ہوئی جب کراچی بلاول ہاؤس میں سابق صدر آصف علی زرداری سے فیصل واؤڈا کی اہم ملاقات ہوئی۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی جس میں ملکی اور سندھ کی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

علاوہ ازیں ملاقات میں ملک کی موجودہ صورت حال سمیت عام انتخابات پر دونوں رہنماؤں کے درمیان سیر حاصل گفتگو ہوئی۔


پاکستان پیپلزپارٹی کے ترجمان کی جانب سے آصف زرداری اور فیصل واؤڈا کی ملاقات کی تصویر بھی شیئر کی گئی جس میں سابق صدر خوشگوار موڈ میں سابق وفاقی وزیر کے ساتھ کھڑے ہیں۔

واضح رہے کہ سیاسی منظر نامے میں اہم مقام رکھنے والے تحریک انصاف کو خیر باد کہنے کے بعد فیصل واؤڈا کی پہلی بار کسی سیاسی جماعت کے سربراہ سے ملاقات ہوئی ہے۔

The post سیاسی منظر نامے پر بڑی ہلچل، فیصل واؤڈا کی آصف زرداری سے اہم ملاقات appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/d5vo7T8

Thursday, 21 December 2023

شہید بینظیر بھٹو سے متعلق نظم، بلاول بھٹو آبدیدہ ہوگئے

حیدرآباد: بلاول بھٹو زرداری اپنی والدہ شہید بینظیر بھٹو کی یاد میں پڑھی گئی نظم سن کر جذباتی ہوگئے۔

حیدرآباد میں منعقد شیخ ایاز ادبی میلے میں پی پی پی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے شرکت کی۔ میلے میں شاعرہ سحر امداد حسینی نے شہید بینظیربھٹو کی یاد میں نظم پڑھی۔

بلاول بھٹو والدہ سے متعلق نظم سن کر جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آبدیدہ ہوگئے۔ ویڈیو میں بلاول بھٹو کو نظم سننے کے دوران باربار آنسو پونچھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کی ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ہوگئی۔ سوشل میڈیا صارفین نے بلاول بھٹو سے ہمدردی کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ ماں کی جدائی کا غم سب سے بڑا ہوتا۔

 

The post شہید بینظیر بھٹو سے متعلق نظم، بلاول بھٹو آبدیدہ ہوگئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/8yYLpil

کراچی میں ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان دکاندار قتل، شہریوں کے تشدد سے پانچ ڈاکو ہلاک

  کراچی: شہر قائد کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں مسلح افراد نے ڈکیتی مزاحمت پر تیس سالہ نوجوان کو قتل کردیا، جبکہ شہریوں نے موقع پر تین ڈاکوؤں کو تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کردیا جبکہ سرجانی میں بھی عوام کے ہتھے چڑھنے والے دونوں ڈاکو دوران علاج دم توڑ گئے۔

تفصیلات کے مطابق اورنگی ٹاؤن سیکٹر ون ڈی قذافی چوک نزد برکت اسپتال کے قریب ڈاکوؤں نے لوٹ مار کے دوران مزاحمت پر دکاندار 30 سالہ شہروز کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔

واقعے کے بعد علاقہ مکینوں نے ڈاکوؤں کو گھیر کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جس پر انہیں زخمی حالت میں عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں تینوں دوران علاج جانبر نہ ہوسکے۔ اُدھر سرجانی ٹاؤن میں سیمنٹ ڈپو کے مالک نے لوٹ مار کرنے والے 2 ڈاکوؤں کو فائرنگ کر کے زخمی کیا جس کے بعد انہیں شہریوں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ دونوں ڈاکو اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

عباسی شہید اسپتال میں مقتول شہروز کے والد اسلم نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ڈکیتی کی وارداتیں روز کا معمول ہے ، ہمارے روڈ پر ہر ماہ اوسطاً 20 وارداتیں ہوتی ہیں اور اس سے پہلے شہروز کو تین چار بار لٹ چکا ہے جبکہ پچھلے ماہ اُسے ڈکیتوں نے دو بار لوٹا تھا۔

والد نے کہا کہ شہررز تنگ آگیا تھا جس نے غصے میں ایک ڈاکو کو پکڑ لیا تو دوسرے نے اُسے گولیاں ماردیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہفتے والے دن پولیس اتنا آتی ہے کہ کباڑیوں سے پچاس ، پچاس روپے لیکر جاتی ہے مگر امن و امان کیلیے کوئی اقدامات نہیں کرتی۔

The post کراچی میں ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان دکاندار قتل، شہریوں کے تشدد سے پانچ ڈاکو ہلاک appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/CKEb7jk

اردویونیورسٹی؛اساتذہ کی تقرریوں پرغلط اعدادوشمار سے ایچ ای سی کی رپورٹ متنازعہ ہوگئی

  کراچی: اردویونیورسٹی میں اساتذہ کی تقرریوں اوران کے سلیکشن بورڈزکوجائزیاغیرقانونی قراردینے کی رسہ کشی نے اس معاملے پر جاری اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی رپورٹ کومتنازعہ بنادیا ہے۔ 

رپورٹ میں مبینہ طورپرحقائق کے برعکس شامل کیے گئے  بعض اعداد وشمار کی یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی نشاندہی نے اس رپورٹ کی حیثیت پر سنجیدہ سوالات اٹھادیے ہیں۔

ایچ ای سی نے اپنی رپورٹ میں ان بھرتیوں کوخلاف ضابطہ قراردیا تھا تاہم ایچ ای سی کی رپورٹ کے جواب میں اردویونیورسٹی کی جوابی رپورٹ یونیورسٹی کی سینیٹ کے حالیہ اجلاس میں پیش کی گئی تھی جس میں بتایا گیا ہے کہ ایچ ای سی نے اپنی رپورٹ میں یونیورسٹی کی انرولمنٹ،اساتذہ کی کل تعداد اورسلیکشن بورڈ کے تحت مقررکردہ اساتذہ کی تعداد کے اعدادو شمار غلط پیش کیے ہیں۔

سلیکشن بورڈ چار ماہ تک ایچ ای سی کے نمائندے کی موجودگی میں جاری رہے،  انھوں نے تمام پروسس کوتسلیم بھی کیا تاہم جیسے ہی چیئرمین ایچ ای سی تبدیل ہوئے تونئے سربراہ کی موجودگی میں سلیکشن بورڈ کوغیرقانونی قراردیے جانے کی کوشش کی گئی۔

یادرہے کہ یہ مذکورہ جوابی رپورٹ اردویونیورسٹی کے چانسلراورصدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی کی زیرصدارت منعقدہ سینیٹ کے حالیہ اجلاس میں سامنے آئی ہے،  اجلاس میں ایچ ای سی کی رپورٹ کے جواب میں یونیورسٹی کی پیش کی گئی رپورٹ میں بعض اہم انکشافات سامنے آنے کے بعد اب ان دونوں رپورٹس کی اسکروٹنی اورسلیکشن بورڈسے متعلق حقائق جاننے کے لیے مزیدایک کمیٹی قائم کردی گئی ہے جواپنی حتمی رپورٹ پیش کرے گی۔

اس سلسلے میں ”ایکسپریس“کومعلوم ہواہے کہ اردویونیورسٹی کے سبکدوش کیے گئے وائس چانسلرکی سابق انتظامیہ نے اساتذہ کے سلیکشن بورڈکوکالعدم کرنے سے متعلق اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی رپورٹ کاپوسٹ مارٹم سینیٹ کے حالیہ منعقدہ اجلاس میں پیش کیا۔

ایچ ای سی کی جانب سے جاری رپورٹ کے جواب میں یونیورسٹی کی جاری کی گئی parawise reply میں انکشاف ہواہے کہ ایچ ای سی نے اپنی رپورٹ میں 2021کے جس سلیکشن بورڈ کے نتیجے میں تعینات کیے گئے اساتذہ کے اعداد وشمار پیش کیے ہیں وہ غلط ہیں۔

ایچ ای سی کی رپورٹ کہتی ہے کہ کل 235اساتذہ کی تقرری کی گئی جس میں 6اساتذہ undefined post پر تعینات ہوئے جبکہ 89 لیکچرر،109اسسٹنٹ پروفیسر، 21ایسوسی ایٹ اور10پروفیسرشامل تھے۔

اس کے برعکس یونیورسٹی اپنی رپورٹ میں کہتی ہے کہ undefinedکے نام سے کوئی کیڈر موجود ہی نہیں جبکہ کل 152اساتذہ کی تعیناتیاں کی گئیں جن میں سے 61لیکچررز،68اسسٹنٹ پروفیسرز،19ایسوسی ایٹ اور4پروفیسرزشامل ہیں۔

اسی طرح اردویونیورسٹی کی رپورٹ کہتی ہے کہ ایچ ای سی نے یونیورسٹی کی انرولمنٹ اوراساتذہ کی تعداد کے حوالے سے نہ صرف غلط اعداد وشمار پیش کیے بلکہ کراچی اوراسلام آباد کیمپس کے طلبہ اوراساتذہ کی تعداد کاٹوٹل بھی غلط پیش کیا۔

ایچ ای سی نے اپنی رپورٹ میں کراچی کیمپس میں طلبہ کی تعداد 10106اوراسلام آباد میں 4386پیش کی اوراس کاغلط ٹوٹل 13606پیش کردیا، اسی طرح کراچی کیمپس میں اساتذہ کی تعداد 275اوراسلام آباد میں 131بتائی گئی اوراس کاغلط ٹوٹل 386بتایا گیا۔

یونیورسٹی کی جوابی رپورٹ بتاتی ہے کہ کراچی میں کل طلبہ14442 اوراسلام آباد میں 4103 ہیں اوراردویونیورسٹی کے طلبہ کی تعداد 18545 ہے، اس طرح کراچی میں 263اساتذہ جبکہ اسلام آباد میں 98ہیں جبکہ کل اساتذہ 361ہیں۔

اس سلسلے میں جب ”ایکسپریس“نے اردویونیورسٹی کے ایک سینئراستاد سے دریافت کیا توانھوں نے ان اعداد وشمارکے ہیرپھیرسے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ ایچ ای سی نے سلیکشن بورڈ سے آنے والے ان اساتذہ کوبھی گنا ہے جوپی ایچ ڈی کرنے کے سبب پہلے ہی سے ایڈہاک اسسٹنٹ پروفیسربن کراسی عہدے کی تنخواہیں لے رہے ہیں۔

سلیکشن بورڈمیں appearہونے سے یونیورسٹی کے پے رول پر ان اساتذہ کی تنخواہوں کے سبب کوئی فرق نہیں ہے،  ایسے اساتذہ کی تعداد 40کے لگ بھگ تھی۔

اسی سینیئراستاد کامزید کہنا تھا کہ ایچ ای سی کی تحقیقاتی کمیٹی نے ان لوگوں کوبھی شمارکیا ہے جنھیں آفرآرڈرتوجاری کیے گئے تاہم انھوں نے یونیورسٹی جوائن نہیں کی،  ایسے افرادکی تعداد بھی 20کے آس پاس ہے،  اسی بنیادپر ایچ ای سی کے اعدادو شمارغلط ہیں۔

انرولمنٹ اوراساتذہ کی کل تعدادکے حوالے سے ایچ ای سی کے اعداد وشمار کے حوالے سے مذکورہ سینئرپروفیسرکاکہناتھاکہ شاید ایچ ای سی کی کمیٹی نے جلد بازی میں صرف کراچی کیمپس کی انرولمنٹ رپورٹ میں شامل کی اوریہ بھول گئے کہ اسلام آباد کیمپس بھی موجود ہے۔

واضح رہے کہ ایچ ای سی کی تحقیقاتی کمیٹی میں پرووائس چانسلراین ای ڈی یونیورسٹی ڈاکٹرمحمد طفیل،ایچ ای سی کے ڈائریکٹرکوآرڈینیٹرشاہ زیب عباسی،ایچ ای سی کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر ارشدبشیر،ریجنل ڈائریکٹرکراچی جاوید میمن اوروفاقی وزارت تعلیم کے جوائنٹ سیکریٹری راجا اختراقبال شامل تھے۔

”ایکسپریس“نے جب غلط اعدادو شمار پیش کرنے کے یونیورسٹی کی سابق انتظامیہ کے دعوے پر چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹرمختاراحمد سے دریافت کیا توان کا کہنا تھاکہ جوپکڑمیں آتاہے وہ ایسی ہی باتیں کرتا ہے، ان کا کہنا تھاکہ میں نے اردویونیورسٹی کی جوابی رپورٹ نہیں دیکھی ہے تاہم اتنا ضرورہے کہ اب ہمیں اس یونیورسٹی کے حوالے سے سخت فیصلے کرنے  ہوں گے۔

ادھر ایچ ای سی کی رپورٹ کے جواب میں تحریری رپورٹ کے خالق اردویونیورسٹی کے سابق وائس چانسلرپروفسیرڈاکٹرضیاء الدین سے جب ”ایکسپریس“نے رابطہ کیا توان کا کہنا تھا کہ ایچ ای سی کی ٹیم آئی تھی ہم نے انھیں مکمل ڈیٹا شیئرکیا تھا لیکن اس کے باوجود ہمارے دیے گئے ڈیٹاکورپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا اورحقائق کے برعکس رپورٹ تیارکی گئی۔

یادرہے کہ ایچ ای سی نے اپنی رپورٹ میں اس پورے سلیکشن پروسس کوکالعدم قراردینے کی سفارش کی تھی جس کے جواب میں یونیورسٹی نے جوابی رپورٹ میں شامل اپنی تجاویز میں موقف اختیارکیا ہے کہ جب ایچ ای سی کے سلیکشن بورڈمیں شریک نمائند ے ڈاکٹراے کیومغل کی موجودگی میں کمیٹی امیدواروں کی تقرری کی سفارش کرچکی ہے تویونیورسٹی لاء میں اب اس کی گنجائش نہیں کہ ایچ ای سی کی کوئی کمیٹی اس سلیکشن پروسس کاجائزہ لے۔

یونیورسٹی کے اعلیٰ اختیاراتی ادارے ”سینیٹ“کی جانب سے اس سلیکشن پروسس کی منظوری 18جون 2022کودی جاچکی ہے اگراس میں کوئی بے قاعدگی ہے تواسے دوبارہ سلیکشن بورڈکوریفرکیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی کہا گیاہے کہ جب نمائندہ ایچ ای سی تمام سلیکشن کے مرحلے میں شامل رہے اوران کی جانب سے امیدواروں کے تقررمیں کسی قسم کااعتراض نہیں اٹھایا گیا اورچار ماہ مئی 2021سے اگست 2021تک چلنے والے سلیکشن پروسس کے دوران ایچ ای سی کی جانب سے بھی کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا اورچیئرمین ایچ ای سی کی تبدیلی اورپروسس کے ایک سال کے بعد اس پر اعتراضات اٹھانا غیرقانونی ہے۔

ایچ ای سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی شعبوں کے سلیکشن بورڈ ایسے تھے جس میں دوکے بجائے ایک سبجیکٹ اسپیشلسٹ شریک ہوا، اس اعتراض کے جواب میں یونیورسٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایچ ای سی نے یہاں بھی حکام کوگمراہ کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ سلیکشن کمیٹی میں 4اراکین پر کورم پورا ہوتاہے جس میں ایک سبجیکٹ اسپیشلسٹ بھی شریک ہوسکتاہے اوردوکی شرکت mandatoryنہیں ہے۔

واضح رہے کہ اردویونیورسٹی کے منعقدہ ان سلیکشن بورڈز میں ڈاکٹراے کیومغل ایچ ای سی کے نمائندے کے حیثیت سے شریک ہوتے رہے، ایچ ای سی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ڈاکٹراے کیومغل کے مطابق بورڈکی تمام کارروائیاں یونیورسٹی کی statutory requirmentsکے مطابق تھیں اوراس کے تمام فیصلے بورڈ کودی گئی دستاویزات کی روشنی میں کیے گئے۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے بھی اس بات کی تائید میں کہا ہے کہ ڈاکٹراے کیو مغل نہ صرف تمام سلیکشن پروسیس کاحصہ رہے بلکہ امیدواروں کومارکس دیے اورسلیکشن کمیٹی کی تمام سفارشات پران کے دستخط بھی موجودہیں۔

قابل ذکر امریہ ہے کہ ایچ ای سی کی انکوائری ٹیم نے اپنے رپورٹ میں یونیورسٹی کی سلیکشن کمیٹی پر الزام عائد کیاکہ کچھ امیدواروں کوانٹرویومیں بولنے کاموقع ہی نہیں دیا گیا، ان سے بمشکل ایک سوال پوچھا گیااورانھیں دومنٹ کے اندرہی واپس لوٹا دیا گیا۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے اس الزام کے دفاع میں ایچ ای سی کی رپورٹ کا ہی سہارالیتے ہوئے کہا ہے کہ ایچ ای سی کے اپنے نمائندے نے مذکورہ کمیٹی کے سامنے یہ واضح کیا ہے کہ ڈاکٹرمغل کے مطابق انٹرویومیں امیدواروں کو دیا جانے والاوقت امیدوارکی اپنی صلاحیتوں پر انحصارکرتا ہے، اگرامیدوارکوکسی بنیادی سوال کاجواب ہی معلوم ہوتوبورڈ اس سے مزید سوالات نہیں کرتا۔

The post اردویونیورسٹی؛اساتذہ کی تقرریوں پرغلط اعدادوشمار سے ایچ ای سی کی رپورٹ متنازعہ ہوگئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/FkDiGB1

Wednesday, 20 December 2023

الیکشن اب رکیں گے نہیں مارچ سے پہلے ہوں گے، آرمی چیف جنرل عاصم منیر

  واشنگٹن: چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ ملک میں عام انتخابات مارچ سے پہلے ہوں گے۔

جنرل عاصم منیر نے واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کی تقریب میں شرکت کی ۔ تقریب میں موجود پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت طاہر جاوید نے امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کہنا ہے کہ لاجسٹکس کی وجہ سے انتخابات کچھ دن آگے پیچھے ہوسکتے ہیں لیکن الیکشن رکیں گے نہیں اور ہرصورت مارچ میں سینٹ کے انتخابات سے پہلے ہوں گے۔

مزید پڑھیں: پاکستان بلاک پالیٹکس کے بجائے دوست ممالک کیساتھ متوازن تعلقات پر یقین رکھتا ہے، آرمی چیف

آرمی چیف نے پاکستانی نژاد امریکیوں سے معیشت ، دہشتگردی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور زراعت سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا اورپاکستانی کمیونٹی کی خدمات کو سراہا۔

The post الیکشن اب رکیں گے نہیں مارچ سے پہلے ہوں گے، آرمی چیف جنرل عاصم منیر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/Vd8sTm0

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر مرادن جیل سے رہا

صوابی: سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو مردان جیل سے رہا کردیا گیا۔ 

تفصیلات کے مطابق پشاور ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر صوابی کو 3 ایم پی او حکم نامہ واپس لینے کی ہدایت کی تھی۔  ڈپٹی کمشنر صوابی کی جانب سے حکم نامہ واپس لینے کے بعد اسد قیصر کی رہائی ممکن ہوسکی۔

سابقہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے 8 دسمبر کو 3 ایم پی او کے تحت گرفتاری کا حکم جاری ہوا تھا۔ سابقہ اسپیکر اسد قیصر ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض رہائی کے احکامات جاری ہوئے۔

رہائی کے موقع پر اسد قیصر کے بھائی، قانونی ٹیم اور پارٹی کارکنوں کی بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا۔ رہائی کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما نے پارٹی کارکنوں کا شکریہ ادا کیا۔

https://twitter.com/AsadQaiserPTI/status/1737482251552579646?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1737482251552579646%7Ctwgr%5Efab5b7b3352b8acbe2115342456211310d7a5829%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1799452

 

 

 

The post سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر مرادن جیل سے رہا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/xuRISt6

Tuesday, 19 December 2023

سابق اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا ٹریفک حادثے میں زخمی

  کراچی: ڈیفنس خیابان شمشیر کے قریب سابق اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا ٹریفک حادثے میں زخمی ہوگئیں ، کار میں ان کا بیٹا بھی سوار تھا جو معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔ 

سابق اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا  کی گاڑی کو عقب سے آنے والی تیز رفتار گاڑی نے ٹکر ماری تھی جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئیں اور انھیں فوری طبی امداد کے لیے کلفٹن میں قائم نجی اسپتال  لے جایا گیا۔

FEHMIDA-MIRZA-ACCIDENT-1

واقعے کی اطلاع پر پولیس جائے وقوعہ پہنچ گئی جبکہ حادثے میں دونوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ حادثے کے وقت کار میں ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے ہمراہ ان کا بیٹا بھی موجود تھا جو معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ پر جب پولیس پہنچی تو وہاں دونوں گاڑیاں موجود نہیں تھیں اور معلوم کرنے پر بتایا گیا کہ دونوں گاڑیاں اسپتال روانہ ہوچکی تھیں جس پر پولیس نجی اسپتال پہنچ گئی ۔

fehmida-mirza-accident

پولیس کے مطابق فہمیدہ مرزا کے بیٹے حسنین مرزا نے اسپتال میں پولیس کو بتایا کہ ہماری گاڑی کو عقب سے آنے والی گاڑی نے ٹکر ماری تھی جس کی وجہ سے والدہ زخمی ہوئی ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے تاہم پولیس واقعے کی مزید چھان بین کر رہی ہے ۔

The post سابق اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا ٹریفک حادثے میں زخمی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/AvLglHy

کوئٹہ کے سیوریج کے پانی میں پولیو وائرس کی تصدیق

 اسلام آباد: وزارت صحت نے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے سیوریج کے پانی میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق کردی۔

وزارت صحت کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق کوئٹہ سے سیوریج کے پانی کے دو نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا ہے۔

ترجمان وزارت صحت کا کہنا ہے کہ پولیو پروگرام کا سرویلنس نظام موثر انداز میں کام کررہا ہے تاہم لوگوں کی نقل مکانی کے باعث پولیو وائرس سامنے آرہا ہے۔

وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ نقل مکانی کرنے والی آبادیوں کیلئے جامع حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے۔

ایک بار پھر وزارت صحت نے تمام والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں۔

The post کوئٹہ کے سیوریج کے پانی میں پولیو وائرس کی تصدیق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/9PA5ZVW

Monday, 18 December 2023

نواز شریف کا دورِ حکومت بھی پی پی کارکنان کیلیے آمریت سے کم نہیں تھا، بلاول بھٹو

 لاہور: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ نواز شریف کا دور حکومت بھی پیپلزپارٹی کے کارکنان کے لئے آمریت سے کم نہیں تھا۔

لاہور میں پاکستان پیپلزپارٹی کی کارکن کامریڈ زبیدہ شاہین کے گھر پر عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ لاہور پہنچ کر بہت اچھا لگا پیپلزپارٹی کی بنیاد لاہور میں رکھی گئی، ہم دوبارہ سے لاہور میں پیپلزپارٹی کو منظم کرنے کیلیے  محنت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی غربت اور بے روزگاری نے عوام کو مشکل میں ڈال رکھا ہے، پیپلزپارٹی کی حکومت جب بھی آئی ہم نے بے روزگاری اور مہنگائی کا مقابلہ کیا، ہمارا مقابلہ کسی سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ ان ہی تین چیزوں (مہنگائی، بے روزگاری اور غربت) سے ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ماضی میں ہم نے انقلابی منصوبہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا، آئندہ حکومت میں نوجوانوں اور مزدوروں کو ریلیف دینے کے لئے پروگرام شروع کئے جائیں گے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلزپارٹی سیاسی جماعت ہے، سیاسی جماعتوں کے دروازے بات چیت کے لئے ہمیشہ سب کے لئے کھلے رہتے ہیں۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات میں اکثریت حاصل ہوئی تو سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں نفرت اور تفریق کی سیاست ہو رہی ہے جسے مسترد کرنا ضروری ہے۔

بلاول کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکن بہت بہادر ہیں، پی پی وہ جماعت ہے جس کے کارکن ضیا اور مشرف کی آمریت میں پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے جبکہ نواز شریف کا دور حکومت بھی پیپلزپارٹی کارکنان کے لئے آمریت سے کم نہیں تھا۔

قبل ازیں کامریڈ زبیدہ شاہین کے گھر پہنچنے پر کارکنان نے بلاول بھٹو زرداری کو امام ضامن باندھا گیا، خواتین کارکنان نے بلاول بھٹو زرداری کو ڈھیروں دعائیں دیں اور محبت کا اظہار کیا۔ زبیدہ شاہین نے کہا کہ بلاول کی شکرگزار ہو جنہوں نے میرے گھر آ کر میری عزت افزائی کی۔

The post نواز شریف کا دورِ حکومت بھی پی پی کارکنان کیلیے آمریت سے کم نہیں تھا، بلاول بھٹو appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/S3tQTxk

نگراں وزیراعلیٰ سندھ نے سرکاری جامعات کے وائس چانسلرزکا اجلاس طلب کرلیا

  کراچی:  سندھ کی سرکاری جامعات کی کنٹرولنگ اتھارٹی نگراں وزیر اعلی سندھ نے پورے صوبے کی سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کا ایک غیر معمولی اجلاس 29 دسمبر کو طلب کرلیا ہے ،  اس اجلاس میں اعلی تعلیمی کمیشن آف پاکستان اور سندھ اعلی تعلیمی کمیشن کے سربراہوں کو بھی مدعو کیا گیا  ہے۔ 

ذرائع کے مطابق اجلاس کے لیے سرکاری جامعات کے انتظامی و مالی معاملات کے علاوہ جامعات میں ڈیجیٹل لائبریریز کے قیام ،ریسرچ کے معیارات اور صنعتوں سے جامعات کے اشتراک کے نکات کو ایجنڈے کا حصہ بنایا گیا ہے۔

اس غیر معمولی اجلاس کے انعقاد کے سبب  جامعہ کراچی کا اسی روز شیڈول سینیٹ کا اجلاس ملتوی کیے جانے کا امکان ہے کیونکہ وزیر اعلی ہائوس کی جانب سے تمام سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کو اس اجلاس میں شرکت کے لیے پابند کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نگراں وزیر اعلی سندھ متعلقہ جامعات کے معاملات میں بہتری کے لیے ہر یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے بات چیت کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

دوسری جانب صوبائی محکمہ کالجز کی جانب سے 4 سال کی تاخیر کے بعد کراچی کے سرکاری کالجوں اور ان کے پرنسپلز کی فہرست جامعہ کراچی کو فراہم کردی گئی ہے۔

یہ فہرست پیر کو جامعہ کراچی کے رجسٹرار کو موصول ہوئی ہے جس کے فوری بعد جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے وائس چانسلر کی منظوری سے پرنسپلز کی نشست پر سینیٹ کے انتخابات کا شیڈول جاری کردیا ہے ، یہ انتخابات یونیورسٹی ایکٹ کو سامنے رکھتے ہوئے 25جنوری کو شیڈول کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کالج پرنسپل اور بالخصوص سندھ پروفیسر اینڈ لیکچرر ایسوسی ایشن(سپلا) کا اصرار تھا کہ یہ انتخابات کرائے جائیں تاہم یہ  بات پوشیدہ رکھی جارہی تھا کہ محکمہ کالج ایجوکیشن کی جانب سے جامعہ کراچی کو ووٹر اور امیدواروں کی فہرست کے سلسلے میں نوٹیفائیڈ پرنسپلز کی فہرست فراہم ہی نہیں کی جارہی تھی۔

کالج ایجوکیشن کے ذرائع بتاتے ہیں کہ اس سلسلے میں یاددہانی کے طور پر جامعہ کراچی نے گزشتہ 4 برسوں میں محکمے کو 11 مختلف خطوط تحریر کیے لیکن ایک بھی خط کا جواب دیا گیا اور نہ ہی کالج ایجوکیشن کی جانب سے مطلوبہ فہرست جامعہ کراچی کو فراہم کی جاری تھی جس کے سبب یہ انتخابات تعطل کا شکار رہے اور کالج اساتذہ خود اپنے محکمے کی نااہلی یا غفلت کے سبب نمائندگی سے محروم رہے۔

ادھر کالج ذرائع کے مطابق سپلا کے مرکزی رہنما کی جانب سے ایک برقی خط کالج پرنسپلز کو بھجوایا گیا ہے جس میں آج منگل کو ہونے والے اجلاس کے التوا کی اطلاع دیتے ہوئے بہتر خبروں کی نوید دی گئی تاہم ابھی سینیٹ انتخابات کے حوالے سے نہیں بتایا گیا۔

The post نگراں وزیراعلیٰ سندھ نے سرکاری جامعات کے وائس چانسلرزکا اجلاس طلب کرلیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/UiJHeP1

بارسلونا میں ’اوور سیز کا پیغام پاک فوج کے نام‘ سے انٹرنیشنل سیمینار کا انعقاد

بارسلونا: ای یو پاک فرینڈ شپ فیڈریشن اسپین کے زیر اہتمام بارسلونا “اوورسیز  کا پیغام پاک فوج کے نام “ انٹرنیشنل سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

تقریب کے مہمان خصوصی لارڈ واجد خان جبکہ اس کی صدارت تمغہ خدمت چیئرمین ای یو پاک فرینڈ شپ فیڈریشن یورپ چوہدری پرویز اقبال لوسرا نے کی۔

تقریب میں شریک شرکا نے پاکستان زندہ باد،پاک فوج زندہ باد اور ترا ضمیر میرا ضمیر جزل عاصم منیر کے فلک شگاف نعرے بلند کئے۔

شریک پاکستانیوں نے سبز ہلالی لہرا کر پاکستان اور افواج پاکستان سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا۔

تقریب میں شریک بچوں، بزرگوں اور نوجوانوں نے قومی ترانہ پڑھا جبکہ شرکا ملی نغموں پر جھومتے بھی رہے۔

The post بارسلونا میں ’اوور سیز کا پیغام پاک فوج کے نام‘ سے انٹرنیشنل سیمینار کا انعقاد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/RKhcHjg

Sunday, 17 December 2023

کراچی میں کوئٹہ کی سرد ہوائیں چل پڑیں، درجہ حرارت میں کمی

  کراچی: مغربی سسٹم کے اثرات نمودار ہوتے ہی کراچی میں بھی کوئٹہ کی سرد ہوائیں چل پڑی ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان کے راستے ملک میں داخل ہونے والے مغربی سسٹم کے عقب میں موجود کولڈ ایئر سندھ اور بلوچستان پر اثر انداز ہو رہی ہیں تاہم مغربی سسٹم ملک کے بالائی علاقوں کی جانب منتقل ہوچکا ہے۔

شمال مشرقی سمت کی ہوائیں اتوار کی درمیانی شب سے چلنا شروع ہوئیں اور اس وقت ہواؤں کی رفتار 22 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ ہو رہی ہیں جبکہ آج ہواؤں کی رفتار 38 کلومیٹر تک تجاوز کرسکتی ہیں۔

آج صبح شہر کی فضاوں پر دھند چھانے کی وجہ سے حد نگاہ متاثر ہوئی اور حدنگاہ 2 کلومیٹر ریکارڈ ہوئی۔ آج شہر کا کم سے کم پارہ 15.5ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی (بلوچستان) کی ہواؤں کے اثرات کے نتیجے میں منگل اور بدھ کو درجہ حرارت مزید گر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ کراچی میں 18 دسمبر سے سرد موسم کی پیش گوئی کی گئی تھی۔

The post کراچی میں کوئٹہ کی سرد ہوائیں چل پڑیں، درجہ حرارت میں کمی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/hKz1xrO

انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے متشدد رویوں کا خاتمہ کرنا ہوگا!

اقوام متحدہ کی جانب سے ہر سال 10 دسمبر کو دنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ رواں برس اس عالمی دن کو 75 برس مکمل ہوچکے ہیں۔

اس میں کیا کھویا، کیا پایا اور اس وقت انسانی حقوق کی کیا صورتحال ہے، اس طرح کے بیشتر سوالات کے جوابات جاننے کیلئے ’’انسانی حقوق کے عالمی دن‘‘ کے موقع پر ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک خصوصی مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں حکومت، اکیڈیمیا اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو مدعو کیا گیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

رضوانہ نوید

(ایڈیشنل سیکرٹری برائے انسانی حقوق پنجاب)

دین اسلام نے 1500برس قبل انسانی حقوق دیے جو ہمیں پیدائش کے وقت سے ہی مل جاتے ہیں۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 2 سے 22 تک انسانی حقوق کے حوالے سے ہیں جن پر حکومت اکیلے عملدرآمدنہیں کرسکتی بلکہ اس میں سول سوسائٹی ، معاشرہ اور عوام سب نے مل کر کام کرنا ہوتا ہے۔

میرے نزدیک سب سے اہم کردار ماں کاہے جو گھر سے بچے کی درست تربیت کرے تو معاشرتی مسائل کا جڑ سے خاتمہ ہوسکتا ہے۔حکومتی سطح پر انسانی حقوق، بین المذاہب ہم آہنگی سمیت مختلف جہتوں میں کام ہو رہا ہے،ا س حوالے سے قوانین بھی موجود ہیں اور کمیٹیاں بھی۔ ہم ملک میں رہنے والے تمام مذاہب کے پیروکاروں اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنا رہے ہیں۔

اس حوالے سے تعلیم میں اقلیتوں کیلئے 2 فیصد کوٹہ موجود ہے جبکہ ملازمت میں 5 فیصد کوٹہ رکھا گیا ہے جس پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے اقلیتوں کو خصوصی گرانٹ بھی دی جا رہی ہے۔ سکھ کمیونٹی کی عبادتگاہوں کو بحال کیا گیا ہے۔ کرتار پور راہداری منصوبہ بھی انسانی حقوق کی بڑی مثال ہے۔

اسی طرح مسیحی اورہندو برادری سے تعلق رکھنے والوں کو بھی گرانٹس دی جا رہی ہیں، ان کے حقوق و تحفظ کا بھی خصوصی خیال رکھا جا رہا ہے۔ ریاست ماں کا کردار بخوبی نبھا رہی ہے ۔ خاکروب جیسی ملازمتوں کیلئے اقلیتوں کا نام لکھنے پر بھی پابندی لگائی گئی۔

ہم معاشرے میں محبت، امن، رواداری کے فروغ اور انتشار، تعصب اور نفرت کے خاتمے کیلئے کام کر رہے ہیں، اس حوالے سے تعلیمی نصاب کا بھی خصوصی جائزہ لیا گیا اورجہاں مسائل تھے انہیں دور کیا گیا ہے۔ جڑانوالہ واقعہ افسوسناک ہے۔

اس کے فوری بعد حکومت نے ایکشن لیا، وہاں عبادتگاہوں کی بحالی کی گئی، متاثرین کے گھر دوبارہ تعمیر کیے گئے، وہاں لوگوں کی داد رسی کی گئی، ریاست کی جانب سے انہیں اعتماد دیا گیا اورایک اچھی فضاء قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہم نے بین المذاہب ہم آہنگی کے مختلف اجلاس بلائے تاکہ ملک میں رواداری کو فروغ دیا جاسکے۔

تمام مذاہب کے ماننے والے مل کر بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے کام کر رہے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ من حیث القوم ہمیں بنیادی انسانی حقوق کیلئے کام کرنا ہوگا۔ ہم نے رواں برس انسانی حقوق کے عالمی دن کو بین المذاہب ہم آہنگی سے جوڑا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ وقت کی ضرورت ہے۔ ملک میں ہم آہنگی کی فضاء قائم کرنے سے بیشتر مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے۔

ڈاکٹر کنول امین

(سابق وائس چانسلر ہوم اکنامکس یونیورسٹی لاہور)

انسانی حقوق کو مغرب کا ایجنڈہ قرار دیا جاتا ہے اور اس پر بات کرنے والوں کو مغرب سے جوڑ دیا جاتا ہے جو درست نہیں۔ نبی آخرالزماں حضرت محمدﷺ نے اپنے آخری خطبے میں جوکچھ فرمایا وہ انسانی حقوق ہیں۔ حقوق العباد کا مطلب انسانی حقوق ہیں لہٰذا ہمیں ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا ہے، یہ ہماری مذہبی فریضہ ہے۔

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مالک پر فرض ہے کہ وہ اپنے پاس کام کرنے والے ملازم کے حقوق کا خیال رکھے، اسی طرح اقلیتوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر تو ماضی قریب کی بات ہے۔

اسی طرح انسانی حقوق کے عالمی دن کو 75 برس ہوئے ہیں لہٰذا جو حقوق اللہ نے انسانوں کو دیے ہیں بطور مسلمان ہمیں ان کو ادا کرنا ہے، ہمارے سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ انسانی حقوق کے حوالے سے حکومتی پالیسیاں اہم ہیں مگر ہمیں سماجی شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے، اس کے بغیر معاملات بہتر نہیں ہوسکتے ۔

ہم نے بطور اکیڈیمیا اس حوالے سے کافی کام کیا ہے۔ ہماری ایک کانفرنس میں اس مسئلے کو ہائی لائٹ کی گیا کہ مسیحی طلبہ کو نصاب میں اسلامیات کیوں پڑھائی جاتی ہے؟ ہمارے جھنڈے میں سفید رنگ اقلیتوں کا ہے، ہمارا مذہب اورآئین، دونوں اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ ہمیں معاشرے میں ایک دوسرے کو قبول کرنے کی فضاء پیدا کرنی ہے۔

اس کاآغاز گھر اور سکول سے کیا جائے۔ ہمیں بچوں کو احترام انسانیت  اور ایک دوسرے کی عزت نفس کا خیال رکھنا سکھانا ہوگا۔ ہمیں سب کی شراکت اور شمولیت کی طرف جانا ہے۔ ہمیں تعلیمی اداروں میں بین المذاہب ہم آہنگی گروپس تشکیل دینے چاہئیں۔ افسوس ہے کہ یونیورسٹیاں نئے علم اور نئی جہتوں پر توجہ نہیں دے رہی، لوگوں کو فکری آزادی نہیں ہے، ڈائیلاگ کم ہوتا جا رہا ہے جس سے شدت پسندی اور عدم برداشت کے رویوں کو فروغ مل رہا ہے۔

اس کو دیکھتے ہوئے ڈائیلاگ کو فروغ دینا ہوگا۔ ہمیں معاشرے کے تمام طبقات جن میں خواجہ سراء و دیگر شامل ہیں، کو حقوق دینا ہونگے، انہیں قومی دھارے میں شامل کرنا ہوگا اور معاشرے کا کارآمد شہری بنانا ہوگا۔ ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جس میں کسی کو بھی دوسرے درجے کے شہری ہونے کا احساس نہ ہو بلکہ سب برابر شہری کے طور پر اپنی زندگی گزاریں اور ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

ہمیں جدید ٹیکنالوجی کو مدنظر رکھتے ہوئے،ا س سے منسلک مسائل کے حل کیلئے کام کرنا ہوگا، نوجوانوں کو درست سمت دینا ہوگی،ا نہیں بے راہ روی کا شکار ہونے سے بچانا ہوگا۔

صبیحہ شاہین

(نمائندہ سول سوسائٹی)

25 نومبر سے 10 دسمبر تک، دنیا بھر میں 16 روزہ عالمی مہم چلائی جاتی ہیں۔ اس کا آغاز خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن اور اختتام انسانی حقوق کے عالمی دن پر ہوتا ہے۔ یہ 16 روز انتہائی اہم ہوتے ہیں جن میں رضاکاروں کا عالمی دن، ایڈز کا عالمی دن سمیت مختلف عالمی دن منائے جاتے ہیں۔

اس سال  انسانی حقوق کا عالمی دن اس لیے بھی اہم ہے کہ اسے 75 برس ہوگئے ہیں لہٰذا دیکھنا یہ ہے کہ ان برسوں میں انسانی حقوق کی جدوجہد کہاں پہنچی اور کیا دنیا میں لوگوں کو ان کے انسانی حقوق مل رہے ہیں۔

انسانی حقوق کے حوالے سے سول سوسائٹی کا کردار انتہائی اہم ہے۔ ہم پہلے مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتے تھے، اب صنفی اقلیتوں سمیت معاشرے کے تمام طبقات کی بات کرتے ہیں جن میں خواجہ سرائ، خصوصی افرادودیگربھی شامل ہیں۔ہم نے وائس چانسلرز کانفرنس منعقد کروائی جس میں مختلف جامعات کے وائس چانسلرز نے خصوصی شرکت کی اور اس میں خصوصی طور پر یہ ہائی لائٹ کیا گیا کی صنفی اقلیتوں پر بات کی جائے۔

اس کانفرنس میں ہائرایجوکیشن میں ان کے کوٹہ کی بات بھی کی گئی لہٰذا یہ سول سوسائٹی کی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ اب ہائر ایجوکیشن میں مذہبی و صنفی اقلیتوں کے لیے کوٹہ موجود ہے جس سے انہیں تعلیم کا بنیادی حق مل رہا ہے۔ پاکستان میں قوانین کی بات کریں تو یہاں ترقی پسندانہ قانون سازی ہوئی ہے۔

مذہبی و صنفی اقلیتوں کے حوالے سے بعض قوانین تو ایسے ہیں جو ترقی یافتہ ممالک میں بھی نہیں ہیں۔ مذہبی اقلیتوں کیلئے ملازمت میں 5 فیصد کوٹہ مختص ہے، اسی طرح خواجہ سراء کے شناختی کارڈ و دیگر سہولیات جیسے قوانین بھی ہمارے ہاں موجود ہیں جو ترقی یافتہ ممالک میں نہیں ہیں۔ ہمارے ہاں پالیسیاں تو موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد میں امتیازی رویے برتے جاتے ہیں جن کا خاتمہ کرنا ہوگا۔

پہلے سینٹری ورکرز جیسی ملازمت کیلئے ایک خاص کمیونٹی کا نام لکھ کر اشتہار شائع کیا جاتا تھا، اس پر میں نے آواز اٹھائی، بار بار ٹوئٹ بھی کیے، اب قانون سازی کردی گئی ہے جس میں کسی ایک طبقے کا نام نہیں لکھا جا سکتا۔

ہمارے ہاں مجموعی طور پر انسانی حقوق کی صورتحال بہتر ہے۔ جڑانوالہ واقعہ جیسے افسوسناک واقعات کرنے والے چند لوگ ہیں جبکہ ان کی مذمت کرنے والے زیاد ہ ہیں۔

ہم نے وہاں جاکر کام کیا تو متاثرین نے بتایا کہ بہت سارے مسلمانوں نے مسیحیوں کی جان بچائی ہے، ان کے گھروں پر کلمہ لکھ دیا، انہیں اپنے گھروں میں پناہ دے دی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک میں انسانی حقوق کے حوالے سے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں قوانین پر عملدرآمد، خلاف ورزی سمیت بیشتر مسائل موجود ہیں جنہیں حل کرنا ہوگا۔

ہمارے ہاں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر اس کے باوجود وہ اپنا کام کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے سول سوسائٹی کو آن بورڈ لیا جاتا ہے جو خوش آئند ہے۔

افراد کی سطح پر مسائل ہوسکتے ہیں، کسی افسر کے آنے یا جانے سے مسئلہ الگ بات ہے لیکن بطور ریاست سول سوسائٹی سے پالیسی سازی میں رائے لی جاتی ہے، ہم خود بھی گاہے بگاہے تجاویز دیتے رہتے ہیں جس کا مثبت رسپانس ملتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سب مل کر کام کریں گے تو ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال بہتر ہوجائے گی۔

The post انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے متشدد رویوں کا خاتمہ کرنا ہوگا! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/wIY3xiz

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...