وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد وزیرِاعظم عمران خان نے پہلی مرتبہ جنرل ہیڈ کوارٹرزکا دورہ کیا، جمعرات کو جی ایچ کیو پہنچنے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم کا استقبال کیا‘ وزیراعظم اورکابینہ اراکین کو ملکی سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال، درپیش خطرات‘ دفاع، پیشہ ورانہ امور‘ دہشتگردی کے خلاف پاک فوج کی مہم، جاری آپریشن ردالفساد، کراچی کی صورتحال اور خوشحال بلوچستان پروگرام کے بارے میں 8گھنٹے طویل بریفنگ دی گئی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ وفاقی کابینہ کے ارکان وزیر دفاع پرویزخٹک، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیراطلاعات فواد چوہدری، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر مملکت برائے داخلہ شہریارآفریدی، سیکریٹری دفاع اور دیگر بھی موجود تھے۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل تیاریوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خدمات اور قربانیوں کو زبردست انداز میں سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اندرونی و بیرونی چیلنجز درپیش ہیں تاہم قوم کی حمایت اور یکجا قومی سوچ کے ذریعے ہم ان چیلنجز پرکامیابی سے قابو پا لیںگے۔
وزیراعظم نے یقین دلایا کہ حکومت پاک فوج کی صلاحیت اور استعداد کار کو برقرار رکھنے کے لیے درکار تمام تر وسائل فراہم کرے گی، ترقی پاکستان کا مقدر ہے اورانشاء اللہ ہم مثبت انداز میں آگے بڑھتے ہوئے اقوام عالم میں اپنا مقام بلند کریںگے۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جی ایچ کیو کے دورے اور فوج پر اعتمادکے اظہار پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ چیف آف آرمی اسٹاف نے یقین دلایاکہ انشاء اللہ پاک فوج ہر قیمت پر مادر وطن کے دفاع کے لیے قوم کی توقعات پر پورا اترے گی۔
اس وقت ملک کو داخلی اور خارجی سطح پر جن مشکل حالات کا سامنا ہے لازم تھا کہ نئی آنے والی حکومت کو ان سے مفصل آگاہ کیا جائے تاکہ ریاست کے تمام اداروں کے درمیان مربوط رابطوں اور باہمی تعاون سے ان درپیش چیلنجز پر قابو پایا جا سکے‘ لہٰذا انھی حقائق کے پیش نظر جی ایچ کیو میں وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے ارکان کو 8گھنٹے تک طویل بریفنگ دی گئی تاکہ ملک کی بہتری کے لیے نئی حکومت بہتر انداز میں حکمت عملی طے کر سکے‘ کسی قسم کی گومگو کی کیفیت یا الجھاؤ پیدا نہ ہو اور اس پر واضح ہو کہ اس نے ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ریاستی اداروں کو اعتماد میں لے کر کن راستوں کا تعین کرنا ہے۔
اس وقت موجودہ حکومت کے بارے میں مثبت تاثر پایا جاتا ہے کہ ملکی مسائل کے حل کے لیے پالیسی کے تعین میں وہ اور عسکری قیادت ایک ہی پیج پر ہیں اور ان کے درمیان کسی قسم کے اختلافات یا نظریاتی الجھاؤ موجود نہیں اور سول قیادت کا ریاستی اداروں سے کسی قسم کا کوئی ٹکراؤ بھی نہیں۔
یہی وہ خوش آیند امر ہے کہ جس سے یہ امید بندھتی ہے کہ سول قیادت پوری تندہی اور عزم کے ساتھ ملکی خوشحالی اور مادر وطن کی حفاظت کے لیے قوم کی توقعات پر پورا اترے گی۔ موجودہ سول حکومت کو ماضی کی تلخ روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی اداروں کے ساتھ مضبوط‘ منظم اور مربوط رابطہ استوار رکھنا ہو گا تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ ملک کو درپیش داخلی اور خارجی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سب ایک ہی پیج پر ہیں۔
انھی امور کا درست ادراک کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے جی ایچ کیو دورہ کے موقع پر جن خیالات کا اظہار کیا وہ خوش آیند ہیں‘ انھوں نے کہا کہ عوام کی تائید اور مربوط قومی اپروچ کے ذریعہ ملک کو داخلی اور بیرونی چیلنجز پر کامیابی سے قابو پالیں گے‘ بلندی سے ہمکنار ہونا پاکستان کا مقدر ہے اور مثبت رویہ اختیار کرتے ہوئے اقوام عالم کی صفوں میں ضرور اپنا مقام حاصل کریں گے۔
اس وقت پاکستان کو خارجی سطح پر امریکا کے ساتھ بھی تعلقات کے حوالے سے الجھاؤ کا سامنا ہے‘ امریکی وزیر خارجہ کی جلد پاکستان آمد کی خبریں آ رہی ہیں اس موقع پر امریکی حکام کی کوشش ہو سکتی ہے کہ دہشت گردی کی آڑ میں پاکستانی حکومت کو ماضی کی طرح الجھائے رکھا جائے لہٰذا پاکستانی حکومت کو بڑی حکمت اور دانائی سے تمام معاملات سے اس طرح نبرد آزما ہونا پڑے گا کہ امریکا سے تعلقات بھی نہ بگڑیں اور ملکی مفاد کو بھی زد نہ پہنچے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت کو تمام سول اداروں کو بھی متحرک کرنا ہو گا تاکہ پاکستان کو اس ناسور سے ہمیشہ کے لیے نجات دلا کر امن و امان کا گہوارہ بنایا جا سکے۔
The post عسکری قیادت کی سول حکومت کو بریفنگ appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2wB69Jv
No comments:
Post a Comment