کراچی: سندھ حکومت نے 22 کھرب 44 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا، تنخواہوں میں 35 فیصد تک اور پنشن میں 17 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سندھ کا نئے مالی سال کا فنانس بل پیش کیا گیا جس کی سندھ کابینہ نے باضابطہ طور پر منظوری دے دی۔
مزید پڑھیں: سندھ کا بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائیگا
کابینہ نے گریڈ ایک سے سولہ تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد تک، 17 گریڈ سے 22 گریڈ تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد تک اور پنشن کی مد میں 17 فیصد اضافے کی منظوری دے دی۔
کابینہ اجلاس کے بعد سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بجٹ پیش کررہے ہیں کیوں کہ انہوں نے وزارت مالیات کا قلم دان اپنے پاس ہی رکھا ہے۔
انہوں ںے بتایا کہ اس اسمبلی میں انہیں بارہویں بار یہ بجٹ پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے، سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے باوجود بہتر بجٹ پیش کیا، اس وقت دنیا بھر کی معاشی صورتحال بہتر نہیں ہے۔
اجلاس میں پی ٹی آئی سندھ کے ارکان اسمبلی غیرحاضر رہے جب کہ ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی کے آنے کی توقع ہے۔ بجٹ اجلاس شروع ہونے پر اپوزیشن میں صرف ایک رکن عبد الرشید موجود تھے۔
سالانہ ترقیاتی اخراجات
نئے مالی سال کے لیے ترقیاتی اخراجات کی مد میں 689 ارب 60 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں، صوبائی اے ڈی پی کے لیے 380.5 ارب اور ضلعی اے ڈی پی کیلئے 30 ارب مختص ہیں۔ بیرونی معاونت کے منصوبوں کے لیے 266.691 ارب اور وفاقی پی ایس ڈی پی کیلئے 22.412 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
The post سندھ کا 22 کھرب 44 ارب کا بجٹ پیش، تنخواہوں میں 35 فیصد تک اضافہ appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/laIe5KV
No comments:
Post a Comment