سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمے کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعیدکھوسہ نے ریمارکس دیے کہ ماتحت عدالتوں پر افسوس ہوتا ہے، اگر معاملات صحیح طریقے سے دیکھیں تو مقدمات سپریم کورٹ تک نہ آئیں۔بلاشبہ ان کی رائے میں ایک وزن ہے اور ان کا ایک مقصد عدالتی ڈھانچے کو مطلوبہ نتائج کے لیے متحرک کرنا بھی ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ کی رائے بھی صائب تھی کہ سیاستدانوں کو اپنی لڑائیاں پارلیمانی فورمز پر ہی لڑنی چاہئیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وطن عزیز میں اور خاص طور پر پنجاب میں آبادی میں اضافے اور بڑھتی ہوئی معاشرتی کشمکش نے عدالتی نظام پر بوجھ کوکئی گنا بڑھا دیا ہے۔ ڈیڑھ ہزار سے کچھ زائد سول ججوں کے ساتھ اور 20 ہزار سے بھی کم عدالتی اسٹاف کے ساتھ ایک ملین سے زائد مقدمات کو نمٹانا آسان کام نہیں۔ روزانہ کے حساب سے دائر ہونے اور فیصلہ ہونے والے مقدمات کی تعداد کو سامنے رکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ روزانہ مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ عدالتوں میں فریقین میں بنچ اور بار میں ماضی میں بعض تلخیوں کا ایک سبب یہ بھی تھا۔ فاضل ماتحت عدلیہ کی حالت بھی اس وقت دیدنی ہے، ہر جج کے دروازے پر لمبی چوڑی کاز لسٹ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ روزانہ کتنے مقدمات سن سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ چاہتے یا نہ چاہتے بہت سے مقدمات کو آیندہ تاریخ پر ملتوی کر دیا جاتا ہے۔
اس طرح سائلوں کی جو ذہنی کیفیت ہوتی ہے اور دور دراز سے آنے اور وکلاکی بھاری فیسیں دینے کے بعد بغیرکسی کارروائی کے واپس جانے پر ان کے دل پر جوگزرتی ہے اس کے اثرات مزید جھگڑوں اور معاشرتی بے چینی کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے سب سے پہلے ججزکی تعداد کو دگنا کرنا پڑے گا تاکہ زیرالتواء مقدمات کی تعداد کوکم کیا جا سکے، اگر جلد انصاف فراہم کرنا ہے تو ماتحت عدالتوں میں مزید جج لانے ہی ہوں گے۔ ججز کی تعداد بڑھانے کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے لوگوں کے مقدمات کو جلد از جلد نمٹانا اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کی جا سکتی ہیں۔ دوسری جانب ضلع عدلیہ اور عدالت عالیہ کے مابین روابط کا کوئی مربوط نظام موجود نہیں ہے، جوڈیشل افسران کی تجاویز عدالت عالیہ تک نہیں پہنچتی ہیں۔ پنجاب میں دوسرے صوبوں کی نسبت78 فیصد مقدمہ بازی زیادہ ہے،45 ہزار لوگوں کے لیے ایک جوڈیشل آفیسر کام کر رہا ہے، پنجاب میںسات سے آٹھ سو مقدمات ایک جج کے حصے میں آتے ہیں۔
ایسے اعداد و شمار پوری دنیا میں کہیں نہیں۔ ججزکی تعداد بڑھانے کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایک عدالت میں ایک کمپیوٹر یا پرنٹرکافی نہیں،ایک ایسا سافٹ ویئر بنانا چاہیے، جوکہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو، ضلع عدالتوں کے کورٹ رومزکی حالت بہت خستہ ہے، ان کے پاس رہنے کے لیے جگہ نہیں، عدالتوں میں آنے جانے کا مسئلہ ہے۔وکلاء حضرات کو ہڑتالوں سے بھی پرہیزکرنا چاہیے کیونکہ ایک دن ہڑتال سے حکومت کو 45کروڑ روپے کا نقصان ہوتا ہے، جب کہ ایک سائل کوکرائے کی مد میں بھاری نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ موجودہ حکومت کے کرتا دھرتا سائلین کے مسائل کو سمجھتے ہوئے وکلا اور ججز کے تعاون سے ماتحت عدالتی نظام میں اصلاحات کے لیے نہ صرف موثر قانون سازی کریں بلکہ اس تاثرکو بھی زائل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں گے کہ قانون سے بالاترکوئی نہیں ہے، چاہے وہ کوئی وکیل ہے یا جج ۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عدالتی نظام میںکیسے عام آدمی کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں تاکہ سستے انصاف کا حصول جلد ممکن ہوسکے۔
The post انصاف کے حصول کی راہ میں مشکلات appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو http://bit.ly/2DM5WIb
No comments:
Post a Comment