Urdu news

Friday, 20 May 2022

کراچی میں پانی کے بحران کے خلاف جماعت اسلامی کا واٹر بورڈ ہیڈ آفس پر دھرنا

 کراچی: شہر میں سخت گرمی میں پانی کے بڑھتے ہوئے بحران، حکومت کی عدم دلچسپی، واٹر بورڈ کی پانی کی غیر منصفانہ تقسیم اور ٹینکرز مافیا کے خلاف جماعت اسلامی کے تحت واٹر بورڈ ہیڈ آفس پر احتجاجی دھرنا دیاگیا۔

شرکاء نے شدید احتجاج اور پُر جوش نعرے لگاتے ہوئے شاہراہ فیصل بلاک کر دی۔ دھرنے میں شہر بھر سے خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت عوام کی بڑی تعداد شرکت کی۔  نے پانی کی عدم فراہمی پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔ دھرنا رات گئے تک جاری رہا۔

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ K-4منصوبہ فی الفور مکمل کیا جائے اور کراچی کے عوام کو کہانی نہیں پانی چاہیے۔ جو حکومت عوام کو پانی نہیں دے سکے اسے اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔  شہر کے اندر واٹر بورڈ اور ٹینکرز مافیا کی ملی بھگت ختم کی جائے۔ عوام کو مہنگے داموں پانی کی فروخت سے نجات دلائی جائے۔

انہوں نے سوال کیا کہ کراچی ٹرانسفارمیشن کمیٹی اور اس کا پلان کہاں ہے؟اس کمیٹی میں پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم شامل تھیں اب نواز لیگ کی وفاقی حکومت ہے۔ عوام کو بتایا جائے کہ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے کتنے فیصد حصے پر عمل کیا گیا۔

جماعت اسلامی وفاقی و صوبائی حکومتوں سے اہل کراچی کا حق لے کر رہے گی۔ 29مئی کو مزار قائد سے ایک تاریخی ”حقوق کراچی کارواں“نکالا جائے گا۔ کراچی کے لیے پانی کاآخری منصوبہ K-3۔2005میں نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ نے مکمل کیا۔ جس نے کراچی کو مزید 100ملین گیلن یومیہ پانی ملا، جب سے اب تک 17برس میں تمام جماعتوں اور کراچی کے عوام سے مینڈیٹ لینے والوں نے ایک قطرہ پانی کا بھی اضافہ نہیں کیا، K-4منصوبہ التواء کا شکار ہے، یہ کراچی کے عوام کے ساتھ کیسا مذاق ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے 650ملین گیلن یومیہ منصوبے کا اعلان کیا اور اسلام آباد جا کر اسے 260ملین گیلن یومیہ کردیا۔

The post کراچی میں پانی کے بحران کے خلاف جماعت اسلامی کا واٹر بورڈ ہیڈ آفس پر دھرنا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/6JLYkAB

No comments:

Post a Comment

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...