کراچی: ایس ایس پی ریلوے شہلا قریشی نے کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ کے اس دعوے کی پول کھول جس میں انھوں نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ چینی قونصل خانے پر حملے میں استعمال کیے جانے والا اسلحہ بذریعہ ٹرین کراچی لایا گیا تھا۔
تاہم ایس ایس پی ریلوے شہلا قریشی نے کراچی پولیس چیف کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے جمعرات کو اپنے دفتر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ گرفتار دہشت گردوں سے ان کے ڈی ایس پی نے انٹروگیشن کی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اسلحہ بذریعہ بس کراچی لائے تھے ، شہلا قریشی کا کہنا تھا کہ کیونکہ کینٹ اسٹیشن ایک مشہور علاقہ ہے اور وہاں پر بسوں کے اڈے بھی ہیں۔
اسی وجہ سے یہ کہا گیا کہ اسلحہ بذریعہ ٹرین لایا گیا جبکہ کینٹ اسٹیشن کے باہر کا علاقہ ساؤتھ زون پولیس کی حدود میں آتا ہے اور وہاں کی ذمہ داری بھی علاقہ پولیس پر عائد ہوتی ہے واضح رہے کہ رواں ماہ 11 جنوری کو کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ نے ڈی آئی جی ایسٹ کے دفتر میں ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے چینی قونصل خانے پر حملے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری اور ان سے برآمد ہونے والا اسلحہ ، راکٹ ، دھماکا خیز مواد اور گیئر بکس برآمد کرنے دعویٰ کیا تھا۔
پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ چینی قونصل خانے پر کیے جانے والے حملے میں جو اسلحہ استعمال کیا گیا تھا دہشت گرد ایک گیئر بکس میں اسلحہ چھپا کر بذریعہ ٹرین کراچی لائے تھے۔ جہاں سے اسے بلدیہ ٹاؤن میں واقع ایک گھرلے جایا گیا جس کے بعد اسے تقسیم کیا گیا، شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اسلحہ بذریعہ ٹرین آئے یا بس لیکن وہ نہ صرف شہر تک پہنچ گیا بلکہ دہشت گردوں نے اسے چینی قونصل خانے پر حملے میں بھی استعمال کر دیا جبکہ کراچی پولیس چیف کی جانب سے ایس ایس پی ریلوے کے اس بیان پر کوئی موقف سامنے نہ آنا بھی انتہائی حیران کن ہے اگر وہ پریس کانفرنس کے دوران اپنی کہی ہوئی بات پر قائم ہیں تو وہ ایس ایس پی شہلا قریشی کے اس دعوے کی تردید کریں۔
The post چینی قونصلیٹ حملہ؛ ایس ایس پی ریلوے نے کراچی پولیس چیف کے دعوے کا پول کھول دیا appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » پاکستان http://bit.ly/2MH4QAj
No comments:
Post a Comment