Urdu news

Tuesday, 28 February 2023

اسد عمر سمیت تین سابق ممبران قومی اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کا نوٹیفیکیشن معطل

 اسلام آباد: ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما اسد عمر، علی نواز اعوان اور راجہ خرم نواز کے استعفوں کی منظوری کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے احکامات جاری کیے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو ضمنی انتخابات سے بھی روک دیا۔

دوران سماعت، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پہلے آپ کہہ رہے تھے استعفیٰ منظور نہیں کیا جا رہا اور اب آپ کہہ رہے کہ غلط منظور کیا۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے صرف ان نوٹیفیکیشن کو چیلنج کیا ہوا ہے؟

بیرسٹر علی ظفر نے دلائل میں کہا کہ ہم واپس اسمبلی جانا چاہتے ہیں، لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کے ممبران کے استعفے سے متعلق نوٹیفیکیشن معطل کر رکھا ہے۔ اسلام آباد کے تین ممبران کی حد تک ہم نے یہاں رجوع کیا، قومی اسمبلی کے ممبران سے متعلق لاہور ہائی کورٹ میں دو درخواستیں بھی زیر سماعت ہیں۔

مزید پڑھیں؛ اسد عمر سمیت تین سابق ممبران قومی اسمبلی نے استعفے کی منظوری چیلنج کر دی

عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرکے جواب طلب کرلیا ہے۔

واضح رہے کہ 27 فروری کو تینوں رہنماوں نے بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر علی کے ذریعے ہائیکورٹ میں درخواست دی تھی۔

درخواست میں موقف اپنایا تھا کہ الیکشن کمیشن نے 17 جنوری2023 کو جاری نوٹیفکیشن میں پی ٹی آئی کے چند اراکین کے استعفے قبول کیے، ہمارے استعفے 123 ممبران کے تھے اور تمام نے ڈی سیٹ ہونا تھا۔

استدعا کی گئی تھی کہ استعفے منظور کرکے ڈی نوٹی فائی کرنا کالعدم قرار دے کر بحال کیا جائے اور حتمی فیصلے تک عدالت استعفوں پر عمل درآمد روک دے۔ الیکشن کمیشن اور اسپیکر قومی اسمبلی کے نوٹیفکیشن کو معطل کرنے کی استدعا بھی کی گئی۔

The post اسد عمر سمیت تین سابق ممبران قومی اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کا نوٹیفیکیشن معطل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/MVN6wSW

 کراچی کے مختلف علاقوں میں دھند، حد نگاہ کم ہوگئی

کراچی کے مختلف علاقوں میں دھند کے باعث حد نگاہ کم ہوگئی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق شاہراہ فیصل ، شہید ملت  ایکسپریس وے ، گلستان جوہر سمیت مختلف علاقوں میں بدھ کی صبح دھند کا راج رہا۔ کئی علاقوں میں حد نگاہ 100 میٹرز تک گر گئی۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سورج طلوع ہونے کے ساتھ  دھند بتدریج ختم ہونے سے حد نگاہ معمول پر آگئی ہے۔کراچی میں آج دن بھر شمال مغربی اور جنوب مغربی سمت سے ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔ ہواؤں کی رفتار 10 سے 25 کلومیٹرفی گھنٹہ کے درمیان ہوسکتی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں کم سے کم درجہ حرارت 18.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 سے 35 ڈگری رہنے کا امکان ہے۔

The post  کراچی کے مختلف علاقوں میں دھند، حد نگاہ کم ہوگئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/VzITR67

کراچی، سائٹ ایریا کی فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی

  کراچی: شہر قائد کے علاقے سائٹ ایریا غنی چورنگی کے قریب قائم مچھر مار کوائل بنانے والی فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کرلی ، آتشزدگی کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کا عملہ موقع پر پہنچ گیا جبکہ علاقہ پولیس نے مذکورہ علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔

اس حوالے سے فائر بریگیڈ نے بتایا کہ آگ کی اطلاع 10 بجکر 10 منٹ پر ملی تھی جس پر فوری طور پر فائر بریگیڈ کا عملہ 5 گاڑیوں کے ہمراہ موقع پر روانہ کیا گیا اور آگ کی شدت کو دیکتھے ہوئے فائر بریگیڈ کی مزید 2 گاڑیوں کو موقع پر پہنچایا گیا۔

حکام کا کہنا تھا کہ فیکٹری میں مچھر مار کوائل سمیت دیگر سامان تیار کیا جاتا ہے جبکہ فیکٹری میں موجود ملازمین کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔ فیکٹری میں کیمیکل کے علاوہ گیس سلنڈرز کی موجودگی کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے جس پر فائر بریگیڈ کے عملے نے ابتدائی طور پر سلنڈر کو پھٹنے سے خود بچانے کی کوشش کرتے ہوئے متعدد سلنڈر باہر نکالے۔

رات گئے تک فائر بریگیڈ کا عملہ آگ بجھانے کی جدوجہد میں مصروف رہا۔ عملے کو آگ بجھانے کے دوران پانی کی کمی کا سامنا رہا جس کی وجہ سے واٹر باؤزر کو پانی بھر کر بھی لانا پڑا۔ آگ کی اطلاع ملنے پر سائٹ بی پولیس اور رینجرز کی نفری بھی موقع پر پہنچ گئی جبکہ فیکٹری کی بجلی بھی منقطع کر دی گئی۔

The post کراچی، سائٹ ایریا کی فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/u6HVrdk

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی کا اعلان کردیا

حکومت نے آئندہ پندرہ روز کیلیے پیٹرول کی قیمت میں پانچ روپے کمی کا اعلان کردیا۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ  ڈیزل کی قیمت برقرار رہے گی جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 15 روپے کمی کی گئی ہے۔

سماجی رابطے کی سائٹ پر اسحاق ڈار نے بتایا کہ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 12 روپے کمی کی گئی ہے۔


حالیہ کمی کے بعد فی لیٹر پیٹرول کی قیمت 267 روپے، لائٹ ڈیزل کی قیمت 184 روپے 68 پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت 15 روپے کمی سے 187 روپے 73 پیسے پر پہنچ جائے گی۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت 280 روپے پر برقرار ہے۔

نئی قیمتوں کا اطلاق رات بارہ بجے سے آئندہ پندرہ روز کیلیے ہوگا۔

 

The post حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی کا اعلان کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/H54zwS3

عمران خان نے سیشن کورٹ سے درخواستِ ضمانت واپس لے لی، ہائیکورٹ میں دائر

 اسلام آباد: توشہ خانہ فیصلے پر احتجاج کے تناظر میں عمران خان پر درج مقدمے میں بڑی پیش رفت ہوگئی۔

عمران خان نے سیشن کورٹ سے ضمانت کی درخواست واپس لے لی اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کردی۔ عمران خان نے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے درخواست دائر کی۔

ادھر اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواست ضمانت پر تین اعتراضات عائد کر دئیے۔

رجسٹرار آفس نے اعتراض اٹھایا کہ عمران خان کے دستخط پٹیشن پر دو جگہوں پر مختلف ہیں ، عمران خان نے بائیو میٹرک تصدیق نہیں کرائی ، ضمانت قبل از گرفتاری ڈائریکٹ ہائیکورٹ میں کیسے دائر ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ محسن شاہ نواز رانجھا کی مدعیت میں عمران خان پر تھانہ سیکرٹریٹ میں مقدمہ درج ہے۔

The post عمران خان نے سیشن کورٹ سے درخواستِ ضمانت واپس لے لی، ہائیکورٹ میں دائر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/Ta75DcI

Monday, 27 February 2023

حکومت نے درجنوں اشیا پر 25 فیصد جی ایس ٹی لگانے کی تجویز تیار کرلی

اسلام آباد: حکومت اضافی محصولات اکٹھا کرنے کے لیے درجنوں صارفین کی اشیا پر 25فیصد جنرل سیلز ٹیکس کی شرح لگانے کے لیے تیار ہے، ان میں سے بہت سی پرتعیش سامان کے زمرے میں نہیں آتیں۔

ذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ امکان ہے کہ اس فیصلے کی منظوری حاصل کرنے کے لیے ایک سمری وفاقی کابینہ کے پاس بھیجی جائے گی جس میں کہا گیا ہے کہ ’’درآمد کیے گئے سامان کی قیمت کے 25 فیصد کی شرح سے سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا، لگایا جائے گا اور ادا کیا جائے گا۔

حکومت نے ان اقدامات کو اسٹیٹوٹری ریگولیٹری آرڈر (SRO) کے ذریعے اٹھانے فیصلہ کیا جسے ٹیکس لگانے کی اچھی شکل نہیں سمجھا جاتا، حالانکہ حکومت حال ہی میں منظور شدہ ضمنی مالیاتی ایکٹ کے ذریعے یہ اختیارات حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان سے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کو کہا ہے، ایک مطالبہ جسے مرکزی بینک 16 مارچ کو پورا کرنا چاہتا تھا لیکن اب اسے پہلے کرنا پڑ سکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک رواں ہفتے خصوصی اجلاس بلانے پر غور کر رہا ہے اور سود کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے جو پہلے ہی 17 فیصد پر ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اگلے چار ماہ میں کم از کم 7 ارب روپے جمع کرنے کے اقدام کے تحت سیکڑوں ٹیرف لائنوں کے مقابلے میں جی ایس ٹی کی شرح 25 فیصد تک بڑھانے کی تجویز کا مسودہ تیار کیا ہے۔ اس کی توثیق کے لیے سمری وفاقی کابینہ کو بھجوائی جائے گی۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ لگژری اشیا پر ٹیکس مزید بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا تاہم ایکسپریس ٹریبیون کی طرف سے دیکھی گئی فہرست سے پتہ چلتا ہے کہ چھوٹی کاروں کی طرح بہت سے سامان لگژری سامان کے زمرے میں نہیں آتے۔ 850cc کم انجن کی صلاحیت والی گاڑیوں کے پرزے اور اجزا پر بھی 25فیصد GST کی شرح لاگو کی جاسکتی ہے۔

دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت دوبارہ قیمتوں میں اضافے کے لیے سیلز ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 3 کا استعمال کر رہی ہے۔ قومی اسمبلی نے حال ہی میں وفاقی حکومت کو جی ایس ٹی کی شرح میں اضافہ کرنے کا اختیار دیا تھا۔

آئین کا آرٹیکل 77 واضح طور پر کہتا ہے کہ فیڈریشن کے مقاصد کے لیے کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا سوائے پارلیمنٹ کے ایکٹ کے تحت کے تحت۔آئین کا آرٹیکل 73 منی بلز کے حوالے سے طریقہ کار کے بارے میں بات کرتا ہے۔ اس کی ذیلی شق 2 (a) کہتی ہے کہ کسی بل یا ترمیم کو منی بل تصور کیا جائے گا اگر یہ “کسی ٹیکس کا نفاذ، خاتمہ، معافی، تبدیلی یا ضابطہ” ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ جن اشیا پر 25 فیصد ٹیکس لگایا جائے گا ان میں درآمد شدہ منرل اور ایریٹڈ واٹر اور جوس شامل ہیں۔ چیونگم، سفید چاکلیٹ، کرسپی بریڈ، جنجر بریڈ، میٹھے بسکٹ، ویفرز اور رسکس بھی ان اشیا میں شامل ہیں۔ اسی طرح منی وینز اور تمام درآمد شدہ کاروں پر مکمل طور پر بلٹ یونٹ کی شکل میں 25% جی ایس ٹی کی شرح سے چارج کیا جائے گا۔ یہ مقامی کار اسمبلرز کو غیر مناسب تحفظ فراہم کرے گا۔

850 سی سی سے زیادہ سلنڈر کی صلاحیت کی گاڑیوں، اسپورٹس یوٹیلیٹی گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گاجن میں ان کے پرزہ جات بھی شامل ہیں۔چمڑے کے سامان، کاسمیٹکس، فرنیچر اور گھریلو آلات پر بھی 25% جی ایس ٹی کی شرح لگائی جائے گی۔

The post حکومت نے درجنوں اشیا پر 25 فیصد جی ایس ٹی لگانے کی تجویز تیار کرلی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/D90LJEq

عمران خان کا انسداد دہشتگردی عدالت میں دوبارہ درخواست ضمانت دائر کرنیکا فیصلہ

 اسلام آباد: توشہ خانہ فیصلے کے بعد احتجاج پر درج دہشت گردی کے مقدمے میں عمران خان نے انسداد دہشت گردی عدالت میں دوبارہ درخواست ضمانت دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی آمد پر باضابطہ درخواست ضمانت دائر کی جائے گی۔

درخواست کے متن کے مطابق سیاسی انتقام کے باعث مقدمے میں نامزد کیا گیا، پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت کا لیڈر ہوں، مجھ پر انسدادِ دہشت گردی کا مقدمہ بنایا گیا جس کا میں مرتکب نہیں ہوں۔

استدعا کی گئی کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے کیس میں ضمانت کنفرم ہونے سے پہلے عبوری ضمانت منظور کی جائے۔

انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان کی درخواست ضمانت عدم حاضری کے باعث خارج کر دی تھی۔ توشہ خانہ احتجاج میں تھانہ سنگجانی کے مقدمے میں عمران خان نامزد ہیں۔

The post عمران خان کا انسداد دہشتگردی عدالت میں دوبارہ درخواست ضمانت دائر کرنیکا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/XkGADlE

حوصلہ بڑھائیں

’’باجی! مجھے بھی کڑھائی کا بہت شوق ہے اور مجھے تو بہت سے ڈیزائن بنانے آتے ہیں۔‘‘

سعیدہ اپنے قمیص پر کڑھائی کر رہی تھی کہ اس کی ملازمہ خوشی خوشی اسے بتانے لگی۔

’’ارے واہ! یہ تو بہت اچھی بات ہے۔کسی دن تھوڑا وقت نکالو اور مجھے بھی سیکھاؤ۔‘‘ اس کی بات سن کر وہ خوشی سے پھولے نہ سمائی اور اسے بتانے لگی کہ وہ کس کس طرح کی کڑھائی جانتی ہے۔

’’میرا تو خیال ہے کہ اگر تم کسی ادارے میں کوئی باقاعدہ کورس کر لو تو تمھارا فن مزید نکھرے گا اور تم کوئی بوتیک چلا سکتی ہو۔‘‘ سعیدہ نے اس کے کام کو سراہتے ہوئے اسے مزید بہترین بنانے پر اکسایا۔ اس کی بات سن کر اس کے دل میں اپنے فن سے محبت کا جذبہ مزید نمایاں ہوا۔

’’بیٹا! آپ تو بہت اچھی آرٹسٹ بن سکتی ہیں۔ کالج کی مصوری نمائش میں کسی کو سراہنا اس کے فن کی تعریف کرنا اسے زندگی میں آگے بڑھنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔آپ کے لفظ کسی کے لیے روشنی کا دیا بن سکتے ہیں اس کی چُھپی ہوئی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

آپ گھر میں نظر دوڑائیں تو دیکھیں گے کہ سبھی کوئی نہ کوئی گُن ضرور رکھتا ہوگا۔ ہر کسی میں مختلف دل چسپیاں ہوں گی اگر آپ کچھ کوشش کریں، تو یہ خوبیاں مزید نمایاں ہو سکتی ہیں۔ آپ کو بس یہ کرنا ہے کہ جب بڑا یا چھوٹا بہن بھائی اپنی دل چسپی کا کوئی اچھا کام کرے، تو اس سے خوش ہوں اور اسے ایسے طریقے بتائیں جن پر عمل کرکے وہ بہتر سے بہترین کی طرف جا سکتے ہیں۔

یہ تم نہیں کر سکتی۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے، تم بھلا کیسے یہ سب کروگی۔ بچوں کے ساتھ یہ سب بہت مشکل ہے۔ آپ کے یہ جملے کسی کے فن کو آگے بڑھنے سے روک سکتے ہیں، اسے مایوس کرکے مزید کچھ نیا کرنے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

تم ضرور لکھو دیکھنا تم ایک دن بہت مشہور مصنفہ بن جاؤ گی۔ وہ بہت چھوٹے چھوٹے مضمون لکھا کرتی تھی اور اب بڑے اخبارات میں چھپنے لگی تھی وہ اسی لیے کہ اس کے پیچھے اس کے ہنر کو نکھارنے والے ہاتھ موجود تھے۔

اس کے بابا جو ہر ہفتے اس کے مضامین پڑھتے اور اسے سراہتے اور کہتے ’’میری چندا تو بہت اچھا لکھتی ہے اور ان شاء اللہ بہت جلد اس کا نام چاند ستاروں کے جھرمٹ میں ہوگا۔ یہ الفاظ تھے کہ جادو کی چھڑی جسے سن کر عالیہ کے دماغ میں نئے نئے آئیڈیاز آتے اور وہ انھیں لفظوں کا روپ دیتی چلی جاتی۔ آپ وہ بنیں جو دوسروں کی زندگیوں کو سنوارایں نہ کہ انھیں اپنی طنزیہ گفتگو کا حصہ بنائیں۔

یہ کہاں فلاں کام کر سکتی ہے، اسے تو ٹھیک سے بات کرنا بھی نہیں آتی۔ خدارا، ایسے الفاظ نہ بولیں، جن پر آپ کو شرمندگی ہو اور وہ وقت آئے، جب وہ آپ کے سامنے پورے قد و قامت سے کھڑی ہو اس لیے بہتر ہے ایسا کچھ مت کہیں بس کوشش کریں کہ ہمیشہ دوسروں کی حوصلہ افزائی کریں۔

ہاں البتہ وہ کام ان کے لیے خطرناک ہے یا وہ ان کے لیے بہتر نہیں ہے، اس سے نقصان پہنچ سکتا ہے، تو انھیں ضرور روکیں اور اپنی پوری تگ و دو سے انھیں بچانے کی کوشش کریں۔

امی جان! مجھے ’شیف‘ بننا ہے۔آپ تو جانتی ہیں کہ مجھے کھانا پکانا کتنا پسند ہے؟ رفیعہ کی بات سن کر اس کی بہنیں ہنسنے لگیں۔

ارے پاگل سب کیا کہیں گے اور سب سے خاندان والے باتیں بنائیں گے۔امی جان نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔ بہنوں اور ماں کا ردعمل دیکھ کر رفیعہ مایوس سی ہو کر سوچنے لگی کہ اسے کچھ اور کرنا چاہیے شاید یہ میری صلاحیت کسی قابل نہیں ہے۔

ایسا نہیں ہونا چاہیے آپ کی تخلیقی صلاحیتیں اللہ کی طرف سے ہیں انھیں استعمال کریں اور انھیں مزید نکھاریں کیوں کہ وہی آپ کے لیے کام یابیاں کی شاہ راہ ہیں۔

شیف بننے میں کیا غلط ہے؟ یہ آپ کا شوق ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا فن بھی ہے، جس میں آپ بہت کچھ کر سکتی ہیں اس لیے گھبرائیں نہیں اور ان لوگوں کے ساتھ قدم بڑھائیں، جو دوسروں کو گراتے نہیں بلکہ تھام کر کھڑا کرتے ہیں اور ان کے لیے شمع کا کام کرتے ہیں۔

The post حوصلہ بڑھائیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3rCZ0n1

وائس چیئرمین پرائیوٹ اسکولز خالد رضا کے قتل کا مقدمہ بھائی کی مدعیت میں درج

  کراچی: گلستان جوہر پولیس نے فیڈریشن آف پرائیویٹ اسکولز پاکستان کے وائس چیئرمین خالد رضا کے قتل کا مقدمہ ان کے بھائی کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیا۔ 

تفصیلات کے مطابق مدعی مقدمہ نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ وہ گلستان جوہر بلاک 7 میں قائم اپنے گھر پر موجود تھے کے انھیں تقریباً رات 8 بجکر 12 منٹ پر فائر کی آواز سنائی دی جس کے بعد چیخوں اور شور شرابہ بھی سنائی دیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ گھر سے باہر نکلے تو دیکھا ایک موٹر سائیکل پر 2 اشخاص تیزی سے سڑک کی جانب جاتے ہوئے دکھائی دیئے جبکہ میرا خالد رضا خون میں لت پت سڑک پر پڑے ہوئے دکھائی دیئے جن کے سر سے خون بہت تیزی سے بہہ رہا تھا فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی اور بھائی کو زخمی حالت میں لیکر اسپتال چلے گئے جہاں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد ان کی موت کی تصدیق کردی۔

The post وائس چیئرمین پرائیوٹ اسکولز خالد رضا کے قتل کا مقدمہ بھائی کی مدعیت میں درج appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/A9zS1Bm

جنوبی وزیرستان میں دھماکا، بچہ جاں بحق

ڈی آئی خان: جنوبی وزیرستان کے گاؤں دژہ غونڈئی میں بم دھماکے کے باعث بچہ جاں بحق جبکہ 2 زخمی ہوگئے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق بم سڑک کے قریب نصب کیا گیا تھا تاہم پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔

زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال لے جایا گیا ہے۔

The post جنوبی وزیرستان میں دھماکا، بچہ جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/kEMl1sD

مبینہ آڈیو لیکس نشر ہونے پر پیمرا کیخلاف توہین عدالت کی درخواست خارج

 اسلام آباد: ہائی کورٹ نے مبینہ آڈیو لیکس نشر ہونے سے متعلق پیمرا کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کردی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست گزار کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے توہین عدالت کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔

دوران سماعت درخواست گزار مہک علی اپنے وکیل نعیم الحسن کے ہمراہ عدالت نیں پیش ہوئیں، جہاں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پیمرا نے چینل پر خبریں نشر کرنے سے متعلق عدالت کی ہدایت کی خلاف ورزی کی ہے۔

عدالت نے وکیلِ درخواست گزار سے استفسار کیا کہ کیا آپ اس کیس میں متاثرہ فریق ہیں؟۔ کیس میں متاثرہ فریق نہ ہونے پر توہینِ عدالت کی کارروائی کیسے ہوسکتی ہے؟۔ آپ کو ہائی کورٹ کے بجائے پیمرا میں درخواست دینی چاہیے۔

اسلام آباد ہائی  کورٹ نے درخوست گزار کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت پر درخواست نمٹا دی۔

The post مبینہ آڈیو لیکس نشر ہونے پر پیمرا کیخلاف توہین عدالت کی درخواست خارج appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/aEoZu0S

Sunday, 26 February 2023

ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جزل امجد شعیب کو گرفتار کر لیا گیا

 اسلام آباد: لیفٹیننٹ  جنرل امجد شعیب کو اسلام آباد میں گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں تھانہ رمنا پولیس نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کوان کی رہائش گاہ سے  گرفتارکیا۔ لیفٹیننٹ جزل ریٹائرڈ امجد شعیب پر عوام کو  اداروں اور حکومت کے خلاف اکسانے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

لیفٹیننٹ جزل ریٹائرڈ امجد شعیب پر اہف آئی آر مجسٹریٹ اویس خان کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔

The post ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جزل امجد شعیب کو گرفتار کر لیا گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/XDeHA4Z

27 فروری پاکستان کے پرامن قوم ہونے کا ثبوت ہے، آئی ایس پی آر

 راولپنڈی: چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور مسلح افواج کے سربراہان نے’آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ ‘کے 4 سال مکمل ہونے پر قوم اور مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر کی جانب سے ’آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ‘ کے4 برس مکمل ہونے پر جاری بیان میں کہا کہ  بھارت نے پلواما فالس فلیگ آپریشن کے بعد بزدلانہ حملے کی کوشش کی۔ پاکستان نے جراتمندی سے بھارتی مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ 27 فروری اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی پرامن قوم ہے۔ مسلح افواج ملک کے ایک ایک انچ کا دفاع کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ دشمن نے کسی بھی قسم کی مہم جوئی کی تو پاکستانی قوم اور مسلح افواج اس کا بھرپور جواب دیں گی۔

The post 27 فروری پاکستان کے پرامن قوم ہونے کا ثبوت ہے، آئی ایس پی آر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/VlE1yYb

عثمان ڈار کے پی اے کی گرفتاری میں نیا موڑ آگیا

 لاہور: عثمان ڈار اور انکے پی اے جاوید کے وکیل طاہر سلطان کی آڈیو منظرعام پر آ گئی۔

آڈیو میں طاہر سلطان نے اعتراف کیا کہ انہوں نے جاوید سے جیل میں ملاقات کی اور جاوید نے بتایا کہ اسکو ننگا نہیں کیا گیا جبکہ آڈیو میں وہ جاوید اور اسکی پریس کانفرنس کا مذاق بھی اڑاتے رہے۔

علاوہ ازیں جاوید کے موبائل سے برآمد آڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں جاوید اپنے ایک اور پی ٹی آئی کارکن حمزہ کو دہاڑی لگانے کی ترکیب بتا رہا ہے۔ دونوں مل کر 5 سے 6 لاکھ دیہاڑی لگانے کی بات کر رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آڈیو کے فارنزک کےلئے ایف آئی اے کی خدمات لی جا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ جاوید علی کیخلاف اینٹی کرپشن میں کیس چل رہا ہے، گزشتہ روز اس نے عمران خان کے ساتھ بیٹھ کر عثمان ڈار کیخلاف بیان لینے کیلئے اداروں پر تشدد کرنے کے الزامات لگائے تھے۔

 

The post عثمان ڈار کے پی اے کی گرفتاری میں نیا موڑ آگیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/RIQdKpq

اٹلی میں تارکین وطن کی کشتی کو حادثہ، 28 پاکستانیوں سمیت 58 افراد جاں بحق

روم: اٹلی میں تارکین وطن کی کشتی کو حادثے میں 28 پاکستانیوں سمیت 58 تارکین جاں بحق ہوگئے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اٹلی کے صوبے کروٹون میں جنوبی ساحل کے قریب ناہموار سمندر میں 140 سے زائد تارکین وطن کو لیجانے والی کشتی چٹانوں سے ٹکراکر تباہ ہوگئی جس کے نتیجے میں بچوں سمیت کم از کم 58 افراد ہلاک ہوگئے۔

لکڑی کی یہ کشتی کئی روز قبل ترکی سے روانہ ہوئی تھی جس میں افغانستان اور دیگر کئی ممالک کے لوگ سوار تھے، مقامی حکام کے مطابق مرنے والوں کی تعداد 58 ہے جبکہ 81 افراد کو زندہ بچالیا گیا ہے جن میں سے 20 کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کشتی میں پاکستان، افغانستان اور ایران کے تارکین وطن سوار تھے، مرنے والوں میں ایک شیرخوار بچی اور متعدد بچے شامل ہیں۔ پاکستانیوں کا تعلق گجرات ،کھاریاں، منڈی بہائوالدین سے بتایاجارہا ہے۔ پاکستان میں والدین اپنے بیٹوں کی لاشوں کے منتظر ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کا کہنا ہے کہ ہم اٹلی کے ساحل پر ڈوبنے والے بحری جہاز میں پاکستانیوں کی ممکنہ موجودگی سے متعلق رپورٹس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، روم میں پاکستان کا سفارتخانہ اطالوی حکام سے حقائق جاننے کے لئے رابطے میں ہے۔

واضح رہے کہ سمندری راستے سے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کے لیے اٹلی ایک اہم لینڈنگ پوائنٹ ہے جہاں وسطی بحیرہ روم کے راستے کو دنیا کے خطرناک ترین راستوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

تارکین وطن کی بین الاقوامی تنظیم مسنگ مائگرینٹ پروجیکٹ کے مطابق 2014 سے ابتک وسطی بحیرہ روم میں کم از کم 20 ہزار 333 افراد جاں بحق اور لاپتہ ہوچکے ہیں۔

The post اٹلی میں تارکین وطن کی کشتی کو حادثہ، 28 پاکستانیوں سمیت 58 افراد جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/EljWQNA

Saturday, 25 February 2023

لاہور میں سی آئے اے اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ، اجرتی قاتل ہلاک

 لاہور: سی آئی اے چوہنگ اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں اجرتی قاتل و بھتہ خور، دوہرے قتل کا اشتہاری اور سابقہ ریکارڈ یافتہ عباس عرف باسو ہلاک ہوگیا۔

انچارج سی آئی اے چوہنگ فاروق اصغر اعوان اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ ہوئی۔ ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس ٹیم نے سندر کے علاقے میں چھاپہ مارا، جس پر اشتہاری عباس عرف باسو اور اس کے ساتھیوں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے پولیس پارٹی پر شدید فائرنگ کر دی۔

فائرنگ کی زد میں آ کر اشتہاری ملزم عباس عرف باسو زخمی ہوگیا جس کو فوری اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔

ملزم عباس دوہرے قتل کے مقدمے میں پولیس کو نہایت مطلوب تھا۔ اشتہاری شوٹر عباس جس نے باپ اشرف اور بیٹے عظیم کو گھر سے باہر نکال کر سر میں گولیاں ماری تھیں، اسکی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آگئی۔

اشتہاری شوٹر کے دیگر ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ شوٹرز عباس کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

The post لاہور میں سی آئے اے اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ، اجرتی قاتل ہلاک appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/9qfs2zL

اسلاموفوبیا کا سدباب کیسے کیا جائے؟

تاریخی اعتبار سے دیکھیں تو مسلمانوں نے بھی دنیا کی دوسری اقوام کی طرح جنگیں کی ہیں۔

اُن کی بھی بڑی بڑی سلطنتیں رہی ہیں مگر سلطان صلاح الدین کے زمانے میں لڑی جا نے والے صلیبی جنگوں میں خود برطانیہ کے بادشاہ ر چرڈ ( شیر دل) نے یہ اعتراف کیا تھا کہ مسلمان نہ صرف بہادر ی سے لڑنے والے ہیں بلکہ یہ جنگوں میں بھی انسانی بنیادوں پر ہمدردی کے اصولوں پر کاربند رہتے ہیں۔

اُس نے جنگ کے اختتام پر یہ کہا تھا ہمیں اسی لیے شکست ہو ئی کہ ہم جارحیت کر رہے تھے اور وہ دفاعی جنگ کر رہے تھے یہ بھی کہا کہ اگر اب مغربی ملکوں نے سلطان صلاح الدین سے کوئی جنگ کی تو وہ صلاح الدین ایوبی کی مخالفت کے بجائے مغربی اتحادیوں کی مخالفت کرے گا۔

مگر تاریخ نے پھر یہ بھی دیکھا کہ جب اسپین میں ملکہ ازایبلا اور فرننڈس نے شادی کر لی اور غرناطہ کے خلاف چند غدار مسلم امراء کو اپنے ساتھ ملا کر شکست دے دی تو اس کے بعد اسپین میں مسلمانوں کا ایسا قتل عام کیا کہ وہاں ایک مسلمان کو بھی نہیں چھوڑا گیا اور آج تک مسجد قرطبہ سمیت وہاں کسی مسجد میں اذان دینے والا کو ئی مسلمان نہیں ہے۔

اسپین میں اس تاریخی ظالمانہ فتح کے دن کا جشن ہر سال منایا جا تا ہے جس میں مسلمانوں کے قتل عام کی عکاسی بھی ہو تی ہے۔

پھر 1914-1918 ء میں ہونے والی پہلی جنگ عظیم میں جب خلافت ِ عثمانیہ کو شکست ہوئی تو بر صغیر کے مسلمانوں سے کئے گئے وعدے کے بر عکس یہاں خلافت ختم کر دی گئی، اس کے بعد سے پوری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف کسی نہ کسی انداز کی جارحیت اور قتل عام کا سلسلہ دنیا کے مختلف ملکوں میں اور مختلف اوقات میں ہو تا رہا اور آج بھی جاری ہے۔

2020 ء کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی مجموعی آبادی میں عیسائیوں کی کل تعداد 2 ارب 38 کروڑ، مسلمانوں کی کل تعداد 1 ارب 91 کروڑ، ہندوؤں کی تعداد 1 ارب16 کروڑ، بدھ مت کے پیروکاروں کی کل تعداد 50 کروڑ70 لاکھ اور یہودیوں کی تعداد 1 کروڑ 46 لاکھ ہے۔

ان کے علاوہ باقی لادینی یا دیگر چھوٹے مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ 1990ء میں پاکستان کی مدد سے افغانستان میں سابق سوویت یونین کی شکست اور اس کے ٹوٹنے کے بعد سرد جنگ میں وقفہ آ گیا۔

سرد جنگ کے دوران امریکہ ، برطانیہ اور فرانس سمیت مغربی ممالک کارویہ مسلمانوں کے حوالے سے بہتر رہا۔ یہاں تک کہ ہمارے دینی اسکالرز اور عیسائی اوربعض یہودی مذہبی دانشور بھی اشتراکیت کے سیکولر پہلو کو زیادہ نمایاں کرتے تھے۔

مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے درمیان اہل کتاب ہو نے کی بنیاد پر اسلام، قرآن اور ہمارے پیارے نبیﷺ کی توہین سے گریز کیا جاتا تھا۔ مگر ایک عجیب صورت 80ء کی دہائی میں عین اُس وقت سامنے آئی جب مغرب کو یقین آنے لگا کہ سابق سوویت یونین مجاہدین کی وجہ سے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو رہا ہے۔

سوویت یونین اقوام متحدہ کی معاونت سے تجویز کردہ مذاکرات پر بھی آمادہ ہو گیا تھا۔ اِسی دور میں سلمان رشدی کی کتاب شائع ہوئی جس میں گستاخانہ مواد شامل تھا اور پھر رُشدی کو بر طانیہ میں سیاسی پناہ بھی دے دی گئی۔ موقف اختیار کیا گیا کہ یہ آزادی اظہار ہے۔ اُس وقت پاکستان نے پوری اسلامی دنیا سمیت شدید احتجاج کیا۔ ایران کے مذہبی رہنما آیت اللہ خمینی نے رُشدی کے قتل کاحکم جاری کیا اور انعام بھی رکھا۔

1988 ء میں جنیوا معاہدے پر دستخط ہوئے، لیکن افغانستان کی تعمیر نو جس تیزی سے ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہو ئی۔ جنگ میں جھلسے اور تڑپتے افغانستان کے عوام کو امریکہ ، برطانیہ ، فرانس اور دیگر ملکوں نے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر کے چھوڑ دیا۔

جلد ہی افغانستان میں خانہ جنگی نہ صرف شروع کی گئی بلکہ اس خانہ جنگی کی آگ پر تیل بھی چھڑکا گیا۔ پھر11 ستمبر2001 ء کا واقعہ پیش آیا جس کے بارے میں اب بہت سے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں اور اسی نائن الیون کے چند روز کے اندر اندر افغانستان پر بھی حملہ کر دیا گیا۔

اس کے بعد عراق، شام ، لیبیا، سوڈان پر امریکہ اور مغربی ملکوں کی جانب سے جنگ مسلط کردی گئی اور ساتھ ہی آزادی اظہار کے نام پر نہ صرف مغربی دانشوروںنے اسلامو فوبیا کو ہوا دی بلکہ بعض یورپی سربراہان بھی اس میں شامل ہوئے۔ اب ایک جانب تو وہ دین اسلام کی توہین اور توہین رسالتﷺ کرتے رہے تو دوسری جانب مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیتے رہے۔

کبھی مسلم خواتین کو اسکارف پہننے سے زبردستی روکا گیا تو کبھی سر بازار مسلمانوں کو، جو اِن مغربی ممالک کی شہریت اپنا چکے تھے‘ گھسیٹا اور زدوکوب کیا گیا۔ اسی پراپیگنڈا اور حالات کی آڑ میں افغانستان میں لاکھوں افراد کا قتل ہوا، کبھی عراق، شام ، سوڈان اور لیبیا میں لاکھوں مسلمانوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔

یہ بہت ہی خوفناک دور تھا یہاں تک کہ ان ملکوں کی دیکھا دیکھی بھارت میں بھی مسلمانوں کے خلاف قتل و غارت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

یوں دیکھا جائے تو 1980-81 ء کے بعد سے اب تک پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف خوامخوا ہ ایک ایسی مہم شروع کی گئی جس میں انصاف کرنے کے بجائے الٹا ان کو ہی دہشت گردی اور منفی سوچ کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔

جنوری 2023 ء میں سویڈن میں قرآن پاک کو نذر آتش کر کے پوری دنیا کے تقریباً دو ارب مسلمانوںکی دل آزاری کی گئی اور اس کو بھی فکری اور نظریاتی آزادی کا نام دیا گیا۔

15 مارچ 2019 ء کو نیوزی لینڈ میں ایک انتہا پسند دہشت گرد نے دو مساجد میں اندھا دھند فائرنگ کرکے 51 مسلمانوں کو شہید کر دیا۔

اگر چہ اس سے کہیں زیادہ ظلم برما (میانمار)، بھارت اور اسرائیل نے خصوصاً فلسطینوں کے ساتھ روا رکھا ہے مگر نیوزی لینڈ کا معاشرہ جو بہت مہذب ہونے کا دعویدار ہے، یہاں ایسا واقعہ پیش آنا دنیا کے لیے اور خصوصاً یورپ، کینیڈا، آسٹریلیا، امریکہ کے مسلمان تارکین کے لیے دل دہلا دینے والا سانحہ تھا۔

اس موقع پر نیوزی لینڈ کی سابق وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کا رویہ مثالی رہا۔ سابق وزیراعظم عمران خان اورہمارے سفارتکاروں نے اس واقعہ کے بعد پوری دنیا کو یہ احساس دلایا کہ دنیا کے تقریباً دو ارب انسانوں (مسلمانوں)کی دل آزاری کوکسی بھی اعتبار سے آزادی اظہارکا نام نہیں دیا جا سکتا۔

27 ستمبر 2019 ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے عمران خان نے اپنے خطاب میں پُردرد انداز میں دنیا بھر کے ملکوں اور اُن کی حکومتوں سے اپیل کی کہ ہمارے نبی محمدﷺ ہمارے دل کے بہت قریب ہیں اور جب کوئی اُن کی توہین کرتا ہے تو ہمارے دلوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ یہ بھی بتایا کہ پوری دنیا میں اسلام دشمن اسلاموفوبیا پھیلا رہے ہیں، جس کے تدارک کی ضرورت ہے۔

فوبیا علم نفسیات کی ایک اصطلاح ہے۔ فوبیا کے لفظی معنی ’بغیر کسی وجہ کے خوفِ‘ ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اس وقت بعض اسلام دشمن انتہا پسند پوری دنیا میں اسلاموفوبیا کو بڑھاوا دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

2020 ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خطاب کے بنیادی نکات اسلاموفوبیا، بھارت میں آر ایس ایس کا مسلم مخالف رویہ، کشمیریوں کے حقوق اور آزادی، کرونا کی وباء اور دنیا میں موسمیاتی تبدیلیاں اور اِن کے پاکستان پر مرتب ہو نے والے اثرات تھے۔

پاکستان نے سفارتکاورں کو متحرک کیا اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر اکرم ذکی نے اوآئی سی کی قوت کو یکجا کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو آمادہ کیا کہ عالمی سطح پر اسلاموفوبیا کے انسداد کے لیے ایک دن مقر رکیا جائے، اس پر اقوام متحدہ کے 60 رکن مسلم ممالک متحد ہوگئے اور پھرکل 193 ممبران نے اس پر اتفاق کر لیا کہ 15 مارچ کو پوری دنیا میں یوم انسداد اسلامو فوبیا (International Day to Combat Islamo Phobia) منایا جائے۔

اس مطالبے کی منظوری کے بعد 15 مارچ 2023 ء کو دنیا میں پہلا عالمی یوم انسداد اسلاموفوبیا منایا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ ایک عالمی دن ہے لیکن یہ اقوام عالم کا وعدہ بھی ہے جس میں دنیا کے تمام ممالک نے یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ دنیا میں اسلامو فوبیا کے خلاف کام کریںگے۔

جہاں تک انسانی رواداری کا تعلق ہے تو تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان ممالک اور باشاہوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیںگذرا جس نے اسپین کی طرح مخالفین کا صفایا کیا ہو، پھر عام سطح پر دیکھیں تو یہ حقیقت ہے یہودی الہامی مذاہب کے اعتبار سے اپنے بچوں کے نام حضرت عیسٰی علیہ سلام سے پہلے آنے والے انبیا اور رسولوں کے نام پر رکھتے ہیں، عیسائی حضرت عیسٰی علیہ سلام کی آمد تک کے رسولوں کے نام پر اپنے بچوں کے نام رکھتے ہیں، مگر مسلمان نبی آخرالزمان حضرت محمد ﷺ سمیت آج تک آنے والے تمام انبیا اور رسولوں کے ناموں پر اپنے بچوں کے نام رکھتے ہیں۔

تمام مسلمان اللہ تعالیٰ کے تما م رسولوں پر ایمان بھی رکھتے ہیں اور اُن کا احترام بھی کرتے ہیں، اسی لیے قانون میں توہین رسالت کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور یہ قانون ہر رسول اور نبی کے حوالے سے نافذ العمل ہے۔ اگرچہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ’’انٹر نیشنل ڈے ٹو کمبٹ اسلاموفوبیا‘‘ یعنی انسداد اسلاموفوبیا کا عالمی دن 15 مارچ کو قرار دیا ہے اور اب ہر سال اس دن کو منایا جائے گا مگر دیکھنا ہو گا کہ ہم اس دن کو پوری دنیا میں کس انداز سے مناتے ہیں۔

اگر اس دن کو پرامن اور بھرپور طریقے سے منا کر دنیا کو ہم اپنی حساسیت کا احساس دلانے میں کامیاب ہو گئے تو یہ موثر ہو گا، اگر ایسا نہیں ہوتا تو یہ صرف بس ایک ایسا عالمی دن ہو گا جو روایتی سا ہو کر رہ جا ئے گا۔

عالمی سطح پر اس دن کو منانے میں پاکستان نے او آئی سی کے تعاون سے اہم کردار ادا کیا، اس لیے وطن عزیز میں اس کو بھرپور طور پر منایا جانا چاہیے۔

بہتر ہو گا کہ OIC کے پلیٹ فارم سے اس دن کے منانے کے لیے ہر سال بھرپور انداز اختیار کیا جائے، تمام ممبر ممالک کے دارالحکومتوں میں تمام سفیروں کو مدعو کرتے ہوئے نہ صرف ایک ایک مرکزی پروگرام ہو بلکہ تمام اسلامی ملکوں کے دوسرے شہروں، یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں پروگرام ہوں اور ہم پوری دنیا پر یہ دباؤ ڈالیں کہ دنیا میں مسلمانوں کو دہشت گرد قرار نہ دیا جائے۔

یہ ایک المیہ ہے کہ اس وقت عیسائی، ہندؤ، بدھ مت کے پیروکار اور یہودی سبھی مسلمانوں کے خلاف پرتشدد کارروائیاں کررہے ہیں، مسلم اکثریت کے خطوں کشمیر اور فلسطین میں بھارت اور اسرائیل مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف ہیں جب کہ اقوام متحدہ ان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے قراردادیں منظور کر چکا ہے۔

6 فروری 2023 ء کو ترکیہ، شام اورلبنان میں رات چار بجے کے قریب چالیس سیکنڈ کے دورانیے کا زلزلہ آیا، ریکٹراسکیل پر اس کی شدت 7.8 تھی، 15 فروری تک اس زلزلے سے جاں بحق ہو نے والوں کی تعداد 41000 سے تجاوزکر گئی ہے۔

دوسرے ممالک کے ساتھ پا کستان نے فوری طور پر ترکیہ کے لوگوں کی مدد کی اور امداد کا یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ پوری دنیا میں اس کی تڑپ محسوس کی گئی مگر وہ ملعون اسلام دشمن اس موقع کو اپنے لیے خوشی قرار دے رہے ہیں، فرانس کے اسلام دشمن اخبار ( چارلی ایبڈو) نے زلزلے کے دوسرے دن کارٹون شایع کیا۔

اخبار کے مالک نے اپنی اسلام دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے اِس کو کارٹون آف دی ڈے قرار دیا، اس کارٹون میں ترکیہ میں زلزلے کی تباہی کو دکھا یا گیا اور ساتھ فرانسسی زبان میں لکھا جس کا اردو ترجمہ یوں ہے (زلزلے ہی نے تباہ کر ڈالا ہمیں اپنے ٹینک بھیجنے کی ضرورت نہیں)۔ یہ ہے انسانی حقوق کا خیال رکھنے والوں کا ’’دردِ دل‘‘، یہ اُن کا آزادی اظہار ہے۔

اس لیے یہ موقع ہے کہ ہم 15 مارچ 2023 ء کو تدارک اسلاموفوبیا کے عالمی دن کو پوری دنیا میں اس طرح منائیں کہ پوری دنیا اسلام کی حقیقت کو سمجھے اور اس طرح کے ملعونوں پر پوری دنیا لعنت بھیجے ۔

The post اسلاموفوبیا کا سدباب کیسے کیا جائے؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/CYvE9M7

کیا سرکاری ریڈیو کی افادیت ختم ہوچکی؟

20 دسمبر 2019 کو بی بی سی کی ویب سائیٹ پر یہ خبر لگی۔

’’بی بی سی نیوز اردو اس برس کے آخر میں حالات حاضرہ اور خبروں کے پروگرام سیر بین کی شارٹ ویوز اور میڈیم ویوز پر نشریات بند کر دے گا۔ اور اب اس کی ترجیح ڈیجیٹل میڈیا کے پلیٹ فارمز اور ٹیلیویژن ہوں گے۔ تاہم گلوبل نیوز بیٹ اور ایف ایم بلیٹنز جو بی بی سی اپنے ایف ایم پارٹنرز کے اشتراک سے نشر کرتا ہے ان کا سلسلہ جاری رہے گا‘‘۔

اس کے بعد 31 دسمبر 2022 کو یہ خبر آویزاں کی گئی کہ ’’بی بی سی اُردو پاکستان مختلف ایف ایم سٹیشنز پر گذشتہ دو دہائیوں سے ریڈ یو بلیٹنز پیش کر رہا ہے لیکن اب ایف ایم بلیٹنز کا یہ سلسلہ ختم ہو رہا ہے۔

آج شام بی بی سی اردو کا آخری ایف ایم بلیٹن پیش کیا جائے گا‘‘۔ ان خبروں کے ساتھ ہی ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔

جوکہ ریڈیو کے مستقبل سے متعلق ہے اور بی بی سی کے اس اقدام کو ایک لحاظ سے ریڈیو کے بطور ذریعہ ابلاغ خاتمہ سے تعبیر کیا جانے لگا۔

کہنے والے یہ تک کہہ رہے ہیں کہ ابلاغ کے اس جدید دور میں جب سوشل میڈیا کا راج ہے ریڈیو ایک Dying Medium  ہے اور بی بی سی کے اس اقدام کو اب بطور مثال پیش کیا جارہا ہے۔ لیکن حقائق جو منظر نامہ پیش کر رہے ہیں وہ تواس کے بالکل متضاد ہے۔

ہر سال اقوام متحدہ کے تحت13 فروری کو ریڈیو کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اگر ریڈیو بے اثر میڈیم ہے اور ختم ہو رہا ہے تو اقوام متحدہ پھر اُس کا عالمی دن کیوں مناتا ہے؟ بی بی سی کی جو مثال دی جا رہی ہے۔

اگر ہم انگلینڈ میں ریڈیو سننے کے رجحان کا جائزہ لیں تو برطانیہ میں اس کام کی باقاعدہ انچارج باڈی Radio Joint Audience Research کے فروری2023 میں جاری اعداد و شمار کے مطابق یوکے میں15 سال اور اس سے زائد عمر کی 89 فیصد آبادی یعنی 49.7 ملین برطانوی ریڈیو کے سامع ہیں اور ہر سامع ایک ہفتہ میں اوسطً20.3 گھنٹے ریڈیو سنتا ہے۔

انگلینڈ کے ڈیپارٹمنٹ فارڈیجیٹل، کلچر، میڈیا اینڈ اسپورٹس کے اپریل 2022 میں جاری کردہ ڈیجیٹل ریڈیو اینڈ آڈیو ریوو کے پالیسی پیپر کے مطابق بی بی سی سالانہ ریڈیو مواد(content) پر500 ملین پاؤنڈ خرچ کرتا ہے۔

( اس میں ترسیل کے اخراجات شامل نہیں)۔ یوکے میں کمیونیکشن انڈسٹریز کو ریگو لیٹ کرنے والی اتھارٹی Ofcom  کی Media Nations UK 2022 نامی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں کمرشل ریڈیو نے 2021 کے دوران 638 ملین پاؤنڈ کا ریونیو جنریٹ کیا۔ مذکورہ سال برطانیہ میں کمرشل ریڈیو کو سب سے زیادہ بزنس حکومت نے دیا جو2 کروڑ 66 لاکھ 43 ہزار پاؤنڈ تھا۔

اب ذرا امریکہ کی صورتحال ملاحظہ ہو جہاں فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن کے مطابق 31 دسمبر2022 تک 15377 ریڈیو اسٹیشنز موجود ہیںجن میں 4484 میڈیم ویوو، 6686 کمرشل ایف ایم اور 4207 ایجوکیشنل ایف ایم ہیں۔

امریکہ میں میڈیا کے استعمال پر تحقیق کر نے والی معروف کمپنی Nielsen کی مارچ 2021 میں جاری THE NIELSEN TOTAL AUDIENCE REPORT نامی رپورٹ کے مطابق ایک بالغ امریکی دن میں اوسطً ایک گھنٹہ اور31منٹ ریڈیو سنتا ہے۔

88 فیصد بالغوں تک ریڈیو پہنچتا ہے اورریڈیو کے سامعین کی تعداد تقریباً 22 کروڑ ہے۔ امریکہ میں 12 سال اور اس سے زائد عمر کے83 فیصد افراد terrestrial radio سنتے ہیں۔ جبکہ2021 میں امریکہ کے ریڈیو اسٹیشنزسے آن ائیر ہونے والے اشتھارات کی آمدن 10.9 ارب ڈالر رہی۔

اعداد وشمار کی یہ جھلک اُس دنیا کی ہے۔ جہاں ذرائع ابلاغ کی ہر جدید صورت نا صرف موجود ہے بلکہ اس سے مستفید ہونے کے لئے دیگر تمام ذرائع/ وسائل بھی دستیاب ہیں۔ یعنی بجلی ہر وقت اور سب کو دستیاب ہے، قوتِ خرید بھی موجود ہے اور خواندگی بھی 100 فیصد۔اظہار رائے کی بھی آزادی ہے لیکن پھر بھی وہ ریڈیو سے اتنا کیوں جڑے ہوئے ہیں؟

اس کا واضح جواب اُس حقیقت کا ادراک ہے جو ریڈیو کی بطور ذریعہ ابلاغ بے شمار خوبیوں میں پنہاں ہے۔ اور یہی ادراک امریکی صدر کو ہر ہفتہ ریڈیو کے ذریعے ہی امریکی قوم سے خطاب کی روایت کے احیاء اور اسے برقرار رکھنے کا موجب ہے۔

اب اپنے ہمسائے بھارت میں ریڈیو کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں تو وہاں اس وقت 1211 ریڈیو اسٹیشنز موجود ہیں جن میں سے 483 سرکاری، 388 نجی ایف ایم اور 340 کمیونٹی ریڈیو اسٹیشنز ہیں۔ جبکہ سرکاری ریڈیو کے 653 ٹرانسمیٹر پورے بھارت میں موجود ہیں۔ جن میں سے 129 میڈیم ویوو، 502 ایف ایم اور 22 شارٹ ویو کے ٹرانسمیٹرز کام کر رہے ہیں۔اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو اس وقت ملک میںریڈیو اسٹیشنز کی مجموعی تعداد297 ہے۔

ان میں سے سرکاری ریڈیو اسٹیشنز کی تعداد62 ہے (میڈیم ویوو کے 22 اور ایف ایم کے40 اسٹیشنز) جبکہ پیمرا 175 کمرشل ایف ایم اور 60 نان کمرشل ایف ایم کے لائسنسز جاری کرچکا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ریڈیو کتناسنا جاتا ہے ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب فی الحال کسی سائنٹیفیک اسٹڈی کے ذریعے نہیں دیا جاسکتا کیونکہ ملک میں ریڈیو لسننگ کا کوئی مستند اور جامع سروے عرصہ دراز سے نہیں ہوا۔

بہرحال دی یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجنسی فارگلوبل میڈیا کی Contemporary Media Use in Pakistan نامی دستاویز کے مطابق پاکستان میں چھ میں سے ایک یعنی 16.5 فیصد پاکستانی ریڈیو سنتے ہیں۔ لیکن اس سوال کے جواب کے لئے ہم ایک اور پیمانے کا سہارا بھی لیں گے۔

دیکھیں ملک میں ریڈیو کی لسننگ موجود ہے تو ہی اس وقت 175 کمرشل ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کام کر رہے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ کا عمل بھی جاری ہے۔

اگر ایف ایم نہیں سنا جاتا تو پھر ریڈیو پر اشتہارات جن کی تازہ ترین مالیت 1.35 ارب ہے کیوں دیئے جاتے ہیں اور ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کی تعداد میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ کوئی بھی کاروباری فرد یا ادارہ اُس شعبہ میں ہرگز سرمایہ کاری نہیں کرتا جہاں اُسے بہتر ریٹرن کی توقع نہ ہو۔اگر ایف ایم مقبول نہیں تو پرائیویٹ سیکٹر نے ایف ایم انڈسٹری میں 1000 ملین روپے سے زائد کی انوسمنٹ کیوں کر رکھی ہے؟

یہ معاشیات کا اصول ہے کہ جب طلب بڑھتی ہے تو پھر رسد میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ملک میں ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کی بڑھتی ہوئی تعداد اُس طلب کی واضح عکاسی کر رہی ہے جو سامعین کی صورت میں ملک کے قریہ قریہ کونے کونے میں موجود ہے۔

اور یہی مانگ ملک میں ایف ایم ریڈیو کے بھر پور مستقبل کی عکاس بھی ہے۔ملک میں ریڈیو کی اہمیت اور اس کے سامعین کی موجودگی کو ایک اور پہلو سے بھی دیکھا جا سکتا ہے اور وہ پہلو ملک میں ماضی قریب میں موجود غیر قانونی ایف ایم ریڈیو سٹیشنزتھے۔

جن کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ ریڈیو آج بھی پاکستانی معاشرے میں اپنا اثر رکھتا ہے اور سنا جاتا ہے۔ پیمرا نے دیگر حکومتی اداروں کے تعاون سے اب تک 100سے زائدغیر قانونی ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کو بند کیا ہے۔یہ تمام اعدادوشمار اور حقائق ریڈیو کے Dying Medium کی تو نفی ہی کر رہے ہیں۔

بعض احباب یہ بھی کہتے ہیں ملک میں ریڈیو خصوصاً سرکاری ریڈیو کی اب کوئی ضرورت نہیں۔جس کی تردید ملک کے کئی ایک زمینی حقائق کر تے ہیں۔ بجلی کی سہولت سے محروم ملک کی25 فیصد آبادی، مہنگی بجلی اور طویل لوڈشیڈنگ کا شکار ملک کی آبادی سے تسلسل کے ساتھ ابلاغ کرنا ریڈیو کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔

ملک کے 10سال اور اس سے زیادہ عمر کے 37 فیصد ناخواندہ افراد سے رابطہ کا اہم ذریعہ صرف ریڈیو ہی ہے۔کم خرچ ہونے کی وجہ سے قومی خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے 21.9 فیصدپاکستانیوں سے تعلق ریڈیو ہی جوڑ سکتا ہے۔

دیہی علاقوں میں سہولیات کی محرومی اور شہری علاقوں میں زندگی کی تیزی ریڈیو کی ضرورت کو دوچند کردیتی ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں رونما ہونے والے حادثات اور قدرتی آفات میں ریڈیو کا کردار تو آفاقی اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے۔

کیونکہ گزشتہ 20 برس کے دوران قدرتی آفات سے سب سے زیادہ متاثرہ آبادی کے حامل ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔ اور اس کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جو قدرتی آفات سے زیادہ متاثر ہو سکنے کے خدشات کے حامل ہیں اور حالیہ سیلاب نے ان تمام خدشات کو سچ ثابت کردیا ہے۔

یہ تمام حقائق ملک میں ریڈیو کی بھرپور ضرورت کی وکالت کرتے ہوئے اس کے روشن مستقبل کی عکاسی کر رہے ہیں۔رہی بات سرکاری ریڈیو کی تو دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں سرکاری ریڈیو پوری طرح فعال ہیں۔

سرکاری ریڈیو جہاں حکومت کی ترجمانی کے فرائض انجام دیتے ہیں وہیں فنون لطیفہ کی نرسری کا بھی کام کرتے ہیں۔ پبلک براڈکاسٹنگ کے ذمہ داریاں ادا کرتا ہے اورریاست کے مفادات کی نگہبانی کرتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں ریڈیو کی کیا اہمیت؟ کیا آپ جانتے ہیں کے امریکہ میں فیس بک صارفین سے زائد تعداد ریڈیو سامعین کی ہے۔

امریکہ کی  The Infinite Dial 2022 نامی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں فیس بک صارفین کی تعداد 180 ملین ہے جبکہ ریڈیو سامعین کی تعداد NIELSEN کی رپورٹ کے مطابق 22 کروڑ ہے۔اب ایک اور پہلو سے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

کیا آپ نے سوچا کہ سوشل میڈیا جو کہ انٹر نیٹ کی سہولت کے بغیر بے معنی ہے تو پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال کی کیا صورتحال ہے؟ سمارٹ فونز اور کمپیوٹرز کتنے لوگوں کے پاس ہیں؟ چلیں ہم آپ کو بتاتے ہیں۔پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے 2017-18 کے مطابق ملک کے صرف 11.8 فیصد گھروں میں انٹرنیٹ کنکشن ہے اورملک کے صرف15 فیصد گھروں میں کمپیوٹر موجود ہے۔

نیوزو (Newzoo) انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان میںسمارٹ فونزاستعمال کنندگان کی تعداد 2022 تک56.61 ملین ہے۔ گلوبل ڈیجیٹل اُورویو2022 کے مطابق فروری2022 تک ملک میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 8 کروڑ 29 لاکھ تھی۔ یعنی ملک کی ساڑھے 36 فیصد آبادی انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے۔ اس وقت ملک کی 71.70 ملین آبادی یعنی 31.5 فیصد سوشل میڈیا کی فعال صارف ہے۔

یہاں ایک اور پہلو بھی غورطلب ہے کہ لوگوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر زیادہ وقت صرف کرنے کی وجہ سے ریڈیو کی سماعت کے لیے وقت کی کمی کا سامنا تو ہوسکتا ہے۔

لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ سوشل میڈیا صارف ریڈیو ٹرانسمیشن بالکل نہیں سنتا ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ آن لائن ریڈیو جسے ویب ریڈیو بھی کہا جاتا ہے سنتا ہویا کسی ایپ کی مدد سے ریڈیو سماعت کرتا ہو۔

ایک وقت تھا کہ دنیا میں صرف میڈیم ویوو، شارٹ ویوو اور ایف ایم کی روایتی فریکونسی کے ذریعے ریڈیو ٹرانسمیشن پیش جاتی تھی۔ لیکن ٹیکنالوجی میں جدت نے اس منظر نامہ کو بدل کر رکھ دیا ہے ۔ آج ریڈیواسٹیشنز اپنی ٹرانسمیشن روایتی فریکونسیز کے ساتھ ساتھ جدیدٹیکنالوجی کی مدد سے بھی پیش کر رہے۔

ڈیجیٹل آڈیو براڈ کاسٹنگ ( ڈی اے بی)، Digital Radio Mondiale ، سیٹلائیٹ ریڈیو اور انٹرنیٹ ریڈیو کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔کئی ممالک ریڈیو کی روایتی ٹیکنالوجی کو ترک کرکے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو اپنا رہے ہیں۔ ناروے دنیا کو وہ پہلا ملک ہے۔

جہاں جنوری2017 سے ایف ایم ریڈیو کو بند کرکے ریڈیو برادکاسٹنگ کے لیے ڈیجیٹل آڈیو براڈ کاسٹنگ ( ڈی اے بی)کی ٹیکنالوجی اپنا لی گئی ہے۔ بی بی سی نے بھی digital-first BBC کے حوالے سے اپنی پالیسی کا اعلان کردیا ہے۔

بھارت اور جرمنی میںDigital Radio Mondiale کو اپنایا جا رہا ہے۔ اس سسٹم میں ریڈیو نشریات کے لیے AM بینڈ کو ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ بھارت کا سرکاری ریڈیو میڈیم ویوو کے 35 اور شارٹ ویوو کے 3 ٹرانسمیٹرز DRM ٹیکنالوجی کے لگا چکا ہے۔

لیکن ہمارا سرکاری ریڈیو DAB یا DRM ٹیکنالوجی سے استفادہ نہیں کر پا رہا۔ جس کی ایک بڑی وجہ ادارے کو درکار فنڈز کی شدید کمی ہے۔اس مالی تشنگی کی وجہ سے ایک طرف سرکاری ریڈیو اپنے کئی ایک میڈیم ویو اور ایف ایم ٹرانسمیٹرز کے نشریاتی سگنلز کی بہتر کوالٹی کو درپیش چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے تودوسری جانب پنشنرز، اہلکاروں اور فنکاروں کو بروقت معاوضوں کی ادائیگی میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔

اس تمام صورتحال کے حوالے ہم نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ڈیپارٹمنٹ آف میڈیا اسٹڈیز کے چیئر مین پروفیسر ڈاکٹر عبدالواجد خان،ریڈیو براڈکاسٹنگ اور مارکیٹنگ کا وسیع تجربہ رکھنے والی شخصیت وحید شیخ جوریڈیو براڈکاسٹنگ میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر گہری نظر اور اِس کا عملی تجربہ رکھتے ہے۔

آپ پاکستان کے سب سے بڑے ایف ایم نیٹ ورک ریڈیو پاکستان ایف ایم 101 کے سابق ہیڈ ، پی بی سی کے سابق مارکیٹنگ ہیڈ، سابق ڈائریکٹر پروگرامز اور اِس وقت ایک آن لائن ریڈیو/ web radio ،ایپ ریڈیوکے سی ای او ہیں۔ اِن کے علاوہ جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغیات کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نوید اقبال انصاری سے بات چیت کی۔ جس کی تفصیل قارئین کے لیے پیش کی جارہی ہے۔

 پروفیسر ڈاکٹر عبدالواجد خان

سوال: کہا جا رہا ہے کہ سوشل میڈیا نے mainstream media کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ کیا آپ اس مفروضہ سے متفق ہیں؟

جواب: دیکھیں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ خطرے میں ڈالنا کہنا مناسب نہیں۔ چیلنج ضرور کیا ہے ہر نیا جدید میڈیا پرانے میڈیا کے لیے جہاں چیلنج ہوتا ہے وہیں اُسے اپنی بہتری کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے جس طرح سوشل میڈیا نے ریڈیو کو ڈیجیٹلائزیشن کی جہت عطا کی۔

دوسری بات اکثر لوگ بی بی سی کی مثال دیتے ہیں کہ انھوں نے پاکستان کے لیے اپنے میڈیم ویو اور شارٹ ویوٹرانسمیٹر بند کر دیے ہیں۔

یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا بی بی سی نے اپنے ملک کے اندر بھی نشریات کے لیے استعمال ہونے والے ٹرانسمیٹرز بند کر دیئے ہیں۔ یقینا نہیں۔ بلکہ وہ اب DAB ٹیکنالوجی اپنا رہا ہے۔ پاکستان کے لیے بی بی سی اپنی نشریات کے لیے ٹرانسمیٹرزاب اس لیے استعمال نہیں کر رہا کہ ادارہ اپنے وسائل کے صحیح استعمال کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

بی بی سی کی پاکستان کے لیے نشریات دراصل ایکسٹرنل ٹرانسمیشن ہے جو ادارے پر اب معاشی بوجھ کا باعث بن رہی تھی جبکہ وہ تمام مقاصد جو بی بی سی ریڈیو نشریات کے ذریعے حاصل کرتا تھا وہ ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی نشریات سے انتہائی کم اخراجات میں بھی حاصل کر سکتا ہے وہ بھی بہترین آڈیو کوالٹی کے ساتھ۔ ہاں یہ ضرور ہوا ہے کہ ہمارے یہاں بی بی سی ریڈیو سننے کا جولوگوں کا رومانس تھا وہ ضرورختم ہو گیا ہے۔

سوال: ٹیکنالوجی کے ا نضمام Technology Convergence کی بدولت موبائل فون پر ایف ایم ریڈیو سننے کی سہولت نے ریڈ یو لسنگ کے رجحان پر کیا اثرات مرتب کیے؟

جواب: موبائل نے ایف ایم لسنگ کے رجحان میں قابل ذکر اضافہ نہیں کیا۔

سوال: ایسا سمارٹ موبائل فون جس پر آسانی سے ایف ایم سنا جا سکتا ہے کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز آنے کے بعد اسے بطور ریڈیو سیٹ ریڈیو سننے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے؟

جواب: میرے خیال میں نہیں کیوں کہ موبائل کو ریڈیولسنگ سے زیادہ دیگر مقاصد کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔

سوال : سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے ملک میں ریڈ یولسنگ کے رجحان پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں؟

جواب : کسی حد تک لسنر ز میں اضافہ کیا ہے کیونکہ سوشل میڈ یا دیگر مقاصد کے لئے زیادہ مستعمل ہے۔

سوال: ریڈیو چینلز کو اپنی نشریات صرف ٹرانسمیٹر کے ذریعے پیش کرنی چاہیے جو کہ ریڈیوسیٹس پر سنی جا سکے؟ یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے پیش کرنی چاہیے جو انٹرنیٹ کی سہولت کی حامل کسی ڈیجیٹل ڈیوائس پر سنی جا سکے؟ پاکستان کے معروضی حالات میں کیا ہونا چاہیے؟

جواب: دیکھیں اس حوالے سے دو موقف ہیں۔ ایک یہ کہ لسنرز کو جب ریڈیو سیٹس یا موبائل فون پر ریڈیو (ایف ایم) سنے کی تقریباً مفت سہولت حاصل ہے جسے وہ کسی بھی حالات میں کسی بھی وقت کہیں بھی سن سکتے ہیں تو وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنا مہنگا انٹرنیٹ ڈیٹا خرچ کر کے ریڈ یوٹرانسمیشن کو کیوں سنیں۔

اس کے علاوہ ملک میں انٹرنیٹ کی سہولت ابھی ایک محدود آبادی کو حاصل ہے کیا ریڈیو صرف اُن کے لیے ہے؟ دوسرا موقف کہ دنیامیں ریڈ یو ٹرانسمیشن کو روایتی ٹرانسمیٹرز سے آن لائن ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ جس سے ٹرانسمیشن کی رینج میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے اور ٹرانسمیشن کی وائس کوالٹی بہت اچھی رہتی ہے۔

ریڈیو ٹرانسمیشن کے اخراجات میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔ لوگ اب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ روایتی ریڈیو سیٹس اب نا پید ہوتے جار ہیں ان حالات میں لوگ روایتی طریقے سے ریڈیو کیوںسنیں؟ اب پاکستان کے تناظر میں کیا بہتر ہے تو اس بارے میں یہ کہنا ہے کہ جدید دور کے تقاضوں کے پیش نظر نشریات دونوں طرح سے ہی پیش کی جانی چاہیے تا کہ پاکستان بھر میں ریڈیولسنگ کے دائرہ کار کو پھیلایا جا سکے۔

ریڈیو براڈ کاسٹنگ اسٹیشنز کو ہر طرح سے اپنے سامعین تک رسائی حاصل کرنا ہوتی ہے لہذا تمام ذرائع استعمال کرنے چاہیے یہ سوچنا سامعین کا کام ہے کہ وہ کس ذریعہ کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن پاکستان کے معروضی حالات خصوصاً حالیہ سیلاب نے اس امر کو بھی نمایاں کیا ہے کہ پاکستان کلائیمیٹ چینج سے تواتر کے ساتھ مستقبل میں بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

لہذا قدرتی آفات میں جب کمیونیکشن انفراسٹرکچر بیٹھ جاتا ہے تو اُس وقت صرف ریڈیو ہی وہ میڈیم ہے جو ملک کے طول و عرض میں ابلاغی خدمات سرانجام دیتا ہے۔ اور اگر اسے ٹرانسمیٹر ز سے شفٹ کر کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لے آیا گیا تو خدا نخواستہ کسی آزمائش کی گھڑی میں ہم حالات سے اور ایک دوسرے سے بالکل بے خبرہی نا ہوجائیں۔

سوال: کیا ریڈ یوٹرانسمیشن کی اب معاشرے میں ضرورت موجود ہے؟ کیونکہ ٹیکنا لوجی کی ترقی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے ہر فرد کور پورٹنگ، ایڈیٹنگ، رائیٹنگ، ایکٹنگ، گلوکاری، صدا کاری، آمدن حاصل کرنے، اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو پیش کرنے، فوری فیڈ بیک اور شہرت حاصل کرنے کی سہولت مہیا کر دی ہے اس کے علاوہ لوگ جو سنا، دیکھنا اور پڑھنا چاہتا ہے وہ تمام مواد ا نھیں آن لائن مختلف پلیٹ فارمز پر آسانی سے مل جاتا ہے جسے وہ اپنی سہولت کے مطابق سن، دیکھ اور پڑھ سکتے ہیں تو پھر وہ ریڈیوٹرانسمیشن کیوں سنیں؟

جواب: دیکھیں جب کوئی بھی نیا جدید میڈیا آتا ہے تو پرانے میڈیا کے بارے میں اس طرح کہا جاتا ہے کہ اب اس کی ضرورت نہیں۔ جبکہ ایسا ہوتا نہیں ہے ہر میڈیا کی ضرورت برقرار رہتی ہے۔ یہ حالات اور واقعات اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ میڈیا کنزیومر کونسا میڈیا استعمال کرتے ہیں۔

لیکن ایک بات یہاں ضرور مد نظر رکھنی چاہئے کہ امریکہ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اپنی جدید ترین صورت میں موجود ہیں وہاں شخصی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی ہم سے کہیں زیادہ ہے لیکن پھر کیوں دنیا بھر میں زیادہ ریڈیو سننے والی اقوام میں امریکہ سرفہرست ہے؟ ہمارے یہاں ریڈیو کی اہمیت اپنی جگہ پر برقرار رہ سکتی ہے اگر ادارے جدید تقاضوں اور سامعین کی عصری ضروریات کو پیش نظر رکھ کر اپنے کو ٹینٹ کو تر تیب دیں۔

سوال :کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارمزکوریڈیو لسنگ میں اضافہ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟

جواب: جی بالکل۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز در اصل تشہیری مقاصد کے لیے بہت بہتر طور پر استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ جس سے نئے لسنرز کو اپنی جانب متوجہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ریڈیو پروگرامز کوسوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ کر کے بھی لسنگ میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔پوڈکاسٹ اس کی تازہ مثال ہے۔

سوال: سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نئے لسنرز کو ریڈیو کی جانب متوجہ کر سکتا ہے۔ تو پرانے لسنرز کو ریڈیو سے کیسے جڑارکھا جائے؟

جواب: پروگراموں کا کچھ حصہ پرانے لسنرز کی پسند اور ضروریات کو پیش نظر رکھ کر ترتیب دیا جائے۔

سوال: سوشل میڈیا آنے کے بعد لوگوں کی ایک بڑی تعداد خصوصا ًنو جوانوں کی ابلاغی مواد کو سنے، دیکھنے اور پڑھنے کی چوائس بدل چکی ہے۔ ایسے میں ریڈ یوٹرانسمیشن کے مندرجات اور انداز میں کیا تبدیلیاں ضروری ہیں تاکہ سامعین خصوصاً نو جوانوں کو اپنی جانب متوجہ کیا جا سکے؟

سوال: یہ بہت اہم بات ہے اور اس کا جتنی جلد ادراک کر لیا جائے اُتنا ہی بہتر ہے۔ بی بی سی نے جب اپنے حالات حاضرہ اور خبروں کے پروگرام سیر بین کو بند کرنے کی بات کی تو ساتھ میں اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے ریڈیو مواد کو نو جوانوں کی دلچسپی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

نوجوان اب بھی ریڈیو سنتے ہیں لیکن اس پر وقت کم صرف کرتے ہیں۔ ہم نئی ابلاغی تکنیک کو جدید تقاضوں اور ضروریات سے ہم آہنگ کر کے سمارٹ فون جنریشن کو ریڈیو کی جانب راغب کر سکتے ہیں۔

سوال: دنیا بھر میں سرکاری ریڈیو پبلک براڈ کاسٹنگ کے لیے کام کرتے ہیں یا کمرشل براڈ کاسٹنگ کے لیے؟

جواب: زیادہ تر پبلک براڈ کاسٹنگ کے لیے لیکن کمرشلز کے بغیر انڈسٹری زندہ نہیں رہ سکتی۔

سوال: اگر سرکاری ریڈیو کا کام پبلک براڈ کاسٹنگ ہے تو پھر اُس کے اخراجات کیسے پورے ہوں؟

جواب: سرکار کو اس کی ابلاغی اور رائے عامہ کو ہموار کرنے، آگاہی اور شعور پھیلانے کی اہمیت کو پیش نظر رکھ کر ترقیاتی فنڈز میں سے خصوصی بجٹ مختص کرنا چاہیے۔ دنیا بھر میں سرکاری ریڈیو کو درکار فنڈز حکومتیں فراہم کرتی ہیںکیونکہ پبلک براڈ کاسٹرز کا کام آمدن کا حصول نہیں ہوتا بلکہ یہ ریاستی اور عوامی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے ہوتے ہیں۔

بی بی سی کی مثال کو ہی لے لیجئے اس کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے خصوصی انتظام کیا ہواہے ۔جس کے تحت برطانوی حکومت نے تمام گھروں پر لائسنس فیس کا اطلاق کیا ہوا ہے۔ جس سے 2021-22 میں 3.8 ارب پاؤنڈ حاصل ہوئے۔

جو اس کے ریونیو کا 75 فیصد ہیں۔ جبکہ دیگر25 فیصد جس کی مالیت مذکورہ مالی سال1.7 ارب پاؤنڈ تھی وہ مختلف نان پبلک کمرشل اور دیگر سرگرمیوں (گرانٹس، رائلٹیزاور کرایہ )سے حاصل کی گئی۔ ہماری حکومت کو بجلی کے بل میں پی ٹی وی کی فیس کی طرح سرکاری ریڈیو کے لیے بھی مستقل بنیادوں پر فنڈز کی دستیابی کے لیے کوئی لائحہ عمل بنانا چاہیئے۔

 وحید شیخ

سوال: کہا جا رہا ہے کہ سوشل میڈیا نے mainstream media کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ کیا آپ اس مفروضہ سے متفق ہیں؟

جوابـ : سوشل میڈیا نے مین سٹریم میڈیا کو متاثر کیا ہے۔اس کا وجود تو خطرے میں نہیں آیا لیکن یہ ہے کہ اس کی ویورشپ یا لسنر شپ بہت متاثر ہوئی ہے۔سوشل میڈیا وقت کے تقاضوں کو پورا کر رہا ہے اور جو لوگ وقت کے تقاضوں کے ساتھ چلتے ہیں وہ ترقی کرتے ہیں۔

آج کا ریڈیو خصوصاً میںریڈیو پاکستان کی بات کروں گا۔ اُن کا یو ٹیوب چینل بھی ہے۔ وہ انسٹا گرام پر بھی ہیں۔اُن کے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ملینز میں فالورز بھی ہیں اور فیس بک پر بھی بے شمار لوگ اُن کو فالو کرتے ہیں۔پوڈکاسٹ بھی آگیا ہے۔یہ اچھی بات ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ میڈیا بھی چینج ہورہا ہے ۔

سوال : جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیانے ریڈیو پر کیا اثرات مرتب کیے ہیںاور یہ ریڈیو کے لیے کیوںکر ضروری ہیں؟

جواب: ٹیکنالوجی نے ریڈیو کے ریسیور اینڈ اور ٹرانسمیشن اینڈ دونوں پر نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں۔ ڈیجیٹل ریڈیو سیٹس، سمارٹ فون اور سمارٹ اسپیکرز سے ریڈیو لسننگ میں بہتری آئی ہے۔مغرب میں ریڈیو لسننگ کے لیے اب سمارٹ اسپیکرز تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔

دنیا بھر میں روایتی ریڈیو سیٹس ناپید ہوتے جا رہے ہیں پاکستان ہی کی مثال کو لے لیں یہاں اب مارکیٹ میں عام ریڈیو سیٹ خصوصاً اے ایم بینڈ والا سیٹ آسانی سے دستیاب نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب ملک کے صرف 6.4 فیصد گھروں میں ریڈیو سیٹ موجود ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز آنے سے لسننگ آسان اور بہتر ہوگئی ہے۔

ساؤنڈ کوالٹی کرسٹل کلیئر ہوگئی ہے۔آپ ایپ پر ریڈیو سن سکتے ہیں۔ یہ ریڈیو ایپ کا دور ہے ۔آپ فیس بک پر بھی ریڈیو سن سکتے ہیں۔ ایسی چیزیں آگیں ہیں کہ کوئی بھی اسٹیشن ایک وقت میں ایک سے زائد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنی نشریات دے سکتا ہے۔

یعنی یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ٹیکنالوجی کو کیسے استعمال میں لایا جائے۔ سوشل میڈیا آجانے کے بعد لوگوں کے پاس چوائسسزبہت آگیں ہیں۔اگر ریڈیو کا کونٹینٹ اچھا ہے اور آپ کا پسندیدہ پروگرام ہے تو وہ اپنا ریڈیو پروگرام ضرور سنتے ہیں۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ اب کا جو دور ہے اس میں ٹرانسمیٹرز پر پیسہ ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔سرکاری ریڈیو کی کیوں کہ کچھ مخصوص ذمہ داریاںہیں اس لیے اُن کو ٹرانسمیٹرزکی ضرورت ہے۔

اگر اسٹیٹ ریڈیو کے پاس وسائل ہوں تو میڈیم ویوو ٹرانسمیٹرز ضرور ہونے چاہیئں۔ کیونکہ یہ سگنلز کو دور تک لے جاتے ہیں۔ لیکن ایسے ٹرانسمیٹرز تکنیکی مسائل کا شکار رہتے ہیں۔ اور اُن کی دیکھ بھال ایک مہنگا کام ہے ۔

اب آسان ترین کم خرچ ڈیجیٹل ذرائع آگئے ہیں آپ ڈیڈیکیٹیڈآڈیو سٹریم لیںجو24 گھنٹے چلتی رہتی ہے کسی خلل کے بغیر۔ اور اگر کو تکنیکی مسئلہ آ بھی جائے تو کمپنیزبیک اپ دیتی ہیں۔

میں توٹرانسمیٹرز کے سخت خلاف ہوں ۔ بہت بڑے سیٹ اپ کی ضرورت ہوتی ہے ان کی تنصیب کے لیے۔ایک ایف ایم ٹرانسمیٹر یا میڈیم ویوو ٹرانسمیٹر کا صحیح متبادل ڈیڈیکیٹیڈآڈیو سٹریم ہے ۔جس سے آپ کے ریڈیو کی reach گلوبل ہوجاتی ہے دنیا کے کسی بھی کونے میں آپ کو سنا جا سکتا ہے۔

لسنرز کا فیڈ بیک فوراً حاصل ہوتا ہے۔ لوگوں کی چوائس کو فوراً پورا کیا جاسکتا ہے۔ سوشل میڈیا کا اپنا بہت زیادہ اثر ہے اور اس کا توڑ کوئی نہیں ہے۔اُس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا۔دنیا بھر میں سرکاری ریڈیو اور تمام ریڈیو سوشل میڈیا پر انحصار کر رہے ہیں۔

دنیا کے نمایاں سرکاری ریڈیوز نے ٹرانسمیٹرز کے ساتھ ڈ یڈیکیٹیڈآڈیو سٹریم بھی لے رکھی ہے۔ اور لوگ اب زیادہ آڈیو اسٹریم پر ریڈیو سنتے ہیںیا اُن کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آرام سے سنتے ہیں۔

 ڈاکٹر نوید اقبال انصاری

سوال: کیا ملک میں ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کے قیام نے ریڈ یولسنگ کا دوبارہ احیا کیا؟

جواب: جی بالکل۔ ایسے لوگوں کی تعداد جو ریڈیو کی عادی نہیں تھی یا نئی نسل وہ دور ہوتی چلی جا رہی تھی اور جو پرانے سننے والے تھے اُن کا بھی گراف نیچے آرہا تھا۔ جیسے ہی ایف ایم لائسنس کا اجرا ہوا تو ایک دم سے لسنرز کی تعداد بڑھی، مقبولیت بھی اُس کی بڑھی۔

سوال: ریڈیو چینلز کو اپنی نشریات صرف ٹرانسمیٹر کے ذریعے پیش کرنی چاہیے جو کہ ریڈیوسیٹس پر سنی جا سکے؟ یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے پیش کرنی چاہیے جو انٹرنیٹ کی سہولت کی حامل کسی ڈیجیٹل ڈیوائس پر سنی جا سکے؟ پاکستان کے معروضی حالات میں کیا ہونا چاہیے؟

جواب: دونوں ہی ضروری ہے کیونکہ پاکستان کا معاشرہ دو حصوں میں بٹ چکا ہے۔ ایک وہاں جہاں ٹیکنالوجی آئی اور بہت زیادہ استعمال ہو رہی ہے،اور ایک جو ہے وہ پیچھے ہے۔اور لوگوں کے حالات بھی ایسے نہیں ہے کہ ہر طرح کی ٹیکنالوجی ہر جگہ استعمال کریں۔

سوال: کیا ریڈ یوٹرانسمیشن کی اب معاشرے میں ضرورت موجود ہے؟ کیونکہ ٹیکنا لوجی کی ترقی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے ہر فرد کور پورٹنگ، ایڈیٹنگ، رائیٹنگ، ایکٹنگ، گلوکاری، صدا کاری، آمدن حاصل کرنے، اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو پیش کرنے، فوری فیڈ بیک اور شہرت حاصل کرنے کی سہولت مہیا کر دی ہے اس کے علاوہ لوگ جو سنا، دیکھنا اور پڑھنا چاہتا ہے وہ تمام مواد ا نھیں آن لائن مختلف پلیٹ فارمز پر آسانی سے مل جاتا ہے جسے وہ اپنی سہولت کے مطابق سن، دیکھ اور پڑھ سکتے ہیں تو پھر وہ ریڈ یوٹرانسمیشن کیوں سنیں؟

جواب: بات تو درست ہے۔لیکن بات یہ ہے کہ ریاست بھی تو ہوتی ہے نا اُسے معاشرے کو لیکر چلنا ہوتا ہے اگر آپ سارا کمرشل نقطہ نظر سے دیکھیں گے اوراُسے چھوڑ دیں گے تو معاملہ دوسری طرف جائے گا۔ لیکن اگر ریاست ہے اور وہ معاشرے کو لیکر چلنا چاہتی ہے تو اُس کے لیے پھر جو ریڈیو کا انداز ہے پرانا والا اور نیا والادونوں کو استعمال کرنا چاہیے۔کیونکہ یہ ریاست ہی کرسکتی ہے باقی نجی طور پر تو ہر کوئی منافع کمانا چاہے گااورجوسامعین کی تھوڑی سی تعداد ہے وہ اُن کوفوقیت تھوڑی دے گا۔

سوال: اگر سرکاری ریڈیو کا کام پبلک براڈ کاسٹنگ ہے تو پھر اُس کے اخراجات کیسے پورے ہوں؟

جواب: اخراجات پورا کرنے کے لیے میڈیا نہیں ہوتا۔جیسے تعلیم کے ادارے ہیں۔وہ پیداوار کے لیے نہیں کہ پیسہ کمایا جائے ایسے ہی یہ جو میڈیا ہے یہ پیداوار کے لیے نہیں ہے۔سرکاری میڈیا اس لیے بہتر ہوتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں دیکھ لیں اُس کارول سب سے Best رہا ہے۔لیکن جب سے نجی شروع ہوا ہے اُس نے معاشرے پر منفی اثرات ڈالے ہیں۔تو سرکاری سطح پر آپ پیسہ کمانا چاہیں گے تو پھر نجی شعبہ کی طرح اس کا بیڑا غرق ہوجائے گا۔

سوال: کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے سرکاری ریڈیو آمدن حاصل کر سکتا ہے؟

جواب: ہوسکتا ہے لیکن آپ کو طے کرنا ہوگا کہ آپ کیا چاہ رہے ہیں۔اگر زیادہ مال کمانا چاہیں گے توستیاناس کردیں گے۔ ملکی مفاد اور معاشرتی مفاد نہیں رہے گا پھر۔

اس وقت ریڈیو کو درپیش چلنجز میں سے نمایاں چیلنج ارباب اختیار کی عدم توجہ ہے۔ اس عدم توجہ کاسرکاری اور نجی دونوں طرح کے ریڈیو اسٹیشنز کو سامنا ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا بھی ایک چیلنج کی صورت میں موجود ہے ۔اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سوشل میڈیا نے جس تیزی سے معاشرے کو اپنی گرفت میں لیا ہے۔

اس کی نظیر ماضی میں کسی اور میڈیا کے آنے سے نہیں ملتی۔ کیونکہ جب بھی کوئی نیا میڈیا آتا ہے تو وہ پہلے سے موجود میڈیا کو بہت سے چلنجز کا شکار بنا دیتا ہے۔ ہمیں ریڈیو کو سوشل میڈیا کی وجہ سے درپیش چیلنجز کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے بھرپور استفادہ میں تبدیل کرنا ہوگا۔ کیونکہ مستقبل کا ریڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بہتر استعمال اور جدید براڈکاسٹنگ ٹیکنالوجی کی دستیابی اور ان دونوں کے بھرپور استعمال پر منحصر ہے۔

The post کیا سرکاری ریڈیو کی افادیت ختم ہوچکی؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/Eit0PHb

سارے رنگ

ہم تو ایسی ’’جمہوریتوں‘‘ کے ہاتھوں مر چلے!

خانہ پُری

ر۔ ط ۔ م

2 فروری 2023ء کے ’ایکسپریس‘ میں شایع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی 27.6 فی صد کی شرح کے ساتھ 47 سالہ ریکارڈ توڑ چکی ہے۔

اس بلند ترین گرانی کے نتیجے میں برپا ہونے والی مہنگائی کے لیے اب ’قیامت خیز‘ اور ’ہوش رُبا‘ کے سخت ترین سابقے بھی اب بہت تھوڑے اور ناکافی سے محسوس ہونے لگے ہیں۔۔۔!
عالم یہ ہے کہ آٹا، چینی اور دالوں سے لے کر، پانی، بجلی اور گیس تک کی قیمتیں ہیں کہ ہاتھوں سے نکلی جا رہی ہیں۔۔۔ 100روپے کا نوٹ 10 روپے کا نوٹ بن چکا ہے۔۔۔

اب تو ہزار کا نوٹ چٹکیوں میں اڑا جاتا ہے! پھر سوئی گیس کا بدترین بحران ایک علاحدہ دردِسر اور اس کے لیے گیس سلینڈر بھروانا ایک اضافی خرچ ہے۔۔۔ سرکاری سطح پر سسٹے آٹے کے ’ڈرامے‘ کرائے جاتے ہیں، جس میں بھوک کے مارے غریب بھیڑ میں آکر کچلے جاتے ہیں!

ہم نے صرف رواں برس کے اخبارات پر ایک نظر ڈالی، تو 29 جنوری 2023ء کو پیٹرول پر 35 روپے، اور 15 فروری کو 22 روپے فی لیٹر بڑھے، یوں صرف 17 دن میں کُل 57 روپے اضافے کے ساتھ اب پیٹرول 215 روپے سے 272 روپے فی لیٹر پر پہنچ چکا ہے۔۔۔!

اس سے قبل 26 جنوری کو ڈالر یک مشت 24 روپے اضافے سے 255 روپے تک جاپہنچا۔۔۔ اور ان سطور کے لکھے جانے تک امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 260.40 روپے پر موجود ہے۔

جب کہ نہ پیٹرول کے بھائو کو کوئی لگام دیے جانے کا امکان ہے اور نہ ڈالر کی ’باگ‘ کھینچی جانے کی کوئی امید۔۔۔! اس لیے اس وقت خوف صرف موجودہ خوف ناک اور جان لیوا مہنگائی کا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ یہ مہنگائی کا طوفان آخر کس جگہ جا کر تھمے گا۔۔۔!!

حکومت نے 10جنوری 2023ء کو گیس 74 فی صد مہنگی کی، جس کا اطلاق جولائی 2022 ء سے کر دیا گیا، 13 فروری کو گیس مزید 16 سے 124 فی صد مزید مہنگی کر دی گئی۔ 10 فروری 2023ء کو گھریلو صارفین کے لیے بجلی پر سات روپے فی یونٹ بڑھائے، 13 فروری کو بجلی پر فی یونٹ 3.39 روپے مزید ٹیکس لگایا گیا۔

14 فروری کو جنرل سیلز ٹیکس میں ایک فی صد اضافہ کر دیا گیا اور منی بجٹ کے نام پر پُرتعیش اشیا پر ٹیکس کا اعلان کیا اور ساتھ ساتھ خورنی تیل، سیمنٹ، مشروبات، صابن، ٹوتھ پیسٹ، شیمپو اور کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ سمیت برقی آلات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا۔

شاید حکومت ان سب کو بھی ’سامان تعیشات‘ میں شمار کرنے لگی ہو۔ اس پر ’’وزیر خالی خزانہ‘‘ اسحٰق ڈار نے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے یہ ارشاد بھی فرمایا کہ اس سے عام آدمی متاثر نہیں ہوگا۔۔۔!

وزیراعظم شہبازشریف کے 34 وفاقی وزرا، 40 معاون خصوصی، سات وزرائے مملکت اور چار مشیر ہیں۔ یعنی ہمارے ملک کی ’’صرف‘‘ 85 رکنی وفاقی کابینہ ہے، گویا ہمارے ’وفاقی ایوان ہائے پارلیمان ‘ میں اب بھی 355 سے زائد معزز اراکین ایسے ہیں، جو ’کمزور معیشت‘ اور ناموافق حالات کے سبب جنابِ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی کابینہ میں شمولیت سے محروم رہ گئے ہیں۔

اگرچہ کابینہ میں موجود 44 معاونین خصوصی اور مشیران موئی ’پارلیمان‘ کی رکنیت پائے بغیر یہ ’اعلیٰ درجہ‘ پائے ہوئے ہیں! تو جناب یہاں لوگ ایسے ہی تو ’’جمہوریت‘‘ کے نام کی مالا نہیں جپتے۔۔۔ کابینہ میں ہونا تو وہ ’رتبہ‘ ہے، کہ ’’یہ منصب بلند ملا جس کو مل گیا!‘‘

لیکن ساتھ میں ہماری ’’جمہوریت دشمنی‘‘ ہی سمجھ کر یہ بھی سنتے چلیے کہ ہمارے 260 روپے کے ڈالر کے مقابلے میں کئی عشروں تک خانہ جنگیوں اور ہمہ قسم کی سیاسی وسماجی مصائب اور ناپختگیوں سے آراستہ اور ’’جمہوریت‘‘ اور ’’آمریت‘‘ کے جھگڑوں سے کوسوں دور ’برادر ہم سایہ ملک‘ افغانستان میں ڈالر کا بھائو صرف88.47 افغانی ہے۔۔۔! نصف صدی پہلے تک ہمارے وجود کا حصہ رہنے والے سابق مشرقی پاکستان یعنی آج کے بنگلادیش میں یہ ڈالر 104.85 ٹکے کا ہے۔

ہندوستانی روپیے میں ڈالر کا نرخ 82.77، بھوٹان میں 82، نیپال میں 131.30 اور مالدیپ میں 15.36 روپے کا ہے، صرف دیوالیہ ہوجانے والے سری لنکا میں ڈالر پاکستان سے مہنگا یعنی 362.23 روپے کا ہے۔

اس لرزہ براندام اور ڈولتی ہوئی معیشت کی لڑکھڑاہٹ میں بھی کچھ نام نہاد ’جمہوریت‘ کے متوالے، خام خیالی کی ’سول بالادستی‘ کے نشے میں چُور ہو کر موجودہ حکومت کی ’مجبوریوں‘ کے لیے عذر تراشنے ہی سے فرصت نہیں پاتے اور جیسے تحریک انصاف کی گذشتہ ساڑھے تین سالہ حکومت نے ’’30 سال کے گند‘‘ کی صفائی کے نام پر عوام کو خوب بے وقوف بنایا۔

ایسے ہی موجودہ حکومت کے ڈھنڈورچی اور ’مسخرے‘ بھی چند ماہ میں معیشت کو اپنے پیروں میں کھڑا کرنے کے جھوٹے دعوئوں کو پچھلی ساڑھے تین سالہ حکومت کی ’تاب کاری‘ کہہ کر اپنی بدترین ناکامیوں کی پردہ پوشی کی بھونڈی کوششوں میں مصروف ہیں!

ایک اور خبر کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے وفاقی وزرا نے بغیر تنخواہ کے کام کرنے کا اعلان کیا ہے، یعنی ایک اور نوٹنکی۔۔۔! ورنہ ڈوبتی معیشت کو ایسے نمائشی اقدام کے بہ جائے ایک دوراندیش منصوبے اور کثیرالجہت بچت کی سنجیدہ مہم کی ضرورت ہوتی ہے۔

قرضوں سے ملک کبھی نہیں چلا کرتے۔۔۔ لیکن کیا کیجیے کہ موجودہ حکومت سے لے کر دوبارہ اگلی حکومت میں آنے کے خواب سجانے والوں اور ملک کے ’’وغیرہ وغیرہ‘‘ حلقوں تک، سب مکمل طور پر گھٹیا سیاست اور بدترین تماشوں میں مصروف ہیں۔۔۔! جو نہایت الم ناک اور مایوس کن صورت حال ہے۔

۔۔۔

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے۔۔۔
وریشا ذوالفقار، کراچی

آج آسمان کی طرف دیکھا، تو بہت سارے رنگ ایک ساتھ دکھائی دیے، کسی حصہ میں سرمئی بادلوں کے پیچھے چھپے نارنجی سورج کی جھلک دکھائی دے رہی تھی اور کہیں نیلے آسمان پر جا بہ جا بادل ایسے بکھرے ہوئے تھے، جیسے پھینٹے ہوئے انڈے کو جب گرما گرم سوپ میں ڈالا جاتا ہے، تو وہ ریشہ ریشہ ہو کر پک جاتا ہے اور ایسے ہی بادلوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے کہیں کہیں سورج کی کرنیں پھوٹ رہیں تھیں تو نیلا اور نارنجی رنگ مل کر آسمان کے اس حصے کو گلابی کیے ہوئے تھا، لیکن میں نے پہلے کبھی اس نظریے سے سوچا نہیں تھا کے اس آسمان سے ہم انسانوں کا کتنا گہرا رشتہ ہے۔

چاندنی راتوں میں تاروں کو گننا، چودہویں کے چاند کو دیکھنا، جسے ہم اب اپنے موبائل فون میں موجود کیمروں میں بہ آسانی قید بھی کر لیتے ہیں، یہ ہر انسان اپنے عمر کے کسی نہ کسی حصے میں ضرور کرتا ہے۔

اداسی کے لمحوں میں آسمان کو تکنا شاید کچھ دیر کے لیے ذہن کو پر سکون کر دیتا ہے، اور ایسے میں اگر موسم ابر آلود ہو تو دل چاہتا ہے بادلوں کو چیرتے ہوئے خود ہی اس آسمان میں کہیں کھو جائیں، تاکہ تنہائی کی کچھ اور جہتوں کو پاسکیں۔

ہم جب پریشان ہوتے ہیں تب بھی ہاتھ اٹھا کر آسمان ہی کی جانب دیکھتے ہیں اور ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ان مسائل سے نجات دینے والا وہیں ہماری فریاد سن اور دیکھ رہا ہے اور وہ ہمیں مایوس نہیں کرے گا، جب کہ شکر بجا لانے کے لیے بے ساختہ سجدہ میں گر جاتے ہیں تو کبھی آسمان کی جانب شکر کی نگاہ کرتے ہیں۔

بچپن میں بزرگ کہتے تھے آسمان سے ایک پری آئی تھی اور تمھیں ہماری گود میں ڈال گئی، پریوں کی کہانیاں سن کر اس عمر میں کتنی بار اس پری کو آسمان پر ڈھونڈا، لیکن نہیں ملی، نہ چندا ماما پر بیٹھی چرخا کاتتی بڑھیا کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔

آسمان پر بادلوں کو دیکھ کر انھیں اپنی مرضی کی شکل اور نام دینا بہت اچھا لگا۔۔۔ یہ آسمان ماہرین فلکیات اور علما کو بھی بہت ستاتا ہے، جب وقت عید کا چاند دیکھنے کا آتا ہے، بادلوں کے نہ ہونے پر بھی نہ جانے چاند کو کیسے اپنی اغوش میں چھپا لیتا ہے اور پھر سب اپنا اپنا چاند دیکھ کر عید مناتے ہیں۔

آسمان پر چاند ستارے محبت کرنے والوں کی دوریاں بھی مٹاتے ہیں، جب وہ مجھ سے کہتا ہے کے میں چاند دیکھ رہا ہوں، تم بھی دیکھو! اور یوں دو پیار کرنے والوں کے نظریں میلوں دور ہوکر بھی ایک جگہ مل جاتی ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ فاصلے مٹ گئے ہیں!

ہم سے بچھڑ کر جب کو اپنا دوسری دنیا میں چلا جاتا ہے، تب اسے بھی ہم ان تاروں میں ہی تو تلاش کرتے ہیں، اکثر اس تارے کو تو سب نے ہی دیکھا ہوگا، جو زمین سے دیکھیں تو چاند سے کچھ میٹر کے فاصلے پر دکھائی دیتا ہے، میں جب اس تارے کو دیکھتی ہوں، تو سوچتی ہوں کے یہ تھوڑا قریب آجائے جتنا پاکستانی پرچم پر ہے، تو یہ کتنا حسین لگے گا۔

بے گھر اور بے سہارا لوگوں کی چھت بھی یہی نیلا آسمان ہوتا ہے، جو انہیں زمانے کی ہر سختی کو جھیلنے لے لیے مضبوط بنتا ہے۔

کبھی بارش اور برف برسا کر ہمیں خوش گوار موسم اور کبھی اداس شامیں دینے والا آسمان جب سورج سے خفا ہو جاتا ہے، تب سورج کا بھی اپنا سارا غصہ ہم انسانوں ہی پر تو نکلتا ہے، دُم دار ستارے ، سورج اور چاند گرہن، گھٹتا بڑھتا چاند اور نہ جانے کتنے نشیب و فراز اس آسمان نے دنیا کے آغاز سے دیکھے، لیکن شاید یہ کائنات کا وہ حصہ ہے، جو ازل سے اب تک تبدیل نہیں ہوا۔

چاند ستارے سورج سیارے سب اپنے محور میں گھوم رہیں ہیں اور ان سب کے بیچ آسمان اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

چاند کے دو ٹکڑے ہوتے دیکھنے والا آسمان ، قوم لوط پر سنگ باری کرنے والا آسمان، ابرہہ کو شکست دینے کے لیے اپنی آغوش سے ابابیل نمودار کرنے والا آسمان، جہاں سدرہ المنتہیٰ ہے، جس کا سینا چیرتے ہوئے براق ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہاں تک لے گیا جہاں دو عالم کے رسول کو دوسرا جہاں دکھایا گیا، معراج کی رات اس ہی آسمان کے کسی مقام پر یہ آسمان ان سب واقعات کا نظیر ہے، جو صرف تاریخی واقعات ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کا عقیدے کا جزو ہیں۔

کرسمس کے موقع پر سانتاکلاز اپنے بونوں کے ہمراہ ہرنوں کی سواری پر بیٹھ کے بچوں کو تحائف دینے آسمان سے آتا ہے۔ یہ مسیحی بچوں کو بتایا جاتا ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی تو آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے، شیطان کو بھی نافرمانی کرنے پر آسمان سے جنت سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔

کہانیوں اور تصورات سے پرے اب آسمان میں چھپے رازوں کو کھوجنے کے لیے حضرت انسان نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ آسمانوں کے آگے جہانوں کا کھوج لگایا جا رہا ہے، لیکن یہ ایک اتنا وسیع علم ہے کے یہاں موجود راز کبھی عیاں ہو ہی نہیں سکتے، کیوں کہ وہ صرف خدا ہی ہے جو سب جانتا ہے۔

ہم صرف اتنا کر سکتے ہیں کے ایک مزے دار سی کافی یا چائے کی گرما گرم پیالی ہاتھ میں لے کر آسمان کی طرف دیکھیں، ڈھلتے سورج کا نظارہ کریں، مسکرائیں اور ان خوب صورت لمحات سے لطف اندوز ہوں، جو آپ کی کھڑکی سے بھی دکھائی دے سکتے ہیں۔

اس کے لیے کہیں جانے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی ، اپنا پسندیدہ گانا گنگنائیں اور اتنی گہرائی میں نہ سوچیں، کیوں کہ ہم سب بہت سطحی سے لوگ ہیں، ہم آسمان کی طرح صاف اور وسیع دل کے مالک نہیں، جو نہ جانے کیا کیا دیکھتا اور سہتا رہا ہے۔ الغرض بہت ساری کہانیاں اور بہت ساری حقیقتیں خود میں سمویا ہوا آسمان بہت خوب صورت ہے اور میرا من پسند ہے۔

۔۔۔

’’یوم کشمیر‘‘
کرن صدیقی، کراچی
’’بھا ئیو! ہم نے ہمیشہ آپ کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ ایک دن آ گا جب آپ جبر و استبداد سے نجات پالیں گے!‘‘

فرمان حسین ایک جوشیلے انداز میں تقریر کر رہا تھا۔ مجمع جوش میں آکر نعرے بازی کر رہا تھا، یوں لگ رہا تھا، جیسے یہ لوگ ابھی جا کے کشمیر کو آزادی دلادیں گے۔ فرمان حسین نے اپنی ’این جی او‘ کے تحت ’یوم کشمیر‘ پر ریلی نکالی تھی۔

اس کی تنظیم کی فنڈنگ کرنے والے سرپرستوں نے ہدایت کی تھی کہ ریلی بھرپور ہونی چاہیے۔ نعرے لگاتے اور جگہ جگہ رک کے تقریریں کرتے ہو دوپہر کو ریلی کا اختتام ہوا۔ فرمان حسین گھر پہنچا۔ کھانے پینے اور آرام کرنے کے بعد اس نے ٹی وی آن کر دیا۔

یومِ کشمیر کے پروگرام دِکھا جارہے تھے۔ کشمیر کے لوگوں کی حالت زار ان کے لٹے پٹے گھر دیکھنے والوں کو دل پگھلا دیتے۔

تبھی فرمان کے فون کی گھنٹی بجی۔ اس کے ’اسپانسر‘ کی کال تھی، جو اسے بتارہے تھے کہ ایک دو دن میں رقم اسے منتقل کر دی جائے گی۔ فرمان نے شکریہ ادا کیا اور ٹی وی سے نظر ہٹا کے اپنے عالی شان گھر کو دیکھا اور سوچا اگر مسئلہ کشمیر نہ ہوتا تو آج میں کہاں ہوتا۔

The post سارے رنگ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/zpGNimg

اب شادی ’’شاذ ہی‘‘ ہوگی

 اسحٰق ڈار عوام کے ساتھ وہ سلوک کر رہے ہیں کہ ہر شخص دھاڑیں مارمار کر رورہا ہے، سو ان کا نام اب اسحٰق دھاڑ مشہور ہورہا ہے، وہ جس طرح متوسط اور غریب طبقے کے پاکستانیوں کو دار پر چڑھانے کی ٹھان چکے ہیں۔

اس دیکھتے ہوئے مستقبل کا مؤرخ (اگر اس کے والدین بھوک اور منہگائی سے بچ کر اسے دنیا میں لانے کے قابل ہوسکے تو) انھیں ’’اسحٰق دار‘‘ بھی کہہ سکتا ہے۔ چند ماہ پہلے تک ایسا نہیں تھا، تب وہ اسحٰق ڈارلنگ تھے۔

خوابوں کا وہ شہزادہ تھے جو آکر سنڈریلا کی کایا کلپ کردیتا ہے، قوم کو انتظار تھا کہ ’’کوئی آئے گا لائے گا دل کا چین‘‘، ڈالر کے بارے میں خیال تھا کہ وہ ڈار صاحب کا پالتو لقا کبوتر ہے، جسے وہ ’’آآآ‘‘ کرکے بلائیں گے اور وہ غٹرغوں کرتا ان کے پیروں پر آگرے گا۔

کسی حد تک ایسا ہوا بھی، ڈالر کچھ نیچے آیا، شاید یہ دیکھنے کے لیے کہ اسحٰق ڈار بھائی آگئے ہیں یا نہیں، اور پھر اس نے دیکھا اور ’’تھا جس کا انتظار وہ شاہ کار آگیا‘‘ کہہ کر خوشی میں وہ اُڑان بھری کہ ساتھ ڈار صاحب کے ہاتھوں کے طوطے بھی اُڑ گئے اور عوام کی آس کا پنچھی بھی پُھر سے اُڑا اور اُڑتے اُڑتے دور اُفق میں ڈوب گیا۔ پھر تو ’’چیل اُڑی، کَوّا اُڑا‘‘ کا کھیل شروع ہوگیا ار ہر چیز کے پَر لگ گئے، پیٹرول، بجلی، گیس، اجناس، سبزی، گوشت دودھ۔۔۔ہر شئے پرواز کرکے عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوگئی۔

اور اب ڈار صاحب نے پیش کیا ہے مِنی بجٹ۔ درحقیقت ’’مِنی(mini) کہہ کر اس دیوہیکل اور بھاری بھرکم بجٹ کی توہین کی گئی ہے، اور لفظ mini کی روسیاہی ہوئی ہے، جس پر سنا ہے اس لفظ نے احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے،’’مِنی بدنام ہوا، ڈار۔۔۔لِنگ تیرے لیے۔‘‘

یوں تو اس منی بجٹ نے ہر شعبے پر بجلی گرائی ہے لیکن ستم یہ ہوا ہے کہ شادی بھی اس کی زد میں آئی ہے اور ہالز میں ہونے والی شادی کی تقریبات پر دس فی صد ٹیکس عاید کردینے کی ٹھان لی گئی ہے۔ ڈار صاحب کا یہ اقدام ہماری توقع کے عین مطابق ہے۔

ان سے بہتر کون جانتا ہوگا کہ شادی زندگی ہی نہیں سیاست اور کاروبار کے لیے کس قدر اہم ہے۔ یہ شادی ہی تو ہے جس کے طفیل کوئی دلہا بنتا ہے تو کوئی سالا، بہنوئی اور۔۔۔۔سمدھی۔۔۔بن جاتا ہے۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ شادی اتنی عظیم اور اہمیت کی حامل رسم ہے جو انسان کو سمدھی کے منصب پر فائز کرنے کا سبب بنتی ہے، اور پھر سمدھی بننے والا دھن سمیت جو چاہے بنائے چلا جاتا ہے، بس شرط یہ ہے کہ کوئی ’’سمدھی نواز‘‘ میسر آجائے، جو ’’شریف‘‘ بھی ہو۔

کاش علامہ اقبال مسلمانوں کو مردمومن بننے کے بجائے ’’مردِسمدھی‘‘ بننے کا مشورہ دیتے اور ’’وطن تمام ہے میراث مردِسمدھی کی‘‘ یا ’’سمدھی کی یہ پہچان کہ گُم اس میں ہیں املاک‘‘ جیسے شعر کہتے تو قوم میں یہ پیغام تیزی سے عام ہوتا اور نہ جانے کتنے مردِسمدھی پیدا ہوچکے ہوتے، لیکن اس پیغام تک رسائی کے لیے قوم کو علامہ اقبال کی ضرورت نہیں پڑی، ان کے بغیر ہی یہ قوم تک پہنچ گیا، اور اب یہ پیغام قوم پر اتنا کُھل چکا ہے کہ وہ سمدھی کو پیار سے ’’Ransomدھی‘‘ کہنے لگی ہے۔ جن کی اردو بہت کم زور ہے وہ بھی اب سمدھی کے معنی سمجھ چکے ہیں، چناں چہ وضاحت کی ضرورت نہیں، اگر سمدھی کا مطلب آپ اب بھی نہ سمجھیں تو یہ آپ کی ناقابل معافی ناسمجھی ہے۔

سمدھی کا ذکر تو یوں آگیا کہ ان دنوں ہر زبان پر یہی ذکر ہے، ورنہ بات ہورہی تھی شادی کی تقریبات پر ٹیکسوں کی۔

بات وہی ہے، کہ وزیرخزانہ کے خیال میں آدمی شادی کرتا ہے تو بچے ہوتے ہیں، بچے ہوتے ہیں تو ان کی شادی ہوتی ہے، اس طرح ہر شادی کا لازمی نتیجہ سمدھی ہونے کی صورت میں نکلتا ہے، تو ایسے ’’منافع بخش‘‘ رشتے پر ٹیس کیوں نہ لگایا جائے۔

ڈارصاحب کے ذاتی تجربے پر استوار اس منطق کی رو سے شادی ہی پر ٹیکس لگادینا چاہیے تھا، لیکن ان کی مہربانی کہ انھوں نے صرف شادی کی تقریب وہ بھی جو ہال میں منعقد ہو، پر ہی محصول لگانے کی تجویز پیش کی ہے۔

اس ٹیکس کی خبر کنواروں کے لیے قیامت سے کم نہیں، جو ہاتھ پیلے کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن اب ان کے چہرے غصے سے لال ہیں۔ لیکن ہمارے جی دار اسحٰق ڈار کو کسی کی برہمی کی کیا پروا، وہ تو اتنے بہادر اور بے پروا ہیں کہ بہ قول خود آئی ایم ایک کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا اعلان کرچکے تھے۔

سینہ گزٹ کے ذریعے ہم تک خبر پہنچی ہے کہ وہ آئی ایم ایف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال بھی چکے تھے۔ انھیں یوں دیکھتے دیکھ کر آئی ایم ایف شرما گئی اور لجا کر ایک پُرانا گانا گانے لگی ’’آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا نہ کیجیے، سب دیکھتے ہیں آپ کو ایسا نہ کیجیے‘‘، لیکن ڈار صاحب باز نہ آئے۔

ان کا خیال تھا کہ جس طرح چائے میں چینی، سالن میں نمک اور قوم کا پیسہ جیب میں ڈل جائے تو پھر نکالا نہیں جاسکتا، اسی طرح اگر آنکھیں آنکھوں میں ڈال دی جائیں تو نکالی نہیں جاسکتیں، وہ یہ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ اگر نکالا تو آنکھیں احتجاج نہ کرنے لگیں کہ ’’کیوں نکالا۔‘‘ ان کی آنکھیں اب تک آئی ایم ایف کی آنکھوں میں ڈلی ہوتیں۔

وہ تو کہیں سے حکم، ہدایت یا مشورہ آیا کہ ’’میاں! کب تک آئی ایم ایف سے معاہدے کی نوید کی منتظر قوم سے آنکھیں چُراتے رہیں۔

ایسے ہی آنکھیں نکال لو جیسے خود ملک سے نکل گئے تھے، ورنہ ہم قوم سے آنکھیں ملانے کے بالکل بھی قابل نہ رہیں گے۔‘‘ تب کہیں جاکر ڈار صاحب نے آنکھیں نکالیں اور جھکالیں، پھر انھوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ آنکھیں اور پھر ہتھیار ڈال دینے کے سبب وزیرخزانہ ’’اسحٰق ڈال‘‘ بھی کہے جانے لگے ہیں۔

ڈار صاحب کی منصفانہ اور ’’حساب کتاب‘‘ کی فطرت نے گوارا نہ کیا کہ غیر کی آنکھوں میں آنکھیں اور اس کے سامنے ہتھیار ڈالے جائیں اور اپنوں کو بھلا ڈالا جائے، سو انھوں نے قوم پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا، غریبوں کو روند ڈالا اور عوام کے سامنے منی بجٹ کو ہضم کرانے کے لیے ’’اس سے عام آدمی متاثر نہیں ہوگا‘‘ کا چارا ڈالا۔ یہاں عام آدمی سے ان کی مُراد گھانا، موزمبیق، بھوٹان، زمبابوے، کیوبا وغیرہ کا عام آدمی ہے، جو یقیناً ان کے منی بجٹ سے ذرا بھی متاثر نہیں ہوگا۔

وزیرخزانہ نے منی بجٹ، دلاسے اور آسرے ہی نہیں دیے، انھوں نے عوام کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ سادگی اپنائے۔۔۔ یہ دراصل ان کی اپنی سادگی ہے، جس کے بارے میں کہا گیا ہے’’اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا۔‘‘ پیارے بھائی! آپ نے عوام کے پاس عیش وعشرت کے لیے چھوڑا کیا ہے! حضور! ہمارے عوام تو اتنے ’’سادہ‘‘ ہیں کہ باربار ان سیاسی جماعتوں کو منتخب کرلیتے ہیں جو اس سادہ عوام کی جیب میں رکھے نوٹ کو بھی ’’ساڈا‘‘ سمجھتی ہیں، جیسے آپ اور آپ کی جماعت ’’ساڈا حق ایتھے رکھ‘‘ کی غیراعلانیہ پالیسی کے تحت کر رہی ہے۔

ہمیں یقین ہے کہ ہمارے زیرک وزیرخزانہ کی عوام نچوڑ مہم شادی کی تقریبات پر ٹیکس تک محدود نہیں رہے گی، بہت جلد آپ سُنیں گے کہ نکاح خواں کی فیس، نیوتے، سلامی، جوتا چھپائی، گاڑی رکوائی بھی ٹیکسوں کی زد میں آچکی ہیں۔ پھر اس ملک میں شادی شاذ ہی ہوا کرے گی، اور خدشہ ہے کہ ٹیکسوں کا مارا ہر کنوارہ اسحٰق ڈار کی جماعت کے لیے ’’قومی کنوارے‘‘ شیخ رشید کا روپ دھار لے گا۔

The post اب شادی ’’شاذ ہی‘‘ ہوگی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/Hfr8aqS

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 193 میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ شروع

راجن پور: قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 193 میں ضمنی انتخابات آج ہو رہے ہیں جس کے لیے پولنگ شروع ہو چکی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 193 راجن پور میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ شروع ہو گئی، این اے 194 کی نشست تحریک انصاف کے ایم این اے سردار جعفر لغاری کے انتقال پر خالی ہوئی تھی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ مقررہ وقت صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گی جب کہ 3 لاکھ 79 ہزار 204 ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ حلقہ میں 237 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں، 169 بی گریڈ جبکہ 69 پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

ضمنی الیکشن میں شیر کے نشان پر عمار اویس لغاری، بلے کے نشان پر محسن لغاری، تیر کے نشان اختر حسن گورچانی اور کرین کے نشان پر محمد محمود آمنے سامنے ہیں۔

ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، 2500 سے زائد پولیس اہلکار و افسران ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں جب کہ پاک آرمی اور رینجرز کے جوان پولیس کی مدد کے لیے ساتھ موجود ہیں۔ پولنگ اسٹیشن میں موبائل لے جانے کی مکمل پابندی ہے۔

 

The post قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 193 میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ شروع appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/Csy0zek

رنگ روڈ ہاؤسنگ سوسائٹی؛ پرویزالہیٰ سمیت متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں کےخلاف کارروائی کا آغاز

لاہور: اینٹی کرپشن پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) سہیل ظفر چٹھہ نے کہا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ کے دور میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کا تمام ریکارڈ طلب کرلیا جبکہ پی ٹی آئی دور کے ترقیاتی منصوبوں کا ریکارڈ بھی پنجاب بھر کے کمشنرز سے مانگ لیا گیا ہے جبکہ فرخ گوگی کے کیس کو ایف آئی اے بھجوایا جائے گا۔

صحافیوں سے گفتگو میں سہیل ظفر چٹھہ کا کہنا تھا کہ فرخ گوگی کے خلاف درج تمام مقدمات کی نئے سرے سے انکوائری کا آغاز کردیا گیا، اس کے علاوہ شیخ رشید کے خلاف انکوائری کو بھی ری اوپن کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شیخ رشید نے رنگ روڈ اسکینڈل میں سڑک کا رُخ اپنی زمین کی طرف کرایاتھا اور اس طرح اپنی زمین کی قیمت بڑھائی تھی۔ ان کا کہنا تھاکہ فرح گوگی نے اثر و رسوخ سے زرعی زمین سستے داموں فروخت کرائی تھی، ان کا کیس ایف آئی اے کو بھی بھجوایا جائے گا۔

سہیل ظفر نے بتایا کہ پنجاب بھر کی تمام ہاؤسنگ سوسائٹیز کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا گیا ہے اور دیکھاجا رہا ہے عثمان بزدار، پرویز الٰہی نے کتنی ہاؤسنگ سوسائیٹیز کو ریلیف دیا۔ان کا کہنا تھاکہ چوہدری پرویز الٰہی کے دور میں ترقیاتی کاموں کا تمام ریکارڈ طلب کر لیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ جو افسر اینٹی کرپشن سے تعاون نہیں کرتا اسے گرفتار کیا جائے گا۔ ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب نے بتایا کہ رنگ روڈ اسکینڈل کی فائل بھی دوبارہ انکوائری کیلئے اوپن کر دی گئی ہے، انکوائریاں اور گرفتاریاں آئندہ ہفتے شروع کی جا سکتی ہیں۔

علاوہ ازیں محمود الرشید، راجہ بشارت، مراد راس، یاسمین راشد اور دیگر وزرا کے محکموں کا ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مارچ کے پہلے ہفتے سے کرپشن میں ملوث افسران اور سابق وزرا کی گرفتاریاں متوقع ہیں۔

The post رنگ روڈ ہاؤسنگ سوسائٹی؛ پرویزالہیٰ سمیت متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں کےخلاف کارروائی کا آغاز appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/XJt1Y2M

Friday, 24 February 2023

ایف آئی اے نے عمران خان کے طبی معائنے کیلیے بورڈ بنانے کی درخواست دے دی

 اسلام آباد: ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے نے عمران خان کے طبی معائنے کے لیے بورڈ بنانے کی درخواست دے دی۔

ایف آئی اے کی جانب سے بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں دائر درخواست میں عمران خان کے طبی معائنے کے لیے پمز یا پولی کلینک اسپتال کا بورڈ بنانے کی استدعا کی گئی ہے۔

ایف آئی اے کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عبوری ضمانت ملنے کے بعد عمران خان رعایت کا غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں اورعدالت میں پیش نہیں ہورہے۔ عمران خان کی ضمانت میں توسیع کی درخواست بینکنگ کورٹ میں زیرالتوا ہے۔عمران خان ایف آئی اے کے ساتھ تفتیش کے حوالے سے تعاون نہیں کررہے۔

ایف آئی اے کے مطابق عمران خان کو آرتھوپیڈک کا مسئلہ ہے لیکن میڈیکل رپورٹ کینسراسپتال کی جمع کروا رہے۔ شوکت خانم اسپتال کی سربراہی عمران خان کرتے ہی۔ میڈیکل رپورٹ کو معتبر تسلیم نہیں کرسکتے۔

ایف آئی اے کی درخواست میں عمران خان کا طبی معائنہ پمز یا پولی کلینک اسپتال سے کروانے کی استدعا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان اداروں کی رپورٹس کو زیرغور لایا جا سکتا ہے۔عمران خان کے طبی معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے اور عمران خان کی رپورٹس عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔

The post ایف آئی اے نے عمران خان کے طبی معائنے کیلیے بورڈ بنانے کی درخواست دے دی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/K94EoXD

طورخم سرحدی گزرگاہ 6 روز بعد کارگو گاڑیوں کیلیے کھول دی گئی

 پشاور: طورخم سرحدی گزرگاہ کو 6 روز بعد کارگو گاڑیوں کے لیے کھول دیا گیا۔

بارڈر کلیرنس حکام کے مطابق سرحدی گزرگاہ پر دو طرفہ تجارت کی معطلی سے ملکی خزانے کو ٹیکس کی مد میں 270 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی گزرگاہ بند ہونے سے ہزاروں کارگو گاڑیاں پھنس گئی تھیں۔

مزید پڑھیں: طورخم سرحدی گزرگاہ آج دوسرے روز بھی بند

 

افغان سیکورٹی اہلکاروں نے 6 روز قبل سرحدی گزرگاہ کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کردیا تھا۔

The post طورخم سرحدی گزرگاہ 6 روز بعد کارگو گاڑیوں کیلیے کھول دی گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/V2jt6ro

رحیم یار خان میں ٹریفک حادثہ، بس نے دوسری گاڑی کے 6 مسافروں کو کچل دیا

رحیم یار خان: موٹر وے ایم فائیو پر ایک مسافر بس دوسری گاڑی کے مسافروں پر چڑھ دوڑی جس کے باعث 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔ 

تفصیلات کے مطابق حادثہ ٹھل خیر محمد تھانہ رکن پور کی حدود میں پیش آیا جب ٹائر پھٹنے سے مسافر وین الٹ گئی جس کے زخمی مسافروں کو نکلنے کی کوشش جاری تھی کہ پیچھے سے آنی والی مسافر بس متاثرہ مسافروں پر چڑھ گئی۔

موٹر وے پولیس نے بتایا کہ مسافر بسیں فیصل آباد سے سیون شریف جا رہی تھیں جبکہ حادثے میں اب تک 6 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہیں۔

دوسری جانب نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی نے رحیم یار خان کے علاقے رکن پور کے قریب ٹریفک حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا اور زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

علاوہ ازیں انہوں نے حادثے کے بارے میں رپورٹ طلب کر لی اور حادثے کے ذمہ دار ڈرائیور کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دے دیا۔

The post رحیم یار خان میں ٹریفک حادثہ، بس نے دوسری گاڑی کے 6 مسافروں کو کچل دیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/jn6ItzD

حکومت نے ’ٹرک آرٹ‘ کی مدد سے پولیو آگہی مہم کا آغاز کردیا

اسلام آباد / کراچی: وزارت صحت نے پاکستان میں پولیو اور اس سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے متعلق منفرد طریقے سے عوام میں آگاہی پیدا کرنے فیصلہ کیا ہے۔

وزارت صحت کے ترجمان نے بتایا کہ والدین اور عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے ٹرک پر پولیو آگاہی کے حوالے سے آرٹ بنائے جائیں گے جس کے لیے پاکستان کے مشہور ٹرک آرٹسٹ کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔

ٹرکوں کے ذریعے پولیو وائرس سے بچاؤ کی آگاہی مہم کا آغاز کرتے ہوئے وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان نے پولیو کے خاتمے کیلئے ایک مربوط حکمت عملی تشکیل دی، کراچی میں باقاعدہ طور پر10 ٹرکوں کے ذریعے پولیو آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے، 2023 پولیو کے خاتمے کا ایک اہم سال ہے۔

قادر پٹیل نے کہا کہ ’حکومت نے ملک سے پولیو کے خاتمے کا پختہ عزم کر رکھا ہے، پولیو کے خاتمے کیلئے تمام تر ضروری وسائل اور اقدامات کو یقینی بنارہے ہیں، پولیو اگاہی کے لئے ہم پاکستان کے مشہور ٹرک آرٹ کا استعمال کررہے ہیں۔ ٹرک آرٹ سے پولیو پروگرام کو اگاہی مہمات میں اہداف کے حصول میں آسانی ہوگی۔

govt launches anti polio awareness campaign using truck art photo courtesy twitter mathranisanjai

وزیر صحت نے کہا کہ ٹرک آرٹ کے ذریعے عوام کو وائرس کی حساسیت کے حوالے سے بہتر انداز میں سمجھایا جاسکے گا۔ ’ائیے مل کر عہد کریں پولیو کے خاتمے کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کریں گے‘۔

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ ’صوبائی حکومت اس اقدام کی کامیابی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لارہی ہے، ہم وفاقی حکومت کی ویکسین کی افادیت کو اجاگر کرنے کی اس اگاہی مہم کو سراہتے ہیں، جس سے پولیو سے پاک پاکستان ہدف کے حصول میں آسانی ہوگی، پاکستانی ٹرک آرٹ دنیا بھر میں مشہور ہے۔

The post حکومت نے ’ٹرک آرٹ‘ کی مدد سے پولیو آگہی مہم کا آغاز کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/LyxU1Zc

آڈیو لیک پر جوڈیشل کمیشن بنانے کیلیے پی ٹی آئی کا عدالت سے رجوع

 لاہور: پاکستان تحریکِ انصاف نے آڈیو لیک معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب کی صدر یاسمین راشد نے رانا مدثر ایڈوکیٹ کی وساطت سے درخواست دائر کی جس میں وزارت داخلہ، وزارت دفاع چیف سیکریٹری سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار کے مطابق پی ٹی آئی کی سینیئر لیڈر شپ کی آڈیو ٹیپ کر کے لیکس کی جا رہی ہے، آڈیو لیک کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

استدعا کی گئی کہ آڈیو لیک معاملے کی تحقیقات کرنے کے لیے ہائیکورٹ کے سینیئر ججز پر مشتمل جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور پی ٹی اے کو آڈیو لیک کو میڈیا پر نشر کرنے سے روکنے کے احکامات دیے جائیں۔

The post آڈیو لیک پر جوڈیشل کمیشن بنانے کیلیے پی ٹی آئی کا عدالت سے رجوع appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/RLi02HN

سندھ میں اسلحہ لیکر چلنے، نمائش پر پابندی عائد

  کراچی: حکومت سندھ نے صوبے میں اسلحہ لے کر چلنے پر پابندی عائد کردی۔

صوبائی حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سندھ بھر میں اسلحہ لے کرچلنے اوراسلحے کی نمائش پر پابندی 3 ماہ کے لیے عائد کی گئی ہے۔ پابندی کا اطلاق فوری ہوگا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں۔ پولیس رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس حکم نامہ سے مستثنی ہونگے۔

 

The post سندھ میں اسلحہ لیکر چلنے، نمائش پر پابندی عائد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/HaFKN3J

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے مری ضلع بحال کر دیا

 راولپنڈی: لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے مری ضلع بحال کرتے ہوئے نگراں حکومت کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا۔

ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جج جسٹس تنویر سلطان نے فیصلہ سنایا۔

مری ضلع کا درجہ کیوں ختم کیا اس متعلق نگراں وزیر اعلیٰ اور حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا گیا۔

پیپلز پارٹی رہنما شوکت ستی، سابق ایم این اے صداقت عباسی، سابق ناظم شکیل عباسی اور صدر انجمن تاجران مری اخلاق عباسی نے چیلنج کیا تھا۔

The post لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے مری ضلع بحال کر دیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/fkmYW3A

Thursday, 23 February 2023

کراچی میں گرین لائن بس کو حادثہ، خواتین سمیت 8 افراد زخمی

کراچی میں گرین لائن بس کوحادثے میں خواتین سمیت 8 افراد زخمی ہوگئے۔

کراچی کے علاقے ناگن چورنگی کے قریب گرین لائن بس تیز رفتاری کے باعث فٹ پاتھ پر چڑھ گئی۔ بس فٹ پاتھ پر ٹکرانے سے بس کے اگلے حصے کو نقصان پہنچا۔

حادثے میں خواتین سمیت 8 افراد معمولی زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔ گرین لائن بس حادثے پر انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹریک کو کلیئر کرکے سروس بحال کردی گئی۔ حادثے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ بس کے اندر اور ٹریک پر نصب کیمروں سے مدد لی جائیگی۔

ترجمان گرین لائن بس کے مطابق حادثے میں مسافر محفوظ رہے تاہم ڈرائیور کو شیشے سے ٹکرانے کی وجہ سے گہری چوٹیں آئی ہیں۔ جدید بسیں حفاظت کے اعلیٰ معیار سے لیس ہیں جس کی وجہ سے کوئی سنگین نقصان نہیں ہوا۔ بریک فیل ہونا خارج از امکان ہے۔

 

The post کراچی میں گرین لائن بس کو حادثہ، خواتین سمیت 8 افراد زخمی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/WXhe9xo

ترکیہ زلزلہ، پاکستانی ریسکیو ٹیم زبردست عوامی پذیرائی کے ساتھ وطن واپس روانہ

استنبول: پاکستان کی جانب سے زلزلے کے بعد امدادی اور ریسکیو کاموں کے لیے ترکیہ  بھیجی جانے والی ٹیم زبردست عوامی پزیرائی کے ساتھ وطن واپسی کیلیے روانہ ہوگئی ہے۔

پاکستانی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم نے ترکیہ کے زلزلے سے متاثر ہونے والے علاقے اڈیامن میں 17 روزہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا، پاکستانی ٹیم میں آرمی کا 33 رکنی دستہ اور ریسکیو 1122 کا 53 رکنی دستہ شامل تھا۔

ریسکیو ٹیموں نے مجموعی طور پر 91 مقامات پر امدادی کام کیا جبکہ 39 مقامات پر ریسکیو آپریشن میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحتوں کے جوہر دکھائے۔ شب و روز کاوشوں سے 8 افراد کو زندہ بچالیا گیا جن میں چھوٹے بچے بھی شامل تھے، اس کے علاوہ 5 دیگر زندہ افراد کی نشاندہی پر دوسری ریسکیو ٹیموں کی امداد سے ان افراد کو بھی بحفاظت زندہ نکالا گیا۔

ریسکیو ٹیم نے ملبے تلے دب کر مرنے والے 138 افراد کی لاشیں نکال کر  ترکیہ انتظامیہ کے حوالے کیں۔ ریسکیو ٹیم نے 2 سائٹس کو خیمہ بستی کیلٸے مکمل کلیئر کیا۔ ریسکیو ٹیم کا آپریشن مسلسل کئی روز تک جاری رہا، ترکیہ عوام کے دل جیت کر پاکستان کے امدادی کارکنان نے دنیا بھر میں وطن عزیز کے نام کو سرخرو کیا۔

اُدھر ریسکیو ٹیم کے اعزاز میں الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستانی سفیر اور استنبول کے ڈپٹی گورنر ازلیم بوزکرٹ گیورک نے شرکت کی اور پاکستانی رضاکاروں کو شاندار انداز میں خراج تحسین پیش کیا۔

پاکستانی سفیر ڈاکٹر یوسف جنید اور ترکی کے حکام نے پاکستانی ٹیم کو تالیوں کے ساتھ رخصت کیا اور کہا کہ پاکستان امداد اور بحالی کی کوششوں میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔

واضح رہے کہ ترکیہ کے زلزلہ متاثرین کیلٸے سب سے پہلے پہنچنے اور سب سے آخر میں وہاں سے نکلنے پر بین الاقوامی اور ترکیہ میڈیا پر پاکستان کی ریسکیو ٹیم کی تعریفیں بھی کی گئیں۔

ٹیم کامیاب ریسکیو آپریشنز کے بعد استنبول سے روانہ ہوگئی جو کل علی الصبح وطن واپس لوٹے گی۔

دوسری جانب وطن واپسی پر ترکیہ کے ایئرپورٹ پر پاکستانی ریسکیو ٹیم کو شاندار انداز میں الوداع کیا گیا جہاں ہوائی اڈے پر موجود ترک حکام نے تالیاں بجا کر عملے کی حوصلہ افزائی کی۔ اس موقع پر پاکستان زندہ باد اور پاک ترک دوستی زندہ باد کے نعرے بھی فضا میں بلند ہوئے۔


اُدھر وزیر اعظم شہباز شریف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’قوم کے ان بہادر اور فرض شناس بیٹوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ترکیہ کے بہنوں، بھائیوں اور بچوں کی زلزلہ کی تباہی کے دوران زندگیاں بچائیں‘۔ انہوں نے لکھا کہ ریسکیو حکام نے دن رات انسانیت کے جذبے سے کام کیا۔ ترکیہ میں ریسکیو آپریشن مکمل ہونے پر ریسکیو 1122 کے دستے کی وطن واپسی کا قابل فخر اور روح پرور نظارہ۔

The post ترکیہ زلزلہ، پاکستانی ریسکیو ٹیم زبردست عوامی پذیرائی کے ساتھ وطن واپس روانہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/1wi372r

پنجاب حکومت نے شاہ محمود قریشی کو ایک ماہ کیلیے جیل بھیج دیا

 راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو ایم پی او کے تحت ایک ماہ کیلیے جیل بھیج دیا۔

ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق وائس چیئرمین پی ٹی آئی  شاہ محمود قریشی کو 3 ایم پی او کی شق 1 کے تحت 30 دن کی نظر بندی کے احکامات کے تحت گرفتار کر کے انہیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔

شاہ محمود قریشی کو آئی جی جیل خانہ جات پنجاب مبشر ملک کے احکامات پر ڈسٹڑکٹ جیل اٹک منتقل کیاگیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی نے گرفتار رہنماؤں اور کارکنان کی منتقلی پر جیلوں کے باہر احتجاج کی کال دے دی

سپریٹنڈنٹ ڈسڑکٹ جیل اٹک نے وزارت داخلہ، آئی جی جیل پنجاب، ڈی آئی جی جیل راولپنڈی ریجن و ڈی سی لاہور و اٹک و ڈی پی او اٹک کو مراسلہ جاری کردیا۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ایک روز قبل لاہور میں رضاکارانہ طور پر گرفتاری دینے والے شاہ محمود قریشی کو لاہور سے اٹک جیل منتقل کردیا گیا، یہ اقدام آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کے حکم پر اٹھایا گیا۔

 

The post پنجاب حکومت نے شاہ محمود قریشی کو ایک ماہ کیلیے جیل بھیج دیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/65Ou7le

کے پی او حملہ؛ گاڑی سے جوتے، ٹوپی ،اجرک ،رسی سمیت مختلف اشیا برآمد

کراچی پولیس آفس حملے میں دہشت گردوں کے زیراستعمال گاڑی کا فارنزک مکمل کر لیا گیا ، جس کے دوران حملہ آوروں کے 5 فنگرپرنٹس حاصل کیے گئے۔۔

پولیس آفس حملے کی تحقیقات جاری ہیں ،تحقیقاتی ذرائع کے مطابق گاڑی کی فارنزک کے دوران حملہ آوروں کے 5 فنگرپرنٹس حاصل کیے گئے جن کا نادرا سے ریکارڈ چیک کیا جا رہا ہے۔

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کی گاڑی سے جوتے،نمازکی ٹوپی ،اجرک ،رسی ،پلاسٹک والی چٹائی ،رضائی، موزے ،کلاشنکوف کا میگزین ،پلاسٹک کی بوری اوررومال ہے۔

تحقیقاتئ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک گاڑی کے اصل مالک کا تاحال سراغ نہ لگایا جا سکا ہے اس سلسلے میں چھاپہ مار کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق کے پی اوحملے میں مارے گئے تیسرے دہشت گرد کی بھی تاحال شناخت ممکن نہ ہوسکی ۔ اس کےفنگرپرنٹس نادرا کے ریکارڈ سے میچ نہیں ہوسکے ۔ دیگر ذرائع سے دہشت گرد کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔

The post کے پی او حملہ؛ گاڑی سے جوتے، ٹوپی ،اجرک ،رسی سمیت مختلف اشیا برآمد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/lSi71wc

‏انتہائی سنگین حالات ہوں تو انتخابات کا وقت مزید بڑھ سکتا ہے، چیف جسٹس

 اسلام آباد: چیف جسٹس عمر بندیال نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آئین کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گی، ‏انتہائی سنگین حالات ہوں تو انتخابات کا مزید وقت بڑھ سکتا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پنجاب اور خیبرپختون میں انتخابات پر از خود نوٹس کیس کی سماعت نو رکنی لارجر بینچ نے کی۔

بنچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر علی نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس یحییٰ خان آفریدی، جسٹس منصورعلی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس جمال خان مندوخیل شامل تھے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو تین معاملات سننے ہیں، صدر پاکستان نے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا ہے، عدالت کے پاس وقت کم ہے۔

بیرسٹر علی ظفر روسٹرم پر آگٸے اور کہا کہ ہم صدر پاکستان سے متعلق چیزیں ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ دو درخواستیں ہیں وہ اب آؤٹ ڈیٹ ہوچکی ہیں  اس پر وضاحت کی ضرورت ہے،20 فروری کو صدر کے انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے بعد صورتحال بدل گئی، کچھ سوال دونو ں اسمبلی کے اسپیکرز نے اپنی درخواستوں میں شامل کیے ہیں، سپریم کورٹ نے صرف آئینی نکتہ دیکھنا ہے اور اس پر عم لدرآمد کرانا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کیس کے لیے وقت دینے کی استدعا کی اور کہا کہ اتنے لوگوں کو نوٹس ہوگا تو کل کے لیے تیاری مشکل ہوپائے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کل ہم صرف چند ضروری باتوں تک محدود رہیں گے، کیس کی تفصیلی سماعت پیر کو کریں گے، ‏آرٹیکل 224 کہتا ہے 90 روز میں انتخابات ہوں گے، ‏وقت جلدی سے گزر رہا ہے، ہائیکورٹ میں معاملہ زیر التوا تھا مگر کوئی فیصلہ نہیں ہو پارہا تھا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمارے سامنے دو اسمبلیوں کے اسپیکر کی درخواستیں ہیں، ازخود نوٹس جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے نوٹ پر لیا گیا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ‏وقت کی کمی کی وجہ سے زیادہ طویل سماعت نہیں کرسکتے۔

شعیب شاہین نے کہا کہ ‏ازخود نوٹس میں اگر فیصلہ انتخابات کرانے کا آتا ہے تو سب کو فائدہ ہوگا، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر عدالت فیصلہ دیتی ہے تو سب سیاسی جماعتیں فائدہ حاصل کریں گی جس پر شعیب شاہین نے کہا کہ یہ ٹائم باؤنڈ کیس ہے اس میں انتخابات کرانے کا ایشو ہے۔

جسٹس جمال جان مندوخیل نے کہا کہ کچھ آڈیو سامنے آیی ہیں، جس میں عابد زبیری کچھ ججز کے حوالے سے بات کر رہے ہیں ان حالات میں میری رائے میں یہ کیس 184(3) کا نہیں بنتا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہم اس کیس میں آئینی شک پر بات کر رہے ہیں، پہلا سوال یہ ہوگا کہ اسمبلی آئین کے تحت تحلیل ہوئی یا نہیں، دوسرا سوال یہ ہے کہ اسمبلی کو بھی 184(3) میں دیکھنا چاہیے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ‏سیکشن 57 کے تحت صدر مملکت نے انتخابات کا اعلان کیا اس پر وکیل علی ظفر بولے کہ ہماری درخواست زیر التوا ہے اسے بھی ساتھ سنا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے سامنے 3 معاملات ہیں، ‏دیکھنا ہے اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد الیکشن تاریخ دینے کا اختیار کس کو ہے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ ‏ہمارے سامنے ہائیکورٹ کا 10 فروری کا آرڈر تھا، ہمارے سامنے بہت سے فیکٹرز تھے جن کی بنیاد پر از خود نوٹس لیا، ہائیکورٹ میں طویل کارروائی چل رہی ہے اور وقت گزرتا جار ہا ہے۔ اس پر جسٹس جمال نے کہا کہ از خود نوٹس پر تحفظات ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ از خود نوٹس بعد میں لیا پہلے اسپیکرز کی درخواستیں دائر ہوئیں۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی بنچ میں تھے جس میں چیف الیکشن کمشنر کو بلایا گیا اس پر چیف جسٹس بولے کہ بہت سی وجوہات تھیں جن کی وجہ سے ازخود نوٹس لیا گیا، آئین انتخابات کا وقت بتاتا ہے جو ختم ہورہا ہے، ہائی کورٹ کا فورم بائی پاس کیا جا سکتا ہے اگر ایمرجنسی ہو، سپریم کورٹ کے لیے آسان تھا کہ دو دائر درخواستیں مقرر کر دیتی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سیکشن 57 انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے ہے، بہت سے نئے نکات آگئے ہیں جن کی تشریح ضروری ہے، سپریم کورٹ آئین کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گی، ‏انتہائی سنگین حالات ہوں تو انتخابات کا مزید وقت بڑھ سکتا ہے، ہمیں آئین کو دیکھنا ہے اس پر عمل درآمد ہورہا ہے۔

چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ ‏ہمارے سامنے دو درخواستیں تھیں اور سمپل تھا کہ وہ سنتے، ہم آٸین پر عمل درآمد چاہتے ہیں ، سپریم کورٹ آٸین کی خلاف وزری کسی صورت برداشت نہیں کرے گا، دو درخواستیں ہیں وہ اب آوٹ ڈیٹ ہوگئی ہیں اور اس پر وضاحت کی ضرورت ہے۔

چیف جسٹ نے کہا کہ 20 فروری کو صدر کے انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے بعد صورتحال بدل گئی، کچھ سوال دونو ں اسمبلی کے اسپیکرز نے اپنی درخواستوں میں شامل کیے ہیں، سپریم کورٹ نے صرف آئینی نکتہ دیکھنا ہے اور اس پر عملدرآمد کرانا ہے، انتحابات کا ایشو وضاحت طلب ہے ہم ارادہ رکھتے ہیں آپ سب کو سنیں، ہم نے آئندہ ہفتے کا شیڈول منسوخ کیا ہے تاکہ یہ کیس چلا سکیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ میرے ازخود نوٹس سے متعلق کچھ تحفظات ہیں، ہمارے سامنے دو اسمبلیوں کے اسپیکرز کی درخواستیں ہیں، یہ ازخود نوٹس جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے نوٹ پر لیا گیا، اس کیس میں چیف الیکشن کمشنر کو بھی بلایا گیا ہے جو کہ فریق نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل نے کیس کے لیے وقت دینے کی استدعا کی اور کہا کہ اتنے لوگوں کو نوٹس ہوگا تو کل کیلئے تیاری مشکل ہوجائے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کل ہم صرف چند ضروری باتوں تک محدود رہیں گے، کیس کی تفصیلی سماعت پیر کو کریں گے، ‏آرٹیکل 224 کہتا ہے 90 روز میں انتخابات ہوں گے، ‏

اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے سامنے آئینی سوالات ہیں، ایڈوکیٹ جنرل کو نوٹس کیا جائے، سیاسی جماعتوں کو بھی نوٹس کیا جائے، پاکستان بار کونسل کو بھی نوٹس کیا جائے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کل تمام فریقین کو ایشوز بتائیں گے اور تیاری کی مہلت دیں گے۔ وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ ہائیکورٹ کا ریکارڈ منگوایا جائے۔

عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی

The post ‏انتہائی سنگین حالات ہوں تو انتخابات کا وقت مزید بڑھ سکتا ہے، چیف جسٹس appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/pI5o6bx

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...