Urdu news

Tuesday, 31 May 2022

درختوں کی کٹائی کیخلاف درخواست پرنوٹس جاری

 کراچی:  سندھ ہائی کورٹ نے ریڈ لائن بس منصوبہ کی تعمیر کے دوران بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کے خلاف درخواست پر چیف سیکریٹری، سیپا، ڈائریکٹر جنگلات، محکمہ تحفظ جنگل حیات، ڈی سی ملیر، کورنگی، ایڈمنسٹریٹر کراچی، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، سی ای او ملیر کنٹونمنٹ بورڈ اور سی ای او کورنگی کنٹونمنٹ بورڈ کو نوٹس جاری کردیے۔

جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو ریڈ لائن بنائے جانے کے دوران بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی،درخواست گزار شاہ نواز ایڈووکیٹ اور محسن عباسی ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ریڈ لائن کی تعمیرات کے دوران 30 ہزار سے زائد درخت کاٹے جارہے ہیں اور اب تک 2 ہزار درخت کاٹ دیے گئے ہیں، حکم امتناعی جاری کیا جائے۔

کراچی میں ماحولیاتی تبدیلیوںکے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، اگر مزید درخت کاٹے گئے تو ماحول خطرناک ہو جائے گا، درختوں کی کٹائی فوری روکی جائے، جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ فی الحال حکم امتناع جاری نہیں کریں گے، ریڈ لائن بھی تو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بن رہی ہے۔

عدالت نے چیف سیکریٹری، سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی، ڈائریکٹر جنگلات، وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ، ڈی سی ملیر، کورنگی، ایڈمنسٹریٹر کراچی، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، سی ای او ملیر کنٹونمنٹ بورڈ اور سی ای او کورنگی کنٹونمنٹ بورڈ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

The post درختوں کی کٹائی کیخلاف درخواست پرنوٹس جاری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/HObvqt7

الیکشن کمیشن کے دو نئے ممبران نے حلف اٹھالیا

 اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے دو نئے ممبران نے حلف اٹھا لیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن آفس کے کانفرنس ہال میں حلف برداری منعقد ہوئی جس میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے ممبر پنجاب بابر حسن بھراونہ اور ممبر کے پی کے جسٹس (ر) اکرام اللہ خان سے حلف لیا۔

تقریب حلف برداری میں الیکشن کمیشن حکام کے علاوہ ممبران کے اہل خانہ نے بھی شرکت کی۔

قبل ازیں پارلیمانی کمیٹی برائے تقرر الیکشن کمیشن اراکین کا ایاز صادق کی صدارت اجلاس کے دوران دونوں ممبران کی تقرری کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ جسٹس (ر) اکرام اللہ خان کا تعلق سوات اور بابر حسن بھروانا کا تعلق پنجاب کے ضلع جھنگ سے ہے۔

The post الیکشن کمیشن کے دو نئے ممبران نے حلف اٹھالیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/suXPYaI

وزیراعظم نے غریبوں کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کردیا

 اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے غریبوں کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کردیا جس کے تحت 20 کلو آٹے کا تھیلا کم ہوکر 800 روپے میں ملے گا۔

ایکسپریس نیوز کو موصول ہونے والے حکومتی ترجمان کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ بڑے ریلیف پروگرام کے تحت 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 950 روپے سے 150 روپے کم ہوکر 800 روپے جبکہ چینی کی قیمت 15 روپے فی کلو کم ہوکر 85 روپے کی جگہ 70 روپے کردی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: یوٹیلیٹی اسٹورز پر کوکنگ آئل کی قیمت میں 213 اور گھی کی قیمت میں 208 روپے فی کلو اضافہ

ریلیف پیکج کے تحت غیرشہریوں کو گھی، چاول اور دالوں پر بھی رعایت دی جارہی ہے۔  حکومتی ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ تاریخی ریلیف پیکج ہے جو سابق حکومت کے ریلیف کے مقابلے میں پچاس فیصد زیادہ ہے۔

حکومتی اعلامیے کے مطابق ریلیف پیکج پر یکم جون سے عمل درآمد شروع ہوجائے گا۔

The post وزیراعظم نے غریبوں کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/Da6ZMce

وزیراعظم شہباز شریف کا پاک ترک تجارتی حجم 5 ارب ڈالرز تک بڑھانے کا عزم

 انقرہ: وزیراعظم شہباز شریف نے عشائیے کے دوران خطاب کرتے ہوئے آئندہ 3 سال کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 5 ارب ڈالر تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ان خیالات کا اظہار منگل کی شب یونین آف چیمبرز اینڈ کموڈٹی ایکسچینجز آف ترکی (ٹی او بی بی) کے صدر رفعت حسارچِکولو کی طرف سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف ان دنوں ترکی کے تین روزہ سرکاری دورے پر انقرہ میں موجود ہیں، جہاں سرمایہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے ترک سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کا یقین دلایا۔

وزیراعظم نے پاکستان اور ترکی کی کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ آئندہ 3 سال کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 5 ارب ڈالر تک لے جانے کا عزم کرے، دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان تجارتی حجم 1.1 ارب ڈالر ہے جس کو باہمی مخلصانہ اور سنجیدہ کوششوں سے آئندہ تین سال کے دوران 5 ارب ڈالر تک لے جایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ہدف کے حصول کیلئے ہر ممکن سہولیات فراہم کریں گے، ترک سرمایہ کار پاکستان میں کلچر، موسمیاتی تبدیلی، آئی ٹی، ڈیری فارمنگ، ٹیکسٹائل اور توانائی سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، پاکستان ترک سرمایہ کاروں کا دوسرا گھر ہے، ترکی کے دشمن ہمارے دشمن ہیں۔

وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ترکی نے صدر طیب اردوان کی دانشمندانہ قیادت میں شاندار ترقی کی ہے، ترکی کی برآمدات 270 ارب ڈالر سے زیادہ ہیں، ترکی نے ڈیموں اور انفراسٹرکچر کی تعمیر پر توجہ مرکوز کی۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان عشروں پر محیط قریبی، تاریخی، دوستانہ تعلقات ہیں، ترکی کی جنگ آزادی میں برصغیر کے مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ یہ ان کی ترکی کے ساتھ والہانہ محبت کا ثبوت ہے، ہمارے آبائو اجداد کو ادراک تھا کہ ہمارے دوستانہ تعلقات ہمیشہ برقرار رہیں گے۔

وزیراعظم کے دورے کے موقع پر یونین آف چیمبرز اینڈ کموڈٹی ایکسچینجز آف ترکی (ٹوب) کی عمارت کے ٹاورز پر پاکستان اور ترکی کے بڑے بڑے پرچم آویزاں کئے گئے تھے۔

ٹوب کے صدر نے وزیراعظم کو اپنے ادارے کی جانب سے مقامی طور پر تیار کردہ الیکٹرک وہیکلز کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے مہمانوں کی کتاب پر اپنے تاثرات بھی قلمبند کئے۔

The post وزیراعظم شہباز شریف کا پاک ترک تجارتی حجم 5 ارب ڈالرز تک بڑھانے کا عزم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/OuCawKT

راولپنڈی میں معمولی جھگڑے پر معصوم بچوں کو قتل کرنے والا سفاک شخص گرفتار

راولپنڈی کے تھانہ رتہ امرال میں معمولی جھگڑے پر فائرنگ کرکے دو معصوم بچوں کو قتل کرنے والے سفاک ملزم کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق دو معصوم بچوں کے قتل کا افسوس نام واقعے کا مقدمہ 25 مئی کو چک مدد کے رہاہشی محمد طیب نے درج کرایا تھا،جس کے بعد پولیس نے ملزمان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سفاک ملزم کو گرفتار کرلیا۔

محمد طیب نے مقدمہ درج کراتے ہوئے بتایا کہ عشاء کی نماز کی ادائیگی کے لیے جارھے تھے کہ اچانک کامران شہزاد عرف ڈاکٹر جسکا دن کے وقت پندرہ سالہ سودیس اور حسیب سے معمولی جھگڑا ہوا تھا۔

اہل محلہ نے ڈاکٹر اور دونوں مقتول بچوں کا جھگڑا رفع دفع کرا دیا تھا لیکن شام کے وقت ملزم کامران سامنے آگیا اور بچوں کو دھمکیاں دیکر فائرنگ شروع کردی۔

فائرنگ کی زد میں آکر بچے شدید زخمی ہوئے اور موقع پر ہی دم توڑ گئے جب کہ ملزم جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا تھا۔

پولیس نے مقدمہ درج کرلیا اور تفتیش کرتے ہوئے ہیومن انٹلیجنس کی مدد سے ملزم کو گرفتار کرلیا۔

اس حوالے سے ایس ایچ او رتہ امرال زوہیب شاہ کا کہنا تھا کہ ملزم کامران شہزاد عر ف ڈاکٹر چوری و ناجائز اسلحہ کے متعدد مقدمات میں ریکارڈ یافتہ ہے۔

ایس ایس پی انوسٹی گیشن راولپنڈی سید غضنفر علی شاہ کا کہنا تھا کہ سفاک ملزم کی گرفتاری مقتولین کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی میں اہم ہے، ملز م کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔

 

The post راولپنڈی میں معمولی جھگڑے پر معصوم بچوں کو قتل کرنے والا سفاک شخص گرفتار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/MXKTi5p

حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

 اسلام آباد: حکومت نے آئندہ پندرہ روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کا اعلان کردیا۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ پندرہ روز کے لیے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 179 روپے 86 پیسے پر برقرار رہیں گی۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 174 روپے 15 پیسے، مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت 155 روپے 56 پیسے جبکہ لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 148 روپے 31 پیسے فی لیٹر برقرار رہیں گی۔

واضح رہے کہ چند روز قبل حکومت نے پیٹرول، ڈیزل، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں یک دم 30 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا تھا۔

The post حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/cdUJlqN

متوازن معاشرے کی بنیاد

معاشرے کی اخلاقیات آج جس تیزی سے بدل رہی ہیں اس میں تصور زندگی اور تصور عورت بڑی حد تک تبدیل ہو چکے ہیں۔

جو رسوم کبھی ہماری تہذیب میں بالکل اجنبی تھیں، عام لوگ اب ان کو اور ان کے کرداروں کو اپنانے، اس طرح بننے کی خواہش اور کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اگر ہم صنف نازک کی بات کریں، تو ہماری تہذیب اور روایات عورت کو، اس کی صلاحیتوں کو، ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں، بلکہ مشرق اسے ایک متوازن طرز حیات اور اجتماعی نظام عدل کی تشکیل میں ضروری سمجھتا ہے اور اس کے لیے ایک اخلاقی ضابطہ بھی مقرر کرتا ہے۔

عورت ، معاشی جدوجہد کے عنوان سے جو کردار ادا کر رہی ہے، اس میں اخلاقی ضوابط کا لحاظ بہرحال ضروری ہے۔ ورنہ معاشی ترقی ممکن نہیں۔ بحیثیت عورت ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ مشرقی معاشرے، مغرب کی طرح نہیں چل سکتے۔ ہماری اپنی روایات و اقدار اور رسوم و رواج ہیں، جنھیں کسی صورت چھوڑا نہیں جا سکتا۔ عورت کو عزت و احترام کی نظر سے جس طرح ہمارے معاشرے میں دیکھا جا تا ہے، وہ نہ کسی مغربی معاشرے میں ہے اور نہ کسی مذہب میں، وہ ہر رشتے اور تعلق میں مہربان اور شفیق ہے، ہماری نسلوں کو سنوارنے کی ذمہ داری مرکزی طور پر اسی کے کندھوں پر ہے۔

اگرچہ معاشی ترقی میں عورت کا کردار انتہائی اہم ہے، لیکن ہمیں یہاں اس پہلو کو بھی اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ س کی شرکت سے مراد یہی نہیں کہ وہ ضرور ہی گھر سے باہر نکل کر ملازمت کرے، وہ پس پردہ رہ کر بھی اپنا کردار بخوبی نبھا سکتی ہیں۔

گھر معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ جس کی مضبوطی، خاندان اور اس سے آگے بڑھ کر مستحکم معاشرے کی تشکیل میں خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ اگر ایک عورت گھر بیٹھے سلائی، کڑھائی، بُنائی، یا پکانے میں مہارت رکھتی ہے اور اپنے گھر کو چلانے کی بہترین استعداد رکھتی ہے، تو اس طرح وہ گھر کی خوش حالی کا باعث بنتی ہے۔

ضروری نہیں کہ آپ سماجی رنگوں میں رنگ جائیں اور اس کا جزو بنیں۔ آج کی گلیمرائزڈ دنیا کی ضرورت کہیں یا مجبوری کہ اس میں عورت کو سجا سنوار کر پیش کیا جاتا ہے۔ جس کی ہماری تہذیب میں ضرورت نہیں۔ اگر وہ گھر سے نکل کر معاش کے لیے محنت کر رہی ہے، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے تشخص کو پامال کیا جائے اور اس کی حیثیت کو کم کیا جائے۔

آج کی عورت بہ یک وقت مختلف میدانوں میں سرگرم عمل ہے۔ اگر ایک طرف اسے گھریلو محاذ پر کام کرنا پڑ رہا ہے، تو دوسری طرف بیرونی امور پر بھی وہ ڈٹی ہوئی ہے۔ اپنی جسمانی کیفیت اور کمزوریوں کے سبب اسے خوف و ہراس اور عدم تحفظ کے مسائل بھی درپیش ہیں۔

عورت کو اپنے وقار اور اعتبار کو بھی قائم رکھنا ہے اس کی عزت وتکریم جب تک برقرار ہے، جب تک وہ اپنے گھر کے دائرہ کار کو بھی اتنی ہی اہمیت دے۔ گھر کو گھر ہی رہنے دینا ہے، اسے سرائے نہیں بنائے۔ اسلام عورت کو عدل پر مبنی نظام عطا کرتا ہے۔ اسے معتبر کرتا ہے۔ عورت حقوق کے لحاظ سے تو مرد کی مساوی ہے لیکن فرائض کے حوالے سے مختلف ہے۔ جب فرائض کی آگاہی حاصل ہوتی ہے، تو حقوق خودبخود ملنے لگتے ہیں۔

بس یہ یاد رہے کہ عورت کو اپنا مقام حاصل کرنے کے لیے مرد بننے کی ضرورت نہیں، کیوں کہ یہ اٹل حقیقت ہے کہ دونوں ہی اصناف مختلف ہیں، یعنی کوئی تو مصلحت ہے قدرت کی، کہ ہر جگہ جوڑے بنائے، ورنہ خالق کائنات کو کیا مشکل تھا کہ وہ ایک ہی صنف میں ڈھال دیتا، اس لیے ہمیں فطرت کے اس تقاضے کو سمجھنا چاہیے اور اسے ہی سامنے رکھتے ہوئے تسلیم کرانا چاہیے کہ عورت عورت ہے اور مرد مرد ہے۔

ان دونوں کے دائرہ کار مختلف ہیں۔ نہ ان میں مقابلہ ہے، نہ مسابقت۔ اس لیے کوئی ’صنفی جنگ‘ نہیں ہونی چاہیے! دونوں کی ترجیحات کا تعین بھی ان کے معاشی و معاشرتی حالات کے مطابق ہوتا ہے۔ حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ خصوصاً خواتین کی تعلیم، صحت، تحفظ، ترقی کی پاس داری کرے۔ اس کا استحصال نہ کیا جائے۔ وہ اپنے گھر اور بچوں کی امین ہے ان کی پرورش اور تربیت کی ذمہ داری اس کے کندھوں پر ہیں، جو ایک ساتھ ناتواں بھی ہیں اور حالات کے بدلاؤ میں مضبوط بھی۔ وہ شیشے کی سے نازک بھی ہے، لیکن وقت کی رفتار کے ساتھ چٹان بھی بن جاتی ہے۔

جسمانی طور پر وہ کمزور سہی، لیکن جتنی قوت برداشت وہ رکھتی ہے، اس سے صَرفِ نظر ممکن نہیں۔ وہ سراپا وفا اور امانت دار ہے اور مرد اس پر نگراں، ایک اعتدال پسند معاشرے میں دونوں اصناف میں توازن بے حد ضروری ہے۔ ایک اچھے سماج میں عورت کا مقام بلند ہوتا ہے اور ساتھ اسے مکمل تحفظ اور امان بھی دی جاتی ہے۔

The post متوازن معاشرے کی بنیاد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/PzlcfmX

’سنی سنائی‘ کا علاج ’کہہ سن کر‘ کرلیں

’’آپ نے ایسا ہی کہا ہوگا۔۔۔!‘‘
’’ضرور یہی بات ہوگی، مجھے خود فلاں نے یہ بتایا ہے۔‘‘

اکثر ایسے بہت سے خدشات کا شوہر بیوی سے اور بیوی شوہر سے اظہار کرتے ہیں۔ ’سنی سنائی‘ بات پر فوراً یقین کر لینا اکثر بیگمات کا شیوہ بن چکا ہے، یہ گلہ کئی حضرات کی زبان سے سنا ہے، جب کہ خواتین یہ کہتی ہیں کہ ان کے شوہر کے کان کسی نے بھر دیے ہیں۔ زندگی میں نشیب و فراز تو چلتے رہتے ہیں، لیکن کسی کی باتوں میں آکر اپنے دل میں ایک دوسرے کے لیے غلط فہمیاں پال لینا کہیں کی عقل مندی نہیں ہے۔ لڑائی جھگڑے کس گھر میں نہیں ہوتے۔

انھیں آمنے سامنے بیٹھ کر بات کر کے معاملہ رفع دفع کیا جا سکتا ہے، لیکن ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے کہ ذرا سی دیر می کسی بھی بات کو انا کا مسئلہ بنا کر ایک دوسرے سے سنگین حد تک تعلقات خراب کردیے جاتے ہیں، اور بہت تیزی سے سارے معاملات طلاق تک پہنچ جاتے ہیں۔

سب سے پہلے تو ہم غلط فہمی کی بات کرتے ہیں کہ زوجین کے درمیان یہ الجھن کیسے جنم لیتی ہے۔ جب بیوی کسی دوسرے کی زبان سے سنے کہ اس کے شوہر نے اس کے بارے میں کچھ کہا ہے تو وہ اپنے دل میں خدشات کو جگہ دینے لگتی ہیں۔ یہ خدشات اور وہم اس کے دل میں اپنے شوہر کے مرتبے اور رتبے کو کم کرتے کرتے اس مقام پر لے آتے ہیں کہ وہ ان سے بہت زیادہ بدگمان ہو جاتی ہے اور اپنے خول میں سمٹتی چلی جاتی ہے۔

اگر اس وقت غلط فہمیوں کو دور نہ کیا جائے تو فریقین کی زندگیوں میں شدید تلخیاں اور دائمی فاصلے پیدا ہوسکتے ہیں۔ ہم اپنے گرد و نواح میں ایسے بہت سے واقعات دیکھے اور سنے ہیں کہ میاں بیوی کی آپس میں ناچاقی سے تعلقات خراب ہوئے اور وہ ناچاقیاں دراصل یہ غلط فہمیاں ہی ہوتی ہیں۔ شوہر کہتا ہے کہ اس نے یہ بات ایسے نہیں ایسے کی ہے بیوی کہتی ہے۔

اس نے فلاں کے سامنے یہ نہیں کہا اور نہ ایسی کوئی بات ہے۔ ان ساری باتوں کا آسان حل نکالنا چاہیے اور وہ یہ ہے کہ میاں بیوی افہام و تفہیم سے کام لیں اور کھلے دل سے آپس میں بیٹھ کر بات کریں۔ اس وقت اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ انھیں اپنے گھر کو بچانا چاہیے۔ انا کو بھول جائیں۔ کچھ باتیں بیوی کو مان لینی چاہئیں کہ اس نے یہ غلط کہا ہے اور کچھ شوہر کو خیال کرنا چاہیے کہ ہو سکتا ہے کہ بے خیالی میں اس نے بیوی کے لیے کوئی غیر مناسب الفاظ استعمال کیے ہوں۔

معافی مانگنے اور غلطی تسلیم کرنے سے کوئی چھوٹا نہیں ہو جاتا، بلکہ اس سے ایک دوسرے کے دل میں جگہ بنتی ہے، ورنہ آج کل بہت سی بال بچے دار خواتین کے طلاق لینے کی شرح بڑھ گئی ہے۔ ماں باپ میں سے کسی کا اتنا زیادہ نقصان نہیں ہوگا، جتنا اس کا بچوں کے مستقبل پر اثر ہوگا۔ معاشرے میں لوگ انھیں جینے نہیں دیں گے۔کبھی لوگ ان کے باپ پر الزامات لگائیں گے، تو کبھی ماں کے لیے غلط بولا جائے گا۔

بچے احساس محرومی کے ساتھ ساتھ بہت سی معاشرتی برائیوں میں بھی ملوث ہو جائیں۔ ان کے دل میں ماں باپ کے لیے کوئی خاص جگہ نہیں ہوگی اور ایسے بچے اپنی نجی زندگی بھی تباہ کر بیٹھتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ عورت میں صبر اور برداشت مرد سے زیادہ ہوتی ہے، اس لیے اسے ہی کوشش کرنی چاہیے کہ وہ پہلے مرحلے پر ہی اپنے گھر کو لوگوں کی شیطانیت سے بچا لے۔ کوئی اس کے دل میں شوہر کے لیے غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش بھی کرے، تو اسے چاہیے کہ اس سے پہلے غوروفکر کرلے، ممکن ہے کہ سنی گئی یا بتائی گئی بات غلط ہو یا ویسے نہ ہو جیسے پیش کی گئی ہے۔

پھر بھی ایسا محسوس ہو تو پہلے پیار محبت سے شوہر سے بات کرے اور اس سے پوچھے کہ یہ بات کس حد تک درست ہے۔ عورت جذباتی بھی بہت ہوتی ہے اور پھر جلد ہی شوہر کے معاملے میں شکی مزاج بھی بن جاتی ہے۔ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے سوچے سمجھے اور اس کے بعد اس بات کی تحقیق کرے جو ان دونوں کے درمیان غلط فہمی کی وجہ بنی ہے۔کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ ایسی بہت سی چھوٹی چھوٹی باتوں سے میاں بیوی میں علاحدگی ہو جاتی ہے اور پھر بعد میں پتا چلتا ہے کہ کوئی بات بھی ایسی نہیں تھی کسی نے غلط معلومات دیں تھیں۔

’’کاش! میں اس وقت سوچ لیتی اور ایسا قدم نہ اٹھاتی۔‘‘ یہ پچھتاوا اس کی زندگی کا روگ بن جاتا ہے۔اس لیے بہتر ہے کہ معاملات پہلے مرحلے پر ہی سنبھال لیے جائیں۔ چھوٹی چھوٹی باتیں آپس میں مل بیٹھ کر حل کی جاسکتی ہیں۔ کوئی قدم بھی جذبات میں نہ اٹھائیں۔ شوہر کو بھی چاہیے کہ وہ بیوی کے گلے شکوے سنے اور انھیں مثبت انداز میںوصول کرے، تاکہ اس کا آشیانہ بجہ ٹوٹنے سے بچ جائے۔ ورنہ یہ سمجھ لیجیے کہ غلط فہمیاں بپت تیزی سے آپس میں دوریاں پیدا کرتی ہے اور اس کے نتائج اچھے نہیں ہوتے۔

The post ’سنی سنائی‘ کا علاج ’کہہ سن کر‘ کرلیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/v0xjFRH

Monday, 30 May 2022

صوبائی وزیر عذرا پیچوہو کے شوہر کی گاڑی چھین لی گئی

کراچی: سابق صدر آصف علی زرداری کے بہنوئی کو قیمتی گاڑی سے محروم کردیا گیا۔

کراچی میں سابق صدر آصف علی زرداری کی بہن صوبائی وزیر عذرا پیچوہو کے شوہر اپنی قیمتی گاڑی سے محروم ہوگئے، فضل اللہ پیچوہو کی گاڑی ویگو کو نامعلوم افراد نے شاہراہ فیصل پر چھین لیا۔

واقعے کا مقدمہ ڈرائیور عبدالحنان کی مدعیت میں بہادرآباد تھانے میں درج کرلیا گیا۔

The post صوبائی وزیر عذرا پیچوہو کے شوہر کی گاڑی چھین لی گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/esz7FGR

بس مالکان کی من مانی، حکومت سرکاری کرایہ نامے کا اطلاق کرے، شہری

 کراچی: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد شہر میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ مالکان نے کرایوں میں من مانا اضافہ کردیا۔

بسوں،منی بسوں،رکشا، ٹیکسی اور9 سینٹرسی این جی رکشوں کے کرائے بھی بڑھ گئے، انٹر، انٹرا سٹی بس مالکان نے بھی خودساختہ کرائے بڑھادیے، گڈز ٹرانسپورٹرزنے مال بردارگاڑیوں کے کرائے30فیصد بڑھانے کاعندیہ دے دیا،کرایوں میں اضافہ یومیہ بنیاد پرسفرکرنے والے شہریوں اوراندرون صوبہ واندرون ملک سفرکرنے والوں کے لیے اضافی مالی بوجھ ثابت ہوگا۔

پٹرول،ڈیزل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے پرکراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے آج(منگل)ہنگامی اجلاس طلب کرلیا،گڈزٹرانسپورٹرز نے30فیصد کرائے بڑھانے کا عندیہ دے دیا۔

شہریوں نے کہا کہ ایندھن کی بے لگام قیمتوں اورمن مانے کرایوں نے پبلک ٹرانسپورٹ سے سفرکرنے کے قابل بھی نہیں چھوڑا، حکومت سرکاری کرایہ نامے کا اطلاق کرے مہنگائی کی چکی میں پسے شہری مزید معاشی بوجھ تلے دب گئے، پیٹرول،ڈیزل کے کرایوں میں حالیہ اضافے کے اثرات شہرمیں چلنے والی ٹرانسپورٹ پر نمودار ہوناشروع ہوگئے،بس وکوچ،رکشا اورٹیکسی مالکان نے کرائے بڑھادیے،جس سے شہریوں کی معمولات زندگی بری طرح متاثرہورہی ہے،اوروہ اضافی کرائے اداکرنے پر مجبور ہوگئے۔

شہریوں کی بہت بڑی تعداد سفرکے لیے پبلک ٹرانسپورٹ پرانحصارکرتی ہے موجودہ صورتحال پرشہریوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے ان کا کہناہے کہ ایک جانب بے لگام مہنگائی اوراس حکومتی اقدام کے بعد اضافی کرایوں کی وجہ سے پیداہونے والی صورتحال کے باعث وہ بسوں میں سفرکرنے کے قابل بھی نہیں رہے۔

شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ٹرانسپورٹرزکی طرف سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی آڑمیں کئی گنا زائد کرائے وصول کیے جارہے ہیں،حکومت عوام کوسفری سہولیات فراہم کرنے کیلئے اقدامات کرے،شہر کے مختلف علاقوں میں آمدورفت کے لیے بس،کوچ،رکشہ اورٹیکسی مالکان نے من مانے کرائے مقررکردیے۔

انہوں نے کہا کہ یومیہ بنیاد پرکام کرنے والاطبقہ پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ایسے میں یہ حالات دہرے عذاب سے کم نہیں ہے،حکومت سرکاری کرایہ نامہ کا اطلاق کرے،شہر میں یومیہ بنیاد پرپبلک ٹرانسپورٹ سے سفرکرنے والے شہریوں سے پبلک ٹرانسپورٹرزکم سے کم 10روپے جبکہ زیادہ سے زیادہ 25روپے اضافی وصول کیے جارہے ہیں، 9سینٹررکشوں کے کرائے بھی بڑھ گئے جبکہ سی این جی رکشہ کے کرایوں میں کم سے کم 50روپے اورزیادہ سے زیادہ 100روپے اضافہ کردیا گیا۔

ذرائع کے مطابق شہر میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ،اندرون صوبہ اوراندرون ملک کے مختلف شہروں کو جانے والی اے سی اورنان اے سی بسوں کے علاوہ مال برداری میں استعمال ہونے والے ہیوی ٹرانسپورٹ حتی کے شہر میں لوڈنگ کے لیے استعمال ہونے والی چھوٹی پک اپ کے کرایوں میں بھی اضافہ کردیا گیا، انٹرسٹی اورانٹراسٹی کے اے سی اورنان اے ایس بس مالکان نے بھی کرائے بڑھادیے۔

کراچی سے دیہی سندھ کے مختلف اضلاع میں کم فاصلے کے کرایوں میں 100جبکہ زیادہ فاصلے کے کرائے پہلے کے مقابلے میں 400روپے تک بڑھ گئے،ہیوی ٹرانسپورٹ کے ذریعے سامان کی ترسیل کرنے والے ٹرانسپورٹرز نے 25سے30ہزارروپے بڑھا دیے،پہلے جہاں سامان کی منتقلی کی مد میں ایک لاکھ روپے وصول کیاجاتاتھا، اب ایک وہ بڑھ کرایک لاکھ 30ہزارروپے ہوگئے۔

جنرل سیکریٹری کراچی گڈز کیریئر ایسوسی ایشن امدادحسین نقوی کے مطابق ان کی تنظیم نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ ملک بھرمیں سپلائی پرمامورمال بردارگاڑیوں کے کرایوں میں 30فیصد اضافہ کردیا جائے کیونکہ موجودہ ایندھن کی قیمتوں کے ساتھ کاروبارچلانا کسی طورممکن نہیں ہے۔

سندھ ایئرکنڈیشن بس اونرایسوسی ایشن کے ترجمان کامران منہاس کاکہنا ہے کہ ان کی جانب سے انٹرسٹی بسوں کے کرائے بڑھادیے گئیکیونکہ حکومتی سطح پرانھیں کوئی دوسرا ریلیف دستیاب نہیں ہے، اس صورتحال کے بعد کرایوں میں اضافے کے سواکوئی راستہ نہیں بچتا۔

کراچی ٹرانسپورٹ اتحادکے رہنما حاجی تواب خان کے مطابق آج(منگل)کوان کے اتحاد میں شامل نمائندہ تنظیموں کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے،جس میں ممکنہ طورپرکرایوں میں اضافے کے حوالے سے اتحاد میں شریک نمائندہ تنظیموں سے مشاورت کی جائیگی۔

ان کا کہنا ہے کہ ہفتے کو صوبائی وزیرشرجیل میمن سے ملاقات ہوچکی ہے جبکہ 3جون کو ایک ملاقات دوبارہ ہوگی،جس میں وہ صوبائی حکومت کوتفصیلات فراہم کریں گے، حاجی تواب کے مطابق گزشتہ 11برسوں سے کراچی میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کوئی سرکاری اضافہ نہیں کیا گیا۔

The post بس مالکان کی من مانی، حکومت سرکاری کرایہ نامے کا اطلاق کرے، شہری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/BQyYqmh

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی شہباز شریف کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد

 اسلام آباد: 

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف اور برطانوی ہم منصب بورس جانسن کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے شہبازشریف کووزارت عظمیٰ کاعہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی، انہوں نے برطانیہ کا پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کومزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔

وزیراعظم شہبازشریف نے بورس جانسن سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان برطانیہ کيساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے، انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور دیگر شعبوں میں تعلقات کے لیے روڈ میپ تیار کرنے کی تجویز بھی دی۔

شہباز شریف نے برطانوی وزیراعظم سے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دینے کا کہا اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کو بھی اجاگر کیا۔

دونوں وزرائے اعظم نے یوکرین کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا، انہوں نے افغانستان میں امن اور استحکام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی معیشت کو سنبھالنے کے لیے منجمد اثاثے فوری بحال کیے جائیں۔

The post برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی شہباز شریف کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/KcMTFUE

اسلام آباد میں سفاک باپ نے بیٹی اور جواں سال بہن کو فائرنگ کرکے قتل کردیا

 اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں سفاک والد نے اپنی بیٹی اور بہن کو رشتے اور جائیداد کے تنازعہ پر بہیمانہ طریقے سے قتل کردیا

ایکسپریس نیوز کے مطابق کے مطابق واقعہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تھانہ نیلور کی حدود میں پیش آیا جہاں سفاک باپ نے بہن اور بیٹی کو جائیداد کے تنازعہ پر اندھا دھند فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم خضر حیات فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہوگیا جس کی تلاش جاری ہے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر ناصر خان نے ایس پی رورل سے رپورٹ طلب کرلی ہے اور ملزم کو تلاش کرنے کےلیے خصوصی ہدایت جاری کردیں ہیں۔

وقوعہ تھانہ نیلور کے علاقہ سوٹی دی پڑی، چراہ چوک میں پیش آیاجہاں ملزم خضرحیات نے اپنی جواں سالہ بہن پروین اور بیٹی مریم کو فائرنگ کرکے قتل کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دوہرے قتل کا دلخراش واقعہ رشتے اور جائیداد کے تنازع پر پیش آیا۔

دونوں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے جب کہ ملزم کی گرفتاری کیلئے پولیس ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے اور وقوعہ کی مزید تفتیش جاری ہے۔

The post اسلام آباد میں سفاک باپ نے بیٹی اور جواں سال بہن کو فائرنگ کرکے قتل کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/PloUxfh

اسرائیل کا دورہ کرنے والے پی ٹی وی اینکر کو برطرف کر دیا، مریم اورنگزیب

 اسلام آباد: وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے بتایا ہے کہ اسرائیل کا دورہ کرنے والے پی ٹی وی اینکر کو برطرف کر دیا گیا ہے۔

پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ فلسطین کی حمایت میں پاکستانی پالیسی میں کوئی تبدیلی آئی ہے اور نہ آئے گی، فلسطین پر پاکستان کی ریاستی پالیسی واضح اور بابائے قوم قائداعظم کے فرامین پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کے منافی کوئی پالیسی یا اقدام نہیں ہوسکتا، پاکستان مسئلہ فلسطین اور اسرائیل سے متعلق اپنے روایتی اور اصولی موقف پر سختی سے کاربند ہے جبکہ وزارت خارجہ واضح کرچکی ہے کہ پاکستان سے کوئی وفد اسرائیل نہیں گیا۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق فلسطینیوں کے استصواب رائے کے حق کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور دنیا دو ریاستی حل کو خطے میں پائیدار امن کا ضامن تصور کرتی ہے، 1967 سے پہلے کی سرحدوں، بیت المقدس دارالحکومت اور جغرافیائی وحدت کی حامل فلسطینی ریاست کا وعدہ پورا کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ فلسطین اور جموں وکشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر دیرینہ ترین امور ہیں جن کا حل عالمی برادری کی ذمہ داری ہے، ان دونوں مسائل کے منصفانہ حل تک دنیا میں پائیدار امن ایک خواب ہی رہے گا، مقبوضہ فلسطین اور غیرقانونی طور پر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کے عوام کی منصفانہ جدوجہد کی ہرممکن حمایت جاری رکھیں گے۔ سستی سیاسی شہرت کے لیے ہر منفی اقدام کرنے والے کسی قومی مفاد کا تو خیال کریں۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ دورے میں شامل پی ٹی وی کے اینکر کو ٹرمینیٹ اور آف ائیر کر دیا گیا ہے، مذکورہ اینکر اپنی ذاتی حیثیت میں دورے پر گیا تھا۔

The post اسرائیل کا دورہ کرنے والے پی ٹی وی اینکر کو برطرف کر دیا، مریم اورنگزیب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/ldfoVNO

سندھ کے کسان پانی کے سنگین بحران کا سامنا کر رہے ہیں، وزیر اطلاعات سندھ

 کراچی: وزیر اطلاعات سندھ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف پانی کے معاملے میں مداخلت کریں، تاکہ سندھ کو مناسب حصہ ملے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ارسا 1991 کے پانی کے معاہدے کے مطابق سندھ کو پانی کا حصہ دینے میں ناکام رہا ہے۔ جس کے باعث سندھ کے کسان پانی کے سنگین بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وزیر آبپاشی سندھ جام خان شورو نے یہ مسئلہ متعدد بار وفاقی حکومت کے سامنے اٹھایا، لیکن صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی ۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان پانی کے معاملے میں مداخلت کریں، تاکہ سندھ کو مناسب حصہ ملے ۔

The post سندھ کے کسان پانی کے سنگین بحران کا سامنا کر رہے ہیں، وزیر اطلاعات سندھ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/EQzClgt

پشاور میں مکان کے باہر بارودی مواد کا دھماکا، خاتون سمیت 2افراد زخمی

پشاور کے علاقے یکہ توت کوہاٹی گیٹ میں مکان کے باہر بارودی مواد کے دھماکے سے خاتون سمیت دو افراد معمولی زخمی ہوگئے۔

پولیس کے مطابق دھماکے میں 400 گرام بارود استعمال ہوا جبکہ واقعہ کی تفتیش جاری ہے، میگنٹ بم مکان کے گیٹ پر نصب کیا گیا تھا۔

خاتون سمیت دو افراد مکان کے شیشے ٹوٹنے سے زخمی ہوئے جبکہ گھر کو جزوی نقصان پہنچا۔

The post پشاور میں مکان کے باہر بارودی مواد کا دھماکا، خاتون سمیت 2افراد زخمی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/KUtPsLb

سیاسی قیادت کو آپس کی لڑائیاں ختم کرکے اصل مسائل حل کرنے چاہئیں، اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ سیاسی قیادت کو آپس کی لڑائیاں ختم کرکے اصل مسائل حل کرنے چاہئیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے صحافیوں کے خلاف ملک بھر میں درج مقدمات کے خلاف کیسز پر سماعت کی۔ صحافی ارشد شریف ، معید پیر زادہ ، سمیع ابراہیم ، عدالتی معاون و اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر ثاقب بشیر عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا وجہ ہے جو حکومت میں آتا ہے پچھلے والی باتیں بھول جاتا ہے، بلوچ طلبہ کو کل والے ڈنڈے مار رہے تھے آج بھی ان کی کوئی آواز نہیں ، ریاست کی کوئی ذمہ داری ہے؟ لاپتہ افراد کی کوئی آواز نہیں ہے۔

سیکریٹری داخلہ کی جانب سے عدالت کے سامنے جواب جمع نہیں ہو سکا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جتنی اقتدار کی جنگ کے لیے لگے ہوئے ہیں اتنے سے آدھے بھی زور لگا لیں تو ان کے مسائل حل ہو سکتے ہیں، بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ریاست خود اپنا کردار ادا نہیں کرتی ، سیاسی قیادت کو آپس کی لڑائیاں ختم کرکے اصل ایشوز کے حل کی طرف آنا چاہیے ، حکومت کو چاہیے کہ ایسا میکنزم بنا لے کہ اگر کسی صحافی کے ساتھ مسئلہ ہو تو ایک ہی جگہ اس کے خلاف شکایت درج ہو۔

عدالت نے صحافیوں کیخلاف کارروائیوں سے متعلق میکنزم بنانے کے لیے تجاویز طلب کرلیں اور ثاقب بشیر کی جمعہ تک وقت دینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت جمعہ تک ملتوی کردی۔

The post سیاسی قیادت کو آپس کی لڑائیاں ختم کرکے اصل مسائل حل کرنے چاہئیں، اسلام آباد ہائیکورٹ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/Lo7kJv1

Sunday, 29 May 2022

تیز رفتاری اور غلط سمت ڈرائیونگ سے حادثات بڑھ گئے

 کراچی:  شہر میں غلط سمت ڈرائیورنگ، تیزرفتاری اور ٹریفک قوانین کی دیگر خلاف ورزیوں کے باعث حادثات میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔

شہریوں میں ٹریفک قوانین سے عدم آگاہی اورٹریفک پولیس کی عدم دلچسپی کے باعث پورے شہر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کا کلچر جڑ پکڑ چکا ہے، ٹریفک انجینئرنگ بیورو میں فنڈز نہ ہونے کے باعث روڈ سیفٹی ایجوکیشن پروگرام غیر فعال ہے۔

شہرمیں فلائی اوورز، انڈرپاسزاوریوٹرن کی تعمیر سے شاہرائیں سگنل فری ہوگئی ہیں جبکہ گزشتہ 20سال میں تعمیرات کے دوران بیشتر شاہراہوں سے سروس سڑکیں بھی ختم کردی گئیں۔

فلائی اوورز، انڈر پاسز تعمیر ہوئے جس کے بعدکئی سڑکیں سگنل فری کو ریڈر بن گئیں اور ہر سڑک پرکافی فاصلے پرجاکر یوٹرن دیاگیا، اس دورا ن کسی شہری ادارے نے شہریوں کو ذمے دار بنانے اور ٹریفک قوانین سے آگاہی کرنے کے لیے روڈ سیفٹی ایجوکیشن پروگرام چلانے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔

شہری وقت اور ایندھن کی بچت کے لیے شاہراہوں و سڑکوں پر شارٹ کٹ کے لیے غلط سمت اختیار کرنے لگے جس سے ٹریفک حادثات میں بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے، اس کے علاوہ ٹریفک پولیس کی غفلت، سڑکوں کی انجینئرنگ ڈیزائن میں خرابی اور سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ بھی حادثات کی بڑی وجہ ہے۔

ٹریفک پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ رانگ وے موومنٹ کی خلاف ورزی اب عام بات ہوگئی ہے، بڑوں کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتا دیکھ کر نوجوان نسل بھی فخر کے ساتھ ٹریفک سگنل توڑتی ہے اور رانگ وے ڈرائیونگ کرتی ہے، بیشتر شہری غلطی کی نشاندہی پر مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں اور اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے، ٹریفک حادثات کی دیگر وجوہات میں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اہم سبب ہے۔

انھوں نے کہا کہ رانگ وے موومنٹ اور دیگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی روک تھام کی اصل ذمے داری بلاشبہ ٹریفک پولیس کی ہے کہ وہ قوانین کو سختی کے ساتھ نافذ کرے لیکن اس وقت پانی سر سے اونچا ہوگیا ہے اور ٹریفک لاقانونیت معاشرے کا کلچر بن چکا ہے۔

ٹریفک ماہرین کے مطابق شہر میں 20 سال کے دوران اربوں روپے کے ترقیاتی کام ہوئے تاہم چند لاکھ روپے خرچ کرکے روڈ سیفٹی کی تعلیمات عام کرنے کیلیے شہریوں میں ٹریفک شعور پیدا نہیں کیا گیا جس کے باعث پہلے سے قائم ٹریفک کی خلاف ورزیوں میں مزید اضافہ ہوا۔

ماہرین نفسیات و سماجیات کے مطابق شہرمیں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی معاشرے کا کلچر بن چکی ہے، اگر علما واساتذہ، سیاسی وسماجی رہنماؤں اور میڈیاکی معاونت کے ذریعے ہنگامی بنیاد پر روڈ سیفٹی سے متعلق آگہی کو عام کیا جائے تو نہ صرف ٹریفک حادثات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے بلکہ شہر میں ٹریفک جام کے مسئلہ کو بھی حل کیا جاسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر روڈ انجینئرنگ ڈیزائین، سروس سڑکوں کا احیا، سڑکوں کی مرمت اور ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بناکر بہتر ٹریفک مینجمنٹ قائم کی جا سکتی ہے۔

The post تیز رفتاری اور غلط سمت ڈرائیونگ سے حادثات بڑھ گئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/1vqcfgB

Saturday, 28 May 2022

پاک بھارت آبی تنازعات پر بات چیت کے لیے پاکستانی وفد بھارت روانہ

 لاہور: پاک بھارت آبی تنازعات پر بات چیت کے لیے انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ کی سربراہی میں 5 رکنی وفد بھارت روانہ ہوگیا۔

وفد میں ڈی جی محکمہ موسمیات، محکمہ آبپاشی، نیسپاک اور وزارت خارجہ کا نمائندہ شامل ہے۔

آبی تنازعہ پر دو روزہ مذاکرات کل سے نئی دہلی میں ہوں گے جس میں بھارت سے آنے والے دریاؤں میں سیلاب کی پیشگی اطلاع پر بات ہوگی۔

مارچ میں پاک بھارت انڈس واٹر کمشنر کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا تھا اور اب یہ 118 واں اجلاس نئی دہلی میں ہو رہا ہے، اجلاس میں سالانہ رپورٹ فائنل کی جائے گی۔

دریائے سندھ پر چھوٹے پراجیکٹس ہیں جبکہ دریائے چناب پر انڈیا کے تین بڑے پراجیکٹ ہیں جن پر پاکستان کو اعتراض ہے، ان میں سے ایک پاکل دل اور کیرو ہائیڈور پاور ہیں۔ کیرو پر کام شروع کیا ہے، ہمارے اعتراض پر بھارت نے کہا ہے کہ وہ رپورٹ پیش کرے گا۔

یہ وفد صرف اجلاس کے لیے جا رہا ہے معائنہ کے لیے الگ وزٹ ہوں گے۔

The post پاک بھارت آبی تنازعات پر بات چیت کے لیے پاکستانی وفد بھارت روانہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/WfD2a3Q

خالص زنانہ بولی

زباں فہمی 141

اردو بول چال اور معیاری زبان میں گزشتہ چند عشروں سے ہونے والے ہمہ جہتی زوال کے باب میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ لوگ اپنی بولی بولنا بھول گئے ہیں۔ خاکسار نے یہ جملہ بہت سوچ سمجھ کر لکھا، مگر پھر بھی ابہام دور کرنے کے لیے یہ بتانا ضروری ہے کہ اس سے کیا مراد ہے۔

ہوسکتا ہے کہ کوئی بزرگ یہ کہہ کر گرفت فرمائیں، میاں ! کیا پرندوں کا ذکر ہے کہ اپنی بولی بولنا بھول گئے۔ اصل میں تقسیم ہند اور قیام پاکستان سے قبل کی معیاری اردو اور بول چال کی زبان دونوں ہی میں پیشہ، شعبہ، برادری، طبقہ، صنف، عمر، غرضیکہ ہر لحاظ سے فرق اور امتیاز نمایاں ہوا کرتا تھا۔

پھر ایک شہر سے دوسرے شہر، ایک ہی شہر کے خاص اندرونی ونواحی علاقوں اور شہر سے قصبے اور گائوں کی بولی ٹھولی نیز معیاری زبان (ادبی، علمی یا کتابی زبان) کا فرق ایک لحظے (یا ایک منٹ) میں نظر آجاتا تھا۔ ہندوستان (غیرمنقسم) میں قلعہ معلّیٰ، دِلّی، نواحی شہر وقصبات ودیہات اور لکھنؤ ونواحی شہروقصبات کی مخصوص معیاری وعوامی زبان میں کلیدی حصہ اور کردار خواتین کا ہوا کرتا تھا۔ 1884ء میں خاص بیگماتی زبان میں ایک اخبار ’’ہم آہنگ‘‘ جاری ہوا جو دو سال بعد ہی حالات کے تغیر سے، مانگ میں کمی کی وجہ سے بند کردیا گیا۔ اگر آج کوئی علمی وادبی شخصیت ایسا کوئی جریدہ شایع کرنے لگے تو شاید اُس کا چلنا زیادہ دشوار ہو۔

زبان اور بولی ٹھولی کے امتیاز کا یہ سلسلہ، تقسیم ہند کے کوئی پچیس تا پینتیس سال بعد بھی، مختلف وجوہ سے ردّوبدل کے باوجود، یونہی چلتا رہا، مگر پھر وطن عزیز کے ایک بازو کے، منظم سازش کے تحت، الگ کردیے جانے کے بعد (میں کیسے کہہ دوں کہ الگ ہونے کے بعد؟) اور بعداَزآں ہمسایہ ملک میں نجی ٹیلی وژن چینلز کے قیام اور ہمارے یہاں اس ضمن میں پیش رفت بہت تاخیر سے ہونے کے سبب، اُن کی ’’ثقافتی یلغار‘‘ سے فوری طور پر مرعوب ومتأثر ہونے کے سبب، روزمرّہ اور محاورہ دونوں ہی پستی کا شکار ہوگئے۔

اس پر مستزاد ہمارے مشترک خاندانی نظام میں ہونے والی شکست وریخت بھی ایک اہم سبب ہے۔ اب وہ بزرگ ہی خال خال رہ گئے ہیں جو خود کچھ سکھانے جوگے ہوں تو پھر ’’سوال کیسا، جواب کیسا‘‘۔ {ویسے اطلاعاً عرض ہے کہ اصل شعر یوں ہے: میں اُن کے جلووں کا آئینہ ہوں، وہ میری حیرت کا آئینہ ہیں+جہاں یہ عالَم ہو محویت کا، سوال کیسا ، جواب کیسا}۔ نوبت بہ ایں جا رسید کہ ہماری چالو عوامی بول چال (یعنی Slang) میں بھی ہمہ اقسام کی تبدیلیوں کا ریلہ گویا دَر آیا، ایک سیلاب آگیا۔ اب اس میں یہ ہوا کہ اگر کوئی چھوٹی عمر کا لڑکا یا لڑکی کوئی بھی صحیح یا غلط سلینگ بول رہا ہے تو وہی کسی بزرگ کے منھ پر بھی ہے۔

دور کیوں جائیں، بڑی بوڑھیاں بھی اپنے چھوٹوں سے ’یار، یار‘ کہہ کر بات کرنے لگی ہیں۔ اب لڑکیاں اور پختہ عمر کی خواتین بھی جُگاڑ، پنگا، چراند، ڈھکن، بینڈ بجادی/بجادیا وغیرہ، بغیر مطلب جانے، بلا تکلف و بلا تأمل بولنے لگی ہیں، مرد حضرات تو خیر ویسے بھی ان معاملات میں جلد بدنام ہوتے ہیں۔ لوگ بھول گئے ہیں کہ کس عمر، مزاج، طبقے، برادری، سکونتی تعلق، پیشے اور شعبے کا شخص کیا خاص زبان استعمال کرتا ہے۔

اس اخلاقی ولسانی بگاڑ کی ایک وجہ ہماری تہذیب کے رُوبہ زَوال ہونے کے ساتھ ساتھ، فرنگی زبان کو ذریعہ تعلیم کے طور پر، خود اَپنے آپ پر مسلط کرنا بھی ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ اب سب، سبھی کچھ بول رہے ہیں، کہہ رہے ہیں، ماسوائے اس کے جو اُنھیں بولنا اور کہنا چاہیے اور ’’گول مال ہے، بھئی، سب گول مال ہے‘‘۔

خاکسار نے کچھ عرصہ قبل اسی کالم میں اپنے بزرگ معاصر ڈاکٹر رئوف پاریکھ صاحب کی ’’اولین اردو سلینگ لغت‘‘ کے حوالے سے خامہ فرسائی کی تھی۔ اس اہم کتاب کے مطالعے کے ساتھ ساتھ اور مابعد ایسے بے شمار الفاظ، تراکیب، فقرے، محاورے، کہاوتیں اور اصطلاحات یاد آتی گئیں جو فاضل ادیب کسی سبب اپنی اس لغت میں شامل نہ کرسکے۔

ان میں زنانہ بولی کے قدیم وجدید الفاظ وتراکیب شامل ہیں۔ (ویسے بچوں کی بولی بھی سلینگ کا وہ حصہ ہے جسے محولہ بالا سلینگ لغت میں تقریباً نظرانداز کردیا گیا)، لہٰذا بندہ مسکین نے اس کام کا بیڑا اٹھایا تو اچھا خاصہ ضمیمہ تیار ہوگیا اور ابھی نامکمل ہے۔ سلسلہ ابھی جاری تھا کہ چند ماہ پیشتر واٹس ایپ پر اطلاع ملی کہ پاریکھ صاحب کا دعویٔ اولیت تاریخی /تقویمی لحاظ سے غلط ثابت ہوگیا۔

دیکھا تو معلوم ہوا کہ کہنے والے نے بے پر کی نہیں اُڑائی، بلکہ واقعی مدتوں پہلے یہ کام مختلف پیشہ ور افراد کی بولی ٹھولی کے ذخیرہ الفاظ پر مشتمل، سلینگ لغت کی شکل میں کیا جاچکا ہے۔ اسی سلسلے کی کڑیاں، انجمن ترقی اردو پاکستان کی شایع کردہ تین مماثل لغات یا فرہنگوں کی شکل میں موجود ہیں جو اَب نئے سرے سے شایع نہیں ہوتیں، اور خاکسار نے بھی حماقت کی کہ وہی پرانی اشاعت نہیں خریدی بلکہ دوسروں کو خریدنے کی راہ دکھائی۔

یہ تمام لغات یکجا کی جائیں تو ایک بڑی اور ضخیم لغت تیار ہوسکتی ہے۔ میرے فاضل بزرگ نے زنانہ بولی میں مستعمل ’’آنچل‘‘ بمعنی پستان، سینہ درج کیا جو پرانے وقتوں میں خواتین شرم کی وجہ سے کہا کرتی تھیں، اب تو خیر حیا کا معیار بدل گیا ہے، بات کھُل کر کی جاتی ہے۔

اسی ’اولین‘ سلینگ لغت (از پاریکھ صاحب) میں درج ایک محاورہ ہے، ’’بات ہونا‘‘ یعنی مباشرت ہونا، جنسی تعلق ہونا، جیسے ’ہماری اُن سے بات ہے‘۔ یہاں یہ وضاحت ضروری تھی کہ یہ قدیم ریختی اور قدیم اردو نثر میں مستعمل زنانہ بولی کا ایک نمونہ ہے۔ پرانے زمانے ہی میں نہیں آج بھی زنانہ بولی میں بعض جگہ ’’باڈی(Body)‘‘یا ’’بوڈی‘‘ بمعنی اَنگیا (Bra) بولاجاتا ہے، یہ سلینگ ہے جو ڈاکٹر صاحب کی لغت میں شامل نہیں۔ اسی طرح کی غیرمشمولہ مثالوں میں ’’باہر والی‘‘ بمعنی معشوقہ یا داشتہ جیسی منفرد ترکیب بھی شامل ہے۔

خواتین بہت سے الفاظ کی تصغیر (پیار سے یا کسی اور سبب) بناتی ہیں جیسے باجی سے بجّو، بجیا، آپا سے اَپیا، آپو، اَپّو، اَپّی، چھوٹے سے چھُٹکا اور چھوٹی سے چھٹکی (بِہاری بولی) یا چھُٹَنکا /چھُٹَنکی، دادا سے دَدّا (بِہاری)، چھوٹی پوٹلی سے پوٹلیا/پُٹَلیا، جی (یعنی دل) سے جیوڑا (شاعری میں بھی مستعمل )، روپے کی کم مقدار کو روپلی، کلیجے سے کلیجوا وغیرہ۔

دورِجدید میںجہاںزبان میں دیگر بگاڑ دیکھنے میں آئے، وہیں ہم نے یہ بھی دیکھا کہ اب زنانہ بولی اور خالص یا مخصوص نسائی الفاظ، تراکیب، محاورے، کہاوتیں، فقرے، اشارے، کنائے بھی دم توڑ نے لگے۔ اب تو ستّر، بلکہ اَسّی سالہ خاتون بھی اُس مخصوص بولی سے ناواقف ملیں گی جو کبھی صنف نازک تک محدود ہونے کے سبب، ہرکس و ناکس کے لیے قابل فہم نہیں تھی۔

لائق صد افسوس بات یہ ہے کہ ہر طرح کی عوامی چالو بولی کا رواج ایسا عام ہوگیا ہے کہ خواتین کو کہیں روانی میں بات کرتے سنیں تو اثنائے گفتگو ٹوک کر بتانا پڑتا ہے کہ یہ فُلاں لفظ جو ابھی آپ کی زبان سے ادا ہوا، خالص مردانہ اور فُحش ہے یا دُشنام ہے۔ ہائے ہائے! میری عظیم زباں فہم والدہ مرحومہ زندہ ہوتیں تو شاید صدمے ہی سے مرجاتیں۔ وہ اپنے ’’للہی بَیر‘‘ والے دشمن کے وار بہ اطمینان سہہ لیتیں، مگر زبان وتہذیب میں ذرا سا بگاڑ، انھیں گوارا نہ تھا۔

زبان کو یونہی ماں کے رشتے سے نسبت نہیں، بلکہ درحقیقت ماں ہی زبان کی تشکیل کرتی ہے۔ زنانہ بولی یا نِسائی زبان کے متعلق کئی کتب لکھی جاچکی ہیں اور اس موضوع پر پی ایچ ڈی کا مقالہ بھی لکھا جاسکتا ہے۔ راقم یہاں کوشش کرے گا کہ اس کا کچھ انتخاب یعنی چُنیدہ حصہ قارئین کرام کی معلومات کے لیے پیش کرے۔ یہاں یہ بھی عرض کردوں کہ بے شمار الفاظ، تراکیب، محاورے اور اصطلاحات ایسی بھی ہیں کہ عورتوں ہی کی ایجاد ہیں، مگر اب بہت کم کسی لغت میں یہ وضاحت دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ نِسائی بولی میں ہر علاقے میں بولے جانے والے مشترک ومختلف الفاظ وتراکیب کا ذخیرہ شامل ہے۔ شاید بڑا حصہ شمالی ہند میں دِلّی ونواح کا اور پھر دکن یعنی جنوب میں حیدرآباد کا ہے۔

استاد کے لیے ایک لفظ ہے،آخوند/ اخوند جو فارسی زبان سے اردو اور بعض دیگر زبانوں میں آیا تو اس کی شکل میں بھی فرق واقع ہوا۔ قدیم اردو میں اسے آخون بھی کہا گیا جو تعظیماً آخون جی یا آخون صاحب پکارا جاتا تھا۔ ع :

بھلا آخون جی صاحب کو آنے دو، کہوں گا میں+کہ اے حضرت سلامت ! آپ سنیے یہ حقیقت ہے۔ یہی کلمہ تخاطب بگڑ کر، زنانہ بولی میں ’’آتوں جی‘‘ ہوگیا۔ {آخوند، اخوند، اَخ وَند، اَخَند اور اَخوندو، یہ سب ایک ہی فارسی اسم کی مختلف شکلیں ہیں جو اُستاد، خصوصاً دینی معلم و رہنما، عالم، رہبر کے معنوں میں ایران، افغانستان، آذربائیجان، تاجکستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں صدیوں سے مستعمل ہے۔

آذربائیجان کی زبان آذری میں یہی نام اخوندوف( Akhundov)کہلاتا ہے جو ظاہرہے روسی زبان کے تسلط کا نتیجہ ہے، ورنہ سیدھا سیدھا اخوند ہی تھا۔ سندھی میں اسے آج بھی آخوند کہتے ہیں، جبکہ بنگلہ میں اس کے مختلف تلفظ ہیں: آکینڈ، آکھینڈ، کھونڈ کر، کھُنڈ کر، کھنڈے کر۔ یہی نسبت تھی سابق صدربنگلہ دیش جناب خوندکرمشتاق احمد کی۔ چینی مسلم قوم ہُوئی(Hui) اپنے امام مسجد کے لیے آہونگ(Ahong) کا نام استعمال کرتی ہے جو اسی لفظ کی متبدل شکل ہے۔ ویسے تو یہ مخلوط قوم معیاری چینی زبان(Mandarin Chinese) ہی بولتی ہے، مگر ان کی اپنی زبان Chamorro ہے۔

ان کے ذخیرہ الفاظ میں بعض عربی وفارسی الفاظ موجود ہیں}۔ عورتیں اپنے سے کم رتبے والی کسی عورت کو (تحقیراً) ’’اَرِی‘‘ کہہ کر مخاطب کرتی تھیں۔ یہ ہندی الاصل حرف ِندا، مخفف کے طور پر، ری بھی ہوگیا تھا۔ اب ذرا کم کم ہی سننے میں آتا ہے۔ دل چسپ انکشاف یہ ہے کہ ویسے تو اس لفظ کا مذکر ’’ارے‘‘ دِلّی میں کوئی اچھا حرفِ ندا نہ تھا (فعل متعدی: ارے تُرے کرنا یعنی اَبے تَبے کرنا، بے ادبی سے بولنا، گستاخی سے پیش آنا)، مگر لکھنؤ والے معزز لوگوں کو بھی ’’ارے صاحب‘‘، کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔

آٹے سے بہت کچھ بنتا ہے، مگر آپ شاید جان کر حیران ہوں گے کہ زنانہ بولی میں ایک عجیب ترکیب ہے : آٹے کی آپا۔ یہ ’لقب‘ دیا جاتا ہے کسی بھولی بھالی اور بے وقوف لڑکی یا عورت کو پیار سے (جیسے ہمارے یہاں بزرگ بھی غصے یا مصنوعی خفگی سے کسی کو کہہ دیا کرتے تھے: ’’اُلّو کہیں کا‘‘)۔ آٹے سے جُڑا ہوا ایک زنانہ محاورہ ہے، آٹے کا چراغ۔ مفہوم: کوئی ایسی اہم چیز جو ساتھ رکھی جاسکے نہ اپنے سے جُدا کی جاسکے۔ مثال: ’’آٹے کا چراغ، گھر میں رکھوں تو چُوہا کھائے، باہر لائوں تو کوّا لے جائے‘‘۔

اُلٹی گنگا بہنا: فرہنگ آصفیہ کے بیان کی رُو سے یہ ہندی الاصل، فعل لازم ہے بمعنی خلاف ِ دستور کسی بات کا ہونا۔ اثنائے مطالعہ معلوم ہوا کہ اسے بطورکہاوت استعمال کرنے کا سبب یہ حکایت ہے۔ کسی شخص کی بیوی ہمیشہ خلاف عقل یعنی برعکس کام کیا کرتی تھی۔

ایک مرتبہ اُس کی اپنے شوہر سے تکرار ہوئی تو غصے سے میکے کا قصد کیا، شوہر نے پیار سے روکنا چاہا، مگر ناکام رہا اور وہ حسب عادت بھاگتی چلی گئی اور جب دریائے گنگا راستے میں آیا تو شوہر نے چلّاکر روکنا چاہا، ’’دریاسے آگے نہ جانا‘‘ مگر وہ نہ مانی اور دریا میں کود گئی۔ ایسے میں شوہر نے اُسے مشورہ دیا کہ کنارے سے الٹی طرف تیرو۔ آس پاس کھڑے لوگوں نے اظہار تعجب کیا تو وہ بولا: ’’میری بیوی کی گنگا اُلٹی بہتی ہے۔ یہ براہ راست تو کوئی نِسائی کہاوت نہیں، مگر اس کا تعلق بہرحال خواتین سے ہے۔

اسی طرح بہت سے دیگر مشہور محاوروں اور کہاوتوں کا معاملہ بھی ہے۔ بلّی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا: یہ بہت مشہور محاورہ ہے ، مگر آج کا استعمال کرنے والا مشکل میں پڑجاتا ہے، کیونکہ اسے بھاگوں اور چھینکا کا مفہوم بھی بتانا پڑتا ہے۔ فریج اور فریزر کی ایجاد سے مدتوں پہلے دو چیزیں ہمارے باورچی خانے کی زینت ہوا کرتی تھیں، چھینکا اور نعمت خانہ۔ بعض لوگ نعمت خانہ باورچی خانے کے ساتھ ہی رکھا کرتے تھے۔

خاکسار نے اپنے بچپن میں اپنے گھر میں یہ چیز بھی دیکھی تھی۔ اب جبکہ بجلی کی فراہمی کے بے تحاشا تعطل کی وجہ سے بہت سارے مسائل نے جنم لیا ہے تو جہاں Emergency light/Torch اور لالٹین جیسی چیزوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے، فریج اور فریزر کے عارضی طور پر بند ہونے اور اند ر رکھی ہوئی چیزوں کے خراب ہونے کے خدشے کے پیش نظر نعمت خانے کا استعمال بھی ناگزیر محسوس ہوتا ہے۔ (ویسے تو گیس کی فراہمی بھی متأثر ہونے کی وجہ سے لکڑیاں جلانے اور مٹی کے تیل کے چولھے جلانے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے)۔

چھینکا، کسی دھات یا مخصوص دھاگوں، کپڑے، جالی وغیرہ سے بنے ہوئے اس ٹوکرے یا ٹوکری کو کہا جاتا تھا جو خواتین بچے ہوئے کھانے، دودھ، مکھن اور دیگر اشیاء کو بلّی یا دیگر جانوروں اور کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اونچی جگہ پر ٹانگ دیا کرتی تھیں۔ اگر کبھی اتفاقاً بھی یہ چھینکا گرکر ٹوٹ جاتا تو بزرگ خواتین یہ کہہ کر معاملہ رفع دفع کردیا کرتی تھیں، بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا یعنی اُس کے بھاگ یا نصیب میں تھا، اسی لیے گراکر، توڑکر کھانے میں کامیاب ہوگئی۔ بعد میں اس کا استعمال غیرمتوقع طور پر خوشی ملنے کے موقع پر کیا جانے لگا۔

اب اگر بات کریں خاص زنانہ بولی کے محاورات یا کہاوتوں یا دیگر تراکیب کی تو اس کی فہرست خاصی طویل ہے۔ اس ضمن میں کچھ مثالیں پیش خدمت ہیں:

پرانی عورتیں اپنے اصل مقام یعنی باورچی خانے اور اس سے متعلق چیزوں کو کبھی نہیں بھولتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے ایسے محاورے معرض وجود میں آئے:’’سات توئوں سے منھ کالا‘‘ یعنی کسی معاملے میں اس درجہ بدنامی ورسوائی ہونا کہ گویا سات عدد تَووں کی کالِک منھ پر مَل لی ہو۔ ’’جو ہانڈی میں ہوگا، ڈوئی میں نکل آئے گا ‘‘یعنی جو بات چھپی ہوئی ہے، ظاہر ہوہی جائے گی،’’نو لکھا ہار پہنانا‘‘ یعنی کسی کو ذلیل کرنا یا جوتیوں کار ہار پہنانا، ’’پھول سونگھ کر جینا‘‘ یعنی کم کھانے کا ڈھونگ رچانا،’’تڑخ تڑخ نور برسنا‘‘ یعنی کسی بدصورت عورت کو طنزاً خوبصورت یا پُر رونق بتانا۔ یہ فہرست اور دیگر مثالوں کا شمار بھی محال ہے۔ ممکن ہے پھر کبھی اس موضوع پر مزید لکھوں، بشرط عافیت۔

The post خالص زنانہ بولی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/Myduq7N

سارے رنگ

قومی خزانہ کون ڈکار رہا ہے۔۔۔؟
خانہ پری
ر۔ ط۔ م

منہ زور مہنگائی اچھے اچھوں کے لیے مسائل پیدا کرنے لگی ہے۔۔۔!

یوں تو قیمتیں ہمیشہ سے بڑھتی آئی ہیں، لیکن اس کے تناسب میں ہر گزرتے وقت کے ساتھ تیزی آتی جا رہی ہے۔ ماجرا یہ ہے کہ پہلے چیزوں کے دام ازبر ہوا کرتے تھے، اب تو جب بازار میں جائیے، ہر بار ایک نئے بھائو میں چیز مل رہی ہوتی ہے۔

ایسے میں دام کیا خاک یاد ہوں گے۔ ہم معاشیات کے گورکھ دھندوں کی ’جان کاری‘ فقط اتنی ہی رکھتے ہیں، جتنا کہ شاید کوئی عام شہری۔۔۔ کہتے ہیں کہ مہنگائی دراصل عوام کی معاشی استطاعت سے تعلق رکھتی ہے، جب عوام کا معیارِ زندگی بلند ہو اور ان کی ’قوتِ خرید‘ سلامت ہو، تو پھر مہنگائی کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔! لیکن اگر آمدنی اُتنی ہی ہے یا اس رفتار سے نہیں بڑھ رہی کہ جس تیزی سے اشیائے ضروریہ کے نرخ بلند ہو رہے ہیں، تو اس فرق کو ماہرین ’مہنگائی‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔

دوسری طرف ہم ایک عرصے سے دیکھ رہے ہیں کہ ملکی معیشت روز بہ روز پستی کی طرف گام زَن ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں نسبتاً معاشی استحکام سا محسوس ہوا، بہت سے لوگ اس ترقی کو ’مصنوعی‘ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ گیارہ ستمبر 2001ء کے واقعات کے بعد کا ایک حادثاتی نتیجہ تھا، جب ملک سے باہر کے شہریوں نے بڑے پیمانے پر روپیا بھجوایا، ہم اِس بحث میں نہیں پڑتے، لیکن کبھی قرضے نہ لینے اور روزانہ نہ جانے کتنے کروڑوں اور اربوں روپے کی ہیرا پھیری روکنے کے دعوے کرنے والے عمران خان 2018ء میں وزیراعظم بنے، تو معاشی ابتری بڑھنے لگی۔

انھوں نے قوم سے خطاب کر کے کہا تھا ’’آپ کو گھبرانا نہیں ہے!‘‘ لیکن قوم کوئی جاگیردار اور وڈیرہ شاہی کی پروردہ سیاست دان تو نہیں ہے کہ نہ گھبراتی۔۔۔! مہنگائی اور بے روزگاری کے شکنجوں میں کسے ہوئے لوگوں کی تو چیخیں نکل گئیں۔۔۔! کہا گیا کہ پچھلی حکومتوں نے ’مصنوعی‘ طریقے سے معیشت کو ’سہارا‘ دیا ہوا تھا۔۔۔! اچھا، اگر یہ سب کر کے عمران خان غیرملکی قرضے نہ لیتے، تو ہمیں کچھ سمجھ میں بھی آتا کہ چلیے عوام کی اس تکلیف کا ملک کو کم سے کم یہ فائدہ تو ہو رہا ہے کہ ہم اب اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے لائق ہونے لگے ہیں یا ہو جائیں گے۔

لیکن ایسا بھی تو نہیں ہو ناں۔ اپنے جلسوں میں قرض لینے پر خودکُشی کرنے پر ترجیح دینے والے عمران خان نے بھی پچھلی حکومتوں کی طرح غیرملکی قرض لیا اور شاید (اپنے دعوے کے مطابق) یومیہ کروڑہا روپوں کی کرپشن بھی روکی ہوگی، لیکن نہ جانے اس کا فائدہ معیشت کو کیوں نہ مل سکا؟ اِن کی حکومت میں شاید چینی اور آٹے کی ذخیرہ اندوزی سے قوم پر نسل درنسل مسلط روایتی اشرافیہ نے اربوں روپے بھی نہ ڈکارے ہوں گے، لیکن نتیجہ صفر ہی نکلا اور عمران خان کو پسند کرنے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد اُن کی ناکام ’تبدیلی‘ کے باعث ان سے خفا ہوئی، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں تھا کہ وہ باقی دو روایتی موروثی سیاسی جماعتوں کے حامی ہوگئے۔

خیر، بات کہیں اور نکل جائے گی، ہم معاشی خودکفالت کا ذکر کر رہے تھے۔۔۔ کہنے کو دنیا جہاں کی نعمتیں ہمارے ملک میں موجود ہیں، لیکن اشیائے ضروریہ کے لیے محتاجگی کا یہ عالم ہے کہ بٹوارے سے پہلے پنجاب کا جو حصہ پورے ہندوستان کی غذائی ضروریات پوری کرتا تھا وہ آج صرف پاکستان کی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہے۔۔۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود کوئی دیرپا حکمت عملی ہی موجود نہیں ہے۔

حکومتیں عدم استحکام اور سیاسی جوڑتوڑ میں اس قدر مصروف کر دی جاتی ہیں کہ انھیں قوم کی نیّا پار لگانے کی فرصت ہی نہیں ملتی، زراعت کیا، تعلیم وصنعت سمیت کسی بھی شعبے میں کوئی دوراندیشی ہی نہیں۔ شاید ملک کی اشرافیہ اور مخصوص خاندانوں کے بار بار اقتدار میں آنے والے وڈیروں اور جاگیرداروں کی مسلسل حکومت کے گروہی مفادات اب انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔ یہ عناصر ہر برسراقتدار جماعت میں پائے جاتے ہیں۔

ان کے اقتدار کا مقصد اپنی جاگیروں، صنعتوں اور مِلوں کے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔۔۔ پھر یہی لوگ ریاستی تعمیر وترقی کے کاموں میں اخلاص سے زیادہ اِس کے ذریعے ملنے والے اپنے ’کھانچے‘ اور مفادات پر زیادہ توجہ دیتے ہیں، جس کے لیے پھر وہ معیشت کے گہرے نقصان کی بھی کوئی پروا نہیں کرتے، کیوں کہ انھیں اپنی شوگر ملوں، فلور ملوں اور اندرون وبیرون ملک کاروبار جمانے ہوتے ہیں۔ اپنے خاندان اور کمپنی کے لیے ریاست سے مراعات اور چھوٹ لینی ہوتی ہیں، محصولات میں ڈنڈی مارنی ہوتی ہے، تاکہ امریکا، لندن اور دبئی وغیرہ میں موجود کروڑوں روپے کی جائیداد اربوں کی اور اربوں کے کاروبار کو کھربوں روپے کا بنا سکیں۔۔۔!

یہاں ملک کی فکر بھلا کس کو ہوتی ہے۔۔۔؟ یہی وجہ ہے کہ قومی خزانہ خالی ہوتا جاتا ہے اور ہم بار بار ’آئی ایم ایف‘، ’عالمی بینک‘ اور امریکا سمیت بعضے دوست ممالک کے پاس بھی خالی کشکول لیے پہنچ جاتے ہیں۔۔۔ انتہا یہ ہے کہ ہمارے بجٹ میں واجب الادا قرضوں کا سود دینے کے لیے بھی باقاعدہ رقم مختص کی جاتی ہے اور پھر ہم خسارے درخسارے کرتے ہوئے مزید قرضوں کی آس پر جیے چلے جاتے ہیں، حالاں کہ غالبؔ بھی کہہ گئے ؎

قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

قرضوں سے کبھی مسئلے حل نہیں ہوتے، اور ہماری حالت تو اب ایسی ہے کہ ایک سے قرض لے کر دوسرے کی ادائی کرتے ہیں اور پھر دوسرے سے لے کر تیسری اور چوتھے سے لے کر پانچویں کی قسط بھرتے ہیں۔۔۔ آج ہندوستانی روپیا ہمارے ڈھائی روپے سے زیادہ کا ہے۔۔۔ 24 برس ہمارا حصہ رہنے والے بنگلادیش کا ٹَکا بھی سو دو روپے سے متجاوز ہے۔

حد تو یہ ہے کہ بدترین جنگوں میں تباہ حال افغانستان کا سکہ بھی لگ بھگ سوا دو پاکستانی روپے کا ہے۔۔۔ یہ بہت سادہ سی باتیں ہیں، لیکن کون سوچے، جنھیں سوچنا چاہیے، ان کے بچے، خاندان، کاروبار اور جائیداد سبھی کچھ ملک سے باہر ہے! باقی رہ گئے ہم جیسے عوام۔۔۔ تو یہاں پورے پورے خاندان روزی روٹی کے گھن چکر میں ایسے پھنسا دیے گئے ہیں کہ ان کے پاس ایسی ’’فضولیات‘‘ پر بات کرنے کے لیے وقت ہی نہیں ہے!

کراچی کی شامیں
کلثوم مہر، کراچی

شام کا وقت ہر کسی پر اپنے مزاج کے مطابق ہی اثر کرتا ہے، کوئی شام کے لمحات میں گہری اداسی میں ڈوب جاتا ہے، تو کوئی خوش گوار احساس سے دوچار ہوتا ہے کوئی شام کو دن سے بچھڑنے سے تشبیہ دیتا ہے اور ہجر کا پہلو دکھاتا ہے، تو کوئی رات سے ملن کا کہہ کر شام کو وصل کا لمحہ سمجھتا ہے۔ اردو ادب میں شام پر کئی اشعار بھی ملتے ہیں، اس میں کوئی اپنی شام انتظار میں گزارتا ہے جیسے؎

وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی
کچھ سوچ کر مگر انتظار کرتے رہے
تو کوئی شام کسی کے نام کرنے کو بے تاب رہتا ہے؎
کبھی تو آسمان سے چاند اترے جام ہو جائے
تمھارے نام کی ایک خوب صورت شام ہو جائے

گویا ہر کوئی اپنے جذبات اور مزاج کے مطابق ہی شام کے لیے الفاظ کشید کرتا ہے۔ کوئی شام کو قتالہ، تو کوئی سُہانہ کہتا ہے۔ ہمیں تو شام سے ہمیشہ ایک اپنائیت سی محسوس ہوئی، ایک خوش گوار اداسی سے بھر پور شام، اور اگر بات موسم گرما میں کراچی کی شاموں کی، کی جائے تو دنیا کے کم ہی کسی حصے میں اتنا حسین وقت اترتا ہوگا، جب ساحلِ سمندر سے ہوائیں ٹکرا در و بام کو چھوتی ہوئی پاس آتی ہیں، تو یوں محسوس ہوتا ہے گویا محبوب کا پیغام لائی ہوں، ان لمحوں میں اگر چائے کی ایک پیالی اور ہاتھ میں کتاب بھی ہو تو حسین زندگی ہزار دفعہ جینے کو جی مچلتا ہے، اسی موقع کی مناسبت سے شعر ہے؎

ہم زندگی سے جب تنگ آیا کرتے ہیں
اپنے ساتھ ایک شام منایا کرتے ہیں

تو اپنے ساتھ شام منانے کے لمحہ سے زیادہ خوب صورت پل میری نظر میں تو کوئی نہیں ہے۔ شام میں کوئی تو ایسی بات ہے ہی کہ اسی وقت کو چرانے تک کی بات کی جاتی ہے ؎

تمھارے شعر کا موسم بڑا سہانا لگے
میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے

کچھ تو ایسا ہے کہ شاعر محبوبہ کو شام ہی سے تشبیہ دے دیتا ہے، اسی حوالے سے مشہور زمانہ گیت ہے جو اکثر شام میں سماعتوں تک پہنچتا تھا؎

یہ شام اور تیرا نام دونوں کتنے ملتے جلتے ہیں
تیرا نام نہیں لوں گا، بس تجھ کو شام کہوں گا

مانا کہ ہمارے کراچی میں ماحولیاتی اور صوتی آلودگی نے کوفت کا شکار کر رکھا ہے، حد درجہ مصروفیت کے باعث چین و سکون ناپید ہے، بے امنی کی صورت حال بھی بے چین کیے رکھتی ہے، ممکن ہے انھی حالات کے تناظر میں شاعر نے کہا ہوگا کہ

اب تو چپ چاپ شام آتی ہے
پہلے چڑیوں کے شور ہوتے تھے

چڑیاں تواب بھی شور مچاتی ہیں، شاید ہم ہی نہیں سن پا رہے، تفریح ذہنی تناؤ کو کم کرنے اور جسمانی صحت کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے، مصروف زندگی سے کچھ لمحات چرا کر اگر ان حسین شاموں کے نام کر دیے جائیں، تو کوئی حرج بھی نہیں، بلکہ اگر کہا ان کو یوں کہا جائے کہ یہ ضروری ہے تو زیادہ بہتر رہے گا۔

شہر کراچی کو وفا دار میسر آجائیں، تو اس حسین شہر کا حُسن جو کئی وجوہات کی وجہ سے ماند پڑ گیا ہے، وہ دوبارہ نکھر کر سامنے آسکتا ہے، مسائل کے حل کے لیے لائحہ عمل طے کر کے معیشت کی اس ریڑھ کی ہڈی کو بچانے کے لیے اس کے مسائل کا سد باب کرنا نہایت ضروری ہیں۔ شہر کے باسیوں کو امن و سکون کے ساتھ تفریح کے مناسب مواقع فراہم کر کے شاموں کی رونقیں مکمل طور پر بحال کی جائیں، تو یہاں کی پر لطف رومانی سہانی ہوائیں دل و دماغ کو چھو کر خوش گوار احساس پیدا کریں گی۔

۔۔۔

ماں سے یوں ملتا، جیسے ’عمر قید‘ کامجرم!
محمد علم اللہ، نئی دلی

ہمارے ہوش سنبھالتے ہی ایک عجیب ’غریب الوطنی‘ ہمارا مقدر بن گئی۔۔۔ یعنی بچپنا ٹھیک سے شروع بھی نہ ہوا تھا کہ تربیت اور تعلیم کے نام پر اٹھا کر گاؤں سے پرے ایک ’اچھے مکتب‘ میں پھینک دیا گیا۔۔۔ یہاں ہفتے کے سات میں سے چھے دن اِس انتظار میں گزرتے کہ جمعے کو ہم اپنے گھر جائو ں گا۔۔۔ بہت دیر تک امّاں سے لپٹا رہوں گا، پاس بیٹھ کر انھیں ہی دیکھتا رہوں گا۔۔۔

بہن بھائیوں سے ہفتے بھر کی جمع کی ہوئی ڈھیر ساری باتیں کروں گا، مگر ساتواں دن بھی اس عالَم میں گزرتا کہ اس کا ایک پہر تو گھر پہنچتے پہنچتے ہی بیت چکا ہوتا اور دوپہر تک یہ سارے ارمان آدھے بھی نہیں نکل پاتے تھے کہ تیسرے پہر واپسی کا وقت ہوا جاتا۔۔۔ اور ہمارے ابّا کسی جیلر کی طرح یہ حکم لے کر نازل ہو جاتے کہ ’’جلدی چلو۔۔۔! تمھیں شام سے پہلے ہاسٹل چھوڑ کر آنا ہے۔۔۔!‘‘

اور میں خود کو ’عمر قید‘ کا ایسا قیدی سمجھتا، جسے اپنے اماں بابا اور بہن بھائیوں سے ملنے کے واسطے فقط کچھ گھڑیاں میسر آگئی تھیں۔۔۔ یعنی جس ’دن‘ کے انتظار میں پورے چھے دن کاٹے تھے، وہ دن بھی پورا کہاں ملتا تھا، بس یہ چند گھنٹے ہی ہوتے تھے، باقی سارا وقت تو آنے اور جانے کی نذر ہو جاتا۔۔۔ اور سچ پوچھیے تو چُھٹی کی خوشی صرف تبھی تک رہتی، جب تک وہ رات ہوتی، جس کے بعد آنے والی صبح چھٹی ملنی ہوتی تھی یا پھر بس صبح کا وہ کچھ سمے، جب میں اپنے گھر کی چوکھٹ پار کرتا۔۔۔ اس کے بعد تو گھڑی کی ٹِک ٹِک گویا ہماری الٹی گنتی شروع کر دیتی تھی۔

اس لیے میں دوبارہ واپسی کی فکر میں ہلکان ہوا جاتا تھا۔ اس طرح مجھے ہر ہفتے اپنی ماں سے بچھڑنے کے کرب سے گزرنا ہوتا تھا۔ ابا تو ہاسٹل چھوڑ کر واپس چلے جاتے، لیکن میری آنکھیں اُس رات اِس قدر بھیگی رہتی تھیںکہ آٹھ فُٹ کی بلندی پر نصب چھت کی کڑیاں تک بار بار دھندلائی جاتی تھیں۔ کبھی تو باہر رات بھیگتی اور اندر آنسوئوں سے میرا چہرہ۔۔۔ لیکن اس کے سوا کوئی راستہ بھی تو نہ تھا۔۔۔ پھر نہ جانے کب مولوی ہاسٹل کی راہ داری سے پکارا کرتا: ’’کیا میّتوں کی طرح پڑے ہو! اٹھو! نماز کا وقت ہو رہا ہے۔۔۔!‘‘

پھر موذن مائک پر دو چار پھونکیں مار کر چیک کرتا اور پھر صدائے فجر بلند ہوتی۔۔۔ آس پاس کے بستروں پر بکھرے ہوئے طلبا کچھ تو خوفِ خداوندی اور کچھ مولوی کی وحشیانہ مار کے خوف سے اللہ کے گھر کی طرف دوڑ لگا دیتے۔

میرا چہرہ تو پہلے ہی آنسوؤں سے ’باوضو‘ ہوتا، پھر بھی فریضے کی ادائی کے لیے کنویں سے نکلے یخ بستہ پانی کو چہرے اور ہاتھوں پر ڈالنے لگتا۔۔۔ سردی کے ٹھٹھر سے نکلی ہوئی ایک سسکی، کلیجے سے نکلی ہوئی غم کی سسکی میں مدغم ہو جاتی۔۔۔ اور میں خود کو حوصلہ دیتا کہ چلو، دوبارہ گھر جانے کے بیچ میں حائل سات راتوں میں سے ایک رات تو کم ہو ئی!

The post سارے رنگ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/9hkzQEL

بحران اچھے ہوتے ہیں

پاکستانی معاشرہ دنیا سے الگ تھلک کوئی معاشرہ نہیں ہے اور آج کے ترقی یافتہ دور میں جب تغیرات میں تیزی حیران کُن حد تک پہنچ چکی ہے وہیں سیاسی بحرانوں کے مثبت پہلو بھی تیزی سے معاشرے کو متاثر کررہے ہیں۔

کسی بھی معاشرے میں بحرانوں کی مختلف اقسام اکثر جنم لیتی رہتی ہیں جیسا کہ معاشی بحران، سیاسی بحران، ثقافتی اور سماجی بحران وغیرہ۔ پاکستان میں ایک تبدیلی یہ آئی ہے کہ شہری آبادی کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور کئی دیہات چھوٹے قصبوں اور قصبے چھوٹے شہروں میں ڈھل چکے ہیں، جہاں کا سماجی نظام بھی تبدیل ہوا ہے اور اس کے اثرات سیاست پر بھی مرتب ہوئے اور نئے چہرے اور شخصیات کا بھی جنم ہوا۔ گو کہ ان کی تعداد نہایت محدود ہے۔

پاکستان میں دو دہائیوں سے جمہوریت موجود ہے اور اس کا تسلسل بھی قائم ہے جس نے معاشرے میں جمہوری ثقافت کو جنم دیا اور سیاسی شعور عمومی طور پر عوام الناس میں بیدار ہونا شروع ہوا اور سیاست میں عوامی دل چسپی کا پہلو بھی واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ڈیجیٹل میڈیا پر سیاسی سرگرمیاں مقبولیت قائم رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستانی عوام اب اس قابل ہیں کہ وہ کوئی سیاسی بیانیہ قبول یا رد کرسکیں اور یہ صلاحیت سیاسی شعور عطا کرتا ہے جو عوام الناس میں مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اس عمل میں سیاسی بحرانوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس وقت پاکستان شدید دستوری و قانونی بحرانوں سے گزر رہا ہے اور عدالتوں پر مسلسل دباؤ موجود ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ یہ حق رکھتی ہے کہ وہ دستور کی منشا و مرضی بیان کرسکے یعنی تشریح کا حق صرف اعلیٰ عدلیہ کو ہی حاصل ہے جو ہر دستوری بحران یا تشریح میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

دستور پاکستان 1973ء کی رو سے یہ حق بھی ہے اور اعلیٰ عدلیہ کا فرض بھی ہے کہ وہ دستور کی تشریح کرے۔ دستوری و جمہوری اقدار و روایات کی رو سے تمام تر طبقات اور حکومت وقت کے لیے عدلیہ کے فیصلوں پر عمل درآمد اور پاس داری ضروری ہے جو دراصل ایک جمہوری توازن کو جنم دیتی ہے جو جمہوری ادارے فراہم کرتے ہیں۔

سیاسی بحران دنیا کے ہر ترقی یافتہ جمہوری ملک کی تاریخ کا حصہ رہے ہیں۔ اگر فرانس کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیں تو وہاں چار سال کی محدود مدت میں نو بار حکومت تبدیل ہوئی اور بار بار عوام سے رجو ع کیاگیا۔ بالآخر ایک مستحکم جمہوری ڈھانچا وہاں قائم ہوا اور آج تک قائم بھی ہے۔ یہ دراصل سیاسی بحران کا مثبت پہلو ہے۔

پاکستان میں تحریک انصاف کی سادہ اکثریت رکھنے والی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک کے کے باشعور عوام نے قانون و دستور کے مختلف پہلوؤں کا عملی مشاہدہ بھی کیا۔

عدالت عظمیٰ کی طرف سے از خود نوٹس لیا جانا بھی اہمیت رکھتا ہے اور سیاسی بحران کے سیاسی و قانونی پہلو عوام میں موضوع گفتگو بنے جن سے عوام الناس نے بہت کچھ سیکھا۔

قانون کا احترام اور دستور کی بالادستی عدالتی فیصلے سے قائم ہوئی اور جو حکومت کے خلاف تھا جسے قبول کیاگیا اور معاشرے میں عدلیہ کا احترام و افادیت میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا۔ جہاں عوامی سطح پر عدلیہ کا فیصلہ قبول کیاگیا وہیں تنقیدی جائزہ بھی لیا گیا اور تنقیدی جائزے میں قانونی و دستوری پہلو عام لوگوں میں بھی پہنچے اور انہوں نے اس پر اپنی اپنی رائے بھی دی جو سیاسی وابستگی کو ظاہر کرتی تھی۔

عوام الناس کا عمومی سیاسی شعور قانونی و دستوری پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہا اور یوں سیاسی بحران عوام کے لیے سیکھنے کا ایک ذریعہ بھی بنا۔ قانونی ماہرین نے میڈیا پر آکر اپنا اپنا نقطۂ نظر بیان کیا اور عدلیہ کے فیصلے کا احترام ہر جگہ اور مقام پر نظر آیا۔

جمہوری ادارے جمہوری توازن پیدا کرتے ہیں اور عوام سیاسی بحرانوں میں جمہوری اداروں پر ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ پاکستان کا دستور 1973ء ایک ایسا دستور ہے جو متنازع نہیں ہے اور ہر سطح پر قابل قبول ہونے کے ساتھ ساتھ ہر سطح اور ہر سیاسی جماعت کی جانب سے اس کی پاس داری کی جاتی ہے اور سیاسی بحران دستور کی روح کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالتی فیصلوں سے حل ہوتے ہیں اور دستور کے مطابق تشریح بھی عدالتی اختیار ہے۔

لہٰذا اعلیٰ عدلیہ پر ذمہ داری منتقل ہوجاتی ہے اور دیگر جمہوری ادارے تعاون کریں تو دستور و قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے دیے جانے والے عدالتی فیصلے نہ صرف بحران ختم کرتے ہیں بلکہ جمہوری سیاسی توازن بھی پیدا کرتے ہیں۔

اس وقت پاکستان کی قومی اسمبلی کے اراکین کی ایک بڑی تعداد مستعفی ہوچکی ہے اور تین ماہ میں عام انتخابات دستوری ضرورت و تقاضا بن کر سامنے آئے ہیں جن کو بحران بنایا جارہا ہے۔ دستور و قانون واضح ہدایات فراہم کرتے ہیں اور ابہام ہونے کی صورت میں اعلیٰ عدلیہ موجود ہے جو دستور کی تشریح کا حق بھی رکھتی ہے یوں ایک عمدہ حل کی طرف جایا جاسکتا ہے۔

معاشرے میں جمہوری تغیرات جنم لیتے رہتے ہیں اور بنیادی طور پر جمہوریت ایک وسیع مفاد ہے جسے عوام الناس اپنی ضرورت اور حکومت میں شمولیت کے لیے استعمال کرتے ہیں اور سیاست داں اپنی ضرورت اور مفاد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس ضمن میں جن میں شعور کی سطح بلند ہو وہ فائدے میں رہتے ہیں۔ ترقی یافتہ جمہوری ممالک میں عوام کی سیاسی شعور کی سطح بلند ہوتی ہے اور وہاں سیاست داں جمہوریت اور جمہوری عمل کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال نہیں کرپاتے ہیں۔

پاکستان میں صورت حال اس کے برعکس ہے اور یوں ایک ایسا طبقہ و جود میں آچکا ہے جو سیاست کو اپنی وراثت سمجھنے لگا ہے اور خاصا کام یاب بھی ہے۔ وہ انتخابات اور جمہوری عمل میں اپنی دولت کے بل بوتے پر کام یابی حاصل کرلیتا ہے لیکن خصوصاً شہروں میں ایسے لوگ بھی کام یاب ہوئے جو پہلی بار کسی قانون ساز اسمبلی کے ممبر بنے۔ یوں یہ کہا جاسکتا ہے کہ نئی سوچ اور ضرورت پاکستان کی سیاست کا حصہ بن رہی ہے اور یہ سوچ اور ضرورت سیاسی بحران بھی بعض اوقات جنم دیتے ہیں جو عوام کو سیاسی شعور کی نت نئی شکلوں اور تناظر فراہم کرتے ہیں۔

شہروں اور دیہات کی سیاست میں بھی فرق موجود ہے۔ پاکستان میں شہری رقبہ بڑھ رہا ہے اور دیہات میں میڈیا کے گہرے اثرات تبدیلیاں لارہے ہیں۔ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا معلومات کو کم وقت میں تیزی سے پھیلانے کا سبب بھی بن رہے ہیں۔

یوں ایک ایسی فضا جنم لے رہی ہے جو سیاسی تناظر میں تبدیلی پیدا کرسکے۔ سیاسی تناظر کی یہ تبدیلی سیاست میں نئے خیالات و تصورات بھی سامنے لانے کا سبب ہے اور ووٹ کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ پاکستان میں روایتی و غیرروایتی سیاست بیک وقت ہورہی ہے اور روایتی سیاست سیاسی بحرانوں کے سبب مسلسل کم زوری سے دوچار ہے اور اس کی جگہ غیر روایتی سیاست لے رہی ہے جو ایک مثبت پہلو ہے۔

ذرائع ابلاغ اور سائنسی ترقی کے گہرے اثرات سیاست کو متاثر کرتے ہیں اور جہاں شعور پیدا کرتے ہیں وہیں عوام کو درست سمت بھی عطا کرتے ہیں۔ تمام معاشرے ثقافتی اثرات کو قبول کرتے ہیں اور ترقی یافتہ جمہوری ممالک میں آنے والے سیاسی تغیرات کے اثرات ایک ثقافتی رنگ بھی رکھتے ہیں اور عوام الناس کے لیے سوچ پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کے ثقافتی اثرات سیاسی پہلو سے دنیا کے ترقی پذیر ممالک کو متاثر کیے ہوئے ہیں۔ ثقافتی اثرات جمہوریت کو نئی تہذیب بھی عطا کرتے ہیں اور جمہوریت عوام الناس کے لیے زیادہ اہم ہوتی چلی جاتی ہے۔

جمہوریت ایک ہتھیار ہے جو عوام کو احساسِ شراکت حکومت عطا کرتا ہے اور اس سے بھرپور فائدہ صرف اسی صورت میں ہی ممکن ہے جب ووٹ حق دار کو حق سمجھ کر دیا جائے۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں بالخصوص معمولی رقم، آٹے کے تھیلے یا گھی کا ڈبا ووٹرز کو دیا جاتا ہے اور یوں ان کا ووٹ خرید لیا جاتا ہے اور غربت مزید غربت پیدا کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ غربت کا یہ کلچر دراصل کلچر کی غربت ہے جو وقت یا سیاسی بحران ہی تبدیل کرتا ہے۔

سیاسی بحران میں عوام کی اہمیت بڑھ جاتی ہے اور طاقت ور بیانیہ چھا جاتا ہے اور عوامی سطح پر طاقت ور بیانیہ وہی بنتا ہے جس میں محور و مرکز عوام اور ان کے مفادات ہوں اور وہی بات عوام الناس کو اچھی بھی لگتی ہے۔ پاکستان کا مخصوص اور سیاست کرنے والا طبقہ سیاسی جماعتوں کا حصہ ہے اور طاقت ور حیثیت کا حامل بھی ہے۔

سیاسی بحران اس طبقے کی اہمیت کو کم کرنے کا باعث بھی بنتے ہیں کیوں کہ قانون و دستور کی اہمیت ابھرتی ہے جو حل فراہم کرتے ہیں اور کوئی ادارہ یا شخص چوں کہ قانون اور دستور سے بالاتر نہیں لہٰذا شخصیات کا سحر کم ہونے لگتا ہے اور جمہوری فضا قائم ہونے لگتی ہے، لہٰذا سیاسی بحران کے سماجی پہلو ہمیشہ مثبت رخ سے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں اور سیاسی شعور کو پختہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

آج کے مخصوص سیاسی حالات میں مخصوص طبقہ جسے ’’الیکٹ ایبل‘‘ بھی کہا جاتا ہے خوف زدہ ہوچکا ہے اور جن ذرائع یا حالات کی بنا پر اپنا ذاتی ووٹ بنک وہ پیدا کرچکے تھے اب ان کے ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے اور سیاسی بیانیہ جمہوری تناظر میں سیاسی بحرانوں کو بھی جنم دے رہا ہے۔

سیاسی بحران جمہوری معاشرے کا اہم حصہ ہوتے ہیں اور ہمیشہ معاشرے کو ترقی دیتے ہیں، اگر دستور و قانون کی عمل داری قائم رہے، اور دستور و قانون پیدا شدہ سیاسی بے چینی ختم کرتے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ جمہوری ممالک کی سیاسی تاریخ بحرانوں کی تاریخ ہے جو حل ہوتے گئے اور معاشرے کو ترقی دیتے چلے گئے۔ سیاسی بحران اداروں میں جمہوری توازن جنم دیتے ہیں اگر دستور کو ہر سطح پر مقدم رکھتے ہوئے سب کچھ طے کیا جائے۔

The post بحران اچھے ہوتے ہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/RPIcYD9

بُک شیلف

جام کوثر
مصنف: پیر ابو نعمان رضوی سیفی، ہدیہ: 800 روپے، صفحات: 448
ناشر: ادبستان، پاک ٹاور، سلطانی محلہ، کبیر سٹریٹ، اردو بازار، لاہور (03004140207)

درود شریف کی فضیلت بیان کرنے پر آئیں تو ختم ہونے میں نہیں آتی، اللہ تبارک و تعالیٰ اور فرشتے خود حضور نبی کریم ﷺ پر درود پڑھتے ہیں، اسی سے درود شریف کی فضیلت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

پیر ابو نعمان رضوی سیفی نے زیر تبصرہ کتاب میں درود شریف کا مجموعہ اکٹھا کر دیا ہے جس سے ہر مسلمان کو درود شریف کے فضائل سمجھنے اور مختلف درود کی قرات میں آسانی ہو گی۔ ایڈیٹر آن لائن روزنامہ پاکستان لاہور شاہد نذیر چوہدری کہتے ہیں ’’جام کوثر درود و سلام کی بظاہر ایک کتاب ہے لیکن بہ نظر غائر دیکھا جائے تو یہ ایک عاشق رسول ﷺ کی داستان سوز عشق ہے۔

حضرت پیر ابو نعمان رضوی سیفی عصر حاضر میں ایسی نابغہ روزگار شخصیت ہیں جن کو بلا مبالغہ تصوف کی دنیا میں حصول معرفت کے لیے عشق مصطفیٰ ﷺ سے معراج معرفت حاصل ہوئی ہے۔ جام کوثر کو لکھنے اور اس کی تدوین کرنے کی یہ سعادت آپ کو یوں ہی نہیں ملی بلکہ آپ کو اس کا القاء ہوا اور آپ کو ہدایت ملی کہ اپنے عشق کو حق ثابت کر دو۔

انھوں نے نہایت تحقیق اور جستجو کے بعد جام کوثر میں درود و سلام کو مجتمع کیا اور ہر درود کریم کو سپرد قلم کرنے سے پہلے اس کا ذکر خاص کر کے اس کے فیوض و برکات کا مشاہدہ کیا۔ سائلان معرفت اور عاشقان رسول ﷺ اس کتاب سے راہ ہدایت اور جام عشق نوش فرما کر اپنے لیے دنیا و آخرت کا سامان پیدا کریں۔‘‘ ناشر و ادیب عبدالمتین ملک کہتے ہیں ’’محترم و محتشم پیر ابو نعمان رضوی سیفی صاحب نے یہ کتاب تالیف کر کے ایک عظیم اور گراں قدر کام کیا ہے۔

یہاں پر نبی اکرم ﷺ کا وہ ارشاد مبارک آپ پر صادق آتا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے کوئی کتاب لکھ کر مجھ پر درود بھیجا یعنی درود کتاب میں لکھا تو جب تک اس پر میرا نام رہے گا تو تب تک فرشتے اس شخص پر درود بھیجنے میں مشغول رہیں گے اور اس کی مغفرت و نجات کی دعا کرتے رہیں گے۔ سو صاحب تالیف بہت خوش نصیب ہیں کہ آپ اس سعادت سے سرفراز ہوئے۔ ‘‘  انتہائی شاندار کتاب ہے ہر مسلمان کو اسے اپنے پاس رکھنا چاہیئے اور اس سے مستفید ہونا چاہیے۔ مجلد کتاب کو خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔

مسنون حج وعمرہ

حج دین اسلام کا پانچواں رکن ہے ۔ جس کی فرضیت ہر اس مرد و عورت پر ہے جو صاحب استطاعت ہو یعنی وہ  مالی اور بدنی طاقت رکھتا ہو ۔ حج کا اجر اتنا زیادہ ہے کہ حج کا فریضہ ادا کرنے والے فرد کے پچھلے تمام گنا ہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور بے حد و حساب ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔

ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ حج کی سعادت حاصل کرے اور وہ اس کے لئے دعائیں بھی کرتا ہے، ہونا تو یہ چاہیے کہ ہر مسلمان کو حج و عمرہ کے فضائل اور مسائل بارے مکمل آگاہی ہو ، مگر ہمارے عوام کی اکثریت بدقسمتی سے دینی اور دنیاوی تعلیم دونوں سے ہی دور ہے تاہم جب ضرورت پڑتی ہے تو اس وقت متعلقہ سلسلے میں متحرک ہو جاتی ہے جیسے نماز جنازہ کو ہی لے لیں تو ہماری اکثریت اس سے بے بہرہ ہے۔

نماز جنازہ کے وقت اس کا طریقہ یاد کرایا جاتا ہے حتی کہ دعائیں بھی پڑھائی جاتی ہیں تاکہ جو لوگ بھول چکے ہیں انھیں یاد ہو جائیں ۔ زیر تبصرہ کتابچہ میں حج کے فضائل اور مسائل بڑی تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں، اس کا مقصد عوام کو حج کے احوال سے مکمل آگاہی دینا ہے۔

دس ابواب ہیں جن میں حج و عمرہ کا معنی و مفہوم اور اہمیت و فضیلت، سفر حج کے آداب، مکہ مکرمہ اور بیت اللہ کا تعارف ، شرعی اصطلاحات اور مقامات حج و عمرہ، حج و عمرہ سے متعلق چند اہم احکام و مسائل، میقات احرام و تلبیہ ،عمرے کا بیان، حج تمتع کا بیان، مدینہ منورہ اورمسجد نبوی، دنیا و آخرت کی بھلائی کے لیے دعائیں شامل ہیں۔ کتابچے کو تصاویر سے مزین کیا گیا ہے جس سے سمجھنے میں مزید آسانی ہو گئی ہے، حدود حرم کا نقشہ بھی دیا گیا۔

چھوٹے سائز کی وجہ سے اسے بآسانی اپنے ساتھ رکھا جا سکتا ہے۔ دیدہ زیب ٹائٹل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔  اسے کتاب و سنت کی اشاعت کے عالمی ادارے دارالسلام نے شائع کیا ہے ، کراچی اور اسلام آباد میں دارالسلام کے شو روم کے علاوہ دارالسلام کے ہیڈ آفس لوئر مال لاہور سے طلب کیا جا سکتا ہے یا کتاب کو براہ راست حاصل کرنے کے لئے اس نمبر  (042.37324034) پر رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔

جوٹوٹ کے بکھرا نہیں
مصنف : جبار مرزا، قیمت: 1000روپے، صفحات: 398
ناشر: شہر یار پبلیکیشنز ، پوش آرکیڈ  G.9  مرکز اسلام آباد (03005586192)

جبار مرزا کمال کے لکھاری ہیں ،کچھ بھی لگی لپٹی رکھے بنا سب کچھ سامنے رکھ دیتے ہیں ، یوں جیسے کوئی محقق کسی نئی تحقیق کو سب کے سامنے لاتا ہے، کہانی تو یہ ان کی اہلیہ محترمہ رانی کی ہے مگر اس میں انھوں نے علاج کے نام پر انسانیت کا خون چوسنے والے نام نہاد مسیحاؤں کا پول کھول کر رکھ دیا ہے حتی کے تعویذ دھاگہ کرنے والے اور روحانیت کا ڈھونگ رچانے والوں کے ہتھکنڈے بھی آشکار کئے ہیں۔

ان کا قلم نشتر کا کام کرتا ہے اور چھپے ہوئے ناسوروں کو کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔ مرزا صاحب کے دکھڑے قاری کو غمگین کر دیتے ہیں، وہ ان کے کرب کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کرتا ہے۔ جسٹس (ر) نذیر اختر کہتے ہیں ’’جبار مرزا کی کتاب ’’ جوٹوٹ کے بکھرا نہیں‘‘ آپ بیتی بھی ہے اور آئینہ بھی۔ یہ اس سماج کی کتھا ہے جہاں انسان مسیحاؤں کے ہاتھوں زخم زخم ہوئے۔ پاکستان ہی نہیں دنیا بھر کے ڈاکٹروں کی اصل غرض و غایت مال بٹورنا ہو چکا ہے۔

جبار مرزا اپنی بیگم کے علاج کی غرض سے تلخ تجربات سے گزرے ہیں۔ جبار مرزا کی زیر نظر کتاب  نے امور خانہ داری میں ایک نئی فکر پیدا کی ہے۔ میاں بیوی کے انتہائی پیار بھرے رشتے کی اہمیت بتائی ہے۔ شادی شدہ جوڑوں نے اپنا لائف سٹائل بدلا ہے، عورت کا احترام بڑھا، بیویاں معتبر ہوئیں ، جعلی حکیم بے نقاب ہوئے، روحانیت کے نام پہ دھندا کرنے والے نانگوں کو طشت ازبام کیا ۔ مجبوروں، ضرورت مندوں کی مشکلات کی نشاندہی کی۔

انسان دوستی کے نام پر دلالی کرنے والوں کا بتایا۔‘‘ محمد احمد ترازی کہتے ہیں ’’یہ ایک ایسی خود نوشت ہے جس میں فرد اور معاشرت کے خمیر کے رنگ اور بو قدرے مختلف ہے، یہ ایک ایسا رزم نامہ جس میں انسانی تلاش، کوشش، جستجو، بے بسی، کم مائیگی، اور آہ وزاری بھی اپنا رنگ جمائے ہوئے ہے، جس میں راوی نے متوازن طور سے اپنے قاری کو کمال صداقت و دیانت سے ہمارے معاشرے کے عصری، سماجی اور معاشرتی حالات، تہذیبی اور معاشرتی اقدار، انسان کی شکست و ریخت ، زندگی کے نشیب و فراز ، فراموش اور ختم ہوتی اخلاقی قدروں، انسانی جان و مال کے زیاں اور زوال کے اسباب، انسانیت کی ختم ہوتی شناخت، انسانی محرومی، محزونی، پستی، تنہائی ، خفگی اور تند خوئی اور سماج کے منفی کرداروں کی جاندار تصویر کشی کی ہے۔

جس میں فکری تجربہ، زبان و بیان، معنی و مفہوم ، ندرت و تخیل، تفہیم خیال، وسعت بیان اور نظریہ حیات کی جابجا کار فرمائی عیاں ہے جو ایک بالغ نظر، حساس اور صاحب طرز ادیب کے فن کی کامیابی کا نمایاں وصف ہے۔‘‘ مجلد کتاب کو خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔

 you in search of
JOB in search of you
مصنف: عمر رضا بھٹہ، قیمت:1000 روپے، صفحات:240
ناشر:بک ہوم، مزنگ روڈ، لاہور (03014568820)

نوکری تلاش کرنا بہت مشکل کام دکھائی دیتا ہے حالانکہ ایسا ہے نہیں، کیونکہ کوئی بھی فرد اگر کام ڈھونڈنا چاہے تو اسے کام مل جائے گا ، ہمارا اصل مسئلہ ہے اپنی پسند کی نوکری، تاکہ اپنی صلاحیتوں کو تن من دھن سے اس طرف لگایا جائے۔

اسی پسند کے چکر میں نوکری ملنا بہت مشکل ہو  جاتا ہے۔ اب اس سلسلے میں کیا کرنا چاہیئے تو ہمیں یہ سب زیر تبصرہ کتاب بتاتی ہے اس کتاب کے مصنف اس سلسلے میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ایسے ہی افراد کی رہنمائی کرنے کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔

کتاب رہنمائی کرتی ہے کہ کیسے اپنی صلاحیتوں کا صحیح اندازہ کیا جاتا ہے اور پھر اس کے مطابق نوکری کا انتخاب کیا جاتا ہے، جب یہ کام ہو گیا تو اب نوکری کے حصول کی تیاری ہے، اس سلسلے میں بھی بھرپور رہنمائی کی گئی ہے، سی وی کیسے تیار کرنا ہے، انٹرویو کیسے دیا جائے؟ ، غرض نوکری کے حصول تک کے تمام مراحل بیان کئے گئے ہیں ۔

طالبعلموں کے لئے بہت مفید ہے انھیں اس کتاب کو اپنے پاس رکھنا چاہیے اس سے انھیں رہنمائی ملے گی۔ پڑھائی مکمل کرنے کے بعد جب نوکری نہیں ملتی تو انسان مایوسی اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے اگر اس طالبعلم نے یہ کتاب پڑھی ہو گی تو اس پر ایسی کیفیات طاری نہیں ہوں گی، کیونکہ یہ کتاب اس بارے میں بھی رہنمائی کرتی ہے کہ اگر انٹرویو میں کامیابی نہ  ہو تو پھر کیا کرنا چاہیے، اس سے اگلی نوکری کے لئے محرک ملتا ہے۔ بہت مفید کتاب ہے ہرکسی کو ضرور مطالعہ کرنا چاہیے ۔

ارتھ شاستر
 مصنف: اچاریہ کوٹلیہ چانکیہ، مترجم : شان الحق حقی
 ناشر: ریڈنگز، 12۔کے ، مین بلیوارڈ ، گلبرگ ، لاہور فون: 924235757877

سیاسیات، انتظام حکومت (گورننس) جنگ وجدل اور معاشیات کے اسرار و رموز بیان کرنے والی قدیم ترین کتب میں ’’ارتھ شاستر‘‘ نمایاں مقام رکھتی ہے۔ خیال ہے کہ اسے 300 قبل مسیح میں ہندوستانی بادشاہ، چندرگپت موریہ کے استاد اور وزیراعظم، چانکیہ نے تصنیف کیا۔

تاہم بہت سے مغربی محقق کہتے ہیں کہ یہ کتاب مختلف دانشوروں کے نظریات و خیالات پہ مبنی ہے جو 300 تا 100 قبل مسیح کے مابین موجود تھے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ چانکیہ نامی فرد نے کتاب لکھنے کا آغاز کیا۔ اس کو کوٹلیہ اور وشنوگپتا بھی کہا گیا۔ ہندو مورخ تینوں ہستیوں کو ایک ہی شخص قرار دیتے ہیں۔

ارتھ شاستر کے 15 ابواب ہیں۔ انھیں پھر بہ لحاظ موضوع ذیلی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ باب 1 تا 8 سیاست و انتظام حکومت سے متعلق ہیں۔ بقیہ ابواب میںامور ِ دفاع اور جنگ وجدل کا بیان ہے۔ اصل کتاب سنسکرت میں لکھی گئی۔

بیسویں صدی میں اس کا اردو و انگریزی سمیت دیگر زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ عام خیال ہے کہ مشہور اطالوی مفکر،  میکاولی کے نظریات ارتھ شاستر سے ماخوذ ہیں۔ مگر یہ بات غلط ہے۔ وجہ یہ کہ بارہویں صدی کے بعد ارتھ شاستر کے مخطوطے تقریباً غائب ہو گئے۔ بیسویں صدی میں کہیں جا کر 1905ء میں اس کا ایک مخطوطہ ہندوستان میں دریافت ہوا۔ اسی سے پھر نئی جلدیں وجود میں آئیں ۔

ارتھ شاسترمیں موجود بیشتر معلومات اب فرسودہ ہو چکی۔ پچھلے دو ہزار سال کے دوران سیاسیات، انتظام حکومت اور عسکری امور کے نت نئے نظریات سامنے آ چکے۔ وہ ارتھ شاستر کے نظریات سے مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ پھر بھی درج بالا علوم کی تاریخ و ارتقا کا مطالعہ کرتے ہوئے ارتھ شاستر کا ذکر ناگزیر ہے۔ مزید براں اس میں وقتاً فوقتاً ایسے اقوال بھی ملتے ہیں جو دور حاضر کے اعمال حکومت کی رہنمائی کرتے ہیں۔

ارتھ شاستر منفی اور مثبت، دونوں قسم کے خیالات و نظریات رکھتی ہے۔کہا جاتا ہے بھارتی وزیراعظم، نریندر مودی اس کتاب سے متاثر ہے۔ اور اس نے انتظام حکومت کے گُر اسی قدیم مجموعہ احکامات سے اخذ کیے۔

مودی کی مسلم دشمنی سے قطع نظر یہ حقیقت ہے کہ وہ انتظام ِحکومت کرنے میں اکثر حکمرانوں سے بہتر ہے۔ مگر اس نے دغا بازی اور چلتر پن بھی اسی کتاب سے حاصل کیا۔ ذیل میں ارتھ شاستر سے غوروفکر کو دعوت دینے والے کچھ سبق آموز اقوال ملاحظہ فرمائیے:

٭…حاکم اگر عادل و منصف نہ ہو تو بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو کھانے لگتی ہیں۔ اس کی موجودگی سے کمزوروں کا دل مضبوط رہتا ہے۔

٭…انسان کے چھ دشمن ہیں۔ اگر وہ دنیا میں کامیابی پانا چاہتا ہے تو ان سے دور رہے: ہوس، غصہ،حرص، انا، تکبر اور عیاشی۔

٭…حکمران اپنے وزرا کا تقرر اوصاف کی بنیاد پر کرے ۔ وہ صاحب فراست، نیک ،اہل اور وفا شعار ہوں ۔

٭…عقل مند حاکم کسی کو حقیر نہیں سمجھتا بلکہ ہر کسی کی سنتا ہے۔ وہ بچے کے منہ سے نکلی معقول بات بھی نظرانداز نہیں کرتا۔

٭…اگر حاکم سرگرم ہو تو اعمال حکومت اور عام لوگ بھی سرگرم رہیں گے۔ اگر وہ لاپروا ہو جائے تو اعمال اور عوام بھی لاپروا ہو جاتے ہیں۔ بلکہ وہ اس کے کام بگاڑ دیتے ہیں۔ تب دشمن حاکم کو آسانی سے مغلوب کر سکتا ہے۔ اس لیے حاکم کو ہر وقت مستعد اور چوکنا رہنا چاہیے ۔

٭…حاکم کو چاہیے کہ وہ نہایت اہمیت کے معاملات پہ فوری توجہ دے اور انھیں حل کرے۔ اگر ایسے معاملات پہ فوراً توجہ نہ دی جائے تو بعد میں انھیں حل کرنا مذید دشوار ہو جاتا ہے۔

٭…جو ملک کمزور ہو، وہ دوسرے ملکوں سے امن و دوستی چاہتا ہے جو ملک طاقتور ہو، وہ دوسرے ملکوں پہ حاوی ہونے کی کوشش کرتا ہے۔

زیرتبصرہ کتاب ادارہ ریڈنگز نے دیدہ زیب انداز میں شائع کی ہے ۔کاغذ اعلی ہے اور طباعت معیاری ۔419 صفحات کی یہ کتاب مناسب قیمت رکھتی ہے۔ فاضل مترجم، شان الحق حقی نے متن کا ترجمہ رواں و شستہ طور پہ کیا ہے ۔ تاریخ و سیاست سے دلچسپی رکھنے والے خواتین وحضرات اس تصنیف کومرغوب وقابل مطالعہ پائیں گے۔     (تبصرہ نگار:  سّید عاصم محمود)

پہاڑ کی آواز

بیسویں صدی کے جاپان میں کئی بڑے ناول نگار سامنے آئے، جن میں ایک اہم نام یاسوناری کاواباتا (1899-1972) کا ہے۔ ان کے ناولوں میں ’’برف دیس‘‘ ، ’’ہزار کونجیں‘‘ اور ’’پہاڑ کی آواز‘‘ مشہور ہیں۔ 1968ء میں انہیں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا، وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے جاپانی ادیب ہیں۔ ان کے کام کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملی اور آج بھی ان کی تخلیقات شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔

زیرنظر ناول ’’پہاڑ کی آواز‘‘ 1954ء میں شائع ہوا، جس میں ہم ایک چھوٹے سے کنبے کے روز و شب سے دوچار ہوتے ہیں جو اپنی بے اطمینانی اور بے سمتی میں الجھ کر حالات کے دھارے میں بہہ چلا جا رہا ہے۔ ناول کا مرکزی کردار کنبے کا سربراہ اوگاتا شنگو ہے، جو ساٹھ سال سے اوپر کا ہو چکا ہے۔ وہ ایک کامیاب اور خوشحال تاجر ہے، لیکن بڑھتی عمر کے مسائل، ذاتی حسرتوں اور خاندان کی پریشانیوں میں بری طرح الجھا ہوا ہے۔ اس کی شادی کو تیس سال بیت چکے ہیں، لیکن اس تعلق میں محبت اور جذبہ نہیں، بلکہ شادی کے آغاز میں اسے اپنی کم رو بیوی کے ساتھ باہر جانا بھی اچھا نہیں لگتا تھا۔ دراصل وہ یاسوکو کی بہن سے شادی کرنا چاہتا تھا، جو حسین تھی لیکن اس کا نوجوانی میں انتقال ہو گیا۔

شنگو کا بیٹا شوئی چی اس کے ساتھ دفتر میں کام کرتا ہے، وہ ایک خوبصورت بیوی کا شوہر ہونے کے باوجود دوسری عورت میں دلچسپی رکھتا ہے اور یہ بات ان کے گھرانے میں پریشانی کا سبب ہے۔ دوسری طرف شنگو کی کم رو، قدرے پھوہڑ اور بدمزاج بیٹی، فوساکو کی شادی ناکام رہتی ہے اور وہ شوہر کو چھوڑ کر اپنی دونوں بچیوں سمیت گھر آ جاتی ہے۔ اپنے بچوں کی زندگی میں بہتری کے لیے وہ کچھ کرنا چاہتا ہے، لیکن مزید کسی تنازع سے بچنے کے لیے عملاً کوئی کردار ادا کرنے سے گریزاں ہے اور معاملات کو ٹالتا رہتا ہے۔

اس پریشان کن ماحول میں اسے اپنی بہو کیکوکو سے ہمدردی محسوس ہوتی ہے جو دوسروں کے دکھ درد میں شامل ہونے اور ان کا خیال رکھنے کی اہل ہے۔ پھر شنگو کے ساتھ بڑھاپے کے مسائل ہیں، وہ یادداشت کھو رہا ہے اور اپنے دوستوں کو یاد کرتا ہے جو دنیا سے جا چکے ہیں۔ اسے کبھی کبھار تیز گرگراہٹ سنائی دیتی ہے، جسے وہ ’’پہاڑ کی آواز‘‘ کا نام دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کی موت کا وقت آن پہنچا ہے۔

ناول کا مرکزی کردار اوگاتا شنگو ہیرو نہیں ہے، لیکن وہ ولن بھی نہیں۔ وہ ایک ایسا بوڑھا آدمی ہے جو اپنی  زندگی میں کی گئی غلطیوں سے نبردآزما ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ اس کے گھرانے کی سادہ لیکن تہہ دار کہانی ہے۔ ناول کا اردو ترجمہ محمد سلیم الرحمٰن نے کیا ہے، جو کہ اردو میں ترجمہ نگاری کا ایک معتبر نام ہے۔ 297 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 400 روپے ہے، جسے ریڈنگز لاہور کے اشاعتی ادارے القا پبلیکیشنز نے شائع کیا ہے۔

The post بُک شیلف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/AeXI7ZC

کیا بیوی کا ہمدرد ہونا زن مریدی ہے؟ (بلاگ برائے اتوار)

دروازے پر دستک ہوئی۔ علینہ نے دروازہ کھولا تو شاہین آنٹی تھیں۔ اب علینہ تو کیا پورے محلے والے آنٹی شاہین کی لگائی بجھائی کی عادت سے واقف تھے۔ لیکن سخت گرمی تھی تو علینہ نے مروتاً نہ صرف انھیں گھر میں آنے کی دعوت دی بلکہ جلدی سے شربت بھی بنا کر لے آئی۔

شاہین آنٹی نے شربت کے گھونٹ بھرتے ہوئے ادھر ادھر ناقدانہ نگاہیں دوڑائیں۔

’’آج تو اتوار ہے۔ واجد میاں دکھائی نہیں دے رہے؟ شاید ہمیشہ کی طرح انھیں باورچی خانے میں برتنوں کی دھلائی پر لگا رکھا ہوگا۔ بیٹا سچ مانو تو بیوی ہی کام کرتی اچھی لگتی ہے، عورت ہی گھر کے کام کرتی ہے۔ اب مجھے ہی دیکھ لو اتنی عمر گزر گئی لیکن آج تک تمھارے انکل سے مٹر تک نہیں چھلوائے۔ مگر معاف کرنا آج کل کی لڑکیاں اتنی کام چور اور نکمی ہیں۔ کبھی بچوں کا بہانہ ہوتا ہے تو کبھی فیشن کے پیچھے بھاگ رہی ہیں۔ کوئی گھر گرہستی نہیں لیکن اب کیا کہیں اپنے گھروں سے اپنی ماؤں سے یہی سیکھ کر تو آتی ہیں۔‘‘

اتنی دیر سے علینہ جو شاہین آنٹی کی سنے جارہی تھی، آخر اس کی والدہ کے نام پر اس کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوگیا۔

’’ خالہ بس رہنے دیجئے۔ میں پورا ہفتہ کام کرتی ہوں، نوکری پر بھی جاتی ہوں، شوہر کی خدمت کرتی اور اوپر تلے کے تین بچوں کی پرورش بھی کرتی ہوں۔ میرے شوہر صرف اتوار کو اگر برتن دھو لیتے ہیں، وہ بھی انھیں کبھی مجبور نہیں کیا بلکہ وہ یہ سب اپنی خوشدلی سے کرتے ہیں تو اس میں کیا برائی ہے؟‘‘

اس سب کے بعد یہ بتانے کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں کہ شاہین آنٹی نے کن الفاظ میں علینہ کی مزید عزت افزائی کی اور اسے زبان درازی کا طعنہ بھی دے ڈالا۔

یہ کہانی ہر گھر کی ہے جہاں کہیں شوہر نے بیوی کی محبت میں گھر کا کام کردیا یا یہی احساس کرلیا کہ سارا دن یہ بے چاری کچن کے کام بھی کرتی رہی ہے یا دفتر کی ذمے داری بھی پوری کرکے آئی ہے، وہیں شوہر صاحبان کو پورے خاندان کی طرف سے ’’جورو کا غلام‘‘ ہونے کے طعنے ملنے لگتے ہیں۔

جبکہ لوگ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بہت باتیں کرتے ہیں لیکن یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی گھر کے کاموں میں ازواج مطہرات کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ وہ تو تمام مردوں سے افضل تھے لیکن انھوں نے ہمیشہ یہی درس دیا کہ سب سے اچھا شخص وہی ہے جو اہل و عیال بالخصوص بیوی کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے۔ وہ بھی چاہتے تو گھر کے کاموں سے پہلوتہی کرسکتے تھے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ میاں بیوی معاشرتی زندگی کے دو اہم ستون ہیں۔

خلیفہ چہارم حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی پینے کا پانی باہر کنوئیں سے بھر کر لاتے، کبھی صحن کی گرد صاف کرتے اور کبھی چیزوں کو ترتیب سے رکھتے۔

آج کل کی مہنگائی کے دور میں جب ایک بیوی شوہر کو معاشی سہارا دینے کےلیے نوکری کرسکتی ہے، اس کی معاشی ذمے داریوں میں ہاتھ بٹا سکتی ہے تو مرد اپنی بیوی کا ہمدرد و غمگسار کیوں نہیں ہوسکتا؟ باقی شاہین آنٹی جیسی خواتین بہت ہیں اس معاشرے میں کہ اگر ان کی بہویں ان کے بیٹوں سے برتن یا کپڑے دھلوانے میں مدد لیں تو وہ اپنے بیٹوں کو بیوی کے غلام ہونے کے طعنے ضرور دیتی ہیں، ہاں البتہ اگر ان کے داماد ان کی بیٹیوں کو سر آنکھوں پر بٹھائیں تو ان کا کہنا یہی ہوتا ہے کہ میری تو بیٹی ہی بہت فرمانبردار ہے، ہیرا ہے، اس لیے شوہر بھی اس پر جان چھڑکتا ہے یا یہ کہ بے چاری میری بیٹی سارا دن کچن میں بھی کام کرے، ساس نندوں کی فرمائشیں بھی پوری کرے تو کیا اس بے چاری کا اتنا بھی حق نہیں کہ اس کا شوہر اس کا تھوڑا ہاتھ ہی بٹا دے۔ ایسی خواتین کا دہرا رویہ و معیار کبھی تبدیل نہیں ہوسکتا اور نہ ہی ہوگا۔

آخر میں آج یہ بھی کہنا ہے کہ معزز خواتین اگر آپ کے شوہر آپ کے مزاج آشنا ہیں، آپ سے محبت کرتے اور اسی محبت کی وجہ سے آپ کے ساتھ گھریلو کاموں میں آپ کا ہاتھ بٹاتے ہیں تو ان کی قدر کیجئے۔ ان کی خدمات کو ہرگز کمتر نہ سمجھیے، کیونکہ ایسے شوہر بہت نایاب ہوتے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

The post کیا بیوی کا ہمدرد ہونا زن مریدی ہے؟ (بلاگ برائے اتوار) appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/A2Qt08Z

2018 میں چارٹر آف اکانومی کی تجویز کو نظرانداز کیا گیا، وزیراعظم

 اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بحیثیت اپوزیشن لیڈر سال 2018 میں چارٹر آف اکانومی تجویز کیا تھا جو نظرانداز کردیا گیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعظم شہباز شریف نے ٹوئٹ کیا کہ بحیثیت اپوزیشن لیڈر انہوں نے سال 2018 میں اس وقت کی حکومت کو چارٹر آف اکانومی تجویز کیا جو انہوں نے حقارت کے ساتھ نظرانداز کردیا تھا لہٰذا یہ اب وقت کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے لکھا کہ تمام سیاسی جماعتوں سے چارٹر آف اکانومی کی تجویز پر مشاورت کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، مشاورت کا مقصد تمام جماعتوں کو اعتماد میں لینا ہے۔

The post 2018 میں چارٹر آف اکانومی کی تجویز کو نظرانداز کیا گیا، وزیراعظم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/WcKiaMP

بہاولنگر میں خواتین کو ہراساں اور تشدد کرنے والے 6 ملزمان گرفتار

بہاولنگر: صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولنگر میں خواتین پر چوری کا الزام لگا کر ان کے ساتھ نارواں سلوک کرنے والے 6 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بہاولنگر پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے خواتین کو ہراساں کرنے والے چھے ملزمان گرفتار کیا، وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی تھی۔

آئی جی پنجاب کے حکم پر ڈی پی او بہاولنگر نے ہارون آباد کا دورہ کیا اور متاثرہ خواتین سے ملاقات کی، گرفتار ملزمان میں محمد حسنین ، بلاول اسلم ، غلام حسین ، عبدالغفور ، ثاقب رضا ، اور محمد عاقب شامل ہیں۔

ڈی پی او بہاولنگر فیصل گلزار کا کہنا ہے کہ اندراج مقدمہ کے بعد واقعہ کی ہر پہلو سے تفتیش کی جارہی ہے، خواتین پر تشدد اور ہراساں کرنے والے ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں، ملزمان کو قرار واقعی سزا دلائی جائے گی۔

The post بہاولنگر میں خواتین کو ہراساں اور تشدد کرنے والے 6 ملزمان گرفتار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/NmV0B82

پاکستان کو ایٹمی طاقت بنے 24 برس مکمل، آج یوم تکبیر منایا جا رہا ہے

لاہور: پاکستان کو ایٹمی طاقت بنے 24 برس مکمل ہو گئے لہٰذا پورے ملک میں آج یوم تکبیر جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے۔

پاکستان کو ایٹمی طاقت بنے 24برس مکمل ہو گئے تاہم اسی مناسبت سے آج پورے ملک میں یوم تکبیر قومی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے اورملک بھر میں خصوصی تقریبات ہوں گی۔

واضح رہے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے دورمیں پاکستان نے 28مئی 1998ء کو بلوچستان کے علاقے چاغی میں 5 کامیاب ایٹمی دھماکے کیے، جس کے بعد اس دن کو یوم تکبیر کے نام سے منایا جاتا ہے۔

The post پاکستان کو ایٹمی طاقت بنے 24 برس مکمل، آج یوم تکبیر منایا جا رہا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/bjVwCaK

بجٹ 23-2022؛ مختلف وزارتوں کے ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے تجویز پیش کی ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف وزارتوں کے ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی کی جائے گی کیونکہ اس وقت حکومت کا خزانہ خالی ہے تاہم دوسری جانب ارکان پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 40 ارب روپے مختص رکھے گئے ہیں۔

وزارت منصوبہ بندی و ترقی نے اس حوالے سے مختلف وزارتوں کو ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی سے آگاہ کردیا ہے اور یہ ہدایت بھی کی ہے کہ معاشی صورت حال کے باعث اس وقت جاری مختلف ترقیاتی اسکیموں کے لیے بھی بجٹ جاری نہ کیا جائے۔ تمام وزارتوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ جاری اسکیموں کے لیے مختص فنڈز اور وسائل کو دیکھ بھال کر استعمال کریں اور اس حوالے سے اپنی تجاویز پلان کوآرڈینشن کمیٹی کو ارسال کریں جس کا اجلاس4 جون کو ہونا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق آئندہ مال کے دوران ترقیاتی بجٹ 700 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے جو روں مالی سال کے مقابلے میں 22 فیصد کم گا، یاد رہے کہ رواں مالی سال کے لیے 900 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ رکھا گیا تھا جو کٹوتی کے بعد اب 500 ارب روپے رہ گیا ہے۔

وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 40 ارب روپے پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) پروگرام کے تجویز کیے ہیں تاہم وزارت منصوبہ بندی نے نئی حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ وہ اس پروگرام کو ختم کردے کیونکہ زیادہ تر پروگرام صوبائی نوعیت کے ہیں اور وفاقی حکومت کو اس وقت ویسے ہی معاشی مسائل کا سامنا ہے۔اسی طرح وفاقی حکومت نے پاور ڈویڑن کے لیے 50 ارب روپے رکھے جانے کی تجویز پیش کی ہے جو رواں بجٹ کے مقابلے میں 28 فیصد کم ہوگا۔

رواں بجٹ کے دوران پاور ڈویڑن کے لیے 46 ارب 50 کروڑ روپے رکھے گئے تھے۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے لیے آئندہ بجٹ میں 120 ارب روپے رکھے جانے کی تجویز ہے جو رواں بجٹ کے مقابلے میں 6 ارب روپے کم ہوگا جبکہ این ایچ اے نے نئے مالی سال کے دوران اپنے ترقیاتی کاموں کے لیے 500 ارب روپے مانگے تھے۔

خیبرپختونخواہ اور اس دیگر ضم اضلاع کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 40 ارب روپے تجویز کیئے گئے ہیں جو رواں مالی سال کے مقابلے میں 14 ارب روپے کم ہوں گے۔ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 30 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں جو رواں مالی سال کے دوران رکھے گئے بجٹ کا محض 44 فیصد ہوگا جس کے باعث ہوسکتا ہے ادارہ گرانٹ پروگرام میں کٹوتی کرنے پر مجبور ہوجائے۔

The post بجٹ 23-2022؛ مختلف وزارتوں کے ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/lHJUYo8

کراچی میں دہشتگردی کاخطرہ، اہم تنصیبات نشانہ، گولہ بارود پہنچ گیا

کراچی: شہر میں دہشت گردی کی نئی لہر کاخطرہ ہے،دہشت گردوں کی جانب سے ساؤتھ زون میں اہم تنصیبات کو نئی طرز پر نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

شہر میں حالیہ ہونے والے بم دھماکوں کی تفتیش کے دوران تحقیقاتی اداروں کو ایسے شواہد ملے ہیں کہ جس میں شہر میں دہشت گردی کی ایک اور نئی لہر کا خطرہ ہے، شہر میں بم دھماکوں کے علاوہ نئی طرز پر اہم تنصیبات پر حملہ کیا جاسکتا ہے جوکہ ماضی سے بالکل مختلف ہوگا۔

بم دھماکوں کی تفتیش سے جڑے حکام نے بتایا کہ خصوصی طور پر شہر کا ساؤتھ زون دہشت گردوں کے نشانے پر ہے، ساؤتھ زون میں آئل ریفائنریز ، غیر ملکی قونصل خانے، گورنر ہاؤس، وزیراعلیٰ ہاؤس اور دیگر اہم عمارتیں و اہم تنصیبات قائم ہیں۔

ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ شہر میں انتہائی جدید اسلحہ اسمگل کرکے پہنچایا جاچکا ہے ، مذکورہ اسلحے میں مارٹر گولے، لانچر اور دیگر رائفلیں شامل ہیں ، انھیں استعمال کرنے والے تربیت یافتہ ملزمان بھی اس وقت شہر میں ہیں۔

تفتیشی حکام نے بتایا کہ چین کے قونصل خانے اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے میں حملہ آور انتہائی تربیت یافتہ تھے جوکہ کلاشنکوف سے فائرنگ بھی دو انگلیوں سے کررہے تھے جس میں ایک انگلی سے وہ ٹریگر دبارہے تھے جبکہ دوسری انگلی سے کلاشنکوف کو آٹومیٹک اور سیمی آٹومیٹک موڈ پر لے جارہے تھے، کلاشنکوف کو اس طرح چلانے کی تربیت دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی افواج کو دی جاتی ہے۔

کراچی ،حیدر آباد اور سکھر کی جیلوں میں قید دہشت گردوں سے بھی تفتیش کی گئی جس کی روشنی میں تحقیقاتی اداروں پر انکشاف ہوا کہ شہر میں ساؤتھ زون میں واقع اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے اور دہشت گردی کی نئی لہر کا خطرہ ہے۔

The post کراچی میں دہشتگردی کاخطرہ، اہم تنصیبات نشانہ، گولہ بارود پہنچ گیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/MVgkwF2

Friday, 27 May 2022

انتخابی اصلاحات، نیب قوانین میں ترامیم مسترد، سراج الحق

لاہور: امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے انتخابی اصلاحات اور نیب قوانین میں ترامیم کو مسترد کر دیا۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے پریس کانفرنس کے دوران اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کا حق ختم کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا نیب کو گونگا بہرا بنا دیا گیا۔ ملک ایڈہاک ازم پر چل رہا ہے، نظام نہیں صرف آئی ایم ایف کے چوکیدار بدلے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت، پی ٹی آئی حکومت کا تسلسل ہے، جو رونا شوکت ترین اور حفیظ شیخ روتے رہے، وہی مفتاح اسماعیل رو رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے روٹی ،کپڑا اور مکان کے نام پر سوشل ازم، ن لیگ نے ایشین ٹائیگر کے نام پر سیاست جبکہ عمران خان نے ریاست مدینہ کا اسلامی ٹچ دیا، وہ اسمبلی میں بیٹھ کر انتخابی اصلاحات پر کام کریں۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ خود کونیوٹرل کہنے والوں کو خود کوایسا رکھنا ہو گا تاکہ کسی کواعتراض نہ ہو۔پٹرولیم قیمتوں میں اضافے پرکل ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔

The post انتخابی اصلاحات، نیب قوانین میں ترامیم مسترد، سراج الحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/0aCDqls

شہر میں آوارہ کتوں کی بہتات، سگ گزیدگی کے واقعات بڑھ گئے

 کراچی: شہر میں آوارہ کتوں کی بہتات ہوگئی جب کہ شہر کے مختلف علاقوں میں آوارہ کتوں کی بھرما ر سے شہری خوف زدہ رہنے لگے۔

شہر میں آوارہ کتوں کی بھرمار ہوگئی ،ضلع انتظامیہ کتا مار مہم نہیں چلارہی، لیاری، لیاقت آباد، کورنگی، ایف بی ایریا، نیوکراچی، نارتھ کراچی، ناظم آباد، بلدیہ ٹاؤن، کھارادر، پاک کالونی، گارڈن، رنچھوڑلائن، لانڈھی، شاہ فیصل کالونی، ملیر اور دیگر علاقوں میں کتوں سے شہری خوف زدہ رہنے لگے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ رات کے وقت کتے گلیوں اور سڑکوں پر پھرتے ہیں، سگ گزیدگی کے کئی واقعات ہوچکے مگرضلعی انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔

انھوں نے کہا کہ صبح کے اوقات میں خواتین کابچوں کو اسکول چھوڑنا اور دفاتر جانا محال ہوگیا، شام کے اوقات میں طالبات کوچنگ سینٹر جاتی ہیں گلی اور محلے میں آوارہ کتے پھرتے ہیں، انھوں نے کمشنر کراچی سے مطالبہ کیا کہ کتوں کے خاتمے کی مہم چلائی جائے۔

The post شہر میں آوارہ کتوں کی بہتات، سگ گزیدگی کے واقعات بڑھ گئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/Gu86g5y

پی ٹی آئی کی وزیراعظم کے قوم سے خطاب پر کڑی تنقید

 اسلام آباد: پاکستان تحریک اںصاف (پی ٹی آئی) نے وزیر اعظم شہباز شریف کے قوم سے خطاب کو ’بدترین باڈی لینگویج‘ قرار دیا ہے۔ 

پی ٹی آئی کے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا گیا کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی وزیراعظم کی بدترین باڈی لینگویج تھی، وہ اپنے خطاب کے دوران شرمندگی سے دوچار تھے۔

پی ٹی آئی نے کی جانب سے کہا گیا کہ ’افسوس پاکستان اس کرائم منسٹر کو قوم کا مذاق اڑاتے دیکھ کر عمران خان کو اس کرسی پر واپس لانے کا ہمارا مقصد ہر وقت بلند رہے گا‘۔

 

The post پی ٹی آئی کی وزیراعظم کے قوم سے خطاب پر کڑی تنقید appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/gVhu3UQ

اپنے سیاسی بیانیوں کے لیے سب نے عدالتوں کا مذاق بنا دیا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ اپنے سیاسی بیانیوں کے لیے عدالتوں کا سب نے مذاق بنا دیا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے خلاف توہین عدالت کیس پر سماعت کی۔ رانا شمیم عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اپنے سیاسی بیانیوں کے لیے عدالتوں کا سب نے مذاق بنا دیا ہے ، رانا شمیم کا یہ بیان حلفی کہاں پر بنا ہے آج تک یہ نہیں پتہ چل سکا ، رانا شمیم نے کہا نیوٹری پبلک نے لیک کیا۔

یہ بھی پڑھیں: رانا شمیم کا بیان حلفی پر دستخط نواز شریف کے دفتر میں ان کے سامنے کیے جانے کا انکشاف

رانا شمیم نے جواب دیا کہ میں نے تو صرف شک کا اظہار کیا ہے۔ چیف جسٹس نے رانا شمیم سے کہا کہ آپ نے تو کہا تھا کہ آپ کے نواسے اور صرف نوٹری پبلک کو معلوم تھا، اس عدالت کا وقار آپ نے مشکوک بنایا ہے ، آپ کا بیان حلفی کہتا ہے کہ کسی کہنے پر بنچز بنتے تھے، یہ عدالت کسی کو اس بنیاد پر سیاسی بیانیہ بنانے کی اجازت نہیں دے گی۔

عدالت نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کی عدم موجودگی کے باعث سماعت 30 جون تک ملتوی کردی۔

The post اپنے سیاسی بیانیوں کے لیے سب نے عدالتوں کا مذاق بنا دیا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/v9DmUK0

افغانستان سے اسمگل ہونے والی اربوں روپے مالیت کی منشیات پکڑی گئی

کوئٹہ: اے این ایف کی پشین میں کی گئی کارروائی میں 310 کلوگرام افیون اور 110 کلوگرام آئس قبضے میں لے لی گئی۔ 

اے این ایف حکام کے مطابق انٹیلیجنس نے اے این ایف بلوچستان کے ساتھ  مشترکہ کارروائی میں اربوں روپے مالیت کی منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنادی، اور ضلع پشین کراچی روڈ پر واقع کلی شبیزئی کےغیر آباد مقام پر ذخیرہ کی گئی 310 کلوگرام افیون اور 110 کلوگرام آئس قبضے میں لے لی۔

اے این ایف حکام نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ اتنی بھاری مقدار میں قبضے میں لی گئی منشیات افغانستان سے اسمگل کی گئی تھی اور بعدازاں ساحلی علاقوں کے راستے بیرون ملک اسمگل کی جانی تھی، تاہم اے این ایف کی برووقت کارروائی میں یہ کوشش ناکام بنا دی گئی۔

The post افغانستان سے اسمگل ہونے والی اربوں روپے مالیت کی منشیات پکڑی گئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/n9D5s0k

Thursday, 26 May 2022

لانگ مارچ میں خاتون کی بدتمیزی نظراندازکرنے والا اہلکارسوشل میڈیا پروائرل

 اسلام آباد: پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران خاتون کی بدتمیزی کو صبر وتحمل سے برداشت کرنے والا پولیس اہلکارسوشل میڈیا پرہیرو بن گیا۔

اسلام آباد میں لانگ مارچ کے دوران  فرائض انجام دینے والا پولیس کانسٹیبل شہباز اپنے پروفیشنلزم اور اعلٰی ظرفی سے سوشل میڈیا پر ہیرو بن گیا۔

لانگ مارچ میں مشتعل خاتون اپنے ساتھیوں کے ساتھ درختوں کو آگ لگا رہی تھی کانسٹیبل کے روکنے پر گالم گلوچ کی اورغلیظ زبان استعمال کی۔کانسٹیبل شہباز نےتحمل کا مظاہرے کرتے ہوئے خاتون کی بدتمیزی کا کوئی جواب نہیں دیا۔

کانسٹیبل شہباز کا کہنا تھا کہ خواتین کا احترام کرنا گھر کی تربیت اورپولیس ٹریننگ میں سکھایا گیا ہے۔ مثالی رویے کا مظاہرہ کرنے پرسی پی اوراولپنڈی شہزاد ندیم نے کانسٹیبل شہباز کونقد انعام اورتعریفی سرٹیفکیٹ دیا۔

کانسٹیبل شہباز کی ویڈیو سوشل میڈیا پراپ لوڈ ہونے کے بعد وائرل ہوگئی اورچند گھنٹوں میں ہی ویڈیو کولاکھوں لائکس اورہزاروں ٹوئٹس ملے۔ سوشل میڈیا صارفین نے کانسٹبل شہباز کی تعریف کی اورخاتون کے رویے کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

The post لانگ مارچ میں خاتون کی بدتمیزی نظراندازکرنے والا اہلکارسوشل میڈیا پروائرل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/rIy1tfL

پٹرول کےبعد یوٹیلیٹی اسٹورزپرآٹا بھی مہنگا ہوگیا

 اسلام آباد: حکومت نےپٹرول کے بعد یوٹیلیٹی اسٹورز پرآٹے کی قیمت میں بھی اضافہ کردیا۔

ملک بھر کے یوٹیلیٹی اسٹورز پرآٹا مہنگا ہوگیا۔آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا۔

نوٹیفیکیشن کے مطابق 20 کلوآٹے کے تھیلے کی قیمت میں 180 روپے کا اضافہ کردیا گیا جس کے بعد20 کلوآٹے کے تھیلے کی قیمت 800 روپے سے بڑھ کر980 روپے ہوگئی۔آٹے کے10 کلو کےتھیلے کی قیمت 90 روپے اضافے کے بعد 400 روپے سے بڑھ کر490 روپے ہوگئی ہے۔

 

The post پٹرول کےبعد یوٹیلیٹی اسٹورزپرآٹا بھی مہنگا ہوگیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/zaBMVfA

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...