برمنگھم: نوبل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی نے بھارت میں حجاب کی وجہ سے لڑکیوں پر تعلیمی اداروں کے دروازے بند ہونے پر تشویش کا اظہار کیا جس پر بھارتی صارفین آگ بگولہ ہوگئے۔
ملالہ یوسف زئی نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر پر بھارت کی ریاست کرناٹک میں حجاب کی وجہ سے مسلم طالبات پر تعلیم کے دروازے بند ہونے کو خوفناک قرار دیا۔
پاکستانی طالبہ نے ٹویٹر پر متاثرہ طالبات کا انٹرویو شیئر کیا جو ’کالج ہمیں پڑھائی یا حجاب میں سے کسی ایک چیز کے انتخاب پر مجبور کررہا ہے‘ کے عنوان سے ہے۔
انہوں نے ٹویٹر پیغام میں لکھا کہ ’باحجاب لڑکیوں کو اسکول میں داخل ہونے سے روکنا خوفناک عمل ہے، کم یا زیادہ کپڑے پہننے کی صورت میں خواتین کو ایک شے سمجھنے کا رحجان اب بھی موجود ہے۔ بھارت کے حکمران ذہنی پسماندگی ختم کر کے مسلم خواتین کو دیوار کے ساتھ لگانے کے عمل کو فوری روکیں‘۔
“College is forcing us to choose between studies and the hijab”.
Refusing to let girls go to school in their hijabs is horrifying. Objectification of women persists — for wearing less or more. Indian leaders must stop the marginalisation of Muslim women. https://t.co/UGfuLWAR8I
— Malala (@Malala) February 8, 2022
اس ٹویٹ پر بھارتی شہری اس قدر آگ بگولہ ہوئے کہ انہوں نے ملالہ یوسف زئی پر ہی تنقید شروع کردی۔
مزید پڑھیں: بھارت میں باحجاب طالبہ نے انتہا پسند ہندو طلبا کے سامنے نعرہ تکبیر بلند کردیا
واضح رہے کہ بھارتی ریاست کرناٹک میں ایک کالج نے مسلم طالبات کو حجاب کی وجہ سے کلاس میں داخل ہونے سے روک دیا تھا، جس پر انہوں نے احتجاج کیا تو ہر باشعور بھارتی اُن کی آواز بن گیا۔
The post حجاب کی وجہ سے لڑکیوں پر تعلیم کے دروازے بند کرنا خوفناک عمل ہے، ملالہ یوسف زئی appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/wAlOqCV
No comments:
Post a Comment