Urdu news

Thursday, 30 November 2023

اسلام، تحفظ حقوق نسواں کا نگہبان

خالق ارض و سماء نے اپنی بے عدیل حکمت سے زمین و آسمان اور موجودات تخلیق کیے، پھر نظام عالم کو چلانے کے لیے حضرت انسان کو تخلیق کیا اور پھر عظمت نیابت آشکار کرنے کے لیے اس میں روح پھونکی اور مزید یہ کہ اس کی حرمت و تقدس کے اظہار کے لیے سب سے ارفع نورانی مخلوق ملائکہ کو حکم دیا کہ شوکت و سطوتِ آدمیت کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ۔

افزائش نسل انسانی کے لیے اسی پیکر گل سے عورت جیسی لطیف و نازک اندام مخلوق کو پیدا کیا تاکہ تکوین گیتی کو فروغ ملتا رہے اور سلسلۂ توالد و تناسل کے ذریعے اشرف المخلوقات ابن آدم و بنت آدم مل کر معرکہ ہائے حیات کے ذریعے تسلسل آمیز جدوجہد کی تکمیل کر سکیں اگرچہ قوت پروردگار سے بعید نہیں تھا کہ مثل آدم تنہا مردوں کے توسل سے نظام چمنستان دہر چلائے رکھے لیکن اس کی بے پایاں حکمت تھی کہ تزئین دہر کے لیے وجود صنف نازک کو بھی لازم ٹھہرایا جائے۔

تاریخ آدمیت بتاتی ہے کہ عورت کو ہمیشہ ایک کم تر مخلوق تصور کیا گیا بالخصوص حضور سرور کونین ﷺ کی تشریف آوری سے قبل سرتاپا جہالت میں غوطہ زن وہ بدطینت معاشرے کے اس جزولاینفک کو نہایت حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ معمولی تکرار کی نوبت آنے پر صنف نازک کو مار پیٹ تو ان کا مشغلہ بن چکا تھا۔

بیٹیاں پیدا ہوتے ہی انہیں زندہ درگور کر دینا ان کا شیوہ بنا ہوا تھا اور پھر سفاکیت اور سنگ دلی کی انتہا یہ کہ یہ فعل قبیح انجام دیتے ہوئے وہ معمولی ندامت بھی محسوس نہیں کرتے تھے اور نہ ہی بچیوں کی چیخوں سے ان کے دلوں میں گداز پیدا ہوتا تھا۔

ارباب سیر تحریر کرتے ہیں کہ حضور سرور کائنات ﷺ کی بارگاہ اقدس پناہ میں حاضر ایک صحابیؓ نے اپنے عہد جاہلیت میں اپنی بچی کو زندہ درگور کر دینے کا واقعہ سنایا تو رحمۃ للعالمین ﷺ کے گوشہ ہائے چشم سے اتنے آنسو گرے کہ حضور ﷺ کا دامن شفقت بھیگ گیا۔

کریم النفس آقائے دو جہاں ﷺ کی تشریف آوری سے اس مظلوم و مقہور صنف کو دست استبداد سے آزادی نصیب ہوئی، انہیں آزاد فضا میں سانس لینا میسر آگیا اور وہ حبس زدہ ماحول سے نکل کر نسیم صبح کے حیات بخش جھونکوں سے آشنا ہوئی۔

آقا کریم ﷺ کے لائے ہوئے ضابطۂ حیات کے مطابق اسے ایسی تکریم و تعظیم سے نوازا گیا کہ ایک صاحب ایمان اور صاحب کردار ماں کے پاؤں کو جنّت کا نشان بنا دیا گیا۔ سورۃ النساء تمام کی تمام حقوق خواتین سے بھری پڑی ہے۔

یہ جامع سورۃ حقوق نسواں کی اتنی زبردست علم بردار ہے کہ اس کی موجودی میں خواتین کو عائلی زندگی کے حوالے سے راہ نمائی کے لیے کہیں اور بھٹکنے کی ضرورت ہی نہیں۔ شاید یہ ایک بہت بڑی حکمت خداوندی تھی کہ حضور سید المرسلین ﷺ کی ذات گرامی کو فقط صاحب زادیوں ہی کی صورت میں اولاد سے نوازا گیا کہ ایک تو اولاد نرینہ سے محروم صاحبان ایمان کی قیامت تک دل جوئی ہوتی رہے کہ جب وہ یہ دیکھا کریں کہ ہمارے ہادی برحق باعث تخلیق ارض و سماء حضرت محمد مصطفی ﷺ اولاد نرینہ کی نعمت سے بہرہ ور نہیں تھے تو ان کے بے چین دلوں کو دولت صبر و قرار نصیب ہو جائے۔

نیز یہ کہ بیٹیوں کی تربیت کا فریضہ کس طرح انجام دیا جاتا ہے، ان کو شادی بیاہ کے موقع پر رخصتی کے وقت کیا طرز عمل اختیار کیا جائے، حق مہر اور جہیز کا تعین کس طرح کیا جائے ورنہ اگر حبیب کبریا ﷺ بارگاہ رب العزت میں اس تمنا کا اظہار فرماتے کہ میرے صاحب زادوں کو عمر خضر عطا فرما اور انہیں تادیر سلامت رکھ تو شان و رحمت خداوندی آپؐ کی دعا کو ضرور شرف قبولیت بخشتی مگر یہ مشیت ایزدی تھی کہ عورت کی تقدیس و تحریم اور عظمت کو اہل جہاں پر آشکار کر دیا جائے۔ نبی رحمت ﷺ نے اپنی صاحب زادیوں کے ساتھ جس بے پایاں شفقت کا مظاہرہ فرمایا وہ تاابد اوراق باب نسوانیت کو جگ مگاتا رہے گا۔

خاتون جنّت سیّدہ فاطمۃ الزہرا ؓ آپؐ کی سب سے زیادہ چہیتی تھیں تو آقائے دو جہاں ﷺ نے اپنی لخت جگر کی تربیت، نکاح اور رخصتی کو دنیا والوں کے لیے ایک نادر نمونہ بنا دیا۔ حضور ﷺ کے اس عدیم النظیر حسن سلوک نے مخدارت عالم کی تعظیم و حرمت کو واضح کر دیا۔ اگر آقائے گیتی پناہؐ چاہتے تو اپنی عزیز از جان و دل صاحب زادی خاتون جنّت سیدہ فاطمۃ الزہرا کو بہ وقت رخصتی تعشیات جہاں سے بھی مالا مال فرما سکتے تھے مگر بات واضح ہے کہ عورت کی سب سے بڑی ثروت سیرت و کردار کی رفعت ہوتی ہے ناکہ جہیز میں لولوئے لالہ اور لعل بدخشاں کی فراوانی۔

رسالت مآب ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں مختلف مواقع پر عظمت عالم انسانیت کو آشکار کیا۔ حتیٰ کہ اپنے آخری خطبہ حجۃ الوداع (جو تہذیب و تمدنِ انسانی کا بہت بڑا ضابطہ اور شاہ کار ہے) میں بھی حقوق نسواں کی اہمیت کو اجاگر فرمایا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید فرمائی۔ ازواج مطہرات ؓکے ساتھ شفیقانہ اور منصفانہ برتاؤ تقدیس خواتین کا آئینہ دار ہی تو ہے بل کہ بہ وقت وصال رحمت دارین کا سر اقدس سیّدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ ؓ کی آغوش مبارک میں تھا۔ اپنی اہلیہ محترمہؓ کے ساتھ آپؐ کی غایت محبت اس بات کی عکاسی کر رہی تھی کہ انسان اپنی زوجہ کے ساتھ کس حد تک اظہار محبت کر سکتا ہے۔

مگر ایک بات طے ہے کہ رضا و تقرب خدا اور رسولؐ حاصل کرنے کے لیے خواتین کو ضوابط قرآن و سنت کا ہر صورت پابند ہونا ہوگا۔ وہ اگر زینت خانہ بننے کے بہ جائے چراغ محفل بن کر غیر مردوں کو دعوت نظارہ و رغبت دے گی تو جنّت کی خوش بُو بھی نہیں سونگھ پائے گی۔ وہ خلعت فاخرہ زیب تن کر کے پیکر رعنائی و زیبائی بن کر اپنے خاوند کی توجہ کا مرکز بننے کی کوشش کرے تو یہ عین رضائے خدا و مصطفی ﷺ ہے لیکن وہ سرور آگیں طریقے سے نسیم سحر بن کر بے حیا نظروں کا تماشا بنے گی تو جہنم کے دہکتے ہوئے شعلے اس کے منتظر ہوں گے۔

جب اسلام عورت کو پردے کا حکم دیتا ہے اور غیر محرم کے ساتھ تقرب و اختلاط سے منع کرتا ہے تو مغربی تہذیب کی چکا چوند کے پرستار اسے عالم نسوانیت پر جبر قرار دے کر ان کی مادر پدر آزادی کے لیے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ یہ نام نہاد صاحبان فراست و تدبر نہیں سوچتے کہ محسن انسانیت ﷺ کے عطا کردہ جامع اسلامی نظام حیات نے جتنے بے پایاں حقوق عورت کو عطا کر رکھے ہیں اس کی مثال مذاہب عالم میں ملنا مشکل ہے۔

اس سے بڑھ کر اگر کوئی مطالبہ ہے تو وہ پھر صریحاً حیا باختگی کے زمرے میں آتا ہے۔ یورپ کی قدیم و جدید تہذیب کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ اس معاشرے کو عصمت شکنی نے انہیں کس مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔ حکمت خداوندی نے اپنے محبوب مکرم ﷺ کے ذریعے آزادی اور حقوق نسواں عین فطرت کے مطابق عطا کر دیے ہیں۔

حضور ﷺ کے نزدیک خواتین کا احترام اتنا اہم تھا کہ لشکر اسلام کو ہدایات دی جاتی تھیں کہ اعدائے دین کی خواتین کو کچھ نہ کہا جائے اور ان کے احترام کا پورا خیال رکھا جائے۔ یہ محسن عالم انسانیتؐ کی تربیت کا فیضان تھا کہ حضورؐ کے ایک فدا کار حضرت ابُودجانہؓ اپنی شمشیر بے نیام کے ساتھ دشمن کو جہنم رسید کرتے ہوئے دشمن کی خواتین کی صفوں تک جا پہنچے۔

انہیں بھی قتل کرنے کے لیے جب دست ابودجانہؓ فضا میں بلند ہُوا تو آپؓ کو اپنے آقا ﷺ کا یہ فرمان اقدس یاد آگیا کہ دوران جنگ خواتین پر ہاتھ نہ اٹھانا۔ چناں چہ اسلامی دستور و ضوابط کا اسیر یہ باطل شکن مجاہد اپنے ذوق شجاعت کو پا بہ زنجیر کرتے ہوئے رک گیا ورنہ کفار کا اثاثہ نسوانیت اس مرد مجاہد کے جذبۂ بسالت کے رحم و کرم پر تھا، گویا حضور اکرم ﷺ نے زندگی کے ہر قدم پر خواتین کے احترام و حقوق کے تحفظ کی ایسی تلقین فرمائی کہ تاریخ عالم اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔

The post اسلام، تحفظ حقوق نسواں کا نگہبان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/DM5wXkJ

فہم و فراست، تدبّر و تفکّر کی فضیلت

خدائے برتر نے انسان کو اپنا خلیفہ بنایا اور پوری کائنات کو محض اسی کے لیے پیدا فرمایا۔ اسی انسان کے اندر ظلمت و نور، خیر و شر، نیکی اور بدی جیسی ایک دوسرے کی مخالف صفات بھی پیدا فرما دیں، اب اگر انسان چاہے تو ان متضاد صفات کے ذریعے تمام مخلوق سے افضل اور برتر ہو سکتا ہے اور اگر وہ چاہے تو تمام تر پستیوں سے بھی گزر جائے۔

اگر خدا کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلتا ہے تو خدا فرماتا ہے، مفہوم: ’’ہم نے بنی آدم کو عزت دی اور انہیں خشکی و سمندر پر چلنے کی اور سفر کی طاقت دی۔‘‘

اسی طرح اگر یہی انسان اپنے اندر قرآن حکیم کی ہدایات اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کا نمونہ پیش کرتا ہے تو پھر قرآن میں خدا نے وعدہ فرمایا، مفہوم: ’’اور تم ہی بلند ہو اگر تم مومن ہو جاؤ۔‘‘ لیکن اگر انسان اپنے آپ کو قرآنی چشمہ ہدایت سے محروم رکھے تو پھر قرآن میں باری تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا، مفہوم: ’’ایسے لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بل کہ ان سے بھی زیادہ گم راہ ہیں۔‘‘

خداوند کریم کی وہ امانت جس کے اٹھانے سے تمام کائنات عاجز رہی اﷲ جل جلالہ نے اس امانت کو انسان کے سپرد فرمایا، اس امانت کے کچھ تقاضے ہیں اور قرآن کریم انسان سے ان تقاضوں کی تکمیل اور اس کی پیدائش سے لے کر موت تک اس امانت کے بار کو سنبھالنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

اس تمام تر ذمے داری کو ادا کرنے کے لیے انسان تین قوتوں سے کام لیتا ہے اور انہی تین قوتوں کو علماء اخلاق اور حکمائے اسلام نے تمام اچھے اور برے اخلاق و اعمال کا سرچشمہ قرار دیا ہے۔ ان میں پہلی قوت فکر ہے جسے سوچ اور علم کی طاقت کہہ سکتے ہیں۔

دوسری غصہ کی طاقت۔ اور تیسری خواہشات کی طاقت۔ اب اگر ان تینوں قوتوں کو اعتدال میں رکھا جائے تو انسان کام یاب ہو جاتا ہے ورنہ دنیا و آخرت دونوں میں ناکام رہتا ہے۔

سوچنے کی قوت کو استعمال کرنے اور اسے اعتدال میں رکھنے کے لیے قرآن حکیم کی تعلیمات میں تدبر کا حکم ملتا ہے۔ تدبر کا لفظی معنی غور و فکر کرنا، دور اندیشی اور سوچ سمجھ کر کوئی کام کرنا۔ انسان تدبر سے کام لینے کی اہمیت سے بہ خوبی واقف ہوتا ہے لیکن دو چیزیں تدبر اختیار کرنے سے روکتی ہیں، ایک غصہ دوسرے جلد بازی۔ جس طرح اسلام نے باقی تمام قوتوں کے لیے اعتدال کا حکم دیا ہے اسی طرح غصے کے بارے میں بھی اعتدال اختیار کرنے کا حکم فرمایا۔ یعنی نہ اس کا استعمال بے جا کیا جائے اور نہ ہی بالکل کمی کر دی جائے۔

اگر غصے کی کیفیت اور اس کی قوت کو بالکل استعمال نہ کیا جائے تو یہ کیفیت بزدلی کی حدود میں داخل ہو جاتی ہے۔ اور اس کیفیت سے حضور اکرم ﷺ نے بھی پناہ مانگتے ہوئے دعا فرمائی، مفہوم: ’’اے اﷲ! مجھے بزدلی سے بچا۔‘‘ لیکن اگر غصہ کا استعمال ہر جگہ کیا جائے تو پھر ایک انسان اچھے بھلے معاشرہ میں بے چینی پیدا کر دیتا ہے اور اہل معاشرہ کی زندگی سے سکون رخصت ہو جاتا ہے۔ لہٰذا انسان کو یہ کام کرنے سے پہلے خصوصاً غصہ کے وقت میں تدبر یعنی غور و فکر اور سوچ سمجھ سے کام لینا چاہیے۔

دوسری چیز جو انسان کو تدبر اختیار کرنے نہیں دیتی وہ جلد بازی ہے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’کاموں کی متانت، اطمینان اور سوچ سمجھ کر انجام دینا اﷲ کی طرف سے ہوتا ہے اور جلد بازی کرنا شیطان کے اثر سے ہوتا ہے۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ ہر ذمہ داری کو اطمینان سے انجام دینے کی عادت اچھی ہے اس کے برعکس جلد بازی ایک بری عادت ہے اس میں شیطان کا دخل ہوتا ہے۔

حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق بردباری اور غور و فکر کے بعد کام کرنا اﷲ کو بہت پسند ہے۔ چناں چہ جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضری کے لیے مدینہ منورہ پہنچا، چوں کہ یہ لوگ کافی دور سے آئے تھے اس لیے گرد و غبار میں اٹے پڑے تھے جب یہ لوگ سواریوں سے اترے بغیر نہائے دھوئے، نہ اپنا سامان قرینے سے رکھا نہ سواریوں کو اچھی طرح باندھا، فوراً جلدی سے حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے لیکن اس وفد کے سربراہ جن کا نام منذر بن عائذ تھا انہوں نے کسی قسم کی جلد بازی نہ کی بل کہ اطمینان سے اترے سامان کو قرینے سے ر کھا، سواریوں کو دانہ پانی دیا، پھر نہا دھو کر صاف ستھرے ہو کر وقار کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور ﷺ نے وفد کے سربراہ منذر بن عائذ کو مخاطب کرتے ہوئے اس کی تعریف کی اور فرمایا: ’’بے شک! تمہارے اندر دو خوبیاں پائی جاتی ہیں جو اﷲ کو بہت پسند ہیں۔

ان میں سے ایک صفت بردباری اور دوسری صفت ٹھہر ٹھہر کر غور و فکر کر کے کام کرنے کی ہے۔‘‘ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جب انسان ہر کام سوچ و بچار کے بعد تحمل سے کرتا ہے تو وہ شخص اکثر مکمل کام کرتا ہے اور بہت کم نقصان اٹھاتا ہے۔

جب کہ بغیر سوچے سمجھے جلد بازی سے کام کرنے والے ایک عجیب قسم کے ذہنی خلجان کے ساتھ کام کرتے ہیں اور اکثر نامکمل اور ناقص کام کرتے ہیں۔ لہٰذا اسلامی احکام کے مطابق مسلمانوں کو تدبر یعنی غور و فکر سے کام لینا چاہیے اور مومن کی شان بھی یہی ہے۔ حضور اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں، مفہوم: ’’مومن کو ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جا سکتا۔‘‘ (اس لیے کہ مومن ہر کام غور و فکر اور تدبر سے کرتا ہے)

یہ ارشاد آنحضور ﷺ نے اس وقت فرمایا جب کفار کا ایک شاعر ابُوعزہ مسلمانوں کی بہت زیادہ ہجو کیا کرتا تھا۔ کفار اور مشرکین کو مسلمانوں کے خلاف اکساتا اور بھڑکاتا رہتا۔ جنگ بدر میں جب یہ شاعر گرفتار ہوا تو حضور ﷺ کے سامنے اپنی تنگ دستی اور اپنے بچوں کا رونا روتا رہا، آپؐ نے ترس کھا کر فدیہ لیے بغیر اسے رہا فرما دیا، اس نے وعدہ کیا کہ اگر اسے چھوڑ دیا جائے تو آئندہ مسلمانوں کے خلاف ایسی حرکات نہیں کرے گا لیکن یہ کم ظرف شخص رہائی پانے کے بعد اپنے قبیلہ میں جا کر دوبارہ مشرکین کو مسلمانوں کے خلاف ابھارنے لگا۔ غزوہ احد میں دوبارہ گرفتار ہو گیا۔

اب پھر وہی مگر مچھ کے آنسو بہانے شروع کر دیے، رحم کی اپیلیں کرنے لگا لیکن حضور ﷺ نے اس کے قتل کا حکم صادر فرمایا اور ساتھ ہی آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جا سکتا۔ اس سے یہ بات بہ خوبی سمجھ میں آگئی کہ ایک عمل کرنے سے اگر کوئی نقصان ہو تو دوسری دفعہ وہ عمل نہیں کرنا چاہیے۔

ایک مرتبہ ایک شخص جناب رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کی کہ مجھے نصیحت فرمائیے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’اپنے کام کو تدبر اور تدبیر سے کیا کرو اگر کام کا انجام اچھا نظر آئے تو اسے کرو اور اگر انجام میں خرابی اور گم راہی نظر آئے تو اسے چھوڑ دو۔‘‘

قرآن حکیم میں اﷲ رب العزت نے جا بہ جا تدبر کی ترغیب دی اور قرآن میں غور و فکر کرنے کی ہدایت فرمائی۔ سورۂ نساء میں ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’یہ لوگ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے۔ اگر یہ خدا کے علاوہ کسی اور کا کلام ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف ہوتا۔‘‘

پھر اﷲ تعالیٰ سورۂ محمد میں ارشاد فرماتے ہیں، مفہوم: ’’یہ لوگ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے یا ان کے دلوں میں قفل لگے ہوئے ہیں۔‘‘

مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس میں چند چیزیں قابل توجہ ہیں ایک یہ کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: وہ غور کیوں نہیں کرتے، یہ نہیں فرمایا کہ وہ کیوں نہیں پڑھتے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ قرآن کے تمام مضامین میں بالکل اختلاف نہیں بہ شرطے کہ گہری نظر سے غور و فکر کے ساتھ قرآن پڑھا جائے۔ اور قرآن کا اچھی طرح سمجھنا تدبر ہی سے ہو سکتا ہے بغیر سوچے سمجھے پڑھنے سے یہ چیز حاصل نہ ہوگی۔

دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ قرآن کا مطالبہ ہے کہ ہر انسان اس کے مطالب اور مفہوم میں غور کرے۔ تمام علوم کی مہارت رکھنے والے علماء جب قرآن میں تدبر کریں گے تو ہر ایک آیت سے سیکڑوں مسائل کا حل تلاش کر کے امت مسلمہ کے سامنے پیش فرمائیں گے۔ اور عام آدمی اگر قرآن حکیم کا ترجمہ اور تفسیر اپنی زبان میں پڑھ کر غور و فکر اور تدبر کرے گا تو اسے اﷲ تعالیٰ کی عظمت و محبت اور آخرت کی فکر پیدا ہوگی۔

البتہ عام آدمی کو غلط فہمی اور مغالطے سے بچنے کے لیے بہتر یہ ہے کہ کسی عالم سے قرآن کو سبقاً سبقاً تفسیر کے ساتھ پڑ ھ لیں۔ اگر یہ نہ ہو سکے تو کوئی مستند اور معتبر تفسیر کا مطالعہ کر لیں اور جہاں کوئی بات سمجھ میں نہ آئے یا شبہ پیدا ہو وہاں اپنی رائے سے فیصلہ نہ کریں بل کہ ماہر علماء سے رجوع کیا جائے۔ اس لیے کہ مومنین کی شان قرآن حکیم میں یہ بیان ہوئی، مفہوم:

’’اور جب ان کو ان کے پروردگار کی باتیں سمجھائی جاتی ہیں تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گزر جاتے۔‘‘ یعنی مومن کی شان یہ ہے کہ وہ تدبر اور غور و فکر سے کام لے کر احکام اسلامی کو ادا کرے۔

اﷲ رب العزت ہمیں قرآن حکیم کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی زندگی کے ہر مرحلے میں سوچ بچار، غور و فکر اور تدبر سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

The post فہم و فراست، تدبّر و تفکّر کی فضیلت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/6hB2IOT

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کےلیے حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست جاری کردی

 اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کےلیے حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست جاری کردی۔

الیکشن کمیشن  کےمطابق ڈیجیٹل مردم شماری کے تحت حلقہ بندیاں مکمل کی گئیں اور  انہی کے مطابق  حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست جاری کی گئی۔

فہرست کے مطابق  قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کی تعداد 266 ہوگی۔ پنجاب میں قومی اسمبلی کی 141، سندھ میں 51 ، کے پی کے میں 45 جبکہ بلوچستان میں قومی اسمبلی کی 16 نشتیں  ہوں گی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق وفاقی داارلحکومت اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی 3 نشستیں ہوں گی۔

حلقہ بندیوں کی فہرست کے مطابق پنجاب اسمبلی میں جنرل نشستوں کی تعداد 297 ، سندھ اسمبلی میں جنرل نشستوں کی تعداد 130، کے پی کے اسمبلی میں 115 اور بلوچستان اسمبلی کی جنرل نشتیں 51  ہوں گی۔

الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندیوں میں سندھ کی قومی اسمبلی کی نشستوں میں ردوبدل کیا گیا ہے، حلقہ بندیوں میں سانگھڑ کی قومی اسمبلی کی ایک نشست کم ہوگئی، سانگھڑ کی قومی اسمبلی کی نشستیں 3 سے کم ہوکر 2 رہ گئیں۔

اسی طرح  حلقہ بندیوں میں کراچی سائوتھ کی قومی اسمبلی کی ایک نشست میں اضافہ ہوگیا، کراچی سائوتھ کی قومی اسمبلی کی نشستیں 2 سے بڑھ کر 3 ہوگئیں۔

الیکشن کمیشن  کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق  خیرپور، سانگڑ اور ٹھٹھہ کی  صوبائی اسمبلی کی ایک ایک نشست کم ہوگئی، خیرپور کی صوبائی اسمبلی کی نشستیں 7 سے کم ہوکر 6 ،سانگھڑ کی  6 سے کم ہوکر 5 اور ٹھٹھہ کی صوبائی اسمبلی کی نشستیں 3 سے کم ہوکر 2 ہوگئیں۔

ملیر، کراچی ایسٹ اور کراچی سینٹرل کی صوبائی اسمبلی کی ایک ایک نشست میں اضافہ ہوگیا، ملیر کی صوبائی اسمبلی کی نشستیں 5 سے بڑھ کر 6، کراچی ایسٹ کی  8 سے بڑھ کر 9 اور کراچی سینٹرل کی صوبائی اسمبلی کی نشستیں بھی 8 سے بڑھ کر 9 ہوگئیں۔

 

The post الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کےلیے حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست جاری کردی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/LnX69Mz

Wednesday, 29 November 2023

کراچی؛ گلستان جوہر  میں خاتون کو 3 کم سن بیٹوں سمیت ذبح کردیا گیا، شوہر گرفتار

 کراچی: شہر قائد میں ایک خاتون اور اس کے 3 کمسن بیٹوں کو تیز دھار آلے سے ذبح کر دیا گیا، پولیس نے مقتولہ کے شوہر کو گرفتار کرلیا۔

گلستان جوہر کے علاقے بلاک 5 بتول اسپتال کے قریب شیر محمد بلوچ گوٹھ میں گھر سے خاتون اور 3 بچوں کی گلا کٹی لاشیں ملیں ۔ اطلاع ملنے پر پولیس  اور امدادی اداروں کے رضاکار موقع پر پہنچے۔

ترجمان کراچی پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 35 سالہ صائمہ زوجہ ارشد علی بلوچ اور اس کے 3 بیٹے 9 سالہ اشہد ، 7 سالہ شاہ زین اور 2 سالہ احد کے ناموں سے کی گئی ۔ مقتولین کے لاشیں پہلے گلستان جوہر تھانے پھر وہاں سے جناح اسپتال منتقل کی گئیں ۔

ایس ایچ او گلستان جوہر انسپکٹر فہد الحسن نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ مددگار 15 پر واقعے کی اطلاع موصول ہوئی تھی جس پر وہ پولیس پارٹی کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور دیکھا کہ ایک کمرے میں چاروں لاشیں پڑی ہوئی تھیں ۔ مقتولین کو ملزم نے انتہائی بے دردی کے ساتھ تیز دھار آلے سے ذبح کیا تھا ۔ گھر کے صحن میں بھی خون پڑا تھا جہاں ایک بچے کی انگلی کا بھی کچھ حصہ پڑا تھا ۔

انہوں نے بتایا کہ فوری طور پر فرانزک ڈیپارٹمنٹ کو اطلاع کی گئی، جنہوں نے جائے وقوع سے شواہد اور فنگر پرنٹس اکھٹے کیے جب کہ گلستان جوہر تھانے کے شعبہ تفتیش کے افسران نے بھی جائے وقوع سے شواہد جمع اور علاقہ مکینوں کا بیان قلمبند کیا ۔

پولیس کے مطابق مقتولہ صائمہ کے شوہر ارشد علی بلوچ نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ ایرانی ( سنجرانی بلوچ ) قوم سے تعلق رکھتا ہے اور واقعے کے وقت گھر پر موجود نہیں تھا، تاہم  گھر پہنچتے ہی اس کے پیروں سے زمین کھسک گئی  جب اس نے اپنی اہلیہ اور تینوں بیٹوں کی خون میں لت پت لاشیں دیکھیں۔

ایس ایچ او نے بتایا کہ ارشد علی بلوچ نشے کا عادی ہے اور جب اسے حراست میں لیا گیا اس وقت بھی نشے میں دھت تھا ۔ اس کا بیان مشکوک تھا جس کے باعث پولیس نے اسے حراست میں لے لیا  ارشد علی نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا تھا کہ وہ شام کو ڈالمیا اپنے ماموں کے گھر گیا تھا  جب کہ تصدیق کرنے پر یہ بیان جھوٹ نکلا۔ اس کے علاوہ بھی اس کے دیے گئے بیانات جھوٹے نکلے۔

دریں اثنا ارشد علی کے سسر محمد اسلم بلوچ نے بھی اپنے داماد کو اپنی بیٹی اور اس کے 3 بیٹوں کے قتل کے مقدمے میں نامزد کیا ہے، جس پر زیر حراست ملزم ارشد علی بلوچ کو اپنی اہلیہ اور 3 بچوں کے قتل کے الزام میں باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا ۔

مقتول کے بھتیجے شہزاد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ارشد علی بلوچ کا شیر محمد بلوچ گوٹھ ، قلندرآباد سمیت علاقے میں انٹر نیٹ کیبل کا نیٹ ورک پھیلا ہوا ہے، جس سے اس کو اچھی خاصی آمدن ہوتی تھی جب کہ اسی علاقے میں اس کے 4 گھر ہیں، جو اس نے کرایے پر دیے ہوئے ہیں۔ ارشد بلوچ کے والدین کا انتقال ہو چکا ہے اور اس کی تقریباً 10 سال قبل دُور کی رشتے دار صائمہ سے شادی ہوئی تھی ۔

شہزاد کے مطابق وہ بچپن ہی سے اپنے چچا کو نشے کا عادی دیکھ رہا ہے۔ ارشد علی بلوچ روزانہ تقریباً 10 ہزار روپے کا نشہ کرتا ہے۔  5 ہزار روپے کی تو صرف آئس خریدتا ہے جب کہ اس کے علاوہ تنزانیہ ، تریاک  سمیت دیگر بہت سے نشے ہیں، جو وہ کرتا ہے ۔ ارشد علی بلوچ محلے میں کم ہی بیٹھتا تھا۔ زیادہ تر وہ علاقے سے باہر ہی دوستوں کے ساتھ بیٹھا کرتا تھا ۔

بھتیجے شہزاد نے مزید بتایا کہ بدھ کی شام تقریباً ساڑھے 7 بجے ارشد نے اسے سلنڈر دیتے ہوئے کہا کہ اس میں گیس بھروا کر گھر پر دے دینا میں کسی کام سے جا رہا ہوں اس کے بعد وہ وہاں سے چلا گیا تھا ۔ سلنڈر میں گیس بھروا کر لایا اور گلی کے کونے پر اس کا بڑا بیٹا اشد مل گیا، جسے وہ سلنڈر دے کر دوستوں کے پاس موسمیات چلا گیا۔ وہاں سے آکر وہ اپنے گھر جا سو گیا تھا ۔

ارشد علی بلوچ کے بھائی امداد علی بلوچ نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع انہیں ان کے بھائی ارشد علی بلوچ ہی نے دی کیوں کہ وہ بچوں کے لیے صبح کا ناشتہ وغیر لے کر جب گھر پہنچا اور اس نے لاشیں دیکھ کر فوری طور پر اسے اطلاع دی ۔ جب وہ اپنے بھائی کے گھر پہنچے تو دروازے سے اندر گھستے ہی ایک بھتیجے کی لاش پڑی ہوئی تو اندر بھابی اور 2 بھتیجوں کی خون میں لت پت لاشیں پڑی ہوئی تھیں ۔

انہوں نے فوری طور پر اپنے بڑی بہن ، بڑے بھائی اور دیگر رشتے دار جو اسے علاقے میں رہائش پذیر ہیں، کو اطلاع دی جب کہ مقتولہ صائمہ کے والدین جو اسی محلے میں رہائش پذیر ہیں انہیں بھی اطلاع دے دی۔

صائمہ کے والد اور اس کے دونوں بھائی فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے ۔ انہوں نے بتایا کہ نہ تو ان کی کس سے دشمنی ہے اور نہ ہی مالی پریشانی ہے جب کہ وہ لوگ اس علاقے میں گزشتہ 35 سے 40 سال سے رہائش پذیر ہیں۔ آج تک ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ۔پولیس کا کہنا ہے کہ اب جب کہ ملزم ارشد علی بلوچ کو باقاعدہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے تو اس سے آلہ قتل کی برآمدگی اور قتل کے بارے میں تفتیش کی جائے گی ۔

The post کراچی؛ گلستان جوہر  میں خاتون کو 3 کم سن بیٹوں سمیت ذبح کردیا گیا، شوہر گرفتار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/jQc4O1l

عبدالقدوس بزنجو کا ساتھیوں سمیت پیپلزپارٹی میں شمولیت کا فیصلہ

 کوئٹہ: سابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبد القدوس بزنجو نے ساتھیوں سمیت پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کرلیا ہے۔

کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ بلاول بھٹو اور آصف زرداری سے ملاقات کے بعد ساتھیوں سمیت پارٹی میں باضابطہ شمولیت کا اعلان کروں گا۔

انہوں نے بتایا کہ فیملی مصرفیات کے باعث جمعرات کو یوم تاسیس کے پروگرام میں شرکت نہیں کرسکتا مگر جلد ہی ساتھیوں سمیت آصف زرداری اور بلاول بھٹوزرداری سے ملاقات کریں گے۔

اُدھر پاکستان پیپلزپارٹی کے 56ویں یوم تاسیس کی مناسبت سے پیپلزپارٹی نے کوئٹہ میں پنڈال سجا لیا ہے، اس حوالے سے کوئٹہ شہر کو پارٹی پرچموں سے سجادیا گیا جبکہ شہر بھر میں جگہ جگہ استقبالی بینرز بھی نصب کیے گئے ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری، چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری جلسے میں شرکت اور خطاب کرنے کیلیے  کوئٹہ پہنچ گئے جہاں اُن کا استقبال صوبائی پارٹی رہنماؤں نے کیا۔

آصف زرداری ،بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ نیئر بخاری، سلیم مانڈوی والا، شرجیل میمن و دیگر موجود تھے۔ ترجمان پی پی کے مطابق آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری آج ایوب اسٹیڈیم میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پی پی پی بلوچستان کی مختلف تنظیموں کے عہدیداران کے وفود سے ملاقات کریں گے۔

The post عبدالقدوس بزنجو کا ساتھیوں سمیت پیپلزپارٹی میں شمولیت کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/WF6uvIZ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بینکوں کی ونڈ فال آمدن پر چالیس فیصد اضافی ٹیکس وصولی کو معطل کردیا

 اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بینکوں کی ونڈ فال آمدن پر چالیس فیصد اضافی ٹیکس کا اطلاق 8 دسمبر تک معطل کرتے ہوئے ایف بی آر اور دیگر فریقین سے جواب طلب کر لیا۔

نجی بینک کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے سلمان اکرم راجہ اور اسد لدھا ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ حکومت نے 21 نومبر 2023 کو انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 99D کے تحت ایک ایس آر او نمبر 1588(1) جاری کیا جس کے تحت بینکوں کی فنڈ فال انکم پر 40 فیصد اضافی ٹیکس عائد کیا گیا ہے جو 30 نومبر تک واجب الادا ہے۔

وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 99D وفاقی حکومت کو 0 سے 40 فیصد تک ٹیکس عائد کرنے کا اختیار دیتی ہے جو آئین کے آرٹیکل 77 کے برعکس ہے۔

درخواست گزاروں کے وکلا بتایا کہ ’یہ ایس آر او نگران وفاقی حکومت نے جاری کیا جسے نیا ٹیکس لگانے کا اختیار نہیں ہے۔ سیکشن 99 ڈی کے تحت اضافی ٹیکس کا معاملہ قومی اسمبلی میں پیش کرنا ضروری ہے، اضافی ٹیکس کے نوٹیفکیشن کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کیلئے قومی اسمبلی کا ہونا ضروری ہے ، اگر قومی اسمبلی موجود بھی ہے تو عین ممکن ہے کہ اضافی ٹیکس کے نوٹیفکیشن کی حمایت ہی نہ کرے، اگر قومی اسمبلی اضافی ٹیکس کی حمایت نہیں کرتی تو ٹیکس کا اطلاق نہیں ہو گا۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ونڈ فال آمدن پر لگائے گئے 40 فیصد اضافی ٹیکس کے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے اور درخواست کے فیصلے تک اس نوٹیفیکیشن کو معطل کیا جائے۔

درخواست گزاروں کے وکلا کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 8 دسمبر تک نوٹیفیکیشن معطل کر دیا۔ دوران سماعت ایف بی آر کے وکیل اسامہ شاہد ایڈووکیٹ نے نوٹس وصول کر لیا۔

عدالت نے آئینی معاملے پر معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔

The post اسلام آباد ہائیکورٹ نے بینکوں کی ونڈ فال آمدن پر چالیس فیصد اضافی ٹیکس وصولی کو معطل کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/UBoKXZ7

Tuesday, 28 November 2023

بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان، صارفین پر 40 ارب کا اضافی بوجھ

 اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ کیے جانے کا امکان ہے، جس سے صارفین پر 40 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بجلی کی قیمت میں 3 روپے 53 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے۔ یہ اضافہ اکتوبر 2023ء کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مانگا گیا ہے، جس پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سی پی پی اے کی درخواست پر آج سماعت  کی۔

یہ خبر بھی پڑھیں: عالمی بینک نے پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کی مخالفت کردی

فیول پرائس اور بقایا جات کی مد میں سی پی پی اے کی درخواست پر بجلی کی قیمت میں من و عن اضافے کی صورت میں جی ایس ٹی سمیت بجلی صارفین پر تقریباً 40 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

نیپرا کے مطابق سی پی پی اے کی درخواست پر سماعت مکمل ہو چکی ہے۔ اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ جاری کیا جائے گا۔

 

The post بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان، صارفین پر 40 ارب کا اضافی بوجھ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/fbVFan8

190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس؛ عمران خان کے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری

 اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ نیب تحقیقات اور 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس  میں جیل ٹرائل کا نوٹی فکیشن جاری ہوگیا۔

دونوں مقدمات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جس کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے جیل ٹرائل کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس حوالے سے وزارت قانون و انصاف نے نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق احتساب عدالت اڈیالہ جیل میں ان مقدمات کی سماعت کرے گی۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل ہی آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں بھی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا ٹرائل جیل ہی میں کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔

یہ خبر بھی پڑھیں: سائفر کیس؛ خصوصی عدالت کا جیل میں ہی عمران خان کے اوپن ٹرائل کا فیصلہ

خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے منگل کے روز جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد میں سائفر کیس کی سماعت کی ، جس میں  جیل حکام نے عدالت میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ملزمان عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو پیش نہیں کرسکتے۔ اسلام آباد پولیس کو اضافی سیکورٹی کے لیے خط لکھا تھا، چیئرمین پی ٹی آئی کو سنجیدہ نوعیت کے سکیورٹی خدشات ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا کہ سکیورٹی خدشات کے باعث چیئرمین پی ٹی آئی کا ٹرائل جیل ہی میں ہوگا ۔ میڈیا کو بھی جیل ٹرائل کور کرنے کی اجازت ہوگی، جو بھی ٹرائل دیکھنے کی خواہش رکھتا ہو اسے بھی اجازت ہوگی۔

The post 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس؛ عمران خان کے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/eU0d5aO

قلات میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں دو دہشت گرد ہلاک

 راولپنڈی: سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے قلات کے ایک علاقے میں کارروائی کر کے دو دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ 28 نومبر 2023 کو، سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع قلات کے ناگاؤ پہاڑوں کے عمومی علاقے میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا۔

آپریشن کے دوران فوجیوں اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں دو دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور بارودی مواد کا ذخیرہ بھی برآمد ہوا ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ مارے گئے دہشت گرد سیکورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں اور معصوم شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔

ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ علاقے میں پائے جانے والے دیگر دہشت گردوں کے خاتمے کیلےی آپریشن جاری ہے۔ سیکیورٹی فورسز قوم کے ساتھ مل کر بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

The post قلات میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں دو دہشت گرد ہلاک appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/s7FzJTO

نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ دو روزہ دورے پر کویت پہنچ گئے

 اسلام آباد: نگراں وزیرِاعظم انوار الحق کاکڑ  دو روزہ دورے پر کویت پہنچ گئے۔

ایوان وزیراعظم کے مطابق کویت پہنچنے پر کویت کے وزیرِ بجلی، پانی و قابل تجدید توانائی ڈاکٹر جاسم محمد عبداللہ الاستاد نے وزیرِ اعظم کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر پاکستان کے کویت میں سفیر ملک محمد فاروق اور دونوں ممالک کے اعلی سفارتی اہلکار بھی موجود تھے۔

دورے کے دوران وزیرِ اعظم ولی عہد کویت  شيخ مشعل الاحمد الجابر الصباح اور وزیرِ اعظم شيخ احمد النواف الاحمد الصباح سے ملاقات کریں گے۔

نگراں وزیرِ اعظم کا دورہ کویت دونوں ممالک کے مابین اقتصادی و معاشی تعاون کے نئے دور کا آغاز ہوگا جس میں افرادی قوت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات و کان کنی، غذائی تحفظ، توانائی اور دفاع کے شعبوں میں باہمی تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوں گے۔

The post نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ دو روزہ دورے پر کویت پہنچ گئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/ve6uGNo

Monday, 27 November 2023

دو پہیوں کی سواری اچنبھے کی بات ہے؟

پچھلے کچھ عرصے مجھے سڑکوں پر خواتین بائیک اور اسکوٹی چلاتی ہوئی نظر آرہی ہیں، ان کی اس سواری کے کل ملا کے دو پہیے ہوتے ہیں اور اکثر مرد بھی یہی دو پہیوں کی موٹر سائیکل چلا رہے ہوتے ہیں۔

عورتیں بھی بائیک سڑک پر چلا رہی ہوتی ہیں اور مرد بھی اسی سڑک رواں دواں ہوتے ہیں اور یہ عمل صرف پاکستان میں نہیں ہوتا، دنیا کے تقریباً ہر ملک میں ہی ہوتا ہے، گاڑی بھی دونوں مرد اور عورت چلاتے ہیں اور اب بائیک بھی چلا رہے ہیں، تو پھر آخر کیوں صرف پاکستان میں اس دو پہیے کی سواری چلانے والی عورت کو ہر انسان اتنی حیرت بھری نگاہ سے دیکھتا ہے؟ کیوں اس عمل کو انوکھا سمجھا جاتا ہے، جو عورت بائیک چلا رہی ہوتی ہے۔

وہ کافی دفعہ اتنی نظریں اپنی جانب مرکوز دیکھ کر گھبرا سی جاتی ہے اور اس سے کئی دفعہ اس کی بائیک کا توازن بگڑنے کا بہت زیادہ خدشہ پیدا ہو جاتا ہے، لیکن یہ عقل کی ساری باتیں اس ملک میں بہت سے لوگوں کو سمجھانا کچھ ناممکن سا لگتا ہے، پہلے یہ نظریں، عورتوں کے گاڑی چلانے پر بھی تعاقب کرتی تھیں۔

اب اسکوٹر پر سوار خواتین کے لیے بھی دیکھی جا رہی ہیں اور کچھ عورتیں ضرور اپنی خواہش اور خوشی کے لیے اسے چلاتی ہیں، جب کہ بہت سی خواتین ایسی ہوتی ہیں، جو مجبوری میں چلاتی ہیں۔ ایسے میں مجبوری میں بائیک چلانے والی لڑکیاں ویسے ہی بہت سی ٹینشن اور مشکلات اپنے دماغ میں لیے چل رہی ہوتی ہیں اور پھر اوپر سے جب خود پر ایسی نظریں دیکھتی ہیں، تو مزید پریشانی سے دوچار ہوجاتی ہیں۔

آخر ہمارے عوام کے ایسے رویے کب درست ہوں گے۔ ہم دوسرے کو کھل کے جینے دینا اتنا مشکل کیوں کر دیتے ہیں، خاص طور پر عورتوں کو مرد کے لیے تو اس ملک میں عورت کو دو پیروں پر خوشی خوشی آتے جاتے دیکھنا ہی مشکل ہے، تو دو پہیوں کی سواری چلاتے دیکھنا تو بہت ہی اچنبھا ہوگا۔ جینے کا حق مرد اور عورت دونوں کو برابر ہے، تو پھر یہ نظریں صرف پہیوں کی سواری پر بیٹھی عورت پر کیوں؟

The post دو پہیوں کی سواری اچنبھے کی بات ہے؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/Frfa4v8

کتاب میں عمران خان کیلیے جو لکھا اُس کے ثبوت میرے پاس موجود ہیں، ہاجرہ خان

 لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین سے متعلق کتاب لکھنے والی اداکارہ ہاجرہ خان نے کہا ہے کہ میں نے کتاب میں سب سچ لکھا اور اُس کے ثبوت موجود ہیں جبکہ میں ان تمام باتوں کا دفاع بھی کرسکتی ہوں۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام ’کل تک‘ میں معروف صحافی و میزبان جاوید چوہدری کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ہاجرہ خان پانیزئی نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی دہرے معیار کے مالک ہیں، میری اُن سے دوستی پلس تھی۔

اداکارہ نے کہا کہ ’چیئرمین پی ٹی آئی نے لوگوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا، میں نے اس کتاب میں عمران خان کے بارے میں جو لکھا اُس کے ثبوت موجود ہیں اور میں ہر لکھی گئی بات کا دفاع کرسکتی ہوں‘۔

عمران خان سے پہلی ملاقات کے بارے میں ہاجرہ خان نے کہا کہ ’چیئرمین پی ٹی آئی سے میری پہلی ملاقات کراچی میں ہوئی، دوسری ملاقات فنڈ ریزنگ مہم کے دوران ہوئی، میں چیئرمین پی ٹی آئی سےملاقات پرپرجوش اور گھبراہٹ کا شکار تھی‘۔


انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی شخصیت کے بارے میں تجسس تھا، اس لیے انہیں جاننے کی کوشش کی تو پھر میری اُن سے پہلے دوستی اور پھر دوستی پلس ہوگئی، چیئرمین پی ٹی آئی کا حلقہ احباب متاثرکن نہیں تھا، میں نے دیکھا چیئرمین پی ٹی آئی منشیات استعمال کرتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سےاختلافات کی وجہ منشیات نہیں کچھ اورتھی، اللہ تعالیٰ نےچیئرمین پی ٹی آئی کو اتنا نوازا شاید وہ اس کے قابل نہیں تھے۔ ہاجرہ خان پانیزئی نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو کتاب کامسودہ بھیجا جس کےبعد میرا ای میل ہیک کروا دیا گیا تھا۔

The post کتاب میں عمران خان کیلیے جو لکھا اُس کے ثبوت میرے پاس موجود ہیں، ہاجرہ خان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/Aty6TXF

متحدہ عرب امارات کا پاکستان میں 25 ارب ڈالرز تک کی سرمایہ کاری کا عندیہ

ابو ظہبی / اسلام آباد: متحدہ عرب امارات پاکستان میں 20 سے 25 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گا۔

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان، پاکستان کے نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے  ایک اہم ملاقات کی۔

اس ملاقا ت میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان توانائی، پورٹ آپریشنز پروجیکٹس، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ، فوڈ سیکیورٹی، لاجسٹکس، معدنیات اور بینکنگ اینڈ فنانشل سروسز کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے تعاون سے متعلق مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

معاہدوں کے تحت متحدہ عرب امارات پاکستان میں 20 سے 25  ارب ڈالرز  کی سرمایہ کاری  کرے گا۔ جس سے پاکستان میں معاشی استحکام کی راہ ہموار ہو گی اور سرمایہ کاری سے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے تحت مختلف اقدامات کو پورا کرنے میں مدد  بھی ملے گی۔

وزیراعظم نے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کو ایک تاریخی اقدام قرار دیا جس سے پاک متحدہ عرب امارات اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ قبل ازیں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زید النہیان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تاریخی اور گہرے برادرانہ تعلقات ہیں جو وقت کی ہرآزمائش  پر پورا اترے ہیں۔ اس موقع پر پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوطرفہ اسٹریٹجک تعاون اور بات چیت کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ وزیراعظم کاکڑ نے اقتصادی اور مالیاتی شعبے میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کے لیے بھرپور تعاون پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ متحدہ عرب امارات 1.8 ملین پاکستانیوں کا گھر ہے جو دونوں برادر ممالک کی ترقی، خوشحالی اور اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ ملاقات کے دوران مقبوضہ فلسطین میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے حوالے سے خصوصی طور پر علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔


وزیراعظم نے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ اور او آئی سی کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے پاکستان کی حمایت کا اظہار کیا جبکہ انوار الحق کاکڑ نے اٹھائیسویں کانفرنس آف پارٹیز COP 28 کے لیے یو اے ای کی صدارت کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم نے لاس اینڈ ڈیمج فنڈ کے قیام سمیت ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے کلیدی شعبوں میں موثر اور نتیجہ خیز عالمی اقدامات کی جانب بامعنی پیش رفت کے موقع کے طور پر اس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

دونوں رہنماؤں نے پاکستان اورمتحدہ عرب امارات کے درمیان توانائی، پورٹ آپریشنز پروجیکٹس، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ، فوڈ سیکیورٹی، لاجسٹکس، معدنیات اور بینکنگ اینڈ فنانشل سروسز کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے تعاون سے متعلق مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کا مشاہدہ کیا۔

 

The post متحدہ عرب امارات کا پاکستان میں 25 ارب ڈالرز تک کی سرمایہ کاری کا عندیہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/rPGzu2C

Sunday, 26 November 2023

موسمیاتی تبدیلی سے خواتین زیادہ متاثر، تحفظ کیلئے ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے!

موسمیاتی تبدیلی اور خواتین پر اس کے اثرات کے موضوع پر ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں حکومت، ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا۔

فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر ساجد رشید

(ڈین فیکلٹی آف جیو سائنسز، جامعہ پنجاب )

موسمیاتی تبدیلی سمیت دیگر بڑے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے حکومت، غیر سرکاری تنظیموں، اکیڈیمیا، سول سوسائٹی سمیت معاشرے کے تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے جو انفرادی بھی ہے اور اجتماعی بھی۔ہمیں سمجھنا چاہیے کہ کوئی بھی ادارہ اکیلئے مسائل حل نہیں کر سکتا لہٰذا سب کو مل کر کام کرنا ہوگا،اپنی سوچ اور رویے بدلنا ہوں گے۔

میرے نزدیک اگر 10 فیصد افراد بھی خود کو ٹھیک کر لیں تو ملک میں انقلاب آجائے گا۔ بطور اکیڈیمیا ہم بہترین کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی، کالج آف ارتھ اینڈ انوائرمینٹل سائنسز میں پہلے 60 سے 70 فیصد طلباء اور 30 سے 40 فیصد طالبات ہوتی تھی ۔ ہم نے خواتین کو بااختیار بنانے کے مشن کے تحت کام کا آغاز کیا۔

لوگوں کو آگاہی دی جس کے بعد اب صورتحال یہ ہے کہ کالج میں 50 سے 70 فیصد طالبات جبکہ 30 سے 50 فیصد طلباء ہیں۔ اس میں ریاست کا کردار بھی اہم ہے کہ گاؤں کی سطح پر گرلز ہائی سکول بنائے گئے جہاں سے پنیری لگی اور پھر لڑکیاں کالج اور یونیورسٹی تک پہنچی، ہم ان کے اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ پہلے یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ لاہور سے کوئی خاتون سروے کیلئے راجن پور جائے مگر انفراسٹرکچر بننے اور خواتین کی حوصلہ افزائی کرنے کے بعد یہ ممکن ہوا ہے۔

ہم نے اپنے کالج میں دوران ڈگری فیلڈ ورک کو لازمی قرار دیا ہے۔ طلباء و طالبات کو اساتذہ کی زیر نگرانی الگ الگ گروپس میں ملک کے مختلف علاقوں میں فیلڈ ورک کیلئے بھیجا جاتا ہے تاکہ انہیں صحیح معنوں میں مسائل کا اندازہ ہوسکے۔

یہ تین سے پانچ دن کا دورہ ہوتا ہے۔ طالبات کو خانسپور، ایبٹ آباد، مری و دور دراز علاقوں میں بھیجا جاتا ہے تاکہ انہیں کم انفراسٹرکچر والے علاقوں میں کام کرنے کا تجربہ ہوسکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک طلبہ خود مشکل مراحل سے نہیں گزریں گے، انہیں درست اندازہ نہیں ہوگا۔ ہمارے ہاں ایک بڑا مسئلہ آگاہی کا نہ ہونا ہے۔

لوگوں کو موسمیاتی تبدیلی، پانی، قدرتی آفات و دیگر مسائل کے بارے میںا ٓگاہی دینا ہوگی۔ سموگ سے نہ صرف خواتین بلکہ آنے والی نسل بھی متاثر ہو رہی ہے، سانس کے ذریعے باریک زہریلے ذرات خون میں شامل ہو جاتے ہیں، ٹی بی ، دمہ و دیگر امراض کی تعداد بڑھ رہی ہے، ہر دوسرے شخص کو کھانسی کی شکایت ہے لہٰذا سموگ سے بچاؤ کیلئے ہر ممکن اقدامات کرنا ہونگے۔

حمید اللہ ملک

(ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے )

کسی بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر ہماری کوشش اور مقصد یہی ہوتا ہے کہ ہم ہر اس فرد تک پہنچیں جو اس سے متاثر ہوسکتا ہے تاکہ پیشگی اقدامات کرکے لوگوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔ زیادہ بارشوں، برف باری ، اربن فلڈنگ و دیگر وجوہات کی وجہ سے لوگوں کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

کسی بھی ہنگامی صورتحال کے حوالے سے عوام کو پیشگی اطلاع دی جاتی ہے، انہیں خبردار کیا جاتا ہے کہ سیلاب کا خطرہ ہے، نقل مکانی کر جائیں مگر لوگ بیٹھے رہتے ہیں،اکثر اوقات ہمیں زبردستی علاقہ خالی کروانا پڑتا ہے۔24 کروڑ آبادی میں ہر شخص کے ساتھ کسی ایک فرد کی ڈیوٹی نہیں لگائی جاسکتی لہٰذا لوگوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

پنجاب میںلوگوں کا مزاج مختلف ہے۔ دریائے ستلج کے قریب 8 لاکھ کی آبادی متاثر ہوئی، ہم نے دونوں اطراف میں کیمپ لگائے،  لوگ ان کیمپوں میں نہیں ٹہرے،وہ کیمپ میں قیام کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ جن افراد کو ریسکیو کرکے لایا گیا،وہ وہاں سے کھانا کھانے کے بعد اپنے عزیزو اقارب کی طرف چلے گئے۔ اس سب کے باوجود ہم نے ان علاقوں میں موجود افراد کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام اقدامات کر رکھے تھے۔

پی ڈی ایم اے کو جتنا عملہ درکار ہے وہ ہمارے پاس موجود ہے۔ ہمارا کام صوبائی سطح پر معاملات کو دیکھنا ہے جبکہ ضلعی سطح پرڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ’ڈی ڈی ایم اے‘ موجود ہے جو ریسکیو 1122 و دیگر اداروں کے تعاون سے ہنگامی صورتحال میں کام کرتی ہے۔ ان کے ساتھ پٹواری اور نمبردار بھی لنک ہوتے ہیں جنہیں ہر علاقے کی صورتحال کا علم ہوتا ہے، اس طرح ’ڈی ڈی ایم اے‘ کسی بھی مشکل صورتحال میں باہمی روابط اور انفارمیشن کے ساتھ بہترین کام کرتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں جس سے نمٹنے کیلئے زیادہ وسائل درکار ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کا نقصان سب کو ہو رہا ہے مگر خواتین اس سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔ زیر زمین پانی کی سطح کم ہونے کی وجہ سے خواتین کو دور دراز علاقوں سے پانی بھرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح جنگلات کی کمی کی وجہ سے خواتین کو لکڑیاں کاٹنے کیلئے دور جانا پڑتا ہے۔

قحط سالی ہو یا سیلاب، دونوں صورتوں میں ہی خواتین بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔سیلاب کی وجہ سے خواتین کو آمد و رفت میں مسئلہ ہوتا ہے۔ اسی طرح بچے کی پیدائش، خاتون کی صحت، علاج معالجے کی سہولیات، خوراک و دیگر ضروریات کو پورا کرنے میں بھی انہیں بدترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہم سیلاب متاثرہ علاقوں میں خواتین کی خاص ضروریات کا خصوصی خیال رکھتے ہیں،اس حوالے سے مناسب بندوبست کیا جاتا ہے۔

ہم نے دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے اردگرد علاقوں میں سروے کیا تاکہ وہاں پر موجود خواتین، بچوں و دیگر افراد کو لاحق ممکنہ خطرات اور ان کی ضروریات کا معلوم ہوسکے۔ اس کی روشنی میں اقدامات کیے جاتے ہیں، اسی طرز پر ہم دریائے ستلج اور راوی کے علاقوں میں سروے کرنے جا رہے ہیں۔

اس سے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں اقدامات کرنے میں مدد ملے گی۔ مری میں زلزلہ اور برفباری، دو بڑے مسائل ہیں، وہاں پر ہم نے لاکھوں افراد کا ڈیٹا اکٹھا کیا جس میں خواتین، بچے، خواجہ سراء و دیگر شامل ہیں، اس کی روشنی میں حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پہلے ڈاکٹرز کی کمی ہوتی تھی، اب ان کی تعداد بھی زیادہ ہے اور وہ دوردراز علاقوں میں کام کرنے کیلئے میسر بھی ہوتے ہیں۔ یہاں راجن پور اور ڈیرہ غازی خان میں سیلاب کی بات ہوئی۔

وہاں کا کلچر مختلف ہے۔ ادھر سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں، وہاں کسی ایک بھی بچے کی گمشدگی کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کے حوالے سے ’ڈی ڈی ایم اے‘ نے سب کو آن بورڈ لیا، وہاں این جی اوز کو بھی لنک کیا  اور انہیں بتایا کہ کس علاقے میں ضرورت ہے تاکہ کسی ایک علاقے میں بلا ضرورت بار بار امدادی سامان نہ جائے اور کسی دوسرے علاقے میں لوگ محروم نہ رہ جائیں۔

آفات میں جتنی بھی تیاری کر لیں کم ہوتی ہے۔ یہ تو ترقی یافتہ ممالک میں بھی بڑا مسئلہ ہے تاہم بیرون ممالک سے آنے والے ماہرین ہمیں یہ کہتے ہیں کہ انتہائی محدود وسائل کے ساتھ آپ کا رسپانس بہت اچھا ہے۔ سموگ ہمارے ہاں ایک سنگین صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

کاربن کی آلودگی پیدا کرنے میں پاکستان کا حصہ 1 فیصد سے بھی کم ہے مگر ہمارا شمار اس سے متاثر ہونے والے پہلے 10 ممالک میں ہوتا ہے۔ اس کی روک تھام میں حکومت کے ساتھ ساتھ شہریوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، زیادہ دھواں چھوڑتی گاڑیوں، فیکٹروں کے حوالے سے متعلقہ اداروں کو شکایت کریں، اس سے فائدہ ہوگا۔ ٹڈی دل کے حملے میں ہمیں مقامی لوگ اطلاع کر دیتے تھے۔

25 ہزار گاؤں سے ہمیں روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ملتی تھی، جو مقامی لوگ دیتے تھے، اس طرح کروڑوں روپے کا خرچ بچا۔ یہ خوش آئند ہے کہ معاشرے نے اپنی ذمہ داریوں کو قبول کرنا شروع کر دیا ہے، ماضی کی نسبت اب صورتحال بہتر ہے، حکومت، سول سوسائٹی اور معاشرے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

اسماء عامر

(نمائندہ سول سوسائٹی )

زمین کو ہم’مدر ارتھ‘ کہتے ہیں۔ ماں سب کی ضروریات کا خیال رکھتی ہے۔ سب اس کے دل کے قریب ہوتے ہیں اور وہ بھی سب کو عزیز ہوتی ہے لہٰذا ہمیں ’مدر ارتھ‘کو موسمیاتی تبدیلی و دیگر مسائل سے بچانا ہے اور اس کا خیال رکھنا ہے۔

اس وقت موسمیاتی تبدیلی ایک بہت بڑا چیلنج ہے لیکن اس پر ہمارے ہاں اتنی بات نہیں ہوتی جتنی ہونی چاہیے۔ بات ہوگی تو لوگوں کو اس کی سنجیدگی کا علم ہوگا اور پھر اس پر کام ہوگا۔ اس وقت سموگ کی صورت میں ایک اور چیلنج کا سامنا ہے جس کا تعلق ہمارے رہن سہن، بے احتیاطی ، پالیسیوں اور ان پر عملدرآمد نہ ہونے سے ہے۔ ہر سال سموگ ہوتی ہے جس سے شہریوں کی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے خصوصاََ خواتین کی مشکلات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ان کی خوراک اچھی نہیں ہے۔

ان کی قوت مدافعت کم ہے جس سے ان کی صحت متاثر ہو رہی ہے۔ ہر سال ’کلائمیٹ جسٹس‘ کی بات ہوتی ہے لیکن پھر سال بعد سموگ کے دوران سمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیا جاتا ہے، اب بھی سمارٹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے خواتین کیلئے مسائل پیدا ہوگئے ہیں، گھریلو جھگڑے و دیگر چیلنجز ان کیلئے پریشانی کا باعث ہیں۔ سوال یہ ہے کہ فصلوں کی باقیات کوجلانے والوں کو کیوں نہیں روکا جاتا۔ بھٹوں، فیکٹریوں اور گاڑیوں کا دھواں کیوں نہیں کنٹرول کیا جاتا؟ میرے نزدیک موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر خواتین ہوتی ہیں لیکن اس طرف کسی کی توجہ نہیں ہے۔

گزشتہ برس سیلاب آیا تو ہم نے پنجاب کے ضلع راجن پور کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں کام کیا۔ وہاں کی 6 تحصیلوں کے 300 گھرانوں کی مدد کی۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ سیلاب کی وجہ سے خواتین کو بدترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔سب سے پہلا مسئلہ تو یہ تھا کہ ان کے سر سے چھت چلی گئی، وہ بے گھر ہوگئی جس کی وجہ سے ان کیلئے خطرات بڑھ گئے۔ وسائل تک ان کی رسائی نہ رہی، انہیں آمد و رفت کا مسئلہ، ماں کیلئے اپنی بچیوں کو اکیلا چھوڑ کر جانے کا مسئلہ، اس طرح کے بیشتر مسائل ان کی مشکلات میں اضافہ کرتے رہے۔

بدقسمتی سے سیلاب متاثرہ علاقوں میں خواتین، لڑکیوں اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز رونما ہوئے، خواتین کو ہراساں کیا گیا اور کم عمری کی شادیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔جیندڑ بیسڈ وائلنس کے حوالے سے قانون موجود ہے مگر عملدرآمد میں مسئلہ ہے۔ سیلاب متاثرہ علاقوں میں خواتین کیلئے خصوصی ٹائلٹ، حاملہ خواتین کیلئے خصوصی سہولیات کا بھی فقدان تھا، ان کی صحت بھی بری طرح متاثر تھی، ہمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال میں اقدامات کرتے ہوئے تمام پہلوؤں اور ضرورتوں کا خیال رکھنا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کیلئے ہم خواتین اپنی مدد آپ کے تحت شجرکاری کر رہی ہیں۔ ہم نے لاہور، شیخوپورہ اور ننکانہ صاحب کے سکولوں، صحت مراکز و دیگر مقامات پر پودے لگائے ہیں، ان کی دیکھ بھال بھی کی جا رہی ہے۔سول سوسائٹی، اکیڈیمیا، حکومت، اداروں سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو مل کر مسائل حل کرنا ہونگے۔ خواتین اور بچوں کو مزید استحصال اور مشکلات سے بچانے کیلئے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا ہوگا۔

The post موسمیاتی تبدیلی سے خواتین زیادہ متاثر، تحفظ کیلئے ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/0uRTUyl

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 8 دہشت گرد ہلاک

 راولپنڈی: شمالی وزیرستان کے ضلع سراروغہ میں سیکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران 8 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 26 نومبر کو سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر جنوبی وزیرستان کے ضلع سراروغہ میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق  آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں 8 دہشت گرد مارے گئے، جن کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد ہوا۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق مارے گئے دہشت گرد سیکورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ معصوم شہریوں کے خلاف دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث  تھے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ علاقے میں پائے جانے والے دہشت گردوں کے خاتمے کیلیے آپریشن جاری ہے اور پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

The post شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 8 دہشت گرد ہلاک appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/ov1QhOW

Saturday, 25 November 2023

کراچی میں معذور پولیس اہلکار کی گلہ کٹی لاش برآمد

  کراچی: شہر قائد کے علاقے ملیر سٹی میں معذور پولیس اہلکار کی گلا کٹی لاش برآمد ہوئی ہے۔

پولیس کے مطابق ملیر سٹی کے علاقے عادل فارم کے قریب سے پولیس اہلکار کی گلا کٹی ہوئی لاش ملی، جس پر مدد گار ون 15 نے متعلقہ تھانے کو اطلاع دی تو پولیس پارٹی جائے وقوعہ پر پہنچی۔

پولیس کے مطابق دوران تلاشی مقتول کی جیب سے پولیس کارڈ برآمد ہوا، جس کی مدد سے اس کی شناخت کانسٹیبل خالد نسیم کے نام سے ہوئی جو کہ سیکیورٹی زون ون میں تعینات اور کھوکھرا پار کا رہائشی تھا جبکہ مقتول پولیس اہلکار سادہ لباس میں ملبوس ہے۔

پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کر لیے جبکہ مقتول کی لاش کو ضابطے کی کارروائی کیلیے جناح اسپتال منتقل کردیا۔

مقتول پولیس اہلکار ٹریفک حادثے میں معذور ہوگیا تھا جائے، جائے وقوعہ پر لاش کے قریب سے بیساکھیاں، چپلیں اور خون آلود پتھر بھی ملا ہے جس سے شبہ ہے کہ مقتول کے سر پر پتھر سے بھی وار کیے گئے جبکہ جیکٹ کا کچھ حصہ سامنے سے جلا ہوا بھی تھا۔

ترجمان ملیر پولیس کے مطابق مقتول کے اہل خانہ نے بتایا ہے کہ خالد نسیم اپنے کسی دوست کے ہمراہ گھر سے گیا تھا اور اس کی گمشدگی رپورٹ درج کرانے کے لیے کھوکھراپار تھانے ڈسٹرکٹ کورنگی پہنچے تھے کہ واقعہ کی اطلاع ملی کہ اس کا قتل ہوگیا۔

The post کراچی میں معذور پولیس اہلکار کی گلہ کٹی لاش برآمد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/IFCryXo

کراچی: ڈپٹی میئر کے حلقے میں کُھلے گٹر نے ایک اور ماں کی گود اجاڑ دی

  کراچی: شہر قائد کے ڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مراد کے حلقے میں کھلے گٹر نے ایک اور ماں کی گود اجاڑ دی۔

میمن گوٹھ ملیر میں سبزی منڈی میں محنت مزدوری کرنے والے وزیر نامی شہری کی دو سالہ بیٹی مُسکان دیگر بچوں کے ساتھ کھیل کود میں مصروف تھی کہ اچانک کھلے گٹر میں جاگری۔

مسکان کو علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ڈیڑھ گھنٹے کے بعد باہر نکالا اور اسپتال پہنچایا جہاں پہنچ کر پتا چلا کہ دو سالہ معصوم بچی جہان فانی سے کوچ کرچکی ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی میں گٹروں کے ڈھکن غائب، گندا پانی سڑکوں پر جمع

علاقے کے وائس چیئرمین سلیم میمن نے اپنی کوتاہی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ گٹر کا مین ہول نہ ہونے کی علاقہ مکین گزشتہ چند روز سے شکایات کر رہے تھے۔ آئندہ کوشش کریں گے کہ لوگوں زیادہ سے زیادہ سہولیات دیں۔

یاد رہے کہ ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ کے حلقے میں رواں برس 14 اگست کو 2 سالہ عبدالرحمان بھی کُھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہو گیا تھا۔ شہر قائد میں رواں سال گٹر میں گرنے سے بچے کی ہلاکت کا یہ چوتھا واقعہ ہے۔

مزید پڑھیں: گٹروں کے ڈھکن میں چوری نہیں کرتا، میئر کراچی

دوسری جانب میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے واقعے پر افسوس کرتے ہوئے کہا کہ گٹر کے ڈھکن منشیات کے عادی چوری کرکے فروخت کرتے ہیں مگر پولیس ڈھکن خریدنے والوں کو کیوں نہیں پکڑتی؟۔

The post کراچی: ڈپٹی میئر کے حلقے میں کُھلے گٹر نے ایک اور ماں کی گود اجاڑ دی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/QDGPv0f

Friday, 24 November 2023

کراچی؛ راشد منہاس روڈ پر کمرشل عمارت  میں آتشزدگی، 10 افراد جاں بحق

 کراچی: شہر قائد میں راشد منہاس روڈ پر کمرشل عمارت میں لگنے والی آگ سے 10 افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہو گئے، جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، کچھ افراد کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کمرشل عمارت میں لگنے والی آگ  تین سے چار منزلوں تک پھیل چکی ہے، جس کی زد میں آکر درجنوں دکانیں خاکستر ہو گئیں۔ حفاظتی اقدامات کے تحت اطراف کی عمارتوں کی بجلی معطل کرکے امدادی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں۔

فائر بریگیڈ حکام نے ابتدائی طور پر بتایا کہ شاپنگ مال کی چھت پر رکھے جنریٹر میں آگ لگی تھی، جس کی اطلاع پر کارروائی شروع کی گئی اور 2 افراد کو اسنارکل کی مدد سے ریسکیو کیا، بعد ازاں آگ کے پھیل جانے پر 8 فائر ٹینڈر ، ایک باؤزر اور ایک اسنارکل کی مدد سے آگ بجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

عمارت میں مزید کئی افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں، جنہیں امدادی اہل کار ریسکیو کررہے ہیں۔ اب تک تقریباً 35 سے زیادہ افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے، جن میں سے کچھ کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔

جناح اسپتال انتظامیہ کے مطابق جوہر موڑ پر شاپنگ مال میں جاں بحق ہونے 8 افراد کی لاشیں لائی گئی ، جن میں سے 2 کی شناخت کریم بخش اور محمد یونس کے نام سے ہوئی ہے۔ واقعے میں زخمی 3 افراد کو جناح اسپتال لایا گیا  گیاہے۔ دوسری جانب سول اسپتال برنس وارڈ میں ایک لاش پہنچائی گئی جب کی ایک لاش عباسی شہید اسپتال میں لائی گئی۔

ڈی سی ایسٹ الطاف شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آگ پر تقریباً قابو پایا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آگ دوسری منزل پر رات میں کسی وقت لگی، جس نے بعد ازاں تیسری اور چوتھی منزل کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دھویں کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو کارروائی میں مشکلات کا سامنا ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ 6 منزلہ عمارت میں آگ بجھانے کا نظام موجود نہیں تھا۔ عمارت چاروں جانب سے بند   ہے جب کہ وینٹی لیشن کا بھی کوئی مناسب انتظام نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنریٹر میں آگ لگنے کی بات درست نہیں۔

نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر نے نے شاپنگ سینٹر میں آتشزدگی کے دوران 6 افراد کی اموات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

The post کراچی؛ راشد منہاس روڈ پر کمرشل عمارت  میں آتشزدگی، 10 افراد جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/qgwvnm2

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر ردو بدل پر غور

 اسلام آباد: حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا دورانیہ ہفتہ وار کرنے پر غور کر رہی ہے۔

حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا دورانیہ 15 روز سے کم کرکے ہفتہ وار کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس مقصد کیلیے اوگرا نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو خط لکھ دیے ہیں۔

اوگرا کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں ردوبدل ہفتہ وار بنیادوں پر کرنے پر غور کیا جارہا ہے، اسٹیک ہولڈرز سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنی تجاویز ارسال کریں، اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد اوگرا پٹرولیم ڈویژن کو اپنی تجاویز اور سفارشات بھیجے گا، تاکہ ان سفارشات کا جائزہ لے کر ان کو منظوری کیلیے اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی میں پیش کیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا آئی ایم ایف سے پٹرولیم لیوی وصولی 920 ارب روپے تک بڑھانے کا وعدہ

واضح رہے کہ پہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل ماہانہ بنیادوں پر کیا جاتا تھا، جس کی وجہ سے آئل انڈسٹری کو انوینٹری کی صورت میں نقصانات اٹھانا پڑتے تھے۔

آئل انڈسٹری کو نقصانات سے بچانے کیلیے قیمتوں میں ردوبدل کا دورانیہ کم کرکے 15 روز کر دیا گیا، جس کو مزید کم کرکے ہفتہ وار کرنے پر غور کیا جارہا ہے، اس طرح انڈسٹری کو نقصانات سے مزید بچایا جاسکتا ہے۔

The post پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر ردو بدل پر غور appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/yT5oa7A

موسمیاتی تبدیلی سے خواتین زیادہ متاثر، چیلنجز سے مل کر نمٹنا ہوگا، ایکسپریس فورم

 لاہور: موسمیاتی تبدیلی سے خواتین زیادہ متاثر ہو رہی ہیں، سیلاب متاثرہ علاقوں میں خواتین کے بے گھر ہونے‘ کم عمری کی شادی، ہراسمنٹ، زیادتی و دیگر جرائم میں اضافہ ہوناافسوسناک ہے، انہیں صحت، خوراک اور دیگر وسائل کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اسموگ سے نہ صرف خواتین بلکہ آنے والی نسلیں بھی متاثر ، دمہ اور ٹی بی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، ماحولیاتی تبدیلی ، اسموگ و دیگر مسائل کے بارے میں آگاہی دینا ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار شرکا نے ’’موسمیاتی تبدیلی اور خواتین پر اس کے اثرات ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں کیا۔ فورم کی معاونت کے فرائض احسن کامرے نے سرانجام دیے۔

ڈین فیکلٹی آف جیو سائنسز، جامعہ پنجاب پروفیسر ڈاکٹر ساجد رشید نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلی سمیت دیگر بڑے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت، غیر سرکاری تنظیموں، اکیڈیمیا، سول سوسائٹی سمیت معاشرے کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہے، اسموگ سے نہ صرف خواتین بلکہ آنے والی نسل بھی متاثر ہو رہی ہے، سانس کے ذریعے باریک زہریلے ذرات خون میں شامل ہو جاتے ہیں۔

ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے حمید اللہ ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کا نقصان سب کو ہو رہا ہے مگر خواتین اس سے زیادہ متاثر ہورہی ہیں، زیر زمین پانی کی کمی کی وجہ سے خواتین کو دور دراز علاقوں سے پانی بھرنا پڑتا ہے، جنگل کم ہونے کی وجہ سے لکڑیاں کاٹنے بھی دور جانا پڑتا ہے پی ڈی ایم اے کے پاس درکار عمل موجود ہے، ضلعی سطح پرڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ’ڈی ڈی ایم اے‘ موجود ہے جو ریسکیو 1122 و دیگر اداروں کے تعاون سے ہنگامی صورتحال میں کام کرتی ہے۔

نمائندہ سول سوسائٹی اسماء عامر نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے خواتین پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں لیکن اس طرف کسی کی توجہ نہیں ہے۔ لاہور میں اسموگ ایک بڑا مسئلہ ہے، ہر سال اسمارٹ لاک ڈاؤن سے خواتین کی مشکلات میں اضافہ کر دیا جاتا ہے، اس کا مستقل حل نہیں نکالا جاتا۔ انھوں نے کہا کہ سیلاب میں خواتین کو بدترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

The post موسمیاتی تبدیلی سے خواتین زیادہ متاثر، چیلنجز سے مل کر نمٹنا ہوگا، ایکسپریس فورم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/H4wfPMl

لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے 310 ایکڑ سے زائد رقبے کا پرمٹ منسوخ کردیا

  کراچی: لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) نے اسکیم 43 میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے 310 ایکٹر سے زائد رقبے کا پلان اور پرمٹ منسوخ کردیا۔

تفصیلات نے مطابق ایل ڈی اے نے اسکیم 43 میں واقع پرائیوٹ سیکٹر پروجیکٹس اور سوسائٹیز کا پرپوزلے آﺅٹ پلان اور ڈیولپمنٹ پرمٹ منسوخ کردیا، آﺅٹر ڈیولپمنٹ چارجز(او ڈی سی) کی عدم ادائیگی پرایل ڈی اے حکام نے  بڑی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے عوام الناس کو مذکورہ پرائیوٹ سیکٹر پروجیکٹس  ، سوسائٹیز میں کسی بھی قسم کا لین دین نہ کرنے کی بھی ہدایت کردی ہے۔

ایل ڈی اے کے مطابق ایس بی سی اے کو بھی مذکورہ پروجیکٹس کے نقشہ جات منظور نہ کرنے اور منظور نقشوں کو منسوخ کرنے کیلیے خط ارسال کیے جائیں گے۔

اعلامیے کے مطابق آﺅٹر ڈیولپمنٹ چارجز کیلئے جمع کرائے گئے پیشگی چیک باﺅنس ہوگئے جس پر متعلقہ بلڈرز کیخلاف قانونی کارروائی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) نے برسوں سے آﺅٹر ڈیولپمنٹ چارجز ادا نہ کرنے والے بڑے پرائیوٹ سیکٹر پروجیکٹس اور سوسائٹیز کے پروپوز لے آﺅٹ پلان اور ڈیولپمنٹ پرمٹ کو منسوخ کردیا ہے۔ اسکیم 43 میں مذکورہ پرائیوٹ سیکٹر پروجیکٹ اور سوسائٹیز واقع ہیں۔

دستاویزات کے مطابق 310 ایکٹر سے زائد رقبے پر مذکورہ پروجیکٹس موجود ہیں جن کے لے آﺅٹ کو منسوخ کیا گیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ پروجیکٹ جام چاکرو، دیہہ بند مراد اور مائی گڑھی میں ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جام چاکرو میں واقع شاہ میر اینڈ پسومل کی 25 ایکٹر اراضی جس کے لے آﺅٹ کی منظوری کی تاریخ 6 اکتوبر 2021 ہے۔

جس رقبے کی پرمٹ منسوخ کی گئی ہے اُن میں سما بلڈر کی مائی گڑھی میں واقع 12 ایکٹر 17 گھنٹہ اراضی ہے جس کے لے آﺅٹ کی منظوری 25 ستمبر2020ءکو دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ راشد حسین کی جام چاکرو میں 16 ایکٹر اراضی کے لے آﺅٹ کی منظوری24 جنوری 2020 کو دی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق ارشد اقبال کی جام چاکرو میں واقع 4 ایکٹر اراضی کی منظوری27 اکتوبر2020، کینال ویو فیزII کی جام چاکرو میں واقع 28 ایکٹر اراضی کے لے آﺅٹ کی منظوری17 جنوری 2022کو دی گئی تھی۔

اسی طرح ایم اقبال اینڈ برادرز کی جام چاکرو میں واقع کوم1،کوم2،کوم3،کوم4 اور کوم 5 کی24ہزار79 اسکوائر یارڈ کی علیحدہ علیحدہ پانچ اراضی جن کی منظوری14 اکتوبر 2021 ءکو دی گئی تھی، محمد شاہد کی دیہہ بند مراد میں واقع 14 ایکٹر39 گھنٹے اراضی کی منظوری7 دسمبر2021ءکو دی گئی تھی۔

سیدین ایسوسی ایٹس کی جام چاکرو میں 91 ایکٹر اراضی کی 18 جون 2021 ،گولڈن گلوبل کی جام چاکرو میں واقع 50 ایکٹر اراضی کی منظوری16 جون2021 جبکہ ارشد اقبال کی جام چاکرو میں واقع 39 ایکٹر20 گھنٹہ اراضی کی منظوری16 جون 2021ءکو دی گئی تھی اور جبکہ سید عمار الدین کو دیہہ بند مراد میں پیٹرول پمپ کیلئے ایک ایکٹر اراضی کی منظوری12 اکتور2021ءکو دی گئی تھی۔

ایل ڈی اے کے مطابق مذکورہ پرائیوٹ پروجیکٹس کے مالکان کی جانب سے ایل ڈی اے کو آﺅٹر ڈیولپمنٹ چارجز ادا نہ کئے جانے پر مذکورہ تمام افراد کی اراضی کا ڈیولپمنٹ پرمٹ اور پر پوزلے آﺅٹ پلان کو منسوخ کیا گیا ہے۔

سندھ حکومت محکمہ اطلاعات کے ذرائع کے مطابق ایل ڈی اے کی جانب سے اس سلسلے میں عوامی آگاہی کی درخواست کردی گئی ہے اور عوام الناس اور سرکاری ونیم سرکاری افراد کو مذکورہ اراضی پر کسی قسم کی خریدوفروخت نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔

ایل ڈی اے کے مصدقہ ذرائع کا بھی تصدیق کرتے ہوئے کہنا ہے کہ وزیر بلدیات اور ڈی جی ایل ڈی اے کی ہدایت پر ڈائریکٹر پلاننگ ولید بشیر نے نادہندہ بلڈرز کیخلاف کارروائی کا آغاز کردیا ہے اور اس سلسلے میں بلڈرز کی جانب سے او ڈی سی کیلئے جمع کرائے گئے پیشگی چیک جو کہ باﺅنس ہوچکے ہیں اس پر قانونی کارروائی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے بھی مذکورہ اراضی پر قائم پروجیکٹس کے نقشہ جات منظوری نہ کرنے اور جن کے منظوری کئے گئے ہیں ان کی منسوخی کیلئے لیٹر ارسال کیا جائے گا۔

The post لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے 310 ایکڑ سے زائد رقبے کا پرمٹ منسوخ کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/L07prZJ

Thursday, 23 November 2023

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 262 ادویات کی قیمتوں میں اضافہ پھر مسترد کردیا

 اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی  نے 262 ادویات کی ریٹیل قیمتوں میں اضافے کی سمری پھرمسترد کردی ہے جبکہ ربیع سیزن کیلئےحکومتی سطح پر ربیع سیزن 2023 کیلئے حکومتی سطح پر 2 لاکھ میٹرک ٹن یوریا درآمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق نگران وزیرخزانہ شمشاد اختر کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں 2 لاکھ میٹرک ٹن یوریا درآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

اعلامیہ نے ربیع سیزن کیلئے یوریا حکومتی سطح پرٹینڈرکےذریعےدرآمد کی جائےگی اورٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو اس سلسلے میں انتظامات کی ہدایت کی گئی ہے۔ وزارت توانائی کی دو یوریا پلانٹس کو گیس کی فراہمی سے متعلق سمری منظور کرلی ہے۔

ای سی سی نے پنجاب اورسندھ کیلئےکیش کریڈٹ حدکی بھی منظوری دیدی، جولائی تا ستمبر 2023 پنجاب کیلئے 540 ارب روپےاور سندھ کیلئےاسی مدت کے دوران 214 ارب روپےکیش کریڈٹ کی منظوری دی گئی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت قومی صحت نےڈرگ پرائسنگ کمیٹی کی سفارش پرسمری پیش کی، ای سی سی نے سفارشات کو نامکمل قرار دے کر پھر اعتراض لگا دیا۔ سمری میں 262 ادویات کی ریٹیل قیمتوں میں اضافے کی سفارش کی گئی تھی، جس کومسترد کردیا گیا ہے۔

اعلامیہ کے مطابق ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری پہلے بھی دو بار مؤخر ہو چکی ہے۔

اجلاس میں وزارتِ نیشنل ہیلتھ سروسز اینڈ ریگولیشن کی جانب سے 262 ادویات کی قیمتیں 15 سے 125 فیصد تک بڑھانے سے متعلق سمری پر بھی دوبارہ غور کیا گیا تاہم ای سی سی نے 262 ادویات کی ریٹیل قیمتوں میں اضافے  بارے  وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز کی طرف سےواضع سفارشات اور درکار اینالسز پیش نہ کرنے کے باعث  سمری کی پھر منظوری نہیں دی۔

ای سی سی نے پہلے بھی دو مرتبہ وزارت صحت اور ڈریپ کی سمری پر اعتراضات کیے تھے اجلاس میں حکومتی سطح پر ربیع سیزن 2023 کیلئے حکومتی سطح پر دو لاکھ ٹن یوریادرآمد کرنے ٹینڈر کی بنیاد پر موصول ہونیوالی پیشکشوں کا جائزہ لیا گیا، جس کے بعد ای سی سی نے معمول کے پروسیجر کے مطابق حکومتی سطح پر جی ٹو جی بنیاد پر ربیع سیزن کیلئے یوریا درامد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔

ای سی سی نے وزارت تجارت اور وزارت صنعت و پیداوار کو اس حوالے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو مزید ضروری اقدامات اٹھانے کی بھی ہدایت کی ہے۔ ای سی سی نے سندھ اور پنجاب کیلئے گندم خریداری کیلئے جولائی تا ستمبر 2023 کی کیش کریڈٹ کی حد بڑھانے کی کی بھی منظوری دیدی ہے۔

ای سی سی نے پنجاب کی گندم خریداری کیلئے جولائی تا ستمبر 2023 کی کیش کریڈٹ کی حد 540ارب روپے جبکہ سندھ کیلئے 214 ارب روپے کرنے کی منظوری دیدی ہے۔

ای سی سی نے پنجاب اور سندھ کو غیر محفوظ کموڈیٹی ڈیبٹ کو حل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مزید برآں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مستقبل میں فنانس ڈویژن پنجاب اور سندھ کی کیش کریڈٹ حد(سی سی ایل )کی ضرورت کی نگرانی کر سکتا ہے تاکہ اس بات کی مانیٹرنگ کی جاسکے کہ صوبے اپنے غیر محفوظ نمائش کے حل کے لیے اقدامات کر رہے ہیں اور یہ کہ تیس ستمبر 2023 کو رپورٹ کردہ غیر محفوظ کموڈیٹی ڈیبٹ  کے مطابق پنجاب اور سندھ کی غیر محفوظ کموڈیٹی ڈیبٹ ایکسپوژر کی حدتک سی سی ایل جاری کیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ پنجاب اور سندھ کیلئے اپریل تا جون 2023  کی سہہ کے سی سی ایل کی بھی توثیق کی گئی تھی جو پہلے ہی فنانس ڈویژن کی طرف سے جاری کی گئی تھی وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کی ایک اور سمری “ضلع جھل مگسی، بلوچستان میں واقع 17.71 مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط جھل مگسی ساؤتھ ڈویلپمنٹ اینڈ پروڈکشن لیز کے لیے مارجنل پالیسی پرائسنگ مراعات کی گرانٹ کے لیے درخواست” پر غور کیا گیا۔

ای سی سی کی طرف سے اس حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا کہ جھل مگسی ساؤتھ ڈی اینڈ پی ایل کو مارجنل گائیڈلائنز کے آرٹیکل D(3) کے تحت مارجنل فیلڈ قرار دینے کے کیس کا پہلے ہی جائزہ لیا جا چکا ہے اور اس کی اہلیت کو رعایت کے لیے تیسرے فریق کے آزاد کنسلٹنٹ سے بھی تصدیق کر دی گئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق لہذا، یہ مارجنل/اسٹینڈرڈ گیس فیلڈز-گیس پرائسنگ کرائیٹیرا اور گائیڈ لائنز 2013 کے تحت اجازت دی گئی گیس کی قیمتوں میں مراعات کے لیے اہل سمجھا جا سکتا ہے ان شرائط کے ساتھ کہ او جی ڈی سی ایل کوٹرا پی سی اے کو باضابطہ طور پر مارجنل پالیسی پرائس مراعات کو اپنانے کے لیے ضمنی معاہدہ جمع کرائے گا، اور یہ کہ میسز او جی ڈی سی ایل جھل مگسی جنوبی ڈی اینڈ پی ایل پر نظرثانی شدہ فیلڈ ڈویلپمنٹ پلان پیش کرے گا۔

The post اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 262 ادویات کی قیمتوں میں اضافہ پھر مسترد کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/g5yTNdI

پاکستان ایئرفورس کی پائلٹ مریم مختیار کی شہادت کو 8 برس بیت گئے

  کراچی: پاکستان ایئرفور س کی پہلی شہید خاتون پائلٹ،فلائنگ آفیسر مریم مختیار کی شہادت کو8 برس بیت گئے، انہوں نے لڑاکا طیارے کی تربیتی پرواز کے دوران جام شہادت نوش کیا تھا۔
18 مئی 1992 کوکراچی میں پید اہونے والی مریم نے ابتدائی تعلیم کے بعد مئی 2011میں پاک فضائیہ کے 132 ویں جی ڈی پائلٹ کورس میں شمولیت اختیار کی تھی۔

تربیت کے دوسرے مرحلے میں مریم پاک فضائیہ کے ان جانبازوں کی صف میں شامل ہونے جارہی تھیں جنھوں نے سن 65 اور71 کی جنگوں میں بہادری کی لازوال داستانیں رقم کیں۔

پی اے ایف رسالپور سے مریم کو فائٹر کنورشن کے لیے ایم ایم عالم ایئر بیس بھیجا گیا،جہاں مریم نے لڑاکا طیاروں کی تربیت حاصل کرنی شروع کی، مریم نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے افواج پاکستان میں شامل ہونے کو ترجیح دی تھی۔

24 نومبر2015کی صبح مریم اپنے انسٹرکٹر کے ہمراہ تربیتی پرواز پر روانہ ہوئیں،اسی دوران لڑاکا جہاز میں فنی خرابی پیدا ہوگئی،جس کی وجہ سے ان کے لیے جہاز سے باہر نکلنا لازم ہوگیا تھا۔

انتہائی مشکل اور قلیل وقت میں اپنی جان کا تحفظ مگر نیچے موجود دوسری انسانی جانوں کا بھی خیال، انہی مشکل حالات کے دوران مریم نے جام شہادت نوش کیا۔

The post پاکستان ایئرفورس کی پائلٹ مریم مختیار کی شہادت کو 8 برس بیت گئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2koWyBL

کوئٹہ میں 18 لاکھ روپے کی ڈکیتی کی واردات میں پولیس اہلکار ملوث نکلا

 کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے شارع اقبال پر 18 لاکھ روپے ڈکیتی کی واردات میں پولیس اہلکار بھی ملوث نکلا۔

تفصیلات کے مطابق شارع اقبال پر ڈکیتی کی واردات میں پولیس اہلکار بھی ملوث نکلا، ملزم نے اپنے دیگر تین ساتھیوں کے ساتھ ملکر دکاندار سے 18لاکھ روپے چھیننے تھے۔

ڈکیتی کے بعد تین ملزمان رقم لے کر فرار ہوئے تو دکاندار نے موقع غنیمت جان کر ساتھیوں کی مدد سے ایک ڈکیت کو پکڑ لیا، جو پولیس اہلکار نکلا۔

پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈکیتی میں ملوث اہلکار کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کیلیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

 

The post کوئٹہ میں 18 لاکھ روپے کی ڈکیتی کی واردات میں پولیس اہلکار ملوث نکلا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/OxEJqSN

Wednesday, 22 November 2023

سائفر کیس؛ چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش کرنے کا حکم

 اسلام آباد: سائفر کیس میں عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف کیس کی سماعت کی، جس میں شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری، خالد یوسف عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

دوران سماعت عدالتی عملے نے ہائی کورٹ فیصلے کی کاپی عدالت کو فراہم کی، جس کے بعد عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو منگل کے روز عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

The post سائفر کیس؛ چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش کرنے کا حکم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/Ysz28DU

وفاقی حکومت نے سول ایوی ایشن کو 2 حصوں تقسیم کردیا

 اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سول ایوی ایشن نے سول ایوی ایشن کو دو حصوں میں تقسیم کر کے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی اور سول ایوی ایشن کے محکموں کو علیحدہ کردیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق ایئرپورٹس پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی کا حصہ ہوں گے جبکہ لائسنسنگ، ایروردی نیس، فلائٹ اسٹینڈرڈ، ایئر ٹرانسپورٹ سمیت دیگر شعبہ جات اب سول ایوی ایشن اتھارٹی میں ہوں گے۔

اعلامیے کے مطابق پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ایکٹ 2023 کو نافذ کردیا گیا ہے جبکہ بتایا گیا ہے کہ دونوں محکموں کے سربراہ بھی الگ الگ ہوں گے۔

عالمی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے ایئرپورٹ سروس اور ریگولیٹری کو  توڑ کر 2 نئے محکمے بنانے کی ہدایت کی تھی۔ سول ایوی ایشن اور پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی کے ایکٹس کو 10 نومبر سے نافذ کردیا گیا۔

وزارت ہوابازی نے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کو الگ محکمے کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔ جس میں حکم دیا گیا ہے کہ سی اے اے اور ایئرپورٹس اتھارٹی سے ملازمین کی تعداد، اثاثوں سمیت دیگر تفصیلات فوری فراہم کی جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ حکومت نے سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ایئرپورٹ اتھارٹی کے دو الگ محکمے بنانے کے ایکٹس پارلیمنٹ سے منظور کیے تھے۔

The post وفاقی حکومت نے سول ایوی ایشن کو 2 حصوں تقسیم کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/gtu5TJQ

آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سے پہلے بجلی و گیس کی قیمتوں میں مزید اضافے کی تیاریاں

اسلام آباد: پاکستان کے ساتھ طے پانیوالے اسٹاف سطع کے معاہدے اور پاکستان کیلئے 70 کروڑ ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری کیلئے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 7 دسمبر کو متوقع ہے۔ 

دوسری جانب نگران حکومت نے معاشی پالیسیوں کے تسلسل کیلئے آئندہ آنے والی نئی حکومت کیلئے اکنامک بلیو پرنٹ تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے وزارتِ خزانہ زرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے نئے قرض پروگرام پر بات چیت شروع ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سے پہلے بجلی و گیس کی قیمتوں میں مزید اضافے کی تیاریاں کی جارہی ہیں، ڈیجیٹل مارکیٹس، پراپرٹی اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔

وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق رواں مالی سال 25 ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے خلیجی دوست ممالک، چین اور کمرشل بینکوں سے25 ارب ڈالر کی مدد لی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق نگران حکومت نے آئی ایم ایف کویقین دہانی کرائی ہے کہ عام انتخابات بروقت ہونگےجبکہ چین نے دو سال کیلئے مزید قرض رول اوور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ70 کروڑ ڈالرکیلئےآئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اجلاس 7 دسمبرکومتوقع ہے،اسٹاف لیول معاہدے کے بعد بورڈ اجلاس کیلئے 6 سے 8 ہفتے درکار ہوں گے، آئی ایم ایف کیساتھ معاہدے سے قبل رواں مالی سال کم ازکم مزید 10 لاکھ نئے افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق خلیجی دوست ملک سے1 ارب ڈالر، چینی ایگزم بینک سے 1.2 ارب ڈالر ملنے کی اُمید ہےجبکہ چین نے دو سال کیلئے مزید قرض رول اوور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہےاس کے علاوہ مہنگائی میں کمی کیلئے آئی ایم ایف کو سخت مانیٹری پالیسی کی یقین دہانی کرادی گئی اورڈالر کی نسبت روپے کو سہارا دینے کیلئے کسی قسم کی انتظامی مداخلت نہیں ہوگی۔

The post آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سے پہلے بجلی و گیس کی قیمتوں میں مزید اضافے کی تیاریاں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/XMyo0PU

Tuesday, 21 November 2023

90 فیصد پاکستانی ملکی سمت سے مطمئن نہیں

اسلام آباد: آئیپسوس کی جانب سے کرائے گئے کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس سروے کے مطابق صرف 10 فیصد پاکستانی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ملک درست سمت میں جارہا ہے اور معاشی مسائل ان کیلیے سب سے زیادہ پریشان کن ہیں۔

سروے کے نتائج ملک کے خراب حالات کی عکاسی کرتے ہیں، لیکن معیشت کو انتہائی کمزور سمجھنے والے افراد کی تعداد کم ہو کر 60 فیصد رہ گئی ہے۔

سروے کے مطابق مہنگائی، بیروزگاری اور غربت میں اضافہ پاکستانیوں کیلیے اہم ترین مسائل ہیں، 90 فیصد پاکستانیون کا خیال ہے کہ پاکستان کی سمت درست نہیں ہے، صرف 5 فیصد خواتین کو یہ اطمینان حاصل ہے کہ پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

18 سے 24سال تک کے ایج گروپ کے صرف 14 فیصد شہریوں کا خیال ہے کہ پاکستان کی سمت درست ہے، ایک تہائی سے زیادہ افراد کا خیال ہے کہ پاکستان کے حالات نہ اچھے ہیں اور نہ ہی برے ہیں،سروے کے دوران 60 فیصد ملکی معیشت کو خراب قرار دیا ہے جبکہ 35 فیصد افراد نے کسی بھی قسم کی رائے دینے سے گریز کیا۔

یہ بھی پڑھیں: فوج اعلیٰ ترین ادارہ اورعمران خان مقبول ترین سیاسی رہنما قرار، گیلپ سروے

سروے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر لوگوں کی معاشی حالت بہتر نہیں ہوئی ہے، 40 فیصد پاکستانیوں کا خیال تھا کہ ملکی معیشت اگلے چند ماہ کے دوران مزید کمزور ہوجائے گی جبکہ ایک چوتھائی افراد نے معاشی امور میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سے انکار کردیا، 92 فیصد شہری اپنی صلاحتیوں کے بارے میں احساس کمتری کا شکار ہیں، جبکہ باقی 8 فیصد مطمئن تھے، 98 فیصد پاکستانیوں کو بیش قیمت اشیاء کار، گھر وغیرہ خریدنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سروے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ گلوبل کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس میں سب سے نچلے درجے میں ہے، گلوبل کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس میں بھارت کا اسکور 64.1 ہے جبکہ پاکستان کا اسکور محض 31 ہے۔

The post 90 فیصد پاکستانی ملکی سمت سے مطمئن نہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/K37w8vs

جلد ٹیپ بال کا بھی ورلڈکپ ہوگا، سرفراز احمد

  کراچی: سابق ٹیسٹ کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ مقبولیت دیکھ کر اندازہ ہورہا ہے کہ جلد ٹیپ بال کا بھی ورلڈکپ ہوگا۔

کراچی ٹیپ بال پریمیئر لیگ کی ٹرافی کی تقریب رونمائی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سرفراز احمد نے کہا کہ ٹی20 کرکٹ بھی کراچی سے شروع ہوئی تھی، اب ٹیپ بال کرکٹ بہت تیزی مقبول ہورہی ہے، کراچی سے ایجاد ہونے والی  اس طرز کی کرکٹ ملک بھر میں کھیلی جارہی ہے۔

کراچی ٹیپ بال پریمیئر لیگ کا سیزن تھری یکم تا 16 دسمبر 2023 کراچی میں کھیلا جائے گا جس کی پلیئر ڈرافٹ اور ٹرافائی کی رونمائی کی تقریب منگل کو منعقد ہوئی جس میں جاوید میانداد اور سرفراز احمد بھی شریک تھے۔

مزید پڑھیں: سرفراز احمد ورلڈکپ میں قومی ٹیم کی پرفارمنس پر دل گرفتہ

تقریب کے مہمان خصوصی گورنر سندھ  کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ کراچی ٹیپ بال پریمئیر لیگ کا انعقاد خوش آئند عمل ہے۔ ٹیپ بال کراچی میں کرکٹ کا چہرہ ہے جو گلی کوچوں اور سڑکوں پر کھیلی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: سینٹرل کنٹریکٹ؛ 5 کھلاڑیوں کا اضافہ، سرفراز کی کیٹگری تبدیل

انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ لیگ نئے ٹیلنٹ ابھارنے کے لیے اہم ثابت ہوگی، کراچی میں نوجوان ٹیپ بال سے کھیل کر ہی آگے بڑھتے ہیں۔ صوبہ میں کرکٹ کے فروغ کے لیے ہرممکن تعاون جاری رہے گا۔

The post جلد ٹیپ بال کا بھی ورلڈکپ ہوگا، سرفراز احمد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/qfukKtT

گوجرانوالہ میں ڈاکوؤں نے بیٹے کی میت لے جانے والے باپ کو لوٹ لیا

گوجرانوالہ میں ڈاکوؤں نے بچے کی میت لے کر آنے والے باپ کو پولیس چوکی کے بالکل سامنے لوٹ کر تیس ہزار روپے سے محروم کردیا۔

تفصیلات کے مطابق گوجرانوالہ میں پسرور روڈ پر قائم پولیس چوکی جنڈیالہ باغولہ کے سامنے ڈکیتی کی واردات ہوئی جس میں چار ڈاکوؤں نے اسلحے کے زور پر بچے کی میت لے کر آنے والے رام پور کے رہائشی تنویر بھٹو کو لوٹا۔

تنویر بھٹی نے بتایا کہ وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ موٹرسائیکل پر نومولود بیٹے کی لاش لے کر گھر جارہے تھے کہ راستے میں ڈاکوؤں نے روکا اور پیسے و موبائل دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے ڈکیتوں کو ساری صورت حال بتائی اور ان کی منت سماجت کی مگر انہوں نے ایک نہ مانی۔

متاثرہ شخص نے بتایا کہ ڈاکوؤں نے تلاشی لے کر جیب سے تیس ہزار روپے اور دو موبائل فون نکالے اور پھر وہاں سے چلتے بنے۔

تنویر بھٹی نے بتایا کہ وہ رات گیارہ بجے اپنے دو بھائیوں کے ہمراہ موٹرسائیکل پر بچے کی لاش لے کر گھر جارہا تھا۔

The post گوجرانوالہ میں ڈاکوؤں نے بیٹے کی میت لے جانے والے باپ کو لوٹ لیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/am9qivN

خیبرپختونخوا میں پہلی بار خواجہ سراؤں کو تھانوں میں تعینات کرنے کا فیصلہ

 پشاور: خیبرپختونخوا میں پہلی بار خواجہ سراؤں کی پولیس میں تعیناتی اور تھانوں میں خصوصی ڈیسک قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پشاور میں خواجہ سراء کمیونٹی کی مسائل کو حل کرنے لئے پہلا ٹرانس ڈیسک گلبہار پولیس اسٹیشن میں بنا دیا گیا جہاں تعلیم یافتہ خواجہ سرا تعینات ہوگا، ڈیسک پر تعیناتی کے لئے پشاور پولیس نے خواجہ سرا ایسوسی ایشن سے تین نام مانگ لئے جنکی ویری فیکیشن کے بعد رواں ہفتے پشاور میں پہلی بار تھانے کی سطح پر خواجہ سراؤں کو درپیش چلینجز ، سکیورٹی صورتحال ، ایف آئی آر کے اندارج کے لئے خواجہ سرا بطور معاونت کار تعینات ہوگا۔

ایس ایس پی آپریشنز پشاور کاشف آفتاب عباسی نے ایکسپریس ٹربیون سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ سرا کمیونٹی کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ انکے لئے علیحدہ ڈیسک بنائیں جائیں، جس کی منظوری ہوگئی ہے خواجہ سرا کمیونٹی سے جیسے ہی نام ملیں گیں تین دنوں میں تعیناتی مکمل ہوجائے گی۔

کاشف عباسی نے بتایا کہ ضلع کی سطح پر خواجہ سراؤں کے تحفظ کے لئے کمیٹی بھی بحال کر دی گئی ہے، چھ رکنی کمیٹی کی سربراہی ایس ایس پی آپریشنز کرینگے جبکہ ایس پی سکیورٹی ، ایس پی فقیر آباد ممبر ہونگے ڈسٹرک کمیٹی میں خواجہ سراؤں کے دو نمائندہ بھی شامل کر لئے گئے یہ کمیٹی ہر ماہ اجلاس کرے گی۔

خواجہ سراؤں کے خصوصی ڈیسک کے قیام کے ساتھ ساتھ  پشاور میں پہلی بار خواجہ سراؤں کے لئے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں ضلع بھر کے خواجہ سراؤں نے شرکت کی۔

ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے ٹرانس کمیونٹی خیبرپختونخوا کی صدر آرزو نے بتایا کہ 2013 سے اب صوبہ خیبرپختونخوا میں 100 سے زائد خواجہ سرا قتل ہو چکے ہیں ، ٹرانسجینڈر پر تشدد کے واقعات میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے خوش آئند بات ہے کہ خواجہ سرا کمیونٹی کے خصوصی ڈیسک قائم ہونگے لیکن انکی لمبے عرصے تک بحالی ہونی چائیے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والی ٹرانسجینڈر ماہی گل نے بتایا کہ جب بھی کسی خواجہ سرا پر تشدد ہوتا ہے ایف آئی آر کا اندراج تو ہو جاتا ہے لیکن ملزمان جلد آزاد ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ سرا پشاور میں کھلی کچہری پہلا مرحلہ ہے، صوبہ بھر میں ماہانہ ایسے اقدامات ہوئے تو یقینی طور پر خواجہ سراؤں کو اپنی آواز اٹھانے میں نہ صرف مدد ملے گی بلکہ ان پر تشدد کے واقعات میں بھی کمی آئے گی۔

The post خیبرپختونخوا میں پہلی بار خواجہ سراؤں کو تھانوں میں تعینات کرنے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/VLObRIu

Monday, 20 November 2023

بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان، صارفین پر 40 ارب کا اضافی بوجھ پڑے گا

 اسلام آباد: ملک میں بجلی کی قیمت میں ایک بار پھر اضافے کا امکان ہے، جس سے صارفین پر 40 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

ذرائع کے مطابق ملک میں بجلی صارفین پر40ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں بجلی کی قیمت 3 روپے 53 پیسے فی یونٹ بڑھائے جانے کا امکان ہے۔

سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی  اے) کی  جانب سے بجلی مہنگی کرنے کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں درخواست دائرکردی  ہے۔ 3 روپے 53 پیسے فی یونٹ کا اضافہ اکتوبر 2023ء کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مانگا گیا ہے۔

بجلی مزید مہنگی کرنے کی  سی پی پی اے کی درخواست پرنیپرا29نومبرکو سماعت کرے گا۔ ذرائع کے مطابق  من وعن اضافےکاجی ایس ٹی سمیت بجلی صارفین پر تقریباً  40 ارب روپےکابوجھ پڑے گا ۔  بجلی کی قیمت میں اضافے کا اطلاق کےالیکٹرک صارفین پر نہیں ہوگا ۔

The post بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان، صارفین پر 40 ارب کا اضافی بوجھ پڑے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/RbG7Pxj

طلاق کے ڈیڑھ ماہ بعد ہی بشریٰ بی بی نے عمران خان سے شادی کرلی تھی، خاور مانیکا

 اسلام آباد: خاور مانیکا نے کہا ہے کہ طلاق کے ڈیڑھ ماہ بعد ہی بشریٰ بی بی نے عمران خان سے شادی کرلی تھی۔

نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں خاور مانیکا نے کہا کہ پنکی کو میں نے 14 نومبر 2017 کو فرح گجر کے ہاتھوں طلاق بھجوائی تھی، جس کے ڈیڑھ ماہ بعد ہی اُس نے پی ٹی آئی چیئرمین سے شادی کرلی۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتے تھے اور میں پنکی سے اُن کی ملاقاتوں پر شدید خفا تھا۔ ایک بار چیئرمین پی ٹی آئی گھر آئے تو نوکر سےکہہ کرباہر نکلوا دیا۔

خاور مانیکا نے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے درمیان دھرنے کے دنوں سے ہی ملاقاتیں شروع ہوگئیں تھیں، میری والدہ کہتی تھی کہ چیئرمین پی ٹی آئی اچھا آدمی نہیں اس لیے اُسے گھر نہیں آنے دیا کرو۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے پیری مریدی کے چکر میں ہمارا ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا، میری اور بشریٰ بی بی کی شادی 28 سال چلی اور ہماری زندگی بہت خوشگوار تھی مگر پھر چیئرمین پی ٹی آئی کے آنے کے بعد پنکی اُن سے رات کے وقت دیر تک فون پر باتیں کرتی تھی۔


خاور مانیکا کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کے کہنے پر فرح گوگی نے پنکی کو خفیہ نمبر فراہم کیے، بشریٰ مجھے بتائے بغیر چیئرمین پی ٹی آئی کے گھر چلی جاتی تھی اور عمران خان سے شادی سے چھ ماہ پہلے سے وہ علیحدہ ہوکر اپنے گھر میں رہ رہی تھی جس پر میں اُسے منانے کے لیے میکے بھی گیا اور ساتھ چلنے کو کہا مگر اُس نے خاموشی اختیار کی۔

انہوں نے کہا کہ ’پھر ایک روز فرح نے مجھے پیغام بھیجا کہ پنکی کو طلاق دیں جس پر میں نے بشریٰ کے پاس جاکر اُس سے طلاق کا پوچھا تو اُس کا سر جھکا ہوا تھا اور کوئی جواب نہیں دیا، میں نے فرح کے ہاتھ طلاق بھجوائی تو اُس نے کہا کہ طلاق کی تاریخ تبدیل کریں۔

خاور مانیکا نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی اور عمران خان کی شادی کا علم مجھے یا بچوں کو نہیں تھا، ہمیں اس حوالے سے ٹی وی اور اخبارات کے ذریعے ہی اطلاع ملی۔

The post طلاق کے ڈیڑھ ماہ بعد ہی بشریٰ بی بی نے عمران خان سے شادی کرلی تھی، خاور مانیکا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/5oc3Pdr

Sunday, 19 November 2023

آڈیو لیک اسکینڈل؛ جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی چیلنج کردی

 اسلام آباد: جسٹس مظاہر نقوی نے اپنے خلاف آڈیو لیک اسکینڈل میں سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی نے  سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی  ختم کرنے کی استدعا کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا آئندہ کارروائی کے لیے موصول نوٹس بھی غیر قانونی قرار دیا جائے۔

جسٹس مظاہر نقوی نے ایڈووکیٹ مخدوم علی خان کے ذریعے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی، جس میں سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اکیسویں آئینی ترمیم کیس میں سپریم کورٹ عدلیہ کی آزادی کو بنیادی آئینی ڈھانچے کا جزو قرار دے چکا ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: جسٹس مظاہر کا اپنے خلاف تشکیل دی گئی جوڈیشل کونسل پر اعتراض

درخواست میں کہا گیا ہے کہ  16فروری سے تضحیک آمیز مہم کا سامنا کر رہا ہوں۔ میرے خلاف میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے۔ میرے خلاف شکایت کنندگان عدلیہ پر حملہ آور ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صدارتی ریفرنس کیس میں یہ اصول طے کیا گیا کہ جج کو شفاف ٹرائل کا حق ملنا چاہیے ۔ سپریم جوڈیشل کونسل کا مجھے شوکاز نوٹس جاری کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

جسٹس مظاہر نقوی کی درخواست میں مزید کہا گیا کہ  شوکاز نوٹس کے بارے میں جاری کردہ پریس ریلیز میری رائے لیے بغیر جاری کی گئی۔ سپریم جوڈیشل کونسل کا پریس ریلیز جاری کرنے سے میرا میڈیا ٹرائل ہوا۔ میرے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو بدنیتی پر مشتمل قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے۔ جوڈیشل کونسل کا جاری کردہ شوکاز نوٹس خلاف قانون قرار دیا جائے۔

واضح رہے کہ آرٹیکل 184 کی شق 3 کے تحت دائر کی گئی اس درخواست کو کھلی عدالت میں سماعت کے لیے مقرر کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ 3 رکنی کمیٹی کرے گی۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت 3 رکنی کمیٹی کے سربراہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ ہیں۔ کمیٹی کے دیگر 2 ارکان میں جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: آڈیو لیک اسکینڈل : سپریم جوڈیشل کونسل کا جسٹس مظاہر کو شوکاز نوٹس

چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں اجلاس آج ہوگا، جس میں جسٹس مظاہر نقوی  کے تحریری جواب کا جائزہ لیا جائے گا۔ کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف شکایت کنندگان کو ذاتی حیثیت میں طلب کر رکھا ہے۔

جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف 10 شکایات جوڈیشل کونسل میں زیر غور ہیں ، جن میں جسٹس مظاہر نقوی پر مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جس پر سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو شوکاز نوٹس جاری کر رکھا ہے۔

دریں اثنا جسٹس مظاہر نقوی نے اپنے تحریری جواب میں سپریم جوڈیشل کونسل کے 3 ارکان پر اعتراض اٹھا رکھا ہے۔ آج ہونے والے اجلاس میں جسٹس سردار طارق مسعود کے خلاف شکایت پر بھی غور ہوگا۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس سردار طارق مسعود کے خلاف شکایت کنندہ کو بھی طلب کر رکھا ہے۔

The post آڈیو لیک اسکینڈل؛ جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی چیلنج کردی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/S2Fecqn

توشہ خانہ ریفرنس؛ نواز شریف کا 30 نومبر تک بیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت

 اسلام آباد: احتساب عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس میں نواز شریف کا 30 نومبر تک بیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت کردی۔

توشہ خانہ گاڑیوں کے ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت اسلام آباد میں ہوئی، جس میں جج محمد بشیر کے روبرو وکیل قاضی مصباح ایڈووکیٹ نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ نواز شریف کا دوران تفتیش بیان ریکارڈ نہیں ہوا۔

وکیل قاضی مصباح ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ  عدالت نیب کو نواز شریف کا بیان ریکارڈ کرنے کی ہدایت کرے۔ ہم چاہتے ہیں نواز شریف کا مؤقف نیب ریکارڈ کر لے، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ درخواست پڑھنے کا وقت دے دیں ۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس میں کیا مسئلہ ہے، نواز شریف کو بلا کر بیان ریکارڈ کرلیں ۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ہمیں سوالنامہ دے دیں، ہم بیان دے دیتے ہیں، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ تفتیشی افسر بیان ریکارڈ کرلیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ۔

بعد ازاں عدالت نے توشہ خانہ گاڑیوں کے کیس میں نواز شریف کا بیان قلمبند کرنے کی درخواست منظور کرتے ہوئے 30 نومبر تک بیان ریکارڈ کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی آئندہ سماعت 30 نومبر تک ملتوی کردی۔

The post توشہ خانہ ریفرنس؛ نواز شریف کا 30 نومبر تک بیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/IsoMRDd

بچے ہمارا مستقبل … انہیں فیصلہ سازی میں شامل کرنا ہوگا!

اقوام متحدہ کی جانب سے 1954ء میں پہلی مرتبہ بچوں کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا گیا جس کے بعد سے ہر سال 20 نومبر کو دنیا بھر میں ’بچوں کا عالمی دن‘ منایا جاتا ہے۔

اس دن کا مقصد بچوں کی تعلیم، صحت، ذہنی تربیت، تحفظ سمیت دیگر بنیادی انسانی حقوق یقینی بنانے کیلئے شعور اجاگر کرنا، اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا ہے اور اس کی روشنی میں آئندہ کیلئے مزید اقدامات کرنا ہے تاکہ دنیا کا بہتر مستقبل یقینی بنایا جاسکے۔

رواں برس بچوں کے عالمی دن کے موقع پر ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک خصوصی مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں حکومت، بچوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا۔ ان سے ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

ڈاکٹر شعیب اکبر

(سیکرٹری برائے انسانی حقوق پنجاب )

بچے صرف سٹیک ہولڈر نہیں بلکہ ’رائٹس ہولڈر‘ ہیں، وہ اپنے حقوق رکھتے ہیں جن کا تحفظ یقینی بنانا ریاست اور معاشرے کی ذمہ داری ہے۔

میرے نزدیک انسانی حقوق میں سب سے اہم بچوں کے حقوق ہیں، وہ انسان بھی ہیں اور انہوں نے معاشرے کا کارآمد شہری بھی بننا ہے لہٰذا ان کیلئے خصوصی حقوق اور خصوصی اقدامات ضروری ہیں۔ اگر تعلیم، صحت اور WASH پر خرچ کیا جائے تو اس کا فائدہ بھی بچوں کو ہوگا۔ موسمیاتی تبدیلی، سیلاب، قدرتی آفات وغیرہ سے بچے بری طرح متاثر ہوتے ہیں، اگر حکومت غیر متحرک رہے تواس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

1989ء میں اقوام متحدہ کا چارٹر برائے حقوق اطفال آیا تو پاکستان ان ممالک میں شامل تھا جنہوں نے سب سے پہلے اس کی توثیق کی۔ یہ وہ چارٹر ہے جس کی توثیق دنیا بھر میں تیزی سے ہوئی اور کسی کو اس کی افادیت سے انکار نہیں ہے۔

پنجاب میں گزشتہ 10 برسوں میں بچوں کے حوالے سے بہترین قانون سازی ہوئی ہے۔ گھریلو ملازمت، جبری مشقت، بھٹہ مزدوری سمیت بیشتر قوانین بنائے گئے اور بعض میں ترامیم بھی کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ بجٹ بھی خرچ کیا گیا، اس میں اضافہ بھی کیا گیا جس سے خاطر خواہ فائدہ ہوا ہے۔ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو صرف صوبائی ہیڈ کوارٹر میں تھا، اب اس کا دائرہ کار بڑھایا جا رہا ہے، آئندہ 2برسوں میں یہ ہر ضلع میں ہوگا، اس کیلئے کافی بجٹ درکار ہے، اسے بنانے میں بھی وقت لگتا ہے،ا س کی وجہ یہ ہے اس میں بہت ساری سہولیات ایک ساتھ یقینی بنانی ہیں جس پر تیزی سے کام جاری ہے۔

تعلیم اور صحت کا تعلق معاش سے ہے، ہمیں لوگوں کی معاشی حالت بہتر بنانی ہے۔ جنوبی پنجاب کے سکولوں میں بچیو ں کو وظیفہ دیا جاتا ہے، اسی طرح خصوصی بچوں کو بھی وظائف دیے جاتے ہیں۔ ہمیں طلبہ کو انٹرپرینیورشپ کی تعلیم دینی ہے تاکہ وہ اپنا روزگار کما سکیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو جدید تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ہے، انہیں صرف معیاری تعلیم ہی نہیں دینی بلکہ کریٹیکل تھنکنگ کی طرف راغب کرنا ہے۔

حکومت اکیلئے کام نہیں کر سکتی، بچوں کے حقوق و تحفظ یقینی بنانے کیلئے ریاست، ادارے، خاندان، والدین، معاشرہ سمیت ہر فرد کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ قومی اسمبلی میں پہلی مرتبہ پبلک ہیئرنگ ہوئی، اس میں خواتین، خواجہ سراء سمیت دیگر طبقات کے نمائندوں کو بلایا گیا۔چائلڈ پروٹیکشن پالیسی ہو یا کوئی اور اہم قانون سازی، اس میں تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت یقینی بنائی جاتی ہے۔

کوئی بھی قانون جن کے لیے بنایا جاتا ہے، اگر ان کی رائے اس میں شامل نہیں ہوگی تو وہ موثر نہیں ہوگا۔ موسمیاتی تبدیلی ہو یا بچوں کے حقوق، مسائل دور کرنے کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے آگاہی انتہائی اہم ہے۔ نصاب نظرثانی کمیٹی میں ماہرین و سٹیک ہولڈرز موجود ہیں،ا ن میںاقلیتوں کی نمائندگی بھی ہے، سب کی رائے لی جاتی ہے اور اس کے مطابق نصاب کو اپ گریڈ یا تبدیل کیا جاتا ہے۔ بچوں کے حقوق کے حوالے سے نصاب کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے، اس میں بنیادی انسانی حقوق بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔

افتخار مبارک

(نمائندہ سول سوسائٹی)

دنیا بھر میں 20 نومبر کوہر سال بچوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ رواں برس اس عالمی دن کا موضوع ہے ’ہر بچے کیلئے ہر حق‘۔ یہ انتہائی اہم موضوع ہے اور میرے نزدیک اس سے کوئی بھی انکاری نہیں ہوگا کہ بچوں کو ان کے تمام حقوق دیے جائیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے 1988ء میں بچوں کے حقوق کا عالمی چارٹر منظور کیا گیا۔

پاکستان کا شمار ان بیس ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے سب سے پہلے اس کی توثیق کی۔ پاکستان نے 1990ء میںاس کی توثیق کرکے دنیا کو یہ ثابت کردیا کہ پاکستان بچوں کے حقوق و تحفظ کے حوالے سے سنجیدہ ہے اور کام بھی کرنا چاہتا ہے۔

یہ معاہد ہ ریاست اور اقوام متحدہ کے درمیان ہے جس کے تحت ریاست یہ گارنٹی دیتی ہے کہ بچوں کے حقوق یقینی بنانے کیلئے وہ قانونی، مالی، انتظامی سمیت ہر ممکن اقدامات کرے گی۔بچوں کے حقوق کی بات کریں تو پاکستان میں اس معاہدے کے بعد سے بہتری آئی ہے۔ گزشتہ 10 سے 12 برسوں کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں وفاقی و صوبائی سطح پر بہترین قانون سازی ہوئی ہے۔ 2014ء میں مفت اور لازمی تعلیم کا قانون منظور کیا گیا۔

2016 ء میں چائلڈ لیبر کی روک تھام کیلئے دو قوانین بنائے گئے ۔ 2016ء میں بچوں پر جنسی تشدد، پورنو گرافی و دیگر جرائم کے حوالے سے کریمینل قوانین میں ترامیم کی گئیں جبکہ 2019ء میں ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ میں بچوں کی گھریلو ملازمت کی حوصلہ شکنی کی گئی اور سزائیں بھی رکھی گئی۔

یہاں یہ بات توجہ طلب ہے کہ پنجاب میں قانون سازی کے بعد رولز آف بزنس نہ بنانے کا رجحان فروغ پا گیا ہے جو نہیں ہونا چاہیے۔ اگر قوانین کے رولز بنا کر صحیح معنوں میں عملدرآمد کیا جائے تو اس کا خاطر خواہ فائدہ ہوگیا۔ بچوں کے حوالے سے ایک اور بات قابل تحسین ہے کہ 2017ء میں پہلی مرتبہ وفاقی سطح پر بچوں کے حقوق کا قومی کمیشن قائم کیا گیا جو ظاہر کرتا ہے کہ ریاست بچوں کے حقوق اور تحفظ یقینی بنانے میں سنجیدہ ہے۔

2004ء میں پنجاب میں لاوارث اور نظر انداز بچوں کا ایکٹ بنا مگر 20 برسوں میں اس کے رولز نہیں بن سکے۔ پارلیمانی سٹیک ہولڈرز تو قانون بنا کر اپنا کام کر دیتے ہیں مگر انتظامی عہدیداران کا رولز آف بزنس نہ بنانے کا رویہ بچوں کیلئے مسائل پیدا کر رہا ہے، میری تمام سٹیک ہولڈرز سے اپیل ہے کہ اس معاملے پر سنجیدگی سے کام کریں، محنت ضائع نہ ہونے دیں۔

بچوں کے حقوق میں تعلیم، صحت، تحفظ سمیت بیسیوں معاملات آتے ہیں جنہیں یقینی بنانے کیلئے بجٹ درکار ہوتا ہے۔ پنجاب میں چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو موجود ہے مگر اس کا دائرہ کار محدود ہے۔ بچوں کے حقوق کا تحفظ کسی ایک ادارے کا کام نہیں ہے۔ ا س میں پولیس، میڈیکو لیگل، صحت، عدلیہ، سوشل ویلفیئر، ایجوکیشن سمیت درجنوں اداروں کا کام بنتا ہے لہٰذا اداروں کے درمیان روابط اور انفارمیشن شیئرنگ کومثالی بنانا چاہیے۔

اگر سب مل کر کام کریں گے تو وسائل بھی بچیں گے اور بچوں کو صحیح معنوں میں تحفظ بھی ملے گا۔ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں جینڈر بجٹنگ گائیڈ لائنز موجود ہیں جن سے کافی فائدہ ہوا، اگر اسی طرز پر چائلڈ پروٹیکشن بجٹنگ گائیڈ لائنز، قوانین کے رولز آف بزنس اور عملدرآمد کا میکنزم بنایا جائے تو بہت فائدہ ہوگا۔

بچوں کے حقوق و تحفظ کے حوالے سے اگر بجٹ نہیں رکھا جائے گا تو ہماری نیک خواہشات اور جذبات پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ گزشتہ دس برسوں میں جدید قانون سازی تو ہوئی لیکن بدقسمتی سے ابھی تک چائلڈ پروٹیکشن پالیسی نہیں بنائی جاسکی۔

ہمیں یہی بتایا جاتا ہے کہ منظوری کیلئے کابینہ کو بھجوائی گئی ہے، مطالبہ ہے کہ اسے جلد از جلد منظور کرکے رولز آف بزنس بنائے جائیں۔ جس طرح قومی ایکشن پلان فار چائلڈ رائٹس بناگیا تھا، اسی طرح صوبائی سطح پر بھی جامع ایکشن پلان بنایا جائے تاکہ بچوں کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔

راشدہ قریشی

(نمائندہ سول سوسائٹی)

ماحولیاتی تبدیلی عالمی مسئلہ ہے جس سے ہمارا مستقبل ’بچے‘ شدید متاثر ہورہے ہیں۔ گزشتہ برس آنے والے سیلاب نے بھی بچوں کو بری طرح متاثر کیا۔

ہم نے سیلاب کے بعد ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے علاقوں میں کام کیا اور معلوم ہوا کہ وہاں سب سے زیادہ بری حالت بچوں کی تھی، وہ تو خود اپنا خیال نہیں رکھ سکتے، اپنی حفاظت نہیں کر سکتے تھے۔ یہ پانی برف کے پگھلنے سے آیا جو موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ اب سموگ بچوں کیلئے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے، بچے بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔

افسوس ہے کہ بڑوں کے کرموں کی سزا بچے بھگت رہے ہیں لہٰذا ہمیں کلائمیٹ ایکشن کی طرف جانا چاہیے اور مستقبل محفوظ بنانا چاہیے وگرنہ ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔افسوس ہے کہ ملک میں کلائیمیٹ ایکشن پالیسی موجود نہیں، ریاست کو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔

ماحولیاتی تبدیلی کو روکنے اور اس کے نقصانات سے بچنے کیلئے معاشرے میں آگاہی کی ضرورت ہے۔بچوں کو نیچر کی حفاظت، پانی کی قدر، ری سائیکلنگ جیسے رویوں کی تربیت کی جائے گی، اس سے معاشرے میں مثبت رویوں کو فروغ ملے گا اور سب کو فائدہ ہوگا۔

 سید حسن علی شاہ

(بچوں کا نمائندہ)

میں گورنمنٹ سکول کا طالب علم اور ساتویں جماعت میں پڑھتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسے فورمز میں ہماری شرکت ایک اہم موقع ہے کہ اپنی آواز ارباب اختیار تک پہنچا سکیں۔ بچوں کے حقوق کے عالمی چارٹرکا آرٹیکل 12 بچوں کو اظہار رائے کی مکمل آزادی دیتا ہے اور فریقین کو پابند کرتا ہے کہ ان کی عمر اور دماغی پختگی کے حساب سے ان کی رائے کو لازمی اہمیت دی جائے۔

میرے نزدیک اگر بچوں سے متعلق معاملات میں ان سے رائے لی جائے تو ان میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے، جو ان کے مستقبل کے لیے بہترین ہے لہٰذا والدین اور اساتذہ کو اس طرف توجہ دینی چاہیے، بچوں کو اپنی رائے کا اظہار کرنے دیں۔

ان میں اپنے حق کیلئے آواز اٹھانے کے رویے کو فروغ دیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومتی سطح پر بھی بچوں سے متعلق پالیسی یا قانون سازی میں ان کی رائے کو لازمی شامل کیا جائے۔

اداروں کو پابند بنایا جائے کہ وہ نہ صرف بچوں کی شمولیت یقینی بنائیں بلکہ ان کی رائے کا احترام بھی کیا جائے۔ میرے گھر میں بچوں سے رائے لی جاتی ہے، میں اپنے دوستوں میں بھی اس رویے کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہوں کہ وہ اپنے حق کیلئے بات کریں، بات کرنا برا نہیں ہے، اس میں تضحیک یا بدتمیزی کا پہلو نہیں ہونا چاہیے۔

عبیہہ بتول

(بچوں کی نمائندہ )

کم عمر بچوں سے گھریلو ملازمت کروائی جا رہی ہے۔ شاپنگ مالز، ریسٹورنٹ، پارکس وغیرہ میں خاندان کے ساتھ لازمی طور پر ملازم بچے ہوتے ہیں۔

یہ بچے معصوم ہیں، ان پر بدترین تشدد کیا جاتا ہے، تشدد سے اموات کے بیسیوں کیسز بھی سامنے آئے ہیں جو افسوسناک ہے۔ ہمیں بچوں کو ان کا حق دینے کیلئے گھریلو بچہ مزدوری کی حوصلہ شکنی کرنی جائے، یہ ناانصافی ہے لہٰذا ہمیں اس ظلم کے خلاف بھرپور آواز اٹھانی ہے اور ایکشن بھی لینا ہے۔ اس کیلئے سب سے اہم یہ ہے کہ بچوں سے متعلق قوانین میں موجود سقم کو  دور کیا جائے، رولز بنائے جائیں اور ان پر صحیح معنوں میں عملدرآمد کیا جائے۔ معاشرے کو بھی چاہیے کہ اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کریں، جہاں بھی بچوں پر تشدد دیکھیں، گھریلو ملازمت ہو یا کوئی اور کام، فوری طور پر چائلڈ پروٹیکشن ہیلپ لائن 1121پر اطلاع کریں۔

The post بچے ہمارا مستقبل … انہیں فیصلہ سازی میں شامل کرنا ہوگا! appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/HCQZDK3

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...