Urdu news

Friday, 31 August 2018

دھرمیندر بتاتے ہیں!

میں ان چند خوش قسمت لوگوں میں سے ہوں جنھیں ممبئی نے سینے سے لگایا اور اپنی آغوش میں جگہ دی۔ اگر میرا نصیب ساتھ نہ دیتا تو میں بھی اس شہر کی سڑکوں پر ٹھوکریں کھانے کے بعد بالآخر اپنے گاؤں واپس لوٹ جاتا جہاں وہی کھیت کھلیان اور گلہ بانی میرا پیشہ ہوتے۔

میں ممبئی کو فراخ دل کہتا ہوں کیوں کہ اس شہر نے مختلف علاقوں سے آنے والوں کو جگہ دی اور ان کی روزی روٹی کا وسیلہ بنا۔ یہی سبب ہے کہ پنجاب کو اپنی ماں کا درجہ دیتا ہوں اور ممبئی کو اپنا پالن ہار کہتا ہوں۔

ممبئی آمد سے پہلے میرا سب کچھ پھگ واڑا تھا، جہاں میں نے اپنے بچپن اور لڑکپن کے وہ دن گزارے جب انسان اپنے اردگرد کی دنیا اور اپنی ذات سے بے نیاز ہوتا ہے۔ گاؤں کے کھلنڈرے نوجوانوں کے ساتھ موج مستی کرتے دن بہت اچھے گزررہے تھے کہ مجھ پر ایکٹنگ کا بھوت سوار ہوا اور میں اپنی اچھی بھلی نوکری چھوڑ کر اپنی بیوی اور گود کے بچے کو لے کر مہاراشٹر آگیا۔ آج بھی جب ماضی کے اس فیصلے کو یاد کرتا ہوں تو اپنی ہمت پر حیران ہوتا ہوں کہ کس طرح میں نے خود کو اتنے بڑے امتحان کے لیے راضی کیا۔

سرسوں کی مہک اور مکئی کے بوٹوں سے آنے والی بھینی بھینی خوشبوؤں میں بچپن گزرا۔ مجھے وہ دن اب بھی یاد ہیں جب ہم گاؤں کی گلیوں میں گنے کو ہتھیار بناکر ٹولیوں کی شکل میں دنگل کیا کرتے تھے۔ اس اعتبار سے میں نے بڑا بھرپور دور دیکھا ہے اور بڑے لاڈ و پیار سے پرورش پائی۔

بچپن کب گزرا اور کب لڑکپن آیا، کچھ اندازہ ہی نہیں ہوا۔ کھیتی باڑی کے چھوٹے موٹے کام کرنے کے علاوہ ہم بچوں کا صرف یہی کام تھا کہ گاؤں کی گلیوں میں آوارہ گردی کریں۔ وہ سارے کھیل تماشے مجھے پسند تھے جو بچوں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں، لیکن تعلیم کی انسانی زندگی میں کیا اہمیت ہے، اس کا ہمیں کچھ علم نہ تھا۔ اسکول جانا مجھے کبھی پسند نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میں اپنی تعلیم مکمل نہ کرسکا اور صرف تختی لکھنے تک محدود رہا۔ جب ہوش سنبھالا اور ٹین ایج میں داخل ہوئے تو تعلیم کی اہمیت واضح ہوئی۔

ہمارا دیہی ماحول آج بھی شہروں سے بے حد مختلف ہے جہاں لڑکوں کو بہت چھوٹی عمر میں ذمے داریوں کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے اور ان کی شادی کردی جاتی ہے۔ میرے ساتھ بھی یہی سلوک ہوا اور جب میری عمر بہ مشکل 19 سال تھی میری شادی کردی گئی۔ شادی سے کچھ ہی عرصہ پہلے زراعت سے متعلق ایک امریکی ڈرلنگ کمپنی میں مجھے ملازمت مل گئی تھی اور یہ بھی ہمارے دیہی کلچر کا حصہ ہے کہ جب لڑکا نوکری سے لگ جائے تو اس کی شادی کردی جاتی ہے۔

میں اپنی ہی طرح کی ایک ٹھیٹ پنجابی لڑکی کو بیاہ کر گھر لے آیا جس کے بعد گھریلو ذمے داریاں اتنی بڑھیں کہ میں اپنے آپ ہی کھلنڈرا پن بھول گیا، لیکن میرے ایکٹنگ کے شوق پر ان ذمے داریوں کا کوئی اثر نہ ہوا۔ گھر والوں نے شادی کی زنجیر پہناکر مجھے پھگ واڑا (آبائی قصبہ) میں باندھ رکھنے کی کوشش کی تھی، لیکن میں ٹورنگ سنیما کے کریز کے ہاتھوں اتنا مجبور تھا کہ سنیما دیکھنے کے لیے گھر بار بھول جاتا تھا۔ ٹورنگ سنیما والے آس پڑوس کے کسی بھی گاؤں میں ہوتے، میں ان کا شو دیکھنے کے لیے اپنے دوستوں کے ساتھ پہنچ جاتا۔ فلم بینی کا شوق مجھے ایکٹنگ کی طرف لے گیا اور پھر میں اداکار بننے کے سپنے دیکھنے لگا۔

اداکاری کے شوق نے جب جذباتی کیفیت اختیار کی تو میں نے اپنی بیوی سے کہاکہ بوریا بستر باندھ لے۔ میں نے پھگ واڑا سے میلوں دور ممبئی کے لیے رختِ سفر باندھا اور مایا نگری چلا آیا جس کے بارے میں مجھے دوستوں نے بتایا تھا کہ اس شہر میں لوگ اپنی تقدیر ڈھونڈنے آتے ہیں۔ اس زمانے میں بھی ممبئی فلموں کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ حالاں کہ کولکتہ، مدراس وغیرہ بھی مصروف فلمی مرکز تھے، لیکن ممبئی میں بڑے نام ور لوگ موجود تھے۔

میں چاہتا تو علاقائی فلموں میں کام کرسکتا تھا اور پنجابی فلموں کا سپر اسٹار بھی بن سکتا تھا، لیکن میرا ذہن کہیں اور سوچ رہا تھا۔ ممبئی میں کام ملنے کے حوالے سے میرا اندازہ تھا کہ اس طرح میں ہر جگہ پہچانا جاؤںگا جب کہ پنجابی فلموں کا ہیرو بن کر میں صرف علاقائی انڈسٹری تک ہی محدود رہتا۔ لہٰذا میں نے سیدھا بولی وڈ کا رخ کیا۔

اس زمانے میں ممبئی کے فلمی جریدے فلم فیئر نے ایک مقابلہ ’’کون بنے گا دلیپ کمار‘‘ کے عنوان سے منعقد کیا تھا جس میں پورے دیش سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے انٹریز بھیجی تھیں، میرا نام بھی اس مقابلے میں شامل تھا۔ اس وقت میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب فلم فیئر والوں نے میرا نام ونر کے طور پر اناؤنس کیا اور مجھے بہترین دریافت کا ایوارڈ دیا گیا۔ یہ کام یابی میرے لیے بولی وڈ کی سیڑھی ثابت ہوئی اور فلم فیئر کے بعد مجھے فوراً ہی ایک فلم میں چانس بھی مل گیا۔

( مشہور اداکار دھرمیندر سے متعلق یہ سطور عمر خطاب خان کی کتاب ’’فن کار کہانیاں‘‘سے لی گئی ہیں)

The post دھرمیندر بتاتے ہیں! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2LKuoug

No comments:

Post a Comment

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...